برف کا گھونسلہ

محمد حمید شاہد: ظریں پھسلتے پھسلتے کچن کی دہلیز کے پاس ابھری ہوئی سطح پر ٹھہر گئیں۔ میں وہیں دوزانوں بیٹھ گیا اور انگلیوں سے برف کی ڈھیری کھرچنے لگا
قبریں اور دیگر کہانیاں

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا: شوگر نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ وہ پیر جی کا مرید تھا، پیر جی شوگر کے لیے چینی دم کرتے تھے۔ اس نے دم کی ہوئی چینی خوب کھائی،
نعمت خانہ — تیسری قسط

خالد جاوید: لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو
سزائے تماشائے شہرِ طلسم

رفاقت حیات: کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
کرلاہٹ

اسد رضا: مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔
نوح، فاختہ اورکبوتر باز

ممتاز حسین: خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔
پستان ۔ بارہویں قسط

تصنیف حیدر: جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔
نولکھی کوٹھی — دوسری قسط

علی اکبر ناطق: کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔
سرخ شامیانہ — چوتھی قسط

حسین عابد: جتنی دعائیں اور کراہیں اس دھرتی سے اٹھتی ہیں اگر انہیں کاغذوں پر لکھ کر آسمان پر چپکا دیا جائے تو آسمان بھر جائے، چھاؤں ہو جائے اس دھرتی پر”، شاہد تلخی سے بولا
نیند کے انتظار میں

حسین عابد: نیند کے انتظار میں
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا
عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
بختک /کابوس

وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔
خدا نظموں کی کتاب ہے

خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
پستان — تیسری قسط

زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
تخلیق کار

مجھے ایک نظم سمجھ لو وہ نظم جو کیفرکردار تک نہیں پہنچی ۔۔۔۔۔ جو ڈولتے خیالات کے تھرتھراتے ہونٹوں پر ابھی ایک نوحہ ہے ۔۔ وہ نوحہ جسے نوچنے کی کوشش میں تخیل کے تمام رنگ پھیکے پڑ گئے