Categories
فکشن

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹِک ٹِک ٹِک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ٹِک ٹِک ٹِک
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔
ٹِک ٹِک ٹِک
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔
’’کوئی نہیں آرہی‘‘
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔
’’سنو، آرہی ہے‘‘
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا
’’السلام علیکم ـ‘‘
’’وعلیکم السلام
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘
۔
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔
’’اوہ میرے خدا
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘

Categories
فکشن

کچا

اس کی پیدائش وقت سے پہلےہوئی۔ دائی نے لا کر باپ کی گود میں ڈالا تو اس کے نا مکنل ہاتھ پاؤں کا بتا دیا۔ باپ کو اپنے باپ کی بد دعا یاد آئی۔باپ نے اس کاکچا ہونا جان لیا۔ بعد میں کچھ اور باتیں باپ کے سامنے اس کے کچے ہونے کے ثبوت لاتی رہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کی یاداشت سے دو مناظر کبھی دھندلا ئے نہیں گئے۔ جانے کیسے وہ پکے رہ گئے۔

پہلا منظر تب کا تھا جب ماں کی وفات کے بعد وہ نانی کے پاس رہا تھا ،چارسال بعد اس کا باپ اسے واپس لینے آیا تھا۔ اس منظر میں اس کی روتی ہوئی نانی کے دو سوکھے سےبازو تھے جو اسے اس کے باپ سےواپس لینے کے لئے منتیں کرتے وقت اٹھے ہوئے تھے۔

دوسرے منظر میں اس کی اپنی ماں تھی۔اس کے پیچھے پیچھے چلتی۔اپنے مر جانے سے پہلے۔ قبرستان سے لکڑیاں جمع کرنے جاتے وقت وہ اسے ساتھ لے جاتی تھی۔ آم اورلیموں کے باغات کے درمیان گذرتے گری ہوئی کیری یا لیموں اٹھانے پر کبھی جھڑکتی تو کبھی چپت مار دیتی۔پھر پھینک دینے پر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی چلتی۔واپسی پر ماں کے دونوں ہاتھ سر پر پڑے لکڑیوں کے گٹھے کو سنبھالنے میں لگے ہوتے تو وہ کیری یا لیموں اٹھانے کی جرات کرلیتا۔بڑا آم تو اس کے ادھورے ہاتھوں نے کبھی نہ اٹھایا۔ زرد رنگ کے لیموں کی خوشبو اور کٹھاس اچھی لگتی تھی۔وہ لیموں سونگھتا ،ماں کی جھڑکیاں کھاتا گھرکی طرف چلتا رہتا۔گھر تک پہنچتے ماں کا غصہ ٹھنڈا پڑ جاتا۔پھر وہ لیموں کو دن بھر پسیجتے ہاتھ میں پکڑے سونگھتا رہتا۔مگر اب لکڑیاں لینے قبرستان جاتے کیری یا لیموں اٹھانے کی ہمت نہ پڑتی۔ویسے بھی خالی پیٹ اسے پیلو کا پھل کھانے پر اکساتا ہوتا۔نئی اماں جب صبح میں اس کا کان اینٹھتے لکڑیوں کے لئے گھر سے باہر نکالتی ، وہ سہما ہوا آم اور لیموں کے باغوں کے درمیان گذر جاتا۔بس اس وقت اماں زیادہ یاد آنے لگتی جب کانٹے دار جھاڑیوں سے لکڑیاں چنتے کانٹا چبھ جاتا۔ اس کے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا اور اشہد انگلی چونکہ پیدائشی ناخن والے حصے سے محروم تھے، اس لئے کانٹا بہت مشکل سے نکل پاتا۔اور جس دن لکڑیاں گھر لے جانے میں دیر ہوتی اس دوپہر کھانا نہ ملتا۔نئی اماں دھکیل کر دروازہ اندر سے بند کرلیتی۔وہ گاؤں کی گلیوں میں پھرتا یا جوہڑ کنارے درختوں کے سائے میں جا بیٹھتا۔بھوک زیادہ ستاتی تو گاؤں کے چنگے مڑس(وڈیرے) کی دیوڑھی میں چپ چاپ اکڑوں بیٹھ جاتا۔دیر سویر چنگے مڑس کی بیوہ بہن کی نظر پڑتی تو وہ اس کے سامنے کھانا لا کر رکھتی اور پھر اس کی نئی اماں کو صلواتیں سناتی۔ایسی باتیں باپ تک پہنچانے کا اسے کبھی خیال نہ آیا۔دو تین مرتبہ نئی اماں نے باپ کو اس کے لکڑیاں دیر سے لانے کی شکایت کی تھی۔ باپ نے گرم ہوکر اسے طمانچے جڑ دیے۔ اب باپ کا لال بھبوکا چہرہ بھوک سہنے میں مزید مدد دیتا۔ویسے بھی وہ باپ کو دیکھ کر بلی کے بچے کی طرح ادھر ادھر دبکنے لگتا۔

اس کے کچھ بڑے ہوجانے پر باپ نے شہر کے مدرسے میں داخل کروادیا۔اسی شہر میں باپ کی سائیکل پنکچر کی دکان تھی۔صبح کو باپ ساتھ لے جاتا اور شام ڈھلے واپس لے آتا۔اب کانٹوں اور بھوک سے اس کی جان چھوٹ چکی تھی۔مگر خوش وہ پھر بھی نہ تھا۔اس سے قاعدہ بغدادی کا سبق ہی یاد نہ ہوتا تھا۔مدرسے کے پکے فرش پر استاد حافظ کے آگے دورویہ قطار میں بیٹھے،سبق کو زور زور سے دھرانے کے بعد بھی وہ الفاظ کو بھلا بیٹھتا۔وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجاتے اور وہ انہیں پہچان ہی نہ پاتا۔استاد حافظ کے ڈنڈے کا ڈرمحنت تو کرواتا مگر سنانے جاتا تو سبق اس کے اندر سے پھسل جاتا۔ ہاتھوں پر بید کی ضربیں سہتا وہ پھر سبق پکا کرنے میں مگن ہوجاتا۔اگر کسی وقت ٹنڈ منڈ درخت جیسے بغیر ناخن والی سیدھے ہاتھ کی دو اور الٹے ہاتھ کی چار انگلیوں کے سرے پر بید پڑتا ، اس پر سکون حرام ہوجاتا۔آنکھیں مدرسے کی چھت میں لگے پر نالے کی طرح بہہ نکلتیں۔جیسے تیسے کر کے اس نے قاعدہ بغدادی ختم کیا اور قرآن پڑھنا شروع ہوا۔ایک شام وہ روزانہ کی طرح عصر نماز کے بعد مدرسے کے باہر روڈ پر آبیٹھا اور اور باپ کا انتظار کرنے لگا۔سورج غروب ہوتا گیا۔مغرب کی آذان ہوگئی۔باپ نہ آیا۔وہ مسجد میں نماز پر جانے کی بجائے وہیں باپ کا انتظار کرتا رہا۔تھوڑی دیر میں بازار کی سنسانی، اندھیرے اور انتظار نے دل کو دہلانا شروع کیا۔ وہ اٹھ کر گاؤں جاتے راستے پر چلنے لگا۔کچھ دور چلنے کے بعد خالی راستے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگوادی۔ وہ مدرسے گیا تو استاد حافظ نے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔استاد حافظ اپنی مقرر کردہ مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔مسافر شاگرد سبق پڑھ رہے تھے۔

“تیرا ابا کہہ گیا ہے کہ اب تو یہاں رہے گا۔جا ،جاکر سبق پڑھ”یہ بات سن کر اس کا دل دھڑکنا چھوڑ کر پاؤں کی تلیوں میں جا پڑا۔وہ اٹھا اور مسافر شاگردوں کی صف میں جا بیٹھا۔رات کو سونے کا وقت ہوا۔ ہر ایک اپنا اپنا بستر کھول کر سونے کی تیاری کرنے لگا۔اس کے پاس بستر تھا ہی نہیں۔اس نے مدرسے کے ساتھ موجود مسجد میں ایک صف کو لپیٹ کر سرہانہ بنایا اور وہیں لیٹ گیا۔دوسرے دن باپ کی دکان پرچلا گیا۔

“اب تو مدرسے میں رہ اورپڑھائی کر۔میں تیرا بستر اور کپڑے لے آؤں گا۔”باپ نے دیکھا تو اتنا بول دیا۔وہ بیٹھا ٹکر ٹکر باپ کی صورت دیکھتا رہا۔ایک دو دن میں بستر اور کپڑے آگئے۔دن بدن اس کی کمزور یاداشت سے گاؤں کی گلیاں،جوہڑ نکلتا گیا۔وہ مسجد میں بچھی صفوں میں سے ایک صف بن گیا۔اسے خود یاد نہیں رہا کہ کتنے سال اس کو قرآن پورا کرنے میں لگ گئے۔قرآن ختم کرنے کے بعد استاد حافظ نے باپ کو بلایا۔

“تیرا بیٹا کسی کام کا نہیں۔اس کا ذہن ہی نہیں۔اس سے چھ کلمے اور سورتیں یاد نہیں ہوتیں وہ سارا قرآن کیسے حفظ کرے گا۔”
“حافظ جی میرے بھی تو کسی کام کا نہیں۔ہاتھ دیکھیں ہیں آپ نے اس کے؟وہ نہ پنکچر لگانے کا کام کر سکتا ہے نہ اس سے کدال بیلچا پکڑ کر مزدوری کی جائے گی۔میں اس کا کروں گا کیا؟آپ مہربانی کرو۔”

“اس کو درس نظامی والے مدرسے میں چھوڑ آؤ میں مولانا صاحب کو کہتا ہوں۔وہ اس کا کچھ کرلیں گے۔”باپ نے جا کر دوسرے مدرسے مولانا صاحب کے حوالے کیا۔درس نظامی شروع ہوا۔پہلے سال میں فارسی کی کتب تھیں۔یہ کام اسے ذرا آسان لگا۔آہستہ آہستہ پھر وہی دن لوٹ آئے۔عربی گرامر کی ابتدا کیا ہوئی۔اس کو کچھ سمجھ نہ آتا۔مار،کٹائی،تذلیل سہنے میں مشکل تب تک رہی جب تک اس نے ان سے ہم آہنگی پیدا نہ کرلی۔وقت کٹ رہا تھا۔کبھی پاس کبھی فیل کا سلسلہ جاری رہا۔اس نےروز شب کے مروجہ ڈگر پرخود کو ڈھالنے کی قوت حاصل کرلی تھی۔پھر ایک عرصہ بعد مصائب کے ایک دھارے نے اس کا رخ کرلیا۔اس وقت وہ چھٹی جماعت میں ہونے کے ساتھ اس مسجد میں مؤذن کے طور پر آذان کہتا اور صفائی کا کام کرتا تھا جہاں مدرسہ کا ایک استاد پیش امامت کرتا تھا۔اس کو کھانا وغیرہ مل جاتا تھا۔ باقی تنخواہ کے بارے استاد صاحب سے بات کرنا مؤخر ہوتی رہی۔کبھی کبھار کوئی شاگرد کہنے پر ابھارتا۔کہتا مسجد کمیٹی والے استاد صاحب کو مؤذنی کی تنخواہ دیتے ہیں۔وہ استاد صاحب سے مانگ لے۔مگر ایسا مناسب موقعہ کبھی پیدا نہ ہواکہ وہ اپنی تنخواہ حاصل کرنے کا استاد کو عرض کر سکے۔ ایک جمعہ مسجدمیں استاد صاحب نے چھٹی کی اور اسے خطابت و نماز کے لئے کہہ دیا۔ اس نے اپنے تئیں تیاری کی اور سنبھل سنبھل کر خطابت کی اور جمعہ پڑھایا۔کمیٹی کے صدر کو اس کا انداز بہت پسند آیا۔اس نے بعد جمعہ نمازیوں سے کٹھے کیے جانے والے چندہ میں سے چند سو اس کو دیے اور تقریر کی تعریف کی۔وہ وہاں سے اٹھا اور ہوٹل پر جا کر پہلی بار اپنی مرضی سے کچھ کھانے کا ارمان پورا کیا۔دوسرے دن اوقات تدریس میں استاد صاحب نے بلایا۔وہ صدر صاحب کے دیے پیسوں کا پوچھ رہے تھے۔ اس نے پیسے خرچ کردینے سے آگاہ کیا کیا استاد صاحب نے اسے زبان کی دھار پر رکھ لیا۔تفسیر کی کتاب سامنے رکھے انہوں نے اس کے قریبی زنانہ رشتوں کو خوب ادھیڑا۔اس دوران نادانستگی میں اس نے دلیل کے طور پر صدر صاحب کے خود پیسے دینے کی بات کہہ ڈالی۔استاد صاحب نے نہ صرف پاس رکھا بید اٹھایا بلکہ خود اٹھ کھڑے ہوئے۔ پہلے خیال نے اس کے دونوں ہاتھ بغلوں میں چھپاکر بچانے کی سعی کی اور نشانہ پیٹھ و بازو بنے۔کاروائی مکمل ہونےکے بعد وہ کراہتا جان بخشی کا خیال لاتے رخصت ہوگیا۔ مگر یہ ممکن نہ ہوا۔اگلی صبح وہ سبق پکا نہ ہونے پر نشانہ بنا۔رات بھر سبق یاد کر کے پکا سنانے کے بعد عبارت میں غلطیاں سرزد ہونے پر دھنک دیا گیا۔اس سے کچھ دن بعد دور پکا نہ ہونے پر مارا گیا۔روز مرہ کی سزا سہنے کی تو وہ طاقت رکھتا تھا مگر مقدار اس قدر تھی وہ داڑھی آنے کے بعد پہلی بار دھاڑیں مار مار کر رویا۔ الگ بات یہ تھی اسے مسجد کی مؤذنی سے نکال دیا گیا۔ہاتھ پاؤں مار کر ایک ہم سبق کی کوشش سے اس نے اور مسجد میں جگہ حاصل کی۔دو دن کے بعد اوقات کار کی بے ضابطگی اور پڑھائی میں پیچھے ہونے کی وجوہات بتا کر کہیں بھی مؤذنی و امامت پر روک لگادی گئی۔ساتھ میں عتاب و سزا تعطل کے بغیر چلتا رہا۔یہ دن تھے جب اس کے لئے نہ پائے ماندن تھی نہ جائے رفتن۔اگر کہیں بھی کوئی در کھلا ہوتا وہ اس کو چل نکلتا۔البتہ شہر کا قبرستان تھا جہاں وہ عصر کے بعد جا بیٹھتا۔ کسی دن کوئی اپنے عزیز و اقارب کی قبر پر آیا ہوا اس سے فاتحہ اور دعا کرواتا اور اس کے ہاتھ چند روپے پکڑا دیتا۔

چھٹیوں میں جب وہ گاؤں گیا عرصہ دراز بعد چنگے مڑس کی بیوہ بہن سے ملنے گیا۔اس نے اس کو اپنے شوہر کی قبر پر جا کر فاتحہ خوانی کا کہا اور آتی سردیوں کی مناسبت سے ایک رضائی دے دی۔قبرستان پہنچ کر اس نے قبر کی صفائی کی اور فاتحہ پڑھ کر واپس ہونے لگا۔اسے ماں کی قبر یاد آئی۔وہ جا کر خستہ حال قبر پر کھڑا ہوا۔جب قبر کی مٹی اور کچی اینٹوں کو درست جگہ ٹکا کر فارغ ہوا سورج ڈھلنے پر آگیا تھا۔وہ قبر کی پائینتی کی طرف فاتحہ خوانی کے لئے جا بیٹھا۔فاتحہ خوانی شروع تو کردی تھی مگر پورا کرنے پر قادر ہی نہ ہو رہا تھا۔چند الفاظ ادا کرتا اور آگے ہچکیاں نکل جاتیں۔دہرا ہوتے ہوئے وہ قبر کے تعویذ پر ماتھا ٹیک دیتا۔دل تھا کہ پھٹنے پر آیا ہوا تھا۔ قبرستان کی حد پھلانگ کر لیموں کے باغ میں قدم رکھا تو اسے لگا جیسے بچپن کی مانند ماں قدم بہ قدم اس کے پیچھے چلتے آرہی ہو۔وہ وہیں سے واپس بھاگا۔جب گھر پہنچاعشا ہوئے دیر ہو چکی تھی۔اس دن سے چھٹی ختم ہونے کے دن تک بلا ناغہ قبرستان جانا اور ماں کی قبر پر بیٹھنا لازم ہوگیا۔وہاں کے سنسان اور اجاڑ ماحول میں بیٹھے رہتے اسے کچھ قرار حاصل ہو جاتا۔ مدرسے کے کھلنے کا دن آیا۔اس نے کپڑے پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر رضائی سر پر رکھی اور پیدل چلتا مدرسے جا پہنچا۔اس بار سردیوں میں گرم رضائی نے سکھ سے سلایا۔پہلے تو دو رلیاں اوپر لینے کے باوجود ٹھیک طرح نیند ہی نہ آتی تھی۔

باقی آخری دو سال تھے۔ایک ساتویں جماعت ،جسے موقوف علیہ بھی کہا جاتا تھا اور پھر دورہ حدیث۔ان دونوں سالوں میں اس نے جمعرات کی جمعرات مدرسے میں ہونے والی تربیتی نشست کے ذریعے خطابت کا طریقہ سیکھ لیا۔دورہ حدیث کے اختتام تک وہ اچھا بولنے پر قدرت حاصل کر چکا تھا۔صدر مدرس صاحب اس کی اس خوبی سے واقف تھے۔دورہ حدیث مکمل کر کے جب وہ درس نظامی سے فارغ ہوا تب سالانہ پروگرام کے اندر اسے دستار فضیلت پہنائی گئی۔پر فخر باپ نے گلے لگا کر ماتھا چوم لیا۔گاؤں جانے کی نوبت نہ آئی۔ صدر مدرس نے شہر کی ایک مسجد میں اسے خطیب و امام مسجد مقرر کروادیا۔بطور خطیب و امام اس کا پہلا جمعہ تھا۔ مؤذن آذان کہہ کر ،منبر پر مصلا جما کر اسے خطابت کے لئے عرض کرنے آیا۔ وہ نہا دھو کر عطر لگائے تیار تھا۔ سفید لباس پہنے اور سفید رومال سر پر ڈالے وہ حجرے سے نکل کر مسجد کو آیا۔حاضرین اسے دیکھ کر احتراما اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے منبر پر تشریف فرما ہونے تک کھڑے رہے۔مؤذن نے بٹن آن کیا۔لائوڈ چیک کرکے مائیک اس کے منہ کے آگے رکھا اور پھر سامنے موجود صف میں دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔اس نے عربی الفاظ سے خطبے کی ابتدا کی اور پھر موضوع تک آتے آواز متاثر کن حد تک بھاری ہو چکی تھی۔دوراں خطبہ ایک نکتہ بیان کرتے وہ جوش میں آیا۔اس نے جملے کا اختتام کیا تو مسجد حاضرین مجلس کی سبحان اللہ سے گونج اٹھی۔ اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

Categories
نان فکشن

“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ﺍﯾﮏ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻟﻔﻆ تب ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻗﺮﯾﺐ آٹھ، دس ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﻔﻆ ﻭ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ “ﻏﺰﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ” ﺧﯿﺮ ﻭ ﺷﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﺋﺘﯽ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

“ﻗﺮﻧﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺍﻭﻧﮕﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﺎﻓﮯ ﭘﺮ ﻧﮕﺎہ ﮐﯽ”۔

ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﭼﺎﺷﻨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﻤﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺳﺤﺮ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧوﺸﺒﻮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟

ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺟﮩﺘﯿﮟ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﻣﺜﻼً ﺍﺳﮯ ﺗﻤﺪﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺣﺴﻦ ﺳﮯ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮨﮯ؟ ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﮯ ﺍﻣﻦ ﻭ اﻣﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻭ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﺭﮐﮭﺎﺅ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔

ﯾﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ طﻮر ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﺍﻣﻦ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﻋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﻭ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ﺑﺴﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﺍﮞ ﮨﮯ‏۔

“ﻣﻐﻨﯽ ﮐﻬﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻫﺠﺮ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﮔﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﮑﮯ ﭘﮍﮮ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﻫﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ”

ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﯿﮟ ﻣﻐﻨﯽ ﮐﺎﺗﺐ ِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮨﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻠﻨﺎ ﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ۔

“ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﺨﻠﺴﺘﺎﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ ﺍﻻﺅ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ”
۔
ﯾﮧ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﮯ۔

“ﺍﻭﺭ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻮﺍﮞ ﺑﺨﺖ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﮨﻤﮏ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻓﺮﺯﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﻧﻈﻢ ﺍﻓﺮﯾﻨﺎ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ”۔

ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺭﻧﮓ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﻟﻄﻒ ﺁﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﻠﯽ ﺳﻄﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺍﺳﻄﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻏﺰﺍﻝِ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻧﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﺣﺴﯿﻦ، ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔

ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﻄﻮﺭﻩ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﻔﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ “۔
ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ ﮔﯿﻠﯽ ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﯿﺮ ﻫﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ”۔
ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻟﮕﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺷﺎﻧﺘﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

“ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﮔﯿﺖ ﮔﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﯿﺎ”۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻇﻠﻢ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺷﺮ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯽ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

“ﻏﺰﺍﻝ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ، ﻧﻈﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻫﻤﮑﺘﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ”

ﯾﮩﺎﮞ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ﻧﻈﻤﻮﮞ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﮑﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺍﺱ ﺣﺴﯿﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻗﺼﮧﺀ ﭘﺎﺭﯾﻨﮧ ﺑﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺭﺍﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔

ﻣﺼﻨﻒ ﺍﺱ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﻧﯿﺎ ﺑﺮﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﮨﯽ ﻟﻄﻒ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺑﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﻣﯿﺪ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ﮐﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺕ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ہے ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺲ ﺑﮭﺎﺅ ﺗﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻖ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔

“ﯾﮧ ﻣﺎﺋﯿﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮨﺮ ﮔﺰ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ”
ان ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﺪ ﻭ ﺧﺎﻝ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻟﭩﮫ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺑﺲ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺍﺑﺪﯾﺪ پر ﮨﮯ۔

ﻣﺎﺋﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ؟
اس سوال کا جواب ہے جیسی مغرب میں لکھی جا رہی ہے کیوں کہ یہ صنف بھی باقی بہت سی اصناف کی طرح مغرب سے درامد شدہ ہے اس لیے اسے بھی مغرب سے من و عن اٹھانے برتنے اور اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکے ایسا کرنے سے وقت کی بچت ہو گی اور کسی قسم کے بے کار تجرباتی ادوار سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا بلکہ لکھاری حضرات وہی وقت اس صنف میں اچھی اور معیاری تخلیقات پیش کرنے میں سرف کر سکیں گے۔
ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺗﺤﺮﯾﺮ مغربی مائکرو فکشن کے ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻓﭧ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﯾﮧ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﺴﻄﻮﺭ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺎ ﺩﻓﺘﺮ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﻤﺘﻦ ﮐﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﻣﻮﺟﺰﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯿﮧ ﺍﺧﺘﺘﺎﻣﯿﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﻮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻇﮩﺎﺭﯾﮧ ﻋﻼﻣﺘﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺗﺠﺮﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ مذکورہ مبصر ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺶِ ﻧﻈﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﮕﭩﻮ ﮐﻮ ﭘﺎﺯﯾﭩﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ان ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺏ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﻐﺖ ﮐﯽ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯽ ﺁﻓﺎﻗﯿﺖ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺧﯿﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺲِ ﻣﺘﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺩﯾﮑﻬﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﺧﺬ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ:
1۔ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ۔
ﺍﺱ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﺎ ﻇﮩﻮﺭ ﮨﻮا
2۔ﻏﺰﺍﻝ
ﺍﺑﻠﯿﺲ
3۔ﻧﺎﻓﮧ
شیطان ﮐﯽ ﺗﻔﻀﯿﻞ
4۔ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ
ﺩﻧﯿﺎ
5۔ﻣﻐﻨﯽ
ﺧﺪﺍ
6۔ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ
ﻓﺮﺷﺘﮯ
7۔ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ
ﺗﮑﺮﺍﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ
8۔ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ
ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ
9۔ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮈﺍﺋﻨﺎ ﺳﻮﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ
10۔ﺑﻬﯿﮍﯾﺌﮯ
ﺍﻧﺴﺎﻥ

ﺍﻥ ﻣﺎﺧﻮﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﻊ ﮨﻮﺗﯽ ۔ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﻮﺯﯾﭩﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

یعنی جب ابلیس جو اس کہانی میں غزال ہے کو علم ہوا کہ نبی صلعم کی تخلیق عمل میں لائی گئی ہے تو اس نے اپنی عبادات کستوری سے بھرا نافہ جس کی علامت کے طور پر ابھرا ہے کی طرف حقارت سے اپنا منہ پھیرلیا اسی تسلسل میں کہانی آگے بڑھائیں اور ایک اور معنوی جہت سے ملاقات کریں۔
ﻧﻮﭦ: ﯾﮧ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے شک یہ بہترین تنقیدی انداز ہے کہ کسی کی بھی رائے کو مدلل انداز میں رد کیا جائے اور دلائل سے بات سمجھی سمجھائی جائے اب زرا آپ کے نکات کی طرف چلتے ہیں ابھی جواب لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں اگر اس صوفیانہ نظریے سے (ابلیس نے آسمان پر کلمہ پڑھا تھا جو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے آسمانوں میں درج تھا اور اس میں نبی صلعم کا زکر تھا) ہٹ کر اس کہانی کو آدم کی تخلیق سے جوڑ کر دیکھوں تو بات منطقی نظر آئے گی اسی وجہ سے میں اپنے درج بالا تجزیے کے کچھ حصہ سے رجوع کرتا ہوں یہ ایک سوال کی وجہ سے ہوا کہ میں ایک ایک علامت کو کھول کر دیکھوں اور تحریر کا ساختیاتی جائزہ لینے کی سعی کروں اب چلتے ہیں ایک بار پر اس کہانی کی طرف۔

“قرنوں پہلے کوسوں دور ہرے بھرے جنگل
(وہ مقام جہاں آدم کی تخلیق ہوئی، اور اسے دنیا کی علامت کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے)
سے لوبان کی خوشبو
(اس مٹی کا استعارہ جس سے آدم کی تخلیق ہوئی)
پھیل کر ریگستان
(آسمان کا استعارہ)
میں دن بھر
(ابلیس کی گزشتہ عمر یا انسان کے تخلیق سے پہلے کا وقت)
اونگھنے
( عبادات کرنے)
والے غزال
(ابلیس)
کے نتھنوں تک پہنچی تو اس نے حقارت سے سر جھٹکا اور
جنت کے باغوں میں کھلنے والے پھولوں سے کشید کی گئی متبرک کستوری سے بھرے نافے پر نگاه کی
(یہ آخری جملہ ابلیس کی تفضیل کی طرف اشارہ ہے کہ جب اسے پتہ چلا کہ زمین پر انسان کو مبعوث کیا جا رہا ہے تو اس نے تکبر کیا اور سوچا انسان مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے میں افضل ہوں انسان سے )
۔ مغنی
(خدا، خالق)
کہیں دور بیٹھا ہجر کا حال گا رہا تھا
(اس جملے کے کئی معانی ہو سکتے ہیں ہجر کا حال گانا کائنات کا نظام چلانے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے اور ہجر کے معنی کیوں کے دوری کے بھی ہیں اس لیے اس جملے کے معنی دور کی داستان سنانے دور کا قصہ سنانے پیشن گوائی کرنے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے جیسے اللہ نے فرشتوں سے کہا تھا تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں وغیرہ)
دن بھر
(یہ وہی زمانہ ہے جس کا زکر مصنف نے غزال کے ساتھ بھی کیا)
ریت میں دبکے پڑے حشرات شام ہوتے ہی باہر نکل آئے تھے
“شام ہوتے ہی” (یہ زمانہ بدلنے کی طرف اشارہ ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دن اب شام میں ڈھل چکا ہے یعنی زمانہ بدل چکا ہے اس جملے کا باقی حصہ میرے خیال میں کہانی میں بس رنگ پیدا کرنے کے لیے ہے)
اور کی اور میں سرسراہٹ پھیل رہی تھی
(ہر طرف تبدیلی آ رہی تھی )
ریت کے بڑے ٹیلوں
( باقی آسمانوں ،دوسرے آسمانوں) کے اس پار جہاں سے نخلستان
(فرشتوں کا مقام ِ انہماک)
شروع ہوتا تھا ، ساربان (فرشتے)
الاؤ میں چبائے ہوئے باسی قصے
(تکرار عبادات، ابلیس کی کل عبادات ) پھینک رهے تھے ۔ اور غزال
(ابلیس)
اپنی جواں بخت مستی کے سبب ہمک رہا تھا
(ساربان سے بعد کا جملہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایک طرف فرشتے ابلیس کی عبادات کو اس کے تکبر کے سبب آگ میں جھونک رہے تھے اور دوسری جانب ابلیس اپنے گھمنڈ غرور میں اوقات سے باہر ہوا جا رہا تھا)
یہ وہی غزال تھا جس پر فرزاد نے اپنی شاہکار نظم افرینا لکھی تھی۔ اور جس کا قصہ یونانیوں کے اسطوره کے کرداروں سے بھی دلفریب اور مشہور تھا
(درج بالا جملے میرے خیال سے کہانی میںصرف رنگ بھرنے کے لیے شامل کیئے گئے ہیں دوسری صورت میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قاری کو جھُل دینے اور بھٹکانے کے لیے یہ جملے یہاں شامل کیے گئے ہیں)
جنگل
(دنیا)
میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور خانہ بدوش
(انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے کی مخلوقات جیسے ڈائناسور وغیرہ)
گیلی لکڑیوں کی تلاش
(خوراک کی تلاش)
میں ڈھیر هوچکے تھے
(مر چکے تھے)
اس رات
(زمانہ بدلنے کا اشارہ بعثت کے وقت کا اشارہ)
بھیڑیوں
(انسانوں نے)
نے ریگستان کی طرف منہ کر کے
(آسمان کی طرف منہ)
اپنی بقا کا آخری گیت گایا
(یعنی انسانی زندگی کی ابتدا ہوئی)
اور سارے میں دھواں پھیل گیا
(دھواں پھیلنا زندگی چل پڑنے کی علامت کے طور پر لیا جا سکتا ہے)۔
غزال آج بھی شاعروں کے گیتوں، نظموں اور غزلوں میں ہمکتا ہے
(ابلیس آج بھی آزاد ہے اور اپنے گل کھلا رہا ہے اور اپنے تکبر کے سبب آج بھی وہ زندہ ہے)
اور بھیڑیے قصوں کہانیوں میں امر ہوگئے۔
(انسان فانی ہے اور قصوں کہانیوں میں رہ جانے والا ہے بس قصوں میں امر ہوتا ہے حقیقت میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے انسان کا وجود)

Categories
فکشن

پہلے میرا باپ (محمد عباس)

فجر کی نماز اور بچوں کو قرآن ناظرہ کی تعلیم دینے کے بعد گاؤں کی مرکزی جامع مسجد کے امام صاحب اپنے گھر میں استراحت فرما رہے تھے جب بیٹھک کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔آنے والا یقینا امام صاحب سے ملنے آیا تھا ورنہ بیٹھک کی بجائے گھر کے دروازے پر دستک دیتا۔ بے وقت اور اتنی تیز دستک۔ ان کی بی بی چونک اٹھی۔ گاؤں کے سبھی لوگ جانتے تھے کہ امام صاحب اس وقت آرام کرتے ہیں، ایسے وقت کوئی بھی ان کے پاس مسئلہ لے کر نہیں آتا تھا۔دوسرے ، گاؤں کے سبھی لوگ ان کی بہت عزت کرتے اور ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ان کے دروازے پر اتنی تیز دستک کی کسی میں ہمت ہی نہ ہوتی تھی، عام طور پرلوگ درمیانی انگلی کی پشت سے دروازے پر ہلکے سے بجاتے، اگر امام صاحب دروازہ کھول دیں تو ٹھیک ورنہ تین دستکوں کے بعد وہ برا مانے بغیر ادب کے ساتھ لوٹ جاتے تھے۔ آج اتنی صبح اور اتنی تیز دستک سن کر ان کی بی بی چونک اٹھی تھی۔ امام صاحب کی طرف فوراً دیکھا ، وہ بھی اس خلافِ معمول ملاقاتی کی آمد پر حیران ہو کرچارپائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں ’’اللہ خیر کرے‘‘ کے تاثرات تھے۔ جلدی سے انہوں نے بیٹھک کا دروازہ کھولا تو باہر گاؤں کا ایک معزز شخص ملک بشیر کھڑا تھا۔ گو کہ گاؤں کی آبادی میں ملکوں کا تناسب بارہ پندرہ فیصد ہی تھا لیکن یہ ان سب کا سرکردہ تھا اور الیکشن اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں میں سبھی ملک اس کی پیروی کرتے تھے۔ اس کی اسی مقبولیت کی وجہ سے گاؤں میںچودھری اور راجے دونوں اس کی عزت کرتے تھے۔ مسجد کمیٹی کے معاملات میں بھی وہ دخیل رہتا تھااور امام صاحب بذاتِ خود بھی اس کی نیک نیتی اور خلوصِ دل کے قائل تھے۔ اس وقت ملک بشیر کے چہرے پر پریشانی تو نہ تھی البتہ بے تابی کے تاثرات اس کے تمام بدن سے مترشح تھے۔ امام صاحب نے اسے اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے استفسار کیا:’’خیریت تو ہے ناں؟‘‘

’’بالکل خیریت ہے امام صاحب۔ ‘‘ وہ امام صاحب کے پیچھے پیچھے ذرا ادب سے اندر آ گیا: ’’ آپ سے معذرت ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کے آرام کا وقت ہے لیکن خبر ایسی ملی ہے کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ ‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر ایسی کیا خبر ہے جو انہیں سنانی اتنی ضروری تھی۔ ان کی نظروں میں سوال دیکھ کر ملک نے کہنا شروع کر دیا:’’آج فجر کی نماز کے فوراً بعد کالے خان میرے گھر آیا تھا‘‘

کالے خان کا نام سن کر امام صاحب کو ذرا اطمینان کا احساس ہوا۔ انہوں نے ملک کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا :’’آپ پہلے بیٹھیں تو سہی، میں ذرا چائے کا کہہ کے آتا ہوں۔‘‘

باوجود ملک کے روکنے کے، وہ بیٹھک سے نکل آئے۔ ناگواری کا ہلکا سا احساس ان کے چہرے پر عیاں ہو چکا تھا۔ کالے خان گاؤں کے بڑے قبرستان کا گورکن اور رکھوالا تھا۔ اس کا کوئی والی وارث نہ تھا ، ماں باپ بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ گاؤں میں اس کی کوئی برادری نہیں تھی، نہ ہی اسے گاؤں سے کوئی رشتہ ملا تھا ۔ چھ گاؤں دور سے اپنی ہی طرح کے مفلس گھر کی لڑکی بیاہ لایا تھا اور اسی کے ساتھ قبرستان سے ملحقہ حجرے میں رہتا تھا۔ اگر اس کے متعلق کوئی خبر تھی تو آخر کتنی اہمیت کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کسی ممکنہ خبر پر غور بھی نہ کیا ۔بہت ہوا توقبرستان کے درختوں کی کٹائی یا پگڈنڈیوں کی صفائی کا معاملہ ہو گا یا پھر سہاگے جتنے بڑے سانپ کے نظر آنے یا چارچوروں کو اکیلے مار بھگانے کی فرضی کہانی ہو گی۔ اس طرح کی کہانیاں گھڑ کے اپنا جیب خرچ بنائے رکھنے میں وہ خاصا تیز تھا۔ اس کے متعلق جو بھی ہوا، معاملہ قبرستان کمیٹی سے متعلقہ ہو گا۔ ان کا کیا تعلق۔ سو ان کا یہی خیال تھا کہ چائے پلا کے، اس کی بات مختصراً سن کر رخصت کر دیں گے۔

جب وہ بیٹھک میں واپس پہنچے تو ملک بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ انہوں نے چائے کے کپ میز پر رکھے اور ملک کے سامنے بیٹھ گئے۔ ملک نے چائے کی طرف دیکھا تک نہیں:’’امام صاحب۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ میں تو بس وہ بتانے آیا ہوں جو کالے خان نے مجھے بتایا۔‘‘
’’کالے خان نے کوئی اور کہانی گھڑ لی کیا؟‘‘

’’کہانی ! نہیں نہیں۔ اس نے کہانی نہیں گھڑی۔ ایک سچا واقعہ سنایا ہے۔ آج رات وہ اپنے حجرے میں لیٹا تھا کہ اسے قبرستان سے کوئی آواز سنائی دی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے قبرستان میں اس قدر جھاڑ جھنکاڑ ہے کہ رات کو کوئی ادھر جاتا ہی نہیں۔‘‘

’’ارے بھائی! قبرستان میں دن کو بھی کون جانا چاہتا ہے۔ مردے سے بھی پوچھو تو وہ بھی نہیں جائے گا۔ سب اسی دنیا میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
’’کالے خان بتا رہا تھا کہ کبھی کبھار رات کو چوروں یا چرسیوں کا کوئی گروہ قبرستان میں گھس جایا کرتا ہے۔ اور وہ جو اس نے ماچھیوں کے لڑکے لڑکی کو قبرستان میں کسب کرتے پکڑا تھا، وہ تو آپ کو بھی یاد ہی ہو گا خیر۔‘‘ملک نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا لیا اور تیز چسکی لے کر بولا:’’اس نے بتایا کہ یہ آواز سن کر وہ دبے پاؤں، بغیر ٹارچ جلائے قبرستان کے اندر آواز کے پیچھے چل پڑا۔ جب وہ میرے چاچاجی (ملکوں کی پوری برادری باپ کو چاچاجی اور تایا کو ابا جی کہتی تھی)کی قبر کے قریب پہنچا تب تک آواز بالکل صاف سنائی دینے لگی تھی۔ کوئی اونچی آواز میں درود شریف پڑھ رہا تھا ۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دیکھنے کی اسے کافی مہارت ہے۔ وہ قسم کھا کر کہہ رہا تھا کہ میرے چاچا جی تھے جو اپنی قبر کے سرہانے بیٹھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ ‘‘

امام صاحب یہ سن کر حیرت زدہ تھے۔ کافی دیر کوئی جواب نہ دیا۔ پھر ایک لمبا سانس لے کر بولے:’’نبی کی ذاتِ مقدس جہاں شامل ہو جائے ، وہاں جھوٹ کی گنجائش ذرا بھی نہیں رہتی۔‘‘

’’آپ اس معاملے پر کیا کہیں گے؟‘‘

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ آپ کے والد گرامی بے شک اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ زندگی میں بھی کوئی عیب ان سے منسوب نہیں تھا اور بعد از مرگ تو ان کے عمل سے ثابت ہو گیا کہ وہ خدا اور اس کے پیارے محبوب کے بہت مقرب ہیں۔ ‘‘

ملک بشیر اپنے مرحوم چاچا جی کی تعریف سن کر خوش تھا۔اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں: ’’تو کیا میں یہ بات گاؤں میں سبھی کو بتا سکتا ہوں کوئی مسئلہ تو نہیں نا؟‘‘

’’مسئلہ کیا۔ جس بستی میں زندوں کو کبھی درود شریف پڑھنے کی توفیق نہ ہو، وہاں مردے ہی پڑھیں گے ناں!آپ اپنے گھر میں ہر جمعرات کو درود کی محفل سجایا کریں۔ پورے گاؤں کو اس میں شرکت کی دعوت دیا کریں۔ خدا آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے درجات بلند فرمائے گا اور آپ کے چاچا جی کو بھی اس کا ثواب پہنچے گا۔ اور ہاں کالے خان کو بھی ضرور کچھ صدقہ کریں۔ اس بے چارے کو بھی کچھ دن سہولت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے۔‘‘
ملک صاحب ان کے مشورے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے رخصت ہوگئے ۔ امام صاحب کی ساری ذہنی کلفت دور ہو چکی تھی، انہوں نے بھی ’صلِ علیٰ‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

٭٭٭

آنے والے دنوں میں ملک صاحب نے اس واقعے کو گاؤں کے تقریباً ہر فرد کو سنا دیا تھا اور سب گاؤں والے ان کے والد صاحب کی منازلِ عاقبت میں نصرت پر انہیں مبارک باد دے چکے تھے۔ جمعرات کو انہوں نے میلاد کی محفل سجائی جس میں آس پاس کے گاؤں دیہاتوں سے بھی نعت خوان حضرات بلوائے گئے۔ محفل کے آخر میں امام صاحب نے سیرت کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور ساتھ ہی ساتھ ملک بشیر کے والد گرامی کی ذات کو پورے گاؤں کی نجات کا ذریعہ بھی قرار دیا جو بعد ازمرگ بھی اس گاؤں کی طرف سے درود کے تحفے شانِ اقدس میں ارسال کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے فرمایا کہ میلاد کا یہ سلسلہ جو ملک صاحب کے صاحبزادے نے آغاز کیا ہے، یہ بالواسطہ طور پر ان کے والد گرامی کی خواہش تھی اور ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہر جمعرات کو یہ محفل سجتی رہے۔

گاؤں میں ملک صاحب کے والد کی برگزیدگی کی اس شہرت پر چودھری اور راجے کافی حسد کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی ذات بڑی تھی اور گاؤں کے حوالے سے ان کی بے لوث خدمات اور عبادات بھی زیادہ تھیں تو پھر کم تر لوگوں کو کیوں اس نیک کام کے لیے چنا گیا ۔ چودھری اس گاؤں میں بڑی مدت سے سیاسی حوالے سے حکمران تھے اور مقامی الیکشن میں ہمیشہ فتح مند قرار پاتے تھے جب کہ راجے ان کے مستقل حریف تھے اور سیاست میں سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے ہر شعبے میں برابر کی ٹکر رکھتے تھے۔ اگر گاؤں میں کسی کا مقابلہ تھا تو وہ ان دونوں کا آپس میں تھا۔ مذہبی حوالے سے بھی انہی دونوں ذاتوں کا عمل دخل زیادہ تھا۔ گاؤں کی سات مساجد میں سے پانچ کے لیے چودھریوں نے اور دو کے لیے راجوں نے زمین عطیہ کی تھی۔ سبھی مسجدوں کا بجلی کا بِل چودھریوں کا کوئی نہ کوئی گھرانہ دیتا تھا۔ سردیوں میں وضو کے پانی کو گرم کرنے کے لیے تمام لکڑی راجے مہیا کرتے تھے ۔تینوں سکولوں کے لیے جگہ چودھریوں نے اور سرکاری دواخانے کے لیے زمین کا ٹکڑا راجوں نے دیا تھا۔ گاؤں کی سبھی نالیاں، گلیاں چودھریوں نے پکی کروائی تھیں اور تھانہ کچہری میں بھی یہی دونوں گروہ عوام کی مدد کیا کرتے تھے۔ اگر آخرت کی منزل میں درجات کی بلندی دنیاوی اعمال کے نتیجے میں عطا کی جاتی ہے تو پھر ان دونوں ذاتوں کا حق زیادہ بنتا تھا۔ اگر ملکوں کو یہ بلند رتبہ مل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی سے چوک ہو گئی ہے۔ خدا اس قدر نا انصاف نہیں ہو سکتا کہ حق دار کو اس کے حق سے محروم رکھے۔

ایک رات چودھریوں کا ایک سرکردہ آدمی عشاء کے بعد کالے خان کے حجرے میں جا پہنچا۔ اس کی بیوی کے ہاتھوں سے گرما گرم چائے پینے کے بعد اس نے کالے خان سے یہی سوال کیا کہ خدا نا انصاف کیسے ہو سکتا ہے۔ کالے خان نے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر استدعا کی کہ جس بستی میں بڑے بڑے دولت مندوں کے ہوتے ہم جیسے غریب خاندان بھوک سے مرنے لگیں، وہاں عدل و انصاف کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ چودھری نے خدا کے اس زمینی نمائندے سے آئندہ کے لیے زمین پر کامل انصاف کا وعدہ کیا اور بیعانے کے طور پر دو مہینے کے خانگی اخراجات عنایت کر دیے۔

اگلے دن آسمان پر انصاف کی میزان درست ہونے کی نوید گاؤں کے ہر چودھری گھرانے تک پہنچ گئی۔ کالے خان چہرے پر روحانی چمک لیے ہر گھر میں جا جا کے بتاتا پھر رہا تھا کہ آج رات قبرستان میں اس نے نور کی بارات دیکھی۔رات کے پچھلے پہر کسی غیبی آواز نے اسے نیند سے جگا دیا ۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا تو قبرستان کے پہلے سرے کی طرف روشنی کے آثار نظر آئے۔ وہ ایک پر اسرار سی کشش کے تحت ادھر کھنچتا چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ آسمان سے نور کا ایک دھارا (کیا خبر نوری فرشتے اتر رہے ہوں، وہ درمیان میں اپنی ہی بات کاٹ کر کہتا)زمین کی طرف رواں تھا۔آسمان سے دودھ جیسی چمکتی روشنی کی ایک آبشار قبرستان کے اس کونے کی طرف گر رہی تھی۔ حمد و ثنا کی آوازیں ہر طرف چھائی ہوئی تھیں۔ اس کا دل رعب سے تھم گیا تھا۔ وہ صمٌ بکمٌ وہیں کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد جب یہ سلسلہ رکاتو اس کے بدن میں جنبش کااحساس جاگا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کونے میں جا کر دیکھا تو چودھری رشمت علی کی قبر کے چاروں طرف دودھیا روشنی کا تالاب بنا ہوا تھا۔ ان کی قبر کا سینہ چاک تھا اور یہ سبھی روشنی اسی طرف سمٹ رہی تھی۔حمد و ثنا کی آواز اسی قبر میں سے آ رہی تھی۔ ہوتے ہوتے آواز بھی مدھم پڑتی گئی اور تمام روشنی بھی اسی قبرمیں سمٹ گئی۔ پھر کسی نامعلوم طاقت نے قبر کا تعویذ دوبارہ جوڑ دیا اور اس سارے عمل کا کوئی نشان بھی نہ چھوڑا۔ صبح وہ اس قبرکو غور سے دیکھ کر آیا ہے۔ بالکل اپنی اسی حالت میں ہے جیسے روز وہ دیکھتا تھا۔ حتیٰ کہ کھبل گھاس بھی اسی طرح اگی ہوئی ہے اورچھ مہینے پہلے شبِ برات کو جلائی گئی اگر بتیوں کے ادھ جلے سرے بھی اُسی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔ اوپر والے کی شان ہے، جو کرتا ہے، اس کا راز وہی جانے۔

اب چودھری لوگوں کا وقت تھا۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما چودھری ظریف علی کے باپ کی قبر پر خدا نے اپنی رحمتیں نازل کی تھیں۔ اسے عاقبت کی زندگی میں اعلیٰ مقام ملنے کی نشانی دی گئی تھی۔ امام صاحب گو کہ اس دفعہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کالے خان کی گھڑی ہوئی کوئی کہانی ہے مگر ایک طرف چودھریوں کی دل شکنی کا خیال تھا دوسرے یہ احساس کہ اس واقعے کو جھٹلانے پر پہلے واقعے کی بھی تردید ہو جائے گی اور ان پر ملکوں کے ساتھ فریب میں ملی بھگت کا الزام آ جائے گا۔ سو انہوں نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔ چودھریوں نے اس کا خاصا شہرہ کیا اور تمام گاؤں والوں کوان کی دین داری ، پرہیز گاری اور آخرت میں یقینی بخشش پر ایمان قائم ہو گیا۔

٭٭٭

کالے خان کی بیوی دہل گئی جب ان کے حجرے کا دروازہ کسی نے ٹھوکر مار کر کھولا۔ آنے والے تین افراد تھے جن کے چہرے رات کی تاریکی میں نظرنہ آرہے تھے۔ کالے خان ہڑبڑا کر رضائی سے نکلا اور کون ہے، کون ہے کی صدا لگائی۔ فوراً ہی اسے چارپائی سے دبوچ کر نیچے گرا لیا گیا اور گھٹنوں تلے دبا کر دھپوں اورگالیوں سے نوازاگیا۔ بیوی جو رضائی میں ہی دبکی تھی،یہ سب دیکھ کر چیخنے لگی لیکن ایک آواز نے اسے ڈپٹ کر خاموش کرا دیا:’’تو چپ رہ، تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ‘‘

وہ پہچان گئی کہ یہ کرامت راجہ ہے۔ یہ ہمیشہ چودھری ظریف کے مخالف الیکشن لڑا کرتا تھا۔ وہ دونوں ہر دفعہ اسی کو ووٹ دیتے تھے ۔ بیوی نے سُکھ کا سانس لیا اور اٹھ کر طاق پر دِیا جلا یا اور خود رضائی لپیٹ نیچے زمین پر دبک کر بیٹھ گئی۔ کرامت راجہ کے دونوں آدمیوں نے کالے خان کو پکڑ کر پیڑھے پر بٹھا دیا ، ایک آدمی نے اس کے بازو مروڑ کر پیچھے سے پکڑ لیے، دوسرا اس کی گردن پر لاٹھی تانے کھڑا تھا۔ کالے خان منمنایا:’’راجہ صاحب! ہوا کیا۔ مجھ سے کیا گستاخی ہو گئی؟‘‘

راجہ صاحب اب چارپائی پر بیٹھ گئے تھے:’’گستاخی نہیں، حرامزدگی ہوئی ہے۔‘‘

’’راجہ صاحب۔ قسم لے لیں ، آپ کا نمک کھا کھا کر زندہ ہوں۔ میں نے کبھی آپ کے ساتھ دغا بازی کا سوچا تک نہیں۔ ہمیشہ ووٹ آپ کو دیا۔‘‘
’’ووٹ گیا تیل لینے۔ لگاؤ اسے دو چھتر۔‘‘

بازو جکڑے آدمی نے اپنا جوتا اتار کر کالے خان کی پشت پر دو چھتر کس کے لگائے اور اس کے پھڑکتے بدن کی تکلیف سے بے نیاز دوبارہ اس کے بازو مروڑ کر پکڑ لیے۔ کالے خان چیخوں کو اندر ہی اندر روکتا، سسکیاں لیتا ہوا بولا:’’راجہ صاحب ! مجھے تکھر کھا جائے اگر آپ کے متعلق کبھی غلط سوچا بھی ہو تو۔آپ کا دیا ہی تو کھاتا ہوں۔‘‘

’’حرام زادے۔ تم نے کبھی دغابازی کا نہیں سوچا تو نمک حلالی کا خیال بھی تو نہیں کیا۔ ہمارے دشمنوں کے باپ دادا کی قبروں پر نور کی بارات نازل ہو رہی ہے اور ہماری قبریں ویران پڑی ہیں۔ دشمن دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہونے کا جشن مناتا ہے اور ہمارے حصے میں دونوں جہان کی شرمندگی۔ ہم کسی پر کیسے ثابت کریں کہ ہمارے بڑے بھی اتنے نیک اعمال کر کے گئے ہیں کہ آخرت میں بخشے جائیں۔‘‘

کالے خان گڑگڑانے لگا:’’راجہ صاحب۔ غلطی ہو گئی۔یہ سب تو بھوک کا کیا دھرا ہے۔ میں آپ ہی کا وفادار ہوں مگر اپنے اور زنانی کے پیٹ نے مجبور کردیا تھا۔‘‘

’’مجبوری ہمیں نہیں پتا۔ اب بہت جلد ہمارے باپ کے متعلق بھی ایسی کوئی حکایت سامنے آ جانی چاہیے ورنہ ہم دوبارہ آئے تو ساتھ اگلا گورکن پکڑ کر لائیں گے۔‘‘

’’لیکن آپ کے والد صاحب تو ابھی زندہ ہیں‘‘

’’زندہ تو خیر کیا ہیں، بس دو چار دنوں میں مرنے ہی والے ہیں۔ مگر تم یہ بتاؤ کہ کیا خدا زندہ لوگوں کو اگلے جہان میں بخشش کا وعدہ نہیں کرسکتا؟ یہ سب سوچنا تمہارا کام ہے۔ تم ہی کرو۔‘‘

راجہ صاحب اسے ایک اور ٹھڈا مار کے حجرے سے نکل گئے۔

کچھ دن بعد کالے خان کی بیوی گاؤں میں سرکاری دواخانے پہنچی تو سخت پریشان حال تھی۔ وہاں موجود عورتوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے رو رو کر بتایا کہ کالے خان سخت بیمار ہے۔ عورتوں نے بیماری کا سبب دریافت کیا تو اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ کالے خان سے گستاخی ہو گئی ہے اور اب مرنے والا ہو رہا ہے۔ کیسی گستاخی، عورتوں کے چہرے پر سوال کندہ تھا۔ جواباً کالے خان کی بیوی نے سسکیاں بھرتے ، ہچکیاں لیتے جو کہانی سنائی،وہ یہ تھی:

’’رات کو ہم بستری کے بعد ہم سونے لگے تھے کہ قبرستان کی طرف سے ایک تیز خوشبو آنے لگی۔ کالے خان نے فوراً ہی بتایا، یہ کستوری ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ حیران بھی تھا کہ کستوری کی خوشبو اور وہ بھی اتنی تیز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے باہر نکلنے میں جلدی کی، میں نے کہا، میں بھی ساتھ چلوں، مگر وہ نہ مانا۔ وہ کافی دیر بعد واپس آیا تو اس نے بتایا کہ قبرستان میں عجیب سماں تھا۔ قبروں میں سے مردے نکل نکل کر قبرستان کے درمیان اکٹھے ہورہے تھے۔ وہ بھی چھپتا چھپاتا ان کے پیچھے چلتا گیا۔ قبرستان کے درمیان میں جہاں درختوں اور جھاڑیوں کی وجہ سے دن کو بھی اتناگھپ اندھیراہوتا ہے کہ اونچی اونچی قبریں بھی دکھائی نہیں دیتی، صاف قطعہ بنا ہوا تھا جس میں چاندنی جیسی تیز روشنی نے اجالا کر رکھا تھا۔ اس تمام جگہ پر سبھی چیزوں کا صرف اور صرف ایک رنگ تھا، دودھیا۔ سبھی روحوں کا لباس بھی اجلا کفن تھا(کالے خان کہہ رہا تھا کہ ضرور صرف نیک روحیں اکٹھی ہوئی تھیں)ان سب کے درمیان ایک تخت رکھا تھا جس پر دودھیا رنگ کے ہی قسما قسم پھول پڑے تھے۔ سبھی نے اس تخت کے گرد گھوم گھوم کر چکر لگائے ، اونچی اونچی آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت کی اور پھر سبھی اس کے چار چوفیرے اَدب کے ساتھ سر جھکا کے بیٹھ گئے۔ ایک روح جو شاید ان میں سب سے نیک تھی، کھڑی رہی اور ان سے خطاب کرنے لگی: آپ سب نیک روحو ںکو مبارک ہو، ہمارا کئی عشروں کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔ وہ جو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا ہے، ہماراوہ سردار بہت جلد ہمارے ہاں آنے والا ہے۔ ہم سب اس کے نورانی وجود سے برکتیں حاصل کریں گے۔ سبھی نیک روحیںاپنے آنے والے سردار کے حق میں درود و صلوٰۃ پڑھنے لگیں۔ ایک روح جو شاید وہاں نئی تھی، پکار کے پوچھنے لگی، ہمارا یہ سردار ہے کون، سبھی روحوں نے اس کی نادانی پر اسے گھورا مگر کھڑی ہوئی برگزیدہ روح نے بتایا کہ ہمارا سردار وہ ہے جو دنیا میں انتہائی خاموشی سے اپنے نیک اعمال سر انجام دیتا رہا، تمام عمر لوگوں کی خدمت میں گزاری اور کبھی دکھاوا نہیں کیا۔ اس کی بہت سی نشانیاں ہمارے پاس ہیں جو اس کے یہاں آنے کے بعد ظہور ہوںگی، البتہ اس کے فانی جسم کے سینے پر عین دل کے اوپر تین تِل ہیں اور اس کی پیدائش رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام روحوں نے کچھ دیر ذکر اذکار کیا، پھر تبرک تقسیم ہوا جس کا کچھ حصہ کالے خان تک بھی پہنچ آیا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے چکھ لیا۔ یہ سب ختم ہوا تو روحوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔کالے خان پلٹ کر جھونپڑے میں جب پہنچا ، اسی وقت اس کا پِنڈا تپنا شروع ہو گیا تھا۔ ناپاک حالت میں تبرک جو چکھ آیا تھا، سزا تو ملنی تھی ۔ اب تین رضائیوں تلے پڑا ہے اور ابھی بھی پالا پالا چِلا رہا ہے۔‘‘

یہ واقعہ فوراً ہی گاؤں بھرمیں پھیل گیا۔ سبھی کو جستجو ہوئی کہ آخریہ اللہ کا نیک بندہ کون ہے جو ان روحوں کا سردار بنے گا۔ رمضان میں پیدائش والی نشانی تو فضول ہی تھی۔گاؤں میں پچیس تیس سال پہلے پیدا ہونے والے شخص کا درست سالِ پیدائش نہیں ملتا تھا، مہینہ کسے معلوم ہوتا۔ اوپر سے اتنے بڑے گاؤں میں تین چار سو لوگ ایسے نکل آئے جن کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہوتی۔ سو تِل والی نشانی ہی کارگر تھی۔ جوں جوں یہ واقعہ پھیلتا گیا، ہر گھر کے مردو زن اپنے کنبے کے افراد کے سینے پرکھنے لگے، کسی کسی کو ایک آدھ تل بھی مل گیا تو وہ خوش ہوتا رہا۔ کافی دیر بعد راجہ کرامت کے گھر سے خوشی کا ایک نعرہ بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ بسترِ مرگ پر پڑے باباجی ،راجہ کرامت کے والد راجہ سلامت علی کے سینے پہ عین دِل کے اوپر تین تِل ہیں۔ ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی مالش کرتے کرتے یوں ہی بے دھیانی میں باپ کے سینے پہ غور کیا تو تین تِل نظرآ گئے، اس نے جو گھر والوں کو بتایا تو سبھی خوشی سے جھوم اٹھے۔ وہ رات اور اگلا آدھا دن ان کے ہاں اس مبارک خبر پر اتنا جشن منایا گیا کہ باباجی گھبرا کر اپنا سانس بھول بیٹھے۔ ان کی اتنی جلدوفات نے بھی کالے خان کی بیوی کے سنائے واقعے میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔ سبھی گاؤں باباجی کے کردار کی عظمت کا قائل ہو گیا۔ امام صاحب اس دفعہ بھی سب سمجھ گئے تھے لیکن بوجوہ خاموش رہے۔ باباجی کو اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور ان کی تختی پر فخر کے ساتھ ولیِ آخرت، قطبِ عقبیٰ جیسے القابات کھدوائے گئے ۔ قبرستان میں ان کا چھوٹا سا مزار بھی بنا دیا گیا جس کے باہر تختی پر یہ سارا واقعہ کالے خان کے حوالے سے کندہ کرادیا گیا تھا۔

گاؤں میں سبھی خوش تھے اور ان سب کی خوشی کی وجہ سے کالے خان کی زندگی بھی آسانی سے گزرنے لگی تھی۔

٭٭٭

چار ماہ بعد ایک دن کالے خان کے بارے میں لوگوں نے سنا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ کالے خان کی بیوی صبح سویرے گاؤں کے ایک سیانے کو بلا کر حجرے میں لے گئی تھی، وہاں کالے خان چارپائی پر لیٹا تھا، مگر اس کی حالت عجیب تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہ کچھ دیکھ رہا ہے نہ سن رہا ہے۔ بس دور کسی چیز کو گھورے جا رہا تھا ۔ سیانے نے اس کا معائنہ کیا۔ اسے نہ تو بخار تھا اور نہ ہی کوئی اور جسمانی تکلیف ۔ البتہ وہ کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ہلانے جلانے پر کوئی ردِعمل دکھاتا تھا۔ سیانے نے پہلے بیوی پھر گاؤں واپس پہنچ کر سبھی کو سنا دیا کہ کالے خان اپنے حواس سے باہر چلا گیا ہے۔گاؤں کے لوگ پہلے اکا دکا پھر بعد میں گروہ در گروہ کالے خان کی خیریت معلوم کرنے آئے۔ اگر کسی نے اپنے اپنے دیسی ٹوٹکے آزمائے لیکن اسے کسی طرح ہوش میں نہ لاسکے۔نہ کسی کو پاگل پن کی وجہ سمجھ آئی اور نہ ہی اس کا چارہ سوجھا۔اس کی یہی حالت تھی کہ جہاں بٹھا دیا جاتا ، بیٹھا رہتا، نگاہیں دور کسی اور دنیا میں جھانکتی رہتیں اور یوں لگتا جیسے دماغی طور پر اس کا اِس دنیا سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ آخر کار دو تین دن کے بعد سب نے تھک ہار کر چھوڑ دیا اور کالے خان اور اس کی تیمار داربیوی حجرے میں اکیلے رہ گئے۔

٭٭٭

ایک شام امام صاحب کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ بی بی نے دروازہ کھولا تو باہر کالے خان کی بیوی کھڑی تھی۔یہ عورت ان کے گاؤں کی نہیں تھی لیکن بی بی اسے پہچانتی تھی۔اس نے امام صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ بی بی حیران تو ہوئی کہ یہ عورت ان سے کیوں ملنا چاہتی ہے ،گاؤں کی عورتیں اپنے شرعی مسائل بی بی سے ہی پوچھا کرتی تھیں۔ امام صاحب تک کوئی عورت کم ہی آتی تھی۔ لیکن پھر بھی بی بی نے اسے بیٹھک میں بٹھایا اور امام صاحب کو خبر کر دی۔ امام صاحب خود بھی حیران تھے کہ اس عورت کو ایسا کیا مسئلہ ہو سکتا تھا جو وہ ان سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔

امام صاحب اندر داخل ہوئے تو کالے خان کی بیوی نے نظریں جھکائے جھکائے کھڑے ہو کر انہیں سلام دیا۔ امام صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے فوراً استفسار کیا کہ اس کا کیا مسئلہ ہے۔ اس نے نگاہیں تھوڑی سی اُٹھا کر امام صاحب سے سوال کیا:’’امام صاحب! میرا شوہر تو ہمیشہ کے لیے پاگل ہو چکا ہے۔ میرا کسی بھی قسم کا حق وہ پورا نہیں کرسکتا۔اب کیا میں اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے فضول بندھی رہوں گی یا دین مجھے اپنی زندگی کہیں اور ڈھونڈنے کی اجازت دیتا ہے؟‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر دوسرے گاؤں سے آئی ہوئی عورت ایک ہی مہینے میں بیزار ہو گئی۔ یہاں گاؤں میں کتنی ہی عورتوں کی مثال موجود ہے جو دہائیوں سے اپنے بیمار اور معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس عورت کا صبر اتنا جلدی جواب دے گیا۔ امام صاحب نے اس پر جھنجھلا کر اسے شرع کے مطابق جواب دیا:’’دیکھیں جی! شرع اس معاملے میںصاف کہتی ہے کہ اگر مرد کا تمام بدن پیپ سے بھرا ہواور زوجہ کو اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرنا پڑے تب بھی مرد کا حق ادا نہیں ہوتا۔ تم کیسی عورت ہو جو ذرا سی آزمائش سے گھبرا گئی ہو۔ دیکھو ان عورتوں کو جو کب سے اپنے بیکار حتیٰ کہ معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ان کے مرد بھی تو کوئی حق نہیں پورا کرتے۔‘‘

وہ شرمسار ہوئی مگرپھر دونوں ہاتھ امام صاحب کے آگے جوڑ کر بولی:’’امام صاحب ! وہ سب رجے پُجے لوگ ہیں۔ ہمارا ان سے کیا مقابلہ ۔ ان عورتوں کو کھانے پہننے کی کمی تو نہیں ہے نا، پوری برداری ان کی مدد کردیتی ہے۔ میں تو اکیلی جان، کالے خان کا بھی کوئی والی وارث نہیں۔ مرد کے بغیر تو رہ لوں گی مگر روٹی تو روز کھانی ہوتی ہے نا۔مجھے تو کوئی کام آتا نہیں، کالے خان ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے‘‘

’’تم دوسری دفعہ کہہ رہی ہو ، ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے، تمہیں کیسے اتنا یقین ہے۔ وہ بیمار ہوا ہے، کسی وقت بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ‘‘

وہ جھجکے جھجکے بولی:’’امام صاحب! مجھے اس کے پاگل ہونے کی وجہ معلوم ہے نا، میں اسی لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘

’’ایں! کیا وجہ ہے ؟ میں نے تو ا بھی تک کوئی وجہ نہیں سنی۔‘‘

’’امام صاحب! میں نے خود ہی کسی کو ابھی تک وجہ نہیں بتائی تھی۔ مجھے تھا کہ کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔‘‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا:’’مگر آپ پر مجھے یقین ہے، آپ کو بتا سکتی ہوں، سن کر آپ مجھے بتانا کہ میرے مسئلے کا کیا حل ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے بتاؤ۔‘‘

’’امام صاحب!کالے خان جس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑتا رہتا تھا، اس نے اسی کی سزا پائی ہے۔ کالے خان شب برات کی رات پاگل ہوا ہے۔ شب برات کے متعلق آپ ہی بتایا کرتے ہیں کہ اس رات پرانی تمام روحیں زمین پر آتی ہیں۔ معلوم نہیں پہلے کبھی ایسا ہوا یا نہیں ،اس رات یقیناً ایسا ہوا تھا۔ ہم دونوں اپنے حجرے میں الگ الگ چارپائی پر سوئے ہوئے تھے۔گرمی کی وجہ سے ویسے بھی نیند پوری طرح نہیں آرہی تھی۔آدھی رات کے قریب دروازے پر ہونے والی تیز دستک سے ہم دونوں جاگ اٹھے۔ کالے خان نے دروازہ کھولا تو ایک بوڑھا آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔ پندرہویں کے چاند کی تیز چاندنی میں اس نے پہلی نظر میں ہی اسے پہچان لیا اور جھٹکا کھا کر واپس حجرے میں لڑکھڑا آیا۔البتہ جب وہ آدمی اندر داخل ہوا تو میں اسے نہ پہچان سکی۔ اس نے اندر آتے ہی چپل اتار لی اور کالے خان پربرسانے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا ہی تھا کہ کالے خان کے الفاظ سن کر میں سُن ہو گئی ۔ کالے خان کہہ رہا تھا۔’’ابا جی! آپ کہاں سے آ گئے؟ آپ کو تومیں نے خود اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا۔‘‘

میں حیرت سے مرنے والی ہو گئی۔ اس کا باپ تو کب کا مر کھپ چکا تھا۔وہ کیسے آ سکتا ہے۔

بڈھے نے چپل برساتے برساتے کہا:’’کیوں، میں نہیں آ سکتا۔ جب تیرے پیو ملک، چودھری اور راجے آ سکتے ہیں تو میں نہیں آسکتا؟‘‘

کالے خان خوف سے گھگھیانے لگا:’’ابا جی ! ابا جی! مجھے معاف کر دو۔ کیا قصور ہو گیا مجھ سے جو ایسے مار رہے ہیں؟‘‘

اتنے میں اس نے چپل برسانی روک کر کالے خان کا کان پکڑ کر اتنی طاقت سے مروڑ دیاکہ کالے کی چیخ نکل گئی: ’’مردود! تم نے ثابت کیا کہ تم میرا بیٹا کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو۔ مجھے تم پر غصہ ہی بہت ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر چپل کے وار شروع کر دیے۔

کالے خان گھگھیا کر معافی مانگ رہا تھا اور اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ بڈھے نے چپل ایک طرف پھینک کر اسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ ’’ قصور قصورحرام کے جنے۔ مجھ سے قصور پوچھتا ہے۔ پوری دنیا کے باپوں کو تُو نے بخش بخشوا دیا، سب کے متعلق گاؤں میں مشہور کروا دیاکہ ان کی عاقبت رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہے۔ اور مجھے اپنے باپ کو بھول ہی گیا۔ کیا میں نے تمہاری ماں کو تھا یاوہ چودھریوں اور راجوں نے۔ ‘‘

’’ابا جی، آپ ہی میرے باپ ہیں۔ مجھ پر رحم کریں۔ ‘‘

’’میں باپ ہوں تو تم مجھے کیوں بھول گئے تھے؟ میرے متعلق کیوں کوئی کہانی تمہارے منہ سے نہیں نکلی بد بخت۔اب میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گا۔ یاد رکھ تمہیں اپنے باپ سے نا انصافی بھگتنی پڑے گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کالے خان کو دو دھموکے مارے اور پاؤں پٹختا باہر کو چل دیا۔

کالے خان اس کے جانے کے بعد اٹھ کر قبرستان کی طرف نکل گیا۔ میں بھی ڈرتی ڈرتی اس کے پیچھے چلی مگر وہ آدھے راستے میں واپس ہوتا مل گیا۔ ’’یہ تو واقعی ابا جی تھے، اپنی قبر میں ہی گھس رہے تھے۔‘‘جب وہ جھونپڑی میں پہنچا تو اس کے پورے بدن پر جھرجھری طاری تھی۔ چارپائی پر لیٹا مگر بولا کچھ نہیں۔ میں بھی خاموش اس کے سرہانے بیٹھ اس کا ماتھا دباتی رہی۔ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں اس کے ساتھ ہی لیٹ رہی۔ صبح جب جاگی تو کالے خان نہ ہل رہا تھا نہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ بس ایک ہی طرف نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ میں اس کی حالت سے ڈر گئی اور سیانے کو بلا کر لائی۔ تب معلوم ہوا کہ اس کا دماغ الٹ گیا ہے۔ ‘‘

کالے خان کی بیوی اتنا سنا کر رونے لگی۔ امام صاحب اسے پچکارتی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آخر کار بولے:’’دیکھو بیٹی! کالے خان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا۔ اس کا اپنا کیا دھرا سامنے آیا۔ تم اس کہانی کو اپنے تک رکھو ، کسی کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’اور امام صاحب! میں اس کالے خان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہوں کیا؟‘‘اس نے امید بھری نظروں سے امام صاحب کو دیکھا۔

’’شرعی طور پر ایک مخبوط الحواس کے ساتھ عقد کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ تم خود کو کالے خان سے الگ ہی سمجھو۔ جاؤ اپنے گاؤں واپس چلی جاؤ،کچہری سے خلع لے لو اوراپنا گھر کہیں اور بسالو۔ اورہاں اس بات کویہیں بھول جاؤ۔ کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

کالے خان کی بیوی انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتی اٹھی ، ہاتھ اٹھا کر سلام کیا او ر امام صاحب سے رخصت ہو گئی۔

اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔ اب وہ سارا دن ایک ہی جگہ ساکت و صامت کھڑا رہتا ہے ، نہ کسی سے بات کرتا ہے، نہ کسی سے کچھ کہتا ہے۔ کوئی کچھ کھلا دے تو کھا لیتا ہے ورنہ کسی سے مانگتا نہیں ہے۔ کسی پر اس کے پاگل پن کا باعث نہیں کھلتا۔ بس ایک امام صاحب ہیں جن کی نظر کبھی کبھار اس پر پڑتی ہے تو ایک آشنائے راز مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل جاتی ہے لیکن اس آشنائی نے بھی کبھی ہونٹوں سے زبان تک کا ذرا سا فاصلہ طے نہیں کیا۔

Image: Francisco de Goya

Categories
فکشن

بدبو

اس کے بدن سے ایک ناگوار سی بدبو پھوٹتی رہتی تھی۔ ارشد کا واسطہ اس بدبو سے پہلی مرتبہ اتوار کے روز پڑا تھا۔ چھٹی کے روز آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ وہ صبح ناشتہ کر کے لاؤنج میں بیٹھا اخبار کے مطالعے میں منہمک تھا کہ اچانک ایک بدبو کا بھبکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔ ساتھ ہی ایک نسوانی آواز اس کے کان میں پڑی۔ اس نے ناگواری سے گردن گھمائی۔ وہ ہاتھ میں جھاڑو پکڑے کھڑی اس کی بیوی سے بات کر رہی تھی۔ اس کی قمیض پسینے سے بھیگ کر اس کی کمرسے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے سانولے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ ارشد کی طبیعت بدبو سے گھبرانے لگی اور وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔

رات ارشد بیڈ پر لیٹا ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں لیے یونہی وقت گزاری کے لیے چینل تبدیل کر رہا تھا کہ اچانک اسے دوبارہ اس کا خیال آیا اور ساتھ ہی اس کے دماغ میں وہ بدبو چکرانے لگی۔ وہ سر گھما کر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بال بناتی رضیہ سے مخاطب ہوا۔

تم نے پھر صفائی کے لیے کوئی نئی عورت رکھ لی ہے۔

ہاں!پہلی والی نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ گلی میں ایک گھر میں کام کرتی ہے۔ شکر ہے مان گئی۔ ورنہ آج کل ان کام والیوں کے بھی بہت ہی نخرے ہو گئے ہیں۔ رضیہ نے بال سلجھاتے ہوئے جواب دیا۔

مگر تم نے دیکھا اس میں سے کتنی بدبو آتی ہے۔ جس کمرے سے گزرتی ہے اس کی فضا میں بدبو رچ بس جاتی ہے۔لگتا ہے کئی کئی دن نہاتی نہیں۔

ارے بھئی ان کا کام ہی ایسا ہے۔سارا دن گرمی میں کام کرتی ہیں۔ ہماری طرح صاف ستھری تو نہییں رہ سکتی ناں۔

یہ کہتے ہوئے رضیہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ ارشد جو اب ٹی وی آف کر کے ریموٹ رکھ چکا تھا اس موضوع پر مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اس نے کنکھیوں سے رضیہ کا جائزہ لیا۔ سونے کے لباس میں اس کا بھرابھرا جسم مزید پرکشش لگ رہا تھا۔ ارشد نے کروٹ لے کر اپنا بازو رضیہ کے سینے پر رکھ دیا۔ رضیہ بے حس و حرکت لیٹی رہی۔

سو جائیں ارشد۔ میں آج بہت تھکی ہوئی ہوں۔ رضیہ نے اس کا ہاتھ پرے ہٹاتے ہوئے کہا اور دوسری جانب کروٹ لے لی۔ ارشد ایک ٹھنڈی سانس بھر کرکمرے کی چھت کی جانب گھورنے لگا۔

آج ارشد کچن کے قریب سے گزرا تو اسے وہی ناگوار سی بدبو محسوس ہوئی۔ اس نے اندر جھانکا تو صفائی والی وہی عورت روٹی توے پر ڈال رہی تھی۔ ارشد بھنایا ہوا رضیہ کے پاس پہنچا۔وہ لاؤنج کے صوفے پر نیم دراز تھی۔

یہ صفائی والی عورت کچن میں کیا کر رہی ہے۔ اس نے غصے سے پوچھا۔

اوہ میں تمہیں بتانا بھول ہی گئی۔ تمہیں معلوم ہے میری طبیعت آجکل ٹھیک نہیں رہتی۔ حمیداں کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ وہ کوئی اورکام ڈھونڈ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا ہے کہ وہ ہمارا کھانا بنا دیا کرے۔ میں اسے کچھ اضافی رقم دے دیا کروں گی۔

تو تمہیں اس کام کے لیے کوئی اور عورت نہیں ملی تھی کیا۔ تمھیں پتہ ہے کہ وہ کتنی میلی کچیلی رہتی ہے۔ اور اس کے بدن میں سے کیسی ناقابلِ برداشت بدبو آتی ہے۔ اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کم از کم میں تو نہیں کھا سکتا۔

یہ کہتے کہتے ارشد کی نظر دروازے کی جانب اٹھی۔ حمیداں دروازے میں کھانے کی ٹرے پکڑے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کی خجالت چغلی کھا رہی تھی کہ اس نے ارشد کی بات سن لی ہے۔

میں یہ کھانا دینے آئی تھی بی بی جی۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ اور ٹرے میز پر رکھ کر واپس مڑ گئی۔ ایک لمحے کے لیے ارشد کو احساس ہوا کہ شائد اس کی بات سے اس کا دل دکھا ہے۔ مگر میں نے کون سا جھوٹ کہا ہے یہ سوچ کراس نے سر کو جھٹک دیا۔

ارشد نے اخبارکے پیچھے سے اس کا کئی مرتبہ بغور جائزہ لیا۔ اس کا بدن محنت مزدوری کرکر کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ کمر پر قمیض پسینے سے چپکی ہوئی تھی۔ قمیض کو فرش پر لگنے سے بچانے کے لیے اس نے اوپر اٹھا کر کمر کے گرد لپیٹا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بدن میں سنسنی کی ایک لہر سی دوڑتی محسوس کی۔اگلی دفعہ ارشد نے اخبار کے پیچھے سے اسے دیکھا تو اس کا رخ ارشد کی جانب تھا۔ اس کے بدن کے نشیب و فراز مزید نمایاں ہو گئے تھے۔ ارشد کو اپنا خون کنپٹیوں میں اکٹھا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ رضیہ بچوں سمیت کچھ دن کے لیے اپنی امی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ حمیداں نے اچانک نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ ارشد کو لگا کہ اس کی چوری پکڑی گئی ہے۔ اس نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔ وہ جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر کھڑا ہوا اور اس نے حمیداں کو پیچھے سے جا کر دبوچ لیا۔ اس نے کوئی مدافعت نہ کی اور اپنے آپ کو ارشد کے حوالے کر دیا۔ آج اس کے بدن سے اٹھتی بدبو بھی ارشد کو بری نہیں لگ رہی تھی۔

رضیہ واپس آ چکی تھی۔ آج اتوار کا دن تھا۔ حمیداں صفائی کر رہی تھی۔ اور ارشد انجان بنا کونے میں اخبار لیے بیٹھا تھا۔
باجی!میں کھانا بنا دوں۔ اسے حمیداں کی آواز آئی۔
نہیں تم رہنے دو۔ آج صاحب گھر ہیں۔ آج کھانا میں بناؤں گی۔ رضیہ نے جواب دیا۔

اچانک ارشد کی نظر حمیداں کی جانب اٹھ گئی۔ دونوں کی۔نظریں ملیں تو ارشد کو حمیداں کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک نظر آئی۔ اس نے گبھرا کر گردن جھکا لی۔ اسی لمحےاسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کےاس کے اندر سے بھی اچانک وہی بدبو پھوٹنے لگی ہے۔

Categories
فکشن

رُکی ہوئی زندگی

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا – ندیدہ ہو کر۔

عاطف اُسے دیکھ رہا تھا – ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا – یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔
وہ بھوکا تھا۔

شاید بہت ہی بھوکا کہ سالن کی رکابی اور روٹیوں کی چنگیر پر پوری طرح اوندھا ہو گیا تھا۔
جتنی دیر وہ چپڑ چیک چپڑ چپاک کر کے کھاتا رہا – عاطف اُس کے پراگندہ بالوں کے نیچے اور پیچھے چھپ جانے والے چہرے کو ڈھنگ سے دیکھنے کے جتن کرتا رہا اور اُن معصوم لکیروں کو تلاش کرتا رہا جو کبھی تھیں – اَب کہیں نہیں تھیں۔ وقت کی سفاکی نے سب کچھ مِٹا کر ایک نئی تحریر لکھ دی تھی ۔

ایسی تحریر جو پورے بَد ن میں اِضمحلال بھر رہی تھی۔
وہ پوری طرح جھکا ہوا تھا۔

اور اُس کے جبڑوں اورہونٹوں کے باہم ٹکرانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
وہ بہاول پور سے عاطف کے ہاں پہنچا تھا ۔ کیوں؟ یہ اُس نے نہیں بتایا تھا۔
شاید اس کا ابھی موقع بھی نہیں آیا تھا کہ وہ تو دفتر سے گھر واپسی پر اُسے گیٹ پر ہی مل گیا تھا۔
عاطف جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں کوئی اور اَصول ضابطہ ہو نہ ہو – چھٹی وقت پرمِل جایا کرتی۔ وہ سیدھا گھر پہنچتا کہ شائستہ اُس کی منتظر رہتی تھی۔

شروع شروع میں عاطف کو یقین تھا کہ یہ سچ مچ کا اِنتظار تھا – اَندر سے اُٹھتی تاہنگ والا – تبھی تو اُسے سیدھا گھر آنے کی عادت ہو گئی تھی مگر بعد اَزاں یہ ہوا کہ سب کچھ اُس کے معمولات کا حصہ ہو گیا۔
شائستہ کو بھی پہلے پہل اِنتظار میں لطف آتا تھا ۔ کھٹا میٹھا لطف۔

اگرچہ اوجھ جیسے وجود نے پہلے ہی دِن اُس کے اَندر کراہت کی ایسی گولی سی رکھ دی تھی جو اُسے دیکھتے ہی خود بخود دُھواں چھوڑنے لگتی مگر کہیں نہ کہیں سے لذت کی مہک بھی اٹھتی رہتی۔ دوسرے بَد ن کو چھو لینے کی لذت یا پھر اُسے دِیکھنے اور دیکھے چلے جانے کی لذّت۔

وہ جیسا بھی تھا؛ اُس پر نظر ڈالتا تھا۔ ایک تار نہ سہی؛ جھجک جھجک کر سہی اور لُکنت زدہ لفظوں سے اتنی پھسلن بنا ہی لیتا کہ وہ اُس پر کوشش کر کے ہی سہی – پہروں پھسل سکتی تھی اور دُور تک، بہت دُور تک جا سکتی تھی۔
مگر رَفتہ رَفتہ عجب اُفتاد آن پڑی کہ پہر سُکڑنے لگے۔

اور یُوں لگتا تھا کہ وہ دونوں لذّت کے زور سے جتنی دُور جا سکتے تھے – جا چکے، کہ اَب تو بَد ن میں کساوٹ اُترنے لگتی اور شائستہ کو کوفت ہوتی تھی۔

جب اُس نے آ ہی جانا ہوتا تو اِنتظار کیوں؟ اور اضطراب کیسا؟؟
غیر مانے – عادت نہ مانے۔ عادت نہ کہیں بَدن کَہ لیں۔
عادت کی ڈوری میں بندھا بَدن دُکھتا تھا ۔ دُکھتا تھااور ٹوٹتا تھا۔
اس ٹوٹتے بَدن کو پھر بھی اِنتظار کی گرہ دِی جاتی رہی حتّی کہ عادت معمول ہو گئی۔
دونوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ معمول کے اِس دائرے کو توڑ ڈالیں۔

یوں نہیں تھا کہ عاطف گھر آتا تو پھر باہر نکلتا ہی نہیں تھا۔ لاہور ایسا شہر تھا جو کئی کئی گھنٹوں کے لیے مصروف رَکھ سکتا تھا ۔ بے تکلف دوستوں سے ملتا۔ اِحباب کی مہذب مجالس میں بیٹھتا یا پھر اُس سے ملتا جو سارے فاصلے ختم کر ڈالنے کے ہنر جانتی تھی۔
وہ فاصلے یوں ختم کرتی تھی‘ جیسے کہ وہ ہوتے ہی نہیں تھے۔

پہلے وہ اُن موضوعات کو چھیڑتی جو عاطف کی کم زوری تھے یا پھر عاطف جن پر سہولت اور رغبت سے کچھ کَہ سکتا تھا۔ وہ اَپنی بات کہہ رہا ہوتا تو وہ چپکے سے اَپنے جذبوں کے دھاگے کا سرا، اُس کی چلتی بات کے ساتھ باندھ دِیتی اور پھرگِرہ پرگِرہ دِیے چلی جاتی۔
یہ جذبے اُس فتنے کی خیزش سے بندھے ہوتے جو عاطف کو گھر پلٹنے تک برف کا تودہ بنا دیا کرتے تھے۔
اکثر یوں ہوتا کہ عاطف گھر لوٹتا تو شائستہ کا بَدن خفگی کے تناؤ کی لہریں چھوڑ رہا ہوتا۔

بَدن کی کوسوں کے اُوپر ہی اُوپر تیرتی یہ لہریں ایسے لمس کی تھپکی مانگتی تھیں جو عاطف کے اَندر رُوبی نے باتوں کے کھانچے میں کہیں یخ بستہ کر دِی تھی۔

جب کہ شائستہ غصے سے کھولتی تھی۔ کھولتی تھی اور کچھ نہ بولتی تھی۔
کہ وہ پہل کر کے بولے چلے جانے کی عادِی نہیں ہوئی تھی۔
عاطف کبھی کبھی چاہتا کہ وہ اُس پر برس پڑے – لڑے جھگڑے اور جو کچھ اُس کے بَدن کی سطح مرتفع پر لہریں سی چھوڑ رہا تھا اُسے چیختے چنگھاڑتے لفظوں میں ڈال دِے۔ یوں کہ عاطف کے لیے اَپنی بات کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔
وہ بات جس سے خیزش کی تانت بندھی ہوتی ہے۔

مگر اس کا بَدن سمندر کی بھوکی بپھری لہروں کی طرح اُوپر نیچے ہوتا رہتا اور ایسا شور چھوڑتا – جوماحول کا حصہ ہو کر سکوت میں ڈَھل جاتا ہے یا پھر ایسا شور جواَپنی دہشت سے پَرے دھکیل دِیتا ہے اور سماعتوں کو بند کر دیتا ہے۔

وہ سننا چاہتا مگر کچھ بھی سُن نہ پاتا تھا کہ ایک سکوت تنا ہوا تھا۔ گاڑھا – گھمبیر اورگھمس والا سکوت۔ یا پھر شاید ایک دہشت کاتناؤ تھا – دِل کھینچ لینے والی دِہشت کا طالح تناؤ۔

معمول کبھی کبھار ٹوٹ بھی جاتا تھا ۔ ایسے کہ جیسے کوئی بے دِھیانی میں ایک ہاتھ دُوسرے ہاتھ کی طرف لے جاتا ہے۔ دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں بائیں کی اُنگلیوں میں بٹھاتا ہے – ہتھیلیوں کو سامنے کر کے دونوں کہنیوں کوتان لیتا ہے اور پھر عین انگلیوں اور ہتھیلیوں کے جوڑ سے چٹخارے نکال دِیتا ہے۔

احباب کے دَائرے میں وہ ایک مثالی جوڑا جانے جاتے تھے۔ جب کبھی تقاریب میں اُنہیں اکٹھے شریک ہونا پڑتا – تو وہ ایک دوسرے کے آس پاس ہی رہتے۔

شاید اُس فاصلے کو پرے دھکیلنے کے لیے – جو دونوں کے بیچ تھا۔
وہ ایک دوسرے کو احتیاطاً دیکھ لیا کرتے – کھسیانے ہوتے – ہنس دیتے اور لوگ اُن کا یوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دِیکھنا حسرت اور لطف سے دیکھا کرتے تھے۔

مگر کچھ تو تھا – جو دُونوں کے بیچ تھا اور کچھ اَیسا بھی تھا – جو دونوں کے بیچ نہیں تھا۔
مرد اَپنی عورت سے چھپ چھپا کر باہر جو کچھ کرتا ہے – عورت اُسے جان لیا کرتی ہے۔

شاید اِس لیے کہ باہر کی ساری کارگزاری وہ بے خبری میں اَپنے تن پر لکھ لایا کرتا ہے یوں کہ وہ خود تو اُس تحریر سے بے خبر ہوتا ہے مگر عورت اُسے پڑھ لیتی ہے ۔ ایک ایک لفظ کو۔ ایک ایک شوشے اور نقطے کو اور اُن وقفوں کو بھی جو اِن لفظوں اور سطروں کے بیچ پڑتے ہیں۔

شائستہ نے عاطف کے بَدن کے اوراق پر لکھے متن کو جب پڑھا تھا تو وہ رُوبی کی خُوشبو تک سے آگاہ ہو گئی تھی۔
اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتی تو وہ بِپھر جاتی مگر وہ ایسی عورتوں میں سے تھی ہی نہیں – جو کسی بھی بات کو خود ہی آغاز دے لیا کرتی ہیں۔

اُسے تو خود آغاز چاہیے تھا۔ بھیگا ہوا آغاز۔
ایسا کہ جس کا اَنجام بھی بھیگا ہوا ہو۔
عاطف کے پاس اَیسے الفاظ کہاں تھے جو پہل قدمی کاہنر جانتے ہوں کہ ایسے اَلفاظ تو ہر بار اُس کے بَد ن کی جھولی میں رُوبی ڈالا کرتی تھی۔
اور وہ اسی کا عادی تھا۔

اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی – شاور لیتی تو پانی کی پھوار تلے سے نکلنا جیسے بھول ہی جاتی – حتیٰ کہ اُسے یوں لگنے لگتا جیسے جسم کے اُوپر ایک جِھلی سی نمودار ہو گئی ہو۔ وہ لرزتے ہاتھوں کی لمبی پوروں سے اُس جِھلی کو چھوتی تو لمس بَدن کے اُوپر ہی اُوپر تیرتا رہتا۔ اِدھر سے اُوب کر باہر نکلتی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر آئینے میں خود کو دِیکھے جاتی۔ پورا کمرا‘ اِمپورٹیڈ باڈی لوشنز اور پرفیومز سے مہکنے لگتا ۔ اِسی مہک میں کپڑوں کی سرسراہٹیں جاگتیں ‘ ویکسنگ اور پفنگ کے بعد بلش آن اور کاسمیٹکس کے اِنتخاب میں ایک مُدّت گزر جاتی۔ جب وہ اَپنے اطمینان کی آخری حد تک سنور چکی ہوتی – تو وہ آئینے میں خود کو پہلو بَدل بَدل کر دیکھتی ۔ دیکھتی اوردیکھے چلے جاتی – حتیٰ کہ آئینہ وہ منظر دکھانے لگتا تھا جِس میں وہ نہیں ہوتی تھی۔

اِسی اَثنا میں کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی آ جاتی تو اُسے کئی کام سوجھ جاتے۔ جلدی جلدی ٹشو پیپرز سے چہرے پر جمی میک اَپ
کی تہیں اُتار دِیتی۔ جب ٹشو پیپرز کا ڈھیر لگ جاتا تو اُس کی مصروفیت کا ڈھنگ بَدل جاتا۔ گھر کو خوب چمکایا لشکایاجاتا ۔ صاف ستھری چادروں کو پھر سے بَدلا جاتا۔ اِدھر اُدھر دیواروں پر چھینٹے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیے جاتے۔
یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو جا تی ۔

ایک اِنتظار کے لیے موزوں حد تک نڈھال۔
پھر وہ آ جاتا تو اُس کے بَدن پر لہریں سی اُٹھتیں ۔
لہریں اُٹھتی رہتیں اور اُس کا بَدن ٹوٹ جاتا؛ اُن لفظوں کی چاہ میں جو آگے بڑھ کر اُس کی ساری تھکن چُوس سکتے تھے ۔
مگر عاطف تو خود پہل قدمی والے الفاظ کہیں سے مُستَعار لینے کا عادی تھا۔
رُوبی سے اور رُوبی سے پہلے ایک اور لڑکی تھی فرحانہ – اُس سے۔
وہ بھی تو رُوبی جیسی ہی تھی۔

شائستہ بہت بعد میں اُس کی زِندگی میں آئی۔ تب جب دونوں نے اُس کا بَدن اوجھ جیسا بنا دیا تھا۔
کچوکوں سے بیدار ہونے والا۔
یوں جیسے اس کا بَدن نہ ہو مٹی میں مٹی ہو کر اور مکر مار کر پڑ رہنے والا وہ لسلسا کیڑا ہو جسے پھل سنگھی اَپنی لمبی چونچ کے ٹھونگوں سے جگاتی ہے۔

جب بہاولپور سے آنے والا میلا کچیلا شخص اُسے دروازے پر ملا – تب تک شائستہ کا ساتھ ہوتے ہوے بھی کچوکوں سے بیدار ہونے کی عادت کو ساتواں برس لگ چکا تھا۔

اِس سارے عرصے میں وہ دو سے تین ہو چکے تھے ۔ ڈیڑھ برس پہلے ہی اُن کے ہاں ننھے فرخ نے جنم لیا تھا جو اَب پوری طرح شائستہ کو اَپنی جانب متوجہ کیے رَکھتا۔

بہ ظاہر گھر مکمل تھا۔ مکمل اور پرسکون دِکھنے والا۔
سب کچھ ایک ڈَھنگ سے ہوتا نظر آتا تھا۔

مگر وقت کی ڈِھینگلی کے سرے سے بندھا معمولات کا بوکا جو پانی باہر پھینکتا تھا – وہ دونوں کی زبانوں پر پڑتے ہی کھولتا رَصاص ہو جاتا تھا – آبلے بنا دینے والا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟

یہ سوال دونوں کے سامنے آتا رہا مگر وہ اِس کا صحیح صحیح ادراک کر سکنے اور اِس پر قابو پا لینے کی صلاحیت نہ رَکھتے تھے۔ وہ تو شاید اِس ساری صورتحال کے مقابل ہونے کو تیار ہی نہ تھے۔ تب ہی تو عاطف کے ہوتے ہوے بھی شائستہ ننھے فرخ ہی سے مصروف رہے چلے جانے کو ترجیح دِیا کرتی۔

وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں فرخ کو گھٹنوں پر اوندھا کیے مالش کیے جاتی ہے؟ کس لیے اُس کے پاؤں کے تلووں پر گال رَگڑ رہی ہے؟ اُس کے پیٹ پر منھ رکھ کر پھوکڑے مارتی ہے تو کیوں؟ اُس سے باتوں میں مگن رہنا – لاڈ سے ہونٹوں میں لوچ ڈال لینا اور وہ کہے جانا جس میں کوئی ربط نہ ہو – عاطف کی سماعت سے ٹکرا کر مربوط ہو جاتا مگر عاطف تو صرف اپنے اوجھ بَدن پر کچوکے چاہتا تھا لہذا ننھے وجود کی نازک جلد پر نرم نرم چکنے ہاتھوں کا یوں پھسلنا – اُسے گیلے ہونٹوں کی لرزش دَبا کر بوسے دینا – ہونٹ جما کر اور پٹاخ کی آواز پیدا کرتے ہوئے – ماتھے پر، ہونٹوں، گردن، ناف اور رانوں پر۔ حتیٰ کہ دائیں یا بائیں پاؤں کے انگوٹھے کے گرد ہونٹوں کو رَکھ کر گھما لینا – سب کچھ رائیگاں چلا جا رہا تھا۔

تاہم فرخ اِس پیار کی بوچھاڑ سے کھل کھل ہنستا – غوں غوں کرتا اور زور زور سے اَپنے پاؤں مارنے لگتا تھا۔
جس روز بہاولپور سے اُن کے ہاں مہمان آیا – اس روز شائستہ پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ عاطف کے آتے ہی وہ ننھے فرخ کو نیم گرم پانی سے نہلائے گی کہ وہ اُسے قدرے مَیلامَیلا لگ رہا تھا مگر جب وہ مہمان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا نظر آیا جو اَزحدمَیلا تھا تو وہ اَپنا پروگرام بھول چکی تھی۔

اُس کے وجود میں لسلسلے وجود کی پہلے سے موجود کراہت کے ساتھ عجب طرح کی باسی گِھن بھی گُھس بیٹھی تھی۔
عاطف اَپنے مہمان کو بٹھا کر ذرا فاصلے پر کھڑی شائستہ کے پاس آیا – بوکھلایا ہوا۔
جب اُسے کچھ کہنا ہوتا اور شائستہ کسی دوسری کیفیت کو چہرے پر سجائے ہوتی تو وہ یوں ہی بوکھلا جایا کرتا تھا۔

شائستہ کچھ سننے کے مُوڈ میں نہ تھی ۔ اُس نے مہمان کے سلام کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا تھا کہ اِس نئے وجود سے اُمنڈتی گھِن کو اپنے بَدن میں موجود کراہت کے پہلو میں بٹھا چکی تھی‘ حتیٰ کہ سب کچھ نفرت میں ڈَھل کر اُس کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ شائستہ کے لیے اَپنے اِن شدید جذبوں کے ساتھ وہاں رُکنا ممکن نہ رہا تو وہ اَپنے قدموں پر گھومی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ اِسی اثنا میں عاطف کچن میں خود کو معمول پر لاتا رہا۔ اگرچہ وہ مہمان کے لیے پانی لینے آیا تھا مگر ریفریجریٹر سے بوتل نکالنے کے بہانے اُسے پوری طرح کھول رکھا تھا۔ یوں کہ اُس کاسینہ اور چہرہ – دونوں یخ جھونکوں کے سامنے رہیں۔

اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب شائستہ اُس کے عقب میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تو تب بَدحواس ہو کر ایک طرف ہو گیا – جب اُس نے اَپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے بائیں کندھے کو قصداًذرا زور سے دبا کر اُسے ایک جانب دھکیلا تھا۔

وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا جہاں بوکھلا کر پہنچا تھا۔ شائستہ نے پانی کی بوتل نکالتے ہی قدرے جَھٹکے سے ریفریجریٹر کا دروازہ بند کیاتھا۔
پھر اُس نے سینک کے کونے میں پڑا وہ گلاس نکالا جو دونوں کے اِستعمال میں نہیں آتا تھا اور اس چنگیر کی جانب لپکی جس میں پہلے سے روٹیاں لپٹی ہوئی پڑی تھیں ۔ شائستہ بچ جانے والی روٹیوں کو اِسی چنگیر میں رَکھتی تھی کہ صفائی والی ماسی آتی تو لے جایا کرتی۔

رکابی میں سالن بھی پہلے سے موجود تھا – شوربا – جس کی سطح پر ایک جھلی سی بن گئی تھی۔ شوربے کے بیچ میں پڑا ہوا اکلوتا آلو اَپنی رنگت بَد ل کر گہرا بھورا ہو گیا تھا۔ یقینا ماسی آج نہیں آئی تھی۔ اُس نے اَپنے یقین کے استحکام کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کوئی اور نشانی تلاش کر لیتا – شائستہ نے اُسے پھر چونکا دیا۔ وہ ایک ٹرے میں پانی کی بوتل – گلاس – چنگیر اور رکابی رکھ کر اُس کی سمت بڑھانے کے بعد لفظوں کو چبا چبا کر کَہ رہی تھی ۔
”جب وہ کھانا کھا چکیں تو اصرار کر کے انہیں روک نہ لیجئے گا۔“

اُس نے اُسے نہیں روکا تھا مگر وہ خود ہی رُک گیا تھا۔
شائستہ سارا وقت اَپنے بیڈ روم میں اُوندھی پڑی رہی اور بہت دیر بعد جب عاطف کمرے میں آ کر آنے والے مہمان کی بابت اُسے بتا رہا تھا تو اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں ۔ اُسے کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا۔ ”ضرورت مند“۔ ”پرانا کلاس فیلو “ اور ”مدد“ جیسے الفاظ اُس کے کانوں میں پڑے تھے۔ ایک میلے کچیلے شخص کی اوقات کے لیے یہ کافی تھے لہذا اُس نے اَپنی سماعتوں کو بند کرلیا – پہلو بَد ل کر لیٹ گئی اور سارے بَدن کو موج دَر موج اُچھل جانے دیا۔

اَگلے روز ناشتے تک وہ نہیں اُٹھا تھا۔ دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد اور ناشتے کے لیے بیٹھنے سے پہلے – عاطف نے ڈرائنگ روم میں جھانکا ۔ وہ وہیں صوفے پر – عین اُسی رُخ لیٹا ہوا تھا ؛ رات اصرار کر کے جس رخ لیٹ گیا تھا۔ مہمانوں کے لیے بیڈ روم اوپر تھا مگر وہ وہیں صوفے پر لیٹنا چاہتا تھا۔ لیٹ گیا اور اَب اُٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ عاطف نے دِل ہی دِل میں اسے وہی گالی دِی جو اُسے بچپن میں دِیا کرتا تھا او ر ناشتے میں مگن ہو گیا۔

جب وہ دفتر کے لیے نکلنے لگا تو عاطف میں ہمت نہ تھی کہ وہ شائستہ کو مہمان کے حوالے سے کوئی ہدایت دیتا یا فرمائش کرتا۔ کوٹ کی جیبوں کو ٹٹول کر اپنا چرمی پرس نکالا – اُس میں سے اَپنا وزیٹنگ کارڈ الگ کیا اور اُس میز پر رَکھ دیا جس کے قریب پڑے صوفے پر وہ یوں بے خبر سو رہا تھا کہ سارا ڈرائنگ رُوم اُس کے خراٹوں سے گونجتا تھا۔
بے اِختیار وہی گالی عاطف کے ہونٹوں پر پھر سے گدگدی کرنے لگی ۔
اُس کے ہونٹ بے اختیار پھیلتے چلے گئے۔ وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا اور باہر نکل گیا۔
دفتر میں وقفے وقفے سے اُسے مہمان کا خیال آتا رہا۔

رات اُس نے جو دلچسپ باتیں کی تھیں – اُنہیں یاد کرتا تو مسکرانے لگتا۔ شائستہ کے روّیے کے باعث اُسے جو خفت اُٹھانی پڑی تھی وہ اُسے ملول کرتی تھی لہذا اُس نے اپنے تئیں طے بھی کر لیا تھاکہ وہ اُس کی کیا مدد کرے گا۔
جب بھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی – اُسے گماں گزرتا کہ گھر سے کال ہو گی حتیٰ کہ اُسے تشویش ہونے لگی۔ پھر وہ چاہنے لگا کہ خود فون کر کے مہمان کی بابت پتا کرے۔ اُس نے دوبار نمبر گھمایا بھی – مگر اِس خیال سے کہ فون شائستہ اُٹھائے گی – اُس نے اِرادہ ملتوی کر دیا ۔ تیسری بار وہ گھر کا نمبر ملاتے ملاتے نہ جانے کیوں رُوبی کو ڈائل کر بیٹھا۔
وہ تو جیسے اُسی کے فون کی منتظر تھی۔

پہلے تو باتوں میں اُلجھا لیا – پھر جذبوں کی ڈوری سے اُسے یوں باندھا کہ وہ دفتر سے غائب ہو کر سیدھا اُس کے پاس پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔

جب وہ گھر میں داخل ہو رہا تھا تونہ جانے کیوں اُسے یقین سا ہو چلا تھا کہ مہمان جا چکا ہو گا مگر وہ تو وہیں تھا۔
اُس نے مدھم مدھم آواز کو سنا تو اُسے یقین نہ آتا تھا۔

شوخ سی آواز – مسلسل بولنے کی ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے دے کر۔ اور الفاظ یوں شباہت بناتے تھے کہ جیسے انہیں اَدا کرنے والے ہونٹ لوچ دَار ہو گئے ہوں۔ باتوں کے وقفوں میں قہقہے اُمنڈتے تھے۔ شائستہ کے شیریں حلقوم سے۔ اس جھلی کو توڑتے ہوے جو ایسے قہقہوں سے الگ رہنے کے سبب اُس کی آواز کے اوپر بن گئی تھی۔

یہی قہقہے سننے کی اُسے حسرت رہی تھی۔ اُسے اَچنبھا ہوا کہ شائستہ ایسے رسیلے قہقہے اُچھال سکتی تھی اور اُچھال رہی تھی۔

وہ تقریباً بھاگتا ہوا ڈرائنگ روم کے دَروازے تک پہنچا اور اُسے لگا کہ جیسے سارا ڈرائنگ روم مہمان کی دھیمی ‘مسلسل باتوں سے اور شائستہ کے بے اختیار قہقہوں سے کناروں تک بھر چکا تھا اور اَب چھلکنے کو تھا۔

مہمان نے اَپنے گیلے کھچڑی بالوں کو سلیقے سے یوں پیچھے سنوارا ہوا تھا کہ کنپٹیوں کی سفیدی دَب گئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں چمک تھی جو اُس کے سارے چہرے پر ظاہر ہو رہی تھی۔ – یہاں تک کہ جبڑوں کی مسلسل نمایاں نظر آنے والی ہڈیاں بھی اِسی چمک میں کہیں معدوم ہو گئی تھیں۔

جو شخص بول رہا تھا اس کے بَد ن پر عاطف کا پسندیدہ لباس تھا جو اگرچہ اُس پر چست نہ بیٹھا تھا مگر اُسے بارعب بنا گیا تھا۔
دُھلا دُھلایا صاف ستھرا شخص – اُس شخص سے بالکل مختلف ہو گیا تھا جسے وہ صبح صوفے پر خراٹے بھرتا چھوڑ گیا تھا۔
وہ مسلسل بول رہا تھا اور اُس کے ہونٹ ایک طرف دائرہ سا بنا رہے تھے ۔
وہ عاطف کی نظر آنے تک بولتا رہا۔

شائستہ کے قہقہے اُچھلتے رہے۔

عاطف کے نظر آنے پر بھی وہ کسی رَخنے کے بغیر اُچھلتے رہے – حالاں کہ بولنے والا شخص خاموش ہو چکا تھا۔ عاطف کو لگا – شائستہ قہقہے نہیں اُچھال رہی تھی – ننھا فرخ اُس کے گھٹنوں پر اُوندھا پڑا کلکاریاں مار رہا تھا جب کہ نرم ملائم جلد پر مخروطی اُنگلیاں پھسل رِہی تھیں اور پھسلے ہی جاتی تھیں۔

Image: Henn Kim

Categories
فکشن

سجدۂ سہو

ایکا ایکی اُسے ایسے لگا جیسے کوئی تیز خنجر اُس کی کھوپڑی کی چھت میں جا دھنسا ہو۔ اس کاپورا بدن کانپ اُٹھا۔ جسم کے ایک ایک مسام سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر آگئے۔ اُس نے سر پر دوہتڑ مار کر لَاحَول وَلا قُوة کہا۔ عین اُس لمحے اُس کے ذِہن کی سکرین پر اپنے ایک سالہ سعیدے اور اس کی ماں نوری کی تصویر اُبھری۔ نوری سعید ے کو لوری دے کر سُلا رہی تھی اور وہ سونے کی بہ جائے اُسے دِیکھ دِیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

اِس خیال کے آتے ہی اُس کے جسم کا تناؤ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو دباکر نچوڑا تو اُسے یوں لگا‘ جیسے سر نچوڑنے سے عاشو منہ میں آ گئی ہو۔ منھ اِدھر اُدھر ٹیڑھا کر کے لعاب جمع کیا اور تھوک کے ساتھ عاشو کو بھی زور سے دور پھینک دیا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اِنسان سوچوں اور خیالات کے آگے بے بس کیو ں ہو جاتا ہے‘ پیچھا چھڑانا بھی چاہے تو نہیں چھڑا سکتا۔

کہیں یہ سوچیں مجھے شکست نہ دے دیں۔

اِس خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ کانپ اُٹھا۔ بے شک وہ گبھرو جوان تھا لیکن سوچیں تو جسم پر نہیں ذہن پر وار کرتی تھیں ۔ اس نے س سرکو شرقاً غرباً کئی جھٹکے دِیے۔ صافہ سر پر باندھا‘ چادر کے پلو کسے‘ ایک نظر رہٹ چلاتے بیل پر ڈالی۔ بیل بڑے سکون کے ساتھ کھڑا تھا۔ اُسے بے اختیار ہنسی آگئی۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔

”کیسا چالاک ہے اُلو کا پٹھہ‘ مجھے غافل پا کر نہ جانے کن خیالوں میں مگن کھڑ ا ہے“
اپنی سوچ پر پہلے تو وہ جھینپاپھر اپنے آپ پر ہنسنے لگا۔
بھلا بیل بھی سوچتے ہیں کیا؟ بیل انسان تو نہیں؟
لیکن وہ تو اِنسان تھا اور ابھی ابھی سوچوں سے چھٹکارا پا کر اُٹھا تھا۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا‘وہ نوری ‘ سعیدے اور ماسی رضو سے بچ بچا کر سوچوں کے جوہڑ میں جا دھنستا اور دیر تک ڈبکیاں لگاتارہتا۔ پھر جس آن اُسے اندیشہ ہوتا کہ کوئی دیکھ نہ لے‘ جھٹ پٹ لَاحَول وَلا قُوة کہتا اور دھیان جوہڑ سے باہر نکل آتا۔ ایسے میں اُسے لگتا جیسے اُس کے جسم سے اس جوہڑ کے گندے پانی کی بدبو کے بھبکے اُٹھ رہے ہوں۔

بیل اَپنی جگہ خاموش کھڑا تھا۔

اور وہ بھی اَپنی جگہ خاموش کھڑا نتھنوں کو پھڑ پھڑا رہا تھا۔
اُسے اَپنے اور بیل میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔

”وہ مجھے غافل پا کر اپنے خیالات میں مگن‘ نہیں نہیں‘ خاموش کھڑا ہے۔ اور میں بھی کسی کو غافل پا کر سوچوں میں غرق ہوں“
اس نے ایک موٹی سی گالی اپنے آپ کو اور ایک اِسی وزن کی گالی بیل کو دی۔

بیل تو جیسے اِسی گالی کا منتظر تھا‘ فوراً چل پڑا۔ ٹینڈیں پانی بھر بھر کر اُوپر لانے لگیں تو وہ کھالے کے ساتھ چلتا ہوا گنگنانے لگا:

نیچاں دِی اَشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا
کِکر تھ اَنگور چڑھایا تے ہر گُچھا ز خمایا
ہو۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔ نیچاں دِی اَشنائی کولوں۔۔۔۔۔

آخری کھیت پر پہنچ کر پانی کا رُخ بائیں کھیت کی طرف موڑنے کے لیے اُس نے پانی کا ناکا کھول دِیا۔ پانی دائیں بائیں دونوں کھیتوں میں جا رہا تھا۔ اُس نے دائیں کھیت کے ناکے کو بند کر دیا کہ وہ سیراب ہو چکا تھا۔ اِس کام سے فارغ ہو کر اُس نے کمر پر ہاتھ رکھا اور سیدھا کھڑا ہو کر گاؤں کی طرف دِیکھنے لگا۔ اُس کے اَندازے کے مطابق نوری کو کھانا لے کر اَب تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
اور اس کا خیال درست نکلا۔
نوری واقعی ایک ہاتھ سے سعیدے کو اور دوسرے میں کھانا تھامے چلی آہی تھی۔ وہ واپس رہٹ کے پاس آیا اور اُسی بوہڑ کے نیچے آبیٹھا جہاں کچھ دیر قبل عاشو کے خیال سے جنگ کرتا رہا تھا۔

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ عاشو بہت حسین تھی۔ اُس کا قد سرو کی مانند تھا نہ گردن صراحی کی طرح۔ اُس کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی جیسے تھے نہ رنگت ہی سرخ و سپید۔ یہ سب کچھ تو بس عام لڑکیوں جیسا تھا لیکن اُس کی آواز میں بلا کی کشش تھی۔ وہ بولتی تو راہ چلتوں کے قدم تھم تھم جاتے۔ سرسوں کے پیلے پیلے پھول‘ کہ جن سے عاشو نے اپنے چہرے کا رنگ چرایا تھا‘ جھوم جھوم اُٹھتے۔ گاؤں کی تمام اَلہڑ مٹیاروں کی طرح وہ بھی کھیتوں پر کام کو جاتی۔ گھر کے ڈھور ڈنگر سنبھالتی‘ بالکل ایسے ہی جیسے خود عبدل کی بیوی نوری یہ سارے کام کرتی تھی۔

لیکن عبدل پر عاشو کا خیال بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔
وجہ عبدل خود بھی نہ جانتا تھا۔

جونہی اُس کا ذہن دیگر تفکرات سے خالی ہوتا‘ عاشو آکر قبضہ جما لیتی۔ کئی بار تو یوں ہوتا کہ وہ رات کو اچھا بھلا سونے لگتا مگر دیر تک دشتِ خیالات میں بھٹکتا رہتا۔ پھر جب رات کے پچھلے پہر سعیدا اَپنے پوتڑے گندے کر کے رونے لگتا تو وہ چونک اٹھتا اور لَاحَول وَلا قُوة کَہ دِیتا۔ نوری بے چاری سمجھتی‘ اس ننھے شیطان کے رونے پر عبدل نے غصے میں آکر لَاحَول وَلا قُوة کہا ہے۔ چناں چہ وہ جلدی جلدی اُس کے پوتڑے بدلتی۔ اُسے تھپکتے اور دودھ پلاتے سلانا شروع کر دیتی۔ اُس کے ساتھ ہی عبدل کو یوں لگتا‘ نوری نے سعیدے کو نہیں خود اُسے تھپکیاں دِے کر سُلادِیا تھا۔

نوری قریب پہنچی تو اُسے ڈر لگنے لگا؛ کہیں سوچوں کے گندے جوہڑ کی بو نوری بھی نہ سونگھ لے۔ اُسے دُکھ ہو رہا تھا کہ وہ عاشو کے بارے میں کیوں سوچتا رہتاتھا؟ اس جرم کے احساس کی شدّت کو کم کرنے کے لیے وہ نوری کو دِیکھ کر مسکرا دیا۔ اور جب اُس کی نظر سعیدے پر پڑی تو اس کا چہرہ گلِ نو شگفتہ کی طرح کِھل اُٹھا۔ لپک کر آگے جھکا‘ نوری کی گود سے سعیدے کو اُچکا اور سینے سے لگا لیا۔

بے تحاشا پیار کی پھوار تھی جو سعیدے پر مسلسل برس رہی تھی۔

نوری نے یہ دِل رُبا منظر دِیکھا تو نہال ہو گئی۔ کھانا بوہڑ کی چھاؤں تلے رَکھا اور بانہیں پھیلا کر کہنے لگی۔

”سعید ا مجھے دو اور تم کھانا کھاؤ کہ بھوک ستا رہی ہو گی“

عبدل نے نوری پر ایک اُچٹتی نگہ ڈالی‘ سعیدے کی پیشانی پر پیار سے ایک اور بوسہ دیا اور اُسے نوری کی پھیلی بانہوں میں ڈال دیا۔ جب وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیاتو نوری بھی اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔ سعیدا اُس کی گود میں لیٹا مسکرا کر باپ کو دِیکھ رہا تھا اور توتلی زُبان میں کچھ کہے جاتا تھا۔ اُس نے روٹی کے کپڑے کی گرہ کھولی۔ باجرے کی روٹی اُس پر سرسوں کا ساگ اور مکھن کی سوندھی خُوِشبو۔ اُس کی بھوک چمک اُٹھی۔ لسی کا گلاس بھر کر قریب رکھا اور کھانے میں مگن ہو گیا۔ نوری اُ س سے بھولی بھالی باتیں کرتی رہی۔ وہ سنتا رہا۔ اور جانے کب نوری خاموش ہو کر بچے کو پانی پلانے چوبچے کے پاس لے گئی تھی کہ عاشو کہیں سے آکر عبدل کے ذہن پر براجمان ہو گئی۔ دوسرے ہی لمحے سعیدے کی کلکاریوں اور ”مم مم“ نے خیال کے اس کھلونے کو توڑ کر دور پھینک دِیا اور وہ مطمئن ہو کر کھانا کھانے میں لگ گیا۔ کھانا کھا چکا تو نوری نے برتن سمیٹے اور سعیدے کو اُٹھا کر واپس چل دِی۔ عبدل وہی صافہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ ابھی نوری نظروں سے اوجھل نہ ہوئی تھی کہ وہ دھڑام سوچوں کے گندے جوہڑ میں جا گرا۔

عاشو سے اُس کی ملاقات دو سال قبل فضلو کی شادی پر ہوئی تھی۔ بارات دلہن کو لینے دوسرے گاؤں گئی تھی۔ ابھی وہ دلہن کے گاؤں کے قریب پہنچے ہی تھے کہ شمال سے بادل اُٹھے اور پورے آسمان پر بکھر گئے۔ بجلی کڑکی اور اس کے ساتھ ہی رِم جھم بارش برسنے لگی۔ گاؤں پہنچنے تک بارش کچھ اور تیز ہو گئی تھی۔ بارات میں موجود سیانوں کا یہی فیصلہ تھا:

دلہن لے کر فوراً واپس چل پڑنا چاہئے کہ کہیں راہ میں پڑنے والے برساتی نالے میں طغیانی نہ آجائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پانی اُترنے تک یہیں رکنا پڑے گا۔

چناں چہ دلہن لے کر برات بارش ہی میں واپس چل پڑی۔

وہ دوسرے باراتیوں کے ساتھ نالے میں اُترا ہی تھا کہ اُس کے پہلو سے عاشو لڑکھڑا کر اُس کے ساتھ ٹکرا گئی۔ عبدل کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے اور وہ بھی عاشو کے ساتھ ہی پانی میں گر پڑا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ابھی نالے کا آغاز تھا‘ پانی گھٹنوں سے اُوپر نہ تھا۔ وہ خود سنبھلا‘ عاشو کو سنبھالا دیا۔ عاشو نے ہنس کر اُسے دیکھا۔ شکریہ ادا کیا اور اپنا ہاتھ اُس کی جانب بڑھاتے ہوے کہا:
”ذرا پار تک مجھے تھامے چلو“

عاشو کے ذِہن پر اُس لمحے کسی اور خیال کی پرچھائیں تک نہ تھی۔ وہ تو بس نالے کے پار تک جانا چاہتی تھی مگر عبدل کے خیالات کا منھ زور گھوڑا لگام تڑا کر سرپٹ بھاگے جا رہا تھا۔ اُ س کے بعد جب بھی وہ اکیلا ہوتا‘ لڑکھڑا کر ندی میں جا پڑتا‘ پھر عاشو کو سنبھالا دیتے ندی کے پار تک آتا۔ ذہن کے بحرالکاہل میں کتنی ہی موجیں اُٹھتی تھیں اور وہ بے حال ہو جاتاتھا۔

لمحہ لمحہ کر کے دوسال بیت گئے مگر عاشو کے ہاتھوں کا لمس تھا کہ وہ بھول نہ پایا تھا۔ تاہم جیسے ہی اُسے سعیدے کی ماں کا خیال آتا وہ اپنے آپ کو کوسنے لگتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر زورزور سے کہنے لگتا:

”خدایا! تیرا شکر ہے کہ تو نے میری اور میری ماں کی دُعائیں سن لیں اور مجھے سعیدا عطا کیا“

۔۔۔۔۔۔۔

عبدل کی ماں رضو‘ گاؤں بھر کے لیے ماسی تھی۔ سب کے مسئلوں کا حل ماسی رضو کے پاس تھا‘ لیکن ماسی رضو خود جس کرب میں مبتلا تھی اُس کا حل کسی کے پاس نہ تھا۔ پیش اِمام کی بیوی صغراں اس کی رازداں تھی۔ جب بھی اُس سے مشورہ کیا‘ اُس نے یہی کہا:

”عبدل کو ایک اور شادی کرادو“

ماسی رضو سے اپنے بیٹے کا دُکھ دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ شادی سے پہلے اور دو سال بعد تک تو وہ گاؤں بھر کی محفلوں کی جان بنا رہا تھا۔ کُشتی ہوتی ےا بیلوں کا میلہ‘ کتوں کی دوڑ ہوتی ےا مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی ہر موقع پر وہ آگے ہی آگے ہوتا؛ مگر اب الگ تھلگ‘ نہ کسی سے تعلق‘ نہ کسی واسطہ۔ یوں لگتا تھا‘ وہ اندر ہی اندر سے ٹوٹتا چلا جاتا تھا۔

اِدھر عبدل کی بیوی گاہراں تھی کہ خزاں کے ٹنڈ منڈ شجر کی طرح۔

چناں چہ اُ س نے صغراں کے مشورے پر عمل کرتے ہوے فیصلہ دے دیا:

”عبدل کے لیے دوسری شادی بہت ضروری ہے“

ماسی رضو کے لیے یہ کام کون سا مشکل تھا۔ ادھر عبدل سے کہا: گاہراں کو فیصلہ سنادو‘ اُدھر نازو کو دُلہن بنا کر گھر لے آئی۔ پھر کئی سال اِنتظار میں بیت گئے۔ عبدل کے سر میں چاندی کی طرح سفید بال چمکنے لگے۔ ماسی رضو نڈھال ہوگئی۔ اتنی سکت نہ رہی کہ خود چل کر پانی پی سکے۔ برتن اٹھانا چاہتی تو وہ کپکپا کر گر جاتا ۔ پوتے کے اِنتظار کے دُکھ نے اُس کے لبوں پر چُپ کا جالا بُن رکھا تھا۔ صغراں آتی تو اپنے غم کی پٹاری اُ س کے سامنے کھولتی۔ لیکن صغراں کا تو بس ایک مشورہ تھا:

”ماسی رضو اللہ کا دیا سب کچھ ہے تمہارے پاس۔ اللہ بخشے تمہارا گھر والا تمہیں بہت کچھ دے کر اس دنیا سے گیا ہے۔ روپے پیسے اور جائیداد کی کمی نہیں۔ عبدل کے لیے عورتوں کا کیا کال ہے۔ دوسے اولاد نہیں ہوئی تو تیسری کرادو۔“
اور عبدل سے ماسی رضو نے کَہ دیا:

”بیٹا ایک شادی اور کر لو“

عبدل نہ مانا۔ ماےوسی نے اُسے چاروں شانے چِت گرادِیا تھا۔ ماسی رضو منتوں پر اُتر آئی:

”بیٹا ایک شادی اور۔۔۔۔۔ میرے لیے اور صرف میرے لیے۔۔۔۔۔ میں تمہیں بے اولاد دیکھ کر مرنا نہیں چاہتی“

ماں کی التجا اور آنسو بھری آنکھیں عبدل سے دیکھی نہ گئیں۔ یوں نوری دلہن بن کر گھر آگئی تھی۔ شاید قدرت بھی اسی لمحے کی منتظر تھی۔ عبدل اور ماسی رضو کو مزید اِنتظار نہ کرنا پڑا۔ جس روز سعیدا پیدا ہوا‘ اس روز تو عبدل کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ ماسی رضو کو کوئی دیکھتا تو یوں محسوس کرتا‘ جیسے اُ س کے پیکر میں کوئی جواں روح داخل ہو گئی تھی۔ کئی روز تک جشن کی سی کیفیت رہی اور پھر خُوشی کے یہ لمحات دیکھتے دیکھتے ماسی رضو اللہ کو پیاری ہو گئی۔

وہ دولت کہ جس کے لیے عبدل نے طویل اِنتظار کا کرب اُٹھایا تھا‘ سعیدے کے روپ میں عبدل کے سامنے تھی‘ نہ جانے یہ کمبخت عاشو کہاں سے ٹپک پڑی تھی۔ اس نے اُس کا سکون درہم برہم کر دیا تھا۔ عبدل کب کا بڑھاپے کی دہلیز پھلانگ چکا تھا۔ بالوں میں سفیدی ہی سفیدی تھی۔ جلد جو کبھی تنی ہوئی ہوتی تھی‘ اب ڈھلک گئی تھی۔ لیکن اِس عمر میں بھی اُسے اَٹھارہ سالہ عاشو کا خیال نڈھال کیے دِے رہا تھا۔

پہلے پہل تو عبدل لَاحَول وَلا قُوة کَہ کر عاشو سے چھٹکارا پاتا رہا۔ رفتہ رفتہ لَاحَول وَلا قُوة کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب سعیدا‘ نوری اور لَاحَول وَلا قُوة تینوں بے بس ہو گئے اور اُس نے عاشو کو اَپنانے کا فیصلہ کر لیا۔

کرمو غریب مزراع تھا۔ عبدل جیسے صاحب ِحیثیت زمیندار نے رشتہ طلب کیا تو بھلا وہ کیسے انکار کر سکتا تھا۔
اور یوں عاشو دُلہن بن کر عبدل کے گھر آگئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوری روئی‘ چلائی‘ سعیدے کے واسطے دیے۔ عبدل کے ارادوں نے بدلناتھا‘نہ بدلے۔ اُس کے سامنے اجازت نامے کا کاغذ رکھا اور کَہ دیا:
”شادی کی اجازت دے دو یا پھر مجھ سے فیصلہ سن لو“

فیصلے کی بات سن کر اس کی روح تک لرز گئی۔ چپکے سے انگوٹھا اٹھایا اور کاغذ پر ثبت کر دیا۔
گویا اب عبدل کو قانونی تحفظ اور عاشو کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ مل چکا تھا۔

اسی اجازت نامے کے سہارے عاشو اُس گھر میں داخل ہو گئی تھی جو کبھی نوری کا تھا۔ اس کے سعیدے کا تھا۔ وہ لہو کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔

عاشو گھر میں اِٹھلاتی پھرتی تھی۔۔۔۔۔ یہاں وہاں۔

جب کہ سعیدا اور نوری گھر میں ہوتے ہوے یوں نظر انداز کر دِیے گئے تھے‘ جیسے پھٹے پرانے لیر لیر کپڑے۔ وہ بھری دوپہر کے اس سائے کی طرح تھی جو کونوں کھدروں میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ خوف اس کی نس نس میں بھرا ہوا تھا۔بے ےقینی اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھی اور ماےوسی اس کے دِل میں پوری طرح اُتر گئی تھی۔

ہاں جب جب وہ سعیدے کو دیکھتی تھی تو عبدل کے حوالے سے ایک آس بندھتی تھی۔

مگر نوری کا بھائی محمد حسین بیچ میں یوں کودا‘ کہ رہی سہی اُمید کا کچا دھاگہ بھی ٹوٹ گیا۔

وہ کراچی میں ملازمت کرتا تھا‘ بہن پر بیتی سنی تو مشتعل ہو گیا۔ سیدھا گاؤں پہنچا دوڑا دوڑا بہن کے گھر گیا اور نوری کو ساتھ لے کر چل دیا۔ نوری جاتے جاتے کہتی رہی:

”میں اِس گھر سے نہیں جاؤں گی۔ کیا ہوا جو عبدل نے نئی شادی کر لی ہے۔ میں اس گھر کی دِہلیز سے مر کر ہی نکلوں گی“
زبان کچھ اور کَہ رہی تھی جب کہ اس کے اندر اُٹھتی اِنتقام کی لہریں نفرت کے ایسے بیچ بوچکی تھیں کہ اُس کے قدموں میں بھائی کا ساتھ دینے کا حوصلہ بھرگیاتھا۔

محمد حسین کا لہو کھول رہا تھا۔ وہ نوری کو تقریباً گھسیٹتا گھر لے گیا۔ ادھر عاشو تو جیسے اسی لمحے کی منتظر تھی۔ اس کا جادو عبدل کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ لہٰذا نوری کو طلاق کا فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔

نوری نے یہ سنا تو چکراکر رہ گئی۔ خود کو کوسنے دئیے۔ بھائی کا گریبان پکڑ لیااور اس پر برس پڑی:

”تم نے مجھے اُس گھر سے لا کر بہت بُرا کیا۔ اب میں کس کے سہارے جیوں گی۔ پہاڑ سی زِندگی کیسے کٹے گی؟“

نوری نے سعیدے کو دیکھا تو کلیجہ منھ کو آگیا۔ دھاڑیں مار کر روتے ہوے اسے سینے سے لگا لیا۔ جب خوب رو چکی تو کہنے لگی:
”اس معصوم نے کون سا گناہ کیا ہے کہ اسے بھی میرے ساتھ سزا مل رہی ہے۔ اس کا باپ زندہ ہے لیکن یہ یتیم ہو گیا ہے“

جب نوری‘ محمد حسین کا گریبان پکڑے اسے جھنجھوڑ رہی تھی تو محمد حسین پتھر کے مجسمے کی طرح ڈول رہا تھا۔ دُکھ کی ایک گہری جھیل میں اس کا بدن ڈوبے جا رہا تھا۔ اُس کے دِل میں لمحہ بھر کو ایک چنگاری چمکی اور نہایت اَہم فیصلے کا شعلہ بھڑگا گئی۔ بہن کو دِلاسادیا۔ سعیدے کو پیار سے تھاما اور کہنے لگا:

”بہن فکر نہ کرو‘ سعیدا یتیموں کی طرح نہیں‘ شہزادوں کی طرح پلے گا۔ میں پوری زِندگی تمہیں کوئی غم نہ آنے دوں گا۔“

جب وہ یہ کَہ رہا تھا تو اس کا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جو غم اور روگ نوری کو لگ چکا تھا‘ اس کا علاج ممکن ہی نہ تھا۔ کتنے ہی غم ہوتے ہیں جو انسان ہنسی خُوشی سہہ جاتا ہے لیکن کچھ دُکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زِندگی کو قبر کی مٹی اور کفن کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔

محمد حسین نے اپناآبائی مکان اور وہ تھوڑی سی زمین‘ جو اُس نے خُون پسینے کی کمائی سے خریدی تھی‘ بیچ ڈالی۔ بہن اور اس کے بیٹے کو ساتھ لیا اور کراچی پہنچ گیا۔ اس نے سوچا ماحول بدلے گا تو زخموں پر مرہم لگ جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”انسان بڑا ہی نا شکرا ہے“

پیش امام کی بیوی صغراں عبدل کا دُکھ سن کر کہنے لگی:

”تم اولاد کو ترستے تھے‘ جب اولاد ملی تو اُس سے بے نیاز ہو گئے۔ آہ!۔۔۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ آج ماسی رضو زندہ نہیں۔ وہ زندہ ہوتی تو یہ دُکھ جَر نہ سکتی۔ تم نے ڈاکٹروں ‘ حکیموں اور سنیاسیوں کو آزما دیکھا۔ اب عاشو کی گود کیا ہری ہو گی۔ تم آج بھی اولاد کو ترس رہے ہو۔ اب تو میں تمہیں یہ مشورہ بھی نہیں دے سکتی کہ ایک اور شادی کر لو۔ خبر نہیں نوری کہاں اور کس حال میں ہو گی؟ محمد حسین تو اُسے ساتھ لے کر یوں گم ہوا ہے کہ کہیں کوئی نشان نہیں ملتا۔ کراچی میں اُس نے اَپنا ٹھکانہ تک بدل لیا تھا کہ کہیں تم پچھتا کر اُدھر نہ جا نکلو اور اپنا بیٹا نوری سے چھین کر اس کے زخم ہرے کرو۔اللہ کرے سعیدا ٹھیک ہو۔“
صغراں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی برس رہی تھی۔ اُسے ماسی رضو کے ساتھ اُنس تھا اور عبدل ماسی رضو کی نشانی تھی۔ مگر ماسی رضو کی اس نشانی کو دیکھتی تو کلیجہ کٹ کٹ جاتا۔ صغراں سے مزید وہاں بیٹھا نہ گیا۔ چادر کے پلو سے آنسو پونچھے‘ لاٹھی اُٹھائی اور وہاں سے اُٹھ گئی۔

عبدل کے سینے سے درد کی ایک لہر اُٹھی اور پورے وجود کو چیرتی چلی گئی۔

عبدل کا دُکھ عاشو کے لیے جان لیوا تھا۔ لیکن وہ کیا کر سکتی تھی؟ بس عبدل کو دیکھتی اور دیکھتی ہی رہ جاتی۔ یوں جیسے پیاسی زمین بانجھ بادلوں کو حسرت سے تکتی رہ جاتی ہے۔ پورے بارہ سالوں کا ایک ایک پل عبدل نے دُکھ کے پل صراط پر چل کر گزارا تھا۔
گاؤں کے ایک ایک فرد سے محمد حسین کا پتہ پوچھ ڈالا۔

خود کئی مرتبہ کراچی سے ہو آیا۔

لیکن نوری کا سراغ ملا نہ اس کے سعیدے کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فجر کی نماز پڑھ کر عبدل کھانستا کھانستا گھر کی جانب پاؤں گھسیٹے جا رہا تھا کہ پٹواری لال دین نے پیچھے سے آواز دی۔ عبدل رُک گیا۔ لال دِین کہنے لگا:

”عبدل میں کراچی گیا تھا۔ اپنے بیٹے چراغ دین سے ملنے۔ اِس مرتبہ محمد حسین سے بھی ملاقات ہو گئی۔“
عبدل کا دِل اُچھلا اور حلق میں آپھنسا۔ جلدی سے پوچھا:

”کہاں رہتے ہیں وہ؟ کس حال میں ہیں؟ سعیدا کیسا ہے؟ نوری کا کیا حال ہے؟“

ایک ہی سانس میں اتنے سوال۔ یہی وہ سارے سوال تھے‘ جو بارہ سالوں سے اس کے سینے کو اندر سے ڈس رہے تھے۔ لال دین ہنس دیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے سے ہنسی غائب تھی اور دُکھ سے وہ ہاتھ ملتے ہوے کَہ رہا تھا:

”عبدل بڑے بَد نصیب ہو تم۔ تم نے اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا۔ محمد حسین مجھے صدر میں ملا تھا۔ سودا سلف خریدنے آیا تھا۔ سعیدا اُس کے ساتھ تھا۔ تمہارے گبھرو پتر کو دیکھا۔ خدا کی قسم یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی سعیدا ہے۔ تین سال کا بچہ تھا‘ جب ماں کے ساتھ گیاتھا اور اب ایسا خوبصورت جوان بنا ہے کہ جوانی پر رشک آتا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ گھر چلنے کو بڑا اصرار کیا تھا لیکن میں نہ جا سکا کہ میرے ساتھ اور لوگ۔۔۔۔۔“

عبدل نے لال دین کی بات درمیان میں کاٹ ڈالی۔ ان کا پتہ پوچھا اور اسی روز کراچی چل پڑا۔
لانڈھی پہنچا‘ مطلوبہ مکان ڈھونڈا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

اس کے ساتھ ہی اس کا اپنا دِل بھی زور زور سے دَھک دَھک کرنے لگا۔

بالکل ایسے ہی جیسے اس کے اندر دِل پر کوئی زور زور سے دستک دے رہا ہو۔

چند لمحوں کے بعد ایک پندرہ سالہ خوبصورت لڑکا اُس کے سامنے کھڑا‘ اُسے سوالیہ نظروں سے تک رہا تھا۔ عبدل کو سمجھنے میں دِیر نہ لگی کہ وہ اس کا بیٹا سعیداتھا۔ برسوں کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا‘ دےوانہ وار آگے بڑھا اور بے اختیار پکار اُٹھا:
”میرے بیٹے۔۔۔۔۔ میرے سعیدے“

وہ اُسے بانہوں میں جکڑے‘ سینے سے لگائے رو رہا تھا کہ اندر سے نسوانی آواز آئی۔
”سعیدے بیٹے۔۔۔۔ کون ہے باہر؟“

عبدل کو یوں لگا‘ وہ آواز نہ تھی ‘ بجلی کا کوندا تھا جو اس کے بدن پر دوڑ گیا تھا۔ آواز نوری کی تھی۔ بالکل ویسی ہی۔ بس اس میں کپکپاہٹ بھر گئی تھی۔ بارہ لمبے سالوں کی گرد بھی اس کے ذہن میں محفوظ نوری کی آواز کی پہچان نہ دھندلا سکی تھی۔ سعیدا عبدل کے سامنے حیرت کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ نوری سعیدے کا جواب نہ پا کر خود دروازے تک آئی۔ عبدل نے نوری کو دیکھا تو یوں لرزنے لگا جیسے بارش کی زد میں آیا ہوا وہ خشک پتا لرزتا ہے جو خزاں زدہ پیڑ کی کسی لرزیدہ شاخ پر کسی بھی پل ٹوٹنے والا ہوتا ہے۔
نوری کے ہاتھوں میں سہارے کے لیے لاٹھی تھی۔ اس لاٹھی سے وہ راستہ ٹٹول ٹٹول کر قدم آگے بڑھا رہی تھی۔ ویران آنکھیں اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں کہ ُان سے نور کب کا رُخصت ہو چکا تھا۔ نوری نے ایک مرتبہ سعیدے سے پوچھا:

”بیٹا بتاؤ نا! کون ہے تمہارے ساتھ؟“

اِس سے پہلے کہ سعیدا کچھ کہتا۔ عبدل نے ایک فیصلہ کیا۔ یوں ہی واپس پلٹ جانے کا فیصلہ۔

وہ اس فیصلے کی کٹار سے اپنے وجود جو چیر کر جرم کے اِحساس کی شدّت کو کم کرنا چاہتا تھا۔

اُس نے اپنے بوجھل قدم اٹھائے‘ واپس پلٹا اور کہنے لگا‘ رک رک کر ۔۔۔۔۔ یوں کہ جیسے لفظ زبردستی حلق سے باہر دھکیل رہا ہو:
”جی مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔۔۔۔ غلط جگہ پر آگیا ہوں۔۔۔۔۔ دراصل میں کسی اور صاحب سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔“

نوری نے یہ آواز سنی تو عبدل کی طرح اُسے بھی پہنچاننے میں دیر نہ لگی تھی۔ کیا ہوا آنکھوں سے نور رخصت ہو گیا تھا مگر دِل کے نہاں خانے میں‘ دماغ کے ایک ایک گوشے میں عبدل کی آواز اور تصویر دونوں اسی طرح سجی ہوئی تھیں‘ جیسے آج سے بارہ سال قبل تھیں۔ فوراًپکار اُٹھی:

”بیٹا! تم نے پہنچانا نہیں ‘یہ تمہارے ابا ہیں۔ ہاں ہاں بیٹا تمہارے ابا“
اس کے لہجے میں یقین تھا۔

عبدل ایک دم نوری کی جانب گھوما۔

بس ایک ساعت کے لیے اس کا چہرہ اور اس پر برستے یقین کے رنگوں کو دیکھ سکا۔ اور پھر اس کی جانب کٹے ہوے شجر کی طرح یوں گرا جیسے سجدہ سہو کر رہا ہو۔

Categories
فکشن

جنم جلی

وہ ان گنت نسلوں سے جھونپڑیوں میں یا جھاڑیوں کے کنارے پیدا ہو رہے تھے ۔ ان کا شجرہ نسب عموماً نامعلوم ہوتا تھا ۔ وہ بھی ایک انتہائی تھکی ہوئی شام جھونپڑی میں پیدا ہوئی۔ اُس کے ماں باپ نسلاً بھکاری تھے۔ اس کے باپ کو مانگنے کے علاوہ نشے کی بھی لت لگی ہوئی تھی۔ وہ اکثر غائب رہتا اور شہر کے وسط میں موجود ایک نالے کی نیچے مارفین کے انجکشن لگایا کرتا تھا۔ وہ ایک منحنی سی کالے رنگ کی بچی تھی جس کو پیدائش کے کچھ ماہ بعد ہی چیچک نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ چیچک نے اُس کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ عمر بھر اس رفاقت کے داغ اپنے چہرے پر سجائے رکھے۔ اس نے پیدائش کے فوراً بعد سے اپنا آبائی پیشہ سنبھال لیا تھا۔ وہ ماں کی گود میں پڑی وقت بے وقت روتی رہتی اور اس کے آنسووں کی قیمت کے طور پر سکے اس کی ماں کی گود میں گرتے رہتے۔
وقت بدلے بغیر چلتا رہا۔ اُس نے بھیک مانگنے کے لئے بولنا سیکھا ، چلنا سیکھا ، یہاں تک کہ کچھ کچھ سوچنا بھی سیکھ لیا۔ اسی دوران اس کی دو اور بہنیں بھی پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھی تو اُس کے باپ کو پولیس والے نشہ بیچنے کے الزام میں پکڑ کر لے گئے۔ دو دن بعد ہی پولیس والوں نے اس کی لاش جھونپڑیوں والوں کے حوالے کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی موت نشہ نہ ملنے کے سبب ہوئی ہے۔ جب کہ بستی میں ایسی چہ مگوئیاں بھی سنی گئیں کہ وہ پولیس تشدد سے مرا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی لاش نہ دیکھی تھی ورنہ اسکو نظر آ جاتا کہ اسکے باپ کے جسم پر جا بجا پولیس اور نشے کےتشدد کے نشان تھے۔ اس کے باپ کے جانے کا کسی بھی جھونپڑی میں سوگ نہیں منایا گیا۔ سوگ تب شروع ہوا جب ارد گرد کی جھونپڑیوں سے لوگ وقتاً فوقتاً ان کی جھونپڑی میں آتے اور کبھی کمبل ، تکیہ، جگ یا کوئی اور چیز یہ کہہ کر لے جاتے کہ اس کے باپ نے یہ چیز اپنی زندگی ہی میں نشے کے عوض فروخت کر ڈالی تھی۔ وہ اس پر خوش رہی کہ اس کی ماں کو نشے کے لئے نہیں بیچا گیا یہاں تک کہ اس کا چچا اکثر راتیں ان کی جھونپڑی میں گزارنے لگا۔ یوں زندگی کے متعلق اس کی پہلی غلط فہمی ختم ہوئی۔ رات نامانوس آوازوں سے اُس کی نیند کُھل جاتی اور وہ خوف سے دوبارہ اپنی آنکھیں بھینچ لیتی اور چھوٹی بہنوں کی آنکھوں کے آگے ہاتھ کر لیتی حالنکہ اندھیرے میں ویسے بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ روز صبح اس کا دل کرتا کہ وہ ٹریفک سگنل کے پاس کھڑے پولیس والے کو ( جو اکثر اسے ڈانٹ کر بھگا دیا کرتا تھا) رات کی ساری حقیقت بتا دے اور وہ اسکی ماں اور چچا کو جیل میں لے جائے کیونکہ بُرے لوگ جیل میں ہوتے ہیں ۔ اُس وقت تک بُرے لوگوں کے بارے میں اس کو تصور بہت کچا تھا۔

وہ تیزی سے بڑی ہو رہی تھی ۔ اب اکثر لوگ اُسے بھیک دیتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیتے یا پاس بٹھا لیتے ، کئی ایک تو ادھر اُدھر دیکھ کر اسے اپنے ساتھ چپکا لیتے تھے اور پانچ دس روپے دے دیتے۔ وہ یہ پیسے لئے اپنی ماں کے پاس آتی اور فخر سے پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی کہ آج اس نے اتنی زیادہ کمائی کی ہے۔ اس کی ماں اسے پیار سے چمکارتی ۔ وہ کبھی نہ دیکھ سکی کہ ایسے میں اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے ہوتے تھے۔

ایک شام وہ ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھی پاخانہ کر رہی تھی کہ ایک شناسا چہرہ قریب سے نمودار ہوا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی وہ اس نے اسے وہیں گرا دیا۔ وہ اپنے ہی پاخانے کے اوپر گری وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اُس شخص کو ناخن بھی نہ مار سکی ۔ اس کی مٹھیاں بس زمین سے مٹی بھرتی رہیں۔ شام کا وحشی اندھیرا ، ناک کو چڑھتی بدبو، گردن پہ چبھتے دانت ، نیچے کہیں چیرے جانے کا شدیداحساس اور بے بسی کے عذاب نے اس کی آنکھوں سے آنسو نکال دئے۔ ۔۔ اس کی نتھ روندی جا چکی تھی۔اس کی ماں جب اس پر مگ بھر بھر کر پانی ڈال رہی تھی تو یکایک روتے ہوئے وہ دوہتڑ اس کی کمر پر مارنے لگے جس پر یہ اور شدت سے رونے لگی۔ اتنا درد تو اسے جھاڑیوں کے کنارے بھی نہیں ہوا تھا۔ رات اس کی ماں دودھ میں ہلدی ڈال کر لائی اور اس کو پیار سے سہلانے لگی۔ وہ اس کو ہلدی ملا دودھ پلا رہی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس سے زخم مندمل نہیں ہونے والے۔

اُسے بخار ہو گیا اور وہ دو دن تک بھیک مانگنے نہ جاسکی۔ بس وہ سارا دن جھونپڑی میں پڑی چھت کے پردے کو گھورتی رہتی جیسے وہاں اوپر کوئی درد شناس رہتا ہو۔ اب وہ قدرے خوفزدہ سی رہنے لگی ۔ اُسے لگتا تھا کہ وہ یکایک بہت بڑی ہو گئی ہے بالکل اپنی ماں جتنی۔ اس کے سینے کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گٹھلیاں نمودار ہو رہی تھیں۔ جب وہ پیٹ کے بل سونے کے لئے لیٹتی تو ان میں ہلکا ہلکا لذت بھرا درد جاگ جاتا۔ وقت کے ساتھ درد اور گٹھلیوں کے سائز میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنی ماں سے نظر بچا کر ان کو انگلیوں سے دباتی تو میٹھی سے ٹیس سارے بدن میں دوڑ جاتی اور یہ تن سی جاتی۔ کبھی کبھی تو ان میں سے لیس دار پانی بھی نکلتا جس کو انگلیوں کی پوروں سے لگا کر وہ ان کی چپچپاہٹ محسوس کرتی۔

وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے کھڑا ایک نوجوان آتے جاتے اکثر اسے بہت پیار سے دیکھتا ہے۔ رات اکثر وہ خواب میں آتا۔ یہ ایک پینگ پر بیٹھی ہوتی اور وہ اُسے جُھلا رہا ہوتا۔ یہاں تک کہ جھولا کہیں بہت اوپر آسمانوں میں تیرنے لگتا۔ وہ لڑکا یکایک نیچے سے غائب ہو جاتا اور اسے یوں لگتا کہ وہ آسمان سے گرنے والی ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگتا اور اس کی اآنکھ کُھل جاتی۔ وہ پسینے سے شرابور ہوتی اور چور نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھتی۔ ایسی راتوں میں پھر اسے صبح تک نیند نہ آتی۔ اس کا دل کرتا کہ وہ جھونپڑی کا پردا ہٹا کر کھلی ہوا میں تاروں بھرے آسمان کے نیچے جا بیٹھے۔ایک دن جب اس کی ماں اس کے ساتھ نہیں تھی اور یہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے سے جا رہی تھی اُس لڑکے نے اسے اشارے سے اپنے پیچھے بلایا۔ یہ چپ چاپ اُس کے پیچھے چلنے لگی۔ وہ فلیٹس کے نیچے پانی کی موٹر والے ایک کمرے میں داخل ہو گیا اور اسے اشارہ کیا۔ جب یہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں مکمل تاریکی تھی اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کنڈی لگنے کی آوازآئی پھر کسی نے اسے دیوار کی طرف دھکیلا۔ اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی تھی حلق خشک ہو رہا تھا ۔ اس کو کسی نے مضبوطی سے بھینچ لیا۔ اس کو اپنی شلوار نیچے کی جانب سرکتی ہوئی محسوس ہوئی پھر اس نے کسی گرم چیز کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کیا۔ مسلسل رگڑ سے کمرے کی کھردری دیوار سے چپکی اس کی کمر چھلی جا رہی تھی۔ اس نے اپنی رانوں پر نمی محسوس کی۔ اس کی شلور کو کھینچ کر اوپر کر دیا گیا۔ کنڈی کھلنے کی آواز آئی۔ لڑکے نے ایک کاغذ اس کی مٹھی میں تھمایا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اُسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔ جب وہ باہر نکلی تو سورج کی تیز روشنی اسے آنکھوں میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب اُس کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو اس نے کچھ دیر پہلے گزرے لمحوں کو یاد کیا۔ پھر اس کی توجہ مڑتی ہوئی اس کی بند مٹھی پہ جا ٹکی۔ اس نے ہتھیلی کو کھولا تو مڑے تڑے ہوئے بیس روپے اس کے پسینے سے گیلے ہو رہے تھے۔ وہ حیران نظروں سے ان پیسوں کی طرف دیکھتی رہی۔ جھولا زمین پر آ چکا تھا۔ وہ مزید پسینے میں ڈوب گئی۔ وہ عجیب کھسیانے انداز میں قہقے مار کر ہنسنے لگی۔ پھر اس نے غصے سے وہ پیسے زمین پہ دے مارے اور پیروں سے زور زور سے اُسے کچلنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے نامعلوم گوشوں سے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا تھا۔ وہ باقاعدہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ اس کے پیروں کے نیچے اس کی محبت بیس روپے کی شکل میں کچلی پڑی تھی۔ وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھی رہی پھر چلنے لگی۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ یکایک کچھ سوچ کر رُکی واپس مڑی اور وہ بیس روپے اُٹھا لئے۔

ایک دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے ایک دن برئیزئر لٹکتے ہوئے دیکھے۔ اس کے دل میں ان کو خریدنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اگلے دو دن وہ بھیک میں سے کچھ پیسے بچا کر اس دکان میں داخل ہوئی ۔ اُسے آج پہلی دفعہ مانگتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ بالاخر اس نے دکان دار سے کہا “بھائی صاحب ایک باڈی دے دیں۔ دکاندر نے اسے ٹٹولتے ہوئے کہا کہ” بی بی سائز کیا ہے تمہارا”۔ یہ گم صم کھڑی رہی دوکاندار نے کچھ دیر مزید ٹٹولا پھر شاید اسے رحم آ گیا۔ وہ بولا ” کتنے والا چاہے سو یا دو سو یا پانچ سو”۔ اس نے سامنے کاونٹر کر پیسے پھیلائے جو کہ کل ملا کر پچھتر روپے بنے۔ یہ بولی ” میرے پاس تو پچھتر ہی ہیں”۔ ” لاو دو” دکان دار نے پیسے رکھے اور ایک کالے رنگ کا برئزئر تھما دیا۔ جس کو اس نے دکان سے باہر نکلتے ہی اپنے نیفے میں اڑوسا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ اپنی جھونپڑی میں گھستے ہی اس نے دیکھا کہ ماں نہیں ہے اس نے جلدی سے قمیص اتاری اور کافی کوشش کے بعد برئزئر پہن لیا۔ اب وہ ٹہل ٹہل کر چل رہی تھی۔ وہ عجیب سی خوشی محسوس کر رہی تھی۔ پھر ایک دن جب وہ واپس لوٹی تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں اور دو بہنیں غائب ہیں۔ وہ کئی دن تک انہیں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ اسے نہ ملیں۔ اس نے پولیس والے سے بھی کہا۔ پہلے تو پولیس والے نے کہا ” بھاگ گئی ہو گی تیری ماں کسی یار کے ساتھ “۔ جب اس نے بہت زیادہ منت سماجت کی تو پولیس والے نے بیلٹ اوپر کرتے ہوئے اس کے چہرے کو مایوسی سے دیکھا اور کہا۔ “پانچ ہزار لگیں گے اور تو کچھ ہے نہیں تمہارے پاس دینے کو”۔ بہرحال اس رات کے بعد کچھ راتوں تک تو اس کو اکیلے ڈر لگتا رہا ۔ پھر اسے رہنا آ گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ اب وہ بھیک حاصل کرنے کے مخصوص ٹھکانوں کا اچھی طرح دورہ کر چکی تھی جن میں ٹرکوں کے اندر، پلیٹ فارم پر مال گاڑی کے بند ڈبوں کے اندر، لاری اڈے کی غلیظ لیٹرینوں میں، قبرستان میں قبروں کی اوٹ میں، کھیتوں میں، خشک نالوں میں ، یہاں تک کے مسجد کے طہارت خانوں میں۔ اس نے ہر جگہ سے اپنے حصے کی بھیک وصول کی اور لوگوں کے حصے کی بھیک ان کو بانٹی۔ لوگوں کی دریا دلی رنگ لائی اور یہ حاملہ ہو گئی۔ جوں جوں اس کا پیٹ بڑھتا جا رہا تھا ملنے والی بھیک کی مقدار کم ہوتی جا رہی تھی۔ اب یہ زیادہ چلنے سے تھک جاتی تھی۔ اکثر تو پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔ اس کا رنگ مزید سیاہ ہو گیا تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے آنکھوں کی رنگت اختیار کر چکے تھے۔ وہ تین دفعہ چلتے چلتے بے ہوش ہو کر گڑ پڑی ۔ ایک شام جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ نالے کے کنارے موجود جھونپڑیوں میں سے ایک بھی باقی نہیں رہی تھی۔ سب لوگ چلے گئے تھے کیوں کہ نالا اپنی حدوں سے باہر نکل کر اس میدان تک آ گیا تھا جہاں یہ لوگ آباد تھے۔ وہ نالے کے کنارے پھسلن سے بچتی بچاتی نسبتاً خشک جگہ پر تقریباً گڑ پڑی۔ وہ رات بھر یہی پڑی رہی۔ صبح اس کے پیٹ میں شدید درد ہو رہا تھا۔ وقفے وقفے سے درد کی ٹیسیں اس کے بدن میں ابھرتی پھر ڈوب جاتیں۔ دن کے تقریباً گیارہ بجے اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ وہ اتنی اکیلی تھی کہ بچی کا ناڑو کاٹنے کے لئے بھی کوئی موجود نہ تھا۔۔ دن کے وقت کھیس بیچنے والی ایک خاتون یہاں سے گزری اس نے اس کی مدد کی بچی کو کھیس اڑایا، اس کا لباس بدلا۔ وہ بھاگ کر کہیں سے زچہ بچہ کے لئے دودھ لے کر آئی۔ جب یہ قدرے بحال ہوئی تو اُس نے کہا۔ “بہن اللہ تمہیں ہمت دے مجھے جانا ہے۔ میرا گھر والا میرا نتظار کر رہا ہو گا”۔ وہ جاتے ہوئے سو روپے کا ایک نوٹ بھی اس کی مٹھی میں تھما گئی۔ خاتون کی دی ہوئی رقم اور دودھ تو دو دن میں ختم ہو گئے۔

بچی تو کہیں سے نازل ہو گئی تھی مگر اسے دودھ نہ اترا تھا۔ وہ بچی کو کبھی ایک چھاتی تو کبھی دوسری چھاتی سے لگاتی وہ کچھ دیر تک نپل کو اس امید پر چوستی رہتی کہ شاید دودھ آ جائے۔ پھر منہ ہٹا کر زور زور رونے لگتی۔ بچی کو سینے سے لگائے وہ روز دودھ کی تلاش میں بھیک مانگنے لگتی۔ ایسے ہی مانگتے ہوئے وہ حاجی صدیق کریانہ سٹور پر پہنچی۔ حاجی نے اسے اندر بلایا دوکان کا شٹر نیچے کیا۔ پھر یکایک اسے کوئی خیال آیا تو اس نے پوچھا “بچی کتنے عرصے کی ہے”۔ “جی ہفتہ بھر کی تو ہو گی ” اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔ حاجی صاحب کی آنکھوں میں مایوسی بھر آئی۔ قریب تھا کہ وہ شٹر اوپر کر کے اسے جانے کو کہتا ایک خیال اس کے زہن میں کوندا۔ وہ واپس مڑا اس کو سر دبا کر نیچے کیا۔ اس نے تھوڑی سی مزاحمت دکھائی تو اُس نے سختی کے ساتھ اس کا سر نیچے کرتے ہوئے کہا “چل منہ میں لےلے۔۔۔ بڑی آئی پاک باز کہیں کی” اس نے ایک نظر حاجی صاحب کی طرف دیکھا پھر جلدی سے اپنی قمیص کا پلو بچی کی آنکھوں کے اوپر ڈال دیا۔تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب نے دوکان کاشٹر اوپر کیا دائیں بائیں دیکھ کر جلدی سے پچاس روپے ان کو تھما کر دوکان سے باہر نکالا۔ یہ آگے نکلے تو حاجی صدیق کو یاد آیا کہ آج تو جمعہ ہے وہ جلدی سے دوکان بند کر کے غسل کے لئے گھر کو روانہ ہو گیا۔ اسے یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ صبح تو وہ نہا کر آیا تھا اب بیگم سے کیا بہانہ کرے گا۔ یکایک اس کی نظر سامنے کیچڑ پر پڑی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

وہ اپنی بچی کو اٹھائے جب سڑک پر پہنچی تو اسے احساس ہوا کہ وہ جلدی میں جوتے پہننا بھول آئی تھی۔ گرم تارکول اس کے پاوں کو بری طرح سے جلا رہا تھا۔ ۔ وہ سڑک کے کنارے موجود گندگی کے اوپر چلنے لگی یہ نسبتاً ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ یکایک اس کے پاوں کے نیچے کانچ کا ایک بڑا سا ٹکڑا آیا۔ یہ بے قابو ہو کر نیچے گری۔ بچی کو بچاتے ہوئے اس کی کہنی پوری قوت سے فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔ کچھ دیر وہ وہیں پڑی رہی پھر ہمت کر کے اُٹھ بیٹھی۔ پاوں کے آنگھوٹھے سے خون بہہ رہا تھا۔ کہنی کے آگے بازو جھول رہا تھا شاید ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے بچی کو ایک نظر دیکھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی۔کافی دیر بعد وہ نالے کے پل کے اوپر سے گزر رہی تھی اس نے نیچے دیکھا کیچڑ زدہ پانی میں اسے اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا وہ نظر ہٹانا چاہتی تھی لیکن اسے نظر آ ہی گیا کہ کیچڑ میں اس کی بچی کا عکس بھی اتنا ہی واضح تھا۔

Image: Ernst Barlach

Categories
فکشن

گلٹی

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مصنف: فرخ ندیم

” اوئے تو تو جلدی ہی پوری عورت بن جائے گا” صادق لوہار کے بیٹے نے اچانک گلی کے کونے پہ میرا راستہ روک کر جیسے میرے سر پہ ہتھوڑے برساتے ہوئے کہا تھا ۔ اپنے بارے میں ایسی عجیب و غریب پیشین گوئی سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور حواس جاتے رہے ۔

“خدا کے لئے مجھے گھر جانے دو” میں اس حملے کی تاب نہ لا سکا اور اس کے سامنے گھگھیانے لگا۔

میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ ایک تو اس لئے کہ اماں ابا نے مجھے ڈرایا بہت ہوا تھا دوسرا میری گلی میں میرے ہم عمر لڑکے بھی کم ہی تھے۔ یا تومجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے یا اسی طرح چھوٹے۔ مجھے اپنے ہم عمر لڑکوں سے کھیلنے کے لئے محلے کی تین گلیاں چھوڑ کرجانا پڑتا۔ بچپن ہی سے مجھے یہ احساس تھا کہ میرا گورا چٹا گول مٹول چہرہ لوگوں سے زبردستی پیار کروا لیتا ہے۔ ویسے بھی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کی وجہ سے جو اہمیت مجھے ملی تھی وہ شاید گاوں کے کسی بھی لڑکے کو نہیں ملی تھی۔ اماں کو میری اس قدر فکر تھی کہ وہ ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتیں۔ اس فکر کا مجھے اُس وقت بالکل شعور نہ تھا۔ اُس وقت کی بات کر رہا ہوں جب میری عمر لگ بھگ بارہ تیرہ برس تھی۔ ہمارے گھر کی حالت گاوں کے دوسرے گھروں سے کافی بہتر تھی۔ کچھ رشتہ دار انگلینڈ امریکہ میں بھی تھے۔ جب وہ کبھی گاوں آتے تو ہمارے لئے تحفے تحائف لے کر آتے جو میں اپنے دوستوں کو دکھاتا تو وہ خوش بھی ہوتے اور خاموش بھی۔ عام طور پر سب لڑکے شلوار قمیض پہنتے ۔ مگر جس دن میں پینٹ شرٹ اور ٹی شرٹ پہن کر گھر سے نکلتا چھوٹے بڑے سبھی چمٹنے کو دوڑتے۔ میں ان لوگوں کے التفات سے کچھ زیادہ بے خبر بھی نہ تھا لیکن چونکہ بچپن میں سبھی لوگ لاڈ پیار کرتے آئے تھے اس لئے ان کے اس رویہ پہ کبھی غور کیا ہی نہیں تھا۔ جس ایک دن، صادق لوہار کے بیٹے کوڈے نے شام کے وقت ایک سنسان گلی میں روکا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کی ہیبت ناک شکل سے تو میں دن کے وقت بھی گھبرا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہر وقت تیز نوکیلے دانتوں والی درانتی مجھے سر سے پاوں تک لرزا جاتی اور میں پاس سے گزرنے سے بھی ڈرتا۔ اسی ملک الموت درانتی نے اس دن میرا راستہ روکا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے کوڈے لوہار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی نہ دیکھا تھا۔اور اب۔۔۔ اس بار درانتی کی نوک جب اچانک میرے پیٹ میں چبھی تو بے بسی میری انکھوں سے ٹپکنے لگی۔ میں نے اماں کو آواز دینا چاہی مگر میری کسی بھی آواز سے پہلے اس کا ہاتھ میری چھاتی پہ تھا۔ میں بالکل بھی نہ سمجھ سکا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے تو ڈر کے مارے آنکھیں اس لئے بند کی تھیں کہ وہ میری گردن مروڑنے لگا ہے۔ لیکن جب وہ ایکدم ہنسنے لگا تو میں نے آنکھیں کھولیں۔ “اوئے اے کی!” تو تو عورت بن گیا ہے۔ تیری چھاتی میں تو گلٹی ہے”

“گلٹی؟ عورت؟” میں نے اپنے ٹوٹے ہوئے سانسوں کو جوڑتے ہوئے خوف ملی حیرانی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔

“ہاں عورت۔ دیکھ تجھے بتاتا ہوں، سینے کے بٹن کھول تجھے ابھی دکھاتا ہوں ”

“نہیں، مجھے جانے دو، میں خود ہی دیکھ لوں گا” میں نے ڈر کے مارے تھوک نگلا اور ساری ہمت جمع کر کے اس سے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔

“اپنی قمیض کے بٹن کھولتا ہے یا ساری پسلیاں باہر نکلوائے گا” اس نے درانتی میری ایک پسلی میں اس طرح گھسائی کہ مجھے واقعی ایسے محسوس ہوا جیسے میری ساری انتڑیاں پسلیوں سے پھسلتی میرے پاوں پہ گرنے لگیں گی۔ “میں میں میں مم مم مجھے چھوڑ دو” میں نے اپنے اندر کے خوف کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میں پیچھے ہٹتا گیا اور درانتی مسلسل میری بائیں پسلی میں گھستی گئی یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو ویران گلی کی ایک کچی دیوار سے جڑتے ہوئے محسوس کیا۔ “کھال ادھیڑ دوں گا تیری، جیسے کہتا ہوں ویسے کر، ادھر سے میرے ساتھ چل”۔ خوف سے مجھ پہ کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ لوہے سے کام کرتے اس کے ہاتھ کتنے سخت تھے اس وقت مجھے اندازہ ہوا جب اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے میری چھاتی کا ماس ایسے کھینچا جیسے کوئی بھوکی شارک اپنے شکار کو تیز نوکیلے دانتوں سے جھنجھوڑتی ہے۔۔ان دنوں میں نے شارک والی فلم نئی نئی دیکھی تھی۔ مجھے نہیں علم کیوں لیکن مشہور یہی تھا کہ کوڈے لوہار کے اپنے دانت بھی درانتی کے دندوں کی طرح نوکیلے اور تیز تھے۔ صرف میں ہی نہیں گاوں کا ہر وہ بچہ اس سے ڈرتا تھا جو صاف ستھرے ماحول سے تعلق رکھتا تھا۔ شدید درد کی ایک لہر میرا سینہ چیرتی پورے جسم میں خوف بن کر دوڑنے لگی۔ اماں کہتی تھی اس نے رو رو کر خدا سے بیٹا مانگا تھا۔ بیٹا عورت بن رہا تھا۔ کوڈے لوہار نے اندھیرے میں درانتی میری پسلیوں سے نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرائی تو زندگی میں پہلی بار اندھیرا میرے وجود میں سسکارنے لگا۔”ماں خصم گریبان کھولتا ہے یا میں خود پیٹ کھولوں” وہ مجھ پہ ایسے دھاڑا کہ اس کی آواز دور تک تو نہ گئی ہوگی لیکن میری پسلیاں پھڑپھڑانے لگیں” اماں ں ں ں ں” اتنی زور سے میں نے پکارا کہ میرے وجو د سے چمٹا ہوا اژدھا بل کھولنے پہ مجبور ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے درانتی کا دستہ میری پسلی میں ٹھونکتے ہوئے بولا” بزدل زنانی ” اور درانتی چادر میں چھپاتے گلی میں غائب ہو گیا۔

بجائے اس کے کہ میں گھر کو بھاگتا، ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا، شاید اس درد کی وجہ سے جو جو میری پسلیوں اور سینے کی گلٹی میں ہو رہا تھا یا شاید کوڈے لوہار کے الفاظ کی وجہ سے جو میرے دل کے آر پار ہو رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں اس درد سے دوہرا ہوتا آس پاس دیکھنے لگا، “بزدل زنانی بزدل زنانی”اور “تیری کھال ادھیڑ دوں گا” کی ضربیں مسلسل میرے وجود پہ پڑ رہی تھیں اور میں ان سے بچنے کی کوشش میں اپنی پشت پہ کھڑی کچی دیوار کے سہارے ایک کھولی سے لگتا جا رہا تھا، یہ ایک ویران سی حویلی کی کھولی تھی جس کا مالک قربان چاچا دو تین سال پہلے مر گیا تھا، اسی جگہ جہاں میں لڑکھڑاتا کراہتا کھولی کے پاس اس وقت گر رہا تھا وہاں قربان چاچا کی بھیڑیں ممیاتی سر جوڑ کر سو جایا کرتی تھیں ۔ ابا جب بھی چھٹی پر آتے بہنوں پہ برستے جاتے، “یہ ہر وقت قربان کی بھیڑوں کی طرح سر جوڑ کر کیوں بیٹھی رہتی ہیں، نہ کام نہ کاج” ابا کو معلوم تھا یا نہیں لیکن میری بہنوں کا حال یہ تھا کہ ادھر ابا گھر میں داخل ہوئے ادھر وہ سمٹ کر ایک کونے میں دبکنے لگیں۔ اور جونہی مجھ پہ نظر پڑتی ان کا لہجہ یکسر بدل جاتا۔ ابا پولیس میں تھے۔ جب بھی اماں سے لڑتے ایک ہی بات کرتے، میرے آگے زبان چلاو گی تو مار مار کر بھیڑ بنا دوں گا، زنانی کا کیا کام ہے مرد کے سامنے نظر بھی اٹھائے ۔ پتا نہیں اماں نے زبان کبھی چلائی یا نہیں لیکن ان کو میں نے بھیڑ بنتے ضرور دیکھا تھا۔ چھ عورتیں گھر کے ایک کونے میں ایسے چھپ کر بیٹھ جاتیں جیسے قربانی کے بہت سے جانور کسی ایک ہی باڑے میں ٹھونس دیے گئے ہوں۔ اب میں اس گھر کی ساتویں عورت تھا۔ مجھے گھر جانے سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اماں کو خبر ہو ئی تو کیا سوچے گی۔ ابا تو واقعی میں کھال ادھیڑ دیں گے۔ بہنیں کیسے یہ خبر سن سکیں گی۔ وہ تو پہلے ہی گھر میں منحوس سمجھی جاتی تھیں۔ “ایک کے بعد دوسری، پوری چھ منحوس عورتیں”۔ دادی بھی ابا کی طرح یہی کہتے کہتے مر گئیں۔ مجھے آج تک کبھی بھی سمجھ نہ آ سکا کہ وہ خود کو بھی بطور عورت ان میں سے ایک ساتویں “منحوس” کیوں نہیں مانتی تھیں ۔جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

اماں تو مر جائے گی یہ دیکھ کر لیکن اس کے بعد ڈرتے ڈرتے جو میں نے ٹٹولا تو میرے پاوں سے بچی کھچی زمین بھی سرکنے لگی۔ میری چھاتیوں میں واقعی دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گلٹیاں تھیں۔ایک دو دن پہلے نہاتے وقت میں نے چھاتی پہ درد تو محسوس کیا تھا۔ اچھا تو یہ درد تھا!۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں نے سوچا کسی طرح یہ ختم ہوں، کیا کروں کیسے چھپاوں یک لخت سارا منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ اور میں چکرا کے رہ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا تو تھا۔ میں بار بار اپنی گلٹیوں کو چھوتا اور کھولی سے مزید جڑتا جاتا۔ میرے سارے وجود پہ قربان چاچا کی بھیڑیں اگ رہی تھیں جو ممیاتے ہوئے میری جلد کے ہر حصے کو چاٹ رہی تھیں۔ ایسے ہی مجھے میری ماں اور بہنیں پیار کرتیں مگر اب سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ میں جب بھی سکول سے یا دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے تھک کر گھر لوٹتا تو ساری خواتین کا جمگھٹا میرے گرد جمع ہوتا اور اتنے پیار سے مجھ سے میری بھوک پیاس کے بارے میں پوچھتیں جیسے میں ان کا پیر و مرشد ہوں۔ کئی بار ایسا محسوس ہوا جیسے میں ان کا بادشاہ ہوں اور وہ میری رعایا۔ بادشاہت کا کون سا راز میرے پاس تھا، میں اکثر اپنے آپ سے پوچھتا،لیکن وہ بادشاہت مجھ سے اب چھن رہی تھی۔ میں نے اسے اپنے وجود میں تلاش کرنا چاہا۔ شرم کے مارے ہاتھ ناف کے نچے نہ جائے۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ اپنی چھت سے، اسی لمحے، میں نے لمبی سی آواز سنی، “سوہنے ے ے ے ے” یہ میری دوسری بہن افشاں کی آواز تھی جو چھت پہ چیختی مجھے بلا رہی تھی۔ ہمارے گاوں میں ایسا ہی ہوتا کہ جب کوئی کسی کو بلانا چاہتا تو چھت پہ کھڑے ہوکر اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیتا۔ میں کھولی کے پاس دبکا بیٹھا خوف دہشت زدہ کانپ رہا تھا، چاہنے کے باوجود بھی مجھ سے اٹھا نہ گیا ، ایسے جیسے کسی نے کھولی سے میری گلٹیاں باندھ دی ہوں۔ یا شاید میری کھال کے اندر قربان چچا کی روح حلول کر گئی ہو مگر مجھے یاد ہے اصل میں تو میں اپنی گلٹیوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ ایک بار تو مجھے جیسے قربان چاچا اندھیرے میں ہنستاہوا بھی نظر آیا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اپنی بھیڑوں کو اولاد کی طرح پالتا، اِدھر اس کی روح نے پرواز کیا اُدھر باڑہ اجڑ گیا۔ اس کی اولاد ہوتی بھی کیسے، شادی ہی نہ ہوئی۔ لوگ کہتے تھے وہ کسی قابل ہوتا تو شادی ہوتی۔ “قربان چاچا اندر سے عورت تھا ،، وہ بھی ڈرپوک بھیڑ تھا ، بزدل زنانی؟ درد میں ڈوبے کئی سوالات میں نے اپنے آپ سے کر دیئے،”مجھے کیا علم” میں نے اپنے ہی آپ کو جواب دیا، لیکن قربان چاچا کا مسئلہ گلٹی والا نہیں تھا ،شاید، دیکھنے کو تو وہ مرد ہی لگتا تھا، یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اندرسے بھیڑ ہو”۔ “بے ے ے ے ے” میں نے آواز کی سمت دیکھا، یہ اس باڑے کا ٹوٹا پھوٹا ویران کمرہ تھا جہاں سے کسی مردانہ بھیڑ کی آواز آئی تھی۔ تبھی تو میں نے اپنی گلٹیاں سنبھالیں، چھاتیوں پہ دونوں ہاتھ رکھے اور ہانپتا کانپتا گھر کو بھاگنے لگا۔

ہمارا گھر محلے کے دوسرے گھروں سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ درمیاں میں جانوروں کے ایک دو باڑے تھے۔ جن سے دھواں اٹھ کر سارے ماحول میں پھیلتا جا رہا تھا۔ دیہاتوں میں شام کے وقت اپلے جلائے جاتے ہیں تاکہ ان سے اٹھنے والے دھویں سے مکھی مچھر جانوروں سے دور رہیں،میری گلٹیاں سلگتے ہوئے اپلے بن گئے جن سے اٹھتا ہوا دھواں میرے نتھنوں سے گزراتا سانس بند کرنے لگا۔ میں نے پھر چھاتیوں پہ ہاتھ رکھے ۔ اندر گلٹیاں بڑھنے لگی تھیں اور میری چال لڑکھڑانے لگی تھی۔ گھر کے دروازے پہ جا کر دستک کی بجائے میں نے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔ کیا عزت رہے گی میری اماں کی۔ لوگ کیا کہیں گے، “اس کی قسمت میں مردانہ اولاد ہے ہی نہیں، کوئی وارث پیدا نہ کیا، منحوس عورت، بیٹا بھی ایسا پیدا کیا جو بارہ تیرہ سال بعد عورت بن گیا۔ اس گھر پہ کوئی زوال ہے، کوئی سایہ ہے یا فقیر کی بددعا”، ابا چھٹی پر آئیں گے تو مجھے کاٹ کے رکھ دیں گے، اس وقت مجھے اپنے ابا کوڈے لوہار کی درانتی کی طرح محسوس ہوئے۔ وہ تو اس کو بھی میرا یا اماں کا قصور سمجھیں گے ۔میرے ابا ان لوگوں میں سے تھے جو سب سے پہلے عورت کے دشمن تھے بعد میں کسی اور جرم کے ۔ اس عمل میں وہ اپنی بڑائی سمجھتے اور جہاں بیٹھتے مرد کی حاکمیت پہ لمبی لمبی تقریریں کرتے۔ میرے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا تھا میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ گیٹ پہ کھڑے کھڑے ہی مجھے خیال آیا کہ ابا اسی دروازے سے گھسیٹے ہوئے مجھے اور میری اماں کو نکال باہر کریں گے، ہو سکتا ہے مجھے کسی سے قتل کروا دیں، “سوہنے ے ے ے ” پھر تیسری بہن صائمہ کی درد بھری آواز آئی،” ۔”نیلووووووو” میں نے افشاں کو اس کے لاڈ پیار والے نام سے آواز دینا چاہا مگر ایک دبی ہوئی چیخ میرے حلق سے نکلی اور دم توڑ گئی۔ مجھے سردی لگ رہی تھی، پورا جسم درد سے کانپنے لگ گیا۔ یہ آواز افشاں نے سن لی تھی۔ وہ سوہنے سوہنے کرتی سیڑھیاں اترنے لگی اور میں بس ہوں ہاں کرتا رہ گیا۔ دروازہ کھولتے ہی وہ رونے لگی، “سوہنے ہماری تو جان نکل گئی تھی، کہاں تھا تو اتنی دیر سے” ۔ایک کے بعد دوسری پانچوں بہنیں ننگے پاوں بھاگتی ہوئی آئیں اور مجھ سے ایسے لپٹیں جیسے ان کی کھوئی ہوئی قسمت مل گئی ہو ۔ میں نے سب سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں کوڈا لوہار تو نہیں مڑ کر آگیا۔ مجھے اپنی بہنوں کی فکر ہونے لگی۔ دروازے سے راستہ بناتے میں جلدی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔ میں تو اب یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو میں کیا ملا انہیں نئی زندگی مل گئی۔ اماں اکثر کہتیں “میری بیٹیوں کو باپ کی تھوڑی بہت شفقت سوہنے کے صدقے سے ملی۔ سوہنا اس گھر کا ہر طرح سے وارث ہے، اوپر اللہ وارث نیچے میرا سوہنا، یہ دنیا میں نہ آتا تو پتا نہیں کہاں کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی” ۔ چھ کی چھ خواتیں مجھ پہ قربان ہو رہی تھیں ایسے جیسے کسی زخمی پرندے کو دیکھ کر اس کے ساتھی کرلاتے ہیں۔ سب سے بڑی ساحرہ جس کو لاڈ پیار سے اماں سارہ کہ کر پکارتی تھیں نے کچھ گڑ بڑ بھانپ لی تھی۔ روتی ہوئی چیخنے لگی،”پیچھے ہٹو سب لوگ” کہتے ہوئے مجھے بلب کی روشنی میں لے جانے لگی۔ مجھے کانپتا دیکھ کر بے چین ہو گئی اور کہنے لگی” سوہنے میری جان ہاتھ تو ہٹاو یہاں سے اور بتاو کہاں تھے تم؟”۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کیسے بتاتا کہ کہاں تھا اور میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے، “سوہنے میری انکھوں میں دیکھو” ، اس نے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، میں نے بے بسی سے سب کی آنکھوں میں ایسے دیکھا جیسے میری زندگی کا آخری دن اور آخری لمحات ہوں۔ کوڈے لوہار کی درانتی میرا کلیجہ چیرتے ہوئے نکل گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو ایسی بے چارگی کے ساتھ بہنے لگے کہ جنہیں دیکھ کر گھر میں کہرام مچ گیا۔ اماں بولنے لگی “میرے لال کسی نے کچھ برا تو نہیں کر دیا تیرے ساتھ، ایسے چپ کیوں ہے آخر بولتے کیوں نہیں؟”۔ میں نے ہمت کی اور بدن سے روح تک کے سا رے زخم چھپا گیا،” کچھ نہیں ہوا مجھے، کھیلتے کھیلتے کھولی میں گر گیا تھا” ۔بس یہی جواب تھا اس وقت جو مجھ سے بن پڑا۔ میرے اس جواب کے ساتھ ہی اماں اور بہنوں کی سانس بحال ہوئی، سب سے چھوٹی حیا تو سہمی سہمی سسکیاں لینے لگی تھی جو میری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ سارہ نے میرے دونوں ہاتھ کھولے اور بے اختیار میرے گال ہاتھوں میں لے کر میرا چہرہ پڑھنے لگی، وہ نہ صرف گاوں کے ماحول سے آگاہ تھی بلکہ جانتی تھی میرے وجود کی گھر میں کیا اہمیت ہے۔ کئی بار جی چاہا کہ چیخ چیخ کر بولوں کہ مجھے سوہنا نہیں سوہنی بولو، میں تم جیسا ہی تو ہوں، دل سے دعا کر رہا تھا کہ کاش میری گلٹیاں خود بول پڑیں یا ان میں سے کوئی محسوس کر لے،مگر ایسا نہ ہوا۔ بارہ ہاتھوں کی پر خلوص مجبوری مجھے سمیٹتی ہوئی پساری(کچن) کی طرف لے جانے لگی۔ اماں نے جلدی سے گرم دودھ کا پیالہ میرے سامنے رکھا۔ باقی ساری سمٹ کر کونوں میں بیٹھ گئیں اور مجھے دودھ پیتے دیکھتی رہیں۔ ان سب کو علم ہی نہ تھا کہ اب میں بھی ان کے ریوڑ کا حصہ بن چکا تھا۔ ابا ان کو اکثر ریوڑ ہی تو کہتے تھے۔ میں نے پیالہ منہ کو لگایا تو ایسے لگا جیسے سارا دودھ میری چھاتیوں میں بھرا جا رہا ہو، ہتھوڑے پھرسے ٹھک ٹھک برسنے لگے۔ صائمہ سے چھوٹی چوتھے نمبر والی سبین بولی “سوہنے تمہیں پتا ہے آج پھوپھو کوثر آئیں تھیں تھوڑی دیر کے لئے”۔ “ہاں بیٹا”، اماں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولیں، “ابرار لوگ انگلینڈ سے آ رہے ہیں، کل یہاں پہنچ جائیں گے۔ پہلے ہماری طرف ہی آئیں گے”۔ سب سے چھوٹی حیا بھی میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔امی اورسارہ نے باری باری ان کے سامنے روٹی اور سالن رکھا۔ کھانا کھانے کے دوران ساری ایک نوالہ روٹی کا توڑتیں اور دو بار میری طرف دیکھتیں، جس سے مجھے ایسے محسوس ہوتا جیسے میری چھاتیوں میں دودھ ابل رہا ہو۔

بستر بچھنے لگے تو گلٹیاں ممیانے لگیں۔ میں سب کی آوازوں میں اپنی آواز تلاشنے لگا، ساتویں کی آواز، مجھے ان سب سے ہمدردی ہونے لگی۔ ایک جملہ میرے سر پہ منٖڈلانے لگا، ” ایک عورت ہی دوسری عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے” نیند میری آنکھوں سے ایسے دور تھی جیسے میں خود سے دور یا اماں ابا سے دور۔ یہ دوری میری شناخت پہ سوالیہ نشان تھی ۔ جسم کا کون سا حصہ تھا جس میں درد نہیں تھا۔ ایک ایک حصہ عورت ذات میں ڈھلتے محسوس ہونے لگا۔ سر کے بالوں سے لے کر ناخنوں تک سب کچھ جوں کا توں تھا مگر پھر بھی سب کچھ بدلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے سوچ سوچ کے پاگل ہو جاوں گی۔ میں نے ہمت اپنی ماں سے سیکھی اور برداشت بڑی سارہ سے۔ اس نے ابا جیسے پلسئیے سے لڑتے لڑتے بی اے کر لیا تھا ۔ میں نے سوچا میں بھی انہی کے نقش قدم پہ چلوں گی۔ ایک دن سارے رشتہ دار اور محلہ دار میرے ابا سے بول اٹھیں گے” اقبال! تیری نئی بیٹی عاکفہ نے تو کمال کر دیا” اگر میں سب کو بول کے نہ بتا سکا تو لکھ کر ضرور بتاوں گی۔میں نے اسی وقت سوچا تھا، اور یہ بھی کہ بڑی افسر بن کر کوڈے لوہار کو جیل بھیج دوں گی۔ ہاں، ایک بات لکھنا بھول گیا کہ میں نے اس رات عہد کیا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنی ان کیفیات پہ کہانی ضرور لکھوں گی تا کہ میں اپنے احساسات لوگوں تک پہنچاوں۔ ویسے بھی مجھے کتابی کیڑا کہا جاتا تھا اور اس وقت بھی میری دو چار کہانیاں ’بچوں کی دنیا ‘میں چھپ چکی تھیں۔ خیر۔۔۔۔ سوچتے سوچتے میں مردوں کے سامنے شرمانے، گھر کے کام کاج، کپڑے دھونے، اور اپنے لئے کپڑوں کے ڈئیزائن سوچنے لگی۔ میرا قد بہنوں سے بڑا بھی نہیں تھا اس لئے کپڑوں کے بارے مطمعن ہو گئی۔ مسئلہ اس وقت پریشان کن ہو گیا جب ابرار لوگوں کی آمد کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ میرا ہی ہم عمر تھا۔ پھپھو نسیم کا بیٹاجو امریکا سے آ رہی تھیں۔ ابرار کے سامنے کیسے جاوں گی؟ اس کے ساتھ کھیلتے مجھے شرم نہیں آئے گی؟ اگر اس کے ساتھ نہ کھیلا ،گھوما پھرا تو وہ کیا سوچے گا۔ وہ تو جب بھی کبھی یہاں آئے ہر وقت چاہتا کہ بس میرے ساتھ ہی رہے ۔ پہلے مجھے اس سے گفتگو میں صرف انگریزی کا مسئلہ ہوتا تھا مگر اب تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ خطرناک واقعہ ہو چکا تھا۔ میں اسے کیسے سمجھا پاوں گی۔ اور کیا ،شاید وہ اب دوستی چھوڑ کر مجھ سے محبت کرنے لگے گا؟ ساری رات میں سوچتی رہی کہ میں اسے سارا کچھ بتا دوں گی، اگر زندہ رہی، اس لئے کہ کل ابا بھی آنے والے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو میرے گالوں پہ لکیریں کھینچتے رہے اور اس طرح مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کل کا سورج کیسے طلوع ہو گیا۔ صبح میں ٖغسل خانے گئی تو یہ محسوس کیا کہ میں تو بدستور ویسا کا ویسا ہوں اور گلٹیاں بھی موجود ہیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہیں۔ عجیب سی الجھن ہونے لگی، نہ میں مرد نہ عورت،شاید قربان چاچا ، سارا دن گھر میں تیاری ہوتی رہی اور میں کبھی عورتوں کی طرح کام کرتی کبھی مردوں کی طرح بھاری بھاری چیزیں اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتا جاتا۔ ہلکا پھلکا بخار سا بھی تھا لیکن میں ٹھان چکی تھی کہ زندگی کی آخری سانس تک قسمت سے لڑتا رہوں گا۔ سہ پہر تین بجے سے پہلے گھر چمک کے شیشے کی طرح صاف ہو گیا۔ جب ساری تیار ہو گئیں تو میں بھی آئینے کے سامنے گئی۔ اپنے آپ کو دیکھا۔ غور سے دیکھا۔ پاس ہی کسی کا دوپٹہ پڑا تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ لیکن میں نے ہاتھ روک لئے مردانہ کپڑوں پر وہ کتنا عجیب لگتا۔ چار بجے کے لگ بھگ ابرار لوگ آ گئے، میں اسے دیکھنے کے لئے بے چین تھی یا بے چین تھا۔ عجیب صورت حال۔ آدھی کہانی آدھا افسانہ۔بار بار میرے ہاتھ چھاتیوں کی طرف بڑھتے مگر مجھے علم تھا سارے لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔ دروازے کے باہر گلی میں میں نے پھوپھو نسیم کو دیکھا، جب وہ میری اماں کو سلمی آپا کہتے ملنے کے لئے آگے بڑھیں تو میں نے دیکھا اپنے خوبصورت لباس میں کتنی پیاری لگ رہی تھیں۔ “میری ہونے والی پیاری ساس” ایک لمحے کو میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا لیکن جلدی سے میں نے اسے جھٹک دیا۔ کوثر پھپھو بھی پہنچ چکی تھیں، انہوں نے مجھے اشارے سے بلایا اور بولیں “اپنے دوست سے ملو گے نہیں؟” میرے گال سرخ ہو رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ ابرار نے جب میری طرف آنکھ بھر کر دیکھا تو میری تو جان نکل گئی۔ میرے قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگے۔ تا کہ بھاگ کے کمرہ بند کر لوں۔ لیکن یہاں کھڑا رہنا بھی ضروری تھا۔ایک دم گلی سے ایک ہیولا سا گزرا، کوڈا لوہار! درانتی بغل میں لئے اسی مکروہ ہنسی کے ساتھ مجھے دیکھتا گزرتا گیا۔”کیا مصیبت ہے” بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ “کیسی مصیبت سوہنے” پاس کھڑی سبین نے مہمانوں کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ “کچھ نہیں” میں نے ہوش و حواس پہ قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ سبین کو کیا علم تھا کہ تین دن پہلے دیکھی فلم سوہنی مہینوال میرے اعصاب کو کیسے جکڑ رہی تھی۔ ابرار نے مجھے دیکھتے ہی ایک ہلکی سی سمائل دی جو مجھے کھڑے کھڑے کسمسانے پر مجبور کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ میری طرف قدم اٹھانے لگا، ہر قدم پہ میری سانس تیز ہونے لگیں۔ مجھے نہیں معلوم کیسے مگر میری آنکھیں خود بخود جھپکنے لگیں۔ شاید میں نے کسی ڈرامے یا فلم میں دیکھا تھا کہ اس صورت حال میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کا قد بھی میرے جتنا ہی تھا،ویسے بھی ہم دونوں ہم عمر ہی تھے۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھے گلے لگانے لگا تو میں شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ بڑی احتیاط سے میں اسے گلے ملی کہ کہیں اسے کوئی گلٹی نہ چبھ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلام کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ میرے ہاتھ تو پسینے سے تر تھے۔ سو جلدی سے اپنی رانوں سے دایاں والے کو صاف کیا اور بے بسی سے آگے بڑھا دیا ۔ مجھے اب بھی یاد ہے اس کے بعد ہم دونوں نے اس کا بیگ اٹھایا تھا اور میرے کمرے کی طرف چل دیئے تھے۔ اس نے بغیر کچھ کھائے پیئے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور میرے لئے خریدے سارے تحائف سامنے رکھ دئیے۔ میرا دل مرجھا گیا۔ ابرار نے بھی میرا یہ رویہ بھانپ لیا تھا۔ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا
” عاکف! تمہیں یہ گفٹس پسند نہیں آئے” کتنی اچھی پینٹ اور شرٹ ہے، میں نے خود خریدی، یہ دیکھو جاگرز، نائکی کے ہیں، اور یہ دیکھو ننجا ٹرٹل والا تمہارا سکول بیگ ”

“مگر میرے کسی کام کے نہیں” میں نے مایوسی سے جواب دیا، اور بے اعتنائی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

“کیوں تم ناراض ہو مجھ سے؟” اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

“نہیں، ناراض تو نہیں، لیکن ایک بات کا آپ کو علم نہیں” میں نے سارے وجود کی ہمت اکٹھی کر کے اسے جواب دیا۔”

“وہ کیا”؟ اس نے وہیں سے کھڑے کھڑے پوچھا اور میری زندگی کا سب سے برا امتحان شروع ہو گیا۔ میری کھال ممیاتے شور سے اُدھڑنے لگی۔ سانسیں اکھڑنے لگیں اور ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ایسی کشمکش کہ صدمے سے میرا وجود نڈھال ہونے لگا۔ یہ میری زندگی کے بڑے ہی عجیب غریب لمحات تھے۔ مجھے جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے، پتا نہیں کیوں اب بھی اپنے وجود کی گپاوں کے اندر ایک زلزلہ سا محسوس کرتا ہوں۔ میں نے میں نے وہ کچھ کیا کہ اب سوچ کر ایک بڑا سا قہقہ لگا رہا ہوں۔

“ٹھہرو ، پہلے میں دروازہ بند کر لوں” میں نے تھوڑی دیرسوچتے ہوئے کہا،

“دروازہ بند کرنا ہے” وہ کیوں؟” وہ سراپا حیرت بنا مشکوک نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔

“اس لئے کہ کوئی دیکھ نہ لے” اب میں نے اس کی طرف مڑ کر مگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، شاید میں اپنی تقسیم کے کرب سے تنگ پڑ گیا تھا جو اس طرح بیباک ہو گیا تھا۔ میں واقعی اس پہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتا تھا کہ بے شک میری جنس تبدیل ہو رہی تھی، عورت بن رہا تھا مگر بزدلی کا طعنہ میرے لئے ہتک آمیز تھا۔دروازہ بند کرنے کے بعد میں نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے، باہرخواتین کی آوازوں سے پورا گھر چہک رہا تھا۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھتا رہا،پھر اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کر کے اسے کہا کہ اپنے ہاتھ یہاں رکھو،
“وٹ نان سینس” اس نے بے اختیار پیچھے ہٹتے ہوئے کچھ ناراضی سے کہا۔

“آپ رکھو تو سہی، دیکھو یہاں کیا ہے، مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے یا کچھ اور ہے۔” ۔ صدمے سے میری آواز رندھ گئی اسے شاید مجھ پہ رحم آگیا تھا۔ میں اس کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اس نے میرا ماس کھینچا نہیں تھا صرف ہاتھ رکھے، اور گلٹیوں کو محسوس کرتے بولا” آئی سی”۔

“کیا؟” میں نے حیرت اور اضطراب سے پوچھا

” تم اس سے گلٹی فیل کر رہے ہو؟” اس نے سر سے پاوں تک میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

مارے خفت کے میں تو خاموش۔کوڈے لوہار کی درانتی ہوا میں اچھلی۔

مگر وہ مجھ سے اپنے ہاتھ الگ کر کے جلدی جلدی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا جس پہ میری بے چینی بڑھنے لگی۔ باہر ابا کی آواز سنائی دی تو دوسری آوازیں وہ چہکار مدھم پڑنے لگی جیسے سب کی پسلیوں میں درانتی چبھی ہو۔ مجھے پوچھے بغیر ابرار نے میرے ہاتھ پکڑے اور اپنی چھاتیوں پہ رکھتے بولا۔

“جسٹ فیل اٹ”۔

’’ہائیں ۔۔۔۔۔۔! یہ کیا؟‘‘ ٹھک سے درانتی کوڈے کے سر پہ لگی۔’’کیا ابرار بھی۔۔۔؟‘‘ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور پھر سے پسینے نکلنے لگے، مگر ابرار کو مسکراتے دیکھ کر ایک دم میرے سر پہ ایک اور ہتھوڑا لگا جس کی گونج سے ساری بھیڑیں بے بے، بے بے کرتی مجھ سے دور بھاگنے لگیں۔

Image: Yulonda Rios

Categories
فکشن

پارینہ لمحے کا نزول

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار سکا تھا۔

 

ایسے جملوں پر فوری یقین کے لیے کچی عمر کی جو نرم گرم زمین چاہیے ہوتی ہے وہ دائرہ دردائرہ گزرتے گھومتے ایک سے یخ بستہ دِنوں کی تہ در تہ برف تلے کب کی گَل کر نیچے بہت دُور کھسک چکی تھی – ایسے میں وہ جملہ جو سماعت بیچ جلترنگ بجا گیا تھا – پکی عمر کی پتھریلی سطح کے کرخت پن سے پھسل کر بدن کی کھنکتی مٹی پر جھنکار چھڑکنے لگا تھا ۔ کیوں کہ بدن کی تنی کمانوں کی تانت جو کب کی ڈِھیلی پڑنے لگی تھی – پھر سے تن گئی تھی۔

 

یقین نہ تھا – ہاں گماں تھا۔ گُماں بھی یوں تھا کہ اِنتظار کی ڈِھیلی ڈور کے اُس سرے پر اُوپر کی بے آبرو ہوا میں جھولتی پتنگ اَبھی تک بہ ہرحال تھی‘ اگرچہ نہ ہونے کے برابر تھی کہ ہتھیلی پر کشید لکیروں سے لگی ڈور اُنگلیوں کی پوروں کو تو کاٹتی تھی مگر کوئی بھی تُنکا بے حیثیت ہوا میں ڈولتی پتنگ تک منتقل نہ ہونے دیتی تھی ۔

 

میں اُوپر دیکھتی تھی اور جھولتی پتنگ کے سنگ خودبھی جھول جاتی تھی کہ آنکھ چندھیاتی تھی اور اُوپر سے برستی دُھوپ بارش سارا بدن بھگوتی تھی۔ کچھ خبر نہ تھی کہ ڈور کے اس سرے پر پتنگ بندھی تھی یا اُس سرے پر میں خود۔ ایسے میں یقین دل کے بیچ کیوں کر اُترتا مگر اِنتظار کی ڈُور سے لگا اُمید کا مانجھا تھا اور لپٹتی چرخی – جو مسلسل لپیٹے جا رہی تھی …. تاہم جھول تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ اِنتظار دَھاگے کو دُھوپ بارش میں کھنچتے کھنچتے سارا بدن پاؤں کی اس اِیڑی جیسا ہو گیا تھا جس کی جلد تڑخ کر منھ کھول دِیتی ہے اور تب تک کھولے رَکھتی ہے جب تک مرہم اُس کے بیچ نہ اُترے۔

 

اَیسے ہی دِنوں میں سے ایک دِن تھا جب میرا باپ اَپنی حویلی کے طویل آنگن کو پاٹتا – بارہ دری طے کرتا – گھمن گھیری ڈالتے زِینے چڑھتا وہاں آیا جہاں مجھ پر دُھوپ کی عجب بارش برس رہی تھی۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ تو پہلے ہی روز سے مجھے بھلائے ہوئے تھا‘ پھر وہ یہاں تک چل کر کیسے آیا۔ مگر جب میں نے اُس کے ہاتھ میں تھمی ہوئی وہ لاٹھی دِیکھی جو اس کا سارا وجود سہارے ہوے تھی تو میں نے حیرت کی پھیلی چنی سمیٹ لی کہ اس کی ساری مجبوری سمجھ آنے لگی تھی۔

 

اس کی پہلی مجبوری یہ تھی کہ پہلی دو میں سے ایک کی کوکھ خالی بھڑولے کی طرح نکلی تھی جب کہ دوسری سے میں برآمد ہوئی تھی حالاں کہ وہ کچھ اور اُمید باندھے بیٹھا تھا۔ پھر اِنتظار کے طویل برآمدے سے گزر کرکئی اور کوکھیں اُس نے قدموں تلے کچل ڈالی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ لڑکھڑا گیا اور اَب اِس لڑکھڑاہٹ کے خوف نے وجود کو سہارے کے لیے اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھما دی تھی؛ جو اس کی دوسری مجبوری تھی۔

 

یوں تو میرا وجود بھی محبوری کی بِیل بَن کر اُس کے خالی خولی آنگن میں اس کے اندیشوں کی دیوار پر چڑھتا چلا جاتا تھا مگر میرا یہ وجود اُسے تب نظر آیا جب اس کے ہاتھ دوسری مجبوری لگی تھی۔ اُس نے گھوم کر پہلے اَپنی حویلی کے طول و عرض کو دیکھا۔
ایسا کرتے ہوے اُس کا ہاتھ اُس کے دِل پر تھا۔

 

پھر اُس نے کلف لگے شملے کو تھام کر بے توقیر ہوا میں ڈولتی پتنگ کو دیکھا اور نفرت سے منھ موڑ کر حدِ نظر تک پھیلے سرسبز قطعات کو دیکھنے لگا جنہیں دیکھنے سے نظر نہ بھرتی تھی۔ اُس کی نظر ابھی تک نہ بھری تھی مگر اس کے کلف لگے شملے کا بوجھ اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ اُس کی نگاہ خود بخود اس لاٹھی پر جا پڑی جو کچھ عرصے سے اُس کے بدن کا حصہ بن گئی تھی۔ میں نے اُس لاٹھی کو دِیکھا جو میرے باپ کے بدن سے کوئی مَیل نہ کھاتی تھی مگر اُس کے پورے وجود کو سہارے ہوے تھی۔

 

میرے باپ کے رَعشَہ زَدہ ہاتھوں نے میرے ہاتھوں سے ڈور تھام لی اور پتنگ بے توقیر ہوا سے اُتر کر اُس کے قدموں میں لوٹنے لگی‘ پھر وہیں ڈھیر ہو گئی؛ اس زمین پر کہ جس پر فقط میرے باپ کا نام لکھا تھا۔ ایسے میں – مَیں نے اُسے دِیکھا تھا – جو میرے باپ کی لاٹھی بن کر آیا تھا اور اُس کا وہ جملہ سنا تھا جو میرے چٹختے وجود کے بیچ پوری طرح سما گیا تھا۔
یوں نہیں تھا کہ اس کے صدق کی ایسی آنچ مجھ تک نہ پہنچ پائی تھی جو بدن میں یقین اُتارتی۔
اور یہ بھی نہیں تھا کہ میرے دِھیان کا دَھاگہ سپنوں کی کوئی اور پوشاک بن رہا تھا۔

 

وہ اَپنے پورے مگر کچے بدن کی پوری سچائیوں کے ساتھ میرے مقابل تھا اور میں اَپنے سارے مگر کرخت وجود کی مکمل صداقت کے ساتھ اُس کے سامنے تھی۔ تاہم بیچ کے نامعلوم پانیوں میں یقین کی ایسی سنہری مچھلی تھی‘ جو گرفت میں نہ آتی تھی۔

 

شاید یہی وجہ ہے کہ وہ لمحہ میری حیات کے عناصر منتشر ہونے تک میرے پلّو سے بندھا رہے گا اور مجھے اپنے پلّوسے باندھے رکھے گا۔

 

میں نے جس لمحے کو ایک خاص مُدّت سے ماپ کر نشان زدّ کیا ہے (اس میں آپ اب مزید سترہ سیکنڈ کا اِضافہ کر سکتے ہیں) میرے بدن کی کھنکتی ٹھیکری کے بیچ یوں جھنکار چھڑکتا رہا ہے کہ مجھے گزری مُدّت کو ماپنے کے لیے اب تک کوئی کلینڈر نہیں دیکھنا پڑا؛ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر نہیں ڈالنا پڑی۔ نہ اُسے دِیکھنا پڑتا ہے اور نہ ہی آئینے میں خود کو ……اَندر ہی اَندر ٹک ٹک ہوتی رہتی ہے اور وقت ساعت ساعت پہلے سے موجود حاصل جمع کا حصّہ بنتا رہتا ہے۔ یوں کہ جیسے ہر مظہر کی لہر شعور کے پانیوں کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔

 

ایک خاص لمحہ عجب طور پر میرے اَندر ٹھہر سا گیا تھا جو اگرچہ ایک ساعت کی کئی ہزارویں تقسیم کی رفتار سے پرے کھسک رہا تھا مگر اپنے حوالے کی ڈور مضبوطی سے لمحہ موجود سے باندھے ہوے تھا۔ بہت پہلے کہ جب مجھے اوپر کی بے توقیر ہوا سے سابقہ نہ پڑا تھا تاہم مہکتے پھولوں کا طواف کرتی تتلیوں کو پوروں سے چھو لینے اور کچے رنگوں کی ملائمت کو اُنگلیوں کے بیچ مسلنے کا عرصہ گزر چکا تھا‘ تب مجھ پر لفظوں کے گہرے پانیوں میں غوطہ زَن ہونے اور پہروں سانس روک لینے کاخبط سا ہو چلا تھا ۔ اُن ہی دِنوں میں نے مارکیز کو پڑھا تھا اور وہاں کہ جہاں اُس نے وقت کوایسے ماپا تھا جیسے بعد ازاں میں ایک خاص لمحے کو ماپتی رہی ہوں تو مجھے حیرت ہوتی تھی …. مگر اب مجھے حیرت نہیں ہوتی۔

 

یہ سارا عمل ابھی چند سکینڈ پہلے تک حیرت کے پانیوں سے پَرے عین یقین کی دَھرتی پر یوں ہوتا رہا ہے جیسے سانس لی جاتی ہے – دیکھا جاتا ہے – سونگھا جاتا ہے۔ غیر محسوس طریقے سے – جانے بوجھے بغیر – بے خبری میں…. یوں‘ کہ جیسے میرا بیٹا میری نظر کے سامنے اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ میرے ہی ہونٹوں اور گالوں پر بوسہ دینے سے جھجکنے لگا تھا۔

 

میں معمول کی طرح آنکھیں بند کیے چہرہ اُس کے سامنے کیے بیٹھی رہی۔ منتظر تھی اور پریقین بھی کہ ابھی میرے بیٹے کے ہونٹ تتلیوں کی طرح میرے ہونٹوں اور گالوں پر اُتریں گے اور اپنے لمس کی خُوشبو اور نمی کے دھنک رنگوں سے مجھے نہلا ڈالیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ گذشتہ سارے عرصے میں کرتا آیا تھا اور جس کی سرشاری میں – مَیں اس لمحے کی جھنکار کو بدن ہی کے بیچ سمیٹے ہوے تھی۔
میں منتظر تھی…. منتظر رہی۔

 

اور وہ جھجک کر دور کھڑا سراسیمہ نظروں سے دیکھتا رہا۔

 

اگرچہ میری آنکھیں بند تھیں مگر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اُلٹے قدموں دُورہو رہا تھا۔
مجھے یوں لگا جب وہ دور ہو رہا تھا تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں پارینہ لمحے کے بوکے سے بندھی رَسی تھی جو بدن کی چرخی سے گھوم کر سارے درد کاپانی باہر نکال لائی تھی۔

 

درد کا یہ پانی رُکا کب تھا؛ اَندر ہی اَندررِستا رہا تھا مگر اَب کے یوں لگا کہ میرے بیٹے کی جھجک نے بوکا بھر کر اس پڑچھے میں ڈال دیا تھا جو سیدھا بدن کے باہر گرتا تھا۔
میں نے آنکھیں پوری طرح کھول کر پَرے کھڑے دِیوار سے لگے بیٹے کو دیکھا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ‘جیسے وہ میرا بیٹا نہ تھا – وہ تو وہ تھا جس نے کبھی میرے بدن کی کمانوں کی ڈھیلی تانت تن دِی تھی۔

 

میں بھاگ کر وہاں گئی جہاں ایک کونے میں وہ بیٹھتا تھا جس کا عکس میں نے اپنے بیٹے کے چہرے پر دیکھا تھا؛ وہ وہیں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا تھا۔ کتابوں کے ڈِھیر کے بیچ بیٹھا کچھ لکھتا رہتا۔ اُس کے اِرد گرد کاغذ ہی کاغذ تھے یا پھر بس کتابیں۔ ہاں‘ ملنے والے آ جاتے (جو اکثر آتے رہتے) تووہ ان سے باتیں کرتا رہتا۔ حکمت کی باتیں – دانش بھری باتیں – بڑی بڑی باتیں ….ایسی باتیں کہ جو اس کا قد میری نظر میں اور پستہ کرتی رہتیں۔ تاہم یہی وہ باتیں تھیں جو اُس سے ملنے والے اُسی جیسے لوگوں میں‘ اس کے لیے عقیدت بڑھاتی رہتی تھیں۔

 

میں دیکھتی ہوں…. مگر…. وہ نہیں دیکھتا ۔

 

یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔ حالاں کہ اس سے پہلے میں سارے گھر میں تھی ۔ اس سارے گھر میں کہ جس کے باہر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی اور وہ خود کہیں نہیں تھا۔ اس کونے میں‘ کہ جہاں وہ بیٹھا رہتا‘ شاید وہاں بھی نہیں تھا۔

 

اس نے میرے وجود کے اجنبی پن سے گھبرا کر جہاں پناہ لی تھی ‘وہاں تخلیق کی دِیوی اس پر مہربان ہوئی…. یوں کہ وہ اَپنے اندر اور باہر دونوں سمت پھیلتا چلا گیا۔ جب کہ وہ نہ تو میرے اندر تھا اور نہ ہی میرے باہر۔

 

نہیں – شاید وہ میرے اَندر بھی تھا اورمیرے باہر بھی – اپنے اس جملے کی طرح جو بہت پہلے میرے بدن کی تنی کمان کی تانت بن گیا تھا۔

 

بس میں ہی اَپنی آنکھیں بند کیے ہوے تھی – اندر کی بھی اور باہر کی بھی۔

 

وہ میرے لیے ناکارہ – بے حیثیت وجود کی طرح تھا جو ایک کونے میں پڑا‘ ایسے لفظ جنم دیتا رہتا تھا جو اسے میری نظر میں معتبر نہ کر سکتے تھے۔

 

مجھے اس کے لفظوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔
مجھے اس سے بھی کوئی سروکار نہ تھا۔

 

بس اتنا تھا(اوریہ کافی تھا) کہ وہ تھا اور میرے بیٹے کے لیے اس کا نام تھا۔ ایک ایسانام جو اس گھر کی چاردیواری سے باہر بہت محترم تھا۔ اس کا اپنا وجودمیرے لیے بے حیثیت تھا – بے مصرف‘ کاٹھ کباڑ جیسا ‘جس پر دھول جمتی رہتی ہے۔

 

وہ پہلے پہل مجھ سے محبت جتلاتا رہا ۔ میں اس کی محبت کے دعووں کو قہقہوں میں اڑاتی رہی۔

 

پھر وہ میرے وجود کے گلیشئر سے لگ کر یخ بستہ ہو گیا۔

 

اور بیچ میں وہ خاص مُدّت گزر گئی جس میں اب آپ کو مزید اکیس سکینڈ جمع کرنے ہوں گے۔
اِس سارے دورانیے میں ہم دونوں کے بیچ کچھ نہ رہا۔

 

محبت نہ نفرت
بے حسی نہ گرم جوشی
عزت نہ تحقیر
نہ وہ میرے لیے تھا اور نہ میں اس کے لیے تھی۔

 

جب کوئی اُس سے ملتا اور میرے لیے تعریف کے کچھ جملے کَہ دِیتا تو اُسے خُوش ہونا پڑتا حالاں کہ یہ اس کے لیے نہ تو کوئی خُوشی کی بات ہوتی نہ دُکھ کی خبر۔

 

جب اُس کا نام اخبارات میں چھپتا – اس کی تخلیقات کے ساتھ – اس کے اعزاز میں تقاریب ہوتیں یا دوست احباب اس کے بہت اچھا ہونے کی اطلاع دیتے تو میرے چہرے پر خُوشی آ جاتی – اطلاع دینے والے کے لیے‘ حالاں کہ میرے اندر اس کے لیے کوئی جذبہ نہ تھا۔

 

مگر اَبھی اَبھی – چند لمحے پہلے ‘مجھے بھاگ کر وہاں آنا پڑا تھا کہ میرا بیٹا جھجک کر پرے کھڑا ہو گیا تھا اور اُلٹے قدموں دور چلا گیا تھا اور اس کے چہرے سے اس کا چہرہ جھلک دینے لگا تھا۔

 

وہ ایک کتاب پر جھکا ہوا تھا…. میں اُس پرجُھک گئی۔

 

اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ اِس حیرت پر اُن سارے لمحوں کے جالے تنے تھے جن میں اب آپ کو مزید اِتنی صدیاں جمع کرنا ہوں گی جن کی گنتی میں اَب بھول چکی ہوں۔

 

میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پورا وجود اس کے سامنے کر دیا۔ یوں کہ بہت مُدّت پہلے ادا کیا گیا جملہ دوسرے سیارے سے آٹھ ہزار سال کے بعد پہنچنے والے سگنل کی طرح میرے بدن کے فلک کا پارچہ پھاڑتا عین میرے دِل کے بیچ اُترا‘ اور سنگلاخ چٹانوں کو توڑتا اندر کی مہکتی سوندھی مٹی کے قطعے میں بیج کی طرح دفن ہو گیا۔

 

میں نے آنکھیں بند رکھیں…. اس لمس کے اِنتظار میں‘ جس میں مہک تھی اور اُس نمی کے لیے‘ جس سے دَھنک رَنگ پھوٹتے تھے۔

Image: Ali Azmat

Categories
فکشن

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟

“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کردو”۔
وہ کئی مہینوں سے دعا کروانے آرہی تھی۔مولوی صاحب کبھی مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوتے،کبھی مسجد سے ملحق اپنے گھر میں۔وہ عموماً عصر کے بعد آتی۔اور لوگ بھی دعاتعویذ کی خاطر موجود ہوتے۔ زیادہ تر بیمار بچوں کی مائیں ہوتیں۔ری ری کرنے والے سال دو سال کے بچوں کے لیے مولوی صاحب کا دم کیا ہوا دھاگہ گاؤں بھر میں مشہور ومقبول تھا۔ماؤں کو یقین تھا کہ جوں ہی دھاگہ بچے کے گلے میں ڈالاجائے گا، بچہ چپ کرجائے گا۔کچھ عورتوں کو وہم ہوتا کہ ان کے بچوں کے سر بڑھ رہے ہیں،مولوی صاحب کدو دم کردیتے تھے،جیسے جیسے کدو خشک ہوتا،مائیں یقین کرنے لگتیں کہ بچے کے سرکا بڑھنا رک گیا ہے۔ادھر بچوں کے سر بڑھنا رکتے،ادھر مولوی صاحب کے پاس بچوں کی ماؤں کی تعداد بڑھتی۔ہر بچے کی ماں اس وہم میں بھی مبتلا ہوتی کہ اس کے بچے کو ’نظر‘ لگ گئی ہے،ا س لیے اس نے چلنا شروع نہیں کیا،اماں اباسے آگے کوئی لفظ نہیں بول رہا، بے وجہ رات رات بھرروتا ہے،اکثر بیمار رہتا ہے۔ مولوی صاحب بچے کو دم رکھتے،یا تعویذ دیتے۔ گاؤں کی عورتیں، بچوں کے لیے اتنا ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتی تھیں،جتنا مولوی صاحب کے پاس آتی تھیں۔گاؤں میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا،جس میں مولوی صاحب کا کوئی نہ کوئی عقیدت مند موجود نہ ہو۔عورتیں لڑائی جھگڑوں،پیسوں کی چوری،بیماری وغیرہ کا حساب کروانے بھی آتیں۔کبھی تو ایک ہی گھر سے پہلے ساس تعویذ لے جاتی،جسے یقین ہوتا کہ اس کے بیٹے اور خاوند پر جادو کیا گیا ہے،اور کچھ دیر بعد بہو آتی،جو اس بات سے پریشان ہوتی کہ کسی نے اس کے شوہر پر جادو کیا ہے۔گھر میں جن بھوت کا شک ہے تو مولوی صاحب سے رجوع کیاجاتا۔مولوی صاحب سب کی خیر مانگتے۔

 

گاؤں کے ڈاکٹر کے برعکس مولوی صاحب کی فیس مقرر نہیں تھی،مگر کچھ نہ کچھ دینالازم تھا۔مولوی صاحب کا خیال تھا کہ اگر ڈاکٹر اپنے علم کا معاوضہ لے کربھی انسانیت کی خدمت کرنے والا کہلا سکتا ہے تووہ کیوں نہیں۔اس کے پاس بھی تو علم ہے،جس سے لوگوں کو شفا ملتی ہے،اوران کی مشکلات دور ہوتی ہیں۔ دو ایک مرتبہ تو دو ایک مریضوں کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا،وہ مولوی صاحب کے تعویذ سے ٹھیک ہوگئے۔ اس سے مولوی صاحب کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ ہوا۔مولوی صاحب اکثر ڈاکٹر سے اپنا موازنہ کرتے رہتے تھے،اور دل ہی دل میں اس بات کا حساب لگایاکرتے تھے کہ ایک دن میں ان کے پاس کتنے لوگ آئے،اور ڈاکٹر کے پاس کتنے۔کچھ کچھ پیسوں کا حساب بھی لگالیتے۔مگر یہ سب سوچتے ہوئے،وہ پورے خلوص سے شکر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کلام کا علم دیا،جس میں ہر ایک کے لیے شفا ہے۔کبھی کبھی وہ اپنے مدرسے کے استاد حافظ شریف کو بھی یاد کرلیا کرتے،جنھوں نے پیار، ڈانٹ، سزا،شاباش سے انھیں اس قابل بنایا۔

 

وہ جب بھی آتی،کچھ نہ کچھ لے آتی۔حالاں کہ خودوہ مانگ کر لاتی تھی۔شروع میں اس نے مولوی صاحب کو آٹا، چاول،گندم، دالیں،روٹی بھی لاکر دی،مگر تیسری چوتھی مرتبہ مولوی صاحب نے سخت ناراضی کے بعد منع کردیا کہ وہ کم ازکم اس سے یہ چیزیں قبول نہیں کریں گے۔ وہ سمجھ گئی۔مولوی صاحب کمائی ہوئی چیز چاہتے تھے، مانگی ہوئی نہیں۔ اب وہ کبھی دو روپے،کبھی تین روپے،کبھی ایک روپیہ لاتی۔وہ اور مولوی صاحب دونوں جانتے تھے کہ روپیہ ایسی چیز ہے،جس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ مانگ کر لایا گیا ہے،کماکر، چرا کر،یا چھین کر۔جس کے پاس ہے،اسی کا ہے۔

 

اس میں جھجھک، ڈر، انکسار،ادب جمع ہوگئے تھے،جن کا اظہار اس کی التجا میں ہوتا۔اس کے جملے کے لفطوں سے زیادہ،وہ منکسر، ڈرا ڈرا، مؤد ب لہجہ متاثر کن تھا، جسے اس کی گوت کے لوگوں نے صدیوں قرنوں کی ’تپسیا‘ سے حاصل کیا تھا۔آج بھی عصر کے بعد وہ آئی تھی،اور باقی سب عورتوں سے الگ،دور بیٹھک کے ایک کونے میں فرش پر بیٹھ گئی۔سب سے آخر میں،اذان ِ مغرب سے ذرا پہلے، اس کی باری آئی۔وہ گھسٹتے ہوئے،مولوی صاحب تک پہنچی۔ اس نے اپنا مخصوص جملہ دہرایا،اور ایک میلا،مڑا تڑا پانچ کا نوٹ مولوی صاحب کے قدموں میں نہایت ادب سے رکھا،جو اپنی مخصوص چٹائی پر اپنے گھر کی بیٹھک میں بیٹھے تھے۔عموماً مولوی صاحب دعا کردیا کرتے تھے،اور اور کبھی کبھی پانی، دودھ،شربت وغیرہ بھی دم کردیا کرتے تھے۔لیکن آج وہ اس کی التجا سنتے ہی چڑ گئے۔وہ کئی مہینوں سے خود پر ضبط کیے ہوئے تھے۔اسے دیکھ کرانھیں گاؤں کے ڈاکٹر کا خیال آیا کرتا تھا،جس کے پاس ایک مریض چھ ماہ پڑا رہا،مگر ٹھیک نہ ہوا۔ایک دن ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ اس کے پاس مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے۔ وہ مریض کے لواحقین پر برس پڑا۔مریض خاک ٹھیک ہوگا،اگراسے ٹھیک دوا ہی نہ دی جائے گی۔لے جاؤ اسے گھر۔مولوی صاحب کو آج بھی یہ خیال آیااور ان کا ضبط ختم ہوگیا۔

 

“تم کیسی عورت ہو، داکدار کے پاس بھی جاتی ہو،اور اللہ میاں کے پاس بھی آتی ہو”؟
“مولبی صاحب۔۔۔۔”عورت لاجواب سی ہوگئی،اور خود کو کسی نامعلوم طاقت کے آگے بے بس محسوس کیا۔

 

“دیکھو،تم ابھی ایک فیصلہ کرو۔تمھیں اللہ پر یقین ہے،یا داکدار پر؟اگر اللہ کو وحدہ لاشریک مانتی ہو تو کسی اور کی مدد مت مانگو۔۔۔جانتی ہو شرک کیا ہوتاہے”؟

 

(خاموشی کا ایک جان لیوا وقفہ)۔عورت کے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔

 

“شرک یہ ہے کہ خدا کو زبان سے، دل سے، ذہن سے،ہر عمل سے وحدہ لاشریک مانو”۔مولوی صاحب نے باقی بیٹھی عورتوں اور دو ایک لڑکوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
“جی “۔اس نے صدق دل سے کہا۔

 

“شرک گناہ ِ کبیرہ ہے۔ جاؤ پہلے توبہ استغفار کرو۔پھر آج کے بعد کسی حکیم،کسی داکدار کا خیال بھی نہ لاؤ،اپنی اس بے مغز کھوپڑی میں”۔مولوی صاحب نے براہ راست اسے مخاطب کیا۔

 

“جی”۔۔۔۔۔وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے لگی تو مولوی صاحب کی آواز پھر گونجی۔

 

“تمھیں معلوم ہے، تمھارے سارے بیٹے معذور کیوں ہیں”؟اچانک مولوی صاحب نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔

 

اسے کچھ اور معلوم نہیں تھا۔صرف یہ معلوم تھا کہ وہ چار معذور،لاچاربیٹوں کی ماں ہے،جن کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔انھیں مسلسل بخار رہتا اور ہر وقت کھانستے رہتے۔اسے ان کا پیٹ بھرناہوتا، اور پیٹ کے راستے سے بننے والی غلاظتوں کو بھی صاف کرنا ہوتا۔صبح شام گولیاں ان کے منھ میں ٹھونسنی ہوتیں۔ہر دوسرے تیسرے روز مولوی صاحب سے کچھ نہ کچھ دم کروا کے لانا ہوتا۔ باقی سارا دن وہ گھر گھرجاتی، سر پر چھکو(چھابڑی) رکھے، کاندھے سے جھولا لٹکائے،ہاتھ میں ایک چھڑی لیے۔رات کو بیٹھ کر وہ بچوں کے لیے رنگین کاغذوں سے توتیاں(بچوں کی نفیری) اور بھنبھیریاں بناتی،جنھیں صبح اپنے چھکو میں ڈال لیتی۔غبارے وہ دکان سے خرید لاتی۔ہر گھر کے دروازے پردوتین مرتبہ چھڑی مارتی،جیسے اطلا ع دینے کے لیے کوئی کھنکھارتا ہے، پھر بے کھٹکے گھرمیں داخل ہوجاتی۔ بچے اسے دیکھتے ہی دوڑے دوڑے آتے۔توتیوں اور بھنبھیریوں کے بدلے جو کچھ ملتا،اسے جھولے میں ڈالتی۔کئی مرتبہ دھتکاری جاتی،مگر وہ اس کی عادی تھی،اور اسے اپنے پیشے کا لازمی حصہ سمجھ کر اس نے قبول کیا ہوا تھا،تاہم کبھی کبھی جب اسے کوئی دھتکار کے ساتھ دھکا دیتا،یا اچانک کوئی راہ چلتے اس سے لپٹ جاتا،اور خوشی خوشی اعلان کرتا کہ اب اس کی پھل بہری ختم ہوجائے گی،تو اس کے دل پر چوٹ لگتی تھی،اور اس کا جی چاہتا کہ وہ اونچی آواز میں موٹی موٹی گالیاں دے،جس طرح اس کا شوہر اسے دیاکرتا تھا جب شام کو گھر پہنچتی تو اس کے جھولے،چھکو اور ہاتھوں میں بچا ہوا سالن روٹی،خشک آٹا، دال،چاول گندم یا روپے،چونی اٹھنی ہوتی۔

 

اس کا خاوند چوتھے بیٹے کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعدمرگیا تھا۔ہیروئن کانشہ کرتا تھااور موقع بے موقع اسے پیٹتا تھا۔سارے دن کی کمائی چھین لیتا تھا،اوراسے اور بیٹوں کوننگی گالیاں دیتا تھا۔اسے ڈھڈو،چھنال،بدکار اور بیٹوں کوحرامی کہتا تھا۔آج کس کس یار کے ساتھ سوئی ہو؟روزانہ اس کا سواگت اس جملے سے ہواکرتا۔اس کا اپنے بارے میں علم بس یہیں تک محدود تھا۔آٹھ سوکھی ٹانگیں،اور ہر وقت کسی امید میں بھٹکتی مگر بجھی آٹھ آنکھیں اس کی دنیا تھیں؛وہ اس دنیا سے باہر کچھ نہیں دیکھ پاتی تھی۔اسے یہ خیال بھی کبھی نہیں آیا کہ اس کے علم سے باہر بھی کوئی دنیا ہے۔اسے اگر کوئی خیال آتا تھا تو یہ تھا کہ کہیں،کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جو آٹھ سوکھی ٹانگوں کو ہر ا کر سکتی ہے۔یہ خیال اس کا سب سے بڑا آسراتھا،لیکن ساتھ ہی اس کی ایک پریشانی کا باعث بھی تھا۔ وہ اکثر اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اتنا زمانہ گزرگیا،اسے وہ ہستی کیوں نہیں ملی۔مگر ابھی مولوی صاحب کے سوال سے اس کی ڈھارس بندھی۔اسے لگا کہ اس کی پریشانی دور ہونے والی ہے۔اس نے پہلی بار نہایت غور سے مولوی صاحب کے چہرے کو دیکھا۔سفید چمک دار،ترشی ہوئی لمبوتری داڑھی،سانولا مگر روشن چہرہ، چوڑی پیشانی پر محراب،جھکی ہوئی آنکھیں۔

 

“اللہ کی بندی،تم میری بات سن رہی ہو”؟مولوی صاحب گرجے۔
“جی۔۔۔۔جی سن رہی ہوں”۔وہ سہم گئی،اور پوری طرح متوجہ ہوگئی۔

 

“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔

 

اسے اپنے گناہ گار ہونے میں ذرا شک نہیں تھا،یوں بھی اس کا شوہر اپنے جیتے جی ہر شام اسے گناہ گارثابت کیا کرتا تھا،مگر اسے ذرا سی حیرت ہوئی۔اسے کسی بات میں شک نہیں تھا۔

 

اس میں کیا شک تھا کہ وہ کوئی چالیس سال ہوئے، ایک مصلی،چوہڑے کے گھر پیدا ہوئی؛ایک مصلی سے اس کی شادی ہوئی، اس کے باپ نے بدلے میں پانچ ہزار روپیہ نقد لیا تھا؛ شادی سے پہلے کئی لڑکوں نے راہ چلتے ہوئے، سنسان گلی میں اس کی چھاتیوں کو ٹٹولا تھا،کچھ نے تو نیفے میں بھی ہاتھ ڈال کر ایک نازک مقام پر چٹکی بھر لی تھی،اور وہ سی کرکے رہ جاتی تھی اور تین لڑکوں سے وہ خود،دن،دوپہر،شام یارات کسی وقت، کسی کھیت یا کسی بیٹھک یا کسی کھولے (بغیر چھت کا کچا پرانا کمرہ) میں مل لیا کرتی تھی۔یہ سب معمول کے مطابق تھا۔یہ سب معلوم ہونے کے بعد بھی اس سے کسی نے باز پرس کی،نہ اس بات پر اسے ملامت کی۔تاہم ایک پھٹکار اس کے خاندان پر نجانے کن زمانوں سے پڑرہی تھی۔اس پھٹکار میں اس کے،اس کی ماں کے،اس کے باپ کے،اس کے شوہر کے،اس کے بچوں گناہ گار ہونے کا احساس اسی طرح شامل تھا، جس طرح اس کی جلد میں سیاہ رنگ شامل تھا۔ کبھی، رات کے کسی خاموش پہر میں جب اس کی آنکھ اچانک کھلتی تھی،اور دن میں ہونے والا کوئی واقعہ اسے یاد آتا تھا تو ایک مدھم سی لہر اس کے وجود پر چھا جاتی تھی۔جلد کی سیاہی،ایک گناہ نظرآنے لگتی تھی۔وہ گناہ کو ایک کلوانھ کی صورت سمجھتی تھی، اور اس بات سے ایک طویل سمجھوتہ تھا، جو شاید کئی نسلوں سے چلا آرہا تھا۔ اب مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ ہم سب گناہ گار ہیں تواسے ذرا سی حیرت اس بات پر ہوئی تھی مولوی صاحب خود کو کیوں گناہ گاروں میں شامل کررہے ہیں۔کیا اس لیے کہ ان کا رنگ ذراسا سیاہی مائل ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔مگر مولوی صاحب سے وہ کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرپارہی تھی۔

 

اسی دوران میں مولوی صاحب کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ مولوی صاحب نے ’جی میں شام پانچ بجے پہنچ جاؤں گا‘ کَہ کر فون بند کردیا۔ہاں تو میں کَہ رہا تھ کہ ہم سب گناہ گار ہیں۔ مگر خداے وحدہ لاشریک نے ہمیں ایک ایسے بٹن سے نوازا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔یہ بٹن ہے، توبہ استغفار، صدقہ،خیرات اور نماز روزہ، حج۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اچانک مولوی صاحب کو کسی خیال نے روک لیا۔مولوی صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔وہ ایک گٹھڑی سی نظر آرہی تھی۔آدھا سرنیلے رنگ کے میلے سے دوپٹے سے ڈھکا تھا،اور مولوی صاحب کی قدموں کی سمت جھکا ہوا تھا۔مٹیالے الجھے بال اسے وحشت ناک بنارہے تھے۔چہرہ سیا ہ تھا،اور مرجھایا ہوا تھا۔مولوی صاحب کو واقعی اس پر ترس آیا۔ اچھا اب تم جاؤ، میں دعا کیا کروں گا۔ تم ہر وقت اللہ کو یاد کرتی رہا کرو۔ وہ سب کو بخشنے والا ہے۔

 

مدت بعد اس نے اٹھتے ہوئے،اپنے گھٹنوں پر ہاتھ نہیں رکھے۔ایک نامعلوم سی طاقت کا اثر اس نے محسوس کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کرو”۔

 

“اب دعا کی کیا ضرورت ہے؟ مولوی صاحب حیران تھے کہ اس کے چاروں بچے خون تھوکتے تھوکتے، ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اب وہ کس لیے دعا کروانے آئی تھی۔

 

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس کا گلہ رندھ گیا تھا۔ آپ دعا کریں انھیں وہاں ٹانگیں جلد سے جلد نصیب ہوجائیں،اور وہ سکھی رہیں۔اسے کوئی اور بات نہیں سوجھی۔

 

یہ ․․․یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو۔ مولوی صاحب نے اپنی پگڑی درست کرتے ہوئے کہا۔پھر اچانک مولوی صاحب کو ایک خیال آیا۔کیا انھوں نے کلمہ پڑھا تھا؟میرا مطلب ہے،وہ․․․ہمارے نبی پاک ﷺکا کلمہ پڑھ لیتے تھے؟ مولوی صاحب کو یاد نہیں کہ کبھی کسی مصلی نے ان کی اقتدا میں نماز پڑھی ہو۔ انھیں کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ اگر کوئی مصلی مسجد میں داخل ہوگیا تو وہ اسے نماز کی اجازت دیں گے یا نہیں۔گاؤں کے اکثر لوگ ان لوگوں کے مذہب کے سلسلے میں شک میں مبتلا رہتے تھے۔ ایک بات کا البتہ انھیں یقین تھا کہ وہ نہ تو عیسائی ہیں،نہ ہندو،نہ سکھ۔ یہ ایک ایسی بات تھی،جس نے مصلیوں کے پانچ سات خاندانوں کو گاؤں کے لیے قابل ِقبول بنایا ہواتھا،کیوں کہ ان تین مذہبوں سے ہٹ کر وہ کسی مذہب کا تصور نہیں کرتے تھے۔ایک اوروجہ سے بھی وہ گاؤں والوں کے لیے قابل قبول تھے۔ کہیں سے غلاظت کا ڈھیر ہٹا ناہو،شادی بیاہ،موت فوت سے بچ جانے والا جھوٹاکھاناٹھکانے لگانا ہو، یا مکانوں کی تعمیر کے لیے سستے مزدوروں کی ضرورت ہوتو مصلیوں کے خاندان کے سب افراد کام کرتے تھے۔کچھ عرصے سے ان کی لڑکیوں اور عورتوں نے گاؤں کے گھروں میں جھاڑو صفائی کاکام بھی سنبھال لیا تھا،کہ اکثر عورتیں استانیاں لگ گئی تھیں۔

 

“مولبی صاحب، وہ بول نہیں سکتے تھے، سن نہیں سکتے تھے۔گنگے ڈورے تھے”۔ وہ بے حد ڈر گئی تھی۔

 

“تمھیں کلمہ آتا ہے”؟مولوی صاحب نے راست سوال پوچھا۔

 

جی۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔اس نے فر فر پڑھ دیا۔

 

یہ سنتے ہی مولوی صاحب عجیب دبدھے میں پڑ گئے۔ انھیں پریشانی لاحق ہوئی کہ کہیں اس سے کوئی توہین تو نہیں ہوگئی۔ اس نے پہلی مرتبہ ایک مصلن کی زبان سے پاک کلمہ سنا ․․․․لیکن انھیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں؟

 

“اچھا یہ بتاؤ، کبھی ان کی طرف سے کلمہ پڑھا”؟مولوی صاحب نے دریافت کیا۔

 

“ان پر کلمہ پڑھ کر پھونکتی تھی، مگر ان کی طرف سے ․․․․مجھے تو پتا ہی نہیں تھا”۔وہ منمنائی۔

 

“کیا ان کے کان میں اذان دلائی تھی”؟ مولوی صاحب نے پوچھا۔

 

“نہیں۔ میں نے موئے سلی،اپنے خاوند سے کہا بھی کہ مولبی صاحب کو بلالاؤ،بچے کے کان میں اذان دلانی ہے،مگر وہ کہتا تھا ہمارے گھر کبھی کوئی داڑھی والا آیا ہے؟ کوئی اور بھی ہمارے گھر نہیں آتا،مولبی صاحب۔ہمارا گھر ہے ہی کہاں۔اب ایک جھگی ڈالی ہے،نسلوں سے ہم کلیوں میں رہے ہیں۔میں نے بھی کلمہ چھ مہینوں میں یادکیا، ایک اللہ کی نیک بندی نے یاد کرایا،مجھے اس نے کئی تھپڑ بھی مارے،مگر میں نے سہے،اور کلمہ یاد کیا۔ اس لیے یاد کیا کہ شاید اللہ ان کی مصیبت کاٹ دے۔اللہ کے کلام میں برکت ہے”۔ اس نے سچ بول دیا۔
“جب وہ مرے ہیں،ان کی طرف سے کسی نے کلمہ پڑھا”؟

 

“میں ان کے لیے بار بار کلمہ پڑھتی تھی،پر مجھ مورکھ کو کیا پتا کہ ان کی طرف سے پڑھناہے؟ ہمیں کوئی نہیں بتاتا۔ہم میں سے کوئی مسجد،کوئی سکول نہیں جاتا،کوئی ہمیں بتانے نہیں آتا، مولبی صاحب۔ہم یہاں د ونسلوں سے رہ رہے ہیں،آپ کو پتا بھی نہیں ہوگا ہمارا گھر کہاں ہیں۔” وہ رورہی تھی۔

 

مولوی صاحب کارنگ اچانک بدل گیا۔وہ کچھ کہنے لگے،رک گئے۔ پھر غصے میں آگئے:” تم ہندو،کراڑ ہو۔ تم مسلمان ہو ہی نہیں۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے پیدا ہونے کے بعد،اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے،اور جب مرتا ہے تو ا س کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد ہوتا ہے”۔

 

“بعد میں بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا”؟ اس کی آواز میں رقت تھی۔

 

“ہوسکتاہے،ضرور ہوسکتاہے۔اگر اسے خدا اس قابل سمجھے،اوراسے توفیق دے تو”۔مولوی صاحب کا لہجہ اب بھی درشت تھا۔

 

“لیکن مولوی صاحب، میں چاہتی ہوں،آگے میرے بچڑے اپنے پاؤں پر چلیں،ان کا تاپ اتر جائے، انھیں کھگھ نہ ہو،بلغم میں خون نہ ہو،اور بولیں چالیں”۔

 

“کیا ان کا جنازہ پڑھا گیا تھا؟کس نے پڑھا یا تھا؟”

 

“جی،بہت کوشش کی،کوئی تیار نہیں ہوا۔پھرہماری برادری کا ایک بندہ آیا تھا،جو دوسرے گاؤں میں رہتا ہے،اور اس نے پکا گھر بنوایا ہواہے۔اس نے چاروں کے جنازے پڑھائے تھے”۔
“سارے کافر سیدھے جہنم میں جائیں گے”۔مولوی صاحب کا لہجہ دوٹوک تھا۔

 

“کہیں بھی جائیں، اپنے پاؤں پر چل کر جائیں۔میں تو ان کی آواز سن نہیں سکی،کوئی اور انھیں بولتا دیکھے۔مولبی صاحب،وہ ایک دن بھی نہیں چلے تھے ․․․میں ان کا گوہ موت صاف کرتی تھی۔ماں مرے کبھی کبھی دو دون گندے پڑے رہتے تھے۔سب چاہتے تھے،مرجائیں۔مولبی صاحب، پر جب مرے ہیں تو میں نے خود انھیں نہلایا تھا۔میں نے سناہے خدا سب کچھ کرسکتا ہے۔آپ مجھے کوئی تعویذ دے دیں،میں اسے پانی میں گھول کر روزانہ ان کی قبروں پر ڈال آؤں گی”۔ممتا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔

 

“تعویذ مسلمانوں کے لیے دیے جاتے ہیں”۔ مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔
“ٹھیک ہے مولبی صاحب۔ بس اتنا بتادیں،میرے بچڑے مرنے کے بعد کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں”؟ ماں ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں تھی۔

 

مولوی صاحب ایک عالم ِ حیرت میں تھے!

Image: Ali Azmat

Categories
فکشن

ساتواں سبق

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ساتواں سبق
زیف سید

 

’بڑے میاں، تمہیں کس جرم میں دھر لیا سالوں نے؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔
انصاری یہ سوال سن کر چونک گئے۔ حوالات کی نیم تاریک فضا میں سیمنٹ کی بنچ پر دیوار سے سر ٹیکے ہوئے خاموش ہیولے اور دور کہیں سے آنے والی ٹریفک کی مدھم گھن گھن انہیں غیر حقیقی معلوم ہو رہی تھی، جیسے وہ خود اس منظر کا حصہ نہ ہوں بلکہ باہر سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ عمارت کے اندر دور کہیں سے بھاری قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔
“لگتا ہے پہلی بار اس طرف آنا ہوا ہے جناب کا؟” ڈیرل نے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا۔ “پریشان نہ ہو بڑے میاں،شروع شروع میں سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن دو چار روز میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، پھر لگے گا کہ جیسے یہیں پیدا ہوئے تھے۔” ڈیرل نے کہا اور اس کی ہنسی حوالات کی نیم تاریک فضا میں پھیل گئی، تاہم اس میں تمسخر سے زیادہ خوش دلی کا پہلو نمایاں تھا۔

 

انصاری کو خود ٹھیک سے معلوم نہیں تھا کہ انہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔ انہوں نے ہوں ہاں کر کے اپنے ساتھی حوالاتی کو ٹالنے کی کوشش کی۔

 

’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ اگر تم نہیں بتانا چاہتے تو تمہاری مرضی۔ ویسے بھی جیل حوالات کا ان لکھا قانون یہ ہے کہ کسی سے اس کے جرم کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ ہاں کوئی خود اپنی مرضی سے بتا دے تو الگ بات ہے۔ وقت کٹ جاتا ہے اور دل کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔‘
انصاری ایک غیر مرئی نوالا سا نگل کر رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈیرل کو کیسے بتائیں کہ انہیں کس جرم میں اندر کیا کیا گیا ہے۔ حوالات کے ماحول نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ڈیرل کی باتوں میں انہیں تھوڑی اپنائیت محسوس ہوئی تھی، اور کئی گھنٹوں کے بعد انہیں اپنے وجود میں زندگی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے۔ ورنہ جب وہ یہاں پہنچے تھے تو اس وقت ان کا ذہن بالکل سن تھا، جیسے انسان کسی اجنبی بستر پر آنکھیں کھولتا ہے تو اسے کچھ لمحے اس بات کا تعین کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ وہ کہاں ہے۔ لیکن ان کے ساتھ یہ سب کچھ جاگتے میں ہو رہا تھا۔

 

انصاری نے گردن گھما کر حوالات کے کمرے کا جائزہ لیا۔ گرفتاری کے بعد پولیس والا انہیں لے کر اس عمارت لایا تھا اور پولیس کی سیاہ وردی میں ملبوس سفید بالوں والے ایک شخص کے حوالے کر کے خود باہر چلا گیا تھا۔ اس شخص نے انصاری کی جیبوں سے سارا سامان اور جوتوں سے تسمے نکال لیے، موبائل فون، بٹوا، گاڑی کی چابیاں۔ ایک فارم پر ان سے دستخط لینے کے بعد وہ انہیں ایک اور کمرے میں لے گیا اور ایک آہنی بنچ پر بٹھا دیا۔ بنچ سے ہتھ کڑیاں زنجیروں کے ساتھ منسلک تھیں، لیکن اس نے انصاری کو وہ ہتھ کڑیاں پہنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کمرے کے بیچوں بیچ ایک میز پر ایک ٹیوب اور ایک چھوٹا سا رولر پڑا ہوا تھا۔ اس پولیس والے نے ٹیوب دبا کر اس میں سے سیاہ رنگ کی کریم نکالی اور اسے ایک آہنی تختے پر لگا دیا اور پھر رولر سے دبا کر اسے سارے تختے پر یکساں ہموار کر دیا۔اس کے بعد اس نے قریب ہی ایک شکنجہ نما چیز میں کاغذ پھنسائے اور پھر انصاری کو قریب بلا کر ان کے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا مضبوطی سے پکڑلیا۔ انگوٹھا پکڑ کر اس نے پہلے سیاہی ملے ہوئے تختے پر دبایا، پھر اسے کاغذ پر خوب زور سے دبایا۔ اب جا کر انصاری پر کھلا کہ وہ ان کی انگلیوں کے نشان لے رہا ہے۔ پہلی دو کوششیں ناکام ہو گئیں، کیوں کہ عین وقت پر انصاری کا ہاتھ ہل جاتا تھا، یا ہاتھ اکڑ جاتا ہے۔ آخر اہل کار نے سخت لہجے سے ان سے کہا کہ اپنے ہاتھ کو بالکل بے جان کر کے مکمل طور پر اس کے حوالے کردیں،تب جا کر کہیں چوتھی کوشش پر کامیابی نصیب ہوئی تو انصاری نے سکھ کا سانس لیا۔دسوں انگلیوں کے نشانات لینے کے بعد اس نے انصاری کو قریبی دیوار سے لگے سنک سے ہاتھ دھونے کی ہدایت کی۔ ساتھ میں مائع صابن کا ڈبا بھی لگا تھا۔ انصاری نے رگڑ رگڑ کر ہاتھوں سے سیاہی دھونے کی کوشش کی۔ اتنی دیر میں پولیس والا کیمرا لے کر آ گیا اور انہیں ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے سامنے اور سائیڈ سے انصاری کی تصاویر لیں۔ ان کاموں سے فراغت کے بعد اس نے انصاری کو ایک اور شخص کے حوالے کیاجو انہیں اپنے ساتھ لے کر کسی ہسپتال کی طرح صاف ستھری راہداریوں سے گزارنے کے بعد اس نیم تاریک ہال میں لایا اور سلاخوں والا بھاری دروازہ بند کر کے باہر چلا گیا۔ انصاری کے انگوٹھوں پر اور ناخنوں کے نیچے سیاہی کے دھبے تھے اور آنکھیں ابھی تک فلیش کی چکاچوند سے چندھیائی ہوئی تھیں۔ وہ خاصی دیر تک کمرے میں کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد جب ان کی آنکھیں نیم تاریکی کی عادی ہو گئیں تب انہیں کمرے میں تین دیواروں کے ساتھ ساتھ لمبائی میں بنی ہوئی سیمنٹ کی لمبی بنچ نظر آئی جو دیواروں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلی گئی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم گھسیٹتے ہوئے ایک دیوار کی طرف گئے اور بنچ پر ٹک کر اپنا سر بازوؤں پر رکھ دیا۔

 

ہاشم علی انصاری کا پولیس سے کچھ زیادہ واسطہ نہیں پڑا تھا۔ پاکستان میں تو ان کا کبھی ٹریفک چالان تک نہیں ہوا تھا، جس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے وہاں کبھی گاڑی چلائی ہی نہیں تھی۔ کراچی میں ان کے پاس سکوٹرہوا کرتا تھا۔ ان کا مزاج شروع ہی سے ایڈونچر پسند رہا تھا۔ کبھی کبھار دل میں ترنگ جاگتی تھی تو ادھیڑ عمر میں بھی کراچی کی سڑکوں پر نہایت تیز رفتاری سے سکوٹر چلایا کرتے تھے۔ گھومنے پھرنے کا شوق حد سے زیادہ تھا۔ اسی سکوٹر پر بیگم کو جگہ جگہ لیے لیے پھرتے تھے۔ کلفٹن، پیراڈائز پوائنٹ، ہاکس بے، گارڈن، چڑیا گھر تو خیر آس پاس تھے، کئی بار وہ اسی سکوٹر پر مکلی ، منچھر جھیل اور حیدرآباد بھی چلے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ تو سکھر بھی ہو آئے تھے۔ وطن میں تین چار دفعہ ٹریفک سارجنٹ نے اگر روکا بھی تو دس پانچ روپے لے کر جانے دیا۔ البتہ امریکہ میں پولیس نے انہیں دو بارجرمانہ کیا تھا۔ ایک بار وہ ’سٹاپ‘ کے نشان پر رکے بنا آگے بڑھ گئے تھے۔ دوسری دفعہ تو ایسا ہوا کہ ڈاک میں ان کی گاڑی کی تصویر اور سو ڈالر ہرجانے کا نوشتہ آ گیا کہ آپ نے سرخ بتی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انصاری نے پولیس سٹیشن جا کر بحث کرنے کی کوشش کی کہ جس وقت وہ چوک سے گزر رہے تھے اس وقت بتی سرخ نہیں ہوئی تھی، لیکن خاتون پولیس افسر نے سے انہیں کمپیوٹر سکرین پر ویڈیو دکھا دی جس میں صاف نظر آ رہا تھا کہ انصاری اگرچہ نارنجی بتی پر چوک پار کر رہے تھے لیکن چوک کے وسط تک پہنچتے پہنچتے بتی سرخ ہو گئی تھی۔ ثبوت ناقابلِ تردید تھا اس لیے انصاری کو نہ صرف جرمانے کی پوری رقم دینا پڑی بلکہ بیس ڈالر اوپر سے بھی بھرنا پڑے کہ یہ پولیس کے فیصلے کو غلط طور پر چیلنج کرنے کی فیس تھی۔

 

انصاری کی ڈیرل سے ملاقات اسی حوالات میں ہوئی تھی۔ گذشتہ کئی گھنٹوں میں ان کا واسطہ جتنے لوگوں سے پڑا تھا ان میں وہ سب سے مہربان نظر آیا تھا۔ یہ نہیں کہ پولیس والوں نے ان کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہو۔ لیکن ان کا انداز بے حد خشک اور سرد تھا، اور دوسری طرف خود انصاری بھی صدمے کی حالت میں تھے، اس لیے وہ مشینی انداز میں ان کے سارے احکامات پر بے چوں و چرا عمل کرتے چلے آئے تھے۔ حوالات میں نہ جانے کتنی دیر گزری کہ ان کے کانوں میں کسی اجنبی زبان میں گفتگو کی آواز آئی۔ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ چھت پر ایک کم طاقت والا بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی میں معلوم ہوا کہ وہ یہاں اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ یہاں کئی ہیولے موجود ہیں۔ ایک کونے میں دیوار کے ساتھ ٹیلی فون لگا ہوا تھا اور ایک شخص اس کے آگے کھڑا ہسپانوی زبان میں باتیں کر رہا تھا۔ اس کے لہجے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ شدید جھلاہٹ کے عالم میں ہے۔ انصاری کو ہسپانوی نہیں آتی تھی، لیکن پچھلے دو عشروں کے دوران امریکہ میں میکسیکو سے آئے ہوئے تارکینِ وطن کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے ہسپانوی امریکہ کی دوسری بڑی زبان بن گئی تھی۔ انصاری کے گھر میں صفائی کرنے والی عورت بھی ہسپانوی تھی، جسے انگریزی کا ایک لفظ نہیں آتا تھا۔ اس سے بات چیت کرنے کے لیے ان کی بیگم ریحانہ کو ہسپانوی کے چند جملے سیکھنا پڑے تھے۔

 

حوالات کی سرد بنچ پر بیٹھے بیٹھے انصاری کی تشویش بڑھنے لگی۔ یہاں مختلف عمر و نسل کے لوگ موجود تھے، جن میں سے کچھ اونگھ رہے تھے۔ ایک کونے سے تو باقاعدہ خراٹوں کی آواز آ رہی تھی۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کئی کالے بیٹھے تھے، جن کو ایک زمانے میں نیگرو کہا جاتا تھا مگر اب نسل پرستی کے خلاف تحریک اور انسانی حقوق کی مہم کے باعث انہیں افریقی امریکی کہا جاتا ہے، کیوں کہ بقول امریکیوں کے، لفظ ’نیگرو‘ کے تاریخی پس منظر کے باعث اس سے نسل پرستی کی بو آتی ہے۔

 

داہنی دیوار کے ساتھ دو ہسپانوی نژاد مرد بیٹھے ہاتھ ہلاتے ہوئے آپس میں اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ انصاری اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھے۔ انہوں نے سکہ ڈالنے کی جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کہیں وہ درز نظر نہیں آئی جہاں عام پبلک ٹیلی فونوں میں سکہ ڈال کر گفتگو کی جاتی ہے۔ پھر انہیں یاد آیا کہ حوالات میں بند کرنے سے پہلے پولیس والے نے ان کا بٹوا، موبائل فون، گھڑی، حتیٰ کہ پتلون کی بیلٹ تک اتروا کر تحویل میں لے لی تھی اور ان تمام اشیا کا اندراج کمپیوٹر میں کر کے رسید پر ان کے دستخط لے لیے تھے۔ انہوں نے ریسیور اٹھایا تو اس میں سے نمبر ڈائل کرنے کی ہدایات سنائی دیں۔ لیکن انصاری کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ فون کیسے استعمال کیا جائے۔ ہدایات میں کوئی نمبر مانگا جا رہا تھا۔ انہوں نے بے بسی کے عالم میں ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔

 

تھوڑی دیر بعد ایک سیہ فام نوجوان اٹھا اور ٹیلی فون کے پاس جا کر نمبر ملانے لگا۔ انصاری نے غور سے اس کی حرکات و سکنات دیکھیں کہ شاید کچھ اشارہ مل جائے اور انہیں فون کرنے کے لیے کچھ مدد مل سکے۔ نوجوان نے جلدی جلدی ڈائل پر چند نمبر دبائے اور تھوڑی ہی دیر میں گفتگو شروع کر دی۔ انصاری اٹھ کر کھڑے ہو گئے کہ وہ اپنی بات مکمل کر دے تو وہ اس سے مدد کی درخواست کر سکیں۔ نوجوان چند منٹ تک بات کرتا رہا، پھر جب اس نے ’بائے‘ کہہ کر ریسیور رکھا تو انصاری تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس کے قریب پہنچ گئے۔ نوجوان نے بڑی حیرت سے ان کی طرف دیکھا، جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو۔ نوجوان نے ایک بنیان پہن رکھی تھی، جو کسی زمانے میں سفید رہی ہو گی۔ اس نے سر کے بالوں کو چھوٹی چھوٹی چوٹیوں میں گوندھا ہوا تھا جو برگد کی جٹا دھاری جڑوں کی طرح اس کے چہرے کے دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ انصاری نے نہایت لجاجت سے فون کرنے کا طریقہ پوچھا تو نوجوان یوں بے پروائی سے کندھے اچکا کر دیوار کے پاس جا کر بیٹھ گیا، جیسے اسے انگریزی میں نہیں بلکہ چینی زبان میں مخاطب کیاگیا ہو۔ انصاری اپنی جگہ پر کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

 

وہ دیر تک فون کے پاس ہی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے رہے۔ اتنی دیر میں ایک سیاہ فام شخص اٹھ کر ان کے پاس آ گیا۔ اس کی عمر پچاس پچپن کے قریب ہو گی۔ جسم بھاری بھرکم اور قد لمبا تھا۔ اس کے ماتھے پر یکساں فاصلے پر بنی ہوئی گہری شکنیں تھیں،جیسے کسی نے بڑی احتیاط سے بنائی ہوں۔ اس نے گہری سرخ ٹی شرٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی میلی جینز پہن رکھی تھی جس کے پائنچے ادھڑے ہوئے تھے۔ تاہم جب اس نے سیاہ فام امریکیوں کے مخصوص بے تکلف لہجے میں بات شروع کی تو آواز خاصی کھردری ہونے کے باوجود انصاری کو خوش گوار لگی۔ سب سے پہلے تو اس نے اپنا تعارف کرایا۔
’ہائے، میرا نام ڈیرل ہے۔ کیا کسی کو فون کرنا ہے؟‘

 

’ہاں، بہت شکریہ۔ فون کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن یہ فون کرنے کے لیے کوئی نمبر مانگ رہے ہیں۔ میرے پاس تو یہ نمبر نہیں ہے۔‘

 

’اپنی کلائی دکھاؤ، اس پر تمہارا نمبر درج ہے۔ لاؤ میں نمبر ملاتا ہوں۔‘

 

انصاری کو یاد آیا کہ تصویریں لینے کے بعد ایک اہل کار نے ان کی کلائی پر نیلے ربڑ کا رسٹ بینڈ پہنا دیا تھا۔ انہوں نے اپنی کلائی ڈیرل کے سامنے کر دی۔

 

’جی بڑے میاں، ٹیلی فون نمبر کیا ہے جس پر بات کرنی ہے؟‘

 

انصاری اس سوال پر تھوڑا گڑبڑا گئے۔ کس سے بات کرنی ہے؟ بیگم سے، اور کس سے۔ لیکن آج جو کچھ میرے ساتھ ہوا، اس کے بعد کس منھ سے اس سے بات کروں؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

چوتھائی صدی قبل جب انصاری خاندان کا امریکی ویزا منظور ہوا اس وقت ان کا بیٹا سرمد چھ سال کا تھا۔ ریحانہ کے بڑے بھائی بہت زمانے سے کیلی فورنیا میں مقیم تھے۔ انہوں نے شہریت ملتے ہی اپنی بہن اور اس کی فیملی کے لیے سپانسر شپ کی درخواست دی تھی، جو کئی برس کے بعد اس وقت منظور ہوئی جب ریحانہ اور انصاری دونوں اسے قریب قریب بھلا بیٹھے تھے۔ اس وقت انصاری کراچی بلدیہ میں ملازمت کے چوبیس سال پورے کر چکے تھے۔ انہوں نے فوراً ہی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے دی۔ ہمیشہ ہی سے سنسنی خیزی کے متلاشی انصاری بھلا یہ نادر موقع ہاتھ سے کہاں جانے دیتے۔ ریحانہ نہیں آنا چاہتی تھیں۔ انہیں اپنے ماں باپ، رشتے داروں، عزیزوں، سہیلیوں سے بچھڑ کر ایک اجنبی ملک میں آباد ہونے کے خیال ہی سے وحشت ہوتی تھی، لیکن انصاری نے یہی کہا کہ بس چار پانچ سال ہی کی تو بات ہے، تھوڑی سیر و تفریح ہو جائے گی، کچھ پس انداز کر لیں گے، واپس آ کر اپنا مکان خرید لیں گے اور ایک چھوٹی سی گاڑی۔ یہاں کے حالات تو تمہارے سامنے ہیں، مہینے کے شروع میں جو ملتا ہے، وہ بیس تاریخ آتے آتے ہوا ہو جاتا ہے۔ اور پھر سرمد کی ابتدائی تعلیم وہاں سے ہو گی تو اسے مستقبل میں بڑا فائدہ ہو گا۔یہ آخری دلیل ایسی تھی جس کے آگے ریحانہ کو ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔ چناں چہ گھر کا سامان اونے پونے بیچ یا ہمسایوں اور رشتے داروں میں بانٹ، تین نفوس پر مشتمل خاندان امریکی ریاست ورجینیا میں آن بسا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’جی بڑے میاں، کیا نمبر بھول گئے ہو؟‘ ڈیرل نے دوبارہ پوچھا۔

 

’نہیں، نہیں، یاد ہے۔‘ انصاری نے بوکھلا کر کہا اور تیزی سے اپنے گھر کا نمبر بتا دیا۔
’تم چاہو تو اس نمبر پر کلکٹ کال کر سکتے ہو۔ یعنی اس کا بل دوسری پارٹی کو جائے گا، لیکن بات سے پہلے ان کی رضامندی ضروری ہے۔‘

 

’ٹھیک ہے۔ کلکٹ کال ہی کر لو۔‘ انصاری نے بے دھیانی سے کہا۔

 

’کوئی فون اٹھا نہیں رہا۔‘ ڈیرل نے نمبر ملانے کے بعد کہا۔ ’چلو دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔‘ لیکن دوسری بار بھی گھنٹی بجتی رہی اور آخر آنسرنگ مشین آن ہو گئی۔ کالے نے ریسیور انصاری کو تھما دیا۔ دوسری طرف خود انصاری بول رہے تھے: فون کرنے کا بہت شکریہ۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس وقت گھر میں موجود نہیں ہیں، لیکن اگر آپ اپنا نام اور نمبر ریکارڈ کرا دیں تو ہم آپ کو پہلی فرصت میں فون کرنے کی کوشش کریں گے، شکریہ۔ انصاری کو اپنی ہی آواز اتنی اجنبی اور نامانوس لگی کہ پیغام ریکارڈ کروانے کی ٹَون سننے کے بعد الفاظ ان کے گلے میں اٹک گئے اور کوشش کے بعد بھی منھ سے کچھ نہ نکلا۔ انہوں نے ریسیور رکھ دیا۔ نمبر نہ ملنے پر مایوسی تو تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ ذہن کے کسی کونے کھدرے میں چھپا ہوا اطمینان بھی تھا کہ اچھا ہے کال نہیں ملی، ورنہ وہ بیگم سے کس طرح اور کیا بات کرتے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکہ مواقع کی سرزمین سہی، لیکن عملی طور پر یہاں رہنا بہت دشوار ثابت ہوا۔ سب سے بڑا مسئلہ نوکری کا تھا۔ انصاری جہاں درخواست جمع کرواتے تھے، جواب ملتا تھا کہ امریکی تجربہ چاہیئے۔ ان کی ڈگریاں، طویل تجربہ، اور ملازمت کا اعلیٰ ریکارڈ یہاں پر صفر ہو کر رہ گئے تھے۔ پاکستان سے لائی ہوئی رقم ڈالروں میں منتقل ہو کر ویسے بھی سکڑ گئی تھی، اب وہ تیز دھوپ میں پڑے برف کے ڈھیلے کی طرح پگھلنے لگی۔ ریحانہ کے بھائی سے مدد مانگنے کا سوال نہیں تھا۔ آخر انصاری کو مجبوری کی حالت میں ایک سٹور میں تین ڈالر فی گھنٹا کی نوکری کرنا پڑی۔ کہاں پاکستان میں سرکاری نوکری کے ٹھاٹ باٹ، چپراسی، خاکروب اور کلرک، جونیئر سٹاف سے ملنے والی تعظیم و تکریم، اور کہاں یہ عالم کہ انصاری سارا دن کاؤنٹر پر کھڑے گاہکوں کو بھگتاتے رہتے تھے۔ اوپر سے سپروائزر مسلسل ان پر یوں نگاہ رکھتے تھے کہ انہیں سر اٹھانے تک کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اگر گاہک نہیں ہیں تو کاؤنٹر کی صفائی، شیلفوں پر سامان کی ترتیب یا اس طرح کے دوسرے کام ان کے سپرد کر دیے جاتے تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ پورے سٹور میں کوئی کرسی، صوفہ یا تپائی قسم کی چیز نہیں تھی۔ شروع کے ہفتے میں تو ایسا لگتا تھا جیسے ان کے گھٹنے کسی بھی وقت جواب دے جائیں گے اور وہ ریت کے بت کی طرح زمین پر ڈھیر ہو جائیں۔ پھر کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چمڑے کے جوتوں کی بجائے نرم اور لچکیلے تلووں والے جوگرز پہنیں۔ کچھ تو جوگرز کی وجہ سے اور پھر شاید کسی حد تک عادت بن جانے کے باعث تین چار ہفتوں بعد انصاری کو کسی قدر آسانی ہو گئی تھی۔ البتہ وہ اب بھی آنکھ بچا کر کسی ستون یا شیلف کے ساتھ کندھا ٹیک کر دو تین منٹ سستا لیتے تھے۔ گھر واپس جا کر وہ صوفے پر ڈھیر ہو جاتے تھے، اور اس دوران سرمد کی چھوٹی موٹی شرارتیں بھی ان کے اعصاب پر گراں گزرتی تھیں۔

 

سٹور میں کام کرتے ہوئے انصاری پر انکشاف ہوا کہ امریکہ میں محض کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے ہو کر لوگوں سے رقم وصول کرنا اتنا آسان نہیں تھا جتنا انہوں نے سمجھ رکھا تھا۔ کچھ گاہک ان کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آتے تھے۔ بعضے ایسے بھی تھے کہ سٹور سے، ڈبل روٹی، دودھ، سبزی وغیرہ لے جاتے تھے اور استعمال کر کے اگلے دن واپس کرنے آ جاتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ لوگ آدھی پی ہوئی دودھ کی بوتل یا ادھ کھائے پھل اگلے دن واپس لے آئے کہ وہ ان کے معیار سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں پوری رقم واپس کی جائے۔ سٹور کے مینیجر نے انصاری کو ہدایت کر رکھی تھی کہ گاہک کے ساتھ کوئی بحث نہیں کرنی، اس لیے ایسے موقعوں پر انصاری تلملا کر رہ جانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود ایک بار ایک گاہک نے شکایت کر کے انہیں سٹور سے نکلوا دیا۔ تاہم خوش قسمتی سے انہیں جلد ہی ایک اور بڑے سٹور میں نوکری مل گئی۔ اب ان کے پاس امریکی تجربہ آ گیا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’تو کیا تم بتانا پسند کرو گے کہ تمہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے؟‘ انصاری نے پوچھا۔ انہیں ڈیرل کی قربت سے کسی قدر تسلی ہو رہی تھی اور وہ اس سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے تھے۔

 

’ارے بڑے میاں، یہ تو اپنا دوسرا گھر ہے،بلکہ دوسرا کیا، پہلا ہی سمجھو، کیوں کہ باہر تو اپنا کوئی مستقل ٹھکانا تو ہے نہیں۔ بس جب گھومنے گھامنے سے دل اکتا جاتا ہے تو یہاں چلے آتے ہیں۔ ویسے اس بار شاید یہ مجھے لمبے عرصے تک اندر رکھنے کی کوشش کریں۔‘

 

یکایک حوالات میں ہل چل سی پیدا ہو گئی اور کچھ لوگوں نے بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا۔ انصاری نے دیکھا کہ سامنے کی دیوار پر خاصی بلندی پر ایک ٹیلی ویڑن نصب ہے، جس کی آواز بند ہے، لیکن شاید کوئی خبروں کا چینل لگا ہوا ہے۔ اس پر امریکی صدارتی امیدوار براک اوباما کی تصویر نظر آ رہی تھی، جو ڈائس کے پیچھے کھڑے خاصے بڑے مجمعے سے خطاب کر رہے تھے۔ سٹیج کے پیچھے اوباما کی صدارتی مہم کا نیلا اور سرخ لوگو آویزاں تھا، جس میں ایک شاہراہ کے اوپر چڑھتے ہوئے سورج کا تاثر دیا گیا تھا۔

 

ڈیرل بھی ٹیلی ویڑن سکرین کی طرف دیکھ رہا تھا۔’ بس تم ذرا اوباما کو آنے دو، وہ گن گن کر سب کے بدلے لے گا۔‘

 

انصاری کو یاد آیا کہ ان دنوں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہو رہے تھے۔ وہ بڑے شوق سے انتخابی مہم کی تفصیلات دیکھتے چلے آئے تھے۔ انہیں بھی اوباما سے خاصی امیدیں تھیں کہ وہ اقتدار میں آ کر بش کا پھیلایا ہوا گند صاف کر دے گا۔ وہ بڑی شدت سے اس دن کے انتظار میں تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ریحانہ نے پہلا سال تو گھر ہی میں رہیں، لیکن انصاری کی کم تنخواہ کی وجہ سے ہاتھ اس قدر تنگ رہتا تھا کہ وہ بھی کام تلاش کرنے میں جٹ گئیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کر رکھا تھا اور زمانہ? طالب علمی میں رسالوں میں افسانے اور مضامین لکھتی رہی تھی، جس کا بعض اوقات معمولی معاوضہ بھی مل جایا کرتا تھا، لیکن انہوں نے باقاعدہ ملازمت کبھی نہیں کی تھی۔ اس لیے ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہیں واشنگٹن کے ایک سرکاری ادارے میں امریکی سفارت کاروں اور دوسرے ملازمین کو اردو پڑھانے کی نوکری مل گئی۔ تنخواہ معقول، میڈیکل انشورنس اور دوسری کئی سہولتیں۔ اب گھر میں سرمد کے لیے نت نئے کھلونے اور پہننے کے لیے عمدہ سے عمدہ لباس آنے لگے۔ اس کے منھ سے جو فرمائش نکلتی تھی، وہ اگلے ہی دن پوری ہو جاتی تھی۔ انصاری کہتے رہتے کہ فضول خرچی ہے، سرمد تو کسی بھی کھلونے سے دو تین دن کھیلنے کے بعد اس کی طرف آنکھ تک اٹھا کر اٹھا کر نہیں دیکھتا، لیکن بیگم نے ان کی بات کی پروا نہیں کی، اور گھر کی الماریاں کھلونوں سے بھرتی چلی گئیں۔ کچھ عرصے بعد ریحانہ نے اپارٹمنٹ کی تنگی کی شکایتیں کرنا شروع کر دیں۔ انصاری نے کہا بھی کہ ہمارا کون سا بڑا خاندان ہے اور نہ ہی ہمارے گھر بہت زیادہ مہمان آتے ہیں، لیکن ریحانہ نے خود ہی ایک پاکستانی پراپرٹی ڈیلر سے معاملات طے کر کے فیئر فیکس کے ایک سرسبز و شاداب علاقے میں تین کمروں کے گھر کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’اچھا تو تم اپنی گرفتاری کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے؟ ‘ انصاری نیڈیرل سے پوچھا۔
’ارے بڑے میاں، جرم ورم کیا، سب سے بڑا جرم تو میری رنگت ہے۔ میں ایک پارٹی میں گیا ہوا تھا۔ سب نے چڑھا رکھی تھی، میں نے بھی تھوڑی بہت پی لی۔ پھر ہم سب ایک دوست کے ساتھ واپس گاڑی میں جا رہے تھے کہ کسی نے چرس کا سگریٹ سلگا لیا اور سب باری باری کش لینے لگے۔ پھر اچانک پولیس نے روک لیا، اور بس۔ دوسرے چھوٹ گئے، ہمیں دھر لیا گیا۔ وجہ یہ کہ پہلے نقب زنی وغیرہ کی چند واردات میں ہمارا نام تھا، جیل اور پولیس ریکارڈ موجود تھا۔ بس پھر انہیں اور کیا چاہیئے تھا۔‘

 

’ارے یہ تو بڑی غلط بات ہے۔‘

 

’اب تو میں یہی بھول گیا ہوں کہ کیا غلط ہے کیا صحیح ہے۔ جانتے ہو مجھے سب سے پہلے کس جرم میں اندر کیا گیا تھا؟ بغیر ٹکٹ خریدے ریل میں سفر کرنے پر۔ ادھر ہماری ضمانت دینے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ چناں چہ ہم بھی حوالات میں پڑے سڑتے رہے اور غلط صحبتوں میں پڑ گئے۔‘

 

’بہت افسوس ہوا یہ سن کر۔ مجھے کچھ کچھ تو اندازہ تو تھا لیکن ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں تھاکہ حالات اس حد تک خراب ہیں۔‘

 

’یہی تو میں کہہ رہا ہوں بڑے میاں۔ دور مت جاؤ، اسی حوالات کو دیکھ لو۔ گنو، تمہیں یہاں بارہ لوگ نظر آئیں گے۔ ان میں سے کالے کتنے ہیں؟ سات۔ ایک تم ایشیائی، آٹھ۔ دو ہسپانوی لگتے ہیں، دس۔ صرف دو گورے یہاں موجود ہیں۔ حالاں کہ آبادی کے تناسب سے یہاں کم از کم آٹھ گورے ہونے چاہیئے تھے۔‘

 

انصاری نے گردن گھما کر اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کا جائزہ لیا۔ ڈیرل کی بات دل کو لگتی تھی۔ انہیں یاد آیا کہ انہوں نے جہاں جہاں کام کیا تھا، وہاں جونیئر سٹاف کی بھاری اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہوتی تھی، جب کہ بڑے عہدوں پر کلی طور پر گورے تعینات تھے، حالاں کہ واشنگٹن اور اس کے نواح میں کالوں کی خاصی بڑی آبادی تھی۔

 

ڈیرل اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور نسبتاً اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ دوسرے لوگ اس کی متوجہ ہو گئے۔ ڈیرل نے کسی کہنہ مشق مقرر کی طرح باقاعدہ تقریر شروع کر دی:

 

“میرے دوستو: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، الیکشن میں چند ہی دن رہ گئے ہیں۔ یہ تاریخ کا ایسا موڑ ہے جو ہزار سال بعد بھی یاد رکھا جائے گا۔ میری بات کان کھول کر سن لو۔ کچھ طاقتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ باہر سے کوئی آ کر صدر بن جائے۔ اس لیے کہ جو کام امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں نہیں ہوا، وہ اب کیسے ہو سکتا ہے؟ اس موقعے پر سازش کے تحت مخصوص رنگت کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ میں ضرورت سے زیادہ تیزی دکھائی جا رہی ہے۔ ہمیں چن چن کر اندر کیا جا رہا ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے، ہمیں اس موقعے پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سرمد کی موت کے بعد ریحانہ نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ ان کی صحت اب نوکری کے قابل نہیں تھی۔ پہلے تو ان کے گھٹنوں کا آپریشن ہوا، جس کی وجہ سے وہ کئی ماہ تک بستر سے لگ کر رہ گئیں۔ پھر انہیں شوگر تشخیص ہو گئی اور کچھ عرصے بعد گردوں کا مسئلہ شروع ہو گیا۔ جوں جوں ان کی صحت بگڑتی گئی،ان کے دل میں وطن کی یاد بڑھتی گئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ ان کی زبان پر ایک ہی رٹ ہوتی تھی،’واپس چلو، واپس چلو۔‘
انصاری بڑے تحمل سے انہیں سمجھاتے۔ ’بھئی، کیسے چلے جائیں؟ روز کوئی نہ کوئی معرکہ مارا جاتا ہے۔ جعل سازی، دھوکے بازی،کرپشن، جھوٹ۔ اور اوپر سے جو آج کل کے حالات ہیں تو بھی تمہارے سامنے ہیں۔‘

 

انصاری کو ہمیشہ سے اخبار پڑھنے کی عادت تھی، اور وہ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس پر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے تھے، یا کبھی کسی پاکستانی سے ملاقات ہوتی تو مشرف اور اس کے کارندوں کو گالیاں دے کر دل کا غبار اتارا کرتے تھے۔ادھر ریحانہ نے کبھی سیاست میں دل چسپی نہیں لی تھی اور شاذ و نادر ہی اخبار پڑھا کرتی تھیں۔ ٹیلی ویڑن پر پاکستانی چینل آنا شروع ہوئے تو وہ صرف بالی وڈ کی فلمیں یا ڈراموں والے چینل ہی دیکھا کرتی تھیں۔

 

’ہمیں حالات سے کیا غرض، میری دونوں بہنیں فیڈرل بی ایریا میں رہتی ہیں، ہم بھی وہیں کوئی اچھا سا مکان لے کر سکون سے رہیں گے۔ تمہارے بھی کئی جاننے والے کراچی میں ہیں۔‘
’ہونہہ، کراچی میں سکون سے رہیں گے؟ وہ اکرم صاحب کی بیگم کا واقعہ یاد نہیں؟ دن دہاڑے ٹیکسی روک کر ڈاکوؤں نے ان کا زیور اتروا لیا تھا۔ اور وہ ورلڈ بینک والے فواد صاحب۔ دو ہفتے کے لیے پاکستان گئے تھے، جس گلی میں ان کی ساری زندگی گزری تھی، وہیں انہیں پستول کی نال پر لوٹ لیا گیا! نا بھئی نا، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو گا کہ اس عمر میں کوئی مجھے راہ چلتے ہوئے ہینڈز اپ کروا لے۔‘

 

’تو یہ زندگی کون سی جنت ہے۔ پہلے تو سرمد کی تعلیم اور پھر اس کی نوکری کی وجہ سے زندگی کا سہارا تھا۔ اب اس کی یادیں ہر دیوار، ہر دراز، ہر الماری سے نکل کر مجھے ستاتی ہیں۔ تم صبح سویرے کام پہ چلے جاتے ہو اور شام کو واپس آ کر ڈھائی سیر کا اخبار لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ پاکستان میں کم از کم کوئی بات کرنے والا تو ہو گا۔‘ ریحانہ نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔

 

’ریحانہ، سمجھنے کی کوشش کرو۔ اب وہ پچیس سال پہلے والا پاکستان نہیں رہا۔ اب وہاں بھی کسی کے پاس فالتو وقت نہیں رہا۔ کسی سے ملنے کے لیے جاؤ تو پہلے فون کر کے ٹائم لینا پڑتا ہے۔ اور پھر تم بیمار ہو۔ یہ بھول جاؤ کہ تمہارے رشتے دار تمہارا خیال رکھیں گے۔ یہاں ہر روز فزیکل تھراپسٹ گھر آ کر مفت تھراپی کر جاتا ہے۔ ڈایالسس کے لیے ایمبولنس خود گھر آ کر تمہیں ہسپتال لے جاتی ہے۔ وہاں تو حالت یہ ہے کہ ایمبولنس ٹریفک جام میں تین تین گھنٹے پھنسی رہتی ہے اور مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں بجلی نہیں، آلات نہیں، ڈاکٹر نہیں۔‘

 

’اور تمہاری فیملی؟‘ انصاری نے پوچھا۔

 

’ہاہا، فیملی ویملی کوئی نہیں۔ باپ کا تو پتا نہیں کہ کہاں ہے، کیوں کہ وہ تو میری پیدائش سے پہلے ہی میری نوعمر ماں کو چھوڑ کر کہیں بھاگ گیا تھا یا مر کھپ گیا تھا۔ ماں بھی ہر وقت نشے میں اس قدر دھت رہتی تھی کہ اسے خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔‘
’کوئی بھائی بہن؟‘

 

’ایک چھوٹا بھائی ہے، جس سے آخری بار کوئی دس سال پہلے آخری بار بات ہوئی تھی۔ وہ نیویارک میں وکیل ہے، کسی فرم میں کام کرتا ہے۔ اسے ہم جیسوں سے تعلق رکھنے میں شرم آتی ہے، اس لیے میں نے بھی اس سے ملنا ملانا چھوڑ دیا۔‘ ڈیرل کے لبوں پر ایک افسردہ مسکراہٹ بکھر گئی۔

 

’شادی وادی نہیں کی تم نے؟‘

 

’شادی؟‘ ڈیرل نے اپنے ماتھے کی شکنوں کی مزید گہرا کرتے ہوئے مصنوعی حیرانی سے پوچھا، جیسے اسے اس لفظ کے معنی سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہو۔ ’نہیں نہیں، ہم نے کبھی یہ جھنجھٹ پالا ہی نہیں۔ ہاں کسی زمانے میں ایک گرل فرینڈ تھی، اس سے کچھ عہد و پیماں بھی ہوئے، لیکن ظاہر ہے کہ میرے طرزِ زندگی میں کوئی طویل رشتہ پالنا ناممکن ہے۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

انصاری کا ایک اور مسئلہ بھی تھا، جسے وہ ریحانہ کو بتاتے ہوئے گھبراتے تھے۔ وہ جب الہ آباد سے اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ انہوں نے چوتھی جماعت کا امتحان پاس کر لیا تھا اور پانچویں میں جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ والدین نے انہیں سکول سے اٹھا لیا، کیوں کہ حالات روز بہ روز بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی لگ گئی، کیوں کہ شہر سے لوٹ مار اور فساد کی خبروں پہنچ رہی تھیں۔ انصاری کو بہت کوفت ہوئی، کیوں کہ ان کے سارے دوست چھوٹ گئے تھے۔ وہ سارا دن اکیلے گھر میں پڑے رہتے۔ حالات کسی قدر بہتر ہوئے تو یہ خاندان پاکستان چلا آیا۔ نئے وطن میں آنے کے بعد انصاری کو نئے سرے سے ساری دوستیاں بنانی پڑی تھیں، سکول میں بھی اور کراچی کی پیر الٰہی بخش کالونی میں واقع اپنیمحلے میں بھی۔ باقی رشتے دار ہندوستان ہی میں رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ شروع میں خط و کتابت رہی لیکن والدین کے انتقال کے بعد تمام رابطے ٹوٹ گئے۔ اب تو یہ عالم تھا کہ انصاری کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کی دو پھوپھیاں ابھی زندہ ہیں یا نہیں۔ دوسری ہجرت اختیاری تھی، جب وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ چھاڑ کر امریکہ آن بسے تھے۔ یہاں تو صورتِ حال یہ تھی کہ شروع کے کئی مہینے انہیں گھر سے باہر اردو میں بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا، کیوں کہ کوئی تھا ہی نہیں جس سے اپنی زبان میں بات کی جا سکے۔ پھر سالہا سال گزرتے رہے اور رفتہ رفتہ وہ یہاں کی زندگی کے عادی ہو گئے تھے۔ صبح سے شام سٹور میں، شام کو گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اخبار یا کسی کتاب کا مطالعہ۔ اختتامِ ہفتہ پر کسی پاکستان کے گھر چلے جانا، یا کسی کو اپنے گھر بلا لینا۔ یہ ان کے معمولات بن گئے تھے۔ اب انہیں ایک بار پھر اس بنی جمی زندگی اکھاڑ کر ایک اور ہجرت کرنا سوہانِ روح لگتا تھا۔ لیکن یہ ساری باتیں بیگم کو کون سمجھائے؟ انصاری اور بیگم کے درمیان اسی قسم کی نوک جھونک روز کا معمول تھی۔ لیکن کچھ عرصے سے بیگم کی باتوں کی کاٹ میں تیزی، اور انصاری کے دلائل کی شدت میں کمی آ گئی تھی۔ بیگم کو معلوم تھا کہ انصاری اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ ادھر انصاری بھی اپنی بیگم کا دکھ سمجھتے تھے، لیکن اس کا کوئی حل ان کے پاس نہیں تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ویسے بڑے میاں، تم بھی بڑی چیز ہو، مجھ سے تو ساری باتیں اگلوا لیں، خود صاف گول کر گئے کہ تمہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔‘ ڈیرل نے کہا۔ ’شکل سے عادی مجرم تو نظر نہیں آتے تم مجھے۔‘

 

انصاری نے ڈیرل کو اپنی کہانی سنانے کے لیے اپنے ذہن میں خیالات ترتیب دینا شروع کر دیے۔
’کوئی ایسی بڑی بات نہیں تھی۔ بس ذرا بیگم سے لڑائی ہو گئی۔ اوپر سے پولیس پہنچ گئی، اور اب میں تمہارے سامنے ہوں۔‘ انصاری نے ایک ہی سانس میں یہ کہہ کر گویا کوئی بوجھ اپنے سر سے اتارنے کی کوشش کی۔

 

’نہیں، نہیں، شروع سے سناؤ۔ فکر نہ کرو، میرے اور تمہ

 

ارے پاس بہت وقت ہے۔ کل اور پرسوں تو ویسے بھی چھٹی ہے۔ اگر تمہیں لینے کے لیے کوئی آیا تو پیر کے دن ہی آئے گا۔’
انصاری کو وقت کا خیال آیا۔ ان کی گھڑی پولیس والوں نے ضبط کر لی تھی اس لیے انہیں وقت کا اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے تخمینہ لگایا کہ ان کو ہتھ کڑیاں لگے کم از کم تین گھنٹے گزر گئے ہیں۔ ان کے ذہن میں وہ منظر گھومنے لگا جب پولیس والے نے پھرتی اور مہارت سے ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر انہیں کلک کی آواز کے ساتھ بند کر کے چابی جیب میں ڈال لی تھی۔ اس کے ساتھی نے اپنے بٹوے میں سے پیلے رنگ کا چھوٹا سا کارڈ نکالا اور اسے سیاہ فام امریکیوں کے مخصوص لہجے میں باآوازِ بلند پڑھنا شروع کر دیا تھا:

 

’تمہارے پاس خاموش رہنے کا اختیار ہے۔ تم جو کچھ کہو گے وہ تمہارے خلاف عدالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تمہیں اپنے وکیل سے بات کرنے کا اختیار ہے۔ اگر تم وکیل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو تمہیں سرکار کی طرف سے وکیل فراہم کیا جائے گا۔‘

 

انصاری سکتے کی حالت میں سنتے رہے۔ پولیس والے نے جب دوسری بار اپنی بات دہرائی ’تمہیں اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہے؟‘ انہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن خشک ہونٹ تھرا کر رہ گئے۔ انہوں نے سر ہلا دیا۔

 

یہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد پولیس والا انہیں شانے سے پکڑ کر قریب ہی کھڑی ہوئی پولیس کار کی طرف لے گیا اور پچھلی نشست پر انہیں بٹھا کر ساتھ خود بیٹھ گیا۔ کار کی چھت پر سرخ اور نیلی بتیاں جل بجھ رہی تھیں، البتہ سائرن بند تھا۔ گاڑی کی کھڑکیوں پر سیاہ آہنی جالی لگی ہوئی تھی۔ پچھلی سیٹ اور ڈرائیور والی سیٹ کے درمیان بھی باریک سلاخیں نصب تھیں۔ دوسرے پولیس والے نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔ انصاری کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی آنکھ اس ڈراؤنے خواب سے جلد ہی کھل جائے گی۔ پولیس کی گاڑی، دونوں پولیس والے، سڑک پر چلنے والی دوسری گاڑیاں انہیں غیر حقیقی معلوم ہو رہی تھیں۔ قریب سے سرخ رنگ کی کھلے چھت والی کار گزری۔ گاڑی میں دو لڑکیاں کسی بات پر بے تحاشا ہنس رہی تھیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی گھنگریالے بالوں والی ایک لڑکی کی نظریں ایک لمحے کو انصاری سے ملیں، تو انصاری نے گھبرا کر فوراً منھ دوسری طرف پھیر دیا۔ انہوں نے سوچا، کیا اس لڑکی کو معلوم ہو گا کہ انہیں کس قدر تحقیر کے عالم میں ایک انتہائی معمولی سی بات پر گھٹیا مجرموں کی طرح ہتھ کڑی لگا کر لے جایا جا رہا ہے؟ انہوں نے شکر کیا کہ گاڑی کا سائرن آن نہیں کیا گیا تھا ورنہ اور شرمندگی ہوتی۔ پولیس والے نے ہتھ کڑیاں اتنی کس کر باندھی تھیں کہ وہ بری طرح سے ان کی کلائیوں کی ہڈیوں میں چبھ رہی تھیں۔ دوسری طرف ہاتھ پشت پر کیے ہوئے سیٹ پر بیٹھنا الگ سے تکلیف دہ تھا، لیکن انہوں نے منھ سے ایک حرف نہیں نکالا اور خاموشی سے بیٹھے رہے۔

 

پولیس کی انصاری کو لیے ہوئے گاڑی کیپیٹل بیلٹ وے کے نیچے سے گزری، پھر الیگزینڈریا نیشنل قبرستان کے پاس سے ہوتی ہوئی کنگ سٹریٹ کے علاقے میں داخل ہوئی اور پھر ڈیوک سٹریٹ کے قریب سفید رنگ کی ایک عمارت کے قریب ایک جھٹکے سے جا رکی۔ عمارت کی پیشانی پر ’الیگزینڈریا نیبرہْڈ واچ‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ پولیس والے نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور منھ سے کچھ بولے بنا انہیں سر سے اشارہ کیا۔ انصاری بڑی مشکل سے گاڑی سے باہر اترے، کیوں کہ ہتھکڑیوں کی وجہ سے ہاتھ کا سہارا نہیں لے سکتے تھے۔ انہوں نے پولیس والے کے مشورے پر پہلے دونوں ٹانگیں باہر نکال کر زمین پر جمائیں، پھر باقی دھڑ گاڑی کی نشست سے بلند کیا، اس دوران وہ لڑکھڑا گئے، لیکن پولیس والے نے انہیں سہارا دے کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔ انصاری شروع ہی سے چھریرے بدن کے مالک تھے، لیکن پچھلے آٹھ دس سال میں ان کا وزن خاصا بڑھ گیا تھا۔ شروع میں تو انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، کیوں کہ ساری زندگی دبلے پتلے رہنے کی وجہ سے انہیں یقین سا ہو گیا تھا کہ کبھی موٹے نہیں ہو سکتے جب پتلونیں چھوٹی پڑ گئیں اور توند نکل آئی تب انہیں احساس ہوا، لیکن شاید اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیے انہوں نے “تن بہ تقدیر” کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے اس طرف توجہ دینا ہی چھوڑ دی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالات کا بھاری دروازہ پرشور طریقے سے کھلا اور ایک اہل کار ٹرالی گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ ٹرالی میں سفید پلاسٹک کی پلیٹیں تھیں، جن میں خانے بنے ہوئے تھے۔ اس نے ایک پلیٹ انصاری کو بھی تھما دی۔ پلیٹ میں ایک کچا کیلا اور المونیم کے ورق میں لپٹا ہوا سینڈوچ تھا۔ ڈیرل نے پلیٹ اپنے گھٹنوں پر رکھ دی اور ورق میں سے سینڈوچ نکال کر کھانے لگا۔ انصاری کا خیال تھا کہ وہ شاید کھانا نہیں کھا پائیں گے لیکن حیرت انگیز طور پر انہیں احساس ہوا کہ انہیں خاصی بھوک تھی۔ معلوم نہیں کس چیز کا سینڈوچ تھا، لیکن انصاری نے پروا کیے بغیر کھانا شروع کر دیا۔ ڈیرل نے بھی بہت رغبت سے اپنا کھانا ختم کیا اور پھر نیپکن سے منھ پونچھتے ہوئے انصاری کی طرف مڑا۔

 

’ہاں تو بڑے میاں، تم کہہ رہے تھے کہ بیوی سے لڑائی ہو گئی۔۔۔؟‘
انصاری اپنی کہانی سناتے رہے۔ اس دوران دو تین بار دروازہ کھلا اور یا تو کچھ لوگ اندر لائے گئے یا کچھ اندر سے باہر لے جائے گئے۔ ڈیرل نے آنکھیں بند کر کے سر جھکا لیا تھا، تاہم اس کے کان پوری طرح انصاری پر مرکوز تھے۔

 

’میں نے کہا نا کہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں تھی۔‘ انصاری انصاری ذاتی باتیں خود تک محدود رکھتے تھے۔ پاکستان میں بھی ان کے دوست بھی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ اور ان دوستوں کے ساتھ بھی کچھ زیادہ بے تکلفی نہیں تھی، اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے وہ تم کہہ کر مخاطب کرتے ہوں۔ لیکن آج وہ جس ذہنی صدمے سے گزرے تھے اس سے ان کی شخصیت کے گرد قائم مضبوط فصیل میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ نے فیصلہ کر لیا کہ ڈیرل کو تفصیل بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے، حالاں کہ اس سے ملے ہوئے ابھی شاید ایک گھنٹا بھی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہانی سنانا شروع کر دی۔

 

’آج صبح موسم بہت اچھا تھا۔ میں بیوی کو لے کر نکلا کہ باہر کسی ریستوران میں کھانا کھائیں گے، اور پھر دریا کے کنارے پارک میں بنچ پر بیٹھ کر سہ پہر گزاریں گے۔ لیکن ریستوران جاتے جاتے گاڑی ہی میں توتو میں میں ہو گئی۔‘
’رکو نہیں، بولتے جاؤ۔‘

 

میں نے ایک گاڑی کو اوورٹیک کرنے کی کوشش کی تو بیوی اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکی۔ کہنے لگی کہ تم نے گاڑی لہرا کر کیوں اوورٹیک کی ہے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ اگلی گاڑی میں ایک بوڑھی عورت تھی جو گاڑی کو مقررہ حد سے دس میل کم رفتار پر چلا رہی تھی، لیکن بیوی کا پارہ چڑھتا گیا، اور جو اس کے منھ میں آیا وہ کہتی گئی۔ حتیٰ کہ ریستوران کے قریب پہنچ کر ہم گاڑی سے اتر آئے، پھر بھی اس کے لعن طعن کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔‘

 

’تو تم طعنے سنتے رہتے، یہ تو دنیا کے ہر مرد کے نصیب میں لکھا ہوا ہے۔‘ ڈیرل نے دھیرے سے کہا۔

 

’میں بھی سنتا ہی رہا۔ پھر میں نے گاڑی پارک کرنے کے بعد دوسری طرف جا کر بیگم کو باہر نکلنے میں مدد دی۔ جب سے اس کے گھٹنے کا آپریشن ہوا تھا، اسے گاڑی میں بیٹھتے اترتے بہت دقت ہوتی تھی۔ لیکن وہ گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے بھی مسلسل بڑبڑاتی رہی۔ ’بڑھیا تھی وہ؟ کم بخت بڑھیا تھی؟ تم بھی عمر میں اس سے کم نہیں ہو، شاید دو چار سال زیادہ ہی ہو گے۔ لیکن گاڑی اس طرح چلاتے ہو جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلا رہے ہو۔‘
’بولتے جاؤ، میں سن رہا ہوں،‘ ڈیرل نے کہا۔

 

’میں نے اسے بہت کہا کہ بھول بھی جائے اس بات کو، جانے دے، لیکن وہ تو جیسے ہتھے ہی سے اکھڑ گئی تھی۔ بولتی گئی بولتی گئی۔’

 

’پھر؟‘ڈیرل نے آنکھیں موند کر دیوار سے سر ٹیکتے ہوئے پوچھا۔

 

’بس اس کے بعد اس نے گفتگو کا سلسلہ میری ڈرائیونگ کی طرف موڑ دیا۔ کہنے لگی کہ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ مجھے تمہاری تیز ڈرائیونگ سے خوف آتا ہے، لیکن تم نے کبھی میری بات سنی۔ زندگی بھر تم نے من مانی کی ہے۔ جو تمہارے دل میں آتا ہے تم وہی کرتے ہو۔ یہ کہتے کہتے اس کی آواز اونچی ہو گئی۔ دو تین لوگ گاڑیوں سے نکل رہے تھے، انہوں نے بھی گردنیں موڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا، لیکن بیوی کا قصیدہ جاری رہا۔‘
’ٹھیک ہے۔ آگے؟‘

 

’خیر یہاں تک تو کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن جب اس نے یہ کہا کہ سرمد کو بھی تم ہی نے زندگی کو رَیش طریقے سے گزارنے کی پٹی پڑھائی تھی اور تمہارے ہی نقشِ قدم پر چل کر وہ آج قبرستان میں منوں مٹی کے نیچے سو رہا ہے، تو میرا دماغ پھر گیا۔
’سرمد کون؟‘

 

’ہمارا بیٹا۔‘

 

’کہاں ہے وہ؟‘

 

’کیا بتاؤں۔‘ انصاری نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ ’فوت ہو گیا چار سال پہلے۔‘
’ارے؟‘ ڈیرل اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’کیسے؟‘

 

’بس کیا کہوں کیسے؟‘ انصاری نے کہا۔ ’پتا نہیں اسے کہاں سے موٹر سائیکلوں کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ اپنی ساری آمدنی موٹر سائیکلوں پر خرچ کرتا تھا۔ چھٹیوں میں دوستوں کے ساتھ نکل جاتا تھا اور جانے کہاں کہاں گھومتا رہتا تھا۔ ایک شام کو بارش ہو رہی تھی کہ اس کے دوست آ کر اسے ساتھ لے گئے۔ تین لڑکے تھے، اور ایک عورت۔ چمڑے کی جیکٹیں، چمڑے کی پتلونیں، اور چمڑے کے دستانے۔ بے ہنگم شکلیں، بڑی بڑی مونچھیں اور بے ترتیب داڑھیاں۔ میں نے منع بھی کیا لیکن اس نے کہا کہ بس گھنٹے بھر میں واپس آ جاؤں گا۔ گھنٹے سے پہلے ہی ہسپتال سے فون آ گیا۔‘

 

’اوہو، بہت افسوس ہوا۔ اور کوئی بچے؟‘
’اور کوئی نہیں۔‘

 

’اوہ۔‘ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی۔

 

’اچھا پھر پارکنگ لاٹ میں کیا ہوا؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالات کا دروازہ ایک بار پھر کھلا اور ایک سارجنٹ نے بلند آواز سے پکارا۔

 

’این سیری، این سیری۔‘ انہیں امریکہ میں اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ نام کے بعد بھی کچھ کہا گیا لیکن انصاری کو اس کی سمجھ نہیں آئی۔ وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ سارجنٹ نے اندر آ کر انہیں اور دو دوسرے قیدیوں کو پھر سے ہتھ کڑیاں لگا دیں اور پھر ہتھ کڑیاں ایک زنجیر کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک کر دیں۔ اب ان تینوں کی ہر حرکت ایک دوسرے کے تابع ہو گئی تھی۔پولیس والے نے تینوں کو لا کر عمارت سے باہر کھڑی وین میں بٹھا دیا۔ وین کے اندر آمنے سامنے سیٹیں تھیں۔ کھڑکیوں پر سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ شیشے سیاہ تھے جس کی وجہ سے باہر کا منظر دکھائی نہیں دے رہا تھا اور ویسے بھی اس وقت تک گہرا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ انصاری اور دونوں قیدی ایک طرف جب کہ سامنے والی سیٹ پر دو پولیس والے بیٹھ گئے۔ سفر خاصی دیر تک جاری رہا۔ انصاری نے گاڑی کی رفتار سے اندازہ لگایا کہ شاید وہ ہائی وے پر سفر کر رہے ہیں۔ پتا نہیں انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ انہوں نے پولیس والوں سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے صرف اتنا کہہ کر خاموش کرا دیا کہ ’خود پتا چل جائے گا۔‘
کم از کم دو گھنٹے کے سفر کے بعد انصاری کو ایک بار پھر لمبی چوڑی کاغذی کارروائی سے گزارنا پڑا۔ انگلیوں کے نشان، تصاویر، معلومات کا اندراج۔ تاہم ایک فرق یہ تھا کہ اب کی بار انہیں پلاسٹک کے بیگ میں کچھ سامان بھی تھما دیا گیا۔ ایک جوڑا، کپڑے، ہوائی چپل، ایک ننھا سا ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ کے تین چار چھوٹے چھوٹے پیکٹ اور ٹافی کے سائز کا چوکور صابن۔ یہ حوالات نہیں بلکہ باقاعدہ جیل تھی۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں ایک کمرا اور بستر بھی الاٹ کر دیے گئے۔ جیل کے داخلے سے پہلے تلاشی کے ایک بے حد ناخوش گوار بلکہ شرم ناک عمل سے گزرنا پڑا، جسے انصاری مرگِ مفاجات کے تحت چپ چاپ سہہ گئے۔ پھر ان کا میڈیکل ہوا، بیماریوں کی تفصیل پوچھی گئی۔ آخر میں انہیں ایک کمرے میں لا کر چھوڑ دیا گیا جہاں چھ بستر تھے، لیکن کمرے میں ایک ہی شخص موجود تھا۔ اس کی عمر بیس سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا جیسے کسی نے اسے تھپڑوں کا نشانہ بنایا ہو۔ وہ ویت نامی تھا اور اسے انگریزی نہ آنے کے برابر آتی تھی۔ چناں چہ اس کے ساتھ گفتگو ہیلو ہائے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ انصاری اپنے بستر پر لیٹ گئے اور سونے کی کوشش کرنے لگے۔ ساری رات دوسرے کمروں سے قہقہوں اور باتوں کی آوازیں آتی رہیں۔ انہیں لگا جیسے بار بار بلند آواز سے نعرے بلند کیے جا رہے ہوں، جس کے بعد تالیاں اور سیٹیاں بجائی جاتی تھیں۔ ایک بار تو قریب ہی کسی وارڈ میں ہنگامہ سا پھوٹ پڑا اور درجنوں لوگ بلند آواز سے ’اوباما، اوباما‘ کی گردان کرنے لگے۔ یہ ہنگامہ اس وقت اور زور پکڑ گیا جب غالباً کسی محافظ نے آ کر سخت لہجے میں گالیاں دے کر انہیں چپ کرانے کی کوشش کی۔ جواب میں گالیوں کا طوفان آیا اور ساتھ ہی ’اوباما، اوباما‘ کی گردان بھی جاری رہی۔ نہ جانے کب تک یہ ہلڑ بازی چلتی رہی۔ رات کے کسی پہر انصاری نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

 

اگلے دن ناشتے میں گتے کے کپ میں کڑوی کافی اور ساتھ دو توس ملے۔ بعد میں قیدیوں کو ورزش کے لیے لے جایا گیا۔ انصاری کے سر میں شدید درد تھا، لیکن دو بار محافظ سے درخواست کرنے پر بھی انہیں ڈسپرین یا ٹائیلینول نہ مل سکی۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں لیٹے رہے۔ اگلے سر کا درد تو رفع ہو گیا لیکن وہ کھانے اور ورزش کے اوقات کے علاوہ کمرے سے باہر نہیں نکلے اور اپنے بستر پر لیٹے رہے۔

 

پیر کی شام کو وہ ٹیلی ویڑن کے کمرے میں گئے تو کسی نے اچانک پیچھے سے ان کے کندھے پر دَھول مارا۔ مڑ کر دیکھا تو ڈیرل تھا۔

 

’ہے بڑے میاں، تمہارا خیال تھا کہ تم مجھ سے بچ نکلو گے۔ دیکھو کہاں آ کر پکڑ لیا میں نے تمہیں۔‘

 

’انصاری کو ایسا لگا جیسے ان کا کوئی پرانا بچھڑا ہوا عزیز مل گیا ہو۔
’ارے بھئی، تم یہاں کیسے؟‘

 

’بس دیکھ لو۔ یہ لوگ ہمیں ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتے، ادھر ادھر گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔‘
انصاری اور ڈیرل ایک طرف کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تک پولیس اور جیل کی انتظامیہ کو مغلظات سے نوازنے کے بعد ڈیرل نے کہا۔

 

’وہ تمہارا قصہ بیچ ہی رہ گیا تھا۔ تم کہہ رہے تھے کہ بیوی سے لڑائی ہو گئی۔ مگر کیسے؟‘
انصاری خود پورا واقعہ سنانے کے متمنی تھے اور انہیں کسی قدر کوفت ہوئی تھی جب انہیں اچانک بیچ میں اٹھا دیا گیا۔ ’اوہ ہاں۔ میں نے تمہیں کہاں تک بتایا تھا؟ جب میں بیگم کے ساتھ ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا؟‘

 

’ہاں، پھر کیا ہوا؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔

 

’میں نے ساری زندگی ایک ہی کام سیکھا تھا، اپنے جذبات پر قابو رکھنا۔ لیکن جب اس نے سرمد کا ذکر کیا اور اس کی موت کے لیے مجھے قصوروار ٹھہرانا چاہا تو مجھے پتا نہیں چلا کہ میرا ہاتھ گھوم گیا۔ دوسرے لمحے دیکھا تو وہ پارکنگ لاٹ کے فرش پر بیٹھی ہوئی زور زور سے چیخ رہی تھی۔‘

 

’ہوں۔ پھر؟‘

 

ہماری شادی کو چالیس سال ہو گئے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ لیکن پتا نہیں میرا دماغ بالکل سن ہو گیا تھا، مجھے یہ بھی خیال نہیں آیا کہ وہ بیمار اوربے حد لاغر تھی۔‘
’ہاں لیکن جو حالات تم بتا رہے ہو اس میں یہ بعید بھی نہیں۔ تو پھر پولیس کیسے پہنچی؟‘
’پتا نہیں۔ میں بیوی کو اٹھانے کے لیے نیچے جھکا تو دیکھا کہ ادھر ادھر سے چند لوگ قریب آ گئے ہیں، اور مدد کی پیش کش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نے فون ملا کر کسی سے بات کرنا شروع کر دی۔ میں نے بیوی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ میں نے کہا بھی کہ تماشا نہ بناؤ، لیکن اس نے میری بات نہیں سنی۔‘
’تو کیا ان سالوں میں سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا؟‘

 

’یہی ہوا ہو گا، کیوں کہ تین چار منٹ کے اندر اندر پولیس کار پہنچ گئی اور انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، مجھے پکڑ کر ہتھکڑی لگا دی۔ ‘

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

انصاری کوئی بہتر گھنٹے اس جیل میں رہے۔ اس دوران انہوں نے امریکی جیلوں کی زندگی کے بارے میں چھ بے حد اہم سبق سیکھے:

 

1۔جیل میں تمام لوگ معصوم ہوتے ہیں، انہیں کسی نہ کسی غلط فہمی یا کسی دشمن کی سازش، پولیس کی چال، نسل پرستی یا اس جیسے کسی اور ناکردہ گناہ کی سزا کے طور پر گرفتار کیا جاتا ہے۔
2۔جیل سے دو سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال: تم یہاں کس جرم میں بند ہو، اور پہلے کتنی بار جیل کاٹ چکے ہو؟
3۔جیل کے محافظ، جنہیں اصلاحی آفیسرز کہا جاتا ہے، دنیا کی سب سے گھٹیا، ذلیل اور قابلِ نفرت مخلوق ہیں۔ اور ان میں بھی خواتین اہل کار خاص طور پر بدتر ہیں۔
4۔جیل کے اندر جوا، منشیات، سود خوری، غرض ہر قسم کا کالا دھندا دھڑلے سے ہوتا ہے۔
5۔جیل میں ہر کوئی ہر کسی کو گالی دے کر مخاطب کرتا ہے۔ سب سے عام گالی نِگر ہے۔
6۔جیل کسی ناکارہ ٹائم مشین کی طرح کام کرتی ہے۔ یہاں گزارا ہوا ایک دن باہر کی زندگی کے ایک ہفتے کے برابر ہوتا ہے۔

 

اسی شام انصاری کو اطلاع ملی کہ ان کی ملاقات آئی ہے۔ وہ ملاقاتی کمرے میں گئے تو دیکھا کہ ریحانہ کرسی کا سہارا لیے مسکراتی ہوئی انہیں دیکھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی گرے کوٹ اور سکرٹ پہنے ایک دراز قامت سنہرے بالوں والی عورت ہاتھ میں فائل تھامے کھڑی تھی۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے انصاری سے ہاتھ ملایا۔

 

’میرا نام سلویا ہے۔ میں آپ کی وکیل ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اس قدر وقت یہاں گزارنا پڑا۔ لیکن ہم ہر صورت میں کل آپ کو عدالت میں پیش کر کے ضمانت حاصل کر لیں گے۔‘
انصاری نے بیگم کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن ان کے پتلے پتلے ہونٹ کپکپا کر رہ گئے۔ ان کے منھ سے صرف اسی قدر بات نکل سکی۔ ‘کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟‘

 

اسی دوران ایک محافظ نے آ کر ملاقات کا وقت ختم ہونے کی اطلاع دی۔ سلویا نے اپنی فائل میز سے اٹھا کر بغل میں دبا دی اور جاتے جاتے وکیل انصاری کو چند ہدایات دیں۔ انصاری خالی الذہنی کے عالم میں سنتے رہے۔ تاہم ایک بات پر وہ چونک گئے۔ سلویا کہہ رہی تھی۔
’ہر ممکن طریقے سے دوسروں سے الگ تھلگ رہیں۔ خاص طور پر کسی بھی ایسے شخص سے بات نہ کریں جو اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ ہمدرد بنا کر پیش کرے۔ دس میں سے نو ایسے لوگ مخبر ہوتے ہیں اور سگریٹ کی ایک ڈبیاکے عوض آپ کے راز پولیس تک پہنچانے میں ذرا بھر دریغ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں سے بچ کے رہیں کریں۔ آپ سمجھ گئے ہیں نا؟‘ وکیل نے انصاری کا تاثرات سے عاری چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

 

’بالکل، بالکل، مجھے کیا ضرورت پڑی ہے۔’ انصاری نے جلدی سے کہا اور دروازہ کھول کر محافظ کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔

 

یہ جیل کی زندگی کے بارے میں ان کا ساتواں اہم ترین سبق تھا۔
Categories
فکشن

پھر وہی کہانی

یہ روشن چہرے اور ہنستی آنکھوں والا نوجوان مرنے والوں میں سب سے عجیب تھا۔ یہ بس سکرین کے سامنے آیا تین دفعہ مسکرا کے پلکیں جھکائیں اور کنپٹی پہ پستول رکھ کہ گولی چلا دی۔ اب تک سینکڑوں لوگوں نے میری آنکھوں کہ سامنے جان دی تھی مگر اتنا خاموش تو کوئی بھی نہیں تھا۔ جب سے میں نے انٹرنیٹ پر لائیو خودکشی کے لئے ویب سائٹ بنائی تھی روز درجنوں لوگ براہ ۔ راست خودکشی کیا کرتے تھے۔ اب تو روزانہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ میری ویب سائیٹ پر آتے اور خودکشی کے براہ ِ راست مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ تو بہت چیختے چلاتے اور اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے اور مر کے اپنے تئیں معاشرے سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ کچھ کا انتقام تو محض اپنے چاہنے والوں تک محدود ہوتا تھا۔ کچھ بہادر لوگ تھے وہ نہایت کُھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور مر جاتے۔ ایک طبقہ ان دانشوروں کا تھا جو سکرین پہ آ کر زندگی کی بے ثباتی کا رونا روتے اور موت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے۔ مجھے یہ واعظ طبع لوگ انتہائی مکروہ لگتے تھے۔ یہ خود کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے تھے حالانکہ موت کے خوف سے ان کے چہرے کی سفیدی بڑھ جاتی ان کا گلا بار بار خشک ہو جاتا اور پستول اُٹھاتے وقت ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ بوڑھے بھی انتہائی خبیث ہوتے تھے جو اب زندگی کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لئے مر جاتے مگر مرنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو تلخ کرنے کی کوشش کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان سے اپنے ہی بچوں کی جوانی اور خوشی برداشت نہ ہوتی تھی یہ ٹھہر ٹھہر کر مرتے تھے جیسے یہ ٹھہر ٹھہر کر جیے تھے۔

 

مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ چرچ اسے مذہب کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتا تھا۔ وکلا اسے قانونی طور پر غلط سمجھتے تھے۔ سماجی کارکنوں کے حلقے میں میری ویب سائٹ اور میں دونوں ہی معتوب تھے۔ یہاں تک کہ میرا اپنا بیٹا یہ سمجھتا تھا کہ میں معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ وہ آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے انسان کا مسائل کا حل آرٹ میں ہے۔ آج کے انسان کو روحانی سکون کی ضرورت ہے جب کہ میں سمجھتا تھا کہ آج کے انسان کو مکمل آزادی کی ضرورت ہے۔ میں ایک مسیحا ہوں جو حقیقی معنوں میں روح کو آزاد کروا رہا ہوں۔ آپ لوگوں کی طرح میرے بیٹے کو بھی لگتا تھا کہ اس کہانی کا منطقی انجام یہی ہونا ہے کہ ایک دن مُردہ دل کے ساتھ میں اسی ویب سائٹ پر بیٹھ کر اپنی موت کی خبر سناوں گا۔ پر یقین جانئے کہ اس کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا میں ایک سیدھا سادھا کاروباری آدمی ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی میں خبط ۔عظمت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔

 

بالاخر تنگ نظروں سے انسانوں کی یہ آزادی برداشت نہ ہوئی انہوں نے میری ویب سائٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ میں خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہوں اور میری ویب سائٹ معاشرے کے لئے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ میں عدالت میں ہونے والی تما م جرح پر بس مسکراتا رہتا ہوں۔ عدالت میرے خلاف فیصلہ سنانے والی تھی کہ میں نے (معزز) عدالت کے سامنے تجویز رکھ دی کہ اگر عدالت چاہے تو میں اپنی ویب سائٹ میٰں ایسی تبدیلی کر لیتا ہوں کہ دیکھنے والوں میں سے اگر کوئی خودکشی کرنے والے سے بات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ سوشل ورکر اور مذہبی ٹھیکدار اگر چاہئیں تو اُسے جینے کے لئے قائل کر سکتے ہیں۔ میں اپنی عیاری کے سبب عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایسا کرنے سے خودکشی کے اعداد و شمار میں بے پناہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ میری اس تجویز پر پادری کی ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی اس کا موٹا پیٹ ہلکورے کھا رہا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ موت کے اس کھیل کو مذہب کے چھتری کے ذریعے وہ اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

 

میری یہ تجویز میرے حق میں ہی رہی اب بہت سارے خدائی خدمت گار بھی میری ویب سائٹ پر آنے لگے اور چکنی چُپڑی باتوں سے دوبارہ زندگی کے سبز خواب دکھانے لگے۔ لیکن اب یہ بھی ہوا کہ بہت سے شوقیہ فنکار بھی خودکشی کا ڈرامہ کرتے ،مرنا کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔ موت کے حقیقی شائق آہستہ آہستہ کم ہونے لگے اور میری ویب سائٹ صرف بھانڈوں کی اماج گاہ بن کر رہ گئی۔ مجھے یقینا اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ میں نے راہ ڈھونڈ لی ہے اب خودکشی کرنے والوں کو صرف ان لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا جو پہلے سے ہی میرے تیار کردہ تھے اور یہ ہر گز موت سے نا روکتے بلکہ موت کی ترویج کرتے تھے۔ میرا یہ طریقہ کامیاب رہا اور پہلے کی طرح مجھے کامیابیاں نصیب ہونے لگیں۔ موت لمحہ بہ لمحہ زیادہ تیزی سے زندگی پہ جھپٹنے لگی یہاں تک کہ ایک ایسا نوجوان آیا جو ایک آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کہ وہ اپنے باپ سے کتنی محبت کرتا ہے اور وہ یہ سکول اپنے باپ کے لئے ہی تو کھولنا چاہتا تھا جس کی روح نہ جانے کہاں قید ہو گئی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس سے رابطہ کر سکوں لیکن میرے تیار کردہ افراد اُسے مسلسل موت پر اُکسا رہے تھے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ گولی کی آواز کسی بھی لمحے مجھ تک پہنچ سکتی تھی۔

 

رات کسی بھی لمحہ ختم ہونے والی تھی میرے سامنے میری ویب سائٹ کُھلی ہوئی تھی۔ آج کے دن ایک کم ہزار لوگوں نے خود کُشی کی تھی۔ میں اندر سے بالکل خالی ہوں میرے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ پر میں اس کے نام کا آرٹ سکول نہیں بنا سکتا۔ میں نے ٹیبل کا دراز کھول لیا ہے ۔ میں سچ میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے اپنا وہ دوست بھی بہت یاد آ رہا ہے جو ہمیشہ ایک ہی کہانی سناتا تھا۔

Image: Alvaro Tapia Hidalgo

Categories
فکشن

بھگوڑا

با لآخر یونس بھاگنے پر تیار ہوگیا۔ اس بارے سوچتے،ارادہ بناتےتو اسے ہفتوں ہو چلے تھے مگر آخری گرہیں جوڑتے رسیاں دھاگوں سی صورت بنا لیتیں اورکئی سوال اس کے آگے اندھےغار کی طرح منہ کھول کر کھڑے ہوجاتے اور وہ پیٹھ پھیرلیتا۔ سوال تو اب بھی منہ پھاڑے ہوئے تھے۔ کسی ایک کو بھی بند نہیں کر پایا تھااور کرے بھی کیسے؟ افلاس میں گھرا گھر، بوڑھے ماں باپ،ضروریات کے اسیر بیوی بچے، ہمیشہ خالی رہنے والی جیب۔ اگر چند ٹیوشنیں حاصل نہ ہوتیں تو پرائیویٹ اسکول کی معمولی تنخواہ سے پیٹ بھی بھر نہ پاتے۔ کچھ مدد حکمت بھی کردیتی جو اس کے والد ساری عمر کرتے رہے۔ مگر اب ماہ میں دو چار مریض ہی حکیم محمد صالح کے ہاتھ لگتے جس سے چند سو ہاتھ آجاتے۔ صورت یہ تھی کہ کسی عید پر بچوں کے کپڑے بن جاتے، کسی پر دھلے ہوتے۔ اچھا یہ تھا کہ اسکول مالک کی مہربانی سے تینوں بچے پڑھ رہے تھے۔ نہیں تو پیلااسکول تو تھا ہی۔ اور چوتھا بچہ ابھی چھوٹا ہی تھا۔ پر سوالوں میں اس کا بھی شمار ہوتا تھا۔ مگر شگفتہ کا ان سوالوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف ایم یونس کو جانتی تھی۔ یہ شگفتہ کون ہے؟ وہی جویونس کو بھگا کر لے جارہی ہے۔ اس بھاگنے کے پیچھے سب کچھ اسی کا تھا۔ اس کا ہاتھ، اسی کا پیسہ، اسی کا منصوبہ۔ حتیٰ کہ ہمت بھی اس کی تھی۔ یونس کے پاس تو صرف سوال ہی تھے۔ ایک اور بات بھی ہے۔ یونس سے رابطہ کی مضبوطی اور تعلق جسے آپ محبت کہیں، وہ بھی شگفتہ کے سر تھی۔ ذریعہ بنا فیس بک۔ سوالوں کے ساتھ یونس کے پاس صورت بھی تھی۔ فیس بک پر اس کی تعارفی تصویرمتوجہ کیے بنا نہیں چھوڑتی تھی۔ شگفتہ بھی متوجہ ہوئی۔ اورہوکے ہی رہ گئی۔ کنڈا اٹک جائے تو رہائی کہاں ملتی ہے اور رہائی چاہتا کون ہے؟ فیس بک پر وقت گذاری کرتے ایک گروپ میں شگفتہ شامل ہوئی تو یونس اس گروپ کے دلچسپ ہونے کا ایک سبب تھا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا وہاں مستی مزاح اپنا اثر ظاہر کرتی۔ وہ سنجیدہ بات کوبھی مزاحیہ رنگ دیتااور پھر دوسروں کے کمنٹس کو جس طرح ذو معنی بنا کر اپنا مطلب بیان کرتا، وہاں پھلجھڑیاں اڑنے لگتیں اور بس کمنٹس کے دھیڑ لگے رہتے۔ شگفتہ اس پوسٹ سے چپک کر رہ جاتی۔ وہ ایم یونس کے نام سے بنی آئی ڈی کی ہر پوسٹ،ہر کمنٹ لائک کرتی رہتی۔ کالج سے گھر پہنچتے ہی اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دوڑ لگاتی اور فیس بک سے جڑ کر بیٹھ جاتی۔ کیونکہ یونس دو پہر کو ایک سے ڈیڑہ گھنٹاہی گروپ میں نظر آتاتھا۔ وہ توبعدمیں شگفتہ کو پتہ چلا یونس اپنے اسکول کے کمپیوٹر پر چھٹی کے بعد چار بجے تک آفیس میں فیس بک چلا لیتا ہے۔یہ وہی چار بجے تھے جس دوران شگفتہ اپنے بیڈ پر یونس کے کمنٹ پڑھتی اور ہنس ہنس کر دُہری ہوتی رہتی۔ گھر میں ماموں مشتاق ہوتے تو وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبائے بغیر آواز ہنسی سے ہلتی رہتی۔ کیونکہ اگر وہ اس کی ہنسی کی آواز سن لیتے تو پھر اپنے درس سمیت آجائے۔ نصیحت چلنا شروع کردیتی۔ ہنسنے کی قباحتیں،نیک لوگوں کے طور اطوار، شریف گھرانوں کا چلن، انٹرنیٹ کی بیہودگی۔یہ سب کچھ سننا پڑجاتا۔ اثر تو وہ خاک لیتی پرسر جھکائےمجرم بنے سننا آسان تو نہیں نا۔ کبھی کبھی اماں کو رحم آتا تو آکر آزادی دلادیتیں اورکبھی ماموں کے ساتھ مل کر ناصح بن جاتیں۔بھلا وہ بھی کریں کیا؟ شوہر عرب ریاست میں کام کرتے تھے۔ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کے لیے آتے۔ ساری ذمہ داری وہی محسوس کرتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا،جو آخر میں تھا۔ ان کی تعلیم تربیت، گھر کو سنبھالنا۔ اگر ماموں مشتاق ساتھ نہ رہتے تو وہ کہاں نبھا پاتیں۔ یہ ماموں مشتاق تھے تو اماں کے بھائی پر بچوں نے اماں کی عادت بھی ماموں کہنے پر بنا دی تھی۔عرصہ آٹھ سال سے انہی کے ہاں رہتے تھے۔ قریب کی مارکیٹ میں فوٹو اسٹیٹ مشینیں ڈالی ہوئی تھیں۔ کمپوزنگ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا اچھا گذارہ ہوجاتا۔ ابھی چھڑے بھی تو تھے۔ اوپر سے ابا بھی بلا ناغہ ان کے لیے اماں کو تاکیدی پیسے بھجواتے۔ ویسے تاکید کی ضرورت تھی تو نہیں پر ابا کی طبیعت۔اور تاکید وہ بچوں کے لیے کرتے”انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو”کمی وہ کیوں محسوس کرتے؟۔ گھر میں ہر چیزکی زیادتی تھی لیکن ایک کمی تھی اور وہ تھے ابا۔ مگر وہ ابا کے بھی بس میں نہ تھی۔ سال بعد ابا گھر آتے تو گھر میں سیلاب آجاتا۔ کپڑوں لتوں کا، جیولری کا، پرفیومز کا، سینڈلز کا، عادل کے لیے کھلونوں کا اور سب سے زیادہ خوشیوں کا۔ کبھی تاش چل رہی ہے، کبھی کیرم بورڈ سجا ہوا ہے،کبھی لڈو کھیلا جا رہا ہے، ٹی وی ہے کہ سارادن چلائی جا رہی ہے، موسیقی کے آواز سے گھر کے در و دیوار بجے جا رہے ہیں،ہنسی مذاق قہقہے تھمنے کو نہیں۔ بس ماموں مشتاق بیٹھے پیچ وتاب کھارہے ہیں۔

 

“سلیم بھائی خود انہیں بگاڑ رہے ہیں۔ ہر وقت ہنسی، ٹھٹھا، ٹی وی پر ہندوستانی ڈرامے چل رہے ہیں، فلمیں دیکھی جارہی ہیں، کیا سیکھیں گے؟ بھجن پوجا پاٹ؟ ہندوانہ طور اطوار گھر میں گھسے آرہے ہیں اور۔بھائی صاحب کوئی فکر ہی نہیں۔”

 

“چھوڑو ماموں۔ اب کچھ دن کے لیے تو آئے ہیں سلیم۔بچوں کو خوش ہولینے دو۔”اماں کی بات ماموں کو کہاں چپ کروا سکتیں۔کبھی تو وہ ابا سے بول بیٹھتے
“سلیم بھائی ہر وقت بچوں کا ڈرامے فلمیں دیکھنا اور ہنسی مذاق ان کے اوپر اچھا اثر نہیں ڈالے گا” ابا جوابامسکرا دیتے۔اب بھلا مسکراہٹ کے جواب میں کیا بولا جائے؟ ابا جوں ہی ابو ظہبی روانہ ہوتے وہ سب پژمردہ ہوجاتے۔ جیسے کسی نے کھلونوں میں سے بیٹری نکال دی ہو۔ شگفتہ اور اس کی بڑی بہن مریم کے لیے لمحے اکتاہٹ سے بھر جاتے۔ چھوٹا عادل بھی بھلنے تک چند دن لے لیتا۔ اور اماں تو بولائی بولائی پھرتی۔باقی ماموں مشتاق بااختیار ہوجاتے۔ تاش بند، کیرم بورڈ اسٹورروم میں پہنچ جاتا اور ٹی وی ماموں کے زیر انتظام دیکھی جانے لگتی۔ بلند آواز میں میوزک کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ جس نے سننا ہے وہ کانوں پر ہیڈفون لگا کر سنتا رہے۔ اسی طرح زندگی بے رنگ کٹ رہی تھی کہ شگفتہ نے فیس بک تک رسائی حاصل کرلی۔ کالج سے فیس بک کا سن اور سیکھ آئی۔ اکاؤنٹ بنے۔ گھر میں ایک ہی لیپ ٹاپ تھا جو اکثر عادل کے گیموں کا ذریعہ تھا۔ اب وقت مقرر ہوئے۔ عادل کا، مریم کا، شگفتہ کا، دو دو گھنٹے۔ اور پھر شگفتہ ایم یونس کی ہر پوسٹ اور ہر کمنٹ کو لائک کرتی جاتی۔اس نے کمنٹ کرنا شروع کیا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا، ضرور گھستی۔ کچھ دنوں میں گروپ ممبرز نے اسے قبول کیا۔ اس کی کمنٹس کو داد اور جواب ملنے لگے۔ وہ جانی پہچانی جانے لگی مگر یونس نے اسے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ نہ وہ اس کی پوسٹ پر آتا اور نہ ہی اس کے کسی کمنٹ کا جواب دیتا۔ کچھ مرتبہ تو شگفتہ نے سے ٹیگ تک کیا مگر جواب ندارد۔ شگفتہ نے خود کو غیر اہم ہوتے محسوس کیا۔ جیسے اس کا ہونا نہ ہونا ہو۔

 

“آئندہ میں کبھی فیس بک پر ہی نہ جاؤں گی”اس نے اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کیا اورلیپ ٹاپ عادل کو دے کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔ آدھا گھنٹہ گذرنے سے پہلے وہ دوبارہ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کر چکی تھی۔”میں اس لعنتی کی وجہ سے فیس بک کیوں چھوڑوں؟ میں اس گروپ میں نہیں جاؤں گی بس۔”اس نے خود سے وعدہ کیا۔اسی شام وہ دوسرے ممبرز کی پوسٹس پڑھتے ہوئے یونس کے کمنٹ نظر انداز کیے جارہی تھی۔ اگلے دن کالج سے جلد واپسی کی اور ” لعنتی “کا ہر کمنٹ پڑھ کر لائک کیے دو بجے کا انتظار کر رہی تھی۔دو بجنے سے تھوڑی دیر بعد شگفتہ نے یونس کو گروپ میں کمنٹ کرے ہوئے دیکھتے ان باکس کیا۔

 

“سلام”
“وسلام بہن” وقفے کے بعد جواب نظر آیا۔
“مجھے بہن کہنے والے اور والیاں دونوں ہیں۔یہ لفظ آپ اپنے پاس سنبھال رکھیں۔”
“سوری میں معذرت چاہتا ہوں۔”
“چاہیں”
“جی میں سمجھا نہیں”
“یہ بھی ایک مسئلہ ہے”
“کیا؟”
“چلیں چھوڑیں، ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”
“جی پوچھیں؟”
“آپ بزی تو نہیں؟”
“نہیں نہیں”
“ایزی ہیں؟”
“جی ہاں”
“مائنڈ تو نہیں کریں گے؟”
“نہیں۔”
“آپ لاٹ صاحب کو جانتے ہیں؟”
“نہیں تو”
“لاٹ صاحب سے کوئی رشتہ داری ؟”
“بالکل نہیں”
“پھر یہ بتائیں میں نے آپ کی پوسٹس پر جاکر کمنٹ کیے۔ آپ کو ٹیگ کرکے متوجہ کیا، اپنی پوسٹ لگا کر دوسروں کے ساتھ آپ کو بھی کمنٹ کرنے کو کہا۔ مگر آپ کا کوئی رسپانس ہی نہیں۔میں نے سوچا لاٹ صاحب نہیں تو اس کے رشتہ دار تو ضرور ہوں گے۔”
“میں معافی چاہتا ہوں۔” اس سے آگے کچھ سجھائی ہی نہیں دیا ہوگا۔

 

“میرا نام شگفتہ سلیم ہے،سلیم میرے والد کا نام ہے، بی اے فائنل میں پڑھتی ہوں۔ شہر کا نام فی الحال نہیں بتا رہی۔اوکے؟”

 

“جی بہتر”

 

” تصویر بھی بھیج دوں؟”

 

“نہیں پلیز۔”

 

“ابھی وہ اتنا لکھ پایا تھا کہ ان باکس میں تصویر آ پہنچی۔

 

“اس پکچر کو کسی اور تک نہیں پہنچنا چاہیے۔”

 

“نہیں پہنچے گی، اعتماد کا شکریہ۔” ایم یونس نے جواب لکھا۔بھلا بیچارا اور کیا لکھتا۔ بس اسی طرح ابتدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ آٹھ ماہ کے بعد کی کہانی اولین سطریں بیان کر چکی ہیں۔ان آٹھ ماہ کی کچھ اور باتیں بھی سن لیں۔ آپ کو اندازہ تو ہوگا نا کہ محبت کس طرح بندے کو اس کے ماحول اور مسائل سے الگ کردیتی ہے۔ بس وہی ہوا۔ فون پر ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں اور ساری کی ساری اچھی اچھی۔ دماغ تک کچھ غلط سوچ نہیں سکتا۔ ویسے اگر آپسی تعلق چھے ماہ کے اوپر کا عرصہ نکال لیتا ہے تو یقین کرلیں کہ کچھ نہ کچھ اس میں ہوتا ہے۔ تو آٹھ ماہ میں باتوں کے ڈھیڑ، لاتعداد وعدے اور تین عدد ملاقاتیں بمع تحائف۔ تینوں کے تینوں شگفتہ کی طرف سے دیے گئے۔ خیر دیا تو کرایہ بھی گیا تھا۔ تینوں مرتبہ بس بمع رکشہ۔ اورتحائف کیا تھے؟ ٹچ اسکرین موبائل، لیپ ٹاپ اور پرفیوم۔ تینوں کی خریداری دونوں نے کٹھی کی تھی۔ یونس اپنے چھوٹے سے شہر سے چل کر بڑے شہر پہنچتا۔ شگفتہ کالج چھوڑ آتی۔ دونوں پہلے پارک میں بیٹھتے اور پھر میٹرو اسٹور کا رخ کرتے۔ وہیں سے یہ تینوں چیزیں خریدی گئیں تھیں۔ تو بس آٹھ ماہ کا حاصل یہی تھا اور یہ بھی کہ یونس بھاگنے کے لیے تیار تھا۔ اب بھاگا کیسے جائے؟ یہ سوال دونوں کے لیے نیا تھا۔پوچھتے تو کس سے؟بس دونوں نے اندازہ کیا۔ یونس نے کچھ معلومات لیں۔ اپنے کسی کلاس فیلو کے وکیل بھائی تک رسائی کی۔ ہدیہ مبلغ دس ہزار عوضانے سے وکیل صاحب نے کورٹ میں ان کے نکاح کی کارروائی مکمل کروادی۔ ویسے تو گاؤں چھوٹے شہروں کے لوگ اپنے تعلق ناتوں سے بغیر کسی پیسے کے ایک دوجے کے کام کردیتے ہیں لیکن وکیل تو وکیل ہوتا ہے۔باقی بچے دو لاکھ اڑتیس ہزار روپے۔ انہی پیسوں میں سے جو شگفتہ اپنے ساتھ لائی تھی۔ ساتھ میں کوئی دس بارہ تولے سونا بھی تھا۔ شادی تو ہوگئی اب کہاں جائیں؟ یہ بات طے کرنے سے رہ گئی تھی۔ شگفتہ کو تو کوئی پریشانی ہی نہیں تھی۔ وہ تو کہے جارہی تھی کہیں بھی رہ لیں گے۔ اب “کہیں “یونس کہاں سے لائے۔اب تک تو جو بھی مراحل تھے وہ شگفتہ نے طے کروائے تھے مگر اب اسے بھی کچھ کرنا تھا۔ اس نے اپنے شہر کے رخ کرنے کا ارادہ کیا۔ دوران سفر وہ اسے تسلیاں دینے آئی۔ وہی پہلے والی۔

 

“کچھ بھی نہیں ہوگا۔پریشانی کی کیا بات ہے؟”

 

“ابا مجھے ایک لفظ بھی نہیں کہتے چاہے میں کچھ بھی کرلوں”۔

 

“اصل میں امی نہیں مانتی اور میں نے تمہارے بارے میں جب سے انہیں بتایا ہے انہوں نے رشتہ بھی کردیا ہے۔ بس ابو کےآنے کاانتظار ہے”شہر پہنچے یونس کے دوست کے تعلق دار کے خالی فلیٹ میں ٹھہر گئے۔ ایک دن، دودن، تین دن۔ فلیٹ سے نکلے ہی نہیں۔فون آتے رہے۔ یونس نے گھر بتادیا کہ دوستوں ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ دو تین دن میں آؤں گا۔ شگفتہ کیا بتاتی اور وہاں گھر میں تو سب کو پتہ چل گیا تھا۔ تیسرے دن ابو کا میسیج آیا۔

 

“یہ بھاگنے کی کیا تک ہے بھائی۔بے وقوف ہو تم۔گھر واپس آ جاؤ”شگفتہ کو میسیج پڑھتے رونا آگیا۔

 

“ابو ہم آرہے ہیں”

 

“اچھا ہے۔ “اور پیسے زیور کی بات تک نہ کی۔حالانکہ وہ سب کا سب واپس جارہا تھا۔ بس وکیل کی فیس کے علاوہ چند ہزار اور کم ہوئے تھے۔ شگفتہ گھر اکیلے جانا چاہتی تھی مگر یونس ماننے پر آمادہ ہی نہیں۔

 

” میں تمہیں گھر پہنچا کر واپس چلا جاؤں گا۔ “عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔ شگفتہ کے لیے ماں کی طرف سے دوہتڑ اور ادھر یونس کو دھکیل کر دیوار سے ٹکرایا گیا تھا۔ ساتھ میں کچھ تھپڑ، پھٹا گریبان، ننگی گالیاں۔ یہ کاروائی ماموں، شگفتہ کے ابو کے بڑے بھائی، شگفتہ کے خالو اور ان کے فرزند، جو شگفتہ کے متوقع منگیتر تھے،کی طرف سے عمل میں لائی گئی۔ اس دوران شگفتہ کے ابو چپ چاپ کرسی پر بیٹھے تھے۔جب کارروائی ٹھنڈی پڑتی محسوس کی تو اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ہوگیا بس ہوگیا۔اب آپ لوگ جائیں باقی میں دیکھ لوں گا۔ انھوں نے بلند آواز اور بلند ہاتھ کر کے دو تین بار بولا۔یہ سن کر مزید چلم چلی ہوئی۔کچھ اور تھپڑ گالیوں کے ساتھ پڑے۔

 

“میں آپ لوگوں کو بعد میں بلاؤں گا۔ فی الوقت آپ چلے جائیں۔”قہر برساتی آنکھیں، خطرناک دھمکیاں دیتی زبانوں اور پٹختے پاؤں کے ساتھ وہ لوگ جانے لگے اسی اثنا میں ابو نے متوقع منگیتر کا ہاتھ بھی پکڑا تھا۔

 

“بیٹا تمہارے ابو نے مارلیا ہے نا۔ فی الحال وہ کافی ہے۔ باقی بعد میں۔ شاباش۔”ابو نے سب کو چلتا کرکے گھر کا گیٹ بند کیااورواپس اپنے کمرے میں آئے۔کمرے کے فرش پر یونس اپنی بدحالی کے ساتھ موجودتھا۔

 

“ارے میاں یوں زمین پر تو نا بیٹھو۔”ابو نے یونس کا بازو پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے کہا۔

 

“اور ماموں تم ایسے ہی کھڑے ہو۔جاؤ میاں جا کر پانی لے آؤ۔”یہ کہہ کر ذرا رکے اور پھر ماموں کو اور حکم کیا

 

“نہیں پانی لانے سے پہلے اپنی بہن کو لے آؤ۔”ماموں کیا اپنی بہن کو بلا لائے بس کمرے میں بگولا گھس آیا۔

 

“کمینے، بےشرم،بے غیرت۔تجھے اور کوئی نہیں ملا ؟ لعنت ہو تمہارے ماں باپ پر جنہوں نے ایسابے غیرت پیدا کیا ہے۔ ہماری عزت مٹی میں ملاکر ہمارے گھر آکر یوں صوفے پربن ٹھن آ بیٹھا ہے۔ بے حیا۔ وےمشتاق ان سے تو کچھ ہونے سے رہا۔پر تو یوں کھڑا ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔ اس حرامی کو ایک ہاتھ بھی نہیں مارا جاتا تجھ سے؟” ماموں غصے سے میں یونس کی طرف بڑھے۔ابا جب تک بڑھ کر روکیں تب یونس نے منہ میں نمکین ذائقہ محسوس کیا۔

 

“کیڑے پڑیں تجھے، قبر بھی نصیب نہ ہو، تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔”

 

“بیگم ایسا نہ کہو اور یہ اپنے ماموں نہیں کہتےکہ زور زور سے بولنا شریفوں کو زیب نہیں دیتا۔ جاؤماموں اپنی بہن کو لے جاؤ۔ بلڈپریشر والی دوائی کھلا اور پانی وانی پلا۔ پھر یہاں پانی لے آنا۔”

 

“پانی کیوں ؟اسے روح افزا پلا روح افزا۔”اماں چلانے لگیں تو ابا خود سے پانی لے آئے۔

 

“یہ پانی پی لو بیٹا۔کہیں چوٹ ووٹ تو نہیں لگ گئی؟ لگی ہے۔ اچھا۔سر میں۔ ہاں وہ دیوار سے ٹکر ہوگئی نا۔ اس میں لگ گئی ہوگی۔۔اٹھواٹھو۔ شاباس بیڈ پر لیٹ جاؤ۔سفر کی بھی تھکن ہوگی۔ ارے بھائی جوان بنو۔اٹھو۔بیڈ پر لیٹ جاؤ۔ایک تکیہ کافی ہے؟ اچھا۔ دوسرے کی ضرورت ہو تو وہ بھی لے آؤں؟ نہیں؟ ٹھیک ہے۔ بیٹا دل میں نہ کرنا۔ زینت دل کی بری نہیں۔ زینت یہ شگفتہ کی ماں۔ بس اسے بھی تکلیف ہوئی ہوگی۔ تو اس لیے میں نے روکنا ٹھیک نہیں سمجھا۔ اور باقی میرے بڑے بھائی اور دوسرے تھے شگفتہ کے خالو۔ان لوگوں کا شگفتہ سے رشتے کا خیال تھا۔ بس سمجھو کہ ہم بھی راضی تھے۔ تواس بات سے انہیں دکھ ہوا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے تمہارے ساتھ یہ تھوڑا غلط کردیا۔ اصل میں غلطی میری ہے میں شگفتہ کو کہہ دیتا کہ وہ فی الحال تمہیں ساتھ نہ لائے۔ معاف کردینا بیٹا۔ لیکن یہ بھی ہےاچھا ہوا جو تم آگئے۔ سب کا غصہ بھی ہلکا ہوگیا نا۔ تم ٹھیک تو ہونا۔بول ہی نہیں رہے؟”

 

“سر میں درد ہورہا ہے۔” یونس کے الفاظ اور آنسو ساتھ نکلے۔

 

“ارے ارے۔ رو مت بیٹا۔ شاباس شاباس۔ میں ابھی گولی لے آتا ہوں۔ گولی کھالو۔ شاباش۔ اب میری گود میں سر رکھ کر لیٹ جاؤ۔ لیٹ جاؤ ہاں ٹھیک ہے۔ تم بڑے اچھے لڑکے ہو۔ بڑے پیارے۔ تمہارے ساتھ واقعی زیادتی ہوگئی۔ لیکن کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے بیٹے۔ ہر ایک اپنے دکھ کے آگے مجبور ہوتا ہے اس لیے انہوں نے تمہارےاوپر ہاتھ اٹھا ڈالا۔ رؤو مت۔ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔سر زیادہ درد کر رہا ہے؟ اچھا یہ گولی تھوڑی دیر میں اثر کر لے گی۔ تم ٹھیک ہوجاؤگے۔آیوڈیکس کے مالش بھی بڑا فائدہ دیتی ہے۔میں آیو ڈیکس لے آتا ہوں۔ دیکھو بیٹا اگر مجھے شگفتہ بتا دیتی تو اس تکلیف کی نوبت ہی نہیں آتی۔ میں خود دھوم دھام سے تمہاری شادی کرواتا لیکن کوئی بات نہیں۔ تم کل پرسوں ہی اپنے والدین کو لے آؤ۔رسم دنیا ہے۔تو تمہاری رخصتی کردیتے ہیں۔بڑی دھوم دھام سے۔ہم بھی خوش ہو جائیں گے لوگ بھی خوش۔یہ ضروری تو نہیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ ایسے کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک بار تم لوگوں نے اپنی مرضی سے ایک بار ہمارے مرضی سے۔ہاں؟ کیسے؟ ٹھیک ہے نا؟ تمہاری پہلے شادی ہے؟ نہیں نہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ واقعی پانچ بچے؟ سچ میں؟ تم نے مشکل بنا دیا۔ مسئلہ تو مشکل ہو گیا۔ ایسے تو شگفتہ کی ماں اور رشتے دار بالکل بھی نہیں مانیں گی۔ تمہاری غلطی نہیں ہے بیٹا۔ تم معافی نہ مانگو۔ اٹھو نہیں۔ اٹھو نہیں۔ لیٹے رہو۔ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ اب درد کچھ کم ہوا ہے؟ ہوجائے گا۔ ہوجائے گا۔ مالش ہو رہی ہے نا۔تو جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن بات مشکل ہوگئی۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ رواج ہی نہیں ہے۔ کیا کریں؟ تم نے شگفتہ کو بتایا ہوا ہے؟ اچھا پھر اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟ بس بھئی پھر تو بات ہی ختم۔ اصل فیصلہ تم دونوں کا ہے۔ تم دونوں راضی ہو تو دنیا کو بھی راضی ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی عادت نہیں ہے۔ خیر ہوجائے گی۔ مگر اس بات کا کیا کریں۔ مجھے حل سمجھ نہیں آرہا۔ دیکھو بیٹا۔ اب توایک بات ہی ہوسکتی ہے۔تم دونوں ایک بار پھر بھاگ جاؤ اور کوئی راستہ نہیں۔ آج رات تم دونوں نکل جاؤ۔ میں یہیں ہوں۔ سب سنبھال لوں گا۔ فکر نہ کرو۔ میں بالکل خوشی سے کہہ رہا ہوں۔تم دونوں کی خوشی کی بات ہے۔ ارے ارے اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ یوں نہ کرو بیٹا۔ اچھا نہیں لگتا۔ میرے پاؤں چھوڑدو شاباس۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کوئی فکر نہ رکھو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہیں لیٹے رہو۔ ابھی تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ میں سر دباتا ہوں۔ سوجاؤ شاباس سوجاؤ۔ تم نے آدھی رات کو نکلنا بھی ہے۔ ” پھر دھیرے دھیرے یونس سو گیا۔ پھر اٹھا۔پتا نہیں کس وقت؟ ابا رات گئے کمرے میں اسے اٹھانے گئے تو وہ پھر بھاگ نکلا تھا۔اکیلا۔

Image:JOEY GUIDONE

Categories
فکشن

قبریں اور دیگر کہانیاں

youth-yell

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
قبریں
قبرستان میں بھی کتنی تفریق ہے،
امیر لوگوں کی قبریں،
عالیشان قبریں۔
کسی قبر کا تعویز سنگ مرمر کا تو کسی کا سنگ سرخ کا،
لوح پہ تحریر خوش نویس کاتبوں کے ہاتھ کی،خوش نما رنگوں سے مزین۔
درمیانے طبقے کی قبریں سیمنٹ کا تعویز اوپر چونے کا لیپ،ادھ مٹی لوح،شکستہ ادھ مٹے حروف،
جو پڑھے نہیں جا سکتے
غریب کچی قبریں،
بے سروسامان،بے نام و نشا ن جیسے ان کا کوئ والی وارث نہیں۔
رنگو گورکن جب رات کو
قبریں کھود کر ہڈیاں چراتا ہے،
حکیم بندو خان کو بیچنے کے لئے
تونہ جانے کیوں
ان سے نکلنے والےسب ڈھانچے
ایک جیسے ہوتے ہیں۔
رات
رات جب گاؤں کی گلیوں میں اترتی
تو وہ ایک زندہ رات ہوتی
طاقچے میں دیا روشن ہوتا
دیےکی لو پھڑپھڑاتی
روشنی آنگن میں رقص کرتی
بچپنے کا کھلنڈرا پن
ہم شور مچاتے آنگن میں کھیلتے
خوب ادھم مچتا
آوازوں کا شور آسمان سر پہ اٹھا لیتا
اب بڑھاپے کی دہلیز پہ
شہر کی اداس تنہا راتیں ہیں
ایک مردہ سی چکا چوند ہےاور
یادوں میں کہیں
ایک دیا اور ایک طاقچہ زندہ ہے
علاج
اس کے پاؤں کے تلوے ساری ساری رات جلتے رہتے، سوئے سوئے لگتا جیسے اس کے تلووں سے کسی نے دہکتے ہوئے انگارے چپکا دیئے ہوں۔حلق سوکھ کے کانٹا ہو جاتا ، زبان تالو سے چپکی رہتی، آنکھوں کی بینائی دھیمی پڑتی جا رہی تھی، رات کو پیشاب کے لیے بار بار اٹھنا پڑتا ، اس کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ شوگر نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ وہ پیر جی کا مرید تھا، پیر جی شوگر کے لیے چینی دم کرتے تھے۔ اس نے دم کی ہوئی چینی خوب کھائی، اس کی تمام تکلیفیں دور ہو گئیں۔۔۔۔ اب آرام سے قبر میں لیٹا ہے۔