Categories
شاعری

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا


تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا
طنز اور تبرّا کرنے والے
تمھاری کائناتی مسکراہٹ کا فراق کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
گھٹن اور جبر کے چاپلوس
تمھارے لئے کہے جانے والے دعائیہ کلمات پر نہیں
اپنے فکری افلاس پر ہنس رہے ہیں !
یہ تاریخ کے وہ بد دعائے ہوئے بوزنے ہیں
جن کی واحد تحقیق
کفر اور ایمان کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے تک ہے !
بد قسمتی کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے بے دماغ افراد !
جنہوں نے آج تک کسی روشن دماغ کی روشنی سے کچھ حاصل نہیں کیا
ان کی کسی بات کا برا مت ماننا
یہ تنگ نظر نہیں، نابینا ہیں !
میں تمھارے وصال پر ایک نظم اور سفید گلابوں کا پرسہ پیش کرتا ہوں
آج تم نے برسوں بعد اپنے قدموں پر پہلی اڑان بھری ہو گی
میں تصور کر سکتا ہوں
کہ تمھاری مسکراہٹ آج کس قدر روشن ! کس قدر واضح ہو گئی ہو گی
پیارے ستارے !
مجھے تمھارے وصال کا دکھ نہیں
سرشاری ہے
تم نے اپنا علم تقسیم کرنے میں کوئی سستی نہیں دکھائی
تم نے ثابت کیا
کوئی بھی معذوری،
تخلیقیت اور علم کے راستے میں کوئی معنی نہیں رکھتی
اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں
Image: Grant Lund

Categories
شاعری

ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آؤ

ہمارے ساتھ چلنے کی تمنّا ہے تو بسم اللہ !
چلے آؤ
مگر چلنے سے پہلے چند باتیں ہیں
کہ جن کا جان لینا، جان دے دینے سے پہلے ہے
تو ایسا ہے
کہ یہ رستہ کہیں باغات سے ہو کر نہیں جاتا
یہ رستہ
ایسے بازارِ ملامت سے گزرتا ہے
جہاں ہر سمت سے طعنوں کے پتھر مارے جاتے ہیں
سو تم اپنی زباں کو صبر سے
دل کو محبت سےبدل ڈالو
ہمارے مسلکِ توحید میں فرقے نہیں ہوتے
یہاں پر جنس، مذہب، رنگ ، نسل و ذات کے جھگڑے نہیں ہوتے
یہاں پر صرف ” اَلاِنسانُ سِرّی” کی صدائیں ہیں
اگر تم علم والے ہو
تو پھر اپنے لغت سے فرق اور تفریق کے الفاظ دھو ٖڈالو
اگر عشقے کی ڈگری چاہئیے تو پھر لغت کو پھینک دینا عین واجب ہے !
کہ جو عشقے کے عالِم ہوں
انہیں سب عالَموں کا علم ہوتا ہے
یہاں کشف و کرامت کا بھی چکر ہی نہیں کوئی
خود اپنے آپ کو پڑھنے سے افضل کشف کیا ہو گا !
بھلا انسان ہو جانے سے بڑھ کر کیا کرامت ہے !!
اور ان باتوں سے پہلے، سب سے پہلے اپنے سینے میں ذرا جھانکو !
تلاشی لو
تمھارا دل ابھی تک ٹھیک سے ٹوٹا بھی ہے یا نئیں ؟؟
اگر اب تک سلامت ہے
تو پھر یہ ساتھ مشکل ہے !
کہ یہ راہِ محبت کی طریقت ہے
یہاں ثابت قدم وہ ہے
کہ جس کا دل شکستہ ہو !
ہمارے ساتھ چلنا ہے ؟
تو آؤ
اب سفر آغاز کرتے ہیں !

Image: Asit kumar patnaik

Categories
شاعری

ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ !
تھوڑی دیر ذرا یہ جیون آنکھیں کھولو
مجھ کو اپنے نرم مسیحا ہاتھوں پر بوسہ دینے دو
جن رحمان صفت ہاتھوں نے
زخموں کا مذہب نہیں دیکھا
آہوں سے مسلک نہیں پوچھا
ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو !
ماں رتھ فاؤ
دھرتی کو جنّت سے خالی مت کر جاؤ
ایک جنم پھر سے لے آؤ
ماں رتھ فاؤ
آؤ !
اپنے بچّوں میں پھر سے آ جاؤ !
ماں رتھ فاؤ !

Categories
شاعری

علی زریون کے نام ایک خط

پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں
اُن میں لعل و گہر کی جگہ خوابوں سے دمکتی نارسا آنکھیں جڑی ہوتی ہیں
اُنہیں بد دعا نہیں لگتی
اُنہیں سینوں سے اٹھتی آہوں کا غبار نگلتا ہے
اور مت بھولو
لوہے کو بد دعا نہیں لگتی
اُسے زنگ لگ جاتا ہے
درخت کاٹنے والے
اور لوہے سے بندوق کی نال ڈھالنے والے
دونوں خدا کی لعنت کے مستحق ہیں
کیونکہ جنہیں
درختوں سے قلم
اور لوہے سے
قلم تراش بنانے تھے
اُنہیں سامری کے دسترخوان سے
اٹھنے کی فرصت نہیں ملتی !

Categories
شاعری

ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

تخت کو درخت کی بد دعا لگ گئی ہے
اور وہ نا اہل ہو چکا ہے
لیکن بندوق کبھی کوئی رسوائی نہیں دیکھے گی
کیونکہ لوہے پر کوئی بد دعا اثر نہیں کرتی
ترازو بہت کمزور ہے
اور لوہے کا وزن بہت زیادہ
تمام اہلِ محلہ اس پر اسرار نظم کی حمایت سے باز رہیں
ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

Image: Hadia Moiz

Categories
شاعری

مائے

مائے
سُنو ماں
جی نہیں لگتا
قسم سے !
اب تمہارے بِن یہاں پر جی نہیں لگتا
تم اچھی تھیں بہت مائے !
بتایا تک نہیں مجھ کو
بِنا سسکی بھرے، اک خواب میں سوئیں
تو جاگیں دوسری جانب
اور اتنی دور جا نکلیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی
ہمیشہ ڈانٹتی تھیں تم
” بتائے بن کبھی بھی دیر تک باہر نہ بیٹھا کر”
مگر خود کَیا کِیا مائے !!!
کوئی ایسے بھی کرتا ہے ؟؟
عدم آباد کی دیوار کے اُس پار ایسے جا کے بیٹھی ہو
جہاں سے یاد آ سکتی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ تم نہیں مائے !!!
جہاں تم ہو
وہاں سب خیر ہے، پیارا ہے اور سر سبز ہے سب کچھ
وہاں دھڑکا نہیں کوئی
یہاں خطرہ ہی خطرہ ہے
یہاں تنبیہ پر تکفیر لاگو ہے
ہوس زادوں کے ہاتھوں عشق کی تحقیر لاگو ہے
میں اب تک اُس خدا کے ساتھ ہوں
جس کا تعارف تم نے بچپن میں کرایا تھا
بتایا تھا
خدا ظلمت نہیں ہوتا
خدا خود آگہی کا اسمِ اعظم ہے
خدا کے نام لیوا، نام لیوائی کا خدشہ بھی نہیں رکھتے
تمہی نے تو سکھایا تھا
علی اپنا، حسین اپنا، عُمر اپنا، ہر اک صدّیق ہے اپنا
کوئی جھگڑا نہیں تھا
ہم سبیلیں خود لگاتے تھے
محرّم کے دنوں میں کوئی گھر میں بھی اگر ہنستا تو تم کچھ بولتی کب تھیں !
نگاہوں ہی نگاہوں میں کوئی تنبیہ تھی جو جاری ہوتی تھی
وہ کیسی سرزنش تھی
جو نہایت پیار سے تعلیم دیتی تھی
تو سب بچوں کی آنکھوں میں محرّم جاگ اٹھتا تھا !
بھلا ہم ایسے لا علموں کو کب معلوم ہوتا تھا
کہاں ہنستا کہاں ہنسنا نہیں ہے
تم بتاتی تھیں
مجھے سب یاد ہے مائے !
تمہارا مجھ سے یہ کہنا
” علی پتّر تُو پنجابی اچ نئیں لکھدا؟
جے نئیں لکھدا تے لکھیا کر
فقیراں عاشقاں سُچیاں دی دھرتی دی بڑی انمول بولی اے”
میں لکھدا سی مِری مائے !
ترے پیراں دی مٹی دی قسم مائے !
میں پنجابی بھی لکھتا تھا
مگر تم کو سنانے کی کبھی ہمت نہ پڑتی تھی !
تمہاری قبر کی مٹی کی خوشبو سے لپٹتا ہوں
تو پھر یہ سوچتا ہوں
کس جگہ ہوں میں
میں جب تکفیر کے تیروں سے چھلنی لوگ تکتا ہوں
تو کہتا ہوں
خدا کے نام لیواوں کو اک ” ماں” کی ضرورت ہے
جو ان کو نرم کر پائے
جو ان کو یہ بتا پائے
خدا ظالم نہیں ہوتا
سنو مائے !
میں تم کو یاد کرتا ہوں
خدا بھی یاد آتا ہے
خدا کو یاد کرنا بھی تمھی نے تو سکھایا تھا !

Image: Sagarika Sen

Categories
شاعری

مجھے معلوم کر لینا

مجھے معلوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا
کسی بجھتی ہوئی تاریخ کے ان حاشیوں اندر
جہاں کچھ ان کہی باتیں
ہمارے مشترک احساس کی تسبیح شاید اب بھی پڑھتی ہوں
مجھے لوگوں کے قصّوں میں نہ ملنا
اس کہانی کی طرف جانا
کہ جو تم نے ابھی لکھّی نہیں ھَے
صرف سوچی ھے .. !!
کبھی باہر گلی سے
گھر سے
یا دنیا کے دروازوں سے آتے شور سے تم تنگ آ جاو
تو کانوں سے نہ لڑ پڑنا
مجھے سننا
مِری آواز تم کو خامشی کے معبدوں کی یاترا پر لے کے جائے گی .. !
اگر یہ زندگی اپنے سوالوں میں کوئی خالی جگہ لائے
تمھیں محسوس ہو اب وقت بالکل بھی نہیں ھے
سوچنا مت
اور مجھے تحریر کر لینا
میں ہر خالی جگہ میں کام آوں گا .. !

(مجھے یہ نظم لکھتے وقت جن مصرعوں سے بچنا پڑ رھا ھے
خود سمجھ لینا)

کبھی بیٹھے بٹھائے
بے خیالی میں تمھاری انگلیاں ازخود تمھارے ہونٹ چھو جائیں
تو شرمندہ نہ ہونا
مسکرا دینا
یقیں کرنا
وہ لمحہ مجھ سوا کوئی نہیں ہو گا
اسے منظوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا ۔۔۔۔ !!

Image: Peter Zelei

Categories
شاعری

دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے

دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے
دھرتی نوحوں میں ڈوبی ہے
شاعر اپنی اپنی ہاہاکار میں گم ہیں
” میں” کی اک تفصیل ہے جس کے لفظ غلاظت میں لتھڑے ہیں
سوچ رہا ہوں
دھرتی کے بیٹوں کو ماں کا اجڑا چہرہ کیوں نہیں دِکھتا ؟؟
ان کو آخرکیوں وہ لوگ نظر نہیں آتے؟؟
جن کے باطن کی تنہائی دھاڑیں مار کے پوچھ رہی ہے
” ہم چیخوں پر کب لکھو گے؟
ہم نوحوں پر کب بولو گے؟”
تب مجھ کو کچھ لوگ بہت ہی یاد آتے ہیں
جن کو ” میں” کا کوڑھ نہیں تھا
میں تو کوڑھیوں میں بیٹھا ہوں
دو کوڑی کے گھٹیا کوڑھی !
یہ دھرتی کے اجڑے پن پر خاک لکھیں گے؟؟
مجمع گیر بھلا کیسے ادراک لکھیں گے؟؟
یہ تو جسم کے وہ بھوکے ہیں
جن کو ہر لکھنے والی کے اندر ” جنس” نظر آتی ہے
یہ پیمائش کے رسیا ہیں
جسموں کے اوزان بتانے میں ماہر ہیں
ان کی گدھ آنکھوں کو ننگا کر لینے کا فن آتا ہے
جو ان کو ” فنکار ” نہ مانیں
وہ ان کے لفظوں میں ” گندی” کہلاتی ہیں
جو ان کی بکواس کو یکسر رد کرتے ہیں
وہ ان کی دانست میں ” ناقص” ہو جاتے ہیں
سوچ رہا ہوں
کیا اِن کو خود اپنے آپ سے بُو نہیں آتی ؟؟
سوچ رہا ہوں
کیا بدقسمت لوگ ہیں جن سے “شاعری” بھی پردہ کرتی ہے !!
Categories
شاعری

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

youth-yell

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے
آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

تُو کوئی آج کا دشمن ہے؟؟ بتاتا ہوں تجھے
تیری تاریخ ابھی یاد دلاتا ہوں تجھے
کون تھے مسجدِ ضرّار بنانے والے؟؟
تہمتیں خاتمِ مُرسل پہ لگانے والے؟
آستینوں میں بُتوں کو وہ چُھپانے والے؟
یاد آیا تجھے؟؟ او ظلم کے ڈھانے والے

لاکھ فتنے تری پُر فتنہ زباں سے اُٹھّے
تُو اُدھر چیخا،اِدھر لاشے یہاں سے اُٹھّے
تُو جہاں پیر دھرے،امن وہاں سے بھاگے
دوزخی دھول ترے زورِ بیاں سے اُٹھّے
بھیس مسلم کا، زباں کوفی و شامی تیری
داعشی فکر سے ہے روح جذامی تیری

تُو نے قُرآن پڑھا ؟؟ پڑھ کے گنوایا تُو نے
درس میں بچّوں کو بارود پڑھایا تُو نے
رمزِ سجدہ کو سیاست سے مِلایا تُو نے
لوگ دشمن کے لئے سوچ نہیں سکتے جسے
کارِ بد بخت وہ بچّوں سے کرایا تُو نے

آج دنیا کو جو مسلم کا بھروسہ کوئی نئیں
اِس اذیّت کا سبب تیرے علاوہ کوئی نئیں
تری تفسیرِ غلط فکر نے وہ زخم دئیے
جن کا برسوں تو کُجا،صدیوں مداوا کوئی نئیں

ہُوک اُٹھتی ہے تو سینے کی طرف دیکھتا ہوں
بار بار آج مدینے کی طرف دیکھتا ہوں
دیکھتا ھوں کہ مِرا گنبدِ خضریٰ والا
میرا آقا مِرا مولا مِرا شاہِ اعلیٰ
شافعِ روزِ جزا، عرضِِ گدا سنتا ہے
جس کے ھونے سے یقیں ھے کہ خدا سنتا ہے
خیر کی ایک چمک ھے جو علی کہتی ہے
رات ہے؟؟
رات ھمیشہ تو نہیں رہتی ہے۔۔۔۔!!
Categories
شاعری

مردود

مردود
تُو کیوں سوچتا ہے؟
تجھے کیا مرَض ہے؟؟
زمیں کے حروفِ تہجّی مٹیں یا رہیں
تو نے ٹھیکہ لیا ہے؟
بھلا تجھ کو کیا ہے؟؟
خدا جانے اور اُس کی مخلوق جانے
تجہے کس خبر کی نظر لگ گئی ہے؟؟
جو تُو رات بھر اپنے باطن میں ققنس سا جلتا ہے
اور صبح دم
نظم سے چُور ہوتی نگاِہیں لئے
پھر یہی سوچتا ہے
خدایا !!
زمیں سبز ہو
ساحلوں پر پرندوں کی بہتات ہو
حمد کرتی زبانیں سلامت رہیں
بیریوں برگدوں کی فضیلت رہے
گیت جاری رہیں
پانیوں پر کسی کا اجارہ نہ ہو
خواب مارے نہ جائیں
اگر رِحمِ مادر میں کوئی شگوفہ کِھلے
تو شگوفے کو کِھلنے کی پوری اجازت ملے
ابنِ آدم کو اب بنتِ حوّا سمجھنے کی توفیق ہو
بنتِ حوّا پہ بھی اُس کا معنی کھلے
تو یہ کیا سوچتا ہے؟؟
تجہے کیا مَرَض ہے؟
سیارے پہ نیلی تہجّد ادا کرنے والے
ذرا اپنی نظموں سے کاڑہے ہوئے اس مصلّے سے اُٹھ !
اپنے اطراف پھیلے ھوئے دوستوں کی صدائیں تو سُن !!
گالیوں تہمتوں سے بھری یہ ندائیں تو سن
“یار” ناراض ہیں
جن کی دانست میں
تُو مسلسل خرابی کی حالت میں ہے
تیری نظموں کی بِیڑی سے اُٹھتا، حقیقت کا کڑوا دھواں
ان کی آرام دہ شاعرانہ طبیعت کو بھاتا نہیں
شاہ و شہزادگاں کی خوشامد کی رسّی کو پکڑے ہوئے اہلِ فن کےتئیں
شاعری بھی کوئی کارِ سرکار ہے
جس کے اندر عوامی دکھوں کا کوئی دخل جائز نہیں !
اِن کے نزدیک
تُو ایک پاگل ہے جس کو تمیزِ سخن تک نہیں
اے “سرابوں کی سوداگری” کے سخی !
اپنی نظموں کے یہ “کھوٹے سکّے” اُٹھا
اپنے جیسوں میں جا
اور یہاں سے نکل !!
Categories
شاعری

راوی رستہ موڑ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ

[/vc_column_text][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ
کبھی اس شہر کی جانب جو جلتا ہے
سن زخمی آواز
جو سینے چیر رہی ہے
جھومر کی وادی میں کس نے پھینکا ہے بارود؟؟
جھلس گئے بالَوچ
کون “پری پیکر” ہیں جنہوں نے ڈسے بلوچی خواب ؟؟
کون ” کرم فرما” ہاتھوں نے زہرکیا یہ آب؟؟
ظلم کریں عُہدوں والے اور گالی سنے پنجاب؟؟؟؟
تَو راوی !
اب تُو رستہ موڑ
ذرا اس شہر کی جانب اے بوڑھے دریا !
غصیلی خلقت کو سمجھا
کہ میں تو خود روتا ہوں !
دیکھ ! مِری لہروں نہروں سے نکل رہی لاشیں
اپنے ہی آنچل سے پھندہ لیتی یہ بہنیں
ڈگری پر پٹرول چھڑک کر جلتا مستقبل
دیکھ ! یہ اُجڑے خواب اور خوابوں سے خالی ہر دل
جس کرسی کے پایے تیرے دل میں ہیں پیوست
میری لہروں اور ترے درّوں پر نازل مشترکہ آسیب
جن کی سنگینوں سے ادھڑے سندھ بلوچستان
جن کی خون آشام ہوس نے لوٹا پاکستان
یار بلوچستان
وہی اپنے مجرم ہیں !
راوی رستہ موڑ بلوچستان کی جانب
پھولوں کے ہمراہ
کہ سب دکھ سکھ سانجھے ہیں !

Image: Abid Khan
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

فاعتَبِرُو یَا اُولِی الاَبصَار

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فاعتَبِرُو یَا اُولِی الاَبصَار

[/vc_column_text][vc_column_text]

سیارے پر بہت ہی سخت دن آئے ہوئے ہیں
خواب بچّے ہیں
ڈرے سہمے گھنی پلکوں کے پیچھے
چھپ کے بیٹھے ہیں
ذرا جنبش نہیں کرتے
بہت سی ان کہی نظمیں ہراساں ہیں
کسے معلوم
وحشت کا بٹن کس ہاتھ سے کس وقت دب جائے
تو سب جائے
تمھاری ساختہ بے ساختہ ناراضیاں، خوشیاں
مری نظمیں
ملاقاتیں ! جو ہونی ہیں ابھی
پیمان! جو بالکل ابھی باندھے گئے ہیں
سب اجڑ جائیں
کسی بیحد محبت خیز ساعت میں کوئی کہنے ہی والا ہو
سنو! تم جان ہو میری
ابھی جملہ مکمل بھی نہ ہو پائے
اچانک ہی دھماکہ ہو
تو سب کچھ راکھ بن جائے
کسی بچّے کا مکتب کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم اُٹھنے نہ پایا ہو
کہ دھرتی ریت بن جائے
مسافر مدتوں کے بعد گھر کی سمت چلتا ہو
مسافت ہی بدل جائے
تو کیا اس موت کا تاوان کوئی بھر سکے گا کیا؟؟
کسے معلوم ہے آخر
انھی بحثوں، انھی سرگوشیوں اندر تصادم کی گھڑی کس وقت آ جائے
صدا آئے
اَلَا یَا اَیُّھا التحقیر !!
اپنے جوش کو بھگتو
چکھو وہ ذائقہ جس کی ہنسی مل کر اڑاتے تھے
سیارے پر بُرے دن ہیں
مگر پھر بھی ان ایّامِ حوادث میں
مجھے تم سے، تمہاری جھلملاتی نور آنکھوں
اور اپنی نظم سے امّید کی خوشبو بھی آتی ہے
سو میں اس بیش قیمت ساعتِ امروز میں یہ تم سے کہتا ہوں
سنو !!
مایوس مت ہونا
کہ جب تک ایک بھی مسکان زندہ ہے
دمِ رحمان زندہ ہے
ابھی انسان زندہ ہے ۔۔ !!

Image: Mohammad Saba’aneh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

[/vc_column_text][vc_column_text]

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جو دلگیروں کا گیت بنے
کوئی لفظ تحمّل والا ہو
کوئی بات کہ جیسے ماں بولے
جسے سن کر زخم بھریں دل کے
جسے چُھو کے رنج نہ ہو کوئی
کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ہو
جو جیون بھر کا عطر بنے
جو رستہ ہو دیوار نہ ہو
کوئی کافی شاہ عنایت سی
کوئی رمز بِھٹائی چاہت سی
کوئی ھُوک سچل سرمست بھری
جس لفظ کی گدڑی کے اندر
انسان کی اک پہچان بھی ہو
جو پورب پچھم سے آگے
بغداد بھی ہو ملتان بھی ہو
کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جسے پڑھ کر اک حیرانی ہو
جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں
ہر مشکل کی آسانی ہو
جو طنز نہ ہو تحقیر نہ ہو
کوئی ہو جو ایسا شبد لکھے
وہ چاہے سنت فقیر نہ ہو
بھلے ناسخ غالب میر نہ ہو
پر ہو تو سہی کوئی ایسا
کوئی ایسا ۔۔۔ !! جو یہ شبد لکھے
جو دلگیروں کا گیت بنے
جو انسانوں کا میت بنے ۔۔ !

Image: Banksy
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

” اُمّتِ واحدہ”

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

” اُمّتِ واحدہ”

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہمارے مسئلے اب تک وہی ہیں
ہم
جنہیں لنگڑا کے چلنا رقص لگتا ہے
ابھی تک حاضر و ناظر کی بحثوں
“ناف سے نیچے
نہیں سینے کے اوپر
ہاں ذرا ٹخنے برہنہ ہوں
خدا ہے یا نہیں ہے ”
اور ایسے ہی پسندیدہ مسائل کی فراغت میں ملوّث ہیں
عجب ہیں ہم
نہ اُن جیسے، کہ جن کو واجبِ تقلید کہتے ہیں
نہ خود جیسے، کہ جن کو شرم آنی چاہئیے، آتی نہیں ہے
ہم
جنہیں ساری حدیثیں یاد ہیں
آیات ازبر ہیں
مگر اندر سے اندھے ہیں
بھکاری ہیں
نہایت تیز ہیں
عیبوں کے چننے میں
جتانے میں
کہ دنیا ہم سے جلتی ہے
جبھی آگے نکلنے کا ہمیں رستہ نہیں دیتی
یہ ہم ہیں
ہم
جنہیں معلوم ہے ،
مکّار لہجوں میں دعائیں مانگنے سے کچھ نہیں ملتا
جنہیں یہ بھی پتا ہے
خواب بِک جائیں تو آنکھیں بین کرتی ہیں
مگر پھر بھی
وہی ہیں ہم
ہمارے مسئلے اب تک وہی ہیں ..!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہ جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے

[/vc_column_text][vc_column_text]

جنھوں نے باغ کی دھجیاں اڑا ڈالیں
پرندے اور بچے قتل کر ڈالے
مرے یسوع!
اے پیارے!
قسم انجیل کی یہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں!!
یہ وہ بے مغز وحشی ہیں
جنہیں غسلِ جہالت راس آیا ہے
سنہری گیسووں والے
بہت پیارے بہت اپنے مسیحا!
پرسہء اہلِ محمد پیشِ خدمت ہے
وہ بچے بھی ہمارے ہیں
پرندے بھی ہمارے ہیں
جو جی اٹھنے کے دن مارے گئے ہیں!!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]