Categories
فکشن

تنہائی پسند (تصنیف حیدر)

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں کی گرماہٹ سے جھریاں ڈالنے کی جرات کرنا بھی ناممکن ہو۔ جب کبھی انسان اس طرح کی سرور میں لپٹی ہوئی، سماج اور اس کی بھیانک دوپہریوں سے کوسوں دورسرمئی شام کے آسمانی طلسم میں ڈوبتا ہے تو ہوش کاناخن دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کرپاتا۔ مقبول بھی نہیں کرپارہا تھا، وہ بھی عام انسانوں کی طرح تعلق کی زنجیر سے بندھ چکا تھا۔ حالانکہ یہ تعلق بظاہر بس ایک رات کا تھا،ایک رات، جس کی کوئی صبح نہیں، جس کا کوئی مستقبل نہیں، مگر زندگی کی کچھ راتیں ہزار صبحوں سے زیادہ خوبصورت اور ہزار فتنوں سے زیادہ رنگین ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی ہی رات کی داستان ہے۔

یہ کہانی دو لوگوں کی ہے یا یوں کہیے کہ دو جذبوں کی ہے۔ سیتاپور کے قریب کہیں کوئی گمنام سا ایک گاؤں ہے، نام ہے ساہنی۔ گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی ستر بہتر فی صد ہوگی۔ اس لیے مسجدیں زیادہ تھیں، صبح شام اللہ اکبر کی آوازوں سے محلے کے محلے گونجا کرتے تھے، یوں تو مسجدوں کا چیخ چیخ کر گلا چھل جاتا، مگر جمعہ کے علاوہ بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر ایسی رونق نظر نہ آتی۔ البتہ جمعہ کے روز طرح طرح سے نمازیوں کے غول کے غول نکل پڑتے، اتنے کہ ان بہت سی مسجدوں کی جگہ بھی تنگ پڑ جاتی، راستے پر صفیں بچھی ہوئی دکھائی دیتیں۔ سورج جب اپنی تند و تیز شعاعوں کے سہرے کی جھالر ہٹاکر نظر دوڑاتا تو گول گول رنگ برنگی ٹوپیوں کی بہت سی قطاریں دکھائی دیتیں۔ مختلف مسلک، فرقے، جھگڑے، بحثیں، چلے، مزاریں الغرض ساہنی ایک ایسی آبادی پر مشتمل گاؤں بنتا جارہا تھا جوبرصغیر ہند میں اسلامی دعوت کے مختلف جغرافیائی نتیجوں اور طریقوں کا عکس کہا جاسکتا تھا۔ قصائیوں کی دوکانیں، ان کے پاس منڈراتے کتے، چھیچھڑوں پر لڑتی بلیاں، تنگ گلیاں، قاسمی، بدایونی، گلاؤٹھی اور نہ جانے کس کس قماش کی بریانیاں، گنے کا رس نکالتی ہوئی سبز مشینیں، برقعوں اور کرتے پاجاموں کے ساتھ ساتھ مغربی طرز کے نام پر شرٹ اور جینز جیسےلباس میں ملبوس نوجوانوں کی رنگ رلیاں۔ اس گاؤں کے لوگ معلوم ہوتا تھا، کھانے اور پہننے کے کافی شوقین ہیں۔ اس لیے بازار میں ضرورت کی دوسری چیزوں کو ڈھونڈنے لیے نگاہوں کو زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی۔ گاؤں میں دوسری اٹھائیس فی صد آبادی ہندوؤں کی تھی۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اونچی ذاتوں سے تعلق نہ رکھتے تھے۔ مگر جو بات دونوں قوموں کو اس گاؤں میں ایک ہی مشترک نکتے پر لاکھڑا کرتی تھی وہ تھی یہاں کی لاعلمی اورجہالت۔ لوگوں نے مذہبی تہواروں میں طرح طرح کی پائپیں لگا کر رسموں کی سہولتوں کا پانی اپنے اپنے گھروں تک پہنچادیا تھا۔ وقت گزر رہا تھا، ترقی کے نام پر ملک تھری جی اور فور جی کے نت نئے تکنیکی تاروں سے خود کو جوڑ رہا تھا، مگر یہاں کا جو حال تھا سو تھا، پڑھائی کے نام پر گاؤں میں چند دسویں جماعت تک کی تعلیم دینے والے سکول اور دو کالج تھے، جن میں گریجویشن کی منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہاں کی بیشتر آبادی برسوں سے پانچویں اور دسویں کے بیچ میں جھول رہی تھی، جو کالج کا منہ دیکھتے تھے، وہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اکثر شہروں کا رخ کرلیا کرتے تھے۔ دور سے دیکھنے پر یہ جگہ یکجتہی کی مثال معلوم ہوتی تھی، مگر گھروں، محلوں میں آئے دن لڑکوں میں سر پھٹول ہوتا ہی رہتا تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ ہندو مسلم فساد کی نوبت یہاں بہت کم آئی تھی۔ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے رویے سے کوئی خاص شکایت نہیں تھی۔

ظفر چوک یہاں کا سب سے بارونق محلہ تھا۔ اسی کے چھوٹے سے بازار میں ایک قصائی کی دوکان پر صبح کے نو بجے تازہ تازہ گوشت کانٹوں میں لٹکا ہوا تھا، کچھ پر چاندی کا ورق بھی لگا تھا۔ اندر سل پر ایک بوڑھا خون آلود شرٹ اور لنگی پہنے اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے پڑا تھا ایک گول ٹھیہا۔ اس ٹھیہے پر رکھے ہوئے گوشت کو اس کا مشاق ہاتھ تیزدھار چاقو سے کاٹ کاٹ کر چھوٹی اور صاف بوٹیاں تراش رہا تھا۔ باہر پانچ چھ گاہک کھڑے اپنی اپنی پسند کا گوشت نکلوارہے تھے۔ کسی کے گھر پسندے بننے تھے، کہیں قورمہ، کہیں پلاؤ کا اہتمام ہونا تھا تو کہیں کوفتے کے لیے قیمے کی ضرورت تھی۔ اسی سل پر آگے کی طرف تنگ سی جگہ پر ایک جوان لڑکا پلوتھی مارے بیٹھا مشین سے قیمہ نکال رہا تھا، وہ ایک طرف سے کٹے ہوئے پتلے گوشت کی پھانکیں مشین میں ڈالتا اور دوسری جانب سے باریک قیمہ کی شکل میں گوشت باہر برآمد ہوتا جاتا۔ بوڑھے کا نام مشتاق تھا اور وہ اس پررونق بازار کا سب سے مصروف قصائی تھا، اس کے برابر بیٹھا جوان لڑکا تھا صادق، جس کی عمر اندازے سے بتائی جائے تو پچیس کے پیٹے میں ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور لڑکا، جو گاہکوں کے تیار شدہ گوشت کو کالی تھیلیوں میں بھر بھر کر انہیں تھماتا جارہا تھا، اپنی عمر سے کوئی سترہ برس کا معلوم ہوتا تھا۔ ابھی ایک سال پہلے نویں جماعت میں دو بار فیل ہونے کی وجہ سے اس کو سکول سے اٹھا کر دوکان پر ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لگالیا گیا تھا۔

مقبول کی فطرت میں زیادہ کجی نہیں تھی، کانسے جیسا اس کا رنگ، مونچھیں پھوٹتی ہوئی، بال کانوں پر اترے ہوئے، قلمیں ٹیڑھی بانکی۔ گھر اور باہر کے کام کاج میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا کالر کچھ زیادہ ہی میلا رہا کرتا تھا۔ نہ کوئی دوست، نہ ہمنوا۔ جتنے برس سکول میں رہا، وہاں بھی پڑھائی میں اپنے بودے ہونے کے احساس نے اسے دوسرے لڑکوں سے دور رکھا۔ گھر پر ایسی کوئی سختی نہ تھی۔ باپ کا اصول تھا کہ جتنا کام کہہ دیا جائے، بس وہ وقت پر ہوجائے تو ہاتھ اٹھانے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے،اس لیے زیادہ تر وہ کئی کام اشاروں کی زبان میں ڈھلتے ہی مکمل کردیا کرتا۔ ماں تو مٹی کی مادھو تھی، گھر کا کام، سلائی کڑھائی سے اسے زیادہ فرصت نہ ملتی۔ گھر اور دوکان دونوں جگہوں پر صاف صفائی کا کوئی زیادہ اہتمام نہیں تھا۔ گھر میں ایک بوڑھی دادی بھی تھیں جو مقبول کو چاہتی تو تھیں مگر وقت نے ان کی زبان گنگ کردی تھی۔ زیادہ تر اشاروں میں اپنی باتیں بتایا کرتیں اور شرمندگی سے بچنے کے لیے اس سے بھی زیادہ وقت خاموش رہا کرتیں۔ صادق اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا، محلے میں اس کے کئی دوست تھے، ایک محبوبہ تھی۔ جو کہ اکثر گھر بھی آیا کرتی تھی۔ نام تھا رابعہ۔ چھریرا بدن، لمبوترا چہرہ، رنگ اتنا گورا جیسے درخت کی الٹی چھال ہو۔ اس لیے صادق کو مقبول کے ساتھ وقت بتانے کا نہ کبھی خیال آتا تھا، نہ کبھی فرصت ملتی تھی۔ دوکان سے شام کو فارغ ہوتے ہی وہ نئی موٹر سائیکل لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ نہ جانے کہاں کے لیے نکل جاتا اور جب گھر آتا تب تک تو مقبول کے فرشتے بھی سوچکے ہوتے تھے۔

مقبول صبح صبح دوکان پہنچتا تو اس کی پہلی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ حاجی فدا علی کے گھر گوشت پہنچا کر آنے کی۔ ان کا گھر تھا پانچ میل دور اور کسی دن کا ناغہ نہیں، مقبول چونکہ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا اس لیے وہ پیدل پیدل ہی باپ کا حکم سرآنکھوں پررکھ کر چل پڑتا۔ فدا علی کے گھر کی جانب جانے والا راستہ گاؤں کے ایسے کنارے پر تھا، جہاں آبادی برائے نام بھی نہ تھی۔ راستے میں کتے جگہ جگہ ڈیرہ ڈالے اونگھتے رہا کرتے، رات بھر کی ان کی چونچالیوں کی تھکن ان کی بجھی ہوئی تھوتھنیوں میں اتر آتی۔ کوئی ٹوٹے پھوٹے بوسیدہ ٹھیلے کے نیچے لیٹا سو رہا ہے، کوئی کسی پیڑ کی چھاؤں میں آرام فرما ہے، یہاں تک کہ فدا علی کی کوٹھی کے باہر سیمنٹ کے ایک اوبڑ کھابڑ اوٹے پر بھی دو تین کتے اپنی پسلیوں کو پھلاتے، پچکاتے، آنکھیں بند کیے دنیا و مافیہا سے بے خبر نظر آتے۔ دھوپ ہو، بادل منڈراتے ہوں یا برسات کی جھڑی لگی ہو۔ گوشت ہرحال اور ہر موسم میں حاجی جی کے گھر ضرور پہنچایا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پر چھوٹے سے ایک خوبصورت قدرتی تالاب میں بطخیں تیر رہی ہوتیں، کنول کے پتے پانی پر ایسے رقص کر رہے ہوتے جیسے بڑے بڑے سمندروں کے خاموش آبی پردے پر جہازی دیویاں ڈولا کرتی ہیں۔ یہیں ایک بڑے سے پتھر پر وہ روزانہ تھوڑی دیر سستانے کے لیے آتے جاتے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس کے دن بھر کی پھیکی روکھی زندگی میں یہ ایک سرسبز لمحہ تھا، جس میں خود کو ان تمام درختوں، سایوں، ہواؤں، تالاب، بطخوں اور کنول کے پتوں کا بادشاہ تصور کرتا تھا۔ یہ شاید دنیا کی ان چند خوش نصیب جگہوں میں سے ایک جگہ تھی، جن پر موسم کی سختی اپنا کوئی برااثر نہیں ڈال سکتی۔ اس کو محسوس ہوتا جیسے پانی میں تیرتی ہوئی بطخوں کی ٹرٹر میں کوئی گیت ہے، جو ہواؤں کی بالیوں سے ٹکراکر ایک ترنگ پیدا کرتا ہے، ایسا سرور، جو شاید گوشت کی تازہ، مہین اور خوبصورت پھانک کو دیکھنے پر بھی نہ ملتا ہو۔ اس نے اپنے اس چھوٹے سے مسحور کن اڈے کا نام ‘ہوائی’رکھ دیا تھا۔

ایک روز کا ذکر ہے، مقبول گوشت دے کر واپس لوٹ رہا تھا۔ موسم بڑا خوشگوار تھا، وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کرخوش ہورہا تھا کہ آج ہوائی پر پہنچ کر زیادہ ہی لطف آئے گا۔ ممکن ہے کہ ہلکی پھلکی برسات بھی ہو۔ اس سے پہلے ایسا سوندھا اور دھنک میں لپٹا ہوا موسم ابھی تک ہوائی پر سے نہ گزرا تھا۔ کم از کم مقبول کے مشاہدے میں تو یہ بات نہ آئی تھی۔ وہ آج سارے منظر کو گھول کر پی جانا چاہتا تھا۔ اس کے ایک ایک گھونٹ کو بڑی آہستگی سے اپنے حلق سے اتارنا چاہتا تھا۔ آس پاس چڑیائیں چہچہارہی تھیں، ہواؤں کے غول اس کے سر پر سے شرارتیں کرتے اڑے جارہے تھے، وہ بادلوں کے بنتے بگڑتے چہرے دیکھتا، نشے کی سی چال میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ہوائی کے جس پتھر پر وہ بیٹھا کرتا، وہ اسے دور ہی سے دکھ جایا کرتا تھا۔ یہ ایک کالا، بڑا سا پتھر تھا، جو زمین پر کسی پیڑ کی طرح اگا ہوا تھا، معلوم ہوتا تھا اس کی جڑیں بھی اندر ہی اندر دوسرے درختوں کی شاخوں کے ساتھ پانی جذب کرکر کے مضبوط ہوتی چلی گئی ہیں۔ اچانک مقبول کی نظر جب اس پتھر پر پڑی تو پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ایک سفید رنگ کی آدمی نما سی کوئی شے اس بڑے سے کالے پتھر پر بیٹھی ہوئی خلا میں گھور رہی تھی۔ یہ آج کیا ہوا؟ ادھر، اس کی مملکت میں، کیسے کوئی دوسرا ذی نفس درآیا تھا۔ کس طرح کسی دوسرے انسان کو اس چھپی ہوئی دولت کا علم ہوا تھا۔ اس کے اندر یک بہ یک رقابت اور جلن کے مادے نے آنکھیں کھول دیں اور وہ کسی آتش فشاں کے ساتھ ابلنے والے لاوے کی طرح بہتا ہوا تیزی سے اپنے اڈے کی جانب بڑھنے لگا۔ ہانپتے ہوئے سینے کے ساتھ جب وہ یہاں پہنچاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ذی نفس اصل میں ایک عورت ہے۔ جو سفید ساڑھی باندھے اس پتھر پر بڑے آرام سے براجمان ہے۔ اس کے کھلے ہوئے بال، کمرسے کچھ اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں، بلاؤز کے نیچے سے جھانکتی ہوئی شفاف بادامی کمرآرام سے بیٹھی موسم کی خوشگواری اور نظارے کی خوبصورتی کو مقابلے کے لیے للکار رہی ہے۔ بوندوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ بادلوں کا سینہ چیر کر اتر آئیں اور اس چمکتی ہوئی بادامی نہر میں ڈوب کر اس کا بوسہ لے لیں۔ مقبول کی نگاہوں کی تپن تھی یا پھر اس کی ہانپ کا اثر، عورت نے محسوس کرلیا کہ پیچھے کوئی کھڑا ہے، یکدم اس نے پلٹ کر دیکھا اور سامنے کھڑے ایک سترہ سالہ لڑکے کو دیکھ کر وہ حیرانی سے تاکتی رہ گئی۔ وہ اس سے عمر میں دوگنی ہو گی۔

‘اے لڑکے! یہاں کیسے؟’عورت نے سوال داغا۔
‘م۔ ۔ م۔ ۔ میں تو یہاں روز آتا ہوں۔ ۔ ۔ آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

عورت نے اس کا الھڑ سا ہمت آمیز جواب سن کر مسکرانے کو ترجیح دی۔ اشارے سے اسے برابر کے ایک کم قدآور پتھر پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ مقبول نے اپنی فطرت کے مطابق حکم کو مان لینے میں کوئی دیر نہ لگائی۔ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی، پھر عورت نے کہنا شروع کیا۔

‘میں یہاں بچپن میں بہت کھیلا کرتی تھی، میں ہی کیا میری سہیلیاں بھی۔ یہ جو سامنے پیڑ دیکھ رہے ہونا۔ ۔ ۔ اسی کی چھالوں سے لٹک کرہم برساتوں میں پینگیں بھرا کرتے تھے۔ گانے گایا کرتے، بڑا مزہ آتا۔ دور دور تک نہ کوئی آدمی نہ آدم زاد۔ ایسی جگہ روز روز کہاں ملتی ہے۔ تم ہی بتاؤ۔ میں اور میری دو سہیلیاں تھیں، سارہ اور جوہی۔ ہم روز ہی آیا کرتے، پھر ایک دن معلوم ہوا کہ سارہ اور جوہی، جو کہ بہنیں بھی تھیں، دوسرے گاؤں چلی گئی ہیں، میرا من بہت اداس ہوا، مگر اس جگہ آتے ہی، اس کی گود میں اکیلے بیٹھ کر، اس سے اٹکھیلیاں کرتے میں سارا دکھ بھول گئی۔ تالاب میں کود گئی، دیر تک نہائی، بطوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہی، باہر نکلی تو شام کا جھٹپٹا ہورہا تھا، گھر بھی جانا تھامگر دل میں دو تین پینگیں بھرنے کا لالچ آیا۔ ایک چھال سے لٹک کر مزے میں جھولا جھول رہی تھی، کہ ڈال ہی ٹوٹ گئی اور دھاڑ سے زمین پر آرہی۔ اس دن بھی موسم کچھ ایسا ہی تھا،بادلوں کے کجرارے نین،یونہی اداس ٹپک پڑنے کو بے قرار ہورہے تھے۔ میں گری تو موچ آگئی، چکر آیا اور وہیں ایک پتھر سے سر ٹکا کر لیٹ گئی، پوری رات سر سے گزر گئی، اگلا دن بیت گیا مگر کوئی پوچھنے یا لینے نہ آیا۔ آتا بھی کیسے؟ انہیں تو کوئی خبر ہی نہ تھی کہ میں یہاں ہوں، آخر اگلی شام گھسٹتے گھساٹتے جب گھر پہنچی تو بخار چڑھ آیا۔ کئی دن کی منتوں، پٹیوں اور پوجاؤں کے بعد ہوش آیا تو دوسرے گاؤں میں تھی۔ میری ماں نے مجھے اپنی موسی کے یہاں بھیج دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ معیادی بخار تھا، ٹوٹتے ٹوٹتے اکیس دن لے گیا۔ میں کب اس خوبصورت جنت سے نکل کر ایک بھری پری اصل اور بدصورت دنیا میں پہنچ گئی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ ماں نے بھی اس بیچ میں گاؤں چھوڑ دیا۔ اب یہاں واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ یہ تالاب، بطخیں، ہوائیں، جھولے، پیڑ، پودے سب میرے لیے بس ایک کہانی بن کر رہ گئے تھے۔ سارہ اور جوہی سے کبھی ملنا ہی نہ ہوا۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، لیکن جیے نہیں۔ اسی لیے تنگ آکر میرے پتی نے مجھے چھوڑ دیا۔ گھر سے نکالی گئی تو کوئی اور جگہ سمجھ نہ آئی، اس لیے سیدھی یہیں چلی آئی ہوں۔ حیرت ہے کہ دنیا دن بدن بدل رہی ہے، لوگ اور زیادہ دھن دولت کمانے کی فکر میں ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، مار رہے ہیں، ٹھگ رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر ہر وقت کچھ حاصل کرنے کی ہیبت نظر آتی ہے، مگر یہ جگہ۔ ۔ ۔ یہ جگہ آج بھی اتنی ہی شانت، اتنی ہی پرسکون ہے۔ اس میں اب بھی کوئی ہیبت نہیں، جیسے یہ اس دنیا کا حصہ ہی نہیں۔ ‘

مقبول اس کی باتیں دھیان سے سن رہا تھا، اچانک اسے دھیان آیا کہ باتوں ہی باتوں میں اتنا وقت بیت گیا ہے کہ اس کے ابا کو تشویش ہونی شروع ہوگئی ہوگی۔ اب تک تو اسے دوکان پر ہونا چاہیے تھا، وہ اٹھا اور کچھ بولے بغیر ہی جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوااپنے راستے پر ہولیا۔ عورت اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ جاتے وقت مقبول نے ایک ہلکی سی آواز سنی، عورت نے فریاد کی تھی کہ ممکن ہو تو مقبول اسے کچھ کھانے کے لیے لادے۔ مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ وہ دوکان پہنچا تو حسب توقع باپ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی، اتنی دیر کہاں لگادی، سب خیریت تو رہی، گوشت پہنچ گیا یا نہیں؟فلاں فلاں۔ سوالوں سے تو وہ بچ نکلا مگر اس عورت کے خیال اور اس کے حسن کے اثر نے اسے سارے دن اپنا گرویدہ رکھا۔ شام کو جب دوکان سے گھر آیا تو نہاتے دھوتے، کھاتے اور سوتے وقت بھی اسی عورت کا خیال سر پر منڈرارہا تھا۔ پوراد ن بیت گیا، کیا اس عورت نے کچھ کھایا ہوگا؟ کیا وہ اب تک وہیں بیٹھی ہوگی؟ جس طرح اس نے جھولے سے گرنے کے بعد اپنے بچپن کی ایک پوری کالی رات اس جگہ بتادی تھی اور کوئی اسے پوچھنے بھی نہ آیا تھا، کیا آج بھی وہ اسی طرح بھوک اور تڑپ سے نڈھال کسی پتھر سے سرٹکاکر کسی بھولے بھٹکے راہ گیر کی چاپ پر کان ٹکائے ہوگی؟ بچپن کے حادثے کے وقت تو کوئی بھی اس بات سے باخبر نہیں تھا، مگر آج تو وہ اس عورت کی ساری کہانی جانتا تھا۔

رات کے قریب ساڑھے دس بجے وہ اپنے کمرے سے نکلا، باہر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ صادق اور ابا دونوں ہی گھر میں نہیں تھے، ماں اپنے کمرے کی بتی بجھا کر گہری نیند سورہی تھی۔ دادی کا کہیں اتا پتہ نہ تھا، شاید وہ بھی اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوگی۔ مقبول خاموشی سے کچن میں داخل ہوا، لائٹ جلانے ہی لگا تھا کہ نیچے رکھے کسی برتن سے اس کا پیر ٹکرایا اور چھن کی آواز پورے گھر میں گونج گئی، وہ دانت پر دانت رکھے، چپکے سے اس آواز کے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مگر بیس تیس سکینڈ گزر جانے پر بھی کچھ نہ ہوا۔ ماں کی آنکھ یا تو کھلی ہی نہ ہوگی اور اگر کھلی ہوگی تو اس نے سوچا ہوگا کہ کوئی بلی ولی آئی ہوگی۔ پتیلیوں میں جھانکا تو چھلکوں والی مسور کی کالی دال پیندے سے لگی ہوئی تھی، اس نے ایک چھوٹے ڈونگے میں دال الٹ دی، اور اسی میں دو پراٹھے رکھ کر، اسے ڈھکنی سے بند کیا۔ پھر کمرے میں جا کر اپنے سکول بیگ کو اچھی طرح جھاڑا، جو قریب سال بھر سے نہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ کی چیزوں کی طرح گردآلود ہوگیا تھا، ڈونگا بیگ میں رکھ وہ دروازہ کھول کر باہرآیا، دروازہ بھیڑ کر، جب وہ سیڑھیاں اتررہا تھا تو اس نے دور سے اپنے بھائی صادق کی موٹر سائیکل کو آتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ صادق یہاں پہنچتا وہ تیزی سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا۔ صادق کے سیڑھیوں پر قدم رکھنے سے پہلے وہ گلی کے باہر تھا۔

کالی رات بھائیں بھائیں کرتی ہوئی ہواؤں کے ساتھ مل جل کر کالا جادو کر رہی تھی۔ جیسے کوئی بھبھوت لگا ہوا سادھو مرگھٹ پر بیٹھا کوئی شیطانی منتر پڑھ پھونک رہا ہو۔ سنسان راستے پر کتوں کی بھونکائیاں، سیاروں کی چمکتی ہوئی آنکھیں، جھکڑوں کے چڑیلوں جیسے پنجے۔ الغرض وہ ڈرتا سہمتا، کندھے سے بیگ لٹکائے، دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے، ٹی شرٹ اور ہاف پینٹ میں آگے بڑھتا جارہا تھا، اتنے اندھیرے میں ممکن تھا اسے ہوائی نظر ہی نہ آتی، مگر ایسا ہوا نہیں، کچھ دیر بعد موسم بہتر معلوم ہونے لگا، ہوائیں خوش گوار ہوگئیں، کہیں سے کوئی آسمانی اجالا دور تک پھیلے ہوئے منظر کو ایک نیلی روشنی میں ڈبوتا چلا گیا تھا۔ مقبول سمجھ گیا کہ ہوائی نزدیک ہے۔ اس نے اسی روشنی کی مدد سے اس بڑے سے پتھر کو دیکھ لیا، وہاں اب عورت نہیں تھی، وہ قریب قریب دوڑتا ہوا پہنچا، ادھر ادھر دیکھا، اچانک اس کی نظر پیڑ کے نیچے لیٹے ہوئے ایک سفید ہیولے پر پڑی۔ وہ آگے بڑھا، عورت اپنے بھوکے اور نڈھال وجود کو سنبھالے پیڑ سے لگی نہ جانے کیسے سورہی تھی، سو بھی رہی تھی یا خود کو دھوکا دے رہی تھی۔ کیا پتہ؟ مقبول نے اس کے کندھے کو ہلکے سے ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس اندھیرے منظر میں بھی، اس کی آنکھیں کسی نیل گائے کی مدھ بھری نگاہوں کی مانند بڑی اور جھیل جیسی دکھائی دے رہی تھیں، اس کے گورے گالوں اور ہلکے گلابی ہونٹوں پر پانی کی چھینٹیں ایسے پڑی تھیں، جیسے قیمے کی دھدھکتی ہوئی تیزی پر چھڑکا ہوا نیبو کا عرق ہو۔ کسی بے باک اور تند چھری کی طرح اس کا سینہ نکیلا اور دھار دار تھا۔ پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں، جن سے شفاف سفیدیوں کے دھارے ابلتے ہوئے ہری گھاس کی بوڑھی جھائیوں میں جذب ہوتے جارہے تھے، جیسے حاجی جی کے کمپاؤنڈ میں لگا ہوا فوارہ نت نئےآبی گل کھلا کر پھر خود کو زمین کی بھوری نگاہوں میں انڈیل دیتا ہے۔

عورت حیرت سے دیکھ رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ مضبوطی سے مقبول کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا۔ مقبول نے نیچے بیٹھ کر اپنے بیگ سے ڈونگا نکالا اور ایک ایک نوالہ بنا کر اسے پیار سے کھلاتا رہا۔ عورت درخت سے ٹیک لگاکر نیم دراز ہوگئی تھی،ایک نوالے پر اسے دھانسہ لگا تو مقبول بھاگ کر تالاب سے چلو میں بھر کر پانی لایا اور اسے پلا دیا۔ ہر نوالہ پہلے سے زیادہ، عورت کی آنکھوں کی کھوئی ہوئی چمک کو لوٹا رہا تھا، جیسے اس میں کوئی برقی رو بھرتی جارہی ہو۔ کھانا کھلا کر مقبول نے تالاب میں ہاتھ دھوئے، عورت نے بھی وہیں پہنچ کر پانی پیا۔ اب وہ دونوں اسی درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ اچانک بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوئی اور برسات نے دھاوا بول دیا۔ مقبول کے چہرے پر بیک وقت خوشی اور اداسی کا سا سماں چھاگیا۔ خوشی اس بات کی کہ موسم خوشگوار ہے،ہر طرح کی خوبصورتی اور تنہائی کی آغوش میں بیٹھا وہ اپنے نصیب کی چمک اور اپنی تنہائی پسندی کے اعزاز پر فخر کرسکتا ہے اور اداسی اس بات کی کہ اگر ابا یا صادق کو گھر پر اس کی غیر موجودگی کا علم ہوگیا تو ڈھونڈ پڑجائے گی اور اس بات کا مطلب اس کی شامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ مگر اب کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا۔ مقبول، عورت کے برابر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا، وہ عورت بھی ایسے ہی انہماک سے مقبول کو دیکھے جارہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں گتھم گتھا تھیں، اچانک عورت نے آگے بڑھ کر اپنے بھیگے ہونٹوں کی شبنم کو مقبول کی زبان پرر کھ دیا۔ مقبول کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی زبان کو کسی لبلبلے اور تازہ بکرے کی ران سے بھڑا دیا ہو۔ وہ اپنی بھیگی اور ہلکی نگاہوں سے عورت کے اس پہلے لمس کو اس کی گردن پر پھیلتے ہوئے پانی کے ساتھ لمحہ لمحہ دیکھنا چاہتا تھا، عورت کی آنکھیں بند تھیں، مگر اس نے اپنے وجود کی ساری آنکھیں کھول دی تھیں۔ عورت نے اسے لٹادیا اور خود اس کے بدن پر کسی سائے کی طرح پھیل گئی، اب اس کی ساڑی اتر چکی تھی،سینے کے دو تیز دریا مقبول کی مٹھی میں تھے اور مقبول کی سانسیں تیزی سے اوپر نیچے دوڑ رہی تھیں۔ خون کا دوران اور دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا بدن ابھی پھٹ پڑے گا۔ عورت کے بالوں سے ڈھکے ہوئے اپنے چہرے کو اس نے اس سے پہلے اتنا شاداب اور ایسا فرحاں کبھی محسوس نہیں کیا تھا، یہ کیسی خوشی تھی جو رگ رگ سے پھوٹی پڑرہی تھی، جس سے خوف بھی آرہا تھااور جس سے جدا ہونے کا دل بھی نہ چاہتا تھا،مقبول کے دل میں اس عورت کی جھیل جیسی نگاہوں کو دیکھنے کی للک تیزی سے سوار ہوئی، اس نے اپنے ہاتھ کو عورت کی کمرپر سے رینگتے ہوئے اوپر کی جانب کھسکایا، بال سرکائے تو دیکھا کہ عورت اس کے سینے پر سر رکھےبے خبری کے عالم میں سورہی ہے۔ مقبول نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک نیم دائرہ بنا کر اس کے پورے بھرے بدن کو اپنے حصار میں لے لیا۔ آج اس کی مملکت میں ایک بیگم بھی شامل ہوگئی تھی۔ وہ اطمینان سے آنکھیں بند کرکے اس خواب سرا کی سبز قالین پر خود بھی سوگیا۔ جب آنکھ کھلی تو اذان کی ہلکی سی آواز اس کے کان میں آرہی تھی، برسات رک چکی تھی، بادلوں کی ٹولیاں ویسے ہی آسمان کی چھالوں سے لٹکی پینگیں بھررہی تھیں، وہ جانتا تھا کہ گھر پر ڈھونڈ پڑ گئی ہوگی، مسجدوں سے اعلان کروادیے ہوں گے، اس کی گمشدگی کی خبر دور و نزدیک گاؤں میں ہر طرف اب تک پھیل چکی ہوگی، ماں کا رو رو کر برا حال ہوگا، صادق اپنے دوستوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں کی مدد سے جگہ جگہ اسے تلاش کررہا ہوگا، بوڑھا باپ یہاں سے وہاں پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہوگا، دادی کی گونگی زبان اس کی ہلکی سی خبر مل جانے کی دعائیں مانگ مانگ کر سوکھ گئی ہوگی، اس کی زندگی سے جڑے تمام لوگوں کی رات اتھل پتھل ہوگئی ہوگی مگر یہاں اس کی ایک رات کی انتہائی خوبصورت بیگم، سفید ساڑی سے بے نیازبے خبر اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی اور مقبول میں اتنی جرات نہیں تھی کہ اس کی جوان نیند کے کندھوں کو تھپتھپاکراسے ہوشیار کردے،اس نے دیکھا بھرپور نیند کے عالم میں بیگم صاحبہ کے ہونٹ نیم وا ہوگئے تھے، مقبول نے ایک گہری سانس بھری اور بائیں ہاتھ کی انگلی سے ان ادھ کھلے ہونٹوں کو آہستگی سے بند کردیا۔

Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔

Categories
فکشن

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل کر دو قدمچے نیچے سڑک تک پہنچانے کی کوشش کی۔گاڑی عدم توازن کا شکار ہو تی،قدمچوں سےدھڑدھڑاتی سڑک پر آگے کھسکتی گئی۔قدمچوں اور کرسی گاڑی کا درمیانی فاصلہ جانچ کر موتی نے دروازے کے بیچ لگی کنڈی کو بند کر کے تالا لگایا۔خودکودونوں ہاتھوں کے بل گھسیٹ کر بازو کرسی کے ہتھوں پر جمائے اور جسم کواونچا اٹھاتے پہیے دار کرسی پر پڑی میل کچیل کے چکٹوں والی گدیلی پر رکھ دیا۔روز کا معمول ہونے کے باوجود اس مشقت نےموتی کوتھکا دیا۔ اب وہ وقت تھا کہ کپڑے بدلتے ہوئے بھی تھکن ہوجاتی اور نڈھال کر دیتی۔ سانس کے ٹھیرجانے کے بعد اس نے دھڑ کے نچلے حصہ کو ادھر ادھر کرکے گدیلی کا نرم حصہ جانچا اور جسم کو آرامدہ جگہ محسوس کرنے کے بعد پہیے دار کرسی کو دھکیلنے والی چرخی کے ہینڈل کوسیدھے ہاتھ سے گھماتا سینما والی گلی سے چمن بزار کی طرف بڑھنےلگا۔ابھی بہت سویرپن تھی۔نیم اندھیرا۔مگر پھر بھی جانے کیوں ملا کی آذان سے پہلے موتی کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔پہلے پہل تو وہ دیر تک پڑا اینڈتا تھا۔آذان کی آوازتک اس کے کان میں مچھر کی طرح بھنبھنا پاتی تھی۔اب یوں کہ آخری پہر کےآتےسحر خیز مرغے کی مانند اٹھ بیٹھ جاتا۔ چمن بزار کے قریب ہوتے سوچ آنے لگی وہ اس سویر جائے گا کدھر؟ہوٹل پر۔پر چائے والے نے ہوٹل کھولا ہوگا کہ نہیں؟ابھی تو سورج بھی خوفزدہ چوہے کی طرح دبکا پڑا ہے۔لیکن بھلا وہ پڑے پڑے کتنی کروٹیں بدلے؟ نذو لنگڑے کے چلے جانے کےبعد اس سےاکیلے گھر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ ہینڈل گھماتاموتی کا ہاتھ بلا ارادہ آہستہ ہوتا گیا۔ گاڑی کی رفتار سست ہوتی گئی۔گاڑی کا ایک پہیہ لہرائے جا رہا تھا۔اسی لہرانے سے موتی کو نذو لنگڑے کی یاد آنےلگی۔نذو لنگڑے کی دونوں ٹانگیں کمزور تھیں۔جیسے ان میں ہڈیاں ہی نہ ہوں۔ خالی گوشت سے بنی۔ان لچکتی ٹانگوں کے بل چلتے نذو لنگڑے کا جسم عجیب فحش انداز میں مٹکتا تھا۔موتی کو ایک بات یاد آگئی۔ایک دن موج میں موتی نے نذولنگڑے سے پوچھ لیا تھا

“ابے لنگڑےیہ تو جھٹکے لے لے کر سارا دن کس کو چو۔۔۔رہتا ہے؟”۔
“اپنی قسمت کو اور کس کو ب۔۔۔۔” نذو لنگڑے نے سانپ کی طرح بل کھا کر گالی دی تھی۔

” شکر نہیں کرتا کنجر چ۔۔تو رہا ہے” جواب دیتے موتی کے حلق سے بے اختیار قہقہہ ابل پڑا تھا۔ تب نذو لنگڑا لچکتا اس کے منہ پر لعنت رکھنے آیا تھا اور موتی نے کرسی گاڑی بھگا کر اپنی جان بچائی تھی۔اس یاد کے آتے ہنس پڑنے سے موتی کے کھلے منہ کے اوپری ہونٹ کے دونوں کناروں اور گالوں کے درمیاں لکیرمزید گہری ہوگئی۔نذو لنگڑے سے موتی کی لگتی بھی بڑی تھی اور رہتے تو وہ کٹھے تھے۔اسی ایک کمرے میں جس سے آج کل موتی اپنے نکالے جانے کی فکرمیں پستا رہتا۔ان دنوں موتی کو یوں گھسٹ گھسٹ کر کرسی گاڑی قدمچوں سے کھسکانی نہیں پڑتی تھی۔نذو لنگڑا گاڑی کو گھر سے سڑک،سڑک سے گھر میں رکھتا۔ موتی کو اس پر جم جانے میں مدد کرتا۔پتا نہیں حرام زادہ بنا بتائے کہاں چلا گیا؟اب موتی ڈھونڈے تو کہاں؟چند ایک دن تو اس نے واپسی کی آس سجائے رکھی۔ جب وہ ٹوٹی تب موتی نےکرسی گاڑی کے پیچھے شہزاد پنٹر سے لکھوادیا “کوئی کسی کا نہیں”۔

چمن بزارپہنچ کر موتی نے دکھن کا رخ کیا۔بزار کے اوپر میلی ترپالوں اور پرانےشامیانوں کے سائبان نے اندھیر اکر رکھا تھا۔اس اندھیر پن میں ساری بزارسرنگ بنی ہوئی تھی۔کہیں کہیں جلتے زرد بلبوں کی پیلاہٹ میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور مڑے تڑے کاغذ ہوا کے زور پر اپنی جگہیں بدل رہے تھے۔بزار پہنچ کر سڑک اوبڑ کھابڑ ہوگئی۔دکاندار لوگ صفائی کرکے کچرا سڑک پر پھینک دیتےتھے۔پھر اس کا کچھ حصہ جمعداروں کے جھاڑو سمیٹتے اور کچھ سڑک سے لپٹا رہ جاتا۔ وہی گند،مٹی اور پانی کا سہارا لے کر چھوٹے موٹے انسان کی طرح اپنی جگہ بنالیتا۔تب جمعداراور جھاڑو بھی ان کا بال بیکا کرنے سے قاصر ہو جاتے۔ان اوبڑ کھابڑوں کے ساتھ گندکچرے کی دھیڑیاں بھی تھیں۔ ابھری ہوئی۔جیسے اونٹ کے کوہان ہوتے ہیں۔یا ان سے تھوڑا مختلف۔ ایک ڈھیر میں سے سڑتے ٹماٹروں کی بو موتی کے نتھنوں میں گھسی۔ہتھ گاڑی چلاتا موتی کا ہاتھ تیز ہو گیا۔رجب قصائی کے تھڑے کے پاس خون کی بساند تھی۔اسی جگہ آوارہ کتےمرغی کے پروں اور انتڑیوں میں تھوتھنیاں گھمارہے تھے۔موتی کا ہاتھ تھکنے لگا۔اس نےتھوڑا آگے گاڑی لدھا رام جنرل مرچنٹ کے دکان پر روک دی۔پر اب لدھا رام کہاں؟اب تویہ مجاہد جنرل اسٹور ہے۔یہ سب یکایک کیسے ہو گیا؟ اس خیال کے آتے موتی کی زبان پر لفظ”یکایک” پھنس گیا۔زبان تانگے میں جتے گھوڑے کی ٹاپوں کی طرح” یکا،یک” کو دو حصوں میں دھرانے لگی۔یادیں عبد الحق ساند کے گایوں کے ریوڑ کی طرح اچھلتی ٹاپتیں موتی کے اندر آگھسیں۔آگے پیچھے،بے ترتیب و بے مہار۔اسے لدھارام کےدکان کے آگے بنا چھپر یاد آنے لگا۔تب اس بزار کا راستہ سیدھااور یکساں تھا۔روز پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو سڑک پر درخت کھڑے جھومتے رہتے۔ دواطراف قائم دکانیں ایک دوسرے سے دوردور تھیں۔اب کی مانند قبر کے کناروں کی طرح پسلیاں نہیں توڑتی تھیں۔ بزار کےاوپر نیلا آسماں دمکتا تھا۔موتی کو چاچا محمد پناہ کے ہاتھ سے بنی گلقند والی چائے کی یاد آئی۔وہ کبھی کبھی چائے پینے لدھا رام والےچھپر کے نیچے آٹھیرتا۔یہ چھپر جیسےدکان کا صحن تھا۔ اس میں پڑی بینچ پر کوئی نا کوئی بیٹھنے والا دکان کےاندرموجود لدھا رام سے حال احوال کر رہا ہوتا۔سردیوں کی اس شام جب وہ یہاں پہنچا لدھارام ایک تغاری میں آگ جلوائے اپنے ہاتھ تاپ رہا تھا۔ ابھی موتی سے حال احوال ہو رہا تھا کہ آخوند صاحب آپہنچے۔یہاں پہنچ کر موتی کی یادیں گڑبڑا گئیں۔آخوند صاحب کا اصل نام اس نے یاد کرنا چاہامگر اس وقت اسے اپنا اصل نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ہاں یہ یقین تھا جیسے سارے اسے موتی بلاتے تھے، شہر بھر انہیں آخوند صاحب کہتا تھا۔سن پینتالیس پچاس کے لگ بھگ۔دبلے پتلے۔لمباسا قد۔شانوں پر بکھری زلفیں اور بڑھائی ہوئی قلمیں۔داڑھی مونچھ صفا چٹ۔بوسکی کی قمیص اور سفیدلٹھے کی شلوار۔یہ تھے آخوند صاحب۔ان کا کپڑا لتا،کھانا پینا سب شہروالے کرتے تھے۔رہائش ڈاکٹر سبحان علی شاہ کے بنگلےمیں۔موتی کو یاد نہ آیا کہ آخوند صاحب کس کے بیٹے تھے۔ بس اسی بنگلے کی نچلی منزل میں آخوند صاحب کے ساتھ والے کمرے میں ڈاکٹر صاحب کی اسپتال تھی۔ڈاکٹر صاحب اوپر ی منزل پر رہتے تھے۔ موتی کو یاد آیا شاید ڈاکٹر سبحان شاہ کے بڑے یا چھوٹے بھائی ہوں۔لیکن اس خیال پر موتی کو یقین نہ تھا۔اور ہاں ڈاکٹر سبحان شاہ تھے تو ڈاکٹر مگر ان کی اسپتال میں ہمیشہ کمپوڈر بیٹھا ہوتا۔ ان کو اپنی اسپتال میں موتی نے کبھی بیٹھا نہ دیکھا۔ وہ اوپر اپنے گھر پر ہی ہوتے۔ جب کوئی مریض آیا،کمپاؤنڈرنے گھنٹی دبا ئی،ڈاکٹر صاحب اسی لمحے سیڑھیاں اتر آپہنچتے۔مریض دیکھ کر اس کی دوا درمل کرتے۔اور پھر جھٹ سے اوپر چڑھ جاتے۔مریض سے پیسےتک کمپاؤنڈر لیتا رہتا۔ انہیں اپنی بیوی سے عشق تھا۔اس کے بغیر رہ نہ پاتے۔ان کو شہر بھر “زال مرید” کہتا۔خود بولتے “کچھ سمجھ نہیں آتا قبر میں اس کے بغیر کیسے رہ پاؤں گا۔”اپنے بڑے بیٹے کو وصیت کی ہوئی تھی”خبردار جو ان ملا مولویوں کی بات پرمیری قبر کچی بنوائی۔یاد رکھناباہر نکل آؤں گا۔”

آخوند صاحب پر نظر پڑتے ہی سیٹھ لدھارام اٹھ کھڑا ہواتھا۔

“شائیں بھلی کرے آیا،بھلی کرے آیا”۔لدھا رام نے اپنی کرسی خالی کر کے آخوند صاحب کو بٹھایا اورخود سامنے پڑی لکڑی کی بینچ پر جا بیٹھا۔
“اباپٹ نور محمد۔ جا۔جا بابا ایک اور گلقند والی چائے بول آ۔چاچا پناہ کو بتانا خاص آخوند صاحب کے لئے ہے۔ایسا کر تو موتی اور میرے لئے بھی لے آ۔دل کرے تو اپنے لئے بھی بول دینا۔آج آخوند صاحب کے ساتھ ہم بھی عیش کرتے ہیں۔”لدھا رام نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو روانہ کیا۔
“سائیں لدھارام آج ارادہ کیا تمہارے پاس آکر تمہیں عزت دیں اور دو باتیں بھی کرلیں گے “۔آخوند صاحب لدھا رام سے بولے۔

“شائیں آج توقرب کر دیا آپ نے۔ میرے بھاگ شائیں”۔موتی کی یادداشت کی تختی پر وہ منظر صاف ابھر آیا۔لدھارام کی باتیں سنتے آخوند صاحب ہلکی مسکان میں سر ہلاتے جا رہے تھے۔ لدھا رام جھک کر آخوند صاحب کے قریب ہوا۔

“شائیں دو دن پہلے ایک جوڑا خرید کر پریل درزی کو دے آیا تھا”۔
“ہاؤلدھا رام خمیسو دھوبی کپڑے لایا تھا تو اس نے بتایا تھابابا۔”
“شائیں وہی بوسکی۔میں نے کہا آپ کو اور کپڑا پسند نہیں،شائیں میں خود لینے گیا تھا۔”لدھا رام نے بات کی اخیر کرتے دونوں ہاتھ آخوند صاحب کے سامنے جوڑے۔

“اچھا کیا میاں لدھارام۔اور سنا پٹ۔تکلیف تو نہیں کوئی؟”۔آخوند صاحب بیچ جملے میں موتی سے مخاطب ہوئے۔
“نہ ابا نہ۔آپ کے ہوتےہمیں کوئی دکھ تکلیف پہنچی گی؟خیر ہی خیر”۔موتی کے دونوں ہاتھ جڑے تھے۔
“ہاں شائیں موتی بیچارے کی بات برابر ہے۔آپ کے ہوتے ہمیں کیا فکر”۔
“ادا لدھارام وہ شمشاد مٹھائی والے نے تمہاری ادھار چکادی بابا؟”۔

“آخوند شائیں ادا شمشاد کے وعدے کو مہینہ اوپر ہوگیا ہے۔پر شائیں مجھے حیا آتی ہے کہ اس سے پوچھنے جاؤں۔ہوگا بیچارہ کسی مشلے میں “۔
“میاں لدھا رام تم نے عزت داروں والی بات کی ہے۔شمشاد کل میرے پاس آیا تھا۔ اس سے دیر سویر ہوگئی ہے۔کہہ رہا تھا اب تو مجھے تو ادا لدھارام کے دکان کے سامنے گذرتے شرم آتی ہے۔ایک ہفتے میں چکادے گا بابا”۔

“نہ شائیں نہ۔ہماری اپنی بات ہے۔کیا میں کیا ادا شمشاد؟چھ بیسوں(بیس روپے) کی تو بات ہے۔اورشائیں کچھ دن پہلے وڈیرابھورل آیا تھا۔بتا رہا تھا کہ آپ اس کے بیٹے کی نوکری “۔لدھارام نے آدھی بات پر جملہ ختم کردیا۔موتی کو دکھ لگ گیا۔وڈیرا بھورل آیا اور مجھ سے ملے بغیر چلا گیا۔وڈیرے بھورل سے میل ملاپ کا چھوٹا بڑا منتظر رہتا تھا۔جب وہ اپنے گاؤں سے شہر آتا تو گھوڑا مختیار کار آفیس میں باندھ کر پہلے ساری بزارکا چکر لگاتا۔ اور ہر ایک سے مل ملا کر، خیر خیریت دریافت کرکے پھر اپنے کام دھندھے کی فکر کرتا۔اس کے حالی احوالی ہونے کا انداز اتنا نرم اور میٹھا تھا کہ موتی کو کبھی شمشاد مٹھائی والے کی جلیبیاں اتنی میٹھی نہیں لگیں۔ویسے وڈیرے بھورل کا سارا گاؤں اپنی مثال آپ تھا۔سب کے سب اشراف اور مہربان ہونے میں ایک دوجے سے بڑھ کر تھے۔ مگر وڈیرے بھورل سا بیٹا کوئی ماں کیسے جنے؟وڈیرےبھورل کی شرافت اور مٹھاس پن کا واقعہ موتی کی گدلی آنکھوں میں پانی لانے لگا۔ایک مرتبہ وڈیرے کے گھر ایک چور نے نقب لگالی۔مٹی کی موٹی دیوارکو رنبے سے کھودتے کھودتے چور کوفجر ہو گئی۔ تب وڈیرابھورل جو یہ سارا ماجرا دیکھ رہاتھا،چور کو رسان سے بولا” ابا اب تم جاؤ۔اب تو سورج بھی نکلنے والا ہوگا۔”بس چور روتادھاڑیں مارتا بھاگ نکلا۔اسی شام کو وہ سارے خاندان سمیت معافی کے لئے آپہنچا۔وڈیرا بھورل بھلا کیسے معاف نہ کرتا۔اوپر سے کھانا وانا کھلا کر ان کے غریبی حال پر اپنی بھوری بھینس بھی ان کے ساتھ کردی تھی۔

“سائیں وڈیرا بھورل تو ہم سے ملا ہی نہیں”۔موتی اپنے الفاظ کونکلنے سے روک نہ سکا۔
“ابا موتی وڈیرے کے مہمان آئے ہوئے تھے۔وہ مہمانداری کا سامان لینے آیا تھا۔بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ وڈیرا آئے اور کسی سے نہ ملے؟تو بھی صفا چریا ہے”۔
“ہاؤ سائیں بات تو حق کی ہے”۔موتی ہلکا پھلکا ہوگیا۔پھر اسے خود پر غصہ آنے لگا یہ وڈیرے بھورل کے بارے میں اس نے ایسے منہ پھاڑ کر کیسے بول دیا؟۔
“میاں لدھا رام اپنے بھورل کا بیٹا شہر پڑہ آیا ہے۔اب ہم نے سوچا اپنا بچہ ہے۔اپنے اسکول میں اچھی پڑھائی کروائے گا۔ ہے کہ نہیں؟”
“شائیں بلکل بلکل۔اس کی نوکری کب کروا رہے ہیں ؟”۔

لدھارام اس کی نوکری ہوگئی ہے بابا۔تمہیں سب پتا ہے ڈی سی صاحب سے ہمارے کتنے واسطے ہیں۔پر صرف ڈی سی کیا۔اوپر تک ہماری پہنچ ہے۔اب ڈی سی صاحب ہمیں کوئی جواب دیتا؟پر نہ۔ڈی سی صاحب اپنے ماسٹر منظور کا پرانہ واسطے دار ہے۔ہم نے سوچا خود ڈی سی کے پاس چلے جائیں تو ماسٹر منظور سوچے گا ہم نے اسے پھلانگ کر راہ بنالی۔سو اس کو لے کر گئے تھے اور ماسٹری لے کر آگئے”۔

“وہوا شائیں وہوا۔شائیں آفرین ہو۔ بڑا خیال رکھتے ہیں آپ اپنے شہر کا۔”۔
“لدھا رام بابا اپنا شہر ہے۔ہمیں ہی کرنا ہے”۔
شائیں برابر۔غریب شاہوکار سب آپ کو دعائیں کرتے ہیں”۔
“کرنی بھی چاہییں بابا۔یہ کام وام ایسے ہی آساں تھوڑی ہیں”۔
“صدقے صدقے۔سائیں میرا مالک مکان بھی بڑا نیک مرد ہے۔سائیں اس پر بھی شفقت کی نظر”۔موتی کے الفاظ دل سے نکل پڑے۔
“بابا موتی ہم نے بھلا کبھی کوتاہی کی ہے”۔
“نہ بابا نہ۔توبہ توبہ۔ایسےنہیں سائیں۔وہ ہمارا بڑا لیحاظ رکھتا ہے”۔
“بابا لدھا رام اپنے موتی کو ہماری طرف سے آٹھ آنے دیدو”۔
“بابا ویسے بھی آپ کا کھاتے ہیں۔ “۔موتی آٹھ آنے لیتے ہوئے بولا۔اتنے میں گلقند والی چائے بھی آگئی اور ساتھ ہوٹل کا مالک چاچا محمد پناہ بھی۔
“سائیں لڑکا چائے لینے آیا تو بتایا کہ آخوند صاحب بیٹھے ہیں۔میں نے کہا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔”
“نہ محمد پناہ بابا نہ۔آؤ بیٹھو۔کوئی خیر خبر؟”
“سائیں آخوند صاحب حال احوال سب خیر۔وہ میونسپل والوں کو آپ نے کہہ دیا تو پھر وہ نہیں آئے۔اور سائیں حق انصاف کی بات تھی ان لوگوں کی۔ گلی میں بھینسیں باندھنے والا اپنا کام مجھے بھی ٹھیک نہیں لگا۔بس گھر کے ساتھ باڑا بنوا رہا ہوں۔بھینسوں کو وہاں رکھوں گا”۔
“کام تم نے اچھا سوچا ہے محمد پناہ پر میونسپل والوں کی بھی زورا زوری ہے۔ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ عزت دار کے داروازے پر جا پہنچے۔اگر ایسی بات ہے تو ہمیں کہیں۔ہم کس لئے ہیں؟۔ہم محمد پناہ کو سمجھا دیں گے۔اپنا آدمی ہے بھلا ہم سے باہر جائے گا؟کیوں میاں لدھا رام؟”۔
“ہاں شائیں ہوتا تو ایسے ہے۔ ہمارے شہر کی ریت رواج بھی یہ ہے کہ کوئی مسئلہ معاملہ ہو،خانگی سرکاری۔سب آپ کے پاس آتا ہے”۔
“بس بابا وہ بھی انسان ذات ہیں۔کبھی ایسے کبھی ویسے۔خیرمحمد پناہ تم دل میں نہ کرنا بابا”۔

“نہ سائیں نہ۔محمد پناہ دل میں برائی نہیں رکھتا آخوند صاحب”۔موتی کا تصور اسے کڑھے ہوئے دودھ کی گاڑھی چائے میں گلقند کے تیرتے ذرات کی جانب لے گیا۔اس کے منہ میں مٹھاس آگئی۔تا وقتیکہ اس نےٹھنڈی آہ بھر کر کرسی کی پشت سے لگے سر کو اٹھایا۔آنکھیں کھول کر ادھر ادھر جانچا۔یہاں وہاں کچھ نہ تھا۔لدھا رام اپنا دکان گھر سمیٹ کر کب کا کہیں چلا گیا تھا۔ موتی کے پاس نذو لنگڑے کی طرح لدھا رام کی بھی کوئی خیر خبر نہ تھی۔ بس وہ دونوں اسے یاد بہت آتے تھے۔ موتی نے کرسی گاڑی کے ہینڈل پر دباؤ ڈالا۔ گاڑی لہراتے چلنے لگی۔یہ لہراہٹ بھی کچھ دن پہلے کی تھی۔مالک مکان مولا بخش مرحوم کا بیٹا فضل تیسری بار کرایہ لینے آیا تب بھی موتی کے پاس کرایہ کی رقم پوری نہ تھی۔اب لوگ کہاں ہاتھ ڈھیلا کرتے ہیں۔پورا دن مانگ مانگ،جھولی پھیلاتے پھیلا تےموتی نیم جان ہوجاتا تب بھی شام تک اتنا مل نہ پاتا کہ اگلا سورج سکھ سے ابھرے۔وہ دن گم ہوگئے جب شہر کےلوگ بزار سے گذرتے موتی کو روک کردو آنے چار آنے دے جاتے تھے۔کبھی موتی کو جلدی ہوتی تودکان والے سے اگلے دن کا کہہ کرگاڑی آگے بڑھا جاتا۔بس دن راتوں میں بدل گئے۔اب تو فضل نے کرایہ نہ ملنے پر موتی کی کرسی گاڑی اٹھا کر سڑک پر پھینک ماری۔پھر موتی نے اپنے کفن دفن کے لئے رکھی رقم سے پیسے نکالنا ضروری سمجھا۔کرایہ تو پورا ہوگیا مگر گاڑی میں لہراہٹ آگئی۔بزار کے اوپر ٹنگے ترپالوں اور شامیانوں کے پھٹے سوراخوں سے روشنی کے لہریے بزار میں اترنے لگے۔جمعدار اور جمعدارنیاں لمبے لمبے جھاڑو سنبھالے سڑک بہارنے شروع ہوگئےتھے۔جھاڑؤں کی زرد تیلیاں جمعداروں کے چہروں کی طرح سسست سست بے جان انداز میں ادھرادھر رینگ رہی تھیں۔سمیٹی جانے والی گندگی کے درمیاں گذرتے موتی نے گرد و غبار کے ذرات کے دھندلکے میں بخشل کلاتھ اسٹور کا بورڈ دیکھا۔ٹین کی چادر کے بورڈ پر سرخ الفاظ میں بڑے بڑے الفاظ۔ اس دکان سے ایک ہفتہ پہلے موتی کو دھکے اور گالیاں پڑی تھیں۔ صبح کا وقت تھا اور ہمیشہ کی طرح اس نے دکان کے سامنے آواز لگائی تھی۔ “سائیں کا خیر،بادشاہ کا خیر۔ بابا اللہ کے نام پر موتی مجبور کو روپیہ دو۔”بس دکان کا مالک عبد الجبار دکان کی سیڑھیاں اترتا گالیاں دیتا آیا۔”ابھی کوئی گراہک نہیں آیا اور یہ حرامی آمرا۔نکل یہاں سے بے غیرت۔ ہم نے تمہارا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔”۔ اپنےقصور کی وجہ موتی کی سمجھ میں نہ آئی اور عبدالجبار کی غصہ میں بند ہوتی آنکھوں اور منہ پر پڑتی جھریوں کی وجہ بھی وہ سمجھ نہ پایا۔یہ عبد الجبار چاچا حسن کا بیٹا تھا۔ جب چاچا حسن اس دکان پر ہوتا تھا تب یہ چھوٹی سی دکان تھی۔موجودہ دکان کا ایک تہائی۔سفید داڑھی والا چاچاحسن اس پر بیٹھا ہنستا رہتا۔بچوں کو وہ ہمیشہ “او تمہاری نانی مر جائے کیا چاہیے تمہیں ” کہا کرتا تھا۔ اس کی دکان پر ناس نسوار سے بیڑی اور تمباکو تک،پراندوں سےلے کر ٹوپی میں کاڑہے جانے والے شیشوں اور موتیوں تک،آٹے دال سے تیل صابن تک ہر چیز مل جاتی تھی۔ شہر کا قریب ہر فرد ماما حسن کا کاہگ تھا۔اورصرف کاہگ نہیں بلکہ قرضی بھی۔ کیا مرد کیا عورت۔ عورتیں بزار نہ آسکنے کی صورت میں بچے کے ہاتھ مکھیاری “دیکھنے اور پسند کرنے کے لئے ” چیزیں منگوالیتی تھیں۔ جو پسند نہ آئی۔ واپس پہنچ جاتی۔ پیسے کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ بس ضرورت ہونی کافی تھی۔ بھلا کوئی آج تک پیسے ساتھ لے گیا؟۔ اگلے چاند یا اگلے فصل پر چاچا حسن کو پیسے پہنچ جاتے۔ موتی اور نذو لنگڑے تو روز کسی نہ کسی وقت اس کے ہاں پہنچ جاتے۔ پھر ان کا مذاق ہوتا۔ بڑا پد مارنے کا مقابلہ ہوتا جس میں چاچا حسن ان سے ہمیشہ جیت جاتا۔ موتی اور نذو لنگڑا چاند کے چاند ایک ایک بیسا چاچا حسن کے پاس رکھوا دیتے پھر ان پیسوں سے کبھی صابن تیل،کبھی نسوار بیڑی،کبھی موم بتی تو کبھی چاول یا چینی لیتے رہتے۔موتی کو لگتا تھاچاچا حسن سے ایک دو روپے کی چیزیں زیادہ ہی لے لی ہیں مگر چاچا ان سے حساب کہاں کرتا؟۔کبھی تو یوں بھی ہوا کسی مجبوری میں چاچا حسن سے پیسے مانگنے جا پہنچے اور اس نے دو چار روپے نکال کر رکھ دیے “بھئی سب پیسے اما نت ہیں۔ چاہو تو سارے لے جاؤ۔”چاچاحسن کی یاد پر موتی کی آنکھوں سےدو آنسولڑھک کر خالی جھولی میں آٹپکے۔اسے پھر خیال ستانےلگا یہ سب کچھ یکایک بدل کیسے گیا؟ کاش “یکایک”اس شہر میں بدروح کی طرح نہ اترتا۔ اس کی سوچوں میں غمزدگی ہربند کو توڑنےلگی۔ انگنت دائرے طواف کی ابتداکرنے لگے۔اختتام ہنوز منتظر۔

موتی کی کہانی ابھی جاری ہے مگر نذو لنگڑے کی کہانی اختتام تک پہنچ چکی ہے۔یہ تب ہوا جب بہت پہلے ایک شام، جس وقت سورج اپنا وجود خاتمہ کی نذر کرنے لگا تھا،اس وقت نذو لنگڑا تانگہ اسٹینڈ کے پاس گذر رہا تھا۔اسی چال میں۔ مٹکتا،جھٹکے لیتا۔ اس نے چار دیواری سے عاری تھانے کی پیلی عمارت کے آگے منظر دیکھا تھا اور اس منظر نے اسے وہیں گاڑ دیا۔چھڑکاؤ کی ہوئی مٹی پر ٹاہلی کے نیچے،تھانے کے سامنے باہر سے آنے والانیا تھانیدار ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھا تھا۔آخوند صاحب اس تھانیدار سے ملنے ملانےگئے تھے۔ معمول کی طرح یہی کہنے اور سمجھانے۔ شہر میں کوئی فساد،جھگڑا یا جرم ہو آپ کو کسی کاروائی کی ضرورت نہیں۔بس آخوند صاحب کو آگاہ کردیں۔آخوند صاحب خود سنبھال لیں گے۔اور وہ سنبھالتے رہے ہیں۔یہ سنتے ہی باہرسے آنے والاتھانیدار غضبناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اور وہ آخوند صاحب کی زلفوں کو پکڑےایک دو تھپڑیں جڑ نے کے بعدسیفٹی ریزر سے آخوند صاحب کی زلفیں مونڈ وا رہا تھا۔تب نذو لنگڑے نے اپنے آپ کو وہاں سے آزاد کیا اور موتی کوخبر کئے بغیر چل نکلا۔ہو سکتا ہے اس نامختمم “یکایک” کایہی آغازہو۔ہوسکتاہے نہ ہو۔بھلا نذو لنگڑے جیسے بے وفا شخص کا کیا اعتبار۔

Categories
فکشن

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں میں مقید مُردوں کو سنائے جاتے ہیں۔ وہ سچ جن کی تجلی زندوں کے حواسِ سامعہ کو سرمہ کر دے۔

تو پھر یہ سچ مجھے کیوں سنائے جا رہے ہیں؟ میں تو زندہ ہوں___کیا میں زندہ ہوں؟؟

جون گر رہا تھا، کالے بادلوں سے بارش کے قطروں کے ساتھ۔ وہ بھی ایک قطرہ تھا،خون کا، ایک لوتھڑا، ایک جنین، بچہ دانی کی تلاش میں۔مگر جس بچہ دانی میں اسے جگہ ملی وہ خاردار تاروں سے گِھری تھی-جس کے باہر بندوق بردار لمبے قد اور داڑھی والے، پٹے رکھے پہرہ دار، پہرہ دے رہے تھے۔یاداشت کے خالی رخنے تخلیق کیے جا رہے ہیں، جہاں چالیس سال بعد وہ اپنی تخلیق کے بوسیدہ پنے کھودنے آئے گا۔ دل میں خدا کا وہم پرویا جا رہا تھا جہاں چالیس سال بعد خدا کی جگہ ایک شگاف ہو گا، کالے بادلوں میں گِھرا۔۔ وہ زبانوں کےاس بدنصیب شہر میں پیدا ہوا جہاں چپ کا دریا بہتا تھا۔

“حقیقت وہ شام ہے جس کا ڈوبتا سورج گگن کے چہرے پر اپنی سرخ پیک تھوک کر نہاں ہوتا ہے۔

تف ہے تمہارے پندار کی پنہاں داریوں پر ، اپنی خام خرد کے خُنخُنے سن رہے ہو؟ سورج ڈوبا نہیں کرتے، تم ڈوب رہے ہو!” اس نے سوچا۔

سک سک سک

ادھورے کمرے کا پنکھا، جو خراماں خراماں چلے جا رہا تھا، جس کے پروں پر سرخ ساڑھی پہنے ایک عورت کا خاکہ بنا تھا، رک گیا اور وہ تین حصوں میں بٹ گیا۔ جون جو خاموشی سے چارپائی پر لیٹا اپنی تخلیق کے سحر میں محصور تھا، بجلی جاتے ہی دنیا میں واپس آگیا تھا۔ اس کے کمرے کی دیواروں پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر آویزاں تھیں جو اس نے پچھلے کئی سالوں میں کھینچی تھیں۔

ہا! بے معنی تصاویر!

اب اسے اُن سے کوئی لگاو نہیں تھا۔ وہ انکا انتا عادی ہو چکا تھا کہ انکے فریمز کے اندر سےدیوار کے اُکھڑتے پینٹ کو دیکھ سکتا تھا۔

بلڈ پریشر مشین کا پارہ جو ہر رات اس کی شریانوں کی تغیانی پر کان دھرتا، چڑھے جاتا اور سرگوشی کرتا کہ مورکھ ! سوالوں سے کہہ دے رات کی چادر اوڑھ کر سو جائیں یا انہیں کسی پیٹی میں بند رکھ ،اور مغز میں فروعی عادتوں کی غلاظت بھر!

مانا کہ زندگی اور اس سے متصل تمام محرکات بے معنی ہیں، اس شعبدہ بازی کو شیڈو باکسنگ سمجھ، تیرا خرخشہ، تیری ہی خصومت___ تو خود تجھی کو لڑنا ہے۔ لال بوشٹیں پہنے یہ بود اور نبود کے بونے ہمیشہ ناچتے رہیں گے ___ انہیں صرفِ نظر کر دے۔

خفقان کسی نہنگ کی مانند ساحل پر اس کے محزون دل کو نوچ کھانے میں مصروف تھا-

جبلت، خصلت کیسے بھونڑے الفاظ ہیں اس نے سوچا۔ پر حقیقت جتنی بھونڈی ہو اتنی ہی یقینی ہوتی ہے۔جون زندگی کے تجربے کو پھوکل دلائل سے بھر دینا چاھتا تھا۔ پر زندگی کے ارادے جسے شوپنھار نے “ول آف لائف” کہا تھا اس سے کہیں زیادہ پختہ تھے۔

“زندگی ایک پچھل پیری ہے”وہ بڑبڑانے لگا،

“جو روحیں نگلنے پر قادر ہے۔”

“ہم بھاگ رہے ہیں اور بے لاگ بھاگ رہے ہیں، شورہ پشت بونے! گمبدِ خِضرا کے برجوں کو تسخیر کرنے کےخواہاں اور خود کی رمیدگی سے مُسَخّر ___ پِپڑی جمے ہونٹوں پر لالیاں لیپنے والے، سوختہ گالوں پر غازے تھوپنے والے___ تف ہے ہم پر “وہ ہنسنے لگا۔

ڈاکٹر عالیہ مننجائٹس کے مرض میں مبتلا جون کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ مسکراتا، بڑبڑاتا مریض اس کے لئے بو العجب نہ ہوتا اگر اس نے اپنی بیوی کی ساڑھی پہن نہ رکھی ہوتی، اپنے پھٹے ہونٹوں پر اسکی لپسٹک لیپ نہ رکھی ہوتی۔ جلال لالا جرنیٹر چلا آیا تھا۔اور پنکھا گھومنا شروع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جون کی آنکھیں بھی۔

وہ نظمیں جو کبھی نوجوانی میں جون نے لکھیں، سٹیپٹوکوکس کے جرثوموں کے ساتھ برہنہ ناچ ناچ رہی تھیں۔ ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو جون کے سر اور گٹنوں کو جوڑ کر سختی سے پکڑنے کو کہا۔ اور ایسا کرتے ہی سرنج جون کی ریڑھ کی ہڈّی کے مُہروں میں انجیٹ کر دی، پِسٹَن کھینچتے ہی رقص کناں جرثوموں کا ایک غول ٹیکے میں بھر گیا۔

“ترے بغیر مری نیند کے صفحوں پر،
خالی قلم سے خاموش نظمیں لکھی گئیں
نِب میری کھال کی پپڑیاں اتارتی ہے
جیسے اُکھڑتے پینٹ سے لیپی دیواریں
کمرے میں ایک خاص سڑانھد ، بھر دیتی ہے
میرے خوابوں کے سیم زدہ کمرے بھی
ایسی ہی باس سے بھرے ہیں”
جرثومے ابھی بھی گنگنا رہے تھے۔

ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو بتایا کہ بیماری کی علامتیں گردن توڑ بخار کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور یہ بخار جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جلال لالا نے کھنگارتے ہوئے کہا :

” ڈاکٹر صاحب برا نہ مانیں تو عرض کروں، ہمارے والد امروہے کے بہت بڑے حکیم تھے، وہ اخوینی البخاری صاحب کی کتاب کا ذکر کرتے تھے، سنا تو ہو گا بخاری صاحب کے بارے آپ نے ؟

بڑے حکیم ہوئے ہیں وہ،

مالیخولیا کے بارے میں بخاری صاحب کی کتاب میں ذکر ہے بابا کہتے تھے ،

ایک ان دیکھا ڈر، ایسے سوالوں کا دل میں اٹھنا کہ جن کے جواب نہ ہوں، خود پہ ہنسنا، خود پہ رونا، بے وجہ بڑبڑانا۔ یہ سب تو ہے ان کو، ورنہ کون پہنتا ہے اپنی بیوی کی ساڑھی، لپ اسٹک لگائی ہے دیکھو ”

اور اس نے رونا شروع کر دیا۔

وہ جون کے پاس گیا اور اس کے ہونٹوں سے لپ اسٹک اتارنے لگا۔ عالیہ نے بوڑھے جلال کی بات سنی ان سنی کر دی۔

“کل تک ٹسٹ کے رزلٹ آ جائیں گے۔ میں انٹی بائٹک لکھ رہی ہوں فوراً لائیے اگر صبح تک حالت بہتر نہ ہو تو فوراً ہسپتال داخل کیجیے۔

میں صبح راونڈ پر ہی ہوں گی۔ مجھ سے آ کہ ملیے گا۔ میں بتاوں گی آگے کیا کرنا ہے۔ ”

یہ کہہ کر عالیہ نے اپنی سٹیتھو سکوپ اٹھائی اور باہر کی طرف چل دی۔ خاموشی کا سفید شور، جون کے کانوں کے پردوں کو ہزاروں ٹڈیوں کی ماند کتر رہا تھا کہ اخیونی البخاری نے جون کے کان میں سرگوشی کی “السوداء”، ” السوداء”، “السوداء”۔

اور اس سودائی جون کی تلی سے بلیک بائل کا اس قدر اِخراج ہوا کہ ایک اِستخر بن گیا۔ اور وہ اس بلیک بائل میں ڈوبنے لگا۔ ابن سینا کی کتاب ” القانون فی الطب ” کے صفحے خود کو جَگَتی چھند میں بڑبڑانے لگے۔ چھند کے 48 اکشر جون کی ناف سے نئی ناڑ بن رہے تھے وہ ایک جنین بن گیا تھا۔ ایک فیٹس۔

کہ پھر اچانک ___ لوگوں کے قدموں کی آوازیں طبلے کی تال بن گئیں۔

تا، کی، تَا، کی، تَا، دِھن، گِھنا، تُم۔

راگ للت ہسپتال کی اس صبح کے کشکول میں ریزگاری بھرنے لگا۔

ایک رکی ہوئی چیخ، ہوا میں معلق تھی جیسے سیاہی کی بوند پانی میں لٹک رہی ہو۔ نگار نے، جس کے دائیں گال پر ایک کالا آنسو چمک رہا تھا، زور سے کہا:

“میں جا رہی ہوں جون ”

اور اس کے جاتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ یوں جون خاموشی کےخالی گلاس میں مقید تھا، مقید ہے ۔ وائن کی بوتل آدھی ہو چکی تھی اور وہ شعر بڑبڑا رہا تھا۔

اس کو کیسے نکالیے دل سے
ہم کہ دل ہی نکال بیٹھے ہیں
دل سے مردے کے خون پینے کو
کچھ گِدھوں سے ملال بیٹھے ہیں

محبتیں بھلائی جا سکتی ہوں گی، عادتیں نوچ کھاتی ہیں۔ ہم خود کو محبتوں اور عادتوں کے رخنوں میں بھرتے ہیں۔ اور ایک دفعہ یہ رخنے بھر جائیں تو ان سے نکلنا محال۔

جون بڑبڑانے لگا

” وائے عادتیں !! اور حیف ان کے رخنے !!جن کی غلام گردشوں میں آدمزاد برہنہ مقید ہیں۔”

“کیا بکتے ہو، کیوں بکھارتے ہو۔۔۔ خاموش!”

“تمام یاوہ گویان ساکت باشید!
تمام ہرزہ گویان بےصدا باشید!”

جون کے لئے عالیہ کی آواز کسی شور سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی تصویروں کی طرح، جن کے اندر سے وہ اُکھڑتے پینٹ کی پپڑیاں دیکھ سکتا تھا۔ یہی نہیں وہ اپنی لال آنکھوں سے کئی سال آگے کئی سال پیچھے دیکھنے پر مقدور تھا۔

“خاموش!!! خاموش!! سفید شور خاموش!!!”

جون نے کئی سال بعد یا کئی سال پہلے پر نظر کی، تو دیکھا کہ ایک زمیں دوز غار سے بارہ سنگے یکے بعد دیگرے نکل رہے ہیں۔ اور پھر جون خود نکلتا ہے۔ وہ خود ایک بارہ سنگا بن چکا ہے ۔ اچانک ایک ہیجانی گرم چیخ جون کے دل میں داغ دی جاتی ہے، وہ کراہ رہا ہے۔ لہو آہستہ آہستہ جون کے پیٹ سے نکل رہا ہے اور اسکے نافہ سے نکلتی مُشک سارے میں پھیل رہی ہے۔

ٰImage: Zedekiah Schild

Categories
فکشن

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin

Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “
“نہیں جناب، یہی حل ہے”
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔
“اچھا “ جواب ملا۔
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔

ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔

ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔

اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا
“جی ہاں۔”

“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”
“جی جانتا ہوں“
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”

“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”
“خدا حافظ”
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔

Categories
فکشن

شکن

جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔
“تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔”
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے ”
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔
” یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!”
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:
“دھیولا بازار والے اتر جایئں”
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:
“ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا ”
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔
“لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔”
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔
۔۔۔۔۔”یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں”اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟
“لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔”
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔
“یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟”
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔
“اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔”
تھو!!۔
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
Image: Sadaf Fatima

Categories
فکشن

رنگ (محمد عباس)

سب حیران رہ گئے جب اچّھا رات دس بجے ہی گھرواپسی کو اٹھ کھڑا ہوا۔

اس وقت ہم چاروں دوست حسبِ معمول میرے ڈیرے پر تاش کھیل رہے تھے۔ تاش ابھی ابھی شروع ہوئی تھی جس کا مطلب ہے کہ رات بھی ابھی شروع ہوئی تھی۔ دس بجنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے۔ ’’رنگ‘‘ کا رنگ جمنے بھی نہ پایا تھا کہ اچّھے نے تاش پھینٹنے کی بجائے اکٹھی کر کے ایک طرف رکھ دی۔ یہ اشارہ کھیل ختم کرنے کا تھا۔ڈاکٹر نے فوراً ہی گھڑی دیکھی اور ساتھ ہی جیب سے سگریٹ ماچس برآمد کر لیے:’’لگتا ہے، آج اچّھے کا چائے بنانے کو دل ہے۔ ٹھیک ہے یار۔اٹھو ذرا چھوکری قسم کی چائے تو پلاؤ۔‘‘

’’چاہ ہو جئے تو سادہ سرگٹ بھی ڈبل کا مزہ دے۔‘‘ کالو نے لقمہ دیا۔

’’نئیں یرا۔میں تو جا رہا ہوں …گھر۔ تم لوگ بیٹھو اور گپ شپ کرو۔‘‘ اچّھے نے بھی اپنا ولز کنگ کا سگریٹ سلگایا اور دونوں ٹانگیںمیز پر رکھ کر بڑا پر سکون ہو کر سوٹے مارنے لگا۔

کالو نے تاش اٹھائی اور اس کا پنکھا بنانے لگا:’’سدھی طرح کیوں نہیں کہتا کہ سرگٹ پینے کو دل کر رہیا ہے۔ گھر جانے کا بہانا کیوں کرتا ہے۔‘‘

’’نئیں…میں تو بس یہ آخری سگریٹ پیوں گا ا ور… گھر۔‘‘

’’فضول بکواس نہ کر۔ یہاں رنگ تیرا پیو کھیلے گا۔ چوتھا بندہ … تمہاری … سے نکالیں گے۔ ‘‘کالو نے اسے گھورا۔

’’نہیں او یارا۔ ایویں بونگیاں مار رہا ہے۔ یہ کہاں جائے گا۔یہ تو رات کو بھی بھگتا کر گھر جانے والا شخص ہے۔‘‘

مجھے تو یقین تھا کہ اچّھا اتنی جلدی گھر نہیں جانے والا۔ ابھی تو اس کی دوپہر بھی نہیں ہوئی۔ ابھی چلا گیا تو اسے نیند کہاں سے آئے گی۔ اس کی نیند تو اذانِ سحر کی محتاج تھی۔ ادھر صبح کی اذان بلند ہوتی، ادھر اس کے چہرے پر پہلی جمائی پھوٹتی۔ نمازیوں کو گھروں سے نکلتا دیکھنے کے بعد ہی کہیں اسے گھر جانے کی ہڑک پیدا ہوتی تھی۔ اور وہی اچّھا آج اتنی جلدی گھر جانے کو کہہ رہا تھا۔ یہ ممکن ہی نہ تھا۔ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا۔تاش سے تو ہم لوگ دو بجے تک اٹھ جاتے تھے۔ ڈاکٹر اور کالو نے صبح اپنی اپنی دیہاڑی لگانی ہوتی تھی، سو انہیں توگھر واپسی ضروری تھی۔ پر میں اور اچّھا ان کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ کبھی تو پنکھا چلا کر ڈیرے پر ہی بیٹھ جاتے، جو تاش کے دوران،پتے بکھرنے کے اندیشے سے بند ہی رہتا تھا۔ اگر کسی دن اچّھا زیادہ حساس ہو رہا ہوتا تو پھر پنکھے کی آوازاس کے اعصاب برداشت نہ کر پاتے اور ہم ڈیرے سے نکل کر گلیوں میں گھومنے لگتے۔ آج کل ہم دونوں باقاعدگی سے’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھ رہے تھے۔ ’’سیانے‘‘ ہم نے ایک خاص جگہ کو نام دے رکھا تھا۔ گاؤں کے مرکزی چوراہے میں ایک بڑے سے تھڑے پرسارا دن گاؤں کے بڈھے ٹھیرے لوگ چوپال جمائے بیٹھے آپس میں اپنے اپنے تجربے بانٹتے رہتے۔ خوبیِ قسمت سے یہ چوراہا ایسا تھا جہاں سے اپنے اپنے گھر جاتے ہوئے میرا اور اچّھے کا راستہ جدا ہوتا تھا۔ ایک رات گھر جانے سے پہلے ہم وہاں تھوڑی دیر کو رک گئے۔ وہاں بیٹھ کر جو اچّھے نے گفتگو شروع کی تو ایسے ایسے کمال کے جملے کہے کہ ہم دونوں ہی حیران رہ گئے۔ اتنی عقل مندی کی باتیں …اچّھے کو سوجھیں کیسے؟ میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تھڑے پر چونکہ دن بھر سیانے بابے بیٹھے رہتے ہیں،لگتا ہے ان کی سیانپ کا اثریہاں ہر وقت رہتا ہے۔ بس اسی اثر سے اچّھا بھی سیانا ہو گیا ہے۔ اب کیا تھا، ہم نے اس جگہ کو ’’سیانے‘‘ کا نام دے دیا اور معمول بنا لیا کہ رات کو تاش کے بعد کافی دیر ’’سیانوںکی معیت‘‘ میں بیٹھا کرتے۔وہاں اچّھا صاحب ولز کنگ کی پوری پوری ڈبی پھونک ڈالتے، پر باتیںایسی گجھی ہوئی کرتے کہ اصل سیانے بھی سنتے تو اس سے دانائی کادرس لیتے۔

سگریٹ ختم ہوا تواچّھا اٹھ کے چل پڑا:’’ ٹھیک ہے یرا، میں چلتا ہوں، آئندہ دس بجے تک ہی بیٹھا کروں گا۔ جب تک میرا ابا واپس نہیں جاتا، تب تک تم اپنے لیے کوئی چوتھا سنگی ڈھونڈ لو۔‘‘

کالو نے اپنی چنید ہ گالیوں سے اسے نوازا۔ ڈاکٹر نے سوشل بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ تاش کا واسطہ بھی دیا گیا، سیانوں کی بھی یاد دلائی گئی مگر وہ ذرا بھی ماٹھا نہ پڑا اور اُٹھ کے گھر چلا گیا۔کالو نے تاش میز پر پٹخی اور غصے میں اندرجا کے کمرے سے پنکھا اٹھا لایا: ’’ اس حرامی کی وجہ سے تاش نہیں کھیل سکتے، پنکھا توچلا لیں۔ ہم کوئی دوزخی نہیں کہ ’’جھڈوؤں ‘‘کی طرح اس گرمی میں بیٹھے رہیں۔‘‘

وہ غصے میں بڑ بڑ کرتا رہا۔ ڈاکٹر اپنے خاص فلسفیانہ انداز میں سوٹا لگاکر یوں دھواں نکالتے ہوئے،گویا کوئی جن برآمد کرنے والا ہو، بولا:’’ پر باوا، سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ گیا کیوں، اسے تو اتنی جلدی کبھی بھی نہ ہوتی تھی، بلکہ وہ جو تم نے ایک شاعر بتایا تھا جو ساری رات سڑکیں ناپتا رہتا تھا… کیا نام…‘‘

’’ناصر کاظمی یار۔‘‘

’’ہاںوہی… اسی کی طرح یہ بھی سب سے آخر پر گھر جایا کرتا ہے۔ تو پھراب اسے کیا تکلیف ہو گئی ہے؟‘‘

’’ آ ہاں… تم نے کہا تو مجھے یاد آیا کہ اُس شاعر کا ایک شعر بالکل اسی موضوع پر ہے، سمجھو کہ ناصر نے اسی موقع کے لیے یہ شعر کہا تھا:

وہ میکدے کو جگانے والا، وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

جب میں نے شعر ان دونوں کو ذرا سا سمجھایا تو دونوں مچل اٹھے:’’واہ، واہ۔‘‘ اور کالو نے تو اپنے خاص انداز میں کہا:’’لگتا ہے، ناصر نے یہ شعر اسی بھوسڑ کے لیے لکھا تھا۔‘‘

’’پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ گیاکیوں؟‘‘ ڈاکٹر کی چرخی ابھی تک اسی محور پہ گھوم رہی تھی۔

’’بتا کر نہیں گیا کہ پیو کے ڈر سے …؟ اب ہم پر یہ ویلا بھی آنا تھا کہ باپ کے ڈر سے تاش کھیلنا چھوڑ دیں۔‘‘کالو غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کرسی کے ہتھے پر کبھی کبھی مکہ مار دیتا۔

’’ابا جب تک یہاں ہے…!اس کا کیا مطلب ہے؟ اِسے ابے کا اتنا خیال تھا کب، اور پھر اِس کا ابا تو پچھلے چھ ماہ سے گھر آیا بیٹھا ہے۔ اب تو اُس کی چھٹی بھی ختم ہونے والی ہے۔ پہلے اِسے کبھی ابے کا خیال نہیں آیا۔ آج ابے کی اتنی دہشت کیوں؟‘‘

’’ہو سکتا ہے کل تک اسے یقین ہی نہ ہو کہ یہی اس کا باپ ہے۔ اور آج ہی اماں نے اسے قسم دی ہو کہ تم حلال کے جنے ہو۔‘‘ کالو کا غصہ اسی طرح مستقل ہوا کرتا تھا:’’ اتنا بھی نہ سمجھا کہ ماں جھوٹ بھی تو بول سکتی ہے۔‘‘

’’تم خواہ مخواہ ابل گئے ہو۔ بندے کی کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے۔‘‘

’’دفع کرو اس کو۔ کوئی کام کی بات کرو۔ کنجر کو آئندہ یہاں گھسنے نہیں دینا۔ کہتا ہے، بس دس بجے تک ٹھہرا کروں گا۔ یہ کتے کا بچہ، احسان کرے گا ہم پر۔ جب ہم چوتھا سنگی ڈھونڈ لیں گے تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے تم جیسے شہدے کی۔ ہم ہر روز وکھرے وکھرے لوگوں سے کیوں…‘‘

’’پر سوچنے کی بات تو یہی ہے نا کہ اسے ہوا کیا، باوا بھی تو نہیں بتا رہا، اسے تو کچھ پتا ہو گا کہ وہ آج جلدی کیوں چلا گیا۔ ‘‘
’’میں کیا بتاؤں یار، میں تو خود حیران ہوں کہ بیٹھے بٹھائے اس کے اندر ابے کی اندھی محبت کہاں سے آ گھسی کہ وہ تاش کو چھوڑ کے چلا گیا۔‘‘

’’میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ کل تاش کے لیے چوتھا سنگی کسے بناؤں۔ میرا مسیر بہت اچّھارنگ کھیل لیتا ہے، کوشش کروں گا کہ اسے گھیر لاؤں، وہ اس حرامی کی طرح بزدل نہیں ہو گا کہ دس بجے جا کر ابے کی بغل میں بیٹھ جائے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو اچّھے نے دس بجے گھر چلے جانا معمول بنا لیا تھا، کالو کو شک تھا کہ اچّھا ڈیرے سے اٹھ کر سیدھا گھر نہیں جاتا بلکہ کسی اور جگہ رات رنگیلی کرتا ہے۔ عاشقی معشوقی میں یاروں کی یاد حرام زادی کب آتی ہے۔ لیکن ایک دن خود اچّھے کی اماں نے کالو کے سامنے اچّھے کی تعریف کی کہ پتا نہیں کیسے اسے عقل آ گئی ہے، اب تو دس بجے ہی لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بے چارہ جب سے آیا، کھپتا رہتا تھا کہ رات کو جلدی گھر آ جایا کرو مگر وہ انسان نہ بنا تھا، کبھی چاربجے تو کبھی پانچ بجے آ دیوار پھلانگتا۔ اگر وہ اس قدر گبھرو جوان نہ ہوتا تو اس کا ابا اس کو خوب پھینٹی لگاتا مگر ڈرتا ہے کہ جوان بیٹا ہے، کہیں جواباً اس پر ہاتھ نہ اٹھا دے۔ بس منہ سے کہتا رہتا ہے لیکن اس نے بھی مان کر نہ دی۔ پر پچھلے دس بارہ دن سے بڑا فرمانبردار بنا ہوا ہے۔ ابھی ہم سب جاگ رہے ہوتے ہیں کہ وہ لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بھی اس سے بہت خوش ہے۔
کچھ دن میں ہم بھی اُس کے اِس نئے معمول کے عادی ہو گئے۔ وہ ڈیرے پر آتا، بمشکل آدھا گھنٹہ بیٹھتا اور واپس چل دیتا۔ ڈاکٹر نے ایک دو دفعہ اسے باز رکھنا چاہا تو وہ تھوڑا اُکھڑ گیا۔
’’تم لوگ دیہاڑیاں لگاتے ہو ناں؟ کیوں لگاتے ہو؟‘‘
’’کیوں کا کیا مطلب؟ گھر والوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے اور کیا۔‘‘
’’تم گھر والوں کے لیے دیہاڑی لگاتے ہو اور میں گھر والوں کے لیے جلدی لوٹ جاتا ہوں۔ میں نے کبھی تم لوگوں کو دیہاڑی لگانے سے روکا؟ تو پھر تم مجھے کیوں روکتے ہو؟‘‘
ڈاکٹر کو کوئی جواب نہ سوجھا۔
ڈیرے پر اب تاش کم، گپیں زیادہ چلتیں۔ ہمیں چوتھا کھلاڑی نہ مل سکا، اسی لیے اچّھے کے اٹھنے تک رنگ کی دو بازیاں لگتیں اور پھر چادر لپیٹ دی جاتی۔ ڈیرے پر رات دیر تک بیٹھنے کی عادت بنی ہوئی تھی، اسی عادت کو نبھانے کے لیے بیٹھے رہتے ورنہ تاش کے بغیر کہاں مزہ آتا تھا۔ ڈاکٹر تو کہا کرتا تھا کہ جن دوستوں کے درمیان تاش بٹنا ختم ہو جائے، وہ خود بٹ جاتے ہیں۔ یہ تاش کے باون پتے ہیں جو دوستوں کو باندھ رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں نے اتنی مدت اکٹھے تاش کھیلی تھی کہ لگتا، تاش ہمارا پانچواں دوست ہے۔ تاش کے بغیر ہمیں مل بیٹھنا عذاب ہو جاتا تھا۔ آخر فارغ بیٹھ کر ایک دوسرے سے کیا بات کریں؟ تاش کے ساتھ تو عجب معاملہ تھا، ادھر پتے سب کے ہاتھ میں آئے اور ادھر دنیا بھر کے موضوع یاد آنے لگے۔ پتا پھینکا جا رہا ہے اور ہستی کے مسائل پر بحث ہو رہی ہے۔تاش پھینٹی جا رہی ہے اور زمانے بھر کے فلسفے چھانٹے جا رہے ہیں۔ اب تاش کے بغیر ہم ایک دوسرے کی گفتگو سے بیزار ہونے لگے تھے۔ یوں جیسے محض دکھاوے کے لیے باتوں کی تسبیح رول رہے ہوں۔ کالو بیٹھا بے لطفی سے پتے پھینٹتا رہتا۔ بد مزگی اس کے ہر ہر روم سے عیاں ہوتی تھی۔ میں اور ڈاکٹر بھی اکتائے اکتائے سے بیٹھے رہتے۔کئی بار ہم نے تین کھلاڑیوں والا رنگ کھیلنا شروع کیا مگر عادت نہ تھی، بدمزگی میں اضافہ ہی ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ایک دن ڈیرے کی رونق پھر سے بحال ہو گئی۔ اچّھے کا ابا واپس بحرین چلا گیا اوراچھّا اس شب پھر رات دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ اب وہ پھر وہی پرانا اچّھا تھا، ڈیرہ پھر تاش کا ڈیرہ بن گیا۔ ڈاکٹر اور کالو دوبجے چلے جاتے اور میں اور اچّھا سیانوں کے پاس جا بیٹھتے۔ اس کا ولز کنگ جلتا رہتا، باتوں کا سلسلہ چلتا رہتا۔ ایک دن پتا نہیں کس لہر میں رواں تھا کہ مجھ سے پوچھنے لگا۔

’’تمہیں اندازہ ہے کہ پچھلا پورا مہینہ میں جلدی گھر کیوں جاتا رہا؟‘‘
’’نہیں۔ میں نے بہت سوچا مگر ذرا بھی اندازہ نہ کر سکا۔‘‘
’’بس یرا، یہ بھی ایک الگ ہی معاملہ تھا۔‘‘ اس نے تھڑے پر ٹانگیں پھیلا لیں:’’ بات توبتانے والی نہیں مگر تم سے اپنا اتنا پردہ بھی نہیں۔ اور میں خود چاہتا ہوں کہ کسی سے یہ ساری گل سانجھی کروں۔‘‘
’’تو پھر بتا دو۔ بجھارتیں کیا ڈال رہے ہو۔‘‘

’’بتاتا ہوں یرا…پر نکتہ باریک ہے… سمجھانے کے لیے شروع سے بات کرنی پڑے گی۔ تم جانتے ہو کہ میرا ابا مارچ سے گھر آیا بیٹھا تھا۔ تب سے وہ مجھے جھڑکتا رہتا تھا کہ میں جلدی گھر کیوں نہیں آتا۔ اسے بڑا دکھ ہوتا تھا، رات کو میرے گھر نہ ہونے سے۔ وہ کہتا تھا: ’میں بحرین سے آیا ہوں کہ اپنے پتر دھیوں سے مل آؤں۔ چھ مہینے کی چھٹی لایا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت گزار آؤں،سوچا تھا اپنے اکلوتے پتر سے جی بھر کے باتیں کروں گا۔مگر اسے ذرا بھی غیرت نہیں آتی،گھر ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر نہیں آتا۔ساری رات کتے کی طرح لور لور کرتا رہتاہے۔سارا دن مگر مچھ کی طرح سویا رہتا ہے۔کچھ کھانے کو مل گیا تو اونٹ کی طرح ہر چیز لپیٹ گیا۔ نہیں تو بھینس کی طرح خاموش پڑا رہے گا۔اس میں انسانوں والی کوئی عادت ہی نہیں۔ باپ اتنی مدت بعد گھر آیا ہے،ذرا دیرکو اس کے پاس بھی بیٹھ، کچھ اس کی سن، کچھ اپنی سنا۔ مگر نواب صاحب گھر پر ٹھہریں تو ناں۔ لوگوں کی اولاد ایسی نیک ہے کہ ماں باپ کی اجازت کے بغیر قدم بھی نہیں اٹھاتی،ایک مجھے یہ اللہ میاں کا تحفہ مل گیا ہے، پتا نہیں کب اسے باپ کا خیال آئے گا۔‘ تو یہ تھا میرے باپ کا مسئلہ، وہ میرے ساتھ بات کرنا چاہتا تھا اور آخر اس کی خواہش کیوں نہ ہوتی، ساری عمر اس نے بحرین مزدوری کر تے گزار دی، کس کی خاطر، میری خاطر ناں، اب وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ دو گھڑی گپ شپ ہی کرلوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں…‘‘

’’یہ خیال اُس کی چھٹی کے آخر میں تمہیں کیسے آیا … پہلے کیوں نہیں؟‘‘

’’نہیں تم پوری بات تو سنو۔ وہ تو چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں، اس کے پاس بیٹھا کروں لیکن مجھے اِس کی عادت ہی نہ تھی، وہ کب میرے سامنے باپ کی طرح رہا تھا۔ یہی چھ مہینے کی چھٹی وہ میرے بچپن میں کبھی آ جاتا تو میرا ذہن اسی وقت ا س کو اپنا باپ مان لیتا۔ جب وقت تھاتب اس نے مجھ سے باپ کا رشتہ نہیں بنایا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ میں اس کا بیٹا بن جاؤں، یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا… ذرا ماچس تو دینا… کہ جب مجھے اس کی ضرورت تھی، وہ میرا نہیں بنا تو اب اس کی ضرورت پوری کرنا کیا مجھ پر فرض ہے ؟ نئیں یرا، یہ ولز کا سگریٹ بھی انتہائی گھٹیا ہوتا جا رہا ہے، جیسے تمباکو کی جگہ بھوسا بھرا ہو، کوئی سواد ہی نہیں آتا۔‘‘
’’بس، تم جانتے ہو آج کل دو نمبر سگریٹ بہت ہو گئے ہیں۔‘‘

’’نئیں او یرا!جب سے یہ بجٹ میں ان پر ٹیکس زیادہ لگا ہے، تب سے ان کا سٹینڈر ہی نہیں رہا۔ ٹیکس لگاتے وقت بھی یہ کہاں خیال رکھتے ہیں غریبوں کا… کالو بجٹ بنانے والوں کو گالیاں دیتا ہے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ یہ لوگ ہیںبھی…‘‘

’’سگریٹ اور کالو دونوں کی …‘‘

’’ہاں یرا …ابا کہتا ہی رہا کہ رات کوجلدی گھر آ جایا کرو یا دن کو دوگھڑی میرے پاس بیٹھ جایا کرو مگر میں نے بھی ایک طرح سے ضد ہی بنالی تھی کہ ابے کی نہیں سننی۔ جو میری مرضی ہو،وہی کروں گا۔صورت حال یہاں پر تھی کہ وہ واقعہ پیش آگیا۔ ہوا یوں کہ اس رات ہم ڈیرے سے دو بجے اٹھے اور’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھے ہی نہیں، یوں میں معمول سے قبل گھر پہنچ گیا۔ڈیوڑھی کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ حسبِ معمول میں نے بھی دیوار پھلانگی اور اندر۔ آج کل سب ہی گھر والے ویہڑے میں سوتے ہیں۔تمہیں پتا ہے کھڑا پنکھا ہمارے گھر ایک ہی ہے۔سب سے پہلے پنکھے کے ساتھ میری چارپائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد بے بے اور بابے کی۔ پھر ابے کی، اس کے بعد چھوٹی بہنوں کی دو چارپائیاں اور آخر پر تقریباً دیوار کے ساتھ اماں کی چارپائی۔ اس رات چاند کی ۲۱ یا۲۲ ہو گی۔ روشنی بہر حال اتنی تھی کہ صحن میں سوئے سب لوگ دھندلے دھندلے نظر آتے تھے۔ میں دیوار پھلانگ کر اماں کی چارپائی کے قریب اترا۔ دیکھا تو اماں اپنی چارپائی پر نہ تھی۔ادھر اُدھر دیکھا،گھر کے سبھی کمرے گھپ بند تھے۔ ادھر…غسل خانے کی بتی بھی آف تھی۔یہ اماں کہاں گئی؟ میں نے ذراسی اونچی آواز دی’’اماں۔ اے اماں۔‘‘ لیکن تھوڑی دیر بعد مجھ پر انکشاف ہو گیا کہ اماں ویہڑے میں ہونے کے باوجود بولنے جوگی نہیں ہے۔ میں تیز تیز قدم چلتا اپنی چارپائی تک پہنچا اور اوندھا ہو کے پڑ رہا۔‘‘

’’تو اماں کہاں تھی…؟‘‘ میں حیران ہو گیا:’’ اوہ ہ ہ… … ‘‘

’’ہوں۔ درست سمجھے۔اب خود دیکھو، ایسے موقع پر میں کیا سوچتا؟…صبح میں نے یوں ظاہر کیا جیسے مجھے رات کو کچھ پتا ہی نہ چلا۔ اور وہ بھی ایسے ہی رہے، گویا رات کو کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘

’’ تو پھر …؟‘‘

’’تو پھر یہی کہ میں نے تم لوگوں سے معذرت کر لی اور جلدی گھر آنے لگا۔اس رات میں سونے کی بجائے سوچتا ہی رہاتھا۔ میں سمجھ گیا، ابا مجھے جلدی گھر آنے کو کیوں کہتا تھا۔ میرے گھر لوٹنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا، میرے آنے سے پہلے تک وہ گھبراتے ہوں گے کہ پتا نہیں کب اچّھا دیوار پھلانگے اور ان کے سر پر آن پہنچ جائے۔اس لیے میرا ابا مجھ سے کلپتا رہتا تھا کہ جلدی گھر آجایا کرو۔ میں جب اس نکتے پر پہنچ گیا تو میں نے جلدی گھر جانا اور وقت پرسونا شروع کر دیا۔ اب یہ سوچ سوچ کر مجھے بڑی مسرت ہوتی ہے کہ آخری ایک مہینہ اماں کس طرح کھل کر اپنی چارپائی سے اتری ہو گی۔ایک اور ہی نشے میں… ابا بھی ہنستے بولتے بحرین سدھارا ہے۔‘‘

وہ خاموش، دھواں پیتا رہا۔میں اس کے سگریٹ پر نظر جمائے بیٹھا رہا۔کافی وقت گزر گیا۔اس کا سگریٹ بجھے بھی بڑی دیر ہو چکی تھی۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:’’چلیں یار گھر، اب تو لگتاہے، تیرے سگریٹ بھی ختم ہو گئے۔‘‘

اس نے ولز کنگ کا نیا پیکٹ نکالا، سیل کھولی، سگریٹ سلگایا اور دو چار سوٹے مارنے کے بعدبڑے اطمینان سے کہنے لگا:’’ابا اب بحرین پہنچ چکا ہے۔ اب گھر جا کے کیا کروں گا… ہم تو بات کر رہے تھے کہ بجٹ کے بعد ولز کنگ بہت خراب ہو گیا ہے۔ پتا نہیں یہ ٹیکس کا سگریٹ کے سٹینڈر پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘‘

Categories
فکشن

پارہ دوز (تین پارچے ایک کہانی)

پہلا پارچہ

اُس روز تو میری آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں۔

بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مُسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوں نہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ نہ ہو۔مگر اس بار ایسا نہ ہوا تھا۔ دونوں کنپٹیوں کے نواح سے درد برامد ہوکر پورے بدن پر شب خُون مارتا تھااورمیرے عصبی ریشے بری طرح ٹوٹنے لگتے تھے۔جب سارے ٹسٹ ہو چکے اور کہیں بھی کوئی خرابی نہ نکلی تو مجھے تشویش کے دورے پڑنے لگے میں اس ٹوٹ پھوٹ سے نڈھال تھا مگر یہ درد کیوں تھا‘اس کی تشخیص ہی نہ ہو پارہی تھی۔ اور یہی بات مجھے دہلائے دیتی تھی۔ بے پناہ تشویش کے ایسے ہی دورانیے میں میرا دھیان آنکھوں کی دُکھن کی جانب ہو گیا۔ بل کہ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ جب سارا درد آنکھوں میں برچھی کی طرح کُھب گیا تودھیان کے وہاں ارتکاز کے علاوہ میرے پاس کوئی اور صورت تھی ہی نہیں۔

بدن کا درد تو کسی کونظر نہ آیا تھا مگر میری ان آنکھوں کو تو دیکھا جاسکتا تھا جوانگاروں کی طرح دہک رہیں تھیں۔
نافی کا خیال تھا :اس میں تشویش کا کوئی پہلو نہیں تھا۔

یہ بات اس نے میری آنکھوں میں دیکھے بغیر ہی کَہ دی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی مصنوعی پلکیں چپکا رہی تھی۔ مجھے اس کے روّیے پر طیش آرہا تھا تاہم میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس پر اپنے غصے کا اظہار کیسے کروں۔ ہم دونوں کے درمیان رشتہ کچھ ایسی نہج پر پہنچ چکا تھا کہ ہم ایک دوسرے پرغصہ کرنا لگ بھگ ہی بھول گئے تھے۔

میں نے ہمت جمع کی اوراس کے سامنے جا کھڑا ہوا ‘ کچھ یوں کہ اس کی نظر آئینے کی بہ جائے میری سرخ بیر ا بنی ‘ابلتی ہوئی آنکھوں پر پڑ جائے۔

نافی نے کندھے سکیڑ کر پہلو بدلتے ہوے اَپنی داہنی کہنی کو قدرے باہر کونکلی ہوئی میری توند کے بائیں جانب ٹکا دیا‘ یوں کہ آئینہ دیکھتی اس کی نیلی آنکھیں میری گردن کے ایک طرف سے بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھتی رہیں۔ میں نے بائیں کو مزید کھسک کر درمیان میں حائل ہوناچاہا تو وہ میرے ارادے کو بھانپ گئی اور ”اوں ہونہہ “ کہتے ہوے میرے پیٹ پر ٹکی کہنی پر دائیں جانب دباﺅ بڑھا دیا۔

میں مجبوراً ایک طرف کھسک گیا تاہم ہمت نہ ہاری اور لگ بھگ گھگھیا کر کہا ”نافی دیکھو نا ڈارلنگ میری آنکھیں درد سے پھٹ رہیں ہیں۔“
مجھے اَپنی آواز اجنبی لگی تھی ‘اتنی کہ میں اَدبَدا کر آئینے میں خود کو دیکھنے لگاتھا۔ ایک ثانیے کے لیے ‘ جی محض ایک ثانئے کے لیے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے میری آنکھیں سرخ نہیں تھیں ‘ مگر دوسرے ہی لمحے سارے آئینے میں سرخ لوتھڑا بنی آنکھیں اُگ آئی تھیں۔ میں نے ادھر سے دھیان ہٹا کر ساری توجہ نافی پر مرتکز کر دی کہ شاید یوں وہ آئینے کے واسطے سے میری آنکھوں پر نظر ڈال لے۔ میں ٹکٹکی باندھے دیکھتارہا مگر وہ اپنے آپ میں بری طرح مگن تھی کچھ اس محویت سے کہ اس سلسلے کو روک کر میری طرف دیکھنے کی گنجائش نکلتی ہی نہ تھی۔ تاہم ہمارے حسی نظام کی تربیت اس نہج پر ہو چکی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھے بغیر سہولت سے ضروری فیصلے کر سکتے تھے ….اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے وہاں کھڑا رہنے کی بہ جائے اپنے لیے کوئی اور مصروفیت ڈھونڈنی چاہیے :
”اوہ موظی ڈیئر ‘ میں نے دیکھ لی ہیں نا تمہاری آنکھیں“۔

وہ جھوٹ بول رہی تھی یا ممکن ہے اس نے میرا چہرہ دیکھے بغیر ہی میری آنکھیں دیکھ لی تھیں تاہم میں دیکھ رہا تھا ایک لمحے کے لیے بھی اس کی نگاہ اس کے اپنے چہرے سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اس کے جملے پر ایک بار پھر غور کرناپڑا‘ اور جب میں اسے خوب جانچ چکا تو اس کا مطلب بھی سمجھ آگیا تھا۔

وہ ہمیشہ سے نچلے ہونٹ کو قدرے ڈھلا چھوڑ کر مجھے معظم کی بہ جائے موظی کہتی چلی آرہی تھی ‘ حتی کہ ایسے کہنا اس کی عادت ہو گئی۔ تاہم ایک زمانہ تھا کہ موظی کہتے ہوے اس کا نچلا ہونٹ رسیلا ہو جایا کرتا تھا۔ جب پہلی بار اس نے مجھے موظی کہا تھا تو میں بہت ہنسا تھا۔ میں نے سیلاب جیسی ہنسی تھمتے ہی اس کے رسیلے ہونٹوں کے صدقے اس کا موظی کہنا قبول کر لیا تھا۔ اور جب اس نے پوچھا تھا کہ میں اسے نفیسہ کی بہ جائے محبت سے کیا کہا کروں گا تو مجھے کچھ نہ سوجھا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کے نام کو بدلنے کی مجھے طلب ہی نہ ہو رہی تھی۔ میں اسے نفیسہ کہتا تھا تو اس کا پورا وجود انتہائی نفاست ہے میرے سامنے ایستادہ ہو جاتا تھا لہذا میں نے کَہ دیا کہ محبت مجھے نفیسہ کہنے سے باز نہیں رکھے گی۔ مگر اس نے ضد کرکے اپنے لیے نافی سے پکارا جانا تجویز کر لیا تھا۔

نافی جہاں تھی وہاں اب میرا ٹکنا مشکل ہو رہا تھا مگر یوں تھا کہ میں اس کی توجہ کے لیے مرے جاتا تھا۔ اس طرح کا مرنا تو میں ایک مُدّت سے بھول چکا تھا…. مگر آہ میری سرخ بوٹی کی سی آنکھیں ….میںوہاں سے کیسے ٹل سکتا تھاکہ ابھی تک اس نے ان میں جھانکا ہی نہیں تھا۔

جب وہ آئنے کے اوپر جھک کر نفاست سے بنی اَپنی بھنووں کو دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے باری باری سہلا کر جائزہ لے رہی تھی تو میری دُکھتی ہوئی آنکھیں آئینے ہی سے اس کے چکنے شانے سے پھسلتی ڈیپ وی میں گر گئی تھیں۔ روئی کے گالے جیسی نرمی ان کے لیے مرہم ہو گئی تھی۔ میں اَپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے وہاں‘ اُس گداز میں بھول سکتا تھا مگر عین اسی لمحے نرم اور ملائم جلد کٹتی چلی گئی‘ تیز نشتر کی نوک سے‘ بالکل ایک سیدھ میں۔ اور جب وہ پوری طرح کٹ گئی تو لہو شراٹے بھر کر بہنے لگا‘ اتنا کہ میری آنکھیں اس لہو میں ڈوب گئی تھیں۔

دوسرا پارچہ

میرے لیے وہ پہلا آپریشن نہیں تھا۔ اس عورت کی باری آنے سے پہلے اس جیسے لگ بھگ سات سو بائیس مریضوں کوچھ سال میں آپریٹ کر چکا تھا۔ ایک ایک پیشنٹ کا ریکارڈ میرے پاس تھا۔ اگر میں اس عرصے میں کام یاب نہ ہونے والے آپریشنز کی شرح نکالنا چاہوں تو وہ محض ایک اشاریہ ایک صفر آٹھ فی صد بنتی ہے۔ اس عرصے میں آپریشن کے تختے پر یا پوسٹ آپریشن ٹریٹمنٹ کے دوران مرنے والوں میں سے پانچ کی عمراٹھاون سے اوپر تھی دو لڑکے نو اور گیارہ برس کے تھے جبکہ ایک عورت عین اس عمر میں آپریٹ ہوئی تھی جس میں اب نافی تھی۔
جس کے لہو سے میری آنکھیں بھیگی تھیں وہ مرنے والی یہ عورت نہیں تھی۔ نہ یہ نہ باقی مرنے والی عورتیں۔وہ عورت تو زِندگی کے ایسے دورانئے میں آپریشن تھیٹر میںلائی گئی تھی جو طویل تر ہو گیا تھا‘ اتنا کہ کاٹتے رہنے سے بھی کٹنے میں نہ آتا تھا۔

سات سو بائیس مریضوں کے آپریشن کے چھ برس کتنی جلدی بیت گئے تھے۔ میرا اپنا دل اُس سارے عرصے میں عین پسلیوں کے بیچ نشتر چلاتے ہوے ایک بار بھی نہیں کانپا تھا۔ جنہیں زِندگی ملنا تھی ‘ انہیں میرے نشتر کی دھار سے ملی اورجن کی سانسوں کا کوٹہ ختم ہو گیا تھا انہیں میراخلوص اور انتھک محنت بھی زِندگی نہ دلا سکا تھا۔ تاہم جب میری مہارت اور قابلیت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تو ڈاکٹر میرباز سے ملاقات ہوگئی۔

ڈاکٹر میر باز سے میں پہلے بھی مل چکا تھا غالبا پہلی بار ان دنوں جب وہ وفاقی علاقے میں اپنا ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھاان دنوں وہ اس سرکاری ہسپتال کے سربراہ سے ملنے آیا تھا جس میں‘میں پریکٹس کرتا تھا۔ اسے بہت سے امور میں میرے باس کی مدد چاہیے تھی‘ یہ مدد اسے ملتی رہی ایک شاندار ہسپتال اس کے دیکھتے ہی دیکھتے بن گیا۔ جتنے سرکاری ادارے اس کے پینل پر آسکتے تھے وہ لائے گئے اور اس میں بھی میرے باس کی مدد شامل تھی۔تاہم میں اسے دیکھتا تھا تو مجھے ابکائی آنے لگتی اور جب اس کے ہسپتال کے پاس سے گزرنے کا موقع نکلتا تو مرعوبیت مجھ پر چڑھ دوڑتی تھی۔ شاید یہی وہ اسباب تھے کہ میںاس کے قریب نہ ہو پا رہا تھالہذا اپنے کام میں مگن ہو گیا حتی کہ وہ دن آگیا کہ جس کی شام کو ہمیں کرائے کا مکان بدلنا تھا اور نفیسہ نے‘ جو ابھی نافی نہیں بنی تھی‘ ہاتھ ملتے ہوے کہا تھا کہ ہم کب تک کرائے کے مکان بدلتے رہے گے۔ یہ بات نفیسہ نے عین اس وقت کہی تھی جب اس نے سامان گھسیٹتے ہوے میری پشت سے اَپنی پشت کو ٹکرالیاتھا۔ اس ٹکرانے میں کچھ ایسا لطف تھا کہ وہ یونہی سی ایک بات سمجھ کر اپنے اس جملے کو بھول گئی تھی جس کی تلخی میرے اندر اتر گئی تھی۔ جب وہ مزے سے اور اپنے آپ سے بے پروا ہو کر ہنس رہی تھی تواس کی آواز کے ہلکوروں میں ایک میٹھا سا بھید چھلکنے لگا تھا۔ اس بھید میں اس کا بدن ڈوب اُبھر رہا تھا۔ میں نے اُسے نظر بھر کر دیکھا تھا اور ساری تلخی بھول کران ہلکوروں میں خود بھی بہہ گیا تھا۔

آخری پارچہ

اسے سننا‘ اس کی آواز کے ہلکوروں میں بہہ جانایا پھر اُس کے بدن کویوں دیکھنا کہ لطف اور لذت ساری دُکھن سمیٹ لے ایک مُدّت کے بعد ہوا تھا۔ اتنی مُدّت کے بعد کہ اب یہ اندازہ کرنے کے لیے‘ کہ آخری بار ایسا کب ہوا تھا ‘مجھے ذہن پر بہت زور دینا پڑے گا۔
ذہن پر غیر معمولی زود دیئے بغیر یہ بات میں یقین سے کَہ سکتا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ہسپتال سے الگ ہونے اور ڈاکٹر میر باز کے نئے ہسپتال میں میرے پہلے آپریشن سے بھی پہلے کا تھا۔ جی ‘اس پہلے آپریشن کا جس نے ابھی ابھی میری آنکھیں خُون میں نہلا دی تھی۔ بعد کے برسوں کی تعداد اور یادیں میں نے قصداُ سینت سینت کر نہیں رکھی تھیں کہ انہیں سوچوں تو مجھے خود پر ویسی ہی اُبکائی آنے لگتی جیسی کبھی ڈاکٹرمیر باز خان کو دیکھ کر آتی تھی۔

تاہم اس وقت میرا مسئلہ ابکائی نہیں آنکھیں تھیں جو درد سے پھٹی جارہی تھیں۔
”دیکھو موظی ڈیئر بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے سو جاﺅ‘خود ہی آرام آجائے گا“

اس نے اس بار بھی میری آنکھوں میں دیکھے بغیر یہ کہا تھا۔ جملے کی ساخت میںبہ ظاہر محبت اور تشویش تھی مگر آواز جس مخرج سے برامد ہوئی تھی اس نے اسے سپاٹ اور سارے ممکنہ جذبوں سے عاری بنا دیا تھا۔

اس طرح بولنا اور اسی طرح کی آوازوں کو سننا اور ان کے مطابق اپنے آپ کو حرکت دینا اب ہماری زِندگی کا معمول تھا۔ لہذا میرے لیے وہاں کھڑے رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔

میں گذشتہ طویل عرصے سے مختلف دوائیں پھانک رہا تھااور کچھ ہی دیر پہلے اَپنی ابلتی آنکھوں میں قطرے بھی ڈال لیے تھے۔مگر وہ درد جس نے میری آنکھوں کو گروی رکھا ہوا تھا۔ ٹلتا ہی نہ تھا۔اور نافی کا کہنا تھا کہ مجھے آرام کرنا چاہیے۔

بیڈ پر بیٹھتے ہی میں نے زور سے خود کو پیچھے گرا دیا۔ خود کو یوںگرانے سے میں ایسی آواز پیدا کرناچاہتا تھا جو نافی کو متوجہ کرلے مگر فومی گدے کی نرماہٹ پر میرا بدن جھول کر رہ گیا۔ اَپنی اس کوشش کے بعد اس کو دیکھا۔ وہ پہلے کی طرح آئینے میں مگن تھی تاہم میں نے محسوس کیا تھا کہ جب تک میں وہاں کھڑا رہا ‘وہ بھی کھڑی رہی تھی ‘ یوں جیسے آئینہ اس کے وجود سے کھڑا تھا۔ مگر اب وہ بیٹھ چکی تھی اور آئینہ اسے جُھک جُھک کرجھانک رہا تھا۔

دودھ جیسی گوری گردن تک سلیقے سے ترشے ہوے بالو ں کو چھونے کے لیے جب نافی دونوں کہنیاں باہر کو اُٹھا کر ہاتھ پیچھے کو لے آئی تو ایک بار پھر میں اَپنی اُبلتی آنکھوں کو بھول گیا۔ اس نے ہتھیلیوں کا رخ اپنے گالوں کی طرف کیا دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیوں کو اوپر اٹھایا اور پھر انہیں لچکا کر بالوں کے نیچے گردن پر رگڑتے ہوے باہم ملا لیا۔ اس کے سارے بال ان ننھّی مُنّی انگلیوں کے اوپر جمع ہوے گئے تھے۔ پھر اس نے یکدم ہاتھوں کو کچھ یوں جنبش دی کہ بالوں کے نیچے سے نکل آنے والی انگلیوں سمیت دونوں ہاتھوں کی آخری تین تین انگلیاں تتلی کے پروں کی طرح ہوا میں لہرا گئیں‘ کچھ اس ادا سے کہ باقی کی انگلیاںپہلے سے سمٹے سمٹائے بالوں کو دھیرے دھیرے اَپنی پوروں سے بوسے دینے لگی تھیں۔

عین اس لمحے میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں بلکی ہو گئی تھی۔ قمیض کی سَلوٹیں اُس کے بدن کے گداز میں دھنس رہی تھیں۔ گلا آگے پیچھے دونوں طرف سے ڈیپ تھا جو اندر کی ساری نرمی باہر پھینک رہا تھا۔ بازو اوپر اٹھانے سے اس کے کولہے دائیں بائیں اور پیچھے کو کچھ اورپھول گئے تھے۔ اتنے کہ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی تھی کہ میں اٹھ کر انہیں پیار سے تھپتھپادوں۔ میں نے اٹھنا چاہا بھی مگر آنکھوں کی شدید چبھن نے مجھے اٹھنے ہی نہ دیا اور وہ خواہش قضا ہوگئی۔اتنی شدید اور اتنی خالص خواہش کے اس قدر مختصر دورانئے پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاہم عین اسی لمحے پر حیران بھی تھا۔ اور حیرت اس بات پر تھی کہ یہ خواہش میرے اندر ابھی تک موجود تھی۔اب میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔

جو نہی میں قبر کے پیندے سے جا لگا ٹیلی فون کی گھنٹی چیخنے لگی۔ میں گن نہیں پایا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی کتنی بار بجی تھی تاہم آخری بار ابھی اس کی گونج پوری طرح معدوم نہیں ہوئی تھی کہ نافی کے ہیلو کہنے کی آواز سنائی دی۔ دوسری طرف جو بھی تھا اسے نافی نے یہ نہ بتایا تھا کہ میں اس کے کہنے پر آرام کر رہا تھا۔ اُس نے اگلے آدھے گھنٹے کے اندر میرے پہنچنے کا خود ہی تخمینہ بھی لگا لیا تھا۔ بات مکمل کرتے ہی اس نے مجھے جھنجھوڑ ہی ڈالا تھا اتنی زور سے کہ اتنا جھنجھوڑنے پر مُردے بھی زندہ ہو سکتے تھے۔
وہ آپریشن ڈے تھا اور مجھے اُوپر تلے تین آپریشن کرناتھے۔

جب میں تیار ہو کر اپنے خوب صورت گھر کے پورچ سے اَپنی نئی گاڑی نکال رہا تھا تو نہیں جانتا تھا کہ ایک مرا ہوا شخص زِندگی کے بخیے کیسے لگا پائے گا۔
Image: Zafar Iqbal

Categories
فکشن

لوتھ

اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔

ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاؤ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے۔۔۔۔ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوں پرچلتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے تھے اورچڑھواں درد گھٹنوں کی جکڑن بن گیا تھا۔۔۔۔ حتی کہ دَردوں کی تپک اس کے حواس معطل کرنے لگی۔ اُسے سمتوں کا شعور نہ رہتا تھا۔ جدھر جانا ہوتا، اُدھر نہ جاتا بل کہ اُلٹ سمت کو نکل کھڑا ہوتا۔
اُسے بار بار ڈھونڈ کر لایا جاتا۔

ہر بار اُس کے زخم رِس رہے ہوتے تھے۔

زخم تھے تو بہت پرانے مگر بیٹے پر اُن کے کُھلنے اور حواس پر شب خُون مارنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ اس کا بیٹا ٹی وی کے سامنے بیٹھا بار بار دِکھائے جانے والے وقت کے عجوبہ سانحے کو حیرت سے دِیکھ رہا تھا۔ پہلے ایک طیارہ آیا ٗ قوس بناتا ہوا۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ ایک فلک بوس عمارت سے ٹکرا گیاٗ شعلے بھڑک اُٹھے۔۔۔۔۔۔ اور اَبھی آنکھیں پوری طرح چوپٹ ہو کر حیرت کی وسعت کو سمیٹ ہی رہی تھیں کہ منظر میں ایک اور طیارہ نمودار ہوا۔ پہلے طیارے کی طرح۔۔۔۔۔۔ اور پہلی عمارت کے پہلو میں اُسی کی سی شان سے کھڑی دوسری عمارت کے بیچ گھس کر شعلے اُچھال گیا۔

وہ اپنے بیٹے کے عقب میں بیٹھا یہ سارا منظر انوکھے اطمینا ن سے دیکھتا رہا ٗ جیسے یہی کچھ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ یا پھر جیسے یہی کچھ ہونا چاہیے تھے۔ اَگلے روز اطمینان کی جگہ بے کلی نے لے لی۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ کچھ ہی دنوں میں وہ دہشت زدہ ہو چکا تھا۔

جب پہلی بار یہ منظر سکرین پر دِکھائی دِیا تھا ٗ انوکھی طمانیت کی بھبک کے باعث اُس نے اَپنے ہی تلووں کے زخمی حصے کو سختی سے دَبا لیا تھا جس کے سبب اس کے ہونٹوں سے سسکاری نکل گئی تھی۔

بیٹے نے پلٹ کر باپ کو دِیکھا اور فوری طور پر اس سسکاری کے کچھ اور معنی نکالے تھے… تاہم جب اُس کی نظر رِستے ہوے تلووں پر پڑی تو بہت پریشان ہو گیاتھا۔
اُسے گلہ تھا کہ آخر اُس سے ان زخموں کو اوجھل کیوںرَکھا گیا تھا؟
وہ اَزحد فکرمندی ظاہر کرنے لگاتھا ٗ …اور شاید فکر میں مبتلاہو بھی گیا تھا…لگ بھگ اِتنا ہی فکر مند، جتنا کہ دونوں فلک بوس عمارتوں کے ساتھ طیاروں کے ٹکرانے کے بعد ہوا تھا۔

بعد کے دنوں میں دَرد اور تشویش میں اِضافہ ہوتا چلا گیا حتّی کہ دونوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔

پھر یُوں ہوا کہ بیٹے نے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرنے والی ملٹی نیشنل اداروں کے ڈاکٹروں کی ٹیم سے رابطہ کیا۔ غیر ملکی ڈاکٹروں نے یہاں کے ڈاکٹروں کو مشورہ دِیا اور اُن صورتوں پر غور ہونے لگا جو اُس کے باپ کے علاج کے لیے ممکن تھیں۔

مگر اُس کا باپ اِن ڈاکٹروں کے نام ہی سے بِد کنے لگا تھا۔ اُسے نہ جانے کیوں اُن کی صورتیں اس کمپنی کے کارپردازان کی سی لگنے لگتی تھیں، جنہوں نے اپنے پراجیکٹ ایریا تک بہ سہولت رسائی کے لیے سامنے کی پھلواری بھی ایکوائر کروا لی تھی۔ اُس کے باپ کا خیال تھا کہ تب جوزمین کو زخم لگے تھے اُس کے پاؤں کے تلووں نے سنبھال لیے تھے۔ اُس کا بیٹا کورآباد کو نکلتی سراب اُچھالتی شاہ راہ پر لمبی ڈرائیو کرتے ہوے اُن باتوں کی بابت سوچتا اور قہقہے مار کر ہنستا تھا۔

وہ قہقہے مار مار کر ہنستا رہا حتّی کہ قہقہوں کے تسلسل سے اُس کی آنکھوں میںکسیلا پانی بھر گیا۔
جب اُس کا باپ رَفتہ رَفتہ اَپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا، تب بھی اُس کی آنکھوں میںایسا ہی کسیلا پانی تھا۔

پہلے پہل یوں ہوا تھا کہ ٹی وِی پر دونوں عمارتوں سے جہاز ٹکراتے دِیکھ کر وہ بھی قہقہہ بار ہوا ٗ اور ہوتا چلا گیا۔۔۔ حتّی کہ آنکھیں کڑوے پانیوں سے بھر گئیں۔ جب اُس کی آنکھیں، بار بار نشر کیا جانے والا منظر، دیکھنے کے قابل ہوگئیں تووہ عجیب طرح سے سوچنے لگا تھا۔ منظر میں توجہاز جڑواں فلک بوس ٹاورز کے بیچ گھستے تھے مگر اُسے یوں لگتا،جیسے وہ دونوں ٹاورز لوہے اور سیمنٹ کے نہ تھے، اُس کی اَپنی ہڈیوں اور ماس کے بنے ہوے تھے۔

اُدھر سے جب بھی شعلے اُٹھتے تھے اِدھر اس کے درد کی چاہنگیں اُسے جکڑ لیتی تھیں۔
دَرد بڑھتا گیا ، اِس قدر۔۔۔۔۔ جس قدر کہ وہ بڑھ سکتا تھا۔

جِن ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹے نے رابطہ کیا تھا، اُن سب کا کہنا تھا ، بہت دِیر ہو چکی تھی۔ ٹانگوں کا کٹ جانا اُس کے باقی بدن کی بقا کے لیے ضروری ہوگیا تھا
اُس کے باقی بدن کو بچا لیا گیا۔

اس بدن کو، جس کے زِندہ یا مردہ ہونے کے بیچ کچھ زیادہ فاصلہ نہ تھا۔

خود اُسے بھی اَندازہ نہ ہو پایاکہ اَپریشن کے بعد وہ کتنے عرصہ تک بے سُدھ پڑا رَہا۔۔۔ تاہم اس سارے دورانیے میں اُس درد کی شدت کا سلسلہ شاید ہی معطل ہوا ہو گا، جو اَندر یوں گونجتا تھا کہ باہر کی سمت چھلک مارنے لگتا تھا۔

دَرد کی کَسمَساہَٹ جب ہونٹوں تک پہنچی تو اُس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے جکڑ لیا۔۔ دَرد چہرے کے خلیے خلیے کو تھرّانے لگا۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ پورے بدن پر لرزہ سا تَیر گیا۔

اور یہ وہ آخری لَرزَہ تھا جو اُس نے اَپنے پورے بدن پر بکھر جانے دِیا تھا۔

بدن پر لوٹتی تھراہٹ کے سبب اُس کے چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ سب سے زِیادہ فکر بیٹے کو لاحق تھی۔ بدن سے باہر چھلکتے درد کے باوصف اَبھی تک وہ باہر کی دنیا سے بہت دور تھا۔۔۔۔۔ کہ وہ تو وہاں تھا ٗ جہاں درد کے دَھارے کے ساتھ بسین نالے کا پانی تھا۔
اس پانی کے بہاؤ کی شوریدگی تھی

اور وہ ساری دہشت بھی تو وہیں تھی جسے پرے دھکیلنے کے وہ عمر بھر جتن کرتا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔

بسین نالہ۔۔ جہاں وہ رہتا تھا، وہاں سے سات میل ادھر پڑتا تھا۔ اَپنے اُن دِنوں کے دوستوں کے ساتھ وہ برسوں اس نالے پر جاتا رہا تھا۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں تھا کہ جب بہتے پانیوں کو دِیکھ کر خواہ مخواہ نہانے کو جی کرتا ہے۔ وہ اَپنی شلوار نیفے میں اُڑس لیا کرتا تھا ٗ بڑے پَلّوں والی بھاری شلوار کو اِتنے بَل دِیئے جاتے کہ اُس کا آسن کاٹنے لگتا تھا۔ وہ بسین میں گھس جاتا تو اُس وقت تک پانی سے باہر نہ نکلتا تھا جب تک کہ اُس کا آخری دوست بھی باہر نہ نکل آتا۔ بسین کا پانی اُچھالناٗ اُس کی ریت پر ننگے پاؤں چلنا اور پانی کے بہاؤ کی آواز سننا ٗ مَدّھم سی اور مَدُھر سی ٗ اُسے اَچھا لگتا تھا۔

وہ اَپنے دوستوں سے اِس قدر وابستہ ہوتے ہوے بھی اُن جیسا نہ ہو سکا تھا۔ اُس کے ساتھی عین اس وقت کہ جب وہاں سے ریل کو گزرنا ہوتا تھا ٗ اُسے کھینچ کر اُدھر اوپر لے جاتے۔۔۔۔۔۔ وہاں جہاں تنگ سے پُل کے اُوپر سے ریل گزرتی تھی تو سارے میں ریل کے گزرنے کی گڑ گڑاہٹ بھر جاتی تھی۔ ریل گزرنے کے لمحات میں وہ سب پُل کے نیچے سے اُوپر کا نظارہ کرتے اور قہقہے مارتے تھے۔۔۔۔ مگر وہ دہشت زَدہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلتا تھا۔ قہقہے مزید بلند ہوتے ٗ وہ ساری قوت مجتمع کرکے قدم اُٹھاتا ٗ اِتنی بھرپور قوت سے کہ جیسے اُس کا اگلا قدم وہاں پڑے گا جہاں نالہ دَم توڑ دِیتا تھا۔

بعد کے زمانے میں وہ اس چھوٹے سے نالے کی بابت سوچتا تھا تو اُس کا دَم ٹوٹتا تھا۔
وہ کوشش اور ہمت سے اس کی یادوں کو حافظے پر سے پرے دھکیلتا رہا۔
جب تک وہ حواس میں رہا، اَپنی اِس کوشش میں کام یاب بھی رہا۔

مگر بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔
پہلے پہل کا دِھیرے دِھیرے بہنے والا بسین نالہ، بپھر کر دَریا بن چکا تھا۔

وہ پُل، جس کے نیچے کی چھاجوں برسنے والی دہشت ،اسے پَرے پھینک دِیتی تھی ٗ پانیوں کی تندی میں بہہ گیا تھا۔
اور وہ فاصلہ ٗ جو وہ بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ پیدل ہی طے کر لیا کرتا تھا ٗ ٹرین پر طے ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین پراُس کے لٹے پٹے مسافروں سے کہیںزِیادہ خوف لدا ہوا تھا
دہشت میں گندھا خوف ٗ چیخیں اور سسکیاں اُچھالتا ہوا۔
پُل ٹوٹ جانے کے سبب پٹڑی اُکھڑ کر پانیوں کے سنگ بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اور رِیل گاڑی کو، کوس بھر پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔
ریل کے رُکتے ہی دہشت کا منھ زور ریلا اُمنڈ پڑا ،جو بسین کے کِنارے کِنارے دورتک پھیل گیا تھا۔ اُوپر کہیں شدید بارشیں ہوئی تھیں، یہاں بھی مینہ کم نہ برسا تھا اور ابھی تک پھوار سی پڑ رہی تھی مگر اُوپر کی بارشوںنے نالے کو دَریا بنا دیا تھا۔ حوصلے تو پہلے کے ٹوٹے ہوے تھے، آگے کا پُل ٹوٹ گیا تھا اوربلوائی کسی بھی وقت ان تک پہنچ سکتے تھے۔ بسین کا بپھرا ہوا پانی سامنے تھا، بلوائی نہیں پہنچے تھے مگر اُن کی دہشت پہنچ گئی تھی۔
شُوکتی ہوئی اور خوخیاتی ہوئی دَہشت…
خوف سینوں سے سسکاریاں کشید کرتا تھا…اتنی زیادہ اور اس تسلسل سے کہ یہ سسکاریاں بسین کے پانیوں کے شور شرابے پر حاوی ہو رہی تھیں۔

وہاں کچھ ہمت والے بھی تھے جو خوف کو پرے دَھکیلتے دَھکیلتے اُکتا گئے تھے۔ اب اُنہیں اُن کے حوصلے اُکساتے تھے لہذا، اُنہوں نے بپھرے پانیوں میں اَپنے قدم ڈال دیے۔

کئی پار چڑھ گئے تو اسے بھی یقین سا ہونے لگا کہ وہ بھی پار نکل جائے گا۔ اس نے اَپنی بیوی کا ہاتھ تھاما، ننھّی بیٹی کو کندھے سے لگایا اور ہمت والوں کے ساتھ ہو لیا۔ اُس نے بیوی کو نگاہ سامنے کنارے پر جمائے رَکھنے کی تلقین کی اور خود بھی پار دِیکھ کر آگے بڑھنے لگا۔

اُس کی بیوی کو آٹھواں آدھے میں تھا۔ پانی دِیکھ کر اُسے چکر آنے لگتے تھے ٗ ایک قدم آگے بڑھاتی تھی تودو پیچھے کو پڑتے تھے۔ وہ سامنے کنارہ دیکھتی تھی مگر اُچھلتا چھل اُچھالتا منھ زور پانی اس کا دھیان جکڑ لیتا تھا… حتی کہ وہ چکرا گئی ٗ پاؤں اُچٹ گئے اور وہ پانیوں پر ڈولنے لگی۔

اُس نے بیوی کو چکرا کر پانی پر گرتے ہوے دِیکھا تو اُسے سنبھالنے کو لپکا۔ ننھی بیٹی جو کندھے سے لگی تھی اس پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ بیوی کو سنبھالتے سنبھالتے بیٹی پانیوں نے نگل لی۔ اُس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ چند ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

وہ عین بسین کے وسط سے دُکھ سمیٹ کر واپس پہلے کنارے پر پلٹ گئے۔ وہیں انہیں رات پڑ گئی اسی کنارے پر قافلے کی عورتوں نے رات کے کسی سمے اَپنی اَپنی اوڑھنیوں سے اوٹ بنائی اور سسکیوں کے بیچ ایک معصوم کی ننھی چیخوں کا استقبال کیا۔

یہ وہی معصوم تھا جو اَب اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اُس نے خود ہی باپ کی ٹانگیں کٹوانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بیٹا ڈاکٹروں کے پینل سے پوری طرح متفق ہوگیاتھا کہ پاؤں کا گھاؤ پھیلتے پھیلتے اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ چلنے سے باز نہ آتا تھا۔۔۔۔۔یوں بقول اُن کے ٗ زخم تازہ ہو جاتے تھے۔ ان زخموں سے اُٹھنے والا سلسلاہٹ جیسا مسلسل درد اُس کے نچلے دَھڑمیں اِتنا شدید ہو جاتا کہ ُاس کی چیخیں نکلتی رہتیں۔ اِتنی بلند اور اِتنے تسلسل کے ساتھ کہ پڑوسی اُدھر ہی متوجہ رہتے تھے۔

ڈاکٹروں کے مطابق گھاؤ زہر بن گئے تھے لہذا اپریشن ضروری تھا۔ بیٹا بھی قائل ہو گیا تھا کہ اس ضمن میں باپ سے رائے لینا مناسب نہیں تھا اور وہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کا باپ کوئی معقول رائے دینے کے اہل نہیں رہا تھا۔

بیٹے کو یقین ہونے لگا تھا کہ وہ ساری صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتا تھا لہذا اَپنے طور پر ہی ڈاکٹروں سے متفق ہو گیا۔ آپریشن خاصا طویل تھا، آپریشن ہو گیا تو ڈاکٹروں نے حسب عادت اُسے تسلی دیتے ہوے کہا، اس کا باپ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا…
مگر جب باپ کو ہوش آیا تو وہ اپنے ہی بیٹے سے ایک اور گھاؤ پوری طرح چھپا لینے کے جتن کر رہا تھا۔
یہ اس کے دِل کا گھاؤ تھا۔

ایسا گھاؤ، جس کے اندر سے دَرد کا عجب غراٹا اٹھتا تھا۔۔۔۔۔
وہ غراٹا ،جو بدن کو تھرانے کے بجائے اسے لوتھ کا سا بنا دیتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Mike Halem

Categories
فکشن

سر بُریدہ خواب

میں کسی نامعلوم زبان میں سوچنا شروع ہو گیا۔ میرا خواب دلدلی زمین میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔منظر اندر ہی اندر ایک دوسرے کو تیزی سے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے۔ اندر سے ابھرتی ہوئی آواز بھدی، بھاری اور مدہم ہوتی چلی جا رہی تھی میرا سانس بھی قدرے نوکیلا ہو رہا تھا۔ میں جنگ ہارنے والا تھا مجھے لگا کہ اب کسی بھی لمحے میری آنکھ کھلنے والی ہے میں نے اپنی پلکوں کو زور سے میچ لیا ۔کنواں اپنے سرے تک لبالب بھر چکا تھا آہستہ آہستہ پانی رسنا شروع ہو گیا۔ میں ہربڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ کچھ دیر تک کمرے میں کچا خواب جلتا بجھتا رہا پھر وہ ہولے ہولے دھند کی طرح چھٹنے لگا۔ آس پاس کی چیزوں کے نقوش واضح ہونے لگے۔مبہم نامعلوم میں ڈوب رہا تھا بس دور جاتی ہوئی ایک لمس کی میٹھی سی کیفیت سینے ، پیٹ اور رانوں میں سرسراہٹ کر رہی تھی۔ میں بستر پر بیٹھا جانے کیا سوچے جا رہا تھا۔

میرا زندہ ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پیدائش کے ابتدائی دنوں سے ہی میرا سانس بات بہ بات رُکنے لگتا۔ ایسے میں میری انگلیاں مڑ جاتیں اور میرا چہرہ سیاہ ہو جاتا۔ میری ماں کے آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے اور انہیں یقین ہو جاتا کہ انہوں نے مجھے گنوا دیا ہے ایسے میں زندگی ایک چیخ بن کر میرے اندر سے ابھرتی اور میرا وجود ہلکورے لینے لگتا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد میرا سانس پھر بند ہونے لگتا۔ سب کو لگتا تھا کہ میں چند ماہ سے زیادہ نہیں جی پاوں گا لیکن میں جیتا رہا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جو دوسرا آزار تھا وہ یہ تھا میری نظر بھی ٹھہرتی نہ تھی شروع شروع میں سب بچوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے میں بڑا ہوتا گیا لیکن میری نظر نہ ٹھہر سکی۔ منظر میرے سامنے دوڑتے پھرتے رہتے اور میں ان کو پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہو جاتا۔ میرا سر چکرانے لگتا لیکن میں کوئی بھی چیز تفصیل سے دیکھ نہیں پاتا تھا۔ میں تھک کر اپنی آنکھیں بند کر دیا کرتا ایسے میں نامعلوم سائے میرے پلکوں کے اندر ریس لگانا شروع کر دیتے ۔دنیا میرے سامنے سرپٹ دوڑتی رہتی اور میں ٹرین کی ونڈوسیٹ پہ بیٹھا ہمیشہ آس پاس کے منظر سے آگے نکل جاتا۔ میں رکنا چاہتا تھا ،ٹھہرنا چاہتا تھا مگر میں ہمیشہ آگے نکل جاتا اور وقت میرے پیچھے چلتا آتا ۔ مجھے بہت خواب آتے تھے مگر میں آج تک کسی خواب کو پکڑ نہ پایا یہاں تک کہ مکمل تاریکی چھا جاتی میں اُس اندھیرے میں بھی دوڑتا چلا جاتا۔میں ہمیشہ سوچتا کہ کیا ہو کہ یکایک سب کچھ ٹھہر جائے سال، مہینے، لمحے سب دھندلے چہرے اور میں ان سب کو جی بھر کر دیکھتا رہوں۔

ایک دن میں گلی میں چل رہا تھا میں ہر دو قدم پر رک جاتا کہ میرا سایہ میرے ساتھ آ ملے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کسی انتظار میں پیچھے ٹھہرجاتا ایسے میں میرا دل کیا کاش شکر دوپہر ہو جائے اور دھوپ تمام سایوں کو نگل جائے اور یہ آنکھ مچولی ختم ہو۔ اسی دن میں نے اُسے پہلی بار اُسے دیکھا وہ گلی کی نکڑ پر اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل کسی چوپائے کی طرح کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سامنے کو اُٹھا ہوا تھا ۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہیں تھیں اس کے ہونٹ کُھلے ہوئے تھے جس سے رالیں بہہ رہی تھی۔ میں اور میری نظر ایک لمحے میں اُسے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے تھے کہ یوں لگا کہ جیسے اُس نے ایک جست بھری اور مجھے دبوچنے کو ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ میری گردن کے قریب پہنچا تو یکایک اندھیرا ہو گیا اور وہ اس اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو وہ ابھی بھی اُسی جگہ کھڑا تھا اور سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں اُسے زیادہ غور سے نہ دیکھ پایا میری نظریں آگے نکل گئیں۔ لیکن جیسے ہی میری نظروں نے اُسے کراس کیا مجھے پھر لگا کہ وہ تیزی سے دوڑاتا ہوا مجھ پر حملہ آور ہونے کو ہے جب مجھے لگا کہ بس وہ مجھے دبوچنے ہی کو ہے تو میری نظر پلٹی پھر وہی ایک سیاہ لمحہ اور وہ وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ میں پسینے میں شرابور ہو گیا تھا۔ میرا سانس پھر بند ہونے لگا میرے قدم جیسے زمین نے پکڑ لیے۔ میرے ہاتھ پاوں کپکپا رہے تھے۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن میں ہل بھی نہیں پا رہا تھا صرف میری نظر دوڑتی جا رہی تھی اور وہ اس کے تعاقب میں دوڑ پڑتا میری نظریں سر گھما کر اُسے دیکھ نہ پاتی جب وہ آخری سرے پر پہنچ کر واپس اُس پر پڑتی وہ وہیں جما ہوتا۔ یہاں تک کہ میرا سانس مکمل بند ہوگیا اور میں بے ہوش کر گر پڑا۔ لوگ مجھے اُٹھا کے گھر لے کر جا رہے تھے اور میری بند پلکوں کے اندر اُس شخص کا سایہ میری طرف دوڑتا چلا آ رہا تھا۔

اس کے بعد اُٹھتے بیٹھتے اُس کا خیال میرے اندر کروٹیں لیتا رہتا اور میں اُس سے پہلو نہ چھڑا پاتا۔ وہ ایک خوف بن کے میرے اندر بس گیا تھا۔ مجھے ہر سمت اُس کے سائے نظر آتے جو مجھ پر حملہ آور ہوتے لیکن وہ کبھی مجھ تک پہنچ نہیں پاتے اور بالکل قریب آ کر غائب ہو جاتے۔ میں دوبارہ اُس گلی میں جانا نہیں چاہتا تھا لیکن روز صبح صبح میرے قدم اُس گلی کی طرف بڑھنے لگتے اور وہ ہمیشہ کی طرح گلی کی نکڑ پہ کھڑا ہوتا اُسے بھی شاید میرا انتظار ہوتا تھا۔ جتنا شدید ڈر مجھے اُسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا اُس سے کہیں زیادہ کشش مجھے اُس کی طرف کھینچ کر لے کر جانے پر مجبور کرتی۔ جیسے ہی میری نظر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھتی اور وہ بجلی کی سی تیزی سے حملہ آور ہوتا خوف میری ہڈیوں میں سرائت کر جاتا۔ میرے قدم رک جاتے اور میرا دل اچھل کر حلق سے جا لگتا۔ شدید ترین خوف سے میں کُبڑا ہو جاتا اور وجود کے ہر مسام سے پسینے چھوٹنے لگتے میرا سانس رکنے لگتا میری نظر ایک پل کو ٹھہرتی اور ایک جھٹکے سے مجھے انزال ہو جاتا اور میں تیز تیز سانس لینا شروع ہو جاتا۔

پھر ایک دن میں شاید نیند میں تھا اور میرے خواب کا بہاو بہت تیز ہو رہا تھا۔ میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے اُس آخری مقام پہ پہنچا جہاں وہ ہمیشہ کی طرح گھٹنوں اور کہنیوں کہ بل کھڑا تھا۔ اس دن اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ کہنے لگا “ میں پیدا ہوا تو میری ہڈیاں بہت کمزور تھیں اور میں آسانی سے حرکت نہ کر سکتا تھا ۔ میں سارا دن سیدھا لیٹا پڑا رہتا ۔ میری نظروں کے سامنے گھر کی چھت ہوتی میں اُسے تکتا رہتا عین میرے سر کے اوپر پنکھا تیزی سے چلتا رہتا اور میں بے مقصد اُسےگھورتا رہتا۔ کبھی کبھی چھت کے اس آسمان سے میری ماں کا چہرہ طلوع ہوتا اور میرے چہرے پہ جھک جاتا۔ یہ واحد انسانی چہرہ تھا جسے میں پہچانتا تھا۔ میری ماں مجھے اٹھاتی ،پیار کرتی، نہلاتی، دھلاتی اور مجھ سے وہ باتیں کرتی جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ بس میں گھور گھور کر انہیں دیکھتا رہتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے میرے باپ کی کہانیاں سناتی تھی کیوں کہ وہ کبھی کبھی پرجوش ہو جاتی، کبھی مسکرانے لگتی اور کبھی اُس کی آنکھوں اور ناک سے پانی بہنے لگتا۔ میں بڑا ہو رہا تھا اور میرا وزن تیزی سے بڑھا رہا تھا اب میری ماں اکثر مجھے اُٹھاتے ہوئے تھک جاتی اور کبھی کبھی مجھے کوسنے لگتی جس کے بعد وہ اور میں دونوں رونے لگتے اور وہ مجھے زور سے سینے سے لگا لیتی۔ مجھے نامعلوم لوگوں، شہروں اور ملکوں کے خواب آتے۔ میں ہمیشہ خوابوں میں خود کو اڑتا ہوا نامعلوم ملکوں کی سیر کرتے ہوئے پاتا۔ میں جھیلوں، آبشاروں میں تیرتا پھرتا۔ مجھے تتلیوں اور پھولوں سےبھرے باغات نظر آتے ۔ جب میں جاگتا تو بہت دیر تک ان پھولوں کی خوشبو میرے بستر سے آتی رہتی یہاں تک کہ میرے اپنے وجود کی بو اُس خوشبو کو نگل لیتی۔ ایک رات میں بستر پر لیٹا کسی نامعلوم خواب کے انتظار میں پڑا تھا کہ میرے کانوں میں آواز گونجی۔ میری ماں سجدے میں پڑی اپنے خدا سے کہہ رہی تھی کہ ائے خدا میری مدد کر میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور میں اس بوجھ کو مزید نہیں اٹھا سکتی۔ اپنی امانت واپس لے لے۔ یہ سن کر میرا پورا وجود سُن ہو گیا۔ میرے ہاتھ پاوں کانپنے لگے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مجھ میں مرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں رینگتا ہوا بستر سے زمیں پہ آیا۔ میرے کانوں سیٹیوں کی آوزیں گونجنے لگی۔ میں کسی پالتو جانور کی طرح سیٹی کی آواز پر کہنیوں اور گھٹنوں کے بل بھاگنا شروع ہو۔ مجھے یاد نہین کب میں نے گھر کی دہلیز پار کی، کب میں اپنی گلی کب میں اپنے محلے سے نکلا۔ میں بس بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ میری کہنیوں اور گھٹنوں سے خون رس رہا تھا لیکن میں دوڑتا چلا گیا۔میں نے اپنا بچپن، اپنی ماں اور اپنا ایمان بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا “

اُس کا چہرہ میرے سامنے تھا وہ رو رہا تھا، اور میں بھی، وہ تھک چکا تھا اور میں بھی۔ہم ایک دوسرے سے ایک پل کو جدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اس خواب کی آخری دہلیز پر ایک نیلی آنکھوں والا نوجوان کھڑا تھا۔ ہم دونوں نے اُس کی طرف دیکھا اور اپنے خواب میں اُس کی موجودگی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا۔

۔وہ نیلی آنکھوں والا خواب گر دیوتادیوتاوں میں سب سے جدا تھا۔ وہ آسمانی دیوتاوں کے لئے خواب تخلیق کرتا تھا۔ پھر اُس نے لافانی خواب تخلیق کئے جس کے زیر۔اثر سبھی دیوتا نامعلوم لمحوں کے لئے سو گئے۔ وہ اب تھک چکا تھا اُس کی انگلیاں خواب لکھتے لکھتے خون آلود ہو گئی تھیں۔ وہ ان سب کو سوتا چھوڑ کر لامحدود خلاوں میں اُتر گیا۔ اُس کی انگلیوں سے قطرہ قطرہ خون ٹپکتا رہا ۔ ہزاروں لاکھوں کہکشائیں غنودگی میں جا رہی تھیں۔ کا ئناتوں میں سحر بکھرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک دودھ پیتی کہکشاں تک پہنچا۔ وہ ان لوگوں تک پہنچا جو خواب دیکھنا نہ جانتے تھے۔ ان کی آنکھیں پتلیوں کے اندر تیزی سے حرکت کرتی تھیں۔اُس نے ان کی نظروں کو ٹھہرانا تھا پھر اس میں خواب اتارنےتھے۔ تہذیب یافتہ لوگوں کو خواب دکھانا دیوتاوں کے لئے بھی کتنا مشکل تھا۔ اُس نے چھٹی سمت کو چنا اور وہاں اپنے خواب بکھیر دئیے۔ یہ وہ راستہ تھا جس سمت کوئی نہیں آتا تھا۔ پھر لوگوں کے قدم ڈگمگانے لگے۔ وہ اپنے خوابوں پر اوندھے منہ گرنے لگے۔ پہلے پہل کسی کو سمجھ نہ آیا کہ وہ اپنے خواب لے کر کدھر جائے۔ سبھی دیوانے ہونے لگے۔ ایک نوجوان اُٹھا اُس نے مقدس نشان زمین پہ دے مارا اور پاس کھڑی لڑکی کو باہوں میں لے لیا۔ لڑکی نے ایک طویل بوسے کے بعد ٹشو سے اپنے ہونٹ پونچھے اور شرما کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اُس کا باپ جان بوجھ کر بے خبر بن کر مقدس گیت دہرانے لگا۔ ان سیٹ میں سارے دیوتا نیند میں تھے اس لئے کسی نے اُس طرف توجہ نہ دی۔ سُرخ بتیاں جلا دی گئیں غلاموں نے اپنے گلوں کے طوق کھول لئے اور سروں سے لپیٹ کر ملی ترانے پڑھنے لگے۔ موت کی خوشبو ہر سو پھیلنے لگی لوگ پلیٹوں میں اپنے ہم جنسوں کو سررکھے چھری کانٹے سے کھانے لگے۔ اس شدید بھوک کہ باوجود وہ اپنے کوٹ کے بٹن کھولنے اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنی نہ بھولے۔ سب لوگوں نے اپنی مقدس کتابوں کو آگ لگا دی اور موت کو سولی پہ چڑھا کے زندگی کے خواب دیکھنے لگے۔ آگ جب آسمان تک پہنچی تو دیوتا ہربڑا کر اُٹھ بیٹھے۔ نیلی آنکھوں والے دیوتا کو زنجیروں سے باندھ کر آسمان پر لایا گیا اور سماوٰی خوابوں کو زمین میں بونے کے جرم میں ایک خواب کے قید خانے میں اترنے کا حکم سنا دیا۔ یوں یہ دیوتا ہمارے خواب میں آ کر قید ہو گیا۔

اب ہم تینوں ایک خواب میں قید تھے جس کے چاروں سروں پر اندھیرا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ خواب کی زمین تنگ ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ہم تینوں سمٹ کر ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ہمیں مزید اندر دھکیلا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوجھے کو گلے لگا لیا۔ ہم ایک نقطے کی طرح سمٹ رہے تھے۔ میں خواب سے بیدار ہونا چاہتا تھا۔ گھٹن اتنی بڑھ گئی تھی کہ میرا سانس بند ہونے لگا۔ میں چیخنا چاہتا تھا، میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔ وہ دونوں میری نطروں کے سامنے تحلیل ہو رہے تھے اور یہ منظر میری آنکھوں میں پتھر ہو گیا۔ میرا سانس کبھی نہ بحال ہونے کے لئے بند ہو گیا۔

Image: Dimitry Vorsin

Categories
فکشن

ہاں، یہ بھی روشنی ہے!

کچھ نہیں بدلا۔ سب کچھ بدل گیا۔ اس محل میں اس نے انتیس برساتیں گزاری تھیں۔ بارہ سال بعد محل پر پہلی نگاہ پڑی تو لگا کہ کچھ نہیں بدلا، دوسری نظر سے معلوم ہوا، کچھ پہلے جیسا نہیں۔کتنی برساتیں گزریں تب کہیں جاکر دوسری نظر حاصل ہوئی۔ بوڑھے باپ کی التجا اسے محل میں لائی تھی۔باپ سے دیکھا نہیں گیا کہ شاہی قبیلے کا وارث اپنی رعایا کے دروازے پر کھڑا ہو۔باپ نے بیٹے کو دیکھا۔سمجھا پھر بھی نہیں،بیٹااس کا وارث نہیں۔ بیٹے نے وراثت کا اصول بدل دیا تھا۔باپ، بیٹے کو نام دے سکتا ہے، وراثت بیٹاخود بناتاہے۔راجہ کا بیٹا، راج کوگردکی طرح جھاڑ دیتاہے، اور ننگے پاؤں چلتے ان زمانوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں کی خبر بھی باپ کو نہیں ہوتی۔وہ اپنا حسب نسب نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔باپ اور اس کے پرکھوں کا شجرہ الگ ہوجاتاہے۔

اس کو محل کی سیر کی ہو س نہیں تھی۔وہ جہاں چاہتا سیر کے لیے جاسکتا تھا۔محل میں اس کی نظریں سیکڑوں لوگوں پر پڑ رہی تھیں۔وہ سب اسے تعظیم و پرستش کے جذبات سے دیکھ رہے تھے،مگراس وقت اس کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ رفیق خاص نے پہلی بار اس کی آنکھوں کو بے چین دیکھا تو پریشان ہوا۔وہ سمجھ گیا۔رفیق خاص سے کہا:سنو،ایک بے چینی ایسی بھی ہے جوصرف یاددلانے کے لیے ہے کہ وہ اب بھی آدمی ہے۔آدمی ہونا ایک بات ہے، اور آدمی رہنا دوسری بات ہے۔رفیقِ خاص نے عرض کی،آدمی رہنا بڑی بات ہے۔

سب اشارہ پاکر رخصت ہوئے۔

وہ دونوں،اسی کمرے میں ہیں، جس میں اس نے چند گھنٹو ں کے بچے اور اپنی ہم عمربیوی کو چھوڑ کروفادار غلام کے ساتھ جنگل کا راستہ لیا تھا۔کیا میں اس کے دل کو پڑھ سکتا ہوں؟ اس نے سوچا۔وہ جہاں چاہتا تھا،چھن بھر میں پہنچ جاتا تھا۔وہ خود کو ہزاروں صورتوں میں،سب کی صورتوں میں ڈھال سکتا تھا، وہ آدمی سے بڑھ کر تھا،اس کے پاس وہ ساری روشنی تھی،جو آدمی میں ظاہر ہوسکتی ہے،اور جسے آدمی کی ہستی سہار سکتی ہے۔کیاوہ اس روشنی کے ساتھ،عورت کے دل میں اتر سکتاہے؟ اس نے ایک لمحے کو سوچا۔

تم چپ کیوں ہو؟ کچھ بولو۔
اس نے آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہرادیں۔ لو پڑھ لو۔
وہ اس کے دل میں تھا۔گزرے عالم کی سیر کرنے لگا۔

جب تم اس رات رخصت ہورہے تھے،ایک عجب بے قراری تمھارے قدموں میں تھی۔ تم تین مرتبہ کھڑکی تک گئے،باہر جھانکا،قدم آگے کیے،پھرواپس آئے۔ میرے پیروں کو پہلے چھوا،پھر ان پرپلکیں رکھیں،پھر ہونٹ رکھے۔تپش،نمی،مہک،لرزش،کچھ دوسری ان کہی چیزیں پاؤں کے راستے میرے دل میں اتر گئیں۔میرے پیروں پر ہونٹ تم نے رکھے،زمین میں،مَیں گڑ گئی۔تم نے میرے گال یا ماتھا یا ہونٹ اس لیے نہیں چومے کہ کہیں میں جاگ نہ جاؤں۔ تم بارہ سالوں میں یہ تک نہ جان سکے کہ میں تمھیں آنکھوں سے زیادہ،تمھارے بدن کی خوشبواور بدن کے گرد روشنی کے ایک ہالے سے پہچانتی ہوں۔۔۔۔جانے تم کس روشنی کو ڈھونڈنے گئے تھے۔۔۔۔تم جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے، میں نے تمھاری خوشبو محسوس کرلی تھی،حالاں کہ میں اس رات نڈھال تھی،اور خود اپنے جسم سے اٹھتی ایک اور طرح کی مہک محسوس کررہی تھی۔ تم نے سمجھا تم نے مجھ سے معافی مانگ لی،انتظار نہیں کیا کہ میں بتاسکوں کہ مجھ میں معاف کرنے کی سکت ہے بھی یا نہیں۔شاید تمھیں عورت کی استعدادکا خیال بھی نہیں آیا۔ یہ کیسی معافی تھی؟ تمھارادھیان میری طرف تھا کب؟ تم نے پالنے میں سوئے ننھے کو بارباردیکھا،جس کے آنے کا ہم نے بارہ سال۔۔۔پورے بارہ سال۔۔۔۔ہم دونوں نے انتظار کیا۔جب وہ آیا تو تم اسے بارہ گھنٹے بھی نہ دیکھ سکے۔تم نے ثابت کیا،منش کے لیے دنیا ہے،ناری کے لیے منش اور اس کا دیا ہوا تحفہ یعنی بچہ۔ایک نیا منش، جو کوکھ سے سیدھا چھاتی پر آجاتا ہے، پھر سینے میں۔ وہ ایک نئی قید میں آجاتی ہے۔ منش نہیں دیکھتا۔۔۔منش کچھ نہیں دیکھتا کہ کوکھ اور چھاتیاں سوکھتی ہیں تو عورت پر کیا گزرتی ہے،وہ تو دنیا کے لیے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں ساری دنیا کے راز جاننے کا جنون ہوتا ہے،نہیں ہوتا تو عورت کے دل کو جاننے کا جنون۔وہ عورت کے دل کوجیتنے،اور آگے بڑھ جانے سے پرسن ہوتاہے۔
وہ دونوں اپنے کمرے میں تھے۔

تم وہ نہیں ہو، کوئی اور ہو۔تم کیسے اس دل کو پڑھ سکتے ہو؟تم پرائے بن گئے ہو۔تمھیں کہاں معلوم ہوگا،میں نے چھ سال تک تمھارے پل پل کی خبر رکھی۔ تم ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں گئے، ایک کے چرنوں میں بیٹھے، دوسرے کی بندگی میں پیش ہوئے۔سب کو چپ چاپ چھوڑا، اور آگے چلتے رہے۔تم نے بھوک پیاس کاٹی، بھوگ بلاس ترک کیا۔ بدن سو کھ کر کانٹا بن گیا، مانو یہ کانٹا میرے دل میں چبھ گیا۔اس کے بعد کی مجھے خبر نہیں۔ میں سوچتی تھی،تم ضرور واپس آؤ گے۔مجھے خود معلوم نہیں،مجھے یقین کیوں تھا۔شاید اس لیے کہ میں اس زندگی کو دھیان میں بھی نہیں لاسکتی، جس میں تم نہ ہو۔تم آئے ہو،پر کوئی اور بن کر۔ میں غلط سوچتی تھی،مجھے کہاں خبر تھی کہ جو سدھار جاتاہے،وہ واپس نہیں آتا۔وہ آتابھی ہے تو اور بن کر آتاہے۔

یہاں بیٹھو، میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔اس نے اشارے سے بلایا،اور کہا:نہ میں وہ ہوں،نہ تم وہ ہو۔
کیا میں تمھارے بچے کی ماں نہیں ہوں؟

تم میرے ہی بچے کی ماں ہو، مگروہ نہیں ہو، جو پہلے تھیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو بارہ سال پہلے تھے،یہ دھوکا ہے،ایک بھول ہے،اور اس بسواس کا نتیجہ ہے کہ ہم سدا موجودتھے،اور سدا موجود رہیں گے۔
میں تو وہی ہیں،مگر تم واقعی بدل گئے ہو۔اس نے اپنی آواز میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے کہا۔
اچھی بات ہے کہ تم مجھے پہچاننے لگی ہو۔خود کو بھی پہچان جاؤ گی۔ کوئی شے دائم نہیں،مگر دائم ہونے کا مسلسل دھوکا دیتی ہے،یہ گیان کی طرف پہلا قدم ہے۔

سب لوگ تمھیں سب سے بڑی آتما کہتے ہیں،تمھاری پرستش کرتے ہیں، میں تو پہلے دن سے تمھاری پوجا کرتی تھی۔میں نے سب سے پہلے تمھیں پہچانا تھا۔اس نے پرتیت سے کہا۔

آتما؟ کون سی آتما؟ آتما دھوکاہے۔ آتما ہوتی تو تم یوں نراش ہوتیں؟ آتما ہوتی تو میں اس طرح مارا مارا پھرتا؟
تم بدل گئے ہو، یہ تو تمھارے ان گیروے کپڑوں،ننگے پاؤں،ہاتھ میں کاسے ہی سے ظاہر ہے،مگر تم کاٹھ کے بن جاؤ گے،اس کا مجھے بسواس نہیں ہورہا۔اس کا دل جیسے زخمی تھا۔

اِس پراُس نے خاموشی اختیار کی۔ اس کا چہرہ اب بھی مطمئن تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ کمرے کی دیواروں کو دیکھا، اس کھڑکی کو دیکھا،جہاں سے وہ اس رات روانہ ہوا تھا۔ڈھلتے سورج کی زرد کرنیں کمرے کی دیواروں پر پڑرہی تھیں۔کمرہ پہلے ہی کی طرح تھا۔اسے کچھ راتیں یاد آئیں،لیکن رات میں پرچھائیوں کی طرح گزرگئیں۔ اْس نے،اِس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اسے وہ پھول یاد آئے جنھیں وہ باغ میں بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا،ایک لمحے کو کھلے ہوئے،روشن،حسین نظر آتے،اگلے لمحے مرجھاجاتے،اس سے اگلے سمے زمین پر سوکھی زرد پتیاں ہوتیں۔ عورت کا چہرہ بھی پھو ل ہی ہے۔ عورت کا جسم بھی پھول ہے۔ مرد کا جسم بھی پھول ہے۔ اس جہالت کے دور ہونے میں وقت لگتا ہے کہ پھول کا کھلنا، اس کے مرجھانے کی طرف اس کا سفر ہے۔ہر ابتدا، اپنے انت کی طرف بڑھتی ہے۔
تم دنیا کے بڑے بڑے سوالوں کے جواب دیتے ہو، مجھے ایک سوالی سمجھ کر ایک سوال کے جواب کی بھکشا دے دو۔
پہلی بار اس کے دل میں جنبش سی ہوئی۔
پوچھو۔

تمھارے پاس روشنی ہے جو سب کی جہالت دور کرتی ہے۔کیا میرے دل کااندھیرا دور نہیں کرسکتی؟
تم نے صحیح سوال پوچھا۔صحیح سوال،صحیح راستے کی طرف قدم ہے۔
وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی۔اس کے ہاتھ کو چھونا چاہا۔اُس نے روک دیا۔وہ تڑپ اٹھی۔میرے صحیح قدم کو تم نے کیوں روک دیا؟ کیا میرا صحیح
قدم،تمھارے صحیح راستے سے ٹکراتاہے؟

تم ہر سوال پوچھو۔پر قدم اٹھانے سے پہلے صحیح راستہ چنو۔صحیح راستہ یہ ہے کہ تمھارے دل کا اندھیرا میں دور نہیں کرسکتا۔ہاں، تم خود چاہو تو دورکرسکتی ہو۔اس نے کمرے کے ننگے فرش پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

اِس مرتبہ اُ س نے،اُس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔بنتی کی،مجھے اپنے دل کااندھیرا دور کرنے سے نہ روکو۔پاؤں پر مٹی جمی تھی،اس کا جی چاہامٹی کا ایک ایک ذرہ پہلے ہاتھ کی لکیروں میں جذب کرے،پھر یہ ہاتھ وہ اپنی آنکھوں کو لگائے،پھراپنے بدن پر پھیرے۔اسے ایک لمحے میں یقین حاصل ہوگیا کہ صرف ایک پل میں معجزہ ہوسکتاہے، وہ دوبارہ جی سکتی ہے۔سالوں سے سوکھی کھیتی،بس پل بھر میں ہری ہوسکتی ہے۔ اس نے لمبی پتلی انگلیوں والے سوکھے پاؤں سے ہولے ہولے مٹی کی تہ ہٹائی۔لمس کاایک تیز سیل اس کے سارے بدن میں سرایت کرگیا۔ہلکی سی روشنی پھیلی۔اندھیرا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔پرندے پہلے پھڑپھڑائے،پھر چہکنے لگے۔سارے میں تازہ پھول کھل اٹھے۔سویا ہوا شہر جاگ پڑا۔اس نے سہج سہج دونوں پاؤں پہلے ہاتھوں سے صاف کیے،پھر دھوئے۔اس نے ان کھردرے پاؤں پر آنکھیں رکھ دیں۔آسمان پر تارے اگ آئے تھے۔کمرے میں مشعل جلادی گئی تھی۔

اس نے پاؤں کو ذراسی جنبش دی۔

جب تم پاؤں پراپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرتے ہوئے،اپنے بدن کے شہر کو جاگتے ہوئے محسوس کررہی تھیں تو جو روشنی پھیلی تھی،وہ میں تھا، جو پرندہ چہچہایا تھا، وہ میں تھا، جو پھول کھلے تھے،وہ بھی میں تھا۔تم اپنے بدن میں لمس کے جس دھارے کو محسوس کررہی تھیں،وہ بھی میں تھا۔ تمھیں جاننے میں وقت لگے گا کہ تمھارے دل کا اندھیرا اس وقت تک دور نہیں ہوسکتا،جب تک میں تمھارے اندر ہوں۔

میں تمھیں اپنے دروازے کی چوکھٹ سمجھتی ہوں،اور تم خود کو میرے راستے کا پتھر کہتے ہو؟وہ نہیں چاہتی تھی کہ اتنی مدت بعد جاگنے والا شہر دوپہر بھی نہ دیکھے۔
ہر دوسرا، راستے کا پتھر ہے۔تم اپنی روشنی کو خود آکارکرو۔

میں خود کو دوسرا سمجھتی ہوں،اور تمھیں اپنی روشنی محسوس کرتی ہوں۔مجھے میری روشنی سے کیوں دور کرتے ہو؟
تم بھول کا شکار ہو،اس بھول کا،جس کا آغاز تمھارے جنم سے ہوا۔ اسی جنم میں اپنی بھول ختم کرو۔ تمھارے بدن کا شہر کئی سالوں بعد جاگا ہے،تم اس کی سب آوازوں کو سننا چاہتی ہو۔ سنو، ہر آواز شروع ہوتے ہی،اپنے انت کی طرف سفر کرتی ہے۔ہر صبح جب دوپہر کی طرف بڑھتی ہے تو پہلے صبح کا زوال ہوتا ہے،پھر دوپہر کا۔بے بس کر دینے والے لہو کی تپش ٹھنڈی ہوکر رہتی ہے۔کوئی آگ سدا نہیں جلتی۔ہر آگ جلنے بجھنے، شعلے سے راکھ ہونے کا سلسلہ ہے،اور یہ سلسلہ دکھ دیتا ہے۔ تم مجھ میں اپنی روشنی نہیں دیکھ رہیں، اپنا دکھ دیکھ رہی ہو،مگر نہیں جانتی ہو۔اس نے کھیم کے کہانی دہرائی۔ اس نے دیکھا، اس کے سامنے وہ خود کھڑی ہے،ایک موہنی بچی کی صورت، تھوڑی ہی دیر میں خوبرو لڑکی، اگلے چند لمحوں میں کہن سال عورت، پھر لاٹھی ٹیکتی بورھی عورت۔کیاتمھاری آنکھوں پہ بندھی پٹی اب بھی باقی ہے؟ اس نے فتح مندی کے احساس کے ساتھ سوال کیا۔
اس نے سوچا،اگر وہ آج بھی نہ کَہ سکی تو کبھی نہ کَہ سکے گی۔

تمھیں یہ کیوں گھمنڈ ہے کہ تمھارا گیان مکمل ہے؟ تمھارے گیان میں صرف تم ہی تم ہو،کوئی دوسرا نہیں۔ تم نے بارہ سال جنگلوں میں گزارے۔ میں نے بھی بارہ سال اس قید خانے میں گزارے، کاٹھ کی طرح نہیں۔ تم نے اپنے لیے ساری کائنات کو چن لیا، مجھے اس محل کے بندی خانے میں ڈال دیا۔ تمھیں خیال آیا کہ جس سفر پر تم نکلے تھے، اس کی آرزو مجھے نہیں ہوسکتی تھی؟تم بھی یہ سوچتے تھے کہ عورت میں آتما نہیں ہوتی؟ کیا تنہائی میں عورت پراس بات کی یلغار نہیں ہوتی کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے،بڑھاپا کیوں ہے، موت کیو ں ہے؟ تم اپنی کھوپڑی کو میری کھوپڑی سے بڑاسمجھتے ہوگے،مگر تمھارا دل،میرے دل سے بڑا نہیں ہے۔تمھاری کوکھ ہوتی تو پھر بھی جنگل جاتے؟کوکھ بھی سوچتی ہے۔تم ہر زمانے میں،ہر جگہ،کوئی بھی صورت اختیار کرکے جاسکتے ہو۔تم اس زمانے میں بھی گئے ہو،جب تم اپنی ماں کی کوکھ میں قوس بنے ہوئے تھے؟ میں تمھیں بتاتی ہوں کہ کوکھ بھی سوچتی ہے،اور وہاں موجود جیو بھی سوچتا ہے۔باہر آکر سب بھول بھال جاتاہے۔جانتے ہوجیو کیاسوچتا ہے؟ وہی سوچتا ہے جو کوکھ سوچتی ہے،اور جو کوکھ سوچتی ہے وہی جیو سوچتا ہے۔یہ بھی سنو،کوکھ اور جیو سے پہلے ایک پل ایسا آتا ہے، جب دو سانسیں ایک سانس بنتی ہیں۔ایک نہ بن سکیں تو جیو اور کوکھ میں جھگڑا شروع ہوجاتاہے۔مانو جیو پہلے پل ہی جلاوطن ہوجاتاہے،اور آگے جلاوطن ہوتا رہتا ہے۔لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔تم دوسانسوں کے ایک سانس بننے کو بھول چکے ہو۔اس لیے تمھیں یاد نہیں کہ پریم،گیان سے بڑا ہے۔تم کہتے ہو،ہرشے اپنے زوال کی طرف بڑھتی ہے۔میں کہتی ہوں،ہر شے اپنی تکمیل کی طرف بڑھتی ہے۔ شہر کو آنکھیں کھولنے کے بعد انگڑائی لینی چاہیے، چلنا چاہیے،دوڑنا چاہیے۔ دوپہر ہو، رات ہو،تاکہ پھر ایک صبح ہو۔

یہ ایک چکر ہے۔یہ چکر دکھ دیتاہے۔یہ چکر ختم کروگی تو بریت ہو گی۔ اس نے اپدیش کے انداز میں کہا۔

تم کہتے ہو لہو کی تپش شروع ہوتے ہی خاتمے کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ ہے تمھار اگیان! گیان میں اتنی بزدلی،اتنا ڈر بھی ہوتا ہے، مجھے بسواس نہیں آتا۔ جسے تم چکر کہتے ہو، اسی چکر نے تمھیں،مجھے جنم دیا اور پھر ہم نے اُسے جنم دیا۔
تم اور طرح سمجھ رہی ہو۔میں آدمی کے پیدا ہونے کے خلاف نہیں۔

لہو کی تپش کے بغیر آدمی پیدا ہوسکتاہے؟

وہ لاجواب ہوگیا۔ وہ ڈر گیا۔ بارہ سال محل کی چاردیواری میں رہنے والی،کیسے اس کے آنند کے لیے خطرہ ہوسکتی ہے؟ اس نے سوچا۔
لوہا گرم تھا۔

سنو، جب تم چلے گئے تو میں چھ سال روئی۔ پھر میں نے ایک خواب دیکھا۔ اپنی کھوپڑی میں بھرے سارے جہان کی شکتیوں کو بلالو تاکہ اس خواب کو سنتے ہوئے،تمھار اآنند برقرارہے۔ ساتویں سال کی پہلی رات تھی۔ وہ محل کے دوسرے کمرے میں سونے لگا تھا۔ میں نے آدھی رات سے پہلے کنیزوں کو جانے کے لیے کَہ دیا۔ نیند خواب کی طرح تھی۔ میرااس پر اختیار نہیں تھا۔ ذراذراسی دھند پھیلنا شروع ہوئی۔مدھم سرکا آغاز ہوا۔ خیال کا سلسلہ ٹوٹنے لگا،اور ایک نئی دنیا کا دروازہ معمولی چیں کے ساتھ کھلنے لگا۔پھر مکمل بے خبری۔ پھر ایک نئی دنیا میں تھی۔جیسے بیج پھوٹتاہے تو دھرتی کی ناف پر ایک لکیر سی ابھرتی ہے۔ مدت کے بعد وہ لکیر ابھر ی۔بیج نے اودھم مچایا۔مانو دھرتی کی گہرائی میں بھونچال آیا۔ بالآخر بیج ٹوٹ گیا،اور بھونچال کو قرار آگیا۔ بے خبری سے پہلے کی حالت لوٹ آئی۔ اتنی سرشاری۔

اس نے دیکھا، اس کا ہاتھ اس کے کاندھے تک آیا۔ لگا،جیسے اس کی گردن دبوچ ڈالے گا۔ کیا یہ خواب تھا اور بیج کس درخت کا تھا؟ اس کی آواز میں عجب درد تھا۔

وہ اس کی ڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔ تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم سب صورتوں میں ڈھل جاتے ہو۔ وہ درخت تم ہی تھے۔ جب اس نے اس کے سینے کے بالوں پر ہاتھ رکھا تو اس نے محسوس کیا کہ اس نے اطمینان کا سانس لیاہے۔ اس نے مزاحمت ترک کردی تھی۔وہ اس کے سینے سے ہونٹوں تک پہنچی۔ اِدھررات آدھی ہوئی تھی،مشعل بجھادی گئی تھی،اُدھر دونوں کے بدن دہک رہے تھے۔ آگ آگ سے ٹکرا رہی تھی۔سمندر ہچکولے کھارہا تھا۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بھول چکا تھا کہ بارش ختم ہونے کے لیے شروع ہوتی ہے۔بارش کتنی اچھی ہے،اس نے محسوس کیا، لیکن بارش بالآخر تھم گئی۔دونوں کے جسم بارش میں نہائے درخت کی طرح چمک رہے تھے۔دوسانسیں،ایک سانس بننے کے بعد ہموار تھیں۔

مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!

اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،مسکرایا،اور کہا :ہاں! یہ بھی روشنی ہے۔
وہ دوسری مرتبہ مسکرایا تھا۔اس کے گواہ دیوتا نہیں تھے، اکیلی وہ تھی۔
اس نے وہ مسکراہٹ جس پتھر میں قید کی،اسے ابھی کسی نے دریافت نہیں کیا۔

Categories
فکشن

کالے تجھے کتا کھالے

کالے تجھے کتا کھالے
کالے کی ماں نے کہا۔ کالے نے جواب دیا کتے کو کتا کیسے کھا سکتاہے۔ ہوں ! کالے کی ماں نے سر جھٹکا۔ کتا ہی تو کتے کا ویری ہوتاہے۔ ہاں، کالے کتے کو تو سفید کتا ہی کھائے گا۔ ہاں۔۔۔یا پھر ڈب کھڑبا،کالے نے اپنے اگلے پاؤں سے کان پے چپکے ہوئے چیچڑ کو کھجاتے ہوئے پوچھا۔ ماں یہ ڈب کھڑبا کیسے بنتاہے۔ کالے کی ماں نے کہا۔ اگر ڈب کھڑبے کی ماں سفید ہو اور اس کاباپ کالا ہو۔ تو ڈب کھڑبا کتاپیدا ہوتاہے۔سب سفید کتے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کی زیادہ عزت ہوتی ہے اور ڈب کھڑبے کی ؟۔۔۔ہاں اس کی بھی عزت ہوتی ہے۔ لیکن سفید سے کم۔ اور کالے کتے کی۔نہیں۔ اس سے فرشتے ڈرتے ہیں۔ اسے دیکھ کر فرشتے بھاگ جاتے ہیں۔ تو ماں کیا خدا بھی نسل پرست ہے۔

لیکن خدا کو تو نسل انسانی زیادہ پسند ہے کیونکہ سب نسلوں کے خاندان میں نسل انسانی سب جانداروں میں خوبصورت ہے۔ پر ماں کالی نسل بھی تو خوبصورت ہے۔ اسے خدا پسند کرتاہے یا نہیں۔ وہ توہے کالا۔ حلقہ بگوش ہے۔ داس ہے۔ وہ تو بن داموں کے نوکر ہے۔ تو ماں کیا خدا رنگ پرست بھی ہے۔ تم خدا کو بیچ میں مت لا۔ وہ بڑی ہستی ہے۔ یہ تو کالے کاقصور ہے۔ اسے کس نے کہاتھا۔ سفید مادہ سے عشق کی پینگیں بڑھا۔اور اگر گدھا کسی گھوڑی سے عشق کر بیٹھے اور پیدا ہوخچر تو اس میں ہستی والے کا کیا قصور ہے۔
لیکن ماں یہاں پر بھی تو بڑی ہستی والے گھومتے پھرتے ہیں جاگیروں کے کے مالک ہیں۔ لیکن ما ں یہاں بڑی ہستی والوں کے طویلے میں گھوڑے اور خچر تو ہوسکتے ہیں، لیکن طویلے میں کالا کتا تھوڑا ہوتاہے۔ کتا تو اندر بڑی ہستی والوں کے ڈرائنگ روم میں ہوتاہے۔ کالے نے سرجھٹک کر کہا۔

پر ماں میں تو ڈرائنگ روم میں نہیں ہوتا۔ بلکہ میں تو نوکروں کے کوارٹر میں بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ کوارٹر کے باہر بیٹھتاہوں۔ ڈرائنگ روم میں تو کتے ہوئے ہیں جو مہمانوں کا بچا کھچا کھانا صاف کرتے ہیں۔ انہیں بڑے سلیقے سے ڈائننگ ہال میں بھیج دیا جاتاہے۔ اوروہ کھانے کا لباس زیب تن ہوتے ہیں۔ جو ان کے سونے والے لباس سے مختلف ہوتاہے۔ اور تجھے پتہ ہے ماں جب کتے چہل قدمی کے لیے نکلتے ہیں۔ اس وقت چہل قدمی والی پوشاک زیب تن ہوتے ہیں۔ جب بڑی ہستی والے یہ فیصلہ سناتے ہیں،اب اپنی حاجت پوری کرسکتے ہیں۔

جب ان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے تو بڑی ہستی والے پلاسٹک کی تھیلیوں میں جوکچھ بھی انہوں نے ڈائننگ ٹیبل پررکھا ہوتا ہے۔ اسےباندھ لیتے ہیں۔ اسے جمع کرلیتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے سرمایہ دار اصل زر سے منافع کما کر بھر کسی بڑے پلازہ پر صرف کرتاہے۔ اس سو منزلہ پلازے کے کونے کو وہ کتا سونگھتا ہے۔ اگر بلند عمارت سے زیادہ سرمایے کی خوشبو آئے تو۔ بچی ہوئی مہنگی فرانسیسی وائن۔ ا نگوری شراب۔ کو اپنی ٹانگ اٹھا کر نکال دیتاہے۔بالکل ایسے جیسے اصل سرمایہ میں منافع کا تھوڑا سا حصہ اس عمارت کی بنیادوں کو اور مضبوط کردیتاہو۔

لیکن بڑی ہستی والوں کے گھر کے باہر ایک بھکاری جس کا نام لےزیرس ہے۔ نہ تو اس کی پیٹ کی بھوک مٹائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے سینے پرنپکن باندھا جاتاہے۔ نہ ہی اسے بچا کھچا کھانا دیا جاتاہے۔ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کی جان بچای جاے۔اس لیے کہ خدا وندقدوس اس پر اپنا معجزہ آزمانا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ کتے صفائی پسند ہیں۔ کیونکہ وہ بیٹھنے سے پہلے اپنی دم سے زمین صاف کرلیتے ہیں۔

کالے ہوسکتاہے۔۔۔۔۔۔وہ گناہ گار ہو۔کالے کی ماں نے کندھا اچکاتے ہوئے کہا۔ خدا اسے سزا دے رہاہو۔ کالے نے سرجھٹکتے ہوئے جواب دیا۔ ماں وہ گناہ گار کیسے ہوسکتاہے۔ وہ تو خون چاٹ لیتاہے اپنا۔ وہ بہت بھوکا رہتاہے جب بہت زیادہ بھوک ستاتی ہے تو اپنے زخموں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتاہے یا پھر کسی بڑی ہستی والے سے التجا کرتاہے۔ میرے پیٹ پر زور سے چٹکی بھر دو۔ لیکن بڑی ہستی والے اتنا بھی نہیں کرتے کہ اس کے پیٹ پر چٹکی بھر دیں۔ وہ تو خود ہی اپنے پیٹ پر چٹکی بھر لیتاہے۔

ماں کیسی باتیں کررہی ہو۔ میری سمجھ سے یہ سب باہر ہے۔ مجھے لگتاہے یہ سب خواب ہے۔ نہیں یہ سب خواب نہیں حقیقت ہے۔ ماں نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔

لیکن ماں !کالے نے حیران ہو کر کہا۔ماں ماں دیکھ۔وہ کون ہے جس نے ابھی چٹکی بھری ہے۔ میرے پیٹ پر۔
تم نے نہیں دیکھا۔ ماں نے سرکو دائیں سے بائیں طرف گھمایا جیسے نماز ختم کرنے پر سلام پھیرتے ہیں۔

وہ ہستی والا تھا۔ ہستی والا۔ کالے نے پھر حیران ہو کر پوچھا۔ یہ ہستی والا کون ہوتا ہے۔ ماں نے جواب دیا اوہ جس کی کئی بستیاں ہوتی ہیں۔ قمقوں والی، امیروں کی بستیاں، لالٹینوں اور دیو ں والی،غریبوں کی بستیاں جھونپڑپٹیاں، ہاں ان سب بستیوں کا وہ مالک ہوتاہے۔۔ جتنی زیادہ بستیاں کا مالک اتنی بڑی ہستی کامالک ہوتاہے۔ جتنی بڑی اور مضبوط ہستی اس کی باہر سے ہوتی ہے اتنا ہی کمزور، بزدل وہ اندر سے ہوتاہے۔ اس لیے اندر کے خوف سے وہ باہر سے مضبوط عمارتیں بناتا جاتاہے۔ پر ماں یہ خوف کیسا؟ ہاں بیٹے۔ مرنے کا خوف۔ پر ماں مرنے کاخوف کیوں ہوتاہے۔ کیونکہ وہ گناہگار ہوتاہے۔ لیکن گناہ تو مذہبی احکام کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔ وہ تو میں بھی کرتا ہوں۔ کالے نے کہا۔میں بھی بہت زیادہ کرتاہوں۔ اس لیے میں کہتاہوں کہ گناہ کا انعام موت ہے۔ مجھے تو انعام چاہیے۔ چاہے وہ موت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ان کے لیے۔کن کے لیے، ماں نے پوچھا بڑے ہستی والے لوگوں کے لیے موت کاقبول کرنا بہت مشکل ہے۔ کتنے جتن کرتے ہیں۔ موت سے بچنے کے لیے۔ سائنس کی،نت نئی ایجادیں،مہنگا سے مہنگا علاج خرید لیتے ہیں۔ تاکہ موت سے بچ سکیں۔ لیکن وہ تو گناہ بھی کرتے ہیں اورموت سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن گناہ کون نہیں کرتا ہر کوئی کرتاہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم گناہ نہیں کرتے تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہمارے میں سچائی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ تو پھر کیوں نہ ہم گناہ کو پیار کریں۔ جس کی منزل موت ہے۔ ہمیں ویسے بھی مر ہی جانا چاہیے کیونکہ موت کو کوئی نہیں مار سکتا۔ موت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

لیکن ماں کیا میں مختلف ہوں۔ ہاں میں بالکل مختلف ہوں۔ بالکل ہوں۔ نہ تو میں سفید انسان ہوں اور نہ ہی میں کالا کتاہوں۔ نہیں بلکہ میں تو انسان بھی ہوں۔ اور حیوان بھی ہوں۔ یعنی میں کتا بھی ہوں اور انسان بھی ہوں۔ پر ماں میں ایسا ہوں کیوں ؟

ماں نے جواب دیا بیٹے تمہیں میں بتاؤں۔ آدم نے مجھے اپنی پسلی کی ہڈی سے بنایاتھا۔ ہم دونوں ہنسی خوشی رہتے تھے۔ لیکن ہمیں منع کیا گیاتھا سب کچھ کھا لینا۔ مگر سیب نہ کھا نا۔ شیطان نے سانپ کے روپ میں ہمیں ورغلایا اور ہم نے جنت کامیوہ کھالیا۔ کسی بھی پھل میں اتنی لذت نہیں تھی جتنی اس جنت کے پھل میں ہے اور پھر ہمیں سزا ملی۔ عورت کانچلا حصہ ہر مہینے خون رونے لگا۔ مرد ہمیشہ عورت کی منتیں کرتا رہے گا، ہم بستر ہونے کے لیے۔ لیکن اس لذیذ پھل کے بدلے یہ سب سزائیں قبول تھیں۔

لیکن۔۔۔۔۔۔لیکن کیا ماں۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ۔۔۔ ماں نے کہا۔سب سزائیں مجھے قبول تھیں۔ لیکن مرد کی بے وفائی مجھے قبول نہ تھی۔ اور میں نے اسے سبق سکھانے کے لیے گاکالے کتے سے محبت کرلی۔ ہم دونوں نے پیار کا کھیل کھیلا۔ یہ کھیل بہت ہی لطف اندوز تھا۔ اس کے نتیجے میں تم پیداہوگئے۔ تمہارا سر اور پچھلا حصہ کالے کتے کی مانند ہے۔ لیکن تمہارا جسم انسانی ہے، لیکن ماں۔۔۔مجھے۔۔۔

مجھے کتا بنناہے یا پھر انسان بنناہے۔ مجھے یہ دوغلا پن بالکل پسند نہیں۔ میں کیا کروں ماں۔۔۔میری عادات تو انسانوں والی ہیں اور نہ ہی میں مکمل طور پر کتاہوں۔ ماں میں جب بھی خوش ہوتا ہوں تو میری دم نہیں ہلتی۔ بھاگتی چیز کے پیچھے مجھے بھاگنا اچھا نہیں لگتا۔ نہ ہی مجھے ہڈی چبانے میں مزا آتاہے۔ میرے کان بھی کھڑے نہیں ہوتے۔ ڈھلکتے ہوئے کانوں کو لوگ تو کاٹ دیتے ہیں۔

ماں نے غور سے سنتے ہوئے کالے کو ایک نصیحت کی ’’میری بات مانو۔ تمیں ایک مہم پر جانا ہو گا۔ ہاں جاوں گا۔ کالے نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوے کہا۔تم ایسے کرو یہاں سے دور۔۔۔بہت دور ایک سائیں بابا ہے۔ اس کانام ہے سائیں چٹا۔۔۔کالے نے اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کی اور اس نام کو دہرایا۔۔۔سائیں چٹا۔۔۔ماں نے کہا سنو!

دور بہت دور۔۔۔اس کا دربار ہے۔۔۔۔وہاں تم چلے جاؤ۔۔۔اس کے دربار کی چار دیواری ایک دروازے سے کھلتی ہے۔

لکڑی کے دروازہ پر ایک کنڈا لٹکتاہے جو دروازے کی چوکھٹ پر لگے آنکڑے میں پھنسا ہے۔ اسے کھول دینا اور اگر تم زندہ رہے اور تمہیں گل گھوٹو نہ ہوا۔ تو پھر تم وہ کنڈا بالکل آرام سے ایسے ہی کھولنا جیسے مچھلی کے منہ میں چبھے کانٹے کو بڑے آرام سے نکالتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوگاکہ سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا، اور سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو تم پھر وہیں مر جاؤ گے۔ کالا چاروں ٹانگوں پر کھڑا سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔ماں مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ موت تو مرنہیں سکتی۔ اور پھر یہ چٹا۔۔۔چٹا سائیں۔۔۔کالے کو پسند کیوں کرے گا۔ وہ تو خود چٹاہے۔۔۔ماں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔۔۔یہ تم اسی سے پوچھنا۔

کالے نے چٹا سائیں کے دربار کا رخ کیا۔ کافی دنوں کی مسافت کے بعد چٹے سائیں کے دربار جا پہنچا۔ کالے نے چٹا سائیں کے دربار کے باہر جا کر زور زور سے چیخنا شروع کردیا۔
’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘

کالے نے چٹے سائیں کے دربار کا کنڈا کھول دیا۔ کالا زندہ رہا۔ نہ تو اس کو گل گھوٹو ہوا اور نہ ہی اس کے دل نے پھولنا اور سکڑنا بند کیا اور اور نہ ہی اس کے دماغ کی شریان نے پٹاخہ بجایا۔ کالا بے دھڑک دروازے کے بٹ کھولے اندر داخل ہوا۔ سامنے برآمد ے کے پار دو کچی اینٹوں کے ستونوں پر کھڑی پڑچھتی کے اندر بہت بڑے کمرے میں سائیں چٹا لنگوٹ پہنے چوکڑی بھر کے بیٹھاتھا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں کی چپنی پر چپنی بنا رہے تھے۔ وہ کالے کو دیکھ کے مسکرایا۔

لیکن کالا دوازے سے ہی بآواز بلند چلایا۔ ’’مجھے اچھنبا ہے میں کالا ہوں اورتو چٹا کیوں ہے۔ ‘‘
چٹے سائیں نے بھی بآواز بلند جواب دیا’’میں چٹا نہیں ہوں۔ میں گرد و غبار کے غبارے پر چٹا کوٹ چڑھائے بیٹھاہوں۔ میں وہ آلو بخارا ہوں جس کی کھال سفید ہے۔

اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

کالے نے اپنے جسم کو جنبش دی۔ ’’پر میں تو دوغلا ہوں۔ ‘‘ میں کتا بھی ہوں، انسان بھی ہوں۔ میں ڈھیلے بدلنے سے بالکل نہ بدلوں گا۔ مجھے انسان بنناہے یا کتا۔‘‘

چٹے سائیں نے اپنے گھٹنے سے ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر چسپنی بنے ہاتھ کو سیدھا کیا۔۔۔’’تمہیں کچھ کرناہوگا۔ ‘‘’’مجھے کچھ کرناہوگا۔ ‘‘
’’مجھے کیا کرناہوگا۔‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’تجھے کالے کتے کو سات ہڈیاں کھلانی ہوگی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے اپنی دوہری کمر کو سیدھا کرتے ہوئے اپنی چوکڑی بھری ٹانگوں کو سیدھا اور لمبا کیا۔ سات ہڈیاں۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں سات ہڈیاں۔ اور وہ بھی گناہ کی سات ہڈیاں۔ جو صرف پسلیاں ہوں گی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے سانس کو اندر کھینچا اور پھیپھڑوں کی ہڈیاں باہرنکالتے ہوئے کہا۔
’’مرد کی بارہ پسلیاں ہیں۔ پہلے وہ تیرہ ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی ایک پسلی سے عورت کو تراشا۔ جس کی وجہ سے سات گناہ پیداہوئے۔‘

کالے نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں تو کتا بھی ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے سانس باہر نکالتے ہوئے جواب دیا۔
’’اسی لیے تمہارے ایک طرف تیرہ پسلیاں ہیں اور دوسری طرف بارہ۔‘‘
برآمدے میں لگا ہوا نلکا خود بخود چلنے لگا۔ لیکن اس میں سے پانی نہیں نکل رہاتھا۔ صرف ہوا نکل رہی تھی۔ جیسے کالے کتے کے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہو۔ اور وہ کافی کھانسی کھانسنے لگاہو۔ اور وہ یہ کہنے کی کوشش کررہاہو۔
’’کالے تجھے کتا کھالے۔ ‘‘

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔تجھے سات گناہ کی ہڈیاں کالے کتے کو کھلانی ہوں گی۔ ‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیسے گناہ سائیں۔ ‘‘
’’پہلی ہڈی۔۔۔غرور کرنے کاگناہ۔‘‘،’’غرور ‘‘۔۔۔کالے نے تفصیل جاننے کے لیے لفظ غرور کو دہرایا۔ سائیں چٹے نے وضاحت کی۔ ’’غرور۔۔۔تکبر۔۔۔۔۔۔شیخی۔۔۔ناز۔۔۔شوخی۔۔۔گھمنڈ۔

تمہیں وہ رتبہ،مرتبہ مل جائے جس کا گھمنڈ کرو۔ جس کے تم قابل نہ ہو، تو وہ تمہیں نیچا دکھا ئے گی۔‘‘
کالے نے پھر پوچھا سائیں دوسری ہڈی؟؟

چٹے سائیں نے جواب دیا ’’دوسری ہڈی ہے پیسہ کی۔ ‘‘ کالے نے جیب میں اتھ ڈالنے کی کوشش تو اس کی جیب ہی نہیں تھی۔ لیکن اس نے خیالوں میں ہی سکوں کو اپنے پنجوں میں گھمانا شروع کردیا اور پھر اور پوچھا ’’اور۔۔۔۔۔۔‘‘
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’تیسری ہڈی عورت۔۔۔‘‘۔۔۔’’عورت ‘‘ کالے نے سائیں چٹے کے ہلتے ہونٹ جو لفظ ع۔ و۔ ر۔ت کہہ رہے تھے۔ غور سے دیکھا اور کہا ’’کیا میں عورت کی تیرہویں پسلی لے کر آؤں۔ جو مرد کی ایک پسلی سے زیادہ رکھتی ہے۔ وہ تو خود مرد کی پسلی ہے اور وہ خود ہی مرد کی۔ مادہ ہے۔ زن ہے، جسم کا وہ حصہ جسے کھولنا موجب شرم ہے۔ ‘‘

چٹے سائیں نے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’مجھ سے زیادہ وضاحت نہ مانگو۔ ‘‘
کالے نے پوچھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

۴۔چٹے سائیں نے جواب دیا ’’آزادی کی ہڈی۔‘‘ کالے نے فوراً اپناہاتھ گردن پر پھیرا اورشکر کا سانس لیا کہ اس کے گلے میں پٹہ نہیں تھا اور بڑبڑایا۔

’’رہائی۔۔۔خودمختاری۔۔۔بااختیاری۔۔۔میں تو خود آزادی کی چوکھٹ کا آساں بوس ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر اٹھایا اور کہا:۔’’گھر کا بن گھاٹ کا نہ بن۔ ‘‘ کالے نے سرا اوپر نیچے ہلایا۔ ’’میں دھوبی کا آسہ ہوں۔ ‘‘
’’اور۔۔۔اور۔۔۔پانچویں۔ ‘‘

۵۔ چٹے سائیں نے کہا۔ ’’شہرت کی ہڈی۔۔۔وہ ہڈی۔ہڈی لا جو تیری پہچان ہے۔ جس ہڈی سے تو چناہے۔ نہ کہ جس کو تونے نے جناہے۔ جس کی وجہ سے تجھے شہرت ملی ہے۔ ‘‘

کالے نے اپنے سر کو بغیر دم والی پیٹھ کی طرف موڑ کر دائرے میں گھومنا شروع کردیا۔اپنی پیٹھ کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔
’’میں تو۔۔۔۔۔۔پر میں تو کتے اورانسان کی ہڈی کے ملاپ سے جناہوں۔ میں انسان ہوں یا حیوان میں اپنے باپ کی ہڈی لاؤں یا ما ں کی۔ چٹے سائیں نے جواب دیا۔ دونوں ہڈی جو غلیل بنانے اور ان دو ہڈیوں کے درمیان بندھے ہوئے ربڑ میں اٹکا وہ ڈھیلا تو ہے۔۔۔جا۔۔۔جا۔۔۔وہ ہڈی لا۔۔۔اور تو اٹھایا جائے گا۔ اس غلیل کی ہڈی کے درمیان سے جس سےاس جہاں سے تو پھینکا گیاتھا۔ اس جہان سے اس دنیا میں۔۔۔اسی کے نام سے تو اٹھایاجائے گا۔ آخرت کے دن وہی تیری شہرت ہے۔ تو وہی چمکتاہوا ستارہ ہے۔ اسی ستارے سے تیری دھوم مچی ہے۔ تیری نیک نامی ہے۔ رسوائی ہے۔ بدنامی ہے تو تو ایک افواہ ہے، تو چرچاہے وہ وہ ہڈی ہے جوبنسری ہے،الغوزہ ہے جس کے بجنے سے میٹھا اور کڑوا شور اٹھتاہے۔

’’اور کون سی ہڈی ‘‘ ہے کالے نے چٹے سائیں سے پوچھا۔

’’چھٹی ہڈی ہے جنس کی ہڈی یہ وہ ہڈی ہے جو اشارہ ہے۔ جو مرد اور عورت کو ایک واردات کرنے کے لیے اکساتی ہے اور وہ واردات ایک اہم واقعہ ہوتاہے۔ سرگزشت ہوتی ہے اور یہ سرگزشت جو بے اختیاری۔۔۔بے اتنای۔۔۔بلاجبر و کراہ ہے۔۔۔یہ طبعی ہے۔ یہ ہے۔ یہ بلا ارادہ ہے۔ یہ تو خود رو پودے کی مانند ہے جو قوت عمل رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایک قوت ہے۔ بس یہ تو قوت آفرین ہے۔ یہ ہڈی قوت کا وہ گھونسلا ہے جس میں زندگی کی بھوک کا چوگا مرد اور عورت دونوں چگتے ہیں۔ شدت سے۔ ہیجان سے، بدمستی سے اور یہ بدمستی وہ انعام ہے جو ان گھونسلے کے تنکوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ لیکن سائیں بابا میں تو چٹا ہوں۔ انسان اور حیوان کے ملاپ سے بنا ہوں۔
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’ہاں تبھی تو تجھے ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو جو احتجاج ہے۔ اور قیمت لگانی ہے یقین کرناہےتعین کرنا ہے۔ اچھائی کا،کالے نے کہاتو کیا یہ میری ماں کا احتجاج تھا انسانوں کے خلاف۔
’’پتہ نہیں۔۔۔‘‘چٹے سائیں نے کہا۔ تبھی تو تمہیں ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو۔

کالے نے پوچھا ’’ساتویں ہڈی کون سی ہے۔ ‘‘ ہاں چٹے سائیں نے جواب دیا ’’قہر و غضب۔ بغض و خلق کی ہڈی۔۔۔جسے غصے کی ہڈی بھی کہتے ہیں۔ جسے کنٹرول کرنابہت مشکل ہوتاہے۔ اگر اس پر قابو نہ پاسکو تو یہ اپنے آپ کو تباہ کرتی ہے۔یہ بالکل لکڑی کے مڑے ہوئے اس کی لکڑی کی مانند ہوتی ہے۔ جس سے آسٹریلیا کے لوگ کھیل کھیلتے ہیں۔ جسے پھینکنے کے بغیر پھینکنے والے کے پاس واپس آجاتی ہے۔ اگر یہ نشانے پر نہ لگے تو یہ پھینکنے والے کو آلگتی ہے۔ اور اس کا درد اندرونی بھی ہوتاہےاور بیرونی بھی۔
اور اس کا گناہ اندرونی اور بیرونی حالتوں میں بھینچ لیتاہے۔ اگر اس کے اسلوبی بیان کا راگ جذباتی ہو تو یہ خدا کے دیے ہوئے زندگی کے حصے کو رد کردیتاہے۔ ‘‘

کالے نے دونوں آنکھوں کو چٹے سائیں پر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی شکل دیکھنی ہو تو انسان کتے والے سر کا ہوتاہے۔ اور جب یہ غصے میں آتاہے تو ان کی آنکھیں چہرے سے اُتر کر سینے پر آلگتی ہیں۔ اور سر جسم کے اندر دھنس جاتاہے اور غائب ہوجاتاہے۔ بالکل ایسے جیسے مسجد کے سرسے گنبد غائب ہوجاتے ہیں۔ مسجد، مسجد کے بغیر رہ جائے۔ یہ سب کچھ تب ہوتاہے جب پر امن رہنے کا غصہ مطلوب و مرغوب ہو۔ جو تمہارے پڑوسی کے پاس ہو اسے دیکھ کر۔ اس سے تمہاری آنکھیں سِل جاتی ہیں۔ سوئی دھاگے سے۔ جب تم افسوس کرو پڑوسی کی چیز کو اپنانے کے لیے۔ ‘‘

کالا یہ سب ہڈیاں لینے کے لیے نکل کھڑاہوا۔ سڑک سے چلنے والے بچے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
بہت اونچی اونچی عمارتوں کے وسط میں دو بہت بلند وبالا عمارتیں جس کی بنیادوں روپے نوٹوں اور بانڈز کے چھپے ہوئے کاغذوں پر رکھی تھیں۔

دروازے پر گھومتی ہوئی فرانسیسی طرز کی موٹی مونچھوں والا دربان جس کے لباس کی تراش و طبع۔یورپ کے شاہی دربان جیسی تھیں۔ جو بادشاہ سلامت کی کمر پر لٹکتی ہوتی ہے۔ لباس کو جھاڑو دینے سے بچانے کے لیے اٹھا رکھتا ہے۔ لیکن یہ دربان لمبے قد کاتھا۔ کالے کا دل چاہاکہ اپنی دائیں ٹانگ اٹھا کر اس دربان پر چٹے سائیں کی ساری باتیں نکال دے۔ لیکن اس کی گول بل کھاتی سانپ کی کنڈلی نما مونچوں میں اس کا سرگھوم گیا۔

دربان نے سرجھکا کر اسے اندر جانے کا راستہ دکھایا۔ سامنے بالکل سامنے معلومات والے ڈیسک پر ایک بہت ہی خوبصورت سنہری بالوں والی باکرہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ کالے نے پوچھناچاہا،تم بن بیاہی ہو۔ لیکن جیسے ہی اس نے اپنے ہی پھیپھڑوں میں کھجلی ہوتی۔ کالے نے ہاتھ لگا کے دیکھا تو اس کی ایک پسلی کم ہوگئی تھی۔ کالے نے اس سے پوچھا۔

’’مجھے سات ہڈیاں چاہئیں۔ ‘‘ سنہری بالوں والی دوشیزہ نے بائیں جانب اشارہ کیا اپنی موٹی موٹی آنکھیں مٹکاتے ہوئے۔ کالے نے ایک شیشہ کاڈبہ نما کمرھ دیکھا۔ خود کار دروازے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی کھل گئے۔ شیشے کا کاڈبہ نما کمرہ تیزی سے بدلتے نمبروں کو گنے بغیر ایک منزل پر جا کر رک گیا۔ سامنے تنگ ملبوس میں جکڑا ایک دبلا پتلا پھولے بالوں کا جوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے ٹیڈی بالم نے استقبالیہ آنکھوں سے بیٹھنے کی التجا کی اپنے ہونٹوں پر انگریزی کے لفظ یوں پھینکے جیسے ۱۹۷۰ء کاٹائپ رائٹر ایک ایک ہندسہ کو پھٹاک پھٹاک کی آواز سے کاغذ کی سطح پر ڈینٹ ڈال رہاہو۔ May I Help you.

کالے نے گلہ صاف کرتے ہوئے دائیں باتیں دیکھ کررازدارانہ انداز میں دریافت کیا۔مجھے سات ہڈیاں درکار ہیں۔۔۔پیمنٹ Paymentکیسے کریں گے۔ کیش یا کریڈٹ کارڈ سے۔۔۔ٹیڈی بالم نے اپنی ٹیڈی ٹائی کو پتلون کی کمر سے سجی Loveلیٹر زوالے بکل کے نیچے ایسڑتے ہوئے پوچھا۔ کالا بھونچکا سا گیا۔ میرے پاس تو کیش نہیں ہے اور نہ ہی کریڈ ٹ کارڈ۔

ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں پر بکھیرا۔ نو پرابلم تم کچھ گروی رکھ کے مارگیج لے لو۔

کالا پھر مچلا۔۔۔پر میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ گروی رکھنے کے لیے۔ ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو ہونٹوں پر پھیلایا۔ نو پرابلم تم اپنی روح کو گروی رکھ سکتے ہو۔ کالا بہت خوش ہوا۔ ارے واہ رو ح کے بھی دام لگتے ہیں۔

’’ہاں،بالکل۔۔۔‘‘ ٹیڈی بالم نے جواب دیا۔ وہی سب سے مہنگے داموں پے گروی رکھی جاسکتی ہے۔

ٹیڈی بالم نے ایک لمبی سی درخواست سامنے رکھ دی۔ جس پر لمبے چوڑے قواعد و ضوابط لکھے تھے۔ کالے کو ضرور ت تھی۔ اس نے بغیر پڑھے لکھ ے agree والےخانے پر اچھائی کا نشان لگایا۔ نیچے والی جگہ پر دستخط اپنے نام کے ساتھ کردیے۔ ٹیڈی بالم نے اپنےڈیسک کے نیچے لگے بٹن کو دبایا اور ایک اور سنہری بالوں والی باکرہ رانوں سے اوپر سکرٹ پہنے ہائی ہیل میں مٹکتی ایک امریکن ایکسپرس کا ڈبہ کالے کو تھما دیا۔

کالے ڈبہ کھول کر تسلی کرلی کہ اس میں سات ہڈیاں موجود تھیں۔

کالا تمام ہڈیاں لے کر چٹے سائیں کے دربار پر گیا۔ چٹے سائیں نے کالے کو اپنے دربار کے پچھوڑے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کالےکتے کی طرف بھجوادیا۔ وہ کالا کتا جو چینی نئے سال کے شروع ہونے کے ہی دو دن پہلے پیدا ہوا تھا۔

کالے نے ساتوں ہڈیاں ایک ایک کرکے کالے کتے کو کھلا دیں۔ کالے کتے نے اپنا منہ آسمان کی طرف کرکے زور سے آؤں۔۔۔کی آواز نکالی۔ کالے کا جسم آہستہ آہستہ انسانی جسم میں بدلنا شروع ہوگیا اور چند ہی لمحوں میں وہ مکمل انسان ہوگیا۔

جیسے ہی وہ چلنے لگا اسے ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا اور اسے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا۔ جیسے بھنگ پی کے آیاہو۔ اس کا سر گھومنے لگا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ عین کانوں کے اوپر سے اسے محسوس ہواکہ اس کے دو چھوٹے چھوٹے سینگ نکل آئے ہیں اور بالکل اس کے سامنے سرخ چہرے اور جسم پر سرخ لباس زیب تن کیے سرخ رنگ کا شیطان ہاتھ میں سرخ رنگ کی جمع بندی تھامے کھڑاتھا۔ اس نے سرخ رنگ کے قلم کے نب کو اپنے تھوک سے نم کیا اور جمع بندی کے صفحے پر کالے کے نام کے آگے اچھے ہونے کانشان لگاتے ہوئے زور داد قہقہہ لگایا۔

’’کالے۔۔۔تجھے کتا کھالے۔‘‘

Categories
فکشن

ولدیت کا خانہ

وہی ایک قصہ تھا جو گھروں، دکانوں اورنماز کے بعد مسجد کے باہر کچھ دیر کے لیے جمع ہونے والے زیادہ تر بوڑھے لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ؛اور ماسی جنداں اور دادی سداں کے تنوروں پر اکٹھی ہونے والی عورتوں کی زبان پرتھا۔مہنگائی، دوسروں کی غیبت، چھوٹی موٹی چوریوں،نوجوانوں کے معاشقوں،پاس پڑوس کے بیماروں، یہاں تک کہ مرجانے والوں کا ذکر اذکارسب تھم ساگیا تھا۔وہ قصہ ہی ایسا تھا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس قصے کا ابتدائی خاکہ کیسے،اور کس کے ذریعے یہاں پہنچا تھا۔ انھیں قصے سے دل چسی تھی، قصے کی تاریخ سے نہیں۔البتہ قصے کے راوی سے دل چسپی ضرور تھی کہ اس نے ایک ایسا قصہ ان تک پہنچایا تھا،جس کو جتنی بار دہرایا جاتا، اتنا ہی لطف آتا۔ہر بار اس قصے کا راوی بدل جاتا اور ہر بار اس قصے میں نئے واقعات شامل ہوجاتے تھے،اور ہر بار اسے نئے،زیادہ قابل یقین طریقے سے بیان کیا جاتا۔وہ قصہ اپنے راوی کے اندر عجب جوش بھر دیتا تھا۔وہ اس جوش کی رو میں بَہ جاتا،کچھ اس طرح جیسے اسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو، اور اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ اس خزانے کا کیا کرے،جس نے اسے ایک دم اہم آدمی بنادیاہے۔وہ بڑے آدمی کی طرح ہی سب کو قصہ سناتا۔ایک بات اس گاؤں کے سب لوگوں نے بھی دریافت کی تھی کہ وہ قصہ پرانا ہوتا ہی نہیں تھا۔اس میں بہ یک وقت میٹھے اور نمکین چاولوں جیسا ذائقہ تھا۔ہر روز یہ قصہ دہرایا جاتا،نئے انداز میں کئی کئی بار دہرایا جاتا،اور ہر بار پہلے سے زیادہ دل چسپ اور پہلے سے زیادہ قابل یقین لگتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پرجمع بوڑھوں سے،چھٹی پر آئے ہوئے ماسٹر احمد نے یہ تبصرہ کیا کہ اب یہ قصہ رہ ہی نہیں گیا، ہمارے گاؤں کا ایک جیتا جاگتا فرد بن گیا ہے۔سب نے حیرت سے منھ پھاڑے ماسٹر کی طرف دیکھا،جیسے اس قصے میں ایک نیا موڑ اچانک آیا ہو، اور کوئی شخص قصے سے نکل کر،ان کے درمیان آکھڑا ہواہو۔سب نے ایک دوسرے کی طرف شک اور دل چسپی سے دیکھا۔

کوئی دو ہفتے تک قصہ دل چسپ بھی رہا،اور حیرت انگیز بھی۔اس قصے کا ایک عجب طلسمی ہالہ سب کو اپنی گرفت میں لیے رہا۔پھر آہستہ آہستہ ایک خوف نے انھیں آلیا۔انھیں یہ جاننے میں وقت لگا کہ اس قصے نے ایک طرح سے ان کی اجتماعی روح پر قبضہ کرلیا تھا۔سب کو اس قبضے کا مدھم سا احساس تھا۔ وہ سب ایک زنجیر میں بندھ گئے تھے۔ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے۔ ڈرے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے تھے۔ پہلی بار ایک دوسرے کے اس قدر قریب آئے تھے۔مگر زنجیر کو توڑنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔
کل کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا۔ چک مراد کی ایک لڑکی کو سائیں شریف کے پاس لایا گیا۔وہ بارہ سال سے بیمار تھی۔ اس کی بیماری کسی نے سنی نہ دیکھی۔اسے بخار آتااور ہچکی لگ جاتی۔ دس دس دن ہچکی لگی رہتی۔ نہ کچھ کھا پی سکتی، نہ سو سکتی۔کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔سائیں شیشم کے درخت تلے دری بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی خلقت تھی۔ایسا لگتا تھا کہ گڑ کے بھورے کے گرد چیونٹیاں جمع ہوگئی ہوں۔مگر کوئی کھسر پھسرتک نہیں تھی۔ایک پتھرجیسی چپ تھی،اور انتظار تھا۔کافی دیر تک سائیں نے آنکھیں بند رکھیں۔پھر اچانک کھولیں۔ عورت کو دیکھا۔ فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ سر کو جھٹکا دیا۔ جیسے آدمی کو کرنٹ لگتا ہے۔ سب مخلوق ڈر گئی۔ یااللہ خیر۔ سب کو منھ سے ہولے سے نکلا۔ساری خلقت کی آنکھیں سائیں کی طرف اٹھی تھیں۔ انتظار تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔ بالآخر انتظار تمام ہوا۔ ارشاد ہوا۔ چٹا، گنجا،کیکر۔

جانتے ہو،اس کا مطلب کیاتھا؟شام کے وقت ہوٹل پر جمع لوگوں کی طرف خاصے مرعوب کن انداز میں دیکھتے ہوئے،یعقوب نے پوچھا۔
تمھیں معلوم ہے،سائیں شریف کا مطلب کیا تھا؟ گاؤں کے حکیم کی دکان پر بیٹھے لوگوں سے غلام محمد نے پوچھا۔

پتہ ہے، سائیں نے کیا بتایا؟ تنور پر آنے والی عورتوں سے فاطمہ نے کہا۔

چٹا، گنجا،کیکر سے سائیں کا مطبل کیا تھا؟ سار دن جانور کی طرح کام کرنے والی نوراں نے اپنے گھرپڑے نکھٹو شوہر سے پوچھا۔
ان سب میں یعقوب ہی مستند راوی تھا،کیوں کہ وہ سائیں شریف کی مجلس میں موجود تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دم بتادے کہ ان تین لفظوں کا کیا مطلب تھا۔ اسے لگا تھا کہ اس کے پاس خزانہ ہے۔اس خزانے پر صرف اس کا اختیار ہے۔اس اختیار نے اس میں طاقت بھر دی ہے،اوریہ طاقت عجب طرح کی ہے۔اس طاقت کا اسے قطعاً تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس طاقت سے کچھ کچھ ڈرا ہوا تھا۔وہ اس طاقت کے نئے پن سے ڈراہوا تھا۔اس ڈر کے دوران میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس خزانہ نہیں، ایک راز ہے۔نہیں خزانہ بھی تو ایک راز ہے۔ڈر کے ساتھ وہ ایک طرح کی لذت بھی محسوس کررہا تھا۔وہ ڈر اور لذت کے تعلق سے واقف نہیں تھا،مگر دونوں کو ایک ساتھ محسوس کیے جارہا تھا۔یعقوب نے پہلی دفعہ دریافت کیاکہ کوئی ایسا خزانہ اور راز بھی ہوسکتا ہے،جس کا تعلق لفظ کے مطلب سے ہو۔ سائیں لفظ بولتا تھا اورایک گہری خاموشی میں چلا جاتا تھا۔ پاس ہی اس کا ایک خاص مرید بیٹھا ہوتا جو سائیں کے لفطوں کا مطلب بتاتا تھا۔مجلس میں تو سب لوگ مرید کی بات تسلیم کرلیتے تھے،مگر بعد میں کچھ کچھ شک کرنے لگتے تھے۔لیکن یہی شک،گاؤں میں دہرائے جانے والے قصوں کی بنیاد تھا۔کچھ خود سر نوجوان کھلے لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ شک کی ذمہ داری خود سائیں پر ہے۔آخر وہ پورا جملہ کیوں نہیں فرماتا تھا۔

یعقوب نے کافی دیر سے منتظر لوگوں پربالآخر یہ راز کھول دیا کہ سائیں کے خاص مرید نے چٹا، گنجا،کیکر کا مطلب یہ بتایا تھاکہ چٹے دن کو ایک گنجے آدمی نے کیکر کے درخت کے نیچے اس لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ آدمی اور کیکر سے تعلق تو سب کی سمجھ میں آتاتھا، مگر ’زیادتی ‘ کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟مرید کا کہنا تھا کہ سائیں کو ہر آدمی کے گرد ایک ہالہ نظرآتا ہے،جس میں وہ سب لوگ، جگہیں، واقعات دکھائی دیتے ہیں، جن سے آدمی کا تعلق رہا ہے۔ مرید سے بھی کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں تھی۔حقیقت یہ تھی کہ جس چیز نے لوگوں کو حیرت میں ڈالا تھا،اور خوف زدہ کیا تھا، یہی ہالے کا نظر آنا تھا۔ شاید لوگوں کو یقین نہ آتا۔ لیکن ایک دن ایسا واقعہ ہو اکہ سب کو یقین آگیا۔ اس روزسائیں نے اپنی مجلس میں بیٹھے گاؤں کے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ایک دم کَہ ڈالا: کالی، نکاح۔ مرید نے وضاحت کی کہ مولوی صاحب نے ایک کالے رنگ کی عورت سے نکاح کیاہے۔ مولوی صاحب نے بھی اقرار کرلیا کہ انھوں نے چند ہفتے پہلے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس سے اگلے دن گاؤں کے لائن مین شرافت کو دیکھ کر سائیں نے کہا : دو، بیس، ایک۔ کسی کے پلے نہیں پڑا۔ سائیں کے مرید خاص نے بتایا کہ اس شخص کے دو باپ ہیں،ایک وہ جس نے جنم دیا،اور ایک وہ جس نے اسے پالا، اوربیس سال پہلے پالا،اور وہ ایک ہے ماں باپ کا۔ شرافت کو اس کے چچا نے پالا تھا،جب شرافت کے ماں باپ بیس سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سائیں کی کرامت پر لوگوں کا یقین اپنی آخری حد کو پہنچ گیا،اور وہ ڈر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب لوگ وہاں جانے سے کترانے لگے تھے۔ وہ اپنے ہالے سے ڈرنے لگے تھے،نہیں اس ہالے کے پہچانے جانے سے ڈرنے لگے تھے۔جس بات کو قدرت نے راز رکھا ہے،سائیں اس کو سب کے سامنے لے آتے ہیں، وہ قدرت کے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔ اب لوگ سائیں کے حوالے سے نئی تاویلیں کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شام کے قریب سائیں کی مجلس میں پہنچا۔ کم لوگ رہ گئے تھے۔ وہ ذرا دور ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا،جب سب چلے جائیں تو سائیں کے سامنے جائے،اور اس کے دل کا حال جانیں،اور اسے اذیت سے نجات دلائیں۔سائیں نے سر کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہا: مولا۔خاص مرید سمجھ گیا کہ سائیں اب خلوت چاہتے ہیں۔’ سب لوگ چلے جائیں۔سائیں کی عبادت کا ٹیم ہوگیا ہے‘۔اس نے ملتجی نظروں سے خاص مرید کی طرف دیکھا،جسے لوگ شاہ صاحب کہنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔’ہاں کیہ گل اے‘(کہو کیا بات ہے)۔شاہ صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔اس نے شاہ صاحب کی مٹھی اپنی مٹھی میں لی،اور رقت سے کہا۔’ اکیلے میں بات کرناچاہتاہوں ‘۔شاہ صاحب نے سب کو جانے کا کَہ دیا۔‘ہاں ہنھ دس‘ (اب بتاؤ)۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس نے ایک نظر سائیں کے چہرے پرڈالی۔ گیسوؤں میں آدھا چہرہ چھپا ہواتھا۔ آنکھیں بند تھیں۔لمبوتری ناک جیسے سجدے کی حالت میں تھی۔

میں کیسے کہوں۔ دماغ پھٹ رہاہے۔ پندرہ سالوں سے ہر دن لگتا ہے،دماغ پھٹ جائے گا۔ میں جی نہیں رہا۔ مرنہیں رہا۔پندہ سالوں سے لگتا ہے کوئی میری گردن پر چڑھا بیٹھا ہے۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔

قصہ لمبا نہ کر، مطلب کی بات کر۔

ہاں حضور۔ مجھے مافی دے دو۔ میں گناں گار ہوں۔سائیں مجھے بس اتنا بتادیں۔ اکرو، کس کا بیٹا ہے۔ اسے جنا میری زنانی نے ہے،مگر وہ میرا نہیں۔ اس کی شکل صورت میرے سے،یا میرے خاندان کے کسی بندے سے نہیں ملتی۔ وہ رنگ کا کالاہے۔ قد چھوٹا ہے۔ ناک پتلی ہے۔ یہ میری ناک دیکھوپکوڑے جیسی ہے۔ میرے بھائی،والد سب کی ناکیں ایسی ہیں،لیکن اکر و،مادر چود کی ناک۔۔۔۔ سائیں مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ کس کے تخم سے جنا ہے۔وہ میرے گھر میں، کس خنزیر کی اولادہے۔جس وقت میں نے اس کی شکل دیکھی تھی، اس وقت سے میرا جینا حرام ہے۔

پریشان نہ ہو۔سائیں تجھے ضرور بتائیں گے۔ پر یہ بتا تو کرے گا کیا؟
میں اس کے باپ کو قتل کروں گا۔
ٹھیک ہے۔ پر اکرو۔۔یہی بتایا نہ اپنے بیٹے کا نام۔۔۔۔۔
نہیں وہ میرا بیٹا نہیں۔بس اس کا ان پانی میرے گھر لکھا تھا۔پر اب میں۔۔۔۔
اکرو کا کیا کرے گا۔
اسے بھی مارڈالوں گا۔
اب تک مارا کیوں نہیں

وہ چپ ہوگیا۔ اس کے منھ سے پہلی مرتبہ اکرم کو مارنے کے ارادے کا اظہار ہوا تھا۔وہ حیران ہوا کہ اسے آج تک اسے مارنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔وہ اسے آج تک پیار نہیں کرسکا،مگر اسے مارڈالنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔
لیکن اب میں مارڈالوں گا۔

ٹھیک ہے۔تمھارا مال ہے۔۔۔۔میرا مطلب ہے،تمھارے پاس وہ جی ہے، جیسے تمھارا جی کرے۔
سائیں نے ایک دفعہ پھر سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ مولا۔ شاہ صاحب نے اسے چلے جانے کو کہا۔کل آنا،سائیں آج نہیں بتائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن پورے گاؤں میں اکرم کی ولدیت کا قصہ گردش کررہا تھا،قصہ کیا تھا، بگولہ تھا جس کی لپیٹ میں پوراگاؤں تھا۔کسی کی چادر، کسی کا برقع، کسی کے قمیص کا دامن اس بگولے سے اترا جارہا تھا۔تنور سے لے کر مسجد تک،حکیم کی دکان سے حجام کی دکان تک، ہر جگہ ہرگھر میں یہ سوال نما قصہ تھا کہ اکرم، شیخ اسمٰعیل کا بیٹا نہیں تو کس کا ہے؟ کون کس کا ہے، کون کس کا یار ہےکون کیا کرتا رہا ہے۔ بگولے سے گاؤں کی کتاب کے ورق پھٹے جارہے تھے اور ادھر ادھر اڑے جارہے تھے۔ہائے کیا زمانہ آگیا ہے،اب قیامت آئے کہ آئے۔عورتیں حرام کے بچے پیدا کرکے اروڑی پر نہیں پھینکتیں،گھر میں پالتی ہیں۔تمھیں یاد ہوگا، جب سیلاب آیا تھا تو نہر میں ایک ایک دو دوروز کے کتنے بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔سب حرام کے تھے۔پر ان کی ماؤں کی لاشیں بھی تو تھیں۔ایک عورت تو مری پڑی تھی،مگر اس کا پیٹ سانس لے رہا تھا۔دائی صاباں کہتی تھی،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے،پر کون حرامی بچے پالتاہے۔ نی،تمھیں بھول گیاہے کہ کرم مسور کا بیٹا جو پولس میں ہے، وہ شمو مراثن کا ہے،جسے کرم نے ایک کھولے سے اٹھایا تھا۔نہیں وہ صاحباں بھروانی کا ہے،جسے شمو مراثن کھولے میں پھینک گئی تھی۔جس کا بھی ہے،وہ نیک بچاہے۔سب کو سلام کرتا ہے۔ توبہ ہے۔اس نے تو ایک حرام کے بچے کو اپنا بیٹا بنالیا،پر شیخ اسمٰعیل اپنے سگے بیٹے کو حرام کابتاتاہے۔اللہ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اتنے سال اسے خیال نہیں آیا۔ اس کی بیوی دیکھنے میں تو شریف لگتی ہے۔پر عورت ذات کا کیا بھروسا۔ جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی تو برقع پہن کر اسی سڑک سے گزر کر شہر جاتی تھی۔ شریف عورتیں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ خد اکا خوف کرو، اس کی نوکری تھی۔ شادی کے بعد شیخ اسمٰعیل نے نوکری چھڑوائی تھی۔ماسٹر پہلے دن سے شکی مزاج تھا۔ ہوسکتاہے وہ اس کے کسی چکر وکرسے واقف ہو،ورنہ کون نہیں چاہتا کہ گھر میں چار پیسے آتے رہیں۔ بھائی صاحب،یہ چودھویں صدی ہے۔نہیں جناب پندرھویں صدی ہے۔ہاں ہاں جو بھی ہے،ان ٹیچروں کے سب سے زیادہ یار ہوتے ہیں۔انھیں آزادی بھی تو ہوتی ہے۔ گھر میں اتوار کے دن بھی کہتی ہیں کہ ای ڈی او کے دفتر جانا ہے۔اور اپنے یاروں سے ملنے جاتی ہیں۔ دو مہینے پہلے ٹیچر صائمہ نے سول ہسپتال سے ابارشن کروایا تھا،مجھے خود اسلم ڈرائیورنے بتایا جس کی وین میں سب ٹیچریں سکول جاتی ہیں۔کیا ضروری ہے کہ وہ ہسپتا ل ابارشن کروانے گئی ہو؟ میں نے تو اسے اس کی چال سے پہچان لیا تھا کہ وہ پیٹ سے ہے۔ یاریہ تما م ٹیچریں برقعے کیوں پہنتی ہیں بھولے بادشاہوتمھیں نہیں معلوم،وہ نہیں چاہتیں کہ پہچانی جائیں۔ شیخ اسمٰعیل کے واقعے سے ان ٹیچروں کا کیا تعلق؟ بس ان کے ذکر سے لذت ملتی ہے۔ تمھاری ایک کزن بھی تو ٹیچر ہے۔ اس کانام نہ لو۔ وہ میری بھابھی بننے والی ہے۔ سنا ہے،سب سے زیادہ ابارشن مراثنوں اور مصلنوں کے ہوتے ہیں۔ یارسب کے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کی عورتوں کے گناہ بھی یہ بیچاریاں اپنے سرلے لیتی ہیں۔ اکرم دیکھنے میں کتنا شریف اور پڑھاکو لگتاہے۔ اس نے کبھی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔ سناہے حرام کے تخم قہاری ہوتے ہیں،لیکن یہ تو کبھی گلیوں میں چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ اگر قہاری لڑکے حرام کے ہوتے ہیں تو تمھارا بھائی تو پکا حرامی ہے۔ ماں سے پتا کرو،کس کے ساتھ سوئی تھی۔ تڑاخ۔ یار تم تو جذباتی ہوگئے۔ ہر ماں کسی نہ کسی کے پاس تو سوتی ہے۔ نہیں ماں،صرف بچے پیدا کرتی ہے اور پالتی ہے۔ یار یہ سمجھ نہیں آتی۔اگر بچہ حرامی ہوتا ہے تو عورت اور مرد کیا ہوتے ہیں ہم نے دونوں کو معاف کردیا،پر بچے کو نہیں۔ لیکن سنا ہے شیخ اسمٰیعل دونوں کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔سائیں اور شاہ صاحب آگ لگا کر رہیں گے۔ کتنے امن سے رہ رہے تھے۔ حالاں کہ پتا تھا کہ کون آدھی رات کیاکرتا ہے اور کہاں جاتاہے۔کچھ باتیں چھپی رہنی چاہییں۔ خدا نے آخر رات کس لیے بنائی ہے۔ سائیں رات کو دن بنانے لگاہے۔ لوگو،خدا کے کاموں میں دخل نہ دو۔لیکن اس کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ کسی کو بلا بھیجتا ہے؟ سب اپنی خوشی سے جاتے ہیں۔ تم چھپی باتوں کو جاننا بھی چاہتے ہو،اور ڈرتے بھی ہو۔ یار معلوم کرو، سائیں آیا کہاں سے ہے؟ یہ شاہ صاحب کون ہیں سناہے، شہامند زمیندار کے پاس آئے تھے، اسی نے انھیں بوہڑ تلے بیٹھنے کی اجازت دی۔کیا پتا شہامند کو کچھ حصہ ملتاہو۔ تمھیں یاد ہے، شہامند کے کینڈیڈیٹ کو ہمارے ٹھٹھے کے ووٹ نہیں ملے تھے۔ کیا وہ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے۔ آہستہ بولو،یہ زمیندار بہت ہی گھٹیا ہوتے ہیں۔ یادہے، اسی نے جانو ماچھی کے چھوہر (لڑکے)پر کتے چھوڑدیے تھے۔ غریب کا قصوریہ تھا کہ وہ تیز تیز سائیکل چلا رہا تھا کہ آگے شہامند آگیا تھا، جس پر کچھ گھٹا پڑ گیا تھا۔ چوری کا الزام لگا کر اپنا بولی کتا اس پر چھوڑ دیا تھا۔یار آج کل تو اس کی ویڈیو بنا کر کسی ٹی وی والے کو دے دینی چاہیے۔ شاباش اے،پھر اس غریب کی خیر نہیں۔ شیخ اسمٰعیل اور شہامند کی لڑائی بھی تو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی وجہ سے۔شہامند سے کس کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن بھائی،یہ سائیں وائیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر اس نے یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی جیسی زبان میں کچھ کہہ دیا اور شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ بتادیا کہ اس ٹھٹھے کے سارے مرد حرامی ہیں تو کیا ہوگا۔ ہوگا کیا،مزا آجائے گا۔حرامی مرد تو زبردست چیز ہے۔ بھڑوا مرد برا ہوتا ہے۔ہاں ہاں تمھیں تجربہ جو ہے۔بکواس مت کر۔میں نے سنا ہے کہ حرامی کو کسی بات کا ڈر نہیں ہوتا۔سب بڑوں کو،پیسے والوں کو،تھانیدارکو،تحصیل دار،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر کو بلاوجہ تو حرامی نہیں کہتے۔ حرامی ہونا تو بڑے آدمی کا رینک ہے۔ تمھار امطلب ہے، اکرم بڑا ٓدمی بنے گا۔ ہاں،بالکل اگر واقعی حرامی ہے۔ شریف ہوا تو زہر کھالے گا۔ دفعہ کرو،ان باتوں کو ہمیں کیا لینا دینا۔ دیکھو اس بار بھی بال خراب کاٹے تو اس قینچی سے۔۔۔۔نہیں بھائی پریشان نہ ہو۔۔۔میں پانچ سال کراچی یہی کام کرتا رہا ہوں۔اب اللہ کے واسطے، وہاں کے قصے نہ سنانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل شام شیخ اسمٰعیل کوامید بندھی تھی کہ پندرہ سالوں سے وہ جس سوال کی آگ میں خاموشی سے جل رہا ہے، اسے اس کا جواب مل جائے گا۔ گھر پہنچ کر اس نے اکرم کو کھاناکھاتے دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ بچّو،اب نوالے گن لو۔اگلے ہی لمحے اس نے خود کوایک نامعلوم آدمی کا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھا،اور دل کو مدتوں بعد مطمئن محسوس کیا۔ لیکن اگلا دن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لایا۔اسے لگا کسی نے اس کا سینہ چیر ڈالا ہے۔۔۔۔نہیں۔۔ اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ستر چوراہے کے بیچ کھینچ ڈالاہے۔کسی نے کہا تو پاگل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا،ماسٹر بے غیرت ہے۔پندرہ سالوں بعد آج اسے پتا چلا ہے۔ کسی نے کہا ماسٹر خدا تمھیں صبر دے،جو بھی ہے، بچے کا کیا جرم؟ چاچے رمضو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،پتر میں تیر ا دکھ سمجھتا ہوں۔ پر شکل پر مت جا۔شکلیں دھوکا دیتی ہیں۔ آدمی دھوکا دیتا ہے۔ ہاں چاچا۔عورتیں بھی دھوکا دیتی ہیں۔ پر ماسٹر پتر، عورت مرد کے ساتھ مل کر دھوکا دیتی ہے۔نہیں چاچا، ایک مرد کے ساتھ مل کر دوسرے مرد کو دھوکا دیتی ہے۔تو یوں کہہ نا۔مرد عورت دونوں دھوکا دیتے ہیں۔ ٹھیک کہا،مجھے سائیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔شاہ صاحب نے دھوکا دیا ہے۔ کیا کہا؟ نہیں چاچا کچھ نہیں۔

گھر میں عجب خوف ناک خاموشی طاری تھی۔اس کی بیوی نے سوجی آنکھوں سے اس کی طرف یوں دیکھا،جیسے وہ اس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت اتر جائے گی۔دونوں بیٹے اور چھوٹی بیٹی اسے نظر نہیں آئے۔وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر الانی (بغیر بستر کے)چارپائی پر ڈھ گیا۔ اسے یہ جاننے کی تڑپ ہوئی کہ وہ کون حرام زادہ ہے،جس نے شاہ صاحب کے ساتھ رازداری کی گل بات کو گلی گلی پہنچا دیا۔ اس نے کل شام کے واقعات یاد کرنے شروع کیے۔عصر کی نماز اداکرنے کے کوئی آدھ گھنٹہ بعد اس نے موٹر سائیکل کو کک ماری تھی۔’میں ذرا بھٹے تک جارہا ہوں ‘ کسی کو مخاطب کیے بغیر،سر پر پگڑی باندھتے ہوئے،کہا تھا،اور مغرب کی سمت جانے والی سڑک پر موٹر سائیکل ڈال دیا تھا۔دس منٹ میں وہ نواز کی بستی پہنچ گیا تھا۔اسے یاد آرہا تھا۔۔۔بستی کے عین بیچ بوہڑ کا درخت۔۔۔ سائیں کی ڈاڑھی کی طرح زمین کی طرف لٹکی شاخیں۔۔چاروں طرف گھر۔۔۔کچھ کچے،کچھ پکے۔۔۔۔۔مٹیالے سرخ رنگ کی دری۔۔۔سبز جانماز۔۔۔۔پھل فروٹ، کپڑے،مڑے تڑے روپوں کی ڈھیری۔۔۔سائیں کی زمین کو سجدہ کرتی ناک۔۔۔۔شاہ صاحب۔۔۔مٹھی۔۔۔کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔ہاں،ایک شخص آیا تھا، سائیں کے پاؤں کوہاتھ لگایاتھا،چلا گیا تھا۔۔۔نہیں وہ یقین سے نہیں کَہ سکتا۔۔۔وہ تو سرجھکائے، سائیں اورشاہ صاحب کے آگے دل کا حال بیان کررہا تھا۔وہ کون تھا؟ اُس کے گاؤں کا ہوتا تو وہ پہچان لیتا۔یوں بھی وہاں اب جانے کہاں کہاں سے لوگ آنے لگے تھے۔اس شخص کے لیے اس کا دل غصے سے بھر گیا۔میرے سامنے تو آئے،میں اس حرامی کو اکرو کے باپ سے پہلے اگلے جہان نہ پہنچاؤں تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ایک خیال اچانک اس کے دھیان میں کوندا۔ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں اپنے باپ کا ہوں وہ ڈٖرگیا،مگر جلد ہی اس نے اپنے ڈر پر قابوپالیا۔ ہاں میرے پاس ثبوت ہے۔ میری ماں ایک شریف عورت تھی۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ پوری وضاحت سے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی،اس کی ماں کی طرح شریف نہیں ہے۔ایک دم اس کے ذہن میں غبار بھر گیا۔
اسے یقین تھا کہ اکرو،اس کا بیٹا نہیں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسے کیوں یقین ہے۔ بس اکرو کا ناک نقشہ اس سے نہیں ملتا۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔ کیا میرا ناک نقشہ میرے اپنے باپ سے ملتاہے؟ اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ مغرب کی نماز کے بعد اس نے باپ کو قبرمیں ڈالا تھا۔ اور ٹارچ کی روشنی میں آخری باراس کا چہرہ دیکھا تھا۔ سانولا،لمبوترا چہرہ،جلد اکڑی ہوئی اور جلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنے باپ کا یہ چہرہ کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ بھول ہی گیا کہ وہ اپنے چہرے کو باپ کے چہرے میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ وہ ڈربھی گیا تھا۔ مرے چہرے میں اپنا ناک نقشہ دیکھنے کی اسے ہمت نہیں پڑرہی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اسے باپ نے ہمیشہ اپنا پتر کہا۔

’ابا،اماں پوچھ رہی ہے روٹی اوپر ہی لے آؤں ‘۔وہ چھوٹے بیٹے اسلم کی آواز پر چونک پڑا۔’ہاں،ادھر ہی لے آ‘۔اس نے جیسے جان چھڑانے کے لیے کہا۔اسے پرانی باتیں یاد کرنے میں باقاعدہ لذت مل رہی تھی۔ آٹھویں یا نویں کے چاند کی دودھیا چاندنی میں اس نے اسلم کی پشت کو دیکھا، جب وہ سیڑھیاں الانگتے ہوئے نیچے جارہا تھا۔ بالکل اکر و کی طرح چلتا ہے۔

اس کا دھیان اس بات پر اٹکا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کیسا ہے؟اسے یاد آیا۔لڑکپن کے دن تھے۔وہ سکول سے آنے کے بعد جانگیہ پہن لیتا تھا،اور گلیوں میں دوڑنے لگتاتھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہراس کا دادادکان کے موڑھے پر بیٹھا تھا۔دو آدمی پاس پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے۔خدا جانے کیا باتیں کررہے تھے۔دکان کے سامنے اینٹوں کے فرش پرپانی کے چھڑکاؤ کیاگیا تھا۔مٹی کی سوندھی باس اٹھ رہی تھی۔ یہ باس اس وقت بھی،اتنے سالوں بعد،اسے محسوس ہورہی تھی۔دادا نے اسے گود میں بٹھا لیا تھا،حالاں کہ اس کا سر دادے کی ناک کو چھو رہا تھا۔’ تمھیں دیکھتے ہی مجھے اپنا دادا یاد آجاتاہے۔تمھاراہاڑ اس کی طرح ہے‘۔دادا نے بھی نہیں بتایا کہ اس کا چہرہ کس سے ملتاہے۔اس کا دھیان ماں کی طرف گیا،لیکن اسے ماں کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی۔ہاں ایک بار اس کی چاچی نے کہا تھا،سماعیل تیرا متھاتیرے چاچے کی طرح ہے۔لیکن میری شکل؟ اتنی دیر میں اسلم روٹی لے آیا تھا۔ وہ چارپائی پر سرہانے کی جانب اٹھ بیٹھا۔ اسلم نے گلاس میں پانی ڈالا،تاکہ وہ ہاتھ دھولے۔ ’اماں پوچھ رہی ہے، چائے ابھی بنائے یا۔۔۔۔؟‘اسلم نے باپ کے ہاتھ دھلواتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں ابھی بنادے‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ کسی سے بات کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس نے شکر کیا کہ اس کا سکول دس میل دور گاؤں میں تھا۔اس کے گاؤں میں چلنے والی آندھی سے ا س کی آنکھوں میں کئی ذرے پڑ گئے تھے،جوکانٹوں کی طرح اسے چبھ رہے تھے۔اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کس طرح نوکری،جسے سب لوگ اپنی آزادی کے لیے پھندا سمجھتے ہیں، ایک پناہ گاہ ہوتی ہے،اتنی بڑی پناہ گاہ کہ ریٹائر منٹ کے بعد لوگ بَولاجاتے ہیں،اور کچھ کو تو سوائے مرنے کا انتظار کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔شیخ اسمٰعیل کو ماسٹر نور یاد آئے جو ریٹائر ہونے کے دو سال بعد اس وقت گزر گئے،جب وہ حج کی تیاری کررہے تھے۔ اس نے سامنے سے آنے والی دھول اڑاتی کاردیکھ کر موٹر سائیکل کو کچے راستے پر ڈالتے ہوئے،دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائر ہونے سے پہلے حج کر لے گا۔ لخ لعنت ای۔ کار کی دھول سے آنکھوں میں پڑنے والے ذروں کی چبھن محسوس کرتے ہوئے،اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔وہ آج اپنی عینک اٹھانا بھول گیا تھا۔ وہ سکول کی پناہ میں آکر اپنی آنکھیں صاف کرنا چاہتا تھا۔ وہ پرائمری سکو ل دوکمروں اور دوہی استادوں پر مشتمل تھا۔دوسرے استاد ہفتے میں صرف دو دن آتے تھے۔آج نہیں آئے تھے۔شیخ اسمٰعیل نے ان کی غیر حاضری پر خدا کا شکر ادا کیا۔ شیخ اسمٰعیل نے دو کلاسوں کوسبق یاد کرنے اور باقی تین کلاسوں کو پہاڑے یاد کرنے کے لیے کہا۔ ہر کلاس کا ایک مانیٹر بنا کر،وہ خود سکول کے صحن میں موجود شیشم کے درخت تلے چارپائی بچھوا کر لیٹ گئے۔اپریل کے شروع کے دنوں میں دھوپ ذرا ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ پانچویں کے ایک طالب علم کو گھر سے چائے بنوالانے کا کہا۔

وہ رات بھر سو نہیں سکاتھا۔ لیٹنے پر انھیں آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئیں،لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لگا کہ جیسے ان کا ذہن خاموش ہونا بھول چکا ہے۔ سنسناہٹ کی آواز سے لگتا تھا کہ کوئی تیز لہر ان کی کھوپڑی کو چٹخاتے ہوئے باہر نکل آئے گی۔بند آنکھوں سے سنسناہٹ کو مسلسل سننا عذاب تھا۔میرے اللہ۔اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔پنج ایکم پنج،پنج دونی دس۔ہم سب ایک ہیں۔ نو پنجا پنتالی،نو چھ چرنجا۔ ہندو،مسلمان کا دشمن ہے۔تن ایکم تن۔ بچوں کی آوازوں سے ذرا دیر کے لیے لگا کہ سنسناہٹ کچھ کم ہوئی ہے۔ استاد جی، اجی نے میری کتاب پھاڑ دتی ہے۔ اس بے غیرت کوایک تھپڑ جڑ دو،اور میرے پاس کوئی شکایت لے کر نہ آئے۔اوئے، بالے جا، شانی ڈسپنسر کی دکان سے ایک پیناڈال لے آ۔جی استاد جی۔

ایک حرامی بچے کا باپ ہونے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہوگا دنیا میں اس نے جیسے اپنی صورتِ حال کو پہچانا۔دوزخ۔ میں نے تو اسی دنیا میں دیکھ لیاہے۔اس کا دماغ کی سنسناہٹ بڑھ گئی۔ شاید بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ اسے خیال آیا۔ پانی کا گلاس منگوا کرایک ہی سانس میں پی لیا۔ ان بچوں میں سے کتنے اپنے باپ کے ہوں گے؟ اس نے ایک نگاہ ان سب بچوں پر ڈالی جو کھڑے ہو کر سبق اور پہاڑے یاد کررہے تھے۔سب کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اس نے چوتھی جماعت کے مانیٹر کو پکارا۔ جاؤ، گلام کمہار کے دونوں بھائیوں کو بلا لاؤ۔ایک پانچویں اور دوسرا شاید تیسری یا دوسری میں ہے۔ جی، استاد جی۔ دونوں بچے ڈرتے ڈرتے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک کی ناک کی بھینی ہے۔ دوسرے کا ماتھا چوڑاہے۔ ایک کی آنکھیں بڑی اورکالی،دوسرے کی سرمئی اور بڑی ہیں۔رنگ میں بھی فرق ہے۔ ایک کاسیاہ اور دوسرے کا گندمی ہے۔ تمھارے باپ کا رنگ کالا ہے یا گورا؟ دونوں طالب علم بوکھلا گئے،انھیں اس سوال کی توقع ہی نہیں تھی۔

استادجی،کالاہے۔ نہیں استاد جی گوراہے۔
ایک بات کہو،کیا کبھی اپنے باپ کو غور سے نہیں دیکھا۔
نہیں استاد جی میں روز دیکھتا ہوں۔ وہ آپ کی طر ح تھوڑے تھوڑے کالے ہیں۔ بڑے نے کہا۔
چھوٹا ڈر گیا،اور خاموش ہوگیا۔
اچھا،اب جاؤ۔

چائے کا گرم گھونٹ حلق میں اترا تو شیخ اسمٰعیل کو اپنی طبیعت ذرا بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے خود کو اندر سمٹتے محسوس کرنا شروع کیا،اوراس کے ساتھ ہی اسے لگا کہ کچھ گرد ہٹنے لگی ہے۔سارے فساد کی جڑہی عورت ہے۔عورت ہی بتا سکتی ہے کہ اس کے پیٹ میں کس کا تخم ہے۔عورت کو تخم سے غرض ہے،کسی کا ہو۔ نکاح کے ساتھ ہو، نکاح کے بغیرہو۔یہ عورت بھی کتنی واہیات ہے،بغیر نکاح کے بھی تخم ٹھہرا لیتی ہے۔تف ہے تجھ پر۔یہ تخم بھی تو نہیں دیکھتا کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔یہ تخم باپ ہے؟۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔۔ہائے کیاتماشا ہے۔۔۔۔میں اور تخم۔۔۔تخم مرد کا،مگر مردہی کو خبر نہیں۔۔۔۔اپنے تخم کی خبر نہیں۔۔۔۔۔یامیرے مالک۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔ماسٹر اسمٰعیل کی زندگی میں یہ پہلا لمحہ تھا،جب اسے اپنے اند ر کی اس تنہائی کا سامنا ہوا،جس میں آدمی اپنی تقدیر سے آگاہ ہوتاہے،اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے کچھ کڑوی حقیقتوں کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ آدمی پر وہی لرزہ طاری ہوتا ہے جو قدیم زمانے میں دیوتاؤں جیسی آسمانی مخلوق یا ان کے قاصدوں کے اچانک سامنے آجانے پر طار ی ہوجایا کرتا تھا۔ ماسٹر اسمٰعیل کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ اس نے صافے سے پونچھتے ہوئے سوچاکہ شاید یہ گرم چائے کا اثر ہے۔اس نے خود کو ایک غار میں محسوس کیا، جہاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک چمک سی پیدا ہوتی تھی اور وہ مزید ڈر جاتاتھا۔اس چمک میں کچھ سوالات اسے غراتے محسوس ہوتے۔ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟میرا باپ ہونا میرے تخم سے ہے؟ اتنی غلیظ شے سے میں پیدا ہوا،اور باپ کی حقیقت اس میں ہے؟ چلیں غلیظ سہی،پر میں اس کو اولاد میں محسوس کیوں نہیں کرسکتا؟ میں تو ان کے چہرے دیکھتا ہوں۔ہونہہ، یہ چہرہ،بال،قد کاٹھ، کھوپڑی سب اسی سے۔۔۔۔واہ میرے مالک،تیرے کام۔۔۔۔آدمی کی یہی اوقات ہے۔۔۔۔باپ اور بچے کا رشتہ۔۔۔۔کہاں سے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اس لمحے تو خیال بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔اگر یہ خیال آجائے کہ دونوں کے بیچ بیٹی یا بیٹا۔۔۔۔تو خدا کی قسم آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے۔۔۔خیال سے یاد آیا۔۔۔۔اس لمحے،صرف اسی لمحے کا خیال تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ہاں شروع شروع میں کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا،لگتا تھا کھوپڑی میں سوچنے والی مشین ہے ہی نہیں۔۔۔۔پھر دو ایک ماہ بعدیہ مشین چلنا شروع ہوئی۔۔۔جسم ایک جگہ مصروف اور مشین دوسری جگہ۔۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کیا یہ سچ نہیں کہ تم ہانپ یہاں رہے ہوتے تھے،مگر دھیان کسی اور کی طرف ہوتا تھا؟۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا دھیان بھی کسی اور کی طرف ہوتا تھا۔۔۔۔اللہ،کتنا ظلم۔۔۔۔کتناچھل ہے۔۔۔خودمیری بانہوں میں اور دھیان کسی اور کا۔۔۔۔اولاد حرامی نہیں ہوگی تو اورکیا؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔قیامت کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔مرد کی بات اور ہے۔۔۔وہ سارا دن باہر دھکے کھاتا ہے،اس لیے اسے نماز میں بھی طرح طرح کے خیال ستاتے رہتے ہیں،مگر عورت تو کہیں نہیں جاتی،پھر اس کا دھیان۔۔۔۔اسی لیے تو میں نے نوکری چھڑوادی تھی۔۔۔۔باہر جاتی رہتی تو جانے کس کس کودیکھ کر اس کا دھیان کرتی۔۔۔یاد آیا۔۔۔۔چھوٹی چاچی مجھ سے کوئی آٹھ دس سال بڑی تھی۔۔۔۔سماعیلے میں چاہتی ہوں میرا بیٹا تیری شکل صورت کا ہو۔۔۔۔وہ ہر وقت میرا چہرہ دیکھتی رہتی اور میرے ماتھے پر چومتی ہوئی مجھے دعائیں دیتی تھی۔۔۔۔اس کا بیٹا واقعی میرا چھوٹا بھائی لگتا ہے۔۔۔۔عورت کے دھیان میں اتنی طاقت !!۔۔۔شیماں کس کا دھیان لاتی رہی ہے۔۔۔۔اگر دھیان سے بچے کی صورت پر اثرپڑ سکتا ہے تو۔۔۔۔آدھا باپ وہ بھی ہوتا ہے۔۔۔میں آدھا باپ ہوں۔۔۔۔۔ماں پوری ہوتی ہے۔۔۔۔پر باپ آدھا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں آدھا باپ بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔بچے کو باپ دینے کا سارا اختیار عورت کے پاس کیوں ہے؟۔۔۔۔قدرت مردکو اندھیرے میں کیوں رکھتی ہے؟۔۔۔۔نہیں،قدرت نہیں،عورت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ قدرت کا نام لینے ہی سے ڈر گیا تھا۔اچانک وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا،اور ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر سکول سے باہر کھیتوں کی طرف چل پڑا،اور ایک پگڈنڈی پر ہولیا۔اس کا دل خوف سے بھرا تھا۔اس کا جی چاہا وہ اپنی ساری طاقت بروے کار لاکر بھاگے۔اس دنیا سے کہیں دور نکل جائے۔ پھر جانے کیا سوچ کر وہ آہستہ آہستہ شمال کی طرف چلنے لگا۔شمال کی جانب دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ کسی انسان پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالنا کتنا آسان ہے۔اس نے سوچا۔مگر قدرت پر ذمہ داری۔۔۔نہیں۔۔۔یہ گستاخی ہوگی۔۔۔نہیں یہ گناہ ہوگا۔۔۔۔اس کے ذہن میں قدرت کا مطلب خدا تھا۔اس نے محسوس کیاکہ اس معاملے میں خدا کاذکر گناہ ہے۔پانی کی کھال کوڈگ بھر کر عبور کرتے ہوئے،اسے گناہ کا خیال آیا، اور اپنے ساتھ خوف کی ایک لہر لے کر آیا،مگر وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکا کہ وہ خدا کے ڈر کی وجہ سے،اس معاملے میں اس کا ذکر نہیں لانا چاہتا تھا،یا اس کے ذہن میں اکرو کا معاملہ ہی گناہ کا تھا،اور اس کے لیے یہ ناممکن تھا کہ گناہ کے ساتھ کہیں بھی خدا کا حوالہ آئے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خدا کا عمل دخل نہیں دیکھتا تھا۔وہ خدا کے بغیر اپنا اور اپنی چھوٹی سی دنیاکا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سچ تو یہ ہے کہ ایسا سوچنے سے بھی وہ ڈرتا تھا، مگر وہ اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ غلطی سے شیماں کے گناہ کو۔۔۔۔۔اسے اکرو کوشیماں کا گناہ کہنے میں عار نہیں تھی۔۔۔۔ خدا کی رضا نہ سمجھ لے۔اس نے جلدی جلدی توبہ کی۔اچانک قدرت۔۔۔۔اور خدا کا خیال،اسے نئی مصیبت میں ڈال گیا۔اسے محسوس ہوا کہ ایک بار کسی بات میں خدا کا ذکر آجائے تو اسے خارج کرنا ممکن نہیں رہتا۔خدا کو کسی بات میں سے خارج کرنے کا خیال ہی اسے سخت کافرانہ محسوس ہونے لگا۔اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اس مصیبت سے نکل سکتا ہے۔ہاں یہ سب خدا کی مرضی تھی۔نہ نہ، توبہ توبہ، حرامی بچے خدا کی مرضی نہیں ہوسکتے۔۔۔لیکن خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا،پھر بچہ بننا۔۔۔ایک عورت خود۔۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔۔اس نے کسی نامعلوم طاقت ور جذبے کے تحت،اچانک ایک کھیت کی مینڈھ پر سر سجدے میں گرادیا،اور پورے خلوص سے استغفار کا ورد کرنا شروع کردیا۔

اس کی غیر موجودگی میں بچے کھیل رہے تھے یالڑ رہے تھے۔ خلاف معمول اس نے انھیں گالی نہیں دی۔انھیں،ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ چائے کا ایک اور کپ تھرموس سے انڈیلا۔یااللہ،مجھے معاف کرنا۔ چائے سے لائچی کی خوشبو کے ساتھ گاڑھے پن کی ذرا سی ناگوار باس آرہی تھی،مگر اسے لگا کہ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے،وہ اپنے خیالات میں گم رہ سکتا ہے۔ اس نے پندرہ سال پہلے کا ایک بھولا بسرا لمحہ یاد کیا۔اسے پرائمری سکول میں استاد بھرتی ہوئے پانچواں سال تھا۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔اسے یاد تھا،اس نے کبھی باپ بننے کی خواہش نہیں کی تھی۔باپ بننا کون سا تیر مارنا ہے، اسے اکثر خیال آتا۔باپ نہ بن کر آدمی کون ساتیر مار لیتا ہے۔ اس کے ساتھی استاد نے ایک بار کہا تھا۔ہاں، صحیح کہا،آپ نے،خود آدمی ہوکر کون سا تیر مارتے ہیں ہم۔ تم تو فلسفی ہوتے جارہے ہو شیخ صاحب! ساتھی استاد نے تبصرہ کیا تھا۔ اسے ان لوگوں پر حیرت ہوتی تھی،جو شادی کے اگلے مہینے ہی میں اس باپ بننے کی خبر سننے کے منتظر رہتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔شاید اگست کا مہینہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایک دن پہلے بارش ہوئی تھی، اور ایسا حبس تھا کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔گاؤں کی دائی،اپنی بڑی بہو کے ساتھ، صبح سے ان کے گھر میں تھی۔دوپہر کو ڈسپنسر نے شیماں کو گلوکوز کی بوتل لگادی تھی۔چار یا پانچ کا ٹائم ہوگا،جب اسے بتایا گیاکہ بیٹا ہوا ہے۔اسے دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے مسجد چلا گیا تھا۔ واپسی پر اس نے بچے کو دیکھاتھا۔اسے یاد آیا جب بچے کو پہلی بار روتے سناتھا،تب اسے لگا کہ وہ باپ بن گیا ہے۔کوئی روتا ہوا بچہ تمھاری گود میں ڈالتا ہے تو تمھیں علم ہوتا ہے کہ تم باپ ہو۔ماں ہونا،اور بات ہے۔ ماں کو کوئی اور نہیں بتاتا کہ تم ماں ہو۔ اس کا جسم اسے بتاتا ہے کہ وہ ماں ہے۔ جسم سے بڑی گواہی کیا ہوسکتی ہے؟اسے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جو دلیل کو جسم کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔وہ پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیااگست کی ایک سہ پہر کے واقعات یاد کررہا تھا،یا ان واقعات کو نئے معانی پہنا رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسے دائی پر ہلکا سا غصہ آیا تھا۔کیاتو مجھے بتائے گی کہ میں اس بچے کا باپ ہوں اپنی حیثیت تو پہچان،احمق کہیں کی۔دائی کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچائے تھے۔تو مجھے اس لیے اس بچے کا باپ بتا رہی ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے بچے کو اس جسم سے بر آمد ہوتے دیکھا ہے،جس پر مجھے قانوناً اختیار حاصل ہے؟تف ہے،اس قانونی اختیار پر بھی۔ ایک جسم پر قانونی اختیار،کیا اس جسم پر۔۔۔۔اور اس کے ذہن۔۔۔۔اس کے دل پرکسی دوسرے کو مکمل اختیاردے سکتا ہے؟۔۔۔۔تو اس لمحے کی گواہی دے سکتی ہے کیا،جب۔۔۔۔جب۔۔اس لمحے کی گواہی کون دے سکتا ہے؟ اس کا دل بے بسی کے احساس سے ڈوبنے لگا۔

اسے یاد آرہا تھا۔ دائی نے کہا تھا ماسٹر تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ وہ ہڑبڑا گیا تھا،اور جلدی جلدی بچے کے کان میں اذان انڈیلی تھی۔لے،آج تو مسلمان ہوگیا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو میں نے بھی مسلمان کیا۔ یا اللہ تیر اشکر ہے،تو نے مجھے یہ توفیق دی۔ تجھے بچے سے زیادہ اسے مسلمان بنانے کی خوشی ہوئی ہے دائی نے چوٹ کی، جو شیرینی کی توقع میں کھڑی تھی۔آج وہ پوری دیانت داری سے اس اوّلین لمحے کو یاد کررہا تھا کہ جب اس نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔ اسے واقعی خوشی نہیں ہوئی تھی۔افسوس بھی نہیں ہوا تھا۔وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سرے سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا تھا،مگر کیا محسوس کیا تھا، اسے یاد نہیں آرہا تھا۔خوشی اور دکھ تو یاد رہتے ہیں،پر کسی شے کا آدمی پر اثر ان دونوں سے ہٹ کر بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہی تو مصیبت ہے کہ اسے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے،نہ اس کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے یاد تھا کہ اسے بچے کو دیکھتے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔یہ سب بچے جب پید اہوتے ہیں تو ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دنوں بعد جب اس کا ناک نقشہ واضح ہوا تو معلوم ہوا کہ۔۔۔۔نہیں،ہر بچے کی اپنی شکل صورت ہوتی ہے،اور تبھی اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ اکرو میرا تخم کیسے ہوسکتاہے،جب وہ میری طرح ہے ہی نہیں۔نیا نیا اس نے چلنا شرو ع کیا تھا۔اس کا دوست ماسٹر احمد آیا تھا۔دونوں بیٹھک میں چائے پی رہے تھے۔اکرو ننگے پاؤں بیٹھک میں آیا تھا۔ماسٹر احمد نے کہا تھا۔اسمٰعیل یار اس کی شکل تم پر تو بالکل نہیں۔اسے یاد آیا۔اسے لگا تھا کہ جیسے کسی نے اس کے دل کی بات سر عام کہہ دی ہے۔ وہ پہلا لمحہ تھا،جب اس نے اپنے اندراکرو کے لیے گھناؤنے پن کو محسو س کیا تھا۔اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا۔ حرامی پتا نہیں کس پر گیا ہے۔اس کے بعد اس نے ان سب مردوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا،جو اس کے گھر آتے تھے،یا جتنے مرد اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ یاد کررہا تھا۔اسے سب مرد مجرم نظر آتے تھے۔اس کی آنکھوں میں عیارانہ چمک پیدا ہوگئی تھی۔اس حرامی نے میرے گھر جنم لے کر میری زندگی جہنم بنادی ہے۔جلد ہی سب گھروالوں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ پہلوٹھی کے بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ،ایک پتھر دل شخص کا ہے۔ شیماں سے کئی بار توتومیں میں ہوچکی تھی۔ تم اسے اس طرح دھتکارتے ہو،جیسے یہ تمھارا بیٹا نہیں شیماں نے ایک شام اسے کہا تھا،جب اس نے اکرم کو اس بات پر تھپڑ جڑدیا تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی بھاگ کرآیا تھا،اوراس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا، اور اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔وہ کہنا چاہتاتھا کہ مجھے کیا پتا یہ کس کا تخم ہے،مگر اپنی ماں کو وہاں موجود پاکر رک گیا تھا۔

آج شیشم تلے چارپائی کوچھاؤں کی طرف کھینچتے ہوئے،وہ اذیت کا زمانہ یاد کررہاتھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک گتھی سلجھنے لگی ہے۔ عورت ہی فساد کی جڑ ہے۔ ہاں عورت،مرد کی دنیا میں فساد پیداکرتی ہے۔ عورت اس دکھ کی الف بے نہیں جانتی جومرد کو کسی حرامی بچے کا باپ ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ماں کے لیے بچے کا جائز ناجائز ہونا،سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں،لیکن باپ ہونے کا مطلب ہی،بچے کا جائز ناجائز ہوناہے،اور اسی کا علم اگر باپ کو نہ ہو۔۔۔تو۔۔۔ وہ روح کی ساری گہرائی سے۔۔۔جس کا پہلا اسے کبھی تجربہ نہیں ہواتھا۔۔۔ اس اذیت کو محسوس کررہا تھاجو اس کے باپ ہونے کی بدترین جہالت کی پیدا کردہ تھی۔شاید وہ اس بدترین جہالت کو بھی سہار جاتا،لیکن اس جہالت کے اندھے کنویں پر طرح طرح کے بھوت منڈلانے لگتے تھے،اور اس کے باپ ہونے کو مسلسل مشکوک بناتے تھے،اور اس کے منھ پر تھوکتے ہوئے،اسے اس کی جہالت کا طعنہ دیتے تھے،اور اس کے مرد ہونے پر لعنت بھیجتے تھے۔وہ دیکھتا اچانک یہ سب بھوت ایستادہ ہوگئے ہیں،اور ایک درز میں سے کسی نامعلوم غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس منظر کی تاب اس کے حواس میں نہیں تھی۔اس کا جی چاہا،وہ دنیا کی سب عورتوں کو قتل کردے۔سب عورتیں،مرد کو دھوکا دے سکتی ہیں،اور مرد بے چارہ،ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔عورت تف ہے تجھ پر،کس کس کا تخم تو قبول کرلیتی ہے۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کا لرزہ ختم ہوگیا تھا،اور اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔مرد کی بیچارگی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے،جب وہ اس سے بے خبر کہ کس کا تخم ہے، بچے کو گود لے کر کہتا ہے کہ تو میرا نام روشن کرے گا۔۔۔ صرف عورت جانتی ہے،اس نے کب سر دھویا تھا۔۔۔مگر وہ بتاتی کب ہے؟ عورت سے زیادہ مگھم کوئی شے نہیں۔ اسے اچانک ایک قصہ یاد آیا۔ کسی پرانی کتاب میں شاید پڑھا تھا،یا کسی نے سنایا تھا۔ ایک عورت تھی۔پرلے درجے کی چالباز۔اس نے سہیلی سے شرط لگائی کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اپنے یار سے ہم بستری کرے گی۔توبہ ! پرانے زمانے میں بھی یہ سب تھا،اس نے سوچا۔اس نے ایک دن بہانہ کیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔خاوند سے کہا کہ بستی کی دائی کو بلا لائے۔ وہ دائی کو پہلے کہہ چکی تھی کہ اس کے پیچھے پیچھے اس کا یار بھی آئے گا۔ دائی آئی۔ عورت نے خاوند سے کہا کہ تم بھی یہیں رکو،کسی دوادارو کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔وہ غریب رک گیا۔دائی نے اسے لٹا کر ایک چادر تان دی۔سر اور سینہ چادر سے باہر تھا۔خاوند اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا۔ چادر کی دوسری طرف دائی بول رہی تھی،اور یار مصروف کار تھا۔ عورت کسی میٹھے درد سے کراہے جارہی تھی۔یہ کہانی یاد کرتے ہوئے، شیخ اسمٰعیل کو لگا کہ اس پر کسی بہت ہی خاص راز کا انکشاف ہواہے۔مسئلہ اکرو نہیں،مسئلہ تُوہے۔اگر تُو ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ بات مجھے آج سے پہلے،اتنے سالوں تک کیوں نہیں سوجھی؟ تم نے کبھی،تنہائی میں دو منٹ کے لیے بھی سوچا،اس سے پہلے کہیں دور سے ایک منحنی سی آواز آئی۔ پر وہ ہے کون؟اس نے فلاسک سے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔میں نے تو نوکری بھی اس طعنے کے بعد چھڑائی تھی کہ سب استانیوں کے یار ہوتے ہیں۔ وہ کون حرامی ہے؟ آخر ان دونوں کے بارے میں آج تک کوئی سن گن کیوں نہ ملی۔ کیا اس نے بھی کوئی چادر تانی تھی،اور میں سرہانے بیٹھارہا اور وہ کام کرتے چلا بنا۔ اس کا دماغ شدید غصے اور ناقابل برداشت بے بسی سے بھر گیا۔

تم سب حرام کے تخم ہو۔دفع ہوجاؤ۔وہ بلاوجہ ان بچوں پر چلایا،جو پڑھنا وڑھنا چھوڑ کرکھیل رہے تھے،اور ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی تھے۔بچے یہ سنتے ہی اپنے بستے اٹھائے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے،اور اس نے بھی پاؤں جوتی میں ڈال دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کووہ سکول سے سیدھا سائیں کے پاس پہنچا۔’ شاہ صاحب،تم نے میرا اچھا تما شا بنایا؟‘اس نے گلہ کیا۔
تم خود ہی تماشا بننا چاہتے ہو؟

میں نے رازداری کی گزارش کی تھی۔ وہ منمنایا۔

کون سا راز؟ وہ کیسا راز ہے جسے تم اپنے سینے میں سنبھال نہیں سکے،اور دوسروں سے کہتے ہو کہ وہ سنبھالیں۔ تم سب لوگ اپنے راز ہی تو بھرے بازار میں لانے کے لیے مررہے ہو؟

میں سمجھا نہیں۔

تم نے بتایا تھا کہ تم بچوں کو پڑھاتے ہو۔ خاک پڑھاتے ہو۔سائیں سے کیا پوچھتے ہو؟ میری بیوی کا یار کون ہے؟ میری بہو کے پیٹ میں کس کا تخم ہے؟ میری بیٹی کو دورے کیوں پڑتے ہیں میرے گھر میں کون تعویذ گاڑتا ہے؟پہلے بیٹے کے وقت میری بیوی کس کے ساتھ سوئی تھی شادی سے پہلے وہ برقع پہن کر کس کے ساتھ جاتی تھی فلاں کے پاس ٹوڈی کہاں سے آئی؟ یہ سارے راز ہی تو تم سر عام لانا چاہتے ہو۔کیا نہیں؟

اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔

اتنے میں سائیں نے کہا۔’ ساواپتر، گیلی اگ‘۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا سائیں نے اکرو کے اصل باپ کا بتادیا؟

اس کا وہی مطلب ہے جو تم سمجھنا چاہتے ہو؟سائیں کو تو خود نہیں پتا وہ کیا کہتے ہیں۔ کان کھول کر سنو،سائیں کی باتوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔میں،تم،سب سائیں کی باتوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہناتے ہیں۔ہم سار ادن یہی تو کام کرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،دوسروں کی ہربات کو اپنی مرضی اور منشا کا مطلب دیتا ہے۔ تم ماسٹر ہو،میرا باپ بھی ماسٹر تھا،اور مجھے بے حد پیا ر کرتا تھا،اسی کے صدقے تمھیں سب سچ بتارہاہوں۔ویسے بھی کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے شہامند سے ایک مہینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس نے تم لوگوں سے جتنے بدلے لینے تھے، لے لیے،تم سے تو خاص بدلہ لیا ہے۔میں ہر بار کسی ایک جگہ سے جاتے ہوئے کسی معقول آدمی کو سچ بتا کر جایا کرتاہوں۔ اگرچہ سب سے مشکل کسی بستی میں معقول آدمی کی تلا ش ہے۔ جو سب سے کم احمق ہو،میں تو اسی کو معقول سمجھتا ہوں۔ ماسٹر اسمٰعیل کو اپنے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔دودنوں سے وہ خود کو بزدل بھی سمجھ رہا تھا۔شاہ صاحب نے بات جاری رکھی۔ سائیں اپنی موج میں خدا جانے کیا بات کہتاہے۔ تم،میں سب اس میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں وہ بات کہوں گا،جو تم سننا چاہتے ہو۔میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔تم سب گدھے ہو۔ اگر تمھیں واقعی شک ہے کہ تمھارے گھر میں کسی اور کا بیٹا ہے تو جاؤٹیسٹ ویسٹ کرواؤ۔سناہے،اب ٹیسٹوں سے کسی کی ولدیت کا اسی طرح پتا چل جاتا ہے،جس طرح پیشاب کے ٹیسٹ سے بیماری کا پتا چل جاتاہے۔
جی مجھے اس ٹیسٹ کا معلوم ہے۔ شایدڈی این اے ٹیسٹ کہتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ایک کہانی دیکھی تھی،جس میں بچہ اپنے اصل والدین سے اس ٹیسٹ کے ذریعے مل گیا تھا۔

پھر یہاں کیوں آئے تھے؟

وہاں اکرو کو ساتھ لے جانا پڑتا،اور اس سے پتا نہیں کیا کیا کہانیاں گھڑی جاتیں۔
وہ کہانیاں تو اب بھی گھڑی گئی ہوں گی؟
شاہ صاحب،خد اکے لیے مجھے یہ بتادیں کہ میرے اور آپ کے درمیان کی بات کوٹھوں کیسے چڑھی؟
تو سچ سنو۔ دنیا میں کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ ہم یہاں مفت نہیں بیٹھے۔ سمجھے؟
ہونہہ۔ شہامند۔
اب جاؤ یہاں سے۔ میں اس سے زیادہ تم سے بات نہیں کرسکتا۔
پر ’ساوا پتر، گیلی اگ‘ کا مطلب؟

تم ماسٹر نہیں گھامڑ ہو۔ سنتے جاؤ۔ اس کا کوئی مطلب نہیں،مگر تم پھر بھی اصرار کرو گے کہ اس کا مطلب تمھیں کوئی بتائے۔اس آدمی کی بات تم جلدی مان لیتے ہو، جو ذرا ساپراسرار ہو، مطلب یہ کہ تمھاری سمجھ سے ذرا اوپر ہو۔تم اپنے برابر اور چھوٹے کی بات سنتے ہو،نہ مانتے ہو۔تم سب کو ایک سائیں،اور ایک شاہ صاحب ہر وقت چاہیے۔مجھے یقین ہے،میں ان دو لفظوں کا جو مطلب بھی بتاؤں گا تم مان جاؤ گے۔میں اگر ان کا مطلب یہ بتاؤں کہ تم ایک گیلی آگ میں جل رہے ہو،اور تمھار ا بیٹا تمھارے چھوٹے بھائی سے ہے جو سبز پتے کی طرح نوجوان ہے،تو تم مان جاؤ گے،اور اس غریب کے جاکر ٹوٹے کردوگے۔اگر تم چند دن پہلے آتے تو میں یہی کہتا۔میرے یہاں بیٹھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم آج آخری دن آئے ہو۔سنو، اس کا مطلب ہے، سبز پتے ہوسکتے ہیں، مگر آگ گیلی نہیں ہوسکتی۔تمھیں اگر آگ جلانی ہے تو سوکھے پتے جمع کرو۔ دشمن کو مارو، اپنوں کو نہیں۔ اب سمجھے؟
ہونہہ۔ کچھ کچھ۔

جاؤ، وہ کام کرو،جسے ٹھیک سمجھتے ہو۔

ماسٹر اسمیٰعیل نے کچھ روپے شاہ صاحب کے ہاتھ پہ رکھے،مصافحہ کیا،اور چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہوچکی تھی،اور اس کے گھر کے دروازے کا بلب جل رہا تھا۔ابھی وہ چند قدم دور تھا کہ اسے کئی ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔ وہ کل رات سے اپنے خیالوں سے باہر نہیں آیا تھا۔ اسے ان آوازوں کے حوالے سے کوئی جستجو نہیں ہوئی۔ اس نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا تو اس کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا آیا۔ فوراً دروازہ کھولا۔ اندر کئی لوگ جمع تھے۔ اچانک سب چپ ہوگئے۔ سب ماسٹر اسمٰعیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ماسٹر اسمٰعیل،ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ چند ثانیوں کا سناٹا،سب کو جان لیوا محسوس ہوا۔ اچانک سب لوگ،ایک طرف ہٹ گئے۔ ماسٹر نے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ چارہائی پر اکرو کو گلوکوز کو بوتل لگی ہوئی تھی۔تم یہی چاہتے تھے ناں۔ شیماں نے چیختے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس کرنے سے قاصر رہا تھا۔ تم کہاں چلے گئے تھے؟ اکرم نے گندم والی گولیاں کھالی تھیں۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا۔پھر؟جیسے وہ کوئی خبر سننے کا منتظر ہو۔وہ کسی انجانے احساس کے تحت اکرم کی طرف بڑھا۔ وہ نیند میں تھا۔ شیماں اس کے سر پر مسلسل ہاتھ پھیرے جارہی تھی،اور دعائیں مانگے جارہی تھی۔ اس نے اکرم کے چہرے کو دیکھا۔ تھوڑا مختلف محسوس ہوا۔ اس نے آج تک اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

سب انتظار کررہے ہیں کہ تم آؤ تو اسے سول ہسپتال لے جائیں۔اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔اس کے چھوٹے بھائی نے کہا۔
وہ خاموشی سے باہر نکلا۔ دس منٹ بعد شیخ جمیل سے اس کی کار مانگ کر آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دنوں بعد اکرم کی حالت بہتر ہوئی۔ ان دودنوں میں ماسٹر اسمٰعیل نے ایک لفظ نہیں بولا۔ دونوں دن وہ ہسپتال میں رہا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی دوائیں میڈیکل سٹور سے خرید لاتا۔زیادہ وقت ہسپتال کی کینٹین پر بیٹھا رہتا،یا او پی ڈی میں پڑے بنچوں پر۔رات کو ہسپتال کے او پی ڈی کے برآمدے میں،پنکھے تلے لیٹ جاتا۔وہ اس بات سے بے نیاز تھا کہ اسے نیند آتی ہے،یا نہیں۔ اس نے ان دودنوں میں ساری نمازیں پڑھیں،مگر کوئی دعا نہیں مانگی۔اس نے گزشتہ چند دنوں میں خاموشی اور تنہائی کو زندگی کی سب سے بڑی،سب سے گھناؤنی،سب سے اہم حقیقت کے طور پر محسوس کیا تھا۔ اس کی خاموشی دیکھ کر سب یہ سمجھنے لگے کہ وہ نادم ہے۔شیماں نے اس سے صرف ایک جملہ کہا کہ وہ کپڑنے بدلنے گھر چلا جائے۔ وہ اس کے جواب میں بھی چپ رہا۔چپ رہنے کی وجہ سے،اسے وہ سب باتیں واضح سنائی دینے لگی تھیں،جو پہلے ریل گاڑی سے نظر آنے والے منظروں کی طرح تیزی سے ذہن میں آتیں اور کوئی اثر ڈالے بغیر گز ر جاتی تھیں۔ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا،اگر اکرم مرگیا۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔۔۔اسے اس میں ذرا بھی شک نہیں ہوا کہ کوئی اور نہیں۔وہ۔ میں قاتل کہلاؤں گا۔۔۔ایک باپ نے اپنے بیٹے کو حرامی سمجھ کر قتل کر ڈالا۔پورے علاقے میں یہ خبر۔۔میں قاتل، میر ابیٹا حرامی۔۔۔میں کس کس کا منھ پکڑوں گا۔۔۔۔اسے قبر میں،مَیں اتاروں گا۔۔۔قاتل قبر کو مٹی دے گا۔۔۔قاتل قل پڑھوائے گا۔۔۔قاتل سے لوگ کہیں گے، شیخ صاحب، امر ربی۔شیخ صاحب سورہ فاتحہ۔اس نے ان سب باتوں کوکسی ردعمل کے بغیر سنا۔ میں قاتل بن کر بھی،اس کا با پ کہلاؤں گا۔۔۔اس کا باپ ہونا،میری تقدیر ہے۔۔۔اور اْس کا قاتل ہونا بھی۔۔۔نہیں یہ تقدیر نہیں۔۔۔اگر پندرہ سال گزر گئے تھے تو باقی سال بھی تو گزر سکتے تھے۔۔۔۔تقدیر اٹل ہے۔۔۔اس کی ولدیت کے خانے میں میرانام آنا اٹل ہے۔

اکرم کی ممکنہ موت کا سوال خود بہ خود اسے آگے کھینچ کے لے جارہا تھا۔وہ ہسپتال کی کینٹین کے درخت کی گھنی چھاؤں میں کرسی پر بیٹھا تھا۔آج کے اخبار کے ادارتی صفحے کے سب مضامین پڑھ چکا تھا۔چائے پیتے ہوئے،سوچے چلا جارہا تھا۔نہیں،اس کے لیے سوچنے کا لفظ مناسب نہیں۔سوچنے میں کوشش کا عمل دخل ہے،جب کہ بغیر کسی کوشش کے، اس کے ذہن میں باتیں آتی چلی جارہی تھیں۔اس کا دل اس تقدس سے بھر گیا تھا، جو کچھ بڑی سچائیوں کے ظاہر ہونے سے از خود پیدا ہوتا ہے،اور یہ بڑی سچائیاں ظاہر ہونے کے لیے صرف بڑے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتیں،بلکہ یہ کسی شخص کی اوقات کو سرے سے دیکھتی ہی نہیں، صرف کچھ مخصوص حالات کا انتظار کرتی ہیں۔شیخ اسمٰعیل انھی مخصوص حالات سے گزررہا تھا۔اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔ کسی کو مارنے کا حق کس کو ہے۔۔۔۔جس نے پیدا نہیں کیا،وہ مارنے کا حق رکھتا ہے؟۔۔۔۔پھر۔۔۔۔کیا باپ ہونے کا مطلب کسی کو زندگی دینا ہے۔۔۔۔۔باپ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔زندگی دینا،یا صرف شناخت۔۔۔۔شناخت کون کرےاکرم کی خود کشی کی کوشش نے اس سوال کا زہر نکال دیا تھا،یا اس کی وہ بزدلی ایک نئے رنگ میں لوٹ آئی تھی،جسے وہ پندرہ سالوں سے اکرم سے نفرت کے پردے میں چھپاتا آیا تھا۔وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کسی کو مارنے کا ارادہ کرنے،اور اسے مرتے ہوئے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے،اتنا بڑا فرق جتناایک بھوت کا خیال کرنے اور اسے حقیقت میں سامنے دیکھنے میں ہوتا ہے۔ اب تک اکرم کو صرف بیٹا سمجھتا آیا تھا،اب پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک آدمی بھی ہے۔آدمی کے طور پر وہ ماں، باپ، بہن،دوست سب رشتوں سے الگ۔۔۔اور آزاد۔۔ایک وجودہے۔آدمی رشتوں کے جال سے باہر بھی وجود رکھتا ہے۔جس طرح درخت کہیں اگتا ہے، آدمی کو بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے جنم لیناہوتا ہے۔ کس کوکھ میں کون جنم لیتا ہے، اس کا فیصلہ۔۔۔بخدا مجھے نہیں معلوم،کون کرتا ہے۔اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔کوکھ بنی کس لیے ہے۔۔۔۔جنم دینے کے لیے۔۔۔کوکھ کے لیے کوئی وجود حرام ہے نہ حلال۔۔۔وہ صرف وجود ہے۔۔۔وجود کوظاہر ہونے کے لیے کوکھ چاہیے۔۔۔وجود کے لیے کوئی کوکھ حرام ہے نہ حلال۔۔۔جس طرح درخت کے لیے کوئی مٹی حلال ہے نہ حرام۔۔۔آدمی اور درخت میں فرق ہی کتناہے مٹی اور عورت ایک ہی کام تو کرتے ہیں۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل شیماں کے احترام سے لبریز ہو گیا ہے۔نہیں،دنیا کی سب عورتوں کے لیے۔وہ چائے کا چوتھا کپ پیتے ہوئے سوچے چلا جارہا تھا۔ جنم لینا ہر وجود کا حق ہے۔یہ حق اسے اس قوت نے دیا ہے، جس کا خیال کرتے ہی،آدمی کا دل بے بسی اور انکسار سے بھرجاتاہے۔ اس قوت کے عمل میں مداخلت کرکے،اس نے کتنا سنگین جرم کیا،اس کا احساس اسے اب ہورہا تھا۔اس قوت کے آگے ماں،باپ اتفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔ہاں یہ اتفاق ہے کہ میں شیخ نعیم کے گھر پیدا ہوا،یہ اتفاق ہے کہ اکرم کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا گیا۔کینٹین پر درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے، چائے پیتے ہوئے،اسے لگا کہ اکرم،میں،شیماں، اسلم سب درختوں کی طرح بھی ہیں۔ درخت کو کسی پہچان کی ضرورت نہیں۔ اس کے بچپن کی زندگی کا سب سے المناک واقعات صرف دوتھے۔ جب اس کا باپ مرا تھا،اور جب اس درخت کو اس کے چچا نے کاٹ دیا تھا،جس کی شاخوں سے پینگ کی رسی باندھ کر تینوں بہن بھائی جھولا جھولتے تھے،اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باندر کلا کا کھیل کھیلتا تھا۔ کٹا ہوا درخت،اسے دنیا کا سب سے وحشت ناک منظر محسوس ہواتھا۔اس منظر کودوبارہ دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی۔ وہ درخت کو چھاؤں اور پھل کی خصوصیت سے الگ ہوکر دیکھ رہا تھا،اور اس خاموشی اور تنہائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کررہا تھا، جو سنگین تھیں، ادھیڑ ڈالنے والی تھیں،روح میں خنجر کی طرح اترتی تھیں،آدمی خود کو لق و دق صحرا میں محسوس کرتا تھا،کبھی کبھی خود کو نوچنے کو بھی جی چاہتا تھامگراس کی روح کے کسی آخری منطقے میں اس بات کا یقین بھی ٹمٹما رہا تھا کہ یہی خاموشی اور تنہائی بدترین جہالت کی اذیت سے نجات دلانے والی بھی ہیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعداپنے گھر میں اس نے اکرم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ماتھا چوما،اورخیرات کی۔

Image: Rabia Zuberi