Categories
فکشن

غیرمطبوعہ ناول: ایک خنجر پانی میں (خالد جاوید)

[divider]انتساب[/divider]

زینو کے نام

 

صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
اسد اللہ خاں غالب

قاری کی پیدائش اس وقت ہوتی ہے جب مصنف کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
رولاں بارت

یہ قطعی ضروری نہیں کہ سب آسان ہو۔ زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کو بغیر سمجھے ہی ہم ان سے لطف حاصل کرتے ہیں مثلاً سیکس۔
ایلن شاپرو

نوحہ گری بھی کبھی کبھی نہایت خوش آئیند واقعات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
اتالو کیلوینُو

انسانوں کے ذریعے کیے گئے تمام کام غیر متجانس، غیر مطابق، غیو موزوں اور بے موقع ہوتے ہیں۔ چاہے وہ شاعر اور ادیب ہوں یا قواعددان۔
ہرمین بروخ

چھند سے خالی کوئی سبد نہیں اور نہ ہی شبدوں سے خالی کوئی چھند۔
ناٹیہ شالتر

یہ یقیناً موت کی تیسری کتاب ہے۔ جس کو حاضرِ خدمت کرتے ہوئے میں بس دو یا تین باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ میری تمام گذشتہ تحریروں کی طرح اس کتاب میں بھی وہی خرابیاں موجود ہیں جن کا کافی شہرہ رہا ہے بلکہ ممکن ہے کہ اس بار پہلے سے کچھ زیادہ ہی ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبان کا ایک کام اشیاء کی نمائندگی کرنا ضرور ہے۔ مگرکسی بھی تخلیقی بیانیے میں الفاظ محض خارجی یا داخلی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ورنہ اس طرح تو ہر آرٹ ایک ثانوی درجے کی شے بن کر رہ جائے گا یعنی نمائندگی کرنے کا محض ایک وسیلہ، تخلیقی زبان میں لفظ آپس میں مل کر جو بیانیہ خلق کرتے ہیں۔ اُسے اپنے آپ میں ایک مکمل اور سالم دنیا ہونا چاہیے۔ خود مکتفی اور مقصد بالذات حقیقت۔ میرے لیے پریشانی کا سبب یہی ہے کیونکہ انسانوں کے الفاظ پر چھائیوں کی طرح ہوتے ہیں اور پرچھائیاں روشنی کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں سمجھا سکتیں۔ روشنی اور پرچھائیں کے درمیان ایک دھندلی سطح ہوتی ہے جہاں سے لفظ پیدا ہوتے ہیں۔ زبان کی یہ دوسرحدیں جہاں ملتی ہیں وہاں کھینچی گئی ایک لکیر پر میری تحریراکیلی اور بے یارومددگار بھٹکتی رہتی ہے۔ اپنے معنی کی تلاش میں جو زبان کے اس دو منھ والے پُراسرار سانب جیسے رویے کی وجہ سے کبھی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتے۔ ممکن ہے کہ اس کتاب میں یہ مسئلہ زیادہ گھمبیر ہو۔ تیسری اورآخری بات یہ کہ یہاں اُردو کی مستند لغات، قواعد، صرف و نحو اور ادقاف سے انحراف تو نہیں کیا گیا ہے مگر ہر جگہ سختی سے پابند بھی نہیں رہا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب دراصل بہتے ہوئے وقت اور پانی کی کتاب ہے۔
خالد جاوید

عادت ہمیں فرصت فراہم کرتی ہے اور ہم محفوظ ہو جاتے ہیں۔ عادت ہمیں حساس نہیں رہنے دیتی۔ عادت حساسیت کی دشمن ہے۔
جے کرشنا مورتی

کسی بھی فن پارے کو سمجھنے سے زیادہ اُس کو محسوس کرنا چاہیے۔ جہاں تک سمجھنے کی بات ہے ہم ریاضی کے ایک سوال تک کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اور نہ ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہم وہاں کچھ پہلے سے فرض کرلیتے ہیں۔ اورپھر سوال حل کرنے کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ مشق ہماری عادت بن جاتی ہے۔ ہم ہر مسئلے سے عادتاً گزرنا سیکھ جاتے ہیں۔
برگمین

تواس طرح دنیا ختم ہوجائے گی۔ دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک کمزور سی سِسکی کے ساتھ۔
ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ

[divider]ایک خنجر پانی میں[/divider]

 

[dropcap size=big]صبح[/dropcap]
کے ٹھیک آٹھ بجے سرہانے لگے ہوئے الارم نے اُسے جگا دیا۔ سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔ وہ آنکھیں مَلتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کھرکی کے شیشے سے پردہ سرکایا۔ باہر وہی پیلا پیلا سا دُھند تھا۔ تین دن پیشتر ایک دھول بھری، پیلی آندھی آئی تھی مگرپھر یہیں آکر رُک گئی، آگے نہیں گئی۔ اب ہوا بالکل بند تھی مگرآندھی کا غبار ٹھہرا رہا۔ اگربارش ہو جاتی تو یہ غبار دُھل جاتا مگربارش کا دور تک پتہ نہ تھا۔ کچھ چیزیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ وہ ایک جگہ پہنچ کر رُک جاتی ہیں، وہ جن پہیوں پر سفرکرتی ہیں وہ جام ہو جاتے ہیں۔

یہ بڑا منحوس موسم ہوتا یہ، بڑا حبس پیدا کرتا ہے۔ اُس نے کہا۔ ہر موسم خراب ہوتا ہے۔ اُس کی بیوی اُکتا کربولی۔ وہ کمرے سے نکل کر سیدھا ٹوائیلٹ میں چلا گیا۔ آٹھ منت بعد، ٹھیک آٹھ منٹ بعد اُس نے فلش کی زنجیر کھینچی۔ پانی کے ریلے کی گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ناقابلِ برداشت بدبو کا ریلا بھی آیا۔ اُس نے گھبرا کر ناک بند کرلی۔ پھر نالی بند ہو گئی۔ اس نے سوچا، سڑاندھ ہی سڑاندھ ہے۔ اُس کے سر کے درد میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ باہر آیا، واش بیسن پر جھک کر کلّی کرنے لگا۔ منھ کچھ نمکین ہوگیا اور زبان کڑوی، دانت کر کرانے لگے۔ وہ بڑبڑانے لگا۔ کئی دن سے رات میں سو نہیں پاتا۔ منھ کے ذائقے کا ستیاناس ہوکر رہ گیا۔ سوؤ گے بھی تو کیسے۔ آدھی آدھی رات کو اُٹھ کر تو میرے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہو۔ تم چڑھنے دیتی ہو۔ ہو بھی اس قابل۔ میرا کیا بس یہی مصرف رہ گیا ہے، کیا میں کوئی کائی لگی ہوئی چٹان ہوں کہ تم چڑھتے رہو اور پھسلتے رہو بلکہ پھسلو کچھ زیادہ ہی۔ کڑک چائے بنا کر لاؤ۔ رات میں بتاؤں گا چائے لاؤ، پھر میں جاؤں نہانے، جلدی آفس پہنچنا ہے۔ اُس نے کہا، دفتر جا کرکرتے کیا ہو، ایک پیسے کی کمائی نہیں۔ بیوی ترش روئی سے بولی۔ اچھا، اتنے عیش تو کررہی ہو۔ عیش؟ اتنا بجٹ تو بڑھا نہیں سکے کہ ایک بچہ ہی پیدا ہو جاتا۔ یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ ابھی نہیں۔ ابھی نہیں۔ تین سال ہو گئے، شادی کو، اس منحوس شادی کو۔ دیکھ لینا میں جلد ہی اس عمر سے نکل جاؤں گی۔ چائے، میں نے کہانا کہ چائے کی پیالی۔ گرم، بہت گرم۔ آج موسم بہت خراب ہے۔ بیوی پیر پٹکتی ہوئی کچن کی طرف جانے لگی۔ تمھارے ہاتھ کے بنائے ہوئے مکانوں کے نقشے کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ کوئی انھیں پسند نہیں کرتا۔ پتہ نہیں کیسے آرکی ٹیکٹ ہو۔ ہو بھی یا جعلی ڈگری ہے۔ اوپر سے آفس کھول کر بیٹھے ہیں۔ گلوبل کنسٹرکشن کمیٹی، ہونہہ۔ وہ اُسے کچن میں اِدھر سے اُدھر چلتا پھرتا دیکھ رہا تھا۔ اُس کی چال میں شہوانیت تھی۔ وہ زہریلے انداز میں مسکرانے لگا۔

یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ آس پاس کے چھوٹے چھوٹے گاؤں سے گھرا ہوا۔ شہر کے علاقے سے وہ شاہراہ بہت نزدیک ہے جو ملک کے مغربی خطے کو مشرقی خطے سے ملاتی ہے۔ اس شہر میں یا تو مالدار بنیے ہیں جن کی اولادیں ڈونیشن کے ذریعے ڈگری پاس کرکرکے اپنے کلینک اور نرسنگ ہوم کھولتی جارہی ہیں یا پھر اہلِ حرفہ اور معمولی کاریگر ہیں، بڑھئی درزی، کارچوبی اور راج گیرتو یہاں کے دور دور تک مشہور ہیں۔ یہاں کا سرمہ اور فرنیچر بیرونِ ملک تک جاتا ہے۔ یہ ایک صاف ستھرا شہر ہے (اب تو خیر سارے شہر میں کھدائی کا کام چل رہا ہے) اور مذہبی رواداری نیز امن و امان کے لیے بھی پورے صوبے میں شہرت رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ضلع کے سارے اعلیٰ حکام اپنی ملازمت سے سبک دوشی ہوجانے کے بعد مستقل طورپر یہیں بس جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے شہری ترقی کے نام پر پچھلے پانچ چھ سالوں سے یہاں کئی قیمتی پراجیکٹ چل رہے ہیں اور بلڈر مافیا شہر میں روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں کی زمینیں کٹ کٹ کر کالونیوں میں بدل چکی ہیں۔ شہر پھیلنے لگا ہے اور مضافاتی علاقوں میں دور تک نئے نئے فلیٹ بنتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ انھیں اطراف میں کئی شاپنگ مال بھی کھل گئے ہیں اور کچھ فیکٹریاں بھی جو مقامی سیاست کی کشمکش کے خوش آئند نتائج ہیں۔ انھیں میں وہ مشہور گوشت کی فیکٹری بھی ہے جہاں جدید ترین مشینوں کے ذریعے بڑے جانور ذبح کیے جاتے ہیں اوراُن کے گوشت کی، انٹرنیشنل معیار کے مطابق عمدہ پیکنگ کی جاتی ہے اوراُسے نہ صرف ملک کے دوسرے خطوں میں بے حد احتیاط، صفائی اور حفظانِ صحت کے اُصولوں کا خیال رکھتے ہوئے پہنچایا جاتا ہے بلکہ کئی خلیجی ممالک کو ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔ ذبح میں نکلے ہوئے خون کو مشینوں اور پائپوں کے ذریعہ زمین کے اندر پہنچا دیا جاتا ہے۔ سافٹ اور کولڈ ڈرنک بنانے والی مشہور کمپنیوں نے بھی اپنی اپنی فیکٹریاں کھولنا شروع کردی ہیں۔ جہاں ان مشروبوں کا ڈرائی فارمولا سفوف کی شکل میں تیار شدہ بھیجا جاتا ہے مگرپانی نہیں۔ پانی کو مقامی سطح پر ہی فراہم کیا جاتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ اورسرمایہ کاری کا یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے نجی سیکٹر میں شامل کیے جانے کے بعد سے یہاں انجینئرنگ، میڈیکل اور مینجمنٹ کالج بہت بڑی تعداد میں کھلتے جارہے ہیں یہ شہر چھوٹا ہے اور اتنا پھیلاؤ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے جنگل، کھیت، تالاب اور جھیلیں سب سیمنٹ کے گھروندوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں جگہ جگہ فلائی اوور بنائے جارہے ہیں، اس لیے پچھلے کئی سالوں سے یہ پورا شہر اُدھڑے ہوئے سوئیٹر کی طرح نظرآنے لگا ہے۔ سڑکیں، گلیاں سب کھدی ہوئی نظرآتی ہیں۔ چلنے والوں کو اسی ملبے سے بچ کر نکلنا ہوتا ہے۔ چاہے اُنھیں اسپتال جانا ہو یا کچہری یا پھر سڑک کنارے کھڑے ہوکر گول گپّے ہی کیوں نہ کھانا ہوں۔ بہت سنبھل کر چلنا ہوتا ہے۔ کہیں بھی کوئی گڈّھا راستے میں آسکتا ہے۔ جس میں کیچڑ اور پانی بھرے ہوں۔ گڈّے میں گرکر کوئی بھی اپنے ہاتھ پیر تڑواسکتا ہے یا پھر سڑک کے بیچوں بیچ ڈالی جا رہی سیورلائن کے کھلے ہوئے مین ہول پَل بھرمیں کسی کے پیٹ سے نکلے ہوئے فُضلے یا کینچوئے کی طرح آپ کو شہر کے دوسرے حصے پر بہنے والی قلعے کی ندی کے کنارے پر واقع بائیو گیس کے پلانٹ میں پہنچاکر جہنم رسید کرسکتے ہیں۔ ان نئی بنی ہوئی کالونیوں تک جانے کے لیے آپ کو اتنا ہوشیار تو رہنا ہی پڑے گا۔ چاہے آپ کے پاس بائیک ہو، سائیکل ہو یا رکشہ ہو مگرسب سے زیادہ خطرہ تو پیدل ہی چلنے والوں کو اُٹھانا پڑے گا اور اگر اتفاق سے بارش ہو رہی ہو، پھر تو کہنا ہی کیا۔

یہ بھی ایک نئی سوسائٹی بن کر تیا رہوئی ہے۔ تین منزلہ فلیٹوں کی۔ اس کا نام لائف اپارٹمنٹ ہے۔ اس کالونی کے سارے مکان باہر سے پیلےے رنگ کے پُتے ہوئے ہیں اور مکان کے اندر باہر کے رنگ سے کچھ کم پیلا رنگ کیا گیا ہے۔ پچھلے آٹھے سالوں سے یہی رنگ فیشن میں ہے اور آرکی ٹیکٹ مکانوں کے نقشے تیار کرنے کے بعد اس رنگ کی سفارش کرتا ہے۔ اُس کا خیال ہے کہ مکانوں کے ڈیزائن سے اِسی رنگ کی ایک خاص مطابقت ہے۔ اس رنگ کا فی الحال ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ باہر پھیلی ہوئی پیلی دُھند کی وجہ سے یہ چھوٹے فلیٹ کچھ پھیلے ہوئے اور وسیع و عریض نظرآنے لگے ہیں۔ ایک چھوٹا سا پارک۔ چند ضروری سامان کی دکانیں اور ہمہ وقت یہاں تک کہ دن میں بھی روشن نیون لائٹس۔ یہ وہ عناصر ہیں جن سے لائف اپارٹمنٹ کی تشکیل و تعمیر ہوتی ہے۔ یہ جس زمین پر بنی ہے وہ پہلے ایک تالاب تھی،جسے پاٹ پاٹ کر اور مٹی ڈال ڈال کر خشک زمین میں بدل دیا گیا ہے۔ تالاب کے کنارے کبھی ایک بہت پرانا قبرستان بھی ہوا کرتا تھا جس کی قبریں نہ جانے کب کی دھنس چکی تھیں اوراب وہ ایک بڑے سے گڈھے میں بدل چکا تھا۔ ایک زمانے سے اس قبرستان میں کوئی فاتحہ تک پڑھنے نہیں آتا تھا اور نہ ہی کوئی مُردہ دفن ہونے۔ چند سال پیشتر تک کچھ آسیبی روایات بھی اس جگہ سے منسوب رہی تھیں مگراب شہری منصوبہ بندی اور ترقی کی شاندار اور جگمگاتی ہوئی روشنیوں نے توہم پرستی، خوف اور دہشت کو ہمیشہ کے لیے اپنے اندر نگل لیا تھا۔ اب شاید ہی کسی کو یہ بھی یاد رہ گیا ہو کہ اُس تالاب سے منسلک ایک بہت چھوٹی اور پتلی سی ندی بھی بہا کرتی تھی اوراس طرح کی کالونیوں میں بنے ہوئے مکانات کی بنیادیں انسانی پنجروں اور ہڈیوں کی راکھ اور چونے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ویسے بھی اس قسم کی باتوں کو یاد کرنا یا یاد رکھنا سرے سے بے تُکا تھا۔ اورکسی حد تک غیر اخلاقی بھی کیونکہ اخلاقی اقدار کا تعلق ہمیشہ اپنے زمانے سے ہوا کرتا ہے۔ ‘زمانے’ کو تو بُرا کہا ہی نہیں جا سکتا ممکن ہے کہ زمانہ ہی خدا ہو۔ اور یہ زمانہ ایک دوسری متبادل اخلاقیات گڑھ رہا تھا۔

لائف اپارٹمنٹ میں بجلی کا کنکشن تو بہت جلد ہوگیا تھا مگرپانی کی قلّت ابھی بھی کسی حد تک موجود تھی۔ ضلع جل بورڈ کا پانی چوبیس گھنٹے میں صرف دوبار آتا تھا جس کا کوئی وقت متعین نہ تھا۔ اس لیے اُسے اسٹور کرکے رکھنا پڑتا تھا۔ پانی کے ذخیرے ساری دنیا میں تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں آئندہ سو سال میں ہمیں پانی کے بغیر خوش دِلی کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہوگا اور نسلِ انسانی کو پانی کا کوئی متبادل ڈھونڈنا ہوگا۔ سوسائٹی کی انتظامیہ کمیٹی نے اپنا بورنگ الگ سے کروا رکھا تھا مگربورنگ کا پانی بہت کھارا تھا اوراُس میں کیلشیم، میکنیشم، سوڈیم اور پوٹیشیم کی مقدار خطرناک حد تک تھی۔ اس پانی میں ریت اور مٹّی کے ذرات بھی ملے ہوئے تھے جن کی وجہ سے پانی کا رنگ دھندلا اور مٹیالہ تھا۔ ظاہر ہے کہ اِس پانی کو پینا مشکل بھی تھا اورمُضر بھی۔ خاص طورسے گردوں اور پھیپھڑوں کے لیے۔ بورنگ کے پانی کو اُبال کریا چھان کر بلکہ آر۔او۔ کے ذریعہ بھی آلودگی دورنہیں کی جاسکتی تھی۔ یہ پانی صرف ٹوائلٹ اورکسی حد تک نہانے یا کپڑے دھونے میں ہی بحالتِ مجبوری استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اوپر سے طرّہ یہ کہ ہردوتین مہینے کے بعد بورنگ بند ہو جایا کرتا تھااورپھر نئے سرے سے کوئی دوسری جگہ تلاش کرکے وہاں کی زمین کو کھودنا پڑتا اور بورنگ کرانا پڑتا۔ مگرمحلے کے ذلیل اور نچلے طبقے کے لوگون کے درمیان رہنے سے کہیں بہتر تھا کہ ہر شریف آدمی کو اِس طرح کی نئی کالونیوں میں آکربس جانا چاہیے۔ یہاں اتنی روشنی تھی، اتنا سکون تھا اور بلند سماجی مرتبہ تھا۔ سب سے برھ کر یہ کہ یہاں شریفوں کے بچوں کو کھیلنے کے لیے اچھے اچھے پارک ہیں اور وہ اَب محلے کے گھٹیالوگوں کے بچوں کے ساتھ کھیل کر بگڑیں گے نہیں۔ اب رہا وہ زردغبار اور رہی وہ پیلی دُھند تو جہاں نئی تعمیر ہوتی ہے وہاں یہ غبار اور ملبہ ہونا لازمی ہے۔ اِس غبار کو دیکھا ہی کیوں جائے۔ زمین کھودی جارہی ہے۔ اُس میں گڈّھے کیے جارہے ہیں۔ چاروں طرف مٹی اُڑ رہی ہے یا پھر کوّے۔ اس غبار کو دیکھا ہی کیوں جائے اِن کوؤں کی کائیں کائیں سنی ہی کیوں جائے۔ آنکھوں پرکالا چشمہ لگا لیا جائے اورگھرسے نکلنے سے پہلے اورگھر پہنچنے کے بعد اچھی طرح مَل مَل کر نہا لیا جائے۔ بس اتنا ہی تو کرنا ہے۔ اپارٹمنٹ کے تقریباً تمام افراد مع بچوں کے کالا چشمہ لگا کر باہر نکلتے ہیں اور واپس آکر خوشبودار صابنوں سے غسل کرلیتے ہیں۔ ایک معیاری زندگی گزارنے کے لیے کیا یہ زیادہ ہے۔

[dropcap size=big]اُس[/dropcap]

نے بیوی کے ہاتھ سے سے لے کر چائے کا کپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ بیوی نے جلدی جلدی اپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرنا شروع کردیا۔ یہ اُس کی مدتوں پُرانی عادت تھی۔ اُسے یہ وہم تھا کہ بار باراُس کا ہاتھ سُن ہو جاتا ہے۔ نہ تو میرے اندر خون بچا ہے۔ سارا خون جل گیا ہے اور نہ ہی کچھ اور وہ بڑبڑاتی۔ ویسے دیکھنے میں وہ ایک صحت مند اور طویل القامت عورت تھی جسے سطحی نظررکھنے والے خوبصورت بھی کہہ سکے ہیں اگرچہ عورت کو مرد سے زیادہ خوبصورت سمجھنا تمام جانداروں میں صرف انسانوں کا ہی حماقت آمیز فیصلہ ہے۔ عورت عقل مند اور طاقت ورتو ہے۔ بشرطیکہ طاقت کو اُس کے اصل مفہوم میں سمجھا جائے مگراُس کی خوبصورتی کے بارے میں ہمیشہ شک کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ معاشرے کی تشکیل کرتی ہے اور سماج پر مردسے زیادہ حاوی ہے۔ چاہے لاکھ اس سماج کو مردوں کا سماج کہا جائے۔ کیا اس قسم کی کوئی بھی جابرشے خوبصورت ہوگی مگرعورت کا سماج پر حاوی ہونا انسان کی ننگی آنکھوں سے ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا۔ اُس کی طاقت خون کی بال کی طرح باریک رگوں میں اپنا جال بنا کر معاشرے کی پوری ذہنیت کی ساخت کی تشکیل کرتی ہے۔ عورت کی طاقت کو اُس خوردبین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے جس سے کسی جرثومے یا وائرس کو۔ کیڑے مکوڑے تک اس معاملے میں انسانوں سے زیادہ عقلمند ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ انسانی معاشرے کے نروں سے زیادہ سمجھ دار وہی ہیں۔ اس لیے عورت کے جسم کو حسین سمجھ لینا ایک اندھے حیوان تک کے لیے مشکل بات ہے۔ عورت کے جسم کا ہر حصہ اتنا زیادہ فاضل گوشت سے بھرا ہوا اور تھل تھل کرتا ہوا چربی زدہ ہے کہ یہی ایک بات اس امر کی گواہ ہے کہ یہ خوبصورتی نہیں ہے۔ عورتوں کے جسم کا رنگ بھی قدرتی طورپر اتنا چمکیلا نہیں جتنا کہ ایک مرد کے جسم کا ہوتا ہے۔ اسی لیے اُنھیں میک اپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ نئی نویلی دلہن کو بغیر میک اپ کے زیادہ دن دیکھنے سے مرد کا دماغ خراب ہو سکتا ہے۔ دن میں، گھاس میں پڑا ہوا، سکڑا ہوا، پرڈالے ہوئے ایک بے سدھ نرپتنگا بھی اپنے رنگوں کے لحاظ سے رات کو اُڑنے والی مادہ پتنگے سے زیادہ چمکیلا ہے۔ مردتو صرف جنگ کے لیے پیدا ہوتے ہیں اوراب توجس طرح کی جنگ ہوتی ہے اس میں بھی مردوں کا کوئی خاص کام نہیں رہ گیا ہے۔ اب ان کا ایک ہی کام ہے کہ وہ عورتوں کے پیٹ میں اپنا بیج ڈالتے پھریں۔ ایک بد عقل آوارہ گھومتے ہوئے سانڈ کی طرح اوراس طرح انھیں اور بھی زیادہ مضبوط بناتے پھریں۔ اصل حاکم یقین مانیے کہ عورت ہی ہے۔ اُس نے یونہی کھڑے کھڑے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور فوراً منھ سے اُسے باہر نکالتے ہوئے کلّی سی کرڈالی۔ چائے ہے یا زہر؟ وہ چلاّیا۔ میرے منہ پر ہی کلّی کردیتے نا۔ وہ زور زورسے اپنا ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگی اوراُس کے بھورے بالوں کا جوڑا کھل کر بکھر گیاجس کی وجہ سے اُس کی ایک آنکھ ڈھک گئی۔ وہ اسی چہرے سے ڈرتا تھا جب بھی اُس کی ایک آنکھ ماتھے سے سرکے ہوئے بالوں سے ڈھک جاتی اور بس ایک آنکھ چہرے پر نظرآتی۔ اس ایک آنکھ میں ایک سرد اور خوفناک حکم تھا۔ دراصل یہی ایک اصل جابر حاکم کی آنکھ تھی۔ کسی دیو مالائی کردار کی غصہ ورآنکھ۔ اگراُس کے چہرے پر دونوں آنکھیں نظرآتی رہتیں تو وہ اس غضبناک چہرے کا مقابلہ کر بھی سکتا تھا مگرماتھے پر صرف ایک بڑی بھوری اورسرخی مائل آنکھ گھورتی نظرآتی ہے۔ تقریباً ایک شیطانی آنکھ جس پر کبھی گہائی تک نکلنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ وہ واقعی ڈرگیا۔ اُسے معلوم تھا کہ بُری نظر بھی ایک ہی آنکھ سے لگتی ہے اورجس آنکھ سے لگتی ہے اُس میں کبھی آنسو نہیں ہوتے۔ چائے کا کپ اُس نے ایک اسٹول پر پہلے ہی رکھ دیا تھا۔ اُس خشک آنکھ سے اپنی آنکھیں پھیرتے ہوئے غسل خانے میں جاکر اُس نے دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ وہ شدید سے شدید گرمی میں بھی گرم پانی ہی سے نہاتا تھا۔ اُس نے سب سے پہلے گیزر کا سوئچ آن کیا۔ سوئچ آن کرنے پر ہلکا سا اسپارک کرتا تھا۔ گیزر کی لال بتی روشن ہوئی مگراُس لال بتی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ گیزر میں ایک عجیب خرابی پیدا ہو گئی تھی وہ کبھی گرم پانی دیتا تھا اور کبھی برف کی طرح ٹھنڈا۔ پوری سردیاں اسی طرح بیت گئیں۔ گرم پانی کی علامت اُس لال بتی کے نیچے وہ کانپتا اور ٹھٹھرتا رہا۔ درمیان میں کبھی کبھی گرم پانی کا ریلہ بھی آجاتا جیسے خواب میں کسی دوست کا چہرہ نظرآجائے۔ وہ اپنی مصروفیات کی بنا پر (اگرواقعی اُس کی کوئی مصروفیت تھی) اورکچھ اس یقین کی بنا پر کہ ایسی عجیب و غریب تکنیکی خرابیاں جلدی دور نہیں ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان کا ایک نادیدہ رشتہ انسانوں کے مقدر اور ستاروں کی گردش سے ہوتا ہے۔ یہ پُراسرار باتیں ہیں اور فی الحال وہ پُراسرار باتوں کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا شیو کررہا تھا۔ یہ بھی ایک چٹخا ہو ا آئینہ تھا۔ چٹخے ہوئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ دیکھ کر شیوکرنے کے دوران اکثراُس سے اندازے کی غلطی ہو جاتی۔ بلیڈ کہیں کا کہیں چل جاتا۔ چہرے پر لگے ہوئے صابن کے سفید گاڑھے جھاگوں میں خون کی لکیریں شامل ہو جاتیں۔ آئینے کا نہ بدلنا یقیناً اُسی کی لاپرواہی تھی مگروہ یہ نہیں جانتا تھا کہ آئینہ چاہے چٹخا ہوا نہ بھی ہو تب بھی ہر آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آدمی کی آنکھیں ہمیشہ اندھیرے میں غلطاں ہوتی ہیں۔ وہ مستقبل کے بارے میں تو زیادہ ہی بے خبرہوجاتا ہے۔ صابن کے سفید جھاگوں سے اُس کا سانولا چہرہ اس طرح ڈھک گیا جیسے کسی گڈھے میں کالے اورسڑتے ہوئے پانی پر سفید ریت اور چونا ڈال کر وقتی طورپر ڈھک دیا جاتا ہے۔ اُس نے اس چہرے سے جھانکتی ہوئی آنکھوں سے اپنے دائیں ہاتھ پر نکلے ہوئے پھوڑے کے پرانے نشان کو دیکھا۔ وہ ہمیشہ شیو بناتے ہوئے اس زخم کے نشان کو دیکھتا۔ یہ نشان ہتھیلی کے بالکل نیچے کلائی پراُس جگہ واقع تھا جو گالوں پر ریزر چلاتے وقت بار بار نمایاں ہوجاتی تھی۔ اگریہ زخم اُس کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑتا اور کسی پھوڑے کے باعث نہیں بلکہ چاقو یا تلوار کے کسی خطرناک وار کے نتیجے میں وجود میں آیا ہوتا تو کسی بھی عورت کے لیے اُس کی شخصیت میں سیکس اپیل بہت بڑھ جاتی۔ اُس نے شیو کرنے والےبُرش سے کلائی پرآئے ہوئے اس بھدے نشان پر صابن کے سفید جھاگ لگادیے، بالکل اُسی طرح جیسے دیوار پر اُبھرآئے ہوئے کسی بدنما سیلن کے دھبے پرسفیدی پوت دی جاتی ہے۔ غسل خانے کی کھڑکی کے باہر پھیلا ہوا پیلا غبار اُسی طرح ساکت و جامد موجود تھا۔ آج دفترپہنچ کر وہ اُن تصاویر سے کچھ نئے گوشے نکال کر مکانوں کے چند نقشے نمونے کے طورپر بنائے گا۔ جن کا البم کئی ہفتوں کی محنت کے بعد وہ حاصل کر پایا تھا۔ یہ قبرستانوں کی تصویریں تھیں اور شمشان گھاٹوں کی بھی۔ قبرستان میں جاجاکر طرح طرح کی پکی قبروں کی تصویریں جو اُس نے پوشیدہ طورپر اپنے کیمرے سے لی تھیں۔ کئی ہفتوں سے وہ شہر کے قبرستانوں کا چکر لگاتا پھررہا تھا۔ کبھی فاتحہ پڑھنے کے بہانے کبھی کسی عزیز یا دوست کی قبرتلاش کرنے کے بہانے اوراُن دنوں کسی کی تدفین تواُس نے چھوڑی ہی نہیں تھی کیونکہ قبرستان تک جانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ قبرستانوں کے گرداب فصیل بندی کردی گئی ہے اوربے وجہ قبرستان میں گھومنے پھرنے والے کو شک کی نظرسے دیکھا جانے لگا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان بجّو جیسے قبرکھودو حیوان سے بھی بدتر ہوگئے ہیں۔ بجّو توپھر بھی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے قبر کھود کر مُردے کھاتا ہے۔ مگرانسان تو قبروں سے لاشیں نکال نکال کر بیرونی ممالک کے میڈیکل کالجوں میں اسمگل کرنے لگے ہیں تاکہ ان کے اعضانکال کراُن پر نئے نئے تجربے کیے جاسکیں۔ تجربہ تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ وہ مکانوں کی تعمیر میں وہی رمز پیدا کرنا چاہتا تھا جو قبروں میں پایا جاتا ہے اور یہ یقیناً فنِ تعمیر میں ایک نیا اضافہ ہوگا سنجیدہ باوقار فکرانگیز اور روحانی بھی۔ آجکل اتنے اوٹ پٹانگ قسم کے نقشوں پر مبنی مکان تعمیر کیے جاتے ہیں اور اتنے بچکانہ، بھدے اورآنکھوں میں چبھنے والے تیز رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ ان مکانوں میں رہ کر انسان صرف ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ یا ہسٹیریا کا یا پھر کابوسوں کے ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا۔ انسانوں کو اگرحقیقی سکون اپنے گھر میں چاہیے تواُس کے بنائے ہوئے مکانوں کے ان نقشوں اور ڈیزائنوں میں ملے گا جو مختلف النوع قسم کی قبروں کی اسمبلاژ سے تیار کیے جائیں گے۔ انسانوں کی زندگی میں ہمیشہ موت کی ایک جھلک، ایک آہٹ ضرور شامل رہنی چاہیے۔ موت کو اپنے گھروں کی دیواروں سے بے دخل نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اپنے پاس نئے اور پرانے نوٹ ایک ساتھ جمع کرکے رکھتے ہیں پھرایک دن آتا ہے جب پرانے نوٹ ایک ساتھ جمع کرکے رکھتے ہیں پھرایک دن آتا ہے جب پرانے نوٹ واپس لے لیے جاتے ہیں اور نئی سیریز کے نوٹ بازار میں داخل کردیے جاتے ہیں۔ لوگ نہ مرتے مرتے تھکتے ہیں اور نہ پیدا ہوتے ہوتے اسی لیے گھروں میں دونوں رنگ شامل ہونا چاہئیں۔ زندگی اور موت کی ایک جُگل بندی۔ وہ جب بھی قبرستان سے باہر آتا موت کا کوئی چیتھڑا اُس کے جوتے کے تَلے میں چپک کر اُس کے ساتھ باہر آجاتا۔ وہ اُسے اپنے پیروں کے تلوؤں میں صاف اور واضح طورپر محسوس کرتا۔ اُس کی ٹھنڈک کو، اُس کی اُداسی کو اور اُس کےرمز کو یا اسرار کو۔ اسرار توکسی بھی قسم کا ہو اُسے جانا نہیں جاسکتا صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اُسے یہ احساس تھا کہ اُس کی بیوی بھی ایک اسرار ہے بلکہ یہ شادی بھی ایک اسرار ہی تھی جو کیوں ہوئی۔ اُس کی کوئی خاص وجہ آج تک سمجھ میں نہیں آئی ہے۔ بس اتنا ضرور تھا کہ اُن دنوں شادی سے کچھ ماہ پہلے اُس کی جنسی خواہش ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئی تھی۔ اُسے ایک ہی رات میں کئی کئی بار احتلام ہوجایا کرتا تھا۔ اُسے احتلام سے ہمیشہ سے ہی بہت ڈرلگتا تھا کیونکہ خواب میں نکیلے اور لمبے دانتوں والی چڑیلیں پاؤں میں پائل باندھے چھن چھن چھن کرتی ہوئی اُس کے جسم کا سارا خون پی جانے کے لیے اُس کی چھاتی پر آکر سوار ہو جاتیں۔ اُسے لگتا جیسے وہ پیلا پڑنے لگا ہے۔ اِس لیے اب یہی ایک شریفانہ حل رہ گیا تھا اور وہی اُس نے تلاش کرلیا۔ دوستوں سے کہہ کہلا کر ایک رشتہ طے کیا اورایک عورت کو گھرمیں لے آیا۔ عورت جس کے کہنے کے مطابق خود اُس کے اپنے جسم میں بھی خون جل گیاتھا مگرپھر بھی وہ ایک صحت مند عورت تھی اورحکم چلانے کا مادہ رکھتی تھی۔ بیوی نے کچن میں جا کر انڈے تلاش کرنا شروع کردیے۔ وہ ہمیشہ انڈے کہیں رکھ کر بھول جاتی تھی۔ فریج میں انڈے رکھنے کے وہ سخت خلاف تھی۔ اُس کا خیال تھا کہ فریج کی ٹھنڈک سے انڈوں کی زردی جم جاتی ہے اوراُسے کسی بھی جمی ہوئی چیز کو پگھلانا سخت ناپسند تھا۔ پگھلنے کا منظر اُسے کر یہہ نظر آتا تھا۔ وہ تو پگھلتا ہوا مکھن، گھی اور یہاں تک کہ برف کو بھی پگھلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی، اسی لیے اُس نے پاورکٹ کے زمانے میں اپنے گھر میں آج تک موم بتی نہیں جلائی۔ یہ اتفاق نہیں تھا کہ اپنے شوہر کے کہیں بھی ہاتھ لگانے سے،چھو لینے سے یا بوسہ لینے کی رسمی اوراخلاقی کوشش سے بھی وہ نہیں پگھلی۔ اُس کے جسم میں رقیق مادوں اور پانی کی بہت کمی تھی۔ اُس کے ہونٹ بھی خشک رہتے تھے اور آنکھیں بھی۔ دل کا پتہ نہیں، دل کا پگھلنا تو محض محاورہ ہے۔ اب یہ تو بالکل صاف ہے کہ اُن دونوں میں محبت نہیں تھی اور اگرہوتی بھی تو کیا۔ محبت اور نفرت دو ایسی ندیوں کی مانند ہیں جو تھوڑا سافاصلہ برقرار رکھتے ہوئے برابر برابر چلتی ہیں، مگرکبھی کسی شہر یا گاؤں میں پہنچ کر الگ الگ سمتوں میں نکل جاتی ہیں۔ چکر کاٹتی ہیں، بل کھاتی ہیں، کبھی تو سانپ کی طرح پھر بہت دور کہیں آگے جاکر کوئی ایسا مقام ضرور آتا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتی ہیں۔ پھر جو پانی آگے بڑھتا ہے اُس میں سوائے تکلیف، حسدو جلن اوراوچھے پن کے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آگے بڑھتا ہوا پانی محبت اور نفرت دونوں سے زیادہ کمینے اورخطرناک سمندر میں جا کر گرجاتا ہے۔

جہاں تک ان دونوں کے یہاں بچوں کے نہ ہونے کا سوال ہے تو اس کا ذمہ داراپنے شوہر اوراُس کی معاشی مجبوریوں کو ٹھہرانا ایک غلط الزام تھا۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے جسم میں ایک بھیانک خشکی تھی۔ یوں تو وہ ماں بننا چاہتی تھی مگراِسے کیا کیا جائے کہ شوہر سے مباشرت کے وقت(اگراِسے مباشرت کہا جا سکتا ہو) بغیر کسی محبت اور خواہش کے ساتھ سوکھے ہوئے ہونٹ، لعاب سے یکسر خالی منھ، زبان اورخشک اندام نہانی کے ساتھ لیٹے رہنا داصل ریپ کے عمل سے بھی زیادہ گھناؤنا اور بدتر تھا۔ اگرایسی صورتِ حال میں اتفاق سے اُس کی کوکھ میں کسی بچے کا بیچ پڑ بھی جاتا تو وہ ایک بدنصیب اور بِن بُلائی جان ہی ہوتی۔ وہ خود بھی برف کی ایک جمی ہوئی چٹان تھی۔ اُسے اپنے آپ سے بھی چڑتھی اواپنے آپ کو پگھلتے ہوئے دیکھنے سے تواُس سے بھی زیادہ۔ جہاں تک خواہش کا سوال ہے تو وہ جسم کی ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ وقت کا ایک ذرا سا پانسہ پلٹنے پر، جسم کے اندر بہنے والے کیمیائی مادوں کی معمولی سی غداری سے ہی وہ کینہ پرور، مذاق اُڑاتی ہوئی کٹنی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جس میں محبت، نفرت، خواہش اورمامتا سب ایک ساتھ کسی جادوئی طاقت کے زیرِ اثر سرکے بَل کھڑے نظرآتے ہیں اس لیے اصل بات جو بغیر کسی اخلاقی فراڈ کے اور لاگ لپٹ کے، کہی جا سکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ مراد اپنے، تقریباً ہروقت ایستادہ عضوِ تناسل سے عاجز تھا اورعورت اپنی سوکھی ہوئی معذور اندامِ نہانی سے۔

ٹھیک اُسی لمحے میں بجلی چلی گئی۔ جب اُس نے فرائی پان میں انڈے توڑے، گرم گرم تیل میں ایک ناگوار آواز کے ساتھ زردی اور سفیدی دونوں اپنی اپنی الگ دنیا میں سکڑتی جا رہی تھیں۔ آج کل صبح صبح بھی جانے لگی ہے۔ وہ بڑبڑائی۔ گرمی بڑھ رہی ہے، بجلی جانے کا سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ پسینہ آئے گا۔ اندھیرا تو برداشت کرہی لیا جاتا ہے۔ روشنی کوئی اتنی اچھی چیز بھی نہیں مگرپسینے میں جسم پگھل پگھل کر بہتا ہے۔ جسم اپنے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے۔ نمکین گندے رقیق مادے کی شکل میں اوربدبودار پانی کی شکل میں۔ بجلی کیوں چلی گئی؟ اتنی دیر میں بجلی آگئی۔ لابی میں لگے ہوئے چھت کے پنکھے کے پَر ابھی پوری طرح گھوم بھی نہ پائے تھے کہ بجلی پھر چلی گئی۔ اُس نے بجلی کو کوسنا شروع کردیا اوراپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرنا بھی۔ مگربجلی کو کوسنے سے بہتر تھا کہ اپنے مقدر کو کوس لیا جائے۔ بجلی کی اپنی ایک الگ شخصیت ہے جیسے پانی کی۔ اُس کے اپنے اُصول ہیں اوراپنی اخلاقیات۔

 

پیار محبت
غم غصہ
رونے اور شہوت میں
وہ پیدا ہوتی ہے
پانی سے اُس کی عظیم دوستی کی
مچھلیاں قسمیں کھاتی ہیں
مچھلیاں جو اپنی دُم کے/آخری حصے میں اُسے سلا کررکھتی ہیں
شارک نے اُس کے جھٹکے کو محسوس کیا اور شِو کے تانڈوجیسا رقص دیکھا
پانی میں رقص
اس رقص کے کوئی معنی نہ تھے
اس رقص میں لفظ نہ تھے
نصاب کی کتابیں کبھی کافی نہیں ہوتیں
ربڑ کے دستانے پہن کر
لکڑی پر پیر یا ہاتھ جما لینے سے
ہم اُس سے آزاد نہیں ہو سکتے
اُس میں ایک رمز ہے
جو اس نظم میں نہیں
خالد جاوید

Tell me when the storm is over
When all the lights are down and the sound of
Thunder claps
Bringing silence than a flash
Only the electricity brings light
Shooting from the sky
Brings a new life to the ground
Killing everything around
The smell of dirt and brunt tissue forming dust and smoked death
Azzy writes

[dropcap size=big]کیا[/dropcap]

صابن سڑرہا ہے؟ اُس نے غسل خانے میں بہت ہی عجیب سی ناگوار بُو محسوس کرتے ہوئے سوچا۔ گیزر کی ٹونٹی کے نیچے بالٹی پانی سے آہستہ آہستہ بھر رہی تھی۔ بجلی چلی گئی تھی۔ بس کھڑکی کے شیشے سے پیلا غبار اپنا عکس پانی پر ڈال رہا تھا۔ اُس نے بالٹی کے پانی میں جھانکا۔ پانی زرد نظرآیا۔ باہر پھیلے ہوئے اُس حبس زدہ غبار کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتے ہوئے اُس نے بالٹی کے پانی سے مگ بھرکر اپنے سرپر انڈیلا۔ پانی پہلے اُس کی آنکھوں میں داخل ہوا پھر وہاں سے بہتا ہوا ناک کے نتھنوں میں اوراُس کے بعد اُس کے کی گنجی اور چکنی کھوپڑی سے پھسلتا ہوا کنپٹیوں اورکانوں کے درمیان ایک پَل کو رُکتا ہوا بہت تیزی کے ساتھ دونوں کانوں کے اندر چلا گیا۔ اُس کے تازہ تازہ شیو کیے ہوئے چہرے پر سے پھسلا اور ہونٹوں کے کناروں کو گیلا کردیا۔ اُس نے ایک سانس منھ کھول کر لی تو کچھ بوندیں منھ کے اندر پہنچ گئیں۔ پانی اب گردن سے بہتا ہوا، اُس کے کندھوں، پیٹ اور پیٹھ تک آکررُک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا مگ بھرپتا، اُس نے اپنے منھ، چہرے، آنکھیں، ناک، کان اوریہاں تک کہ اپنے دماغ کو بھی بھیانک بدبو کی یلغار اورنرغے میں پایا۔ اُس کے منھ میں تو جیسے کھارا پیشاب بھرا جارہا تھا۔ اُس کا جی بری طرح متلایا۔ معدے میں اُلٹیوں کا اوراُبکائیوں کا ایک طوفان باہر نکلنے کو بے چین تھا۔ جسے روکتے ہوئے اُس نے مگ کو دور دیوار پر دے مارا اور بہت زور سے چیخا۔ یہ کیسا پانی ہے، دروازہ کھولو۔ بیوی نے ایک بار میں نہیں سنا اُسے پسینہ آرہا تھا۔ وہ پسینے سے پریشان تھی۔ اُس نے نہیں سُنا۔ دروازہ کھولو سُور کی بچی، کھول دروازہ۔ غصے نے اُسے دنیا کا سب سے بہادر مرد بنا دیا۔ خود کیوں نہیں کھولتا کتے، دروازہ تونے اندر سے بند کیا ہے۔ عورت دہاڑی۔ وہ دروازہ کھولتا ہے اورغصے میں حواس باختہ ہوکر ننگا ہی باہر آجاتا ہے۔ اُس کے بدن سے پھوٹنے والی بدبو لابی میں بھر گئی ہے۔ وہ اُس کےسامنے تن کر کھڑی ہے۔ اندرجاؤ، بے حیا، بے شرم، عورت چیختی ہے۔ تونے پانی نہیں دیکھا کتیا۔ صبح سے پڑی پھنّا رہی ہے۔ تو نے پیشاب اورپاخانے کی چائے مجھے پلادی۔ دیکھا نہیں پانی میں کیا ملا ہوا تھا، سُور کی بچی۔ اندر جا بے حیا، باپ کو گالی مت دے ننگے۔ ننگا ہوکر اور ذلیل لگ رہا ہے تُو اور تیرا یہ۔ عورت پوری طاقت سے چلاتی ہے۔ اُس کے سرکے بال کھل گئے ہیں جن سے اُس کی ایک آنکھ ڈھک گئی ہے مگراب وہ اس چہرے سے نہیں ڈرا۔ وہ غصے میں اپنی پرانی ہستی کھو چکا ہے۔ ابھی پوچھتا ہوں تجھ سے، آج تو نہیں بچے گی میرے ہاتھ سے ماری جائے گی۔ وہ پاگل کی طرح بڑ بڑاتا ہوا دوبارہ غسل خانے میں جا رہا ہے۔ شاید تولیہ باندھنے۔ عورت اُس سے بھی زیادہ پاگل ہوتی ہوئی اُس کے پیچھے پیچھے غسل خانے میں گھس آتی ہے، کسی بَلا یا وَبا کی طرح۔ کیا کرے گا، مار ڈالے گا، کیا پوچھے گا بھڑوے کی اولاد۔ وہ بے لباس، گیلا اور بدبودار اُس کےسامنے کھڑا غیظ و غضب سے کانپ رہا ہے۔اُس کا ہاتھ اوپر اٹھتا ہے۔ وہ عورت کو پوری طاقت کے ساتھ پیچھے کی طرف دھکا دیتا ہے۔ وہ تھوڑا سا پیچھے کی طرف جھکتی ہے اورپھر سنبھل کر جواباً اُس کی گردن پکڑ کر دیوار کی طرف دھکیلتی ہے۔ گیزر کے بالکل نیچے۔ اچانک بجلی آجاتی ہے، گیزرکی لال بتی روشن ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو گرنے سے بچانے کے لیے وہ کسی چیز کا سہارا لینا چاہتا ہے۔ وہ دیوار پر لگے ہوئے بجلی کے ساکٹ کو تھام لیتا ہے۔ ایک دھماکہ، روشنی کا ایک جھماکہ، شارٹ سرکٹ۔ ایک زوردار جھٹکا کھاتے ہوئے اُس کا مادرزاد برہنہ جسم کسی وزنی پتھر کی مانند لڑھکتا ہوا بالٹی سے ٹکراتا ہے۔ بالٹی اُلٹ گئی، گندے بدبودار پانی سے اُس کے جسم کا نچلا حصہ ترہوگیا ہے۔ اُس کے دانت پہلے کٹکٹاتے ہیں، پھر بھنچ جاتے ہیں۔ منھ ٹیڑھا ہوکر نیلا پڑنے لگا ہے۔ نیلاہٹ آہستہ آہستہ سارے جسم میں رینگ رہی ہے۔ چند لمحوں تک کے لیے اُس کا نیلا جسم کسی عامیانہ قسم کے آلہ موسیقی کی طرح جھنجھناتا ہے۔ پھر بے جان ہوجاتا ہے۔ غسل خانے میں اب ایک بُو اوربھی آکر شامل ہوجاتی ہے، یہ موت کی بُو ہے۔ چند کھیتوں بعد یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کے بعد، اُس کے کمرے میں الماری کے نیچے رکھے ہوئے اُس کے جوتوں کے تلوں میں چپکی ہوئی موت واپس قبرستان کی طرف رینگ جائے گی۔ موت کا یہ محبوب مشغلہ ہے، گھرسے قبرستان۔ قبرستان سے گھر۔

ساڑھے دس بجے عورت پولیس اسٹیشن فون کرتی ہے۔ پونے گیارہ بجے ایک پولیس انسپکٹر دو سپاہیوں کے ساتھ اندر داخل ہوتا ہے۔ لاش کہاں ہے؟ باتھ روم میں۔ انسپکٹر سپاہیوں کے ساتھ باتھ روم کے اندر جاتا ہے پھر ناک پر رومال رکھ کر واپس آتا ہے۔ حادثہ کیسے ہوا؟ انسپکٹر پوچھتا ہے۔ پتہ نہیں۔ عورت جواب دیتی ہے۔ پولیس اور کھلا دروازہ دیکھ کر چند پڑوسی اندرآگئے ہیں۔ دونوں میں روز جھگڑا ہوتا تھا۔ ہمارا جینا حرام کررکھا تھا۔ ایک کہتا ہے۔ شاید وہ مارا گیا۔ دوسرا کہتا ہے۔ انسپکٹر رک کر عورت سے پوچھتا ہے۔ یہ قتل ہے؟ معلوم نہیں۔ عورت جواب دیتی ہے۔ سچ سچ بتاؤ، تم نے قتل کیا ہے۔ تمہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔ انسپکٹر کہتا ہے۔ نہیں، ہاں۔ عورت انسپکٹر کی آنکھوں میں اپنی ایک کھلی ہوئی آنکھ ڈالتے ہوئے کہتی ہے۔ اُس کے سر کےبال ماتھے پرابھی بھی لٹکے ہوئے ہیں اورایک آنکھ اِن بالوں سے بری طرح ڈھک گئی ہے۔ وہ اپنے ایک ہاتھ کو بار بار اوپر نیچے کررہی ہے۔ انسپکٹراُس کی کھلی ہوئی آنکھ کو غورسے دیکھتا ہے۔ وہ حیرت انگیز حد تک خشک ہے۔ مگراُس میں ایک بے حس سی چمک ہے جو محبت اور نفرت دونوں کے دائمی فقدان سے پیدا ہوتی ہے۔ جواب دو۔ انسپکٹر گرجتا ہے۔ ہاں وہ مارا گیا۔ اُسی چکر میں۔ عورت بڑ بڑاتی ہے۔ کس چکر میں؟ انسپکٹر چوکنا ہوکر دلچسپی سے سوال کرتا ہے۔ پانی کے چکر میں۔ وہ پانی کے چکر میں مارا گیا۔ عورت اپنے بال ماتھے سے ہٹاتی ہے اوراب دونوں آنکھوں سے انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے اطمینان کے ساتھ جواب دیتی ہے۔

[dropcap size=small]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے ہرگھر میں اب گندا اور بدبودار پانی آرہا تھا۔ تین دن گزر چکے تھے۔ انھوں نے پینے کا پانی نہانے اور ٹوائلٹ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ مگرپینے کے پانی کا ایک وقت مقرر تھا اور وہ بہت کم مقدار میں آتا تھا۔ تین ہی دنوں میں وہ سخت بیمار پڑگئے۔ بیمارہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔ انھیں دست آنے لگے جن میں خون ملا ہوا تھا۔ اُن کے پیت میں اینٹھن اور مروڑ رہنے لگی۔ پھرانھیں بے تحاشہ خون میں ملی ہوئی اُلٹیاں شروع ہو گئیں۔ اُنھیں تیز بخار رہنے لگا۔ یہاں سے آدھے کلو میٹر کی دوری پر ایک نرسنگ ہوم تھا۔ جب اُس میں مزید مریضوں کے لیے کوئی بیڈ خالی نہیں رہا تو وہ شہر کے دوسرے اسپتالوں کی طرف بھاگنے لگے۔ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ بورنگ والے گندے پانی کی سپلائی روک دی گئی۔ کچھ لوگ سوسائٹی چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں یا احباب کے یہاں منتقل ہوگئے۔ یا کسی دوسری جگہ ضروری سامان ساتھ میں رکھ کر کرایہ پر رہنے لگے۔ ماہ کی آخری تاریخ تھی جب اس بیماری میں مبتلا ایک آٹھ سالہ بچے کی موت ہو گئی۔ کسی بھی پھیلنے والی بیماری میں پہلی موت کی ہی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ جس طرح پہلی محبت کی۔ اُس کے بعد تو سب عمومی بن کر رہ جاتا ہے۔ مریضوں کے لواحقین اوراسپتال کے عملے کے بیچ جھگڑا شروع ہوگیا۔ سب کا خیال تھا کہ محض اسپتال والوں کی لاپرواہی کی وجہ سے بچے کی جان گئی ہے ورنہ کالراسے آج کے زمانے میں کوئی نہیں مرتا۔

مگرکیا یہ واقعی وہی تھا؟ یعنی محض کالراجس سے اب کوئی نہیں مرتا۔ ضلع سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے ایک طویل راہداری میں کھڑے ہوئے لمبی ناک والے اور ایک پیشہ ورمکے باز کا سا چہرہ رکھنےو الے نوجوان ڈاکٹر نے کہا، اُلٹیاں ہو رہی ہیں، کھال سوکھ رہی ہے، رگ پٹھے سکڑ رہے ہیں۔ ہاتھوں اورپیروں پر جھریاں پڑرہی ہیں۔ دست رُک نہیں رہے ہیں، بخار اُتر نہیں رہا ہے۔ آنکھوں سے چمک غائب ہو رہی ہے۔ یقیناً یہ علامات کالرا کی ہیں یا بگڑی ہوئی پیچش کی مگراینتی بائیوٹک دوائیں اثر نہیں دکھا رہی ہیں۔ سیلائن اور گلوکوز چڑھانے پر بھی جسموں میں پانی کی مقدار بڑھ نہیں پارہی ہے۔ ایک ہزار ملی گرام پیراسیٹامول دینے پر بھی بخار ایک ڈگری بھی نیچے آرہا ہے۔ مریض کے جسم کے دوسرے ضروری اعضا گردے، جگر، پھیپھڑے اوردل آہستہ آہستہ اپنا کام چھوڑ رہے ہیں۔ کالراجراثیمی بیماری ہے مگرمریضوں کے خون کی جانچ میں کسی جراثیم کا سراغ بھی نہیں مل رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ وائرس سے پھیلنے والی پیٹ کی بیماری میں اس طرح کے دست نہیں آتے اور نہ ہی مریض کا جسم اس حد تک پیلا پڑجاتا ہے۔ مگرممکن ہے کہ یہ کسی نئے وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہو۔ اس پر تحقیق شروع ہو چکی ہے۔ مگریاد رکھئے جو بھی ہو رہا ہے وہ اُس پانی کے استعمال کی وجہ سے ہورہا ہے۔ جس میں سیورلائن کا گندا پانی آکر مل گیا ہے۔ اب ہمیں کرنا یہ ہے کہ کسی مریض کو بغیر دستانے پہنے چھونا نہیں ہے۔ مریض کے گندے کپڑوں کو جلانا ہے اوراس کے فضلے کو بھی۔ جی جی، ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ آپ یہ کیمرہ تھوڑا مجھ سے دور رکھئے۔ جی، اب بالکل ٹھیک ہے۔ جی تو آپ لوگ بھی اپنا کام کیجئے۔ اب میرے پاس اورکسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ آپ لوگ چیف میڈیکل آفیسر سے بات کرسکتے ہیں۔ سی۔ایم۔او۔، جی ہاں سی۔ ایم۔او۔ صاحب سے۔ وجہ؟ میں نے بتایا نا کہ وجہ صرف گندا پانی ہے۔ پانی سے آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ کتنی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ مثلاً معیادی بخار تک۔ بہت سی بیماریوں کے بارے میں ابھی پتہ نہیں۔ یہ کیمرہ تھوڑا، اوراِدھر اُدھر پیچھے کر لیجئے۔ شکریہ، جی اب ٹھیک ہے۔ لیکن پانی کی سپلائی روک دینے کے بعد بھی کیس لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ ایک رپورٹر نے پوچھا۔ وائرس نہیں مرتا۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ سوکھی ہوئی سطح پر عام وائرس ایک گھنٹہ فعال رہ سکتا ہے اور گیلی سطحوں یا پانی میں تو لگاتار اپنی نسل بڑھاتا رہتا ہے۔ باتھ روم کی ٹونٹیوں، بالٹیوں، مگوں سے بہت ہوشیار رہنا ہے۔ استعمال شدہ صابنوں کو پھینک دیجیے، باتھ روم کی دیواروں اورفرش کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ ایسی جگہوں پر تو وہ بارہ بارہ گھنٹے تک فعال رہ سکتا ہے۔ پانی سے بہت بچنا ہے، بہت ہوشیار رہنا ہے۔ آپ لوگ تو باتھ روم جانا ہی بند کردیجئے۔

باتھ روم جانا بند کردیں؟ اس کا کیا مطلب ہوا۔ کیمرہ مین کے برابر میں کھڑی ہوئی چشمہ لگائے ایک جاذب النظر لڑکی نے سوال کیا۔ لڑکی ٹی۔ وی۔ کے کسی چینل کی رپورٹر معلوم ہوتی تھی۔ وہی مطلب ہوا جو آپ سمجھ رہی ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ تو کیا جنگل میں فارغ ہونا پڑے گا۔ لڑکی بولی، اُس کے ہاتھ میں مائیک تھا جو اُس نے ڈاکٹر کی طرف برھا دیا۔ یہ۔۔۔۔۔۔یہ میں نہیں جانتا۔ ڈاکٹر نے لاپرواہی سے اپنے کندھے اُچکانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اُس صورت میں خواتین کا کیا ہوگا۔ ان کالونیوں کے آس پاس اب ایسے جنگل یا زمینیں نہیں بچی ہیں جہاں خواتین اپنی شرم و حیا کو برقرار رکھتے ہوئے فارغ ہو سکیں اوراپنی عزت و عصمت بھی برقرار رکھ سکیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ممکن ہے؟ لڑکی نے پیشہ ورانہ انداز میں تیزی کے ساتھ جملے اداکیے جس کی وجہ سے اُس کی آنکھوں کی چمک اڑگئی۔ اور کیسے؟ دیکھئے ہمارا کام صرف مریضوں کا علاج کرنا ہے۔ ہم اس صنفی ڈسکورس میں پڑکراپنا وقت کیسے برباد کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ مگرآپ ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں اور دانشور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے کہ کیا ایسی بیماری سے خواتین کی ذہنی اور معاشرتی زندگی پر منفی اثرات پرنے کا خدشہ ہے۔ لڑکی نے اپنا سنہری فریم کا چشمہ اُتارا اوراپنی آنکھوں کو رومال سے صاف کرتے ہوئے پوچھا۔ لڑکی کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اُس کے چشمے سے بھی زیادہ خوبصورت۔ ڈاکٹرایک پَل کو اُس کی آنکھوں میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ پھر کہا، مردوں کے لیے بھی شرم و حیا اُتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خواتین کے لیے۔ کیا آپ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں؟ آپ نے جرنلزم کا کورس کب مکمل کیا؟ اچھا ابھی ایک ماہ پہلے ہی، ویری گُڈ۔ کِس انسٹی ٹیوٹ سے؟ اوہ اچھا، وہ تو بہت اچھا انسٹی ٹیوٹ ہے۔ دیکھئے میں لگاتار آپ سے گزارش کیے جارہا ہوں کہ اپنے کیمرے مجھ سے دور رکھئے۔ جی براہِ کرم مجھے کیمرے سے وحشت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے خالی وقت میں میرے کمرے میں آکر مل سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نے لڑکی کی طرف مسکراتے ہوئے کہا اور لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے وینٹی بیگ سے سفید رنگ کا وِزیٹنگ کارڈ نکالا اورڈاکٹر کے ہاتھ میں تھمادیا۔

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے فلیٹ آدھے سے زیادہ خالی ہوچکےے تھے۔ چالیس مریض جو شہر کے مختلف اسپتالوں میں بھرتی تھے اُن میں سے صرف پندرہ مریض ہی جانبرہوسکےہیں۔ ضلع کے حکام اورانتظامہ کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ تھا۔ جگہ جگہ اعلیٰ افسران کی میٹنگیں ہونے لگیں۔ مقامی سطح کے سیاست دان بھی فعال ہو گئے اور مخالف پارٹیوں پر خطرناک سازش کا الزام دھرنے لگے۔ وہ بلڈر بھی اُن کی زد میں آگیا جس نے لائف اپارٹمنٹس کی سوسائٹی کے لیے فلیٹ تعمیر کروائے تھے۔ اس بلڈر کی ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ تھی۔ یہ مخصوص پارٹی کچھ ماہ پہلے ہی اقتدار کی کرسی سے نیچے آئی تھی اس لیے بلڈر پر مقدمہ چلوانے کے مطالبے اور اپیلیں ہونی شروع ہو گئیں۔ میونسپل کارپوریشن کےدفتر میں بے چارے بلڈر کو طلب کیا گیا۔میٹنگ میں ضلع مجسٹریٹ اور میئر کے علاوہ دوسرے کئی اعلیٰ افسران شامل تھے۔ علاقے کا کارپوریٹر بھی موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ سوسائٹی میں پانی فراہم کرنے کے لیے آپ نے کس کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نے سوال کیا۔ وہ ایک نوجوان آئی۔اے۔ایس آفیسر تھا، ٹرینگ کے بعد اس کی پہلی پوسٹنگ اسی شہر میں ہوئی تھی، وہ سفیدبے داغ قمیض اور فاختئی رنگ کی پتلون میں ملبوس تھا، اس کی آنکھیں الو کی طرح گول گول تھیں جن پراس نے گول شیشوں والی عینک لگا رکھی تھی۔ فی الحال اس کےسرخ و سپید چہرے پر چالاک قسم کی ایمانداری کی چکنائی تھی مگرجلد ہی وہ ایمانداری کے اس روغن کو اپنے خشک چہرے پر لگانا چھوڑدے گا۔ کسی کمپنی کو نہیں جناب۔ پانی فراہم کرنے کے لیے کسی کمپنی کو ٹھیکہ نہیں دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پینے کے پانی کے لیے جل نگم میں عرضی دینا کافی ہوتا ہے۔ جل نگم کی فیس ادا کردی جاتی ہے اور نگم وہاں اپنی پائپ لائن بچھا دیتا ہے۔ بلڈر نے ادب کے ساتھ جواب دیا۔ ٹھیک ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ وہاں پینے پانی بھی آلودہ ہوچکا ہے۔ وہ پیلا اور بدبودار ہے۔ اُس میں انسان کے پیٹ سے نکلا ہوا فضلہ موجود ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، نہیں جناب! مجھے اس بارے میں علم نہیں۔ آپ کو کس بارے میں علم ہے؟ بلڈر نے خاموشی کے ساتھ سرجھکا لیا، اسے پہلی بارکسی سرکاری میٹنگ میں شرکت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا اس لیے اس نے اپنی کالی قمیض کے کالر میں تیز نیلے رنگ کی ٹائی بھی لگا رکھی تھی۔ ٹائی کی گرہ اتنے کامل طریقے سے باندھی گئی تھی کہ اس کے ایک چھوٹے بندر جیسے چہرے کو مضحکہ خیز بنا رہی تھی۔ کاملیت میں حماقت کا یک پہلو ہمیشہ نمایاں رہتا ہے خاص طورپر جب آدمی بلڈر کی طرح جوانی کے دورسے باہر نکل گیا ہو۔ سیورلائن بچھانے کا کام کس شعبہ کا ہے؟ میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے ہاتھ اٹھایا اور کہا، ہمارا شعبہ اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے۔ یہ کام آپ کی نگرانی میں ہوا تھا؟ جی جناب، مگرہم بعض معاملات میں پی۔ ڈبلیو۔ ڈی۔ والوں سے بھی مشورہ کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ سڑکیں وغیرہ بنواتے رہتے ہیں اورسڑک کے نیچے ہی نالیوں کے پاس تھوڑا اوپر کی طرف سیورلائن بھی ڈالی جاتی ہے۔ چیف انجینئر نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ مگرشاید ضلع مجسٹریٹ کو اُس کا یہ پُراعتماد لہجہ اچھا نہیں لگا کیونکہ وہ آئی۔ اے۔ ایس۔ تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نے برا سا منھ بنایا اور کہا یہ آپ مجھے مت بتائیں ہم لوگوں کو سب پڑھایا جاتا ہے۔ انجینئرنگ سے لے کر شاعری تک۔ یس سر، ساری۔ میرا مطلب تھا کہ۔ P.W.D والوں کا بھی اس کام میں رول رہتا ہے۔ چیفف انجینئر نے اپنی غلطی سدھارتے ہوئے کہا۔ آپ کے خیال میں پینے کے پانی میں یہ گندگی کیوں آرہی ہے؟ سر، ہمارا خیال ہے، یہ سیورلائن کا پائپ کہیں کریک ہوگیا ہے یا کسی جنکشن پر لیک ہوررہا ہے۔ زمین کھودکھود کر دیکھنا پڑے گا کہ کہاں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ اچھا۔ ہوں، اب یہ بتائیے کہ آپ لوگ سیور کے پائپوں کی فراہمی کے لیے کس کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں؟ سر، ہر بارٹینڈراِیشو ہوتے ہیں۔ کوئی ایک کمپنی کا اجارہ نہیں، ہم سب کو موقع دیتے ہیں اوراُن کو کو ٹیشنز کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ چیف انجینئر نے جواب دیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ ان پائپوں کی سپلائی کرنے والی کمپنی اورٹھیکے دار دونوں کو فوری طورپر نوٹس بھیجئے۔ اُس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔ یس سر، بالکل سر۔ مگرمیں ایک بات اور کہنا چاہوں گا۔ چیف انجینئر نے کچھ لجاجت سے کہا۔ ہاں بتائیے، کیا بات ہے؟ چیف انجینئر نے کنکھیوں سے میئر کی طرف دیکھا۔ اُس کی میئر سے ایک آنکھ نہ بنتی تھی کیونکہ وہ مخالف پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن جیت کرآیا تھا۔ چیف انجینئر ایک ادھیر عمر کا موٹا آدمی تھا۔ اتنا زیادہ موٹا کہ اس کے بیٹھنے کے لیے یہ کرسی ناکافی پڑ رہی تھی اوروہ اس میں کچھ اس طرح پھنس گیا تھا جیسے چوہے دان میں کوئی موٹا سا چوہا پھنس کر ہانپتا ہے اس کی توند کے دباؤ کی وجہ سے اس کی قمیض کے درمیان میں لگے ہوئے بٹن بار بارکھل جاتے تھے جس کی وجہ سے اس کی ناف کے اوپر پیٹ پر سفید بالوں کی ایک بدنما لکیر نمایاں ہو جاتی تھی۔ اچانک ہال کا دروازہ کھلا۔ علاقے کا ایم۔ایل۔ اے۔ اندر داخل ہوا۔ سارے افسران مع ضلع مجسٹریٹ مؤدبانہ انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہو گئے کیونکہ اُن کا نہ اُٹھنا پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتا تھا۔ اب کھادی کے سفید کُرتے اور پاجامے کا زمانہ بیت چکا تھا۔ وہ تیز گیروئے رنگ کا اونچا سا کُرتہ پہنے ہوئے تھا اوراُس نے موٹی موٹی ٹانگوں پر نیلی جینز منڈھ رکھی تھی جس پر عورتوں کے آڑے تنگ پاجامے کا گمان گزرتا تھا۔ اُس کے کو لہے بھی عورتوں کی طرح پیچھے نکلے ہوئے تھے۔ وہ جوان آدمی تھا اوراُس کی رنگت جی گھبرا کررکھ دینے کی حد تک سفید تھی۔ گلے میں گیروئے رنگ کا انگوچھا ڈال رکھا تھا۔ سر تقریباً گنجا تھا۔ مگرمونچھیں لٹک کر ٹھوڑی پر آرہی تھیں۔ چند ماہ پیشتر تک وہ صرف ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کا مالک تھا جس کے ٹرکوں پر گھٹیا اشعار لکھے ہوئے تھے۔ الیکشن کے بعد وہ ایم۔ایل۔ اے۔ ہو گیا، ایم۔ایل۔ اے ہونے سے پہلے وہ شہر میں بہت بڑے اغلام باز کی حیثیت سے مشہور تھا اگرچہ اب وہ عورت اور مرد کے فطری اور اخلاقی رشتے کی اہمیت پر اخبارات میں بیان دینے لگا تھا۔ ایم۔ایل۔ اے۔ نے ہاتھ جوڑ کر سب کو نمسکار کیا اورمسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔ اب وہ سب بھی اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ باہر آندھی آنے والی ہے۔ وہ بولا۔ اچھا۔ سارے افسروں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر کہا۔ سیاسی لیڈروں کی چمچہ گیری کرنے کا یہ ایک پرانا طریقہ تھا۔ اچھا آندھی آنے والی ہے۔ اوہ آندھی، وہ کہتے رہے۔ ہاں آنا چاہیے، بہت دنوں سے آسمان پر غبار چھایا ہوا تھا۔ بہت دن ہو گئے سرجی۔ ایم۔ایل۔اے۔ نے انگوچھے سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ یہاں اے۔سی۔ چل رہا ہے نا۔ جی سر، چل رہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا، کولنگ اور بڑھا دوں؟ نہیں مجھے نزلہ ہوجاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے، ایم۔ایل۔اے۔ تو کاروائی چل رہی ہے آپ لوگوں کی؟ جی بالکل، ہاں تو آپ کیا کہہ رہے تھے؟ ضلع مجسٹریٹ نے چیف انجینئر سے پوچھا جو ایم۔ایل۔اے۔ کے آجانے کے بعدسے کچھ زیادہ خوش اورپُراعتماد نظرآنے لگا تھا۔ جی سر، میں عرض کررہا تھا کہ ہمارے میئر صاحب کے زوردینےپر شہر کے چند علاقوں میں رسوئی گیس کی پائپ لائن ڈالنے کا کام بھی ایک گیس کمپنی نے میرا مطلب ہے کہ پرائیویٹ گیس کمپنی نے کیا تھا۔ ان علاقوں میں لائف اپارٹمنٹس والی سوسائٹی بھی آتی ہے۔ اس گیس کمپنی میں میئر صاحب کی پارٹی کے کئی عہدے داروں کے بڑے بڑے شیئر ہیں۔ چیف انجینئر بول کر چپ ہوا تو میئر کہہ اُٹھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ میئر پختہ عمر کا ایک وجیہہ آدمی تھا۔ اس کے چوڑے چکلے چہرے پر ایک قسم کا خاندانی وقارتھامگراس وقار میں بے رحمی اور غرور کے رنگ زیادہ شامل تھے۔ اس کی بالوں سے صاف اور چکنی کھوپڑی ان رنگوں کواوربھی چمکیلا بناتے ہوئے منعکس کررہی تھی۔ چیف انجینئر نے جواب دیا، کچھ نہیں بس یہی کہ گیس کمپنی نے بھی تو سڑکوں کی کھدائی کروائی تھی۔ تو؟ تواس سے کیا ہوتا ہے۔ سڑک کی کھدائی تو بجلی والے بھی کرتے ہیں، زیرِ زمین تارڈالنے کے لیے ٹیلی فون والے بھی کرتے ہیں۔ ان سب کو بھی بلائیے اورجواب طلب کیجئے۔ گیس کمپنی – آپ کو بس گیس کمپنی یاد آئی۔ میئر نے ناخوشگوار اور بلند لہجے میں کہا۔ ایم۔ایل۔ اے۔ نے میئر کی طرف ہاتھ اُٹھا کر اشارہ کیا اور بولتا رہا۔ میں چاہتا تھا کہ رین بو گیس کمپنی کو یہ کام سونپا جائے وہ بہت شریف لوگ ہیں۔ یہ اسٹار گیس کمپنی تو بدنام رہی ہے۔ یہ تو غنڈے موالی قسم کے لوگوں کو اپنی لیبرکے لیے ہائر کرتی ہے۔ سیورلائن کے پائپ انھیں مزدوروں نے توڑے ہیں۔ ایم۔ایل۔اے۔ بولا۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں؟ میئر نے کہا انکوائری ہونے دیجئے، ثبوت مل جائیں گے۔

آپ کیا کہیں گے؟ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر سے پوچھا، جو اَب تک سرجھکائے بیٹھا تھا۔ جناب میں کیا کہوں، میں نے تو صرف مکان بنوائے ہیں وہ بھی ٹھیکیداروں کے ذریعے، بلڈر پشیمان سا ہو کر بولا۔ اچھا مگرکیا آپ نے مکان خریدنے والوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ بجلی پانی کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں پائپ لائن والی گیس بھی فراہم کریں گے؟ جی وعدہ کیا تھا۔ اچھا کتنے عرصے بعد؟ جناب، میں نے میئر صاحب کے رشتہ داروں کے لیے دو ایچ۔ آئی۔ جے۔ فلیٹ بُک کیے تھے۔ تب میئر صاحب کے مشورے سے یہ طے کیا گیا جناب کہ پائپ لائن گیس کی سہولت حاصل ہو جانے سے سوسائٹی میں رہنے والے لوگوں کو زیادہ اچھی زندگی، میرا مطلب ہے کہ کوالٹی لائف مل سکتی ہے۔ بلڈر نے جواب دیا اور میئر کی طرف چور نظروں سے دیکھنے لگا۔

اسٹارگیس کمپنی کو بھی نوٹس بھیجئے۔ ضلع مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا۔ میئر ایک بار زورسے کھانسا پھر کہا۔ ہم اس بات کو فراموش کررہے ہیں کہ سب سے پہلے بورنگ والا پانی جو سب مر سبل پمپ (Submersible Pump) کے ذریعے زمین کے اندر سے کھینچا جاتا ہے، آلودہ ہوا ہے۔ یہ کام ظاہرہے کہ مقامی سطح پر کام کرنے والے پلمبروں اورنل لگانے والوں نےکیا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اُن سے رابطہ قائم کرنا ہوگا کہ انھوں نے مقررہ اور طے شدہ گہرائی میں ہی بورنگ کیا تھا یا نہیں؟ اُن سے دریافت کرنا پڑے گا کہ جہاں انھوں نے بورنگ کیا تھا۔ وہاں سے سیور لائن کتنی دور تھی۔ میراخیال ہے کہ انھیں پلمبروں کے ذریعے پائپ لائن ڈ میج ہوئی ہے۔ جناب ہم نے سارے پلمبروں کے ذریعے پہلے ہی ساری لائن چیک کروالی ہے۔ کہیں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی ہے۔ بلڈر نےاپنی صفائی پیش کی۔ میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے فوراً ہی لقمہ دیا۔ سر، میں نے انجینئروں کی ایک ٹیم وہاں روانہ کی تھی۔ اُن کی رپورٹ کے مطابق پینے کے پانی والی لائن میں کہیں کوئی خامی نہیں ہے، وہ محفوظ ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر کی طرف سردمہری سے دیکھا، پھر کہا۔ آپ اُن سارے نل کا کام کرنے والوں اور پلمبروں کو دوبارہ طلب کیجئے اور محکمہ صحت کے کارکنوں کی موجودگی میں کل اُن کے ساتھ میٹنگ کیجئے۔ کارپوریٹر صاحب آپ بھی شامل رہئے گا۔ اورایم۔ایل۔اے۔ صاحب کو اگروقت ملے تو پبلک کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ ایم۔ایل۔اے۔ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ میں ضرور سیوا میں حاضررہتا مگرکل مجھے راجدھانی جانا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے بلایا ہے۔ کچھ خاص بات کرنے۔ کوئی بات نہیں یہ لوگ دیکھ لیں گے، تو آج کی میٹنگ برخواست میرا مطلب ہے کہ ختم ہو گئی ہے۔ اس کے مِنٹس تیار کرکے ایک گھنٹے کےاندر سارے ممبران تک پہنچا دو۔ ضلع مجسٹریٹ نے اپنے بوڑھے اسٹینو سے کہا جو ایک ماہ پہلے ملازمت سے سبکدوش ہوچکا تھا، مگرابھی تک کسی نے اُس کا چارج نہیں لیا تھا۔ چائے نہیں آئی ابھی تک۔ ضلع مجسٹریٹ نے تھکی ہوئی آواز میں کہا اور اردلی کو بلانے کےلیے گھنٹی بجائی۔

[dropcap size=big]میونسپل[/dropcap]

کارپوریشن کے دفتر کےسامنے مجمع اکٹھا ہونے لگا ہے۔ یہ عجیب دفتر ہے۔ انسانوں کے مرنے جینے کا جتنا حساب کتاب اُس کے پاس ہے اُس سے زیادہ تو بس ملک الموت کے پاس ہی ہوگا۔ اس دفتر میں ایک اندھیرے اور بوسیدہ سے کمرے میں، کسی الماری میں انسانوں کی پیدائش کے ریکارڈ اور سرٹیفیکٹ رکھے ہیں اورایک دوسری الماری میں جو شاید پہلی الماری کے برابر میں ہی رکھی ہوگی اُن کی موت کے سرٹیفیکٹ ہیں۔ اس الماری پر دھول کچھ زیادہ جمی ہوئی ہے۔ اب یہ تو وہاں کے کلرک کی راشی آنکھ ہی جانتی ہے یا پھر خدا کی آنکھ کہ کون سی الماری میں زندے بند ہیں اورکون سی میں مُردے۔ ویسے اب نہ زندوں کو مردوں کی فکر ہے اور نہ مردوں کو زندوں کی۔ مردے بے چارے تو پھر بھی کبھی کبھی زندوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ان کے گھرآجاتے ہیں جہاں سے انھیں بھوت کا لقب دیتے ہوئے ذلیل کرکے نکال دیا جاتا ہے۔ مگرپھر بھی یہ سوال رہ جاتا ہے کہ وہ الماری کہاں ہے جس میں اُن کے ریکارڈ موجود ہیں جو نہ زندوں میں ہیں اور نہ مُردوں میں۔ مردم شماری کے رجسٹرمیں ان کے ناموں کے آگے سرخ روشنائی سے سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہ بدنصیب ہیں جو زندہ اور مردہ انسانوں کے درمیان کھنچی گئی ایک سرخ لکیر پر پڑے ہوئے کپکپاتے ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کی طرح۔

لوگ میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے آگے اکٹھا ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ خرابی کب تک دور کی جائے گی۔ مرمت کیوں نہیں کی جارہی ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کب تک آئے گا۔ مگرپانی میں جو رمز ہے وہ کارپوریشن کے افسروں کو اور کلرکوں کو نہیں معلوم ہے۔ وہ اس بارے میں جواب دینے سے قاصر ہیں۔

بھیڑ کچہری میں بھی ہے، جہاں کلکٹر بیٹھتا ہے، یعنی ضلع مجسٹریٹ جسے لوگ آج بھی ضلع کا مالک یا بادشاہ سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو یقین ہے کہ اُن کے بادشاہ کے پاس اُن کے دُکھوں کا مداوا ضرور ہوگا۔ مگربادشاہ کا خادم سفید وردی میں ملبوس وہ اردلی بھیڑ کو بار بار پیچھے ہٹنے کا حکم دیتا ہے۔ زیادہ شور پکار مچانے والے چند اولوالعزم افراد کو حراست میں لیے جانےکی دھمکی بھی دیتا ہے مگرساتھ ہی اُنھیں معنی خیز لالچی نظروں سے دیکھتا بھی جاتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے محکمہ حفظانِ صحت کے ڈائریکٹر کو اپنے آفس میں طلب کیا ہے جس کے ریٹائر ہونے میں پندرہ دن رہ گئے ہیں اور جو دل کا مریض ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نروس قسم کا آدمی ہے۔ اُس کی ہتھیلیاں ہمیشہ پسیجی رہتی ہیں اور پیروں کے تلوؤں سے آگ نکلتی رہتی ہے۔ اس کا چہرہ ایک مغموم خچر کے چہرے سے مشابہ ہے۔ وہ ضلع مجسٹریٹ کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ ایک نوجوان آئی۔اے۔ ایس۔ آفیسر ہے اورپرانے افسروں کو خاص طورپر وہ جو پرموشن کے ذریعے افسر بنے ہیں، حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک جدید اوراسمارٹ بیوروکریٹ سمجھتا ہے۔ اورپرانی سڑی ہوئی لال فیتہ شاہی کو چمکیلی، نئی اور سبز فیتہ شاہی میں بدل دینا چاہتا ہے۔

ڈی۔ایم۔ صاحب ہیلتھ والوں کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں۔ بعد میں آپ سب سے بات کریں گے۔ اردلی چلّاتا ہے۔ بھیڑ میں اب اپنا اپنا کیمرہ لیے ہوئے میڈیا کے رپورٹر بھی گھس آئے ہیں مگران میں وہ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نہیں ہے۔ وہ یہاں سے تین کلو میٹر دورضلع سرکاری اسپتال میں لمبی ناک والے نوجوان ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھی ہوئی کافی پی رہی ہے۔

آپ کا عملہ اس سلسلے میں کیا کررہا ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ کے نام پر آپ کی کارگردگی کا ریکارڈ گذشتہ بیس سالوں میں مایوس کن رہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ اپنے سامنے رکھی فائلوں کو ٹٹولتے ہوئے کہتا ہے۔ ہم سرہم، جناب، شہر کے تمام محلوں اور کالونیوں کی نالیوں میں ہر ہفتے چونا ڈالواتے ہیں اور ملیریا ڈینگی کے زمانے میں مٹی کے تیل اور ڈی۔ ڈی۔ ٹی۔ پاؤڈر کا چھڑکاؤ بھی کراتے ہیں۔ جناب، جی ہاں۔ آپ کو چونا ڈلوانے کےلیے سرکار اتنی موتی تنخواہ دیتی ہے؟ نہیں سر۔ جناب، ڈائریکٹر کے ماتھے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی ہیں۔ ضلع کا حاکم ایک فائیل کو دوسری فائیل سے الگ کرتے ہوئے رکھ رہا ہے پھر تیسری کو چوتھی سے لائف اپارٹمنٹس کے معاملے میں آپ کیا کررہے ہیں؟ ہم، ہم نے جناب ہم نے۔ سروہاں ہر طرف چونا ہی چونا بکھیر دیا ہے۔ اب ایک مچھر بھی وہاں پر نہیں مارسکتا۔ جناب ڈی۔ ڈی۔ ٹی۔ کا وافر مقدار میں چھڑکاؤ کیا ہے ہم نے جناب۔ اب ایک بھی مچھر۔ ڈائریکٹر نے جلدی جلدی اپنی کارکردگی کا بیان کردیا ہے۔ توآپ کے خیال میں یہ بیماری مچھروں کے ذریعے پھیلی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے سکون آمیز لہجے میں پوچھا۔ جی، جی جناب۔ نہیں، جی نہیں سر۔ مگرمچھروں اور گندگی سے ہی ایسی بیماریاں پھیلتی ہیں جناب۔ میں نے سنا ہے جناب۔ ڈائریکٹر کی آواز لگاتار کپکپارہی ہے۔ جیسے ریڈیو پر کسی اسٹیشن یا چینل کو سیٹ کرتے وقت اُس کی سوئی کپکپاتی ہے۔ آپ نے سنا ہے؟ اپ میڈیکل جرنلز اوراُن کی تازہ ترین رپورٹوں کا مطالعہ کرتے ہیں؟ کیاآپ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیز میں منعقد ہونے والے سیمیناروں میں تشریف لے جاتے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ پوچھتا ہے۔ میں جناب، میں دل کا مریض ہوں اور اگلے ہفتے مجھے پیس میکر لگنے والا ہے۔ ڈائریکٹر نے اپنی پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا۔ اوہ! آپ آکسیجن کا سلنڈر ساتھ نہیں رکھتے؟ جی ہمیشہ جناب۔ باہر رکھا ہے۔ آپ کے کمرے کے باہر۔ اردلی نے اندر لے جانے سے منع کردیا۔ پسینہ ڈائریکٹر کی گردن پر بہنے لگا۔ دو دن بعد لائف اپارٹمنٹس سوسائٹی میں میونسپل کارپوریشن کے کارکن، بلڈر کے عملے کے لوگ، پلمبرز اورایم۔ایل۔ اے۔ صاحب کی ایک تحقیقاتی میٹنگ ہوگی۔ آپ کا بھی وہاں رہنا نہایت ضرورت ہے۔ اگروہاں کی زمین یاپانی میں بیماری جراثیم پائے گئے تو سمجھ لیجئے کہ یہ خطرناک ہوگا اوراُسے دورکرنا ایک ٹیم ورک ہوگا۔ ہمیں سب کا تعاون درکار ہے۔ آپ بھی اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھ لیجئے۔ آپ ایک ماہ بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ جی نہیں سر، پندرہ دن بعد۔ اچھا ریٹائر ہونے کے بعد کیا ارادہ ہے۔ کوئی بزنس کروں گا۔ بیوی بھی یہی چاہتی ہے اور بچے بھی۔ بہت اچھا خیال ہے۔ ضلع مجسٹریٹ مسکراتا ہے اور کہتا ہے، ضرور بزنس کیجے۔ چونے کے ٹھیکے لینا شروع کردیجئے۔ اس میں بڑا منافع ہے۔ جی کیا فرمایا، چوہے کے؟ چوہے کہ نہیں چونے کے۔ ضلع مجسٹریٹ کی مسکراہٹ زہر خند ہوجاتی ہے۔ ڈائریکٹر کا سرذلّت اور شرمندگی کے بوجھ کے نیچے دب کررہ جاتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ گھنٹی بجاتا ہے۔ اردلی اندر آتا ہے۔ باہر کتنے لوگ ہیں؟ تقریباً ڈیڑھ سو حکم۔ ٹھیک ہے اُن کے صرف دو نمائندوں کا انتخاب کرکے اندر بھیجو۔ دونوں نمائندے الگ الگ مذہبوں کے ہونا چاہئیں، کیا سمجھے؟ اپنے ساتھ اسٹینو کو بھی لے لو۔ کیا سمجھے؟ جی حکم۔ اردلی واپس جاتا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب، آپ جا سکتے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ ڈائریکٹر کانپتے ہوئے پیروں کے ساتھ کرسی سے اُٹھتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ اردلی کو بلانے کے لیے دوبارہ گھنٹی بجاتا ہے۔ اردلی اندر آتا ہے۔ کافی بھیجو، بہت گرم کافی۔ ضلع مجسٹریٹ اُس کی طرف دیکھے بغیر حکم دیتا ہے۔

چشمہ لگائے، خوبصورت آنکھوں والی رپورٹر نوجوان ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھی ہوئی کافی کے گھونٹ لے رہی ہے۔ ڈاکٹراُسے رومانی نظروں سے دیکھنے کے باوجود اُس پرادب کے کسی جغادری پروفیسر کی طرح اپنے مطالعے کا رعب ڈالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

آپ نے Illness as Metaphor پڑھی ہے؟ ڈاکٹر پوچھتا ہے۔ نہیں، کسی نے لکھی ہے؟ سوزن سوتانگ نے۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ اچھا میں نے یہ نام پہلی بارسنا ہے۔ لڑکی بولی۔ اوہ! بڑے افسوس کے بات ہے کہ آپ سوزن سوتانگ کو نہیں جانتی ہیں۔ ڈاکٹر نے افسوس اور ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ پھر فخریہ انداز میں بولا۔ میں میڈیکل کالج کے لٹریری اور ڈرامہ کلب کا جنرل سکریٹری تھا۔ خیرآپ نے آر۔ اِسٹیون کا The Paradox Plant تو پڑھا ہوگا۔ وہ تو بیسٹ سیلر رہا ہے۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی اپنے سیاہ ریشمی بال اوپر جھٹکتی ہے۔ دھیرے سے، ادا کے ساتھ مسکراتی ہے اور کہتی ہے۔ نہیں میں نے اس کتاب کا نام سنا ہے۔ چلیے کوئی بات نہیں، مگرمیرے خیال، میں آپ کو پہلی ہی فرصت میں The Emperor of All Maladies پڑھ لینا چاہیے۔ اگرآپ کو جیسا کہ آپ نے بتایا کہ آپ کو بیماری اوراُس کی سماجیات یعنی سوشیولوجی سے بہت دلچسپی ہے۔ ڈاکٹر نے جوشیلے انداز میں جملہ مکمل کیا۔ جی، میں نے یہ کتاب پڑھی تو نہیں ہے مگراس کے بارے میں بہت سنا ہے۔ سدھارتھ بنرجی نے لکھی ہے نا؟ جی نہیں بنرجی نہیں چٹرجی۔ ڈاکٹر نے تصحیح کی۔ ہاٹ کیک کی طرح بِکتی ہے یہ کتاب، مزہ آجائے گا پڑھ کر۔ ڈاکٹرنے کچھ اس انداز میں کہا جیسے وہ کوئی پورنو گرافی کی کتاب ہو۔ خیرمیں آپ کو دوں گا۔ گھرآئیے گا کبھی۔ بہت کتابیں دوں گا اورہاں میں آپ کو میتھوجون اسٹون کی I Had a Black Dog بھی دینا چاہوں گا۔ آپ کافی اورلیں گی؟ جی ضرور۔ مجھے کافی بہت پسند ہے۔ لڑکی مسکرائی۔ مجھے کافی سے زیادہ کافی کی خوشبو پسند ہے۔ ڈاکٹر نے کہا۔ پچھلے سال یورپ گیا تھا، وہاں کی لڑکیاں اپنے پرس میں اوراپنی جیبوں میں برازیلین کافی کے بیج رکھتی ہیں۔ کافی کی مہک سے زیادہ اچھی کسی پرفیوم یاعطر کی مہک بھی نہیں ہو سکتی۔ اُس کی مہک میں ایسا کیا ہے؟ لڑکی اپنی نیل پالش کریدتے ہوئے آہستہ سے بولی۔ وہ دراصل بے حد سیکسی ہوتی ہے۔ نوجوان ڈاکٹرنےاتنی تیزی کے ساتھ کہا کہ وہ لفظ سیکسی پراتنا زورنہیں دے پایا جتنا اس موقع پراُسے دینا چاہیے تھامگراس سے پہلے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوپاتا۔ لڑکی نے اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنا جملہ ادا کیا۔ آپ کا مطلب ‘ہاٹ’ سے ہے نا۔ سیکسی کا لفظ پرانا ہوچکا۔ کم سے کم پانچ سال پرانا۔ ہم میڈیا والے لفظوں کو ہمیشہ اُن کے صحیح تناظرمیں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ہم عصر یت سے الفاظ کا رشتہ کبھی منقطع نہ ہو پائے۔ ڈاکٹر پہلی بار کچھ جھینپ جاتا ہے۔ پھراس جھینپ کو مٹانے کےلیے پوچھتا ہے۔ توآپ نے بیماریوں پرکون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں؟ میں نے اورکافی منگوائی ہے۔ شکریہ۔ جب میں کالج میں پڑھتی تھی تو وہاں کے تقریباً ہر طالب علم کے ہاتھ میں مارکیز کی Love in the Time of Cholera ہوا کرتی تھی۔ مجھے بھی پڑھنا پڑی۔ اُسی زمانے میں البیئر کامیوکی پلیگ کا مطالعہ بھی کیا۔ اورہاں یاد آیا، چین کا ایک مصنف تھالی یان، اُس کے ناول Ding کے بھی صفحات پڑھے تھے مگرآگے نہیں پڑھ پائی۔ دل نہیں لگا۔ لڑکی اپنی لپ اسٹک درست کرنے لگتی ہے جو زیادہ شوخ رنگ کی نہیں تھی اوراُس کی بھوری آنکھوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ ڈاکٹرنے غیرارادی طورپر اپنے نچلے ہونٹ پر زبان پھیری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، مگریہ سب تو ناول ہیں۔ ناول میں ہوتا ہی کیا ہے۔ جھوٹ اور لفاظی کے علاوہ۔ اتنا جھوٹ بکتےہوئے اُن پر بجلی کیوں نہیں گرتی۔ ان سے وقت گزاری اور تفریح بازی کے علاوہ کوئی سنجیدہ مقصد نہیں حاصل ہو سکتا۔ آپ علمی اور تحقیقی کتابیں پڑھا کریں۔ دراصل مجھے لٹریچر کی کوئی سمجھ نہیں۔ آپ نے پوچھا تو بتا دیا۔ لڑکی نے کہا۔ ویسے آپ کو یہ ناول کیسے لگے تھے؟ ڈاکٹر نے پوچھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لڑکی بولی۔ وہی تو، وہی تو۔ ڈاکٹر خوش ہوکر کہنے لگا۔ اپ بجائے ناول پڑھنے کے ناول پر لکھی تنقیدی کتابیں پڑھ لیا کیجئے۔ اُن کو پڑھ کر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ناول نگار سے زیادہ احمق اورکوئی قوم نہیں ہوتی اورناول سے زیادہ فحش اور محذّب اخلاق کوئی شے نہیں ہوتی۔ چپراسی کافی کے دوکپ ٹر ے میں رکھے ہوئے داخل ہوا مگراُس کے پیچھے ایک نرس اور وارڈ بوائے بھی تھے۔ کیا بات ہے؟ ڈاکٹر نے پوچھا۔ ایک مریض اورچل بسا ہے۔ وارڈ کا ماحول بہت بگڑ گیا ہے۔ نرس نے جواب دیا۔ اوہ، اچھا! ٹھیک ہے۔ تم چلو، میں کافی ختم کرکے آتا ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا۔ نرس کنکھیوں سےلڑکی کی طرف دیکھتی ہوئی، وارڈ بوائے کے ساتھ واپس چلی جاتی ہے۔

کیا میں بھی آپ کے ساتھ وارڈ میں چل سکتی ہوں؟ لڑکی نے پوچھا۔ میرے خیال میں شاید یہ مناسب نہ ہو۔ میڈیا کے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ڈاکٹرنے بے چارگی کا اظہارکیا۔ میں بس میڈیا کی رپورٹر ہی ہوں؟ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے پتہ نہیں کس ترکیب سے اپنی آنکھیں اورخوبصورت اور نشیلی بنا لیں۔ اُس نے لپ اسٹک لگے ہوئے اپنے اُبھرے اُبھرے ہونٹ کچھ اس انداز میں آگے بڑھائے جس سے یہ پتہ لگانا مشکل تھا کہ وہ ڈاکٹر کو بوسہ دینا چاہتی ہے یا اُس کا بوسہ لینا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اچھا میں کوشش کرتا ہوں۔ تم اپنا کیمرہ تو ساتھ نہیں لائی ہو؟ اس نے کہا۔ نہیں۔ یہ اچھا ہے۔ چلو پھر جلدی سے کافی ختم کریں۔ ڈاکٹر یہ کہتا ہوا کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے ہوئے اُٹھ کر میز کی دوسری طرف لڑکی کی کرسی کے قریب آگیا۔ لڑکی نے اِدھر اُدھر دیکھا پھر کافی کا ایک لمبا گھونٹ لیا۔ ڈاکٹر نے اپنا کپ میز پر رکھ دیا۔ لڑکی نے بھی اپنا کپ میز پر رکھ دیا۔ لڑکی کے کپ پر لپ اسٹک کا نشان آگیا تھا۔ ڈاکٹرنے اُس نشان کو غورسے دیکھا۔ پھروہ لڑکی کے اور قریب آگیا۔

ایمرجنسی وارڈ کےاندر ایک عورت بُری طرح چیختی تھی، روتی تھی۔ اپنے سینے پر دو ہتھّر مارتی تھی۔ اُس کے تین سال کے معصوم بچے کی لاش ابھی بھی بیڈ پر موجود تھی۔ جس پر لال کمبل ڈال دیا گیا تھا۔ اس کے برابر میں چار پلنگ اورپڑے ہوئے تھے۔ سامنے بھی، دوسری قطار میں پانچ پلنگوں پر مریض لیٹے ہوئے تھے۔ مگراس سے ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ایمرجنسی وارڈ میں صرف دس ہی مریض تھے۔ دراصل پلنگوں کی اورجگہ کی کمی ہونے کے باعث ایک پلنگ پر دو مریض لٹائے گئے تھے۔ یوں دیکھا جائے تو وارد میں بیس افراد بھرتی تھے جن میں سے فی الحال ایک مرچکا تھا۔ مریضوں کی تعداد میں لگاتاراضافہ ہورہا تھا۔ چیف میڈیکل آفیسر کی ہدایت کے مطابق ان مریضوں کو صرف ایمرجنسی وارڈ میں ہی رکھا جاسکتا تھا۔ ان تمام مریضوں سے علیحدہ اورالگ جو دوسری بیماریوں اور دوسری وجوہات کی بنا پر اسپتال میں بھرتی تھے یا جن کے بھرتی ہونے کے امکانات تھے۔ دوسری طرف۔ شہر کے پرائیویٹ اسپتالوں اورنرسنگ ہوموں نے بھی ایسے کسی مریض کو اپنے یہاں بھرتی کرنے سے منع کردیا تھا۔جو لائف اپارٹمنٹس سے آئے ہوں مگراب تو ایسی خبریں بھی ملنی شروع ہو گئیں تھیں کہ یہ بیماری محض لائف اپارٹمنٹس تک ہی محدود نہیں رہ گئی تھی۔ صورتِ حال کی نزاکت اورسنگینی کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک طویل اور گوتھِک طرز کی بنی ہوئی تقریباً سنسان سی رہنے والی راہداری میں بھی مریضوں کے لیے پلنگ بچھا دیے گئے تھے۔ یہاں بھی ایک پلنگ پر دو مریض۔ دونوں مریضوں کے جسم میں چرھائی جانے والی گلوکوز اورسیلائن کی بوتلیں اور نلکیاں آپس میں اُلجھ اُلجھ جاتیں۔ ٹکراتی رہتیں۔ وہ تڑپتے اور بار بارپیٹ میں اُٹھنے والے بھیانک نا معلوم درد کے سبب سے ایک دوسرے کی طرف بے چین ہوکر کروٹیں بدلتے اورایک دوسرے سے لپٹ لپٹ جاتے۔ اُن کے ہاتھوں اور پیروں کی اُنگلیاں ایک دوسرے کی انگلیوں میں پھنس پھنس جاتیں۔ انجکشن کے واسطے اُن کی کلائیوں اور پنڈلیوں میں پیوست سوئیاں بار بار بند ہو جاتیں۔ بوتلوں کی نلکیوں میں ہوا بھرجاتی جس کے سبب اُن کے جسم سے خون نکل نکل کر دوسروں کے کپڑوں اور چہروں پر لگ جایا کرتا۔ وہ درد سے بے حال ہوکر اس طرح چلّاتے جیسے ذبح ہوتے ہوئے جانور۔ کبھی کبھی تو کروٹیں لینے میں وہ پلنگ سے نیچے بھی گرجایا کرتے اوراُن کے جسم کے کسی حصے کی ہڈی ٹوٹ جایا کرتی۔ وہ اپنی دیکھ بھال کرنے والے تیمارداروں کے بس میں نہ آتے تھے۔ یوں بھی وارڈ میں ایک مریض کے ساتھ صرف ایک تیماردار ہی رہ سکتا تھا۔ کبھی کبھی بات بے بات پر ایک پلنگ کے دونوں طرف کھڑے تیماردار ایک دوسرے سے لڑنا بھی شروع کردیتے تھے۔

اِن بد نصیب مریضوں کو کسی حال چین نہ تھا۔ اُن پر نہ تو درد کم کرنے کے انجکشن اثرکرتے اورنہ ہی نیند لانے والے انجکشن۔ وارڈ میں بے حد گندگی پھیلی ہوئی تھی اور بے حد سڑاندھ بھی۔ وارڈ کا تمام عملہ اگرچہ ماسک لگائے ہوئے تھا اور دستانے پہنے ہوئے تھا، پھر بھی بدبوتھی کہ چلی آتی تھی۔ وہ ماسک کے باریک ریشوں کی دیوار کو توڑ دیتی تھی اورناک میں دُرّانہ وار گھسی آتی تھی۔ ناک بند کرلینے اورسانس روک لینے پربھی اس بدبو کی آہٹ کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ بے چارے صفائی کے عملے پر شاید ہی کبھی اس سے زیادہ برا وقت پڑا ہو۔ اُن کےدستانے ہر وقت خون ملی ہوئی اُلٹیوں اور زردگندگی سے آلودہ رہتے تھے۔ اُن کی بالٹیاں اس گندگی سے لبالب بھرچکی تھیں مگراب اسپتال میں ایسی کوئی جگہ بھی باقی نہیں بچی تھی جہاں یہ بالٹیاں خالی کی جاسکتیں۔ فنائل اور ڈیٹول کا اسٹاک ختم ہوچکا تھا۔ صابن اورپونچھے کے کپڑے اب باقی نہ رہے تھے۔

وہ سب چلا رہے تھے۔ مریض ہی نہیں، لاشوں کے وارث ہی نہیں بلکہ وارڈ بوائے، صفائی کا کام کرنے والے اور نرسیں تک سب حیوانوں کی طرح چیخ رہے تھے مگرپھربھی ہر ایک کی چیخ پرایک خاموشی حاوی تھی۔ لاشوں کی خاموشی اورموت کے سناٹے نے وہاں عورتوں کے بَین کو بھی ایک کمزور آواز میں بدل کرکے رکھ دیا۔ جب تین سال کے اُس بچے کی لاش کو بستر سے اُٹھا کر باہر لایاجانے لگا تواس پلنگ پراُس کے برابر لیٹے ہوئے ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے مردہ بچے کے لال کمبل کو پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بچے کی لاش وہاں سے ہٹائی جائے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ایسا وقت بھی آسکتا ہے۔ جب لاشیں زندوں کو خوف زدہ کرنے کے بجائے اُن کی ڈھارس بندھاتی پھریں۔ خاص طورپر وہ زندے جن کے جلد ہی لاشوں میں تبدیل ہونے کے ا مکانات ہوں اس کوشش میں بچے کے گلے میں پڑی ہوئی، تعویذ کی کالی ڈوری ادھیڑ عمر شخص کے ہاتھ میں پھنس گئی۔ بچے کی ماں دلخراش چیخیں مار رہی تھی۔ جب وارڈ بوائے نے کسی نہ کسی طرح بچے کی لاش کو اُٹھا کر باہراسٹریچر پر ڈال دیا تو ماں اُس کےپیچھےپیچھے اس طرح بھاگ رہی تھی جیسے بلی اپنے بچے کو خطرے میں دیکھ کر اُسے بچانے کے لیے دیوانہ وار بھاگتی ہے۔ وارڈ کے باہر پھیلا ہوا پیلا غبار اُسی طرح اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ وارڈ کے شیشوں سے چھن چھن کراپنا عکس مریضوں اوراُن کے بستروں پر ڈال رہا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ سب یرقان زدہ نظرآتے تھے۔ اُن کے بستروں کی سفید چادریں تک زرد دکھائی دیتی تھیں۔ پورا شہر بخار کے اس غبار میں جل رہا ہے اور کپکپا رہا ہے۔ بخار کا یہ منحوس بادل، یہ پیلا مٹیالا بادل، اپنی جگہ سے ہلتا نہیں۔ اِدھر اُدھر جنبش تک نہیں کرتا۔ آسمان اِس زرد دھند کے بادل میں منڈھ کررہ گیا ہے۔ اس بادل میں جراثیم ہی جراثیم ہیں۔ کالے سفید کپڑے پہنے ہوئے،کریہہ بدصورت جوکروں کی طرح ایک دوسرے کے منھ پر طمانچے مارتے ہوئے۔ وائرس اور جراثیم بھیس بدل بدل کرآتے ہوئے جاتے ہوئے۔ وہ انسان کو کسی درخت، گھاس یا پودے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ کچھ بھی نہیں۔

سنہری فریم کا چشمہ لگائے اُس خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے اپنے چہرے پر ماسک لگا لیا ہے اورہاتھوں مین دستانے پہن لیے ہیں۔ وارڈ کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی اُسے چکر آنے لگا ہے۔ نوجوان ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کررہا ہے۔ وہ ڈیوٹی پر موجود جونیئر ڈاکٹرسے پوچھتا ہے۔ مریضوں کے ناخن آپ نے دیکھے؟ یس سر، جونیئر ڈاکٹر نے جواب دیا۔ کوئی خاص بات نوٹ کی آپ نے؟ جونیئر ڈاکٹر تھوگ نگل کر رہ جاتاہے۔ سب کے ناخن ٹیڑھے ہوکر اوپر کی طرف مڑرہے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹرنے فاتحانہ نظروں سے لڑکی کی طرف دیکھا جو گھبرائی ہوئی نظرآرہی ہے۔ اوہ یس سر، یس سر۔ جونیئر ڈاکٹرنے جوا ب دیا۔ بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے جائے گی اور اب تک جتنے لوگوں کی اموات ہوئی ہیں اُن کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں سی۔ایم۔او۔ صاحب کے دستخط کے ساتھ فوری طورپر انسٹی ٹیوٹ آف وایرلوجی او رمائیکروبیالوجی سینٹر کو روانہ کی جائیں گی۔ کیا سمجھے۔ جی سر۔ جونیئر ڈاکٹر نے سرہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ناخنوں کا ٹیڑھا ہونا پُراسرار ہے۔ یہ صرف مہلک قسم کے زہر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگریہ بیکٹیریا ہے تو بھی اور وائرس ہے تو بھی۔ مگرناخن ٹیڑھے نہیں ہو سکتے اور دیکھئے یہ پیلے پڑکر ٹیڑھے ہورہے ہیں۔ پیلے ہی ہو رہے ہیں یا خون کی کمی ہے یا اس کمبخت پیلی دُھند کا ان پر عکس پڑرہا ہے۔ یہ پیلی آندھی یہاں آکر کب سے رُکی کھری ہے۔ اس نے تو یہیں خیمہ ڈال لیا ہے اوروہاں سنئے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسی کو لوجی کو بھی رپورٹ بھیجئے۔ ڈاکٹر نے اپنی بات ختم کی ہی تھی کہ نرس دوڑتی ہوئی آئی۔ سر، وہ اُدھر باہر راہداری میں ایک کی حالت بگڑرہی ہے۔ دونوں ڈاکٹر اور نرس راہداری میں آتے ہیں۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی پیچھے ہے۔

اٹھارہ اُنیس سال کے ایک نوجوان کے منھ سے خون کی لکیر بہتی ہوئی ٹھوڑی تک آرہی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ گئی ہیں۔ وہ بے ہوش ہے یا پھر مررہا ہے۔ بلڈ پریشر ناپا کتنا ہے؟ ڈاکٹر نے نرس سے پوچھا۔ 160/300۔ یہ بہت ہے۔ دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ یہ دیکھئے اس کے بھی ناخنوں کا وہی حال ہے۔ ٹیرھےہوکر آسمان کی طرف جارہے ہیں۔ ڈاکٹر مریض پر جھکتا ہوا کہتا ہے۔ مجھے بچالو، ارے کوئی مجھے بچا لو۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔ اِسی بیڈ پر نوجوان کے برابر میں لیٹا ہوا ایک سِن رسیدہ داڑھی والا آدمی رو رو کر کہنے لگا۔ روئی لاؤ، خون صاف کرو۔ جوان آدمی ہے، بہت خون باہر آئے گا۔ روئی کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے ڈاکٹر۔ نرس کہتی ہے۔ باہر سے منگواؤ۔ جی ڈاکٹر۔ آرڈر دے دیا گیا ہے مگر سپلائی نہیں ہو پارہی ہے۔ تو کوئی کپڑا لاؤ۔ پٹی لاؤ۔ اب ناک سے بھی خون نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ نوجوان کے منھ اور ناک سے بہتا ہوا خون، برابر میں لیٹے ہوئے سِن رسیدہ داڑھی والے شخص کی پسلیوں کو بھگونے لگا۔ اُس نے گھبرا کر دوسری طرف کروٹ لینی چاہی تو اسٹینڈ پر لگی ہوئی گلوکوز کی بوتل نکل کر فرش پر گر کرٹوٹ گئی۔ اس زبردست جھٹکے باعث سوئی بھی اُس کی کلائی سے نکل کر گوشت پھاڑتی ہوئی، دونوں مریضوں کے سروں پر ڈولنے لگی۔ کچھ دیر کے لیے ایسا لگا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ اب داڑھی والے کی کلائی سے بھی خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ بسترکی سفید چادرمیں اُن دونوں کے خون گھل مل کررہ گئے۔

مجھے چکر آرہا ہے، سارا جسم سُن ہوگیا ہے۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی دھیرے سے کہتی ہے۔ بس یہاں سے نکل رہے ہیں۔ مجھے سی۔ ایم۔او۔ سے ملنا ہے۔ ڈاکٹرنے بھی بہت آہستہ سے جواب دیا۔ پھر بلند لہجے میں نرس سے کہا۔ اسپتال میں خون تو وافر مقدار میں موجود ہے۔ جی نہیں سر، اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کے بلڈ بینک سے منگواؤ۔ ڈاکٹرنے برہمی کے ساتھ کہا۔ جی سر، وہاں بھی اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔

اسپتال کی راہداری سے نکل کر، وہ نیچے اُترنے والی سیڑھیاں طے کرتے ہیں۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر لڑکی کا پیر پھسلتا ہے۔ ڈاکٹر اُسے سہارا دیتے ہوئے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ یہ چیف میڈیکل آفیسر کے بنگلے تک جانے والا ایک شارٹ ہے۔ درختوں سے گھرا ہوا یک سنسان راستہ۔ پیڑوں پر بیٹھے ہوئے کچھ کوّے، اُن کے سروں پر کائیں کائیں کررہے ہیں۔ ادھر کوئی آتا جاتا نظر نہیں آتا۔ بائیں طرف مڑکر اسٹاف کے چند چھوٹے چھوٹے کوارٹر ہیں جن کی طرف عورت دودھ کی بالٹی لیے ہوئے جا رہی ہے۔ ایک بھوری بلی نے اُن کا راست کاٹا ہے۔ سامنے گھنے درختوں کا ایک جھنڈ ہے جس کے عقب میں تھوڑے فاصلےپر اسپتال کا وہ پچھلا چھوٹا سا گیٹ ہے جو مقررہ وقت میں صرف اسٹاف کے لیے ہی کھولا جاتا ہے۔ درختوں کے جھنڈ کے نیچے پہنچ کر، اچانک ڈاکٹر، لڑکی کو پوری طاقت کے ساتھ اپنی بانہوں میں جکڑ لیتا ہے۔ وہ لڑکی کے ہونٹوں کا بوسہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکی اپنا سر پیچھے کی طرف کرتی ہے۔ ڈاکٹر کی لمبی ناک کا بانسہ لڑکی کے چشمے سے ٹکراتا ہے۔ چشمہ آنکھوں سے پھسل کر زمین پر گرجاتا ہے۔ وہ چشمہ اُٹھانے کے لیے نیچے جھکتی ہے تو اُس کے گہرے کٹاؤ والے جمپر میں سے چھوٹے چھوٹے پستان اپنی آدھی جھلک دکھانے لگتےہیں۔ ڈاکٹراُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر، اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہئوے اپنے ہونٹ اُس کے سینے کے قریب لے آتا ہے۔ پیڑوں پر بیٹھے کوے زور زور سے بولتے ہیں۔

نہیں، آج نہیں۔ مجھے اُلٹی آرہی ہے۔ بہت زور کی اُلٹی۔ لڑکی گھبرائی اور کانپتی ہوئی آواز میں دوبارہ کہتی ہے۔ میرا جی مِتلا رہا ہے۔ وہ وہیں زمین پر اُکڑوں بیٹھ جاتی ہے اور سرجھکا کر قے کرنے کوشش میں اُبکائیاں لیتی ہوئی کھانسنے لگتی ہے۔ ڈاکٹر اُس کی پیٹھ سہلانے لگتا ہے اوراُس کے بریزیئر کےسخت ہُک کو بھی۔ میں نے سخت منع کیا تھا وارد میں جانے کو۔ عام آدمی یہ سب برداشت نہیں کرسکتا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ ابھی ٹھیک ہو جاؤ گی۔ نہیں زبردستی اُبکائیاں مت لو۔ حلق چھل جائے گا۔ ڈاکٹر کہتا ہے اوراپنی پتلون کی جیب میں سے وٹامن سی کی گولیاں نکالتا ہے۔ لویہ دو گولیاں منھ میں رکھ لو اور گہری سانسیں لو۔

کچھ دیر بعد لڑکی اُٹھ کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ پسینے سے اُس کا چہرہ بھیگا ہوا ہے اور لپ اسٹک بگڑ گئی ہے۔ جسے وہ ٹھیک کرتی ہوئی کہتی ہے۔ میں جاؤں؟ اچھا ٹھیک ہے، میں اپنی کارسے تمہیں چھوڑ دیتا مگرآج سی۔ ایم۔او۔ کے یہاں ضروری میٹنگ ہے۔ ابھی تمام ڈاکٹروں کو اس میں شرکت کرنا ہے۔ ڈاکٹرکہتا ہے۔ نہیں شکریہ، میں چلی جاؤں گی۔ کل کافی پینے کہیں باہر چلتے ہیں۔ دو بجے کے بعد میری ڈیوٹی ختم ہوجائے گی۔ ڈاکٹر مسکرا کر کہتاہے۔ میں فون پر بتادوں گی، رات میں اوکے۔ اور ہاں وہ سوزن سوتانگ کی کتاب لینے گھرکب آؤ گی؟ جلد ہی آؤں گی۔ کتاب کا نام یاد ہے نا؟ ڈاکٹر پوچھتا ہے۔ Illness as Metaphor لڑکی جواب دیتی ہے۔

لڑکی اسپتال کےپچھلے دروازے سے باہر چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹر چیف میڈیکل آفیسر کے بنگلے کی جانب قدم بڑھانے لگتا ہے۔ اُس کا سفید کوٹ، اچانک نہ جانے کہاں سے بھٹک آئے ہوئے ہوا کے ایک جھونکے سے لہرانے لگتا ہے۔ صرف ایک پَل کے لیے۔ شاید وہ جھونکا ایک دھوکہ تھا۔ پیلے غبار نے سورج کو پوری طرح ڈھک لیا ہے۔ دھند کچھ اور گاڑھی ہوئی ہے۔ غبار میں کچھ نئی پرتیں شامل ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ کے علاوہ ہر طرف خاموشی ہے۔ دوسرے قسم کے مریض یہاں آنے سے ڈر رہے ہیں۔ جب بھری دوپہر میں یہ سناٹا ہے تو شام ڈھل جانے کے بعد یہاں کیسا لگے گا۔ رات میں جب اسپتال کی رابداریوں میں کتےگھومیں گے اور آوارہ بلیاں روئیں گی۔ وہ اُس موت کو دیکھ کر روئیں گی جو وہاں آرام سے چہل قدمی کررہی ہے۔ انسان مگرموت سے ڈرتے تو ہیں مگراُس کے قدموں کی حقیقی چاپ نہیں سن سکتے۔

[dropcap size=big]معاملہ[/dropcap]

اب واقعی لائف اپارٹمنٹس تک ہی محدود نہ رہا تھا۔ جلد ہی دوسری کالونیوں سے بھی گھروں میں گندا پانی آنے اور وہاں کے باشندوں کے بیمار پڑجانے کی خبریں آنے لگیں۔ خبریں صرف مقامی اخبارات کی سرخیاں ہی نہیں تھیں بلکہ قومی سطح کے اخبارات بھی یہاں کی خبریں شائع کرنے لگے۔ صوبائی وزارتِ صحت نے شہر کے اعلیٰ حکام کو طرح طرح کی ہدایات دینی شروع کردیں۔ لوگ ان کالونیوں سے نکل نکل کر جانے لگے۔ عالم یہ ہوگیا کہ ستّر سے اسّی فلیٹوں پر مشتمل ہر سوسائٹی میں محض دس یا پندرہ فلیٹ ہی ایسے بچے ہوں گے جن میں ابھی بھی لوگ رہ رہے تھے اوراُنھیں یہ توقع تھی کہ جلد ہی یہ بَلا ٹل جائے گی۔ اِدھر آکر گرمی بھی بڑھ گئی تھی۔ ہوا بند تھی، اِس لیے حبس بہت ہو گیا تھا۔ کچھ لوگ اس لیے بھی یہاں سے نہیں ہٹنا چاہتےتھے کہ اُن کے گھروں میں تمام سہولتیں میسر تھیں۔ سب سے بڑھ کر نعمت تو ایئر کنڈیشنڈ تھے تو آخر اُنھیں دیواروں سے اُکھڑوا کر کہاں لے جایا جاسکتا تھا اور کس گھر میں۔

ایک تبدیلی یہ بھی واقع ہوئی تھی کہ اچانک اس علاقے میں ایمبولینسوں کی آوازیں زیادہ آنے لگیں تھیں۔ آٹورکشہ یا ٹیکسی وغیرہ مشکل سے ہی نظرآتی تھیں۔ آدھی رات میں جب ایمبولینس سائرن دیتی ہوئی گزرتی تو کتے اُس کی لال عقبی روشنی پر بھونکنے لگتے۔ اِس تماشے کو چلتے ہوئے ڈیڑھ ہفتہ ہو چکا تھا۔ دوسرے ہفتہ کے آخری دنوں میں اس تمام علاقے میں پینے کے پانی کی سپلائی بند کردی گئی۔ یہ قدم سینٹر فارڈیزیز کنٹرول کے مشورے پر اُٹھایا گیا تھا۔ ویسے تواس مسئلے کے حوالے سے شہر میں تقریباً روزانہ ہی اعلیٰ حکام کی میٹنگیں ہو رہی تھیں جن میں ڈاکٹروں کے علاوہ سول انجینئر بھی شامل رہتے تھے۔ مگراس ہفتے یہاں کی مٹی اور زیرِ سطح آب کی جانچ پرکھ کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل ریسرچ والوں کی ایک ٹیم بھی دارالحکومت سے آ پہنچی۔ اس ٹیم کے ساتھ جیولوجیکل سروے کے دو سائنسداں بھی موجود تھے۔ یہ کوئی عام بات نہیں تھی۔ میڈیا نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا تھا۔ یہ جل بورڈ کے انجینئروں، میونسپل کارپوریشن کے افسروں اور سیاست دانوں کی موشگافیوں سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اس ٹیم نے متاثر علاقے اوراُس کے آس پاس کی زمین کھودنی شروع کردی۔ کھودی گئی مٹی کے ڈھیر اونچے ہوتے جاتے تھے۔ مٹی کے اِن اونچے ڈھیروں پر چیل اور کوؤں نے آکر بیٹھنا شروع کردیا۔ یہ ٹیم دس افراد پر مشتمل تھی اوراپنے ساتھ زمین کھودنے والی جدید ترین مشینیں اور کئی طاقت ور جنریٹر بھی ساتھ لائی تھی۔ یہ قدرے حیرت کی ہی بات تھی کہ ایک چھوٹے سے نظرانداز کر دیے جانے والے شہر کے ایک مخصوص علاقے میں پانی سے پھیلنے والی ایک بیماری کو روکنے یا اُس کی وجہ کی کھوج بین کرنے کے لیے یہ اقدام نہ صرف صوبائی سطح پر بلکہ مرکزی حکومت کے احکام کے تحت اُٹھائے جارہے تھے۔ مقامی سیاست دان اس کا سہرا اپنے سرلے رہے تھے کیونکہ اس علاقے میں ایک بائی الیکشن بھی ہوتا تھا جس کا دن قریب آرہا تھا۔

مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں اور مریضوں کے خون کی جانچیں پابندی کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کو بھیجی جارہی تھیں مگرابھی تک تو کوئی نتیجہ سامنے آیا نہیں تھا اوراگرآیا تھا تو ظاہر ہے کہ اُسے خفیہ رکھا جارہا تھا۔ جو بھی ہورہا تھا اورجو بھی سننے میں آرہا تھاو ہ طرح طرح کے اندیشوں اور وہموں کا ایک طویل سلسلہ بن کررہ گیا تھا۔ اخبارات میں پورے پورے صفحوں پر ایسے اشتہار شائع کیے جارہے تھے جو عام دنوں میں نظرنہیں آتے۔ مثلاً ان حقائق کی تشہیر کی جارہی تھی کہ حفظانِ صحت کا خیال رکھتے ہوئے سائنس نے بہت سی خطرناک بیماریوں کو جڑ سے ختم کردیا ہے۔ مختلف قسم کی دوائیاں، سرجری کے نئے آلات، مشینیں، سی۔ٹی۔ اسکین، ایم۔ آر۔آئی اور بھی بہت سی ایسی ریڈیائی مشینیں جن کے ذریعے کینسرجیسے موذی مرض تک پر قابو پالیا گیا ہے۔ زراعت کے میدان میں بھی کیمیاوی کھادیں، دوائیں اور مخلوط یا دونسلی بیجوں کے ذریعے نہ صرف فصل کی پیداوار بڑھی ہے بلکہ بنجر اور ریتیلی زمین بھی کاشت کے قابل ہو گئی ہے۔ اناج، پھل اور سبزیوں میں پہلے سے کئی گنا زیادہ پیداوار ہونے لگی ہےمگرایک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ ماحول میں آلودگی بڑھتی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے تحت آلودگی کے بارے میں لگاتار اعدادوشمار فراہم کیے جارہے ہیں اورایشیائی ممالک اس خطرے سے کچھ زیادہ ہی دوچار ہیں۔ ہوا تو آلودہ ہوتی ہی ہے مگرسب زیادہ خطرہ پانی کے آلودہ ہوجانے کی وجہ سے درپیش ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح نہ صرف کم ہوتی جارہی ہے بلکہ زہریلی بھی۔ یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کبھی آگے چل کر پانی کے ذخیرے ختم ہو جائیں۔ ملک کے کئی صوبوں میں پانی کی تقسیم پر آپس میں تنازعہ چل رہا ہے اور ممکن ہے کہ اگرتیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ صرف پانی کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی نیت سے ہوگی۔ ان اشتہارات میں آج کل روز رہے درختوں کو کاٹنے سے منع کیا جاتا ہے اور یہ آگاہ کیا جاتا ہے کہ ہرے جنگلوں اوردرختوں کو کاٹنا اور وہاں کارخانے اور فیکٹریاں قائم کرنا ایک جرم ہے۔ ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے حکومت نے بہت سے اقدام اُٹھائے ہیں، جن کی اطلاع عام آدمی تک پہنچانا بہت ضرور ہے۔ یہ اقدام اب قوانین کے درجہ تک پہنچ گئے ہیں اوران کا نفاذ نہ صرف ریاستی حکومتوں بلکہ مرکزی حکومت کے ذریعے بھی کیا جا رہا ہے۔ ان میں فیکٹری ایکٹ، ماحولیاتی ایکٹ اور قانون برائے آبی آلودگی شامل ہیں۔ آلودگی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدہ طورپر ایک بورڈ کی تشکیل بھی کی گئی ہے جس کی سفارشات پر حکومت کے ذریعے عمل کیا جانا لازمی ہے۔ اس طرح کے اشتہارات نہ صرف اخباروں میں بلکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بھی نشر کیے جارہے ہیں۔ دیواروں پر پوسٹر بھی لگائے جارہے ہیں۔ یہ اچھی علامتیں نہیں ہیں۔ یہ کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہیں۔ حد ہو گئی کہ اچھی صحت کو برقرار رکھنےکے پرانے اور فرسودہ اُصول بھی دہرائے جانے لگے ہیں۔ ورزش کرنا، صبح کا ٹہلنا، متوازن غذا، وقت کی پابندی وغیرہ کے فوائد اور شراب نوشی یا سگریٹ نوشی کے مُضر اثرات گنوائےجارہے ہیں۔ تازہ پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیا جارہا ہے اور گوشت خوری سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں ہدایتیں دی جارہی ہیں۔ حفظانِ صحت کے تمام اصول رٹائے جارہے ہیں جبکہ محکمہ حفظانِ صحت کا سربراہ اِن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور عوام اس قسم کے اشتہارات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی مگرسب سے بڑا اندیشہ تواُس وقت دل میں گھر کرجاتا ہے جب اخبارات کے ان اشتہاروں میں یہ سطر بھی دیکھنے کو ملجاتی ہے کہ “یادرکھئے! پاک و صاف پانی کا نہ تو کوئی رنگ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مزہ اورخوشبو۔” کاش یہ بھی بتا دیا جاتا کہ ہائیڈروجن گیس کے دو سالمے، آکسیجن گیس کے ایک سالمے سے ملنے کے بعدجو شے بناتے ہیں وہ پانی کہلاتی ہے۔ پڑوسی ملک کے سائنس دانوں نے پانی کی اس تعریف میں ایک جملے کا اخلاقی اورمذہبی اضافہ بھی کرلیا ہے۔ اُن کے مطابق ان دونوں گیسوں کے سالمے جب تک آپس میں مل ہی نہیں سکتے جب تک انھیں ملانے میں خدائی مرضی شامل نہ ہو۔ شاید اس لیے چاند پر پانی شروع میں دریافت نہیں کیا جا سکا اگرچہ وہاں آکسیجن بھی تھی اور ہائیڈروجن بھی مگر یہ دونوں گیسیں چاند پر الگ الگ آزاد حالتوں میں تھیں۔ خدا کی مرضی نہیں تھی کہ دونوں ملیں جس طرح اگرخدا کی مرضی نہ ہوتو مجال ہے کہ دو محبت کرنے والے دل بھی مل سکیں۔(اگراب چاند پر پانی دریافت کرلیا گیا ہے یہ بھی خدا کی مرضی ہے)

پتہ نہیں اس قسم کے اشتہارات بچکانہ ہیں یا کسی حملہ آورفوج کے آگے آگے دوڑتےہوئے ڈھول بجا بجا کر آنے والی موت سے خبردار کرنے والے بھانڈوں اور مسخرے۔ یہ اس سے زیادہ اورکیا خبردے سکتے ہیں یا اس کے علاوہ اورکیا بتا سکتے ہیں کہ صاف پانی کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے نہ مزہ اور نہ خوشبو، اگرخدا چاہے تو۔

Water is a lot like people
Not every person is drinkable
Some people carry demons
You cannot rip them off
People can cause damage like other
Some say, that lonliness is killer.
Water is a lot like love
Love causes destruction
Love is different temperatures
Love is antidote to pain and the virus itself
So when you reach the end of your Journey
Remember water and all of its different forms
Remember the abuse
Remember the revival
Because it is all there
We simply do not look close enough.
Authentic

تم نے دریائی گھوڑے کی آنکھیں دیکھی ہیں
شاید نہیں
زمین سے عجیب کوئی سیارہ نہیں
پانی زمین کا بچہ ہے
ہم سب مٹی کی کھاٹ پر لیٹے سو رہے ہیں
کھاٹ کے نیچے
فنا کا پانی ہے
ندی جب چاہے اپنی راہ بدل لتی ہے
مگرزمین اورآسمان کو
تقسیم کردینا
یہ بد سلیقگی ہے
دریائی گھوڑے نے کہا
میں تو تمھارے گھر مچھلیاں کھانے نہیں آسکتا
مگرپانی آسکتا ہے جس میں میرا گھر ہے
دریائی گھوڑے کی اُداس آنکھوں میں
جلےہوئے وصیت ناموں کی راکھ تھی
زمین کے اندر پانی نے کہا
میں بھی اُدھر چل رہا ہوں
مجھے ماں کی دی ہوئی بد دُعائیں یاد ہیں
خالد جاوید

[dropcap size=big]اتنی[/dropcap]

بات تو ہرکوئی جانتا ہے کہ زندگی کی شروعات پانی سےہوئی ہے۔ چار سو سال قبل مسیح یونان کے مشہوو فلسفی تھیلس نے تو پانی کو ہی حقیقت مطلق قراردےدیا تھا۔ مگرزندگی کے ساتھ ساتھ پانی موت اورفنا کی بھی علامت ہے۔زمین پر پانی کے مقابلے خشکی کا حصہ صرف ایک تہائی ہی ہے۔ انسانی جسم کاسترفیصد حصہ پانی ہی ہے۔ قدیم یونان میں پانی کو ایک عظیم دیوتا کا درجہ دیا گیا تھا اوربعد میں جل پری، بنت البحر، آبی حسینہ اور شریر آبی بونے کی ایجاد بھی کرلی گئی تھی۔ وہ مقدس مقامات جہاں دیوتا پیش گوئیاں کرتے تھے، دریاؤں کے کنارے ہی واقع تھے۔ ان کی قدیم عبادت گاہیں اور پرانے بڑے گرجا گھر بھی پانی کے ہی قریب تعمیر کیے گئے تھے آج بھی بپتسمہ کی رسم پاک و صاف پانی کے ذریعے ہی ادا کی جاتی ہے۔ پانی اگرچہ رقیق مادہ ہے مگردرجہ حرارت کی مناسبت سے ٹھوس مادے میں بھی بدل سکتا ہے اور گیس یا ہوا بن کر اڑ بھی سکتا ہے۔ پانی کی مبادیات اتنی آسان نہیں۔ مگردورِ حاضر میں (1988) فرانس کے ایک سائنس دان ژاک بین وِن نے ہومیو پیتھی کےعلاج کے تعلق سے پانی کے بارے میں ایک عجیب و غریب نظریہ پیش کیا۔ ژاک بین وِن کا کہنا تھا کہ پانی کی اپنی ایک باقاعدہ یادداشت بھی ہوتی ہے۔ اِس تھیوری کے مطابق پانی میں جو مادہ بھی گھولا جاتا ہے پانی اُسےبھولتا نہیں، یاد رکھتا ہے۔ اگرکسی مادے کو پانی میں بار بار تحلیل کیا جاتا رہے، یہاں تک کہ جب اُس مادے کا کوئی بھی سالمہ پا نی میں باقی نہ رہے اورپھر اس پانی کو جب کسی دوسرے صاف پانی میں ملایاجائے تو وہی مادہ اپنے کچھ سالموں کی شکل میں اُس صاف پانی میں دوبارہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہو میو پیتھک دوائیاں اسی عقیدے کی بنا پر بنائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کی ایک بڑی جماعت نے بین وِن کے نظریہ کو قبول نہیں کیا ہے مگراس موضوع پر مزید تحقیق جاری ہے۔

دنیا کے ہرمذہب میں پانی کو ایک پاک صاف اور روحانی شے مانا گیا ہے۔ پانی سے بہت سی بیماریوں کاعلاج کیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ ہائیڈروتھیریپی سینٹر کھل گئے ہیں۔ ہندوستان میں بہت سی ندیوں کو پوترمانا گیا ہے جن میں دریائے گنگا کو اولیت حاصل ہے کہ اُس میں نہا لینے سے انسانوں کے پاپ اوراُن کے سارے برے افعال مٹ جایا کرتے ہیں۔ گنگا میں نہانے کے بعد وہ اتنے ہی مقدس ہوجاتے ہیں جتنے کہ وہ تب تھے جب اپنی ماں پیٹ سے اُن کا جنم ہوا تھا۔ ہر گندی شے پانی سے ہی پاک ہوتی ہے۔ پانی ہی ہے جووقت کی طرح بہتا ہے اور پانی ہی ہے جو سر سے اونچا ہوجائے تو موت کو وہاں اپنے پیر جمانے میں بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پانی پر دُعائیں پڑھ پڑھ کر دَم کی جاتی ہیں اور کبھی کبھی بددُعائیں بھی۔ پانی سب یادرکھتا ہے۔ ساری دُعاؤں اور بددعاؤں کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ وہ بولےگئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا۔ اُس کا حافظہ دائمی ہے۔ اُس میں نقش اور تعویذ گھول کر بیماروں کوپلائےجاتے ہیں اورکبھی کبھی محبوب کو اپنے بس میں کرنے کے لیے یا اُس کا دل کسی کی طرف سے پھیر دینے کے لیے۔ لفظ پانی میں تحلیل ہوجانے کے بعد امر ہوتے ہیں۔ ورنہ لغات کے اوراق میں پڑے مُردوں کا عرس مناتا ہے۔ لفظ انسانوں کے ہاتھ آتے ہی بھوت بن جاتے ہیں۔ بھوت زیادہ تر کینہ پرور ہوتے ہیں۔ لفظوں نے دنیا کو تباہ کرڈالا اور پانی، الفاظ اوراُن کی صوتیات کی ملی جُلی سازش کا سب سے بڑا شکار بنا۔ شاید اسی لیے شِو دیوتا کو سمندر کے سارے پانی کا منتھن کرکے اس سے امرت نکالنا پڑا تھا اور وہ رقص ‘تانڈو’ کرنا پڑا تھا جس میں لفظ نہیں ہوتے۔ اس لیے اس رقص کے کوئی معنی بھی نہیں ہوتے۔ یہ اس دنیا کے فنا ہونے کی ایک شکل ہے۔ پانی کوئی مستقل مقام یا مکان نہیں گھیرتا وہ بہتا ہے ہرمقام سے وہ وقت، کال، زمانہ اورموت کو اپنے سیّال کندھوں پر لیے ہوئے گھومتا رہتا ہے وہ پُراسرار حدتک پاکیزہ اورخطرناک حد تک تباہ کن ہے۔

مگرپانی ہی گندا ہوگیا۔ پانی کیسے گندا ہوگیا۔ پانی کو گندا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ گندا پانی گھروں میں چلا آرہا ہے۔ یہ ذلیل کررہا ہے۔ یہ گھٹیا غلیظ پانی جس میں انسانوں کے جسموں کے مَیل کے ساتھ اُترا ہوا صابن، جھاگ، پیشاب کی کھرانداورانسانی فضلے کی دبیز زرد پرت کے ساتھ ایک بھیانک بدبو ہے۔یہ وہ پانی نہیں جسے دیکھ کر کتے کا کاٹا ڈرجایا کرتا ہے۔ یہ وہ پانی ہے جسے دیکھ کر انسان پاگل کتا بن جاتا ہے اورخود بھی سڑتے ہوئے بدبودار پانی میں بدل جاتا ہے۔ جو ٹونٹی کھولو تو یہی سڑاندھ بھرا پانی باہر نکلتا ہے۔ وہ جس شے کو چھو لیتا ہے اُسے بھولتا نہیں۔ وہ اپنے اوپر دم کیے ہوئے کینہ پرور جذبوں کو بھی نہیں بھولتا اوراُن گناہوں کو بھی جنہیں اُس نے دھو کر پاک کیا تھا۔

اب وہی گناہ، پانی انسانوں کو واپس کررہا ہے۔ انسان ہونے کی مجبوریاں ہی انسان کے اصلی اور ازلی گناہ ہیں اوروہی اس کینہ پرورپانی نے اپنے اندر جذب کررکھے ہیں۔ آج وہ انسانوں کو ان کے گناہ لوٹا رہا ہے کچھ اس روپ میں کہ اب ان گناہوں کو پانی سے دھویا بھی نہیں جاسکتا۔

پانی کی سپلائی ناجانے کب سے بند ہے مگروہ غرا رہا ہے۔ زمین کے نیچے سیور لائن کے ٹوٹے، کالے اور مہیب پائپوں میں، ٹنکیوں میں، ٹونٹیوں میں۔ آسیب زدہ پانی زمین کے نیچے لہراتا ہے اورزمین کے اوپر زہریلی دُھند اور پیلا غبار پیداکرتا ہے۔

دورکسی اسپتال کےویران گلیاروں میں عورتوں کے بَین کرنے کی آوازیں اُبھرتی ہیں۔ اس بَین میں آوارہ بلّیوں کے رونے کی دردناک آوازیں بھی شامل ہیں۔ یہ بلّیاں کرائے پر نہیں بلکہ بَین کرنے والی عورتوں کے لیےمفت میں حاصل ہوجانے والی رودالیاں ہیں۔

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے آس پاس کی دوسری کالونیوں میں پانی کی سپلائی مکمل طورپر روک دی گی۔ جل بورڈ والوں نے پانی کے ٹینکروہاں لے جا کر کھڑےکر دیے مگراتنے بڑے رقبے میں پانی کے محض دو ٹینکر ناکافی تھے۔ وہ اپنے اپنے برتن اور بالٹیاں لیے ہوئے ٹینکر کے سامنے قطار بنا کر کھڑےہو گئے مگر یہ قطارانسانوں کی تھی چیونٹیوں کی نہیں کہ زیادہ دیر برقرار رہتی۔ اس لیے ایک گھنٹے کے اندر ہی وہاں حشرکا ساماں برپا ہوگیا۔ وہ قطاریں توڑ کر ٹینکر کی ٹونٹیوں پر جھپٹنے لگے۔ وہ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ گالیاں بک رہے تھے۔ عورتیں تو بری طرح شورمچا رہی تھیں۔ کسی نے کسی کے سر پر بالٹی دے ماری۔ کوئی زمین پر گرپڑا تھا اوراُس کی بالٹی ٹوٹ گئی تھی۔ آہستہ آہستہ زیادہ تر کی بالٹیان اُلٹ گئیں۔ صرف نچلی منزل پر رہنے والے اپنی بالٹیوں کو حفاظت کے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ زمین پر کیچڑ اور پھسلن ہو گئی تھی۔ اس افراتفری میں وہ پھسل پھسل کر گرنے لگے۔ چوٹیں کھانے لگے۔ اُن کے گھٹنوں اور کہنیوں سے خون نکلنے لگا۔

سب سے بڑی مصبیت اُن بوڑھوں کی تھی جو اکیلےرہتے تھے۔ اُنھیں پانی کی ایک بوند بھی نہ مل سکی۔ کالونیوں میں رہنے والےکچھ زیادہ ہی صاحبِ حیثیت لوگوں نے آرڈر دے کر منرل واٹر کے جار اور بولتیں منگوانا شروع کردیں۔ دودن بعد یہ ہوا کہ کئی منرل واٹر کمپنیوں نے اِدھر آکر وقتی طورپر کیمپ لگائے اوراپنی اپنی ایجنسیاں کھول لیں۔ آپس میں مقابلہ آرائی شروع ہو گئی۔ کولڈ ڈرنگ بنانے والی کمپنیاں بھی اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہتیں۔ آخر کولڈڈرنک میں پانی تو ہوتا ہی ہے۔ اس وقت تو اگروہاں خون بھی فروخت کیا جاتا تو وہ بھی کم پڑجاتا۔ خون میں بھی آخر پانی تو ہے ہی۔ کولڈ ڈرنک کے مختلف برانڈوں کے اشتہارات دیواروں پر چسپاں نظرآنے لگے۔ جس میں فلم اسٹاروں اور کھلاڑیوں کی، ایسی تصویریں نظرآنے لگیں جن میں وہ ایک خاص برانڈ کی بوتل منھ میں لگائے ہوئے نروان حاصل کررہے تھے۔

آندھی کو پتہ نہیں کس نے اپنی جھاڑو سے کاٹ دیا تھا کہ وہ اپنے پیلے غبار کے ساتھ یہیں رُکی کھڑی تھی۔ اس شدید حبس اور گرمی سے اور پیاس سے تڑپتے ہوئے، کالونی کے باشندوں کو کولڈڈرنک کی کتنی ضرورت ہوگی اوراُن کے بچے کتنے خوش ہوئے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

کمپنیاں تین ہی دن میں مالا مال ہو گئیں۔ اُنھیں سپلائی دینا مشکل ہوگیا۔ دوسرے شہروں سے پانی کی بوتلیں اور کولڈڈرنک لادے ہوئے چھوٹے ٹرک ہر وقت آتے جاتے دکھائی دینے لگے۔ مگران ٹرکوں کے ساتھ ساتھ ان اطراف میں ایمبولینسوں کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی۔ تقریباً ہر فلیٹ سے کوئی نہ کوئی، روز ہی اسٹریچر پہ لیٹا ہوا ورایمبولینس میں ڈال کر لے جایا جاتا ہوا نظرآنے لگا۔

مگردنیا اتنی بلیک اوروہائٹ نہیں ہے کہ سکھ اور دُکھ کے راستے آسانی سے الگ الگ پہچانے جاسکیں۔ جہاں یہ دونوں دھارائیں ملتی ہیں وہاں ایک نیلا بونڈ رہے جس کے پار دیکھا نہیں جا سکتا۔ دنیا اتفاق سے رنگین ہے۔ رنگ ہمیشہ مخمصے میں ڈالتے ہیں۔ اس لیے دنیا معمہ ہے۔

چنگی کے الیکشن قریب آرہے تھے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی تگ و دوشروع کردی۔ ہر پارٹی کا اُمیدوار اس بیمار علاقے کے مسیحا کے روپ میں سامنے آنے کی کوشش کرنے لگا۔ ہرپارٹی کے کارکن حکام کے دفتروں کے سامنے دھرنا دے کر بیتھ گئے اورپانی پانی کے نعرے لگانے لگے۔ ٹیلی وژن والوں کی بھی چاندی ہو گئی تھی۔اُنھیں کچھ اور نہیں ملا تو وہ ماضی میں پھیلنے والی وباؤں کی تاریخ دہرانے لگے۔ مثلاً کالی موت اور پلیگ کس کس زمانے میں پھیلے تھے اور کتنی اموات ہوئی تھیں۔ اسپینی انفلوئینزا نے کب اور کتنے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ چیچک نے کیا قیامت ڈھائی تھی اورسب سے بڑھ کر کالرانے اورپھر پرندوں اور سُوروں میں پھیلنے والے فلو وغیرہ وغیرہ۔ وہ یہ بھی اطلاع فراہم کرنے لگے کہ تحریک خلافت کے دوران مہاتما گاندھی اسپینی فلو ہوگیا تھا جس کے سبب یہ تحریکِ وقت سے پہلے ہی کچھ کمزور پڑگئی تھی اوریہ بالکل اُسی طرح تھا جیسے کسی مشہور فلمی ہیرو کی موت کے موقع پر ٹیلی وژن پر نہ صرف اُس کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں بلکہ اُن ہیروئنوں کے چہرے بھی دکھائے جاتے ہیں جن کے ساتھ اُس ہیرو نے کام کیا تھا۔

کچھ دنوں بعد اس علاقے میں دودھ والوں نے آنا بند کردیا۔ شاید اِس وجہ سے کہ کچھ لوگوں نے اُن پر دودھ میں گندا پانی ملانے کا الزام لگایا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ ایک افواہ ہو مگرافواہوں کی اپنی ایک سماجیات بھی ہوتی ہے۔ افواہیں گرم تھیں۔ اُن کے پر نکل آئے تھے اور وہ اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جایا کرتی تھیں۔ مثلاً کولڈ ڈرنک اورپانی کی بوتلوں میں بھی گندے پانی کا استعمال کیا جا رہا تھا اور میونسپل کارپوریشن کے ٹینکروں میں بھی۔ یہ بھی اُڑتے اُڑتے سنا گیا کہ یہ وائرس اب شہر کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ ایک ٹی۔وی۔ چینل، جو ہمیشہ بھوت پریتوں کے قصے سناتا اوربے پَرکی اُڑاتا رہتا ہے، نے تو حد کردی۔ اُس نے ایک رپورٹ نشر کی جس کے مطابق ان کالونیوں کے باشندے کولڈ ڈرنک کی بوتلوں کا استعمال حوائج ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد خود کو صاف کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ اس رپورٹ کے نشر ہوتے ہی بازار میں ٹوائلٹ پیپر ملنا دشوار ہو گیا۔ ٹوائلٹ پیپر بنانے والی کمپنیوں کے سیلز مین ہرکالونی کے باہر خوانچے والوں کی طرح صدائیں لگا لگا کر ٹوائلٹ پیپر بیچنے لگے۔ ایک ایسے بھیانک وائرس کے وجود میں آنے کی افواہ گشت کرنے لگی جو پانی سے پیدا ہوتا تھا۔ زمین اور مٹی میں گھومتا تھا اورہوا میں اُڑتا تھا۔ اُس کا وزن زیادہ تھا اس لیے ہوا میں آکر دھوپ کی گرمی سے متاثرہوکر بے ہوش ہو جاتا تھا۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے کو جو کوئی بھی چھو لیتا تھا وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتا تھا۔ اس وائرس کا علاج کچھ نہ تھا، سوائے ایک ذلیل موت کے۔

مگرہمیں افواہوں کو اتنی غیرسنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ افواہیں اپنے حصے کا سچ گہرے راز کی طرح محفوظ رکھتی ہیں۔ جس طرح اونٹ اپنے کوبڑ میں پانی کو محفوظ رکھتا ہے۔ افواہیں دراصل اُس رنگ برنگی تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں جنہیں پکڑ لینے کے بعد اُن کے پروں کا رنگ ہماری اُنگلیوں میں چپک جاتا ہے۔ ایک ناقابلِ یقین رنگ۔

[dropcap size=big]نیشنل[/dropcap]

انسٹی ٹیوٹ آف ویرالوجی کے سائنس دان اس وائرس کے کوڈ کو کریک نہیں کرسکے۔ بس اتنا ہی معلوم ہوشکا کہ کبھی یہ وائرس کی طرح حرکت کرتا نظرآتا ہے اور کبھی بیکٹیریا کی طرح۔ وائرس بیکٹیریا سے بھی بہت چھوٹے خوردبینی اجسام ہوتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا انسان کے دوست اوراُن کے لیے مفید بھی ہوتے ہیں مگروائرس کبھی کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ وہ انسان کو پیڑپودوں اورگھاس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے آپ کو پروٹین کی ایک دبیز چادر میں چھپائے رکھتا ہے۔ وائرس طفیلی اجسام ہیں۔ اُن کو اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے دوسرے زندہ خلیوں کی ضرورت رہتی ہے۔ ان کی درجہ بندی نہ تو نباتات میں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حیوانات میں۔ ان دونوں کے درمیان واقع ہونے پر یہ کبھی کسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور کبھی کسی طرح کا۔ وائرس ہیجڑوں کی طرح پُراسرار اور ناقابلِ یقین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر اینٹی بائیوٹک دواؤں کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ اُن میں اُس قسم کی جان ہے ہی نہیں جو کبھی جسم میں ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ کونسل فارمیڈیکل ریسرچ ابھی اس وائرس کے لیے کوئی دوا تجویز نہیں کرسکتی۔ جہاں تک ویکسین کا سوال ہے تو اُس کے بارے میں بھی تحقیق کی جارہی ہے۔ ویکسین کا تعلق جسم کے مدافعتی نظام سے ہوتا ہے۔ نہ کہ دوا کے ذریعے کیے جانے والے علاج سے۔ اس تحقیقی کام میں کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے ساتھ فارسیلولر اینڈ مولیکولر بیالوجی، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور مرکزی حکومت کا ڈپارٹمنٹ آف بایو ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوائل ریسرچ کی ٹیم بھی اپنی تحقیق میں کچھ نہیں پاتی۔ اس کی رپورٹ صرف یہ تھی کہ اس علاقے کی مٹی چکنی اور جڑی ہے۔ جسے دومت مٹی بھی کہتے ہیں۔ یہ مٹی پوری طرح سے صاف اور قطعی غیر آلودہ ہے۔ یہاں کے کھیتوں سے اُگائے جانے والی گیہوں، چاول اوردالوں کی فصل ملک کے دوسرے خطوں کی فصل سے زیادہ صحت مند، تغذیہ بخش اور صاف ستھری ہے۔ یہاں کے باغات اور گنے اور کپاس کی پیداوار بھی قابلِ رشک ہے۔ فصلوں اورپیڑپودوں کو لگنے والی بیماریاں برائے نام ہیں۔ مہلک حشرات کش کی تعداد بھی مٹی میں تناسب یا اعتدال سے زیادہ نہیں ہے۔ کوئی بھی وائرس یا جراثیم ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ اُس کے اندر سالہا سال پرانے ڈی۔ این۔اے۔ اور آر۔ این۔ اے۔ کی پرتیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ اُس زمانے سے موجود ہیں جب آدمی غاروں میں رہا کرتا تھا۔ یہ جراثیم اور وائرس بھی غاروں میں موجود تھے، کبھی چمگادڑوں میں بطور طفیلی رہ کر اور کبھی سانپ بچھوؤں میں۔ اس علاقے کی مٹی میں کسی قسم کے خطرناک یا پُراسرار خوردبینی اجسام نہیں پائے گئے ہیں۔

جیولوجیکل سروے کرنے والی ٹیم نے زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود پانی کا معائنہ کیا اور پایا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح، اس پورے رقبے میں پوری طرح صاف اور بے ضرر ہے مگرآس پاس خشک چٹانیں موجود ہونے کی وجہ سے، جو قدیم ترین اراولی پہاڑوں کی نشانیاں ہیں پانی میں کیلشیم، میگنیشیم اور سوڈیم کی تعداد کچھ زیادہ ہے مگروہ خطرناک آلودگی کے زمرے میں نہیں آتی ہے۔ پانی میں کسی بھی قسم کی بیماری پھیلانے والے اجسام نہیں پائے گئے ہیں۔

اسی طرح مٹی پر ریسرچ کرنے والوں، پانی کا معائنہ اوراُس کا علاج کرنے والوں اور سِول انجینئروں، سب نے اس معاملے سے اپنا اپنا پلّہ جھاڑلیا۔ اب صرف اس بات کا انتظار ہے کہ وائرس ہو یا جو بھی اَلا بَلا ہو، مریضوں کے خون کی جانچ میں اُس کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کب تلک کیا جائے گا اورکس نتیجے تک کب تک پہنچا جائے گا۔ اس سلسلے میں ممکن ہے کہ ملک کے تحقیقاتی اداروں اور لیبارٹریز کو باہری ممالک سے مدد مانگنا پڑے۔ ہماری مشینیں اور دوسرے آلات اتنے جدید نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو سائنسی تحقیق کا معیار ہی یہاں تسلی بخش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے دماغ وطن چھوڑ کر ترقی یافتہ ملکوں کی راہ لیتے ہیں اورپھرانہیں کی خدمات کے لیے ہمیشہ کے لیے وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔

لیکن یہ سب بہت آئیڈیل بیان ہے اوراس کا کوئی تعلق بدنصیب انسانوں کے مصائب اورمسائل سے نہیں ہے۔ یہ سب رواداری کی باتیں ہیں اورسیاسی رنگ سے رنگی ہوئی بھی ہیں۔ اس رنگ کے علاوہ بھی دنیا میں بہت رنگ ہیں۔ ہر تماشے، ہر کھیل اورہر فلم کا اپنا ایک رنگ ہوتا ہے۔ ان رپورٹوں اور اخباری بیانات سے الگ، وہاں انسانوں کی اصل دنیا میں ایک دوسرا تماشہ چل رہا ہے۔

[dropcap size=big]قیامت[/dropcap]

تو گویا اُس دن آگئی جب اِس خبرکو سرکار کی طرف سے مستند قرار دے دیا گیا کہ نہ صرف لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے نواحی علاقوں میں بلکہ شہر کے دوسرے حصوں میں بھی اس وائرس سے متاثر مریض پائے گئے ہیں۔ سرکار نے اس سلسلے میں ایک وہائٹ پیپر بھی جاری کردیا جس میں اس سنگین مسئلے سے نپٹنے اور لڑنے کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدامات اوراُن کے جواز کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ حالات اب اس درجے تک بگڑ چکے تھے کہ اسپتالوں کے ڈاکٹر اور نرسیں بھی بیماری کی زد میں آچکے تھے۔ یہی نہیں خون اور پیشاب وغیرہ کی جانچ کرنے والی لیبارٹریز کا عملہ بھی بیمار پڑنے لگا لہٰذا اب اِس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں بچی تھی کہ یہ ایک بہت ہی خوفناک اور چھوت چھات سے پھیلنے والی بیماری تھی جو ایک انسان سے دوسرے انسان تک بجلی کی سی تیزی کے ساتھ پہنچ سکتی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچنے میں اسے صرف گیارہ سیکنڈ لگتے تھے۔ حالت یہ تھی کہ اس انتخابی حلقے کا ایم۔ایل۔اے۔ تک بخار، دستوں اور اُلٹیوں میں مبتلا تھا۔ ضلع کا حاکم آئی۔ اے۔ایس۔، میونسپل کارپوریشن کا چیف انجینئر، محکمہ ہیلتھ کا ڈائریکٹر، شہر کا میئر اور وہ بلڈر بھی۔ کون تھا جو اس بیماری کی زد میں نہیں آگیا تھا۔ یہ خطرناک تو تھا ہی مگرکچھ کچھ مضحکہ خیز بھی۔ اب سب کو یقین آگیا تھا کہ یہ بری طرح پھیلنے والی وَبا ہے۔ اسی لیے کتوں اور بلیوں نے رات میں، آسمان کی طرف منھ اُٹھا اُٹھا کر پہلے ہی سے رونا شروع کردیا تھا۔ جو لوگ ابھی اس بلا کی زد میں نہیں آئے تھے، انھوں نے ردِ بلا کی دُعائیں پڑھنا اور ایک دوسرے کو بھیجنا شروع کردیں۔ بہت سوں نے صدقے دینا شروع کردیے۔ اتنی بڑی تعداد میں جان و مال کے صدقے دیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ایسا نظرآنے لگا جیسے صدقہ دینے والوں کا ایک میلہ لگا ہوا ہے جس طرح گاؤں میں ہفتہ بازار لگتے ہیں اوراُن میں جگہ جگہ گیہوں، چاول اور چنے کے اونچے اونچے ڈھیر لگے ہوئے نظرآتے ہیں۔ مگراُنھیں نہیں معلوم کہ خدا کے فیصلے انسانوں کے فیصلوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تو بالکل ہی مخالف۔ خدا کے بھید خدا ہی جانتا ہے یا وہ جو اُس جیسا ہو۔

اُدھر اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ لاشوں کے پہلے تو پوسٹ مارٹم کیے جاتے اورپوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر شراب کے نشے میں چور ہوکر، مگرپھر بھی ڈرے اور سہمے ہوئے مُردہ جسموں پر اپنے بُغدے چلاتے۔ جب لاشیں اُن کے لواحقین کے سپرد کردی جاتیں تواُنھیں تجہیزو تکفین کے لیے گھر نہیں لے جایا جاتا بلکہ اسپتال سے سیدھے، ایمبولینس میں ڈال کر قبرستان یا شمشان گھاٹ پہنچا دیا جاتا جہاں اُنھیں دفنانے یا نذرِ آتش کرنے میں بہت دِقّتوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ ضروری ارکان پورے کرنے کے لیے ملّا، مجاور یا پنڈت کو دس گنا زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی کیونکہ کوئی بھی بیماری کے پوٹ بنے مردہ جسم کو نہ تو غسل دینا چاہتا تھا اور نہ ہی ہاتھ لگانا۔ اس لیے کم سے کم ارکان میں ہی کام چلایا جانے لگا۔ لوگ کسی اور وقت مرنے کی دُعائیں مانگنے لگے۔ وہ اس وبا میں مرکر اپنی لاشوں کی ایسی بے عزتی اور بے حرمتی نہیں کرانا چاہتے تھے۔ مگرکیا یہ صرف لاشوں کی بے عزتی تھی۔ نہیں سب سے بڑھ کر تو یہ موت کی بے عزتی تھی۔ موت جو اتنی شیخی خور واقع ہوئی تھی۔ لوگ جس سے ڈرتے تھے، مگراحترام بھی کرتے تھے۔ اج اتنی خوار ہوکر گلیوں گلیوں بھٹک رہی تھی اُس کی اوقات اُس معمولی چور کی طرح ہو گئی تھی جو کسی کے گھر میں نقب لگانے سے پہلے، کئی دن پہلے اُس گھر کے چاروں طرف گھومتا رہتا ہے۔ محل ِ وقوع کا جائزہ لینے کے لیے اور ماحول کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے کبھی کبھی بھیک مانگنے کے بہانے چور گھر کے دروازے سے اندر ہی چلا آتا ہے۔ تاکہ دیکھ سکے کہ کون سا کمرہ کہاں ہے اور وہ جگہ کہاں ہو سکتی ہے جہاں مال چھپا کررکھا گیا ہوتا۔ بالکل اسی طرح چھپ چھپ کرموت بھی گھر دیکھنے آنے لگی۔ کبھی بیماری کے بہانے، کبھی خودکشی کے بہانے اور کبھی قتل کے بہانے۔ موت بری طرح ذلیل ہو رہی تھی۔ لوگ اُس پر تھوکتے تھے۔ اورجسم

جسم کو تو روح نے اپنی بنائی ہوئی خوفناک اندھیری جیل میں قید کرکے ڈال رکھا ہے۔ نہ جانے کب سے روح خود تو ہرتماشے سے ماورا تھی مگرسرکس کے تنبو کے سارے بانس جسم میں ہی گڑے ہوئے تھے۔ انسانی جسم ہی ہرڈرامے کا اسٹیج بنتا آیا ہے۔ سارا کھیل جسم کی سرحدوں کے اندر ہی کھیلا جاتا ہے۔ موت کی ریاضی بھلے ہی بدل گئی ہو مگرتختہ سیاہ تو انسان کا مقدر کا مارا جسم ہی تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ جیسا لوگ کہتے ہیں کہ یہ وقت خراب تھا۔ وقت کبھی اچھا نہیں ہوتا کیونکہ جانداروں کا جسم وقت میں ہی موجود رہتا ہے۔ وقت سے ماورا ہوکر جسم اپنے آپ کو دُکھ سے آزاد کرسکتا ہے۔ مگرہم سب ابھی وقت میں ہی جی رہے ہیں۔ وقت سے باہر نہیں۔

خبریں ساری دنیا میں پھیلنے لگیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارہ صحت نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لینا شروع کردی اورپھر وہی ہوا جس کی افواہ پہلے ہی سے گشت کررہی تھی۔ یعنی احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے آخرکار حکومت نے چالیس کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے اس علاقے کو پوری طرح سِیل کردیا۔ اب نہ کوئی یہاں سے جا سکتا تھا اور نہ کوئی یہاں آسکتا تھا۔ دیکھا جائے تو تمام شہر کی ناکہ بندی کردی گئی۔ لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں علیحدگی کے ساتھ رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ موبائل نیٹ ورک بھی منقطع کردیا گیا۔اس سے یہ امر بھی آشکار ہوتا ہے کہ محض بیماری بھی انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتی ہے۔ ایک بخار، کھانسی کا ایک ٹھسکہ، حلق سے باہر آتی ہوئی ایک اُلٹی اور فالج کا ایک حملہ ہمارے اور بیمار کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرسکتا ہے۔ اس دیوار کو توڑنا آسان کام نہیں۔ تیمارداری کی اخلاقیات بھی اس پردے کی دیوار کا احترام کرتی ہے۔ اکثر حالات کے مطابق ضرورتوں کوڈھالا جاتا ہے۔ مگرجب ضرورت زیادہ بڑی ہو، زندہ رہنے کی ضرورت تو پھراُس کے مطابق صورتِ حال کی ایجاد کرلی جاتی ہے۔

لائف اپارٹمنٹ، رفیق انکلیو، جنت باغ، فلوراگارڈنز اور دوسری سوسائٹیز کے گرد پولیس کا محاصرہ کردیا گیا۔ بحالتِ مجبوری وہاں اپنا ڈیرہ جمائے بیٹھی ہوئیں منرل واٹر اور کولڈ ڈرنک کی کمپنیوں کی ایجنسیاں بھی اپنی دکانیں بڑھا گئیں۔ حفاظت کے خیال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جل بورڈ کے پانی کے ٹینکر بھی یہاں سے ہٹا لیے گئے۔ اب جو بھی تھا، جہاں بھی تھا، وہیں محصور ہو کر رہ گیا۔ بیماری اب ایک جرم تھی، ایک سماجی انحراف۔ جس گھر میں کوئی موت واقع ہوتی اُس گھر کے دروازے پر کراس کا نشان لگا دیا جاتا اور پولیس والے اُس میں رہنے والے دوسرے افراد کو اپنے ساتھ کار میں بٹھا کر کہیں دور لے جاتے، شاید زندہ انسانوں کا بھی کوئی قبرستان تھا۔ اُسی اندھیرے میں اُنھیں دفن کرنے وہ اُنھیں بھی لے جاتے جو بیمار نہ تھے۔

یہ تو اچھا تھا کہ اس شہر میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں تھا، ہاں مگرایک فوجی ہوائی اڈہ ضرور تھا مگر احتیاطی تدابیر کے طورپر فی الحال اُس کی اُڑانیں بھی روک دی گئی تھیں کیونکہ یہ علاقہ ایئر فورس کا لونی کے نزدیک تھا اور ملٹری چھاؤنی بھی یہاں سے تقریباً ملی ہوئی تھی۔ چاند ماری کے میدان میں ہونے والی فائرنگ کی آوازیں لائف اپارٹمنٹس میں رہنے والے اکثر سنتے رہتے تھے۔ شہر کے اس حصے کو دوسرے حصے سے منسلک کرنے کا کام، کالی ندی پر بنا ہوا ایک پرانا کنگورے دار سفید پُل کرتا تھا۔ اسی پُل کے دونوں سروں پر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا۔ پُل کے مغرب میں ایئر فورس کی پرانی کالونی تھی اور مشرق میں ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں چاند ماری کا میدا تھا اوراُن دونوں کے درمیان سے کالی ندی بہا کرتی تھی۔ وہ چھوٹی اور پتلی سی ندی جو شمالی پہاڑوں میں واقع کسی جھرنے سے نکل کرآتی تھی اوراِس بات کے لیے بدنام تھی کہ نہ جانے کہاں کہاں سے ‘لاوارث لاشیں’ اس میں بہہ بہہ کرآتی ہیں۔ دراصل کالی ندی کا راستہ بہت گھنے اور خطرناک جنگلوں میں سے ہو کر گزرتا تھا۔

پُل کے اِدھر اور اُدھر دونوں طرف ناکہ بندی تھی۔ دونوں طرف لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید تھے، مگرپھر بھی ان دونوں علاقوں میں ایک بڑا اور واضح فرق تھا اور وہ یہ کہ اُدھر پانی کی سپلائی ہو رہی تھی مگراِدھر نل سوکھے پڑے تھے۔ پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔

مگردنیا قائم تھی اگرچہ اب اس دنیا کو بھوگنا، گندے پانی میں پیدا ہونے والی مچھلیوں کو بھون بھون کر کھانے کے برابر ہے۔ سنا ہے کہ گندے اور میلے پانی سے پیدا کی گئی مچھلیاں لذیذ ہوتی ہیں۔

Jesus Christ, you
Travelled through towns
And villages curing
Every disease and illness”
Come to our aid now, that we may
Experience your healing love.

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر13 میں، جو سب سے اوپری منزل پر واقع ہے، ایک ادھیڑ عمر کا شادہ شدہ جوڑا، ساکت و جامد بیٹھا ہوا ایک دوسرے کو خالی خالی آنکھوں سے دیکھے جارہا ہے۔ برابر والے کمرے میں سے ایک لڑکے کی کھانسی کی آواز لگاتار چلی آرہی ہے۔ نہیں، نہیں۔ یہاں وائرس سے بیمار کوئی نہیں ہے۔ مگراس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بیماری کے قیمتی خزانے پر صرف اسی منحوس وائرس کا اجارہ تو نہیں۔ دنیا میں ہزاروں طرح کے جراثیم ہیں اور ایسا کوئی اُصول نہیں کہ جس زمانے میں یہ وائرس چھٹّے بیل کی طرح ہر جگہ گھومتا اور منھ مارتا پھر رہا ہو، دوسری بیماریاں یا دوسرے جراثیم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

لڑکے کو پھیپھڑوں کی پرانی ٹی۔ بی۔ ہے اور لاپرواہی کی وجہ سے اس کا علاج بیچ بیچ میں ٹوٹتا رہتا ہے۔ بیماری بگڑ چکی ہے۔ دن میں کم از کم چارپانچ بار کھانسی کے خشک دوروں کے ساتھ اُس کے منھ سے خون آنے لگتا ہے۔ بخار تو زیادہ نہیں رہتا مگر یہ تو سامنے کی بات ہے کہ ہلکا بخار رہنا زیادہ خطرناک اور کیف پُراسرار ہوتا ہے۔ وہ کھال اور گوشت کے نیچے ہڈیوں میں کسی سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے۔ جہاں سے اُسے آسانی سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔

اُس کی قمیض پر خون لگا ہوا ہے۔ عورت نے کہا، میں نے بھی دیکھا ہے۔ قمیض بدلی نہیں مرد نے کہا، تین قمیضیں اور تین پاجامے خون کے دھبوں سے پٹے پڑے ہیں۔ دھوؤں کیسے؟ اب تو بازار میں بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔ پینے کے پانی کا بس یہ ایک جگ بچا رہ گیا ہے۔ میں نے جانے کیسے کیسے کرکے اکٹھا کیا ہے۔ مرد اُٹھ کرسامنے لکڑی کے اسٹول پر رکھے ہوئے جگ کے اندر جھانکنے لگتا ہے۔ جھانک کیا رہے ہو، پانی ہے۔ عورت کا لہجہ ناگوار ہے۔ مرد خاموشی سے واپس آکر کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ ذرا دیکھو، وہ بہت زور سے کھانس رہا ہے۔ مرد کہتا ہے، تم ہی دیکھ لو۔ پیدا تو تم نے بھی کیا ہے۔ عورت کا لہجہ ابھی بھی ناگوار ہے۔ جا رہا ہوں۔ مرد تھکی ہوئی آواز میں کہتا ہے اور لڑکے کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ عورت بھی کچھ منھ ہی منھ میں بڑ بڑاتی ہوئی اُس کے پیچھے آرہی ہے۔ تقریباً گیارہ سال کا لڑکا ہے۔ اُس کا چہرہ کھانستے کھانستے سرخ ہو گیا ہے۔ اُس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ رکھی ہیں۔ اُس کا سر تکیے میں اس طرح دھنسا ہوا ہے۔ جیسے دلدل میں پھنس گیا ہو۔ اُس کی پتلی پتلی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور پسلیاں چل رہی ہیں۔ عورت اور مرد دونوں زور زور سے اُس کی پیٹھ سہلانے لگتے ہیں۔ نہیں کوئی بات نہیں، بیٹا۔ پھندہ لگ رہا ہے اور کوئی بات نہیں۔ دونوں مل کر کہتے ہیں اوراُن کے جملے شور میں بدل جاتے ہیں۔ پانی۔ پانی۔ لڑکا پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان آہستہ سے بد بداتا ہے۔ اُس کی آواز اُس چوہے سے مشابہہ ہے جو اچانک چوہے دان میں پھنس گیا ہو۔ عورت پانی کے آخری جگ میں سے ایک چھوٹی سی تانبے کی کٹؤری میں پانی اُنڈیلتی ہے۔ پانی نہیں، پانی کی چند بوندیں ہیں۔ پانی کی چند بوندیں لڑکے کے حلق میں ڈال دی جاتی ہیں۔ اور۔ اور پانی۔ اور پانی۔ لڑکا کپکپاتی ہوئی آواز میں کہتا ہے۔ مگرابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جب پانی کی کچھ اور بوندیں اُس کے منھ میں اُنڈیلی جائیں گی۔ جیسے جیسے اُس کی کھانسی کم ہو رہی ہے ویسے ویسے اُس کے سرخ چہرے پر زردی واپس رینگتی ہوئی چلی آرہی ہے۔ جلد ہی اس زردی نے لڑکے کے چہرے کو اس طرح ڈھک لیا جیسے مغرب میں ڈوبتے ہوئے لال سورج کو آسمان پر چھاتا ہو زرد غبار ڈھک لیتا ہے۔

اُس کی قمیض اُتاردیں۔ مرد نے آہستہ سے کہا۔ آج نہیں کل۔ شاید کل پانی آجائے۔ عورت نے کمزور لہجے میں جواب دیا۔ پانی کا کیا بھروسہ۔ مرد نے ٹھنڈی سانس لی۔ اور یہ سچ تھا کہ بہنے والی چیزوں کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ وہ وقت کی طرح ہوتی ہیں۔

مرد کھڑکی کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا۔ دونوں وقت مل رہے ہیں۔ شام ہو رہی ہے۔ کچھ دیر پہلے تک مشرق میں اُڑنے والی چیلیں اب تقریباً ڈوب گئے سورج کی چھوڑی ہوئی لالی کے آس پاس، مغرب میں منڈلانے لگی ہیں۔ اچانک لڑکا دوبارہ کھانستا ہے۔ پہلے آہستہ سے کھانسی کا ایک ٹھسکہ آتا ہے، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔ وہ اُٹھ کر باتھ روم سے ملحق دیوار پر لگے ہوئے واش بیسن کی جانب بھاگتا ہے۔ اُس کا منھ اُبکائی کے لیے کھلتا ہے۔ منھ سے گاڑھا گاڑھا خون نکل کر سفید چینی کے بیسن میں گرنے لگتا ہے۔ بیسن پہلے سے ہی خون سے بھرا پڑا ہے۔ وہاں پانی کا قطرہ تک نہیں۔ وہ لرزتے ہوئے ہاتھ سے ٹونٹی کھولتا ہے تو اُس میں سے صرف سرسراتی ہوئی ہوا باہر نکلتی ہے، ایک بھوتانہ ہوا۔

عورت شاید جاہل اور گنوار ہے۔ وہ اپنے سرکو دونوں ہاتھوں سے بے تحاشہ پیٹنے لگتی ہے۔وہ غم اور غصے سے پاگل ہو رہی ہے۔ وہ ایک ڈائن میں بدل گئی ہے جو اپنے بچے کو کھا جاتی ہے۔ مرجا۔ اس سے تو تُو مرجا۔ کل کا مرتا ہوا آج مرجا۔ جینا حرام کردیا۔ مرتا بھی نہیں۔ ہائے میں کیا کروں۔ وہ بے تحاشا منھ بھر بھر کے لڑکے کو کوس رہی ہے اور اپنے سینے پر دوہتھڑ مارے جا رہی ہے۔ جس کے سبب اُس کے بھاری بھاری پستان اس طرح ہل رہے ہیں جیسے زلزلے کی زد میں آگئے ہوں۔

کیوں کوس رہی ہو بچے کو۔ دونوں وقت ملے بھلا کسی کو کوسا جاتا ہے۔ مرد تنبیہ کرتا ہے۔ یہ آمین کی گھڑی ہوتی ہے۔ مرد تنبیہ کرتا ہے۔ تو کیا کروں مارڈالو مجھے۔ واش بیسن میں ابھی تک وہی پرانا خون جمع ہے جو یہ تین دن سے اُگل رہا ہے، اوک رہا ہے خون کیسے بہاؤں۔ پانی کو موت آگئی ہے۔ خون بھرےکپڑے کیسے دھوؤں۔ پانی کو موت آگئی ہے، اسے کیوں نہیں آتی۔ یہ کیوں نہیں مرجاتا۔ عورت زور زور سے چیختی ہوئی فرش پر اُکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔ مجھے قے آرہی ہے۔ وہ کہتی ہے اور سوکھی سوکھی اُبکائیاں لینے لگتی ہے۔ جو کراہیت اور صدمے سے متاثر ہونے کے سبب آیا کرتی ہیں۔

لڑکا کپکپاتا ہوا اپنی ماں کے قریب آگیا ہے۔ اُس کے ہونٹوں اور ٹھوڑی پہ خون چپکا ہوا ہے۔ وہ اب کھانس نہیں رہا ہے۔ اُس نے کھانسی کو کسی نا معلوم طاقت کے ذریعے روک لیا ہے۔ امی، امی۔ وہ ماں کا کندھا پکڑتا ہے۔ امی ناراض مت ہو۔ اب نہیں کروں گا خون کی اُلٹی۔ کبھی نہیں کروں گا۔ میری اچھی امی۔ لڑکے کو اس وقت ہلکا بخار نہیں بلکہ تیز بخار ہے۔ سارا بدن تپ رہا ہے اور چہرہ نہ تو لال ہے نہ پیلا۔ چہرہ کالا پڑگیا ہے۔ اُس کی قمیض سے پسینے اور خون کی بھاپ اُٹھ رہی ہے۔ عورت فرش سے اُٹھتی ہے اور زور زور سے روتے ہوئے لڑکے کو چمٹا لیتی ہے۔ عورت کی گردن پر، لڑکے کے منھ اور ہونٹوں پر چپکا ہوا خون خاموشی کے ساتھ آکر لگ گیا ہے۔ ماں بیٹے ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے ہیں۔ مگررونے کی یہ آوازیں غیر انسانی ہیں۔ انسان ان آوازوں میں نہیں روتے۔

مرد کو اچانک سخت گرمی میں بھی سردی لگنے لگتی ہے۔ اُس کے دانت بجنے لگتے ہیں۔ دانت بجنے کی وجہ سے وہ اُن کے رونے کی آوازیں نہیں سن سکا ہے۔ وہ یہی سوچے جا رہا ہے کہ کاش اُس کی آنکھوں کا آپریشن کامیاب نہ ہوتا، وہ پہلے کی طرح اندھا ہی رہتا۔ آخر اندھا پن ایک نعمت بھی تو ہے۔

اب اندھیرا ہوگیا ہے،جلد ہی سوسائٹی کی سڑکوں اور پارکوں میں لگے ہوئے بجلی کے کھمبے روشن ہو جائیں گے مگرکسی کو یہ نہیں معلوم کہ پانی کب آئے گا۔

کسی کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جلد ہی یہ بیماری انسانوں کے ساتھ ساتھ کتوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گی۔ کتے پہلی بار ہر جگہ مٹی کریدتے ہوئے نظرآئے۔ پھر گندگی کرتے ہوئے اورپھر اُلٹیاں کرتے ہوئے۔ اُن کے منھ سے ہرے ہرے جھاگ نکلنا شروع ہو گئے۔ کھرکی اور بالکونیوں میں کھڑے ہوئے لوگوں نے اُنھیں دیکھا۔ پہرہ دیتے ہوئے پولیس والوں نے اُنھیں دیکھا۔ کتےپالتو نہ تھے، مگرکالونی والوں کے لیے اجنبی بھی نہ تھے۔ وہ یہیں گھومتے رہتے تھے اور ہرآتے جاتے کو دیکھ کر محبت سے اپنی دُمیں ہلاتے تھے۔ مگراب منھ میں جھاگ بھرے ہوئے یہ کتے حواس باختہ سے اِدھر اُدھر دوڑتے تھے۔ پھر کسی نامعلوم تکلیف کے سبب زمین پر لوٹیں لگانے لگتے تھے۔ اُن کی آنکھیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح سرخ تھیں اوراُن کے جبڑے پھیل گئے ھتے۔ اور کوئی شخص تو گھر سے باہر نکل نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ باہر نکلنے کی سزا جیل تھی۔ مگرکالونیوں میں پہرہ دینے والے پولیس کے سپاہی تو باہر موجود تھے جو سرکار کی طرف سے ڈیوٹی کے لیے دی گئی اپنی اپنی پانی کی بوتلوں کو ایک دوسرے سے چھپا کر رکھتے تھے اور یہ احتیاط بھی کرتے تھے کہ کبھی کھڑکی یا بالکونی میں کھڑے شخص کی نظران بوتلوں پر نہ پڑجائے۔

کتے ان پولیس والوں کو بھنبھوڑنے لگے۔ وہ عجیب و غریب طرح سے پاگل ہو گئے تھے۔ وہ اگرکسی پنڈلی منھ میں دبالیتے تو چھوڑتے ہی نہیں تھے اور طرح طرح کی غراہٹیں اپنے حلق سے نکالتے رہتے جن میں شدید غصے کے علاوہ ایک ناقابلِ فہم قسم کی تکلیف بھی شامل تھی۔ اُن کے سر اور جسم کو ڈنڈوں سے بے تحاشا مارا جاتا تب کہیں جا کر وہ اُس چبائی گئی پنڈلی کو چھوڑتے مگرجیسے ہی وہ یعنی کتے ہٹتے، اُں کے کاٹے کا شکار وہ بدنصیب پولیس والا فوراً ہی کتوں کی ہو بہو آواز میں بھونکنے لگتا۔ چاروں ہاتھ پیروں پر چلتا ہوا، وہ دوسرے آدمیوں کو کتے کی طرح ہی کاٹنے کے لیے دوڑتا۔ اُس کی آنکھیں لوہار کی بھٹی کی طرح سرخ ہوتیں اور جبڑے پھیل جاتے۔ جلد ہی ان اطراف میں نظرآنے والے ہرکتے کو دیکھتے ہی گولی ماردینے کا حکم صادر کردیا گیا اورشاید اُس شخص کو بھی جسے کتے نے کاٹا ہو۔ اگرچہ یہ یقینی طورپر نہیں کہا جا سکتا۔

مگرکیا اس دنیا کے بارے میں یقینی طورپر کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیا دنیا اپنی مرضی سے اب ختم ہونے والی تھی۔ اگر ایسا تھا تو زمین اور فطرت کو اپنے کام کرنے سے روکنے کا حق کس کو تھا۔ اگرفطرت اور زمین نے اپنے آگے کے منصوبے بغیر انسان کی شمولیت کے بنا ہی لیے تھے اور اب وہ اپنا کام جانداروں کی مطلق غیر حاضری میں اکیلے ہی کرنا چاہتی تھیں تو ہمیں اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے دنیا کو ایک اچھے کرایہ دار کی طرح خوش دلی کے ساتھ خالی کردینا چاہیے۔

گلاب اپارٹمنٹس کے ہر فلیٹ میں ایک ہی قسم کی مصیبت آئی ہوتی ہے۔ سب کو ایک ہی شکایت ہے اورسب کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ ویسے یہ مسئلہ ان اطراف کی تمام سوسائٹیز میں مشترک ہے لیکن کسی بھی تاریخی بیانیہ کی تائید کے لیے بس ایک دو مثالیں ہی کافی ہوتی ہیں۔ ورنہ گلاب اپارٹمنٹس کے لفظ کو مون انکلیو، آفتاب باغ اور فلورا گارڈن سٹی بھی پڑھا اور لکھا جا سکتا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گلاب اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر 13 میں ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے بدبوئیں پھیلی ہوتی ہیں۔ گھرمیں ہوا کے دباؤ کے تحت کبھی ایک بدبو حاوی ہوجاتی ہے اورکبھی دوسری اور کبھی تیسری۔ یہ بدبوؤں کا ایک نہ نظرآنے والا اسمبلاژ ہے جس کے مختلف رنگوں کو صرف ناک کی آنکھیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ ان دنوں ناک پر نت نئے انکشافات ہورہے ہیں اور قوتِ شامہ نئے نئے جہانوں کی سیر کو نکل کھڑی ہوئی ہے۔ دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے بند ہونے کے باجود نہ جانے کہاں سے آکر ڈھیر ساری ہرے پروں والی مکھیاں آ کر بھنبھنانے لگی ہیں۔ یہاں کے ہر فلیٹ میں دونوں اقسام کے ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔ ایک مغربی قسم کے کموڈ والا اور دوسرا مشرقی روایت کے پاسداری کرتا ہوا۔ دونوں قسم کے کموڈ انسانی فضلے سے لبا لب بھرے ہوئے ہیں۔ دونوں سیٹوں کی سفید چینی اس گندگی میں ڈھک کررہ گئی ہے۔ فلش کرنے کی ٹنکی نہ جانے کب سے سوکھی پڑی ہے۔ اُس پر موٹے موٹے چیونٹے رینگتے پھر رہے ہیں۔ ہر بالٹی خالی ہے اور ہر برتن خشک اور گندا باورچی خانے میں نہ جانے کب سے جھوٹے برتن پڑے سڑرہے ہیں۔ باورچی خانے سے وہی بدبو اُٹھ رہی ہے جو پاخانے سے آرہی ہے۔ زیرِ زمین نالیاں بھی بند ہیں اوراُن میں گندگی ٹھسی ہوئی ہے۔ سارے گھرمیں سوکھے ہوئے پیشاب کی ایسی کھراند ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ یہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہر طرف ڈھیر سی بکریاں بندھی ہوئی ہیں۔ واش بیسن میں نہ جانے کب کی، کی گئی کلّیوں کے ساتھ منھ سے نکلے ہوئے غذائی ذرات، تھوک اور بلغم اکٹھا ہیں۔ یہ جہنم ہے۔ جیتا جاگتا جہنم جس کی آگ کو اور بھڑکانے کے لیے وہاں تین بچے اوراُن کے ماں باپ بھی زندہ موجود ہیں۔ باپ جس کی آنکھیں بھوری مگربےنور ہیں اوراُس کی ٹانگ میں پلاسٹر بندھا ہے۔ ایک زندگی آلودہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہے۔ اس کی پلاسٹر سے بندھی ہوئی ٹانگ کے نیچے ایڑی میں ایک زخم ہے جس پر بار بار ایک مکھی آکر بیٹھ جاتی ہے۔ باپ، بچوں کی ماں، جس کی آنکھیں اور بھی زیادہ بھوری ہیں، جس کی چپٹی ناک ہے اور جو خونی بواسیر کے موذی مرض میں مبتلا ہے اور جو بیت الخلا کے نام سے خوف کھاتی ہے، کو غصے سے دیکھے جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے مجھے کھا جاؤ گے۔ آنکھیں نہیں ہیں تو یہ حال ہے۔ آنکھیں ہوتیں تو پتہ نہیں اُس میں کتنی نفرت ہوتی۔ عورت کہتی ہے۔ آنکھیں ہوتیں تو دیکھتا کہ تمھارے تھوبڑے پر میرے لیے کتنی نفرت ہے۔ مرد جواب دیتا ہے۔ بچے بے وجہ شور مچا رہے ہیں۔ پھرایک بچہ بھاگا بھاگا آتا ہے اور کہتا ہے۔اماں، اماں! ہم کیا کریں۔ پیٹ میں درد ہورہا ہے۔ میرے سرپر کردوکم بختو! تمھارا ناس جائے۔ بھری دوپہر میں یہ کوئی وقت ہے۔ماں دہاڑتی ہے۔اماں بڑے زورکا لگ رہا ہے۔ چار سالہ بچہ اپنا پیٹ پکڑے ہوئے باپ کے پاس آکر بولا۔ ابا جاؤں کہاں جاؤں۔ ورنہ نکل جائے گا۔ اُس کے پیچھے پیچھے تقریباً آٹھ سال کا دوسرا بچہ بھی اپنا نیکر سنبھالتےہوئے چلا آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پہلے وہ فارغ ہوگا۔ نہیں، پہلے میں۔ نہیں، میں۔۔۔ میں۔

یہ یقیناً مضحکہ خیز بلکہ کسی گھٹیا قسم کے مزاحیہ ڈرامے کا کوئی منظر معلوم ہوتا ہے۔ مگرہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مضحکہ خیزی اور لطیفوں میں ایک ایسی دہشت چھپی رہتی ہے جس کو اگرمحسوس کرلیا جائے تو ہماری ہڈیاں بجنے لگیں۔ ویسے یہ دنیا بھی محض ایک لطیفہ ہے جسے دوسرے سیاروں کی تفریح کی غرض سے بنایا گیا ہے۔

جاؤ،سیٹ پر مت بیٹھنا۔ فرش پر ہی کرلو۔ سوکھ جائے گا۔ باپ نے لاپرواہی سے مشورہ دیا۔ اچھا، خوب مشورہ دے رہے ہو، گندگی پھیلانے کا۔ تم اندھے ہو، تمہیں گندگی نظرنہیں آتی۔ مگرکیا تمھاری ناک بھی مٹ چکی۔ تمہیں کوئی بدبو خوشبو کچھ نہیں آتی۔ خود بھی ہر وقت جانوروں کی طرح چرتے رہتے ہو اور بچوں کو بھی چراتے رہتے ہو۔ جب دیکھو ٹوائلٹ میں گھسے ہوئے ہیں۔ معلوم ہے کہ مرنے کےلیے بھی پانی نہیں ہے۔ عورت کہتے کہتے ایک لمحے کو رُکی، پھر دوبارہ کہنا شروع کردیا۔ بلڈ پریشر کی دوا یونہی چبا لیا کرتی ہوں۔ نگلنے کو پانی نہیں۔ اپنی حاجت روک لیتی ہوں کہ ٹوائلٹ میں نہ جانا پڑے۔ قبض کرنے والی دوائیں لگاتار نگل رہی ہوں چاہے میری آنتیں سڑجائیں مگر میں اُس منحوس اور غلاظت سے بھری ہوئی جگہ پر جاکر ہرگز نہ بیٹھوں گی۔ بولتے بولتے اُس کا گلا بیٹھنے لگا۔ جب میں نے اُس وقت کہا تھا کہ نکل جا تو مایا کے ناگ کی طرح جم کر بیٹھ گئی تھی۔ کچھ بھی ہو جائے، گھر نہیں چھوڑوں گی۔ مرد نے ڈانٹ کر کہا۔ ہاں میں تو نہیں لے جاتی تمہیں اپنے مائیکے اور تو تمھارا کوئی ہے نہیں۔ سسرال کی روٹیاں توڑنے کا شوق ہے۔ ویسے کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ تم میری چھوٹی بہن پر نظررکھتے ہو۔ اپنے اندھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہو اوراُس کے سینے کو اپنے ہاتھوں سے چھونے کی کوشش کرتے رہتے ہو۔ عورت نے زہر آلود لہجے میں کہا۔ تو بکواس بند کرے گی یا نہیں۔ مرد نے کچھ اس انداز میں کہا کہ وہ لمحے بھر کو خاموش ہوئی۔ پھر کچھ اس طرح بڑبڑانا شروع کردیاجسے صرف وہی سن سکتی تھی۔ تقریباً گیارہ سال ہیں جو گھبراہٹ کے موقع پر نکل کرآتے ہیں۔ اماں، اماں۔ اِدھر آؤ، بات سنو۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں کہتی ہے۔ کیا ہوا کم بخت۔ میرے پاس پانی نہیں ہے۔ تجھےہر گھڑی پیاس لگی رہتی ہے۔ بڑی گرمی بھرگئی ہے تیرے اندر۔ عورت چلائی۔ نہیں اماں! پانی نہیں چاہیے، تم اِدھر آکرمیری بات سن لو۔ بچی حواس باختہ ہے۔ عورت کراہتے ہوئے بچی کے پاس جاتی ہے۔ وہ دونوں دوسرےکمرے میں چلی جاتی ہیں۔

بچی ماں کو اپنی شلوار کی طرف دیکھنے کا اشارہ کرتی ہے جس پر خون کے دھبے ہیں۔ میرے پیڑو میں بہت درد ہو رہا ہے۔ وہ رو کر کہتی ہے۔ مرجاحرافہ۔ ابھی ہی جوان ہونے کو رہ گئی تھی۔ دیکھتی نہیں کہ گھرمیں پانی نہیں ہے او ر تو مہینہ شروع کرکے بیٹھ گئی۔ عورت بچی کی پیٹھ پر زور زور سے گھونسے مارتی ہوئی چیخنے لگتی ہے۔ بچی روتی جاتی ہے۔ ماں مارتی جاتی ہے۔ مرد زورسے دہاڑتا ہے۔ عورت بچی کو گھسیٹتے ہوئے کپڑوں کی الماری کے پاس لے جاتی ہے اور کہتی جاتی ہے کہ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ خدا موت دے دے۔ مگرخدا ابھی موت نہیں دینا چاہتا۔ ابھی وہ انھیں اور جینےدینا چاہتا ہے۔

حالانکہ کوئی بھی شعوری طورپر جی نہیں سکتا۔ شعوری طورپر مرتو سکتا ہے۔ خودکشی کرسکتا ہے۔ مگرکوئی یہ نہیں کرسکتا کہ سمجھ سمجھ کر زندگی گزارے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے جیسے ٹائپ رائٹر پر لکھے ہوئے حروف کو غور سے دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ ‘پ’ کہاں اور ‘ژ’ کہاں، ٹائپ کیا جائے۔ انگلی توایک حرف سے دوسرے حرف تک اُڑتی ہوئی پہنچتی ہے۔ انگلی کی اپنی اُڑان ہے اور اپنا دل ہے، اپنا دماغ ہے۔

یہ سب ایک خواب کی طرح ہے۔ ایک ایسا خواب جسے مرنے کے بعد ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس عورت کا قد مشکل سے چار فٹ رہا ہوگا۔ اُس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ اُس سے دب کر گویا وہ زمین میں دھنسی جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی فٹ بال نظرآتی ہے جو آدھی ریت میں دبی ہوتی ہے۔ بے رحمی کی حد تک پیچھے کو نکلے ہوئے اُس کے کولہوں اور پھولے پھولے مہاسوں سے بھرے گالوں میں ایک ناقابلِ یقین مشابہت ہے۔

اندھے مرد کے چہرے پر پرانی چیچک کے نشان ہیں۔ وہ بھی کبھی وبا ہوا کرتی تھی، مگراب دنیا سے اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ لیکن دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے کبھی نہ مٹنے والے نشان یہیں چھوڑ گئی ہے۔ انسانوں کے چہرے پران کو اندھا کردینے کے بعد وہ ہمیشہ اس امر کی یاد دلاتی رہتی ہے کہ وہ تھی، وہ ماضی کے اُن گناہوں کی طرح ہے جو آدمی کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑتے۔

اندھا آدمی بار بار پلاسٹر کے اندر ہاتھ ڈال کر ٹانگ کھجانے کی کوشش کرتا ہے۔ پلاسٹر کا رنگ اب سفید نہیں رہا، وہ میلا ہو چکا ہے اوراُس پر جگہ جگہ سالن کےپیلے دھبے بھی ہیں۔ پلاسٹر کے اندر شاید کھٹمل پیدا ہو گئے ہیں۔ کچھ کھانے کو ہے، وہ کہتا ہے کیونکہ وہ کچھ دیکھتا نہیں۔ کچھ نہیں ہے، ابھی تو کھا کر اُٹھے ہو۔ عورت کھسیا کر جواب دیتی ہے، مگرمجھے بھوک لگ رہی ہے۔ پانی ہے۔ وہ پھر کہتا ہے۔ بس ایک جگ پانی بچا ہے۔ دوا نگلنےکے لیے پانی نہیں ہے۔ میرے گردے خراب ہو رہے ہیں۔ تمھارے ساتھ رہ کر مجھے یہ ساری منحوس بیماریاں لگ گئی ہیں۔ ورنہ شادی سے پہلے میں کتنی تندرست اور خوبصورت لڑکی تھی۔ اب تو اچھا ہے کہ یا تم مرجاؤ یا میں مرجاؤں۔ عورت زور سے بڑبڑاتی ہے۔ اندھا آدمی زور سے ہنستا ہے۔ اُس کی وہیل چیئر کے پہیے ہلنے لگتے ہیں۔ ‘خوبصورت لڑکی۔’ اندھا ہنستے ہوئے کہتا ہے۔ اگرتمھاری آنکھیں ہوتیں تو تم دیکھ پاتے۔ کاش میں نے ترس کھاکے تم سے بیاہ نہ کیا ہوتا۔ عورت کے لہجے میں حقارت تھی۔

ممکن ہے کہ کبھی اُن دونوں میں تھوڑی سی وقتی محبت رہی ہو مگراِسے کیا کہیں کہ محبت کے پڑوس میں بیزاری رہتی ہے اور خلوص کے برابر والی کھڑکی میں سے کینہ کا چہرہ ہمیشہ سڑک پر چلنے والوں کو گھورتا رہتا ہے۔

اندھا اپنی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا کھانے کی میز کی طرف جارہا ہے۔ اُس نے میز پر رکھی ہوئی ڈبل روٹی کے دو ٹھنڈے سلائس نکال لیے ہیں۔ تو نے ترس کھا کر مجھ سے شادی کی تھی؟ تیرے باپ نے میری دولت کے لالچ میں آکر تجھے میرے سر منڈھ دیا تھا۔ میں نے چالیس لاکھ کا یہ فلیٹ اُسی کے کہنے پر تیرے نام کیا تھا۔ میرا بہت بڑا کاروبارتھا۔ میں زردوزی اور کار چوب کے کاریگروں کو سعودی عرب بھجوایا کرتا تھا۔ تیرے دو بھائیوں کے بھی ویزے لگوائے، بھول گئی؟ اندھا کہے جا رہا تھا، مگرتب ہی اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے اُس کی ایڑی کا زخم رِسنے لگا ہے۔ زخم پر دو مکھیاں آکر بیٹھ گئیں۔ مکھیوں کو بھگانے کے لیے وہ اپنی ایڑی کو بار بار فرش پر بجانے لگا۔ مگراس سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ایڑی فرش پر بجانے سے زخم میں سے زیادہ خون نکلنے لگا ہے۔ مکھیاں اب بھلا زخم سے کیوں دورجائیں گی۔

اندھا اندازے سے سلائسوں کو ٹوسٹر کے اندر ڈال رہا ہے۔ اِس ٹوسٹر میں بھی ایک تکنیکی خرابی ہے۔ اس میں سے کبھی تو سیاہ اور کوئلے کی طرح سخت جلا ہوا سلائس باہر نکل آتا ہے اور کبھی بالکل سفید، کچا اور ٹھنڈا۔ بجلی سے چلنے والی چیزوں میں اگراس قسم کی کوئی پُراسرار خرابی پیدا ہو جائے تو وہ جاتی نہیں ہے۔ وہ گھوڑے میں پیدا ہو جانے والے عیب کی طرح ہوتی ہے۔ یاانسان کے مقدر کی خرابی کی طرح۔

اچھا چل چھوڑ، تھوڑا پانی دے۔ گلا سوکھ رہا ہے۔ اندھے نے جھگڑا ٹالنا چاہا مگروہ جھگڑا ختم نہیں کرنا چاہتی۔ اُس کے گال پھول کر کپّا ہو گئے۔ اُس کے بھاری بھاری کولھے ایک نامعمول انتقام لینے کے درپے ہوکر کچھ اور باہر نکل آئے۔ گلا سوکھ رہا ہے۔ ہونہہ، زندگی بھر شراب پیتا رہا، اُسی موت سے گلا ترکر۔ وہ غصے سے آگ بگولا ہوکر زور سے چیخی۔ اپنی زبان بند کر رنڈی۔ بھڑوے تو چُپ رہے۔ تو رنڈی۔ تو بھڑوا۔

بچے اُن کے قریب آکر کھڑے ہو گئے ہیں اور سسکیاں لے کر رو رہے ہیں۔

عورت اندھے مرد کے بہت قریب کھڑی ہوئی غصے سے کانپ رہی ہے اوراُس کے منھ سے تھوک کے جھاگ اُڑ رہے ہیں۔ آنکھیں سرخ ہیں اوراپنے حلقوں سے باہر اُبل آئی ہیں۔ اس کے جبڑے پھیل گئے ہیں۔ وہ پاگل کتیا نظرآرہی ہے۔ دفعتاً اندھا اپنی ٹوٹی ٹانگ سے اُس کے پیٹ پرایک زبردست لات مارتا ہے۔ عورت تھوڑا سا پیچھے کی طرف پھسلتی ہے۔ پھر سنبھل کرسیدھے کھڑے ہوکر اندھے کھے منھ پر نفرت سے تھوک دیتی ہے۔ تھو۔ تھو۔ تھو۔ اندھا دوبارہ اُس کے پیٹ پر لات مارتا ہے۔ عورت میز پررکھے ہوئے پانی کے جگ کو اُس کے سر پر دے مارتی ہے۔ کچے شیشے کا بنا ہوا جگ اندھے کی کھوپڑی سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتا ہے اور پانی سے اُس کا سراورکندھے بھیگ جاتے ہیں۔ اندھا دونوں ہاتھوں سے اپنا سرٹٹولتا ہے۔ اس کے ہاتھ پانی اورخون سے سن ہو گئے ہیں۔ وہیل چیئر کے پہیے جھٹکے سے بے قابو ہو کر بائیں طرف کو چلنے لگے ہیں۔ وہ اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنے ہاتھوں کو اِدھر اُدھر پھیلا رہا ہے۔ اِس سے پہلے کہ بچے دوڑ کراُس کی مدد کریں، غلطی سے پانی اورخون میں تراُس کا ہاتھ ٹوسٹر پر پڑگیا ہے۔ اس کے ہاتھ کی تین انگلیاں ٹوسٹر کے اندر گہرائی میں چلی گئی ہیں۔ اندھے کے منھ سے ایک خوفناک مگرصرف آدھی چیخ ہی برآمد ہوتی ہے۔ وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے کچھ لمحوں کے لیے اس کا جسم اوپر نیچے جھٹکے کھاتا ہے، جیسے گندے پانی میں مینڈک اُچھلتا ہے۔ پھر یہ جسم سیاہ ہوکر بے حس و بے جان ہو جاتا ہے۔

جب پولیس کی جیپ عورت کو جیل کے دروازے پر چھوڑنے آئی تو وہاں پہلے سے ہی ایک ایمبولینس کھڑی تھی۔ جس میں ایک قیدی عورت کو پولیس کی نگرانی میں ضلع سرکاری اسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ قیدی عورت بھی بیماری کا شکار ہو گئی تھی۔ کھلے آسمان میں دونوں عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اسٹریچر پر لیٹی ہوئی بیمار، قیدی عورت کی ایک آنکھ کو اُس کے ماتھے سے ڈھلک آئے ہوئے بالوں نے ڈھک لیا تھا۔ وہ اپنا ایک ہاتھ بار بار اوپر نیچے کررہی تھی۔ وہ پھولے پھولے مہاسوں سے بھرے ہوئے گالوں اور بھاری کولہوں والی موٹی عورت کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے۔ تو تم نے بھی۔ اُس کی مسکراہٹ سوال کرتی ہے۔ ہاں میں نے بھی۔ جیل کے اندر جاتی ہوئی عورت کی مسکراہٹ جواب دیتی ہے۔ پانی کے چکر میں؟ ہاں پانی کے چکر میں۔ ایک عورت جیل سے اسپتال کی طرف جانے والی ایمبولینس میں ڈال دی جاتی ہے۔ دوسری عورت گھرسے جیل کے اندر۔ گھر، جیل، اسپتال اور قبرستان میں سب ایک ہو گئے ہیں۔ شام ہو رہی ہے۔ درخت سلیٹی مائل ہونے لگے ہیں اور گھاس کالی، دھول اُڑاتی ہوئی ایمبولینس کے سائرن پردورکہیں کوئی پاگل کتا بھونکنے لگتا ہے۔

اب کہا جانے لگا ہے کہ مہاماری بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اگریہ واقعی مہا ماری ہے۔ شہر میں جگہ جگہ ایمبولینسیں گھومتی نظرآرہی ہیں مگرکچھ دنوں سے لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے اطراف میں کسی کالونی سے کسی مریض کے ہونے یا مرنے کی خبر نہیں آئی ہے (وہ ایک ایک دوسری موت مررہے ہیں) حالانکہ پانی کی سپلائی بند رہنے کی وجہ سے یہاں کچھ ایسے ذہنی مریض ضرور پائے گئے ہیں جنہیں یا تو پاگل خانے بھجوا دیا گیا ہے یا جیل۔ جہاں تک وائرس کا سوال ہے وہ تو پاگل خانے اور جیل دونوں جگہ پہنچ چکا ہے۔ گھروں میں قیدی بنے ہوئے لوگ اپنی عبادت بھی نہیں کرسکتے اور اگرکریں گے تو تمام ارکان پورے نہ ہو سکیں گے کیونکہ طہارت نام کی کوئی شے فی الحال اُن کے پاس نہیں۔ وہ تواچھا تھا کہ رمضان آکر گزر گئے تھے اور بقر عید ابھی دور تھی ورنہ اُن کے گھر خون میں نہا جاتے اورجانوروں کا گوشت سڑتا رہتا۔ جہاں تک پیاسے مرنے کا سوال تھا وہ تو یہ محرم کے دس دن بھی نہ تھے کہ شہدائے کربلا کی قربانی یاد کرکے، کچھ حوصلہ ملتا اور یہ کرب و بلا کے دن کٹ جاتے۔ مذہبی ارکان پورے نہ کرپانے پر سب ایک دوسرے کو یہ تسلی دیتے پھر رہے تھے کہ ایسی آزمائش کی سخت گھڑی میں خدا اُنھیں معاف کردے گا مگرکیا خدا انسانوں کو اُن کے گناہ اور برے اعمال کے لیے ہمیشہ معاف کرتا رہے گا۔ انسان جو گناہ کرنے سے کبھی دائمی توبہ تک نہیں کرتے تھے۔ خدا کا کام معاف کرنا اور رحم کھانا ہی نہیں، سزا دینا اور عذاب نازل کرنا بھی ہے اوراس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ صرف معاف کردینے والے خدا کو کوئی نہیں مانتا۔

اب ایسا بھی نہیں کہ چور دنیا سے اُٹھ گئے تھے۔ چوروں کی نظرہمیشہ اُن گھروں پر لگی رہتی تھی جن میں رہنے والے تالہ لگا کر وقتی طورپر کہیں اور رہنے چلے گئے ہوں۔ مگرایک تو اُنھیں ان گھروں میں گھسنے پر بیماری لگ جانے کا ڈرتھا اوراگرایک دو بہادرچوروں نے پولیس کی نظروں سے چھپ چھپا کر، کالونی کے اندر گھسنے کی کوشش کی بھی تو وہاں آوارہ گھومتے ہوئے پاگل کتوں نے اُنھیں کاٹ کھایا۔ جس کے بعد اُن کے بس میں صرف یہی رہ گیا کہ وہ خود بھی پاگل کتے کی طرح چارہاتھ پیروں پر چلتے ہوئے اور بھونکتے ہوئے، تندرست اور شریف آدمیوں کو کاٹتے پھریں۔ ایک چورسے زیادہ اس کہاوت پراور کون یقین کرے گا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔

لائف اپارٹمنٹس کے زندہ مگرپیاسے مکینوں نے اپنے پالتو جانوروں کو مارڈالنا شروع کردیا ہے۔ انھوں نے پنجروں سے نکال نکال کربے دردی کے ساتھ اپنے طوطوں کی گردنیں مروڑ ڈالی ہیں جو ہروقت پانی مانگنے کے لیے ٹائیں ٹائیں کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے اپنی پالتو بلیوں کے گلوں میں رسی کا پھندا ڈال کر اُنھیں ختم کردیا ہے جو ہروقت دودھ کی تلاش میں برتن پھینکتی رہتی تھیں اور میاؤں میاؤں کرتے ہوئے انسانوں کی گود میں گھس جاتی تھیں۔ انسان جانور کو جس طرح دیکھتا ہے، جانور اُس طرح نہیں دیکھ سکتا۔ کتے اور بلی کے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں جو کسی شے کو مجموعی طورپر اُس کی مکمل سالمیت میں دیکھ سکیں۔ وہ انسانوں کو صرف الگ الگ حصوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب کتا کاٹنے کے لیے آدمی کی ٹانگ پکڑتا ہے تو وہ اُس آدمی کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا مگرجب وہ آپ کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے تو اُسے آپ کا باقی جسم نظرنہیں آتا۔ وہ انسانی جسم کی بُوسے ہی اپنی وفاداری کا ثبوت دیتا ہے۔ انسانی جسم کے مکمل ادراک کے ذریعے نہیں۔ یہ آنکھیں تو بس انسان کو ہی بخشی گئی ہیں جو اشیا کو ان کی سالمیت میں ایک ساتھ دیکھنے پر قادرہیں۔ اس لیے انسان یہ جانتا ہے کہ دوسرا کتنا کمزور، حقیر، احمق اور بےز بان ہے۔ اُسے کتنی آسانی کے ساتھ مسلا جا سکتا ہے، شکار کیا جاسکتا ہے، غلام بنایا جا سکتا ہے اور ذبح کیا جا سکتا ہے۔ اور جب تک کمزور اور بے جان جانور اس دنیا میں موجود ہیں وہ انسانوں کو اُن کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے اوراُن کی مال و دولت کا خراج اداکرتے رہیں گے۔ مگریہ سوال پھر بھی رہے گا کہ محض گوشت اور ہڈیوں کی قربانی ہی کافی ہے۔ کیا جانور کا دل اور روح اس میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پالتو بے زبان جانوروں کو بغیر رتّی بھر احساسِ جرم کے مار ڈالنے میں حق بجانب تھے۔ اُنھیں اتنے تاریک اور مایوس کن دنوں میں بھی اس امر کا خو ب احساس تھا کہ وہ تو دراصل اشرف المخلوقات ہیں۔

اب اگرکسی کے گھر سے موت کی خبرآتی ہے تو دوسرے لوگ اپنے اپنے فلیٹوں کی بالکونیوں میں کھڑے ہو کر زور زور سے ہنستے ہیں، تالیاں پیٹتے ہیں، برتن بجاتے ہیں۔ کیونکہ موت ہی وہ اصل قانونی دستاویز ہے جو اُنھیں وِرثے میں ملی ہے۔ موت ہی انسانوں کی جائز اور حلال جائیداد ہے اور ملک الموت ہی سب سے طاقتور منصف ہے۔ ایسے افراد کے دماغی توازن بگڑ جانے کی کسی کو پرواہ نہیں اور فی الحال اُن کے گھروں پر، اُنہیں پاگل خانے تک لے جانے والی کوئی گاڑی ابھی تک نہیں آئی ہے۔ اُدھر شہر کے کچھ پسماندہ علاقوں سے کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ وہاں لوگ بیماری سے بچنے کے لیے بھوت بن کر گھوم رہے ہیں۔ وہ تو ہم پرست اور بد عقیدہ لوگ ہیں۔ حاملہ عورتوں کے بھوت اور بچوں کے بھوت کا اور لمبے بالوں والے بھوت کا بھیس بدل کر دراصل وہ ایک ایسا کارنیوال منا رہے ہیں جس کی بنیاد دہشت اور خوف ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اُنھیں عقلیت پسندی اور سائنسی مزاج اخیتار کرنے کا درس دیتا پھرے۔ یہ وہ وقت نہیں جواس تعلیم کے لیے سازگارہو۔

گذشتہ تین دنوں میں اس پُراسرار اور تقریباً لا علاج بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ اس میں پانی کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے خود کشی کرنے والے یا قتل ہو جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔ مگرساتھ ہی ایک خوش آئند اور حیرت انگیز بات بھی سامنے آئی ہے۔ چنگی دفتر کے شعبہ اموات و پیدائش کے ریکارڈ کیپر نے بیان دیا ہے کہ اتفاق سے انھیں دنوں سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش بھی ہوئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسپتال والوں کی شماریات کا جب موازنہ کرکے دیکھا گیا تو ترسیم کے مطابق کسی ایک موت کےوقت کم سے کم چار نوزائیدہ بچوں کا تناسب نظرآیا۔ یہ ابھی ایک اطمینان بخش صورتِ حال کہی جا سکتی ہے کہ فی الحال کسی بھی حاملہ عورت کے اس بیماری کے سبب موت واقع ہونے کی خبر نہیں مل سکی ہے۔ اگرچہ توہم پرست اور ضعیف الاعتقاد حضرات اس مخصوص وقفے کو آسیبی اور شیطانی وقت کا ٹکڑا بتارہے ہیں جس لگاتار اموات کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی زیادہ سے زیادہ پیدائش ہوتی رہے۔ وہ اس وقفے کے دوران پیدا شدہ بچوں کو اس وبا کی شیطانی اولاد سمجھتے ہیں اوراُن کے ماں باپ کو بچوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ یہ پیش گوئی بھی کررہے ہیں کہ ایسے تمام بچے آہستہ آہستہ بہت کمزور اور دُبلے پتلے ہوتے جائیں گے۔ اُن کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا پڑتا جائے گااورآدھی رات میں اُن کے رونے کی آوازیں جنگلی لومڑیوں سے مشابہ ہوں گی۔ مگرچنگی کے دفتر کے اس ریکارڈ کیپر کو نہ تو یہ سب معلوم ہے اورنہ ہی اُس کا ان بچوں سے کوئی واسطہ ہے۔ اُس نے تو بس اتنا کیا ہے کہ اموات اور پیدائش، دونوں کے ریکارڈ اور سرٹیفیکٹ دو الگ الگ الماریوں میں بند کرکے تالہ لگادیا ہے۔

یاتو گرمی بڑھ جانے کے باعث یا کسی اور سبب سے لائف اپارٹمنٹس میں بڑی تعداد میں چھپکلیاں نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔ وہ دیواروں اور فرش پر رینگتی پھرتی ہیں مگربے حد ڈری ڈری اور سہمی ہوئی نظرآتی ہیں۔ اُن کی بٹن جیسی ننھی ننھی ساکت آنکھیں انسانوں سے کچھ مانگتی ہوئی سی نظرآتی ہیں۔ کبھی کبھی تو گرگٹ کی طرح اپنی دُم پر کھڑی ہوکر انسانوں سے اپنے ارتقاء کے سفرمیں پیچھے رہ جانےکا ہرجانہ طلب کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں مگرانسان اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔ اُسے اپنے ہی گناہوں کا اِزالہ کرنے سے فی الحال کوئی فرصت نصیب نہیں۔

آدھی رات کے بعد کھڑکیوں کے شیشوں پر چمگادڑ آآکرٹکراتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں۔ ان اطراف میں چمگادڑ کبھی نہیں پائے گئے ہیں مگراب غول بنا کر نہ جانے کہاں سے چلے آتے ہیں۔ چمگادڑ دنیا کی سب سے خوفناک اور ناقابلِ فہم مخلوق ہے۔ وہ تو ویمپائر تک کے سینےکا خون چوس سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس وائرس نےماحولیاتی توازن کو ضرب پہنچائی ہو۔ پربھی یہ افواہیں ہی کہیں جا سکتی ہیں اور افواہوں کو انسانوں کی طرح گھروں میں قید کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔ چاہے یہ کتنی بھی ناقابلِ یقین کیوں نہ ہوں مگریہ افواہ نہیں تھی ایک حقیقت تھی۔ جسے پہرہ دیتے ہوئے پولیس والوں نے بھی دیکھا کہ دن میں مکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں پراکثر گدھ اور چیلیں آکر اپنی چونچوں سے ٹکر مارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کے چونچیں زخمی ہو جاتی ہیں۔ چونچیں خون میں بھیگ جاتی ہیں، وہ کسی بُو پر پاگل ہو رہے ہیں۔

وہ بُوکس کی ہے؟ انسانی فضلے کی جو اَب اِن گھروں میں ہی سڑکر زرخیز کھاد بن جائے گا۔ خون کی جس کے کالے اور بڑے بڑے دھبے جم کر اور خشک ہو کر فرش کے ڈیزائن میں بدل جائیں گے۔ انسان کی بد مزاجی، غصے، نفرت اور پاگل پن کی جو جلد ہی ہوا بن کر اُڑ جائے گی۔ یا یہ موت کی بُو ہے جو ہمیشہ سے انسان کے بدن سے لپٹی ہوئی ہے۔ اُس کی کھال، گوشت اور ہڈیوں میں سمائی ہوئی موت کی یہ بُو ان دنوں شدید ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ یہاں آتے ہیں۔ شیشوں پر چونچیں مارتے ہیں۔ وہ دراصل گھروں کے اندر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ گھر جو اب ناقابلِ یقین طورپر اُن نقشوں کے مطابق تیار کیے گئے نظرآنے لگے ہیں جو قبروں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان گھروں میں اب وہی رمز ہے جو قبروں میں ہوتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ہر گھر میں ٹیلی ویژن پر صرف ایک ہی فلم چلی رہی ہوتی تھی۔ آج پھر وہ زمانہ لوٹ آیا ہے۔ یہاں ہر گھر میں ایک ہی گندی، بھیانک اور پاگل فلم چل رہی ہے۔

یہ فلورا سِٹی کا فلیٹ نمبر 13 ہے۔ اُن کی شادی ہوئے ابھی بس ایک ماہ ہی ہوا ہے۔ کچھ ضروری کاموں کی وجہ سے بار باراُن کے ہنی مون پر جانے کا پروگرام ٹل جایا کرتا تھا لیکن جس وقت ناکہ بندی کا اعلان ہوا، اُسی وقت اُن کی ٹیکسی اسٹیشن سے واپس کردی گئی اورگھر واپس پہنچ کر مایوسی اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں انھوں نے اپنے وہ بند سوٹ کیس کھولے جو درصل ایک خوبصورت پہاڑے علاقے کے ایک مہنگے ہوٹل کے کسی کمرے میں کھولے جانے کےلیے بند کیے گئے تھے۔ اب کافی دنوں سے وہ گھر میں قید ہیں۔ گھر، جس میں پانی کا نام و نشان نہیں ہے۔ شوہر جو آج سے تین ہفتے قبل تک بے حد اسمارٹ اور صاف ستھرا نوجوان نظرآتا تھا، آج کسی گھٹیا سے موٹر گیراج میں کام کرنے والا مستری نظرآرہا ہے۔ اُس نے اتنے دنوں سے شیو نہیں کیا ہے اوراُس کی داڑھی بے ترتیبی کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس لیے اُس کی بیوی کو وقت سے پہلے ہی یہ پتہ چل گیا ہے کہ اُس داڑھی میں کالے بالوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اُس کی اصل عمر پانی کی مستقل غیر حاضری نے ظاہر کردی ہے۔ وہ نہ جانے کب سے نہیں نہایا ہے۔ اُس کا سرچکٹ گیا ہے۔ سرکے بال تین رنگ کے ہو گئے ہیں۔ کچھ وہ بال جو ابھی سیاہ ہیں، کچھ وہ جو سفید ہیں اور سب سے زیادہ وہ بال جن پر لگایا گیا رنگ آدھا مٹ چکا ہے اس لیے وہ اُس رنگ کے نظرآنے لگے ہیں جو رنگ بندر کی کھال پر اُگے ہوئے روؤں کا ہوتا ہے۔ اُس کے کپڑے بہت گندے ہیں اور کپڑوں کے نیچے بنیان، ان سے بھی زیادہ گندی اور پسینے سے بھیگی ہوئی ہے۔ اُس کے بدن سے بدبو آرہی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہوجانے کے باعث اُس کے ہاتھ پیروں کی کھال پھٹنے لگی ہے۔ چہرے کی کھال کا بھی یہی حال ہے جسے اُس کی بڑھی ہوئی کھچڑی داڑھی نے ابھی چھپا رکھا ہے۔ اُس کی بیوی ایک کم عمر لڑکی ہے یا اب سے تین ہفتے پہلے تک کم عمر تھی اور خاصی قبول صورت بھی۔ اُس کے دہانے اور ہونٹوں پرایک خاص قسم کی معصومیت ہے۔ مگراب اُس کے خدوخال پہلے کی طرح نہیں رہے۔ اُس کی رنگت بہت سفید ہے جس میں ایک ایسا سنہری پن بھی شامل ہے جو لیموں کے تازہ اور شاداب چھلکے میں ہوتا ہے، مگر یہ کچھ ہفتے پرانی باتیں ہیں۔ اب اُس کی سفید جلد پر کالے کالےمیل کے چھپڑ جگہ جگہ جمتے جارہے ہیں۔ اُس کے سیاہ گھونگھرالے بال اُلجھی ہوئی جوٹ کی میلی رسیاں بن گئے ہیں۔ گھونگھرالے بالوں کو اگرپابندی کے ساتھ روز نہ دھویا جائے تو اُن میں بہت جلد جوئیں پڑجاتی ہیں۔ وہ بھی نہ جانے کب سے نہیں نہائی ہے۔ ابھی حال ہی میں گزرے ہوئے ایامِ حیض کے بعد بھی نہیں۔ اس کے بالوں میں جوئیں پڑگئی ہیں۔ جو دن سے زیادہ رات میں اُس کے دماغ کا خون پینے کےلیے بری طرح رینگتی پھرتی ہیں اور کبھی کبھی بالوں سے گر کر تکئے اور کپڑوں پر بھی آجاتی ہیں جنہیں وہ چٹکی سے مسلتی رہتی ہے۔ سراوربالوں میں اس قدر کھجلی ہے کہ وہ ہروقت بالوں میں کنگھا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے مگر کامیاب نہیں ہو پاتی کیونکہ اُس کے بری طرح اُلجھے ہوئے میلے کچیلے گھونگھرالے بالوں میں پھنس کر کنگھے کے دانتے ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔ اُس کے جسم میں پسینے اور سڑاندھ کے سوا کچھ باقی نہیں رہاہے۔ اُس نے اپنی گندی، پسینے سے بھیگی ہوئی بریزئر اُتار کر پھینک دی ہے تاکہ سینے اورپیٹھ پر آسانی سے کھجا سکے۔ اُس کے لمبے لمبے ناخنوں میں کالا میل بھر ا پڑا ہے اور ایڑیاں پھٹ رہی ہیں۔ ایڑیوں میں بڑی بڑی کھانپیں ہو گئی ہیں۔ اُس کے جسم کا سارا پانی سوکھ رہا ہے۔ بریزئر اُتار کر پھینک دینے کے سبب سے اُس کے بڑے بڑے پستان نیچے کو لٹک آئے ہیں۔ وہ ایک عمر رسیدہ اور کئی بچوں کی ماں نظرآنے لگی ہے۔ اُس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں اس لیے بات بات پراُس کی آنکھوں سے آنسو نکل کراُس کے خشک اور پھٹتے ہوئے گالوں پر بہنے لگتے ہیں۔ چھوٹی آنکھوں سے جلدی باہر آتے ہیں۔ بڑی آنکھوں میں پھیل کروہیں خشک ہو جاتے ہیں۔ اُس کی آنکھیں پیلی بھی ہو رہی ہیں بالکل اُلو کی طرح جو رات کو کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے اُن دونوں کو اپنی پیلی پیلی آنکھوں سے گھورتا ہے۔ جہاں تک پیلے غبار کا سوال ہے تو وہ تو رات میں بھی کم نہیں ہوتا۔ وہ بدستور موجود ہے اور ہوا چلنا بھول چکی ہے۔ ہوا کی یادداشت میں صرف سوکھی جھاڑیاں اور ببول کے درخت رہ گئے ہیں جو زمین میں پانی کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اور انتقاماً اپنے اوپر کانٹے اُگا لیتے ہیں۔ وہ اپنی پیلی پیلی آنکھوں میں ہر وقت آنسو لیے گھر میں اِدھر اُدھر چکر کاٹتی رہتی ہے۔ یہ آنکھیں ہمیشہ ڈبڈبائی رہتی ہیں۔ کبھی کبھی اُس کے شوہر کی محبت میں ایذا پسندی کا تصور دل ہی دل میں پیدا ہو جاتا تھا۔ وہ اکثر سوچا کرتا اور یہ شادی کی پہلی رات کے بعد سے ہی تھا کہ اگراُس کی بیوی کے جسم میں خنجر اُتار دیا جائے تو وہ آنسوؤں کے نمکین پانی کے خزانے میں ڈوب جائے گا۔ شاید اُس کی بیوی کے جسم میں خون تھا ہی نہیں۔ وہاں صرف آنسو ہی رگوں میں دوڑتے تھے۔ محبت کے گھنے کالے بادلوں میں نفرت کو ندے کی طرح چمک کرلپکتی ہے۔ اس روشنی میں اشیا اپنے اصل خدوخال میں پہچان لی جاتی ہیں۔ وہ سوچتا کہ اگراُس کے نازک بدن کو چاقو سے ہلکا سا بھی چھیلا جائے تو وہ کتنا روئے گی۔ اُس کے بدن سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہو جائے گا جس میں اُس کی روتی ہوئی آنکھیں بھی بہہ جائیں گی۔ دراصل ہمیں چہرے نہیں دیے گئے ہیں۔ ہمیں صرف مکھوٹے دیے گئے ہیں۔ ہمیں جذبات کے نام پر غصہ، چڑ چڑاپن، ایذا رسانی، ہسٹریا اور پاگل پن ہی مل پائے ہیں۔ محبت اور معافی تو ایسی چیزیں ہیں جو انسانوں کے چکنے دل پرسے ہمیشہ ہی پھسل کرگرجاتی ہیں، بہہ جاتی ہیں۔

آج بھی پانی نہیں آیا۔ شوہر نے پوچھا تھا۔ نہ۔ بیوی نے جواب دیا۔ تم نے پانی کی ٹونٹی کھول کر دیکھی تھی۔ شوہر نے پوچھا تھا۔ ساڑی ٹونٹیاں کھلی ہوئی ہیں۔ بیوی نے جواب دیا تھا۔ شوہر مایوس ہوگیا تھا۔ حالانکہ اُس کا سوال اوراُس کی مایوسی اس وقت دونوں ہی احمقانہ تھے۔ یہ وہ جوڑا تھا جو ہمیشہ ایک دوسرے سے لپٹا رہتا تھا۔ ہاتھ میں ہاتھ تھام کر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے کی کمر میں ڈال کر باہر نکلا کرتا تھا اور جب دیکھو وقت بے وقت مباشرت کرتا رہتا تھا۔ آج دونوں کو ایک دوسرے کے قریب بیٹھ جانے سے بھی پریشانی ہونے لگتی تھی اور شاید ایک دوسرے کے وجود سے ہی چڑ سی محسوس ہوتی تھی۔ اتنی زیادہ جسمانی خواہش اور شہوت کے باوجود ممکن ہے کہ صرف اس لیےکہ فی الحال وہاں نہ محبت تھی نہ خواہش۔ ویسے بھی محبت ہمیشہ نہیں ہوتی۔ وہ آتی جاتی رہتی ہے۔ آخر محبت کوئی آوارہ مکھی تو نہیں کہ گندگی کی پوٹلیاں بنے ہوئے دونوں کے جسموں پر آکر بیٹھ جاتی اور بدنیتی کے ساتھ انھیں چاٹنے لگتی۔

تمھاری چھاتیاں کتنی لٹکی ہوئی اور ڈھیلی ڈھالی ہیں۔ تم نے اپنی عمر غلط لکھوائی ہے۔ تم مجھ سے عمر میں بڑی ہو۔ شوہر نے مرد میں تبدیل ہوتے ہوئے غصے کے ساتھ کہا۔ وہ رونے لگی۔ تمہیں رونے کے علاوہ کچھ اور بھی آتا ہے۔ وہ اور زور سے رونے لگی۔ یا پھر اگر تمھاری عمر وہی ہے جو تمھاری ماں نے بتائی تھی تو تم شادی سے پہلے کی کھائی کھیلی ہوئی ہو۔ مرد کے لہجے کا زہر آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ جس طرح جسم میں کوئی خطرناک بخار آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ وہ بھونچکی ہوکر اُسے دیکھنے لگی ہے۔ دیکھ کیا رہی ہو، مجھے تو شادی کی پہلی رات میں ہی شک ہو گیا تھا مگر میں نے دل کو سمجھا لیا۔ خیر رونا بند کرو۔ دیکھو تمھارے اندر سے کیسی بدبو آرہی ہے اور یہ کانوں میں بُندے کیوں نہیں ڈالے۔ تمھارے زیور کہاں گئے؟ کیا بیچ کر کھا گئیں؟ چلو بُندے ڈالو کان میں۔ مرد سرد مہری کے ساتھ کہتا ہے۔ کیوں مذاق کررہے ہیں۔ وہ سسکیاں لیتی ہوئی کہتی ہے۔ اچھا تو میں مذاق کررہا ہوں، اداکاری کرکے تمھیں رِجھا رہا ہوں۔ مرد چلاتا ہے۔ واقعی وہ اداکاری نہیں کررہا ہے کیونکہ ایک اداکار کے لیے سب سے مشکل کام اپنے اندرونی جذبات اور تاثرات کے اظہار کو کامیابی کے ساتھ چھپا لینا ہے مگرمرد کے چہرے پراُس کے اپنےاصل نجی تاثرات کے علاوہ اداکاری کی ہلکی سی پرت بھی نہیں ہے۔ یہ سخت نفرت اور غصے سے پاگل ہوتا ہوا ایک نابیدہ چہرہ ہے۔ مرداُٹھتا ہے اور سامنے سنگھار میز پر رکھی ہوئی ایک سرخ ڈبیہ اُٹھاتا ہے۔ ڈبیہ میں سونے کے چمکتے ہوئے دو خوبصورت بُندے ہیں، وہ بُندے نکال کر اُس کے پاس آتا ہے۔ پہنو۔ ڈالوں کان میں۔ اچھا نہیں ڈالو گی۔ وہ پیچھے کی طرف سرک رہی ہے، اُس کا سر دیوار سے جا لگا ہے۔ مرد ایک ہاتھ سے اُس کی گردن تھام لیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے چھِدے ہوئے کان میں بُندہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ نہیں مانتی تو مرد دوسرے ہاتھ سے اُس کے کان کی لَو پکڑ کر پوری طاقت کے ساتھ کھینچتا ہے۔ اور کان کی لَو میں بنے ہوئے ننھے سے سوراخ میں بُندے کا کانٹا پیوست کردیتا ہے۔ اُس کے منھ سے ایک دردناک چیخ برآمد ہوتی ہے۔ سختی اور بے احتیاطی کے ساتھ ڈالے گئے بُندے کے کانٹے نے اُس کے کان کی لَو کو زخمی کردیا ہے۔ وہاں سے تازہ تازہ خون رِس رہا ہے۔ ایک ایسا خون جس میں لال رنگ کم ہے اور پیلا زیادہ۔ وہ روئے جا رہی ہے، کچھ تکلیف کے آنسو ہیں، کچھ صدمے کے مگردونوں آنسوؤں کا رنگ یکسر ایک ہے۔ مرد کے ہاتھ سے دوسرا بُندہ کہیں پھسل کرگرگیا ہے۔ وہ کچھ دیر اُسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ بُندہ نہیں ملتا ہے۔ وہ پھر آکر اُس کے قریب کھڑا ہوگیا ہے۔ شادی سے پہلے تم کون سے بیوٹی پارلر جایا کرتی تھیں؟ میں کبھی نہیں گئی، شادی والے دن دُلہن بنانے کے لیے آئی تھی گھرپر ایک پارلر والی۔ اوہ اچھا! تم تو شادی کے بعد روز میک اپ کرتی تھیں، لپ اسٹک لگاتی تھیں۔ خوب سجتی سنورتی تھیں، مجھے رِجھانے کے لیے۔ وہ کیا تھا۔ کیا اب میں مرگیا ہوں، تم بیوہ ہو گئی ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے۔ میں کچھ نہیں جانتی۔ میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔ حلق سوکھ گیا ہے۔ وہ پھر زور زور سے رونے لگی ہے۔ اُس کے ایک کان میں بُندہ لگ رہا ہے، جس پر خون جمتا جاتا ہے۔ دوسرا کان خالی ہے۔ یہ دونوں کان اچانک ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے ہیں۔ جیسے خدا نے اُنہیں ایک چہرے پر نہیں بنایا تھا۔ یہ جڑواں کان نہ تھے۔ یہ بچھڑ کراِدھر اس چہرے پر غلطی سے آکر چسپاں ہو گئے تھے۔

رات بڑھ رہی ہے اور مرد کی دیوانگی بھی۔ وہ اُسی طرح کھڑا ہو اُسے گھورے جارہا ہے تو اب تمھارا کیا فرض ہے؟ میں تمھارا مجازی خدا۔ نہا دھوکر آؤ۔ اچھا پانی نہیں ہے۔ ہاں مجھے معلوم ہے کہ پانی نہیں ہے تو پھر میک اَپ کرو۔ سنگھار کرو۔ پہلے خوب سجو اورپھر میرے ساتھ سوؤ۔ کھچڑی داڑھی میں پوشیدہ مرد کے گال پتہ نہیں کیوں بار بار پھولنے اور پچکنے لگے ہیں۔ دور کسی کلاک ٹاور نے رات کے بارہ بجائے ہیں۔

ٹھیک ہے تم نہیں مانو گی۔ میں لے کرآتا ہوں تمھار بیوٹی بکس۔ میں سجاؤں گا تمھیں۔ مرد دوڑتا ہوا دوسرے کمرے میں گیا ہے۔ اوراُس کا بیوٹی بکس اُٹھا کر لے آیا ہے۔ دیکھو تمہارے چہرے پر پانی کی وجہ سے کتنی لکیریں ہیں۔ کتنی جھریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔ یہ ڈی ہائیڈ ریڈشن ہے۔ یہ نابیدہ چہرہ نئی نئی دُلہن پر کتنا گندا لگتا ہے۔ اور کتنا زرد ہو رہا ہے۔ کیا سارا خون ضائع کردیا یا تمھیں یرقان ہوگیا ہے۔ چلو لگاؤ یہ۔ مرد کے ہاتھ میں کوئی شیشی ہے، وہ روتی ہوئی فرش پر لڑھک جاتی ہے۔ میں ہاتھ پیر باندھ دوں گا تمہارے۔ یہ روٹھی ہوئی رنڈی جیسے نخرے مت کر۔ ایسا چہرہ بھیانک ہے۔ شادی شدہ عورت کا ایسا بنجر چہرہ خدا کو بھی پسند نہیں۔ مرد غرا کر کہتا ہے۔ اوراُس کے سینے پر سوار ہوکر گالوں پر زبردستی بلش لگا دیتا ہے۔ لے لگا کُتیا، لگا۔ اپنی سخت کھردری انگلیوں سے وہ اُس کی پلکوں پر مسکا لگاتا ہے۔ چہرے پر فاؤنڈیشن مَلتا ہے اورپھراُس پر سفید پاؤڈر ڈال دیتا ہے۔ وہ ایذا پسندی کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اپنی موٹی اور بے رحم اُنگلی سے وہ اُس کی روتی ہوئی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں کاجل پوت دیتا ہے۔ وہ اب رو نہیں سکتی۔ کاجل کی سیاہی سے اُس کی آنکھیں مچ گئی ہیں۔ وہ اب صرف چیخ رہی ہے اور فرش پر پڑی پڑی اپنی ایڑیاں رگڑ رہی ہے۔ ایڑیاں جن میں پانی کے فقدان کے سبب دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ مردا پنا ایک ہاتھ اُس کی گردن پر اس طرح رکھتا ہے جیسے گلا گھونٹ دے گاپھر دوسرے ہاتھ سے اُس کے معصوم ہونٹوں پر بہت تیز سرخ رنگ کی لپ اسٹک پوت دیتا ہے۔ اب اچھا لگانا۔ یہ لے پرفیوم لے۔ بدبو آرہی ہے تجھ میں سے۔ وہ عورت کے میلے کپڑوں اور گندے جسم پر عطر کی پوری شیشی خالی کردیتا ہے۔ گھر میں پہلے سے پھیلی ہوئی بدبو عطر کی خوشبو کے ساتھ مل کر اور بھی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے جیسے شیطان اور فرشتے۔ کسی گہری سازش کے تحت دنیا کو نیست و نابود کردینے کے درپے ہو گئے ہوں۔ دلہن سج گئی۔ مرد بڑبڑاتا ہے اوراُس سے دور جاکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اُس نے آنکھیں کھول لی ہیں اور چھت کو دیکھے جارہی ہے۔ آنکھوں پراتنا کاجل لگا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے اُس نے آنکھوں پر کالی پٹی باندھ رکھی ہو۔ شاید اُس کی آنکھیں بند ہیں۔ نہیں کھلی ہیں۔ اُسے محسوس ہوتا ہے جیسا ہزاروں کی تعداد میں چیونٹیاں آکر اُس کے چہرے پر چمٹ گئی ہیں۔ وہاں ایک خوفناک جلن پڑتی جا رہی ہے۔ اور ایک بھیانک خارش۔ کمرے کی کھڑکی پر اُلّو آکر بیٹھ گیا ہے اور اپنی گول گول پیلی آنکھوں سے نہ جانے کس شے کو گھورے جارہا ہے۔ مرد دیوار کی طرف منھ کرکے کھڑا ہو گیا ہے۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے منھ کو چھپا لیا ہے اور بے اختیار رونا شروع کردیا ہے۔ اُسے پیچھے سے دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی زلزلے کی وجہ سے کوئی قد آدم پتھر اچانک ہلنے لگتا ہے۔ فرش پر پڑی ہوئی عورت کا چہرہ جو اَب سرکس کے کسی گھٹیا جو کر سے مشابہہ ہے یا کسی سڑک چھاپ ہجڑے سے، کندھوں سے تھوڑا اوپر اُٹھتا ہے پھر نیچے ڈھلک جاتا ہے۔ اُس کے منھ سے پہلے ایک ہچکی کی سی آواز نکلتی ہے۔ پھر وہ زور زور سے ہنسنے لگتی ہے۔ اُس کی آنکھوں اور جسم میں پوشیدہ آنسوؤں کا سیلاب خشک ہو چکا ہے۔ یہ ہنسی کچھ ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے کسی برتن کو، اُس سے بھی زیادہ وزنی دھات کے برتن سے کوٹا جا رہا ہو۔ ایک ایسی آواز جسے زیادہ دیر تک سننے کے بعد کسی کو دل کا دورہ پڑسکتا ہے۔

آدمی کے وجود میں وہ کون سا تیزاب پوشیدہ رہتا ہے جو اُس کے ہر نیک اور عظیم جذبے کو جلا ڈالتا ہے۔ ہم نئے نئے دائرے بناتے ہیں، پھر خود ہی اُن میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک نیا دائرہ ہے جس میں قید ہو جانے کے بعد اتنی گندی مایوسی میں اگر کچھ بہتر سوچا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ اگرمحبت نہیں ہے تواِس اجنبی، غلیظ اور خوفناک دنیا میں خدا بھی نہیں ہے کیونکہ خدا محبت کا دوسرا نام ہے۔ انسانوں کا، محبت کا لمس چاہیے۔ اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے خدا چاہیے۔ ورنہ یہ وہ مایوس کن صورتِ حال ہے جس میں آدمی خدا پر بھی یقین کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ شاید یہ ایک خواب ہے جسے انسانوں نے مرنے سے کچھ دیر پہلے دیکھا تھا اوروہ اُن کے تحت الشعور کے کسی ریشے میں پھنسا رہ گیا تھا۔ آج وہی خواب بھٹک کر یہاں آگیا ہے۔ اُسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ خواب ہی اپنے آپ کو دیکھ رہا ہے۔ ہمیں اس کے مآخذ کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خوابوں کے ماخذ، خوابوں سے بھی زیادہ گندے اور سیاہ ہوتے ہیں۔ آدھی رات میں باہر پھیلی ہوئی زرد دُھند میں نہ جانے کہاں سے جھنڈ بنا کر جنگلی لومڑیاں چلی آئی ہیں۔ پاگل کتے سہمی ہوئی اور خوف کھاتی ہوئی آوازیں نکال کر اُن کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ رُک جاتے ہیں کیونکہ جنگلی لومڑیوں کے منھ سے نکلنے والی چیخیں کتوں کی آوازوں سے زیادہ بھیانک ہیں۔ اگر کبھی بارش ہوئی اوراُس میں اتفاق سےدھوپ بھی نکلی ہوئی ہو تو یہ لومڑیاں اپنی شادی رچائیں گی۔ مگرافسوس کہ اس شادی کو دیکھ لینے والا کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک خفیہ شادی ہوگی۔ لومڑیوں کی شادی دیکھنا انسانوں کے لیے منع ہے۔

[dropcap size=big]جنت[/dropcap]

باغ کے 13 نمبر کے فلیٹ میں ایک تنہا جنونی اور بیمار شاعر رہتا ہے۔ فلیٹ کے اندر سے اکثر اُس کے بڑ بڑانے یا بلند آواز میں کچھ پڑھنے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ وہ کسی سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ اکثر اُسے کھڑکی یا بالکونی پر کھڑے ہوئے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ تین ہفتون سے اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ پولیس والوں نے بھی اُس کی کوئی جھلک کھڑکی پر نہیں دیکھی۔ یہ دن ایسے ہیں جب کوئی کسی کو نہیں دیکھتا۔ کوئی کسی کو نہیں سنتا۔ کسی کو کسی کی خبر نہیں ہے۔ ٹیلی فون کے تار کاٹ دیے گئے ہیں۔ کسی کے گھر میں ٹیلی فون کی گھنٹی نہیں بجتی۔ مگرگدھ اور چیلیں دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ آدھی رات میں پیلی آنکھوں والے اُلّو سب کی خبر رکھتے ہیں۔

نہیں! مجھے سب معلوم ہے کہ یہ پانی کی بھیانک کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ میری نظمیں سوکھ چکی ہیں۔ ان میں پانی کا قطرہ تک نہیں ہے۔ یہ جو مجھے وہم ہو رہے ہیں۔ التباس ہو رہے ہیں ان کا سبب خون میں پانی کا ختم ہو جانا ہے۔ یہ وہم ادراک ایک خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ تو اچھا ہی ہے کہ خواب میں میرا جسم بھی شامل ہوتا ہے۔ ورنہ بغیر جسم کی روح تو زیادہ گناہ گار ہوتی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے جسم میں اب نمک کے چند ذرات ہی بچے رہ گئے ہیں۔ اس لیے میں اپنے آپ کو مرتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ شاید یہ میری زندگی کی آخری رات ہو۔ ایک مضحکہ خیز رات جس میں کتے بار بار بُرے خواب دیکھ کر چونکیں گے، جھرجھری لیں گے۔ ایک بار بھونکیں گے، پھر سو جائیں گے۔ کتوں کو نہیں معلوم کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کلینڈر کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ میں دیوار دیکھ رہا ہوں جہاں ایک مکڑی جالا بُن رہی ہے۔ وہ دیوار اور وقت کو ایک ساتھ مٹانے کی کوشش میں ہے۔ میں کچھ اچھی یادوں کی تلاش کرنے میں لگا ہوا ہوں۔ مگراب وہ اچھی یادیں نہیں کہی جا سکتی ہیں۔ ان کی اچھائی میں اُجلا پن نہیں ہے بلکہ موت کی سفیدی ہے۔ جبکہ بُری یادیں میری کھوپڑی کے وسط میں سوراخ کرکے میرے بھیجے کا سارا خون پینے میں مصروف ہیں۔ کیا زندگی اور موت دونوں سے الگ بھی کوئی دنیا ہوگی۔ ابھی میں سو گیا تھا۔ میں نے خواب میں مُردے ڈھونے والی گاڑیاں دیکھیں۔ وہ سب سیاہ رنگ کی اسٹیشن ویگن تھیں اور قطار سے نمبر لگائے کھڑی تھیں۔ ہر گاڑی پر سفید چاک سے لکھا تھا: ‘لاش کے واسطے۔’

کتے بھونک رہے ہیں۔ میرے کان بیماری سے زیادہ سننے لگے ہین۔ وہم میں مبتلا ہر شخص کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ میرے کان توہمیشہ سے ہی بہت تیز ہیں۔ کتے بھونک رہے ہیں۔ کتے کمرے کی دیوار پر آکر بیٹھ گئے ہیں۔ ان سارے کتوں کا رنگ پیلا ہے۔ یا میرا جگر خراب ہوگیا۔ جسم میں پانی نہ رہنے کی وجہ سے سب سے پہلے جگر اور گردے ہی خراب ہوتے ہیں۔ سارا آسمان کتوں سے گھرا ہوا ہے۔ سارا آسمان پیلا ہے۔ زرد بالوں جیسے، رات کے یہ مہیب کتے۔ یقیناً یہ ایک سگ زدہ رات ہے۔ شاید میری آنکھیں پیلی ہوئیں۔ میری آنکھیں بند ہیں۔ مگرمیں اپنی اِن بند آنکھوں سے دیوار پر سب کچھ دیکھ سکتا ہوں۔ دیوار پر تماشہ چل رہا ہے۔ کتنی پرچھائیاں ہیں وہاں اور کتنی روشنی ہے۔ کتنے لوگ سفر پر جارہے ہیں۔ میرے کمرے سے ٹوائلیٹ کی دوری کتنی ہو گی۔ چاقو کی ایک گندی چبھن میری آنتیں کاٹ کر رکھ دے گی۔ میری ساری دنیا زرد پڑ گئی۔ میری محبت بھی۔ میں گھر میں بالکل اکیلا ہوں۔ میرا اکیلا پن بھی زرد ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب دھوکہ ہے۔ فریبِ نظر ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ گھر میں پانی نہیں ہے اور میری آنکھوں میں نیند نہیں ہے۔ نیند یہاں آنا مشکل ہے۔ سوچتا ہوں بیتی ہوئی زندگی کے کوڑے دان میں جاکر اطمینان سے لیٹ جاؤں اور سوجاؤں۔ مگرسارے کوڑے دان لبا لب بھرے ہوئے ہیں۔ اُن میں میرے لیٹنے کے لیے اب جگہ ہی نہیں بچی ہے۔ میرے سر کے عقبی حصے میں روشنی کے جھماکے ہو رہے ہیں۔ اسی روشنی میں، میں اپنے گھر کو دیکھ لیتا ہوں۔ جہاں اتنی بدبو پھیلی ہوئی ہے جیسے ہر کونے میں مرے ہوئے چوہے سڑ رہے ہوں۔ مگراب میری ناک بند ہو گئی۔ اب میں بدبو نہیں سونگھ سکتا۔ دراصل میری ناک میں وہ خون جم گیا ہے جو کچھ دن پہلے میرے دماغ کی رگ پھٹنے کے باعث نکلا تھا مگرکوئی بات نہیں۔ مجھے یہ بدبو نظرآرہی ہے۔ میں یہ بدبو سونگھ نہیں سکتا، مگردیکھ تو سکتا ہوں۔ میری بند آنکھیں، میری بند ناک کی مدد کررہی ہیں۔ ایسا ہی ہونا چاہیے، یہی تو آپسی محبت ہے۔ میں نے بہت پہلے اپنی محبت کو کھو دیا۔ میں اُس کے گھر جانا چاہتا ہوں۔ وہاں جہاں سب کے گھر ختم ہو جاتے ہیں۔ آبادی ختم ہو جاتی ہے۔ تب بہت دور چلنے کے بعد، کئی موڑ مڑنے کے بعد اُس کا گھرآتا ہے۔ یہی گھر تو میرا بھی تھا۔ یہاں اندھیرا بہت ہے اور میں سمت بھول جانے کا پرانا مریض ہوں۔ ہر گناہ گار کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہ اپنے گھرجانے کی سمت بھول جائے تاکہ جہنم کے سپاہی گھر میں جانے سے پہلے ہی اُسے گرفتار کرکے لے جائیں اور جہنم کی آگ کے سپرد کردیں۔ پانی نہیں آرہا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے اور تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ مجھ سے اُٹھا کیوں نہیں جاتا۔ کب سے بستر پر پڑا ہوں۔ ریڑھ کی ہڈی دُکھ گئی، مگرجب اُٹھ جاتا ہوں تو سیدھا لوہاروں والی گلی میں چلا جاتا ہوں۔ا س گلی میں تو میری محبوبہ رہتی ہے۔ اس گلی میں ہر طرف آگ ہی آگ دہک رہی ہے جس میں لوہا تپ رہا ہے۔ میں نے اپنی وہ نظم بھی اِسی آگ میں ڈال دی۔ جو میں نے اُس کے لیے لکھی ہے۔ آگ میں میری نظم بھی تپتا ہوا لوہا بن جائے گی۔ میں نے اُس سے کہا تم سے پہلے میں کسی عورت کو جانتا تک نہیں تھا۔ اُس نے کہا میں تم سے پہلے کسی مرد کو جانتی تک نہ تھی۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے عورت اور مرد ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں پھر آہستہ آہستہ وہ ایک دوسرے کو وہ سب سکھانا شروع کردیتے ہیں جو وہ ازل سے ہی جانتے ہیں۔ شاید سبق سکھانا اسی کو کہتے ہیں۔ اس جاننے اور سیکھنے کے درمیان ایک گندے پوکھر میں محبت ایک بغیر سنّوں والی بدنصیب مچھلی کی طرح پھڑپھڑاتی رہتی ہے اُسے پتہ نہیں کہ اُس کی چکنی جلد کے لیے اُسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ مگرمجھے پسینہ بالکل نہیں آرہا ہے۔ آئے بھی کہاں سے، بدن میں پانی ہی نہیں ہے۔ بس اب کھال پھٹ کر خون باہر آنے کی دیر ہے۔ ہونٹ دیکھو، کیسے پھٹ گئے ہیں۔ زبان جکڑ گئی ہے۔ ورنہ ہونٹوں پر پھیر لیتا۔ اس وقت اُس کے نرم گیلے ہونٹوں کا یک بوسہ ہی میری جان بچا سکتا ہے۔ نہیں مجھے معلوم ہے کہ یہ سب میرا وہم ادراک ہے اور کچھ نہیں۔ پانی کبھی تو آئے گا، پانی مر نہیں سکتا۔ پانی سب کو غرق کرسکتا ہے مگرخود اپنے اپ کو نہیں۔ پتہ نہیں پانی کے مسئلے پر ملک میں جو مختلف صوبائی تنازعے چل رہے ہیں اُن کا کیا ہوا۔ کس صوبے کو زیادہ پانی ملا اوراُس ڈیم کا کیا ہوا جس نے ایک پورے شہر کو ڈُبو کررکھ دیا تھا۔ شاید کل سپریم کورٹ فیصلہ سنادے۔ میں بھی تو سپریم کورٹ کا ایک جج ہوں۔ مگرمجھے یہ سب جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ علم کے جنگل سے سُور کی طرح منھے لٹکائے ہوئے ہی واپس آیا جا سکتا ہے۔ ایک مچھر لگاتار میرے کان میں نوحہ سنائے جارہا ہے۔ یہ میری کھڑکی کے شیشے پر آگ کا سایہ کیسے منڈلایا۔ شاید باہر پولیس والوں نے ایک پاگل کتے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ہے۔ وہ جانور دھڑا دھڑا جل رہا ہے۔ اُس کا جلتا ہوا سایہ بگولے کی طرح ناچ رہا ہے۔ ویسے یہ سب پانی کی وجہ سے ہے۔ یہ فریبِ نظر ہے۔ کیا پانی آگیا۔ دیکھوں تو جا کر۔ چلو بعد میں دیکھوں گا۔ ابھی تو میں ایک ایسے جنگل میں ہوں جہاں نہ درخت ہیں نہ گھاس۔ اصل جنگل تو یہی ہے جہاں جانور ننگے گھوم رہے ہیں۔ زیبرے کی خوبصورت دھاریاں سوکھ کر پپڑی بن کر اُس کے جسم میں گرگئی ہیں۔ میں خدا میں پو را یقین رکھتا ہوں اس لیے دنیا میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں خدا کی خاموشی سے پریشان ہوں۔ اگرمیں خدا کو نہ مانتا ہوتا تو دنیا میری سمجھ میں آجاتی۔ یہ ایک فائدہ تھا کہ پھر تنہائی، خوف اور بے رحمی سب شفاف ہو جاتیں اور موت آسان اور زندگی اُس کے ہونٹوں کی طرح میٹھی اور مزیدار۔ پھر زندگی اور موت کے درمیان خدا نہ ہوتا۔ کسی بھی مطلق سچائی کو نہ تسلیم کرنے میں ہی نجات ہے۔ مگریہ سوچنا گناہ ہے۔ میں اس لیے یہ سوچ رہا ہوں کہ میرے اندر سوکھا پڑ گیا ہے۔ جو کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ پانی کا ارتقا ندیوں اور سمندروں میں نظر آتا ہے۔ ایک شاندار ارتقا۔ مگرہمیں اُس پانی سے ہوشیار رہنا چاہیے جو چھپ چھپ کر، گہرے گڈھے، کنوئیں اور باؤلی میں رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا پانی ہے جس کے دل میں بغض بھرا ہوا ہے۔ چھپی ہوئی چیزون سے ہوشیار۔ مجھے بھوک لگنا بند ہو گئی ہے اور پیاس بھی نہیں لگتی۔ پیاس کے لیے ایک گلا ہونا ضرور ہے اورا ُسے میں لوہاروں کی گلی میں بھول آیا ہوں۔ اب مجھے چلنا چاہیے۔ یہ کتے تو بھونکتے ہی رہیں گے۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی اصل دنیا نہیں معلوم ہوتی۔ یہ اصل دنیا کی پیروڈی ہے۔ شیطان کی لکھی ہوئی پیروڈی۔ مجھے خدا کے پاس جانا ہے۔ خدا کی اصل دنیا میں ہی مجھے پانی ملے گا۔ ہلکورے مارتا ہوا پانی۔ آبِ حیات بھی وہیں۔ یہاں تو آبِ مرگ یا آبِ فنا کا ایک قطرہ نہیں بچا ہے۔ مجھے احساس ہو چلا ہے کہ میرا یہ کہنا یا ارادہ کرنا ایک خنجر کو پانی کے اندر چلانے جیسا ہے۔ اوریہ سب میرے جسم کی نابیدگی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ میرا جسم گیلی گولیے کی طرح کب کا نچوڑا جا چکا اور اب ایک سوکھی جھلّی کی مانند الگنی پر لٹکا ہوا ہوا میں ہل رہا ہے۔ ایک خنجر پانی کے اندر چاقو کا ایک وار پانی کےاوپر، رائیگاں، بیکار۔ وہ ڈوب گیا۔ بس مچھلیاں پانی کے اندر اپنا راستہ بھول گئی ہیں کیونکہ اس بارے مچھیرے جال لے کر نہیں آئے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں میں کھلے ہوئے چاقو دبے ہیں۔

دُور، بہت دور، گھروں میں ساری روشنیاں بند کردی گئی ہیں۔ وہاں مدھم لَو والے چراغ روشن کردیے گئے ہیں۔ جن میں بجلی کی کمینگی اور شیطینیت کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ یہ ایک پاکیزہ روشنی ہے جس میں نیک روحیں دوبارہ جنم لیتی ہیں۔ نیکی بدی پر فتح پانے کے لیے اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ پیلے غبار کی چھت کے نیچے سوتا ہوا یہ شہر جلد ہی جاگنے والا ہے۔

کیا پانی آگیا۔ کیا پانی آنے والا ہے۔ مرنے سے پہلے میں نے اُسے دور سے آتا ہوا دیکھ لیا اوراُس کی آواز سُن لی۔ اب سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جس طرح آنکھ آہستہ آہستہ اپنی روشنی گنواتی ہے۔ جس طرح دق پھیپھڑوں پر آہستہ آہستہ جمتی ہے۔ مجھے بخار ہے۔۔۔۔ تیز بخار۔ اس بخارپر کوئی بالٹی بھر کر پانی ڈال رہا ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ پانی آگیا۔ مگرسچ ہے کیا۔ کتنے راستے ہیں جو اُس کے گھرجاتے ہیں مگرسچ ایک ایسا کرایہ دار ہے جو زیادہ دن ایک مکان میں نہیں ٹھہرتا۔ نقلِ مکانی اُس کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ میں نے پانی کو آتے ہوئے دیکھ لیا ہے، پانی ننگے پیر آرہا ہے۔ میں نے پانی کی کمی کی وجہ سے اپنے جسم کو مرجانے کے لیے راضی کرلیا ہے۔ میں پانی پر اپنا خون معاف کرتا ہوں۔

[dropcap size=big]اس[/dropcap]

نےاپنے بچپن سے ہی یہ کام سیکھ لیا تھا، جب وہ اپنے باپ کے ساتھ جگہ جگہ ٹیوب ویل اور ہینڈ پمپ لگوانے جایا کرتا تھا۔ اُس کا خاندان نل والوں کا خاندان کہا جاتا تھا کیونکہ اِس خاندان اور کنبے کے تمام افراد ایک زمانےسے یہی کام کرتے چلے آرہے تھے۔ اُس کا باپ بہت عمدہ مستری تھا۔ گاؤں سے لے کر شہر تک اُس کی شہرت تھی۔ وہ سوکھی سے سوکھی زمین سے بھی پانی کھینچ کرلے آتا تھا۔ یہاں تک کہ پتھریلی زمین سے بھی۔ زمیں میں اُس کے گاڑے ہوئے نل بہت مشکل سے ہی خراب ہوتے تھے۔ باپ کی موت کے بعد اُس نے اپنا موروثی کام سنبھا ل لیا اوراُسے بخیرو خوبی انجام دینے لگا۔ جب سے پائپ والے پانی کا رواج بڑھا تھا۔ اُس نے یہ کام بھی سیکھ لیا تھا۔ شہر میں نئی تعمیر ہوانے والی کالونیوں میں بورنگ کرنے، نل لگوانے اور اُن کی مرمت وغیرہ کے لیے اُسے بلایا جانے لگا تھا۔ وہ ایک ماہر پلمبر بن گیا تھا۔ لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے اطراف کی کالونیوں میں بورنگ کرنے والے مستریوں میں وہ بھی شامل تھا۔ جن کو ٹھیکے دار نے نوکری پر رکھ لیا تھا۔ اُس کا گاؤں کالی ندی کے پُل کے مغرب میں واقع چاند ماری کے میدان سے ملا ہوا تھا۔ چاند ماری کا میدان اب مکمل طورپر ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں شامل کرلیا گیا تھا۔ مگربچپن میں وہ اپنے باپ کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر چاند ماری کا میدان دیکھنے جایا کرتا تھا۔ جہاں فوج کے افسر اور سپاہی نشانے بازی کی مشق کیا کرتے تھے۔ اُسے وہ سرخ رنگ کی اونچی فصیل آج بھی یاد ہے جو کسی چھوٹے سے قلعے کی دیوار کی طرح لال پتھروں کی بنی ہوئی تھی اورجس پر جگہ جگہ کارتوسوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ وہاں کے فوجی لوگ بھی اُس کے باپ کو پہچانتے تھے اوراُس کے سلام کا جواب مسکرا کردیا کرتے تھے۔ اُس کا باپ فوجی علاقے میں بھی اکثر نل لگانے یا بورنگ کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ مگرجب سے اِس علاقے کو ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے اوراُس کے چاروں طرف کانٹوں دار تار کی گھیرا بندی کردی گئی ہے، تب سے عام آدمی کا اس علاقے میں آنا بند ہوگیا ہے۔

یہ بہت اچھی بات تھی کہ بیماری ابھی اُس کے گاؤں نہیں پہنچی تھی، مگراُسے رات میں نیند آنا بند ہو گئی تھی۔ وہ جاگتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ پائپ لائن بچھانے کا اور بورنگ کرنے کا کام تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوا تھا، پھر یہ پانی آخر گندا کیسے ہو گیا۔ اُس کے کام میں تو کبھی کوئی شکایت آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ آج صبح تڑکے، جب پو پھُٹ رہی تھی وہ ٹہلتا ہوا اپنے گاؤں سے آگے چاند ماری کے میدان کے پیچھے سے ہوتا ہوا، کالی ندی کے کنارے کنارے دور تک نکل گیا۔ ان دنوں وہ بیکار تھا۔ شہر میں ناکہ بندی چل رہی تھی۔ اس لیے وہ بے فکری کے ساتھ صبح صبح ٹہلنے نکل جایا کرتا تھا۔ آج ٹہلتے ٹہلتے بے خیالی میں وہ بہت آگے نکل آیا۔ وہاں جہاں اینٹوں کے بھٹّے کی چمنی دُھواں دیتی ہوئی نظرآتی تھی اور جہاں کالی ندی نے ایک بڑا سا موڑ کاٹا تھا۔ اوراُس کے کراڑے اونچے ہوتے چلے گئے تھے۔ ندی کے کالے پانی میں جگہ جگہ سیوار اُگ آیا تھا اُڑی ہوئی ہری رنگت کا سُرخی مائل سیوار۔ کچھ دیر پہلے طلوع ہوئے سورج کی کرنیں جب ترچھی ہو کر اس سیوار پر پڑیں تو پل بھر کواسے دھوکہ ہوا جیسے کالی ندی میں نہ جانے کہاں سے بہت پرانا جما ہوا خون بہتا ہوا چلا آرہا ہے۔ دور دور تک ویرانی پھیلی ہوئی تھی۔ چند مویشی ضرور ندی کے اُس پار گھوم رہے تھے۔ وہ یونہی چلتا رہا۔ کچھ دور کے بعد۔ آگے جا کر درختوں کا ایک گھنا جھنڈ ندی پر جھک آیا تھا۔ یہاں بے شمار کوّے بول رہے تھے۔ ندی کے اس حصے کی طرف شاید ہی کوئی کبھی آتا ہو کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں ندی میں بہہ کرآنے والی لاوارث لاشیں درختوں کے اس گھنے جھنڈ میں پھنسی ہوئی پائی جاتی تھیں۔ گاؤں والے اِدھر آتے ہوئے ڈرتے تھے۔ چاند ماری کے میدان میں فائرنگ ہونے لگی۔ اُسے اندیشہ ہوا کہ کوئی گولی اِدھر کو نہ آبھٹکے۔ وہ تھوڑا ٹھٹکا پھر آگے بڑھنے لگا۔ بڑھتا ہی رہا یہاں تک کہ اُسے وہ اونچا کٹیلا تارنظرآنے لگا جس کے ذریعے ملٹری کے ممنوعہ علاقے کی گھیرا بندی کردی گئی تھی اور جس پر جگہ جگہ سرخ بورڈ ٹانگ دیے گئے تھے جن پر ‘ممنوعہ علاقہ’ موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی جیب سے بیڑی کا بنڈل نکال کرایک بیڑی سلگائی اور تبھی اُس کی نظرکانٹوں دار تار کی فصیل کے اُس پار بجلی کےے ایک ہائی ٹینشن ٹاور پر پڑی۔ اُس نے دیکھا کہ ٹاور کے اوپر بجلی کے تاروں کے جال میں سے ایک لمبا تارٹوٹ کرکالی ندی کے کنارے ایک گڈھے میں گر پڑا تھا۔ اُس نے اپنا چار خانے والا تہبند گھٹنوں تک چڑھا لیا اور جلدی جلدی گڈھے کی طرف قدم بڑھائے۔ وہاں پہنچتے ہی اُس کی ناک سڑ گئی۔ بہت بدبو تھی۔ گڈھے میں نہ جانے کب سے پانی سڑرہا تھا۔ جس میں مویشیوں کی لاشیں تقریباً ڈھانچوں میں تبدیل ہو کر تیر رہی تھیں۔ یہ بہت بڑا گڈھا بن گیا تھا۔ مویشیوں کی لاشوں کو گدھ نوچ رہے تھے۔ اُس نے بیڑی کا ایک گہرا کش لیا اوراُسے پھینکتے ہوئے اپنے انگوچھے سے منھ پر ڈھاٹا باندھ لیا اور تھوڑا اور آگے بڑھتا ہوا گڈھے کے آس پاس کی زمین کا جائزہ لینے لگا۔ اورتب اُسے وہ نظرآگیا۔ گڈھے سے بالکل ملا ہوا۔ سیور لائن کا کالے رنگ کا موٹا ساپئپ جو جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اوراُس میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ گہرے سوراخ بھی بن گئے تھے۔ اُسے اچھی طرح علم تھا کہ یہاں سے صرف دو فیٹ کی دوری پر پینے والے پانی کی لائن بھی گزرتی تھی۔ اُسے سب سمجھ میں آگیا۔ ہائی ٹینشن ٹاور کے اس تار نے زمین کے اندر گہرائی میں ڈالے گئے سیور لائن کے اس پائپ کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ یہ بڑا سا گڈھا اس بجلی کے گرنے اور زبردست دھماکے سے ہی وجود میں آیا ہوگا۔ یہاں اُ س وقت جو مویشی ٹہل رہے ہوں گے وہ اس بجلی کی زد میں آکر جل کر مر گئے ہوں گے اور گڈھے میں دفن ہو گئے ہوں گے۔ گڈھا زمین میں ہوئے ایک دیوقامت زخم کی شکل میں نظرآتا تھا۔ یا ایک بہت بڑی قبر کی طرح جس کے رمز کو سمجھنا مشکل ہے۔ صرف عذابِ قبر کے فرشتے ہی اس سے واقف ہیں یا قبر میں لیٹے ہوئے مُردے۔ پانی پر جھک کر اُس نے یونہی اپنا چہرہ دیکھنا چاہا مگرجانوروں کی لاشوں اوراُن کے پنجروں میں اُس کے چہرے کا عکس کہیں پھنس کررہ گیا۔ کالی ندی اکثر اپنے کناروں سے باہر بہنے لگتی ہے۔ چاہے برسات کا موسم نہ بھی ہو۔ یقینی طورپر جہاں یہ گڈھا ہے وہاں ندی کا پانی اکٹھا ہو گیا ہو گا یا پہلے ہی سے کیچڑ اور دلدل رہی ہوگی۔ بجلی کے ساتھ جب پانی ملا ہوگا تو جو قیامت آئی ہوگی اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ اُسے تو صرف اُن بدنصیب مویشیوں نے ہی دیکھا جن کی لاشیں گڈھے میں سڑ رہی ہیں اور چاروں طرف جراثیم ہی جراثیم ہیں۔ اگرچہ وہ ننگی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ بجلی اور پانی جب زیادہ غصہ ورہوکر بغل گیر ہوتے ہیں تو یہی ہوتا ہے۔ زمین بھی آگ کا گولہ اسی طرح بنی تھی اورہم کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اب اُس کی آگ کم ہو گئی ہے؟

تو یہ تھا اُس پُراسرار بیماری کا راز۔۔۔۔ اُس کا ماخذ یا مرکز۔ ماخذ ہمیشہ گندے ہوتے ہیں چاہے وہ انسانوں کے ہوں یا کسی اور شے کے۔ بڑے بڑے سائنسی ادارے اوراُن کی ٹیمیں، ڈاکٹر،انجینئر جس خرابی کا پتہ نہ لگا سکے اُسے ایک معمولی نل والے نے کھوج لیا۔ ایک غریب پلمبر نے۔ وہ تقریباً دوڑتا ہوا واپس آنے لگا۔ اُسے شہر جانا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنا ہے پھراُسے اخبار، ریڈیو اور ٹیلی وژن تک پہنچنا ہے۔ اُنہیں یہ خوشخبری سنانا ہے کہ یہ محض ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ملڑی پراس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیا تک یہ خبر پہنچنے ہی نہ دی ہوگی کہ اُن کے ممنوعہ علاقے میں ہائی ٹینشن تاروں کے آپس میں اُلجھ جانے کے باعث کبھی بجلی گری تھی۔ نئے تار لگا کر فیوز جوڑ دیے گئے تھے۔یہ وہی تکنیکی خرابی ہے کہ جس کا تعلق انسانوں کے نصیب سے بہت گہرا ہے۔ ایک نادیدہ تعلق جس کے ذریعہ یہ خرابیاں انسانوں سے اپنا رشتہ ہمیشہ استوار رکھتی ہیں۔ اگرچہ ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے اُس وقت کا جب ہم ٹھنڈی سانس لے کر یہ کہیں گے یہی مقدر تھا۔ پتہ نہیں اس تکنیکی خرابی کے باعث وہ سب شہید ہوئے یا کتے کی موت مرے یا کتوں سے بدتر زندگی گزر رہے ہیں۔ اس بارے میں کچھ بھی وثوق کے ساتھ کہہ پانا ہمیشہ مشکل ہی رہے گا۔

وہ شہر کی طرف دوڑتا جاتا ہے۔ اپنا تہبند گھٹنوں تک چڑھائے۔ کیچڑ، پانی سے لت پت گڈھے پھلانگتا ہوا، گرتا پڑتا وہ ننگے پاؤں بھاگتا جاتا ہے۔ اُس کی چپلیں کہیں راستے کی دلدل میں پھنس گئیں۔ اوراُس کے ننگے پیروں کے نیچے کئی مینڈک کچلتے کچلتے بچ گئے۔ وہ غریب مستری جو آج آرکا میدس سے کم نہیں۔ اُسے اس سے بھی زیادہ تیز اور دیوانہ وار دوڑنا چاہیے۔ اخباروں میں اُس کی تصویریں شائع ہوں گی اور ٹی وی چینل والے اُس کا انٹرویو لیں گے۔ اُس کے بیوی بچے خوشی سےپاگل ہو جائیں گے۔ کالی ندی پر بنا ہوا وہ پرانا سفید کنگورے دار پُل اب اُسے نظرآنے لگا ہے۔

[dropcap size=big]ٹی-وی[/dropcap]

کے ایک مشہور نیوز چینل پر چشمہ لگائے خوبصورت آنکھوں والی ایک رپورٹر ضلع اسپتال کے ایک نوجوان مگرذمہ دار ڈاکٹر کا انٹریو لے رہی ہے۔ لڑکی نے اپنے بالوں کا جوڑہ باندھ کر اُن میں ایک سُرخ گلاب لگا رکھا ہے اور ڈاکٹر نے آج اپنی سب سے زیادہ قیمتی چاکلیٹی رنگ کی چارخانے والی قمیض پہن رکھی ہے۔ دونوں آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ درمیان میں ایک شیشے کی میز ہے جس پرایک گل دستہ اور کافی کے دو کپ رکھے ہوئے ہیں۔

آپ لوگوں کا یہ کارنامہ قابلِ ستائش ہے اور تاریخ میں اسے یاد رکھا جائے گا۔ اپ ہمارے ناظرین کو اس بارے میں کیا بتانا چاہیں گے۔ لڑکی مسکرا کر انٹرویو شروع کرتی ہے۔ ڈاکٹر بھی جواباً مسکراتا ہے۔ پھر کہنا شروع کرتا ہے۔ شکریہ۔ یہ سب سخت محنت اور جدو جہد کے سبب ممکن ہوا ہے۔ ہم نے دن رات محنت کرکے، مطالعہ کرکے اور تحقیق کرکے بالآخر اس امر کاسراغ لگا لیا کہ یہ کوئی وائرس نہیں تھا۔ یہ کالرا کا ایک معمولی بیکٹیریا تھا۔ مگرکالرا کا علاج تو اب عام ہے۔ لڑکی نے پوچھا۔

سنئے۔۔۔۔ پوری بات سنئے کہ بیکٹیریا تو وہی پرانا تھا مگراب انسان بدل گئے ہیں۔ ان کے جسموں کے نظام میں بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ اُن کی قوتِ مدافعت کی ساخت بھی بدل رہی ہے۔ اوراُس کا عملی نظام بھی۔ اب اس بیکٹیریا کے تئیں انسانی جسم مختلف ردِ عمل پیش کررہے تھے۔ اُن کے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز باہر سے آئے ہوئے اُس اینٹی جن کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھیں۔ علاج کے دوران دوائیاں اپنا اثر اس لیے نہیں دکھا رہی تھیں کہ مریضوں کے جسم انہیں اپنا تعاون نہیں پیش کررہے تھے۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ مریض کا اپنا تعاون کتنا ضروری ہوتا ہے۔

آپ کو یہ کب معلوم ہوا کہ یہ وائرس نہیں ہے؟ لڑکی نے سوال کیا۔

کافی دن پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا مگرجب تک کونسل آف میڈیکل ریسرچ والوں نے دوا ایجاد نہیں کرلی۔ ہم نے میڈیا سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ ڈاکٹر نے کافی کا کپ اُٹھا لیا۔

تواَب کون سی دوا تجویز کی گئی ہے؟ لڑکی مسکرا کر پوچھتی ہے۔

کوئی خاص نہیں۔ پہلے سے تجویز کردہ کالرا کے اینٹی بائیوٹک یعنی ڈوکسی سائیکلین کو سی فاکزیم جیسے اینٹی بائیوٹک کی مناسب مقدار میں ملا کر دینے سے سارے مریض صحت یاب ہو رہے ہیں اور یہ دوا بجائے پانی کے لیموں یا سنترے کے عرق کے ذریعے دی جائے تو اور بھی بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اگردرمیان میں مریض کو بید کے درخت کی چھال کو پیس کر تھوڑے پانی میں ملا کر دیتے رہیں تو سرکے اُس درد سے بھی نجات مل جائے گی جو ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے ہے۔ بیدِ مجبوں کی چھال دنیا کی سب سے پرانی اور پہلی دوا ہے۔ مریض اب ٹھیک ہوکر واپس گھر جارہے ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا۔ اس وبا کے پھیلنے کی روک تھام کے سلسلے میں سرکار نے جو حفاظتی اقدام اُٹھائے۔ شہر کی ناکہ بندی وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب بہت مستحسن ہے اور یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ ناکہ بندی ختم کردی گئی ہے۔ کالی ندی کے پُل پرسے پولیس کا پہرہ ہٹا دیا گیا ہے۔ لوگ اب گھروں میں بند نہیں رہیں گے۔

مگرجن علاقوں میں پانی کی سپلائی روک دی گئی تھی وہاں کیا حال ہے۔ لڑکی نے بھی کافی کا کپ ہاتھ میں لے لیا ہے۔

دیکھئے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ تو آپ کو ضلع کے حکام ہی بتا پائیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ پانی بالکل ٹھیک تھا، صاف تھا۔ سیور لائن میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی۔ پانی کا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ سپلائی روک دینا محض ایک احتیاطی تدابیر تھی۔

تو وہاں کے لوگوں نے جو بدبودار پانی کی شکایت درج کرائی تھی؟ لڑکی نے پوچھا۔

ڈاکٹر کو پسینہ آنے لگا۔ اُس نے رومال سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ دیکھئے، اصل میں کسی کو باہر کا کچھ اُلٹا سیدھا کھانے سے کالرا ہوا ہوگا۔ اور چونکہ اس بار کا کالرا شدید طورپر چھوت چھات کے ذریعے پھیلنے والا تھا۔ اس سے کسی ایک کے بیمار ہو جانے سے اُس کے گھر والوں اور پڑوسیوں تک بھی یہ بیماری پھیل گئی ہوگی۔ رہی بات پیلے اور بدبودار پانی کی، تو کالونی کے کسی ایک گھر کی ٹنکی کی صفائی عرصے سے نہیں کی گئی ہوگی۔ کچھ بدبووالا وہاں آگیا ہوگا، مگرآپ جانتی ہیں اس ملک میں افواہوں پر کتنا یقین کرتے ہیں لوگ۔ یہ ایک بھیڑ چال ہے جس میں سب کو اپنے گھر کا پانی پیلا اور بدبودار نظرآنے لگا۔ ا ب دیکھئے نا باہر کتنا زبردست پیلا پیلا غبار چھایا ہوا ہے۔ اُس کے عکس میں یہاں بھی سب پیلا ہی نظرآرہا ہے۔ مجھے تو یہ کافی بھی پیلی نظرآرہی ہے۔ جی ہاں!

لڑکی ہنستی ہے۔

ڈاکٹر بھی ہنستا ہے اور کہتا ہے۔ سب لوگ دراصل پانی پرا ِس غبار کا عکس دیکھ کر خوف اور وہم میں مبتلا ہو گئے۔ اصل میں ہرشخص کو تو آج کے زمانے میں ڈپریشن ہے۔ نفسیاتی علاج کی بھی ضرورت ہے ان لوگوں کو۔ آ پ نے سوزن سوتانگ کی کتاب Illness as Metaphor اب تک تو پڑھ ہی لی ہوگی۔ زیادہ ترلوگ ایسے ہی ہیں۔ اپنے دماغ سے سوچتے ہی نہیں ہیں اور بدبو کا تو معاملہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں صفائی رکھنے کا بہت کم رواج ہے۔ مگردیکھئے پھر بھی ہمارے انتظامیہ نے ان وہمی لوگوں کی شکایت پراحتیاط کے طور پر پانی کی سپلائی بند کردی تھی اوراس بات کی جتنی بھی تعریف کی جائے، وہ کم ہے۔

ایک آخری سوال وہ یہ کہ اب اُن اطراف میں پانی کی سپلائی کھول دی گئی ہے۔ لڑکی نے پوچھا۔

جی ہاں۔ ضلع مجسٹریٹ نے بیان دیا ہے کہ آج صبح سے ہی وہاں پانی کھول دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نے جوا ب دیا۔

جی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ پانی میں کوئی بیماری تھی اور نہ یہ پانی سے پھیلی اور نہ ہی پانی کی پائپ لائن یا سیور لائن میں کوئی خرابی تھی۔ جس کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے گویا ٹی۔ وی۔ دیکھنے والوں سے کہا۔

جی بالکل نہیں، کوئی خرابی نہ تھی۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔

آپ کا ہمارے اسٹودیو میں آنے کا شکریہ۔ لڑکی نے کہا۔

آپ کا بھی شکریہ۔ ڈاکٹر نے کہا اورانٹرویو ختم ہوگیا۔

[dropcap size=big]ٹی-وی[/dropcap]

پراس انٹرویو کے ختم ہوجانے کے فوراً بعد خبریں سنائی اور دکھائی جانے لگیں۔ یہ قومی اور بین الاقوامی نوعیت کی بہت اہم خبریں تھیں۔ انہیں اہم خبروں کے ساتھ ٹی۔ وی۔ کے اسکرین پر نیچے بالکل نیچے حاشیے پربھی ایک خبرآرہی تھی جسے نہ کسی نے پڑھا نہ دیکھا۔ وہ خبرکچھ اس طرح تھی۔ آج صبح ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں ایک نل لگانے کا کام کرنے والا مستری غیر قانونی طریقے سے جا گھسا۔ اور چاند ماری کے میدان میں ہونے والی فائرنگ کی مشق کے دوران ایک گولی اُس کے سرپر جالگی۔ اُسے فوراً ملٹری اسپتال لے جایا گیا، جہاں اُس کی موت ہو گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

[dropcap size=big]سب[/dropcap]

سے پہلے وہ کسی ننھی سی چڑیا کی آواز محسوس ہوئی۔ پھرایک تیز ہوا کے جھونکے جیسی اوراُس کے بعد کسی پاکیزہ روحانی گیت کے آلاپ کی طرح۔ پھر وہ گیت ہرگھر میں پانی کی ٹونٹیوں سے بہہ نکلا۔ صبح صبح اُن کے گھروں میں پانی کی ندیاں آنکلیں۔ آسمان پر بادل زور سے کڑکے۔ بارش ہونے لگی۔ ہوا بھی چلنے لگی۔ بارش اور ہوا میں باہر پھیلی ہوئی پیلی دُھند آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ آخرکاراِس دُھند کی آخری پرت بھی بارش اور ہوا کے ایک تیز جھونکے کے ساتھ کہیں غائب ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس مرض نے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

میں دو دو قتل بھول گیا۔ میں بڑے ماموں کی موت بھول گیا، میں بہت جلد، نہ جانے کیا کیا بھول گیا مگر باورچی خانے سے آتی ہوئی، کسی خوشبو یا بدبو کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ میں یہ نہیں بھولا۔

میں اپنی اس پرُاسرار صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔
ہوسٹل میں جہاں میرا کمرہ تھا۔ وہاں راہداری ختم ہوجاتی تھی۔ یوں دیکھیں تو آخری کمرہ تھا جس کے بعد میس کی عمارت شروع ہو جاتی تھی۔ یعنی باورچی خانے کی حکومت۔

دن بھر میرے کمرے میں، طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں یا کبھی کبھی بدبوئیں بھی آتی رہتی تھیں اور میں اُنہیں ایک کتّے کی مانند سونگھنے پر مجبور تھا۔ کچھ دنوں سے طلبا، ہوسٹل کے کھانے سے مطمئن نہیں نظر آرہے تھے۔

میرے کمرے میں ترپاٹھی اور اِدریس بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔

’’یار حفیظ۔۔۔ اب ایسے کام نہیں چلے گا۔‘‘ اِدریس نے سگریٹ سُلگایا۔

’’کیا ہوا؟‘‘
’’کل سالوں نے بریانی کے نام پر دھوبی پُلاؤ زہر مار کرا دیا۔

ترپاٹھی نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور پان مسالہ منھ میں ڈال کر بے ہنگم انداز میں چبانے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کھانے کے بارے میں، ویدوں یا اُپنشدوں سے کوئی نکتہ یا فقرہ نکال کر لائے گا ترپاٹھی کو قدیم ہندوستانی فلسفے پر پر خاصا عبور حاصل ہو گیا تھا۔ مگر ٹھیک اُسی وقت مجھے اپنی ناک میں ایک سڑاندھ کا احساس ہوا۔ میں نے نتھنے پھلائے تو علاؤ الدین ہنس کر بولا۔ ’گوبھی ہے، گوبھی۔‘‘

’’بڑی بدبو ہوتی ہے یار جب گوبھی پکتی ہے۔‘‘

’’یہ اصل میں گندھک کی وجہ سے ہے، گوبھی میں گندھک یعنی سلفر بہت پایا جاتا ہے۔‘‘ ترپاٹھی نے اپنی علمیت کا اظہار شروع کر دیا۔
’’پتہ ہے یار— ‘‘ علاؤ الدین نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی کھیتی میں بطور کھاد تازہ تازہ انسانی فضلہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
’’دیکھ بھائی علاؤالدین — تونے Food Cycle پڑھی ہے؟ ‘‘ ترپاٹھی نے پوچھا۔

علاؤ الدین نے نفی میں سر ہلایا۔

’’میرے پاس ہائی اسکول میں سائنس تھی، میں نے پڑھی ہے۔ سارا کھیل نائیٹروجن اور ایمونیا کا ہے۔ چیزیں وہیں سے شروع ہوتی ہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ آنتوں سے آنتوں تک کی یاترا ہے۔ انسان کی آنت میں گیا کھانا، رنگ روپ، بدل کر باہر آتا ہے، اور دوبارہ اُس کی آنتوں کے لیے خود کو مٹا کر سڑا کر نیا کھانا تیار کرتا ہے۔ اسی لیے یجروید میں اُس یگیہ کی بہت اہمیت ہے، جس میں صرف منتر کے ذریعے، آنتوں کی بھوک مٹ جائے اور کھانا محض علامتوں میں بدل جائے۔‘‘ ترپاٹھی آگے بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر میں نے نہیں سنا۔

میرے ہاتھ پیر کانپنے سے لگے۔

وہ کالا جادو یہاں بھی چلا آیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے۔ اپنے گھر سے اس شہر تک۔ میں نے دو ندیاں پار کیں، مگر جادو نہیں کٹا۔ لیکن پھر مجھے ایک کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوا۔ یہ جادو میرا دشمن نہیں ہے۔ یہ تو میری طاقت ہے۔ ایک ایسی کالی طاقت جس کا علم کسی کو نہیں، میری چھٹی حس جو اپنی وسعت میں ایک دن اس نیلگوں آسمان کو بھی سمیٹ لے گی۔ مجھے اپنی جیومیٹری کی ساری اشکال، اُن کے زاویے اور آپسی محور یاد تھے۔ اس کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوتے ہی میرے ہاتھ پیر کانپنا بند ہو گئے۔

’’آج گوبھی کا پکنا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اپنے لفظوں کو تولتے ہوئے کہا۔
’’ارے یار گوبھی پکنا تو کسی بھی دن اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ ترپاٹھی بیزاری سے بولا۔
میں فخریہ انداز میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔
’’چلو، ڈائننگ ہال میں چلیں دو بج رہے ہیں۔ بھوک لگنے لگی۔‘‘علاؤ الدین اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم لوگ جاؤ، میں کمرے میں ہی کھانا کھاؤں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ابے سالے پڑھاکو— تیرے جیسوں کا ہی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ مت بن کتابی کیڑا، مت بن۔‘‘ ترپاٹھی نے پھر اپنی تقریر شروع کی۔
میں نے اُسے دکھانے کے لیے، ایک جماہی لی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔

علاؤ الدین اور ترپاٹھی کمرے سے چلے گئے تھے۔ نومبر کا مہینہ تھا جو کوئی مہینہ نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی کوئی شناخت، کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے، اور اپنی تاریخیں یاد کرانے کے لیے بھیانک واقعات یاحادثات کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر تین بجے سے ہی اندھیرا سا پھیلنے لگا۔ کیونکہ دھوپ کا گزر نہیں تھا۔ ڈائننگ ہال سے شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے چادر سے منھ نکال کر غور سے سننے کی کوشش کی۔ یہ شور کھانے کے بارے میں یا کھاتے وقت کا عمومی شور تو نہ تھا۔ اب مجھے بھی کچھ بھوک لگ رہی تھی۔ بیرا نہ جانے کب کا میز پر کھانا رکھ کر چلا گیا تھا۔ مگر میں سوچ رہا تھا کہ پہلے کوئی برُی خبر سن لوں۔ پھر آرام سے کھانا کھاوں گا۔ کسی طالب علم کی خبر آتی ہے یا کسی پروفیسر کی یا پھر جلّاد پرنسپل کی—؟ اتنا تو مجھے یقین تھا کہ آج، اس وقت ہوسٹل کے میس میں گوبھی پکنا غلط تھا، اور بدشگونی کی علامت تھا۔

ڈائننگ ہال سے شور بڑھتا ہوا گیلری کی طرف آنے لگا۔ میں بستر سے اُٹھ کر کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ تیز تیز بھاگتا ہوا، ترپاٹھی مجھے دور سے ہی نظر آ گیا۔

’’حفیظ—حفیظ— غضب ہوگیا۔‘‘ وہ دور سے ہی چلّانے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں اندر ہی اندر اپنی صلاحیت کا معترف ہونے لگا۔
’’اِندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اب مجھے واقعی سکتہ سا طاری ہونے لگا۔ اس نوعیت کی خبر کی مجھے خواب تک میں توقع نہ تھی۔

طلبا اور پروفیسر افراتفری میں اِدھر اُدھر جاتے ہوئے نظر آئے۔ کئی لوگ کان پر ٹرانسسٹر لگائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ کل تک کے لیے کلاسز ملتوی کر دلیے گئے ہیں۔

نہ جانے کب شام ہو گئی۔ اکتوبر کے آخر اور نومبر میں سورج اتنی تیزی سے ڈوب جاتا ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ ہر جانب ایک سنّاٹا تھا۔ سڑکیں سنسان اور دہشت زدہ سی نظر آرہی تھیں۔ لوگ یا توبھیڑ بناکر ایک جگہ اکٹھا ہوکر چہ میگوئیاں کر رہے تھے یا پھر بہت تیزی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے۔ سرکاری دفاتر کے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ میں کالج کے آس پاس کی سڑکوں اور کتابوںکی چند دوکانوں پر بھٹکتا رہا۔ مجھے اپنے قصبے میں کسی کی کہی ہوئی بات یاد آرہی تھی کہ جب ملک کا کوئی بڑا سیاسی رہنما یا قائد مرتا ہے تو سارا ملک سائیں سائیں کرتا ہے۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی پھیل جاتی ہے۔ اور یقینا ایسا ہی تھا۔ وزیر اعظم اِندرا گاندھی کویہاں سے چار سو پچاس کلومیٹر دور — دہلی میں اپنے گھر کے قریب، اُن کے اپنے ہی باڈی گارڈوں یا محافظوں کے ذریعہ گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا۔ مگر ویرانی یہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس میں نومبر کی بے رنگ شام کا بھی کچھ حصّہ مل گیا ہو۔

میں چلتے چلتے پرساد ٹاکیز کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں امیتابھ بچن اور دھرمیندر کے بڑے بڑے پوسٹر لٹک رہے تھے۔ فلم شعلے چل رہی تھی۔ شعلے اس ٹاکیز میں گذشتہ آٹھ سال سے چل رہی تھی۔ اور آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یقین کیجیے پرساد ٹاکیز میں آج بھی شعلے دکھائی جا رہی ہے۔ آج جب میری عمر اڑسٹھ سال کی ہو چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی شکلیں بھی اب بوڑھی اور قابل رحم نظر آتی تھیں۔ مگر ٹاکیز خالی تھا۔ اُس پر تالہ لٹکا ہوا تھا۔ شہرکے سارے سنیما ہال بند کر دئیے گئے تھے۔ میں فلم دیکھنے نہیں گیا تھا۔ مگر سنیما ہال کو ویران دیکھ کر، اُس پر ایک منحوس تالہ لٹکا ہوا دیکھ کر، میرے دل کو سخت دھکا پہنچا۔

پوسٹر میں، میں نے سنجیو کمار کی انتقام میں جلتی سلگتی ہوئی آنکھیں دیکھیں اور سوچا کہ آج شام کے اور رات کے شو میں، سنجیو کمار کا انتقام فلم کی ایک خاموش اندھیری رِیل میں بند رہے گا۔ وہ باہرنہیں آئے گا۔ جس طرح ہر انتقام، بلکہ ہر جذبہ وقت کے فریم میں بہتا ہے اور کبھی — شاید رُک جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے کسی کے دل کی رگوں میں بہتا ہوا خون جم جاتا ہے اور حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے۔

وہ انتقام کا زمانہ تھا۔ اینگری ینگ مینوں کا زمانہ۔ راجیش کھنہ کی قربانیوں، المیوں اور محبتّوں کا زمانہ ابھی بس حال ہی میں گزرا تھا۔ مگر اب اُس کے نشان بھی باقی نہ تھے۔ اب انتقام کا رُخ انفرادی تھا۔ اور اِس انفرادی انتقام کواجتماعی شعور نہ صرف پسند کرتا تھا بلکہ اس پر پھول برساتا تھا اور تالیاں بجاتا تھا۔

انتقام جس کی پیداوار یا جس کی جڑوں کا ایک کیڑا خود میں بھی تو تھا اور اِندرا گاندھی کا قتل—؟
سورن مندر پر گولیاں چلائے جانے کا بدلہ اورخالصتان کو سیاسی طور پر قبول نہ کرنے کی سزا۔

سنیما ہال کے سامنے کھڑے کھڑے پولیس کی گاڑیاں سائرن دیتے ہوئی نکل گئیں۔ دفعہ 144 لگا دی گئی تھی۔ ریڈیو پر خبر آئی کہ دہلی میں سکھّوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ بازاروں کو آگ لگادی گئی ہے۔ سکھّوں کے گھر پھونک دئے گئے ہیں۔ اب اِندرا گاندھی کے قتل کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

31؍ اکتوبر کی یہ شام اب جاڑوں کی رات میں بدلنے لگی۔ ویرانی کا احساس اور بڑھ گیا اور خوف و دہشت کا بھی۔
میں واپس ہوسٹل اپنے کمرے میں آیا۔
گیلری میں میرے احباب میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سب میرے کمرے میں چلے آئے۔
کمرے میں، گوبھی کی بو بری طرح بھری ہوئی تھی۔
مجھے اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا۔

اُس رات میرے کمرے میں دوستوں کا آنا جانا لگا رہا۔ ہیٹر پر چائے بنتی رہی اور سیاسی بحثیں ہوتی رہیں۔ حالانکہ ہم سب کی عمر اُن دنوں سیاسی یا سماجی شعور کے معاملے میں صرف بچکانہ رویّوں یا خیالات کے مناسب ہی ہو سکتی تھی۔ پھر بھی بہت بکواس ہوتی اور بکواس کے درمیان کہیں کہیں کوئی ایسا جملہ بھی چمک اُٹھتا تھا جس کی معنویت آج مجھے پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے، مجھے نہ اُن دنوں کوئی سیاسی شعور تھا اور نہ اب ہے۔ میرے سامنے دوسرے سوال تھے اور یہ سوال خود میرے وجود کی آہٹیں مجھ سے ہی کرتی تھیں۔ میرے ساتھ ایک ماضی تھا جس سے خون کی بو آتی تھی۔ اگرچہ میں اس ماضی کو بڑی بے شرمی کے ساتھ بھول گیا تھا مگر دراصل ہم بھُولتے کچھ بھی نہیں ہیں۔ پیڑ سے گرا ایک پتّہ تمھارے جوتے کے تلے میں چپک جاتا ہے، تم چلتے چلتے کچھ دیر تک پتّے کی سڑک پر رگڑ کی آواز سنتے ہو، پھر دنیا کے شور اور اُس کی بے ہنگم آوازوں میں پتّے کی رگڑ دب کر معدوم ہوجاتی ہے۔

مگر ایک دن آتا ہے جب تم اپنے جوتے کی صفائی کرنے اور اس پر پالش کرنے بیٹھتے ہو۔
بس وہی دن ۔۔۔ دوبارہ تمھیں تمھارے گناہ یاد دلاتا ہے۔ وہ دن تمھیں یاددلاتا ہے کہ تم نے اپنے کتنے گندے کپڑے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے تھے، تم اپنی جیب سے وہ فہرست نکالتے ہو اور پڑھتے ہو اور پھر ملاتے ہو۔۔۔ کپڑے سے کپڑا۔۔۔ اور یہ بھی کہ کون سا کپڑا مسک کر، پھٹ کر، دھوبی کے یہاں سے واپس آیا ہے اور کون سا کپڑا گم ہو گیا، ہمیشہ کے لیے۔ تو بس اتنا ہی تھا اور یہاں شہر آکر، محض ایک گوبھی پکنے کی بُو نے مجھے ایک بار پھر اپنے اندر بیٹھے خوفناک بن مانس کا احساس دلا دیا۔ مجھے سب کُچھ بڑی شدّت کے ساتھ یاد آ گیا۔ اتنی شدّت کے ساتھ کہ کاغذ پر اس لفظ ’’یاد‘‘ کو لکھنے سے زیادہ مضحکہ خیز اس وقت اور کچھ نہیں ہو گا۔

میرے سوال سیاسی غلطیوں کے بارے میں نہیں تھے۔ میں اندرا گاندھی کی سیاسی غلطیوں کے بارے میں گفتگو کرنے کا اہل ہی نہ تھا۔ میں تو مگر، جرم، سزا اور انصاف کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے سر کے بائیں حصّے کو ہمیشہ کشمکش میں مبتلا کر تا رہتا تھا۔ اور وہ حصّہ پھوڑے کی طرح دُکھنے لگتا تھا۔

جرم کس سے سرزد ہوتا ہے؟
سزا کیسی ہوتی ہے؟ سزا کا چہرہ کیا قتل سے ملتا جلتا ہوتا ہے؟
پھانسی کے تختے کی طرف مجرم کو لے جاتے ہوئے جلّاد کون سا گیت گاتا ہے۔

اور انصاف—؟ انصاف کس عدالت میں ہوتا ہے؟ عدالت آخر ہے کہاں؟ سزا اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ کیا سزا کے دانت اُتنے ہی بڑے بڑے اور نُکیلے ہیں جتنے کہ انصاف کے دانت۔ سزا اورانصاف کے چہرے آپس میں کتنے مشابہ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر وہ ہاتھ، جو انصاف کی خون جیسی لال روشنائی میں اپنی انگلیاں ڈبو کر، انسان کی پیٹھ پر سزا کے منحوس عدد لکھتا ہے، وہ ہاتھ کس کا ہے؟
وہ ہاتھ کس کا ہے؟
ریڈیونے بتایا کہ دلّی میں سکھّوں کے پورے کے پورے علاقے پھونک دیئے گئے اور گرودواروں میں آگ لگا دی گئی۔ سکھّوں کا قتل عام تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بہت بعد میں شاید، راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ’’جب ایک— بڑا اور گھنا پیڑ گرتا ہے۔۔۔۔ تو؟‘‘

پتہ نہیں آگے کچھ کہا تھا۔ مگر میرے لیے اُسے اِس وقت یاد کرنا اور وہ بھی ذہن پر زور دے کر محض ایک رائیگاں اور بے معنی سی تکلیف دہ حرکت ہے۔
اُس رات میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ اگلا سال میرے بی۔اے کا سال دوئم ہو گا اور میں جو ایم۔اے پالیٹیکل سائنس میں کرنے کے بعد ریسرچ کرنا چاہتا تھا اور کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بننا چاہتا تھا۔۔۔ اچانک بدل گیا۔

میں نے حتمی فیصلہ کر لیا کہ میں قانون پڑھوں گا۔ اگلے سال میں ایل۔ایل۔بی۔ میں داخلہ لوں گا۔ مجھے یاد ہے کہ دل میں یہ فیصلہ کرتے ہی مجھے وقتی طور پر بہت سکون حاصل ہوا — رات گزر گئی تھی، پو پھٹ رہی تھی۔
میری ہی نہیں، ہم سب کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔
نیند میں اونگھتے ہوئے،میرے کان میں ریڈیو پر آتی ہوئی خبر سنائی دی۔
’’راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنا دیاگیا۔‘‘

یہ خبر میرے لیے ایک لوری کی طرح تھی۔ اچانک مجھے بہت گہری نیند کا غلبہ محسوس ہوا۔ نومبر کی اِس بے ہنگم صبح کی ہوا میں ایک بدمزہ اور خشک سی خنکی تھی۔ میں نے چادر کو منھ تک اوڑھ لیا۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

محمد ساجد
یس سر
عبدل معید
یس سر
شاہکار عالم وارثی
یس سر
انیل کمار سنگھ
یس سر
صابر علی صدیقی
یس سر
ہرش سچدیو
’’حفیظ الدین بابر‘‘
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔

پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘
’’والد کا نام۔‘‘
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔

یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔

یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔

مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔

یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟

اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔

یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔

مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔

مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔

وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔

اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔

میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔

میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔

بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔

روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔

یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔

مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔

ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔

مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔

روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔

مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔

یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔

ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔

مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور

Categories
فکشن

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

[blockquote style=”3″]

خالد جاوید کا یہ افسانہ اشعر نجمی کی زیر ادارت شائع ہونے والے ادبی رسالے “اثبات” کے شمارہ نمبر چار اور پانچ کا حصہ ہے۔ ہم اشعر نجمی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے “اثبات” جیسے معیاری رسالے کو آن لائن قارئین تک پہنچانے کی اجازت عنایت کی۔

[/blockquote]
اثبات میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

نیند کے خلاف ایک بیانیہ
تحریر: خالد جاوید
(شمس الرحمن فاروقی کے نام)

وہ جو ایک کتے کی طرح گم ہو جائے گا، آخر میں ایک دیوتا کی طرح دریافت کیا جائے گا۔
(یہودا امی خائی)

(۱)
ڈاک گھر اور ڈاکیے

ادھر کچھ عرصے سے لگاتار چند قصہ گو حضرات کے ساتھ رات کو دیر تک وقت گزارنے کی وجہ سے میرے اندر بھی یہ خبط پیدا ہونے لگا ہے کہ میں کچھ لکھوں۔ یہ خبط یا شوق مجھے زندگی میں پہلی بار ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ ابھی بھی نہ ہوتا ، اگر چند ماہ پیشتر میری بیوی طاعون کا شکار ہوکر مر نہ گئی ہوتی۔ حالاں کہ جب اسے پلیگ ہوا تو وبا تقریباً اپنے خاتمے پر ہی تھی ، کیوں کہ محلے کے سرکاری شفا خانے میں اسی دن سیاہ دیوار پر چاک سے آخری کراس بنایا گیا تھا۔ سرکاری شفا خانے کی عقبی دیواریں کالے رنگ کی ہیں۔ اسی دن، سوائے ایک لڑکھڑاتے ہوئے مریل سے چوہے کے، جس کے منھ سے خون کی لکیر پھوٹ رہی تھی، دوسرا کوئی چوہا بھی علاقے میں نظر نہیں آیا۔ مگر کسی بھی وبا میں پہلی یا آخری موت بہرحال انفرادی اور امتیازی نوعیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔

مغرب کی اذان کے وقت ، جب وہ مررہی تھی تو اس کا بخار سے تپتا ہوا جسم حیرت انگیز طور پر پسینے چھوڑتے ہوئے ٹھنڈا ہونے لگا۔ میرے دونوں بچے (بڑا تیرہ سال کا ہے اور چھوٹا بارہ کا) پلنگ کے پائنتی بیٹھے اس کا پاؤں سہلا رہے تھے کہ اچانک اس کے منھ اور ناک سے ڈھیر سارا خون باہر آیا۔ میں نے بیوی کے سرہانے سے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ اس کی بغلوں میں دیتے ہوئے اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کا سارا جسم شل اور بے جان ہوگیا تھا۔ وہ تو نہ اٹھ سکی مگر میری دونوں ہتھیلیاں اس کی بغلوں میں ابھری ہوئی طاعون کی بڑی بڑی گانٹھوں سے ٹکرا کر رہ گئیں۔ گانٹھوں سے رسنے والی پیپ سے میری انگلیاں گیلی ہوگئیں۔

میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ مجھے بے حد کراہیت اور گھن محسوس ہوئی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس وقت اس کے منھ اور ناک سے نکلتے خون اور بغلوں اور رانوں کے درمیان گانٹھوں سے رستے بدبو دار مواد کی وجہ سے مجھے اس نیک بخت کی موت کا صدمہ محسوس ہی نہ ہوسکا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ یہ بس آخری بار ہے یعنی یہ گندگی ، یہ تعفن اور شب بیداریوں کے سبب جاگتی جلتی آنکھیں جو کہ ایک تیماردار کا ازلی مقدر ہوتے ہیں۔

مگر میں یہاں اپنی بیوی کے بارے میں یا اس کی بیماری اور موت کے بارے میں یوں ہی لکھ بیٹھا ہوں، شاید اپنے اناڑی پن اور ناتجربہ کار ہونے کے سبب۔میری سات پشتوں میں بھی کسی نے اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں یا اپنے احساسات و جذبات کے بارے میں کچھ نہ لکھا ہوگا۔ میں نہ تو کوئی ادیب ہوں اور نہ کوئی کاتب یا منشی۔ میں تو ایک معمولی ڈاکیہ ہوں۔ جی ہاں ! ایک بے حد معمولی اور حقیر ڈاکیہ جس کی انگلیوں کو اس طرح سے قلم پکڑنے کی عادت ہی نہیں ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ اگر وہ یعنی گھر والی مر نہ گئی ہوتی تو میں شاید اس وقت گہری نیند سو رہا ہوتا۔ مگر ٹھہریے، اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ میں نے اس کی موت سے متاثر ہو کر کچھ لکھنا شروع کردیا ہے جس طرح میں نے سنا ہے کہ شاعر لوگ کرتے رہتے ہیں۔ میں جو لکھ رہا ہوں ، اس کی نوعیت ادبی یا علمی قسم کی نہیں ہے۔

ہوا دراصل یوں ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد میرے لیے رات کاٹنا مشکل ہو گیا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے میں نے اپنی ایک بیوہ بہن کو گاؤں سے بلوا لیا ہے۔ میں صبح آٹھ بجے اپنی وردی پہن کر ڈیوٹی کے لیے سائیکل پر گھر سے نکلتا ہوں۔ ڈاک خانے پہنچ کر اپنے حصے کی ڈاک وصول کرتا ہوں، پھر اس ڈاک کو جس میں سینکڑوں چٹھیاں ، منی آرڈر، پارسل وغیرہ ہوتے ہیں، سائیکل کے کیرئیر پر لاد کر اپنے علاقے میں بانٹنے نکل جاتا ہوں۔ آج کل میرے پاس دادو کا کنواں نام کا محلہ ہے۔ شام کو جب تھکا ہارا گھر واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے اپنی وردی اتار کر دیوار پر لگی ہوئی کھونٹی پر ٹانگ دیتاہوں۔ میرا چھوٹا بیٹا وردی کو پلک جھپکائے بغیر دیکھتا رہتا ہے۔ خیر اس تفصیل میں جانے سے کیا فائدہ؟ بہرحال جب رات کو کھانے کے بعد گھر سے نکلتا ہوں تو محلے کے کچھ شناسا لوگ مجھے اپنے ساتھ چبوترے پر بٹھا لیتے ہیں۔ ہیں تو یہ بالکل ان پڑھ لوگ، مگر بلا کے قصہ گو۔ یا پھر یوں کہیں کہ اول نمبر کے غپی لوگ۔ آج کل گرمیاں ہیں۔ رات کو یہ سب طرح طرح کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ بھوت پریتوں کے قصے، سنیما کے قصے، شکار کے اور فاحشہ عورتوں کے قصے۔ میرا وقت واقعی اچھا کٹ جاتا ہے۔ اب ان کی یہ اوٹ پٹانگ قصے سن سن کر میرے دل میں بھی یہ خواہش بڑی شدت سے پیدا ہوئی ہے کہ میں بھی کچھ سناؤں یا کہوں۔ لیکن میں بڑا جھینپو اور دبو قسم کا انسان واقع ہوا ہوں، اسی لیے میں نے سوچا کہ بجائے کہنے کے، کیوں نہ میں کچھ لکھنا شروع کردوں۔ کہنے اور لکھنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ لکھتے وقت آدمی زیادہ جھوٹ نہیں بول سکتا ، جب کہ قصہ گوئی ، بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر قسم کی گفتگو زیادہ تر جھوٹ کا پلندہ ہی ہوتی ہے۔ میرا کام تو ویسے بھی لکھے گئے الفاظ کو ہی اِدھر سے اُدھر کرنا ہے۔ آخر کو میں ایک ڈاکیہ ہوں نہ۔

اسی لیے اب میں نے سوچا ہے کہ اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں کیوں نہ کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں۔ حالاں کہ مجھے یہ بھی علم ہے کہ اپنے بارے میں یا اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بھی لکھنا، میرے لیے شاید ڈاک گھر اور ڈاکیوں کے بارے میں لکھنے کے ہی برابر ہوگا۔ ویسے ایمان کی بات تو یہ ہے کہ آدمی کو جہاں تک ہو سکے، ذاتی یا نجی باتوں کے بارے میں کم سے کم لکھنا چاہیے۔ یہ باتیں ہوتی ہی کیا ہیں سوائے نفرت یا محبت یا پھر غصے یا انتقام وغیرہ کے بارے میں ….ناپختہ تجربوں کے سوائے ان میں کیا ہوتا ہے۔ ذاتی یا نجی باتیں بدلتی رہتی ہیں۔ وہ تقریباً اس قصے کی طرح ہوتی ہیں جو ہر بار سنانے میں اپنے بارے میں کچھ نہ کچھ اضافہ ، تبدیلی یا ترمیم کر لیتے ہیں۔ نجی واقعات چاہے وہ کتنے ہی ٹھوس انداز میں کیوں نہ پیش آئے ہوں، ایک نہ ایک دن سفید جھوٹ ہی ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ لکھنے کے لیے اور بہت سی باتیں ہیں، مثلاً ڈاکیوں کی، ڈاک گھروں کی، ریلوے اسٹیشنوں کی، گلیوں کی، محلوں کی وغیرہ وغیرہ۔

تو جب میں اپنی سائیکل پر دن بھر کی ڈاک لاد کر سڑکیں ناپنے چلتا ہوں تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ پتلی سے پتلی گلیاں، یہاں تک کہ بند گلیاں تک مجھے آسمان پر جانے والی سیڑھیاں محسوس ہوتی ہیں جن پر گویا میں تیزی سے چڑھتا جاتا ہوں۔ ابھی حال میں ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ آدمی چاند تک پہنچ گیاہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو مجھے لگتا ہے کہ چاند پر پہنچنے کے لیے اس نے جو سفر طے کیا ہوگا، وہ میرے اس روز کے چٹھی پہنچانے تک کے سفر کے برابر ہی مسرت آگیں رہا ہوگا۔ یہاں میرے اس چھوٹے سے شہر کے آس پاس ندیاں بہت ہیں۔ کبھی کبھی مجھے ان کے کنارے، دلدل پر بھی چلنا ہوتا ہے۔ وہاں میری سائیکل کے پہیے بھی کبھی کبھی دھنس جاتے ہیں مگر مجھے وہ دلدل اس دنیا کی نہیں بلکہ بہشت کی دلدل نظر آتی ہے۔

مگر مجھے علم ہے کہ سب ہی ڈاکیے اس طرح سے نہیں سوچتے۔ بہت سے تو اپنی نوکری کو کوستے بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس بارے میں بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہاں، اتنا تو ہے کہ ڈاکیوں کی نوکری میں خطرے بھی بہت رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ بتاتے ہیں کہ ہر ڈاکیے کے ساتھ میں ایک ڈھول بجانے والا بھی رہتا تھاجو جنگل کے خطرناک راستوں سے گزرتے وقت زور زور سے ڈھول بجاتا رہتا تھا تاکہ جنگلی جانور وہاں سے بھاگ جائیں۔ بہت رات ہوجانے پر ڈاکیے کے ساتھ دو مشعلچی اور دو تیر انداز بھی چلا کرتے تھے۔ میں نے کل اپنے چھوٹے لڑکے کو بتایا کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ڈاکیے کو شیر اٹھا کر لے گیا۔ ایک ڈاکیہ بے چارہ ندی کی باڑھ کی زد میں آکر ڈوب گیاتھا۔۔۔۔۔۔اور بھی کتنے قصے ہیں۔ نہ جانے کتنے ڈاکیوں کو زہریلے سانپوں نے ڈس لیا ۔ بہت سے کسی چٹان کے پھسلنے سے یا ملبے میں دب کر مرگئے۔ لٹیروں اور ٹھگوں نے بھی بہت سے ڈاکیوں کو راستے میں لوٹ کر قتل کیا ہے۔ مگر یہ سب پرانی باتیں ہیں، بہت پرانی۔ اب کسی ڈاکیے کو اس طرح کے خطرات کا سامنا نہیں ہے۔

کچھ دنوں سے اپنے چھوٹے لڑکے میں ایک عجیب بات میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اسے ڈاکیوں کی باتوں اور ڈاک خانوں کے تذکروں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ میں اس کی طرف سے تھوڑا سا فکرمند بھی ہوں۔ اب میں کیسے لکھوں۔۔۔۔بات تو ہے بے حد ذاتی نوعیت کی مگر لکھ دینے میں بھی کیا حرج ہے۔ اب آدمی اس طرح کی باتیں لکھنے سے بالکل ہی تو بچ نہیں سکتا۔

اصل میں، میرا یہ چھوٹا ان دنوں پیدا ہوا تھا جب شہر میں طاعون پھیلا ہوا تھا۔ یہ خدا کی مہربانی ہی تھی کہ ان دنوں ہمارا گھر وبا سے پوری طرح محفوظ رہا۔ اب سوچا جائے تو یہ بھی بڑی عجیب بلکہ مضحکہ خیز سی بات ہے کہ طاعون کی زد میں آکر ہی میری بیوی، یعنی اس کی ماں خدا کو پیاری ہوئی اور طاعون کے زمانے میں ہی یہ کم بخت پیدا ہوا تھا۔ بہر نوع، یہ سب تو مشیت ہے۔ اللہ کی جو مرضی۔ ادھر کے اطراف میں تو طاعون پھیلتا ہی رہتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے کا سر کچھ نہ کچھ چوہے سے ملتا جلتا ہے۔ خیر وہ بھی ایسی کوئی بات نہیں۔ بہت سے لوگوں کے سروں کی بناوٹ کسی جانور کے سر سے مشابہ ہوتی ہے۔ کسی کا سر گھوڑے سے ملتا جلتا ہے تو کسی کا بلڈاگ کے سر سے۔ مگر بات یہ ہے کہ وہ مجھے دماغی طور پر کچھ کمزور محسوس ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ میرا وہم ہی ہو۔ ویسے وہ اسکول پابندی سے جاتا ہے۔ (بڑے لڑکے کو تو سوائے محلوں کے لونڈوں کے ساتھ اودھم مچانے کے اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔)

مگر چھوٹا۔۔۔۔۔وہ آخر اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلتا کیوں نہیں؟ بس ڈاکیوں اور ڈاک گھروں کے بارے میں پوچھ پوچھ کر میری جان کیوں کھاتا رہتا ہے؟ اور جب میں اسے جو کچھ بھی جانتا ہوں، وہ بتاتا ہوں تو بجائے بچوں کی طرح خوش ہونے کے، کچھ سنجیدہ سا ہو جاتا ہے یا پھر کہیں دور خلا میں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا ہے۔میں نے اسے ڈاکیوں کے بارے میں بہت سے دلچسپ قصے بھی سنائے ہیں۔ اصل میں یہ من گھڑت قصے ہی ہوں گے، کیوں کہ انھیں میں بھی اپنے بچپن سے سنتا چلا آیا ہوں۔ مثال کے طور پر جاڑوں کی سرد اور ویران راتوں میں ایک ڈاکیے کا بھوت سنسان گلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ رات کے ٹھیک دو بجے کسی کا دروازہ کھڑکتا ہے۔۔۔۔۔۔’’تار۔تار‘‘۔ اور جو کوئی بھی اٹھ کر تار لینے کے لیے دروازہ کھولتا ہے، اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے ویران سے ریلوے اسٹیشن پر سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جب رات کے دو بجے وہاں پہنچنے والی طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ آپ ہی آپ کٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔ ٹرین ایک منٹ وہاں رکنے کے بعد روانہ ہوجاتی ہے ۔ مگر ڈاک کا وہ کٹا ہوا لال رنگ کا ڈبہ ، آپ ہی آپ، بغیر انجن کے اندھیری رات میں خاموش جھاڑیوں سے گھری ویران ریلوے کی پٹریوں میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا پھرتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ میرا تو اس اسٹیشن پر جانے کا کبھی اتفاق ہوا نہیں مگر بتانے والے بتاتے ہیں کہ غدر کے زمانے میں بہت سے سرکاری محکموں کے ساتھ ڈاک گھر بھی نشانہ بنے تھے۔ تب، ایک رات جب ڈاک گھر میں آگ لگائی جارہی تھی، اپنی جان پر کھیل کر کچھ فرنگی ڈاکیے وہاں کی ڈاک کو طوفان میل سے منسلک ڈاک کے ڈبے میں کسی نہ کسی طرح رکھ دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ مگر آخری وقت میں انقلابیوں نے ڈاک کے اس لال ڈبے کو ٹرین سے کاٹ کر الگ کردیا تھا اور اس میں آگ لگا دی تھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح انھوں نے وہاں تک ڈاک لانے والے فرنگی ڈاکیوں کے سر دھڑ کاٹ کر الگ کر دیے تھے اور پھر ان کی لاشوں کو آگ لگادی تھی۔

کہتے ہیں کہ تب سے لے کر اب تک ہر سال اسی تاریخ کو رات کے دو بجے، سر کٹے ہوئے اور جلی ہوئی وردی پہنے چند ڈاکیے اسی اندھیرے اسٹیشن پر لالٹین ہاتھ میں لیے گھومتے نظر آتے ہیں اور طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ کٹ کر ریلوے لائینوں پر اکیلا ہی دوڑتا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔ایک حواس باختہ بھوت کی طرح۔

میں اس قسم کے ڈراؤنے اور دلچسپ قصے جب اسے سناتا ہوں تو وہ جواب میں کچھ نہیں کہتا، نہ ہی ڈرا ہوا سا محسوس ہوتا ہے۔ ہاں، اس دن ضرور وہ کچھ خوف زدہ سا محسوس ہوا تھا جب کالی ندی کے پُل پر سے مغرب کے وقت س نے ان لوگوں کو دیکھا جو اپنے پیروں پر بانس باندھے قطار بنا کر گزررہے تھے۔ میں نے اسے سمجھایا تھا کہ ان سے ڈرنے کے کیا معنی؟ یہ توسگریٹ کے کسی خاص برانڈ کے اشتہار کی خاطر مسخرہ پن کے لیے نکلے ہیں۔

اِدھر چھوٹے کو دین اور اللہ رسولؐ کی باتوں میں بہت دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ قرآن شریف تو خیر اس کی بُوا نے پہلے ہی اس کو پڑھا دیا تھا۔ مگر فرشتے جس اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اپنے فرائض منصبی پورا کرتے ہیں، تو اس پورے الوہی نظام سے وہ بہت متاثر معلوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر جبرئیل علیہ السلام سے۔

جہاں تک بڑے لڑکے کا سوال ہے ، تو اسے نہ تو اسکول کی تعلیم سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی دینی تعلیم سے۔ میرا خیال ہے کہ وہ آوارہ ہوتا جارہا ہے۔

تقریباً بیس دن سے اس کاغذ پر میں نے کچھ نہیں لکھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا دل ہی نہیں چاہا۔ دراصل ہوا یوں کہ چھوٹے کی گردن پتنگ کے مانجھے میں پھنس گئی تھی۔ نرخرہ کٹتے کٹتے بچا۔ خدا نے بڑی خیر کی۔ اس بے چارے کو پتنگ وغیرہ سے کیا کام، مگر اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ وہ میرے گھر کے سامنے، کچھ دور نکل کر کالی ندی کے پُل ہے، اس کی ریلنگ پر دونوں طرف مانجھا بنانے والے مانجھا تانتے ہیں۔ بس وہ گزر رہا ہوگا پُل پر سے۔ اسے ندیاں دیکھنے کا شوق بھی بہت ہے۔ (حالاں کہ ندیوں اور کنوؤں کے آس پاس گھومنا خطرناک بات ہے۔)وہیں اس اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے میں پھنس گئی۔ میں تو ڈاک بانٹنے گیا ہوا تھا۔ میری بہن اور محلے کے کچھ لوگ اسے لے کر سامنے والے گھر لے گئے جہاں حال ہی میں ایک سرکاری ڈاکٹر کہیں سے تبادلہ ہوکر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہت اچھے ہیں۔ انھوں نے ٹانکے لگانے اور مرہم پٹی کرنے کی کوئی فیس بھی نہیں لی۔ ان کی بیگم صاحبہ بھی بہت اچھی ہیں۔ بیگم صاحبہ نے چھوٹے کو پڑھنے کے لیے انگریزی کی ایک کتاب بھی دی ہے۔ کتاب پر ان کی بیٹی کا نام لکھا ہوا ہے۔ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔ چھوٹے سے دو سال بڑی ہوگی۔ بڑا گول چہرہ ہے اس کا ہے اور بالکل سفید۔ اتنا گول اور سفید چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔

مگر چھوٹے کا زخم بھرنے میں بیس دن لگ گئے۔ ٹانکوں میں بار بار مواد پڑجاتا تھا۔ ہلکا ہلکا بخار بھی رہنے لگا۔اس درمیان ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیٹی کو کئی بار ہمارے گھر، چھوٹے کی خیریت کے لیے بھیجا۔کتنی بڑی بات ہے۔ ایک معمولی ڈاکیے کے بچے کا اتنا خیال۔ یقیناًان کے دل میں خوف خدا ہوگا۔ دنیا ایسے ہی نیک لوگوں پر قائم ہے۔

تو بس میں انھیں ذہنی الجھنوں میں گرفتار رہا۔ لکھنے کا دل ہی نہ چاہا۔ ویسے بھی میں کوئی ڈائری تو لکھ نہیں رہا ہوں۔ یہ تو بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں کے کام ہیں۔ میں بس ایک جعلی قسم قصہ گوئی کررہا ہوں جس کا چسکا مجھے ان غپ مارنے والوں نے لگادیا ہے۔ جعلی میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر قصہ زبانی نہ سنایاجائے تو وہ قصہ ہی کیا۔ اور اسے لکھا جائے تو وہ حرف دل کی ایک بھڑاس ہوتا ہے۔ اس میں دوسرے کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟ کیا میرے اندر بھی ایسی ہی کوئی بھڑاس ہے جسے میں دل سے باہر نکال کر پھینکنا چاہتا ہوں؟ اگر یہ بات ہے تو بہت غلط ہے۔ کچھ کچھ ایسے جیسے کیلے کے چھلکوں کو گھر سے باہر سڑک پر پھینک دینا، دوسروں کو پھسلتے رہنے کے سامان فراہم کرنے کے برابر۔

چھوٹے کے پاس وہ جو انگریزی کی کتاب ہے، اس میں بہت سے موضوعات پر مضامین لکھنے کے اصول بتائے گئے ہیں اور ساتھ میں نمونے کے طور پر کچھ مضامین بھی شامل کر دیے گئے ہیں مثلاً تاج محل پر، گائے پر اور پوسٹ مین پر۔

اب تو پاگل کو رٹ ہی لگ گئی ہے کہ وہ پوسٹ مین پر ایک ایسا طویل اور زبردست مضمون لکھے گا جو دنیا میں آج تک کسی نے نہ لکھا ہو۔ اب میں اسے لاکھ سمجھاتا ہوں کہ تمھاری جماعت کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ دو سو الفاظ کا مضمون لکھنا ہوتا ہے، ورنہ نمبر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ مگر وہ مانے تب نہ۔ اس نے تو ضد پکڑ لی ہے۔ ڈاکیوں کے بارے میں ایک سے ایک معلومات اس نے نہ جانے کہاں سے حاصل کرلی ہیں۔ شاید وہ یہ مضمون لکھ کر ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو بھی دکھائے گا۔ کل رات میں نے اس کا پوسٹ مین پر لکھا ہوا مضمون پڑھا ہے جو ابھی ادھورا ہے۔ مضمون ابھی میرے سامنے ہی ہے۔ کیوں نہ اس کا ایک آدھ اقتباس میں یہاں نقل کردوں۔

خطوں کے ساتھ اگر ڈاکیے کی یاد نہ آئے تو وہ خط ہی کیا۔ ڈاکیے کی پہنچ جس طرح دنیا کے عام سے عام آدمی تک ہے،ایسی کسی اور سرکاری نوکر کی کہاں۔ لوگ چاہے شہروں میں رہتے ہوں یا قصبوں میں یا پھر گاؤں اور دوردراز کے جنگل کے علاقوں میں،وہ ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔ایک فرشتے کی طرح۔ اس کے پاس عام آدمی کی پیاری سواری یعنی سائیکل ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ پیدل بھی چلتا تھا۔ کبھی گھوڑوں پر بھی قاصد بجلی کی رفتار سے دوڑتے تھے اور اپنے اپنے علاقے کی سرحد تک پہنچ کر وہ دوسرے گھڑ سوار قاصد کو خط سونپ دیا کرتے تھے۔ دنیا میں امن کے کتنے مجاہد ان قاصدوں کی رفتار کے مرہون منت رہے ہیں۔ کچھ مقاموں پر کبوتروں نے بھی ڈاکیے کا کام انجام دیا ہے۔ اس لیے کبوتر کو فرشتہ نما اور پاکیزہ جانور مانا جاتا ہے۔ ڈاکیے کا سماج کے ہر طبقے میں استقبال ہے۔ تیوہاروں کے موقع پر ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ بخشش دی جاتی ہے۔ ڈاکیہ سرکار کا پرزہ نہیں بلکہ سماج کا ایک حصہ ہے۔ وہ جب کسی کے گھر تار لے کر جاتا تھا تو تھوڑی دیر وہیں ٹھہر جاتا تھا، انسان کے سکھ یا دکھ میں ایمان داری کے ساتھ شریک ہونے کے لیے۔آج بھی بہت سے ڈاکیے اجنبی انسانوں کے سکھ دکھ میں اسی طرح شریک ہیں۔ میرے بابو بھی ایک ایسے ہی ڈاکیے ہیں….ایک عظیم ڈاکیے۔

بہت کم لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ اس کی وردی کا رنگ پولیس والوں کی وردی سے ملتا جلتا ہے۔ مگر پولیس والوں کی وردی نے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے سوا اب تک کیا کیا ہے؟ اور ڈاکیے کی وردی دیکھ کر لوگوں کے دل اپنائیت اور انسیت کی خوشبو سے بھر جاتے ہیں۔ گرمیوں کی سخت اور سنسان دوپہر میں، جب آسمان میں چیل انڈا چھوڑ رہی ہوتی ہے، اس کی خاکی وردی کی ایک جھلک دور سے نظر آنے پر ہی وہ ویران دوپہر رونق افزا ہو جاتی ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں امیدوں کے گلزار سجنے لگتے ہیں۔ کسی کو خط لکھنا اور کسی سے خط پانا بہت بڑی نعمت ہیں۔ میرے بابو یہی کہتے ہیں۔ میں نے پڑھا ہے کہ گاندھی جی خطوں کا جواب فوراً ہی لکھنا شروع کردیتے تھے۔ ان کے پاس روزانہ ڈھیر سارے خطوط آتے تھے۔ خط کا جواب لکھتے لکھتے جب ان کا دایاں ہاتھ تھک جاتا تھا تب وہ بائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کردیتے تھے۔ کتنے اچھے تھے گاندھی جی۔ اتنے نیک اور عظیم انسان کو بھی کسی نے قتل کردیا۔۔۔۔۔آخر کیوں؟

خطوں کے حوالے سے پوسٹ کارڈ کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔سرکار ہر شے کو مہنگا کر سکتی ہے مگر پوسٹ کارڈ کے دام بڑھاتے ہوئے ڈرتی ہے۔ ایک وہی تو عوام کی سب سے پیاری چیز ہے۔ روٹی اور دودھ اور دال اور چاول سے بھی پیاری چیز جو حقیر سے حقیر انسان کے وجود کو بھی بامعنی اور باوقار بنا دیتی ہے۔ ابھی حال میں اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکہ میں ایک الیکٹرانک میوزک بینڈ کی ایجاد ہوئی ہے جس کا نام پوسٹل سروس رکھا گیا ہے۔ یہ نام اس لیے ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جانے کن کن ملکوں سے آپس میں پوسٹ کارڈ لکھ لکھ کر آلات موسیقی کے بارے میں اپنے اپنے تجربات بیان کیے جن کو جمع کرکے یہ عظیم الشان بینڈ بنایا گیا۔

ڈاکیے کا نہ کوئی مذہب ہے نہ ذات اور نہ ہی کوئی طبقہ بلکہ وہ سماج کی مختلف اکائیوں اور طبقوں کو آپس میں ملانے اور پرونے کا کام انجام دیتا ہے۔
ہماری فلموں میں بھی اکثر ڈاکیے کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔میں نے تو ابھی تک کوئی فلم نہیں دیکھی ہے مگر بابو نے وعدہ کیا ہے کہ جب بھی کبھی ان کی جوانی کے دنوں کی مشہور فلم ’’ڈاک ہرکارہ‘‘ دوبارہ نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو وہ مجھے دکھانے کے لیے ضرور لے جائیں گے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ڈاکیہ فلموں کا نہیں بلکہ اصلی زندگی کا ہیرو ہے۔۔۔۔۔۔میرے بابو کی طرح۔ جب وہ اپنی خاکی رنگ کی وردی پہن کر ، ٹوپی لگا کر ، ڈاک گھر جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس طرح جگمگانے لگتے ہیں جس طرح مٹی میں ہیرا۔

اور اب آخر میں یہ بتانا بھی چاہتا ہوں کہ شروعات کے دنوں میں صرف خط یا چٹھی تقسیم کرنا ہی ڈاک والوں کا کام نہ تھا بلکہ وہ سرایوں کی دیکھ بھال بھی کرتے تھے۔ وہ سڑک پر دن رات چلنے والے مسافروں کے سفر کو آسان اور سہولت سے بھرا ہوا بنا دیتے تھے۔ انھیں ٹھگوں اور راہزنوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ یہی سرائے بعد میں آگے چل کر ڈاک بنگلوں کے نام سے مشہور ہوگئے۔ رات کو مسافر راستے میں پڑنے والی ڈاک چوکیوں میں بھی آرام کرسکتے تھے۔ اور سب سے اہم بات تو یہ کہ کچھ عرصے تک گاؤں اور دوردراز کے علاقوں میں ڈاکیوں نے پلیگ کی دوائیں مریضوں تک پہنچا نے کا فریضہ بھی انجام دیا۔

اب بھلا بتائیے کیا یہ بارہ تیرہ سال کے بچے کی تحریر معلوم ہوتی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ مضمون میں بڑی بے ربطی ہے۔ جگہ جگہ کچا پن بھی ہے مگر وہ تو فطری ہی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس نے اتنی ساری معلومات کہاں سے حاصل کی ہیں اور بھلا ان تمام معلومات کا فائدہ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب اس کے ذہن کا تخیل ہوا۔ اس میں سے کسی بھی بات میں کوئی صداقت نہ ہو ۔ مگر اگر ایسا ہے تو یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ آخر اس کے ننھے سے ذہن پر ڈاکیے اور ڈاک گھر اتنا حاوی کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ میں ہوں؟ لیکن اب ایمان اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ میں ایک حقیر سا ڈاکیہ۔ یہ بھی کوئی رتبہ ہوا؟ اگر میں ڈاکٹر یا وکیل یا کوئی نیتا وغیرہ ہوتا تو بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ ان لوگوں کے بچے اپنے ماں باپ کی نقل اتارا ہی کرتے ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ میں خواب میں بھی ہرگز نہ چاہوں گا کہ میری اولاد بھی ڈاکیہ بنے، بھلے ہی مجھے اپنی چٹھیاں بانٹنے کے لیے نکلنا کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگتا ہو۔ امتحان میں ڈاکیے پر ہزار پانچ سو لفظوں میں مضمون لکھ دینا الگ بات ہے اور ڈاکیہ ایک قطعاً مختلف اور دوسری بات۔ دنیا ایسی ہی منافقتوں کی وجہ سے تو اتنی خوب صورت نظر آتی ہے۔

کچھ عرصے سے میں یہ واضح طور پر محسوس کرنے لگا ہوں کہ زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس میں سے شرافت غائب ہوتی جارہی ہے۔ میں بہت کم پڑھا لکھا انسان ہوں مگر یہ پیشن گوئی کرسکتا ہوں کہ آگے آنے والا زمانہ بہت ہی خراب ہوگا۔ میرا بڑا لڑکا بھی غلط صحبت میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ اسے پڑھنے لکھنے میں تو کیا، قاعدے کے کھیل کود میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری ڈانٹ پھٹکار کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وہ اتنا بے غیرت ہوچکا ہے کہ میں نے اسے اب زیادہ کچھ کہنا سننا چھوڑ دیا ہے۔ محلے میں غنڈہ گردی بڑھتی جارہی ہے۔ گلیوں میں لفنگوں اور شہدوں کے جتھے ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ بے روزگاری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ اس ماحول کی وجہ سے ہی شاید سامنے والے ڈاکٹر صاحب یہ محلہ چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں،یا شاید ان کا کہیں تبادلہ ہوگیا ہے۔وہ لوگ اتنی خاموشی سے مکان خالی کرگئے کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ اچھا ہی ہوا۔ ویسے بھی یہ بڑا منحوس علاقہ ہے۔ جب دیکھو تب یہاں طاعون ہی پھیلتا رہتا ہے۔ مگر ان کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا ہے کہ چھوٹا کچھ گم سم سا رہنے لگا ہے۔

کل یہاں ایک بہت ہی تکلیف دہ اور شرم ناک واقعہ ہوا۔ کالی ندی کے پُل کو پار کرتے ہی بائیں طرف سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سے ہری مسجد ہے۔ وہاں کوئی پردیسی آکر ظہر کی نماز پڑھنے لگا۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے مسلک کا ہے۔ بس پھر کیا تھا، نمازیوں نے اپنی نیت توڑ کر اس پر حملہ کردیا جیسے وہ کوئی موذی سانپ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ انھوں نے مسجد سے اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ محلے کے کچھ نوجوان غنڈے اس کی طرف چاقو نکال کر بھی دوڑے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ اسے لگا نہیں۔ کسی طرح اپنی جان بچا کر بھاگا۔ اس کے بعد مسجد کا فرش، دیواریں اور یہاں تک مینار بھی دھو کر ’’پاک‘‘ کیے گئے۔ امام صاحب کا کہنا تھا کہ غیر مسلک کا آدمی وہاں نماز ادا کرے تو اللہ کا گھر ناپاک ہوجاتا ہے۔ پتہ نہیں، میں دین و مذہب کی اتنی باریک باتیں نہیں جانتا۔ مگر میں ایک بات سے اور فکر مند ہوں اور وہ یہ کہ مجھے شبہ ہے کہ بڑا بھی ان لونڈوں میں شامل تھا جو اس بے چارے کے اوپر چاقو تانتے ہوئے دوڑے تھے۔ اس واقعے سے آج کل ماحول میں تناؤ سا ہے۔ کل کوئی کہہ رہا تھا کہ آس پاس کے لڑکے زیادہ تر اپنے پاس چاقو اور دیسی طمنچہ رکھنے لگے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی حفاظت کرنا سمجھ داری کی بات ہے، کیوں کہ پورب کی سمت سے، جہاں نچلے طبقے کے ہندؤں کی بستی ہے، کبھی بھی مسلمانوں پر دھاوا بولا جا سکتا ہے۔

مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے کہ آج کل ڈاک بانٹنے کے کام میں میری طبیعت لگتی نہیں۔ مسجد والے واقعے کے بعد سے میرا دل برا ہوگیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ جو اتنے سارے خط ، پیغامات وغیرہ میں ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچاتا رہتا ہوں، آخر ان میں ہوتا کیا ہے؟ یہ محبت نامے ہیں یا طاعون کے جراثیم؟ کیا انسان دوسرے سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے یا پھر یہ سارے لوگ ایک بھیانک نیند کے شکار تو نہیں ہوگئے ہیں؟ کسی ہدایت، کسی تلقین، کسی پیغام ، محبت اور خوشی کی ان تک واقعتا کوئی رسائی ہی نہیں ہے۔ وہ اس سیاہ نیند میں حرف نفرت اور تشدد کے خواب دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایسی نیند کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ کام صور اسرافیل کے علاوہ اور کسی کے بس میں نہیں۔

ایک عرصہ ہوا جب مجھے لکھنے کا یہ شوق چرایا تھا۔ میں نے چاہا تھا کہ ذاتی باتیں لکھوں ۔مگر اب جو اپنا لکھا ہوا پڑھتا ہوں تو یہ سب مجھے اپنی نجی ڈائری کی طرح نظر آتا ہے۔ اگر کل کلاں کسی کو میرا یہ پلندہ مل جائے تو اس بکواس کو وہ ایک ڈاکیے کی ڈائری ہی سمجھے گا ، کوئی قصہ کہانی تو ہرگز نہیں۔ لہٰذا اب جا کر اس افسوسناک امر کا احساس مجھے ہوا ہے کہ جس طرح کسی جانور کی کھال اتارتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس سے لگا لپٹا خون نہ باہر آئے، بالکل اسی طرح دنیا کے بارے میں کوئی بھی بات لکھتے وقت انسان کی ذات کے لہو کی بو لفظوں سے ہمیشہ لپٹی رہتی ہے۔
اس لیے مایوس ہو کر میں یہ بیکار کا مشغلہ اب ترک کررہا ہوں ۔ بس اتنے ہی میں میرا شوق پورا ہوگیا، یا یہ کہیے کہ اب میرا دل بھر گیا۔ میں اس کے آگے کچھ بھی لکھنے سے بھر پایا۔

اس کے بجائے میں نے سوچا ہے کہ مجھے اپنی توجہ اپنی بوسیدہ سائیکل کو دینا چاہیے جس کی مرمت ایک عرصے سے ٹل رہی ہے۔ اس کے دونوں پہیوں میں لہر آگئی ہے اور مڈگارڈ کھڑ کھڑ بولتا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مجھے چھوٹے کے ساتھ اب زیادہ وقت گذارنا چاہیے۔ آج کل رات کو سوتے وقت وہ بڑے بھاری بھاری خراٹے لینے لگا ہے۔ اور اس کا سر تو اب بالکل ایک طاعون زدہ چوہے کے سر جیسا ہی ہوتا جارہا ہے۔

(۲)
خون سے خالی سفید گول چہرہ

’’تم پھر یہاں آگئے؟ ‘‘ بڑے بھائی نے لیہی بناتے بناتے اسے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

وہ جواب میں کچھ نہ بولا۔ بس سامنے پڑی لکڑی کی کالی اور گندی میز پر ٹین کے ایک بدرنگ ڈبے میں رکھی ہوئی سفید گاڑھی لیہی کو اور کالی کالی مہروں کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اس لیہی سے لفافے بند کیے جائیں گے۔ ڈاک ٹکٹ چپکائے جائیں گے اور پھر یہ کالی مہریں ان پر ثبت کردی جائیں گی۔

یہ ایک چھوٹا سا ڈاک گھر تھا۔ انگریزوں کے زمانے کی گوتھک طرز کی ایک گول اور منحوس پرانی عمارت۔ عام طور سے یہ گول ڈاک خانہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا بھائی اس گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔

’’تم بھاگ جاؤ یہاں سے۔ میرا مذاق نہ بنوایا کرو۔‘‘ بڑے بھائی نے لیہی سنی انگلیاں ایک کپڑے سے صاف کیں۔
’’میں وہ سرنگیں دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ وہ سر جھکائے ہوئے آہستہ سے بولا ۔
’’کون سے سرنگیں؟‘‘
’’بابو نے بتایا تھا کہ اس ڈاک خانے کے نیچے کچھ سرنگیں ہیں جو بہت دور دور کے شہروں کے ڈاک خانوں میں جا کر کھلتی ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ سنا میں نے بھی ہے مگر ان تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ فوجی تحویل میں ہیں اور ان میں اسلحہ بھرا ہوا ہے۔‘‘
وہ مایوس ہوگیا۔

’’اچھا تو پھر میں چلتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی وردی کی شکنیں درست کیں۔ سر پر لگی ہوئی ٹوپی کو سیدھا کیا اور اپنا تھیلا سنبھالتے ہوئے تقریباً دوڑتا ہوا وہاں سے واپس جانے لگا۔
’’سیدھے گھر جانا۔‘‘ بڑے بھائی نے آواز لگائی۔ ’’آج سورج گرہن پڑے گا۔‘‘
اس نے اپنے چوہے جیسا سر ہلایا۔

اس کا سر تو ضرور ایک طاعون زدہ چوہے کی طرح بے بس اور مغموم نظر آتا تھا مگر جسم مضبوط اور قد بہت لمبا تھا۔ اس کے حلیے کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ بھی گمان گذرتا تھا جیسے کسی تندرست و توانا آدمی نے کسی تماشے کے لیے چوہے کا نقاب پہن رکھا ہے۔ یہ ایسا سر تھاجسے دیکھ کر یہ اندیشہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید ابھی ابھی اس کے منھ سے خون کی پتلی لکیر پھوٹنے لگے اور ننھے ننھے دانت اس طرح باہر نکل آئیں جس طرح طاعون میں دم توڑتے ہوئے چوہے کے۔

مگر اس کے دانت بھی ننھے ننھے نہیں تھے۔ وہ عام دانتوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی بڑے اور چوڑے تھے۔ جب وہ ہنستا تھا (ایسا کم ہی ہوتا تھا) تو دیکھنے والوں کو لگتا کہ جیسے یہ دانت منھ سے باہر نکل کر خود اس کی ہنسی کو ہی چبا چبا کر نیست نابود کررہے ہوں۔

گرمی بہت بڑھ گئی تھی۔ جون کا مہینہ تھا۔ جون کی گرمی اور تپش کی انفرادیت ہی یہ ہے کہ وہ بار بار آدمی کے دل کو ایک گیلے تولیے کی طرح نچوڑتی رہتی ہے۔

تیز تیز چلتا ہوا وہ گول ڈاک خانے سے بہت دور نکل آیا تھا۔ سڑک کے چاروں طرف جنگلی جھاڑیاں اُگ رہی تھیں۔ بس تھوڑا آگے چل کر بائیں طرف مڑنے پر کالی ندی کا وہ بوسیدہ پُل پڑتا تھا جس کے تین در تھے۔ برسات کے دنوں کو چھوڑ کر صرف ایک در میں ہی پانی بہتا تھا۔ ویسے کالی ندی کا کیا تھا، وہ تو یہاں بھی بہہ رہی تھی۔ ادھر جھاڑیوں کے پیچھے خاموشی کے ساتھ۔

کچھ دور نکل آنے پر اسے ندی کا پُل نظر آنے لگا۔ وہ چونک پڑا، مگر اس بار خوف زدہ نہیں ہوا۔ آج وہ اسے تیسری بار نظر آئے تھے۔ وہ پُل پر سے جا رہے تھے۔ قطار بنا کر، پیروں میں لمبی لمبی لکڑیاں لگائے ہوئے۔

اسے یاد تھا۔ پہلی بار جب انھیں دیکھا تھا،زمانہ گذر گیا۔
خوف زدہ ہو کر اس نے بابو کا ہاتھ سختی سے بھینچ لیا تھا۔
’’بابو یہ کیا ہے؟‘‘

’’ ارے یہ؟ یہ تو ’پاسنگ شو‘، سگریٹ کا اشتہار ہے۔ یہ ایک کرتب ہے۔ نٹوں کا کرتب۔ یہ اپنے پیروں میں بانس لگا کر چل لیتے ہیں۔ مگر اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟‘‘

وہ اسی طرح بابو کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے کھڑا رہا۔

وہ سب سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔ اتنے طویل قامت کہ ان کے سروں کی، جوکروں جیسی سفید ٹوپیاں پُل کے کنارے لگے بجلی کے کھمبوں کے تاروں کو چھُو رہی تھیں۔ وہ گھر وں کی دیواروں سے بھی اونچے تھے۔ یہ ایک بھیانک منظر تھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ دوسرے ہاتھ میں دبی ہوئی میٹھے چورن کی پڑیا چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ کہیں بہت دور سے، سردی میں بھی نہ کہاں سے بھٹکتا ہوا پسینہ آگیا۔

اور دوسری بار اس نے انھیں جب دیکھا تو اس کے بابو کا جنازہ جا رہا تھا۔ وہ بھی جنازے کے ساتھ ساتھ تھا۔ جب میت ندی کے پُل پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ سامنے سے وہ آ رہے تھے۔ سفید کپڑے، پیروں میں وہی لمبے لمبے بانس لگائے۔ ایک خاموش جلوس کی شکل میں چلتے ہوئے وہ خود بھی ایک جنازے ہی کی مانند نظر آئے۔

بابو کی میت جب ان کے قریب پہنچی تو وہ سب رک گئے۔ اسے اس وقت احساس ہوا کہ چار اشخاص کے کاندھوں پر اٹھا کر لے جائے جانے والا میت کا پلنگ ان درجنوں کی تعداد میں، پیروں میں بانس لگا کر چلنے والے مہیب طویل قامت لوگوں سے اتنا نیچا ہوگیا تھا کہ نظر ہی نہ آتا تھا۔

’’کیا تم ڈر رہے ہو؟یہ ایک کرتب ہے۔ کرتب تب ہی دکھائے جاتے ہیں جب لفظ مر جاتے ہیں اور دنیا کو نیند آنے لگتی ہے۔‘‘ مغرب کی اذان ہونے والی تھی۔ پُل کے نیچے بہتی کالی ندی میں شام گر رہی تھی۔ بابو کے جنازے اور ان ہولناک اشخاص کے عکس کالی ندی میں ٹوٹ ٹوٹ کر بہنے لگے۔

وہ نہ جانے کب سے یہیں کھڑا تھا۔ وہ تو پُل پر سے نہ جانے کب کے غائب ہوچکے تھے۔ وہاں اب ہر طرف سناٹا تھا۔ بچپن میں وہ بار بار اس پُل پر سے گذرتا تھا۔ ویران سا خستہ حال پُل۔ دونوں طرف زنگ لگی ہوئی کمزور سی ریلنگ ۔ وہ اس کے گزرنے سے ہلتا تھا۔

وہ دن وہ کیسے بھول سکتا تھا۔ پُل پر بادلوں کے سائے تھے اور گذری ہوئی بارشوں کے چھینٹے تھے۔ ریلنگ پر دونوں طرف سفید رنگ کا مانجھا تنا ہوا تھا۔
سڑک نہ جانے کب ہوئی بارش سے بھیگی پڑی تھی۔ اسی بھیگی سڑک پر اس کا پیر پھسل گیا۔ اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے کے درمیان پھڑ پھڑا کر رہ گئی۔ وہ مانجھا نہیں تھا۔ ایک چاقو تھا ۔ ایک تیز دھار والا بے رحم ہنسی ہنستا ہوا چاقو۔

گردن سے بہتی خون کی دھار کو اپنے دونوں ہاتھوں سے روکتے ہوئے، بارش سے بھیگے اسی ہلتے پُل کے نیچے بہتی ہوئی کالی ندی اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس کا سر چکرا نے لگا۔ وہ ندی کو اور نہ دیکھ پایا اور آنکھیں موند لیں۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے وہ کھڑی تھی۔ ایک لڑکی جو عمر میں اس سے دو تین سال بڑی تھی۔ اس کا چہرہ بالکل گول اور بے حد سفید تھا۔ اتنا سفید کہ اسے شائبہ گذرا کہ شاید اس میں خون ہی نہیں ہے۔ لڑکی کی دو گھورتی ہوئی آنکھیں اسی پرٹکی ہوئی تھیں۔ نہ جانے کیوں وہ اس کے چہرے سے لاکھ کوشش کرنے پر بھی نظریں نہ اٹھا سکا۔

ڈاکٹر صاحب نے ٹانکے لگانے اور پٹی باندھنے کی کوئی فیس نہیں لی۔ بوا نے اس کا ہاتھ تھاما اور ان لوگوں کو دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دیں۔

آہستہ آہستہ اس کا زخم بھرنے لگا۔ مگر اسے ہلکا ہلکا سا بخار ہوجاتا تھا۔ آواز میں بھی تھوڑی سی تبدیلی آگئی تھی۔ دراصل زخم تو بھر رہا تھا مگر ٹانکوں میں کہیں کہیں مواد پڑ گیا تھا۔ مواد ہمیشہ آنے والے کھرنڈ کا راستہ روک لیتا ہے۔

ان دنوں وہ اپنے پلنگ پر لیٹا لیٹا صرف گول ڈاک خانوں اور گول سفید چہروں کا ہی آپس میں موازنہ کرتا رہتا تھا۔
پھر ایک دن وہ آئی، اس کا حال دریافت کرنے۔ اس کے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب تھی۔
’’یہ امی نے تمھیں دی ہے۔ اسے پڑھنا۔ دل بہلے گا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ اور اسے محسوس ہوا جیسے یہ آواز بھی اس کے چہرے ہی کی طرح سفید اور خون سے خالی تھی۔

لڑکی نے تھوڑی دیر بوا سے کچھ رسمی باتیں کیں پھر یہ کہہ کر کہ وہ کل آئے گی، رخصت ہوگئی۔مگر دروازے پر پہنچ کر اس نے ایک بار مڑ کر اسی کی طرف دیکھا تھا۔ دیکھا تھا یا گھورا تھا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل تھا۔

تب تو نہیں مگر اب وہ واضح طور پر سب جانتا ہے کہ دراصل اس کی آنکھیں ہی ایسی تھیں۔ وہ گھورتی رہتی تھیں۔ وہ کسی شکرے کی آنکھیں تھیں۔ گھورنے سے ہی ان آنکھوں میں قوت اور بصارت کا نور پیدا ہوسکتا تھا۔ ورنہ وہ صرف اندھے کی آنکھیں تھیں۔ مگر بچپن میں وہ یہ سب کہاں جانتا تھا۔ان دنوں تو اسے ان گھورتی ہوئی آنکھوں اور خون سے خالی سفید گول چہرے سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ تقریباً روز ہی اس کے گھر آتی تھی مگر باتیں صرف بوا سے کرتی تھی۔ اسے تو صرف گھورتی رہتی تھی۔

وہ اب ٹھیک ہوگیا تھا، اسے بخار بھی نہیں آتا تھا۔ مگر جب وہ اس سفید چہرے کی جانب نظر اٹھاتا تو اسے اپنی ہڈیوں کے اندر پوشیدہ ایک تازہ بخار کا احساس ضرور ہوتا۔ عجیب بات تھی کہ اسے صرف اس کا چہرہ ہی نظر آتا تھا۔ کوشش کرنے پر بھی وہاں اور کچھ نہیں دیکھا یا محسوس کیا جاسکتا تھا۔ وہ بہت ڈھیلے ڈھالے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کپڑے پہنتی تھی۔ اس کے پیٹ کی طرف دیکھنے پر لگتا جیسے وہ آنتوں سے خالی پیٹ ہو۔ جیسے وہاں صرف ہوا بھری ہو۔ وہ کبھی کبھی اس کی کہنیوں کی ہڈیوں یا کلائی کی ہڈیوں کو دیکھنا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔

وہ گول سفید چہرہ بھی دراصل ایک خالی طشتری ہی کی طرح تھا جس پر اس کی بے حس ، گھورتی ہوئی دو چھوٹی چھوٹی آنکھیں کسی ڈیزائن کی مانند چسپاں تھیں۔ یقیناًوہاں ناک تھی، ہونٹ تھے، ٹھوڑی تھی اور کان بھی تھے مگر وہ یاد نہ آتے تھے۔ اور اکثر وہ چہرہ انھیں اپنی حبس بھری سفید گول دھند میں چھپا لیتا تھا۔

’’شاید وہ مجھ سے محبت کرتی ہے ،اس لیے گھورتی ہے۔‘‘ وہ اکثر سوچتا۔ دراصل گھورنا ایک پراسرار عمل ہے۔محبت میں، نفرت میں، غصے میں، غوروفکر میں اور یہاں تک کہ بے خیالی میں بھی آنکھوں کو بہرحال گھورنے کا فرض تو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ تو پھوٹ پھوٹ کر رونے کا وقت ہی ہے جب آنکھوں کو گھورنے سے نجات ملتی ہے۔

اس لیے وہ کوئی فیصلہ نہ کرپاتا مگر ایک دن آخر اس نے ارادہ کر ہی لیا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے ایک سفید کاغذ پر لکھا۔
’’مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘
پھرا س جملے کو انگریزی میں بھی لکھا ، کیوں کہ اسے یاد آیا کہ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔
“I love you”

عبارت کے نیچے اس نے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا دیا تھا۔ یہ اس کا محبت نامہ تھا۔ زندگی کا پہلا اور آخری محبت نامہ جسے اس نے لڑکی کو دی ہوئی انگریزی کتاب میں احتیاط کے ساتھ رکھ دیا۔

اس دن صبح سے دوپہر تک بارش ہی ہوتی رہی۔ جب بارش تھمی تو وہ آئی۔ اس کے آنے پر وہ کتاب ہاتھ میں تھام کر دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اگست کا مہینہ تھا۔ بارش کے بعد دھوپ نکل آئی تھی۔ محلے کے گھروں کی دیواریں اور منڈیر یں صبح کی بارش سے بھیگی ہوئی تھیں مگر اب ان پر سنہری دھوپ چمکنے لگی تھی۔

کچھ دیر بوا سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے گھر واپس آنے کے لیے نکلی۔اس نے اسے دروازے پر کھڑے دیکھا تو چونک گئی۔
’’لو اپنی کتاب۔‘‘ اس نے اسی گھرگھراتی ہوئی آواز میں کہا جو گردن کے زخم کے بعد اس کے حلق سے نکلنے لگی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ آواز خود ایک کٹا پھٹا زخم تھا جس میں پیپ بھر گئی ہو۔ ایک پل کے لیے اس نے خود کو دروازے پر کھڑا ایک ڈاکیہ تصور کیا۔
’’اس میں ایک خط ہے۔‘‘ اس نے اپنی پیپ بھری آواز میں اس طرح کہا جیسے ڈاکیے دروازے پر آواز لگاتے ہیں۔

لڑکی نے کتاب تھامی ، پھر اس کے اندر سے وہ سفید کاغذ نکالا۔اس کا سفید گول چہرہ اور بھی زیادہ خطرناک حد تک سفید ہوگیا۔ اس کی گھورتی ہوئی دو آنکھیں اس کے چہرے سے نکل کر اُڑنے لگیں ، کسی شکاری عقاب کی طرح۔

’’میں تمھارے چوہے جیسے نفرت آمیز سر کو دیکھتی تھی۔ میں تم سے نفرت۔۔۔۔۔۔۔‘‘ لڑکی کی خون سے خالی آواز دروازے کی چوکھٹ سے ٹکرائی۔ اس نے کاغذ کا وہ ٹکڑا پرزہ پرزہ کرکے اس کے منھ پر دے مارا۔ پھر اس کے جسم پر کپڑے اور بھی زیادہ بڑھ گئے۔ اتنے زیادہ کہ اس کے بعد وہ اسے دوبارہ نہ دیکھ سکا۔

ٹھیک اس وقت آسمان پر کہیں رینگتا ہوا گھنا سیاہ بادل آ پہنچا اور دیواروں، منڈیروں سے چپکی ہوئی دھوپ پٹ کی آواز کے ساتھ ایک حواس باختہ یا مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گر گئی اور سڑک کنارے، کالا پانی لے جاتی ہوئی تنگ نالی میں کسی زرد سانپ کی طرح بل کھاتی ، بہتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

وہ سفید چہرہ اس کا اکلوتا اندھیرا بن گیا۔ اس اندھیرے میں ایک تیز دھاروالا نفرت آگیں چاقو پھر اس کی گردن پر آکر ٹھہر گیا۔

وہ پُل اب بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ چلتے چلتے وہ وہاں سے دور نکل آیا ہے۔ اب وہ بچہ یا کم سن لڑکا نہیں ہے۔ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ہے۔ مگر اب بھی اس کے خوابوں میں سبز رنگ کا ایک بڑا سا ڈاک ٹکٹ اُڑتا ہوا آتا ہے جس پر وہ گول اور سفید چہرہ بنا ہوا ہے۔ ان خوابوں میں، جنھیں دیکھ کر سوتے وقت وہ زور زور سے خراٹے لیتا ہے اور کبھی کبھی اس کی بیوی بے رحمی کے ساتھ زور زور سے اس کا شانہ جھنجھوڑ کر جگا دیتی ہے۔

چلتے چلتے اسے محسوس ہوا کہ تھیلے میں سے کاغذ ڈھیلے ہو کر باہر آ رہے تھے۔ تھیلے کا توازن بگڑنے لگا۔ وہ سڑک پر اکڑوں بیٹھ گیا اور تھیلے کے کاغذوں کو ایک ڈوری سے کس کر باندھنے لگا۔

اور تب اس نے سوچا کہ محبت اور نفرت دونوں اپنی الگ الگ تاریخ لکھتی ہیں۔ دو متوازی تاریخیں اور پھر آخر میں یہ دونوں ایک ہی ڈوری سے بندھ جاتی ہیں۔ کبھی نہ سمجھ میں آنے کے لیے، ایک راز، ایک معمہ بن جاتی ہیں۔

اس نے اپنی گردن کو چھوا۔ زخم جب بھر جاتے ہیں تو ان کے اندر رہنے والا درد کہاں جاتا ہے۔ کس اندھیرے گوشے میں جاکر چھپ جاتا ہے؟ کیوں کہ اس ناقابل معافی دنیا میں کوئی بھی شے ، کوئی بھی کیفیت کبھی مٹتی نہیں۔ وہ صرف اپنا چولا بدل لیتی ہے۔

وہ دوڑ دوڑ کر چل رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ چوبیس سال بعد آج پھر سورج گرہن پڑنے والا ہے۔ مگر دھوپ میں ایک دوسرے قسم کی تیزی ہے۔ ایک شدید احتجاج، ایک تپتا ہوا غصہ چاند کے خلاف۔ زمین کے خلاف۔ آسمان کے پردے سے باہر آرہاتھا۔ دور کسی پنجرے میں بند درندے کی غراہٹ کی طرح۔ اس نے اسے واضح طور پر سنا۔

(۳)
قتل کا حلیہ کیسا ہے؟

’’بھیا۔ ڈبے میں کریلے اور روٹیاں رکھ دی ہیں۔ مگر ہوسکے تو آج دوپہر سے پہلے ہی گھر آ جانا۔ آج سورج گرہن ہے۔‘‘ بہن نے بھائی سے کہا تھا۔
’’اب جتنی ڈاک ہوگی وہ تو بانٹنا ہی پڑے گی مگر تم دونوں بچوں کو دوپہر میں گھر سے باہر مت نکلنے دینا۔‘‘ اس نے چائے پیتے پیتے جواب دیا تھا۔
’’بابو سورج گرہن میں کیا ہوتا ہے؟‘‘ چھوٹے نے باپ کی وردی پر رینگتی ہوئی چیونٹی کو جھاڑتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کم ہوجاتی ہے۔‘‘
’’بابو میں بھی چلوں تمھارے ساتھ، سورج گرہن دیکھنے؟‘‘

’’میں سورج گرہن دیکھنے تھوڑی جا رہا ہوں۔ میں تو اپنی ڈیوٹی پر جا رہا ہوں۔ مگر تم دوپہر میں گھر سے مت نکلنا۔ اس کے اثرات خراب ہوتے ہیں۔‘‘
وہ اپنی چائے ختم کرکے اٹھ گیا۔ اپنی وردی اور ٹوپی کو سنبھالتے ہوئے اس نے دروازے میں کھڑی سائیکل اٹھائی جس کے کیرئیر میں چھوٹا سا المونیم کا ناشتہ دان لگاہوا تھا۔

بابو آج ہیرو نظر آ رہے ہیں، یہ وردی ان پر کتنی سجتی ہے۔ چھوٹے نے سوچا تھا۔

گیارہ بجے سے لگاتار ڈاک بانٹتے بانٹتے وہ تھک گیا تھا۔ اب دوپہر ہو رہی تھی۔ اس کی سائیکل کچھ دنوں سے بہت بھاری چلنے لگی تھی۔ پیڈل مارنے میں پیروں کی جان ہی نکل جاتی تھی۔ مئی کی دوپہر تھی۔ لُو بہت تیز چل رہی تھی، گرم گرم جھکڑ اس کی وردی کو اڑائے دے رہے تھے اور سائیل ہوا کے زور سے باربار پیچھے کی طرف جاتی تھی۔ اسے بہت طاقت لگانا پڑرہی تھی۔ سڑکیں اور گلیاں آج تقریباً ویران تھیں۔ ایک تو دوپہر کی وجہ سے اور شاید گرہن کے سبب بھی۔

بس یہ دو منی آرڈر اور پہنچا دوں، پھر آرام سے بیٹھ کر کہیں کھانا کھاؤں گا۔ اس نے سوچا۔ بھوک اور پیاس سے اس کی حالت خراب ہورہی تھی۔
اب وہ دادو کے کنویں کے قریب آگیا تھا جس کے پاس پاکھڑ کا ایک پرانا درخت تھا۔ اسے دادو کے کنویں کے سامنے والی گلی میں جانا تھا جو آگے چل کر بند تھی۔

تب اسے خیال آیا کہ یہی وقت سورج گرہن کا ہے۔
دھوپ مٹیالی ہوگئی تھی۔ دھوپ کا یہ مٹیالا پن خوش گوار نہ تھا۔ سورج کے سامنے بادل کا کوئی چیتھڑا تک نہ تھا مگر کسی پراسرار سبب سے اس کی چمک کم ہوتی سی محسوس ہوئی۔

ویران دوپہر میں آسمان میں کوئی چیل انڈا چھوڑ رہی تھی۔
ماحول میں ایک عجیب سی، ناقابل تشریح قسم کی نحوست طاری ہوگئی۔

وہ سائیکل سے اتر کر ، پیدل، سائیکل کا ہینڈل تھامے تھامے اس سنسان بند گلی میں داخل ہوا۔
اس نے دیکھا سامنے تین چار لڑکے کھڑے ایک فحش سا گیت گاتے ہوئے اس کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔
’’ہٹ جانا بھائی،آگے جانا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔

’’چپ تیری بہن کی۔۔۔۔۔نکال کتنے پیسے ہیں تیرے تھیلے میں ۔‘‘
’’اسے ہاتھ مت لگانا۔ یہ منی آرڈر کے پیسے ہیں۔ میری جیب میں جو ملے، وہ لے لو۔‘‘ وہ سہم کر تقریباًگڑگڑاتے ہوئے بولا۔
’’تیری تو ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ایک لڑکے نے جیب میں سے لمبا سا چاقو نکالا ۔
اس نے ڈاک کے تھیلے کو کس کر اپنے سینے سے لگالیا۔
لڑکوں نے مل کر اسے دبوچ لیا اور اس پر پے درپے چاقو کے وار کرنے لگے۔

وہ بڑی ہذیانی چیخیں تھیں مگر اس وقت جیسے انھیں سننے والا کوئی نہ تھا۔ تھیلا چھین کر وہ چاروں دادو کے کنویں کی طرف بھاگتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے ہوئے چیختا ہوا دادو کے کنویں کی طرف دوڑا مگر پھر اس میں سکت نہ رہی۔ اپنا پیٹ تھامے تھامے وہ جھکتا چلا گیا۔ پھر بے دم ہو کر زمین پر پڑی ہوئی اپنی سائیکل پر گر پڑا۔

وہ یوں ہی اپنی سائیکل پر گرا ہوا تھا۔ اس کے پیٹ سے آنتیں نکل کر باہر آگئی تھیں۔ اس کے نیچے زمین پر خون کا دھبہ بڑا ہوتا جارہاتھا۔ اسی خون پر اس کا ناشتہ دان کھل کر الٹ گیا تھا جس میں سے کریلوں کی سبزی اور دو روٹیاں نکل کر اس کے پیٹ سے باہر آئی ہوئی بھوکی آنتوں سے جا لپٹی تھیں۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے دم توڑ رہا تھا۔ آسمان اور بھی مٹیالا ہونے کی طرف جھکا۔ دھوپ یکبارگی کو بالکل مدھم ہوگئی۔آسمان کی اونچائیوں میں ایک چیل چیخی اور دادو کے کنویں میں بیٹ کرتی ہوئی گذر گئی۔ دور خلا میں سورج کو گرہن لگا۔ پھر ایک ثانیے بعد دھوپ تیز ہوئی اور تب دادو کے کنویں کی طرف سے ایک شور اٹھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے ادھر چلے آ رہے تھے۔

’’ارے ڈاکیے کو مارڈالا۔ بے چارے غریب ڈاکیے کو۔‘‘ کوئی چلا چلا کر کہہ رہا تھا مگر اس کے کانوں میں یہ آواز بہت مدھم سی سرگوشی بن کر آئی اور شاید یہ اس دنیا کی آخری آواز تھی جو اس کے کانوں نے سنی۔

چھوٹے کو صرف اتنا یاد ہے کہ بھری دوپہر میں سڑک پر خون کا ایک بڑا سا دھبہ تھا جو لُو کے گرم تھپیڑوں سے خشک اور سیاہ ہوتا جاتا تھا۔ سائیکل کی گھنٹی، مڈ گارڈ، پہیے، تیلیاں، گدی، سب پر خون کے چھینٹے تھے۔ بابو کی خاکی رنگ کی وردی خون میں اس طرح لتھڑی ہوئی تھی جیسے مٹی خون سے لتھڑ جاتی ہے۔ اس کو بابو کی شکل نظر نہیں آئی، یہاں تک کہ اس شام جب اسے باپ کی میت کے پاس لے جایا گیا تو وہاں بھی اسے کوئی شکل نہیں دکھائی دی۔ سفید کفن کے نیچے جھانکتا ہوا صرف وہی خون کا بڑا سا دھبہ ہی چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔

بہت عرصہ گذر جانے کے بعد کسی مسخرے نے اس سے پوچھا تھا۔
’’قتل کا حلیہ کیسا ہوتا ہے، وہ دیکھنے میں کیا لگتا ہے؟‘‘
تب چھوٹے نے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ جواب دیا تھا کہ قتل خون کے رنگ کا ایک ڈاک ٹکٹ ہے جس پر ایک چاقو بنا ہوا ہے۔

(۴)
بہروپیا

جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو بیوی باہر ہی کھڑی مل گئی۔
’’آگئے؟ آج کتنا کمایا؟‘‘ وہ زہر خند لہجے میں بولی۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر چہرے سے خوشی کا اظہار کیاا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے تک آیا، پھر وردی اتار کر دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دی۔ پھر سر سے ٹوپی اتاری اور فرش پر پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

’’روٹی کھاؤگے؟‘‘
اس نے بظاہر خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفی میں سر ہلادیا۔
’’اچھا ہو اگر تم اپنی ٹوپی ہر وقت سر پر لگائے رہو، ایک تو بالکل گنجے ہو چکے ہو، اوپر سے ٹوپی اتارنے پر تمھارے سر کا چوہاپن کچھ اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔
اچانک اس کے چہرے کی خوش دلی غائب ہوگئی۔ اس کے اندر سے اداسی اس طرح نمایاں ہوگئی جیسے رنگے ہوئے بالوں میں سے سفیدی جھانکنے لگتی ہے۔
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
’’کیا بات ہے۔ آج کچھ جلدی آگئے؟‘‘
وہ بیوی کو بغیر پلکیں ہلائے دیکھنے لگا۔جب بھی وہ اس طرح بغیر پلکیں ہلائے دیکھا کرتا تو محسوس ہوتا جیسے وہ ساری دنیا کو اپنی پلکوں پر ڈھیر کی طرح اکٹھا کرکے بیٹھا ہے اور جب پلکیں ہلاتا تو لگتا جیسے وہ ساری دنیا کو غصے کی آگ میں جلا کر راکھ کر دینے کے لیے بار بار دیا سلائیاں رگڑ رہا ہے۔
’’آج سورج گرہن پڑے گا۔ پورے چوبیس سال بعد۔‘‘ وہ افسردگی کے ساتھ بولا۔

’’تو…تو تم کیا کروگے؟ کیا کالا چشمہ لگا کر گرہن لگنے کا منظر دیکھو گے؟‘‘ وہ درشتی کے ساتھ بولی۔
اس نے بیوی کے درشت لہجے کو محسوس کیا اور یہ سوچنے لگا کہ وہ گرہن لگنے کا ایک منظر دیکھ چکا ہے…چوبیس سال پہلے کالے شیشے کے بغیر مگر آسمان پر نہیں سڑک پر۔

بیوی بھی گویا اس وقت اس کے سر ہی ہوگئی تھی۔
’’تمھیں اپنا بہروپیا پن جتنا دکھانا ہے، دکھاؤ۔ مگر اس سڑی گلی ، اگھور وردی کو تو لے جا کر کوڑے میں پھینک آؤ۔ اس میں نہ جانے کتنے جوئیں اور پسّو پڑ گئے ہوں گے۔ ایسی بھی کیا باپ کی نشانی۔ تم کیسے اسے برداشت کرتے ہو؟ اس پر تمھارے باپ کے خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔‘‘
اور یہ حقیقت تھی کہ وردی پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے جو وردی کے دھلتے رہنے کے ساتھ اور وقت گذرجانے کے باعث کالے اور جامنی رنگ میں بدل گئے تھے۔ اس میں جگہ جگہ سوراخ ہوگئے تھے۔برسات میں پانی بھیگ کر اس سے ایسی سڑاندھ نکلتی کہ قریب کھڑے آدمی کو اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑ جاتا۔ بوا نے باپ کے مرنے کے بعد ہی خون سے سنی اس منحوس وردی کو پھینک دینا چاہا تھا مگر اس نے ضد پکڑ لی تھی۔

’’وردی نہیں جائے گی۔ ہر گز نہیں جائے گی۔ وردی میری ہے۔‘‘ وہ رو رو کر کہہ رہا تھا۔ آخر بوا کو بن ماں باپ کے اس سنکی سے بچے کے سامنے ہار ماننا ہی پڑا۔

’’سنو! پرانے کپڑے فروخت کر کر کے اب مجھ سے گذر بسر نہیں ہو سکتی۔ تم یہ بہروپیا پن چھوڑ کر کوئی ٹھیلہ ہی لگا لو۔‘‘ بیوی نے اس بار نرمی اور سمجھانے والے انداز میں کہا تھا۔ بیوی کے سانولے ماتھے پر پھر چند دانے ابھر آئے تھے، جیسے مچھروں کے کاٹنے سے ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی اس کی نظر ان دانوں پر پڑی، اسے اپنے جسم کے اندر ایک جانی پہچانی سی بو کا احساس ہوا۔ ایک ایسی بُو جو صرف شہوت جگاتی تھی اور کھال کے مساموں میں کوئی شے باہر سے آ کر رینگنے لگتی ہے۔ اس کی بیوی نے اس بُو کو پہچان لیا۔

’’ہوش میں رہو۔‘‘ اس نے حقارت کے ساتھ کہا اور اندر چلی گئی۔

وہ تھوڑی دیر یوں ہی فرش پر بیٹھا رہا، پھر لیٹ گیا اور بوا کو یاد کرنے لگا جسے گذرے ہوئے دس سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس کی بیوی بوا کی سسرال کی ایک دور کی رشتے دار ہوتی تھی۔ وہ ایک مطلقہ عورت تھی جس کے کوئی بچہ نہ ہوسکا تھا۔ بوا نے اس کے ماں باپ کو پتہ نہیں کیا پٹّی پڑھائی تھی کہ وہ اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔ بیوی کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی ضرور تھیں مگر ان میں کوئی جاذبیت نہ تھی بلکہ وہ ہمیشہ اس طرح پھٹی پھٹی رہتیں جیسے ان میں تنکا پڑ گیاہو اور وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے کسی سے نکلوانا چاہتی ہو۔ دبلی پتلی ہونے کے باوجود اس کے کولہے بھاری اور ضرورت سے زیادہ گول مٹول تھے۔ اس کے پستان چھوٹے اور ڈھلکے ہوئے تھے مگر ان میں گولائی نام کو نہ تھی۔ وہ کچھ لمبوترے سے تھے۔ ایک عجیب بات اس میں یہ بھی تھی کہ اکثر اس کے ماتھے پر ایسے سرخ سرخ دانے ابھر آیا کرتے تھے جو گرمیوں میں نکلنے والی پھنسیوں سے مشابہ تھے یا پھر مچھر کاٹے سے ۔ ان دانوں کا کوئی وقت یا موسم نہ تھا ۔ وہ پراسرار انداز میں کبھی بھی نکل سکتے تھے۔ اور جب وہ نکلتے تو انھیں دیکھ کر وہ جنسی خواہش سے بے قابو ہو جاتا۔ ایک ایسی خالص اور ایمان دار جنسی خواہش جس میں محبت کی ملاوٹ کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ بس یہی وہ زمانہ ہوتا جب رات کے اندھیرے میں پلنگ پر وہ دونوں وحشیوں کی طرح مضحکہ خیز انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی سی کرتے، جب تک کہ ا ن کی سانسیں ڈھیلی نہ پڑ جاتیں۔ تب اس کا مضبوط جسم سر خرو ہوتا مگر اس کا چوہے جیسا سر تکیے پر ڈھلک جاتا۔
پھر بیوی اندر والے کمرے میں جا کر سو جاتی جہاں تک اس کے خراٹوں کی آواز نہ آتی تھی۔

یقیناًیہ ایک بھیانک بات تھی مگر ہر ایمان دار اور خالص جذبے میں قسم کا ناقابل فہم اور اس کا بالکل نجی بھیانک پن ہوتا ہی ہے جس کے لیے اسے معاف کردینا چاہیے۔

اور یہ تو سب کو عیاں تھا کہ اس کی بیوی کے بچے نہ ہوسکتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے ایک ایسے شخص سے بیاہ دیا گیا تھا جو دنیا کی نظر میں صحیح الدماغ نہ تھا، بلکہ شاید پاگل تھا۔
شاید یہی سبب تھا کہ ٹھیک ٹھاک پڑھ لکھ لینے کے باوجود اس کو محکمۂ ڈاک میں اپنے باپ کی جگہ نوکری نہ مل پائی تھی۔ ہاں، اس کے بھائی کو ضرور گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کی ایک حقیر سی نوکری مل گئی تھی۔ بڑا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ مکان میں رہتا تھا اور چھوٹے بھائی کے سنکی پن سے اتنا نالاں تھا کہ اس سے تقریباً ہر قسم کا تعلق ہی توڑ چکا تھا۔

’’بہروپیا۔ بہروپیا!‘‘ باہر گلی میں بچوں نے آواز لگائی۔
وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ شاید اسے جھپکی آگئی تھی۔ شام ہورہی تھی۔ سورج گرہن گذر چکا تھا۔ شاید ساتھ خیریت کے۔ صرف اس کے ہاتھ پیر کچھ گرم سے تھے۔
’’بہروپیا!‘‘ باہر بچے پھر چلائے۔

اور یہ حقیقت تھی کہ وہ ایک بہروپیا تھا۔ مگر کیسا عجیب بہروپیا، کہ صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا۔ بچپن سے ہی وہ باپ کی زندگی میں ہی نہ جانے کہاں کہاں کے ڈاک گھروں میں بھٹکتا پھرتا۔ باپ کی چھٹی کے دن وہ اس کی وردی پہن کر ڈاکیے کی نقل اتارتا۔ یہ سلسلہ باپ کے قتل کے بعد رکا نہیں بلکہ پاگل پن میں بدل گیا۔ محلے والے اسے چھیڑا کرتے اور یوں تو شہر میں بہت سے بہروپیے گھومتے رہتے تھے، کوئی ڈاکٹر کا بہروپ بھرتا تھا، کوئی وکیل کا، کوئی ٹریفک کے سپاہی کا تو کوئی ڈاکو کا، یا چیتھڑے لگائے ہوئے مجنوں کا۔ جو بھی ہو، بہروپیے بھکاریوں سے تو بہتر تھے اور انھیں بھکاریوں کے مقابلے زیادہ عزت اور قدر کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے تھا۔ مگر وہ تو صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا اور کچھ لوگ اسے مجذوب بھی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کئی بار پولیس بھی اسے غیر ملکی جاسوس ہونے کے شبہ میں پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لے گئی تھی۔ لیکن اب اسے سب جاننے لگے تھے۔ وہ تقریباً تمام شہر میں مذاق کا نشانہ بن گیا تھا۔ خاص طور پر محکمۂ ڈاک کے لیے۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ بخوبی جانتا تھا کہ مذاق اڑانے والوں میں اور مذاق کا موضوع بننے والوں میں آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں ہوتا۔ یہ کوئی رشتہ ہی نہیں ہے، اگرچہ دنیا کے سب سے زیادہ دلچسپ اور تفریح کن رشتے کا التباس ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں قطعی طور پر مختلف دنیاؤں کی مخلوق ہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی دو دنیائیں۔ مذاق اڑانے والوں کے سر طاعون سے بیمار چوہوں جیسے نہیں ہوتے اور سوتے وقت انھیں بھیانک خراٹے نہیں آتے، وہ ایک الگ دنیا کے بہروپیے ہیں۔

باہر گلی میں اب بہت سے بچوں نے مل کر ہانک لگائی۔
’’بہروپیے۔۔۔بہروپیے! کہاں ہو تم؟‘‘
مغرب کی اذان ہو چکی تھی۔ وہ گھر سے باہر آنے لگا۔ محلے کے بچے اسے دیکھ کر اچھلنے کودنے لگے۔ پھر وہ چلائے۔
’’وردی پہن کر آؤ۔ وردی پہن کر آؤ۔‘‘
وہ واپس گھر میں وردی پہننے کے لیے دوڑا۔
صبح سے شام تک اور کبھی کبھی رات میں یہی اس کا مشغلہ تھا جسے وہ ایک عین اخلاقی فرض کی حیثیت سے سالہا سال سے کرتا آرہا تھا۔ بہروپیا بن کر اپنی دانست میں وہ معاشرے میں مسرت پیدا کررہا تھا۔ ایک ایسی مسرت جو حیرت زدگی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ معصوم حیرت زدگی جو صرف اس لیے غائب ہوتی جارہی تھی کہ خود لوگوں نے نہ جانے کتنے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ معصوم حیرت زدگی بہرحال لوگوں کو اپنے اصل روپ کے اندر تک تو لے جاتی تھی مگر وہ تھا ہی کیا؟ اس کی اوقات ہی کیا تھی؟ وہ تو شاید ایک ڈاکیہ بھی نہ تھا۔ صرف ڈاکیے کا بہروپیا تھا جو دوپہر، شام، رات ہر وقت گلی ، کوچوں، ویران علاقوں اور کبھی کبھی کالی ندی کے سنسان اور ویران کناروں پر بھی بھٹکتا پھرتا تھا۔ وہی کالی ندی جو شاید اس کے جسم سے امر بیل کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔
وہ پیدل دوڑ دوڑ کر، ڈاک بانٹا کرتا اور یہ ڈاک کچھ اس طرح کی ہوتی۔
ردی کاغذ کے ٹکڑے، بچوں کی ردی میں بیچی گئی کتابیں اور کاپیوں کے اوراق، سودا فروخت کرنے والوں کی اخباری یا بانس کے کاغذ کی بنی تھیلیاں، جن میں وہ جھوٹ موٹ کے پارسل بنا لیتا۔ ان میں جنگلی پھول، گھاس اور کنکریاں وغیرہ بھردیتا تھا۔ کسی غریب بچے کو سڑک کنارے روتا ہوا دیکھتا تو بھاگ کر اس کے پاس آتا اور کہتا۔
’’لو تمھاری چٹھی آئی ہے۔‘‘ اور پھر اس کے ہاتھ میں ایک میلا سا دبا مسلا رنگین کاغذ پکڑا دیتا، جس پر کچھ نہ کچھ لکھا ضرور ہوتا تھا، کیوں کہ تحریر کے بغیر کاغذ کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ایک چھوٹا بچہ بھی اس نکتے کو بہرحال بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کے تھیلے میں پرانے رنگین کلینڈر، پرانے شادی کے کارڈ، سال گرہ یا تیوہاروں کی مبارک باد وغیرہ کے کارڈ بھی رہتے تھے۔ بچوں کی طرح وہ ان بوڑھے ماں باپ کو بھی کوئی نہ کوئی کاغذ یا کارڈ دے کر بہلا دیتا تھا جو اپنی اولادوں کے خطوں کے انتظار میں تقریباً مردہ ہوچکے تھے۔

کیا واقعی یہ ایک قسم کی اداکاری تھی؟ صبح سے شام تک یہ بہروپ بھرنے کے بعد اس کے پاس صرف ایک خالی اور بے معنی دنیا رہ جاتی تھی جو کہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ ہر عظیم اداکار کا مقدر ہوتی ہے۔ مگر نہیں اس خالی اور بے معنی زندگی میں رات کے وقت اس کے لیے ایک شے اور پوشیدہ تھی اور وہ تھی اس کے خراٹے۔ یہ کوئی عام خراٹے نہ تھے۔ اس کے سوجانے کے بعد اس کے قریب لیٹ کر دنیا کے کسی بھی شخص کو نیند نہیں آ سکتی تھی۔ دوسروں کے لیے یہ بے حد خوف ناک اور پراسرار خراٹے تھے۔ ویسے تو یہ بیماری اسے ہمیشہ سے تھی مگر بچپن میں مانجھے سے گردن کٹ جانے کے بعد سے یہ بڑھ گئی تھی اور گذشتہ دو سال سے اس نے بے حد شدت اختیار کرلی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خراٹے لینے کی وجہ ناک کے پچھلے حصے ، تالو، حلق کے کوے اور زبان کی کوئی نہ کوئی خرابی ہوتی ہے۔ دراصل ہوا کا راستہ بند ہو جانے سے آدمی خراٹے لیتا ہے۔ اس کے لیے یا تو تالو کا آپریشن کرانا ہوگا یا پھر حلق کے کوے نکلوانے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہ تو وہ اپنے ظاہری یا جسمانی زندگی کے تئیں اتنا چوکنا تھا اور نہ کوئی دوسرا اس کے لیے یہ درد سر مول سکتا تھا۔ مگر ڈاکٹروں کا اندیشہ تھا کہ اس طرح کے خراٹوں میں دل پر دباؤ بڑھتا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے کبھی بھی سانس رک سکتی تھی۔ دل کی دھڑکن بند ہو سکتی تھی اور وہ مر سکتا تھا۔

کبھی کبھی جب اس کے گلے کے غدود بڑھ جاتے تو یہ خراٹے اٹک اٹک کر آنے لگتے۔ کچھ اس طرح جیسے تالو میں ازل سے بیج کی صورت پوشیدہ ’شبد‘ ناک اور منھ سے نکلتی ہوئی ہوا کے سہارے باہر آنا چاہتے ہوں۔ کسی نادیدہ، پرا سرار اور عظیم زبان کے حروف تہجی میں شامل ہوکر نیند کی خاموشی کے خلاف ایک بیانیہ کی تشکیل کرنے کے لیے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے یہ خراٹے اداس اور دکھی تھے۔ ایسے خراٹے موت کے کتنا قریب تھے اور شاید اس کالی ندی سے بھی جو اس کے شہر میں ہر طرف بہتی پھرتی تھی۔

وردی پہن کر اور کاغذوں سے بھر اہوا خاکی رنگ کا تھیلا لیے ہوئے وہ گھر سے پھر نکلا اور گلیوں گلیوں دوڑتا ہوا گھومنے لگا۔کسی بچے کے ہاتھ میں کوئی رنگین کاغذ تھماتا ہوا ، کسی راہ گیر کو کسی ایسی شادی کا کارڈ دیتا ہوا جس کی تاریخ نکل چکی تھی۔ ایک سچے بہروپیے کی طرح اپنا فرض پورا کرتے ہوئے وہ دوڑ دوڑ کر اپنی ڈاک بانٹا کرتا۔ دوڑنے میں اس کی سانس بری طرح پھول جاتی تب وہ دم بھر کو سڑک کنارے یا کسی دوکان کے پٹلے پر بیٹھ جاتا۔ مگر آہستہ چلنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ شاید اسے معلوم تھا کہ جدید انسان کے ارتقا میں دوڑنے کا کتنا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ دوڑنے میں انسانوں کی گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں کے گُر یوں نے تمام دھچکے برداشت کرنا سیکھ لیا۔ دونوں بانہوں اور کاندھوں نے توازن برقرار رکھنے کا کام انجام دیا ہے اور یہ انسانی کولہے ہی تو ہیں جودوڑتے وقت تیزی سے مڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ قدیم انسان جب درختوں سے نیچے اترے تب دوڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔
مگر وہ اور بھی تیز دوڑنا چاہتا تھا، تقریباً اڑنا چاہتا تھا۔ مگر کسی پرندے کی طرح نہیں بلکہ ایک پاگل ہوا کی طرح۔۔۔۔۔۔آزاد۔ ادھر سے ادھر۔ تقدیر میں بدلتی ہوئی ہوا، ریگستان میں ریت کے تودوں کی جگہ بدل دینے والی ہوا کی طرح۔
وہ اکثر سوچا کرتا کہ زمانہ کسی چٹھی رساں کے قدموں کے بنائے ہوئے راستوں پر کیوں نہیں چلتا۔
اور یوں تو زمانہ قیامت کی چال چل گیا تھا۔

وہ بہت تیز رفتار ہوگیا تھا۔ مگر انسانی جسم کی حرکت و رفتار تقریباً ایک مردے کے جسم کے برابر ہی رہ گئی تھی۔ جسم نظر آتے تھے، پہیوں پر بیٹھے بے جان مورتیوں کی طرح۔ پہیے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔ انسانی جسم نہ ہلتا تھا۔ اس کو پسینہ تک نہ آتا تھا۔نظر نہ آنے والی قوت کے کاندھوں پر سوار پل بھر میں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے تھے۔ صرف ان کی انگلیاں ادا کے ساتھ ہلتی تھیں اور اس کے خیال میں یہ ایک فحش بات تھی۔ سب کچھ مایوس کن حد تک خوب صورت ہوتا جا رہا تھا۔

یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت تھی کہ لوگ اب اس کے اس بہروپ سے تقریباً اکتا گئے تھے۔ پھر بھی بھکاریوں کی طرح دن بھر میں اسے چند پیسے مل ہی جایا کرتے جن سے اس کی خودداری کو ٹھیس لگتی تھی۔ اسی لیے وہ ان پیسوں سے پرچون کی دوکان پر جا کر ردی کاغذ خرید لاتا۔ گھر کا خرچ بیوی ہی چلارہی تھی۔ وہ بڑے شہر جا کر وہاں سے پرانے کپڑے خرید لاتی اور یہاں غریب گھروں میں بیچ آتی۔ مگر پرانے کپڑوں میں آج تک اسے کبھی ڈاکیے کی وردی بھولے سے بھی نہ مل پائی۔ ہاں کچھ سال پہلے پرانے کپڑوں میں اسے ایک بوسیدہ سے رنگ کا کوٹ ضرور مل گیا تھا۔ یہ کوٹ کسی ایسے شخص کا رہا ہوگا جسے موٹاپے کی بیماری ہو۔ جاڑوں میں کبھی وہ اسے پہنتا تو اس کا سارا جسم اس میں چھپ جاتا۔ وہ اس کوٹ میں بھس بھرا ہوا آدمی نظر آتا اور جس طرح بھس بھرے شیر کی بے چارگی صاف اس کے منھ سے عیاں ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اس کا چوہے جیسا سر مضحکہ خیز انداز میں بے چارہ ہو جاتا۔
اور لوگ۔۔۔۔۔۔وہ بہروپیے تو کیا، دراصل ڈاکیے سے ہی اکتا گئے تھے اور خود ڈاکیہ بھی اپنے وجود کی توقیر برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کی زندگی سے نکل کر حاشیے پر آگیا تھا۔ وہ بس اب سمن، قانونی نوٹس، شئیر مارکیٹ کے بانڈ، ٹیلی فون کے بل، منی آرڈر اور کچھ میگزین وغیرہ ہی اِدھر سے اُدھر ڈھونڈتا نظر آتا تھا۔ بمشکل ہی کسی کے پاس کوئی خط ہوتا تھا۔ لوگوں نے خط لکھنا ہی چھوڑدیے تھے۔ دنیا کی ہڈیاں سُکڑ گئی تھیں۔ وہ بونی ہوگئی تھی جس پر کروڑوں کی تعداد میں انسان اس طرح چمٹے ہوئے تھے جیسے مٹھائی پر چیونٹیاں اور مکھیاں۔ بس ایک بالشت بھر کی دوری رہ گئی تھی جس میں دنیا کو سر سے لے کے پاؤں تک چھوا جا سکتا تھا۔ لوگوں کو صرف خبروں کی ضرورت تھی، کسی پیغام یا ہدایت کی نہیں۔ خبریں پلیگ کے زہریلے جراثیم کی طرح تھیں۔ وہ دنیا پر برس رہی تھی۔ لوگ خبروں کے اس لیے خواہاں تھے کہ وہ اپنی موت میں دوسروں کی شمولیت بھی چاہتے تھے۔ وہ وبا میں مرنا پسند کرنے والے لوگ تھے اور یقیناًانفرادی موت سے اجتماعی موت کی طرف بھاگنا قدرے عافیت کی بات تھی۔
ویسے تو ڈاکیہ ہمیشہ ہی انسانوں کے پیغامات، ان کے دکھ سکھ کو ایک دوسرے تک پہنچانے میں اپنی انفرادی شخصیت اور ساخت قربان کرتا آیا ہے۔ اس کی شکل سیال ہوکر بہتی ہے۔ تم اس کا اکثر نوٹس نہیں لیتے ، کیوں کہ وہ انسانوں کے شادی و مرگ کے کاغذوں کے حساب کتاب ڈھوتے رہنے میں تجریدی ہوجاتا ہے۔ ڈاکیے گلی میں گونجتی ہوئی وہ آوازیں ہیں جن کے ہم عادی ہوگئے یا آسمان پر آوارہ گردی کرتے ہوئے وہ بادل جن سے بھیانک بارش کا کوئی امکان نہ ہو اور اس لیے وہ اپنے حصے کا رعب اور وقار کھو چکے ہیں۔

اسے یاد ہے وہ بابو کے ساتھ شادی کی ایک تقریب میں گیا تھا۔ ایک شاندار سجی سجائی محفل جہاں بابو مٹی کے رنگ کی وردی پہنے خاموش کھڑے تھے۔ وہ سہما سہما ان کی انگلی تھامے تھے۔ محفل میں بابو کے ہاتھ پر صرف ایک نوٹ رکھ دیا گیا تھا۔ فضا میں چاروں طرف دیسی گھی کی کچوریوں کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ اس کا دل کچوری کھانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ مگر دعوت اور آؤ بھگت کے وہ دونوں باپ بیٹے حقدار نہ تھے۔ انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ یہ کیسی عجیب بات تھی کہ جن مسرتوں اور تقریبوں کے پیغام اور بلاوے وہ ساری دنیا میں بانٹتے پھرتے تھے، انھیں میں شرکت کے لیے ان کے پاس نہ کوئی بلاوا تھا اور نہ ہی کوئی مقام۔

گلیوں گلیوں بھٹکتے، وہ اچانک شہر کے سب سے رونق افزا بازار والی سڑک پر آ نکلا۔سڑک کے دونوں طرف نیون بلب، اونچے کھمبوں میں سڑک کی طرف منھ کیے اپنی روشنی پھینک رہے تھے۔ سڑک اتنی روشن تھی کہ اس پر گری ہوئی باریک سے باریک سوئی بھی نظر آ سکتی تھی۔ دوکانوں کے ساتھ بورڈ رنگین بدلتی ہوئی روشنیوں میں جھلملا رہے تھے۔ کاروں، بسوں اور موٹر سائیکلوں کا جم غفیر تھا۔ اس بھیڑ میں فیشن ایبل، نیم عریاں گداز بدن والی پکی پکائی عمر کی عورتیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔خوشبوؤں کے ریلے اڑ رہے تھے۔ فٹ پاتھ پر آئس کریم اور چاٹ کے ٹھیلوں کے برابر ایک غبار والا کھڑا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر سحر زدہ سا ہوگیا۔ اگرچہ وہ سینکڑوں بار ادھر سے گذرا تھا مگر آج اس سڑک کی رونق کچھ دوسری طرح کی تھی۔
ٹھیک اسی وقت ایک عجیب سے گھر گھراہٹ سنائی پڑی۔ جیسے سڑک پر کچھ گھسیٹا جا رہا ہو اور تب اس نے دیکھا۔
دور سڑک پر سامنے سے کوڑھیوں کی گاڑیاں قطار باندے چلی آ رہی تھیں۔ لکڑی کی گاڑیاں جن میں بال بیرنگ کے چھوٹے چھوٹے پہیے لگے تھے۔ ان گاڑیوں کی اونچائی سڑک سے بس اتنی ہی تھی جتنی ایک خاص نسل کے کتے کے پیٹ کی زمین سے ہوتی ہے۔ گاڑیاں مہیب اور کریہہ آوازوں کے ساتھ گھسٹتی ہوئی قریب آ گئیں۔ کوڑھی مرد اور عورت انھیں کھینچ رہے تھے۔

مگر اس دہشت ناک منظر سے الگ ایک اور منظر بھی تھا۔ یا شاید منظر نہیں بلکہ منظر کو کھرچتی ہوئی ایک لکیر۔ ایک خراش۔ کسی کسی گاڑی میں کوڑھیوں کے معصوم بچے بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں گیس کے غبارے دبے ہوئے تھے۔ یقیناًکوڑھیوں نے بھی اپنے بچوں کے لیے رنگین غبارے خریدے تھے۔
بازار رواں دواں تھا۔ تمام افراد ان گاڑیوں سے بچ کر نکل رہے تھے۔ مگر کوڑھیوں کے بچوں کے ہاتھ میں تھمے اونچے اٹھتے ہوئے گیس کے وہ رنگین غبارے جیسے ساری دنیا کا مضحکہ اڑا رہے تھے، زندگی کا بھی اور اپنا بھی ۔
اس نے خود کو شدت سے اداس محسوس کیا۔ اس کے تھیلے میں ایسا کوئی کاغذ نہیں تھا جو وہ ان سڑتی گلتی انگلیوں میں تھما سکتا۔ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے بہروپیے پن کی لا حاصلی کا احساس ہوا۔
گاڑیاں آہستہ آہستہ اپنی دہشت سڑک پر گراتی ہوئی اس کے پاس سے گذرگئیں۔ اور تب اس نے بے اختیار چیخ کر کہا۔
’’میں وہ رقعہ جلد ہی لے کر آؤں گا جس میں تمھارے جسم کی کھال کو کندن کی طرح دمکنے کی خبر دی جائے گی۔ تمھاری ٹیرھی اور ناپاک انگلیاں سیدھی اور پاک ہو جائیں گی۔ چہروں پر ستواں ناک جگمگائے گی۔ بس اپنے بچوں کے ہاتھوں میں غبارے تھمائے رکھنا۔ یہ غبارے اونچے اڑتے اڑتے ایک دن آسمان تک پہنچیں گے اور خدا کو تمھاری داستان سنائیں گے۔۔۔‘‘
مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے منھ سے جو الفاظ باہر آ رہے ہیں، ان پر لگاتار اس کے حلق کے بڑھے ہوئے غدود کا دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس لیے اس کی آواز محض ایک بھیانک خراٹے سے مشابہ ہے۔ اسی لیے اپنی اپنی گاڑیاں گھسیٹتے ہوئے کوڑھیوں نے اسے نہیں سنا۔ یا اگر سنا بھی ہوگا تو اس آواز کو بھی اپنی گاڑی کے پہیوں سے نکلنے والی کریہہ آواز ہی سمجھا ہوگا۔
اسے لگا جیسے اسے تیز بخار چڑھ رہا ہو۔
دور چمکتی ہوئی روشنی میں کوڑھیوں کی گاڑیوں کے بدنصیب سائے بے ہنگم انداز میں سڑک پر پڑتے نظر آئے۔ پھر وہیں کہیں دب کر رہ گئے۔

اس رات جب وہ سویا تو خراٹوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ دوسرے کمرے میں لیٹی ہوئی بیوی کو وہاں تک آتی رہی اور وہ وہاں بھی چین کی نیند نہ سو سکی۔ اس بار خراٹوں کے ساتھ ان کی ہمزاد کھانسی بھی تھی۔ بار بار گلے میں پھندا سی لگاتی ہوئی کھانسی۔ شاید اس کے حلق کے غدود بڑھ کر سُوج گئے تھے، کیوں کہ رات بھر اسے بخار بھی رہا۔ گرمی اور حبس اپنی انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ پوری رات جی کو متلا کر رکھ دینے والی گرمی کے منحوس سائے میں ہی گذر گئی۔

صبح جب وہ دیر سے اٹھا تو بیوی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح چپ رہا۔ وہ جانتا تھا کہ ماتھے پر ہاتھ رکھنے کے پیچھے کوئی ہمدردی نہ تھی۔

’’تمہارا ماتھا جل رہا ہے۔ اور گھومو ایسی قیامت کی گرمی میں۔‘‘
’’تم نے مجھے اٹھایا نہیں۔ دن چڑھ آیا۔‘‘ اس نے اپنی گھرگھراتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’مجھے کیا پڑی تھی کہ اٹھاتی۔ کیا اپنی کمائی لاکر مجھے دیتے ہو؟ ویسے بھی رات اتنے خراٹے لیے ہیں اور اتنا کھانسے ہو کہ جینا دو بھر کردیا۔‘‘ بیوی کا لہجہ بدل گیا۔
وہ خاموشی سے اٹھا ۔ اس نے اپنے کاغذوں کے تھیلے کو فرش پر پلٹ دیا اور ایک سے ایک الم غلم شے کو اٹھا کر اس طرح قرینے سے لگانے لگا جیسے کسی دفتر کا بابو فائلیں لگاتا ہے۔ بیوی نے اس کی طرف نفرت سے گھورا ، پھر تیز تیز چلتی ہوئی دوسرے کمرے میں گھس گئی جہاں اسے پرانے کپڑے سلیقے سے لگا کر گھڑی میں باندھنا تھے۔
اور تب اس کی نظر تھیلے سے نکلی اخبار کے کا غذ کی بنائی ہوئی ایک تھیلی پر پڑی۔ وہ چونک پڑا۔ اس پر ایک بچی کی تصویر تھی۔ آٹھ نو سال کی بچی۔ گٹھنوں تک فراک پہنے بچی کا چہرہ بے حد اداس تھا۔ بڑی بڑی معصوم آنکھوں میں شاید آنسوؤں کی نمی تھی۔ بال بکھر کر اس کے ماتھے پر آ رہے تھے۔ تصویر کے نیچے ایک عبارت تھی۔
سات سال کی بچی اپنی چٹھی کی تلاش میں ایک سال سے شہر کے ہر ڈاک گھر میں چکر لگاتی گھوم رہی ہے۔ ’’روشنی‘‘ نام کی یہ بچی ستیہ پرکاش سنگھ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ستیہ پرکاش نے سال بھر پہلے سینٹرل جیل عزت نگر میں خود کشی کر لی تھی۔ اس پر اپنی بیوی کے قتل کا الزام تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ستیہ پرکاش نے یہ چٹھی اپنی خودکشی سے پہلے جیل کے کسی کارکن کے ذریعے اپنی بچی کے نام پوسٹ کروائی تھی۔ جیل کے کارکن کا بیان ہے کہ وہ چٹھی روشنی کی سال گرہ کا کارڈ تھی۔ مگر سال گرہ کی مبارکباد محکمۂ ڈاک کی گھٹیا اور غیر ذمے دارانہ کار کردگی کی وجہ سے ایک برس بیت جانے پر بھی روشنی کو نہ مل سکی۔ محکمۂ ڈاک کا بیان ہے کہ شاید وہ چٹھی ’ڈیڈ لیٹر‘ بن گئی ہے اور اسے آسانی سے اب تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اُدھر روشنی ماں باپ کے نہ رہنے اور چٹھی کے کھو جانے کے غم میں تقریباً پاگل ہوچکی ہے۔ وہ نہ کچھ کھاتی ہے، نہ پیتی ہے۔ بس صبح سے لے کے شام تک چھوٹے بڑے ہر طرح کے ڈاک گھروں کے سامنے کھڑی رہتی ہے۔ نائب وزیر برائے امور خزانہ نے بچی کی پرورش اور تعلیم کے لیے اپنے فنڈ میں سے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ معصوم روشنی کو باپ کی طرف سے اپنی سال گرہ کی مبارک باد مل پائے گی یا نہیں؟‘‘

وہ بری طرح بے چین ہوگیا۔ اس کے جسم کا سارا بخار اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں اتر آیا۔ اور اس کا چوہے جیسا سر آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے فرش پر سے اٹھ گیا۔ سامنے سادہ ورقوں والی وہ کاپی رکھی تھی جس میں اس کی بیوی پرانے کپڑوں کے خرید و فروخت کا حساب لکھواتی تھی۔ اس نے کاپی میں سے ایک سادہ ورق پھاڑا۔ کچھ لکھنے کے لیے اس نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں ۔ کوئی قلم، پنسل، افسوس کہ کوئلے کا ٹکڑاتک نہ تھا۔ وہ گھبرانے لگا۔اب اور زیادہ وقت برباد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس نے سوچا۔

اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے پلنگ پر تکیے کے اوپر بیوی کا ہئیرپن پڑا ہوا ہے جس میں بیوی کے دو تین کھچڑی بال پھنسے ہوئے تھے۔ اس نے جھپٹ کر ہئیر پن اٹھایا اور پوری طاقت کے ساتھ اپنی بائیں ہتھیلی میں بھونک دیا۔ لال لال خون آہستگی کے ساتھ رسنے لگا۔ تب اس نے دوسرے ہاتھ ہاتھ کی کلمے کی انگلی کے پور کو اس خون سے تر کیا اور سادہ ورق پر لکھا۔

پیاری بیٹی روشنی کو جان نچھاور کرنے والے باپ کی طرف سے جنم دن بہت بہت مبارک ہو۔

۔ ستیہ پرکاش
پھر اس نے عبارت کے نیچے خون سے گلاب کا ایک پھول بھی بنا دیا۔ ورق کو پھونک مار کر سکھانے کے بعد اسے احتیاط کے ساتھ کھونٹی میں ٹنگی وردی کی اندرونی جیب میں رکھ دیا۔ اس کے بعد دو اخباری کاغذ کی اس تھیلی کو ہاتھ میں تھامے تھامے دروازے کی طرف دوڑا مگر اسے خیال آیا کہ اس نے وردی تو پہنی ہی نہیں ہے۔ تب بہروپیے نے ڈاکیے کی وردی پہنی ، سر پر ٹوپی لگائی اور بھوکا پیاسا ہی نکل کھڑا ہوا۔

دوپہر ہو چکی تھی۔ موسم دم گھونٹ دینے کی حد تک حبس زدہ تھا۔ ماحول اور فضا میں بے حد دھول اور دھند تھی۔ ایسا گمان ہوتا تھا جیسے ساری دنیا جس مٹی سے بنی تھی ، وہ آہستہ آہستہ کھرچی جا رہی تھی۔توڑی جا رہی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے مٹی کی کسی عظیم الشان مورت کے توڑنے پر دھول کا ایک غبار اٹھتا ہے۔ ہوا کا تو نام بھی نہ تھا۔ جو بھی ہوا تھی وہ اس کی اپنی تھی اور اس کے دوڑنے سے پیدا ہوتی تھی۔

اور وہ دوڑ رہا تھا۔ ریل سے کٹے ہوئے ایک بدبخت ڈبے کی طرح جو ویران راتوں میں ریل کی پٹریوں پر اکیلا ہی دوڑتا تھا، بغیر انجن کے۔
آج اس کے ساتھ بچوں کی بھیڑ نہ تھی۔ سڑکیں، گلیاں ویران پڑی تھیں۔ بار بار وہ اخبار میں چھپی اس بچی کی تصویر دیکھتا۔ اسے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا پھر اِدھر سے اُدھر نکل جاتا۔ وہ دھند کے ایک بگولے کی طرح چکرارہا تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ اپنا وقت برباد کررہا ہے۔ بچی کسی ڈاک خانے پر ہی ملے گی۔ یہ خیال آتے ہی وہ کالی ندی کے پُل پر بے تحاشا بھاگنے لگا۔ پُل سے ایک ڈیڑھ میل کی دوری پر ہی وہ چھوٹا سا گول ڈاک خانہ تھا جہاں اس کا بھائی لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ اس چھوٹے سے ڈاک خانے کے اندر کہیں سرنگیں تھیں جو کہ زمین کے اندر ہی اندر کائنات کے سارے ڈاک خانے سے جا ملتی تھیں۔

اتنا تیز تیز دوڑنے پر بھی آج ڈاک گھر آتا نظر نہیں آتا۔ کدھر گیا؟ اس نے فکر مند ہو کر سوچا۔ اب اسے احساس ہوا کہ پُل پار کرنے کے بعد وہ غلط سمت کو نکل آیا تھا۔

وہ حواس باختہ ہو کر واپس مڑا اور مخالف سمت میں دوڑنے لگا۔ دھند اور مٹی کا غبار اور دبیز ہوتا جارہا تھا۔ اس کی سانس بری طرح پھولنے لگی۔ اس کی ناک اور آنکھوں میں دھول بھر گئی تھی۔ اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا۔ وہ ایک لمحے کو رکا اور سینے میں نہ سماتی ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگا۔ اس کے منھ اور ناک سے مٹی کی بو آتی تھی۔

وہ پھر دوڑنے لگا اور تب دور وہ نظر آیا۔ وہ پرانا چھوٹا سا گول ڈاک خانہ۔ وہ امید سے بھر گیا۔ جلدی جلدی بھاگتے ہوئے وہ اس تک پہنچ گیا۔
گول ڈاک خانہ دھند اور دھول کے پہلے غبار میں لپٹا خاموش کھڑا تھا۔ اس کے صدر دروازے پر ایک موٹا سا زنگ آلود تالا جھول رہا تھا۔

اُف! آج اتوار تھا۔ اس نے افسوس اور صدمے کے ساتھ سانس بھری اور ڈاک خانے کی زرد دیوار سے پیٹھ ٹیک کر بیٹھ گیا۔ اب روشنی کو وہ کہاں تلاش کرے؟ روشنی کہاں ہوگی؟ اس بے رحم اور بے حس دنیا میں وہ اپنے باپ کی چٹھی کا انتظار کررہی ہے مگر کہاں؟ کدھر؟

اس کے جی میں آیا کہ وہ گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر وہ جانتا تھا کہ وہ سب اس وقت بھی نیند میں ڈوبے ہوں گے۔ یہ شہر تو مرگی کے ایک مریض کی طرح تھا جہاں ہر شخص بے ہوش تھا یا ایک پاگل نیند کا عادی ۔ افسوس کہ ایسے شہر میں کوئی خط ، کوئی پیغام یا کوئی تہنیت نامہ کس طرح دیا جاسکتا تھا۔

بہرحال، وہ پھر اٹھا۔ اسے اپنا فریضہ اداکرنا تھا۔ اس بار تیز تیز چلتے ہوئے اسے غیر معمولی تھکن کا احساس ہوا۔ سامنے دور تک سنسان سڑک پھیلی ہوئی تھی۔ کاش کے وہ اڑ سکتا۔ مگر بعد میں اس نے یہ بھی سوچا کہ اسے اپنے جسم پر بال و پر نہ ہونے کا افسوس نہ کرنا چاہیے۔ پرندے ارتقا کے سفر میں انسان سے اس طرح پیچھے رہ گئے تھے جس طرح فرشتے۔

اسے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

اچانک وہ پھر تیز تیز دوڑنے لگا۔ دوپہر کیا، سہ پہر گذر چکی تھی۔ اور اب تو شام قریب تھی ۔ اگرچہ دھند کی اس چادر کے نیچے وقت اپنے خد وخال مسخ کرچکا تھا۔

اس کا سارا دن اسی طرح بھٹکتے بھٹکتے ختم ہوگیا۔ شہر پر مٹی برس رہی تھی جس میں وہ خود بھی خاک، دھول اور مٹی کا ایک چلتا پھرتا پتلا ہی نظر آ رہا تھا۔

اچانک سامنے اسے کالی ندی بل کھاتی ہوئی نظر آئی۔ وہ بھٹکتے بھٹکتے ندی کے کنارے آ نکلا۔ کنارے ویران پڑے تھے۔ وہ رک گیا۔ اب بارش ہونا چاہیے۔ اس نے خواہش کی۔ صرف بارش ہی زمین سے آسمان تک تنے ہوئے مٹی کے اس مہیب پردے کو دھو کر مٹا سکتی ہے۔

اور یقیناًوہ آ رہی تھی۔ اسے بارش کی آہٹ سنائی دی۔ وہ کہیں دور ہو رہی ہوگی مگر اس کے آگے آگے چلنے والی ہواؤں کا ایک اداس، ٹھنڈا جھونکا ادھر کو آ نکلا۔

اس نے آسمان کی طرف منھ اٹھایا۔ ایک بوند اس کے ماتھے پر گری اور پھر کوندے، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ وہ خاک اور دھول کے اس خواب غفلت میں مبتلا شہر پر برسنے لگی۔ بارش نے پانی سے بنے اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے دھند کو مسل کر رکھ دیا۔ کالی ندی کے کنارے اندھیرے ہونے لگے۔ بارش بہت تیز تھی۔ آہستہ آہستہ ندی کے کنارے کی زمین دلدل بنتی جارہی تھی۔ پانی کے زور سے ندی میں جیسے سیلاب آ گیا تھا۔ اس سیلاب کا پانی اسی طرح زمین پر پھیل رہا تھا جیسے گھاس کو چرتا ہوا جانور۔

تیز ہوا میں اس کی وردی اڑی جارہی تھی۔ اس نے تصویر والا اخبار سنبھال کر وردی کی جیب میں رکھ لیا۔ مگر اب واپس جانا ناممکن تھا۔ واپس جانے کے لیے گھونگے کی مانند رینگنا ضروری تھا۔ ارتقا کے ٹوٹے ہوئے پیر صرف آگے کی طرف گھسٹ سکتے تھے۔ گوشت کے لوتھڑوں کی طرح لڑھکتے ہوئے ہی سہی، مگر آگے کی طرف۔

اسے اب اپنی بائیں ہتھیلی میں سخت درد محسوس ہوا۔ ہتھیلی پھول کر کپا ہوگئی تھی۔ وہ بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس کے پھیپھڑے بارش اور ہوا کے سخت دباؤ سے گویا پھٹنے لگے۔ اس کا بخار اس کے جسم پر گرتی ہولناک بارش کے نیچے دبا کچلا پڑا تھا۔

اب اسے ایک بھیانک نیند آتی محسوس ہوئی مگر نیند کا یہ غلبہ شاید صرف اس کے جسم پر تھا۔ اس کی روح کو تو اس نیند کے خلاف چلتے ہی جانا تھا۔ اس لیے اس کی آنکھیں بار بار نیند سے چپک چپک کر چھوٹ جاتی تھیں۔

(۵)
دلدل میں چاقو

رات تقریباً آدھی بیت گئی تھی جب کچھ آدمی اسے اس حالت میں گھر لے کر آئے کہ اس کے منھ سے خراٹے جاری تھے۔ بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا تھا۔ اس کی وردی کیچڑ اور پانی میں سنی ہوئی تھی۔ بیوی نے ہراساں ہو کر جب اس کی وردی اتار کر کھونٹی میں ٹانگی تو پانی میں بھیگ جانے کے سبب اس میں سے ایسی بدبو آ رہی تھی جیسی اصطبل سے آتی ہے۔

وہ سیدھا سیدھا پلنگ پر پڑا ہوا تھا۔ بائیں ہتھیلی پر ایک چھوٹا سا زخم تھا مگر ہتھیلی اتنی سُوج گئی تھی کہ وہ کسی انسان کی نہ ہوکر کسی عفریت کی ہتھیلی معلوم ہوتی تھی۔

کچھ لوگوں نے مل کر اس کے بھیگے ہوئے کپڑے اتار کر سوکھے کپڑے پہنادیے اور ایک چادر سے اس کے جسم کو ڈھک دیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور منھ آدھا کھلا ہوا تھا جس سے وہ بلند آواز میں وحشت ناک خراٹے لگاتار آئے چلے جا رہے تھے۔

’’ذرا بارش کم ہو تو ڈاکٹر کو لے کر آتے ہیں۔‘‘ کوئی بولا۔

کھونٹی کے نیچے جہاں اس کی وردی سے ٹپکتا ہوا پانی فرش کو گیلا کر رہا تھا، اس کی بیوی اس جگہ کو ایک کپڑے سے پونچھنے لگی۔ اسی وقت اس نے اخباری کاغذ کی ایک بڑی سی تھیلی کو دیکھا جو پانی میں بھیگ کر گل چکی تھی۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آیا کہ وہ احتیاط کے ساتھ تھیلی اٹھا کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔

کوئی تصویر تھی جس کے نقش و نگار بارش کے پانی نے اپنے اندر جذبے کر لیے تھے۔ تصویر کے اوپر اخبار کی تاریخ قدرے مٹ جانے کے باوجود پڑھی جا سکتی تھی۔

وہ آج سے ٹھیک چودہ سال پرانا اخبار تھا۔
بیوی نے تھیلی اٹھائی اور کمرے سے باہر آنگن کی موری میں پھینک دی۔

’’اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لائیں؟‘‘ کسی نے آہستہ سے کہا تھا۔
’’نہیں۔ ڈاکٹر کو آنے دو۔‘‘
مگر کیا وہ واقعی بے ہوش تھا؟

اگر یہ ممکن تھا کہ کسی کا عکس آئینے میں نظر نہ آئے اور آئینے سے کہیں بہت دور جا کر بھٹکے تو شاید اس کا عکس بھی کہیں اور….بھٹک رہا تھا۔ وہ دلدل پر بنے ایک چھوٹے سے ڈاک بنگلے کے سامنے ہاتھ میں ایک خط لیے کھڑا تھا۔ یہ ڈاک بنگلہ جس کی بناوٹ گرجا گھروں کی سی تھی۔ ڈاک بنگلے کے اندر ایک کمرے میں ایک لڑکی کمپیوٹر پر بیٹھی تھی ور اس کے کان سے ایک سیل فون لگا ہوا تھا۔

لڑکی کا چہرہ بے حد گول اور سفید تھا۔ اتنا سفید کہ جیسے قلت خون کا مارا ہوا ہو۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ دروازے پر سرجھکائے وہ خاموش کھڑا تھا۔
’’آپ کے شوہر نے آپ کو یہ محبت نامہ بھیجا ہے۔‘‘ اس نے لڑکی کی طرف ایک کاغذ بڑھایا جس پر ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ لکھا ہوا تھا اور نیچے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا تھا۔

لڑکی مسکرائی اور شرماتے ہوئے اس کے ہاتھ سے خط لے لیا۔

اس نے بہت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے تھے مگر اس کے پیٹ کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے آج اس میں آنتیں واپس آ گئی ہوں۔

پھر لڑکی نے اسے لگاوٹ کے ساتھ گھورا۔ ان آنکھوں میں پیار کرنے کی جنگلی سی خوشبو اتر آئی۔ لڑکی نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے تپتے ہوئے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی خاکی وردی جنگلی پھولوں کی خوشبوؤں سے بھر گئی۔

وہ دونوں یوں ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے ہوئے دلدل میں دھنسنے لگے۔ دلدل کے نیچے پانی میں دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ جس طرح کسی مکان کی کھلی بنیادوں میں دھوپ چمکتی ہے۔

دلدل کے نیچے موجود پانی میں ۔۔۔۔۔۔۔گہرے پانی میں انھوں نے ایک دوسرے سے جی بھر کر پیار کیا۔ لڑکی کے بدن پر بہت کپڑے تھے مگر اس کے بڑے بڑے پستان کپڑوں سے باہر لٹک رہے تھے۔ پستانوں سے دودھ کی ایک سفید نہر دلدل پر بہتی جاتی تھی۔

پھر وہ آہستہ آہستہ پانی سے اوپر آنے لگے۔ ساری کائنات ہی جیسے پانی سے ابھر رہی تھی۔ زندگی آ رہی تھی۔ پانی سے نکل کر زمین کی طرف۔ کائی سے لتھڑ کر دونوں کے جسم ہرے ہوگئے تھے۔

’’تم مجھ سے پیار کرتی تھیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مانجھے سے میرا گلا کٹ گیا تھا۔‘‘
’’ہاں ہاں۔‘‘
’’تمھیں دادو کا کنواں یاد ہے اور وہ بند گلی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میرے بابو کو وہیں تو مار ڈالا تھا۔ اتنا بڑا خون کا دھبہ۔‘‘

اچانک سفید ، خون سے خالی گول چہرہ اس کے منھ پر ایک غبارے کی طرح پھٹ گیا۔ غبارہ جس میں گندہ، رقیق بدبو دار سفید پانی بھی تھا۔ ایسا پانی جس کی جگہ کوئی چہرہ نہ ہو سکتا تھا۔ پھر وہ سفید پانی ایک نفرت آمیز بے رحم چاقو میں بدل گیا۔ بہت تیز ہوا چلی جھاڑیاں دلدل کے چاروں طرف اس بے ترتیبی سے پھیل گئیں جیسے وہ پاگل ہو گئی ہوں۔

چاقو ایک فحش چمک کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھتا ہے۔ پھر خاص اس کے نرخرے کی طرف۔
اسے گلا کٹنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ وہ تو صرف کالی ندی کے بارش سے بھیگے ہوئے پُل کو دیکھے جارہا ہے جہاں آج نہ جانے کہاں سے اتنے بہت سے کوے آکر بیٹھ گئے ہیں۔

(۶)
نیند کے خلاف

’’یہ کس قسم کے خراٹے ہیں؟‘‘ اچانک بیوی نے سراسیمہ ہو کر کہا۔
’’اسے تو یہ خراٹے آتے ہی ہیں۔‘‘ بڑا بھائی آہستہ سے بولا جو ابھی ابھی بارش میں بھیگتا ہوا آیا تھا۔
’’نہیں ۔ یہ ویسے نہیں ہیں۔ یہ تو کچھ اس طرح کی آوازیں ہیں جیسے کسی کا نرخرہ کاٹا جاتا ہو۔‘‘ بیوی چلائی۔

اور یہ درست تھاکہ اب اس کے منھ سے باہر آنے والے خراٹے دوسری ہی طرح کے تھے۔ یہ کسی شے کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی بے زبانی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ اب منھ بھی پورا بند تھا۔ ہونٹ آپس میں بھنچ گئے تھے۔

پھر یہ خراٹے کہاں سے نکل رہے تھے؟ شاید اس کے پورے جسم سے، جسم کے تمام مساموں سے؟ ہر بار کے خراٹے میں اس کی سانس اٹک جاتی۔ سینہ اور پیٹ اوپر کو اٹھ جاتے جیسے دم نکل رہا ہو مگر چند ہی ثانیے بعد اکھڑتی اور اٹکتی سانس پھر اپنی جگہ واپس آ جاتی۔ اس کا سُوجا ہوا زخمی ہاتھ متواتر اس انداز میں آگے کو پھیلا ہوا تھا جیسے وہ کسی کو کوئی شے سونپ رہا ہو۔ مگر حیران کن امر یہ تھا کہ اس کا چہرہ اپنے تمام عضلات سمیت بالکل پر سکون تھا۔ بھائی نے اس کا ماتھا چھوا اور جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ ماتھا انگارے کی طرح جل رہا تھا۔ آنگن میں بارش کا پانی بھرتے بھرتے گھٹنوں تک آگیا۔

مگر وہ ۔۔۔۔وہ تو دراصل گانا گا رہا تھا۔ اس کا جسم بے حد فعال ہو گیا تھا ۔ اتنا فعال اور سبک رفتار کہ بستر پر لیٹے لیٹے ہی وہ سب سے دور کہیں گاتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ کوئی گیت تھا جو لوگوں کو خراٹوں کی صورت سنائی دیتا تھا۔ وہ اپنی ہی ہوا میں جھومتا ہوا دلدل پر چلا جارہا تھا جہاں کمل کے پھول اور جڑیں بکھری ہوئی تھیں۔

خدا کے پیغام آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ لکھا گیا لفظ ہی سب کچھ تھا چاہے وہ قلب پر ہی کیوں نہ لکھا جائے یا انسانوں کے حلق، تالو اور غدود کے درمیان۔ وہ بھی لکھے ہوئے لفظ کو اپنے قلب، حلق اور تالو میں ثبت کررہا ہے ۔ اس کے سر کے اوپر کبوتر، بادل اور ہوائیں ہیں ۔ کبوتر کے پنجے میں لفظ بندھا ہے۔ پانی پانی بادل میں لفظ کا عکس تھا اور ہواؤں میں لفظ کی خوشبو۔ یہ سب بھی اسی جانب جا رہے ہیں جہاں وہ دلدل میں جھومتا گاتا چلا جا رہا ہے۔ دلدل پر اس کے پیروں کے نشان بنتے جاتے تھے۔ یہ ایک چٹھی رساں کے اکیلے قدم تھے۔

اسی طرح گیت گاتے گاتے اس نے دیکھا کہ وہ ندی جو امربیل کی طرح اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی، وہ قطرہ قطرہ ہو کر اس سے الگ ہورہی ہے۔ وہ اب نیچے ایک گہری گھاٹی میں بہہ رہی تھی۔ ایک کالی ندی بن کر، پتلی سی، رینگتے ہوئے سانپ کی مانند۔ وہ خوشی خوشی، نشے میں جھومتے ہوئے اس گہری گھاٹی کی طرف جانے والی ڈھلان کی جانب چلا۔ اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا، کیوں کہ وہاں ڈھلان پر، دلدل میں وہ چھوٹی سی سات سال کی بچی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بال بکھر کر ماتھے پر آگئے تھے۔ گھٹنوں سے اونچی فراک کیچڑ سے سنی ہوئی تھی۔

’’روشنی۔ روشنی! میں آگیا۔ تمھارے پاپا کی چٹھی لے کر۔ سال گرہ مبارک ہو۔‘‘
وہ اس کے پیروں سے لپٹ گئی۔ وہ خوشی سے رو رہی تھی۔
اس نے بچی کے روکھے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر اپنی وردی کی اندرونی جیب سے وہ کاغذ نکال کر اس کی معصوم مٹھی میں تھما دیا۔
’’میں نے تمھارے گانے کی آواز دور سے سن لی تھی۔‘‘
’’ میں تمھارے لیے ہی تو گا رہا تھا۔‘‘
’’سچ؟‘‘
’’ہاں۔آؤ اس دلدل پر گلاب اُگائیں۔‘‘
اس نے بچی کے ہاتھ میں گلاب کا ایک پھول دیا۔ پھر دونوں نے مل کر گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے دلدل میں گلاب بویا۔
’’وہاں روشنی ہو گئی۔‘‘
’’اچھا روشنی۔ میں چلتا ہوں۔‘‘
’’فرشتے! تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘
’’مجھے ابھی اپنا گیت مکمل کرنا ہے۔‘‘

ڈھلان پر وہ آگے چلنے لگا۔ اس کے پیر یہاں دھنس رہے تھے مگر اسے محسوس ہوا جیسے وہ اُڑ رہا تھا۔ زوال کا راستہ ہی روح کی اُڑان تھا۔ جب وہ وردی میں نیچے بہنے والی کالی ندی میں گر رہا تھا تو ندی سے ایک بھیانک بارش کی طرح نظر آئی جو گھاٹی سے آسمان کی طرف بہہ رہی تھی۔ ندی ایک سرکش گھوڑی کی طرح کسی طور قابو میں ہی نہ آتی تھی مگر اب وہ قطعاً نہیں گھبرایا۔ پیچھے روشنی کھڑی تھی۔ اس نے اپنے وجود کو ایک عظیم الشان چھتری کی مانند کھلتا اور پھیلتا پایا جس کے اوپر سے ندی کی شور مچاتی بھیانک موجیں گذر رہی تھیں۔ اسے اپنے تمام خط، تمام محبت نامے اور پیغام بھیگنے سے بچانے تھے اور وہ کامیاب ہوگیا۔ طوفانی ہوائیں اور خوفناک بارش اس کے چھتری جیسے وجود کو صرف پھڑ پھڑانے پر مجبور کرسکی تھیں۔ بس!

اس نے اپنا گیت پھر شروع کیا۔
یہ گیت اس ردعمل کا نام تھا جو وہ دنیا اور فطرت کی خوب صورتی کو بھینٹ کر رہا تھا۔ اگرچہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ خوب صورتی کی طرف جانے والے راستے خوب صورتی کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یہ وہ گیت تھا جو سناٹے کی طرف نہیں جا رہا تھا بلکہ سناٹے کے خلاف لڑ رہا تھا۔
وہ اب بھی دلدل پر چل رہا تھا مگر اس کے پیروں کے نشان اب دلدل سے باہر بن رہے تھے۔

تو کتنا طویل، دکھ بھرا راستہ اس نے کاٹا تھا۔ ہوا کے اندر ہوا، بارش کے اندر بارش، لاش کے اندر لاش اور خواب کے اندر خواب کو پار کرتے ، گذرتے رہنا ہی اس کا عظیم مقدر تھا۔

یہ ایک اکیلے، اداس بہروپیے کے سونے اور بوجھل پاؤں کے نشان تھے جو غفلت اور نیند کے خلاف ایک نیا بیانیہ گڑھ رہے تھے۔
کیا انسانیت ان نشانوں کے پیچھے چلنے کو تیار تھی؟
مگر اب اسے اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اس کے عقب میں دلدل پر گلزار سج رہے تھے۔ ساری سرنگوں کے دہانے روشن ہو گئے تھے….
دنیا میں پھول ہی پھول۔ روشنی ہی روشنی۔ گیت ہی گیت۔

صبح کے چار بج رہے تھے جب بارش رکی۔
ڈاکٹر آیا اور اس کا معائنہ کیا۔
’’بخار تو اب بہت کم ہے۔ کل سے اس علاقے میں پھر طاعون کی افواہ اڑ رہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے اس کی بغلوں اور رانوں کو ٹٹولا۔
’’نہیں پلیگ تو نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’مگر بخار میں بھیگ جانے کے سبب سخت اور جان لیوا نمونیا ہوگیا ہے۔‘‘
’’اور ایک بات اور….‘‘ ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں کی پتلیوں کو کھول کر دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا۔
’’یہ کوما میں چلے گئے ہیں۔ شاید ایک گھنٹہ پہلے انھیں ایک ہارٹ اٹیک بھی ہوچکا ہے۔‘‘
’’کوما؟‘‘ سب نے ڈاکٹر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’ہاں۔ ایک ایسی بے ہوشی یا نیند جس میں مر کر بھی آدمی نہیں مرتا۔ کبھی سال بھر کبھی دوسال اور کبھی کبھی تو بیس سال تک بھی یا اس سے بھی زیادہ۔ کوما میں گئے ہوئے انسان کے دماغ کے خلیے کچھ اس طرح کام کرتے ہیں کہ وہ خواب ہی دیکھتا رہتا ہے۔ اور خواب بھی زیادہ تر اچھے اور خوب صورت۔ مثلاً پھولوں کے، بچوں کے، وادیوں کے اور روشنی کے۔‘‘
اس کے بلند خراٹے اسی طرح جاری تھے۔
’’یہ کیا بات ہوئی ڈاکٹر؟ یہ تو کتے کی موت مرنا ہوا۔‘‘ اس کی بیوی نے نفرت اور شکایت بھرے انداز میں کہا۔
’’ہاں مگر کہا نہیں جا سکتا کہ یہ حالت کب تک رہے گی۔ انسان کبھی کبھی اس طرح بھی لڑتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’کس سے؟‘‘ بڑے بھائی نے پوچھا۔
’’پتہ نہیں۔شاید موت سے، یا زندگی سے یا پھر کسی اور شے سے۔‘‘ ڈاکٹر نے چپکے سے کہا اور تیزی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُن دنوں بھی شاید دسمبر کی کالی ہوا چل رہی تھی۔ آج بھی وہی کالی ہوا چل رہی ہے۔ انسانوں کو اس دوسری دنیا کے نادیدہ کنارے پر اُڑا کر لے جاتی ہوئی،ڈ ھکیلتی ہوئی، یہ کالی ہوا دنیا کوکالا کیے دیتی ہے۔ یہ دنیا جس کی اصل روحانی تاریخ ایک ایسی زبان میں لکھی گئی ہے جسے اب مجھے کچھ کچھ پڑھنا آگیا ہے۔ مگر اُن دنوں میں یہ سب کہاں جانتا تھا؟ ہاں! اُن دنوں میں یہ سب کہاںجانتا تھا، کہ دنیا محض انسانوں کے حواسِ خمسہ کو مطمئن کرنے کے لیے چل رہی تھی، وہ خواہش، وہ پاگل، وہ سنکی، وہ شہوت کے ذائقے میں لپٹا سرخ پھل، جما جماکر جس کو کترتے ہوئے دنیا کے دانت سفید، چمکدار اور مضبوط ہوتے گئے۔ اور پھر—؟

پھر ایک دن وہ دانت، ایک گندی سی بدرنگ موری میں گر کر، گل گل کر بہہ گئے۔ یہی اُن کا نروان تھا۔ خواہش ایک دن ختم ہوئی۔ جسم پر خوبصورت جھرّیاں پڑیں، جسم بوڑھا ہوا، اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کردیا گیا۔

وہ جو ایکسیڈینٹ میں مارے گئے۔ جو عین جوانی میں شہید ہوئے۔ وہ جو کسی ناگہانی بیماری کے باعث، عمر طبعی پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئے۔ انھوں نے زندگی کو اپنی عظیم اور دہشت خیز وسعت کے پس منظر میں کہاں دیکھا۔ انھوں نے کہاں دیکھا، ایک کمزور ڈبّے کو آہستہ آہستہ خالی ہوتے ہوئے، اپنا بوجھ، اپنی کنکریاں، اپنا گندا مٹّیالا تیل گراتے ہوئے اور دُکھ، سکھ دونوں سے بے نیاز ہوتے ہوئے، آزادی کے ایک عظیم الشان اونچے ٹیلے پر اپنی پاک کی گئی دھوئی گئی، روح کی نیلی قمیص کے لہلہانے کی خوبصورت آواز۔

اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ شعور کی اس ڈھلان پر سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی اور موت دونوں یہاں معمولی ذرّوں کی مانند پھسلتے جاتے ہیں۔ انسان کو ان حقیر ذرّات سے ماورا ہوکر کچھ سوچنا چاہئیے تھا۔ مگر ہیہات! انسان انھیں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ اس کا سر اُنہیں دھول بھرے معمولی، روز مرہ کے ذرّات سے بھر کر رہ گیا۔ انسان یہی خاک سر میں ڈالے گھوما، پھر ڈاکو اور رِشی بنا اور حافظے کے تیل میں ملے اس میل، اس دھول اور خاک سے اُس کے سر کے بال بالکل چیِکٹ ہوکر ہی رہ گئے۔ (خودمیرا مقدّر بھی یہی ہے)

کیسا انوکھا دن ہوگا، جب وہ اپنی دوا لینا بھول جائے گا۔ وہ بھول جائے گا کہ اُس نے کھانا کھایا بھی تھا یا نہیں؟
خواب منطقی شعور پر حاوی ہوں گے۔ خوابوںکے سرمئی دھوئیں میں بچپن اور جوانی کی چند محرومیوں کے، چند گلے شکوؤں کے سڑے گلے ٹکڑوںکے سوا سب کچھ ایک پاکیزہ ہوا میں اُڑ رہا ہوگا۔ آزادی—! آزادی!
حافظے کی ایسی کی تیسی!

بڑے ماموں اب اکثر اپنی دوا کھانا بھول جاتے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ پیٹ بھر کر وہ اپنا کھانا کھاچکے ہیں۔ وہ ہمیشہ جھٹلا دیتے کہ اُنہوں نے کھانا کھالیا ہے۔ اُن کے دماغ کے ریشے اور خلیے گل رہے تھے اور آنتوں اور معدے کے پیغام وصول کرنے سے قاصر تھے۔ وہ لوگوں کا نام بھول جاتے، اشیا کو غلط ناموں سے پکارتے۔ ’’رئیس میاں— اور ئیس میاں۔‘‘ وہ زور سے چلّاتے۔

رئیس میاں نام کا کوئی شخص گھر میں نہیں تھا۔ دراصل وہ مجھے پکار رہے تھے۔ میں سمجھ گیاا اوراُن کے پلنگ کی پائنتی جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’رات میں لوٹتے وقت کچھ کھانے کو لیتے آنا۔‘‘ انھوں نے اجنبی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کوئی بھی میٹھی چیز۔‘‘
’’مگر میٹھا تمھیں منع ہے، بڑے ماموں۔‘‘
’’تیری ماں کا منع۔۔۔‘‘ وہ گرجے اور اُن کی سانس بری طرح چلنے لگی۔

’’سن، تِل بُگہ لیتے آنا چار آنے کا۔‘‘ وہ ہانپتے ہانپتے بولے۔ ادھر آکر انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا،جہاں میں گھر سے نکلتا اور وہ واپسی میں کوئی میٹھی چیز لانے کی فرمائش کرتے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود، وہ لڑ جھگڑ کر میٹھا کھاتے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بھول جاتے کہ اُنہوں نے کیا کھایا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں یاد دلاتا تو وہ اُسے گندی گندی گالیوں سے نوازتے۔ حالانکہ اپنی تمام عمر کم از کم گھر میں، میں نے اُنہیں گالی بکتے نہیں سنا تھا۔
میرا بارہویں کلاس کا بورڈ کا امتحان سر پر تھا۔ میں رات رات بھر جاگ کر تیاری کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ علم بھی ہوگیا کہ بڑے ماموں کو اب رات بھر بڑبڑانے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ اسی بڑبڑاہٹ میں شاید صرف ایک بار میں نے اُن کے منھ سے ’’ثروت‘‘ نکلتے سنا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہی رہا ہو۔

مگر اُن کی حالت ویسی ہی نہیں رہی۔ ان میں لگاتار تبدیلی آتی رہی۔ ایک روز وہ اُٹھ کرڈگمگاتے قدموں سے جلدی سے باورچی خانے کی طرف لپکے۔
’’کیا ہے، کیا ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی اور کنیز خالہ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے پیچھے آئیں۔
’’کچھ نہیں، پیشاب کروں گا۔ ‘‘ بڑے ماموں نے اُنہیں اپنی پیلی آنکھوں سے گھورا۔
’’تو یہاں کہاں— یہ باورچی خانہ ہے۔‘‘ وہ حیرت اور خوف سے چلّائیں۔

’’یہ سالا کب سے باورچی خانہ ہوگیا۔ باورچی خانہ تو وہاں ہے۔‘‘انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اُٹھائی، جہاں ایک چیل کوئی اوجھڑی چونچ میں دبائے چلی جارہی تھی۔
اُنہیں بڑی مشکل سے تھام کر پیشاب کرانے کے لیے پاخانے کی طرف لایا گیا۔

کچھ عرصے بعد انھوں نے پیشاب پاخانے کے لیے پلنگ سے اُٹھنا چھوڑ دیا، ان کی آنکھیں بند رہتیں اور منھ کھلا رہتا۔ اس کھلے ہوئے منھ پر اکثر مکّھیاں بھنبھناتیں کیونکہ رات کو کھائے گئے میٹھے کے ذرّات اُن کی کھوکھلی داڑھوں اور زبان پر چپکے ہوتے۔ وہ زیادہ تر غنودگی کے عالم میں ہوتے۔

مگر اُس دن یہ غنودگی بے ہوشی میں بدل گئی جب دوپہر میں اُرد کی دال کی کھچڑی پکی تھی (اور جسے کھاتے وقت ہوا میرے کانوں میں بُدبُدائی تھی اورمیرا دل گھبرانے لگا تھا) اُن کا پیٹ پھولا پھولا اور بہت سخت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا گیا۔ اُس نے معائنہ کیا اوربتایا کہ اُن کا پیشاب بند ہوچکا ہے۔ گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ بے ہوشی کی وجہ خون میں آلودگی کا بڑھنا ہے۔ گندا یا زہریلا خون آہستہ آہستہ دماغ کو اپنی چپیٹ میں لے رہاہے۔

’’بڑے ماموں، بڑے ماموں۔‘‘ میں اُن کے کان کے پاس منھ لے جاکر زورسے چیخا۔ اُن کی آنکھوں کے پپوٹوں میں خفیف سی جنبش ہوئی اوربس۔
شام ہوتے ہوتے اُن کے کھلے ہوئے منھ سے زور زور کے خرّاٹے بلند ہونے لگے۔ میں اُن خرّاٹوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بہت وحشت انگیزتھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ایسے کوئی درندہ بہت گہری سانس لے رہا ہو اور کبھی ایسا لگتا جیسے باورچی خانے کے کواڑ باربار کھل رہے ہوں یا بند ہورہے ہوں۔ باورچی خانے کے کواڑ اینٹھ گئے تھے اور اُن کو کھولنے بند کر دینے پر ایسی ہی آواز آتی تھی۔

مغرب کی اذان ہوئی۔ اُن کے یہ وحشت ناک خرّاٹے رُک گئے۔ میں نے اُن کی ہچکی کو نہ سنا۔ نہ دیکھا مگر ریحانہ پھوپھی نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔
میں نے تو لالٹین کی روشنی میں اُن کا پھولا ہوا سخت پتھّر جیسا پیٹ دیکھا۔ میں نے اُن کی آنکھیں بنددیکھیں۔ میں نے اُنہیں ایک گہری نیند میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ میں نے اب اُن کا کھلا منھ نہیں بلکہ بند منھ دیکھا — اور اس طرح میں نے موت کا ’منھ‘ دیکھا۔ محلے کی ایک بڑی بوڑھی نے باورچی خانے میں جاکر دن کی بچی ہوئی اُرد کی دال کی کالی کھچڑی اور دودھ اُٹھاکر باہر سڑک پر پھینک دیے۔

اس کے بعد اگر کچھ یاد رہ گیا ہے تو بس وہی دسمبر کی کالی ہوا ہے جس نے شاید آج تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

اِدھر اُدھر کی اور رشتہ دار عورتیں سر کو دوپٹّے سے ڈھک کر، کلام پاک پڑھتی رہیں۔ بیچ بیچ میں کہیں سے رونے کی بھی کوئی کمزور آواز اُبھر آتی تھی، جیسے موسیقی سے بھٹکا ہوا ایک اکیلا سُر۔

اُن کے پلنگ کے نیچے لوبان سلگادیا گیا۔ تیز ہوا کے جھونکوں نے اِس لوبان کی پرُاسرار اور شاید موت جیسی خوشبو کو گھر کے ہر کونے میں پھیلا دیا۔
کوئی عورت (جس کا نام اور شکل آج میرے ذہن سے محو ہوگئی ہے)اُٹھی، باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور چولہے پر حلوہ پکانے لگی۔ اُس دن مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ حلوے کا مرُدوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔

ساری رات آنگن میں جنازہ رکھا رہا۔ میں ایک کونے میں دُبکا، دور سے میّت کے پلنگ کو دیکھتا رہا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی، مگر آج باورچی خانے کا چولہا ٹھنڈا تھا۔ اور وہ حلوہ؟؟
حلوہ گھر والوں کے لیے نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – ستائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر یوں ہوا کہ پاخانے میں چیونٹے نظر آنے لگے۔ شروع شروع میں تو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا، ویسے بھی پرانے زمانے کا بڑے بڑے اور اونچے اونچے قدمچوں والا پاخانہ تھا اور قدمچوں کی اینٹوں کی دراڑوں میں کیڑے مکوڑے تو رہتے ہی تھے۔ چھپکلیاں اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے اکثر وہاں آتے تھے اور اُس زمانے میں یہ کوئی خطرناک یا غیر معمولی بات بھی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان چیزوں کے عادی تھے۔

مگر جب وہاں کالے کالے اور بڑے سے چیونٹوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا ہی گیا اور قدمچوں پر سکون سے بیٹھنا مشکل ہوگیا تو سب کو فکر لاحق ہوئی۔ دشواری یہ بھی تھی کہ چیونٹوں کو مار ڈالنے یا مسل ڈالنے پر بھی پابندی تھی۔ تب ایک دن بڑے ماموں نے بتایا کہ اُن کے پیشاب پر تو چیونٹے بری طرح یلغار کر دیتے ہیں۔

خودمیں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ بڑے ماموں کے پاخانے سے واپس آنے کے بعد، خاص طور پر، وہاں بے شمار چیونٹے فرش اور موری میں رینگتے ہوئے یا چپکے ہوئے نظر آتے تھے۔

بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

آخر جب اُنہیں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہونے لگی تو وہ اپنے خاندانی حکیم کے پاس گئے اور اس طرح پاخانے میں چیونٹوں کی فوج ہونے کا بھید کھُل گیا۔

بڑے ماموں کے پیشاب میں نہ جانے کب سے شکر آرہی تھی اور وہ بھی تھوڑی بہت نہیں، بہت زیادہ۔
اُنہیں خطرناک اور شدید قسم کی ذیابیطس ہوگئی تھی۔ اُن کے لبلبے نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا تھا۔
حکیم نے پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں سے اُن کا علاج شروع کر دیا اور کھانے میں میٹھا بالکل بند کر دیا۔

بڑے ماموں کو میٹھابہت پسند تھا۔ ان سے روکھا سوکھا کھانا نگلا تک نہ جاتا تھا۔ اُن کے لیے پرہیز کا کھانا پکتا تھا جس کو وہ اکثر غصّے میں اُٹھا کر پھینک دیتے تھے۔ اگر کبھی اُن کوباورچی خانے سے کوئی اشتہا انگیز خوشبو آجاتی تو وہ بچوںکی طرح رونے لگتے۔ گھر کے باقی افراد اُن سے چھپ چھپ کر کھانا کھانے لگے۔

ایک دن بڑے ماموں نے اپنی گردن کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی پھنسی دکھائی۔
’’ذرا دیکھنا،گڈّو میاں، یہاں کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے پھنسی پر اپنی خشک انگلی پھیری۔
میں نے غور سے دیکھا، ایک بہت چھوٹی سی، سرخ رنگ کی پھنسی تھی۔
’’کچھ نہیں ذرا سا دانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں مگر بہت تنّا رہاہے۔۔۔ لاؤ ذرا آئینہ تو لے کر آؤ۔‘‘
میں بھاگ کر دالان میں کارنس پر رکھا آئینہ اُٹھا لایا۔
’’لاؤ مجھے دکھاؤ۔‘‘

میں نے آئینہ میں اُنہیں گردن پر نکلا وہ چھوٹا اور معمولی سا دانہ دکھایا۔ وہ مطمئن ہوگئے مگر یہ لگاتار کہتے رہے کہ دانہ دردبہت کر رہا ہے۔ پھر اُنہوں نے خود کو یہ کہہ کر بھی تسلّی دی کہ چونکہ یہ دانہ گردن کی بالکل رگ پر ہے۔ شاید اس لیے اتنی تکلیف کر رہا ہے۔

مگر دوسرے دن اُس دانے میں پیلے رنگ کا مواد پیدا ہوگیا۔ اور وہ خاصا پھول بھی گیا۔

حکیم نے دانے پر پان کے ساتھ کسی مرہم کا لیپ لگانے کے لیے دیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔بلکہ دانے میں تکلیف اور جلن اتنی بڑھ گئی کہ بڑے ماموں رات بھر کراہتے رہے۔
صبح ہوتے ہوتے اُن کی گردن پر ایک بڑا سا پھوڑا موجود تھا اور وہ بخار سے جل رہے تھے۔
اب خاندانی حکیم سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ بڑے ماموں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اوراس پھوڑے کی وجہ خون میں شکر کی حد سے بڑھی مقدار تجویز کی۔ مگر ڈاکٹروں نے پھوڑے کا آپریشن اُس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ شکر نارمل نہ ہوجائے۔
بڑے ماموں کے پیروں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے زخم تھے۔

انھیں انسولین کے انجکشن دیے جانے لگے۔ وہ بات بات پر رونے لگتے اور میں اپنی چھٹی حس سے یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ موت سے گھبرا کرنہیں روتے تھے۔ موت تو شاید، ان کی دانست میں کسی غیر معین عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی (جیسا کہ ہر شخص سوچتا ہے کہ دوسرے مریں تو مرتے پھریں، شاید اُن کی اپنی موت ہمیشہ کے لیے ملتوی ہی رہے۔ لوگ زندگی کی کتاب میں اپنا اِندراج کرانے کے لیے ہمیشہ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ افسوس کہ اس عرصے میں کب اُن کا نام نادیدہ ہواؤں میں اُڑ کر موت کی کتاب میں، ایک زیادہ سیاہ روشنائی میں درج ہوجاتا ہے اُنہیں اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔)

بہرحال میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسی وجہ سے پریشان ہوکر اور گھبرا کر روتے تھے کہ انھیں کھانے میں وہ اشیاء نہیں مل رہی تھیں جو اُنہیں بہت مرغوب تھیں اور اُن کی نظر میں خدا کی نعمتیں تھیں جن سے وہ محروم ہوگئے تھے۔

وہ دن باورچی خانے پر بڑے سخت گزر رہے تھے۔ اگر کبھی چھپ کر قورمہ یا بریانی پکائے جاتے تو اُس کے ساتھ ساتھ چولہے کے آنولے پر مولیوں کی بجھیا یا گوبھی بھی چڑھا دی جاتی تاکہ مولی اور گوبھی کی ناک سڑا دینے والی بو میں بریانی کی مہک دب کر رہ جائے۔ یعنی باورچی خانہ اُس وقت بالکل دنیا کے مماثل بن گیا تھا جہاں ہر نفیس شے کوکیچڑ سے پوت دینے کا عمل ابتدائے آفرینش سے ہی جاری ہے۔

مسئلہ صرف جمعرات کا ہوتا جب گھر میں مولی یا گوبھی یا کسی بھی ایسی چیزکا پکنا ممنوع تھا جس پر فاتحہ ہوسکتی تھی۔ جمعرات کو اوّل تو دال کبھی پکتی ہی نہیں اور اگر پکتی بھی تو اُس میں لہسن پیاز کا بگھار لگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔

جمعرات کو، سہ پہر ہی سے بڑے ماموں اپنے باندوں کے پلنگ پر بیٹھ کر باورچی خانے کی طرف بے حد چوکنّے ہوکر دیکھتے رہتے تھے۔ اور باربار ناک کے نتھنے سکوڑ کر، وہاں سے آنے والی خوشبوؤں کی تاک میں رہتے۔

دونوں وقت ملنے سے پہلے، سینی میں لگاکر جب کھانے پر فاتحہ دی جاتی تو وہ دُور بیٹھے دیکھتے رہتے اور پھر بچّوں کی طرح رونے لگتے۔ روتے وقت اُن کی گردن کا پھوڑا اور بھی زیادہ بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا تھا۔ پھوڑے کے آس پاس کی سرخی ساری گردن پر پھیل جاتی۔ گردن کی ساری رگیں پھول جاتیں اورایسا لگتا جیسے یہ پھوڑا ابھی ابھی پھوٹ جائے گا اور اِس کا سارا کچ لہو اور مواد باہر نکل جائے گا۔

کچھ دنوں تک تو گھر کا ہر فرد بریانی اور قورمہ کھاکر اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہا۔ مگر یہ کب تک چلتا؟

آخر سب کی اپنی اپنی آنتیں تھیں اور اپنے اپنے دانت، اپنے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں وہ سب قید تھے۔آہستہ آہستہ بڑے ماموںکا رونا روزمرّہ کے معمول میں شامل ہوگیا اور گھر کے افراد نے اُن کے رونے پیٹنے سے متاثر ہونا چھوڑ دیا۔ بڑے ماموں اُس بلّی کی مانند نظر انداز کیے جانے لگے جو باورچی خانے کے سامنے بیٹھ کر مسکین اندازمیں، منھ بنابناکے اور پلکیں جھپکا جھپکاکے کھانا پکتے یا انسانوں کو کھانا کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ اور کسی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔

کئی ماہ گزر گئے اور تب یہ کرشمہ نمودار ہوا۔

بڑے ماموں کی گردن کا پھوڑا آہستہ آہستہ دبنے اور سکڑنے لگا۔ اس کے اندر کا مواد سوکھنے لگا اور آس پاس پھیلی ہوئی سرخی کم ہونے لگی۔ دیکھتے دیکھتے کچھ ہی دنوں میں وہاں بس ایک چنے کی دال کے دانے برابر ایک گلابی سی گانٹھ ہی رہ گئی۔ یہ ایک عجیب کرشمہ تھا جو ڈاکٹروںکی سمجھ میں بھی نہ آیا۔ جیسے چندعناصر سے دنیا کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا حجم بڑھتا ہے، وہ ارتقا کے سفر کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ سکڑنے لگتی ہے۔ واپس اپنے عناصر کی جانب لوٹتی ہے اور پھر یہ عناصر خلا میں اِدھر اُدھر بہت دور کہیں بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ بڑے ماموں کا پھوڑا دراصل اُن کی گردن پر ایک کائنات کا بننا اور بگڑنا تھا (نمودار ہوکر معدوم ہوگئی(کائنات)) مگر پھوڑے کے دبنے کے بعد وہ بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔وہ ہر وقت کھانستے رہتے اور اُن کی سانس دھونکنی کی طرح چلتی رہتی۔ اُن کی یادداشت نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اجنبیت آکر بیٹھ گئی۔ اور کسی نے تو نہیں مگر مجھے اُن کی آنکھوںکی رنگت بھی بدلی بدلی لگی۔ مجھے اُن کی آنکھیں پیلی پیلی بھی نظر آنے لگیں۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہو کیونکہ پیلا پن تو ہمیشہ ہی میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔

تھوڑے عرصے بعد سننے میں آیا کہ بڑے ماموں کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ ان کا ہلنا پھرنا تقریباً بند ہوتا گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں پہلے ہی سے زخم تھے، اُن کے منھ اور پیروں پر سوجن بھی آگئی۔ اُس زمانے میں، مجھے بہت سی باتوں کی تمیز نہیں تھی۔ مگر اب جبکہ میں خود پکّی عمر کو پہنچ چُکا ہوں اور یہیاد داشتیں لکھ رہا ہوں تومیری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اُن کی سب سے بڑی بیماری تو بڑھاپا تھی۔ ان کی عمر ہوگئی تھی۔ بُڑھاپے اور بیماری میں جسم تقریباً غیر حاضر رہتا ہے۔ سارے کام بُڑھاپا اور بیماری ہی نپٹاتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں کتنا عرصہ گزر گیا۔ اُن کی بیماری اوراُن کی عمر طویل ہوتی گئی۔ شاید پھر سے سردی آگئی تھی۔ مجھے آج بھی اپنی پرانی بچپن کی رضائی یاد ہے۔ وہ رضائی جس کے اندر کی روئی دُھند کے ٹکڑے بن کر فضا کی مبہم پہنائیوں میں معدوم ہو گئی۔ مگر میرے بچپن کے جسم کے اند ربھرے خون کی ایک مٹھّی بھر حرارت اُس روئی کے اندر کہیں پھنسی رہ گئی ہے۔

موسم کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ وہ انسانوں سے بھی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ انسانوں کو، بے چارے عام انسانوں کو بدلتے بدلتے بہرحال بہت وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کو اس کنارے سے اُس کنارے کے قریب پہنچتے پہنچتے تاریک پانیوں میں ڈوب کر اوپر آنا پڑتا ہے اور تب جاکر کہیں وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ اعتماد کے ساتھ اپنی یادداشت، اپنے حافظے کو فراموش کر سکے۔ اپنی آنکھوں کی رنگت کو بدل سکے۔ لوگوں کے نام بھلا سکے یا اُنہیں غلط طریقے سے پکار سکے۔ اب اُس کے پھیپھڑے، اطمینان کے ساتھ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں پر شادماں ہوسکتے ہیں۔ اپنی کھانسی پر فخر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اب وہ آدھی رات کو میٹھا کھانے کے لیے کسی سے کچھ فرمائش کرنے پر جھجک نہیں محسوس کرتے۔

یہ تغیر، یہ تبدیلی اُس کی انا سے ایک مستقل نجات کا نام ہے۔ بیماری میں ایک بوڑھا، سنکی، کمزور اور تقریباً ہر منظرنامے سے غیر حاضر جسم ہی دراصل ایک مکمل انسان ہے۔ مکمل طور پر اخلاقی، ریاضی کے ’اکائی‘ کے ہندسے کی مانند اپنی ہی روشنی میں چمکتا ہوا، گزرے اور پچھلے وقتوں کے گناہوں کو، نفرتوں کو، محبتوں اور رفاقتوں کو، سب کو کچلتا ہوا، دربدر کرتا ہوا، ساری خواہشوں کو ساری شہوتوں کو، بس ایک ’خواہش‘ کے سفید پردے جیسے کفن سے ڈھکتے ہوئے۔

بس ایک ’’خواہش‘‘، میٹھا کھانے، مٹھائی کھانے کی عظیم خواہش کے سفید اُجلے بے داغ پردے کو ہر جذبے پر ڈال کر ڈھانپتے ہوئے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔

ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔

وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔

وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔

سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔

سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔

اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔

افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔

اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔

جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔

میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔

وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔

’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘

’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔

’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔

میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔

’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘

ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔

’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔

’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔

ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔

انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔

وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔

میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔

مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔

اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔

مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔

اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔

باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔

وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔

المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔

اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔

مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔

اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔

اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔

میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔

میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔

کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔

بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔

کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘

مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔

مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟

’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔

گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔

اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔

دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔

’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔

اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔

بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔

وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔

میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔

گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔

نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔

جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔

مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔

جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔

اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔

اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔

موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – پچیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اس بات کی رتّی برابر بھی پروا کیے بغیر کہ جمعرات کی شام، جبکہ دونوں وقت گلے مل رہے تھے، اور مُردے اپنی اپنی قبروں میں فاتحے کے کھانے کا بے چارگی کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے، میں ایک کے بعد ایک قبریں پھلانگتا ہوا انجم آپا کے گھر کی طرف دوڑا چلا جارہا تھا۔
وہ باورچی خانے میں ہی ایک پٹلی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ دُبلی اور پہلے سے زیادہ کالی۔مجھے دیکھ کر وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ اُن کا قد پہلے سے زیادہ ٹھگنا محسوس ہوا۔ وہ ایک ایسی پتھّر کی مُورت لگیں جس کے پیر اور پنجے آہستہ آہستہ گھس رہے ہوں۔

انجم آپا کی آنکھیں سونی پڑی تھیں۔ مگر شاید یہ آنسوؤں کے آنے سے پہلے کا سونا پن تھا۔ یا آنسو راستہ بھٹک گئے تھے کیونکہ اُن کی ناک سے لگاتار پانی بہہ رہاتھا۔

’’انجم آپا ؟‘‘
’’گڈّو میاں۔‘‘

’’انجم آپا، انجم آپا۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’گڈّو میاں۔‘‘ اُنھوں نے خلا میں ہاتھ بڑھائے۔ شاید وہ ٹٹول رہی تھیں اور تب میں نے غور کیا کہ اُن کی آنکھیں سونی ہونے کے علاوہ ساکت وجامد بھی تھیں۔

میں اُن کے بالکل قریب چلا آیا۔ ان کے کپڑوں سے مسالوں کی خوشبو آرہی تھی، جو زیادہ تر باورچی خانے میں وقت گزارنے والی ہر گھریلو عورت کے بدن سے آتی ہے۔

انھوں نے میرے بال چھوئے۔ میرا سر سہلایا۔

’’سنا ہے تم بہت بیمار ہو گئے تھے۔‘‘ اُن کی آواز کی ترنگوں میں کسی ایک ارتعاش کی کمی تھی۔ ایک بہت جانا پہچانا اور مانوس ارتعاش جو اب غائب تھا۔

’’ہاں۔‘‘
’’میں تمھیں دیکھنے نہ آسکی، مجھے معاف کر دو۔‘‘

’’ارے چھوڑو انجم آپا۔ پتہ ہے ایک نیا ہیبت ناک ناول آیا ہے، ’’آسیبی بلّی۔‘‘ کل تمھارے لیے لے کر آؤں گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا نے سسکی لی۔
’’کیوں؟ تمھیں تو بھیانک اور ہیبت ناک ناول بہت پسند تھے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔ تمھیں پڑھ کر سنانا ہوگا۔‘‘ انجم آپا کی آوازبہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیونکہ میں اندھی ہوچکی ہوں۔‘‘

اوراب پہلی بار مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ مجھے بہت پہلے ہی یہ جان لینا چاہئیے تھا کہ وہ اندھی ہو چکی ہیں۔
’’میں کل آؤںگا۔‘‘ غیر اضطراری طور پر گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے میں نے کہا۔

’’اچھّا۔‘‘

انجم آپا کے گھر سے میں بہت سست قدموں کے ساتھ واپس آیا۔ گھر پر چھوٹے ماموں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ انجم آپا کا شوہر انتہائی ظالم اور ناہنجار آدمی نکلا۔ اُس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ دن رات جُوا کھیلتا رہتا ہے اور شراب کے نشے میں چور رہتا ہے۔ انجم آپا کو مار پیٹ کر وہ اُنہیں اپنے باپ سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا رہتا۔ ایک دن اُس نے شراب کے نشے میں انجم آپا کی آنکھوں میں جلتے ہوئے سگریٹ کی تمباکو جھونک دی۔ وہ بے زبان لڑکی اندھی ہو گئی، مگر کوئی کچھ بھی نہ کر سکا۔ اُس کی وجہ یہ کہ خود انجم آپا کے باپ اب اِسں عمر میں دوسری شادی کرنے جارہے ہیں۔ پولیس، مقدمہ اور طلاق ولاق کے چکر میں وہ نہیں پڑنا چاہتے۔ اُنھیں تو اَب گھر میں انجم آپا کا رہنا بھی گوارہ نہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ انجم آپا کا شوہر شہر کے چھٹے ہوئے بدمعاشوں سے میل جول رکھتا ہے، اس لیے وہ اُس سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان کی راشن کی دوکان پر جاکر اُنہیں گالیاں دیتا رہتا ہے اور وہ خامو ش سنتے رہتے ہیں۔

چھوٹے ماموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چھپ چھپ کر انجم آپا کے گھر بھی آتا جاتا رہتا ہے، اور وہاں بھی اُنھیں زدوکوب کرتا ہے۔
’’کوئی کچھ کہتا نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا تھا۔

’’کسی کو کیا پڑی ہے، کسی کے معاملے میں دخل دینے کی، جب انجم آپا کے باپ ہی کچھ نہیں کہتے۔‘‘ چھوٹے ماموں بولے۔

مارچ کا مہینہ تھا، ایک اُداس، بڑے صدر دروازے جیسا مہینہ جس میں سے ہوکر ہوائیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔ کم از کم مجھے تو مارچ کا مہینہ کسی کھنڈر کے ایک ویران، گردآلود اکیلے صدر دروازے کی مانند ہی لگتا ہے۔

میں بہت دیر تک مارچ کے اس سنّاٹے میں چپ چاپ کھڑا رہا، اس سناٹے میں اگر کوئی آہٹ تھی تو وہ سردیوں کے واپس جاتے ہوئے قدموں کی تھی۔

یونہی چپ چاپ کھڑے کھڑے، اچانک میرے اندر اُسی پرانے تاریک دیو ہیکل غصّے نے ایک پھنکار ماری۔ وہی کالا غصہ جو ایک زہریلے سانپ کی طرح کنڈلی مار کر، سکڑ کر، میرے وجود کے نادیدہ ریشوںمیں کہیں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ ایک بار پھر، میری روح کے خلیوں اور اُس کی جھلّیوں کو توڑتا ہوا باہر آنا چاہتا تھا۔

میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ماتھے پر برف کے پانی میں بھیگی پٹّیاں رکھو۔‘‘
ماتھے پر کچھ ٹھنڈا ٹھنڈا سا لگتا ہے۔

میرے کورس میں چلنے والی جغرافیہ کی کتاب کا وہ حصّہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جس میں سرد ممالک کا بیان ہے۔ میں اس صفحے پرایک اُڑتی ہوی مکھّی کی طرح جاکر بیٹھ جاتا ہوں۔ میں ایک بڑے بڑے بالوں والا کتّا ہوں جو برف پر کتّا گاڑی کھینچتا چلا جارہا ہوں۔ میں برف کی ڈھلانوں میں پھسل رہا ہوں جہاں قطب شمالی کا سفید بھالو مجھے بھیانک نظروں سے دیکھتا ہے۔\

’’انجکشن لگاکر دیکھتے ہیں ورنہ اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا۔‘‘ بازومیں ایک گندی سی چبھن ہوتی ہے جو ٹھیک میرے دل تک پہنچتی ہے، سوئی ہے، سوئی دل پر جاکر لگنے والی سوئی۔

میں ثروت ممانی کے سامنے بیٹھا ہوں۔ وہ بہت غصہ ور آنکھوں سے کشیدہ کاری کر رہی ہیں۔ وہ رومال پر سوئی اس طرح چلا رہی ہیں جیسے قینچی چلا رہی ہوں۔ رومال چیتھڑوں اور دھجّیوں میں بدلتا جاتا ہے۔

اب دوائیں کھانے کے بعد میرے جسم سے پسینے کی تُلّیاںبہنے لگی تھیں۔ سارا جسم ہر وقت پسیجا اور گیلا گیلا محسوس ہوتا تھا۔ مگر چند گھنٹوں بعد مجھے ایک ہلکی سی جھرجھری محسوس ہوتی۔ میرا جی چادر اوڑھنے کو کرتا۔ اور مجھے معلوم تھا کہ یہ جھرجھری اور یہ سردی، اُس کے آنے کی علامت تھی۔ وہ ابھی دور ہے مگر اُس کے قدموں کی چاپ کو میرا جسم اُسی طرح سن لیتا تھا جیسے دور سے آتی قدموں کی چاپ کو سن کر کتّا بھونکنے لگتا ہے۔ اور پھر وہ آتا۔ وہ یعنی بخار اوراپنی بھیانک تپش کے بھورے غبار میں میرے جسم کا سارا پسینہ سوکھ جاتا۔ جس کے چاروں طرف بخار ایک بگولے کی مانند دیر تک چکراتا رہتا۔ جسم کے ریشے ریشے میں آگ پھیل کرساری نمی، ساری سیلن کو جلائے دیتی تھی۔

نہیں معلوم۔ مجھے نہیں معلوم کہ کب میں سرسامی کیفیت سے واپس آیا۔ بخار ابھی بھی تھا۔ مگر ایک سو ایک سے زیادہ نہیں بڑھتا تھا۔ مجھے صرف دودھ اور پھل دیے جاتے تھے۔ روٹی کھانے کی مجھے اجازت نہ تھی۔ کمزوری تھی، مگر اتنی بھی نہیں کہ میں چل کر پیشاب پاخانہ کرنے بھی نہ جا سکوں۔

ایک روز صبح صبح مجھے پیٹ میں سخت درداور جلن کا احساس ہوا۔ میں بیت الخلا گیا مگر مجھے اجابت نہیں ہوئی۔ بجائے اس کے وہاں ڈھیر سا خون آیا۔ خون دیکھتے ہی میں چکرا کر، قدمچے پر بیٹھے بیٹھے پیچھے کی طرف لڑھک گیا اور میرا سر بری طرح دیوار سے ٹکرا گیا۔ چھوٹے چچا اوربڑے ماموں نے کچھ دیر بعد مجھے بیت الخلا سے نکالا ہوگا۔ سب گھبرا کر روہانسے سے ہونے لگے۔ میں نے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد اسپتال کا ڈاکٹر مجھے دیکھنے آیا۔ اُس نے سب سے پہلے میری آنکھیں چیر کر دیکھیں اور کہا۔

’’یرقان ہو گیا ہے، یہ خون بھی اسی وجہ سے آیا ہے۔‘‘

تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔

پیٹ میں ہلکا ہلکا سا درد رہتا تھا۔ پیٹ بُری طرح سوج بھی گیا تھا۔ ڈاکٹری علاج کے علاوہ ایک مولانا صاحب صبح صبح سورج نکلنے سے پہلے یرقان کو ایک کپڑے سے جھاڑنے بھی آنے لگے۔ وہ ساتھ ساتھ کچھ سورتیں بھی پڑھتے جاتے تھے۔

اب دودھ اور چکنی اشیاء مجھے سختی سے منع کر دی گئیں۔ مجھے صرف اُبلے ہوئے چاول، آلو اور شکر کا گھول یا پھِر گنّے کا رس ہی دیا جاتا رہا۔

چاول اور آلو بغیر مسالے کے اور بالکل سفید رنگ کے تھے مگر مجھے ہمیشہ یہ پیلی تاہری ہی نظر آئی۔ کچی کھانڈ اور گنّے کا رس بھی مجھے پیلا پیلا نظر آتاتھا۔ میں ایک زرد فتنے یا آندھی کی زد میں تھا۔ میرا جی ہر وقت مالش کرتا تھا مگر اُلٹی یا قے ایک بھی نہ ہوئی۔ بس ایسا لگتا تھا جیسے کوئی لجلجی شے ہے جو باربار میرے پیٹ سے گلے تک آکر واپس لوٹ جاتی ہے۔

مگر میری سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ مجھے ہر شخص کی شکل، اُس کا جسم اور اُس کے کپڑے زرد نظر آتے تھے۔ جیسے سب مایّوں بیٹھے ہوئے ہوں۔ ہر طرف اُبٹن کی ایک افسردہ خوشبو پھیلی ہونے کا دھوکہ بھی مجھے ہوتا تھا۔ میری آنکھوں کی پُتلیاں مکمل طور پر پیلی ہو چکی تھیں۔

میں بس بستر پر لیٹا، دن رات ایک زرد دنیا کا تماشہ دیکھ رہا تھا اور اس امر پر کچھ نازاں بھی کہ یہ تماشہ صرف میں دیکھ رہا ہوں۔ میری آنکھیں اُن سب کی آنکھوں سے الگ ہیں۔میری آنکھیں اس وقت دنیا کو ایک الگ رنگ اور ایک الگ روشنی میں دیکھنے پر بھی قادر تھیں۔
اُنھیں دنوں بستر پر لیٹے لیٹے میں نے سنا کہ آفتاب بھائی کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے اُن کی بیوی کے دو بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ بیوی کے بھائیوں کو اُن کی شادی منظور نہ تھی اور اکثر وہ آفتاب بھائی کو مار ڈالنے کی دھمکی دیتے رہتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ میں ایک یرقان زدہ، صرف پولیس، حوالات، ریمانڈ، تھرڈ ڈگری، مقدمہ، عدالت، گواہی، پیشی اور ضمانت کے بارے میں ہی گفتگو اور چہ میگوئیاں سنتا رہتا تھا۔

مگر نتیجہ ڈھاک کے تین پات نکلا۔ کچھ بھی ثابت نہ ہوسکا، بلکہ جلد ہی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کر دیا۔

ہوا یوں کہ پولیس نے، ایک رات اُس بدنام زمانہ کنپٹی مار کو گولی مار کر گِرا دیا جب وہ کسی کا قتل کرکے فرار ہورہا تھا۔ گولی اُس کی ٹانگ میں لگی تھی۔

کنپٹی مار گرفتار ہوا اور اُس نے اپنے ہر جرم کا اعتراف کرلیا مگر سب سے زیادہ حیران کن بات تویہ تھی کہ اُس نے آفتاب بھائی کو قتل کرنے کا بھی اعتراف کر لیا، اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ میرے لیے ایک معمّہ ہے۔

ایک رات میں نے بخار میں جلتے جلتے جب آنکھیں کھولیں تو وہ میرے سامنے کھڑا تھا بالکل عُریاں۔ وہ بہت ٹھگنے قد کا تھا۔ وہ بالکل زرد ہو رہا تھا۔ جیسے اُسے ہلدی سے رنگ دیا گیا ہو۔ اُس کی کنپنی پر ایک سیاہ گہرا سوراخ تھا۔ جس میں سے لگاتار پیلا خون نکل کربہتا ہوا، گردن سے پنڈلی تک آتا ہوا فرش پر پھیلتا جارہا تھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا، پھر آگے بڑھا۔ سامنے ہی پھانسی کا پھندا جھول رہا تھا۔ اس نے مجھے ایک بار پھر غور سے دیکھا، اس بار وہ زور سے قہقہہ مار کر ہنسا بھی تھا۔ اب اُس نے میری جانب پشت کر لی اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کالی رسّی کے پھندے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ چلتا تھا تو اس کے جسم سے ہلدی کا چُورا فرش پر گر گر کر بکھرتا جاتا تھا۔
زرد کنپٹی مار، پھانسی کے کالے پھندے میں جھول گیا۔ وہ اس وقت یوں نظر آتا تھا جیسے آسمان میں رکی ہوئی پیلی آندھی پر اکّا دکّا کالے بادلوںکی گھنی اور موٹی لکیریں۔

تقریباً ایک ماہ بعد لوٹ پوٹ کر میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔

اب سارا دھیان میں نے اپنی پڑھائی کی طر ف لگانا شروع کر دیا۔ میں گیارہویں جماعت میں آگیا۔

مزے کی بات یہ تھی کہ یرقان سے صحت یاب ہونے کے بعد میرا وزن بڑھنے لگا۔ میری ہڈیاں چوڑی ہونے لگیں۔ میری بھوک بہت کھل گئی تھی۔ میری آنتیں اب پہلے سے بہت زیادہ خوراک کی طلب گار تھیں۔ اپنے ساتھ گزرے ہوئے بھیانک واقعے کو شاید میرے بخار اور میرے یرقان نے میرے ذہن سے اس طرح پونچھ کر صاف کر دیا تھا جیسے کوئی فرش پر پڑی گندگی کو گیلے کپڑے سے پونچھ دیتا ہے۔

مگر اُس وقت مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ کچھ نہ کچھ جراثیم، کچھ نہ کچھ باقیات تو رہ ہی جاتے ہیں۔ اُنھیں نہ کوئی کپڑا صاف کر سکتا ہے، نہ کوئی صابن اور نہ کوئی تیزاب۔

وقت اچھا گزر رہا تھا، جب میں نے سنا کہ انجم آپا اپنے گھر واپس آگئی ہیں۔

مجھے خوشی ہوئی۔ وقت اور اچھا گزرے گا میں نے سوچا۔ پھر اُسی شام انجم آپا کے گھر جانے کا ارادہ کر لیا۔

اس ارادے کے ساتھ ہی میرا دل شاید خوشی سے بلّیوں اُچھل رہا تھا۔ میں نے کچھ کتابوں کے نام سوچنے شروع کر دیے جن سے شاید انجم آپا کو دلچسپی ہوسکتی تھی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تئیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر وہ گلی آگئی جس کے بائیں موڑ پر میرا گھر تھا۔
وہاں ایک جم غفیر تھا۔

نیلی بتّی والی، پولیس کی ایک گاڑی گلی کے موڑ پر کھڑی تھی۔ میں ہمت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ اب میرا خوف ہی میرا حوصلہ اور میرا سہارا تھا اور پیروں کی کپکپاہٹ ہی میرے چلنے کی طاقت تھی۔ یہ نہ ہوتی تو شاید میرے پیر پتھّر کے ہوجاتے۔

گھر خاکی وردی والوں سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی جاچکی تھی۔ پولیس والے ایک ایک کا بیان لے رہے تھے۔ نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی تک کا بیان لیا گیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہہ دیا کہ صبح سے اسکول میں تھا۔ اورابھی آیا ہوں۔ پولیس کو میرے اوپر کوئی شک نہیں ہوا۔ ورنہ اسکول سے یہ معلوم کیا جاسکتا تھا کہ میں آج اسکول نہیں پہنچا تھا، مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا۔
بعد میں،پولیس کے چلے جانے کے بعد بڑے ماموں نے مجھ سے یہ بازپرس ضرور کی کہ میں نے اُن کا کہا کیوں نہیں مانا۔ مگر وہ صرف ایک باز پرس نہیں تھی کیونکہ بعد میں انھوں نے گہری سانس لے کر یہ بھی کہا تھا کہ اچھا ہی ہوا کہ میں اسکول گیا ہوا تھا۔ شاید اُنہیں یہ اندیشہ ہوا ہو کہ اگر میں گھر پر ہوتا تومیری جان بھی خطرے میں پڑسکتی تھی۔

’’یہ ضرور کنپٹی مار کا کام ہے۔‘‘چھوٹی خالہ نے کہا۔

اُن دنوں ایک مجرم جو نفسیاتی مریض تھا، لوگوں کے گھروں میں گھستا پھرتا اور کسی ہتھیار کے ذریعہ کسی بھی تنہا شخص کا قتل کرکے چلتا بنتا۔ پولیس کو ابھی تک اُسے گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک پولیس انسپکٹر کچھ سپاہیوں کے ساتھ دوبارہ آیا تھا۔

’’ہو سکتا ہے کہ یہ اس کنپٹی مار کا کام ہو۔ مگر اُس کے قتل کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ وہ اپنے عجیب و غریب ہتھیار سے ہی آدمی کی جان لیتا آیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ وہ ہتھیار اُس سے کہیں گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو۔ اس لیے ہم نے تو گھر کی تلاشی لے ہی لی مگر آپ لوگ بھی اپنے طور پر اس امکان کو نظرانداز نہ کریں اور اُس ہتھیار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

پولیس والے چلے گئے تھے مگر ہمارا گھر رشتہ داروں سے اور محلے والوں سے بھر گیاتھا۔

تھوڑی دیر بعد مجھے بہت زور کی سردی لگنے لگی۔ میرے دانت بجنے لگے۔ میرے اوپر لحاف ڈال دیا گیا۔ میں نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’بچّہ ہے— بری طرح ڈر گیا ہے، اسے بخار آرہا ہے۔‘‘

اور یقینا وہ آرہا تھا۔ میں نے بخارکے قدموں کی دھمک کو اپنے کانوں کے ٹھیک قریب سنا۔ میری کنپٹیاں تپتی ہوئی سلاخوں جیسی ہوگئیں۔ ماتھا اس طرح جل رہا تھا کہ اُس پر چنے بھونے جاسکتے تھے۔ میں جس بستر پر لیٹا تھا اس کی چادر اتنی گرم ہوگئی تھی کہ لگتا تھا تھوڑی دیر میں دھواں دے کر سلگنے لگے گی۔

میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

کیا میرے دماغ پر بھی فالج گر گیاہے۔ کیا یہ فالج کی بارش ہے؟ ایک گرم تپتی جلتی ہوئی بارش؟ میں نے ہوش کھوتے ہوئے سوچا۔ اس کے بعد صرف کچھ آوازیں تھیں جو میں سنتا تھا۔ اور ا نہیں آوازوں سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا گمان گزرتا تھا۔

’’ایک سو پانچ اعشاریہ سات۔‘‘
’’ایک سو چھ۔‘‘

باربار کوئی میرے منھ اور بغل میں کوئی لجلجی سی سلائی لگا دیتا تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دوسرے دن صبح صبح گھر کی کنڈی بجی۔ صبح صبح گھر کی کنڈی کا بجنا اُس زمانے میں کسی کی موت کی خبر آنا تھا اور وہی ہوا۔ معلوم ہوا کہ گاؤں میں عصمت چچّا ممّا ریل سے کٹ کر مر گئے۔ اُنہوں نے خودکشی نہیں کی تھی۔ وہ تو رساول کی ہانڈی لے کر کسی رشتے دار کے گھر جارہے تھے، مگر جس کو وہ سڑک یا پگڈنڈی سمجھ کر چلتے جارہے تھے، وہ دراصل گاؤں کے قریب سے نکلنے والی ریل کی پٹری تھی۔

عصمت چچّا ممّا کا کمزور اور تقریباً بوڑھا ہوچلا جسم، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا اور رساول کی ہانڈی پرزے پرزے ہوکر واپس مٹّی کی جون میں آگئی۔

یہ خبر سنتے ہی گھر کے تمام افراد پریشانی اور عجلت میں گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ صرف نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی رہ گئیں۔ اچھّن دادی تو کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث بالکل معذور ہوچکی تھیں اور بستر سے اُٹھ کر چلنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

وہ بستر پر ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی تھیں اور اب اُن کے جسم پرجگہ جگہ زخم بھی پڑ گئے تھے، کیونکہ وہ کروٹ بھی نہیں لے پاتی تھیں۔ اُن کے کھانے پینے کی اشیاء اُن کے سرہانے ہی رکھی ہوتیں، جنھیں جب اُن کی طبیعت چاہتی، ہاتھ اُٹھاکر منھ میں ڈال لیتیں۔ باقاعدہ کھانا کھانا تو نہ جانے کب کا چھوٹ گیا تھا، مگر بہرحال اُن کے پیٹ میں ابھی آنتیں زندہ تھیں اور اسی لیے اُن کے بستر کے قریب پہنچتے ہی بدبو کا ایک زبردست بھبکا ناک میں جاتا تھا۔ اِس لیے میں اُن کے پاس جانے سے ہمیشہ کتراتا تھا۔
نورجہاں خالہ ہمیشہ کی طرح زیادہ تر وقت نہانے یا نہانے کی کوشش میں ہی گزارتی تھیں۔ کبھی کبھی آنگن میں ہی کپڑے اُتار کر نہانا شروع کر دیتیں اور اُنہیں بڑی مشکل سے قابومیں کیا جاتا۔ باورچی خانے کو غسل خانہ سمجھتی تھیں اور غسل خانے کو باورچی خانہ۔ نورجہاں خالہ نے گھر کے سب لوگوںکی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔
عصمت چچّا ممّا کے کٹ کر مرنے کی خبر سنتے ہی وہ فوراً اپنا جمپر اُتارتے ہوئے باورچی خانے میں نہانے کے لیے بھاگیں۔ اُنہیں آہستہ آہستہ اپنے ننگے ہونے کا احساس بھی ہونا تقریباً بند ہو گیا تھا۔ آخر گھر والوں کو اُنہیں تقریباً زبردستی گود میں اُٹھا کر غسل خانے لے جانا پڑا، جہاں انھوں نے لوٹا بھر بھر کر نہانا شروع کردیا۔

’’گڈّو میاں تم گھر رہنا۔ آج اسکول کی چھٹی کر لو۔‘‘ بڑے ماموں نے چلتے چلتے کہا تھا۔
گھر خالی ہوگیا مگر میرا دل نہیں گھبرایا بلکہ مجھے ایک آزادی کا احساس ہوا۔ ایک خطرناک بیکراں آزادی۔ وجود کے اندر پھیلتا ہوا ایک وسیع تر سفید صحرا جس میں کالے سائے اپنی اصل شکل و صورت اور خدوخال کے ساتھ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اندر سے کنڈی لگا رکھی تھی، جاکر دروازہ کھولا۔

سامنے آفتاب بھائی کھڑے تھے۔ اپنی بھوری بے رحم رنگت اور آنکھوں کے ساتھ۔ منھ میں وہی گھٹیا اور بدبو دار سگریٹ تھا۔
آفتاب بھائی اندر آگئے۔
’’کیا ہوا؟ گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کہاں گئے ہیں؟‘‘
’’عصمت چچّا ممّا مر گئے۔‘‘
’’ہوں— اچھا! دیکھو یار گڈّو میاں باورچی خانے میں کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے ناشتہ نہیں کیا۔ بڑی بھوک لگی ہے۔‘‘

وہ شاید اپنی بیوی (یا جو بھی ہو) سے لڑکر آرہے تھے۔ وہ آنگن سے باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگے۔میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا، مگر میرے پاؤں کی ہڈیاں نفرت کے بھیانک بوجھ سے کڑکڑا رہی تھیں۔ اور گھٹنوں کی پیالیوں نے جیسے گھومنا بند کر دیا تھا۔ آفتاب بھائی نے برتن اور ہانڈیاں کھکوڑنا شروع کر دیں۔ میں چپ چاپ باورچی خانے کی چوکھٹ سے لگا کھڑا تھا۔

آخر اُنہیں ایک ہانڈی میں رات کی پکی فیرینی مل ہی گئی۔ وہ فرش پر اُکڑوں بیٹھ گئے اور ایک چمچہ ہانڈی میں ڈال کر جلدی جلدی فیرینی کھانے لگے۔ میری طرف سے اُن کی پیٹھ تھی۔

’’گڈّو میاں پانی لاؤ۔‘‘ اُنہوں نے بغیر گردن موڑے ہوئے کہا۔

میں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ میرے پیروں کے پاس مسالہ پیسنے کی پتھّر کی وزنی سل رکھی ہوئی تھی۔ اور میرا کن کٹا خرگوش اُس سل پر اُچھل کود کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پاگل چوہا جس کے دماغ پرفالج گر گیا تھا اور جو صرف رات میں ہی اپنے بِل میں سے باہر نکلتا تھا۔ آج دن کی روشنی میں بھی، اپنا سر ایک طرف کو ڈھلکائے ہوئے آٹے کے کنستر کے پیچھے سے چلتا ہوا چولہے کی طر ف جارہا تھا۔

میں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ برتنوں کے پیچھے دُبکے ہوئے کاکروچ بھی باہر آکر فرش پر رینگنے لگے ہیں۔

اچانک میرے اندر پلنے والا وہ تاریک، طویل القامت سایہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ میرے دونوں ہاتھوں میں منتقل ہوگیا۔ میرے ہاتھ ایک عفریت کے ہاتھوں میں تبدیل ہوگئے۔

اب اِن ہاتھوں کی اپنی الگ دنیا تھی، الگ ذہن اور الگ شخصیت اور الگ اعصابی نظام۔ یہ ہاتھ میرے باقی جسم اور میرے دماغ کے تئیں مکمل اجنبی تھے۔

ہاتھوں نے مجھے جھکنے کے لیے کہا۔ میں جھکا اور میرے ہاتھوں نے پتھّر کی اُس وزنی سل کو اِس طرح اُٹھا لیا جیسے کوئی زمین پر پڑا ایک سوکھا ہوا زرد پھول اُٹھا لیتا ہے۔ سل پر ہلدی کا رنگ جم گیا تھا۔

آفتاب بھائی اُسی طرح اُکڑوں بیٹھے بیٹھے، ہانڈی میں سے فیرینی کھارہے تھے۔ میں اُنھیں منھ چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مگر اُن کی پیٹھ باربار ایک فحش انداز میں جنبش کرتی نظر آتی تھی۔ میں نے اِس فحش منظر کو شاید پہلے بھی کہیں دیکھا ہو، یا محسوس کیا ہو۔

پتھّر کی سِل کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اونچا اُٹھائے اُٹھائے، میں ننگے پیر بہت آہستگی کے ساتھ آفتاب بھائی کی طرف بڑھنے لگا۔ میں اُن کے سر پر پہنچ گیا۔ اُبٹن اور خون کی ملی جلی بو نے میری ناک کے نتھنوں کو چھو لیا۔

اپنی سانس روک کر، تمام طاقت کے ساتھ پتھّر کی سِل کو تھوڑا اوراونچا اُٹھائے ہوئے، میں نے اُسے آفتاب بھائی کے سر پر دے مارا۔ اُن کے منھ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی زور سے ڈکار لیتا ہے۔ مگر یہ چیخ ہرگز نہ تھی۔ انھیں چیخنے کی بھی مہلت نہ ملی۔

اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اُن کا سر فرش پر جاکر لڑھک گیا۔ وہ سر جو پوری طرح کچل گیا تھا۔
میرے ہاتھوں سے سل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ سِل پر آفتاب بھائی کے بھیجے کے ریشے اور خون کے چھیچھڑے چپک کر رہ گئے۔

کھیر کی ہانڈی اپنی جگہ ویسی کی ویسی ہی رکھی تھی۔ مگر آفتاب بھائی کے منھ، حلق اور آنتوں تک میں پھنسی ہوئی سفید فیرینی باہر آکر کھرنجے کے فرش پر پھیل گئی۔

وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔

مگر میں نے صاف صاف اور واضح طو رپر دیکھا اس میں مجھے رتّی بھر بھی شبہ نہیں ہے۔ ایک کاکروچ فیرینی کی ہانڈی کے پاس بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ پھر شاید وہ ہنسا بھی تھا۔

میں نہ جانے کب تک وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا۔ باورچی خانے کے فرش پر گاڑھے گاڑھے خون کی ایک لکیر آگے بڑھتی جاتی تھی۔

غسل خانے میں سے لگاتار، نورجہاں خالہ کے لوٹے بھربھر کے جسم پر پانی ڈالنے کی وحشت انگیز آوازیںآرہی تھیں۔ وہ دنیا مافیہا سے بے خبر نہانے میں گم تھیں۔
تب آفتاب بھائی کی لاش کے قریب کھڑے کھڑے، اچانک جیسے مجھے ہوش آیا، میری سمجھ میں آگیا کہ میں نے آفتاب بھائی کا قتل کر دیا ہے۔ ان کی سفید قمیص اور بھوری پتلون ہی اس قتل کا حلیہ تھی۔

دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ سورج کا رُخ ٹھیک باورچی خانے کی طرف تھا۔ وہاں تیز چمک اور روشنی پھیل گئی۔ اور میرے دماغ میں بھی۔

میں وہاں سے اُلٹے پاؤں بھاگا اور اندر والے دالان میں جاکر جلدی جلدی اسکول کی یونیفارم کی خاکی پتلون پہنی۔ سفید قمیص تو پہلے سے ہی پہن رکھی تھی۔ کرمچ کے سفید پی ٹی جوتے پہنے اور پھر اپنے اسکول کا بستہ اُٹھایا۔ اسے گلے میں ڈالا اور سب کچھ ایسے ہی چھوڑ کر گھرسے باہر نکل آیا۔ باورچی خانے میں آفتاب بھائی کی لاش کو چھوڑ کر اور غسل خانے میں نورجہاں خالہ کو نہاتا چھوڑ کر اور وہاں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازوں کو چھوڑ کر، میں گھر سے دور، شاہراہ پر آکر ایک چھوٹی سی پُلیا پر بیٹھ گیا۔ اسی راستے پر تھوڑا آگے چل کر میرا اسکول تھا اور اسکول کی چھٹی ہونے میں ابھی کم از کم دو گھنٹے ضرور تھے۔ پھر پُلیا سے نیچے اُتر کر میں نے پانی میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ مجھے دھوکہ ہوا اب کچھ چھوٹی مچھلیاں میرے ہاتھوں کی طرف لپکی تھیں۔ مگر ہاتھوں پر خون کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہاں خون کی کوئی بو نہ تھی۔

میں پُلیا کے نیچے بہتے پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ چہرہ پانی میں اُگے ہوئے سیوار میں پھنس گیا تھا۔

تیسرے پہر جب اسکول کی چھٹی ہوئی اور بچّے باہر نکلنے لگے، تب میں بھی اُنھیں میں شامل ہوکر گھر کی طرف واپس چلنے لگا۔

مجھے خنکی سی محسوس ہوئی۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اب اتنی دیر بعد، پہلی بار مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ اور جسم میں جھرجھری کا احساس ہوا۔
جیسے جیسے گھر پاس آتا جارہا تھا، میرے پیر من من بھر کے ہوتے جاتے تھے۔ میرا سر گھومنے لگا۔ میں گھروں کی دیواروں کا سہارا لے کر چلا۔

میرا بستہ میرے گلے میں اول جلول ڈھنگ سے اِدھر اُدھر ڈول رہا تھا، اور میں اسے سنبھال پانے میں ناکام تھا۔

میرے کندھے جھک رہے تھے۔ بستے کا بوجھ اچانک اتنا بڑھ گیا کہ مجھے لگا میری کمر ٹوٹ جائے گی۔ گلا بہت خشک ہوگیا۔ میں نے تھوک نگلنے کی کوشش کی مگر تھوک ندارد تھا۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ ناجانے کب سے میں نے پیشاب نہیں کیا ہے۔ شاید میرے گردوں میں پیشاب کی ایک بوند بھی نہ تھی۔ میرے سارے وجو دمیں ایک خوفناک خشکی پھیلنے لگی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اکیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نورجہاں خالہ کو نہانے کا مِراق ہو گیا۔ چھ چھ گھنٹے نہاتی تھیں۔ غسل خانے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ یہاں تک تو خیر برداشت کر لیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ صابن، تولیہ اور بالٹی میں پانی بھر کر باورچی خانے کے اند رجانے لگیں۔ وہ باورچی خانے میں نہانے کی کوشش کرنے لگیں جہاں سے اُنہیں بڑی مشکل سے کھنچ تان کر باہر نکالا جاتا، مگر دو تین بار وہ اس کوشش میںکامیاب بھی ہو چکی تھیں۔ دماغی بیماریوں کے معالج کو دکھایا گیا۔ اس نے اُن کے دماغ کے ایک خاص حصّے پر فالج کا اثر بتایا۔ کچھ دوائیں دے کر اُس نے یہ دلاسا دیا کہ کچھ عرصے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔
وہ دماغوں پر فالج گر نے کا زمانہ تھا۔ جس کو دیکھو اُس کے دماغ پرفالج گر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عصمت چچّا ممّا (وہ ایک طرف سے رشتے میں چچا ہوتے تھے اور دوسری طرف سے ماموں اس لیے میں اُنہیں چچّا ممّا کہتا تھا) گاؤں سے، جو ہمارے گھر سے دس کوس دور تھا، ہمیشہ کی طرح اس سال بھی جب رساول کی ہانڈی لے کر آئے تو گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے پہنچتے اُن کے دماغ پر فالج گر چکا تھا۔ وہ رساول کی ہانڈی لیے باربار پاخانے کی طرف دوڑتے تھے۔ جب اُن کو پکڑ کر قابو میں کیا گیا تو وہ زور زور سے چیختے۔۔۔ ’’میں رکھوں گا، باورچی خانے میں، اپنے ہاتھ سے رساول کی ہانڈی رکھوں گا۔‘‘
گویا ایک وبا پھیلی ہوئی تھی، عجیب و غریب وبا، کہیں نہ کہیں سے کسی کے اس وبا کے شکار ہونے کی خبر آتی ہی رہتی۔
حد تو یہ ہے کہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پاگل چوہا رات گئے باورچی خانے میں گھومتا پھرتا تھا اور کسی طرح بھی چوہے دان میں نہ پھنستا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا رہتا تھا، یقینا چوہے کے دماغ پر بھی فالج گر گیا تھا اور اُ س کی یادداشت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شاید وہ باورچی خانے کو چوہے دان سمجھتا تھا۔ جس سے نکلنے کے لیے وہ رات کے سنّاٹے میں بے تُکی اُچھل کود کرتا رہتاتھا اور وہیں ایک کونے میں روٹی کے ٹکڑے سمیت لگے ہوئے چوہے دان کو باورچی خانہ سمجھتا تھا جہاں تک پہنچ پانا اُس کی دانست میں ممکن ہی نہ تھا۔
مجھے تو یہ بھی وہم ہے کہ شاید چیونٹیاں بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھیں، کیونکہ اُن دنوں وہ قطار بنا کر چلنے میںناکام تھیں۔
ریحانہ پھوپھی اس وبا کی ذمہ دار دیوالی کی جادو کی ہانڈی کو سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار دیوالی کی ہانڈی نے کئی بار، رات میںمسلمانوں کی بستی کے اوپر گشت لگایا تھا۔ جادو کی ہانڈی میں دیا جلتا ہوا اُنھوں نے صاف دیکھا تھا اور ہانڈی سے نکلتی بھیانک زنّاٹے دار آواز کو بھی سنا تھا۔ مجھے صحیح علم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ دماغ پرفالج گرنے کی جتنی خبریں ہمارے گھر آئی تھیں، وہ مسلمانوں کی ہی تھیں۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ کچھ موسم کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔

فروری کے آخری دن تھے۔ سردی اور گرمی دونوں آپس میں اونچا نیچا یا چور چھپّا کے کھیل رہے تھے۔ سردی گرمی جب ایک ساتھ ہوتیں ہیں تو بڑی عجیب اور ناقابل فہم بیماریاں پھیلتی ہیں۔

اُدھر باورچی خانے میں کاکروچ بڑھتے جاتے تھے۔ دن میں وہ برتنوںکے پیچھے چھپے رہتے تھے اور رات میں جب کھانا سمیٹ دیا جاتا تھا تو آرام کے ساتھ فرش پر اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے پھرتے تھے۔ میں تو چونکہ رات میں بھی، ایک آدھ بار باورچی خانے میں شکر پھانکنے کے لیے ضرور جاتا تھا، اس لیے پاگل چوہے اور کاکروچوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔

عجیب زمانہ تھا، ہر طرف دماغی فالج زدہ لوگ بک بک کرتے اورا ُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے نظر آتے۔ ان کی جھک اور بکواس نے چاروں طرف ایک شور مچا رکھا تھا اور میں اس شور میں ہر وقت ہانڈیوں کے ڈھکّن اُٹھا اُٹھا کر کھانوں کے رنگ دیکھتا رہتا تھا۔ سرخ رنگ کا کھانا، ہرے رنگ کا کھانا، پیلے اور نارنگی رنگ کا کھانا، بینگنی رنگ یہاں تک کہ سفید اور سیاہی مائل کھانا بھی مگر نیلے رنگ کا کھانا مجھے آج تک نہیں ملا۔

آخر نیلے رنگ کا کھانا کیوں نہیں؟میںسوچا کرتا۔ شاید اس لیے کہ نیلے رنگ کا کھانا یا تو آسمان سے اُترتے ہوئے فرشتوں کا ہوسکتا تھا یا پھر شیطانوں کا۔ ایک زہریلا کھانا۔ اس لیے اچھا ہی تھا کہ نیلے رنگ کے کھانے کا وجود نہیں تھا کیونکہ انسان کو آج تک فرشتے اور شیطان میں فرق محسوس کرنے کی تمیز پیدا نہیں ہوسکی۔

پھر ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ دماغی فالج کی وجہ آنتوں میں پائے جانے والے کچھ جراثیم ہیں۔ پیٹ اور آنت کی بیماریوں کی وجہ سے ہی لوگ دماغی طور پر غیر متوازن ہورہے ہیں۔ اور ایک خاص قوم، مذہب، نسل اور خطّے کے لوگ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی تھا، ممکن ہے کہ یہ ایک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی ہو۔ مگر لوٹ پھر کر پھر وہی آنتیں، پھر وہی معدہ، پھر وہی بھوک اور بدنیتی، پھر وہی کھانا، پھر وہی آگ اورپھر وہی باورچی خانہ۔

باورچی خانہ— جو گھر کے سب سے مخدوش مقام کا نام ہے۔

بارہ وفات آگئی، گھر گھر میں موم بتّیاں جلا جلاکر روشنیاں کی گئیں۔ میں نے گھر کی ہر اندھیری کوٹھری، ہر تاریک گوشے اور ہر طاق میں موم بتی روشن کی۔ بارہ وفات کا جلوس نکلا۔ نیاز ونذر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمارے گھر میں مٹّی کے پیالوں میں فیرینی جمائی گئی۔ جب میں، رات کو آنگن میں بیٹھا فیرینی کھارہا تھا تو اچانک مجھے انجم باجی کے ہاتھ کی پکائی ہوئی فیرینی کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہ فیرینی پر چاندی کا ورق اتنے سلیقے اور نزاکت کے ساتھ لگاتی تھیں کہ مٹّی کا پیالہ جگمگا اُٹھتا تھا۔ جیسے وہاں سے چاند طلوع ہو رہا ہو۔

مگر اِس وقت میرے اندر چاند نہیں بلکہ اندھیرا طلوع ہورہا تھا۔ غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

’’آج فیرینی نہیں پکنی چاہئیے تھی۔ زردہ ٹھیک رہتا۔‘‘ میرے کان کو میری ہی منحوس، لمبی اور کالی زبان نے چاٹا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا، لال چمکدار کاغذ سے منڈھا ہوا ہوا کے ساتھ روشن ایک قندیل سست روی کے ساتھ اندھیرے میں اُڑتا چلاجارہا تھا۔
’’میں بھی ایک دن قندیل کی مانند، ہوا کے ساتھ اس تاریک آسمان میں اُڑوں گا۔ میں نے سوچا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مجھے نہیں یاد— اب مجھے یاد نہیں۔ انجم باجی کی شادی کی کوئی اور تفصیل مجھے نہیں یاد سوائے اس کے کہ سرخ جوڑے میں ملبوس ایک بے حد دُبلی پتلی دلہن روتی سسکتی گھر سے رخصت ہو گئی اور میںگھر کی چوکھٹ پر کھڑا،خاموش اس کی پالکی کو جاتا دیکھتا رہا۔

بہت دنوں بعد، شاید تین سال بعد جب انجم باجی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب سے واپس آئیں تو میں اُنہیںپہچان نہ سکا۔ وہ بہت موٹی اور گول مٹول سی ہوگئی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کا قد ٹھگنا سا محسوس ہوتا تھا۔ ان کا پورا جسم قیمتی زیورات سے لدا ہواتھا، مگر وہ ایک الگ داستان ہے جسے میںکسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتا ہوں۔

انجم باجی کی شادی کے بعد مجھے اتنا اکیلاپن نہیں محسوس ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔ اس کا سبب شاید میرے اندر پلتے رہنے والا ایک خطرناک اورپُراسرار غصّہ تھا۔ میں نے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں پوشیدہ اس غصّے کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ یہ ایک لال پیلا غصہ نہ ہوکر ایک سیاہ غصہ تھا جس میں مجھے کچھ نظر نہ آتھا اور یہی بات میرے سکون کا باعث تھی۔ غصّے کے اس سیاہ سائے سے میںہمیشہ بغل گیر رہتا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ساتھی کو جکڑے رہتا تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔میںاپنی پڑھائی بھی دل لگاکر کرتا رہا۔ آفتاب بھائی، اُسی ڈاکٹر کے یہاں ایک کمرے میں رہنے لگے، جہاں وہ کمپاؤنڈری کرتے تھے۔ ہفتوں مہینوں میں کبھی گھر آتے اور وہی نفرت انگیز سگریٹ پھونکتے رہتے۔ جس کی بُو میں ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ اُڑتے اُڑتے یہ خبر بھی آئی کہ اُنھوں نے چھپ کر شادی کر لی ہے۔ پتہ نہیں، میں تو اُن کے پاس جاتا بھی نہیں تھا جبکہ اُنھوں نے مجھے کئی بار بلایا بھی تھا۔ میں آفتاب بھائی سے اِس لیے نہیں ملتا تھا کہ ایک دن تو مجھے اُن سے ملنا ہی تھا۔ میں اپنے وجود میں پلنے والے تاریک غصّے کے حکم کی تعمیل کرتا تھا اور آفتاب بھائی سے ملنے کے لیے مجھے اُس کے اشارے کا انتظار تھا۔

انجم آپا کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور جاتا تھا مگر اب ہم جاسوسی ناولوں کی باتیں نہیں کرتے تھے، خود میری دلچسپی بھی جاسوسی ناولوں میں کم ہو گئی تھی۔ میں غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے لگا تھا۔ خاص طور پر روسی ادب کے شاہکار ناولوں کے تراجم۔

انجم آپا کو اِن چیزوں سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی ا ور نہ ہی اُن میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ اُنہیں سمجھ سکتیں۔ جہاں تک میرا سوال تھا تو میں چار پانچ ماہ میں ہی بہت بڑا ہوگیا تھا۔ میری شکل و صورت یا قد میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہو یا نہیں مگر میرے جسم کے اندر رہنے والی روح کی عمرمیری جسمانی عمر سے بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ اتنی زیادہ کہ کبھی کبھی میری روح کے پیر میرے جسم کی چادر سے باہرنکلنے لگتے تھے اور میں گھبرا کر اپنے غصّے کا کالا،بھیانک ہاتھ تھام لیا کرتا تھا۔ ایسے وقتوں میں وہی مجھے سہارا دیتا تھا۔

مگر انجم آپا سے مجھے اُنسیت ہمیشہ سے تھی اور بارہا میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ شاید وہ مجھے بہت چاہتی تھیں۔ انجم باجی سے بھی زیادہ۔ لیکن اس کا اظہار وہ کبھی نہ کرسکیں۔ اس کی کچھ وجوہات رہی ہوں گی جن کا علم مجھے تب ہرگز نہ تھا، البتہ اب میں کچھ اندازہ لگا سکتا ہوں۔ بہرحال ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے انجم آپا سے اُنسیت تھی یا اُنسیت کا التباس تھا کیونکہ شاید میں خود اس بات کے لیے تڑپ رہا تھا کہ کوئی مجھے چاہے، کوئی۔۔۔ یعنی کوئی لڑکی۔ اپنی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد سے انجم آپا بہت پریشان، بدحال اورافسردہ سی رہنے لگی تھیں۔ اور اُن کے والد جلد ہی اُن کا بیاہ کر دینے کے لیے سرگرداں تھے۔

میں اکثر سوچتا کہ انجم آپا کو کچھ لطیفے سناکر ہنسنے ہنسانے پر مجبور کر دوں مگر یہ مجھ سے کبھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اوّل تو مجھے لطیفے یا دہی نہیں رہتے تھے اور اگرکوئی لطیفہ یاد کرکے میں سنانا بھی چاہتا تو میرا ساتھی، اُن دنوں کا وہ کالا،پُراسرار غصہ مجھ سے اپنی بانھیں چھڑانے لگتا۔

نہیں، ہرگز نہیں! میں کسی بھی قیمت پر اپنے غصّے سے جدا نہیں ہوسکتا تھا۔ میرے لیے گلا پھاڑ کر ہنسنا حرام تھا، اسی لیے میں انجم آپا کو کبھی خوش نہ کر سکا مگر اُن کی خالی اور اُداس آنکھوں میں اپنے لیے پیار کی ایک ایسی چمک ہمیشہ دیکھتا رہا جو جگنو کی چمک سے مماثل تھی۔ جلتی بجھتی— پھر جلتی پھر بجھ جاتی۔

مگر یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ آخر ایک دن بہت خاموشی اور سادگی کے ساتھ انجم آپا کا نکاح پڑھا دیا گیا اور اِس طرح وہ گول، چپاتی کی مانند، چیچک زدہ چہرہ جو مجھے بہت اپنا اپنا سا لگتا تھا میری دنیا سے دور ہوگیا۔ وہ چہرہ جس کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ اُسی منحوس لال گھونگھٹ میں چھپ کر پالکی میں گم ہو گیا جس طرح انجم باجی کا چہرہ ایک دن گم ہو گیا تھا۔

مگر مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔

انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – انیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انجم باجی کو مایّوں بٹھا دیا گیا۔ باہر والے دالان کے مشرقی کونے والا برآمدہ جس کے سامنے باورچی خانے کی جالی تھی، داسے میں دو تین رنگین چادریں لٹکا کر پردہ کر دیاگیا۔ انجم باجی باندوںکے ایک پلنگ پر پیلے کپڑے پہنے بیٹھی تھیں۔ پیلا جمپر، پیلی شلوار اور پیلا دوپٹہ — اُن کے پاس صرف لڑکیاں اور عورتیں ہی بیٹھی رہتی تھیں۔ محرم مرد تو کبھی کبھی اندر جاسکتے تھے۔ مگر نامحرم مرد کا اندر آنا بالکل منع تھا۔ حالانکہ گھر کے وہ مرد بھی جن سے انجم باجی کا پردے کا رشتہ نہیں تھا، اُن کے پاس نہیں آتے تھے۔ تمیزن نام کی ایک بہت موٹی گوری اور تقریباً بڑھیا نائن اُن کو روز صبح و شام اُبٹن ملنے آتی اور انجم باجی کا رنگ واقعی روز بروز نکھرتا جاتا۔ میراثنیں بھی آتیں۔ وہ ڈھولک پر گیت گاتیں اور حرارے بھی دیتیں تاکہ انجم باجی کے اوپر کسی آسیب یا جن کا سایہ نہ پڑ سکے۔

انجم باجی کا مجھ سے پردہ نہ تھا۔ میں تو چودہ پندرہ سال کا ایک نابالغ بچّہ تھا۔ میں آزادی اور بے فکری کے ساتھ انجم باجی کے پاس پردوں میں گھسا بیٹھا رہتا تھا۔ میرا رنگ تھوڑا سانولا ہے، اس لیے میں نے بھی اُبٹن لگایا۔ اُس ابٹن کی مہک مجھے آج تک یاد ہے۔ پیلے کپڑوں میں انجم باجی سونے کی بنی ایک دمکتی ہوئی مورتی سے مشابہہ تھیں۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہ کبھی کبھی ہی مسکراتیں ورنہ اپنی ازلی پاکیزگی کی اُداسی میں گم رہتیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا جب وہ اکیلی رہ جاتیں اور صرف میں اُن کے پاس بیٹھا رہ جاتا۔ ایسے لمحات میں، انجم باجی اپنے اُبٹن لگے گورے پیلے ہاتھ میرے سر پر پھیرتیں اور زیادہ تر ایک ہی بات دہراتیں۔

’’گڈّو میاں! میں چلی جاؤں گی تو تم رونا مت۔ بتاؤ رو ؤگے تو نہیں؟‘‘ میں اُن کی آواز میں بھی پیلاپن محسوس کرتا۔
’’نہیں۔‘‘

مگر پھر ہوتا یہ کہ وہ خود ہی آہستہ آہستہ رونے لگتیں۔ ایک بے آواز سا رونا جیسے ایک خاموش بارش درختوں پر گرتی ہے۔ جب درخت ساکت و جامد ہوتے ہیں۔ آس پاس کہیں کسی ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔

صرف اُن کے آنسو گرتے۔ ان آنسوؤں کو وہ اتنی جلدی جلدی اپنے پیلے دوپٹّے سے پونچھ دیتیں کہ وہ ٹھیک سے نظرہی نہیں آتے، یا اگر نظر آتے ہوں گے تو دوپٹّے کے زرد لہرئیے، اُن آنسوؤں کو بھی جذب کرکے پیلا کر دیتے تھے۔
اور یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ آخر اُن کے ہاتھ پیلے ہونے والے تھے۔

ایک دن آفتاب بھائی نے مجھے پیار سے اپنے پاس بلایا۔ ’’گڈّو میاں۔‘‘
میں نفرت سے بھرا ہوا اُن کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے اپنی جیب سے دو کتھئی رنگ کی گولیاں نکالیں اور کہا، ’’گڈّو میاں! یہ گولیاں اپنی انجم باجی کو دے آؤ، کہنا کہ گرم دودھ سے کھانی ہیں۔‘‘
’’کیا اُن کی طبیعت خراب ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں! اُن کے سر میں شدید درد رہتا ہے۔ یہ سر درد کی دوا ہے۔ فوراً جاکر دے آؤ۔‘‘
آفتاب بھائی محلّے کے ایک ڈاکٹر کے یہاں کمپاؤنڈری کرنے لگے تھے اور اکثر گھر والوں کو چھوٹی موٹی بیماری میں مفت دوائیاں لاکر دیتے رہتے تھے۔

میں نے اُن دو کتھئی گولیوں کو حقارت اور نفرت کے ساتھ دیکھا۔ مجھے ایک بار پھر انجم باجی پر شدید غصہ آیا۔ اُن کے سرمیں درد تھا تو وہ مجھ سے کہتیں۔ میں اُن کا سردبا دیتا۔ آفتاب کی لائی ہوئیں یہ ذلیل گولیاں بھلا کیا کریں گی؟ مگر طوعاً وکرہاً مجھے وہ گولیاں لے جاکر انجم باجی کو دینی ہی پڑیں۔ اُس وقت وہ واقعی اپنا سر پکڑے بیٹھی تھیں۔ نہ جانے کیوں مجھے انجم باجی پہلے سے زیادہ دُبلی بھی نظر آئیں۔
’’دودھ لاؤں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’نہیں۔ بعد میں کھاؤں گی۔‘‘ انجم باجی نے گولیاں اپنے زرد دوپٹّے میں باندھ کر گانٹھ لگا لی۔
مگر دودھ کے نام پر مجھے دودھ جلیبیاں یاد آگئیں۔ میں بچپن سے ہی تھوڑا چٹورا بلکہ بدنیت تو تھا ہی۔
’’لو دودھ جلیبی۔‘‘ انجم باجی نے ایک کٹوری میری طرف بڑھا دی۔

مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔ یہ ایک رسم تھی جس کا سب سے زیادہ فائدہ میں اُٹھا رہا تھا۔ میں شکم سیر ہو ہوکر دودھ جلیبی کھا رہا تھا۔ دسمبر کی راتوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ بے حد سرد، ان ہواؤں میں مایّوں کے پردے زور زور سے پھڑپھڑاتے۔ برآمدے میں ہاتھ پیر گلا کر رکھ دینے والی سردی چلی آتی۔ انجم باجی پیلے غلاف اور پیلے استر والی رضائی میں سکڑی بیٹھی یا گھٹنے موڑے لیٹی رہتیں۔ ان کی سہیلیاں بھی اپنی اپنی رضائیوں میں گھسی پتہ نہیں کون کون سی باتیں کرتیں رہتیں۔ ہنسی اور ٹھٹھولے کرتی رہتیں پھر رات جب زیادہ گزر جاتی اور باہر آنگن میں کہرا اتنا شدید پڑنے لگتا کہ داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین کی روشنی تک کالی نظر آنے لگتی تو سب اونگھنے لگتے۔
مجھے بھی نیند آنے لگتی اور میں وہاں سے اُٹھ کر اندر والے دالان میں اپنی چارپائی پر آکر لیٹ جاتا اور لحاف اوڑھ لیتا۔ جہاں میرا کن کٹا خرگوش لحاف میں گھسا پہلے سے ہی میرا انتظار کر رہا ہوتا۔
مگر اُس رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ ایک تو یہ کہ رات کے کھانے میں قورمہ تیار کیا گیا تھا اور یہ پتہ چلتے ہی میرا دل دھڑکا تھا اور میں ایک جاسوس کتّے کی مانند چوکنّا ہو گیا تھا۔ آج قورمہ پکناشاید ایک بدشگونی ثابت ہو۔ مگر پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ کسی تقریب میں تو ایسے کھانے پکتے ہی ہیں۔ تو یہ میرا محض وہم بھی ہو سکتاہے اور دوسری بات یہ کہ ان دنوں میری چھٹی حس زیادہ متحرک اور فعال نہ تھی۔ میں اپنی تمام تر ذہنی اور جسمانی توانائیوں کے ساتھ محض انجم باجی کی شادی میں ہی مگن تھا۔
انجم باجی کی شادی میں صرف تین دن باقی بچے تھے۔ میں اپنے لحاف میں کبھی ایک طرف کروٹ بدلتا، کبھی دوسری طرف۔ پورے گھر میں سناٹا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ کل رَت جگے کی رسم ہونی تھی۔ انجم باجی کی طرف، مایوں میں بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اُن کی سہیلیاں بھی تھک کر سوگئی تھیں۔

باہر دسمبر کی ہواؤں کے سرد اور وحشت ناک جھکّڑ چل رہے تھے۔ ان ہواؤں میں، داسے میں لٹکی لالٹین کبھی اِدھر ڈولتی کبھی اُدھر۔ جس کے سبب دالان میں دیواروں پر پڑنے والی، اشیا کی پرچھائیاں باربار اپنا رُخ بدلتیں، اور ہر رُخ مجھے پُراسرار اور ڈراؤنا محسوس ہوتا۔

اچانک مجھے کچھ آہٹ سی محسوس ہوئی۔ جیسے کوئی اُٹھ کر آنگن میں جارہا ہیو۔ مجھے تھوڑا خوف محسوس ہوا،مگر میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ جاسوسی ناول پڑھتے پڑھتے میرے اندر ایک بے تُکا، بے محل اور بچکانہ تجسّس بہت پیدا ہوگیا تھا۔

میں دبے پاؤں اُٹھا، کہرے میں ایک سایہ، باورچی خانے کے دروازے پر نظر آیا۔ میں تو انجم باجی کے تاریک سائے کو بھی پہچان سکتا تھا۔ اُن کے ہاتھ میں کوئی برتن تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں میں نے اُس برتن کو بھی پہچان لیا۔ یہ دودھ جلیبی کی ایک چھوٹی سی بالٹی تھی۔ وہ اِسے باورچی خانے میں رکھنے جارہی ہیں۔ میں نے سوچا۔ مگر یہ مایوں کے پردے سے اُٹھ کر باہر کیوں آرہی ہیں اور وہ بھی باورچی خانے میں؟

مگر نہیں۔۔۔! میں ٹھٹک گیا۔ باورچی خانے کی دہلیز پر ایک اور سایہ بھی موجود تھا۔
طویل القامت سایہ، جس نے انجم باجی کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اندر کھینچا تھا۔ پھر باورچی خانے کا دروازہ اندر سے بند ہوگیا۔
میں جلدی سے زینے کی چوتھی سیڑھی کی طرف پہنچا۔

یہاں بیٹھ کر باورچی خانے کی جالی میں سے اندر کا منظر نظر آسکتا تھا۔ میں نے دیکھا— باورچی خانے میں اندھیرا ہے بھی اورنہیں بھی۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ جل رہی ہے جس کی دھندلی روشنی اندھیرے سے بہت مشابہ ہے۔
آفتاب بھائی نے انجم باجی کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ وہ اُن پر ایک آدم خور درندے کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔
’’تم کتّے ہو، کتّے، ذلیل کتّے۔‘‘ انجم باجی کے منھ سے آواز نکلتی ہے۔ آفتاب بھائی نے ایک زور دار تھپّڑ اُن کے گال پر رسید کیا۔
’’کتّے— تونے مجھے وہ گولیاں کیوں کھلائیں؟‘‘ انجم باجی رونے لگیں۔
’’اس لیے۔۔۔ اس لیے کہ تیرا خصم پہلی رات کا مزہ نہ لوٹ سکے۔‘‘

’’مگر مجھے پرواہ نہیں۔ میں اسی حالت میں تجھے ابھی اسی وقت۔۔۔‘‘ آفتاب بھائی کی آواز ایک شیطانی آواز تھی۔
پھر وہ انجم باجی کو دھکا دے کر فرش پر گرا دیتے ہیں۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی روشنی میں، مایّوں کے پیلے پاکیزہ لباس میں اُبٹن سے مہکتا ہوا اُن کا جسم، باورچی خانے کے کھرنجے کے فرش پر بے سدھ پڑا ہے۔

آفتاب بھائی اس جسم پرجھکتے ہیں۔ اب منظر صاف نہیں ہے۔ میں زینے کی چوتھی سیڑھی پر اُچک اُچک کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے کچھ نظر نہیں آتا— مگر نہیں مجھے آواز نظر آتی ہے۔ میں آواز دیکھتا ہوں، آواز نہیں بلکہ آوازیں جیسے کوئی کسی بکری کو ذبح کرتا ہے۔تیز تیز سانسیں، دبی دبی چیخیں جو دسمبر کی کالی سردی کی وحشت ناک ہواؤں میں کبھی اُبھرتی ہیں، کبھی دب جاتی ہیں۔ آم کا درخت اِن ہواؤں میں لگاتار جھومے جارہاہے جیسے پاگل ہو گیاہو۔

میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے زور کی سردی لگ رہی ہے۔ میرے دانت کٹکٹا رہے ہیں۔ چھت کی ویران منڈیروں پر سے گھومتی، چکراتی ہوئی ہوا زینے کی سیڑھیوں پر ہوک رہی ہے۔ میں اپنی پیٹھ پر اِس ہوا کے بھیانک وار کو محسوس کرتا ہوں، جیسے کوئی میری پیٹھ پر دوہتّڑ مار مار کر بین کر رہا ہو۔ سنّاٹے میں ایک رونے کی آواز۔۔۔شاید زمانہ گزر گیا ہے۔ جب جاکر باورچی خانے کا دروازہ کھلا ہے۔ وہاں سے باہر آکر طویل القامت سایہ تاریک آنگن میں کہیں غائب ہوگیا ہے۔

میں اپنے سُن ہو گئے، برف جیسے پیروں سے لڑکھڑاتا ہوا ٹھوکریں کھاتا ہوا، زینے کی چوتھی سیڑھی سے نیچے اُترتا ہوں۔ میں آرہا ہوں— بغیر کچھ سوچے سمجھے، بنا کسی ارادے کے، میں باورچی خانے میں آرہا ہوں اور میرے دانت زور زور سے بج رہے ہیں۔ پیٹ میں اینٹھن ہو رہی ہے۔

میں آگیا — میں باورچی خانے میں آگیا۔
مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی اُس منحوس کالی روشنی میں، میں دیکھ رہا ہوں۔ انجم باجی چولہے سے پیٹھ لگائے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہیں۔

اُن کے لمبے کالے بال کھل کر فرش کو چھو رہے ہیں۔ ان کی پیلی، مایّوں کی شلوار پر قورمے کے دھبّے ہیں، کیا قورمے کی دیگچی اُلٹ گئی ہے؟

قورمہ۔۔۔؟ نہیں، اب مجھے صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
یہ قورمہ نہیں ہے۔۔۔ یہ خون ہے، یہ خون کے تازہ دھبّے ہیں۔ یہ دھبّے اُن کے دوپٹّے پر بھی ہیں۔ جو مڑا تڑا، بے چارگی کے ساتھ چولھے پر پڑا ہوا ہے۔ اور۔۔۔ اور جمپر پر بھی ہیں۔ مایّوں کے کپڑے خون سے سن گئے۔

فرش پر دودھ جلیبی کی بالٹی کھل کر ایک طرف لڑھک گئی ہے۔ دودھ کی ایک سفید لکیر کھرنجے پر آگے رینگتے رینگتے، اچانک رُک گئی ہے۔ ایک کاکروچ اُس لکیر پر بیٹھا ہے۔ مجھے دھوکہ ہوا ہے، جیسے دودھ جلیبی میں بھی خون مل گیا ہے۔
باورچی خانے میں اُبٹن کی خوشبو ہے، مگر اب اس میں خون کی بو بھی تیزی سے شامل ہوتی جارہی ہے۔

خون۔۔۔ یہ کیسا خون ہے؟ کون سا خون ہے؟
وقت سے پہلے شروع ہو گئی ماہواری کا؟
کنوارے پن کے ضائع ہوجانے کا؟
یا دونوں کا؟

شاید دونوں خون آپس میں اس طرح گھل مل گئے تھے جیسے دُکھتی آنکھوں سے نکلنے والے پانی میں آنسو۔
کچھ نہیں معلوم— یہ ایک ایسا بھید ہے جس کا علم کسی کو نہیں۔
’’گڈّو میاں۔۔۔‘‘ انجم باجی گُھٹی ہوئی آواز میں چیختی ہیں۔

وہ اُٹھتی ہیں اور مجھ سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگتی ہیں۔ اُن کے رونے کی آواز باہر چلنے والی سرد اور دانت کٹکٹا کر رکھ دینے والی ہوا معلوم ہوتی ہے۔
’’تم کسی سے کچھ کہوگے نہیں، تمھیں میری قسم ہے۔‘‘ وہ ہچکیاں لیتی ہیں۔
میں چپ رہتا ہوں۔
’’اگر تم نے کسی سے کچھ بھی کہا، تو میں مرجاؤں گی۔ سنا تم نے گڈّو میاں! تمھاری انجم باجی مرجائے گی۔‘‘ وہ مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
میں رونے لگتا ہوں۔

انجم باجی چولھے پر پڑا اپنا پیلا، خون سے سنا دوپٹّہ اُٹھاتی ہیں اورمیرے آنسو پونچھنے لگتی ہیں۔ دوپٹّے میں خون ملے اُبٹن کی بو آتی ہے جو سیدھی میری آنکھوں میں اُتر جاتی ہے۔ مگر وہ آنکھوں تک ہی نہیں ٹہرتی، آنکھوں سے آگے بھی ایک دنیا ہے، وہ اُسی دنیا میں پھیل جاتی ہے۔

وہ ڈگمگاتے ہوئے پاؤں کے ساتھ، میرا ہاتھ پکڑے پکڑے باہر آتی ہیں۔ مجھے لپٹا کر پیار کرتی ہیں۔
’’گھبرانا نہیں۔۔۔ مجھے ذرا سی چوٹ آگئی ہے۔ میں ٹھیک ہوجاؤں گی۔ یہ خون اُسی چوٹ سے نکلا ہے۔‘‘
انجم باجی نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ہے۔ اور اُسی طرح کانپتے،لرزتے پیروں کے ساتھ غسل خانے کی طرف چلی گئی ہیں۔ جہاں سے تھوڑی دیر بعد باہر آکر وہ واپس چپکے سے مایّوں جاکر بیٹھ جائیں گی۔

میں آنگن میں خاموش کھڑا ہوں۔ میرے اوپر کہرا گر رہا ہے۔ میں آسمان کی طرف نظر اُٹھا تا ہوں۔ سوائے سیاہی کے مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔

میں اپنے بالوں کو چھوتا ہوں۔ کہرے نے اُنہیں گیلا کر دیا ہے۔ میرے ہاتھ بھی گیلے ہوجاتے ہیں۔ میں ان ہاتھوں کو سونگھتا ہوں۔ وہاں ایک عجیب بو ہے۔ ایسی بو جس میں اُبٹن، مہندی، پھول، قورمہ، دودھ جلیبی اور خون تک کی بُو شامل ہے۔
باہر اندھیری گلی میں کوئی آوارہ بلّی زور سے چیختی ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔

گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔

انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟

مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔

انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔

دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟

میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔

آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔

ایسا کیوں تھا؟

مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔

مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔

یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔

میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔
ہاں ہوس کی نشانی—!