Categories
فکشن

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

محمد ساجد
یس سر
عبدل معید
یس سر
شاہکار عالم وارثی
یس سر
انیل کمار سنگھ
یس سر
صابر علی صدیقی
یس سر
ہرش سچدیو
’’حفیظ الدین بابر‘‘
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔

پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘
’’والد کا نام۔‘‘
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔

یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔

یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔

مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔

یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟

اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔

یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔

مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔

مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔

وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔

اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔

میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔

میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔

بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔

روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔

یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔

مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔

ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔

مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔

روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔

مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔

یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔

ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔

مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور

Categories
فکشن

باجے والے گلی – قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔

’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘

دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔

خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔

لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔

لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔

دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔

غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔

’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘

پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘

پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’

لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘

دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔

دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭

دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔

”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘

غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔

دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘

کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔

ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔

٭٭٭

شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔

ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔

اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔

ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔

چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔

اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔

ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘

خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘

اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔

حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔

ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔

محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔

سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔

اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔

ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔

للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘

للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘

بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘

ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔

گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔

نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔

میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔

میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔

تو پھر کون تھا؟

اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔

گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
گفتگو

ناول کی صنف نثر کی وسیع تر ایکسپلوریشن کی دعوت دیتی ہے:مرزا اطہر بیگ

ٹرانسکرپشن: خضر حیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: عارف وقار کے ساتھ انٹرویو میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے اس کائنات کی ٹوٹیلٹی(Totality) کو وٹگن سٹائن کے انداز میں تخلیقی سینتھیسس (Synthesis)کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی بھی تخلیقی اظہار کسی بھی امیجی نیشن(Imagination) یا ریالٹی (Reality)کا اظہار ہو سکتا ہے یا کیا وہ حقیقت کی نمائندگی مکمل طور پر کر سکتا ہے؟ خواہ وہ ناول ہو یا کچھ بھی ہو۔

مرزا اطہر بیگ: وہ ایک کوشش ہی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا یا اس سے یہ طے نہیں ہو جاتا کہ جی اس نے ریالٹی کو پورا Capture کر لیا ہے۔ یہ ایک Impulse ہے، ایک Inner Driveاور ایک Questہے جو چلتی رہتی ہے۔ اور یہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ تو جہاں تک اس میں یہ ریمارک ہے وہ پتہ نہیں عارف وقار نے کب لیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ میں نے کب وٹگن سٹائن والی بات کی ہے کیونکہ وٹگن سٹائن مکمل طور پر ایک مختلف سلسلے کی بات کرتا ہے۔

سوال: میں جو سمجھا تھا وہ ایک سٹیٹ آف افیئیرز تھی اور وٹگن سٹائن بھی ایک موقع پر زبان کے حوالے سے سٹیٹ آف افئیرز کی بات تو کرتا ہی ہے کہ زبان سٹیٹ آف افئیرز کا ہی بیان ہے۔ تو اس حوالے سے جو آپ حسن کی صورت حال میں سٹیٹ آف افئیرز بیان کر رہے ہیں۔

مرزا اطہر بیگ: اچھا حسن کی صورت حال کے شروع میں سٹیٹ آف افئیرز کا جو سلسلہ آتا ہے آپ اس کی بات کر رہے ہیں۔ حسن کی صورت حال کا ترجمہ تو سٹیٹ آف افئیر ہو سکتا ہے مگر اس میں کئی سٹیٹس آف افئیرز ہیں اور ایک سطح پر اس کی اپروچ ایک فریگمنٹری ہے مگر بہرحال اس کا کوہیژن ٹوٹل بنتا ہے۔

سوال: ایک اصطلاح جو آپ کے کام کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے وہ کومک رئیلزم (Comic Realism)کی ہے۔ میں نے دو تین جگہوں پہ دیکھا ہے کہ لوگ آپ کے کام کو کومک رئیلزم کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ آپ اس اصطلاح کو اپنے کام کے ساتھ کس حد تک جڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: چونکہ میجک رئیلزم ایک چل رہا ہے تو ہم نے سوچا کہ یہ بھی بنا دیتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ کیونکہ Terms تو عموماً باہر سے بن کر آتی ہیں، ہمارا تو اس پہ کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہم سے توقع نہیں کی جاتی کہ ہم بنائیں گے۔ حالانکہ میں اپنے طلبہ پر زور دیتا رہتا ہوں کہ وہ نئے تصورات بنائیں چاہے وہ جتنے بھی عجیب لگیں۔ خیر یہ کومک رئیلزم کا سلسلہ کسی گفتگو میں اس طرح شروع ہوا کہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ میری تحریر میں ہیومر کا ایک سلسلہ گہرائی کے ساتھ ساتھ چلتا نظر آتا ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد مزاحیہ تحریر لکھنا نہیں ہوتا بلکہ سیچوئشن (Situation)سے یا بعض کرداروں کی گفتگو سے اس میں مزاح آ جاتا ہے تو اس سے یہ تصور بنا تھا کہ اسےکومک رئیلزم اس کو کہہ سکتے ہیں ۔ یعنی رئیلزم کی ایک سطح برقرار ہے لیکن ایک سچوئشن ایک ایسی وٹ یا ہیومر(Wit or Humor) کی ہے جو کہ ارادی طور پر (مزاح پیدا کرنے کے ) بنیادی مقصد کیلئے نہیں شامل کی گئی۔ تو اس لئے اسے کومک رئیلزم کہا گیا۔ اور ایسا نہیں کہ ساری کی ساری رائٹنگ پہ وہ چھایا ہوا ہے، درمیان میں کسی کسی جگہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ شامل ہو جاتا ہے۔

سوال: میں نے آپ کے تینوں ناول آگے پیچھے ہی پڑھے ہیں ، اور میرا ذاتی امپریشن ی یہ ہے کہ تمام چیزیں تین سطحوں پر یا تین پرتوں میں موجود ہیں۔ ایک سطح چیزوں یا واقعات کی ترتیب کی ہے جو کرداروں کے ساتھ موجود ہیں۔ دوسری یہ ہے کہ ہمیں ناول میں موجود ایک مصنف یا لکھاری ان واقعات سے متاثر ہو کر ان واقعات سے متعلق اپنا ایک علیحدہ بیان دے رہا ہے جو کسی لگی لپٹی کے بغیر ہے خواہ وہ گھسیٹا کاری کی صورت میں ہو یا نیلے رجسٹر کی صورت میں اور سب سے اوپر تیسری سطح پر آپ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ۔چاہے وہ فکشن کا خدا ہو یا حیرت کی ادارت کرنے والا ۔۔۔۔تیسری سطح پر وہ ان چیزوں کو تشکیل دے رہا ہے۔ تو آپ اس تاثر کے ساتھ کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: ہاں میں بالکل اس سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ میری تمام رائٹنگ کی یہ ایک خصوصیت یا تخلیقی مسئلہ ہے کہ ریفلیکسی ویٹی(Reflexivity) یا ٹرننگ بیک آن دی پروسیس اٹ سیلف(Turning back on the process itself) یا جسے سیلف ریفرینشیالٹی(Self Referentiality) بھی بعض اوقات کہتے ہیں وہ ہمیشہ مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے ۔ یہ غلام باغ میں بھی ہے، اس کا تناسب صفر سے ایک تک میں تھوڑا کم ہے اور حسن کی صورت حال میں کافی زیادہ ہے۔ تو جسے آپ رائٹنگ آن رائئنگ یا رائٹنگ اباؤٹ رائٹنگ کہیں گے تو یہ ایک خصوصیت ہے جو میری تمام تحریروں میں نظر آتی ہے۔ حتی کہ وہ اسّی صفحے کا افسانہ بے افسانہ ہو، اس میں بھی یہ سطح بہت explicitly آتی ہے۔ یہ ایک فارمل پرابلم ہے جس سے میں ڈیل کرتا ہوں ، چونکہ یہ چیز مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے اس لیے جو تخلیق ہے وہ اپنی ہی ذات پر پلٹتی ہے اور اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کی کئی سٹرین بنتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ میں پراڈکٹ اور پروسیس کی تمیز کو میں ختم کر دیتا ہوں۔ کیونکہ فکشن میں جو چیز بن رہی ہے اور جس طرح سے بن رہی ہے یہ دونوں یکجا ہوتے نظر آتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ جو کہا جاتا ہے وہ اصل میں بہت سے متبادلات میں سے ایک ہوتا ہے جو کہ ہم لاتے ہیں اور باقی ‘ان کہا’ ہی رہ جاتا ہے۔ تو یہ بات بھی میرے ذہن میں آتی تھی کہ وہ جو ‘ان کہا’ ہے جسے ہم نہیں کہتے اس کو بھی کسی طرح بیانیے میں شامل کیا جائے۔ اگرچہ اس میں واضح پیراڈوکسیس(Paradoxes) ہیں۔

مطلب میری یہ بات تین سطح پر چلتی ہے ایک تو ورڈ پلے ہے، ایک کیریکٹر پلے ہے اور تیسرا واقعات کا پلے ہے۔ تو اس کے اسٹرکچر میں جب وہ پورا ڈویلپ ہو جاتا ہے تو یہ تین لیول کا پلے آتا ہے۔

سوال: حسن کی صورت حال میں آپ بار بار ایک تکنیک سے دوسری تکنیک میں شفٹ ہو رہے ہیں تو کیا اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ایک شخص، واقعے یا شے تک پہنچنے کیلئے کوئی ایک ہی راستہ یا کوئی ایک ہی بیانیہ کافی نہیں ہوتا، آپ کو بہت ساری سطحوں پر اس کو دیکھنا پڑے گا یا کہانی کو کئی کئی طرح سے دیکھنا ہوگا؟

جواب: نہیں ۔ یہ رائٹر کا چوائس ہے اور اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ جو طریقہ میں استعمال کر رہا ہوں وہ دوسروں سے کوئی افضل طریقہ ہے یا بہت اعلیٰ ہے۔ مجھے بس یہ اچھا لگ رہا ہے تو میں اسے استعمال کر رہا ہوں۔ جو لینئر پروز ہے یا ایک لائن میں چلنے والی کہانی کا طریقہ کار چلا آ رہا ہے یا کلاسیکل گراف جو ایک سٹوری لائن یا ایک ڈرامہ خاص طور پر ایک ڈرامائی صورتحال کا ہوتا ہے ، جس میں Conflicts آتے ہیں وہ ٹھیک ہے ،اگر کسی کو وہ اچھا لگ رہا ہے یا کوئی اس کو کر رہا ہے تو کریں۔ میں اس کو ایک اپنے طریقے سے بیان کر رہا ہوں۔ اس کے پیچھے شاید میرے ایک دو belief، خیر beliefتو نہیں کہنا چاہئے۔۔۔۔۔یعنی فکشن کے بارے میں میری جو انڈرسٹینڈنگ ہے اس کے مطابق ناول اصل میں ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ناول کا Genre دراصل خود ایک اوپن چیلنج ہے جو Proseکی وسیع تر ایکسپلوریشن کی دعوت دیتا ہے اور اس میں تم جو چاہو کر سکتے ہو۔ اب یہ مصنف پر ہے کہ وہ کس حد تک اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی نئی ممکنات کو ایکسپلور کرتا ہے. فکشن میں ناول کا Genre لکھنے والوں کے لیے ایک wonderful possibilityہے ۔ تو اس لحاظ سے میں نے اپنے طور پر کوشش کی ہے کہ میں جس حد تک بھی اس کے ساتھ جو کروں اور میری خوش نصیبی ہے کہ جتنے تھوڑے بہت پڑھنے والے مجھے مل گئے ہیں ورنہ یہاں کا سلسلہ ہے اس پہ تو بڑی(لے دے ہے)۔۔۔

اور خاص طور پر میرے ہم عمر یا سینئر لوگ ہیں ، وہ سب نہیں لیکن ان کی اکثریت میرا کام پسند نہیں کرتی ، وہ اس قسم کی تحریر Orient نہیں کر سکتے اور ان کے اس وقت بھی اور اب بھی بہت sever problems بن گئے ہیں، جن کا اظہار بھی ہوا۔ لیکن میرے زیادہ تر ریڈر چالیس سے نیچے نیچے ہی ہیں۔ باقی بزرگان جو ہیں ان کے جو فوسلائزڈ قسم کے مائنڈ اسٹرکچر بن گئے ہیں وہ نہیں ٹوٹتے۔ اور اس پہ مجھے تھوڑی حیرت بھی ہے کیونکہ ان میں بہت پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں اور انہوں نے عالمی ادب کو بھی پڑھا ہوا ہے، کیوں کہ یہ کوئی ایسا انوکھا کام نہیں ہے کہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔ بے شمار یورپی زبانوں اور انگریزوں میں ایسے معاملات کئے گئے ہیں۔ اور جس میں نارمل فارم یا فارمیٹ کو توڑ پھوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ کبھی کچھ ہو رہا ہے اور کبھی کچھ ہو رہا ہے، یہ کوئی ایسا انوکھا نہیں تھا لیکن اردو میں جو لوگ اس کی مانٹیرنگ کرتے ہیں ان کیلئے اس میں کئی طرح کے مسائل تھے۔

سوال: ناول کی طرف آپ کی جو اپروچ ہے جسے آپ نے ایکسپلوریشن کہا ہے کہ ناول نگار ایکسپلور کر رہا ہے۔ اس کے مطلب تو یہ ہے کہ آپ نے ناول نگار کو بہت زیادہ اختیار دے دیا ہے، کہ ناول کے اندر دریافت کا یہ عمل وہ کہاں سے شروع کرنا چاہتا ہے، کہاں ختم کرنا چاہتا ہے اور کہاں تک جانا چاہتا ہے یہ سب کچھ اس کی مرضی پر ہے۔ مطلب ہم جو یہ سمجھتے تھے کہ کہانی اپنی جگہ ایک منطقی انجام تک پہنچے گی ایسا کوئی منطقی انجام نہیں ہے اور کسی قسم کا کوئی انجام ممکن نہیں ہے کیونکہ آپ جہاں تک پہنچ سکے تھے پہنچ گئے، آگے نہیں جا سکے۔

مرزا اطہر بیگ: وہ جو فقرہ اکثر Quoteکیا جاتا ہے نا کہ فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا ہے تو خدا تو وہ بن گیا مگر اس کو اختیار کس نے دیا ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن اس کو وہ پاور تو مل گئی ہے تو اسے مکمل طور پر ایکسپلائٹ کرے، تو پھر ایسا تو ہوگا ۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے، ابندی تو ہے اور یہ پابندی کے اندر ہی چلے گی کیونکہ کسی کونٹینٹ کے ایکسپریشن میں کوئی فارم تو آئے گی ۔ اس فارم کو اگر آپ توڑتے بھی ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سرے سے کوئی فارم ہی نہیں رہی، دراصل آپ نے اسے کوئی اور فارم دے دی ہے۔ اسی سے پھر تخلیق کا عمل آگے چلتا ہے اور تحریر میں کسی نئے پن کا سلسلہ ٓئے گا ۔ تو جو بھی نئی فارم ہو گی اس کی کوئی انٹرنل لاجک بھی ہوگی اور ایک اسٹرکچر بھی ہوگا۔ شاک اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ جب مروجہ فارم ٹوٹتی ہے۔ اور اس کے بغیر کوئی آرٹ create نہیں ہوتا۔

جب آپ کوئی لینگوئج استعمال کرتے ہیں تو یہ ایک اور اہم بات ہے کہ لینگوئج خودDictateکرتی ہے کہ narrativeنے کس طرف جانا ہے . اس کے ساتھ اس کی جو higher creative dimensionہے وہ یہ ہے کہ ناول کی prose میں discovery ، لینگوئج کی discovery بھی ہے۔ تو فکشن کی جو سطح میں dream کرتا ہوں یا سوچتا ہوں وہ یہ ہے کہ ناول صرف فکشن ہی نہیں بلکہ کسی لینگوئج کی ڈویلپمنٹ میں بھی اپنا پارٹ پلے کرتا ہے ۔ وہ لینگوئج اور ورلڈ کے مابین تعلق پر بھی بات کرتا ہے جو کہ بذات خود فلسفیانہ تعلق ہے ، اور اس عمل میں یہ نئے سرے سے دریافت ہوتے ہیں۔ تو اس سطح پر میں سمجھتا ہوں کہ میں اس بات کو شیئر کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہNovel writing for me is a way of doing philosophy also.

میرے اوپر الزام تو لگتا ہی ہے کہ اس میں فلسفہ ہے اور یہ ہے وہ ہے۔۔۔ تو یہ ایک طریقہ ہے فلسفہ بیان کرنے کا۔ اور خاص طور پر ہماری غیر مغربی دنیا میں یہ طریقہ زیادہ ضروری بھی ہے اور زیادہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے ۔اگرچہ اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیونکہ یہ چیزیں اور ناول کا فارم آیا تو وہیں(مغرب) سے ہی ہے ۔

سوال: زبان کا اصل کام عموماً کسی صورت حال کابیان ہے خواہ وہ خیالی ہے یا واقعاتی ہے یا حقیقی ہے۔ ہمارے ہاں جو زبان فکشن میں استعمال ہوتی ہے، خاص کر آپ کے علاوہ جو باقی لوگ لکھ رہے ہیں، جو زبان کی ایک روایتی صورت ہے اس کا رخ ماضی کی طرف ہے اور ہمیشہ وہ ایک خاص رجڈ شکل میں ہی اس کے استعمال کو سب درست سمجھتے ہیں۔ آپ اس پر کیا رائے دیں گے؟

مرزا اطہر بیگ: اردو میں؟

سوال: جی اردو میں۔ اور کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر حالات کی ایک ایسی صورت حال موجود ہے جس کیلئے زبان کو مزید ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے؟ اور دوسری چیز کہ یہ کہ آپ کے ناول جن میں اس وقت ہم ریالٹی کو ایکسپلور کر رہے ہیں ، ان میں نجات دہندہ کا بھی ذکر ہے اور ہمارے ہاں کی جنسی تشنگیوں کا بھی ذکر ہے، یعنی ہمارے ہاں کی سماجی اور سیاسی زندگی کا تذکر موجود ہے، کیا آپ کے ناول زبان کی حد تک ان حالات کو بیان کر رہے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی میں سمجھتا ہوں کہ ناولسٹ جو ہے یا فکشن رائٹر جو ہے وہ ریفارمر نہیں ہوتا۔ اصلاح معاشرہ کا پروگرام دینا قطعاًاس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ کسی بھی انسان کی طرح ایک سیچوئشن Situation میں ہے، وہ ایک سپیس ٹائم Space Timeمیں ہے، ایک لوکیلیٹی Localityمیں ہے، ایک Historical givenness اس کی ہے جس میں وہ اپنے آپ کو پاتا ہے۔ یہ ساری صورت حال اس کے اس پروسیس کا حصہ بنتی ہے۔ اگرچہ اس میں Theoretically کچھ ایسا نہیں ہے کہ اگر میں برازیل کے حالات کے متعلق ناول لکھنا چاہوں تو کوئی مجھے منع نہیں کرے گا مگر ظاہر ہے کہ میں اس کے lifeworld سے متعلق بہت ساری باتیں lack کر جاؤں گا، تو یہیں سے ہی بات اٹھتی ہے۔ لیکن یہ جو بات ہے کہ صورت حال الگ ہے اور زبان اس کو الگ سے بیان کرتی ہے یہ عین ایسا نہیں ہے۔ زبان ہی صورت حال کو پیدا کرتی ہے۔

Language itself creates reality.

یہ بات گہرائی میں فلسفیانہ سطح پر تو سمجھی جا سکتی ہے مگر عام سطح پر سمجھنی شاید مشکل ہو۔ بہرطور اس کو ہم اس طرح لکھ سکتے ہیں کہ ہر شخص کا زبان کے ساتھ ایک منفرد اور بڑا ہی مخصوص تعلق ہوتا ہے جو تقریباً اسی طرح کا یونیک ہے جیسا اس کا فنگر پرنٹ ہے ۔ اب وہ اگر بندہ ایک فکشن رائٹر ہے تو جب وہ اپنی صورت حال، ریالٹی ، تاریخ ، اپنے ہاں کے مسائل ، عذابوں، تکلیفوں ، نا انصافیوں اور سب کچھ کو ڈیل کرے گا یا انہیں Live کرے گا اور پھر اسے ایکسپریس کرے گا تو وہ اپنی خاص زبان اور الفاظ کے تعلق کے ذریعے ہی ایکسپریس کرے گا ۔تو اس طرح جو فکشن بنے گا وہUniquely a product of his personal relation with the world ہوگا۔ تو یہ بات تو ہر بندے کے لئے ہے۔ میں نے اس سیچوئشن کو ایسے پوری طرح بیان کرنے کی بجائے نام لیے بغیر اپنی Totality of situation کے اندر ڈالا ہے ۔ چنانچہ کبیر کا زبان کے ساتھ اور رائٹنگ کے ساتھ ایک مسلسل عذاب چل رہا ہے۔ اس کی کئی سطحیں ہیں وہ رجسٹر لکھتا ہے، Inter-subjective dialogueمیں لینگوئج بریک ہوتی ہے اور پھر بات وہ Intra-Subject میں بھی چلی جاتی ہے اور سیلف ٹو سیلف ریلیشن کی عجیب و غریب سطحیں دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ انسانوں کے درمیان تعلق تو سارا لینگوئج کے ذریعے ہے ۔ تو ایک ایسی ناممکن صورت حال بھی آ جاتی ہے جس میں وہ ایک ہذیانی سیچوئشن میں چلے جاتے ہیں۔ تو یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو غلام باغ میں ہیں اور شاید کبھی ریڈر بھی ان کو نوٹ کریں۔

حسن کی صورت حال میں اس امر کی ایک اور سطح بھی آتی ہے۔ حسی ادراک یا پرسیپسشن جوحسن کے ذریعے چل رہا ہے جو دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ جس میں کوئی بھی چیز اسے اچانک حیرانی میں ڈال دیتی ہے۔ اس نقطہ آغاز سے لے کے جو ایونٹ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے لینگوئج کے ساتھportray ہوتا ہے بلکہ Construct ہوتا ہے پھر اس میں آگے narrative کی بات بنتی ہے۔ تو بظاہر اس سارے تجریدی میکنزم کے باوجود بندے نے اپنے اوپر ایک پابندی لگائی ہوتی ہے کہ مجھے ایسا کرنا ہے تو یہ جو ایک so-called readabilityہوتی ہے اس کو میں ہمیشہ ذہن میں رکھتا ہوں۔ وہ اس لئے بھی کہ مجھے علم ہے کہ میرا جو پوراstuff ہے جس میں سے یہ اتنی ساری چیزیں آ رہی ہیں تو مجھے یہ خطرہ ہے کہ کہیں اتنا زیادہ پیچیدہ نہ ہو جائے کہ وہ بالکل کنیکٹ ہی نہ ہو۔ تو پھر جو سوکالڈ سٹوری ہوتی ہے اور اس میں ایکcasual cause effect relationship ہوتا ہے جو ریڈر کو آگے لے کر چلتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے تو اس میں آپ دراصل وجہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ایسا ہوا ہے تو کیوں ہوا ہے۔ تو اس کی ایک لائن یا سٹرین کو میں قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی وجہ سے لوگ میرا خیال ہے کہ پڑھ جاتے ہیں۔ یہ دراصل ایک چکر ہے جو کہ دے دیا جاتا ہے اور مجھے اس سے پیار ہے۔ کہ سٹوری کی ایک سوکالڈ پکڑ ہے جو involve رکھنے کیلئے دھوکہ دہی ہی تو ہے۔

اس کی اعلیٰ ترین شکل تو تھرلرز میں ملتی ہے۔ تھرلر رائٹنگ سے تو مجھے عشق ہے اور میرا قطعاً یہ اشرافی ویو نہیں ہے کہ یہ اعلیٰ ادب ہے اور یہ گھٹیا ادب ہے۔ جسے آپ جاسوسی ناول کہتے ہیں یا تھرلر۔ اس میں کوالٹی کی کمی بیشی تو ہو سکتی ہے مگر اچھی تھرلر رائٹنگ کے حوالے سے تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے کر لیتے ہیں، میں تو نہیں کر سکتا ایسے۔ لیکن تھرلر رائٹنگ سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور وہ ہر طرح کا فکشن لکھنے والا سیکھ سکتا ہے۔ جس طریقے سے وہ آپ کو ساتھ رکھتے ہیں، آپ کو انہوں نے سُولی پہ چڑھایا ہوتا ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے تو یہ سب کچھ بہت کمال ہے۔ تو یہ اس کی ایک انتہائی مثال ہے کہ یہ سٹوری کی گرپ، حیرت، سسپنس اور تھرل اور سب کچھ یہ سارے اجزاء جب لٹریری فکشن میں آتے ہیں تو وہ تھوڑے سے زیادہ فنکاری سے استعمال کئے جا سکتے ہیں اور وہ استعمال کرنے بھی چاہئیں۔ یہ آپ کے ٹول ہیں اور بڑے بڑے رائٹر انہیں استعمال کر بھی رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اس پہلو سے بالکل بے خبر ہے۔ مثلاً یہ پامک کے ناول پڑھیں یا یہ جو ارجنٹائن والا لولاسا ہے یا پیروکش ہے حتی کہ گارسیا بھی اگرچہ وہ پرانا ہوگیا ہے تو یہ سارے لوگ اگرچہ بہت دائیں بائیں کرتے ہیں مگر پھر بھی کاژیلٹی کی ایک ایسی لائن چھوڑتے ہیں جس میں ریڈر بہرحال رہتا ہے۔ تو یہ جو فکشن مکمل طور پر لینئر ٹائپ کا ہے اس کے علاوہ بڑا کچھ ہے۔

میں ابھی حال ہی میں چلّی کے ایک مصنف ا لبرٹو بلانو کو پڑھ رہا تھا ‘دی سیویج ڈیٹیکٹیوز’ اس کا کافی بڑا ناول تھا اس میں کہیں بھی سیدھی نثر نہیں ہے بلکہ اس میں تیس چالیس کے قریب کردار ہیں جو آتے جاتے ہیں اور بالکل اپنی اپنی بات کرتے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے اندر ایک سٹرین چل رہا ہے جو کہ باندھ کے رکھتا ہے۔ پھر یہ جو کتاب میں ابھی پڑھ رہا ہوں جمیکن ناول ہے ‘اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز’ تو اس میں بھی اسی طرح کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ اس میں بھی جو ملٹی پل وائسز ہیں یا جو ملٹی پل کیریکٹرز ہیں وہ آتے رہتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس نے ہر ایک کی زبان بھی اپنی دی ہے جو کہ بہت دلچسپ ہے اور بہت مشکل بھی۔ مثال کے طور پر اگر ایک گینگسٹر آیا ہے تو اس کی زبان بالکل وہی ہے جو گینگسٹر کی ہوتی ہے، اسی طرح یونیورسٹی پروفیسر بھی وہی زبان بول رہا ہے جو اس کی ہوتی ہے، اسی طرح وہ سارا چلتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ سارے تجربات تو ہو رہے ہیں دنیا میں اور میں نے جو کیا ہے وہ کوئی ایسا انوکھا تجربہ نہیں ہے۔

سوال: اس میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ ابھی آپ نے کہا بھی کہ ریڈر شاید کبھی اس مقام پر پہنچ بھی جائیں کہ وہ ان سارے رشتوں کو ڈسکور کرنا شروع کر دیں جس پر آپ لکھ رہے ہیں تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے تین ناول اور ایک افسانوں کے مجموعے کا ابلاغ قارئین کے حلقوں میں کس حد تک رہا ہے؟ اس میں ایک اور فرق بھی کیا جانا چاہئیے کہ ایک طرف تو وہ معانی ہیں اور وہ رشتہ ہے چیزوں کے درمیان جسے یا آپ نے توڑا ہے یا جوڑا ہے، پڑھنے والا اس میں کہاں کھڑا ہوتا ہے؟ وہ تو اس بات سے واقف نہیں ہے۔ ظاہر ہے وہ جب کتاب خریدتا ہے یا کھولتا ہے تو اس کو بالکل نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ تو اس کیلئے تو یہ ایک نئی چیز ہے، نئی دنیا ہے، ایک نئی ڈسکوری ہے۔ تو اس تک کس حد تک ابلاغ ہو سکے گا؟

مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جیسا کہ ‘Reader Response Theory’ میں کہا جاتا ہے کہ ہر ریڈر جو ہے اصل میں کتاب کو ایک مرتبہ پھر خود لکھتا ہے۔ لکھتا ہے سے مراد یہ ہے کہ ریڈنگ بھی ایک طرح سے دوبارہ لکھنا ہی ہے۔ اور ہر ایکٹ آف ریڈنگ بھی نیا ہو سکتا ہے تو یہ ایک مستقل چلنے والا عمل ہے۔ کسی بھی لٹریری فکشن کی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی کوئی آئیڈیل یا The most appropriate understanding ہے یا The exact understanding ہے وہ ریڈر ٹو ریڈر ہمیشہ قاری کے اندر ایک نئی دنیا create کرتا ہے اور اس کو میں مزید اگر کہوں تو یہاں پر فرق تھوڑا مزید واضح ہوگا۔

جو تھرلر ہے اس کا شاید کوئیExact meaningیا ایک معنی ہو سکتا ہے مگر لٹریری فکشن کو یہی چیز ممتاز کرتی ہے کہ وہpolysemic ہوتا ہے جس کے اندر multiple meaningہوتے ہیں۔ تہہ در تہہ معنی چھپے ہوتے ہیں لہٰذا اس کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مکمل ابلاغ ہو گیا ہے یا نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ ایک open possibility رہے گا اور اس میں سے ہمیشہ نئی سے نئی dimensionsآتی رہیں گیthrough various acts of reading and readers.

تو اس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ابلاغ مکمل ہوتا ہے لیکن اس کے کچھ ایکسٹرنل پیرامیٹرز ہیں مثلاً اگر آپ کی کتابیں پڑھی جا رہی ہیں۔ اگر وہ امجد سلیم کے گودام میںdump نہیں ہوگئیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ چھپ رہی ہیں اور لوگ اس کا تقاضا کر رہے ہیں اور شاید اس میں ایسا کچھ ہے کہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ تو اس میں مطلب جو رائٹر ہے اس کے پاس بھی کوئی ایسا کہنے کا ذریعہ نہیں ہوتا کہ وہ کہے کہ اس میں پچاس باتیں میں نے کہی ہیں اور یہ میری رائٹنگ میں سے ملیں گی تو ابلاغ مکمل ہوگا ورنہ یہ نہیں ہوگا، ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک open processہے۔ اس لحاظ سے لوگوں کا ردعمل میری توقع سے بہتر ہے ۔ اور بعض صورتوں میں تو پڑھنے والے مجھے بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں جب وہ کسی بات کو گہرائی میں سمجھ جاتے ہیں اس لئے میں قاری کو ایسے underestimate نہیں کرتا۔ وہ بالکل بلکہ ایسی باتیں بھی بعض اوقات کہی گئیں کہ میں بھی حیران ہوگیا کہ یہ بات کس ڈائی مینشن میں سمجھی گئی ہے یا کی گئی ہے۔ میں اس لحاظ سے مطمئن ہوں، مجھے اپنی لکھائی میں ابلاغ کا کوئی ایسا مسئلہ نظر نہیں آتا۔ مسئلہ وہی ہے کہ جن لوگوں کی اپروچ ہی کلوز ہے اور وہ اپنے ہی بنائے ہوئے سانچوں میں چیزوں کو فٹ کرتے ہیں تو ان کا اپنا الگ مسئلہ ہے۔

سوال: آپ کے کریکٹرز خاص طور پر بے افسانہ کے کردار کسی ایک ہی واقعہ کے بہت زیادہ زیراثر نظر آتے ہیں، کوئی ایک ایسی بات ہے جس کے وہ ہر وقت زیر اثر رہتے ہیں۔ کیا کوئی ایک واقعہ کسی ایک کردار کو یا ایک شخص کو اس طرح متاثر کر سکتا ہے کہ وہ پوری کہانی کا محور بن جائے؟

مرزا اطہر بیگ: بالکل بن سکتا ہے۔ بلکہ شارٹ سٹوری میں یہ بات بہت ہی نمایاں ہوتی ہے کیونکہ اس میں سپیس ٹائم آپ کا محدود ہے۔ ناول میں تو آپ کے پاس اوپن فیلڈ ہے، یہ تو میراتھون ریس ہے ایک طرح کی لیکن افسانہ ایک سو میٹر ڈیش ہے جس میں آپ نے بس وہاں پہنچ جانا ہے، زندگی کا ایک چھوٹا سلائس کہا جاتا ہے اور اس میں ظاہر ہے کہ جو بھی بات ہوگی وہ اپنے اختصار کے تقاضوں کے حوالے سے یہ مطالبہ کرے گی کہ وہ شدید طور پرfocused ہوگی چاہے وہ کسی کردار پر ہو یا کردار کی کسی ذاتی داخلی کیفیت سے متعلق ہو سکتی ہے یا دنیا میں اس کے ساتھ ہونے والے کسی واقعے سے متعلق ہو سکتی ہے۔ تو میرا خیال ہے یہ بات آپ نے اچھی کہی ہے۔ یہی میں کہہ رہا تھا کہ کبھی کبھار پڑھنے والے مجھے حیران کر دیتے ہیں۔ اس میں واقعی کسی ایک ہی واقعے کے زیراثر رہتے ہیں۔ مثلاً مورا ہے اس میں ایک واقعہ ہے، دیوار کا تھئیٹر میں بھی ایک واقعہ ہے، مسکرانے والا کردار ہے تو ان کے ساتھ ایک واقعہ ہے تو یہ بات ٹھیک کہی آپ نے۔ لیکن اس میں چند افسانے کسی اور طرح کے بھی ہیں مثلاً اس میں وہ تجرباتی قسم کا افسانہ تھا ٹام اور جیری والا۔ وہ ایسے لکھا تھا جیسے ایک ریسرچ پیپر لکھتے ہیں۔

سوال: بہت ساری سطحوں پہ ہمیں یہ لگتا ہے کہ شاید ایسی سیاسی و سماجی تحریک یا ایسا طبقہ موجود نہیں ہے جو آپ کی تحریر کوسمجھنے اور پڑھنے کیلئے ضروری ہے تو آپ اس تاثر سے کتنا اتفاق کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: یہ سوال تھوڑا مبہم ہے، اس کو ذرا واضح کریں۔

سوال: یعنی ایک طرف ہم دیکھ رہے ہیں جیسے سائبرسپیش کا منشی ہے وہ بھی ذات پات کے ایک ایسے نظام میں جکڑا ہوا ہے جو کہ سماجی سطح پر بہت زیادہ مضبوط ہے لیکن ایک خاص سطح پہ جہاں وہ سائبر سپیس میں موجود ہے وہاں پہ اس قسم کا نظام ختم ہو جاتا ہے اور وہ موجود نہیں رہتا۔ حسن کی صورت حال میں بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کچھ خاص طرح کے واقعات ہو رہے ہیں جو ہماری ایٹیز کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مرزا اطہر بیگ: ایٹیز سے لیکر آج تک کی تاریخ کی طرف؟

سوال: تو اس وقت جہاں آپ تخلیق کر رہے ہیں اور ادب لکھ رہے ہیں اور پڑھا جا رہا ہے تو اس وقت ہمارے معاشرے میں ان واقعات سے متاثرہ کوئی اس قسم کی بحث یا اس قسم کی تحریک موجود نہیں ہے تو ایسے میں (اس کا کس حد تک اثر ہوگا) ؟
مرزا اطہر بیگ: تحریک کا ہونا تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ لفظ تحریک سے مراد کیا ہے وہ تو ہر بندہ ہی یہاں تحریکیں چلا رہا ہے۔ عمران خان سے لے کر ہر کوئی ہی تحریک چلا رہا ہے تو تحریک ایک بڑا لفظ ہے، موومنٹ ایک اور طرح کی چیز ہوتی ہے ۔ ایک کرنٹس آف تھاٹس ہوتی ہیں لیکن اس کو کوئی ایک بہت بڑے کینوس پہ تحریک کا نام دینا متعلق اور موزوں نہیں ہے۔ مثلاً اسی پہلو پہ آپ دیکھیں تو لینگوئج اور فارم اور ان سب مسائل کے باوجود حسن کی صورت حال میں میں نے جان بوجھ کر ایٹیز سے شروع کرکے آج تک کے سارے بڑے واقعات اور مسلم ورلڈ اور مسلم تہذیب اور اس کے ساتھ تعلق اور ان کا نالج کی دنیا کے حوالے سے جو کولیپس ہے وہ سب کچھ اور پھر یہ دہشت گردی کا سوال اور یہ سب کچھ، یہ سارا اس بیانئے کے اندر بھرا ہوا ہے۔ مطلب اس بیانئے کے اندر وہ سب چیزیں موجود ہیں۔ تو یہ شاید اجمل صاحب نے بھی کہیں کہا تھا کہ وہ ساری تاریخ اس میں آ جاتی ہے جو ہماری حالیہ تاریخ ہے۔ اب اس میں فرق یہ ہے کہ غلام باغ بہت زیادہ پیچھے تک چلا جاتا ہے اور حسن کی صورت حال یہیں تک ہے۔ ایک تکنیک کے طور پر وہ جو کباڑخانے کا سین ہے اس میں جو ڈائجسٹ رسالے ہیں میرا یہ ذہنی فیصلہ تھا کہ مجھے باقاعدہ کوئی تاریخ دے دینی چاہئیے تاکہ باقاعدہ نوٹس ہو جائے لہٰذا جب وہ ریڈر ڈائجسٹ جب وہ خرید رہا ہے تو وہاں پر یہ ذکر ہو جاتا ہے کہ یہ ایٹیز کے رسالے ہیں تو یہ اس کے مکالمے میں اسٹیبلش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایٹیز سے ہی یہ سارا سلسلہ چلا ہے ہماری جو مخصوص مقام ہے اس کو گلوبلی اور وہیں سے ہے۔ تو یہ ساری صورت حال اس کے اندر شامل ہے۔ اس میں پھر جو فلم کی تکنیک استعمال کی تھی اور پھر جو فلم کا سکرپٹ اس میں بنا ہے اور پھر وہی بات جو آپ نے کہی کہ کومک رئیلزم کا سارا سلسلہ بھی اس میں آتا ہے۔ تو یہ سارا کچھ اس میں ہے۔

فکشن رائٹر کا یہ کام نہیں ہے یا میں نہیں سمجھتا کہ وہ کوئی سماجی تھیوریز دے یا وہ کوئی ایسے فیصلے دے یا ججمنٹس پاس کرے یا وہ کوئی آگے کی راہ دکھانے کیلئے ہدایت نامہ قسم کی چیز دے، یہ نہیں ہوتا۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق۔ فکشن رائٹر ایک لوڈ رئیلٹی جو جیسی بھی وہ دیکھتا ہے، حقیقی، مسخ شدہ، سرئیلسٹک اور کسی بھی طرح کی رئیلٹی کو فکشن کی ایک فارم میں تخلیق کرتا اور منتقل کرتا ہے۔ اب اس میں سے ریڈر اپنے طور پر کسی بھی نتیجے پر پہنچے یعنی ڈیپ ڈائون اس میں ایک کمنٹ بھی موجود ہوتا ہے، رائٹر کا ورلڈ ویو اور اس کے نزدیک جیسے چیزوں کو ہونا چاہئیے اور جیسے نہیں ہونا چاہئیے وہ بھی ہوتا ہے اور یہ اس میں بھی ہے حسن کی صورت حال میں لیکن وہ کسی نعرے کی شکل میں یا کسی بڑے انکشاف کی شکل میں یا کسی ایسی شکل میں کہ جس سے ایک تحریک چل پڑے ایسے نہیں ہوتا۔ یہ بات جو کہی گئی ہے یہ شاید اس وقت مثلاً جب اس طرح کی تحریکیں جیسا کہ ترقی پسند تحریک ہے یا جس دور میں مارکسزم اور وجودیت کے بلینڈ کی ایک صورت تھی تو اس طرح کے جب بڑے پیٹرن موجود تھے تو اس کے زیراثر لکھنے والے یہ کام کرتے تھے کہ انہیں پتہ تھا کہ جب میں یہ لکھوں گا تو یہ والا طبقہ اس تک پہنچے گا اور اس کی بہت تعریف کرے گا۔ تو اس وقت تو اس طرح کی کوئی چیز گلوبلی ہی نہیں ہے اور اب اس صورت حال کو پھر ایک اور نام دے دیا جاتا ہے پوسٹ ماڈرن ازم کا۔ پوسٹ ماڈرن ازم کا لیبل جو ہے وہ مجھے تو پسند نہیں ہے وہ اس لئے کہ پوسٹ ماڈرن ازم کی شکل یا اس کا آغاز یا اس کا پس منظر وہ ساری ویسٹرن ورلڈ کی ٹریجیکٹری اس کے اندر موجود ہے اور وہاں تو اس کا برآمد ہونا ایک لمبے عمل کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔ یہ جب مطلب بیسویں صدی کے بعد کا زمانہ ہے اس میں جب نئی ٹیکنالوجیز اور سوویت یونین کا فال تو اس کے نتیجے میں بلکہ اس سے پہلے ہی جو نئی صورت حال تھی اس کو سمجھنے کیلئے، یہ ایک بڑی دلچسپ بات ہے کہ کسی گورنمنٹ نے کسی فلسفی کو باقاعدہ اس کام پر متعین کیا کہ وہ اسے سمجھے اور بتائے کہ یہ کیا پروسیس ہے۔ تو وہ ایک فرنچ فلسفی تھا لیوٹار کو کینیڈا کی حکومت نے اس پر متعین کیا کہ تم اس پہ کچھ لکھو جو کچھ ہو رہا ہے تو اس نے کتاب لکھی ‘پوسٹ ماڈرن کنڈیشن’ جو ایک طرح سے ایک بنیادی کتاب ہے پوسٹ ماڈرن ازم کی تو یہ وہاں پر تو سمجھ میں آ جاتی ہے بات مگر جب ہم یہاں اٹھا کے کسی بھی چیز کو پوسٹ ماڈرن کہہ دیتے ہیں تو عجیب لگتا ہے کہ پتہ نہیں ہم ماڈرن بھی ہیں کہ نہیں۔ شاید ابھی پری ماڈرن ہیں۔ تو موڈرنٹی اپنے آپ کو مختلف جگہوں پہ ری ڈیفائن کرتی ہے۔ ویسٹرن موڈرنٹی اگر جاپان میں ہے تو اس کی اور شکل ہے اور اگر وہ عرب ورلڈ میں ہے تو اس کی اور شکل ہے۔ تو ہر کلچرل لوکیشن میں موڈرنٹی کی اپنی ایک شکل ہوتی ہے۔ یہاں پر اس کی بہت ہی خوفناک شکل ہے۔ مطلب یہ ہند مسلم ورلڈ میں مسلمان ہیں یا مسلم ورلڈ ہے، برصغیر کے اندر بھی انہوں نے ویسٹرن موڈرنٹی کے ساتھ کس طرح اپنا معاملہ کیا یہ اب کیا کہیں ایک بہت ہی عجیب سلسلہ ہے۔ تو اس کو پوسٹ ماڈرن کہنا تو درست نہیں ہوگا۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ یہاں پر اگر کوئی پوسٹ ماڈرن صورت حال ہے تو وہ حسن کی صورت حال ہے بذات خود۔
This is what it is.

سوال: اس طرح آپ بورخیس کے بہت زیادہ نزدیک نہیں ہو جاتے؟ اس کے ہاں بھی بہت سی جگہوں پہ فرضی مصنف بھی نظر آتے ہیں، بھول بھلیوں کا معاملہ بھی آتا ہے اور وہ بھی آپ کی طرح سے کسی بھی قسم کی اصلاحی اور تبلیغی تحریک کا مبلغ نہیں بنتا۔
مرزا اطہر بیگ: یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ مجھے جو بڑے بڑے متاثر کرنے والے کردار ہیں ان میں بورخیس بھی ہے۔ اس کی وہ جو ایک پیراڈاکسی کل ورلڈ ہے جس میں لبرنتھس، اور مررز اور امیجنری رائٹنگ اور وہ سارا۔ لیکن اس میں اگر آپ دیکھیں تو اس کی کہانیوں میں یہ سوشیو پولیٹیکل اسپیکٹ سرے سے ہی نہیں ہے۔ وہ بڑی ایبسٹریکٹ قسم کی فکشن ہے جو کہ کمال ہے۔ تو اس کا اثر میرے اوپر ہے۔ تو یہ بورخیس کا اثر ہوسکتا ہے مطلب یہ ارادی طور پر تو نہیں ہوتا لیکن وہ ہے۔ لیکن میری تحریر میں ہماری سماجی، تاریخی، داخلی اور خارجی صورت حال نمایاں اور واضح ہے اور اس کی نشاندہی کر دی گئی ہے لیکن ان میں وہ ہائی ڈگری ایبسٹریکشن نہیں ہے جو بورخیس کے ہاں پایا جاتا ہے وہ خالص طور پر ایک فارمالسٹ ہے لیکن میری تحریر میں تو کونٹینٹ موجود ہیں اور واضح طور پر موجود ہیں۔ ویسے میرے اوپر جو دوسرا اثر ہے وہ ایڈگر ایلن پو کا ہے۔ پو کی ساری نثر مجھے بے حد متاثر کرتی رہی ہے، اس کے افسانے سارے۔

سوال: ابھی آپ نے کہا کہ موڈرنٹی جہاں بھی ہوں گی وہ اپنے ایک مختلف رنگ میں ہوگی تو اس سے کیا ہم یہ طے کر رہے ہیں کہ کوئی ایک ایسی خاص سیچوئشن ہے جسے
ماڈرن کہا جاتا ہے، وہ ماڈرن ہے اور اسے قرار دیا جا سکتا ہے اور پھر اس کو کہیں اپنایا جاتا ہے؟ فکشن کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی کیا کوئی خاص صورت حال ہے جو ماڈرن کہلائے گی اور پھر اس کو مختلف جگہوں پر لوگ اپنائیں گے؟

مرزا اطہر بیگ: موڈرنٹی کا پس منظر اور اس کا پیش منظر تو مغربی دنیا میں آتا ہے کہ سب سولہویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ والی سوچ تھی جو ڈی ڈکٹیو ماڈل تھی یا اتھاری ٹیرین تھی اور وہ ساری مذہبی تھی۔ اس میں جتنی سوچ تھی وہ ساری بائبل، یونانی فلسفے اور مدرسیت پر مبنی تھی۔ تو اس کے بعد سولہویں صدی کے بعد نشاۃ ثانیہ ہوا اور پھر سائنس کے عروج کے بعد استخراجی کے بعد استقرائی سوچ پیدا ہوئی جو کہ ایک بہت بڑی چیز تھی جس نے موڈرنٹی کی سپرٹ کو پیدا کیا اور اس نے ویسٹرن آدمی کے اندر انفرادیت پسندی کی سٹرین کو بہت مضبوط کیا اور مغربی انسان اس بات پر حوصلے میں آیا کہ میں اکیلے ہی دنیا کو تسخیر کر سکتا ہوں اور مجھے کسی اتھارٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ یہ کوئی اتنا آسان نہیں تھا اور اس ذہنی حالت سے نکلنے میں بھی صدیاں لگ گئیں۔ لیکن یہ جو موڈرنی کا ایک سلسلہ وہاں پر شروع ہوا جس میں یہ یقین پیدا ہوا کہ دنیا کو جانا جا سکتا ہے اور انسان اپنے ذہنی قویٰ کو استعمال کرکے اس کو ڈھونڈ سکتا ہے یہ موڈرنٹی کی سپرٹ ہے۔

اور پھر اٹھارہویں صدی میں یہی تحریک روشن خیالی میں بدل گئی اور روشن خیالی کی تحریک نے اس کو میچور کیا۔ لیکن اس کے بعد کی کہانی سارے جانتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے کونونیل پاور بن کے دنیا پر حکومت کی اور وہ سب عروج جو کہ ویسٹ نے پچھلی کچھ صدیوں کے دوران حاصل کیا۔ باقی تمام انسانی تجربات اس میں اپنی اپنی جگہ پاتے ہیں۔ اس لحاظ سے جو ابتدائی دور ہے سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں فلسفہ نے یہ کردار ادا کیا کہ اس نے مذہب اور سائنس کو ٹکرائو سے بچایا اور دونوں کے درمیان ایک بفر زون بنایا جو کہ دونوں طرف کے جھٹکوں کو برداشت اور جذب کرتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ اچھا ثابت ہوا۔ مثلاً ثقافتی طور پر آج بھی عیسائیت مغرب کے اندر موجود ہے ایسا نہیں کہ ختم ہوگئی۔ لیکن وہ اس طرح عقل سے یا سائنس سے یا جدیدیت سے ایک ٹکرائو کی صورت میں موجود نہیں ہے۔ تو یہ سارا بیانیہ جو ہے اسے ہم ماڈرنٹی کہتے ہیں۔ اب موڈرنٹی کی یہ تو سٹین ہے وہ حقیقی طور پر تو کولونیل پروسیس کے ذریعے برصغیر میں آئی اور اسی طرح دوسری دنیا میں۔ اب وہاں پر اس کا کوئی سیدھا سیدھا پروٹوکول نہیں ہے، اس کے پیچھے سب سے بڑا مانترہ ترقی کا ہی ہے اور ترقی کرنے سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ مغرب ہو یا نہایت ہی کوئی دقیانوسی ملک ہو، ترقی پہ تو سرے سے کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔ تو اس نام نہاد ترقی کے سیدھے سیدھے کچھ طریقے ہیں جو اسی موڈرنٹی کی سٹرین سے آتے ہیں۔ لیکن آپ کا سارا سوشیو کلچرل ہسٹوریکل سارا مائنڈ سیٹ ہے وہ کس طرح ایسا پروسیس پیدا کرے گا کہ آپ موڈرنٹی کے اس تصور کو اپنے حالات کے مطابق بدل لیں۔ تو اس پہ بے شمار سادہ قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ کنفیوژ کر دیتے ہیں سائنس کو ٹیکنالوجی سے حالانکہ ٹیکنالوجی تو سائنس کی ایک آئوٹ پٹ ہے، پروڈکٹ ہے اور سائنس بذات خود ایک ورلڈ ویو ہے۔ اس ورلڈ ویو کو بنائے، اپنائے اور کلچر کئے بغیر آپ کس قسم کی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ اسی قسم کی ہوگی کہ آپ وہاں سے چیزیں منگوائیں، امپورٹ کریں تو یہ اصل میں ایک بہت بڑے مینٹل کے اوس کی شکل ہے اور کچھ جو اچھے ماڈل ہیں جنہوں نے اپنے کلچر اور اپنی کلچرل فیلنگ اور کلچرل صورت حال کو ساتھ رکھتے ہوئے ویسٹرن موڈرنٹی کو اختیار کیا ہے اور یہ حسن کی صورت حال میں بھی ہے۔ وہ پروفیسر کا یہی کرائسس ہے وہ جو جاپان کی مثال دیتا ہے اور وہ پھر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ والا جو اس کا تھیسز گم ہوگیا ہے تو وہ سارا اسی بات پر ہی لکھا گیا ہے، اسی ترقی اور جدیدیت کے سلسلے پر۔ اصل میں گلِچ جو ہے وہ ڈیپر لیول پر موجود ہے اور وہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہو سکتی۔ کچھ چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ ترقی نہیں کر سکتیں، وجود تو شاید قائم رکھ لیں ساکن حالت میں چنانچہ تخلیقی سطح پر جب تک آپ کا خیال دنیا کے ساتھ کچھ مختلف تعلق نہیں بنائے گا تو اس وقت تک آپ بھول جائیں کہ کسی بھی حالت میں وہ جو سیکشن آف ہیومینٹی ہے وہ کوئی حقیقی ترقی کرے جو اس کی ڈیجی نس ہو۔ تو اس میں جو ‘ان ڈیجی نس’ کا تصور ہے یہ اہم ہے۔ جب تک آپ اپنی زمین میں سے، مٹی میں سے۔۔۔ دیکھیں نا اگر آپ کسی پودے کو کسی دوسری جگہ پر لگاتے ہیں تو اگر تو اس کی مٹی اور آب و ہوا اتنی ایلئین یا اجنبی ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح نہیں چلتی تو وہ مر جائے گا لیکن آپ کوئی ایسی شکل بنا لیتے ہیں کہ اس کی کوئی پرورش یا خوراک کو مقامی نوعیت کا رنگ دیتے ہیں تو بہرحال اس کی پرورش اسی شکل میں ہوگی کہ اگر وہیں سے کسی طرح آپ اس کے اندر تخلیقی عمل کو شروع کر سکیں۔ تو ہماری ساری تعلیم کی اپروچ ہی غیر تخلیقی ہے۔ نقل والی اپروچ (امی ٹیٹو) جس کے نتیجے میں طوطے اور بندر پیدا ہوتے ہیں اور کچھ پیدا نہیں ہوتا۔
This is what it is.
تو یہ بات ہم کر رہے تھے تو یہ حسن کی صورت حال کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ تو اگر یہ کہا جائے کہ یہ کسی سماجی صورت حال کا ذکر ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا سماجی صورت حال ہوگی۔ گہرائی والا مسئلہ تو یہ ہے۔

سوال: جدیدیت کے اندر بھی ہمیں ایک رجحان نظر آتا ہے کہ ہمیں حقیقت کا ادراک ہونا چاہئیے اور جیسا کہ ابھی آپ نے کہا کہ ایک فرد نے فیصلہ کیا کہ میں واقعی ایسا کر سکتا ہوں تو آپ کے خیال میں واقعی یہ ممکن بھی ہے کہ ہم حقیقت کے بارے میں ایسی کوئی حتمی رائے یا حتمی سے قریب ترین رائے قائم کر سکیں گے یا اس کا علم ممکن ہے؟ یہ خاصا وسیع سوال ہے جس کا سکوپ کافی بڑھ جاتا ہے۔

مرزا اطہر بیگ: اگر تو اس سوال کو آپ خالصتاً فلسفیانہ سطح پر لیں تو پھر ظاہر ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کبھی بھی آپ کہہ سکیں کہ یہ حقیقت ہے اور یہ سارا سلسلہ ہے اور وہ ایک طرح کے گول اور کوئسٹ کی سطح پر ہے لیکن حقیقت کے بارے میں کوئی ایک نظریہ تو ہے نہیں، کئی ہیں۔ سائنس کا یہ ضرور طریقہ ہے کہ اس میں ایک ورکنگ تھیوری آف رئیلٹی موجود ہے مثلاً اس میں ہم اپنے حواس پر اعتماد کرتے ہیں، اس کے ثبوت اور گواہی پر۔ پھر اپنا منطقی سوچ کے عمل کو بھی ہم اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کا تجزیہ کرکے دنیا کے بارے میں بتائے۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ جو بہت بڑے بڑے سائنس دان بھی ہیں وہ اس واہمے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس جو کچھ جاننا تھا وہ پتہ چل گیا ہے۔ حتی کہ سٹیفن ہاکنگ نے بھی ایک بار اعلان کیا تھا کہ Whatever has to be known is almost known, whatever.پھر اس کے بعد وہ کوئی شرط ہار گیا یا جو بھی ہوا۔ اسی طرح فلسفے پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ماہر ماحولیات ٹائی سن نے کہا تھا کہ فلسفے کا کاروبار بند ہونا چاہئیے، ہم سائنسدان یہ سب کچھ کر لیں گے اس لئے فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ سائنس بھی جب اپنی ایڈوانس سطح پر جاتی ہے مثلاً جب آپ کائنات کے آغاز سے متعلق سوال کرتے ہیں، یا تخلیق کے بارے میں یا زندگی کے بارے میں یہ سارے جب آپ کرتے ہیں تو یہ ہائیلی فلوسوفیکل ہو جاتے ہیں۔ تو اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ دو طرح کے رویئے سامنے آتے ہیں۔ ایک تو اس قسم کے لوگ ہیں جن کو کسی ہارڈکور قسم کے تیقن کی ضرورت ہوتی ہے کہ جی بس پکا یقین جسے کہتے ہیں، ان کے لئے پھر اس طرح آسانی رہتی ہے اور وہ مزے میں رہتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو کہ سچ کی گنجائش چھوڑتے ہیں اور اس کی انتہائی شکل پھر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر چیز میں ہی شک آ جاتا ہے۔ یہ معاملہ پھر جو لوگ فلسفے کی طرف جاتے ہیں اس میں آتا ہے۔ اب یہ دونوں سٹرینز، ایک بالکل پکا تیقن اور دوسری بالکل شک و شبہ، یہ دونوں مختلف قسم کی دیوانگی کی سطحیں ہیں۔ انسان ہونا اس کے درمیان کہیں ہوتا ہے۔

It is human to be in doubt.

جب آپ شک کا عنصر بالکل نکال دیتے ہیں تو پتہ نہیں آپ پتھر بن جاتے ہیں یا کیا بن جاتے ہیں۔ اس لئے ریالٹی پر اتنا بہت زیادہ اصرار نہیں ہونا چاہئیے۔ لیکن ایک ڈے ٹو ڈے کامن سینس لونگ کیلئے جو کہ چل رہی ہے ایک ورکنگ ریالٹی کا تصور ہے جو چل رہا ہے اور اسی میں ہم رہتے ہیں۔ اس میں بھی مسئلے اس لیول پر پیدا ہوتے ہیں جب ہم بہت گہرائی میں جانے لگتے ہیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کیونکہ اسی کے نتیجے میں پھر آپ کو علم اور آگہی کی نئی سطحیں میسر آتی ہیں۔ تو اب یہ سب کچھ فکشن کے اندر آنا چاہئیے۔ حتیٰ کہ مثلاً میں یہ سن رہا تھا اور میں اس کا انتظار کر رہا تھا ایک شارٹ سٹوری تھی پتہ نہیں کس کی، اب اس پر ایک فلم آ رہی ہے ‘ارائیول’ یہ ابھی آنی ہے، یہ سائنس فکشن ہے۔ اس میں مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس نے لینگوئج کا سٹرکچر ہے اور لینگوئچ کی کمیونیکیشن ہے، اس میں ایلین لینگوئج جو کہ ایک اور ہی طرح کی دنیا بناتی ہے اس کو فلم کا موضوع بنایا ہے جو کہ یقیناً حیرت انگیز ہوگی۔ تو یہ اتنا تجریدی موضوع فکشن میں اور پھر فلم میں آ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ اردو میں، یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہاں کے لوگ انگریزی چیزیں پڑھتے ہیں یا وہ چیزیں جو انگریزی کے ذریعے سے آتی ہیں تو وہاں پر مثلاً لاطینی امریکہ کے مصنف ہوب سکوچ کی تحریر تو پڑھ لیں گے اور اس پہ بات بھی کر لیں گے، وہ تو ان کو قبول ہوگا۔ اس ناول میں تو ایک اور بھی عجیب چیز ہے کہ ہر باب جب ختم ہوتا ہے تو اس کے بعد لکھا ہوتا ہے کہ اب ناول کو فلاں صفحے سے شروع کریں، وہاں پڑھیں گے تو اس کے اختتام پر کسی اور صفحے پر جانے کا کہا جائے گا تو وہ سارا ناول اسی طرح چلتا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو یہ ساری چیزیں پڑھتے ہیں اور جس وقت وہ اردو کی طرف آتے ہیں تو ان کا مائنڈ سیٹ ہی بدل جاتا ہے۔ وہ اردو کو اوپن کرنا ہی نہیں چاہتے۔ باقی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری جو مقامی زبانیں ہیں، صرف اردو ہی نہیں پنجابی بھی ان میں اتنا پوٹینشل موجود ہے کہ آپ دنیا کی کسی بھی موضوع، کسی بھی سیچوئشن اور کسی بھی فارم آف فکشنالیٹی کو اس میں لا سکتے ہیں۔ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت محدود زبانیں ہیں، اس کو میں تسلیم نہیں کرتا۔ اصل میں تو یہی کوشش ہونی چاہئیے کہ آپ ان کو اوپن کریں۔ ان کے اندر کے پوٹینشل کو جب تک آپ نے اس کے اوپر جکڑ بند لگائے ہوئے ہیں جس میں آپ اس کو دو سو سال پیچھے لے کے جانا چاہتے ہیں تو جب تک آپ اس کو چھوڑیں گے نہیں تو کیسے اس میں وہ سارا آئے گا۔
تو اصل سوال آپ کا یہی تھا یا کچھ اور تھا؟

سوال: میں ریالٹی کے متعلق جاننا چاہ رہا تھا۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں جی تو جو ریالٹی ہے وہ ایک کنسٹرکشن ہے جس میں عام سطح پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا لیکن جب اس کو کہیں بڑے بڑے انسانی تجربات میں اس کی انتہا تک یا گہرائی میں جائیں گے تو اس میں کئی چیزیں ڈزولو ہوں گی اور ویگ ہوں گی۔ اب اس میں خواہ وہ خالصتاً سائنس ہو، فلسفہ تو ہے ہی ہے۔ اور اس کے علاوہ تصوف کا جو سلسلہ ہے جس میں صوفیا بھی شامل ہیں ان کا اپنا ہی (نظریہ) ہے۔ ویسے ایک سطح اور بھی ہے جس میں ریالٹی خالصتاً ایک نفسیاتی ضرورت بھی لگتی ہے۔ کوئی چیز بھی اگر آپ اس کو بطور ریالٹی تسلیم کرلیں تو آپ کا کام چل جاتا ہے۔ مطلب اب دیکھیں نا کہ یہ بھی ایک وقت تھا کہ جب لوگ سمجھتے تھے کہ زمین ایک بیل کے سر پر کھڑی ہے تو یہ نظریہ ان کو مطمئن رکھتا ہے۔ تو حقیقت کے متعلق تیقن کافی حد تک ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے جس میں خارجی طور پر آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ آپ اسی کو مانیں یا نہ مانیں۔

سوال: آج کل آپ کس پہ کام کر رہے ہیں؟ میں نے سنا تھا کہ آپ پنجابی میں بھی کچھ لکھ رہے ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں جی پنجابی میں بھی ایک کام ہے جو شروع تو کیا ہوا ہے۔ لیکن اصل میں میرا یہ مسئلہ بن گیا تھا حسن کی صورت حال لکھنے کے بعد کہ میں نے شاید یہ صحیح فیصلہ کیا یا غلط، جیسے ہم بہت سی چیزیں پڑھتے ہیں، جیسے زمانہ طالب علمی کے ابتدائی سالوں میں آپ پانچ یا چھ مضامین پڑھ رہے ہوتے ہیں تو کیوں نہیں یہ ہو سکتا کہ تین چار چیزیں لکھنی شروع کر دی جائیں جو various stages of mental condition ہے۔ تو وہ پھر میں نے یہ فیصلہ کیا تو اس کے نتیجے میں چار پانچ مختلف قسم کے ٹیکسٹ میں لکھ رہا ہوں۔ پتہ نہیں یہ ایک مہلک اور خوفناک فیصلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ بھی نہ پیدا ہو اور سب کچھ ہی ڈزولو ہو جائے۔ یا شاید دو تین چیزیں اکٹھی آ جائیں۔ لیکن یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ ایک تو پرانا میرا ناول تھا جس کے کوئی چار سو صفحے لکھے ہوئے تھے جو میں نے غلام باغ کے بعد شروع کیا تھا اور جو دوسری چیزیں آتی رہیں اور وہ وہیں پڑا رہا۔ اس کو میں نے دوبارہ شروع کیا تو اس کی شکل ساری بدلنی تھی میں نے، اس کی میں پرانی والی شکل نہیں رکھ سکتا تھا۔ ایک وہ تھا۔ اچھا پھر ایک ناویلا جسے کہہ سکتے ہیں وہ شروع کیا جو پہلے سے چل رہا تھا۔ پھر ایک کومک رئیلزم کی بجائے باقاعدہ کومک شروع کر بیٹھا ‘خفیف مخفی کی خواب بیتی’ کے نام سے۔ پھر میرا ایک سیریل تھا ڈرامے کا جو 2011ء میں ایک بندے نے ذاتی حیثیت میں لکھوایا تھا، وہ کوئی سولہ قسطوں کا ہارر سیریل تھا پچاس منٹوں والا مگر وہ بعد میں اسے پروڈیوس نہیں کر سکا کیونکہ اس میں بہت زیادہ پیسہ لگنا تھا۔ مجھے تو اس نے بطور لکھاری ادائیگی کر دی مگر میں سوچ رہا تھا کہ یہ ایک تحریر ہے جو بالکل ہی برباد ہوگئی۔ نہ تو اس کا سیریل بنا اور نہ ہی یہ چھپ سکی تو اس کو میں نے ایک ناول کی شکل دینی شروع کر دی ‘آسیب نگری’ کے نام سے۔ وہ بڑا مجھے مزہ آنے لگا۔ وہ ایک بڑا دلچسپ، سنسنی خیز اور تجسس بھرا تھا۔ اور پانچواں یہ پنجابی کا ہے۔ تو اس وقت پانچ مختلف چیزیں ہیں جو مختلف مراحل میں ہیں۔ کوئی چار سو صفحے پہ ہے، کوئی ڈیڑھ سو پہ، کوئی پچاس پہ اور کوئی اسّی پہ ہے۔ یہ بڑا خطرناک کام ہے پتہ نہیں اس میں سے کیا نکلتا ہے۔ کیونکہ عام طور پر بڑے بڑے ادیب جو ہوتے ہیں ان کا مشورہ اور فارمولا یہی ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ایک کام کرو۔ میں نے سوچا کہ کیوں آخر کیوں ایسا ہی کیا جائے۔ مجھے تو ویسے بھی روزانہ ذہن بدلنا پڑتا ہے مثلاً میں کلاس میں فلسفہ پڑھاتا ہوں تو اور مائنڈ سیٹ ہوتا ہے، اور اس میں اگر کچھ لکھنا ہے مثلاً نثر، پیپر یا ڈرامہ تو یہ ایک اور مائنڈ سیٹ ہے یعنی مجھے سوئچ کرنا پڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں حسن کی صورت حال چھپا تھا 2014ء میں اور اب دو سال ہو گئے ہیں مگر کوئی ایک بھی پراجیکٹ مکمل نہیں ہوا۔ تو یہی کچھ ہے جو میں کر رہا ہوں۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم ایک سوشل تھیوکریٹک ریفارمیشن کے دور سے گزر رہے ہیں؟ کیونکہ جب تک اس دور سے نہیں گزریں گے تب تک ہم جدیدیت اور عقل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکیں گے۔
مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی میں نے ایک لفظ کہا ہے جسےIndigenizationکہا جاتا ہے میرا خیال ہے کہ اس کے اندر حل موجود ہیں۔ کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ساری ساکت شکل کا علم جو آپ کے پاس باہر سے آ رہا ہے ایک جنس کے طور پر اور جو آپ اس کو ماسٹر کرکے آگے منتقل کر دیتے ہیں اور ڈگریز لیتے ہیں۔ یہ دراصل آپ کو متاثر ہی نہیں کرتا۔ آپ کے ذہنی عوامل کو مجموعی طور پر متاثر ہی نہیں کرتا۔
It leaves you in cold.
چنانچہ یہ بالکل ممکن ہے بلکہ بہت بالکل ہے کہ ایک بائیالوجی کا پروفیسر ڈارون کی تھیوری پڑھا رہا ہے اور دل میں اس کو گالیاں نکال رہا ہے۔ یہ ہے۔ اچھا اب یہ ایک فیکچوئل چیز ہے کہ یہ ہوتا ہے۔ اچھا ہم سجھ رہے ہیں کہ اس کا شاید کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میرا ذاتی خیال ہے اور میں اس کو اس خاص طرح سے تھیورائز نہیں کروں گا کہ جب آپun-resolvedقسم کی اینٹی ٹیز کو ذہن کے اندر بیک وقت رکھتے ہیں تو یہ آپ کی ذہنی توانائی کو کم کر دیتا ہے۔ اور وہ بالآخر آپ کو ایک ذہنی پستی کی طرف لے جاتا ہے۔ یعنی چیزیں ریزولو نہیں کر رہے آپ بلکہ ری جیکٹ کر رہے ہیں۔ آپ کا ریالٹی کا نظریہ کچھ اور ہے اور جو آپ دعویٰ کر رہے ہیں وہ کچھ اور ہے۔
This will never generate a creative process.
کیونکہ آپ نے اس کو الگ الگ ہوا بند خانوں میں رکھا ہوا ہے۔ اور اس کو ختم کرنا اس بندے کیلئے ایک بہت بڑا کے اوس ہوگا کیونکہ اس کے اپنے بھی نظریات ہیں۔ اصل میں تو ہوتا یہ ہے کہ لفظ اور دنیا کے درمیان ہمارا تعلق ٹوٹا ہوا ہے، وہ تعلق ہے ہی نہیں۔ ہمارے پاس باہر سے جو بھی انفارمیشن ٹیکسٹ کی شکل میں آتی ہے اس کو بڑے ایک لگے بندھے انداز میں ماسٹر کرتے ہیں اور اس کو اپنی ضرورت کے مطابق آگے لے جاتے ہیں لیکن وہ آپ کے ٹوٹل ورلڈ ویو سے بالکل نہیں ملتی اور یہ پروسیس اس وقت ہی شروع ہو جاتا ہے جب بچہ پانچ سال کا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہر کسی کے ساتھ تو نہیں ہوتا مگر ایک عمومی اکثریت اسی مسئلے کا شکار ہوتی ہے۔ قدرتی تجسس جو کہ ایک بہت ہی قیمتی چیز ہے اور جو تمام تخلیقی رویئے کی اساس بنتی ہے اسے ہم قتل کر دیتے ہیں شروع میں ہی اور بچے کا بالآخر مائنڈ سیٹ یہی بنتا ہے کہ ریالٹی کا تو ہمیں پہلے سے ہی پتہ ہے اور یہ سارا دھندا دنیا کے کاموں کو چلانے کیلئے ہے۔ تو اس کا پھر ایک جذباتی پہلو جو ہے وہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ وہ ایک رکاوٹ، بے چینی اور ٹکرائو کی صورت بنتی ہے کیونکہ
Knowledge is not only a process of cognition, knowing or understanding, it is also an emotional process.
یہ بات اس سے پہلے شاید کسی نے کی ہو یا نہیں لیکن ایک جذباتی پہلو اس کے ساتھ انوالو ہونا اتنا ہی ضروری ہے اور ان لوگوں کیلئے تو بہت ضروری ہے علم جن کے کاروبار میں ہے یا جو علم کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے نتیجے میں جو ہوگا وہ آپ کے سامنے ہے۔
وہ جو ایک پروسیس ہوتا ہےConceptualizeکرنے کا اور پھر اس سے اگلی سٹیج پہTheorizeکرنے کا وہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ ایک ٹکڑوں میں بٹی ہوئی، ایک فریگمنٹری قسم کی انڈرسٹینڈنگ (اس کو پتہ نہیں انڈرسٹینڈنگ بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں) کا پیدا ہونا اور اس کو یاد کرنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک عام بات ہے۔ لیکن اس میں کوئی اس طرح کا مسئلہ نہیں ہے کہ ہمارے اندر کوئی کمی ہے، ہم ذہنی طور پر کمزور یا بیمار ہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہ جو اس طرح کے معاشرے ہیں جو کرائسز سے نہیں نکلے ان کا یہی مسئلہ ہے تو اب یہ تو تعلیم کے بالکل ابتدائی لیول سے کام شروع ہو تو ہو ورنہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔

سوال: مثلاً نشاۃ ثانیہ سے بھی پہلے جیسا کہ ریفارمیشن کی ایک تحریک چل رہی تھی جو نشاۃ ثانیہ کی راہیں ہموار کر رہی تھی، اس طرح کی کوئی تحریک ہمارے ہاں کیوں نہیں چل رہی؟

مرزا اطہر بیگ: درست کہا کہ وہ جسے قرونِ وسطیٰ کا دور کہا جاتا ہے اس میں بھی ایسے کام ہو رہے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ سولہویں صدی اچانک آ گئی، یہ ایک طویل عمل تھا۔
Dark ages were not that dark actually.
اس کے دوران بھی فیوڈل ازم ختم ہوا، پھر اس کی بجائے نیشن سٹیٹس منظرعام پر آئیں اور پھر بیوروکریسی کا پورا ادارہ اسی دور میں شروع ہوا۔ جس میں ذاتی وفاداریوں پر جو نوکریاں دی جاتی تھیں وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اور پھر کارکردگی کی بنیاد پر جانچ کا عمل شروع ہوا۔ اس کے علاوہ عیسیائیت کے اندر جو اصلاحات آئیں وہ بھی ایک مرحلہ تھا تو یہ ایک لمبا پروسیس ہے چھ سات سو سال کا۔ وہاں پر یہ ہوا کہ چرچ نے آہستہ آہستہ جدید یونیورسٹی کو جنم دیا، اس کا رسمی سیٹ اپ آج بھی کسی یونیورسٹی کے کانووکیشن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہماری مسلم دنیا کے اولین دور کی جو عقلی تحریک ہے وہ بھی اپنی سمجھ بوجھ اور فلسفیانہ طور پر کمزور نہیں تھے انہوں نے بھی یونانی فلسفے کو بہت تخلیقی اور تنقیدی طور پر اپنے فلسفے میں شامل کیا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا، یہ میری فیلڈ نہیں ہے اور اس پر مجھے کوئی کتاب بھی نہیں ملی۔ مسلم دنیا کے سارے فلسفی لونرز تھے مطلب اکیلے اپنی ذات میں۔ اور پھر ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے تھے مثلاً ایک بندہ خراسان میں بیٹھا ہے، دوسرا قرطبہ میں تو وہ سارا مل کر ایک مجموعی روایت نہ بن سکی اور نہ ہی اس کا تسلسل جاری رہ سکا۔ اس میں سے رسمی تعلیم کے کوئی بڑے ادارے جنم نہ لے سکے۔ غالباً یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ رُشد اور غزالی کے حوالے سے ایک انٹریکشن نظر آتا ہے مگر غزالی کا کردار بہت متنازعہ ہے جس میں اس نے عقل پر اعتراض کیا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا خاصا ایک منفی اثر پڑا۔ تو اس کے بعد کی جو ہماری دنیا ہے اس میں علمی، فلسفیانہ،سائنسی اور انٹیلیکچوئل روایات اس طرح سے نہیں ابھر سکیں اور اس کا خاص پسماندہ ورژن آگے چلتا گیا۔ تو یہ سارا اس طرح سمجھا جا سکتا ہے دیکھا جائے تو۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اس گلی کا نام باجے والی گلی کب اور کیسے پڑا، یہ بات کسی اور کو بھلے معلوم ہو لیکن یہاں رہنے والوں میں سے یہ بات شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ سواے اس ایک بوڑھے بدّو میاں کے، جس کے پاس بدن پر ایک جوڑ میلے کپڑے اور قصے کہانیوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ چہرے کی جھرّیوں اور جسم پر موجود خستہ حال کپڑوں کی گواہی سے یوں معلوم ہوتا کہ یہ شخص شہر بھوپال سے بھی پرانا بھوپالی ہے۔ دیکھنے میں ہر دم اکیلا، لیکن اس اکیلے کے وجود میں اس شہر کی ہر زندہ مردہ داستان سمائی ہوئی ہے۔ بس ایک تار چھیڑنے بھر کی دیر ہے کہ فقیر کے سُر آبِ ہفت دریا کی طرح بہہ نکلتے ہیں اور ہر بار “رہے نام اللہ کا!” پر جا کر ہی رکتے ہیں۔

اس کے پاس رہنے کو دوسروں کی طرح گھر نہیں ہے۔ پوری کی پوری گلی ہے ۔۔ باجے والی گلی۔ یہاں پر ہر گھر کے باہر نکلے ہوئے پٹیوں پر آپ کبھی، کسی بھی پٹیے پر بدو میاں کو بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ لیٹے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کھانستے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی روتے ہوئے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کیوں روتے ہیں کسی کو پتا نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح یہاں رہنے والوں میں سے کسی کو یہ پتا نہیں ہے کہ اس گلی کا نام باجے والی گلی کیوں ہے، جو کہ بدو میاں کو معلوم ہے۔ ان کو تو اپنے رونے کی وجہ بھی معلوم ہے لیکن ان سے کبھی کسی نے پوچھا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں اور انھوں نے بھی کسی کو بتایا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں۔

ایک بار میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تھی۔ جواب میں انھوں نے پہلے مجھے خوب گھور کر دیکھا۔ کچھ دیر تک مسکراتے رہے۔ پھر ایک دم اپنی گردن اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’کیوں خاں! بتا دوں؟‘‘ اور پھر زور کا ٹھہاکا لگا کر ہنسنے لگے۔ ایک بار پھر اوپر دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’چل رین دیتے ہیں۔ ابھی بچہ ہے۔ زرا سا بڑا ہون دو۔ سب بتا دوں گا۔‘‘

میں عجب سے بھری آنکھوں سے کبھی ان کو اور کبھی آسمان کو دیکھنے لگا تھا۔ مجھے تو آسمان میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر یہ بدو میاں بات کس سے کر رہے ہیں۔ سو میں نے سیدھے سوال ہی کر لیا، ’’کون ہے؟ کس سے بات کرے ہو؟‘‘

جواب تو مجھے نہیں ملا لیکن اس بار انھوں نے میرے دونوں گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا اور پھر سے رونے لگے۔ اس بار ان کے رونے سے میں ڈر گیا۔

میں تب بہت چھوٹا تھا۔ کچھ سال پہلے ہی اسی گلی میں سارے بچوں کی طرح اُواں اُواں کرتا پیدا ہوا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ آمد کی اس اذان کو بھی اس دنیا میں رونا کہا جاتا ہے۔

حقیقت میں رونے سے میری اصل پہچان ماں کے کارن ہی ہوئی۔ ماں بھی دن میں دوچار بار تو روتی ہی تھی۔ وہ بھی بنا آواز ۔ کبھی پتاجی سے جھگڑے کے نتیجے میں۔ کبھی حویلی کے اندر لگے اکلوتے نل پر حویلی کے آٹھ گھروں کی بھیڑ سے ہار کر اپنی خالی بالٹی کے ساتھ روتی تھی۔ کبھی کبھی اسی حویلی کے اندر کے دوسرے گھر میں رہنے والی اپنی ساس کی وجہ سے اور کبھی کسی ایسی بات پر جو میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
مجھے ماں کا رونا ذرا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں اس کے پاس جا کر اس سے رونے کی وجہ پوچھتا۔ ’’ماں، روتی کیوں ہیں؟‘‘ جواب میں وہ مجھے اپنی اور کھینچ کر سینے سے لگا لیتی اور پھر زور سے سُبکنے لگتی۔ کبھی کبھی صرف میرے گالوں کو ہاتھوں میں تھام لیتی اور بنا جواب دیے صرف مجھے چوم کر چھوڑ دیتی، کھیلنے کے لئے۔

اس وقت بدو میاں نے بھی میرے گال پکڑ لیے تھے اور جواب نہیں دیا تھا۔ بس پیار سے پچکارتے ہوے اتنا بھر کہا تھا، ’’میری جان! ذرا بڑے ہو جاؤ۔ سب بتا دوں گا۔ ابھی جاؤ اور جا کے کھیلو۔‘‘

میں چپ چاپ اٹھ کر چلا آیا تھا۔ گھر پہنچ کر ماں سے ضرور کہا تھا کہ بدو میاں آج پھر رو رہے تھے۔ ماں نے گھبرا کر مجھے پکڑ لیا اور پوچھا، ’’تو وہاں کیا کر رہا تھا؟ تجھے کتنی بار سمجھایا ہے کہ وہ پاگل ہے۔ تیری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ تیرے پتاجی کو بتا دیا تو سمجھ لینا کیا ہوگا۔ سمجھے؟ پاگل آدمی سے دور ہی رہنا چاہیے۔ پتا نہیں کب کیا کر دے۔ سمجھ گئے نا؟‘‘

ٹھیک سے تو یاد نہیں کس عمر میں جا کر ان باتوں کو سمجھا کہ کسی کو پاگل کیوں قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اُس گھڑی بھی میں نے ماں کے سامنے سہمتی میں گردن اس طرح ہلائی تھی مانو واقعی سب کچھ سمجھ گیا۔

٭٭٭٭٭٭

یوں تو ز مانے بھر کے تمام شہر اپنی شکل صورت، سڑک عمارت، مقامی لوگوں کے کھانے پہننے سے، اپنی زبان سے اور سب سے اوپر لوگوں کے کردار سے اپنی اپنی الگ پہچان پاتے ہیں۔ لیکن یہ شہر تو کچھ نرالا سا ہی ہے۔ نرالا بھی کیا، مستانہ سا شہر ہے۔ ایک دم پہلی نظر میں تو یہ دنیا کا سب سے پرانا شہر سا معلوم ہوتا ہے۔ مانو بابا آدم،اماں حوا کے ساتھ آسمان سے ٹپکے تو سیدھے یہیں آ کر دم لیا ہو۔

اُس گزرے دور میں جب کی میں کہانی کہتا ہوں، تب تو محل ہو کہ مٹی کا گھروندا، حالت دونوں کی یکساں تھی۔ چند ہنستی مسکراتی عمارتوں کے بیچ یہاں سے وہاں تک کے درو دیوار زخمی حالت میں کھڑے کھڑے، چراغِ سحر کی طرح بجھنے کو بیتاب دکھائی دیتے تھے۔ لیکن واہ رے خدا کی کرامت اور انسان کی حکمت، دونوں کی جُگل بندی نے اس شہر کو نہ جانے الہ دین کی کس غار میں باندھ چھوڑا تھا کہ نہ یہ چراغ پوری طرح بجھتے تھے اور نہ شہر کی اور نہ شہر کے باشندوں کی زندگی میں کوئی بڑا بدلاؤ آتا تھا۔

یوں نہیں کہ شہر بھر کی حالت ہی ایسی ہو۔ چند آسودہ اور خوش خرم لوگوں نے بڑے شوق سے دومنزلہ عمارتیں بھی تعمیر کی ہوئی تھیں، جو جگنوؤں کی روشنی کے مقابل آنکھوں کو چندھیاتی ٹیوب لائٹ کی روشنی سی نظر آتی تھیں۔ لیکن واہ رے اس شہر کے لوگ اور ان کا کردار۔ ان جگمگ عمارتوں پر اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوے کوئلے اور اینٹ کے ڈھیلوں سے ایسے ایسے قیامت خیز جملے لکھ چھوڑے تھے کہ اس کے بعد نظر عمارت پر کم اور جملوں پر زیادہ ٹکتی تھی۔ مثلاً ایک ایسی ہی چمکدار عمارت کی دیوار پر لکھا ایک جملہ یاد آتا ہے: ’’او زُہرہ جمال / تیری چھوکری کمال!‘‘
جنھیں لکھنا نہ آتا ہو گا وہ دوچار آڑی کہ کھڑی لکیریں کھینچ کر اپنی ذمےداری نبھانے کی کوشش کرتے۔ اور جو ان دونوں نعمتوں سے محروم رہے تو انھوں نے پان کی پیک سے بننے والی قدرتی پینٹنگز بنا کر اپنا فرض پورا کر رکھا تھا۔ اور جو کچھ کسر باقی رہ جاتی تو کاروباری اشتہار لکھنے والے پوری کر جاتے۔
اب دیوار پر اتنی ساری جگہ گھِر جانے کے بعد جب کہیں کچھ اور لکھنے کی گنجائش نہ ہوتی تب صرف ایک ہی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کاغذ پر چھپے اشتہار یا ننھے سے ہینڈبل ان سب کے اوپر کہیں بھی چپکا دیے جائیں۔ اور یہی ہوتا بھی تھا۔ سو دیوار پر ذرا نیچے کی طرف ’’جواں مردوں کی پسند – پہلوان چھاپ بیڑی‘‘ کا اشتہار لکھا ہے تو ٹھیک بیچ سے اس کو کاٹتا ہوا انھی جواں مردوں کی توجہ کا طلبگار تازہ تازہ لئی سے چپکا پوسٹر ہے: ’’اجمیر والے حکیم وِیرومل آریہ پریمی‘‘ کا جس پر مردانگی کے خفیہ مسئلوں کے علاج کی گارنٹی ہے: ’’ناامید نہ ہوں۔ حکیم صاحب پورے سات دن کے لیے یہاں سرائے سکندری میں ٹھہرے ہیں۔ آ کر ملیں۔‘‘ ملنے کا وقت تو لکھا ہوا لیکن فیس کا کوئی ذکر نہیں۔

اُدھر ایک دوسری گلی کی ایک دیوار پر کسی دل جلے نے دیوار کے سب سے اوپری حصے پر گویا سیڑھی لگا کر کوئلے سے خوب موٹے حروف میں لکھ چھوڑا ہے: ’’شبو کے دانت گندے ہیں۔‘‘ اسی کے نیچے بریکٹ میں ایک چنوتی بھی لکھی ہوئی ہے: ’’(اب مٹا کے بتاؤ۔)‘‘

اس سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبو اور ناراض مجنوں میاں یہیں کہیں رہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ اس ناکام عاشق نے پہلے بھی اسی طرح کا کوئی جملہ یہیں کہیں لکھا تھا جسے شبو یا اس کے کسی ہمدرد نے مٹا دیا تھا۔ شاید اسی لیے اس بار اس کھُنّس کا اعلان اتنی اونچی جگہ پر لکھا گیا ہے کہ جہاں تک آسانی سے ہاتھ نہ پہنچ سکے۔ اس جملے کی بےداغ موجودگی ہی اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت تھی کہ شبو اور شبو کے ہمدردوں کے نہ تو ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ اتنے اوپر تک پہنچ سکیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اونچی سیڑھی ہے۔ کل ملا کر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شبو غریب ہے، جسے کوئی سیڑھی کی اوقات والا لمڈا پریشان کر ریا ہے گا۔

اب آپ خدا کے واسطے مجھے اس بات پر نہ ٹوکیں کہ میں اچھی بھلی بات کرتے کرتے یہ رِیا پھِیا کیا کرنے لگا۔ اب جو زبان اپنی اوقات پر آ ہی گئی ہے تو میں کھل کے بتا ای دیتا ہوں کہ یہ اس شہر کی زبان ہے، جس میں دو ماترے والے حروف کی ایک ماترا حلق میں ای رے جاتی ہے اور جو ایک ماترا ہوئی تو سمجھو اس کا خدا حافظ۔ نتیجتاً گیہوں ذرا ہلکا ہو کر گہوں رہ جاتا ہے۔ چھوٹا اُو بچارا مڑ کر چھوٹا اِی رہ جاتا ہے، سو مُحلہ مِحلہ اور مُجھے مِجھے ہو جاتا ہے۔ اور ’’ہ‘‘ اس لیے گم ہو جاتا ہے گا کہ جاں بِنا وِسکے ای کام چل سکتا ہے تو پھر کائیکو اس بڑھاپے میں وِسے یہاں وہاں اَڑانا۔ اور آزادخیالی کا عالم یہ ہے کہ یہاں خان کا نون گم ہو کر غنّہ میں بدل کر خاں ہو جاتا ہے۔ جیسے اشرف خاں، مظہر خاں۔ سو حضور بھول چوک لینی دینی۔ اس قاعدے والی مادری زبان کے ساتھ بیچ بیچ میں یہ ‘پھادری‘ زبان تو آتی ریگی۔ اچھا، اس ‘پھادری’ کا پھنڈا بعد میں بتاؤں گا، پہلے ذرا بیچ میں لٹکی اس بیچاری شبو کی بات پوری کر لوں۔

تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ لگتا ہے کہ شبو بچاری غریب ہے اور صاحب، غریب کی پریشانی سے کسی کو کیا لینا اور کسی کا کیا دینا۔ الغرض نتیجہ یہ کہ شہر میں آپ کو ڈھیر سارے بےداغ لوگ بھلے مل جائیں لیکن بےداغ دیواریں ذرا کم کم ہی ہیں۔ اور ہاں، گھروں کے باہر پتھر کے خاصے چوڑے پٹیے ضرور دکھائی دے جاتے ہیں۔ ان پٹیوں کی چمک دیکھ کر ہی بڑی آسانی سے کوئی بھی جان سکتا ہے کہ ان کا استعمال اور دیکھ بھال خوب ہے۔ دن ڈھلتے ہی اس کے زندہ ثبوت بھی ملنے لگ جاتے ہیں۔ رات کی تیاری میں شام کو ہی محلے کا پکھالی (بھشتی) گلی میں موجود بمبے (نل) سے اپنا پکھال بھر کر حکم کے مطابق پٹیے پر پانی ڈال کر صاف کر دیتا ہے۔ مالک اگر زیادہ مالدار ہوا تو سڑک پر بھی چھڑکاؤ ہو جاتا ہے۔ اس گھڑی اُٹھتی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو آس پاس پھیل جاتی ہے۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُن دنوں بھی شاید دسمبر کی کالی ہوا چل رہی تھی۔ آج بھی وہی کالی ہوا چل رہی ہے۔ انسانوں کو اس دوسری دنیا کے نادیدہ کنارے پر اُڑا کر لے جاتی ہوئی،ڈ ھکیلتی ہوئی، یہ کالی ہوا دنیا کوکالا کیے دیتی ہے۔ یہ دنیا جس کی اصل روحانی تاریخ ایک ایسی زبان میں لکھی گئی ہے جسے اب مجھے کچھ کچھ پڑھنا آگیا ہے۔ مگر اُن دنوں میں یہ سب کہاں جانتا تھا؟ ہاں! اُن دنوں میں یہ سب کہاںجانتا تھا، کہ دنیا محض انسانوں کے حواسِ خمسہ کو مطمئن کرنے کے لیے چل رہی تھی، وہ خواہش، وہ پاگل، وہ سنکی، وہ شہوت کے ذائقے میں لپٹا سرخ پھل، جما جماکر جس کو کترتے ہوئے دنیا کے دانت سفید، چمکدار اور مضبوط ہوتے گئے۔ اور پھر—؟

پھر ایک دن وہ دانت، ایک گندی سی بدرنگ موری میں گر کر، گل گل کر بہہ گئے۔ یہی اُن کا نروان تھا۔ خواہش ایک دن ختم ہوئی۔ جسم پر خوبصورت جھرّیاں پڑیں، جسم بوڑھا ہوا، اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کردیا گیا۔

وہ جو ایکسیڈینٹ میں مارے گئے۔ جو عین جوانی میں شہید ہوئے۔ وہ جو کسی ناگہانی بیماری کے باعث، عمر طبعی پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئے۔ انھوں نے زندگی کو اپنی عظیم اور دہشت خیز وسعت کے پس منظر میں کہاں دیکھا۔ انھوں نے کہاں دیکھا، ایک کمزور ڈبّے کو آہستہ آہستہ خالی ہوتے ہوئے، اپنا بوجھ، اپنی کنکریاں، اپنا گندا مٹّیالا تیل گراتے ہوئے اور دُکھ، سکھ دونوں سے بے نیاز ہوتے ہوئے، آزادی کے ایک عظیم الشان اونچے ٹیلے پر اپنی پاک کی گئی دھوئی گئی، روح کی نیلی قمیص کے لہلہانے کی خوبصورت آواز۔

اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ شعور کی اس ڈھلان پر سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی اور موت دونوں یہاں معمولی ذرّوں کی مانند پھسلتے جاتے ہیں۔ انسان کو ان حقیر ذرّات سے ماورا ہوکر کچھ سوچنا چاہئیے تھا۔ مگر ہیہات! انسان انھیں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ اس کا سر اُنہیں دھول بھرے معمولی، روز مرہ کے ذرّات سے بھر کر رہ گیا۔ انسان یہی خاک سر میں ڈالے گھوما، پھر ڈاکو اور رِشی بنا اور حافظے کے تیل میں ملے اس میل، اس دھول اور خاک سے اُس کے سر کے بال بالکل چیِکٹ ہوکر ہی رہ گئے۔ (خودمیرا مقدّر بھی یہی ہے)

کیسا انوکھا دن ہوگا، جب وہ اپنی دوا لینا بھول جائے گا۔ وہ بھول جائے گا کہ اُس نے کھانا کھایا بھی تھا یا نہیں؟
خواب منطقی شعور پر حاوی ہوں گے۔ خوابوںکے سرمئی دھوئیں میں بچپن اور جوانی کی چند محرومیوں کے، چند گلے شکوؤں کے سڑے گلے ٹکڑوںکے سوا سب کچھ ایک پاکیزہ ہوا میں اُڑ رہا ہوگا۔ آزادی—! آزادی!
حافظے کی ایسی کی تیسی!

بڑے ماموں اب اکثر اپنی دوا کھانا بھول جاتے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ پیٹ بھر کر وہ اپنا کھانا کھاچکے ہیں۔ وہ ہمیشہ جھٹلا دیتے کہ اُنہوں نے کھانا کھالیا ہے۔ اُن کے دماغ کے ریشے اور خلیے گل رہے تھے اور آنتوں اور معدے کے پیغام وصول کرنے سے قاصر تھے۔ وہ لوگوں کا نام بھول جاتے، اشیا کو غلط ناموں سے پکارتے۔ ’’رئیس میاں— اور ئیس میاں۔‘‘ وہ زور سے چلّاتے۔

رئیس میاں نام کا کوئی شخص گھر میں نہیں تھا۔ دراصل وہ مجھے پکار رہے تھے۔ میں سمجھ گیاا اوراُن کے پلنگ کی پائنتی جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’رات میں لوٹتے وقت کچھ کھانے کو لیتے آنا۔‘‘ انھوں نے اجنبی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کوئی بھی میٹھی چیز۔‘‘
’’مگر میٹھا تمھیں منع ہے، بڑے ماموں۔‘‘
’’تیری ماں کا منع۔۔۔‘‘ وہ گرجے اور اُن کی سانس بری طرح چلنے لگی۔

’’سن، تِل بُگہ لیتے آنا چار آنے کا۔‘‘ وہ ہانپتے ہانپتے بولے۔ ادھر آکر انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا،جہاں میں گھر سے نکلتا اور وہ واپسی میں کوئی میٹھی چیز لانے کی فرمائش کرتے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود، وہ لڑ جھگڑ کر میٹھا کھاتے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بھول جاتے کہ اُنہوں نے کیا کھایا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں یاد دلاتا تو وہ اُسے گندی گندی گالیوں سے نوازتے۔ حالانکہ اپنی تمام عمر کم از کم گھر میں، میں نے اُنہیں گالی بکتے نہیں سنا تھا۔
میرا بارہویں کلاس کا بورڈ کا امتحان سر پر تھا۔ میں رات رات بھر جاگ کر تیاری کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ علم بھی ہوگیا کہ بڑے ماموں کو اب رات بھر بڑبڑانے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ اسی بڑبڑاہٹ میں شاید صرف ایک بار میں نے اُن کے منھ سے ’’ثروت‘‘ نکلتے سنا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہی رہا ہو۔

مگر اُن کی حالت ویسی ہی نہیں رہی۔ ان میں لگاتار تبدیلی آتی رہی۔ ایک روز وہ اُٹھ کرڈگمگاتے قدموں سے جلدی سے باورچی خانے کی طرف لپکے۔
’’کیا ہے، کیا ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی اور کنیز خالہ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے پیچھے آئیں۔
’’کچھ نہیں، پیشاب کروں گا۔ ‘‘ بڑے ماموں نے اُنہیں اپنی پیلی آنکھوں سے گھورا۔
’’تو یہاں کہاں— یہ باورچی خانہ ہے۔‘‘ وہ حیرت اور خوف سے چلّائیں۔

’’یہ سالا کب سے باورچی خانہ ہوگیا۔ باورچی خانہ تو وہاں ہے۔‘‘انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اُٹھائی، جہاں ایک چیل کوئی اوجھڑی چونچ میں دبائے چلی جارہی تھی۔
اُنہیں بڑی مشکل سے تھام کر پیشاب کرانے کے لیے پاخانے کی طرف لایا گیا۔

کچھ عرصے بعد انھوں نے پیشاب پاخانے کے لیے پلنگ سے اُٹھنا چھوڑ دیا، ان کی آنکھیں بند رہتیں اور منھ کھلا رہتا۔ اس کھلے ہوئے منھ پر اکثر مکّھیاں بھنبھناتیں کیونکہ رات کو کھائے گئے میٹھے کے ذرّات اُن کی کھوکھلی داڑھوں اور زبان پر چپکے ہوتے۔ وہ زیادہ تر غنودگی کے عالم میں ہوتے۔

مگر اُس دن یہ غنودگی بے ہوشی میں بدل گئی جب دوپہر میں اُرد کی دال کی کھچڑی پکی تھی (اور جسے کھاتے وقت ہوا میرے کانوں میں بُدبُدائی تھی اورمیرا دل گھبرانے لگا تھا) اُن کا پیٹ پھولا پھولا اور بہت سخت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا گیا۔ اُس نے معائنہ کیا اوربتایا کہ اُن کا پیشاب بند ہوچکا ہے۔ گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ بے ہوشی کی وجہ خون میں آلودگی کا بڑھنا ہے۔ گندا یا زہریلا خون آہستہ آہستہ دماغ کو اپنی چپیٹ میں لے رہاہے۔

’’بڑے ماموں، بڑے ماموں۔‘‘ میں اُن کے کان کے پاس منھ لے جاکر زورسے چیخا۔ اُن کی آنکھوں کے پپوٹوں میں خفیف سی جنبش ہوئی اوربس۔
شام ہوتے ہوتے اُن کے کھلے ہوئے منھ سے زور زور کے خرّاٹے بلند ہونے لگے۔ میں اُن خرّاٹوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بہت وحشت انگیزتھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ایسے کوئی درندہ بہت گہری سانس لے رہا ہو اور کبھی ایسا لگتا جیسے باورچی خانے کے کواڑ باربار کھل رہے ہوں یا بند ہورہے ہوں۔ باورچی خانے کے کواڑ اینٹھ گئے تھے اور اُن کو کھولنے بند کر دینے پر ایسی ہی آواز آتی تھی۔

مغرب کی اذان ہوئی۔ اُن کے یہ وحشت ناک خرّاٹے رُک گئے۔ میں نے اُن کی ہچکی کو نہ سنا۔ نہ دیکھا مگر ریحانہ پھوپھی نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔
میں نے تو لالٹین کی روشنی میں اُن کا پھولا ہوا سخت پتھّر جیسا پیٹ دیکھا۔ میں نے اُن کی آنکھیں بنددیکھیں۔ میں نے اُنہیں ایک گہری نیند میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ میں نے اب اُن کا کھلا منھ نہیں بلکہ بند منھ دیکھا — اور اس طرح میں نے موت کا ’منھ‘ دیکھا۔ محلے کی ایک بڑی بوڑھی نے باورچی خانے میں جاکر دن کی بچی ہوئی اُرد کی دال کی کالی کھچڑی اور دودھ اُٹھاکر باہر سڑک پر پھینک دیے۔

اس کے بعد اگر کچھ یاد رہ گیا ہے تو بس وہی دسمبر کی کالی ہوا ہے جس نے شاید آج تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

اِدھر اُدھر کی اور رشتہ دار عورتیں سر کو دوپٹّے سے ڈھک کر، کلام پاک پڑھتی رہیں۔ بیچ بیچ میں کہیں سے رونے کی بھی کوئی کمزور آواز اُبھر آتی تھی، جیسے موسیقی سے بھٹکا ہوا ایک اکیلا سُر۔

اُن کے پلنگ کے نیچے لوبان سلگادیا گیا۔ تیز ہوا کے جھونکوں نے اِس لوبان کی پرُاسرار اور شاید موت جیسی خوشبو کو گھر کے ہر کونے میں پھیلا دیا۔
کوئی عورت (جس کا نام اور شکل آج میرے ذہن سے محو ہوگئی ہے)اُٹھی، باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور چولہے پر حلوہ پکانے لگی۔ اُس دن مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ حلوے کا مرُدوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔

ساری رات آنگن میں جنازہ رکھا رہا۔ میں ایک کونے میں دُبکا، دور سے میّت کے پلنگ کو دیکھتا رہا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی، مگر آج باورچی خانے کا چولہا ٹھنڈا تھا۔ اور وہ حلوہ؟؟
حلوہ گھر والوں کے لیے نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – ستائیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر یوں ہوا کہ پاخانے میں چیونٹے نظر آنے لگے۔ شروع شروع میں تو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا، ویسے بھی پرانے زمانے کا بڑے بڑے اور اونچے اونچے قدمچوں والا پاخانہ تھا اور قدمچوں کی اینٹوں کی دراڑوں میں کیڑے مکوڑے تو رہتے ہی تھے۔ چھپکلیاں اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے اکثر وہاں آتے تھے اور اُس زمانے میں یہ کوئی خطرناک یا غیر معمولی بات بھی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان چیزوں کے عادی تھے۔

مگر جب وہاں کالے کالے اور بڑے سے چیونٹوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا ہی گیا اور قدمچوں پر سکون سے بیٹھنا مشکل ہوگیا تو سب کو فکر لاحق ہوئی۔ دشواری یہ بھی تھی کہ چیونٹوں کو مار ڈالنے یا مسل ڈالنے پر بھی پابندی تھی۔ تب ایک دن بڑے ماموں نے بتایا کہ اُن کے پیشاب پر تو چیونٹے بری طرح یلغار کر دیتے ہیں۔

خودمیں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ بڑے ماموں کے پاخانے سے واپس آنے کے بعد، خاص طور پر، وہاں بے شمار چیونٹے فرش اور موری میں رینگتے ہوئے یا چپکے ہوئے نظر آتے تھے۔

بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

آخر جب اُنہیں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہونے لگی تو وہ اپنے خاندانی حکیم کے پاس گئے اور اس طرح پاخانے میں چیونٹوں کی فوج ہونے کا بھید کھُل گیا۔

بڑے ماموں کے پیشاب میں نہ جانے کب سے شکر آرہی تھی اور وہ بھی تھوڑی بہت نہیں، بہت زیادہ۔
اُنہیں خطرناک اور شدید قسم کی ذیابیطس ہوگئی تھی۔ اُن کے لبلبے نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا تھا۔
حکیم نے پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں سے اُن کا علاج شروع کر دیا اور کھانے میں میٹھا بالکل بند کر دیا۔

بڑے ماموں کو میٹھابہت پسند تھا۔ ان سے روکھا سوکھا کھانا نگلا تک نہ جاتا تھا۔ اُن کے لیے پرہیز کا کھانا پکتا تھا جس کو وہ اکثر غصّے میں اُٹھا کر پھینک دیتے تھے۔ اگر کبھی اُن کوباورچی خانے سے کوئی اشتہا انگیز خوشبو آجاتی تو وہ بچوںکی طرح رونے لگتے۔ گھر کے باقی افراد اُن سے چھپ چھپ کر کھانا کھانے لگے۔

ایک دن بڑے ماموں نے اپنی گردن کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی پھنسی دکھائی۔
’’ذرا دیکھنا،گڈّو میاں، یہاں کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے پھنسی پر اپنی خشک انگلی پھیری۔
میں نے غور سے دیکھا، ایک بہت چھوٹی سی، سرخ رنگ کی پھنسی تھی۔
’’کچھ نہیں ذرا سا دانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں مگر بہت تنّا رہاہے۔۔۔ لاؤ ذرا آئینہ تو لے کر آؤ۔‘‘
میں بھاگ کر دالان میں کارنس پر رکھا آئینہ اُٹھا لایا۔
’’لاؤ مجھے دکھاؤ۔‘‘

میں نے آئینہ میں اُنہیں گردن پر نکلا وہ چھوٹا اور معمولی سا دانہ دکھایا۔ وہ مطمئن ہوگئے مگر یہ لگاتار کہتے رہے کہ دانہ دردبہت کر رہا ہے۔ پھر اُنہوں نے خود کو یہ کہہ کر بھی تسلّی دی کہ چونکہ یہ دانہ گردن کی بالکل رگ پر ہے۔ شاید اس لیے اتنی تکلیف کر رہا ہے۔

مگر دوسرے دن اُس دانے میں پیلے رنگ کا مواد پیدا ہوگیا۔ اور وہ خاصا پھول بھی گیا۔

حکیم نے دانے پر پان کے ساتھ کسی مرہم کا لیپ لگانے کے لیے دیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔بلکہ دانے میں تکلیف اور جلن اتنی بڑھ گئی کہ بڑے ماموں رات بھر کراہتے رہے۔
صبح ہوتے ہوتے اُن کی گردن پر ایک بڑا سا پھوڑا موجود تھا اور وہ بخار سے جل رہے تھے۔
اب خاندانی حکیم سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ بڑے ماموں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اوراس پھوڑے کی وجہ خون میں شکر کی حد سے بڑھی مقدار تجویز کی۔ مگر ڈاکٹروں نے پھوڑے کا آپریشن اُس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ شکر نارمل نہ ہوجائے۔
بڑے ماموں کے پیروں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے زخم تھے۔

انھیں انسولین کے انجکشن دیے جانے لگے۔ وہ بات بات پر رونے لگتے اور میں اپنی چھٹی حس سے یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ موت سے گھبرا کرنہیں روتے تھے۔ موت تو شاید، ان کی دانست میں کسی غیر معین عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی (جیسا کہ ہر شخص سوچتا ہے کہ دوسرے مریں تو مرتے پھریں، شاید اُن کی اپنی موت ہمیشہ کے لیے ملتوی ہی رہے۔ لوگ زندگی کی کتاب میں اپنا اِندراج کرانے کے لیے ہمیشہ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ افسوس کہ اس عرصے میں کب اُن کا نام نادیدہ ہواؤں میں اُڑ کر موت کی کتاب میں، ایک زیادہ سیاہ روشنائی میں درج ہوجاتا ہے اُنہیں اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔)

بہرحال میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسی وجہ سے پریشان ہوکر اور گھبرا کر روتے تھے کہ انھیں کھانے میں وہ اشیاء نہیں مل رہی تھیں جو اُنہیں بہت مرغوب تھیں اور اُن کی نظر میں خدا کی نعمتیں تھیں جن سے وہ محروم ہوگئے تھے۔

وہ دن باورچی خانے پر بڑے سخت گزر رہے تھے۔ اگر کبھی چھپ کر قورمہ یا بریانی پکائے جاتے تو اُس کے ساتھ ساتھ چولہے کے آنولے پر مولیوں کی بجھیا یا گوبھی بھی چڑھا دی جاتی تاکہ مولی اور گوبھی کی ناک سڑا دینے والی بو میں بریانی کی مہک دب کر رہ جائے۔ یعنی باورچی خانہ اُس وقت بالکل دنیا کے مماثل بن گیا تھا جہاں ہر نفیس شے کوکیچڑ سے پوت دینے کا عمل ابتدائے آفرینش سے ہی جاری ہے۔

مسئلہ صرف جمعرات کا ہوتا جب گھر میں مولی یا گوبھی یا کسی بھی ایسی چیزکا پکنا ممنوع تھا جس پر فاتحہ ہوسکتی تھی۔ جمعرات کو اوّل تو دال کبھی پکتی ہی نہیں اور اگر پکتی بھی تو اُس میں لہسن پیاز کا بگھار لگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔

جمعرات کو، سہ پہر ہی سے بڑے ماموں اپنے باندوں کے پلنگ پر بیٹھ کر باورچی خانے کی طرف بے حد چوکنّے ہوکر دیکھتے رہتے تھے۔ اور باربار ناک کے نتھنے سکوڑ کر، وہاں سے آنے والی خوشبوؤں کی تاک میں رہتے۔

دونوں وقت ملنے سے پہلے، سینی میں لگاکر جب کھانے پر فاتحہ دی جاتی تو وہ دُور بیٹھے دیکھتے رہتے اور پھر بچّوں کی طرح رونے لگتے۔ روتے وقت اُن کی گردن کا پھوڑا اور بھی زیادہ بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا تھا۔ پھوڑے کے آس پاس کی سرخی ساری گردن پر پھیل جاتی۔ گردن کی ساری رگیں پھول جاتیں اورایسا لگتا جیسے یہ پھوڑا ابھی ابھی پھوٹ جائے گا اور اِس کا سارا کچ لہو اور مواد باہر نکل جائے گا۔

کچھ دنوں تک تو گھر کا ہر فرد بریانی اور قورمہ کھاکر اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہا۔ مگر یہ کب تک چلتا؟

آخر سب کی اپنی اپنی آنتیں تھیں اور اپنے اپنے دانت، اپنے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں وہ سب قید تھے۔آہستہ آہستہ بڑے ماموںکا رونا روزمرّہ کے معمول میں شامل ہوگیا اور گھر کے افراد نے اُن کے رونے پیٹنے سے متاثر ہونا چھوڑ دیا۔ بڑے ماموں اُس بلّی کی مانند نظر انداز کیے جانے لگے جو باورچی خانے کے سامنے بیٹھ کر مسکین اندازمیں، منھ بنابناکے اور پلکیں جھپکا جھپکاکے کھانا پکتے یا انسانوں کو کھانا کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ اور کسی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔

کئی ماہ گزر گئے اور تب یہ کرشمہ نمودار ہوا۔

بڑے ماموں کی گردن کا پھوڑا آہستہ آہستہ دبنے اور سکڑنے لگا۔ اس کے اندر کا مواد سوکھنے لگا اور آس پاس پھیلی ہوئی سرخی کم ہونے لگی۔ دیکھتے دیکھتے کچھ ہی دنوں میں وہاں بس ایک چنے کی دال کے دانے برابر ایک گلابی سی گانٹھ ہی رہ گئی۔ یہ ایک عجیب کرشمہ تھا جو ڈاکٹروںکی سمجھ میں بھی نہ آیا۔ جیسے چندعناصر سے دنیا کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا حجم بڑھتا ہے، وہ ارتقا کے سفر کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ سکڑنے لگتی ہے۔ واپس اپنے عناصر کی جانب لوٹتی ہے اور پھر یہ عناصر خلا میں اِدھر اُدھر بہت دور کہیں بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ بڑے ماموں کا پھوڑا دراصل اُن کی گردن پر ایک کائنات کا بننا اور بگڑنا تھا (نمودار ہوکر معدوم ہوگئی(کائنات)) مگر پھوڑے کے دبنے کے بعد وہ بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔وہ ہر وقت کھانستے رہتے اور اُن کی سانس دھونکنی کی طرح چلتی رہتی۔ اُن کی یادداشت نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اجنبیت آکر بیٹھ گئی۔ اور کسی نے تو نہیں مگر مجھے اُن کی آنکھوںکی رنگت بھی بدلی بدلی لگی۔ مجھے اُن کی آنکھیں پیلی پیلی بھی نظر آنے لگیں۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہو کیونکہ پیلا پن تو ہمیشہ ہی میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔

تھوڑے عرصے بعد سننے میں آیا کہ بڑے ماموں کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ ان کا ہلنا پھرنا تقریباً بند ہوتا گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں پہلے ہی سے زخم تھے، اُن کے منھ اور پیروں پر سوجن بھی آگئی۔ اُس زمانے میں، مجھے بہت سی باتوں کی تمیز نہیں تھی۔ مگر اب جبکہ میں خود پکّی عمر کو پہنچ چُکا ہوں اور یہیاد داشتیں لکھ رہا ہوں تومیری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اُن کی سب سے بڑی بیماری تو بڑھاپا تھی۔ ان کی عمر ہوگئی تھی۔ بُڑھاپے اور بیماری میں جسم تقریباً غیر حاضر رہتا ہے۔ سارے کام بُڑھاپا اور بیماری ہی نپٹاتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں کتنا عرصہ گزر گیا۔ اُن کی بیماری اوراُن کی عمر طویل ہوتی گئی۔ شاید پھر سے سردی آگئی تھی۔ مجھے آج بھی اپنی پرانی بچپن کی رضائی یاد ہے۔ وہ رضائی جس کے اندر کی روئی دُھند کے ٹکڑے بن کر فضا کی مبہم پہنائیوں میں معدوم ہو گئی۔ مگر میرے بچپن کے جسم کے اند ربھرے خون کی ایک مٹھّی بھر حرارت اُس روئی کے اندر کہیں پھنسی رہ گئی ہے۔

موسم کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ وہ انسانوں سے بھی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ انسانوں کو، بے چارے عام انسانوں کو بدلتے بدلتے بہرحال بہت وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کو اس کنارے سے اُس کنارے کے قریب پہنچتے پہنچتے تاریک پانیوں میں ڈوب کر اوپر آنا پڑتا ہے اور تب جاکر کہیں وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ اعتماد کے ساتھ اپنی یادداشت، اپنے حافظے کو فراموش کر سکے۔ اپنی آنکھوں کی رنگت کو بدل سکے۔ لوگوں کے نام بھلا سکے یا اُنہیں غلط طریقے سے پکار سکے۔ اب اُس کے پھیپھڑے، اطمینان کے ساتھ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں پر شادماں ہوسکتے ہیں۔ اپنی کھانسی پر فخر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اب وہ آدھی رات کو میٹھا کھانے کے لیے کسی سے کچھ فرمائش کرنے پر جھجک نہیں محسوس کرتے۔

یہ تغیر، یہ تبدیلی اُس کی انا سے ایک مستقل نجات کا نام ہے۔ بیماری میں ایک بوڑھا، سنکی، کمزور اور تقریباً ہر منظرنامے سے غیر حاضر جسم ہی دراصل ایک مکمل انسان ہے۔ مکمل طور پر اخلاقی، ریاضی کے ’اکائی‘ کے ہندسے کی مانند اپنی ہی روشنی میں چمکتا ہوا، گزرے اور پچھلے وقتوں کے گناہوں کو، نفرتوں کو، محبتوں اور رفاقتوں کو، سب کو کچلتا ہوا، دربدر کرتا ہوا، ساری خواہشوں کو ساری شہوتوں کو، بس ایک ’خواہش‘ کے سفید پردے جیسے کفن سے ڈھکتے ہوئے۔

بس ایک ’’خواہش‘‘، میٹھا کھانے، مٹھائی کھانے کی عظیم خواہش کے سفید اُجلے بے داغ پردے کو ہر جذبے پر ڈال کر ڈھانپتے ہوئے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔

ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔

وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔

وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔

سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔

سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔

اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔

افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔

اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔

جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔

میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔

وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔

’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘

’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔

’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔

میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔

’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘

ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔

’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔

’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔

ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔

انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔

وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔

میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔

مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔

اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔

مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔

اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔

باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔

وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔

المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔

اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔

مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔

اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔

اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔

میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔

میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔

کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔

بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔

کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘

مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔

مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟

’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔

گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔

اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔

دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔

’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔

اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔

بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔

وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔

میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔

گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔

نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔

جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔

مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔

جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔

اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔

اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔

موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – پچیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اس بات کی رتّی برابر بھی پروا کیے بغیر کہ جمعرات کی شام، جبکہ دونوں وقت گلے مل رہے تھے، اور مُردے اپنی اپنی قبروں میں فاتحے کے کھانے کا بے چارگی کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے، میں ایک کے بعد ایک قبریں پھلانگتا ہوا انجم آپا کے گھر کی طرف دوڑا چلا جارہا تھا۔
وہ باورچی خانے میں ہی ایک پٹلی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ دُبلی اور پہلے سے زیادہ کالی۔مجھے دیکھ کر وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ اُن کا قد پہلے سے زیادہ ٹھگنا محسوس ہوا۔ وہ ایک ایسی پتھّر کی مُورت لگیں جس کے پیر اور پنجے آہستہ آہستہ گھس رہے ہوں۔

انجم آپا کی آنکھیں سونی پڑی تھیں۔ مگر شاید یہ آنسوؤں کے آنے سے پہلے کا سونا پن تھا۔ یا آنسو راستہ بھٹک گئے تھے کیونکہ اُن کی ناک سے لگاتار پانی بہہ رہاتھا۔

’’انجم آپا ؟‘‘
’’گڈّو میاں۔‘‘

’’انجم آپا، انجم آپا۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’گڈّو میاں۔‘‘ اُنھوں نے خلا میں ہاتھ بڑھائے۔ شاید وہ ٹٹول رہی تھیں اور تب میں نے غور کیا کہ اُن کی آنکھیں سونی ہونے کے علاوہ ساکت وجامد بھی تھیں۔

میں اُن کے بالکل قریب چلا آیا۔ ان کے کپڑوں سے مسالوں کی خوشبو آرہی تھی، جو زیادہ تر باورچی خانے میں وقت گزارنے والی ہر گھریلو عورت کے بدن سے آتی ہے۔

انھوں نے میرے بال چھوئے۔ میرا سر سہلایا۔

’’سنا ہے تم بہت بیمار ہو گئے تھے۔‘‘ اُن کی آواز کی ترنگوں میں کسی ایک ارتعاش کی کمی تھی۔ ایک بہت جانا پہچانا اور مانوس ارتعاش جو اب غائب تھا۔

’’ہاں۔‘‘
’’میں تمھیں دیکھنے نہ آسکی، مجھے معاف کر دو۔‘‘

’’ارے چھوڑو انجم آپا۔ پتہ ہے ایک نیا ہیبت ناک ناول آیا ہے، ’’آسیبی بلّی۔‘‘ کل تمھارے لیے لے کر آؤں گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا نے سسکی لی۔
’’کیوں؟ تمھیں تو بھیانک اور ہیبت ناک ناول بہت پسند تھے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔ تمھیں پڑھ کر سنانا ہوگا۔‘‘ انجم آپا کی آوازبہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیونکہ میں اندھی ہوچکی ہوں۔‘‘

اوراب پہلی بار مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ مجھے بہت پہلے ہی یہ جان لینا چاہئیے تھا کہ وہ اندھی ہو چکی ہیں۔
’’میں کل آؤںگا۔‘‘ غیر اضطراری طور پر گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے میں نے کہا۔

’’اچھّا۔‘‘

انجم آپا کے گھر سے میں بہت سست قدموں کے ساتھ واپس آیا۔ گھر پر چھوٹے ماموں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ انجم آپا کا شوہر انتہائی ظالم اور ناہنجار آدمی نکلا۔ اُس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ دن رات جُوا کھیلتا رہتا ہے اور شراب کے نشے میں چور رہتا ہے۔ انجم آپا کو مار پیٹ کر وہ اُنہیں اپنے باپ سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا رہتا۔ ایک دن اُس نے شراب کے نشے میں انجم آپا کی آنکھوں میں جلتے ہوئے سگریٹ کی تمباکو جھونک دی۔ وہ بے زبان لڑکی اندھی ہو گئی، مگر کوئی کچھ بھی نہ کر سکا۔ اُس کی وجہ یہ کہ خود انجم آپا کے باپ اب اِسں عمر میں دوسری شادی کرنے جارہے ہیں۔ پولیس، مقدمہ اور طلاق ولاق کے چکر میں وہ نہیں پڑنا چاہتے۔ اُنھیں تو اَب گھر میں انجم آپا کا رہنا بھی گوارہ نہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ انجم آپا کا شوہر شہر کے چھٹے ہوئے بدمعاشوں سے میل جول رکھتا ہے، اس لیے وہ اُس سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان کی راشن کی دوکان پر جاکر اُنہیں گالیاں دیتا رہتا ہے اور وہ خامو ش سنتے رہتے ہیں۔

چھوٹے ماموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چھپ چھپ کر انجم آپا کے گھر بھی آتا جاتا رہتا ہے، اور وہاں بھی اُنھیں زدوکوب کرتا ہے۔
’’کوئی کچھ کہتا نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا تھا۔

’’کسی کو کیا پڑی ہے، کسی کے معاملے میں دخل دینے کی، جب انجم آپا کے باپ ہی کچھ نہیں کہتے۔‘‘ چھوٹے ماموں بولے۔

مارچ کا مہینہ تھا، ایک اُداس، بڑے صدر دروازے جیسا مہینہ جس میں سے ہوکر ہوائیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔ کم از کم مجھے تو مارچ کا مہینہ کسی کھنڈر کے ایک ویران، گردآلود اکیلے صدر دروازے کی مانند ہی لگتا ہے۔

میں بہت دیر تک مارچ کے اس سنّاٹے میں چپ چاپ کھڑا رہا، اس سناٹے میں اگر کوئی آہٹ تھی تو وہ سردیوں کے واپس جاتے ہوئے قدموں کی تھی۔

یونہی چپ چاپ کھڑے کھڑے، اچانک میرے اندر اُسی پرانے تاریک دیو ہیکل غصّے نے ایک پھنکار ماری۔ وہی کالا غصہ جو ایک زہریلے سانپ کی طرح کنڈلی مار کر، سکڑ کر، میرے وجود کے نادیدہ ریشوںمیں کہیں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ ایک بار پھر، میری روح کے خلیوں اور اُس کی جھلّیوں کو توڑتا ہوا باہر آنا چاہتا تھا۔

میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اکیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نورجہاں خالہ کو نہانے کا مِراق ہو گیا۔ چھ چھ گھنٹے نہاتی تھیں۔ غسل خانے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ یہاں تک تو خیر برداشت کر لیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ صابن، تولیہ اور بالٹی میں پانی بھر کر باورچی خانے کے اند رجانے لگیں۔ وہ باورچی خانے میں نہانے کی کوشش کرنے لگیں جہاں سے اُنہیں بڑی مشکل سے کھنچ تان کر باہر نکالا جاتا، مگر دو تین بار وہ اس کوشش میںکامیاب بھی ہو چکی تھیں۔ دماغی بیماریوں کے معالج کو دکھایا گیا۔ اس نے اُن کے دماغ کے ایک خاص حصّے پر فالج کا اثر بتایا۔ کچھ دوائیں دے کر اُس نے یہ دلاسا دیا کہ کچھ عرصے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔
وہ دماغوں پر فالج گر نے کا زمانہ تھا۔ جس کو دیکھو اُس کے دماغ پرفالج گر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عصمت چچّا ممّا (وہ ایک طرف سے رشتے میں چچا ہوتے تھے اور دوسری طرف سے ماموں اس لیے میں اُنہیں چچّا ممّا کہتا تھا) گاؤں سے، جو ہمارے گھر سے دس کوس دور تھا، ہمیشہ کی طرح اس سال بھی جب رساول کی ہانڈی لے کر آئے تو گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے پہنچتے اُن کے دماغ پر فالج گر چکا تھا۔ وہ رساول کی ہانڈی لیے باربار پاخانے کی طرف دوڑتے تھے۔ جب اُن کو پکڑ کر قابو میں کیا گیا تو وہ زور زور سے چیختے۔۔۔ ’’میں رکھوں گا، باورچی خانے میں، اپنے ہاتھ سے رساول کی ہانڈی رکھوں گا۔‘‘
گویا ایک وبا پھیلی ہوئی تھی، عجیب و غریب وبا، کہیں نہ کہیں سے کسی کے اس وبا کے شکار ہونے کی خبر آتی ہی رہتی۔
حد تو یہ ہے کہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پاگل چوہا رات گئے باورچی خانے میں گھومتا پھرتا تھا اور کسی طرح بھی چوہے دان میں نہ پھنستا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا رہتا تھا، یقینا چوہے کے دماغ پر بھی فالج گر گیا تھا اور اُ س کی یادداشت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شاید وہ باورچی خانے کو چوہے دان سمجھتا تھا۔ جس سے نکلنے کے لیے وہ رات کے سنّاٹے میں بے تُکی اُچھل کود کرتا رہتاتھا اور وہیں ایک کونے میں روٹی کے ٹکڑے سمیت لگے ہوئے چوہے دان کو باورچی خانہ سمجھتا تھا جہاں تک پہنچ پانا اُس کی دانست میں ممکن ہی نہ تھا۔
مجھے تو یہ بھی وہم ہے کہ شاید چیونٹیاں بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھیں، کیونکہ اُن دنوں وہ قطار بنا کر چلنے میںناکام تھیں۔
ریحانہ پھوپھی اس وبا کی ذمہ دار دیوالی کی جادو کی ہانڈی کو سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار دیوالی کی ہانڈی نے کئی بار، رات میںمسلمانوں کی بستی کے اوپر گشت لگایا تھا۔ جادو کی ہانڈی میں دیا جلتا ہوا اُنھوں نے صاف دیکھا تھا اور ہانڈی سے نکلتی بھیانک زنّاٹے دار آواز کو بھی سنا تھا۔ مجھے صحیح علم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ دماغ پرفالج گرنے کی جتنی خبریں ہمارے گھر آئی تھیں، وہ مسلمانوں کی ہی تھیں۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ کچھ موسم کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔

فروری کے آخری دن تھے۔ سردی اور گرمی دونوں آپس میں اونچا نیچا یا چور چھپّا کے کھیل رہے تھے۔ سردی گرمی جب ایک ساتھ ہوتیں ہیں تو بڑی عجیب اور ناقابل فہم بیماریاں پھیلتی ہیں۔

اُدھر باورچی خانے میں کاکروچ بڑھتے جاتے تھے۔ دن میں وہ برتنوںکے پیچھے چھپے رہتے تھے اور رات میں جب کھانا سمیٹ دیا جاتا تھا تو آرام کے ساتھ فرش پر اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے پھرتے تھے۔ میں تو چونکہ رات میں بھی، ایک آدھ بار باورچی خانے میں شکر پھانکنے کے لیے ضرور جاتا تھا، اس لیے پاگل چوہے اور کاکروچوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔

عجیب زمانہ تھا، ہر طرف دماغی فالج زدہ لوگ بک بک کرتے اورا ُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے نظر آتے۔ ان کی جھک اور بکواس نے چاروں طرف ایک شور مچا رکھا تھا اور میں اس شور میں ہر وقت ہانڈیوں کے ڈھکّن اُٹھا اُٹھا کر کھانوں کے رنگ دیکھتا رہتا تھا۔ سرخ رنگ کا کھانا، ہرے رنگ کا کھانا، پیلے اور نارنگی رنگ کا کھانا، بینگنی رنگ یہاں تک کہ سفید اور سیاہی مائل کھانا بھی مگر نیلے رنگ کا کھانا مجھے آج تک نہیں ملا۔

آخر نیلے رنگ کا کھانا کیوں نہیں؟میںسوچا کرتا۔ شاید اس لیے کہ نیلے رنگ کا کھانا یا تو آسمان سے اُترتے ہوئے فرشتوں کا ہوسکتا تھا یا پھر شیطانوں کا۔ ایک زہریلا کھانا۔ اس لیے اچھا ہی تھا کہ نیلے رنگ کے کھانے کا وجود نہیں تھا کیونکہ انسان کو آج تک فرشتے اور شیطان میں فرق محسوس کرنے کی تمیز پیدا نہیں ہوسکی۔

پھر ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ دماغی فالج کی وجہ آنتوں میں پائے جانے والے کچھ جراثیم ہیں۔ پیٹ اور آنت کی بیماریوں کی وجہ سے ہی لوگ دماغی طور پر غیر متوازن ہورہے ہیں۔ اور ایک خاص قوم، مذہب، نسل اور خطّے کے لوگ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی تھا، ممکن ہے کہ یہ ایک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی ہو۔ مگر لوٹ پھر کر پھر وہی آنتیں، پھر وہی معدہ، پھر وہی بھوک اور بدنیتی، پھر وہی کھانا، پھر وہی آگ اورپھر وہی باورچی خانہ۔

باورچی خانہ— جو گھر کے سب سے مخدوش مقام کا نام ہے۔

بارہ وفات آگئی، گھر گھر میں موم بتّیاں جلا جلاکر روشنیاں کی گئیں۔ میں نے گھر کی ہر اندھیری کوٹھری، ہر تاریک گوشے اور ہر طاق میں موم بتی روشن کی۔ بارہ وفات کا جلوس نکلا۔ نیاز ونذر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمارے گھر میں مٹّی کے پیالوں میں فیرینی جمائی گئی۔ جب میں، رات کو آنگن میں بیٹھا فیرینی کھارہا تھا تو اچانک مجھے انجم باجی کے ہاتھ کی پکائی ہوئی فیرینی کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہ فیرینی پر چاندی کا ورق اتنے سلیقے اور نزاکت کے ساتھ لگاتی تھیں کہ مٹّی کا پیالہ جگمگا اُٹھتا تھا۔ جیسے وہاں سے چاند طلوع ہو رہا ہو۔

مگر اِس وقت میرے اندر چاند نہیں بلکہ اندھیرا طلوع ہورہا تھا۔ غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

’’آج فیرینی نہیں پکنی چاہئیے تھی۔ زردہ ٹھیک رہتا۔‘‘ میرے کان کو میری ہی منحوس، لمبی اور کالی زبان نے چاٹا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا، لال چمکدار کاغذ سے منڈھا ہوا ہوا کے ساتھ روشن ایک قندیل سست روی کے ساتھ اندھیرے میں اُڑتا چلاجارہا تھا۔
’’میں بھی ایک دن قندیل کی مانند، ہوا کے ساتھ اس تاریک آسمان میں اُڑوں گا۔ میں نے سوچا۔

Categories
تبصرہ

مرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے،شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت میں ایک ایسا ناول آگیا ہے جو نہ صرف حقیقت، علامت، تجرید اور ان سے بہت آگے کی سرحدوں میں بھی آزادی سے گھومتا ہے بلکہ وہ ان سرحدوں کو پھلانگ کر بسا اوقات ایسے مقامات پر بھی جا نکلتاہے، جن مقامات پر پہنچنے کی حسرت تمام زبانوں کے ناول کرتے رہے ہیں۔
غلام باغ Amorphousہوتے ہوئے بھی Amorphous نہیں ہے۔ یعنی بے ہیئت، بے شکل، کسی بھی متعین فارم کے بغیر۔ جو یہ ناول ہے بھی اور نہیں بھی۔کیوں کہ اس میں ایک انتہائی دل چسپ پلاٹ بھی موجودہے۔ جیتے جاگتے ذی شعور کردار بھی ہیں، جن کی زندگی میں نت نئے انوکھے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ہر کردار کے ذاتی ماجرے میں ایک ارتقا اور تغیر بھی صاف دکھائی دیتا ہے اور وہ سب کے سب ایک انجام سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے توغلام باغ ناول کی عمومی روایت سے بغاوت کرکے بالکل الگ اور نئی ڈگر پر چلتا ہوامحسوس ہوتاہے۔اس کی روایت سے یہ بغاوت صرف اسلوب اور فارم کی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں موضوع اور مواد سے جڑے عمیق اور گہرے خیالات اور تصورات کے حوالے سے بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

ابتدا میں جب ناول کا مرکزی کردار کبیر مہدی یہ کہتا ہے؛ وقت کا کوئی وجود ہی نہیں، یہ محض ایک واہمہ ہے۔تو ہم ناول میں آگے چل پیش آنے والے واہمے جیسے واقعات سے گزرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔جو پے درپے رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ناول کے تقریباً سبھی کردار اپنی ذات میں اپنی طرح کے دانشور ہیں، جو اپنے گردوپیش کی سبھی چیزوں کی گہرائی میں جاکر غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب بہت زیادہ خود آگاہ ہوتے بھی اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناگہاں واقعات کا دھارا رتبدیل کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ واقعات کا یہی بے رحم دھارا ان کی تقدیر کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ان کی قسمت انہیں بھیانک انجام سے دوچار کرتی ہے۔وہ سب کے سب میرے خیالل میں ایسے سنگین اور بھیانک انجام کے مستحق نہیں تھے۔

یہ ناول دو اہم اصطلاحوں، جو دو مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرتی ہیں، کے محور پر گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پہلی اصطلاح ’’ ارزل نسلیں‘‘ ہے۔ گرچہ ناول نگار نے ان کی تاریخ سے بہ درجہ اتم آگاہ کیااور مانگُر جاتی کے پُگلوں اور کاچھروں سے تعلقات کی تاریخ تفصیل سے بیان کی ہے۔مانگُر جاتی چونکہ پچھڑی اور دُھتکاری ہوئی ہے اور سماجی سطح پر اپنی ایکِ حیثیت بنانے کی خواہش ِ ناکام سے کئی صدیوں سے لبریز ہے مگر رزالت اور بے توقیری اس جاتی کے لوگوں کا ازلی و ابدی مقدر رہا ہے۔کئی نسلوں کی تذلیل اور بے توقیری کے بعد اس نسل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص خادم حسین، جو ڈاکیہ ہے۔ وہ عمر بھر سائیکل پر ڈاک تقسیم کرتا رہا۔ وہ اپنی موت سے پہلے ’ گنیجینہِ نشاط ‘‘ نامی مسودہ اپنے بیٹے یاور حسین کو سونپ کر جاتا ہے۔یاور حسین، مانگر جاتی کا نمائندہ ہے۔سماجی سطح پر ابھرنے کی صدیوں پرانی خواہش کی تکمیل وہ اس گنجینہ نشاط نامی مسودے سے عملی استفادہ اٹھا کر کرتا ہے۔ وہ بڑے شہر کے اہم ترین رئوسا، جو اعلی طبقے کے بلند ترین مقامات پر براجمان ہیں، کو آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئیAphrodisiacs (جنسی ادویات)کاعادی بنا کر ایک منفرد سماجی مقام حاصل کرتا ہے۔مانگر جاتی سے تعلق رکھنے والے اس آدمی کی بلند ترین سماجی چھلانگ کی پہنچ صرف اعلی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خصیوں تک ہی ہوسکی۔جنہیں ہمہ وقت تقویت پہنچا نے کی وجہ سے یاور حسین کو عزت، دولت، شہرت سب کچھ مل جاتا ہے۔

ناول میں یاور حسین کے علاوہ کچھ اور کردار بھی ایسے ہیں مجھے جن کے مانگر جاتی سے متعلق ہونے پرشائبہ سا گزرتا ہے۔ ان میں کبیر مہدی، ڈاکٹر ناصر اور ہاف مین جیسے کردار ہیں۔ یہ تینوں پڑھے لکھے، عالم فاضل،ذہین و فطین لوگ ہیں۔ لیکن ذرا ان کی مصروفیات پر نظر ڈالیے تو یہ تینوں بھی اپنے مختلف شعبوں میں مختلف مقامات پر خصیہ برداری کا کام ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں اپنی حقیقت معلوم ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں۔ جب کہ یاور حسین اس حقیقت سے یکسربے بہرہ تھا۔وہ خود فریبی میں مبتلا تھا کہ اس نے زندگی کا بلند ترین مقصد حاصل کرلیا ہے، مگر جب اس پر اپنی حقیقت منکشف ہوتی ہے، اسی لمحے اسے موت آلیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں دونوں طرح کے خصیہ لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ساری اذیتیں، ساری تکلیفیں، ساری کُلفتین، ساری کوفتیں انہی بے چاروں کی قسمت میں لکھی گئی ہیں۔

ناول میں استعمال ہونے والی دوسری اصطلاح ’’خصی کلب‘‘، بھی اپنی ماہئیت میں خاصی وسعت کی حامل ہے۔ اس میں ہمارے تمام سماجی، سیاسی، غیر سیاسی،روحانی، مذہبی ادارے اورریاست کے تمام اہم ستون بھی شامل ہوجاتے ہیں۔اگرچہ یاور حسین کو جو مسودہ ملا تھا وہ بادشاہوں کی نشاط و عشرت کے لیے آزمودہ نسخوں پر مبنی تھا مگر وہ ان کاا ستعمال اسلامی جمہوریہ کے مقتدر طبقات کو جنسی قوت مہیا کرنے کے لیے کرتا ہے۔یہ خصی کلب بھی محض پُگلوں اور کاچھروں پر مشتمل نہیں ہے۔ اس میں نواب ثریا جاہ نادر جنگ، امبر جان اور دیگر پردہ نشین بھی آتے ہیں۔اس کلب کے میمبران کی اکثریت تخلیے میں رہنا پسند کرتی ہے۔خلوت میں جنسِ مخالف سے ہر ممکن لذت کشید کرنے کے یہ جویا، درحقیقت ارزل نسلوں کے جدی پشتی حکم ران ہیں۔جنہوں نے نسلوںکی نسلوں کو اپنی اسی کام پر مامور کر رکھا ہے۔ اس کلب کے ارکان ہمیشہ محفوظ و مامون رہتے ہیں۔ جب کہ موت صرف اور صرف ارزل نسلوں کے نمائندوں کامقدر ہے۔

کوئی بھی ناول آخر کار لفظوں کا ایک گورکھ دھندا ہی ہوتا ہے۔ غلام باغ میں استعمال ہونے والی زبان اردو فکشن کے دل داد گان کے لیے انتہائی غیر متوقع ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو فکشن میں چند جید قسم کے ادیبوں کے علاوہ،اکثریت کے ہاں زبان کا استعمال بہت حد تک روایتی،گھسا پٹااور یکساینت کا مارا ہوا ہے۔ مرزا اطہر بیگ صاحب نے اس ناول کے میں جو زبان برتی ہے، وہ نہ صرف بھرپور طور پر ناول کے مناظر، کرداروں کی کیفیات،ان کی ذہنی حالت، ان کے خیالات و تصورات کا پوری طرح ابلاغ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ان کہی بھی چھوڑتی چلی جاتی ہے، یہ ان کہی قاری کے ذہن ہیجان برپا کرتی رہتی ہے۔اس ناول نے اردو فکشن میں برتی جانے والی تخلیقی زبان کو نئے امکانات سے روشناس کروایا ہے۔ناول میں بہت سے مقامات پر چیزوں اور لوگوں کے انوکھے نام اور انتہائی منفرد اصطلاحات گھڑی گئی ہیں۔ مثلاً لا لکھائی اور اس کے مصنف کا نا م گیگلااور اس سے بہت پہلے ننگا افلاطون، وغیرہ وغیرہ۔اس ناول کی تخلیقی زبان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک فرہنگ کا پورا دفتر درکار ہوگا۔ان کی زبان کو ندرت ان کے منفرد تخئیل کے ساتھ، ان کے کرداروں کے مختلف نقطہ ہائے نظر نے بھی دی ہے۔ان کے کردار اپنے جسمانی مینر ازم سے زیادہ اپنے خیالات اور تصورات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ سب مکالمے کے ساتھ خودکلامی بھی کرتے ہیں۔کبیر مہدی کی ساری لا لکھائی ایک خود کلامی ہی تو ہے۔کبیر مہدی کے لب لہجے میں سنجیدگی اور متانت کے ساتھ طنز،استہزا، مزاح اور کامیڈی کا ملا جلا تاثر پایا جاتا ہے۔اور یہی عنصر ناول میں بہت سے مقامات پر Bleak صورت بھی اختیار کر لیتاہے۔مگر یہ گھمبیرتا ناول کی قرات کے دوران گراں نہیں گزرتی۔
عام طور پر زیادہ تر ناول بیانیہ میں ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ناول نگار مکالمے، خودکلامی، تقریر،منظر نگاری، تفصیل نگاری وغیرہ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ جب ہم غلام باغ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیںاس کے زیادہ تر حصے طویل مکالموں اور خودکلامیوں سے پٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔اکثر کردار خودکلامی کے انداز میںاپنی روداد کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ناول میں تمام خودکلامیاں اور طویل مکالمے ازحد دلچسپ ہیں۔ یہ طریقہ عالمی فکشن میں دوستوفسکی سے یادگار رہا ہے۔ اس کے تقریباً سبھی ناولوں میں سبھی کردار طویل مکالمے اور خودکلامیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مرزا اطہر بیگ صاحب نے اردو میں ان طریقوں کو درجہ کمال تک پہنچا نے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔غلام باغ کے تمام ابواب اس بات کا منہ بولتا ثبوت پیش ہیں۔

کبیر کے نیلے رجسٹر میں زہرہ اس کا پہلاجملہ پڑھتی ہے۔’’ فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا ہے؟‘‘خدا اس دنیائے رنگ و بو کاخالق ہے، جب کہ فکشن رائٹر اپنے فکشن کی دنیا کا خالق ہوتا ہے۔ یہ اختیا ر دونوں کے عمل میں چھپا ہوا ہے اور ان دونوں کے عمل سے ہی ظاہر بھی ہوتاہے۔غلام باغ کا غالب راوی یوں تو کبیر مہدی ہے لیکن اس کا ہم زاد بن کر اسی کے لب و لہجے میں یہ سرگوشیاں کون کرتا ہے۔ ناول میں سانس لیتے انسانوں کی زندگی اور موت پر حکم کون لگاتا ہے۔ ان کی موت کے طریقے،اس کے دن اور وقت کا تعین کون کرتا ہے؟یہ خدا تو ہو ہی نہیں سکتا۔پھر کون ہے۔ کوئی فکشن زاد ہی ہوگا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔

گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔

انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟

مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔

انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔

دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟

میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔

آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔

ایسا کیوں تھا؟

مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔

مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔

یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔

میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔
ہاں ہوس کی نشانی—!

Categories
فکشن

نعمت خانہ – سترہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نومبر کے آخری دن تھے یا پھر دسمبرکی شروعات۔ مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آرہا ہے۔ بہرحال زمانہ یہی تھا جب نیازوں اور شادی بیاہوںکا دور آپہنچا۔ ان دنوںمیں نے جتنی دعوتیں کھائیں، ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ میں چونکہ اب بھی گھر میں سب سے چھوٹا تھا بلکہ بچّہ ہی تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے گھر کا ہر فرد دعوت میں مجھے ضرور ساتھ لے جاتا تھا۔ چاہے وہ محلّے کی کوئی شادی ہو یا پھر رشتہ داروں کے یہاں۔ وہ ایک عجیب منظر ہوتا۔ اس زمانے میں شادی ہال یا ہوٹلوں کا رواج نہ تھا۔ محلّے کا کوئی ایک نسبتاً بڑا مکان لے لیا جاتا۔ اس کے آنگن یا دالان میں لکڑی کی تین چار میزیں ملاکر لگا دی جاتیں، ان میزوں پر کالے میل اور سالن اور چکنائی کی موٹی موٹی تہیں جمی ہوتیں۔ میز پوش اگر ہوتے تو سالن کے پیلے پیلے دھبّوں سے بالکل رنگے ہوئے اور پانی سے تر بھی۔ میزوں کے دونوں جانب قطار سے لوہے کی بدرنگ اور بے حد تکلیف دہ کرسیاں لگائی جاتیں، میزیں اور کرسیاں دونوں اوپر نیچے ہلتی رہتی تھیں۔

لوگ اپنی باری کا انتظار الگ بیٹھ کر کم کرتے، وہ کرسیوں کے پیچھے اس طرح کھڑے رہتے جیسے کرسی غائب نہ ہو جائے۔ وہ کھانے والوںکا ہر ہرنوالہ گنتے اور بے چینی کے ساتھ کبھی ایک پاؤں پر زور دے کر ٹیڑھے ہو جاتے تو کبھی دوسرے پیر پر۔ کھانے والے خود بہت جلدی جلدی کھاتے۔ اکثر بغیر چبائے ہی نوالہ منھ میں رکھ کر نگل جاتے، وہ مربھکّوں کی طرح کھانے پر ٹوٹتے تھے۔

کھانے میں بہت زیادہ اشیاء نہیں ہوتی تھیں۔ زیادہ تر قورمہ روٹی (جسے وہ لوگ گوشت روٹی کہتے تھے) ورنہ اگر صاحب حیثیت لوگ ہوتے تھے تو پلاؤ اور زردہ بھی، ہمارے اطراف میں بریانی کا رواج نہیں تھا، حالانکہ آج کل تو پلاؤ کو بھی بریانی ہی کہا جاتا ہے۔
روٹیاں خمیری اور تندوری ہوا کرتیں۔ ان روٹیوں کا حجم بہت بڑا ہوتا،تقریباً ایک تھالی جتنا۔

کھانا لا لاکر رکھنے والے بہت شور مچاتے، ادھر اُدھر سے ایک دوسرے کوآواز لگاتے اوربے حد حواس باختہ نظر آتے۔ اکثر قورمے کا ڈونگہ کسی کھانے والے کے سر پر بھی چھلک جاتا، ایک ہائے توبہ مچی رہتی۔

ڈونگہ جیسے ہی میز پر رکھاجاتا، لوگ اُس میں سے بہتر بوٹیاں اور تار یعنی روغن نکالنے کے لیے ایک ساتھ جھپٹتے۔ کبھی کبھی ڈونگہ میز پر ہی پلٹ جاتا، مگر کھانے والوں کو اس کی مطلق پروا نہ ہوتی۔کوئی کسی کو نہیں پوچھتا، سب کو اپنی اپنی آنتوں کی فکر ہوتی۔ یہ ایسی ہی نفسا نفسی کا منظر ہوتا جو شاید میدانِ حشر میں بھی نہ دکھائی دے۔

میزوں کے پاس المونیم کے ٹب رکھے رہتے جس میں جھوٹی رکابیاں پڑی رہتیں۔ رکابیاں یا تو المونیم کی ہوتیں یا پھر سفید تام چینی کی۔ انھیں ٹبوں میںبوٹیاں، ہڈّیاں اور روٹیوں کے پانی سے تر پھُولے ہوئے، ٹکڑے بھی بھرے رہتے جن پر مکّھیاں ہی مکّھیاں بھنبھناتی رہتیں۔
اس قسم کے ایک دوسرے ٹب میں پینے کا پانی بھرا رہتا۔ اگر گرمیوں کے دن ہوتے تو ٹب پر لکڑی کا ایک تختہ رکھ کر اُس پربرف کی سلّیاں جما دی جاتیں۔ برف پگھل پگھل کر پانی میں گرتارہتا اور اُسے ٹھنڈا کرتا رہتا۔ اسی ٹب میں المونیم کے جگ ڈال ڈال کر پانی بھر کر میزوں پر رکھ دیا جاتا۔ بمشکل دو تین گلاس (وہ بھی المونیم کے ہی ہوتے)میز پر رکھے ہوتے یا اِدھر اُدھر لڑھکتے پھرتے۔

کھانے والے،کھانا خوب برباد کرتے۔ رکابیوں میں ڈھیر سا سالن، ہڈّیاں اور چکنی بوٹیاں نکالتے اور ناک تک کھانا ٹھونس لینے کے بعد ایسے ہی چھوڑ کر اُٹھ جاتے۔ وہ اس بے ہنگم انداز سے اُٹھتے کہ کرسیاں اُلٹتے اُلٹتے بچتیں اور میزیں اتنے زور سے ہلتیں کہ پانی سے بھرے جگ اُلٹ جاتے۔

روٹیاں بھی خوب برباد ہوتیں، بلکہ اُن کی تو بے حد بے حرمتی بھی کی جاتی۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے کئی باریش حضرات کو اپنی سفید داڑھی پر لگے ہوئے شوربے اور مسالے کو روٹیوں کے ٹکڑے سے صاف کرتے دیکھا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے آج کل لوگ نیپکن کا استعمال کرتے ہیں۔ روٹیاں ہاتھ پونچھنے، منھ، ہونٹ اور ٹھوڑی صاف کرنے اور مرچ کی زیادتی کے سبب ناک سے نکلتے پانی کو صاف کرنے کے لیے اور شوربے میں بھیگی داڑھیاں پونچھنے کے لیے ایک بہترین اور مفت کے رومال کا کام انجام دیتی تھیں۔
اس ہنگامے اور شور پر طرّہ یہ تھا کہ لاؤڈ اسپیکر بھی چھت پر کہیں فٹ ہوتا اور اُس کا رُخ کھانوں کی جانب ہی ہوتا۔ لاؤڈ اسپیکر پر یا توکسی نئی فلم کے واہیات گانوں کے ریکارڈ کان پھاڑ دینے والی آواز میں بجائے جاتے یا پھر حبیب پینٹر کی قوالیاں۔
(آج کی بوفے دعوتوں میں بھی جہاں سب کھڑے ہوکر اپنا کھانا نکالتے ہیں، اور کھڑے ہوکر کھانا کھاتے ہیں، نوعیت کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہے)

کیا یہ میدانِ جنگ نہیں تھا۔

ہاں! ایک ایسا میدانِ جنگ جس میںانسان ایک دوسرے سے، اپنے اپنے دانتوں، اپنے جبڑوں، اپنی زبانوں اور اپنی آنتوں کے ذریعے لڑتے ہیں۔

یہی سب اُن کے ہتھیار ہیں جنہیں چلائے جانے کی لذت میں شرابور ہوکر وہ ایک دوسرے کی انسانی بھوک کا شکار کرتے ہیں۔
کون تھے وہ لوگ جو بھوک برداشت کرنے کے لیے پیٹ پر پتھّر باندھ لیا کرتے تھے؟

میں نے ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

خود میں بھی اسی بے رحم کھیل میں شامل ہوں۔ جاڑوں کی دوپہر میں، زمیندار گھرانے کی روایت کو سنبھالے ہوے ہم سب دیسی گھی میں ڈبو ڈبوکر اُرد کی دال کی کالی کھچڑی کھاتے اور پھر سو جاتے۔ باقاعدہ لحاف اوڑھ کر سو جاتے، اور پھرعصر کے وقت جب اُٹھتے تو سب کا منھ سوجا سوجا اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی نظر آتیں۔ چاول اور ماش کی دال کا بادی پن اِس حلیے کا ذمہ دار ہوتا۔
خود میرا بھی یہی حلیہ ہوتا۔ میں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا اور شرمندہ ہوجاتا۔ وہ آئینہ جو دالان کے اُس حصّے میں لگا تھا جہاں سے باورچی خانہ بھی آئینے میں صاف نظر آتا تھا۔ خاص طور پر اُس کا چولھا اور ایک طرف رکھا یہ بڑا سا کالا توا۔

یہ سب مجھے شرمندہ کرتا تھا اور کرتا آیا ہے، مگر محض شرمندگی سے کیا ہوتا ہے؟

انسان کب سے شرمندہ ہو تا آیا ہے مگر اُس کی شرمندگی دنیا کا کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لیے کبھی جھاڑو نہ بن سکی۔
احساسِ جرم، شرمندگی، اپنے گناہوں کی فہرست، سب کو لیے لیے میں بھی زندگی جیتا رہا اورجیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ویسے ویسے میری زندگی میں بھیانک واقعات بھی بڑھتے گئے۔ کھانا کھانے سے زیادہ خوفناک گناہ بھی مجھ سے سرزد ہوئے ہیں۔ ایسے بھیانک واقعات جو ایک خفیہ تحریر کی مانند میرے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن ہیں، مگر اب جب مجھے اپنے بچپن کے کھلونوں کو توڑ کر اُن کا پوسٹ مارٹم کرنے کی دھن سوار ہوگئی ہے، تو پھر مرے حافظے کو اُس مردہ خانے کی طرف رُخ کرنا ہی پڑے گا۔
ذہن کے مردہ خانوں میں مکڑیوں کے جالوں میں ٹھنڈی باسی سے لپٹی لاشیں اور خون کی بو میری یادداشت کو اُدھر— اس طرح کھینچے لیے جارہی ہے جیسے کوئی قصائی کسی گائے کے گلے میں رسّی ڈال کر اُسے مذبح کی طرف لے جاتا ہے۔

لاؤ تو ذرا دیکھوں، رسّی کا یہ پھندا میرے گلے کے ناپ کا ہے بھی یا نہیں؟