Categories
شاعری

دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے

دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے
دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے
شاعر اپنی اپنی ہاہاکار میں گم ہیں
” میں” کی اک تفصیل ہے جس کے لفظ غلاظت میں لتھڑے ہیں
سوچ رہا ہوں
دھرتی کے بیٹوں کو ماں کا اجڑا چہرہ کیوں نہیں دِکھتا ؟؟
ان کو آخرکیوں وہ لوگ نظر نہیں آتے؟؟
جن کے باطن کی تنہائی دھاڑیں مار کے پوچھ رہی ہے
” ہم چیخوں پر کب لکھو گے؟
ہم نوحوں پر کب بولو گے؟”
تب مجھ کو کچھ لوگ بہت ہی یاد آتے ہیں
جن کو ” میں” کا کوڑھ نہیں تھا
میں تو کوڑھیوں میں بیٹھا ہوں
دو کوڑی کے گھٹیا کوڑھی !
یہ دھرتی کے اجڑے پن پر خاک لکھیں گے؟؟
مجمع گیر بھلا کیسے ادراک لکھیں گے؟؟
یہ تو جسم کے وہ بھوکے ہیں
جن کو ہر لکھنے والی کے اندر ” جنس” نظر آتی ہے
یہ پیمائش کے رسیا ہیں
جسموں کے اوزان بتانے میں ماہر ہیں
ان کی گدھ آنکھوں کو ننگا کر لینے کا فن آتا ہے
جو ان کو ” فنکار ” نہ مانیں
وہ ان کے لفظوں میں ” گندی” کہلاتی ہیں
جو ان کی بکواس کو یکسر رد کرتے ہیں
وہ ان کی دانست میں ” ناقص” ہو جاتے ہیں
سوچ رہا ہوں
کیا اِن کو خود اپنے آپ سے بُو نہیں آتی ؟؟
سوچ رہا ہوں
کیا بدقسمت لوگ ہیں جن سے “شاعری” بھی پردہ کرتی ہے !!
Categories
شاعری

” اُمّتِ واحدہ”

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

” اُمّتِ واحدہ”

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہمارے مسئلے اب تک وہی ہیں
ہم
جنہیں لنگڑا کے چلنا رقص لگتا ہے
ابھی تک حاضر و ناظر کی بحثوں
“ناف سے نیچے
نہیں سینے کے اوپر
ہاں ذرا ٹخنے برہنہ ہوں
خدا ہے یا نہیں ہے ”
اور ایسے ہی پسندیدہ مسائل کی فراغت میں ملوّث ہیں
عجب ہیں ہم
نہ اُن جیسے، کہ جن کو واجبِ تقلید کہتے ہیں
نہ خود جیسے، کہ جن کو شرم آنی چاہئیے، آتی نہیں ہے
ہم
جنہیں ساری حدیثیں یاد ہیں
آیات ازبر ہیں
مگر اندر سے اندھے ہیں
بھکاری ہیں
نہایت تیز ہیں
عیبوں کے چننے میں
جتانے میں
کہ دنیا ہم سے جلتی ہے
جبھی آگے نکلنے کا ہمیں رستہ نہیں دیتی
یہ ہم ہیں
ہم
جنہیں معلوم ہے ،
مکّار لہجوں میں دعائیں مانگنے سے کچھ نہیں ملتا
جنہیں یہ بھی پتا ہے
خواب بِک جائیں تو آنکھیں بین کرتی ہیں
مگر پھر بھی
وہی ہیں ہم
ہمارے مسئلے اب تک وہی ہیں ..!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[/vc_column_text][vc_column_text]

جنھوں نے باغ کی دھجیاں اڑا ڈالیں
پرندے اور بچے قتل کر ڈالے
مرے یسوع!
اے پیارے!
قسم انجیل کی یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں!!
یہ وہ بے مغز وحشی ہیں
جنہیں غسلِ جہالت راس آیا ہے
سنہری گیسووں والے
بہت پیارے بہت اپنے مسیحا!
پرسہء اہلِ محمد پیشِ خدمت ہے
وہ بچے بھی ہمارے ہیں
پرندے بھی ہمارے ہیں
جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے ہیں!!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آدم کتبہ لکھتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آدم کتبہ لکھتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

آدم کتبہ لکھتا ہے
جیون بھر اپنے کرموں سے
اپنی قبر کا کتبہ لکھتا رہتا ہے
یہ خطاطی
جو خطِ تقدیر میں لکھی جاتی ہے
انمٹ ہوتی ہے
یہ خطِ تقدیر بنا سیکھے ہی شاید آ جاتا ہے
سب اپنی قبروں کے کتبے خود لکھتے ہیں
بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے
اور جیون کی قبر
بنا اپنے کتبے کے
نا معلوم ہی رہ جاتی ہے
لا وارث قبروں پر کون دعا پڑھتا ہے!
جیون کی اس قبر پہ اپنا کتبہ لکھ کر جانا
اپنی قبر پہ کتبہ اپنا ہی جچتا ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]