Laaltain

حکایات ِجدید ومابعد جدید

ناصر عباس نیر:
اس تختی پر جو کچھ لکھا ہوا ہے،وہ سچ ہورہا ہے۔اس تختی کی پانچویں سطر میں لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا،جب لوگ روٹی، عورت، روپے کی خاطر نہیں، اپنی بات منوانے کی خاطر قتل کیا کریں گے،اور بات منوانے والوں کے کئی فرقے بن جائیں گے۔

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟

ناصر عباس نیر:“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔

نولکھی کوٹھی — چھٹی قسط

علی اکبر ناطق: سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔

بلّو، پنکی اور سابو

سوئپنل تیواری: بائیس سال پرانا ایک آسیب اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ وہ مڑا تو اس کے سامنے آٹھ سال کی ایک بچی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں ایک کامک بک تھی۔

رف رف رفتن

اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔

بندے علی

حسنین جمال: سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔