Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔

ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔

وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔

وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔

سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔

سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔

اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔

افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔

اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔

جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔

میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔

وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔

’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘

’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔

’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔

میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔

’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘

ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔

’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔

’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔

ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔

انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔

وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔

میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔

مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔

اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔

مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔

اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔

باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔

وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔

المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔

اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔

مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔

اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔

اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔

میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔

میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔

کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔

بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔

کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘

مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔

مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟

’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔

گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔

اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔

دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔

’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔

اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔

بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔

وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔

میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔

گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔

نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔

جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔

مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔

جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔

اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔

اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔

موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اکیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نورجہاں خالہ کو نہانے کا مِراق ہو گیا۔ چھ چھ گھنٹے نہاتی تھیں۔ غسل خانے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ یہاں تک تو خیر برداشت کر لیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ صابن، تولیہ اور بالٹی میں پانی بھر کر باورچی خانے کے اند رجانے لگیں۔ وہ باورچی خانے میں نہانے کی کوشش کرنے لگیں جہاں سے اُنہیں بڑی مشکل سے کھنچ تان کر باہر نکالا جاتا، مگر دو تین بار وہ اس کوشش میںکامیاب بھی ہو چکی تھیں۔ دماغی بیماریوں کے معالج کو دکھایا گیا۔ اس نے اُن کے دماغ کے ایک خاص حصّے پر فالج کا اثر بتایا۔ کچھ دوائیں دے کر اُس نے یہ دلاسا دیا کہ کچھ عرصے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔
وہ دماغوں پر فالج گر نے کا زمانہ تھا۔ جس کو دیکھو اُس کے دماغ پرفالج گر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عصمت چچّا ممّا (وہ ایک طرف سے رشتے میں چچا ہوتے تھے اور دوسری طرف سے ماموں اس لیے میں اُنہیں چچّا ممّا کہتا تھا) گاؤں سے، جو ہمارے گھر سے دس کوس دور تھا، ہمیشہ کی طرح اس سال بھی جب رساول کی ہانڈی لے کر آئے تو گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے پہنچتے اُن کے دماغ پر فالج گر چکا تھا۔ وہ رساول کی ہانڈی لیے باربار پاخانے کی طرف دوڑتے تھے۔ جب اُن کو پکڑ کر قابو میں کیا گیا تو وہ زور زور سے چیختے۔۔۔ ’’میں رکھوں گا، باورچی خانے میں، اپنے ہاتھ سے رساول کی ہانڈی رکھوں گا۔‘‘
گویا ایک وبا پھیلی ہوئی تھی، عجیب و غریب وبا، کہیں نہ کہیں سے کسی کے اس وبا کے شکار ہونے کی خبر آتی ہی رہتی۔
حد تو یہ ہے کہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پاگل چوہا رات گئے باورچی خانے میں گھومتا پھرتا تھا اور کسی طرح بھی چوہے دان میں نہ پھنستا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا رہتا تھا، یقینا چوہے کے دماغ پر بھی فالج گر گیا تھا اور اُ س کی یادداشت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شاید وہ باورچی خانے کو چوہے دان سمجھتا تھا۔ جس سے نکلنے کے لیے وہ رات کے سنّاٹے میں بے تُکی اُچھل کود کرتا رہتاتھا اور وہیں ایک کونے میں روٹی کے ٹکڑے سمیت لگے ہوئے چوہے دان کو باورچی خانہ سمجھتا تھا جہاں تک پہنچ پانا اُس کی دانست میں ممکن ہی نہ تھا۔
مجھے تو یہ بھی وہم ہے کہ شاید چیونٹیاں بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھیں، کیونکہ اُن دنوں وہ قطار بنا کر چلنے میںناکام تھیں۔
ریحانہ پھوپھی اس وبا کی ذمہ دار دیوالی کی جادو کی ہانڈی کو سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار دیوالی کی ہانڈی نے کئی بار، رات میںمسلمانوں کی بستی کے اوپر گشت لگایا تھا۔ جادو کی ہانڈی میں دیا جلتا ہوا اُنھوں نے صاف دیکھا تھا اور ہانڈی سے نکلتی بھیانک زنّاٹے دار آواز کو بھی سنا تھا۔ مجھے صحیح علم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ دماغ پرفالج گرنے کی جتنی خبریں ہمارے گھر آئی تھیں، وہ مسلمانوں کی ہی تھیں۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ کچھ موسم کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔

فروری کے آخری دن تھے۔ سردی اور گرمی دونوں آپس میں اونچا نیچا یا چور چھپّا کے کھیل رہے تھے۔ سردی گرمی جب ایک ساتھ ہوتیں ہیں تو بڑی عجیب اور ناقابل فہم بیماریاں پھیلتی ہیں۔

اُدھر باورچی خانے میں کاکروچ بڑھتے جاتے تھے۔ دن میں وہ برتنوںکے پیچھے چھپے رہتے تھے اور رات میں جب کھانا سمیٹ دیا جاتا تھا تو آرام کے ساتھ فرش پر اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے پھرتے تھے۔ میں تو چونکہ رات میں بھی، ایک آدھ بار باورچی خانے میں شکر پھانکنے کے لیے ضرور جاتا تھا، اس لیے پاگل چوہے اور کاکروچوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔

عجیب زمانہ تھا، ہر طرف دماغی فالج زدہ لوگ بک بک کرتے اورا ُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے نظر آتے۔ ان کی جھک اور بکواس نے چاروں طرف ایک شور مچا رکھا تھا اور میں اس شور میں ہر وقت ہانڈیوں کے ڈھکّن اُٹھا اُٹھا کر کھانوں کے رنگ دیکھتا رہتا تھا۔ سرخ رنگ کا کھانا، ہرے رنگ کا کھانا، پیلے اور نارنگی رنگ کا کھانا، بینگنی رنگ یہاں تک کہ سفید اور سیاہی مائل کھانا بھی مگر نیلے رنگ کا کھانا مجھے آج تک نہیں ملا۔

آخر نیلے رنگ کا کھانا کیوں نہیں؟میںسوچا کرتا۔ شاید اس لیے کہ نیلے رنگ کا کھانا یا تو آسمان سے اُترتے ہوئے فرشتوں کا ہوسکتا تھا یا پھر شیطانوں کا۔ ایک زہریلا کھانا۔ اس لیے اچھا ہی تھا کہ نیلے رنگ کے کھانے کا وجود نہیں تھا کیونکہ انسان کو آج تک فرشتے اور شیطان میں فرق محسوس کرنے کی تمیز پیدا نہیں ہوسکی۔

پھر ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ دماغی فالج کی وجہ آنتوں میں پائے جانے والے کچھ جراثیم ہیں۔ پیٹ اور آنت کی بیماریوں کی وجہ سے ہی لوگ دماغی طور پر غیر متوازن ہورہے ہیں۔ اور ایک خاص قوم، مذہب، نسل اور خطّے کے لوگ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی تھا، ممکن ہے کہ یہ ایک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی ہو۔ مگر لوٹ پھر کر پھر وہی آنتیں، پھر وہی معدہ، پھر وہی بھوک اور بدنیتی، پھر وہی کھانا، پھر وہی آگ اورپھر وہی باورچی خانہ۔

باورچی خانہ— جو گھر کے سب سے مخدوش مقام کا نام ہے۔

بارہ وفات آگئی، گھر گھر میں موم بتّیاں جلا جلاکر روشنیاں کی گئیں۔ میں نے گھر کی ہر اندھیری کوٹھری، ہر تاریک گوشے اور ہر طاق میں موم بتی روشن کی۔ بارہ وفات کا جلوس نکلا۔ نیاز ونذر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمارے گھر میں مٹّی کے پیالوں میں فیرینی جمائی گئی۔ جب میں، رات کو آنگن میں بیٹھا فیرینی کھارہا تھا تو اچانک مجھے انجم باجی کے ہاتھ کی پکائی ہوئی فیرینی کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہ فیرینی پر چاندی کا ورق اتنے سلیقے اور نزاکت کے ساتھ لگاتی تھیں کہ مٹّی کا پیالہ جگمگا اُٹھتا تھا۔ جیسے وہاں سے چاند طلوع ہو رہا ہو۔

مگر اِس وقت میرے اندر چاند نہیں بلکہ اندھیرا طلوع ہورہا تھا۔ غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

’’آج فیرینی نہیں پکنی چاہئیے تھی۔ زردہ ٹھیک رہتا۔‘‘ میرے کان کو میری ہی منحوس، لمبی اور کالی زبان نے چاٹا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا، لال چمکدار کاغذ سے منڈھا ہوا ہوا کے ساتھ روشن ایک قندیل سست روی کے ساتھ اندھیرے میں اُڑتا چلاجارہا تھا۔
’’میں بھی ایک دن قندیل کی مانند، ہوا کے ساتھ اس تاریک آسمان میں اُڑوں گا۔ میں نے سوچا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – سترہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

نومبر کے آخری دن تھے یا پھر دسمبرکی شروعات۔ مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں آرہا ہے۔ بہرحال زمانہ یہی تھا جب نیازوں اور شادی بیاہوںکا دور آپہنچا۔ ان دنوںمیں نے جتنی دعوتیں کھائیں، ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ میں چونکہ اب بھی گھر میں سب سے چھوٹا تھا بلکہ بچّہ ہی تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے گھر کا ہر فرد دعوت میں مجھے ضرور ساتھ لے جاتا تھا۔ چاہے وہ محلّے کی کوئی شادی ہو یا پھر رشتہ داروں کے یہاں۔ وہ ایک عجیب منظر ہوتا۔ اس زمانے میں شادی ہال یا ہوٹلوں کا رواج نہ تھا۔ محلّے کا کوئی ایک نسبتاً بڑا مکان لے لیا جاتا۔ اس کے آنگن یا دالان میں لکڑی کی تین چار میزیں ملاکر لگا دی جاتیں، ان میزوں پر کالے میل اور سالن اور چکنائی کی موٹی موٹی تہیں جمی ہوتیں۔ میز پوش اگر ہوتے تو سالن کے پیلے پیلے دھبّوں سے بالکل رنگے ہوئے اور پانی سے تر بھی۔ میزوں کے دونوں جانب قطار سے لوہے کی بدرنگ اور بے حد تکلیف دہ کرسیاں لگائی جاتیں، میزیں اور کرسیاں دونوں اوپر نیچے ہلتی رہتی تھیں۔

لوگ اپنی باری کا انتظار الگ بیٹھ کر کم کرتے، وہ کرسیوں کے پیچھے اس طرح کھڑے رہتے جیسے کرسی غائب نہ ہو جائے۔ وہ کھانے والوںکا ہر ہرنوالہ گنتے اور بے چینی کے ساتھ کبھی ایک پاؤں پر زور دے کر ٹیڑھے ہو جاتے تو کبھی دوسرے پیر پر۔ کھانے والے خود بہت جلدی جلدی کھاتے۔ اکثر بغیر چبائے ہی نوالہ منھ میں رکھ کر نگل جاتے، وہ مربھکّوں کی طرح کھانے پر ٹوٹتے تھے۔

کھانے میں بہت زیادہ اشیاء نہیں ہوتی تھیں۔ زیادہ تر قورمہ روٹی (جسے وہ لوگ گوشت روٹی کہتے تھے) ورنہ اگر صاحب حیثیت لوگ ہوتے تھے تو پلاؤ اور زردہ بھی، ہمارے اطراف میں بریانی کا رواج نہیں تھا، حالانکہ آج کل تو پلاؤ کو بھی بریانی ہی کہا جاتا ہے۔
روٹیاں خمیری اور تندوری ہوا کرتیں۔ ان روٹیوں کا حجم بہت بڑا ہوتا،تقریباً ایک تھالی جتنا۔

کھانا لا لاکر رکھنے والے بہت شور مچاتے، ادھر اُدھر سے ایک دوسرے کوآواز لگاتے اوربے حد حواس باختہ نظر آتے۔ اکثر قورمے کا ڈونگہ کسی کھانے والے کے سر پر بھی چھلک جاتا، ایک ہائے توبہ مچی رہتی۔

ڈونگہ جیسے ہی میز پر رکھاجاتا، لوگ اُس میں سے بہتر بوٹیاں اور تار یعنی روغن نکالنے کے لیے ایک ساتھ جھپٹتے۔ کبھی کبھی ڈونگہ میز پر ہی پلٹ جاتا، مگر کھانے والوں کو اس کی مطلق پروا نہ ہوتی۔کوئی کسی کو نہیں پوچھتا، سب کو اپنی اپنی آنتوں کی فکر ہوتی۔ یہ ایسی ہی نفسا نفسی کا منظر ہوتا جو شاید میدانِ حشر میں بھی نہ دکھائی دے۔

میزوں کے پاس المونیم کے ٹب رکھے رہتے جس میں جھوٹی رکابیاں پڑی رہتیں۔ رکابیاں یا تو المونیم کی ہوتیں یا پھر سفید تام چینی کی۔ انھیں ٹبوں میںبوٹیاں، ہڈّیاں اور روٹیوں کے پانی سے تر پھُولے ہوئے، ٹکڑے بھی بھرے رہتے جن پر مکّھیاں ہی مکّھیاں بھنبھناتی رہتیں۔
اس قسم کے ایک دوسرے ٹب میں پینے کا پانی بھرا رہتا۔ اگر گرمیوں کے دن ہوتے تو ٹب پر لکڑی کا ایک تختہ رکھ کر اُس پربرف کی سلّیاں جما دی جاتیں۔ برف پگھل پگھل کر پانی میں گرتارہتا اور اُسے ٹھنڈا کرتا رہتا۔ اسی ٹب میں المونیم کے جگ ڈال ڈال کر پانی بھر کر میزوں پر رکھ دیا جاتا۔ بمشکل دو تین گلاس (وہ بھی المونیم کے ہی ہوتے)میز پر رکھے ہوتے یا اِدھر اُدھر لڑھکتے پھرتے۔

کھانے والے،کھانا خوب برباد کرتے۔ رکابیوں میں ڈھیر سا سالن، ہڈّیاں اور چکنی بوٹیاں نکالتے اور ناک تک کھانا ٹھونس لینے کے بعد ایسے ہی چھوڑ کر اُٹھ جاتے۔ وہ اس بے ہنگم انداز سے اُٹھتے کہ کرسیاں اُلٹتے اُلٹتے بچتیں اور میزیں اتنے زور سے ہلتیں کہ پانی سے بھرے جگ اُلٹ جاتے۔

روٹیاں بھی خوب برباد ہوتیں، بلکہ اُن کی تو بے حد بے حرمتی بھی کی جاتی۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے کئی باریش حضرات کو اپنی سفید داڑھی پر لگے ہوئے شوربے اور مسالے کو روٹیوں کے ٹکڑے سے صاف کرتے دیکھا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے آج کل لوگ نیپکن کا استعمال کرتے ہیں۔ روٹیاں ہاتھ پونچھنے، منھ، ہونٹ اور ٹھوڑی صاف کرنے اور مرچ کی زیادتی کے سبب ناک سے نکلتے پانی کو صاف کرنے کے لیے اور شوربے میں بھیگی داڑھیاں پونچھنے کے لیے ایک بہترین اور مفت کے رومال کا کام انجام دیتی تھیں۔
اس ہنگامے اور شور پر طرّہ یہ تھا کہ لاؤڈ اسپیکر بھی چھت پر کہیں فٹ ہوتا اور اُس کا رُخ کھانوں کی جانب ہی ہوتا۔ لاؤڈ اسپیکر پر یا توکسی نئی فلم کے واہیات گانوں کے ریکارڈ کان پھاڑ دینے والی آواز میں بجائے جاتے یا پھر حبیب پینٹر کی قوالیاں۔
(آج کی بوفے دعوتوں میں بھی جہاں سب کھڑے ہوکر اپنا کھانا نکالتے ہیں، اور کھڑے ہوکر کھانا کھاتے ہیں، نوعیت کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں ہے)

کیا یہ میدانِ جنگ نہیں تھا۔

ہاں! ایک ایسا میدانِ جنگ جس میںانسان ایک دوسرے سے، اپنے اپنے دانتوں، اپنے جبڑوں، اپنی زبانوں اور اپنی آنتوں کے ذریعے لڑتے ہیں۔

یہی سب اُن کے ہتھیار ہیں جنہیں چلائے جانے کی لذت میں شرابور ہوکر وہ ایک دوسرے کی انسانی بھوک کا شکار کرتے ہیں۔
کون تھے وہ لوگ جو بھوک برداشت کرنے کے لیے پیٹ پر پتھّر باندھ لیا کرتے تھے؟

میں نے ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

خود میں بھی اسی بے رحم کھیل میں شامل ہوں۔ جاڑوں کی دوپہر میں، زمیندار گھرانے کی روایت کو سنبھالے ہوے ہم سب دیسی گھی میں ڈبو ڈبوکر اُرد کی دال کی کالی کھچڑی کھاتے اور پھر سو جاتے۔ باقاعدہ لحاف اوڑھ کر سو جاتے، اور پھرعصر کے وقت جب اُٹھتے تو سب کا منھ سوجا سوجا اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی نظر آتیں۔ چاول اور ماش کی دال کا بادی پن اِس حلیے کا ذمہ دار ہوتا۔
خود میرا بھی یہی حلیہ ہوتا۔ میں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا اور شرمندہ ہوجاتا۔ وہ آئینہ جو دالان کے اُس حصّے میں لگا تھا جہاں سے باورچی خانہ بھی آئینے میں صاف نظر آتا تھا۔ خاص طور پر اُس کا چولھا اور ایک طرف رکھا یہ بڑا سا کالا توا۔

یہ سب مجھے شرمندہ کرتا تھا اور کرتا آیا ہے، مگر محض شرمندگی سے کیا ہوتا ہے؟

انسان کب سے شرمندہ ہو تا آیا ہے مگر اُس کی شرمندگی دنیا کا کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لیے کبھی جھاڑو نہ بن سکی۔
احساسِ جرم، شرمندگی، اپنے گناہوں کی فہرست، سب کو لیے لیے میں بھی زندگی جیتا رہا اورجیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ویسے ویسے میری زندگی میں بھیانک واقعات بھی بڑھتے گئے۔ کھانا کھانے سے زیادہ خوفناک گناہ بھی مجھ سے سرزد ہوئے ہیں۔ ایسے بھیانک واقعات جو ایک خفیہ تحریر کی مانند میرے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن ہیں، مگر اب جب مجھے اپنے بچپن کے کھلونوں کو توڑ کر اُن کا پوسٹ مارٹم کرنے کی دھن سوار ہوگئی ہے، تو پھر مرے حافظے کو اُس مردہ خانے کی طرف رُخ کرنا ہی پڑے گا۔
ذہن کے مردہ خانوں میں مکڑیوں کے جالوں میں ٹھنڈی باسی سے لپٹی لاشیں اور خون کی بو میری یادداشت کو اُدھر— اس طرح کھینچے لیے جارہی ہے جیسے کوئی قصائی کسی گائے کے گلے میں رسّی ڈال کر اُسے مذبح کی طرف لے جاتا ہے۔

لاؤ تو ذرا دیکھوں، رسّی کا یہ پھندا میرے گلے کے ناپ کا ہے بھی یا نہیں؟

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چودہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر وہ رُکی نہیں۔ وہ ہوتی ہی رہی۔ کسی بھی دن کا آسمان بادلوں سے خالی نہ رہا۔ کبھی موسلادھار بارش ہوتی اور کبھی کبھی ہلکی پڑ جاتی۔ مگر پھوار برابر پڑتی رہی۔ دس دن گزر گئے۔ ندیاں خطرے کے نشان کے اوپر بہنے لگیں۔ باندھ کھول دئے گئے اور پانی نے آس پاس کے علاقوں کو ڈبوکر رکھ دیا۔

باڑھ آگئی، اس باڑھ میں انسانوں کے ساتھ اُن کے مویشی بھی بہہ گئے۔ شہر کی سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا۔ محلے کے کئی گھروںکی چھتیں اور دیواریں گر گئیں۔ لوگ ان گرتی ہوئی چھتوں اور دیواروں کے نیچے دب دب کر مر گئے۔ مگر بارش نہ رُکی۔

ہمارا گھر کافی پختہ اور مضبوط تھا، مگر اس کی دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئیں اور دالانوں اور کوٹھریوں کی چھتیں بری طرح ٹپکنے لگیں۔ پلنگ، بستر، صندوق، میز، کرسیاں سب پانی سے تربتر ہو گئے۔ باورچی خانے کا تو سب سے برا حال تھا۔ اس کی چھت سے تو پانی تقریباً اسی طرح نیچے آرہا تھا جیسے آنگن میں۔ چولہا ٹھنڈا پڑ گیا۔ کھانا دالان میں انگیٹھی رکھ کر پکایا جانے لگا۔

باورچی خانے کے برتن، تیل، گھی، اناج اور مسالے سب پانی میں ڈوبے پڑے تھے۔

ایک دن گھر کے کچے آنگن میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی بھر گیا۔ سڑکوں کی نالیاں بند تھیں۔ اور پانی کی نکاسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ باورچی خانہ کیونکہ آنگن کی سطح سے بالکل ملا ہوا تھا اس لیے وہاں بھی پانی آگیا۔ باورچی خانے کے برتن اسی پانی میں بہہ بہہ کر آنگن میں تیرنے لگے۔ دیگچیاں، پتیلے، تسلے، چمچے، کفگیر، پتیلیاں اور توے سب آنگن میں بہتے چلے جارہے تھے۔ وہ گھر کی نالی سے باہر نکل جانا چاہتے تھے۔

پورا گھر بارش رُکنے کی دعائیں مانگنے لگا۔ آنگن میں چلنا دشوار ہوگیا۔ لوگ پھسل پھسل کر گرنے لگے۔ پاخانے اور دروازے تک جانے کے لیے چند اینٹیں رکھ دی گئیں تھیں جو اَب پانی میں پوری طرح ڈوب چکی تھیں اور نظر نہ آرہی تھیں۔نارنگی کے ایک چھوٹے سے درخت میں اچھّن دادی نے ایک سفید پرزے پر ’’ق ق ق‘‘ لکھ کر لٹکا دیا۔ آنگن میں پانی اور کائی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب وہ یہ سفید پرزہ درخت میں لٹکاکر جلدی جلدی دالان کی جانب واپس آرہی تھیں، تب ہی کائی میں اُن کا پیر پھسل گیا۔ وہ چاروں خانے چت گریں۔ وہ کائی اور کیچڑ میں لت پت تھیں۔ اُن کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔(اس کے بعد وہ جب تک جئیں، صاحب فراش ہی رہیں اور مجھے ہمیشہ کائی میں لتھڑی ہوئی محسوس ہوئیں) گھر میں نالیوں سے بہہ بہہ کر حشرات الارض چلے آئے۔ مینڈک اور کچھوے، کنکھجورے اور کان سلائیاں۔ کینچوے اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی۔ حد تو یہ تھی کہ ایک دن چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی۔ پورا گھر کائی کی بساندھ سے بھر گیا اور اُس کی ہر دیوار ہری اور کالی نظر آنے لگی۔ اندر کی دیواروں پر سیلن اور پانی نے آکر ساری قلعی نیست و نابود کر دی۔ گارا اور چونا جگہ جگہ سے پھول کر نیچے گرنے لگا۔ وہاں طرح طرح کے دھبّے اور شکلیں سی بنتی نظر آنے لگیں۔ بھیانک اور بولتی ہوئی صورتیں، خود رو گھاس اور پودوں نے دیواروں کی منڈیروں پر پھیلنا شروع کر دیا۔ آسمان پھٹ گیا تھا اور شاید زمین بھی جلد ہی پیروں کے نیچے سے پھسل کر غائب ہوجانے والی تھی۔ طوفانی بارش میں، مَیں اپنے کن کٹے خرگوش کے ساتھ دالان، کبھی کوٹھری اور کبھی داسے کے قریب دُبکا رہتا اور بارش دیکھتا رہتا۔ جب کبھی بجلی زور سے کڑکتی تو نورجہاں خالہ کے منھ سے بے اختیار نکلتا ’’یا اللہ خیر۔‘‘

رات میں اس بارش کی آواز مہیب اور پُراسرار ہوجاتی۔ ٹین پر گرتی ہوئی بارش اب مجھے اس ماتمی باجے کی یاد دلاتی جو محرّم کے دنوں میں تختوں کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔

بارش کی یہ آواز آہستہ آہستہ سنّاٹے میں بدلتی جاتی تھی۔ جیسے کوئی اُداس اور ماتمی موسیقی آخر میں خاموشی یا ایک گہری چُپ میں جاکر کھو جاتی ہے۔ اب میرے کان اس بارش کی آواز کے عادی ہوچکے تھے۔ اس لیے میرے لیے اب رات کے سنّاٹے اور بارش میں کوئی فرق نہیں رہا۔ مجھے نیند آنے لگی، ان راتوں میں، مجھ پرجلد ہی نیند کا غلبہ ہوجاتا اور میں گہری نیند سونے لگا۔ نہ صرف سونے لگا بلکہ خواب بھی دیکھنے لگا۔ ایسے خواب جنہیں میں آج تک نہیں بھولا۔

کچھ بیماریاں، عادتیں، اضطراری عمل یا ردّعمل وغیرہ ورثے میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔ وہ صبح کو آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھتے اور اُن کے منھ سے ٹھوڑی کی طرف بہتی ہوئی ایک خون کی لکیر ہوتی۔

اب تک میں بچا ہوا تھا۔ سوتے میں، میری زبان دانتوںکے درمیان کبھی نہیں آئی تھی مگر اس دفعہ بارش اور سیلاب کی اُن پرُاسرار راتوں میں، جب میں بہت گہری نیند سونے لگا اور خواب دیکھنے لگا تو صبح کو جاگنے پر میرے منھ سے بھی خون کی پتلی سی لکیر ٹھوڑی پربہتی نظر آنے لگی۔ میں اُسے اکثر شہادت کی انگلی سے پونچھ دیا کرتا۔

ان خوابوں میں ہمیشہ ایک لڑکی ہوتی یا یہ کہ لڑکی نہ ہوکر وہ بارش تھی جس نے خواب کا چولا پہن لیا تھا۔ ہربار کے خواب میں اس کی صورت مختلف ہوتی مگر میرے اندر، زیریں سطح پر یہ احساس ہمیشہ موجود رہتا کہ وہ ایک ہی لڑکی ہے۔ وہی ایک وجود جو ہر خواب میں آتا ہے۔ میں لاکھ کوشش کر لوں مگر اُس کا حلیہ لفظوں میں نہیں بیان کر سکتا۔ کبھی لگتا کہ وہ چہرہ دنیا کے ہر انسان سے ملتا جلتا ہے۔ اور کبھی یہ محسوس ہوتا کہ وہ چہرہ کسی سے بھی مشابہت نہیں رکھتا۔ کچھ شکلیں، کچھ صورتیں ایسی ہوتی ہیں جو آنکھوں کی گرفت میں نہیں آتیں۔ وہ آنکھوں سے ہوکر نکل جاتی ہیں۔ اور پھر خوشبو بن کر روح میں اُتر جاتی ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہر خوشبو آپ کو محض مسرت ہی نہیں فراہم کرتی، وہ کبھی کبھی بلکہ اکثر بے حد افسردہ بھی کر دیتی ہے۔

’’لو—‘‘ وہ اپنی ہتھیلی آگے بڑھاتی ہے۔ کلائیوں تک اُس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔ میں غور سے دیکھتا ہوں، گوری، اُجلی صاف، نازک سی ہتھیلی پر ایک سوکھا شامی کباب رکھا ہوا ہے۔

’’لو کھالو۔‘‘

میں احتیاط کے ساتھ شامی کباب اُٹھاتا ہوں۔ شامی کباب برف کی طرح ٹھنڈا اور اُداس ہے۔ میں شامی کباب کا ایک ٹکڑا دانتوں سے کاٹتا ہوں۔

منّ و سلویٰ شرماکر ایک کونے میں چھپ جاتا ہے۔ لڑکی بھی اچانک گم ہوجاتی ہے۔

میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ بارش ہوئے جارہی ہے۔

’’گڈّو میاں! تمھیں کھانے میں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟‘‘ لڑکی پوچھتی ہے۔ اس بار اُس کی کلائیوں میں سبز چوڑیاں ہیں۔ چوڑیاں اُس کی کھنک دار آواز سے خود بھی کھنکنے لگتیں ہیں۔

’’قورمہ۔‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔
’’اور؟‘‘
’’پلائو۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’ارہر کی دال۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’اور۔۔۔ اور۔۔۔ میں ذہن پر زور دیتا ہوں۔ پھر جوش بھرے لہجے میں کہتا ہوں۔ ’’اور سب سے زیادہ تو گردہ کلیجی۔‘‘
’’گردہ کلیجی؟‘‘
’’ہاں! وہ مجھے بہت بہت پسند ہے۔‘‘
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں؟‘‘ لڑکی کی آواز رُندھ جاتی ہے۔
’’ہاں!‘‘ مگر ہمارے یہاں بہت کم پکتے ہیں۔ صرف بقرعید میں۔‘‘
میں افسردگی کے ساتھ کہتا ہوں۔
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں تو میرے نکال کر کھالو۔‘‘
میں اُسے ٹکر ٹکر دیکھتا رہتا ہوں۔
’’ہاں نکال لو، میرے دونوں گردے اورمیری کلیجی۔‘‘ وہ پرخلوص لہجے میں کہتی ہے۔
میں باورچی خانے میں جانور ذبح کرنے والی چھری لینے کے لیے چلا جاتا ہوں۔

میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہو گئی ہے۔ بارش جارہی ہے۔ منھ سے ٹھوڑی تک خون لگا ہوا ہے۔ میری زبان میں بہت تکلیف ہورہی ہے۔ زبان دانتوں کے درمیان آکر بری طرح کٹ گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے دانت نکیلے بھی تو بہت ہوتے جارہے ہیں۔

خوابوں کا یہ سلسلہ تب تک چلتا رہاجب تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک دن پانی برسنا بند ہو گیا۔ آخرکار بارش رُک گئی۔ ہر بارش کو بہرحال ایک نہ ایک دن رُکنا ہی ہوتا ہے۔ اُس طویل ترین بھیانک بارش کو بھی تھک کر رُکنا ہی پڑا تھا۔ جو لاکھوں برس تک اس کرّہ ارض پرہوتی رہی تھی۔
دھوپ نکل آئی ۔ سورج نے بادلوں کی سیاہ نقاب، اپنے چہرے سے نوچ کر پھینک دی۔ ہر شے اب سوکھنے لگی۔ گھر، دیواریں، چھت، کپڑے، سب گرم ہونے لگے۔ مگریہ ایک سیلن زدہ تمازت تھی۔ بارش کے بعد سارے شہر میں بخار کی وبا پھیل گئی۔ کھانے سڑنے لگے۔ کھانا، باورچی خانہ ہو، یا کوئی اور جگہ، ہر جگہ سڑ رہا تھا۔ اور سڑے ہوئے کھانے کی بوہر جگہ سے آرہی تھی۔یہ بخار آنتوں اور پیٹ میں خطرناک جراثیم پیدا ہونے سے آتا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی ہر کسی کا پیٹ خراب تھا۔ سب اُلٹیاں کر رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کو، چڑچڑاتے ہوئے، تقریباً کھا جانے کے لیے دوڑتے تھے۔ سب کی آنتوں میں مروڑ تھی۔ انجم باجی تک کی آنتوں میں (مجھے اس بار اُن کے پیٹ میں آنتیں ہونے کے احساس سے اتنا صدمہ نہیں پہنچا)۔ ان دنوں گھر میں صرف مونگ کی دال کی کھچڑی پکتی تھی اور سارا گھر اُسے دہی کے ساتھ دونوں وقت کھاتا تھا۔ میں نے اتنے بڑے دیگچے میں اتنی زیادہ کھچڑی پکتی کبھی نہیں دیکھی تھی۔
میں بھی کھچڑی ہی کھاتا رہتا، مگر میرا پیٹ خراب نہیں ہوا۔ نہ تو میری آنتوں میں مروڑ ہوئی اورنہ ہی مجھے کوئی اُلٹی ہوئی۔

دراصل ہیضہ پھیل گیا تھا۔ برسات کے بعد، اُن دنوں یہ بیماری عام تھی، لیکن اس بار اس نے وبا کی صورت اختیار کرلی۔ لوگ قے اور دستوں سے مرنے لگے۔ ہمارے محلے میں ہی کئی موتیں ہوئیں۔ گھر کے پاس ہی ڈاکٹر اقبال کا مطب تھا۔ ڈاکٹر اقبال ایک نیم حکیم تھا اور اُس کے پاس باقاعدہ کوئی میڈیکل ڈگری نہیں تھی۔ مگر اُس کے مطب پر مریضوں کا میلہ لگ گیا۔ مطب ایک پتلی سی گلی میں تھا۔ یہ پوری گلی ہیضے کے مریضوں سے اور پیشاب پاخانے کی ناگوار بدبوئوں سے بھری رہتی تھی۔ مریض ایک کے اوپرایک لدے سے رہتے اور اکثر اپنی اپنی الٹیاں اور قے برداشت نہ کرتے ہوئے، ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہی کر دیتے اور پھر آپس میں مارپیٹ کی نوبت آجاتی۔ اگرچہ مارپیٹ ہو نہ پاتی کیونکہ وہ سب لگاتار دستوں، اُلٹیوں، بخار اور کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے انتہائی لاغر اور کمزور ہوچکے تھے۔ ان کی کھال، گوشت اور ہڈیوں میں پانی کی بوند تک نہ بچی تھی۔کئی مریضوں نے ڈاکٹر اقبال کے مطب کے سامنے، اِسی گلی میں نالیوں میں گر کر دم توڑ دیا۔

یہ تھا انسان کی آنتوں کا تماشہ جسے سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ تھی منھ چلائے جانے کی سزا۔ انسان کا جرم اور اُس کی سزا دونوں ہی اس کی تعمیر میں مضمر ہیں۔

اس لیے میں نے کہیں کہا تھا کہ انسان اپنی آنتوں میں رہتا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ یہ وبا بھی کم ہونے لگی۔ کیونکہ زمین نے گردش کرنا تو چھوڑانھیں تھا۔ ستمبرکے آخری دن آپہنچے اور وہ ہوائیں چلنے لگیں جن سے تیز دھوپ بھی ہار جاتی ہے وہ دُھلی دھلائی اور پاکیزہ دھوپ تھی۔ نیلا آسمان پہلے سے زیادہ نیلا نظر آنے لگا اور دوپہر میں تیز ہوا کے جھکّڑ جیسے دھوپ اور آسمان دونوں کو اپنے ساتھ اُڑائے لے جاتے تھے، موسم نے کروٹ لی تھی۔ ہیضے کے جراثیم کمزور پڑنے لگے۔

یہ ہوائیں بارش کے رخصت ہوجانے کا ایک جشن منا رہی تھیں یا نوحہ، یہ تو میری سمجھ میں آج تک نہ آسکا، حالانکہ میں ہر سال بارش کے بعد چلنے والی ان ہوائوں سے دوچار ہوتا ہوں مگر اب یہ بھی ہے کہ جشن اور نوحہ کون سی دو مختلف باتیں ہیں، جس طرح زندگی اور موت دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔

وہ خوفناک بارش تو چلی گئی تھی مگر میں پہلے سے کچھ زیادہ بڑا اور شاید زیادہ خطرناک ہوگیا تھا۔ میرے گالوں اور ٹھوڑی پر ہلکا ہلکا سا رُوواں سا اُگ آیا تھا۔ مجھے اب اُس مہربان لڑکی والے خواب بالکل نہیں آتے تھے، نہ ہی دانتوں کے درمیان آکر زبان کٹتی تھی۔ میرے امتحان قریب آرہے تھے۔ مجھے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھنا تھا۔ اس لیے میں نے ان خوابوں کو بائیں طرف، اپنے دل کے قریب، اپنی قمیص کی اوپری جیب میں رکھ لیا ہے جسے جب چاہے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ میں اپنے خوابوں کو دیکھنے کے لیے نیند کا محتاج نہیں تھا۔
میں دیر رات تک جاگ جاگ کر پڑھتا۔ زیادہ تر ریاضی کے سوال حل کرتا کیونکہ ہائی اسکول میں، اس مضمون سے سب سے زیادہ مجھے ڈر لگتا تھا۔ بہت سے سوالوں کو میں حل نہیں کر پاتا تھا۔ تب اُن کے جواب، کتاب کے آخر میںدیکھ کر میں اُلٹے سیدھے، اوٹ پٹانگ طریقے سے فارمولے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیچے لکھ دیا کرتا تھا۔ ظاہر تھا کہ میری ریاضی چوپٹ ہوئی جارہی تھی۔ اور سب سے زیادہ توالجبرا اور جیومٹری جہاں سب کچھ پہلے سے ہی فرض کر لیا جاتا تھا۔ یہاں سب کچھ ایک تُک بندی تھی۔ ایک اندھا راستہ، کچھ مان کر چلو اور ایک اوٹ پٹانگ، مگر اپنے ہی بنائے ہوئے راستے پر چل کراُسے ثابت کر دو۔ (دنیا کے وجود کو بھی ایسے ہی ثابت کیا گیا اور ایسے ہی سراب مان کر اس کا نہ ہونا بھی ثابت کر دیا گیا) عقل و دانش اور منطق کی یہ خود غرض مکّاریاں اب تو میرے سامنے پوری طرح عیاں ہوچکی ہیں۔ مگر اُن دنوں حساب کا مضمون مجھے بری طرح تھکا کر رکھ دیتا تھا اور میں تنگ آکر سوال کوحل کیے بغیر اُس کا جواب دیکھ کر وہیں لکھ دیا کرتا تھا اور یہ بات بھی آج تک میرے لیے ناقابل فہم بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ اگر کسی سوال یا مسئلے کا جواب کہیں لکھا ہوا ہے یا کسی نے اُسے حل کر رکھا ہے اوراُس پر اُسے یقین بھی ہے تو پھر دوسروں کو الجھانے اور پریشان کرنے سے کیا فائدہ؟

مگر اس ریاضی سے الگ ایک دوسری ریاضی بھی تھی۔ ایک مہلک اور پُراسرار ریاضی جس کا علم میرے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ صرف میرے پاس ہی اُس کے خطرناک فارمولے تھے۔ اس کی کوئی کتاب نہ تھی جس کے آخری اوراق پلٹ کر میں سوالوں کے حل ڈھونڈ لیتا، مگر میں حل سے لاعلم رہتے ہوئے بھی ’حل‘ کی نوعیت سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ وہ کتنے اعداد کے درمیان کہیں ہوگا۔ کم نحس سے زیادہ نحس کے درمیان۔

یقینا اب یہ ایک گھٹیا ہتھیار تھا۔ جو میرے ہاتھ لگ گیا تھا اور میں اس پر کبھی کبھی فخر بھی کرتا۔ گھٹیا باتوں پر فخر کرنے والوں میں، دنیا میں اکیلا میں ہی تو نہیں ہوں۔ کتنے عامل، تانترک، جیوتشی، قسمت کا حال بتانے والے اور چھچھورے، سیاست داں اور کاروباری لوگ آخر گھٹیا باتوں پر ہی تو فخر محسوس کرتے ہیں۔

اِس خطرناک مضمون کا ایک سوال میں نے جلد ہی پھر حل کیا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیرہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور پھر بارش آگئی۔ وہ تو اُمس اور حبس کے ریشوں میں پہلے ہی سے پوشیدہ تھی۔ ایک رات جب میں نے اپنی کلائیوں اور چہرے کو انگلیوں سے چھوا، تب ہی مجھے محسوس ہوگیا کہ وہ آپہنچی ہے۔

رات کے تقریباً تین بجے ہوں گے۔ جب بادلوں کی زبردست گرج اور چمک کے ساتھ پانی برسنے لگا۔ ساتھ میں بارش کی ازلی رفیق ہوا بھی آئی۔ اُمس کی دیوار ٹوٹ کر گر گئی اور میں باہری دالان میں ٹین سے لگے داسے سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ برابر میں سنبل کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکے میں داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین بھک سے بجھ گئی۔ سارا گھر تاریک ہوگیا۔ ایک بار بہت زور سے بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ طوطے نے اپنے پروں میں منھ چھپا لیا ہے۔

اندھیرے میں، بارش کے بھیانک شورمیں مجھے بھی ڈر لگنے لگا۔ چھتوں کے پرنالوں سے زبردست آواز پیدا کرتا ہوا پانی بہہ رہاتھا۔
بارش کے شور میں اچانک میں نے ایک مختلف اور پُراسرار آواز سنی۔ ایک عجیب سی سرسراہٹ اور پھنکار زینے کے قریب بنے مرغیوں کے ڈربے کی طرف سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھرباورچی خانے کے دروازے پر، پھر آم کے درخت کے قریب اور پھر معدوم ہو گئی۔ یہ بارش کی آواز ہرگز نہ تھی۔ بارش کا زور بڑھتا جارہا تھا۔ مجھے سردی اور خوف دونوں محسوس ہوئے۔ میںجلدی سے اندر جاکر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور چادر میں منھ ڈھانپتے ہی مجھے گہری نیند آگئی۔

صبح جب میری آنکھ کھلی تو بارش ہورہی تھی۔ گھر میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ڈربے میں بند ساری مرغیاں مر گئی ہیں۔

اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ سانپ اِس گھر کا بہت پرانا مکین ہے، جب یہ گھربن رہا تھا تب ہی سے، یہ اس کی بنیادوں میں رینگتا اور سرسراتا ہوا دیکھاگیا تھا۔ اس کے اثر سے جانور تو کئی بار مر چکے ہیں مگر کسی انسان کو اس ناگ نے کبھی نہیں ڈسا۔

اچھّن دادی یوں تو غپ مارنے میں مشہور تھیں مگر اُن کی اس بات کی تائید گھر کے دوسرے افراد نے بھی کی۔ اگر رات کا وقت ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا مگر اُس وقت تو مجھے اُس ناگ کو دیکھنے کا تجسّس پیدا ہوگیا۔ رات اور دن کا یہی تو فرق ہے۔ انسان روز ایک دوہری زندگی جیتا ہے۔ دن میں کچھ اور رات میں کچھ بلکہ ایک دوسری زندگی۔ زمین کی گردش کوئی معمولی واقعہ نہیں، اِسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے۔ اس امر کو فراموش کرنا ہمیشہ خطرناک نتائج کا موجب ہوا کرتاہے۔

آپ نے ناگ کو دیکھا ہے؟ میں نے اچھّن دادی سے پوچھا تھا۔ ’’ہاں، کئی بار۔ جب میں تیرہ سال کی تھی اور اُس کے بعد بھی کئی بار۔ اس کے اوپر یہ بڑے بڑے بال ہیں۔ وہ بہت پرانا ہے اور بالکل کالا۔ ایسا کالا کہ اُس کے آگے چراغ نہیں جل سکتا۔‘‘ اچھّن دادی نے جھرجھری لیتے ہوئے جواب دیا۔

’’وہ اکثرباورچی خانے کی کوٹھری میں بھی دکھائی دیا ہے۔‘‘ نورجہاں خالہ نے کہا تھا۔ مگر اُس پُراسرار سانپ کو دیکھنے کی آرزو میرے دل میں ہی رہ گئی۔ میں جب تک اپنے گھر میں رہا، مجھے وہ کبھی نظر نہ آسکا۔ مگر اب مجھے اُسے نہ دیکھ پانے کا کوئی ملال یا افسوس نہیں ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں بھی ایک اتنا ہی زہریلا، اتنا ہی کالا اور اتنا ہی عمر رسیدہ ایک ناگ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ میں یہ جواپنی یادداشتیں لکھ رہا ہوں یا سنا رہا ہوں، یہ اپنے دل کے اس سیاہ ناگ کو پٹاری میں بِٹھا کر اُس کے سامنے بین بجاکر تماشہ دکھانے کے ہی مترادف ہے۔یہ ہمت اور جان جوکھوں کا کام ہے، میں تو خیر اپنی عدالت کو ڈھونڈھ رہا ہوں یا عدالت مجھے شکاری کتّے کی طرح سونگھتی پھر رہی ہے، مگر تم سب کیا کر رہے ہو؟

میں نے تو اپنا کوبرا دکھا دیا۔ یہ رہا میرا ناگ، مگر تم بھی تو اپنے اپنے ناگ، اپنے اپنے کوبرے دکھائو۔ اے نیک دل اور شریف انسانو!
اس وقت میری یاددشت کو بہت زیادہ محنت کرنا یا بھٹکنا نہیں پڑ رہا ہے۔ بارش کی یاد، میرے حافظے کو اِس طرح اپنے ساتھ لیے لیے چل رہی ہے جیسے بادل پانی کو لے کر چلتا ہے۔ بارش کتنی بھی اندھیری ہو، وہ یادداشت کے لیے ایک کبھی نہ مٹنے والے اُجالے کی مانند ہوتی ہے۔ اب کچھ دیر تک میں جو بھی لکھوں گا وہ تحریر قلم کی سیاہی کے ذریعے نہیں بلکہ ٹین پر ٹپ ٹپ گرتی ہوئی بارش کے ذریعے خودبخود وجودمیں آ جائے گی۔ بارش کی دھند اور اُس کی بوندیں، اس کی بوچھار اور جھاوٹ اور سیاہ بادلوں سے منڈھا ہوا آسمان یہ سب میرے کاغذ قلم ہیں۔ بارش ہی وہ لفظ ہے جس کے سہارے میں بغیر لکنت کے، اپنی فرّاٹے دار زبان میں اُس سیلن زدہ اور بھیگے ہوئے زمانے کو حفظ کر سکتا ہوں۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مئی کا تپتا ہوا اور لُو کے جھکّڑوں سے ہلتا اور کانپتا ہوا مہینہ آپہنچا۔ یہ بڑا شاندار اور پُروقار گرمی کازمانہ تھا۔ ہر شے تپ رہی تھی۔ گرمی ہر شے کو آگ کی مانند جلاکر راکھ کر دینے کے درپے تھی۔ ہر شے کو پوتر کرنے کے لیے تیار۔ یہی کام تو آگ کرتی ہے۔

انجم باجی کی شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ تاریخ بھی مقرر ہوگئی۔ شادی، برسات کا موسم گزر جانے کے بعد ہونا طے پائی تھی مگر یہ شادی آفتاب بھائی کے ساتھ نہیں ہو رہی تھی جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ شادی کہیں اور ہو رہی تھی اور اُن کا ہونے والا شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا۔ میں نے یہ واضح طو رپر محسوس کیا کہ انجم باجی زیادہ تر روتی رہتی ہیں اور اپنے بیاہ کے کاموں میں رتّی برابر بھی دلچسپی نہیں لیتیں۔ مجھے نہ جانے کیوں اس سے بڑی طمانیت سی محسوس ہوتی۔
ایک دن میں نے اُن سے پوچھا تھا:

’’آپ مجھے بھول تو نہیں جائیں گی؟‘‘

وہ پہلے تو کچھ نہیں بولیں، پھر میری گود میں بیٹھے کن کٹے خرگوش کو اُٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا اور سسکیاں لینے لگیں۔
’’آپ میری وجہ سے روتی ہیں نا!‘‘

انجم باجی نے خرگوش زمین پر اُتار دیا اور مجھے خالی خالی بیگانی نظروں سے دیکھنے لگیں۔

جون کا مہینہ آتے آتے میں کچھ اور بڑا ہو گیا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی دن بلکہ کسی بھی لمحے اچانک بڑے ہو جاتے ہیں، تبدیل ہوجاتے ہیں اور آپ کو اپنے بڑے ہوجانے یا بدل جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تبدیلی کا عمل اتنا ہی پُراسرار ہے جتنا کہ زمین کا گردش کرنا، جس کا انسان کو پتہ تک نہیں چلتا۔

میں کچھ اوربڑا ہوگیا یا میرے جسم میں ایک آدھ انچ عمر اور بڑھ گئی۔ ان دنوں مجھے جانوروں سے بہت لگائو ہوگیا تھا۔ سنبل طوطا اور کن کٹا خرگوش تو تھے ہی۔ ہمارے گھر میں کہیں سے گلہری کے دو بچّے آگئے تھے۔ میں نے ضد کرکے انھیں تقریباً پال ہی لیا۔ میں ان کو جوتے کے ڈبّے میں روئی بھر کر رکھتا تھا جس سے کہ وہ اُن کا گھونسلہ بن جائے۔ چھوٹی سی تام چینی کی کٹوری میں دودھ دیتا تھا اور جو کچھ بھی، دانہ دُنکا وہ کھاتے تھے۔ نورجہاں خالہ نے اُن کے نام بھی رکھ دیے تھے۔ لوسی اور جیک۔ مگر جب وہ بڑے ہوئے تو انسانوں سے خاصا ہل جانے کے باوجود انھوںنے آم کے درخت کے ایک کھوکے میں اپنا باقاعدہ گھونسلہ بنا لیا۔ رات میں وہ وہاں سوتے تھے اور دن میں سارے گھر بلکہ بستروں تک پر گھوما کرتے تھے۔

جون کے اواخر میں جب ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تو دونوں کو ایک عجیب مشغلہ ہاتھ آگیا۔ بارش کی بوندیں جیسے ہی ٹین پر گرتیں وہ داسے پر سے اُچھل کر اپنی خوبصورت دُمیں سر پر رکھ کر بھاگتے ہوئے درخت کے کھوکے میں گھس جاتے اور پھر وہاں سے اپنا منھ باہر نکال کر بارش دیکھا کرتے۔

ویسے ابھی مانسون نہیں آیا تھا اور اُمس کا یہ عالم تھا کہ سارا بدن گیلا اور چکنا ہوگیا تھا۔ اب کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسانی ارتقا کے ابتدائی پڑائو کا تجربہ تھا۔ مجھے اپنی کھال مچھلی کی کھال کی طرح لگتی تھی۔ پسینہ سوکھتا ہی نہ تھا۔ جو شخص بھی قریب سے گزرتا، تو پسینے کی بدبو سے ناک سڑ اکر رکھ دیتا۔ زیادہ تر افراد دالانوں سے نکل کر رات میں آنگن میں ہی سویا کرتے۔
ایسی ہی اُمس بھری ایک شام کا ذکر ہے۔ میں چھت سے پتنگ اُڑا کر نیچے آیا۔ باورچی خانے میں ایک کھٹّی میٹھی سی خوشبو جو مجھے بدبو محسوس ہوئی، آرہی تھی۔ میں اندر گیا۔

نورجہاں خالہ چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں اور ایک ہانڈی میں باربار کفگیر چلا رہی تھیں۔
’’کیا پک رہا ہے؟‘‘

’’آم رس۔‘‘ نورجہاں خالہ نے اسی طرح کفگیر چلاتے چلاتے جواب دیا۔ اُن کے کپڑوں سے پسینے اور آم کی ملی جلی بو نے میرا جی متلا کر رکھ دیا۔ مجھے نہ آم پسند ہے اور نہ اُس سے بنی کوئی دوسری شے۔

میں جیسے ہی واپس جانے کے لیے مڑا مجھے محسوس ہواکہ میرے پائوں ڈگمگا رہے ہیں۔ دونوں وقت مل رہے تھے، آسمان پر ایک پیلا سا غبار تھا،جیسے آندھی آتے آتے رہ گئی ہو۔ ’’نہیں ٹھیک نہیں ہے۔ آم رس آج نہیں پکتا تو اچھا تھا۔‘‘ میں دھیرے سے بڑبڑایا۔ میری وہ منحوس چھٹی حس شاید جاگنے والی تھی۔ مگر پھر میں نے خود ہی اپنی توجہ زبردستی کہیں اور مرکوز کر دی۔ میں نے لوسی اور جیک کو چمکار کر زور زور سے آوازیں دینا شروع کردیں۔

دونوں اپنی دُمیں سر پر اُٹھائے دوڑے چلے آئے۔ میں تھوڑی دیر تک اُن سے کھیلتا رہا۔ پھر جیک کچھ سونگھتا ہوا باورچی خانے میں چلا گیا اور لوسی چھوٹے چچا کے پلنگ کے پائے پر چڑھنے اُترنے لگی۔

رات ہو گئی، لالٹین جل گئی۔ مجھے بھوک لگنے لگی۔ کھانا تو پہلے ہی تیار ہوچکا تھا۔ بس آم رس کا انتظار تھا۔ وہ بھی اب پک گیا تھا۔
میں باورچی خانے میں دیکھ رہا تھا کہ نورجہاں خالہ نے آم رس کی ہانڈی کو چولھے سے اُتار لیا ہے۔

جیک اُن کے پاس ہی اپنے اگلے دو پنجوں میں کچھ دبائے کُتر رہا تھا۔ نورجہاں خالہ نے چولہے میں سے سلگتی ہوئی لکڑی نکالی اور وہیں بیٹھے بیٹھے لوٹے سے پانی ڈال کر اُسے بجھا دیا۔

جلتی سلگتی لکڑی پر جیسے ہی پانی گرا۔ سن سن کی ایک تیز آواز باورچی خانے میں گونجی۔ انسان اس آواز سے صدیوں سے مانوس ہیں مگربے زبان جانور نہیں۔ جیک اِس (بھیانک آواز؟) آواز سے بری طرح خوف زدہ ہوکر حواس باختہ ہوتے ہوئے زور سے اُچھلا اور چولہے میں جاگرا۔ چولہے میں تازہ تازہ بھوبھل تھی جس کی تہہ میں انگارے دہک رہے تھے۔

وہ ’’چیں چیں‘‘ کی بڑی دردناک آوازیں تھیں۔ سب چولہے کی طرف دوڑے، میں زور زور سے رونے لگا۔

چھوٹے چچا نے اُسے کسی طرح چولہے سے باہر نکالا۔ جیک چیں چیں کرتا ہوا، لڑکھڑاتا، ڈگمگاتا ہوا، فرش پراِدھر اُدھر چکر لگا رہاتھا۔ اس کے ننھے ننھے پیر پوری طرح جل گئے تھے اور قصائی کی دوکان پر رکھے چھیچھڑوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ اس کی جلد پر سے سفید دھاریاں غائب تھیں۔ اس کی دُم جل کر ٹوٹ گئی تھی۔ اور وہ ایک گلہری نہ ہوکر ایک بدنما، خارش زدہ اور گندا، دُم کٹا چوہا نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ اسی طرح اچھلتا کودتا رہا، پھر خاموش اور نڈھال ہوکر فرش پر پڑ گیا۔ چھوٹے چچا نے اُسے ہاتھ سے چھوا، میں نے دیکھا، اُس کی آنکھیں غائب تھیں۔ سر کی جلی ہوئی کھال آگے کو لٹک رہی تھی۔

’’دودھ لائو، دودھ۔‘‘ انجم باجی نے کسی سے کہا، مگر نہیں سب بیکار تھا۔ جیک نے اِس سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔

باورچی خانے میں سنّاٹا ہوگیا۔ اُس رات کسی نے کھانا نہیں کھایا۔ میں تمام رات پلنگ پر لیٹے لیٹے روتا رہا۔ لوسی پتہ نہیں کہاں تھی؟
کوئی میرے پاس آنے کی یا دلاسہ دینے کی ہمت نہ کر سکا۔ مگر شاید آدھی رات رہی ہوگی جب میرا خرگوش آکر میرے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ اپنی تھوتھنی میرے پاؤں سے رگڑ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب مجھے نیند آگئی۔

صبح میں دیر سے اُٹھا۔ چھوٹے چچا نے مجھے بتایا کہ لوسی بھی مر گئی۔

فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔

اس بار میں رویا نہیں، بس خاموشی سے زینے کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا چھت پر چلا گیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ جانور خودکشی کرتے ہیں یا نہیں۔ مگرآج اس بات پر مجھے پورا یقین ہے کہ لوسی نے خودکشی کی تھی۔
اس واقعے کے بعد میں اپنی اس خطرناک صلاحیت سے بے حد خوف زدہ اور سراسیمہ رہنے لگا۔ میں خدا سے دُعا مانگتا کہ وہ مجھ سے یہ صلاحیت، یہ پُراسرار حس چھین لے۔ میں نے کافی عرصے تک باورچی خانے کی جانب رُخ بھی نہ کیا۔ میں اس کے قریب سے بھی گزرتا تو ناک بند کرکے کہ کہیں کوئی خوشبو نہ آجائے اور پھر کوئی حادثہ، کوئی برا واقعہ نہ رونما ہوجائے۔ مگر اب مجھے یہ اپنا بچپنا اور حماقت ہی نظر آتے ہیں۔ اب تو یہ میرے لیے بہت عام سی اور فطری بات ہو چکی ہے۔ جیسے کوئی پیدائشی بہرا، گونگا یا اندھا ہو، بالکل اس طرح یہ زائد اور خوفناک چھٹی حس میرے وجود کا وہ پیدایشی عیب یا محرومی بن چکی ہے جو اَب میری عادت میں شمار ہے اور جس کے ساتھ، بغیر کسی پریشانی یا مشکل کے، اطمینان کے ساتھ میں نے جینا سیکھ لیا ہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اس منحوس اور کالی صلاحیت نے میرے اندر کی کمینگی اور کینہ پروری کو بھی سہارا دے کر اُسے اور زیادہ مضبوط بنادیا ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – گیارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ کرّہ ارض ایک معمولی سے نقطے سے شروع ہوا تھا۔ اب مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ واقعی یہ دنیا سفید کاغذ پر سرمئی پنسل سے لگایا گیا ایک نقطہ ہی تھا۔

پھر جو اس نقطے نے پھیلنا شروع کیا اور شیطانی آنت کی طرح جو روپ اور حجم اختیار کیا اُس کے بارے میں یہاں کچھ بھی لکھنا محض ایک تضیع اوقات ہے۔

حالانکہ دنیا میرے لیے کوئی بہت بڑا معمّہ نہیں ہے۔ (دنیا میں رہنے والے انسان معمّہ ہیں اور خود میں معمّہ ہوں)
ایک بے تُکے نقطے کا بے تُکے انداز میں پھیلتے رہنے سے مجھے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ یہ تو ایک مرض کی مانند ہے۔ ایک کینسر کی طرح۔ مگر اس نقطے کے اندر جو ایک لامحدود حجم والا بھورے رنگ کا لفافہ بن چکاہے، اُس میں عورت مرد رہتے ہیں۔ جانور رہتے ہیں، کیڑے مکوڑے رہتے ہیں اور بچّے رہتے ہیں۔ جی ہاں بچّے بھی۔ اوراسی دنیا میں جہاں پہاڑ، سمندر، آتش فشاں، جنگل، ندیاں اور ریگستان ہیں۔ وہیں ایک باورچی خانہ بھی تو اسی نقطے میں ہے۔ باورچی خانہ جیسا کہ میں باربار کہتا ہوں (کیونکہ تکرار مجھے پسند ہے، مجھے بھی اور اِس دنیا کوبھی) کہ وہ ایک انتہائی بھیانک اور ناخوشگوار مگر انسانی آنتوںکے لیے شہوت سے بھری ایک جگہ کا نام ہے۔ انسانی آنتوں کی شہوت اپنی ماہیت میں اُس کے پوشیدہ اعضاء کی شہوت سے زیادہ خوفناک ہے۔ اور کیا عجب اس نقطے (کرّۂ ارض) کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی شیطانی مقام نے کی ہو اور مجھے تو اَب مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں باورچی خانے سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

اس لیے دنیا کے بڑھتے، پھیلتے رہنے یا فنا ہونے وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود میں اس نقطے پر ایک پسّو کی مانند جاکر چپک جانا چاہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میری معجزاتی یادداشت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ دنیا نام کے کاغذ پر لگاگئے گئے اُسی نقطے تک پہنچ جائے۔ میں اپنے جسم سے بھٹک گئے ایک خلیے کی مانند، ہوا میں اُڑتے ہوئے یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس دنیا نے انسانوں کے ساتھ کیا برتائو کیا۔ یا یہ کہ انسانوں نے دنیا کے ساتھ کیا کمینہ پن کیا، مگر افسوس کہ میرا حافظہ زیادہ سے زیادہ میرے بچپن تک ہی جاکر رُک جاتا ہے اور پھر ایک ایسی ذہنی کشمکش شروع ہوجاتی ہے جس کا انجام میرے سر میں بھیانک درد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

میرا بچپن؟

میں اپنے بچپن کو دوبارہ اس لیے نہیں حاصل کرنا چاہتا، کہ اُسے ایک بارپھر سے جینے لگوں۔ میں اب اُس تک اس لیے رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ اُسے سمجھ سکوں۔ جس طرح ذرا بڑے ہو جانے پر بچّے اپنی پرانی گیند کو توڑ کر اُس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پرانے کھلونوں کو توڑ کر اُس کے انجر پنجر ایک کرکے رکھ دیتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ چابی والا بندر دودھ کی شیشی منھ میں کس طرح لے کر پیتا تھا۔

میرا بچپن؟ وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے؟

میں نے اپنی عمررسیدہ بدرنگ کھال کو باربار ساٹھ کی دہائی کے محمد رفیع کے فلمی گانوں کی نوکوں سے ادھیڑا اور چھیلا۔ ابن صفی کے ناولوں کی دھاردار قینچی سے باطن کے یہ موٹے موٹے بے رحم دھاگے اور ستلیاں کاٹ ڈالے۔ پرانے دوستوں کے ساتھ پرانی باتیں کرتا رہا اور میرے حافظے کو ان سب کی کمک ملتے رہنے کے باوجود، بچپن اس طرح نہ ملا جس طرح میں چاہتا ہوں۔ حالانکہ وہ میرے اندر ہی کہیں ہے۔ کھال کے نیچے، ہڈیوں کے گُودے میں، کہیں چپکا ہوا، گھر کے کسی تاریک گوشے میں پڑے پلاسٹک کی گیند کے ایک ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کی طرح، اپنے بچپن کے ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں پر جب توجہ مرکوز کرتے ہوئے غور وفکر کرتا ہوں تو ایک بات سامنے ضرور آتی ہے اور وہ یہ کہ آہستہ آہستہ میرے اندر ایک قسم کی کینہ پروری پیدا ہوتی جارہی تھی۔ ایک خطرناک قسم کا کینہ، جس کے اندر ایک گھٹیا قسم کا تشدّد پوشیدہ تھا۔ دوسروں کو ایذا پہنچانے کی ایک ناقابل فہم خواہش اکثر میرے اند رپیدا ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً باربار میرا جی چاہتا تھا کہ اپنے پاس بیٹھے افراد کے جسم میں کوئی باریک سی سوئی چبھو دوں، یا کھانا پکاتے ہوئے کسی شخص کے کھانے میں چپکے سے تھوک دوں، اور بھی اِسی قسم کی گھٹیا اور غیر اخلاقی حرکتیں کرتا پھروں۔

میں مثال کے طور پر ایک واقعہ کا ذکر کروں گا، کچھ دنوں سے مَیں دیکھ رہاتھاکہ ثروت ممانی اور فیروز خالو آپس میں بہت بے تکلف ہوتے جارہے ہیں اور ماموں اور ممانی کے آپسی جھگڑے ضرورت سے زیادہ بڑھتے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک رات ماموںنے ممانی کو چپّلوں سے مارا پیٹا بھی۔ مجھے خوشی ہوئی کیونکہ ثروت ممانی بے حد بددماغ قسم کی عورت تھیں اُن کے کوئی اولاد نہ تھی مگر میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ وہ مجھ سے چڑتی تھیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ جس کا مجھے علم نہیں۔ انسان کو وجہوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر نہیں پڑنا چاہئیے۔ بس تیل دیکھنا چاہئیے، اور تیل کی دھار۔ اگرچہ اس کارآمد اُصول پر میں خود بھی قائم نہ رہ سکا۔

اُس شام باورچی خانے سے اُس مسالے کی بُو آرہی تھی جس کے ساتھ مچھلی بھونی جاتی ہے۔ مجھے مسالے والی مچھلی بہت پسند ہے مگرمیری چھٹی حس نے مجھے آگاہ کر دیا تھا کہ آج یہ اچھا شگون نہیں ہے۔ کوئی بھی برُا واقعہ کسی کے بھی ساتھ پیش آسکتا ہے۔ مگر میں نے اُس رات مچھلی خوب مزے لے لے کرکھائی۔ مچھلی ثروت ممانی نے پکائی، اگر انجم باجی پکاتیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ رات کا کھانا ساتھ خیریت کے کھالیاگیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ میری چھٹی حس بھی سوگئی۔

وہ شاید اپریل کے شروع کے دن تھے۔ باہر والے دالان سے ملحق ایک آڑ میں چھوٹا سا برآمدہ تھا جس کی چھت لکڑی کی کڑیوں اور شہتیروں کی تھی۔ ان اطراف میں ان دنوں شہد کی مکھّیاں جگہ جگہ اپنے چھتّے بناتی پھرتی تھیں۔ برآمدے میں ایک شہتیر پر شہد کی مکھّیوں نے بہت بڑا سا چھتہ بنا رکھاتھا۔ تیز کتھئی رنگ کا بے حد نفاست اور ناپ تول کر بنایا گیا چھتّہ جو کبھی کبھی چھت پر فانوس کی طرح لٹکا ہوا نظر آتاتھا ۔ گھر میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ اُسے چھیڑے۔

برآمدے کے سامنے باورچی خانے کا عقبی روشندان کھلتا تھا۔ جس سے یہ چھتّہ صاف نظر آتا تھا۔ رات کے تقریباً دو بج رہے تھے اور مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔کچھ بے چینی سی تھی۔ گھر کے تمام افراد اِدھر ُدھر دُبکے ہوئے سو رہے تھے۔ مجھے کچھ میٹھا کھانے کی خواہش ہوئی۔ رات میں اکثر میں چھپ کر میٹھا کھاتا تھا جس کے لیے مجھے باورچی خانے میں جانا پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کہ تھوڑی شکر ہی پھانک لوں۔ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں بستر سے اُٹھتا ہوں اور بلّی کی چال چلتے ہوئے باورچی خانے تک پہنچتاہوں۔ بہت آہستگی اور کمالِ احتیاط سے کام لیتا ہوا میں باورچی خانے کا دروازہ کھولتا ہوں ۔ اندر داخل ہوتا ہوں۔ اندھیرے باورچی خانے میں مچھلی کی بساندھ بھری ہوئی ہے۔ بغیر بتّی جلائے، اندازے سے میں شکر کے ڈبّے تک پہنچتا ہوں۔ روشندان میں سے پام کا ایک بڑا سا پتّہ اندر کو چلا آیا ہے جو اپریل کی رات میں چلنے والی خوشگوار ہوا میں آہستہ آہستہ لرز رہا ہے۔

میں شکر کا ڈبّہ کھولتا ہوں، شکر کو مٹھی میں دبائے ہوئے اُسے منھ میں ڈالنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ایک عجیب سی آہٹ سنائی دیتی ہے۔
میرا کن کٹا خرگوش؟

لوسی یا جیک؟
کوئی بلّی؟
یا وہ سیاہ ناگ؟

میں خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ میری بند مٹھی کھل جاتی ہے۔ ساری شکر اندھیرے میں فرش پر گر جاتی ہے۔
مگر نہیں یہ انسانی سانسیں ہیں اور انسانی سرگوشیاں۔

کوئی برآمدے میں ہے۔

میں ہمت سے کام لیتاہوں اور ایک بڑے سے پتیلے پر پیر رکھ کر روشندان سے جھانکتا ہوں۔ پام کا پتّہ میری آنکھوں اور ناک پر چبھنے لگتا ہے۔ میرے پورے چہرے پر سخت قسم کی کھجلی ہونے لگتی ہے۔ جس کو برداشت کرتے ہوئے اُچک کر میں دیکھتا ہوں۔
مدھم سی چاندنی میں دوسائے آپس میں اس طرح گتھے ہوئے نظر آئے جیسے کشتی لڑ رہے ہوں۔ ایک پل کو اُن کے چہروں پر خاص زاویے سے روشنی پڑتی ہے۔ میں اُنہیں پہچان لیتا ہوں۔

وہ ثروت ممانی اور فیروز خالو ہیں۔

میرے اندر ایک زبردست قسم کی نفرت کا بھنور پیدا ہوگیا۔ میرے اندر کینہ اور بغض اپنی حدوں کو پار کرنے لگے۔ میں سراپا تشدّد بن گیا، مگر کچھ نہ کر پانے کی سکت کے احساس نے میرے پورے جسم پر کپکپی طاری کر دی۔

ٹھیک اُسی وقت چاندنی رات میں مجھے وہ نظرآیا۔ وہ چھتّہ جو ٹھیک اُن دونوں کے سروں پر ہی لٹک رہا تھا۔

میں کانپتے ہوئے پیروں سے پتیلے سے نیچے اُترا۔ تاریک باورچی خانے میں اٹکل سے مٹّی کی اُس ہانڈی تک پہنچا جس میں نمک کے ڈبّے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے نمک کا ایک بڑا سا ڈیلہ ہاتھ میں دبایا اور دوبارہ اُس پتیلے پر چڑھ گیا۔ اس بار میں کانپ نہیں رہاتھا۔ حیرت انگیز طور پر میں خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہا تھا۔

دو تاریک سائے دو جانوروںکی مانند ایک دوسرے سے گتھے ہوئے اور لپٹے ہوئے ہیں۔ میں پام کے پتّے کو ایک ہاتھ سے تھوڑا سا ہٹاتا ہوں۔ شہد کی مکھّیوں کے چھتّے پر اپنا نشانہ سادھتا ہوں۔ سانس روک کر اپنے دائیں ہاتھ میں اپنے جسم اور روح کی تمام طاقت کو منتقل کرتا ہوں اور پھر نمک کا ڈیلہ چھتّے پر زور سے پھینک کر مار دیتا ہوں۔ ہلکی سی آواز آتی ہے۔ جس کے بعد ایک عجیب اور پُراسرار سی بھنبھناہٹ گونجتی ہے۔ جیسے موت غصّے میں بھری سرگوشیاں کر رہی ہو۔

اُن دونوں کی ہذیانی چیخوں سے سارا گھر جاگ جاتا ہے۔ مکّھیاں دونوں پر بری طرح چمٹ گئی تھیں۔ چاندنی رات میں مکّھیوںکے سائے بھیانک تاریک دھبّوں کی طرح اُڑتے اور گردش کرتے پھر رہے تھے۔

غیض و غضب سے بھری شہد کی مکّھیاں اُن کے کپڑوں میں گھس گئی تھیں۔ فیروز خالو کو میں نے بھاگتے ہوئے زینے کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ چھت پر دوڑ رہے تھے، شاید منڈیر سے برابر والے گھر یا گلی میں چھلانگ لگانے کے لیے۔ ان کی قمیض اور پتلون اُن کے کاندھوں پر تھی۔ وہ باربار اپنے نچلے حصّے پر اِدھراُدھر ہاتھ مار رہے تھے شاید اُن کے پوشیدہ اعضاء کو مکھّیوں نے ڈنک مارے تھے۔

ثروت ممانی بری طرح چیخیں مار رہی تھیںاور دیوانوں کی طرح زمین پر لوٹیں لگا رہی تھیں۔ کبھی وہ اُٹھ کر کھڑی ہوتیں اور بگولے کی طرح چکرانے لگتیں۔ اُن کے بال کھل کر اُن کے گھنٹوں تک جارہے تھے۔ پھر زمین پر گر کر لوٹیں لگانے لگتیں۔ میں نے اُنہیں اپنا جمپر اُتارتے ہوئے دیکھا، ان کی غیر معمولی طور پر بڑی اور بھاری بھاری لٹکی ہوئی چھاتیوں کی پرچھائیں کبھی زمین پر پڑتی،کبھی دیوار پر۔ اُن کے بال کھل گئے تھے۔ ان کا چہرہ اُن میں چھپ گیا۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ کوئی خوفناک تانڈو ناچ ناچ رہی ہوں۔ ایک چڑیل، ایک آسیب کی مانند۔ ان کی چیخیں کبھی بھاری اور طویل ہوجاتیں اور کبھی پتلی، باریک اور مختصر — وہ کسی غیر انسانی شے میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بالکل خاموش ہوکر وہ زمین پر ایک وزنی درخت کی مانند آگریں۔ مجھے لگا کہ وہ مر گئیں۔

گھر کے تمام افراد خوف زدہ سے اِدھر اُدھر کھڑے یا چھُپے ہوئے تھے۔

آہستہ آہستہ وہ خوفناک بھنبھناہٹ مدھم پڑتی گئی۔ مکھّیوں کے سائے سمٹنے لگے۔ اپریل کی ہوا پھر چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ثروت ممانی اب تقریباً بالکل ننگی فرش پر شاید بے ہو ش پڑی تھیں۔ گھر کے دوسرے لوگ اِدھر کو آنے لگے۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ دل اس طرح دھڑک رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں یہیں، اسی جگہ، اسی باورچی خانے میں مرجائوں گا۔

مگر نہیں، اچانک پھرایک مکّار ہمت اور چالاکی نے مجھے نہ جانے کہاں سے نمودار ہوکر سہارا دیا ۔ میں تیزی سے باورچی خانے سے نکل کر برآمدے اورآنگن میں اکٹھا دوسرے افراد میں جاکر گھل مل گیا۔ اس افراتفری میں کسی نے بھی مجھے وہاں سے نکلتے نہیں دیکھا۔

یہ تو خیر ہوئی کہ چھتّہ ٹوٹ کر نیچے نہیں گرا تھا۔ نمک کے ڈھیلے سے وہ شاید صرف ہل کر رہ گیا ہوگا۔ اسی لیے مکھّیاں اپنا بدلہ لینے کے بعد دوبارہ چھتے پر جاکر چپک گئیں تھیں۔ نورجہاں خالہ نے ثروت ممانی کے ننگے بدن پراپنا سوتی دوپٹہ ڈال دیا تھا۔ مگر دوپٹہ ڈالنے سے پہلے میں نے اُن کے سینے کی طرف دیکھا تھا۔ وہاں اب چھاتیاں نہ تھیں۔ وہ سوج کر ایک بہت بڑے سے تھیلے میں بدل چکی تھیں۔
مجھے آٹا لانے والا تھیلا یادآگیا۔ تب اُنھیں اُٹھا کر اندرلایا گیا۔ ان کا پورا چہرہ سوج کر کپّا ہو گیا تھا۔ آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھیں۔ ان کے ہونٹ کسی درندے کی تھوتھنی کی طرح نیچے لٹک رہے تھے۔ چہرہ اس قدر لال تھا جیسے کوئی بڑا سا انگارہ، مجھے یہ ہرگز علم نہ تھا کہ شہد کی مکھّیوں کے کاٹنے سے اس حد تک معاملہ بگڑ جائے گا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر فوراً اسپتال نہ لے جایا گیا تو وہ مر بھی سکتی تھیں۔

’’مر جانے دو، مر جانے دو اس کتیا کو۔‘‘ ماموں چیخے۔ سب نے جھپٹ کر ماموں کا منھ بند کر دیا، مگر وہ دوبارہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگے۔

’’پوچھو- پوچھو اِس چھنال سے، یہ کس کے ساتھ منھ کالاکر رہی تھی۔ کون چھت پر بھاگا تھا۔

انجم باجی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا۔

’’چلو گڈّو میاں، تم جاکر سو جاؤ۔ میں بھی تمھارے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘ انجم باجی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر والے دالان میں لے آئیں۔ انھوں نے پیار سے مجھے سو جانے کے لیے کہا۔ میں نے اُن کا چہرہ دیکھا۔ وہ بہت اُداس تھیں۔ اتنی اُداس کہ ان کے چہرے کی پاکیزگی تک اس افسردہ رنگ کی چھُوٹ میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

اور میں سو گیا۔ میں واقعتا سو گیا۔ اتنا بڑا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے بعد میں بے خبر سوگیا۔

دوسرے دن کی صبح غیرمعمولی طور پر سونی اور خاموش تھی۔ پتہ چلاکہ ثروت ممانی بچ تو گئی تھیں مگر اب وہ اس گھرمیں نہیں تھیں۔ مجھے یہی بتایا گیا کہ وہ علاج کے لیے بنگلہ دیش اپنے مائیکے کے کچھ رشتہ داروں کے یہاں چلی گئی تھیں۔

اس کے بعد ثروت ممانی کومیں نے کبھی نہیں دیکھا۔ چند دنوں پہلے کہیں سے یہ اُڑتی اُڑتی خبر آئی تھی کہ پاکستان میںاُن کاانتقال ہوگیا۔ وہ شاید بنگلہ دیش سے پاکستان منتقل ہو گئی تھیں۔

فیروز خالو جو محلے میں ہی رہتے تھے۔ اور ہمارے نسبتاً دورکے رشتہ دار تھے، اُن کا بھی کوئی پتہ نہ چلا۔ وہ تو اس طرح غائب ہوئے جیسے اُنہیں زمین کھا گئی ہو۔ ان کی بیوی کا اس واقعے سے پہلے ہی انتقال ہو چکاتھا۔ اور بچّے اپنی نانہال میں رہتے تھے۔

جہاں تک ماموں کا سوال ہے وہ ایک عرصے تک گم سم رہے۔ پھرانھوں نے اپنے آپ کو مقدموں اور کچہری کی دنیا میں پوری طرح غرق کردیا۔

یہ سب میں نے بڑی مشکل سے یاد کرکے لکھا ہے۔ اوراب مجھے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ سب جتنا بھیانک تھا اتنا ہی مضحکہ خیز بھی۔ یعنی یہ کہ دو نفس جب جنسی عمل میں مشغول ہوں تو اُن پر شہد کی مکھّیوں کے ڈنگارے کا حملہ۔۔۔! اور فیروز خالو کے پوشیدہ اعضا پر ٹھیک اُس وقت ایسی مصیبت جب وہ اعضا بذاتِ خود دوسرے جہانوںکی سیر کر رہے ہوں۔ بہرحال مضحکہ خیزی اور بھیانک پن ایک ہی سکّے کے دو پہلو ہیں۔ ایک کے ساتھ دوسری کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر آپ بھوت کو ہی لے لیجیے۔ وہ ڈرائونا اور مسخرہ ایک ساتھ ہے۔ بس بات یہ ہے کہ آپ کس پہلو پر زور دیتے ہیں۔ میرے اندر اُس زمانے میں دوسرے کو ایذا پہنچانے کا خبط اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ کسی بھی قسم کے احساسِ جرم وغیرہ سے میرا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اور ضمیر کس چڑیا کو کہتے ہیں، اس کا کوئی علم کم از کم اُس زمانے میں ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیداہوتا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ میں اگر یہ حرکت نہ کرتا تب بھی کچھ نہ کچھ ہوکر رہتا۔ ایک غلط وقت اور غلط دن مسالحے دارمچھلی کا پکنا گُل کھلا کر ہی رہتا۔ یہ میرا ایمان اور ایقان ہے۔

یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا ایک عرصے تک بلکہ شاید تازندگی میں اسی طرح چھٹّے بیل کی طرح گھومتا رہوں گا۔ اور اپنے اوپر اسرار کے اتنے دبیز اور سیاہ پردے ڈالے رکھوں گا کہ میرا باطنی وجود اپنے آپ میں ایک اسرار، ایک بھید،ایک خفیہ ریاضی میںبدل جائے گا۔

اور یہ سب ہونے میں بہت دیر نہیں ہے۔ اگر میں ناول لکھنے کے قابل ہوتا تو میرے مکھوٹے فطری طور پر آہستہ آہستہ سرک کر نیچے گرتے جاتے مگر مقدموں کی اپیلیں، عرض داشتیں اور عدالتوں میں ہونے والی بحثیں، یہ سب تو اپنے آپ میں خود سیاہ نقابیں ہیں۔ ہر وکیل، ہر گواہ اور ہر منصف ایک نقاب پوش ہے۔

میں جو یہ سب لکھ رہا ہوں (لکھ بھی رہاہوں یا بڑبڑا رہا ہوں؟) تو یہ بھی ایک اپیل، ایک عرض داشت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس کو کس عدالت میں داخل کرنا ہے یہ ابھی مجھے نہیں معلوم۔ بس میں اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے بھٹک رہا ہوں۔ اپنی عدالت کی تلاش میں، جب بھی مجھے مل جائے گی میں وہاں اِسے داخل کرکے خاموشی کے ساتھ اپنے سارے مکھوٹے گرادوں گا۔ میں وہاں عدالت کے سامنے ننگا ہوجائوں گا۔ میں یہ جسم تک اُتار کر پھینک دوں گا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – نویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میں انجم آپا کے پاس بیٹھا بازار میں آئے ہوئے ایک نئے جاسوسی ناول کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ انجم آپا، چولہے پر بیٹھی چائے بنا رہی تھیں۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا۔ سُلگتے ہوئے اُپلوں سے نکلتے دھوئیں میں باورچی خانے کی کوئی شئے صاف نظر نہیں آرہی تھی۔ باہر دسمبر کی شام نے اپنے ازلی رفیق کہرے کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ باورچی خاے میں صرف چھپکلیوں کے سائے صاف نظر آرہے تھے۔ اتنی سخت سردی میں بھی دیواروں پر اتنی چھپکلیاں تھیں۔ سردی سے تقریباً مُردہ مگر ممکن ہے کہ وہ چولہے کی گرمی کی وجہ سے وہاں آجاتی ہوں۔ تھی مگر یہ حیرت انگیز بات۔

 

چولہے کے اونلے پر ایک چھوٹی ایلمیونیم کی بوسیدہ سی دیگچی رکھّی تھی، جس میں کوئی ڈھکّن نہ تھا۔ دیگچی میں دودھ تھا۔ انجم آپا نے چائے میں ڈالنے کے لیے ہاتھ بڑھا کر دیگچی اُٹھائی اور تھوڑا سا دودھ چائے کے برتن میں اُنڈیل دیا۔

 

“آج کل روز، پتہ نہیں دودھ میں کچھ نیلاہٹ کیوں ہوتی ہے؟ بہت ہی پتلا دودھ لارہا ہے یہ دودھ والا، کل اس کی خبر لوں گی۔” کہتے ہوئے جیسے ہی انجم آپا نے دودھ کی دیگچی فر ش پر رکھی، میرے منھ سے زور کی چیخ نکل گئی۔

 

دودھ میں ایک کالی اور موٹی سی چھپکلی تیر رہی تھی۔

 

انجم آپا کے بھی حلق سے چیخ نکلی۔

 

باورچی خانے میں گھر کے دوسرے افراد بھاگے چلے آئے۔

 

“یہاں اتنی چھپکلیاں ہیں، اندھی تجھے سوجھتا نہیں، سارے برتن بنا ڈھکے پڑے رہتے ہیں۔” کسی عورت کی آواز تھی مگر مجھے محسوس ہوا جیسے دیگچی میں تیرتی چھپکلی نے ہی یہ کہا ہو۔
مجھے یاد آیا کہ کل بھی میں نے یہاں چائے پی تھی، بلکہ دو بار پی تھی اور انجم آپا نے کل بھی دودھ کی نیلاہٹ کا ذکر کیا تھا۔

 

میں کانپتا ہوا سا اپنے گھر واپس آیا۔ سخت سردی میں بھی مجھے پسینہ آرہا تھا۔ میرا جی بری طرح متلا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں مجھے چکّر آنے شروع ہو گئے۔

 

اس کے بعد اگر مجھے کچھ یاد رہ گیا ہے تو وہ اُلٹیاں ہیں جو پتہ نہیں کتنے دنوں تک میرے حلق سے باہر آتی رہیں۔ اپنے بستر پر لیٹا لیٹا میں تھک کر پلنگ سے جھک کر فرش پر ہی قے کرتا رہا اور اُن میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ نہ جانے کب تک میں نے کھانا نہیں کھایا۔ صرف کڑوی کسیلی دوائیں میرے گلے سے نیچے اُتاری جاتی رہیں۔ مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے میری آنتیں اُچھل کر حلق سے باہر فرش پر بکھر جائیں گی۔ آنتوں میں ایک زبردست غصہ تھا۔ وہ غصّے میں دیوانی ہو گئی تھیں۔ میں نے اُنہیں غصّے میں بڑبڑاتے ہوئے سنا۔ آنتیں اپنی چکنائی کو میرے منھ پر مار مارکر باہر پھینک رہی تھیں۔ لگاتار بڑبڑا، بڑبڑا کر مجھے شاید بددُعا دیے جارہی تھیں۔

 

آہستہ آہستہ میں وقت اور دنیا مافیہا سے بے خبر ہوتا چلا گیا۔ میری پسلیوں کا درد ایک بے ہوشی میں بدل گیا۔ اب نہ دن رہا نہ رات، نہ صبح نہ شام۔ میں موت کے پالنے میں جھولا جھول رہاتھا۔

 

جب مجھے ہوش آیا تو لوگوں کے کہنے کے مطابق یہ میرا دوسرا جنم تھا یا نئی زندگی۔ میں ایک ایسا بچّہ تھا جس نے موت کی دیوار کو چھوکر واپس بھاگتے ہوئے آنے کا خطرناک کھیل کھیلا تھا۔ میں آئینے میں اپنے آپ کو پہچان نہ سکا۔ میں بے ہنگم، مکروہ اور نکیلی ہڈیوں کا ایک چلتا پھرتا ڈھیر تھا۔ میرے جسم کی ساری کھال پیلی ہوکر جگہ جگہ سے جھڑ رہی تھی۔ مجھے اپنا قد پہلے سے چھوٹا محسوس ہوا۔ میں ایک بھیانک خشکی کی یلغار میں آگیاتھا۔

 

کچھ عرصے تک میری یادداشت جاڑوں کی ہوائوں کے جھکّڑوں میں اِدھر اُدھر لاوارث اُڑتی پھری، ایک سوکھے پتّے کی مانند، میں کس زمانے میں ہوں؟ قواعد کی کتاب میں، میں نے زمانے کے تینوں صیغوں میں خود کو تلاش کیا اور ہر مقام پر خود کو غیر حاضر پایا۔

 

لیکن ایک دن جب مغرب کی اذان سے کچھ پہلے میں، باورچی خانے کی سیڑھی کے پاس کھڑا دسمبر کے کہرے کو بے خیالی سے دیکھے جارہا تھا، تو اچانک میری آنتوں نے جیسے میرے کانوں میں کچھ آہستہ سے کہا، کوئی علم، کوئی ریاضی کا فارمولہ، قواعد کا کوئی اصول۔

 

مگر آنتوں کی یہ آواز میرے کانوں میں جاکر رُک نہیں گئی، میں نے اُسے ایک سفید روشنی کی طرح کانوں سے باہر آتے دیکھا۔ پُراسرار آواز، سفید روشنی کا ایک دھبّہ بن کر گھر کی منڈیر پر چھائے ہوئے کہرے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر جم گئی۔

 

پل بھر کو مجھے اپنا وزن بہت کم محسوس ہوا۔ میں ہوا یا روشنی کی طرح ہلکا سا ہو گیا۔ میں نے اپنے اندر ایک واضح تبدیلی محسوس کی۔ جیسے دیوار پر ٹنگی کسی پرانی، دھول زدہ گھڑی کی ٹک ٹک اچانک بہت بلند ہوگئی ہو۔

 

یقینا میرے اندر، میرے جسم اور دماغ میں کچھ تبدیل ہوا تھا۔ اُلٹیوں اور قے کے ذریعے نہ جانے کیا کیا میرے جسم سے باہراُنڈیل دیا گیا تھا، مگر ساتھ ہی جسم سے باہر موجود ہوائوں نے کوئی پُراسرار یا آسیبی شے میرے وجود کی گہرائیوں میں پیوست بھی کر دی تھی۔

 

میرے اندر کوئی طاقت آئی تھی۔ آخر کمزوری اورنقاہت، ایک نئی قوت اور طاقت کا پیش خیمہ بھی تو تھے۔

 

مگر میں اپنی چھٹی حس سے پہچان گیاکہ یہ طاقت منحوس اور خطرناک ہے۔ مجھے احساس تھا کہ جو بھی ہے وہ جلد ہی میرے لیے ایک عذاب کی پیشین گوئی ثابت ہوگا— ہاں! یقینا ایک عذاب!

 

میں واپس اپنے زمانے میں آ گیا۔ میں نے اپنے روٹھے ہوئے حافظے کو دوبارہ ایک ٹھوس شے کی طرح اپنے سامنے پایا اور میں نے اُسے اپنے دماغ کے خلیوں میں گویا ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اندر محفوظ کر لیا۔ اُس وقت پنجرے میں طوطے نے تین بار زور زور سے کہا، “گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔”
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سولہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(۳۱)

 

غلام حیدر کو ڈپٹی پولیس آفیسر کی ملاقات کے لیے پیغام پہنچا توحویلی میں رنگ رنگ کے افسانے کھل گئے۔ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ اِس کام نے غلام حیدر کی طاقت اور بڑے صاحب تک پہنچ کو سب پر روشن کر دیا تھا۔ اب اس بات میں کس کو شک تھا کہ پولیس کے بڑے افسر نے غلام حیدر کو دفتر میں بلا کر یہی کہنا تھا،بھائی ہم آپ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور حکم کے بندے ہیں، دوبارہ بڑے صاحب کی طرف مت جائیں۔ ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہے۔

 

غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ امیر سبحانی جوش میں تھا۔ امیر سبحانی بیس بائیس سال کا کوتاہ قامت مگر نہایت باتونی اور چرب زبان تھا۔ باتوں کی لشکر کشی ایسے کرتا کہ بڑے سے بڑا سیانا بھی قبول کر اُٹھتا۔ قصہ گوئی کا فطری مادہ اُس میں موجود تھا۔ وائسرائے کی بیٹی سے غلام حیدر کا ناطہ ثابت کرنے کے بعد اُس کی قدر میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اِس لیے اُس کی باتوں پر پہلے سے زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ اُس کا اپنا علاقہ جلال آباد نہیں تھا۔ وہ فیروزپور شہر سے آوارہ گردی کرتے ہوئے یہاں پہنچا۔ اُس وقت اُس کی عمر پندرہ سال تھی۔ شیر حیدر نے اس کی چرب زبانی دیکھ کر اور لطیفہ گوئی سن کر یہیں رکھ لیا۔ کام وغیرہ کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ پچھلے چھ سات سال سے جلال آباد میں تھااور زبان کا کھٹیا کھا رہا تھا۔ اِس وقت بھی اپنے دیسی چمڑے کے جوتے کے تلووں سے لگی ہوئی مٹی ایک سخت تنکے سے کرید کرید کر جھاڑتا جاتا اور باتوں کے توتے مینا اُڑاتا جا رہا تھا۔

 

،یارو میری تو بات کو ہر ایک چوتڑوں میں دبا لیتا ہے اور سمجھتا ہے امیر سبحانی نے واہی بَک دی۔ حالانکہ میں نے پہلے دن سب کو خبردار کر دیا تھا کہ اپنے غلام حیدر کی منگ میں جب واسرائے کی چھوکری آ گئی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ انگریز سرکار سودھا سنگھ کے دونو ں ہا تھ باندھ کے چکی کے پُڑوں کے نیچے دے دے گی اور اُس کی داڑھی کا رسہ وٹ کے سکھڑے کی ٹانگیں باندھ دے گی۔ اگر اب بھی میری بات کا یقین نہیں تو پھر کوڑھ مغزوں کے لیے بادام روغن کی ضرورت ہے،جو جلال آباد میں تو ملتے نہیں، کشمیر سے ہی منگواؤ تو منگواؤ۔

 

رشید ماچھی امیر سبحانی کی طرف رشک سے دیکھ کربولا،میاں سبحانی پہلے یہ بتا،کس لدھونے تیری بات کو چوتڑوں میں دبایا تھا اور یقین نہیں کیا تھا؟میں نے تو اُسی وقت کہہ دیا تھا،اگر خبر امیرے نے دی ہے تو پکی سمجھو ( آنکھ دبا کر خوشامد کرتے ہوئے) لیکن یار سبحانی اب تو بتا دے تجھے کیسے پتا چلا تھا کہ اپنے چوہدری غلام حیدر کے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کا یارانہ ہے؟

 

لو اور سنو بھائی فیقے،امیر سبحانی نے رفیق پاؤلی کی طرف دیکھ کر کہا،او شیدے بونگے تُو بھی کٹوں سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ باتیں کوئی پوچھنے کی ہیں؟ پھر اپنی چھدری کالی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،یہ داڑھی کیا دھوپ میں سفید کی ہے؟ میاں،امیر سبحانی نے صرف کبوتر نہیں اُڑائے،لوگوں کے کانوں کے فیتے کاٹے ہیں فیتے۔ لیکن تجھے بتا بھی دوں تو سمجھ نہیں آئے گا،اِس لیے فائدہ نہیں۔

 

رفیق پاؤلی نے امیر سبحانی کی بات سُن کر کہا،سبحانی کچھ ہمیں بھی تو پتا چلنا چاہیے،اِس بات کی خبر تجھے کیسے ہوئی؟

 

بھائی کبھی آل انڈیا ریڈیو دیکھا؟ امیر سبحانی جوش اور غصے کی ملی جُلی کیفیت میں بولا،لیکن رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی،اچھا دیکھا تو خیر نہیں ہو گا کبھی نام بھی سنا ہے؟ جب تم نے نام بھی نہیں سنا تو تمھیں سمجھ خاک آئے گی۔ چاچا فیقے،یہ ایک جادو کا ڈبہ ہو تا ہے (ہاتھوں کے اشارے سے)اِتنا چوڑا اور اِتنا لمبا۔ اِس میں ایک جِن بیٹھا ہوتا ہے،جو غیب کی باتیں پڑھ پڑھ کے سناتا ہے۔ سننے والے حریان،پریشان دیکھتے ہیں یہ کیا ہے؟ مگر یہ بولتا جاتا ہے،بولتا جاتا ہے۔ بس میں نے بھی وائسرائے کی بیٹی اور غلام حیدر کی بات اِسی سے سُنی تھی۔ پر دیکھو یہ ڈبہ ہر ایک کو نہیں سناتا۔

 

امیر سبحانی کی بات سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔ جانی بولا،اچھا چل اس بات کو چھوڑ،اب یہ بتا ڈپٹی صاحب نے غلام حیدر کو اپنی سرکار میں کیوں بلایا ہے؟ ذرا قیاس کر کے بتا؟
امیرسبحانی نے اِتنی عزت افزائی دیکھی تو نئی نئی چھوڑنے لگا۔ اُس نے ایک دفعہ جوتے پاؤں سے اُتار کے زمین پہ پھینکے اور دونوں ٹانگیں چارپائی کے اُوپر رکھ کر بولا،لو جی اگر تم کو اتنی ہی بے چینی ہے تو سنو،یہ تو تمھیں پتا چل ہی گیا ہے چوہدری غلام حیدر کی اُوپر تک پہنچ کی وجہ سے کمشنر صاحب نے پولیس کے بڑے سنتری کے کان کھینچے ہیں،جس پر اُس نے مجبور ہو کر جھنڈو والا اور میگھا پور کی صفائی پھیری ہے۔ اب یہ بات تو سادھو کو بھی پتا چل جائے گی کہ بڑا سنتری چوہدری غلام حیدر سے یاری دوستی لگانا چاہتا ہے تاکہ چوہدری صاحب سے بڑی سرکاروں میں سفارش کروا کے نوکری میں ترقی کروا لے۔ او بھائی یہ انگریز بہادر بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ بغیر مطبل کے کسی کے کام نہیں آتے۔ دیکھنا یہ بات نہ ہو تو میری داڑھی مونڈ دینا اِسی پتھورے پر۔

 

امیر سبحانی کا نیا انکشاف سُن کر سب عش عش کر اُٹھے۔ یہ بات تو کسی کو بھی نہیں سوجھی تھی کہ انگریز بہادر نے غلام حیدر سے ملاقات کیو ں کرنا چاہی ہے۔ واقعی امیر سبحانی کی وہاں تک سوچ جاتی تھی جہاں تک رفیق پاؤلی اتنا سیانا ہونے کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔
سب حویلی کے صحن میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے اصل نتیجے تک پہنچے ہی تھے،اِتنے میں غلام حیدر زنان خانے سے نکل کر حویلی کے بیرونی صحن میں آتا دکھائی دیا۔ اُس نے ریشمی لاچے کے ساتھ پاؤں میں اُونچی کنی والا دیسی کھسہ ڈال رکھا تھا جس کی چرر چرر کی آواز سے عجیب سُر نکل رہے تھے۔ اِسی طرح سفید لٹھے کا کُھلا کُرتا اور کاندھے پر وہی پکی ریفل جو سرداری کے مزاج کو اور بھی آسمان پر لے جاتی تھی۔ اُس پر قدم اُٹھانے کا انداز،سب کچھ بڑا شاندار لگ رہا تھا۔ غلام حیدر کودیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اُٹھ کرسلام لینے لگے۔ غلام حیدر نے سب کو ایک ہی سلام میں بھگتا کر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق کیا تحصیل جانے کی تیاری مکمل ہو گئی؟

 

جی تیاری تو مکمل ہے بس تمھارا ہی انتظار تھا،رفیق پاؤلی نے جواب دیا۔

 

تو چلیں؟ غلام حیدر بولا،اِس کے بعد بگھی کی طرف چل دیا،جو حویلی کے صحن میں دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ جب بگھی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی سواری پر چھویوں اور ڈانگوں پر کسی کرپانوں کے ساتھ چڑھ گئے۔ پھر چند وقفوں کے بعد یہ سواریاں جلال آباد کی تحصیل میں پولیس کے بڑے صاحب کے دفتر کی طرف چل دیں،جو غلام حیدر کے مکان سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رستے میں آگے پیچھے چلتی سواریاں اور سواریوں میں بیٹھے غلام حیدر کے آدمیوں کے چٹکلے اور ہنسی دور تک چلتے راہیوں کو رُکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ لوگ غلام حیدر کی سواری کو دیکھ کر کچھ دیر کھڑے رہ جاتے۔ صبح دس بجے یہ سواریاں ڈی ایس پی لوئیس صاحب کے آفس کے سامنے جا کر رُک گئیں۔ لوئیس صاحب کے دفتر کی ساری عمارت پر پیلے رنگ کا چونا پھیرا گیا تھا۔ عمارت کے سامنے بڑا صحن تھا۔ جس کو ایک چھوٹے قد کی دیوار سے گھیر کر اُس میں لکڑی کا پھاٹک لگا دیا گیا تھا۔ صحن میں بڑے گراؤنڈ کے بیچ بڑی بڑی داڑھیوں والا آسمانی چھتری نما بوڑھ کا درخت عمارت کی شان و شوکت کا گواہ تھا۔ اس بوڑھ سے تھوڑا آگے ڈپٹی صاحب کے دفتر کی عمارت شروع ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے عمارت کا ہاتھی دروازہ اور اُس کی بڑی ڈاٹ کے سِرے پر بانس کے ڈنڈے کے ساتھ لہرا تا ہوا برطانوی سلطنت کا پھریرا سلطنت کی ہیبت کا مدعی تھا۔ غلام حیدر نے بگھی سے اُتر کر اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر رفیق پاولی کے حوالے کردی اور عمارت کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ اُس کے تمام بندے وہیں گراؤنڈ میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بڑے صاحب کے کمرے میں صرف غلام حیدر ہی کو جانے کی اجازت تھی اور یہ بات قدرتی طور پر ہی تمام ملازمین جانتے تھے۔

 

غلام حیدر پھریرے والے دروازے سے گذر کر عمارت میں داخل ہوا تو کئی راہداریوں نے اُس کا سامنا کیا،جنہیں نیلے اور لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ایک حوالدار غلا م حیدر کے ساتھ تھا۔ وہ رہنمائی کرتا ہوا اُسے ایک کمرے میں لے گیا۔ یہ کمرہ ویٹنگ روم تھا۔ جس میں پہلے بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کُلے والے چوکیدار نے غلام حیدر کے نام کی آواز دے کر اُسے صاحب کی ملاقات کی اجازت دی۔ غلام حیدر اپنے کُھسے کی چرچراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو لوئیس نے اُٹھ کر غلام حیدر سے ہاتھ ملایا اور اُسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ غلام حیدر خوش دلی سے ڈی ایس پی لوئیس کا شکریہ ادا کر کے کُرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کے ایک طرف ایک تھانیدار بیٹھا تھا،جس سے غلام حیدر بالکل ناواقف تھا۔ واقف تو وہ ڈی ایس پی صاحب سے بھی نہیں تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے جو کارروائی جھنڈو والا اور میگھا پور میں لوئیس کی نگرانی میں ہوئی تھی اور اُس کی خبر پوری تحصیل میں ہوا کی طرح پھیل گئی تھی،اُس وجہ سے ڈی ایس پی لوئیس کا نام نہ صرف جھنڈووالا اور میگھا پور میں بلکہ غلام حیدر کی پوری رعیت کی زبان کا ورد ہو گیاتھا۔ صاحب بہادر نے جس طرح کارووائی کر کے جھنڈو والا کی تباہی پھیر کر سودھا سنگھ کی چوہلیں ہلائیں تھیں،اُس سے غلام حیدر کو ایک گونہ اطمنان سا ہو گیا تھا۔ اُسے جو انگریز سرکار سے شکایتیں تھیں،وہ بھی دور ہو گئیں۔ اِس کاروائی سے لوگوں کو ذرا بھی شک نہیں رہا تھا کہ غلام حیدر کے لاہور میں بڑی سرکاروں کے ساتھ رابطے ہے۔ ورنہ کہاں مہاراجہ پٹیالا کے وزیر کا چہیتا سودھا سنگھ اور کہاں ایک پڑھاکو لڑکا چوہدری غلام حیدر۔

 

چنانچہ جب غلام حیدر کو لوئیس صاحب کا پیغام ملا تو اِس میں شک نہ رہا کہ صاحب نے اُسے انصاف کی یقین دہانی کے لیے بُلایا ہے۔ حالانکہ ملک بہزاد نے غلام حیدر کو باور کرادیا تھا کہ انگریز افسر کے سامنے اُس وقت تک نہ جانا جب تک تمھاری جان کسی بھی جھگڑے سے بالکل پاک نہ ہو اور اُس میں بھی اپنے اسلحے کا خاص خیال رکھنا۔ یہ بات غلام حیدر کو یاد تھی لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ لوئیس صاحب،جس کے پاس ابھی تک غلام حیدر کے خلاف نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی اُس نے قانون کی بساط سے قدم باہر اُٹھا یا تھا،وہ افسر غلام حیدر کے خلاف کچھ ناروا حکم دیتا۔ وہ لوئیس کے دفتر میں داخل ہوا تو اُس کے مشفقانہ رویے نے مزید اچھا اثر ڈالا۔ اِس سے متاثر ہو کر غلام حیدر نے کہا،سر جس طرح جناب نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے،اُس پر آپ کی نذر کرنے کو سوائے شکریے کے میری گرہ میں کچھ نہیں ہے۔
مسٹر غلام حید ر! لوئیس بولا،کیا کبھی ایسا ہوا ہے،لڑکا اپنے گھر میں پیدا ہو اور مبارک پڑوسیوں کودی جائے؟اِس میں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب جلال آباد میں سرکا ر برطانیہ کی ہے تو امن و امان کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اور گورنمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ اِس میں شک نہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ جس میں کچھ شر پسندوں نے انگریزی قانون کو ہلکا سمجھ کر اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ اب اِس کا نتیجہ تو اُنہیں بہر حال بھگتنا تھا۔ اب آپ کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ دل سے تمام خدشے دور کر کے مکمل طور پر گورنمنٹ پر بھروسا رکھواور دل و دماغ سے دشمنی کی ہوا نکال کر صرف رعایا کی خبر گیری کی طرف دھیان دو۔

 

غلام حیدر نے لوئیس کی بات سُن کر تشکر آمیزلہجے میں کہا، ڈپٹی صاحب جب آپ جیسے آفیسر ہماری حفاظت کے لیے موجود ہیں تو تشویش کیسی؟آپ جس قسم کا تعاون چاہیں گے،وہ میری طرف سے حاضر ہے۔

 

لوئیس نے اب ایک لمحہ غلام حیدر کی طرف دیکھا،پولیس کیپ میز سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھی۔ اُس کے بعد اپنی بیددائیں ہاتھ میں لے کر اُٹھااور بولا،ویل غلام حیدر،ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔ آپ کو دفتر میں بلانے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ بس یونہی کچھ امن و امان کے حوالے سے گزاراشات واضح کرنا تھیں۔ آپ اپنی رائفل اور اپنے آدمیوں کا تیز لوہا کم از کم تین ماہ کے لیے گورنمنٹ کو جمع کرا دو۔ تم اور تمھارے آدمی سوائے لکڑی کے کوئی چیز ہاتھ میں لے کر نہیں چل سکتے۔ فی الحال ہم آپ سے اس سے زیادہ نہیں چاہتے۔ میرا خیال ہے یہ بات آپ کے لیے زیادہ وزنی بھی نہیں ہے۔

 

سر یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟غلام حیدر لوئیس کا حکم سن کر حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا لوئیس،جو ابھی ابھی اتنا شفیق نظر آ رہا تھا،وہ اس قدر کڑوا حکم دے گا۔ چنانچہ اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا،آپ جانتے ہیں میری کس قدر خطرناک دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ میرے باپ کے مرنے کے بعد جلال آباد کا سایا بھی میرے لیے بھوت بن چکا ہے۔ میرے دو گاؤں پر حملہ ہوا،تین بندے قتل ہو گئے،مال کا نقصان الگ ہوا۔ پھر بھی گورنمنٹ پر بھروسا کرتے ہوئے قانون کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کی۔ لیکن حیرت ہے،ابھی گورنمنٹ کو مجھ پر بھروسا نہیں۔
ڈی ایس پی لوئیس صاحب نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر کہا،غلام حیدر گورنمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کر ے۔ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ جھنڈووالا سے لے کر جودھا پورتک،سب کی مالک گورنمنٹ ہے۔ اِس لیے آپ کا اسلحہ تین ماہ تک ضبط کیا جاتا ہے۔ اِسے گورنمنٹ کو جمع کروا دیں۔

 

یہ کہ کر لوئیس صاحب کمرے سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ جبکہ غلام حیدر وہیں ہکا بکا کھڑا سوچنے لگا کہ صاحب نے کیسا گرگٹ کی طرح رنگ اور سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے۔ لوئیس صاحب نے دروازہ سے نکلنے سے پہلے ایک ثانیے کے لیے مڑ کر دوبارہ غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،مسٹر آپ کو یہ بات سمجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے،جو بھی گورنمنٹ کے حکم کی سرتابی کرنے کی زحمت کرتا ہے،ہم اُس کی گردن باندھ دیتے ہیں۔
آخری فقرہ لوئیس نے اِس کٹیلے لہجے میں کہا کہ غلام حیدر کو کھڑے کھڑے پسینہ آ گیا۔

 

لوئیس غلام حیدر کا جواب سنے بغیر باہر نکل چکا تھا۔ ویسے بھی غلام حیدر میں جواب دینے کی سکت کہاں رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور محسوس ہوا کلیجہ مسوس دیا گیا ہے۔ پھراس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت میں پھیلے انتشار کا کسی کو پتا چلتا،وہ خود بھی لوئیس کے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھانیدار بھی چل پڑا جو غالباًاُسی لیے وہاں بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر بھاری قدموں سے چلتا اپنی بگھی کے پاس پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس کے بندے بھی خالی ہاتھ ہو چکے تھے۔ پولیس نے اُن سب سے اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ اب اُس کا اندراج ایک حوالدار رجسٹر میں کر کے اور انگوٹھوں کے نشان لے کر اُن کے رسیدی ٹکڑے واپس کر رہا تھا۔ بہت سے سپاہی بندوقیں پکڑے اُن سب کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کی رفیق پاؤلی اور اپنے بندوں سے آنکھیں چار ہوئیں تو ہر دو طرف سے شرمساری کی پکھیوں نے اُن پر سایا کر دیا۔ اِسی اثنا میں ایک سپاہی نے،جس کے ہاتھ میں غلام حیدر کی رائفل تھی،جو اُس نے رفیق پاؤلی سے قبضے میں لی تھی،غلام حیدر کے سامنے دستخط کے لیے وہ رجسٹر آْگے کر دیا۔ جس میں اُس کی رائفل کا اندراج ہوا تھا۔ غلام حیدر مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا اور مزاحمت میں سوائے بے عزتی کے کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِس لیے اُس نے آرام سے دستخط کر دیے۔ دستخط کے بعد اُسے بھی حوالدار نے رائفل کے بدلے ایک رسید تھما دی۔ اُس پر صاف لکھا تھا،غلام حیدر ولد شیر حیدر سکنہ شاہ پور جلال آباد سے اُن کی رائفل دفعہ تیس کے تحت تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب اپنے قبضے میں لیتی ہے۔ رائفل ہذا تین ماہ بعد اُس کے وارث غلام حیدر ولد شیر حیدر کے حوالے کر دی جائے گی۔

 

اسلحہ کے ضبط ہونے کی کارروائی ختم ہو چکی تو غلام حیدر نے دوبارہ ایک نظر اپنے بندوں پر ڈالی اور ہلکی سی خجالت کی ہنسی ہنس کر اپنی بگھی کی طرف چل دیا۔ اُس کے پیچھے ہی رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے بھی۔

 

بگھی پر بیٹھتے ہوئے غلام حیدر کو شدت سے ملک بہزاد کی یاد آئی اور اُس کے وہ جملے،خبردار کسی بھی و قت انگریز بہادر کو اپنا دوست سمجھ کر اُس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ حکومت اگر اپنی رعایا کے ارادوں کی رعایت کرنے لگے گی تو ایک دن ضرور ذلت کا منہ دیکھے گی۔ اور اس کی توقع فرنگی سرکار سے نہ رکھنی چاہیے۔ کبھی اپنا اسلحہ لے کر انگریز بہادر کے سامنے نہ جانا۔

 

غلام حیدر کے دماغ پر شدید کوفت اور بیزاری کے جھکڑ چلنے لگے۔ اُس نے جان محمد بگھی کوچ کو حکم دیا،جان محمد سیدھے چک عالمکے چلو۔

 

اسلحہ چھن جانے کی وجہ سے سب کو پتا چل چکا تھا کہ غلام حیدر کی بڑے سنتری صاحب سے کوئی کھٹ بٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے چوہدری صاحب کے موڈ اس وقت سخت خراب ہیں۔ لہذا کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اس وقت ملک بہزاد کے گاؤں کی طرف جانے کا کیا مقصد ہے۔ بغیر اسلحہ یہ قافلہ لوئیس صاحب کے دفتر سے نکلنے کے بعد سیدھاچک عالمکے کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کے مسلسل دوڑنے کی آواز میں تمام لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراکر خموشی سے اپنی اپنی ذات کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور گھوڑے دوڑتے گئے۔ حتیٰ کہ سہ پہر تین بجے یہ قافلہ چک عالمکے میں ملک بہزاد کے ڈیرے میں داخل ہو رہا تھا۔

 

ملک بہزاد کا ڈیرہ عام ڈیروں ہی کی طرح تھا۔ اُس کے نہ تو احاطے کی دیواریں اُونچی اور پائیدار تھیں اور نہ ہی ڈیرے کے مکانوں میں کوئی خصوصیت تھی،جسے بیان کیا جائے۔ البتہ احاطہ کافی کُھلا اور پُرسکون تھا۔ اُس کے صحن میں سرکنڈوں کے بان کی پندرہ سولہ کھری چارپائیاں بچھی تھیں۔ اُن میں سے ایک چار پائی پر ملک بہزاد بیٹھا حقے کے ٹکارے لے رہا تھا۔

 

ارد گرد گاؤں کے لوگ بیٹھے ملک بہزاد سے اُس کے کارناموں کی کوئی داستان سُن رہے تھے،جو اُس نے اپنی جوانی کے دنوں میں سرانجام دی ہو گی۔ ملک بہزاد غلام حیدر کو ڈیرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور فوراً اُٹھ کر استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا،او میرا بھتیجا غلام حیدر آیا،کہ کر باہیں پھیلا دیں۔ ملک بہزاد کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور غلام حیدر کے بندوں سے سلام دعا لینے لگے۔ غلام حیدر کے ڈیرے میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ اس لیے نوکر مزید چارپائیاں بچھانے میں مصروف ہو گئے۔ کچھ لوگ بڑھ بڑھ کر غلام حیدر سے سلام لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کا نام تو سنا تھا کہ چوہدری شیر حیدر کا مُنڈا بڑے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور ولایت بھی گیا ہے لیکن اُنہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ ولایت جا کر پڑھنے والا غلام حیدر کبھی اُن کے گاؤں بھی آئے گا۔ نیم کے بڑے سے درخت (جس کی اکثر ٹہنیاں سردی کے موسم میں چھانگی جاچکی تھیں ) کے نیچے چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ موسم گرم نہیں تھا،اس لیے سائے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بہزاد نے اپنے ساتھ ہی ایک چارپائی غلام حیدر کے لیے رکھوا لی،جس کے پائینتی سفید کھدر کی دوہر اور سرہانے پھولوں کے ساتھ کڑھا ہوا ریشمی تکیہ تھا۔ تھوڑی دیر میں تمام آدمیوں کے لیے لسی بھی آگئی۔ پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں بھری ہوئی سفید لسی جب منہ سے لگاتے تو اُس کی سفیدی مونچھوں کے کناروں پر جم جاتی۔ غلام حیدر کے لیے بھی لسی سامنے رکھ دی گئی۔ جس میں برف تو نایاب ہونے کی وجہ سے نہیں تھی لیکن کوری چاٹی اور سرد موسم کی ٹھنڈک نے اُسے اتنا مزیدار ضرور کر دیا تھا کہ غلام حیدر نہ چاہتے ہوئے بھی دو گلاس پی گیا۔ لسی پینے کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ملک بہزاد نے اتنا اندازہ کر لیا تھا کہ غلام حیدر کے ساتھ کوئی خیر نہیں ہے۔ کیونکہ اطلاع دیے بغیر اچانک اور بالکل ہتھل ہو کر آنا خیر سے خالی تھا۔ لیکن ملک بہزاد نے غلام حیدر سے بات پوچھنے میں جلدی نہیں کی۔ قریباً ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔ پھر اچانک غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اُٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں اُٹھ کر ڈیرے کے ایک کمرے میں چلے گئے تاکہ تنہائی میں بات کر سکیں۔

 

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد غلام حیدر بولا،چاچا بہزاد سب عزت خاک میں مل گئی۔ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہو رہا۔ مَیں انگریز سرکا ر پر اچانک اندھا بھروسا کر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دم اپنے بندوں کے سامنے ذلیل ہو گیا۔ پھر غلام حیدر نے سر جھکا کر اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی تمام کارگزاری ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی داستان نہایت حوصلے اور تحمل سے سنتا رہا۔ درمیان سے اُس نے نہ تو ٹوکا اور نہ ہی بات بات پر اپنے تجربات کے افسانوں کے تڑکے لگائے۔ وہ جانتا تھا،غلام حیدر غلطی کر چکا ہے،جس پر اُسے پہلے سے خبر دار کیا گیا تھا۔ لیکن اب اُسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہے،جس کی وجہ سے وہ ڈپٹی کے دفترسے اپنے گھر نہیں گیا،سیدھا اُس کے پاس آیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،وہ اعتراف کا طوق گلے میں لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ لہذا غلطی جتانے سے سوائے بیزاری بڑھانے کے فائدہ نہیں۔ اِسی کے پیش نظر ملک بہزاد خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ با لآخر سفید کھچڑی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا،غلام حیدر ایک بات بتا،سُنا ہے تیری نواب افتخار کے ساتھ دوستی ہے،کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

 

ہاں وہ دوست تو ہے،غلام حیدر نے جواب دیا،لیکن وہ لندن میں ہے۔ میں نے اُسے ساری صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔ مگر اُس کا ابھی تک جواب نہیں آیا۔ بلکہ ابھی تو میرا خط بھی نہیں پہنچا ہو گا۔

 

ایسا کر تُو اُسے تار بھیج دے،ملک بہزاد نے آہستہ سے کہا، اور یہ کام لاہور جا کر وہاں سے کر۔ فیروزپور یا جلال آباد سے ہرگز نہیں۔ دوسرا کام یہ کر،تین مہینے کے لیے تسلی سے بیٹھ جا۔ حویلی سے باہر بھی نہ نکل اور ایک درخواست عدالت میں جمع کروا دے کہ مجھے دشمنوں سے اپنی زندگی کا خطرہ ہے۔ لہذا جو پولیس نے میرا اسلحہ ضبط کیا ہے،وہ گورنمنٹ مجھے واپس کرے۔ اس کے علاوہ یہ خبر جھنڈو والا اور عبدل گجر تک بھی مشہور کر دے کہ تیرا اسلحہ ضبط ہو چکا ہے۔

 

اِس کا کیا فائدہ ہوگا؟ غلام حیدر نے حیرانی سے پوچھا

 

اِس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جب تجھے تین مہینے سے پہلے بطور مدعی عدالت میں طلب کیا جائے تو تم عدالت کو باور کرا سکتے ہو کہ مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے اس لیے میں بغیر اسلحے کے کسی بھی جگہ آنے جانے سے قاصر ہوں۔ اِس سلسلے سے متعلق میں ایک درخواست بھی جناب میں پیش کر چکا ہوں۔ چنانچہ اِسی خطرے کی وجہ سے میں عدالت بھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ تمھاری اِس معذوری کی بنا پر عدالت یا تیرا اسلحہ بازیاب کرائے گی یا تین مہینے تک تمھیں عدالت میں حاضر نہ ہونے سے معذور قرار دے گی۔ اِدھر اِس درخواست کی وجہ سے انگریزی پولیس آپ کی رائفل تین مہینے کے بعد تمھیں واپس کرنے کی پابند ہو گی اور مزید ضبطی کے آڈر جاری نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اِن سابقہ تین ماہ میں آپ کا کردار بالکل صاف رہا ہو گا۔ رہا آپ کے ہتھل ہونے کی خبر سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ تک پہنچانے کا فائدہ،تو اِس سے یہ ہو گا،وہ تینوں بے خطر فیروزپور کی عدالت میں تاریخیں بھگتنے چلے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا ہماری کارروائی کرنے کا۔ تم اِس عرصے میں نواب افتخار کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُس کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہو۔

 

غلام حیدر دل ہی دل میں ملک بہزاد کی عقل کو داد دینے لگا اور تہیہ کیا کہ کبھی ملک بہزاد کے مشورے کے خلاف نہیں کرے گا۔ پھر سوچ کر بولا،لیکن چاچا بہزاد آپ کو میرے ساتھ ہر معاملے میں چلنا ہو گا۔ خرچے کی کوئی بات نہیں۔ میں سب دینے کو تیار ہوں،جتنا بھی آئے گا۔ تم کل میرے ساتھ جلال آباد چلو اور یہ درخواست بازیوں کے معاملات کو سنبھالو۔ اگر مجھ پر چھوڑو گے تو میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔ اِس کے بعد غلام حیدر نے اپنے کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کے پانچ سو روپے کی ایک تھیلی نکالی اور ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔
ملک بہزاد نے وہ تھیلی پکڑ کر واپس غلام حیدر کی جھولی میں رکھ دی اور بولا،بھتیجے تُو فکر نہ کر۔ مَیں کل تیرے ساتھ چلتا ہوں اور عدالت میں وکیل اور دوسرے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ یہ پیسے میرے پاس بہت ہیں۔ اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

 

اس گفتگو کے بعد دونوں اُٹھ کر باہر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر سب ایک مر تبہ پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب دونوں بیٹھے تو دوسرے بھی اپنی جگہ آرام سے بیٹھ گئے۔ شام کے سات بج گئے تھے۔ یہ وقت غلام حیدر کے جلال آباد جانے کا نہیں رہ گیا تھا۔ اِس لیے رات کے کھانے اور رات کے بسر کرنے کا سامان ہونے لگا۔ ملک بہزاد نے اُٹھ کر اپنے ملازموں کو حکم جاری کرنے شروع کر دیے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(25)

 

ولیم ہیڈ سلیمانکی سے شام چار بجے جلال آباد پہنچا اور بنگلے پر جانے کی بجائے سیدھا دفترچلا گیا۔دفتر کا اکثر عملہ گھر جا چکا تھا لیکن نجیب شاہ اور دو چار کلرک ابھی موجود تھے۔
نجیب شاہ کو اطلاع مل چکی تھی کہ صاحب اپنا دورہ مختصر کر کے دفتر پہنچ رہے ہیں۔نجیب شاہ نے اپنے ساتھ کچھ کلرک بھی روک لیے تھے کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے ڈپٹی کمشنر فروز پور کی طرف سے ولیم کے لیے ایک میٹنگ کال مو صول ہوئی تھی، جس میں ولیم کو فیروز پور طلب کیا گیا تھا۔دوسرا شاہ پور کے کیس کی خبر بھی اُسے مل گئی۔اُس نے محسوس کیا شاید اِن دو وجوہ اور ایمر جنسی میں کچھ کام کرنا پڑ جائے۔ولیم نجیب شاہ سے سلام لیے بغیر سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اُس کے پیچھے ڈی ایس پی لوئیس بھی تھا،جو ابھی ابھی مگر ولیم کے آنے سے پہلے دفتر پہنچا تھا۔ ولیم اپنی کرسی پر بیٹھا تو سامنے ایک لیٹر پڑا تھا۔ اُسے پڑھتے ہی ولیم کا موڈ مزید خراب ہو گیا۔اُسے کل صبح فیروز پور طلب کیا گیا تھا۔ولیم کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔اس کی طبیعت میں مسلسل سفر کی تھکاوٹ کا بوجھ تھا۔ دوسرا جلال آباد کا چارج لیتے ہی یہاں امن و امان کی خرابی نے اُسے مضمحل کر دیا تھا۔ جو دوسرے کاموں کی طرف سے توجہ ہٹانے کا موجب بن رہا تھا۔ کچھ ہی دنوں کے اندر یہ دوسرا قتل اور لوٹ مار کا واقعہ پیش آگیا۔ غضب یہ کہ دونوں کی ذمہ دار ی ایک ہی شخص پر عائد ہوتی تھی اور وہی شخص ابھی تک گرفتار نہیں ہوا تھا۔ دیر تک خاموشی سے بیٹھے رہنے کے بعد ولیم نے لوئیس کو مخاطب کر کے کہا، مسٹر لوئیس یہ سردار سودھا سنگھ کیا بلا ہے؟ آخر یہ شخص جرم کرنے میں اتنا دلیر کیو ں ہے؟ حالانکہ اچھی طرح جانتا ہے، گورنمنٹ اُس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنے والی۔ یا (لوئیس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے )میں یہ سمجھوں کہ گورنمنٹ کے ساتھ اندر خانے اُس کے کچھ معاملات چل رہے ہیں، جس کی مجھے خبر نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ ابھی تک جودھا پور والے معاملے میں گرفتار نہیں ہوسکا۔یا یہ کہ اِن مجرموں کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری بھی مجھی پر عائد ہوتی ہے؟ حالانکہ مجھے بتایا گیا ہے میں تحصیل کا پولیس افسر نہیں، ا سسٹنٹ کمشنر ہوں۔جس کا کام علاقے میں صرف امن و امان بر قرار رکھنا ہی نہیں، تحصیل کو1935 سے نکال کر 1936 میں داخل کرنا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو وزن آپ کے اُٹھانے کے لائق ہیں، وہ بھی میرے سر پر گریں گے۔ لوئیس اگر یہ سب کچھ اِسی طرح چلتا رہا تو لوگ سمجھیں گے،تحصیل میں پولیس افسرکی ضرورت نہیں۔ یہ بات شاید آپ کو اچھی نہ لگے۔ ایسے گاڑی چلنا مشکل ہے۔

 

ڈی ایس پی لوئیس نے ولیم کی دھمکی کی آواز صاف سن لی تھی لیکن کیا کیا جا سکتا تھا کہ غلطی اُسی کی تھی۔ اُس نے ایک دفعہ تو شرمندگی سے آنکھیں نیچی کر لیں اور کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔وہ جانتا تھا ولیم اپنی بات میں سچا ہے۔اگر جو دھا پور والے واقعے کے فوراًبعد سردار سودھا سنگھ کو گرفتار کر لیا جاتا تو معاملہ اتنا گمبھیر نہ ہوتا مگر افسوس اُس نے سارا کام تھانیدار پر چھوڑ کر خود چھٹی مکمل کرنے کی ضد پوری کی۔ جس کی وجہ سے سب معاملہ خراب ہو گیا۔ اِس سب سے بڑھ کر اصل خرابی یہ ہوئی کہ ولیم کے آتے ہی دشمنیوں کے پٹارے کھل گئے جس کی وجہ سے جلال آباد میں دنگا فساد شروع ہو گیا اور پولیس کی پے بہ پے سُبکی ہونے لگی۔

 

لوئیس کی خاموشی کو کافی دیر گزر گئی تو ولیم دوبارہ بولا، لوئیس کیا آپ جانتے ہیں مجھے دیوار سے باتیں کرنے کی عادت نہیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کہا ہے، وہ آپ کی سمجھ میں نہیں آیا تو میں ایک ریکاڈر میں اپنی گزارشات جمع کر دوں تاکہ آپ تسلی سے وہ بار بار سُن کر مجھے ایک دو ماہ کے بعد جواب دے دیں۔

 

سر یہ بات نہیں،لوئیس نے ہمت کر کے ولیم کی طرف دیکھ کہا۔

 

پھر اگر آپ کو میری لفظوں کا مفہوم پہنچ گیا ہے تو میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔مجھے بتایا جائے سودھا سنگھ ابھی تک کیو ں گرفتار نہیں ہو سکا۔ آخر اِس سارے معاملے کے پیچھے کیا ہے؟

 

سر ایک دو باتیں ہیں،جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، لوئس بولا۔

 

وہ کیا باتیں ہیں؟ مجھے کھل کر بتائیں ولیم نے آگے جھکتے ہوئے کہا، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں صبح فیروز پور جا رہا ہو ں ایک میٹنگ کے سلسلے میں۔ میں جانتا ہوں،یہ معاملہ سب سے پہلے زیرِ بحث آئے گا۔مجھے پتا ہونا چاہیے حقیقت کیا ہے ؟

 

حقیقت یہ ہے سر، لویئس تحمل سے بولا، سودھا سنگھ اِس وقت جھنڈو والا میں موجود نہیں ہے۔ پہلے کیس کے معاملے میں ہم سے واقعی غلطی ہوئی کہ بروقت کارروائی نہ کر سکے۔جس میں تھانیدار دیدار سنگھ کا زیادہ ہاتھ ہے۔ وہ غالباً ڈر گیا تھا۔اِدھر میں خود یہاں موجود نہیں تھا۔اس لیے تفتیش میں کافی وقت لگ گیا۔جس وقت آپ جھنڈو والا میں گئے،سردار سودھا سنگھ واقعی گورنمنٹ سے ڈر گیا تھا لیکن اُس نے اُس کا اُلٹا اثر لیا اور اُسی رات غلام حیدر کے خلاف ایک سازش تیار کی۔ جس میں اُس نے دو مسلمان سرداروں کو بھی ملا لیا۔ وہ سردار کسی طرح سے پہلے ہی غلام حیدر کے باپ سے خار کھائے بیٹھے تھے۔ اِس حملے میں سردار سودھا سنگھ خفیہ طور پر عبدل گجر اور شریف بودلہ کا پارٹنر تھا۔ لیکن سودھا سنگھ کے لیے بُرا یہ ہوا کہ اِس میں وہ بندہ مارا گیا جو خاص سودھا سنگھ کا آدمی تھا اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اُس پر عدالت میں پہلے ہی بہت سے مقدمات چل رہے ہیں۔ وہ مرنے والا متھا سنگھ ہے۔ جس نے کئی لوگوں کا پہلے بھی قتل کیا ہے لیکن ظاہراً اُس پر کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔اس کی خا ص وجہ سردا ر سودھا سنگھ سے لوگوں کا خوف ہے۔ یہ خوف اُس کی دولت کی وجہ سے نہیں، سردار امر سنگھ کے سبب سے ہے جو مہاراجہ پٹیالہ کے دربار میں معتمد ہے اور سردار سودھا سنگھ کا چچا ہے۔ اِس کے علاوہ سودھا سنگھ کی ایک خصوصیت اور بھی ہے کہ وہ اپنے گاوں کی رعیت کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اُن کے دکھ درد میں شریک رہتا ہے۔لہذا وہاں سے کوئی بھی شخص سودھا سنگھ کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں۔البتہ یہ کام فوجا سیؤ کے بھتیجے کے ذریعے ہو گیا۔

 

یہ تو سودھا سنگھ کا خاص آدمی تھا، ولیم نے لقمہ دیا۔

 

جی سر اور اِسی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا، لوئیس نے وضاحت کی، یہ جو کچھ بھی ہوا ہے، فوجا سیؤ اِس تمام واردات کے خلاف تھا لیکن سودھا سنگھ کے دوسرے آدمیوں نے اُس کی نہیں چلنے دی۔ اِسی وجہ سے اُن کے درمیان تلخی پیدا ہوئی۔جس میں فوجا سئیو کے بھتیجے نے اپنی اور اپنے چچا کی سُبکی محسوس کی اور اُس نے تمام حالات کی مخبری تھانیدار دیدار سنگھ کو کردی جو اُس نے میرے گوش گزار کردی۔

 

اب کیا کرو گے اِن کا ؟ ولیم نے بیل کا بٹن دباتے ہوئے کہا۔

 

آپ جو حکم دیں گے ویسے ہی ہو گا، لوئیس نے ولیم کی خوشنودی کے لیے مکمل تابعداری سے کہا۔

 

اتنے میں ولیم کی بیل پر کرم دین اندر داخل ہوا،جس کے آتے ہی ولیم نے حکم دیا،کرم دین دو کپ کافی بنا لاؤ۔حکم سنتے ہی کرم دین باہرنکل گیا۔ولیم لوئیس سے دوبارہ مخاطب ہوا، لوئیس اگر آپ کے خیال میں میرے جھنڈو والا میں دورہ کرنے کی وجہ سے یہ بعد والا سانحہ پیش آیا ہے تو اب میرے حکم دینے کی وجہ سے ایک اور سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے بتائیں اب آپ کیا کرنے والے ہیں؟لیکن اس سے پہلے دیدار سنگھ کو معطل کر دو۔ہماری حکومت میں ڈرپوک آدمی کا کام نہیں ہے ؟

 

سر ایک بات طے ہے، لوئیس نے ولیم کے لہجے میں چھپی ہوئی گہری طنز کو محسوس کرتے ہوئے کہا، وہاں پر ہمیں سردار سودھا سنگھ نہیں ملے گا۔وہ پٹیالہ چلا گیا ہے لیکن کل میں ایک سخت کارروائی کرنے کے لیے خود جھنڈو والا جا رہا ہوں۔پہلے مرحلے پر سردار سودھا سنگھ کا تمام مال مویشی ضبط کر لیے جائیں گے۔کچھ لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے گرفتار بھی کیا جائے گا تاکہ لوگ خوف میں مبتلا ہو کر حکومت کے سامنے وہ کچھ بول دیں جو وہ عام حالات میں کہنا پسند نہیں کرتے۔یہی کچھ عبدل گجر کے ساتھ کیا جائے گا۔ یقینا وہ خود تو ابھی روپوش ہے لیکن ہمارے پاس اُس کا خاص گواہ بلا کمبو ہ اہم ثبوت ہے۔ جس کو زخمی حالت میں چک شاہ پور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب رہا تھانیدار دیدار سنگھ، تو اُسے آپ کے حکم کے مطابق ا بھی معطل کر دیا جائے گا۔

 

گُڈ لوئیس،ولیم نے مطمئن انداز سے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، جو کچھ ہی دیر پہلے کرم دین وہاں رکھ کر چلا گیا تھا، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ مَیں آئیندہ کسی بھی ایسے واہیات واقعے کامتحمل نہیں ہو سکتا۔نہ ہی میری سروس اجازت دیتی ہے کہ تحصیل میں روز روز اس طرح کے تماشے ہوتے رہیں۔ میں کل صبح سات بجے ہی فیروز پور نکل جاؤں گا اور کل شام تک لوٹ آؤں گا۔آپ پرسوں پوری تحصیل کی پولیس کے افسران کو میٹنگ پر بلاؤ،۔مَیں دیکھنا چاہتا ہوں،جلال آباد میں کون کون سے سورمے بستے ہیں اور وہ کس طرح یہاں فساد برپا کر رہے ہیں۔ اتنا کہ کر ولیم اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس کے ساتھ ہی ڈی ایس پی لوئیس بھی۔
شام کے چھ بج چکے تھے۔ ولیم اور لوئیس کمرے سے باہر نکلے تورات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔دونوں جیسے ہی ڈیوڑھیاں پار کر کے کھلی جگہ پہنچے تو انسپکٹر متھرا اور تھانیدار دیدار سنگھ وہاں موجود تھے،جو کئی گھنٹے پہلے ولیم کے دروازے پر آبیٹھے تھے اور بہت خوف زدہ بھی تھے۔دونوں نے آگے بڑھ کر ولیم کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا، جس کا ولیم نے کوئی نوٹس نہ لیا۔گو یا اُنہیں جانتا ہی نہ تھا اور سیدھا آگے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ حالانکہ کچھ دن ہی پہلے انسپکٹر متھرا کے ساتھ ولیم نے ایک لمبا سفر بھی کیا تھا، جس میں بہت سی باتیں بھی ہوئی تھیں۔ سی آئی ڈی انسپکٹر متھرا ولیم کا یہ انداز دیکھ کر بہت گھبرا گیا۔ شاید وہ پیچھے چلنے کی کوشش بھی کرتالیکن اُسے لوئیس نے آنکھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ چنانچہ وہ دونوں وہیں رُک گئے اور حیران تھے کہ اِتنے گھنٹے دفتر میں انتظار کروانے کے بعد ولیم نے اُن سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔پھر متھرا نے دل ہی دل میں سوچا کہ لوئیس صاحب نے معاملہ کچھ نہ کچھ نپٹا لیا ہو گا۔

 

(26)

 

ملک بہزاد ساٹھ کے پیٹے میں ایک منجھا ہوا شخص تھا۔اُس کا گاؤں جلال آباد کے مشرق میں تیس کلو میٹر کے فاصلے پر عالمکے اُتر تھا۔سر پر کُلے دار بھاری سفید پگڑی تھی۔ چہرہ کافی چوڑا اور ہڈ کاٹھ بھی کھلے کھلے تھے۔رنگ سانولا سے زیادہ اب کالا ہو چلا تھا، جیسا عموماً جنوبی ایشین کا بڑھاپے میں ہو جاتا ہے۔ البتہ آنکھوں میں ابھی تک چمک باقی تھی،جو اس عمر میں بھی اُس کے زندگی میں بھرپور حصہ لینے کی غماز تھیں۔ بیسیوں دفعہ منٹگمری اور فیروزپور جیل کی ہوا کھائی لیکن اپنی کرتوتوں سے منہ نہ پھیرا۔ یوں تو اُس کی اپنی زمین بھی کافی تھی لیکن ساری عمر کام رسہ گیری اور چوری چکاری ہی سے رکھا۔ کوئی دن ہی ہو گا جب اُس کی عدالت اور کچہری میں تاریخ نہ لگی ہو۔کچہری کے وکیل تو ایک طرف تحصیل جلال آباد، تحصیل مکھسر اور فیروز پور کے تمام جج بھی اُس سے واقف ہو چکے تھے۔بعضوں سے تو اُس کے ذاتی مراسم بھی قائم ہوگئے۔جیل میں اُس کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔چنانچہ یہ اُس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اگر چہ ملک بہزاد کو بہت دعوے تھے کہ اُس نے سینکڑوں قتل کر رکھے ہیں لیکن اُن قتل کا ثبوت عدالت تو کیا وہ خود بھی کبھی پیش نہیں کر سکا تھا۔لیکن پورے علاقے میں ملک بہزاد کی دھاک ضرور بیٹھ چکی تھی۔ تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔ اِد ھر ملک بہزاد بھی اپنے مدعی کی شکست نہیں دیکھ سکتا تھا۔اگر خدا نا خواستہ معاملہ ہر حالت میں ہاتھ سے نکلتا ہی دکھائی دے رہا ہوتا، پھر وہ جارحیت سے بھی باز نہیں آتا تھا اور مدعی کے ہاتھوں وہ کرا دیتا، جس کی خود مدعی بھی توقع نہ کر سکتا۔اِنہی خدا واسطے کی دشمینوں میں اُس نے خود بھی بہت سی گزند اُٹھا ئی لیکن ملک بہزاد کو اِن کاموں کا ایسا چسکا پڑ چکا تھا کہ اب اُس سے مر کر ہی جان چھٹتی۔ ملک بہزاد کو ایک اور بھی چسکا تھا کہ اُس کے پاس لوگوں کو سنانے کے لیے طرح طرح کی کہانیاں تھیں اور وہ کہانی ایسے سناتا کہ لوگ عش عش کر اُٹھتے۔ملک بہزاد کا شیر حیدر سے پُرانا یارانہ تھا۔ایک دوسرے کے پگڑی بدل بھائی بنے ہوئے تھے۔ شیر حیدر نے بہت سے معاملات میں ملک بہزاد کی مدد کی تھی اور بیسیوں دفعہ عدالت میں اُس کی ضمانت کے مچلکے جمع کروائے تھے۔جو کئی ہزار روپے کے بن جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار ملک بہزاد نے غیر قانونی کارروائی کر کے شیر حیدر کے پاس آ کر پناہ لی تھی اور اس پناہ میں احسان مندی کا جذبہ بالکل نہیں تھا بلکہ ایک برابری کی حیثیت تھی۔ جس کا زیادہ تر تعلق بھائی بندی سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ملک بہزاد بہت دفعہ شیر حیدر کے بھی کام آ چکا تھا۔ لہذا یہ بات روشن تھی کہ شیر حیدر کی وفات کے بعد ملک بہزاد کا تعلق غلام حیدر کے ساتھ سابقہ بنیادوں پر ہی استوار ہونا تھا۔ شیر حیدر کی وفات پر ملک بہزاد نے غلام حیدر کو بار بار یہ بات باور کرائی تھی، پُتر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتانا۔تم میرے بھتیجے کی طرح ہو، مجھ سے جو ہو سکا،مَیں کروں گا۔لیکن غلام حیدر اُس وقت پے بہ پے مصیبتوں میں کچھ ایسا حواس باختہ ہو ا کہ اُسے ملک بہزاد کے بارے میں کچھ یاد نہ رہا مگر شاہ پور والے واقعے میں اچانک غلام حیدر کو اپنے اس رفیق کا خیال آیا،جو در اصل اُسے اِس مصیبت سے نکالنے کے لیے صحیح مہرہ ثابت ہو سکتا تھا اور برسوں کی رفاقت کے باعث اُس سے کچھ دھوکے کا اندیشہ بھی نہیں تھا۔

 

ملک بہزاد آج صبح گیارہ بجے ہی جلال آباد غلام حیدر کی حویلی میں پہنچ چکا تھا اور اب آرام سے چار پائی پر بیٹھا حقے کے کڑوے تمباکو کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ سب لوگوں کو معمول کے مطابق اپنی ایک کہانی سنا رہا تھا، جو اُسے منٹگمری جیل میں پیش آئی تھی۔کہانی سننے کے لیے ارد گرد چارپائیوں پر بیٹھے تمام لوگ تازہ سانحات کو بھو ل چکے تھے۔ غلام حیدر حویلی میں داخل ہوا تو چار پائیوں پر بیٹھے تمام لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بڑھ کر ہاتھ ملانے لگے مگر غلام حیدر سب سے جلدی جلدی فارغ ہو کر آگے بڑھتا گیا۔اُس کی نظر حویلی کا دروازہ پار کرتے ہی ملک بہزاد کو ڈھونڈنے لگی تھی، جو کئی لوگوں کے درمیان بیٹھا اپنی کتھا سنا رہا تھا۔غلام حیدر کو دیکھتے ہی ملک بہزاد بھی اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور جیسے ہی غلام حیدر قریب ہوا،اُس نے کھینچ کر سینے سے لگا لیا اور کاندھے پر تھپکی دی۔جوش اور جاذبے سے ملنے کے بعد کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اور دونوں نے جان بوجھ کر موجودہ سانحات کی بات نہ چھیڑی۔ہندوستان اور اس میں بھی خاص کر پنجاب میں خیال رکھا جاتا ہے کہ مقصد کی بات کرنے کے لیے کچھ آداب ملحوط رکھیں جائیں اور ملتے ہی اپنا رونا نہ رو دیا جائے۔ اس کے علاوہ رعیت کے سامنے اپنی کمزوری کا ذکر انتہائی بُزدلی تصور کیا جاتا ہے۔کچھ دیر ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے بعد غلام حیدر نے تمام لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا۔لوگوں کے ہٹتے ہی ملک بہزاد کو بات کرنے کا موقع مل گیا اور اُس نے غلام حیدر کو تسلی دینا شروع کردی،پُتر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تیرا چاچا ابھی زندہ ہے (پھر اپنی ہی چارپائی پر بٹھاتے ہوئے کہا )پُتر غلام حیدر مصیبتیں اگر مردوں پر نہ آئیں تو پھر زنخے تو اِن کا بوجھ اُٹھانے سے رہے۔ بھتیج، مشکلیں اور اوکھے پانڈے مردوں کا زیور ہیں۔تگڑا ہو،میں ہوں نا تیرے ساتھ۔ مجھے دیکھ کئی قتل کر کے اور کئی دفعہ منٹگمری جیل کی کوٹھیوں کی سیر کر کے تیر ے سامنے بیٹھا ہوں۔اب بھی کئی مقدموں کی تاریخیں میرے بوڑھے کاندھوں پر ہیں اور یہ میرے قدموں کو دیکھتا ہے؟ یہ صرف د و ہی جگہوں کا نقشہ پہچانتے ہیں، عدالت کی سیڑھیاں اور دشمن کی جونہہ۔ تیسری جگہ کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ یہ کہ کر ملک بہزاد نے حقے کا ایک لمبا گھونٹ لیا اور تائید کے لیے اُس کی طرف دیکھنے لگا۔

 

ملک بہزاد کی بعض باتیں واقعی غلام حیدر کے لیے تسلی کا باعث تھیں۔کیونکہ جتنی مصیبتیں ملک بہزاد نے اپنی زندگی میں دیکھیں تھیں،غلام حیدر پر تو ابھی اُن کا پاؤ پاسک بھی نہیں آئی تھیں۔ اگرچہ وہ مشکلیں اُس کے اپنے کرتوتوں ہی کی وجہ سے تھیں لیکن جیل اور عدالتوں کے عذاب کی تلخی تو سب ایک ہی طرح سے محسوس کرتے ہیں۔

 

کچھ دیر خاموشی کے بعدغلام حیدر بولا، چاچا بہزاد دُکھ اِس بات کا نہیں کہ مجھ پر مصیبت آئی ہے،رونا تو یہ ہے دشمن نے بے وقتی ضرب لگائی ہے اور اگر تحمل سے سوچیں تو ابا کی توہین کی ہے۔ اِدھر اُن کا جنازہ پڑا ہے اُدھر سکھڑے نے چڑھائی کردی۔ یہ کسی دشمن کا نہیں بلکہ نسلی کمینے کا کام ہے۔اور قہر یہ ہے کہ کچھووں نے بھی ابا کے مرنے کے ساتھ ہی چوکیاں بھرنی شروع کر دیں اورمینڈکیاں شراب کے مٹکوں پر پل پڑی ہیں۔اب یہ کون کہ سکتا تھا عبدل گجر اور شریف بودلے جیسے چوہے بھی دُموں پر کھڑے ہو جائیں گے۔

 

غلام حیدر،مجھے فیقے پاؤلی نے سب کچھ سے خبردار کر دیا ہے، ملک بہزاد اپنی سفید مونچھ کو مسلسل بل دینے کے ساتھ مسکرا بولا، تم کیا چاہتے ہو دشمن تمھاری بلائیں لے اور تمھارے سر سے کالے بکروں کے صدقے اُتارے؟ بھائی دشمن دشمن ہوتا ہے۔اُس کے اپنے موڈ ہوتے ہیں۔ اُس سے شکوہ کرنے والے بُزدل ہوتے ہیں۔ تم اپنے ذمہ دار ہو اور سکول میں پڑھنے والیے لاڈلے نہیں بلکہ اپنی رائے اور فیصلوں پر اختیار رکھتے ہو۔اس لیے اب دشمن سے شکوہ یا بچاؤ نہیں۔اُس پر جارحیت کا سوچو۔کیو نکہ بچاؤ کمزور کرتا ہے اور آگے بڑھ کر حملہ کرنامردوں میں حوصلے کا باعث ہوتا ہے۔ یہی شیروں کا کام ہے۔یہ شریف بودلہ اور عبدل گجرتوکیڑوں کی طرح مَسلے جائیں گے۔ افسوس تو اُن تین چاربے گناہوں کا ہے، جو بے چارے تیری دشمنی میں کام آگئے۔ خیر یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مردوں کو اپنے رشتوں کے دکھ اُٹھانے پڑتے ہیں۔ اب توُ حکم کر بلکہ پہلے منہ ہاتھ دو اور گھر جا کر اپنی ماں کے پاس کچھ دیر بیٹھ۔وہ پریشان ہورہی ہو گی، اُسے حوصلہ دے اور بتا دے کہ وہ دلیری پکڑے۔ اُس کا بھائی بہزاد ابھی زندہ ہے۔کچھ نہیں ہونے دے گا۔ ملک بہزاد نے غلام حیدر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے دوبارہ تھپکی دی۔ جا اُٹھ کر آرام سے کھانا وانا کھا اور جی کو ہلکا کر پھر تسلی سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

 

غلام حیدر چارپائی سے اُٹھا اور حویلی کے زنان خانے میں چلا گیا،جہاں اُس کی ماں انتہائی بے چینی کی کیفیت میں اُس کی منتظر تھی۔ غلام حیدر اپنی ماں فاطمہ بانو کی اکیلی اولاد تھی۔ وہ جانتا تھا، اُس کی والدہ کے پاس نہ تو کوئی اور راستہ تھا اور نہ ہی کوئی اور سرمایہ۔اگر اُسے کچھ ہو گیا تو اُس کی ما ں زندہ ہی مر جائے گی۔ اِس لیے اُسے اپنے سے زیادہ ماں کی فکر تھی۔ غلام حیدر کو دیکھتے ہی اُس کی والدہ اُٹھ کر لپٹ گئی اور صدقے واری جا کر اپنی چارپائی کے سامنے پڑے لال موڑھے پر بٹھا لیا۔ فاطمہ بانو کی چار پائی شادی کے وقت سے ابھی تک اُسی کمرے میں تھی، جس کمرے میں وہ دلہن بن کر آئی تھی۔ کمرہ بیس فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا تھا اور آرائش کے اعتبار سے اِس قدر شاندار تھا کہ آنکھیں دیکھتے ہی دنگ رہ جائیں۔ لیکن اتنے لمبے اور چوڑے کمرے میں ایک دوہرا پلنگ اور چار پانچ رنگین موڑھوں کے سوا کوئی جگہ بیٹھنے کے لیے باقی نہیں بچی تھی۔ کہیں بڑے بڑے سنگھار آئینے کھڑے تھے اور کہیں رنگ برنگے دھاگوں سے بُنے ہوئے مختلف قلینوں کے ٹکڑے لٹک رہے تھے۔ کسی طرف سندھی، بلوچی اور پنجابی فوک پینٹنگز کے نقش کپڑوں پر کاڑھے ہوئے لکڑی کے مختلف ہینگروں میں ٹنگے تھے،جو تیز رنگوں میں اپنی شکلوں کو پورے کمرے پر حاوی کیے ہوئے تھے۔دیواروں پر بھی کچے رنگوں کی مٹی سے بڑی نفاست سے پینٹنگ کی گئی تھیں۔ اُن پینٹنگزسے پتا چلتا تھا کہ ُان کو بنانے والاآرٹ سے زیادہ آرٹ کا دعوہ رکھتا تھا مگر وہ پھر بھی اچھی لگتی تھیں۔ کمرے میں جو چیز سب سے نمایاں تھی، وہ پڑچھتیوں اور طاقوں میں ترتیب کے ساتھ رکھے ہوئے بے شما ر کانسی اور تانبے کے چھوٹے بڑے برتن تھے۔ جن میں پراتیں، دیگچے، ڈونگے،چھنے، پلیٹیں،گلاس غرض ہر ایک کانسی اور تانبے کا برتن، جو اُس وقت پنجاب کے عام یا خاص بازار میں پایا جاتا تھا،اِس کمرے میں جمع تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کانسی اور تانبے کے دہکتے ہوئے زرد اور چمکیلے رنگوں سے کمرہ جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔ جو رات کے اندھیرے میں دیے اور لال ٹین جلنے سے اور بھی دمک اُٹھتا اور ایسے محسوس ہوتا کہ پورے کمرے میں گویا سونے کے چراغ جل رہے ہوں۔ دیے کی زرد روشنی کی لَو تمام برتنوں کی دھات سے نکل نکل کر پھوٹ رہی تھی۔جس کی وجہ سے کمرہ دہک رہا تھا۔بلکہ بعض چھوٹے چھوٹے برتن تو واقعی سونے کے تھے۔ جن میں فاطمہ بانو اپنے لیے مصری کی ڈلیاں، بادام یا گری وغیرہ رکھتی تھی۔ رواج کے مطابق ہر والدین اپنی بیٹی کو ایسی دھاتوں کے برتن دینا اپنا فرض خیال کرتا تھا۔لیکن ایسا کم ہی ہوتا کہ یہ برتن زندگی میں کبھی استعمال میں آئیں۔بلکہ کانسی کے برتن میں تو کوئی چیز قلعی کیے بغیر ڈال ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ فوراً خراب ہو جاتی اور قلعی کرانے کی صورت میں دھات کی اپنی حیثیت کی وقعت ظاہر نہ ہو پاتی۔ چنانچہ یہ برتن کمروں کی پڑچھتیوں اور طاقوں پر ہی پڑے پڑے رونق دکھاتے رہتے۔جب بیاہ کے وقت اِن برتنوں کو ساتھ لانے والی دُلہنیں اُسی گھر میں زندگی کے تیس چالیس سال گزار کر پوتوں اور نواسوں والی ہوجاتیں تو پھر وہ اپنے نواسوں اور پوتوں پوتیوں کو ایک ایک برتن کے بارے میں تفصیل سے بتاتیں کہ بیٹا یہ پرات آپ کے پڑنانا حیدر آباد سے لائے تھے اور یہ کانسی کا دیگچا اُنہوں نے دہلی کے گنج منڈی بازار سے خریدا تھا۔اِس میں پورے پندرہ کلو چاول پکتے ہیں۔اِدھر آ، مَیں تجھے دکھاؤں،یہ جو کانسی کے چھنے اور گلاسوں کا سیٹ ہے، اِسے میری شادی سے بھی بارہ سال پہلے سندھ سے تمھاری پڑ نانی لائی تھی، جب وہ حج کر کے کراچی بندر گاہ پر بحری جہاز سے اُتری تھی۔وہاں سے تو وہ سندھی چادریں اور شالیں بھی لائی تھی پر وہ تو تمھارے پڑنانا نے ہنڈا لیں۔ اِس چھنے کا وزن دیکھو پورا دو سیر ہے۔ الغرض یہ کمرہ ایک اچھا خاصا نگار خانہ تھا۔جس میں پورے پنجاب کا گھریلو کلچر ایک ہی جگہ جمع تھا۔

 

غلام حیدر کی دو پھپھیاں اور ایک خالہ بھی کئی دن سے یہیں پر تھیں۔جو فاطمہ بانو کی ڈھارس بندھائے ہوئے تھیں۔اُن کے علاوہ بھی خاندان کی کئی لڑکیاں اُسی وقت سے گھر میں موجود تھیں اور اُس کے اکیلے پن کو اُنہوں نے کسی حد تک دور بھی کر دیا تھا۔ مگر بیٹے کے ساتھ مل کر اُسے ایک گونہ سکون سا آجاتا اور دل ہلکا ہو جاتا۔غلام حیدر نے والدہ کی کیفیت سمجھتے ہوئے کہا،اماں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔مَیں نے چاچے بہزاد کو چک عالمکا سے بُلوا لیا ہے۔ وہ خود ہی اِس سارے مسئلے کو سنبھال لے گا۔

 

ملک بہزاد کا نام سن کر فاطمہ بانو ایک دم چونک گئی اور بولی، ہائے ہائے بیٹا اِس غنڈے کو تو صلح صفائی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ کسی اور ہی پھڈے میں نہ ڈال دے۔ تم نے اس کو کیوں بلایا ہے ؟ یہ تو نہ خود بیٹھتا ہے اور نہ کسی کو بیٹھنے دیتا ہے۔ اس کا معاملہ تو،چور نالوں پنڈ کاہلئی، والا ہے۔ میں کہتی ہو ں اُسے واپس بھیج دے اور اُن ظالموں کو کچھ دے دلا کر صلح کر لے۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ اُس کے فضل سے کون سی کمی ہے۔
فاطمہ بانو کی بات ختم ہوئی تو غلام حیدر کی پھو پھی نے اپنا دوپٹا درست کیا اور رنگین موڑھا،جس پر وہ بیٹھی تھی، اُسے مزید آگے سرکا کرجھکی اور اپنی نصیحت چھیڑ دی، بیٹا تیری ماں ٹھیک کہتی ہے۔ تیرے باپ شیر حیدر کی بات اور تھی، تیری بات اور ہے۔یہ غنڈوں سے مقابلہ اور لڑائی بھڑائی ہمارا کام نہیں ہے۔ دیکھ تُو پڑھا لکھا ہے۔یہ لوگ جو تیری جان کے دشمن ہوئے ہیں،اِن ڈنگروں سے تیرا کیا لینا دینا۔ تُو اِن کو اِن کے حال پر چھوڑ اور زمین کسی کو ٹھیکے یا گہنے پر دے کر لاہور چلا چل یا چاہے تو پاکپتن آجا،پر اب فیروز پور اور جلال آباد تیرے رہنے کے قابل نہیں رہا۔ تُونے اندھیر سویر آنا جانا ہوتا ہے اور میں جانتی ہوں تیری ماں کس طرح سولی پر لٹکی رہتی ہے۔یہ سچ کہتی ہے، ملک بہزاد سے تُو کوئی واسطہ نہ رکھ۔ یہ تجھے کسی اور ہی پھڈے میں پھنسا دے گا۔

 

غلام حیدر جانتا تھا کہ اماں اور پھوپھیوں کو سمجھانا بے کار تھا۔ وہ عورتیں ہونے کے ناتے سے اپنی جگہ پر سچی بھی تھیں۔ لیکن اُن کی دی ہوئی صلاح پر سوچنے کی حد تک تو ٹھیک تھا،عمل کرنا ناممکن تھا۔زمینوں،مال مویشی اور رعایا کو بے وارث چھورنے کا مطلب یہ تھا کہ عزت،وقار،زمین سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور اپنے باپ شیر حیدر کے نام تک کو ڈبو دینا، جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ مگر اس وقت اُن سے بحث کرنا بھی فضول تھی۔ اس لیے غلام حیدر نے اپنی ماں اور پھوپھی کو دلاسا دیتے ہوئے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر کہا، اماں جیسا آپ کہیں گی وہی کروں گا، فکر نہ کریں۔میں ان سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔ فی الحال تو مجھے بھوک لگی ہے۔جلدی سے روٹی دے۔ آپ کے ساتھ بیٹھ کر روٹی تو کھا لوں۔

 

فاطمہ بانو نے غلام حیدر کی اِس قدر اطاعت گزاری دیکھی تو باغ باغ ہو گئی۔گویا سارے مسائل ایک لمحے میں حل ہو گئے ہوں۔اِسی خوشی میں اُس نے فوراً ملازمہ کو آواز دی،نی سلامتے جلدی نال غلام حیدر واسطے تے ساڈے واسطے روٹی لے آ، مَیں اپنے پُتر نال بہہ کے روٹی تاں کھا لاں۔

 

سلامت بی بی نے کھانا تپائی پر لگا دیا۔ پھر غلام حیدر،اُس کی ماں،دونوں پھوپھیاں اور خالہ نے مل کر کھانا کھا یا۔ کھانے کے دوران بھی غلام حیدر نے سب سے کافی نصیحتیں سنیں،جن پر وہ ایک فرمانبردار بیٹے کی طر ح ہاں ہاں کرتا گیا۔اِس طرح عصر کا وقت ہو گیا اور فاطمہ بانوسمیت سب گھر والوں کا بھی جی بہل گیا۔ والدہ کے پہلو میں بیٹھ کر غلام حیدر کا بھی کچھ تکد ٌر دور ہو گیا۔گویا ملک بہزاد سے صلاح مشورہ کرنے کے لیے ایک قسم کا تازہ دم بھی ہو چکا تھا۔
عصر کے وقت،جو سردیوں کے موسم میں شام کے قریب پہنچ جاتا ہے،غلام حیدر حویلی کے بڑے صحن کے مہمان خانے میں آ گیا۔مہمان خانہ ڈیوڑھی نما بیس فٹ اُونچی چھت والے بڑے کمرے پر مشتمل تھا۔جس میں دس چار پائیاں بچھ جاتی تھیں۔ سردی کی وجہ سے سب لوگ ڈیوڑھیوں میں بیٹھ چکے تھے اور حقوں کی گڑ گڑاہٹوں کے ساتھ گپوں کے ہانکے چھوڑ رہے تھے۔ غلام حیدر کو دیکھ کر ایک دم خموشی چھا گئی۔ لیکن وہ کسی کے پاس نہ رُکا اور سیدھا مہمان خانے میں جا کر ملک بہزاد کے سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا۔ ملک بہزاد تسلی سے حقہ پیتا رہا۔ اُس دوران دوچار لوگ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔

 

غلام حیدر نے اصل بات چھیڑنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ملک بہزاد فوراً ہی بات کو پلٹا دے کر کسی اور موضوع کی طرف موڑ دیتا۔جب دو گھنٹے اِسی طرح گزر گئے تو ملک بہزاد نے سب لوگوں کی طرف،جو چھ چار وہاں بیٹھے تھے،اشارہ کر کے کہا، لو بھراؤ اب تم سب باہر جا کر تھوڑی دیر کے لیے تازہ ہوا کھا آؤ،مَیں اپنے بھتیج سے کچھ دکھ سکھ کی باتیں کر لوں۔بڑے عرصے سے مل کر بیٹھنے کا مو قع ہی نہیں ملا۔

 

ملک بہزاد کی بات سن کر سب لوگ اُٹھ گئے حتیٰ کہ رفیق پاؤلی بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا،میاں بہزاد میں بھی چلتا ہوں،اب کل ملیں گے۔آج کافی تھک گیا ہوں۔ اِس لیے جلدی نیند آ رہی ہے۔ وہ جان گیا تھا، ملک بہزاد غلام حیدر کے ساتھ در اصل اکیلے ہی میں بات کرنا چاہ رہا ہے۔
سب اُٹھ گئے تو ملک بہزاد نے اُٹھ کر اِس لمبے چوڑے کمر ے کے دروازے کی دونوں بلیاں چڑھا دیں اور آ کر تسلی سے اپنی چار پائی پر بیٹھ کر گیا،جس پر ریشمی گدا بچھا کر پائینتی روئی کی ایک موٹی اور صاف ستھری رضائی رکھی ہوئی تھی۔ملک بہزاد نے گول تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر رضائی اپنے قدموں کے اُوپر سے لا کر کمر تک اوڑھ لی۔ پھر حقے کی نے منہ میں لے کر ایک کیف آفریں سوٹا لگایا۔اِس کے بعدایک دو لمحے خموشی سے غلام حیدر کی طرف دیکھ کر بولا، جی پُتر غلام حیدر اب بتا۔اب صرف دیواریں سن رہی ہیں۔ اور کھل کے بتا کہ اب کیا ارادے ہیں ؟

 

غلام حیدر جو پہلے چارپائی کے کنارے پر پاؤں لٹکائے ملک بہزاد کو دیکھ رہا تھا کہ کب گفتگو شروع کرتا ہے،نے آرام سے اپنے جوتے اتار کر دونوں ٹانگیں اُوپر کر لیں اور کہنے لگا، چاچا بہزاد آپ کو بلانے کا آخر کوئی مقصد تو ہو گا اور جو مقصد ہے اُس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کا وجود اِسی لیے ناگزیر ہے کہ مجھے شکست قبول نہیں اور یہ فیصلہ میں نے کافی سوچ سمجھ کے کیا ہے۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات سن کر ہلکا سا مسکرایا پھر نہایت سنجیدگی سے بولا، بھتیجے میں مجھے آپ سے کچھ باتوں کے جواب سیدھے سیدھے چاہییں۔ اُس کے بعد میں اپنی رائے دوں گا کہ اِس قضیے میں کیا کرنا ہے۔ میری طبیعت سے تُو اچھی طرح واقف ہے اگر تیرا باپ بہشتی زندہ ہوتا تو اُس سے یہ باتیں کرنے کی نوبت پیش نہ آتی لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب تک میں اپنی راہ آپ کے ساتھ صاف نہ کر لوں، اُس وقت تک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اب پہلے مجھے تُو یہ بتا کہ اگر مَیں تیرے ساتھ نہ ہوں تو پھر تُو کیا کرے گا۔
مَیں نے ایف آئی آر درج کروا دی ہے دونوں قضیوں کے بارے میں۔ڈپٹی کمشنر نے مجھے انصاف کی توقع بھی دلائی ہے۔لیکن مَیں اُس سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں اور کچھ مزید کرنا چاہتا ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں ؟

 

تیرے خیال میں ایف آئی آر کا نتیجہ کیا ہو گا ؟ملک بہزاد نے غلام حیدر کی آنکھوں میں جھانکتے ہو ئے پوچھا۔
۔ اس سے یہ ہو گا کہ حکومت مجرموں کو پکڑنے کی پابند ہو گی۔
پھر اُن ملزموں کو گرفتار کر لیا جائے گا ؟
میرا تو یہی خیال ہے۔
اچھا اب یہ بتا کہ ملزم گرفتار ہونے کے بعد اپنی ضمانت کی کوشش کریں گے یا آرام سے اپنے آپ کو جیل میں سڑنے دیں گے ؟
وہ اپنی ضمانت کروانے کی کوشش تو ظاہر ہے کریں گے
اگر ضمانت ہو گئی تو پھر؟
پھر مقدمہ چلے گا

 

پھر اُس کے بعد ظاہر ہے وکیل کیے جائیں گے، گواہ پیش ہوں گے۔پیشیاں ہوں گی، کبھی تم نہیں جا سکو گے، کبھی ملزموں کی طرف سے حاضری نہیں ہو گی۔ موسم آئیں گے گزر جا ئیں گے۔ جج بدلیں گے۔ پُرانے جائیں گے، نئے آئیں گے۔ سفارشیں چلیں گی۔ کبھی اُن کا پلڑا بھاری، کبھی آپ کا پلڑا بھاری اور یوں برسوں کا پینڈا نکل جائے گا۔یہی ہو گا نا؟ ملک بہزاد نے ایک طنزیہ لہجہ اپناتے ہوئے بات کو ختم کیا۔ پھر حقے کا ایک اور گھونٹ بھرا۔

 

تو کیا مجھے ایف آئی آر درج نہیں کروانا چاہیے تھی؟ غلام حیدر نے ملک بہزاد کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔

 

وہ تو ہر حالت میں کروانا چاہیے تھی میرے بھائی کے پُتر،ملک بہزاد نے کمرکو تکیے سے ذرا سا اُٹھاتے ہوئے جواب دیا، مگر میرا سوال یہ ہے کہ صرف یہی کچھ کر کے بیٹھ جاؤ گے؟
پھر اور کیا کروں؟ اسی لیے تو آپ کو زحمت دی گئی ہے، غلام حیدر بولا۔

 

دیکھ غلام حیدر، ملک بہزاد ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا جس کا مطلب تھا کہ اب وہ غلام حیدر کو اپنا مشورہ تفصیل کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے، تیرے تین آدمی قتل ہو چکے ہیں،دو گاؤں پر حملہ ہوا ہے۔تیری فصلیں تباہ کی جاچکی ہیں اور مزید کی تجھے توقع رکھنی چاہیے کہ ابھی توابتدا تھی۔ اب رہی بات ملزموں کی، تو جن ملزموں کو پرچے میں آپ نے نام زد کیا ہے، وہ گرفتار تو ہو سکتے ہیں لیکن اُن کو سزا ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ہزار طرح سے ثابت کردیں گے کہ وہ تو موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ نہ ہی ان قضیوں میں اُن کی ایما شامل تھی۔تیرے گواہ کبھی یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ جو تیرے آدمی قتل ہوئے ہیں وہ بالکل عین انہی کی ڈا نگوں اور برچھیوں کے وارسے قتل ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ پہلے اُن کی ضمانت ہو جائے گی، پھر سال ہا سال کی پیشیوں کے بعد وہ بَری ہو جائیں گے۔اِس کے بعد ملک بہزاد نے ایک اور حقے کا گہرا گھونٹ بھرا اور دوبارہ بولنا شروع کیا،یہ تو اُس صورت میں ہے جب وہ تجھے آرام سے مقدمے کی پیروی کرنے کا موقع دیں۔ اگر اُنہوں نے آئے دن آپ کی زمینوں،گاؤں اور بندوں کے اُوپر مختلف سمت سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا تو بھتیجے تُو مقدمہ کی پیروی بھی نہیں کر سکے گا۔ یوں ایک آدھ سال میں تیر ی ساری سلطنت کی کمائی لٹ جائے گی اور ٹھٹھہ الگ میں اُڑے گا اور یہ ٹھٹھہ غیر نہیں تیرے اپنے اُڑائیں گے۔ یہی تیری رعایا زمینیں تو تیری کاشت کرے گی اور اُس کا نصف تیرے دشمنوں کو دے گی۔ رہی بات انگریز سرکار کی،تو یہ کبھی ہوتی تھی جب انہوں نے دلی نئی نئی فتح کی تھی۔ اب اِن کے بھی کچھ اور ہی لچھن ہیں۔کیا تو نہیں دیکھتا ؟یہ انگریزی بابو اور میمیں یہاں کتے لڑانے،زمینیں خریدنے،کبوتر اُڑانے اور کوٹھیاں بنانے کا دھندا کُھلے کھیتوں کرتے ہیں۔اور یہ سب عیاشیاں رشوت کے بغیر نہیں ہوتیں۔ میرے بھائی کے بیٹے یہ رشوت کا خون اِن کے منہ کو بھی لگ چکا ہے۔ہاں ایک بات ضرور ہے،جہاں دیسی دلاٌدس لیتا ہے، یہ گورا بیس لیتا ہے۔ مُل میں فرق ہے کرتوت میں نہیں رہا۔کیا تو نہیں جانتا ؟اگر یہاں انصاف کی رتی ہوتی تو میں کب کا پھاہے لگ چکا ہوتا۔پھر اب تیرے معاملے میں تو سکھ اور مُسلے دونوں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ بندے اُن کے پاس زیادہ،پیسا اُن کے پاس زیادہ، اور حرامزدگیاں اُن کے پاس زیادہ۔ اِدھر تُو اکیلا، نہ تیرا یہاں دوسرا رشتہ دار اور نہ بازو۔ کب تک گر ہجوں کی کھردری چونچوں سے بچو گے؟

 

غلام حیدر تحمل سے ملک بہزاد کی باتیں سن رہا تھا اور معاملے کی سنجیدگی کا اعتراف اُس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا۔ ساری بات سننے کے بعد اُس نے نہایت بردباری سے کہا،چاچا بہزاد ایک بات تو طے ہے کہ نہ میں اپنی سلطنت لٹنے دوں گا اور نہ سودھا سنگھ اور عبدل گجر کی سانسیں زیادہ دیر چلنے دوں گا۔نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ میری رعایا میرے دشمنوں کی چلمیں بھرے۔ مَیں وہ کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ لوگ صرف سن کر کانپ جائیں۔بس تُو یہ بتا کہ کرنا کیا ہے؟

 

تو سُن،ملک بہزاد بولا، سب سے پہلا کام جو آپ نے کیا ہے،وہ بہت عمدہ ہوا کہ پرچوں کی ایف آئی آر میں تُو نے سیدھے انہی کے نام لکھوائے جن سے ہمیں غرض ہے۔ اِس سے یہ ہو گا کہ سودھا سنگھ اور عبدل گجر عدالت میں خود آنے کے پابند ہیں۔ یہی بات ہمارے کام کو آسان کر دے گی۔لیکن اِس کے لیے چند باتیں دماغ میں رکھ لو۔ اول بھیگی بلی بن جاؤ۔ چاہے چھ ماہ انتظار کرنا پڑ ئے، پورے صبر سے کرو۔ دوسری بات یہ کہ اپنے دونوں گاؤں میں اپنے لوگوں کو دن رات کے لیے ہشیار کر دو۔اس طرح کے حملے مزیدبھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک حملہ بھی اور ہو گیا اور اُس میں تمھارا بندہ مر گیا تو رعایا دل چھوڑ دے گی۔ پھر تم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکو گے۔ تیسرا کام یہ کرو کہ اپنا تمام مال اور مویشی یا تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھیج دو یا بیچ دو اور کوئی چیز جو کھلے بازار میں بِک سکتی ہے،وہ تیرے گھر میں نہیں ہونی چاہیے۔چوتھایہ کہ اپنی ریفل کی گولیاں جتنی خرید سکتا ہے خرید لے۔ لیکن اِس کی نمائش کم کر دے اور گورنمنٹ کا بار بار دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ اُسے کہو،جو میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، اُس کا حساب لے کر دو۔ اِس کے علاوہ بگھیوں پر سفر کرنا چھوڑ دے۔والدہ کو اُن کے پیکے چھوڑ آو بلکہ ایسی جگہ بھیج دو جس کے بارے میں کسی کو بھی پتہ نہ ہو۔تا کہ تجھے دوسری پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

 

اتنا کہنے کے بعد ملک بہزاد کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔ اِس خاموشی کے وقفے میں سے جگہ بناتے ہوئے غلام حیدر نے سوال کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنی ذات کو تنہا کرنا پڑے گا اور تمام مصروفیات کو حویلی تک محدود کر دینا پڑے گا۔لیکن زمین کے معاملات کس کو سونپوں؟

 

زمین کو فی الحال اپنے ہی پاس رکھ اور وقت کے آنے کا انتظار کر،ملک بہزاد نے اپنا پورا جسم لیٹ کر رضائی کے حوالے کرتے ہوئے کہا،کیو نکہ یہی زمین تجھے طاقت بھی فراہم کرے گی اور یاد رکھ اپنے معاملات کے بارے میں اپنے خاص الخاص بندے حتیٰ کہ رفیق پاؤلی کو بھی آگاہ نہ کرنا کیونکہ ملازم خیانت کار نہ بھی ہو،تب بھی کمزور ضرور ہوتا ہے۔ اُس کی طاقت پر کبھی بھروسا نہ کرنا۔ اس لیے کہ ملازم کی طاقت بہر حال مالک سے اُدھار لی ہو تی ہے۔اور ادھار لی گئی چیز کو بعض اوقات استعمال کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا۔ اس لیے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔زندگی نے مجھے تجربہ سکھایا ہے، انسان وہی کامیاب ہے جو اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرے۔ جو اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا وہ ہمیشہ اُسے ادھورا نبھائے گا۔ اس لیے سودھاسنگھ اور عبدل گجر کا معاملہ کسی دوسرے کے حوالے نہ کرنا اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اپنا ہتھیا ر صرف اپنے پاس رکھنا۔ مجھے بہت ایسے سرداروں کے قصے یاد ہیں۔وہ انہی بازؤوں کے ہاتھوں مارے گئے جنہیں اُنہوں نے اپنے دشمنوں کے لیے تیار کیا تھا۔ جب سب کچھ تیرے خلاف جائے گا،اُس وقت تیرا دایاں بازوتیرے بائیں بازو کا ساتھ دے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ تیری مخبری پر تیرے دشمن کی مخبری غالب نہ آئے۔ اب جارحیت کی طرف قدم بڑھانے کا سلسلہ شروع کرواور سب سے پہلے انتخاب طاقتور دشمن کا کرو۔کچہری اور تحصیلوں کے معاملے مجھ پر چھوڑ دو۔ سودھا سنگھ، عبدل گجر اور شریف بودلے کو عدالتوں تک لانا اور غیر محفوظ راہوں پر دوڑانا میرا کام ہے۔باقی موقع آنے پر میں تم کو سب سمجھاتا جاؤں گا۔

 

غلام حیدر اور ملک بہزاد کی اس گفتگوں میں دونوں کو ہی وقت کے گزرنے کا احساس نہ ہوا اور رات کا تیسرا پہر چل پڑا۔جس کی وجہ سے ملک بہزاد کی آنکھوں پر نیند کا بوجھ بڑھنے لگا۔یہی حالت غلام حیدر کی ہوچلی تو بات چیت ختم کر کے غلام حیدر حویلی کے زنانے حصے میں چلا گیا۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پانچویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

باورچی خانہ ایک خطرناک جگہ ہے۔

 

ہمارا گھر حویلی نما تھا، جس میں دو دالان تھے۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔ بیرونی دالان سے ملحق برآمدہ تھا جس میں ٹین پڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع و عریض کچا آنگن جس میں آم کا درخت لگا تھا۔ اندرونی دالان سے ملی ہوئی دونوں اطراف میں کوٹھریاں تھیں، ایک کوٹھری میں بکس ہی بکس رکھے ہوئے تھے۔ نہ جانے کون کون سے زمانوں کے بکس اور ایک کوٹھری میں کتابیں، جو زیادہ تر پرانی اور خستہ حال تھیں۔

 

برآمدے کے ٹین کو لکڑی کے تھموں اور داسے کے ذریعے روکا گیا تھا، داسے میں جگہ جگہ لوہے کے ہُک نصب تھے جن میں لالٹین جلتی رہتی تھی۔ ٹین کے مشرقی حصّے میں مرغیوں کا ڈربہ اور کبوتروں کی کابُک تھی۔ مرغیوں کے ڈربے سے ملا ہوا زینہ تھا۔ چھت پر کوئی عمارت نہیں تھی۔ صرف منڈیریںتھیں جن پر دن میں کوّے، فاختائیں اور جنگلی کبوتر مٹرگشتی کرتے رہتے تھے اور رات میں آوارہ بلّیاں اگرچہ ہمارے گھر میں بھی کئی پالتو بلّیاں تھیں۔

 

آنگن میں دونوں طرف قطار سے چھوٹے چھوٹے پودے لگے ہوئے تھے اور ایک نارنگی کا درخت بھی تھا۔

 

چھتیں سب لکڑی کی کڑیوں کی تھیں اور خستہ حال ہو رہی تھیں،بارش کے دنوں میںجگہ جگہ سے ٹپکتی تھیں۔ کڑیوں میں چھپکلیوں اور چمگادڑوں نے بھی اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔
آنگن کے مشرقی حصّے میں ہتّھے والا نل لگا تھا جس کے نیچے ایک چھوٹی سی حوضیہ تھی۔ یہاں کپڑے اور برتن دُھلتے رہتے تھے اور گرمیوں کے خشک موسم میں بھڑیں اکٹھا رہتی تھیں۔
اس نل کے سامنے بالکل ناک کی سیدھ میں وہ تھا۔

 

وہ— یعنی باورچی خانہ۔

 

باورچی خانے کی کڑیوں کی چھت، کم از کم جب سے میں نے دیکھا، دھوئیں سے کالی ہی دیکھی۔ ان کڑیوں میں لٹکتے ہوئے مکڑیوں کے جالے بھی دھوئیں سے کالے ہو گئے تھے اور اُن پر دھول اور غبار کی موٹی تہہ جم گئی تھی۔ جب کبھی بھی (ایسا کبھی سالوں بعد ہوتا تھا) انہیں بانس کے ڈنڈے سے صاف کیا جاتا تو وہ فرش پر کالے کپڑے کی پتلی اورباریک دھجّیوں کی طرح نیچے گرتے باورچی خانے کی مکڑیاں اور چھپکلیاں بھی، وہاں زیادہ تر وقت گزارنے والی عورتوںکی طرح کالی پڑ گئی تھیں اور شاید اسی سبب سے اصل سے کچھ زیادہ زہریلی نظر آتی تھیں۔

 

ہر طرف کی دیوار کالی تھی اور ہر کونہ کالا تھا۔ مگر اِس سیاہی سے وہاں ایک مانوسیت اور اپنے پن کا احسا س قائم تھا۔ کبھی کبھار جب باورچی خانے میں چونے سے قلعی کروائی جاتی تو بھی یہ سیاہی، سفید چونے کے پیچھے سے جھانکتی ہی رہتی اور جلد ہی اِس پردے سے نکل کر باہر آجاتی۔

 

باورچی خانے کا فرش کھرنجے کا تھا اور جگہ جگہ سے اُدھڑ رہا تھا، اس میں بڑی بڑی دراڑیں تھیں جن میں چیونٹیاں اور کنکھجورے رہتے تھے اور کبھی کبھی سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی رینگتے ہوئے اِنہیں دراڑوںمیں گم ہوجاتے تھے۔

 

باورچی خانے کی چھت کے وسط میں ایک کڑی میں چالیس واٹ کا بلب، بجلی کے تار کی ایک ڈوری سے لٹکتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں ہمارے چھوٹے سے شہر میں بجلی آگئی تھی۔ مگر بجلی زیادہ تر غائب رہتی تھی اس لیے باورچی خانے کے دروازے کی چوکھٹ کے اوپر بھی ایک لالٹین ہمیشہ لٹکی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لالٹین زیادہ تر بھڑکتی رہتی تھی۔ اس میں کوئی عیب تھا۔ یہ مٹّی کے تیل کو زیادہ مقدار میں برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ اکثر اس کی چمنی ایک چھناکے کے ساتھ پھٹ جایا کرتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں، باربار چمنی کو بدلتے رہنے کے باوجود، کبھی بھی اس لالٹین کو بدلا نہیں گیا، جس کے پیندے میں ہی کوئی خرابی تھی یا جس کا اپنی ہی بتّی سے کوئی جھگڑا تھا۔

 

بجلی کا تار لال رنگ کا تھا، مگر بعد میں،وہ بھی کالا پڑ گیا تھا اور اُس پر نہ جانے کیوں مکھیاں چپکی رہتی تھیں۔ باورچی خانے کی جنوبی دیوار پر روشندان تھا۔ جو پام کے ایک پیڑ کی طرف کھلتا تھا، کبھی کبھی جب پام کے پتّے پرانے ہوجاتے تو روشندان سے باورچی خانے کے اندر جھانکنے لگتے بلکہ شاید اَندر داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ پام کے یہ پتّے بھی خوب تھے، ٹین سے ٹپکتی ہوئی بارش بھی پام کے اوپر سے گزرتی اور بوندیں یہاں الگ انداز سے گونجتیں۔ بے جان دھات، ٹین اور ایک جاندار شئے پتّوںمیں موسیقی کا ایک مقابلہ ہوتا، ایک اُداس جُگل بندی۔ پام کے یہ پتّے جب بہت بڑے ہوجاتے تو انھیں آری سے کاٹ دیا جاتا اور گھر سے باہر پھینک دیا جاتا، جہاں محلّے کے بچّوں کو ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آجاتا۔ وہ اس دبیز، نم اور سبز غالیچے جیسے پتّے پر بیٹھ جایا کرتے اور دوسرے بچّے ڈنڈی سے پکڑ کر اُس وسیع و عریض پتّے کو سڑک پر گھسیٹتے پھرتے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ میں کبھی پتّے پر نہ بیٹھ سکا۔ دراصل میری یادداشت میں پام کا پیڑ اور باورچی خانہ آپس میں اِس طرح گڈمڈ ہیں کہ ایک کے بارے میں بات کرنا دوسرے کے بغیر اگر ناممکن نہیں تو ادھوری اور تشنہ ضرور ہے۔

 

دوسری طرف کی دیوار میں اینٹوں کی ایک جالی لگی تھی جو زینے کی طرف کھلتی تھی۔ زینے کی چوتھی سیڑھی پر بیٹھ کر باورچی خانے کا منظر ایک کالی تصویر کی مانند نظر آتا تھا جس کے وسط میں ایک سرخ دہکتا ہوا دھبّہ تھا۔

 

یہ چولہا تھا، پنڈول سے پُتا ہوا، جس کے عقب میں اونلہ تھا۔ ایک کھانا پک جانے کے بعد اُس کی ہانڈی اونلے پر رکھ دی جاتی، تاکہ گرم رہے۔ لکڑیاں اگر سوکھی ہوتیں تو چولہے میں دھڑا دھڑ جلتیں اور اگر گیلی ہوتیں تو سارا باورچی خانہ دھوئیں سے بھر جاتا۔ چولہے کے سامنے بیٹھیں ہوئی عورتوں کی آنکھوں سے لگاتار پانی یا آنسو بہتے رہتے۔ جو باورچی خانے کی سیاہی میں گیلاپن بھی پیدا کر دیتے تھے۔ کھاناپک جانے کے بعد، چولہے میں بھوبل باقی رہتی۔ ایک سلیٹی رنگ کی راکھ جس کو کریدنے پر شعلے برآمد ہوتے تھے، اکثر رات کو دودھ کا برتن گرم کرنے کے لیے، اسے بھوبھل پر ہی رکھ دیا جاتا تھا۔

 

ہمارے گھر میں گوبر کے اُپلوں کا رواج نہیں تھا۔ وہ نسبتاً غریب اور نچلے طبقوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ مگر مجھے جلتے اور سُلگتے ہوئے اُپلوں پر بنی چائے بہت پسند تھی۔ اُس چائے میں دودھ کی خوشبو بہت خالص اورممتا سے بھری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
میں نے ایسی چائے کئی بار پی ہے۔

 

ہاں مگر ہمارے یہاں بُرادے کی انگیٹھی ضرور تھی، ہر پندرہ دن بعد ایک آدمی ٹھیلے پر بُرادے کی بوری رکھے ہوئے نمودار ہوتا اور بوری کواپنی کمر پر لاد کر تقریباً دہرا ہوتے ہوئے اُسے باورچی خانے کی اندھیری کوٹھری میں لے جاکر پٹک دیتا۔

 

اُس انگیٹھی میں برادے کو بہت ٹھونس ٹھونس کر بھرنا ہوتا جو ایک مشکل اور تکڑم والا کام تھا۔ ورنہ انگیٹھی اچھی طرح نہیں سلگ پاتی تھی۔

 

چولہے سے دو ہاتھ کے فاصلے پر دائیں طرف، دیوار پر اینٹوں کی ایک الماری تھی، جس میں روزمرہ کے برتن اور مسالے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ اکثر یہاں پیاز سڑتی رہتی تھی، فرش پر ایک طرف آٹا گوندھنے کا پیتل کا تسلہ، کالے رنگ کا بڑا اور بھاری توا جو مجھے کالے سورج کی طرح دکھائی دیتا تھا اور جس پر بڑی بڑی گیہوں کی چپاتیاں پکتی تھیں۔ اُن دنوں چھوٹے چھوٹے پھلکوں کا راوج نہ تھا بلکہ اُنہیں بہت حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
توے کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر چمٹا اور پھنکنی بھی پڑے رہتے۔ دونوں کالے رنگ کے تھے اور تشدّد آمیز محسوس ہوتے تھے۔ فرش پر ڈھیر سی، اونچی نیچی، لکڑی کی پٹلیاں تھیں جن پر بیٹھ کر عورتیں کام کرتیں اور جاڑوں کے دنوں میں سب لوگ اُنہیں پٹلیوں پر بیٹھ کر چولہے کے آگے کھانا کھاتے۔

 

شب برات کے دوسرے دن کی صبح تو دیکھنے کا منظر ہوتا۔ گھر کا ہر شخص، ناشتے کے وقت، باورچی خانے میں آکر پٹلیوں پر بیٹھ جاتا اور رات کے باسی حلوے کو چولہے پر گرم کرکے، تام چینی کی رکابیوں میں باسی روٹی کے ساتھ کھاتا۔

 

میں یہ بتانا بھول گیا کہ باورچی خانے کے اندرایک طرف، اندھیری کوٹھری تھی جس میں زیادہ تراناج، غلّہ، گھی، تیل وغیرہ بھرے ہوتے تھے۔ اس میں بجلی کا بلب نہیں تھا اور دن میں بھی یہاں لالٹین یا مٹّی کے تیل کی ڈبیہ لے کر جانا پڑتا تھا۔

 

باورچی خانے میں ہر طرف ایک بکھرائو اور بدنظمی کا منظر تھا۔ جبکہ دیکھا جائے تو کھانا پکانے میں مدد دگار اشیا یا آلات وغیرہ بہت کم تھے۔ صرف توا، پھنکنی، چمٹا، پتھّر کی سِل، ہاون دستہ اور چند چھوٹے بڑے چمچوں یا کفگیر وغیرہ سے ہی کام چلالیا جاتا تھا۔ گرم برتن کو اُٹھانے کے لیے کپڑے کا استعمال کیا جاتا تھا جسے صافی کہا جاتا۔ اگرچہ وہ چکنائی اور سیاہی سے اِس طرح سنا ہوتا کہ عورتوںکی انگلیاں اُس سے چپک جاتیں اور ویسے توتجربہ کار یا منجھی ہوئی عورتیں بغیر صافی کے ہی گرم سے گرم برتن کو چولہے سے اُٹھا لیتیں۔ ان کے ہاتھوں کی کھال سُن ہو چکی تھی۔

 

برتنوں میں زیادہ تر تو بدقلعی تھے۔ دیگچیاں، ہانڈیاں، پتیلے وغیرہ میں نے ہمیشہ بدقلعی ہی دیکھے۔ جہاں تک کھانا کھانے کے برتنوں کا سوال ہے تو باورچی خانے میں تو تام چینی کی رکابیاں ہی تھیں اور چائے پینے کے مگ بھی تام چینی ہی کے تھے۔ اچھے اور قاعدے کے برتن اندر، دالان میں ایک الماری میں رکھے تھے جو مہمانوں کی دعوت وغیرہ میں ہی باہر نکالے جاتے اور دھوکر فوراً دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔

 

دعوتوں اور تیوہاروں وغیرہ کے موقعوں پر تو باورچی خانے کی یہ بدنظمی اور بھی بڑھ جاتی۔ خاص طور سے عید کے موقع پر جب چینی کے پیالوں میں سویّاں رکھی جاتیں اور کھرنجے کا فرش ان پیالوں سے ڈھک جاتا جس کو پھلانگ پھلانگ کر اور اپنے غراروں یا شلواروں کے پائینچوں کو اُٹھا اُٹھا کر عورتیں حواس باختہ سی، باورچی خانے میں اِدھر اُدھر بھاگا کرتیں اور اکثرایک دوسرے سے ٹکرا جاتیں۔

 

کیا کبھی اس بات پرسنجیدگی سے غورکیا گیا ہے کہ باورچی خانے کی تقریباً تمام اشیا میں، چند خاص مواقع پر ایک خطرناک ہتھیار بن جانے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ چاہے وہ ترکاری کاٹنے والی چھری ہو، توا ہو، چمٹا ہو، پھنکنی ہو، جلتی ہوئی لکڑی ہو، چولہے میں روشن، دھڑادھڑ جلتی ہوئی آگ ہو، مسالہ پیسنے والی سل ہو، پسی ہوئی مرچیں یا بھبکتی ہوئی بھوبل ہو یا پھر مٹّی کا تیل ہی کیوں نہ ہو۔گھر کے کسی اور حصّے میں اتنی زیادہ تعداد میں ایسی اشیا نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ بیرونی دالان کی دیوار پر کیل میں ٹنگی بندوق بھی ان اشیاء کے آگے حقیر اور کمزور نظر آتی تھی۔

 

گھر کے کسی بھی حصّے میں اتنے خطرناک بہروپئے نہیںپائے جاتے جتنے کہ رسوئی میں اور گھر کے کسی بھی اور مقام پر عورتیں اتنی برانگیختہ، برافروختہ، حسد سے بھری ہوئیں، تشدّد آمیز اور چھوٹی ذہنیت کی نہیں ہوتیں جتنی کہ باورچی خانے میں۔

 

باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔ باورچی خانہ ایک میدانِ جنگ ہے اور پورے گھر، پورے خاندان بلکہ بنی نوع آدم کی قسمت کا فیصلہ اِسی چھوٹے سے اور بظاہر پاک صاف مقام سے ہی ہوتا ہے۔ عدالت یہیں لگتی ہے، مقدمہ یہیں چلایا جاتا ہے۔ اور پورا گھر اپنی خاموش آنکھوں سے یہ تماشہ دیکھتا ہے جب تک کہ آخر وہ کھنڈر نہ بن جائے۔ انسانی آنتوں کی بھوک اور دو وقت کی روٹی میں ایک پُراسرار اور بھیانک شہوت چھپی رہتی ہے۔ یہ شہوت صرف سیاہی اور خون کی طرف بڑھتی ہے۔ اور انجام کار بس ایک فحش اور مغالطہ آمیز بدنیتی بچ جاتی ہے۔ جس کے نشے کے زیر اثر کالی پیلی اور گوری عورتیں، گرم برتنوں کو اپنے سُن ہاتھوں سے اُٹھاتے رہنے کی عادی ہوکر باورچی خانے کے برتنوں سے وہی سلوک کرنے لگتی ہیں جو وہ اپنے مردوں سے کرتی ہیں۔ ان کے مرد آہستہ آہستہ چھوٹے بڑے برتنوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ باورچی خانے میں وہ سب بے حد حاوی اور خود غرض ہو جاتی ہیں۔ اُن کے جسم کی کھال سُن ہو جاتی ہے۔ عورتیں، باورچی خانے کے برتنوں کے ساتھ مباشرت کرتی ہیں۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نعمت خانہ – دوسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نظر نہ آنے والے ہمارے آباؤاجداد
ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اُن چھوڑی گئی سڑکوں پر
کاروں کا شور، بچّوں کی کلکاری
جوان لڑکیوں کے جسم اُن کے آر پار جاتے ہیں
دھندلے،غیر مادّی، ہم اُن کے آرپار سفرکرتے ہیں
اوکتاویوپاز

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مفاد! مفاد کیا تھا؟

 

ہوا کی پتھّرائی ہوئی آنکھیں کیا کیا دیکھیں؟

 

اِن آنکھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں مٹّی کی ہانڈی لیے اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پیلابوسیدہ نسخہ لیے۔
وہ بھٹک رہا ہے مگر کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کوّے تک کو نہیں جس کی حادثاتی موت پر نہ جانے کہاں سے، دور دور سے، بہت سارے کوّے چلے آئے تھے اور حیرت انگیز طور پر بغیر کوئی شورمچائے باورچی خانے کی منڈیر پر سر جھکائے بیٹھ گئے تھے۔ ایک گری ہوئی کڑی پر وہی مرا ہوا کوّا خاموش بیٹھا تھا مگر اُس نے نہیں دیکھا۔ قابلِ افسوس حد تک نہیں دیکھا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ کن کٹا خرگوش اُس کا ساتھ چھوڑ کر دراصل اپنی ہی قبر پر اُگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا اور کاکروچ، اُس کی قمیص سے اُڑ کر، بدنیتی کے ساتھ رینگتا ہوا اُدھر، اس طرف جارہا تھا جہاں باورچی خانے کی اینٹوں اور دیواروں کا ملبہ تھا۔

 

ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ سب کا مقدّر بہرحال ایک ہی ہے۔ شطرنج کی بساط پلٹنے کے بعد بھی، بندر کے مُردہ پنجے کے مانند گزر گئے وقت کو دوبارہ کھینچ کر لانے کے نتیجے میں صرف وہشت اور پشیمانی ہی حاصل ہوسکتے تھے اور کچھ نہیں۔ اصل بات بدنیت اور پیٹ کا کتّا بننا اور پھر مٹ جانا تھا۔ ایک مکمل انہدام کی جانب انسان کا ذہنی اور جسمانی سفر جاری ہے یہاں تک کہ حافظے کا انہدام ہی سب کی معراج ہے۔

 

ہوا اس دنیا کو بھی جانتی تھی کہ وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ خون کی زنجیر محض ایک حافظہ ہے۔ ساری عبادتیں، سارے مذاہب، سارے اخلاقی فعل دراصل حافظے سے پیچھا چھڑانے کی ترکیبیں ہیں۔ وہاں سب اپنی تنہائی میں مسرور ہوں گے۔ ایک بھیانک بے شرمی کے ساتھ۔ ایسی بے شرمی سے تو بھوت بھی پاک ہے۔ بھوت اس لیے ہے کہ وہ اِس دنیا سے بہرحال کوئی نہ کوئی رشتہ تو قائم رکھتا ہی ہے۔ یہ اور بات کہ اس رشتے میں بدنیتی، حسد اور شیطنت بھری ہو، مگر وہ اپنے حافظے سے دست بردار نہیں ہوتا اور اِس کی سزا اُسے نُکیلے ناخنوں اور آنکھوں کے غاروں کے ذریعے دے دی جاتی ہے۔

 

تو اس دنیا کے تمام رشتے، تمام جذبے، محبتیں، نفرتیں، شہوتیں سب کو حافظے سے نکالناہوگا۔ انسان ایسی جنت میں جاکر کیا کرے گا، جہاں اُسے یہ بھی یاد نہ ہوگا کہ اُس کا باپ کون تھا؟

 

اس نفسا نفسی کے عالم کو برداشت کرنا ہوگا۔ صبر کے ساتھ برداشت کرنا۔

 

ہوا کو اُس کا چہرہ پل بھر کو صاف نظر آگیا۔ وہ ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرکے آنے والے کا تھکا ہوا چہرہ تھا۔ بہت طویل سفر، اتنا ہی طویل جتنا کہ گرم اور سرد ہوائیں طے کرتی ہیں۔ وہ ایک چلتی ہوئی ہوا کی طرح اپنے گھر آیا تھا۔

 

گھر؟

 

اگرچہ گھر شاید کہیں نہ تھا، بس ایک کالاپانی تھا اور ایک بہتا ہوا مہیب کنارہ تھا جو ملبہ نظر آتا تھا۔ جس پر وہ ٹھوکریں کھاتا اِدھر سے اُدھر گھوم رہا تھا۔ ایک اندھے اور حواس باختہ شخص کی طرح ایک بار تو وہ اس طرح گرتے گرتے بچا جیسے کوئی سوکھا پتّہ اپنی ہی پرچھائیں پر گرتا ہے۔ یہ خواب کی مانند تھا، مگر خواب دیکھتے وقت کوئی اپنی ایک آنکھ تک نہیں دیکھ سکتا۔ کاش کہ وہ دیکھ سکتا۔ ہوا کی مانند دیکھ سکتا اپنی اُس ایک آنکھ کی بدنصیبی، اُس کی خشکی اور اس کی نمی۔ افسوس کہ یہ کہاں ممکن تھا کہ جو آنکھ خواب دیکھے، اُس آنکھ کو خواب دیکھنے والا بھی دیکھے۔ کہرے کی مار سے،اپنے آخری اسٹیشن پر بہت دیر سے پہنچنے والے، شکست خوردہ، ایک شرمندہ اور تھکے ہوئے ریلوے انجن کا سا چہرہ دیکھے جو بس اُداس ہوکر سیٹیوں کی مُطلق خاموشی میں دھواں پھینکے جاتا ہے ۔
ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آیا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سردار سودھا سنگھ مجبوراً ولیم کو رخصت کرنے کے لیے جیپ تک آیا اور اُس کو سوار ہوتے دیکھتا رہا۔ جیپ جب تک رخصت نہیں ہوئی، وہیں کھڑا رہا۔ کسی نے کوئی بات بھی نہ کی۔ دلبیر سنگھ نے گاڑی کواسٹارٹ کر کے اُ سے گئیر میں ڈال دیا اور وہ رفتہ رفتہ گاؤں والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔جیپ کے گاؤں سے نکل جانے کے بعد سودھا سنگھ نہایت بے چینی سے حویلی کی طرف مڑا۔ مجمع جو چند لمحوں میں قریب دو سو نفوس پر مشتمل ہو گیا تھا، وہ بھی سودھا سنگھ کی حویلی کی طرف چل دیا تاکہ پتہ چلے فرنگی گورنمنٹ کیسے آئی تھی اور سردار سودھا سنگھ کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی مگر فوجا سیؤ نے سب لوگوں کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

حویلی میں داخل ہو کر فوجا سیؤ نے پھاٹک بند کروا دیا۔پھر دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ آخر سودھا سنگھ نے سکوت توڑا اور فوجا سیؤ کی طرف مخاطب ہو کر بولا، فوجے لگتا ہے معاملہ کچھ گھمبیر ہو گیا ہے۔ اس کلکٹر کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔

 

فوجا سیؤ خاموشی سے کان کھجاتا رہا اور سودھے سنگھ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔ حویلی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ کسی دوسرے کے بولنے کی ہمت اس لیے نہیں تھی کہ سودھا سنگھ غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔ نہ جانے کیا ہنگامہ کھڑا کر دیتا۔ آخر جگبیر نے ہمت کی اور بولا، سردار جی واہگرو جی شرماں رکھُو، ہمت سے کام لے۔ غلام حیدر یا انگریز کے پاس کوئی ثبوت تو ہے نہیں۔ کلکٹر آگیا ہے تو کوئی قہر نہیں ٹوٹ پڑا، دیکھی جائے گی۔

 

فوجا سیؤ جو پہلے ہی کلکٹر کی طرف سے کی گئی توہین سے سخت برہم تھا اور جودھا پور پر حملہ بھی اس کے مشورے کے برخلاف ہوا تھا۔جس میں جگبیرنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، جگبیر کے ان جملوں پر ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا۔

 

جگبیرے تیرے جیسے بارہ تالیے شراب کے چوہے ہوتے ہیں، جو دوگھونٹ چڑھا کر اپنی دُم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور شیر کو للکار دینا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ تم ہی تھے جنھوں نے سودھا سنگھ کو الٹی مت دی ہے اور جودھا پور پر دھاوا بول دیا۔اسی وجہ سے فرنگی کو ہمت ہوئی کہ وہ میری اور سردار سودھا سنگھ کی بے عزتی میں ہاتھ ڈبو کر چلا گیا ہے۔ اُس وقت سے ڈر جب چراغ دین مُسلے کا پھندا سودھا سنگھ کے گلے میں فٹ ہو جائے۔ مگر تجھے کیا، تو کوئی اور کڑاھا ڈھونڈ لے گا جہاں پرانے گُڑ کی پت چڑھی ہو گی۔ مسئلہ تو ہمارا ہے کہ جینا مرنا سودھا سنگھ کے ساتھ ہے۔

 

جبگیر نے فوجا سیؤ کے آگ لگا دینے والے جملے سنے تو کرپان کھینچ کر فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ غصے سے نتھنے پھڑکنے لگے اور چہرہ انگارے کی طرح دہک گیا۔
تیری تو میں دو گز لمبی زبان کھینچ لوں گا۔ واہگرو کی سونہہ تیرا قتل نہ کروں تو سمجھ لینا میری ماں پھیروں پر رہی ہے۔ بڈھا پاگل ہو گیا ہے۔ اِسے کسی نے سمجھایا نہیں کہ جگبیر سے بات کن محاوروں میں کی جاتی ہے۔

 

جگبیر کو مشتعل ہوتے دیکھ کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اورپیت سنگھ نے آگے بڑھ کر جگبیر کو جپھا ڈال لیا۔ بیدا سنگھ نے اس کے ہاتھ سے کرپان پکڑ لی۔
مگر اسی اثنا میں جما سنگھ بھڑک اٹھا۔ پیتے چھوڑ دے اس سورمے کو، میں اس کی وراچھیں چیر دوں گا۔ خنزیر چاچے فوجے کو للکارتا ہے۔حرامی کیا یہ نہیں جانتا سردار فوجا سئیو کون ہے؟

 

اس کے ساتھ ہی تلوار کھینچ لی اور بیدا سنگھ کی طرف بھاگا۔ساتھ گالیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ا ِدھر نکل رانی خاں کے سالے تیری ایسی تیسی پھیر دوں گا۔تو نے سمجھا تھا یہاں جھانجھروں والے بیٹھے ہیں۔ لیکن دو تین جوانوں نے اُٹھ کر فوراً جما سنگھ کو پکڑ لیا۔

 

مگر اُدھر سے للکار سُن کر جگبیر دوبارہ پلٹا،چھوڑ دے بیدے مجھے۔یہاں آج لہو کی چکیاں چل ہی لینے دے۔ لاف سرداروں کو مہنا ہے۔ لیکن لوگوں نے جگبیر کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ اس دنگے میں شور اور واویلا اتنا بلند ہوا کہ باہر کھڑا مجمع حواس باختہ ہو کر حویلی کا پھاٹک پیٹنے لگا۔ سودھا سنگھ یہ تماشا دیکھ کر انتہائی کرب اور بے بسی سے چیخا۔ مترو واہگرو کا خوف کرو۔یہ کیا اودھم مچا دیا تم نے۔ کیا جھنڈو والا میں آگ لگ گئی؟ سودھا سنگھ کی آواز میں اس قدر غیظ تھا کہ تمام لوگ حویلی کے اندر اور باہر والے سب ایک ہی دفعہ خاموش ہو گئے۔ اس خموشی سے سودھا سنگھ کو ذرا سکون ملا۔ وہ دوبارہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا، فوجے اب لڑنے اور طعنے مہنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ کیے پر پچھتانا مورکھوں کا شیوہ ہے۔ بس آگے کی سوچو۔

 

فوجا سیؤ نے جب دیکھا کہ سودھا سنگھ بالکل ہی ہتھیار پھینک چکا ہے تو وہ قدرے سکون سے بولا۔ دیکھ بھئی سردار سودھا سنگھ اب میں تب بولوں گا جب میرا مشورہ جڑ سے پرامبلوں تک مانو گے۔ ورنہ(طنز سے جگبیر کو دیکھتے ہوئے ) تیری اور اِن سورموں کی اپنی راہ اور میری اپنی راہ۔

 

سودھا سنگھ نے بڑے سکون سے پگڑی کو درست کیا اور سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گیا۔پھرفوجا سیؤ نے آگے جھک کر اپنی بات شروع کی۔

 

سردار سودھا سنگھ میری دو باتیں غور سے سن اور اس کو پلے باندھ لے۔ ایک یہ کہ اب جھنڈو والا سے باہر قدم نہ نکالنا، چاہے قیامت آ جائے۔کچھ سمے تک یہ حویلی ہی تیرا مرن جیون رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے، مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے کسی سفارش کا بندوبست کر بلکہ میں تو کہتا ہوں دو چار مہینوں کے لیے وہیں پٹیالہ چلا جا اور اُدھر ہی بیٹھ کے سارا مقدمہ لڑ۔دوسری صلاح میری یہ ہے کہ ڈُلھے بیروں کا کچھ نہیں گیا،عبدل گجر کی طرف فوراً بندہ بھیج کے انھیں شاہ پور پر حملے سے روک دے۔

 

فوجا سیؤ کی بات سن کر جگبیر اور پیت سنگھ نے منھ بسورا لیکن کچھ بولے نہیں مگر سودھا سنگھ نے تحمل سے سوال کیا، اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اتنی بزدلی کا ثبوت دیں؟

 

فوجا سیؤ دوبارہ بولا،وجہ یہ ہے سردار سودھا سنگھ اس دفعہ دو کام ایسے ہوئے ہیں جو آج تک نہیں ہوئے تھے۔ اُن کا شگون اچھا نہیں۔ ایک یہ کہ تیری کمر پر غلام حیدر نے قتل کا پرچہ رکھ دیا ہے۔ دوسرا کلکٹر ایسا آ گیا ہے جس کے تیور شینہہ کی طرح خونخوار ہیں۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے۔ ورنہ وہ جھنڈو والا کبھی نہ آتا۔ اب شاہ پور پر حملہ ہوا تو اس میں چاہے تو جتنا بھی پلہ چھڑائے باٹوں کی جگہ تجھے ہی رکھا جائے گا۔ ادھر انگریز راج میں قتل معاف نہیں ہو سکتا۔ رہی غلام حیدر کی بات، وہ بھوکے شیر کی طرح باولا ہوا ہے۔تھانیدار نے جو حالت اس کی بتائی ہے،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے پرچے ورچے سے کچھ غرض نہیں۔ وہ تو بس تیرا سامنا چاہتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں۔

 

تو کیا بزدلوں کی طرح چوڑیاں پہن لوں؟ سودھا سنگھ ذرا تپ کر بولا۔

 

میں نے کب کہا ہے چوڑیاں پہن لے۔ بس ذرا کوئلوں کو سیاہ ہونے دے اور حالات کا رخ دیکھ۔

 

واہ حالات کا رخ دیکھ “اب کے پیت سنگھ بولا”تاکہ پُلس آرام سے آکر سودھا سنگھ کو بیل کی طرح نتھ ڈال کر لے جائے اور پھر جیل میں چکی پر جوت دے۔
اس کا ایک حل ہے، فوجا سیؤ اسی تحمل سے بولا۔

 

وہ کیا؟ سودھا سنگھ نے پوچھا۔

 

دیکھ سردار سودھا سنگھ معاملہ ابھی زیادہ بگڑا نہیں ہے۔ایک قتل کی بات سنبھالی جا سکتی ہے اور مونگی کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اِس سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھے تو سمجھ لو دودھ کا چھنا گوبر میں جا گرے گا۔( پھر تھوڑی دیر رُک کر )میری مان غلام حیدر سے صلح کر لیں اور چراغ دین کا قصاص دے دیں۔ فوجا سیؤ نے لجائے ہوئے لہجے میں کہا۔

 

فوجے سیؤ کی بات سن کر تمام لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ فوجا سیؤ اتنی بزدلی کی بات کرے گا۔ خاص کر جگبیر کے تو گویا سر پر فوجے نے راب کی اُبلی اُبلی دیگ ڈال دی۔ ادھر سودھا سنگھ اور پیت سنگھ بھی غصے سے سرخ اور لال پیلے ہو گئے لیکن ان کے جواب دینے سے پہلے ہی فوجا سیؤ اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ وہ جو جواب دیں گے، وہ اس سے سنا نہیں جائے گا۔اس لیے بہتر ہے حویلی سے نکل جائے اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دے۔

 

فوجا سیؤ کے ساتھ ہی جما بھی حویلی سے نکل گیا۔ اگرچہ فوجا سیؤ کا سردار سودھا سنگھ کو یوں بات سُنے بغیر چھوڑ کے جانا اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ مگر سودھے سنگھ کو بھی فوجا سیؤ کی یہ بات بہت گھٹیا اور شوہدی لگی۔ یہ بزدلی کی حد تھی جو فوجا سیؤ نے کی تھی۔ اس لیے سودھا سنگھ نے اسے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہ کی۔ اُس نے سوچاجگبیر سنگھ اور پیتا ٹھیک کہتے ہیں۔ ابھی کون سی قیامت آگئی ہے کہ مُسلوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ خاص کر کل کے چھوکرے کے آگے،جو ابھی سکول کا مُنڈا ہے۔ پوری سکھ برادری میں نا ک کٹ جائے گی اور شریکے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ بَیر اور لڑائی توجوانوں کا سنگھار ہے ورنہ مر تو وہ بھی جاتے ہیں جو ساری عمر اکھاڑے میں ناچتے ہیں اور کیکر کا نٹاچبھنے سے بیہوش ہو جاتے ہیں۔پھر سودھا سنگھ جگبیر کی طرف منہ کر کے بولا،، جگبیرے اب تیرا مشورہ ہی چلے گا۔ بول واہگرو کے نام سے کیا کہتا ہے۔ فوجا سیؤ نے تو زنخوں والی بات کی ہے،، میرے لیے تو دما،رنگا اور آپ ہی اب سب کچھ ہو۔
جگبیرنے جو ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں سودھاسنگھ کو فوجا سیٔو کے بھرے مجعمے سے اٹھ کر جانے کا افسوس نہ ہوا ہو،،سودھا سنگھ کی طرف سے حوصلہ پا کر کہا،سردار سودھا سنگھ پندرہ جوان میرے ساتھ کر دے اور عبدل گجر کو پیغام بھیج کر پوچھ،اگر وہ کل تک شاہ پور پر حملہ کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ کام بھی میں ہی کرتا ہوں۔ وہ راضی ہو جائے تو میں اس کی فوج میں شامل ہو جاتا ہوں۔ کل رات ہی ہم اور گجر مل کر یہ کام کر دیں تو یہ انگریزی بابو اور غلام حیدر دونوں پاگل ہو جائیں گے اوربول کی جھاگ کی طرح نہ بیٹھ جائیں تو مجھے کہنا۔

 

سودھا نے پیت سنگھ کی طرف دیکھا تو وہ بولا،سردار صاحب، دیکھ شاہ پور پر حملہ اس وقت بڑا مفید ہے۔ جگبیرے نے بڑی ٹھیک صلاح دی ہے۔ شاہ پور میں میرا یار فضلو میو موجود ہے۔بندہ بھیج کر اُسے بلا لے۔ سو روپیہ دے کر سب مخبری لے لیتے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کو پیت سنگھ کی بات پسند آئی۔ ہرے سنگھ کو آواز دے کر سودھے نے پاس بلایا اور اسے فوراً شاہ پور جانے کے لیے کہا کہ جا کر عشا تک فضلو کو لے آئے۔ دوسری طرف نتھا سنگھ کو ہدایات بھیج کر عبدل کی طرف روانہ کر دیا کہ ان کو سودھے کے فیصلے سے آگاہ کر دے اور جو کچھ بھی وہ کہیں وہ آ کر خبر دے لیکن انھیں کہہ دے کہ حملہ ہر صورت کل ہونا چاہیے۔

 

(14)

 

مولوی کرامت کو جودھا پور میں تیسرا دن تھا۔ چراغ دین کے ساتے کو دو دن گزر چکے تھے۔ اُسے فضل دین کی فکر کھائے جا رہی تھی، جسے اکیلا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔مگر اب وہ کمشنر صاحب سے ملے بغیر واپس نہیں جا سکتا تھا۔ دوسری طرف رحمتے اور اس کی بیٹی جودھا پور میں بالکل اکیلی تھیں۔تیسری طرف غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین چراغ دین کی بیوی کے نام کرنے کا اعلان کر کے ایک عجیب کشمکش پیدا کر دی تھی۔ شریفاں رحمت بی بی اور اُس کی بچی کے ساتھ چولہے کی انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔مولوی کرامت دو قدم دور بان کی چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں سہ طرفہ تفکرات کی آندھی چل رہی تھی۔ خدا جانے صاحب کمشنر اُسے تحصیل بلا کر کیا کہنا چاہتا تھا۔ اُس نے کوئی ایسی ویسی بات تو کی نہیں تھی جس سے صاحب کو کچھ شک پیدا ہوا ہو۔ شاید انگریز بہادر اُس سے چراغ کی کسی خفیہ دشمن داری کی بابت سوال کرنا چاہتا تھا ؟ کچھ چیز سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اس نے تنگ آکر سر جھٹک دیا اور دس ایکڑ زمین پر غور کرنے لگا، جو رحمتے کے نام ہونے والی تھی۔ لیکن رحمتے اس زمین کو کیا کرے گی۔ چراغ دین تو مر چکا تھا جبکہ وہ اتنی دور قصور میں رہ کر اُسے کیسے کاشت کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ بعد کی باتیں تھیں۔ اول تو اُسے کل ہر حالت تحصیل جانا تھا۔ خیر دین ٹانگے والے سے اُس نے بات کر لی تھی۔ جو روزانہ جودھا پور سے جلال آبادسواریاں لے کر جاتا تھا۔ اُس نے کرایہ زیادہ مانگا تھا۔ پو رے ایک روپیہ وصول کر رہا تھا۔مگر پندرہ کوس پیدل طے کرنا بھی تو مشکل تھا۔ سارا دن سفر میں کٹ جاتا۔ اس طرح ایک روپے کا نقصان تو ہو جاتا مگر خیر دین کا ٹانگا اُسے دن نکلتے ہی جلال آباد پہنچا سکتا تھا۔ اگر صبح کاذب سے پہلے چل نکلتا۔ وہ انہی نے سوچوں میں گم تھا کہ رحمت بی بی نے مولوی کرامت کو مخاطب کر کے کہا۔

 

بھائی کرامت کچھ پتا ہے کہ سرکار بہادرنے تمہیں کیوں تحصیل بلایا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے سرکار صلح کرانا چاہتی ہے، تمہیں بیچ میں ڈال کے۔

 

مولوی کرامت نے داڑھی کھجاتے ہوئے کہا، دیکھ رحمتے، سرکار کا اُس وقت تک کوئی پتا نہیں چلتا جب تک بات کھل کر نہ کرے۔ میرا خیال ہے سرکار کو اتنی خبر تو ہو گئی ہو گی کہ یہ قتل سودھا سنگھ نے ہی کرایا ہے۔ اب رہی صلح کی بات،وہ تیری مرضی کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر میں نے سنا ہے کہ پرچے کا مدعی غلام حیدر خود بنا ہے اور آج کی خبر یہ ہے کہ وہ فیروز پور بڑے صاحب کو ملنے گیا ہے۔

 

رحمت بی بی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، بھائی کرامت سنا ہے، وائسرا ئے کی بیٹی کا غلام حیدر سے یارا نہ ہے۔ آج مجھے فاتاں اور شیداں نے بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے سودھا سنگھ کو فکر پڑگئی ہے کہ غلام حیدر بدلہ لے کے رہے گا۔ اس لیے وہ صلح کی کوشش کر رہاہے۔ میرا تو خیال ہے چھوٹے صاحب نے سکھوں سے رشوت کھا لی ہے۔وہ تم کو بلا کر دھونس دھاندلی سے سودھا سنگھ کے ساتھ صلح کروا دے گا۔

 

“مولوی کرامت نے فکر مند ہوتے ہوئے سر ہلایا۔

 

“شریفاں رحمت بی بی کی بات سن کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی” ہائے ہائے کیا زمانہ ہے بہن رحمتے۔ یہ تو تم نے بڑی ناہونی سنائی۔ پر وائسرائے کی دھی غلام حیدر سے ملی کہاں؟ نا پر وائسرائے کو پتا ہے اس کہانی کا؟

 

رحمت بی بی چولہے میں جلتی لکڑیوں کو پھونک مارتے ہوئے بولی”اے ہے شریفاں اب بھلا مجھے اس کا کیا پتا؟” بڑے لوگوں کے ملن ملاپ کوئی ہم غریبوں سے پوچھ کر ہوتے ہیں۔ سنا ہے، اُدھر لاہور میں اونچے اونچے بنگلوں میں دونوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ فاتاں کہتی تھی، وائسرائے کی بیٹی بے حد چٹی گوری اور سوہنی سنکھنی ہے۔ یونہی آنکھ سے دیکھے میلی ہو جائے۔ ایسی کُڑی تو پورے ولایت میں نہیں۔

 

شریفاں نے فوراً رحمتے کی بات کاٹ کر لقمہ دیا، پر دیکھ رحمتے،اپنا غلام حیدر بھی تو چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس جیسا گبھرو اُسے بھلا پورے ولایت میں ملے گا؟ آنکھوں سے خداسلامت رکھے خون چھوٹتا ہے اور رنگ مکھنوں پلے کا گلابوں میں ڈھلتا ہے۔

 

رحمت علی چپکے بیٹھا دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے حقے کی نَے ایک طرف کی اور اُٹھ کردروازے کی کُنڈی کھول دی۔ سامنے خیر دین کھڑا تھا ہاتھ میں چابک لیے۔ مولوی کرامت نے پیچھے مڑ کر رحمتے اور شریفاں سے رخصت لی۔ اپنی پگڑی درست کر کے باندھی اور باہر نکل آیا۔دونوں عورتیں دروازے پر آ کر مولوی کرامت کو تانگے پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر دعائیں دینے لگیں کہ خیر سلامت سے واپس لوٹے۔ مولوی کرامت کے بیٹھتے ہی تانگا چل پڑا۔

 

(15)

 

ولیم نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہیٹ اتار کر کھونٹی پر رکھا اور فوراً گھنٹی دی۔ گھنٹی سنتے ہی کرم دین اندر داخل ہو کر باادب کھڑا ہو گیا۔
نجیب شاہ کو بلاؤ، ولیم نے کرم دین کی طرف دیکھے بغیر نہایت سپاٹ لہجے میں حکم دیا۔

 

کرم دین کے باہر نکلتے ہی چند ثانیوں بعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا اور ابھی اُس نے سانس بھی نہ لی تھی کہ ولیم نے ہدایات دینا شروع کر دیں،جنھیں نجیب شاہ کھڑے کھڑے نوٹ بک پر اُتارنے لگا۔

 

نجیب شاہ،تحصیل جلال آباد میں جس قدر سکول ہیں، اُن کا تمام ریکارڈ مجھے جلد از جلد چاہیے۔وہاں پر اساتذہ کی تعداد سے لے کر طلبااور اُن کی تعلیم کے معیار سے متعلق ہر چیز تحصیل ایجوکیشن افسرسے کہو، دو گھنٹے کے اندر لے کر میرے پاس میٹنگ کے لیے پہنچے۔ اِس کے علاوہ انسپکٹر متھرا داس اور منڈی گرو ہرسا کے تھانیدار کو بلواؤ اور غلا م حیدر کے معاملے کی فائل میز پر پہنچا دو۔

 

نجیب شاہ نے ہدایات نوٹ کیں اور پچھلے قدموں پُھرتی سے ُمڑا۔

 

اور سنو! ولیم دوبارہ بولا،آج ایک شخص مولوی کرامت کسی وقت آئے گا، اُسے مجھ سے ملے بغیر نہیں لوٹنا چاہیے۔

 

جی سر جیسے ہی آیا،اُسے سرکار میں حاضر کر دوں گا۔ اِس کے بعد نجیب شاہ نے نہایت ادب سے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔

 

نجیب شاہ کے باہر نکلنے کے بعد کمرے میں پھر سناٹا چھا گیا۔ اس خموشی میں ولیم کا دماغ ایک دفعہ پھر سودھا سنگھ اور غلام حیدر کے بارے میں الجھ گیا۔ ولیم کو اس کیس پر کام کرتے چوتھا دن تھا۔ وہ تمام حاصل شدہ حقائق اور معلومات سامنے رکھتے ہوئے ایک نتیجے پر یقین سے پہنچ چکا تھا۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کے کھیت کی تباہی کا ذمہ دار سودھا سنگھ ہی تھا۔چنانچہ اُس کی گرفتاری بہت ضروری تھی۔ ولیم کمرے میں ٹہلنے لگا اور معاملات کے نشیب و فراز پر مزید غور کرنے لگا۔اسی اثنا میں کمرے کی دیواروں پر اُس کی نظر پڑی،جہاں سابقہ تحصیلداروں اور ایک اسسٹنٹ کمشنر زکی تصاویر آویزاں تھیں،جو یکے بعد دیگرے جلال آبادمیں پوسٹ کیے گئے تھے۔ولیم نے پہلے دن جب اس کمرے میں قدم رکھا تو ان تصویروں پر اُس کی نظر پڑی تھی لیکن وہ نہ جانے کیوں انھیں کمرے کی فالتو چیز سمجھ کر نظر انداز کر گیا تھا۔ اب اُس نے خیال کیا آخر ایسا کیوں ہوا۔ اُس نے ان تصاویر پر کیوں توجہ نہیں دی؟ شاید پہلی پوسٹنگ کی وجہ سے اُسے یہ گمان نہ گزرا ہو کہ اب وہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اُس نے سوچا شاید نئے افسروں کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے، انھیں کافی عرصہ تک باور نہیں آتا کہ وہ افسر بن چکے ہیں۔ اسی لمحے اُسے خیال آیا اُس کی اپنی تصویر پر بھی اب یہاں آویزاں ہو جانی چاہیے۔یہ خیال آتے ہی وہ ہلکا سا مسکرادیاپھر آگے بڑھ کر گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھنٹی سن کر کرم دین دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اس کی طرف دیکھے بغیر کافی کا آرڈر دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرم دین نے کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک چٹ سامنے رکھ دی، جس پر مولوی کرامت لکھا تھا۔

 

ہاں اس کو اندر بھیجو۔ ولیم نے چٹ کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔

 

کرم دین کے جانے کے ایک منٹ بعد ہی مولوی کرامت کمرے میں داخل ہو ااور سلام کر کے کھڑا ہو گیا۔ جیسے نماز میں قیام کی صورت ہو۔ ولیم نے مولوی کرامت کو سامنے بیٹھنے کا حکم دیا پھر کچھ دیر خموشی چھائی رہی۔ اس دوران ولیم نے محسوس کیا کہ مولوی کرامت اندر سے سہما اور ڈرا ڈرا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔اُنہیں حدِ ادب کی وجہ سے صاف کرنے سے گریز کر رہا تھا۔علاوہ ازیں ولیم سے آنکھیں بھی نہیں ملا رہا تھا اور نہ ہی پورے کمرے کو دیکھنے کی جرات کر سکا۔مولوی کرامت نے اپنی آنکھوں کو صرف اتنی اجازت دی تھی کہ وہ کسی شے سے ٹھوکر نہ کھا سکے۔اُس نے اُن کا دائرہ اپنے قدموں سے لے کر ولیم کی میز تک رکھا۔ کمرے میں میز اور ولیم کے سوا کیا کچھ تھا؟ یہ سب کچھ مولوی کرامت نہیں دیکھ سکا۔اِدھر سفید لٹھے کا سوٹ اور سفید پگڑی کی شفافیت نے ولیم کو ایک دفعہ پھر متاثر کیا۔ اسی اثنا میں کرم دین کافی کاکپ رکھ کر چلا گیا، جس کی ولیم چسکیاں لینے لگا۔ ولیم کی احساس تھا کہ اُس کی خموشی مولوی کرامت کے اضطراب کو بڑھا رہی ہے مگر وہ جان بوجھ کر اس عمل سے لطف لے رہا تھا، جو کچھ دیر تک مزید جاری رہا۔ جب ولیم نے کا فی کے گھونٹ کے ساتھ چھ سات چُسکیاں مزید لے لیں اور مولوی صاحب کی بے چینی بھی کافی بڑھ گئی، تو اُس نے بات کا آغاز کر ہی دیا۔
مولوی صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں؟

 

حضور، غلام کچھ کچھ عربی اور فارسی کی سُدھ بُدھ رکھتا ہے۔ عرفی کے قصیدے اور حافظ کی کئی غزلیں بھی یاد ہیں۔ اس کے علاوہ سعدی کی گلستان،بوستاں اور اُردو کے میر تقی اور غالب کے کچھ شعر اور انیس کے دو مرثیے بھی یاد ہیں۔ ہیر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کی ساری شاعری تو الف سے یے تک سب زبانی یاد ہے۔ بس انگریزی سے بے بہرا ہوں۔ سرکاریہ مجھے نہیں آتی حضور۔

 

عربی، فارسی اور اردو کیا لکھ بھی لیتے ہو یا صرف پڑھنا ہی جانتے ہو؟ ولیم نے دوبارہ کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔

 

مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

 

اگر ہم چاہیں کہ آپ انگریزی سیکھو تو کتنے مہینے لگیں گے؟ ولیم نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

 

مولوی کرامت ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا، صا حب بہادر آپ مہینوں کی بات کرتے ہیں، میں کوئی بوند لایا ہوا تھوڑی ہوں۔ تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا تو دنوں میں کر لوں گا۔لیکن سرکار آخر انگریزی بادشاہوں کی زبان ہے اورسب زبانوں کی بادشاہ ہے۔اس کو سیکھنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مَیں اگر اِس عمر میں لکھنے پڑھنے لگ گیا تو بچوں کو کیا کھِلاؤں گا؟

 

اُس کی پرواہ نہ کرو۔ اُسی کا بندوبست ہم آپ کے لیے کرنے والے ہیں،ولیم نے کہا

 

پھر تو حضور بندہ دنوں میں ہی یہ سب کچھ سیکھ جائے گا،،مولوی کرامت انتہائی بے تابی سے بولا،، اور جو کچھ سرکار کی طرف سے کام ملے گا،وہ پورا پورا منشا کے مطابق ہو گا۔

 

او کے مولوی “ولیم نے کہا” ہم تم کو یہاں جلال آباد میں ایک ہیڈ منشی رکھتے ہیں۔تم بچوں کو اردو، فارسی اور عربی پڑھا یا کرو۔ اس جلال آباد کے بڑے سکول میں تمھاری پوسٹینگ کے آرڈر کروا دیتا ہوں۔ ہم نے تمھیں اسی لیے یہاں بلایا کہ تم سرکار کی نوکری میں آجاؤ۔ ہم تمہارا چالیس روپے مہینہ مقرر کروا دیتے ہیں۔
مولوی کرامت ولیم کی بات سن کر حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے کانپنے لگا اور اُٹھ کر دونوں ہاتھ جوڑ کر ولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کی درازی ٔ عمر کی دعا میں مصروف ہو گیا،سرکار بہادر آپ کا احسان میری نسلوں کے ساتھ چلے گا۔ یہ آپ نے مجھ ناچیز پر ایسی عنایت کی ہے،جس کا صلہ خدا وند مسیح آپ کو دے گا اور میرا خدا آپ پر برکتیں نازل کرے۔ حضور برطانیہ کا سایہ ہندوستان پر تاقیامت رہے۔

 

ولیم نے ہاتھ کے اشارے سے مولوی کرامت کو خاموش ہو جانے کے لیے کہا پھر نجیب شاہ کو کمرے میں بلا کر حکم دیا، نجیب شاہ جب تک ٹی ای او نہیں آتا، مولوی کو باہر بٹھاؤ۔

 

مولوی کرامت کے جانے کے بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کچھ اور بھی ہدایات دیں اور اُس کی طرف سے پیش کی گئی بقیہ فائلوں کا ایک ایک کر کے مطالعہ کرنے لگا۔ ان فائلوں میں محکمہ مال، فوجداری،نہری اور تحصیل کے انتظامی معاملات کے متعلق بہت معلومات افزا چیزیں تھیں، جن کا مطالعہ کرنے میں ولیم کو کم ازکم ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔اس عرصے میں، ٹی ای او، تلسی داس خاکی رنگ کی بڑی بڑی جیبوں اور نصف بازؤوں والی شرٹ اور سفید رنگ کا بغیر بیلٹ کے پاجامہ پہنے تحصیل کے ایجوکیشن ریکارڈ کی فائل بغل میں دابے آچکا تھا۔ لیکن اُسے ولیم کے کمرے میں اُس وقت تک جانے کی ہمت نہیں تھی،جب تک صاحب خود دوبارہ یاد نہ فرماتے۔ وہ سر پر دو پلی ٹوپی رکھے،نجیب شاہ کے کمرے ہی میں بیٹھ کر صاحب کے مکرر بُلاوے کا انتظار کرنے لگا۔نجیب شاہ کے کمرے کے باہر مولوی کرامت بھی چپڑاسیوں کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔جس کو ولیم کے حکم کے مطابق باہر بٹھا تو رکھا تھا لیکن اُس کے بارے میں نجیب شاہ کو ابھی کوئی ہدایت نہیں ملی تھی۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد اندر سے بیل کی گھنٹی بجی تو تُلسی داس کی سانس میں سانس آئی کہ صاحب کو یاد تو آیا۔گھنٹی بجنے کے فوراًبعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ تُلسی داس نے پہلے تو اپنی عینک اُتار کر اُس کے شیشوں کو اچھی طرح اپنی شرٹ کی جیب میں اڑسے ہوئے رومال سے صاف کیا۔پھر اُسے آنکھوں پر چڑھا لیا۔اُس کے بعد قمیض کے کالر درست کر کے اُٹھ کھڑا ہوا اور فائل کو کھول کر اُس پر ایک سرسری نظر مارنے لگا۔ اتنے میں نجیب شاہ باہر آ گیا۔ اُس سے پہلے کہ تُلسی داس آگے بڑھ کر اندر جانے کی کوشش کرتا،نجیب شاہ نے اُسے بڑی سنجیدگی سے صاحب کا اگلا حکم سنا دیا،،صاحب کہتے ہیں میٹنگ لنچ کے بعد ہو گی۔پھر انتہائی بے نیازی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

 

صاحب کا حکم سن کر تُلسی داس دوبارہ اپنے آفس کی طرف چلا گیااورسب عملے نے بوسیدہ میزوں کی درازوں سے اپنے اپنے کھانے کے برتن اور گھی سے لپڑے ہوئے رومالوں میں بندھی روٹیاں نکال لیں اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔ جبکہ مولوی کرامت وہیں بنچ پر بیٹھا اُن کو دیکھتا رہا، جس سے تمام لوگ اس طرح بے نیاز ہو چکے تھے جیسے وہ مولوی کرامت نہیں بلکہ صاحب کے آفس میں آج ہی کسی نے لکڑی کا پُتلا لا کر رکھ دیا ہو۔کرم دین چپڑاسی نے ایک رومال میں بندھا ہوا اپنا کھانا کھول لیا،جو محض دو سوکھی روٹیوں پر مشتمل تھا۔ اُن کے اُوپر پِسی ہو ئی لال مرچیں رکھی تھیں۔ کرم دین اپنا کھانا لے کر مولوی کرامت کے پاس آ بیٹھا اور اُسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے دی۔مولوی کرامت بھوکا تو تھا ہی،اشارہ پاتے ہی شریک ہو گیا۔ دونوں نے ایک ایک روٹی کھا کر خدا کا شُکر ادا کیا اور مٹی کے گھڑے سے پانی پی کر دوبارہ ایک طر ف ہو کر بیٹھ گئے۔ دو بجے نجیب شاہ کو دوبارہ بُلاوا آ گیا۔ نجیب شاہ نے باہر آ کر تُلسی داس کو اندر جانے کا اشارہ کر دیا جولنچ کے بعد آ کر بیس منٹ سے نجیب شاہ کمے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔تُلسی داس نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بڑے احترام کے ساتھ ولیم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ فائل اُس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ولیم نے اُسے کچھ دیر تک خموشی سے دیکھا، پھر آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کا حکم دیا۔

 

ولیم نے تُلسی داس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد آخر گفتگو کا آغاز کر ہی دیا،،مسٹر تُلسی مجھے کچھ سوالوں کے جواب جلداور بہت مختصر چاہییں۔
، جی سر، تُلسی داس نے ولیم کی طبیعت کو بھانپتے ہوئے کہا۔

 

جلال آباد میں پرائمری، مڈل اور اپر درجے کے کتنے اسکول ہیں؟ وہاں کے طلبا اور مُنشیوں کی تعداد اور حالات کے بارے میں مجھے بتاؤ،،ولیم نے دو ٹوک لہجہ اپناتے ہوئے سوال کیا۔

 

سرتحصیل جلال آباد میں اس وقت ایک سو ستر پرائمری کے درجے کے، آٹھ مڈل اور دو اپر درجے کے اسکول ہیں۔ جن میں مُنشیوں اور طلبا کی تعداد(فائل کھول کر اُس کا مطلوبہ صفحہ آگے بڑھاتے ہوئے)اِس میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ اِس کے علاوہ بورڈنگ ہاؤس،لائبریریزاوراور دوسری بہت سی معلومات سر اس فائل میں صحیح اندراج کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔

 

ولیم فائل سامنے رکھ کر اُس کا غور سے مطالعہ کرنے لگا۔ اس عرصے میں تُلسی داس غالباً ولیم کے اگلے سوالوں کا دل ہی دل میں اندازہ لگانے میں مصروف ہو گیا۔اسی کیفیت میں پندرہ منٹ گزر گئے۔حتیٰ کہ ولیم نے سر اوپر اُٹھا یااور بولا

 

تُلسی داس اِن اسکولوں میں مسلمان طُلبا اور مُنشیوں کی تعدادتشویشناک حد تک کم ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ ہے؟

 

حضور،سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ نہیں۔خود اُنہی کی طرف سے رُکاوٹ ہے۔

 

مثلاً؟ ولیم نے مختصر پوچھا۔

 

اب تُلسی داس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا،،مسلمانوں کے مُلا وں نے انہیں روک رکھا ہے کہ گورنمنٹ کے اسکولوں میں نصاریٰ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بچوں کو زبردستی عیسائی بنا دیا جاتا ہے۔وہ اسی لیے مسلمان اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے اسکولوں میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔

 

لیکن وہ یہ پراپیگنڈہ اتنے وسیع پیمانے پر کس طر ح کر سکتے ہیں؟،ولیم نے فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،آپ کی اس رپورٹ کے مطابق پوری تحصیل میں مسلمان طلبا کی تعداد محض ایک سو پینتیس ہے، جن میں اپر درجے کے صرف اٹھارہ بچے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟

 

تُلسی داس نے سیاہ ڈوری سے بندھی ہوئی اپنی عینک آنکھوں سے اُتار کر گلے میں لٹکائی لی اور دانشوارانہ انداز میں جواب دیا،،سر،گورنمنٹ کے اسکولوں میں مسلمان طلباکی یہ حالت اسی تحصیل میں نہیں بلکہ ہر جگہ یہی کیفیت ہے۔اُن کے مُلا کے وسیع پرپیگنڈاہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر گاؤں میں ایک مسجد ہوتی ہے، جس میں ایک دن میں پانچ بار یہ لوگ جمع ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور جمعہ کے روز تو ہر شخص نماز کے لیے وہاں حاضر ہوتا ہے۔ جہاں یہ اپنے مولویوں کے خطبے سنتے ہیں۔اُن خطبوں میں اِسی طرح کے درس دیے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اَن پڑھ ہوتے ہیں لہذا وہ اپنے مولویوں کی بات کو سچ مان کر اُس پر پورا پورا عمل کرتے ہیں اور حکومت کی بار بار تاکید کے باوجود اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔

 

اوں وووہوں، ولیم فکرمندی سے ہنکارہ بھرتے ہوئے بولا، اوکے مسٹر داس، ہمیں اس پر غور کر کے اس کا کوئی حل نکالنا ہے۔

 

اس کے بعد کچھ دیر خموشی چھا گئی اور ولیم اپنی کرسی سے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، جسے دیکھ کر تلسی داس بھی احتراماًاُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر چند ثانیوں کے بعد ولیم دوبارہ بولا، تُلسی داس ابھی آپ جا سکتے ہواور یہ فائل یہیں چھوڑ دو۔

 

تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکلنے لگا تو ولیم اُسے دوبارہ مخاطب کر کے بولا،اور سنو
تُلسی داس آواز سُنتے ہی واپس مڑا،حکم سر

 

باہر ایک مُلا بیٹھا ہو گا نجیب شاہ کے پاس۔اُسے جلال آباد ہائی سکول میں مُنشی کی حیثیت سے نوکر کر لو،چالیس روپے ماہوار پر،،ولیم نے اپنا حکم دوٹوک سناتے ہوئے کہا، اور آج ہی اُس کا لیٹرجاری کر کے میرے پاس لاؤ۔کسی فارسی دان سے کہنا،اُس کا انٹرویو بھی کرلے۔

 

جی بہتر سر، تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکل گیا
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ساتویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(12)

 

شاہ پور جلال آباد کے شمال میں دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ اس گاؤں کی آبادی تین سو کے لگ بھگ تھی۔ ساری آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ پورا گاؤں شیر حیدر کی ملکیت تھا اس لیے جوں کا توں غلام حیدر کی طرف منتقل ہو گیا۔ دراصل یہی وہ گاؤں تھا جو اُن کی آبائی جاگیر تھی۔ جو دھا پور شیر حیدر کو بیوی کی طرف سے ملا تھا اور جلال آباد کے مضافات میں جو دوہزار ایکڑ ز مین تھی، وہ یا تو آلاٹی تھی یا پھر خریدی ہوئی تھی۔ غلام حیدر کا آبائی گھر بھی شاہ پور میں تھا۔ گھر کیا تھا، چھوٹی اینٹوں سے بنی قلعے جیسی حویلی تھی جس کا بیرونی دروازہ گویا ہاتھیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ دروازے کے سامنے دائیں بائیں ڈیوڑھیاں تھیں۔ اُن کی چھتوں پر ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے موٹے شہتیر اور ٹاہلی ہی کے آنکڑے تھے۔ صحن میں تین چار نیم کے درخت اتنے بڑے تھے کہ پورے صحن اور حویلی کی چھتوں کے اُوپرتک اُن کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ گرمیوں میں ان کا سایہ جس قدر راحت بخش تھا، سردیوں میں اتنا ہی تکلیف دہ ہو جاتا، جو ارد گرد کے گھروں میں بھی جا نکلتا۔غلام حیدر نے اُن کی شاخیں کبھی کٹوائی نہیں تھیں۔ کچھ حویلی کے کمروں اور دیواروں کا رعب اور کچھ اِن نیم کے پیڑوں کی جلالت اور بزرگی نے اِسے شاندار ہیئت سے نوازا تھا جو دیکھنے والے کو مرعوب کر دیتی۔ حقیقت میں یہ گاؤں ارد گرد کے تمام گاؤں سے زیادہ خوشحال تھا۔اسی گاؤں میں ایک پرائمری کے درجے تک اسکول بھی تھا۔ اسکول کی عمارت تین ہی کمروں پر مشتمل تھی لیکن اس عمارت اور سکول کی بیرونی دیوار سے بھی انگریزی وقار جھلکتا تھا۔تمام عمارت اور دیوار پختہ سُرخ اینٹوں سے بنی تھی۔

 

دیوار کے ساتھ ساتھ پاپلر اور سنبل کے بے شمار درخت بھی تھے، جن کی شاخوں اور چھاؤں کے گھیراؤ میں ساری عمارت چھپ گئی تھی۔مگر مولویوں کی کرم فرمائی سے بچوں کی تعداد بیس سے نہ بڑھ سکی۔ وہ بھی زیادہ تر ادھر اُدھر سے کچھ چو ہڑوں اور کراڑوں کے بچے تھے۔ گاؤں کے ایک دو بچے ہی پڑھنے آتے۔ گاؤں میں پیپلوں اور ٹاہلیوں کی بھرمار تھی۔ کئی مکان پکے تھے لیکن اکثر آبادی کچے گھروں میں مقیم تھی۔ مگر تھے وہ بھی صاف ستھرے۔ الغرض جودھا پور کی نسبت شاہ پور ایک خوشحال گاؤں تھا۔ لوگوں کے پاس مال مویشی بے انت تھا۔ شیر حیدر جب تک زندہ رہا، اس کی ساری توجہ اپنے آبائی گاؤں شاہ پور پر رہی۔ اُس نے خصوصی ہدایت کی تھی کہ گاؤں صاف ستھرا اور کوڑا کرکٹ سے پاک رہنا چاہیے جس پر پورا عمل کیا گیا۔ وہ اُسے ایک ماڈل گاؤں بنانا چاہتا تھا تا کہ آس پاس کے چوہدریوں پر اُس کی مزید دھاک بیٹھ جائے۔ اسی سلسلے میں اُس نے ایک دفعہ کسی سے کہہ کہلا کر اسسٹنٹ کلکٹر جلال آباد کو بھی وہاں مدعو کیا تھا،جو گاؤں کی صفائی دیکھ کر بہت خوش ہوا، شیر حیدر کے انتظام کی بہت تعریف کی اور ایک سکول کا اعلان کر گیالیکن اسے ماڈل گاؤں کا درجہ حاصل نہ ہو سکا تھا۔ خیر انہی وجوہات سے گاؤں میں مال مویشی رکھنے کی ممانعت ہو گئی۔ ان کے لیے شیر حیدر نے یہ انتظام کیا کہ گاؤں کے ساتھ ہی ایک پانچ ایکڑ کا احاطہ تعمیر کروا کے اُس کے گرد کچی دیوار کرا دی۔ تمام لوگ، جن کے پاس مال تھا، اُنھیں حکم دیا کہ وہ ڈھور ڈنگر وہیں باندھا کریں۔ اُس وقت سے پورے گاؤں کے مویشی وہیں بندھتے اور اُن کی حفاظت کے لیے ہر گھر کا ایک فرد رات کو وہاں ٹھہرتا۔ چوری چکاری کا ڈر اس لیے نہیں تھا کہ شیر حیدر کادبدبہ بہت تھا۔ غلام حیدر اپنے باپ کی وفات کے بعد ابھی تک شاہ پور نہیں جا سکا تھا۔ اُسے چراغ دین کے قتل اور دوسرے معاملات سے فرصت ہی نہ مل سکی۔البتہ شاہ پور کے اکثر مزارع جلال آباد آ کرتعزیت ضرور کر چکے تھے۔ غلام حیدر شاہ پور جانا تو چاہتا تھا لیکن وہ مونگی اور چراغ کے قتل میں ہی الجھ کررہ گیا اور اتنا وقت نہ مل سکا کہ شاہ پور کا ایک چکر لگا لے۔ سردار سودھا سنگھ پر تین سو دوکا پرچہ تو کٹ چکا تھا مگر اُس کی گرفتاری آسان بات نہ تھی۔اُس کے خیال میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیل کے متعلقہ عملے نے اس مسئلے کو کچھ خاص اہمیت نہ دی تھی اورولیم کے ساتھ پہلی نا خوشگوارملاقات دوسری ملاقات میں رکاوٹ تھی۔ لہٰذا اُسے ملاقات کا وسیلہ نکال کر اِس معاملے کو اُس ڈپٹی کمشنر فیروز پور کے علم میں لانا تھا۔جس کے لیے اُس نے رات سونے سے پہلے چاچے رفیق کو سمجھا دیاتھا کہ وہ تیس جوانوں کو تیار رکھے تاکہ صبح کی نماز کے فوراً بعد فیروز پور روانہ ہو جائیں۔ غلام حیدر کو فکر یہ تھی کہ رعایا اپنے آپ کو بے بس اور لاوارث سمجھنا نہ شروع کر دے۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا باپ شیر حیدر جس طرح زمینوں اور رعایا کے معاملات کو سلجھاتا آیا اور پیدا ہونے والی دشمنیوں سے نبٹتا آیا تھا، اگر وہ اُس وقار کو برقرار نہ رکھ سکا تو یقیناًاُس کا اپنا مستقبل اور ذاتی ملکیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

 

صبح سات بجے کے قریب غلام حیدر باہر نکلا۔ دس گھوڑے اور دو بگھیاں تیار کھڑی تھیں۔ شیرا کمبو، حمیدا ماچھی، جانی چھینبا،گاموں کبوتر والا، شادھا کھوکھر، رنگو چھینبا اور دوسرے کئی جوان برچھیوں اور چَھویوں سے لیس بیٹھے حُقوں کے سوٹے لگا رہے تھے۔ ہر ایک جوش اور جذبے سے بھرا ہوا تھا کہ وہ آج فیروز پور میں بڑے صاحب سے ملاقات کریں گے اور یہ بات پہلی بار واقع ہونے والی تھی۔ شیر حیدر کے دور میں تو کبھی تحصیلدار سے نہیں مل سکے تھے۔ تحصیل جلال آباد سے فیروز پور کی راہ ساٹھ کلو میٹر تھی جس کے لیے کم از کم آٹھ یا نو گھنٹے لگ سکتے تھے۔ ریل کے اپنے اوقات تھے۔ پھر غلام حیدر نے فیروز پور میں کئی اور لوگوں سے بھی ملنا تھا۔ اس لیے سفر گھوڑے اور بگھیوں پر ہی مناسب معلوم ہوا۔ اس کے علاوہ کھلی فضا میں دشمن کے حملے کا خوف بھی کم تھا،بہ نسبت ریل کے تنگ ڈبوں کے۔

 

غلام حیدر کا خیال تھا، وہ شام سے پہلے ہی فیروز پور میں پہنچ جائے گا۔ رات شیخ نجم علی کے پاس گزارے گا کہ وہ اس کے سکول فیلو ہونے کے علاوہ گہرا دوست بھی تھا۔ فیروز پور کی عدالت میں اُس کے والد شیخ مبارک علی کا اچھا خاصا رسوخ تھا،جو ڈپٹی کمشنر کے ساتھ اُس کی ملاقات کا بندوبست بھی کر سکتا تھا۔ غلام حیدر نے ریشمی لاچا اور بوسکی کی قمیض پہن رکھی تھی۔ لاچے کا لمباؤ ایک فٹ تک زمین پر گھسٹتا تھا۔سر پر لٹھے کی کھڑکی دار پگڑی تھی۔ جسے پف لگا کر یوں اکڑا دیا جیسے سانپ کا پھن لہراتا ہوا ڈسنے کو آتا ہو۔ پاؤں میں سنہری تلے کا کُھسا چرر چررکی آواز کے ساتھ قدموں کو ہلکی ٹھاپ دے رہا تھا،گویا شیر حیدر کا دوسرا جنم ہو۔ بائیں کاندھے پر لش لش کرتی پکی رائفل اس پر مستزاد تھی۔ حویلی کے باہر اور بھی بہت سے لوگ جمع تھے۔ کچھ بوڑھی عورتیں آ کر غلا م حیدر کا سر چومنے اور دعائیں دینے لگیں۔ عورتوں کے اس طرح غلام حیدر کے گرد گھیرے نے فضا کو رقت آمیز کر دیا۔ غلا م حیدر جانتا تھا کہ وہ اُس سے بہت بڑی توقعات رکھے ہوئے ہیں۔ جنھیں اس کی دلی خواہش تھی کہ وہ پورا کرے لیکن دل میں اُس خوف کی کیفیت غالب تھی جو ولیم کے ساتھ ملاقات میں پیش آ چکی تھی۔ غلام حیدر سوچ رہا تھا، اگر ڈپٹی کمشنر نے بھی اُسی بے اعتنائی کا ثبوت دیا تو اُس کا بھرم جاتا رہے گا۔پھر بھی وہ کسی صورت بیٹھے گا نہیں۔ یہ فیصلہ اس نے دل میں کر رکھا تھا مگر اس کے بعد کیا کرے گا ؟اِس امر کی بابت اُس نے بھی نہیں سوچا تھا۔ فی الحال اُسے جلد فیروز پور پہنچ کر ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کا وسیلہ نکالنا تھا اور حکومت سے اس ناحق قتل کے سخت مواخذے کا عمل درآمد کرانا تھا۔جس نے مونگی کی فصل کو ثانوی حیثیت دے دی تھی۔

 

صبح سات بجے غلام حیدر نے بگھی پر قدم رکھ دیا۔ ایک بگھی آگے اور تھی باقی جوان گھوڑوں پر سوار غلام حیدر کی بگھی کے پیچھے جلال آباد سے نکل کھڑے ہوئے۔اِدھر بگھیاں فیروز پور کی طرف روانہ ہوئیں،اُدھر جلال آباد میں بوڑھے گپوں کے ہانکے لگانے لگے۔

 

حویلی کے دالان میں حقوں کی چلمیں انگاروں سے دہک اُٹھیں اور نمکین لسی کے دور چلنے لگے۔ آدھ آدھ سیر کے پیتل کے گلاس مجمعے کے درمیان کھنک رہے تھے۔ پوہ کی سردی میں لسی پی کر صبح کے عالم میں دھوپ سیکنا اوّل تو خود ایک طرح کی ایسی عیاشی ہے جس کا جواب نہیں لیکن اگر گپ ہانکنے کو نیا موضوع مل جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ ایسے عالم میں خاص کر پنجاب کا طبقہ اپنے نقصان پر بھی مزے لے کرتبصرے کرتا ہے اور یہی حالت اِن کی تھی۔ جودھا پور میں چراغ دین کا قتل اور مونگی کا نقصان ثانوی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔اب تجزیے اور تبصرے کا سارا مرکز غلام حیدر کی ذات تھی۔وہ بھی اس پر کہ اُس کی پہنچ کہاں تک ہے۔ کوئی غلام حیدر کے تعلقات گورنر سے پیدا کر رہا تھا۔ کسی کا خیال تھا کہ وائسرائے خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے کیونکہ ایک دفعہ لاہور میں اُن کے خیال میں غلام حیدر سے وائسراے کی خفیہ ملاقات ہو چکی تھی۔

 

امیر سبحانی نے تو اس سلسلے میں ایک نہایت ہی عجیب خبر نکالی۔ اُس نے ملک نظام کے کان کے نزدیک منہ کر کے کہا، ملک جی یہ بات باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ اپنے غلام حیدر کا وائسرائے کی بیٹی سے یارانہ ہے۔ وہ اپنے شیر غلام حیدر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے لیکن غلام حیدر اُسے ابھی تک ٹال رہا ہے۔ اس معاملے میں غلام حیدر کا دل جیتنے کے لیے اُس نے خود ڈپٹی کمشنر فیروز پور کو تار بھیجی ہے کہ میں اس کیس میں پورا انصاف چاہتی ہوں۔ اصل میں ڈپٹی کمشنر نے غلام حید ر کو فیروز پور بلایا ہے لیکن غلام حیدر بڑا چالاک ہے۔ اُس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی حتیٰ کہ اپنے فیقے کو بھی۔ دیکھنا یہ بات سچ نہ نکلے تو میری داڑھی مونڈ دینا بیچ اس مجمعے کے۔ یہ کہہ کر امیر سبحانی تسلی سے دوبارہ حقہ گڑگڑانے لگالیکن ملک نظام اس انکشاف پر ایک دفعہ اُچھل گیا۔ وہ سوچنے لگا، واقعی غلام حیدر اس چھوٹی عمر میں کتنا چالاک ہے۔ یہ سوچ کر جی میں خوش ہونے لگا کہ اب سکھوں کی موت آئی کہ آئی۔ مگر یہ ایسی خبر تھی جس کا شیدے کو پتا چلنا بہت ضروری تھا۔ وہ اس کی تہہ تک پہنچ کر آنے والے وقت کا صحیح نتیجہ نکال سکتا تھا۔ شیدا کونے والی چار پائی پر بیٹھا حالات کی گتھیاں سلجھا رہا تھا۔ جس کی بات ارد گرد بیٹھے لوگ بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ملک نظام نے آواز دے کر اُسے اپنے پاس بلایا اور ساری کہانی سامنے رکھ دی۔ شیدے نے بات نہایت توجہ سے سنی اور کہا،دیکھ نظام بھائی، یہ بات اپنے درمیان ہی رکھنا۔اس لیے کہ اِس میں گورنمنٹ کی بے عزتی ہے اور سرکار طیش میں بھی آ سکتی ہے۔کیونکہ دھی بہن کی عزت ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ اب سودھا سنگھ کی موت یقینی ہے۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ سکھوں نے شیر کی دُم پہ پاؤں رکھ دیا ہے۔ اب دیکھنا انھیں کیسا بھگتان دینا پڑے گا۔ اس کے بعد شیدا دوبارہ اُٹھ کر اپنی چارپائی پر جا بیٹھا۔ سب کو پتہ تھا نظام دین نے کوئی بات رشید سے کی ہے۔ اس لیے وہ سب اس کی ٹوہ لینے لگے۔ کافی دیر تک وہ بات کو دبائے بیٹھا رہا لیکن اس شرط پر اُس نے یہ راز کھول دیا کہ خبردار بات حویلی سے باہر نہ جائے۔

 

یہاں تو یہ کچھ چل رہا تھا، اتنے میں نظام دین کو چوکیدار نے آکر بتایا کہ جودھا پور سے رحمت علی بلوچ آیا ہے کچھ خاص خبریں لے کر۔ یہ سُن کر تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سلام دعا کے بعد اُسے درمیان کی چار پائی پر بیٹھ کر لسی کے دو گلاس دیے۔ مجیدے نے حقہ سامنے رکھ دیا، جسے دوچار دفعہ رحمت علی نے گڑ گڑایا اور مجمعے کی بے صبری کا امتحان لیے بغیر بولا،، بیلیو مَیں غلام حیدر کو ایک بڑی ضروری خبر دینا چاہتا ہوں، اُسے خبر دو کہ رحمت علی جودھا پور سے آیا ہے۔

 

نظام دین نے رحمت علی کی بات سُن کر کہا،پر غلام حیدر تو بھائی رحمت آج صبح ہی فیروز پور بڑے صاحب سے ملنے کے لیے نکل گیا ہے۔اب شاید اسے دو دن لگ جائیں واپس آنے میں۔جو بھی خبر ہے،ہمیں بتا دو۔ ہم غلام حیدر کو بتا دیں گے۔اگر خفیہ بات ہے تو غلام حیدر کا انتظار کر لو۔

 

رحمت علی نظام کی بات سن کر بجھ سا گیا۔ اس کا سارا جوش جذبہ اسی میں تھا کہ جودھا پور انگریز بہادر کے آنے کی خبر غلام حیدر کو بتائی جائے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔اُسے اتنے دن یہاں رکنا گوارابھی نہیں تھا،ناچار یہ خبر نظام ہی کو سنانا پڑی اور اپنی چادر کا پلو درست کر کے کاندھے پر ڈالتے ہوئے بولا،، بھائی نظام خبر یہ ہے کہ کل انگریز بہادر جودھا پور میں آیا تھا۔اُس نے کہا کہ اُسے اُوپر سے حکم آیا ہے کہ وہ خود جا کر موقع پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔

 

نظام، رشید ماچھی اور دوسرے تمام لوگ حیران ہوئے”کیا انگریز بہادر خود جودھا پور میں آیا تھا”

 

رحمت علی نے بلائی ہونٹ سے نیچے لٹکی ہوئی مونچھ کے سفید اور کالے بالوں سے لسی کی ٹھنڈائی کو ہاتھ سے صاف کیا پھر سب لوگوں کو گھورتے ہوئے بولا، تو کیا میں دس کوس چل کر یہاں ٹھٹھہ مذاق کرنے آیا ہوں؟ مَیں آیا ہوں کہ ساری خبر چوہدری غلا م حیدر کو دوں۔اِدھر سامنے تم بیٹھے مجھے جھوٹا بنا رہے ہو۔

 

ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ غلام حیدر کو وہاں نہ پا کر رحمت علی کا سارا مزاکِرکرا ہو گیا تھا کہ اُس خبر کی داد وہ براہِ راست غلام حیدرسے نہ لے سکا۔اور اب اس کا غصہ ان پر نکال رہا تھا۔

 

صاحب بہادر سکھوں پہ بہت غصے میں تھا، رحمت علی دوبارہ اپنی کہانی کی طرف لوٹا، کہہ رہا تھا، میں سودھا سنگھ کو چوراہے کے بیچ پھانسی نہ دوں تو ولیم نام نہیں۔ ہماری سرکار میں یہ ظلم نہیں ہو سکتا۔

 

ادھر رحمت علی یہ باتیں کر رہا تھا، اُدھر امیر سبحانی آہستہ آہستہ مسکرانے لگا گویا اپنی بات کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آخر سب لوگ امیر سبحانی کو رشک کی نظروں ے دیکھنے لگے۔ جس نے بیچ کی خبر پہلے ہی دے دی تھی اور یہ سب کچھ وائسرائے کی بیٹی کی وجہ سے ہو رہا تھا کہ انگریز بہادر دوڑے دوڑے خود ہی انصاف کے لیے تفتیشیں کر رہے تھے۔ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار۔اب امیر سبحانی نے ا پنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور اُٹھ کر اکڑتا ہوا ایک طرف جا بیٹھا۔ اُسے پتا تھا اُس کی بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔چنانچہ مزید کریدنے کے لیے لوگ اُس کے مرہون ہیں۔ بالآخر وہی ہوا۔ لوگ اُٹھ اُٹھ کر امیر سبحانی کے پاس بیٹھنے لگے اور وہیں ایک ٹولی بندھ کر کُھد بُد ہونے لگی۔ ادھر رحمت علی کو اپنی خبر کی یوں بے وقعتی پر تاؤآ گیا۔ کچھ دیر تو وہ صبر سے بیٹھا رہا لیکن اُس سے نہ رہا گیا اور بولا، وہاں کیا تماشا ہے، بھائی اب اس مسئلے پر غور کرو کہ آگے کیا کرنا ہے ؟تھوڑی دیر کے بعد رحمت علی کو بات اپنے تک رکھنے کی شرط پر سب کہانی سنا دی گئی کہ ولیم کو آخر اُوپر سے حکم کس وجہ سے ملا تھا اور اسی بنا پر آج غلام حیدر ڈپٹی کمشنر سے ملنے فیروز پور گیا تھا۔ اب آگے جو کچھ ہو گا اُس کا اندازہ خود لگا لو۔رحمت علی اس خبر کو سن کر واقعی حیران رہ گیا۔چنانچہ اس کی کوفت کچھ دور ہو گئی کہ وہ ایک نئی خبر جودھا پور لے کر جا رہا تھا۔