Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھٹی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(11)

 

ولیم جھنڈو والا پہنچا تو ایک بج چکا تھا۔ دُھند چھٹ چکی تھی۔اس لیے گاؤں اور ارد گرد کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ویسے بھی سردی کی دھوپ جب چمک کر نکلتی ہے تو کچھ زیادہ ہی سفید ہو جاتی ہے۔ ولیم کا یہ چھوٹا سا قافلہ اُس کی ایما پر پانچ چھ منٹ تک جھنڈو والا سے ڈیڑھ سو گز پیچھے ہی رکا رہا۔ جیپ پر بیٹھے بیٹھے ولیم جائزہ لینے لگا۔ گاؤں کے ارد گرد زیادہ تر کماد، ہری ہری برسن کے کھیتوں کے بیچ دُور تک پھیلے ہوئے توریے کے زرد زرد پھول اور چری کی فصلیں تھیں۔ ایک دو جگہ گُڑ بنانے کے بیلنے لگے ہوئے تھے اور آگ پر چڑھی ہوئی گنے کی پت سے اٹھنے والی حرارت کی خوشبو ہوا میں گھل مل کر سانسوں کو مہکارہی تھی۔ کچھ سکھ گڈوں پر چارہ لاد کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رہٹ اور کاریزیں تھیں۔جن کا شفاف پانی کھالیوں میں تیرتا ہواتوریے اور برسن کی فصلوں میں پھیلتا جا رہاتھا۔ اس کے علاوہ کھالیوں کے کناروں پر ٹاہلیوں اور پیپلوں کے سایہ دار درختوں کی قطاریں آگے پیچھے جمی ہوئی تھیں۔ فصلوں کی سرسبزی اور پانی کی طراوت آنکھوں سے ہو کر ولیم کے دل میں اُترنے لگی۔ اُسے جھنڈو والا کے مضافات دیکھ کر وسطی پنجاب کی ہریالیاں شدت سے یاد آئیں۔ گاؤں کے درمیان کھڑے گُردوارے کا منارہ دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ پورے گاؤں کا ظاہری ماحول پرامن اور اطمینان بخش تھا۔جس سے ولیم چند لمحے کے لیے متاثر ضرور ہوا۔ جودھا پور کی نسبت یہ گاؤں زیادہ خوش حال دکھائی دیتا تھا لیکن اس سب سر سبزی کو دیکھ کر ولیم نے کسی خیال کے پیشِ نظر انسپکٹر متھرا سے اچانک ایک چُبھتا ہوا سوال کر دیا۔متھرا کہیں ایسا تو نہیں، جھنڈو والا کی ہریالی اور فصلوں کی شادابی کی جڑوں میں ارد گرد کے گاؤں کا خون سینچا جاتا ہے۔

 

متھر داس ولیم کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا۔ غالباً متھرا جانتا تھا کہ ولیم اس کی کسی بھی بات سے اب کچھ بھی اخذ کر سکتا ہے چنانچہ خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر اُن پر پڑ چکی ہے اور وہ اُسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، اُن کی اس مشترکہ عادت سے اُسے سخت نفرت تھی۔ وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی۔ ولیم نے دلبیر کو حکم دیا کہ وہ گاڑی آگے بڑھائے۔ لہٰذا جیپ گاؤں کی طرف بڑھنے لگی۔ متھرانے ایک دوبار پیچھے نظر ڈالی۔ لوگ جوں کے توں کھڑے دیکھتے رہے حتٰی کہ جیپ جھنڈو والا میں داخل ہو گئی۔ ولیم کو یقین تھا کہ یہ لوگ اپنا کام چھوڑ کر یا جلد نپٹا کر تماشا ضرور دیکھنے آئیں گے۔

 

دلبیر سنگھ نے جیپ گاؤں کے عین وسط میں کھڑی کر دی۔ سو فٹ قطر کا چوک تھا۔جس کے ایک طرف وہی گوردوارہ تھا جس کا منارہ اور گھنٹا ولیم گاؤں سے باہر ہی دیکھ چکا تھا۔ بعض مکان چھوٹی اور پکی اینٹوں کے تھے مگر اکثر کچے ہی تھے۔ کچے مکانوں پر چکنی مٹی کے ساتھ نہایت صفائی سے لیپ ہوا تھا۔ چوک کے عین درمیان میں ایک شرینہہ، تین چار شیشم کے پیڑ اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ سب کے پتے جاڑے کے سبب یا تو جھڑ چکے تھے یا ٹہنیوں پرپیلے اور خاکستری رنگوں میں تبدیل ہوئے کسی ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے۔ عورتیں جو ادھر اُدھر آ جا رہیں تھیں،زیادہ تر لہنگے پہنے ہوئے تھیں۔ مرد چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک قریباً ایک ہی ہیئت میں جُوڑا اور پگڑ میں نظر آئے۔ ولیم نے یہ بات بار بار سنی تھی کہ سکھ مسلمانوں کی نسبت کم متعصب ہیں لیکن ظاہری ہیئت میں اُسے سکھ زیادہ بنیاد پرست لگے۔

 

مسلمانوں کی اکثریت نہ تو داڑھی رکھتی تھی اور نہ ہی نماز کی طرف توجہ دیتی تھی۔ اِن کے مقابلے میں سکھ داڑھی اور بالوں سے بھرے رہتے۔ گاؤں کی گلیاں تنگ ضرور تھیں مگر مکانوں کے احاطے کُھلے کُھلے تھے۔ چاہے وہ پکے تھے یا کچے۔احاطوں میں شیشم اور کیکر کی لکڑی کے بڑے بڑے پھاٹک تھے۔ دیواریں قد آور نہ تھیں اس لیے احاطوں کے اندر تک نظر جاتی۔ اکثر احاطوں میں مال مویشی بندھا تھا جنھیں دیکھ کر لکڑی کے بڑے پھاٹکوں کی سمجھ آ جاتی تاکہ گڈ اور مویشی آسانی سے گزر جائیں۔

 

ہر گھر میں نیم، بیری، شیشم، شرینہہ یا اسی طرح کوئی نہ کوئی سایہ دار درخت ضرور تھا۔ گلیاں جو تھوڑی دیر پہلے قریب قریب خالی تھیں، ولیم کے گاؤں میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد سکھوں کو اپنے گھروں سے باہر کھینچنے لگیں۔ اُن کے لیے گاؤں میں کسی گورے کی آمد طوفان سے کم نہیں تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل تو آئے تھے مگر جودھا پور کی نسبت اِن کے ہاں خوف کی کیفیت زیادہ تھی۔ ہر ایک جانتا تھا کہ مونگی کی تباہی اور قتل تو بہرحال جھنڈو والا نے ہی کیا ہے۔ ولیم دیکھ رہا تھا،لوگ آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کر رہے ہیں۔خوف کے باوجود ولیم کے ارد گرد کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص سے متھرا داس نے پوچھا،او بُڈھے،سردار سودھا سنگھ کا کچھ پتا ہے؟

 

اس شخص نے جس کی داڑھی ناف تک آتی تھی اور ہاتھ میں سیر بھر کا لوہے کاکڑا تھا، ہاتھ جوڑکر پرنام کیا اور کہا، صاحب جی وہ سامنے سودھا سنگھ کی حویلی ہی تو ہے۔پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے،لو جی وہ سردارصاحب خود ہی آ رہے ہیں۔ ولیم نے سامنے دیکھا، سو فٹ کے فاصلے پر سردار سودھا سنگھ آ رہا تھا۔ اُس کے آگے پیچھے آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ہوئے تھے۔ سردار کا جسمانی ڈیل ڈول، مونچھوں کا تاؤ، داڑھی کا لمباؤ اور ہاتھ میں پندرہ تولے سونے کا کڑا دیکھ کر ولیم کو ایک دفعہ کپکپاہٹ سی آ گئی۔ مگر ہر حکمران کے اندر چونکہ ایک غیر مرئی طاقت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ولیم نے اپنی کیفیت پر جلد ہی قابو پا لیا اور چہرے پر کسی بھی احساس سے عاری نقش واضح کر لیے۔ اتنے میں سردار سودھا سنگھ نے نزدیک ہو کرہاتھ جوڑے اور پرنام کیا۔ ولیم نے اس کا جواب انتہائی سرد مہری سے ویلکم کہہ کر دیا۔ اس کے بعد متھرا سے مخاطب ہو کر کہا، متھرا ہم کچھ دیر سودھا سنگھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اِن سے کہو، بیٹھنے کا انتظام کرے۔ ولیم نے سودھا سنگھ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا تھا اور گفتگو کا انداز بھی دو ٹوک تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صاحب کمشنر بہادر کے موڈ ٹھیک نہیں تھے۔

 

سودھا سنگھ سے بالواسطہ مخاطب ہونا اور بے پروائی سے پرنام کا جواب دینا ایسی گستاخی تھی جس نے اُس کی طبیعت کو نہایت منغض کیا۔ اُس نے سوچا سب قسمت کے کھیل ہیں،ورنہ اس گوری چمڑے کے چھ فٹ بالکے کی کیا حیثیت تھی۔ ابھی زمین میں کِلّے کی طرح گاڑ کر ساتھ ڈاچی باندھ دیتا۔یا پھر چھدّو سے کہتا کہ اِسے ذرا جھانبڑ پھیر اور بیلنے پر بیلوں کی جگہ اِس فرنگی کو جوت دیتا۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاتھا آخر سرکار انگریز تھی۔ چنانچہ غصے کے باوجود سودھا سنگھ نے چہرے پر خوشگوار سی کیفیت پیدا کرتے ہوئے کہا، سرکار کا جھنڈو والا میں قدم رکھنا ہمارے بھاگ ہیں۔ صاحب بہادر کو برا نہ لگے تومیری حویلی حاضر ہے،وہیں بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سردا ر جی کے چہرے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ ولیم نے قدم بڑھائے تو متھرا فوراً باہر کی طرف ہو کر تعظیم سے چلنے لگا۔ دونوں سنتری بندوقیں لیے ولیم کے پیچھے ہو گئے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا تو دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ حویلی کی طرف بڑھا دی۔

 

ولیم جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا، اُس کی ہیبت نے ایک دفعہ پھر اُسے اپنی جکڑ میں لے لیا۔اتنے بڑے اور وسیع احاطے میں چاروں طرف سینکڑوں برآمدے اور برآمدوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنائئے گئے سینکڑوں ستون ایک کے بعد ایک،اس طرح پھیلے تھے جیسے ستونوں کے جنگل آْباد ہوں۔ یہ تمام ستون نوے کے زاویے کی خمدار ڈاٹوں کا بار اُٹھائے ہوئے تھے۔ان ڈاٹوں کے سروں پر گول اور چُوڑی دار محرابوں والے بام پَر پھیلائے ہوئے آگے کی طرف جھکے تھے۔ برآمدوں کے اندر بیس بیس قدم ہٹ کر کمرے تھے۔جن کے دروازے اور کھڑکیاں شیشم کی سیاہ لکڑی کی اِس خوبصورتی سے تیار کی گئیں تھیں کہ کاری گروں کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ کمرے بھی اتنی ہی تعداد میں تھے جتنی تعداد میں دروازے تھے۔ انہی برآمدوں کے ایک طرف سے کافی کھلا رستہ چھوڑ کر ایک بڑا دروازہ مزید نکال دیا گیا تھا۔جو حویلی کے زنانہ حصے کا راستہ تھا اور سردار سودھا سنگھ کے گھر کا حصہ تھا۔ ولیم اس ساری ہیبت کو دیکھنے کے بعداپنی حکومت کی ہیبت کا اندازہ لگانے لگا جس نے اس پورے ملک کی تمام حویلیوں کی گردن اپنے پاؤں کے نیچے رکھ لی تھیں۔ ولیم نے فوراً ہی اِن خیالات کو سر سے جھٹک دیا اور موجودہ صورت حال کی طرف دماغ کو لے آیا۔
جب بیٹھ چکے تو سردار سودھا سنگھ نے انسپیکڑ متھر داس ا کو مخاطب کر کے پوچھا، تھانیدار جی، کلکٹر بہادر کیا لسی وسّی پیئیں گے یا کوڑے پانی کا بندوبست ہو جائے؟متھرا کافی حد تک ولیم کا مزاج سمجھ چکا تھا اس لیے فوراً منع کر دیا۔ حویلی میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے، جنھیں سردار سودھا سنگھ نے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ تمام لوگ چند ایک کے سوا جو سودھا سنگھ کے صلاح مشورے کے لیے ہر وقت کے لیے حاضر باش تھے، حویلی سے باہر جا چُکے تو سودھا سنگھ نے حویلی کا بڑا دروازہ بند کروا دیا۔

 

سودھا سنگھ نے ولیم کو بیٹھنے کے لیے ایک بڑے موڈھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ تین فٹ چوڑاپرشکوہ موڈھا بید کی شاخوں کو ریشم سے بُنی ہوئی رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا تھا۔ اِسے ہمیشہ سودھا سنگھ کی چارپائی کے سامنے رکھا جاتا اور وہی بندہ اس پر بیٹھ سکتا تھا،جو سودھا سنگھ کا خاص آدمی ہوتاورنہ یہ خالی پڑا رہتا۔ اِس کے دائیں طرف سامنے ہی سودھا سنگھ کی چارپائی تھی۔ یہ بھی پانچ فٹ چوڑی، سات فٹ لمبی اور اڑھائی فٹ اونچی صندل کی لکڑی کے پایوں اور بازووں سے تیار کی گئی تھی۔جسے ریشمی بان سے بُنا گیا تھااور پائنتی پر کھدّر کی موٹی دوہریں تھیں۔سرھانے دیسی کپاہ سے بھرا ہوا ریشمی تکیہ پڑا تھا۔ اُس کے ساتھ سودھا سنگھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔باقی مُوڈھے اور چارپائیاں دو رُویہ بچھے تھے،جو ایسے قیمتی تو نہ تھے جیسے چارپائی یا موڈھا مگر بُرے بھی نہ تھے۔ یعنی عام گھروں کی چارپائیوں اور مُوڑھوں کی نسبت تو اچھے خاصے مہنگے تھے۔ ولیم سامنے اُسی بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد سودھا سنگھ نے بڑی چار پائی پر ٹانگیں پسار لیں اورکرپان کمر سے کھول کر سرہانے کے ساتھ رکھ دی۔اسی طرح سودھا سنگھ کے آدمی بھی چار پائیوں پر بیٹھ گئے مگر سنتری بندوقیں لیے ویسے ہی ولیم کے دائیں بائیں کھڑے رہے۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے جیسے ہوا کا دم حبس کی وجہ سے گُھٹ جاتا ہے پھر فوراً ہی ولیم نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اُسی لمحے متھرا نے محسوس کیا کہ ولیم کے چہرے پر ایسارعب تھا کہ ابھی تک اُس نے اِسے ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔اب وہ محض ایک نو آموزاسسٹنٹ کمشنر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک منجھا ہوا انگریز سرکار کا نمائندہ معلوم ہوتا تھا۔

 

سودھا سنگھ ہم آپ کے جھندو والا میں آئے ہیں، براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آناپسند آیا؟

 

سودھا سنگھ جو پہلے ہی بے قراری کی کیفیت میں تھا، کو ولیم کے پہلے ہی سوال کی تیز کاٹ نے ہلا کے رکھ دیا۔ اُسے اول تو ولیم کا اس کے نام سے سردار کا لفظ ہٹا دینا ہی بُرا لگا کہ اپنے بندوں کے درمیان اس کی یہ صاف توہین تھی۔ اس پر ستم یہ کہ سوال جس چابکدستی سے کیا گیا تھا،اِس طرح کی بجھارتوں اور چالبازیوں کے سننے کی اُسے عادت نہیں تھی۔ یہ سب عمل سودھا سنگھ پر بہت گراں گزرا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، فوجا سیؤ جو سودھا سنگھ کی ہر مشکل معاملے میں مدد کر گزرتا تھا، نے سوچا، کہیں سودھا سنگھ کوئی بونگی نہ مار دے، فوراً بولا، سرکار یہ ملک آپ کا ہے۔ ہم آ پ کی رعا یا ہیں، آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنی رعایا کی سیوا کو آ سکتے ہیں۔ اس میں ہمارے پسند اور نا پسند کی کون سی بات ہے۔

 

ولیم کو فوجا سیؤ کی اس طرح دخل اندازی پر شدید غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا،اِس طرح کے لوگ بات سنبھالنے کے بہت ماہر ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کو چھپانے اور مجرم کو بچانے میں ان سے زیادہ کارآمد کوئی نہیں ہوتا۔
فوجا سیؤ کا جواب سن کر ولیم نے اپنی بیت سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور دوبارہ بولا، لیکن اُس نے فوجا سیؤ کی طرف دیکھا بھی نہیں مخاطب سودھا سنگھ کو ہی رکھا۔

 

سودھا سنگھ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں جھنڈو والا کے ہر شخص سے الگ الگ پرنام لوں۔ میں یہاں بیس منٹ ٹھہروں گا۔اِس دوران صرف آپ ہی سے بات کرنا میرے لیے عزت کا باعث ہوگی۔ جب اِن کی ضرورت پڑے گی تو انھیں تحصیل بلوا لوں گا۔ (پھر فوجا سیؤ کی طرف منہ کر کے) اور میرا خیال ہے، یہ بُڈھا بخوشی آ جائے گا۔ولیم کی بڑبڑاہٹ سن کر فوجا سیؤ تو بالکل ہی بیٹھ سا گیااور اُس کی ساری پُھرتیاں ہوا ہو گئیں۔

 

اُدھر سودھا سنگھ کو کلکٹرکی اس بات سے آگ لگ گئی، گویا کسی کے کلیجے پر سُرخ کوئلے رکھ دیے ہوں مگر جو مجرم کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے دل مسلسل خوف کی حالت میں چلا جاتا ہے اور قانون ایک ایسے کالے ناگ کی طرح دکھائی دیتاہے، جس کے آگے پیجھے ڈنک ہی ڈنک ہوں۔ یہی حالت اِس وقت سودھا سنگھ کی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا اس چھوٹے سے واقعے پر انگریز کمشنر خود آ جائے گا۔ دیسی تھانیداروں کی تو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس طرح بات کریں لیکن وہ اس سے پہلے کسی انگریز افسر سے کبھی دو بدو نہیں ہوا تھا اور طاقت ور حکومت کا ڈر بھی سر پر کھڑا تھا۔ اس لیے کچھ ایسا ویسا عمل کرنے سے عاجز تھا۔اگر کوئی اور ہوتا اور یہی کچھ بولتا جو یہ ولایتی مُنڈا بول رہا تھا تو وہ جھنڈو والا کی یادیں عمر بھر نہ بھولتا۔

 

آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا،صاحب بہادر، سردار سودھا سنگھ کو کیا پتا کہ سرکار اتنالمبا چکر کاٹ کر جلال آباد سے جھنڈو والا کیوں تشریف لائی اور ہماری عزت افزائی کی۔ واہگرو کی جَے سے سرکار کی مہمانی ہمارا فرض ہے، جو ہو سکا کریں گے۔

 

ویل سودھا سنگھ”ولیم دوبارہ بولا”آپ کا گاؤں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کنویں چلتے ہیں، گنے اور گندم ہے، ہر طرف سبزے ہی سبزے ہیں۔ سودھا سنگھ، یہاں مکئی اور برسن بھی بہت ہے، دو چار ایکڑ مونگی بھی ہوتی تو کچھ بُرا نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر سے لوٹنے کھسوٹنے کی حاجت نہ رہتی، خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

 

اس جملے کے ادا کرنے کے ساتھ ہی ولیم نے سودھا سنگھ سمیت دوسرے سرداروں کے چہروں پر بھی بھرپور نظر دوڑائی اور محسوس کیا کہ سب کے رنگ واضح تبدیل ہو گئے تھے۔

 

سودھا سنگھ اپنے آپ کو فوراً سنبھال کر بولا،صاحب بہادر آپ کی باتیں کچھ میرے اُوپر اُوپر سے گزر رہی ہیں۔ واہگرو کی جَے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے اُسی رَو میں کہنا شروع کیا، آپ کے ہمسائے میں عجیب طرح کے کام ہوتے ہیں۔ قتل وتل تو شاید سرداروں کا معمول ہے لیکن مونگی تو ہندو کھاتے ہیں۔خاص کر بنیے، کیا میں نے غلط کہا سودھا سنگھ؟ آپ تو شاید جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں۔

 

میں سمجھا نہیں صاحب بہادر “سودھا سنگھ نے دونوں پاؤں چارپائی سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا،، آپ مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ کون سی مونگی اور کون سے قتل؟

 

ولیم اب اُٹھ کھڑا ہوا اور سودھا سنگھ کی چار پائی پرپائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔ولیم کے اس عمل سے سودھا سنگھ ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا۔ اتنی جرأت تو جھنڈو والا میں خدا ہی کر سکتا تھا۔ سودھا سنگھ سمجھ چکا تھا کہ ولیم اُس پر ثابت کر رہا ہے کہ اب بات سیدھی سیدھی ہو گی۔

 

سردار صاحب،یہ بتائیے، اس وقت پنجاب میں کس کا راج ہے؟ولیم نے نہایت بے تکلفی دکھاتے ہوئے سوال کیا۔

 

سودھا سنگھ نے حیرت سے ولیم کی طرف دیکھا اور کہا، انگریز سرکار کا، کلکٹر صاحب، بھلا مجھے اتنا بھی نہیں پتہ؟ “ہلکا سا مسکرا کر” آج صاحب بہادرآپ عجیب طرح کی باتیں کر رہے ہیں( موڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کمشنر صاحب یہ موڑھا میں نے آپ ہی کے لیے رکھوایا ہے۔

 

ولیم سودھا سنگھ کے آخری فقرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر بولا، چلو یہ بات تو طے ہوئی کہ رنجیت سنگھ کا راج ختم ہو چکا اور اب پنجاب پر ہمارا راج ہے۔

 

سودھا سنگھ آخر کار گھبرا کر ذرا تلخی سے بولا، سرکار آپ بجھارتیں بھجواتے ہیں۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی تلخی کومزے سے محسوس کیا اور اُس کی حالت سے لُطف اُٹھاتے ہوئے دوبارہ بولا، سودھا سنگھ مَیں نے سمجھا تھا، جودھا پور جویہاں سے صرف پانچ کلو میٹر پر ہے، وہاں ایک بندہ قتل ہوجائے، بیس ایکڑ مونگی کی فصل ویران ہو جائے اور سردار سودھا سنگھ کو پتہ نہ چلے،تو ہو سکتا ہے اُسے ڈیڑھ سو میل دُور لاہور میں ابھی تک انگریزی راج قائم ہونے کی بھی خبر نہ ملی ہو۔وہ یہی سمجھے بیٹھا ہو کہ لاہور تخت ابھی تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارثوں کے پاس ہے۔ اس میں سردار صاحب بجھارتوں والی کیا بات ہے؟

 

سودھا سنگھ کے ماتھے پر دوبارہ پسینہ آگیا مگر جلدہی اپنے آپ کو سنبھالااور بولا”صاحب بہادر، مَیں لائل پور گیا ہوا تھا، کل آیا ہوں۔ رات پتہ چلاکہ جودھاپور میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے اور مونگی کو آگ لگ گئی ہے لیکن میں نے پورا سیاپا نہیں سنا۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی طرف بھرپور طنز سے دیکھا اور کہا، سیاپا سردار جی گورنمنٹ آپ کو بتا دے گی۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں کہ آپ لائل پور میں تھے۔آپ کی غیر حاضری میں یہ سانحہ ہوااورآپ کو کچھ پتہ نہیں۔اب ہمارا کام ہے، اِس پورے قصے کی تفصیل بتائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بدمعاشوں کا ٹولہ جودھاپور میں داخل ہوا۔ایک بندہ قتل کر دیا، مونگی کاٹ کر گڈوں اور چھکڑوں پر لاد لی اور باقی کو آگ لگا دی۔ حالانکہ یہ سب کام آپ کی موجودگی میں ہونے چاہییں تھے۔

 

سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ جس میں وہ کامیاب ہو رہاتھا۔ اُدھر فوجاسیؤ ڈانٹ کھا کر خاموش دُور بیٹھا یہ سمجھ چکا تھا کہ سودھا سنگھ کے ہاتھ پُڑوں کے نیچے آنے ہی والے ہیں۔ اُسے پتا چل گیاتھا کہ یہ فرنگی چھوہرا واقعی ٹیڑھی کھیر ہے۔ جس کو گھمانا ممکن نہیں۔چنانچہ اُس نے خموشی ہی میں غنیمت سمجھی اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔البتہ سودھا سنگھ نے یہ سمجھ لیا کہ اب بات کھل کر کی جائے، جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا۔کیونکہ سرکار کو اُس کے کرتوت کا پتہ چل گیاہے۔ ایسے ہی تویہ فرنگی چھوکرا اوکھی اوکھی باتیں نہیں کر رہا۔ لہٰذا وہ اب صاف صاف جواب دینے لگا اور کچھ دلیری سے بولا،کمشنر صاحب، غلام حیدر ابھی مُنڈا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شیر حیدر کی مجھ سے پرخاش تھی۔پر اس کی موت کا واہگرو کی سونہہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ بات اس چھوکرے کو کون سمجھائے کہ بزرگوں پر اتنے بڑے کُوڑ ے الزام سوچ سمجھ کے لگانے چاہئیں۔ پھر بھی جو ہو سکا جودھا پور کے معاملے میں آپ کی سیواکروں گا۔ کمشنر صاحب کسی نے یہ کام کر کے شیر حیدر اور مجھ سے پرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا” وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے شیر حیدر اور آپ سے پُرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے؟ کیا آپ سرکار کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

 

صاحب بہادر “اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سودھا سنگھ بولا” سرکار کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کمشنر صاحب، اکثر یہ کام خود ہی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے غلام حیدر نے اپنے بندے کو خود قتل کر دیا ہو۔ آپ اس معاملے پر بھی غور کر لیں۔

 

“بہت اچھا سودھا سنگھ” ولیم دوبارہ بولا،آپ بہت جلد اس الزام پر اُتر آئے ہیں جو آپ کے خیال میں بغیر ثبوت کے آپ پر لگ چُکا ہے لیکن آپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کے ایک دن پہلے شیر حیدر فوت ہوا ہے اور اُس کا بیٹا غلام حیدر جسے میرے خیال میں اس علاقے اور آپ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا، لاہور سے اسی روز پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے اتنی بڑی اور فوری منصوبہ بندی کی اس کو ضرورت پیش آ گئی ہو لیکن آپ کا اتنی جلدی اس پر ایسا الزام لگا ناآپ کے منہ پر نہیں پڑتا کیونکہ ابھی ابھی آپ اسے ایک ‘ندان منڈا’ کہہ چکے ہیں۔

 

اس کے بعد ولیم موڈھے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ”ویسے سردار صاحب، آج یہاں آنے کامقصد آپ سے اعترافِ جرم کروانا نہیں تھا۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ میں تو بس آپ کے درشن کرنے آیا تھا اور یہ بتانے کہ گورنمنٹ کی ابھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے حملے کر کے قتل اور لوٹ مار کرتا پھرے۔ دوسری بات سودھا سنگھ یہ ہے کہ چارپائی بھی گورنمنٹ کی ہے اور موڈھا بھی گورنمنٹ کا۔جس پر اُس کا جی چاہے بیٹھے اور جہاں جی چاہے عدالت لگا دے۔آپ رعایا ہیں، رعایا کی طرح رہیے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ سر کار کی اجازت کے بغیر جھنڈو والا سے باہر نہیں جائیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم چل پڑا اور اس کے ساتھ متھرا داس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

 

سردار سودھا سنگھ اِس کھلی دھمکی کو برداشت نہ کر سکا۔وہ اٹھ کر بولا، سرکار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کی بات سن کر ولیم ایک دفعہ رُکا اور پیچھے مُڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا”سودھا سنگھ یہی بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ سرکار نہ زیادتی کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ چاہے قاتل سردار سودھا سنگھ کے بندے ہی کیوں نہ ہوں اور قتل ہونے والا چراغ دین ماچھی ہی کیوں نہ ہو۔

 

اس کے بعد ولیم جلد ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ متھرا داس ولیم کی اس تیزی اور پھرتی پر حیران ہی نہ تھا، پریشان بھی تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ ولیم کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہو گا۔چنانچہ اُسے ہر طرف سے چوکنا رہنا تھا اور اس کیس میں نہ چاہتے ہوئے بھی غیر جانبدار فیصلے کرنا تھے۔ اُس نے اپنے آپ سے کچھ عہد کیے اور کیس کی تفتیش صحیح پیمانے پر کرنے کا تہیہ کرلیا۔کیونکہ ملازمت ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ بھی انگریز سرکار کی ملازمت، جس کا سکہ آدھی دنیا پر چلتا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(10)

 

جنوری کا جاڑا پنجاب میں خوشگوار قسم کی خوشبو لیے ہوتا ہے۔ ہر طرف دھند ہی دھند تھی مگر ولیم کو یہ کُہر لندن کے جاڑے سے کہیں زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ آج اتوار تھا۔ اس موسم میں اتوارانگریز افسروں کے لیے نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ دیر تک گرم بستر میں لیٹے رہنا، اُس کے بعد مچھلی کے ساتھ ہلکی شراب کا اہتمام اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے۔ مگر ولیم نے باورچی کو حکم دیا کہ اس کی کرسی بنگلے کے کھلے صحن میں لگا دے۔ باورچی کرسی اور میز دہلیز کے سامنے لگا چکا تو ولیم نے اُسے کہا کافی بنا لاؤ۔

 

ولیم کا بنگلہ کم از کم چار کنال کے رقبے میں تھا۔ انگریز نے برطانیہ کے تنگ رقبے اور لندن کے چھوٹے چھوٹے فلیٹس کا غصہ ہندوستان کی دور تک پھیلی ہوئی ہموار زمینوں پر نکالا تھا۔ تنگ گلیوں اور کوارٹروں سے نکلنے کے بعد جب اُس نے اتنی کھلی زمینیں اور رقبے بے مصرف پڑے دیکھے جس کا تصور بھی یورپ نہیں کر سکتا تھا، تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔اُنھوں نے وہ سارا احساس محرومی یہاں نکالا۔ کئی کئی ایکڑ پر بنگلے اور دسٹرکٹ کمپلیکس بنا دیے۔ جن کے تیار کرنے میں اُنھیں باہر سے کچھ بھی نہ خرچ کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح ولیم کو ملنے والا بنگلہ بھی اپنی نوعیت کا شاہکار تھا۔ پورے چار کنال رقبے کو گھیرے ہوئے سرخ اینٹوں کی آٹھ فٹ اونچی دیوار اور اس کے سروں پر لوہنے کی نوکدار سلاخیں مستزاد تھیں۔ دیوار کے سا تھ تین ا طراف سے پچاس فٹ چھوڑ کر درمیان میں بنگلے کی سرخ عمارت تھی۔ تمام عمارت میں سرخ اینٹیں اس صفائی اور مہارت سے استعمال کی گئیں کہ پلستر کی ضرورت نہیں رہی تھی۔عمارت کے سامنے بڑا وسیع صحن تھا۔ دیوار کے چاروں طرف اور صحن کے سامنے والی دیوار کے ساتھ پیپل کے دس پندرہ درخت تھے، جن کے زرد پتے بکھر رہے تھے۔ عمارت میں چھ سات کمرے لکڑی کے دروازوں کی جلالت کے ساتھ بنگلے اور بنگلے میں رہنے والے کے وقار کے ذمہ دار بھی تھے۔ اسی کی مناسبت سے لکڑی کا بڑا گیٹ تھا۔ جس میں سے برابر دو جیپیں اندرونی عمارت کی دہلیز تک چلی جاتیں۔ عمارت سے کچھ دور کمپلیکس کے دوسرے ٓافیسرز کے گھروں کی عمارتیں تھیں۔جو اتنی شاندار تو نہ تھیں جتنی ولیم کی کوٹھی تھی۔ پھر بھی ان میں مقامی عمارتوں کی نسبت ایک قسم کا دبدبہ ضرور تھا۔ ان سب عمارتوں کی دیواریں اٹھارہ انچ موٹائی میں بیس فٹ تک اونچی چلی گئیں تھیں۔ جن کے سامنے اور ارد گردبھاری درختوں کے سلسلے عمارتوں کی وجاہت کے مزید گواہ تھے۔

 

ولیم نے ایک دفعہ چاہا کہ نجیب شاہ کو بلا بھیجے مگر افسرانہ تمکنت زیب نہ دیتی تھی کہ اُسے دفتر کے علاوہ گھر پر بھی ملے۔ یہ بات انگریزی آدابِ افسری کے سراسر خلاف تھی۔ نجیب شاہ نے کل ہی بتا دیا تھا کہ رپورٹ تیار ہو چکی ہے جس میں غلام حیدر کی فائل اور سردار سودھا سنگھ کے متعلق تمام ضروری معلومات موجود تھیں۔ لیکن وہ اُسے دفتر میں دیکھ نہیں سکا تھا کیونکہ فوراً میٹنگ کے لیے فیروز پور نکلنا تھا۔البتہ اُس نے یہ فائل ساتھ لے لی تھی کہ اس کا مطالعہ کر لے۔ جیسے جیسے وہ فائل کا مطالعہ کرتا گیا غلام حیدر کے لیے فکر مند ہوتا گیا۔ دفتر میں غلام حیدر کے ساتھ پہلی ملاقات میں ولیم سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی، اُس کے پیش نظر اُس نے سوچا کہ غلام حیدر کوئی بھی غلط فیصلہ کر سکتا ہے۔ جبکہ ولیم فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ دوسری صورت میں غلام حیدر کے جوابی حملہ کرنے پر حالات اُسے مجرم بنا سکتے تھے۔ لیکن کل اُسے وقت ہی نہ مل سکا کہ نجیب شاہ کے ساتھ بات کر کے اس مسئلے پر سنجیدہ قدم اٹھا سکے۔ ہاں ڈپٹی کمشنر کو ولیم نے اس بارے تھوڑا سا بریف کر دیا تھا۔ میٹنگ میں یہ مسئلہ زیر بحث طے نہ تھا، پھر بھی ولیم نے ضروری سمجھا تھا کہ معاملہ ڈپٹی صاحب کے کانوں تک پہنچ جائے۔ رات وہ دیر سے جلال آباد لوٹا تھا اور آج اتوار کی وجہ سے چھٹی تھی مگر ولیم کو کسی وجہ سے چین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے بار بار رپورٹ کا مطالعہ کیا جو نجیب شاہ نے تین دن کے اندر سرکاری کارندوں کی معلومات سے تیار کی تھی۔اس فائل میں زیادہ تر شیرحیدر اور غلام حیدر کی زندگی کے کوائف جمع کیے گئے تھے۔ واردات کے متعلق رپورٹ تیار کرنا فی الحال نجیب شاہ کے بس کا کام نہیں تھا۔ اس طرح کی رپورٹ پولیس کا کام تھا۔پھر بھی اپنی حد تک واقعہ کے نشیب و فراز کا تھوڑا بہت جائزہ ضرور لیا گیا تھا اور اہم معلومات دے دی گئیں تھیں،جو انھوں نے مو قع واردات پر پہنچ کر حتیٰ کہ سودھا سنگھ اور غلام حیدر کی حویلیوں میں جا کر فراہم کی تھیں۔

 

ولیم ایک گھنٹہ تک وہیں بنگلے کے صحن میں بیٹھا کافی پینے کے ساتھ فائل کا مطالعہ کرتا رہا۔ آخر بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا اور ملازم کو آواز دی۔

 

گل دین بھاگتا ہوا کچھ فاصلے پرآ کر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔

 

ڈرائیور کو بلاؤ ہم کہیں جانا چاہتے ہیں “ولیم نے کھردے لہجے میں گل دین کو بغیر نظریں اٹھائے حکم دیا” اور سنو ہمارا اوورکوٹ لے آؤ

 

گل دین حکم ملتے ہی اُلٹے قدموں بھاگا۔ اُس کے جانے کے چندثانیوں بعد ہی دلبیر سنگھ ڈرائیور پگڑی باندھے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ولیم نے اُسے دیکھ کر کہا، دلبیر سنگھ، انسپکٹر متھرا سے کہو کہ ہم نے کہیں جانا ہے۔ وہ جلدی سے آ جائے اور تم بھی چلنے کی تیاری کرو،یہ کہہ کر ولیم اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ چلنے کے لیے ضروری سامان لے لیا جائے۔

 

ٹھیک بیس منٹ بعد ولیم اوروکوٹ پہنے باہر نکلا تو پورا عملہ انتظار میں کھڑا تھا۔ سی آئی ڈی مِتھرا صاحب، دس عدد سنتری او ر ان کے علاوہ بھی دس بارہ لوگ جو قریب ہی رہائش پذیر تھے۔دلبیر سنگھ باہر جیپ اسٹارٹ کیے کھڑا تھا۔ ولیم نے متھرا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور باقی کو دور ہی سے سلام کا اشارہ کر دیا۔جیپ کے پاس آ کر ولیم نے متھراسے مخاطب ہوکر کہا، متھرا صاحب چھ سنتری لے کر جیپ میں بیٹھ جاؤ اور دوسرے سب اپنے گھروں میں چلے جاؤ۔
جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑاتو ولیم نے ڈرائیور کو حکم دیا، دلبیر سنگھ ہمیں کچھ دیر جودھا پور رُک کر جھنڈو والا کی طرف چلنا ہے۔

 

دلبیر سنگھ نے سر جھکاتے ہوئے جیپ کواگلے گیئر میں ڈال دیا۔جیب کی رفتار کے ہموار ہوتے ہی ولیم نے انسپیکٹر متھرا کے ساتھ گفتگو شروع کردی

 

متھرا صاحب “کیا میں سمجھوں کہ سودھا سنگھ کا غلام حیدر کے گاؤں پر حملہ کرنا سکھ مسلمان لڑائی ہے یا چودھراہٹ کا معاملہ ہے‘ ولیم نے بغیر متھرا کی طرف دیکھے بغیر سوال کیا۔

 

سر پہلے تو لڑائی ذاتی عناد اور فرد کے مفاد سے شروع ہوتی ہے۔ مگر سکھ اور مسلمان دونوں عقل سے زیادہ جذبات میں پلتے ہیں۔ اس لیے یہ لڑائی فوراً کسی ایک نعرے کی بنیاد پر مذہبی روپ لے لیتی ہے۔

 

متھرا صاحب کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کا موقع مل چکا تھا،اس لیے اُس نے بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا‘ سر یہ علاقہ جسے آپ فیروز پور کہتے ہیں، یہاں گیہوں سے زیادہ برچھیاں اُگتی ہیں اور معززپیشہ چوری ہے۔ بلاشبہ جالندھر کے بدمعاش پر فیروز پور کے مولوی کوفضیلت ہے۔

 

متھرا صاحب کیا بات ہے تم سکھوں کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہو،کیا اُن کے سَنت واقعی جالندھر کے بدمعاش کے مقابلے میں سنت ہی ہیں؟

 

ولیم کے اس بھرپور طنز پر انسپیکڑمتھرا ایک دم جھنیب گیا۔ اُسے اپنی لا گدار گفتگو کا احساس فوراً ہو گیا چنانچہ الفاظ کو احتیاط کی شکل دینے لگا اور بولا، سر ایسی بات نہیں ہے۔ سنت اور مولوی سے میری مراد ایک ہی ہے۔ دونوں ہی خون کی تیز گردش میں خدا اور گروجی کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔

 

میں نے سنا ہے، شیر حید ر کا یہاں کافی اثر ورسوخ تھا “ولیم نے بات فوراً اور اچانک اپنے مطلب کی طرف موڑی جس میں متھرا صاحب کو داخل ہونے میں کچھ وقت لگا، پھر بھی اُسے اس امر کی تصدیق کرنا پڑی۔

 

انسپکٹر متھرا نے جواب دیا “جی سر” شیر حیدر تو پورے علاقے کا جمعدار بنا ہوا تھا۔جب تک زندہ رہا،پتا نہیں کھڑکنے دیتا تھا۔

 

متھرا مَیں جتنی بات پوچھتا ہوں مجھے اتنا ہی جواب چاہیے۔ ولیم نے دانت پیستے ہوئے کہا، عہدے بانٹنا گورنمنٹ کا کام ہے۔ مقامیوں کو اس میں دخل نہیں۔

 

متھرا کو ولیم کے خاص کر اس جملے نے سنجیدہ رہنے اور فاصلے کا مطلب سمجھادیا تھا۔اس کے بعد کچھ دیر دونوں طرف سے خموشی رہی اور جیپ دوڑتی رہی لیکن انسپیکٹر متھرا نے گھبرا کر سہمے ہوئے انداز میں کہا، جی سر
ولیم کی اس تنبیہ پر اب یہ بات اُسے معلوم ہو چکی تھی کہ ولیم کے آگے جھوٹ بولنا اور جانب داری سے کام لینا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔ متھرا نے طرح طرح کے بڑے افسروں کو دیکھا تھا۔ اس لیے تجربے کی بنا پر اُسے فوراً محسوس ہو گیا کہ ولیم کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ لہٰذا جھوٹ بولنے کا فائدہ نہیں۔

 

شیر حیدر رسہ گیری اور قتل وغیرہ میں کبھی ملوث رہا ہے؟ ولیم نے دو ٹوک پوچھنا شروع کر دیا۔

 

بالکل نہیں سر، متھرا نے اب کے مختصر جواب میں ہی عافیت سمجھی۔

 

رعایا کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟ ولیم نے پوچھا

 

انسپکٹر متھرداس بولا،،سراس معاملے میں مَیں بے خبر ہوں۔ میرا واسطہ نہیں پڑالیکن سر ایک بات ایسی ہے کہ ارد گرد کے مسلمان چودھری بھی اُسکے خلاف تھے۔شاید وہ ان کی عزت نہیں کرتا تھا۔

 

اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ اپنی رعایا کی عزت بھی نہیں کرتا تھا۔ “ولیم نے متھرا کو دوبارہ پٹری پر لا نے کی کوشش کی”

 

جی سر، متھر داس نے گھبرا کر مختصر جواب پر اکتفا کیا۔

 

“ولیم نے فوراً اگلا سوال کر دیا”گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات کیسے تھے؟

 

کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی،ا نسپکٹر متھرا نے بغیر وضاحت کے کہا،لیکن ولیم متھرا کے جواب میں چھپے نشتر کو مسلسل محسوس کر رہا تھا۔ متھرا بڑی چالاکی سے کام لے کر ولیم کو باور کرانا چاہتا تھا کہ شیر حیدر گورنمنٹ کے دربار میں گویا حاضر باشوں میں نہ تھا۔

 

سی آئی ڈی انسپکٹر متھرا کے ساتھ اس گفتگو میں ایک بات ولیم پر واضح ہو چکی تھی کہ غلا م حیدر کسی بھی وقت مشکل میں گرفتار ہو سکتا تھا۔ اُس کے باپ کے خلاف بغض دیسی چودھریوں سے لے کر سرکاری افسروں تک بھرا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ شاید یہ تھی کہ شیر حیدر نے اپنے معاملات اپنے ہی ہاتھ میں رکھے تھے اور وہ فیصلے بھی صحیح وقت میں کرتا رہا تھا۔ انسپکٹر متھرا داس کے ساتھ ولیم کی گفتگو بیس منٹ جاری رہی۔ اس عرصے میں جیپ جلال آباد سے شمال مشرق کی طرف کچی سڑک پر دوڑتی رہی، جس کے دائیں طرف نہر تھی اور بائیں ہاتھ کھیتوں کا سلسلہ۔ دُھند باقی تھی، اِس لیے دور کا منظر صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔البتہ پاس کی نظر میں غیر واضح سے مناظر تھے۔ کھیت کچھ زیادہ نہیں تھے۔ کہیں چارے کی فصلیں، چری اور مکئی وغیرہ اور کہیں خالی زمین تھی۔ جس میں بھکھڑا، اِٹ سٹ، عک اور دوسری کانٹے دار جڑی بوٹیاں اُگی ہوئی تھیں۔ کیکر، جنڈ اور کریر کے درخت بھی کہیں کہیں نظر آ رہے تھے لیکن اِن کی تعداد ویرانی کے اعتبار سے بہت کم تھی۔ پوری سڑک سرکنڈوں کے بے پناہ جمگھٹوں کے درمیان میدے کی طرح پسی ہوئی گرد سے اٹی پڑی تھی جو بارش ہونے کی وجہ سے اب کیچڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اگر رات بارش نہ ہوئی ہوتی تو لازماًجیپ گزرنے کے بعدغبار اِس طرح اُٹھتا جیسے دھویں کے مرغولے چڑھتے ہیں۔ اِن زمینوں کی ویرانی سے صاف پتاچلتا تھا کہ لوگوں کو اپنی معاش کی پروا نہیں۔وہ کھیتی باڑی سے زیادہ چوری چکاری کو اولیت دیتے ہیں۔ دوسری طرف نہر کے کنارے پر مسلسل کیکر وں اور سرکنڈوں کے بے شمار جھنڈ تھے، جو ختم ہونے میں نہیں آتے تھے۔ سرکنڈوں کے بیچ کہیں ٹاہلی یا اسی طرح کا مقامی پیڑ نظر آ جاتا مگر اُن کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اِکادُکّا لوگ بھی نظر آئے جو کچھ دیر تک کھڑے ہو کر حیرانی سے جیپ کو دیکھتے پھر اپنے رستے چل دیتے۔ ولیم کو یہ سب دیکھ کر شدید کوفت کا احساس ہو رہا تھا۔ اُسے دل ہی دل میں اُن سابقہ اسسٹنٹ کمشنروں پر غصہ آ رہا تھا،جنھوں نے علاقے میں ذرا بھی ترقی کا کام کرنے یا لوگوں کو کام پر اکسانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اُسے محسوس ہوا کہ وہ آفیسر محض یہاں افسری کرنے کے لیے آتے رہے تھے۔جیسے پورے جلال آباد کو شکار گاہ بنانا چاہتے ہوں۔جہاں اُن کے کُتے خرگوش اور سؤروں کے پیچھے لمبی دوڑیں بھاگ سکیں۔ اُس نے سوچا اگرچہ ِاس کوتاہی میں مقامی لوگوں کا بھی نقصان ہے مگر حقیقتاً گورنمنٹ کا نقصان بڑے پیمانے پر تھا۔ کیونکہ علاقہ جس قدر غیر آباد ہوتا،حکومت کو خراج اور مالیے کا نقصان اُتنا ہی زیادہ تھا۔ ولیم کا یہ علاقے کا پہلا بے قاعدہ دورہ تھا۔وہ سب کچھ ڈائری میں نوٹ کرتا جا رہا تھا۔ انہی خیالوں میں تھا کہ جیپ آہستہ سے ایک جگہ پر رُک گئی۔ولیم نے چونک کر پوچھا،کیا بات ہے رُک کیوں گئے؟۔

 

سر ہم جودھا پور پہنچ گئے ہیں، دلبیر سنگھ نے جیپ کو گیئر سے نکالتے ہوئے خبردار کیا۔

 

دلبیر کی آواز سن کر ولیم خیالوں سے باہر آیا۔ اس نے ایک طائرانہ سی نظر پورے گاؤں پر ڈالی جو بمشکل پچاس گھروں پر مشتمل تھااور آبادی زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی سو افراد ہوگی۔ جیپ سے تھوڑے فاصلے پر چھوٹی مسجد تھی۔جس کے دائیں پہلو بڑا پیپل کا درخت لہریں لے رہا تھا۔ مکان سب کچے تھے اور اُن میں سے اکثر کی مٹی سیم اور تھور کی وجہ سے مسلسل گررہی تھی۔ بعض مکانوں کی دیواریں پاتھیوں کے بیل بوٹوں سے بھر ی ہوئی تھیں۔جن میں سے کچھ سو کھ کر نیچے گر ی پڑی تھیں۔ رات کو غالباً بارش ہوئی تھی اس لیے گلیاں جو پہلے ہی تنگ اورنا ہموار تھیں، کیچڑ اور بارش کے پانی سے بھر گئیں۔اِکا دُکا بچے مسجد کے پاس کی قدرے بلند اور خشک زمین پر بانٹے کھیل رہے تھے۔ اُن کے پاس ہی دو بڈھے چار پائی بچھائے کھیل دیکھنے کے ساتھ اپنی باتیں کر رہے تھے،جو بچوں کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔دونوں نے ہاتھ سے بُنے ہوئے کھدر کے کھیس اوڑھ رکھے تھے، جن کے کناروں پر سُرخ اور سوت ہی کے دھاگے کی نیلی ڈوریاں بندھی تھیں۔اُن ڈوریوں کی وجہ سے کھیسوں کی شوکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ جب کھیلتے کھیلتے بچوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا تو یہ بڈھے بہت آسانی سے اُن کے درمیان منصفی کا فریضہ بھی ادا کرتے جاتے۔

 

ولیم کی جیپ جیسے ہی وہاں رُکی، سب نے اپنے کام چھوڑ کر اُسی طرف دھیان کر لیا۔ مگر کچھ سہمے سہمے انداز میں۔ دونوں بڈھے بھی چادریں سمیٹتے ہوئے چار پائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک بوڑھے کی اسی جلدی میں سر سے پگڑی گِر گئی، جسے افراتفری کی حالت میں تیزی سے اُٹھا کر وہ سرپر باندھنے لگا۔

 

ولیم نیچے اُتر کر آہستہ روی سے چلتا ہوا بڈھوں کے قریب آ کر رک گیا جبکہ سنتری بندوقیں تھامیں وہیں الرٹ کھڑے رہے۔ اسی طرح انسپکٹر متھرا ولیم کے پیچھے تمیز سے کھڑا ہو گیا۔ اس گاؤں میں غالباً پہلی دفعہ کسی گورے کی آمد ہوئی تھی اس لیے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ حتیٰ کہ اُنھیں یہ تک پتہ نہیں تھا کہ فرنگی سے ڈرنے کا طریقہ کیا ہے۔ بس بِڑبِڑ اُسے دیکھنے لگے۔ کچھ بچے ڈر کر گھروں کو بھاگ گئے اور کچھ دور جا کھڑے ہوگئے۔ جیسے محفوظ جگہ پر بیٹھ کر تماشا دیکھنا چاہتے ہوں۔ولیم نے چند لمحوں ہی میں پورے گاؤں کا جائزہ لے لیا تھا۔ سامنے کے گھر میں ایک کیکر کا درخت بھی تھا۔جس پر زرد پھولوں کی اتنی بہتات تھی کہ وہ پیڑ ہی سونے کا لگتا تھا۔ اسی کیکر پر ایک کبوتر اُڑانے والی چھتری پر کبوتر بھی بیٹھا ہوا تھا۔یہ سب ولیم کو اتنا دلکش لگا کہ وہ چند لمحے ہر ایک چیز سے بے نیاز اُسی خوبصورت منظر میں کھو گیا۔

 

ولیم نے آگے بڑھ کر اسلام علیکم کہا اور کھڑے ہو کر گاؤں پر ایک بھرپور نظر ڈالنے لگا۔ اُس کے اس عمل کے دوران وہاں لوگ جمع ہونے لگے مگر اکثر دور ہی اپنے دروازوں سے جھانکا تانی میں لگ گئے کہ نہ جانے ابھی کونسی قیامت آ جائے۔ ولیم کچھ دیر کھڑا رہاپھر آگے بڑھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اپنی اسٹک اُس نے چارپائی کے سرہانے سے لگا دی۔اس دوران جودس بارہ لوگ وہاں آن کھڑے تھے، اُن میں سے ایک بڈھے سے مخاطب ہو کر بولا، بابا ہم نے سنا ہے اِس گاؤں کا آدمی قتل ہوا ہے؟

 

بڈھا نہایت تمیزسے آگے ہو کر کھڑا ہوا اور بولنے لگا، حضور چراغ دین بالکل بے گناہ مارا گیا۔(ہاتھ باندھ کر جو ہلکے رعشہ سے کانپ رہے تھے) سرکار سکھوں نے مار دیا۔ بے چارے کی ایک یتیم بیٹی ہے اور بیوی رحمت بی بی بیوہ ہو گئی۔

 

ہم اس کی بیوی سے ملنا چاہتے ہیں،ولیم نے سپاٹ انداز میں کہا۔

 

سرکار وہ چالیس دن تک گھر سے باہر نہیں نکل سکتی’بڈھے نے وضاحت کی” اب وہ چالیس دن تک پردے میں رہے گی۔ بچاری کا خاوند جو نہ رہا۔

 

تو کیا اُن کا کوئی اور رشتہ دار نہیں؟اگر کوئی رشتہ دار ہے تو اُسے بلا لو، ہم اُسی سے بات کر لیں گیِ، ولیم نے تحمل سے پوچھا۔

 

حضور کل ہی قصور سے اس کا بہنوئی مولوی کرامت اور چراغ دین کی بہن شریفاں آئی ہے۔ بچاری پیٹتے پیٹتے بیہوش ہوئی جاتی تھی۔ کرماں والی کا ایک ہی بھائی تھا۔سکھوں نے مار دیا۔ سرکار ظلم ہو گیا آپ کی سرکار میں۔ سودھا سنگھ نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔صاحب بہادر اُس نے سارے انگریزی قانون فیل کر دیے۔

 

ولیم نے دیکھا کہ بڈھا زیادہ ہی بولنے لگا ہے، دراصل اُس کے نرم رویے نے اِسے کچھ زیادہ ہی حوصلہ دے دیا تھا۔اس لیے وہ عرض و معروض سے بڑھ کر سرکار کی طنز پر اُتر آیا تھا۔ یہ بات حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔اُسے اس طرح بولتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ مجمعے کی شکل میں اُن کے گِرد اکٹھے ہو گئے۔ ولیم کو یہ بات ناگوار گزری۔ وہ انصاف کا قائل تو تھا لیکن مقامی لوگوں کے ساتھ فاصلے کی کمی منظور نہ تھی۔چنانچہ سٹپٹا کر بولا،بڈھے زیادہ باتیں مت بناؤ جاؤ مولوی کرامت کو بلاؤ۔ سرکاراس قتل کا پورا انصاف کرے گی۔

 

ولیم کے اس سپاٹ اوردو ٹوک رویے نے بڈھے کو دوبارہ اپنی اوقات میں کر دیا۔ وہ اس اچانک سرد مہری پر بوکھلا گیا اور کھسیانا سا ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس صورت حال میں اس کا رعشہ مزید بڑھ گیا۔ بڈھے کو پیچھے ہٹتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جلدی سے پیچھے سر ک گئے، جو چند لمحے پہلے ولیم پر سایہ کیے کھڑے تھے۔اِسی اثنا میں ایک لڑکا بھاگتا ہوا مولوی کرامت کوبُلا لایا۔ مولوی کرامت سہمے ہوئے انداز میں لوگوں کو نظر انداز کرکے ولیم کی طرف جانے لگا۔ مجمع اب چھٹ چُکا تھابلکہ اکثر لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر جا کر کھڑے ہو گئے۔ اس عرصے میں ولیم ایک تمکنت سے اپنی بیت کو چارپائی کے پائے سے آہستہ آہستہ مارتا رہا۔ مولوی کرامت نے دو قدم دُور ہی سے سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ غالباً اُسے لڑکے نے بڈھے کو صاحب کی طرف سے پلائی جانے والی ڈانٹ کی اطلاع بھی کر دی تھی۔ اِس لیے وہ کچھ زیادہ ہی محتاط نظر آ رہا تھا اور صاحب کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ ویسے بھی مولوی کرامت اس گاؤں کے لوگوں سے زیادہ معاملے کی اونچ نیچ سمجھنے والا تھاکیونکہ تھوڑے بہت کتابی علم نے اُسے معاملہ فہمی کا ادراک دے دیا تھا۔اسی لیے وہ پچھلی تین پشتوں سے قصورمیں اپنی امامت بچائے ہوئے تھا۔ جیسے ہی مولوی کرامت نزدیک پہنچا،ولیم نے اُسے مخاطب کیا۔

 

خوب آپ مولوی کرامت ہیں؟ ولیم نے اس کے انکسار سے متاثر ہو کر گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کا غلام اور انگریز سرکار کا نام لیوا کرامت ہی ہوں۔مولوی کرامت نے سارے جسم کی عاجزی چہرے پر سمیٹتے ہوئے جواب دیا

 

تم چراغ دین کے کیا لگتے ہو؟ ولیم نے اسی بے نیازی سے پوچھا۔

 

غلام اُس کا بہنوئی ہے۔ مولوی کرامت کے جواب دینے میں ایسی انکساری تھی جو اگرچہ ولیم کی نظر میں چاپلوسی تھی مگر اُسے پسند آئی لہذااُس نے مولوی میں دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا،تم کہاں رہتے ہو؟ ولیم کی تمکنت برقرار تھی البتہ لہجے میں ہلکی ملائمت درآئی۔

 

صاحب جی، بندہ تحصیل قصور کی باجگزاری میں ہے اور پیش امامت پیشہ ہے۔ کل شام ہی پہنچا ہوں،مولوی نے اُسی انکسار سے جواب دیا۔

 

آپ کو اطلاع کب ہوئی چراغ دین کے قتل کی، ولیم نے پوچھا۔

 

سرکار صبح فضل دین کو معلقہ کا سبق دے کے اور کریماں کا آخری دور ختم کراکے روٹیاں لینے بھیج دیا اورمَیں تھوڑی دیر چارپائی پر آرام کر نے کے لیے لیٹ گیا۔ سردیوں کے دن ہیں۔سر پر آفتاب چمکا توآنکھ کھلی۔ مسجد میں پہنچا تھا کہ ظہر کی اذان کی تیاری کروں،اُسی وقت راج محمد چراغ دین کی خبر لے کر پہنچ گیا۔یہ بدھ کادن تھا، کہنے لگا چراغ دین کو سودھا سنگھ کے بندوں نے برچھیوں سے مار دیا اور مونگی کی فصل جو لے جا سکے، لے گئے باقی کو آگ لگا دی۔ وہ بارہ بجے دن کے وقت پہنچا میرے پاس۔ ہم شام کی ریل سے بیٹھے۔ جلال آباد تو سرگی ہی پہنچ گئے تھے لیکن جودھا پورجمعرات دوپہر آئے اور آج جمعہ ہے۔ مولوی کرامت نے مختصر جوا ب میں پوری تفصیل بتا دی۔
ولیم نے دیکھا کہ مولوی کرامت نے کتنی ہشیاری سے پورا ملبہ سودھا سنگھ پر ڈال دیا ہے حالانکہ اُس نے ملزم کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔

 

تمہیں اتنی دیر کیوں لگی جودھا پور آنے میں؟ولیم نے سوال کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

حضور راڑے سے قصور کا دس کوس اور پھر جلال پور سے جودھا پور کا بیس کوس پیدا کیا۔ اس میں دیر ہو گئی لیکن کل ساتے کے ختم پر پہنچ گیا تھا۔

 

چراغ دین کتنے عرصے سے شیر حیدر کا ملازم تھا؟ولیم نے پوچھا

 

سرکار پینتیس سال سے وہ انہی کا نمک خوار تھا، مولوی نے اب مختصر جواب دینے شروع کر دیے۔

 

غلام حیدر جودھا پور کب پہنچا؟ اب ولیم نے دوبارہ گاؤں کے لوگوں کو مخاطب کیالیکن لہجے کی سختی برقرار تھی۔
اب ایک اور بوڑھے کو حوصلہ ہوا کہ وہ آگے بڑھ کر جواب دے۔ یہ بوڑھا سر تا پا سفید لٹھے میں تھا۔مگر ہاتھ میں عصا نہیں تھا اور کمر بھی جھکی نہ تھی لیکن عمر کے اس حصے میں ضرور تھا جب جسم کی کمزوری طاقت میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

 

صاحب بہادرجی غلام حیدر منگل کے دن آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ اس خون کو ضائع نہیں جانے دے گا۔ حضور غلام حیدر کو آپ پر بہت بھروسا ہے اور وہ آپ کے انصاف کی بہت تعریف کر رہا تھا۔ کہتا تھا،وہ انگریزی سرکارکے پاس جا کر سودھا سنگھ سے چراغ دین کے قتل کا پورا حساب لے گا۔

 

ولیم کو بڈھے کی اِس بات پر کوفت ہوئی کیونکہ بڈھا یقیناً جھوٹ بول رہا تھاکہ غلام حیدر کو سرکار پر بھروسا ہے۔ وہ سمجھ گیا تھایہ محض اس کی چاپلوسی کی جا رہی ہے مگر اس کی یہ بات ضرور سچ تھی کہ غلام حیدر منگل سے پہلے جودھا پور نہیں آیا تھا بلکہ وہ پچھلے چار سال سے جودھا پورہی داخل نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ولیم نے گاؤں والوں سے اور بھی کئی سوال کیے جس سے اُسے صاف پتا چل گیا کہ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل کا اُجاڑا سودھا سنگھ کے خلاف کوئی سازش نہیں تھی جیسا کہ پہلے اُس کے ذہن کے ایک گوشے میں ہلکا سا اندیشہ تھا۔ اِن سوال و جواب سے فارغ ہو کر ولیم اُٹھ کھڑا ہوا اور جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ لوگ فوراً پچھلے قدموں ہٹ گئے جو دوبارہ مجمعے کی شکل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ ولیم جب تک گاؤں والوں سے بات چیت میں مصروف رہا، انسپکٹر متھرا اور دیگر عملہ ماتحتی بھول کر گفتگو میں دوسرے سامعین کی طرح دلچسپی لے رہے تھے مگر ولیم کے اُٹھتے ہی انھیں اپنی اوقات کا احساس ہو گیا۔ وہ فوراً الرٹ ہو گئے اور ولیم کے احترام میں ایک طرف تعظیم سے کھڑے ہو گئے تا آنکہ ولیم آہستگی سے چلتا ہوا جیپ کی طرف بڑھا اور سوار ہو گیا۔ بعد ازاں سنتری اور متھرا بھی پھرتی سے جیپ میں سوار ہو گئے۔ دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر دی۔قبل اِس کے کہ وہ اُسے گیئر میں ڈالتا، ولیم نے مولوی کرامت کو اشارے سے اپنی طرف بلایا۔ مولوی کرامت بھاگ کر قریب آیا تو ولیم نے نرمی سے کہا،مولوی! کل تمہیں جلال آباد آنا ہے۔ تحصیل میں آ کر مجھ سے ملو۔

 

مولوی کرامت نے ہاتھ باندھ کر سر ہلایا پھر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کر دیا۔

 

اس کے بعد جیپ چل دی جس کا رخ جھنڈو والا کی طرف تھا۔ صبح کے دس بج چکے تھے اور جھنڈووالا محض پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ سودھا سنگھ کا گاؤں۔

 

جیسے ہی جیپ گاؤں سے نکلی،لوگ تین گنا بڑھ گئے۔ عورتیں بھی گھروں سے نکل آئیں اور ولیم کی آمد پر تبصرے ہونے لگے۔ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی انگریز کو دیکھ سکے۔ اس لیے سب بہت پُرجوش اوربھرے بھرے لگ رہے تھے۔ ان کے خیال میں جودھا پور میں ایک انگریز بڑے افسر کا آنا غلام حیدر کے اثر و رسوخ کا نتیجہ تھا۔جس نے لاہور میں رہ کر اپنے تعلقات وائسرائے تک بڑے بڑے افسروں سے پیدا کر لیے تھے۔ ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار کا کلکٹر۔

 

ایک شخص نے کہا،بھائی میراں بخش دیکھا تم نے اپنے غلام حیدر کا زور؟کلکٹر صاحب جودھا پور میں ایسے ہی نہیں آیا۔ غلام حیدر کی مار تو لاہور میں بڑے گھر تک ہے۔

 

“رشید ماچھی جو گنّے کے چھلکے سے زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا، فوراً اٹھ کھڑا ہو اور بولا،،میاں رنگو‘ میں تو پہلے دن سے ہی سوچے بیٹھا تھا کہ اب سکھڑوں کی خیر نہیں۔ اپنا غلام حیدر شیر ہے شیر۔ انگریز سرکارکا عدل تو اب جودھا پور پہنچے ہی پہنچے۔ سنا ہے تھانیدار کو حکم مل گیاہے کہ سودھا سنگھ کو ہتھ کڑی لگا کے گھسیٹتا ہوا تھانے لے کے آئے۔

 

’میراں بخش جو چارپائی پر بیٹھ کر حقے کے کئی کش لگا چکا تھا،بڑی سوچ بچار کے بعد مخاطب ہوا‘ بیلیو تم خود ہی سوچو، غلام حیدر کس باپ کا سپوت ہے۔ کیا تم بھول گئے ہو جب اُس نے کہا تھا کہ سودھا سنگھ کو اس ناحق خون کا حساب دینا پڑے گا۔

 

اس کے بعد ایک دو چار پائیاں اور بھی نکل آئیں۔سردی کی دھوپ سینکنے کے لیے اُن کے پاس یہ ایک ایسا موضوع ہاتھ آگیا جس کا ایک سرا وائسرائے اور دوسرا جودھا پور سے ملتا تھا۔ اُن کے لیے چوری چکاری اور دیسی قصے کہانیاں اچانک دقیانوسی ہو گئیں۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل ایسا عظیم واقعہ تھا جس نے انگریز سرکار اور غلام حیدر کی طاقت کے درمیان حدِ فاصل کو ختم کر دیا تھا۔یہ تو سب کو پہلے سے ہی پتا تھا کہ غلام حیدر بڑے شہروں میں بڑے بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے جہاں اور بھی بڑے راج والے اور پُلس والے کپتان جمع ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا، غلام حیدر جب تمھیں کوئی مصیبت پڑے تو ہمیں خبر کر دینا۔ تیرے دشمنوں کو باندھ کر تیرے آگے پھینک دیں گے۔ ایک فوج کے سب سے بڑے افسر کو تو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔جب وہ غلام حیدر کے ساتھ شکار کھیلتے جودھا پور کچھ دیر رُکے تھے۔

 

ایک بوڑھی خاتون جس کا گھگھرا ایک مرلے کے گھیر میں پھیلا ہوا تھا، آگے بڑھ کر بولی، وے میراں، ہُن تے جودھا پور نُوں ستے خیراں نے۔ ہُن تے غلام حیدر دا سکھ دی سری تے پیر آ گیا اِے۔

 

جودھا پور والوں کی نظر میں اب غلام حیدر کے ساتھ سودھا سنگھ کا نام لینا بھی غلام حیدر کی توہین تھی۔اُن کی نظر میں اب سودھا سنگھ محض ایک دیسی بدمعاش اور دو ٹکے کا غنڈہ تھا۔ جبکہ غلام حیدر کے تعلقات نئی دلی سے لے کر ملکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ مولوی کرامت بڑی خاموشی سے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اُس نے نہ تو پہلے کبھی غلام حیدر کو دیکھا تھا اور نہ ہی جودھاپور والوں سے کچھ زیادہ واقف تھا۔البتہ اس بات پر دل ہی دل میں خوش تھا کہ اُسے کمشنر صاحب نے تحصیل حاضر ہونے کو کہا ہے۔ اُس نے سوچا، گاؤں والوں کی نسبت وہ اُس سے زیادہ متأثر ہوا تھا۔لوگ اُسے رشک کی نظر سے دیکھ رہے تھے لیکن کسی قسم کا تاثر نہیں دے رہے تھے کہ مولوی کرامت جو دوسرے ضلع کا ہے، کہیں اپنی برتری نہ سمجھ لے اور جو دھا پور والوں کی توہین نہ ہو۔ بہر طور ہر ایک نے آج اپنے کام کو التو ا میں ڈال دیا اور وہاں آکر جم گیا۔ جو صبح سویرے چارہ وغیرہ لینے گئے تھے،وہ بھی لوٹ آئے۔ سردیوں کی اس دھوپ میں بیٹھ کر ولیم کی آمد پر طرح طرح سے خیالات کا اظہار کرنے لگے اور جب انھیں یہ پتا چلا کہ ولیم جودھا پور سے سیدھا جھنڈو والا کی طرف گیا ہے تو ان میں مزید گرم جوشی پیدا ہوئی۔ میراں بخش نے فوراً ایک آدمی کا انتخاب کیا کہ وہ پتہ چلائے، ولیم جھنڈو والا میں سودھا سنگھ سے کیا پوچھ گچھ کرتا ہے۔ اس کام کے لیے رحمت علی چھینبے کا قرعہ نکلا، جسے گھوڑی کے ذریعے جھنڈو والا کی حدود میں چھوڑ کر آنے کا کام الہٰ بخش کو سونپا گیا تاکہ وہ جلدی جھنڈو والا پہنچ جائے۔ اگر حدود میں پہنچ گیا تو آگے گاؤں تک پیدل ایک ہی کلو میٹر طے کرنا پڑتا ہے۔گاؤں تک گھوڑی پر جانے کا مطلب مشکوک ہونے کے سواکچھ نہیں تھا۔ یوں بھی اب یہ کام خطرے سے خالی نہیں تھا کہ دونوں گاؤں کی اب باقاعدہ دشمنی ہو چکی تھی۔

 

رحمت علی رخصت ہوا تو میراں بخش نے داڑھی کو انگلیوں سے خلال کیا پھر حقے کے دوچار گہرے کش لیے اور سب لوگوں پر بھرپور نظر ڈالی گویا یہ ثابت کر رہا ہو کہ اس کی یہ کارروائی اس قتل میں اہم کام ہو گی اور یہ کام اسی کو سُوجھا ہے۔ اس کے ِاس عمل سے ایک گُونہ مولوی کرامت کی اہمیت میں کمی بھی واقع ہو گئی جو چند لمحے پہلے گاؤں کو احساس کمتری میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

تمغہ

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

افسانہ نگار: علی اکبر ناطق

 

ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ لمبے چوڑے سُر خ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعدا د جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ درجن بھر پولیس کے شہدا کے رنگین پوسٹر ہال کی پچھلی دیوار پر بھی چسپاں تھے تاکہ اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی نظر اُن پر بھی پڑ سکے۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی اسپیکرپر آئے تو ہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

 

حضرات!
آپ سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے کے ان بدمعاش اور ناسور افراد کا مقابلہ دلیری سے کرتے ہوئے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے ان دو جوانوں پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھوصاحب ہیں جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ اسپیکر پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔ (حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے)
اب میرا نام پکارا جانا تھا جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا، اُٹھتے ہوئے گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت بالکل نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔ مگر تھوڑی دیر رُکیں، پہلے تمغے کا باعث بننے والے واقعے کا ذکر ہو جائے۔

 

میں بطور پولیس کمانڈو پچھلے تین سال سے اسی تھانے میں تھا۔ ہمیشہ سول وردی میں رہنے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو اس بات کا پتہ تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں۔ شہر کے مشرق میں بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں دریا جب اپنی جولانی پر آتا ہے تو دور تک پر پھیلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات سے بن چکے ہیں۔ یہ جنگلات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ باڈر قریب ہونے کی وجہ سے تمام علاقہ پاک رینجر کی حدود میں آ تا ہے اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دریاکے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں زمیندار ہیں اور سب نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ کسی زمیندار کو اپنے مخالف سے نپٹنا ہوتو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا علاقے کے زمینداروں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میں کم وبیش ان سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن مجھے اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا اور تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا۔ چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان یہ ایک خاموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں،غنڈوں،پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن تھا۔ چنانچہ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا۔ میں نے اُسے پہلی دفعہ اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خا ں کے ڈیرے پر دیکھا۔ اُس وقت وہ ایسا خطرناک نہیں تھا۔میں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ کم وبیش ان علاقوں کے تمام تھانیداروں کا معمول ہے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہیں تو سیدھے اُن زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو وہ خود اُسے حوالے کر دیتے ورنہ ڈیرے پر ہی مک مکا کرا دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس خاں وہاں موجود نہیں تھا۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت طاری تھا۔ گرجی مہر ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن ہو گا۔ الغرض پہلی نظر دیکھنے سے کچھ بھی تا ثر نہیں بنتا تھا۔ حاجی شمس کا گاؤں جلال کوٹ کے نام سے معروف تھا جہاں اُس کی تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی مہر کو اُسی کے ہاں پناہ بھی ملی ہوئی تھی۔ وہیں ساتھ والی چارپائی پر ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر اندازمیں لیٹا آسمان کو گھور رہاتھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن جیسا کہ پولیس والوں کی عادت ہے، تھانیدار نے اس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے لڑکی بھگا کر لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پرابھی سبزے کی آمد ہوئی تھی جسے دو چار دن پہلے ہی شیو کر کے صاف کیا گیا تھا کیونکہ سُرخ و سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید ابھار رہی تھیں۔ الغرض لڑکا خود بھی نرم و نازک، خوبصورت اور نسوانی حسن کے خدو خال رکھنے والا تھا۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا ؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن میں نے خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔بہر حال دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ دو دن کے بعد آ جائیں تو معاملہ طے کر لیں گے یا مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے ہی دن ہمیں خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم پورے تھانے کی پولیس لے کر وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا ملاحظہ کیا تو معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر گرجی مہر نے لڑکے کو ساتھ لے کر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ سکے اورخدا جانے کہاں نکل گئے۔ اس واردات کے بعد اگرچہ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی مخلصانہ کارروائیاں کیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے اور مزید کارروائیاں کرنے لگے اور کھل کھیلنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھند کارروائی کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے نے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گرجی نے ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ اس طرح دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آ سکے۔

 

اُس دن میں پورے ایک مہینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ مَیں چار دن کی چھٹی لے کر سیدھا ریلوے اسٹیش کی طرف چل دیا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور پھر دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والے لائن پر ہے۔ ریل سے جانے کا ایک فائدہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ یہ دن کے دو بجے کا وقت تھا اور ریل بھی آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا مگر میں یہ ایک گھنٹہ تھانے میں رہنے کی بجائے اسٹیشن ہی میں گزارنا چاہتا تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوا اور ایک ہی دم ہنگامہ سا پھیل گیا۔ شور سن کر میں ایک دم اچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی جس کا وجود عین شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت بالکل نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کارروائی کرنے سے پرہیز کرنا ہی میرے لیے بہتر تھا۔ جب میں آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اس ڈکیتی میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی یہ موٹر سائیکل پر بیٹھا لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل کی پل میں دونوں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔ مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ پولیس کو وہاں پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ پل میں افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔

 

میں چونکہ کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور اس ڈر سے کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آ گیا اور جب ریل آئی تو فوراً بھاگ کر چڑھ گیا۔ لیکن میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف تو بہت ہوئی مگر حکم حاکم۔ دوسرے ہی دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا جو کارروائی کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے ایک مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ایس ایس پی صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ کا انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپیکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپیکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن پچھلے دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی مہر نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ایس ایس پی اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی اس روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی پچھلے دو سال کی ناکامی اور خجالت کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں شدید طریقے سے نہ کہ عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس لیے ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے سچے دل سے دعا گو تھے کہ سندھو بھی کسی طرح ناکامی سے دوچار ہو۔ بہر حال ایس ایس پی چیمہ صاحب نے اُس کی تعیناتی بصیر پور میں فوری طور پر کر کے ضروری ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پچھلے دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔ میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ میں انتہائی متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کے ساتھ بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جبکہ سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا پورا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ایس پی صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ بہر حال میں اور سندھو سول کپڑوں میں اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کارروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

 

یہ پورا علاقہ چونکہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں گائیں اور بھینسوں کی اس قدر کثرت ہے۔ لہذا ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی 125 ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مارنی شروع کر دی اور گرجی کے متعلق ہر قسم کی سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری نظر آتے تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے۔ یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا،کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

 

بہر حال وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ پانچ کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی ہے۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی ہمارے پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ لیکن ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ لہذا ہم نے ایس ایس پی صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے جس سے ہمیں اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا چلنے لگا۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا کیونکہ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا جہاں سے یہ شخص گرجی کو فون کرتا۔ ہم نے یہ سارا کام نہایت خفیہ رکھا حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ایس ایس پی تک کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے ان دونوں کو اغوا کر لیا اور اگلی کارروائی شروع کر دی۔ اس معاملے میں اگرچہ میں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور میں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور میں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیا کہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپناٹائز کر دیا۔

 

یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی۔ سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی صبح چار بجے شاہد کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو ہمیں مشکل سے وہاں پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے۔ چنانچہ ٹھیک دو بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایا تھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آیا اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ گرجی کا اس موسم سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے سکے اور چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا۔ جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ ایک دم تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو ہمیں مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اونچی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ وہاں شاہد خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔وہ اس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔ شاہد پر حمید کی نظر پڑی تو وہ ایک دم حیران رہا گیا۔ اس قدر خوبصورت لڑکا آج تک نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگرچہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا اور چہرہ مسلسل سفید ہو رہا تھا لیکن اُس کی یہ حالت بھی اُس کی خوبصورتی میں کمی نہیں کر رہی تھی۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ میں نے سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا، سر اسے جلد یہاں سے اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز کو گویا سُنا ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کو جنسی بھیڑیے کی طرح گھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو جلد یہاں سے نکال کر لے جاؤں۔ چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد میں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر میں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر مار دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا اور تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی اس حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ اس حالت میں مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو بیس منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی تھی اور کراہت پیدا کر دینے کے ساتھ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی مر جاؤں گا۔ جس سے بچنے کے لیے میں نے نہایت غیر اضطراری طور پر اپنی رائفل کی نال کیکر سے بندھے سراجے کی طرف کر کے فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن میں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا میں اپنی فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔ اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں، حمید سندھو باہر آیا تو میں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم بالکل برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے جلدی سے اُس کا پاجامہ اوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
پولیس آئی تو ہر طرف سکون ہو چکا تھا۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں وین میں رکھیں اور چل دی۔

 

میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آ گیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں- دوسری قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ڈیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے۔ چاچا غفور نے اسے پڈعیدن شہر ایک ضروری کام سے بھیجا۔ وہ فجر کے وقت ٹھری میرواہ سے نکلنے والی پہلی بس پر سوار ہو کر پہلے سیٹھارجہ پہنچا اور وہاں سے ٹرین پکڑ کر تقریباً دس گیارہ بجے پڈعیدن پہنچ گیا۔ اسے کام نمٹاتے نمٹاتے دوپہر ہو گئی۔ پھر ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد وہ سہ پہر کے وقت ریلوے اسٹیشن پہنچا اور ٹرین کا انتظار کرنے لگا جو پون گھنٹے بعد آنے والی تھی۔ بے چینی سے انتظار کرتے ہوے وہ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔

 

اس کا مشاہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ انھیں اپنے دیکھنے والوں پر اپنی مسکراہٹ، ہنسی اور ادائیں نچھاور کر کے کوئی روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔
پڈعیدن ریلوے اسٹیشن ایک جنکشن تھا، جہاں سے برسوں پہلے نوشہروفیروز، ٹھاروشاہ، کنڈیارو اور دیگر چھوٹے قصبوں کی طرف ریل جایا کرتی تھی، مگر اب بہت عرصے سے محکمہ ریلوے نے اس راستے پر جانے والی ٹرینوں کومنسوخ کر دیا تھا؛ اب یہاں سے صرف مین لائن ٹرینیں ہی گزرتی تھیں۔ لیکن پڈعیدن ریلوے اسٹیشن کا پھیلاؤ اب بھی پہلے جیسا ہی تھا اور اب بھی اس کے نام کے ساتھ بہت سے اسٹیشنوں کی طرح جنکشن کا دم چھلا لگا ہوا تھا۔ اضافی لائنوں پر اکثر ایک یا دو انجن کھڑے شور مچاتے اور دھواں اگلتے رہتے تھے۔ پڈعیدن شہر ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے عین مخالف سمت میں واقع تھا۔ وہ بھی اسی راستے سے پیدل چلتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔

 

نذیر کی عادت تھی کہ وہ سفر کرتے ہوے کسی خوبصورت نسوانی چہرے کی تلاش میں رہتا تھا تاکہ اس کی آنکھوں میں جھانک جھانک کر اور اپنی آنکھوں سے اس کے چہرے کو ٹٹول ٹٹول کر بیزارکن اور اکتاہٹ سے بھرے اپنے سفر کو اہم ترین یاد میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ معاملہ ایک ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر دوسرے پر ختم ہو جاتا تھا مگر اس کی یاد ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہتی تھی۔ تین مرتبہ وہ اس معاملے کو طول دینے کی کوشش میں اذیت اور خواری کا تجربہ کر چکا تھا۔

 

اس کا مشاہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ انھیں اپنے دیکھنے والوں پر اپنی مسکراہٹ، ہنسی اور ادائیں نچھاور کر کے کوئی روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔ بعض عورتیں اپنے سینے کی نمائش کرنے سے بھی نہیں چوکتی تھیں، اسی لیے وہ باربار اپنے ڈوپٹے یا چادر کو درست طریقے سے اوڑھنے کا جتن کرتی رہتی تھیں اور اس طریقے سے مردوں کو لبھانے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان خواتین پر اسے حیرانی ہوتی تھی جو مردوں کی گھورتی نظروں سے لاتعلق ہو کر شیرخوار بچوں کو دودھ پلانا شروع کر دیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ریل کے دوسرے درجے کی بوگیوں میں سفر کرتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ لوگوں کے ہجوم سے بھری ہوتی تھیں؛ اس طرح کبھی کبھار اسے کسی نسوانی جسم کو چھونے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ ان بوگیوں میں ہمیشہ نچلے اور نیم متوسط طبقے کی عورتوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ نچلے طبقے والی خواتین لباس اور جسم کی صفائی سے بے نیاز ہوتی تھیں اور انھیں دیکھ کر گھن سی آتی تھی، جبکہ نیم متوسط طبقے کی عورتیں رنگین ملبوسات، اپنی پردہ پوشی، زیورات اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے حقیقی نسوانی پیکر دکھائی دیتی تھیں۔ ان کی آنکھیں غمزوں کے ان دیکھے جہان آباد کرتیں۔ ان کے ہاتھوں اور بازوؤں کی سپیدی مردوں کی آنکھوں کو پوشیدہ نظاروں کے لیے تڑپاتی، جن کے دیدار کے نہ کوئی آثار ہوتے اور نہ امکانات۔

 

“استاد!موقع اچھا ہے۔ اسے گرماگرم چائے پلا کر اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کرو۔ دودھ پتّی چائے فس کلاس ہو گی اور اسے پلانا میرا کام ہے۔”
پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرتے ہوئے اس نے ساری خواتین کو دیکھ لیا۔ اسے مایوسی ہوئی کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس کے معیار پر پوری نہیں اتری۔ اپنی جستجو کو مہمیز دیتے ہوے وہ پرلی طرف والے پلیٹ فارم کی جانب چلا گیا۔ وہاں پر اسے ایک حسین عورت نظر آئی۔ وہ کچھ دیر اسے تکتا رہا، مگر خاتون نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ نذیر نے محسوس کیا کہ اس عورت کے التفات کی ندی کا رخ کسی اور جانب تھا۔ وہ شخص پتلون اور شرٹ میں ملبوس تھا اور اس نے چشمہ بھی لگا رکھا تھا۔ نذیر اسے دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گیا کیونکہ اس نے کبھی پتلون شرٹ زیب تن نہیں کی تھی۔ وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ وہ ایسی پرکشش، حسین اور مقامی نوجوان خاتون کی تلاش میں تھا جو انگریزی لباس پسند نہ کرتی ہو۔

 

پلیٹ فارم کے دونوں سروں کے درمیان چکر لگاتے ہوے اس نے ایک برقع پوش نوجوان خاتون کو منتخب کیا جوایک ادھیڑعمر عورت کے ساتھ پتھر کی نشست پر بیٹھی تھی۔ نذیر نے چائے کے اسٹال کے پاس کھڑے ہو کر انھیں کچھ دیر تاکنے کے بعد اندازہ لگا لیا کہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ نوجوان پردہ نشین اس کی مسلسل تاکاجھانکی کا برا نہیں مان رہی تھی بلکہ وہ بھی باربار اپنی نظروں کے تیر اس کی طرف پھینک رہی تھی۔ نذیر نے اس کا انتخاب اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ مسلسل اس کی نظروں کا جواب دے رہی تھی بلکہ اسے اس کی گہری سیاہ آنکھیں اور اس کی کمان جیسی بھنویں بیحد پرکشش لگ رہی تھیں۔ نجانے کیوں وہ ان میں اپنے لیے پسندیدگی اور دل چسپی محسوس کر رہا تھا ہو سکتا تھا یہ اس کی خوش فہمی ہو، مگر وہ جس طرح اسے دیکھ رہی تھی، اسے اس کے دیکھنے کا انداز بھا گیا۔ اس کا جوان حْسن اس کی آنکھوں سے آشکار تھا۔ وہ ٹکٹکی لگائے اس کے نازک سفید ہاتھوں، گلکاری والی چپلی میں محفوظ پیروں اور برقعے میں چھپے ہوے اس کے جسم کو دیکھتا رہا اور اس کے پوشیدہ حسن کی کشش کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر وہ اس کے بازوؤں کا جائزہ لینے لگا۔ اس کی کلائی بہت نازک اندام اور اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بہت گداز لگ رہی تھیں۔

 

نذیر چائے کے اسٹال پر کہنی ٹکا کر، اس کے حسن سے مبہوت، اسے تکتا ہی رہا۔ چائے کے اسٹال کا مالک من موجی مگر زیرک شخص تھا۔ وہ اس کی نیت فوراً بھانپ گیا۔ نذیر کے پاس آ کر اس نے اس کے کان میں سرگوشی سے کہا، “استاد!موقع اچھا ہے۔ اسے گرماگرم چائے پلا کر اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کرو۔ دودھ پتّی چائے فس کلاس ہو گی اور اسے پلانا میرا کام ہے۔” اس کے منھ سے نسوار کی بْو آ رہی تھی اور وہ ہنستے ہوے اپنے بدنما دانتوں کی نمائش کر رہا تھا۔
اس کی پیشکش سن کر نذیر چونکا۔ اس نے شک بھری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ اس نے اسے صرف اپنے لیے چائے لانے کے لیے کہا۔

 

پردہ نشین حسینہ کچھ دیر پہلے تک سکون سے بیٹھی اپنے فطری انداز میں آس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہی تھی مگر اب اچانک اس کے وجود میں عجیب سی ہلچل نظر آنے لگی تھی۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگی تھی اور باربار اپنے نقاب کو ہلا ہلا کر اس کی شکنیں درست کر رہی تھی۔ وہ بے اختیار ہو کر ذرا ذرا دیر بعد نذیر کو دیکھتی۔ اس کی ساتھی عورت سوگوار سے لہجے میں مسلسل کچھ بول رہی تھی۔ برقع پوش کی توجہ اس کی باتوں پر نہیں تھی، وہ ہوں ہاں کر کے اسے ٹال رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں میں فطری نرمی کی جگہ ایک بے قراری لیتی جا رہی تھی۔

 

پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھے تھے۔
نذیر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر چائے کے میٹھے پن کو محسوس کر رہا تھا۔ وہ ابھی تک چائے کے اسٹال والے کی پیشکش میں الجھا ہواتھا۔ اسے برقع پوش کی توجہ حاصل ہو چکی تھی۔ اب وہ باربار اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی اپنی طرف متوجہ بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھتے ہوے نذیر کے خون میں پراسرار سرسراہٹ ہونے لگی تھی، جس کے باعث اس کی کنپٹیوں اور سر کے پچھلے حصے پر پسینہ آنے لگا تھا۔

 

بہت دیر سوچنے کے بعد نذیر نے اسٹال والے کو بلایا اور اسے چائے بنانے کے لیے کہا۔ اس نے طے کر لیا تھا، اب بات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

 

برقع پوش کی ساتھی ادھیڑعمر عورت جو بظاہر اب تک ان دونوں کے معاملے سے لاعلم تھی، لگتا تھا شاید اب اسے بھی اس معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی۔ وہ وقفے وقفے سے اپنی مسکراتی ہوئی شریر نظروں سے نذیر کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
مٹی کے تیل سے جلتے چولھے پر چائے ابلنے لگی تو اسٹال والے نے دھلی ہوئی صاف پیالیوں میں دودھ پتّی چائے انڈیل دی۔ مسکراتے ہوئے اس نے نذیر کو آنکھ ماری مگر وہ اس وقت شدید بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ کہیں پردہ نشین ناراض ہو کر انکار نہ کر دے یا غصے میں آ کر اسے گالیاں نہ دینے لگے۔ وہ ایسے اندیشوں میں گھرا چائے کے اسٹال سے پرے ہٹ گیا اور ان کی نشست کے بہت پیچھے جا کر ٹہلنے لگا۔ اس نے اپنی کلائی اٹھا کر گھڑی دیکھی تو ریل کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی تھے۔

 

چائے اسٹال والا جھوم کر اپنی چال چلتا ان کے پاس پہنچا اور جھک کر سلام کرتے ہوے اس نے انھیں چائے پیش کی۔
برقع پوش نے ہچکچا کر نفی میں سر ہلایا اور بے اختیاری سے اس طرف دیکھنے لگی جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا۔ اسے وہاں نہ پا کر وہ پریشان سی ہوئی۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا مگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ اس کی اس کیفیت سے ادھیڑعمر خاتون لطف اندوز ہوتی رہی۔ اس نے معمولی سے ردوکد کے بعد چائے کے اسٹال والے سے پیالیاں لے لیں۔
چند ثانیوں کے بعد نذیر زیرِلب مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی جگہ پر آ کھڑا ہوا۔ اسے دیکھ کر برقع پوش کی آنکھوں میں خفگی کی شدید لہر دکھائی دی، جبکہ اس کی ساتھی عورت پہلے والی جگہ پر اس کی دوبارہ موجودگی سے محظوظ ہوتی، چائے کی سْڑکیاں لیتی رہی۔

 

نذیر نے سوچا کہ جو عورتیں ناراض ہو جائیں انھیں منانے کا جتن بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس نے ارادہ باندھا کہ اگر وہ سیٹھارجہ کے اسٹیشن پر اْتری تو وہ اسے منانے کی خاطراس کے گوٹھ، یا اگر ممکن ہوا تو اس کے گھر تک اسے چھوڑنے ضرور جائے گا۔

 

نذیر نے ممنون نگاہوں سے چائے اسٹال والے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔ پیسے لیتے ہوے اسٹال والے نے اس کے قریب آ کر آہستگی سے کہا، “مرد کی شان ہوتی ہے کہ پسند آنے والی چیز کو اپنی مٹھی میں اچھی طرح کس لے۔ معشوق کے سامنے ڈٹ جائے اور کسی طرح پیچھے نہ ہٹے۔” اس کی بات سن کر نذیر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار کی دکانیں کولتار سے بنی نئی سڑک کے دونوں طرف واقع تھیں۔ گارے اور سرخ اینٹوں سے بنی دکانیں بہت پرانی اور خستہ حال تھیں۔ نئی سڑک کی وجہ سے ان کی سطح بہت نیچی ہو گئی تھی۔
بہت دور سے ریل کی سیٹی سنائی دی تو پلیٹ فارم پر انتظار سے بے زار اور اونگھتے ہوئے لوگ یک بہ یک ہوشیار ہو کر اس سمت دیکھنے لگے جدھر سے ریل آرہی تھی۔ خوابیدہ اور خاموش پلیٹ فارم پوری طرح بیدار ہو گیا۔ سامنے کی پٹڑیوں سے سنائی دینے والی گڑگڑاہٹ ٹرین کی آمد پر طوفانی گھن گرج میں تبدیل ہو گئی۔ پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوے بیٹھے تھے۔

 

نذیر کی کوشش تھی کہ جس بوگی پر بھی وہ دونوں عورتیں سوار ہوں، وہ بھی ان کے آس پاس ہی اپنے لیے جگہ تلاش کرے۔ وہ دونوں ٹرین پر سوار ہونے کی تگ و دو میں آخری بوگیوں تک چلی گئیں۔ دروازوں پر قبضہ جمائے ہٹ دھرم لوگ انھیں سوار ہونے کے لیے راستہ دینے پر تیار نہیں تھے۔ نذیر کو ان لوگوں پر غصہ آیا۔ کچھ دیر بعد اس کی برداشت جواب دے گئی تو ایک بوگی کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے چیخناچلانا شروع کر دیا، تب کہیں جا کر انھیں اور اْسے بہ مشکل سوار ہونے کی جگہ مل سکی۔ نذیر چاہتا تو ہجوم کا فائدہ اْٹھا کر پردہ نشین خاتون کے جسم کو چھو کر ذرا سا محسوس کر سکتا تھا مگر اس نے اپنے آپ کو روکے رکھا اور ایسا کچھ نہیں کیا۔ پلیٹ فارم پر شتابی سے چلتے ہوئے اس بے نام حسینہ کا جسم اسے بہت پرْکشش لگ رہا تھا۔ اس کی کمر نشیب میں واقع کسی سرسبز و شاداب وادی کی طرح طویل مشاہدے کی متقاضی تھی، فی الحال جس کا کوئی موقع اس کے پاس نہیں تھا۔ وہ پرامید تھا کہ آنے والا وقت اس پر ایسے مشاہدات کے بہت سے در وا کرنے والا تھا۔

 

انجن کے ہارن کا شور سنائی دیتے ہی ریل ایک دھکے سے چل پڑی۔ ان کی بوگی لوگوں سے کھچاکھچ بھری تھی۔ گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے ہوے انھیں اور اسے آرام سے کھڑے ہونے کے لئے تھوڑی سی جگہ مل گئی۔ وہ ان کے قریب کھڑا ہو گیا۔ ادھیڑعمر عورت اپنی پردہ نشین رفیق کی حفاظت کی خاطر ان دونوں کے درمیان کھڑی ہوگئی۔

 

کچھ فاصلے پر نذیر کو ریلوے کاکنڈکٹرگارڈ دکھائی دیا۔ وہ فوراً اس کے پاس جا کراس سے نشست کے لیے درخواست کرنے لگا مگر وہ اسے روکھا سا جواب دے کر چلتا بنا۔ اس کے بعد اس نے گزرنے والے ایک پولیس کے سپاہی سے مدد چاہی تو اس نے تیس روپے کے عوض ان دونوں خواتین کے لیے نشست کا بندوبست کر دیا۔ جب اس نے ادھیڑعمر عورت کو بتایا تو وہ حیرت سے اس کا منھ تکنے لگی۔ اس نے اپنی ساتھی خاتون کو اس کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ اس نے اپنی مشکور نظروں سے نذیر کی طرف دیکھتے ہوے سر کے خفیف اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر وہ کچھ دور تک اس کے ساتھ چلنے کے بعدوہ جا کر اس نشست پر بیٹھ گئیں۔ وہ اس حسینہ کو اپنا قبلہ بنا کر اس کی طرف رخ کرکے ذرا فاصلے پر کھڑا ہو گیا، جبکہ وہ عورت احسان مندی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

 

مختصر سے وقت میں یہ اس کی دوسری کامیابی تھی۔ وہ اس پر مسرور تھا مگر ساتھ ہی وہ یہ بات سوچ کر خوفزدہ بھی تھا کہ معلوم نہیں یہ دونوں کب کون سے اسٹیشن پر اتر جائیں۔وہ یہ سوچ کر بھی لرزہ بر اندام تھا کہ کہیں اسے ان دونوں سے پہلے اپنے اسٹیشن پر اترنا نہ پڑ جائے۔ اس کے لئے یہ صورت بھی ناقابلِ قبول تھی۔ پڈعیدن سے سیٹھارجہ زیادہ دور نہیں تھا۔ درمیان میں صرف چار اسٹیشن پڑتے تھے۔ ہر اسٹیشن پر ریل کی رفتار کم ہونے پر اس کا دل ڈوبنے لگتا تھا اور جب گاڑی وہاں سے نکلنے لگتی تو وہ کچھ مطمئن ہو جاتا تھا۔ یہ عارضی ناامیدی اور عارضی اطمینان اس کے لیے بہت اذیت ناک تھا۔

 

پرانی گول باڈی بس کی کھڑکیوں کے شیشے اور چھت پر لٹکی آرائشی جھالریں ہل ہل کر مسلسل شور مچانے لگیں۔
جب ٹرین محراب پور جنکشن سے نکلی تو وہ ایک مرتبہ پھر پرامید نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔ اسے ان کے چہروں پر بے چینی کے آثار نظر آنے لگے۔ ان کے باربار کھڑکی سے جھانکنے کے عمل سے اس کی ڈھارس بندھ رہی تھی۔ ڈیپارجہ کا گمنام اسٹیشن بھی چپکے سے گزر گیا اور اس کے بعد چھوٹی نہر بھی سرعت سے پیچھے چلی گئی۔ سیٹھارجہ آنے کو ہی تھا۔ ریل کی رفتار ایک بار پھر دھیمی ہونے لگی۔

 

اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آیا جب اس نے دیکھا کہ ان دونوں نے اپنا سامان اٹھا لیا تھا اور برقع پوش اپنے برقعے کو ٹھیک کرنے لگی تھی۔

 

ٹرین کے بریک چرچرائے اور اگلے ہی لمحے وہ تھم گئی۔

 

نذیر دقت سے ہجوم کے درمیان راستہ بناتا ہوا بوگی کے دروازے تک پہنچا اور لکڑی کی سیڑھیوں سے نیچے اْترا۔ وہ نیم پختہ پلیٹ فارم پر سفیدے کے قدآور درخت کے قریب کھڑا ہو گیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے ان دونوں کو بوگی سے اترتے ہوے دیکھا۔ نیچے اْترتے ہی برقع پوش جوان عورت نے بھرپور نظر وں سے اسے دیکھا، آنکھیں گھما کر اسے ایک اشارہ کیا اور سیڑھیوں والے پل کی طرف چل دی۔ پل کے قریب پہنچ کر ان کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈنے لگیں۔ ایک دْبلا ساشخص ہانپتا کانپتا ان کے قریب آ کھڑا ہوا اور کِھیسیں نکال نکال کر ان سے باتیں کرنے لگا۔ نذیر اس آدمی کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا کہ اس کا ان سے آخرکیا تعلق تھا؟ اس کا لباس میلاکچیلا تھا، سر کے بال بکھرے ہوے تھے اور چہرے پر شیو ابھری ہوئی تھی۔ اس نے پکوڑوں کا تھال اٹھایا ہوا تھا۔ وہ اپنی وضع قطع سے ادھیڑعمر خاتون کا شوہر معلوم ہوتا تھا کیونکہ وہ اس سے لہک لہک کر باتیں کر رہی تھی۔ وہ دونوں آپس میں بہت بے تکلف دکھائی دے رہے تھے۔ نذیر کو محسوس ہوا کہ وہ اسے کہیں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے ذہن پر بہت زور دیا مگراسے یاد نہیں آ سکا۔

 

گندم کے نوخیز پودوں کی شوخ رنگت بھی شام کے ملگجے پن میں گم ہونے لگی تھی۔ راستے میں پڑنے والے مختلف گوٹھوں کے مکانوں سے اٹھنے والے دھویں کی بو، دھواں چھوڑتی بس کے ڈیزل کی بو سے گھل مل رہی تھی۔
سیٹھارجہ کی آبادی بھی اسٹیشن کی عمارت کے مخالف سمت تھی۔ پل کے ذریعے سے انھوں نے پٹریاں عبور کیں اور آبادی کی طرف جانے والے راستے پر چلنے لگے۔ قصبے کی آبادی کچھ زیادہ نہ تھی۔ دائیں طرف محلے اور گلیاں واقع تھیں جبکہ بائیں طرف کچھ دور جا کر سیٹھارجہ کا بازار شروع ہوتا تھا۔ بازار کی دکانیں کولتار سے بنی نئی سڑک کے دونوں طرف واقع تھیں۔ گارے اور سرخ اینٹوں سے بنی دکانیں بہت پرانی اور خستہ حال تھیں۔ نئی سڑک کی وجہ سے ان کی سطح بہت نیچی ہو گئی تھی۔ شام ڈھلنے والی تھی اس لیے خریداروں کی تعداد براے نام تھی۔ قصبے کے لوگ یوں ہی اِدھراْدھر گھوم رہے تھے۔ کہیں کہیں بعض دکان دار کرسیاں بچھائے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وقفے وقفے سے کوئی سائیکل، گدھاگاڑی یا موٹرسائیکل سڑک سے گزر جاتی تھی۔

 

وہ پردہ نشین اب چونکہ ایک مرد کی معیت میں تھی اس لیے اس سے نگاہیں ملانا بہت مشکل تھا۔ نذیر سوچ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ یہیں رہتی ہو اور اچانک کسی بھی گلی میں موڑ مڑ کر ، اس کی نظروں کے سامنے کسی بھی مکان کے اندر جا کرغائب ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے کم از کم برقع پوش کا مکان ضرور معلوم ہو جائے گا۔ وہ ان سے کچھ فاصلہ رکھ کر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اس پر کسی قسم کا شک گزرے۔ چلتے چلتے اچانک برقع پوش عورت نے اسے مڑ کر دیکھا۔ اس کے مڑ کر دیکھنے کو نذیر نے تعاقب جاری رکھنے کا اشارہ سمجھا۔ اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ یقینی طور پر سیٹھارجہ نامی اس قصبے کی رہنے والی نہیں ۔
Categories
فکشن

دکانداری اور دوسری کہانیاں

دکانداری

 

اس ملک میں ہڑتال کرا دینا معمولی سی بات تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پرہڑتال کرا دی جاتی تھی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔ ملک میں کبھی حکمران جماعت کی طرف سے تو کبھی حزبِ اختلاف کی طرف سے ہڑتال کرائی جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک ہڑتال کے دوران دکانیں زبردستی بندکرانے کے لیے آنے والے سیاسی کارکن سے ایک دکاندار اور وہیں کھڑے ہوئے کچھ مزدوروں نے پوچھا ”بھلا ہڑتال سے کیاحاصل ہوتا ہے۔ سوائے نقصان کے؟“ اس پر اس کارکن نے ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ”ہڑتال کے دوران ہماری دکانیں کھل جاتی ہیں۔“
“اب کیاکریں اپنی اپنی دکانداری ہے بھائی”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عابد

 

“اپنے باس کتنے شریف ہے نا؟ ہمیشہ بیٹابیٹاکہہ کر بات کرتے ہیں۔ بالکل ہی عابد رجحان کے ہیں۔“نوکری میں نئی نئی لگی ایک لڑکی نے اپنے ہی دفتر میں ساتھ میں کام کرنے والی ادھیڑعمر کی عورت سے کہا۔
“ارے تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔یہ بڑھؤ ایک نمبرکا ٹھرکی رہاہے۔ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور جوانی واپس پانے کے لیے اس نے کچھ دوائیاں لیں جن کے ری ایکشن سے یہ نامرد ہوگیا۔ تبھی سے یہ سبھی عورتوں کو بیٹابیٹا کہتا ہے۔ ارے اس پر تو چھیڑچھاڑکے کئی مقدمے درج ہیں۔ اس عورت نے عابد کی اصلیت سے اسے واقف کرایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غیرمحفوظ

 

“کیوں میاں، کافروں کے ساتھ گنیش کے چندے کی رسیدیں کاٹتے گھوم رہے ہو۔ کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسلام میں بت پرستی کی مناہی ہے؟”
“جناب، میں تواس پر صرف اتناہی کہوں گا کہ جان ہے توجہان ہے۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تماشائی
تیزقدموں سے آفس جاتے ہوئے میرے قدم ایک جگہ لگی بھیڑ کودیکھ کر رک گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوآدمی ایک دوسرے کاکالر پکڑے آپس میں گالی گلوچ کرتے ہوئے لڑرہے تھے۔
اور لوگوں کی طرح میں بھی رک کر انہیں دیکھنے لگا، اور ان کے بیچ جھگڑابڑھنے کاانتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیربعد مجھے لگنے لگاکہ یقینی طور پر دونوں میں سے کوئی ایک چاقو نکالے گا، یا ہو سکتا ہے پستول ہی نکال لیں۔ اگر ایسے حالات بنے تومیں کیاکروں گا۔ کیاان میں صلح کرانے کی کوشش کروں گا، یاتیزی سے بھاگ لوں گا۔ میں یہ سب سوچ ہی رہاتھاکہ دونوں نے ایک دوسرے کا کالر چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ تماش بینوں کی بھیڑبھی چھٹ گئی۔ میں بھی بڑبڑاتے ہوئے نکلا: “سالے ہجڑوں کولڑنے کابھی شعورنہیں ہے۔ پھوکٹ میں ٹائم برباد کردیاجبکہ مجھے آج آفس جلدی پہنچنا تھا”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار

 

“ابھی توبازارمیں ٹماٹر اتنے سستے ہیں کہ ایک روپے کلو، یاروپے میں دوکلو تک مل رہے ہیں اور تم یہ سو گرام ٹماٹر سوپ کے پاؤچ کاپیکٹ52روپے میں خرید لائے ہو۔ بیوقوف کہیں کے”
“اس میں بیوقوفی والی کیابات ہے؟ ہم اسے تب پئیں گے جب بازارمیں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان چھونے لگے گی۔”
Categories
فکشن

کتھا کالے رنگ کی

مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں رنگوں کی اجتماعی قبر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ہو کہ اگر اپنا سینہ چیر دوں اور تمام رنگ پھڑپھڑاتے ہوئے اُڑ جائیں اور میں بے جسما ہو جاوں۔ مجھے اپنے ہونے پر اتنا ہی شک ہے جتنا آپ سب کو اپنے ہونے پر۔ ٹھہرئیے مجھے وہ رات یاد کرنے دیں جب پہلی دفعہ مجھے اپنے ہونے کا گمان گزرا تھا۔ جو کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ ایک سب بیتی ہے۔ یہ اُن سب لوگوں کی کتھا ہے جو میری طرح بے جسمے تھے۔

 

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ہو کہ اگر اپنا سینہ چیر دوں اور تمام رنگ پھڑپھڑاتے ہوئے اُڑ جائیں اور میں بے جسما ہو جاوں۔
شہر کے بیچوں بیچ انار کلی بازار میں ایک چھوٹی سی ہوزری کی دکان ہے۔ اس دکان کے سامنے لکڑی کا ایک بڑا سا تختہ اینٹوں کے سہارے کھڑا ہے جس کے اوپر مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے پڑے ہیں۔ تختے کے ایک کونے میں پرانی اخباروں کے ٹکڑوں میں مختلف رنگوں کو لپیٹ کر رکھا گیا ہے۔ اس کے داہنی جانب کچی مٹی پر کچھ اینٹیں جوڑ کر اس کے اوپر لوہے کی ایک بڑی سی کڑاہی رکھی ہوئی ہے۔ اینٹوں کے اندر مختلف سائز کی لکڑیاں گُھسی ہوئی ہیں اور جل رہی ہیں۔ اس تختے کے چاروں کناروں پر لکڑی کی کچھ ٹہنیاں عموداً کھڑی کر کے ان کے اوپر کالے رنگ کا ایک موٹا سا کپڑا بطور سائبان لگایا گیا ہے۔ انہی ٹہنیوں میں سے ایک کے اوپر والے حصے کے ساتھ نائلون کی ڈوری بندھی ہوئی ہے جس کا دوسرا سرا ہوزری کی دکان کے ساتھ دیوار پر موجود ایک مڑے ہوئے زنگ آلود کیل کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس ڈوری پر مختلف رنگوں کے چند دوپٹے سوکھنے کے لئے لٹکائے گئے ہیں۔ یہی حُب دار حسین رنگریز کی چھوٹٰی سی دوکان ہے۔

 

حُب دار حسین چالیس بیالیس برس کا پکے رنگ کا ایک شخص ہے۔ اس کے چہرے پر چھوٹی سی داڑھی ہے ہاتھ کی تقریباً تمام انگلیوں میں مختلف پتھروں کی انگھوٹھیاں پہنی ہوئی ہیں۔ وہ ایک محنتی اور حساس شخص ہے۔ یوں تو اس چھوٹے سے شہر میں درجنوں رنگ ریز ہیں لیکن حُب دار حسین کے رنگ سب سے پکے مشہور ہیں۔ اسے خود بھی اس بات کا ضرورت سے زیادہ احساس ہے۔ وہ اکژ خواتین گاہکوں کے سامنے شوخی بگھارتے ہوئے کہتا ہے “باجی ایک دفعہ کپڑوں پر مجھ سے رنگ کروا کر تو دیکھیں، بڑی بات نہیں بولتا جی لیکن کپڑا پھٹ جائے گا مگر حُب دار کا لگایا ہوا رنگ نہیں اُترے گا۔ آپ میرے رنگ کئے ہوئے کپڑے چاہے مشین میں دوسرے کپڑوں کے ساتھ دھوئیں یا ہاتھ پر دھوئیں اگر رنگ اُتر جائے تو میں خود اپنی باجی کو ایسے دس سوٹ دلوا دوں گا”۔

 

حُب دار حسین کو رنگوں کی خوب پہچان ہے۔ اُسے جو بھی رنگ نمونے کے طور پر دکھایا جائے وہ عین وہی رنگ دئیے گئے کپڑے پر اُتار دے گا۔ جسے ہی کوئی کپڑا رنگنے کے لئے آتا تو پہلے وہ کڑاہی میں پانی کو خوب گرم کرتا جب وہ کھولنے لگتا تو وہ اخباروں کی پُڑیوں سے چٹکیاں بھر بھر کے رنگ پانی میں ڈالتا۔ جب پانی میں جھاگ اُبھرنے لگتی تو وہ کپڑا پانی میں ڈالتا اور لوہے کے چمچے سے اچھی طرح سے اُسے اُلٹتا پلٹتا رہتا۔ وہ زیادہ دیر تک کپڑے کو پانی میں نہیں رکھتا تھا بس چند منٹ بعد اُسے پانی سے نکال کر تار پر سوکھنے کے لئے پھیلا دیتا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ رنگ کپڑوں کا جسم ہوتے ہیں۔ سفید کپڑا تو محض روح ہوتا ہے تبھی تو اُس سے مُردہ کا تن لپیٹا جاتا ہے۔ اُس نے خود بھی کبھی سفید لباس نہیں پہنا تھا۔ عموماً وہ کالے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے لباس میں نظر آتا تھا۔

 

حُب دار حسین کو رنگوں کی خوب پہچان ہے۔ اُسے جو بھی رنگ نمونے کے طور پر دکھایا جائے وہ عین وہی رنگ دئیے گئے کپڑے پر اُتار دے گا۔
پہلے وہ رنگ ساز بھی تھا اور رنگنے کے لئے خود رنگ تیار کرتا تھا۔ جب اُس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا گئی تو اُس نے رنگ بنانا چھوڑ دئیے تھے اب وہ محض بازاری رنگ استعمال کیا کرتا تھا۔ بیوی کے زکر پر وہ اکثر آبدیدہ ہو جاتا اور کہتا “بس جی امیراں مرتے ہوئے مجھ سے رنگوں کی پہچان بھی لے گئی۔ اب تو مجھے سُرخ اور لال رنگ میں فرق ہی سمجھ نہیں آتا، آسمانی رنگ بنانے لگوں تو وہ کالا ہو جاتا ہے۔ اب رنگ بنانے کا کام مجھے خود سے آگے کا لگ رہا ہے اب تو رشید رنگ ساز سے بنا بنایا رنگ لے آتا ہوں اور اُسی سے کام چلا لیتا ہوں۔” امیراں مرنے سے پہلے اُسے ملازم حسین کا تُحفہ دے گئی تھی۔ پیدائشی طور پر ملازم حسین کا نچلا دھڑ اوپر والے سے بہت چھوٹا تھا۔ اُس کی پولیو زدہ پنڈلیوں پر گوشت برائے نام تھا۔ حُب دار کو یقین تھا کہ امیراں نے خُدا کے ساتھ مل کر یہ سازش رچائی تھی تا کہ وہ ادھورے بچے کے ساتھ بالکل ادھورا ہو جائے اور کبھی بیاہ نہ کر سکے۔ امیراں کے مرنے کے بعد کے دس سال اُس نے بڑی مشقت سے کاٹے تھے۔ پہلے دو تین سال تو اُس کی بڑی بہن نے اس کا ہاتھ بٹایا تھا لیکن جب آس کے شوہر نے اُسے اپنے پاس دبئی بلوا لیا تو ملازم حسین کی دیکھ بھال کی ساری زمہ داری حُب دار حسین کے کندھوں پر آ پڑی۔ اُس نے گھر کے ساتھ ہی قاسم ہوزری والے کی دوکان کے سامنے اپنا پھٹہ لگا کر کام شروع کر دیا۔ اُس کا ایک کان اور ایک آنکھ ہر وقت گھر کی طرف لگی رہتی اور دوسرے کان اور دوسری آنکھ سے وہ گاہک تلاشتا۔

 

ملازم حسین سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھا ویڈیو گیم کھیلتا رہتا اور جب بھی اُسے ہگنے موتنے کی حاجت ہوتی وہ گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکالنی شروع کر دیتا۔ جس پر حُب دار دوڑتا ہوا گھر آتا اُسے بازوں پر اُٹھا کر لیٹرین لے جاتا پھر اُسے دھلا کر واپس ٹی وی کے سامنے چھوڑ دیتا ۔ ملازم حسین کو بھی لگتا ہے اپنے باپ سے خدا واسطے کا بیر تھا جیسے ہی کوئی گاہک آتی وہ گلے سے وہی حیوانی آوازیں نکالنا شروع ہو جاتا اگر حُب دار ذرا سی بھی تاخیر کرتا تو وہ کپڑوں ہی میں فارغ ہو جاتا جس پر اُسے باپ سے نہایت سخت سننی پڑتی اور کبھی کبھی تو حُب دار اُسے ایک دو ہاتھ بھی لگا جاتا۔

 

ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے
صفورا بیگم ایک پنتیس سالہ بیوہ خاتون تھی۔ جس کی عین جوانی میں بیوگی بھی اُس کی فطری شوخی کو ختم نہ کر سکی تھی۔ جب وہ اپنے کسے ہوئے جسم پر خوب کسا ہوا لباس پہنے کسمساتی ہوئی حُب دار کے پاس کپڑے رنگ کروانے آتی تو اُس کے وجود کی ہر رگ میں تناو پیدا ہو جاتا۔ اُس کے کپڑوں کے رنگ حُب دار رنگ ریز کی آنکھوں میں آٹکھلیاں کرنے لگتے اور اُس کے دل کا رنگ گلابی ہو جاتا۔ ایسے میں حُب دار کا من کرتا کہ وہ اُس کے تمام کپڑوں کو اُس کے وجود سمیت گلابی رنگ میں رنگ دے لیکن ملازم حسین تو گویا اسی موقع کی تاک میں ہوتا وہ فوراً ہی بے وقت کا راگ الاپنا شروع کر دیتا اور جب وہ اُسے اٹھا کر لیٹرین کے اوپر کرتا تو وہ کچھ بھی نہیں کرتا تھا بس ٹکڑ ٹکڑ اپنے باپ کو دیکھتا رہتا ایسے میں اُس کی آنکھیں بالکل اپنی ماں جیسی لگنے لگتی اور حُب دار حسین کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگتا نتجتاً وہ اپنے بیٹے کو دو چار ہاتھ لگا دیتا۔

 

جب وہ دوپہر کو کھانا کھانے گھر جاتا تو ملازم حسین ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف ہوتا اور وہ اُسے حیرانی سے ویڈیو گیم کھیلتے دیکھتا رہتا اُسے آج تک اس کے ویڈیو گیم میں اس قدر انہماک کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ویڈیو گیم میں دو کردار تھے جو ہمہ وقت لڑتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اُن کی آنکھوں میں خون اُتر آتا اور وہ ایک دوجے پر پل پڑتے۔ حُب دار کو ان کی دشمنی کی وجہ کبھی پتہ نہ لگ سکی۔

 

ایک دن جب وہ صفورا کے کپڑے رنگ کر آیا تو وہ بیٹے کو گیم کھیلتے ہوئے غور سے دیکھنے لگا۔ اُس ان پہلی دفعہ اُس پر انکشاف ہوا کہ ان دو لڑتے ہوئے کرداروں کے پس منظر میں دونوں کا حمائتی مجمع لگا ہوا ہے اور مخلف گروپوں کے درمیان لوہے کا ایک جنگلہ ہے وہ سب لوگ ہر مکے ہر لات پر کھڑے ہو ہو کر تالیاں بجاتے تھے۔ حُب دار حسین کو یقین تھا کہ اُس کی طرح یہ سب لوگ بھی ان دونوں کرداروں کی دشمنی سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے۔ ان دونوں کے چہرے واضح نہیں تھے۔ لیکن ہر پانچ منٹ کے بعد وہ دونوں اوپر اُٹھ کر اُسی انداز میں ایک دوجے کا بوسہ لیتے اور پھر مجمع کا حصہ بن جاتے۔ اب حُب دار حُسین کی نظر لڑتے ہوئے کرداروں کے پس منظر میں محبت کی اُس داستان پر ٹھہر گئی۔ اُس پورے گروہ (شاید پوری دنیا) میں سوائے حُب دار کے کسی کو اُن کی محبت کی کہانی کی خبر نہ تھی۔

 

صفورا کب کی جا چُکی تھی حُب دار کے اندر رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا، رنگوں کی لہریں ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی سیاہ رنگ میں بدلتی جا رہی تھیں۔ اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے شروع ہو گئے اور وہ واپس گھر آ گیا۔
اگلی دوپہر تک حُب دار کی آنکھوں کے سامنے وہی داستان دہرائی جاتی رہی ۔ اُس کا دل کام میں بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ دوپہر کے وقت صفورا اُس کی دوکان پر آئی وہ ایک سفید دوپٹے پر کالا رنگ کروانے آئی تھی کیونکہ کل سے محرم شروع ہو رہا تھا۔ عموماً وہ گاہکوں کو یہی کہتا تھا “ آپ زرا بازار سے گھوم آئیں میں پانچ منٹ میں رنگ کر دوں گا اُس کے بعد آپ کپڑے گھر بھی لے جا کر سُکھا سکتے ہیں”۔ لیکن اُس دن اُس کا دل کر رہا تھا کہ صفورا بس وہی سامنے کھڑی رہے اور وہ اُسے ویڈیو گیم کے انکشاف سے آگاہ کرے۔ اُسے لگ رہا تھا کہ اُس نے کائنات کا کوئی عظیم ترین راز پا لیا ہے۔ لیکن وہ شدید ترین کوشش کے باوجود اُسے کچھ نہ بتا پایا۔ جب وہ اُسے رنگ آلود دوپٹہ واپس کر رہا تھا تو اُس کی اُنگلیاں دانستہ طور پر صفورا کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں تو دفعتاً اُس کے دل میں خیال آیا کہ کاش وہ آہنی جنگلہ درمیان سے ہٹ جائے۔ صفورا کب کی جا چُکی تھی حُب دار کے اندر رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا، رنگوں کی لہریں ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی سیاہ رنگ میں بدلتی جا رہی تھیں۔ اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے شروع ہو گئے اور وہ واپس گھر آ گیا۔ غسل خانے میں جاتے ہی وہ کپڑے اتار کر اپنے وجود کو دیکھنے لگا۔ اس کے جسم میں برقی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اُس نے ہاتھوں پر صابن لگایا اور مشت زنی کرنے لگا۔ پتہ نہیں وہ کتنے سالوں بعد مشت زنی کر رہا تھا۔ یکایک اُس کے کانوں میں ملازم حسین کی بے ہنگم آوازیں ٹکرانے لگیں وہ شعوری طور پر ان آوازوں سے لا تعلقی اختیار کر کے زور زور سے ملنے لگا۔ وہ پنجوں کے بل اُٹھ چکا تھا اُس کی سُرین سکڑ رہی تھی ۔ اُس کے دونوں بازوں، کہولوں، پنڈلیوں اور رانوں میں درد ہونے لگا تھا۔ ملازم حسین کی آوازٰیں بلند ہو چکی تھیں۔ حُب دار تھک چکا تھا اُس کے کندھوں کے بیچ میں درد ہونے لگا تھا اُسے یقین ہو گیا تھا کہ اُسے انزال نہیں ہونے والا۔ وہ جلدی سے کپڑے پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ملازم حسین کپڑوں میں ہی پیشاب کر چکا ہے۔ وہ تقریباً اُسے گھسیٹتے ہوئے غسل خانے میں لایا اور اُسے نل کے نیچے کر دیا۔ حُب دار کو شدید غصہ آ رہا تھا۔ وہ چیختے ہوئے بولا “بد بخت تو اپنی ماں کے ساتھ مر کیوں نہیں گیا۔ اب آئندہ اگر تو نے کپڑوں میں پیشاب کیا تو میں تیری پُھلو کاٹ کے کتوں کو کھلا دوں گا” ملازم بے تاثر چہرہ لئے اُسے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی ٹانگیں بُری طرح سے کانپ رہیں تھیں اور اُس کی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اففففف اُس کی آنکھوں میں قیامت کا سوگ جھلملا رہا تھا۔ محرم کا چاند نظر آ چکا تھا۔

 

آج عاشور کا دن تھا۔ یہ دن تمام دنوں سے زیادہ تاریک اور سیاہ تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حُب دار حسین نے اذانِ علی اکبر کے ساتھ ہی ملازم حسین کو قیدی بنا کر امام باڑہ کے صحن میں موجود علم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔
آج عاشور کا دن تھا۔ یہ دن تمام دنوں سے زیادہ تاریک اور سیاہ تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حُب دار حسین نے اذانِ علی اکبر کے ساتھ ہی ملازم حسین کو قیدی بنا کر امام باڑہ کے صحن میں موجود علم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ دن آہستہ آہستہ گزرتا جا رہا تھا۔ حُب دار حسین نے سُرخ شربت کی سبیل لگائی تھی گو کہ وہ خود فاقے سے تھا لیکن نہایت دلجمعی سے مومنین کو شربت پلا رہا تھا۔ ظہرین سے ذرا پہلے اُس کے کان اُس کی توجہ کھینچتے ہوئے امام بارگاہ کے صحن میں موجود علم کی طرف لے گئے جہاں چند نوجوان نہایت غصے میں ملازم حسین پر چیخ رہے تھے۔ وہ دوڑ کر اُس طرف جانے لگا وہ قریب پہنچا تو اُس پر صورتحال واضح ہوئی ملازم حسین نے وہی پر اپنے کپڑوں میں پیشاب کر دیا تھا۔ اس سے پہلے کے حُب دار وہاں پہنچتا ایک نوجوان آگے بڑھا اور اُس نے ایک زور دار تھپڑ ملازم کے گال پہ دے مارا اور دہاڑتے ہوئے کہنے لگا “ ابے او معا۔۔۔۔ کی اولاد تو نے امام بارگاہ میں موت دیا ہے” ایک اور نوجوان آگے بڑھا اور ملازم حسین کو ٹھوکر مارتے ہوئے بولا “اس حرامی کو لایا کون ہے یہاں” حُب دار کے بڑھتے قدم رُک گئے۔ ایک اور نوجوان ملازم حسین کو کھینچ کر علم سے دور لے جانا چاہتا تھا پر اُس سے ملازم کے پاوں میں پڑی بیڑی نہ ہٹتی تھی۔ حُب دار گنگ تھا وہ خود اپنے بیٹے کو تھپڑ مارنا چاہتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اُس نوجوان کا تھپڑ گویا اُس کے دل پر لگا تھا۔ اتنے میں امام بارگاہ کے منتظم فواد بخاری آگے بڑھے اور گونج دار آواز میں بولے ” پرے ہٹ جاو سب۔ بد بختو دیکھتے نہیں مجذوب ہے بیچارہ۔ کم از کم آج کے دن تو اپنے دلوں کو وسیع رکھو کیا یہ سبق پڑھایا تھا مولا نے ہمیں” وہ ایک بالٹی پانی کی بھر کر لائے اور ملازم حسین پر انڈیل دی۔ ملازم حسین کے ہونٹوں سے خون رس رہا تھا، کھینچا تانی نے اس کی پنڈلیوں کو زخمی کر دیا تھا وہ اپنے اوپر گرتے پانی کو چاٹنے لگا۔ حُب دار تھکے قدموں کے ساتھ واپس سبیل کے پھٹے کے پاس چلا گیا۔ مولانااسد کاظمی کے گھر سے سو فٹ اونچا علم برآمد ہو چکا تھا اور اُس کے وسیع پھریرے نے پورا امام بارگاہ پر سایہ کر دیا۔

 

ظہرین کے بعد ہی مختصر مجلس کے بعد ہی شبہیہ ذوالجناح بھی مولانا اسد کے گھر سے برامد ہوئی۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا زولجناح نہیں تھا۔ ۔ مکمل سیاہ چمکتے ہوئے بھاری بھرکم ذوالجناح (جس کا قد سات فٹ سے بھی نکلتا ہوا تھا) کو صرف عاشور کے دن باہر نکالا جاتا تھا تبھی تو پورا شہر ہی اُسے دیکھنے کو اُمڈ پڑتا تھا۔ آج ایک تو شدید گرمی اور حبس تھی، رش بھی پچھلے سال کی نسبت زیادہ تھا۔ اس قدر گھٹن میں ذوالجناح بے قابو ہو کر دائیں طرف کو دوڑ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی امام بارگاہ میں بھگڈر مچ گئی۔ بھاگتے ہوئے لوگوں کے قدم امام بارگاہ کے صحن کی طرف تھے اور حُب دار حسین کا دل کُچلا جا رہا تھا۔ ۔ وہ بھاگ کر اندر کی طرف دوڑا مگر رش اس قدر زیادہ تھا کہ وہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ ماتمی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ لوگ اونچی اونچی اواز میں درود پڑھنے لگے۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں مجمع قابو میں آیا تو حُب دار حسین مجمع کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا اُس نے دیکھا امام بارگاہ میں جگہ جگہ جوتیاں بکھری پڑی ہیں۔ اور آخری کونے میں ملازم حسین کو وجود پڑا ہے۔ اُس کا سر ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا ۔ اُس کے کپڑے گیلے ہو رہے تھے، اب پتہ نہیں وہ پسینہ تھا یا خوف کے عالم میں اُس کا پیشاب نکل گیا تھا یا پھر یہ اُسی کا خون تھا۔ اُس کا کالا لباس تمام رنگوں کو نگل چکا تھا۔ حُب دار حسین کے پہنچنے سے پہلے ہی امامیہ سٹوڈنٹس کے سکاوٹس اُسے سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس کی طرف لے جا چکے تھے۔ عصر کا وقت ہو چکا تھا لیکن دھوپ کی شدت میں تا حال کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ حُب دار ایمبولینس تک نہ پہنچ پایا تھا کہ جلوس چل پڑا اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ سینہ کوبی کرتے ہوئے جلوس میں شامل ہو گیا۔ مغربین کے بعد جلوس مرکزی امام بارگاہ پہنچا۔

 

شام غریباں آ چکی تھی۔ امام بارگاہ کی تمام بتیاں گُل کر دی گئیں تھیں۔ جلتے خیموں کی یاد دلوں کو جلا رہی تھی۔ امام بارگاہ کی دیواروں پر بین کرتے ہوئے سائے نمودار ہونے لگے۔
شام غریباں آ چکی تھی۔ امام بارگاہ کی تمام بتیاں گُل کر دی گئیں تھیں۔ جلتے خیموں کی یاد دلوں کو جلا رہی تھی۔ امام بارگاہ کی دیواروں پر بین کرتے ہوئے سائے نمودار ہونے لگے۔ ایک طمانچے کا ذکر چلا تو لوگوں نے طمانچوں سے اپنے منہ پیٹ لئے۔ ہر طرف آہیں اور سسکیاں ایک دوجھے کے گلے لگ کر ماتم کر رہیں تھیں۔ ذاکر پوری شدت کے ساتھ مصائب پڑھ رہا تھا۔ جب وہ ہر جملے کے بعد کہتا “خدا تمہیں کوئی غم نہ دے سوائے غم حسین کے” تو بے ساختہ حُب دار حُسین کے لبوں سے کُوک نکل جاتی اور وہ بلند آواز سے بی بی کو پُرسہ دینے لگتا۔

 

شام غریباں کی مجلس کے بعد سب کچھ لُٹے جانے کا احساس لئے حُب دار حُسین بکھرے گرد آلود بالوں، کُھلے گریبان اور سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سول ہسپتال میں داخل ہوا تو ہسپتال کے اندرونی دروازے کے ساتھ ہی ٹی وی چل رہا تھا۔ نیوز چینل کا لوگو آج کے دن کی مناسبت سے سیاہ تھا۔ نیوز کاسٹر ایک خوش شکل نوجوان تھا جو اپنے چہرے پر مصنوعی سوگواری سجائے خبر پڑھ رہا تھا۔

 

“آج عاشور کے حوالے سے ملک بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی، کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔”
Categories
فکشن

پستان – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-3
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔
کاغذ کی ڈور پر ایک ساتھ بہت سارے پسووں نے حملہ بول دیا تھا، جیسے کسی باسی کھانے میں پھپھوند لگ جاتی ہے، اسی طرح ایک پھولی ہوئی سیاہ ہیت اپنے آپ کو سنوار رہی تھی، ابھی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کون سی طاقت ہے، جو ان بنتے بگڑتے خطوط کو ملا کر ایک تصویر بنا دے گی، تصویر بنانا بہت اہم عمل ہے، اس عمل سے دنیا کی بہت سی مقدس تدبیریں خوف کھاتی ہیں۔ تصویر میں زندگی ہوتی ہے، آنکھیں اور بھڑکتا ہوا بدن، اگر بنانے والا خدا ہو تو تصویر بھی دیوی کا روپ اختیار کرسکتی ہے، اور پھر سر سے پیر تک بدن کی ایک تباہ کن کیفیت کو منعکس کرنا اور وہ بھی انگلیوں کی مدد سے، یہ ایک ایسا کام ہے، جس کے لیے مشقت اور مہارت دونوں باتوں کی بے انتہا ضرورت ہے۔صدر تصویر بناتے ہوئے اکثر سانس بھی روک لیا کرتا تھا، اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔ ایک نظر میں کبھی کبھار یہ بات بہت مشکل سے دکھائی دیتی کہ اس نے کسی تصویر میں اپنی مخصوص پستان سازی کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عورت کے بدن کے اس اوپری حصے سے اس کی دلچسپی غیر معمولی تھی، ایک دفعہ جب اسے کسی چوہے کی تصویر بنانے کا خیال آیا تو اس نے چوہے کے پیٹ کو ایسی بھربھراتی ہوئی شکل بخشی، جس کے گہرے بھورے رنگ کے گچھے دار بالوں کو دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی پستان پر بہت سے بال اگ آئے ہوں۔۔۔۔ یہ ایک ایسی عجیب کیفیت تھی، جس سے اس کا چھٹکارا ممکن نہیں تھا۔ حالانکہ اس کے کچھ اساتذہ اسے بتا چکے تھے کہ ہندوستان کے بہت سے مصور ساری زندگی ایک ہی شکل کو متشکل کرتے رہے ہیں، کسی نے تمام عمر صرف اوم پینٹ کیا، کسی نے تا حین حیات صرف صفر کا عدد بنانے پر قناعت کی۔

 

کسی بھی تصویر کو سرسری دیکھنے والے عام طور پر وہ پیٹرن سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایک تخلیق کار کا خاصہ ہوتی ہے، ایک مصور کا اسلوب، جس سے اس کی اپنی شناخت اپنے کینواس اور برش پر ظاہر ہوتی ہے، صدر نے پستان کے ساتھ اپنا ایک ایسا ہی تعلق بنایا تھا۔۔اور آج جب اسے ایک کولی لڑکی کے پستانوں کو تراشنا تھا تو اس نے سانسیں روک لی تھیں،اس نے کچ کا چہرہ بنایا،گردن، سڈول کمر،پیٹ کا شفاف بل کھاتا ہوا حصہ، شرم گاہ پر موجود ہلکی سیاہ دھاریاں اور ران، ان پر گھٹنوں کی دو ننھی رکابیاں، جو ہلکے پیلے بدن پر آنچ لگی ربڑی کے رنگ کی تھیں، پنڈلیاں،ان پر ڈھلتی ہوئی بوندیں، اور پانی کے ساتھ وصل کرتے ہوئے پنجے تک بنا دیے، پھر وہ چہرے پر واپس آیا، اس نے آنکھوں کے دونوں حلقوں کو بڑی احتیاط سے تراشا، جیسے پھل فروش گاہکوں کی خواہش پر تربوز کا پھانکا لگاتے ہیں۔پھر ان میں دو کانچ کے رنگ کی آنکھیں، گالوں پر ہلکے گڑھے، بالوں کی لٹوں کو عین اس کی نقل کے مطابق نقش کیا، بغلوں کا حصہ جب وہ پھیلا رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کچ کی بغل میں ہلکی گدگدی کررہا ہے۔بہت دیر تک جب وہ کچ کی تصویر گری میں مصروف رہا اور بدن کے ایک ایک حصے کو جلتی ہوئی پرچھائیوں میں ڈھال چکا تب اس نے دیکھا کہ سینے پر بنے ہوئے دائرے بالکل سفید ہونقوں کی طرح، کسی آسیب کی پھٹی ہوئی آنکھوں کی مانند اسے گھور رہے ہیں، اس حصے کو بنانے سے پہلے وہ پھر ایک دفعہ کچ کے پاس آیا، کچ بڑی مشکل سے خود کو اسی پوز میں سنبھالے کھڑی تھی، صدر نے کہا:

 

“میں نے ابھی پستانوں کا حصہ نہیں بنایا ہے”

 

“کیوں؟”

 

“تصویر سے پہلے اس کے لیے مجھے تمہارے بدن پر کام کرنا ہوگا، جب یہاں پستان واقعی بن جائیں گے، تو وہاں بھی بنادوں گا۔”

 

“کیسی بات کررہے ہو صدر”اس نے منہ میں آجانے والے پانی کو پیتے ہوئے کہا۔”اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا۔”

 

صدر نے اس کی بغلوں پر زبان رکھ دی، وہ پانی کے بہتے ہوئے منظر میں ہانپنے ہوئے کسی کتے کی طرح اس چھوٹے سے دونے کو چاٹنے لگا۔پھر گردن تک چلا آیا،جب وہ کچ کی گردن کی کھال کو جمع کرکر کے اپنے منہ میں بھر رہا تھا، اس وقت بے اختیار کچ کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر چلا گیا، اتنی دیر تھی کہ دوسرے ہاتھ نے بھی بغاوت کر دی، بھیگتی ہوئی رات کے اس چھوٹے سے آباد خانے میں دو بدن شرارے چھوڑنے لگے اور پانی اس جلتی، دہکتی، لاوا ابلتی ہوئی آواز کا گواہ بن گیا۔ کچ نے اپنی انگلی کو پہلے اپنی شرم گاہ میں پیوست کیا اور پھر وہاں سے اسے نکال کر صدر کی زبان پر اسے تیرانے لگی جیسے کوئی بریڈ پر جام لگایا کرتا ہے۔صدر کو کچ کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنے انتہائی ہوس ناک اندرون کے جاگتے ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔وہ ایک نیولے کی طرح پہلے اسے پے در پے مختلف داو پیچ سے اتنا تھکا دیتی ہے کہ آخر کار وہ اس کا شکار ہوجانا ہی مناسب خیال کرتا ہے۔

 

٭٭٭

 

صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔
صبح اس دن تھک کر چور ہوچکی تھی، اسی لیے اس نے اپنے وجود کو پھیلا کر پودوں کی پیلاہٹ، چیلوں کی اڑان، خچروں کی تھکن اور بھکاریوں کی آواز تک وسیع کردیا تھا،جب صدر کی آنکھ کھلی تو اس کی دھندلی نگاہوں نے دیکھا کہ چاروں جانب کہر کی ایک عجیب سی چادر ہے، یہ چادر ہلکے ہلکے کسی گیلے ٹشو پیپر کی طرح پھٹنے لگی اور اس میں سے ایک اور دوسرا تولیا نما منظر برآمد ہوا، جس نے اس ساری گیلاہٹ کو اپنے بدن میں جذب کرلیا تھا اور اب سب کچھ سوکھا، بے جان اور کریہہ نظر آرہا تھا، دھوپ اس قدر سخت نکلی ہوئی تھی کہ باہر کا منظر دیکھنے کا دل نہ چاہتا تھا، مگر پردے کھلے تھے اور ڈرائنگ روم کے پیٹ میں پڑی میز اور دو کرسیوں پر دھوپ بیٹھی ہوئی قہقہے لگارہی تھی، اس نے آگے بڑھ کر جلدی سے پردہ کھینچ دیا، پردہ کھینچتے ہی دھوپ تو غائب ہوگئی، لیکن ایک قسم کی دبیز گرماہٹ ابھی اس کے کولہوں کی تپن کا احساس کرارہی تھی، جیسے کوئی شخص کرسی پر اٹھ کر اپنے چوتڑوں کی بساند، بدنیت اور گرم سانسیں اس پر رکھ کر بھول جاتا ہے، پھر دھیرے دھیرے جیسے ہواوں کی کمانیں کستی ہیں، تو مناسب موقع پر اس چھون کا تیر تیزی سے کرسیوں کی پشت سے چھوٹ کر دیواریں پھاڑتا ہوا کہیں دور جانکلتا ہے۔

 

صدر کی نگاہ بھی اس وقت اس کی بنائی ہوئی ایک ایسی ہی پینٹنگ پر مرکوز تھی، جس میں اس نے کمان بنائی ہوئی تھی، یہ کمان ایک عریاں عورت اپنے سینے پر رکھے ہوئے سو رہی تھی، سونے کی کمان، جس سے ایک ربڑ نما ڈور بندھی ہوئی تھی، کمان کا سخت حصہ مرد کے عضو تناسل کی صورت میں بنایا گیا تھا، وہ عورت کے سینے پر یوں رکھا ہوا تھا، جیسے وہ کوئی یونانی دیوی ہو، جسے عضو تناسل سے محبت اور رقابت دونوں کا رشک حاصل ہو، یونان کی وہ واحد عورت، جسے پورے وقار کے ساتھ ، کسی مرد نے ایک رات اپنی شرمگاہ کا امین بنایا ہو، اور دوسرے دن وہ نوبالوں، شہہ بالوں کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہو۔ عورت کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا اضطرار تھا، جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو، وہ خواب جو اس کے ادھورے وصل اور یونانی تہذیب میں عورت کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی سب سے کرب ناک داستان کو بیان کر رہا ہو، وہ عورت جس کے ہاتھ میں پھنسی ہوئی کمان اس اژدہے کی طرح ہو، جس پر اس عورت کا عتاب بس نازل ہونے والا ہے، زمین بس پھٹنے والی ہے اور یہ اژدر نما کمان دنیا کی باقی تمام تہذیبوں، تمام تاریخوں اور تمام ملکوں میں زمین پر اپنی تسکین کے لیے زمین پر گھسٹنے پر مجبور کردی گئی ہو۔وہ عورت جو دو دنیاوں کی مالک ہے، جس کے کھلے ہوئے ہونٹوں، دھنسی ہوئی آنکھوں اور بدن کے پھیلے ہوئے صحرا میں اس کی تسکین کا سارا سامان اس نے خود انسانی فطرت کے ہاتھوں گنوادیا ہو، اور وہ یونان کے گلی کوچوں سے لے کر مصر کے بازاروں تک گورے چٹے، ہٹے کٹے مردوں، لڑکوں کی تجارت ہوتے ہوئے دیکھ کر پیچ و تاب کھا رہی ہو۔ جب وہ انسانی صورت میں ڈھلی ہوئی اور اس نے اپنی اس ہوس کی تکمیل کے لیے کسی عام سے خوبصورت لڑکے کو اپنی جانب راغب کیا ہو تو اچانک اسے معلوم ہوا ہو کہ یہ تو پیغمبر ہے، اس نے اپنے کسی دوست کو اپنے پستانوں پر ہاتھ لگانے پر آمادہ کر لیا ہو تو اسے محسوس ہوا ہو کہ دو دنیاوں کے خدا نے اس حرکت سے تنگ آ کر اسے دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہو۔ وہ عورت اتنے سارے خواب یا عذاب اپنی آنکھوں میں سمیٹے ایک خوبصورت مخملیں بستر پر سو رہی تھی، اور کمان اس کے سینے پر دھری تھی۔۔۔۔صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔

 

“تمہیں بھوک نہیں لگی؟ “کچ نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے مچی مچی آنکھوں کے ساتھ کہا۔

 

“ہمم۔۔۔کچھ ہے نہیں ابھی، میں نیچے سے کچھ لے آتا ہوں، تم جب تک فریش ہوجاو”یہ کہہ کر وہ تصویر میں ڈٹے ہوئے

 

کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔
انہماک کی پڑیا بنا کر اسے ایک جانب پھینکتے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا۔کچ اٹھی، اس نے دھندلی نگاہوں کے ساتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ٹٹولا اور برش کرنے لگی، اس نے پنکھا تیز کیا اور پردہ کھینچ دیا، اس وقت کوئی بادل سورج کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا، اور پورے آسمان میں اتنا بڑا بادل دور دور تک کہیں اور دکھائی نہ دیتا تھا، کچ نے حیرانی سےآسمان کو دیکھا، وہ سورج کی بے بسی پر مسکرادی، اسے علم تھا کہ ابھی کم از کم دس بارہ منٹ تک دھوپ اس بادل کے سرکنے کا انتظار کرتی رہے گی اور اس کی تیز و دھار دار فوجیں بادل کی روئی جیسی پیٹھ پر اپنی تلواریں برسا برسا کر بے دم ہوجائیں گی، مگر پانی اور دھوئیں کو کون کاٹ سکتا ہے۔ اسے اسی لیے ان دونوں چیزوں سے بہت پیار تھا۔۔۔ وہ پانی کو ایک انسان کے طور پر دیکھتی تھی،ایک ایسا انسان جو اچھا برا، غلیظ، نمکین، ہرا، کالا، گہرا گلابی یا پھر کوئی بھی رنگ اپنے اندر سمولیتا تھا، بغیر کسی شکایت کے۔ پانی کچھ سوچتا نہیں، بس چیزوں کو قبول کرتا ہے اور دھواں؟ کہتے ہیں کہ دھواں اگر انسانی دماغ میں گھس جائے تو اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماوف کر دیتا ہے، پھیپھڑوں میں گھس جائے تو انسان کے سینے میں اپنا سینہ پیوست کر کے اسے بھی اپنے جیسا بنا دیتا ہے، منہ کے راستے داخل ہو تو ناک کی نالیوں سے تیر کر کسی مشاق تیراک کی طرح باہر نکل آتا ہے، دھوئیں کو کتنا بھی قید کرو، وہ اپنے باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ نکالتا ہے، بالکل عورت کی طرح۔مرد کو پانی اور عورت کو دھواں سمجھنے والی کچ اس وقت کلی کر رہی تھی، واش بیسن پر لگا ہوا نل جس وقت اس نے بند کیا، صدر سامان لینے نیچے جاچکا تھا، اب موسم میں دھوپ پھر واپس آ گئی تھی، بادل کا وہ ٹکڑا نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔

 

اس نے ریڈیو آن کیا تو کھرکھراتی ہوئی آواز میں اینکر نے خبریں سنانی شروع کردیں۔موسم کے حال سے لے کر دنیاکے احوال تک، اپنے وطن کی برتری کی داستانیں، جیسی باقی کی کوئی زمین، زمین ہی نہ ہو، کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو زمین سے بڑی فاحشہ اور کون ہو گی، جس کے پستانوں سے لٹکتی ہوئی قومیں خود کو یہ باور کراتے کراتے تاریخ کی نذر ہو جاتی ہیں کہ یہ ان کی ماں کے پستان ہیں، جبکہ وہ انہی پستانوں کو کسی شرابی ڈھنڈاری، معیشت اور قسمت سے پٹے ہوئے ادھیڑ عمر کے ایک شخص کی طرح نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں، ان دودھ ابلتی شریانوں سے اپنا منہ بھڑا دینے کے لیے بہت سے انسانوں کا قتل بھی جائز سمجھتے ہیں۔ زمین ماں نہیں ہے، زمین ماں نہیں ہوسکتی۔۔ زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور اس کے ہاتھ سے خیالات کا تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر گیا، خیالات منتشر ہوگئے لیکن اس نے پھر بھی زمین پر گھورتے ہوئے صدر سے پوچھا۔

 

زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
‘وہ زمین پر تم نے کسی شاعر کا شعر سنایا تھا اس دن؟ کیا تھا وہ؟ بہت اچھا لگا تھا مجھے؟’

 

‘زمین پر تو بہت سے شعر ہیں۔’

 

‘ارے اس میں کچھ کٹاؤ وٹاؤ جیسی بات تھی۔۔۔’

 

صدر نے بریڈ کا پیکٹ کھولتے ہوئے مسکراکر جواب دیا۔’اب یاد کر لو، بار بار نہیں سناؤں گا۔ اسعد بدایونی کا شعر ہے

 

میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ
آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے’

 

اس نے زیر لب شعر دہرانے کی پھر کوشش کی، لیکن وہ غلط ہوگئی، میں رات بھر ان دونوں کے جاگتے ہوئے بدن کی گواہی دیتے دیتے تھک گیا تھا، اس شعر کی تکرار پر میری آنکھیں ڈوبنے لگیں اور میں اپنے وجود میں ڈوبتا چلا گیا، میں جو کمرے کے چوکور پستانوں سے انہیں دیکھتے رہنے کا عادی ہوں۔
Categories
شاعری

پرندے کے پیر پر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پرندے کے پیر پر

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک اندیشہ چپکا ہوا ہے
پلکوں کو یوں جکڑے ہوئے ہے
جیسے آنکھوں میں سوزش ہو
کوئی علامت ہو آشوب کی
وہ سیّال ہو جس کے شر سے
آنکھیں مَلناٗ کھولنا مشکل تر ہو جائے۔۔۔
بس پلکوں کی درزوں سے کچھ روشنی باہر کی آتی ہے
ناکافی ہے۔۔۔
پھر بھی ناکافی منظر نے
دل کو تھپکی دے رکھی ہے
“سب اچھا ہے
اس کو اچھا ہی رہنے دو
باہر کی چبھتی کرنوں کو
آنا ہو تو آ جائیں گی
اندیشے کا مادّہ آنکھیں کھولنے سے جو روک رہا ہے
روکے رکھو
خواب سہیٗ پر خواب نہ توڑو
جب تک یہ ناکافی منظر دیکھ سکو
بس دیکھتے جاؤ”

 

اندیشہ لیکن آنکھوں میں گھس کر دہرائے جاتا ہے
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی”

 

اندیشہ اب تک چپکا ہے
آنکھیں اب بھی بند نہیں ہیں
منظر اب بھی ناکافی ہے
خواب حقیقت جانے کیا ہے
سوزش تو بڑھتی جاتی ہے
اندیشہٗ آشوب کا چیلا
دھیرے دھیرے آنکھوں کو بھرتا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Image: Outburst of fear by Paul Klee
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دراز دَستوں کی سلطنت ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دراز دَستوں کی سلطنت ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

گُلِ تمنّا بکھر چکا ہے
یہ شہر لاشوں سے بھر چکا ہے
دریدہ جسموں کی باس سے پُر ہَوا کی پا کوب وَحشتوں نے
گلی گلی میں دُہائی دی ہے
جلے مکانوں کی راکھ ہر سُو دکھائی دی ہے
مَیں اپنے حصّے کی راکھ چُن کر تری گلی تک تو آ گیا ہوں
مگر یہاں بھی
نہ تُو’ نہ تیرے لبوں پہ پھیلا ہُوا تبسُّم
یہاں وہاں دُشمنوں کی گھاتیں
کٹے پھٹے بے یقین چہرے
لہو میں ڈوبی ہوئی تمنّا۔۔۔۔ سراب منزل
بدن کو دو لخت کرکے پھیلی مہیب ساعت۔۔۔
نہ آگے بڑھنے کا کوئی یارا’ نہ لَوٹ آنے کی کوئی مہلت۔۔۔۔
کڑکتی بجلی کمند پھینکے تو آسماں سَٹپٹا کے اپنی جہات بدلے
میں بچ نکلنے کی راہ ڈھونڈوں۔۔۔ غنیم چُپکے سے گھات بدلے
شکستہ دیوار و در میں آٹکے کِواڑ دَھم سے گری فصیلوں پہ نوحہ خواں ہیں
جلے دریچوں کے بیچ اب بھی سُلگتی چلمن کی دھجّیاں ہیں
کسی کی چُرمُر کلائی میں ٹوٹی چُوڑیاں ہیں
دریدہ جسموں کے اَدھ جلے ڈھیر میں ابھی تک ترے تبسُّم کی قوس شاید
َاجل کے بوسے کی مُنتظِر ہے
ہزار َاسوَد سرشت لمحے نگارِ خُوباں کے پیچ و خم میں جَڑے ہوئے ہیں
ہم اپنے حصّے کے گھاو لے کر نکل پڑے ہیں

 

بسیط دشت و دَمن میں ہر سُو دراز دَستوں کی سلطنت ہے
ہم اپنی بے محملی میں باندھی شکست کی گٹھڑیاں اُٹھائے
خود اپنی دھرتی پہ بے وطن ہیں
لہو کی چادر نے ڈھانپ لی ہے’ ہمارے زخموں کی بے نوائی
ہماری آنکھوں میں نقش بے منزلی ہزاروں سراب بُن کر
کوئی تو منزل تلاش لے گی
ہماری ہجرت نئے سِرے سے کوئی کہانی تراش لے گی
مگر غلامی کی یہ صلیبیں ہمارے بوجھل سَروں کو اِتنا جھکا رہی ہیں
کہ ہم فقط زخم دیکھ پائیں
دراز دستوں کی سلطنت میں جِدھر بھی جائیں
نظر اُٹھائیں تو سر کٹائیں
خُود اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں فریب کھائیں
ہمارے رختِ سفر میں باندھی گئی ہے صدیوں کی بے قراری
ہمیں تو ایندھن سمَجھ کے جھونکے ہے یہ شکاری

 

نظامِ زر سے فروغ پاتی دراز دستی ہزار حیلوں سے
ہم نحیفوں کو نوچ کھانے کی منتظِر ہے
طلب رسد کے حصار میں رُک کے سانس لیتے تمدُّنوں کو
ضرورتوں نے جکڑ لیا ہے
لباسِ آتِش پہَن کے نکلے یہ لاو لشکر ہمارے خِرمن جلا رہے ہیں
ہماری ہستی مٹا رہے ہیں
نحیف لوگوں کے قافلے بھی ٹھہر کے سوچیں
کہ ظُلم سہنے کی آخری حد کہاں تلک ہے؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

قینچی چپل-پانچویں قسط

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

آج شام کے کھانے کے وقت سے پہلے ہی عثمان کمرے سے نکلا اور میس کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں اُس کے جی میں آئی کہ گارڈ روم کے سنتریوں سے چند باتیں ہی کر لے۔ وہ فکرمند تھا کہ کہیں سچ مچ جوان اس سے بدگمان تو نہیں ہو گئے۔ ابھی گارڈ روم پہنچا ہی تھا کہ احسان کا فون آ گیا۔ “عثمان، تُم وہیں رُکو، میں آتا ہوں تو پھر اکٹھے کھانا کھائیں گے، باہر کہیں، کسی ہوٹل میں”احسان بڑے اچھے موڈ میں تھا اور اسے ابھی تک عثمان نے نہیں بتایا تھا کہ آج اُس کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔ وہ وہیں رُک کے مشین گن پکٹ سنتری سے باتیں کرنے لگا ۔روائتی افسرانہ احوال پُرسی۔ ‘کیسے ہو بھئی، ڈیوٹی کیسی جا رہی ہے، گھر بار سب خیریت ہے؟، ڈیوٹی میں کوئی مسئلہ، کوئی اُلجھن؟”وہ پوچھے جا رہا تھا اور نوجوان سیلر بڑی نیازمندی سے باچھیں کھلائے “سب اچھا سر” “الحمدللہ سر” کی رٹ لگائے جا رہا تھا۔

 

میں سمجھتا ہوں کہ دعا بندے اور رب کے درمیان ایک رابطہ ضرور ہے لیکن یہ ‘بم پروف دعا’ مجھے تھوڑی عجیب ہی بات لگی ہے” وہ بولا تو احسان بلند آواز میں ہنسا۔
“تُم نے بُلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنا؟”اُس نے تحکمانہ انداز میں پوچھا۔

 

“سر ابھی یونٹ میں کمی ہے جیکٹوں کی، صرف چند اہم سنتریوں کو دیئے گئے ہیں”سیلر نے بڑے ادب سے جواب دیا۔
“ارے ، یہ کیا ہے؟”عثمان نے سیلر کی مشین گن سے لٹکے ایک سفید ملفوف کارڈ کو دیکھ کر قدرے تجسس سے پوچھا تو کارڈ کی تحریر کے عنوان نے ہی بتا دیا جس میں لکھا تھا “آگ کے عذاب سے بچنے کی مسنون دعا؛ صحابہ نے یہ دعا آگ سے متعلقہ حوادث سے بچنے کے لئے تجویز فرمائی ” ساتھ ہی حدیث کا حوالہ بھی تھا۔

 

“سر یہ آج سی او صاحب کے حُکم سے تمام سنتریوں کو پاس رکھنے کی ہدایت ملی ہے”عثمان وہ کارڈ لے کر اس سے وہ دعا پڑھنے لگا۔

 

اسی اثناء میں اس کا موبائل فون بج اُٹھا تو پتہ چلا کہ احسان بھی آپہنچا تھا۔ احسان کو گارڈ روم سے اندر آتا دیکھ کر وہ ایک لمحے کو تمام ناگواری بھول کر آگے بڑھا اور دونوں بھائی گلے ملے۔ رسمی احوال پرسی کے بعد عثمان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ وہ ابھی تک احسان کو پرسوں کی روداد نہیں بتانا چاہ رہا تھا لہٰذا اس نے سرراہے اسی دعا والے کارڈ کا ذکر چھیڑ دیا جو وہ ابھی مشین گن سنتری کے پاس دیکھ آیا تھا۔
“بھائی آپ کا کیا خیال ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ دعا بندے اور رب کے درمیان ایک رابطہ ضرور ہے لیکن یہ ‘بم پروف دعا’ مجھے تھوڑی عجیب ہی بات لگی ہے” وہ بولا تو احسان بلند آواز میں ہنسا۔

 

“ارے سچ یار؟؟؟ یہ تمہارے سی او نے اسلامی ٹوٹکا استعمال کیا ہے؟”احسان نے ہنستے ہوئے کہا توعثمان کو تھوڑی ناگوار حیرت تو ہوئی لیکن اسے اندازہ ہو گیا کہ بھائی صاحب آج اچھے موڈ میں تھے۔

 

“یار عثمان، تمہیں ایک اور لطیفہ سُناوں۔۔۔” اس نے عثمان کے شانے پر تھپکی دی۔

 

“سلطنتِ عثمانیہ میں جب پہلی بار جب بخارات پہ چلنے والے بحری جہاز عثمانی فلیٹ میں شامل ہوئے تھے تو۔۔۔شائد ایڈمرل حُسین کوچک کا دور تھا۔۔۔ نہیں۔۔۔ خیر، چھوڑو جس کا بھی دور تھا۔،بحری جہازوں کے افتتاح کے دن خلیفہ نے حکم دیا کہ ان جہازوں کی بہتر کارکردگی اور سلامتی کے لئے صحیح بخاری کا ختم شریف کروایا جائے۔ تو پتہ ہے جواب میں ایڈمرل نے کیا کہا؟” آج شائد احسان کافی بولنے کا موڈ لے کر آیا تھا۔

 

“ایڈمرل نے کہا، ‘جنابِ والا، بحری جہاز بخارات سے چلتے ہیں، بخاری سے نہیں’۔۔”احسان نے بات مکمل کی تو دونوں بھائی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔پھر کافی دیر تک ہنستے رہے۔

 

بحری جہازوں کے افتتاح کے دن خلیفہ نے حکم دیا کہ ان جہازوں کی بہتر کارکردگی اور سلامتی کے لئے صحیح بخاری کا ختم شریف کروایا جائے۔
“یار سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طرزِ فکر نے ہمیشہ مروایا ہے ۔وہ کون سے خلفاء تھے جن کے دور میں نپولین نے مصر پہ حملہ کیا تھا”احسان اب نسبتاً سنجیدہ ہو گیا۔

 

“اُنہیں بھی جب پتہ چلا کہ نپولین فوج لے کر آنے والا ہے تو ساری اُوت قوم بھاگے، قرآن پاک کا ختم شریف کرنے، لیکن اس سے پہلے کے قرآن پاک کا ختم پورا ہوتا، نپولین نے آکر بسم اللہ کردی” احسان ہلکا سا ہنسا۔

 

“خُدارا بھیّا، رہنے دیجئے، فی البدیہہ تاریخ گھڑتے ہو آپ بھی” عثمان نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

 

“ناں یار، قسم سے، مولانا وحیدالدین خاں نے لکھا ہے۔۔۔” احسان نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔

 

“بس کریں بھائی، حد ہی کرتے ہیں۔ پتہ ہے، آج ایسی ہی باتوں کی وجہ سے آج سی او صاحب نے میری ایسی لی ہے کہ کیا بتاوں”عثمان نے بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے کہا تو احسان چونکا۔عثمان نے فیصلہ کیا کہ کھانا کمرے میں ہی کھا لیا جائے اور کچن میں فون کردیا۔ اس کے بعد کھانا آنے تک اس نےدودن قبل کی ساری روداد سُنا ہی ڈالی۔ اس کے بعد احسان کا ایک طویل “بھاشن” شروع ہو گیا۔ یہاں اُس نے چند پیش گوئیاں بھی کیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہ بلنڈر عثمان کے کیرئیر کے لئے خطرناک بھی ہو سکتا ہے جسے عثمان نے “ایک دم فضول” کہہ کر جھٹک دیا۔

 

احسان کی اس پیشن گوئی کو درست ثابت ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا۔ اگلے ہی روز نیول سیکریٹیریٹ اور کمانڈر کراچی سے خبریں ملیں کہ کمانڈر حنیف واہلہ اور لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی سے فرداً فرداً وقوعہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عثمان کو ایک طویل عرصے تک دامن بچا کر وقت گزارنا تھا۔خود یونٹ میں سی او صاحب کے غیض و غضب سے بچ کر رہنا بھی بڑا مشکل تھا۔اب متوقع تھا کہ ہفتے بھر میں بورڈ آف انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

سی او صاحب نے آج مغرب کی نماز کے بعد مسجد فرقان میں تبلیغی بیان سُننے کے لئے تمام افسران کو نماز کی جماعت میں آنے کی ہدایت کی تھی لہٰذا عثمان کو بھی نماز مغرب کے بعد ناصرف بیان سُننا پڑا بلکہ افسران کی سوالیہ اور قہرمانہ نظروں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اگرچہ جمعے کے خطبات کا موضوع نیول ہیڈکوارٹر کے نظامتِ تعلیماتِ اسلامی کے ڈائریکٹر کی طرف سے منتخب ہوتا تھا لیکن “بیان” میں عموماً خطیب صاحبان کو آزادی ہوتی تھی اور صبور صاحب اور ان کے ہم خیال خطیب صاحبان تو اکثر “لادین حکمرانوں” کو لعن طعن کا نشانہ بناتے تھے۔ آج کے بیان کے بعد مسجد کے باہر افسران کچھ دیر کے لئے ٹولیوں اور گروہوں میں باہمی دلچسپی کےموضوعات پر باتیں کر رہے تھے تو عثمان بھی ایک ٹولی میں ہو لیا جس میں دو رینکر افسر اور سب لیفٹیننٹ اسد، چیف صبور صاحب کے فرامین سُن رہے تھے۔

 

اگرچہ جمعے کے خطبات کا موضوع نیول ہیڈکوارٹر کے نظامتِ تعلیماتِ اسلامی کے ڈائریکٹر کی طرف سے منتخب ہوتا تھا لیکن “بیان” میں عموماً خطیب صاحبان کو آزادی ہوتی تھی
“سر یہ سب کفار کی سازشیں ہیں کہ مسلمانوں کو باہم لڑاو، ورنہ ہمیں جن لوگوں کے خلاف لڑایا جا رہا ہے، یہ وہی قبائلی نہیں ہیں جن کے جذبہء حُب الوطنی کے پیشِ نظر ایک عرصہ تک افغان سرحد کے دفاع کی ہمیں فکر تک نہیں ہوتی تھی؟۔۔۔ سر، اُن کے ساتھ پوری دُنیا سے ہمارے مسلمان بھائی اپنے گھر بار ، کاروبار چھوڑ کر اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے جہاد میں شامل ہیں اور بحمداللہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور وہ افغانستان میں امریکی استعمار کے خلاف جہاد کر رہے ہیں، اُنہیں ہم سے کوئی دُشمنی نہیں ہے، ہماری سرزمین تو ان کو پناہ فراہم کر رہی ہے جو کہ کفار کو گوارا نہیں ہے۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل دے کہ وہ امریکا سے ڈالر لے کر ہمارے مسلمان بھائیوں سے نہ لڑیں” صبور صاحب بڑی رازداری سے کہہ رہے تھے۔

 

“چیف صاحب، کیوں ناں ہم بھی ان نادان حکمرانوں کی پہنائی ہوئی وردیاں اُتار کر اللہ کی راہ میں پہاڑوں میں نکل جائیں کلاشنکوف اُٹھا کر۔۔۔۔” عثمان نے ناگواری سے کہا تو ایک بار ان سب پر خاموشی چھا گئی لیکن اسد نے جلدی سے موضوع بدل دیا جس کے بعد چند منٹوں میں یہ ٹولی منتشر ہو گئی۔

 

چیف خطیب صبور کی اضافی ڈیوٹی یہ بھی تھی کہ ہر ہفتے کی شام ایڈمرل سعیداللہ کے بنگلے پر جا کر ان کی اہلیہ اور صاحبزادی کو درسِ قرآن کے حوالے سے سبق دے آئیں۔ آج کے درس کے بعد حسبِ معمول چائے کے کپ پر ادھر اُدھر کی “دین کی باتیں” ہونے لگیں تو خطیب صاحب اپنے مافی الضمیر پر آئے۔

 

“دیکیھیں باجی، اللہ معاف کرے، ایڈمرل صاحب، سعیداللہ صاحب جیسے خُدا رسیدہ جرنیل تو اب کم ہی کہیں نظر آتے ہیں ورنہ جو بے دینی پھیل گئی ہے افسران میں، کیا بتاوں۔ نوجوان افسر شاموں کو گٹار اور وائلن لے کر میسوں کے کمروں میں شیطانی ناچ گانے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ کچھ افسران میں تو دُنیا داری اور غرور کا یہ عالم ہے کہ آخرت کی فکر نہیں ہے، بات کرتے ہیں تو دین کی آبرو دیکھتے ہیں نہ کسی سُنّت کا لحاظ۔۔۔” اور یوں بات بآسانی لیفٹیننٹ عثمان اور حافظ ناصر کے واقعے کی طرف چلی گئی۔ حمید رائٹر کے بطورِ سزا تبادلے کا قصہ بھی اسی داستان کی ایک کڑی تھی۔

 

“خطیب صاحب ۔۔۔ آپ کے یونٹ میں بھی ایسا ہو تا ہے، آپ کچھ کہتے نہیں ہیں کسی کو؟؟” ایڈمرل صاحب کی اہلیہ نے حیرت سے کہا۔

 

“نہیں باجی، ہم کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں۔ دین کی بات ہے، جو مان لے، جو نہ مانے، کسی پہ جبر نہیں ہے۔۔۔” خطیب صاحب نے کمال عاجزی کا اظہار کیا تو مسز سعید اللہ نے اُنہیں شہہ دی کہ فوراً ایڈمرل صاحب سے بات کریں اور اُنہیں حالات سے آگاہ کریں۔ خطیب صاحب کی بن آئی کہ اسی دوران ایڈمرل صاحب بھی ڈرائینگ روم میں وارد ہو چکے تھے۔
“میں آج ہی واہلہ سے بات کرتا ہوں۔۔۔ کمال ہے، اُس نے مجھے بتایا ہی نہیں ان واقعات کا۔۔۔ میں اپنی کمانڈ کے کسی یونٹ میں ایسی حرکت برداشت نہیں کر سکتا” ایڈمرل سعید اللہ نے ایک لمحے کے لئے اپنی برقی تسبیح سے اُنگلی اُٹھا کے زور زور سے ہلاتے ہوئے کہا۔

 

وہ ابھی میس کے دروازے پر ہی تھا کہ گارڈروم سے، جو کہ ایک سو گز کے فاصلے پر ہو گا، ایک فلک شگاف دھماکے کی آواز آئی اور ساتھ ہی اسے اتنی قوت سے گرم ہوا کا تھپیڑا لگا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔
اگلے دو تین دروسِ قرآن تک غازی صاحب کے حکم سے بلوچستان بھیجے جانے والے سیلرعبدالحمید کا تبادلہ خصوصی احکامات کے ذریعے اس کے آبائی علاقے سکھر کے نیول سلیکشن سنٹر ہو چکا تھا۔

 

اتوار کا دن ایک بار پھر آیا لیکن آج عثمان کو معمول سے بدیر سہی لیکن اتوار کے معمول سے پہلے ہی جاگنا پڑ گیا کہ آج اس کو آفیسر آف دا ڈے کے طور پر ڈیوٹی کرنا تھی۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب وہ وردی پہن کر گارڈ روم پہنچا اور معمول کے چند کاغذات دیکھ کر دفتر میں بیٹھ گیا۔ چھُٹی کے روز آفیسر آف دا ڈے کے ذمہ کچھ زیادہ کام کاج نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے ساتھ مارکیز کا ایک چھوٹا سا ناول لے آیا تھا جس میں کولمبیا کی بحریہ کے ایک سیلر کے دس دن سمندر میں تن تنہا ایک لائف بوٹ میں گزارنے کی روداد ہے۔ دوپہر کے کھانے سے پہلے تک وہ اسے پڑھ چکا تھا۔ کھانے کے لئے جانے سے پہلے وہ گارڈروم کے تمام سنتریوں سے ملا اور اُس نے سب سے فرداً فرداً اُن کے مورال اور دستیاب سامان کے بارے میں پوچھا۔ انہیں معمول کی ہدایات دے کر وہ واپس لوٹا۔ وہ ابھی میس کے دروازے پر ہی تھا کہ گارڈروم سے، جو کہ ایک سو گز کے فاصلے پر ہو گا، ایک فلک شگاف دھماکے کی آواز آئی اور ساتھ ہی اسے اتنی قوت سے گرم ہوا کا تھپیڑا لگا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔

 

“Feck!!!!” گھبراہٹ میں وہ بڑبڑایا اور سر پر پاوں رکھ کر گارڈروم کی طرف بھاگا جہاں دھوئیں، آگ، سنتریوں کے چلّانے کی آوازوں کا عجیب سا بے ہودہ ملغوبہ تھا۔ ساتھ ہی رائفل جی تھری کے فائر کی دھاڑ دھاڑ بلند ہوئی۔ گارڈ روم کی عمارت دھوئیں میں دھندلی نظر آرہی تھی اور ہیولے ادھر اُدھر دوڑتے نظر آ رہے تھے۔ خان زمان واحد شخص تھا جسے وہ فوری طور پر پہچان سکا۔ خان زمان نے دھڑا م سے مین گیٹ بند کیا تو دھوئیں کے بہت سے مرغولے ہوا میں بلند ہو چکے تھے، گرد اور مٹی کا طوفان بیٹھ رہا تھا اور آس پاس کی کچھ آتش گیر چیزیں جل رہی تھیں۔
“سر پلیز آپ وہیں رُکیں، ہم سب ٹھیک ہیں” خان زمان کی آواز ہی اُسے چلّانے کی دیگر آوازوں میں سمجھ آسکی۔ اسی اثناء میں پیچھے سے یونٹ کے چند اور باوردی اور سفید پوش لوگ دوڑے چلے آئے تو عثمان نے انہیں چلّا کر واپس بھیج دیا۔

 

“خان زمان، دروازہ کھولو۔۔۔” وہ چلّایا لیکن خان نے سُنی ان سُنی کردی۔ اسی لمحے عثمان نے غور سے دیکھا تو خان زمان کے چہرے کی جلد ایک طرف سے اُڑ چُکی تھی اور ووہ خون میں لت پت تھا۔ عثمان نے لپک کر گیٹ کھولا تو دوسری جانب ایک ہجوم دیکھا۔وہ لوگ ایک زخمی کو اُٹھا کر اندر کی طرف بھاگے آرہے تھے۔زخمی کے جسم پر تار تار، خون آلود وردی تھی اور اس کے چہرے کی شناخت ممکن نہ تھی۔ اسی لمحے عثمان کا سر چکرانے لگا اور وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے افسرو جوان اور دھماکے سے چھلنی درخت اور عمارتیں اس کے گرد گھومنے لگیں۔ اُس نے خود کو بمشکل سنبھالا۔

 

عثمان نے لپک کر گیٹ کھولا تو دوسری جانب ایک ہجوم دیکھا۔وہ لوگ ایک زخمی کو اُٹھا کر اندر کی طرف بھاگے آرہے تھے۔زخمی کے جسم پر تار تار، خون آلود وردی تھی اور اس کے چہرے کی شناخت ممکن نہ تھی۔
“چیف صاحب۔۔”وہ ڈیوٹی پیٹی افسر پر چلّایا لیکن ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے انجن کے شور کی آواز میں اس کی آواز دب گئی۔ دوبارہ چیخ کر آواز دینے پر پیٹی افسر سلیم اللہ قریب آیا۔ وہ بھی معمولی زخمی تھا۔

 

“سر خود کش حملہ تھا، تین لوگ زخمی ہیں، سب کچھ کنٹرول میں ہے “وہ اونچا اونچا بول رہا تھا اور اپنے ہاتھ میں پسٹل کارل والتھر لہرا رہا تھا جو کہ بحریہ کے افسروں کا Side Arm ہے۔ “سلیم اللہ، جلدی سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچاو۔۔۔”عثمان نے زخمی پیٹی افسر کو حکم دیا۔

 

“خان زمان۔۔” پھر اُس نے پوری قوت سے خان زمان کو آواز دی تو جواباًایک کراہتی ہوئی “سر۔۔۔” کی آواز آئی۔
“جلدی سے زخمیوں کو ایمبولینس میں ڈالو اور خود بھی بیٹھو۔۔۔ جاو، پی این ایس راحت” اُس نے حُکم دیا۔ پی این ایس راحت یہاں سے قریب ترین نیول ہسپتال تھا۔ اس کے بعد وہ سب سے اگلی مشین گن پکٹ کی طرف بھاگا جو کہ مشین گن سنتری کے زخمی ہونے کی وجہ سے خالی پڑی تھی۔ اُس نے لپک کر مشین گن اُٹھا لی اور یونٹ کی طرف جانے والے راستے کی طرف بھاگا۔

 

“خبردار، کوئی اس طرف نہ آئے۔۔۔” اُس نے سڑک کے درمیان کھڑے ہو کر باہر کی طرف سے آنے والے لوگوں کو روک لیا۔ کچھ دیر میں ایک سیلر نے آگے بڑھ کر اُس سےمشین گن لے لی اور نیول پولیس نے تمام علاقے کا گھیراو کر لیا ساتھ ہی سی او صاحب اپنی نیلی ٹویوٹا جیپ پر آدھمکے۔ وہ سفید شلوار قمیص میں تھے، سر پر نماز کی سفید ٹوپی تھی اور ایک ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل فون تھامے ہوئے تھے۔پھر کیا تھا، کچھ دیر کو کمانڈر کراچی کے سٹاف افسران، نیول پرووسٹ مارشل، مقامی ڈائریکٹر نیول انٹیلی جنس اور نجانے کون کون سے افسر وہاں آدھمکے۔ میرینز کے جوانوں کا ایک دستہ مختلف پوزیشنوں میں جائے وقوعہ پر ڈیپلائی ہو گیا۔

 

رات کو پریڈ گراونڈ میں سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ایک تابوت لایا گیا جس میں لیڈنگ میوزیشن گلفام مسیح کا جسدِ خاکی رکھا گیا تھا۔ اسے ایمبولینس سے اُتار لیا گیا۔ گلفام مشین گن سنتری تھا اور شدید زخمی ہونے کے بعد پی این ایس راحت میں دم توڑ گیا تھا۔ افسر اور جوان ایک قطار میں کھڑے باری باری تابوت کے پاس آتے، فلڈ لائٹ کی روشنی میں اس کا دیدار کرتے، شہید کوسلیوٹ کرتے اور آگے بڑھ جاتے۔ ایڈمرل سعید اللہ کا انتظار کیا جارہا تھا جنہوں نے ابھی شہید کا دیدار کرنا تھا۔ چیف صبور بھی یہاں موجود تھے اور لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کی جو شامت آئی تو اُنہوں نے سی او صاحب کو مشورہ دیا کہ چیف صبور سے کہیں کہ جب تک ایڈمرل صاحب آتے ہیں، خطیب صاحب فلسفہء شہادت پر قرآن و حدیث کی روشنی میں جوانوں سے خطاب کریں۔ اس سے بھی بُرا یہ ہوا کہ لیفٹیننٹ عثمان نے ،جو ساتھ ہی کھڑا تھا، اس کی تائید کردی۔”شٹ اَپ۔۔۔” عثمان کو تو واضح سا جواب مل گیا لیکن غازی صاحب کو دھیمی آواز میں خوب سُنائی گئیں۔

 

“سرایک غیر مُسلم کی میت پہ یہ خُطبہ دلوانے کا سوچ رہے ہیں آپ؟ کہیئے تو نمازِ جنازہ بھی پڑھوا دوں؟؟” سی او صاحب بہت بُرے موڈ میں تھے۔

 

سر پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ مرحوم لیڈنگ کے لئے شہید کا لفظ بھی استعمال نہ ہونے دیں۔۔۔” غازی صاحب نے سخت ناگواری سے لیکن بہت دھیمی آواز میں کہا۔
“اور عثمان صاحب کا کیا ہے، اُسے تو شوق ہے کہ شعائرِ اسلام کا مذاق اُڑایا جائے” سی او صاحب نے الفاظ چباتے ہوئے کہا تو غازی صاحب کو بہت بُرا لگا۔

 

“سر پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ مرحوم لیڈنگ کے لئے شہید کا لفظ بھی استعمال نہ ہونے دیں۔۔۔” غازی صاحب نے سخت ناگواری سے لیکن بہت دھیمی آواز میں کہا۔اس سے پہلے کہ کمانڈر حنیف واہلہ اُنہیں کوئی جواب دیتے، افسروں کے مجمعے میں ہلچل ہوئی اور ایک افسر نے بڑھ کر انہیں ایڈمرل سعیداللہ کی آمد کی خبر دی۔ ایڈمرل سعیداللہ وردی میں تھے۔ چھوٹی قامت اور دھان پان سی جسامت کے۔ ان کی ڈاڑھی سفید اور اتنی بڑھی ہوئی کہ ان کی ظاہری شخصیت کا نمایاں ترین حصہ لگ رہی تھی۔ کمانڈر واہلہ نے آگے بڑھ کر اُنہیں سلیوٹ کیا اور پھر بہت نیازمندی سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ پھر ایڈمرل صاحب ، اپنے مصاحبوں، ذاتی محافطوں اور دیگر افسران کے جلو میں شہید سیلر کے تابوت کی طرف بڑھے۔ قومی پرچم کا پلّو ہٹایا گیا جس کے نیچے شہید کا سانولا چہرہ سفید چادر اور سفید پٹیوں میں ٹھیک طرح سے نظر نہیں آرہا تھا۔ ایڈمرل صاحب نے ایک چُست سا سلیوٹ کیا اور اپنے ہاتھ سے پرچم کا پلّو دوبارہ شہید کے چہرے پر ڈال دیا۔ ساتھ ہی شہید کا بھائی ،جو سندھ پولیس کی وردی میں ملبوس پاس کھڑا تھا، آگے بڑھا اور اُسے ایڈمرل صاحب سے تعارف کروایا گیا۔

 

“اے ۔ایس ۔آئی شبّیر کھوکھر، سندھ پولیس، سر”لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی نے اُس کا نام پُکارا تو اُس نے ایڈمرل صاحب کو سلیوٹ کیا۔

 

“شبّیر بیٹا، تُم بھی اس مُلک کے سپاہی ہو، اپنا حوصلہ بُلند رکھو۔۔۔ یہ بڑی عظیم قُربانی ہے جو تُم نے دی ہے اس مُلک کے لئے۔۔۔” ایڈمرل صاحب نے اس کا شانہ تھپتھپایا تو وہ سسکیاں لے کر رونے لگا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے اُسے اپنی طرف کھینچ کر گلے لگا لیا۔ غازی صاحب اسے دلاسہ دیتے جا رہے تھے اور وہ ہچکیاں لے لے کر روئے جارہا تھا۔

 

اگلے چند روز عثمان کے لئے بہت کڑے ثابت ہوئے۔ ایک تو اس واقعے کے نتیجے میں شدید صدمے کی حالت نے اُس کی نیندیں اُڑا رکھی تھیں پھر بورڈ آف انکوائری کے سوالوں کا سامنا اور بھی مشکل تھا، جس کا اہتمام کمانڈر کراچی ہیڈکوارٹرز میں تھا۔ وہ ہر رات دیر سے تھکا ہارا بستر پہ آ گرتا تو تھکن اور نیند کے درمیان از حد کربناک لمحوں کا فاصلہ ہوتا تھا۔

 

اگلے چند روز عثمان کے لئے بہت کڑے ثابت ہوئے۔ ایک تو اس واقعے کے نتیجے میں شدید صدمے کی حالت نے اُس کی نیندیں اُڑا رکھی تھیں پھر بورڈ آف انکوائری کے سوالوں کا سامنا اور بھی مشکل تھا
“تم نے اس واقعہ سے ایک ہفتہ قبل ملنے والا ‘Threat Warning’ کا مراسلہ پڑھا؟ اگر پڑھا تو کیا اقدامات کیے یا کن اقدامات کی سفارش کی؟ واقعے کے روز صبح تم نے ڈیوٹی سنبھالنے سے پہلے موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا؟ اگر لیا تو کیا اقدامات کیے؟” وغیرہ جیسے سوالات، بلکہ لیفٹیننٹ کمانڈر غازی کے الفاظ میں “چوتیا سے سوالات” کا سامنا کر کے اسے یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید وہ اس واقعے میں خودکش بمبار سے بھی بڑا مجرم تھا۔ آگے بڑھتے ہوئے خودکش حملہ آور کو گولی مار کراُڑانے والا ڈیوٹی پیٹی افسر اور مشکوک حملہ آور کی نشاندہی کرنے والا پیٹی افسر خان زمان اسپتال میں پڑے تقریباً اسی طرح کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے۔ انکوائری میں تیس کے قریب شاہدین تھے جن میں حافظ ناصر بھی شامل تھا۔

 

“عثمان! تم انٹیلی جنس کی شدید نگرانی میں ہو لہذا میں تم سے لمبی بات نہیں کرسکوں گا البتہ ایک اہم اطلاع تمہیں دینا ہے، آس پاس رہنا” لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی آج صرف اتنی بات کہنے کے لیے بالخصوص آفیسرز میس میں چائے پینے، چائے کے وقفے میں آئے تھے۔

 

عثمان اپنے دفتر اور کمرے کی حد تک محدود ہو گیا تھا اور وہ جہاں کہیں بھی جاتا، کوئی نیول انٹیلی جنس والا اس کے آگے پیچھے سائے کی طرح منڈلاتا رہتا تھا۔ ڈھائی تین بجے کا عمل ہو گا جب اسے ایک سفید چٹ ملی جو ایک سیلر نے اس کی میز پر رکھ چھوڑی تھی۔

 

“Cleansing Station” لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کے ہاتھ سے لکھا ہوا پڑھ کر اسے سمجھ آ گئی۔ وہ تیزی سے اٹھا اور آفیسرز کے واش رومز کی طرف بڑھا۔ اندر آئینے کے سامنے لیفٹیننٹ کمانڈر غازی کھڑے سگریٹ پی رہے تھے۔

 

اوٹومین” انہوں نے اسے دیکھتے ہی آہستہ سے کہا۔

 

“کمانڈر کراچی کو گورنمنٹ اور نیول چیف کی طرف سے ڈنڈا آیا ہوا ہے کیونکہ سامنے والے پلازے کے سی سی ٹی وی کیمرا میں بم دھماکے کی ویڈیو آ گئی تھی اورایک ٹی وی چینل نے اس روز کوئی پچاس بار دکھا دی تھی۔ اب کمانڈ کو قربانی کا بکرا چاہیے، اور شاید سی او صاحب بھی تمہاری پتلون بچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے” ساتھ ہی انہوں نے سگریٹ پھینکی اور اسے بوٹ کی نوک سے مسل کر باہر نکل گئے۔

 

عثمان تھوڑی دیر بعد نکلا اور دفتر میں جا بیٹھا۔ انٹیلی جنس کا آدمی کچھ فاصلے پر واقع ماسٹر ایٹ آرمز کے دفتر میں بیٹھا تھا اور شاید اس کے واش روم کے دورے سے بے خبر تھا۔ اگلے ایک گھنٹے تک وہ مسلسل سگریٹ پیتا رہا اور شدید غصے کے عالم میں خودکلامی کرتا رہا۔

 

عثمان تھوڑی دیر بعد نکلا اور دفتر میں جا بیٹھا۔ انٹیلی جنس کا آدمی کچھ فاصلے پر واقع ماسٹر ایٹ آرمز کے دفتر میں بیٹھا تھا اور شاید اس کے واش روم کے دورے سے بے خبر تھا۔
“لیفٹیننٹ عثمان! کیا یہ انٹیلی جنس رپورٹ غلط ہے کہ سیلرز تمہاری لیڈرشپ سے خوش نہیں تھے؟! تمہارے خلاف توہین مذہب کی بنیاد پر درخواست بھی نیول انٹیلی جنس کو دی گئی تھی؟!”

 

اگلے روز جب بورڈ آف انکوائری نے یہ سوال داغا تو ایک بار تو وہ جل کر رہ گیا۔

 

“سر کچھ ایسا نہیں تھا، ایک سیلر کو شکایت تھی جو بعد میں رفع کر دی گئی” عثمان نے ٹالنے کے انداز میں کہا۔
“کیا تم بتاؤ گے کہ کیا شکایت تھی؟” ایک خضر صورت بزرگ افسر نے نرمی سے پوچھا۔

 

“شکایت۔۔۔” عثمان نے آہستگی سے کہا لیکن اسے لگا کہ غصے سے اس کا دماغ شاید ابل پڑے گا۔ دراصل گزشتہ چند روز سے وہ جس صدمے کی حالت میں تھا، وہ کسی سے اس کا اظہار بھی کرنے سے کترا رہا تھا کہ مبادا اسے بزدلی سے تعبیر کر لیا جائے۔

 

“سر، میں نے اسے میس ڈسپلن توڑنے پر کچھ بارکنگ دی تھی، جس کا اس نے غلط مطلب لے لیا اور خطیب صاحب سے شکایت کر دی” عثمان نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔

 

“عثمان صاحب، معاملات انٹیلی جنس تک یونہی نہیں پہنچتے” نیول انٹیلی جنس کے ایک افسر نے طنزیہ اور ترش لہجے میں کہا تو عثمان کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا۔

 

“کیا پہنچتا ہے نیول انٹیلی جنس تک؟! خوب جانتا ہوں صاحب، بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں اس وقت اپنی یونٹ کے شہیدوں کے سوگ کی حالت میں ہوں اور آپ کو یہ فکر ہے کہ میں نے ایک سیلر کو گانڈو چپل پہننے پہ کیوں ڈانٹا؟” عثمان کی آواز واضح طور پر بلند اور لہجہ تلخ ہو گیا جس پر تمام افسران چونکے۔

 

“دہشت گردی کی جنگ ہمارے گارڈ روم تک پہنچ چکی ہے، اور تم ابھی تک سبق سیکھنے کی بجائے چوتیا قسم کی الجھنوں سے انٹیلی جنس رپورٹیں بھر رہے ہو!! فلاں لفٹین نے فلاں مولوی کو بل شٹ ماری ہے، فلاں چیف بوسن میٹ جہاز سے پینٹ کا ڈبہ اٹھا کر لے گیا اور بیٹے کی سائیکل رنگ کر دی، فلاں پیٹی افسر لونڈے باز ہے اور فلاں لیڈنگ صاحب کی شاعری اخبار میں چھپی ہے! یہ باتیں پہنچتی ہیں نیول انٹیلی جنس تک؟؟؟ ۔۔۔” اب تو غصے سے اس کے منہ سے جھاگ بہنے لگی تھی۔

 

“شٹ اپ!!” انٹیلی جنس افسر خان بیگ نے اسے بکواس بند رکھنے کا حکم دیا لیکن عثمان نے ہاتھ لہرا کر یہ حکم مسترد کر دیا۔

 

“نیول انٹیلی جنس صاحب! ہمارے جوان مر رہے ہیں، اور ہم جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس لیے کہ ہم کنفیوز ہیں۔ ہمارے درمیان جو لوگ اپنے دشمن کی محبت میں مبتلا ہیں، ہمیں ان کی شناخت نہیں ہے۔ جنگ میں لیفٹننٹ عثمان جیسے بدنظم افسر نقصان کا باعث ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو سپاہیوں کو بلٹ پروف جیکٹ پہنانے کی بجائے ایک دعا لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے ہیں کہ اب وہ بچ جائیں گے؟؟ اور جب کوئی کرسچن سپاہی حسب حکم وہ تعویز گلے میں ڈال کر بھی مارا جاتا ہے تو وہ لوگ اسے شہید تک نہیں سمجھتے کہ وہ اس دعا پہ یقین نہیں رکھتا تھا” عثمان نے یہ کہا تو افسران کے چہروں پر واضح طور پر شدید بے چینی کے تاثرات تھے کہ وہ اس بات کا پس منظر اچھی طرح جانتے تھے۔

 

نیول انٹیلی جنس صاحب! ہمارے جوان مر رہے ہیں، اور ہم جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس لیے کہ ہم کنفیوز ہیں۔ ہمارے درمیان جو لوگ اپنے دشمن کی محبت میں مبتلا ہیں، ہمیں ان کی شناخت نہیں ہے۔
“عثمان، بکواس بند کرو” لیفٹیننٹ کمانڈر غازی جو آج کسی انتظامی معاملے میں بورڈ کی میٹنگ میں شریک تھے اور کافی دیر سے چپ بیٹھے اسے آنکھوں کے اشاروں سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، پھٹ پڑے۔

 

“کیا بک بک لگا رکھی ہے تم نے، جو بات پوچھی جائے، اسی کا جواب دو” غازی صاحب نے کافی اونچی آواز میں کہا تو سینئر ترین بورڈ ممبر نے اُنہیں ہاتھ کے اشارے سے خاموش کرا دیا۔

 

“Carry on Osman!”سینئیر ترین بورڈ ممبر نے کہا لیکن عثمان چُپ سادھ چکا تھا۔ تمام ممبران نے ہاتھوں سے قلم رکھ دئیے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عثمان کی نظریں میز پر گڑ ی تھیں۔کچھ دیر تک ہال پہ خموشی چھائی رہی اور یہی خاموشی اصل طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

 

“لیفٹیننٹ عثمان، دُشمن سے محبت میں مبتلا لوگوں سے مُراد کون لوگ ہیں؟؟ آپ کے مطابق اس واقعے میں کیا انٹیلی جنس فیلیور تھی؟ آپ کے خلاف سروس افیئر کی درخواست کا کیا ہوا؟ سپاہیوں کے گلے میں دُعائیں لکھ کر لٹکانے والا کیا قصہ ہے؟؟” اور اس طرح کے کئی سوالات اُس سے پوچھے گئے۔لیکن انکوائری کا رُخ اب واضح سمت کو مُڑ گیا تھا۔
آخری میٹیریل گواہی جو آج کی بورڈ میٹنگ میں پیش ہوئی وہ اسلحہ خانے کا وہ رجسٹر تھا جس کے مطابق وقوعہ کے روز عثمان نے اپنا پستول نہیں لیا تھا جو کہ ضابطے کے مطابق اُسی کے پاس ہونا چاہیئے تھا۔

 

اس سے اگلے روزسروس افئیر کی درخواست کی انکوائری آغاز کرنے کا حُکم بھی منگوا لیا گیا جس کے لئے اگلے روز حافظ ناصر کو بھی حاضر کرنے کا سگنل عثمان کے یونٹ کو بھجوا دیا گیا۔

 

آج شام جو ایک چیز خلافِ معمول ہوئی، وہ یہ تھی کہ انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کے علاوہ آفیسرز میس کے باہر نیول پولیس کا ایک سنتری بھی تعینات ہو گیا تھا۔ رات کے دس بجے عمومی طور پر تمام بارکوں اور رہائشی عمارتوں کی بتیاں گُل کردی جاتی ہیں اور تمام معمول کی سر گرمیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے اصطلاحاً پائپ ڈاون کہا جاتا ہے۔ رات گئے جب پائپ ڈاون ہوئے کافی وقت بیت چُکا تھا، لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی اور کمانڈر حنیف واہلہ ایک پرائیویٹ نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑی میں آفیسرز میس پہنچے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر انٹیلی جنس افسر خان بیگ سول کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر غازی نے نیول پولیس کے سنتری کے سلیوٹ کے جواب میں اس سے مصافحہ کیا۔

 

“لیفٹیننٹ عثمان کا کمرہ کون سا ہے؟”اُنہوں نے پوچھا۔

 

“سات نمبر سر۔۔۔” سنتری نے مودب جواب دیا اور عدیل صاحب اوپر چلے گئے جبکہ کمانڈر واہلہ اور لیفٹیننٹ کمانڈر خان بیگ گاڑی سے نہیں نکلے۔ اسی دوران ڈیوٹی افسر لیفٹیننٹ تنولی بھی تیز قدموں سے چلتا ہوا میس سے نکلا۔

 

(جاری ہے)
Categories
شاعری

یین یانگ

[blockquote style=”3″]

یہ نظم اس سے قبل اشارات پر بھی شائع ہو چکی ہے، عاصم بخشی کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یین یانگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک ہی
نقطۂ امکاں میں بسے
حرف سے
دو نام
ابھرتے ہیں
کچھ ایسے
کہ نہاں خانۂ افلاک میں
صد رنگ کے طوفان
بپا ہوتے ہیں
ایک ہی حرفِ نگفتہ
جو اُسی نقطۂ امکاں میں
نہاں بھی ہے
عیاں بھی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]