Categories
فکشن

اولاد (محمد عباس)

بات بابے کی ٹھیک تھی۔ اس نے بابے کا نام چمکا کے رکھ دیاتھا۔ یوں آج کسے معلوم تھا کہ یہ بڈھا لاٹھی ٹیک جھِیلا جوانی میں کیا چیز تھا مگراس کے ہم نام کی وجہ سے نئی نسل کو بھی اندازہ ہو چکا تھاکہ باباجھِیلاکیا کیا کمال رکھتا ہو گا۔
٭٭٭
باباجھِیلا، ظاہر ہے کہ شروع سے ہی بابا نہیں تھا۔ جوانی میں اس کا نام پورے علاقے میں فخر سے لیا جاتا تھا۔ جھِیلا پہلوان۔ کبڈی کا نامور کھلاڑی۔ نڈر اور مقابلے کا شوقین۔ زور اور پھرتی میں ایک سا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ وارا بھی کرتا تھا اور جاپھا بھی۔ جس ٹیم میں وہ ہوتا، اس کو آدھے پوائنٹ توجھِیلا لے دیتا تھا۔ جب وہ میدان میں اترتا تو سارا میدان اس کے نام کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔ ایک مدت تک اس نے راج کیا۔ جس میدان میں اُس نے اترنا ہو، وہاں ہزاروں کا مجمع اسے دیکھنے پہنچ جاتا تھا۔ دور دراز کے کھلاڑی بھی بڑے چاؤ سے اس کے مقابلے پہ کھیلنے آتے۔ وہ بھی پتا نہیں کتنی جگہوں پر کھیلنے گیاتھا۔ جب اس نے فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور ساہیوال کے بڑے بڑے نامی پہلوانوں کو نیچا دکھایا تو اس کا نام پورے پنجاب میں مشہور ہو گیا تھا۔ بڑے بڑے کبڈر اس کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ جتنی مدت وہ کبڈی کھیلا، سوائے دو چار وارے جاپھے ناکام ہونے کے، کبھی سر جھکا کر میدان سے باہر نہیں نکلا۔ اِتنی ٹرافیاں اس نے جیتی ہوئی تھیں کہ گاؤں کے چوہدری کے گھر میں اُتنے برتن بھی نہیں ہو ں گے۔ اس کی وجہ سے برموٹ گاؤں کا نام پورے پنجاب میں بولتا تھا۔ پورے گاؤں کو اس پر فخر تھا۔

جب اس کا نام اتنا مشہور ہو گیا تو اس کو بڑی بڑی ٹیموں کے لیے بلا یا جانے لگا تھا۔ وہ کبھی راولپنڈی ڈویژن کی طرف سے کھیل کے آتا، کبھی پنجاب کی ٹیم میں شامل ہو تا۔ اپنے علاقے کی تو جب بھی کوئی ٹیم بنتی، وہ اس میں ضرور شامل ہو تا تھا بلکہ ٹیم کا مان بن کر جاتا تھا۔ دوسری ٹیم کو جب مرعوب کرنا ہوتا تو اسے بتایا جاتا کہ ہمارے پاس جھِیلا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا نام ہی اس قدر تھا کہ دوسری ٹیم میچ سے پہلے ڈول جاتی تھی۔ کھیل کی بنا پر اسے فوج اور واپڈا کی طرف سے کئی بار نوکری کی پیش کش بھی ہوئی تھی لیکن اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے وہ ایسی کوئی پابندی قبول نہ کر سکا تھا۔

آٹھ دس سال اس نے کبڈی کے میدان پر راج کیاتھا۔ شادی، بچے اور زندگی کی ذمہ داریاں کندھوں پر آ لدیں تو اس کا بدن ماند پڑنے لگا۔ جب مسلسل چار جاپھے ناکام گئے تو اس نے جاپھا کرنا چھوڑا اور صرف وارا کرنے لگا۔ اپنی پھرتی کی بنا پر وہ وارا بھی کمال کرتا رہا مگر ایک بار جب ایک تنو مند جاپھی کا کان پر پڑنے والا ہاتھ اس کے دماغ کی چولیں تک ہلا گیا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ کبڈی اب اس کے بس کی بات نہیں رہی۔ یہ ضرب پڑی بھی بہت زوردارتھی۔ اس کا کان سُن اور دماغ جھنجھنا گیا تھا لیکن اس نے تب ظاہر نہ کیا اور کسی ایسی ناکامی سے بچنے کے لیے جو عمر بھر اس کے ماتھے پر سجی رہتی، اس نے چپکے سے میدان کو الوداع کہہ دیا۔ کبھی میدان کا رخ ہی نہ کیا۔ اس ضرب سے وہ عمر بھر کے لیے دائیں کان سے سننے کو معذور ہو گیا تھا۔ برسوں بعد بابے کی سماعت کی یہ معذوری سب جان گئے تھے لیکن وجہ کسی کو معلوم نہ تھی۔

اب تو وہ دمے کا مارا، ستر سال کا کھانستا ہوا بوڑھا تھا۔ سیدھی طرح چلنے پھرنے سے بھی معذور۔ صرف کھُنڈی کے سہارے چل پاتا تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی۔ دو بیٹے تھے۔ اس کی پوری خواہش کے باوجود کہ وہ بھی کبڈی میں اُسی کی طرح نام پیدا کریں، وہ دونوں صرف مزدور ہی بن سکے تھے۔ آج کل اٹلی میں مقیم تھے۔ وہ اکیلا پاکستان میں رہ گیا تھا اوراپنے بیٹوں کی بنوائی کوٹھی میں رہتا تھا۔ کھانے اور دوا دارو کا خیال رکھنے کے لیے ایک بھانجی کی اولاد تھی۔ اسی کے گھر سے کھانا آ جاتا، اگر بیمار پڑتا تو اسی کے بچوں میں سے کوئی مستقل اس کے پاس رہنے لگتا۔ کھاٹ توڑنے اور کھُنڈی ٹھکورنے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہ تھا۔ گرمی کے موسم میں اکثر اس کی کوٹھی میں ہم عمر دوستوں کی محفل جمتی تھی۔ جہاں سب اپنی اپنی جوانی سنایا کرتے تھے۔ بابے کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ جب شروع کردیتا تو پھر سارا دن باتیں ختم نہ ہوتیں۔

گو کہ وہ کب کا کبڈی کے میدان سے نکل چکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا نام ایک مثال تھا۔ جھِیلے کا نام علاقے کے حافظے پر نقش ہو گیا تھا۔ مائیں جب اپنے بچوں کو پھرتی کا مظاہرہ کرتے دیکھتیں تو انہیں جھِیلا پہلوان کہتیں۔ باپ اپنے بیٹوں کی تابدار جوانی اور طاقت دیکھتے تو انہیں جھِیلا پہلوان کے نام سے پکارتے۔ اس کا نام ایک داستانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اس کے گاؤں کے لوگ خواہش کرتے تھے کہ کاش گاؤں میں پھر کوئی ایسا ہی جوان پیدا ہو جو کبڈی میں ان کا نام جھِیلے کی طرح روشن کرے۔

بابا جو اَب کسی کام کا نہ رہا تھا، جب اپنی جوانی کے قصے سنا سنا کے تھک جاتا تو پھر ایک ٹھنڈی اور لمبی آہ بھر کے افسوس سے کہتا کہ کاش اس کے بیٹے بھی کبڈی کے میدان میں اترتے اورجھِیلے کا نام آج بھی چلتا رہتا۔ اس کے دوست بھی جانتے تھے کہ عمر میں جھِیلے کو ایک ہی دکھ رہا ہے کہ اس کی اولاد اس جیسی نہیں ہو سکی، حالانکہ جب اس کے ہاں پہلا بیٹا ہوا تھا تو وہ خوشی سے چیخ پڑا تھا کہ ایک اورجھِیلا پیدا ہو گیا ہے۔ دوسرے کی پیدائش پر تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتا اور کہتا کہ اپنے بیٹوں کو بھی کبڈی کے میدان میں اتارے گا۔ شیر ہوں گے، شیر۔ آخر بیٹے کس کے ہیں۔ اس کے دوستوں کو بھی یقین تھا کہ اس کے بیٹے اس کا نام آگے بڑھائیں گے۔ باپ کی ناف برابر ہوئے توجھِیلے نے انہیں کبڈی کی طرف لگا دیا تھا۔ روزانہ ان کی دوڑ کراتا۔ ڈنڈ بیٹھکیں لگواتا۔ پھر کھانے کو ایسی چیزیں دیتا جن سے بدن میں طاقت اور چستی آجاتی ہے۔ وہ خودبتاتا تھا کہ اس نے کبھی اپنے بیٹوں کو بھینس کا دودھ نہیں پینے دیا کہ اس سے بندے کا جسم تھلتھلا ہو جاتا ہے۔ ان کو چست رکھنے کے لیے ہمیشہ گائے کا دودھ پلایا کہ بچھڑے کی طرح اَتھرے رہیں۔ لیکن پتا نہیں کیا ہوا، ماں نے انہیں اندر ہی اندر اس پٹڑی سے ہٹا دیا تھا یا وہ خود اس قابل تھے ہی نہیں کہ جوانی میں پاؤں رکھنے تک وہ کبڈی سے متنفر ہو چکے تھے۔ میدان میں اترتے تو بالکل اناڑیوں کی طرح ہاتھ پاؤ ں مار کے اس کا نام ڈبو آتے۔ جھِیلے نے کچھ ہی دن انہیں آزمایا، جب جان گیا کہ یہ پھوکے گنّے ہیں تو انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ پڑھائی سے توپہلے ہی فارغ تھے، کھیل سے بھی گئے۔ آخر بنے تو محض مزدور بنے، خود بابے نے ہی کوشش کر کے اور چار بیگھے زمین بہا کر انہیں اٹلی بھجوادیا تھا اور پھر جب وہ وہاں سیٹل ہو گئے تو خود ہی اُس نے کہا تھا کہ اپنے بیوی بچے بھی ساتھ لے جاؤ۔ جب انہوں نے پوچھا کہ آپ کا اکیلے کیا بنے گا تو، باباخود بتا تا ہے، اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری کسی طرح گزر ہی جائے گی۔ تم لوگ اپنے بچوں کی زندگی بناؤ۔

بابا جب اپنے بیٹوں کی طرف سے مایوس ہو گیا تو اس نے دوسروں کی طر ف توجہ دینا شروع کر دی تھی۔ ابھی جوانی کی کچھ چنگاریاں باقی تھیں۔ شوق پر دھیان دے سکتا تھا۔ بابا خود ہی کسی کے کہے بغیر میدان میں چلا جاتا اور کبڈی کے شوقین لڑکوں کو تربیت دیتا۔ بارہا بابے نے کبڈی کے میدان میں بالکل نئے لڑکے اتارے جن کا نام بھی پہلے کسی نے نہ سنا ہوتا۔ بابے کے تیار کیے ہوئے لڑکے آسانی سے کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔ اس کا نام کبڈی کے میدان میں بولتارہا۔ لیکن وہ خود مطمئن نہیں تھا۔ کہا کرتا تھا کہ کبڈر تو بہت ہیں، میرے ہاتھوں کے سکھائے اچھا کھیل لیتے ہیں لیکن ان میں کوئی جھِیلا نہیں بن سکا۔ بہت بعد میں جب دوستوں کی ایک محفل میں اسے یہ طعنہ سننے کو ملا کہ اس کی ساری تربیت کے باوجود آج تک گاؤں میں اس کے پائے کا کوئی کبڈر نہیں بن سکا، شاید وہ ہی دوسروں کو سکھانے میں کوئی کمی رکھ دیتا ہے،تو اس نے کہا تھا کہ جھِیلابنایا نہیں جاتا، بنا بنا یا آتا ہے۔ کسی پر جتنی بھی محنت کرلی جائے،وہ جھِیلا نہیں بن سکتا۔ جب جھِیلے کے اپنے خون سے بھی ایک جھِیلا نہیں نکل سکا تو پھر میں کسی اور کو جھِیلا کیسے بنا سکتا ہوں!!

٭٭٭
بر موٹ، جھِیلے کا گاؤں بالکل پہاڑی سلسلے کے نیچے تھا۔ کوہستانِ نمک کے اس سلسلے میں جھِیلے کے گاؤں سے اوپر پہاڑیوںمیں بہت بڑاجنگل تھا۔ اس جنگل میں تیتر، بٹیر، جنگلی کبوتر، بھگیاڑ، گیدڑ، ہڑیال،سیہہ، خرگوش، لومڑ، ہرن اور سٔور بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ پوری تحصیل کے لوگ کھنچ کھنچ کر ادھر شکار کھیلنے کو آتے تھے۔ ہر ہفتے، کوئی نہ کوئی ٹولی اپنے کتوں، بندوقوں، جالوں،پھندوں، ٹارچوں اور دُوربینوں کے ساتھ پہاڑیوں پر ہڑل ہڑل کررہی ہوتی تھی۔

ویسے تو وہاں ہر قسم کے شکاری آتے تھے۔ کوئی خرگوش مارکھاتا، کوئی ہرن لیکن سبھی شکاریوں میں یہ بات مسلم تھی کہ اصل شکار تو سٔور کا ہے۔ یہ واحد شکار ہے جو نہ زبان کے چسکے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کسی مالی منفعت کے لیے۔ شکار برائے شکار۔ حوصلے اور ہمت کے ساتھ ساتھ پوری لگن کا کھیل۔ جس میں شکار کوصرف گھیر مارنے پر توجہ ہوتی ہے، مصالحے لے کر اسے بھوننے کی فکر نہیں ہوتی۔

سٔور کے شکار کا وہاں بڑ اشہرہ تھا۔ بے قاعدہ قسم کے مقابلے ہوتے تھے۔ آپس میں کسی تنظیم کے بغیر ہی یہ طے تھا کہ جس سیزن میں جو ٹولی زیادہ نر پکڑ کر لائے گی، وہی اس سال کی بہترین ٹولی کہلائے گی۔ گرمی کا پورا موسم شکار نہیں کھیلا جاتا تھا حتیٰ کہ اس موسم میں کتے کھولے ہی نہ جاتے۔ یہ شکاریوں کی اپنی اخلاقیات تھی کہ اس موسم میں سٔورنی بچے دیتی ہے، اس موسم میں شکار کا مطلب یا تو بچہ سٔور کو مارنا ہے، یا سٔورنی کو مار کر اس کے دودھ پیتے بچوں کی بلاوجہ موت کا سبب بننا تھا، اس لیے وہ گرمی کے موسم میں شکار کا نام بھی نہ لیتے تھے مگر جب سردیاں آ جاتیں تو ٹولیوں کی ٹولیاں خون گرمانے کے لیے سٔوروں کے پیچھے ہو لیتیں۔ اس دوران جنگل میں شاید ہی کوئی سٔور بچتا ہو جس کے پیچھے کسی کتے کے پاؤں نہ پڑتے ہوں۔ شام ہوتے ہی ٹولیاں للکار کر نکل جاتیں اور ساری رات جنگل کتوں کی بھونکاروں اور شکاریوں کے نعروں سے گونجتا رہتا۔

سٔور کا شکار اس علاقے میں صرف کتوں سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ اگر کوئی شکاری، سٔور کے شکار پر جاتے وقت اپنی حفاظت کے لیے رائفل ساتھ لے کر جائے تو اسے ڈراکل اور ہیجڑا کہا جاتا تھا۔ یارُو کا مشہور قول تھا کہ’’ رائفل تو زنانہ سہارا ہے، مردوں کے کھیل میں لطف بگاڑ دیتا ہے، اگر اپنی جان بچانے کی اتنی ہی فکر ہے تو مارو خرگوش اور کھا کے جان شان بناؤ۔ سٔور مردوں کے مارنے کے لیے رہنے دو۔ ‘‘اسی رِیت کی وجہ سے باوجود اتنی شکاری ٹولیوں کی آمد کے علاقے میں کبھی سٔور ختم نہیں ہوئے۔ اوبڑ کھابڑ علاقے اور گھنے درختوں، جھاڑیوں کی وجہ سے شکاری ٹولیاںاکثر ناکامی کی تھکن سے چور ہی لوٹتی تھیں۔ اکثر تو رات رات بھر پوری ٹولی ذلیل ہوتی رہتی، کتے بھی کٹ پھٹ جاتے اور سٔور کا بال تک نہ ملتا۔ علاقے کی جو نامی ٹولیاں تھیں، یارُو، حیدری اور خضرے کی، انہیں بھی ابھی تک صرف چھ یا سات نر پکڑنے کا اعزاز ہی حاصل تھا۔ وہ لوگ بھی بیشتر صرف شکار کی سنسنی ہی لُوٹ کر لاتے تھے۔

شکار کا ایک سادہ سا ضابطہ تھا۔ ہر شکاری ٹولی اس ضابطے سے واقف تھی۔ صرف دو شرطیں تھیں، پہلی یہ کہ سٔور کا شکار اس وقت ہی مانا جائے گا جب قتلیوں والانر سٔور ہاتھ آئے گا، مادہ سٔور کسی گنتی میں نہیں۔ دوسری یہ کہ کسی بھی ٹولی کا شکار تب ہی گنا جائے گا جب نر کو زندہ پکڑ کر گاؤں میں لایا جائے گا۔ اگر جنگل میں مر گیا تو وہ شکار نہیں گنا جائے گا۔ بس یہ سادہ سی شرطیں تھیں۔ کتے جب کسی نر کو ادھ موا کر کے گھیرے میں لے آتے توشکاری مختلف حربوں سے اسے بے بس کر لیتے۔ اس کے بعد لوڈر یا ٹرالی میں ڈال کر اپنے گاؤں( جس گائوں کی ٹولی ہو) میں لے جاتے۔ باقاعدہ ڈھول اور باجوں کے ساتھ اسے لے جا کر گاؤں کے مرکزی چوراہے پر باندھ دیتے اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ اس پر کتے چھوڑ دیتے۔ وہ کتے، جو ابھی نئے ہوں اور انہیں سٔور کے شکار پر لگانا ہو۔ اس طرح کتوں کے دل سے سٔور کا خوف نکل جاتا اور انہیں سٔور کے گوشت کا ایسا چسکا پڑتا کہ جہاں سٔور نظر آتا،اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔

کوئی ٹولی جب نر پکڑ لاتی تو پورا گاؤں اکٹھا ہو کر اسے بوٹی بوٹی ہوتے دیکھتا تھا۔ ڈھول بجتے، جوان بھنگڑا ڈالتے، اپنے اپنے کتوں کی ہلا شیری کی جاتی، میراثی شغل میں اس تنو مند کی ناگہانی موت پر بین کرتے۔ پلید ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کسی کی ہمدردی نہ جاگتی تھی بلکہ خون کے ہر چھوٹتے فوارے پر داد، شاباش کا غلغلہ بلند ہوتا۔ اتنے مجمع کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ٹولی کا شکار گنتی میں آ جاتا تھا۔ اگر کبھی کسی خاص سٔور کے شکار کا چیلنج ہو تو پھر اسے برموٹ گاؤں میں پکڑ لانے کا اعلان ہوتا تھا جو علاقے کا مرکزی گاؤں تھا۔ جیسا کہ جھِیلے کے لیے اعلان ہوا تھا۔

٭٭٭

سب سے پہلے وہ ایک قریبی گاؤں کی شکاری ٹولی کو نظر آیا تھا۔ یہ لمبا چوڑا اور تازی کتے سے بھی تیز۔ وہ صرف ایک ہی بار ان کی ٹارچ کے گھیرے میں آیا تھا، اس کے بعد دکھائی بھی نہ دیا۔ لیکن اس کا جثہ اس قدر گٹھیلا اور پھرتی کچھ ایسی تھی کہ وہ ٹولی حیران رہ گئی تھی۔ اگلی صبح انہوں نے یارُو کی بیٹھک میں الوداعی ملاقات کے وقت اس سٔور کا ذکر کیا اور پوچھا کہ ایسا چھلاوہ انہوں نے دیکھا ہے کیا؟ لیکن یارُو لوگوں کو کیا پتا کہ یہ کس سٔور کی بات ہو رہی ہے۔ دیکھا ہوتا تو کچھ بتاتے۔ یونہی سر ہلا کر رہ گئے، کہ ہوگا کوئی ذرا شُرتا قسم کا سٔور، گھبرا کر بھاگا ہو گا تو زیادہ تیز لگا ہوگا۔ ورنہ ایساکوئی خاص سٔور تو ہماری نظر میں نہیں ہے۔

کچھ ہی دنوں بعد خود یارُو کی ٹولی کا سامنا اس سے ہو گیا۔ اپنے دوستوں اور کتوں کی چار جوڑیوں کے ساتھ وہ شکار پر تھا۔ سرچ لائٹ کی روشنی میں ایک سٔور نظر آیا۔ لیکن روشنی پڑتے ہی وہ کچھ ایسی تیزی سے غائب ہو گیا کہ باوجود اپنے ہزار تجربے کے، یارُو کی ٹارچ اسے دوبارہ دیکھ ہی نہ پائی، بس بھٹک کے رہ گئی۔ اس کی جھلک دیکھ کے یارُو کے منھ سے بے ساختہ ’اوئے ہوئے ‘نکلا تھا۔ یہ وہ پہلا توصیفی اظہار تھا جو اس کے بارے میں ادا ہواتھا۔ اس کے بعد تو جس نے بھی دیکھا، ایسی ایسی تعریف کی کہ اس پہ سٔور کا نہیں، کسی ’باہر کی چیز‘ کا گمان ہوتا تھا۔

یارُو کو اسی ایک ہی جھلک میں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی عام سٔور نہیں ہے بلکہ کسی ’کُتی نسل کا سٔور‘ ہے۔ اس نے سٔور کا ہیولا ذہن میں رکھ لیا۔ اگلی بار بھی یہ یارُو کے نصیبوں میں ہی تھا کہ اس سے ملاقات ہوتی یا شاید کسی اور ٹولی نے بھی اسے دیکھا تو ہو مگر پرکھ نہ سکے ہوں کہ یہ کوئی نئی بلا ہے۔ یارُو تو دیکھ چکا تھا، سو پہچان گیا۔ اب کی بار یارُو پوری طرح چوکنا تھا۔ سو اس نے اپنے کتوں کو اس کے پیچھے پوری مہارت سے لگا دیا۔ لیکن بے سود، بہت جلد وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ اس دوسرے ٹاکرے سے یارُو اور اس کی ٹولی کے سب جوان جان چکے تھے کہ اب کے سال کوئی ایسا سٔور میدان میں آیا ہے جس کا شکار،شکاریوں کی مہارت کی دلیل ہو گا۔ سب نے مل کے تہیہ کیا کہ اگلی رات زیادہ کتے اور بڑی ٹارچیں لے کے آئیں گے اور صرف اسی سٔور کو گھیرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے اگلی رات ان کے پاس پانچ جوڑیاں تھیں۔ ان میں دو بوہلی وہ تھے جن کا علاقے میں چرچا تھا۔ جب وہ اسی کی جستجو میں نکلے تھے تو بہت جلد اسے پا بھی لیا۔ دیوانوں کی طرح کتوں کو کھول دیاگیا۔ پوری رات کتے اس کے پیچھے لپکتے رہے لیکن اس کے نقشِ رفتار کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ الٹا ایک تازی کتا جو شاید اپنی تیز رفتاری سے اس کے پاس جا پہنچا تھا، پیٹ میں قتلی کا گھاؤ لیے پڑا تھا۔ اسے وہیں مار دینا پڑا۔ باقی ساری ٹولی بے مرا دواپس آ گئی۔ یارُو لوگوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ سٔور ہاتھ نہ آیا بلکہ ٹولی میں دولوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تک نہ تھا۔ وہ سب اس ٹاکرے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ کسی عام طریقے سے مرنے والا سٔور نہیں ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص قسم کے دائو اپنانے پڑیں گے۔

یارُو کے بارے میں لوگ جانتے تھے کہ کسی سٔور سے ڈرنے والی مٹی اس میں لگائی ہی نہیں گئی۔ وہ توسٔور کے شکار پر جاتے وقت محض اپنی دلیری کی بنا پر کبھی کوئی ہتھیار لے کر نہیں جاتا تھا۔ رائفل سے لے کر خنجر تک، کسی بھی قسم کا ہتھیار ساتھ لے جانا اس کے آئین سے باہر تھا۔ ایسا شخص جس سٔور کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائے، اس کی موت یقینی تھی اور اگر پکڑ کر لا نہ بھی سکے، پھر بھی وہ اتناکچھ کر آتا تھا کہ اگلی دفعہ کسی اَور کے لیے آسان شکار ثابت ہوتا۔ ان سب خوبیوں کے باوصف جب اس کی ٹیم جان توڑ کوشش کے باوجود ناکام لوٹی اور اس سٔور کے گن گاتی رہی تو ان کی باتوں سے دوسری ٹولیوں میں بھی شوق پیدا ہوا۔ اس کا رنگ اور قد وغیرہ تفصیل سے رٹ لیے گئے۔ مزیدایک خاص نشانی یہ تھی کہ تازی کتوں کے علاوہ کوئی اور کتا جس سٔور کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکے، سمجھ لینا کہ وہی ہمارا مطلوبہ سٔور ہے۔

اب تو کئی ٹولیوں کو جنون ہوا کہ وہ اس سٔور کو مار لائیں۔ ظاہر ہے کہ ایک تو ایسا پھنے خان سٔور مارنے کا اعزا ز بھی مل جاتا اورپھر یارُو کی ٹیم کو بھی نیچا دکھایا جا سکتا تھا۔ کئی ٹولیاں اس کی تلاش میں نکلیں، کچھ کو نظر ہی نہ آیا، کچھ کو نظر تو آیا، لیکن محض ہیولہ ہی، اس کے بعد ان کے کچھ کر سکنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو گیا۔ دو تین ٹولیاں اس کے پیچھے بھاگنے کا تمغہ بھی لے چکی تھیں لیکن کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا تھا۔ الٹا اپنے ہی کچھ کتے زخمی کرا کے لے آئے تھے۔ یارُو لوگوں کے ساتھ مسابقت کی وجہ سے خضرے اور حیدری کی پوری تمنا تھی کہ یہ شکار ان کے ہاتھ سے ہی مارا جائے تا کہ ان کی ٹولی یارُو سے بہتر ثابت ہو سکے۔ جب وہ علیحدہ علیحدہ کچھ نہ کر سکے تو پھر دونوں کی ٹولی نے مل کر بھی دو راتوں تک کوشش کی۔ کوئی بھی اور سٔور نظر آتا تو اس کے طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ صرف اپنے خاص شکار کی تلاش میں ہی رہتے۔ دوسری رات کی ہی بات ہے جب وہ ان کے گھیرے میں آ گیا۔ انہوں نے ٹارچیں جلا کرہر طرف سے اس پر روشنی کا تمبو تان دیا کہ کسی طرح ان کی نظروں سے بچ کے نہ بھاگ سکے۔ درجنوں نظریں اس پہ جمی تھیں اور سولہ کتے اس کے پیچھے پڑے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ گھیرے میں آ گیا ہے تو شاید پہلی دفعہ کسی ٹولی کے کتوں پہ سیدھا حملہ کرنے لگا۔ اس کی رفتار اور طاقت اتنی تھی کہ بوہلی کتے کو بھی قتلیوں پہ اٹھا کے پوری رفتار سے کئی فرلانگ تک بھاگتا چلا جاتا۔ گھنٹوں یہ تماشا جاری رہا۔ اس کا بدن کافی حد تک سرخ ہو چکا تھا، لیکن نہ خضرے اور نہ ہی حیدر ی کی ٹولی کا کوئی آدمی وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یہ اس کا اپنا ہی لہو تھا۔ اس نے دونوں ٹولیوں کے اتنے کتے لمبے لٹا دیے تھے کہ اگلے سیزن تک وہ شکار پر نکلنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔

صبح کا اجالا جب پھیلنا شروع ہوا توزندہ بچ جانے والے کتے اپنی دمیں ہلاتے ہوئے اپنے اپنے مالکوں کے قدموں میں گھس رہے تھے۔ حلق سے چاؤں چاؤں کی خوفزدہ آواز نکل رہی تھی۔ وہ سٔور گو کہ تھکا ہو ا لگتا تھا، پھر بھی اپنی پہلی شاندار فتح کے غرور میں اطمینان سے آہستہ آہستہ چلتا ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حیدری بعد میں بھی اکثر کہا کرتا تھا کہ اس رات اسے اتنا دکھ ہوا تھا کہ اگر وہ رائفل ساتھ لے کر گیا ہوتا تو اسے گولی سے مار دیتا۔ بھلے سارے اصول کی ایسی تیسی ہوجاتی، اپنے کتوں کے مرنے کا دکھ تو کم ہو جاتا۔ واپسی پر دونوں ٹولیوں کے پاس کل پانچ کتے ایسے تھے جو اپنے پیروں پر چل کر ان کے ساتھ آ سکے تھے۔ دو کو اٹھا کر لایا گیا اور باقی مردہ کتے ساتھ لا کے کرنے بھی کیا تھے۔

٭٭٭

وہ سیزن تو یوں ہی گزر گیا۔ مزید کسی ٹولی کا اس سے ایسا بھر پورسامنا نہ ہوا لیکن ایک سال بعد جب پھر شکار کاسیزن آیا تو اس سٔور کی شہرت جاگ اٹھی۔ خاص طور پہ جب ایک دور کی ٹیم کو اس کے ہاتھوں ناقابلِ یقین گزند پہنچا۔ بے چارے ہفتے بھر کا شکارکھیلنے آئے تھے لیکن پہلی رات کے بعدہی پانچ میں سے تین کتے مروا کر، ایک خود ہی ناقابل علاج سمجھ، ٹھکانے لگا کے فقط ایک سہمے، لرزتے کتے کی زنجیر تھامے واپس چلے گئے۔ انہوں نے سٔور کا جو جثہ اور جس طرح کی رفتار بتائی تھی، یارُو، بلکہ اس کے گاؤں کے اکثر شکاری سمجھ گئے تھے کہ یہ وہی سٔور ہے۔ اتنا پھرتِیلا اور جسیم سٔور ان کے علاقے میں او رکوئی تھا ہی نہیں۔ سب شکاریوں نے آپس میں گویا یہ طے کر لیا کہ یہ سٔور اگلا سیزن نہ دیکھ پائے۔ البتہ یارُو نے،سب سے اچھا شکاری ہونے کے زعم میں،اس کے شکار کو ایک بڑے مقابلے کی حیثیت دے دی اور سب کے اتفاقِ رائے سے اس کو پکڑنے کے لیے کچھ اصول بنا دیے۔ پہلا اصول تو وہی تھا کہ کوئی شخص بھی اسے سوائے کتوں کے کسی اور طریقے سے نہیں مارے گا۔ دوسرے،اس کو پکڑنے کے لیے کوئی دو ٹولیاں اکٹھی نہیں ہوں گی۔ پکڑے گی تو کوئی ایک ہی ٹولی اور جس ٹولی نے مار لیا، وہ آئندہ سب سے اعلیٰ ٹولی سمجھی جائے گی۔ تیسرے، اس کا شکار صرف سردیوں میں ہی کرنا ہے۔ اگر سردیوں میں نہ ہو سکا تو پھر گرمیوں کی بجائے اگلے جاڑے میں۔ گرمیوں میں حسبِ معمول کوئی اس کا شکار نہیں کرے گا۔ چوتھے، دن کے وقت اس کے پیچھے کسی نے نہیں بھاگنا، اگر جانا ہے تو صرف رات کوکہ شکار کا اصل لطف رات کو ہی ہے۔ پانچویں جو ٹولی بھی اسے پکڑے گی، برموٹ گاؤں میں ہی لائے گی۔ کسی اور جگہ لے جانے پراُس کے شکار کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان اصولوں کے طے ہو نے کے بعد تمام ٹولیوں میں اس سٔور کو پکڑنے کا ایک عجیب طر ح کا جوش پیدا ہو گیا تھا۔ گویا وہ سٔور نہ تھا، کوئی ٹرافی تھی جو جسے مل جاتی وہ چیمپئن کہلاتا۔ اس سال سبھی شکاریوں کو سٔوروں کے شکار کی بجائے صرف اِسی کے شکار کی دھن تھی۔ خاص طور پر یارُو لوگوں نے تو تہیہ کر لیا تھا کہ دوسرے سٔور تو مارتے ہی رہتے ہیں اور مارتے ہی رہیں گے،اِس بارکوئی اَور سٔور نہیں مارنا بلکہ اِسی نَر کو باندھ کے لانا ہے۔ یارُو کی ٹولی شام ہوتے ہی نکل پڑتی پھر کسی اور سٔور کی چھایا پر دھیان نہ دیے آگے بڑھتی رہتی۔ انہوں نے کئی باراسے دیکھا بھی تھا لیکن اس کا کچھ اُکھاڑ نہ پائے۔

ایک دن شاید وہ ان کی اس مسلسل مڈبھیڑ سے تنگ آ کر خود ہی سامنے آگیا۔ یارُو لوگوں کے کتے اس پر کھول دیے گئے۔ وہ اپنی پوری جھپٹ سے اس پر ٹوٹ پڑے لیکن وہ بھی کچھ اس رفتار سے خود ان کی طرف بڑھا کہ ایک گلٹری کو اپنی قتلی پہ پروئے خود یارُواور اس کے ساتھیوں تک بھاگتا آیا۔ انہوں نے فوراً اپنے بچاؤ کا سوچا، حتیٰ کہ یارُو نے بھی لیکن سٔور ان کی طرف دیکھے بنا رُکا، گھوم کرپلٹا اور اپنے پیچھے آنے والے دوسرے کتوں کو اپنے بھاری وجود سے روندتا آگے بھاگتا چلا گیا۔ یہی کھیل کافی دیر تک جاری رہا۔ جب اس کی دھاڑ رُکی تو سب کتے صاف تھے اور وہ خود اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف دبکے ہوئے تھے۔ سٔور بھی شاید انسانوں سے پنگا لینے کا خواہش مند نہ تھا اس لیے واپس پلٹ گیا۔ گو کہ ناکامی کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا مگر ایک بات یارُو جان گیا تھا۔ بعد میں جب بھی اس کے کتے پھاڑے جاتے تو وہ اپنے آپ کو کوستا تھا۔ اس سٔور کا دایاں کان کٹا ہوا تھا۔ یارُو کو اچھی طرح یاد تھا کہ تین سال پہلے اس کے ہتھے اسی رنگ کا ایک بچہ سٔور لگ گیا تھا۔ اس نے ترس کھاکر اسے آزاد کر دیا تھالیکن آزاد کرنے سے پہلے نشانی کے طور پر اس کا دایاں کان کاٹ دیا تھا۔ اس سٔورکا دایاں کان کٹا ہواتھا اور یقیناًیہ وہی تھا۔ ہر ناکامی پر خود کو کوستے ہوئے وہ یہی کہتا کہ کاش اسی دن اسے اپنے کتوں کو کھلا دیتا، آج ہمیں اتنا ذلیل تو نہ کرتا۔

یارُو کی ٹولی دوسری بار ناکام اور پھر اس بری طرح کٹ کر واپس آئی تھی۔ تمام شکاریوں میں اُس کی شہرت پھیلتی گئی اور ہر جگہ سے آپہنچنے والے شکاری ارمان کرنے لگے کہ کاش وہ اس کا شکار کر سکیں۔ اس سال بھی اسی سٔور کا شہرہ رہا۔ ہر ٹولی اس کا سامنا ہونے کی دعا کرتی۔ پورے سیزن کے دوران وہ کئی ٹولیوں کے ساتھ نپٹ چکا تھا۔ جب سب نے ایک بار اس کی طاقت چکھ لی تو کئی کمزور دل سکھاڑیوں نے اس کے شکا ر کا ارادہ ہی ترک کر دیا اور کوشش کرنے لگے کہ اگر اس کا سامنا ہو بھی جائے تو کنی کترا کے نکل جائیں، خواہ مخواہ اپنے کتے مروانے کا کیا فائدہ۔ مگر جنہیں شکار کا اصل ٹھرک تھا،وہ اسی ’حرامی‘ کو ادھیڑنے کی خواہش میں مرتے تھے۔ بہت بھاگتے، بہت دوڑتے مگر وہ کبھی ہاتھ نہ آتا۔ اس سال اس نے کل انیس کتے ہلاک کیے۔ وہ تھا بھی تو ایسی ہی بلا،سیاہ رنگ کا ایسا بھرا بھرا جثہ جیسے خوفناک کالی رات اپنی پوری ہیبت کے ساتھ مجسم ہو گئی ہو۔ بڑی بڑی قتلیاں اور ان میں اتنی طاقت کہ سر جھکائے، قتلیاں زمین میں گڑو کرگزوں دور تک پوری رفتار سے زمین ادھیڑتا چلا جاتا تھا۔ اس اندھے زور کے ساتھ وہ اس قدر چَھٹ رکھتا تھا کہ تین تین چار چار کتوں کے گھیر ے سے نکل جانا اس کے لیے عام سی بات تھی۔ ایک ہی رفتار سے پوری پہاڑی چڑھ جاتا۔ بلکہ خضرا تو حیرت سے کہتا تھا کہ ’ہے تو سٔور لیکن لگتا نہیں ہے۔ پوری رفتار سے بھاگتا ہوا یک دم رکتا ہے، اور پھرپلٹ کر اسی رفتار سے پیچھے کو دوڑ پڑتا ہے۔ کتے ابھی اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آدھے راستے میں پہنچے ہوتے ہیں کہ وہ واپس مڑ کر انہیں روندنے کے لیے لوٹ رہا ہوتاہے۔ ‘

اس کی اصل مہارت ایک ہی ہلے میں دو کتوں کو پھڑکا جانا تھی اور سب سے بڑی خوبی، کہ دس دس کتے بھی مل کر اسے گھیر کے روک سکے اور نہ ہی اسے ہراساں کر سکے۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ ان سے نپٹتا، جیسے کتے نہ ہوں، چھوٹے نوالے ہوں جنہیں وہ نگل جائے گا۔ یہ اسی سیزن کی بات ہے کہ اس کا ذکر ’’جھِیلے‘‘ کے نام سے کیا گیا۔ اس کی پھرتی اور طاقت کے لحاظ سے وہ عین مین اسی جھِیلے کی طرح لگتا تھا جس کے قصے نوجوانوں نے اپنے بڑوں سے سن رکھے تھے،اس لیے جس نے بھی اس کا یہ لقب سنا، اسے موزوں جانا۔ علاقے کے جن لوگوں نے بابے جھِیلے کو جوانی میں دیکھ رکھا تھا، اس سٔور کے اس نام کو پسند کیا اور اب وہ ہر ایک کے لیے جھِیلا تھا۔ خود بابے جھِیلے کو بھی یہ خبر مل گئی کہ اس سٔور کو لوگ جھِیلا کہہ کے پکارتے ہیں۔ اس نے بھی اس کے قصے سن رکھے تھے۔ ہنس کر بولا’شکر ہے، قدرت نے جھِیلے کا نام زندہ تو کیا۔ ‘ تب سے اسے جھِیلا ہی کہا جانے لگا۔

اس سے اگلے سال صرف آٹھ ٹولیاں رہ گئیں جو جھِیلے کو مارنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ باقی سب لوگ دِل چھوڑ گئے تھے۔ لیکن یہ ٹولیاں بھی اپنے کئی کتوں کو کٹوا دینے کے باوجود جھِیلے کو قابو نہ کر سکیں۔ باہر سے آنے والے شکاری بھی جب یہاں آتے تو اس کا شہرہ سن کر اسی کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتے۔ ایسے ہی کسی شکاری نے حیدری سے جھِیلے کی نشانی پوچھی تو حیدری نے زہر خند سے کہا تھا: ’’نشانی پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب تمہارے سب کتے مر جائیں تو سمجھ لینا کہ مقابل جھِیلا ہی تھا۔ ‘‘

اس بار تو اس نے واقعی تباہی مچا کے رکھ دی تھی۔ ایک اور حیران کن بات شکاریوں نے یہ دیکھی کہ جو شکاری کتے ایک بار پہلے جھِیلے سے لڑ چکے ہوں، وہ جھِیلے کے سامنے جاتے ہی نہ تھے۔ بس دور کھڑے اس پہ بھونکتے ر ہتے۔ یہ واقعی تعجب کی بات تھی۔ ورنہ شکاری کتے تو ایسے سٔور کو، جو انہیں پہلے کبھی زک پہنچا چکا ہو، زیادہ غضب سے چیرنے کو دوڑتے تھے۔ لیکن جھِیلے کے سامنے معاملہ الٹ ہو گیا تھا۔ وہ اس کی طاقت سے دہشت زدہ ہو چکے تھے۔ اس سیزن میں بھی سب ٹولیوں کی کوششیں ناکام گئیں۔ جھِیلا سبھی کے بس سے باہر تھا۔ کتوں کے بس میں وہ آ نہیں سکتا تھا۔ بندوق کے متعلق سوچنا بھی شکاریوں کے خلافِ شان تھا۔ جھِیلا جواں مردوں کی طرح جیے جا رہا تھا۔
اس سیزن کے بعد علاقے کے دو تین چوہدریوں نے جھِیلے کو مارنے کا اچھا خاصا انعام مقرر کر دیا تھا۔ ان دنوں یارُو وغیرہ سب اسی تمنا میں جیتے تھے کہ اب کے سال اسے رگڑ ڈالنا ہے۔ یارُو، جو تاڑ گیا تھا کہ جھِیلے کے سامنے پرانے کتے یرَک جاتے ہیں، خاص طور پہ جھنگ گیا تھااور وہاں کے کسی وڈیرے دوست سے تین جوڑیاں؛ دو بوہلی، ایک گل ٹریا کتوں کی، لے آیاتھا اور اب انہیں چھ الگ الگ گڑھوں میں رکھ کر پال رہا تھاتا کہ جھِیلے کے شکار کے لیے خاص طور پرخونخوار ہو جائیں۔ تمام ٹولیوں کے ساتھ اس نے شرط باندھی تھی؛ اس دفعہ میں اسے مار کے ہی رہوں گا۔ ان دنوں جھِیلے کو مرتے دیکھنے کا جنون تمام برموٹ بلکہ پورے علاقے میں تھا۔ مرد عورت، بچے، بوڑھے اسی پہ بحث کرتے کہ کون سی ٹولی اس قابل ہے کہ جھِیلے کو مار سکے۔ جب بحث کہیں نہ پہنچتی تو آخر شرطیں بدنے لگتے۔ ’تو جس ٹولی کا کہہ رہا ہے، اگر جیت جائے توتمہاری ٹانگ کے نیچے سے گزر جاؤں گا‘۔ ’خضرے کی ٹولی اس کا ایک بال بھی نہیں لا سکتی۔ جس دن وہ اسے پکڑ لائے، میں اپنی مونچھیں مُوت سے مُنڈوالوں گا۔ ‘لیکن سب جانتے تھے کہ اس بحث اور ان شرطوں کا کوئی مقصد نہ تھا۔ جھِیلا کسی کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔

گرمی کے اس موسم میں جھِیلا بہت ہی اکڑ خان بن گیا تھا۔ اپنے آپ کو شاید علاقے کا تھانیدار سمجھنے لگا تھا اور تھانیدار کی طرح ہی گھومتا ہوا عین آبادی میں آجاتا تھا۔ گائوں کی گلیوں میں اس طرح گھومتا، گویا اس کے اپنے باپ کی بنائی گلیاں ہیں۔ ایک مستانی چال سے اپنی تھوتھنی کے ساتھ گلیوں میں گند پھرولتا وہ ایک شان سے چلتا جاتا۔ لیکن کبھی ایک جگہ پر ٹھہرتا نہیں تھا۔ شاید ٹھہرنا اس کااصول تھا بھی نہیں۔ ایک طرف سے آتااور ایسے اعتماد کے ساتھ چلتاہوا، جو سب سے طاقتور ہونے کا احساس ہی دے سکتا ہے،دوسری طرف نکل جاتا تھا۔

جب وہ پہلی بار گاؤں میں آیا تھا تو ایک دہشت تھی جو گاؤں کے اس کونے سے اس کونے تک پھیل گئی تھی۔ ایسا کبھی ہوا تھا اور نہ کبھی ایسا ہو سکتا تھا۔ بھلا سٔور جیسانجس جانور گائوں کا رُخ کیسے کر سکتا تھا۔ برموٹ کے علاوہ کوئی بھی اَورگاؤں ہوتا تو اُس کی بوٹیاں اڑا دی جاتیں لیکن یہ خضرے، حیدری اور یارُو کا گاؤں تھا۔ یہاں شکار کے اصول پر سبھی عمل کرتے تھے۔ اسے مارنے کی بجائے اس کا پِیچا دیکھنے کے لیے کچھ شکاری اس سے بہت آگے چِّلاتے ہوئے گاؤں والوں کو خبردار کرتے گئے کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس کرد روازے بند کر لیں،جھِیلا گاؤں کے اندر آ رہا ہے۔ یارُو، حیدری اور دوسرے کچھ شکاری بندوق لے کر نکل آئے اوراس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے کہ اگرکسی آدمی کے لیے کوئی خطرہ بنا تو اس’ماں کے یار‘کو اُڑادیں گے۔ اصول وَڑ گئے کھڈے میں۔ گاؤں کے باسیوں سے ہمارے اصول اہم تو نہیں۔ لیکن جھِیلا جس نے آج تک شکار کے دوران بھی کسی انسان پر حملہ نہ کیا تھا، کسی گھر کو چھیڑے بغیر آرام سے چلتا ہوا گلیوں سے گزرتا رہا۔ صرف جہاں کسی چاردیواری کے پیچھے شکاری ٹولی کے کوئی کتے بندھے ہوتے، وہاں کتوں کی سہمی ہوئی آوازیں بلند ہوتی سن کر وہ کچھ دیر ٹھٹک جاتا تھا، لیکن جب کسی کتے کو اپنے مقابل نہ پاتا تو پھر چل پڑتا۔ یا رو اور دوسرے سبھی شکاری حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔ آج تک سننے میں نہ آیا تھا کہ کوئی سؤر انسان کو دیکھ کر سامنے کھڑا بھی رہا ہواور یہ جھِیلا کم بخت بھرے پُرے گاؤں میں آ کر انسانوں کے بیچوں بیچ آرام سے گھوم رہا تھا۔ کیا اسے انسانوں سے خوف نہیں آتا؟ کیا اسے معلوم ہے کہ ہم لوگ اسے یوں مارنا نہیں چاہتے یا اسے یقین ہے کہ ہم لوگ اسے مار نہیں سکتے؟جھِیلا ان کی حیرت سے بے نیازکافی دیر گلیوں میں گھومتا رہا اور پھر اسی اطمینان کے ساتھ گاؤں سے نکل گیا جو وہ شکار کے وقت بھی اوڑھے رکھتا تھا۔

اس دن کے بعد شکاریوں کی ٹولیاں ایک بار پھر مل کر بیٹھیں اور اس کے شکار کے لیے بنائے گئے اصولوں پر نظرِ ثانی کی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اب وہ بہت دیدہ دلیر ہو چکا ہے، جس بھی طرح بن پڑے اسے مار دینا چاہیے۔ بندوق سے مارنے میں ہمارا کیا جاتا ہے، جب وہ گاؤں کے لوگوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ آج تو اس نے کچھ نہیں کیا لیکن آئندہ اُس نے کسی آدمی کو چیر دیا تو اس کے مجرم ہمی ہو ں گے جنہوں نے اپنی جوانمردی ثابت کرنے کے لیے اسے چھوٹ دی ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے جن کا کئی دفعہ رات کو اس کے ساتھ ٹاکرا ہو چکا تھا، واضح کیا کہ وہ آدمیوں پر حملہ نہیں کرتا۔ یارُو نے پورے تیقن سے کہا کہ وہ کبھی کرے گا بھی نہیں اس لیے ہم بھی اسے بندوق سے نہیں ماریں گے۔ یہ ہمارے شکاری ہونے پر ایک گالی ہے۔ ماریں گے تو کتوں کی مدد سے ہی۔ ہاں اگر وہ آئندہ بھی کبھی گاؤں آیاتو ہم لوگ اس کے پیچھے آج کی طرح پہرا دیں گے،کوئی خطرہ محسوس کیا تو فائرٹھوک دیں گے، نہیں توکوئی بھی شخص اس کو گولی نہیں مارے گا۔ کافی دیر کی بحث کے بعد وہ اس پہ متفق ہو گئے۔

جھِیلا دیدہ دلیری پر اتر آیا تھا۔ وہ کئی بار گاؤں میں آ چکا تھا۔ عین دن کے وقت جب سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے، وہ کہیں سے گھومتا گھامتا نکل آتا، گاؤں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مردانہ وار چلتاجنگل کی طرف لوٹ جاتا۔ گاؤں کے لوگ اس کے آتے ہی اپنے اپنے گھروں میں گھس جاتے۔ جو لوگ شکاری نہ تھے اور اس کے قصے سن سن کے اس کی طاقت اور پھرتی کے قائل ہوچکے تھے، وہ اسے دیکھنے کے سخت خواہش مند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس دن اسے پکڑ کر لایا گیا تب دیکھ لیں گے مگر اب جو وہ خودگاؤں آ جاتا تھا تو وہ اپنے گھروں کی منڈیروں سے جھک جھک کراسے دیکھتے، مرعوب ہوتے اور اس کی تعریف کیا کرتے، کہ واقعی صحیح معنوں میں ’جنا‘ ہے اور پورا حق دار ہے جھِیلا کہلانے کا۔

اس کے انداز سے کبھی یہ ظاہر نہیں ہوا تھاکہ وہ گاؤں میں کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ شاید وہ وہاں کے شکاریوں کو یہ دکھانے آتا تھا کہ یہ میں آ رہا ہوں، اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ شکاریوں نے کیوں کہ طے کیا ہوا تھا کہ ا س کا شکار سردیوں میں کرنا ہے، اس لیے وہ اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔ صرف سیزن کے انتظار میں تھے۔ جب بھی وہ اسے گاؤں میں دیکھتے، انہیں آگ سی لگ جاتی تھی، یارُو تو ہرروز جھنگ سے لائے اپنے کتوں کو جتاتا تھا کہ اب کی بار سیزن میں اس کے ٹکڑے کر کے چھوڑنے ہیں۔ بڑا آیا سٔور کا بچہ، ہمیں ہمارے ہی گاؤں میں آ کے للکارتاہے۔

٭٭٭

اَسا ڑھ کے مہینے کی بات ہے۔ ایک دن بابا جھِیلاگرمی سے گھبرایا ہوا تھا۔ کچھ دوست اس کے پاس گپ ٹھپ کے لیے آئے تو اس نے ان سے کہہ کر اپنی چارپائی باہر گلی میں شہتوت کے نیچے بچھوا لی، جہاں چھاؤں تازہ اور ہوا ٹھنڈی تھی۔ سب وہیں بیٹھ کے گپیں ہانکنے لگے۔ بابے کی جوانی کی باتیں شروع ہو گئیں تو حسبِ معمول ختم ہونے میں نہ آئیں۔ اسی دوران گلی میں شور مچ گیا کہ جھِیلا اس طرف آ رہا ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگے۔ بابے جھِیلے کے پاس بیٹھے دوست اٹھ کر اس کی کوٹھی میں داخل ہو نے لگے۔ بابے جھِیلے کو انہوں نے کہا بھی کہ وہ سٔور آ رہا ہے، تم بھی اٹھ کے اندر آجاؤ، خواہ مخواہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھوگے۔ لیکن بابا ان کے جواب میں ہنس دیا۔ ’مذاق مت کرو۔ اگر جھِیلا آرہا ہے تو کیا، اصل جھِیلا تو میں ہوں۔ مجھے کیا پروا‘۔ دوست اس کی ضدی طبیعت سے واقف تھے کہ جو بھی کام کرے گا، اپنی مرضی سے کرے گا، ان کے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کے خود کوٹھی میں گھس گئے۔ باباجھِیلا وہیں اپنی چارپائی پہ بیٹھا رہا۔

کچھ دیر بعد جھِیلا گلی کی نکڑ پہ نمودار ہوا۔ اسی مطمئن اور باوقار چال کے ساتھ چل رہا تھاجو اس کی صفت تھی۔ آہستہ آہستہ وہ گلی کے اندر آتاچلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے گلی میں بابے کی موجودگی کو محسوس کر لیا۔ شاید حیران ہو ا ہو گا کہ آج کوئی آدمی اس کے راستے میں کیسے آ گیا۔ وہ چال تھوڑی تیز کر کے بابے کی طرف بڑھا۔ محلے والے حسب معمول اپنی چھتوں پر کھڑے تھے۔ البتہ آج انہوں نے دم سادھ لیا تھا۔ جب جھِیلے نے بابے کی طرف رخ کیا تو کئی عورتوں کے حلق سے مارے خوف کے دبی دبی چیخ نکل گئی۔ پتا نہیں کتنی آوازوں نے بابے کو پکارا، ’اندر چلے جاؤ، اُٹھو،بھاگو! ‘ لیکن بابے کو کچھ پروا نہ تھی۔ وہ بڑی دلچسپی سے جھِیلے کواپنی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ صرف ایک بار اس کی توجہ بٹی، جب اس نے جھِیلے کے پیچھے حسبِ معمول پہرہ دیتے، یارُو اور اس کے ساتھیوں کو بندوقیں اٹھائے گلی کی نکڑ پر نمودار ہوتے دیکھا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں کچھ بھی نہ کرنے کا اشارہ کیا لیکن یارُو اور اس کے ساتھی جھِیلے کو بابے کی طرف بڑھتے دیکھ چکے تھے، وہ تیزی سے آگے بڑھنے لگے،ان کی بندوقیں فائر کرنے کی پوزیشن میں آنے لگی تھیں۔ جھِیلا چلتا چلتا بابے کے پاس آ کے رُک گیا۔ کافی دیر وہیں ٹھہرا رہا، اتنی دیر میں یارُو اور اس کے ساتھی اسے اپنی شِست میں لے چکے تھے۔ چھتوں پر کھڑ ے لوگ اس انتظار میں تھے کہ پہلے یارُو لوگوں کی بندوق چلتی ہے یا جھِیلا اپنا وار کرتا ہے۔

جھِیلے نے اپنا سر جھکایا اور فرمانبرداری سے پہلے بابے کے پاؤں کو سونگھا اور پھر چاٹنے لگا۔ بابے نے بلند آواز سے پکار کر یارُو کو فائر نہ کرنے کا کہا اوریارُو اور اس کے ساتھیوں کی انگلیاں حرکت میں آتے آتے رک گئی۔ ان سب کی آنکھوں میں بھی چھتوں پہ کھڑے لوگوں کی طرح حیرت تھی۔ بس انگلیاں ٹریگروں پر ٹھہرائے بُت بنے کھڑے دیکھتے رہے۔ جھِیلے نے پہلے تو کافی دیر بابے کا پیر چاٹا پھر بھولے بچوں کی طرح اپنا سر بابے کی چارپائی کی پٹی پر رکھ دیا، انداز ایسا تھا گویا کسی بزرگ سے سر پہ ہاتھ پھروانا چاہتا ہو۔ بابابڑ ے دلار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا کٹا ہوا دایاں کان دیکھ کر بابے کو اپنی چوٹ یاد آ گئی۔ بابا اس کے کان والی جگہ کو پیار سے یوں سہلانے لگا جیسے کٹاؤ کا درد کم کرنا چاہتا ہو۔ کافی دیر بعد جب جھِیلے نے اپنی نگاہیں کچھ اوپر اٹھائیں اور بابے کی طرف یوں دیکھا گویا جانے کی اجازت مانگ رہا ہو تو بابے نے اس کے بائیں کان کی طرف ذرا آگے جھک کربڑے لاڈ سے کہا: ’’شاباش پتر! حق ادا کر دیا ہے۔ مگر دیکھ، ہار کبھی نہیں ماننی۔ جب تک میدان میں ہے، تب تک نہیں۔ جب ہارنظر آنے لگی تو پھر میدان میں اترنا بھی مت۔ پکا چھوڑ دینا۔ اب جا میرا پتر، موجاں کر۔ ‘‘

جھِیلے نے یوں سر ہلایا جیسے پوری بات سمجھ گیا ہو۔ آرام سے سیدھا ہوا، ایک بار پھر بابے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت چاہی اور بابے کا اشارہ پا کراپنی پہلی چال سے آگے چل دیا۔ بابا اسے گلی کا موڑ مڑنے تک ایسے فخر سے دیکھتا رہا جیسے اس کا اپنا بیٹاہو،جس کا نام جگ میں بولا جاتا ہو۔

اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی یارُو اوراس کے ساتھی، جو اَب تک اپنی حیرت پر قابو پا چکے تھے، اپنی ڈیوٹی نبھانے کو بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے۔

کچھ دیر بعد بابے کے دوست بھی کوٹھی سے نکل کے دوبارہ اس کے گرد جمع تھے۔ سب کے چہرے اور زبان پہ ایک ہی سوال تھا ’یہ جھِیلے نے کیا کِیاہے؟ ‘

بابے نے مان بھرے انداز میں انہیں جواب دینے کی کوشش کی۔ ’’ میری بڑی مدت سے خواہش تھی کہ جھِیلے سے ملاقات ہو، شکر ہے کہ خود ہی آ کے مل گیا۔ ‘‘

کچھ دوستوں نے اس کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آخربابے نے جھِیلے کو پتر کیوں کہا تھا۔ ’ ’شرم نہیں آئی کہ ایک سٔور کو اپنا پتر کہہ دیا۔ اس کا نام لینے سے زبان چالیس دن پلید رہتی ہے اور تم ہو کہ اسے پتر کہہ دیا ہے۔ کوئی ایمان کی رتّی بھی ہے تم میں؟‘‘

بابا کافی دیر ان کی باتیں سنتارہا۔ وہ سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شور مچاتے رہے۔ آخر تنگ آ کر بابے نے انہیں ایک ہی جواب سے خاموش کر دیا۔ بابا بے بسی کے سے انداز میں چہرے پر مسکرا ہٹ لا کر بولا تھا:
’’اوئے جھلیو!پتر تو وہی ہوتا ہے جس سے باپ کا نام روشن ہو۔ اس نے میرا نام علاقے میں ایک بار پھر مشہور کر دیا ہے۔ میری اصل اولاد تو وہی ہے نا۔ ‘‘

Categories
فکشن

جھجھک (محمد عباس)

پشتے کے پار پانی دیکھ کر اس کے اندر کچھ مچلنے لگا۔ ساون کی حبس آلود دوپہر میں پانی کی سطح گُھوک سوئی ہوئی تھی۔ پانی کسی افیمی کی طرح لیٹا تھا گویا دوپہر کی رُکی رُکی ہوا کے لمس سے پینک میں آ گیا ہو۔ اس کا جی چاہا کہ فوراً چھلانگ لگا کر بطخ کی طرح تیرنے لگے۔ نالے کے پانی کے ساتھ اس کا رشتہ بہت لاڈ کا تھا۔ جس طرح زمین ساون کی بارش سے نگھر آتی ہے، وہ بھی نالے میں پہنچتاتو خود کو ہراہرا محسوس کرتا۔ ہلکا، نرم اور ٹھنڈا۔۔۔نالے میں اترتا تو پانی اسے ماں کی طرح گود میں لے لیتا اور پھر وہ شلوار میں پھُوک بھرے، ٹانگ پہ ٹانگ دھرے، اس کی خاموش سطح پرسیدھا لیٹا کچھ ایسے جھلکورے لیتا رہتا جیسے ماں کی لوری سنائی دے رہی ہو۔

پانی اب بھی اسے اپنی طرف بلا رہا تھا مگر اس کے اندرجمے ہوئے خوف نے اسے محتا ط کر رکھا تھا۔ ’کیا مجھے نہانا چاہیے؟‘ اس نے سوچا۔ جواب حتمی طور پر ’ہاں‘ میں تھا۔ ’لیکن گھرمیں سب کو پتا چل جائے گا۔ ‘ ’کیسے پتا چلے گا‘۔ ’جب مٹیالہ پانی شلوار کا رنگ بدل دے گا، کوئی اندھا بھی جان لے گا کہ میں کہاں سے آرہا ہوں۔ ‘اس نے اپنے اجلے سفید کپڑوں کو دیکھا۔ شلوار پہنے نالے میں نہانے سے شلوار کی یہ سفیدی گدلی ہو جانی تھی۔ ’کیسے پتاچلے گا، اگر کپڑے اتار کر نہایا جائے تو کپڑوں پر کہاں سے داغ آئے گا؟ ‘

’کپڑے اتار کر؟‘
’ہاں! بالکل ننگا!

’مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ میں تو نہ کبھی ننگا نہایا، نہ نہا سکتا ہوں۔ ‘

’کیوں نہیں نہا سکتے؟کیا فرق پڑتا ہے اس سے؟ آخر باقی لڑکے بھی تو ننگے نہاتے ہیں، انہیں کبھی کچھ ہوا کیا؟ اورشرم کی کیا بات؟یہاں اکیلے تم ہو۔ دوپہر ڈھلنے تک کوئی دوسراآئے گا بھی نہیں۔ ‘

اس نے پشتے پر کھڑے ہو کر دورگاؤں کی طرف دیکھا۔ ہر طرف سنسانی، بورائی ہوئی دھوپ اورپچھلی بارش کی نمی سے نکلتی بھڑاس کا راج تھا۔ اس گرمی میں واقعی یہاں کوئی نہیں آنے والا تھا۔ ’مگر پھر بھی۔۔۔ننگا ہونا انسان کے لیے کتنی شرم کی بات ہے؟‘

’اتنی بھی نہیں،جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔۔۔ اور اگر تمہیں اتنی گھبراہٹ ہوتی ہے تو یہاں آئے ہی کیوں ؟ چھوڑو نہانے کو،چلو واپس پلٹ جاؤ۔ ‘

یہ ملامت اس کے لیے مہمیز تھی۔

’اور اگر نہانا ہے تو پھر یہی طریقہ ہے، سارے کپڑے اتارپھینکو اور لگادو چھلانگ۔ ‘

گھر میں غسل خانہ تو تھا ہی نہیں،صحن میں بنے کھُرے پر نہانا پڑتا تھا۔ بچپن میں جب خالہ یا اماں اسے سب کے سامنے ننگا کر کے نہلاتیں توا سے کچھ خاص اوپرا محسوس نہ ہوتا تھا۔ لیکن جب ایک دن اس کی خالہ نے اسے نہلاتے وقت اس کی رانوں کے درمیان سے میل اتارتے ہوئے جھڑکا تھا:’’شرم نہیں آتی، اتنے بڑے ہو گئے ہو اور ابھی تک خود نہیں نہا سکتے۔ ننگے ہو کر ماؤں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہو۔ ‘‘ تو اسے بڑی شرم محسوس ہوئی تھی۔ اسے لگا تھا کہ ننگا ہوناکوئی بری بات ہے۔ اس کے بعداس نے خود نہانا شروع کر دیاتھا اور پوری طرح ننگا نہ ہوتا تھا۔ قمیص اتارتا اور شلوار پہنے ہوئے نلکے کے نیچے جا بیٹھتا۔ کھُرے پر بہنوں اور ماں کے سامنے نہاتے ہوئے پردہ قائم رہتا اور اسے بھی شرم محسوس نہ ہوتی۔ بعد میں اماں نے اسے گھٹنوں تک لمبا ایک کچھا سی دیاتھا جس میں شلوار کی طرح ناڑا ہی بندھتا تھا۔ پچھلے تین برسوں سے نہاتے وقت وہ اسی کچھے سے اپنی شرم چھپاتا تھا۔

برساتی نالوں میں نہانے کا شوق اسے ذرا بڑے ہونے کے بعد چمٹا تھا۔ دراصل یہ اُس جنون کی توسیع تھی جو بارش کی پہلی بوند دیکھتے ہی اس کے اندرجاگنے لگتا۔ وہ کچھا پہنے گھر سے نکل آتا اور گلی میں بارش کا مزہ لیا کرتا۔ کبھی کسی پرنالے کے نیچے، کبھی گلی میں سے بہتے پانی میں چھلاپیاں مارتے ہوئے۔ جب اس کی بانہوں اور ٹانگوں میں طاقت آنے لگی تو یہ اُتھلا اُتھلا پانی اسے کم لگنے لگا اور زیادہ کُھلے کی طلب ہونے لگی۔ یہی طلب اسے ایک دن برساتی نالے میں لے گئی تھی۔ بارش ہو رہی تھی، جب وہ گھر سے نکلا تھا۔ گلی میں کچھ بڑی عمر کے لڑکے تھے جو نالے کی طرف جانے لگے تھے۔ یہ بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ گاؤں سے باہر دور نالے کی طرف جاتے ہوئے اس کا دل اُمڈا جا رہا تھا۔ نالے کے قریب پہنچ کر باقی سب لڑکوں نے تو نالے میں چھلانگ لگا دی مگروہ اپنے سارے جوش کے باوجود درندوں کی طرح لپکتی لہروں کو دیکھ کر ٹھٹک گیا اور کنارے پر سہما کھڑاکافی دیر تک انہیں نہاتے دیکھتا رہا۔ پھر جھجکتے جھجکتے اس نے غرّاتے جھپٹتے پانی میں ایک پاؤں لٹکاکر دیکھا۔ بہائو کی تیزی سے اسے ایک جھٹکا سا لگا لیکن پانی کی مہربان ٹھنڈک سے لطف کی ایک لہر اس کے پورے بدن میں دوڑ گئی تھی۔ ساتھ آئے ہوئے لڑکوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور وہ ہمت کر کے نالے میں اترگیا۔ پانی رانوں تک ہی پہنچتا تھا لیکن پھر بھی اس کے اندر اندھی طاقت تھی۔ وہ جب ایک ہی جگہ پاؤں جما تھوڑی دیرتک کھڑارہا تو ریت اس کے پاؤں تلے سے نکلتی محسوس ہوئی اور یوں لگا جیسے وہ نیچے دھنستا جا رہا ہے۔ چلنے کی کوشش کی تو پانی اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ پانی زیادہ نہ تھا، اس لیے تھوڑی دیر میں وہ سنبھل گیا اور وصال کی اِس انوکھی لذت کا لطف لیتا رہا۔ وہ نہیں جانتا کہ اُس دن اُس کے حلق سے حیر ت اور مسرت کی چہکار بھری کتنی چیخیں نکلتی رہی تھیں۔

نالے کے ساتھ اس کا یارانہ پکا ہو گیا۔ بارش آتی تو وہ نالے میں جا پہنچتا۔ پہاڑوں پر سے شرکاٹے مارتا پانی منٹوں میں اس کے گاؤں کی سرحدتک پہنچ آتا تھا۔ وہ پانی کے پہلے ریلے سے لے کر آخری لہر تک پانی میں رہنے کی کوشش کرتا۔ بس جس دن بارش شام یا رات کو ہوتی، اس دن اسے بڑی مایوسی ہوتی کہ تازہ پانی اور اتنا پانی ضائع گیا۔ خیر یہی نہیں کہ وہ اور اس کے دوست صرف نالے کے بہتے پانی میں نہاتے تھے بلکہ بارش کے بعد بھی کافی دنوں تک اس پانی کا لطف لیتے رہتے۔ نالہ جہاں سے موڑ لیتا تھا وہاں ریت کے مسلسل سرکاؤ سے ایک گڑھا بن گیاتھا جسے ’ڈھن‘ کہتے تھے۔ نالے کا پانی اِس ڈھن میں ہفتوں تک کھڑا رہتا۔ یہ پانی کافی گہرا ہوتا تھا۔ بعض اوقات تو اونٹ ڈباؤ۔ دوبارہ بارش نہ ہو، تب بھی وہ ہفتوں تک اس پانی میں نہاتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ پانی لیس دار اورگاڑھا ہوکر بدن سے چپکنے لگتا۔ تب یہ اندر نہ اترتے مگر حسرت سے دیکھنے ضرور جاتے۔

نالے اور ڈھن کے پانی سے ان کے کئی جذبے وابستہ تھے۔ گاؤں کی عام سی زندگی میں یہی ان کی خاص تفریح تھی۔ خود وہ اپنے بارے میں جانتا تھا کہ اس کی نوخیزی کی پہلی محبت یہ نالہ ہی تھا۔ یہیں اس نے اپنے اندرپہلی بار اس میٹھی لہر کو ہلکورے لیتے محسوس کیا تھاجو جوانی کی مچلن سے آدمی کی رگوں میں رواں ہوتی ہے۔ یہیں پہلی دفعہ اس کے جوان ہوتے دل نے اپنی دھڑکنوں کو بے قابو محسوس کیا تھا۔ ایک نشہ تھا جو پہاڑوں سے بہہ کر آتا تھااور اسے ساتھ بہالے جاتا تھا۔ ساون، بھادوں کے دو مہینے جب اُدھر سکول سے بھی چھٹیاں ہوتی تھیں، وہ زیادہ وقت نالے میں ہی گزارتا۔ نالے کا پانی ہو اور وہ اس میں نہ ہو، یہ تصور ایسے ہی تھا، جیسے کہانی ہو اور اس میں کوئی کردار نہ ہو۔

چودہ سال کی عمر تک وہ اچھا خاصا تیراک بن چکا تھا۔ ہر قسم کی قلابازی، چھلانگ وہ لگا لیتا تھا۔ بلکہ جب وہ نالے کے پشتے سے، جہاں پانی کا کنارہ دو میٹر دور بنتا تھا، قلابازی کھا کر نالے میں آ کودتا تو اس کے ساتھی دیکھتے رہ جاتے۔ اتنی ماہرانہ چھلانگ کوئی نہیں لگا سکتاتھا۔ پانی کے اندر دو دو منٹ تک غائب رہتا اور بیسیوں فٹ دور جا اُبھرتا تھا۔ سب کرتب جو اس کے ساتھی دکھا سکتے تھے، وہ ان سے بڑھ کر دکھا لیتا تھا۔

تیراکی کی یہ سب مہارتیں اپنی جگہ، نہانے کا شوق الگ لیکن ایک کام وہ کبھی نہیں کر پایا تھا۔ وہ تھاننگا ہو کر نہانے کا۔ اس کے اکثر دوست گھر والوں کے خوف سے اپنے کپڑے اتار کر نہاتے۔ باہر نکل کر آرام سے منھ، سر پر ہاتھ پھیرتے، بدن سُکھا،کپڑے پہن کر چل دیتے لیکن اس کے دل میں کبھی یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ ایسے نہا سکے۔ دوسروں کے ننگے بدن دیکھ کر اسے بڑی شرم آتی اور وہ سوچتا کہ وہ خود عریاں ہو کر کیسا دکھائی دے گا۔ ننگی پیٹھ، ننگی نونو کا سوچ کر ہی وہ مُر مُرا سا جاتا۔ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کو یہ موج ضرور تھی کہ گھر سے اتنی روک ٹوک نہ تھی۔ ابا بیرونِ ملک تھے، اماں کچھ کہتی نہ تھیں، اس لیے اسے کپڑے گدلے ہونے سے کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑتی۔ وہ آرام سے اپنا کچھا پہنے نہاتا رہتا اور دوسروں کا ننگ دیکھ دیکھ کر منھ پھیرتا رہتا۔ دوسرے بھی اس کی شرم پر اس کا مذاق اڑاتے مگر وہ ان کے کہنے میں نہ آتا تھا۔ ایک دفعہ،باقی دوستوں کا اشارہ پا کر ساجی پانی کے اندر ڈبکی لگا ئے ہوئے،اس کا کچھا کھینچ لے گیا تھا۔ اس دن وہ اپنے دوستوں کے سامنے بہت گھگھیایا تھا۔ کچھے کے بغیر نکلنے کا سوچ کر اس کی ٹانگیں بے جان ہورہی تھیں۔ پہر بھر پانی میں دبکا رہا مگر انہوں نے اس کا کچھا واپس نہ کیا تھا۔ شام کو جب گھر جانے کا وقت ہوا،تب انہیں اس پر رحم آیا تھا۔ کچھادوبارہ واپس ملنے تک وہ عہد کر چکا تھا کہ آئندہ زندگی میں کبھی بھی ساجی کو منھ نہیں لگائے گا اور آج تک وہ اپنے اس عہد پر قائم تھا۔

آج کل ساون کا مہینہ تھا۔ نہانے کے دن زوروں پر تھے مگر پرسوں اس کی نانی کی اچانک وفات نے لطف خراب کر دیا تھا۔ نانی کی وفات پر سارے ننھیالی رشتہ دار ماموں، خالائیں جو بیرونِ ملک تھے، پاکستان آگئے تھے۔ اس کے ننھیالی گھر میں ایک بھیڑ سی جمع ہو گئی تھی۔ اماں کے آٹھ بہن بھائی تھے اور ان سب کی اولاد ملا کر کوئی تیس کے قریب پہنچتی تھی جن میں سے آٹھ دس لڑکے اس کے ہم عمر تھے۔ ان میں سے بیشترملیر اور مسیر رہتے تو پاکستان میں ہی تھے لیکن اس طرح اکٹھے کم ہوپاتے تھے۔ ان کے لیے تو جشن کا سماں تھا۔ انہیں اور جو باہر سے آئے تھے، سب کو نالے میں نہانے کاچسکا تھا۔ جس دن وہ نانی کو دفنا کر واپس آئے، اس رات مسلسل تیز بارش ہوئی تھی۔ تمام رات بارش کی ٹپا ٹپ سنتے ہوئے اس کا دِل تازہ پانی کے لمس کے لیے مسوستا رہا اور وہ دل ہی دل میں صبح نالے میں نہانے کے منصوبے بناتا رہا۔’ صبح تک نالہ تو بہہ چکا ہو گا۔ چلو ڈھن میں ہی نہا کر لطف لے لیا جائے گا۔‘ اسی فکر میں رات کو اسے بہت دیر سے نیند آئی۔ صبح جب وہ جاگا تو سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ بارش کے بعد دھوپ دھل کر مزید تیکھی ہو گئی تھی۔ جلدی جلدی ہاتھ منھ دھو کر اس نے ناشتہ کیا، اس دوران وہ جان گیا تھا کہ سبھی ملیروں، مسیروں میں سے کوئی بھی گھر میں نہیں ہے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ سب نہانے کو نکل گئے ہیں۔ گھر کی سب عورتیں ایک طرف برآمدے میں پھوہڑی پہ بیٹھی تھیں۔ مرد فاتحہ کی طرف تھے۔ وہ سب سے آنکھ بچا کے باہر نکل آیا۔ اس کا یہ ننھیالی گھر، جسے و ہ سب ’ڈیرہ‘ کہتے تھے، گاؤں کے بالکل بیرونی سرے پر تھا۔ جہاں سے ڈھن کا پشتہ دورصاف نظر آتا تھا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا ہو گا کہ اسے کافی سارے لوگ پشتے سے نیچے اترتے اور ڈیرے کی طرف آتے دکھائی دیے۔ وہ ٹھٹک گیا۔ ذراسی دیر میں اس نے اپنے بڑے ماموں کوجو سب سے پیچھے تھے،ان کے لمبے قد کی وجہ سے پہچا ن لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ماموں ان سب کو وہاں سے کھینچ کر گھر کی طرف ہانک رہے ہیں۔ وہ فوراًڈیرے کی طرف پلٹ آیا اور ادھر ادھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ماموں ان سب کو لیے آن پہنچے۔ سا ری پلٹن کو ایک طرف کڑی دھوپ میں مرغا بنایا گیا اور سب کو ایک ایک جوتا عین تشریف پر رسید کیا گیا۔ وہ ان کی حالت دیکھ دیکھ اپنی خوش بختی پر ہنستا رہا ورنہ اگر ماموں تھوڑی دیر بعد جاتے تو اب دھوپ میں اس کا بھی عرق نکل رہا ہوتا۔

عصر کے بعدجب پھوہڑی اٹھا دی گئی اور سب رشتہ دار اکٹھے بیٹھے تو بڑے ماموں نے اُن سب کو طعنہ دیااوراِس کی تعریف کی کہ یہ واحد لڑکا ہے جسے گندے کاموں کا شوق نہیں۔ شاباش کے ساتھ ماموں نے اسے دو روپے انعام بھی دیاجس پر اسے کافی فخر اور ملیروں او ر مسیروں کو بہت جلن ہوئی تھی۔

اُس دن سارا وقت اس کا دل نہانے کومچلتا رہا تھا۔ اب تو سارا نالہ بہہ گیا ہو گا۔ وہ جو تازہ پانی میں مزہ آتا ہے، وہ نہیں ملے گا۔ اتنا۔۔۔گھنٹوں پانی ضائع گیا۔ جس میں بندہ نہا نہ سکے، وہ پانی ضائع ہی سمجھو۔ اب دوبارہ بارش ہونے تک ڈھن میں ہی نہانا پڑے گا۔

اگلے دن وہ صبح سے ہی بے تاب تھا لیکن قل کی وجہ سے ان سب ملیروں، مسیروں کو کام بھی بہت تھے، وہ جلدی نہ نکل پایا۔ قل خوانی کے بعد مرد حضرات کھانا کھا کر چلے گئے اور فاتحہ کی دریاں لپیٹ لی گئیں توگھر کے سب مرد اُلسانے لگے۔ ایک ماموں اِدھر پڑ رہے، دوسرے اُدھر۔ بڑے ماموں نے چارپائی توت کے نیچے بچھائی اور خراٹنے لگے۔

موقع مناسب دیکھ کر وہ کھسک لیا تھا لیکن اب ڈھن پر پہنچ کر ایک نئے مسئلے نے اسے الجھا لیا تھا۔ نہانے کا واحد طریقہ جس سے پکڑے جانے کا امکان نہ رہتا، یہی تھا کہ وہ ننگا ہو کر نہائے لیکن اِس میں شرم آڑے آتی تھی۔ وہ پشتے سے اتر کر ڈھن کے قریب گیا۔ پانی اسے بلا رہا تھا۔ اُس وقت کوئی آدمی دیکھنے والا نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے دوست دوپہر ڈھلنے کے بعد نہانے کوآئیں گے اور پھر شام گہرانے تک ڈھن پر قابض رہیں گے۔ اس کے پاس،اگر وہ ننگا ہو کر نہانا چاہے اور دوسروں کی نگاہوں سے بچنے کی خواہش بھی رکھتاہو تو یہی مناسب وقت تھا۔ اس نے کنارے پر بیٹھ کر ڈھن کے پانی میں ہاتھ پھیرا۔ سطح کا پانی تپا ہوا تھا مگر تھوڑی دیر ہاتھ ہلانے سے نیچے کا ٹھنڈا پانی اوپر آ کر چَس دینے لگا۔ نالے کے پانی سے اسے جو خمار چڑھتا تھا، جڑ پکڑنے لگا۔ وہ کافی دیر تک کنارے پر بیٹھا ایک ہاتھ پانی میں ڈبوئے دائیں بائیں لہراتا رہا۔ دوپہرکی گونجیلی خاموشی میں ہاتھ کے ہلنے کی ہلکی سی شپ شپ بھی خاصا ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

’اب اس پانی سے کیسے دور رہ سکتے ہو تم؟‘

اس نے ہاتھ باہر نکالا اور واپس پشتے پر جا کر دور گاؤں کی طرف دیکھا۔ اس بوجھل دوپہر میں سارا گاؤں سویا سا لگتا تھا۔ تمام ماحول حرکت اور زندگی سے محروم تھا جیسے کسی ساحر نے کوئی سحر پھونک کر صدیوں کے لیے اسے ساکت کر دیا ہو۔ کوئی ذی روح باہر کھیتوں میں نظر نہ آ رہا تھا، سوائے تین چار گایوں کے جو دور ایک بیری کے نیچے بیٹھی،جگالی کر رہی تھیں۔ درختوں کی پمپوچھلیاں بھی بھاری ہوا تلے دبی ساکت پڑی تھیں۔ ڈیرے کے قریب جامن کا درخت اپنی تنہائی پہ ملول کھڑا تھا ورنہ ان دنوں تو ہر وقت اُس پر لڑکوں کی فوج دندنا رہی ہوتی تھی۔ جتنے بھی گھر نظر آ رہے تھے سبھی کی منڈیر وں پر سکوت سنسنا رہا تھا۔ اس نے غور سے ڈیرے کے دروازے کو دیکھا۔ نیلے رنگ کا بڑا سا دروازہ کبھی کھلنے والا نہیں لگتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھاجیسے اس کے اندر رہنے والوں کو جادوگر نے ہمیشہ کے لیے قید کر دیا ہو۔ اس نے پلٹ کر پانی کی طرف دیکھا، پانی نے مسکرا کر آنکھیں جھپکیں اور ہولے سے ہاتھ ہلا کر اسے اپنی طرف بلایا۔ وہ بے اختیار کھنچتا چلا گیا۔ شلوارکھولتے وقت پھر شرم نے اسے پکڑ لیا۔

’نہیں، یہ مجھ سے نہیں ہو گا ‘

’واہ! کیا ہو جائے گا تمہیں، کون دیکھ رہا ہے یہاں؟ خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہے ہو۔ ‘

’اتنی کھلی جگہ پر ننگا ہونے سے زیادہ بے شرمی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ساری دنیا مجھے دیکھ رہی ہے۔ ‘

’ساری دنیا !۔ تم بچے ہی رہو گے یا کبھی عقل سے بھی کام لو گے؟ پہلے شلوار اتارو،قمیص کے دامن سے اپنا آپ چھپاؤ،پھر پانی میں اترو، اور اپنا ننگ پانی میں چھپانے کے بعد قمیص بھی اتار کرباہر پھینک دینا، آرام سے پانی کے اندرنہاتے رہنا۔ آخر پر الٹی ترتیب سے پہن لینا۔ ‘

و ہ پھر جھجک گیا۔ خیال تو اچھا تھا، مگر۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ دوبارہ پشتے پر گیا اور گاؤں کی جانب دیکھا۔ سحر ابھی تک قائم تھا۔ وہ واپس کنارے پر پہنچااور پانی کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیا۔

آرام سے شلوار اتار کر کنارے پر رکھی اور قمیص کوہاتھوں سے سنبھالتا ہوانیچے پانی میں اترنے لگا۔ پانی جیسا کہ ڈھن میں ہوتاہے، پہلے ہی قدم پر رانوں تک آگیا۔ اس نے قمیص کو اوپر پشت کی جانب اٹھایا اور جلدی سے دوسرا قدم بھی آگے رکھ دیا۔ پانی اس کی کمر تک آگیا۔ وہ اپنی شرم کی طرف سے مطمئن ہو گیا۔ آرام سے کھڑے ہو کر اپنی قمیص اتاری اور ہاتھ آگے بڑھا کر کنارے پر پھینک دی۔ پھر اگلے قدم پر پانی اس کی ناک سے بھی اوپر تھا۔ اوپری سطح کے پانی نے اول تو اسے تھوڑی ناخوشگوار حرارت دی مگر تھوڑی دیر بعدجب و ہ دو تین غوطے لگا چکا تھا اور سارا پانی اوپر نیچے ہو گیا تو ٹھنڈ ک اس کے اندر تک رسائی حاصل کرنے لگی۔ سرور سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں اور وہ لطف لیتا ہوا مختلف طریقوں سے پانی پر تیرتا رہا۔ الٹی تاری، کتا تاری،بطخ تاری، بھینس تاری۔ اِدھر سے چلتا اُدھر نکل جاتا، اُدھر سے ڈبکی لگاتا اِدھرآ نمودار ہوتا۔ جیسے پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد خمار چڑھنے لگتا ہے، وہ بھی خمارنے لگا۔ سکون،آرام، چین،قرار، سکھ سب جیسے پانی میں گھُلے ہوئے تھے اور اب اس کے ساتھ آلپٹے تھے۔

پانی کے بہت ہلکے ٹھار اور دوپہر کے سکوت نے اسے یوں دھیماکر دیا تھا جیسے من چاہی عورت کے ساتھ گرم جوش ملاپ کے بعد آدمی محسوس کرتا ہے۔ وہ سست پڑنے لگا۔ تیرتاتو ہولے ہولے، ڈبکی لگاتا تو بڑے آرام سے۔ ایک دفعہ جو اس نے ڈبکی لگائی تو کافی دیر اس کا باہر نکلنے کو جی ہی نہ چاہا۔ جانے کب تک وہ مزہ لیتا رہا۔ بہت دیر بعد اس نے سر اٹھایا۔بدن میں تازگی کی لہریں ہلارے لے رہی تھیں۔اس ٹھنڈے لمس نے اس پر نشہ طاری کر دیا تھا۔۔۔آہ! کتنا سواد ہے زندگی میں۔۔۔ ایں۔۔۔وہ چونک پڑا۔ کہیں قریب سے کچھ ملی جلی انسانی آوازیں آنے لگی تھیں۔ وہ ٹھٹک گیا اور کان اُدھر کر لیے۔ کچھ لوگ پشتے کی طرف سے اِدھر آرہے تھے…کون ہو سکتے ہیں یہ۔۔۔ شاید اُس کے دوست ہیں۔ ماموں تو ہو ہی نہیں سکتے۔ وہ تو سوئے ہوئے تھے۔ یقینا اس کے دوست ہی ہوں گے۔ اب مزا آئے گا۔۔۔ لیکن اگر ساجی بھی ان میں ہوا تو ۔۔۔ساجی نے یوں دیکھ لیا توساری عزت کا حلوہ بنا دے گا۔ اس نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا۔ کافی دور کنارے پرپڑے تھے۔ وہ تیزی سے ادھر لپکا۔ اُن کے پہنچنے سے پہلے اسے کم از کم شلوار پہننی ہے۔ ابھی وہ کنارے سے خاصا دور تھا کہ ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔یہ اس کے مسیر کی آواز تھی: ’’ماموں اسے خوب پھینٹی لگانی ہے۔ کل بڑا میسنا بن رہا تھا۔ ‘‘

وہ کانپ گیا۔ یہ تو ماموں ہی نکلے۔ ضرور ان حرامیوں نے کل کی جلن اتارنے کو چغلی کھائی ہو گی۔ اب کیا ہو گا۔

وہ کپڑوں کی طرف بڑھتا بڑھتا رک گیا۔ آگے آگے ماموں کا سر اور کندھے نمودار ہوئے، پیچھے ساری پلٹن ابھرنے لگی۔ وہ سُن کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔ اگر اب باہر نکلا تو ننگا ان کے ہاتھ آ جائے گا۔ کپڑوںتک پہنچنے کا وقت بالکل نہ رہا تھا۔ کھڑا رہا تو بھی یہ بدمعاش اسے پانی میں آ دبوچیں گے۔ اب توبس بھاگ نکلنے میں عافیت تھی۔ اس کی ساری نِندتا غائب ہو گئی۔ وہ پلٹا اور تیزی سے دوسرے کنار ے کی طرف لپکا۔

’ ماموں یا دوسرے لوگ اتنی چوڑی ڈھن فوراً عبور تو نہ کر سکتے تھے۔ ‘

اس نے سوچا اور ڈھن سے پار نکل کر دونوں ہاتھ پیچھے رکھے دوڑ پڑا۔ اسے قطعاً علم نہ تھا کہ بھاگ کے جانا کہاں ہے، ابھی تو ماموں کے ہتھوڑا ہاتھوں سے بچنے کا سوال تھا۔ وہ دوڑتا رہا۔۔۔ پیچھے ماموں اور ملیروں، مسیروں کے للکارے اس کا تعاقب کرتے رہے مگر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا اور پوری رفتار سے بھاگتا رہا۔ بھاگتا چلا گیا۔۔۔

Categories
فکشن

گُم شُدہ شہر کی کہانی (محمد جمیل اختر)

آدھی رات کو اُس نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی تو اُسے یوںمحسوس ہوا کہ وہ ساری عُمر دستک دیتا رہے گااوریہ دروازہ کبھی بھی نہیں کھُلے گا۔۔۔وہ جوان ہوگیا تھا لیکن اُس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا،اُس نے بہت چاہاکہ وہ بڑا ہوجائے لیکن ہر بارناکام رہا اب جب کہ وہ ایک پینتیس سال کا جوان آدمی تھاتو وہ کوشش کرتا کہ ہراُس صورت حال سے بچے کہ جس سے لوگوں کو اُس کے ’’پانچ سالہ دل‘‘ کے بارے معلوم ہوجائے۔۔

جب تک یہ آدمی دروازے پہ کھڑا ہے،اِتنی دیر میں ہم درج ذیل تین باتیں پڑھ لیتے ہیں
ٌ*افشین نے ایک عمارت کے چوتھے فلور سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔
**افشین کے باپ نے چارلاکھ کا انگلش بُل ڈاگ منگوالیا۔۔
***افشین نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر لکھا ’’میں اِن زہریلے مچھروں سے تنگ ہوں، شاید میں جلد مرجاؤں ‘‘

بھلا اِن باتوں کاآپس میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟بہت سی باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔۔

اس کہانی کو لکھنے کے لیے مجھے مکمل خاموشی چاہیے جو ایک کمرے کے مکان میں میسر نہیں سو مجھے بار بار گلی میں جاکر سگریٹ پھونک کر کرداروں کے بارے سوچنا پڑتا ہے سو آپ کو وقفوں وقفوں میں مختلف کرداروں کی کہانی پڑھناہوگی۔۔۔میری بیوی کا خیال ہے کہ کہانیاں لکھنے سے گھر نہیں چل سکتا، میرا بھی یہی خیال ہے لیکن میں اب کیا کرسکتاہوں۔۔۔وہ مجھے بتارہی ہے کہ میرے بھائی نے اپنا مکان لے لیا ہے۔

’’ ہم کب تک کرائے کے ایک کمرے میں رہیں گے؟‘‘میرے پاس اِس بات کا کوئی جواب نہیں۔۔۔

میں سگریٹ پینے گلی میں چلا جاتا ہوں۔۔۔واپسی پر میری بیوی کی آنکھ لگ چکی تھی۔۔۔آئیے ! ہم کہانی کی جانب لوٹتے ہیں۔۔

اب جب کہ وہ بڑا ہوچکاتھا لیکن دل بالکل بچوں جیسا ہونے کی وجہ سے راتوں کو روتا رہتا اُس کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ اخبار نہ پڑھے لیکن جب کبھی لوگ اُس کے سامنے کسی خبر پربحث کرتے تو وہ کوئی جواب نہ دیتاکہ شاید لوگ موضوع بدل لیں۔ قتل وغارت اوردھماکوں کی خبروں سے وہ بے انتہااُداس ہوجاتالیکن اُس شہر کے لوگ زندگی کی بجائے موت کے بارے زیادہ گفتگوکرتے،وہ جلدی جلدی اپنے گھرپہنچتا اور ساری رات کانوں میں ہیڈفون لگاکر گانے سُنتا رہتا اور کمبل میں منہ چھپا کرروتے روتے سو جاتا۔۔جوں جوں اُس کی عمر بڑھتی جارہی تھی،شہر بدلتا جارہا تھااور قتل وغارت کی خبریں بڑھ گئی تھیں، وہ دعا کرتا کہ ’’ یاخدا اِس شہر کو کوئی قانون عطافرما‘‘

وہ نوجوان ابھی تک دروازے پہ کھڑا کانپ رہا ہے لیکن دروازہ نہیں کُھل رہا۔۔کوئی تو دروازہ کھولے کہ بڑی مشکلوں کے بعد اُسے اپنا گھر ملا تھایہاں پہنچنے سے پہلے وہ شہر کی کئی گلیاں دوڑتا رہا تھا، دراصل اُس کے پیچھے کتے پڑ گئے تھے، ایک گلی کے سِرے پر چند لڑکے کتوں کی لڑائی کرانے کا سوچ رہے تھے، رات کافی بیت چکی تھی اور اُس نے دیکھا کہ تمام کتے نیند میں اونگھ رہے ہیں،لڑکوں نے کتوں کو چابک رسید کیے تو کتوں نے بھونک بھونک کر سارا شہر جگادیا۔۔۔

وہیں ایک بچی رو رہی تھی۔۔۔

’’یہ رو کیوں رہی ہے ؟‘‘ اُس نوجوان نے سوچا،شاید وہ بھی کتوں سے ڈر گئی ہے۔وہ اُسے حوصلہ دے کر چپ کرانا چاہتا تھا لیکن اُس کا اپنا ڈر کے مارے برا حال تھا سواُس کی آواز اندر ہی دب گئی۔۔وہ ننھی لڑکی دوڑ کے آگے بڑھ جاتی ہے لیکن یہ کیا وہ پھر واپس آرہی ہے شاید آگے گلی بند تھی یا پھر آگے بھی کتے تھے،اُسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے شہر کو کتوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔۔حالانکہ افشین نے اُسے درج ذیل تین باتیں بتائی تھیں۔۔

*اِس شہر میں ایسے مچھر ہیں جن کے سر آدمیوں کی طرح ہیں اورروز بَہ روز اِن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔۔۔
**میرے باپ نے میری ماں کو طلاق دے دی ہے،وہ باہر سے کتے امپورٹ کرتا تھالیکن میر ی ماں کو اعتراض تھاسو اُس نے طلاق دے دی۔۔۔۔
***اب میں جہاں رہتی ہوں وہاں ہر طرف مچھر ہی مچھر ہیں، مجھے اُمید ہے تم مجھے اِس شہر سے ضرور دور لے جاؤ گے۔
۔
اُس ننھی لڑکی کی آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو کتوں اور لڑکوں کے سوا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔۔

وہ آدمی کہ جس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، ڈر گیا اُس نے سوچا ’’اِن کتوں کو کوئی روکتا کیوں نہیں ؟‘‘

لیکن اِس شہر میں اب کوئی کسی کونہیں روک سکتا تھا۔۔

یہ بالکل نیا شہر تھا، پرانا شہر آہستہ آہستہ معدوم ہوتے ہوتے آج مکمل طور پہ گُم ہوگیا تھا۔

وہ وہاں سے بھاگا کہ اُسے پرانا شہر ڈھونڈنا تھا۔۔۔

’’کیایونہی بھاگتا جاؤں، بھاگتا جاؤں تو مجھے گُم ہوا شہر مل جائے گا؟‘‘اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا

’’نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔گُم ہوئے شہر کبھی نہیں ملتے ‘‘اندر سے جواب ملا تھا۔۔۔

وہ اِس نئے شہر سے بھاگ جانا چاہتا تھا،چند روز پہلے افشین نے اُسے بتایا تھا کہ
* وہ تو اِس شہر سے دور جانے والی ہے بہت دوربلکہ خواب میں اُس نے ایک گاڑی بھی پکڑ لی تھی جس پہ وہ بغیر ٹکٹ سوار ہوگئی تھی اور اُس نے کئی ہزارکلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے یہ شہر پارکرلیا تھا، خوا ب میں انسان بہت تیز سفر کرتا ہے،صدیوں بھرا دن لمحوں میں کٹ سکتا ہے۔

’’ہوسکتا ہے یہ زندگی عرصہِ خواب ہو؟‘‘ اُس نے افشین سے پوچھا تھا۔

’’نہیں بالکل نہیں، یہاں ایک ایک لمحہ صدیاں بن گیا ہے یہ خواب نہیں ہوسکتا‘‘افشین نے کہا تھا۔۔

’’اِس سے پہلے کہ دالیں سبزیوں کے بھاؤ، سبزیاں گوشت کی قیمت پر بکیں اور گوشت ہماری قوتِ خرید سے باہر ہوجائے ہمیں اُس سے پہلے اِس شہر سے بھاگ کر شادی کرلینی چاہیے ‘‘افشین نے کہا تھا۔

’’لیکن میری تو شادی ہوچکی ہے میرا ایک بچہ بھی ہے پھر بھی تم مجھے سے شادی کرنا چاہتی ہو تو سنو،ہم ضرور شادی کرلیں گے، بس کچھ رقم میرے ہاتھ آجائے،میں روپے جمع کررہا ہوں،مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘‘

’’وقت ہی تو نہیں ہے ‘‘افشین نے کہا تھا اور اُس کے پاس واقعی وقت نہیں تھا،اُس نے آج ایک بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔۔۔اُس شہر میں اب ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس سے یہ ثابت کیا جاسکتاکہ اُس نے بلڈنگ سے چھلانگ لگائی تھی یا اُسے مچھروں نے نیچے پھینکا تھا۔۔

وہ ڈرا ہوا لڑکا بھاگتا بھاگتا ایک گلی میں داخل ہوا جو اُس کی اپنی گلی ہی کی طرح تھی لیکن اُس کا گھر کہیں موجودنہیں تھا۔۔۔صبح تک تو اُس کا گھر اِسی گلی میں موجودتھا، معلوم نہیں اب اُس کا گھر کہاں ہے۔۔ابھی وہ یہ سو چ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکا ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے اُس کے سامنے آگیا، لڑکے اور کتے کی آنکھوں میں وحشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔

’’دیکھو مجھ سے لڑنا مت،مجھے لڑنا نہیں آتا ‘‘اُس نے گھبرا کر کتے والے نوجوان سے التجا کی ۔

لڑکے نے اُس کا گریبان پکڑ لیا اور ایک زور دار تھپڑ اُسے رسید کیا۔۔

’’دیکھومجھے چھوڑ دو میں ڈر اہوا انسان ہوں، میرے ماں باپ بھی ڈرے ہوئے تھے انہوں نے مجھے سکھایا تھا کہ کسی سے مت لڑنا ‘‘۔

لڑکے نے اُسے دھکا دے کر نیچے گرا دیا’’سالے اتنے بڑے ہوگئے ہو ڈرتے ہو، یہ لو کتا اور شہر کی گلی گلی میں گھومو‘‘۔

’’کتا۔۔۔نہیں مجھے کتوں سے خوف آتا ہے ‘‘

’’خوف ؟ اب بھلا کس بات کا خوف؟ اب تو شہر میں انسانوں سے زیادہ کتے ہیں۔۔۔‘‘

وہ وہاں سے بھاگا توکتے والے لڑکے نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ’’نئے شہر میں رہنے کے لیے ہمارے جیسے ہوجاؤ، ورنہ تمہیں شہر چھوڑنا پڑے گا‘‘۔

وہ بھاگتا رہا، بھاگتا رہا حتٰی کہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔لیکن اب دروازہ نہیں کُھل رہاتھا۔۔

’’آپ رات کے اِس وقت باہر کیوں گئے تھے ؟‘‘ میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں دراصل میری بیوی کی آنکھ پھرکُھل گئی ہے۔

’’سگریٹ پینے گیا تھا‘‘ میں نے اُسے بتایا۔

’’چارپیسے جو کماتے ہو، وہ بھی دھوئیں میں اُڑا دیتے ہو۔۔۔اِس بچے کو دیکھو،کل کو اِس نے سکول جانا ہے کچھ بننا ہے کیا تم نے اِس بارے کچھ سوچا ہے؟ـ‘‘میرے پاس اِن میں سے کسی سوال کا جواب نہیں۔۔

رکیے! میں سگریٹ پی کر آتا ہوں۔

’’اب پھر باہر جارہے ہو۔۔۔؟تم کبھی بھی ہمارے بارے نہیں سوچتے ‘‘۔

میں اپنے ایک کمرے کے مکان سے باہر آجاتا ہوں، باہر بے انتہاسردی ہے لیکن میرے اندر آگ جل رہی ہے، سگریٹ سلگاکر میں نے سامنے دیکھا تو ایک آدمی تھر تھر کانپ رہا تھا۔

’’کیا ہوا؟خیریت تو ہے ؟‘‘میں نے پوچھا۔

آدمی نے سراُٹھایا۔۔۔

’’تم؟؟؟؟؟ ‘‘

’’تم یہاں کیا کررہے ہو، تم تو کہانی میں تھے ‘‘میں نے اُس سے پوچھا۔

اُس آدمی نے میرا گریبان پکڑلیا۔

’’سالے، مجھے یہاں اکیلا کھڑا کرکے تم نے اچھا نہیں کیا،شہر میں ہرطرف کتے ہی کتے دندنا رہے ہیں اور یہ چوٹیں دیکھو جو بھاگ بھاگ کر لگی ہیں، اب یہ دروازہ کھلواؤ ورنہ میں خوف سے مرجاؤں گا‘‘وہ رونے لگ گیا۔

’’لیکن تم تو کہانی میں تھے تم یہاں کیسے پہنچے ہو؟‘‘

’’دروازہ کھلواؤ، میں مرجاؤں گا،یہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا‘‘وہ چلایا۔

’’جب اِتنا حوصلہ نہیں تھا تو محبت کیوں کی تھی ؟‘‘میں چلایا۔

’’میں نے تو اُسے بتایا بھی تھا کہ میرا دل ایک پانچ سال کے بچے جتنا ہے،میں اِن کتوں اور مچھروں سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا،
خدا کے لیے دروازہ کھلواؤمیرا دل خوف سے پھٹ جائے گا‘‘

’’اندر آجائیے باہر بہت سردی ہے ‘‘میری بیوی نے کھڑکی سے کہا تھا۔

Categories
نان فکشن

لینڈ مارک (قیصر نذیر خاور)

اِس شہرکے بہت سے لینڈ مارک گم ہو چکے ہیں ؛ اِس کا تاریخی ‘زیرو سنگ ِمیل’ تک غائب ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہ پر اب ‘ایس ایم رولو’ نہیں رہا، ‘ زیدیز’ ختم ہو چکا، ‘ایڈل جی’ اور ‘فرنچ وائن سٹور’ بھی بند ہو گئے۔ اوپن ائیر ریستوراں ‘مال لگژری’ بھی قصہ پارینہ ہوا، ‘شیزان کانٹی نینٹل’ کی جگہ ایک بنک نے لے لی۔ ‘کافی ہاؤس’ اور ‘چائنیز لنچ ہوم’ بھی برباد ہوئے۔ ‘فیروزسنز’ جل کر خاک ہوا، ‘نیشنل بک گیلری’ کی جگہ باٹا کے شو روم نے لے لی، ‘بمبئے کلاتھ ہاؤس’ نہ رہا، جیولری کی دکان ‘لیڈیز اون چوائس’ نہ رہی، ‘نرالا’ کی مٹھائی نہ رہی، ‘ریگل’ جیسے سینما کھنڈر ہوئے یہاں تک کہ وہ چینی جفت ساز بھی اب نہیں رہے جن کے نرم و ملائم جوتے پہننا کبھی ایک شان سمجھی جاتی تھی۔ بٹوارے کے وقت ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی عمدہ تعمیر والی حویلیاں اور گھر کٹڑیوں میں بدل گئے اور تو اور ان کے گوردواروں اور مندروں میں سے بھی اکثر کو اویکُوئیی پراپرٹی کے کھاتے میں شامل کرکے ان میں مہاجروں کے کئی خاندان بسا دئیے گئے، ان کے شمشان گھاٹ اور مڑیاں بھی ختم ہو چکیں ؛ لے دے کے وہ احاطہ ہی بچا ہے جس میں رنجیت سنگھ کی مڑی ہے۔ بیلی رام کی فارمیسی کو نیشنل فارمیسی میں بدل دیا گیا اور نجانے کیا کچھ بدلا گیا یا بدل گیا ہے اور۔۔۔ اور نجانے کتنے اور لینڈ مارک یا تو ڈھا دئیے گئے یا پھر وقت کے بے رحم ہاتھوں نے انہیں مِٹا دیا۔

میں اپنے خاندان کی چوتھی نسل سے ہوں جو اب بھی تابوت سازی اور میتیں اُسارنے و سنوارنے کا کام کرتی ہے۔ اس شہر کی آبادی کا بیشتر حصہ ایک ایسے مذہب کا پیروکار ہے جو نہ تو تابوت بنواتا ہے اور نہ ہی میت کو اسارنے اور سنوار کر دفنانے کا قائل ہے ؛ یہ صرف اسے غسل دیتے ہیں اور سفید لٹھے، جسے یہ کفن کہتے ہیں، میں لپیٹ کر دفنا دیتے ہیں۔ میرے مذہب کے لوگ البتہ یہ دونوں کام کرتے ہیں اور ہم اس شہر میں اقلیت ہونے کے باوجود کم نہیں ہیں۔ مجھے اپنے دادا اور پڑدادا کے بارے میں براہ راست تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اپنے والد کی زبانی مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ کبھی اس شہر میں، جب ابھی انگریز کی حکومت تھی تو بہت سے گورے اور اینگلو انڈین بھی شہر کی آبادی کا حصہ تھے۔ تب یہاں کئی لوگ تابوت ساز اور میتیں سنوارنے کے پیشے سے وابستہ تھے جن میں وہ خود بھی شامل تھے۔ مالدار گورے تو تھے ہی لیکن کئی اینگلو انڈین اور دیسی خاندان بھی خاصے امیر اور مسیحی اشرافیہ کا حصہ تھے۔ میرے والد کے بقول میرے پڑدادا پہلے تھے، جنہوں نے ایک کیتھولک مشنری کے ہاتھوں مسیحیت قبول کی تھی؛ وہ پیشے کے لحاظ سے ترکھان تھے اور جاتی کے اعتبار سے وِیشواکرم۔ اسی کیتھولک مشنری نے ہی انہیں تابوت سازی کی طرف مائل کیا تھا اور میتوں کو اُسارنے سنوارنے والے کچھ کاریگر ان کے ساتھ جوڑے تھے۔ جلد ہی میرے پڑدادا کا نام چل نکلا تھا اور گورا قبرستان کے پاس ان کی ورکشاپ میں دور دور سے نہ صرف کیتھولک آتے بلکہ ہمارے مذہب کے دیگر فرقوں کے لوگ بھی انہی سے اپنی بساط کے مطابق میت کی آرائش و تزئن کرواتے اور تابوت تیار کرواتے۔ میرے والد بتایا کرتے کہ دادا کے زمانے میں ان کا کاروبار اپنے عروج پر تھا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے بعد، اس شہر سے گوروں کے چلے جانے کے ساتھ ہی کئی مالدار اینگلو اور دیسی مسیحی بھی ہجرت کر گئے۔ تب سے ہماراکام زیادہ تر تابوت سازی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور اب تو میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے کا کام کم سے کم ہوتا جا رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہم مسیحیوں میں سے اکثر کا غریب ہونا ہے۔ گورا قبرستان بھر جانے کے بعد مسیحیوں کے لئے ایک نیا قبرستان قائم ہوا تھا جو اس شہر کی چھاؤنی شروع ہونے سے پہلے آتا ہے۔ ہمارے والد نے پرانی ورکشاپ ایک مسلمان کو بیچ دی جس نے وہاں کریانے اور منیاری کی دکان کھول لی اور ساتھ میں مزارں پر چڑھائی جانے والی ہری چادریں رکھ لیں کہ پاس ہی پیر مکی شریف اور داتا دربار تھا۔ ہمارے والد نے نہ صرف یہ ورکشاپ بیچی بلکہ کچے راوی روڈ پر وہ گھر بھی بیچ دیا جس کو میرے پڑدادا نے آباد کیا تھا، یوں انہوں نے پرانے لاہور کو خیر آباد کہا اور نئے قبرستان کے نزدیک کنال پارک کے ساتھ بنی نئی بستی میں پلاٹ لے کر پچھواڑے گھر اور اَگواڑے میں ورکشاپ قائم کی۔

میرے والد نے میرے بڑے بھائی اورمجھے خصوصی طور پر میت اسارنے، سنوارنے اور سجانے کی تربیت دی تھی۔ یہ ایک نازک اور پیچیدہ کام ہے۔ ہمیں میت کو نہ صرف سنوارنا اور سجانا ہوتا ہے بلکہ لواحقین کی خواہش کے مطابق کچھ ایسا بھی کرنا ہوتا ہے کہ بندہ، مردہ نہ لگے، کچھ ایسا لگے کہ جیسے وہ سویا ہوا ہے ؛ ایسے میں وہ ہمیں مرحوم یا مرحومہ کی کوئی ایسی تصویر بھی مہیا کرتے ہیں جیسا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں چہرے اور ہاتھوں پر خصوصی توجہ دینی پڑتی ہے کہ تابوت میں یہی نظر آتے ہیں، باقی جسم تو کپڑوں میں ڈھکا ہوتا ہے۔ ہمیں بڑھاپے کے نشانات ختم کرنے پڑتے ہیں اور کچھ ایسا میک اَپ کرنا پڑتا ہے کہ جھریاں، پھولی ہوئی نسیں، دھنسے ہوئے رخسار، کھڈا ہوئی آنکھیں سب اُس شکل میں آ جائیں جیسے وہ تصویر میں نظر آتی ہو، مطلب مرا بندہ یا بندی، ایسے لگے جیسے وہ سویا یا سوئی ہو۔ اگر موت کسی حادثے یا قتل میں ہوئی ہو تو ہمیں اس کے اُن سارے زخموں کو بھی ختم کرنا پڑتا ہے جو اس کے چہرے اور ہاتھوں پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ سب کرنے میں ہمیں یہ احتیاط لازماً برتنا ہوتی ہے کہ ہماری لیپا پوتی، میک اَپ کا تاثر نہ دے۔ لوگ میت کو تو دفنا دیتے ہیں لیکن مرحوم کے جسم، بلکہ چہرے، گردن اور ہاتھوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا، کو ہمارا دیا گیا اُسار برسوں، یاد رکھا جاتا ہے ؛ ایسے ہی جیسے لوگ دلہنوں کے میک اَپ کے حوالے سے آپس میں باتیں کرتے ہیں۔

جس طرح لوگوں کے فیملی ڈاکٹر ہوتے ہیں، اسی طرح ہم بھی کئی خاندانوں کے فیملی تابوت ساز اور میت اُسارنے و سنوارنے والوں میں سے ایک ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی رومن کیتھولک خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو ہے تو خالص دیسی چودھری خاندان لیکن اِس شہر کا ایک اہم خاندان رہا ہے اور اس کی میتیں تیاری کے لئے ہمارے ہی پاس آتی رہیں ہیں۔

یہ چند برس پہلے، اپریل کے دوسرے عشرے کی بات ہے کہ اس خاندان میں ایک بہت ہی اداس کر دینے والی موت ہوئی۔ ایک سو چار سالہ باپ زندہ تھا، بڑا بھائی بھی حیات تھا لیکن چھوٹا بیٹا چوہدری جونیئر جن کی عمر لگ بھگ ستر سال تھی، فوت ہو گئے ؛ وہ کئی برسوں سے پھیپھڑوں کے کینسر کو جھیل رہے تھے۔ جب ان کا مردہ جسم ہمارے حوالے کیا گیا تو خاصی دیر تک میں اسے پہچان نہیں پایا حالانکہ میں اس سکول میں دس سال پڑھا تھا، جہاں وہ پرنسپل رہے تھے۔ ان کے پورے جسم میں ایک عجیب طرح کا تناؤ تھا ؛ درد کی لہریں پیروں سے چلتی جلد پر اپنے نشان، متوازی طور پر چھوڑتی ماتھے سے ہوتی، جھڑے ہوئے بالوں والے سر سے واپس گھوم کر پیٹھ سے ہوتی پیروں کی طرف لوٹ گئی تھیں۔ کینسرکی ایسی ہی پِیڑھا نے ان لکیروں کو عمودی طور پر کاٹ کر سارے جسم پر باریک جھریوں کے مربعے، مستطیلیں اور بے شکل ڈبے بنا رکھے تھے۔ میرے والد ابھی زندہ تھے۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی لاش کو دیکھا۔ میں اور میرا بھائی بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہم سے لاش کو تین چار بار پلٹوایا اور اسے غور سے دیکھتے رہے۔ وہ خاصے متفکر نظر آرہے تھے۔ پاس ہی تپائی پر ایک تصویر پڑی تھی جو اُن کی بیوی نے ہمیں دی تھی اور خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے خاوند کا چہرہ ویسا ہی نظر آئے جیسا کہ تصویر میں تھا ؛ یہ تصویر لگ بھگ تیس برس پرانی تھی۔ اس میں چودھری جونئیر، ائیر فورس کی وردی میں ملبوس کراچی کے ساحل پر کھڑے تھے۔ یہ ایک ایسا ’ کلوز اپ ‘ تھا جس میں ان کا چہرہ واضح اور آدھا دھڑ نظر آ رہا تھا جبکہ پیچھے وسیع و عریض سمندر اور لامتناہی حد تک پھیلے آسمان کا ملاپ تھا ؛ سورج شاید تصویر کھینچنے والے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے گروپ کیپٹن کی وردی پہن رکھی تھی۔

ہم نے پہلے بھی بہت سی پیچیدہ نعشوں کو پھر سے اُسارا تھا لیکن یہ ایک انوکھی نعش تھی۔ میرے والد نے ہمیں برف کے ڈھیلے لا کر اس میز، جس پر نعش پڑی تھی، کے چاروں طرف رکھنے کے لئے کہا اور خود ان کتابوں میں کھو گئے جن میں میت اُسارنے اور حنوط کرنے کے سینکڑوں طریقے درج تھے۔ برف کا انتظام کرکے میں ان کے ایک طرف اور میرا بھائی دوسری طرف بیٹھے انہیں کتابوں کے ورق الٹاتے پلٹاتے دیکھتے رہے ؛ ایسے میں مجھے یاد آنے لگا کہ وہ سکول کے پرنسپل بننے سے پہلے پاکستانی ائیر فورس کے ایک جیالے فائٹر پائلٹ تھے اور انہوں نے ایک پڑوسی ملک کے ساتھ دو جنگوں میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور حکومت نے انہیں کوئی میڈل بھی دیا تھا ؛ ان کی یہ شاندار کارکردگی کیا تھی وہ تو ہم نے صرف اخباروں میں ہی پڑھی تھی لیکن وہ کتنے شفیق اور عمدہ استاد اور پرنسپل تھے، اس کا گواہ میں خود اور میرا بھائی تھا۔

اگلا سارا دن ہمارے والد چودھری جونئیر کی لاش پر کام کرتے رہے اور ہم دونوں بھائی انہیں مختلف قسم کے محلول اور لیپ بنا کر دیتے رہے۔ ہمارے والد نے گردن سے کام شروع کیا لیکن نیچے سے اوپر آتی، منجمد درد کی لہریں، اس لیپ میں، پھر سے دراڑیں ڈال دیتیں، جن کو وہ پھر سے بھرنے کی کوشش کرتے ؛ یہ کچھ ایسا تھا جیسے جسم تو بے جان ہو لیکن کینسر کی پِیڑھا میں ابھی تک جان باقی ہو۔ اگر سیدھی لہریں بند ہو جاتیں تو عمودی انہیں پھر سے کاٹ دیتیں، یا پھر اس کے الٹ ہوتا۔ سہ پہر کے قریب میرے والد نے تب ہمت ہاری جب درد سے اینٹھی یہ لاش ان کے قابو میں نہیں آئی۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی بیوی کو فون کیا اور انہیں اپنی مشکل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سروس و تدفین کے وقت کو فی الحال ملتوی کردیں۔ وہ ایک بار پھر کتابوں میں کھو گئے۔ اپریل کے دوسرے عشرے میں موسم ابھی گرم نہیں ہوا تھا لیکن ہم میز کے گرد برف کے ڈھیلے پگھلنے پر انہیں مسلسل بدلتے رہے۔ سورج غروب ہو گیا، بتیاں روشن ہو گئیں لیکن میرے والد مسلسل کتابوں میں گم رہے۔ گھر کی طرف سے گھنٹی کی آواز آئی ؛ ہماری ماں کی عادت تھی کہ میز پر کھانا لگانے سے پہلے پیتل کی وہ چھوٹی سی چمکیلی گھنٹی بجایا کرتی تھیں کہ اسے سن کر سب کھانے کے کمرے میں پہنچ جائیں۔ ہمیں اندازہ ہوتا کہ گھنٹی کے بجنے کے بعد دس منٹ میں کھانا لگ جانا ہوتا تھا اور اس دوران ان کے پاس نہ پہنچنے کا مطلب ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس گھنٹی کی آواز کو تو ہمارے والد بھی نظرانداز نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے اسے نظرانداز کیا اور کتاب پڑھنے میں مشغول رہے۔ اس روز پہلی بار ہوا تھا کہ ہماری والدہ نے لگ بھگ پندرہ منٹ کے بعد پھر سے گھنٹی بجائی تھی اور اس کی آواز کی لہروں کے اِرتعاش میں ان کے غصے کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہمارے والد نے مطالعہ جاری رکھا اور پھر کتاب کے ایک ورقے کا کونہ موڑ کر اسے بند کر دیا۔ انہوں نے نظر بھر کر میز پر پڑی لاش کو دیکھا اور پھر بولے ؛ ” ساری برف یہاں سے ہٹا دو۔ ”

“لیکن ڈیڈی۔۔۔۔۔ “، میرا بھائی بولا۔

“میں جیسا کہہ رہا ہوں، ویسے کرو۔ ”

ہم نے برف ہٹا دی۔ مجھے لگا جیسے ہمارے والد کو راہ مل گئی ہو۔ وہ اطمینان سے اٹھے اور بولے :
“چلو کھانا کھاتے ہیں۔ ہم اب اِس پر صبح کام کریں گے۔”

ہم جب ورکشاپ کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھے تو ماں جالی والے دروازے کے پٹ کے ساتھ لگی کھڑی تھیں اور ان کے چہرے پر غصہ تھا۔

اگلی صبح ہم ناشتہ کرکے ورکشاپ کے اس کمرے میں آئے جہاں چودھری جونئیر کا لاشہ میز پر پڑا تھا۔ والد صاحب نے ان کے جسم کو کئی جگہ سے ٹٹولا اور منہ ہی منہ میں بولے ؛

“اب یہ نرم ہو گئی ہے اور ہم اسے سنبھال لیں گے “، وہ کچھ دیر چودھری جونئیر کے مردہ جسم کو دیکھتے رہے۔

اور پھر انہوں نے الماری میں رکھی بوتلوں اور مرتبانوں میں سے چار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں ان میں پڑے محلولوں اور کیمیاوی مادوں سے لیپ بنانے کو کہا۔

“مقداروں کا تناسب کتاب میں اس صفحے پر درج ہے جسے میں نے موڑ رکھا ہے۔ اسے سامنے رکھو۔ ”

ہم نے لیپ تیار کر لیا تو انہوں نے ایک بار پھر ہاتھوں سے لاش کو ٹٹولا اور پھر لیپ کو پسلیوں پر لگانے سے کام شروع کیا ؛ ہمارے لئے یہ بات نئی تھی۔ ہم عام طور پر چہرے، گردن اور ہاتھوں پر ہی اُساری اور آرائش کا کام کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ یہ لیپ گولائی میں لگا رہے تھے جیسے پِیڑھا کی لکیروں کو لیپ کے مساج سے مٹانا چاہتے ہوں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھے بغیر کہا ؛

“جسم میں منجمد درد یہیں سے سارے جسم میں پھیلا ہے۔ ”

ہم دیکھ رہے تھے کہ اب لیپ میں دڑاریں نہیں پڑ رہی تھیں۔ دوگھنٹے کی محنت کے بعد ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے پورے جسم کو لیپ سے ڈھانپ دیا اور مجھے کافی لانے کو بولا۔ میں کافی لایا۔ انہوں نے ہاتھ دھوئے اور کرسی پر بیٹھ کر کافی پینے لگے۔ ان کی نظریں مسلسل میز پر جمی ہوئی تھیں۔ کافی ختم کرکے وہ اٹھے، لیپ کردہ جسم کو الٹوا پلٹوا کر تفصیلی معائنہ کیا۔ انہیں جب لیپ لگے جسم پر کوئی دراڑ نظر نہ آئی اور ان کی تسلی ہو گئی کہ لیپ کہیں سے بھی چٹخا نہیں تھا تو انہوں نے چِلمچی میں ایک بار پھر سے ہاتھ دھوئے اور بولے ؛

“اب چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں۔ تصویر کو لٹا کر سامنے رکھو اور چہرے کو ویسے ہی اُسار دو۔۔۔۔ پھر گردن، اور ہاتھ آخر میں کرنا “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔

وہ اس میز کی طرف بڑھے جہاں بیکولائٹ کا بنا کالا فون، جس کے ڈائل پر سفید رنگ سے گولائی میں نمبر لکھے ہوئے تھے، پڑا تھا۔ انہوں نے نمبر گھمائے۔ ہم نے چہرے پر کام کرنا شروع کر دیا تھا اور ہم اس پر موم کی ایک مہین تہہ لگا رہے تھے۔

“ہیلو، گڈ آفٹر نون مسز چودھری، آپ اب تدفین کا اعلان کر سکتیں ہیں۔ ”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جو میرے بھائی اور مجھے سنائی نہ دیا۔

“جی، جی، کل شام چھ بجے چرچ کی سروس اور اس کے بعد تدفین مناسب رہے گی۔ “، وہ کہہ رہے تھے۔

ہم اپنے کام میں لگے رہے اور وہ اس کمرے میں چلے گئے جہاں کاریگر میت کے لیے بنے تابوت کو پالش کی آخری گدیاں لگا رہے تھے ؛ ہمارے ہاں بہت عرصے بعد سیاہ آبنوسی لکڑی کا تابوت تیار ہو رہا تھا۔

میرے بھائی نے بھی اسی سکول سے میڑک کیا تھا جہاں چودھری جونئیر پرنسپل رہ چکے تھے۔ جب ہمارے والد نے یہ کہا تھا کہ چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں، تو میں سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا ؛ ایک تو ہم اس کام میں ماہر ہو چکے تھے اور دوسرے ہم نے چودھری صاحب کو دس سال تک بہت قریب سے دیکھا تھا ؛ ان کے چہرے کو عام، شفیق، غصے بلکہ ہر طرح کی حالت میں۔ جب ہم پہلی جماعت میں تھے تو وہ اس وقت ائیر فورس سے نئے نئے ریٹائر ہوئے تھے اور کیتھولک چرچ کے بڑوں نے انہیں اس سکول کا پرنسپل بنایا تھا۔ ہمیں ان کے ہاتھوں کی بھی گہری شناخت تھی، وہ ہاتھ جو کبھی بھی کسی طالب علم کو جسمانی سزا کے لیے استعمال نہ ہوئے تھے ؛ ان کی کلائیاں مضبوط، ہتھیلیاں چوڑی جبکہ انگلیاں کسی فنکار کی طرح لمبی اور مخروطی تھیں۔

میرا بھائی اور میں ان کا چہرہ، گردن اور ہاتھ اسارنے میں فخر محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ کام ایک کڑے امتحان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ ہمارے والد شام تک اس کمرے میں دوبارہ نہ آئے اور جب وہ کافی کا مگ تھامے ہمارے پاس آئے تو ہم اپنا کام ختم کر چکے تھے اور اُن کپڑوں کو ترتیب دے رہے تھے، جو ان کو پہنائے جانے تھے ؛ یہ اُن کا سب سے بہترین سوٹ تھا ؛ آسمانی رنگ کی بہترین سِلکی قمیض، بہترین نیلی ٹائی، سیاہ چمڑے کی بیلٹ، چاندی کے عمدہ کف لِنگز جن میں یاقوت جڑے تھے، ٹائی پر لگایا جانے والا یاقوت جڑا چاندی کا کلپ، ان کی شادی کا سونے کا چَھلا، سیاہ موزے اور تسموں والے سیاہ ہی جوتے۔ یہ لباس ہمیں اجنبی نہ لگا کیونکہ ہم نے ان کی زندگی میں انہیں ایسے ہی نیوی بلیو ڈبل بریسٹ سوٹ میں کئی بار دیکھا ہوا تھا۔ ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے چہرے، گردن اور ہاتھوں کو دیکھا، وہ کچھ دیر ان پر نظر جمائے دیکھتے رہے، بیچ بیچ میں وہ تصویر پر بھی نظر ڈالتے رہے، ہم سے ہونٹوں کی لالی مدہم کرائی اور پھر انہوں نے ہمیں دیکھا ؛ ان کی نظر میں توصیف تھی۔

گھر کے پچھواڑے سورج غروب ہو رہا تھا اور پرندوں کی چہچہاہٹ اس بات کی غماز تھی کہ وہ اپنے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے اور ہم چودھری جونئیر کو ہر طرح سے سنوار اور سجا کر تابوت میں لٹا رہے تھے ؛ اس تابوت میں، جس میں لیٹے لیٹے، انہوں نے نئے مسیحی قبرستان تک اپنا آخری سفر طے کرنا تھا۔ تابوت میں لیٹے چودھری جونئیرکی میت کو دیکھ کر یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کینسر کی پِیڑھا جو ان کے جسم میں تب منجمد ہو گئی تھی، جب انہوں نے آخری سانس لیا تھا اور ان کے چہرے پر کریہہ طور پر نمایاں تھی۔ اب ان کا چہرہ ویسے ہی تر و تازہ اور جوان لگتا تھا جیسا ہم نے، برسوں پہلے، اپنے سکول کے زمانے میں دیکھا تھا۔

یہ آخری میت تھی جو ہمارے والد نے خود اور اپنی نگرانی میں تیار کروائی تھی۔

سال بھی نہ گزرا تھا کہ مارچ کے مہینے میں ہمارے والد صاحب ایک روز سہ پہر کے وقت ہمیں ساتھ لیے چودھری سینئر کے گھر گئے ؛ یہ سکول سے ملحقہ گرجا گھر کے احاطے میں تھا جس میں کبھی چودھری جونیئر بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔

“کل بڑے چودھری صاحب کی سالگرہ ہے۔ یہ ان کی 105 ویں سالگرہ ہو گی۔ ”

” تو ہمیں کل جانا چاہیے۔ “، میرے بڑے بھائی نے کہا۔

” کل ایک طرح کا فیملی فنکشن ہو گا۔۔۔۔ بہت سے لوگ ہوں گے، بچے، بچوں کے بچے اور اب تو آگے ان کے بھی بچے ہیں۔ ایسے میں آج جانا ہی بہتر ہے۔ ”

راستے میں انہوں نے مارکیٹ کے پاس مجھ سے گاڑی رُکوائی اور جب ہم وہاں پھول بیچنے والی ایک دکان سے 105 گلابوں کا گلدستہ تیار کروا رہے تھے تو انہوں نے کہا؛

” لوگ انہیں ایک فوٹوگرافر کے طور پر جانتے ہیں، فوٹوجرنلزم میں ان کے شاگرد انہیں چاچا کہتے ہیں لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ پہلے اسی سکول میں استاد تھے، جہاں تم دونوں بھی پڑھتے رہے ہو۔ ”

گلدستہ تیار ہوا تو انہوں نے اس کے پھول گنتے ہوئے پھر کہا؛

“یہ تب کی بات ہے جب میں اس سکول میں میڑک کا طالب علم تھا، اس وقت جرمنی میں ہٹلر نے نیا نیا اقتدار سنبھالا تھا اور ہند کی انگریز سرکار دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی پر گھبرائی ہوئی تھی۔ میں نے فزکس اور ریاضی کے مضمون انہی سے پڑھے تھے۔ ”

پھر وہ سوچ میں پڑ گئے اور انہوں نے گلدستہ بنانے والے کو گلدستہ واپس دیتے ہوئے اسے کہا کہ وہ اس میں سے ایک پھول کم کر دے۔

بڑے چودھری صاحب ہم سے تپاک کے ساتھ ملے۔ والد صاحب نے انہیں گلدستہ پیش کیا اور 104 سال مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ ہم نے کچھ دیر ان کے ساتھ وقت گزارا، چائے کے ساتھ چودھری جونیئر کی مسز کے ہاتھوں کی بنی ہوئی تازہ ‘کوکیز’ اور ‘براؤنیز’ کھائیں جو وہ بڑی تعداد میں اپنی جیٹھانی اور نندوں کے ساتھ مل کر اگلے روز کے لیے تیار کر رہی تھیں؛ اگلے روز کو جشن کی طرح منانے کے حوالے سے سب ہی اُن کے ہاں اکٹھے تھے اور گھر بھر میں چھوٹے بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں؛ وہ لیونگ روم، جہاں ہم بیٹھے تھے، سے ملحقہ باورچی خانے میں گھستے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود کوکیز اور براؤنیز اڑا لے جاتے۔ سورج نے جب خود کو مغرب میں، نیچے تک اترے بادلوں، میں چھپانا شروع کیا تو ہم ان سے اجازت لے کر گھر لوٹے؛ ہمارے والد نے ان کے پیروں کو چُھو کر ان سے وداعی لی تھی۔

اگلی صبح ہم ابھی ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ہماری تربیت میں شامل تھا کہ اگر والد صاحب موجود ہوں تو ہم میں سے کوئی فون تب تک نہیں اٹھاتا تھا، جب تک وہ نہ کہتے۔ عام طور پر وہ خود ہی فون اٹھاتے تھے۔ ہماری والدہ اٹھیں اور فون اٹھا کر ان کے پاس لائیں۔ انہوں نے فون اٹھایا ؛

“ہیلو، گڈ مورننگ”، انہوں نے بس اتنا ہی کہا اور دوسری طرف سے آتی آواز سنتے ہوئے ” جی۔۔۔۔۔ جی” ہی کہتے رہے۔ اور پھر فون رکھ کر انہوں نے اتنا ہی کہا

” بڑے چودھری صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ میت تیار کرنے کے حوالے سے تیاری کر لو۔ “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔ مجھے لگا جیسے ان کی آنکھیں نم آلود ہوں۔ انہوں نے ناشتہ ادھورا چھوڑا، چائے کا مگ اٹھایا اور بِنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئے۔ ہماری والدہ بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیں۔

بھائی اور مجھے بڑے چودھری صاحب کی میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے میں چنداں دشواری پیش نہ آئی کیونکہ اتنی عمر کے باوجود ان کا جسم توانا تھا، کسی موذی بیماری نے ان کے جسم کو کھایا نہ تھا اور بڑھاپے نے بھی اِس جسم کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ ان کے چہرے پر ایک ایسا سکون تھا جو ہم نے کم ہی کسی کے چہرے پر دیکھا تھا ؛ ہلکا پیازی غازہ ہی اس پُرسکون چہرے، گردن اور ہاتھوں کو نکھارنے کے لئے کافی ثابت ہوا تھا۔

تدفین کے وقت، جب ہم قبرستان میں تھے تو مجھے پتہ چلا کہ وہ رات کو کھانا کھا کر اپنی آل اولاد کے ساتھ ہنستے کھیلتے رات دیر تک جاگتے رہے تھے۔ انہوں نے رات بارہ بجے اپنے بچوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں اور ان کے بچوں کا کورس میں گایا ‘ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔’ سنا تھا اور ان سب کے ماتھے چوم کر دُعا دیتے ہوئے سونے کے لیے لیٹے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسی روز، لگ بھگ پو پھٹنے کے وقت سوتے میں ہی دم دیا تھا۔

Categories
فکشن

نروان (نیر مصطفیٰ)

اضطراب اپنی آخر ی حدوں کو چھونے لگا ، تشنگی نا قابل برداشت ہو گئی اور نیند کی دیوی کو روٹھے ہوئے ہفتہ ہو چلا تَواُس نے زندگی میں پہلی بار بڑے چائو سے اکٹھے کئے گئے سامانِ تعیشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے سنگ ِمرمر سے بنے محل کو الوداع کہہ کر کسی انجانی ڈگر پہ چل پڑا۔

اُس نے منبر پر بیٹھے خطیب سے سکون کی شاہراہ کا راستہ پوچھا اور پہلو میں ذہنی خلفشار سمیٹ کر لوٹ آیا، شاعر سے اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کھوکھلے جذباتی دلائل کا جواب ایک استہزائیہ قہقہے سے دیتا ہو ا آگے بڑھ گیا، فلسفی سے ملاقات کا نتیجہ تجرید کی ایک بے ڈھنگی عمارت کی تعمیر تھی جس نے اُس کے لاشعور کی چولیں ہلا ڈالیں ، موسیقار اُس کے سامنے سے وہی صدیوں پرانی دھنیں بجاتا ہو ا گزر گیا جن میں اب کوئی کشش اور مدھرتا باقی نہ رہی تھی، وہ چلتا ہو ا شہروں کی حدود سے باہر نکل آیا۔

وہ زمان ومکان کی کیفیتوں سے بے نیاز ہو کر چلتا رہا ۔ اُس کی جوتیاں گِھس گئیں،پائوںمتّورم ہو گئے، کپڑے چیتھڑوں کی صورت تن پر جھولنے لگے، بال مٹی سے اَٹ گئے اور چہرے کے خدوخال گرد نے گہنا دئیے یہاں تک کہ وہ ایک وسیع و عریض جنگل میں جا پہنچا۔

وحشت، اب اُس کے اختیار سے باہر ہو چلی تھی۔ اُس نے ایک نعرۂ مستا نہ بلند کر کے تن کے چیتھڑے اتار پھینکے اور پتوں کا لباس پہن لیا۔

اُس نے درختوں کی سر گوشیاں سنیں، کلی کا چٹکنا دیکھا، دھنک کے رنگ گنے اور چاندنی سے کلام کیا مگر سب بے سود۔فطرت کی مہربان آغوش میں کہیں کوئی غیبی اشارہ تھا بھی تَواُس کو نہ مل پایا۔ ہر نئے دن کے ساتھ افق کے اُس پار سے ابھر نے والا سورج امید کا استعارہ بن کر طلوع ہوتا اور مایوسی کی علامت بن کر ڈوب جاتا۔ تھک ہار کر اُس نے آنکھیں مو ند لیں اور اکڑوں بیٹھ کر تپسیا شروع کر دی ____جسم سے دل اور دل سے روح تک رسائی کی تپسیا۔

بالآخر اُس نے دل اور روح کے دو جہانوں تک رسائی حاصل کر لی مگر المیہ یہ ہو ا کہ دونوں ہی اندر سے خالی نکلے ۔ تہی دامانگی کا احساس اِتنا گہرا اور گھمبیر تھا کہ خودی اور بے خودی،امید اور مایوسی، سبھی اپنے مفہوم کھو بیٹھے اور جب سکوت اور کلام میں فرق نہ رہ جائے تَو شہر اور جنگل بھی ایک ہو جاتے ہیں۔

وقت آگیا تھا کہ مکتی کو دیوا نے کا خواب اور نروان کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر واپسی کی راہ اختیار کی جائے ____ سفر شروع ہوا !

اُسے معلوم تھا کہ واپسی کا راستہ سہل نہ ہوگا ۔ بچے اُسے دیکھ کر تالیاں بجاتے، لونڈے لپاڑے پتھر مارتے، شرفاء راستہ بدل لیتے اور عورتیں حقارت سے دیکھتیں۔ پہلی بار وہ اپنی بد ہیئتی پر کڑھا اور محل کی جانب بڑھتے قدم تیز سے تیز تر ہوتے چلے گئے۔ آخرکار وہ اپنے محل کی دہلیز پر جا پہنچا۔

کچھ دیر تک وہ اپنے عالی شان محل کی دیواروں کو بہ غور دیکھتا رہا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ کچھ بھی تَو نہ بدلاتھا۔ مگر جو نہی اُس نے محل کی چوکھٹ پر پہلا قدم رکھا ، رائیگانی کا احساس ایک دم اپنی پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ اُسے یوں لگا جیسے اب تک وہ محض ایک دائر ے میں گھومتا رہا ہو اور یہ خیال اِتنا ہیبت ناک تھا کہ اُس کا نحیف بدن، ہوا کی زد پر آئے پتوں کی طرح کپکپانے لگا۔

ٹھیک اُسی لمحے، ایک مدھم سی آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ اُس نے فی الفور آواز کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں۔ سامنے فٹ پاتھ پر، میلی سی چادر میں لپٹا، ایک شیر خوار بچہ رو رہا تھا۔

فٹ پاتھ کی دوسری جانب سے ایک پکھی واسن دوڑتی ہوئی آئی اور اُس میلے کچیلے بچے کو اپنی چھاتیوں سے لپٹا کر دودھ پلانے لگی جو ایک دم یوں خاموش ہو گیا جیسے کبھی رویا ہی نہ ہو؛ آسمان سے نور کا ایک ہالہ اترا اور اُن کے مد قوق اور پیلے چہروں پر روشنی بن کے جگمگا اُٹھا ۔

نروان کی تلاش میں نگری نگری پھرنے والے سیلانی نے اپنے سنگِ مر مر سے بنے سفید محل کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر یہ سارا منظر دیکھا اور نروان کی حقیقت جان گیا۔

Categories
فکشن

یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )

فرض کرو پانچ لوگ تمہاری جان کے در پے ہوں۔ جوتا گانٹھنے والا، ہوٹل کا بہرا، بندر کا تماشا دکھانے والا، گلی کا چوکیدار اور گھر میں کام کرنے والی ادھیڑ عمر کا شوہر۔ فرض کرو ان میں سے ایک کو قتل کرکے ہی تم اپنی جان بچا سکتے ہو تو کس کی گردن دبوچو گے؟

مشکل سوال ہے۔ اس نے کافی دیر سوچنے کے بعد اپنے دوست شہریار کو جواب دیا جو اسے کئی دنوں بعد ملنے آیا تھا—-مگر یہ غریب بے چارے میری جان کے دشمن کیوں بنیں گے؟ اس نے سوال سے جان چھڑاناچاہی۔

دشمن بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟بس ذرا سی بات، ایک لفظ، ایک خیال اور ایک یاد۔شہر یار نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
ہونہہ—-وہ سوچنے لگا۔

چلو بتاو، ان پانچوں میں سے کسے قتل کرو گے۔ شہر یار نےاسے چائے پیش کرتے ہوئے اصرار کیا۔

فرض کیا اگر مجھے کسی کی جان لینی ہی پڑی تو وہ بندرکا تماشا دکھانے والا ہوگا۔اس نے ہنستے ہوئے کہا۔اب تم پوچھو گے کہ اسے ہی کیوں؟ تو جناب اس لیے کہ مجھے بندر پسند نہیں ہیں۔ اور یہ مجھے ابھی سوچتے ہوئے یاد آیاہے۔میں یہی کوئی چار سال کا ہوں گا،جب تماشا دکھانے والے کے ایک بندر نے مجھے اس وقت زخمی کیا تھا،جب میں نے اس کی طرف ادھ کھایا کیلا بڑھایا تھا۔

تو میر اخیال ٹھیک تھا۔ شہر یار نے گہری سنجیدگی سے کہا۔

کون سا خیال ؟
بعد میں بتاتا ہوں۔صرف بندروالے ہی کو قتل کروگےیا—شہر یار نے کریدا۔

نہیں۔میں گلی کے چوکیدار کو بھی قتل کرسکتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے میری بیوی کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو روز مارتا ہے۔ کہتا ہے،میں رات کو پہرہ دیتا ہوں،کون ہے جو تمہارے پاس آتا ہے؟ تب میں نے چوکیدار کے لیے دل میں نفرت محسوس کی تھی،اوراس عورت کے لیے،جسے کبھی نہیں دیکھا، ہمدردی موجزن محسوس کی تھی۔

تم جوتے گانٹھنے والے، ہوٹل کے بہرے اور گھر میں کام کرنے والی عورت کے شوہر کو بھی قتل کرسکتے ہو۔ شہریار نے کہا۔

نہیں، میں جوتے گانٹھنے والے کو نہیں جان سے مار سکتا۔

کیوں؟

میں نے کبھی جوتے مرمت نہیں کروائے۔ لیکن،نہیں۔ ٹھہریے۔ مجھے یاد آیا۔میرے چھوٹے بھائی نے ایک بارایک پٹھان سے جوتے مرمت کروائے تھے۔ اس نے پوچھے بغیر نئے اندرونی تلوے ڈال دیے تھے اور دونوں میں پیسوں پر تکرار ہوئی تھی۔ میں نے اسے دیکھے بغیر اسے موٹی سی گالی دی تھی۔اسے بھی میں قتل کرسکتاہوں۔ اور ہوٹل کے بہرے کو قتل کرنے کا جواز ہے میرے پاس۔ اس نے ایک بار مجھے نظر انداز کرکے دوسری ٹیبل پر بیٹھی ایک خوب رو لڑکی کی بات پہلے سنی تھی اور اس لڑکی نے فاتحانہ نظر سے مجھے دیکھاتھا جس میں حقارت بھی تھی۔

اور گھر میں کام کرنے والی کے شوہرکو؟ شہر یا رنے پوچھا۔

وہ چوکیدار کی طرح بیوی پر شک تو نہیں کرتا مگر کام والی ماسی میری بیوی کو بتاتی ہے کہ ان کے پاس ایک ہی کمرہ ہے جس میں ان کی تین جوان بیٹیاں اورایک بیٹا سوئے ہوتے ہیں۔ اس کا شوہر زبردستی اس کے بستر میں گھس جاتا ہے اور صبح اس کی بیٹیاں ا س کا مذاق اڑاتی ہیں۔ مجھے وہ نظر آجائے تو میں اس کا گلا دبادوں۔ اس نے واقعی سنجیدگی سے کہا۔

تو میرا خیال ٹھیک تھا۔

کیا؟

تم —اور میں —یا کوئی بھی کسی کو کبھی بھی قتل کرسکتا ہے۔شہر یار بولا۔

لیکن تم نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تمہیں میں قتل کرسکتا ہوں؟ اس نے شہر یا ر سے کہا۔

وہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ تم یہ نیک کام ابھی کرسکتے ہو۔کچھ بھی یاد کرکے۔مثلاً مجھے سر نصیر نے فائنل ٹرم میں زیادہ نمبر دیے تھے اور تم ان سے شکایت کرنے پہنچ گئے تھے۔ شہر یار نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ بھی ہنس پڑا۔

فرض کرو تمہیں ان میں سے کسی ایک کی جان بچانی ہو تو کس کی بچاو گے؟ شہریا ر نے نیا سوال داغا۔

ابھی انہیں ٹھکانے لگانے سے فارغ نہیں ہو اور تم نئی بات کررہے ہو؟اس نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا۔

بندر والے نے ابا سے معافی مانگی تھی۔ چوکیدار نے ابھی چند دن پہلے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکٹر شفیع کے گھر ڈاکے کو ناکام بنایا۔ چھوٹے بھائی نے اس پٹھان کے کام کی تعریف کی تھی۔آخر ہوٹل کا بہرہ ایک نوجوان لڑکا تھا، وہ کیسے اس حسینہ کوا نکارکرتا۔کام والی ماسی کا گھر ہے ہی ایک کمرہ۔ پھر اس کا شوہر کسی اور عورت کے پاس بھی تو نہیں جاتا۔ میں ہر ایک کی جان بچا سکتا ہوں۔اس نے کہا۔

تو مان لو کہ تم اس دنیا کا سب سے بڑ اعجوبہ ہو۔ شہریار نے کسی گہری سچائی کے انکشاف کرنے کے انداز میں کہا۔

میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔ وہ بولا۔

تو پھراس میں ایک اور بات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر یار نے کہا۔جان لینا اور بچانا، یاد اور بھول کا کھیل ہے !

کوئی اس کھیل کو کھلانے والا بھی تو ہوگا۔ دونوں پہلے ہنسے اور پھر سنجیدہ اور ساتھ ہی کسی نامعلوم بات پر رنجیدہ ہوئے۔

Categories
فکشن

مری گود میں دَم نکلے گا (محمد حمید شاہد)

راہ دم تیغ پہ ہو کیوں نہ میر
جی پہ رکھیں گے تو گزر جائیں گے

وہ کھانسے، یوں نہیں جیسے کوئی مریض کھانستا ہے بلکہ یوں جیسے کوئی گفتگو کرنے والا، اپنے حلقوم تک آ چکی بات کو نئے رخ سے راہ دینے کے لیے ہلکا سا کھنگورا مارتا ہے؛ “ہَک کھونہہ”، یوں ؛ اپنے بدن کو تھوڑا سا جھلارا دیتے ہوئے۔ جیسے،وہ ایک ہی پہلو پر بیٹھے بولتے رہنے سے نہیں تھکے تھے ان کے بدن کا بوجھ سہتی نشست تھک گئی تھی۔ وہ قدرے فربہ تھے، یوں جھولے تو کرسی بھی چرچرائی۔ بس اتنا ہوا تھا اور میری بیگم کے چہرے پر سے ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔ وہ دونوں ہاتھ کھانے کی میز پر کہنیوں تک بچھائے اور اوپر والے بدن کا سارا بوجھ ان پر ڈالے پوری توجہ سے تایاجان کو سن رہی تھی۔ کھنگھورے پر بازو سمیٹ کر انہیں یک لخت اوپر اُچھالااور یوں پیچھے ہٹی کہ اگر پیچھے کرسی کی ٹیک نہ ہوتی تو اس کا سر دیوار سے ٹکرا کر پھیتی پھیتی ہو جانا تھا۔ اس کے حلقوم سے پھنس پھنس کر آواز نکلی تھی:

“ک کک ک ا ر ونا”

ہم سب چونکے۔ میں بھی اور بچے بھی۔ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تایا جان کی کہنیاں میز پر ٹکی رہیں۔ ان ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسی ہوئی تھیں اور انگوٹھے یوں گول گول گھوم رہے تھے جیسے ایک دوسرے کا طواف کر رہے ہوں۔ ایک ساعت کے لیے ان کے انگوٹھے جہاں تھے وہیں رُک گئے،یوں جیسے ادھر کعبے میں طواف رکا ہوا تھا۔ پھر قہقہہ لگایا اور دو ہاتھوں کی اکلوتی مٹھی کو آگے پیچھے جھلاتے ہوئے چھت کی طرف منھ کر لیا۔ جب اُن کا چہرہ واپس اپنی جگہ پر آیاتھا تو ان کی آنکھیں آنسووں سے بھری ہوئی تھیں۔

“تم لوگ اس کرب اور اس اذیت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے جب کوئی اپنے پیارے کے سامنے دم توڑتا ہوگا۔ یوں جیسے۔۔۔۔ جیسے۔۔۔”

وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے۔ اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر مایوس ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا موقوف کردیا، جیسے سانس کے ٹوٹنے کی مشابہت کہیں قائم نہ کر پائے تھے۔

“مرنا۔۔۔ اپنی عزیز ترین ہستی کی گود میں سر رکھ کر مرنا۔۔۔ ”

وہ بُڑبڑائے اور میز پر ٹکی کہنیوں اوراوپر اٹھے بازووں کے درمیان اپنے سر کو لا کراتنا نیچے گرا لیا کہ سر پر دونوں طرف جھولتی دودھ جیسی سفید چادر وہاں سے ڈھلک گئی تھی۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا اور اپنا چہرہ پونچھنے کے بہانے اپنی آنکھیں پونچھ لیں۔ تب تک وہ آنسو جو پلکوں تک ڈھلک آئے تھے،ہم نے میزپر گرتے دیکھ لیے تھے۔

تایا جی نے سر اوپر نہیں اُٹھایاتھا،بازو اوپر اُٹھائے تھے۔ دونوں مٹھیوں میں بھینچی ہوئی چادر سر کے اوپر سے گھما گردن کے ارد گرد ڈالنے کے لیے۔ جب دونوں بازو وہیں پہنچ گئے جہاں پہلے تھے تو انگلیوں کی کنگھیاں بھی پہلے کی طرح ایک دوسرے میں دھنس گئیں۔ تاہم اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ آٹھوں انگلیاں اپنی جڑوں تک کنگھی کے دندانوں کی طرح ا کڑ کر اوپر اُٹھ گئی تھیں۔ ہتھیلیاں باہم پہلے کی طرح جڑی ہوئی تھیں۔ دونوں انگوٹھے جو کچھ دیر پہلے ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے تھے،اب پہلو پہلو سے جوڑے ایک دوسرے کو پرے دھکیل رہے تھے، پاس پاس بیٹھے اُن شریر بچوں کی طرح جو کندھے بھڑاتے بھڑاتے ایک دوسرے کو دھکیلنے لگتے ہیں۔ تایا جی نے دونوں انگوٹھوں کو پہلے اپنی پیشانی پر ٹکایا، ان پر پورے سر کا بوجھ ڈالا اور پھر انگوٹھے سر سے یوں ٹکرانے لگے جیسے کوئی ہدہداپنی سخت اور لمبی چونچ سے درخت کی چھال ٹھونگتا ہے۔ میں اندازہ کر سکتا تھا کہ ایسا وہ قصداً نہیں کر رہے تھے، ایک اضطراری کیفیت تھی کہ ایسا ہوتا چلا جا رہا تھا۔

جب تایا جان نے گود میں سانس توڑنے والا جملہ کہا تھا تو میرا دھیان کورونا کی وبا سے مرنے والے کراچی کے ڈاکٹر فرقان الحق کی طرف نہیں گیا تھا۔ وہی ڈاکٹر فرقان جو عمر بھر دل کے مریضوں کو زندگی دیتا رہا تھا، اتوارتک مختلف ہسپتالوں میں اپنے لیے وینٹی لیٹر کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا اورمر گیا تھا۔ میں تو اس مرنے والی کی بابت سوچ رہا تھا، جس سے تایا جان کو بہت محبت تھی۔اُس نے اسپتال میں ایک بیٹی جنم دِی تھی اور جب وہ لیبر روم سے وارڈ میں لائی گئی تھی تو اُن کی گود میں سر رکھ کر مر گئی تھی۔ اپنی بیوی کے اس طرح مرنے کی کہانی تایا جی نے کئی بارسنائی تھی اور جتنی بار سنائی ایک الگ طرح کا دُکھ اس میں گُندھ گیا تھا۔ وہ یہ بتانا کبھی نہ بھولتے تھے کہ اُسے بیٹی جنم دیتے ہوئے مرنا ہوتا تووہ لیبر روم میں مر جاتی۔

” ڈاکٹر نے یہی کہا تھا کہ کیس بہت پیچیدہ تھا۔ وہ مرتے مرتے بچی تھی۔”

تایا جی ہنسے۔۔اس تھوڑا سا ہنسنے سے ہی ان کا گلا رندھ گیا۔ بات روک روک کر آگے بڑھائی:

” ڈاکٹر نہیں جانتے تھے۔۔۔کہ۔۔۔ وہ موت کو غچہ دِے کر وارڈ میں۔۔۔ میرے پاس آئی تھی کہ۔۔ اُسے میری آنکھوں کے سامنے مرنا تھا۔۔۔عین اس وقت۔۔۔ جب میں محبت سے اُس کا سر اپنی گود میں لے رہا تھا۔ ”

ڈاکٹر فرقان کی موت کی خبر ایک آدھ روز پہلے آئی تھی۔ ہمارا گمان تھا کہ تایا جان کو شاید اس کا علم ہی نہ ہوگا۔ مرنے والے ڈاکٹر کی بیوی کا کلیجہ چیر کر رکھ دینے والا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔ اُس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جب اس کاشوہر اس کی گود میں مر رہا تھا تو وہ اس کے لیے وہ کچھ نہ کر سکی تھی۔ وہ لوگوں کو مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا۔ اس نے اپنے نڈھال ہو کر بے ہوش ہونے والے شوہر کو خود ہی اسٹریچر پر ڈالا ہسپتال لے گئی تھی۔اسپتال والوں نے ڈاکٹر فرقان کو داخل نہیں کیا تھا۔ وہ مر رہا تھا، اپنی بیوی کی گود میں سر رکھ کر اور اس کے مر جانے تک اس کے لیے ہسپتال میں جگہ نہ نکل پائی تھی۔

یہ ایسی تکلیف دہ خبر تھی جس کا ذکر ہم خود بھی تایا جی کے سامنے نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹرعظمیٰ جس ہسپتال میں تھی، وہاں گائنی کے وارڈ میں تین ڈاکٹروں اور دو نرسوں کے علاوہ عملے کے تین افراد کو کرونا پازیٹو نکل آیا تھا۔ پورا وارڈ سیل کر دیا گیا تھا اور جو جو وہاں ایک دوسرے سے رابطے میں رہا تھا ان کے ٹسٹ ہو رہے تھے۔ڈاکٹر عظمیٰ کی ڈیوٹی اسی وارڈ میں تھی۔ کسی کو کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا کہ اس وبا کے حملے کی علامات فوری طور پر ظاہر نہ ہوتی تھیں مگر وہ حوصلے میں تھی۔ اس سارے عرصے میں فون پر ہمارا اس سے رابطہ رہا تھاتاہم اُس نے تایاجی کو کچھ بھی بتانے سے منع کر رکھا تھا۔

تایا جی کا کل فون آیا تھا، بہت دیرتک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر شہر کے حالات پوچھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کچھ پوچھنا چاہتے تھے اور پوچھ نہیں پارہے تھے۔ بالآخر انہوں نے فون بند کردیا۔ میں نے لمبا سانس لیا اورخدا کا شکر ادا کیا کہ وہ اسپتال والے واقعے کی طرف نہیں آئے تھے۔ لیکن ہوا یوں کہ وہ صبح صبح آگئے تھے۔

کھانے کی میز پرہم سب آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ناشتہ کم کیا اور تایاجی کو زیادہ سنا۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ تایا جی کو ہماری کسی بات سے شبہ ہو کہ اسپتال میں ان کی بیٹی کے ساتھ کیا چل رہا تھا۔ وہ بھی بات کرتے کرتے رُک جاتے اور کچھ سوچنے لگتے، تاہم جب وہ اپنی کہانی سنا نے لگے توسناتے چلے گئے۔ کیسے دونوں میں محبت ہوئی تھی۔ کیسے سب سے لڑ بھڑ کر انہوں نے شادی کی۔ اور کیسے وہ ایک بچی کو جنم دینے کے بعد مر گئی تھی۔

ناشتہ کر چکے تو بھی وہاں سے اٹھنے کو جی نہ چاہا تھا۔ بیگم نے برتن سمیٹے، ہم ہمہ تن گوش بیٹھے رہے۔ وہ کچن سے فارغ ہو کر ایک بار پھر اس منڈلی کا حصہ ہو گئی تھی۔تایا جان اپنے ابا اماں کے منائے جانے کا قصہ ختم کرتے تو اپنے سسر اور سالوں کو رام کرنے کی کہانی چھیڑ لیتے۔ ان کی باتیں، محض باتیں نہیں تھیں، کہانی تھی۔ بچپن سے اب تک میں ان سے یہی کہانی کئی بار سن چکا تھا مگر اسے سناتے ہوئے ہر بار کہیں نہ کہیں کچھ ایسا کر لیتے تھے کہ وہ نئی ہو جاتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا، جیسے اُن کے وجود میں الف لیلہ کی شہرزادکی روح داخل ہو گئی تھی جو سمر قند کے بادشاہ شہریار کو رات بھر کہانی سناتی اور اس میں ایک تجسس رکھ کر اسے ناتمام چھوڑ دیتی تھی اگلی رات کی کہانی کی گرہ اُس میں لگانے کے لیے۔ کہتے ہیں آٹھویں صدی عیسوی کے سمرقند کا یہ بادشاہ بہت ظالم تھا۔ظالم بھی اور عورتوں کا رسیا بھی۔ ہر رات ایک نئی عورت اُس کی دلہن بنتی اور صبح تک قتل ہو جاتی تھی کہ اُس کی رفاقت سے بادشاہ کا دِل بھر جاتا تھا۔ایسے میں شہریار کے ایک وزیر کی بیٹی شہرزاد نے منت سماجت کرکے باپ کو منالیا کہ وہ بادشاہ کو شادی کرکے اپنی صنف پر ہوتے ظلم کے آگے بند باندھنا چاہتی تھی۔

یہ کہانی ہی تھی جس نے بادشاہ کے ظلم کے آگے بند باندھ دیا تھا۔

نہ ختم ہونے والی یہ کہانی ہر رات آگے بڑھتی رہی۔ ایک، دس، سو۔ ہزار، ایک ہزار ایک، کہانی کا بھید ایسا تھاکہ بادشاہ اسے جاننے کے لیے سنتا رہا اور قتل کا فیصلہ ملتوی کرنے پر مجبور ہوگیاتھا۔ وہ سنتا رہتا اور شہرزاد کی طرف دیکھتا رہتا حتیٰ کہ اسے کہانی کہنے والی سے محبت ہو گئی تھی۔
تایاجان سے میرے بچوں کو بھی محبت ہو گئی تھی۔تایاجان سے یا اُن کی کہانیوں سے۔ وہ جب آتے تو بیٹی عظمیٰ کو فون کر کے یہیں بلوا لیتے اور بچے مل کر خوب ہلا گلا کرتے تھے۔تایا جان کے پاس بہت سی کہانیاں تھیں جنہیں دِن ہو یا رات وہ سنا سکتے تھے انہیں ہماری اور بچوں کی توجہ بٹورلینے کا ہنر آتا تھا۔ وہ یوں سناتے تھے کہ کئی کہانیوں کی ایک کہانی بن جاتی۔ بچپن سے میں اُن کی باتیں سنتا آیاتھا۔ کئی بار کی دہرائی ہوئی باتیں مگر جب وہ انہیں کہانی میں ڈھال کر سناتے توہمارا تجسس بھی بندھ جاتا تھا۔ انہوں نے مجھے احساس دلایا تھا کہ قصہ ہو یا کہانی، اُس میں سو طرح کے بھید ہوتے ہیں اور جتنی بار سناو بہ ظاہر واقعات تو وہی رہتے ہیں اُس میں کچھ نہ کچھ سمجھ میں نہ آنے والا بدل کر کسی نئے بھید کو راہ دے دیتا ہے۔یوں نہیں جیسے جادو گر کی ٹوپی سے خرگوش نکلتا ہے کہ جادو گر تو بس تماشا دیکھنے والوں کی نظر باندھ دیتا ہے اوردھوکے سے خرگوش نکال کر دکھا دیتا ہے جو ہمارے خیال میں وہاں نہیں ہوتا مگر فی الاصل وہ وہیں کہیں ہوتا ہے۔ تایا جی کی کہانی میں اور طرح کا بھید ہوتا۔ اصلی، سچا اور نیا۔کبھی کوئی بات سناتے ہوئے کہتے ؛ نواں نکور واقعہ سنو اور کبھی کہتے، کھری بات؛ بالکل اس کھرے گھی جیسی بات جو ہمارے سامنے بلوئی گئی چھاچھ کے مکھن کو کاڑھ کر نکلتا تھا اور جسے تھوڑا سا ہتھیلی پر ڈال کر سونگھنے ہی سے پہچانا جاسکتا تھا۔ وہ بولتے چلے جاتے اور یہ کھرا بھید کہانی کی تہوں کے اندر سے پیدا ہوتارہتا۔ کسی اور ملاوٹ کے سارے امکانات رد کرتے ہوئے۔ الگ چھب والا، نئی نئی حیرتیں اُچھالنے والا۔

ہم نے تایا جی کی آنکھوں کو یوں آنسووں سے بھرتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اپنی بیوی کو یاد کرتے ہوئے وہ دُکھی ضرور ہوتے تھے یوں آنکھوں کو نہ چھلکاتے تھے۔ بس اپنی بیٹی عظمیٰ کی طرف دیکھے جاتے تھے جس کی خوشی میں انہوں نے اپنی ساری خوشیاں رکھ چھوڑی تھی۔

ایسی خوش حالی جو انہیں مطمئن رکھتی تھی اپنے باپ سے ملی تھی۔ گاوں میں اتنی زمین تھی کہ اس کی کاشت برداشت سے اُن کی ضرورتیں پوری ہو رہی تھی۔ شادی سے پہلے انہیں مجلس جمانے کا شوق رہاتھا، وہیں اوپر کی طرف جہاں رہٹ تھا،اس کے مشرق میں انہوں نے ایک قطعہ زمین چھتا ہوا تھا۔یہیں حقے تمباکو پر مجلسیں جماتے۔ مشغلہ انہیں اچھی نسل کے بیل پالنے کا تھا۔ بیلوں کی دوجوڑیاں تھیں ان کے پاس۔ ایک زمین میں ہل چلانے، سہاگہ پھیرنے، گہائی کرنے، رہٹ کھینچے سے لے کر بار برداری جیسے کاموں کے لیے اور دوسری جسے انہوں نے آختہ کروا لیا تھا عرس میلے پربیلوں کی دوڑ میں حصہ لینے کے لیے۔ بہ قول تایا جی یہ جوڑی ہر کہیں معرکہ مارتی تھی۔ وقت بدلا تو بہت کچھ بدل گیا۔ ڈیرے والی زمیں انہوں نے اسکول کے لیے وقف کر دی۔بیٹی کی ضد پر انہوں نے ٹریکٹر، ٹرالی اور دوتین قسم کے ہل خریدلیے تھے۔ کچھ عرصہ تک ان کے پاس ایک بیل رہا، مقامی منڈی سے خریدا ہوا ایسا بیل جوسارا دن چکلی جوڑے کے کَتے کی ٹخ ٹخ پر ایک دائرے میں گھومتا اور ماہل سے بندھے پانی سے بھرے ہوئے ٹینڈے کنویں سے کھینچتا رہتا تھا۔ بعد میں وہ نہ رہا، وہاں ڈیزل انجن لگوا لیا گیا کہ بیٹی عظمیٰ کہتی تھی، کب تک اس بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے زندگی کو ایک دائرے میں کھیتے رہیں گے۔ تب انہوں نے اس دائرے کو توڑنے کا فیصلہ کیا تھااوریہ کچھ سال بعد میں ہوا تھا، تب جب اُن کی بیٹی میڈیکل کالج پہنچ گئی تھی۔

عظمیٰ کے لیے تایا جی، باپ بھی تھے اور ماں بھی، وہ ان کے اتنا قریب تھی کہ جیسے ان کے وجود کے اندر بستی تھی۔

کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ اپنی ایک دن کی بچی کو انہوں نے کیسے پالا ہو گا۔ شروع شروع میں بچی کی پھپھیاں مدد کو آتی رہیں، مگر کب تک ہر ایک کا اپنا گھر بار تھا، تایا جی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑا۔ وہ کھیت کھلیان پر بھی اسے اٹھائے پھرتے۔ گھر میں ہوتے تو ایک چادر کے چاروں کونے چارپائی کے بازو سے باندھ بچی کا جھولا بنا لیتے تھے۔ اسی چادر کو ایک طرف سے اپنی کمر سے باندھ کراور دوسری طرف سے کندھے میں اڑس کر وہ کھیتوں کو نکل کھڑے ہوتے تو بچی اس چادر کے جھولے میں ہوتی۔ جب عظمیٰ کی ماں مری تھی تو پورا گاوں افسوس کے لیے اُمنڈ آیا تھا۔ اتنا بڑا جنازہ پہلے اس گائوں میں نہیں دیکھا گیا تھا مگررفتہ رفتہ تایا جان انہی گائوں والوں کی ٹچکروں کا سامان ہوتے گئے تھے۔ سب عزیز و اقارب اور سیانے، انہیں مشورہ دے چکے تھے کہ ایک معصوم جان کا پالنا ایک مرد کے بس کی بات نہیں، انہیں شادی کرکے، جس کا کام اسی کو سونپ دینا چاہیے مگر وہ نہ مانے تھے کہ ایک نمبر کے ضدی تھے۔

“میں ایک نمبر کا ضدی تھا۔”

یہ انہوں نے خود اپنے بارے میں کہا تھااور اس سے جوڑ کر اپنی شادی سے لے کر بیٹی کے ڈاکٹر بننے تک کی کہانی سنا ڈالی تھی۔ اور تب جب انہوں نے کھنگھورا مار کر نئی کہانی کہنا چاہی اور میری بیگم نے ان کے کھانسنے کوادبدا کر کورونا سے جوڑدیا تھا تو وہ رنجیدہ ہو گئے تھے۔ یہیں کہیں انہوں نے ایک عزیز ترین ہستی کے گود میں سر رکھ کر مرنے والا جملہ کہا تھا۔ جب ہم اس جملے کو ان کی اپنی زندگی سے جوڑ چکے تواچانک وہ کمر سیدھی کرکے بیٹھ گئے تھے اور ہم سب کی طرف باری باری دیکھا تھا جیسے یقین کر لینا چاہتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو ان کی طرف متوجہ نہ تھا۔ کہا :

“آپ لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر فرقان جو ادھر کراچی میں کرونا سے مر گیا کون تھا؟”

ہم چونکے اور بوکھلا ئے بھی۔ گویا انہیں ایسی خبریں پہنچ رہی تھیں۔ انہوں نے ہمارے جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔
“ڈاکٹر فرقان، بیٹی عظمیٰ کے استاد تھے۔ وہ انہیں اپنا استاد مانتی ہے۔ کسی کانفرنس میں اُن سے ملی تھی بیٹی، ان سے رابطے میں تھی اور بہت کچھ سیکھا تھا ان سے۔ کئی بار اس نے اُن کا ذکر کیا تھا۔”

انہوں نے کہنی موڑ کر اپنی بغلی جیب میں ہاتھ ڈالا، موبائل فون نکالا اور ہماری طرف،اس کا ڈسپلے کرتے ہوئے کہا:

” اس پر مجھے ملی ہے ڈاکٹر فرقان کی موت کی خبر۔”

انہوں نے موبائل فون دوبارہ جیب میں ڈال لیا اور اپنی نظریں میز پر گاڑھ کر دھیرے دھیرے کہنے لگے جیسے ہم سے نہیں اپنے آپ سے بات کر رہے ہوں:

” میں نے ایک دوبار بیٹی سے بات کرنے کے لیے نمبر ملانا چاہا مگر یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ میرے بیگانوں کی طرح فون پر پرسہ دینے سے وہ اورزیادہ دُکھی ہو جائے گی۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا اور صبح پہلی بس سے نکل آیا ہوں۔ ہمت نہ پڑی بیٹی کو فون کرکے یہاں بلا لیتا۔”

وہ ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہہ گئے تھے۔۔۔ وہ کچھ جو اُن کی بیٹی نے ہمیں اُن سے چھپانے کو کہا تھا۔ میں نے بیگم کی طرف دیکھا اور کہہ دیا۔

“اب کچھ چھپانے سے کیا حاصل؟”

یہ بات میں نے سرگوشی میں کہی تھی مگر وہ تو شاید سماعت اسی طرف لگائے بیٹھے تھے۔ اپنے قدموں پر یوں سرعت سے کھڑے ہوئے کہ کرسی جس پر وہ بیٹھے ہوئے تھے لڑکھڑا کر پیچھے جا گری۔

” کیا، چھپا رہے ہو تم لوگ، بتاو۔۔ بتاو۔۔ بتاو ”

تیسری بار “بتاو” کہتے ہوئے ان کی آواز بہت اونچی ہو گئی تھی۔

محض اونچی نہیں، یوں لگتا تھا،لفظ ’بتاو‘ اُن کا حلقوم پھاڑتے ہوئے نکلا تھا۔ میں بھی کھڑا ہوگیاتھا۔ ہم میں سے کوئی نہ تھا جو اپنی نشست پر بیٹھا رہا ہو۔ان کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں۔ وہ مسلسل میری طرف دیکھ رہے تھے یوں، جیسے وہ پلکیں جھپکنا ہی بھول گئے تھے۔ میں کھسکتا ہوا اُن کے قریب ہو گیا اورکھڑے کھڑے ساری بات یوں کہہ دی جیسے جھڑکے جانے پرکوئی بچے بھولا ہوا سبق بھی فر فر سنانے لگتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہو چلا تھا کہ اب بھی کچھ چھپایا تو تایا جان مجھے زندگی بھر معاف نہیں کریں گے۔ میری بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ انہوں نے بازو لمبا کیا اور مجھے ایک جانب زور سے دھکیل دیا۔ دروازہ کھولا باہر چھلانگ لگا دِی۔

جب تک میں گاڑی کی چابیاں تلاش کرتا،پورچ میں پہنچ کرگاڑی اسٹارٹ کرتا، اسے ریورس میں ڈال کر باہر سڑک پرڈالتا وہ بھاگتے ہوئے بہت دور نکل گئے تھے۔ ابھی میں نے گاڑی دوسرے گیئرہی میں ڈالی ہوگی کہ اُسے روک کر اُترنا پڑا۔ سڑک کے عین وسط میں ایک کپڑا پھیلا پڑا تھا دودھ جیسا سفید۔ تایا جان کی چادر۔ وہ اُن ہی کی چادر تھی۔ وہی جوکچھ دیر پہلے اُن کے سر سے سرکی تھی توانہوں نے اُسے گردن کے اردگر جما لیا تھا۔ چادر سڑک پریوں پھیلی پڑی تھی جیسے کسی زندہ وجود نے زمین کی گود میں لیٹے لیٹے بہت ہاتھ پاوں مارے تھے اور اچانک دَم توڑ دیاتھا۔ میں نے چادر سمیٹے سمیٹتے گھبرا کر وہاں دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے تایاجان تھے۔ اب وہ وہاں نہیں تھے۔ جہاں وہ ہو سکتے تھے وہاں سے سڑک معدوم ہو رہی تھی۔

Categories
فکشن

ایک وَڈیرے کی کہانی (رفاقت حیات)

اپنا قیمتی سوٹ کیس اٹھائے ہوئے،کچھ دیر تک ریل کی بوگی میں ہُمکتی بھیڑ سے جھوجھنے کے بعد،لٹکی ہوئی سیڑھیوں سے، پلیٹ فارم پراترنے کے جوکھم نے تو اس بے چارے کی جان ہی نکال دی۔نیچے اتر کر اپنے جسم کو سنبھالتے ہوئے،وہ پلیٹ فارم کے پختہ فرش پر چند قدم چلنے کے بعد ایک بہت اونچے آہنی شیڈ کے تھم کے ساتھ اپنی پیٹھ لگا کر کھڑا ہو گیا اور اپنا سامان نیچے رکھ کراپنی بوڑھی سانسیں مجتمع کرنے کی کوشش کرنے لگا۔سانسیں درست کرنے کے فوراً بعد، وہ اپنی ایک پرانی عادت دوہراتے ہوئے، جیب سے سگریٹ نکال کر اسے دیاسلائی کی مدد سے سلگانے کے بعد، دھیرے دھیرے کش لیتے ہوئے، سامنے سے گزرتے ہو ئے لوگوں کو قدرے دل چسپی سے دیکھنے لگا۔ ہر کوئی اسے نظرانداز کرتااپنی ہی دھن میں، اپنی ہی رفتار سے اس کے نزدیک سے گزر رہا تھا۔

“کیا میں نے اپنا اباناعلائقہ چھوڑ کر اس اجنبی بھیڑ کے درمیان آکر بالکل ٹھیک کیا؟ یا غلط کیا؟”۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا اور سگریٹ کا کش لے کرمنہ سے دھواں نکالتے ہوئے اجنبیت کے خوف کو اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔

کچھ ہی دیر میں گزرتے لوگوں میں اس کی دل چسپی ختم ہوگئی اوراجنبیت کا خوف بھی اس کے دل سے چھٹنے لگا۔اور اس کی جگہ ایک لاتعلقی پیدا ہونے لگی۔ وہ اپنا سر اوپر اٹھاکرآسمان کی جانب تکنے لگا کہ مبادا یہاں کا آسمان اس کے ابانے علائقے کے آسمان سے مختلف تو نہیں۔مگر وہ نہیں تھا اورسورج بھی، جو ریلوے اسٹیشن کے آس پاس کی زمین پر، عمارتوں کے پیچھے کہیں ڈوب رہا تھا۔مغربی افق پر شفق معدوم ہوتی جارہی تھی۔ پرندوں کی چھوٹی بڑی ڈاریں اپنی منزل کی جانب رواں تھیں۔انہیں اپنے آشیانوں کی طرف جاتے دیکھ کر اس کی آنکھیں اداسی اور رشک سے بھر گئیں۔ ان میں ذرا سی نمی در آئی۔ اس نے اپنا سر جھکا یا اور سفر کی گرد سے میلی پڑ چکی قمیض کی آستین سے،اپنی آنکھوں سے گردصاف کرنے لگا۔

آج صبح اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے اس کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا بس ایک دھندلا سا خیال موجود تھا۔اس نے طے کیا تھا کہ باقی رہ جانے والے برس وہیں گزار کر، وہیں کہیں زمین میں دفن ہو کر،گل سڑ جائے گا لیکن کبھی اپنے گوٹھ واپس نہیں جائے گا۔ شام کا آسمان دیکھنے کے بعداس کا یہ ارادہ ڈولنے لگا اور اس کا دل ڈوبنے لگا۔وہ اس اجنبی شہر میں خود کو نڈھال اور بے بس محسوس کر نے لگا۔ وہ زندگی بھر ایسی درد ناک کیفیت سے کبھی دوچار نہیں ہو اتھا۔اب بڑھاپے میں آکر اسے یہ سب بھی بھوگنا پڑ رہا تھا۔

اس نے شہر سے آگے اپنی منزل کا رخ کرنے کے بجائے آج کی شب پکا قلعہ کے گردوپیش واقع کسی مسافر خانے میں قیام کا فیصلہ کیااور سگریٹ پھینک کر اپنا سوٹ کیس اٹھاکر سیڑھیوں والے پُل کی جانب چلنے لگا۔

وہ پُل پرریلوے اسٹیشن سے باہر جانے والے راستے کی جانب بڑھ رہا تھا کہ مخالف سمت سے آتا ہوا ایک دبلا پتلا شخص، جو متواتر اپنی انگلیوں میں دبی ہوئی بیڑی کے کش لگا رہا تھا، پہلے تو اسے دیکھ کر ٹھٹھکا اورپھر فوراً اس سے دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔اُ س نے اپنی بیڑی کا آخری کش لے کر اسے جلدی سے فرش پر پھینک دیا۔ نجانے کیوں اسے سوٹ کیس اٹھائے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوف کا گھنا سایہ لہرانے لگا تھا۔

وڈیرے نے سوٹ کیس اٹھائے چھِچھلتی نظر سے اُسے دیکھا اور لاتعلقی سے اس کے پاس سے گزرنے لگا تو وہ شخص، بالکل اچانک اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔

اب اس شخص کی آنکھوں سے خوف کا سایہ چھٹ گیا تھا اور اس کی جگہ شناسائی کی گہری چمک نے لے لی تھی۔وہ ایک اپنائیت کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرانے لگاتھااور اعتماد کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔اس کی زیرِلب مسکراہٹ دھیرے دھیرے اس کی باچھوں تک پھیل کر ہنسی میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور وہ اس سے گلے ملنے کے لیے اپنے بازو پھیلائے اس کے نزدیک تر آگیا۔

“ارے وڈیرا! تم اور یہاں؟ میری اکھین کے سامنے؟لال لطیف کی قسم، آج دھنی سائیں نے تمہیں میرے روبرو لاکر معجزہ دکھا دیا۔ تم پہلے بھی میرے بھوتار تھے اور اب بھی ہو، اس لئے تمہیں مجھے بھولنے کا پوار پورا حق ہے،لیکن میں غریب، بھلا تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔میری دلِڑی جانتی ہے،تمہیں یاد کر کر کے وہ بے چاری یادوں کے تندور میں ٹانڈوں کی طرح کیسے جلتی سلگتی رہی ہے۔اگر میں بھی تمہاری طرح تمہیں بھول جاتا تو مولا سائیں میری جان نہیں نکال دیتا۔”

اس کی کھڑکھڑاتی آواز سن کر وڈیرے کی یادداشت کا در پوری طرح وا ہوگیا۔اسے اپناپرانا گوٹھائی رنگو یاد آگیا، جس کے ماں باپ نے اس کا نام تو اورنگ زیب رکھا تھا لیکن وہ گھستا گھساتا پہلے رنگ علی ہو ا، بعد میں مستقل طور پر رنگو ہی پڑگیا۔وہ رنگو کواس اجنبی شہر میں، اپنے قریب پا کر ششدر رہ گیا۔گلے ملتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے بس یہی نکل سکا۔”ارے رنگو۔۔کنجر تم؟اپنے باپ دادا کا گوٹھ چھوڑ کر تم غائب ہوگئے اور مجھ سے کہہ رہے ہو،میں بھول گیا۔میں نے تو سوچا تھا کہ اب تم سے دوزخ میں ہی ملاقات ہوگی”۔

“بھوتار! دنیا سے بڑا دوزخ اور کون سا ہے ؟ یہیں پر ہمارا دوبارہ ملنا لکھا ہوا تھا۔ وہ صرف میرے باپ دادا کا گوٹھ نہیں تھا،میرے لیے تو وہ جنت تھا جنت۔ میں نے اسے چھوڑ کر شوق سے شہرکا دوزخ مول نہیں لیا، سائیں۔ تم جانتے ہو، میری مجبوری تھی”۔وہ سیڑھیوں والے پُل سے گزرتے لوگوں سے ہٹ کر ایک جانب کھڑے ہوگئے۔

ان کے چہرے اس غیرمتوقع ملاقات کی خوشی سے دمکنے لگے تھے۔ دو دہائیوں کے طویل عرصے بعد وہ ایک دوسرے کے مُکھ دیکھ رہے تھے،جنہیں گزرے وقت نے خاصا تبدیل کردیاتھا۔وڈیرے کا بدن خاصا بھاری بھرکم ہوچکا تھا۔ زندگی بھر کی بے اعتدالیوں اور خوردونوش کی بگڑی عادتوں کے سبب اس کی توند نکل آئی تھی۔اس کے خضاب لگے بال اس کے ڈیل ڈول کے ساتھ لگا نہیں کھا رہے تھے۔اس کے سامنے اس کا گوٹھائی رنگو،بالکل ہی بے رنگ دکھائی دے رہا تھا۔اس کے سارے بال سفید پڑ چکے تھے۔کثرت سے بِیڑی پینے کے سبب اس کے گال اند ر دھنس چکے تھے اور ہونٹ گہرے سیاہ پڑ چکے تھے۔اس کابدن وڈیرے کی نسبت خاصانحیف لیکن پھرتیلا دکھائی دے رہا تھا۔

وہ پُل پر کھڑے کھڑے اس کے گھروالوں، رشتے داروں،دوستوں اور قصبے کے لوگوں کا حال احول پوچھنے لگا۔اس نے مختصراً” سب خیر” کہہ کر اپنی جان چھڑائی۔ پھر وہ یہاں آمد کا سبب معلوم کرنے لگا۔وڈیرے نے اسے ٹالتے ہوئے صرف اتناکہا۔ ” ضروری کام سے آیا ہوں”۔

اس کے بعد اس نے اجازت لیے بغیر ہی وڈیرے کا سوٹ کیس اٹھالیااور اس سے اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کرنے لگا۔اس کی مخلصانہ پیشکش سن کر وہ جُزبُز ہوتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے سے انکار کرتا رہا لیکن رنگو پر اس کا بس نہ چل سکا۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ابانے دادانے علائقے کو ترک کردینے کے بعد یہاں اسے پرانا یار مل جائے گا۔

رکشا ایک مختصرسے غلیظ بازار میں تنگ سی گلی کے سامنے رکا۔وڈیرے نے اپنی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو رنگو نے اسے کرایہ ادا کرنے سے روک دیا۔اس نے خود جلدی جلدی چند مڑے تُڑے نوٹ رکشے والے کو تھماکر اسے چلتا کیا۔اس کے بعد وہ سوٹ کیس اٹھائے گلی میں آگے آگے چلتے ہوئے اپنے اہلِ محلہ اور میونسپلٹی کے اہل کاروں کی شان میں گالیاں بکنے لگا، جن کی کاہلی اور ہڈ حرامی کی وجہ سے یہ جگہ بہت بدنما اور بدبودار ہوگئی تھی۔

اس علاقے کی کچی اور کڈھب سی گلیاں دیکھ کر وڈیرے کے نازک دل کو ٹھیس سی لگی تھی اور اس نے اپنا سر نیہوڑاکر اس کے پیچھے چلتے ہوئے اس کا اظہار بھی کیا تھا اور دبا دبا سا احتجاج بھی لیکن اب یہ سب بے سود تھا۔اسے آج کی شب یہیں گزارنی ہوگی۔

ایک مکان کے آگے رنگو کو رکتا دیکھ کر وہ بھی ٹھہر گیا۔اسے گلی میں دو منٹ ٹھہرنے کا کہہ کر وہ خود مکان کے زنگ خوردہ دروازے سے اندر چلا گیا۔وہ وہاں نیم تاریکی میں کھڑاگلی کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے مکانوں کی قطار دیکھنے لگا۔جو سب کے سب انہدام کے خوف سے ایک دوسرے کے کے سہارے ٹکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔وہ ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے سوچنے لگاکہ لوگ ان میں کیسے رہتے ہوں گے؟ کیسے جیتے اور مرتے ہوں گے؟اسے قصبے میں واقع اپنی خاندانی ماڑی یاد آنے لگی، جس کا ایک کمرہ اس گلی کے ایک مکان سے زیادہ کشادہ تھا۔ اس کے سینے سے ایک آہ سی نکلی۔

کچھ ہی دیر میں اس کا گوٹھائی دانت نکالتا ہوادروازے سے برآمد ہوااور اسے اندر چلنے کو کہنے لگا۔اسے قدم بڑھانے میں تامل ہورہا تھا۔اس کے یار نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”بھوتار! میرا غریب خانہ تمہارے لائق تو نہیں، مگر جیسا بھی ہے، حاضر ہے۔ اندر ہَلو سائیں”۔اس نے ادھ کھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

“بیلی !مجھے شرم سار نہ کرو”۔وڈیرادروازے کی چوکھٹ سے اپنا سر جھکائے ہوئے آگے بڑھا۔

وہ گھر کے مختصر سے صحن میں داخل ہوا، جس میں بمشکل دوچارپائیاں سما سکتی تھیں۔دائیں طرف بیت الخلا اور غسل خانہ ساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے۔ان کے مخالف تھوڑی سی جگہ پر کھلا باورچی خانہ واقع تھا۔وہ جیسے ہی آگے بڑھا،اس کاسر، کپڑے سکھانے والے تاروں سے ٹکرانے لگا۔تاروں سے بچنے کی خاطر اس نے اپنا سر جھکایا،تو باورچی خانے کے چولہے کے پاس چوکی پر سمٹ کر بیٹھی رنگ علی کی بیوی، دوپٹے میں اپنا چہرہ چھپاتی،اس کے استقبال کے لیے، غیرمتوقع طور پر اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

“ادا، بھلی کرے آیا”۔یہ کہہ کراس نے اپنا روکھا سوکھاسا ہاتھ مصافحے کے لیے آگے بڑھا دیا۔اس نے بھی ذرا ساجھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔”مھربانی اَدی”۔اس دوران اسے خیال آیا کہ یہی وہ عورت ہے، جس کی خاطر اس کا یار اپنی جنت چھوڑ کر نئی زندگی کی تلاش میں اس دوزخ میں چلا آیا تھا۔

رنگُو نے آگے بڑھ کر اپنی بیوی کا تعارف اپنے دوست سے کروایا۔”وڈیرا! یہ میری ذال ہے، سکھاں”۔اسے دو دہائیاں قبل ان کے غائب ہونے کے بعد قصبے میں پیش آنے والے واقعات یاد آئے تو وہ زیرِلب مسکراتا ہوا اپنے یار کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

کمرے میں جس چارپائی پر نئی نکور رلی بچھی ہوئی تھی اور سرہانے پر مقامی کشیدہ کاری والا تکیہ رکھا ہوا تھا،اس پر بیٹھتے ہی اس نے اپنی سینڈل اتاری اور پاوں اوپر کرکے تکیے کے سہارے نیم دراز ہوگیا۔ٹرین میں کئی گھنٹے سینڈل پہن کر سیٹ پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے اس کے پاوں سوج گئے تھے اور ان میں ہلکا ہلکا درد ہورہا تھا۔

رنگو نے اسٹیل کے گلاس میں برف والا ٹھنڈا پانی پیش کیاتو پہلا گھونٹ لیتے ہی اس کا منہ کھارے پن سے بھرگیامگراس نے اسے احساس نہیں ہونے دیا۔اسے بے اختیار قصبے کی واٹر سپلائی کا میٹھا اور ٹھنڈا پانی یاد آگیا، اب وہ جس کا ذائقہ اپنی زبان پر محسوس کرنے کے لیے عمر بھر ترستا رہے گا۔وہ اسے یاد کرکے بے اختیار اپنے دوست سے پوچھنے لگا۔”رنگو! کیا تجھے اپنی واٹر سپلائی کا پانی یاد ہے؟”

اس کی بات سن کر وہ آہ بھرنے لگا۔”اس پانی کی کیا ہی بات تھی وڈیرا۔ میرے لیے تو وہ زم زم سے بھی بڑھ کر ہے۔ کاش، تم اس کی بوتل ہی بھر لاتا تو میں اسے اپنی آنکھوں پر لگاتا۔ویسا پانی تو شاید جنت میں بھی نہیں ملے گا، ہاں۔اچھا بھوتار!بتاو کہ اپنے بازارمیں وادھومل منیاری کی دکان کے آگے ہینڈ پمپ ابھی تک لگا ہوا ہے کہ نہیں؟”۔

“بروبر لگاہوا ہے۔رنگو، مجھے یہ بتا کہ پُل پر جب تو نے مجھے پہلی بار دیکھا، تو خوف سے پیچھے کیوں ہٹ گیا تھا؟”۔

اس کی یہ بات سن کر وہ اپنے پیلے دانتوںکی نمائش کرنے لگا۔” بھوتار! میں خوف سے پیچھے کیوں ہٹا تھا، یہ تم اچھی طرح جانتے ہو”۔

“مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔ میں تیرا پرانا سنگی ہوں چریا۔میں بھلا ویسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں۔ میںتیرے ساتھ وہ سب کیسے کرسکتا ہوں،بتا”۔

یہ سن کر وہ کھسیانا ہونے لگاکیوں کہ وڈیرے کی بات میں وزن تھا۔ وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا۔”وڈیرا! تم سولہ آنے ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن مجھ غریب کی حالت کے بارے میں ذرا سوچو۔ مجھے اپنے گوٹھ سے بھاگے ہوئے بیس بائیس سال ہوچکے۔ میں آج تک ایک مفرور کی طرح روپوشی کی زندگی گزار رہا ہوں۔آج بھی شہر میں گھومتے پھرتے ہوئے کاروکاری کی موت کا خیال میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔اگر تم سمجھ رہے ہو کہ صرف اپنی زندگی جانے کے خوف سے میں پیچھے ہٹا تھا، تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ بس سکھاں اور اس کے بچوں کی جان جانے کا ڈر مجھے ہروقت ہلکان کیے رکھتا ہے۔”

“اچھا اچھا، ٹھیک ہے۔ سمجھ گیا۔ تمہارے چھوکرے نظر نہیں آرہے؟”۔

“وہ کام سے آتے ہوں گے سائیں۔ بڑا چھوکرا پکے قلعے میں چوڑیاں بنانے والی ایک بھٹی میں کام کرتا ہے اور چھوٹا موٹر سائینکل کی میکینکی سیکھ رہا ہے۔دھنی سائیں نے مجھے فرماں بردار اولاد دی ہے وڈیرا۔ دونوں جو بھی کماتے ہیں، لاکر اپنی امڑ کی ہتھیلی پر رکھتے ہیں، ہاں، لیکن گھر کا کوئی کام نہیں کرتے”۔

یہ سن کر وڈیرے کے سینے سے ایک ہوک سی نکلی،جسے اس نے سینے میں ہی دبادیا۔اچانک اس کی سماعت بیوی اور اپنے تین بیٹوں کے زہریلے اور کٹیلے لہجوں سے بھرنے لگی۔اسے غصے اور نفرت سے دہکتی ان کی آنکھیں یہاں بھی یاد انے لگیں۔وہ چند لمحوں کے لیے حسد اور رشک کی بھٹی میں سلگنے لگا۔

پرانے دوست کے گھر مہمان بن کر آنے کے بعد اسے اندازہ تھا کہ وہ اس سے یہاں آمد کے سبب کے متعلق تفصیلات ضرور پوچھنا چاہے گا۔اس نے اپنے جی میں مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ اسے کسی بھی طور اپنی حقیقی صورتِ حال کی بھِنک نہیں پڑنے دے گا۔کچھ ہی دیر بعد جب رنگو نے اس سے شہر آنے کی وجہ پوچھی تواس نے جھوٹ بولا کہ وہ یہاں کی کچہری میں ایک مقدمے کی پیشی بھگتانے آیا تھا۔

اس کے بعد ان کے درمیاں خاموشی کا ایک طویل وقفہ حائل ہوگیا۔رنگو نے اپنی بات سے اس وقفے کو ختم کرنے کی سعی کی۔

وہ بولا۔”سائیں! میرے پاس بھنگ کی ایک پُڑیا رکھی ہوئی ہے۔ میں کام سے واپس آکر رات کے کھانے سے پہلے اسے گھوٹ کر دو یا تین گلاس چڑھاتا ہوں۔ اگر اجازت دو تو کارروائی شروع کروں”۔

اس کی بات سن کر وڈیرا ہنسنے لگا۔ اس کی ہنسی کو رنگو نے اجازت خیال کیا اور آگے بڑھ کر ذرا سا جھک کر چارپائی کے نیچے رکھا ہوا ڈنڈا اورکونڈا نکال لیا۔ وہ چپ چاپ چارپائی پر بیٹھ کراسے دیکھتا رہا۔وہ باہر سے پانی سے بھرے جگ کے ساتھ کچھ خشخش،بادام اور پستے لیتا آیا۔ ڈنڈے اور کونڈے کو پانی سے اچھی طرح دھونے کے بعد اس نے بھنگ کے سوکھے پتوں کے ساتھ ساتھ بادام،خشخش اور پستے کونڈے میں ڈال دیے اور انہیں ڈنڈے کی مدد سے کوٹنے لگ گیا۔

اسے مصروفِ کار دیکھ کر وڈیرے کو برسوں پرانے دن یاد آنے لگے۔ جب ہر روز کبھی صبح کے وقت تو کبھی ڈھلتی دوپہر کے آس پاس جوان رنگو اس کی اوطاق میں بیٹھ کر اس کے لیے بھنگ گھوٹنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس یاد نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ اسے اچانک ایک شرارت سی سوجھی۔

” ارے رنگو! یہ بتا کہ تیرے ہاتھوں سے بنی بھنگ میں کیا اب بھی وہی پرانا ذائقہ ہے؟”

وہ یہ سن کے بے ساختہ ہنسا پھر ایک آہ بھرتے ہوئے سنجیدہ ہوگیا۔۔ “میرے سائیں! پرانا ذائقہ اب کسی چیز میں نہیں رہا۔سارے مزے اور سارے ذائقے تو وہیں چھوڑ آیا تھا۔اب تو بس ان کی یاد باقی ہے، جومیری چھوٹی سی دِلڑی کو رات دن جلاتی ہے”۔

اس کا جواب سن کر وڈیرے کا دل بھر آنے لگا۔اس کے جی میں آئی کہ وہ اپنی جو بپتا، اتنی دیر سے اپنے دوست سے چھپائے بیٹھاہے، وہ ساری کی ساری اس سے کہہ ڈالے، لیکن اس نے خود کو ایسا کرنے سے روک دیا۔

کچھ دیر خیالوں میں گم رہنے کے بعد اس نے فرش کی طرف نگاہ ڈالی تو اسے کونڈے میں ہلکا سبز محلول تیرتا ہوا دکھائی دیا۔رنگوکپڑا اٹھائے اس کی طرف مدد طلب نظر سے دیکھ رہاتھا۔ وہ فوراً چارپائی سے اترا اور اس کے سامنے بیٹھ کر اس نے کپڑا اس سے لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ رنگو نے جلدی سے خالی جگ کپڑے کے نیچے رکھ دیا اور کونڈے سے بھری ہوئی بھنگ احتیاط سے کپڑے پر انڈیلنے لگا۔ وہ کپڑے کے تاروں سے چھن چھن کر جگ میں گرنے لگی۔رنگو نے برف کی ٹکڑیاں لا کر اس میں ڈال دیں اور اسے جگ سے بار بار گلاس میں انڈیل کر ٹھنڈا کرنے لگا۔

ٹھنڈی ٹھار سائی کے گلاسوں کی جوڑی چڑھانے کے بعد یہ دونوں پورباش ہوگئے۔ ان کے لیے یہ سارا عمل اپنے مشترکہ ماضی کی بازیافت جیسا تھا۔ ماضی جس میں وہ جوان تھے، آپس میں جوڑی دار تھے۔کچھ دیر کے لیے سہی مگر انہوں نے اس چھوٹے سے غلیظ کمرے سے نکل نکل کر،خود کو قصبے میں واقع پیر مٹھن شاہ کی درگاہ کے احاطے میں واقع نیم کے گھنے پیڑ کے سائے میں بیٹھے ہوئے محسوس کیا، جہاں انہوں نے مل کر بھنگ گھوٹتے اور پیتے ہوئے،نوخیز مقامی لونڈوں سے نین لڑاتے اور انہیں پٹاتے ہوئے، عرس کے موقع پر رنڈیوں پر نوٹ لٹاتے ہوئے اور انہیں مباشرت پر آمادہ کرتے ہوئے بہت سا وقت ساتھ گزارا تھا۔وڈیرے کو یاد تھا کہ رنگو ہر مشکل صورتِ حال میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیاکرتا تھا۔حتی کہ رات گئے معشوقو ں کی خواب گاہوں کی دیواریں پھلانگنے میں اوران کے گھر والوں کے جاگ پڑنے پر ان کی مارپیٹ اور تشدد سے بچنے میں بھی۔ہر طرح سے،جب بھی اسے اس کی ضرورت ہوئی۔

رنگو ایک حجام کا بیٹا تھا، اس لیے اس کی جیب ہمیشہ خالی ہوتی تھی لیکن وڈیرا اسے کبھی اس طبقاتی تفاوت کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا۔اپنے سارے ذاتی معشوق چھوڑ کر وہ جب بھی جس لونڈے یا رنڈی سے ملا، اس نے اپنے یار کو بھی اسے استعمال کرنے کا پورا اختیار دیا۔لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت تھی کہ رنگو کے بالکل اچانک قصبے سے غائب ہوجانے کے بعد اسے اس جیسا کوئی جی دار دوست کبھی نصیب نہیں ہوا۔ اسی لیے وہ نشے کی جونجھ میں اپنا حال فراموش کرکے ماضی میں رنگو کے ساتھ حاصل ہونے والی جنسی کامیابیوں کے احوال میں گم ہوتا چلا گیا۔

ان کے قہقہے گھر بھر میں گونج رہے تھے۔ جب چارپائی کے پیچھے صحن میں کھلنے والی کھڑکی پر مسلسل دی جانے والی دستک نے اچانک اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ یکایک ماضی کی شاد کامیوں سے زمانہ موجود میں لوٹ آیا۔ اس نے اپنے میزبان کی توجہ اس جانب دلائی تو وہ ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔وڈیرے نے مستفسرانہ نظروں سے اسے گھورا تو وہ ہنستے ہوئے گویا ہوا۔”بھوتار! کھانا تیار ہے۔ ہاتھ منہ دھونے کے لیے باہر غسل خانے تک چلنا ہوگا”۔

یہ سن کر اسے احساس ہوا کہ دھول ابھی تک اس کے چہرے اور بدن پر جمی ہوئی تھی۔وہ نہانا چاہتا تھا لیکن نشے کے پیدا کردہ آلکس کی وجہ سے اسے غسل کرنے کا خیال صبح تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا اوروہ اٹھ کر جھومتا جھامتااپنے میزبان کے پیچھے کمرے سے باہر چل دیا۔

تھکاوٹ اور بھنگ پینے کے سبب وڈیرے کی بھوک دو آتشہ ہوگئی تھی، اس لیے تازہ کھاناپرتکلف نہ ہونے کے باوجود اسے ذائقہ دار محسوس ہوا۔آلو مرغی کے شوربے کے ساتھ تلے ہوئے بینگن اور بھنڈی کھاتے ہوئے اسے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ اس نے کتنی روٹیاں کھائی ہیں۔بے چارہ رنگو ہر کچھ دیر بعد دوڑ کر دروازے سے باہر جاتا اور چھابی میں گرم روٹی لیے ہوئے واپس آجاتا اور اس کے ساتھ بیٹھ کرخود صرف ایک آدھ نوالہ زہرمار کرتا، جب کہ وڈیرا اس دوران پوری روٹی ہی چٹ کرچکا ہوتا۔

وڈیرے کو احساس ہی نہیں ہوا کہ اس کی بسیار خوری اس کے دوست اور اس کے کنبے کو کتنی مہنگی پڑرہی تھی۔کچھ دیر بعد رنگو نے چپکے سے کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تا کہ اس کا مہمان پیٹ بھر کر کھاسکے۔چند لمحوں بعدکھڑکی بجنے پر وہ باہر گیا تو اس کی بیوی نے اسے آٹا ختم ہوجانے کی خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اس کا کوئی بیٹا دکان پر جاکر آٹا لانے اور اپنے بن بلائے مہمان سے علیک سلیک کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔

چھابی میں روٹی ختم ہوجانے پر وڈیرا ایک عجیب ندیدے پن کے ساتھ اپنی انگلیاں چاٹنے لگا۔اس کی انگلیاں چاٹنے کی چُسڑ چُسڑکمرے میں پھیلنے لگی۔ایسا لذیذ کھانا اسے مدتوں کے بعد نصیب ہوا تھا۔ اس نے ا پنی جی بھر کر پھُوہڑ بیوی پر چار حرف بھیجے،جس نے زندگی میں ایک بار بھی اسے ایسا مزے دار کھانا کھلانے کے بجائے ہمیشہ جلی کٹی ہی سنائی تھی۔

کچھ ثانیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر کھڑکی پر دستک ہونے لگی اور رنگو دوڑ کر باہر جاکر پھر سے گرم روٹیاں لانے لگا۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔اس دوران رنگو کے گھر میں کھُسر پھُسر سے شروع ہونے والی کھلبلی،دھیرے دھیرے شور و غوغے کا روپ دھارنے لگی۔بے چارا رنگو اٹھ اٹھ کر باہر جانے لگا لیکن غوغا بڑھتا ہی جارہا تھا۔

وڈیرہ اپنے گردوپیش کی ہر چیز سے غافل اپنا شکم بھرنے میں مصروف تھا، جو کسی طرح سیر ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ رنگو کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ اس نے بیٹوں نے اندر بغاوت برپا کردی تھی اور اس کی بیوی بھی ان کے ساتھ مل گئی تھی۔

عین اس لمحے جب رنگو کے بیٹے اپنے مہمان کو کھانے کی غارت گری سے روکنے کی خاطر کمرے پر دھاوا بولنے والے تھے، وڈیرے نے لمبی ڈکار لیتے ہوئے کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ رنگو نے یہ خبر تُرنت اندر پہنچا کر اپنے بیٹوں اور بیوی کے بھڑکتے جذبات کو ٹھنڈا کیا۔

حد سے زیادہ کھالینے کی وجہ سے وڈیرے کے لیے چارپائی سے اترکر ہاتھ دھونے کے لیے باہر جانا محال ہوگیا۔ اس نے بستر کی چادر کے ساتھ اپنا ہاتھ اور منہ دونوں صاف کیے۔ دوتین طویل جماہیاں لیں اوراللہ وائی کہتا ہوا سونے کے لیے لیٹ گیا۔ اس کے سونے کے بعد رنگو نے اطمینان کی سانس لی اور اس پر کھیس ڈال کر دبے پاؤںکمرے سے نکل گیا۔

صبح دم آنکھ کھلنے کے بعد وڈیرہ سمجھا کہ وہ اپنی ابانی حویلی میں،اپنی کشادہ خواب گاہ میں، اپنے رانگلے پایوں والے پلنگ پرلیٹا ہے اور اس کی ہٹ دھرم،ضدی اور جھگڑالو بیوی اس کے پہلو میں پڑی ہے۔ کروٹ لیتے ہی اسے مقام اور وقت کی تبدیلی کا اندازہ ہوا تو اس کے دل کو دھچکا سا لگا۔اپنے گاؤں سے یہاں تک کے سفر کی جھلکیاں اس کے ذہن میں گھوم کر رہ گئیں۔وہ رنگو کے مکان کے اس بوسیدہ سے کمرے میں، چارپائی پر دراز ایک آہ سی بھر کر رہ گیا۔کل شام سے اب تک اس کمرے میں بیتنے والے سب لمحے اس کے ذہن یکسر محو ہوچکے تھے۔

رنگو کی بے رنگ زندگی،اسے گوٹھ میں اپنی نوابی کی زندگی سے کہیں بہتر محسوس ہونے لگی تھی۔اس کی بیوی اس کی فرماں بردار تھی اور اس کے بیٹے بھی۔اس کے برعکس وڈیرے کے ہاں معاملہ یکسر مختلف تھا۔ اس کے بیٹے جوان ہونے کے بعد اسے اپنا رقیب اوردشمن سمجھنے لگے تھے۔اس کی ظالم بیوی،اس کے بیٹوں سے بھی چار ہاتھ آگے تھی۔ اسی لیے اس نے اپنی جاگیر کی آمدنی سے اسے ایک پھوٹی کوڑی تک دینے سے انکار کردیا تھا جب کہ وہ خود اپنی ساری جائیدادیں لونڈے بازی اور نڈیوں سے اپنے تعلقات میں پھونک چکا تھا۔

غسل کے بعد اس نے کپڑے نکالنے کے جب اپنا قیمتی سوٹ کیس کھولا تو اسے کپڑوں اور ضرورت کی دیگر چیزوں سے لدالد دیکھ کر رنگو بالکل دنگ رہ گیا۔ اس کی یہ حیرت وڈیرے نے بھی محسوس کی۔اس نے اس میں سے صرف ایک جوڑا باہر نکالا اور پھر اسے چابی سے بند کردیا۔رنگو نے بھی فوراً اپنی آنکھیں پھیر لیں۔

جب وڈیرہ ناشتے کے بعد رنگو کے ساتھ گھر سے جانے کے لیے تیار ہوگیا تو نکلنے سے پہلے وہ رنگو سے مخاطب ہوا۔” رنگو! میں اپنے سوٹ کیس کی چابی تیرے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ شہر میں رش ہوتا ہے۔ کچہری بھی لوگوں سے بھری ہوتی ہے۔ خدانخواستہ، میری جیب نہ کٹ جائے۔ اس لیے اسے تو رکھ لے۔ بعد تجھ سے ہی لے لوں گا۔”

اس نے جیب سے ایک چھوٹی سی ایک چابی نکال کر اس کے حوالے کی۔ رنگو حیرت سے سنہری رنگ کی وہ چابی دیکھنے لگا۔پھر چانک جیسے اسے کوئی اہم یاد آگئی۔”سائیں وڈا! یہ چابی میرے سے بھی کہیں گر کر کھوسکتی ہے۔میں سوچتا ہوں کہ اسے سکھاں کو دے آؤں۔ وہ سنبھال کر رکھ لے گی۔”

یہ سن کر وڈیرے نے اثبات میں سر ہلادیا۔

وہ تنگ سی گلی سے نکل کر غلیظ بازار تک پیدل آئے اور وہاں سے ایک رکشے میں سوار ہوگئے۔ رستے میں رنگو نے وڈیرے کو کچہری میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کریدنا چاہا تو اس نے گول مول سا جواب دے کر ٹال دیا۔اس کے بعد دونوں میں کوئی بات نہ ہوئی۔

وہ رکشے سے گاڑی کھاتہ اتر گئے۔وڈیرہ اب رنگو سے جلد از جلد اپنا پیچھا چھڑا کر یہاں سے نکلنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔وہ اس کے ساتھ عدالت جاکراس کی پیشی بھگتانے کے لیے بالکل تیار تھا۔وہ پورا دن اپنے بھوتار سائیں کی چاکری کرنا چاہتا تھا۔وڈیرہ عجیب سی صورتِ حال سے دوچار ہوگیا تھا۔

گاڑی کھاتہ سے پیدل گزرتے ہوئے ایک چائے خانے میں تسلی سے بیٹھ کر رنگو کو سمجھا نا اس نے مناسب خیال کیا۔ چائے کی پیالی کی چسکیاں لیتے ہوئے اس نے اسے سمجھایا کہ اس کا اکیلے کچہری جانا ضروری ہے۔ وہاں مقدمے میں مطلوب دیگر لوگ بھی ہوں گے،جو سب گوٹھ سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس کا ساتھ جانا اس کے لیے ہی خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ وڈیرے نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی وہ شام تک پیشی بھُگتا کر شام ڈھلے اس کے پاس گھر پہنچ جائے گا۔اس نے اگلے دن رنگو کے ساتھ رانی باغ اور ٹھنڈی سڑک گھومنے کا منصوبہ بھی بنایا۔ وہ آخرکار رنگو کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔

چائے خانے کے باہر رنگو نے اسے زور سے اس طرح بھینچا جیسے برسوں بعد ملنے والوں کو گلے ملتے ہوئے بھینچاجاتا ہے۔وڈیرہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اپنے یار سے آخری بھاکُر(جپھی) ڈال رہا ہے۔ اس کے بعد دونوں دوست مختلف سمتوں کو چل دیے۔ مڑ کر دیکھے بغیر،وہ سیدھے چلتے چلے گئے۔

ہالا ناکے کے بس اسٹاپ سے بس میں بھٹ شاہ جاتے ہوئے، وڈیرہ مسکراتے ہوئے اپنی چشم تصور پر رنگو، اس کی بیوی سکھاں اور اس کے بیٹوں کو اپنے سوٹ کیس پر جھکا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ سب اس میں سے چیزیں نکال نکال کر انہیں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبے سے دیکھ رہے تھے۔

اسے یقین تھا کہ چند روز اس کا انتظار کرنے کے بعد وہ ان چیزوں کو استعمال میں لانے لگیں گے اور دھیرے دھیرے ان چیزوں کی طرح اس کی یاد بھی پرانی ہوکر سب کے ذہنوں سے ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔بالکل اسی طرح اس کے سگے بھی اسے فراموش کر بیٹھیں گے۔ وہ اپنے بقیہ برس نیم کے ایک گھنے پیڑ کے نیچے گزرادینے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اب اس کے دل میں نہ کوئی خوف رہا تھا نہ ہی کوئی غم۔ وہ ہوا کی طرح ہلکا ہوکر اڑا جارہا تھا، نیم کی گھنی شاخوں کی طرف۔

Categories
فکشن

رفتار – تالیف حیدر

ناز نے اپنا بستہ درست کیا اس پہ لگی دھول جھاڑی اورلوئر برتھ کے نیچے سے نکال اسے سائیڈ اپر برتھ کی خالی کناری میں گھسیڑ دیا۔ آج بھی اس روٹ(Route) پر آنا اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ اس کے بوڑھے ماں، باپ اپنےگاوں کو خیر باد کہنے پر راضی نہ ہوئے تھےاور شہر کی زندگی جس میں ناز کو لطف کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اس کے ماں، باپ کو وحشت ہوتی تھی،یہی وجہ ہے کہ ناز سال،چھ مہینے میں اپنے والدین سے اس وقت اپنے چھوٹے بھائی کی نیم شہری علاقے میں واقع رہائش گاہ پر جاکر مل لیا کرتا تھا جب وہ اپنے منجھلے بیٹے کی محبت میں گاوں سے وہاں تک کھنچے چلے جاتے تھے۔ اس کااپنے آبائی مکان تک جانے کا اتفاق کم ہوتا تھا۔ اس مرتبہ بابا کی طبیعت خراب تھی اور ناز کے بھائی،بہن بھی ان سے ملنے گاوں پہنچے ہوئے تھے۔ باعث مجبوری اسے بھی گاوں کا سفر کرنا پڑا۔

ناز اپنے شہر سے گاوں جانے کے لیے سوائے ٹرین کسی اور ذریعے کا استعمال نہیں کر سکتا تھا، کیوں کہ ا س کا آبائی مکان جس گاوں میں تھا وہاں تک پہنچنے کے لیے “چھوٹی لائن “پہ چلنے والی ٹرین سے سفر کرنا ہوتا تھا۔ راستے کچے تھے اور گاڑی سے اس گاوں میں اکا دکا لوگ ہی آیا کرتے تھے۔ جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی زمین کا سینہ گاڑی کے پہیوں کو اتنا اچھالتا کہ اندر بیٹھے لوگوں کا کلیجہ منہ کو آجاتا۔ یوں بھی شہر سےآنے والے ان لوگوں کو جو ٹرین کے بجائے گاڑی کو ترجیح دیتے،گاوں کے لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، اول تو گاوں والے اس کے عادی نہیں تھے، دوسرے انہیں اس طرح کے مہمانوں سے خوف آتا تھا۔ ناز گاوں والوں کی ان نفسیاتی الجھنوں سے واقف تھا کیوں کہ وہ بھی ایک عرصے تک انہیں کے درمیان رہا تھا۔

جس ٹرین سے ناز سفر کر رہا تھا اس میں پریشانی یہ تھی کہ ریزرویشن کی سہولت برائے نام تھی، ہر ڈبہ،فرسٹ کلاس ہو یا سکینڈ کلاس ایک طرح کے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کس کے پاس ٹکٹ ہے اور کس کے پاس نہیں اس کا تصور کر پانا مشکل تھا، جب گاڑی چمن گنج سے ہوتی ہوئی بھدریہ آتی تو گاڑی میں سفید جلیبی نما پگڑی باندھے، مٹ میلے کرتے اور دھوتی میں ملبوس لوگوں کا اتنا اضافہ ہو جاتا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی۔ ناز کا گاوں بھدریہ سے چھ گھنٹے کی دوری پہ تھا۔ وہ شہر سے فرسٹ کلاس،رزرویشن کروا کر چلا تھا مگر اس کا ڈبہ تھرڈ ڈویژن بن چکا تھا۔ اسےہر طرف سر ہی سر دکھائی دے رہے تھے، جس نے اسے الجھن میں ڈال دیا تھا۔وہ جلد گھبرا جانے والا کمزور ارادہ شخص تھا۔ مجبوری نہ ہوتی تو وہ اس طرح سفر نہ کرتا۔ باربار اسےخیال آتا کہ اپنے ارد گرد جمع بھیڑ کو ڈانٹ کر دور بھگا دے اور ریزر وسیٹ پہ لیٹ جائے۔ وہ جانتا تھا کہ جس طرح اس نے اپنے سفر کے چھے گھنٹے حبس زدہ ماحول میں گزارے ہیں مزید چھے گھنٹے اسی ماحول میں گزارنا ہیں۔ کسی کسی لمحے میں یہ خیال اسے چڑ چڑا بنا دیتا۔ وہ اپنی سیٹ پر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے ماتھے پر ابھرنے والی لکیروں کو ہلکے ہلکے دبا رہا تھا۔ ایک ٹانگ ٹرین کے فرش پر تھی اور دوسری تنگ دستی کے باعث پہلی پر موڑ کر رکھنا پڑی تھی۔ ٹرین جب جب ذرا دھیمی ہوتی تو وہ آنکھیں کھول کر اپنے اطراف کا جائزہ لیتا۔ کچھ میلی کچیلی گردنیں، جن کے گرد سفید کالر کا سیاہی مائل حلقہ اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہوتا۔ ابھرے ہوئے پیٹ کی بٹیاں نکالی ہوئی پرانی رنگ برنگی ساڑیوں میں ملبوس عورتیں جن کے چہروں سے مصیبت اور پریشانی کا اندازہ لگا یا جا سکتا تھا۔ جگہ جگہ دو،دو، تین تین برس کے بچے جن میں سے کچھ بھیڑ کی حرکتوں کو حیرانی سے تکتے ہوئے اور کچھ چیخ مار کر روتے ہوئے۔ وہ اپنے اطراف سے بری طرح اکتایا ہوا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ گاڑی کی رفتار کم ہو رہی ہے، اس نے بھیڑ کے درمیانی خلا سے ٹرین کی کھڑکی کے باہر نظر ڈالی، چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے، دور کہیں چھوٹی چھوٹی دو ایک پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں، دھوپ بہت تیز تھی جس کی شدت کھڑکی کے قریب بیٹھے دو چار بوڑھے محسوس کر رہے تھے۔ گاڑی دھیمی ہوتے ہوتے رک گئی۔ ناز تھوڑی دیر تک اسی حالت میں بیٹھا گاڑی کے چلنے کا انتظار کرتا رہا، مگر جب اسے اس حبس زدہ ماحول میں سانس لینا بھی مشکل معلوم ہونے لگا تو اس نے اپنا بستہ اوپر والی سیٹ کی جھری سے کھینچا اسے اپنی نشست پہ رکھا اور اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے شخص سے یہ کہتا ہوا کہ وہ ابھی واپس آ رہا ہے وہاں سے دروازے کی طرف چلا گیا۔ دروازے تک پہنچنے میں اسے خاصی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جگہ جگہ لوگوں سے ٹکراتا ہوا کسی کو دھکا دیتا اور کسی سے معذرت کر کے جگہ طلب کرتا ہوا جب دروازے تک پہنچا تو ہوا کا ایک جھکڑ اس کے چہرے سےٹکرایا۔اس بے وقت کی تازہ ہوا نے اس کے پورے بدن میں ایک خوشگوار لہر دوڑا دی۔ناز نے دو ایک لوگوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ بنا کر وہیں کھڑے رہنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ دیر میں گاڑی دھیمی رفتار سے چلنے لگی اور دھوپ کی شدت میں قدر ےکمی محسوس ہونے لگی۔ عین ممکن ہے دھوپ کی شدت کو گاڑی کی بڑھتی رفتار نے کم کر دیا ہو۔ دھوپ کی تمازت کو کم کرنے میں بادلوں کے وہ دو چار ٹکڑے بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے جو آسمان کی تھالی میں کہیں کہیں روئی کے بکھرے ہوئے گچھوں کی مانند پڑے تھے۔ گاڑی کی رفتار دھیرے دھیرے بڑھتی چلی گئی۔ نا ز ٹرین کے دروازے پراس طرح کھڑا تھا کہ اس کے ایک پاوں کی صرف ایڑی ٹرین کے باہری دروازے کی پائیری پر رکھی ہوئی تھی اورپنجہ ہوا میں تھا۔ وہ کبھی باہر کی بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھتا اور کبھی آسمان میں بکھرے بادل کے گچھوں کو۔ اس کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے کھیت کھلیان اسےدھوپ کے باعث بیزار کن معلوم ہورہےتھے جب کہیں کوئی گائے، بکری یا کتوں کا جھنڈ نظر آتا تو وہ اسے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا۔وہ سامنے آتے اور آن واحد میں تیزی سے پیچھے کی طرف چلے جاتے، ناز اپنی گردن گھما کر اس وقت تک ان کا تعاقب کرتا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔ منظروں کی قلت اسے جانداروں کے دیدار میں سکون بخش رہی تھی۔اچانک اسے ایسا محسوس ہوا کہ گاڑی ایک زور دار جھٹکے سے تھرا اٹھی ہے۔ ایک لہر جو اس کے اریب قریب کے لوگوں نے بھی محسوس کی تھی، سب کے منہ سے بیک وقت ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی۔ اب سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں چہ مگویاں شروع ہو گئیں۔ ناز بھی حیران تھا۔ اگر اس نے ٹرین کے ہتھے کو مضبوطی سے نہ تھاما ہوتا تو شائد وہ باہر لڑھک جاتا۔ اس نے اپنے برابر والے شخص کو دیکھا جو حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ “یہ کیا تھا؟”ناز نے استفسار کیا۔”شائد کوئی جانور ٹکرا گیا ہے۔ ایسا اس لائن پہ اکثر ہوتا ہے۔” ناز نے سو چا کہ اگر کوئی جانورٹکراتا تو بھی کیا اتنی زور کا جھٹکا محسوس ہوتا۔ اس نے فوراً اپنی دوسری ٹانگ اندر لے لی اور دروازے کی طرف پیٹھ کر کے اپنے سرہانے موجود آہنی ڈنڈے کو مضبوطی سے تھام کر کھڑا ہو گیا۔ “مجھے نہیں لگتا، شائد زمین ہلی ہے۔” اس نے اپنے مخاطب سے کہا۔ “نہیں بھائی، یہ کوئی بڑا جانور ہی تھا۔”قریب کھڑے لوگوں نے بھی اس کی بات کی تائید کرنا شروع کر دی۔ ناز نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ہوا میں کسی چیز کے جلنے کی چراند شامل ہو گئی ہے۔ اس نے اپنے نتھنے اپنی جیب میں پڑے رومال کو نکال کر اس سے ڈھک لیے۔ اس کا جی متلا رہا تھا۔ “یہ اسی جانور کے خون کی مہک ہے بابو “اس کے برابر میں کھڑے ایک بوڑھے آدمی نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا۔ “ایسا یہاں ہوتا رہتا ہے۔ڈرائیور صاحب بھی کیا کریں گے۔ گاڑی تیز ہوتی ہے اور یہ سسری گائے بھینس بیچ ٹریک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ لاکھ ہارن دو نہیں سنتی اور گاڑی کی اسپیڈ ان کی وجہ سے بار بار کم کرتے رہے تو ایک دن کا سفر چار دن میں پورا ہوگا۔ “ناز اس بوڑھے شخص کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ گاوں میں انسان اور جانور دونوں کے متعلق اسی طرح سوچا جاتا ہے۔ اگر کوئی گاوں والا بھی اس ٹریک کے درمیان اپنی دھوتی پٹری میں اٹک جانے کی وجہ سے کھڑا ہوتا تو بھی ڈرائور صاحب گاڑی نہیں روکتے۔ اس نے گاوں کو ہمیشہ سے ایسا ہی پایا تھا، جہاں جان کی قیمت شہر کے مقابلے میں خاصی کم تھی۔ اسے یاد آیا کہ جب کبھی وہ بچپن میں اپنے آٹھ،دس دوستوں کے ساتھ املی یا آم کے پیڑ پر چڑھا کرتا اور پیر پھسلنے کی وجہ سے گر جاتا تھا تو اس کے تمام دوست صرف اس پر ہنستے تھے کوئی اسے اٹھانے یا اس کی مدد کرنے آگے نہیں آتا تھا۔ ایک دفع تو” بدھ پورہ” کا ایک لڑکا اسی کے سامنے پیڑ سے گر کر مر بھی کیا تھا اور تمام دوست صرف ہنستے ہی رہے تھے۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ مر چکا ہے تو اسے چھوڑ کروہاں سے بھاگ گئے۔بعد میں باغبان نے اس کی موت کی خبر گاوں والوں اور اس کے گھر والوں تک پہنچائی تھی۔

ناز یہ تمام باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ ٹرین کی ایک زور دار سیٹی نے اس کے تخیل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گاڑی کی رفتار ایک مرتبہ پھر سے کم ہو رہی تھی۔ اس نے ٹرین کے باہر جھانک کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی اسٹیشن آنے والا ہے۔ جگہ جگہ لوہے کی پچاس پچاس فٹ لمبی پٹریاں بے ترتیبی سے پڑی تھیں۔ کہیں کچھ اینٹوں کا ڈھیر نظر آ رہا تھا اور کہیں کہیں بالوں، مٹی اور بجری کے تودے دکھائی دے رہے تھے۔بجلی کے کھمبے اب دروازے سے کچھ قریب آگئے تھے۔ اس کے پیچھے سے کچھ لوگوں نے اپنا سامان اٹھا کر دروازے کی طرف آنا شروع کر دیا تھا۔ ناز اور اس کے برابر میں کھڑے شخص نے اندر سے دروازے کی طرف آتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو کچھ کھسکنے کی کوشش کی۔ ناز کو لگا کہ اس وقت اس ریلے کو پار کر کے اپنی جگہ تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا اس لیے وہ اپنی جگہ کھڑا رہا اس کے برابر والا شخص مشقت کرتا ہوا ریلے کے درمیان کہیں گم ہو گیا تھا۔ ناز نے سوچا میں اگلے اسٹیشن پہ اتر کے اس ریلے کو باہر نکال دوں گا اور دوبارہ سوار ہو جاوں گا۔ اس خیال نے اسے مطمئن کر دیا تھا۔ بھیڑ دروازے تک آچکی تھی۔ دو ایک لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ اترے گا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ گاڑی کی رفتار اب خاصی کم ہو چکی تھی۔ ناز اپنا چہرہ باہر نکال کر آتے ہوئے اسٹیشن کو دور سے دیکھ سکتا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اسٹیشن پر خاصی بھیڑ ہے۔ یہ اندازہ کر پانا مشکل تھا کہ کتنے لوگ گاڑی میں موجود لوگوں کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں اور کتنے اسی گاڑی میں چڑھنے کے لیے۔ اس نے سوچا کہ اس چھوٹے سے گاوں میں بھی کتنے زیادہ لوگ رہتے ہیں کہ ایک ٹرین کے آنے پر اتنی تعداد اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہے۔ناز کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اسٹیشن پہ موجود لوگ ٹرین میں سوار ہونے ہی آئے ہیں اور اس نے وقت پر پیچھے نہ جا کر غلطی کی ہے، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے بھی اب خاصی تعداد اترنے والوں کی تھی اور وہ اس بات کا اعتراف بھی کر چکا تھا کہ اسے بھی آنے والے اسٹیشن پہ اترنا ہے۔ گاڑی اسٹیشن پہ پہنچی تو اترنے اور چڑھنے والوں میں ایک ہنگامی لہر دوڑ گئی۔ سب اتنی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے لگے کہ ناز کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کے پیچھے والے اسے دھکیل کر آگے آنے کی کوشش کر نے لگے۔ دو ایک ہلکی چلتی ہوئی ٹرین سے ہی کود گئے۔ کچھ چلتی ہوئی ٹرین کے آہنی ڈنڈوں سے بھاگ بھاگ کر لٹکنے لگے۔ ابھی گاڑی رکی بھی نہ تھی کہ ایک جم غفیر دونوں طرف سے ٹوٹ پڑا۔ چڑھنے اور اترنے والے دونوں ایک دوسرے میں گندھ گئے۔ناز ان دونوں کے درمیان بری طرح پھنس گیا تھا۔ جب گاڑی پوری طرح رکی۔ ایک ایک دو دو لوگ طاقت لگا کر اترنے لگے۔ ناز نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ کسی طرح اتر جائے۔ اس نے اپنے آس پاس والوں کو اپنی پوری طاقت سے دھکیلا۔ کسی پر چلایا، کسی کے کوہنی گڑائی اور نہایت محنت و مشقت کا سامنا کرتے ہوئے اس بھیڑ سے خود کو باہر نکالا۔

دو منٹ تو اس بھیڑ سے الگ ہٹ کر ایک کونے میں گیا اور اپنی سانس درست کی۔ اور اگلے ہی لمحے میں دروازے کی طرف نگاہ کی تو اس کی روح کانپ گئی۔ دروازے پر لٹکے ہوئے لوگ اس طرح باہر کی طرف گرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے جیسے کسی نے زبر دستی انہیں ٹرین کے ڈبوں میں ٹھونس دیا ہو۔ دروازوں پر، چھتوں پر، کھڑکیوں پر ہر طرف صرف آدمی ہی آدمی نظر آرہا تھا۔ ناز کو فوراً اپنی حماقت کا احسا س ہوا کہ اس نے اپنی نشست سے اٹھ کر دروازے پہ آ کے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ وہ حیران اور پریشان تھا کہ اب کس طرح دوبارہ اپنے ڈبے میں سوار ہو۔ پھر فوراً اسے اپنے بستے کا خیال آیا کہ یقیناً اس جگہ پہ بھی اب تک کوئی نہ کوئی بیٹھ چکا ہوگا اور اللہ جانے اس کے بیگ کا کیا بنا ہوگا۔

ناز کچھ دیر اسی حالت میں کھڑا رہا، پھر اس نے کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو جائے وہ اس ڈبے میں سوار ہو کر رہے گا۔ اس کا گھر پہنچنا ضروری تھا اور وہ اس طرح اپنے سامان کا بستہ ٹرین میں چھوڑ کر کسی انجان جگہ تو نہیں رک سکتا تھا اور اگر رک بھی جاتا تو یہاں سے نکلنے کا یہ ہی ایک طریقہ تھا کہ اگلی ٹرین آئے اور اس میں سوار ہو کر اپنے گاوں جائے اور یقیناً اگلی ٹرین کا بھی یہ ہی عالم ہو گا۔ اول تو اس اسٹیشن پہ ٹرنیں ہی بہت دیر دیر میں آیا کرتی تھیں، پھر بہت کم ٹرینیں تھیں جو یہاں رکتی بھی تھیں۔وہ انہیں سب باتوں پہ غور کرتا ہوا اپنی جگہ سے آگے بڑا اور مشقت کرنے لگا کہ کہیں کسی تھوڑی سی جگہ پہ صرف پیر ٹکانے بھر کا آسرا ہو جائے تو وہ اپنے گاوں تک کاسفر اسی طرح طے کر لےگا۔ لیکن اس کی ہزار کوششوں کے باوجود اسے رائی برابر جگہ نہ ملی۔ ناز نے اپنے ڈبے کے اگلے اور پچھلے ڈبوں میں کونے کھدرے تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہاں بھی ناکامی ہاتھ آئی۔ وہ چھت پہ چڑھنے میں بھی ناکام رہا تھا کیوں کہ چھت کے ہر اس مقام پر جہاں لوگ سوار ہو سکتے تھے سوار تھے، حتی کہ ڈبوں کے درمیان موجود آہنی ستونوں پر بھی دس دس، پندرہ پندرہ لوگ جمے ہوئے تھے۔ ناز کی کئی مرتبہ کی کوششوں کے باوجود بھی جب اسے کامیابی نہ ملی تو وہ ایک اور بار نا امید نظر آنے لگا۔ اسی دوران ٹرین نے روانگی کی صدا بلند کی اور ناز کے دل کی دھڑ کن بڑھنے لگی۔ اس کے ذہن میں برے برے خیالات آنے لگے۔ اب میرا کیا ہوگا؟ میں گھر کیسے پہنچوں گا؟ یہاں کہاں رکوں گا؟ کب تک رکنا ہوگا؟ یہ ٹرین چھٹ گئی تو اگلی ٹرین جانے کب تک آئے گی؟ اسے کئی طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ٹرین نے جوں ہی دوسری سیٹی بجائی کہ اسی کے ساتھ اس میں حرکت بھی پیدا ہو گئی۔ اب ٹرین دھیمی رفتار سے پلیٹ فارم سے آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ناز کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں وہ کچھ دیر تو اپنے ڈبے کے ساتھ چلا پھر، کچھ سوچ کر اپنے ڈبے کی اس کھڑکی کے پاس دوڑا جہاں سے اس نے باہر جھانک کر بھاگتے کھیتوں اور پہاڑیوں کا منظر دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں سوار نہیں ہو سکتا تو کسی سے کہہ کر اپنا بستہ کھڑکی سے باہر پھنکوا لوں۔ اس افرا تفری میں وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ لوہے کی سلاخوں سے بستہ کسی صورت باہر نہیں آ سکتا۔ مگر جوں ہی وہ کھڑکی کے قریب پہنچا اسے یہ راہ بھی تاریک دکھائی دینے لگی۔ کیوں کہ کھڑکی سے ڈبے کے اندر کا منظر نہایت وحشت ناک تھا۔ صرف کچھ عورتوں اور مردوں کی کمر کے گرد کا علاقہ کھڑکی سے نظر آ رہا تھا۔ کچھ دیر قبل جو دو چار بوڑھے اس کی کھڑکی سے لگے بیٹھے تھے اب وہ بھی ندارت تھے اور ان کی جگہ سات، آٹھ لوگ بہت مشکل سے کھڑکی کے قریب والی سیٹ پر ٹھنسے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ٹرین کی رفتارمیں اب مزید اضافہ ہو گیا تھا، ناز کچھ دور تک اپنے ڈبے کے تعاقب میں دوڑتا رہا پھر اس سے پیچھے ہو گیا۔ پھر مزید پیچھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بالکل آخری ڈبے کے قریب آ گیا۔ ٹرین اب اس رفتار سے چلنے لگی تھی کہ ناز پوری طرح مایوس ہو گیا تھا کہ اچانک اسے آخری ڈبے کے پاس اپنے لیے پاوں ٹکانے کی ایک جگہ نظر آ گئی۔ جوں ہی اس کی نگاہ اس پائدان پر پڑی اس کے بدن میں برق سی دوڑ گئی۔ اس نے نا قابل بیان تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوڑ لگا دی اور آخری ڈبے سے ملحق آہنی ڈنڈے کو تھام کر اس پائدان پر اپنا ایک پیر ٹکا دیا۔ ناز کا پیر ٹکتے ہی ٹرین اپنی مکمل رفتار پر آ گئی۔ اگر اسے ذرا بھی دیر ہوتی تو وہ کسی طرح اس پائدان تک نہیں پہنچ پاتا۔ ناز اب اس آہنی ڈنڈے کو پکڑ کے ایک پیر ٹرین کے پائدان پہ ٹکائے ہوا میں جھول رہا تھا۔ دوڑنے کی وجہ سے اس کا سارا بدن پسینے سے شرابور ہو گیا تھا۔ اس کی سانس تیزی سے چل رہی تھی اور ان کے چہرے پر تھکن کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہے۔ اس کی خوشی کا اظہار اس مسکراہٹ سے بھی ہورہا تھا جو اس کے تھکے ہوئے چہرے پر رہ رہ کر چھا رہی تھی۔ اس بھاگم دوڑی میں کچھ دیر کے لیے ناز سب کچھ بھول گیا تھا کہ وہ کیوں دوڑ رہا ہے، کتنا دوڑ رہا ہے اور اس دوڑنے کا حاصل کیا ہے۔ وہ تو بس دوڑ کر اس پائدان پر اپنا پاوں جمانا چاہتا تھا، جس میں اسے کامیابی نصیب ہوئی تھی اور اس کی پھولتی سانسیں پسینے میں بھیگاہوا سے تروتازہ ہوتا بدن اس بات کا جشن منا رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ تقریباً پندہ سے بیس منٹ ناز کی یہی کیفیت رہی کہ وہ رہ رہ کر خوش ہوتا رہتا۔ مگر جیسے جیسے وہ اس کیفیت سے باہر آ رہا تھا اسے ایک نئی مصیبت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب گاڑی اگلے چھ گھنٹوں تک چلتی رہے گی یا کہیں رکے گی بھی اسے اس عالم میں ایک ہاتھ سے آہنی ڈنڈا تھامے ایک پاوں ہوامیں لٹکائے کب تک جھولتے رہنا تھا۔ اس خیال نے اسے اندر تک لرزا دیا۔ اس کے آس پاس اور بھی کئی لوگ تھے جو اسی طرح جھول رہے تھے مگر ناز کے مقابلے میں وہ تجربے کار معلوم ہوتے تھے۔ ناز نے ایک بار بغور اپنے اطراف کا جائزہ لیا اس کے آگے فوجی کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان لڑکا تھا جس کی عمر تقریباً بیس یا اکیس برس کی تھی۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کےساتھ زور زور سے کچھ گا رہا تھا۔ ان میں وقتاً فوقتاً کوئی مذاق ہوتا اور سب ایک ساتھ ٹھھٹے مار کر ہنستے۔ ناز نے کافی دیر تک اسی کشمکش میں رہنے کے بعد اس نوجوان سے تقریباً چیخ کر پوچھا کہ گاڑی اب کہاں رکے گی۔ فوجی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔” بھیم پورہ” یہ سنتے ہی ناز کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ کیوں کہ یہ خود اس کے اپنے گاوں کا نام تھا۔ اس نے دوبارہ ہمت جٹا کر پوچھا ” کیا اس سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔” لڑکے نے اپنے علاقائی لہجے میں کہا”کہ اگر رکنا چاہے گی تو رک جائے گی، البتہ اگلا اسٹوپ تو و ہی ہے۔ ”

یہ سننا تھا کہ ناز کی الجھن انتہا تک پہنچ گئی۔ وہ اب اپنی ٹرین پکڑنے کی خوشی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دانت مضبوطی سے بھنچے ہوئے تھے اور اس کا بدن ایک انجان غصے میں کانپ رہا تھا۔ اس نے خود پر لاکھ لعنت، ملامت کی، اس سفر کو ہزاروں صلواتیں سنائیں اور گاوں کی ولدیت پہلے وضع کی پھر اس میں کئی مرتبہ ترمیم کی۔ اسے خو د پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر ایسا کیا تھا کہ وہ ٹرین چھوڑ نہیں سکتا تھا، وہ اپنے گذشتہ فیصلے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ خود کی حماقتوں کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا۔ اسے شدت سے محسوس ہوا کہ اپنی نشت سے اٹھ کر اس نے بہت بڑی غلطی کی تھی، مگر اب ان تمام باتوں سے کیا ہو سکتا تھا، اس کو اسی طرح لٹکا رہنا تھا، اسی طرح جھولتے ہوئے چھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنا تھی، اس کا یہ ارادہ کہ اب کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا خاندان والا خواہ مر بھی کیوں نہ جائے وہ اس گاوں کا سفر کبھی نہیں کرے گا۔ لیکن اس سے بھی اس کی تکلیف میں کمی پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ اپنے مزاج سے واقف تھا کہ اسے کتنی دیر تک اپنی حماقتوں پر غصہ آتا رہے گا۔ ساتھ ہی بدن کو مشقت میں ڈالنا بھی اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ چھ گھنٹے تک آدھے بدن کے ساتھ ہوا میں جھولتے رہنےکا خیال ہی اسے پریشان کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ناز اسی عالم میں گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔ جوں جوں ٹرین کسی موڑ پر جھٹکا کھاتی یا پٹری بدل کر ہلکا سا لڑ کھڑاتی تو اسے محسوس ہوتا کہ اس کی جان پورے بدن سے کھنچ کر گلے میں آ گئی ہے۔ وہ ایک طرح کی سرد لہر ایسے موقعوں پر اپنے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس کرتا۔ پھر جب ٹرین دوبارہ اعتدال سے چلنے لگتی تو اسے اپنی غلطیوں کا احساس ستانے لگتا۔ سورج کی تپن اب کچھ کم ہونے لگی تھی اور اس کی جگہ سایہ لے رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو یوں لگا جیسے آسمان اس کی حماقتوں پر قہقہے لگا رہا ہے۔ ناز کے باطنی حالات اس دورانیے میں خاصی پیچیدہ کیفیات سے دو چار ہو رہے تھے۔ جس میں نفرت کا جذبہ واضح طور پر اس کے دل پر چھا رہا تھا۔ وہ جب غور کرتا کہ اس نے اپنے والدین سے کئی مرتبہ کہا کہ وہ گاوں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں اور اس کے ساتھ شہر میں رہیں، جہاں ان کے لیے ہر طرح کی سہولیات مہیا تھیں،مگر اس معاملے میں انہوں نے اس کی ایک نہ سنی،تو اس کا غصہ مزید بڑھ جاتا،وہ ماں، باپ کو جاہل اور دیہاتی تصور کرنے لگتا، جو ایک ایسے کھونٹے سے بندھے رہنے کو سب کچھ سمجھتے تھے جہاں زندگی کی معمولی سے معمولی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں۔ اسے اپنے بھائی، بہن پر بھی غصہ آ رہا تھا جنہوں نے اجتماعی طور پر اسے گاوں آنے کی دعوت دی تھی۔ جب جب ناز کو ایسا لگتا کہ اس کا پاوں ہوا کے تیز جھونکے سے پائدان پر سے کھسک جائے گا تو اس کے تمام احساسات ہوا ہو جاتے اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ اس درمیان میں اس نے اپنے سے آگے لٹکے ہوئے لوگوں سے کئی بار منتیں مانگ مانگ کر گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ اندر کھسک جانے کی التجائیں بھی کی تھیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ دو ایک مرتبہ جب اس نے رو دینے والے انداز میں اس فوجی لباس میں ملبوس نوجوان سے استدعاکی تھی تو اس نے پلٹ کے ہنستے ہوئے کھرا سا جواب دے دیا تھا کہ” لٹکا رہنا ہے تو رہ نہیں تو کود جا۔” پھر اپنی علاقائی زبان میں اپنے تمام دوستوں سے کچھ کہا جس پر سب ایک ساتھ روز سے ہنسے۔

ناز کو تھوڑی تھوڑی دیر میں گھبراہٹ کے باعث اپنی انگلیوں میں پسینے کی بوندوں کے ابھرنے کا خدشہ بھی محسوس ہوتا تھا۔ وہ خود پر قابو پانے کے لیے اپنے ہوا میں جھولتے ہوئے ہاتھ کو با ر بار اپنے چہرے پر پھیرتا، بدن کو اکڑا کر ہاتھ کی گرفت میں مضبوطی پیدا کرنے کی سعی کرتا اورپاوں گا اگلا حصہ جو پائدان پر ٹکا ہوا تھااس کو ہلکی ہلکی جنبش سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا۔ وہ اس وقت جس حال میں تھا اسے اپنے بدن کی گردش اور قوت کی سلامتی پر بھر پور توجہ صرف کرنی پڑ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی ذرا سی غفلت اسے موت کے اندھے غار میں کہیں گم کردے گی۔ انہیں حرکتوں کے درمیان جب اسے لمحے بھر کا سکون ملتا یا ڈر کی کیفیت پر ذہن جوں ہی قابو پاتا تووہ اپنی زندگی سے متعلق لوگوں کے بارے میں سوچنے لگتا کہ اگر اس کی ہمت جواب دے گئی، اگر اس کا ہاتھ چھٹ گیا تو اس کے خاندان اور گھر بار کے تمام لوگ کیسا محسوس کریں گے۔ کیا اس کی موت سے اس کے والدین اور بھائی بہن کو صدمہ پہنچے گا؟ کیا اسے اجتماعی طور پر گاوں بلوانے کی تجویز پر سب کف افسوس ملیں گے؟ کیا وہ شدت غم سے خود اسی کی طرح موت کے اندھیروں میں کہیں کھو جائیں گے؟پھر جوں ہی خیالات کے بھنور پر ہوا کا ایک تیز چھپکا پڑتا تو سارے تصورات رخصت ہو جاتے وہ پھر ہاتھ کی گرفت اور پاوں کو آگے کھسکانے کے متعلق غور کرنے لگتا۔ ناز اس دورنیے میں اپنا بدن آخری حد اکڑائے ہوئے تھا جس کی وجہ سے اس کی پسلیوں میں ہلکا سا درد سرایت کرنے لگا تھا۔ پٹھے آہستہ آہستہ اکڑ رہے تھے، جب اس کا ذہن بدن میں درد کے گھروندے تعمیر کرتی ہوئی لہر پر جاتا تو وہ زور سے چیختا جس پر اس آگے لٹکے ہوئے نوجوان بھی یک زبان ہو کر اس کی صدا کا ساتھ دیتے پھر اجتماعی طور پر ہنستے اور ناز بیچارگی کے عالم میں ان کی ہنسی کی صدا پر دل ہی دل میں روہانسا ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اس چیخنے کے عمل سے اسے نہ جانے کیسے ایک انجانی طاقت حاصل ہو تی، وہ چیخنے سے پہلے اور اس کے بعد کی توانائی میں خاصافرق محسوس کرتا۔ اسے لگتا جیسے چیخ کر اس نے اپنے بدن پر رینگتے ہوئے کمزوری کے کیڑوں کو اس طرح جھاڑ دیا ہے جیسے کوئی بھیڑ،بکری یا کتا اپنے بدن سے لپٹی گندگی کو خود سے دور کر دیتا ہے۔

وہ اسی عالم میں اپنی نفسیاتی الجھنوں سے جوجھتے ہوئے اور اپنی گرفت کو مضبوطی سے برقرار رکھے ہوئے تقریباً ایک گھنٹے تک لٹکا رہا۔ اس دوران ٹرین مستقل ہوا سے باتیں کرتی رہی، کبھی ندی، تالاب اور جھیل کے اوپر سے گزرتی، کبھی دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں میں ترچھی،بانکی ہو کر دوڑتی رہتی، کبھی کسی نیم آباد گاوں کی جھوپڑیوں اور پھوس کے چھپروں سے مزین گھروں کے درمیان سے نکلتی اور کبھی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے بیچ ناگن کی طرح لہراتی ہوئی آگے کی طرف بڑھتی۔ ناز اب اس لمحے کے بارے میں رہ رہ کر سوچ رہا تھا جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا بھیڑ کی آوازوں سے اکتا رہا تھا۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ان لمحوں میں کیسا سکون تھا، کتنی بے پروائی اور کیسی اندورنی خاموشی جس میں مشقت کا شائبہ بھی موجود نہ تھا۔ ان لمحوں میں اس کے لیے زندگی کی قیمت دو کوڑی کی تھی۔ وہ اپنے ہونے کو بھی کچھ خاص اہمیت نہیں دے رہا تھا اور اب جبکہ اس کے بازو تکلیف سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ بدن تھکن کے باعث ڈھیلا پڑتا چلا جا رہا ہے، سانسیں تیز ہوا سے الجھ کر اپنی حقیقت سے نا آشنا ہو رہی ہیں، زندگی اس کے لیے ایک قیمتی شے بن گئی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ وہ تھک چکا ہے، مگر اپنی گرفت کو ڈھیلا نہیں کرسکتا، وہ جانتا تھا کہ اس کی پیٹھ،گردن اور رانوں کے پٹھے تن گئے ہیں مگر انہیں خاطر میں نہیں لا سکتا تھا، جبکہ اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور ان کی قربت اسے اتنی گراں گزر رہی تھی کہ وہ حبس دم میں مبتلا ہوتا چلا گیا تھا۔ ناز کو احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اطراف سے کتنی جلد اکتا گیا تھا جبکہ وہ اطراف اس کے لیے کسی مصیبت کی وجہ نہ بنا تھا۔

ٹرین کی رفتار دھیمی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، سورج اب مغرب کی طرف اتنا جھک گیا تھا کہ آسمان کی کناری پہ شام کی لالی ابھر آئی تھی۔ ٹرین کی رفتار سے ہوا میں جو ارتعاش پیدا ہورہا تھا اس کی لہر آس پاس کے منظرکو متحرک بنا رہی تھی۔پرندوں کی غور ہوا میں تیرتے ہوئے جب ٹرین کے قریب سے گزرتے تو ان کے پروں میں تھرتھرا ہٹ پیدا ہو جاتی۔ ابھی سایہ اتنا دراز نہیں ہوا تھا کہ پہاڑیوں کی کھوہ میں لٹکے ہوئے چمگاڈر اپنے پنچے ڈھیلے کر دیں۔ مگر اتنا تو ہو چلا تھا کہ مغرب میں دور کا منظر جلتا ہوا دکھائی دے جائے۔ سورج جیسے جیسے اپنے پر سمیٹ رہا تھا، ویسے ویسے ناز کی تکلیف شدت کو عادت کی طرح قبول کرتی چلی جا رہی تھی۔ لوہے کاوہ آہنی ڈنڈا ب جو ناز کی گرفت میں تھا اس کی گنگناہٹ، ٹھنڈک میں تبدیل ہونے لگی تھی، پاوں کا وہ حصہ جو اگلے مسافر کی کولوں سے مس تھا اس کی گرماہٹ میں اعتدال پید ا ہو گیا تھا اور ناز کے پٹھے اتنے تن گئے تھے کہ اب ان میں مزید تناو پیدا ہونے کی گنجائش نہیں بچی تھی۔ ناز کو تقریباً اسی عالم میں بیس، پچیس منٹ مزید لٹکے رہنے کے بعدکچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ جیسے ہوا اس کے سفر کو آسان بنا رہی ہے۔ یہ خیال خود اسے چونکا دینے کے لیے کافی تھا کہ ہوارہ رہ کر گیلے موگھرے کے مٹھی بھر پھولوں کی طرح اس کے چہرے سے ٹکرارہی ہے۔ اس کے کپڑوں میں داخل ہو کر اس کے بدن پہ پھیلنے والے پسینے کو سکھانے کی جلد بازی میں اسے ایک انجانا سکون بخشتی رہی ہے، ہوا کی رفتار سے اس کا پھولا ہوا لباس اس کی رگوں میں شادمانیاں گھول رہا ہے۔ اس کا ذہن آہستہ آہستہ ان دھڑکوں سے خالی ہو رہا ہے جو اسے زندگی کی چاہت میں لرزہ بر اندام کر رہے تھے۔ یہ خیالات اس کے لیے ایک انجان سی مسرت بھی لے کر آئے تھے، دو ایک مرتبہ جب اسی عالم میں اس نے اپنے آگے لٹکے ہوئے نوجوانوں کو ہنتے کھلکھلاتے سنا تو یکبارگی اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ چھا گئی۔ اب اسے ان کی آواز میں زہر کے بجائے نغمگی محسوس ہو رہی تھی۔ اب جتنی دیر وہ خاموش رہتے اسے تنہائی کا احساس ہوتا،وہ اپنے نوجوان ساتھیوں کے قہقہوں کا منتظر تھا کہ وہ کب ہنسیں اور کب اسے دوبارہ اسی لذت کا سرور حاصل ہو۔ اس نے دو ایک بار انہیں ہنسانے کی مصنوعی کوشش بھی کی تھی جس پر وہ ہنسے تھے اور اسے اپنے لٹکے رہنے کے احساس کو بھلا دینے والی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ ناز جب کچھ دیر تک یوں ہی ان کی صداوں میں گم ہوتا رہا تو اسے لگا کہ اب اس کا ڈر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس کا بدن اس سے بغاوت نہیں کر رہا ہے، اس کا جھولتا ہوا آدھا جسم اسے ہوا میں تیرتا ہوا محسوس ہونے لگا، اس نے اپنا وہ ہاتھ جو ہوا میں لٹکا ہوا تھا اسے ہلکے ہلکے دراز کرنا شروع کیا، جب ہاتھ پوری طرح کھل گیا توہوا میں جھولتی ہوئی ٹانگ کو بھی ہلانے لگا۔ دو ایک مرتبہ اسی طرح کرنے پر اس کاخوف بالکل کافور ہوگیا اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔اس کی ہنسی کی آواز اب اتنی تیز تھی کہ اس کے نوجوان دوست اس پر پہلے تو زور سے ہنسے پھر اسے تنہا ہنستا ہوا چھوڑ کر خاموشی کے دریامیں غرق ہو گئے۔ ناز کو اب ان کی خاموشی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، اب تو اسے اپنی خوشی سے سروکا ر تھا۔ اس کے لیے یہ ایک خوش گوار تصور تھا کہ اسے رائی برابر بھی ڈر نہیں لگ رہا ہے، اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کسی نے مضبوطی سے تھا م رکھی ہے اور اسے ہوا میں جھولنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اب ناز اپنے اطراف پر زیادہ غور کر سکتا تھا، وہ دیکھ سکتا تھا کہ سورج کے ڈوبتے ہوئے منظر میں چلتی ہوئی ٹرین نے وہ حسن پیدا کر دیا ہے جو اس نے کبھی اپنی عمارت کی چھت پہ نہیں دکھا تھا۔سورج اور ٹرین کے درمیان حائل ہوتے پہاڑ ان کے آگے پھیلی ہوئی سبز اور کھردری زمین، کہیں کہیں کھیتوں میں کھڑے مصنوعی انسان آسمان کی گود میں چھلانگ لگاتے پرندے اور دور تک لہراتی اور بل کھاتی ہوئی ٹرین اور اس پر لدے بے شمار انسان سب ایک نقلی منظر بنا رہے تھے، ایسا نقلی منظر جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے لگا کہ شائد اگر میں اس وقت ٹرین میں دوڑ کر سوار نہ ہوتا توزندگی کے اتنے حسین پل سے ہمیشہ کے لیے محروم رہ جاتا۔ یہ سوچ کر اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا جس پر اس کے آگے والے شخص نے چیخ کر اسے ماں کی گالی دی۔ ناز کو اب یہ گالی بہت حقیر معلوم ہو رہی تھی، کیوں کہ وہ فطرت کی حسین پالکی میں سوار ہو کر خوش نما نظاروں کا لطف لے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ کتنا احمق ہے کہ ایک ایسے منظر تک پہنچنے کے خطروں سے ڈر رہا تھا، وہ کتنا لا علم تھا کہ اس ظاہری خوف میں مبتلا ہو کر اس مقام تک آنے سے کترا رہا تھا۔ اسے اپنا ٹرین کو دوڑ کر پکڑنے والا فیصلہ اچانک انوکھا اور اچھوتا معلوم ہونے لگا۔ اس نے ایک بار دل ہی دل میں خود کو شاباشی دی۔ اپنے ماں اور باپ، بہن اور بھائیوں کو دعائیں دیں کہ انہوں نے اسے گاوں بلوایا۔ وہ اب اپنے والدین کے متعلق سو چ رہا تھا کہ اگر وہ گاوں میں نہ رہتے تو اسے ہر گز ان فطری مناظر کی جھلک نہ دیکھنے کو ملتی۔ اس نے اپنے تمام گذشتہ خیالات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور خود کو اپنے اطراف کے حوالے کر دیا۔

گاڑی دیر تک اسی طرح چلتی رہی اور ناز اسی طرح ایک ہاتھ سے جھولتا رہا۔اب شام کا دھندلکا ہو چلا تھا آسمان پر ستاروں کا ظہور ہونے لگا تھا، آسمان کے تھال میں چاندی کا ایک بڑا سکہ اپنی ٹمٹماہٹ چاروں طرف مترشح کر رہا تھا۔ ناز کو لگا جیسے گاڑی کی رفتار اچانک کم ہو رہی ہےکیوں کہ اس کی پٹریوں سے اٹھتی ہوئی گڑ گڑاہٹ مدھم ہونے لگی تھی۔ ناز کی نظر یں آسمان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں اس نے گاڑی کی دھیمی رفتار کو محسوس کرتے ہوئے بھی اپنی نظریں نیچی نہیں کیں، کچھ دیر بعد، لوہے کی موٹی سلاخوں کا ڈھیر آیا،پھر بالوں کے کچھ تودے پڑے، سمنٹ کی بوریوں کا جتھا دکھائی دیا مگر ناز اسی منظر میں کھویا رہا تھوڑی دیر بعد ٹرین کی رفتار خاصی کم ہو چکی تھی لوگوں کی طرح طرح کی آوازوں کا شور ناز کے کانوں سے ٹکرانے لگا تو اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا اس نے حیرانی سےنیم خوابیدہ حالت میں اس طرح اپنے اطراف پر نظر ڈالی جیسے ابھی کسی خواب سے جاگا ہو۔جوں ہی اس کی نظر سامنے موجود تختی پر پڑی اس پر ایک قسم کی مایوسی چھا گئی کیوں کہ تختی پر جلی حروف میں “بھیم پورہ” لکھا ہوا تھا۔

Categories
فکشن

تنہائی پسند (تصنیف حیدر)

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں کی گرماہٹ سے جھریاں ڈالنے کی جرات کرنا بھی ناممکن ہو۔ جب کبھی انسان اس طرح کی سرور میں لپٹی ہوئی، سماج اور اس کی بھیانک دوپہریوں سے کوسوں دورسرمئی شام کے آسمانی طلسم میں ڈوبتا ہے تو ہوش کاناخن دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کرپاتا۔ مقبول بھی نہیں کرپارہا تھا، وہ بھی عام انسانوں کی طرح تعلق کی زنجیر سے بندھ چکا تھا۔ حالانکہ یہ تعلق بظاہر بس ایک رات کا تھا،ایک رات، جس کی کوئی صبح نہیں، جس کا کوئی مستقبل نہیں، مگر زندگی کی کچھ راتیں ہزار صبحوں سے زیادہ خوبصورت اور ہزار فتنوں سے زیادہ رنگین ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی ہی رات کی داستان ہے۔

یہ کہانی دو لوگوں کی ہے یا یوں کہیے کہ دو جذبوں کی ہے۔ سیتاپور کے قریب کہیں کوئی گمنام سا ایک گاؤں ہے، نام ہے ساہنی۔ گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی ستر بہتر فی صد ہوگی۔ اس لیے مسجدیں زیادہ تھیں، صبح شام اللہ اکبر کی آوازوں سے محلے کے محلے گونجا کرتے تھے، یوں تو مسجدوں کا چیخ چیخ کر گلا چھل جاتا، مگر جمعہ کے علاوہ بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر ایسی رونق نظر نہ آتی۔ البتہ جمعہ کے روز طرح طرح سے نمازیوں کے غول کے غول نکل پڑتے، اتنے کہ ان بہت سی مسجدوں کی جگہ بھی تنگ پڑ جاتی، راستے پر صفیں بچھی ہوئی دکھائی دیتیں۔ سورج جب اپنی تند و تیز شعاعوں کے سہرے کی جھالر ہٹاکر نظر دوڑاتا تو گول گول رنگ برنگی ٹوپیوں کی بہت سی قطاریں دکھائی دیتیں۔ مختلف مسلک، فرقے، جھگڑے، بحثیں، چلے، مزاریں الغرض ساہنی ایک ایسی آبادی پر مشتمل گاؤں بنتا جارہا تھا جوبرصغیر ہند میں اسلامی دعوت کے مختلف جغرافیائی نتیجوں اور طریقوں کا عکس کہا جاسکتا تھا۔ قصائیوں کی دوکانیں، ان کے پاس منڈراتے کتے، چھیچھڑوں پر لڑتی بلیاں، تنگ گلیاں، قاسمی، بدایونی، گلاؤٹھی اور نہ جانے کس کس قماش کی بریانیاں، گنے کا رس نکالتی ہوئی سبز مشینیں، برقعوں اور کرتے پاجاموں کے ساتھ ساتھ مغربی طرز کے نام پر شرٹ اور جینز جیسےلباس میں ملبوس نوجوانوں کی رنگ رلیاں۔ اس گاؤں کے لوگ معلوم ہوتا تھا، کھانے اور پہننے کے کافی شوقین ہیں۔ اس لیے بازار میں ضرورت کی دوسری چیزوں کو ڈھونڈنے لیے نگاہوں کو زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی۔ گاؤں میں دوسری اٹھائیس فی صد آبادی ہندوؤں کی تھی۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اونچی ذاتوں سے تعلق نہ رکھتے تھے۔ مگر جو بات دونوں قوموں کو اس گاؤں میں ایک ہی مشترک نکتے پر لاکھڑا کرتی تھی وہ تھی یہاں کی لاعلمی اورجہالت۔ لوگوں نے مذہبی تہواروں میں طرح طرح کی پائپیں لگا کر رسموں کی سہولتوں کا پانی اپنے اپنے گھروں تک پہنچادیا تھا۔ وقت گزر رہا تھا، ترقی کے نام پر ملک تھری جی اور فور جی کے نت نئے تکنیکی تاروں سے خود کو جوڑ رہا تھا، مگر یہاں کا جو حال تھا سو تھا، پڑھائی کے نام پر گاؤں میں چند دسویں جماعت تک کی تعلیم دینے والے سکول اور دو کالج تھے، جن میں گریجویشن کی منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہاں کی بیشتر آبادی برسوں سے پانچویں اور دسویں کے بیچ میں جھول رہی تھی، جو کالج کا منہ دیکھتے تھے، وہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اکثر شہروں کا رخ کرلیا کرتے تھے۔ دور سے دیکھنے پر یہ جگہ یکجتہی کی مثال معلوم ہوتی تھی، مگر گھروں، محلوں میں آئے دن لڑکوں میں سر پھٹول ہوتا ہی رہتا تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ ہندو مسلم فساد کی نوبت یہاں بہت کم آئی تھی۔ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے رویے سے کوئی خاص شکایت نہیں تھی۔

ظفر چوک یہاں کا سب سے بارونق محلہ تھا۔ اسی کے چھوٹے سے بازار میں ایک قصائی کی دوکان پر صبح کے نو بجے تازہ تازہ گوشت کانٹوں میں لٹکا ہوا تھا، کچھ پر چاندی کا ورق بھی لگا تھا۔ اندر سل پر ایک بوڑھا خون آلود شرٹ اور لنگی پہنے اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے پڑا تھا ایک گول ٹھیہا۔ اس ٹھیہے پر رکھے ہوئے گوشت کو اس کا مشاق ہاتھ تیزدھار چاقو سے کاٹ کاٹ کر چھوٹی اور صاف بوٹیاں تراش رہا تھا۔ باہر پانچ چھ گاہک کھڑے اپنی اپنی پسند کا گوشت نکلوارہے تھے۔ کسی کے گھر پسندے بننے تھے، کہیں قورمہ، کہیں پلاؤ کا اہتمام ہونا تھا تو کہیں کوفتے کے لیے قیمے کی ضرورت تھی۔ اسی سل پر آگے کی طرف تنگ سی جگہ پر ایک جوان لڑکا پلوتھی مارے بیٹھا مشین سے قیمہ نکال رہا تھا، وہ ایک طرف سے کٹے ہوئے پتلے گوشت کی پھانکیں مشین میں ڈالتا اور دوسری جانب سے باریک قیمہ کی شکل میں گوشت باہر برآمد ہوتا جاتا۔ بوڑھے کا نام مشتاق تھا اور وہ اس پررونق بازار کا سب سے مصروف قصائی تھا، اس کے برابر بیٹھا جوان لڑکا تھا صادق، جس کی عمر اندازے سے بتائی جائے تو پچیس کے پیٹے میں ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور لڑکا، جو گاہکوں کے تیار شدہ گوشت کو کالی تھیلیوں میں بھر بھر کر انہیں تھماتا جارہا تھا، اپنی عمر سے کوئی سترہ برس کا معلوم ہوتا تھا۔ ابھی ایک سال پہلے نویں جماعت میں دو بار فیل ہونے کی وجہ سے اس کو سکول سے اٹھا کر دوکان پر ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لگالیا گیا تھا۔

مقبول کی فطرت میں زیادہ کجی نہیں تھی، کانسے جیسا اس کا رنگ، مونچھیں پھوٹتی ہوئی، بال کانوں پر اترے ہوئے، قلمیں ٹیڑھی بانکی۔ گھر اور باہر کے کام کاج میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا کالر کچھ زیادہ ہی میلا رہا کرتا تھا۔ نہ کوئی دوست، نہ ہمنوا۔ جتنے برس سکول میں رہا، وہاں بھی پڑھائی میں اپنے بودے ہونے کے احساس نے اسے دوسرے لڑکوں سے دور رکھا۔ گھر پر ایسی کوئی سختی نہ تھی۔ باپ کا اصول تھا کہ جتنا کام کہہ دیا جائے، بس وہ وقت پر ہوجائے تو ہاتھ اٹھانے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے،اس لیے زیادہ تر وہ کئی کام اشاروں کی زبان میں ڈھلتے ہی مکمل کردیا کرتا۔ ماں تو مٹی کی مادھو تھی، گھر کا کام، سلائی کڑھائی سے اسے زیادہ فرصت نہ ملتی۔ گھر اور دوکان دونوں جگہوں پر صاف صفائی کا کوئی زیادہ اہتمام نہیں تھا۔ گھر میں ایک بوڑھی دادی بھی تھیں جو مقبول کو چاہتی تو تھیں مگر وقت نے ان کی زبان گنگ کردی تھی۔ زیادہ تر اشاروں میں اپنی باتیں بتایا کرتیں اور شرمندگی سے بچنے کے لیے اس سے بھی زیادہ وقت خاموش رہا کرتیں۔ صادق اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا، محلے میں اس کے کئی دوست تھے، ایک محبوبہ تھی۔ جو کہ اکثر گھر بھی آیا کرتی تھی۔ نام تھا رابعہ۔ چھریرا بدن، لمبوترا چہرہ، رنگ اتنا گورا جیسے درخت کی الٹی چھال ہو۔ اس لیے صادق کو مقبول کے ساتھ وقت بتانے کا نہ کبھی خیال آتا تھا، نہ کبھی فرصت ملتی تھی۔ دوکان سے شام کو فارغ ہوتے ہی وہ نئی موٹر سائیکل لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ نہ جانے کہاں کے لیے نکل جاتا اور جب گھر آتا تب تک تو مقبول کے فرشتے بھی سوچکے ہوتے تھے۔

مقبول صبح صبح دوکان پہنچتا تو اس کی پہلی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ حاجی فدا علی کے گھر گوشت پہنچا کر آنے کی۔ ان کا گھر تھا پانچ میل دور اور کسی دن کا ناغہ نہیں، مقبول چونکہ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا اس لیے وہ پیدل پیدل ہی باپ کا حکم سرآنکھوں پررکھ کر چل پڑتا۔ فدا علی کے گھر کی جانب جانے والا راستہ گاؤں کے ایسے کنارے پر تھا، جہاں آبادی برائے نام بھی نہ تھی۔ راستے میں کتے جگہ جگہ ڈیرہ ڈالے اونگھتے رہا کرتے، رات بھر کی ان کی چونچالیوں کی تھکن ان کی بجھی ہوئی تھوتھنیوں میں اتر آتی۔ کوئی ٹوٹے پھوٹے بوسیدہ ٹھیلے کے نیچے لیٹا سو رہا ہے، کوئی کسی پیڑ کی چھاؤں میں آرام فرما ہے، یہاں تک کہ فدا علی کی کوٹھی کے باہر سیمنٹ کے ایک اوبڑ کھابڑ اوٹے پر بھی دو تین کتے اپنی پسلیوں کو پھلاتے، پچکاتے، آنکھیں بند کیے دنیا و مافیہا سے بے خبر نظر آتے۔ دھوپ ہو، بادل منڈراتے ہوں یا برسات کی جھڑی لگی ہو۔ گوشت ہرحال اور ہر موسم میں حاجی جی کے گھر ضرور پہنچایا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پر چھوٹے سے ایک خوبصورت قدرتی تالاب میں بطخیں تیر رہی ہوتیں، کنول کے پتے پانی پر ایسے رقص کر رہے ہوتے جیسے بڑے بڑے سمندروں کے خاموش آبی پردے پر جہازی دیویاں ڈولا کرتی ہیں۔ یہیں ایک بڑے سے پتھر پر وہ روزانہ تھوڑی دیر سستانے کے لیے آتے جاتے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس کے دن بھر کی پھیکی روکھی زندگی میں یہ ایک سرسبز لمحہ تھا، جس میں خود کو ان تمام درختوں، سایوں، ہواؤں، تالاب، بطخوں اور کنول کے پتوں کا بادشاہ تصور کرتا تھا۔ یہ شاید دنیا کی ان چند خوش نصیب جگہوں میں سے ایک جگہ تھی، جن پر موسم کی سختی اپنا کوئی برااثر نہیں ڈال سکتی۔ اس کو محسوس ہوتا جیسے پانی میں تیرتی ہوئی بطخوں کی ٹرٹر میں کوئی گیت ہے، جو ہواؤں کی بالیوں سے ٹکراکر ایک ترنگ پیدا کرتا ہے، ایسا سرور، جو شاید گوشت کی تازہ، مہین اور خوبصورت پھانک کو دیکھنے پر بھی نہ ملتا ہو۔ اس نے اپنے اس چھوٹے سے مسحور کن اڈے کا نام ‘ہوائی’رکھ دیا تھا۔

ایک روز کا ذکر ہے، مقبول گوشت دے کر واپس لوٹ رہا تھا۔ موسم بڑا خوشگوار تھا، وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کرخوش ہورہا تھا کہ آج ہوائی پر پہنچ کر زیادہ ہی لطف آئے گا۔ ممکن ہے کہ ہلکی پھلکی برسات بھی ہو۔ اس سے پہلے ایسا سوندھا اور دھنک میں لپٹا ہوا موسم ابھی تک ہوائی پر سے نہ گزرا تھا۔ کم از کم مقبول کے مشاہدے میں تو یہ بات نہ آئی تھی۔ وہ آج سارے منظر کو گھول کر پی جانا چاہتا تھا۔ اس کے ایک ایک گھونٹ کو بڑی آہستگی سے اپنے حلق سے اتارنا چاہتا تھا۔ آس پاس چڑیائیں چہچہارہی تھیں، ہواؤں کے غول اس کے سر پر سے شرارتیں کرتے اڑے جارہے تھے، وہ بادلوں کے بنتے بگڑتے چہرے دیکھتا، نشے کی سی چال میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ہوائی کے جس پتھر پر وہ بیٹھا کرتا، وہ اسے دور ہی سے دکھ جایا کرتا تھا۔ یہ ایک کالا، بڑا سا پتھر تھا، جو زمین پر کسی پیڑ کی طرح اگا ہوا تھا، معلوم ہوتا تھا اس کی جڑیں بھی اندر ہی اندر دوسرے درختوں کی شاخوں کے ساتھ پانی جذب کرکر کے مضبوط ہوتی چلی گئی ہیں۔ اچانک مقبول کی نظر جب اس پتھر پر پڑی تو پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ایک سفید رنگ کی آدمی نما سی کوئی شے اس بڑے سے کالے پتھر پر بیٹھی ہوئی خلا میں گھور رہی تھی۔ یہ آج کیا ہوا؟ ادھر، اس کی مملکت میں، کیسے کوئی دوسرا ذی نفس درآیا تھا۔ کس طرح کسی دوسرے انسان کو اس چھپی ہوئی دولت کا علم ہوا تھا۔ اس کے اندر یک بہ یک رقابت اور جلن کے مادے نے آنکھیں کھول دیں اور وہ کسی آتش فشاں کے ساتھ ابلنے والے لاوے کی طرح بہتا ہوا تیزی سے اپنے اڈے کی جانب بڑھنے لگا۔ ہانپتے ہوئے سینے کے ساتھ جب وہ یہاں پہنچاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ذی نفس اصل میں ایک عورت ہے۔ جو سفید ساڑھی باندھے اس پتھر پر بڑے آرام سے براجمان ہے۔ اس کے کھلے ہوئے بال، کمرسے کچھ اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں، بلاؤز کے نیچے سے جھانکتی ہوئی شفاف بادامی کمرآرام سے بیٹھی موسم کی خوشگواری اور نظارے کی خوبصورتی کو مقابلے کے لیے للکار رہی ہے۔ بوندوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ بادلوں کا سینہ چیر کر اتر آئیں اور اس چمکتی ہوئی بادامی نہر میں ڈوب کر اس کا بوسہ لے لیں۔ مقبول کی نگاہوں کی تپن تھی یا پھر اس کی ہانپ کا اثر، عورت نے محسوس کرلیا کہ پیچھے کوئی کھڑا ہے، یکدم اس نے پلٹ کر دیکھا اور سامنے کھڑے ایک سترہ سالہ لڑکے کو دیکھ کر وہ حیرانی سے تاکتی رہ گئی۔ وہ اس سے عمر میں دوگنی ہو گی۔

‘اے لڑکے! یہاں کیسے؟’عورت نے سوال داغا۔
‘م۔ ۔ م۔ ۔ میں تو یہاں روز آتا ہوں۔ ۔ ۔ آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

عورت نے اس کا الھڑ سا ہمت آمیز جواب سن کر مسکرانے کو ترجیح دی۔ اشارے سے اسے برابر کے ایک کم قدآور پتھر پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ مقبول نے اپنی فطرت کے مطابق حکم کو مان لینے میں کوئی دیر نہ لگائی۔ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی، پھر عورت نے کہنا شروع کیا۔

‘میں یہاں بچپن میں بہت کھیلا کرتی تھی، میں ہی کیا میری سہیلیاں بھی۔ یہ جو سامنے پیڑ دیکھ رہے ہونا۔ ۔ ۔ اسی کی چھالوں سے لٹک کرہم برساتوں میں پینگیں بھرا کرتے تھے۔ گانے گایا کرتے، بڑا مزہ آتا۔ دور دور تک نہ کوئی آدمی نہ آدم زاد۔ ایسی جگہ روز روز کہاں ملتی ہے۔ تم ہی بتاؤ۔ میں اور میری دو سہیلیاں تھیں، سارہ اور جوہی۔ ہم روز ہی آیا کرتے، پھر ایک دن معلوم ہوا کہ سارہ اور جوہی، جو کہ بہنیں بھی تھیں، دوسرے گاؤں چلی گئی ہیں، میرا من بہت اداس ہوا، مگر اس جگہ آتے ہی، اس کی گود میں اکیلے بیٹھ کر، اس سے اٹکھیلیاں کرتے میں سارا دکھ بھول گئی۔ تالاب میں کود گئی، دیر تک نہائی، بطوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہی، باہر نکلی تو شام کا جھٹپٹا ہورہا تھا، گھر بھی جانا تھامگر دل میں دو تین پینگیں بھرنے کا لالچ آیا۔ ایک چھال سے لٹک کر مزے میں جھولا جھول رہی تھی، کہ ڈال ہی ٹوٹ گئی اور دھاڑ سے زمین پر آرہی۔ اس دن بھی موسم کچھ ایسا ہی تھا،بادلوں کے کجرارے نین،یونہی اداس ٹپک پڑنے کو بے قرار ہورہے تھے۔ میں گری تو موچ آگئی، چکر آیا اور وہیں ایک پتھر سے سر ٹکا کر لیٹ گئی، پوری رات سر سے گزر گئی، اگلا دن بیت گیا مگر کوئی پوچھنے یا لینے نہ آیا۔ آتا بھی کیسے؟ انہیں تو کوئی خبر ہی نہ تھی کہ میں یہاں ہوں، آخر اگلی شام گھسٹتے گھساٹتے جب گھر پہنچی تو بخار چڑھ آیا۔ کئی دن کی منتوں، پٹیوں اور پوجاؤں کے بعد ہوش آیا تو دوسرے گاؤں میں تھی۔ میری ماں نے مجھے اپنی موسی کے یہاں بھیج دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ معیادی بخار تھا، ٹوٹتے ٹوٹتے اکیس دن لے گیا۔ میں کب اس خوبصورت جنت سے نکل کر ایک بھری پری اصل اور بدصورت دنیا میں پہنچ گئی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ ماں نے بھی اس بیچ میں گاؤں چھوڑ دیا۔ اب یہاں واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ یہ تالاب، بطخیں، ہوائیں، جھولے، پیڑ، پودے سب میرے لیے بس ایک کہانی بن کر رہ گئے تھے۔ سارہ اور جوہی سے کبھی ملنا ہی نہ ہوا۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، لیکن جیے نہیں۔ اسی لیے تنگ آکر میرے پتی نے مجھے چھوڑ دیا۔ گھر سے نکالی گئی تو کوئی اور جگہ سمجھ نہ آئی، اس لیے سیدھی یہیں چلی آئی ہوں۔ حیرت ہے کہ دنیا دن بدن بدل رہی ہے، لوگ اور زیادہ دھن دولت کمانے کی فکر میں ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، مار رہے ہیں، ٹھگ رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر ہر وقت کچھ حاصل کرنے کی ہیبت نظر آتی ہے، مگر یہ جگہ۔ ۔ ۔ یہ جگہ آج بھی اتنی ہی شانت، اتنی ہی پرسکون ہے۔ اس میں اب بھی کوئی ہیبت نہیں، جیسے یہ اس دنیا کا حصہ ہی نہیں۔ ‘

مقبول اس کی باتیں دھیان سے سن رہا تھا، اچانک اسے دھیان آیا کہ باتوں ہی باتوں میں اتنا وقت بیت گیا ہے کہ اس کے ابا کو تشویش ہونی شروع ہوگئی ہوگی۔ اب تک تو اسے دوکان پر ہونا چاہیے تھا، وہ اٹھا اور کچھ بولے بغیر ہی جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوااپنے راستے پر ہولیا۔ عورت اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ جاتے وقت مقبول نے ایک ہلکی سی آواز سنی، عورت نے فریاد کی تھی کہ ممکن ہو تو مقبول اسے کچھ کھانے کے لیے لادے۔ مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ وہ دوکان پہنچا تو حسب توقع باپ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی، اتنی دیر کہاں لگادی، سب خیریت تو رہی، گوشت پہنچ گیا یا نہیں؟فلاں فلاں۔ سوالوں سے تو وہ بچ نکلا مگر اس عورت کے خیال اور اس کے حسن کے اثر نے اسے سارے دن اپنا گرویدہ رکھا۔ شام کو جب دوکان سے گھر آیا تو نہاتے دھوتے، کھاتے اور سوتے وقت بھی اسی عورت کا خیال سر پر منڈرارہا تھا۔ پوراد ن بیت گیا، کیا اس عورت نے کچھ کھایا ہوگا؟ کیا وہ اب تک وہیں بیٹھی ہوگی؟ جس طرح اس نے جھولے سے گرنے کے بعد اپنے بچپن کی ایک پوری کالی رات اس جگہ بتادی تھی اور کوئی اسے پوچھنے بھی نہ آیا تھا، کیا آج بھی وہ اسی طرح بھوک اور تڑپ سے نڈھال کسی پتھر سے سرٹکاکر کسی بھولے بھٹکے راہ گیر کی چاپ پر کان ٹکائے ہوگی؟ بچپن کے حادثے کے وقت تو کوئی بھی اس بات سے باخبر نہیں تھا، مگر آج تو وہ اس عورت کی ساری کہانی جانتا تھا۔

رات کے قریب ساڑھے دس بجے وہ اپنے کمرے سے نکلا، باہر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ صادق اور ابا دونوں ہی گھر میں نہیں تھے، ماں اپنے کمرے کی بتی بجھا کر گہری نیند سورہی تھی۔ دادی کا کہیں اتا پتہ نہ تھا، شاید وہ بھی اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوگی۔ مقبول خاموشی سے کچن میں داخل ہوا، لائٹ جلانے ہی لگا تھا کہ نیچے رکھے کسی برتن سے اس کا پیر ٹکرایا اور چھن کی آواز پورے گھر میں گونج گئی، وہ دانت پر دانت رکھے، چپکے سے اس آواز کے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مگر بیس تیس سکینڈ گزر جانے پر بھی کچھ نہ ہوا۔ ماں کی آنکھ یا تو کھلی ہی نہ ہوگی اور اگر کھلی ہوگی تو اس نے سوچا ہوگا کہ کوئی بلی ولی آئی ہوگی۔ پتیلیوں میں جھانکا تو چھلکوں والی مسور کی کالی دال پیندے سے لگی ہوئی تھی، اس نے ایک چھوٹے ڈونگے میں دال الٹ دی، اور اسی میں دو پراٹھے رکھ کر، اسے ڈھکنی سے بند کیا۔ پھر کمرے میں جا کر اپنے سکول بیگ کو اچھی طرح جھاڑا، جو قریب سال بھر سے نہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ کی چیزوں کی طرح گردآلود ہوگیا تھا، ڈونگا بیگ میں رکھ وہ دروازہ کھول کر باہرآیا، دروازہ بھیڑ کر، جب وہ سیڑھیاں اتررہا تھا تو اس نے دور سے اپنے بھائی صادق کی موٹر سائیکل کو آتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ صادق یہاں پہنچتا وہ تیزی سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا۔ صادق کے سیڑھیوں پر قدم رکھنے سے پہلے وہ گلی کے باہر تھا۔

کالی رات بھائیں بھائیں کرتی ہوئی ہواؤں کے ساتھ مل جل کر کالا جادو کر رہی تھی۔ جیسے کوئی بھبھوت لگا ہوا سادھو مرگھٹ پر بیٹھا کوئی شیطانی منتر پڑھ پھونک رہا ہو۔ سنسان راستے پر کتوں کی بھونکائیاں، سیاروں کی چمکتی ہوئی آنکھیں، جھکڑوں کے چڑیلوں جیسے پنجے۔ الغرض وہ ڈرتا سہمتا، کندھے سے بیگ لٹکائے، دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے، ٹی شرٹ اور ہاف پینٹ میں آگے بڑھتا جارہا تھا، اتنے اندھیرے میں ممکن تھا اسے ہوائی نظر ہی نہ آتی، مگر ایسا ہوا نہیں، کچھ دیر بعد موسم بہتر معلوم ہونے لگا، ہوائیں خوش گوار ہوگئیں، کہیں سے کوئی آسمانی اجالا دور تک پھیلے ہوئے منظر کو ایک نیلی روشنی میں ڈبوتا چلا گیا تھا۔ مقبول سمجھ گیا کہ ہوائی نزدیک ہے۔ اس نے اسی روشنی کی مدد سے اس بڑے سے پتھر کو دیکھ لیا، وہاں اب عورت نہیں تھی، وہ قریب قریب دوڑتا ہوا پہنچا، ادھر ادھر دیکھا، اچانک اس کی نظر پیڑ کے نیچے لیٹے ہوئے ایک سفید ہیولے پر پڑی۔ وہ آگے بڑھا، عورت اپنے بھوکے اور نڈھال وجود کو سنبھالے پیڑ سے لگی نہ جانے کیسے سورہی تھی، سو بھی رہی تھی یا خود کو دھوکا دے رہی تھی۔ کیا پتہ؟ مقبول نے اس کے کندھے کو ہلکے سے ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس اندھیرے منظر میں بھی، اس کی آنکھیں کسی نیل گائے کی مدھ بھری نگاہوں کی مانند بڑی اور جھیل جیسی دکھائی دے رہی تھیں، اس کے گورے گالوں اور ہلکے گلابی ہونٹوں پر پانی کی چھینٹیں ایسے پڑی تھیں، جیسے قیمے کی دھدھکتی ہوئی تیزی پر چھڑکا ہوا نیبو کا عرق ہو۔ کسی بے باک اور تند چھری کی طرح اس کا سینہ نکیلا اور دھار دار تھا۔ پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں، جن سے شفاف سفیدیوں کے دھارے ابلتے ہوئے ہری گھاس کی بوڑھی جھائیوں میں جذب ہوتے جارہے تھے، جیسے حاجی جی کے کمپاؤنڈ میں لگا ہوا فوارہ نت نئےآبی گل کھلا کر پھر خود کو زمین کی بھوری نگاہوں میں انڈیل دیتا ہے۔

عورت حیرت سے دیکھ رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ مضبوطی سے مقبول کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا۔ مقبول نے نیچے بیٹھ کر اپنے بیگ سے ڈونگا نکالا اور ایک ایک نوالہ بنا کر اسے پیار سے کھلاتا رہا۔ عورت درخت سے ٹیک لگاکر نیم دراز ہوگئی تھی،ایک نوالے پر اسے دھانسہ لگا تو مقبول بھاگ کر تالاب سے چلو میں بھر کر پانی لایا اور اسے پلا دیا۔ ہر نوالہ پہلے سے زیادہ، عورت کی آنکھوں کی کھوئی ہوئی چمک کو لوٹا رہا تھا، جیسے اس میں کوئی برقی رو بھرتی جارہی ہو۔ کھانا کھلا کر مقبول نے تالاب میں ہاتھ دھوئے، عورت نے بھی وہیں پہنچ کر پانی پیا۔ اب وہ دونوں اسی درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ اچانک بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوئی اور برسات نے دھاوا بول دیا۔ مقبول کے چہرے پر بیک وقت خوشی اور اداسی کا سا سماں چھاگیا۔ خوشی اس بات کی کہ موسم خوشگوار ہے،ہر طرح کی خوبصورتی اور تنہائی کی آغوش میں بیٹھا وہ اپنے نصیب کی چمک اور اپنی تنہائی پسندی کے اعزاز پر فخر کرسکتا ہے اور اداسی اس بات کی کہ اگر ابا یا صادق کو گھر پر اس کی غیر موجودگی کا علم ہوگیا تو ڈھونڈ پڑجائے گی اور اس بات کا مطلب اس کی شامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ مگر اب کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا۔ مقبول، عورت کے برابر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا، وہ عورت بھی ایسے ہی انہماک سے مقبول کو دیکھے جارہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں گتھم گتھا تھیں، اچانک عورت نے آگے بڑھ کر اپنے بھیگے ہونٹوں کی شبنم کو مقبول کی زبان پرر کھ دیا۔ مقبول کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی زبان کو کسی لبلبلے اور تازہ بکرے کی ران سے بھڑا دیا ہو۔ وہ اپنی بھیگی اور ہلکی نگاہوں سے عورت کے اس پہلے لمس کو اس کی گردن پر پھیلتے ہوئے پانی کے ساتھ لمحہ لمحہ دیکھنا چاہتا تھا، عورت کی آنکھیں بند تھیں، مگر اس نے اپنے وجود کی ساری آنکھیں کھول دی تھیں۔ عورت نے اسے لٹادیا اور خود اس کے بدن پر کسی سائے کی طرح پھیل گئی، اب اس کی ساڑی اتر چکی تھی،سینے کے دو تیز دریا مقبول کی مٹھی میں تھے اور مقبول کی سانسیں تیزی سے اوپر نیچے دوڑ رہی تھیں۔ خون کا دوران اور دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا بدن ابھی پھٹ پڑے گا۔ عورت کے بالوں سے ڈھکے ہوئے اپنے چہرے کو اس نے اس سے پہلے اتنا شاداب اور ایسا فرحاں کبھی محسوس نہیں کیا تھا، یہ کیسی خوشی تھی جو رگ رگ سے پھوٹی پڑرہی تھی، جس سے خوف بھی آرہا تھااور جس سے جدا ہونے کا دل بھی نہ چاہتا تھا،مقبول کے دل میں اس عورت کی جھیل جیسی نگاہوں کو دیکھنے کی للک تیزی سے سوار ہوئی، اس نے اپنے ہاتھ کو عورت کی کمرپر سے رینگتے ہوئے اوپر کی جانب کھسکایا، بال سرکائے تو دیکھا کہ عورت اس کے سینے پر سر رکھےبے خبری کے عالم میں سورہی ہے۔ مقبول نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک نیم دائرہ بنا کر اس کے پورے بھرے بدن کو اپنے حصار میں لے لیا۔ آج اس کی مملکت میں ایک بیگم بھی شامل ہوگئی تھی۔ وہ اطمینان سے آنکھیں بند کرکے اس خواب سرا کی سبز قالین پر خود بھی سوگیا۔ جب آنکھ کھلی تو اذان کی ہلکی سی آواز اس کے کان میں آرہی تھی، برسات رک چکی تھی، بادلوں کی ٹولیاں ویسے ہی آسمان کی چھالوں سے لٹکی پینگیں بھررہی تھیں، وہ جانتا تھا کہ گھر پر ڈھونڈ پڑ گئی ہوگی، مسجدوں سے اعلان کروادیے ہوں گے، اس کی گمشدگی کی خبر دور و نزدیک گاؤں میں ہر طرف اب تک پھیل چکی ہوگی، ماں کا رو رو کر برا حال ہوگا، صادق اپنے دوستوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں کی مدد سے جگہ جگہ اسے تلاش کررہا ہوگا، بوڑھا باپ یہاں سے وہاں پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہوگا، دادی کی گونگی زبان اس کی ہلکی سی خبر مل جانے کی دعائیں مانگ مانگ کر سوکھ گئی ہوگی، اس کی زندگی سے جڑے تمام لوگوں کی رات اتھل پتھل ہوگئی ہوگی مگر یہاں اس کی ایک رات کی انتہائی خوبصورت بیگم، سفید ساڑی سے بے نیازبے خبر اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی اور مقبول میں اتنی جرات نہیں تھی کہ اس کی جوان نیند کے کندھوں کو تھپتھپاکراسے ہوشیار کردے،اس نے دیکھا بھرپور نیند کے عالم میں بیگم صاحبہ کے ہونٹ نیم وا ہوگئے تھے، مقبول نے ایک گہری سانس بھری اور بائیں ہاتھ کی انگلی سے ان ادھ کھلے ہونٹوں کو آہستگی سے بند کردیا۔

Categories
فکشن

جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔

اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے دو مہینے چھوٹا تھا۔ ہر سال جب بھی اس کے چچیرے بھائی کا جنم دن آتا اس کی ماں آہ بھر کر کہتی۔” ہائے میرا جمیل ہوتا تو اب وہ بھی اتنے سال کا ہوتا”۔ اور جب اکبر (اس کا ہم عمر چچیرا بھائی) کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں دیر تک روتی رہی اور خیالوں ہی خیالوں میں اپنے خاک میں خاک ہو چکے بیٹے کو سہرے باندھتی رہی۔

جمیل ہوتا تو اب کیسا گبھرو جوان ہوتا۔ ماں کے ساتھ کبھی کبھی وہ بھی سوچنے لگتی۔ جمیل کی وجہ سے ان بہن بھائیوں کی تعداد میں عجیب توازن تھا۔ جب وہ زندہ تھا تب وہ برابر برابر تھے تین بٹا تین۔ جمیل کی وفات کے بعد ان کے توازن میں فرق آ گیا ہے اور وہ دو بٹا تین ہو گئے تھے۔ مگر یہ ترتیب زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی تھی کیونکہ اس کی وفات کے دو سال بعد ان کی چوتھی بہن ثانیہ پیدا ہوئی اور یوں تین بٹا تین کا توازن چار بٹا دو میں بدل گیا۔ اب مساوات کی جگہ دو چوتھائی آ گئی تھی۔

اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اور سینہ پیدائشی ضعف جگر کی وجہ سے ابھرا ہوا تھا۔ اس کی پسلیوں کا پنجرہ ہموار نہیں تھا بلکہ زیادہ اوپر اٹھ گیا تھا۔ اپنی مختصر حیات میں اس نے ڈھیر درد سہے اور پھر بہار کی ایک دوپہر کو اس نے برآمدے میں لیٹے ہوئے ماں کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پکوڑے کھانے کی فرمائش کردی۔ماں نے اسے(عالیہ) کہا کہ جا کے باہر سے پالک توڑ لائے۔ وہ پالک توڑنے چلی گئی۔ اس نے پالک کاٹی، آلو کاٹے لیکن وہ سب کچھ درمیان میں ہی رہ گیا۔ بے حد خوبصورت آنکھوں اور سینے کے ابھرے ہوئے پنجرے والا جا چکا تھا۔ وہ کٹی ہوئی پالک بعد میں کتنے ہی دن آگ والی کوٹھڑی کی پڑچھتی پر پڑی سوکھتی رہی۔ عالیہ انہیں دنوں دسویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔ بہار جس کا آغاز نمناک ہوا تھا اس کی بلوغت کی زندگی میں سوچ لے کر آئی۔ سوچ جس سے وہ بعد میں کبھی مفر حاصل نہ کرسکی۔ وہ بارہ سال کی زندگی جس کا غالب حصہ درد اور بخار سے بھرا ہوا تھا،وہ کیوں زمانے کے کھاتے میں درج ہوئی تھی۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ کبھی وہ یہ سوال ماں کے آ گے رکھتی تو ماں تقدیر کے کندھے پہ سارا بوجھ ڈال کے آزاد ہو جاتی۔ اس چمکتی دوپہر جب اس نے ماں سے سوال کیا تو وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ ماں گندم کو جھج میں پھٹک کے چارپائی پہ بچھے کپڑے پہ ڈال رہی تھی اور وہ پاس بیٹھی دانوں کے اندر سے گھنڈیاں اور مٹی کے روڑ نکال رہی تھی۔

گندم صاف کرتے ہوئے اس نے دانوں کی ایک مٹھی بھری اور پاس چگتی مرغیوں کے آگے پھینک دی۔ باقی دانے ایک بوری میں ڈالے جانے تھے تاکہ پسوائی کے لیے چکی پر بھیجے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کچھ اور بھی دانے چارپائی پر پھیلے کپڑے سے نیچے گر کے کچے صحن کی مٹی میں مل گئے ہیں۔ جب جھاڑو پھرے گی تو یہ کوڑے کے ساتھ باہر گرا دیئے جائیں گے۔ تب اس نے سوچا خدا بھی انسانوں کی تقدیر ایسے ہی طے کرتا ہوگا۔ کچھ کی مٹھیاں بھر کے سکھ کے جزیرے میں پھینک دیتا ہو گا۔ کچھ کو مٹی میں رول دیتا ہو گا۔ کچھ کو بچا کے رکھ لیتا ہوگا کہ آگے بیجائی اور مزید پیداوار کے کام لائے جاسکیں۔ اور جو اکثریت ہے ان کی پراتیں بھر بھر کے بوری میں ڈال دیتا ہو گا تاکہ وہ چکی کے تیز پاٹوں میں پس کر آٹا بن جائیں۔ پھر ان کو گوندھا جائے۔اس کے بعد بیلا جائے۔پھر تنور یا توے پر پکایا جائے اور پھر کھالیا جائے۔سب سے زیادہ آ زادی تو پیداواری مقاصد کے لیے رکھے گئے دانوں کے حصے میں آ تی ہے۔ مگر بعد میں ہوتا ان کے ساتھ بھی وہی ہے۔ مگر یہ آزادی بھی کب تک ہے۔ نئے پودوں کے اگنے اور سٹے میں دانے پکنے تک بس۔ اس کے بعد ان کی جڑوں میں درانتی پڑتی ہے اور پھر وہی ایک جیسا چکرشروع ہوجاتا ہے۔ تو گویا یہ تقدیر ہے۔اس نے پھر مٹھی بھری جیسے تقدیر طے کر رہی ہو۔اب اس مٹھی میں جو دانے آئے ہیں وہ ان کی کیا تقدیر طے کرے؟
مرغیوں کے آ گے ڈالے۔
زمین پہ پھینک دے
یا بوری میں ڈال دے۔

اور اس مٹھی میں جو دانے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقدیر طے کی جارہی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو کیا وہ دعا کررہے ہیں کہ انہیں کس طرف ڈالا جائے۔کیا انہوں نے کوئی وظیفہ کیا تھا؟ کوئی عبادت کی تھی۔گڑگڑائے تھے۔ سجدے میں گرے تھے۔ یا ایسے ہی میری مٹھی میں جو آنے تھے وہی آ ئے۔ یہ ان کی تقدیر ہے۔اور جو بوری میں ڈالے جا رہے ہیں وہ ان کی تقدیر ہے۔

اس نے ماں کی طرف دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس کے چہرے پہ گہری خاموشی تھی جیسے اب کبھی نہیں بولے گی، یا جیسے وہ اپنے سارے سوال ختم کرکے پرسکون ہو چکی ہو۔ کیا ماں کو اس سب کا پتا ہے جو وہ سوچ رہی ہے۔

موت ایک صدمہ ہے۔ ہاں مگر موت آس پاس والوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔ لیکن زیست آس پاس والوں کے لیے صدموں کا مجموعہ ہے۔ ہمارا روٹھنا، کھانا نہ کھانا، بات نہ کرنا، بیمار ہو جانا، کسی ہڈی کا ٹوٹنا، معذور ہونا، ہماری غربت، ہماری خواہشوں کی عدم تکمیل، ہماری ناکامیاں، کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے قریبی رشتوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور ہماری کامیابیاں ہمارا اچھا نہ چاہنے والوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ جینا پھر بھی موت پہ فائق ہے اگرچہ موت صرف اکلوتا صدمہ ہے۔

جمیل بارہ برس کی عمر میں مرا، مگر موت نے کچھ بھی ساکت نہیں کیا۔ خاندان کے تصویری البم میں اس کی عمر بارہ برس ہی تھی مگر ماں کی یاداشت میں وہ سال ہا سال بڑا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ماں خیالوں میں اس کی دلہن بھی تلاشنے لگی تھی۔وہ سردیوں کی راتوں میں جب دیر سے آ نے والے خاوند کا انتظار چولہے کے پاس پیڑھی پہ بیٹھ کے کرتی تو لکڑیوں کے چولہے کی دوسری طرف جمیل بیٹھا رہتا۔ماں بیٹا گھنٹوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہتے۔ماں بیٹھی بیٹھی اونگھ جاتی تو اس کا سر انگیٹھی کی دیوار سے جا لگتا۔جمیل بیٹھا سر کو دائیں بائیں مسلسل ہلاتے ہوئے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنکے توڑ کے آ گ میں پھینکتا رہتا اور آگ جلتی بجھتی رہتی۔ان کی زندگی ایسی ہی تھی ایک وقت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور بیک وقت جدا بھی۔وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔باقی بہنیں بھائی اس دوران آ گ والی اسی کوٹھری کے دھواں دھار ماحول میں اپنے لحافوں میں دبکے سوتے رہتے۔دائیں بائیں سر کو ہلاتے ہوئے وہ سوچتا چلا جاتا۔اس کا ذہن بہت تخلیقی تھا۔پلاسٹک کے خریداری والے لفافے کو نیچے سے کاٹ سے سویٹر یا بنیان کی طرح پہننے کا طریقہ بھی پہلی بار اس نے نکالا تھا۔ایک دوپہر جب ماں ساگ توڑ کر شہر میں اپنی دیورانی کو بھجوانے کے لیے لفافہ ڈھونڈ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ اسے جمیل نے کسی بنیان کی طرح اپنے نحیف بدن پہ پہن رکھا ہے اور بہت آ رام سے آ نکھیں موندے سر کو ہلا رہا ہے جیسے کسی ان دیکھے جھولے کی لذت لے رہا ہو۔تو اسے تپ چڑھ گئی۔ایسے موقعوں پر وہ مارنے سے بھی گریز نہ کرتی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پلاسٹک کے معمولی خریداری لفافے بھی سنبھال کے رکھے جاتے تھے۔

اب اسے یاد کریں تو یاداشت میں اس کے نیلے رنگ کے کپڑے اور پلاسٹک کے سفید بوٹ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ بھی ایسا نہیں جو اس کے تعلق سے یاداشت میں بچا ہو،سوائے آ نکھیں بند کرکے ہنستے ہوئے اس کا سر دائیں سے بائیں ہلاتے رہنا اور اس کا چیزوں کے عجیب عجیب نام رکھنا۔یہ بھی بڑاعجیب واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار ہمسایوں کے بہت پستہ قد اور سفید رنگت کے لمبی فر والے کتے کا نام “غونی غیبی”رکھ دیا تھا۔ دوپہر کو جب سارا خاندان صحن کے بڑے درخت کے نیچے اکٹھا بیٹھا تھا اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کرکے کہا وہ “غونی غیبی”ہے۔ سب نے اس کے اشارے کی طرف نگاہ کی وہاں ہمسایوں کا جانا پہچانا کتا کھڑا تھا۔اور پھر سب اس کے اس نام پہ ہنسنے لگے تھے۔اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے ایک پرندے کا نام رکھا۔ایک لمبی دم والا پرندہ ہر روز ظہر کے وقت آ کے ماں کی لاڈلی مرغی کا انڈا پی جاتا تھا جسے ماں نے گندم کے بھڑولے کی چھت پہ مٹی کی انگیٹھی رکھ کے کڑک بٹھایا ہوا تھا۔جمیل اس پرندے کو آ تے اور انڈا پی کر جاتے دیکھتا رہتا مگر اس نے کبھی پرندے کی شکایت ماں سے نہیں کی۔ایک شام جب ماں نے انڈے سنبھالے تو سب خالی تھے اور کوئی چوزہ بھی نہیں تھا،تب پریشان حال ماں کو جمیل نے بتایا کہ “مریا میگی”سارے انڈے پی گیا تھا۔جب ماں نے حیرت اور خوف سے آ نکھیں پھیلا کر پوچھا کہ یہ “مریا میگی”کون ہے تو اس نے بتایا کہ بہت لمبی دم والا پرندہ جو ظہر کے وقت بلاناغہ آ تا ہے اور ایک انڈا پی کر چلا جاتا ہے۔سارے بہنیں بھائی جو پاس کھڑے تھے ہنس پڑے اور مریا میگی،مریا میگی کا ورد کرتے صحن میں چکرانے لگے۔ وہ ان کی اس حرکت پہ بہت خوش ہوا اور انہیں دیکھتا خوشی سے ایک جگہ کھڑا ہوکے سر ہلاتا رہا۔ان دنوں جمیل بظاہر خاندان کے لیے کوئی کار آمد فرد نہیں تھا۔جیسے اس کے باقی بہن بھائی یا چچاؤں کے بیٹے بیٹیاں تھے۔ وہ سارا دن باہر کھیتوں میں اچھلتے کودتے اور پھر اکتوبر کی مخزوں عصر کے وقت بکریاں چرانے نکل پڑتے۔یہ بکریاں چرانا بھی ان کے لیے کسی مہم جوئی جیسا تھا۔دور دور تک پھیلے کھیت کے خالی میدان ان کے اپنے تھے جن میں مکئی اور چاول کی فصل کاٹ کے اٹھالی جاتی اور کھیت کچھ دن آ رام کرتے تھے۔نہری پانی کی رواں کھالوں کے کناروں پہ اگے اونچے اور گھنے پاپلر کے پیڑ روح میں عجیب سی سرشاری بھردیتے۔بکریاں آ گے ہی آ گے منہ اٹھائے جاتیں اور بکروال اپنی مستیوں میں مگن کبھی کسی سانپ کی متابعت میں ہوتے تو کبھی امرود کے کوتاہ درخت کی شاخوں سے بندر کی طرح لٹکے ہوتے۔ایسے میں جمیل کو ساتھ لے جانا کسی خطرے سے خالی نہ تھا کیونکہ وہ ان کی ایک ایک بد عنوانی کی مفصل رپورٹ گھر میں دیا کرتا۔وہ سب اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔خود تو کرتا کچھ نہیں انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتا۔اسی طیش میں وہ موقع بموقع اسے مارپیٹ بھی لیا کرتے تھے۔

اس کی بارہ سالہ حیات اتنی اہم نہیں تھی کہ اس سے وابستہ کسی یاد کا اہتمام کیا جاتا۔ آ دمی کار آ مد تب گردانا جاتا ہے جب وہ موجد بنتا ہے۔اپنا خاندان خود بناتا ہے۔وہ تو ابھی خام مال تھا جس کی بقا کا انحصار جس کے اصل مادے پر ہوتا ہے۔مگر اس دورانیے کو بھلانا ممکن نہیں تھا۔زمانے کے جس مختصر وقفے میں اس نے اپنی سانسوں کا حصہ ڈالا۔اس کے بعد کے برسوں میں بہت روحیں جنمی ہیں۔مگر ایسا کوئی بھی نہیں جسے کسی شئے کا نام نہ پوچھنا پڑا ہو۔اور جو اپنے ہردکھ کی ستر پوشی خود کرلیتا ہو۔سبھی چیزوں کے نام خود رکھ لیتا ہو۔

Categories
فکشن

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔

کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔

خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔

’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔

یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔

اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔

ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔

مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔

اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔

رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔

اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔

چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘

’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔

نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔

گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔

سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔

ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔

جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔

میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔

اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔

وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔

جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔

میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔

چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔

دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔

میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔

دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔

’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔

عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔

شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘

میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔
Image: Mehwish Iqbal

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
فکشن

انار گلے (حمزہ حسن شیخ)

اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔

انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔

زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔

ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔

انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔

کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔

وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔

’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔

’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔

انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔

Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔