Categories
فکشن

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “
“نہیں جناب، یہی حل ہے”
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔
“اچھا “ جواب ملا۔
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔

ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔

ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔

اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا
“جی ہاں۔”

“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”
“جی جانتا ہوں“
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”

“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”
“خدا حافظ”
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔

Categories
فکشن

شکن

جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔
“تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔”
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے ”
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔
” یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!”
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:
“دھیولا بازار والے اتر جایئں”
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:
“ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا ”
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔
“لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔”
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔
۔۔۔۔۔”یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں”اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟
“لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔”
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔
“یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟”
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔
“اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔”
تھو!!۔
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
Image: Sadaf Fatima

Categories
فکشن

نعمت خانہ – دوسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نظر نہ آنے والے ہمارے آباؤاجداد
ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اُن چھوڑی گئی سڑکوں پر
کاروں کا شور، بچّوں کی کلکاری
جوان لڑکیوں کے جسم اُن کے آر پار جاتے ہیں
دھندلے،غیر مادّی، ہم اُن کے آرپار سفرکرتے ہیں
اوکتاویوپاز

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مفاد! مفاد کیا تھا؟

 

ہوا کی پتھّرائی ہوئی آنکھیں کیا کیا دیکھیں؟

 

اِن آنکھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں مٹّی کی ہانڈی لیے اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پیلابوسیدہ نسخہ لیے۔
وہ بھٹک رہا ہے مگر کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کوّے تک کو نہیں جس کی حادثاتی موت پر نہ جانے کہاں سے، دور دور سے، بہت سارے کوّے چلے آئے تھے اور حیرت انگیز طور پر بغیر کوئی شورمچائے باورچی خانے کی منڈیر پر سر جھکائے بیٹھ گئے تھے۔ ایک گری ہوئی کڑی پر وہی مرا ہوا کوّا خاموش بیٹھا تھا مگر اُس نے نہیں دیکھا۔ قابلِ افسوس حد تک نہیں دیکھا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ کن کٹا خرگوش اُس کا ساتھ چھوڑ کر دراصل اپنی ہی قبر پر اُگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا اور کاکروچ، اُس کی قمیص سے اُڑ کر، بدنیتی کے ساتھ رینگتا ہوا اُدھر، اس طرف جارہا تھا جہاں باورچی خانے کی اینٹوں اور دیواروں کا ملبہ تھا۔

 

ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ سب کا مقدّر بہرحال ایک ہی ہے۔ شطرنج کی بساط پلٹنے کے بعد بھی، بندر کے مُردہ پنجے کے مانند گزر گئے وقت کو دوبارہ کھینچ کر لانے کے نتیجے میں صرف وہشت اور پشیمانی ہی حاصل ہوسکتے تھے اور کچھ نہیں۔ اصل بات بدنیت اور پیٹ کا کتّا بننا اور پھر مٹ جانا تھا۔ ایک مکمل انہدام کی جانب انسان کا ذہنی اور جسمانی سفر جاری ہے یہاں تک کہ حافظے کا انہدام ہی سب کی معراج ہے۔

 

ہوا اس دنیا کو بھی جانتی تھی کہ وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ خون کی زنجیر محض ایک حافظہ ہے۔ ساری عبادتیں، سارے مذاہب، سارے اخلاقی فعل دراصل حافظے سے پیچھا چھڑانے کی ترکیبیں ہیں۔ وہاں سب اپنی تنہائی میں مسرور ہوں گے۔ ایک بھیانک بے شرمی کے ساتھ۔ ایسی بے شرمی سے تو بھوت بھی پاک ہے۔ بھوت اس لیے ہے کہ وہ اِس دنیا سے بہرحال کوئی نہ کوئی رشتہ تو قائم رکھتا ہی ہے۔ یہ اور بات کہ اس رشتے میں بدنیتی، حسد اور شیطنت بھری ہو، مگر وہ اپنے حافظے سے دست بردار نہیں ہوتا اور اِس کی سزا اُسے نُکیلے ناخنوں اور آنکھوں کے غاروں کے ذریعے دے دی جاتی ہے۔

 

تو اس دنیا کے تمام رشتے، تمام جذبے، محبتیں، نفرتیں، شہوتیں سب کو حافظے سے نکالناہوگا۔ انسان ایسی جنت میں جاکر کیا کرے گا، جہاں اُسے یہ بھی یاد نہ ہوگا کہ اُس کا باپ کون تھا؟

 

اس نفسا نفسی کے عالم کو برداشت کرنا ہوگا۔ صبر کے ساتھ برداشت کرنا۔

 

ہوا کو اُس کا چہرہ پل بھر کو صاف نظر آگیا۔ وہ ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرکے آنے والے کا تھکا ہوا چہرہ تھا۔ بہت طویل سفر، اتنا ہی طویل جتنا کہ گرم اور سرد ہوائیں طے کرتی ہیں۔ وہ ایک چلتی ہوئی ہوا کی طرح اپنے گھر آیا تھا۔

 

گھر؟

 

اگرچہ گھر شاید کہیں نہ تھا، بس ایک کالاپانی تھا اور ایک بہتا ہوا مہیب کنارہ تھا جو ملبہ نظر آتا تھا۔ جس پر وہ ٹھوکریں کھاتا اِدھر سے اُدھر گھوم رہا تھا۔ ایک اندھے اور حواس باختہ شخص کی طرح ایک بار تو وہ اس طرح گرتے گرتے بچا جیسے کوئی سوکھا پتّہ اپنی ہی پرچھائیں پر گرتا ہے۔ یہ خواب کی مانند تھا، مگر خواب دیکھتے وقت کوئی اپنی ایک آنکھ تک نہیں دیکھ سکتا۔ کاش کہ وہ دیکھ سکتا۔ ہوا کی مانند دیکھ سکتا اپنی اُس ایک آنکھ کی بدنصیبی، اُس کی خشکی اور اس کی نمی۔ افسوس کہ یہ کہاں ممکن تھا کہ جو آنکھ خواب دیکھے، اُس آنکھ کو خواب دیکھنے والا بھی دیکھے۔ کہرے کی مار سے،اپنے آخری اسٹیشن پر بہت دیر سے پہنچنے والے، شکست خوردہ، ایک شرمندہ اور تھکے ہوئے ریلوے انجن کا سا چہرہ دیکھے جو بس اُداس ہوکر سیٹیوں کی مُطلق خاموشی میں دھواں پھینکے جاتا ہے ۔
ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آیا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھٹی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(11)

 

ولیم جھنڈو والا پہنچا تو ایک بج چکا تھا۔ دُھند چھٹ چکی تھی۔اس لیے گاؤں اور ارد گرد کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ویسے بھی سردی کی دھوپ جب چمک کر نکلتی ہے تو کچھ زیادہ ہی سفید ہو جاتی ہے۔ ولیم کا یہ چھوٹا سا قافلہ اُس کی ایما پر پانچ چھ منٹ تک جھنڈو والا سے ڈیڑھ سو گز پیچھے ہی رکا رہا۔ جیپ پر بیٹھے بیٹھے ولیم جائزہ لینے لگا۔ گاؤں کے ارد گرد زیادہ تر کماد، ہری ہری برسن کے کھیتوں کے بیچ دُور تک پھیلے ہوئے توریے کے زرد زرد پھول اور چری کی فصلیں تھیں۔ ایک دو جگہ گُڑ بنانے کے بیلنے لگے ہوئے تھے اور آگ پر چڑھی ہوئی گنے کی پت سے اٹھنے والی حرارت کی خوشبو ہوا میں گھل مل کر سانسوں کو مہکارہی تھی۔ کچھ سکھ گڈوں پر چارہ لاد کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رہٹ اور کاریزیں تھیں۔جن کا شفاف پانی کھالیوں میں تیرتا ہواتوریے اور برسن کی فصلوں میں پھیلتا جا رہاتھا۔ اس کے علاوہ کھالیوں کے کناروں پر ٹاہلیوں اور پیپلوں کے سایہ دار درختوں کی قطاریں آگے پیچھے جمی ہوئی تھیں۔ فصلوں کی سرسبزی اور پانی کی طراوت آنکھوں سے ہو کر ولیم کے دل میں اُترنے لگی۔ اُسے جھنڈو والا کے مضافات دیکھ کر وسطی پنجاب کی ہریالیاں شدت سے یاد آئیں۔ گاؤں کے درمیان کھڑے گُردوارے کا منارہ دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ پورے گاؤں کا ظاہری ماحول پرامن اور اطمینان بخش تھا۔جس سے ولیم چند لمحے کے لیے متاثر ضرور ہوا۔ جودھا پور کی نسبت یہ گاؤں زیادہ خوش حال دکھائی دیتا تھا لیکن اس سب سر سبزی کو دیکھ کر ولیم نے کسی خیال کے پیشِ نظر انسپکٹر متھرا سے اچانک ایک چُبھتا ہوا سوال کر دیا۔متھرا کہیں ایسا تو نہیں، جھنڈو والا کی ہریالی اور فصلوں کی شادابی کی جڑوں میں ارد گرد کے گاؤں کا خون سینچا جاتا ہے۔

 

متھر داس ولیم کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا۔ غالباً متھرا جانتا تھا کہ ولیم اس کی کسی بھی بات سے اب کچھ بھی اخذ کر سکتا ہے چنانچہ خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر اُن پر پڑ چکی ہے اور وہ اُسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، اُن کی اس مشترکہ عادت سے اُسے سخت نفرت تھی۔ وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی۔ ولیم نے دلبیر کو حکم دیا کہ وہ گاڑی آگے بڑھائے۔ لہٰذا جیپ گاؤں کی طرف بڑھنے لگی۔ متھرانے ایک دوبار پیچھے نظر ڈالی۔ لوگ جوں کے توں کھڑے دیکھتے رہے حتٰی کہ جیپ جھنڈو والا میں داخل ہو گئی۔ ولیم کو یقین تھا کہ یہ لوگ اپنا کام چھوڑ کر یا جلد نپٹا کر تماشا ضرور دیکھنے آئیں گے۔

 

دلبیر سنگھ نے جیپ گاؤں کے عین وسط میں کھڑی کر دی۔ سو فٹ قطر کا چوک تھا۔جس کے ایک طرف وہی گوردوارہ تھا جس کا منارہ اور گھنٹا ولیم گاؤں سے باہر ہی دیکھ چکا تھا۔ بعض مکان چھوٹی اور پکی اینٹوں کے تھے مگر اکثر کچے ہی تھے۔ کچے مکانوں پر چکنی مٹی کے ساتھ نہایت صفائی سے لیپ ہوا تھا۔ چوک کے عین درمیان میں ایک شرینہہ، تین چار شیشم کے پیڑ اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ سب کے پتے جاڑے کے سبب یا تو جھڑ چکے تھے یا ٹہنیوں پرپیلے اور خاکستری رنگوں میں تبدیل ہوئے کسی ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے۔ عورتیں جو ادھر اُدھر آ جا رہیں تھیں،زیادہ تر لہنگے پہنے ہوئے تھیں۔ مرد چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک قریباً ایک ہی ہیئت میں جُوڑا اور پگڑ میں نظر آئے۔ ولیم نے یہ بات بار بار سنی تھی کہ سکھ مسلمانوں کی نسبت کم متعصب ہیں لیکن ظاہری ہیئت میں اُسے سکھ زیادہ بنیاد پرست لگے۔

 

مسلمانوں کی اکثریت نہ تو داڑھی رکھتی تھی اور نہ ہی نماز کی طرف توجہ دیتی تھی۔ اِن کے مقابلے میں سکھ داڑھی اور بالوں سے بھرے رہتے۔ گاؤں کی گلیاں تنگ ضرور تھیں مگر مکانوں کے احاطے کُھلے کُھلے تھے۔ چاہے وہ پکے تھے یا کچے۔احاطوں میں شیشم اور کیکر کی لکڑی کے بڑے بڑے پھاٹک تھے۔ دیواریں قد آور نہ تھیں اس لیے احاطوں کے اندر تک نظر جاتی۔ اکثر احاطوں میں مال مویشی بندھا تھا جنھیں دیکھ کر لکڑی کے بڑے پھاٹکوں کی سمجھ آ جاتی تاکہ گڈ اور مویشی آسانی سے گزر جائیں۔

 

ہر گھر میں نیم، بیری، شیشم، شرینہہ یا اسی طرح کوئی نہ کوئی سایہ دار درخت ضرور تھا۔ گلیاں جو تھوڑی دیر پہلے قریب قریب خالی تھیں، ولیم کے گاؤں میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد سکھوں کو اپنے گھروں سے باہر کھینچنے لگیں۔ اُن کے لیے گاؤں میں کسی گورے کی آمد طوفان سے کم نہیں تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل تو آئے تھے مگر جودھا پور کی نسبت اِن کے ہاں خوف کی کیفیت زیادہ تھی۔ ہر ایک جانتا تھا کہ مونگی کی تباہی اور قتل تو بہرحال جھنڈو والا نے ہی کیا ہے۔ ولیم دیکھ رہا تھا،لوگ آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کر رہے ہیں۔خوف کے باوجود ولیم کے ارد گرد کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص سے متھرا داس نے پوچھا،او بُڈھے،سردار سودھا سنگھ کا کچھ پتا ہے؟

 

اس شخص نے جس کی داڑھی ناف تک آتی تھی اور ہاتھ میں سیر بھر کا لوہے کاکڑا تھا، ہاتھ جوڑکر پرنام کیا اور کہا، صاحب جی وہ سامنے سودھا سنگھ کی حویلی ہی تو ہے۔پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے،لو جی وہ سردارصاحب خود ہی آ رہے ہیں۔ ولیم نے سامنے دیکھا، سو فٹ کے فاصلے پر سردار سودھا سنگھ آ رہا تھا۔ اُس کے آگے پیچھے آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ہوئے تھے۔ سردار کا جسمانی ڈیل ڈول، مونچھوں کا تاؤ، داڑھی کا لمباؤ اور ہاتھ میں پندرہ تولے سونے کا کڑا دیکھ کر ولیم کو ایک دفعہ کپکپاہٹ سی آ گئی۔ مگر ہر حکمران کے اندر چونکہ ایک غیر مرئی طاقت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ولیم نے اپنی کیفیت پر جلد ہی قابو پا لیا اور چہرے پر کسی بھی احساس سے عاری نقش واضح کر لیے۔ اتنے میں سردار سودھا سنگھ نے نزدیک ہو کرہاتھ جوڑے اور پرنام کیا۔ ولیم نے اس کا جواب انتہائی سرد مہری سے ویلکم کہہ کر دیا۔ اس کے بعد متھرا سے مخاطب ہو کر کہا، متھرا ہم کچھ دیر سودھا سنگھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اِن سے کہو، بیٹھنے کا انتظام کرے۔ ولیم نے سودھا سنگھ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا تھا اور گفتگو کا انداز بھی دو ٹوک تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صاحب کمشنر بہادر کے موڈ ٹھیک نہیں تھے۔

 

سودھا سنگھ سے بالواسطہ مخاطب ہونا اور بے پروائی سے پرنام کا جواب دینا ایسی گستاخی تھی جس نے اُس کی طبیعت کو نہایت منغض کیا۔ اُس نے سوچا سب قسمت کے کھیل ہیں،ورنہ اس گوری چمڑے کے چھ فٹ بالکے کی کیا حیثیت تھی۔ ابھی زمین میں کِلّے کی طرح گاڑ کر ساتھ ڈاچی باندھ دیتا۔یا پھر چھدّو سے کہتا کہ اِسے ذرا جھانبڑ پھیر اور بیلنے پر بیلوں کی جگہ اِس فرنگی کو جوت دیتا۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاتھا آخر سرکار انگریز تھی۔ چنانچہ غصے کے باوجود سودھا سنگھ نے چہرے پر خوشگوار سی کیفیت پیدا کرتے ہوئے کہا، سرکار کا جھنڈو والا میں قدم رکھنا ہمارے بھاگ ہیں۔ صاحب بہادر کو برا نہ لگے تومیری حویلی حاضر ہے،وہیں بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سردا ر جی کے چہرے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ ولیم نے قدم بڑھائے تو متھرا فوراً باہر کی طرف ہو کر تعظیم سے چلنے لگا۔ دونوں سنتری بندوقیں لیے ولیم کے پیچھے ہو گئے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا تو دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ حویلی کی طرف بڑھا دی۔

 

ولیم جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا، اُس کی ہیبت نے ایک دفعہ پھر اُسے اپنی جکڑ میں لے لیا۔اتنے بڑے اور وسیع احاطے میں چاروں طرف سینکڑوں برآمدے اور برآمدوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنائئے گئے سینکڑوں ستون ایک کے بعد ایک،اس طرح پھیلے تھے جیسے ستونوں کے جنگل آْباد ہوں۔ یہ تمام ستون نوے کے زاویے کی خمدار ڈاٹوں کا بار اُٹھائے ہوئے تھے۔ان ڈاٹوں کے سروں پر گول اور چُوڑی دار محرابوں والے بام پَر پھیلائے ہوئے آگے کی طرف جھکے تھے۔ برآمدوں کے اندر بیس بیس قدم ہٹ کر کمرے تھے۔جن کے دروازے اور کھڑکیاں شیشم کی سیاہ لکڑی کی اِس خوبصورتی سے تیار کی گئیں تھیں کہ کاری گروں کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ کمرے بھی اتنی ہی تعداد میں تھے جتنی تعداد میں دروازے تھے۔ انہی برآمدوں کے ایک طرف سے کافی کھلا رستہ چھوڑ کر ایک بڑا دروازہ مزید نکال دیا گیا تھا۔جو حویلی کے زنانہ حصے کا راستہ تھا اور سردار سودھا سنگھ کے گھر کا حصہ تھا۔ ولیم اس ساری ہیبت کو دیکھنے کے بعداپنی حکومت کی ہیبت کا اندازہ لگانے لگا جس نے اس پورے ملک کی تمام حویلیوں کی گردن اپنے پاؤں کے نیچے رکھ لی تھیں۔ ولیم نے فوراً ہی اِن خیالات کو سر سے جھٹک دیا اور موجودہ صورت حال کی طرف دماغ کو لے آیا۔
جب بیٹھ چکے تو سردار سودھا سنگھ نے انسپیکڑ متھر داس ا کو مخاطب کر کے پوچھا، تھانیدار جی، کلکٹر بہادر کیا لسی وسّی پیئیں گے یا کوڑے پانی کا بندوبست ہو جائے؟متھرا کافی حد تک ولیم کا مزاج سمجھ چکا تھا اس لیے فوراً منع کر دیا۔ حویلی میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے، جنھیں سردار سودھا سنگھ نے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ تمام لوگ چند ایک کے سوا جو سودھا سنگھ کے صلاح مشورے کے لیے ہر وقت کے لیے حاضر باش تھے، حویلی سے باہر جا چُکے تو سودھا سنگھ نے حویلی کا بڑا دروازہ بند کروا دیا۔

 

سودھا سنگھ نے ولیم کو بیٹھنے کے لیے ایک بڑے موڈھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ تین فٹ چوڑاپرشکوہ موڈھا بید کی شاخوں کو ریشم سے بُنی ہوئی رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا تھا۔ اِسے ہمیشہ سودھا سنگھ کی چارپائی کے سامنے رکھا جاتا اور وہی بندہ اس پر بیٹھ سکتا تھا،جو سودھا سنگھ کا خاص آدمی ہوتاورنہ یہ خالی پڑا رہتا۔ اِس کے دائیں طرف سامنے ہی سودھا سنگھ کی چارپائی تھی۔ یہ بھی پانچ فٹ چوڑی، سات فٹ لمبی اور اڑھائی فٹ اونچی صندل کی لکڑی کے پایوں اور بازووں سے تیار کی گئی تھی۔جسے ریشمی بان سے بُنا گیا تھااور پائنتی پر کھدّر کی موٹی دوہریں تھیں۔سرھانے دیسی کپاہ سے بھرا ہوا ریشمی تکیہ پڑا تھا۔ اُس کے ساتھ سودھا سنگھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔باقی مُوڈھے اور چارپائیاں دو رُویہ بچھے تھے،جو ایسے قیمتی تو نہ تھے جیسے چارپائی یا موڈھا مگر بُرے بھی نہ تھے۔ یعنی عام گھروں کی چارپائیوں اور مُوڑھوں کی نسبت تو اچھے خاصے مہنگے تھے۔ ولیم سامنے اُسی بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد سودھا سنگھ نے بڑی چار پائی پر ٹانگیں پسار لیں اورکرپان کمر سے کھول کر سرہانے کے ساتھ رکھ دی۔اسی طرح سودھا سنگھ کے آدمی بھی چار پائیوں پر بیٹھ گئے مگر سنتری بندوقیں لیے ویسے ہی ولیم کے دائیں بائیں کھڑے رہے۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے جیسے ہوا کا دم حبس کی وجہ سے گُھٹ جاتا ہے پھر فوراً ہی ولیم نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اُسی لمحے متھرا نے محسوس کیا کہ ولیم کے چہرے پر ایسارعب تھا کہ ابھی تک اُس نے اِسے ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔اب وہ محض ایک نو آموزاسسٹنٹ کمشنر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک منجھا ہوا انگریز سرکار کا نمائندہ معلوم ہوتا تھا۔

 

سودھا سنگھ ہم آپ کے جھندو والا میں آئے ہیں، براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آناپسند آیا؟

 

سودھا سنگھ جو پہلے ہی بے قراری کی کیفیت میں تھا، کو ولیم کے پہلے ہی سوال کی تیز کاٹ نے ہلا کے رکھ دیا۔ اُسے اول تو ولیم کا اس کے نام سے سردار کا لفظ ہٹا دینا ہی بُرا لگا کہ اپنے بندوں کے درمیان اس کی یہ صاف توہین تھی۔ اس پر ستم یہ کہ سوال جس چابکدستی سے کیا گیا تھا،اِس طرح کی بجھارتوں اور چالبازیوں کے سننے کی اُسے عادت نہیں تھی۔ یہ سب عمل سودھا سنگھ پر بہت گراں گزرا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، فوجا سیؤ جو سودھا سنگھ کی ہر مشکل معاملے میں مدد کر گزرتا تھا، نے سوچا، کہیں سودھا سنگھ کوئی بونگی نہ مار دے، فوراً بولا، سرکار یہ ملک آپ کا ہے۔ ہم آ پ کی رعا یا ہیں، آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنی رعایا کی سیوا کو آ سکتے ہیں۔ اس میں ہمارے پسند اور نا پسند کی کون سی بات ہے۔

 

ولیم کو فوجا سیؤ کی اس طرح دخل اندازی پر شدید غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا،اِس طرح کے لوگ بات سنبھالنے کے بہت ماہر ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کو چھپانے اور مجرم کو بچانے میں ان سے زیادہ کارآمد کوئی نہیں ہوتا۔
فوجا سیؤ کا جواب سن کر ولیم نے اپنی بیت سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور دوبارہ بولا، لیکن اُس نے فوجا سیؤ کی طرف دیکھا بھی نہیں مخاطب سودھا سنگھ کو ہی رکھا۔

 

سودھا سنگھ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں جھنڈو والا کے ہر شخص سے الگ الگ پرنام لوں۔ میں یہاں بیس منٹ ٹھہروں گا۔اِس دوران صرف آپ ہی سے بات کرنا میرے لیے عزت کا باعث ہوگی۔ جب اِن کی ضرورت پڑے گی تو انھیں تحصیل بلوا لوں گا۔ (پھر فوجا سیؤ کی طرف منہ کر کے) اور میرا خیال ہے، یہ بُڈھا بخوشی آ جائے گا۔ولیم کی بڑبڑاہٹ سن کر فوجا سیؤ تو بالکل ہی بیٹھ سا گیااور اُس کی ساری پُھرتیاں ہوا ہو گئیں۔

 

اُدھر سودھا سنگھ کو کلکٹرکی اس بات سے آگ لگ گئی، گویا کسی کے کلیجے پر سُرخ کوئلے رکھ دیے ہوں مگر جو مجرم کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے دل مسلسل خوف کی حالت میں چلا جاتا ہے اور قانون ایک ایسے کالے ناگ کی طرح دکھائی دیتاہے، جس کے آگے پیجھے ڈنک ہی ڈنک ہوں۔ یہی حالت اِس وقت سودھا سنگھ کی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا اس چھوٹے سے واقعے پر انگریز کمشنر خود آ جائے گا۔ دیسی تھانیداروں کی تو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس طرح بات کریں لیکن وہ اس سے پہلے کسی انگریز افسر سے کبھی دو بدو نہیں ہوا تھا اور طاقت ور حکومت کا ڈر بھی سر پر کھڑا تھا۔ اس لیے کچھ ایسا ویسا عمل کرنے سے عاجز تھا۔اگر کوئی اور ہوتا اور یہی کچھ بولتا جو یہ ولایتی مُنڈا بول رہا تھا تو وہ جھنڈو والا کی یادیں عمر بھر نہ بھولتا۔

 

آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا،صاحب بہادر، سردار سودھا سنگھ کو کیا پتا کہ سرکار اتنالمبا چکر کاٹ کر جلال آباد سے جھنڈو والا کیوں تشریف لائی اور ہماری عزت افزائی کی۔ واہگرو کی جَے سے سرکار کی مہمانی ہمارا فرض ہے، جو ہو سکا کریں گے۔

 

ویل سودھا سنگھ”ولیم دوبارہ بولا”آپ کا گاؤں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کنویں چلتے ہیں، گنے اور گندم ہے، ہر طرف سبزے ہی سبزے ہیں۔ سودھا سنگھ، یہاں مکئی اور برسن بھی بہت ہے، دو چار ایکڑ مونگی بھی ہوتی تو کچھ بُرا نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر سے لوٹنے کھسوٹنے کی حاجت نہ رہتی، خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

 

اس جملے کے ادا کرنے کے ساتھ ہی ولیم نے سودھا سنگھ سمیت دوسرے سرداروں کے چہروں پر بھی بھرپور نظر دوڑائی اور محسوس کیا کہ سب کے رنگ واضح تبدیل ہو گئے تھے۔

 

سودھا سنگھ اپنے آپ کو فوراً سنبھال کر بولا،صاحب بہادر آپ کی باتیں کچھ میرے اُوپر اُوپر سے گزر رہی ہیں۔ واہگرو کی جَے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے اُسی رَو میں کہنا شروع کیا، آپ کے ہمسائے میں عجیب طرح کے کام ہوتے ہیں۔ قتل وتل تو شاید سرداروں کا معمول ہے لیکن مونگی تو ہندو کھاتے ہیں۔خاص کر بنیے، کیا میں نے غلط کہا سودھا سنگھ؟ آپ تو شاید جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں۔

 

میں سمجھا نہیں صاحب بہادر “سودھا سنگھ نے دونوں پاؤں چارپائی سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا،، آپ مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ کون سی مونگی اور کون سے قتل؟

 

ولیم اب اُٹھ کھڑا ہوا اور سودھا سنگھ کی چار پائی پرپائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔ولیم کے اس عمل سے سودھا سنگھ ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا۔ اتنی جرأت تو جھنڈو والا میں خدا ہی کر سکتا تھا۔ سودھا سنگھ سمجھ چکا تھا کہ ولیم اُس پر ثابت کر رہا ہے کہ اب بات سیدھی سیدھی ہو گی۔

 

سردار صاحب،یہ بتائیے، اس وقت پنجاب میں کس کا راج ہے؟ولیم نے نہایت بے تکلفی دکھاتے ہوئے سوال کیا۔

 

سودھا سنگھ نے حیرت سے ولیم کی طرف دیکھا اور کہا، انگریز سرکار کا، کلکٹر صاحب، بھلا مجھے اتنا بھی نہیں پتہ؟ “ہلکا سا مسکرا کر” آج صاحب بہادرآپ عجیب طرح کی باتیں کر رہے ہیں( موڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کمشنر صاحب یہ موڑھا میں نے آپ ہی کے لیے رکھوایا ہے۔

 

ولیم سودھا سنگھ کے آخری فقرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر بولا، چلو یہ بات تو طے ہوئی کہ رنجیت سنگھ کا راج ختم ہو چکا اور اب پنجاب پر ہمارا راج ہے۔

 

سودھا سنگھ آخر کار گھبرا کر ذرا تلخی سے بولا، سرکار آپ بجھارتیں بھجواتے ہیں۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی تلخی کومزے سے محسوس کیا اور اُس کی حالت سے لُطف اُٹھاتے ہوئے دوبارہ بولا، سودھا سنگھ مَیں نے سمجھا تھا، جودھا پور جویہاں سے صرف پانچ کلو میٹر پر ہے، وہاں ایک بندہ قتل ہوجائے، بیس ایکڑ مونگی کی فصل ویران ہو جائے اور سردار سودھا سنگھ کو پتہ نہ چلے،تو ہو سکتا ہے اُسے ڈیڑھ سو میل دُور لاہور میں ابھی تک انگریزی راج قائم ہونے کی بھی خبر نہ ملی ہو۔وہ یہی سمجھے بیٹھا ہو کہ لاہور تخت ابھی تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارثوں کے پاس ہے۔ اس میں سردار صاحب بجھارتوں والی کیا بات ہے؟

 

سودھا سنگھ کے ماتھے پر دوبارہ پسینہ آگیا مگر جلدہی اپنے آپ کو سنبھالااور بولا”صاحب بہادر، مَیں لائل پور گیا ہوا تھا، کل آیا ہوں۔ رات پتہ چلاکہ جودھاپور میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے اور مونگی کو آگ لگ گئی ہے لیکن میں نے پورا سیاپا نہیں سنا۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی طرف بھرپور طنز سے دیکھا اور کہا، سیاپا سردار جی گورنمنٹ آپ کو بتا دے گی۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں کہ آپ لائل پور میں تھے۔آپ کی غیر حاضری میں یہ سانحہ ہوااورآپ کو کچھ پتہ نہیں۔اب ہمارا کام ہے، اِس پورے قصے کی تفصیل بتائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بدمعاشوں کا ٹولہ جودھاپور میں داخل ہوا۔ایک بندہ قتل کر دیا، مونگی کاٹ کر گڈوں اور چھکڑوں پر لاد لی اور باقی کو آگ لگا دی۔ حالانکہ یہ سب کام آپ کی موجودگی میں ہونے چاہییں تھے۔

 

سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ جس میں وہ کامیاب ہو رہاتھا۔ اُدھر فوجاسیؤ ڈانٹ کھا کر خاموش دُور بیٹھا یہ سمجھ چکا تھا کہ سودھا سنگھ کے ہاتھ پُڑوں کے نیچے آنے ہی والے ہیں۔ اُسے پتا چل گیاتھا کہ یہ فرنگی چھوہرا واقعی ٹیڑھی کھیر ہے۔ جس کو گھمانا ممکن نہیں۔چنانچہ اُس نے خموشی ہی میں غنیمت سمجھی اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔البتہ سودھا سنگھ نے یہ سمجھ لیا کہ اب بات کھل کر کی جائے، جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا۔کیونکہ سرکار کو اُس کے کرتوت کا پتہ چل گیاہے۔ ایسے ہی تویہ فرنگی چھوکرا اوکھی اوکھی باتیں نہیں کر رہا۔ لہٰذا وہ اب صاف صاف جواب دینے لگا اور کچھ دلیری سے بولا،کمشنر صاحب، غلام حیدر ابھی مُنڈا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شیر حیدر کی مجھ سے پرخاش تھی۔پر اس کی موت کا واہگرو کی سونہہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ بات اس چھوکرے کو کون سمجھائے کہ بزرگوں پر اتنے بڑے کُوڑ ے الزام سوچ سمجھ کے لگانے چاہئیں۔ پھر بھی جو ہو سکا جودھا پور کے معاملے میں آپ کی سیواکروں گا۔ کمشنر صاحب کسی نے یہ کام کر کے شیر حیدر اور مجھ سے پرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا” وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے شیر حیدر اور آپ سے پُرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے؟ کیا آپ سرکار کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

 

صاحب بہادر “اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سودھا سنگھ بولا” سرکار کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کمشنر صاحب، اکثر یہ کام خود ہی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے غلام حیدر نے اپنے بندے کو خود قتل کر دیا ہو۔ آپ اس معاملے پر بھی غور کر لیں۔

 

“بہت اچھا سودھا سنگھ” ولیم دوبارہ بولا،آپ بہت جلد اس الزام پر اُتر آئے ہیں جو آپ کے خیال میں بغیر ثبوت کے آپ پر لگ چُکا ہے لیکن آپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کے ایک دن پہلے شیر حیدر فوت ہوا ہے اور اُس کا بیٹا غلام حیدر جسے میرے خیال میں اس علاقے اور آپ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا، لاہور سے اسی روز پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے اتنی بڑی اور فوری منصوبہ بندی کی اس کو ضرورت پیش آ گئی ہو لیکن آپ کا اتنی جلدی اس پر ایسا الزام لگا ناآپ کے منہ پر نہیں پڑتا کیونکہ ابھی ابھی آپ اسے ایک ‘ندان منڈا’ کہہ چکے ہیں۔

 

اس کے بعد ولیم موڈھے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ”ویسے سردار صاحب، آج یہاں آنے کامقصد آپ سے اعترافِ جرم کروانا نہیں تھا۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ میں تو بس آپ کے درشن کرنے آیا تھا اور یہ بتانے کہ گورنمنٹ کی ابھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے حملے کر کے قتل اور لوٹ مار کرتا پھرے۔ دوسری بات سودھا سنگھ یہ ہے کہ چارپائی بھی گورنمنٹ کی ہے اور موڈھا بھی گورنمنٹ کا۔جس پر اُس کا جی چاہے بیٹھے اور جہاں جی چاہے عدالت لگا دے۔آپ رعایا ہیں، رعایا کی طرح رہیے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ سر کار کی اجازت کے بغیر جھنڈو والا سے باہر نہیں جائیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم چل پڑا اور اس کے ساتھ متھرا داس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

 

سردار سودھا سنگھ اِس کھلی دھمکی کو برداشت نہ کر سکا۔وہ اٹھ کر بولا، سرکار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کی بات سن کر ولیم ایک دفعہ رُکا اور پیچھے مُڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا”سودھا سنگھ یہی بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ سرکار نہ زیادتی کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ چاہے قاتل سردار سودھا سنگھ کے بندے ہی کیوں نہ ہوں اور قتل ہونے والا چراغ دین ماچھی ہی کیوں نہ ہو۔

 

اس کے بعد ولیم جلد ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ متھرا داس ولیم کی اس تیزی اور پھرتی پر حیران ہی نہ تھا، پریشان بھی تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ ولیم کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہو گا۔چنانچہ اُسے ہر طرف سے چوکنا رہنا تھا اور اس کیس میں نہ چاہتے ہوئے بھی غیر جانبدار فیصلے کرنا تھے۔ اُس نے اپنے آپ سے کچھ عہد کیے اور کیس کی تفتیش صحیح پیمانے پر کرنے کا تہیہ کرلیا۔کیونکہ ملازمت ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ بھی انگریز سرکار کی ملازمت، جس کا سکہ آدھی دنیا پر چلتا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – چھٹی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔ مچھروں سے ہاتھا پائی میں گزری رات کی کسالت اس کے جسم پر طاری تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ ان بے چارے بیماروں میں تقسیم کرنے کے لیے اس کے پاس کونین کی گولیاں تک نہیں تھیں۔ سنٹر کے سابق غائب حکمران نے اسے ذمہ داریاں سونپنے اور رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے تشریف لانے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ یکا یک اسے بھیڑ چیرتا ڈسپنسر نذیر نظر آیا جو اسی کی طرف آرہا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے دھیمے لہجے میں کہا کہ وہ گھر میں رکھی ساری ادویات لے آئے، انکوائری اور حساب کتاب بعد میں ہوتا رہے گا۔ نذیر نے آئیں بائیں کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے نئے افسر کی اٹل سنجیدگی دیکھ کر وہ خاموشی سے گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔

 

وہ نذیر سے برآمد ہونے والی ادویات کے چند پیکٹ مریضوں پر تقسیم کر کے جلد ہی فارغ ہو گیا۔ نذیر نے اصرار کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا کھانا اس کے گھر سے پک کر آئے گا، لیکن شاہد نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، اس نے چوکیدار کو کچھ رقم دے کر گاؤں کی جانب روانہ کیا کہ وہ اس کے لیے خوردو نوش کا سامان لے آئے۔ چوکیدار اشرف نے اس کے کوارٹر میں اجاڑ پڑے چولہے کو زندہ کیا اور اس کے لیے کھانا بنایا۔

 

مریضوں سے فارغ ہو کر اس نے سنٹر کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی، یہ پڑتال جلد ہی ختم ہو گئی، سنٹر کی زیادہ تر دستاویزات یقیناً گاؤں کی دوکان پر پکوڑے لپیٹنے کے کام آ چکی تھیں۔ وہ اکتا کر باہر نکلا، کچھ دیر وہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر اس نے گاؤں دیکھنے کا ارادہ ترک کر کے ریتلے ٹیلوں کی راہ لی۔ دن ڈھل رہا تھا اور ریت ابھی اپنے اندر جذب کی ہوئی حرارت فضا کو لوٹا رہی تھی، تھور کے پودوں اور خاردار جھاڑیوں میں کہیں کہیں کوئی بھورا پرندہ پھُدکتا نظر آ جاتا، دور دور تک مکمل خاموشی تھی جیسے یہ کوئی آواز کی پیدائش سے پہلے کی دنیا ہو۔ رات بھر وہ مختلف سوچوں سے الجھتا رہا تھا، وہ یہاں کیا کرے گا؟ وہ جو جھمگٹے کا عادی تھا اور حرکت کا، یہاں کی تنہائی اور سکوت میں کب تک رہ پائے گا۔ کیا اسے بھی اپنی ممکنہ تنخواہ کا کچھ حصہ متعلقہ افسر کے لیے مختص کردینا چاہیئے تھا اور اپنے پیش روؤں کی طرح سیدوں کی دہلیز پر ماتھا ٹیک کر گھر کی راہ لینی چاہیئے تھی؟ پیشانی کے عین درمیان پڑاؤ ڈالتے مچھر پر تھپڑ رسید کرتے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہیں رہے گا اور جب تک اس سے بن پڑا ایمانداری سے اپنا فرض نبھائے گا۔ بھاگ جانے کا رستہ ہمیشہ کھلا تھا۔ اس نے کل ہی جھنگ جانے اور ضلعی دفتر سے ادویات کی فراہمی کا بندو بست کروانے کا قصد کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔

 

اس چمکدار دن وہ مریضوں کے معائنے میں منہمک تھا جب اسے ایک اچانک غلغلے نے چونکایا، کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دالان میں بیٹھے مریض اور ان کے لواحقین باجماعت کھڑے ہورہے تھے، سلام شاہ جی، سلام شاہ جی کی بلند ہوتی صداؤں میں تین چار مصاحبین کے ہمراہ بوسکی کی قمیض اور سفید کھڑکھڑاتی شلوار میں ایک سرخ و سپید نوجوان صحن میں داخل ہوا۔ حاضرین کمر تک جھُک گئے، خواتین نے چادریں گھٹنوں تک کھینچ لیں اور گرمی سے بلبلاتے بچے اچانک خاموش ہو گئے۔

 

“چھوٹے شاہ صاحب بہ نفسِ نفیس آگئے ہیں، خیر ہو”، اس نے اپنے قریب نذیر کی سرگوشی سنی۔ اجتماعی وفور کی اس فضا میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اٹھ کر نوجوان شاہ صاحب کا استقبال کیا۔

 

“ آپ تو سنا ہے گھر سے ہی ہم لوگوں سے ناراض چلے ہیں، لیکن ہم پڑھے لکھے لوگوں کے قدردان ہیں، آپ کے اسقبال کو خود حاضر ہوگئے ہیں۔” نوجوان نے ایک کرسی پر تشریف رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں تکبر، تمسخر اور ایسا ٹھہراؤ تھا جو پشت در پشت مکھن میں پھسلتے رہنے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

 

“ نہیں مجھے کس بات کی ناراضگی ہوسکتی ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ ملنے آئے ہیں”۔ شاہد نے رسان سے کہا۔

 

“ آپ کی خدمت کریں گے ڈاکٹر صاحب، یہاں تو کوئی ٹکتا ہی نہیں، گھر بیٹھے تنخواہ بٹورتے ہیں، آپ تو سنا ہے یہاں رہ کر کام کریں گے”۔

 

“ہاں ارادہ تو یہی ہے”۔

 

“ بہت اچھے، بہت اچھے”، نوجوان جس نے اپنا نام بتانا ضروری نہ سمجھا تھا، توصیفی انداز میں گردن ہلا کر بولا، جس پراطراف و جوانب سے ماشاٗللہ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ شاہ صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اس کے جذبے اور لگن کی قدر کرتا تھا اور عنقریب اپنی جیب سے ہسپتال کے لیئے نیا فرنیچر مہیا کرنے والا تھا۔ پھر وہ شاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔

 

“ نذیر غریب آدمی ہے اور پھر وہ لوگوں کا علاج ہی تو کرتا رہا ہے، خود تو ساری دوائیاں نہیں کھا جاتا تھا، میری بات سمجھ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟”

 

“ ضابطے کی کارروائی تو ہونی چاہیے”۔

 

“ ضابطے تو محکوموں کے لیے ہوتے ہیں، آپ تو ہمارے افسر ہیں، ضلع کے افسران بھی ہمارے ہی ہیں، خوامخواہ آپ وہاں انکوائری ڈال آئے، ایسے چھوٹے موٹے معاملے ہم یہیں نمٹاتے ہیں”۔ شاہ نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور مصاحبین کے جلو میں گاؤں کی سمت بڑھ گیا۔

 

شام اپنے کوارٹر میں اس نے تین ٹانگوں والی میز کی مرمت کی جو اسے سنٹر کے مختصر سے گودام میں مل گئی تھی،میز برآمدے میں رکھ کر اس نے جھنگ سے خریدے ہوئے پلاسٹر آف پیرس کے پیکٹ اس پر منتقل کیے، سوٹ کیس سے مجسمہ سازی کے اوزار نکال کر ترتیب سے میز پر سجائے اور سگریٹ سلگایا۔

 

پلاسٹر میں تھوڑی سی اس دالان کی ریتلی گرد بھی ملا ئی جائے، ناہید کے نام۔ اس نے کش لیتے ہوئے سوچا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کار کی اگلی نشست پر بیٹھتے ہوئے ناہیدنے دھیان سے اپنی چادر سمیٹ کر دروازہ بند کیا، اگنیشن میں چابی گھماتے اس کے نئے نویلے شوہر کے وجود سے اٹھنے والے آفٹر شیو، ڈی اوڈرینٹ اور پرفیوم کے مرکب مرغولے کار کی فضا معطر کر چکے تھے۔ چوکیدار گیٹ کھول چکا تھا، گاڑی آہستہ روی سے کراچی کی ایک متمول بستی کی سڑک پر نکلی۔ ہسپتال کا راستہ دس منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا اور ناہید کو یہ بات بہت پسند آئی تھی، اسے کراچی کی آب وہوا اچھی لگی تھی اور سمندر، لیکن اس شہر کی ٹریفک نے اسے بوکھلا دیا تھا۔والدین کی مرضی اور اس کی رضامندی سے اس کا بیاہ دور کے رشتہ داروں میں کر دیا گیا تھا، یہ ڈاکٹروں کا خاندان تھا، جن کا ایک چار منزلہ ذاتی ہسپتال تھا۔ وہ خاندان میں ایک اور ڈاکٹر کی آمد پر خوش تھے، اس کے والدین احسن طریقے سے اپنا فرض ادا ہونے پر خوش تھے اور وہ اپنے دراز قد اور مضبوط کاٹھی کے مرد کے ساتھ خوش تھی جسے قیمتی سوٹ اور میچ کرتے ریشمی سکارف پسند تھے۔

 

مہندی کی شام جب اس کی سہیلیاں گا رہی تھیں اور وہ اپنے حنائی ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی، ایک لمحہ کے لیئے اسے اس مجہول سے کلاس فیلو کی یاد آئی جو اس سے میڈیسن اور سرجری کی بجائے رنگوں، مجسموں اور شاعری کی باتیں کرتا تھا۔ اور جس کے دماغ میں ایسے بے تکے انقلابی خیالات بھرے تھے جن کی عملی زندگی میں کوئی جگہ نہ تھی۔ گو شاہد نے کبھی اظہار نہ کیا تھا لیکن وہ اس کی مضطرب نگاہ اور لڑکھڑا جانے والے لہجے کو پڑھ چکی تھی۔ اس کی باتیں دلچسپ تھیں اورناہید کو اس سے انسیت سی ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں بادلوں کی طرح امنڈتی محبت کا ناہید کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

 

وہ ایک تنگ گھر سے دوسرے تنگ گھر میں منتقل نہیں ہونا چاہتی تھی، اسے تحفظ کی طلب تھی اور آسائش کی، ایک ایسی زندگی کی جس میں وہ قیمت پر دھیان دیے بغیر اپنی مرضی کا لباس خرید سکے، چمکدار اورخوش باش لوگوں کے بیچ بڑھیا ریستوران میں شام کا کھانا کھا سکے اور جس زندگی میں اسے بچوں کے سکول کی فیس کے لیے تین تین شفٹوں میں کام نہ کرنا پڑے۔ شاہد کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر اس شخص کو اتفاق سے ایسی زندگی مفت بھی مل جاتی تو وہ شاید اپنی میلی جینز سے ہاتھ صاف کرتا پہلی فرصت میں نکل بھاگتا۔

 

اس سے مکمل قطع تعلق ناہید کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اس کے روبرو اس کی محبت کو ٹھکرانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔وہ دن جب تقریباً روزانہ گرلز ہاسٹل کا چوکیدار اسے شاہد کی آمد کی اطلاع دیتا، وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیتی تھی۔کمرے میں اکیلی بیٹھی وہ تصور کی آنکھ سے اس پاگل لڑکے کو گیٹ پر بیچینی سے انتظار کرتا دیکھتی رہتی۔

 

(جاری ہے)
Categories
شاعری

فیصلہ

“تم نے یہاں آنے کا فیصلہ ہی کیوں کیا”

 

بالااخر شوذب نے چپ توڑتے ہوئے سوال داغ دیا۔ پچھلے کتنے سالوں سے میں اور شوذب ساحلِ سمندر پر اکٹھے ہوتے اور دیر تک خاموش سمندر کو خاموشی سے گھورتے رہتے۔ ہم کوئی بات نہ کرتے اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس خاموشی میں بہت سے سوال سرگوشیاں کرتے رہتے۔ لہریں آتیں اور ہمارے نیچے سے آہستہ آہستہ ریت پھسلتی رہتی ہمارے سوال اور نیچے کی زمین اُسی طرح رہتی یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہم چپ چاپ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ آج پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ شوذب نے یکایک ایک غیر متوقع سوال کر دیا۔ میں بہت دیر تک چپ رہا کہ شاید لہریں یہ سوال بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں۔ لیکن جب یہ سوال لنگر انداز ہو گیا اور اس کے بطن سے مسافروں کی طرح بہت سے سوال قطار بنا کر اُترنے لگے تو میں گویا ہوا:

 

“اس سمندر کے تیسرے کنارے پر اندھیرے میں ڈوبا ایک ویران اور بے آباد جزیرہ ہے۔ سنا ہے کہ وہاں ٹھیک آدھی رات ادھ جلی ہزاروں روحیں صف بنا کر ماتم کرتی ہیں اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی مکمل جل کر سمندر کا حصہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے بین میں اتنی نحوست ہوتی ہے کہ چمگادڑیں بھی اس جزیرے کا رخ نہیں کرتیں۔ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ یہ آج سے لاکھوں سال پہلے کا قصہ ہے کہ اُس جزیرے پر ایک وحشی قوم رہتی تھی۔ یہ لوگ ننگ دھڑنگ رہتے اور اپنے مُردوں کا کچا گوشت کھاتے، انہیں کوئی بھی زبان بولنی نہ آتی تھی۔ ہزراوں سال وحشت، ننگ،بھوک و افلاس کی اس جزیرے پر حکمرانی رہی۔ پھر ایک شام بستی والوں نے دیکھا کہ سورج کہ غروب ہونے سے محض ایک ساعت پہلے سمندر کی لہروں کے فرش پر چلتا ہوا ایک شخص اس جزیرے کے ساحل پر اُترا اور وہیں چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ اُسی رات سمندر نے سینکڑوں مچھلیاں ساحل پر اُگل دیں۔ وہ مچھلیاں اتنی لذیذ تھیں کہ بستی کہ ہر فرد کی صدیوں کی بھوک مٹ گئی۔ پھر اس بستی پر اتنا ہن برسا کہ جل تھل ہو گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ سب لوگ خوشحال ہو گئے، وحشی مہذب ہو گئے اور ہزاروں سال تک اُس بستی میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔ ان ہزاروں سالوں میں وہ درویش ساحل پر کھڑا رہا۔ وہ جس شخص کی سمت دیکھتا خوشحالی اس گھر کی باندی ہو جاتی، وہ جس کو چھو لیتا اسے کوئی مرض نہ چھو سکتا، اس کے قدموں کا بوسہ لیتے پانی کا اگر ایک گھونٹ بھی کوئی بانجھ عورت پی لیتی تو اس کے گود ایسی ہری ہوتی کہ خوش جمال اور دلیر فرزند پیدا ہوتے۔ لوگ کون و مکاں کے ہزاروں سوال اس کہ پاس لے کر آتے اور وہ ریت پر چند لکیریں کھنچتا اورسب مسئلے اور سوال یوں حل ہو جاتے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ یہاں تک کہ بستی کے لوگوں نے سوال کرنا چھوڑ دئیے۔ لوگ اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُس بزرگ کے پاس لاتے اور وہ ان میں دو دو کا جوڑا بنا دیتا۔ پھر ان گھروں میں کبھی لڑائی نہ ہوتی۔

 

اُسی بستی میں ایک عورت تھی جس کے حُسن کی تاب کوئی نہ لاتا۔ اُس کا خاوند ایک وفا شعار اور محنتی کسان تھا۔ ایک رات کہ پچھلے پہر چاند کو دیکھتے ہوئے اُس عورت نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور ایک عجیب سی خواہش میں مبتلا ہو گئی۔ اب کوئی پل اسے چین نہ پڑتا۔ ایک رات انتہائی بے چینی کے عالم میں وہ بستر سے اُٹھی اور آنکھیں بند کئے ساحل کی طرف جانا شروع ہو گئی، وہ ساحل سے چند قدم دور تھی کہ اُس نے دیکھا کہ چاند کی چاندنی میں سینکڑوں پریاں اُس بزرگ کہ گرد طواف کر رہی ہیں۔ اس نور نے پھیلتے ہوئے اُس کے وجود کو حصار میں لے لیا وہ اس کی تاب نہ لا سکی اور غش کھا کر گر گئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابھی رات اُسی طرح باقی ہے اور درویش کے گرد پریوں کا رقص جاری ہے اُس نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور دوڑتی ہوئی گھر واپس آگئی۔ اگلی بہت سی راتوں میں وہ اپنے پیٹ اور خواہش کو دباتی رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس عورت کہ ہاں ایک بچے نے جنم لیا جس کی زبان اُس کے ہونٹوں کے آگے لٹکتی رہتی اور اُس کی پیاس کبھی نہ بجھتی تھی۔ اس بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس گھر میں زوال آنا شروع ہو گیا۔ وہ جتنی بھی محنت کرتے پر برکت نہ ہوتی۔ خوشحالی کے لئے کئی سال تک اُس عورت کا شوہر باقاعدگی سے درویش کے لئے کھانا بھیجتا مگر وہ اُس میں سے ایک نوالہ بھی نہ کھاتا۔ ایک شام جب اُس کا گونگا بیٹا کھانا لے کرجا رہا تھا کہ اُس نے تھال کا ڈھکن اُٹھا کر دیکھا اور بھوک سے نڈھال ہو کر چند نوالے کھا لئے۔ اُس کے بعد وہ روز ہی ایسا کرنے لگا۔ گھر کی بھوک تو نہ مٹنا تھی نہ مٹی،پر اُس کی بھوک کا سامان ہو گیا تھا۔ جوں جوں وہ جوان ہوتا جا رہا تھا اُس کو عجیب سے دورے پڑنے لگے تھے وہ آدھی راتوں کو گلیوں میں روتا دوڑتا پھرتا رہتا اور اکثر ساحل کی طرف نکل پڑتا جس طرف جانا سب کے لئے ممنوع تھا۔ وہ ساحل کہ کنارے کھڑی کشتوں میں چھپ چھپ کر روتا رہتا۔ ایک رات وہ رو ہی رہا تھا کہ اُس کی نظر ساتھ والی کشتی پر پڑی جہاں ایک نہایت حسین لڑکی زاروقطار روتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنے درد بھول گیا اور وہ بے خود ہو کر ساتھ والی کشتی میں اُتر گیا۔ پھر ایسا روز ہونے لگا۔ ایک صبح جب ان دونوں کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے دیکھا کہ کشتی کے اوپر بستی کے لوگوں کہ سر جُھکے ہوئے تھے وہ انہیں حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کو پکڑ کر درویش کے پاس لے گئے کہ وہ ان دونوں کے ہاتھ تھما کر انہیں جوڑا بنا دیں۔ لیکن راستے میں ہی میں اس نے زور سے لڑکی کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ یہ ناقابل معافی جرم تھا۔ درویش کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ اُس نے لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر ایک اور نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ چلایا، گڑگڑایا اور گونگی زبان میں لاکھوں مناجات کیں، لیکن درویش کسی نہ ختم ہونے والی عبادت میں مصروف ہو گیا۔

 

اُسی رات ہزاروں سال بعد پھر اُس بستی میں قتل ہوا۔ گونگا اُس لڑکی کے شوہر کو قتل کر کے اپنی محبوب کو اُٹھائے کشتی کے پاس پہنچا۔ اُن کی کشتی چلنے ہی والی تھی کہ اسے کچھ خیال آیا اور کود کر کشتی سے نیچے اُترا اور دوڑ کر درویش کی طرف گیا جو کسی گہرے مراقبے میں تھا۔ درویش نے آنکھیں کھولیں اُس کی سمت ایک نگاہ دوڑائی اور بولا
“بالک، بیٹھو آج میں تمیں سنسار کا انت سمجھاتا ہوں، ہر کرم ایک جیون ہے، اس ساگر کا ہر دھارا پچھلے کی راکھ اپنی ادھ کھلی باہوں میں لئے پھرتا ہے، تم اگر چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

 

ابھی درویش اتنا ہی بول پایا تھا کہ اُسے اپنے دل میں خنجر کی دھار محسوس ہوئی۔ خنجر اُس کے دل کو کاٹ چکا تھا۔ لڑکا بھاگم بھاگ کشتی میں پہنچا۔ کشتی لہروں پر دھیری دھیرے چلنے لگی۔۔۔ ساحل پر خون بکھرتا رہا۔ سُنا ہے کہ رات اُس بستی پر آگ برسی اور ہر ذی روح، ہر شجر جل کر راکھ ہو گیا”

 

میری کہانی ختم ہو چکی تھی۔ شوذب حیرت سے میرٰی طرف دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

 

“ اُسس کش۔۔۔کشتی کا ک ک کیا بنا”

 

میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

 

“ آج کی شام کتنی لمبی تھی” میں نے سوچا۔ شوذب جیب میں سے شاید سگریٹ تلاش کر رہا تھا۔

Image: Jason de Caires Taylor

Categories
فکشن

پستان۔ گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-11
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بھری بھری سانسوں کی آواز آرہی تھی، جیسے نرخرے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہو، بلغم یا پھر کٹھل کا کوئی بیج۔ مرنے والا ایسی سانسیں نہیں لیتا۔ بدلتے ہوئے گہرے سرد اور ہلکے سرخ اجالے میں ایک شخص اپنی ہی کھال کی پوشاک پہنے ہوئے بستر پر الٹا پڑا تھا، کولہوں پر سے ڈولتی ہوئی ایک سفید رنگ کی چادر اس کو اور زیادہ لائق دید بنارہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ آس پاس کی ساری چیزیں اسے گھور رہی ہیں، دیکھ رہی ہیں اور مستقل اس کے وجود میں اپنے نکیلے اور تیز ناخن اتار کر اس کو لہو لہان کردینا چاہتی ہیں۔ آس پاس بکھری ساری کھردری اشیا کو اس بدن سے الجھن ہورہی تھی۔ بستر اور بدن کے درمیان گونجتی ہوئی دھک دھک کی صدا نے پورے ماحول کو موت کی آہٹوں سے ہم آہنگ کردیا تھا۔ ہواؤں کا تجسس پھیکا پڑتا جارہا تھا کیونکہ وہ کب سے بند دروازے سے اپنا سر مارے جارہی تھیں، باہر ڈرائنگ روم کا دروازہ بھٹم بھاٹ کھلا ہوا اتھا، جیسے کوئی چور اچکا اس پورے شہر میں نیندوں کی پھیلتی ہوئی سیاہی میں غوطہ نہ لگانا چاہتا ہو۔شراب کی ایک بوتل دروازے کے پاس چٹخی ہوئی پڑی تھی اور اس کا ڈولتا ہوا بے روح وجود بار بار دروازے کے سٹاپر سے ٹکرارہا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے پوری فضا غنودگی میں ہے، ہر شے کی پلک بھاری ہے اور نیند کی بلیا ں اپنے پھولے ہوئے ، گدگدے جسم کے ساتھ اس خاکی قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی ہیں، آوازوں پر چونک کردیکھنا اور پھر اپنے منہ کو بغل میں دبا لینا، کب سے اس ہلکی شفق مائل اداس کردینے والی دنیا میں یہی کھیل تماشا جاری تھا۔لیکن باہر ڈرائنگ روم میں کوئی وجود اپنے سائے سمیت صوفے کے نیچے اپنا ایک ہاتھ پھیلائے دراز تھا، اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ساکت جسم کی بے جان پتلیاں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جان نکل چکی ہے۔ ہونٹ ہلکے اودے ہورہے تھے اور ننگے بدن پر پھیلے ہوئے ، گول اور چکنے سینے میں کھنچی ہوئی سبز رگوں کے جال پر لگتا تھا کسی نے کبودرنگ چھڑک دیا تھا۔کمر دو چار بار پھڑکی تھی اور ایک ننھا کیڑا ہتھیلی سے رینگتا ہوا بغل کے باریک پسے ہوئے بھورے گچھے کی طرف کسی گھونگھے یا کچھوے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ سیلنگ فین یوں چرچرارہا تھا جیسے کسی بات پر خفا ہو، اس کی ناراض نگاہوں میں دھول جمی ہوئی تھی ، اچانک نیچے پڑے ہوئے وجود کے پاؤں اکڑنے لگے، تمام انگلیاں ایک معدوم رسی سے باندھ کر کھینچی جانے لگیں، انگلیاں خون کے انجماد سے گھبرا کر پچکنے لگیں، کیا وہ خون کا انجماد تھا یا کچھ اور، لگتا تو یہی تھا۔ مگر لگنے سے کیا ہوتا ہے۔اچانک اس وجود کے نتھنوں سے چنگھاڑتی ہوئی ہوا نکلی، آنکھوں کی سٹی ہوئی پتلیوں میں حرکت پیدا ہوئی ، گال سرخ ہوگئے، کان کی لویں گہری لال اور سینے کے پھیلے ہوئے ننھے ننھے راستوں کے نقشے پر سے نیلے تھوتھیے کو جھاڑ کر گویا کسی نے کنارے سے لگادیا، اب وہاں پھر وہی سبز رنگ کی شام مسکرانے لگی، جس میں نیلاہٹ کے اجلے آثار صبح اور دوپہر کے ملے جلے رنگوں کی طرح اپنی نکھری ہوئی صورتیں ابھارنے لگے۔

 

این نے گھبراکر آنکھیں کھولیں، اپنے گال پر دو طمانچے مارے اور اس بات کی تسلی کی کہ وہ زندہ ہے، اس کی سانس اپنے پورے جوبن سمیت جسم کی اینٹوں میں چنی ہوئی ہے۔وہ مسکرائی،ایک لمبی سانس اس نے باہر کی سمت دھکیلی اور پھر ایک خیال کے آتے ہی دوبارہ اداسیوں کی پگڈنڈی پر رینگنے لگی۔اچانک اسے محسوس ہوا جیسے بغل میں کسی نے زور کی چٹکی لی ہے، بلبلا کر اس نے ایک سرعت میں میلے بھورے سے لپٹے ہوئے ایک ننھے وجود کو ہوا میں اچھال دیا، کچھ بال بھی ٹوٹ گئے تھے، اور جس جگہ چٹکی کا احساس ہوا تھاوہاں ایک سوجن زدہ سرخ دھبہ اجاگر ہوگیا تھا۔ وہ بغل اٹھا کر ترچھی نظروں سے دیکھنے لگی اور جب آنکھوں کا وجود اس دھبے کی گولائی کو پوری طرح اپنے دائرے میں لینے سے قاصر رہا تو این نے انگلیوں کے پوروں پر سجی اور سلی ہوئی بے شمار ننھی ننھی آنکھوں کو اس کام پر لگا دیا۔وہ نہ جانے کب تک اپنی بغل کو سہلاتی رہی۔ہلکی ہلکی گدگدی اور اداسی نے اس کے اندر ہنسی اور مایوسی کی بالکل متضاد اور مختلف دھاراؤں کو بدن کی ندی میں گرایا، آخر کار اس نے تنگ آکر گدگدی کے آبشار سے خود کو الگ کر لیا اور دھپ سے زمین پر لیٹ کر دوبارہ مایوسی کے اندھے غار میں گم ہو گئی۔

 

این جس رات صدر کے پاس آئی تھی، وہ مل نہیں سکا تھا، کسی دوست کے یہاں تھا، گھر میں تالا تھا، چنانچہ اس نے بھری رات کے پیٹ میں اتر کر پھیلی ہوئی سڑکوں کی آنتوں پر مجبوری میں ایک غلیظ ہوٹل کا سہارا لیا۔اس ہوٹل میں پوری رات وہ ایک بدبودار کمرے میں بیڈ پر ہلکی روشنی کا لباس اوڑھ کر عریاں حالت میں سوچتی رہی کہ صدر سے سامنا ہونے پر آخر کیا کیا باتیں ہونگی۔وہ ضرور ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی غلط بھی تو نہیں ہوگی۔وہ اور کچھ بھی سوچنا چاہتی تھی، مگر بدبو کا اثر اتنا گہرا تھا کہ دماغ پوری طرح اس کے شور میں ڈوبنے لگا، قریب ساڑھے چار بجے وہ بے تاب ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور اسی ننگی حالت میں رسیپشن پر چلی گئی، سیڑھی پر ایک گیلے اور گہرے اور سرمئی رنگ کے کتے نے اسے دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا، وہ اس کے برابر سے نکلی تو وہ ڈر کر بھاگا اور اپنے چکنے وجود سمیت لکڑی کی سیڑھیوں سے پھسلتا ہوا زمین پر گرا، اور بھاگتا ہوا رسپشن کے پیچھے چلا گیا ، اس کے منہ سے اب بھی ہلکی ہلکی غاؤں غاؤں نکل رہی تھی۔کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا، اس نے زور زور سے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجانا شروع کردی۔کئی بار دھاپ دھاپ کی گونج سے کتا سٹپٹا گیا، اسے لگا جیسے اس پر حملہ ہونے والا ہے، وہ دیوار سے چمٹ گیا اور اپنے ہی وجود میں سمٹتا ہوا بالکل خاموش ہوگیا، جیسے خوف سے اسے سکتہ سا ہوگیا ہو۔اس شور سے کئی لوگ ہوٹل کے کچے اور اوبڑ کھابڑ کمروں سے جو بالکل چھپکلی کے زہر سے بنائی جانےو الی ٹھرا شرابوں کے پیپے کی طرح زنگ آلود اور بدبو دار تھے، آنکھیں ملتے باہر نکلے اور جب انہوں نے دیکھا کہ ایک جوان لڑکی بالکل ننگی حالت میں کاؤنٹر پر کھڑی بری طرح چیخ رہی ہے تو کچھ زیر لب مسکرانے لگے، کچھ اس کی ہذیانی کیفیت پر افسوس کرنے لگے ۔عورتیں اس منظر کو دیکھ کر چیخنے چلانے لگیں، ایک آٹھ سالہ بچہ دوڑ کر کہیں باہر سے اتنی رات گئے نہ جانے کیسے ہوٹل میں آدھمکا، اس کے پیچھے پیچھے ایک پھیلی ہوئی توند والا شخص تھا، جس نے ٹائی اور سوٹ میں اپنے مختلف کھانوں اور مٹیوں سے بھرے ہوئے بدن کو کس کر باندھ رکھا تھا۔ایک دو بار اس نے لڑکی کو پکڑنا چاہا مگر جب وہ اول فول بکتی رہی تو اس نے ایک الٹا ہاتھ لڑکی کے منہ پر رسید کیا، جب تک پڑوس کی دکان میں بیٹھ کر گپ شپ کررہے رسپشنسٹ کو بھی اس ہنگامے کی بھنک لگ گئی، وہ دوڑ کر یہاں آیا تو لوگوں نے اسے بھی پیٹنا شروع کردیا۔رو رو کر اس نے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہا، لڑکی ایک دراز بینچ پر اوندھی پڑی ہوئی تھی، اس کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ الغرض اس تماشے کا سد باب اس طرح کیا گیا کہ پولیس کو بلا کر این کو اس کے حوالے کردیا تھا۔نتیجتا صبح سوا چار بجے تک وہ ایک کال کوٹھری میں جہاں بہت سے زندہ چوہے، اندھے پروں والے کاکروچ اور دوسرے بے نام کیڑے اڑتے یا رینگتے ہوئے محسوس ہورہے تھے، پڑی ہوئی تھی۔اس تماشے نے اس کے پورے وجود کو تھکا دیا تھا، اسے یاد آیا کہ اس کی کوٹ کی جیب میں ، جوپولیس والوں نے اسے زبردستی پہنایا تھا، ایک ایسا سفوف رکھا ہے، جس کو چاٹتے ہی وہ بہت دیر تک دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوسکتی ہے۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ ننھی سی پڑیا نکالنی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ پھٹ گئی ہے اور ہلکے سبز رنگ کا وہ سفوف گہری جیب کے دھاگوں سے بری طرح الجھ گیا ہے۔بہرحال اس نے دو بار چٹکیوں میں جیسے تیسے یہ سفوف بھرا اور گلے میں انڈیل لیا۔

 

اس کے بعد ایک رنگ برنگی ، چمپئی اور بسنتی اداسی کے دو قوی ہیکل جوانوں نے اس کے دل پر بید یں بجانی شروع کردیں ، ان بیدوں سے بڑی مترنم مگر بوفر کی گہری اور حملہ آور آوازیں پیدا ہونے لگیں۔اسے لگا جیسے یہ جوان بیدیں برساتے ہوئے ، دل کو ساز بنا کر کوئی گیت گارہے ہیں ،مگر یہ گیت سننے کے لیے اسے پوری طرح خود کو ان لہروں میں ڈبونا پڑا، مگر اب الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔

 

تیرے دل میں پیتل کے جو پتے ناچ رہے ہیں
دھمم اور گھگھر گھگھر جو کیڑے ناچ رہے ہیں
بیلیں، جو پنڈلی سے لے کر چھاتی کو
ہلکے ہلکے ڈھانپ رہی ہیں
سانسیں جو روحوں کے جل تھل میں
کھانس رہی ہیں، کانپ رہی ہیں

 

اب وہ ان دونوں قوی ہیکل جوانوں کے بالکل نزدیک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں جوان ایک ہی شکل و صورت کے تھے، انہوں نے ماتھے پر انگوچھے باندھ رکھے تھے اور ان کی سفید سلکی لنگیاں، ایسے مشاقی سے بندھی تھیں جیسے پہلوان لنگوٹ باندھا کرتے ہیں، بھرے ہوئے بدن پر ایک کالے رنگ کی بنڈی تھی، دھپ دھپ کی آوازیں زوردار ہوتی جارہی تھیں، وہ جب بھی قدم آگے بڑھاتی تو اسے لگتا کہ وہ ایک پلپلے فرش پر پاؤں رکھ رہی ہے، جیسے بہت سے گدوں کو بچھا کریا بہت سی لاشوں کو سجا کر ایک فرش تیار کیا گیا ہو، وہ پھٹے ہوئے پیٹوں، جمی ہوئی چکنی اور سرد سانسوں اور کچلے ہوئے بھیجوں پر پاؤں رکھتی ہوئی ان دونوں جوانوں کے نزدیک پہنچ گئی، اور پھر ان دونوں جوانوں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا، بیک وقت، وہ دو وجود تھے، ایک نہیں مگر وہ اس کی رانوں پر ہلکے ہلکے چٹکیاں لے رہے تھے، اس کی سسکیا ںپھوٹنے لگیں، ایک بہت تیز سیاہ رنگ کے بھبھکے والی سانس نے اس کی پوری حلق کڑوی کردی، اس کی آنکھوں میں دھواں بھر گیا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی زبان پر ایک لجلجا جھینگا تیر رہا ہو، ان دونوں جوانوں نے اس کی شلوار کو جوش میں چیر دیا اور اپنے مضبوط آلہ تناسل کو اس کے جسم کے دو نچلے اور نہایت پتلے ہونٹوں میں پھنسا کر وہ پھر سے دھپ دھپ کا شور بلند کرنے لگے۔اف کتنا شور تھا، اب یہ پورا شور اس کے پستانوں سے ہوتا ہوا، بدن کے ہر گوشے میں پھیلتا جارہا تھا، وہ چیخنے لگی، اسے لگا جیسے وہ اب بھی اسی ریسپشن پر کھڑی زور زور سے ٹیبل بجارہی ہے۔ اچانک اسے لگا کہ ایک گرم ابلتی ہوئی ہانڈی میں اس کا منہ رکھ دیا گیا ہے، اور ان دونوں جوانوں نے اپنے ننگی ہتھیلیوں کو اس کے کوٹ کے اندر چمکیلی اور چکنی پیٹھ سے چپکا دیا ہے، اسے لگا جیسے اس کی رانوں پر سگریٹ کا دھواں چھوڑاا جارہا ہو، گرم، گیلا اور بے حد سفاک و سفید دھواں، جوا س کے وجود کو ایک بڑی سی ہانڈی میں حلیم کی طرح گھول رہا ہو، گھوٹ رہا ہو۔ اس کی سانسیں پھنسنے لگیں، اس نے پھڑپھڑا کر اس پورے کرب آمیز منظر سے نکلنا چاہا تو زبان پر بیٹھا ہوا وہ لجلجا جھینگا، سانپ بن گیا اور اس کے تالو، زبان، زبان کی نچلی اور اوپر پرت، حلق میں دھنسے ہوئے کوے اور داڑھوں کی باریک سوراخوں تک میں اپنا زہر چھوڑنے لگا۔
آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔وہ پولیس سٹیشن کیسے پہنچ گیا ، جب وہ دونوں باہر نکلے تو اس کے پورے وجود میں ایک درد بھرا نشہ اترا ہوا تھا، اس نے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے صدر سے بس اتنا پوچھا
تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟

 

‘تمہیں پڑوس کی بلڈنگ کے ایک چوکیدار نے دیکھ لیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ کوئی لڑکی میرے گھر گئی تھی، میں نے دماغ پر کافی زور دیا اور پھر یکدم تمہارا خیال آیا، پتہ ہے تم کب سے ہو یہاں؟’
‘کل صبح تو لائے ہیں مجھے؟

 

‘ہمم۔۔۔۔تین دن ہوچکے ہیں ، بڑی مشکل سے مجھے اس ہوٹل کا پتہ چلا جہاں تم نے ہنگامہ مچایا تھا۔’
این کسی بھاری مجرم کی طرح خود کو گھسیٹ کر چل رہی تھی، صدر نے ایک آٹو کیا اور دونوں واپس اس کے فلیٹ میں پہنچ گئے۔
Categories
فکشن

تخلیق کار

وہ کردار سچائی کا سیاہ شائبہ تھا جو حقیقت کو پسِ پشت ڈال کر میری سوچ پر حاوی تھا۔ اس نے کہا تھا

 

“جو بتائی گئی عمر کے تمام لمحات ہوا میں معلق کیے کھڑا ہو وہ ایک لمحہ۔۔۔۔ کمی کا ایک لمحہ۔۔۔۔انتظار کی تباہ کاریوں کو گلزار کر دینے والا لمحہ۔۔۔۔ جو المیہ ثابت ہو سکتا ہو۔۔۔ کسی نظر کی خاموشی المیے کو تقویت بھی بخشتی ہو۔۔۔ افراد سے کردار ہونے کا عمل ایسے ہی کسی لمحے کا منتظر ہوتا ہے۔ “

 

“کیا تم بھی ایسے ہی کسی لمحے کی تخلیق ہو ؟” میں نے اس سے پوچھا تھا۔

 

“نہیں ۔۔۔مجھے ایک نظم سمجھ لو وہ نظم جو کیفرکردار تک نہیں پہنچی ۔۔۔۔۔ جو ڈولتے خیالات کے تھرتھراتے ہونٹوں پر ابھی ایک نوحہ ہے ۔۔ وہ نوحہ جسے نوچنے کی کوشش میں تخیل کے تمام رنگ پھیکے پڑ گئے ۔۔۔ اور تم کیا ہو ؟”

 

“میں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ جن دریچوں میں روشنی کی کمی تھی وہ میری موجودگی بانٹ رہے ہیں ۔۔۔۔ میری موجودگی ایسے ہی دریچوں کی خواہش رکھتی تھی اور ایسے ہی دریچے مجھے تقویت بخشتے ہیں کیوں کہ وہ مجھے ڈراتے نہیں ہیں بلکہ مجھے اندھیروں میں دیکھنے کی صلاحیت سے نوازتے ہیں ۔۔۔۔ میں ، میں بس حوصلے کے عوض ان کو مسلسل اپنے ساتھ رکھے ہوئے یوں ۔۔۔۔ شاید کم روشن دریچے مجھے فرد سے کچھ بڑھ کر ہونے کی تسلی دیتے ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ تسلی میرے ہونے کی تصدیق ہے۔۔۔”

 

“تو کیا تم بھی کوئی نظم ہو؟” اس نے چھبتی نظر سے میرے چہرے کا جائزہ لیا ۔۔۔

 

“نہیں میں نہیں ہوں “۔۔۔ میں نے کہا۔

 

“تو کیا تم اپنی تشہیر میں قلم گھسنے والوں میں شامل ہو؟ جو اداسی نما کسی شے کو ذات پر مسلسل حاوی کرنے کی کوشش میں خودفریبی اور زمانہ فریبی میں مبتلا ہوتے ہیں؟ “

 

“نہیں نہیں “

 

” تو تم کیوں اداس ہو؟”

 

“میں اس کہانی کے لیے اداس ہوں۔۔۔ جس کی سسکیاں میری ہر سطر کے پیچھے مسلسل اٹھتی رہتی ہیں۔۔۔۔
یعنی ان کہی کے لئے اداس ہوں”

 

“اچھا تو تم بھی میرے خالق جیسے ہو “

 

اس نظم نے کہا جو سچائی کا سیاہ شائبہ تھی اور میں اپنے ہونے کی ایک اور دلیل نما تسلی سمیٹ چکا تھا۔

Image: Ben Goossens

Categories
شاعری

تمثیل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تمثیل

[/vc_column_text][vc_column_text]

نیل گوں آگ پہ شیشے کی صراحی رکھ کر
دستِ پژ مُردہ پہ پھیلا دی ہے بُھوبل اُس نے!
آہنی تار کو شہ رگ میں پرو کر آخر
شعبدہ باز نے زنبیل سے ساغر مانگا
جیبِ زنبیل سے اک کانچ کا ساغر لپکا
جس کے ہر سَمت منقّش تھی شباہت دل کی
خُوں چکاں زخم کے اُمڈے ہوئے فوّاروں سے
اُس نے جی کھول کے خُوناب کے ساغر کھینچے

 

دستِ پژ مُردہ میں جینے کی تمنّا جاگی
نیل گوں آگ پہ شیشے کی صراحی ٹُوٹی
جیبِ زنبیل سے پھر کانچ کا ساغر لپکا
جس کے ہر سمت منقّش تھی شباہت دل کی

 

شعبدہ باز کے اِس کھیل تماشے سے الگ
ہم بھی انگشت بَہ دنداں ہیں کہ اب کیا ہو گا؟
معرکہ ہوگا کوئی شہر کے بازاروں میں
یا در و بام پہ آسیب کا پہرہ ہو گا؟
جبر کا ہاتھ دبوچے گا ہر اک گردن کو
یا کہ اس جنگ میں جمہُور کا غلبہ ہو گا؟

 

سُرمئی شام کے بڑھتے ہوئے سنّاٹوں میں
دف کی آواز پہ اک شور بپا ہوتا ہے
پھیلتا جاتا ہے آسیب گُذرگاہوں پر
آگ کا شعلہ سرِ شام رہا ہوتا ہے
مشعلیں لے کے نکل آئے ہیں بستی والے
دیکھیے رات کی آغوش میں کیا ہوتا ہے؟

 

دوسری سمت فلک بُوس محلاّت کے بیچ
مسندِ زر پہ فرَو کش ہے وہ فرمان روا
جس کے برُوے خمیدہ کی ذرا سی جنبش
کج کلاہوں کو بھی لب بستہ و لرزاں کر دے
جس کے اطوار میں شامل ہے وہ نخوت کہ اُسے
قیصر و کَے کے مقابل بھی نمایاں کر دے
جس کے بس ایک اِشارے پہ کمر بستہ ہیں
خُود پہ اِتراتے جوانوں کے توانا لشکر
جس کی سطوت سے سراسَیمہ غلاموں کی قطار
سارے دربار کے اطراف میں استادہ ہے
تخت سے چند قدم دُور ذرا نیچے کئی حلقہ بَہ گوش
منتظر ہیں کہ اُنیں اِذنِ تکلُّم تو مِلے
پاس ہی اطلس و کمخاب کی چِلمن کے اُدھر
دائرہ باندھ کے بیٹھی ہیں کنیزیں ساری
جانے کس اینٹھتے لمحے کی طلب گیر صدا
جسم کی خواہشِ بے تاب کی سرکش ساعت
حُجلہء شب میں سُلگتے ہوئے چندن کا فسوں
خُود کو زربفت کے بستر پہ ہوَیدا کر دے
وصل کی رات کی لذّات کی سرگوشی ہی
ایک باندی کو شہَنشاہ کی ملکہ کر دے!

 

دوڑتے بھاگتے ہرکاروں کی سُرعت کے سبب
شاہی فرمان کی ترسیل میں تیزی آئے
اپنے ہی لوگوں سے لڑتے ہوئے لشکر کا قدم
پَے بَہ پَے یورش و یلغار سے اُکھڑا جائے
دف کی آواز پہ بڑھتا ہوا بے خوف ہجوم
اب کسی طور ‘ کسی پَل بھی نہ روکا جائے
شورشِ شہر کا انداز بدلتا جائے۔

 

دف کی آواز ہو’ نقّارہ ہو یا چیخ کوئی
جوق دَر جوق نکل آتے ہیں بستی والے
درد کے رشتوں نے یوں باندھ دیا ہے سب کو
ایک آواز پہ کُھلتے ہیں دریچے سارے
ظُلم جب حد سے گُزر جائے تو اک پارہء خَس
جبر کی چشمِ بَلا خیز سے لڑ جاتا ہے
قافلہ محملِ جاناں کا اشارہ پا کر
بے خطَر آگ کے دریا میں اُتر جاتا ہے
زخم گو سینے کی پاتال سے بھی گہرا ہو
چَین آجائے تو اک رات میں بھر جاتا ہے
بوڑھے سالار نے ہارے ہوئے لشکر سے کہا
لوگ یوں بِپھریں تو سُلطان کا سر جاتا ہے

 

آخری منظر

 

شہرِ دربند میں انفاس کی بُو پھیلی ہے
حجلہء ناز کے رخشندہ کلَس ٹُوٹے ہیں
راکھ کا ڈھیر ہوئے جاتے ہیں سب رنگ محَل
دف کی آواز پہ اُمڈا ہوا بے خوف ہجوم
ساحرِ وقت کے ایوان پہ آ پہنچا ہے
دستِ پژ مُردہ بھی جینے کی تمنّا لے کر
قیصر و کَے کے گریبان پہ آ پہنچا ہے

Image: M. F. Hussain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نارسائی کی دسترس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نارسائی کی دسترس

[/vc_column_text][vc_column_text]

خیال جیسے کوئی چونّی
پڑی ہو ذہنِ رسا کی پٹڑی پہ
آنکھ میچے

 

دل ایک بچہ سا منتظر
استوائے مقنا کے معجزے کا

 

زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟
رسائی ہو جائے تو غنیمت
نہ ہو سکے تو
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے

 

سخن نہیں گر تو کیا مرے دل!
خیال تو تیرا ہمسفر ہے

 

سو غم ہی کیا ہے
اگر نہ ابھریں
نظر میں آہن ربا تماشے
سرشت تیری سفر ہی ٹھہری
ترا نصیبا کہ تو انہی نارسائیوں سے سخن تراشے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[/vc_column_text][vc_column_text]

جنھوں نے باغ کی دھجیاں اڑا ڈالیں
پرندے اور بچے قتل کر ڈالے
مرے یسوع!
اے پیارے!
قسم انجیل کی یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں!!
یہ وہ بے مغز وحشی ہیں
جنہیں غسلِ جہالت راس آیا ہے
سنہری گیسووں والے
بہت پیارے بہت اپنے مسیحا!
پرسہء اہلِ محمد پیشِ خدمت ہے
وہ بچے بھی ہمارے ہیں
پرندے بھی ہمارے ہیں
جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے ہیں!!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

قینچی چپل-پانچویں قسط

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

آج شام کے کھانے کے وقت سے پہلے ہی عثمان کمرے سے نکلا اور میس کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں اُس کے جی میں آئی کہ گارڈ روم کے سنتریوں سے چند باتیں ہی کر لے۔ وہ فکرمند تھا کہ کہیں سچ مچ جوان اس سے بدگمان تو نہیں ہو گئے۔ ابھی گارڈ روم پہنچا ہی تھا کہ احسان کا فون آ گیا۔ “عثمان، تُم وہیں رُکو، میں آتا ہوں تو پھر اکٹھے کھانا کھائیں گے، باہر کہیں، کسی ہوٹل میں”احسان بڑے اچھے موڈ میں تھا اور اسے ابھی تک عثمان نے نہیں بتایا تھا کہ آج اُس کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔ وہ وہیں رُک کے مشین گن پکٹ سنتری سے باتیں کرنے لگا ۔روائتی افسرانہ احوال پُرسی۔ ‘کیسے ہو بھئی، ڈیوٹی کیسی جا رہی ہے، گھر بار سب خیریت ہے؟، ڈیوٹی میں کوئی مسئلہ، کوئی اُلجھن؟”وہ پوچھے جا رہا تھا اور نوجوان سیلر بڑی نیازمندی سے باچھیں کھلائے “سب اچھا سر” “الحمدللہ سر” کی رٹ لگائے جا رہا تھا۔

 

میں سمجھتا ہوں کہ دعا بندے اور رب کے درمیان ایک رابطہ ضرور ہے لیکن یہ ‘بم پروف دعا’ مجھے تھوڑی عجیب ہی بات لگی ہے” وہ بولا تو احسان بلند آواز میں ہنسا۔
“تُم نے بُلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنا؟”اُس نے تحکمانہ انداز میں پوچھا۔

 

“سر ابھی یونٹ میں کمی ہے جیکٹوں کی، صرف چند اہم سنتریوں کو دیئے گئے ہیں”سیلر نے بڑے ادب سے جواب دیا۔
“ارے ، یہ کیا ہے؟”عثمان نے سیلر کی مشین گن سے لٹکے ایک سفید ملفوف کارڈ کو دیکھ کر قدرے تجسس سے پوچھا تو کارڈ کی تحریر کے عنوان نے ہی بتا دیا جس میں لکھا تھا “آگ کے عذاب سے بچنے کی مسنون دعا؛ صحابہ نے یہ دعا آگ سے متعلقہ حوادث سے بچنے کے لئے تجویز فرمائی ” ساتھ ہی حدیث کا حوالہ بھی تھا۔

 

“سر یہ آج سی او صاحب کے حُکم سے تمام سنتریوں کو پاس رکھنے کی ہدایت ملی ہے”عثمان وہ کارڈ لے کر اس سے وہ دعا پڑھنے لگا۔

 

اسی اثناء میں اس کا موبائل فون بج اُٹھا تو پتہ چلا کہ احسان بھی آپہنچا تھا۔ احسان کو گارڈ روم سے اندر آتا دیکھ کر وہ ایک لمحے کو تمام ناگواری بھول کر آگے بڑھا اور دونوں بھائی گلے ملے۔ رسمی احوال پرسی کے بعد عثمان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ وہ ابھی تک احسان کو پرسوں کی روداد نہیں بتانا چاہ رہا تھا لہٰذا اس نے سرراہے اسی دعا والے کارڈ کا ذکر چھیڑ دیا جو وہ ابھی مشین گن سنتری کے پاس دیکھ آیا تھا۔
“بھائی آپ کا کیا خیال ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ دعا بندے اور رب کے درمیان ایک رابطہ ضرور ہے لیکن یہ ‘بم پروف دعا’ مجھے تھوڑی عجیب ہی بات لگی ہے” وہ بولا تو احسان بلند آواز میں ہنسا۔

 

“ارے سچ یار؟؟؟ یہ تمہارے سی او نے اسلامی ٹوٹکا استعمال کیا ہے؟”احسان نے ہنستے ہوئے کہا توعثمان کو تھوڑی ناگوار حیرت تو ہوئی لیکن اسے اندازہ ہو گیا کہ بھائی صاحب آج اچھے موڈ میں تھے۔

 

“یار عثمان، تمہیں ایک اور لطیفہ سُناوں۔۔۔” اس نے عثمان کے شانے پر تھپکی دی۔

 

“سلطنتِ عثمانیہ میں جب پہلی بار جب بخارات پہ چلنے والے بحری جہاز عثمانی فلیٹ میں شامل ہوئے تھے تو۔۔۔شائد ایڈمرل حُسین کوچک کا دور تھا۔۔۔ نہیں۔۔۔ خیر، چھوڑو جس کا بھی دور تھا۔،بحری جہازوں کے افتتاح کے دن خلیفہ نے حکم دیا کہ ان جہازوں کی بہتر کارکردگی اور سلامتی کے لئے صحیح بخاری کا ختم شریف کروایا جائے۔ تو پتہ ہے جواب میں ایڈمرل نے کیا کہا؟” آج شائد احسان کافی بولنے کا موڈ لے کر آیا تھا۔

 

“ایڈمرل نے کہا، ‘جنابِ والا، بحری جہاز بخارات سے چلتے ہیں، بخاری سے نہیں’۔۔”احسان نے بات مکمل کی تو دونوں بھائی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔پھر کافی دیر تک ہنستے رہے۔

 

بحری جہازوں کے افتتاح کے دن خلیفہ نے حکم دیا کہ ان جہازوں کی بہتر کارکردگی اور سلامتی کے لئے صحیح بخاری کا ختم شریف کروایا جائے۔
“یار سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طرزِ فکر نے ہمیشہ مروایا ہے ۔وہ کون سے خلفاء تھے جن کے دور میں نپولین نے مصر پہ حملہ کیا تھا”احسان اب نسبتاً سنجیدہ ہو گیا۔

 

“اُنہیں بھی جب پتہ چلا کہ نپولین فوج لے کر آنے والا ہے تو ساری اُوت قوم بھاگے، قرآن پاک کا ختم شریف کرنے، لیکن اس سے پہلے کے قرآن پاک کا ختم پورا ہوتا، نپولین نے آکر بسم اللہ کردی” احسان ہلکا سا ہنسا۔

 

“خُدارا بھیّا، رہنے دیجئے، فی البدیہہ تاریخ گھڑتے ہو آپ بھی” عثمان نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

 

“ناں یار، قسم سے، مولانا وحیدالدین خاں نے لکھا ہے۔۔۔” احسان نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔

 

“بس کریں بھائی، حد ہی کرتے ہیں۔ پتہ ہے، آج ایسی ہی باتوں کی وجہ سے آج سی او صاحب نے میری ایسی لی ہے کہ کیا بتاوں”عثمان نے بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے کہا تو احسان چونکا۔عثمان نے فیصلہ کیا کہ کھانا کمرے میں ہی کھا لیا جائے اور کچن میں فون کردیا۔ اس کے بعد کھانا آنے تک اس نےدودن قبل کی ساری روداد سُنا ہی ڈالی۔ اس کے بعد احسان کا ایک طویل “بھاشن” شروع ہو گیا۔ یہاں اُس نے چند پیش گوئیاں بھی کیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہ بلنڈر عثمان کے کیرئیر کے لئے خطرناک بھی ہو سکتا ہے جسے عثمان نے “ایک دم فضول” کہہ کر جھٹک دیا۔

 

احسان کی اس پیشن گوئی کو درست ثابت ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا۔ اگلے ہی روز نیول سیکریٹیریٹ اور کمانڈر کراچی سے خبریں ملیں کہ کمانڈر حنیف واہلہ اور لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی سے فرداً فرداً وقوعہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عثمان کو ایک طویل عرصے تک دامن بچا کر وقت گزارنا تھا۔خود یونٹ میں سی او صاحب کے غیض و غضب سے بچ کر رہنا بھی بڑا مشکل تھا۔اب متوقع تھا کہ ہفتے بھر میں بورڈ آف انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

سی او صاحب نے آج مغرب کی نماز کے بعد مسجد فرقان میں تبلیغی بیان سُننے کے لئے تمام افسران کو نماز کی جماعت میں آنے کی ہدایت کی تھی لہٰذا عثمان کو بھی نماز مغرب کے بعد ناصرف بیان سُننا پڑا بلکہ افسران کی سوالیہ اور قہرمانہ نظروں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اگرچہ جمعے کے خطبات کا موضوع نیول ہیڈکوارٹر کے نظامتِ تعلیماتِ اسلامی کے ڈائریکٹر کی طرف سے منتخب ہوتا تھا لیکن “بیان” میں عموماً خطیب صاحبان کو آزادی ہوتی تھی اور صبور صاحب اور ان کے ہم خیال خطیب صاحبان تو اکثر “لادین حکمرانوں” کو لعن طعن کا نشانہ بناتے تھے۔ آج کے بیان کے بعد مسجد کے باہر افسران کچھ دیر کے لئے ٹولیوں اور گروہوں میں باہمی دلچسپی کےموضوعات پر باتیں کر رہے تھے تو عثمان بھی ایک ٹولی میں ہو لیا جس میں دو رینکر افسر اور سب لیفٹیننٹ اسد، چیف صبور صاحب کے فرامین سُن رہے تھے۔

 

اگرچہ جمعے کے خطبات کا موضوع نیول ہیڈکوارٹر کے نظامتِ تعلیماتِ اسلامی کے ڈائریکٹر کی طرف سے منتخب ہوتا تھا لیکن “بیان” میں عموماً خطیب صاحبان کو آزادی ہوتی تھی
“سر یہ سب کفار کی سازشیں ہیں کہ مسلمانوں کو باہم لڑاو، ورنہ ہمیں جن لوگوں کے خلاف لڑایا جا رہا ہے، یہ وہی قبائلی نہیں ہیں جن کے جذبہء حُب الوطنی کے پیشِ نظر ایک عرصہ تک افغان سرحد کے دفاع کی ہمیں فکر تک نہیں ہوتی تھی؟۔۔۔ سر، اُن کے ساتھ پوری دُنیا سے ہمارے مسلمان بھائی اپنے گھر بار ، کاروبار چھوڑ کر اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے جہاد میں شامل ہیں اور بحمداللہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور وہ افغانستان میں امریکی استعمار کے خلاف جہاد کر رہے ہیں، اُنہیں ہم سے کوئی دُشمنی نہیں ہے، ہماری سرزمین تو ان کو پناہ فراہم کر رہی ہے جو کہ کفار کو گوارا نہیں ہے۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل دے کہ وہ امریکا سے ڈالر لے کر ہمارے مسلمان بھائیوں سے نہ لڑیں” صبور صاحب بڑی رازداری سے کہہ رہے تھے۔

 

“چیف صاحب، کیوں ناں ہم بھی ان نادان حکمرانوں کی پہنائی ہوئی وردیاں اُتار کر اللہ کی راہ میں پہاڑوں میں نکل جائیں کلاشنکوف اُٹھا کر۔۔۔۔” عثمان نے ناگواری سے کہا تو ایک بار ان سب پر خاموشی چھا گئی لیکن اسد نے جلدی سے موضوع بدل دیا جس کے بعد چند منٹوں میں یہ ٹولی منتشر ہو گئی۔

 

چیف خطیب صبور کی اضافی ڈیوٹی یہ بھی تھی کہ ہر ہفتے کی شام ایڈمرل سعیداللہ کے بنگلے پر جا کر ان کی اہلیہ اور صاحبزادی کو درسِ قرآن کے حوالے سے سبق دے آئیں۔ آج کے درس کے بعد حسبِ معمول چائے کے کپ پر ادھر اُدھر کی “دین کی باتیں” ہونے لگیں تو خطیب صاحب اپنے مافی الضمیر پر آئے۔

 

“دیکیھیں باجی، اللہ معاف کرے، ایڈمرل صاحب، سعیداللہ صاحب جیسے خُدا رسیدہ جرنیل تو اب کم ہی کہیں نظر آتے ہیں ورنہ جو بے دینی پھیل گئی ہے افسران میں، کیا بتاوں۔ نوجوان افسر شاموں کو گٹار اور وائلن لے کر میسوں کے کمروں میں شیطانی ناچ گانے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ کچھ افسران میں تو دُنیا داری اور غرور کا یہ عالم ہے کہ آخرت کی فکر نہیں ہے، بات کرتے ہیں تو دین کی آبرو دیکھتے ہیں نہ کسی سُنّت کا لحاظ۔۔۔” اور یوں بات بآسانی لیفٹیننٹ عثمان اور حافظ ناصر کے واقعے کی طرف چلی گئی۔ حمید رائٹر کے بطورِ سزا تبادلے کا قصہ بھی اسی داستان کی ایک کڑی تھی۔

 

“خطیب صاحب ۔۔۔ آپ کے یونٹ میں بھی ایسا ہو تا ہے، آپ کچھ کہتے نہیں ہیں کسی کو؟؟” ایڈمرل صاحب کی اہلیہ نے حیرت سے کہا۔

 

“نہیں باجی، ہم کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں۔ دین کی بات ہے، جو مان لے، جو نہ مانے، کسی پہ جبر نہیں ہے۔۔۔” خطیب صاحب نے کمال عاجزی کا اظہار کیا تو مسز سعید اللہ نے اُنہیں شہہ دی کہ فوراً ایڈمرل صاحب سے بات کریں اور اُنہیں حالات سے آگاہ کریں۔ خطیب صاحب کی بن آئی کہ اسی دوران ایڈمرل صاحب بھی ڈرائینگ روم میں وارد ہو چکے تھے۔
“میں آج ہی واہلہ سے بات کرتا ہوں۔۔۔ کمال ہے، اُس نے مجھے بتایا ہی نہیں ان واقعات کا۔۔۔ میں اپنی کمانڈ کے کسی یونٹ میں ایسی حرکت برداشت نہیں کر سکتا” ایڈمرل سعید اللہ نے ایک لمحے کے لئے اپنی برقی تسبیح سے اُنگلی اُٹھا کے زور زور سے ہلاتے ہوئے کہا۔

 

وہ ابھی میس کے دروازے پر ہی تھا کہ گارڈروم سے، جو کہ ایک سو گز کے فاصلے پر ہو گا، ایک فلک شگاف دھماکے کی آواز آئی اور ساتھ ہی اسے اتنی قوت سے گرم ہوا کا تھپیڑا لگا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔
اگلے دو تین دروسِ قرآن تک غازی صاحب کے حکم سے بلوچستان بھیجے جانے والے سیلرعبدالحمید کا تبادلہ خصوصی احکامات کے ذریعے اس کے آبائی علاقے سکھر کے نیول سلیکشن سنٹر ہو چکا تھا۔

 

اتوار کا دن ایک بار پھر آیا لیکن آج عثمان کو معمول سے بدیر سہی لیکن اتوار کے معمول سے پہلے ہی جاگنا پڑ گیا کہ آج اس کو آفیسر آف دا ڈے کے طور پر ڈیوٹی کرنا تھی۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب وہ وردی پہن کر گارڈ روم پہنچا اور معمول کے چند کاغذات دیکھ کر دفتر میں بیٹھ گیا۔ چھُٹی کے روز آفیسر آف دا ڈے کے ذمہ کچھ زیادہ کام کاج نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے ساتھ مارکیز کا ایک چھوٹا سا ناول لے آیا تھا جس میں کولمبیا کی بحریہ کے ایک سیلر کے دس دن سمندر میں تن تنہا ایک لائف بوٹ میں گزارنے کی روداد ہے۔ دوپہر کے کھانے سے پہلے تک وہ اسے پڑھ چکا تھا۔ کھانے کے لئے جانے سے پہلے وہ گارڈروم کے تمام سنتریوں سے ملا اور اُس نے سب سے فرداً فرداً اُن کے مورال اور دستیاب سامان کے بارے میں پوچھا۔ انہیں معمول کی ہدایات دے کر وہ واپس لوٹا۔ وہ ابھی میس کے دروازے پر ہی تھا کہ گارڈروم سے، جو کہ ایک سو گز کے فاصلے پر ہو گا، ایک فلک شگاف دھماکے کی آواز آئی اور ساتھ ہی اسے اتنی قوت سے گرم ہوا کا تھپیڑا لگا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔

 

“Feck!!!!” گھبراہٹ میں وہ بڑبڑایا اور سر پر پاوں رکھ کر گارڈروم کی طرف بھاگا جہاں دھوئیں، آگ، سنتریوں کے چلّانے کی آوازوں کا عجیب سا بے ہودہ ملغوبہ تھا۔ ساتھ ہی رائفل جی تھری کے فائر کی دھاڑ دھاڑ بلند ہوئی۔ گارڈ روم کی عمارت دھوئیں میں دھندلی نظر آرہی تھی اور ہیولے ادھر اُدھر دوڑتے نظر آ رہے تھے۔ خان زمان واحد شخص تھا جسے وہ فوری طور پر پہچان سکا۔ خان زمان نے دھڑا م سے مین گیٹ بند کیا تو دھوئیں کے بہت سے مرغولے ہوا میں بلند ہو چکے تھے، گرد اور مٹی کا طوفان بیٹھ رہا تھا اور آس پاس کی کچھ آتش گیر چیزیں جل رہی تھیں۔
“سر پلیز آپ وہیں رُکیں، ہم سب ٹھیک ہیں” خان زمان کی آواز ہی اُسے چلّانے کی دیگر آوازوں میں سمجھ آسکی۔ اسی اثناء میں پیچھے سے یونٹ کے چند اور باوردی اور سفید پوش لوگ دوڑے چلے آئے تو عثمان نے انہیں چلّا کر واپس بھیج دیا۔

 

“خان زمان، دروازہ کھولو۔۔۔” وہ چلّایا لیکن خان نے سُنی ان سُنی کردی۔ اسی لمحے عثمان نے غور سے دیکھا تو خان زمان کے چہرے کی جلد ایک طرف سے اُڑ چُکی تھی اور ووہ خون میں لت پت تھا۔ عثمان نے لپک کر گیٹ کھولا تو دوسری جانب ایک ہجوم دیکھا۔وہ لوگ ایک زخمی کو اُٹھا کر اندر کی طرف بھاگے آرہے تھے۔زخمی کے جسم پر تار تار، خون آلود وردی تھی اور اس کے چہرے کی شناخت ممکن نہ تھی۔ اسی لمحے عثمان کا سر چکرانے لگا اور وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے افسرو جوان اور دھماکے سے چھلنی درخت اور عمارتیں اس کے گرد گھومنے لگیں۔ اُس نے خود کو بمشکل سنبھالا۔

 

عثمان نے لپک کر گیٹ کھولا تو دوسری جانب ایک ہجوم دیکھا۔وہ لوگ ایک زخمی کو اُٹھا کر اندر کی طرف بھاگے آرہے تھے۔زخمی کے جسم پر تار تار، خون آلود وردی تھی اور اس کے چہرے کی شناخت ممکن نہ تھی۔
“چیف صاحب۔۔”وہ ڈیوٹی پیٹی افسر پر چلّایا لیکن ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے انجن کے شور کی آواز میں اس کی آواز دب گئی۔ دوبارہ چیخ کر آواز دینے پر پیٹی افسر سلیم اللہ قریب آیا۔ وہ بھی معمولی زخمی تھا۔

 

“سر خود کش حملہ تھا، تین لوگ زخمی ہیں، سب کچھ کنٹرول میں ہے “وہ اونچا اونچا بول رہا تھا اور اپنے ہاتھ میں پسٹل کارل والتھر لہرا رہا تھا جو کہ بحریہ کے افسروں کا Side Arm ہے۔ “سلیم اللہ، جلدی سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچاو۔۔۔”عثمان نے زخمی پیٹی افسر کو حکم دیا۔

 

“خان زمان۔۔” پھر اُس نے پوری قوت سے خان زمان کو آواز دی تو جواباًایک کراہتی ہوئی “سر۔۔۔” کی آواز آئی۔
“جلدی سے زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالو اور خود بھی بیٹھو۔۔۔ جاو، پی این ایس راحت” اُس نے حُکم دیا۔ پی این ایس راحت یہاں سے قریب ترین نیول ہسپتال تھا۔ اس کے بعد وہ سب سے اگلی مشین گن پکٹ کی طرف بھاگا جو کہ مشین گن سنتری کے زخمی ہونے کی وجہ سے خالی پڑی تھی۔ اُس نے لپک کر مشین گن اُٹھا لی اور یونٹ کی طرف جانے والے راستے کی طرف بھاگا۔

 

“خبردار، کوئی اس طرف نہ آئے۔۔۔” اُس نے سڑک کے درمیان کھڑے ہو کر باہر کی طرف سے آنے والے لوگوں کو روک لیا۔ کچھ دیر میں ایک سیلر نے آگے بڑھ کر اُس سےمشین گن لے لی اور نیول پولیس نے تمام علاقے کا گھیراو کر لیا ساتھ ہی سی او صاحب اپنی نیلی ٹویوٹا جیپ پر آدھمکے۔ وہ سفید شلوار قمیص میں تھے، سر پر نماز کی سفید ٹوپی تھی اور ایک ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل فون تھامے ہوئے تھے۔پھر کیا تھا، کچھ دیر کو کمانڈر کراچی کے سٹاف افسران، نیول پرووسٹ مارشل، مقامی ڈائریکٹر نیول انٹیلی جنس اور نجانے کون کون سے افسر وہاں آدھمکے۔ میرینز کے جوانوں کا ایک دستہ مختلف پوزیشنوں میں جائے وقوعہ پر ڈیپلائی ہو گیا۔

 

رات کو پریڈ گراونڈ میں سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ایک تابوت لایا گیا جس میں لیڈنگ میوزیشن گلفام مسیح کا جسدِ خاکی رکھا گیا تھا۔ اسے ایمبولینس سے اُتار لیا گیا۔ گلفام مشین گن سنتری تھا اور شدید زخمی ہونے کے بعد پی این ایس راحت میں دم توڑ گیا تھا۔ افسر اور جوان ایک قطار میں کھڑے باری باری تابوت کے پاس آتے، فلڈ لائٹ کی روشنی میں اس کا دیدار کرتے، شہید کوسلیوٹ کرتے اور آگے بڑھ جاتے۔ ایڈمرل سعید اللہ کا انتظار کیا جارہا تھا جنہوں نے ابھی شہید کا دیدار کرنا تھا۔ چیف صبور بھی یہاں موجود تھے اور لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کی جو شامت آئی تو اُنہوں نے سی او صاحب کو مشورہ دیا کہ چیف صبور سے کہیں کہ جب تک ایڈمرل صاحب آتے ہیں، خطیب صاحب فلسفہء شہادت پر قرآن و حدیث کی روشنی میں جوانوں سے خطاب کریں۔ اس سے بھی بُرا یہ ہوا کہ لیفٹیننٹ عثمان نے ،جو ساتھ ہی کھڑا تھا، اس کی تائید کردی۔”شٹ اَپ۔۔۔” عثمان کو تو واضح سا جواب مل گیا لیکن غازی صاحب کو دھیمی آواز میں خوب سُنائی گئیں۔

 

“سرایک غیر مُسلم کی میت پہ یہ خُطبہ دلوانے کا سوچ رہے ہیں آپ؟ کہیئے تو نمازِ جنازہ بھی پڑھوا دوں؟؟” سی او صاحب بہت بُرے موڈ میں تھے۔

 

سر پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ مرحوم لیڈنگ کے لئے شہید کا لفظ بھی استعمال نہ ہونے دیں۔۔۔” غازی صاحب نے سخت ناگواری سے لیکن بہت دھیمی آواز میں کہا۔
“اور عثمان صاحب کا کیا ہے، اُسے تو شوق ہے کہ شعائرِ اسلام کا مذاق اُڑایا جائے” سی او صاحب نے الفاظ چباتے ہوئے کہا تو غازی صاحب کو بہت بُرا لگا۔

 

“سر پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ مرحوم لیڈنگ کے لئے شہید کا لفظ بھی استعمال نہ ہونے دیں۔۔۔” غازی صاحب نے سخت ناگواری سے لیکن بہت دھیمی آواز میں کہا۔اس سے پہلے کہ کمانڈر حنیف واہلہ اُنہیں کوئی جواب دیتے، افسروں کے مجمعے میں ہلچل ہوئی اور ایک افسر نے بڑھ کر انہیں ایڈمرل سعیداللہ کی آمد کی خبر دی۔ ایڈمرل سعیداللہ وردی میں تھے۔ چھوٹی قامت اور دھان پان سی جسامت کے۔ ان کی ڈاڑھی سفید اور اتنی بڑھی ہوئی کہ ان کی ظاہری شخصیت کا نمایاں ترین حصہ لگ رہی تھی۔ کمانڈر واہلہ نے آگے بڑھ کر اُنہیں سلیوٹ کیا اور پھر بہت نیازمندی سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ پھر ایڈمرل صاحب ، اپنے مصاحبوں، ذاتی محافطوں اور دیگر افسران کے جلو میں شہید سیلر کے تابوت کی طرف بڑھے۔ قومی پرچم کا پلّو ہٹایا گیا جس کے نیچے شہید کا سانولا چہرہ سفید چادر اور سفید پٹیوں میں ٹھیک طرح سے نظر نہیں آرہا تھا۔ ایڈمرل صاحب نے ایک چُست سا سلیوٹ کیا اور اپنے ہاتھ سے پرچم کا پلّو دوبارہ شہید کے چہرے پر ڈال دیا۔ ساتھ ہی شہید کا بھائی ،جو سندھ پولیس کی وردی میں ملبوس پاس کھڑا تھا، آگے بڑھا اور اُسے ایڈمرل صاحب سے تعارف کروایا گیا۔

 

“اے ۔ایس ۔آئی شبّیر کھوکھر، سندھ پولیس، سر”لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی نے اُس کا نام پُکارا تو اُس نے ایڈمرل صاحب کو سلیوٹ کیا۔

 

“شبّیر بیٹا، تُم بھی اس مُلک کے سپاہی ہو، اپنا حوصلہ بُلند رکھو۔۔۔ یہ بڑی عظیم قُربانی ہے جو تُم نے دی ہے اس مُلک کے لئے۔۔۔” ایڈمرل صاحب نے اس کا شانہ تھپتھپایا تو وہ سسکیاں لے کر رونے لگا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے اُسے اپنی طرف کھینچ کر گلے لگا لیا۔ غازی صاحب اسے دلاسہ دیتے جا رہے تھے اور وہ ہچکیاں لے لے کر روئے جارہا تھا۔

 

اگلے چند روز عثمان کے لئے بہت کڑے ثابت ہوئے۔ ایک تو اس واقعے کے نتیجے میں شدید صدمے کی حالت نے اُس کی نیندیں اُڑا رکھی تھیں پھر بورڈ آف انکوائری کے سوالوں کا سامنا اور بھی مشکل تھا، جس کا اہتمام کمانڈر کراچی ہیڈکوارٹرز میں تھا۔ وہ ہر رات دیر سے تھکا ہارا بستر پہ آ گرتا تو تھکن اور نیند کے درمیان از حد کربناک لمحوں کا فاصلہ ہوتا تھا۔

 

اگلے چند روز عثمان کے لئے بہت کڑے ثابت ہوئے۔ ایک تو اس واقعے کے نتیجے میں شدید صدمے کی حالت نے اُس کی نیندیں اُڑا رکھی تھیں پھر بورڈ آف انکوائری کے سوالوں کا سامنا اور بھی مشکل تھا
“تم نے اس واقعہ سے ایک ہفتہ قبل ملنے والا ‘Threat Warning’ کا مراسلہ پڑھا؟ اگر پڑھا تو کیا اقدامات کیے یا کن اقدامات کی سفارش کی؟ واقعے کے روز صبح تم نے ڈیوٹی سنبھالنے سے پہلے موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا؟ اگر لیا تو کیا اقدامات کیے؟” وغیرہ جیسے سوالات، بلکہ لیفٹیننٹ کمانڈر غازی کے الفاظ میں “چوتیا سے سوالات” کا سامنا کر کے اسے یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید وہ اس واقعے میں خودکش بمبار سے بھی بڑا مجرم تھا۔ آگے بڑھتے ہوئے خودکش حملہ آور کو گولی مار کراُڑانے والا ڈیوٹی پیٹی افسر اور مشکوک حملہ آور کی نشاندہی کرنے والا پیٹی افسر خان زمان اسپتال میں پڑے تقریباً اسی طرح کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے۔ انکوائری میں تیس کے قریب شاہدین تھے جن میں حافظ ناصر بھی شامل تھا۔

 

“عثمان! تم انٹیلی جنس کی شدید نگرانی میں ہو لہذا میں تم سے لمبی بات نہیں کرسکوں گا البتہ ایک اہم اطلاع تمہیں دینا ہے، آس پاس رہنا” لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی آج صرف اتنی بات کہنے کے لیے بالخصوص آفیسرز میس میں چائے پینے، چائے کے وقفے میں آئے تھے۔

 

عثمان اپنے دفتر اور کمرے کی حد تک محدود ہو گیا تھا اور وہ جہاں کہیں بھی جاتا، کوئی نیول انٹیلی جنس والا اس کے آگے پیچھے سائے کی طرح منڈلاتا رہتا تھا۔ ڈھائی تین بجے کا عمل ہو گا جب اسے ایک سفید چٹ ملی جو ایک سیلر نے اس کی میز پر رکھ چھوڑی تھی۔

 

“Cleansing Station” لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کے ہاتھ سے لکھا ہوا پڑھ کر اسے سمجھ آ گئی۔ وہ تیزی سے اٹھا اور آفیسرز کے واش رومز کی طرف بڑھا۔ اندر آئینے کے سامنے لیفٹیننٹ کمانڈر غازی کھڑے سگریٹ پی رہے تھے۔

 

اوٹومین” انہوں نے اسے دیکھتے ہی آہستہ سے کہا۔

 

“کمانڈر کراچی کو گورنمنٹ اور نیول چیف کی طرف سے ڈنڈا آیا ہوا ہے کیونکہ سامنے والے پلازے کے سی سی ٹی وی کیمرا میں بم دھماکے کی ویڈیو آ گئی تھی اورایک ٹی وی چینل نے اس روز کوئی پچاس بار دکھا دی تھی۔ اب کمانڈ کو قربانی کا بکرا چاہیے، اور شاید سی او صاحب بھی تمہاری پتلون بچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے” ساتھ ہی انہوں نے سگریٹ پھینکی اور اسے بوٹ کی نوک سے مسل کر باہر نکل گئے۔

 

عثمان تھوڑی دیر بعد نکلا اور دفتر میں جا بیٹھا۔ انٹیلی جنس کا آدمی کچھ فاصلے پر واقع ماسٹر ایٹ آرمز کے دفتر میں بیٹھا تھا اور شاید اس کے واش روم کے دورے سے بے خبر تھا۔ اگلے ایک گھنٹے تک وہ مسلسل سگریٹ پیتا رہا اور شدید غصے کے عالم میں خودکلامی کرتا رہا۔

 

عثمان تھوڑی دیر بعد نکلا اور دفتر میں جا بیٹھا۔ انٹیلی جنس کا آدمی کچھ فاصلے پر واقع ماسٹر ایٹ آرمز کے دفتر میں بیٹھا تھا اور شاید اس کے واش روم کے دورے سے بے خبر تھا۔
“لیفٹیننٹ عثمان! کیا یہ انٹیلی جنس رپورٹ غلط ہے کہ سیلرز تمہاری لیڈرشپ سے خوش نہیں تھے؟! تمہارے خلاف توہین مذہب کی بنیاد پر درخواست بھی نیول انٹیلی جنس کو دی گئی تھی؟!”

 

اگلے روز جب بورڈ آف انکوائری نے یہ سوال داغا تو ایک بار تو وہ جل کر رہ گیا۔

 

“سر کچھ ایسا نہیں تھا، ایک سیلر کو شکایت تھی جو بعد میں رفع کر دی گئی” عثمان نے ٹالنے کے انداز میں کہا۔
“کیا تم بتاؤ گے کہ کیا شکایت تھی؟” ایک خضر صورت بزرگ افسر نے نرمی سے پوچھا۔

 

“شکایت۔۔۔” عثمان نے آہستگی سے کہا لیکن اسے لگا کہ غصے سے اس کا دماغ شاید ابل پڑے گا۔ دراصل گزشتہ چند روز سے وہ جس صدمے کی حالت میں تھا، وہ کسی سے اس کا اظہار بھی کرنے سے کترا رہا تھا کہ مبادا اسے بزدلی سے تعبیر کر لیا جائے۔

 

“سر، میں نے اسے میس ڈسپلن توڑنے پر کچھ بارکنگ دی تھی، جس کا اس نے غلط مطلب لے لیا اور خطیب صاحب سے شکایت کر دی” عثمان نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔

 

“عثمان صاحب، معاملات انٹیلی جنس تک یونہی نہیں پہنچتے” نیول انٹیلی جنس کے ایک افسر نے طنزیہ اور ترش لہجے میں کہا تو عثمان کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا۔

 

“کیا پہنچتا ہے نیول انٹیلی جنس تک؟! خوب جانتا ہوں صاحب، بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں اس وقت اپنی یونٹ کے شہیدوں کے سوگ کی حالت میں ہوں اور آپ کو یہ فکر ہے کہ میں نے ایک سیلر کو گانڈو چپل پہننے پہ کیوں ڈانٹا؟” عثمان کی آواز واضح طور پر بلند اور لہجہ تلخ ہو گیا جس پر تمام افسران چونکے۔

 

“دہشت گردی کی جنگ ہمارے گارڈ روم تک پہنچ چکی ہے، اور تم ابھی تک سبق سیکھنے کی بجائے چوتیا قسم کی الجھنوں سے انٹیلی جنس رپورٹیں بھر رہے ہو!! فلاں لفٹین نے فلاں مولوی کو بل شٹ ماری ہے، فلاں چیف بوسن میٹ جہاز سے پینٹ کا ڈبہ اٹھا کر لے گیا اور بیٹے کی سائیکل رنگ کر دی، فلاں پیٹی افسر لونڈے باز ہے اور فلاں لیڈنگ صاحب کی شاعری اخبار میں چھپی ہے! یہ باتیں پہنچتی ہیں نیول انٹیلی جنس تک؟؟؟ ۔۔۔” اب تو غصے سے اس کے منہ سے جھاگ بہنے لگی تھی۔

 

“شٹ اپ!!” انٹیلی جنس افسر خان بیگ نے اسے بکواس بند رکھنے کا حکم دیا لیکن عثمان نے ہاتھ لہرا کر یہ حکم مسترد کر دیا۔

 

“نیول انٹیلی جنس صاحب! ہمارے جوان مر رہے ہیں، اور ہم جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس لیے کہ ہم کنفیوز ہیں۔ ہمارے درمیان جو لوگ اپنے دشمن کی محبت میں مبتلا ہیں، ہمیں ان کی شناخت نہیں ہے۔ جنگ میں لیفٹننٹ عثمان جیسے بدنظم افسر نقصان کا باعث ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو سپاہیوں کو بلٹ پروف جیکٹ پہنانے کی بجائے ایک دعا لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے ہیں کہ اب وہ بچ جائیں گے؟؟ اور جب کوئی کرسچن سپاہی حسب حکم وہ تعویز گلے میں ڈال کر بھی مارا جاتا ہے تو وہ لوگ اسے شہید تک نہیں سمجھتے کہ وہ اس دعا پہ یقین نہیں رکھتا تھا” عثمان نے یہ کہا تو افسران کے چہروں پر واضح طور پر شدید بے چینی کے تاثرات تھے کہ وہ اس بات کا پس منظر اچھی طرح جانتے تھے۔

 

نیول انٹیلی جنس صاحب! ہمارے جوان مر رہے ہیں، اور ہم جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس لیے کہ ہم کنفیوز ہیں۔ ہمارے درمیان جو لوگ اپنے دشمن کی محبت میں مبتلا ہیں، ہمیں ان کی شناخت نہیں ہے۔
“عثمان، بکواس بند کرو” لیفٹیننٹ کمانڈر غازی جو آج کسی انتظامی معاملے میں بورڈ کی میٹنگ میں شریک تھے اور کافی دیر سے چپ بیٹھے اسے آنکھوں کے اشاروں سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، پھٹ پڑے۔

 

“کیا بک بک لگا رکھی ہے تم نے، جو بات پوچھی جائے، اسی کا جواب دو” غازی صاحب نے کافی اونچی آواز میں کہا تو سینئر ترین بورڈ ممبر نے اُنہیں ہاتھ کے اشارے سے خاموش کرا دیا۔

 

“Carry on Osman!”سینئیر ترین بورڈ ممبر نے کہا لیکن عثمان چُپ سادھ چکا تھا۔ تمام ممبران نے ہاتھوں سے قلم رکھ دئیے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عثمان کی نظریں میز پر گڑ ی تھیں۔کچھ دیر تک ہال پہ خموشی چھائی رہی اور یہی خاموشی اصل طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

 

“لیفٹیننٹ عثمان، دُشمن سے محبت میں مبتلا لوگوں سے مُراد کون لوگ ہیں؟؟ آپ کے مطابق اس واقعے میں کیا انٹیلی جنس فیلیور تھی؟ آپ کے خلاف سروس افیئر کی درخواست کا کیا ہوا؟ سپاہیوں کے گلے میں دُعائیں لکھ کر لٹکانے والا کیا قصہ ہے؟؟” اور اس طرح کے کئی سوالات اُس سے پوچھے گئے۔لیکن انکوائری کا رُخ اب واضح سمت کو مُڑ گیا تھا۔
آخری میٹیریل گواہی جو آج کی بورڈ میٹنگ میں پیش ہوئی وہ اسلحہ خانے کا وہ رجسٹر تھا جس کے مطابق وقوعہ کے روز عثمان نے اپنا پستول نہیں لیا تھا جو کہ ضابطے کے مطابق اُسی کے پاس ہونا چاہیئے تھا۔

 

اس سے اگلے روزسروس افئیر کی درخواست کی انکوائری آغاز کرنے کا حُکم بھی منگوا لیا گیا جس کے لئے اگلے روز حافظ ناصر کو بھی حاضر کرنے کا سگنل عثمان کے یونٹ کو بھجوا دیا گیا۔

 

آج شام جو ایک چیز خلافِ معمول ہوئی، وہ یہ تھی کہ انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کے علاوہ آفیسرز میس کے باہر نیول پولیس کا ایک سنتری بھی تعینات ہو گیا تھا۔ رات کے دس بجے عمومی طور پر تمام بارکوں اور رہائشی عمارتوں کی بتیاں گُل کردی جاتی ہیں اور تمام معمول کی سر گرمیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے اصطلاحاً پائپ ڈاون کہا جاتا ہے۔ رات گئے جب پائپ ڈاون ہوئے کافی وقت بیت چُکا تھا، لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی اور کمانڈر حنیف واہلہ ایک پرائیویٹ نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑی میں آفیسرز میس پہنچے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر انٹیلی جنس افسر خان بیگ سول کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر غازی نے نیول پولیس کے سنتری کے سلیوٹ کے جواب میں اس سے مصافحہ کیا۔

 

“لیفٹیننٹ عثمان کا کمرہ کون سا ہے؟”اُنہوں نے پوچھا۔

 

“سات نمبر سر۔۔۔” سنتری نے مودب جواب دیا اور عدیل صاحب اوپر چلے گئے جبکہ کمانڈر واہلہ اور لیفٹیننٹ کمانڈر خان بیگ گاڑی سے نہیں نکلے۔ اسی دوران ڈیوٹی افسر لیفٹیننٹ تنولی بھی تیز قدموں سے چلتا ہوا میس سے نکلا۔

 

(جاری ہے)