Categories
فکشن

اُداس ماسی نیک بخت (محمد جمیل اختر)

وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔

میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں دیکھا تھا، اُس وقت وہ بہت ضعیف تھیں۔ بعض لوگوں کو دیکھ کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ بچپن میں یا جوانی میں وہ کیسے رہے ہوں گے، سو میں کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ بچپن میں یا جوانی میں کیسی رہی ہوں گی میں نے انہیں جب دیکھا اُداس دیکھا شاید وہ بچپن میں بھی اُداس ہی رہتی ہوں۔

وہ پرانے محلے میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے ہمارے چھوٹے سے شہر کا پرانا محلہ ہی اصل میں آباد محلہ تھا اور یہاں بڑی رونق تھی یہاں سارے گھر پرانی طرز پر بنے ہوئے تھے تقسیم کے بعد بھی یہاں کافی آبادی تھی لیکن پھر لوگ پرانے مکانوں سے اُکتا نے لگے یا شاید چھوٹے مکانوں میں ان کا دم گھٹنے لگا تھا اور انسان ویسے بھی ایک جگہ پر زیادہ عرصہ رہ نہیں سکتاسو لوگ اب اس محلے سے نکل کر ارد گرد مکان بنانے لگے تھے لیکن ماسی نیک بخت کہاں جاتیں اور کیسے جاتیں اُن کا اِس دنیا میں اب تھا ہی کون۔

اُن کے شوہر کو پانچ سال پہلے ٹی بی ہوئی اور وہ چل بسا، کوئی اولاد تھی نہیں کہ بوڑھی نیک بخت کا سہارا بنتی سو زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے انہوں نے گھر ہی میں بچوں کی ٹافیاں اور کھلونے بیچنے شروع کردیئے۔ جب پرانے محلے میں آبادی تھی تو ان کی دُکان پر بچوں کا کافی رش رہتااور پھر ہر سال جب لوگ زکوۃٰ دیتے تو کسی نہ کسی کو بوڑھی نیک بخت کاخیا ل آجاتا کہ اِدھر محلے میں ایک بوڑھی بیوہ بھی رہتی ہے جس کو زکوۃٰ دی جا سکتی ہے۔

ماسی نیک بخت کے سارے گھر میں بس ایک کمرہ تھا جس میں دو چارپائیاں پڑی رہتی تھیں پہلے ایک چارپائی پر خیردین (ماسی کا شوہر)سارا دن پڑا کھانستا رہتا پھر جب وہ چل بسا تو ماسی نے اُس چارپائی پربچوں کی ٹافیوں اور کھلونوں کی دکان کھول لی، غریب کی کوئی بھی چیز بیکار نہیں جاتی۔

خیردین کے فوت ہونے کے بعد کسی نے بھی ماسی نیک بخت کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا وہ ہمیشہ ہی اُداس رہتیں اتنی اُداس کہ ایسا اُداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔

جوں جوں محلے کی آبادی کم ہوتی جارہی تھی اداسی بڑھتی جارہی تھی مجھے ابھی بھی یاد ہے اُن دنوں جب ہم ماسی کی دکان پر جاتے تو وہ روز ہم سے یہی سوال پوچھتیں

’’مسجد گئے تھے؟ــ‘‘

’’جی ماسی‘‘

’’کتنی صفیں تھیں؟‘‘

’’ماسی تین‘‘

اور وہ ایک آہِ سرد کھینچتیں اور کہتیں

’’خیر دین تمہارے ہوتے پانچ صفیں بنتی تھیں۔‘‘

سارا محلہ ویران ہوتا جارہا تھا لوگ باغوں کے پاس بننے والی نئی ہاوسنگ سوسائیٹی میں جانے لگے تھے۔

پھر ہوتے ہوتے ایک صف بننے لگی، اُداسی اور بڑھ گئی۔

ان کے پڑوسی اشرف چچا ابھی بھی ساتھ والے مکان میں آباد تھے، جس سے ماسی کو بڑی ڈھارس ہوتی کہ چلو دیوار کے اُس پار کوئی تو ہے۔لیکن اب اشرف چچا کو بیٹھے بٹھائے پرانے محلے میں سو عیب نظر آنے لگے تھے’’ یہاں گلیاں تنگ ہیں، صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے، نیا محلہ باغو ں کے پاس بنا ہے اس میں خوبیاں ہی خوبیا ں ہیں ‘‘۔

سوآخر وہ بھی پرانے محلے سے اُکتا گئے اور انہوں نے نئے محلے میں مکان بنواناشروع کردیا۔

اُن دنوں اشرف چچا کا بیٹا ناصر اور میں جب ماسی کے گھر جاتے تو ماسی برآمدے کی دیوار سے ٹیک لگائے پتہ نہیں کس سے باتیں کر رہی ہوتی تھیں۔

’’بن گیا تمہارا مکان؟‘‘ماسی ناصر سے پوچھتیں ۔

’’ بس ماسی کچھ دنوں میں بن جائے گا‘‘ ناصر جواب دیتا۔

’’اتنا پیارا مکان چھوڑ کر جارہے ہو میں کہتی ہوں پھر یہ محلہ اور ایسے لوگ نہیں ملیں گے تمہیں۔ اور یہ تم لوگوں کے پودے سارے کے سارے برباد ہوجائیں گے اور یہ آم کا درخت یہ بھی سوکھ جائے گا‘‘۔

’’ماسی ابا کہتا ہے اُدھر سکون ہی سکون ہے۔‘‘

’’ابا کو کہو جگہیں بدلنے سے سکون نہیں ملتا ‘‘۔

’’نہیں ماسی اِدھر بڑے مسئلے ہیں یہاں گلیاں تنگ ہیں وہ جو گاڑی چلاتے ہیں نا وہ ہماری گلی میں نہیں آسکتی اور ماسی اُدھر باغ بھی ہیں ‘‘۔

’’باغ ہیں تو کیا ہواتم نہیں جاو ٔگے تو باغ اکیلے ہوجائیں گے، اداس ہوں گے، روئیں گے کیا؟‘‘

’’نہیں ماسی وہ تو درخت ہیں۔۔۔۔وہ بھلا کیوں روئیں گے‘‘۔

’’یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ وہ درخت ہیں اکیلا تو بندہ ہوتا ہے۔۔۔‘‘

ماسی جو بھی چیزیں بیچتی تھیں وہ سارا سامان گلی کے نکڑ پر بنی امام بخش کی دکان سے آتا تھا، جوں جوں آبادی کم ہوتی جارہی تھی امام بخش کی بِکری بھی کم ہوتی جارہی تھی اور ایک دن وہ بھی پرانے محلے سے اکتا گیا اور اس نے بھی نئے محلے میں ایک دکان کرائے پر لے لی اور وہیں چلا گیا، ا ب ماسی کو سامان کون لاکر دیتا، بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی طاقت نہیں تھی کہ بازار تک جا کر سامان خریدیں سو اس پریشانی میں بیمار ہوگئیں، پڑوسی تیمارداری کو آئے تو ماسی نے اپنی پریشانی بتائی کہ اب کھاؤں گی کہاں سے، تو اُس وقت اشرف چچانے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ’’ ماسی تو پریشان نہ ہو کھانا میرے گھر سے آئے گا‘۔‘

ماسی جو کئی روز سے اپنی دکان کے بند ہونے کے غم کو سینے سے لگائے پریشان تھیں ان کا کچھ بوجھ کم ہوا، اُٹھ کے اشرف پتر کی پیشانی چومی اور ڈھیروں دعائیں دیں۔

اور پھر کچھ دن بعد اشرف صاحب کا مکان بن گیا اور جس روز سامان منتقل ہورہا تھا اس دن ماسی بہت اداس تھیں، بار بار گلی کے دروازے سے دیکھتیں کہ یہ لوگ چلے تونہیں گئے اتنا غم شاید اشرف چچا کو اپنے پرکھوں کا گھر چھوڑنے پر نہیں ہوگا جتنا ماسی کو ان کے جانے کا تھا۔ اب تو دیوار کے اُس پار بھی کوئی نہیں ہوگا ا ور اب تو دکان بھی نہیں چلتی۔

شام تک سار ا سامان منتقل ہوگیا تھا سو اشرف چچا اپنے بیوی بچوں سمیت ماسی کو ملنے آئے۔

’’اچھا ماسی اجازت، بڑا اچھا وقت گزرا پتہ نہیں اب وہاں آپ جیسے اچھے پڑوسی ملیں نہ ملیں، آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو کوئی بھی کام ہو، آپ کا بیٹا حاضر ہے ‘‘۔

’’جیتے رہو بچو، جیتے رہو، سدا سکھی رہو، رونقیں لگی رہیں ــ‘‘ ماسی کی آنکھیں نم تھیں او ر لب دعاگو تھے۔

اشرف صاحب اور ان کی فیملی جب گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ماسی اپنے گھر کے دروازے کا پردہ ہٹاکر انہیں دیکھ رہی تھیں اس وقت میں نے جو آنکھیں دیکھیں تھیں وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنی اُداس آنکھیں میں نے پھر کسی کی نہیں دیکھیں۔۔۔۔

Categories
فکشن

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “
“نہیں جناب، یہی حل ہے”
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔
“اچھا “ جواب ملا۔
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔

ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔

ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔

اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا
“جی ہاں۔”

“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”
“جی جانتا ہوں“
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”

“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”
“خدا حافظ”
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔

Categories
فکشن

جیرے کالے کا دکھ

یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اُس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اُس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں کیسے لوگوں کو وہ داغ دکھائی دے جاتا تھا وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟

وہ کلاس میں چھپ کر ایک کونے میں بیٹھتا کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے، کلاس کے بچے اُسے’’ جیرا کالا‘‘ کہہ کربلاتے تھے۔اُس کی خواہش تھی کہ کوئی اُسے اُس کے اصل نام سے بھی پکارے لیکن ایسا کبھی نہ ہوتا۔ رجسٹر حاضری میں اُس کا نام ظہیر درج تھا لیکن جب اُستاد حاضری لگاتے ہوئے اُس کے نام پر پہنچتا تو کہتا ’’ او جیریا او کالیا اَج آیا ہیں کہ نئیں ‘‘ ساری کلا س ہنستی اور وہ تقریباً روتے ہوئے کہتا
’’ حاضر جناب‘‘

وہ چہرے کا داغ اِس لیے بھی مٹانا چاہتا تھا کہ کہ اِس داغ کی وجہ سے اُسے بہت شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی۔
ایک بار نلکے پر سب لڑکے منہ لگا کرپانی پی رہے تھے سو جب اِس کی باری آئی تو لڑکے ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ اب اِس نلکے سے پانی نہیں پیناکیونکہ پھر تو ہمارے چہرے پہ بھی کالے داغ بن جائیں گے۔

جب وہ اٹھارہ سال کا ہوا تو شناختی کارڈ بنوانے گیا، جب وہ فارم پُر کررہا تھا تو وہاں موجود کلرک نے کہا ’’بھئی تمہارا تو بڑا فائدہ ہوگیا ہے شناختی علامت تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ دور ہی سے دکھائی دیتی ہے‘‘ کلرک یہ کہہ کر ہنسنے لگااور یہ دکھی دل کے ساتھ گھر آگیا۔
وہ ہمیشہ دکھی دل کے ساتھ واپس آجاتا تھا وہ احتجاج کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ڈرتا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

وہ راتوں کو روتا رہتا تھا کہ لوگ اِس کو ایک داغ کی وجہ سے جینے کیوں نہیں دے رہے۔اُس کو جو کوئی جو بھی ٹوٹکا، کریم،پاؤڈر بتا تا تووہ ضرور لگاتا لیکن داغ تھا کہ جوں کا توں تھا۔

وہ اب بڑا ہوگیا تھا فیس بک پر اُس نے پروفائل بھی بنا لی تھی جس میں چہرے کا ایک رُخ دکھائی دیتا تھا مکمل چہرہ دکھانے سے اُسے ڈرلگتا تھاوہ اپنی اُس تصویر پر سب لوگوں کے کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا تھا کیوں کہ لوگ لکھتے تھے کہ’’ تم نے اصل حُسن تو چھپا رکھا ہے‘‘کوئی لکھتا ’’بھئی چہرے کے دوسری طرف کیا ہے؟ ‘‘وہ ایسی باتیں پڑھ کرڈرجاتا اور کمنٹس ڈیلیٹ کردیتا۔

اِس سے پہلے کی ساری کہانی ایک ڈرے ہوئے لڑکے کی کہانی ہے جو ساری دنیا سے اپنا چہرہ چھپائے پھرتا تھا۔

اُس کی زندگی کی کہانی وہاں ایک نیاموڑ لیتی ہے جب اُسے محبت ہوجاتی ہے وہ سارا سارا دن اُس لڑکی کی گلی میں چہرے کے ایک طرف ہاتھ رکھ کر کھڑا رہتا ہے لیکن اُس کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اظہارِمحبت کر سکے یا چہرے سے ہاتھ ہٹاسکے۔ سو وہ روز خود کو کوستا رہتاتھا۔وہ اُن دنوں روز اُسے خط لکھتا، جیب میں رکھتا اور اُس کی گلی میں جاکر کھڑا ہوجاتا، شام کو وہی خط خود پڑھتا اگلے روز ایک نیا خط جیب میں ہوتااُسے اپنے داغ سے ڈرلگتا کہ جب وہ ہاتھ ہٹائے گا اور وہ اِس کا چہرہ دیکھی گی تو کیا سوچے گی۔ایک خط میں اُس نے اپنے بچوں کے ناموں کے بارے بھی لکھا تھالیکن بعد میں یہ سوچ کر مٹادیا کہ اگر وہ بھی میری طرح داغ دار چہرے کے ساتھ پیدا ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟ وہ یہ سوچ کر ہی ڈر گیا۔

پھر ایک دن اُس نے ارادہ باندھ لیا کہ وہ ضرور اُسے بتائے گا کہ اُسے اُس سے محبت ہے ایسی جیسی فلموں میں ہیرو کو ہوتی ہے، وہ کالج سے واپس آرہی تھی کہ اِس نے اُسے روک کر کہاسنیے آپ سے ایک بات کرنی ہے وہ مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے۔

لڑکی نے اُس کے چہرے پہ تھوک دیااور کہا کہ ’’ایسی شکل سے بھلا کسے محبت ہوسکتی ہے؟‘‘
اُس نے چہرے سے تھوک صاف کی اور روتے ہوئے کہا ’’ مجھے سچ میں آپ سے محبت ہے میں آپ کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں ‘‘
’’تم جیسے روتے ہوئے لڑکے بھلا کیا کرسکتے ہیں ‘‘ لڑکی نے جواب دیا
’’میںآپ کے لیے کسی کو قتل بھی سکتاہوں ‘‘معلوم نہیں اُس نے ایسا کیا سوچ کر کہا تھا۔
لڑکی اُسے ٹشو پیپر دے کر گھر میں داخل ہوگئی۔

وہ بے انتہا دکھی ہوگیا،ساری ساری رات جاگتا رہتا پھر اُس نے فیصلہ کر لیا حالانکہ وہ ایک ڈرا ہوا لڑکا تھاوہ پستول لے کے وہاں پہنچ گیا، وہ بس ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا بہادر ہے۔ اُس لڑکی کے گھر کے دروازے کے عین سامنے کھڑا ہوگیا اور پستول نکال کر اُس کی صفائی کرنے لگ گیا۔لڑکی نے کھڑکی سے اُسے دیکھااور پولیس کو فون کردیا، پولیس والے اِسے پکڑ کرتھانے لے گئے اور اُسے خوب ماراپیٹا۔ تھانے میں ایک ہفتہ رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس آیا تو اُس کے باپ نے اُسے گھر سے نکال دیا کہ وہ عزت دارلوگ ہیں جس طرح اُس کا چہرہ کالا ہے ویسے ہی اُس کے کرتوت بھی کالے ہیں سو انہوں نے اُسے عاق کردیا، اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے باپ سے کہا تھا کہ’’ میری بات سنیں دیکھیں میں بے قصور ہوں ‘‘
’’ اچھا تو بے قصور لوگ محلے کی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں اور ہفتہ ہفتہ جیل کاٹ کرآتے ہیں؟‘‘
’’سب کچھ غلط فہمی سے ہوامیں آپ کو پوری بات تفصیل سے بتاتا ہوں ‘‘
لیکن بات کی تفصیلات سننے کا کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔

وہ گھر سے نکل گیا، سارا سارا د ن گلیوں میں آوارہ پھرا کرتا،پھر خواجہ سراؤں کے ساتھ بھیک مانگنے لگا، خواجہ سرا جہاں کہیں ناچنے جاتے تو وہ اُن کے سامان کا خیا ل رکھتا تھا۔عرصہ ہوا اُس نے چہرہ دیکھنا چھوڑدیا تھاکہ اب اُسے یقین ہوگیا تھا کہ داغ جوں کا توں ہوگا۔

گرمیوں کی راتوں میں جب وہ چھت پر لیٹتا تو اُس کی سوچوں کا رُخ ماضی کی جانب مُڑ جاتا،وہ اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں کو یاد کرتا اور سوچتا کہ کیا وہ بھی اُسے ایسے ہی یاد کرتے ہوں گے، گھر کے پچھواڑے بنے باغیچے میں کھلے پھول کیسے ہوں گے وہ جب وہاں تھا تو روز ان پودوں کو پانی دیتا تھا، تو اب انہیں کون پانی دیتا ہوگا کیا وہ سب پودے سوکھ گئے ہوں گے؟ انہوں نے گھر میں جو مرغیاں پال رکھی تھیں وہ کیسی ہوں گی، وہ سوچتا کہ کیا پودے اور جانور بھی انسان کی کمی محسوس کرتے ہوں گے؟ اُس کا دل کہتا کہ شاید ہاں۔

پھر اُسے وہ لڑکی یاد آجاتی کہ جس کی محبت میں وہ اُسے خط لکھا کرتا تھا جو کبھی اُس تک نہ پہنچ سکے تو کیا اُس لڑکی کے دماغ کے کسی نکڑ پرجیرے کالے کی سوچ بھی ابھرتی ہوگی؟ اُس کا دل کہتا تھا،شاید نہیں۔اور وہ آنکھوں سے پھوٹتے چشمے کے آگے بندھ باندھ کر سو جاتا۔

پھر کافی سال بعد اُس نے اپنے گھر باپ کو ایک خط لکھا جس میں اُس واقعہ کی تفصیلات لکھی تھیں اور اب اپنے دگرگوں حالات بھی لکھے، اُس کا خیال تھا کہ اتنے سالوں بعد یقیناًاُس کا باپ اُس کی بات سمجھے گا اور واپس بلا لے گاآخر وہ کب تک خواجہ سراوں کے ساتھ رہتا رہے گا۔

اُس تفصیلی خط کے جواب میں کئی رو ز بعد ایک مختصر سا خط آیا تھاجس میں لکھا تھا’’ تو تم ابھی زندہ ہو؟ ابھی خاندان کے نام کو کالک لگانے میں یہ کسر رہتی تھی کہ خواجہ سرا بن گئے ہو؟‘‘

وہ ساری رات چھت پر منہ پر چادر ڈالے روتا رہا تھااُس رات کے بعد جیرے نے سوچنا چھوڑ دیا اور خود کو وقت کے دھارے میں بہنے کے لیے آزاد چھوڑدیا۔
خواجہ سراؤں کے ساتھ رہ رہ کر اُس کی چال ڈھال میں فرق آگیا تھاوہ خود کواب خواجہ سرا ہی سمجھنے لگا تھااُسے ایک بات کی خوشی ہوتی کہ خواجہ سرا اُس سے اُس کے داغ کے حوالے سے کوئی بات نہ کرتے اور وہ جیرے کو صرف جیرا کہتے۔ کئی سال بعد اب اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ اب وہ بھی ناچے گااتنا ناچے گا کہ اگر وہ سوچنا بھی چاہے تو اُسے ماضی یاد نہ آئے۔

اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب جس بھی فنکشن میں جانا ہوا تووہ بھی وہاں ناچے گا۔

آج گُرو نے اُسے بلایا اور کہا جیرے سامان پیک کرودوسرے شہرمیں فنکشن ہے، اُس نے کہا جی اچھاابھی سامان لاتاہوں وہ واپسی کے لیے مُڑاتو گُرو کے ساتھ بیٹھے خواجہ سرا نے کہا ’’ ہائے ہائے بیچارہ چہرے پہ داغ نہ ہوتا تو یہ بھی اچھا خواجہ سرا بن سکتا تھا‘‘ جیرے کالے نے گھبرا کر اپنا ہاتھ دائیں گال پررکھ لیا۔۔۔
Image: VERONIQUE PIASER-MOYEN