Laaltain

ماں رتھ فاؤ

علی زریون: ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو

مائے

علی زریون:
خدا کے نام لیواوں کو اک ” ماں” کی ضرورت ہے
جو ان کو نرم کر پائے
جو ان کو یہ بتا پائے
خدا ظالم نہیں ہوتا

مجھے معلوم کر لینا

علی زریون: مجھے معلوم کر لینا
کسی بجھتی ہوئی تاریخ کے ان حاشیوں اندر
جہاں کچھ ان کہی باتیں
ہمارے مشترک احساس کی تسبیح شاید اب بھی پڑھتی ہوں

دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے

علی زریون: میں تو کوڑھیوں میں بیٹھا ہوں
دو کوڑی کے گھٹیا کوڑھی !
یہ دھرتی کے اجڑے پن پر خاک لکھیں گے؟؟
مجمع گیر بھلا کیسے ادراک لکھیں گے؟؟

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

علی زریون: آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جسے پڑھ کر اک حیرانی ہو
جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں
ہر مشکل کی آسانی ہو

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

بہت پیارے بہت اپنے مسیحا!
پرسہء اہلِ محمد پیشِ خدمت ہے
وہ بچے بھی ہمارے ہیں
پرندے بھی ہمارے ہیں
جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے ہیں

آدم کتبہ لکھتا ہے

بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے