Categories
شاعری

بے لفظی کا خوف اور دیگر نظمیں (حسین عابد)

بے لفظی کا خوف

لفظ مجھ سے روٹھ گئے ہیں
یا وہ معنی کی تلاش میں چلے گئے ہیں
روٹھا ہوا لفظ زیادہ دور نہیں جا سکتا
معنی کا حمل سنبھالے
اس کی سانس پھول سکتی ہے
وہ کہیں بھی بیٹھ سکتا ہے
کسی نیم تاریک گلی کے موڑ پر
دن کے صور سے متوحش
دفتروں، کارخانوں، عبادت گاہوں میں
پناہ لیتی خلقت کے بیچوں بیچ
بچے کھُچے کھیتوں کے پار
معدوم ہوتے دریا سے پہلے
آخری پیڑ کے نیچے
معنی سے لبریز ہانپتے لفظ کو
کوئی بھی اغوا کر سکتا ہے
دنیا بے معنی لوگوں سے بھری پڑی ہے
مجھے فوراً اس کی تلاش میں نکل جانا چاہیے
مگر میں خوفزدہ ہوں
اگر میرے لفظ معنی کی تلاش میں گئے ہیں
تو کیا واپسی پر وہ مجھے ڈھونڈ پائیں گے؟

خوشی کا گیت

خوش ہوں بھی
تو خوشی کا گیت
ہم سے نہیں گایا جاتا
آدمی خوشی سے چوکنا رہتا ہے
وہ کسی بھی لمحے گم سکتی ہے
دکھ کہیں بھی مل سکتا ہے
ڈھونڈے بغیر
دیر تک ساتھ چلنے کے لیے
دکھی گیت کیسی فرحت دیتے ہیں
جیسے ہم اجتماعی غم کا حصہ ہوں
خوشی
کمینے محبوب کی طرح
منظرکے عقب سے جھانکتی ہے
ہمیں ہر لمحہ چوکنا رہنا پڑتا ہے
خوشی کا گیت
ہم نہیں گا سکتے

درخت اور لائٹ ہاوس

ستارے آسمان پر ہیں
زمین پر پانی
بیچ میں رات تنی ہے
میرے جزیرے سے
تمہارے جزیرے تک
یہاں ایک پیڑ ہے
جس سے میں ٹیک لگائے بیٹھا ہوں
اور جسے کشتی بنانے کے منصوبے باندھتا ہوں
لیکن وہ دن میں گم ہو جاتا ہے
دن میں مجھے اپنی پشت پر
دیمک کا ڈھیر ملتا ہے
محبوب عورت
کیا تم اپنے دل کے لائٹ ہاوس کی
ایک مضبوط شعاع
اِدھر مرکوز رکھ سکتی ہو
تاکہ میں رات میں کشتی بنا سکوں؟

ذلتوں کے مارے لوگ

ہمارے گُردے بیچ کر جدید اسلحہ خریدا گیا
دور دراز کے ملکوں میں بنگلے
دور دراز کے سمندروں میں جزیرے
اور متروک اسلحے کی بھٹی میں پکائی
باسی ڈبل روٹیاں ہمارے آگے پھینک دی گئیں
ہمیں اُبکائی آتی ہے
تو وہ آسمان کی جانب اٹھی ہماری مقعدوں پر
ٹھوکر مار کر دھاڑتے ہیں
“غدارو، نمک حراموں، کفرانِ نعمت کرتے ہو؟”
معصوم اعضائے تناسل کے چیتھڑوں پر پلے
خدا کے دلال
ہماری ابکائیوں سے لتھڑی ڈبل روٹیاں بھی کھا جاتے ہیں
وہ مقدس جھنڈوں کی طرح پھڑپھڑاتی داڑھیوں سے
آسمان تاریک کردیتے ہیں
ان کے پالتو کتے
ہماری کھوپڑیاں پھاڑ کر ہمارے بھیجے کھا رہے ہیں
ہماری چیخیں لاوارث لاشوں کی طرح
تپتی ریت میں دبا دی جاتی ہیں
بھوک، ذلت اور تاریکی کے غار میں
اپنے وجود کے چیتھڑے ڈھونڈتے
ہمیں یاد تک نہیں رہا کہ
ہم انسان ہیں
انہی انسانوں جیسے
جنہوں نے بندوقوں پر مقدس جھاڑ جنکار لپیٹ کر
ان کے مالکوں کی مقعدوں میں گھسیڑ دیا
اور تاریک آسمان کو پھاڑ کر
اپنی دھرتی کا سورج نکال لائے

غلام نبی بٹ کی تنہائی

چچا کہتا ہے
تم میرے سگے بیٹے ہو
تم میرے ساتھ رہوگے
تایا کہتا ہے
تم میری اولاد ہو
میں تمہیں کبھی بچھڑنے نہ دوں گا
میرا باپ میری پیدائش پر مرگیا
ماں پاگل ہوگئی
میں نہیں جانتا سگا کون ہے
میں اپنے ہی گھر میں یرغمال ہوں
چچا تایا روز لڑتے ہیں
دیوانوں کی طرح
میرے برتن ٹوٹ گئے
میری چارپائی ٹوٹ گئی
ان کی لڑائی میں میری ناک ٹوٹ گئی
ایک آنکھ میں سوراخ ہوگیا
میرا خون بہہ رہا ہے
ہمسایہ ابہے نندن کہتا ہے
تم نمک حرام ہو
جس زمین کا کھاتے ہو
اسے ہی اپنے خون سے داغدار کرتے ہو
میں نے سنا ہے
زمین بہت بڑی ہے
مہاپُرشوں سے بھری
میرے گھر کوئی نہیں آتا
چچا تایا کے سوا

فتح محمد کا اقرارنامہ

ہم اتنی بار فتح ہو چکے ہیں
کہ ہم میں سے ہر ایک کا نام مفتوح ہے
مفت میں پیدا ہو جانے والی نسلوں پر یہی نام جچتا ہے
یوں بھی
مفتوح کو مقتول کرنے میں
تین حرف بھی نہیں لگتے
ہمیں اپنے فاتحین سے عقیدت ہے
خوف کو عقیدت میں بدل لینا
ہمارا وراثتی ہنر ہے
ہم کاغذات میں
بچوں کے فرضی نام لکھوا دیتے ہیں
کہ سرکار کے کان
ایک ہی نام سنتے پک نہ جائیں

قومی دن

ہمارے کیلنڈر کے ہر خانے پر
سیاہی پھری ہے
کہیں کہیں یہ سیاہی
سرخی مائل ہوجاتی ہے
جہاں لہو کا رنگ سیاہی ڈھانپ لیتا ہے
ہم جان جاتے ہیں
سال بھر کے آنسو بہانے کا دن آ گیا

کوئی ہونا چاہیے

آوازوں کے غبارے پھٹتے ہوں جب
چاروں جانب
لایعنیت شفاف زیر جامے میں
ٹھمکے لگاتی، ہونٹ پچکاتی، قہقہہ زن ہو گلی گلی
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو کوئل کی کُوک
سنگ زنی سے گھائل دن
جب آن گرے سروں اور کندھوں پر
ٹکرا جائیں زم زم سے دُھلی پیشانیاں
فاحشہ رات کی متعفن لاش سے
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو چنبیلی کا چٹکنا
ہجوم بن جائے جب بے ہئیت جانور
بے بصارت، بے سمت
اک سیال دیوانگی سے گھروں
دفتروں، کارخانوں، عبادت گاہوں کو ڈبوتا
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو بچے کی پہلی کھلکھلاہٹ
اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”

لاٹھی کی آواز

ہم وہ پیڑ خون سے سیراب کرتے ہیں
جس کی شاخیں کاٹ کاٹ کر وہ لاٹھیاں بناتے ہیں
خون کی کمی سے ہماری سانس پھولی رہتی ہے
کچھ بھی سوچنے پر چکر آتے ہیں
لیکن اپنی پیٹھ ننگی کرنے میں
ہم کوتاہی نہیں کرتے
تاکہ ان لاٹھیوں کی مضبوطی آزمائی جاسکے
جو وہ ہماری حفاظت کے لیے تانے رکھتے ہیں
برستی لاٹھیوں کی شائیں شائیں
خون کی حرارت پر ہمارا ایمان مضبوط رکھتی ہے
بس ہماری کٹی رگوں سے بہتا خون
کچھ دیر کے لیے حیرت سے جم جاتا ہے
جب وہ کسی خدا کا ذکر کرتے ہیں
جو ان سے بھی بڑا ہے
اور جس کی لاٹھی بے آواز ہے

نئے کیلنڈر کی پیشانی

میں کیلنڈر سے خوفزدہ ہوں
اس کے خانے دانتوں کی طرح
میری زندگی میں پیوست ہیں
لیکن سال کا بدلنا ایک مبارک واقعہ ہے
پرانے کیلنڈر کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے
اور نیا دیوار پر آویزاں کرتے
میں پڑھتا ہوں اس کی پیشانی
اور دیکھتا ہوں
وقت کی سرد سِل میں پیوست
اپنے دانتوں میں ایک اور کا اضافہ
اور خوشی سے چِر جاتی ہیں میری باچھیں
نئے سال کا جام بلند کرتے ہوئے

یک رنگی کا خواب

میں چاہتا تھا
تمہیں زرد لباس میں دیکھوں
میرے پاس ایک ہی پھول تھا
زرد
تم نے اتنے رنگ بدلے
پھول مرجھا گیا
اب میں اسے نگل چکا ہوں
اس کے زرد ذرات
میرے خون میں تیرتے ہیں

Categories
شاعری

نمبردارکی حویلی – حسین عابد

ڈنڈوت و سلام
سات آسمانوں کو
اور سات زمینوں کو
اور ان کے بیچ
چڑھتے ڈھلتے سوریہ کو
ہماری زندگی
گنتی میں گزرتی ہے
کھائی گئی روٹیوں کی گنتی
جرابوں میں چھپائے گئے نوٹوں
کارپوریٹ بینک کے ایجنٹوں
داڑھی کے تنکوں
مندر مسجد گرجے گردوارے
میں پھوڑی گئی پیشانیوں
اور سالگرہ پر جلائی گئی
مومی شمعوں کی گنتی میں
نیم تاریک جگہوں پر
کی گئی مباشرت
ادھورا رہ جانے والے لمس
اور ان چہروں کو گنتے
جنہیں ہم چوم لیتے
تو سوریہ سنسکار بھول جاتے
بھول جانے کی حسرت میں
ہماری تسبیح کے دانے گرتے ہیں
سات زمینوں
سات آسمانوں کے پار
خدا کی انگلیوں پر
جو ہمارے گناہ ثواب
اپنی پوروں پر گن رہا ہے

Image: Bhupen Khakhar

Categories
شاعری

فرق کی موت (حسین عابد)

زندگی اور موت میں
ایک سانس کا فرق ہے
ایک سوچ کا

سانس
اکھڑ سکتی ہے
انکاری دل کی دہلیز پر
پس سکتی ہے آخری دانے کی طرح
روزمرہ کی چکی میں
ضبط ہو سکتی ہے ہیرے کی طرح
بحقِ سرکار
چھلنی ہوسکتی ہے
سستے مذاق کی طرح
امپورٹڈ مشین گن کے قہقہے سے

سوچ
بدل سکتی ہے
صحن میں گرتی پکی جامنیں، آم کا بُور، شام کی بارش، چھاتی میں اڑتی تازہ محبت کی تتلیاں، شانے اور گردن کے بیچ دہکتا بوسہ، رانوں میں مہکتا نمو کا بیج، رنگوں سے اٹے بازار، اینٹ سیمنٹ کا عہدِ وفا، بھٹی میں ڈھلے فولاد کا غرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر کے واہمے میں
سرائے میں، امتحان گاہ میں، حیات بعد از موت کی تیاری کے اکھاڑے میں
خدا کے جوتے کی نوک پر دھرے ذرے میں

وحشت
اس فرق کی موت ہے
اور موت کی زندگی
Image: Gustav Klimt

Categories
شاعری

ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی
ہنسی پر ٹھٹھکتے
محبوب آنکھوں میں جھانکتے
پکی خوشبو
اور معصوم آوازوں کے شور میں
بدن سے دن کی مشقت دھوتے
یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی
ندی کے ساتھ چلتے
جس کے کناروں کی گھاس
پانی میں ڈوب رہی ہو

وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا
ابدی مسرت کا لمحہ
جو سارے مساموں سے پھوٹ نکلے

ایک گہرے دوست جیسا
جو کبھی جدا نہ ہو
ایک جگنو جیسا
جو گھمبیر رات میں چلتے
اچانک تمہارے سامنے آنکلے
ایک لمحہ کافی ہے

Categories
شاعری

سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

بارش بہت ہے
وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی
دماغ کے گودے میں
اور دل کے پردوں میں
چھید کرتی
پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید رہی ہے
میں چاہتا ہوں
چھت پہ جا کر لیٹ جاوں
اور سوراخوں کو
چھلنی وجود کے بوجھ سے
بند کردوں
مگر
سیدھی بارش کی میخوں نے
پاوٗں
بہتے فرش میں گاڑ دیئے ہیں
Image: Victor Calahan

Categories
شاعری

آسان رستے کا مسافر

وہ خواب دیکھنا دوسروں کو سونپ دیتا ہے
دوسرا
ہزاروں سال پہلے مرچکا ہو
تو یہ اور بھی محفوظ سودا ہے
آدمی کو اپنا خواب نہ دیکھنے سے
کتنی راحت ملتی ہے!
وہ ایک پرچم کے ڈنڈے پر بیٹھ سکتا ہے
گائے کے سینگوں پر لیٹ سکتا ہے
ہلال کو ستارے سے ٹکرا سکتا ہے
اور مرے بغیر
صلیب پہ لٹکا رہ سکتا ہے
نیچے
گلی میں
خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں

Categories
شاعری

شاعر

سحر کا جب مجھے
پہلی بار احساس ہوا
تو وہ میرے وجود میں
پوری طرح سرائیت کر چکا تھا

دروازوں، رستوں اور پرندوں نے
مجھ سے ایسی باتیں کیں
جو مسحور آپس میں کرتے ہیں

دوکانیں، دفتر اور کارخانے
مجھے گونگوں کی طرح تکتے رہے
شاعری میں نے
انہیں گویائی دینے کے لیے شروع کی
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

امن کا پرندہ

امن قبرستان میں قید کردیا گیا
اور باہر فاختہ اڑا دی گئی
جسے کوئی بھی دانہ ڈال سکتا ہے
جسے کوئی بھی بیچ سکتا ہے
جسے مارنے کے لیے
غلیل کافی ہے

Categories
شاعری

ڈھلتی دوپہر کی چُپ میں

خدا اوپر رہتا ہے
دوپائے، چرند پرند نیچے
آنا جانا لگا رہتا ہے

سیڑھیاں بنانے
اور حفاظتی امور کے محکمے
دن رات جُٹے رہتے ہیں
فرض کی ادائیگی میں
وہ سوال جواب پسند نہیں کرتے

میں کہیں نہیں جانا چاہتا
گندم پک چکی ہے
میں دیکھ رہا ہوں
دودھ بلو کر لاتی عورت کو
سیڑھیوں میں بٹے کھیت کے بیچ

Categories
شاعری

مجھے ایک سرجن کی تلاش ہے

مجھے ایک سرجن کی تلاش ہے
میں دل کا وہ حصہ نکلوا دینا چاہتا ہوں
جہاں وہ نظمیں پلتی ہیں
جو میری جنم بھومی میں پھٹتے بموں
اندھی گولیوں، ادھڑے جسموں، لڑھکتے سروں
اور کٹی انگلیوں سے انگوٹھیاں اتارنے والوں کا بین کرتی ہیں
میں اس مجنون نوحہ گر کے ساتھ اب نہیں جی سکتا
میں دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ جیوں گا
جو اندھا دھند گالیوں سے لبریز ہے

Image: Bobby Becker

Categories
شاعری

آگاہی

بچہ روشن دان سے آتا ہے
آسمان سے
یا ماں کے پیٹ سے
وہ ہمیں نہیں بتاتے
اخروٹ کھیلتے
ویڈیو گیمز میں مرتے جیتے
خود لذتی کی دلدل میں ڈوبتے ابھرتے
اسے وردی پہنا دی جاتی ہے
یا شیروانی
نقشے پر ٹانگیں پھیلائے کھڑا آدمی
ہمیں نہیں بتاتا
وہ روشندان سے آیا ہے
آسمان سے
یا ماں کے پیٹ سے

Categories
شاعری

تصویروں سے بھری چھاتی

دل خالی ہوجائے
تو وجود شل ہو جاتا ہے
روشنی کی رفتار سے اڑتا آدمی
گر جاتا ہے
لکھنے کی میز
اور تنہائی کے بستر کے بیچ
تین قدم کے بلیک ہول میں

محبت تمہیں اپنے ہزار رنگوں سے
پریشان رکھتی ہے
تم یکجائی کے نشے میں
خود کو پرزہ پرزہ کرتے ہو
اور تمہاری چھاتی بھر جاتی ہے تصویروں سے

تین قدم کے بلیک ہول سے
رنگ نہیں رِستے
خون نہیں رِستا
کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ میں

لوگ ان پر کھینچ لیتے ہیں
اپنی قسمت کی لکیریں
تمہارے دل کے سوراخ کی
بولی لگاتے

Image: Lilya Kouhan

Categories
شاعری

غیر حاضر مالک مکان

شاعر ۔ چارلس سیمیِچ
ترجمہ ۔ حسین عابد

یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

وہ چاہے تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑے
اس عجیب وغریب احساس میں
جو آ لیتا ہے ہمیں کبھی کبھی
کہ کوئی بڑا مقصد پوشیدہ ہے
یہاں ہمارے قیام میں
جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں
اور ہر شئے کی مرمت ہونے والی ہے

کم از کم وہ ایک تختی تو لگا سکتا تھا
’’ کاروباری دورے پر روانہ‘‘
جسے ہم دیکھ سکیں
قبرستان پر، جس کا کرایہ وہ وصول کرتا ہے
یا رات کے آسمان پر
جس کے نام ہم اس کی شکایتیں بھیجتے ہیں

Image: Nguyen Thai Tuan

Categories
شاعری

عریاں بدن کا مستور چہرہ

عریاں بدن کا مستور چہرہ
وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
تم جس چہرے کے ساتھ مجامعت کرتے ہو
وہ اسے تھوڑی دیر بعد نالی میں بہا دیتی ہے
تم اسے
کبھی بھی پہچان سکتے ہو
بو سونگھ کر
مگر تم ایسا نہیں کروگے
تم اسے جعلی پرفیوم تحفہ میں دوگے
تاکہ وہ اپنا چہرہ کبھی نہ ڈھونڈ سکے
Categories
شاعری

کوئی ہونا چاہیے

کوئی ہونا چاہیے
آوازوں کے غبارے پھٹتے ہوں جب
چاروں جانب
لایعنیت شفاف زیر جامے میں
ٹھمکے لگاتی، ہونٹ پچکاتی، قہقہہ زن ہو گلی گلی
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو کوئل کی کُوک

سنگ زنی سے گھائل دن
جب آن گرے سروں اور کندھوں پر
ٹکرا جائیں زم زم سے دُھلی پیشانیاں
فاحشہ رات کی متعفن لاش سے
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو چنبیلی کا چٹکنا

ہجوم بن جائے جب بے ہئیت جانور
بے بصارت، بے سمت
اک سیال دیوانگی سے گھروں
دفتروں، کارخانوں، عبادت گاہوں کو ڈبوتا
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو بچے کی پہلی کھلکھلاہٹ

اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”