Categories
فکشن

پستان-آخری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

این اور صدر کی جس بات پر علیحدگی ہوئی تھی، وہ ایک ایسی بات تھی، جس پر کم از کم الگ ہوجانے کا تو خیال کسی کو نہیں آنا چاہیے۔لیکن ان دونوں کی ہی فطرت میں شاید محبت کا ویسا خمیر موجود نہ تھا، جس میں کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی خواہش ہو۔محبتیں بعض اوقات بڑی بے پروا بھی ہوا کرتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس سے کرتا ہی چلا جائے، محبت تو عین وصل کے درمیان بھی پھوٹتی ہے اور ہجر کے بیچ بھی اگتی ہے۔کسی کا حاصل ہوتا ہوا بدن اور دماغ پر تیرتی ہوئی اس کے جسم کی بھینی یادیں، یہ سب مل کر ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی ہیں۔محبت کا دوامی تصور عام ذہنوں کا پیدا کیا ہوا ہے، ورنہ محبت تو وہ شے ہے، جو ایک وقت کے بعد اگر اپنا اثر نہ کھوئے تو بوجھ بن جائے۔کسی چیونگم میں موجود مٹھاس کی طرح یا پھر پھول میں موجود خوشبو کی طرح محبت کو ایک روز مرنا ہوتا ہے۔ختم ہونا دراصل ہر شے کا انتہائی حسن ہے، اختتام سے زیادہ بہتر بات اور کوئی ہوہی نہیں سکتی۔صدر نے انہی دنوں ایک تصویر بنائی تھی، جب وہ این کے بہت قریب تھا، جس میں ایک مرد اپنے ہاتھوں میں کسی لڑکی کے دو پستان لیے کھڑا تھا، اور دونوں پستان آہستہ آہستہ پگھلتے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔این جاننا چاہتی تھی کہ پستانوں کے پگھلنے کا کیا مطلب ہے۔صدر کا موقف تھا کہ پگھلتے ہوئے پستان دراصل لڑکی کے پستانوں کے پنرجنم کی داستان بیان کررہے ہیں۔ہر بار جب ایک نیا تعلق لڑکی کسی سے بناتی ہے تو اس کے پستانوں کا ایک نیا جنم ہوتا ہے، ان کی سختی کا، وہ ایسی مٹھیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جن کے اندر بے انتہا شکنیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی موجود ہوں۔جیسے جیسے یہ مٹھیاں صنف مخالف پر کھلتی ہیں ، پگھلتی جاتی ہیں۔ان کی تیزی، چستی اور ایک آسیبی و تیزابی کیفیت میں فرق آتا جاتا ہے۔تو این سوچنے لگی کہ کیا اس مختصر سے عرصے میں اس کے پستان بھی گھل رہے ہیں، پگھل رہے ہیں، کیا اسے اس عمل سے خود کو بچانا چاہیے۔اس نے اضطراری طور پر صدر سے پوچھا، پھر انسان کسی کے فراق میں پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔کیا تمہارے نزدیک کسی کی دوری سے پڑنے والے شدیدنفسیاتی اثر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، کیا وہ متھ ہے، یہ گتھی تم کس طرح سلجھائو گے۔صدر کہتا تھا کہ گتھیاں سلجھانے والی چیز نہیں ہیں، وہ تجربے سے خود بخود سلجھنے لگتی ہیں،دنیا کی کوئی ایسی محبت نہیں، جس میں ایک وقت کے بعد بیزاری نہ پیدا ہوجائے۔این کا اصرار اس بات پر تھا کہ یہ ایک سخت گیر قسم کا بیان ہے، جس کا اطلاق تمام زندگیوں اور ذہنوں پر نہیں کیا جاسکتا۔مگر صدر کہتا تھا کہ فطرت ایک ہی چیز کا اطلاق کرتی ہے، اور جب کسی شے پر ایک ہی بات کا اطلاق نہیں ہوپاتا تو پھر اس سے دوسری چیز پیدا ہوجاتی ہے۔عورت، دراصل مرد کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔جس کے بگاڑ نے ہی اسے مرد سے علیحدہ کیا ہے، اسی طرح جس طرح دوسرے چرند پرندانسان سے الگ ہیں۔این کو اس لفظ’بگڑنے’ پر شدید اعتراض تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ صدر عورت کے معاملے میں کسی ناقد کا سا رویہ اختیار کررہا ہے۔اس نے اس بات پر شور مچانا شروع کردیا۔’عورت ہی کیوں بگڑی ہوئی شکل ہوگی، مرد بھی تو ہوسکتا ہے، مرد کے پاس ویسے بھی عورت سے زیادہ جنسی کشش کا سامان نہیں ہے، اس حساب سے تو عورت مرد کی ایک ارتقائی شکل ہے، عورت کا پورا بدن ایک جنسی آبجیکٹ کے طور پر ہمارے معاشروں میں قبول کیا جاچکا ہے۔کوئی اوپر سے کتنی بھی شرافت کا اظہار کرے، کھوکھلے بیانات یا اخلاقیات کی فہرست کو سینے پر ٹائی کی طرح ٹانگ کر گھومتا رہے، مگر عورت کے معاملے میں ہر مرد ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، اسے بستر پر عورت کے مسکراتے یا چیختے ہوئے پستانوں کا انتظار رہتا ہے۔یہ اس لیے ہے کیونکہ مرد کو اس معاملے میں پوری طرح عورت پر منحصر ہونا پڑتا ہے اور جب وہ عورت پر سے اپنا انحصار ختم کردیتا ہے تو دنیاکے مہذب معاشرے اسے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ عورت مرد کی ہی کوئی بگڑی ہوئی شکل ہے۔صدر کہتا تھا کہ بگاڑ کا لفظ منفی نہیں ہے۔اسے منفی اس ذہنیت نے بنایا ہے، جس نے تمہیں عورت اور مجھے مرد کا خطاب دیا ہے۔ہم نے لفظوں کو چیزیں کی شناخت کے لیے ایجاد کیا تھا، لیکن پھر ہم ان شناختوں سے گھبرانے لگے۔این نے کہا کہ ظاہر ہے اگر تم مرد کو عورت کی بگڑی ہوئی شکل نہیں کہتے یا اس کی ارتقائی شکل نہیں مانتے ہو تو تم بھی تو اس شناخت سے گھبراہی رہے ہو۔صدر کو اب اپنا مقدمہ دوسری طرح بیان کرنا پڑا۔اس نے بتایا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لفظ بگاڑ کی جگہ ہم اسے عورت کا ارتقائی عمل بھی کہہ سکتے ہیں اور پھر مرد بھی تو کسی نہ کسی جانور کی بگڑی ہوئی شکل ہی ہے۔بگڑنا دراصل بننے کا ابتدائی مرحلہ ہے، ایک شے جب دوسرے سے بگڑتی ہے تو وہ بغاوت کرکے اپنا ایک نیا راستہ پیدا کرتی ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، میرا نہیں۔ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ہمارے آس پاس بگڑ رہی ہوتی ہیں، مگر ہم ان پر دھیان نہیں دیتے۔جیسے کہ ہمارا جنسی عمل ، باقی لوگوں کے جنسی عمل سے جتنا کچھ بھی مختلف ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ وہی بگاڑ یا بغاوت ہے جو ہمیں ایک ہی جیسا ہونا یا دوسروں جیسا ہونے سے روکتی ہے۔سو عورت نے بھی کسی ایک وقت میں فطرت کے اسی رویے سے بغاوت کرکے اپنے سینے پر ان دو گنبدوں کو ابھارا ہوگا، سوچو ابتدا میں جب آدمی نے عورت کا سینہ بدلتا ہوا دیکھا ہوگا، جب اسے محسوس ہوا ہوگا کہ کوئی تبدیلی آرہی ہے، یہ تبدیلی کیا ہے اور کیسی ہے، ان سوالوں نے چاہے اسے ڈرایا ہو یا چونکایا ہو، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ عورتوں نے اور مردوں نے اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے بطور حسن بھی تسلیم کیا، اندرونی بغاوتیں ہوں یا بیرونی، ظاہری ہوں یا باطنی ، ایک وقت کے بعد اپنے شباب پر آتی ہیں، خود کو منواتی ہیں اور ان کی جدو جہد کا راستہ جتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، ان کی خوبصورتی بھی اسی حد تک تسلیم کی جاتی ہے۔مشرقی سماجوں نے پستانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے ساتھ جنسی عمل کے جتنے طریقے دریافت کیے گئے، اتنے تو عورت کی گلابی یا سیاہ جھلیوں کے ساتھ بھی وجود میں نہ آسکے۔اور پھر جدید اور مہذب قسم کی روایتیں، ان پستانوں سے خوف کھانے لگیں، یعنی وہی پستان جو ایک طویل اور خوفناک قسم کی بغاوت کا نتیجہ تھے اور جن کو حسن کی دو عظیم آماجگاہوں کے طور پر ہمارے ذہنوں نے قبول کیا تھا۔جدید معاشرے نے انہیں بھٹکانے والا، پریشان کردینے والا اور مرد کے لیے خطرناک حد تک مضر ثابت کیا۔یہاں تک کہ عورتوں کو بھی یہ باور کرادیا گیا کہ ان کے سینے ، ان کے ابھار سمیت ، معاشرے کے لیے ایک ایسی لعنت ہیں، جن کا ظاہر ہوجانا خود ان کے لیے بھی سفاک ترین حد تک مصیبت میں ڈالنے والا عمل ہے۔

 

اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔جنس کو وہ بھی اہمیت دیتی تھی ،لیکن لطف لینے کی حد تک، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس دور میں، اتنے روشن خیال عہد میں جہاں صنفی امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔عورت اب ایک جنسی آبجیکٹ نہیں رہ گئی ہے،و ہاں صدر کو ایسی پینٹنگز بنانے سے کیسے روکا جائے۔وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا وہ مکمل طور پر صدر کو غلط قرار دے سکتی ہے، پھر اسے خیال آتا کہ غلط یا صحیح کا پتہ نہیں لیکن اب اسے صدر سے ڈر لگنے لگا تھا، رفتہ رفتہ اس کے اندر سے وہ جنسی ہیجان بھی غائب ہورہا تھا جو پہلے اس سے مختلف قسم کے تجربے کرواتا تھا، انہوں نے اب تک بہت سے مختلف مقامات پر عجیب عجیب طرح سے جنسی عمل کو انجام دیا تھا، کبھی برسات میں بھیگتے ہوئے، کبھی جان بوجھ کر فلیٹ کی سلائڈنگ کھول کر ، وہ پڑوس کے ایک بالکل نوجوان لڑکے کو یہ خوبصورت عمل دکھایا کرتے تھے، وہ کنکھیوں سے اس پورے عمل کو دیکھا کرتا، اس کے اوپری ہونٹ پر جگمگاتے ہوئے بھورے روئیں تن جایا کرتے تھے، انہوں نے اپنے وصال میں بہت سی دوسری قدرتی اور غیرقدرتی چیزوں کو شامل کرلیا تھا، جیسے وہ اکیلے نہ ہوں، جیسے اب وہ دنیا کو ، دیکھنے اور سونگھنے والی صلاحیتوں کو اپنی سسکیاں سنانا چاہتے ہوں۔مگر این سمجھتی تھی کہ صدر کا پستانوں کے ساتھ خاص قسم کا لگائو اسے جنونی بنارہا تھا، وہ این کے داہنے پستان کو منہ میں بھر کر اس پر دانتوں کی تیز ضربیں لگایا کرتا، اپنی مٹھیوں سے انہیں ایسے بھینچتا ، جیسے کوئی طاقت ور دیو ، کسی کلی کو مسل رہا ہو۔تنے ہوئے پستانوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات وہ اس کے جھولتے ہوئے ، نرم اور گدگدے ابھاروں کو بھی نہیں بخشتا تھا، وہ اپنے عضو تناسل کو این کے پستانوں کے درمیان رکھ کر دو ابرقوں میں پیدا کی جانے والی رگڑ کی طرح اسے گھسنے کی کوشش کرتا۔این ہانپنے ہی نہیں، کانپنے بھی لگتی، اس کی بانچھوں سے اففف کی لمبی لکیروں کے جھاگ نکلا کرتے اور فضائیں اس کی چیخوں اور گھٹی ہوئی سسکیوں سے محبوس ہوجاتیں۔مگر وہ نہ مانتا تھا۔آدھے بدن کے اس عجیب بڑھتے ہوئے شور میں اس کی ننھی سی جان دہک دہک کر ہلکان ہوئے جارہی تھی،جب بستر آگ روشن کرتے، سانسیں، پھنکاروں میں بدل جاتیں، لفظ غائب ہوجاتے اور پیروں پر پیروں کے آہنی گرز اپنا بوجھ اتار دیتے تو بمبجوری این کو اپنی جھلیوں میں اپنی ہی انگلی کو اتارنا پڑتا، وہ وہاں سے نکلتی ہوئی دھار میں اپنے چیختے ہوئے وجود کی پتلی سی لکیر کو تر کرتی، کئی بار اس نے کوشش کی کہ صدر کا وجود اس کی شرمگاہ کے غاروں میں بھی اترے، لیکن اول تو وہ ادھر کا رخ بھولتا جارہا تھا، وہ غاروں سے نکل کر چٹانوں کی سیر کرنے میں زیادہ خوشی اور کرب محسوس کرتا، بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وہ پستانوں کو کستے کستے رونے لگا، انہیں بھینچتے بھینچتے اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور اس کی آنکھوں میں ڈھیروں لعل دھڑ دھڑ کرنے لگے۔مگر ان آتشیں نگاہوں، ان برق رفتار آنسوئوں کی وجہ سے بھی اس کا وجود تھمتا نہیں تھا، وہ جب نڈھال ہوتا تو اکثر اوقات این کی بھوک اپنے شباب پر ہوا کرتی تھی، وہ اس ادھورے عمل سے اکتاتی جارہی تھی اور اسے خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر کا جنون اس کی بھوک بڑھادے اور اس کے پستانوں کو ایک روز کھینچ کر اس کے سینے سے علیحدہ کردے۔

 

حالانکہ یہ ڈر بھی اتنا ہی غیر معقول سا تھا جتنی کہ صدر کی پستانوں کے متعلق منطق۔وہ واقعی ایک ایسی متھ تھی، جو اس نے خود گڑھی تھی، وہ اس کتاب میں لکھے ہوئے غیر معروضی قصوں سے بہت آگے بڑھنے لگا تھا، جن کو وہ کچھ عرصے تک خود ہی بے ڈھب اور بے مصرف خیال کرتا تھا۔مگر پستان ، اب اس کے وجود کا حصہ بنتے جارہے تھے ، این نے ایک روز دیکھا کہ بھیانک رات ہے، وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی ہے، سامنے سے ایک بھورے بالوں والی ریچھنی پر سوار ہوکر صدر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، صدر کے سینے پر دو بہت بڑے بڑے پستان اگ آئے ہیں، وہ ریچھنی کے پستانوں میں اپنے سینے کو انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے دھندھکتا ہوا موجود تھا، وہ خود بھی تھوڑی دور پر اوندھی لیٹی تھی، مگر وہ وہیں موجود تھی، بالکل عین اس ریچھنی اور صدر کے سامنے۔صدر کے اس پاگل پن کو دیکھتے ہوئے، وہ اچانک اسے روکنے کے لیے اٹھی ، مگر یہ دیکھ کر اس کی گگھی بندھ گئی کہ اس کا سینہ سپاٹ ہے، بالکل سپاٹ۔اس نے ررھیاتے ہوئے صدر کی طرف دیکھا، وہ این کے پستانوں کو ریچھنی کے کولہوں پر باندھ رہا تھا، عجیب سی رنگ برنگی دھجیوں کی مدد سے۔اپنے سپاٹ سینے کو دیکھ کر این بہت دیر تک چیخنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے اپنے انگوٹھے کے نیچے اس کی حلق کے عین درمیان آواز کو دبایا ہوا ہے، اور جب وہ چیخی تو دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ صدر، نہ ریچھنی ،دو چمکتے ہوئے پھسلواں گلابی رنگ کے گول گول کٹوروں کے نیچے اس کے پستان محفوظ تھے۔صدر کمرے میں نہیں تھا اور یہ سناٹا بھائیں بھائیں کرکے، اس کی وحشت کو اور بڑھا رہا تھا۔رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا، وہ اٹھی، اس نے کرتا پہنا اور سلائڈنگ میں جاکر کھڑی ہوگئی، اب وہ شعوری طور پر اپنے ذہن کی آنکھ کھلی رکھ کر اپنے پستانوں کا مستقبل طے کرنے جارہی تھی۔

 

پستان جو اس ہلکے خنک ماحول میں دھڑکنوں کے ہنڈولے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔

 

نیچے اندھیرا تھا۔شفاف اندھیرا، جس میں سے جھانکتے ہوئے چھدرے کمپائونڈ کی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔نہ جانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔اس کا جی چاہا کہ وہ سگریٹ پیے، مگر اسے ڈھونڈنا پڑتا اور اس وقت وہ ہلنے ڈلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وقت بیتتا رہا، جیسے اس کا تمام بدن اپنے پستانوں کی موجودگی پر خوش ہے اور ہوائیں، اس کی زلفوں، گردن کے روئوں اور پستانوں کو لوریاں سناتی رہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صدر کی آنکھ کھلی تو این جاچکی تھی۔ایک چھوٹا سا نوٹ فرج کے اوپر لگا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا۔

 

‘میں جارہی ہوں، کیونکہ میں ابھی تک اپنے پستانوں کی موجودگی پر مطمئن ہوں۔بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جس کتاب کو پڑھ کر بہک رہے ہو، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ سائنس سے زیادہ ایک فکشن کی کتاب ہے۔اور وہ کتاب تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے آرٹ کو بھی خود میں ضم کرتی جارہی ہے۔ہوسکے تو اس وہم سے خود کو باہر نکالو۔میں صرف تمہاری اتنی ہی مدد کرسکتی تھی کہ وہ کتاب تمہاری نگاہوں سے دور لے جائوں۔شاید یہی تمہارا علاج ہو۔اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔’

 

صدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے این کے پستانوں کے ساتھ کوئی وہمی قسم کا سلوک کیا ہو۔
Categories
فکشن

پستان ۔ بارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دریا ان دنوں چڑھا ہوا تھا، پانی کی آوازیں، چڑیوں کی شور مچاتی ہوئی منقاروں سے مقابلہ کررہی تھیں۔ ایک طرف تنہا اور پھیلے ہوئے آبی وجود کی گرج تھی تو دوسری جانب بہت سے ننھے منے جسموں کا اتفاق۔ ایک سمت تھل تھل کرتے پیٹ سے اگلی جانے والی شور آور ڈکاریں تھیں تو دوسری طرف باریک جھلیوں میں لپٹٰے ہوئے بازیچہ نما پھیپھڑوں کی یورش۔ دیکھنے پر ایسا بھی معلوم ہوتا تھا کہ ایک منظر دوسرے منظر کو پیدا کررہا تھا، ایک تماشے سے دوسرا تماشہ جنم لے رہا تھا، جیسے چیختے ہوئے ہونٹ، روتے ہوئے بچوں کو جنم دیتے ہیں، جیسے گرجتی ہوئی بجلیاں، راتوں کا سیاہ لباس تبدیل کرتی رہتی ہیں۔سب کچھ یونہی جاری رہتا ہے، اور اس وقت بھی جاری تھا، جب ریت کے پسرے ہوئے دامن پر دھنسی ہوئی چمکیلی سرمئی پنڈلیوں پر چڑھے ہوئے جنیز کے پائنچے، پانی کی گدلاہٹ اور ریت کی بھربھراہٹ میں لتھڑے ہوئے تھے، این ایک ہلکے ٹی شرٹ کو پہنے ہوئے، دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر کے نیچے سجائے ہوئے تھی اور مٹتی ہوئی، شکست کھاتی دھوپ میں اس کی بند آنکھیں، اندر سے ایک سرخ و زرد منظر بنارہی تھیں، پھر وہ منظر دھیرے دھیرے سرمئی ہوتا گیا، جیسے سورج آج پانی کے بجائے ریت کے پیچھے چھپ رہا ہو، اسی میں جذب ہورہا ہو۔اس کے سینے پر ‘پستان’ نامی وہی کتاب رکھتی تھی، جس کے مطالعے کے لیے اس نے اپنے باپ کے ہوٹل میں بغیر اجازت ایک اجنبی کے کمرے میں جانے کا خطرہ مول لیا تھا۔کتاب اوندھی رکھی ہوئی تھی، اس کا ابتدائی صفحہ پھڑپھڑارہا تھا، جو کہ ہلکے رنگین کاغذ کا تھا، وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی نسخہ تھا یا نہیں۔این پوری طرح سوئی نہیں تھی اور اس کے دماغ میں اسی کتاب کی چند سطریں گونج رہی تھیں جو کہ ان مردوں کے تعلق سے لکھی گئی تھیں، جن کے پستان عام طور پر زیادہ موٹے اور ابھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جن میں ایک قسم کی نسوانی چمک بھی آجاتی ہے، ساتھ ہی ایسی عورتوں کا ذکر تھا، جن کے پستانوں پر بال اگ آیا کرتے ہیں۔ مصنف کا ماننا تھا کہ ایسے تمام پستان جنہیں عام طور پر غیر قدرتی اور غیر فطری خیال کیا جاتا ہے، انسانی زندگی کی ضرورت ہیں، بالوں والے پستانوں کے تعلق سے اس کا کہنا تھا کہ ایسے پستانوں میں دودھ، عام اور چکنے پستانوں سے کہیں زیادہ بنتا ہے،اس کی تکنیکی وجوہات پر بھی اس نے روشنی ڈالی تھی،مگر ایک جملہ ایسا تھا جس کو سمجھنے کے لیے عملی طور پر تجربہ کرنے کی ضرورت تھی، مصنف نے ایک واقعے کا ذکر کیا تھا، جس میں ایک ٹھنڈے ملک میں رہنے والا سفید فام مرد پستانوں کے لیے اس قدر جنونی ہوگیا تھا کہ وہ ان عورتوں کو دوران جنسی عمل قتل کردیتا تھا، جن کے سینے سے سفید یا سرخ رنگ کا لبلبا مادہ نہ نکلتا ہو۔سفید رنگ کے لبلبے مادے سے دودھ کو تشبیہ نہیں دی جاسکتی، پھر وہ کیا چیز تھی، سرخ رنگ کا لبلبا مادہ خون ہوسکتا ہے یا نہیں، وہ اس معاملے میں کنفیوز تھی۔وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی ناف پر دو انگلیاں رینگنے لگیں،اس نے آنکھیں نہیں کھولیں، ان انگلیوں نے ٹھیک اسی طرح اس کے بازوئوں کے رونگٹے کھڑے کردیے تھے، جیسے کانوں کے پاس کپکپاتے ہوئے ہونٹ، کنپٹی کے بالوں کو اچکانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔وہ ان انگلیوں کی سرسراہٹ سے اچھی طرح واقف تھی، یہ ہلکی گرم اور جوان انگلیاں سوائے صدر کے اور کس کی ہوسکتی تھیں۔اس نے آنکھیں بند کیے کیے ہونٹ ہلائے۔

 

‘ایک بات پوچھنی ہے؟’

 

‘ہمم۔۔۔ضرورپوچھو’

 

‘ پستانوں سے نکلنے والا سفید و سرخ رنگ کا لبلبا مادہ کیا ہوسکتا ہے؟’

 

انگلیاں ابھی بھی ناف پر تیر رہی تھیں، مگر ان کی بے قراری میں کچھ کمی آگئی، ایسا لگتا تھا جیسے ڈوبتی ہوئی مضطرب ٹانگیں، ہولے ہولے ٹھنڈی پڑتی جارہی ہیں۔تھوڑی دیر خاموشی رہی تو این نے آنکھیں کھول دیں۔’کیا سوچ رہے ہو؟’

 

‘ تم یہ کتاب مت پڑھا کرو۔۔۔’

 

‘کیوں؟

 

‘ کیونکہ تم اسے تحقیقی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو، جبکہ یہ ایک مکمل اور خالص تخلیقی کتاب ہے۔اس میں بہت سے واقعات ایسے ہیں، جو آج کی سائنسی اور معروضی دنیا میں بالکل بے جواز معلوم ہوتے ہیں۔اب جس واقعے کو پڑھ کر تم یہ سوال مجھ سے کررہی ہو، میں نے اس سے ایک بہت خوبصورت بنائی تھی، سفید و سرخ رنگ کا مادہ، اور وہ بھی لبلبا۔ہماری متھ بتاتی ہے کہ انسان کیچڑ سے بنا ہے، یعنی ایسی مٹی سے جو بجتے ہوئے گارے کی طرح ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انسان کا رنگ سمینٹی ہونا چاہیے تھا، مگر کیچڑ کے لبلبے ہونے میں کیا شک ہے۔اب اس سوکھی ہوئی کیچڑ سے جو چیز باہر نکالی جائے گی اور خاص طور پر جب وہ مائع شکل میں ہو تو اسے گاڑھے سرخ اور سرمئی رنگ کی آمیز ش سے تیار شدہ ہونا چاہیے۔ تم کہہ سکتی ہو کہ مصنف نے جس مرد کی نفسیات بیان کی ہیں، وہ صرف اسی مرد کا مسئلہ نہیں ہے، ہم کیا کرتے ہیں،دراصل ہماری پوری زندگیاں عورتوں کے پستان کھاتے اور پھاڑتے ہوئے ہی گزرتی ہے، وہ شخص جو اس سے اپنے حصے کی مٹی لے رہا ہے، خوراک حاصل کررہا ہے، اور گاڑھا سفید رنگ کا مادہ اپنے جسم میں انڈیل رہا ہے دراصل وہ اس سے کیا بنائےگا، خون ہی تو بنائے گا۔مان لو، ایک عورت یہ سفید رنگ کا مادہ دینے میں کامیاب نہ ہو تو، اگر وہ بانجھ ہو تو، تو اس کے پستانوں کا کیا مصرف؟ پستانوں سے دنیا کے ہر مرد کا تعلق ہے، ان مردوں کا بھی، جنہوں نے مائوں کی چھاتیوں کو منہ نہیں لگایا، کیونکہ وہ بھی مختلف جانوروں کی سیاہ اور بھوری، سفید اور خاکی رنگ کی چھاتیوں سے نکلنے والے سفید رنگ کے مادے پر ہی خون بناتے آئے ہیں۔ایسے تمام جانور اسی لیے پستانیہ کہلاتے ہیں۔

 

وہ اپنی دھن میں بولے جارہا تھا اور یقینی طور پر ابھی اور بھی کچھ کہتا کہ این نے اسے ٹوک دیا
یہ کوئی بات نہیں ہوئی، تم ابھی بھی لبلبلے کا جواز نہیں دے پائے ہو، مجھے تو لگتا ہے کہ مصنف سے زیادہ تمہارا اپنا ذہن ایک عجیب سی اپج کا شکار ہے۔عورت کے پستان اور جانور کے پستان کو تم آپس میں ملارہے ہو،اسی کتاب میں ذکر ہے کہ بہت سے قدیم معاشروں میں پستانیہ کا لفظ عورت کے لیے بھی مستعمل تھا۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے، میں جاننا یہ چاہتی تھی کہ وہ لبلبا مادہ کیا ہے۔عورت کے سینے سے نکلنے والے دودھ اور کسی جانور کی پنڈلیوں میں جمع گودے میں کچھ تو فرق ہوگا، مصنف انہیں کیسے ملا سکتا ہے۔

 

یکدم صدر کو کچھ سوجھا اور اس نے کہا’رکو، شاید میں نے اپنی تصویر میں، جب کہ میں نے اسے بنایا تھا، اسے زیادہ بہتر طور پر واضح کیا تھا۔کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گی؟

 

این نے اثبات میں جواب دیا، کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں صدر کے اپارٹمنٹ میں مچان سے ایک لکڑی کا ایسا فریم نکالنے میں مصروف تھے، جو بہت سی دوسرے فریموں میں پھنس کر رہ گیا تھا، احتیاط کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ اس کا کینواس جو کہ کپڑے کا تھا، ذرا سی کھینچ تان میں پھٹ سکتا تھا۔بمشکل جب وہ پینٹنگ باہر نکل آئی تو اس پر جمی بہت سی دھول کو ایک صافے کی مدد سے جھاڑ کر الگ کیا گیا، باہر کا اندھیرا دبیز ہوتا جارہا تھا، کمرے کی لائٹٰ جل چکی تھی، دھول بھری آنکھوں سے این نے اس پینٹنگ کو دیکھا، جس میں ایک طرف کوئی مردانہ ہیوالا عورت کے سینے پر سوار تھا، عورت کے پاس صرف ایک بڑا سا گنبد نما پستان تھا جو سینے پر کسی مقدس عمارت کی طرح دمک رہا تھا، مرد کا سرہلکا سا اس پر جھکا ہوا تھا، جبکہ اس کی دو نوں ہاتھ اوپر کو اٹھے ہوئے تھے، ایک میں نکیلا، چمکدار چاقو تھا اور دوسرے میں ایک سانولے رنگ کا موٹا اور شکن آلود عضو تناسل، جس کے منہ پر ہلکا سفید رنگ لپیٹا گیا تھا، عورت کا منہ تو نہیں دکھایا گیا تھا، مگر پورے سر کی جگہ صرف دو کھلے ہوئے ہونٹ تھے، جن کے اندر بہت سے ستارے چمکتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ این ابھی اور غور سے اس پینٹنگ کو دیکھنا چاہتی تھی کہ صدر نے اس کے بازو کو پکڑ کر اسے بائیں سمت پینٹنگ سے کافی دور لے جاکر کھڑا کردیا اور کہا

 

‘اب یہاں سے بھی دیکھو!’

 

این ہلکی سی چڑچڑی نظروں کے ساتھ صدر کو دیکھ کر دوبارہ پینٹنگ میں داخل ہوگئی، یہاں سے دیکھنے پر عورت کے سینے پر دو پستان نظر آتے تھے، دونوں کی سائز میں ہلکا سا فرق تھا، مگر اب مرد پینٹنگ سے غائب تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پستانوں کے دو سینگ اگ آئے ہیں اور ان سینگوں پر مزید سینگ نکلے ہوئے ہیں۔ایک طرح سے یہ پورا منظر اب بارہ سنگھے کی اس کھوپڑی کی طرح معلوم ہورہا تھا، جس کو کسی جنگلی اور سوکھے ہوئے پیڑ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔این سمجھ نہیں پارہی تھی کہ صدر نے ایسا کیوں کیا، اس نے ایک ہری بھری، سر سبز چھاتی سے بھرپور منظر کو کیوں ایک بنجر کھوپڑی اور سینگوں کی اوبڑ کھابڑ دنیا میں تبدیل کردیا، اس پینٹنگ کو بناتے وقت اس نے لامحالہ فنکاری دکھائی تھی، مگر یہ فنکاری اس کے قنوطی ہونے کی دلیل بھی تھی، لیکن پاس جانے پر وہ منظر بدل بھی تو جاتا تھا، لیکن صدر نے پہلے اسے یہ مایوس منظر کیوں نہ دکھایا،این سوچتی رہی، زندگی بھی تو پہلے سرسبزی و شادابی ہی دکھاتی ہے، دنیا میں انسان کا سامنا سب سے پہلے ایسی ہی بھری ہوئی چھاتیوں سے ہوتا ہے، انہی بھری ہوئی چھاتیوں سے زندگی نکلتی ہے اور انسان کی شریانوں میں داخل ہوجاتی ہے، پھر ایک دن مرد کے سینگ نما عضو تناسل سے نکلنے والے ایک گاڑھے سفید رنگ کے مادے سے خون کی ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے، جو عور ت کی چھاتیوں تک پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے شروع ہوتا ہے، ایک نیا سفر۔پتہ نہیں وہ جو کچھ سمجھ پائی تھی، اتنا ہی آسان تھا، یا اس کی سوچ ہی سطح تک رکی ہوئی تھی،لیکن کیا ضروری ہے کہ ہر بات کو نہایت مبہم بنایا جائے۔آخر سمجھ میں آتے ہی ہر بات اتنی ہلکی اور بے جان کیوں معلوم ہونے لگتی ہے، جیسے اس میں کوئی نکتہ ہی نہیں، کیا سلجھی ہوئی گتھیوں اور حل کی جاچکی پہلییوں سے زندگی کا کوئی واسطہ نہیں،ان کا کوئی مقدر نہیں۔وہ چاہتی تھی کہ یہ صدر سے اس پینٹنگ کا مطلب پوچھے، مگر جانتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کہے گا، کبھی نہیں، اسے اپنی پینٹنگ کی تشریح و تعبیر کرنا کرانا بالکل پسند نہیں تھا۔وہ تو ایسے لوگوں کو پینٹنگز بیچنا بھی پسند نہیں کرتا تھا، جو انہیں مکمل طور پر سمجھ لینے کا دعویٰ کرتے ہوں۔

 

باہر اذان کی آواز بلند ہوئی، کہیں دور سے ہی سہی، مگر اس کی لہر نے این کے انہماک کے شیشے پر پتھر کا سا کام کیا۔اس نے کمرے میں دیکھا تو سب سے پہلے اسے ہلکا دھواں دکھائی دیا، صدر ایک خوشبو دار لوبان کہیں سے لایا تھا، ان دنوں وہ روز شام کو اسے سلگاتا تھا، اس کا ماننا تھا کہ یہ لوبان اس کے ذہن کو بہت سکون پہنچاتا ہے، ہلکے دھویں کی موج میں این نے اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، سفید اور سانولی چھلنیوں میں سے صدر کا چہرہ بالکل کسی پیغمبر یا اوتار کی طرح سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ این نے جینز کی جیب میں ہاٹھ ڈال کر ایک ہلکے نیلے رنگ کا سفوف نکالا اور منہ میں یوں ڈالا جیسے چھوٹے بچے پانی کے ننھے ننھے نوالوں کے سانس کے ساتھ پھٹک لیتے ہیں۔اچانک ساری دنیا رقص کرنے لگی، اس نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے دھیان میں بیٹھے صدر پر دھاوا بول دیا، نئے زمانے کی مینکا اور فنکاروشوامتر کے ادھ کھلے ننگے بدن پر جھول گئی، اس کا کے پستانوں نے جب چکنی پیٹھ پر ہلکی رگڑ پیدا کی تو چقماق کی طرح روشنی اور اگن نے ایک ساتھ صدر کے دماغ پر دھاوا بول دیا، لوبان کی بو میں نشہ تھا یا این کی سانسوں میں، مگر صدر دھیان کی دنیا سے نکل کر جنس کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور ہوگیا۔ این پر جیسے عجیب قسم کی افتادہ کیفیت طاری تھی،وہ صدر کے کپڑے، جو کہ اس کے بدن پر پہلے بھی محض جھول رہے تھے، نکالنے کے بجائے پھاڑنے لگی، وہ دونوں ایک دوسرے کے جسموں کو نوچتے ہوئے، کاٹتے اور چباتے بیڈروم سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آگئے، جہاں ہلکا اندھیرا تھا، جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔اسی قسم کے وحشیانہ رقص میں پتہ نہیں کب این بے ہوش ہوکر گری، صوفے کے ہتھے سے اس کا سر ٹکرایا اور وہ فرش پر آرہی، مگر صدر اپنی پیاس کے بے چین بارہ سنگھے کی اوبڑ کھابڑ شاخوں والی کھوپڑی کو اس کی گرم اور لبلبی، بے جان اور سرد ظلمتوں والی آغوش میں دھکیلتا رہا، یہاں تک کہ ایک سفید لبلبے مادے نے ابل کر سانسوں اور دھڑکنوں کی اس بے تاب ریل کو سبز کپڑا نہیں دکھادیا۔ تھوڑی دیر وہ پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ، این کے بے جان بدن پر پڑا اونگھتا رہا، پھر نیم غنودگی کے عالم میں اٹھا اور اپنے کمرے کے دروازے کو دھکا دے کر بستر پر اوندھ گیا،دروازہ پورا بند ہوجاتا، مگر زور لگنے کی وجہ اس کا سٹاپر جو کہ ڈھیلا ہوچکا تھا، اپنے آپ زمین پر گرایا اور ہوا کے اس اجلے شور سے سائڈ ٹیبل پر رکھی بیئر کی ایک خالی بوتل نہ جانے کب، زمین پر گری اور لڑھکتی ہوئی دروازے کے باہر نکل کر صدر کی طرح خاموش اور این کی طرح بے جان ہوگئی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان۔ گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-11
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بھری بھری سانسوں کی آواز آرہی تھی، جیسے نرخرے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہو، بلغم یا پھر کٹھل کا کوئی بیج۔ مرنے والا ایسی سانسیں نہیں لیتا۔ بدلتے ہوئے گہرے سرد اور ہلکے سرخ اجالے میں ایک شخص اپنی ہی کھال کی پوشاک پہنے ہوئے بستر پر الٹا پڑا تھا، کولہوں پر سے ڈولتی ہوئی ایک سفید رنگ کی چادر اس کو اور زیادہ لائق دید بنارہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ آس پاس کی ساری چیزیں اسے گھور رہی ہیں، دیکھ رہی ہیں اور مستقل اس کے وجود میں اپنے نکیلے اور تیز ناخن اتار کر اس کو لہو لہان کردینا چاہتی ہیں۔ آس پاس بکھری ساری کھردری اشیا کو اس بدن سے الجھن ہورہی تھی۔ بستر اور بدن کے درمیان گونجتی ہوئی دھک دھک کی صدا نے پورے ماحول کو موت کی آہٹوں سے ہم آہنگ کردیا تھا۔ ہواؤں کا تجسس پھیکا پڑتا جارہا تھا کیونکہ وہ کب سے بند دروازے سے اپنا سر مارے جارہی تھیں، باہر ڈرائنگ روم کا دروازہ بھٹم بھاٹ کھلا ہوا اتھا، جیسے کوئی چور اچکا اس پورے شہر میں نیندوں کی پھیلتی ہوئی سیاہی میں غوطہ نہ لگانا چاہتا ہو۔شراب کی ایک بوتل دروازے کے پاس چٹخی ہوئی پڑی تھی اور اس کا ڈولتا ہوا بے روح وجود بار بار دروازے کے سٹاپر سے ٹکرارہا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے پوری فضا غنودگی میں ہے، ہر شے کی پلک بھاری ہے اور نیند کی بلیا ں اپنے پھولے ہوئے ، گدگدے جسم کے ساتھ اس خاکی قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی ہیں، آوازوں پر چونک کردیکھنا اور پھر اپنے منہ کو بغل میں دبا لینا، کب سے اس ہلکی شفق مائل اداس کردینے والی دنیا میں یہی کھیل تماشا جاری تھا۔لیکن باہر ڈرائنگ روم میں کوئی وجود اپنے سائے سمیت صوفے کے نیچے اپنا ایک ہاتھ پھیلائے دراز تھا، اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ساکت جسم کی بے جان پتلیاں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جان نکل چکی ہے۔ ہونٹ ہلکے اودے ہورہے تھے اور ننگے بدن پر پھیلے ہوئے ، گول اور چکنے سینے میں کھنچی ہوئی سبز رگوں کے جال پر لگتا تھا کسی نے کبودرنگ چھڑک دیا تھا۔کمر دو چار بار پھڑکی تھی اور ایک ننھا کیڑا ہتھیلی سے رینگتا ہوا بغل کے باریک پسے ہوئے بھورے گچھے کی طرف کسی گھونگھے یا کچھوے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ سیلنگ فین یوں چرچرارہا تھا جیسے کسی بات پر خفا ہو، اس کی ناراض نگاہوں میں دھول جمی ہوئی تھی ، اچانک نیچے پڑے ہوئے وجود کے پاؤں اکڑنے لگے، تمام انگلیاں ایک معدوم رسی سے باندھ کر کھینچی جانے لگیں، انگلیاں خون کے انجماد سے گھبرا کر پچکنے لگیں، کیا وہ خون کا انجماد تھا یا کچھ اور، لگتا تو یہی تھا۔ مگر لگنے سے کیا ہوتا ہے۔اچانک اس وجود کے نتھنوں سے چنگھاڑتی ہوئی ہوا نکلی، آنکھوں کی سٹی ہوئی پتلیوں میں حرکت پیدا ہوئی ، گال سرخ ہوگئے، کان کی لویں گہری لال اور سینے کے پھیلے ہوئے ننھے ننھے راستوں کے نقشے پر سے نیلے تھوتھیے کو جھاڑ کر گویا کسی نے کنارے سے لگادیا، اب وہاں پھر وہی سبز رنگ کی شام مسکرانے لگی، جس میں نیلاہٹ کے اجلے آثار صبح اور دوپہر کے ملے جلے رنگوں کی طرح اپنی نکھری ہوئی صورتیں ابھارنے لگے۔

 

این نے گھبراکر آنکھیں کھولیں، اپنے گال پر دو طمانچے مارے اور اس بات کی تسلی کی کہ وہ زندہ ہے، اس کی سانس اپنے پورے جوبن سمیت جسم کی اینٹوں میں چنی ہوئی ہے۔وہ مسکرائی،ایک لمبی سانس اس نے باہر کی سمت دھکیلی اور پھر ایک خیال کے آتے ہی دوبارہ اداسیوں کی پگڈنڈی پر رینگنے لگی۔اچانک اسے محسوس ہوا جیسے بغل میں کسی نے زور کی چٹکی لی ہے، بلبلا کر اس نے ایک سرعت میں میلے بھورے سے لپٹے ہوئے ایک ننھے وجود کو ہوا میں اچھال دیا، کچھ بال بھی ٹوٹ گئے تھے، اور جس جگہ چٹکی کا احساس ہوا تھاوہاں ایک سوجن زدہ سرخ دھبہ اجاگر ہوگیا تھا۔ وہ بغل اٹھا کر ترچھی نظروں سے دیکھنے لگی اور جب آنکھوں کا وجود اس دھبے کی گولائی کو پوری طرح اپنے دائرے میں لینے سے قاصر رہا تو این نے انگلیوں کے پوروں پر سجی اور سلی ہوئی بے شمار ننھی ننھی آنکھوں کو اس کام پر لگا دیا۔وہ نہ جانے کب تک اپنی بغل کو سہلاتی رہی۔ہلکی ہلکی گدگدی اور اداسی نے اس کے اندر ہنسی اور مایوسی کی بالکل متضاد اور مختلف دھاراؤں کو بدن کی ندی میں گرایا، آخر کار اس نے تنگ آکر گدگدی کے آبشار سے خود کو الگ کر لیا اور دھپ سے زمین پر لیٹ کر دوبارہ مایوسی کے اندھے غار میں گم ہو گئی۔

 

این جس رات صدر کے پاس آئی تھی، وہ مل نہیں سکا تھا، کسی دوست کے یہاں تھا، گھر میں تالا تھا، چنانچہ اس نے بھری رات کے پیٹ میں اتر کر پھیلی ہوئی سڑکوں کی آنتوں پر مجبوری میں ایک غلیظ ہوٹل کا سہارا لیا۔اس ہوٹل میں پوری رات وہ ایک بدبودار کمرے میں بیڈ پر ہلکی روشنی کا لباس اوڑھ کر عریاں حالت میں سوچتی رہی کہ صدر سے سامنا ہونے پر آخر کیا کیا باتیں ہونگی۔وہ ضرور ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی غلط بھی تو نہیں ہوگی۔وہ اور کچھ بھی سوچنا چاہتی تھی، مگر بدبو کا اثر اتنا گہرا تھا کہ دماغ پوری طرح اس کے شور میں ڈوبنے لگا، قریب ساڑھے چار بجے وہ بے تاب ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور اسی ننگی حالت میں رسیپشن پر چلی گئی، سیڑھی پر ایک گیلے اور گہرے اور سرمئی رنگ کے کتے نے اسے دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا، وہ اس کے برابر سے نکلی تو وہ ڈر کر بھاگا اور اپنے چکنے وجود سمیت لکڑی کی سیڑھیوں سے پھسلتا ہوا زمین پر گرا، اور بھاگتا ہوا رسپشن کے پیچھے چلا گیا ، اس کے منہ سے اب بھی ہلکی ہلکی غاؤں غاؤں نکل رہی تھی۔کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا، اس نے زور زور سے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجانا شروع کردی۔کئی بار دھاپ دھاپ کی گونج سے کتا سٹپٹا گیا، اسے لگا جیسے اس پر حملہ ہونے والا ہے، وہ دیوار سے چمٹ گیا اور اپنے ہی وجود میں سمٹتا ہوا بالکل خاموش ہوگیا، جیسے خوف سے اسے سکتہ سا ہوگیا ہو۔اس شور سے کئی لوگ ہوٹل کے کچے اور اوبڑ کھابڑ کمروں سے جو بالکل چھپکلی کے زہر سے بنائی جانےو الی ٹھرا شرابوں کے پیپے کی طرح زنگ آلود اور بدبو دار تھے، آنکھیں ملتے باہر نکلے اور جب انہوں نے دیکھا کہ ایک جوان لڑکی بالکل ننگی حالت میں کاؤنٹر پر کھڑی بری طرح چیخ رہی ہے تو کچھ زیر لب مسکرانے لگے، کچھ اس کی ہذیانی کیفیت پر افسوس کرنے لگے ۔عورتیں اس منظر کو دیکھ کر چیخنے چلانے لگیں، ایک آٹھ سالہ بچہ دوڑ کر کہیں باہر سے اتنی رات گئے نہ جانے کیسے ہوٹل میں آدھمکا، اس کے پیچھے پیچھے ایک پھیلی ہوئی توند والا شخص تھا، جس نے ٹائی اور سوٹ میں اپنے مختلف کھانوں اور مٹیوں سے بھرے ہوئے بدن کو کس کر باندھ رکھا تھا۔ایک دو بار اس نے لڑکی کو پکڑنا چاہا مگر جب وہ اول فول بکتی رہی تو اس نے ایک الٹا ہاتھ لڑکی کے منہ پر رسید کیا، جب تک پڑوس کی دکان میں بیٹھ کر گپ شپ کررہے رسپشنسٹ کو بھی اس ہنگامے کی بھنک لگ گئی، وہ دوڑ کر یہاں آیا تو لوگوں نے اسے بھی پیٹنا شروع کردیا۔رو رو کر اس نے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہا، لڑکی ایک دراز بینچ پر اوندھی پڑی ہوئی تھی، اس کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ الغرض اس تماشے کا سد باب اس طرح کیا گیا کہ پولیس کو بلا کر این کو اس کے حوالے کردیا تھا۔نتیجتا صبح سوا چار بجے تک وہ ایک کال کوٹھری میں جہاں بہت سے زندہ چوہے، اندھے پروں والے کاکروچ اور دوسرے بے نام کیڑے اڑتے یا رینگتے ہوئے محسوس ہورہے تھے، پڑی ہوئی تھی۔اس تماشے نے اس کے پورے وجود کو تھکا دیا تھا، اسے یاد آیا کہ اس کی کوٹ کی جیب میں ، جوپولیس والوں نے اسے زبردستی پہنایا تھا، ایک ایسا سفوف رکھا ہے، جس کو چاٹتے ہی وہ بہت دیر تک دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوسکتی ہے۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ ننھی سی پڑیا نکالنی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ پھٹ گئی ہے اور ہلکے سبز رنگ کا وہ سفوف گہری جیب کے دھاگوں سے بری طرح الجھ گیا ہے۔بہرحال اس نے دو بار چٹکیوں میں جیسے تیسے یہ سفوف بھرا اور گلے میں انڈیل لیا۔

 

اس کے بعد ایک رنگ برنگی ، چمپئی اور بسنتی اداسی کے دو قوی ہیکل جوانوں نے اس کے دل پر بید یں بجانی شروع کردیں ، ان بیدوں سے بڑی مترنم مگر بوفر کی گہری اور حملہ آور آوازیں پیدا ہونے لگیں۔اسے لگا جیسے یہ جوان بیدیں برساتے ہوئے ، دل کو ساز بنا کر کوئی گیت گارہے ہیں ،مگر یہ گیت سننے کے لیے اسے پوری طرح خود کو ان لہروں میں ڈبونا پڑا، مگر اب الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔

 

تیرے دل میں پیتل کے جو پتے ناچ رہے ہیں
دھمم اور گھگھر گھگھر جو کیڑے ناچ رہے ہیں
بیلیں، جو پنڈلی سے لے کر چھاتی کو
ہلکے ہلکے ڈھانپ رہی ہیں
سانسیں جو روحوں کے جل تھل میں
کھانس رہی ہیں، کانپ رہی ہیں

 

اب وہ ان دونوں قوی ہیکل جوانوں کے بالکل نزدیک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں جوان ایک ہی شکل و صورت کے تھے، انہوں نے ماتھے پر انگوچھے باندھ رکھے تھے اور ان کی سفید سلکی لنگیاں، ایسے مشاقی سے بندھی تھیں جیسے پہلوان لنگوٹ باندھا کرتے ہیں، بھرے ہوئے بدن پر ایک کالے رنگ کی بنڈی تھی، دھپ دھپ کی آوازیں زوردار ہوتی جارہی تھیں، وہ جب بھی قدم آگے بڑھاتی تو اسے لگتا کہ وہ ایک پلپلے فرش پر پاؤں رکھ رہی ہے، جیسے بہت سے گدوں کو بچھا کریا بہت سی لاشوں کو سجا کر ایک فرش تیار کیا گیا ہو، وہ پھٹے ہوئے پیٹوں، جمی ہوئی چکنی اور سرد سانسوں اور کچلے ہوئے بھیجوں پر پاؤں رکھتی ہوئی ان دونوں جوانوں کے نزدیک پہنچ گئی، اور پھر ان دونوں جوانوں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا، بیک وقت، وہ دو وجود تھے، ایک نہیں مگر وہ اس کی رانوں پر ہلکے ہلکے چٹکیاں لے رہے تھے، اس کی سسکیا ںپھوٹنے لگیں، ایک بہت تیز سیاہ رنگ کے بھبھکے والی سانس نے اس کی پوری حلق کڑوی کردی، اس کی آنکھوں میں دھواں بھر گیا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی زبان پر ایک لجلجا جھینگا تیر رہا ہو، ان دونوں جوانوں نے اس کی شلوار کو جوش میں چیر دیا اور اپنے مضبوط آلہ تناسل کو اس کے جسم کے دو نچلے اور نہایت پتلے ہونٹوں میں پھنسا کر وہ پھر سے دھپ دھپ کا شور بلند کرنے لگے۔اف کتنا شور تھا، اب یہ پورا شور اس کے پستانوں سے ہوتا ہوا، بدن کے ہر گوشے میں پھیلتا جارہا تھا، وہ چیخنے لگی، اسے لگا جیسے وہ اب بھی اسی ریسپشن پر کھڑی زور زور سے ٹیبل بجارہی ہے۔ اچانک اسے لگا کہ ایک گرم ابلتی ہوئی ہانڈی میں اس کا منہ رکھ دیا گیا ہے، اور ان دونوں جوانوں نے اپنے ننگی ہتھیلیوں کو اس کے کوٹ کے اندر چمکیلی اور چکنی پیٹھ سے چپکا دیا ہے، اسے لگا جیسے اس کی رانوں پر سگریٹ کا دھواں چھوڑاا جارہا ہو، گرم، گیلا اور بے حد سفاک و سفید دھواں، جوا س کے وجود کو ایک بڑی سی ہانڈی میں حلیم کی طرح گھول رہا ہو، گھوٹ رہا ہو۔ اس کی سانسیں پھنسنے لگیں، اس نے پھڑپھڑا کر اس پورے کرب آمیز منظر سے نکلنا چاہا تو زبان پر بیٹھا ہوا وہ لجلجا جھینگا، سانپ بن گیا اور اس کے تالو، زبان، زبان کی نچلی اور اوپر پرت، حلق میں دھنسے ہوئے کوے اور داڑھوں کی باریک سوراخوں تک میں اپنا زہر چھوڑنے لگا۔
آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔وہ پولیس سٹیشن کیسے پہنچ گیا ، جب وہ دونوں باہر نکلے تو اس کے پورے وجود میں ایک درد بھرا نشہ اترا ہوا تھا، اس نے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے صدر سے بس اتنا پوچھا
تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟

 

‘تمہیں پڑوس کی بلڈنگ کے ایک چوکیدار نے دیکھ لیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ کوئی لڑکی میرے گھر گئی تھی، میں نے دماغ پر کافی زور دیا اور پھر یکدم تمہارا خیال آیا، پتہ ہے تم کب سے ہو یہاں؟’
‘کل صبح تو لائے ہیں مجھے؟

 

‘ہمم۔۔۔۔تین دن ہوچکے ہیں ، بڑی مشکل سے مجھے اس ہوٹل کا پتہ چلا جہاں تم نے ہنگامہ مچایا تھا۔’
این کسی بھاری مجرم کی طرح خود کو گھسیٹ کر چل رہی تھی، صدر نے ایک آٹو کیا اور دونوں واپس اس کے فلیٹ میں پہنچ گئے۔
Categories
فکشن

پستان ۔ دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-10
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

کچ ایک بے پناہ اندھیرے میں لمبی سانسیں بھررہی تھی۔رات کے فرفر کرتے ہوئے ، ہوا سے بھرے قالین پر قدم رکھنے کی جرات اس نے خود میں نہ پائی تو وہ گرائونڈ فلور کے آخری زینے پر بیٹھ گئی۔باہر بارش بہت تیز ہورہی تھی، جیسے کسی نے بادلوں کی بق بق کرتی ہوئی بھری ہوئی توندوں میں چاقو گھسیڑ دیا ہو۔کیا ہوگیا تھا، اسے وہ میسج پڑھ کر،جس رشتے میں کوئی توقع نہ تھی، جس کے مستقبل کی وہ عامیانہ سوچ اس پر کبھی حاوی نہ تھی، کیا وہ دنیا کی باقی عورتوں کی طرح ایک سرخ لباس میں خود کو صدر کے ساتھ حجلہ عروسی میں دیکھنا چاہتی تھی؟ کیا اس خاص، خوشبوئوں سے لدی پھندی اور رویات سے بوجھل رات میں کوئی خاص بات ہوتی، ایسا کیا تھا جو جنسی اختیارات حاصل کرنے میں اب تک مانع رہا تھا،شوہر اور بیوی کا جنسی عمل بھی کوئی ایسی بات ہے،جس کا رومانس محسوس کیا جاسکے۔وہ تو ایک تھکی ہاری عادتوں میں روزبروز بدلتے جانے والا عمل ہے، ایک شخص کے ساتھ محبت کے نام پر اپنا پلو باندھ کر رات کو اسی پر پلو کھول دینا، نہیں یہ سب بہت عجیب تھا۔صرف ایک ہی شخص کیوں، ابھی اس کے پاس زندگی تھی، ایک بھرپور لمبی اور سانس لیتی ہوئی تازہ دم زندگی۔ وہ الگ رہ سکتی تھی، اسے تکلفات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جانے والا جنسی عمل پسند نہیں تھا، جیسا ان دو افراد کے بیچ ہوتا ہے، جو پتی پتنی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔اس میں دونوں کو ایک دوسری کی جنسی تہذیب کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جنسی تہذیب؟ یہ بھی کوئی بات ہے؟اس کا تو دل چاہتا تھا کہ صدر اور وہ ایک دوسرے کے بدن سے کھیلیں، ویسے ہی، جیسے کوئی ضدی بچہ پلاسٹک کے بازیچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ، غباروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔وہ اپنے بدن کے ہر انگ سے محبت کرتی تھی، اس کی محبت میں ہرنیوں کی سی وحشت تھی، وہ کسی پستانیے کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی، جس کا مقصد صرف اپنی اولاد کو دودھ پلانا ہو، وہ اپنے سینے کی حفاظت کرنا چاہتی تھی، اسے اپنی مرضی سے برباد کرنے کے لیے۔جب بھی صدر اس کے سینے کے درمیان موجود خاکی لکیر پر ہاتھ رکھتا،اس کی سانسیں گرم ہونے لگتی تھیں، رانوں کے درمیان کوئی آبشار ابلنے کے لیے بے تاب ہونے لگتا اور سرد موسم میں بھی حدت کی ساری تہیں اس کی ہتھیلیوں میں جذب ہونے لگتیں۔اسے یاد تھا کہ کسی شخص نے اسے بتایا تھا کہ انسان کیچڑ سے بنائے گئے ہیں، لبلبلی مٹیوں سے، جن کو مٹھیوں میں بھرنے کے بعد انگلیوں کے کھانچوں سے نکلتے ہوئے دیکھنے میں ایک سلیٹی سی فرحت محسوس ہوتی تھی۔ایک دفعہ اس نے ایک آدمی کے منہ پر تھوک دیا تھا، جب اس نے کہا تھا کہ عورت کی تکمیل تو ماں بن جانے میں ہے۔حالانکہ اتنا غصہ اسے اچانک کیوں آیا وہ اس کی وجہ نہیں جانتی تھی، مگر ماں بن جانا، قدرت کی جانب سے اس کے نزدیک ایک اضافی بوجھ تھا، ہر عورت پر۔جو دھیرے دھیرے ذمہ داری سے پسند میں بدلتا چلا گیا اور پھر عورت نے لاچاری میں اس تصور کو اپنی ذات کے سب سے اونچے کنگورے پر ٹانگ کر دیکھنا شروع کردیا تاکہ وہ اس لعنت کو کم از کم جب بھی دیکھے، سر اونچا کرکے دیکھے۔ماں بن جانا، ضروری نہیں ہے، ایک عورت بچے کو جنم دے سکتی ہے، بغیر ماں بنے بھی۔عورت کی چھاتیوں میں بننے والا دودھ دراصل اس گرم خون کا پہلا قتل ہے، جو اس میں جنسی حرارت پیدا کیا کرتا تھا۔وہ دنیا کی ساری ماؤں کو بتانا چاہتی تھی کہ انہیں اپنے بچے اس شرم اور جھجھک کے ساتھ نہیں پالنے چاہیے کہ زندگی بھر اپنے ہی پستانوں کو بغلوں میں دبا کر گھومنا پڑے۔اسے تقدس سے چڑ تھی، کسی بھی قسم کے تقدس سے۔عورت کو دیوی، ماں یا اس کے پیروں میں جنت رکھنے کی روایتی فکروں سے اسے سخت الجھن ہوتی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ جب وہ کوئی لڑکا پیدا کرے تو اس کا بچہ اپنی گوشت سے بنی ہوئی ایک سادہ اور جنسی خواہش رکھنے والی عورت کو کوئی مقدس ہستی سمجھ بیٹھے اور اس کے ہونٹ چومنے، سینے پر ہاتھ رکھنے اور گلے لگنے پر پستانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کے رائج طریقوں سے آشنا ہو۔وہ سوچتی تھی کہ اگر کبھی اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ ایک انسان کو تخلیق کرے گی، اپنے ہی بطن سے، اپنے ہی جیسا ایک گوشت کا سانس بھرتا ہوا لوتھڑا۔کیچڑ سے بنا ہوا، اسی کی طرح ، سلیٹی خوشبو سے لیس۔برسات کا زور نہیں تھم رہا تھا اور بھیگنے کی اس میں ہمت نہ تھی، بدن سردی کی شدت سے جھرجھری لینے لگا تو اس نے اپنے آپ کو زانوئوں کے چادر میں لپیٹ لیا، لیکن کچھ دیر یونہی بیٹھنے کی وجہ سے گھٹنوں میں درد ہونے لگا اور گلے میں خشکی سی محسوس ہوئی۔رات کسی اندھے ، گہرے غار کی طرح منہ کھول کر چیخ رہی تھی اور اس کے منہ سے نکلنے والا ٹھنڈی ہواؤں کا بھبھکا کچ کی کنپٹیوں پر زور ڈال رہا تھا، اس کے روئیں روئیں کو چھو رہا تھا۔ اس نے اس بھیانک حملے سے بچنے کے لیے خود کو جھریوں والے حصے میں ایک طرف بٹھا دیا، اب اس کے اور ہوا کے بیچ ایک موٹی دیوار کی پرت تھی، مگر زمین بالکل نم تھی، اتنی سرد اور ایسی سوجی ہوئی، جیسے فریزر میں رکھا ہوا پپیتا ہو۔اس کے کولہے اس سردی سے کچھ دیر تک خود کو بدن کی گرمی کی وجہ سے برداشت کرسکتے تھے، وہ سکڑ کر کونے میں ہی ہلکی غنودگی میں ڈوب گئی۔مگر اب بھی اس لڑکی کا دھیان اس کے دماغ کے ریشوں میں چوکڑیاں بھر رہا تھا۔

 

کیا ایک عورت بغیر رقابت کے زندہ نہیں رہ سکتی، وہ بھی تو انہی عورتوں کی طرح اس معاملے میں پیش آرہی تھی جو مرد کی ناف پر اپنا نام کھدوادینا چاہتی ہیں۔لیکن رقابت کی یہ عجیب و غریب پہیلی عورت ہی کے حصے میں تو نہیں آئی، مرد بھی عورت کے کون سے دوسرے رشتے کو برداشت کرسکتا ہے۔اور پھر سوال یہاں شاید رقابت کا نہیں تھا، یا پھر شاید پہلے کے کچھ لمحوں میں رہا ہو، مگر اب نہ تھا۔اب وہ اپنے اور صدر کے تنہائی پسند تعلق میں ایک تیسرے سایے کو پھیلتا ہوا دیکھ رہی تھی، اسے لگا کہ این نامی وہ لڑکی ، کون تھی، کب تھی ، شاید اس بات سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا، خاص طور پر اب جب وہ اس معاملے پر سرد موسم میں ٹھنڈے دل سے وچار کررہی تھی۔وہ شاید اب یہ سچ جانتے ہوئے کہ ایک مست و بے خود سانپ اس طرف لپک رہا ہے، اپنے آپ کو ، اپنے جسم کے سبز ناگ کو صدر کے تن سے لپیٹے رکھنے میں برائی محسوس کررہی تھی۔اب تک اس نے کوئی رشتہ دل سے نہیں بنایا تھا، صدر بلاشبہ وہ پہلا شخص تھا، جس نے اس کے بدن کی آیتوں کو ترجمے ہی نہیں تفسیر کے ساتھ پڑھا تھا، ان پر بحث کی تھی، انہیں اچھا یا خراب، مقبول یا منسوخ قرار دیا تھا۔مگر اب یہ کھیل اور کتنے دن جاری رہ سکتا تھا، سانسوں کا جھرنا، اس کی ناف کے نیچے موجود سیاہ جھلیوں کی کٹوری میں کہاں تک ٹھہرتا، ایک نہ ایک روز تو چھلکنا تھا، اور پھر آج تو یہ رات بھی طوفانی ہورہی تھی، اندر و باہر کا اتنا پانی اس کے شریر کے چلو میں کیسے سماسکتا تھا، سو اس نے ہمیشہ کے لیے خود کو اس رشتے سے الگ کردینے کا یہ سب سے بہتر موقع سمجھا تھا۔یا پھر یہ بالکل بے ارادہ سی کیفیت تھی، جیسے کبھی کبھی کوئی مسافر بغیر کسی منزل کے بھی راستوں پر نکل پڑتا ہے، صرف اپنی ذات کی بے چینی کی وجہ سے۔کچ کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہورہا تھا۔ بہت دیر اسی غنودگی کے عالم میں بیٹھنے کے بعد اسے اچانک متلی سی محسوس ہونے لگی، ایسے میں جب اسے واپس اسے صدر کے برابر میں پھیلے کمفرٹر کی گرم آغوش میں چلے جانا چاہیے تھا، وہ برسات میں باہر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔کالی گھنی برسات میں سفید بوندوں کی ایسی یلغار اس پر شروع ہوئی کہ اس کا تقریبا ننگ دھڑنگ بدن بے جان سا ہونے لگا، برسات کے ہی دوران اسے دو چار الٹیاں ہوئیں، رات کا سارا کھانا باہر نکل چکا اور اب پتھ کی آخری ہری الٹی نے اسے بالکل بے دم کردیا۔اچانک اسے ایک ٹھیلہ دکھائی دیا، یا شاید وہ اس سے ٹکراگئی تھی، اس پر نیلے رنگ کی موٹی سی پلاسٹک تنی ہوئی تھی، شاید اس کے مالک نے اس پلاسٹک کو تان دیا تھا تاکہ اس گھنگھور برسات میں لکڑی کا ٹھیلہ پھولنے سے بچ جائے، اسی ٹھیلے پر ایک جانب ایک کتیا اپنے چار بچوں کو بغل میں دبائے سانسیں بھررہی تھی، اس کی پھولتی پچکتی پسلیوں کی کسرت بتارہی تھی کہ وہ گہری نیند میں ہے،ٹھیلے کو لگنے والی ٹھیل سے اس میں کچھ انگڑائی سی کیفیت پیدا ہوئی، لیکن ٹھنڈ کی اتھاہ گہرائی میں اترجانے کے ڈر سے وہ خود اپنے بچوں سمیت اپنے ہی بازوئوں میں دوبارہ سمٹ گئی۔وہ کتیا کی بغل میں ٹانگوں کو گھٹنوں کے بل موڑ کر لیٹ گئی، ٹھنڈ تو بہرحال تھی، مگر پانی کی بہت دھیمی پھوار پڑرہی تھی، کچھ دیر بعد اسے ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ سورہی ہے یا جاگ رہی ہے، ایسا لگتا تھا جیسے اس کی کمر پر کوئی بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے، بہت سارے بھیڑیے مل کر اس کی چھاتی کو بھنبھوڑ رہے ہیں اور وہ رسیوں سے بندھی،سر کو اچکا کر اپنے ہی جسم سے اٹھنے والے تعفن اور نوچے جانے والے گوشت کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی ہے، اچانک اسے لگا جیسے اسے ایک بہت اونچی عمارت سے پھینک دیا گیا ہے، مگر نیچے گرنے سے پہلے ہوا نے اچک کر اس کے بالوں کو ایک بہت بڑے سے ہینگر میں ٹانگ دیا ہے۔اس نے یہ بھی دیکھا کہ وہ مرچکی ہے اور اس کی ارتھی پر بہت ساری عورتیں بال کھول کر رورہی ہیں، چیخ رہی ہیں، مگر ان کے منہ سے عجیب و غریب اور دل کو جھنجھوڑنے والی آوازیں نکل رہی ہیں۔انہی عورتوں میں صدر بھی شامل ہے، اس کے بھی سینے پر پستان کے دو بھاری پھول کھل اٹھے ہیں اور وہ ماتھے پر لال رنگ کا بھبھوت لگائے ، ہاتھوں میں موجود چوڑیوں کو زمین پر مار کر توڑ رہا ہے۔بہت دیر سے اسی کیفیت میں موجود رہنے کے بعد اسے لگا جیسے کوئی اس کے کولہے کو ہلکے ہلکے کھرچ رہا ہے، اس نے کروٹ لینی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ تو سیدھی ہی لیٹی ہے، کولہے پر ٹھیلے پر اگی ہوئی کوئی کیل مستقل چبھ رہی تھی، اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے پوروں سے اس کیل کو چھوا، اس کے سینے پر ایک پلا آکر لیٹ گیا تھااور اتنی ہی بے خبری کے ساتھ سورہاتھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے لپٹ کر ،گرم و گداز اور گدگدے بدن کی لہر میں لپٹ کر اپنے بند نتھنوں کی الجھن کو بھول کر سوجاتا ہے۔اسے صدر کا دھیان آیا، شاید وہ یہ سب کچھ جو کررہی تھی، ٹھیک نہیں تھا۔اس نے بڑی محنت سے اپنی ہمت کو مجتمع کیا اور دوبارہ اسی سمت کو لوٹ گئی جدھر سے آئی تھی۔بارش ابھی بھی فراٹے سے ہورہی تھی، اور اندھیرا بدستور اپنی کوربینی پر دہاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔مگر وہ ٹٹولتے ہوئے صحیح سمت میں پہنچ گئی۔

 

گھر پہنچ کر سب سے پہلے اس نے بھیگے ہوئے بدن کو بہت تھکا ہوا محسوس کیا، اتنا کہ وہ اپنے ہی بوجھ کو اٹھانے سے قاصر معلوم ہوتی تھی، سلائڈنگ کھلی ہوئی تھی اور ہوا کے ساتھ ساتھ پانی کی زبردست پھواریں اندر بھی داخل ہورہی تھی، فرش پر اور دیواروں پر پانی ہی پانی نظر آرہا تھا، جیسے وہ اجلے خوابوں کی ایسی گھٹی ہوئی آوازوں اور بجھی ہوئی امیدوں پر پڑا ہوا پانی ہو، جس کو واپس بھیجنا ناممکن سا ہی ہوا کرتا ہے۔اس نے اپنے بدن کی اس تکان کو بہت دیر تک صوفے پر بیٹھ کر اس کی گیلے سفنج میں جذب کیا ، پھر یکایک اس کی نظر صدر کی بنائی ہوئی ایک تصویر کی جانب گئی ، جس میں ایک کاگ پستان کو اپنے منہ دبائے حرص کے مارے اڑرہا تھا اور ایک بڑی سی چیل اس کے پیچھے منڈرارہی تھی، اس نے اٹھ کر تصویر میں موجود پستان کو چھوا،وہ اس تصویر کامطلب کئی دفعہ صدر سے پوچھ چکی تھی، مگر کچھ نہیں بتا تا تھا یا شاید بتاہی نہ پاتا ہو۔وہ کسی فرانسی داداازم کا حوالہ دے کر اس کے سوال کو ہوا میں اڑا دیا کرتا تھا، مگر کوئی تو مطلب ہوگا جو کاگ کے پنجوں میں دبے ہوئے اس پستان کو ایک مخصوص مطلب دے سکے۔صدر کہتا تھا، وہ اپنی ہر تصویر میں موجود ہوا کرتا ہے، تو کیا وہ اس تصویر میں بھی تھا، وہ کاگ تھا،یا چیل تھا یا پھر پستان یا پھر وہ خلا جو ان تینوں کے درمیان موجود کشمکش اور ندیدگی کو کسی لاچار بوڑھے کی طرح دیکھ رہا تھا۔اسے بہت دیر تک کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے الجھن میں دیوار پر ابھر آئے پلاستر کو اپنے لمبے ناخن سے ادھیڑنا شروع کردیا۔ہوا کی ایک تیز لہر نے اس کے سن ہوتے ہوئے بدن کا احساس جب بے حد شدید کردیا تو وہ ہال سے ملحقہ باتھ روم میں گھس گئی اور باتھ ٹب میں لیٹ کر کافی دیر تک گرم پانی کی آغوش میں اپنے جسم کو جگانے کی کوشش کرتی رہی۔عجیب سی بات تھی، یہی پانی تھا بس سرد و گرم کی وجہ سے اس کی تاثیر میں ایسی تبدیلی واقع ہوئی تھی کہ ایک کچ کے حق میں زہر بن گیا تھا تو دوسرا اس زہر کو چوس کرباہر نکال لینے والا چارہ گر۔نہا کر نکلنے کے بعد جب وہ کمرے میں گئی تو صدر غائب تھا، اتنی رات میں وہ کہاں نکل سکتا تھا، ہوسکتا ہے، اسے ہی ڈھونڈنے گیا ہو، کچ کو بہت تیز سردی کا احساس ہورہا تھا، اس کا سارا بدن پھک رہا، دماغ پھوڑے کی طرح پھولنے پچکنے کے عمل میں مصروف تھا ، مگر ایسے میں بھی اسے اس بات سے بہت فرحت محسوس ہوئی تھی کہ صدر اتنی بھیانک رات میں اس کی تلاش میں نکلا ہے، وہ شخص جس کے اندر اپنی ہی پرواہ کے جراثیم بالکل نہ پائے جاتے ہوں، کچ کی عدم موجودگی سے اتنا پریشان ہوگیا تھا۔اسے یہ سوچ کر خوشی ہورہی تھی، اسی خوشی میں اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے ریکارڈر کے تار کو چھیڑدیا۔اس میں سے جل ترنگ کی لہریں پیدا ہونی شروع ہوگئیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے کوئی کہیں
کیوں راہ تکے من ہارے نہیں

 

کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
Categories
فکشن

پستان۔ آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-8
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

این گاڑی میں تھی، مگر ابھی تک ہوائی جہاز کی وہ ژووووں ں ں کرتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ ہوائی سفر پسند نہیں کیا کرتی تھی۔ باہر تیز برسات ہو رہی تھی۔ طویل راستہ تھا تو اس کے پاس سوائے موسیقی سننے اور دھیمے ٹریفک میں رینگتی ہوئی گاڑی کے درمیان یادوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے کے، کوئی دوسرا کام نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس بھری اور اس کے گول سینے کی ابلتی ہوئی ہانڈی میں دو خاموش طبع لوگوں کی یادیں گڑگڑانے لگیں۔وہ آنکھیں، وہ خوبصورت آنکھیں، جن سے بچھڑے ہوئے اسے قریب ڈیڑھ سال ہوگیا تھا۔ اس عرصے میں اس نے ہر دن ان آنکھوں کو بہت یاد کیا تھا، آخر کیا تھا ان آنکھوں میں جو صدمے کی طرح رہ رہ کر اس کے شانوں کو دباتا ہوا محسوس کرتا۔ راتوں میں جب وہ تکیے کے ساتھ لپٹ کر سو رہی ہوتی تو اس کی تنگ تاریک عریانی میں وہ آنکھیں دھڑکتی ہوئی آن پہنچتیں۔ اور اپنی پلکیں پھیلا کر اس کا پورا وجود خود میں گھول لیتیں، ملا لیتی۔ وہ رات بھر انہی آنکھوں کی تجوری میں کسی گرم خزانے کی طرح ہانپتی رہتی۔

 

این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا ملنا ایک عالیشان محل کے پھاٹک کی طرح ہمیشہ شاندار اور جاذب نظر معلوم ہوتا تھا۔ جسے جب بھی دیکھو، کتنی بھی دور سے، کتنی بھی ظلمت یا کیسی بھی روشنی میں، وہ خوبصورت ہی معلوم ہوتا تھا۔ وہ چقماق جیسی آنکھیں جو این کے سینے سے رگڑ کھاتے ہی سرخ ہونے لگتیں، خمار کی گرم اداسیوں اور محرومیوں کی کائیوں سے اٹی ہوئی۔ وہ نیلی، کالی، سرخ اور سبز آنکھیں۔ بہت سے رنگ بدلتی تھیں۔ این نے اس عرصے میں ہر دفعہ یہی سوچا تھا کہ وہ پلٹ کر صدر کے پاس نہیں جائے گی۔مگر اس کے جسم کی بو اور اس کے ذہن کے اتہاس کا یاتری بار بار رات کی ٹرین کو آنکھوں کے اسی سنسنان سٹیشن پر موڑ لاتا تھا اور وہ رات بھر ان آنکھوں کی پٹریوں، بنچوں، سیڑھیوں اور ریلنگ پر بیٹھ کر سوچا کرتی کہ کیا اسے واقعی واپس جانا چاہیے۔ صدر اس سے ملنے سے پہلے شاید یہی سمجھتا رہا ہوگا کہ وہ دنیا کا سب سے عجیب اور آزاد انسان ہے، مگر این نے اس کی طبیعت کی ساری تیزی اور انا کی ساری کراری ختم کردی تھی۔ وہ راتوں میں اس کے ایک بوسے کے لیے بھکاریوں کی طرح گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اسے خود کے نزدیک آنے کے لیے منتیں کرتا رہتا اور این اپنے آپ کو اس منظر سے تسکین پہنچایا کرتی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ شخص جو خود کو ذہانت کا پتلا سمجھتا ہے، اپنے برش سے عورتوں کے جسم کے ایسے باریک ریشوں اور دھبوں اور رنگوں کو نمایاں کرتا ہے کہ خود عورت کا آئنہ بھی اس پر اتنی صفائی کے ساتھ خود کو روشن نہ کرسکے۔ کیسے اس کے لیے ماہی بے آب بنا ہوا تڑپ رہا ہے۔ یہ روز ہوتا تھا۔ صدر کو اب اس طلب میں اور این کو اس اذیت دہی میں لطف آنے لگا تھا۔ صدر ان دنوں شہر کی کسی سرائے میں ایک کام سے ٹھہرا ہوا تھا، جب این سے اس کی ملاقات ہوئی۔ این اس سرائے کی مالک تھی، مگر وہاں اس کا اتفاق سے ہی جانا ہوا کرتا تھا، کیونکہ اس کا بوڑھا باپ ساری ذمہ داری اٹھائے تھا۔وہ کسی صورت این کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔ چہرے پر جھریوں کا ایسا جال تھا، جیسے لگتا ہوکسی پھوہڑ عورت نے آٹا گوندھنے کی کوشش کی ہو۔ اکثر و بیشتر جب وہ کاؤنٹر پر کھڑا ہوکر اپنے گلے کی لٹکتی ہوئی کھال کو چٹکیوں میں بھر کر کالر میں ڈالا کرتا تو دیکھنے والے جھرجھری لیتے۔ مگر وہ چکنی اور بلاگوشت کی جھولتی ہوئی کھال بار بار پھسل کر باہر آجایا کرتی۔ اس کے بائیں ہاتھ میں رعشہ تھا۔ صدر نے ایک دفعہ این سے پوچھا بھی کہ آخر تمہارا باپ اس قدر بوڑھا کیوں ہے، تو این نے بتایا کہ اس کے باپ نے پچاس سال کی عمر میں شادی کی تھی اور قریب ساٹھ سال کی عمر میں وہ پیدا ہوئی تھی، اس کی ماں ڈلیوری کے وقت ہی دنیا سے سدھار چکی تھی۔ بقول این وہ کافی جوان تھی، اور اگر وہ اس رات بچ جاتی تو شاید این کا باپ پچھلے سترہ اٹھارہ سالوں میں اس قدر بوڑھا نہ ہوا ہوتا۔ این اس کے مقابلے میں بہت خوبصورت تھی، ایک سال پہلے ہی اس کا سکول پورا ہوا تھا، این کو شکایت تھی کہ اس کے پستان زیادہ بڑے نہیں ہیں۔ وہ انہیں انگلیوں سے چھوا کرتی تھی، عجیب بات یہ تھی کہ سکول میں اس کا کسی کے ساتھ افیئر نہیں ہوا تھا۔ بدن پتلا دبلا تھا، بال گردن تک جھولتے ہوئے، ٹھوڑی آگے کو نکلی ہوئی اور آنکھیں بڑی بڑی، ناک البتہ کچھ موٹی تھی، مگر گالوں کے گڑھے اور چوڑے دہانے کی آمیزش نے اس کی ناک کے اس عیب کو دبا لیا تھا۔

 

اس روز صدر کسی کام سے بازار گیا تو واپسی میں اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھلا پایا، احتیاط سے اندر داخل ہوا تو بالکنی میں ایک لڑکی کو اپنی ایک کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ کر چونک گیا۔ اس نے کہا:
‘معاف کیجیے گا، لگتا ہے میں کسی غلط کمرے میں گھس آیا ہوں۔’
لڑکی نے کہا:’ہیلو ! میرا نام این ہے۔ آپ کسی غلط کمرے میں نہیں آئے ہیں۔ ایکچولی یہ کتاب ہماری کنٹری میں بین ہے۔’

 

صدر کو سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی بات کا کیا جواب دے۔اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا۔

 

‘واقعی؟’

 

لڑکی نے آگے بڑھ کر صدر کو ایک گال پر ایک بوسہ دیا اور کہا:’فی الحال میرے پاس آپ کو دینے کے لیے دوسرا اور کچھ نہیں ہے۔اس سے کام چلائیے، میں کچھ روز میں کتاب واپس کردوں گی۔’

 

صدر دیکھ رہا تھا کہ لڑکی نے کتاب کو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور درمیان میں انگلی پھنسائی ہوئی ہے۔اس کے انہماک کو توڑتے ہوئے لڑکی نے ایک ہاتھ سے اسے ہلکا سا پیچھے کیا اور مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔وہ بالکنی کی اسی کرسی پر بیٹھ گیا۔ لڑکی کے دائروں کی حرارت ابھی تک کرسی پر جمی بیٹھی تھی۔ پھر وہ کچھ خیال کرکے اٹھا، اس نے لیپ ٹاپ اٹھا کر چیک کیا کہ کیا واقعی وہ کتاب اتنی اہم تھی کہ کسی ملک میں اسے بین کیا جائے۔ وہ دراصل عورتوں کے مختلف پستانوں کے متعلق ایک بہت ہی دلچسپ کتاب تھی۔ خود زیادہ وہ بھی نہ پڑھ سکا تھا، مگر اس کتاب کو لکھنے والے نے ناول اور نالج کو کچھ اس طرح سے ملادیا تھا کہ پڑھتے وقت اگر ایک طرف بہت گرماہٹ محسوس ہوتی تو دوسری طرف پستانوں کے اندرون، ان کی ساخت اور بناوٹ کے اسباب پر جو روشنی ڈالی گئی تھی، اس کی سائنسی، نفسیاتی، فلسفیانہ، تاریخی اور عمرانی وجوہات کو پڑھ پڑھ کو وہ بہت بور بھی ہوا تھا۔وہ کتاب واقعی یہاں بین تھی۔ شاید اس لیے کہ اس کا مصنف ایک ایسا شخص تھا جو پستان اور مرد کے عضو تناسل کے بارے میں دنیا بھر میں ماہر ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عورت اگر اپنے پستان کاٹ بھی دے، تب اس کے اندر کی پستانی صفت ختم نہیں ہوسکتی۔ قدرت کی جانب سے ہر عورت کے سینے پر یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو جس قدر بھاری ہو، اتنا ہی ہلکا معلوم ہوتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسی بھی عورت کے پستان برابر نہیں ہوا کرتے، دنیا میں شاید دو تین فی صد عورتیں ایسی ہوں گیں، جن کے پستانوں کا وزن برابر ہوگا۔ پستان اپنی ایک دنیا خود میں آباد رکھتے ہیں۔ اور ان کی غیر برابری بھی ایک قسم کی تاریخی حقیقت کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ اس کے تعلق سے اس نےاپنے ناول میں بڑا عجیب و غریب لیکن دلچسپ اسطورہ بھی بیان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شروعات میں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں، جن کے پاس اپنے سارے جنسی احساسات موجود تھے، مگر ان کے پستان ابھرا نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ مردوں کی طرح سپاٹ سینہ رہا کرتی تھیں، بس جس وقت ان کا جنسی عمل کرنے کا دل چاہتا، ان کے سینے پھول جاتے اور وہ اس قدر پھولتے کہ ان کی خواہش کسی سے چھپی نہ رہ پاتی تھی۔ اس نے اس سلسلسے میں ایک بھورے بالوں والے بندر کا قصہ سنایا تھا، جس کی بیٹی کو دنیا بھر میں عفیفہ اور عزت مآب شخصیت سمجھا جاتا تھا۔کئی مرد اس کے پاس آتے، اس کے جسم کا طواف کرتے، مگر وہ ایک دائرے میں اس طرح ننگی بیٹھی رہا کرتی کہ اس کا سینہ کسی بھی پہلوان، گبرو یا باہوبلی کے لیے نہیں پھولا کرتا تھا۔ ایک رات بہت برسات ہورہی تھی، اتنی کہ اس میں بھورے بندر کو احساس ہوا کہ دائرے میں موجود کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی اس کی بیٹی بھیگ رہی ہوگی۔وہ خود رات کے پچھلے پہر، سب سے چھپتا چھپاتا اپنی بیٹی کو لینے کے لیے بے تاب سا وہاں پہنچا اور اسے دائرے سے اٹھا کر اپنی خوابگاہ میں لے آیا، اس نے سوچا تھا کہ اگلے پہر جب برسات کا زور ہلکا سا ٹوٹے گا تو وہ بیٹی کو دوبارہ وہاں پہنچادے گا، مگربھاری برسات میں جب وہ اپنی بیٹی کو لارہا تھا، تو اس کے بالوں بھرے ہاتھوں کی رگڑ بیٹی کی ننگی پیٹھ کو ایک عجیب تسکین پہنچا رہی تھی، اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں، بندر کا دوسرا ہاتھ بیٹی کے کولہوں پر تھا، خوابگاہ میں لانے کے بعد جب وہ ایک چھال سے بیٹی کا بدن پونچھنے لگا تو بیٹی نے بے تابانہ آگے بڑھ کر بھورے بندر کا بوسہ لے لیا۔ وہ رات بھورے بندر کے لیے اپنی زندگی کی سب سے گہری طوفانی رات میں بدل گئی اور اس نے سسکتے ہوئے اپنی بیٹی کے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا، سانسیں جب دونوں جانب بے حد گرم ہوگئیں تو قق قق کی آواز کے ساتھ بیٹی کے منہ سے عین وصل کے درمیان خون نکلنے لگا، لیکن بندر پر اس وقت وحشت طاری تھی، جب وہ جنسی عمل سے فارغ ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیٹی مرچکی ہے۔ احساس ندامت نے اسے اتنا جھنجھوڑا کہ وہ خود جاکر اسی دائرے میں بیٹھ گیا، بھیگتی ہوئی برسات اور ٹھٹھرتی ہوئی لہروں نے اس کے جسم کو لپیٹ لیا، اس کی عفیفہ بیٹی کی روح برسات کے چابکوں میں بدل کر اس کی پیٹھ، چہرے اور رانوں کو سڑاک سڑاک کی آوازوں کے ساتھ چھلنی کرنے لگی۔ صبح لوگوں نے دیکھا کہ بھورے بالوں والا بندر دائرے میں اوندھے منہ پڑا ہوا ہے، اوراس کی سپاٹ سینہ و عفیفہ بیٹی اس کی خواب گاہ میں خون میں نہائی ہوئی،اپنے بڑے بڑے ہوئے پھٹے ہوئے سینوں کے ساتھ رانوں کو اوپر کی جانب کیے ہوئے مردہ پڑی ہے۔اس نے اس قصے کے بعد لکھا تھا کہ پستانوں کی دیوی ‘چوچارو’ کو اس روز احساس ہوا کہ ابلا اور بھرا ہوا سینہ ہر عورت کے پاس ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی عورت کو پستانوں کی عدم موجودگی میں اس قسم کے دائروں میں بیٹھنے کی نوبت نہ آئے۔ ناول کے سرورق پر بھی ایک ایسی بے چہرہ عورت کا مردہ وجود بنایا گیا تھا، جس کا بدن خون میں ڈوبا ہوا تھا اور اس کے پستان پھٹے ہوئے تھے۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کتاب کے سرورق پر بنی ہوئی مردہ لڑکی یا عورت کا جسم ‘این’ کے فیگر سے کتنا ملتا جلتا تھا۔

 

صدر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اپنے آپ کو واپس ہوش کی دنیا میں پلٹایا، اس نے سوچا کہ این براہ راست اس سے کتاب مانگ کر کیوں نہ لے گئی، کیا اس نے اسے پہلے کوریڈور میں کہیں دیکھا تھا یا لابی میں یا ڈائننگ روم میں۔کہیں تو دیکھا ہوگا،ا ور پھر وہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی تھی کہ وہ کچھ روز یہاں ٹھہرے گا۔ کہیں وہ کوئی جاسوس تو نہیں تھی۔کوئی جاسوس، جو اس ملک میں صدر کو یہ کتاب لاتے ہوئے دیکھ چکا ہو اور اب اس کا مقصد کسی صورت یہ کتاب وہاں سے ہٹانا ہو۔لیکن ایک کتاب سے اس قدر خوف اس کی سمجھ میں نہ آیا، پستان تو یہاں کی عورتوں کے بھی ہیں، لڑکیوں اور ننھی بچیوں کے بھی، بلکہ خود اس جاسوس کے بھی ہیں۔کیا یہ لوگ اس پر بھی پابندی لگا سکتے ہیں۔کیا یہ پستان کے پیچھے ایک جاسوس چھوڑ سکتے ہیں۔ممکن ہے اس کتاب میں آگے چل کر کہیں کوئی ایسی بات ہو، جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی ہو۔وہ باہر نکل کر دیکھنے لگا کہ شاید اسے کہیں وہ لڑکی دکھائی پڑے۔ مگر وہ دور دور تک نہیں تھی۔پھر اسے یاد آیا کہ جنس تو دنیا کی ہر شے میں موجود ہے۔خودوہ تو یہی سمجھتا ہے۔وہ کچھ سوچتے سوچتے اپنے کینوس کے نزدیک گیا۔اس نے ایک بکسے سے اپنا پسندیدہ ریکارڈ رنکالا اور اس پر ایک فرانسیسی گیت بجاتے ہوئے شرٹ اتار کر تصویر بنانے میں مصروف ہوگیا۔کافی دیر بعد جب وہ وہاں سے ہٹا تو تصویر میں عورت کی شرم گاہ ایک چھوٹی، مڑے اور جھجکے، بھیگے کاغذوں کی کتاب جیسی نظر آرہی تھی، جسے میں مرد کا عضو تناسل کسی انگلی کی طرح ایک مخصوص صفحے کو روکے رکھنے کے لیے درمیان میں کہیں پھنسا ہوا تھا۔

 

وقت بیت رہا تھا، شام ہورہی تھی، اس نے کچھ بسکٹ کھائے اوراپنے بستر پر لیٹ گیا، واٹر کلر اس کے چہرے اور ماتھے پر یونہی لگا ہوا تھا، فرانسیسی گیت اس ماحول میں اداسی کی ایک ایسی بے معنی تشریح کرتا معلوم ہورہا تھا جیسے سب کچھ کہیں پیچھے چھوٹ گیا ہو۔وہ اپنی غریب الوطنی اور خود ترحمی کے ملے جلے احساسات میں ڈوبا ہوا چلا گیا، اس نے دروازہ بھیڑنے تک کی زحمت گوارہ نہ کی تھی۔صبح آنکھ کھلی تو کوئی اس کی آنکھوں کے آگے چٹکیاں بجا رہا تھا۔وہ ‘این’ تھی۔
Categories
فکشن

پستان – ساتویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

میں کمرے کی چوکورپستانوں سے جھانکتا ہوا ایک واحد گواہ، بجھا اور اندیشوں سے بھرا اپنی آغوش میں سمٹا بیٹھا ہوں۔ باہر بہتی ہوئی ہواؤں، تڑختی ہوئی بوندوں اور بھائیں بھائیں کی آوازوں نے میرے کان سن کردیے ہیں، پیٹھ تر کردی ہے اور پانی اب رینگ کر میرے پیٹ اور منہ میں سیلن کی جھپکیاں لیتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔میں ٹھنڈ سے سکڑ گیا ہوں، اتنا کہ مجھ کو پہنائی گئی پلستر کی چادر پر کچھ شکنیں ابھر آئی ہیں۔کہانی دو کرداروں سے شروع ہوئی تھی، وہ دونوں اس وقت میری نگاہوں سے غائب ہیں۔لیکن میں ابھی ان کے بارے میں نہیں سوچ سکتا، یہ ایک تھکی ہوئی، بوجھل اور زنگ آلود رات ہے، جس میں میری رانیں بوندوں سے تر ہیں، میں اپنی نسوں میں چڑھتے ہوئے تاروں کی جھمک اور دھمک دونوں کو سن اور محسوس کررہا ہوں۔یہ رات آواز کے سارے موسموں پر کسی رقص کرتے ہوئے بگولے کی طرح حاوی ہوتی جارہی ہے۔انسانی ہاتھوں کے تراشے ہوئے لیمپ جل بجھ رہے ہیں، ان کی گرمیاں اپنے ٹھنڈے دائروں میں رقص کرتے کرتے ماند ہوئی جارہی ہیں اور ڈم اور بے جان اجالے کی یہ لہر اب گرتی پڑتی کسی طرح وجود کی رسیوں کو تھامے ہوئے کھڑی ہے۔

 

وقت دھیرے دھیرے آگے کی جانب پھسل رہا ہے، جیسے بالکنی میں زمین پر ڈھیر پانی کی لکیر آہستہ آہستہ خود کو آگے کی جانب دھکیل رہی ہے۔یہ دائرہ بڑھتے بڑھتے اس پورے فلیٹ کو اپنی نم مٹھیوں میں جکڑ لے گا۔ڈرائنگ روم میں پڑا ہوا صوفہ غنودگی میں ہے، اس نے اپنے اندر بھری ہوئی کترنوں اور روئیوں کو تھپک تھپک کر سلادیا ہے مگر ہوا کا آسیبی وجود چھوٹے چھوٹے چھیدوں سے اس کے پیٹ میں اتررہا ہے، صوفے کے پانئچے بھیگ گئے ہیں۔اس کی کڑھتی اور ٹھنکتی آوازوں نے کمرے کے اندر موجود تمام چیزوں کو ہوا کی اس بے رحم گدگدی کا احساس دلادیا ہے، جس سے بے دم ہوجانے والی تمام اشیا آج اپنے گلے چھیلنے پر مجبور ہوجائیں گی۔دروازے کا لوک کھر کھر کی مانوس صداؤں سے بھرا پڑا ہے، برتن بج رہے ہیں، گلک میں رکھی ہوئی ریزگاری کی جھنکار تیز ہوئی جارہی اورہے اس پورے ماحول میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی تیز بو ہم سب کے وجود میں سرایت کرتی جارہی ہے۔یہ کھراند ہے، بو کی ایک ایسی شکل جو تیزابی ہوا کرتی ہے، جس کے اندر بھرا ہوتا ہے پیلاپن، دھوا ں اور وہ گاڑھا جذبہ جو نتھنوں کی ہڈیاں نچوڑنے کا ہنر جانتا ہے۔ ہلکے ہلکے باریک پردے پینگیں بھر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے چھت کو چھو لینے کی ہڑک اچانک ان کے دل میں جاگ گئی ہو، اس پورے منظر میں صرف دو چیزیں ہیں، پانی اور ہوا۔پانی اور ہوا، جیسے کچ اور صدر۔دونوں نے لگتا ہے غائب ہوکر ان صورتوں میں اپنے آپ کو اجاگر کیا ہے،صدر کا ڈھلتا، ڈوبتا اور تیرتا، اچھلتا وجود اگر پانی ہے تو کچ کا انگڑائیاں لیتا، اٹھکیلیاں کرتا، دھکیلتا اور بھرتا ہوا وجود ہوا کی طرح ابل رہا ہے۔جوانیوں کے اس عظیم نشے میں دونوں کی طاقتیں اور اختیار بڑھ کر خدا کا روپ دھار چکے ہیں، وہ ایک دوسرے میں ضم ہوئے جارہے ہیں اور اپنے بوسوں، تھپکیوں، ناخنوں اور نکیلے دانتوں سے خود کو گھائل کیے جارہے ہیں۔مگر وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اب ان کا کوئی بدن نہیں ہے، بس وہ ایک دوسرے کے اندر اتر سکتے ہیں، کچ جب صدر کے سینے پر پاؤں رکھتی ہے تو اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے بلبلے روشن ہوجاتے ہیں، صدر جب کچ کی ہتھیلیوں کو پکڑنا چاہتا ہے تو اس کی ماورائی، چکنی اور سرد جلد مجبوراً اس کے اپنے ہاتھ کو شرمگاہ کی عمق تک لے جاتی ہے۔کانچ پر، چمڑے پر، برف پر، چونے کی ایک پتلی چادر پر ہرجگہ ان کا حیوانی جنون جنگلی قبائل کے سیاہ خون میں لتھڑے ہوئے نوالوں کی طرح چبتا ہوا محسوس ہورہا ہے، جیسے داڑھیں چچڑی ہوئی کسی ہڈی کو دبا دبا کر سارا رس نکال رہی ہوں۔تمام جگہیں ان کے نشانات سے بھر گئی ہیں۔وہ کبھی سیلنگ فین کے اوپر، کبھی گدوں کے اندر، کبھی فرج کے پیچھے تو کبھی برتنوں کے بیچ اپنے جنسی عمل کو انجام دے رہے ہیں۔وقت کے اس تیز پہیے میں انہیں بس اس ایک لذت سے سروکار ہے، جس کے لیے انہوں نے اچانک ایک سوتے ہوئے چمکدار چاقو جیسے شانت منظر پر دھاوا بول دیا ہے۔انہوں نے کپڑوں سے اس حد تک بغاوت کی ہے کہ جلد کو بھی درمیان سے ہٹادیا ہے،مگر اب بھی ان کی پیاس کا صحرا جوں کا توں، بچھوؤں کے رینگتے ہوئے کانٹے دار قدموں، مکڑیوں کے گول گھومتے ہوئے وجود اور ہرنوں کے کریدتے ہوئے پنجوں سے آباد ہے۔میں اب اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا، ان کے لعاب کی چھینٹیں میرے منہ پر بھی اڑتی ہوئی آئی ہیں۔اور میرا باہر کو جھکا ہوا منہ اب اس ذلت پر کچھ لٹک گیا ہے، آنکھوں میں دھندلاہٹ بھر گئی ہے، کچھ صاف نظر نہیں آرہا، بس ایک ترش احساس اپنی شکست کا ہے،اپنے بے جان اور جکڑے ہوئے ہونے کا، اپنی بے قدمی اور بے جگری کا۔پھر بھی میری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، اس انجام کو دیکھنے کے لیے جو اس کمرے میں قید رات کا مستقبل ہے۔کڑھے ہوئے سینوں کے اندر شاید ایک آگ ہوتی ہے، میرے اندر بھی وہی آگ موجود ہے، کیونکہ میں اس وقت اپنی بینائی پر پانی کا پہرا دیکھ رہا ہوں، ایک ایسی گیلی چادر، جس نے میری آنکھوں میں موجود روشنی کو اپنے پیٹ میں اتار لیا ہے اور میری بینائی اس بڑے سے گول اور چکنے، پھیلے منظر سے باہر کی ہر ایک شے کو دیکھنے سے قاصر ہے،بس کچھ نشانات سے نظر آرہے ہیں، جن کو میں اندازے کے طور پر استعمال کررہا ہوں اور کہانی کو جوڑ توڑ کر اپنے لفظوں میں بیان کرنے کی ادھوری سی کوشش۔میری بینائی اگر چلی بھی جائے تب بھی میں اس روایت کو بیان کرنے سے دستبردار نہیں ہوسکتا، جب تک میری سماعتوں کا بھی وہی حشر نہ ہو، جو میری آنکھوں کا ہوا ہے۔کچ اور صدر اب زمین پر لیٹے ہوئے نہ جانے کیوں پنجے چلا رہے ہیں، ایسے میں اڑتا ہوا پانی میری آنکھوں پر مزید موٹی پرت بنارہا ہے۔میرے ہاتھ سے اندازوں کی شیشیاں بھی چھوٹتی جارہی ہیں اور میں انہیں اٹھانے سے قاصر ہوں۔

 

اس گیلے منظر میں چرمراہٹ کی سوکھی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا، میں جانتا تھا کہ آنے والا جو بھی ہے وہ کچ اور صدر میں سے ایک ہے، مگر کون ہے، یہ بتانے سے قاصر ہوں،شاید وہ اندر داخل ہوکر کہیں بیٹھ گیا ہے، صوفے پر یا کہیں اور۔۔۔میرے خیال میں اسے صوفے پر ہی بیٹھنا چاہیے کیونکہ زمین تو اس وقت بہت بھیگی ہوئی ہے، وہ اینڈا بینڈا انسانی ہیولا بیڈ پر بھی نہیں گیا تھا۔پتہ نہیں اس نے جلتی بجھتی روشنی کے تپتے ہوئے زخموں کو ابھی تک ہاتھ کیوں نہیں لگایا تھا۔کچھ وقت یونہی بیت گیا، اتنا ہی اداس، بے جان، بے ضمیر اور روکھا۔جیسے اس وقت کو پانی کی کوئی بوند نہ چھو پائی ہو، سوکھے ہوئے گلے کی طرح اس کے اندر کی رگیں چٹخ رہی ہوں اور اس سرد،پراسرار اور دھندلے اجالے میں بھی ا س کے اندر کی حرارت برف سے تھپے ہوئے منظر میں جلتی ہوئی چمنیوں کی طرح روشن ہو۔وہ ہیولا کچھ دیر بعد اٹھا اور مرے بدن کے پاس آکر ایک تصویر کو گھورنے لگا، اس کی انگلیاں میرے جسم پر رینگ رہی تھیں، میں انگلیوں کی دبازت کو محسوس کررہا تھا مگراس سن جسم کے اندر آنچ کی شناخت کرکے اس شخص کا نام بتاسکنا اس وقت میرے لیے ممکن نہیں تھا۔میرے بدن سے ادھڑے ہوئے پلاستر کو اس نے کہیں کہیں سے نوچ کر پھینک دیا۔ میں اس وقت اس کی جسامت، لطافت اور کثافت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اندرون اور بیرون کی ہرچیز پھیلتی اور سکڑتی جارہی تھی۔نہ جانے کتنی دیر تک وہ انگلیاں میرے بدن پر مختلف قسم کی لکیریں کھینچتی رہیں، ان کی تپن مرے اندر ذرا بھی حرارت نہ پیدا کرسکی۔پھر وہ ہٹ گئیں، شاید میرے ماتھے پر سجی ہوئی تصویر کا سارا رس پی لینے کے بعد اس ہیولے کو کسی اور بات کا خیال آگیا تھا۔اچانک میرے نیند میں ڈوبے ہوئے دماغ کے کسی گوشے میں چنگاری کی طرح ایک سوال سلگ کر پھر ماند ہوگیا، کہیں یہ کوئی چور تو نہیں۔جو سیاہ رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالک مکان کی عدم موجودگی میں اس وقت یہاں آپہنچا ہو۔میں نے بہت غور کیا کہ کیا میں نے چابیوں کے کھنکنے کی کوئی آواز سنی تھی، مگر ایسا نہیں تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ صدر دروازے کو تالا لگا کر گیا تھا یا اس نے محض آٹو لوک کی مدد سے جز وقتی طور پر دروازے کو بھیڑ دیا تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے باتھ روم سے آتی ہوئی شرر شرر کی آوازیں محسوس ہوئیں، اس ٹھنڈک میں نہانے کا خیال برسات میں بھیگے اور کپوئے ہوئے کسی بدن کو ہی آسکتا ہے، ٹنکی کی حبس زدہ آنتوںمیں موجود پانی ضرور اتنا گنگنا تو ہوگا جس سے بدن کی سرد شکنوں کو واپس سوئی ہوئی موجوں میں تبدیل کیا جاسکے۔شاید اسی طرح اس کپکپکی کا احساس کم کیا جاسکتا ہے، جو سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے، جسم کو سنسان اور برفیلے پہاڑوں میں تبدیل کردیتی ہے، بدن کا سارا پانی شرمگاہوں سے ہوتا ہوا رانوں کے طشت کو بھگونے پر آمادہ ہو جاتا ہے، گھٹنوں کی کٹوریاں بجنے لگتی ہیں، پنڈلیاں لڑکھڑانے لگتی ہیں اور انسان اپنے دونوں بازو وؤں کو خود سے لپٹائے ضرب کے نشان کی صورت اس سرد و سفید احساس میں گھل کر خود اندھیرے کا نمائندہ بنتا چلا جاتا ہے۔

 

کوئی چور باتھ روم نہیں جاسکتا، کم از کم نہانے کی غرض سے تو بالکل نہیں۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔وہ سردی کی دھوپ کی طرح جلد باز ہوتا ہے، جو زمین پر بکھرے رنگ برنگے تماشے چرا کر تیزی سے مغرب کی طرف چھلانگ لگادیتی ہے اور اندھیرے کی غلام گردشوں میں چکر لگاتے سپاہیوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیٹھ پیچھے کب صبح آئی، دوپہر تک رکی اور شام ہونے سے پہلے ہی رخصت ہوگئی۔مجھے محسوس ہوا کہ ابھی اندازے کی کچھ شیشیاں میرے ہاتھ میں ہیں، جو اتنی بھی بے کار نہیں ہیں، جتنا کہ میں سمجھ رہا تھا۔بہرحال، ایک بدن، سائے کی صورت ہلکے سے دوڑتا ہوا بیڈروم میں پہنچا،دھاڑ سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی، میں بے انتہا دھندلی نظر کے باوجود دیکھ سکتا تھا کہ دروازے کی نچلی درار سے نکلتی ہوئی روشنی نے ایک بے نام رنگ کی چادر میں دیواروں پر بہت سے سیاہ قد اگادیے ہیں، وہ سیاہ قد کن چیزوں کے تھے، یہ میں نہیں بتا سکتا۔کچھ دیر بعد پانی کی لہریں ختم ہوگئی تھیں،نظر دھندلی ضرور تھی، بدن سرد ضرور تھا، مگر دیوار میں زندہ دفن کردیے جانے والے ایک قیدی کی طرح میری ایک ہی خواہش تھی کہ میں دیکھوں کہ ان دونوں میں سے وہ کون سا کردار ہے، جو پلٹ آیا ہے۔اس معاملے میں اندازے کی کوئی شیشی میرے کام نہ آئی تو میں نے جھلا کر انہیں سامنے کے آئنے سے دے مارا، اس میں چٹاخ کی آواز کے ساتھ ایک ہلکی سی خراش پیدا ہوگئی۔صبح اب اپنے جلو میں ایک نم اور افسردہ اجالے کو لے کر بہت آہستگی سے تھکے ہوئے جنسی حیوانوں اور سوتے ہوئے دربانوں کی موجودگی میں مختلف رنگ کے تماشوں کو سمیٹنے کی خواہش لیے اس طرف بڑھنے کا ارادہ کررہی تھی، اس نے کرنوں کے ایک بہت چھوٹے سے وفد کو زمین کے گھنگھور اور گہرے غصے کا اندازہ کرنے کے لیے بھیجا تھا، جن میں سے دو چار کرنیں، شانت اور ڈوبے ہوئے پانی کی سطح پر بیٹھیں چھپ کر بیٹھی ہوئی کرنوں کو اشارے سے بلارہی تھیں۔کہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ہوا کا سائرن کافی دھیمے انداز میں اب بھی بجے رہا تھا۔میں اس پورے تماشے میں بری طرح تھک گیا تھا، اب میرے بدن پر اگ آنے والے چھالوں نے مجھے اور زیادہ زخمی ہونے کا احساس دلایا۔ایسے میں کمرے سے ہلکی موسیقی میں ابھرتی ہوئی آواز کی کچھ لہریں دروازے کی نچلی درار سے تیرتی ہوئی باہر نکل رہی تھیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے، کوئی کہیں
کیوں راہ تھکے من ہارے نہیں
جب ان سے آمنا سامنا تھا
تب چنچل دل کو تھامنا تھا
کیوں پریم کے بھید ابھارے نہیں
اب راہ تکے من ہارے نہیں*

 

بھیدوں بھرے ان بولوں کو سنتے سنتے میری پلکیں بوجھل ہونے لگیں، بدن تو نہ جانے کب سے سن تھا، دھوپ اب کمرے میں گھس آئی تھی، میرے پیروں سے لپٹا ہوا پانی اب معلوم ہوتا تھا پنجوں کی سنکائی کررہا ہے۔دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

*میرا جی کا گیت
Categories
فکشن

پستان-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

خاموشی کی ایک چھوٹی سی لہر ان دونوں کے درمیان رقص کررہی تھی۔ کچ کی نگاہیں خلا میں تھیں، اس نے یونہی اپنے ہونٹوں کو جنبش دی تو ہوائیں لفظ کے کٹے پھٹے پیرہن پہن کر باہر نکلنے لگیں۔صدر کو محسوس ہوا جیسے وہ آپ ہی آپ کچھ بڑبڑا رہی ہے۔اس نے کچ کے تلووں پر دو انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں،ایک ذرا دیر میں کچ نے پیر پیچھے کھینچا تو نیل پالش کی شیشی بھی چٹ کی آواز سے نیچے بچھے ہوئے ایک کاغذ پر گرپڑی، صدر نے اسے اٹھایا نہیں، وہ ہلکے ہلکے باہر بہہ کر آتی ہوئی نیل پالش کو دیکھنا چاہتا تھا۔کچ نے کہنا شروع کیا۔

 

مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔لیکن میں ایسا محسوس نہیں کرپاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے ۔
‘مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔ لیکن میں ایسا محسوس نہیں کر پاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے۔ اس سے پہلے میں جتنی بار بھی چھوئی گئی ہوں، نوچی گئی ہوں۔وہ میری پسند کے خلاف تھا اور اس نے مجھے خوشی کا احساس نہیں دیا، بلکہ ایک نشہ کی یا خواب آور کیفیت میں ضرور ڈال دیا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں چار پانچ سال کی تھی تو ایک دفعہ گھر کے باہر موجود ایک آئس کریم والے سے آئس کریم خریدنے پہنچی تھی، وہ پٹھانی شلوار سوٹ پہنے، گھنی مونچھوں اور ہلکی داڑھی کے ساتھ، اپنے پکے سانولے رنگ اور تگڑے بدن کو لیے ایک برگد کے نیچے بیٹھ کر برفیلی سوغاتیں بانٹا کرتا تھا۔دیکھنے میں ہنس مکھ تھا، لوگوں سے ٹھیک سے بات کرتا،خاص طور پر بچوں سے۔اس کے دل میں شاید بچوں کے لیے کوئی الگ ہی کشش تھی، میں بھی اس روز وہاں آئس کریم لینے دوڑتے ہوئے پہنچی تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا، بال کندھوں تک جھولا کرتے تھے، شاید میرے پیسوں میں کچھ کمی تھی، کوئی سکہ کھوٹا تھا یا شاید کوئی سکہ غائب تھا۔اس نے مجھے بڑے پیار سے چھوا، میرے گال پر ایک ہلکی سی چٹکی لیتے ہوئےاپنی گود میں بٹھالیا اور آئس کریم نکال کر دے دی۔ میں خوش ہوگئی اور آئس کریم کھانے لگی۔۔۔آئس کریم کے ٹھنڈے نرم ذرات میرے منہ میں گھلے جارہے تھے اور میں اپنی حلق میں بہت الگ تازگی محسوس کررہی تھی۔دھیرے دھیرے مجھے محسوس ہوا کہ میری رانوں سے کوئی چیز ہلکی ہلکی رگڑ کھارہی ہے، جیسے کوئی ربر میرے بدن پر ملا جارہا ہو۔میں نے آئس کریم والے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے جارہا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ میرا سر سہلا رہا تھا۔لوگ سڑک پر آ جا رہے تھے، میرا بدن سن ہونے لگا اور اچانک ہاتھ سے آئس کریم بھی چھوٹ کر گرگئی۔اس وقت مجھے سمجھ میں ہی نہ آیا کہ کیا ہورہا ہے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت سی چیونٹیوں نے میرے شریر کو جکڑ لیا ہے، ان کی تاپ میں محسوس کرسکتی تھی، وہ تاپ اس پوری رات میں نے محسوس کی۔آئس کریم والے نے تو مجھے اسی وقت گود سے اتار دیا تھا، جب میرے ہاتھ سے آئس کریم گری تھی۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے بابا کے لائے ہوئے ایک موٹے سے تار کو اپنی رانوں سے چھوا کر دیکھا۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہی تھا۔۔اور پتہ نہیں، کیسے وہ وقت گزر گیا۔لیکن آج بھی وہ رگڑ میرے بدن پر جیسے چپکی ہوئی ہے، اس رات جب تم میری رانوں کواپنے ہونٹوں کی حدت سے پگھلا رہے تھے، اس دوران وہ رگڑ کہیں غائب ہوگئی تھی۔وہ احساس کہیں نہیں تھا، بلکہ اس کی جگہ تمہارے ملائم ہونٹوں کی ایک دھندھک تھی جو مجھے محسوس ہورہی تھی۔پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل چاہ رہا تھا کہ تم میرا اتنا حصہ چباجاو، دانتوں سے نہیں۔۔اپنے ہونٹوں سے۔میں یہ خود چاہتی تھی،میرا نچلا دھڑ بے رنگ پسینے اور سفید بوندوں سے بھررہا تھا، مگر مجھے وہ سب بہت اچھا محسوس ہورہا تھا۔ایسے جیسے تم نے میری رانوں پر کسی ہوئی وہ عجیب سی پٹی کھول دی ہے، جس نے میری نسوں میں خون روک لیا تھا، میری سانسوں، میرے خوابوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔’

 

کچ یہ کہتے کہتے وہاں سے اٹھی اور بالکنی میں جاکر کھڑی ہوگئی، باہر کا رنگ سرمئی ہورہا تھا۔معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان کی نیلی آنکھوں میں ہواوں نے سرمہ لگایا ہو، آسمان پر کہیں دھوئیں کی ایک سیدھی لکیر بنی ہوئی تھی، ابھی ابھی کوئی راکٹ گاڑھا سفید دھواں اگلتے ہوئے اس سیدھ سے گزرا تھا، بالکل زندگی کی طرح، جو حادثات کے پیچھے ایک سفید گاڑھا دھواں چھوڑ جاتی ہے اورپھر بہت مشکل سے وہ دھواں مدھم پڑتا ہے، خاموش ہوتا ہے۔کچ کے بال کھلے ہوئے تھے ،اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔یہ کھال میں پیوست ایک پینٹر کی ایسی خواہش تھی جو اب کچ کے حواس سے کبھی جدا نہ ہونے والی تھی۔صدر نے پیچھے جاکر کچ کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن پر بوسہ دیتےہوئے سرگوشی کی۔

 

‘وہ وقت تو گزر جا چکا ہے نا کچ۔۔کیوں اسے یاد کرکے آج کو بوجھل بنارہی ہو۔’

 

اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔
ٌتم نہیں سمجھوگے صدر! لڑکیوں کے لیے ان کی مرضی کے خلاف چھوئے جانا والا وقت کبھی نہیں گزرتا۔۔۔یہی تو ایک مسئلہ ہے۔۔۔میں چاہوں بھی تب بھی،اس میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ مجھے اتنی بار میری مرضی کے خلاف چھوا گیا ہے کہ ۔۔۔۔میں نے اپنی مجبوریوں کو ہی اپنی مرضی کا نام دے دیا۔’

 

صدر نے اسے اپنی طرف موڑا، اس کی آنکھوں میں پانی ٹمٹما رہا تھا۔صدر نے اس کی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور اس پانی کو پی گیا۔پانی بہت نمکین تھا، بدن کے جس حصے میں بھی یہ پانی بنتا تھا، ضرور اس میں بلا کی تیزابیت ہوگی۔یہ صاف، سفید اور چھلکتا ہوا پانی، چاہے آنکھوں میں چھلک آئے یا بغل میں اتر آئے، گردن پربوندیں تراشے یا شرم گاہ کے پردوں سے باہر جھانکے۔اس کی تیزی اور کاٹ، اس کی روانی و رفتار کہیں متاثر نہیں ہوسکتی۔صدر نے کچ کے اوپری ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس کے دونوں ہونٹ مل کر کچ کی اس ہلکی گلابی پرت کو کسی شریفے کے دانے کی طرح چوس رہے تھے۔ کچ کا ہاتھ بے ساختہ صدر کے بالوں میں تیر گیا، وہ اس پکڑ کو اور مضبوط بنانا چاہتی تھی۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔وہ ایک ذرا ڈگمگایا اور پھر اسے دیوار کا سہارا لینا پڑا۔لیکن یہ سہارا کام نہ آیا، وہ کچ کے ہونٹوں پر دھاریں لٹاتا ہوا، زمین پر گر گیا، اس کے منہ سے آہ نکلی، اس کی کمر میں ایک درد کی موج اچھل پڑی مگر کچ نے اس کا اثر نہ کیا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگیں صدر کے سینے پر رکھ دیں اور اب وہ جواباً صدر کی تھوڑی، اس کے گال، کان کی لو اور ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں داب رہی تھی، ان پر اپنے لعاب کی پھریریاں لٹارہی تھی اور اس کے بال صدر کے پورے چہرے پر گھنے درخت کی طرح چھائے ہوئے تھے، تھوڑی دیر میں صدر کا سینہ دفعتاًدکھنے لگا، مگر اس نے کچ کو بتانا مناسب نہ سمجھا، اسے اس درد کے باوجود کچ کا یہ جوابی حملہ ، یہ جنگلی پن بہت پسند آرہا تھا۔کچ کے پستان، اس کے گھٹنوں میں دبے ہوئے تھے اور ان میں ایک عجیب سخت گیر مہم چھڑ گئی تھی، کچ نے ان کی التجا پر کان دھرتے ہوئے، خود کو صدر کے بدن پر پھیلا لیا اور اس طرح، اس کی ننھی ننھی سوئیاں صدر کے سینے میں پیوست ہوگئیں۔صدر بار بار کوشش کررہا تھا کہ وہ کچ کے پستانوں تک کسی طور اپنے ہاتھوں کو پہنچا سکے، مگر کچ نے اس کے ہاتھ، اپنے گڑوئے ہوئے پنجوں کے نیچے سختی سے دبا رکھے تھے، ہونٹ گیلی ہواوں کے گھوڑے پر سوار تھے، ان پر اس وقت پوری طرح سے کچ کا شاہانہ بدن لدا ہوا تھا، اس لیے صدر نے بڑی مشکل سے اپنی خواہش کو لگام دی ہوئی تھی، وہ اس منظر سے نکل کر کچ کے پستانوں کی گرمی کو اپنے سینے میں اترتا ہوا محسوس کرنا چاہتا تھا۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔
ایک گہری خاموشی میں چلنے والے اس کھیل کی ساری داستان سانسیں لکھ رہی تھیں، سانسیں جو دو لوگوں کے نزدیک آنے کے خیال سے ہی وحشی ہونے لگتی ہیں۔جب طوفان تھما اور سانسیں مدھم پڑنے لگیں تو صدر نے کچ سے پوچھا۔
‘آخر ہم ایک دوسرے کا لعاب پی کر کیوں اچھا محسوس کرتے ہیں۔’

 

کچ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی تھی، اسے اس طرح کی باتوں سے الجھن ہوتی تھی۔وہ اس وقت اپنےتھکے ماندے بدن کی آغوش میں پڑی چھت سے جھولتے ہوئے ونڈ چائم کو دیکھنے لگی جو اس وقت ہلکی ہواوں میں موسیقی کی بڑی خوش کن لہریں پیدا کررہا تھا۔اس نے صدر کی طرف دیکھ کر کہا۔

 

‘کیوں کا کیا مطلب ہے۔ہم اچھا محسوس کرتے ہیں۔کیا یہ کافی نہیں ہے؟’

 

‘بالکل ہے۔۔میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔اب بات کرنے کے لیے کوئی موضوع تو ہونا چاہیے۔۔’

 

‘ہمم۔۔لیکن خاموشی سے اچھا موضوع کیا ہوگا۔۔’

 

پھر دونوں واقعی خاموش ہوگئے۔اسی خاموشی میں نہ جانے کب انہوں نے کھانا بنایا اور کب کھانا وانا کھاکر فارغ ہونے کے بعد بستر پر اغل بغل لیٹ کر گہری نیند میں ڈوب گئے۔رات کا پتہ نہیں کون سا وقت ہوگا جب صدر کا موبائل بجنے لگا۔وائبریشن اس قدر تیز تھا کہ کچ کی آنکھ کھل گئی، لائٹ کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے کوئی اس کی پتلی پتلی نرم اور سفید جھلیوں میں سیسہ انڈیل رہا ہو۔اس نے موبائل اٹھایا تو اسی نیت سے تھا کہ صدر کو دے گی، مگر اس کی جانب دیکھا تو وہ ہلکے کھلے منہ کے ساتھ اوندھا لیٹا نیند کی کسی اندھی کھائی میں پڑا ہوا تھا۔اس نے دھندلاہٹ میں موبائل سکرین پر پڑھا۔کسی ‘این’ کا فون تھا۔لیکن اس وقت؟ابھی شاید رات کے دس بجنے والے تھے، کچ وہاں سے اٹھی اور اس نے بالکنی کے پاس جاکر فون اٹینڈ کرلیا۔کسی لڑکی کی اس طرف سے آواز آئی۔

 

کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہ
وہ دو تین بار ہیلو کرکے خاموش ہوگئی۔۔۔۔فون کٹ گیا۔تھوڑی دیر بعد صدر کے واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ آیا، ٹھیک اسی نمبر سے ڈائونلوڈ ہوتے ہی کچ نےفوراً پلے کے نشان پر انگوٹھا رکھ دیا، ایک کھنکھتی ہوئی آواز آرہی تھی۔

 

‘صدر! مجھے معاف کردو۔میں اس بار بھی تمہیں بتائے بغیر چلی گئی تھی۔۔۔لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں نے خود کو بہت روکا، لیکن پتہ نہیں کیسے!مجھ سے ہو نہیں پایا۔۔۔۔اب میں جلد آرہی ہوں۔۔۔تمہیں سب کچھ ایکسپلین کردوں گی۔’

 

ایک عجیب جذبہ رقابت کچ کے سینے میں اچھل کر کھڑا ہوگیا اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے وہ پیغام ڈیلیٹ کردیا۔کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہت زیادہ ، وہ اس عجیب جذبے سے دوچار ہوتے ہی پریشان ہوگئی، اس نے بھاگتے ہوئے صدر کا فون ٹیبل پر رکھا اور زمین پر پڑی ہوئی اپنی بریئرزر اٹھا کر پہنی، اور دروزاہ کھول کر باہر نکل گئی، اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کہاں جائے۔وہ وہیں سیڑھیوں پر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ اور اپنے بدن کو دیکھ دیکھ کر ہانپنے لگی، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس نے وہ پیغام آخر کیوں ڈیلیٹ کیا، کیا اسے ایک دفعہ بھی صدر سے یہ پوچھنا نہیں تھا کہ وہ لڑکی، وہ ‘این’آخر ہے کون؟
مجھے یہ منظر تو دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر میں کچ کی سسکیوں کو سن سکتا تھا، باہر برسات شروع ہو گئی، پہلے ہلکی بوندا باندی ہوئی اور پھر اچانک دھاڑ پاڑ کی آوازیں آنے لگیں، کچ اپنے سینے کو دبائے شاید سیڑھیوں پر ہی سوگئی تھی، اس کا سمٹا سمٹایا بدن پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہوگا۔صدر کی نیند کب ٹوٹے گی پتہ نہیں، مگر کچ کے اندر کچھ نہ کچھ ضرور ٹوٹ رہا تھا اور یہ موقع وہ تھا جب صدر اور کچ کو ساتھ ہونا چاہیے تھا، مگر رات گئے، شاید رات کے کسی ڈھلتے پہر صدر کی آنکھ کھلی تو کچ اس کے بغل میں نہیں تھی، باہر برسات ہوئے جارہی تھی، صدر نے بالکنی سے جھانکا، اپارٹمنٹ کی چاکلیٹی اور پیلی لادی اپنے کھیسوں میں پانی بھر رہی تھی۔ کچ؟ کہاں ہے وہ؟ صدر نے پورا گھر دیکھ ڈالا۔دروازہ کھولا؟

 

وہاں دور دور تک، کہیں بھی کچ کا پتہ نہیں تھا۔آخر وہ اس شور میں کہاں غائب ہوگئی تھی۔صدر نے اسے ایک برسات میں پایا تھا اور دوسری میں کھودیا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-3
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔
کاغذ کی ڈور پر ایک ساتھ بہت سارے پسووں نے حملہ بول دیا تھا، جیسے کسی باسی کھانے میں پھپھوند لگ جاتی ہے، اسی طرح ایک پھولی ہوئی سیاہ ہیت اپنے آپ کو سنوار رہی تھی، ابھی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کون سی طاقت ہے، جو ان بنتے بگڑتے خطوط کو ملا کر ایک تصویر بنا دے گی، تصویر بنانا بہت اہم عمل ہے، اس عمل سے دنیا کی بہت سی مقدس تدبیریں خوف کھاتی ہیں۔ تصویر میں زندگی ہوتی ہے، آنکھیں اور بھڑکتا ہوا بدن، اگر بنانے والا خدا ہو تو تصویر بھی دیوی کا روپ اختیار کرسکتی ہے، اور پھر سر سے پیر تک بدن کی ایک تباہ کن کیفیت کو منعکس کرنا اور وہ بھی انگلیوں کی مدد سے، یہ ایک ایسا کام ہے، جس کے لیے مشقت اور مہارت دونوں باتوں کی بے انتہا ضرورت ہے۔صدر تصویر بناتے ہوئے اکثر سانس بھی روک لیا کرتا تھا، اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔ ایک نظر میں کبھی کبھار یہ بات بہت مشکل سے دکھائی دیتی کہ اس نے کسی تصویر میں اپنی مخصوص پستان سازی کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عورت کے بدن کے اس اوپری حصے سے اس کی دلچسپی غیر معمولی تھی، ایک دفعہ جب اسے کسی چوہے کی تصویر بنانے کا خیال آیا تو اس نے چوہے کے پیٹ کو ایسی بھربھراتی ہوئی شکل بخشی، جس کے گہرے بھورے رنگ کے گچھے دار بالوں کو دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی پستان پر بہت سے بال اگ آئے ہوں۔۔۔۔ یہ ایک ایسی عجیب کیفیت تھی، جس سے اس کا چھٹکارا ممکن نہیں تھا۔ حالانکہ اس کے کچھ اساتذہ اسے بتا چکے تھے کہ ہندوستان کے بہت سے مصور ساری زندگی ایک ہی شکل کو متشکل کرتے رہے ہیں، کسی نے تمام عمر صرف اوم پینٹ کیا، کسی نے تا حین حیات صرف صفر کا عدد بنانے پر قناعت کی۔

 

کسی بھی تصویر کو سرسری دیکھنے والے عام طور پر وہ پیٹرن سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایک تخلیق کار کا خاصہ ہوتی ہے، ایک مصور کا اسلوب، جس سے اس کی اپنی شناخت اپنے کینواس اور برش پر ظاہر ہوتی ہے، صدر نے پستان کے ساتھ اپنا ایک ایسا ہی تعلق بنایا تھا۔۔اور آج جب اسے ایک کولی لڑکی کے پستانوں کو تراشنا تھا تو اس نے سانسیں روک لی تھیں،اس نے کچ کا چہرہ بنایا،گردن، سڈول کمر،پیٹ کا شفاف بل کھاتا ہوا حصہ، شرم گاہ پر موجود ہلکی سیاہ دھاریاں اور ران، ان پر گھٹنوں کی دو ننھی رکابیاں، جو ہلکے پیلے بدن پر آنچ لگی ربڑی کے رنگ کی تھیں، پنڈلیاں،ان پر ڈھلتی ہوئی بوندیں، اور پانی کے ساتھ وصل کرتے ہوئے پنجے تک بنا دیے، پھر وہ چہرے پر واپس آیا، اس نے آنکھوں کے دونوں حلقوں کو بڑی احتیاط سے تراشا، جیسے پھل فروش گاہکوں کی خواہش پر تربوز کا پھانکا لگاتے ہیں۔پھر ان میں دو کانچ کے رنگ کی آنکھیں، گالوں پر ہلکے گڑھے، بالوں کی لٹوں کو عین اس کی نقل کے مطابق نقش کیا، بغلوں کا حصہ جب وہ پھیلا رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کچ کی بغل میں ہلکی گدگدی کررہا ہے۔بہت دیر تک جب وہ کچ کی تصویر گری میں مصروف رہا اور بدن کے ایک ایک حصے کو جلتی ہوئی پرچھائیوں میں ڈھال چکا تب اس نے دیکھا کہ سینے پر بنے ہوئے دائرے بالکل سفید ہونقوں کی طرح، کسی آسیب کی پھٹی ہوئی آنکھوں کی مانند اسے گھور رہے ہیں، اس حصے کو بنانے سے پہلے وہ پھر ایک دفعہ کچ کے پاس آیا، کچ بڑی مشکل سے خود کو اسی پوز میں سنبھالے کھڑی تھی، صدر نے کہا:

 

“میں نے ابھی پستانوں کا حصہ نہیں بنایا ہے”

 

“کیوں؟”

 

“تصویر سے پہلے اس کے لیے مجھے تمہارے بدن پر کام کرنا ہوگا، جب یہاں پستان واقعی بن جائیں گے، تو وہاں بھی بنادوں گا۔”

 

“کیسی بات کررہے ہو صدر”اس نے منہ میں آجانے والے پانی کو پیتے ہوئے کہا۔”اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا۔”

 

صدر نے اس کی بغلوں پر زبان رکھ دی، وہ پانی کے بہتے ہوئے منظر میں ہانپنے ہوئے کسی کتے کی طرح اس چھوٹے سے دونے کو چاٹنے لگا۔پھر گردن تک چلا آیا،جب وہ کچ کی گردن کی کھال کو جمع کرکر کے اپنے منہ میں بھر رہا تھا، اس وقت بے اختیار کچ کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر چلا گیا، اتنی دیر تھی کہ دوسرے ہاتھ نے بھی بغاوت کر دی، بھیگتی ہوئی رات کے اس چھوٹے سے آباد خانے میں دو بدن شرارے چھوڑنے لگے اور پانی اس جلتی، دہکتی، لاوا ابلتی ہوئی آواز کا گواہ بن گیا۔ کچ نے اپنی انگلی کو پہلے اپنی شرم گاہ میں پیوست کیا اور پھر وہاں سے اسے نکال کر صدر کی زبان پر اسے تیرانے لگی جیسے کوئی بریڈ پر جام لگایا کرتا ہے۔صدر کو کچ کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنے انتہائی ہوس ناک اندرون کے جاگتے ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔وہ ایک نیولے کی طرح پہلے اسے پے در پے مختلف داو پیچ سے اتنا تھکا دیتی ہے کہ آخر کار وہ اس کا شکار ہوجانا ہی مناسب خیال کرتا ہے۔

 

٭٭٭

 

صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔
صبح اس دن تھک کر چور ہوچکی تھی، اسی لیے اس نے اپنے وجود کو پھیلا کر پودوں کی پیلاہٹ، چیلوں کی اڑان، خچروں کی تھکن اور بھکاریوں کی آواز تک وسیع کردیا تھا،جب صدر کی آنکھ کھلی تو اس کی دھندلی نگاہوں نے دیکھا کہ چاروں جانب کہر کی ایک عجیب سی چادر ہے، یہ چادر ہلکے ہلکے کسی گیلے ٹشو پیپر کی طرح پھٹنے لگی اور اس میں سے ایک اور دوسرا تولیا نما منظر برآمد ہوا، جس نے اس ساری گیلاہٹ کو اپنے بدن میں جذب کرلیا تھا اور اب سب کچھ سوکھا، بے جان اور کریہہ نظر آرہا تھا، دھوپ اس قدر سخت نکلی ہوئی تھی کہ باہر کا منظر دیکھنے کا دل نہ چاہتا تھا، مگر پردے کھلے تھے اور ڈرائنگ روم کے پیٹ میں پڑی میز اور دو کرسیوں پر دھوپ بیٹھی ہوئی قہقہے لگارہی تھی، اس نے آگے بڑھ کر جلدی سے پردہ کھینچ دیا، پردہ کھینچتے ہی دھوپ تو غائب ہوگئی، لیکن ایک قسم کی دبیز گرماہٹ ابھی اس کے کولہوں کی تپن کا احساس کرارہی تھی، جیسے کوئی شخص کرسی پر اٹھ کر اپنے چوتڑوں کی بساند، بدنیت اور گرم سانسیں اس پر رکھ کر بھول جاتا ہے، پھر دھیرے دھیرے جیسے ہواوں کی کمانیں کستی ہیں، تو مناسب موقع پر اس چھون کا تیر تیزی سے کرسیوں کی پشت سے چھوٹ کر دیواریں پھاڑتا ہوا کہیں دور جانکلتا ہے۔

 

صدر کی نگاہ بھی اس وقت اس کی بنائی ہوئی ایک ایسی ہی پینٹنگ پر مرکوز تھی، جس میں اس نے کمان بنائی ہوئی تھی، یہ کمان ایک عریاں عورت اپنے سینے پر رکھے ہوئے سو رہی تھی، سونے کی کمان، جس سے ایک ربڑ نما ڈور بندھی ہوئی تھی، کمان کا سخت حصہ مرد کے عضو تناسل کی صورت میں بنایا گیا تھا، وہ عورت کے سینے پر یوں رکھا ہوا تھا، جیسے وہ کوئی یونانی دیوی ہو، جسے عضو تناسل سے محبت اور رقابت دونوں کا رشک حاصل ہو، یونان کی وہ واحد عورت، جسے پورے وقار کے ساتھ ، کسی مرد نے ایک رات اپنی شرمگاہ کا امین بنایا ہو، اور دوسرے دن وہ نوبالوں، شہہ بالوں کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہو۔ عورت کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا اضطرار تھا، جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو، وہ خواب جو اس کے ادھورے وصل اور یونانی تہذیب میں عورت کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی سب سے کرب ناک داستان کو بیان کر رہا ہو، وہ عورت جس کے ہاتھ میں پھنسی ہوئی کمان اس اژدہے کی طرح ہو، جس پر اس عورت کا عتاب بس نازل ہونے والا ہے، زمین بس پھٹنے والی ہے اور یہ اژدر نما کمان دنیا کی باقی تمام تہذیبوں، تمام تاریخوں اور تمام ملکوں میں زمین پر اپنی تسکین کے لیے زمین پر گھسٹنے پر مجبور کردی گئی ہو۔وہ عورت جو دو دنیاوں کی مالک ہے، جس کے کھلے ہوئے ہونٹوں، دھنسی ہوئی آنکھوں اور بدن کے پھیلے ہوئے صحرا میں اس کی تسکین کا سارا سامان اس نے خود انسانی فطرت کے ہاتھوں گنوادیا ہو، اور وہ یونان کے گلی کوچوں سے لے کر مصر کے بازاروں تک گورے چٹے، ہٹے کٹے مردوں، لڑکوں کی تجارت ہوتے ہوئے دیکھ کر پیچ و تاب کھا رہی ہو۔ جب وہ انسانی صورت میں ڈھلی ہوئی اور اس نے اپنی اس ہوس کی تکمیل کے لیے کسی عام سے خوبصورت لڑکے کو اپنی جانب راغب کیا ہو تو اچانک اسے معلوم ہوا ہو کہ یہ تو پیغمبر ہے، اس نے اپنے کسی دوست کو اپنے پستانوں پر ہاتھ لگانے پر آمادہ کر لیا ہو تو اسے محسوس ہوا ہو کہ دو دنیاوں کے خدا نے اس حرکت سے تنگ آ کر اسے دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہو۔ وہ عورت اتنے سارے خواب یا عذاب اپنی آنکھوں میں سمیٹے ایک خوبصورت مخملیں بستر پر سو رہی تھی، اور کمان اس کے سینے پر دھری تھی۔۔۔۔صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔

 

“تمہیں بھوک نہیں لگی؟ “کچ نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے مچی مچی آنکھوں کے ساتھ کہا۔

 

“ہمم۔۔۔کچھ ہے نہیں ابھی، میں نیچے سے کچھ لے آتا ہوں، تم جب تک فریش ہوجاو”یہ کہہ کر وہ تصویر میں ڈٹے ہوئے

 

کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔
انہماک کی پڑیا بنا کر اسے ایک جانب پھینکتے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا۔کچ اٹھی، اس نے دھندلی نگاہوں کے ساتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ٹٹولا اور برش کرنے لگی، اس نے پنکھا تیز کیا اور پردہ کھینچ دیا، اس وقت کوئی بادل سورج کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا، اور پورے آسمان میں اتنا بڑا بادل دور دور تک کہیں اور دکھائی نہ دیتا تھا، کچ نے حیرانی سےآسمان کو دیکھا، وہ سورج کی بے بسی پر مسکرادی، اسے علم تھا کہ ابھی کم از کم دس بارہ منٹ تک دھوپ اس بادل کے سرکنے کا انتظار کرتی رہے گی اور اس کی تیز و دھار دار فوجیں بادل کی روئی جیسی پیٹھ پر اپنی تلواریں برسا برسا کر بے دم ہوجائیں گی، مگر پانی اور دھوئیں کو کون کاٹ سکتا ہے۔ اسے اسی لیے ان دونوں چیزوں سے بہت پیار تھا۔۔۔ وہ پانی کو ایک انسان کے طور پر دیکھتی تھی،ایک ایسا انسان جو اچھا برا، غلیظ، نمکین، ہرا، کالا، گہرا گلابی یا پھر کوئی بھی رنگ اپنے اندر سمولیتا تھا، بغیر کسی شکایت کے۔ پانی کچھ سوچتا نہیں، بس چیزوں کو قبول کرتا ہے اور دھواں؟ کہتے ہیں کہ دھواں اگر انسانی دماغ میں گھس جائے تو اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماوف کر دیتا ہے، پھیپھڑوں میں گھس جائے تو انسان کے سینے میں اپنا سینہ پیوست کر کے اسے بھی اپنے جیسا بنا دیتا ہے، منہ کے راستے داخل ہو تو ناک کی نالیوں سے تیر کر کسی مشاق تیراک کی طرح باہر نکل آتا ہے، دھوئیں کو کتنا بھی قید کرو، وہ اپنے باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ نکالتا ہے، بالکل عورت کی طرح۔مرد کو پانی اور عورت کو دھواں سمجھنے والی کچ اس وقت کلی کر رہی تھی، واش بیسن پر لگا ہوا نل جس وقت اس نے بند کیا، صدر سامان لینے نیچے جاچکا تھا، اب موسم میں دھوپ پھر واپس آ گئی تھی، بادل کا وہ ٹکڑا نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔

 

اس نے ریڈیو آن کیا تو کھرکھراتی ہوئی آواز میں اینکر نے خبریں سنانی شروع کردیں۔موسم کے حال سے لے کر دنیاکے احوال تک، اپنے وطن کی برتری کی داستانیں، جیسی باقی کی کوئی زمین، زمین ہی نہ ہو، کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو زمین سے بڑی فاحشہ اور کون ہو گی، جس کے پستانوں سے لٹکتی ہوئی قومیں خود کو یہ باور کراتے کراتے تاریخ کی نذر ہو جاتی ہیں کہ یہ ان کی ماں کے پستان ہیں، جبکہ وہ انہی پستانوں کو کسی شرابی ڈھنڈاری، معیشت اور قسمت سے پٹے ہوئے ادھیڑ عمر کے ایک شخص کی طرح نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں، ان دودھ ابلتی شریانوں سے اپنا منہ بھڑا دینے کے لیے بہت سے انسانوں کا قتل بھی جائز سمجھتے ہیں۔ زمین ماں نہیں ہے، زمین ماں نہیں ہوسکتی۔۔ زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور اس کے ہاتھ سے خیالات کا تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر گیا، خیالات منتشر ہوگئے لیکن اس نے پھر بھی زمین پر گھورتے ہوئے صدر سے پوچھا۔

 

زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
‘وہ زمین پر تم نے کسی شاعر کا شعر سنایا تھا اس دن؟ کیا تھا وہ؟ بہت اچھا لگا تھا مجھے؟’

 

‘زمین پر تو بہت سے شعر ہیں۔’

 

‘ارے اس میں کچھ کٹاؤ وٹاؤ جیسی بات تھی۔۔۔’

 

صدر نے بریڈ کا پیکٹ کھولتے ہوئے مسکراکر جواب دیا۔’اب یاد کر لو، بار بار نہیں سناؤں گا۔ اسعد بدایونی کا شعر ہے

 

میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ
آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے’

 

اس نے زیر لب شعر دہرانے کی پھر کوشش کی، لیکن وہ غلط ہوگئی، میں رات بھر ان دونوں کے جاگتے ہوئے بدن کی گواہی دیتے دیتے تھک گیا تھا، اس شعر کی تکرار پر میری آنکھیں ڈوبنے لگیں اور میں اپنے وجود میں ڈوبتا چلا گیا، میں جو کمرے کے چوکور پستانوں سے انہیں دیکھتے رہنے کا عادی ہوں۔
Categories
فکشن

پستان – دوسری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساته یه بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحه قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-2
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

صدیوں سے لوگ باتوں کے وجود کو ایسے ہی ختم کرتے آرہے ہیں، وہ خدا سے وصال کی بھی یہی صورت نکالتے ہیں، انہوں نے اپنی روحوں کو ایک ایسے جنسی عمل میں ملوث کرلیا ہے، جہاں ہر بات ، ہر سوال کا جواب صرف ایک مثبت’ہوں’ میں دے دیا جاتا ہے۔
کُچ کو صدر کے ساتھ رہتے ہوئے ، ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا تھا، وہ اس سے بالکل بھی بور نہ ہوا۔ ہر لمحہ جب وہ اسے دیکھتا تو لگتا جیسے کہ وہ اپنے پچھلے دن کی پرت اتار کر کچھ اور تازہ ہوگئی ہے، اس میں سے کچھ اور ایسا نکلا ہے، جو اس سے پہلے اس کے اندر تھا، جیسے وہ ہرروز اپنے بدن کا ایک نیا رنگ اس پر ظاہر کررہی تھی، وہ دونوں زیادہ تر گھر میں ننگے رہا کرتے تھے، جیسے وہ جنت کی مخلوق ہوں۔ کُچ نے اس سے دو تین بار اس دوران ضد کی تھی کہ وہ اس کا ایک پورٹریٹ بنا دے، لیکن صدر صاف انکار کردیتا تھا۔ عین جنسی عمل کے درمیان بھی وہ اس کی اس بات پر ‘ہوں ہوں’ کرتا رہ جاتا۔ کبھی فرط جذبات میں ہاں کہہ بھی دیتا تو اگلے دن اپنی بات سے مکر جاتا۔ اس کا کہنا تھا کہ جنسی عمل کے دوران کہی گئی کسی بات کا اعتبار نہیں ہوتا۔اس دوران اگر میں کسی بات کو مان رہا ہوں تو صرف اس لیے کیونکہ مجھے اس بات کے وجود کو ختم کرنا ہے۔ماننے سے باتیں جلدی ختم ہوجاتی ہیں، ورنہ وہ جنس کی طرح انسان کے ذہن پر مسلط رہتی ہیں، صدیوں سے لوگ باتوں کے وجود کو ایسے ہی ختم کرتے آ رہے ہیں، وہ خدا سے وصال کی بھی یہی صورت نکالتے ہیں، انہوں نے اپنی روحوں کو ایک ایسے جنسی عمل میں ملوث کرلیا ہے، جہاں ہر بات ، ہر سوال کا جواب صرف ایک مثبت’ہوں’ میں دے دیا جاتا ہے۔ جیسے کہ اس سے بس نجات پانی ہو، اور یہ رٹی رٹائی باتیں نشے کی اس حالت میں زیادہ کھلتی ہیں جب انسان جنسی عمل کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہو۔جب شباب کھل کر پنڈلیوں کے سینے سہلارہا ہو، جوانی امنڈ امنڈ کر سانسوں کے دریائوں سے نکل رہی ہو۔

 

کُچ کو سمجھ میں آ گیا تھا کہ صدر اس طرح اس کی بات نہیں مانے گا، لیکن کیوں، وہ جو اس سے دوران ہم بستری طرح طرح کی محبتوں کے دعوے کرتا ہے، اس کی بغلوں کی بدہیت لکیروں تک کے کلمے پڑھتا ہے، آخر کس وجہ سے ابال کھائے ہوئے دودھ کی طرح ایک پھونک میں نیچے کی طرف بیٹھ جاتا ہے۔اس نے سوچا تھا کہ وہ آج صدر سے اس بات کا جواب لے کر رہے گی، وہ روئے گی، ہاں، شاید رونے سے مسئلہ آسان ہو۔ لیکن پھر وہ یہ سوچنے لگی کہ آخر ایک پورٹریٹ کی ایسی ضد اسے کیوں ہے؟ صدر بھی تو کہتا ہے کہ وہ خود کو آئینے میں دیکھا کرے، روز، اتنا کہ اسے اپنا بدن حفظ ہو جائے، اس کی تبدیلیاں، اس کے خدو خال کا بڑھنا، پھیلنا دکھائی دے، جس طرح پودے خود کو تناور ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ ہر دن کے ساتھ، اپنے ننگے بدن کے ساتھ، کبھی دھوپ، کبھی برسات اور کبھی کہرے میں۔ لیکن نہیں، شاید پورٹریٹ ایک یاد ہو، ان چند لمحوں کی جو دوبارہ نہیں آئیں گے، آئینہ تو روز کچھ نہ کچھ بدل دے گا، جسم تو روز ایک پرت اتار دے گا، تو کوئی تو ایسی پرت ہو، جو محفوظ رہ جائے، کوئی ایسی کینچلی جس میں سے اس کا بدن کبھی نہ نکلے، جب تک سیاہی پھیل کر اس کی تصویر کے سارے بدن کو ڈھانپ نہ لے۔ وہ بس چند ایسے ثانیوں کی کھچڑی تیار کرنا چاہتی تھی، جس میں بدن کے سمندر اوراس پر بنائے ہوئے نمک کے کھیتوں کی چبھن موجود رہ جائے۔ کسی ایسے داغ کی طرح جو مٹتا نہیں ہے، جس سے انسان کو رفتہ رفتہ ایک عشق سا ہوجاتا ہے، جو اس کی شناخت بن جایا کرتا ہے اور لوگ کسی کو یاد کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہی شناخت، وہی داغ ان کے حافظے میں چھپاکا مار کر ایک دھبہ بناتا ہے اور پھر وہ دھبہ پھیل کر ایک مخصوص انسانی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔

 

کُچ نے بہرحال یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ روئے گی، خوب، اتنا کہ اس کا دکھ، اس کے پورے بدن پر پانی بن کر رینگنے لگے، اس کی آنکھیں ہی نہیں، پستان بھی روتے روتے خشک ہوجائیں
تو کُچ نے بہرحال یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ روئے گی، خوب، اتنا کہ اس کا دکھ، اس کے پورے بدن پر پانی بن کر رینگنے لگے، اس کی آنکھیں ہی نہیں، پستان بھی روتے روتے خشک ہوجائیں اور جب رات گئے صدر اس کے سینے کی پتیلی میں منہ ڈالے اور ایک بھوکی بلی کی طرح اسے چاٹنے، کھروچنے لگے تو وہاں سوائے ایک نمکین کھرچن کے اسے اور کچھ نہ ملے۔ تب تو شاید وہ اس کے بدن کی واپسی کا کوئی راستہ نکالے گا، تب شاید وہ اس کی تصویر بنائے گا۔پھر ایسا ہوا، کہ جب صدر کا دھیان اس کی جانب ہوتا ، وہ واقعی رونے لگتی۔صدر نے اس سے وجہ دریافت کی تو اس نے کہہ دیا کہ اسے وجہ نہیں معلوم۔یہ وہ جواب ہے جو دنیا کے ہر مرد کو ہر عمر کی عورت سے سننے کو ملتا ہے اور اس پر وہ سٹپٹا کر سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایسا دکھ بھی کیا، جس کی وجہ کا ہی وجود نہ ہو۔لیکن ایسا دکھ ہوتا ہے، عورت تو اپنے بدن کی پھلتی پھولتی کھیتی کو دیکھ کر بھی رو سکتی ہے اورخود کو بانجھ یا بنجر پاکر بھی۔اس کے رونے کے کوئی اصول طے نہیں، جس طرح اس کے دکھ کا کوئی جواز نہیں ہوا کرتا۔عورت جھیل کی طرح نظر آنے والا سمندر ہے، اس کے وجود پر پھیلے ہوئے دو نکیلے جزیرے اور ایک گہرا غار اسے ہر وقت بدن کا شدت سے احساس دلاتے ہیں، اس غار میں جو جھرنا گرتا ہے، اس کی شرر شرر کبھی یونہی بیٹھے بیٹھے آنکھوں میں اتر آتی ہے، جس طرح موت، جنس اور شعر کے اچانک وارد ہوجانے کا کوئی جواز نہیں ہوتا، اسی طرح عورت کے دکھ کا بھی کوئی ایسا جواز نہیں، جو اسے اس کے بدن کے سرسراتے ہوئے احساس سے الگ کردے۔لیکن یہ بات مرد کو کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی، کیونکہ مرد کے پاس بدن کا پھیلا ہوا احساس نہیں ہے، وہ اس معاملے میں بالکل سیدھ میں گرنے والے ایک پتھر کی طرح ہے، جس کا ایک عضو جنسی احساس کے عاری ہوتے ہی سخت ہوکر خلا میں بس ڈھلان کی جانب مشینی انداز میں گرنے لگتا ہے اور پھر اچانک سے وہ عورت کی اس جھیل نما سمندر میں دھڑام سے گر کر بے ہوش ہوجایا کرتا ہے، اس کے بعد بدن اس کے لیے صرف ایک خول کی طرح رہ جاتا ہے، جسے وہ اپنے کمزور ذہن اور تھکی ہوئی روح کو چھپانے کا ذریعہ سمجھتا رہا ہے، اور ایک کچھوے کی مانند وہ اس میں اپنا سارا وجود جنسی انتشار کے ختم ہوتے ہی واپس اندر کرلیتا ہے۔ لیکن صدر جیسے مرد پانی میں تیرتے ہوئے کچھوے کی طرح ہوتے ہیں، ان کے پیر، ان کے پر بن جایا کرتے ہیں، وہ اپنے خول سے ہر وقت باہر رہ کر پانی کی نیلی دنیا میں اپنے لیے طرح طرح کی سنہری ریتیں اور سبز گھانسیں تلاش کیا کرتے ہیں، ان کا ذائقہ چکھتے ہیں اور خطروں کے تصور سے آگے نکل کر اپنے وجود کو قبول کرتے ہیں۔

 

صدر تین چار روز تک تو اس بات کو نظر انداز کرتا رہا لیکن بالآخر جب ایک رات وہ کُچ کے نزدیک آیا تو اس کے پورے بدن سے آنسووں کی بو آ رہی تھی، آنسووں کی بو، ایک ایسی چراند کی طرح اس کے بدن سے اٹھ رہی تھیں کہ جلن کے مارے صدر کی بھی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے اپنا سرد ہاتھ کُچ کی جھرنے لٹاتی ہوئی شرمگاہ پر رکھ دیا، وہ روتے روتے’اوووں’ کہہ کر اس کی طرف کروٹ لینے پر مجبور ہوگئی، صدر نے اپنے سیدھے ہاتھ کی درمیانی انگلی کو اس کی شرمگاہ میں آہستگی سے اتار دیا، وہ مکھن کے بیچ بہتی ہوئی چھری کی طرح اندر چلی گئی، آس پاس کی دو لٹکتی ہوئی گلابی جھلیوں میں کچھ لعاب سا تیرنے لگا، صدر نے انگلی کی سانسیں تیز کر دیں، کُچ ہر دو تین سکینڈ میں اس کا نام لے رہی تھی، پھر وہ صدر صدر کہہ کر سرگوشیوں میں چیخنے لگی، صدر نے اس کے پستان کو منہ میں بھر لیا اور اپنے ہونٹوں سے انہیں چبانے کی کوشش کرنے لگا، کُچ کا لہو، اس کے کانوں کی طرف سے بہتا ہوا اس کے گالوں، گردن اور سفید ہڈیوں تک میں بلبلا کر دوڑتا، اچھلتا رہا، اس کے روئیں روئیں کو انگلی کی آگے بڑھتی ہوئی ہر جرات کے ساتھ ایک عجیب سی گھلی ہوئی تکلیف تحفے میں ملتی ، جسے وہ پینے کے لیے بے تاب تھی، غدود جیسا ایک چھوٹا سا لقمہ اس کے گلے میں بار بار اٹکتا اور وہ اسے تھوک سے نگلنے کی کوشش کرتی، کبھی جھلا کر صدر کی پیٹھ نوچتی، کبھی اوہ، آہ کہہ کر اس کی پیٹھ کو کاٹنے کے لیے آگے بڑھتی مگر اپنی دسترس سے اسے کوسوں دور پاکر گردن کو پیچھے کی جانب دھکیل دیتی۔ اس وقت وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں رہ گئی تھی، لیکن میں جو کمرے کے چوکور پستانوں کے پیچھے سے چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، اس بات پر واقعی حیرت زدہ تھا کہ اس قدر رونے پر بھی اس کے پستان خشک نہیں ہوئے تھے، بلکہ پسینوں کی تتلیاں اڑ اڑ کر صدر کی زبان اور رال کی ڈالیوں پر بیٹھتیں اور جھن جھن کرتی ہوئی اس کے پیٹ میں اتر جاتیں۔یہ کھیل زیادہ دیر جاری رہتا، اگر صدر کاالٹا ہاتھ دھوکے سے کُچ کی آنکھ سے نہ ٹکرا جاتا۔

 

جب ایک رات وہ کُچ کے نزدیک آیا تو اس کے پورے بدن سے آنسووں کی بو آ رہی تھی، آنسووں کی بو، ایک ایسی چراند کی طرح اس کے بدن سے اٹھ رہی تھیں کہ جلن کے مارے صدر کی بھی آنکھیں بھر آئیں
‘دکھاو تو!’ کہہ کر صدر نے اس کی آنکھوں میں پھونکیں مارنی شروع کردیں۔

 

اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور اب وہاں سے پانی نکل رہا تھا۔کُچ نے کہا’کوئی بات نہیں، میں ٹھنڈے پانی سے آنکھیں دھو کر آتی ہوں۔’

 

وہ اٹھ کر چلی گئی، وہ جاتے ہوئے اس کے مٹکتے، گول اور ملائم کولھوں کو دیکھتا رہا، ذرا سے گوشت سے بنے یہ دائرے پھڑکتے ہوئے اس سے دور ہوتے جارہے تھے۔ صدر کی وہ انگلی جو تھوڑی دیر پہلے آبشاروں کے نیچے بنے پتھر پر بیٹھ ناچتے گاتے ہوئے نہارہی تھی، اب دوسری انگلیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ، اس کی اپنی شرمگاہ کو سہلانے میں مصروف ہو گئی تھی۔

 

ابھی یہ عمل پورا نہ ہو اتھا کہ کُچ کے بالوں کا احساس اسے اپنے چہرے پر ہوا، وہ صرف اسے دیکھتی رہی، اس نے کچھ نہ کہا، صدر کا مشینی عمل تیز ہوتا گیا، وہ کچ کی سانسوں سے پہلے مدد لیتا رہا، اور مدد کی ضرورت ہوئی تو کچ نے اپنے ہونٹوں کی بھانپ اس کے منہ میں اتاردی۔اس کی زبان، کچ کی زبان سے مل کر ایک نئے قسم کا کیمیکل تیار کرنے لگی، جوش کا کیمیکل، خواب کا کیمیکل اور پھر دھیرے دھیرے جوش اور خواب دونوں ماند ہوگئے، بس ان دونوں کی زبانیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی رہیں، پھسلتی اور سنبھلتی ہوئی۔

 

منظر بدل گیا تھا، اب کُچ دونوں ہتھیلیاں اس کے سینے پر پھیلا کر اس پر اپنا منہ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ صدر نے پوچھا۔

 

‘کیا بات ہے؟’

 

‘آج تمہیں ہر حال میں میری تصویر بنانی ہوگی۔’

 

پتہ نہیں صدر کے دماغ میں کیا بات آئی کہ اس نے کہا۔ ‘ٹھیک ہے، میں بناتا ہوں۔ ابھی اسی وقت! لیکن ایک شرط ہے۔’

 

‘کیسی شرط؟’

 

‘تم نہاو، میں نہاتے ہوئے تمہاری تصویر بنانا چاہتا ہوں۔ شاور لیتے ہوئے۔جیسے تم برسات میں بھیگ رہی ہو، ہاں ہاں بارش میں۔ میں اس شور کو پینٹ کرنا چاہتا ہوں ۔تمہارے پستانوں کی چمک کو، تمہارے بدن کی گرج کو، تمہاری شرم گاہ کے آبشار کو۔ لیکن وہ تصویر میں تمہیں نہیں دوں گا۔کیا تمہیں منظور ہے؟’

 

جو لوگ بہت تیزی سے تخلیقی عمل کو انجام دیتے ہیں، وہ ریگستان میں بھاگتے ہوئے قدموں کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں اپنے نشانوں کی بنتی اور بدلتی ہوئی شکلوں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا،
اس نے اثبات میں جواب دیا اور آگے کی کارروائی شروع ہوئی۔ صدر نے کہیں سے اسے ایک کالی نائیٹی ڈھونڈ کر دی، یہ نائیٹی کُچ کی جسامت کے لحاظ سے ذرا پھیلی ہوئی تھی، لیکن صدر کا کہنا تھا کہ وہ اسے پہنے اور اس کی ٹائیاں کھلی رکھے۔اور اسی کے ساتھ شاور لے،لیکن یہ ایک اہم مرحلہ ہوگا کہ اسے کم از کم دو سے تین گھنٹے تک شاور میں ہلے بغیر ایک ہی پوز میں کھڑے رہنا ہوگا، کُچ نے اس بات ہلکا سا اعتراض کیا کہ وہ دوسری تصویریں تو جلد بنالیتا ہے، لیکن بہرحال اسے صدر کی بات ماننی ہی تھی، اتنے دنوں بعد کہیں اس کی یہ مراد بر آئی تھی اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔وہ سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں کیسے آج یہ تخلیق کار اچانک راضی ہوگیا۔ تخلیق کار بھی عجیب لوگ ہوا کرتے ہیں، مدتوں کسی بات کو ٹالتے رہیں گے، جیسے کسی خاص لمحے کا انتظار کر رہے ہوں، اپنے آپ کو الگ الگ اور غیر ضروری باتوں میں مصروف رکھیں گے۔ایسے جیسے ان کو اس بات کی کوئی فکر ہی نہ ہو، جسے وہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس عمل میں اور تولید کے عمل میں اتنا ہی فرق ہے کہ تولید کے لیے ایک معینہ مدت یعنی سات یا نو مہینے طے ہیں، مگر تخلیق کے لیے کبھی کبھی پوری زندگی کم پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ جو لکھنا، بنانا، تخلیق کرنا چاہتے ہیں اس کی جزئیات کو شاید اپنے ذہن کے پیٹ میں پالتے پوستے رہتے ہیں، اس کے ہاتھوں پیروں کو نکلتا ہوا دیکھ کر لطف لیتے ہیں، آنکھیں بند کرکے ذہن کے سکرین پر اس کچی پکی سونوگرافی کا مزہ لیتے رہنا ان کی عادت ہوتا ہے، جو لوگ بہت تیزی سے تخلیقی عمل کو انجام دیتے ہیں، وہ ریگستان میں بھاگتے ہوئے قدموں کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں اپنے نشانوں کی بنتی اور بدلتی ہوئی شکلوں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا، ان کے لیے پچھلے سارے نشانات صرف نشانات ہوتے ہیں، جبکہ دھیرے دھیرے پیدا ہونے والی ہنر مندی، کسی دوشیزہ کے دھڑکتے ہوئے سینے پر اگنے والی دو پھلیوں کی طرح ہوتی ہے،جن میں وقت کے ساتھ لگتا ہے قدرت ہوا بھر رہی ہے ، بہت آہستگی کے ساتھ، پھر ایک دن جب وہ بھاری بھرکم تنومند پستان میں تبدیل ہوجاتے ہیں تو دنیا کے مختلف ہاتھ ان پر کمہار کی طرح پانی اور ہتھیلی کے کٹاو سے ایک گول یا توتا پری عام جیسی شکلیں تیار کرتے ہیں۔

 

کُچ باتھ روم کی طرف نائیٹی پہن کر جارہی تھی تو اسے صدر نے روک دیا، اس کے پاس ایک پرانا ریکارڈ ر پڑا تھا، وہ اسے ایک ٹیبل کے ساتھ گھسیٹتا ہوا باتھ روم کے سامنے لے گیا اورپھر اس نے اپنا کینوس بھی سامنے ہی لگا لیا، اس نے کُچ کے بدن پر پڑی ہوئی نائیٹی کو آگے بڑھ کر ذرا سا شکن آلود کیا، اس کے کندھے ذرا اور کھول دیے، نائیٹی کو پستانوں کے پاس سے ایسے گزارا جیسے دو کالے کالے ناگ ان خزانوں کی حفاظت پر مامور نظر آسکیں۔پھر اس نے اس پنڈلیوں سے اپنی بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور شاورکے نیچے لے جاکر کھڑا کردیا۔اس نے کُچ کی گردن کو ذرا سا پیچھے کیا اور اس کا اوپر والا ہونٹ چوسنے لگا اور اسی دوران اس نے آہستگی سے شاور چلا دیا، کچھ دیر میں کُچ کے لیے جب سانس لینے میں دشواری ہوئی تو اس نے جھٹپٹا کر خود کو صدر سے الگ کیا، وہ مسکراتے ہوئے اس سے الگ ہوا اور ایک بار ٹھیک سے اس کے پورے وجود کو ایک خاص پوز میں فٹ کیا، جیسے کسی سخت سانچے میں مٹی کو ٹھونسا جاتا ہے، اب بات بالکل صحیح تھی، رات شباب پر تھی، دور دور تک خاموشی کے سوا کچھ نہیں برس رہا تھا، شاور کی چھش چھش کرتی ہوئی آواز آرہی تھی اور کُچ اپنے وجود کو اس برسات میں سنبھالے ہوئے بس کھڑی ہوئی تھی، اسی طرح جس طرح وہ پہلی بار صدر کو نظر آئی تھی۔بارش کے اس شور میں گم ہوتی ہوئی، بس فرق اتنا تھا کہ وہ منظر قدرتی تھا اور یہ مصنوعی ، مگر پتہ نہیں کیوں ایسے ہی منظروں کی تابناکی سے جل کر قدرت نے انسان کے لیے شاید موت ایجاد کی ہے۔کیونکہ وہ کسی مشاقی، کسی ہنرمندی کو خود سے آگے نکلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔

 

تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت!
تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت! خدا کی قدرتی قدرت اور انسان کی مصنوعی قدرت ، خدا کا حقیقی وجود اور انسان کا مجازی۔لیکن کبھی کبھی مصنوعی قدرتی پر اور مجازی حقیقی پر ایسا بھاری پڑتا ہے کہ لوگ انسان کو بنانے والے ماورائی طاقت کو فراموش کربیٹھتے ہیں اور ایک پل کے لیے لگتا ہے جیسے کسی ایک انسان نے ہی اتنے سارے انسان پیدا کیے ہیں۔جیسے وہ خدا کوئی انسانی شکل کا ہی دیوتا یا دیوی ہوگا، جس کی آرٹ کا تمیز ہم سب کی رگ و پے میں یکساں طور پر بہتا ہے۔ موسیقی ہو یا رقص، پینٹنگ ہو یا شاعری، سب میں ایک انسانی شکل کے خدا کی رمق موجود ہوتی ہے، جو کچھ بناتے وقت فن کار کے وجود میں حلول کر جاتا ہے۔

 

صدر نے ایک ریکارڈ لگا کر کانٹا اس پر ٹکا دیا، وہ ایک انگڑائی کے ساتھ بانسری بجاتا ہوا جاگ اٹھا۔بہادر شاہ ظفر کی ایک غز ل کے چار شعر کسی سر پھرے سنگر نے گائے تھے، اور ایک دفعہ بالکل اتفاق سے یہ ریکارڈ اسے کہیں مل گیا تھا، اس کے کانوں میں اسی غزل کا ایک شعر پڑا اور وہ بھاگتا ہوا دوکاندار کے پاس پہنچا۔دوکاندار کو تو شاعر کا نام بھی نہیں پتہ تھا، بس وہ گانے والے کی آواز پر لٹو تھا، اس لیے کبھی کبھی اس غزل کو سنا کرتا تھا، اسے اس کے کچھ لفظ سمجھ میں آتے اور کچھ نہیں۔علاقائی نوعیت سے وہ ایک مراٹھی نوجوان تھا، جسے اردو سے ایک فطری قسم کی محبت تھی۔صدر نے اسے پیسے دیے تو اس نے انکار کردیا، کہنے لگا:

 

نہیں صاحب! یہ وہ گجل ہے، جس کے لیے آج تک کوئی نہیں آیا، میں اسے پچھلے دو برس سے بجا رہا ہوں، ہفتے میں ایک دو بار تو ہر حال میں! لیکن آپ کا مافک کوئی بھی ایسا دوڑ کر نہیں آیا۔’

 

وہ واقعی بھاگتا ہوا آیا تھا ، جیسے میلے میں کوئی ماں اپنے گم ہوجانے والے بچے کی آواز پر سرعت سے لپکتی ہوئی آتی ہے، اسے جلدی تھی کہ کہیں یہ غزل ختم نہ ہوجائے، وہ اس کے آخری شعر سے پہلے اسے دبوچ لینا چاہتا تھا، اور ایسا ہی ہوا۔وہ ریکارڈ لے کر وہاں سے چلا آیا۔ اس سنگر نے بہادر شاہ ظفر کی اس انوکھی غزل کے صرف چار شعر ہی گائے تھے، لیکن ایسے کہ جیسے کانوں میں گھنگھرو بجتے ہوں، وہ جب کبھی اس غزل کو ہلکی آواز میں سنا کرتا، اس کے وجود کے سارے تار سنگر کی آواز کے ساتھ سر سے سر ملاکر گانے لگتے، نہ جانے کیسے غیر شعوری طور پر اس غزل کا اس کے تخلیقی کاموں میں بہت حصہ رہنے لگا، وہ جب بھی کوئی پینٹنگ بناتا، ایسی ہی کوئی غزل اپنے سرہانے بجانا شروع کردیتا تھا، مگر آج اسے ایک ماسٹرپیس بنانا تھا۔ایک مضطرب اور پارہ صفت ہرن جیسے زندہ احساس کو بڑی آہستگی اور ملائمت کے ساتھ وقت لیتے ہوئے اس پھیلے ہوئے سفید کاغذ کی گود میں بٹھانا تھا۔اس لیے اپنی دانست میں سب سے جاندار الفاظ کا سہارا لیا، ایک ایسے بادشاہ کے الفاظ ، جس کی ڈوبتی ہوئی جوانی کے شکن آلود بستر پر زینت محل جیسا جوان، کمسن اور شاداب بدن بیٹھا ہوا نشے سے ڈول رہا تھا،اورزینت محل کی ہر نئی سسکی کے ساتھ بستر سے چرمراہٹ کی جگہ لہراتے ہوئے یہ چار شعر نکل رہے تھے۔

 

گر رنگ بھبھوکا آتش ہے اور بینی شعلہ سرکش ہے
تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی
نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں، ہے نرم شکن اک خرمن گل
باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی
ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سُریں رانیں ہیں صفا
ہے ساق بلوریں شمع ضیا، پائوں کی کفک پھر ویسی ہی
ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفر کرتا ہے لگاوٹ مدت سے
اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی

 

لفظ فضا میں گونج رہے تھے اور اس کا برش رقص کرتا جارہا تھا، یہ وہ منظر تھا جس میں حسن بھی تھا، موسیقی بھی، شاعری بھی تھی اور بارش کی دھمک بھی۔اور ان سب کو گوندھ کر ایک شخص تصویر کا آمیزہ تیار کررہا تھا۔ آئیے اب آپ کو کینوس کی چادر پر لے چلیں، وہاں کیا ہورہا تھا۔شروع سے آخر تک اس پوری تصویر کے بننے کی داستان سنائیں۔

Image: Female Figure with Head of Flowers, 1937 Art Print by Salvador Dalí

Categories
فکشن

پستان – پہلی قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساته یه بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحه قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-1
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

یہ کہانی اس طرح پیدا ہوئی تھی، جیسے رات پیدا ہوتی ہے، بہت اہتمام کے ساتھ، شام کے میلے ہلکے رنگوں کا گاڑھا پن بھاری ہوتا جاتا ہے اور پھر اس میں سے کچھ چھوٹی روشنیاں نکلتی ہیں
یہ کہانی اس طرح پیدا ہوئی تھی، جیسے رات پیدا ہوتی ہے، بہت اہتمام کے ساتھ، شام کے میلے ہلکے رنگوں کا گاڑھا پن بھاری ہوتا جاتا ہے اور پھر اس میں سے کچھ چھوٹی روشنیاں نکلتی ہیں، رات میں دیکھنے والی آنکھوں کی روشنیاں، کچھ آوازیں نکلتی ہیں، جھینگروں کی آوازیں۔جھینگر کی آواز برسات کی شاموں سے ہی شروع ہوجاتی ہے، مینڈک تالابوں والے علاقوں میں اپارٹمنٹوں تک آجاتے ہیں، سیڑھیوں پر پڑے ہوئے، اپنے پھولتے اور پچکتے ہوئے سینوں کے ساتھ ،جیسے ان کی سانس کی تھیلی میں کوئی مٹھی رکھی ہے، جو بند ہورہی ہے اورکھل رہی ہے، ایسے میں سارا منظر ان کی نسبت سے کچھ سبز ہوجاتا ہے، برسات سب کچھ ہرا بھرا کردیتی ہے، جھینگر درختوں کے پتوں پر جھومتے ہوئے یا تنوں پر منڈراتے ہوئے، اچھلتے کودتے،نیلی ، ہری، نارنگی اور سرخ مدھم لائٹوں سے تیار کی گئی کھردری کانچ والی کھڑکیوں پر آبیٹھتے ہیں، مگر ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا، بس آواز ہوتی ہے،کانوں میں سیسہ گھولتی ہوئی ایک غیر متناہی، دن کے چاروں پہر جیسے اس چھوٹے سے کیڑے نے سو کر گزارے ہوں اور رات ہوتے ہی، اس کا سینہ آواز کا ایک ہرا بھرا جنگل بن گیا ہو، جہاں سے بانسریاں پکار رہی ہوں۔ایک ایسے ہی اپارٹمنٹ میں سبز رنگ کے کائوچ پر صدردھنسا ہوا سو رہا تھا، دنیا جہان سے بے خبر، پاس میں ہی اس کی بنائی ہوئی ایک تصویر رکھی تھی، دنیا کی تصویر، گھنی دنیا، اس وقت کی دنیا جب سمندروں کے نمک نے زمین کی سلاخوں کو کاٹنا شروع نہیں کیا تھا، اس وقت کی گہری، سبز اور سیاہ دنیا، جس میں ایک ہول تھا، ایک چیخ تھی یا پھر ایک گہری سانس، اس نے دنیا کے اس بڑے سے پتے کو مگر ایک پستان کی سی شکل میں بنایا تھا، اوپر سے ابھرتی ہوئی ایک مرکز تک سمٹ کر آتی ہوئی دنیا، جس کے اندر کا سارا نظام کسی پستان میں اب تک موجود تمام سانئسی دریافتوں جیسا ہی تھا۔گلٹھیوں کی شکل میں کچھ دھبے بنائے گئے تھے، زمین پر لمبی لمبی پگڈنڈیوں کے نشانات تھے، جو کہ خون پہنچانے والی شریانوں کے سے رنگ میں موجود تھیں، بالکل درمیان میں ایک بڑا سا کالا نپل بنایا گیا تھا، جیسے کہ ٹھیک areolaہوا کرتا ہے۔اس کے بالکل عقب میں دودھ پہنچانے والی نالیوں کو شکل دی گئی تھی، پہلی شکل میں صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی ایسا فنکار یا پینٹر ہے جو بہت ہی پرورٹ یا فحش قسم کا آدمی ہے، کمرے میں کچھ عجیب و غریب چیزیں بکھری ہوئی تھیں، جیسے کہ ٹین کے کچھ ڈبے، کمرے میں ہلکی مگر کسی مہنگی شراب کی سی بو بھی آرہی تھی، وہ خود بھی تو بالکل عریاں سو رہا تھا، بالکل ایسے جیسے کوئی معصوم بچہ ہو، یا پھر ایک ایسی بے حقیقت چیز جسے خود کو چھپانے کا کوئی مطلب سمجھ میں نہ آئے یا پھر وہ بالکل ہی غیر ذمہ دار رہا ہوگا، بہرحال اس کے کمرے میں ایک عدد پرانے وقتوں کا کوئی پی تھری کمپیوٹر رکھا تھا، ہلکی روشنی میں اس کی لکڑی کی چھوٹی سی کتابوں والی الماری پر کسی شاعر کے دو مصرعے لکھے ہوئے تھے۔

 

کمرے کے چوکور پستانوں کے پیچھے
کون چھپ کر ہنس رہا ہے(1)

 

دروازے پر دستک ہونے لگی، دھپ دھپ دھپ۔۔۔۔۔وہ شاید کچی نیند میں ہو گا، اٹھا اور اس نے دروازہ کھول دیا، سامنے ایک مہین لباس میں ایک سولہ سترہ سال کی لڑکی کھڑی تھی۔اس نے اندر آکر دروزاہ بند کردیا، صدر نے بے دھیانی سے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر واپس جاکر کائوچ پر اوندھ گیا، لڑکی نے اس کے کولھے تھپتھپائے۔

 

‘ہونہہ؟’ اس نے پوچھا؟
‘کچھ کھانے کو ہے؟’

 

پہلی شکل میں صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی ایسا فنکار یا پینٹر ہے جو بہت ہی پرورٹ یا فحش قسم کا آدمی ہے
اس نے انگلی سے ایک جانب اشارہ کیا، لڑکی اس طرف کو گئی اور فرج میں سے کچھ نکال کر کھانے بیٹھ گئی، یہ ایک خوش اندام لڑکی تھی، اس کی رانیں اور پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں، سینہ جھلمل کرتے میں سے صاف دکھائی دے رہا تھا، اس کے سینے کی دونوں گولائیاں ابھی زیادہ نہیں ابھری تھیں، پھر انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی مشاق کمہار نے ابھی تک انہیں چاک پر چڑھانے کی بھی زحمت نہیں کی ہے، یہ بس کسی جنگلی بیل کی طرح فطرت کے رحم و کرم پر بڑھتی جارہی ہیں۔ ابھی تک چونکہ کہانی کا کوئی پس منظر ظاہر نہیں ہوا ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آسکی ہے کہ آخر اس لڑکی کا، کہانی کے متوقع مرکزی کردار صدر سے کیا تعلق ہے، اس لیے زیادہ بہتر ہو گا کہ ہم کہانی کو پھر چھپ کر بالکل کمرے کی چوکور پستانوں کے پیچھے سے دیکھنے کی کوشش کریں، آخر کوئی کہانی کمرے میں کیسے جنم لے سکتی ہے۔ اس میں آپ مجھے یعنی راوی کو قصور وار مان سکتے ہیں کہ میں چند ایک باتیں آپ کو بتانا بھول گیا یا یوں کہوں کہ کچھ ایسے واقعات ، جن کے بعد پھر اگر کہانی اسی حصے سے شروع ہوجائے گی تو شاید زیادہ روشن اور چکنی معلوم ہو گی، بالکل کسی نوآفریدہ، ابھرے ہوئے پستان کی طرح ، جس پر چھوٹے چھوٹے دندان نما دانے نہ ابھرے ہوں اور پھر اس کے آگے بڑھنے، بڑے ہونے اور پھر مرجھانے کے مراحل بھی طے ہوتے جائیں گے۔

 

آپ کہیں گے کہ میں آپ کو پھر ایک برسات بھرے منظر میں لے آیا ہوں لیکن یہ کہانی کا مسئلہ ہے، اس رات کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا سوائے ابلتی ہوئی، تڑ تڑاتی ہوئی بوندوں کے، جو زمین اور اس پر موجود طرح طرح کی چیزوں سے اپنا سر پھوڑ کر مزید بوندوں میں تبدیل ہوتیں اور پاش پاش ہوکر پانی میں مل جاتیں۔وہ سبزی یا پھل فروش لڑکی، جس کے والد کی طبیعت ان دنوں بہت ناساز تھی، ایک درخت سے ٹیک لگائے کھڑی تھی، اس نے اپنے ٹھیلے پر ایک پلاسٹک ڈال دی تھی، اس کا پورا بدن شرابور ہو چکا تھا، انگ انگ بھیگا ہوا، بالکل تر۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ڈولتا یا تھرتھراتا ہوا کپڑا ہو، جو بھیگے ہونے کے باوجود، ہوا کی تیزی میں کانپ رہا ہو۔اس کے گورے گورے پورے شکن آلود ہوگئے تھے، پانی بار بار اس کے ہونٹوں میں سے رس کر کسی طرح منہ میں چلا جاتا اور وہ کچھ ایک لمحے بعد سڑک پر تھوک دیتی۔ بدن کے جو حصے نظر آ رہے تھے، ان پر بہت سی بوندیں لپٹی ہوئی تھیں، اس کا بغیر دوپٹے کا سوٹ پانی میں تر ہو کر اس کے سینے اور پیٹ پر کسی بندر کے بچے کی طرح لپٹ گیا تھا، ایسے میں صدر کو وہ نظر آگئی تھی، اس گھنگھور برسات میں جب کچھ نہ سنائی دیتا ہو ، نہ دکھائی دیتا ہو، اسی اپارٹمنٹ کی اسی کھردری کانچ والی کھڑکی سے، جہاں اس وقت کوئی جھینگر نہیں تھا، پتہ نہیں کیسے اس نے ایک انسانی وجود کو شناخت کرلیا، وہ بھی اتنی دور سے، اسے برسات کا منہ زور رویہ بہت پسند تھا، جب بادل گھوڑوں کی طرح ہنہناتے ہوئے زمین کی طرف تیزی سے اترتے ہیں، بغیر کسی رکاوٹ یا خوف کے، ایسے میں وہ پانی کی چادر میں سے دور دور تک چیزوں کو جھلملاتی ہوئی لکیروں میں دیکھتا اور قیاس کرتا کہ فلاں چیز شاید ایک مسجد ہے یا جو فلاں لائٹ نظر آرہی ہے وہ الٹی طرف کو گئی ہوئی چوتھی بلڈنگ کے پانچویں فلور کی ہے۔اسے یہ کھیل پسند آتا تھا، خاص طور پر رات کی برساتوں میں، جب کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ ہو، وہ کہیں کہیں سے ابھرنے والی آوازوں اور روشنیوں کا پیچھا کرکے ان کی پہچان ڈھونڈا کرتا تھا اور جس چیز کو وہ پہچان نہ پاتا، اس کا اپنی جانب سے کوئی نام رکھ دیتا، کہیں ٹین کے گرنے کی آواز ہوتی تو وہ اندازہ لگاتا کہ اس کے گھر سے کتنی دور پر یہ ٹین گراہوگا، پھر دوسرے دن کسی وقت نکل کر اس ٹین کے ٹکڑے کو ڈھونڈتا اور اپنی شکست یا فتح دونوں صورتوں میں بہت خوش ہوتا، ہنستا اور بعض اوقات قہقہے لگایا کرتا۔

 

دھوئیں کی وہ پہلی پرت، جو آسمان کی طرح ہمیں نظر آتی ہے اور جس کے پیچھے کی بڑی بڑی دنیائیں ہماری اپنی ذہن کی اپج ہیں، آج اپنے ہی وجود سے رس رہی ہے، برس رہی ہے۔
اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں ننگا ہی تھا، ایسی ہی حالت میں وہ اپارٹمنٹ سے نیچے اتر آیا،اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی لڑکی اس درخت کے نیچے موجود ہے۔ اس نے پندرہ بیس منٹ اس لڑکی کی شناخت پر پہلے وقف کیے تھے، اپنے دل میں یہ بات پختہ کرنے کے لیے کہ واقعی وہ کوئی لڑکی ہی ہے، پھر اس نے سوچا کہ اگر وہ غلط بھی نکلا تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا، وہ تو ویسے ہی آج ٹوٹا ہوا تھا لگتا تھا دھوئیں کی وہ پہلی پرت، جو آسمان کی طرح ہمیں نظر آتی ہے اور جس کے پیچھے کی بڑی بڑی دنیائیں ہماری اپنی ذہن کی اپج ہیں، آج اپنے ہی وجود سے رس رہی ہے، برس رہی ہے۔ نیچے اتر کر وہ بڑے اطمینان سے بارش کا لطف لیتا ہوا لڑکی کی طرف آیا، لڑکی تقریباً نیم بے ہوش سی ہوچکی تھی، اس کے پپوٹے اودے ہورہے تھے اور اب وہ بار بار تھوکنے کے بجائے اس پانی کو پی جارہی تھی، صدر نے اسے اٹھا لیا اور گھر لے آیا،لڑکی کو پورا منظر ابھی بھی یاد نہیں تھا، مگر اس کے پستانوں کے پاس ایک ٹیٹو گدا ہوا تھا، جس پر کوئی نام لکھا تھا۔۔۔ کے، یو، سی، ایچ۔۔۔۔۔ لڑکی نے اندازہ لگالیا تھا کہ صدر نے اس کا پورا نام بڑی غور سے اور بہت نزدیک سے دیکھا ہے، وہ اس کے سینے پر جھکے ہوئے ، اس کا معائنہ کررہا تھا، جیسے اس چھوٹے سے نام کو سمجھنے اور جاننے میں اسے بہت دقت ہورہی ہو۔۔۔۔جب چائے ابلنے لگی تو وہ ادھر متوجہ ہوا، لڑکی کو اس نے ایک کپڑے کی مدد سے سکھایا تھا، جب وہ لڑکی کے بھیگے کپڑے اتار رہا تھا ، تب بھی اس کی آنکھیں بالکل کسی سوتے ہوئے، کمزور بچے کی آنکھوں کی طرح ادھ کھلی تھیں، اس نے لڑکی کو گرم کرنے کے لیے پہلے اپنے ننگے بدن کو اس کے ساتھ گھسنا شروع کیا، وہ اس کی گردن اور ہونٹوں پر بوسے بھی لے رہا تھا، اس عمل سے پہلے اس نے خود کو بھی اسی کپڑے سے سکھالیا تھا، وہ پہلے اپنے اندر گرم گرم سانسیں جمع کرتا اور پھر لڑکی کے بدن کے ایک ایک حصے پر انہیں انڈیلتا۔لڑکی اس عمل سے کچھ دیر بعد ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور اس سے دور ہوگئی، بوکھلاہٹ میں اس نے ہاتھ پیر چلائے تو پاس کی میز پر رکھی ہوئی سیاہی اور کچھ کاغذات بھی گرگئے۔صدر نے اسے چائے دی۔
لڑکی نے ایک نظر اس کے ننگے بدن پر ڈالی اور کہنے لگی۔

 

‘تم مجھے یہاں کیوں لائے؟’

 

وہ لڑکی کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، وہاں کوئی وحشت نہیں تھی۔اس نے کہا۔ ‘گھبراو نہیں! میں صرف تمہارے بدن کو گرم کر رہا تھا۔ تمہارے بدن پر بہت دیر تک پانی پڑتا رہا ہے، تم شاید پچھلے ڈیڑھ دو گھنٹے سے بھیگ رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ آخر تم نے کسی اپارٹمنٹ کے ونگ کی پناہ کیوں نہ لے لی؟’

 

‘میں بارش میں بھیگ کر مرنا چاہتی تھی۔’
صدر نے اس جواب پر عجیب سا منہ بنایا۔پھر کہا۔

 

‘معاف کرنا، میں نے تمہاری خودکشی کے لطف کا قتل کر دیا۔لیکن اصل میں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے کسی انگریزی کتاب میں پڑھا تھا۔ انسان کو اس طرح کبھی خودکشی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ پہلے بے ہوش ہو اور پھر دھیرے دھیرے اس کی جان جائے۔ اس لیے نہیں کہ یہ کوئی بہت تکلیف دہ عمل ہے، مگر ایسا اس لیے ہے کہ اس میں بچا لیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اور پھر تم تو ایک ایسی خودکشی کا ارادہ کر رہی تھیں، جو بہت فطری معلوم ہو۔لیکن ٹھہرو! مجھے لگتا ہے کہ یہ خیال تمہیں۔۔۔بارش میں بھیگنے سے پہلے نہیں آیا ہو گا، شاید بارش میں بھیگتے بھیگتے تمہیں اتنا لطف آنے لگا ہو کہ تم نے سوچا ہو کہ کتنا اچھا ہو کہ میں اسی طرح مرجاوں؟۔۔۔۔ہے نا؟’

 

لڑکی ہنس دی، اس کی اس بے وقت کی ہنسی پر صدر کو سمجھ میں نہ آیا کہ کیا ردعمل دے، جواباً پہلے وہ مسکرایا اور پھر خاموش ہو گیا۔۔۔ جب کچھ دیر تک دونوں طرف خاموشی رہی تو صدر نے کہا

 

‘کیا میرا خیال غلط تھا؟’

 

میں چاہتی تھی کہ بغیر کسی وجہ کے مروں۔۔۔لیکن قدرت نے میرے مرنے کی اتنی وجوہات پہلے سے پیدا کر رکھی ہیں کہ اگر میں آج پنکھے سے لٹک کر یا کسی اونچی عمارت سے جان دے کر خودکشی کر لوں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہو گی
لڑکی نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا’ خیال کا تو خیر میں خود نہیں جانتی، لیکن مجھے برسات پسند ہے، برسات شاید ایک ہلکا لفظ ہے، بارش ، اس لفظ میں شور ہے۔۔۔ ہاں یہی مناسب ہے۔ میں چاہتی تھی کہ بغیر کسی وجہ کے مروں۔۔۔لیکن قدرت نے میرے مرنے کی اتنی وجوہات پہلے سے پیدا کر رکھی ہیں کہ اگر میں آج پنکھے سے لٹک کر یا کسی اونچی عمارت سے جان دے کر خودکشی کر لوں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہو گی۔۔۔ میں ایک غریب لڑکی ہوں، جس کا باپ ادھ موا ہے، اس کی دن رات کی خدمت نے مجھے بھی پاگل بنادیا ہے، اس کی بیماری کے علاج کے لیے جو ٹھیلا میں لگایا کرتی ہوں، وہ ایک واہیات کام ہے۔۔۔بہت ہی واہیات۔۔۔مجھے سبزیاں پسند ہیں، پھل بھی۔۔۔ مگر میں بیچنا نہیں جانتی، مجھے ان کے دام، نفع و ضرر کا حساب تک یاد نہیں رہتا۔۔۔جس آدمی کا یہ ٹھیلا ہے، وہ کئی بار راتوں کو مرے ساتھ اس غلطی کی پاداش میں سو چکا ہے۔۔۔۔ اسی لیے میں چاہتی تھی کہ میں بارش کے شور میں مروں، جیسے کوئی زلزلے، سیلاب یا پھر ایکسیڈنٹ کے شور میں مرتا ہے۔۔۔۔ جس میں خاموشی سے پہلے چیخیں دب جاتی ہیں، سانسیں گھٹ جاتی ہیں۔۔۔۔’

 

‘تو کیا تمہیں اس آدمی کے ساتھ سونے کا دکھ ہے؟’

 

‘بالکل نہیں۔۔۔اس نے مجھے جنسی لذت سے آگاہ کیا ہے، یہ ایک بہترین سزا ہے، جو میں نے ہی اسے تجویز کی تھی۔۔۔’
‘تم نے؟’

 

‘ہاں!!’ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ‘اس سے اس کے نقصان کی تلافی بھی ہوجاتی تھی اور مجھے بھی کچھ فائدہ ہوتا تھا۔۔۔۔بہرحال، یہ سب چھوڑو۔۔۔ تم کیا سچ مچ میرے بدن کو گرم کر رہے تھے؟ اور تم کیا ہمیشہ ایسے ہی رہتے ہو؟ ننگے؟ تمہارے بدن پر تو ایک دھجی بھی نہیں۔

 

صدر نے آگے بڑھ کر لڑکی کا ہاتھ تھاما اور اسے گھما دیا، سامنے لگے قد آدم آئینے میں وہ بھی بالکل برہنہ تھی، شرمگاہ کی دو جھکی ہوئی پتیوں سے لے کر پستانوں کی بھنچی ہوئی لیکن کمزور مٹھیوں تک اس کا بدن ‘سن’ کھڑا تھا۔وہ سوچ ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔کہ اسے ابھی تک اپنے ننگے ہونے کا احساس کیوں نہیں ہوا۔
صدر نے لڑکی کے ٹیٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا؟

 

‘اس کا مطلب جانتی ہو؟’
لڑکی ہنستے ہوئے بولی، سنسکرت جانتی ہوں میں۔۔۔۔ لڑکی کے سینے کے لیے بیسیوں نام ہیں میرے پاس، لیکن ان میں سب سے زیادہ مجھے یہی پسند ہے۔

 

‘سنسکرت جانتی ہو؟’وہ واقعی حیرت زدہ تھا۔’تو ایسا سلوک کیوں کررہی ہو اپنے ساتھ۔۔۔ابھی تو تمہاری عمر بھی بہت کم ہے اور یہ ٹیٹو کہاں سے گدوایا تم نے؟’

 

لڑکی نے اپنے سینے پر دونوں ہاتھ باندھ لیے اور زمین پر بیٹھ گئی، اس نے تھوڑی دیر کے توقف کے بعد کہا۔۔۔اس کہانی کے جھنجھٹ میں مت پڑو۔۔۔یہ بتاو کہ اگر تمہیں جسمانی لذت حاصل کرنی ہو تو کیا کرتے ہو؟
لڑکی نے اپنے سینے پر دونوں ہاتھ باندھ لیے اور زمین پر بیٹھ گئی، اس نے تھوڑی دیر کے توقف کے بعد کہا۔۔۔اس کہانی کے جھنجھٹ میں مت پڑو۔۔۔یہ بتاو کہ اگر تمہیں جسمانی لذت حاصل کرنی ہو تو کیا کرتے ہو؟
‘کسی کو بلوالیتا ہوں’

 

‘کس کو؟’

 

‘کسی کو بھی۔۔میرے پاس بہت سی لڑکیوں کے نمبر ہیں، وہ کچھ پیسے لیتی ہیں اور خدمات دیتی ہیں۔۔۔’
‘کیا تم مجھے ایک مہینے کے لیے پناہ دے سکتے ہو؟ میں چاہتی ہوں کہ اگلے دن میرے باپ کے پاس یہ خبر پہنچے کہ میں کہیں غائب ہوگئی ہوں اور وہ اس دکھ سے مر جائے یا پھر میری طرف سے اسے جو آسرا حاصل ہے، اسی کی موت ہوجائے۔۔۔۔اس کے بدلے میں تمہیں ایک مہینے تک اپنے جسم کی گرماہٹ دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔’
‘لیکن تم تو ابھی بہت چھوٹی ہو۔۔۔’

 

اس کے بعد وہ دونوں کچھ دیر تک سوچتے رہے۔۔۔۔ سودا طے ہوگیا اور کہانی آگے چل پڑی۔۔۔۔اندھیرا ہونے لگا اور اس میں ایک ہلکی گنگناہٹ ابھرنے لگی، یہ صدر کی آواز تھی، وہ بارش کے اس شور میں دھیرے دھیرے کچھ گارہا تھا، لڑکی نے اپنے کان کو اس کے سینے سے لگا لیا، وہاں سے نظیر اکبر آبادی کا یہ شعر خوش ترنگی کے سے انداز میں پھوٹ رہا تھا۔

 

کچیں وہ کچھ کچھ ثمر درختی، کچھ ان کی سختی، وہ کچھ کرختی
ہیں جس نے دیکھے وہ پھل درختی، کلیجہ اس کا دھڑک رہا ہے

 

(جاری ہے)

Image: Female Figure with Head of Flowers, 1937 Art Print by Salvador Dalí