Categories
شاعری

درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی
جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی
تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر
تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
مگر جب چاہت بھری
تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں
امید کے پودوں میں
پھول لگنے کا موسم آئے
تو چپکے سے
مجھے کسی کیاری میں بو کر
پھر سے بھول جانا
Image: Seema Pandey

Categories
شاعری

پل بھر کا بہشت

پل بھر کا بہشت
ایک وہ پَل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں
جگنو بن کر
دھڑک رہا ہے
اس کی خاطر
ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں

یہ وہ پَل ہے
جس کو چھو کر
تم دنیا کی سب سے دلکش
لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو
اور میں ایک بہادر مرد

ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی
بسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورت
اور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتا
عام سا مرد
دونوں شہر کے
چیختے دھاڑتے رستوں پر
پل بھر رُک کر
پھر اس پَل کا خواب بناتے رہتے ہیں