Categories
نان فکشن

سرنگ (اسد رضا)

ایک صبح آپ اٹھتے ہیں تو خود کو زندان میں پاتے ہیں۔ آپ اس جرم کی بابت سوچتے ہیں جس کارن آپ زندان میں قید ہیں۔ آپ کچھ بھی یاد کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ کو اپنا نام، علاقہ، شناخت کچھ بھی یاد نہیں آتا۔ پہچان کے طور پر آپ کے لباس پر ایک نمبر موجود ہے۔ آپ اس نمبر میں اپنی شناخت کھوجتے ہیں لیکن ایک نمبر سے خود کو ڈھونڈنا کافی دشوار کام ہے۔ اب آپ زندان میں ٹہل رہے ہیں۔ آپ زندان کی جالی سے باہر جھانکتے ہیں تو آپ کو دونوں اطراف بہت سی بیرکیں نظر آتی ہیں۔ آپ بہت جلدی جان لیتے ہیں کہ یہاں سے فرار ہونا قریب قریب ناممکن ہے۔ اب آپ آرام سے بیٹھے ہیں اور ایک دفعہ پھر اپنے جرم کے بارے میں غور کرتے ہیں۔ اب ایک کہانی تراشتے ہیں جس میں آپ ایک سیریل کلر ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو اپنے جنون کی وجہ بُننی ہے۔ آپ ان تمام خواتین کے بارے میں سوچتے ہیں جنہیں آپ نے ممکنہ طور پر قتل کیا ہے۔ اُف آپ ان سے کتنی شدید نفرت کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ موٹی مالک مکان جو ہر وقت اپنے کتے کو ساتھ لیے گھومتی رہتی ہیں اور جگہ جگہ تھوکتی ہے۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد آپ نے اس کی زبان بھی کاٹ ڈالی تھی۔ اس کی لاش کو ٹھکانے لگانا کتنا تھکا دینے والا کام تھا جس کے بعد آپ کو بئیر کے چھ کین پینے پڑے تھے۔ دوسری خاتون وہ دھوبن تھی جو کپڑے دھوتے وقت تمام جیبوں کی تلاشی لیتی تھی۔ اس کا لالچ نہ ختم ہونے والا تھا۔ آپ نے اسی کا فائدہ اٹھا کر اسے گھر بلایا تھا۔ آپ یاد کرتے ہیں کہ اس کو آپ کے جسم سے زیادہ بیڈ کے پاس پڑی آپ کی پینٹ سے دلچسپی تھی۔ اس نے قتل کے خلاف کتنی سخت مزاحمت کی تھی۔ لالچی لوگ موت سے کتنا ڈرتے ہیں۔ اور وہ روسی خاتون کتنی منحوس تھی جس کے جسم پر جا بجا تل تھے اور مردوں سے جسم کے تل گنوانا کتنا پسند کرتی تھی۔ آپ نے چاقو سے اس کے سینے اور ناف کے تل کے درمیان ایک خط کھینچ دیا تھا۔ یہ کتنا پُر لطف تھا۔ اس کے سفید جسم پر موجود سیاہ تل سُرخ خون میں کیسے ڈوب گئے تھے۔ آخری مرنے والی خاتون وہ ہم جنس پرست تھی جو سستے سگریٹ پیتی تھی اور اس کے کانوں میں ڈھیر ساری بالیاں تھیں۔ کسی عورت کا ہم جنس پرست ہونا ہی اس کے قتل کی کافی وجہ ہے اور خاص طور پر جب وہ آپ سے بلا وجہ ہمدردی جتائے۔ اس نے مرنے سے پہلے بتایا تھا کہ بچپن میں اس کا باپ اور بھائی روز اس کا ریپ کرتے تھے۔ دھت تیری کی۔۔۔ یہ بیوقوف عورت اگر شیرف کی دوست نہ ہوتی تو آج آپ جیل میں نہ ہوتے۔ آپ کے قالین پر سے اس کی خون آلود بالی مل گئی تھی۔

آپ اس سنسنی کو محسوس کرتے ہیں جو قتل کرتے وقت آپ کے رگ و پے میں دوڑتی تھی۔ اب آپ تھک چکے ہیں اور لیٹ جاتے ہیں۔ پتہ نہیں کیسے یکایک آپ کے ذہن میں خدشہ ابھرنے لگتا ہے۔ جلد ہی آپ اپنی کہانی پر شک کرنے لگتے ہیں۔ آپ کو بنائی گئی کہانی میں بے شمار منطقی غلطیاں نظر آنے لگتے ہیں۔ مثلاً موٹی خواتین کتے کی بجائے بلی رکھنا پسند کرتی ہیں۔ روسی خواتین کے بدن پر کالے کی بجائے بھورے تل ہوتے ہیں۔ اور ہم جنس پرست لڑکی کا کردار بناتے وقت آپ نے کلیشوں کا کس قدر استعمال کیا ہے۔ پھر قتل کے لئے خنجر کا استعمال آپ کو اپنی نفاست پسند طبعیت سے کچھ میل کھاتا نظر نہیں آتا۔ نیز آپ اتنے احمق نہیں ہو سکتے کہ قتل کے بعد قالین کو اچھی طرح سے چیک نہ کریں۔ صبح ہونے تک آپ اپنی کہانی کو مکمل طور پر رد کر چکے ہیں۔ اب آپ نئے عنوان سے اپنی موجودگی کو معنی دیتے ہیں۔ آپ کی پرتجسس اور باریک بین فطرت یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ آپ کے ایک جاسوس ہیں جو دشمن ملک میں پکڑے جا چکے ہیں۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ نے کیسے 6 مختلف زبانیں اور 14 مختلف لہجے یاد کئے تھے۔ آپ اپنی سخت تربیت کے مراحل یاد کرتے ہیں۔ آپ اپنے جسم پر موجود ایک ایک نشان کی وجہ سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یوم آزادی کی وہ رات یاد آتی ہے جب لطیفے سناتے ہوئے کس چالاکی سے آپ نے دشمن ملک کے جنرل سے معلومات حاصل کی تھی۔ آپ ان کوڈز کے بارے میں سوچتے ہیں جن کے زریعے آپ اپنا پیغام بھیجا کرتے تھے۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ باسکٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے آپ کتنے جذباتی ہو گئے تھے اور یہی غلطی آپ کے پکڑے جانے کا سبب بنی۔ آپ اپنے ملک کی ایجنسیوں کی جہالت پر حیران ہوتے ہیں کہ وہ جاسوس کو محب الوطن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک پروفیشنل کو کبھی بھی محب وطن نہیں ہونا چاہیے۔ بہرحال رات گئے تک آپ اپنی مہمات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ زندان کو قابل برداشت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ رات کی تاریکی، زندان کی ہولناکی، تنہائی اور شناخت کے مسائل یہ سب اتنا چشم کشا ہوتا ہے۔ کہ آپ کی بنائی گئی ہر کہانی آپ کو ایک سیراب سے زیادہ کچھ نہیں لگتی اور آپ اس سے لا تعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔ آپ ایک ایٹمی سائنسدان سے لے کر معمولی گورکن تک سب کچھ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہر بار کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔

آخر آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ ایک کہانی کار ہیں اور آپ کی کسی کہانی کے کسی کردار کی ایسی ہی کسی فاش غلطی کے سبب آج آپ زندان میں ہیں۔ اب آپ شدت سے وہ کہانیاں یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ نے کبھی لکھی ہوں گی۔ آپ کو وہ سب بہت پھیکی اور بد مزہ سی لگتی ہیں۔ زندان سے باہر لکھی گئی کہانیاں پھکڑ بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتیں۔ کیا واقعی آپ ایک کہانی کار ہیں؟ آپ اس سوال سے کترا کر سر جھکائے ایک اور کہانی بُننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

Categories
شاعری

دو نظمیں (اسد رضا)

[divider]آئینہ خانے میں ایک پتھر[/divider]

ایک عجیب خواب سے جاگ جاگ جاتا ہوں
آئینوں کے گھر میں، آئینوں کے شہر میں
اپنے نام کا اک آئینہ جو پاتا ہوں
یہ عکس سارے میرے ہیں یا میں بھی ایک عکس ہوں
سایہ ہوں، خیال ہوں یا میں دوسرا ہی شخص ہوں
دِکھ رہے ہیں ایک سے سارے اور ایک ہی منظر دکھا رہے ہیں
یہ سارے ایک سمت کیوں دوڑے جا رہے ہیں
ہنس رہے ہیں دیکھو سارے ایک ہی بات پر
چونک چونک اٹھتے ہیں ہر نئی آہٹ پر
یہ منظر بھر رہا ہے کون، کون آئینہ خانہ چلا رہا ہے
آئینے میں جو خیال اُبھرا ہے یہ خیال کون بنا رہا ہے
کون آوازیں بُن رہا ہے کون بازگشت بنا رہا ہے
یہ نیا ٹرینڈ کون چلا رہا ہے، اس کے پیچھے کون چلا آ رہا ہے
یہ بوڑھا سوداگر جو قصہ سُنا رہا ہے
اس میں کچھ نیا رہا ہے؟
یہ دانش گرد راہ بھی کوئی دکھا رہا ہے یا صرف پٹاری ہلا رہا ہے
ٹرینڈ جب چلائے گا دانش کہاں سے لائے گا
نمبر ہی بڑھائے گا
آئینوں کے شہر میں یہ آئینہ دکھائے گا؟
سایوں کی دنیا ہے نمبروں سے چلتی ہے
لائیکس اور کمنٹس کا خون پی کے پلتی ہے
ہم آئینوں میں جب اپنا چہرہ صاف کرتے ہیں کچھ پیٹرن سے بنتے ہیں
یہ پیٹرن ہی بکتے ہیں، یہ پیٹرن ہی چلتے ہیں
سمجھتے ہیں ہم نے پا لی آزادی
خیال کی آزادی ہے خیالی آزادی
زبان کسی اور کی بیان کسی اور کا
منہ ہی چلا رہے ہیں
اس جگالی کی ہم نے بنا لی آزادی
ہم کنزیومر اپنے وجود کے ہیں جو وجود صرف شہود کے ہیں
آئینوں میں جانے ہم کیسی مارکیٹنگ کرتے ہیں
ہم میں کچھ تو سپیکر ہیں جو آواز کسی اور کی سناتے ہیں
باقی سب وولیم ہی بڑھاتے ہیں
کیا کوئی نتشے آئے گا مژدہ سنائے گا اور دُکھ سے مر جائے گا
انسان مرچکا ہے اور ہم نے اس کی فوٹو کاپیاں کروا لی ہیں
ان آئینوں پہ پہلا پتھر کون اٹھائے گا
یہ پتھر کہاں سے آئے گا
یہ شہرِِ سحر کون مٹائے گا
کب مارکیٹ میں اس سے بڑا جن آئے گا
آئینوں کی دنیا سے باہر نکل بھی پائیں گے
یہ نظام ہم کبھی بدل بھی پائیں گے
میری اس نظم پر آخر کتنے لائکس آئیں گے

[divider]ایک پلیٹ فارم کا خواب !![/divider]

اونگھتا جھولتا پیلٹ فارم
ایک پھوڑے کی طرح نیند میں بہہ نکلا ہے
جس میں خواب ٹیس کی صورت اٹھتے ہیں
جو افق کی کسی کہکشاں سے اترتے ہیں
اور منظر بننے سے قبل زیرِزمین کھو جاتے ہیں
معانقے کی خواہش لیے پٹڑیاں کبڑی ہوئی چلی جاتی ہیں
پٹڑیوں کے درمیان ایک نامعلوم سا تار
جس پہ ابُھر آتے ہیں ہزارہا صدیوں کے خواب
کتنی نسلوں کے کتنی انواع کے جیون جس تار سے لپٹے ہیں
اسی تار سے موصول ہوتے ہیں سارے دھندلے خواب
شکاری کئی جنموں سے اسی تعاقب میں چلا آتا ہے
اک جست بھری ہے خواب نے وحشت سے
شکار بھی چھپتا ہوا آ نکلا ہے
خواب پناہ گاہ ہیں دہشت سے
ایک پٹڑی پہ ہے دہشت اتری ایک نے وحشت پائی
یہ چنگھاڑتا ہے غراتا ہے
وہ روتی ہے کُرلاتی ہے
کوکھ پلیٹ فارم کی پھٹتی چلی جاتی ہے
ریل کی سیٹی بجتی چلی جاتی ہے
انہیں ڈوروں کو سلجھاتا ہوں ڈھونڈ نہیں پاتا ہوں
اپنے حصے کا خواب
زنگ خوردہ خواہشیں ہولے سے کسمساتی ہیں
میں اپنی وحشت کو سنبھالوں کہ دہشت سے نکالوں تجھ کو
مرد و زن کی اس تفریق میں کس سمت میں ڈالوں تجھ کو
تھرتھرانے لگی خواب کی زمیں، انجن نے انگڑائی بھری
گارڈ نے جھنڈی ہلا دی ہے، اسٹیشن بوائے نے ندا دی ہے
اسٹیشن ماسٹر ابھی کھولے بیٹھا ہے صدیوں کا حساب
آرٹسٹ تو محض قُلی ہے جو سارے ڈبوں کی طرف لپکا ہے
کاندھے پہ دھرے موہوم خوابوں کا حساب
وہ کیا جانے کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
خوابوں نے ابھی بہت نیچے تلک جانا ہے

Categories
نان فکشن

وراداتِ کلبی بسلسہ ہائے فروغ کلبی: قسط اول (اسد رضا)

[divider]حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی[/divider]

ہمارا ایک یار جانی جو کہ دانشور بھی ہے۔ جب ہم نے پایا کہ اُس کے کتے کی شہرت اُس کتے سے زیادہ ہو چکی ہے تو ہم نے فوراً ارداہ باندھا کہ دنیا کو اس کت شناس سے مزید روشناس کروایا جائے۔ ویسے بھی بکر کا کہنا ہے ‘جانی! کسی حسین عورت کو کسی کتے کے ساتھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میری ذاتی حق تلفی ہوئی ہے’۔‘’ بکر کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے کہ دنیا حاسدان بد سے خالی نہیں اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی بکر کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون ان کا اُنگوٹھا پکڑ سکتا ہے۔ پھر بعض باتیں ایسی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کی ہیں بھی یا نہیں’’ اس پارچے کو لکھنے کا بنیادی سبب تو بکر کی کلبی حالت سے متعلق معاشرے کو متنبہ کرنا ہے مگر ہو سکتا ہے تحریر کے دوران کچھ مزید شقی الکلب شخصیات کی تشفی ہو جائے۔

بدھا سا بے چین دل لئے ٹکے کے صبر سے محروم وہ دوزخی روح کب میری روح سے متصل ہوئی سن و سال لکھنے کا یارا نہیں۔ ویسے بھی جہنم میں ابدیت فیصلہ کن سزاہے یا کیفئت اس پر ہم آج تک متفق نہیں ہو سکے۔ یہ لگ بھگ ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ “اقبال اور ختم نبوت” جیسے عبث موضوع پر منعقد ایک سیمنار میں میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس پر ان دنوں سرخ رنگ غالب تھا اور میری سرخی ماند پڑ چکی تھی اور کالک میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وہ شاید پہلا اور آخری موقع تھا جب ہم نے نہایت پرجوش انداز میں سرخ انقلاب کی بابت گفتگو کی تھی۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہوا۔ یہی وہ دور تھا جب بکر پر جنسی اور فلسفیانہ ہشیاری وقفے وقفے سے طاری رہتی تھی کہ پہچان مشکل تھی کہ وہ لمحہ موجود میں کس جذبے کے زیر اثر ہے۔ اس کا حل یار لوگوں نے یہ نکالا کہ دیکھا جائے کہ وہ کس لمحے کون سے بال کُھجا رہا ہے۔ اس زمانے کو شوذب تلاش النسا کا دورقرار دیتا ہے۔ بکر اس زمانے میں عموماً کہا کرتا تھا یار جانی کوئی ایسی بات کر کے کانوں سے لیس دار مادہ نکلنے لگے جس پر ہم انہیں سمجھاتے کہ اس کی خواہش بیجا نہیں۔ رطوبت کا انتخاب بھی عمر کے مطابق ہی ہے مگر خدارا جائے اخراج کی بابت تھوڑی درستی کر لے۔ بہرحال ان دنوں ہم نے اپنی ہر جاننے والی دوست سے التجا کی کے وہ التفات کا رخ بکر کی سمت موڑ لے مگر یہاں بھی بکر نے حرمزدگی سے کام لیا کہ کسی بھی عورت سے بات کرتے ہی کچھ ایسی حرکتیں شروع کر دیتا جو کسی شہدے عاشق ہونے کی خبر دیتی سو تمام خواتین کنی کترا کے نکل جاتیں اور بکر ہمیں عورت کی عظمت سے متعلق نطشے کے اقوال سُنا کر اپنا غم غلط کرتا شوذب اس دوران مختلف مقامات پر حضرت علی کے اقوال ٹانکتا رہتا۔ شوذب کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بہر طور بولنا ہے جب اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو عربی گردانیں دُہرائے گا یا درجہ دوئم کی اردو کی کتاب کی نظمیں سنانے لگے گا۔

قصہ مختصر یہ کہ آخرکار فون پر بکر کا ایک خاتون سے معاشقے کا آغاز ہو گیا جو سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری کی طالبہ تھی۔ اگرچہ ایسے ناہنجار مضمون کی طالبہ سے کسی بھی قسم کی پینگیں بڑھانے پر ہم تو سخت معترض تھے مگر بکر تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایک صبح ملاقات کا وقت طے کیا جانے لگا۔ اس دوران وہ خاتون مخلف زاویوں سے بکر سے سوال کرنے لگی اور بکر اپنی فہم کے مطابق اس کے جواب دے کر اس کو مطمئن کرتا رہا۔ یکایک اس نے پوچھا ‘’ ابوبکر آپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہو’’ اب بکر نے میری سمت دیکھا، میں نے اس کی سمت دیکھا پھر ہم دونوں دیوار کی سمت دیکھنے لگے۔ میں نے اور بکر نے اپنے اپنے طور پر بکر کی ہیت سے متعلق غور کرنا شروع کر دیا۔ میں اس بات کا نہایت شرمندگی سے اقرارکرتا ہوں کہ پہلے پہل تو میرے دماغ کچھ حشرات کا تصور گردش کرتا رہا پھرمیں نے بددقت اس خیال قبیح سے پیچھا چھڑایا اور اس ذہنی کمینگی پر دو حرف بھیجے۔ خیر جب ہم انفرادی طور پر کوئی حل سوچ نہ پائے تو ہم نے اجتماعی طور پر اس مسئلے سے عہدہ برا ہونے فیصلہ کیا۔ کافی غوروخوص اور طرفین کے دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر متفق ہوئے کہ بکر کم ازکم ایک دو پایہ حیوان ہے۔ ہم نے دیگر تفصیلات میں جانا غیر ضروری خیال کیا اور موصوفہ تک اپنا نتیجہ پہنچایا۔ بات یہیں تک رہتی تو خیر تھی لیکن وہ ظالم تو دخل در دیگر معاملات بھی کرنے لگیں۔ سب سے پہلے تو اس نے ملاقات کے حوالے سے چند ضروری ہدایات بکر کے گوش گزار کیں کہ ملاقات کے لئے بکر کو کم سے کم منہ دھو کر آنا ہو گیا۔ ڈریس پینٹ پہننی ہو گی اور شرٹ کے بازو کے بٹن بند ہو ں گے نیر شرٹ اور دیگر اشیا پینٹ کے اندر رہیں گی۔ اس کے علاوہ دوران ملاقات شرٹ کا اوپر والا بٹن، بکر کا منہ اور پینٹ کی زپ بند رہنی چاہیے۔مزید براں یہ کہ ملاقات کے خاتمے تک بکر کے سر کے بال بھی کھڑے نہیں ہونے چاہیں۔ ہمارا ماننا تھا کہ ایسی رذیل شرائط رکھنے والی لڑکی سے ملنا ہی شرف مردانگی کے خلاف ہے مگر بکر کے سر ان دنوں مادہ حیات سوار تھا اور وہ اس کا اخراج باوسیلہ مادہ ہی کرنے پر بضد۔ ہم نے ہر چند بکر کی توجہ ایک اور معقول مادہ حیوان کی طرف کروانا چاہی مگر اپنے سوشلسٹ خیالات کی بنا پر وہ کسی محنت کش کلاس کے نمائندہ جانور کا استحصال کرنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا۔ بہرطور یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ خدا جانے اس ملاقات میں کیا بیتی ہم نے تو بکر کی شکل دیکھ کر کچھ بھی اندازہ لگانے سے قصداً خود کو روک دیا مگر بس سٹاپ پر موجود دعوت اسلامی کے کسی بھائی نے مسکراتے ہوئے “جلق لگانے کے نقصانات ” کے عنوان سے ایک کتابچہ بکر کو زبردستی تھما دیا بکر کچھ چوں چراں کرنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے اس کی توجہ صاحب کتاب کے ہاتھوں میں موجود دوسری کتا ب “اغلام بازی سے بچاو کے مدنی طریقے” کی طرف کروائی تو اس کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا۔ میرا خیال ہے کہ یہ عشق جلد ہی اپنی موت آپ مر گیا اور دعوت اسلامی کی کتاب بھی بکر کے ہاتھ باندھنے میں ناکام قرار پائی۔ بہرحال بفضل خدا اسی عرصے کے دوران بکر کو جنسی تجربے کا موقع ملا جس سے پہلے وہ میرے پاس آیا اور کہا جانی نیلی گولی درکار ہے میں اپنے پہلے تجربے کا کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ ہم ہرگز اس کو گولی دینے کے طرفدار نہ تھے مگر کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک اور معتبر دوست کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ گزرا تھا کہ وہ جب رن سے نامراد لوٹے تھے اور ہمارے استفسار پر فرمایا تھا “نادان گر گیا سجدے میں جب وقت قیام آیا”۔ ایسے ہی خطرے کے پیش نظر ہم نے بکر کو گولی دلوا دی۔

ہماری ملاقاتیں چلتی رہیں۔ میری اور بکر کی ان ملاقاتوں میں کبھی کبھار شوذب، راجہ سمرہ، اسد کاظمی اور ملک عبدالعزیز شامل تھے۔ یہ تمام احباب حق رکھتے ہیں کہ ان پر الگ سے باب لکھے جاویں۔ ان ملاقاتوں میں مذہب، فلسفہ، سائنس، ادب، نفسیات وغیرہ کے مضامین پر گپ شپ لگتی۔ کبھی کبھار ہم ادریس آزاد کے بیکراں علم سے کماحقہ فیض حاصل کرنے کے لئے ڈیڑھ رات خوشاب میں بھی بسر کرتے۔ بکر اور میں اعلانیہ لادین تھے سو کاظمی کا جابرانہ، ادریس کا منافقانہ، سمرہ کا مدافعانہ اور شوذب کا ڈھکوانہ اسلام ہم پر چاروں طرف سے یلغار کر دیتا اور بکر اس سے بچنے کے لئے علم کا چراغ بجھا دیتا اور چرس کا دیا روشن ہو جاتا پھر نہ کوئی بندہ رہتا نہ بندہ نواز۔ ان میں سے ہرصاحب کی ضد تھی کہ اسے اسلام پر اتھارٹی سمجھا جائے۔ ادریس آزاد کہیں سے فلسفیانہ دلیل لاتا تو کاظمی اس کا نطفائی توڑ پیش کرتا۔ شوذب کا ماننا تھا کہ دین کے معاملات میں اُسے حجت تسلیم کیا جائے چونکہ وہ ڈھکو صاحب کی گود میں بالغ ہوا ہے (یا مظہر العجائب)۔ کاظمی کی موجودگی بکر کو سخت جز بز کرتی کہ کاظمی جنسی اعضا کا نام بھی عربی میں سننے کا عادی تھا۔ اس کی موجودگی میں لطائف میں موجود جنسی اعضا بھی پردوں کے اندر چھپ کر کلبلانے لگتے اور ایسی مقدس عریانی کا دور دوراں ہوتا جس کا تصور صرف جنت میں کیا جا سکتا ہے۔ اوائل کے سلسلہ ہائے گفتگو میں ایک بار بکر پوری شدت سے گویا ہوا “یار یہ کچھ غیر منطقی نہیں لگتا کہ کچھ پل میں کئے گئے گناہوں کی سزا ابدی جہنم ہو” کاظمی بولا فکر نہ کر منطقیوں کے لئے دوزخ میں مخصوص سزا وں کا بندوبست کیا جاوئے گا۔ ہم مادہ اور شعور اور ان کے باہمی تعلق پر فلسفہ بگھار رہے ہوتے کہ شوذب کی آواز گونجتی” ٹوٹ بٹوٹ کے دو مرغے تھے دونوں تھے ہوشیار”۔ اس کے بعد بغیر کوئی پہلو بدلے تھوگ اگلتے شوذب لگ بھگ پچیس نظمیں سُنا کر بس کرتا۔ اس گفتگو کا خاتمہ باہمی طور پر کسی نا کسی بڑی کائناتی حقیقت کو مان کر ہوتا مثلاً” یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی ” یا پھر “نہیں کوئی شے نکمی قدرت کے کارخانے میں”۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ رات بھر ہم “پیپل کے پتے گرتے رہیں گے ” جیسے آفاقی طرح مصرعہ پر قافیہ پیمائی کرتے رہے۔

جیسے جیسے رات گزرتی جاتی تھی ہمارے موضوعات پیچیدہ سے پیچدہ تر ہوتے چلے جاتے۔ تاریخ کے کسی نکتے سے شروع ہونے والی بحث الہیات سے ہوتی ہوئی زمان و مکاں کی گتھیاں کھولتے کھولتے متوازی دنیاوں اور مصنوعی ذہانت کے خدوخال تک جا پہنچتی۔ بات ہیگل کے بینگ اور نتھنگنس سےبڑھتے ہوئے سارتر کے بینگ اور ایگزسٹنس تک جا پہنچی۔ نطشے کا سپر مین کیرکیگارڈ کا تباہ حال شخص بن چکا ہے۔ اس دوران کتنے ہی کپ چائے اور سگریٹ پی جاتی۔ اب ہماری گفتگو کسی قدیم مصحف کی طرح بوسیدہ، بوجھل اور محض قابل احترام رہ جاتی سو ہم اسے عقیدت سے طاق پر جون ایلیاء کی کتب کے بغل میں رکھ دیتے۔ اب رات کے سائے گہرے ہو چلے ہیں۔ یکایک گفتگو میں خاموشی کا پل آ گیا ہے۔ وجودی کرب گہرا ہو چلا ہے۔ شوذب سو چکا ہے۔ میں اور بکر خاموش ہیں۔ شاید واقف ہیں کہ اب مزید گفتگو نہیں ہو سکتی۔ رحم طلب نظروں سے ایک دوجے کو دیکھتے۔ آہ کہ کوئی چارہ نہیں۔ وائے افسوس کہ کوئی چارہ گر نہیں۔ سب گفتگو لا یعنی ٹھہری ہے۔ رات بلکنے لگتی۔ شعوری دھوکا ہاتھ چھڑانے لگتا۔ ہم اپنے اپنے سایوں میں تحلیل ہونے لگتے۔ میں چور نظروں سے اس کی سمت دیکھنے لگتا۔ اگر یہ رو دیا تو کیا ہو گا۔ رات کی تاریکی میں مسیحائی کا بھیانک فریب دینا نہیں چاہتا تھا۔

صبح ایسے آنکھ کھلتی کہ جیسے رات کو رو کر سونے والا بچہ سب بھول چکا ہوتا ہے۔ شب بھر تلاش خدا کے تھکے مارے جسم تلاش مسجد کو نکل پڑتے۔ بے شک مسجد ہی رافع حاجات ہے۔ میں آج تک یہی سوچتا ہوں کہ بیت الخلاء کے دروازے کے باہر باری کے انتظار میں کھڑا دوست کیا سوچتا رہتا ہو گا۔جب کہ اندر والے کی تمام سوچ اس جمع تفریق پر خرچ ہوتی ہے کہ لوٹے میں پانی کی دستیابی کس سطح پر ہے اور اس سے کس عضو کو کس حد تک دھویا جا سکتا ہے اور کون سے اعضاء ایسے ہیں جنہیں دھوئے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ابوبکر کا اس سلسلے میں ماننا ہے کہ اگر اس ہاتھ کو نہ دھویا جائے جس سے کل ہم نے اپنا نامہ اعمال تھامنا ہے تو یہ مالک یوم الدین کے خلاف ایک قسم کا شریفانہ احتجاج ہو گا۔ صبح سویرے میں اور بکر اس کے گھر کے قریب واقع جنگل میں جا بیٹھتے جہاں میں بکر کے مستقبل کے حوالے سے نہایت رقت انگیز پیشنگوئیاں کرتا جس پر وہ آنکھوں اور منہ میں آئی ہوئی نمی کو نہایت عقیدت سے سگریٹ پر لگاتے ہوئے کپکپاتے لہجے میں کہتا ” یار تیرے جانے میں تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور سگریٹ صرف دو باقی ہیں”۔

اسی دور کی بات ہے کہ بشیر حیدر میرے اور بکر کے پاس ایک شاعر کو لایا کے زرا اس کی ٹیونگ تو کر دو۔ خیر ہم اس کو لئے کر خوشاب دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور مختلف موضوعات پر بات شروع ہو گئی۔ یہی کوئی رات بارہ سوا بارہ کا وقت ہو گا ک ایک پولیس وین پاس آ کے رکی۔ دو مشٹنڈے ہماری پاس آئے اور بولے رات کے اس وقت کس تخریب کاری کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ہم نے پُرامن شہری ہونے کی لاکھ یقین دہانی کرانی چاہی مگر بے سود۔ وہ بولے چلو اٹھو بھاگو یہاں سے۔ اس پر بشیر حیدر آگے بڑھا اور بولا ” قبلہ جانے دیں بچے ہیں۔ میں خود ایک استاد ہوں”ایک پولیس والا آگے بڑھ کر پہلے تو بشیر حیدر کو اوپر نیچے سے گھورنے لگا مگر جب اس نے پشیر کے وجود میں کوئی قابل گرفت چیز نہ پائی تو کہنے لگا ابے استاد دو منٹ سے پہلے پہلے یہاں سے نکل ورنہ ساری استادی گا۔۔۔ کے راستے نکال دوں گا” بشیر حیدر اس واقعے کے بعد اکثر کہتا ہے اگر ان کی چشم تخیل مستقبل میں جھانک سکتی اور انہیں پتہ چلتا کہ مستقبل میں بکر نے بھی استاد بننا ہے تو وہ میرے ساتھ اس قدر تحقیر آمیز رویہ اختیار نہ کرتے۔ وہاں سے جب اس طور اٹھائے گئے تو نجانے کیوں مجھے پطرس بخاری کا مضمون کتے پوری شدت سے یاد آنے لگا۔ ماحول کی مطابقت کے علاوہ بکر کی موجودگی بھی اس احساس کو تیز کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ خیر ہم دریا کے کنارے سے اٹھ کر ایک نامعقول سے ہوٹل کے بیت الخلاء کے سامنے کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے وہ ٹوٹا تھا۔ میں بولا “یار تجھے نہیں لگتا کہ خدا کا علم اور قدرت باہم متضاد ہیں” اس پر بشیر نے ٹھنڈی سانس اور بکر نے سگریٹ بھرتے ہوئے مری سمت دیکھ کر کہا۔ “یار خدا کا تو پتہ نہیں پر ہمارا علم اور قدرت تو باہم دست و گریباں ہیں”۔ ہماری اکثر محفلیں اسی طرز اختتام کو پہنچتیں۔

جیسے جیسے بکر کی عمر بڑھ رہی تھی اس کی ذہنی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا جس کا بڑا سبب فلسفہ اور جون ایلیا کی شاعری تھی۔ اس وجودی کرب نے بکر کو ادھ موا کر دیا تھا اس کی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سائکاٹریسٹ کے سیشن شروع ہو گئے۔ ایک وقت تو اسے باقاعدہ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس دور میں ہم نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے اسے استپال کے بستر پر کافکا کی کہانیاں پیش کیں تا کہ اس کا بیڑہ غرق ہونے میں کوئی کسر نہ رہ جائے مگر بدبخت سخت جان تھا اسے بھی سہار گیا۔ بکر گھنٹوں اپنی نشست پر بیٹھا خلاوں کو گھورتا رہتا ایسے میں اکثر سگریٹ اس کی انگلیوں میں دبی دم توڑ جاتی۔ اس کا بولنا چلنا بہت کم ہو گیا تھا۔ ایسے ہی ایک دن اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ بکر نے عالم محویت میں میری ران کھجانی شروع کر دی جب اس کا ہاتھ نامعقولت کی سطح سے کچھ آگے بڑا تو ہم نے ٹہوکا دیا مگر قبلہ شاید جسمانیات سے مبرا ہو چکے تھے سو اُسی طرح مشغول رہے۔ بلا آخر ہم پکارے “حضور یہ میری ران ہے” تس پر چند لمحوں نیم وا آنکھوں سے ہماری سمت دیکھا پھر عالم بالا میں دیکھتے ہوئے فرمانے لگے “میاں کیا فرق پڑتا ہے” ہم نے کہا حضور بادشاہ ہیں مگر خادم کو فرق پڑتا ہے’’ اب اس نے قدرے ناگواری سے اپنا ہاتھ میری ران سے اٹھا کر ساتھ بیٹھے شوذب کی ران کھجانی شروع کر دی۔ جس پر میں نے اپنی آنکھیں چرا لیں اور شوذب نے بند کر لیں۔ بکر کے ابا نہایت مذہبی قسم کے شب زندہ دار آدمی ہیں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی اس حالت پر سخت مشوشش تھے میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ جب جوان بیٹے کی کلائیاں سگریٹوں سے دغدار ہوں تو پیشانی سجدوں کے داغوں سے آلودہ کرنے سے غم کم نہیں ہوتے۔ ایک دن جب وہ بستر پر سویا ہوا تھا اور اس کی رالوں نے تکیے کو بھگو رکھا تھا اس کے ابا کمرے میں آئے بکر کے چہرے سے رخ پھیرتے ہوئے بمشکل آنسووں چھپاتے ہوئے ان کی نظر طاق پر پڑی جون ایلیا کی کتابوں پر پڑی تو کہنے لگے “اس بہن چود نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے”۔ جون کے لئے ایسا خراج عقیدت خاکسار نے کم سے کم پہلے کبھی نہیں سُنا تھا جو جون کی اثر پذیری پر ایسی مہر ثبت کرتا ہو۔

ایک دفعہ میں شاہپور سے بکر کی امی کے ساتھ سرگودھا آیا تھا ڈائیو بس سٹاپ سے بکر کا کچھ سامان لینا تھا۔ اب میں اور آنٹی شاہ پور سے سرگودھا ولی ویگن پر بیٹھ گئے۔ تیس منٹ کے اس سفر میں آنٹی نے کم سے کم چالیس مرتبہ مجھ سے پوچھا “:پتر بوتل پینی اے” اور میں ہر دفعہ شکریہ کہہ کر انکار میں سر ہلا دیتا۔ بعد میں بکر سے جب بات ہوئی تو وہ ناسٹلیجا کی کیفئت کا شکار ہو گیا کہنے لگا” یاراتنے سالوں بعد یاد آیا کہ کبھی بوتل سے مراد محض سوڈا کی بوتل ہوا کرتی تھی۔ افسوس کے ہم بڑے ہو گئے مگر ہمارے والدین بڑے نہ ہو سکے” اس پر میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں بڑے ہونے کے ناطے ہمیں ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ ان واقعات کا تذکرہ اس لئے بھی کیا کہ یہ بتایا جا سکے کہ اگر بکر میں معصومیت کی ایک رمق باقی ہے وہ محض جنیاتی ہے۔

اب بکر بڑا ہو رہا تھا اور اس سے ملاقاتیں کم پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کی نحوست اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں پہنچنے والی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

موت کے قیدی کی گفتگو سے زیادہ اداس کیا چیز ہو سکتی ہے سوائے اس کی خاموشی کے۔ میں پچھلے تیس سال سے سنٹرل جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کے روزنامچے لکھنے پر مامور ہوں۔ میں پچھلے تیس سال سے ایک پل کے لئے بھی نہیں سویا کیونکہ ایسے میں بہت سی قیمتی معلومات کھوجانے کا اندیشہ تھا۔ میں سزائے موت ہو جانے سے لے کر پھندے پر جھول جانے تک کے عرصے کی سبھی جزئیات اپنے بڑے سے سیاہ رجسٹر میں لکھتا ہوں۔ اب تک بلا مبالغہ سینکڑوں موت کے قیدیوں کی آخری دنوں کی تفصیلات کا اندراج کرچکا ہوں۔ میں اتنا با برکت ہوں کہ جس قیدی کو بھی ایک دفعہ درج کرلیتا پھر کوئی بھی واقعہ اسے پھندے تک پہنچنے سے نہ بچا سکتا۔ یہاں تک کہ آج تک کسی قیدی کو دل کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا نہ ہی کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی نے ہلاک کیا تھا۔ صدر بھی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ دینے سے پہلے میرے رجسٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ میرے اس رجسٹر میں، شاہی خاندان کے افراد، فوجی جرنیلوں، باغیوں، بڑے بڑے ڈاکو، پیشہ ور قاتلوں، سیریل کلرز، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے، تفریحاً قتل کرنے والے اور سبھی طرح کے لوگوں کے آخری ایام کے حالات قلم بند ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ میں نے ان کو چیخ و پکار سے لےکر بڑ بڑاہٹ تک ہر شے لکھ رکھی ہے۔ میں نے وہ دلاسے، وہ دعائیں، وہ خواہشیں اور وہ معافی نامے سن رکھے ہیں جو قیدی رات کی تنہائی میں سبق کی طرح بار بار دہراتے ہیں۔ موت کا قیدی ایک ہی یاد کو اتنی بار دہراتا ہے کہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میں قدموں کی تعداد بھی بتا سکتا ہوں جو قیدی زندان کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے لیتے ہیں۔ کوٹھری سے لے کر پھانسی گھاٹ کا فاصلہ (جس کا حساب معین ہے) اس کو طے کرنے میں کس قیدی نے کتنی دیر لگائی میرے پاس سب درج ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کے باب لڑکھڑاہٹ میں وہ سب تفصیلات لکھی ہیں کہ قیدی جب پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو وہ کتنی بار لڑکھڑاتا ہے۔ میں قیدیوں کے آنسوؤں کے قطروں سے لے کر کپڑوں میں پیشاب خطاء ہونے تک کی گیلاہٹ کا حساب بھی بخوبی جانتا ہوں۔ دیواروں پر کندہ نام، قیدیوں کی محبوباؤں کے نام، ان کے ناجائز بچوں کی تفصیلات، ان کی آدھی ادھوری تحریریں اور پینٹنگز، ان کے خفیہ وصیت نامے اور ایسی لاکھوں چیزوں کے بارے میں میں مکمل آگاہی رکھتا ہوں۔ میں نے قیدیوں کے وہ اعترافات لکھ رکھے ہیں جو وہ پادریوں کے سامنے کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ کتنے ہی قیدیوں کو میں نے موت سے چند دن بیشتر دونوں ہاتھوں سے مشت زنی کرتے دیکھا ہے۔ اففف ان میں کچھ تو اتنے جنونی تھے کہ اگران کی ریڑھ ہڈی نہ ہوتی تو وہ اپنے دانتوں سے اپنے عضوء تناسل کو چبا جاتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنے قیدیوں نے اپنے ملنے والوں کے بعد کتنی دیر تک کوٹھری کی ٹھنڈی سلاخوں پراپنے چاہنے والوں کا لمس ڈھونڈا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی میرے علم میں ہے کہ صبح سورج کی روشنی سب سے پہلے جیل کے کس حصے پر پڑتی ہے اوراس روشنی کو اپنے وجود کے انتہائی تاریک گوشوں میں اتارنے کے لئے بعض قیدی کتنی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں۔ روشنی ہی پر کیا منحصر میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ باہر کی تازہ ہوا جیل کی جالیوں میں کس حصے میں کتنی دیر بعد قیدیوں تک پہنچتی ہے۔ میں نے قیدیوں کو پورے اشتیاق کے ساتھ باسی بدبودار کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید آپ لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں مگرایک قیدی کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس میں موجود موت کے خوف کو جانچا جا سکتا ہے۔ میں نے رات کی تاریکی میں دعاؤں کو خود کشی کرتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب قیدی “چکی” کی سزا کاٹ کر پہلی بار روشنی میں آتا ہے تو وہ ایک معصوم پاگل بچے کی طرح دکھتا ہے۔ وہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا جیلر سے بات کرتے ہوئے نہایت منافقانہ خوش اخلاقی سے کام لینے لگتا ہے۔ میرے رجسٹر میں ایک باب “رسومات” کے نام سے ہے جس میں ان تمام رسومات کا ذکر ہے جو موت کے قیدی ایجاد یا دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے دلچسپ رسم “مکالمہ” ہے۔ اس میں ایک قیدی خود کو دو، تین یا اس سے زیادہ افراد میں بدل لیتا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیے یہ محض وقت گزاری کے لئے نہیں ہوتا۔ عام طورپر قیدی یا تو اس شخص سے گفتگو کرتا ہے جسے اس نے قتل کیا ہوتا ہے یا پھر اپنے کسی قریبی عزیز دوست یا رشتہ دار سے۔ بعض اوقات وہ اپنے آپ سے بھی مکالمہ کرتا ہے لیکن اس کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا لہذا وہ جلد ہی اسے ترک کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری اہم رسم “پراسرار طاقتوں کا حصول” ہے۔ یہ رسم عام طور پر رات کی تنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ قیدی کافی دیر تک مراقبے میں رہتا ہے اور بنیادی طورپر دو طاقتوں کا حصول چاہتا ہے۔ ماضی میں واپسی یا غائب ہو جانا، کچھ قیدی اسے مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ رسم صرف غیر سنجیدہ قیدیوں ہی میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کچھ رسمیں جسموں پر نام کندوانے، راتوں کو عریاں پھرنے، کھانے میں پیشاب ملانے وغیرہ جیسی بھی میں نے تفصیل سے درج کی ہوئی ہیں۔ عموماً قیدی موت سے کئی دن پہلے اپنی کوٹھری میں ان مردہ لوگوں کی روحوں سے بات چیت کرتے ہیں جو ان سے پہلے اس کوٹھری کے مکین رہے ہوں۔ میں نے بہت بار قیدیوں سے کہا کہ مجھے بھی اس گفتگو میں شامل کرلو میں اس کی تفصیلات اپنے رجسٹر کے باب بعد از موت میں لکھنا چاہتا تھا پروہ کبھی بھی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ لوگوں کی روح سے بات کرنے کے لئے موت کا قیدی ہونا ضروری ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری بور خیس سے ملاقات ہوتی تو میں اسے بتاتا کہ قیدی کے خیالات قلمبند کرتے ہوئے اس سے کہاں کہاں چوک ہوئی، میں سارتر کو بتاتا کہ وہ باغیوں کی گفتگو بیان کرتے ہوئے کس قدر مبالغے سے کام لیتا رہا ہے۔ میں کافکا کو بتانا چاہتا تھا کہ مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کی پتلیاں کس سمت کتنی دفعہ حرکت کرتی ہیں۔ میں وکٹر ہیو گو کو یہ بات بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک موت کے قیدی کو اپنی بچپن سے جوانی تک سب یاد کرنے میں کل چودہ منٹ لگتے ہیں جنہیں چودہ صفحات میں لکھنا ناممکن ہے۔ میں مارکیز کی۔ ٹالسٹائی اور دیگر بے شمار مصنفوں کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتا ہوں پر مجھے فرصت ہی نہیں ملتی اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں خود بھی ابھی تک سیکھ رہا ہوں۔ ہر قیدی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف ضرور کرتا ہے کہ میرے اندازے غلط ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے کسی بھی قیدی کے متعلق پیشگی اندازے لگانا بند کردیئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں چھ جلاد اور چودہ جیلربدل چکے ہیں۔ تین کوٹھریوں کی از سرِ نو تعمیر ہوئی ہیں، چارکا رنگ و روغن ہوا ہے۔ پھانسی گھاٹ کے لیور کو چھ سو تیرہ مرتبہ تیل دیا گیا ہے اور پھندے کی رسی کی لمبائی میں چار دفعہ کمی بیشی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ سب لکھنا میرے فرائض میں نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی قیدی پھندے پر جھول جاتا ہے میں سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ ایسے لمحے بڑے الہامی ہوتے ہیں اگرمیں شاعر ہوتا تو ایسے ہی لمحوں میں شاعری کرتا۔ بعض اوقات جب جیلر اور جلاد سوئے ہوتے ہیں تو میں خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں اس کی ایک ایک شے کو اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ پھندے کی رسی کو چھوتے ہوئے جو کپکپی میرے وجود پر طاری ہوتے ہے میں پہروں اس کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوبار سوچا کہ اس رسی کو اپنے گلے میں ڈال کر دیکھوں مگرایک انتہائی بزدل شخص ہوں لہذا ایسا کبھی نہیں کرپایا۔

مجھے بتایا جا رہا ہے کہ نئے صدارتی احکامات کے تحت ملک بھر میں سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت میری خدمات کے پیشِ نظر چاہتی ہے کہ اب میں عمر قید کے مجرموں کا روزنامچہ لکھوں پر میں نے معذرت کرلی ہے کیونکہ میں مردہ لوگوں کا روزنامچہ نہیں لکھ سکتا۔ میں اپنا رجسٹر جیلر کے حوالے کرنا چاہتا ہوں مگراُسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک آخری دفعہ کوٹھری سے پیدل پھانسی گھاٹ تک چل کرجاؤں مگریہ فاصلہ یکایک کئی نوری سال پر محیط ہوگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگرمیں نے چلنا شروع کیا تو میں نہ نظرآنے والی بھول بلیوں میں کھو جاؤں گا اور یہ سفر کبھی طے نہیں ہوپائے گا۔ میں نے جانے کتنے برسوں کے بعد آج آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ میں خود کو پہچان نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چہرے میرے چہرے پر تھوپ دیئے گئے ہیں۔ یہ سب بہت خوفزدہ کردینے والا ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کو بغل میں دبایا اور چپکے سے تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا۔

میں ٹھیک سے یاد نہیں کرپا رہا کہ کب پہلی دفعہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب مجھے مرجانا چاہیے۔ شایدسگریٹ پیتے ہوئے یا جیل کا دروازہ کراس کرتے ہوئے یا شاید آخری بارمڑکر دیکھتے ہوئے۔ بہرحال یہ خیال پوری طرح میرے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔ جیل کے باہر سڑکوں پر لوگ ایسے سکون سے چل رہے ہیں گویا انہیں صدارتی حکم کی خبرہی نہیں۔ ان کے چہروں پر نہ ہی خوشی ہے نہ کوئی دُکھ۔ میں ان کے چہروں میں آنے والے دنوں کے قاتلوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب میری نظرایک دم کٹے کتے پر پڑی جو ایک ٹانگ سے لنگڑا کرچل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑائی کتنی زبردست ہوگی جس میں اس نے اپنی دُم کھوئی ہے۔ یہ یقیناً انا کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی یہ اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے اپنے سے طاقت ورکتے سے لڑا ہو گا۔ بلکہ اسے بقاء کی جنگ کہنا بھی شاید مناسب نہ ہو بلکہ یہ تو محض زندگی کی وحشت تھی جو موت کی خاموشی پر حملہ آور ہوئی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک پرانے سے درخت کے نیچے موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس درخت کے پاس بھی یادوں کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ ہو گا۔ وہ پریمی جوڑا جس نے اس کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے عہدو پیمان باندھے ہوں گے اور درخت کے کسی حصے پرشاید اپنے نام کندہ کئے ہوں یا وعدے کی یاداشت کے طورپر کوئی سُرخ کپڑا باندھا ہو۔ اب وہ جوڑا اس درخت کو مکمل طورپر فراموش کرچکا ہوگا۔ یا کوئی قیدی پولیس سے بھاگتے ہوئے کچھ پل کے لئے اس درخت کے پیچھے چھپا ہوگا۔ درخت ان سب یادوں کو لئے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طورپر لا علم تھا کہ اگلی خزاں کے آنے سے پہلے اسے کاٹ دیا جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم زندگی وہ یادیں جمع کرنے میں گزاردیتے ہیں جنہیں ہمارے مرنے کے بعد دوسرے لوگ دہرائیں گے۔ ہماری زندگی زندہ رہنے کی خواہش کے ایک پُر فریب بندوبست کے سوا کچھ نہ تھی۔ میرے پاس سیاہ رجسٹر میں تیس سالوں کی یادوں کے کباڑخانے کے سوا کچھ نہ تھے۔ یہ وہ یادیں تھیں جن میں میرا پنا آپ کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر دو بچے نہایت انہماک سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورایک لڑکی جو شاید ان کی والدہ ہے میرے بالمقابل بینچ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ایک زردرنگ کا کوٹ پہن رکھا ہے اورایک ٹوپی سے اپنے سراورکان چھپا رکھے ہیں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک نظرمیری طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اورپھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اس کتاب میں لکھی کہانی سے واقف ہوں بلکہ میں تمام ترکتابوں میں لکھی تمام کہانیوں سے واقف ہوں۔ مجھے وہ سارے موت کے قیدی یاد آنے لگے جو رات کی تاریکی میں سُرنگ کھود کر جیل سے فرار ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ میرے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مگراس کا دھیان اس کتاب کی طرف ہے۔ لڑکیاں فرار کی داستانوں کو ایسے انہماک سے پڑھتی ہیں گویا وہ سچی داستانیں ہوں۔ میں اس لڑکی کے پاس جاتا ہوں اوراس سے سگریٹ مانگتا ہوں۔ وہ اپنے بیگ کو کھول کر سگریٹ نکال کر مجھے دیتی ہے۔ میری انگلیاں کوٹ میں ماچس ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ لائٹر جلاتی ہے جب میں جھک کر سگریٹ سلگانے لگتا ہوں تو مجھے اس کے جسم سے سستے پرفیوم، زنگ، پسینے اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو آنے لگتی ہے۔ میرے دل میں آتا ہے کاش میں ایک لمبی سے رسی نکالوں اور اس لڑکی کو اسی درخت پر پھانسی دے دوں اور اس کے نرخرے سے ابھرنے والی گڑگڑاہٹ کی گنتی اپنے رجسٹر میں نوٹ کرلوں۔ آہستہ آہستہ شام کے سائے پھیل رہے ہیں سورج کسی بھی لمحے غروب ہونے والا ہے۔ میرے لئے یہ بڑا حیران کن ہے کہ جیل کے باہر کسی کو بھی سورج کے غروب ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن ختم ہونے والا ہے ایک اور شخص اپنے گلے میں پھندا لٹکا کر جھولنے والا ہے۔ یہ خیال مجھے غم زدہ کررہا ہے۔ مجھے وہ دس برس کا لڑکا یاد آتا ہے جو آج سے تیس سال پہلے اپنے والد کے ہمراہ جیل میں آیا تھا۔ اس کے والد پرالزام تھا کہ اس نے شہر کے تین پادریوں کو قتل کیا ہے جس کے سامنے وہ اپنے اعترافات کیا کرتا تھا۔ یہ لڑکا جو اپنے والد کو ایک پیغمبر سمجھتا تھا اس امید پر جیل میں آیا تھا کہ وہ شام کے کھانے سے قبل اپنے گھرواپس پہنچ جائے گا۔ مگراسے روک دیا گیا۔ یہاں وہ اگلے تین ماہ تک اپنے باپ کی تنہائیوں کا ساتھی بنا رہا اوراپنے باپ کے اعترافات اپنی ڈائری میں لکھتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو بتائے بغیر بہت سی دیگر معلومات بھی اس ڈائری میں لکھ لیں۔ اسے پہلا نکتہ یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔ تنہائی میں بھی، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے بھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج اس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہے جلد ہی وہ تھکا دینے والی یادوں سےپیچھا چھڑا لے گا مگرایسا نہیں ہوا۔ میں بینچ سے اٹھ کر دکان پر گیا۔ وہاں سے ایک رسی لی اور لالچی شخص سے ایک ماہ کا ایڈوانس دے کر ایک کمرہ لیا۔ میں نے ڈائری کو آگ کے شعلوں کے حوالے کیا۔ پنکھے کے ساتھ رسی باندھی۔ ایک بینچ پر چڑھ کر رسی اپنے گلے میں ڈالی۔ مگراس کے بعد کے واقعات کچھ مبہم سے ہیں۔ میں رات بھرمردوں کی چیخیں سنتا رہا میں تلاش کرتا رہا کہ ان چیخوں میں دس سالہ بچے کی چیخیں کون سی ہیں۔ مگرمیرا خیال ہے وہ ایک رونے والی بلی کی منحوس آوازیں تھیں۔

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ ویسے ان دنوں میں ایک خفیہ روزنامچہ لکھ رہا ہوں جس کی بابت میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔

Categories
فکشن

دائرہ

مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔ بس مجھے تقریر کرنی تھی کہ اسی لئے مجھے مبعوث کیا گیا تھا۔ میں نے ان ساری صدیوں کو یاد کیا جس میں میں نے اس تقریر کی تیاری کی تھی۔ ان ساری زبانوں کے متعلق سوچا جس مین مجھے یہ تحریر مرتب کرنی تھی۔ مجھے یاد ہے بہت سی باتوں کے لئے مجھے کسی زبان میں بھی الفاظ نہیں ملے تھے سو میں نے جیومیٹری کی کچھ اشکال بنا رکھی تھی۔ جہاں جہاں اشکال سے بات نہیں چل سکتی تھی وہاں میں نے خالی سانسیں رکھ چھوڑی تھی اور بعض جگہوں پر تو محض خلا تھا۔ مجھے رسی کے ذریعے مجمع کے عین بیچ وبیچ اتارا گیا۔ میں ابھی تقریر کے ابتدائیے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ایک سُرخ بالوں والا بچہ پکارا۔۔۔تم کون ہو۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے تقریر کے صفحات سے تن ڈھاپنے کی کوشش کی مگر وہ تو سارے کورے کاغذ تھے۔ میں نے جلدی سے رسی کو تھاما اور سوچا کہ مجھے واپس اوپر جانا چاہیے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔رسی تو اوپر سے کاٹی جا چُکی تھی۔

Image: Pawel kuczynski

Categories
فکشن

گورکھ دھندہ

دلدل کے ساتھ میرا رشتہ میری پیدائش سے پہلے کا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میں پوری طرح سے جنم نہیں لے سکا تھا۔ میرا بہت سا حصہ ایک دلدل میں رہ گیا تھا۔ میں چاہ کر بھی اس سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ہمہ وقت میرا پیچھا کرتا رہتا تھا میں جتنا اس سے نکلنے کی کوشش کرتا اتنا اس میں دھنستا چلا جاتا۔ ایک لڑکے کے لئے اس کا دلدلی ماضی کافی بھیانک تجربہ ہوتا ہے۔ میں ایک سادہ سے دیہاتی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ میں ایک گم صم اور اداس رہنے والا بچہ تھا جسے تاریکی سے ڈر لگتا تھا اور رشنی سے بیگانگی سی محسوس ہوتی تھی۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ رات کو ہم سبھی صحن میں چارپائیاں ڈال کر سو جاتے تھے مگر مجھے بہت دیر تک نیند نہ آتی میں اندھیرے میں کچھ کھوجنے کی کوشش کرتا رہتا۔ کچھ سائے کچھ پرچھائیاں ہوتیں جن کے نقوش قدرے واضح ہوتے ذرا غور کرنے سے تصویر مکمل ہو سکتی تھی مگر میں قصداً ایسا نہیں کرتا تھا۔ میں اس خوف اور تجسس کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ رات صحن میں نامعلوم آوازیں گونجنے لگتی جو میری چارپائی کی داہنی سمت سے آیا کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی کیچڑ بھری زمین میں تیز تیز قدموں سے چل رہا ہے۔ اس دھپ دھپ کی آوازوں کے ساتھ کچھ پسینے بھری آوازیں بھی ابھرتی تھی۔ جی ہاں کچھ آوزیں پسینے سے بھری ہوتی ہیں۔ ان کو سنتے ہی آپ اپنے وجود میں چپچپی سی گیلاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کچھ ہاتھ بہت تیزی سے میری چارپائی کی پائنتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں خوفزدہ نظروں سے ان کی سمت دیکھنے کی کوشش کرتا مگر مجھے کچھ سایوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا اور میں چارپائی کے ایک کونے میں دبک جاتا اور ان ہاتھوں کا اپنی چارپائی تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگتا۔ یہ سنسنی بھر ا انتظار ایک خوف، اداسی اور بے چینی بھری لذت کا مرکب ہوتا۔ میں تیزی سے بھیگنے لگتا اور میرا اپنے دلدلی وجود سے رابطہ بحال ہونے لگتا۔ میری نیند کبھی پوری نہیں ہوتی تھی اور ہر صبح میں ایک تھکے ہوئے ٹیس اور تقریباًً بخار بھرے وجود کے ساتھ بیدار ہوتا۔ آہستہ آہستہ میرا رابطہ اپنے دلدلی وجود سے کم ہونے لگتا اور سورج نکلنے کے ساتھ ہی میرا رابطہ اپنے ادھورے وجود سے محض ایک تار جتنا باقی رہ جاتا۔ میں یہ تار کبھی نہیں توڑ پاتا تھا۔ دن میں ایسے کئی واقعات ہو جاتے جو میرے احساس کو کھنچتے ہوئے وہیں دلدلی زمین میں لے جاتے۔

دن میں میں گلیوں میں گھومتا، سکول میں دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور فراموش کر دیتا کہ میں ایک دلدلی زمین کا باسی ہوں۔ میں چاہ کر بھی اپنے دوستوں کو اس راز میں شریک نہیں کر پاتا۔ دوپہر سکول سے آنے کے بعد میں تندور پر روٹیاں لگوانے جاتا۔ گرمی جھلستی ہوئی حبس بھری دوپہر ہوتی تھی۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھر جاتا۔ میرے پاوں جوتے میں پھسلنے لگتے جو مجھے اس تکلیف دہ احساس کے قریب کر دیتا۔ کچھ دور چلنے کے بعد جب یہ پھسلن حد سے بڑھنے لگتی تو میں آٹے والا برتن ایک طرف رکھ دیتا اور جوتی اتار کے پاوں کو زمین پر رگڑ کر اس پر مٹی لگا دیتا۔ لیکن کچھ قدم چلنے کے بعد یہ مٹی پاوں کے پسینے سے مل کر چلنا مزید دشوار کر دیتی۔ چند قدم کا یہ فاصلہ صرف مجھے بوڑھا کر دیتا۔ میں نے کبھی کسی کو بتایا نہیں لیکن اکثر بے بسی کے عالم میں میری آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ تندور پر عورتوں کا رش ہوتا۔ وہ عجیب گفتگو کر رہی ہوتی۔ میں ان کی گفتگو میں دلچسپی لینا چاہتا تھا پر میں اس سے لا تعلق رہتا۔ فضاء میں روٹی کی خوشبو، جلتی لکڑیوں کی بو، عورتوں کے پسینے کی بو، گیلے آٹے کی مہک اور مٹی کی خوشبو مجھے اداس کر دینے کے لئے کافی ہوتی تھی۔ میرا سارا دھیان اس برتن کی طرف ہوتا جس میں پانی پڑا ہوتا تھا جو تندور والی ہر روٹی بناتے وقت اپنے ہاتھوں پہ لگایا کرتی۔ کبھی کبھی اس کے پسینے کے چند قطرے بھی پانی میں گر جاتے تھے۔یہ دودھیا سا پانی ہمہ وقت چھلکتا رہتا۔ گھر پہنچنے تک میں اس پانی بھرے کٹورے اور تندور کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا تھا کہ تندور میں جلنے کے بعد سوختہ لکڑیوں کو باہر کب نکالا جاتا ہو گا۔ میں ان لکڑیوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں عموماً نلکے پہ نہانے چلا جاتا۔ تندور کے بعد مجھے دوسری بڑی وحشت غسل خانے میں ہوتی تھی۔ غسل خانے کی اینٹوں بھری دیواروں میں جگہ جگہ بالوں کے گچھے پھنسے ہوتے تھے۔ کچھ بالوں کو میں نالی میں بہتا ہوا بھی دیکھتا تھا۔ جس سے مجھے بڑی گھن آتی تھی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں نے کئی بار نالی سے بال نکال کر ان کو انگلیوں سے رگڑا بھی تھا۔ لیکن جلد ہی مجھ پر کراہت طاری ہونے لگتی تھی اور میں صابن سے مل مل کر ہاتھ دھوتا تھا پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ وہ بال میرے ہاتھ سے چپک کر رہ گئے ہیں۔ میں نہانے کے بعد کافی دیر تک کسی کھانے والی چیز کو چھوتے ہوئے ڈرتا تھا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ میں نے غسل خانے کی اینٹوں والی درز وں میں سفید لفافے پھنسے دیکھے۔ جب میں نے ان کو اپنے گیلے ہاتھوں سے کھینچ کر باہر نکال کر پھیلا کر دیکھا تو اس پر نیم عریاں سی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مجھ پر لذت بھر ا خوف طاری ہو گیا۔ جانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے دو آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ میں کئی دن تک اس خوف میں مبتلا رہا جس نے میرا رابطہ میرے دلدلی وجود سے بحال رکھا۔ ایسا ہی سنسنی بھرا احساس مجھے تب بھی ہوا تھا جب میں نے اپنی گائے کے نوزائیدہ بچے کو چھوا تھا اور کچھ چپچپا سا میری انگلیوں سے چپک گیا تھا۔ میں نے چور نظروں سے گائے کی شرم گاہ کی طرف بھی دیکھا جس سے لیس دار خون ٹپک رہا تھا۔ اس کے بعد میں جب بھی دودھ پینے لگتا مجھے ابکائیں آنے لگتیں۔ امی کے بے حد اصرار اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود میں نے کئی سال تک دودھ پینا چھوڑ دیا تھا۔ تندور، غسل خانہ اور رات کی مثلث مسلسل میرے تعاقب میں رہتی۔ میں رات سسکیوں میں اللہ سے باتیں کرتا لیکن یکایک میرا وجود اسی دلدل میں اتر جاتا اور مجھے یقین ہو جاتا کہ خدا دلدل میں رہنے والوں سے اپنا رشتہ توڑ دیتا ہے۔ میں نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی تھی۔ تندور کے راستے میں آٹے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے دبانا اور اس کی سنسی کو وجود میں محسوس کرنا میرا نیا مشغلہ بن گیا تھا۔ اسی طرح غسل خانے میں میں نے نئے مشاغل ڈھونڈ لیے تھے۔

ایک رات مجھے یوں لگا کہ میں چپ چاپ اپنے بستر سے اٹھا ہوں اور تندور کی طرف جانا شروع کر دیا۔ تندور کے اوپر ایک بڑی سی پرات پڑی تھی جس کو ہٹا کر میں اس تندور کے اندر اتر گیا۔ شاید میں دھڑام سے گرا تھا۔ ایسے میں مجھے لگا کہ کسی شخص نے اوپر سے پرات سے تندور کو ڈھک دیا ہے۔ خوف کی شدید لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی ۔ میں چیخنا چاہتا تھا مگر یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے چیخنے سے روک دیا ہے۔اس کے بعد شاید میں بے ہوش ہو گیا تھا۔ جانے کتنے سال تک میں اسی طرح تندور میں پڑا رہا۔ بالاآخر میں نے پایا کہ تندور میں ایک سوراخ ہے جو شاید دھوئیں کے اخراج کے لئے بنایا گیا تھا۔ میں اس سوراخ سے لگ کر بیٹھ گیا۔ اب میں خوفزدہ نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے اس سوراخ کی دوسری سمت سے آتی روشنی محسوس ہونے لگی۔ اس روشنی کو تکتے ہوئے کچھ اور عرصہ بیتا۔ پھر میں نے وہاں کچھ چہروں کو ابھرتے دیکھا۔ کافی عرصے تک تو مجھے لگا کہ یہ ایک ہی چہرہ ہے لیکن پھر میں ان میں فرق کو شناخت کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔ یہ تین چہرے تھے پہلا شخص جس سے موٹا سا چشمہ لگایا ہوتا تھا اور مجھے ہمیشہ بہت پیار سے بلاتا تھا۔ اس کا ماتھا کافی کشادہ تھا سر کے آگے کے بال جھڑ چکے تھے اور آگے کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا۔ یہ مجھے اوپر سے بسکٹ پھینکتا تھا جو میں ان چوہوں کو کھلا دیتا تھا جو مسلسل میرا پاوں کترنے میں مصروف ہوتے تھے یوں میں کچھ پل کو آرام حاصل کر لیتا تھا۔ دوسرا شخص جس نے سر پر ہیٹ پہنی ہوتی تھی عموماً سورج کی روشنی کے ساتھ ہی دہانے پر نمودار ہوتا تھا۔ یہ کسی اجنبی زبان میں گفتگو کیا کرتا تھا اور مجھے کچھ کاغذ اور نقشے دکھایا کرتا تھا جس پر عجیب و غریب علامات بنی ہوتی تھیں۔ نہ میں ان علامات کو سمجھ پاتا تھا اور نہ ہی اس کی زبان کا کوئی لفظ میرے پلے پڑتا تھا۔ مگر وہ بہت تحمل کے ساتھ مسلسل مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ تیسرا شخص سب سے آخر میں آتا اس وقت دن ڈھلنے والا ہوتا تھا اور انتہائی کم روشنی ہوتی اس لئے میں اس کے چہرے کے نقوش اچھی طرح سے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ شاید اپنے ساتھ کوئی لالٹین بھی لاتا تھا جس کی پیلی پیلی روشنی میں مجھے اس کا چہرہ خوفناک لگتا تھا۔ یہ ایک بوڑھا شخص تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور بات کرتے ہوئے اکثر کھانستا رہتا تھا۔ یہ کچھ دعائیں اور وظائف پڑھتا رہتا تھا جسے یہ مجھے دہرانے کا کہتا مگر یا تو یہ بہت آہستہ بولتا تھا یا اس کی آواز بہت کانپتی تھی اسی لئے ہمیشہ میں کوئی نہ کوئی جملہ دہرانے سے رہ جاتا۔

بہت عرصہ گزرنے بعد میں ان لوگوں کی آمد کا مقصد سمجھ گیا تھا۔ میں ابھی آپ لوگوں کو مکمل تفصیلات سے تو آگاہ نہیں کر سکتا مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ یہ لوگ ایک انتہائی اہم معاملے پر کام کر رہے تھے اور اس میں میری مدد چاہتے تھے۔یقین جانیے میں ہرگز بھی خبط عظمت کا شکار نہیں ہوں مگر انسانیت کی بقاء ہمارے منصوبے کی کامیابی سے مشروط تھی۔ ان تینوں میں سے پہلا ایک ڈاکٹر تھا، دوسرا سراغ رساں تھا جب کہ تیسرا ایک گورکن تھا۔ انہوں نے مجھ سے وفاداری اور رازداری کا حلف لیا اور کسی طرح سے مجھے اس تندور سے باہر کھینچ نکالا۔ باہر نکلنے کے بعد سب سے پہلے تو میرا سامنا تندو تیز روشنی سے ہوا۔ کافی دیر تک تو میری آنکھیں چندھیائی رہیں پھر جب میں دیکھنے کے قابل ہوا تو میں نے خود کو ایک وسیع و عریض دلدلی میدان میں پایا جہاں تاحد نگاہ قبریں ہی قبریں تھیں۔ یہ ایک عجیب قبرستان تھا جہاں کچھ عمودی تھی تو کچھ افقی، میں نے کئی کئی منزلہ قبریں بھی دیکھیں۔ تمام قبروں پر رنگ برنگ نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ مگر کسی بھی قبر پر کوئی کتبہ نصب نہیں تھا۔ کچھ قبروں کے بیچ و بیچ اونچے اونچے ستون ایستادہ تھے۔ قبروں کی تعمیر میں مخصوص زوایے کو مد نظر رکھا گیا تھا اس طرح کے سورج کی روشنی تمام قبروں سے منعکس ہوتی ہوئی اور بڑا سا گول دائراہ بناتی تھی جو اوپر کو اٹھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ پہلے گورکن نے مجھے قبرستان کی تاریخ سے آگاہ کیا کہ کیسے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں پر صرف چند قبریں تھیں جو اب بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی ہیں کہ گورکن کو بھی اس کی صحیح تعداد معلوم نہیں تھی۔ کیا ساری قبریں اس نے بنائی تھیں؟ میرے اس سوال پر اس نے اس حیرانی سے میری سمت دیکھا گویا یہ کہنا چاہتا ہو کہ کیا میں واقعی اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔ میں خاموش ہو کر رہ گیا۔ سراغ رساں نے مجھے بتایا کہ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ ریس کے گھوڑے جب رات اصطبل میں باندھے جاتے ہیں تو وہ آپس میں کن امور سے متعلق گفتگو کرتے ہوں گے، اس سوال کی کھوج اسی اصطبل لے گئی اور اپنی اسی تحقیق کے دوران اس کو اس قبرستان کے متعلق معلوم ہوا۔ جب اس نے اپنی تحقیق کا دائرہ آگے بڑھایا تو وہ اس سازش سے آگاہ ہوا تھا۔ جب کے ڈاکٹر کی کہانی کچھ یوں تھی وہ انسانی بستیوں میں رہنے والے چوہوں کی نفسیات کے متعلق کچھ تجربے کر رہا تھا تو اسے چوہوں کی ایک نئی قسم سے آشنائی ہوئی۔ یہ چوہے بارش برسنے کے بعد اپنی بلوں سے نکلتے تھے اور پھر شہر شہر پھیل جایا کرتے تھے۔ ان کا آپسی رابطے کا میکنزم بہت جدید پیمانے پر کام کرتا تھا۔ جب اس قبیلے کے ایک چوہے کو تجربے کے لئے اس نے پہلے سے تیار کردہ ایک گورکھ دھندے میں چھوڑا تو چوہا بنا کوئی غلطی کئے کھانے تک پہنچ گیا۔ اس نے کئی گورکھ دھندے بدل کر دیکھے مگر چوہے کو کبھی بھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس نے بالا آخر چوہے کو آزاد کر دیا اور ایک سراغ رساں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ سراغ رساں نے اسے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی اسی معاملے کی کھوج میں ہے۔ یہ سراغ رساں چوہے کے پیچھے پیچھے اس قبرستان تک پہنچا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات گورکن سی ہوئی جو قبرستان کے گرد باڑ لگانے میں مصروف تھا۔ اس نے گورکن سے پوچھا کہ کیا وہ اس قبرستان کو انسانوں کی نظر سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔ گورکن کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں بلکہ اس نے قبرستان میں چوہوں کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے جس کے نتیجے میں قبرستان کے پھیلاو میں زبردست تیزی آ گئی ہے۔ یہ اتنا عجیب و غریب معاملہ تھا کہ اس نے گورکن کو چکرا کے رکھ دیا تھا۔

ان تینوں افراد نے جب چوہوں پر اپنی تحقیقات بڑھائیں، جن میں ان کی آپسی گفتگو کی ریکارڈنگ، ان کی حرکات و سکنات کے زاویوں کی پیمائش، ان کے داخلی پیچیدہ خاندانی معاملات کی چھان بین اور ان کے منفرد جنسی تجربات وغیرہ کو پرکھا گیا تو ان لوگوں پر اس سازش کی حقیقت آشکار ہوئی۔ اب انہیں ایک ایسا فرد چاہیے تھا جو دلدل کی خوشبو، اس کے زائقے اور لمس کو اچھی طرح سے پہچانتا ہو نیز اس کی چھٹی حس غیر معمولی طریق پر کام کرتی ہو ۔ یوں یہ مجھ تک پہنچے۔ ہم نے مل بیٹھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی پر کام شروع کر دیا تھا۔ میرا کہنا یہ تھا کہ باڑ لگانا مسئلے کا ہرگز بھی پائیدار حل نہیں۔ بلکہ ہمیں چوہوں کو دھوکا دینے کے حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام تھا۔ ماحول میں زرا سی بھی تبدیلی چوہوں کی تیز حس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا جو کچھ بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔ چوہوں نے کھلے عام قبروں کے اوپر اچھل کود شروع کر دی تھی۔ ہم نے قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عظیم کائناتی گورکھ دھندے کے لئے کھدائی شروع کر دی تھی۔

Categories
فکشن

سر بُریدہ خواب

میں کسی نامعلوم زبان میں سوچنا شروع ہو گیا۔ میرا خواب دلدلی زمین میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔منظر اندر ہی اندر ایک دوسرے کو تیزی سے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے۔ اندر سے ابھرتی ہوئی آواز بھدی، بھاری اور مدہم ہوتی چلی جا رہی تھی میرا سانس بھی قدرے نوکیلا ہو رہا تھا۔ میں جنگ ہارنے والا تھا مجھے لگا کہ اب کسی بھی لمحے میری آنکھ کھلنے والی ہے میں نے اپنی پلکوں کو زور سے میچ لیا ۔کنواں اپنے سرے تک لبالب بھر چکا تھا آہستہ آہستہ پانی رسنا شروع ہو گیا۔ میں ہربڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ کچھ دیر تک کمرے میں کچا خواب جلتا بجھتا رہا پھر وہ ہولے ہولے دھند کی طرح چھٹنے لگا۔ آس پاس کی چیزوں کے نقوش واضح ہونے لگے۔مبہم نامعلوم میں ڈوب رہا تھا بس دور جاتی ہوئی ایک لمس کی میٹھی سی کیفیت سینے ، پیٹ اور رانوں میں سرسراہٹ کر رہی تھی۔ میں بستر پر بیٹھا جانے کیا سوچے جا رہا تھا۔

میرا زندہ ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پیدائش کے ابتدائی دنوں سے ہی میرا سانس بات بہ بات رُکنے لگتا۔ ایسے میں میری انگلیاں مڑ جاتیں اور میرا چہرہ سیاہ ہو جاتا۔ میری ماں کے آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے اور انہیں یقین ہو جاتا کہ انہوں نے مجھے گنوا دیا ہے ایسے میں زندگی ایک چیخ بن کر میرے اندر سے ابھرتی اور میرا وجود ہلکورے لینے لگتا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد میرا سانس پھر بند ہونے لگتا۔ سب کو لگتا تھا کہ میں چند ماہ سے زیادہ نہیں جی پاوں گا لیکن میں جیتا رہا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جو دوسرا آزار تھا وہ یہ تھا میری نظر بھی ٹھہرتی نہ تھی شروع شروع میں سب بچوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے میں بڑا ہوتا گیا لیکن میری نظر نہ ٹھہر سکی۔ منظر میرے سامنے دوڑتے پھرتے رہتے اور میں ان کو پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہو جاتا۔ میرا سر چکرانے لگتا لیکن میں کوئی بھی چیز تفصیل سے دیکھ نہیں پاتا تھا۔ میں تھک کر اپنی آنکھیں بند کر دیا کرتا ایسے میں نامعلوم سائے میرے پلکوں کے اندر ریس لگانا شروع کر دیتے ۔دنیا میرے سامنے سرپٹ دوڑتی رہتی اور میں ٹرین کی ونڈوسیٹ پہ بیٹھا ہمیشہ آس پاس کے منظر سے آگے نکل جاتا۔ میں رکنا چاہتا تھا ،ٹھہرنا چاہتا تھا مگر میں ہمیشہ آگے نکل جاتا اور وقت میرے پیچھے چلتا آتا ۔ مجھے بہت خواب آتے تھے مگر میں آج تک کسی خواب کو پکڑ نہ پایا یہاں تک کہ مکمل تاریکی چھا جاتی میں اُس اندھیرے میں بھی دوڑتا چلا جاتا۔میں ہمیشہ سوچتا کہ کیا ہو کہ یکایک سب کچھ ٹھہر جائے سال، مہینے، لمحے سب دھندلے چہرے اور میں ان سب کو جی بھر کر دیکھتا رہوں۔

ایک دن میں گلی میں چل رہا تھا میں ہر دو قدم پر رک جاتا کہ میرا سایہ میرے ساتھ آ ملے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کسی انتظار میں پیچھے ٹھہرجاتا ایسے میں میرا دل کیا کاش شکر دوپہر ہو جائے اور دھوپ تمام سایوں کو نگل جائے اور یہ آنکھ مچولی ختم ہو۔ اسی دن میں نے اُسے پہلی بار اُسے دیکھا وہ گلی کی نکڑ پر اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل کسی چوپائے کی طرح کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سامنے کو اُٹھا ہوا تھا ۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہیں تھیں اس کے ہونٹ کُھلے ہوئے تھے جس سے رالیں بہہ رہی تھی۔ میں اور میری نظر ایک لمحے میں اُسے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے تھے کہ یوں لگا کہ جیسے اُس نے ایک جست بھری اور مجھے دبوچنے کو ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ میری گردن کے قریب پہنچا تو یکایک اندھیرا ہو گیا اور وہ اس اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو وہ ابھی بھی اُسی جگہ کھڑا تھا اور سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں اُسے زیادہ غور سے نہ دیکھ پایا میری نظریں آگے نکل گئیں۔ لیکن جیسے ہی میری نظروں نے اُسے کراس کیا مجھے پھر لگا کہ وہ تیزی سے دوڑاتا ہوا مجھ پر حملہ آور ہونے کو ہے جب مجھے لگا کہ بس وہ مجھے دبوچنے ہی کو ہے تو میری نظر پلٹی پھر وہی ایک سیاہ لمحہ اور وہ وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ میں پسینے میں شرابور ہو گیا تھا۔ میرا سانس پھر بند ہونے لگا میرے قدم جیسے زمین نے پکڑ لیے۔ میرے ہاتھ پاوں کپکپا رہے تھے۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن میں ہل بھی نہیں پا رہا تھا صرف میری نظر دوڑتی جا رہی تھی اور وہ اس کے تعاقب میں دوڑ پڑتا میری نظریں سر گھما کر اُسے دیکھ نہ پاتی جب وہ آخری سرے پر پہنچ کر واپس اُس پر پڑتی وہ وہیں جما ہوتا۔ یہاں تک کہ میرا سانس مکمل بند ہوگیا اور میں بے ہوش کر گر پڑا۔ لوگ مجھے اُٹھا کے گھر لے کر جا رہے تھے اور میری بند پلکوں کے اندر اُس شخص کا سایہ میری طرف دوڑتا چلا آ رہا تھا۔

اس کے بعد اُٹھتے بیٹھتے اُس کا خیال میرے اندر کروٹیں لیتا رہتا اور میں اُس سے پہلو نہ چھڑا پاتا۔ وہ ایک خوف بن کے میرے اندر بس گیا تھا۔ مجھے ہر سمت اُس کے سائے نظر آتے جو مجھ پر حملہ آور ہوتے لیکن وہ کبھی مجھ تک پہنچ نہیں پاتے اور بالکل قریب آ کر غائب ہو جاتے۔ میں دوبارہ اُس گلی میں جانا نہیں چاہتا تھا لیکن روز صبح صبح میرے قدم اُس گلی کی طرف بڑھنے لگتے اور وہ ہمیشہ کی طرح گلی کی نکڑ پہ کھڑا ہوتا اُسے بھی شاید میرا انتظار ہوتا تھا۔ جتنا شدید ڈر مجھے اُسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا اُس سے کہیں زیادہ کشش مجھے اُس کی طرف کھینچ کر لے کر جانے پر مجبور کرتی۔ جیسے ہی میری نظر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھتی اور وہ بجلی کی سی تیزی سے حملہ آور ہوتا خوف میری ہڈیوں میں سرائت کر جاتا۔ میرے قدم رک جاتے اور میرا دل اچھل کر حلق سے جا لگتا۔ شدید ترین خوف سے میں کُبڑا ہو جاتا اور وجود کے ہر مسام سے پسینے چھوٹنے لگتے میرا سانس رکنے لگتا میری نظر ایک پل کو ٹھہرتی اور ایک جھٹکے سے مجھے انزال ہو جاتا اور میں تیز تیز سانس لینا شروع ہو جاتا۔

پھر ایک دن میں شاید نیند میں تھا اور میرے خواب کا بہاو بہت تیز ہو رہا تھا۔ میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے اُس آخری مقام پہ پہنچا جہاں وہ ہمیشہ کی طرح گھٹنوں اور کہنیوں کہ بل کھڑا تھا۔ اس دن اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ کہنے لگا “ میں پیدا ہوا تو میری ہڈیاں بہت کمزور تھیں اور میں آسانی سے حرکت نہ کر سکتا تھا ۔ میں سارا دن سیدھا لیٹا پڑا رہتا ۔ میری نظروں کے سامنے گھر کی چھت ہوتی میں اُسے تکتا رہتا عین میرے سر کے اوپر پنکھا تیزی سے چلتا رہتا اور میں بے مقصد اُسےگھورتا رہتا۔ کبھی کبھی چھت کے اس آسمان سے میری ماں کا چہرہ طلوع ہوتا اور میرے چہرے پہ جھک جاتا۔ یہ واحد انسانی چہرہ تھا جسے میں پہچانتا تھا۔ میری ماں مجھے اٹھاتی ،پیار کرتی، نہلاتی، دھلاتی اور مجھ سے وہ باتیں کرتی جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ بس میں گھور گھور کر انہیں دیکھتا رہتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے میرے باپ کی کہانیاں سناتی تھی کیوں کہ وہ کبھی کبھی پرجوش ہو جاتی، کبھی مسکرانے لگتی اور کبھی اُس کی آنکھوں اور ناک سے پانی بہنے لگتا۔ میں بڑا ہو رہا تھا اور میرا وزن تیزی سے بڑھا رہا تھا اب میری ماں اکثر مجھے اُٹھاتے ہوئے تھک جاتی اور کبھی کبھی مجھے کوسنے لگتی جس کے بعد وہ اور میں دونوں رونے لگتے اور وہ مجھے زور سے سینے سے لگا لیتی۔ مجھے نامعلوم لوگوں، شہروں اور ملکوں کے خواب آتے۔ میں ہمیشہ خوابوں میں خود کو اڑتا ہوا نامعلوم ملکوں کی سیر کرتے ہوئے پاتا۔ میں جھیلوں، آبشاروں میں تیرتا پھرتا۔ مجھے تتلیوں اور پھولوں سےبھرے باغات نظر آتے ۔ جب میں جاگتا تو بہت دیر تک ان پھولوں کی خوشبو میرے بستر سے آتی رہتی یہاں تک کہ میرے اپنے وجود کی بو اُس خوشبو کو نگل لیتی۔ ایک رات میں بستر پر لیٹا کسی نامعلوم خواب کے انتظار میں پڑا تھا کہ میرے کانوں میں آواز گونجی۔ میری ماں سجدے میں پڑی اپنے خدا سے کہہ رہی تھی کہ ائے خدا میری مدد کر میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور میں اس بوجھ کو مزید نہیں اٹھا سکتی۔ اپنی امانت واپس لے لے۔ یہ سن کر میرا پورا وجود سُن ہو گیا۔ میرے ہاتھ پاوں کانپنے لگے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مجھ میں مرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں رینگتا ہوا بستر سے زمیں پہ آیا۔ میرے کانوں سیٹیوں کی آوزیں گونجنے لگی۔ میں کسی پالتو جانور کی طرح سیٹی کی آواز پر کہنیوں اور گھٹنوں کے بل بھاگنا شروع ہو۔ مجھے یاد نہین کب میں نے گھر کی دہلیز پار کی، کب میں اپنی گلی کب میں اپنے محلے سے نکلا۔ میں بس بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ میری کہنیوں اور گھٹنوں سے خون رس رہا تھا لیکن میں دوڑتا چلا گیا۔میں نے اپنا بچپن، اپنی ماں اور اپنا ایمان بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا “

اُس کا چہرہ میرے سامنے تھا وہ رو رہا تھا، اور میں بھی، وہ تھک چکا تھا اور میں بھی۔ہم ایک دوسرے سے ایک پل کو جدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اس خواب کی آخری دہلیز پر ایک نیلی آنکھوں والا نوجوان کھڑا تھا۔ ہم دونوں نے اُس کی طرف دیکھا اور اپنے خواب میں اُس کی موجودگی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا۔

۔وہ نیلی آنکھوں والا خواب گر دیوتادیوتاوں میں سب سے جدا تھا۔ وہ آسمانی دیوتاوں کے لئے خواب تخلیق کرتا تھا۔ پھر اُس نے لافانی خواب تخلیق کئے جس کے زیر۔اثر سبھی دیوتا نامعلوم لمحوں کے لئے سو گئے۔ وہ اب تھک چکا تھا اُس کی انگلیاں خواب لکھتے لکھتے خون آلود ہو گئی تھیں۔ وہ ان سب کو سوتا چھوڑ کر لامحدود خلاوں میں اُتر گیا۔ اُس کی انگلیوں سے قطرہ قطرہ خون ٹپکتا رہا ۔ ہزاروں لاکھوں کہکشائیں غنودگی میں جا رہی تھیں۔ کا ئناتوں میں سحر بکھرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک دودھ پیتی کہکشاں تک پہنچا۔ وہ ان لوگوں تک پہنچا جو خواب دیکھنا نہ جانتے تھے۔ ان کی آنکھیں پتلیوں کے اندر تیزی سے حرکت کرتی تھیں۔اُس نے ان کی نظروں کو ٹھہرانا تھا پھر اس میں خواب اتارنےتھے۔ تہذیب یافتہ لوگوں کو خواب دکھانا دیوتاوں کے لئے بھی کتنا مشکل تھا۔ اُس نے چھٹی سمت کو چنا اور وہاں اپنے خواب بکھیر دئیے۔ یہ وہ راستہ تھا جس سمت کوئی نہیں آتا تھا۔ پھر لوگوں کے قدم ڈگمگانے لگے۔ وہ اپنے خوابوں پر اوندھے منہ گرنے لگے۔ پہلے پہل کسی کو سمجھ نہ آیا کہ وہ اپنے خواب لے کر کدھر جائے۔ سبھی دیوانے ہونے لگے۔ ایک نوجوان اُٹھا اُس نے مقدس نشان زمین پہ دے مارا اور پاس کھڑی لڑکی کو باہوں میں لے لیا۔ لڑکی نے ایک طویل بوسے کے بعد ٹشو سے اپنے ہونٹ پونچھے اور شرما کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اُس کا باپ جان بوجھ کر بے خبر بن کر مقدس گیت دہرانے لگا۔ ان سیٹ میں سارے دیوتا نیند میں تھے اس لئے کسی نے اُس طرف توجہ نہ دی۔ سُرخ بتیاں جلا دی گئیں غلاموں نے اپنے گلوں کے طوق کھول لئے اور سروں سے لپیٹ کر ملی ترانے پڑھنے لگے۔ موت کی خوشبو ہر سو پھیلنے لگی لوگ پلیٹوں میں اپنے ہم جنسوں کو سررکھے چھری کانٹے سے کھانے لگے۔ اس شدید بھوک کہ باوجود وہ اپنے کوٹ کے بٹن کھولنے اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنی نہ بھولے۔ سب لوگوں نے اپنی مقدس کتابوں کو آگ لگا دی اور موت کو سولی پہ چڑھا کے زندگی کے خواب دیکھنے لگے۔ آگ جب آسمان تک پہنچی تو دیوتا ہربڑا کر اُٹھ بیٹھے۔ نیلی آنکھوں والے دیوتا کو زنجیروں سے باندھ کر آسمان پر لایا گیا اور سماوٰی خوابوں کو زمین میں بونے کے جرم میں ایک خواب کے قید خانے میں اترنے کا حکم سنا دیا۔ یوں یہ دیوتا ہمارے خواب میں آ کر قید ہو گیا۔

اب ہم تینوں ایک خواب میں قید تھے جس کے چاروں سروں پر اندھیرا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ خواب کی زمین تنگ ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ہم تینوں سمٹ کر ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ہمیں مزید اندر دھکیلا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوجھے کو گلے لگا لیا۔ ہم ایک نقطے کی طرح سمٹ رہے تھے۔ میں خواب سے بیدار ہونا چاہتا تھا۔ گھٹن اتنی بڑھ گئی تھی کہ میرا سانس بند ہونے لگا۔ میں چیخنا چاہتا تھا، میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔ وہ دونوں میری نطروں کے سامنے تحلیل ہو رہے تھے اور یہ منظر میری آنکھوں میں پتھر ہو گیا۔ میرا سانس کبھی نہ بحال ہونے کے لئے بند ہو گیا۔

Image: Dimitry Vorsin

Categories
فکشن

جنم جلی

وہ ان گنت نسلوں سے جھونپڑیوں میں یا جھاڑیوں کے کنارے پیدا ہو رہے تھے ۔ ان کا شجرہ نسب عموماً نامعلوم ہوتا تھا ۔ وہ بھی ایک انتہائی تھکی ہوئی شام جھونپڑی میں پیدا ہوئی۔ اُس کے ماں باپ نسلاً بھکاری تھے۔ اس کے باپ کو مانگنے کے علاوہ نشے کی بھی لت لگی ہوئی تھی۔ وہ اکثر غائب رہتا اور شہر کے وسط میں موجود ایک نالے کی نیچے مارفین کے انجکشن لگایا کرتا تھا۔ وہ ایک منحنی سی کالے رنگ کی بچی تھی جس کو پیدائش کے کچھ ماہ بعد ہی چیچک نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ چیچک نے اُس کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ عمر بھر اس رفاقت کے داغ اپنے چہرے پر سجائے رکھے۔ اس نے پیدائش کے فوراً بعد سے اپنا آبائی پیشہ سنبھال لیا تھا۔ وہ ماں کی گود میں پڑی وقت بے وقت روتی رہتی اور اس کے آنسووں کی قیمت کے طور پر سکے اس کی ماں کی گود میں گرتے رہتے۔
وقت بدلے بغیر چلتا رہا۔ اُس نے بھیک مانگنے کے لئے بولنا سیکھا ، چلنا سیکھا ، یہاں تک کہ کچھ کچھ سوچنا بھی سیکھ لیا۔ اسی دوران اس کی دو اور بہنیں بھی پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھی تو اُس کے باپ کو پولیس والے نشہ بیچنے کے الزام میں پکڑ کر لے گئے۔ دو دن بعد ہی پولیس والوں نے اس کی لاش جھونپڑیوں والوں کے حوالے کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی موت نشہ نہ ملنے کے سبب ہوئی ہے۔ جب کہ بستی میں ایسی چہ مگوئیاں بھی سنی گئیں کہ وہ پولیس تشدد سے مرا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی لاش نہ دیکھی تھی ورنہ اسکو نظر آ جاتا کہ اسکے باپ کے جسم پر جا بجا پولیس اور نشے کےتشدد کے نشان تھے۔ اس کے باپ کے جانے کا کسی بھی جھونپڑی میں سوگ نہیں منایا گیا۔ سوگ تب شروع ہوا جب ارد گرد کی جھونپڑیوں سے لوگ وقتاً فوقتاً ان کی جھونپڑی میں آتے اور کبھی کمبل ، تکیہ، جگ یا کوئی اور چیز یہ کہہ کر لے جاتے کہ اس کے باپ نے یہ چیز اپنی زندگی ہی میں نشے کے عوض فروخت کر ڈالی تھی۔ وہ اس پر خوش رہی کہ اس کی ماں کو نشے کے لئے نہیں بیچا گیا یہاں تک کہ اس کا چچا اکثر راتیں ان کی جھونپڑی میں گزارنے لگا۔ یوں زندگی کے متعلق اس کی پہلی غلط فہمی ختم ہوئی۔ رات نامانوس آوازوں سے اُس کی نیند کُھل جاتی اور وہ خوف سے دوبارہ اپنی آنکھیں بھینچ لیتی اور چھوٹی بہنوں کی آنکھوں کے آگے ہاتھ کر لیتی حالنکہ اندھیرے میں ویسے بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ روز صبح اس کا دل کرتا کہ وہ ٹریفک سگنل کے پاس کھڑے پولیس والے کو ( جو اکثر اسے ڈانٹ کر بھگا دیا کرتا تھا) رات کی ساری حقیقت بتا دے اور وہ اسکی ماں اور چچا کو جیل میں لے جائے کیونکہ بُرے لوگ جیل میں ہوتے ہیں ۔ اُس وقت تک بُرے لوگوں کے بارے میں اس کو تصور بہت کچا تھا۔

وہ تیزی سے بڑی ہو رہی تھی ۔ اب اکثر لوگ اُسے بھیک دیتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیتے یا پاس بٹھا لیتے ، کئی ایک تو ادھر اُدھر دیکھ کر اسے اپنے ساتھ چپکا لیتے تھے اور پانچ دس روپے دے دیتے۔ وہ یہ پیسے لئے اپنی ماں کے پاس آتی اور فخر سے پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی کہ آج اس نے اتنی زیادہ کمائی کی ہے۔ اس کی ماں اسے پیار سے چمکارتی ۔ وہ کبھی نہ دیکھ سکی کہ ایسے میں اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے ہوتے تھے۔

ایک شام وہ ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھی پاخانہ کر رہی تھی کہ ایک شناسا چہرہ قریب سے نمودار ہوا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی وہ اس نے اسے وہیں گرا دیا۔ وہ اپنے ہی پاخانے کے اوپر گری وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اُس شخص کو ناخن بھی نہ مار سکی ۔ اس کی مٹھیاں بس زمین سے مٹی بھرتی رہیں۔ شام کا وحشی اندھیرا ، ناک کو چڑھتی بدبو، گردن پہ چبھتے دانت ، نیچے کہیں چیرے جانے کا شدیداحساس اور بے بسی کے عذاب نے اس کی آنکھوں سے آنسو نکال دئے۔ ۔۔ اس کی نتھ روندی جا چکی تھی۔اس کی ماں جب اس پر مگ بھر بھر کر پانی ڈال رہی تھی تو یکایک روتے ہوئے وہ دوہتڑ اس کی کمر پر مارنے لگے جس پر یہ اور شدت سے رونے لگی۔ اتنا درد تو اسے جھاڑیوں کے کنارے بھی نہیں ہوا تھا۔ رات اس کی ماں دودھ میں ہلدی ڈال کر لائی اور اس کو پیار سے سہلانے لگی۔ وہ اس کو ہلدی ملا دودھ پلا رہی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس سے زخم مندمل نہیں ہونے والے۔

اُسے بخار ہو گیا اور وہ دو دن تک بھیک مانگنے نہ جاسکی۔ بس وہ سارا دن جھونپڑی میں پڑی چھت کے پردے کو گھورتی رہتی جیسے وہاں اوپر کوئی درد شناس رہتا ہو۔ اب وہ قدرے خوفزدہ سی رہنے لگی ۔ اُسے لگتا تھا کہ وہ یکایک بہت بڑی ہو گئی ہے بالکل اپنی ماں جتنی۔ اس کے سینے کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گٹھلیاں نمودار ہو رہی تھیں۔ جب وہ پیٹ کے بل سونے کے لئے لیٹتی تو ان میں ہلکا ہلکا لذت بھرا درد جاگ جاتا۔ وقت کے ساتھ درد اور گٹھلیوں کے سائز میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنی ماں سے نظر بچا کر ان کو انگلیوں سے دباتی تو میٹھی سے ٹیس سارے بدن میں دوڑ جاتی اور یہ تن سی جاتی۔ کبھی کبھی تو ان میں سے لیس دار پانی بھی نکلتا جس کو انگلیوں کی پوروں سے لگا کر وہ ان کی چپچپاہٹ محسوس کرتی۔

وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے کھڑا ایک نوجوان آتے جاتے اکثر اسے بہت پیار سے دیکھتا ہے۔ رات اکثر وہ خواب میں آتا۔ یہ ایک پینگ پر بیٹھی ہوتی اور وہ اُسے جُھلا رہا ہوتا۔ یہاں تک کہ جھولا کہیں بہت اوپر آسمانوں میں تیرنے لگتا۔ وہ لڑکا یکایک نیچے سے غائب ہو جاتا اور اسے یوں لگتا کہ وہ آسمان سے گرنے والی ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگتا اور اس کی اآنکھ کُھل جاتی۔ وہ پسینے سے شرابور ہوتی اور چور نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھتی۔ ایسی راتوں میں پھر اسے صبح تک نیند نہ آتی۔ اس کا دل کرتا کہ وہ جھونپڑی کا پردا ہٹا کر کھلی ہوا میں تاروں بھرے آسمان کے نیچے جا بیٹھے۔ایک دن جب اس کی ماں اس کے ساتھ نہیں تھی اور یہ بلدیہ کے فلیٹس کے نیچے سے جا رہی تھی اُس لڑکے نے اسے اشارے سے اپنے پیچھے بلایا۔ یہ چپ چاپ اُس کے پیچھے چلنے لگی۔ وہ فلیٹس کے نیچے پانی کی موٹر والے ایک کمرے میں داخل ہو گیا اور اسے اشارہ کیا۔ جب یہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں مکمل تاریکی تھی اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کنڈی لگنے کی آوازآئی پھر کسی نے اسے دیوار کی طرف دھکیلا۔ اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی تھی حلق خشک ہو رہا تھا ۔ اس کو کسی نے مضبوطی سے بھینچ لیا۔ اس کو اپنی شلوار نیچے کی جانب سرکتی ہوئی محسوس ہوئی پھر اس نے کسی گرم چیز کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کیا۔ مسلسل رگڑ سے کمرے کی کھردری دیوار سے چپکی اس کی کمر چھلی جا رہی تھی۔ اس نے اپنی رانوں پر نمی محسوس کی۔ اس کی شلور کو کھینچ کر اوپر کر دیا گیا۔ کنڈی کھلنے کی آواز آئی۔ لڑکے نے ایک کاغذ اس کی مٹھی میں تھمایا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اُسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔ جب وہ باہر نکلی تو سورج کی تیز روشنی اسے آنکھوں میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب اُس کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو اس نے کچھ دیر پہلے گزرے لمحوں کو یاد کیا۔ پھر اس کی توجہ مڑتی ہوئی اس کی بند مٹھی پہ جا ٹکی۔ اس نے ہتھیلی کو کھولا تو مڑے تڑے ہوئے بیس روپے اس کے پسینے سے گیلے ہو رہے تھے۔ وہ حیران نظروں سے ان پیسوں کی طرف دیکھتی رہی۔ جھولا زمین پر آ چکا تھا۔ وہ مزید پسینے میں ڈوب گئی۔ وہ عجیب کھسیانے انداز میں قہقے مار کر ہنسنے لگی۔ پھر اس نے غصے سے وہ پیسے زمین پہ دے مارے اور پیروں سے زور زور سے اُسے کچلنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے نامعلوم گوشوں سے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا تھا۔ وہ باقاعدہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ اس کے پیروں کے نیچے اس کی محبت بیس روپے کی شکل میں کچلی پڑی تھی۔ وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھی رہی پھر چلنے لگی۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ یکایک کچھ سوچ کر رُکی واپس مڑی اور وہ بیس روپے اُٹھا لئے۔

ایک دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے ایک دن برئیزئر لٹکتے ہوئے دیکھے۔ اس کے دل میں ان کو خریدنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اگلے دو دن وہ بھیک میں سے کچھ پیسے بچا کر اس دکان میں داخل ہوئی ۔ اُسے آج پہلی دفعہ مانگتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ بالاخر اس نے دکان دار سے کہا “بھائی صاحب ایک باڈی دے دیں۔ دکاندر نے اسے ٹٹولتے ہوئے کہا کہ” بی بی سائز کیا ہے تمہارا”۔ یہ گم صم کھڑی رہی دوکاندار نے کچھ دیر مزید ٹٹولا پھر شاید اسے رحم آ گیا۔ وہ بولا ” کتنے والا چاہے سو یا دو سو یا پانچ سو”۔ اس نے سامنے کاونٹر کر پیسے پھیلائے جو کہ کل ملا کر پچھتر روپے بنے۔ یہ بولی ” میرے پاس تو پچھتر ہی ہیں”۔ ” لاو دو” دکان دار نے پیسے رکھے اور ایک کالے رنگ کا برئزئر تھما دیا۔ جس کو اس نے دکان سے باہر نکلتے ہی اپنے نیفے میں اڑوسا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ اپنی جھونپڑی میں گھستے ہی اس نے دیکھا کہ ماں نہیں ہے اس نے جلدی سے قمیص اتاری اور کافی کوشش کے بعد برئزئر پہن لیا۔ اب وہ ٹہل ٹہل کر چل رہی تھی۔ وہ عجیب سی خوشی محسوس کر رہی تھی۔ پھر ایک دن جب وہ واپس لوٹی تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں اور دو بہنیں غائب ہیں۔ وہ کئی دن تک انہیں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ اسے نہ ملیں۔ اس نے پولیس والے سے بھی کہا۔ پہلے تو پولیس والے نے کہا ” بھاگ گئی ہو گی تیری ماں کسی یار کے ساتھ “۔ جب اس نے بہت زیادہ منت سماجت کی تو پولیس والے نے بیلٹ اوپر کرتے ہوئے اس کے چہرے کو مایوسی سے دیکھا اور کہا۔ “پانچ ہزار لگیں گے اور تو کچھ ہے نہیں تمہارے پاس دینے کو”۔ بہرحال اس رات کے بعد کچھ راتوں تک تو اس کو اکیلے ڈر لگتا رہا ۔ پھر اسے رہنا آ گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ اب وہ بھیک حاصل کرنے کے مخصوص ٹھکانوں کا اچھی طرح دورہ کر چکی تھی جن میں ٹرکوں کے اندر، پلیٹ فارم پر مال گاڑی کے بند ڈبوں کے اندر، لاری اڈے کی غلیظ لیٹرینوں میں، قبرستان میں قبروں کی اوٹ میں، کھیتوں میں، خشک نالوں میں ، یہاں تک کے مسجد کے طہارت خانوں میں۔ اس نے ہر جگہ سے اپنے حصے کی بھیک وصول کی اور لوگوں کے حصے کی بھیک ان کو بانٹی۔ لوگوں کی دریا دلی رنگ لائی اور یہ حاملہ ہو گئی۔ جوں جوں اس کا پیٹ بڑھتا جا رہا تھا ملنے والی بھیک کی مقدار کم ہوتی جا رہی تھی۔ اب یہ زیادہ چلنے سے تھک جاتی تھی۔ اکثر تو پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔ اس کا رنگ مزید سیاہ ہو گیا تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے آنکھوں کی رنگت اختیار کر چکے تھے۔ وہ تین دفعہ چلتے چلتے بے ہوش ہو کر گڑ پڑی ۔ ایک شام جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ نالے کے کنارے موجود جھونپڑیوں میں سے ایک بھی باقی نہیں رہی تھی۔ سب لوگ چلے گئے تھے کیوں کہ نالا اپنی حدوں سے باہر نکل کر اس میدان تک آ گیا تھا جہاں یہ لوگ آباد تھے۔ وہ نالے کے کنارے پھسلن سے بچتی بچاتی نسبتاً خشک جگہ پر تقریباً گڑ پڑی۔ وہ رات بھر یہی پڑی رہی۔ صبح اس کے پیٹ میں شدید درد ہو رہا تھا۔ وقفے وقفے سے درد کی ٹیسیں اس کے بدن میں ابھرتی پھر ڈوب جاتیں۔ دن کے تقریباً گیارہ بجے اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ وہ اتنی اکیلی تھی کہ بچی کا ناڑو کاٹنے کے لئے بھی کوئی موجود نہ تھا۔۔ دن کے وقت کھیس بیچنے والی ایک خاتون یہاں سے گزری اس نے اس کی مدد کی بچی کو کھیس اڑایا، اس کا لباس بدلا۔ وہ بھاگ کر کہیں سے زچہ بچہ کے لئے دودھ لے کر آئی۔ جب یہ قدرے بحال ہوئی تو اُس نے کہا۔ “بہن اللہ تمہیں ہمت دے مجھے جانا ہے۔ میرا گھر والا میرا نتظار کر رہا ہو گا”۔ وہ جاتے ہوئے سو روپے کا ایک نوٹ بھی اس کی مٹھی میں تھما گئی۔ خاتون کی دی ہوئی رقم اور دودھ تو دو دن میں ختم ہو گئے۔

بچی تو کہیں سے نازل ہو گئی تھی مگر اسے دودھ نہ اترا تھا۔ وہ بچی کو کبھی ایک چھاتی تو کبھی دوسری چھاتی سے لگاتی وہ کچھ دیر تک نپل کو اس امید پر چوستی رہتی کہ شاید دودھ آ جائے۔ پھر منہ ہٹا کر زور زور رونے لگتی۔ بچی کو سینے سے لگائے وہ روز دودھ کی تلاش میں بھیک مانگنے لگتی۔ ایسے ہی مانگتے ہوئے وہ حاجی صدیق کریانہ سٹور پر پہنچی۔ حاجی نے اسے اندر بلایا دوکان کا شٹر نیچے کیا۔ پھر یکایک اسے کوئی خیال آیا تو اس نے پوچھا “بچی کتنے عرصے کی ہے”۔ “جی ہفتہ بھر کی تو ہو گی ” اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔ حاجی صاحب کی آنکھوں میں مایوسی بھر آئی۔ قریب تھا کہ وہ شٹر اوپر کر کے اسے جانے کو کہتا ایک خیال اس کے زہن میں کوندا۔ وہ واپس مڑا اس کو سر دبا کر نیچے کیا۔ اس نے تھوڑی سی مزاحمت دکھائی تو اُس نے سختی کے ساتھ اس کا سر نیچے کرتے ہوئے کہا “چل منہ میں لےلے۔۔۔ بڑی آئی پاک باز کہیں کی” اس نے ایک نظر حاجی صاحب کی طرف دیکھا پھر جلدی سے اپنی قمیص کا پلو بچی کی آنکھوں کے اوپر ڈال دیا۔تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب نے دوکان کاشٹر اوپر کیا دائیں بائیں دیکھ کر جلدی سے پچاس روپے ان کو تھما کر دوکان سے باہر نکالا۔ یہ آگے نکلے تو حاجی صدیق کو یاد آیا کہ آج تو جمعہ ہے وہ جلدی سے دوکان بند کر کے غسل کے لئے گھر کو روانہ ہو گیا۔ اسے یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ صبح تو وہ نہا کر آیا تھا اب بیگم سے کیا بہانہ کرے گا۔ یکایک اس کی نظر سامنے کیچڑ پر پڑی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

وہ اپنی بچی کو اٹھائے جب سڑک پر پہنچی تو اسے احساس ہوا کہ وہ جلدی میں جوتے پہننا بھول آئی تھی۔ گرم تارکول اس کے پاوں کو بری طرح سے جلا رہا تھا۔ ۔ وہ سڑک کے کنارے موجود گندگی کے اوپر چلنے لگی یہ نسبتاً ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ یکایک اس کے پاوں کے نیچے کانچ کا ایک بڑا سا ٹکڑا آیا۔ یہ بے قابو ہو کر نیچے گری۔ بچی کو بچاتے ہوئے اس کی کہنی پوری قوت سے فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔ کچھ دیر وہ وہیں پڑی رہی پھر ہمت کر کے اُٹھ بیٹھی۔ پاوں کے آنگھوٹھے سے خون بہہ رہا تھا۔ کہنی کے آگے بازو جھول رہا تھا شاید ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے بچی کو ایک نظر دیکھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی۔کافی دیر بعد وہ نالے کے پل کے اوپر سے گزر رہی تھی اس نے نیچے دیکھا کیچڑ زدہ پانی میں اسے اپنا عکس واضح نظر آ رہا تھا وہ نظر ہٹانا چاہتی تھی لیکن اسے نظر آ ہی گیا کہ کیچڑ میں اس کی بچی کا عکس بھی اتنا ہی واضح تھا۔

Image: Ernst Barlach

Categories
فکشن

راکھ

ہمیشہ کی طرح رات سونے سے پہلے میں نے اپنی کھوپڑی کو کُھولا تا کہ دماغ کو باہر نکالوں ۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ کھوپڑی میں راکھ ہی راکھ جمع ہے جسے میں قریبی میز پر انڈیلنے لگا۔ راکھ کچھ کم ہوئی تو نیچے سے سگریٹوں کے ٹکڑے نکلنے لگے۔ شاید انہی کی وجہ سے وہاں اتنی راکھ جمع تھی۔ اس راکھ میں سے کہیں کہیں پنسلوں کے سکے بھی گر رہے تھے۔ ایک دو آدھے ٹوٹے ہوئے بلیڈ بھی سوختہ رگوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے یہ یقینی طور پر کسی بھی وقت ان رگوں کو کاٹ سکتے تھے مگر میں خوفزدہ نہ ہوا کیوں کہ میں اپنا دماغ (پتہ نہیں اس راکھ میں کہیں دماغ بھی تھا) خالی کر چکا تھا۔ ابھی میں یہ کر ہی رہا تھا کہ یوں لگا کہ میری کھوپڑی کے کسی کونے میں کوئی دوات کھلی ہوئی گر پڑی ہے اور سیاہی تیزی سے انڈلتی جا رہی رہی ہے، جس نے باقی ماندہ راکھ کو کھوپڑی کے ساتھ چپکا کےرکھ دیا جسے مجھے ناخنوں سے کُھرچ کر نکالنا پڑا، پر یہ سب ہوا کیسے؟ چونکہ میں اپنی کھوپڑی خالی کر چکا تھا اس لئے کچھ بھی یاد کرنے کی کوشش فضول تھی۔ میں پتہ نہیں اور کتنی دیر اس کوشش میں مشغول رہتا کہ میری توجہ رستی ہوئی بائیں کندھے پر موجود پھوڑے پر جا ٹکی۔ یقینا اس میں سے پیپ اور خون بہہ رہا تھا۔ میں نے رومال سے اسُے صاف کیا اور کتابیں سمیٹ کر میز پر رکھی اور خود بستر پر سونے کے لئے لیٹ گیا۔
صبح میرا سر عجیب بھاری ہو رہا تھا۔ غسل خانے میں جا کر میں نے اپنا ٹروائزر نیچے کر کے دیکھا میری ران کہ اوپر سُرخ نشان دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ، میں نے فوراً ٹروئزر اوپر کیا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو کرشیو کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ لیکن اپنے چہرے پر نظر ڈالتے ہی میں نے یہ خیال ملتوی کیا اور منہ دھو کر کچن میں آگیا۔ کافی تیار ہو چکی تھی میں نے سوکھے ہوئے دو توس اٹھائے ان کے بیچ میں کٹا ہوا کھیرا رکھا اور ناشتہ کر کے تیزی سے باہر نکل آیا۔ روز کی طرح آج بھی میری گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً میں نے ٹیکسی پکڑی اور دفتر کی طرف چل پڑا۔ میرا دھیان مسلسل میرے بٹوے کی طرف تھا اگر میں اسی طرح ٹیکسی میں آتا رہا تو اگلا ہفتہ بھی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے سوچا۔ مسلسل سوچنے سے میرا سر بھاری ہو رہا تھا، میں نے سر کو ہاتھوں میں تھاما کہ یکایک مجھے خیال آیا کہ میں اپنا دماغ وہیں میز پر چھوڑ آیا ہوں۔ “ میں اتنا لاپراہ کیسے ہو سکتا ہوں، اب میں واپس گیا تو ڈبل کرایہ لگے گا اور دفتر سے بھی دیر ہو جائے گی، مگر بغیر دماغ کے آگے جانا کیا سودمند ہو گا” میں انہی سوچوں میں تھا کہ میں نے غور کیا کہ اگر میں دماغ نہ اُٹھا لاتا تو ایسا سوچ کیسے سکتا تھا۔ “ یقیناً میں نے دماغ واپس کھوپڑی میں ڈال لیا تھا محض مجھے یاد نہیں آ رہا ، خیر اب جلدی سے دفتر پہنچ جاوں پھر اس بارے میں فرصت سے سوچوں گا” گاڑی رُک چکی تھی۔ کافی زیادہ ٹریفک جام تھا۔ “کیا ہوا ٹریفک کیوں رُکی ہوئی ہے” میں نے ڈرائیور سے استفسار کیا۔ “جناب روٹ لگا ہوا ہے، وزیر تحفظ ِ دو پایہ حیوانات نے آج عدالت جانا ہے ان کی گاڑی کو گزرنا ہو گا” ڈرائیور نے مجھے بتایا تو مجھے یاد آیا کہ رات اس حوالے سے خبروں میں بھی بتا رہے تھے کہ وزیر تحفظ ِدو پایہ حیوانات کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ جو کیس وہ عدالت میں کر چکے ہیں اس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک ہو سکتا ہے۔ میں نے جُھرجھری لی۔ “ یہ وہی وزیر تھا جس کا منہ ایک طرف سے ترچھا تھا اور جب بھی ٹی وی پر آتا تھا کیمرہ ہمیشہ اس کا سائیڈ پوز دکھاتا تھا۔ “ آج تو دفتر جانے میں دیر ہو جائے گی اور اُس منحوس سانڈ سے بے نقط سننی پڑیں گی “ میں اسی فکر میں تھا کہ وزیر موصوف کی گاڑی پاس سے گزری جس میں پیچھے والے شیشے سے وزیر محترم اور اگلے شیشے سے ان کا جرمن نسل کا کُتا ہمیں نہایت حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گزر گیا۔

 

میں ایک گھنٹہ دفتر سے لیٹ ہو چکا تھا۔ میں ایک ادبی جریدے میں کام کرتا تھا میری پوزیشن دفتر میں بالکل غیر ضروری تھی اور میں بھی اسے غیر ضروری ہی سمجھتا تھا مگر اس کے باوجود میں کافی جانفشانی سے کام کیا کرتا تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ دفتر کی واحد جوان اڈیٹر ، مدیر اعلیٰ کی ٹیبل پر کہنیاں ٹکا کر جھکی کھڑی ہے۔ اس کا پچھواڑا ہمیشہ کی طرح اتنا بیہودہ لگ رہا تھا کہ میرا دل کیا کہ میں ہاتھ میں پکڑے پن کی نب زور سے اُس کے پچھواڑے میں گھسا دوں یہاں تک کہ پورا آفس اس کی مکروہ چیخوں کو سُن لے۔ لیکن میں خاموشی سے آگے بڑھنے لگا اب بھی میری نظر پیچھے اُسی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے چہرے پہ میک اپ کی اتنی دبیز تہہ لگا رکھی تھی جسے رندے سے ہی اُتارا جا سکتا تھا۔ ۔ اس خاتون کی چھاتیوں کے سائز اور تنخواہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔اُس کے گلے کا صلیب مدیر اعلیٰ کی آنکھوں کے سامنے جھول رہا تھا۔ وہ شاید اُسے شعری محل وقوع سمجھا رہی تھی جس پر مدیر محترم تنقیدی نقطہ نگاہ ڈال رہے تھے۔مدیر کی باچھوں سے لال لال پان بہہ رہا تھا یہ خبیث ہمیشہ مجھے آدم خور لگتا تھا میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر میں اس کےکپڑے پھاڑ ڈالوں تو نیچے سے یہ کتنا وحشی دکھائی دے گا۔ میں ابھی اپنے ٹیبل پر بیٹھا تھا کہ باس کا بلاوہ آگیا۔ جب میں اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ اپنی توند تقیریباً میز پر سجائے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بھڑک کر اٹھنے کی کوشش کی جس میں اس کا پیٹ حائل رہا۔ وہ دوبارہ کرسی پہ ڈھیر ہو گیا اور دھاڑنے لگا “ ستیا ناس ہو تمہارا بدبخت پھر پرچے کا بیڑہ غرق کر دیا۔ گدھے کی اولاد تمہیں کتنی بار بتایا ہے کہ نارنگ مذکر ہوتا ہے تم نے پھر اُسے مونث لکھ دیا اور معروف شاعر خاکم داہنی کا لقب شاعر ِبے بدل ہے تم ہر بار اُسے شاعر بد دل کیوں لکھ دیتے ہو؟ اور یہ بتا کہ تجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا؟ تمہارا دماغ ہوتا کہاں ہے؟” وہ مسلسل بھونکے جا رہا تھا۔ میں اُسے کیا بتاتا کہ واقعی مجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا ۔ اس پرچے کو چھاپتے ہوئے میں کتنا محتاط رہا تھا کہ اس بار کوئی غلطی نہ ہو پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں غلطیاں کر بیٹھا تھا۔ “ آخر میرا دماغ رہتا کہاں ہے “ میں نے سوچا تو مجھے یاد آیا کہ میں اپنا دماغ گھر میں پتہ نہیں کہاں بھول آیا تھا۔ “ کیا وہ میز پر پڑا تھا یا میں نے اُسے دراز میں رکھ دیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اُسے کھوپڑی میں دوبارہ ڈال لیا ہو، لیکن اگر وہ واقعی میز پر رہ گیا ہے تو یہ ایک خطرناک بات ہے کیوں کافی دنوں سے ایک موٹی بلی میری گلی کا چکر لگا رہی تھی۔ اگر اُس نے میرا دماغ کھا لیا تو؟ لیکن اُس میں اتنی زیادہ راکھ ملی ہوئی تھی، بلیوں کے بارے میں مشہور ہے وہ راکھ نہیں کھاتی ورنہ ان کی نظر جاتی رہتی ہے، لیکن پھر بھی اگر وہ کھا گئی تو؟ یہ معاملہ واقعی تشویش ناک ہے۔ مجھے اس بارے میں جلدی سے کچھ کرنا ہوگا” میں مسلسل اپنے دماغ کی ممکنہ گمشدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر وہ گم ہو گیا تو کیا مجھے پولیس میں رپٹ لکھوانی چاہئے؟ لیکن پولیس والے تو بہت رشوت مانگتے ہیں اور ویسے بھی دماغ کی گمشدگی ایسا معاملہ ہے جس میں پولیس کی زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔ لیکن کچھ بھی ہو مجھے اس خبر کی تشہیر نہیں کرنی چاہئے۔

 

گھر پہنچنے تک میں انہیں خیالوں میں گم تھا۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں پہنچا، میز پر تھوڑی سی راکھ پڑی ہوئی تھی اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے سب درازوں کو دیکھ لیا۔ باسکٹ بھی انڈیل کر دیکھ لی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ “ اب کیا ہو گا” میں نے ایک پل کو سوچا پھر سر جھٹک کر بزرگ شاعر علامہ مایوس پوری پر تنقیدی مضمون لکھنے لگا۔
Categories
فکشن

پھر وہی کہانی

یہ روشن چہرے اور ہنستی آنکھوں والا نوجوان مرنے والوں میں سب سے عجیب تھا۔ یہ بس سکرین کے سامنے آیا تین دفعہ مسکرا کے پلکیں جھکائیں اور کنپٹی پہ پستول رکھ کہ گولی چلا دی۔ اب تک سینکڑوں لوگوں نے میری آنکھوں کہ سامنے جان دی تھی مگر اتنا خاموش تو کوئی بھی نہیں تھا۔ جب سے میں نے انٹرنیٹ پر لائیو خودکشی کے لئے ویب سائٹ بنائی تھی روز درجنوں لوگ براہ ۔ راست خودکشی کیا کرتے تھے۔ اب تو روزانہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ میری ویب سائیٹ پر آتے اور خودکشی کے براہ ِ راست مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ تو بہت چیختے چلاتے اور اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے اور مر کے اپنے تئیں معاشرے سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ کچھ کا انتقام تو محض اپنے چاہنے والوں تک محدود ہوتا تھا۔ کچھ بہادر لوگ تھے وہ نہایت کُھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور مر جاتے۔ ایک طبقہ ان دانشوروں کا تھا جو سکرین پہ آ کر زندگی کی بے ثباتی کا رونا روتے اور موت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے۔ مجھے یہ واعظ طبع لوگ انتہائی مکروہ لگتے تھے۔ یہ خود کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے تھے حالانکہ موت کے خوف سے ان کے چہرے کی سفیدی بڑھ جاتی ان کا گلا بار بار خشک ہو جاتا اور پستول اُٹھاتے وقت ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ بوڑھے بھی انتہائی خبیث ہوتے تھے جو اب زندگی کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لئے مر جاتے مگر مرنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو تلخ کرنے کی کوشش کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان سے اپنے ہی بچوں کی جوانی اور خوشی برداشت نہ ہوتی تھی یہ ٹھہر ٹھہر کر مرتے تھے جیسے یہ ٹھہر ٹھہر کر جیے تھے۔

 

مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ چرچ اسے مذہب کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتا تھا۔ وکلا اسے قانونی طور پر غلط سمجھتے تھے۔ سماجی کارکنوں کے حلقے میں میری ویب سائٹ اور میں دونوں ہی معتوب تھے۔ یہاں تک کہ میرا اپنا بیٹا یہ سمجھتا تھا کہ میں معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ وہ آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے انسان کا مسائل کا حل آرٹ میں ہے۔ آج کے انسان کو روحانی سکون کی ضرورت ہے جب کہ میں سمجھتا تھا کہ آج کے انسان کو مکمل آزادی کی ضرورت ہے۔ میں ایک مسیحا ہوں جو حقیقی معنوں میں روح کو آزاد کروا رہا ہوں۔ آپ لوگوں کی طرح میرے بیٹے کو بھی لگتا تھا کہ اس کہانی کا منطقی انجام یہی ہونا ہے کہ ایک دن مُردہ دل کے ساتھ میں اسی ویب سائٹ پر بیٹھ کر اپنی موت کی خبر سناوں گا۔ پر یقین جانئے کہ اس کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا میں ایک سیدھا سادھا کاروباری آدمی ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی میں خبط ۔عظمت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔

 

بالاخر تنگ نظروں سے انسانوں کی یہ آزادی برداشت نہ ہوئی انہوں نے میری ویب سائٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ میں خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہوں اور میری ویب سائٹ معاشرے کے لئے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ میں عدالت میں ہونے والی تما م جرح پر بس مسکراتا رہتا ہوں۔ عدالت میرے خلاف فیصلہ سنانے والی تھی کہ میں نے (معزز) عدالت کے سامنے تجویز رکھ دی کہ اگر عدالت چاہے تو میں اپنی ویب سائٹ میٰں ایسی تبدیلی کر لیتا ہوں کہ دیکھنے والوں میں سے اگر کوئی خودکشی کرنے والے سے بات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ سوشل ورکر اور مذہبی ٹھیکدار اگر چاہئیں تو اُسے جینے کے لئے قائل کر سکتے ہیں۔ میں اپنی عیاری کے سبب عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایسا کرنے سے خودکشی کے اعداد و شمار میں بے پناہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ میری اس تجویز پر پادری کی ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی اس کا موٹا پیٹ ہلکورے کھا رہا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ موت کے اس کھیل کو مذہب کے چھتری کے ذریعے وہ اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

 

میری یہ تجویز میرے حق میں ہی رہی اب بہت سارے خدائی خدمت گار بھی میری ویب سائٹ پر آنے لگے اور چکنی چُپڑی باتوں سے دوبارہ زندگی کے سبز خواب دکھانے لگے۔ لیکن اب یہ بھی ہوا کہ بہت سے شوقیہ فنکار بھی خودکشی کا ڈرامہ کرتے ،مرنا کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔ موت کے حقیقی شائق آہستہ آہستہ کم ہونے لگے اور میری ویب سائٹ صرف بھانڈوں کی اماج گاہ بن کر رہ گئی۔ مجھے یقینا اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ میں نے راہ ڈھونڈ لی ہے اب خودکشی کرنے والوں کو صرف ان لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا جو پہلے سے ہی میرے تیار کردہ تھے اور یہ ہر گز موت سے نا روکتے بلکہ موت کی ترویج کرتے تھے۔ میرا یہ طریقہ کامیاب رہا اور پہلے کی طرح مجھے کامیابیاں نصیب ہونے لگیں۔ موت لمحہ بہ لمحہ زیادہ تیزی سے زندگی پہ جھپٹنے لگی یہاں تک کہ ایک ایسا نوجوان آیا جو ایک آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کہ وہ اپنے باپ سے کتنی محبت کرتا ہے اور وہ یہ سکول اپنے باپ کے لئے ہی تو کھولنا چاہتا تھا جس کی روح نہ جانے کہاں قید ہو گئی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس سے رابطہ کر سکوں لیکن میرے تیار کردہ افراد اُسے مسلسل موت پر اُکسا رہے تھے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ گولی کی آواز کسی بھی لمحے مجھ تک پہنچ سکتی تھی۔

 

رات کسی بھی لمحہ ختم ہونے والی تھی میرے سامنے میری ویب سائٹ کُھلی ہوئی تھی۔ آج کے دن ایک کم ہزار لوگوں نے خود کُشی کی تھی۔ میں اندر سے بالکل خالی ہوں میرے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ پر میں اس کے نام کا آرٹ سکول نہیں بنا سکتا۔ میں نے ٹیبل کا دراز کھول لیا ہے ۔ میں سچ میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے اپنا وہ دوست بھی بہت یاد آ رہا ہے جو ہمیشہ ایک ہی کہانی سناتا تھا۔

Image: Alvaro Tapia Hidalgo

Categories
فکشن

لکن میٹی

میں جب ساتویں مرتبہ خواب سے بیدار ہوا تو خود کو میز پر جُھکے پایا۔ کلاک مسلسل بارہ بجائے جا رہا تھا۔ میں کافی لمبی چھٹی گزار کر آرہا تھا۔ میں نے دراز کھولا اور بنڈل نکال کر میز پر رکھا۔ “آج کام کافی زیادہ ہو گا” میں نے سوچا۔ کُل ایک کم سو خط تھے جنہیں میں نے اپنی منزل تک پہنچانا تھا۔ آج سے اٹھائیس برس پہلے میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اس شہر میں آیا تھا تو سولہ سترہ سال کا جوان لڑکا تھا۔ میں محکمہ جاسوسی میں بھرتی ہونا چاہتا تھا مگر شہر میں داخل ہوتے وقت ایک حادثے میں میری دائیں آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ وہاں سے مایوس ہو کر میں ڈاک کے محکمہ میں بھرتی ہونے چلا آیا۔ انہوں نے میری ایک آنکھ سے نظر بچا کر میری متجسس جبلت کی تعریف کرتے ہوئے فوراً بھرتی کر لیا۔ میرا کام اُن خطوں کو منزل تک پہنچانا تھا جن کہ اوپر کسی بھی قسم کا پتہ درج نہ ہوتا تھا۔ ان اٹھائیس سال میں ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں کسی خط کو منزل تک نہ پہنچا پایا ہوں۔ محکمہ میری کارکردگی سے بہت خوش تھا وہ مجھے ترقی دے کر ٹکٹ شماری کے شعبے میں بھیجنا چاہتے تھے مگر مجھے گمنام خطوں کے قاصد بننے کے علاوہ کچھ بھی آتا نہیں تھا سو میں اسی شعبے میں ٹکا رہا۔ مجھے ٹھیک سے یاد تو نہیں کہ میں نے اب تک کتنے خطوں کو منزل تک پہنچا پا ہو گا مگر وہ یقینا ہزاروں میں ہوں گے۔

 

ان اٹھائیس سالوں میں ہمارا وطن دو جنگوں سے گزرا تھا، چار آمرانہ اور ایک جمہوری دور بھی آیا تھا، چھ سیلاب اور دو زلزلے بھی آئے تھے۔ ایک بار طاعون کی وبا اور قحط سالی بھی آئی جس میں آدھا شہر ختم ہو گیا مگر میرے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ عام طور پر مہینوں میں چند ہی خط موصول ہوتے تھے لیکن کبھی کبھی تو ایک دن بھی سینکڑوں خط پہنچانے پڑتے۔ میں ہمیشہ آفس آتے ہی نیچے کا دراز کھولتا، تمام گمنام خطوں کو ترتیب لگاتا، انہیں چمڑے کےبستے میں ڈالتا اور دفتر کی پچھلی طرف کی سیڑھیاں اُتر کر برگد کے درخت کے نیچے کھڑی اپنی پرانی بائسکل (یہ ہمیشہ سے پرانی ہی تھی)اُٹھاتا اور گمنام خطوں کی منزل کی طرف چل پڑتا۔ یقین جانئیے میں نے آج تک کسی سے راستہ نہیں پوچھا تھا۔ جیسے میں پہلے سے ہی جانتا تھا کہ کس خط کو کہاں پہنچانا ہے۔

 

میں نے اپنی اکلوتی آنکھ کو پیشانی پہ درست کیا اور تمام خطوں کو میز پر پھیلا کر ترتیب دینے لگا۔ سب سے پہلے وہ خط الگ کئے جن کے کونے بائیں طرف سے مُڑے ہوئے تھے۔ اُن کو میں نے بستے کی سب سے اوپر والی جیب میں ڈالا۔ پھر ان خطوں کو الگ کیا جن پر کچھ بھی تحریر نہیں تھا لیکن ان کے ورق پھر بھی کورے نہیں تھے یہ خط تعداد میں سب سے زیادہ موصول ہوتے تھے۔ ان کو میں نے بستے کی انتہائی اندرونی جیب میں رکھا۔ کچھ ایسے خط بھی تھے جن میں محض اخباری تراشے چسپاں تھے۔ اُن خطوں کو بیگ کی عقبی جیب میں رکھا۔ دو گیلے خط بھی موصول ہوئے تھے جن کو تقدس کے ساتھ میں نے بیگ میں پھیلا کر رکھ دیا۔ ایک خط میں گلاب کی سوکھی ہوئی پتیاں تھیں۔ جن کو میں نے سب کے اوپر رکھ دیا۔ ابھی میں خطوں کو ترتیب دینے میں مشغول تھا کہ سامنے کے دروازے سے وہ داخل ہوا۔ سورج کی تیز روشنی میں پہلے تو اُس کا چہرہ ٹھیک سے نظر ہی نہیں آ رہا تھا لیکن وہ ایک ٹانگ سے لنگڑا رہا تھا تب میں نے اُسے پہچانا۔یہ خوش شکل لڑکا جب بھی دفتر آتا تو چائے کی دوپیالیاں لے کر میرے پاس آجاتا۔ یہ بہت عجیب لڑکا تھا میں نے اسے ہمیشہ خوش ہی دیکھا تھا۔ اُس نے مجھے آتے ہی بتایا کہ اُس کی ماں پچھلے ہفتے مر گئی تھی۔ اُس کی ماں کو کینسر اور انتظار کا مرض عین جوانی میں لگ گیا تھا۔ اس لڑکے نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کچھ لوگوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کی ماں ایک رقاص کی محبت میں مبتلا ہو گئی تھی جو روز برگد کے درخت کے نیچے ٹھیک بارہ بجے رقص کیا کرتا تھا۔ رقاص کے قدم کہاں ٹھہرتے ہیں ایک دن ایسے ہی ناچتے ناچتے وہ گم ہو گیا تھا۔ مجھے لوگوں کی باتوں سے کیا، مجھے یہ نوجوان بہت اچھا لگتا تھا۔ درحقیقت میں اس کی محبت میں مبتلا ہو چکا تھا۔ میں اور وہ اُس کی ماں کی موت کے سوگ میں دو منٹ خاموش رہے۔ لیکن اُس کے لئے خاموش رہنا بہت مشکل تھا۔ اُس نے فورا اپنا نیا خط پڑھ کہ سُنانا شروع کر دیا۔ وہ جب بھی آتا اپنا نیا خط مجھے پڑھاتاجو اُس نے اپنی محبوبہ کےنام لکھا ہوتا تھا۔ چائے کا تو بہانہ ہی ہوتا تھا اُس نے دراصل مجھے اپنا خط سنانا ہوتا تھا۔ میں اکثر اُسے کہتا کہ وہ یہ خط مجھے دے دے تا کہ میں اس کو منزل تک پہنچا دوں گا لیکن اُس نے مجھے کبھی خط نہیں دیا تھا۔ کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا کہ اُس کی محبوبہ ایک فرضی کردار ہے اور وہ محض خط لکھنے کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ لیکن میں نے اُس سے یہ بات کبھی نہیں کی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ اُس کا جواب مجھے کسی گمشدہ خط کی طرح اداس کر دے گا۔ مجھے احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ کب کا جا چُکا ہے۔ جب میں تنہا ئی کو پڑھتے پڑھتے اکُتا گیا تو اپنا بیگ سمیٹتے ہوئے باہر نکل آیا۔ برگد کے درخت کے نیچے سے سائیکل اٹھاتے وقت مجھے ایک فکر نے آن گھیرا۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی خط میز کے اوپر چھوڑ آیا ہوں۔ کیا “میں آج تمام خط پہنچا پاوں گا میں نے خود سے سوال کیا”۔ ہوا میرے اندر رقص کر رہی تھی بیگ میں موجود تمام خط پھڑپھڑا رہے تھے۔
Categories
شاعری

فیصلہ

“تم نے یہاں آنے کا فیصلہ ہی کیوں کیا”

 

بالااخر شوذب نے چپ توڑتے ہوئے سوال داغ دیا۔ پچھلے کتنے سالوں سے میں اور شوذب ساحلِ سمندر پر اکٹھے ہوتے اور دیر تک خاموش سمندر کو خاموشی سے گھورتے رہتے۔ ہم کوئی بات نہ کرتے اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس خاموشی میں بہت سے سوال سرگوشیاں کرتے رہتے۔ لہریں آتیں اور ہمارے نیچے سے آہستہ آہستہ ریت پھسلتی رہتی ہمارے سوال اور نیچے کی زمین اُسی طرح رہتی یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہم چپ چاپ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ آج پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ شوذب نے یکایک ایک غیر متوقع سوال کر دیا۔ میں بہت دیر تک چپ رہا کہ شاید لہریں یہ سوال بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں۔ لیکن جب یہ سوال لنگر انداز ہو گیا اور اس کے بطن سے مسافروں کی طرح بہت سے سوال قطار بنا کر اُترنے لگے تو میں گویا ہوا:

 

“اس سمندر کے تیسرے کنارے پر اندھیرے میں ڈوبا ایک ویران اور بے آباد جزیرہ ہے۔ سنا ہے کہ وہاں ٹھیک آدھی رات ادھ جلی ہزاروں روحیں صف بنا کر ماتم کرتی ہیں اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی مکمل جل کر سمندر کا حصہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے بین میں اتنی نحوست ہوتی ہے کہ چمگادڑیں بھی اس جزیرے کا رخ نہیں کرتیں۔ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ یہ آج سے لاکھوں سال پہلے کا قصہ ہے کہ اُس جزیرے پر ایک وحشی قوم رہتی تھی۔ یہ لوگ ننگ دھڑنگ رہتے اور اپنے مُردوں کا کچا گوشت کھاتے، انہیں کوئی بھی زبان بولنی نہ آتی تھی۔ ہزراوں سال وحشت، ننگ،بھوک و افلاس کی اس جزیرے پر حکمرانی رہی۔ پھر ایک شام بستی والوں نے دیکھا کہ سورج کہ غروب ہونے سے محض ایک ساعت پہلے سمندر کی لہروں کے فرش پر چلتا ہوا ایک شخص اس جزیرے کے ساحل پر اُترا اور وہیں چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ اُسی رات سمندر نے سینکڑوں مچھلیاں ساحل پر اُگل دیں۔ وہ مچھلیاں اتنی لذیذ تھیں کہ بستی کہ ہر فرد کی صدیوں کی بھوک مٹ گئی۔ پھر اس بستی پر اتنا ہن برسا کہ جل تھل ہو گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ سب لوگ خوشحال ہو گئے، وحشی مہذب ہو گئے اور ہزاروں سال تک اُس بستی میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔ ان ہزاروں سالوں میں وہ درویش ساحل پر کھڑا رہا۔ وہ جس شخص کی سمت دیکھتا خوشحالی اس گھر کی باندی ہو جاتی، وہ جس کو چھو لیتا اسے کوئی مرض نہ چھو سکتا، اس کے قدموں کا بوسہ لیتے پانی کا اگر ایک گھونٹ بھی کوئی بانجھ عورت پی لیتی تو اس کے گود ایسی ہری ہوتی کہ خوش جمال اور دلیر فرزند پیدا ہوتے۔ لوگ کون و مکاں کے ہزاروں سوال اس کہ پاس لے کر آتے اور وہ ریت پر چند لکیریں کھنچتا اورسب مسئلے اور سوال یوں حل ہو جاتے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ یہاں تک کہ بستی کے لوگوں نے سوال کرنا چھوڑ دئیے۔ لوگ اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُس بزرگ کے پاس لاتے اور وہ ان میں دو دو کا جوڑا بنا دیتا۔ پھر ان گھروں میں کبھی لڑائی نہ ہوتی۔

 

اُسی بستی میں ایک عورت تھی جس کے حُسن کی تاب کوئی نہ لاتا۔ اُس کا خاوند ایک وفا شعار اور محنتی کسان تھا۔ ایک رات کہ پچھلے پہر چاند کو دیکھتے ہوئے اُس عورت نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور ایک عجیب سی خواہش میں مبتلا ہو گئی۔ اب کوئی پل اسے چین نہ پڑتا۔ ایک رات انتہائی بے چینی کے عالم میں وہ بستر سے اُٹھی اور آنکھیں بند کئے ساحل کی طرف جانا شروع ہو گئی، وہ ساحل سے چند قدم دور تھی کہ اُس نے دیکھا کہ چاند کی چاندنی میں سینکڑوں پریاں اُس بزرگ کہ گرد طواف کر رہی ہیں۔ اس نور نے پھیلتے ہوئے اُس کے وجود کو حصار میں لے لیا وہ اس کی تاب نہ لا سکی اور غش کھا کر گر گئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابھی رات اُسی طرح باقی ہے اور درویش کے گرد پریوں کا رقص جاری ہے اُس نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور دوڑتی ہوئی گھر واپس آگئی۔ اگلی بہت سی راتوں میں وہ اپنے پیٹ اور خواہش کو دباتی رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس عورت کہ ہاں ایک بچے نے جنم لیا جس کی زبان اُس کے ہونٹوں کے آگے لٹکتی رہتی اور اُس کی پیاس کبھی نہ بجھتی تھی۔ اس بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس گھر میں زوال آنا شروع ہو گیا۔ وہ جتنی بھی محنت کرتے پر برکت نہ ہوتی۔ خوشحالی کے لئے کئی سال تک اُس عورت کا شوہر باقاعدگی سے درویش کے لئے کھانا بھیجتا مگر وہ اُس میں سے ایک نوالہ بھی نہ کھاتا۔ ایک شام جب اُس کا گونگا بیٹا کھانا لے کرجا رہا تھا کہ اُس نے تھال کا ڈھکن اُٹھا کر دیکھا اور بھوک سے نڈھال ہو کر چند نوالے کھا لئے۔ اُس کے بعد وہ روز ہی ایسا کرنے لگا۔ گھر کی بھوک تو نہ مٹنا تھی نہ مٹی،پر اُس کی بھوک کا سامان ہو گیا تھا۔ جوں جوں وہ جوان ہوتا جا رہا تھا اُس کو عجیب سے دورے پڑنے لگے تھے وہ آدھی راتوں کو گلیوں میں روتا دوڑتا پھرتا رہتا اور اکثر ساحل کی طرف نکل پڑتا جس طرف جانا سب کے لئے ممنوع تھا۔ وہ ساحل کہ کنارے کھڑی کشتوں میں چھپ چھپ کر روتا رہتا۔ ایک رات وہ رو ہی رہا تھا کہ اُس کی نظر ساتھ والی کشتی پر پڑی جہاں ایک نہایت حسین لڑکی زاروقطار روتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنے درد بھول گیا اور وہ بے خود ہو کر ساتھ والی کشتی میں اُتر گیا۔ پھر ایسا روز ہونے لگا۔ ایک صبح جب ان دونوں کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے دیکھا کہ کشتی کے اوپر بستی کے لوگوں کہ سر جُھکے ہوئے تھے وہ انہیں حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کو پکڑ کر درویش کے پاس لے گئے کہ وہ ان دونوں کے ہاتھ تھما کر انہیں جوڑا بنا دیں۔ لیکن راستے میں ہی میں اس نے زور سے لڑکی کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ یہ ناقابل معافی جرم تھا۔ درویش کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ اُس نے لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر ایک اور نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ چلایا، گڑگڑایا اور گونگی زبان میں لاکھوں مناجات کیں، لیکن درویش کسی نہ ختم ہونے والی عبادت میں مصروف ہو گیا۔

 

اُسی رات ہزاروں سال بعد پھر اُس بستی میں قتل ہوا۔ گونگا اُس لڑکی کے شوہر کو قتل کر کے اپنی محبوب کو اُٹھائے کشتی کے پاس پہنچا۔ اُن کی کشتی چلنے ہی والی تھی کہ اسے کچھ خیال آیا اور کود کر کشتی سے نیچے اُترا اور دوڑ کر درویش کی طرف گیا جو کسی گہرے مراقبے میں تھا۔ درویش نے آنکھیں کھولیں اُس کی سمت ایک نگاہ دوڑائی اور بولا
“بالک، بیٹھو آج میں تمیں سنسار کا انت سمجھاتا ہوں، ہر کرم ایک جیون ہے، اس ساگر کا ہر دھارا پچھلے کی راکھ اپنی ادھ کھلی باہوں میں لئے پھرتا ہے، تم اگر چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

 

ابھی درویش اتنا ہی بول پایا تھا کہ اُسے اپنے دل میں خنجر کی دھار محسوس ہوئی۔ خنجر اُس کے دل کو کاٹ چکا تھا۔ لڑکا بھاگم بھاگ کشتی میں پہنچا۔ کشتی لہروں پر دھیری دھیرے چلنے لگی۔۔۔ ساحل پر خون بکھرتا رہا۔ سُنا ہے کہ رات اُس بستی پر آگ برسی اور ہر ذی روح، ہر شجر جل کر راکھ ہو گیا”

 

میری کہانی ختم ہو چکی تھی۔ شوذب حیرت سے میرٰی طرف دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

 

“ اُسس کش۔۔۔کشتی کا ک ک کیا بنا”

 

میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

 

“ آج کی شام کتنی لمبی تھی” میں نے سوچا۔ شوذب جیب میں سے شاید سگریٹ تلاش کر رہا تھا۔

Image: Jason de Caires Taylor

Categories
فکشن

فنِ گزشتگان

ہم ہمیشہ کی طرح جنگ ختم ہونے کے بعد وہاں پہنچے۔ گیارہ سال ہمیں اس جنگ کا انتظار کرنا پڑا اور یہ جنگ مسلسل سات دن اور سات راتوں تک جاری رہی۔ ان سات دنوں میں ہم لوگ روز دور سے حسرت بھری نظروں سے جنگ میں مرنے والوں کی لاشوں کو دیکھتے رہے مگر ہمیں میدانِ جنگ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہونے کا نقارہ بجا دیا گیا جس کے بعد ہمارا پورا قبیلہ اپنے جھونپڑی نما گھروں سےننگ دھڑنگ میدانِ حشر کی طرف دوڑتا چلا گیا۔ سب نے اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے تھیلے اٹھا رکھے تھے جس میں تمام ضروری اوزار اور مصالحےموجود تھے جنہیں پچھلے سات دنوں میں ہم نے تیار کیا تھا۔ ہمارا قبیلہ موت اور زندگی کی سرحد پہ کھڑا رہتا تھا یہاں تک کہ موت اپنا آخری حُکم سنا دیتی اور آنے کے لئے پر تولتی ایسے میں ہم یکایک کہیں زمین کہ بطن سے نمودار ہو جاتے اور زندگی کشید کرتے۔ ہمارے بزرگوں نے سوریا دیوتا کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا جس کہ بعد اُن کے شراپ کے نتیجے میں ہماری قوم ایسے مرض میں مبتلا ہو گئی کہ کسی بھی زندہ انسان کو چھوتے تو وہ برص کہ مرض میں مبتلا ہو جاتا۔ اس لئے ہمیں صرف دشمن قوم کی لاشوں کو چھونے کی اجازت ہوتی تھی۔ ہم اس لمس کو ترس جاتے۔ تخلیق ہماری انگلیوں میں دم توڑنے لگتی۔ جنگ کہ بعد ہم لاشوں سے کئی ضروری اشیا بناتے تھے۔ یہی ہمارے جیون کا مقصد تھا اور ہم صدیوں سے اس پیشے سے منسلک تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جب پہلی بار ایک شخص نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا تو لاش کو دفناتے وقت اس نے اُس کی آنکھیں نکال لیں تھیں۔ اُن آنکھوں میں حیرت اور خوف تھا یہی حیرت اور خوف بعد میں تخلیق، ایجاد اور دریافت کا سبب بنا، یہی شخص ہمارے قبیلے کا پہلا بزرگ تھا اور اس فن کا بانی بھی۔

 

میں اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو ہمراہ لئے ہوئے تھا کہ یہ اُس کی زندگی کہ پہلی لڑائی تھی اور مجھے اُسے اپنا خاندانی فن سکھانا تھا۔ وہ بہت پُرجوش تھا اور پورے قبیلے کے آگے آگے دوڑتا جا رہا تھا۔میدانِ جنگ میں تاحدِنظر لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ جن پر چیل کوئے اور گدھ جھپٹ رہے تھے۔ انہوں نے کتنی ہی لاشوں کو برباد کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر کُتوں اور گیڈروں نے پوری کر دی تھی۔ وہاں اتنا تعفن پھیلا ہوا تھا کہ اُس کی بو ہمیں مدہوش کئے دیتی تھی۔ کچھ بد مست نوجوان تو اتنے نشے میں تھے کہ جگہ جگہ قے کر رہے تھے۔ اس تعفن کے باوجود ہماری بو سونگھتے ہی یہ سب میدانِ جنگ سے یوں بھاگے جیسے ان سب لاشوں میں جان پڑ گئی ہو۔ کئی کتوں کے منہ سے نوالے گر گئے۔ “بیٹا یاد رکھنا فنونِ لطیفہ سے بے بہرہ یہ اقوام ہماری سب سے بڑی دشمن ہیں، انہوں نے کتنی ہی قیمتی لاشوں کو تباہ کر دیا ہو گا۔ لیکن خیر چونکہ جنگ سات دن اور سات رات جاری رہی ہے اس لئے ابھی بھی بہت ساری لاشیں،کام کی مل جائیں گی”۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا۔ ہم نے دیکھا کہ کچھ سپاہی ابھی بھی زندہ تھے اور ان کی نیم بُریدہ گلوں سے خون کے فوارے چھوٹ رہے تھے۔ ہمیں ان کی موت کا نتظار کرنا تھا۔ سب سے پہلے قبیلے کے بزرگوں نے قابلِ استعمال لاشوں کو الگ کیا۔ خواتین نے ان کے لباسوں کو الگ کیا اور ان کے زخموں کو دھویا۔ ہمیں کُل تین سو پینسٹھ لاشیں ایسی مل گئی تھیں جو مکمل طور پر قابلِ استعمال تھی۔ میں نے ان میں سے تین لاشوں کو الگ کیا۔ ان میں سے ایک تو محض سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان تھا اور اس کے گلے میں تیر لگا تھا۔ دوسرا قدرے ادھیڑ عمر تھا جس کی آدھی گردن تلوار کے وار سے کٹی ہوئی تھی۔ تیسرا ایک بھاری بھرکم جوان تھا جس کے سینے اور پیٹ کے درمیان نیزہ لگا تھا۔

 

میں نے اپنے بیٹے کو پہلو میں بٹھایا اور اُس کو سکھانے لگ گیا۔ وہ نہایت انہماک سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

 

“بیٹا سب سے پہلے لاش کے ہاتھ الگ کرتے ہیں” میں نے مُردہ نوجوان کا ہاتھ بیٹے کے ہاتھ میں دیا۔ اُس کا ہاتھ یکدم اکڑ گیا اور مانو اس نے میرے بیٹے کی کلائی ہی پکڑ لی۔ وہ ڈر کر پیچھے ہٹا۔ میں نے آرام سے اُس کا ہاتھ چھڑایا۔ اور کہا “بیٹا ڈرو مت نوجوان لاشے اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ دیکھو لاش اور عورت اگر تمہارا ہاتھ پکڑ لیں تو جلدی سے چُھڑا لینا، ورنہ اپنا فن فراموش کر بیٹھو گے” اُس نے سعادت مندی سے اپنا سر ہلایا۔ میں نے تیز خنجر سے جلدی جلدی اس کی کلائی کاٹی۔ پھر نہایت چابک دستی سے اُس کی انگلیوں کو الگ کیا اور نوک دار آلے سے انگلیوں میں سوراخ کرنے لگا۔ “ بیٹا ان ہاتھوں کی انگلیوں سے ہار بنتا ہے جو قبیلے کا سردار اپنے گلے میں پہنتا تھا یہ اُس کی شناخت ہوتی ہے۔ جتنی زیادہ انگلیوں والے ہار اُتنا بڑا سردار” میں نے اُسے بتایا۔ پھر میں نے کہنیوں تک بازو الگ کئے۔ “ بابا اس سے کیا بنتا ہے” بیٹا کبھی ہم اس سے چپو بنایا کرتے تھے جس پر زندگی کی کشتی دھیرے دھیرے لہروں پر چلتی رہتی تھی۔ پر اب تو کشتیاں بہت بڑی ہو گئی ہیں یہ اُن کو کھینچ نہیں سکتے۔ اب ہم اس سے بچوں کے جھولے بناتے ہیں”۔

 

پھر میں نے گردن الگ کی اور کھوپڑی کو اندر سے صاف کرنے لگا۔ میرا بیٹا مجھے کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ “بابا ان آنکھوں سے کیا بناتے ہیں۔ یہ بہت خوبصورت ہیں یہ مجھے دے دیں” میرے بہادر بیٹے ان آنکھوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے تم ان سے محض سپنے بنا سکتے ہو۔ دیکھو اگر احتیاط سے اس کے اندر کا کالا حصہ الگ کر لو گے تو وہ قاضی کی انگوٹھی میں جڑنے کے کام آئے گا” میں بہت تیزی سے کھوپڑی صاف کر رہا تھا “ سنو سر ہمیشہ احتیاط سے صاف کیا کرنا کیوں کہ اس سے جام بنتے ہیں جب بادشاہ دشمن فوج کے کسی سورما کے سر کے جام میں شراب پیتا ہے تو اس کا نشہ برسوں رہتا ہے۔ یہ کھوپڑی کسی شہزادے کی ہے اور جب میں اس سے بادشاہ کا جام بنا لوں گا تو یہ بہت اچھے داموں بک جائے گی” لیکن سب کھوپڑیاں تو ایک جیسی ہی ہوتی ہیں” اُس نے معصومیت سے پوچھا” بیٹا یہ انسانوں کی دنیا ہے یہاں مرنے کے بعد بھی سب برابر نہیں ہوتے”۔
پھر میں نے اُس نے سینے کو چاک کیا اور چھاتی کی ہڈیوں کو الگ کرنے لگا اور ایک ایک کر کر کے جسم کے مختلف حصوں کا استعمال اُسے سمجھانے لگا “ سینے اور پسلیوں کی ہڈیاں زینے بنانے کے کام آتی ہیں۔ رانوں سے شہزادیوں کے گاو تکیے بنائے جائیں گے۔ عضو تناسل اور خصیوں کے ساتھ آشا دیوی کے مندر کی گھنٹیاں لٹکائی جائیں گی “ وہ نہایت توجہ سے ایک ایک بات سُن رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اگلی لاش پر وہ بھی میرے ساتھ ہاتھ بٹائے تا کہ وہ اس فن کو پوری طرح سیکھ لے۔ “ ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔ وہ دھیمے سے لہجے میں بولا” جب جنگیں نہیں ہوتی تھیں تو ہم لوگ کیا کرتے تھے اور اگر جنگیں ختم ہو جائیں تو ہم کیا کریں گے؟” میں اُس کے سوال پر مسکرایا میرا خنجر نوجوان کی ٹانگوں کے درمیاں سے کاٹتا ہوا اُس کے پیٹ تک پہنچ چکا تھا۔ ابھی دو مزید لاشوں کو رات سے پہلے کاٹ کر الگ کرنا ہے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔
Categories
فکشن

سوال

پچھلے چند دنوں سے میں اپنی گردن پر رسی کا دباو زیادہ محسوس کر رہا تھا۔ درد میری گردن کی پچھلی سمت سے بڑھتا ہوا میرے کندھوں تک جا پہنچا تھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر کھونٹے کے گرد سات چکر مکمل کئے اور تھک کر کھڑا ہو گیا۔ ایسا کرنے سے رسی کی گرہ میری گردن کے گرد مزید سخت ہو گئی۔اب میں بمشکل اپنا سر پنجرے کی آہنی سلاخوں سے ٹکرا سکتا تھا۔ میں امید بھری نظروں سے پنجرے کے درزوں سے باہر کی سمت دیکھنے لگا مگر وہ لوگ میری موجودگی سے بے خبر آتشدان میں لکڑیاں ڈال رہے تھے۔ میری دائیں طرف موجود دیوار سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھا۔ آج ٹھنڈک بہت زیادہ تھی۔ میں باہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن اُن کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کافی دنوں سے باہر شدید برف باری ہو رہی تھی۔ میں نے سردی کو اپنی ہڈیوں میں جاتا محسوس کیا اوراپنی اونی کھال میں گردن تک دُبک کر بیٹھ گیا۔انہوں نے پنجرے کے اندر میرا کھانا پھینکا۔ میں نے کھانے کو عادتاً سونگھا حالانکہ کہ کھانے کے ذائقے میں مجھے کبھی فرق محسوس نہیں ہوا وہ ہمیشہ ہی باسی ہوتا تھا۔میں نے تو کبھی اس کے علاوہ کچھ کھایا ہی نہیں تھا پھر میں اسے باسی کیوں کہہ رہا ہوں اس بارے میں میں واقعی کچھ نہیں جانت۔ا

 

میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔
میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔ شاید شروع ہی سے میں یہیں تھا۔ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ بھی کہنا ناممکن تھا۔ مجھے اس بارے میں بھی قطعی اندازہ نہ تھا کہ مجھے یہاں کیوں لایا گیا۔ مجھے مبہم سا یاد پڑتا تھا کہ پہلے میرے علاوہ یہاں اور بھی تھے یا شاید یہ میرا واہمہ ہی ہو۔ میں اپنی یاداشت پر ہر گز بھروسہ نہیں کرتا۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا کہ وہ میری موجودگی کو مکمل طور پر فراموش کر چُکے ہیں۔ میں نے اُن لوگوں کو کبھی میرے بارے میں گفتگو کرتے نہیں سنا۔ شاید میں وہ راز تھا جسے وہ سب جانتے تھے پھر بھی ایک دوسرے سے چھپاتے تھے۔ میں ان کی وہ کمزوری تھا جس سے وہ چھٹکارہ نہ پا سکتے تھے۔

 

میری گردن کی رسی اتنی مختصر تھی کہ میں ایک جست بھی نہیں بھر سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ رسی نہ بھی ہوتی تو پنجرے کی سلاخیں بہت مضبوط اور اونچی اونچی تھیں۔ ایک بار میں نے سر اونچا کر کے اُس کی بلندی دیکھنے کی کوشش کی تھی پر مجھے یوں لگا کہ میری گردن ٹوٹ جائے گی۔ میں اپنی گردن کی قیمت پر فرار ہر گز نہ چاہتا تھا۔ ایک بار میں نے سلاخوں کے درمیانی راستے سے نکلنے کا سوچا تو میرا سینگ اس خیال میں ایسا الجھا کہ مجھے لگا کہ میرا سانس رُک جائے گا۔ اور میں زور زور سے اپنا سر پیچھے کھنچنے لگا۔ اسی کوشش میں میرا سینگ زخمی ہو گیا۔ کافی دنوں تک مجھے سر کا ایک حصہ خالی خالی محسوس ہوتا۔ اور پہلی دفعہ میں نے اپنی اوپری منزل پر دوئی کو محسوس کیا۔ وہ عموماً مقررہ وقت پر مجھے کھانا دیا کرتے تھے۔ لیکن وہ پنجرے کے اندر کبھی داخل نہ ہوتے بس وہیں سے کھانا اندر پھینک دیتے۔ کبھی کبھی جب وقت پر کھانا نہ آتا تو میں دیکھتا کہ وہ چوری چوری میری سمت دیکھ رہے ہوتے ایسے میں اُن کی آنکھوں میں شرمندگی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ میں اُس لمحے میں بےنیاز ہو کر بیٹھ جاتا اور جُگالی شروع کر دیتا حالانکہ مجھے شدید بھوک محسوس ہو رہی ہوتی۔

 

اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔
کھانا کھانے کے بعد ہمیشہ ہی میں اپنی اگلی دو ٹانگیں اُٹھا کر سلاخوں کے اوپر رکھتا اور اپنا چہرہ رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتا۔ پھر میں اپنے چہرے کو پچھلی دو ٹانگوں کے درمیان لے جاتا گرم گرم دھار میرے ہونٹوں پر پڑتی اور میرے پورے وجود میں حرارت دوڑ جاتی۔ ایسے میں میرا دل کرتا کہ میں یہ آہنی دیواریں توڑ کر باہر نکل جاوں پر مجھے اُن کے ہاتھ میں ہنٹر دیکھ کر خوف محسوس ہوتا تھا۔ میری یادداشت میں انہوں نے مجھے کبھی ہنٹر سے نہیں مارا تھا لیکن مجھے اپنی کھال پر موجود بہت سے نشان اُسی ہنٹر کے محسوس ہوتے تھے۔ اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔ جب زخموں کا درد کم ہو جاتا تو میں انہیں چاٹ چاٹ کر میٹھے میٹھے درد کا اعادہ کرتا۔ مجھے اُن پر ہرگز اعتبار نہیں کرنا چاہے۔ یقینا یہ محض خواب نہیں تھے بلکہ وہ میرے سونے کے بعد اس پنجرے میں داخل ہوتے ہوں گے اور مجھے ہنٹر سے مار لگاتے ہوں گے۔ بس اب میں نے طے کر لیا ہے کہ اب مجھے سونا نہیں ہے۔ لیکن وجود کا کمبل اوڑتے ہی میں پھر سے نیند میں جانے لگتا ہوں۔ مجھے اُن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ وہ میرے وجود سے سخت نالاں ہیں اور سوتے میں مجھے قتل کرنے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب وہ چاقو تیز کر ہے ہیں جس سے وہ میری گردن کو کاٹ دیں گے۔ اب وہ دھیرے دھیرے میرے پنجرے کی طرف آ رہے ہیں ۔ میں ان کے قدموں کی چاپ سُن سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے مجھے اُٹھ جانا چاہئے اور ان کو بتا دینا چاہئےکہ میں ان کی مکروہ سازش کو سمجھ چُکا ہوں۔ لیکن یہ کیا کہ مجھے سخت نیند آتی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے اس قتل کو خاموشی سے قبول کر لینا چاہئے۔ میرا سینگ ابھی بھی سلامت ہے جسے میں اُن کے پیٹ میں گھونپ سکتا ہوں۔ خاص طور پر وہ موٹے پیٹ والا جو سب سے آگے آگے چل رہا ہے۔ اُسی نے چاقو اپنی قمیص کے اندر چُھپایا ہوا ہے۔میں اُن کے آتشدان کی طرف دیکھتا ہوں وہاں لکڑیاں ختم ہو چکی ہیں۔ میں اپنے سر کو بھی کھال میں چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ سب تو سردی سے مر جائیں گے۔ میں اپنا سینگ زور زور سے پنجرے کی سلاخوں سے رگڑتا ہوں۔ اب یہ جلنے لگا ہے۔وہ سب میرے سینگ کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ تاپنا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Wookjae Maeng

Categories
فکشن

جہنم

وہ اُن کو آتے ہوئے دیکھ رہا تھا سب ایک ایک کر کے آ رہے تھے اور اُس کے گرد دائراہ بنا کر بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ان کی تعداد شمار میں نہ آتی تھی۔ سب کے چہروں پر تھکن واضح تھی۔ وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔

 

وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔
ان میں کچھ بادشاہ بھی تھے جو اپنی سلطنت کی وسعت ماپنے نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی سلطنت کتنی چھوٹی ہے۔ پھر وہ اس طرف چل پڑے۔ انہیں یہاں آنے کی اتنی جلدی تھی کہ یہ اپنا ولی عہد بھی مقرر نہ کر سکے۔

 

کچھ ایسے سپہ سالار بھی آئے تھے جو عین لڑائی میں اپنی فوج کو تنہا چھوڑ کر اس راستے کےمسافر ہوئے۔ اور فوج ان کی عدم موجودگی سے بے خبر صدیوں سے جنگ کرتی آ رہی ہے اورنہیں جانتی کہ یہ لڑائی کبھی ختم نہ ہو گی۔

 

وہ شوہر بھی ان پہنچنے والوں میں شامل تھے جو شبِ زفاف حُجلہءِ عروسی میں اپنی دلہنوں کی جگہ کسی اجنبی کو دیکھ کر ایسے بدکے کہ اس راہ کہ ہو لئے۔

 

کچھ ایسی عورتیں بھی اُس تک پہنچی تھیں جن کے پستانوں کو حیوانوں نے چھو لیا تھا اور اُن کی چھاتیوں سے زہر رسنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے لئے دودھ کی تلاش میں گھر سے نکلیں تھی کہ کسی انجان آواز کہ تعاقب میں مبتلا ہو کر اپنے بچوں کو بلکتا چھوڑ کر نامعلوم کی پگڈنڈی پر چلنے لگیں۔

 

کچھ نیم خوابیدہ وہ لوگ تھے جو آدھی رات کو پیاس کی شدت سے اُٹھ بیٹھے تھے پھر انہیں یکایک خیال آیا کہ اُن کا خواب تو ادھوراہ رہ گیا ہے۔ وہ کسی مبہم خواب کی ڈور تھامنے اسی سمت چلتے آئے۔

 

کچھ آئینہ ساز بھی تھے جو غلطی سے ایسے آئینے بنانے لگ گئے تھے جس میں ہو بہو شکل نظر آتی تھی۔ یہ سب پتھروں سے بچتے بچاتے اس راہ پہ آ گئے تھے۔

 

آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔
کچھ لوگ پھانسی گھاٹ سے سیدھے یہاں کے راہی ہوئے۔ کچھ ویٹنگ لاونج میں ٹہلتے ٹہلتے اس راہ کے مسافر ٹھہرےاور بار بار اپنا نام پکارے جانے پر بھی واپس نہ پلٹے۔

 

یہاں آنے والوں میں کچھ بچے بھی تھے جو تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے شام ہونے پر کسی جگنو کی رہنمائی کی خواہش دل میں دبائے چلتے آئے تھے۔ اس میں وہ بچہ بھی تھا جو میلے میں اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا جب اُس کی ماں مداری کے کسی نہ ختم ہونے والے کرتب کا حصہ بن گئی تو وہ اکتا کر چاٹ کی پلیٹ ہاتھ میں تھامے ادھر آ نکلا۔ اس میں گلابی ربن والی وہ بچی بھی تھی جو اپنی گڑیا ڈھونڈنے نکلی تھی جس کی شادی کا جوڑا بھی اُس نے تیار کر رکھا تھا۔ جب اُس کو گڑیا نہ ملی اور شادی کے جوڑے کا رنگ انتظار کی دھوپ سے سفید ہو گیا تو وہ روتی ہوئی چل پڑی۔

 

کچھ نوعمر لڑکیاں بھی تھیں جہنوں نے اپنے ہی بھائیوں کی آنکھوں میں ایسی وحشت دیکھی تھی کہ بھاگتی ہوئی یہاں تک آئیں تھیں۔ اُن کا سانس ابھی بھی پھولا ہوا تھا۔

 

ایک مقرر بھی آنے والوں میں تھا جو تقریر کرتے ہوئے کسی خیال کی گرہ میں ایسا الجھا کہ تقریر ادھوری چھوڑ کر یہاں آنے کا قصد کر بیٹھا۔ حالانکہ مجمع ابھی منتشر نہ ہوا تھا۔

 

ایک نوجوان لڑکا بھی تھا جو اپنی محبوبہ کی بے وفائی کا شکار ہو کر ٹرین کہ آگے خودکشی کرنے لیٹا تھا۔ پھر اپنا خیال ملتوی کر کے پٹریاں بدلتے ہوئے یہاں تک پہنچا تھا۔

 

ایک ایسی عورت بھی یہاں کی مسافر تھی جس کی بیوگی کے ٹھیک اٹھارہ سال بعد اُس کا بیٹا ملک کی خاطر شہید ہوا تھا اور وہ اُسی ملک کو تلاش کرتے ہوئے ان راہوں پر چل نکلی تھی۔ وہ بوڑھا بھی تو آیا تھا جس کے پاس اپنے جوان بیٹے کا کریاکرم کرنے کے لئے لکڑیاں خریدینے کے پیسے نہیں تھے اور لکڑیاں ڈھونڈتے اس طرف چل پڑا باوجود یہ کہ اُس کے اپنے ہاٹھ میں ایک لاٹھی تھی۔

 

کچھ لوگوں کے آنے کی وجہ تاحال نا معلوم تھی۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔
رات کا آخری ستارہ غروب ہونے سے ذرا پہلے آخری شخص بھی آن پہنچا یہ اتنا دُبلا تھا کہ ہوا کہ دوش پر اُڑتا ہوا پہنچا۔
جب اُس نے دیکھا کہ دائرہ مکمل ہو گیا ہے اور سب سے پہلے آنے والے کا کندھا آخر میں آنے والے کے کندھے سے جڑ گیا ہے تو اُس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور بولنے لگا۔

 

“میں تم سب کہ چہروں پر وہ تھکن پڑھ سکتا ہوں جو اس مسافت کی طوالت، سمتوں کی بے رُخی اور سنگِ میل کی عدم دستیابی کے باعث ہوئی۔ آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔ بھلا تم میں سے کون ایسا ہے جس کے پیروں کے آبلوں نے خون کی لکیر نہ کھنچی ہوں۔ میں نے اس سفر کے دوران تمہاری دعاوں کو خودکشیاں کرتے دیکھا ہے۔ تم جو امید بھری نظروں سے میری سمت دیکھتے ہو۔ میں تمہیں تمہارے پہلے اور بعد کا حال سناوں، تو سنو۔ تم میں جو اپنی بیویوں کو بستر پر چھوڑ ائے تھے، یقین جانو کہ سپیدہ سحر سے پہلے تمہارے بھائیوں کی ہوس نے تمہاری بیویوں کو سیراب کر دیا تھا۔ جو مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو ویران گھروں میں چھوڑ ائیں تھیں ان بچوں کے اندر آسیب نے بسیرا کر لیا ہے اور وہ روشنی سے یوں ڈرتے ہیں جیسے تم کبھی اندھیرے سے ڈرتی تھیں۔ سپہ سالار کی فوج کا آخری جوان ابھی مقتل میں پڑا تڑپتا ہے۔ خون نے اس کی داڑھی اور لباس کو رنگ دیا ہے اور وہ جنگ کے ختم ہونے کہ واہمے کا شکار ہو گیا ہے۔ بادشاہوں کی سلطنتوں پر چوہوں نے قبضہ کر لیا ہے اور وہ اُسے مسلسل کُتر رہے ہیں۔ کس کس کا حال سناوں کہ میں تمہارے ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ اور سینوں کا گریہ سُن رہا ہوں۔

 

بالآخر تم ان میں سے نکلے تو سب سے پہلے وحشیتوں کے جنگل نے تمہارے قدم جکڑ لئے اور تم پر ایسی دیوانگی طاری ہوئی کہ تم ناخنوں سے اپنا چہرہ نوچتے تھے۔ مجھے خوف ہوا کہ تم سب ان جنگلوں میں خود کشی کر لو گے کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ تمہیں نہیں بتایا گیا۔ لیکن تم نے اپنی دیوانگی سے اُن جنگلوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔

 

پھر تم اُن سنگلاخ پہاڑوں پر پہنچے جن کی چوٹیاں ابد کو چھوتی تھیں۔ تم لاکھوں سال اُس میں سرپٹکتے رہے۔ تم نے ان پتھروں پر اپنے خون سے نشان ثبت کر دئیے اور جہدسے وہ چراغاں کیا کہ آسمان کو ان پہاڑوں پر اترنا پڑا۔ ممکن تھا کہ تم خدا کی کُرسی کو چھو لیتے۔ لیکں تم ان پہاڑوں کی دوسری سمت اُتر گئے۔

 

وہاں ریشم کے رنگ برنگے ملائم دھاگوں سے بنا ایک پُل تھا جس میں ہر تار دوسرے سے یوں الجھا تھا کہ تم صدیوں تک ان کی گرہوں میں ایک دوسرے کو تھامے لُڑھکتے رہے۔ یہاں اجتماع نے تمہارے حوصلوں کو مُردہ نہ ہونے دیا۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔
پھر تم اس گھاٹی میں اُترے۔ آہ کہ وہ کیا گھاٹی تھی کہ جس کے تمام سرے نامعلوم تھے۔ یہاں آ کر تم جن شریں چشموں سے سیراب ہوئے وہ شب زندہ دار کے آنسووں اور شہیدوں کے خون سے رنگین تھے۔ یہ گھاٹی تمہارے دلوں کو مطمئن اور تمہارے سفر کو کھوٹا کرتی تھی مگر تم نے شک کا چراغ جلائے رکھا اور بے چینی کا ایندھن ڈالتے رہے۔ بالآخر تمہیں یہاں سے نکلنا پڑا۔

 

اور پھر وہ وادی آئی جس نے تمہاری یادداشتوں کو ایسا محو کر دیا جیسا تم لوگوں کہ ذہنوں سے ہوئے تھے۔ قریب تھا کہ تم اُسے آخری منزل سمجھتے اور خیمے گاڑ دیتے۔ تمہاری حُریت کی قسم اگر تم ایسا کرتے تو کبھی اس گھاٹ تک نہ پہنچ پاتے۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔ ابد ایک جہنم ہے جسے تم اپنی آرزووں سے سینچتے آئے ہو۔ آو کہ میں تمہیں اس سے ایسا سیراب کر دوں جیسا میں نے اپنی روح کو کیا ہے۔ آو کہ ابد میں تا ابد جلتے ہیں۔”

 

اُس نے پیالہ بھرا اور سب کے سامنے رکھ دیا۔ سب ایک دوسرے کےچہروں کو دیکھ رہے تھے۔ ابد کا چشمہ نیلا پڑ چکا تھا۔ سب نے اپنا پنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر ٹھٹھک گئے۔ پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ سورج اُن کے اندرطلوع ہو رہا تھا۔

Image: Slobodan Radosavljevic