Categories
نان فکشن

تقسیم کی تفہیم اور علی اکبر ناطق

خدا لمبی حیاتی دے ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو، داستان گوئی کی کلاس میں دنیا کی اولین اور مختصر ترین کہانی سنائی تو اردو ناول کے بارے میں بصیرت افروز خیالات کا اظہار بھی فرمایا اور کہا کہ ! میاں ناول لکھنے کے لئے سانس برقرار رکھنا پڑتی ہے اور کرداروں کی بنت زمانی ترتیب سے جڑی ہوتی ہے ۔ الغرض ان کے اسی فقرے کو ذہن میں نقش کیا اور مطالعے کا سفر اردو ادب سے ہوتا ہوا مغربی دریچوں میں پہنچا تو کا ڈویل کی جرات پسندی اور ایلیٹ کی انفرادری صلاحیت سے واسطہ پڑا لیکن اردو ادب میں جو اثرات تقسیم کے سانحے نے مرتب کیے، ان کا اظہار آج تک یا تو سرحد کے اس طرف کے نظریے کے تحت ہوا یا اپنی مقامی صف کے تحت، البتہ حالیہ دنوں میں تقسیم کا ایک نیا زاویہ دیکھنے کو ملا جس نے کئی بند گوشوں پر دستک دی اور
لا تعداد سوالیہ در وا ہوئے۔

جاگیر دارانہ نظام کے تحت اگر لوگوں کے حقوق سلب ہوئے تو تقسیم کے وقت ہونے والی لوٹ مار نے کئی حقداروں کوسفید پوشی کی چادر سے بھی محروم کر دیا لیکن یہ سب بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ علی اکبر ناطق نے اپنے اولین (آخر ترین ہر گز نہیں) ناول میں جو Localeبنانے کی کوشش کی ہے (عہدہ بر کتنا ہو ئے ہیں یہ تو نظریا تی نقاد ہی بتائیں گے)۔ وہ پنجاب کی سرزمین سے کتنا قریب ہے، مولوی کرامت ہو یا ولیم،ان تمام کا سر چشمہ نو آ با دیا تی دور کی یا دگا ر ہے ۔ یہ تمام ہی کردار نو آبادیاتی دور کی غلامی و محرومی کی فضا میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔

اردو ادب میں گرچہ تقسیم کو برتنے کا جو معیاری انداز کارفرما تھا، اسے بام عروج پر پہنچا نے میں کئی لکھاریوں نے اہم کردار ادا کیا لیکن علی اکبر ناطق کا مرکزی کردار انگریز تقسیم کو اپنی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور بقول D.H Lawrence ناول کیونکہ پورے انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا بیان ہوتا ہے لہذ ااس انگریز کا ہر پہلو قا بل دید ہے بلکہ ناول کے آخر میں تو اس کی افسردگی اور موت کا منظر رابرٹ فراسٹ کی تخلیق کردہ کسی نظم کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

علی اکبر ناطق نے تقسیم کو نہ ہی ہندو سمجھا نہ ہی مسلمان بلکہ پنجاب کے چٹیل میدانوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک انسانی رویوں کا گویا ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا ہے جس کا سر غنہ ایک انگریز ہے گرچہ اس میں تار یخی تسلسل تو موجود ہے لیکن مسلم لیگ کی سیاست کا جو نمونہ دکھایا گیا وہ قابل گرفت ہے۔

عہد حا ضر میں جو ناول لکھے جا رہے ہیں،ان پر مغربی اثرات نمایاں نظر آ تے ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو ناول بلکہ اردو فکشن کو پروان چڑ ھانے میں مغربی ادب کا خا صہ کردار نظر آ تا ہے مگر علی اکبر نا طق نے جہا ں مغربی دریچوں میں جھا نکا ہے وہیں مقامی صنف کو بھی نطر انداز نہیں کیا اور کہیں کہیں ان کی منظر کشی اردو مر اثی کا سا ما حو ل بنا تی ہے کیونکہ خود علی اکبر ناطق کا خمیر بھی پنجاب کی مردم خیز زمین سے اٹھا ہے ۔

درج بالا تمام گزارشات کا مقدمہ صرف یہ تھا کہ تقسیم برصیغر ایک ایسا سانحہ یا حادثہ تھا جس کے اثرات پورے خطے کے عوام تادم قیامت محسوس کرتے رہیں گےاور اب تو تقسیم کے وقت پیدا ہونے والی نسلیں بھی چیزوں کو دیکھنے کا وہ زاویہ بھولتی جا رہی ہیں جو ان کے آبا و اجداد کے پاس تھا پھر بھی اس وقت کی ما بعد الطبعیات کو جھٹلانا ممکن نہیں لیکن اگر تقسیم کا ایک انوکھا نقطہ نظر میسر آئے تو اسے پڑھے اور سراہے جانے کی اشد ضرورت ہے کہ یہی حالات حاضرہ کا بھی تقاضہ ہے اور ہم سب کا دعویٰ بھی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُن دنوں بھی شاید دسمبر کی کالی ہوا چل رہی تھی۔ آج بھی وہی کالی ہوا چل رہی ہے۔ انسانوں کو اس دوسری دنیا کے نادیدہ کنارے پر اُڑا کر لے جاتی ہوئی،ڈ ھکیلتی ہوئی، یہ کالی ہوا دنیا کوکالا کیے دیتی ہے۔ یہ دنیا جس کی اصل روحانی تاریخ ایک ایسی زبان میں لکھی گئی ہے جسے اب مجھے کچھ کچھ پڑھنا آگیا ہے۔ مگر اُن دنوں میں یہ سب کہاں جانتا تھا؟ ہاں! اُن دنوں میں یہ سب کہاںجانتا تھا، کہ دنیا محض انسانوں کے حواسِ خمسہ کو مطمئن کرنے کے لیے چل رہی تھی، وہ خواہش، وہ پاگل، وہ سنکی، وہ شہوت کے ذائقے میں لپٹا سرخ پھل، جما جماکر جس کو کترتے ہوئے دنیا کے دانت سفید، چمکدار اور مضبوط ہوتے گئے۔ اور پھر—؟

پھر ایک دن وہ دانت، ایک گندی سی بدرنگ موری میں گر کر، گل گل کر بہہ گئے۔ یہی اُن کا نروان تھا۔ خواہش ایک دن ختم ہوئی۔ جسم پر خوبصورت جھرّیاں پڑیں، جسم بوڑھا ہوا، اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کردیا گیا۔

وہ جو ایکسیڈینٹ میں مارے گئے۔ جو عین جوانی میں شہید ہوئے۔ وہ جو کسی ناگہانی بیماری کے باعث، عمر طبعی پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئے۔ انھوں نے زندگی کو اپنی عظیم اور دہشت خیز وسعت کے پس منظر میں کہاں دیکھا۔ انھوں نے کہاں دیکھا، ایک کمزور ڈبّے کو آہستہ آہستہ خالی ہوتے ہوئے، اپنا بوجھ، اپنی کنکریاں، اپنا گندا مٹّیالا تیل گراتے ہوئے اور دُکھ، سکھ دونوں سے بے نیاز ہوتے ہوئے، آزادی کے ایک عظیم الشان اونچے ٹیلے پر اپنی پاک کی گئی دھوئی گئی، روح کی نیلی قمیص کے لہلہانے کی خوبصورت آواز۔

اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ شعور کی اس ڈھلان پر سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی اور موت دونوں یہاں معمولی ذرّوں کی مانند پھسلتے جاتے ہیں۔ انسان کو ان حقیر ذرّات سے ماورا ہوکر کچھ سوچنا چاہئیے تھا۔ مگر ہیہات! انسان انھیں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ اس کا سر اُنہیں دھول بھرے معمولی، روز مرہ کے ذرّات سے بھر کر رہ گیا۔ انسان یہی خاک سر میں ڈالے گھوما، پھر ڈاکو اور رِشی بنا اور حافظے کے تیل میں ملے اس میل، اس دھول اور خاک سے اُس کے سر کے بال بالکل چیِکٹ ہوکر ہی رہ گئے۔ (خودمیرا مقدّر بھی یہی ہے)

کیسا انوکھا دن ہوگا، جب وہ اپنی دوا لینا بھول جائے گا۔ وہ بھول جائے گا کہ اُس نے کھانا کھایا بھی تھا یا نہیں؟
خواب منطقی شعور پر حاوی ہوں گے۔ خوابوںکے سرمئی دھوئیں میں بچپن اور جوانی کی چند محرومیوں کے، چند گلے شکوؤں کے سڑے گلے ٹکڑوںکے سوا سب کچھ ایک پاکیزہ ہوا میں اُڑ رہا ہوگا۔ آزادی—! آزادی!
حافظے کی ایسی کی تیسی!

بڑے ماموں اب اکثر اپنی دوا کھانا بھول جاتے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ پیٹ بھر کر وہ اپنا کھانا کھاچکے ہیں۔ وہ ہمیشہ جھٹلا دیتے کہ اُنہوں نے کھانا کھالیا ہے۔ اُن کے دماغ کے ریشے اور خلیے گل رہے تھے اور آنتوں اور معدے کے پیغام وصول کرنے سے قاصر تھے۔ وہ لوگوں کا نام بھول جاتے، اشیا کو غلط ناموں سے پکارتے۔ ’’رئیس میاں— اور ئیس میاں۔‘‘ وہ زور سے چلّاتے۔

رئیس میاں نام کا کوئی شخص گھر میں نہیں تھا۔ دراصل وہ مجھے پکار رہے تھے۔ میں سمجھ گیاا اوراُن کے پلنگ کی پائنتی جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’رات میں لوٹتے وقت کچھ کھانے کو لیتے آنا۔‘‘ انھوں نے اجنبی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کوئی بھی میٹھی چیز۔‘‘
’’مگر میٹھا تمھیں منع ہے، بڑے ماموں۔‘‘
’’تیری ماں کا منع۔۔۔‘‘ وہ گرجے اور اُن کی سانس بری طرح چلنے لگی۔

’’سن، تِل بُگہ لیتے آنا چار آنے کا۔‘‘ وہ ہانپتے ہانپتے بولے۔ ادھر آکر انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا،جہاں میں گھر سے نکلتا اور وہ واپسی میں کوئی میٹھی چیز لانے کی فرمائش کرتے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود، وہ لڑ جھگڑ کر میٹھا کھاتے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بھول جاتے کہ اُنہوں نے کیا کھایا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں یاد دلاتا تو وہ اُسے گندی گندی گالیوں سے نوازتے۔ حالانکہ اپنی تمام عمر کم از کم گھر میں، میں نے اُنہیں گالی بکتے نہیں سنا تھا۔
میرا بارہویں کلاس کا بورڈ کا امتحان سر پر تھا۔ میں رات رات بھر جاگ کر تیاری کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ علم بھی ہوگیا کہ بڑے ماموں کو اب رات بھر بڑبڑانے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ اسی بڑبڑاہٹ میں شاید صرف ایک بار میں نے اُن کے منھ سے ’’ثروت‘‘ نکلتے سنا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہی رہا ہو۔

مگر اُن کی حالت ویسی ہی نہیں رہی۔ ان میں لگاتار تبدیلی آتی رہی۔ ایک روز وہ اُٹھ کرڈگمگاتے قدموں سے جلدی سے باورچی خانے کی طرف لپکے۔
’’کیا ہے، کیا ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی اور کنیز خالہ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے پیچھے آئیں۔
’’کچھ نہیں، پیشاب کروں گا۔ ‘‘ بڑے ماموں نے اُنہیں اپنی پیلی آنکھوں سے گھورا۔
’’تو یہاں کہاں— یہ باورچی خانہ ہے۔‘‘ وہ حیرت اور خوف سے چلّائیں۔

’’یہ سالا کب سے باورچی خانہ ہوگیا۔ باورچی خانہ تو وہاں ہے۔‘‘انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اُٹھائی، جہاں ایک چیل کوئی اوجھڑی چونچ میں دبائے چلی جارہی تھی۔
اُنہیں بڑی مشکل سے تھام کر پیشاب کرانے کے لیے پاخانے کی طرف لایا گیا۔

کچھ عرصے بعد انھوں نے پیشاب پاخانے کے لیے پلنگ سے اُٹھنا چھوڑ دیا، ان کی آنکھیں بند رہتیں اور منھ کھلا رہتا۔ اس کھلے ہوئے منھ پر اکثر مکّھیاں بھنبھناتیں کیونکہ رات کو کھائے گئے میٹھے کے ذرّات اُن کی کھوکھلی داڑھوں اور زبان پر چپکے ہوتے۔ وہ زیادہ تر غنودگی کے عالم میں ہوتے۔

مگر اُس دن یہ غنودگی بے ہوشی میں بدل گئی جب دوپہر میں اُرد کی دال کی کھچڑی پکی تھی (اور جسے کھاتے وقت ہوا میرے کانوں میں بُدبُدائی تھی اورمیرا دل گھبرانے لگا تھا) اُن کا پیٹ پھولا پھولا اور بہت سخت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا گیا۔ اُس نے معائنہ کیا اوربتایا کہ اُن کا پیشاب بند ہوچکا ہے۔ گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ بے ہوشی کی وجہ خون میں آلودگی کا بڑھنا ہے۔ گندا یا زہریلا خون آہستہ آہستہ دماغ کو اپنی چپیٹ میں لے رہاہے۔

’’بڑے ماموں، بڑے ماموں۔‘‘ میں اُن کے کان کے پاس منھ لے جاکر زورسے چیخا۔ اُن کی آنکھوں کے پپوٹوں میں خفیف سی جنبش ہوئی اوربس۔
شام ہوتے ہوتے اُن کے کھلے ہوئے منھ سے زور زور کے خرّاٹے بلند ہونے لگے۔ میں اُن خرّاٹوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بہت وحشت انگیزتھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ایسے کوئی درندہ بہت گہری سانس لے رہا ہو اور کبھی ایسا لگتا جیسے باورچی خانے کے کواڑ باربار کھل رہے ہوں یا بند ہورہے ہوں۔ باورچی خانے کے کواڑ اینٹھ گئے تھے اور اُن کو کھولنے بند کر دینے پر ایسی ہی آواز آتی تھی۔

مغرب کی اذان ہوئی۔ اُن کے یہ وحشت ناک خرّاٹے رُک گئے۔ میں نے اُن کی ہچکی کو نہ سنا۔ نہ دیکھا مگر ریحانہ پھوپھی نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔
میں نے تو لالٹین کی روشنی میں اُن کا پھولا ہوا سخت پتھّر جیسا پیٹ دیکھا۔ میں نے اُن کی آنکھیں بنددیکھیں۔ میں نے اُنہیں ایک گہری نیند میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ میں نے اب اُن کا کھلا منھ نہیں بلکہ بند منھ دیکھا — اور اس طرح میں نے موت کا ’منھ‘ دیکھا۔ محلے کی ایک بڑی بوڑھی نے باورچی خانے میں جاکر دن کی بچی ہوئی اُرد کی دال کی کالی کھچڑی اور دودھ اُٹھاکر باہر سڑک پر پھینک دیے۔

اس کے بعد اگر کچھ یاد رہ گیا ہے تو بس وہی دسمبر کی کالی ہوا ہے جس نے شاید آج تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

اِدھر اُدھر کی اور رشتہ دار عورتیں سر کو دوپٹّے سے ڈھک کر، کلام پاک پڑھتی رہیں۔ بیچ بیچ میں کہیں سے رونے کی بھی کوئی کمزور آواز اُبھر آتی تھی، جیسے موسیقی سے بھٹکا ہوا ایک اکیلا سُر۔

اُن کے پلنگ کے نیچے لوبان سلگادیا گیا۔ تیز ہوا کے جھونکوں نے اِس لوبان کی پرُاسرار اور شاید موت جیسی خوشبو کو گھر کے ہر کونے میں پھیلا دیا۔
کوئی عورت (جس کا نام اور شکل آج میرے ذہن سے محو ہوگئی ہے)اُٹھی، باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور چولہے پر حلوہ پکانے لگی۔ اُس دن مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ حلوے کا مرُدوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔

ساری رات آنگن میں جنازہ رکھا رہا۔ میں ایک کونے میں دُبکا، دور سے میّت کے پلنگ کو دیکھتا رہا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی، مگر آج باورچی خانے کا چولہا ٹھنڈا تھا۔ اور وہ حلوہ؟؟
حلوہ گھر والوں کے لیے نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – ستائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر یوں ہوا کہ پاخانے میں چیونٹے نظر آنے لگے۔ شروع شروع میں تو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا، ویسے بھی پرانے زمانے کا بڑے بڑے اور اونچے اونچے قدمچوں والا پاخانہ تھا اور قدمچوں کی اینٹوں کی دراڑوں میں کیڑے مکوڑے تو رہتے ہی تھے۔ چھپکلیاں اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے اکثر وہاں آتے تھے اور اُس زمانے میں یہ کوئی خطرناک یا غیر معمولی بات بھی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان چیزوں کے عادی تھے۔

مگر جب وہاں کالے کالے اور بڑے سے چیونٹوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا ہی گیا اور قدمچوں پر سکون سے بیٹھنا مشکل ہوگیا تو سب کو فکر لاحق ہوئی۔ دشواری یہ بھی تھی کہ چیونٹوں کو مار ڈالنے یا مسل ڈالنے پر بھی پابندی تھی۔ تب ایک دن بڑے ماموں نے بتایا کہ اُن کے پیشاب پر تو چیونٹے بری طرح یلغار کر دیتے ہیں۔

خودمیں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ بڑے ماموں کے پاخانے سے واپس آنے کے بعد، خاص طور پر، وہاں بے شمار چیونٹے فرش اور موری میں رینگتے ہوئے یا چپکے ہوئے نظر آتے تھے۔

بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

آخر جب اُنہیں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہونے لگی تو وہ اپنے خاندانی حکیم کے پاس گئے اور اس طرح پاخانے میں چیونٹوں کی فوج ہونے کا بھید کھُل گیا۔

بڑے ماموں کے پیشاب میں نہ جانے کب سے شکر آرہی تھی اور وہ بھی تھوڑی بہت نہیں، بہت زیادہ۔
اُنہیں خطرناک اور شدید قسم کی ذیابیطس ہوگئی تھی۔ اُن کے لبلبے نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا تھا۔
حکیم نے پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں سے اُن کا علاج شروع کر دیا اور کھانے میں میٹھا بالکل بند کر دیا۔

بڑے ماموں کو میٹھابہت پسند تھا۔ ان سے روکھا سوکھا کھانا نگلا تک نہ جاتا تھا۔ اُن کے لیے پرہیز کا کھانا پکتا تھا جس کو وہ اکثر غصّے میں اُٹھا کر پھینک دیتے تھے۔ اگر کبھی اُن کوباورچی خانے سے کوئی اشتہا انگیز خوشبو آجاتی تو وہ بچوںکی طرح رونے لگتے۔ گھر کے باقی افراد اُن سے چھپ چھپ کر کھانا کھانے لگے۔

ایک دن بڑے ماموں نے اپنی گردن کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی پھنسی دکھائی۔
’’ذرا دیکھنا،گڈّو میاں، یہاں کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے پھنسی پر اپنی خشک انگلی پھیری۔
میں نے غور سے دیکھا، ایک بہت چھوٹی سی، سرخ رنگ کی پھنسی تھی۔
’’کچھ نہیں ذرا سا دانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں مگر بہت تنّا رہاہے۔۔۔ لاؤ ذرا آئینہ تو لے کر آؤ۔‘‘
میں بھاگ کر دالان میں کارنس پر رکھا آئینہ اُٹھا لایا۔
’’لاؤ مجھے دکھاؤ۔‘‘

میں نے آئینہ میں اُنہیں گردن پر نکلا وہ چھوٹا اور معمولی سا دانہ دکھایا۔ وہ مطمئن ہوگئے مگر یہ لگاتار کہتے رہے کہ دانہ دردبہت کر رہا ہے۔ پھر اُنہوں نے خود کو یہ کہہ کر بھی تسلّی دی کہ چونکہ یہ دانہ گردن کی بالکل رگ پر ہے۔ شاید اس لیے اتنی تکلیف کر رہا ہے۔

مگر دوسرے دن اُس دانے میں پیلے رنگ کا مواد پیدا ہوگیا۔ اور وہ خاصا پھول بھی گیا۔

حکیم نے دانے پر پان کے ساتھ کسی مرہم کا لیپ لگانے کے لیے دیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔بلکہ دانے میں تکلیف اور جلن اتنی بڑھ گئی کہ بڑے ماموں رات بھر کراہتے رہے۔
صبح ہوتے ہوتے اُن کی گردن پر ایک بڑا سا پھوڑا موجود تھا اور وہ بخار سے جل رہے تھے۔
اب خاندانی حکیم سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ بڑے ماموں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اوراس پھوڑے کی وجہ خون میں شکر کی حد سے بڑھی مقدار تجویز کی۔ مگر ڈاکٹروں نے پھوڑے کا آپریشن اُس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ شکر نارمل نہ ہوجائے۔
بڑے ماموں کے پیروں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے زخم تھے۔

انھیں انسولین کے انجکشن دیے جانے لگے۔ وہ بات بات پر رونے لگتے اور میں اپنی چھٹی حس سے یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ موت سے گھبرا کرنہیں روتے تھے۔ موت تو شاید، ان کی دانست میں کسی غیر معین عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی (جیسا کہ ہر شخص سوچتا ہے کہ دوسرے مریں تو مرتے پھریں، شاید اُن کی اپنی موت ہمیشہ کے لیے ملتوی ہی رہے۔ لوگ زندگی کی کتاب میں اپنا اِندراج کرانے کے لیے ہمیشہ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ افسوس کہ اس عرصے میں کب اُن کا نام نادیدہ ہواؤں میں اُڑ کر موت کی کتاب میں، ایک زیادہ سیاہ روشنائی میں درج ہوجاتا ہے اُنہیں اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔)

بہرحال میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسی وجہ سے پریشان ہوکر اور گھبرا کر روتے تھے کہ انھیں کھانے میں وہ اشیاء نہیں مل رہی تھیں جو اُنہیں بہت مرغوب تھیں اور اُن کی نظر میں خدا کی نعمتیں تھیں جن سے وہ محروم ہوگئے تھے۔

وہ دن باورچی خانے پر بڑے سخت گزر رہے تھے۔ اگر کبھی چھپ کر قورمہ یا بریانی پکائے جاتے تو اُس کے ساتھ ساتھ چولہے کے آنولے پر مولیوں کی بجھیا یا گوبھی بھی چڑھا دی جاتی تاکہ مولی اور گوبھی کی ناک سڑا دینے والی بو میں بریانی کی مہک دب کر رہ جائے۔ یعنی باورچی خانہ اُس وقت بالکل دنیا کے مماثل بن گیا تھا جہاں ہر نفیس شے کوکیچڑ سے پوت دینے کا عمل ابتدائے آفرینش سے ہی جاری ہے۔

مسئلہ صرف جمعرات کا ہوتا جب گھر میں مولی یا گوبھی یا کسی بھی ایسی چیزکا پکنا ممنوع تھا جس پر فاتحہ ہوسکتی تھی۔ جمعرات کو اوّل تو دال کبھی پکتی ہی نہیں اور اگر پکتی بھی تو اُس میں لہسن پیاز کا بگھار لگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔

جمعرات کو، سہ پہر ہی سے بڑے ماموں اپنے باندوں کے پلنگ پر بیٹھ کر باورچی خانے کی طرف بے حد چوکنّے ہوکر دیکھتے رہتے تھے۔ اور باربار ناک کے نتھنے سکوڑ کر، وہاں سے آنے والی خوشبوؤں کی تاک میں رہتے۔

دونوں وقت ملنے سے پہلے، سینی میں لگاکر جب کھانے پر فاتحہ دی جاتی تو وہ دُور بیٹھے دیکھتے رہتے اور پھر بچّوں کی طرح رونے لگتے۔ روتے وقت اُن کی گردن کا پھوڑا اور بھی زیادہ بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا تھا۔ پھوڑے کے آس پاس کی سرخی ساری گردن پر پھیل جاتی۔ گردن کی ساری رگیں پھول جاتیں اورایسا لگتا جیسے یہ پھوڑا ابھی ابھی پھوٹ جائے گا اور اِس کا سارا کچ لہو اور مواد باہر نکل جائے گا۔

کچھ دنوں تک تو گھر کا ہر فرد بریانی اور قورمہ کھاکر اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہا۔ مگر یہ کب تک چلتا؟

آخر سب کی اپنی اپنی آنتیں تھیں اور اپنے اپنے دانت، اپنے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں وہ سب قید تھے۔آہستہ آہستہ بڑے ماموںکا رونا روزمرّہ کے معمول میں شامل ہوگیا اور گھر کے افراد نے اُن کے رونے پیٹنے سے متاثر ہونا چھوڑ دیا۔ بڑے ماموں اُس بلّی کی مانند نظر انداز کیے جانے لگے جو باورچی خانے کے سامنے بیٹھ کر مسکین اندازمیں، منھ بنابناکے اور پلکیں جھپکا جھپکاکے کھانا پکتے یا انسانوں کو کھانا کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ اور کسی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔

کئی ماہ گزر گئے اور تب یہ کرشمہ نمودار ہوا۔

بڑے ماموں کی گردن کا پھوڑا آہستہ آہستہ دبنے اور سکڑنے لگا۔ اس کے اندر کا مواد سوکھنے لگا اور آس پاس پھیلی ہوئی سرخی کم ہونے لگی۔ دیکھتے دیکھتے کچھ ہی دنوں میں وہاں بس ایک چنے کی دال کے دانے برابر ایک گلابی سی گانٹھ ہی رہ گئی۔ یہ ایک عجیب کرشمہ تھا جو ڈاکٹروںکی سمجھ میں بھی نہ آیا۔ جیسے چندعناصر سے دنیا کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا حجم بڑھتا ہے، وہ ارتقا کے سفر کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ سکڑنے لگتی ہے۔ واپس اپنے عناصر کی جانب لوٹتی ہے اور پھر یہ عناصر خلا میں اِدھر اُدھر بہت دور کہیں بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ بڑے ماموں کا پھوڑا دراصل اُن کی گردن پر ایک کائنات کا بننا اور بگڑنا تھا (نمودار ہوکر معدوم ہوگئی(کائنات)) مگر پھوڑے کے دبنے کے بعد وہ بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔وہ ہر وقت کھانستے رہتے اور اُن کی سانس دھونکنی کی طرح چلتی رہتی۔ اُن کی یادداشت نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اجنبیت آکر بیٹھ گئی۔ اور کسی نے تو نہیں مگر مجھے اُن کی آنکھوںکی رنگت بھی بدلی بدلی لگی۔ مجھے اُن کی آنکھیں پیلی پیلی بھی نظر آنے لگیں۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہو کیونکہ پیلا پن تو ہمیشہ ہی میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔

تھوڑے عرصے بعد سننے میں آیا کہ بڑے ماموں کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ ان کا ہلنا پھرنا تقریباً بند ہوتا گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں پہلے ہی سے زخم تھے، اُن کے منھ اور پیروں پر سوجن بھی آگئی۔ اُس زمانے میں، مجھے بہت سی باتوں کی تمیز نہیں تھی۔ مگر اب جبکہ میں خود پکّی عمر کو پہنچ چُکا ہوں اور یہیاد داشتیں لکھ رہا ہوں تومیری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اُن کی سب سے بڑی بیماری تو بڑھاپا تھی۔ ان کی عمر ہوگئی تھی۔ بُڑھاپے اور بیماری میں جسم تقریباً غیر حاضر رہتا ہے۔ سارے کام بُڑھاپا اور بیماری ہی نپٹاتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں کتنا عرصہ گزر گیا۔ اُن کی بیماری اوراُن کی عمر طویل ہوتی گئی۔ شاید پھر سے سردی آگئی تھی۔ مجھے آج بھی اپنی پرانی بچپن کی رضائی یاد ہے۔ وہ رضائی جس کے اندر کی روئی دُھند کے ٹکڑے بن کر فضا کی مبہم پہنائیوں میں معدوم ہو گئی۔ مگر میرے بچپن کے جسم کے اند ربھرے خون کی ایک مٹھّی بھر حرارت اُس روئی کے اندر کہیں پھنسی رہ گئی ہے۔

موسم کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ وہ انسانوں سے بھی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ انسانوں کو، بے چارے عام انسانوں کو بدلتے بدلتے بہرحال بہت وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کو اس کنارے سے اُس کنارے کے قریب پہنچتے پہنچتے تاریک پانیوں میں ڈوب کر اوپر آنا پڑتا ہے اور تب جاکر کہیں وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ اعتماد کے ساتھ اپنی یادداشت، اپنے حافظے کو فراموش کر سکے۔ اپنی آنکھوں کی رنگت کو بدل سکے۔ لوگوں کے نام بھلا سکے یا اُنہیں غلط طریقے سے پکار سکے۔ اب اُس کے پھیپھڑے، اطمینان کے ساتھ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں پر شادماں ہوسکتے ہیں۔ اپنی کھانسی پر فخر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اب وہ آدھی رات کو میٹھا کھانے کے لیے کسی سے کچھ فرمائش کرنے پر جھجک نہیں محسوس کرتے۔

یہ تغیر، یہ تبدیلی اُس کی انا سے ایک مستقل نجات کا نام ہے۔ بیماری میں ایک بوڑھا، سنکی، کمزور اور تقریباً ہر منظرنامے سے غیر حاضر جسم ہی دراصل ایک مکمل انسان ہے۔ مکمل طور پر اخلاقی، ریاضی کے ’اکائی‘ کے ہندسے کی مانند اپنی ہی روشنی میں چمکتا ہوا، گزرے اور پچھلے وقتوں کے گناہوں کو، نفرتوں کو، محبتوں اور رفاقتوں کو، سب کو کچلتا ہوا، دربدر کرتا ہوا، ساری خواہشوں کو ساری شہوتوں کو، بس ایک ’خواہش‘ کے سفید پردے جیسے کفن سے ڈھکتے ہوئے۔

بس ایک ’’خواہش‘‘، میٹھا کھانے، مٹھائی کھانے کی عظیم خواہش کے سفید اُجلے بے داغ پردے کو ہر جذبے پر ڈال کر ڈھانپتے ہوئے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔

ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔

وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔

وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔

سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔

سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔

اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔

افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔

اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔

جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔

میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔

وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔

’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘

’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔

’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔

میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔

’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘

ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔

’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔

’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔

ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔

انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔

وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔

میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔

مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔

اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔

مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔

اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔

باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔

وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔

المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔

اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔

مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔

اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔

اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔

میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔

میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔

کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔

بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔

کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘

مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔

مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟

’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔

گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔

اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔

دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔

’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔

اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔

بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔

وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔

میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔

گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔

نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔

جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔

مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔

جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔

اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔

اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔

موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تئیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر وہ گلی آگئی جس کے بائیں موڑ پر میرا گھر تھا۔
وہاں ایک جم غفیر تھا۔

نیلی بتّی والی، پولیس کی ایک گاڑی گلی کے موڑ پر کھڑی تھی۔ میں ہمت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ اب میرا خوف ہی میرا حوصلہ اور میرا سہارا تھا اور پیروں کی کپکپاہٹ ہی میرے چلنے کی طاقت تھی۔ یہ نہ ہوتی تو شاید میرے پیر پتھّر کے ہوجاتے۔

گھر خاکی وردی والوں سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی جاچکی تھی۔ پولیس والے ایک ایک کا بیان لے رہے تھے۔ نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی تک کا بیان لیا گیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہہ دیا کہ صبح سے اسکول میں تھا۔ اورابھی آیا ہوں۔ پولیس کو میرے اوپر کوئی شک نہیں ہوا۔ ورنہ اسکول سے یہ معلوم کیا جاسکتا تھا کہ میں آج اسکول نہیں پہنچا تھا، مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا۔
بعد میں،پولیس کے چلے جانے کے بعد بڑے ماموں نے مجھ سے یہ بازپرس ضرور کی کہ میں نے اُن کا کہا کیوں نہیں مانا۔ مگر وہ صرف ایک باز پرس نہیں تھی کیونکہ بعد میں انھوں نے گہری سانس لے کر یہ بھی کہا تھا کہ اچھا ہی ہوا کہ میں اسکول گیا ہوا تھا۔ شاید اُنہیں یہ اندیشہ ہوا ہو کہ اگر میں گھر پر ہوتا تومیری جان بھی خطرے میں پڑسکتی تھی۔

’’یہ ضرور کنپٹی مار کا کام ہے۔‘‘چھوٹی خالہ نے کہا۔

اُن دنوں ایک مجرم جو نفسیاتی مریض تھا، لوگوں کے گھروں میں گھستا پھرتا اور کسی ہتھیار کے ذریعہ کسی بھی تنہا شخص کا قتل کرکے چلتا بنتا۔ پولیس کو ابھی تک اُسے گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک پولیس انسپکٹر کچھ سپاہیوں کے ساتھ دوبارہ آیا تھا۔

’’ہو سکتا ہے کہ یہ اس کنپٹی مار کا کام ہو۔ مگر اُس کے قتل کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ وہ اپنے عجیب و غریب ہتھیار سے ہی آدمی کی جان لیتا آیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ وہ ہتھیار اُس سے کہیں گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو۔ اس لیے ہم نے تو گھر کی تلاشی لے ہی لی مگر آپ لوگ بھی اپنے طور پر اس امکان کو نظرانداز نہ کریں اور اُس ہتھیار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

پولیس والے چلے گئے تھے مگر ہمارا گھر رشتہ داروں سے اور محلے والوں سے بھر گیاتھا۔

تھوڑی دیر بعد مجھے بہت زور کی سردی لگنے لگی۔ میرے دانت بجنے لگے۔ میرے اوپر لحاف ڈال دیا گیا۔ میں نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’بچّہ ہے— بری طرح ڈر گیا ہے، اسے بخار آرہا ہے۔‘‘

اور یقینا وہ آرہا تھا۔ میں نے بخارکے قدموں کی دھمک کو اپنے کانوں کے ٹھیک قریب سنا۔ میری کنپٹیاں تپتی ہوئی سلاخوں جیسی ہوگئیں۔ ماتھا اس طرح جل رہا تھا کہ اُس پر چنے بھونے جاسکتے تھے۔ میں جس بستر پر لیٹا تھا اس کی چادر اتنی گرم ہوگئی تھی کہ لگتا تھا تھوڑی دیر میں دھواں دے کر سلگنے لگے گی۔

میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

کیا میرے دماغ پر بھی فالج گر گیاہے۔ کیا یہ فالج کی بارش ہے؟ ایک گرم تپتی جلتی ہوئی بارش؟ میں نے ہوش کھوتے ہوئے سوچا۔ اس کے بعد صرف کچھ آوازیں تھیں جو میں سنتا تھا۔ اور ا نہیں آوازوں سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا گمان گزرتا تھا۔

’’ایک سو پانچ اعشاریہ سات۔‘‘
’’ایک سو چھ۔‘‘

باربار کوئی میرے منھ اور بغل میں کوئی لجلجی سی سلائی لگا دیتا تھا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(۵۵)
دسمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ جاڑے نے دُھند اور کُہر کے پر پھیلا کر ہر شے اپنے حصار میں لے لی۔ خاص کر نہروں کے درمیانی خطے میں یہ کُہر اتنا زیادہ تھا کہ کبھی تمام دن نکل جاتا،مگرسورج کو ایک لمحے کے لیے بھی منہ دکھانے کو راستہ نہ ملتا۔ بس دُھند کے غبار تھے،جو اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے اور انسانوں کی آنکھیں گویا سائبیریامیں جا پہنچیں تھیں،جو سفید سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ولیم ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ کمرے سے نکل کر کچھ دیر کے لیے کوٹھی کے صحن میں آجاتا،جو ایک ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی آموں کے باغ کا بھی ایک آدھ چکر لگا لیتا۔ یہ باغ اُسے اِتنی دھند میں نظرتو نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتاتھا۔ اِس کے علاوہ اُس کی آمدو رفت ہر جگہ بند ہو چکی تھی۔ آج دُھند تو موجود تھی لیکن اُس میں اتنی شدت نہیں تھی اور یہ پورے پندرہ دن بعد ہوا تھا۔ ولیم نے کمرے سے نکل کردیکھا،سورج سر پر آچکا تھا اور مدھم دھوپ ٹھنڈی گھاس کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔ لیکن گھاس ابھی گیلی تھی۔ ولیم اپنی کرسی صحن میں لگا کر بیٹھ گیا اور اُس اَندھی دھوپ کو غنیمت جان کر سینکنے لگا۔ کچھ عرصے سے اُس کے ہاتھ میں بید کی بجائے عصا آچکا تھا۔ اُس نے وہ عصا ایک طرف بینچ کے ساتھ لگا دیا۔ سر پر اُون کی ٹوپی جو اَب کافی میلی ہو چکی تھی،کے اُوپر چوڑے کناروں کا ہیٹ اچھی طرح سے جما لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر ولیم نے،جہاں تک نظر جا سکتی تھی،اِس دُھندلائے ہوئے منظر کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کی نظر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی اور عینک کے شیشے بھی اِتنے پرانے ہوگئے تھے کہ اُن کو صاف کرکر کے گھسا دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے واضح اور صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر بھی اُسے بہت ساری چیزیں ویسی ہی نظر آ رہی تھی،جیسی اُس کے بچپن میں تھیں۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا،وہی آموں کے باغ،وہی کوٹھی،وہی نہریں اور وہی دور تک آلو،مکئی اور کماد کے کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ کوٹھی کے صحن کے ایک کنارے پر کھڑا پیپل کا درخت بھی ویسا ہی تروتازہ تھا،آلووں کی فصلیں اور بیلیں سخت دُھند سے بہت حد تک سڑ گئی تھیں۔ مگر یہ واقعہ بھی ہر سال اُسی طرح سے ہوتا تھا۔ اگر پورے منظر میں کوئی شے بدلی تھی تو وہ خود ولیم تھا۔ وہ مسلسل اورمزید تیزی سے بدل رہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بدل رہا تھا،بلکہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا تھا،وہ اپنی ذات سے بے نیاز بھی ہوتا جارہا۔ حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی ایک عرصہ ہواچھوڑ دیں تھیں۔ اِس حالت میں تمام نوکر بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوچکے تھے۔ شاید اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا،ولیم کی نقد پونجی اب اِس قابل نہیں رہ گئی کہ اُس پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ کیونکہ ذرائع آمدن تو کبھی کے ختم ہو چکے تھے۔ جب ذرائع نہ رہیں،تو دولت کے کنویں بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی،اُس کوٹھی کے صحن میں بڑی بڑی گھاس اور کمروں میں چیزیں گردسے اٹی جا رہی تھیں،جن کو صاف کرنے والا شاید اب کبھی نہیں آنا تھا۔ اِن چیزوں کے علاوہ ولیم نے بولنا اور بات کرنا بھی کم کردیا۔ پچھلے چھ مہینے سے مسلسل خاموشی نے اُسے اپنی ذات میں اِتنا داخل کر دیا کہ سب کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ حتیٰ کہ اپنے جسم کی خارجی ہیئت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کئی کئی دن کپڑے نہ بدلتا۔ کئی کپڑے تو اب پانچ پانچ سال پُرانے ہو گئے تھے۔ یہ پرانے کپڑے پہلے دھوبی کے ہاں سے باقاعدہ دُھل کے آتے تھے مگر اب یہ تکلف بھی جاتا رہا تھا اور وہی میلے کچیلے کپڑے پہن کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا۔ کبھی تو سارا سارا دن باہر ہی گزار دیتا اور آدھی رات کے وقت جاکر کوٹھی میں داخل ہوتا۔

اوکاڑہ شہر میں،رینالہ شہر اور اسی طرح دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پھرتا رہتا۔ ولیم کی اِس آوارہ گردی سے اِن علاقوں کا قریب قریب ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اِسی آوارگی میں ولیم کے کئی دوست بھی بن چکے تھے،جو اُسے چائے پلا دیتے،اگر رات رہنے کی کہیں ضرورت ہوتی،تو وہ چارپائی اور کھانے کا بندوبست بھی کر دیتے۔ اگر دور نکل جاتا تو وہ کئی دن کوٹھی پر واپس نہ آتا۔ مگر یہ باتیں گرمیوں کی تھیں۔ سردیوں میں عمر کے اِس حصے میں وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے پچھلے ایک مہینے سے کلیانہ اسٹیٹ اور شہر سے باہر نہ نکلا کیونکہ بڑھاپا،نزلے،بخار اور دوسری چھوٹی موٹی بیماریوں کے ذریعے اپنے اثرات بھی دکھانے لگا تھا۔ پچھلی سردیوں کی بات ہے نمونیے سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ناشتا اور کھانااکثر اوقات ولیم کے ایک پُرانے نوکر کے ہاں سے پک کر آجاتا،جو اَب اُس کا نو کر تو نہ رہا تھا لیکن مروت کا پُرانا رشتہ ابھی بھی قائم تھا اورولیم کی کوٹھی کے پچھواڑے ہی میں رہتا تھا۔ اُس نے کر کرا کے اپنی تین ایکڑ زمین بنا لی تھی اور کچھ زمین برگیڈئر صاحب کے منشی سے راہکی پر لے کر کاشت کرتا تھا۔ وہ اُس میں سبزیاں وغیرہ اُگاتا،پھر اُنہیں شہرمیں بیچ کر گھر کا گزارہ چلا رہاتھا۔

ولیم کُرسی پر کافی دیر اُسی طرح بیٹھا،اِس نکمی دھوپ میں اپنے آپ کو ٹھٹھراتا رہا کیونکہ مسلسل کمروں میں بند رہنے سے اُسے آج گھبراہٹ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر دو چار قدم تک چہل قدمی بھی کرلیتا۔ ولیم کو اس حالت میں دو گھنٹے ہوگئے۔ حتیٰ کہ سورج پھر دُھند کی دبیز تہوں میں دب گیا اور اندھیر سا چھا گیا۔ اب ولیم اُٹھ کر کوٹھی کے پچھواڑے فارم کی طرف چلا گیا،جو کبھی اُس کا اپنا تھا۔ اب اُس کا مالک ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر تھا،جو خود تو وہاں نہ رہتا تھا۔ لیکن اُس کے مزارعوں کے گھر موجود تھے۔ اُن کے ولیم کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے،جن میں اُس کا وہی پُرانا ملازم بھی تھا۔ ولیم کو دیکھ کر ایک لڑکا بھاگ کر آگے بڑھا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلانے لگا۔ دوسرے آدمی نے ایک چار پائی اُٹھا کر اُس آگ کے پاس رکھ دی۔ جب آگ کا الاؤ روشن ہو گیا تو ولیم چارپائی پر بیٹھ گیا اور جلتی ہوئی آگ سے ہاتھ تاپنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہی آدمی چائے اور روٹی اور روکھا سوکھا سالن،جو آلوؤں کی بُھجیاپر مشتمل تھا،لے کر آ گیا۔ ولیم نے عین پنجابیوں کی طرح چارپائی پر چوکڑی مار کر کھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح کھانا کھلانے یا چائے پلانے میں اب مقامی لوگوں کے اندر لالچ کا کوئی مادہ نہیں تھا اور نہ کوئی احسان کا جذبہ کار فرما تھا۔ بلکہ یہ ایسی خدمت تھی،جس کا معاوضہ صرف شکریے پر ختم ہوجاتا،جو ولیم نے کبھی زبانی نہیں کیا تھا۔ شاید دل میں اُس کی گواہی موجود ہو۔ بعض اوقات ولیم کے لیے کئی گھروں سے اکٹھا چائے اور کھانا آجاتا،جسے وہ کبھی واپس نہ کرتا اور اُس وقت کے لیے ذخیرہ کر رکھتا جب کہیں سے نہ آتا۔ کیونکہ اِس طر ح کے مواقع اکثر پیش آ جاتے تھے۔ جب ہفتہ ہفتہ کسی کے گھر سے کچھ نہ آتا۔ کھانا کھا کر اور چائے پی کر ولیم بہت دیر تک وہیں بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ اُسے یہ آگ اِتنا سکون دے رہی تھی،جیسے ولیم کی زندگی کی آخری اور پہلی خواہش یہی تھی،جو پوری ہو گئی تھی۔ پاس تین چار آدمی اور بھی بیٹھے آگ جلاتے رہے اور تاپتے رہے۔ اِس دوران وہ بہت سی باتیں فصلوں کے متعلق،اپنے کام کے متعلق،اپنی رشتہ داریوں کے متعلق،کچھ جگ بیتی غرض بہت کچھ کہتے رہے،جنہیں ولیم سنتا تو رہا لیکن بولا ایک لفظ بھی نہیں۔ ولیم کو اِن بے معنی اورمعصوم باتوں کے سننے کی عادت سی ہو گئی تھی،جن کا نہ اُسے کچھ فائدہ تھا اور نہ نقصان۔ ہاں اِن باتوں کے ذریعے سے اُن لوگوں کے گھریلو جھگڑے،شادی،غمی اور معاشی حالات سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ ولیم کو اِسی حالت میں رات کے دس بج گئے اور وہ اُٹھ کر کوٹھی میں چلا گیا۔

اگلے دن ولیم ابھی اپنے بستر میں ہی تھا کہ باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں بالکل قریب کوٹھی کے صحن سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ولیم حیران تھا کہ یہ کیا ہے؟رات جب وہ بستر پر گیا تھا،تو کوٹھی کے صحن کے سب دروازوں کو اُس نے اپنے ہاتھوں سے تالے لگائے تھے۔ پھر صبح سویرے صحن میں یہ کیا ہڑبونگ مچ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنی چھڑی پکڑی،سر پر اُونی ٹوپی جمائی اور بغیر چادر اوڑھے صحن میں آ گیا۔ دیکھا تو کئی آدمی ایک ٹریکڑٹرالی سے نیچے اُتر کر صحن میں گھوم رہے تھے۔ ارد گرد سے کوٹھی کا جائزہ لے رہے تھے اور شور شرابہ کر رہے تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں چھ سات سپاہی بھی آئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک دو کاریں تھیں لیکن اب تمام لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر صحن میں آگئے تھے۔ ولیم نزدیک پہنچا تو ایک شخص آہستہ رفتار سے آگے ہو کر اُس کی طرف بڑھا اور ایک فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،ولیم صاحب،میں یہاں کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں،آپ اِن کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ کوٹھی آپ ابھی خالی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ پنجاب نے یہ کوٹھی جناب سید شمس الحق گیلانی کے نام الاٹ کر دی ہے۔ آپ اپنا جو کچھ سامان اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں،اُس کی اجازت ہے۔

اُس شخص کے یہ الفاظ سن کر ولیم کے اوسان گویا بالکل جاتے رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جیسے کسی نے سر پر ایک زور دار ضرب لگائی ہو۔ اگرچہ اِن پہلے جملوں کے بعد بھی اُس نے ولیم کو دوچار باتیں کیں لیکن وہ اُس نے بالکل نہیں سنیں،بس مجسٹریٹ کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ولیم پر یہ سکتہ کچھ ہی لمحوں تک جاری رہا۔ وہ فوراً اُس کیفیت میں داخل ہو گیا،جہاں ہر چیز نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

ولیم کے اوسان جب پہلے جھٹکے سے بحال ہوئے تواُس نے مجسٹریٹ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے مجھے کچھ دِنوں کی مہلت دے دی جائے۔؟

سوری ولیم،وہ دوبارہ بولا،میری معلومات کے مطابق آپ کو تین بار اِس کے متعلق اطلاع دی جا چکی ہے۔ اِس لیے اب وقت نہیں۔
ولیم بخوبی سمجھ رہا تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اُسے اس معاملے میں مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ اگر اس وقت مجسٹریٹ تین مرتبہ کے نوٹس کی بات کر رہا تھا تو کاغذات میں یہ خانہ پُری ضرور کر لی گئی ہو گی۔ اِس لیے اب اُس سے مزید تکرا ر بھی فضول تھی۔ اِدھر سردی اور کُہر کے ساتھ ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے ولیم کا اِس حالت میں گرم چادر کے بغیر کھڑے رہنا خود کشی کے مترادف تھا۔ اُس نے جلدی سے ایک اور سوال کیا،میرا بہت سا سامان اِس وقت یہاں موجود ہے،جسے میں ابھی اُٹھانے سے قاصر ہوں۔ آپ اگر آج کا دن رُک جائیں یا فی الحال میرا سامان ان سردیوں تک یہیں پڑا رہنے دیں یا مجھے ایک بار شمس الحق سے ملاقات کر لینے دیں،پھر آپ جو کارروائی چاہیں، کریں۔

سردی کی شدت،ولیم کا بڑھاپا اور سب سے بڑھ کر بُرد باری سے پیش کی گئی زبانی درخواست نے مجسٹریٹ کو انتہائی متاثر کیا۔ اُسے توقع تھی،ولیم اِس حکم کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا۔ چیخ وپکار کے ساتھ واویلا شروع کر دے گا اور دیواروں سے لپٹ جائے گا۔ اُنہیں گالیاں دے گا۔ پنجاب حکومت،بیوروکرسی،سیاست دان اور پاکستانی عوام کو بُرا بھلا کہے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں دیر تک بدمزگی پیدا ہو گی۔ نتیجے میں اُسے زبردستی اُٹھا کر باہر پھینکنا پڑے گا۔ لیکن جب یہ سب کچھ نہ ہوا تو مجسٹریٹ نے سب لوگوں کو حکم دیا،وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔ سب نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے تو مجسٹریٹ ولیم کو کاندھے سے پکڑکر کوٹھی کے دالان کی طرف لے گیا۔ وہاں انتہائی بوسیدہ کرسیوں میں سے ایک پر ولیم کو بیٹھنے کے لیے کہا اور دوسری پر خود بیٹھ گیا۔ پھر کچھ لمحے خموشی سے گزر گئے۔ اِس کے بعد مجسٹریٹ بولا،ولیم صاحب ایک بات طے ہے،اب کوٹھی آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔ اِس بارے میں دو رائے نہیں رہیں۔ رہا آپ کو وقت دینے کا معاملہ،وہ مَیں اپنی طرف سے آپ کی شرافت کی وجہ سے دودن کا دے سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مَیں بے بس ہوں۔ میرا مشورہ یہ ہے،اپنے سامان کو اُٹھا کر کسی دوسری جگہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ کوٹھی نہ آپ سے اب بچ سکے گی،نہ آپ اِس میں وقت ضائع کریں۔ ابھی آپ ٹھنڈے دل سے اپنے گرم بستر میں جائیں،کچھ دیر لیٹ کر یہ سوچیں،آپ کو کہاں منتقل ہونا ہے اور سامان کہاں رکھنا ہے؟ مَیں جا رہا ہوں اور جمعہ کے روز بارہ بجے آؤں گا۔ اِتنا کہا کر مجسٹریٹ اُٹھ کھڑا ہوا اور جیسے ہی چلا،ولیم کی آواز سنائی دی،مسٹر سنیے۔
جی،مجسٹریٹ نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا۔

آپ دیکھ رہے ہیں،مَیں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ اِس لکڑی کے بغیر چلنے میں میرے گھٹنے درد کر تے ہیں۔ کاندھے پر چادر پھیلانے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤں تو بازؤوں کے سِرے کانپ اُٹھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟

مجسٹریٹ ولیم کے اِس چبھتے ہوئے سوال پر لرز کے رہ گیا۔ بڈھے نے کتنی کڑواہٹ کے ساتھ اُس کی توہین کی تھی۔ اُ س کی سمجھ میں نہ آیا،وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا اور ولیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،ولیم آپ بہت معقول آدمی ہو۔ سول سروس میں رہے ہو۔ اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہ بھی دوں تو مجھے معاف کرنا۔ یہ کہہ مجسٹریٹ جلدی سے باہر نکل گیا۔ اُس کے بعد تمام گاڑیاں اور لوگ رخصت ہونے لگے۔ سب کے بعد ٹریکٹر سٹارٹ ہوا،جس کی آواز نے دور تک ولیم کا پیچھا کیا۔ آج پہلی بار اُس نے محسوس کیا،کٹریکٹر کی آواز انتہائی کرخت اور شور پیدا کرنے والی ہے۔ وہ حیران تھا،اِس سے پہلے اُسے اس مشینری کی آواز اتنی بیہودہ کیوں نہیں لگی؟

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دوسرے دن صبح صبح گھر کی کنڈی بجی۔ صبح صبح گھر کی کنڈی کا بجنا اُس زمانے میں کسی کی موت کی خبر آنا تھا اور وہی ہوا۔ معلوم ہوا کہ گاؤں میں عصمت چچّا ممّا ریل سے کٹ کر مر گئے۔ اُنہوں نے خودکشی نہیں کی تھی۔ وہ تو رساول کی ہانڈی لے کر کسی رشتے دار کے گھر جارہے تھے، مگر جس کو وہ سڑک یا پگڈنڈی سمجھ کر چلتے جارہے تھے، وہ دراصل گاؤں کے قریب سے نکلنے والی ریل کی پٹری تھی۔

عصمت چچّا ممّا کا کمزور اور تقریباً بوڑھا ہوچلا جسم، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا اور رساول کی ہانڈی پرزے پرزے ہوکر واپس مٹّی کی جون میں آگئی۔

یہ خبر سنتے ہی گھر کے تمام افراد پریشانی اور عجلت میں گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ صرف نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی رہ گئیں۔ اچھّن دادی تو کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث بالکل معذور ہوچکی تھیں اور بستر سے اُٹھ کر چلنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

وہ بستر پر ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی تھیں اور اب اُن کے جسم پرجگہ جگہ زخم بھی پڑ گئے تھے، کیونکہ وہ کروٹ بھی نہیں لے پاتی تھیں۔ اُن کے کھانے پینے کی اشیاء اُن کے سرہانے ہی رکھی ہوتیں، جنھیں جب اُن کی طبیعت چاہتی، ہاتھ اُٹھاکر منھ میں ڈال لیتیں۔ باقاعدہ کھانا کھانا تو نہ جانے کب کا چھوٹ گیا تھا، مگر بہرحال اُن کے پیٹ میں ابھی آنتیں زندہ تھیں اور اسی لیے اُن کے بستر کے قریب پہنچتے ہی بدبو کا ایک زبردست بھبکا ناک میں جاتا تھا۔ اِس لیے میں اُن کے پاس جانے سے ہمیشہ کتراتا تھا۔
نورجہاں خالہ ہمیشہ کی طرح زیادہ تر وقت نہانے یا نہانے کی کوشش میں ہی گزارتی تھیں۔ کبھی کبھی آنگن میں ہی کپڑے اُتار کر نہانا شروع کر دیتیں اور اُنہیں بڑی مشکل سے قابومیں کیا جاتا۔ باورچی خانے کو غسل خانہ سمجھتی تھیں اور غسل خانے کو باورچی خانہ۔ نورجہاں خالہ نے گھر کے سب لوگوںکی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔
عصمت چچّا ممّا کے کٹ کر مرنے کی خبر سنتے ہی وہ فوراً اپنا جمپر اُتارتے ہوئے باورچی خانے میں نہانے کے لیے بھاگیں۔ اُنہیں آہستہ آہستہ اپنے ننگے ہونے کا احساس بھی ہونا تقریباً بند ہو گیا تھا۔ آخر گھر والوں کو اُنہیں تقریباً زبردستی گود میں اُٹھا کر غسل خانے لے جانا پڑا، جہاں انھوں نے لوٹا بھر بھر کر نہانا شروع کردیا۔

’’گڈّو میاں تم گھر رہنا۔ آج اسکول کی چھٹی کر لو۔‘‘ بڑے ماموں نے چلتے چلتے کہا تھا۔
گھر خالی ہوگیا مگر میرا دل نہیں گھبرایا بلکہ مجھے ایک آزادی کا احساس ہوا۔ ایک خطرناک بیکراں آزادی۔ وجود کے اندر پھیلتا ہوا ایک وسیع تر سفید صحرا جس میں کالے سائے اپنی اصل شکل و صورت اور خدوخال کے ساتھ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اندر سے کنڈی لگا رکھی تھی، جاکر دروازہ کھولا۔

سامنے آفتاب بھائی کھڑے تھے۔ اپنی بھوری بے رحم رنگت اور آنکھوں کے ساتھ۔ منھ میں وہی گھٹیا اور بدبو دار سگریٹ تھا۔
آفتاب بھائی اندر آگئے۔
’’کیا ہوا؟ گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کہاں گئے ہیں؟‘‘
’’عصمت چچّا ممّا مر گئے۔‘‘
’’ہوں— اچھا! دیکھو یار گڈّو میاں باورچی خانے میں کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے ناشتہ نہیں کیا۔ بڑی بھوک لگی ہے۔‘‘

وہ شاید اپنی بیوی (یا جو بھی ہو) سے لڑکر آرہے تھے۔ وہ آنگن سے باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگے۔میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا، مگر میرے پاؤں کی ہڈیاں نفرت کے بھیانک بوجھ سے کڑکڑا رہی تھیں۔ اور گھٹنوں کی پیالیوں نے جیسے گھومنا بند کر دیا تھا۔ آفتاب بھائی نے برتن اور ہانڈیاں کھکوڑنا شروع کر دیں۔ میں چپ چاپ باورچی خانے کی چوکھٹ سے لگا کھڑا تھا۔

آخر اُنہیں ایک ہانڈی میں رات کی پکی فیرینی مل ہی گئی۔ وہ فرش پر اُکڑوں بیٹھ گئے اور ایک چمچہ ہانڈی میں ڈال کر جلدی جلدی فیرینی کھانے لگے۔ میری طرف سے اُن کی پیٹھ تھی۔

’’گڈّو میاں پانی لاؤ۔‘‘ اُنہوں نے بغیر گردن موڑے ہوئے کہا۔

میں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ میرے پیروں کے پاس مسالہ پیسنے کی پتھّر کی وزنی سل رکھی ہوئی تھی۔ اور میرا کن کٹا خرگوش اُس سل پر اُچھل کود کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پاگل چوہا جس کے دماغ پرفالج گر گیا تھا اور جو صرف رات میں ہی اپنے بِل میں سے باہر نکلتا تھا۔ آج دن کی روشنی میں بھی، اپنا سر ایک طرف کو ڈھلکائے ہوئے آٹے کے کنستر کے پیچھے سے چلتا ہوا چولہے کی طر ف جارہا تھا۔

میں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ برتنوں کے پیچھے دُبکے ہوئے کاکروچ بھی باہر آکر فرش پر رینگنے لگے ہیں۔

اچانک میرے اندر پلنے والا وہ تاریک، طویل القامت سایہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ میرے دونوں ہاتھوں میں منتقل ہوگیا۔ میرے ہاتھ ایک عفریت کے ہاتھوں میں تبدیل ہوگئے۔

اب اِن ہاتھوں کی اپنی الگ دنیا تھی، الگ ذہن اور الگ شخصیت اور الگ اعصابی نظام۔ یہ ہاتھ میرے باقی جسم اور میرے دماغ کے تئیں مکمل اجنبی تھے۔

ہاتھوں نے مجھے جھکنے کے لیے کہا۔ میں جھکا اور میرے ہاتھوں نے پتھّر کی اُس وزنی سل کو اِس طرح اُٹھا لیا جیسے کوئی زمین پر پڑا ایک سوکھا ہوا زرد پھول اُٹھا لیتا ہے۔ سل پر ہلدی کا رنگ جم گیا تھا۔

آفتاب بھائی اُسی طرح اُکڑوں بیٹھے بیٹھے، ہانڈی میں سے فیرینی کھارہے تھے۔ میں اُنھیں منھ چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مگر اُن کی پیٹھ باربار ایک فحش انداز میں جنبش کرتی نظر آتی تھی۔ میں نے اِس فحش منظر کو شاید پہلے بھی کہیں دیکھا ہو، یا محسوس کیا ہو۔

پتھّر کی سِل کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اونچا اُٹھائے اُٹھائے، میں ننگے پیر بہت آہستگی کے ساتھ آفتاب بھائی کی طرف بڑھنے لگا۔ میں اُن کے سر پر پہنچ گیا۔ اُبٹن اور خون کی ملی جلی بو نے میری ناک کے نتھنوں کو چھو لیا۔

اپنی سانس روک کر، تمام طاقت کے ساتھ پتھّر کی سِل کو تھوڑا اوراونچا اُٹھائے ہوئے، میں نے اُسے آفتاب بھائی کے سر پر دے مارا۔ اُن کے منھ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی زور سے ڈکار لیتا ہے۔ مگر یہ چیخ ہرگز نہ تھی۔ انھیں چیخنے کی بھی مہلت نہ ملی۔

اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اُن کا سر فرش پر جاکر لڑھک گیا۔ وہ سر جو پوری طرح کچل گیا تھا۔
میرے ہاتھوں سے سل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ سِل پر آفتاب بھائی کے بھیجے کے ریشے اور خون کے چھیچھڑے چپک کر رہ گئے۔

کھیر کی ہانڈی اپنی جگہ ویسی کی ویسی ہی رکھی تھی۔ مگر آفتاب بھائی کے منھ، حلق اور آنتوں تک میں پھنسی ہوئی سفید فیرینی باہر آکر کھرنجے کے فرش پر پھیل گئی۔

وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔

مگر میں نے صاف صاف اور واضح طو رپر دیکھا اس میں مجھے رتّی بھر بھی شبہ نہیں ہے۔ ایک کاکروچ فیرینی کی ہانڈی کے پاس بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ پھر شاید وہ ہنسا بھی تھا۔

میں نہ جانے کب تک وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا۔ باورچی خانے کے فرش پر گاڑھے گاڑھے خون کی ایک لکیر آگے بڑھتی جاتی تھی۔

غسل خانے میں سے لگاتار، نورجہاں خالہ کے لوٹے بھربھر کے جسم پر پانی ڈالنے کی وحشت انگیز آوازیںآرہی تھیں۔ وہ دنیا مافیہا سے بے خبر نہانے میں گم تھیں۔
تب آفتاب بھائی کی لاش کے قریب کھڑے کھڑے، اچانک جیسے مجھے ہوش آیا، میری سمجھ میں آگیا کہ میں نے آفتاب بھائی کا قتل کر دیا ہے۔ ان کی سفید قمیص اور بھوری پتلون ہی اس قتل کا حلیہ تھی۔

دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ سورج کا رُخ ٹھیک باورچی خانے کی طرف تھا۔ وہاں تیز چمک اور روشنی پھیل گئی۔ اور میرے دماغ میں بھی۔

میں وہاں سے اُلٹے پاؤں بھاگا اور اندر والے دالان میں جاکر جلدی جلدی اسکول کی یونیفارم کی خاکی پتلون پہنی۔ سفید قمیص تو پہلے سے ہی پہن رکھی تھی۔ کرمچ کے سفید پی ٹی جوتے پہنے اور پھر اپنے اسکول کا بستہ اُٹھایا۔ اسے گلے میں ڈالا اور سب کچھ ایسے ہی چھوڑ کر گھرسے باہر نکل آیا۔ باورچی خانے میں آفتاب بھائی کی لاش کو چھوڑ کر اور غسل خانے میں نورجہاں خالہ کو نہاتا چھوڑ کر اور وہاں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازوں کو چھوڑ کر، میں گھر سے دور، شاہراہ پر آکر ایک چھوٹی سی پُلیا پر بیٹھ گیا۔ اسی راستے پر تھوڑا آگے چل کر میرا اسکول تھا اور اسکول کی چھٹی ہونے میں ابھی کم از کم دو گھنٹے ضرور تھے۔ پھر پُلیا سے نیچے اُتر کر میں نے پانی میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ مجھے دھوکہ ہوا اب کچھ چھوٹی مچھلیاں میرے ہاتھوں کی طرف لپکی تھیں۔ مگر ہاتھوں پر خون کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہاں خون کی کوئی بو نہ تھی۔

میں پُلیا کے نیچے بہتے پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ چہرہ پانی میں اُگے ہوئے سیوار میں پھنس گیا تھا۔

تیسرے پہر جب اسکول کی چھٹی ہوئی اور بچّے باہر نکلنے لگے، تب میں بھی اُنھیں میں شامل ہوکر گھر کی طرف واپس چلنے لگا۔

مجھے خنکی سی محسوس ہوئی۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اب اتنی دیر بعد، پہلی بار مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ اور جسم میں جھرجھری کا احساس ہوا۔
جیسے جیسے گھر پاس آتا جارہا تھا، میرے پیر من من بھر کے ہوتے جاتے تھے۔ میرا سر گھومنے لگا۔ میں گھروں کی دیواروں کا سہارا لے کر چلا۔

میرا بستہ میرے گلے میں اول جلول ڈھنگ سے اِدھر اُدھر ڈول رہا تھا، اور میں اسے سنبھال پانے میں ناکام تھا۔

میرے کندھے جھک رہے تھے۔ بستے کا بوجھ اچانک اتنا بڑھ گیا کہ مجھے لگا میری کمر ٹوٹ جائے گی۔ گلا بہت خشک ہوگیا۔ میں نے تھوک نگلنے کی کوشش کی مگر تھوک ندارد تھا۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ ناجانے کب سے میں نے پیشاب نہیں کیا ہے۔ شاید میرے گردوں میں پیشاب کی ایک بوند بھی نہ تھی۔ میرے سارے وجو دمیں ایک خوفناک خشکی پھیلنے لگی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اکیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نورجہاں خالہ کو نہانے کا مِراق ہو گیا۔ چھ چھ گھنٹے نہاتی تھیں۔ غسل خانے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ یہاں تک تو خیر برداشت کر لیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ صابن، تولیہ اور بالٹی میں پانی بھر کر باورچی خانے کے اند رجانے لگیں۔ وہ باورچی خانے میں نہانے کی کوشش کرنے لگیں جہاں سے اُنہیں بڑی مشکل سے کھنچ تان کر باہر نکالا جاتا، مگر دو تین بار وہ اس کوشش میںکامیاب بھی ہو چکی تھیں۔ دماغی بیماریوں کے معالج کو دکھایا گیا۔ اس نے اُن کے دماغ کے ایک خاص حصّے پر فالج کا اثر بتایا۔ کچھ دوائیں دے کر اُس نے یہ دلاسا دیا کہ کچھ عرصے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔
وہ دماغوں پر فالج گر نے کا زمانہ تھا۔ جس کو دیکھو اُس کے دماغ پرفالج گر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عصمت چچّا ممّا (وہ ایک طرف سے رشتے میں چچا ہوتے تھے اور دوسری طرف سے ماموں اس لیے میں اُنہیں چچّا ممّا کہتا تھا) گاؤں سے، جو ہمارے گھر سے دس کوس دور تھا، ہمیشہ کی طرح اس سال بھی جب رساول کی ہانڈی لے کر آئے تو گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے پہنچتے اُن کے دماغ پر فالج گر چکا تھا۔ وہ رساول کی ہانڈی لیے باربار پاخانے کی طرف دوڑتے تھے۔ جب اُن کو پکڑ کر قابو میں کیا گیا تو وہ زور زور سے چیختے۔۔۔ ’’میں رکھوں گا، باورچی خانے میں، اپنے ہاتھ سے رساول کی ہانڈی رکھوں گا۔‘‘
گویا ایک وبا پھیلی ہوئی تھی، عجیب و غریب وبا، کہیں نہ کہیں سے کسی کے اس وبا کے شکار ہونے کی خبر آتی ہی رہتی۔
حد تو یہ ہے کہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پاگل چوہا رات گئے باورچی خانے میں گھومتا پھرتا تھا اور کسی طرح بھی چوہے دان میں نہ پھنستا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا رہتا تھا، یقینا چوہے کے دماغ پر بھی فالج گر گیا تھا اور اُ س کی یادداشت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شاید وہ باورچی خانے کو چوہے دان سمجھتا تھا۔ جس سے نکلنے کے لیے وہ رات کے سنّاٹے میں بے تُکی اُچھل کود کرتا رہتاتھا اور وہیں ایک کونے میں روٹی کے ٹکڑے سمیت لگے ہوئے چوہے دان کو باورچی خانہ سمجھتا تھا جہاں تک پہنچ پانا اُس کی دانست میں ممکن ہی نہ تھا۔
مجھے تو یہ بھی وہم ہے کہ شاید چیونٹیاں بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھیں، کیونکہ اُن دنوں وہ قطار بنا کر چلنے میںناکام تھیں۔
ریحانہ پھوپھی اس وبا کی ذمہ دار دیوالی کی جادو کی ہانڈی کو سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار دیوالی کی ہانڈی نے کئی بار، رات میںمسلمانوں کی بستی کے اوپر گشت لگایا تھا۔ جادو کی ہانڈی میں دیا جلتا ہوا اُنھوں نے صاف دیکھا تھا اور ہانڈی سے نکلتی بھیانک زنّاٹے دار آواز کو بھی سنا تھا۔ مجھے صحیح علم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ دماغ پرفالج گرنے کی جتنی خبریں ہمارے گھر آئی تھیں، وہ مسلمانوں کی ہی تھیں۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ کچھ موسم کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔

فروری کے آخری دن تھے۔ سردی اور گرمی دونوں آپس میں اونچا نیچا یا چور چھپّا کے کھیل رہے تھے۔ سردی گرمی جب ایک ساتھ ہوتیں ہیں تو بڑی عجیب اور ناقابل فہم بیماریاں پھیلتی ہیں۔

اُدھر باورچی خانے میں کاکروچ بڑھتے جاتے تھے۔ دن میں وہ برتنوںکے پیچھے چھپے رہتے تھے اور رات میں جب کھانا سمیٹ دیا جاتا تھا تو آرام کے ساتھ فرش پر اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے پھرتے تھے۔ میں تو چونکہ رات میں بھی، ایک آدھ بار باورچی خانے میں شکر پھانکنے کے لیے ضرور جاتا تھا، اس لیے پاگل چوہے اور کاکروچوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔

عجیب زمانہ تھا، ہر طرف دماغی فالج زدہ لوگ بک بک کرتے اورا ُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے نظر آتے۔ ان کی جھک اور بکواس نے چاروں طرف ایک شور مچا رکھا تھا اور میں اس شور میں ہر وقت ہانڈیوں کے ڈھکّن اُٹھا اُٹھا کر کھانوں کے رنگ دیکھتا رہتا تھا۔ سرخ رنگ کا کھانا، ہرے رنگ کا کھانا، پیلے اور نارنگی رنگ کا کھانا، بینگنی رنگ یہاں تک کہ سفید اور سیاہی مائل کھانا بھی مگر نیلے رنگ کا کھانا مجھے آج تک نہیں ملا۔

آخر نیلے رنگ کا کھانا کیوں نہیں؟میںسوچا کرتا۔ شاید اس لیے کہ نیلے رنگ کا کھانا یا تو آسمان سے اُترتے ہوئے فرشتوں کا ہوسکتا تھا یا پھر شیطانوں کا۔ ایک زہریلا کھانا۔ اس لیے اچھا ہی تھا کہ نیلے رنگ کے کھانے کا وجود نہیں تھا کیونکہ انسان کو آج تک فرشتے اور شیطان میں فرق محسوس کرنے کی تمیز پیدا نہیں ہوسکی۔

پھر ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ دماغی فالج کی وجہ آنتوں میں پائے جانے والے کچھ جراثیم ہیں۔ پیٹ اور آنت کی بیماریوں کی وجہ سے ہی لوگ دماغی طور پر غیر متوازن ہورہے ہیں۔ اور ایک خاص قوم، مذہب، نسل اور خطّے کے لوگ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی تھا، ممکن ہے کہ یہ ایک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی ہو۔ مگر لوٹ پھر کر پھر وہی آنتیں، پھر وہی معدہ، پھر وہی بھوک اور بدنیتی، پھر وہی کھانا، پھر وہی آگ اورپھر وہی باورچی خانہ۔

باورچی خانہ— جو گھر کے سب سے مخدوش مقام کا نام ہے۔

بارہ وفات آگئی، گھر گھر میں موم بتّیاں جلا جلاکر روشنیاں کی گئیں۔ میں نے گھر کی ہر اندھیری کوٹھری، ہر تاریک گوشے اور ہر طاق میں موم بتی روشن کی۔ بارہ وفات کا جلوس نکلا۔ نیاز ونذر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمارے گھر میں مٹّی کے پیالوں میں فیرینی جمائی گئی۔ جب میں، رات کو آنگن میں بیٹھا فیرینی کھارہا تھا تو اچانک مجھے انجم باجی کے ہاتھ کی پکائی ہوئی فیرینی کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہ فیرینی پر چاندی کا ورق اتنے سلیقے اور نزاکت کے ساتھ لگاتی تھیں کہ مٹّی کا پیالہ جگمگا اُٹھتا تھا۔ جیسے وہاں سے چاند طلوع ہو رہا ہو۔

مگر اِس وقت میرے اندر چاند نہیں بلکہ اندھیرا طلوع ہورہا تھا۔ غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

’’آج فیرینی نہیں پکنی چاہئیے تھی۔ زردہ ٹھیک رہتا۔‘‘ میرے کان کو میری ہی منحوس، لمبی اور کالی زبان نے چاٹا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا، لال چمکدار کاغذ سے منڈھا ہوا ہوا کے ساتھ روشن ایک قندیل سست روی کے ساتھ اندھیرے میں اُڑتا چلاجارہا تھا۔
’’میں بھی ایک دن قندیل کی مانند، ہوا کے ساتھ اس تاریک آسمان میں اُڑوں گا۔ میں نے سوچا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مجھے نہیں یاد— اب مجھے یاد نہیں۔ انجم باجی کی شادی کی کوئی اور تفصیل مجھے نہیں یاد سوائے اس کے کہ سرخ جوڑے میں ملبوس ایک بے حد دُبلی پتلی دلہن روتی سسکتی گھر سے رخصت ہو گئی اور میںگھر کی چوکھٹ پر کھڑا،خاموش اس کی پالکی کو جاتا دیکھتا رہا۔

بہت دنوں بعد، شاید تین سال بعد جب انجم باجی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب سے واپس آئیں تو میں اُنہیںپہچان نہ سکا۔ وہ بہت موٹی اور گول مٹول سی ہوگئی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کا قد ٹھگنا سا محسوس ہوتا تھا۔ ان کا پورا جسم قیمتی زیورات سے لدا ہواتھا، مگر وہ ایک الگ داستان ہے جسے میںکسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتا ہوں۔

انجم باجی کی شادی کے بعد مجھے اتنا اکیلاپن نہیں محسوس ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔ اس کا سبب شاید میرے اندر پلتے رہنے والا ایک خطرناک اورپُراسرار غصّہ تھا۔ میں نے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں پوشیدہ اس غصّے کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ یہ ایک لال پیلا غصہ نہ ہوکر ایک سیاہ غصہ تھا جس میں مجھے کچھ نظر نہ آتھا اور یہی بات میرے سکون کا باعث تھی۔ غصّے کے اس سیاہ سائے سے میںہمیشہ بغل گیر رہتا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ساتھی کو جکڑے رہتا تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔میںاپنی پڑھائی بھی دل لگاکر کرتا رہا۔ آفتاب بھائی، اُسی ڈاکٹر کے یہاں ایک کمرے میں رہنے لگے، جہاں وہ کمپاؤنڈری کرتے تھے۔ ہفتوں مہینوں میں کبھی گھر آتے اور وہی نفرت انگیز سگریٹ پھونکتے رہتے۔ جس کی بُو میں ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ اُڑتے اُڑتے یہ خبر بھی آئی کہ اُنھوں نے چھپ کر شادی کر لی ہے۔ پتہ نہیں، میں تو اُن کے پاس جاتا بھی نہیں تھا جبکہ اُنھوں نے مجھے کئی بار بلایا بھی تھا۔ میں آفتاب بھائی سے اِس لیے نہیں ملتا تھا کہ ایک دن تو مجھے اُن سے ملنا ہی تھا۔ میں اپنے وجود میں پلنے والے تاریک غصّے کے حکم کی تعمیل کرتا تھا اور آفتاب بھائی سے ملنے کے لیے مجھے اُس کے اشارے کا انتظار تھا۔

انجم آپا کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور جاتا تھا مگر اب ہم جاسوسی ناولوں کی باتیں نہیں کرتے تھے، خود میری دلچسپی بھی جاسوسی ناولوں میں کم ہو گئی تھی۔ میں غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے لگا تھا۔ خاص طور پر روسی ادب کے شاہکار ناولوں کے تراجم۔

انجم آپا کو اِن چیزوں سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی ا ور نہ ہی اُن میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ اُنہیں سمجھ سکتیں۔ جہاں تک میرا سوال تھا تو میں چار پانچ ماہ میں ہی بہت بڑا ہوگیا تھا۔ میری شکل و صورت یا قد میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہو یا نہیں مگر میرے جسم کے اندر رہنے والی روح کی عمرمیری جسمانی عمر سے بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ اتنی زیادہ کہ کبھی کبھی میری روح کے پیر میرے جسم کی چادر سے باہرنکلنے لگتے تھے اور میں گھبرا کر اپنے غصّے کا کالا،بھیانک ہاتھ تھام لیا کرتا تھا۔ ایسے وقتوں میں وہی مجھے سہارا دیتا تھا۔

مگر انجم آپا سے مجھے اُنسیت ہمیشہ سے تھی اور بارہا میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ شاید وہ مجھے بہت چاہتی تھیں۔ انجم باجی سے بھی زیادہ۔ لیکن اس کا اظہار وہ کبھی نہ کرسکیں۔ اس کی کچھ وجوہات رہی ہوں گی جن کا علم مجھے تب ہرگز نہ تھا، البتہ اب میں کچھ اندازہ لگا سکتا ہوں۔ بہرحال ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے انجم آپا سے اُنسیت تھی یا اُنسیت کا التباس تھا کیونکہ شاید میں خود اس بات کے لیے تڑپ رہا تھا کہ کوئی مجھے چاہے، کوئی۔۔۔ یعنی کوئی لڑکی۔ اپنی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد سے انجم آپا بہت پریشان، بدحال اورافسردہ سی رہنے لگی تھیں۔ اور اُن کے والد جلد ہی اُن کا بیاہ کر دینے کے لیے سرگرداں تھے۔

میں اکثر سوچتا کہ انجم آپا کو کچھ لطیفے سناکر ہنسنے ہنسانے پر مجبور کر دوں مگر یہ مجھ سے کبھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اوّل تو مجھے لطیفے یا دہی نہیں رہتے تھے اور اگرکوئی لطیفہ یاد کرکے میں سنانا بھی چاہتا تو میرا ساتھی، اُن دنوں کا وہ کالا،پُراسرار غصہ مجھ سے اپنی بانھیں چھڑانے لگتا۔

نہیں، ہرگز نہیں! میں کسی بھی قیمت پر اپنے غصّے سے جدا نہیں ہوسکتا تھا۔ میرے لیے گلا پھاڑ کر ہنسنا حرام تھا، اسی لیے میں انجم آپا کو کبھی خوش نہ کر سکا مگر اُن کی خالی اور اُداس آنکھوں میں اپنے لیے پیار کی ایک ایسی چمک ہمیشہ دیکھتا رہا جو جگنو کی چمک سے مماثل تھی۔ جلتی بجھتی— پھر جلتی پھر بجھ جاتی۔

مگر یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ آخر ایک دن بہت خاموشی اور سادگی کے ساتھ انجم آپا کا نکاح پڑھا دیا گیا اور اِس طرح وہ گول، چپاتی کی مانند، چیچک زدہ چہرہ جو مجھے بہت اپنا اپنا سا لگتا تھا میری دنیا سے دور ہوگیا۔ وہ چہرہ جس کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ اُسی منحوس لال گھونگھٹ میں چھپ کر پالکی میں گم ہو گیا جس طرح انجم باجی کا چہرہ ایک دن گم ہو گیا تھا۔

مگر مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔

انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔

گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔

انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟

مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔

انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔

دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟

میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔

آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔

ایسا کیوں تھا؟

مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔

مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔

یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔

میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔
ہاں ہوس کی نشانی—!

Categories
فکشن

نعمت خانہ – سترہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نومبر کے آخری دن تھے یا پھر دسمبرکی شروعات۔ مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آرہا ہے۔ بہرحال زمانہ یہی تھا جب نیازوں اور شادی بیاہوںکا دور آپہنچا۔ ان دنوںمیں نے جتنی دعوتیں کھائیں، ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ میں چونکہ اب بھی گھر میں سب سے چھوٹا تھا بلکہ بچّہ ہی تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے گھر کا ہر فرد دعوت میں مجھے ضرور ساتھ لے جاتا تھا۔ چاہے وہ محلّے کی کوئی شادی ہو یا پھر رشتہ داروں کے یہاں۔ وہ ایک عجیب منظر ہوتا۔ اس زمانے میں شادی ہال یا ہوٹلوں کا رواج نہ تھا۔ محلّے کا کوئی ایک نسبتاً بڑا مکان لے لیا جاتا۔ اس کے آنگن یا دالان میں لکڑی کی تین چار میزیں ملاکر لگا دی جاتیں، ان میزوں پر کالے میل اور سالن اور چکنائی کی موٹی موٹی تہیں جمی ہوتیں۔ میز پوش اگر ہوتے تو سالن کے پیلے پیلے دھبّوں سے بالکل رنگے ہوئے اور پانی سے تر بھی۔ میزوں کے دونوں جانب قطار سے لوہے کی بدرنگ اور بے حد تکلیف دہ کرسیاں لگائی جاتیں، میزیں اور کرسیاں دونوں اوپر نیچے ہلتی رہتی تھیں۔

لوگ اپنی باری کا انتظار الگ بیٹھ کر کم کرتے، وہ کرسیوں کے پیچھے اس طرح کھڑے رہتے جیسے کرسی غائب نہ ہو جائے۔ وہ کھانے والوںکا ہر ہرنوالہ گنتے اور بے چینی کے ساتھ کبھی ایک پاؤں پر زور دے کر ٹیڑھے ہو جاتے تو کبھی دوسرے پیر پر۔ کھانے والے خود بہت جلدی جلدی کھاتے۔ اکثر بغیر چبائے ہی نوالہ منھ میں رکھ کر نگل جاتے، وہ مربھکّوں کی طرح کھانے پر ٹوٹتے تھے۔

کھانے میں بہت زیادہ اشیاء نہیں ہوتی تھیں۔ زیادہ تر قورمہ روٹی (جسے وہ لوگ گوشت روٹی کہتے تھے) ورنہ اگر صاحب حیثیت لوگ ہوتے تھے تو پلاؤ اور زردہ بھی، ہمارے اطراف میں بریانی کا رواج نہیں تھا، حالانکہ آج کل تو پلاؤ کو بھی بریانی ہی کہا جاتا ہے۔
روٹیاں خمیری اور تندوری ہوا کرتیں۔ ان روٹیوں کا حجم بہت بڑا ہوتا،تقریباً ایک تھالی جتنا۔

کھانا لا لاکر رکھنے والے بہت شور مچاتے، ادھر اُدھر سے ایک دوسرے کوآواز لگاتے اوربے حد حواس باختہ نظر آتے۔ اکثر قورمے کا ڈونگہ کسی کھانے والے کے سر پر بھی چھلک جاتا، ایک ہائے توبہ مچی رہتی۔

ڈونگہ جیسے ہی میز پر رکھاجاتا، لوگ اُس میں سے بہتر بوٹیاں اور تار یعنی روغن نکالنے کے لیے ایک ساتھ جھپٹتے۔ کبھی کبھی ڈونگہ میز پر ہی پلٹ جاتا، مگر کھانے والوں کو اس کی مطلق پروا نہ ہوتی۔کوئی کسی کو نہیں پوچھتا، سب کو اپنی اپنی آنتوں کی فکر ہوتی۔ یہ ایسی ہی نفسا نفسی کا منظر ہوتا جو شاید میدانِ حشر میں بھی نہ دکھائی دے۔

میزوں کے پاس المونیم کے ٹب رکھے رہتے جس میں جھوٹی رکابیاں پڑی رہتیں۔ رکابیاں یا تو المونیم کی ہوتیں یا پھر سفید تام چینی کی۔ انھیں ٹبوں میںبوٹیاں، ہڈّیاں اور روٹیوں کے پانی سے تر پھُولے ہوئے، ٹکڑے بھی بھرے رہتے جن پر مکّھیاں ہی مکّھیاں بھنبھناتی رہتیں۔
اس قسم کے ایک دوسرے ٹب میں پینے کا پانی بھرا رہتا۔ اگر گرمیوں کے دن ہوتے تو ٹب پر لکڑی کا ایک تختہ رکھ کر اُس پربرف کی سلّیاں جما دی جاتیں۔ برف پگھل پگھل کر پانی میں گرتارہتا اور اُسے ٹھنڈا کرتا رہتا۔ اسی ٹب میں المونیم کے جگ ڈال ڈال کر پانی بھر کر میزوں پر رکھ دیا جاتا۔ بمشکل دو تین گلاس (وہ بھی المونیم کے ہی ہوتے)میز پر رکھے ہوتے یا اِدھر اُدھر لڑھکتے پھرتے۔

کھانے والے،کھانا خوب برباد کرتے۔ رکابیوں میں ڈھیر سا سالن، ہڈّیاں اور چکنی بوٹیاں نکالتے اور ناک تک کھانا ٹھونس لینے کے بعد ایسے ہی چھوڑ کر اُٹھ جاتے۔ وہ اس بے ہنگم انداز سے اُٹھتے کہ کرسیاں اُلٹتے اُلٹتے بچتیں اور میزیں اتنے زور سے ہلتیں کہ پانی سے بھرے جگ اُلٹ جاتے۔

روٹیاں بھی خوب برباد ہوتیں، بلکہ اُن کی تو بے حد بے حرمتی بھی کی جاتی۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے کئی باریش حضرات کو اپنی سفید داڑھی پر لگے ہوئے شوربے اور مسالے کو روٹیوں کے ٹکڑے سے صاف کرتے دیکھا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے آج کل لوگ نیپکن کا استعمال کرتے ہیں۔ روٹیاں ہاتھ پونچھنے، منھ، ہونٹ اور ٹھوڑی صاف کرنے اور مرچ کی زیادتی کے سبب ناک سے نکلتے پانی کو صاف کرنے کے لیے اور شوربے میں بھیگی داڑھیاں پونچھنے کے لیے ایک بہترین اور مفت کے رومال کا کام انجام دیتی تھیں۔
اس ہنگامے اور شور پر طرّہ یہ تھا کہ لاؤڈ اسپیکر بھی چھت پر کہیں فٹ ہوتا اور اُس کا رُخ کھانوں کی جانب ہی ہوتا۔ لاؤڈ اسپیکر پر یا توکسی نئی فلم کے واہیات گانوں کے ریکارڈ کان پھاڑ دینے والی آواز میں بجائے جاتے یا پھر حبیب پینٹر کی قوالیاں۔
(آج کی بوفے دعوتوں میں بھی جہاں سب کھڑے ہوکر اپنا کھانا نکالتے ہیں، اور کھڑے ہوکر کھانا کھاتے ہیں، نوعیت کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہے)

کیا یہ میدانِ جنگ نہیں تھا۔

ہاں! ایک ایسا میدانِ جنگ جس میںانسان ایک دوسرے سے، اپنے اپنے دانتوں، اپنے جبڑوں، اپنی زبانوں اور اپنی آنتوں کے ذریعے لڑتے ہیں۔

یہی سب اُن کے ہتھیار ہیں جنہیں چلائے جانے کی لذت میں شرابور ہوکر وہ ایک دوسرے کی انسانی بھوک کا شکار کرتے ہیں۔
کون تھے وہ لوگ جو بھوک برداشت کرنے کے لیے پیٹ پر پتھّر باندھ لیا کرتے تھے؟

میں نے ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

خود میں بھی اسی بے رحم کھیل میں شامل ہوں۔ جاڑوں کی دوپہر میں، زمیندار گھرانے کی روایت کو سنبھالے ہوے ہم سب دیسی گھی میں ڈبو ڈبوکر اُرد کی دال کی کالی کھچڑی کھاتے اور پھر سو جاتے۔ باقاعدہ لحاف اوڑھ کر سو جاتے، اور پھرعصر کے وقت جب اُٹھتے تو سب کا منھ سوجا سوجا اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی نظر آتیں۔ چاول اور ماش کی دال کا بادی پن اِس حلیے کا ذمہ دار ہوتا۔
خود میرا بھی یہی حلیہ ہوتا۔ میں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا اور شرمندہ ہوجاتا۔ وہ آئینہ جو دالان کے اُس حصّے میں لگا تھا جہاں سے باورچی خانہ بھی آئینے میں صاف نظر آتا تھا۔ خاص طور پر اُس کا چولھا اور ایک طرف رکھا یہ بڑا سا کالا توا۔

یہ سب مجھے شرمندہ کرتا تھا اور کرتا آیا ہے، مگر محض شرمندگی سے کیا ہوتا ہے؟

انسان کب سے شرمندہ ہو تا آیا ہے مگر اُس کی شرمندگی دنیا کا کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لیے کبھی جھاڑو نہ بن سکی۔
احساسِ جرم، شرمندگی، اپنے گناہوں کی فہرست، سب کو لیے لیے میں بھی زندگی جیتا رہا اورجیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ویسے ویسے میری زندگی میں بھیانک واقعات بھی بڑھتے گئے۔ کھانا کھانے سے زیادہ خوفناک گناہ بھی مجھ سے سرزد ہوئے ہیں۔ ایسے بھیانک واقعات جو ایک خفیہ تحریر کی مانند میرے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن ہیں، مگر اب جب مجھے اپنے بچپن کے کھلونوں کو توڑ کر اُن کا پوسٹ مارٹم کرنے کی دھن سوار ہوگئی ہے، تو پھر مرے حافظے کو اُس مردہ خانے کی طرف رُخ کرنا ہی پڑے گا۔
ذہن کے مردہ خانوں میں مکڑیوں کے جالوں میں ٹھنڈی باسی سے لپٹی لاشیں اور خون کی بو میری یادداشت کو اُدھر— اس طرح کھینچے لیے جارہی ہے جیسے کوئی قصائی کسی گائے کے گلے میں رسّی ڈال کر اُسے مذبح کی طرف لے جاتا ہے۔

لاؤ تو ذرا دیکھوں، رسّی کا یہ پھندا میرے گلے کے ناپ کا ہے بھی یا نہیں؟

Categories
فکشن

نعمت خانہ – سولہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُنہیں دنوں نورجہاں خالہ کی رشتے کی ایک بھتیجی جو ایک قریبی تحصیل میں رہتی تھی، شہر میں علاج کرانے کے لیے آئی۔ وہ ہمارے گھر ہی ٹھہری، اُس کا نام ’’انجم بانو‘‘ تھا۔

وہ اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی جو قصبے سے رساول کی ہانڈی بھی ساتھ لایا تھا۔ مٹّی کی ہانڈی جس پرلال کاغذ منڈھا ہوا تھا۔ ان دنوں یہ روایت تھی کہ ہمارے گھر سے جب کوئی کسی رشتے دار کے یہاں دور گائوں یا قصبے جاتا تو رساول کی ہانڈی لے کر ضرور جاتا اورجو رشتے دار ہمارے یہاں آتے وہ بھی رساول کی ہانڈی لے کر آتے۔ یہ ہانڈی اپنی بناوٹ اور ہیئت کے اعتبار سے ہمیشہ مجھے پُراسرار ہی نظر آئی۔ اگرچہ رساول میں بھی بہت شوق سے کھاتا تھا۔

انجم بانو عمر میں میرے برابر تھی۔ اس کے جسم میں خون کی کمی تھی۔ وہ زرد رنگ کی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کی رنگت پہلے گوری رہی ہو مگر اب اُس کی تمام کھال زرد تھی۔ اس کی پیلی رنگت کا موازنہ انجم باجی کی رنگت سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جو کہ اُنہیں فطرت کی طرف سے دیا گیا ایک خوبصورت اور پاکیزہ رتحفہ تھا۔اس کی آنکھیں بڑی بڑ ی اور خالی خالی سی تھیں۔ جس کی پتلیوں میں صرف پیلا رنگ لگا ہوا تھا۔ جب وہ مسکراتی تو اُس کی پتلیوں کا یہ پیلا رنگ ہلکی سی سرخی میں تبدیل ہوتا نظر آتا مگر فوراً ہی معدوم ہوجاتا۔

دوپٹے میں اُس کے سینے کا اُبھار بہت غور سے دیکھنے کے بعد ہی محسوس ہوتا ورنہ وہ صرف ایک سپاٹ سینہ تھا۔ میری عمر اب اتنی ہوگئی تھی کہ میں عورت کے تئیں خاص جنسی دلچسپی بھی لے سکتاتھا۔ اور یقینا مجھے انجم بانو سے ایک خالص جنسی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ ممکن تھاکہ آگے چل کر اس میں محبت کا عنصر بھی شامل ہو جاتا کیونکہ محبت اور جنس ایک دوسرے کے اس طرح پیچھے لگے رہتے ہیں جیسے اُمس کے پہلے بارش یا حبس کے پیچھے پیلی آندھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا، اس کی وجوہات تب تو نہیں مگر اب میں تھوڑا تھوڑا سمجھ سکتاہوں۔

انجم بانو کی آنکھوں میں بھی ایک پیاس تھی۔ ایک سخت جنسی پیاس جو کسی بھی جوان لڑکی، جو بیمار رہتی ہو، میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنتوں۔۔۔ معاف کیجیے گا، آنکھوں کو مکمل طور پر پڑھ لیا۔
ایک سنسان سی دوپہر میں، میں چپکے سے اُٹھ کرباورچی خانے میں آگیا۔ وہ باہری دالان میں بیٹھی مسورکی دال بین رہی تھی۔
باورچی خانے میں آکر میں نے اُسے اشارہ کیا۔ وہ پہلے تو خاموشی سے دال بینتی رہی پھر ایک چوکنّی بلی کی طرح اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اور دال کی سینی لیے لیے، دبے پائوں، بلّی کی چال چلتی ہوئی باورچی خانے میں آگئی۔

میں اُسے اندر کوٹھری میں لے گیا جہاں روشندان سے چھن چھن کر دوپہر کے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ مجھے کوئی پہل نہیں کرنی پڑی، وہ تو آتے ہی مجھ سے بری طرح لپٹ گئی اور مجھے دیوانہ وار چومنے لگی۔ اس کی سانسوں سے آم کے اچار کی بو آرہی تھی۔ میں نے اُس کے پستانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں کچھ بھی نہ تھا یا اگر تھا تومیری انگلیوں کو محسوس نہ ہوسکا۔

مگر وہ بالکل ہی ہوش کھو بیٹھی۔ اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر زور سے چپکا لیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی عورت کے پستان باہر کو اُبھرے ہوئے یا بڑے بڑے ہیں یا نہیں۔ شاید جس طرح کچھ انسانوں کے ایک آدھ دانت مسوڑھوں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ اور زندگی بھر باہر نہیں نکلتے۔ اسی طرح کچھ عورتوں کے پستان سینے کی نامعلوم، پُراسرار گہرائیوں میں چھپے رہتے ہیں۔ اور مرد کے ہاتھ لگنے سے باہر آنے کے لیے تڑپ اُٹھتے ہیں۔

وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کی سانسیں بہت تیز ہوگئیں۔ اس کی دھونکنی سی چلنے لگی۔لگا کہ جیسے اس کے پھیپھڑے پھٹنے والے ہیں۔ آم کے اچار کی بُو بڑھتی گئی۔ مجھے آم کی بو یا خوشبو سے نفرت تھی جو آج تک قائم ہے۔ میں بدمزہ ہونے لگا۔ اور پھر دھیرے دھیرے خوف زدہ بھی۔

اُس کے پیلے چہرے پر روشندان سے آتی ہوئی دھوپ کی کرن پڑ رہی تھی۔ مجھے اچانک اُس کا پیلا چہرہ اور پیلا جسم بہت پاکیزہ نظر آیا۔

یہ جسم بیمار تھا، اس جسم میں خون نہیں بنتا تھا۔ آدمی کے جسم میں زیادہ خون ہونا ہوس کی نشانی ہے اور بھدّا بھی۔
مگر انجم بانو کی ہوس اُس کی روح میں پوشیدہ تھی اور اُس بھیانک ہوس اور شہوت کا ساتھ دینے میں اُس کا بیمار، خون کی کمی کا مارا ہوا، یرقان زدہ جسم ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے وہ جسم ایک خزاں رسیدہ پتّے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگا۔ انجم بانو کی روح کی پیاس نہ جانے کتنی صدیوں کی پیاس تھی اور یہ پیاس اس لیے بے قابو تھی کہ انجم بانو کا جسم بہت بیمار تھا۔ روح جسم پر اپنی شہوت، اپنی خواہش اور اپنی ہوس کے وار پہ وار لگاتی جارہی تھی۔ وہ اس کمزور، بیمار مگر پاکیزہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ہلاک کر دینے کے درپے تھی۔

میں انجم بانو سے دور ہٹ گیا۔ وہ میری طرف بڑھی۔ میں نے اُسے جھٹک دیا۔ اس کی بڑی بڑی خالی آنکھوں میں انڈے کی سی زردی آکر بیٹھ گئی۔ ایسا لگا جیسے اُسے مرگی کا دورہ پڑنے والا ہو۔ وہ دھم سے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے دانت بھنچنے لگے اور پورا جسم اکڑنے لگا۔ اس کا پیلا جسم اچانک ناقابل یقین طور پر سیاہ پڑنے لگا۔ انجم بانو پیلی سے کالی ہوگئی۔ میرے سامنے، ہاں بالکل میری آنکھوں کے سامنے۔

مگر میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک مقدس سیاہی تھی۔ ہوس زدہ روح نے پاکیزہ جسم سے بدلہ لیا تھا۔ مگر جسم نے بھی روح کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک، ڈرا ڈرا اُسے یونہی دیکھتا رہا پھر جلدی سے باورچی خانے سے باہر نکل گیا۔
انجم بانو تین دن اور ہمارے گھر میں رہی مگر نہ میں نے اُس کی جانب دیکھا اور نہ اس نے میری طرف نظر اُٹھائی۔ تین دن بعد اُس کا بھائی آکر اُسے واپس لے گیا۔ مگر اس بار بھی وہ لال کاغذ منڈھی رساول کی ہانڈی لانا نہیں بھولا تھا۔ ڈاکٹروں نے اُس کا مرض لاعلاج بتایا تھا۔ اسے ایک بہت خطرناک بیماری تھی۔ اس کا جسم خون بناتا ہی نہیں تھا، سوائے اس کے کہ اُسے خون چڑھایا جاتا رہے۔ اور کوئی چارہ نہ تھا۔

کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔ انسان کو چاہئیے کہ شعور بالذات کی بات تو بہت ہو چکی، اب ذرا بدنام زمانہ مادّے کی بات بھی ہو جائے۔ مادّے کو بھی اُس کاجائز حق دیا جائے۔ آخر کب تک روح اپنے اعمال کی سزا جسم کو دیتی رہے گی۔

روح نے کیا سوچا ہے کہ اگر کبھی جسم اس کے احکام کی تعمیل کرنے اور اُس کی غلامی کرنے سے انکار کر دے تو؟ تو پھر شاید دنیا کی تاریخ دوسری طرح سے لکھی جائے گی۔

ایک عرصے بعد میں نے سنا کہ انجم بانو کاانتقال ہوگیا۔ وہ جب تک زندہ رہی اُس کے جسم میں لگاتار خون چڑھایا جاتا رہا۔ مگر پھر اُس کے جسم نے دوسروں کا خون بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب بھی اُسے خون کی بوتل چڑھائی جاتی۔ تو اُس کے بعد اس کی ناک، کانوں اور منھ سے خون باہر آنے لگتا۔ مرنے سے ایک ماہ پہلے انجم بانو نے کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ اس کی آنتیں بالکل صاف اور پاک تھیں اور پرانی آلودگی، بدنیتی، چٹورے پن اور بھوک کے ہر نشان سے عاری تھیں۔
آخر انجم بانو کے جسم کی پاکیزگی نے سب کو ہراکر رکھ دیا۔

افسردہ کر دینے کے لیے انسان کے پاس کتنی باتیں، کتنی یادیں ہوتی ہیں اور خوش ہونے کے لیے بہت کم۔ ماضی کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ ماضی کی مسرتوں اور خوشیوں کو بھی اگر یاد کریں تو وہ بھی ایک اُداسی اور افسردگی میں ہی بدل جاتی ہیں۔ گزرا ہوا وقت ہوبہو سامنے نہیں آتا— وہ ایک پریت کی خوفناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ مردہ بندر کے پنجے یا ہڈی کی طرح۔

اکتوبر کا مہینہ بھی گزر گیا اور نومبر کا مہینہ آپہنچا۔ نومبر کا مہینہ دراصل کوئی مہینہ ہی نہیں۔ اس کا اپنا کوئی موسم ہی نہیں۔ یہ ایک زوال پذیر مہینہ ہے۔ اندھیری ڈھلان پربے جان چٹانوں کی طرح لڑھکتے ہوئے، نومبر کے یہ دن، راتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے۔ آنے والے سرد، گاڑھے، ہوائوں کے شور سے لدے پھندے، دسمبر کے اندھیروں کے انتظار میں پہلے سے ہی صفیں باندھیں، سیلوٹ کرتے ہوئے،نومبر کے یہ دن جو سال کے بارہ مہینوں میں کہیں اپنی کوئی انفرادی یا باوقار چھاپ نہیں چھوڑتے۔ موسم کے اعتبار سے، یہ معمولی، حقیر دن، گرتے ہوئے، جلدی سے غائب ہوتے ہوئے۔ ان کی چھاپ صرف اُن بدنصیبوں پر ہی پڑتی ہے جن کے سینے پر نومبر کا کوئی لڑھکتا ہوا پتھّر آکر ٹھہر گیا ہو۔

روح کے پاگل پن کی سزا جسم کو جھیلنا پڑتی ہے۔

انھیں دنوں ایک پاگل بندریا نے ہمارا گھر دیکھ لیا۔ وہ بندریا ہر وقت حیض سے ہوتی رہتی تھی اور جب موقع ملتا، کسی نہ کسی کو کاٹ کھاتی۔ اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ بندریوں کو بھی حیض ہوتا ہے، مگرجب میں نے اُس بندریا کی دُم پر خون کے دھبے دیکھے تو میں سمجھ گیا۔ آخر سائنس کے مطابق بندر ہی تو انسانوں کے آبائواجداد ہیں۔ انھیں حیوانوں کی ساری لعنتیں، انسان بھی بھگت رہے ہیں۔

رات کو سوتے وقت، ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں سوتے میں بندریا نہ آکر کاٹ لے۔ محلّے میں بہت سے لوگوں کو اس نے سوتے میں کاٹ لیا تھا۔

دن میں وہ، چھتوں اور منڈیروں پر اِدھر اُدھر کودتی پھاندتی اور بھٹکتی پھرتی اور رات میں پتہ نہیں کہاں دُبک کر بسیرا کرتی۔
میں نے اُسے دیکھا تھا،وہ ایک قوی الجثّہ بندریا تھی جس کی آنکھوں میں پاگل پن اور ایک بے قابو اور بے تُکا غصّہ بھرا رہتا تھا۔ اسے کوئی بیماری تھی۔ وہ شاید ہمیشہ حیض سے ہوتی رہتی تھی۔ یہ کوئی ایسی حیران کن بات نہیں۔ جسم کے اندر ہزارہا پُراسرار پہلو ہوتے ہیں۔ اس پاگل بندریا کی وجہ سے جاڑے کے یہ شروعاتی دن بڑی دہشت میں گزر رہے تھے، مگر ایک دن یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ وہ سامنے والے گھر کی تین منزلہ عمارت کی چھت پر کودتے کودتے اچانک ٹپ سے سڑک پر گر پڑی۔ سارا محلہ اُسے دیکھنے بھاگا۔ میں بھی گیا۔

وہ سڑک پر مردہ پڑی تھی۔ اس کے منھ میں ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پھنسا ہوا تھا۔ اس کے جسم کا نچلا حصّہ خون سے سنا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جن میں وہی پاگل غصہ لگاتار اب آسمان کی طرف تاکے جارہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، مغرب کی اذان ہونے لگی۔ میں نے سوچا کیا بندریا نے بھی خودکشی کی ہے۔ لوسی کی طرح؟ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو یا نہ ہو۔ بڑھتی ہوئی تاریکی نے سڑک پر پڑی بدنصیب بندریا کی لاش کو ڈھک دیا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – پندرہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

میرے سہ ماہی امتحان ختم گئے تھے۔ میں نے پھر سے جاسوسی ناول پڑھنا شروع کر دیے اور زیادہ سے زیادہ وقت انجم آپا کے گھر گزارنے لگا۔ انجم آپا ایک سانولے بلکہ پکّے رنگ کی لڑکی تھیں۔ مگر اُن کا منھ ہاتھ پیروں کی بہ نسبت کافی صاف رنگت لیے ہوئے تھا جو ایک عجیب بات تھی۔ ان کا قد ٹھگنا تھا اور چہرہ بالکل گول تھا۔ کسی چپاتی کی طرح جس پر چیچک کے جابجا نشانات تھے۔ بالکل چپاتی پر لگی ہوئی چپتّیوں کی مانند۔ اس چہرے کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ وہ چہرہ مجھے ہمیشہ اپنا اپنا سا لگتا تھا۔ جیسے اپنے گھر میں کھانا کھاتے وقت، روٹی کی ڈلیہ میں رکھی چپاتی اپنی اپنی سی لگتی ہے۔ انجم آپا مجھ سے بہت خلوص سے پیش آتیں، کبھی کبھی تو مجھے لگتا جیسے وہ مجھے انجم باجی سے بھی زیادہ چاہتی ہیں۔
برسات کے بعد اُن کا باورچی خانہ بہت خستہ حال ہوگیاتھا۔ وہ ککیّا اینٹوں کا بنا تھا اور دیواروں پر ہر طرف جنگلی گھاس اُگ آئی تھی۔

اکتوبر کا مہینہ تھا جس میں دھوپ بہت تیز اور چمکدار ہوتی ہے اور شام کو کچھ دھند سی پھیلنے لگتی ہے۔

میں انجم آپا سے ایک جاسوسی ناول کے مجرم کے بارے میں باتیں کر رہا تھا کہ مجھے اُن کے باورچی خانے سے کچھ تلے جانے کی خوشبو آئی۔ میرے نتھنے مہک کر رہ گئے۔ دوپہر تھی اور مجھے زوروں کی بھوک پہلے سے ہی لگ رہی تھی۔ میں نے ناک کے نتھنے پھُلا کر خوشبو کو سونگھا۔

انجم آپا ہنسنے لگیں۔

’’امّاں دال بھرے پراٹھے تل رہی ہیں۔ ایک پراٹھا کھاکرجانا۔‘‘

’’پراٹھے—دال بھرے پراٹھے۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’ہاں!‘‘

ٹھیک اُسی وقت میرے دل پر جیسے ایک سوئی سی چبھی، ایک گیلی گیلی، پانی سے تر سوئی جس کی ٹھنڈی چبھن اب میرے بائیں کاندھے تک رینگ آئی۔ میں خوف زدہ سا ہو گیا۔ اُس خطرناک اور پوشیدہ ریاضی کا ایک سوال میرے سامنے تھا۔ اور میں اس کے حل کی حدود کا تعین کرنے کے لیے ایک مختلف شخصیت میں تبدیل ہوچکا تھا۔

’’نہیں، اب میں جاؤں گا۔‘‘ میں اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’کیوں؟ کیا غریبوں کے گھر کھانا نھیں کھاسکتے؟‘‘

’’یہ بات نہیں انجم آپا، مگر مجھے بازار سے سودا لانا ہے۔‘‘

میں نے بہانہ کیا اور کل پھرآنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کے گھر سے باہر آگیا۔ میری بھوک جیسے بالکل مر گئی تھی۔ ’’دال بھرے پراٹھے۔ دال بھرے پراٹھے۔‘‘ میرا ذہن لگاتار یہی گردان کیے جارہا تھا۔

میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

’’دیوار گر گئی، دیوار گر گئی۔‘‘ کوئی چیخ رہا تھا۔

’’کس کی دیوار گر گئی؟‘‘

مگر میں اچھی طرح جانتا تھا کہ کس کی دیوار گری ہے۔

میں بھاگتا ہوا انجم آپا کے مکان پر پہنچا۔ وہاں بھیڑ لگ گئی تھی۔

انجم آپا کے خستہ اور بوسیدہ حال باورچی خانے کی دیوار گر گئی تھی۔ اور اُن کی ماں اُس سے دب کر مر گئی تھیں۔
میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

گری ہوئی دیوارکے ملبے اور برسوں پرانی ککیّا اینٹوں اور خوردرو جنگلی گھاس کے نیچے وہ ساکت وجامد پڑی ہوئی تھیں۔ ان کے سارے جسم کو ملبے نے ڈھک لیا تھا۔ صرف اُن کا منھ باہر تھا۔ ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔

دیوار کے ملبے کے نیچے ہی شاید اینٹوں کاچولہا بھی دبا پڑا تھا جس کی آگ بجھ کر مٹّی، گارے اور خودروگھاس پودوں میں دفن ہو گئی تھی۔

’’ان دنوںہی تو مکان گرتے ہیں۔ برسات کے بعد کی دھوپ میں ہی دیواریں اپنی جگہ چھوڑتی ہیں۔‘‘ کوئی کہہ رہا تھا۔

مگر مجھے اچھی طرح علم تھا کہ دیوار کیوں گری ہے۔ دودھ میں پڑی ایک زہریلی چھپکلی نے مجھے تِگنی کا ناچ نچاکر رکھ دیا تھا۔ انجم آپا غش کھاکر گر پڑی تھیں۔ باورچی خانے کی اُسی دیوا رکی طرح۔ گھر میں بھیڑ بڑھتی چلی گئی۔ سارا محلہ اکٹھا ہوگیا۔

باورچی خانے میں دال بھرے پراٹھے مجھے نظر نہیں آئے۔ مگر اُن کی خوشبو اب دور دورتک پھیل رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب میں اپنے گھر پہنچا تو وہاں بھی ہوا کے زور پر دال بھرے پراٹھوں کی خوشبو اِدھر اُدھر رینگتی محسوس ہوئی۔

میں پریشان، سراسیمہ اور ایک بے وجہ کے احساسِ جرم سے مغلوب ہوکر طوطے کے پنجرے کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ میرا کن کٹا خرگوش آکر میری پتلون کے پائینچے پر منھ رگڑنے لگا۔

’’کاش میں وہاں آج اِس وقت نہ جاتا۔‘‘ میں نے پشیمان ہوکر سوچا۔
’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ :‘‘ طوطا زہرخند لہجے میں بولا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چودہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر وہ رُکی نہیں۔ وہ ہوتی ہی رہی۔ کسی بھی دن کا آسمان بادلوں سے خالی نہ رہا۔ کبھی موسلادھار بارش ہوتی اور کبھی کبھی ہلکی پڑ جاتی۔ مگر پھوار برابر پڑتی رہی۔ دس دن گزر گئے۔ ندیاں خطرے کے نشان کے اوپر بہنے لگیں۔ باندھ کھول دئے گئے اور پانی نے آس پاس کے علاقوں کو ڈبوکر رکھ دیا۔

باڑھ آگئی، اس باڑھ میں انسانوں کے ساتھ اُن کے مویشی بھی بہہ گئے۔ شہر کی سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا۔ محلے کے کئی گھروںکی چھتیں اور دیواریں گر گئیں۔ لوگ ان گرتی ہوئی چھتوں اور دیواروں کے نیچے دب دب کر مر گئے۔ مگر بارش نہ رُکی۔

ہمارا گھر کافی پختہ اور مضبوط تھا، مگر اس کی دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئیں اور دالانوں اور کوٹھریوں کی چھتیں بری طرح ٹپکنے لگیں۔ پلنگ، بستر، صندوق، میز، کرسیاں سب پانی سے تربتر ہو گئے۔ باورچی خانے کا تو سب سے برا حال تھا۔ اس کی چھت سے تو پانی تقریباً اسی طرح نیچے آرہا تھا جیسے آنگن میں۔ چولہا ٹھنڈا پڑ گیا۔ کھانا دالان میں انگیٹھی رکھ کر پکایا جانے لگا۔

باورچی خانے کے برتن، تیل، گھی، اناج اور مسالے سب پانی میں ڈوبے پڑے تھے۔

ایک دن گھر کے کچے آنگن میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی بھر گیا۔ سڑکوں کی نالیاں بند تھیں۔ اور پانی کی نکاسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ باورچی خانہ کیونکہ آنگن کی سطح سے بالکل ملا ہوا تھا اس لیے وہاں بھی پانی آگیا۔ باورچی خانے کے برتن اسی پانی میں بہہ بہہ کر آنگن میں تیرنے لگے۔ دیگچیاں، پتیلے، تسلے، چمچے، کفگیر، پتیلیاں اور توے سب آنگن میں بہتے چلے جارہے تھے۔ وہ گھر کی نالی سے باہر نکل جانا چاہتے تھے۔

پورا گھر بارش رُکنے کی دعائیں مانگنے لگا۔ آنگن میں چلنا دشوار ہوگیا۔ لوگ پھسل پھسل کر گرنے لگے۔ پاخانے اور دروازے تک جانے کے لیے چند اینٹیں رکھ دی گئیں تھیں جو اَب پانی میں پوری طرح ڈوب چکی تھیں اور نظر نہ آرہی تھیں۔نارنگی کے ایک چھوٹے سے درخت میں اچھّن دادی نے ایک سفید پرزے پر ’’ق ق ق‘‘ لکھ کر لٹکا دیا۔ آنگن میں پانی اور کائی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب وہ یہ سفید پرزہ درخت میں لٹکاکر جلدی جلدی دالان کی جانب واپس آرہی تھیں، تب ہی کائی میں اُن کا پیر پھسل گیا۔ وہ چاروں خانے چت گریں۔ وہ کائی اور کیچڑ میں لت پت تھیں۔ اُن کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔(اس کے بعد وہ جب تک جئیں، صاحب فراش ہی رہیں اور مجھے ہمیشہ کائی میں لتھڑی ہوئی محسوس ہوئیں) گھر میں نالیوں سے بہہ بہہ کر حشرات الارض چلے آئے۔ مینڈک اور کچھوے، کنکھجورے اور کان سلائیاں۔ کینچوے اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی۔ حد تو یہ تھی کہ ایک دن چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی۔ پورا گھر کائی کی بساندھ سے بھر گیا اور اُس کی ہر دیوار ہری اور کالی نظر آنے لگی۔ اندر کی دیواروں پر سیلن اور پانی نے آکر ساری قلعی نیست و نابود کر دی۔ گارا اور چونا جگہ جگہ سے پھول کر نیچے گرنے لگا۔ وہاں طرح طرح کے دھبّے اور شکلیں سی بنتی نظر آنے لگیں۔ بھیانک اور بولتی ہوئی صورتیں، خود رو گھاس اور پودوں نے دیواروں کی منڈیروں پر پھیلنا شروع کر دیا۔ آسمان پھٹ گیا تھا اور شاید زمین بھی جلد ہی پیروں کے نیچے سے پھسل کر غائب ہوجانے والی تھی۔ طوفانی بارش میں، مَیں اپنے کن کٹے خرگوش کے ساتھ دالان، کبھی کوٹھری اور کبھی داسے کے قریب دُبکا رہتا اور بارش دیکھتا رہتا۔ جب کبھی بجلی زور سے کڑکتی تو نورجہاں خالہ کے منھ سے بے اختیار نکلتا ’’یا اللہ خیر۔‘‘

رات میں اس بارش کی آواز مہیب اور پُراسرار ہوجاتی۔ ٹین پر گرتی ہوئی بارش اب مجھے اس ماتمی باجے کی یاد دلاتی جو محرّم کے دنوں میں تختوں کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔

بارش کی یہ آواز آہستہ آہستہ سنّاٹے میں بدلتی جاتی تھی۔ جیسے کوئی اُداس اور ماتمی موسیقی آخر میں خاموشی یا ایک گہری چُپ میں جاکر کھو جاتی ہے۔ اب میرے کان اس بارش کی آواز کے عادی ہوچکے تھے۔ اس لیے میرے لیے اب رات کے سنّاٹے اور بارش میں کوئی فرق نہیں رہا۔ مجھے نیند آنے لگی، ان راتوں میں، مجھ پرجلد ہی نیند کا غلبہ ہوجاتا اور میں گہری نیند سونے لگا۔ نہ صرف سونے لگا بلکہ خواب بھی دیکھنے لگا۔ ایسے خواب جنہیں میں آج تک نہیں بھولا۔

کچھ بیماریاں، عادتیں، اضطراری عمل یا ردّعمل وغیرہ ورثے میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔ وہ صبح کو آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھتے اور اُن کے منھ سے ٹھوڑی کی طرف بہتی ہوئی ایک خون کی لکیر ہوتی۔

اب تک میں بچا ہوا تھا۔ سوتے میں، میری زبان دانتوںکے درمیان کبھی نہیں آئی تھی مگر اس دفعہ بارش اور سیلاب کی اُن پرُاسرار راتوں میں، جب میں بہت گہری نیند سونے لگا اور خواب دیکھنے لگا تو صبح کو جاگنے پر میرے منھ سے بھی خون کی پتلی سی لکیر ٹھوڑی پربہتی نظر آنے لگی۔ میں اُسے اکثر شہادت کی انگلی سے پونچھ دیا کرتا۔

ان خوابوں میں ہمیشہ ایک لڑکی ہوتی یا یہ کہ لڑکی نہ ہوکر وہ بارش تھی جس نے خواب کا چولا پہن لیا تھا۔ ہربار کے خواب میں اس کی صورت مختلف ہوتی مگر میرے اندر، زیریں سطح پر یہ احساس ہمیشہ موجود رہتا کہ وہ ایک ہی لڑکی ہے۔ وہی ایک وجود جو ہر خواب میں آتا ہے۔ میں لاکھ کوشش کر لوں مگر اُس کا حلیہ لفظوں میں نہیں بیان کر سکتا۔ کبھی لگتا کہ وہ چہرہ دنیا کے ہر انسان سے ملتا جلتا ہے۔ اور کبھی یہ محسوس ہوتا کہ وہ چہرہ کسی سے بھی مشابہت نہیں رکھتا۔ کچھ شکلیں، کچھ صورتیں ایسی ہوتی ہیں جو آنکھوں کی گرفت میں نہیں آتیں۔ وہ آنکھوں سے ہوکر نکل جاتی ہیں۔ اور پھر خوشبو بن کر روح میں اُتر جاتی ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہر خوشبو آپ کو محض مسرت ہی نہیں فراہم کرتی، وہ کبھی کبھی بلکہ اکثر بے حد افسردہ بھی کر دیتی ہے۔

’’لو—‘‘ وہ اپنی ہتھیلی آگے بڑھاتی ہے۔ کلائیوں تک اُس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔ میں غور سے دیکھتا ہوں، گوری، اُجلی صاف، نازک سی ہتھیلی پر ایک سوکھا شامی کباب رکھا ہوا ہے۔

’’لو کھالو۔‘‘

میں احتیاط کے ساتھ شامی کباب اُٹھاتا ہوں۔ شامی کباب برف کی طرح ٹھنڈا اور اُداس ہے۔ میں شامی کباب کا ایک ٹکڑا دانتوں سے کاٹتا ہوں۔

منّ و سلویٰ شرماکر ایک کونے میں چھپ جاتا ہے۔ لڑکی بھی اچانک گم ہوجاتی ہے۔

میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ بارش ہوئے جارہی ہے۔

’’گڈّو میاں! تمھیں کھانے میں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟‘‘ لڑکی پوچھتی ہے۔ اس بار اُس کی کلائیوں میں سبز چوڑیاں ہیں۔ چوڑیاں اُس کی کھنک دار آواز سے خود بھی کھنکنے لگتیں ہیں۔

’’قورمہ۔‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔
’’اور؟‘‘
’’پلائو۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’ارہر کی دال۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’اور۔۔۔ اور۔۔۔ میں ذہن پر زور دیتا ہوں۔ پھر جوش بھرے لہجے میں کہتا ہوں۔ ’’اور سب سے زیادہ تو گردہ کلیجی۔‘‘
’’گردہ کلیجی؟‘‘
’’ہاں! وہ مجھے بہت بہت پسند ہے۔‘‘
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں؟‘‘ لڑکی کی آواز رُندھ جاتی ہے۔
’’ہاں!‘‘ مگر ہمارے یہاں بہت کم پکتے ہیں۔ صرف بقرعید میں۔‘‘
میں افسردگی کے ساتھ کہتا ہوں۔
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں تو میرے نکال کر کھالو۔‘‘
میں اُسے ٹکر ٹکر دیکھتا رہتا ہوں۔
’’ہاں نکال لو، میرے دونوں گردے اورمیری کلیجی۔‘‘ وہ پرخلوص لہجے میں کہتی ہے۔
میں باورچی خانے میں جانور ذبح کرنے والی چھری لینے کے لیے چلا جاتا ہوں۔

میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہو گئی ہے۔ بارش جارہی ہے۔ منھ سے ٹھوڑی تک خون لگا ہوا ہے۔ میری زبان میں بہت تکلیف ہورہی ہے۔ زبان دانتوں کے درمیان آکر بری طرح کٹ گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے دانت نکیلے بھی تو بہت ہوتے جارہے ہیں۔

خوابوں کا یہ سلسلہ تب تک چلتا رہاجب تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک دن پانی برسنا بند ہو گیا۔ آخرکار بارش رُک گئی۔ ہر بارش کو بہرحال ایک نہ ایک دن رُکنا ہی ہوتا ہے۔ اُس طویل ترین بھیانک بارش کو بھی تھک کر رُکنا ہی پڑا تھا۔ جو لاکھوں برس تک اس کرّہ ارض پرہوتی رہی تھی۔
دھوپ نکل آئی ۔ سورج نے بادلوں کی سیاہ نقاب، اپنے چہرے سے نوچ کر پھینک دی۔ ہر شے اب سوکھنے لگی۔ گھر، دیواریں، چھت، کپڑے، سب گرم ہونے لگے۔ مگریہ ایک سیلن زدہ تمازت تھی۔ بارش کے بعد سارے شہر میں بخار کی وبا پھیل گئی۔ کھانے سڑنے لگے۔ کھانا، باورچی خانہ ہو، یا کوئی اور جگہ، ہر جگہ سڑ رہا تھا۔ اور سڑے ہوئے کھانے کی بوہر جگہ سے آرہی تھی۔یہ بخار آنتوں اور پیٹ میں خطرناک جراثیم پیدا ہونے سے آتا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی ہر کسی کا پیٹ خراب تھا۔ سب اُلٹیاں کر رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کو، چڑچڑاتے ہوئے، تقریباً کھا جانے کے لیے دوڑتے تھے۔ سب کی آنتوں میں مروڑ تھی۔ انجم باجی تک کی آنتوں میں (مجھے اس بار اُن کے پیٹ میں آنتیں ہونے کے احساس سے اتنا صدمہ نہیں پہنچا)۔ ان دنوں گھر میں صرف مونگ کی دال کی کھچڑی پکتی تھی اور سارا گھر اُسے دہی کے ساتھ دونوں وقت کھاتا تھا۔ میں نے اتنے بڑے دیگچے میں اتنی زیادہ کھچڑی پکتی کبھی نہیں دیکھی تھی۔
میں بھی کھچڑی ہی کھاتا رہتا، مگر میرا پیٹ خراب نہیں ہوا۔ نہ تو میری آنتوں میں مروڑ ہوئی اورنہ ہی مجھے کوئی اُلٹی ہوئی۔

دراصل ہیضہ پھیل گیا تھا۔ برسات کے بعد، اُن دنوں یہ بیماری عام تھی، لیکن اس بار اس نے وبا کی صورت اختیار کرلی۔ لوگ قے اور دستوں سے مرنے لگے۔ ہمارے محلے میں ہی کئی موتیں ہوئیں۔ گھر کے پاس ہی ڈاکٹر اقبال کا مطب تھا۔ ڈاکٹر اقبال ایک نیم حکیم تھا اور اُس کے پاس باقاعدہ کوئی میڈیکل ڈگری نہیں تھی۔ مگر اُس کے مطب پر مریضوں کا میلہ لگ گیا۔ مطب ایک پتلی سی گلی میں تھا۔ یہ پوری گلی ہیضے کے مریضوں سے اور پیشاب پاخانے کی ناگوار بدبوئوں سے بھری رہتی تھی۔ مریض ایک کے اوپرایک لدے سے رہتے اور اکثر اپنی اپنی الٹیاں اور قے برداشت نہ کرتے ہوئے، ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہی کر دیتے اور پھر آپس میں مارپیٹ کی نوبت آجاتی۔ اگرچہ مارپیٹ ہو نہ پاتی کیونکہ وہ سب لگاتار دستوں، اُلٹیوں، بخار اور کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے انتہائی لاغر اور کمزور ہوچکے تھے۔ ان کی کھال، گوشت اور ہڈیوں میں پانی کی بوند تک نہ بچی تھی۔کئی مریضوں نے ڈاکٹر اقبال کے مطب کے سامنے، اِسی گلی میں نالیوں میں گر کر دم توڑ دیا۔

یہ تھا انسان کی آنتوں کا تماشہ جسے سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ تھی منھ چلائے جانے کی سزا۔ انسان کا جرم اور اُس کی سزا دونوں ہی اس کی تعمیر میں مضمر ہیں۔

اس لیے میں نے کہیں کہا تھا کہ انسان اپنی آنتوں میں رہتا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ یہ وبا بھی کم ہونے لگی۔ کیونکہ زمین نے گردش کرنا تو چھوڑانھیں تھا۔ ستمبرکے آخری دن آپہنچے اور وہ ہوائیں چلنے لگیں جن سے تیز دھوپ بھی ہار جاتی ہے وہ دُھلی دھلائی اور پاکیزہ دھوپ تھی۔ نیلا آسمان پہلے سے زیادہ نیلا نظر آنے لگا اور دوپہر میں تیز ہوا کے جھکّڑ جیسے دھوپ اور آسمان دونوں کو اپنے ساتھ اُڑائے لے جاتے تھے، موسم نے کروٹ لی تھی۔ ہیضے کے جراثیم کمزور پڑنے لگے۔

یہ ہوائیں بارش کے رخصت ہوجانے کا ایک جشن منا رہی تھیں یا نوحہ، یہ تو میری سمجھ میں آج تک نہ آسکا، حالانکہ میں ہر سال بارش کے بعد چلنے والی ان ہوائوں سے دوچار ہوتا ہوں مگر اب یہ بھی ہے کہ جشن اور نوحہ کون سی دو مختلف باتیں ہیں، جس طرح زندگی اور موت دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔

وہ خوفناک بارش تو چلی گئی تھی مگر میں پہلے سے کچھ زیادہ بڑا اور شاید زیادہ خطرناک ہوگیا تھا۔ میرے گالوں اور ٹھوڑی پر ہلکا ہلکا سا رُوواں سا اُگ آیا تھا۔ مجھے اب اُس مہربان لڑکی والے خواب بالکل نہیں آتے تھے، نہ ہی دانتوں کے درمیان آکر زبان کٹتی تھی۔ میرے امتحان قریب آرہے تھے۔ مجھے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھنا تھا۔ اس لیے میں نے ان خوابوں کو بائیں طرف، اپنے دل کے قریب، اپنی قمیص کی اوپری جیب میں رکھ لیا ہے جسے جب چاہے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ میں اپنے خوابوں کو دیکھنے کے لیے نیند کا محتاج نہیں تھا۔
میں دیر رات تک جاگ جاگ کر پڑھتا۔ زیادہ تر ریاضی کے سوال حل کرتا کیونکہ ہائی اسکول میں، اس مضمون سے سب سے زیادہ مجھے ڈر لگتا تھا۔ بہت سے سوالوں کو میں حل نہیں کر پاتا تھا۔ تب اُن کے جواب، کتاب کے آخر میںدیکھ کر میں اُلٹے سیدھے، اوٹ پٹانگ طریقے سے فارمولے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیچے لکھ دیا کرتا تھا۔ ظاہر تھا کہ میری ریاضی چوپٹ ہوئی جارہی تھی۔ اور سب سے زیادہ توالجبرا اور جیومٹری جہاں سب کچھ پہلے سے ہی فرض کر لیا جاتا تھا۔ یہاں سب کچھ ایک تُک بندی تھی۔ ایک اندھا راستہ، کچھ مان کر چلو اور ایک اوٹ پٹانگ، مگر اپنے ہی بنائے ہوئے راستے پر چل کراُسے ثابت کر دو۔ (دنیا کے وجود کو بھی ایسے ہی ثابت کیا گیا اور ایسے ہی سراب مان کر اس کا نہ ہونا بھی ثابت کر دیا گیا) عقل و دانش اور منطق کی یہ خود غرض مکّاریاں اب تو میرے سامنے پوری طرح عیاں ہوچکی ہیں۔ مگر اُن دنوں حساب کا مضمون مجھے بری طرح تھکا کر رکھ دیتا تھا اور میں تنگ آکر سوال کوحل کیے بغیر اُس کا جواب دیکھ کر وہیں لکھ دیا کرتا تھا اور یہ بات بھی آج تک میرے لیے ناقابل فہم بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ اگر کسی سوال یا مسئلے کا جواب کہیں لکھا ہوا ہے یا کسی نے اُسے حل کر رکھا ہے اوراُس پر اُسے یقین بھی ہے تو پھر دوسروں کو الجھانے اور پریشان کرنے سے کیا فائدہ؟

مگر اس ریاضی سے الگ ایک دوسری ریاضی بھی تھی۔ ایک مہلک اور پُراسرار ریاضی جس کا علم میرے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ صرف میرے پاس ہی اُس کے خطرناک فارمولے تھے۔ اس کی کوئی کتاب نہ تھی جس کے آخری اوراق پلٹ کر میں سوالوں کے حل ڈھونڈ لیتا، مگر میں حل سے لاعلم رہتے ہوئے بھی ’حل‘ کی نوعیت سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ وہ کتنے اعداد کے درمیان کہیں ہوگا۔ کم نحس سے زیادہ نحس کے درمیان۔

یقینا اب یہ ایک گھٹیا ہتھیار تھا۔ جو میرے ہاتھ لگ گیا تھا اور میں اس پر کبھی کبھی فخر بھی کرتا۔ گھٹیا باتوں پر فخر کرنے والوں میں، دنیا میں اکیلا میں ہی تو نہیں ہوں۔ کتنے عامل، تانترک، جیوتشی، قسمت کا حال بتانے والے اور چھچھورے، سیاست داں اور کاروباری لوگ آخر گھٹیا باتوں پر ہی تو فخر محسوس کرتے ہیں۔

اِس خطرناک مضمون کا ایک سوال میں نے جلد ہی پھر حل کیا۔