Laaltain

نعمت خانہ — چھبیسویں قسط

خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

نعمت خانہ — اکیسویں قسط

خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

نعمت خانہ — سترہویں قسط

خالد جاوید: میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

نعمت خانہ — چودہویں قسط

خالد جاوید: ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔

نعمت خانہ — تیرہویں قسط

خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔

نعمت خانہ — بارہویں قسط

خالد جاوید: فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔

نعمت خانہ — گیارہویں قسط

خالد جاوید: یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔

نعمت خانہ — نویں قسط

خالد جاوید: میں واپس اپنے زمانے میں آ گیا۔ میں نے اپنے روٹھے ہوئے حافظے کو دوبارہ ایک ٹھوس شے کی طرح اپنے سامنے پایا اور میں نے اُسے اپنے دماغ کے خلیوں میں گویا ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اندر محفوظ کر لیا۔

نولکھی کوٹھی — سولہویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔

نولکھی کوٹھی — تیرہویں قسط

علی اکبر ناطق: تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔

نعمت خانہ — پانچویں قسط

خالد جاوید:
باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔

نولکھی کوٹھی — دسویں قسط

علی اکبر ناطق: وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔

نعمت خانہ — دوسری قسط

خالد جاوید: ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔

نولکھی کوٹھی — آٹھویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

نولکھی کوٹھی — ساتویں قسط

علی اکبر ناطق: صاحب بہادر سکھوں پہ بہت غصے میں تھا، رحمت علی دوبارہ اپنی کہانی کی طرف لوٹا، کہہ رہا تھا، میں سودھا سنگھ کو چوراہے کے بیچ پھانسی نہ دوں تو ولیم نام نہیں۔ ہماری سرکار میں یہ ظلم نہیں ہو سکتا۔