Categories
شاعری

صدف فاطمہ کی دو نظمیں

نظم۔1

تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے
نہ ہی چھچھلے نمکین پانی سے پاکی ملے گی
میں ایک سیال ہوں
پاک ہونا ہے،مجھ میں سماؤ
زخموں کو بھرنے کی خاطر نمک ہے
دریا نمک کا ،
آؤ سماؤ
پاکی ملے گی

نظم۔2

رات جھپکی نہیں آنکھ
وحشت سفر کرکے آنکھوں میں اتری ہو ممکن ہے
نوحہ کیا ہو نگاہوں نے
بجھتی ہوئی ہر نظر کا
آس کی ان مزاروں پہ
بیٹھی ہوئی یہ مجاور ہیں آنکھیں
خواب تھے ہی کہاں
جس کی خاطر نگاہوں پہ پہرہ بٹھاتے
مگر
ایک الھڑ سا دربان ہے
ان بوسیدہ فصیلوں پہ ٹھہرا ہوا
اس دیے کی حفاظت میں
جس کا ہالہ بنا ہے وفا کی شعاع کا
رخ سیلاب آور دریا کی جانب ہے
اور الھڑ سا دربان بوسیدہ فصیلوں کے ڈھ جانے کے خوف میں
قدموں کو گاڑے ہوئے
ڈھا رہا ہے
Image: Roberto Matta

Categories
فکشن

شکن

جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔
“تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔”
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے ”
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔
” یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!”
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:
“دھیولا بازار والے اتر جایئں”
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:
“ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا ”
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔
“لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔”
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔
۔۔۔۔۔”یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں”اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟
“لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔”
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔
“یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟”
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔
“اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔”
تھو!!۔
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
Image: Sadaf Fatima

Categories
فکشن

ذائقہ

“اے بیٹا قورمے میں ذرا بھی روغن نہیں ہے ، دلہن سے کہنا تو کہ اللہ کا دیا بہت سا ہے ذرا فراوانی سے ڈالا کریں ۔”
“جی دادی۔”رمشہ نے حامی بھری اور چلتی بنی۔

رمشہ کی دادی آزر کی ماں اور انیسہ کی ساس،ابھی چند ہی مہینوں پہلے اپنے بہو، بیٹے کے پاس رہنے آئی تھیں۔ ان کے شوہر زندہ تھے، لیکن اب وہ شہر کے مزے لینا چاہتی تھیں ، دیہات کے روز مرہ سے ان کا دل کچھ اس درجہ اچاٹ ہو چکا تھا کہ اپنے شوہر کو بے یار و مدد گا، اپنے بڑے بیٹے کے پاس چھوڑ کر ، چھوٹے بیٹے کے پاس آ گئی تھیں۔ بڑے بیٹے کے پاس باپ کو چھوڑنا ، بے یار و مدد گار ہی چھوڑنا تھا، کیوں کہ وہ اوران کا پورا کنبہ بوڑھے باپ کی پینشن پر پل رہے تھے۔ ان کا خیال خود عفن میاں رکھ رہے تھے۔ کوئی انہیں کیا سنبھالتا۔

نقل مکانی کسے راس آئی ہے ۔ تبدیلی ہوا نے البتہ امکانات رکھے ہیں ، لیکن اب ان کا اختیار اور ہاتھ دونوں ہی تنگ ہو چکے تھے ، اب انہیں کھانا پروسا جاتا تھا ، وہ خود نہیں پروستی تھیں ۔ انیسہ بہو، ساس کے برابرآکر کھڑی ہوئیں، ساس نے پھر وہ ہی راگ الاپنا شروع کر دیا ، لیکن اس کے سر وہ زیادہ لمبے نہ کھینچ سکیں ۔ آخر اب راج رانی بہو تھیں ، کچھ کہتے کہتے دل مسوس کے رہ گیا۔
بہو ، بیٹے کے پاس آنے کے بعد سے دادی کا یہ معمول بن گیا تھا، کہ وہ رمشہ کے پاس بیٹھ کر اپنے پچھلے وقت کے کھانوں اور ان کے ذائقوں اور ان کے پکانے کی تراکیب پر ہی باتیں کیا کرتی تھیں ۔ کبھی کہتیں ۔ “اے بیٹا قورمہ ایسے تھوڑی نہ بنتا ہے۔”اور کبھی کہتیں کہ “اے بیٹا جب دلہن نہ ہوئیں تو کسی روز ہم پکا کر کھلائیں گے۔” اور کسی روز کے فراق میں وہ لمبی لمبی آہیں بھرتیں۔ اپنے سامنے رکھے کھانے کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھتیں ، جب کبھی بہو بیگم کے بنے ہاتھ کا کھاناان کی حلق سے اترنا مشکل ہوجاتا تو چپکےسے رمشہ سے شکر منگوا لیتیں اور شکر روٹی سے ان کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں نمی اتر آتی۔

ان کے اس معمول میں ایک عرصے تک ذرا بھی تبدلی نہیں آئی ۔ کھانے کی شوقین وہ ہمیشہ سے تھیں ۔ جب تک ساس کے عہدے پر بحال رہیں تب تک انہوں نے بہتر سے بہتر پکایا اور کھایا۔ پکانے کے معاملے میں وہ بڑی دلدار تھیں، البتہ کھلانے میں کچھ تنگ دست واقع ہوئی تھیں ۔ان کی تنگ دستی سے سبھی لوگ واقف تھے ، لیکن رمشہ نے اس کے برعکس کبھی کبھی ان کی سخاوت کے نظارے بھی دیکھے تھے۔ وہ روغن اور مال ، میوہ ڈال کر کچھ پکاتیں تو سب سے بچ بچا کر رمشہ کو کھلا دیتیں ، لیکن یہ بات اس وقت کی تھی جب ساس راج تھا، اب بہو رانی تھی۔ ساس محض تماشہ بیں۔

بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ کبھی رمشہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھتی تو اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زہر مار کر رہی ہوں اور کبھی وہ کھانے کو چھوڑ کر چھت کو تاکنے لگتیں ۔

واپس جا کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہونا تھا،کیوں کہ وہ اختیار بڑی دلہن نے لے لیا تھا کہ جو ہے وہ خود پکائے اور کھلائے۔ ذائقہ ان کے لیے بڑی چیز تھی۔ اچھے کھانوں کے سوا ان کے لیے کوئی شئے معتبر نہ تھی۔ خدا کے پاس جاتے ہوئے بھی وہ تندرست ہی نظر آنا چاہتی تھیں۔ اسی لیے صرف ایک ہی مقولہ ہمہ وقت ان کے لبوں پر جاری رہتا۔”اے بیٹاکھایا پیا ہی تو ساتھ جاتا ہے۔”اعمال پر کچھ خاص نظر نہ تھی،البتہ بدن کی چستی تندرستی کو وہ سب سے زیادہ اہم گردانتی تھیں ۔ دلہن کے ہاتھ کا کھانا انہیں کبھی پسند نہیں آیا۔ ایک عرصے تک برداشت کرتی رہیں، مگر ایک روز تھک ہار کر انہوں نے واپسی کا ارادہ کر ہی لیا اور ان کے اس فیصلے کو جلد از جلد پائے تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ انہیں دوبارہ اپنے شوہر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ ابھی وہ اپنے شوہر کے یہاں پہنچی ہی تھیں کہ ایک سانحہ یہ پیش آیا کہ عفن میاں میں چل بسے ،عفن میاں کے چند روز بعدہی خود رمشہ کی دادی بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ آزر ،انیسہ کے ساتھ رمشہ بھی دادی کی تندرستی کے زوال کو آخری مرتبہ دیکھنے پہنچی،لیکن رمشہ یہ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی کہ دادی کے مقام پر صر ف ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا۔

مرنے والے کی اچھائیوں کا ذکر چھیڑا جانے لگا، ان میں سے کسی نے کہا، “یہ تو آخر عمر میں پاگل ہو گئی تھیں۔اپنے سارے بال خود ہی نوچ ڈالے۔اسی لیے ان کی بڑی دلہن نے انہیں گنجا کروا دیا تھا اور تو اور یہ تو زمین سےچن چن کر کیڑے مکوڑے اور مٹی کھانے لگی تھیں۔ یہ سنتے ہی رمشہ کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے اس کا منہ کیڑوں اور مٹی سے بھر گیا ہو۔ اسے کہیں دور سے یہ آواز آتی محسوس ہوئی۔

“اے بیٹا،میں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی، میں ذائقہ ڈھونڈ رہی تھی۔تمہاری ماں کے پاس ذائقہ نہ تھا، بڑی دلہن کے پاس کھانا نہ تھا، اسی لیے ان کیڑوں میں ذائقہ تلاش کر رہی تھی۔ اے بیٹا مزا تو اچھا نہ تھا ، لیکن بھوک بہت لگتی تھی، اسی لیے کھالیا، اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی،اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی ، اےبیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے پاس تو کھایا پیا ہی جاتا ہے۔ “تقریباً چیخ پکار کی مانند یہ آوازیں اسے جھنجھوڑ رہی تھیں اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دادی کے گنجے سر اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو تکے جا رہی تھی۔

Image: Rina Bhabra