Laaltain

خواب دان(مدثر عباس)

  ہاں تو میں تمہیں بتا رہا تھا کہ میری زندگی میں بہت بار ایسے ہوا ہے کہ میں حقیقت اور خواب کے درمیان فرق نہ کر سکا۔ ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ میں مر چکا ہوں مجھے لوگوں کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے مزید غور کیا تو چند […]

جھجھک (محمد عباس)

پشتے کے پار پانی دیکھ کر اس کے اندر کچھ مچلنے لگا۔ ساون کی حبس آلود دوپہر میں پانی کی سطح گُھوک سوئی ہوئی تھی۔ پانی کسی افیمی کی طرح لیٹا تھا گویا دوپہر کی رُکی رُکی ہوا کے لمس سے پینک میں آ گیا ہو۔ اس کا جی چاہا کہ فوراً چھلانگ لگا کر […]

رفتار — تالیف حیدر

تالیف حیدر: گاڑی دیر تک اسی طرح چلتی رہی اور ناز اسی طرح ایک ہاتھ سے جھولتا رہا۔اب شام کا دھندلکا ہو چلا تھا آسمان پر ستاروں کا ظہور ہونے لگا تھا، آسمان کے تھال میں چاندی کا ایک بڑا سکہ اپنی ٹمٹماہٹ چاروں طرف مترشح کر رہا تھا۔

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی […]

ایک اور مکان (رفاقت حیات)

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ […]

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث […]

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا […]

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل […]

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں […]

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور […]

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے […]

اسما حسن کے افسانے “شہرِ بُتاں” کا تاثراتی جائزہ

اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ ہے ظلم و بربریت کا نوحہ ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے نقارہ ِ خدا بننے کا ماجر ہے اس کہانی کا پیٹرن اس خوبصورتی سے بُنا […]

کچا

جیم عباسی: اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

باپ دادا

رفاقت حیات: پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔