Categories
فکشن

چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] مرحوم کا عرفی نام ”ایلس کدوری” بھی ہمارے ہی ذہن کی اختراع تھی جس کی وجہ اتنی ہی بچگانہ سی تھی۔ بات یہ ہے کہ بڑے بھائی صاحب قبلہ دُنیائے دیگر کی عجیب و غریب باتیں بتایا کرتے تھے۔ اپنے قومی مشاہیر میں سے کسی کا ذکر تھا، آپ نے بتایا کہ اُنہوں نے میٹرک ہانگ کانگ کے ایلس کدوری ہائی اسکول سے کیا، ہم نے پوچھا بھیا یہ اسکول کا نام کیسا عجیب سا ہے؟ بتلایا کہ ایلس کدوری اسکول کے ان پڑھ مالک کا نام تھا، ہم دیر تک اسی بات پر ہنستے رہے اور پھر کرم خاں صاحب کا نام چاچا ایلس کدوری رکھ دیا جو کہ اس وقت الکرم گرامر اسکول کے مالک اور پرنسپل تھے اور یہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کا پہلا نجی اسکول تھا۔

کرم خان بلوچ ہمیشہ سے چاچا ایلس کدوری نہ تھے۔ ہم ایسے بدتمیز دیہاتی لونڈوں کی ہنسی کا نشانہ بننے سے کئی برس قبل وہ سردار کرم حسین خان بلوچ آف کوٹ سُکھے خان، سابق چئیرمین یونین کونسل کہلاتے تھے۔ اُن کا یہ نام ثقافتی میلوں پر نیزے بازی کے کھیل کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر گونجتا تھا۔ نقابت کے فرائض پر ہمیشہ سے مامور مظہر عباس دُکھی اور فاروق پروانہ تھل اور بار کے ملے جُلے لہجے کی جھنگوچی زبان میں شہسواروں کی حوصلہ افزائی اور شائقین کی ضیافتِ طبع کے لئے جن جملہ شعراء کرام کے ماہیئے اور ‘دوہڑے’ سناتے تھے، ان میں کرم خان صاحب کا کلام بھی شامل ہوتا تھا۔ گھڑسواروں، نیزے بازوں کی بازی میں خاں صاحب کے کلب کے گھوڑے دوڑتے تو کرم خاں صاحب کا نام اور بھی آن بان سے لیا جاتا۔ پکھوُ، پُنوں، مکھنا اور بُلبل اُن کے لاڈلے گھوڑے تھے جو کسی الہڑ اور خوبرو دُلھے کی سی نخوت اور شان کے ساتھ، سجے سجائے میدان کے ایک سرے پر نمودار ہوتے تو شائقین مرعوب ہوئے بغیر رہ پاتے نہ ہی داد میں کمی کرتے۔

یہ علاقہ لسانی اعتبار سے سرائیکی اور پنجابی کی سرحد پر واقع ہے اور غریب اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے اسے کسی زبان اور کسی سیاسی گروہ نے نہیں اپنایا، سو یہ ایک ثقافتی بھول بھلیاں ہے جس کے باسیوں کو خود پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس گمشدگی کا اپنا ایک کلچر ہے۔ یہاں زرعی اور سیاسی طور پر سیالوں کا رُسوخ سکھوں کے دورِ حکومت سے بھی پہلے سے تھا بلکہ سرداری تھی جبکہ موضع جات اور دیہاتوں کے بانی سبھی بلوچ تھے جو سر ڈینزل ابٹسن کے مطابق جو روہی اور بار میں پھیلی پنجاب کی سب سے بڑی ذات تھے۔ کوٹ سکھے خان واحد گاؤں تھا جس کے بانی بھی بلوچ تھے اور سردار بھی وہی۔ جب کوٹ نیازی خان بلوچ، ڈیرہ شاکر خان تتاری، ڈیرہ دریا خان بلوچ، ڈیرہ جلال خان لشاری، کوٹ نصرت خان سیال اور بستی علی خان سیال کے بلوچ زمینداروں اور سرداروں کو دو سے ذیادہ گھوڑے پالنے اور تین تو کیا، ایک دو موٹر کاریں رکھنے کی استطاعت بھی کم ہی ہوتی تھی، اُس زمانے میں بھی کرم خان کے گھوڑے، گھوڑوں کو میلے تک لانے والی لاری، موٹر کار اور پجارو موٹر کا کاروان نیزہ بازی کے میدان میں نوابی دبدبے کے ساتھ آدھمکتا تھا۔

قدمیانہ، رنگت سانولی، بال لمبے اور گھنگھریالے جن کی خوشنما کاکلیں بن جاتی تھیں، آنکھیں خوبصورت اورروشن، اور مونچھیں باریک اور سلیقے سے ترشی ہوئی ہوتیں۔۔۔۔ عام دنوں میں ایک زمیندار اور شاعر کی سی سادگی کے ساتھ ملبوس رہتے۔۔۔ لیکن نیزہ بازی کے کھیل کے دوران کئی میٹر کی طُرے دار اکڑی ہوئی پگڑی، چنٹوں والی آستینوں کی قمیص، لٹھے کی لُنگی اور پاؤں میں پیر محل کے کُھسے انہیں دیگر معزز مہمانوں کی صف میں، جہاں بلاشبہ سیاسی طور پر اُن سے بڑی سیاسی حیثیت کے سردار، اور زیادہ رسوخ کے نواب لوگ بھی ہوتے تھے، نمایاں رکھتے تھے۔ پنچایتوں میں منصفی کرتے اور ہر ایک کے خوشی غم میں دامے درمے شریک ہوتے مگر غرباء کے ساتھ برابری کی سطح پہ آ کر برتتے تھے۔

سردار موصوف کی وضعداری پھر بھی کمال تھی۔ نیزے بازی میں سرپٹ دوڑ کر میدان کے ایک سرے سے نمودار ہوتے ہوئے جھنگ، سرگودھے، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے شہسواروں کی آن بان، اُن کا باری باری ہدف پر جھپٹ کر اس میں نیزہ گاڑنے کے لمحے کا رعب اور پھر اسے اکھاڑ کر نیزے کو گھڑیال کی بڑی سوئی کی طرح دوبار گھما کر، پھر بازو آگے پھیلا کر ‘دکھاوا’ کرنے کا منظر نہایت دلکش اور خون کو گرما دینے والا ہوتا تھا، لیکن جب ”سیکشن” کی دوڑ میں بیک وقت ایک صف میں کرم خان کے چار گھوڑوں کا چھوٹا سا ‘رسالہ’ ایک ہی ہلے میں یہ مظاہرہ دکھاتا تو آنکھوں کے آگے قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی شجاعت اور پامردی کا نقشہ کھنچ جاتا اور میلہ لُوٹ لیتا۔ اس پر نجانے کتنی دیر تک ڈھول بجتا رہتا اور داد کی واہ واہ ہوتی رہتی۔ کرم خان کا نیزہ گرفت کی جگہ چھوڑ کر، جس پر کَسی ہوئی رنگین ڈوریوں سے دستہ بنایا گیا تھا، اپنی نوک تک اور پیچھے کی ”ڈوڈی” تک منڈھے ہوئے سنہری پیتل کی وجہ سے دور تک لشکارے مارتا تھا۔ خاں صاحب ہمیشہ چار کے سیکشن میں ہدف اکھاڑتے تھے اور ہمیشہ چار مصرعے کی مقامی صنف میں شاعری کرتے جسے ”دوہڑا” کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کئی اشعار نیزے بازی کے شہسواروں کی شان میں کہے اور ہر کھیل میلے کے اختتام پر شہسواروں کو نقد انعام دے کر رخصت کرتے تھے۔ سوار کے لئے الگ انعام اور گھوڑے کے نام کا الگ انعام۔

دلچسپ منظر ان کی اپنی رُخصت (اور آمد) کا بھی ہوتا تھا۔ جب اکثر سردار اور نواب اپنی ستر ماڈل کی ٹویوٹا کاروں، فوجی نیلام سے لی گئی موٹے ترپال کی چھتوں والی بدرنگ جیپوں اور شاہی ہاتھیوں کے جیسے پرتکلف انداز میں آراستہ ہودوں والے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر روانہ ہوتے، کرم خان ان سواریوں سے اونچی اور لمبی ‘پجارو’ میں سوار ہو رہے ہوتے تھے اور ایک عالم انہیں رُخصت کرنے والا (یا استقبال کرنے والا) ہوتا۔ یہ ”پجارو” لگ بھگ لاری کے جتنی بڑی گاڑی تو ہوگی جو فقط الیکشن کے دنوں میں شاہ جیونے کے مخدوموں کے کاروان میں نظر آیا کرتی تھی یا پھر ہمارے علاقے میں کرم خان کے پاس تھی۔ الوداع کہنے والوں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم بڑھ کر گاڑی کو قریب سے دیکھنے کے خواہشمندوں کا بھی دیکھنے کو ملتا۔ دوسرے علاقوں سے آنے والے شہسواروں کی مہمان نوازی اکثر کرم خان کے ڈیرے پر ہوتی تھی اور اس اہتمام سے ہوتی کہ مہمان سوار یاد رکھتے تھے اور دیکھنے والے مثالیں دیتے۔

خان صاحب کی ‘پجارو’ کی طرح ان کی مسکرانے کی ادا بھی ان کے مداحوں کے لئے ایک نظارہ تھی۔ یہ مسکراہٹ کبھی ان کے نیم وا ہونٹوں سے رُخصت ہوتی تھی نہ کبھی ان کے مداح اس سے سیر ہوئے تھے۔ بات کرنے کا لہجہ نہایت دھیما تھا اور بلا کی حسِ مزاح پائی تھی۔ پھر خاں صاحب شرمیلے بھی ایسے ہی تھے جیسے کمال کے شاعر تھے۔ مشاعروں میں وہ کبھی نہ گئے البتہ نجی محفلوں میں شعر کہہ کر محفلیں لوُٹ لیتے۔ ہمارے اُردو کے ایک اُستاد جناب ثاقب عثمانی صاحب انہیں جھنگوچی زبان کا اختر شیرانی کہا کرتے تھے۔ کرم خان کی شاعری کا کاتب ان کا دوست ریاض نائی تھا کیونکہ خان موصوف خود لکھنا نہ جانتے تھے۔ ریاض دس جماعتیں پاس تھا اور بہت خوبصورت جوان تھا۔ کوٹ سُکھے خان کا نائی تھا اور میں نے اسے ایک عرصے تک پٹھان سمجھا۔ خوش شکل ہی نہیں، خوش اطوار اور خوش کردار جوان تھا۔ یہی اوصاف کرم خان نے ہمیشہ اپنے دوستوں میں تلاش کئے لہٰذا کم ہی دوست بنائے، اگرچہ اس کی وجہ کچھ کرم خان کی سادہ مزاجی اور کم آمیزی بھی تھی۔ ان اوصاف کے ساتھ ان کا دولت مند ہونا فقط اس وجہ سے ممکن تھا کہ انہیں یہ سارا ٹھاٹ باٹھ اپنے والد، محمد خان بلوچ مرحوم اور نانا سردار سرخرو خان نواب آف کوٹ مبارک سیال سے ملا تھا۔ کرم خان کی سادہ مزاجی، مروت، دوست پروری اور دریا دلی ان کی دولت کے لئے ایک خطرہ تھی کیونکہ نئی صدی اب وقت کی دہلیز پہ دستک دے رہی تھی اور معزز ہونے کے میعارات بدل رہے تھے۔ آس پاس سے سادہ مزاجی، قناعت، بے لوث محبت، مروت اور بندہ پروری رخصت ہورہی تھی اور سب سے بڑی بات حُسن، جو کرم خان کے نزدیک کائنات کا محور و مرکز تھا اور حسن کی پرستش مقصدِ حیات، یہ دونوں چیزیں اپنے مفہوم بدل رہی تھیں اور بڑے قاتل بہروپ بھر رہی تھیں۔

[dropcap size=big]خان صاحب[/dropcap] حُسن کے شیدائی تھے اور حُسن و عشق کی حد تک تو ذات پات کے قائل بھی نہ تھے۔ ایک دفعہ گلی میں سر پر چھابہ اٹھائے ایک بنجارن کو چوڑیاں بیچتے دیکھا۔ سانولے رنگ کی بنجارن کے دنداسے سے چمکتے دانتوں سے منور ایک ہی مسکراہٹ نے خان صاحب کو چونکا دیا۔ قریب آکر دیکھا تو بلا کی حسیِن نکلی۔ ہم تھل باسیوں میں ابھی سانولے رنگ کی قدردانی کا زمانہ باقی تھا۔ کرم خان نے پوچھا،

”یہ سب چوڑیاں کتنے میں بیچو گی؟”
بنجارن بھی شاید مردم شناس تھی، بولی؛
”جب ساری کی ساری چاہیئیں تو دام کیسے؟”

خاں صاحب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے مگر جب پاس سے گزرتی عورتوں نے مکالمہ سُنا تو رُک گئیں، خان صاحب بدحواس سے ہو گئے۔ جس زمانے میں وہ ساری کی ساری چوڑیاں ڈیڑھ سو روپئے سے زیادہ کی نہ ہوں گی، خان صاحب نے پانچ سو روپئے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور ساری چوڑیاں اپنی ڈیوڑھی میں رکھوا لیں۔ ان کے اپنے گھر میں تو کوئی پہننے والا نہ تھا، سو اسی شام یہ چوڑیاں ہمسائے اور آس پاس کی بچیوں، کمسن لڑکیوں میں بانٹ دیں۔ عورتیں بھی چھیڑنے کو پوچھتی رہیں، ”بھائی کرم خان کتنے کی لیں؟ کہاں سے لیں اتنی پیاری چوڑیاں؟”

ہم، کہ کرم خان صاحب کے زوال ہی کو دیکھنے والی نسل ہیں، یہی سوچتے تھے کہ اپنی دولت اور رسوخ کے عروج کے زمانے میں خان صاحب خاصی شکل و صورت کے جوان ہوں گے اور یقیناً حُسن کی دیوی بھی ان پر مہربان ہوئی ہو گی۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ”کیوں نہیں!!!”۔ اپنے عروج اور جوانی کے زمانے میں خان صاحب کو دریا پار کے ایک سردار قبیلے کی ڈاکٹرنی سے عشق ہو گیا۔ خان صاحب نے فقط اس کے دیدار کی خاطر خالق پور کے دیہی مرکزِ صحت کے اتنے چکر لگائے کہ وہاں کے لوگ ان کی ولیز جیپ کا وہاں اس تواتر سے آنا نظرانداز نہ کر سکے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ وہاں کا نمبردار خان صاحب کا دوست تھا۔ اور بعد از خواریء بسیار ڈاکٹر صاحبہ سے ملاقات کی سبیل نکلی۔ خاتون بڑی باوقار اور بااعتماد تھی۔ جب دوسری ملاقات میں کچھ بے تکلفی کی فضا بنی تو کہنے لگیں؛

”خان صاحب میں امیر گھرانے سے تو ہوں مگر امیروں کے سے ٹھاٹ باٹھ مجھے متاثر نہیں کرتے، بلکہ”
ڈاکٹر صاحبہ ہنسیں،
”آپ کی جیپ سے تو مجھے ڈر لگتا ہے”

ڈاکٹر صاحبہ نے تو مذاقاً کہا مگر اگلی ملاقات میں بھولے بھالے کرم خان نے دریا تک گھوڑے پر سفر کیا، پھر اسے ملاحوں کے حوالے کرکے کشتی سے دریا پار کیا اور خالق پور تک چار پانچ میل پیدل چل کر گئے تو ڈاکٹر صاحبہ کا دل پسیجا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا دل چند ایسے ہی واقعات میں خان صاحب پر لہرایا کہ شکل و صورت کا یہ بھولا بھالا سا امیرزادہ اندرون سے بھی کھرا اور مخلص آدمی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے دل میں کرم خان کے لئے جو جگہ بن چکی تھی، اب وہ پختہ ہونے لگی۔ جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور خان صاحب کے جذبہء دل کو قبولیت ملی تو اس خاتون نے بھی خوب نباہی۔ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ کرم خان کے اصرار اور اثر و رسوخ کی بدولت بآسانی کوٹ سُکھے خان بلوچ کے دیہی مرکزِ صحت میں ہو گیا جو کہ ”سرکاری ہسپتال” کہلاتا ہے۔

ان دنوں کا ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک روز جاڑے کی شدت عروج پہ تھی اور بارش بھی شدید تھی، ڈاکٹر صاحبہ گھر واپس نہ جا سکیں تو رات ہسپتال ہی ٹھہرنا پڑا۔ ہسپتال کی دایہ جو اُن کی ہم راز بھی تھی، رات ڈاکٹر صاحبہ کے پاس شب بسری پر مامور تھی، کرم خان کے پاس خبر لے کر آئی تو خان صاحب نے اُسی کے ہاتھ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے ہاں رات کے کھانے کی دعوت دے دی۔ خان صاحب کی اہلیہ وفات پا چکی تھیں اور ایک ننھی سی بیٹی تھی جو اکثر ننھیال میں رہتی تھی سو گھر پہ سوائے نوکروں کے کوئی نہ تھا۔ اُنہوں نے شام ہوتے ہی نوکروں کو چھٹی کروا دی اور باورچن سے کہا کہ وہ بھی کھانا پکا کر چلی جائے۔ رات پھیلے سے جب باورچن چلی گئی تو ساتھ ہی ڈاکٹر صاحبہ آ گئیں۔ خان صاحب نے خُود کھانا لگایا اور خود ہی آفتابے بھر بھر معزز مہمان کے ہاتھ پاؤں دھلوائے اور خُوب مدارات کیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی دلبری کے سارے انداز خؤب آتے تھے، اُنہوں نے بھی خان صاحب کے والہانہ پن کا دل رکھا۔ اب پریشانی یہ لاحق ہوئی کہ ڈاکٹر صاحبہ شہر کی تھیں اور کھانے کے بعد اُنہوں نے چائے کی فرمائش کر دی جبکہ خان صاحب نے باورچن کو چائے کے لئے روکا ہی نہ تھا، اس طرف اُن کا دھیان ہی نہ گیا تھا۔ اب بارش بھی اتنی شدید تھی کہ کوئی اور چارہ نہ تھا، خان صاحب خُود توشہ خانے میں گئے، دودھ، چائے کی پتی اور گُڑ نکالا، چائے بنانے لگے تو دیکھا کہ چولھے میں راکھ بُجھ چُکی تھی اور نوکر جانے کی جلدی میں جلانے کا ایندھن اور اُپلے باہر کُھلے میں چھوڑ گئے تھے جو مکمل طور پر بھیگ چُکے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے بڑے زمینداروں کے گھر سادہ اور اکثر کچے ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنی امارت کی نمود و ونمائش زیادہ تر ڈیرے، بیٹھک پر ہی کرتے تھے جس کا میعار عموماً مویشیوں کی تعداد ہی ہوتی اور یہ ڈیرے، تھان اکثر گھروں سے دور، کھیتوں زمینوں میں اور گاؤں سے ذرا ہٹ کر ہوتے تھے۔ ان کچے گھروں پر گارے کا لیپ اور نقش و نگار کا سلیقہ بھی ہر گھر کا اپنا ہی ہوتا تھا جس میں عموماً خاتونِ خانہ کی حسِ جمال کا اظہار ہوتا تھا۔ منڈیروں پر پھول بوٹے، طاقچوں کی کناریوں پر بنائے گئے نقش یا کبوتر، مور، تتلیاں وغیرہ عموماً مقامی طور پر تیار کئے گئے رنگوں سے رنگین کئے گئے ہوتے تھے۔ چونے کا استعمال ابھی یہاں عام نہ ہوا تھا۔ اب خان صاحب پکانے کے کمرے میں جلانے کے لئے کچھ تلاش کررہے تھے، کوئی خُشک اور جلانے کے قابل چیز نہ ملی، دو چار خشک پارچے تو ضرور ملے لیکن ان کے جلانے سے ان کی بدبو چائے میں مل جانے کا خدشہ تھا۔ بارش کی شدت نے باہر جا کر کچھ ڈھونڈنے کا امکان بھی خبط کر دیا۔ گھر میں کلامِ مجید کے سوا کوئی کتاب نہ تھی کہ خان صاحب موصوف ان پڑھ تھے۔ کاغذ کی مد میں فقط جائیداد کی دستاویزات ہوا کرتی تھیں مگر کچھ دنوں سے چوری وغیرہ کے ڈر سے امانتاً وہ بھی اُنہوں نے اپنے چچا برخوردار خان کے گھر رکھ چھوڑی تھیں۔ اب سوچا کہ کسی مونڈھے یا کرسی کو کاٹ کر جلا ڈالاجائے مگر بہت تلاش کے باوجود کلہاڑی نہ ملی۔ مسئلے کا کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہوگا مگر اب جو کرم خان کے جذبہءِ محبت نے جوش مارا تو سامان کے کمرے میں آئے، اپنے ذاتی ٹرنک کا تالا کھولا۔ اس میں سو سو، پچاس پچاس، اور دس دس، پانچ پانچ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں رکھی تھیں۔ یہ کل ہی بیچی گئی بھینس اور گیہوں غلے کی مد میں وصول ہونے والی بھاری رقم تھی اور ہنوز شہر جا کر بینک میں جمع نہیں کروائی گئی تھی۔ اُس زمانے میں سو پچاس بھی خاصی رقم کی رقم تھی۔ خان صاحب نے نسبتاً نئے نوٹوں کو جو دیا سلائی دکھائی تو وہ الگ الگ جلنے لگے۔ باورچی خانے کے کمرے میں آئے اور پھر خان صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، نوٹ جلنے لگے، چائے پکنے لگی۔ ادھر ڈاکٹر صاحبہ کو جو فکر لاحق ہوئی کہ خاں صاحب نے چائے منگوانے میں کیوں تاخیر کر دی؟ دیکھتی بھالتی توشہ خانے کے کمرے میں آئیں اور یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔

”کرم خان، رُک جائیے، یہ کیا کر رہے ہیں؟”
ڈاکٹڑ صاحبہ نے انہیں منع کیا تو خان صاحب لمحے بھر کو رُکے پھر ہنس کر جواب دیا؛

”یہ غریب شاعر اپنے محبوب کی مہمان نوازی کے کہاں قابل ہو سکتا تھا، دیکھیئے، جلانے کی لکڑی تک نہ تھی آج گھر میں۔۔۔”

یہ کہہ کر دوبارہ چولہے میں نوٹ جھونکنے لگے۔ سو پچاس کی گڈیاں کم تھیں جلدی پھنک گئیں، اب دس اور پانچ والی گڈیاں تھیں۔ تب پانچ روپئے کا نوٹ آج کے ہزار والے سے چوڑا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ خاموش کھڑی دیکھنے لگیں۔ چائے غالباً دوسری یا تیسری دفعہ ‘اُبھری’ تو خان صاحب نے اُتار کر چینک میں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحبہ مہمان داری کے کمرے میں آبیٹھیں اور خموشی سے رنگین مونڈھے پر بیٹھی چائے پینے لگیں جو ساتھ ہی خان صاحب لے کر آن پہنچے تھے۔

”معاف کیجئے گا اگر اچھی نہ بنی ہو، مجھے چائے بنانے کا سلیقہ نہیں”

کرم خان نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو ڈاکٹر صاحبہ کے ہونٹوں پر ایک دلبرانہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر چُپ رہیں۔ اسی اثناء میں بارش تھمی اور ڈاکٹر صاحبہ کے جانے کا قصد ہوا تو کرم خان متفکر تھے اور ڈاکٹر صاحبہ بھی بدستور خاموش تھیں۔
”آپ چُپ کیوں ہیں میرے سردار؟”
کرم خان نے پوچھا۔ اس قصے کے راوی چاچا ریاض نائی بتاتے ہیں کہ خان صاحب کو جس کسی سے بہت محبت ہوتی اُسے ‘میرا سردار؛کہہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ گھوڑوں میں بھی ‘دلبر’ جو انہیں بیحد پیارا تھا اور کافی پہلے مر گیا تھا، اُسے بھی اکثر پچکارتے ہوئے کہتے تھے، ”مزاج کیسے ہیں میرے سردار؟”

”خان صاحب! دس ہزار تو جلا دئیے ہوں گے آپ نے۔۔۔ میں فقط پانچ ہزار کی تنخواہ دار سرکاری ملازم ہوں، مجھ پہ اس مظاہرے کا رعب طاری رہے گا!” ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی شال سمیٹ کر روانگی کا خاموش اعلان کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو کرم خان کی آنکھ میں آنسو بھر آئے۔

”اسے دولت کی نمائش سمجھیں یا عقیدت کا اظہار، آپ کو اختیار ہے میرے سردار۔۔۔”

یہ کہہ کر انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کے جوتے اٹھا کر ان کے پاؤں کے سامنے سیدھے کر دئیے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جوتے پہنے اور اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ خان صاحب انہیں واپس ہسپتال چھوڑ آئے۔ اب اس سوال کا جواب چاچا ریاض کے پاس ہے نہ کسی اور شناسا کے پاس کہ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کا کرم خان سے نہ تو کوئی ربط کوئی تعلق رہا نہ کوٹ سُکھے خان آنا جانا ہوا تواس کی کیا وجہ تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بے رُخی کا شکوہ کرم خان نے کبھی کسی دوست سے کیا نہ اپنی شاعری میں۔ البتہ اس کے بعد کی شاعری میں جو درد اور سوز ظاہر ہوا، کمال تھا۔ ہماری بولی کے ایک لوک گائیک جو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بڑے مشہور ہوئے اور لاکھوں میں ان کے کیسٹ ریکارڈ فروخت ہوئے، اکثر کرم خان کے اشعار گایا کرتے تھے جو فقط محبت، دوستی، جانثاری، وفاشعاری، تسلیم و رضا اور حُسن کی حکمرانی کے موضوع لئے ہوتے۔

[dropcap size=big]ڈاکٹر صاحبہ[/dropcap] کے چلے جانے کو کرم خان کے زوال کی وجہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے زوال کی کرونالوجی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اُنہوں نے وہ ولیز جیپ اور پجارو آئندہ دو ایک سالوں میں ہی بیچ ڈالیں اور سفر کے لئے کبھی کبھار وہی کار استعمال کرنے لگے جو ان کے چچا جان اور کم سن بیٹی کے لئے مختص تھی۔ دو تین موسم ایسے ہی گزر گئے تو جاڑوں کی کسی رات میں کوٹ سُکھے خان کے ایک دُکاندار حاجی یار محمد کمہار کی دُکان سے کچھ سامان چوری ہو گیا جس میں ریاض نائی کا چھوٹا بھائی حیات نائی ملوث تھا یا اس پر شبہ تھا۔

جب تھانے میں کارروائی ہونے لگی تو یار محمد کمہار نے کرم خان کا نام بھی درخواست میں ڈلوا دیا۔ برسوں پہلے کرم خان نے کسی پنچایت میں یار محمد کمہار کے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کا کینہ نکالنے کا موقع اب اسے حیات نائی کے ذریعے مل گیا تھا کہ حیات نائی اپنے بڑے بھائی ریاض کو بیحد عزیز تھا اور اسی وساطت سے کرم خان کا بھی خوب نیازمند تھا۔ پہلے تو تھانیدار نے پس و پیش سے کام لیا کہ اُس نے کرم خان کو ایم این اے اور ایم پی اے سطح کے لوگوں کے ہاں مہمان ہوتے ہوئے بھی دیکھ رکھا تھا لیکن پھر حاجی یار محمد نے میاں غفار شاہ کے توسط سے تھانیدار کو قائل کر لیا۔ حالیہ الیکشن کے بعد ایک کرم خان پر ہی کیا موقوف، سبھی بلوچوں کا اثر و رسوخ پہلے سا نہ رہا تھا۔ کرم خان اب مھض ایک ڈھلتے ہوئے زمیندار اور ایک ”عاشق مزاج” شاعر کے سوا تھا ہی کیا، وہ مہمانداریاں اور وہ رسوخ اب قصہ ہائے پارینہ پن چکی تھیں۔ تھانیدار کو بات سمجھ آ گئی۔ حیات نائی نے تھانے میں ایک رات کی ”مہمان نوازی” میں ہی چوری تسلیم کر لی اور اقبالی بیان کے لئے خالی کاغذ پر انگوٹھا بھی لگا دیا۔ اب ریاض نائی کی شامت آئی۔ غرض تھانیدار، محرر، تفتیشی اور ہر اس شخص جس کا تعلق تھانے کی کسی کارروائی سے تھا نے کرم خان کو اس تمام کھیل میں ناصرف خُوب رگیدا بلکہ پیسے بھی خُوب اینٹھے۔ خان صاحب کو ایک تو اپنی عزت ناموس کا خیال تھا کہ ایک کمہار کی مدعیت کی وجہ سے اگر ایک بار بھی کچہری جانا پڑ گیا تو بھلے بعد میں بری بھی ہو گئے تو بھی ساری ساکھ اور عزت کی فوج پلٹن ہو کر رہ جائے گی۔ دوسرا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ریاض یہ سمجھے کہ اُس کے معاملے میں خان صاحب نے پیسے کو عزیز تر رکھا۔ تھانوں کی اکنامکس میں ایسے سفید پوشوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ خیر، تھانیدار صاحب کو بالآخر اندازہ ہو گیا کہ حاجی یار محمد کمہار کی دی گئی رشوت بہرحال ایک بے قصور اور معزز زمیندار کو تادیر رگیدنے کے لئے کوئی معقول معاوضہ نہیں ہے۔اس نے فریقین کو پابند کیا کہ مسئلہ پنچایت میں حل کریں اور اور پرچہ کاٹنے کے بجائے خارج کر دیا۔

مسئلہ پنچایت میں فیصل ہوا، حیات نے چوری کا سامان لوٹا دیا، جرمانہ ہرجانہ بھی دینے پر رضامند ہو گیا۔ ریاض نے کلامِ مجید پر قسم دے دی جبکہ خان صاحب کو اور تو کچھ نہ کہا گیا مگر جب یار محمد کمہار کے مدعا علیہہ کے طورپر پنچایت میں بیٹھے تو پھر وہ وقار اور دبدبہ علاقے میں نہ رہا، جگ ہنسائی اور کاناپھوسیاں تو فطری امر تھیں۔ چھوٹی چھوٹی حیثیت کے ٹھگ، لُچے، مقدمے باز اور ٹاؤٹ بے تکلف ہونے لگے اور اُن پر سے خان صاحب کا رعب جاتا رہا۔ ڈاکٹرنی کا قصہ تو برسوں سے زبان ذدِ خاص و عام تھا اب نائیوں اور کمہاروں کے تنازعے میں پارٹی بن کر اور بھی سبک ہوئے۔ نائی تو اپنا یار تھا ان کا، رہی بات کمہار کی، تو وہ بھی ایسی تشویش کی بات نہ تھی مگر کمہاروں نے خود اس معاملے کی تشہیر کی۔

اصل خرابی یہ ہوئی تھی کہ دریا پار کے میدانی علاقے کا کوئی متوسط سا زمیندار کچھ سال قبل یہاں آکر صحرا نشین ہوا تھا۔ وہاں کے میراثیوں میں سے تھا مگر یہاں آ کر پہلے میاں کہلانے لگا اور سفید پوشی اور وضعداری اور معززینِ علاقہ کی خوشامد میں کمال حاصل کیا، پھر ہاشمی بن گیا۔ پہلے تو سال بھر خوب لعن طعن کا مورد ٹھہرا پھر لوگ طنزاً اسے شاہ صاحب کہنے لگے۔ اب جبکہ اس کا کاروبار بڑھا اور کسی سیاستدان کا چمچہ بنا تو پانچ سات سال کے اندر ہی پوری جلالت مآبی سے سید کہلانے لگا۔ یہاں کے جو نسبی سید اُردو بان مہاجر تھے، وہ تھے تو پڑھے لکھے مگر سیلانی سی طبیعتوں کے نیم پاگل سے لوگ ہونے کی وجہ سے اتنے غریب اور کنگال تھے کہ ڈٹ کر اس سے لڑ بھی نہ سکے، آخر لے دے کے ان کے پاس بھی تو وہی ناموس ہی بچی تھی۔ ان کے بڑے بزرگ باوا گُل حسین شاہ نے تھانے میں میاں غفار شاہ کے خلاف درخواست بھی دی لیکن بے سود۔ کرم خان نے ان کا ساتھ دیا کہ چار پشتوں سے انہی کے مرید تھے مگر اب ان کا سورج بھی ڈھل چُکا تھا؛ غفار شاہ کو اس بات کا غم و غُصہ تب سے تھا۔ مرحوم محمد خان بلوچ اور برخوردار خان بلوچ نے ایک معقول قطعہ ء اراضی باوا گُل حسین شاہ کو مدتوں پہلے نذرانہ کیا تھا جسے وہ تب سے کاشت کررہے تھے اور ان کی گزران اسی آمدن سے تھی۔

بلدیاتی الیکشن ہوئے تو کرم خان صاحب نے ان الیکشنوں میں چئیرمین کی نشست کے لئے دوبارہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دئیے کہ شاید اسی سے کچھ ساکھ بحال ہو۔ ان کے مقابلے میں کوئی ٹکر کے نواب زمیندار بھی ہوں گے مگر امید افزا بات یہ تھی کہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کے آس پاس میں بلوچ آبادی کم نہ تھی اور سیاسی طور پر اب بھی بطور قبیلہ ان کا ووٹ بینک بھاری تھا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر پھر خرابی یہ ہوئی کہ میاں غفار شاہ نے عدالت میں یہ درخواست دے دی کہ کرم خان اکہتر کی جنگ میں فوج سے بھگوڑا ہو گیا تھا، اس کی اہلیت مشکوک ہے۔ کرم خان نے جج کے سامنے پیش ہو کر یہ بتایا وہ ایک امیر گھرانے کے اکلوتے بیٹے تھےاور ساری آسائشیں چھوڑ کر اور ماں کی مرضی کے خلاف سترہ سال کی کچی سی عمر میں بھرتی ہوئے تھے۔ بنگالے کی قید سے لوٹے تو ماں انتظار میں مرچکی تھی۔ بس اسی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ نوکری پر نہ گئے اور یہ ان کی زندگی کا ایسا تلخ تجربہ تھا کہ اس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کیا۔ رانچی میں ہلالِ احمر کے توسط سے ملنے والا ماں کا آخری خط جج کے سامنے رکھا تو اُن کی بھی آنکھ بھر آئی۔جج صاحب نے کہا؛ بلوچ صاحب مجھے آپ کی نیک نیتی پہ کوئی شک نہیں، مادرِ وطن ہو یا مادرِ مہربان ہو، دونوں کی محبت میں انسان کچھ بھی کربیٹھتا ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں ورنہ مجھے ویریفیکیشن کا کیس رجمنٹل سنٹر بھیجنا پڑے گا۔

خان صاحب نے میاں صاحب کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس بے ہودگی کا بدلہ ضرور لیں گے۔ مشورہ دینے والوں نے کہا کہ میاں صاحب دھیان رہے، کرم خان کا غُصہ کئی برسوں میں ایک ہی دفعہ دیکھنے کو ملاتھا مگر کوٹ سُکھے خان کی ہر دیکھنے والی آنکھ کو آج بھی یاد تھا۔ خیر، گذشتہ را صلوات، الیکشن کے بعد میاں غفار شاہ ہاشمی جونہی یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اُنہیں خیال آیا کہ اب ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں۔ میاں صاحب نے اب باوا گُل حُسین شاہ کے قطعہ ء اراضی میں واقع کیکر کا ایک بڑا سا جھنڈ کٹوا کر راتوں رات اس پر ہل چلوا دئیے۔ صبحدم جب اس بر ‘بِجائی’ ہو رہی تھی تو فساد برپا ہو گیا۔ سید تو تعداد میں اتنے نہ تھے، مگر بلوچوں کے نوجوانوں نے ڈنڈے بلم کھینچ لئے اور خُوب سر پھٹول ہو گئی۔ سرفراز خان بلوچ علاقے کے آخری بلم بازوں میں سے تھا اور اس وقت بہتر سال کا بوڑھا تھا، اُن نے جو بلم کھینچا میاں غفار شاہ کے چھوٹے سالے کو اچار کی ڈلی کے مانند پرو کر رکھ دیا۔ اُدھر میاں غفار شاہ کو کچھ اور نہ سوجھی تو دفعہ سات اکیاون کی درخواست تھانے میں دے دی اور ساتھ ہی گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس کو چارہ نہ تھا سو کرم خان اور باوا گُل حسین شاہ کو بھی گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور دن بھر تھانے میں رکھ کر شام کو چھوڑ دیا کہ میاں صاحب خود ہی پنچایت کرنے پر راضی ہوگئے۔ پھر بھی زمین پر دعوے کی دیوانی کی کارروائی کئی سال عدالت میں چلتی رہی۔ پھر فوجداری بھی اس طرح شامل ہو گئی کہ میاں صاحب کا سالا زخموں سے وہ چُور ہوا کہ مہینہ بھر صاحبِ فراش رہ کر مر گیا۔ میاں غفار شاہ نے کسی مصلحت کی بنا پر اس کا پرچہ ریاض نائی پر کروا دیا اور کرم خان کو مشاورتِ قتل کے زمرے میں شامل کیا جس کی پیروی ریاض کی طرف سے بھی کرم خان کے وکیل نے کی۔ آئے روز کئی چھوٹے بڑے جھوٹے مقدمات میاں صاحب ان کے علاوہ کرواتے رہتے تاکہ خان صاحب دم نہ لینے پائیں۔ پنجابی زمیندار کی سب سے بڑی دشمن کچہری ہے۔ ان سالوں میں کرم خان کے گھوڑوں والی لاری بِکی، پھر گھوڑے بکے اور گائے بھینسوں کا باڑہ بھی گھٹتا گیا۔ پہلے کبھی جو لوگ کرم خان کی املاک خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے مگر انہیں خریدنے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا، اُنہی نے اب یہ تمام املاک بھی خرید لیں۔ پُنوں، پکھُو، مکھنا اور بُلبُل اب یا تو چھوٹے شوقینوں کی سواریاں تھے یا تانگوں کی مشقت میں ذلیل ہو رہے تھے۔

[dropcap size=small]زمانے[/dropcap] کا چلن بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔ ہماری دیسی رہتل میں ذات پات کا نظام ختم تو ہرگز نہیں ہوا تھا لیکن غریب اور چھوٹی ذاتوں کے لوگوں میں اس بدبودار نظام کے طوق کو اپنے گلے سے نکال کر کسی اور ڈوبتے ہوئے کے گلے ڈال دینے کا حوصلہ آرہا تھا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کررہے تھے اور دن رات پیسہ جمع کرنے میں بھی جُتے ہوئے تھے۔ جہاں تعلیم انہیں چھوٹی ذاتوں والے فرسودہ خیال کی قید اور احساسِ کمتری سے نکال رہی تھی، وہاں کئی ایک کو دولت یہ اعتماد بخش رہی تھی کہ ماضی کے اشراف اور نجیبوں کی توہین و تضحیک کر کے یک گونہ سرور اور لُطف حاصل کریں اور اپنے آباء و اجداد کی توہین و تضحیک کے انتقام کا فریضہ بھی ادا کریں۔ شاید قدرت کا انصاف اسی میں مضمر تھا لیکن یہ جو کرم خان کی توقیر اور دبدبہ گھٹتا چلا گیا، وقت کی اس نا انصافی کا شکوہ اب اُن کے شعروں میں بھی ملتا تھا۔ اُن کے ایک چہار مصرع شعر کا مفہوم:
”اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے گھائل ہوئے اور بِجُو اُن کے سروں پر سوار ہوگئے، نجیب ہار گئے اور بداصل لوگ حکمران بن گئے۔ لیکن کرم خاں! اُن سے کہہ دو کہ گیدڑ اگر شیر کا خُون پی بھی لے تو شیر کا خُون اس کی رگوں میں نہیں دوڑے گا!”

لیکن کرم خان کے ایک قدر دان، ہمارے اُردو کے اُستاد جناب عثمانی صاحب کے بقول کرم خان ٹھہرے بھولے آدمی، وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اشراف اور کمین ہونا کوئی بائیولوجی کا سوال نہیں بلکہ سوشیالوجی کا سوال ہے۔ پروفیسر صاحب کے خیال میں انہی ٹُچوں، ٹاؤٹوں، مقدمے باز ٹھگوں، لُچوں اور بدمعاشوں کے پاس دولت آئے گی تو ان کی اگلی نسل کے پاس تعلیم بھی آئے گی تو تعلیم کی برکت سے اُن میں شرفاء والے اوصاف بھی آجائیں گے پھر کسے خبر کہ کرم خان کی اولاد اور قبیلے میں سے غریبی اور تنگدستی کے باعث آئیندہ ایک دونسلوں میں لُچے اور کمینہ سوچ کے لوگ سر اُٹھالیں۔

خیر کرم خان کی دولت، جاگیر جائیداد گھٹی تو میاں غفار شاہ ہاشمی صاحب کا ستارہء اقبال بلند تر ہونے لگا اور انہوں نے اپنے ٹُچے چمچے نوازنے شروع کر دئیے اور وہ بھی اب لٹھے اور دو گھوڑا بوسکی کے کپڑے پہن، طرے دار پگڑیاں باندھ پنچایتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے لگے اور سَتھی سر پنچ بن کر جھوٹ کا ساتھ دینے لگے۔

قدرت نے ایک کرم بہرحال کرم خان پر ضرور کئے رکھا کہ اُن کی حسِ مزاح اور اعلیٰ ظرفی میں ان ابتلاء اور آزمائش کے برسوں میں بھی کوئی لغزش نہ آئی۔ ان دنوں ڈیرہ شاکر خان تتاری کے لونڈوں نے ایک بڑی سنجیدہ شرارت کی۔ ڈیرہ ایک بڑا قصبہ تھا جو کہ تقسیم سے پہلے تو شہر کا شہر رہ چکا تھا اور کوٹ سُکھے خان سے دس ایک میل کی مسافت پر تھا، وہاں کی ٹیم چند دن پہلے کبڈی کے ایک کھیل میں ہاری تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس میں کوٹ سکھے خان والوں نے امپائر منصف کے ساتھ ساز باز کی تھی اور اس پر سخت نالاں تھے۔ڈیرے میں انہی دنوں میں اچانک آوارہ کُتوں کی بہتات ہو گئی اور لوگ عاجز آگئے کہ آئے روز کسی بھیڑ بکری کو کاٹ لیتے یا راہگیروں کو ستاتے تھے۔ ایک رات وہاں کے لڑکے بالوں نے کیا حرکت کی کہ سارے آوارہ کُتوں کو پکڑ کر ایک لاری میں ڈالا اور کوٹ سکھے خان بلوچ چھوڑ کر واپس بھاگ گئے۔ اگلے ہی روز کوٹ سکھے خان کے لوگوں کو اس حرکت کا اندازہ ہوا اور یہ خبر بھی کہیں سے مل گئی کہ یہ حرکت کس کی ہے۔ کرم خان کے ڈیرے پر بات چھڑی تو لوگوں نے کہہ دیا کہ خان صاحب اس مسئلے کا حل نکالیں کہ ڈیرے کے عوام کو کیونکر سبق سکھایا جائے۔ خان صاحب نے کوٹ سکھے خان کے چند شریر لڑکوں کو بُلا کر حُکم دیا کہ ڈیرے سے آنے والے تمام آوارہ کُتوں کو بلکہ اپنے گاؤں کے بھی جو پکڑے جاسکیں، پکڑا جائے۔ خان صاحب نے ریاض نائی اور ایک دور کے بھانجے بھتیجے کی مدد سے گتے کے کئی بورڈ بالشت بالشت کے، بنوائے اور ان پر ایک خوشنما تحریر لکھ کر تمام کُتوں کے گلے میں لٹکانے کا حُکم دیا۔ رات ہوتے ہی ان سب کو ایک ویگن میں لاد واپس ڈیرہ شاکر خان تتاری بھجوا دیا گیا۔ اگلی صبح وہاں ہر گلی کوچے میں آوارہ کُتوں کے گلے میں یہ تحریر لٹکی نظر آئی،
”مژدہ ہو اہلِ ڈیرہ، ہم واپس آگئے!”
اور جہاں ڈیرے کے لوگوں کو ہنسی اور شرم مل کر آئی، وہاں وہ کوٹ سُکھے خان والوں کی حسِ مزاح کے قائل بھی ہو گئے۔

اس سے ضمناً ایک اور قصہ بیچ میں آ پڑتا ہے جو کرم خان کے بھلے وقتوں کی یاد گارہے۔ باوا گل حسین شاہ کے ایک چچا زاد بھائی سید ببر علی شاہ صاحب کوٹ نیازی خان بلوچ میں رہتے تھے۔ سابق فوجی تھے اور نہایت ہٹ دھرم، ضدی اور فتنہ پرداز تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کرم خان صاحب سے گائے خریدنی چاہی جو انہیں بقرعید کے لئے بہت پسند آئی تھی۔ سید صاحب لین دین کے بھی بڑے بد دیانت تھے، سو خان صاحب حیلے بہانے سے ٹرخا گئے۔ سید موصوف کو سخت غصہ آیا، رات کے اندھیرے میں کوٹ سکھے خان آئے اور گائے کی دُم کاٹ کر فرار ہو گئے۔ گائے کو شرعی عیب لگ گیا۔ خان صاحب کو اگلے ہی روز مخبری ہو گئی۔ آپ سادات کی عزت بھی خوب کرتے تھے، ناراض بھی بہت تھے۔ ریاض نائی کو بلایا، اس ظلم پر اردو میں ایک مرثیہ لکھا اور امام باڑے کے نوحہ خواں کو بلوایا، جلوس اکٹھا کیا اور لے کر کوٹ نیازی خاں پہنچے جہاں پورے گاؤں کی گلیوں میں گائے کو آگے آگے چلا کر سبھی نے ماتم کرتے ہوئے بآواز بلند یہ مرثیہ پڑھا؛
زمانے والو یہ اُمت پہ کیا ستم ٹُوٹا
کہ کاٹ لائے ہیں سادات ان کی گائے کی دُم
ہائے یہ دُم، گائے کی دُم، ہائے یہ دُم، گائے کی دُم!
کہتے ہیں کہ سید ببر علی کی اپنے سادات نے وہ گت بنائی کہ آج تک نہیں بھولے”

[dropcap size=big]اعلیٰ ظرفی[/dropcap] کی بات کریں تو انہی دنوں میں کرم خان کو ایک اور پنچایت کا بھی سامنا ہوا۔ یارمحمد کمہار اب حاجی یار محمد کہلاتا تھا، اس کی دُکان اب اتنی پھل پھول چکی تھی کہ وہ گاؤں کا سیٹھ بن چکا تھا اور تھوک پرچون کے سودے سلف کا بڑا کاروباری تھا۔ اس کی بیٹی چند سال قبل دریا پار کے غیرب کمہاروں میں بیاہی گئی تھی۔ اب وہ کسی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے روٹھ کر مائیکے آن بیٹھی۔ ایک ہی ماہ گزرا تھا کہ دریا پار کے کمہاروں کا ایک وفد کوٹ سُکھے خان آ پہنچا اور کرم خان سے پنچایت کی ثالثی کرنے کا کہا۔ وہ لوگ آج بھی کرم خان کو میاں غفار شاہ صاحب سے بڑھ کر معزز گردانتے تھے۔ حاجی یار محمد نے اعتراض کیا کہ میاں صاحب اُس کے محسن ہیں، ثالثی وہ کریں گے تو پنچایت ہو گی۔ کرم خان نے میاں صاحب کی ثالثی تسلیم کر لی اور کہا کہ وہ پار والے کمہاروں کی طرف سے پنچایت میں بیٹھیں گے۔ ایسی پنچایتوں کا انعقاد ڈیرے پر نہیں بلکہ گھر کے آنگن میں ہوتا ہے۔ پنچایت ہوئی تو معاملہ کھلا۔ جیسا کہ ہم دیہاتیوں کا کلچر ہے کہ آغازِ رنج نہایت معمولی سی بات سے ہوا تھا۔ یار محمد کی لڑکی کے ہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، کسی دن بچوں کے لئے دودھ لیتے ہوئے ساس نے اُسے سُنا دی کہ ”جنتے ہوئے تو لڑکیوں کی قطار لگا دی، دودھ کے لئے یوں مٹکے بھر رہی ہے جیسے باپ کی بھینس کھڑی ہے اس کی!” بحث جرح ہوئی تو پار کے کمہاروں نے اتنی بات تو تسلیم کر لی کہ ساس نے یہ کہا تھا مگر اُن کے خیال میں یار محمد کی لڑکی نے جو جواباً سب کے بخیے ادھیڑے تھے، وہ ناروا بات تھی اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ معافی مانگ کر لڑکی کو واپس لینے آئے ہیں۔ یار محمد اس پر بھی راضی نہ تھا کہ لڑکی کو واپس بھیج دے۔ کرم خان کو معلوم تھا کہ یار محمد میں نودولتیوں کی سی انا ہے، لڑکی بے قصور اس کی بھینٹ چڑھے گی۔ وہ گھر بسانا چاہتی تھی اور یار محمد کے لہجے میں پیسے کا غرور بول رہا تھا۔ کرم خان نے بھری پنچایت میں کہہ دیا؛ ”حاجی یار محمد! میں تیری دریا پار والی برادری کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری سماجت کرتا ہوں کہ بیٹی کا گھر بسنے دے، آئیندہ انہوں نے اسے کچھ کہا تو پھر یہ ناانصافی میں سمجھوں گا کہ میری بیٹی سے ہوئی ہے” یار محمد لاجواب ہوگیا۔ اس کی بیٹی کو واپس بھیجے جانے کےلئے تیار کیا جانے لگا۔ پنچایت کے شرکاء کو ابھی چائے پانی پلایا جا رہا تھا کہ کرم خان نے ریاض نائی کو بھیج کر اپنے ڈیرے سے ایک بھوری گائے کھلوائی اور جب یار محمد کی بیٹی اپنی بچیوں کے ہمراہ تیار ہو کر رُخصت ہونے لگی تو کرم خان نے گائے کی راسیں اُسے تھماتے ہوئے کہا؛
کسی کی جرات ہے کہ کوٹ سُکھے خان کی بیٹیوں کو طعنہ دے! یہ گائے تیری ہے بیٹا، بیٹیاں بھی تیری ہیں۔۔۔ گائے بھی رب سوہنے نے دی ہے، بیٹیاں بھی رب سوہنے نے دی ہیں۔۔۔ بندہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ہم مٹی سے بھی کمتر ہیں۔۔۔ بڑے بول رب سوہنے کو پسند نہیں۔۔۔”
وہ لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے جارہے تھے اور سوائے میاں غفار اور حاجی یار کے، سب کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔ زوال کی اترائی پر بھی کرم خان کی اعلیٰ ظرفی اپنے کمال پر تھی۔

[dropcap size=big]کچہری[/dropcap] کے چکروں نے جب خان صاحب کو شہر کا مستقل مسافر بنا دیا تو ایک دفعہ خان صاحب بیمار پڑ گئے۔ اگرچہ گُردے کی تکلیف کی وجہ سے ایک مدت سے مے نوشی کا شغل بھی ترک کر چکے تھے لیکن اب پھر اس روگ نے سر اُٹھا لیا۔ کچھ پتھری سی تھی جو اُن دنوں ایک کڑا روگ سمجھی جاتی تھی۔ ایک روز کچہری سے نکلتے ہی شدید درد نے آلیا۔ چاچا ریاض نائی انہیں شہر کے بڑے ہسپتال لے گئے۔ وہ انہیں سہارا دے کر تانگے سے اتار رہے تھے (کار ان دنوں چچا کی خدمت پر مامور تھی کہ وہ بہت ہی بیمار تھے) کہ بالکل پہلو میں ایک سرخ کرولا کار رکی اورسفید لیب کوٹ میں ملبوس ایک خاتون کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ اس شہر کی گہماگہمی میں ہزاروں اجنبی چہروں میں یہ ایک چہرہ کرم خان کا خُوب دیکھا ہوا تھا۔ اسی لمحے خاتون ڈاکٹر نے انہیں دیکھا تو قطعی غیر ارادی طور پر آگے بڑھ کر خان صاحب کو مخاطب کر کے بولیں؛ ”خان صاحب؟ آپ؟ کیا ہوا آپ کو؟” خان صاحب تکلیف کی شدت یا کسی اور وجہ سے کچھ جواب نہ دے سکے۔ ڈاکٹر رابعہ نے کار پارک کی اور انہیں ہمراہ لے گئیں۔ ایمرجنسی سے انہیں طبی امداد دلوائی اور جب وہ اُٹھ بیٹھے تو انہیں اپنے دفتر لے گئیں جس کے باہر ” ڈاکٹر رابعہ عمر حیات” کا بورڈ لگا تھا اور ریاض نائی نے آہستہ سے یہ تحریر اُن کے کان میں سُنا دی۔ اُن کا یہ نام پہلے نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھے، احوال پرسی کا آغاز ہوا۔ خان صاحب کی ہلکی پھلکی سی نمی لئے حیران آنکھیں ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھے جا رہی تھیں۔ فطرت حُسن اور نزاکت اگر انسان کو ودیعت کردے تو وہ ہر عمر میں کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب بھی حسین تھیں، سر میں سفید بالوں کی ایک باریک سی لٹ کے باوجود پتلے نقش نین، ہونٹوں کی لالی اور مخروطی انگلیوں کی نزاکت ویسی ہی تھی۔ دُبلی ہو جانے میں پہلے سے بھی نازک لگ رہی تھیں اور آنکھوں میں کامیاب لوگوں کی سی پروقار تھکن کے ڈورے تھے۔آنکھوں کا وہ حُسن باقی تھا جس پہ کرم خان کی شاعری میں تشبیہوں اور استعاروں کے لشکر قربان ہو چکے تھے۔ دوا دارو کی بات ہو چکی تو ڈاکٹر صاحبہ خالی خالی سی نگاہوں سے کچھ دیر کرم خان کو دیکھتی رہیں۔ چہرے کی جھریوں اور سر میں سفید اور سیاہ بالوں کی کھچڑی نے خان صاحب کی شخصیت کی متانت اور وقار کو بڑھا تو دیا تھا مگر رئیس زادوں والے رعب، دبدبے، صحت اور جوانی کی آخری رمق بھی اس چہرے سے رُخصت ہو چکی تھی۔ جو بھولپن کبھی اس چہرے پر تھا، وہ ایک بے چارگی سے بدل رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان سے بیٹی کی خیرئیت کا پوچھا۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے خداجانے کیا جواب دیا۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ان کی آواز بہت دھیمی تھی۔ ”اب بھی شعر کہتے ہیں؟” ڈاکٹر صاحبہ نے نرمی سے پوچھا۔
”اب اور بچا ہی کیا ہے کرنے کو؟” خان صاحب نے مسکرا کر کہا تو ریاض نے انہیں کہنی ماری کہ ایسے مسکینی کا اظہار نہ کریں مگر وہ سیدھے آدمی تھے۔ ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ خان صاحب نے اُن سے یہ ہرگز نہ پوچھا کہ وہ کہاں چلی گئی تھیں اچانک اور اتنے سال کہاں غائب رہیں۔ دوا کی پرچی لے کر اُٹھنے لگے تو ڈاکٹر صاحبہ چونکیں،
”خان صاحب! آپ چائے پیے بغیر نہیں جاسکتے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہم بلوچوں کی مہمان نوازی کو تو نہیں پہنچ سکتے لیکن آپ نے مجھ سے چائے نہ پی تو یہ میری نالائقی ہوگی”

خان صاحب سادگی سے مسکرا کر بیٹھ رہے۔ چائے کے دوران کچھ خاص بات نہ ہوئی، ڈاکٹر صاحبہ اپنے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں اور چاچا ریاض سے ان کے گھر بار کی خیرئیت پوچھتی رہیں۔ آخر پہ اُنہوں نے اپنے دفتر اور گھر کا ٹیلی فون نمبر ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور تاکید کی کہ خان صاحب ان کے پاس چائے پینے ضرور آیا کریں، یہاں ہسپتال چاہیں یا ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ کی رہائش پہ، وہ ہمیشہ ان کے معزز مہمان ہوں گے۔

چاچا ریاض نائی کا قول ہے کہ ڈھلتی عمر میں جوانی کی کسی محبت کا جاگ اُٹھنا کسی سمجھدار آدمی کو احمق اور معزز آدمی کو بے وقعت کرنے میں آخری کسر ہوتی ہے جس کے بعد نہ عقل رہتی ہے نہ وقار۔ کرم خان صاحب کو ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے کون سا شکوہ تھا جو اب روا رکھتے، اُسی والہانہ پن سے اُن کی محبت کا دم بھرنے لگے۔ ہر دوسرے روز ڈیرہ شاکر خان تتاری والے پبلک کال آفس پہنچے ہوتے اور آپریٹر کے وارے نیارے ہو جاتے۔ ہفتہ بھی نہ ہونے پاتا تھا کہ ان کی پچاسی ماڈل کار کوٹ سُکھے خان کی صبح کے سکوت میں تیرتی ہوئی شہر روانہ ہو جاتی۔ چاچا ریاض نائی ڈرائیور ہوتا اور کرم خان صاحب ہسپتال کے لئے عازم ہوتے۔ گُردے کا عارضہ تو تھا ہی مگر کہتے تھے کہ ڈاکٹر رابعہ دولتانہ کی چائے سے بڑا میرے مرض کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے اکثر شدید تکلیف میں روانہ ہوتے مگر ڈاکٹر صاحبہ کے دفتر میں وارد ہوتے ہی بھلے چنگے ہو جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بڑی مروت سے پیش آتیں، اُن کی سرائیکی شاعری پہ خوب داد دیتیں اور اُن کے لطائف پر خُوب کھلکھلا کر ہنستیں۔ شہر میں بڑا ریستوراں بن چکا تھا، کبھی وہاں دوپہر کے کھانے کا اہتمام ہوتا کبھی لائل پور نکل جاتے جس کا نام تو بدل چکا تھا مگر ہم دیہاتیوں کو ابھی بھی فیصل آباد کہنے میں دقت ہوتی تھی۔ شہر کے سنیما گھروں میں نیا فلم آتا تو اکثر کرم خان صاحب منت سماجت کرکے ڈاکٹر صاحبہ کو فلم بھی دکھا لاتے۔ ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ سے بھی شناسائی بن گئی جو کہ شاعری کا کمال ذوق رکھتے تھے اور کرم خان صاحب کے مداح ہوگئے۔ انہیں کسی قسم کا شک شائبہ یا اعتراض نہ تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ کے مہمان کیوں ہوتے تھے۔ دراصل انہیں اس طرح کے سوالات کی فرصت تھی نہ ضرورت۔ ڈاکٹر صاحبہ سے ان کی شادی باہمی محبت کی تھی اور آج تک ان کے درمیان کوئی بدگمانی نہ ہوئی تھی۔ پھر بھی کچھ عرصے بعد دفتر یا گھر کے بجائے صرف لائل پور میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جن میں ڈاکٹر صاحبہ تو فقط دوستانہ مروت سے پیش آتیں مگر خان صاحب تو گویا ان کے قدموں میں بچھ جایا کرتے تھے۔

اب احوال یہ تھا کہ خان صاحب، ڈاکٹر صاحبہ کےلئے تحائف خریدنے کبھی لاہور پہنچے ہوتے تو کبھی راولپنڈی اور کوئی عید، تہوار قضا نہ کرتے۔ پھر جب ڈاکٹر صاحبہ نے شہر میں اپنی کوٹھی کی تعمیر کا کام شروع کروایا تو دفتر میں اس کا ذکر ہوا۔ خان صاحب جھٹ سے بولے، ”آپ کو جس طرح کا بلڈنگ میٹیریل درکار ہو، بتائیے گا، سرگودھے میں میں نے اپنا کاروبار آغاز کیا ہوا ہے، میری کمپنی کے ہوتے ہوئے آپ کا مکان کوئی اور بنائے گا تو آپ میرا دل توڑیں گی” ڈاکٹر صاحبہ کو پیشکش پسند آئی۔ باہر نکل کر ریاض نائی سے کہنے لگے چلو سرگودھے، ملک شبیر، پُل گیارہ والے کے پاس!! ملک موصوف ان کے پرانے شناسا اور ایک کرشنگ پلانٹ اور ایک معمولی سی تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔الغرض ڈاکٹر صاحبہ کی کوٹھی کی تعمیر پر جو لاگت ہوئی اس کا نصف سے زیادہ انہیں اس لئے بچت میں رہا کہ خان صاحب کی ”کمپنی” نے ان سے کمال رعایت کی تھی۔ ملک شبیر کو پورے پیسے مل گئے، اسے اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ ہمارے ضلعے میں اس کی مشینری کسی کے نام سے چلے۔عمر حیات صاحب ایک دیانت دار افسر تھے، سو انہوں نے اس رعایت پر خان صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا ورنہ اس لاگت کا مکان اُن کی بچت اور تنخواہ کے بس سے ذرا باہر ہی تھا۔

خان صاحب نے جو لاکھوں روپیہ اپنی گرہ سے ادا کیا تھا، اس میں ان کے مویشی لگ بھگ سبھی بک گئے، پھر دریا کنارے والی زرعی اراضی بک گئی، پھر صحرا کی چنے کی کاشت والی بارانی زمین فروخت ہوئی۔ چاچا ریاض اکثر اُن سے الجھتے کہ یہ پاگل پن نہ کیجئے مگر خان صاحب کہاں سنتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بھانپ تو گئیں کہ سیدھا سادہ دیہاتی چالاکی و پرکاری دکھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے مگر چُپ رہیں۔ خان صاحب کی نیت بھی تو صاف تھی۔ فقط بے لوث محبت کے سوا ان کا کوئی مدعا نہ تھا۔ جلد ہی ڈاکٹر صاحبہ بھی گھبرانے سی لگیں اور اگر نرمی سے منع بھی کرتیں یا تعمیراتی کام کی بقایا کی رقم ادا کرنے کا تذکرہ کرتیں تو خان صاحب کی آزردگی کا عالم دیدنی ہوتا۔

سال ہی گزرا ہوگا کہ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ لائل پور ہو گیا تو خان صاحب نے بھی لائل پور ٹھکانہ کر لیا۔ ایک سادہ سا مکان شہر کے مضافات میں خریدا اور اکثر وہیں قیام کرنے لگے۔ڈاکٹر صاحبہ کو اب اپنے نئے گھر سے لائل پور آنے میں دو گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی جو کہ پولیس کی جیپ میں تو اور بھی تھکا دینے والی ہوتی تھی۔ اپنی کار وہ گھر بنانے کے عمل میں فروخت کرچکی تھیں۔ سو ایک دفعہ پھر کرم خان کے جوشِ محبت نے کھولاؤ دکھایا اور کوٹ مبارک سیال والی زرعی زمین کا ایک قطعہ بیچ کر لاہور سےنئی کار خرید لائے اور ڈاکٹر صاحبہ کی سالگرہ کے تحفے کے طور پر اُن کی خدمت میں پیش کر دی جو اس اونٹ کی پیٹھ کا آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اب ڈاکٹر رابعہ نے ناصرف سختی سے منع کردیا بلکہ ریاض سے کہا ”ریاض بھائی کار واپس لے جائیے اور کرم خان کو سمجھائیں کہ یہ حقِ دوستی ادا کرنے سے کہیں آگے کی حرکت ہے، مجھے مزید شرمسار نہ کریں” چند روز بحث ہوتی رہی پھر ڈاکٹر صاحبہ نے حتمی طور پر کہہ دیا کہ وہ یہ تحفہ قبول نہیں کر سکتیں اور یہ کہ وہ خان صاحب کی سابقہ محبت اور والہانہ جذبات کی قدر کے طور پر یہ سب کچھ مروتاً کررہی تھیں اور ان سے مل جل رہی تھیں مگر اب خان صاحب معقول نہیں رہے۔ ”کرم خان، اس ڈھلتی عمر میں مجھے بھی رُسوا نہ کیجئے اور خُود بھی نہ ہوں۔ بہتر ہے واپس گاؤں چلے جائیں، میں آپ کی ایک چائے کا قرض نہیں اُتار سکی تھی، اس پاگل پن کو کہاں سہار سکوں گی۔ آئیندہ آپ میرے دفتر نہ آئیے گا، یہاں آپ کو چائے پلانے والا کوئی نہ ہوگا!!” یہ کہہ کر ڈاکٹر رابعہ نے ٹیلی فون کریڈل پر گرا دیا۔ کرم خان نے بہت دل برداشتگی کے عالم میں کار اونے پونے فروخت کی، جو رقم ملی، اس سے چند مویشی خریدے اور گاؤں لوٹ آئے۔

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] ایک مدت تک مضمحل اور بیمار سے رہے۔ اب مے نوشی بھی اس قدر بڑھا دی کہ جس بُری عادت کی آج تک گاؤں میں کم ہی کسی کو خبر تھی، کسی کے لئے ڈھکی چھپی بات نہ رہی۔ اب احوال یہ تھے کہ ہمہ وقت دو ایک ہم مشرب دوست یار ان کے ڈیرے پر آئے رہتے تھے، محفلِ میگساری چلتی، ساقی گری ریاض نائی کا فریضہ تھا۔ ریاض نے آغاز میں منع کیا کہ اس طرح مرض بڑھ جائے گا مگر وہ کہاں مانتے تھے۔ اپنی مشہورِ زمانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک شعر سناتے جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ ”اے نادان خیر خواہو، جس مریض سے چارہ گر روٹھ جائے، اسے دوا سے غرض؟ اب چارہ گر آئے تب بھی موت اور نہ آئے تب بھی موت ہے!” اور اسی طرح ایک شعر میں کہا؛ ” خُدا نے تو بیماری کے عالم میں شراب بھی اپنے بندوں پر حرام نہ رکھی، میرے چارہ گر کی بے نیازی دیکھو جس نے مجھ پر دوا یعنی اپنا التفات بھی حرام کر رکھا ہے”

اس عشق کی بازگشت کے دو سالوں میں خان صاحب کی بے خُودی اور گم خیالی کا مادی فائدہ ان کے زمین کے تنازعے سے وابستہ لوگوں نے خُوب اُٹھایا۔ جو تنازعہ کیکر کے جھنڈ والی زمین سے آغاز ہواتھا، اب اس سے کئی جھگڑوں کی کونپلیں اور بھی پھوٹ چکی تھیں۔ میاں غفار شاہ دیوانی معاملات میں بہت چالاک اور گرگِ باراں دیدہ تھا البتہ فوجداریوں میں ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھا۔ ان کے سالے کے قتل کے مقدمے میں صلح صفائی کی وجہ فقط یہی تھی کہ وہ فوجداریوں میں آگے بڑھنے سے ڈرتے تھے۔ اس خوف کی جڑیں شایداس تنازعے کے آغاز کی ایک پنچایت میں پیوست تھیں۔ کوٹ سکھے خان کے بلوچ اگرچہ باقی ہر معاملے میں زبانی کلامی ہی کرم خان کے ہمدرد رہے مگر لڑائی جھگڑے کے معاملے میں آغاز کی کسی پنچایت میں ہی سرفراز خان بلوچ نے کہہ دیا تھا: ”میاں شاہ صاحب، آپ قانونی جنگ کسی سے بھی لڑ لیں، ایم پی اے آپ کا، وزیر آپ کا، تھانہ آپ کا۔۔۔مگر کرم خان کی جان اور عزت کا خطرہ اگر پیدا کیا تو یاد رکھئے سادات میں آپ کی پیڑھی ابھی نئی اور بڑی مختصر سی ہے، اگر ایک کے بدلے دس بلوچ بھی پھانسی چڑھ گئے تو خسارہ آپ ہی کاہے!” اس پر ساری پنچایت ہنس پڑی تھی اور میاں صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔

ایک دن کرم خان کو نجانے کیا سوجھی کہ ریاض نائی اور چچا برخوردار خان کو ہمراہ لیا اور شہر جا کر کر اے سی دفتر کچہری میں سوائے اپنے گھر کے باقی ماندہ تمام جائیداد، جاگیر، اپنی بیٹی کے نام لکھوا آئے۔کوٹ سُکھے خان، کوٹ نیازی خان اور ڈیرہ علی خان سیال میں کچھ زرعی زمین، کوٹ مبارک سیال کی بڑی جاگیر، تھل کی بارانی زمین کا ایک قطعہ، کوٹ سُکھے خان میں کچھ دُکانیں، خوشاب روڈ پہ ایک پٹرول پمپ اور مویشی۔۔۔ سبھی کچھ بیٹی کے نام کر دیا۔ مویشیوں میں اکثر گائیں بھینسیں سانجھے کی تھیں، پھر بھی بیس کے قریب گائیں بھینسیں، بچھڑے بدھیا خالصتاً ان کے اپنے تھے جو بیٹی کے نام کرنے کے بعد قانوناً اب کرم خان کے پاس ماسوائے اپنے گھر اور پرانی کھٹارا کار کے کوئی جائیداد نہ تھی۔ سال ہی گزرا ہوگا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح برخوردار خان کے بڑے پوتے سے کروا دیا اور رخصتی کے لئے اس کی بیس سال کی عمر ہونے کی مہلت مانگی۔ ثمینہ خانم اب دسویں میں پڑھتی تھی اور خان صاحب اسے اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجنا چاہتے تھے۔ اگرچہ رشتے داروں نے بہت کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کہ اس زمانے میں دس جماعتیں لڑکی کےلئے کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی لیکن خان صاحب نے ایک نہ سنی۔ رُخصتی کے وقت تک ثمینہ خانم چودہ جماعتیں سر میلکم ہیلی کالج سے پڑھ چکی تھی۔ کرم خان نے بیٹی کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور حریفوں نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ اُن کی تمام تر جائیداد برخوردار خان کی پیڑھی کو منتقل ہو چکی تھی۔ چند لوگ کرم خان کے گُن گا رہے تھے، زیادہ لوگ حیران تھے کہ اسی شے سے بچنے کےلئے تو لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دیتے تھے۔ خیر اب کرم خان اپنے آبائی گھر میں اکیلے رہتے، شعر کہتے اور ریاض نائی جیسے معدودے چند دوستوں کی صحبت میں وقت گزارتے۔

ایک مدت سے اُن کا معمول تھا کہ اڑوس پڑوس اور گاوں کے غریبوں کو اناج اور اجناس تحفہ کیا کرتے تھے، اب یہ بھی نہ رہا۔ مے نوشی کی محفلیں بھی برخواست ہو گئیں۔ تنگدستی نے نیکی اور بُرائی، دونوں کی بساط لپیٹ دی۔

ادھر میاں غفار شاہ اور اُن کے چیلے چمچے علاقے میں اتنے بارسوخ ہو چکے تھے کہ اب انہیں کسی کا لحاظ رہا، نہ ڈر نہ۔ جب ریاض نائی کی بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو وہ پرانی کار بھی بک گئی۔ ریاض کی بیٹی اور ثمینہ بچپن کی سہیلیاں اور ہم جماعت تھیں،وہ کرم خان کو اپنی بیٹی کی طرح عزیز رہین سو اس کی شادی کے اخراجات بھی اپنا فرض گردانے۔ اسے دس جماعت تک تعلیم بھی خان صاحب نے اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ دلوائی۔ وہ شاید اسے اور بھی پڑھاتے مگر چاچا ریاض کو اس کا فرض ادا کرنے کی جلدی تھی۔ ایک ریاض کی بیٹی پہ ہی کیا موقوف، کوٹ سُکھے خان کے آٹھ دس لڑکے لڑکیوں کے پہلی جماعت سے تعلیمی اخراجات خان صاحب نےا ہی ٹھائے تھے۔ ان میں سے چند لڑکیاں کالج اور دو ایک یونیورسٹی تک بھی پہنچ چُکی تھیں۔ خیر، خان صاحب کی وہ سُرخ کرولا ایک مدت تک ہم نے عالم قصائی سب انسپکٹر کے پاس دیکھی، پھر نجانے کہاں گئی۔

[dropcap size=big]یہ[/dropcap] وہ زمانہ تھا جب خوشاب، مظفر گڑھ روڈ پر لاری سے اُتر کر نیچے ڈیرہ شاکر خان تتاری تک دو اڑھائی میل کا سفر پیدل طے کرتے ہوئے کرم خان صاحب کو ہم بھی دیکھا کرتے تھے۔ہم اسکول کی خاکی وردی پہنے، گہرے سبز رنگ کے موٹے کپڑے والے بستے باندھے ننھے ننھے سپاہیوں کی طرح اسکول جا رہے ہوتے تھے تو ہمارا ٹکراؤ بابا بُدھو شاہ سرکار کے دربار والے جھُنڈ، قبرستان والے جنگل یا اس کے پاس جو سیلابی جھیل ہے، اس کے کنارے ہوتا تھا۔ اب اُن کے گنجے سر پر چند ہی بال باقی رہ گئے تھے جنہیں خضاب لگا کر سیاہ کرنے کی کوشش میں وہ اپنی چندیا پر بھی سیاہ داغ لگا بیٹھے جو ان کی سانولی رنگت پر بہت بھدے لگتے۔ چہرے پہ جھریاں نمودار ہو چکی تھیں جن سے لگتا تھا کہ وہ ہر وقت ہنستے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب کبھی اپنا کوئی شعر سناتے ہوئے روہانسے ہو جاتے، تب بھی لگتا کہ ہنس رہے ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ مسکراہٹ اب اس مضحکہ خیز سی ہنسی کے نیچے قابل رحم حد تک دب چکی تھی۔ بکثرت سگریٹ نوشی اور کبھی کبھار کی مے نوشی نے آنکھوں میں سُرخی اور پیلاہٹ کا ملا جلا سا مستقل رنگ بکھیر دیا تھاجن میں ہمہ وقت ایک نمی سی تیرتی رہتی تھی۔ قامت میں خم آگیا تھا۔ل کبھی کبھار کھانسی کی کھنک بھی شعروں اور گفتگو میں رموز واوقاف کے طور پرشامل ہوجاتی۔ لیکن آواز کی تندرستی باقی تھی۔لہجے کی اُداسی نے وہ سوز و گداز پیدا کر دیا تھا کہ بولتے تو سننے والوں کو پرے سے یوں لگتا تھا کہ سندھی یا سرائیکی شاعری سُنا رہے ہیں۔
ہمیں تو خیر اس کا دماغ نہ تھا لیکن دیکھنے والے تاڑ گئے کہ خان صاحب کا اس تواتر سے ڈیرہ شاکر خان تتاری آنا جان کس کےلئے تھا؟

جب ڈیرے میں کئی سال قبل پہلا نجی اسکول بنا تھا تو مادام سائرہ جنہیں ڈیرے کے سبھی چھوٹے بڑے باجی سائرہ کہتے تھے دس سال اس کی ہیڈ ٹیچر رہی تھیں۔ مالک اسلام آباد منتقل ہوا تو ادارہ اونے پونے میں فروخت کر کے چلا گیا۔ نیا مالک کوئی احمق سا امیرزادہ تھا، مادام سائرہ، اُس کے ساتھ نہ چل سکیں اور نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے حُسن کا شیدائی تو ایک عالم تھا لیکن شادی ایک وکیل صاحب سے ہوئی جو انہیں بڑی چاہ سے دلھن بنا کر لے گئے۔ وکیل صاحب موصوف جتنے خوش قسمت سمجھے جارہے تھے، اس قدر خوش قسمت نہ نکلے۔ دو ہی سال گزرے ہوں گے کہ وکیل صاحب کسی بیماری میں گزر گئے اور ساس صاحبہ نے انہیں منحوس ٹھہرا کر گھر سے نکال دیا۔وہ اپنی شیر خوار بیٹی کے ہمراہ واپس اپنےمیکے آ گئیں۔ والدین کا سایہ بھی کچھ عرصے بعد سر پر نہ رہا۔ پھر ایک عرصہ انہوں نے مقامی سطح کا دستکاری کا سکول چلایا جس میں بچیوں کو ہنر سکھاتی تھیں۔ اب ان کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ تھی لیکن حُسن میں آج بھی تیس تیس کی سہاگنوں کی ٹکر کی تھیں۔ خُدا جانے کرم خان صاحب کا اُن سے کیسے ٹکراؤ ہوا کہ اُن پر مر مٹے۔۔۔ اور وہ بھی اس ڈھلتی عمر میں۔ ہمیشہ کی طرح ریاض نائی ان کے زخمِ عشق پر پھاہے رکھنے کے لئے حاضر تھا۔ چڑھتی جوانی اور ڈھلتی عُمر کا عشق جان لیوا ہو سکتا ہے اور خان صاحب کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی۔ سُنا ہے کہ خان صاحب نے ایک منظوم خط مادام سائرہ کو بھیجا۔ استانی جی کی عزت تو ہر شخص کرتا تھا کہ گزشتہ بیس سال میں نجانے کتنی بیٹیاں اس بستی کی ان سے پڑھ چکی تھیں مگر پھر بھی کچھ لُچے لقندرے ان پہ ڈورے ڈال چُکے تھے اور وہ مردوں میں چُھپے حرامزادوںکو بہت جلد بھانپ لیتی تھیں۔ کرم خان کے بارے میں انہوں نے سُن تو رکھا تھا مگر ان کی دولت، شاعری اور حُسن پرستی کے قصوں نے اُن کا تاثر بہت خراب کر رکھا تھا، اُستانی جی نے کچھ دن تامل کیا اور پھر انگریزی میں ایک مختصر سی تحریر میں ایک چٹھی لکھی جس میں خان صاحب کو سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اپنی عمر اور عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ یقیناًیہ چٹھی انگریزی میں مشقی کاپی کے صفحے پر اس لئے لکھی گئی تھی کہ اگر غلطی سے راستے میں کھو جائے، کسی اور کے ہاتھ لگ جائے تو دیکھنے والا اس کاغذ کے ٹکڑے کو کسی بچے کی جماعت کی کاپی کا ایک ورق سمجھے۔ انگریزی سمجھنے والے تو شاید جھنگ سے خوشاب تک کے درمیان بھی کوئی ڈھونڈنے سے ہی ملتے۔ خان صاحب کے بارے میں ان کو یقین ہو گا کہ کسی سے پڑھوا لیں گے۔ سردار کرم خان بلوچ کے خط کا جواب نہ دینا بہرحال آج بھی کسی کے لئے آسان کام نہ تھا۔ چٹھی ریاض نائی کے پاس پہنچی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ انگریزی میں کیا لکھ ڈالا۔ اتنا تو وہ بھی پڑھنے کے قابل نہ تھے۔ کرم خان نے اپنے ایک اور پرانے دوست کو بلوایا جو کہ ریٹائرڈ ایجوکیشن کلرک تھا اور خط پڑھنے کا کہا۔ کلرک موصوف نے خط پڑھ کر حرف بحرف سمجھایا تو چاچا ریاض کے ساتھ مل کر خان صاحب کو خوب چھیڑا البتہ وہ یہ نہ جان سکا کہ خط کس نے لکھا ہے۔ بعد میں بھی کئی دفعہ آمنا سامنا ہونے پر کلرک صاحب انہیں آنکھ مار کر گُڈ مارننگ کہتے تو خان صاحب کھسیانے سے ہو کر ”چخا چخا” (دفع دفع) کہتے ہوئے کھسک جاتے۔ اس کے بعد کرم خان نے مادام سائرہ کو کوئی خط نہ لکھوا بھیجا البتہ ڈیرے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہا۔ یہاں کی ایک درزن ان کی مرحومہ بیوی کی پرانی سہیلی تھی، اس کی خدمات حاصل کی گئیں تو کرم خان کو فقط یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مادام اس درزن کے گھر آکر خان صاحب کی بات ایک دفعہ سننے پر آمادہ ہو گئیں۔

یہ ملاقات ایک رومانوی تجربہ ہرگز نہ تھا۔ سائرہ نے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا کہ ان کی بیٹی اب کالج جانے کی عمر کو ہے۔ اور وہی اب ان کی زندگی کا سارا مرکز ہے تو وہ کیسے کسی ایسے قصے میں پڑ سکتی ہیں جس کی عمر ہی گزر چکی ہے۔ انہوں نے تو وکیل صاحب سے بھی تھوڑی ہی دیر آنکھ لڑائی تھی کہ وکیل صاحب نے رشتہ بھیج دیاتھا۔ کرم خان صاحب کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جس سے ہٹنا بھی بے توقیری ہے اور آگے بڑھنا بھی اچھا نہیں۔ سو جو کچھ انہوں نے بہت آگے کےلئے سوچ رکھا تھا، ابھی کہہ دیا یعنی شادی کی پیشکش کردی اور وعدہ کیا کہ کسی بھی جواب کی صورت میں مادام سائرہ کی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی سمجھیں گے اور اس کی تعلیم کےلئے ہر طرح کی کاوش کریں گے۔ انہوں نے مادام کو سوچنے کی مہلت بھی دی۔

ابھی سوچنے کی مہلت کے دن چل رہے تھے اور درزن بھی مادام سائرہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس دنیا میں اکیلی ہیں اور بیوگی کی بیچارگی میں جو اتنے کٹھن سال گزرے ہیں، بیٹی کی شادی کے بعد مزید کٹھن ہو جائیں گے، بہتر ہے کہ ایک خاندانی آدمی کی اہلیہ بن جائیں تو بیٹی کو بھی کوئی شناخت مل جائے گی۔ انہی دنوں میں ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی ہو گیا اور وہ یہ کہ خان صاحب کے کپڑے جو ثمینہ کے گھر دھلنے گئے تو مادام سائرہ کی انگریزی چٹھی ان کے قمیض کی جیب میں رہ گئی۔ نوکرانی نے کپڑے دھونے سے پہلے جیبیں دیکھیں جیسا کہ بی بیوں کا معمول ہے، چٹھی نکلی۔ ”چھوٹی بی بی، یہ خان صاحب کی دواؤں والی پرچی ہے شاید، سنبھال لیں”۔ ثمینہ کو نوکرانی نے پرچی دی تو پہلے تو وہ بوکھلا گئی کہ گردے کی تلکیف کی صورت میں تو وہ ایک ہی دوا لیتے ہیں جس سے افاقہ ہوتا ہے، اب یہ کون سا نیا مرض لاحق ہوا جو چھپا رہے تھے۔ پھر چٹ پڑھی تو حیران بھی ہوئی اور ہنسی بھی۔ نوکرانی سے باپ کو بلوا بھیجا۔

”ابا جی! مجھے نہیں پتہ تھا آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں!”

ثمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو کرم خان صاحب شرمندہ اور کھسیانے ہو کر ہنسنے لگے۔ پہلے تو چاچا ریاض پہ ڈالنے کی کوشش کی مگر ثمینہ نے تو خوب تنگ کیا، آخر پہ ضد کرکے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھول گئی۔

”ابا مجھے ایک دفعہ دکھائیں تو!! ورنہ بابا بکھے (برخوردار) کو بتا دوں گی، پھر خیر نہیں ہونی آپ کی!”

ثمینہ نے خوب چہلیں کیں لیکن خان صاحب شرماتے لجاتے ہوئے وہاں سے اُٹھ آئے اور پھر ریاض کو بھجوا کر ثمینہ کو بتلایا کہ ”بھائی کرم خان باجی سائرہ کو تمہاری امی بنانے کے چکر میں ہیں۔۔۔” ثمینہ یہ سُن کر پہلے تو مسکرا دی، پھر سنجیدہ ہو گئی۔
چونکہ پہلی مُلاقات میں کرم خان انہیں بھلے آدمی لگے تھے، اُستانی صاحبہ نے انہیں پھر درزن کے گھر بلوا بھیجا کہ جواب دینے سے پہلے کچھ معاملات معلوم کرنے تھے۔ خان صاحب خضاب لگا کر بلیوں اچھلتے ہوئے جاپہنچے۔ استانی صاحبہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا اُن کیلئے اس قدر آسان نہیں۔

”کون جانے کل بلوچ قبیلے، برادری میں ہی مجھے قبول نہ کیا جائے! آپ پر رشتہ داروں کا دباؤ یا ٹھٹھہ مخول اتنا ہو کہ آپ ہار ہی جائیں اور میں اپنی عزت کا جنازہ لے کر پھر یہاں آبیٹھوں” گویا انہیں بھی خبر تھی کہ کرم خان کا رعب دبدبہ جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی مادام سائرہ نے عمرِ گذشتہ کی کٹھنائیوں کا جو ذکر چھیڑا تو رو رو کر چہرہ دھو ڈالا۔ وہ بڑی پختہ اعصاب کی خاتون تھیں مگر شاید کرم خان کی محبت کا جادو اس عمر میں بھی اپنی تاثیر دکھا رہا تھا۔ خان صاحب بھانپ گئے کہ اُن کا خوف کس نوعیت کے عدم تحفظ کی وجہ سے ہے، تاہم یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ہونے کی بجائے بڑے جذباتی انداز میں ختم ہوئی۔ خان صاحب نے انہیں دلاسہ دیا تو باہمی اپنایت کا ایک اٹل سا جذبہ سر اُٹھانے لگا۔ خان صاحب نے اس دن واپس آتے ہی ریاض نائی اور اپنے دوست ایجوکیشن کلرک سے صلاح مشورہ کیا۔ پروفیسر ثاقب عثمانی صاحب کو بھی چٹھی بھیج کر بلوایا اور انہیں ساتھ لے کر شہر میں جا درخواست جمع کروادی کہ پرائیویٹ اسکول قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہاں سرکاری دفتروں میں بھی کئی پرانے شناسا نکل آئے تو مہینوں کا کام دنوں میں ہوا۔ خان صاحب نے اپنے داماد اسلم کے ذمے لگایا کہ لائل پور میں ایک مکان کا پلاٹ جو ایک مدت سے اُن کے نام کا پڑا تھا اور کسی وجہ سے ثمینہ کے نام نہ ہو سکا تھا، اس کو فروخت کیا جائے۔ داماد صاحب لائل پور پہنچے تو پتہ چلا کہ پلاٹ پر قبضہ گروپ کے کوئی رانا صاحب قابض ہیں۔ کرم خان کی خوش قسمتی کہ جب ایم این اے کی چٹھی لے کر ڈی آئی جی صاحب کے پاس پہنچے تو وہ چھٹی پر تھے اور قائم مقام ڈی آئی جی صاحب پرانے شناسا نکلے؛ عمر حیات دولتانہ صاحب۔ خیر، اس پلاٹ کی قیمت رانا صاحب نے کرم خان کی توقع سے بھی ذیادہ ادا کر دی۔ مادام سائرہ کو پتہ چلا کہ کرم خان اپنے گاؤں میں اسکول کے قیام کےیلئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں تو اُنہیں بُلوا بھیجا کہ ماجرا کیا ہے؟ ادھر سرکاری رجسٹریشن نمبر ملنے سے پہلے اسکول کا فرنیچر پہنچ چکا تھا، خان صاحب کی آبائی حویلی جو ثمینہ کی شادی کے بعد عملاً سنسان پڑی تھی اس کے وسیع آنگن میں جماعت کے کمروں کی قطار کھڑی کر دی گئی تھی اور اب مستری پلستر چونے والے کام میں مشغول تھے اور باغیچے کے مالی کا کام چاچا ریاض نائی نے دھڑادھڑ جاری رکھا ہوا تھا کہ کرم خان صاحب اُستانی جی سے ملنے کےلئے پہنچ گئے۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی ساری توانائیاں کہیں سے لوٹ آئی ہیں۔ اُنہوں نے ملتے ہی مادام سائرہ سے کہا کہ انہیں الکرم گرلز اسکول کی پرنسپل کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ مادام سائرہ کو شک تو پڑ چکا تھا کہ کرم خان یہ سب اہتمام انہی کےلئے کر رہے ہیں مگر اب جو کرم خان کی زبانی سُنا تو یقین آگیا۔

”سائرہ اب اگر آپ میری درخواست ٹھکرائیں گی تو خُدا کرے میرے مرنے کی خبر سُنیں!”
کرم خان کی التجا میں خلوص اور محبت واضح تھی اور اتنی تھی کہ سائرہ صاحبہ مان گئیں۔

[dropcap size=big]اسکول[/dropcap] کا شاندار افتتاح ہوا، مادام بھی مدعو تھیں۔ ان کے نام سے سبھی واقف تھے، سو اکثر لوگوں نے کرم خان کے اس فیصلے کی تعریف کی کہ اُنہوں نے ایک نہایت قابل اور شریف خاتون کا پرنسپل کے عہدے کےلئے انتخاب کیا ہے، بلکہ انہی خاتون کی وجہ سے پہلے روز ہی کئی نام داخلے کےلئے لکھوائے گئے۔ معلوم نہیں کرم خان جانے کہاں کہاں کی تقاریب میں عمر بھر مہمان اور مہمانِ خصوصی کے طور پر جاتے رہےتھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے کرم خان کو باقاعدہ اسٹیج پہ بولتے دیکھا۔ تقریر مختصر تھی۔انہوں نے ایک ہی بات کی؛
”لوگ کہتے ہیں کرم خان کے پاس دولت تھی مگر اس نے اس کی قدر نہ کی، میرے عزیزو! میرے پاس دولت تھی ہی کب؟؟ مجھے عمر بھر میں ایک ہی تو حسرت رہی کہ میرے پاس دولت ہوتی۔ علم کی دولت!”
اس پر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں اور خان صاحب نے شرما کر دذدیدہ نظر سے مادام سائرہ کی طرف دیکھا۔ ثمینہ خانم بہر حال سب بھانپ گئی تھی۔

اسکول چلا تو کرم خان کےلئے موسمِ بہار کا آغاز ہو گیا۔ صبح دم جاگتے اور اسکول جاتے۔رہائش اب مستقلاً ڈیرے پر تھی، مالی سے چھڑکاؤ کرواتے، تالے کھلواتے اور فرنیچر کی صفائی اپنی نگرانی میں کرواتے البتہ پرنسپل کی میز کرسی اور ان کے چھوٹے سے دفتر کی جھاڑ پونچھ خُود کرتے اور پھر پرنسپل صاحبہ کے آنے تک مختلف بہانوں سے وہیں منڈلاتے پھرتے۔ مادام سائرہ آ جاتیں تو خان صاحب ان کے پاس بیٹھ کر چائے منگوا لیتے۔ اُن کا سفر تھوڑا طویل تھا، سو وہ دیر سے آتی تھیں اور قدرے تھکی بھی ہوتیں سو یہ خُوب بہانہ تھا چائے پینے کا۔ اسی اثناء میں دیگر اُستانیاں جن میں ثمینہ خانم زبردستی، ضد کر کے شامل ہوئی تھی، آ جاتیں تو خان صاحب رُخصت ہو جاتے۔ مادام سائرہ نے نہ صرف محنت سے اسکول کو ایک میعاری ادارہ بنایا بلکہ اپنی خوش اخلاقی سے کوٹ سُکھے خان کی خواتین کے دل بھی جیت لئے۔ کرم خان کو قریب سے دیکھا تو بہت بھلا آدمی پایا اور اُن کی والہانہ محبت کا جواب عزت، مروت اور نہایت توجہ سے دیا۔ وہ کئی دفعہ خان صاحب سے اُن کی اپنی صحت اور حُلیے سے لاپروائی کی وجہ سے اُلجھ بھی پڑتیں جس میں کرم خان کو التفات کا وہ شائبہ نظر آتا کہ خُوش ہو جاتے مگر وہ شادی کا سوال انہیں دوبارہ اُٹھانے کی ہمت ہوئی نہ ہی مادام سائرہ نے اس موضوع پر بات کی۔ ثمینہ خانم بھی مادام سائرہ کو بہت پسند کرنے لگی لیکن ساتھ ہی ساتھ مستعد بھی رہتی کہ والد صاحب کوئی گُل نہ کھلا دیں لہٰذا وہ خان صاحب کو احساس دلاتی رہتی کہ وہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کرم خان اکثر ایسے سوال جواب کے دوران اسے پیار سے چپت رسید کرتے یا اس کی پیشانی چوم کر کہتے،
”تو گویا میں نے غلطی کی تمہیں تعلیم دلوا کر۔۔۔۔ باپ سے بھی ذیادہ سیانی ہو گئی ہو ثمینہ خانم۔۔۔” اور بات ٹال جاتے۔

وہ ضرب المثل ہے کہ عشق اور مشک نہیں چھپتے۔ خان صاحب کا راز بھی کسی اناڑی کے ہاتھوں باندھے گئے غبارے کی ہوا کی طرح آہستہ آہستہ سے نکلنا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ گاؤں میں طبل زیرِ گلیم بن گیا۔کرم خان اس سب سے لاپروا مادام سائرہ کے حُسن و خُوبی میں یوں مگن تھے گویا انہیں دُنیائے دیگر کی پروا بھی نہ تھی۔ اس بے نیازی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب لوگوں نے بھی ان کی سرپرستی، کورٹ کچہری کے مسائل میں ہر کس و ناکس کی مدد، پنچایتوں کے منصفانہ فیصلوں اور معمولی کاشتکاروں پر ٹھیکوں، لین دین اور دیگر معاملات میں خاص رعایتوں کے وہ معاملات بُھلا دیئے تھے جنہوں نے انہیں علاقے والوں کا پسندیدہ زمیندار اور سردار بنایا تھا۔اب ان باتوں کو پس پُشت ڈال کر ان کی خامی پر توجہ رکھنا شروع کر دیا تھا اور سرداری کی دستار اُن لوگوں کے سروں پر آ چکی تھی جن میں سب اخلاقی بُرائیاں تھیں۔ سو خان صاحب نہ صرف لاپروا ہو گئے بلکہ کسی بھی عام دیہاتی کی سی غیر ذمہ داری ان کے مزاج میں آ گئی تھی۔ اسکول کے معاملات میں بھی ان کی دلچسپی مادام سائرہ کی حد تک ہی تھی کہ تعلیم و تعلم کا یوں بھی اس بھلے مانس کو کیا پتہ تھا؟ کرم خان صاحب نے تمام اسکول، عمارت اور مالکانہ حقوق سمیت مادام سائرہ کے نام منتقل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا لیکن مادام سائرہ نے ابھی تک اس بات کو بالائے طاق ہی رکھا کیونکہ اس طرح اُن پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کرم خان کو شریکِ حیات کے طور پر اپنا لیں۔

اب تک مادام سائرہ کے حُسن کے مدار سے باہر کی تمام کائنات کرم خان کےلئے خاموش تھی کہ اچانک اس میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کی آمد آمد تھی اور علاقے میں ایک ہنگامہ اور چہل پہل تھی۔ میاں غفار شاہ کے ڈیرے پر انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں اکثر لوگوں کا ہجوم رہنے لگا جس میں ذیادہ تر سیاسی چہ مگوئیوں کے شوقین لوگ آ موجود ہوتے۔ اب کی بار مقابل میں کوئی تگڑا اُمیدوار بھی نہ تھا، میاں صاحب کا مزاج عرشِ معلیٰ پر پہنچا ہوا تھا۔ اگلے ہی روز اس نے دھوم دھام اور طبل و علم کے ساتھ شہر جا کر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے تھے۔ کسی نے بات چھیڑی کہ کیا اس دفعہ پھر کرم خان اُن کے مقابل انتخابات میں اُٹھے گا؟؟ میاں غفار شاہ اس وقت غرور کے نشے میں تھے، بولے؛
”ارے وہ اُس اُستانی کی رانوں کے بیچ پڑا ہو گا اس وقت۔۔۔ اُسے کیا لینا دینا سیاست سے!!” لوگوں کو اندازہ تو خُوب تھا کہ میاں صاحب کس قدر بے ہودہ بات کہہ گئے تھے مگر خوشامدیوں، ٹاؤٹوں کا جو ٹولہ حاضر تھا، اُنہوں نے جو تالی پِیٹ کر قہقہہ بلند کیا، یوں لگا کہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ چھُوٹا تھا۔ خیر شام تک بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ کسی کو ہمت نہ پڑی کہ کرم خان سے کہتا، چاچا ریاض نائی اُس روز گاؤں میں تھا نہیں، لیکن ثمینہ جو ان دنوں اُمید سے تھی اور اسکول نہ جاتی تھی، اُس تک یہ بات پہنچ ہی گئی۔

رات کی روٹی کے وقت اسلم سے جو اس بات کا ذکر کیا تو ثمینہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ کرم خان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتاری کا کسی یہاں کے مخالف کو بھی کبھی نہ حوصلہ نہ پڑا تھا، ثمینہ کی بے چینی سمجھ آنے والی تھی، بولی؛
”میرا جو کوئی بھائی ہوتا، اُس میراثن کے بیٹے سے بدلہ تو لیتا میرے باپ کی توہین کا!”
ثمینہ کا یہ جملہ اسلم کے حلق میں تیر کی طرح اٹک گیا۔ اُس نے روٹی کا توڑا ہوا لقمہ رکھ دیا۔
”سمی! میں تیرا بھائی تو نہیں ہو سکتا، لیکن چچا کرم خان کا بیٹا تو ہوں، اور رہوں گا! کسی ماں کے یار کو شک ہے تو آج دیکھ لے گا!”

اسلم خان کسی بے چین پرندے کی طرح تڑپتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ سرفراز خان بلوچ کے گھر پہنچا۔ خان صاحب ایک مدت ہوئی فوت ہو چکے تھے، ان کا ایک بیٹا ریٹائرڈ فوجی تھا۔ نیم پاگل اور دنگے فساد کا شائق بلکہ کافی حد تک جرائم پیشہ آدمی تھا۔ نام تو نجانے کیا تھا لیکن سب اسے چاچا فوجی کہتے تھے۔ اسلم چاچا فوجی کے گھر گیا اور اُس کے ابا جان کا بلم مانگا۔ فوجی نے کافی عرصہ پہلے سرکاری مال خانے اور تھانے کے لوگوں میں جان پہچان بنا کر وہاں سے اپنے باپ کا بلم واپس لے لیا تھا اور بڑا سینت سینت کر رکھا ہوا تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ااٹھارہ سو ستاون کے غازی، مردانہ بلوچ کا بلم ہے اور لیفٹنینٹ لین صاحب بہادر کے سینے میں بھی پیوست ہو چکا ہے، خُدا جانے اس میں کس حد تک سچائی تھی۔ اُس نے بلم اٹُھا کر اسلم کو دے دیا اور جب اسلم گھر سے نکل چکا تو چاچے فوجی کو عقل آئی کہ قرائن تو خطرناک تھے۔ خیر میاں غفار شاہ صاحب ابھی ڈیرے پر تھے اور کسی مہمان کی خاطر ہو رہی تھی، نوکر اور خوشامدی اب بھی کافی سارے حاضر تھے۔ اسلم خان جو بلم لہرا کر وہاں پہنچا تو سبھی تاڑ گئے لیکن شاہ صاحب نے انہیں چُپ رہنے کا اشارہ کیا کہ مہمان مذکور بھی سیاسی طور پر ان سے کم معزز نہ تھے۔
”میاں صاحب!!!” اسلم نے نہایت درشتی سے آتے ہی کہا۔
”ہاں اسلم بیٹا، خیر تو ہے، آج بڑے غُصے میں لگ رہے ہو” میاں صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
”شاہ صاحب! اپنی گندی سیاست کھُل کھیلو مگر خبردار، چچا کرم خان کے بارے میں دوبارہ غلیظ زبان استعمال کی تو یہ بلم پہچانتے ہو؟؟ نواز میراثی کے تو پہلو میں گھسیڑا تھا، تمہارے پچھواڑے۔۔۔۔”
ابھی اسلم یہی کہہ پایا تھا کہ میاں صاحب گرجے،
”بکواس بند کرو!” اسلم بھی چونک سا گیا۔
”کرم خان اور میں ہم عمر ہیں! مجھ سے ایسے بات کرے تو وہ، تُم کب سے اتنے بڑے ہو گئے؟؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ!!” میاں غفار شاہ بھی ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ چاچا فوجی بھی وہاں آ دھمکا۔

ہوا یہ تھا کہ جونہی فوجی کو شک پڑا کہ ہو نہ ہو اسلم خان اپنے سسر کی توہین کے انتقام کے درپے ہے، اُسے فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں لڑکے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ اس کا فوجی لائسنس کا پستول اور رائفل خوش قسمتی سے اس کی بیوی نے بڑے صندوقوں میں کہیں بستروں کے نیچے دبا رکھے تھے کہ وہ بات بات پر اسلحہ تان لینے کا عادی تھا۔ آج چاچی فوجن گھر پہ نہ تھی، اسلحہ ڈھونڈنے کا وقت نہ تھا، سو فوجی نے لوہے کی ایک وزنی سلاخ پکڑی اور بھاگم بھاگ اسلم کے پیچھے۔ فوجی نے ڈیرے کا صحن چڑھتے ہی جو دیکھا کہ میاں صاحب اسلم خان کو دفع ہو جانے کا حُکم دے رہے ہیں، اُس کا پارہ کھول اُٹھا۔ اسلم تو شاید دو چار باتیں اور کڑوی کسیلی کر کے لوٹ آتا مگر فوجی نے تو چڑھتے ہی نعرہ لگایا،
”بکواس بند کر اوئے میراثن کے بچے!” ایک دفعہ تو سبھی بوکھلا کر رہ گئے۔

”خبردار اگر تُو نے کرم خان کے خلاف نامزدگی جمع کروائی! تیرے پورے خاندان کے ہر بندے کے حصے میں میرے سو سو راؤنڈ بھی آئے تو میرا اسلحہ ختم نہیں ہوگا!!!” فوجی نے میاں صاحب کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا ”اور میں نسل ختم کر دوں گا اس کی جس نے ووٹ دیا اس میراثی کے نُطفے کو!!” فوجی نے میراثی والا حوالہ دہرایا ہی تھا کہ میاں صاحب کے ہاتھ میں جو چائے کا کپ تھا، سیدھا کھینچ کے مارا جو فوجی کی بتیسی پہ کھٹاک سے آن لگا، پھر کیا تھا، فوجی نے جو باؤلا ہو کے لوہے کی بھاری سلاخ ماری تو وہ میاں صاحب کا سر بچا کر لگی مہمانِ گرامی کے بائیں کان پہ اور وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح چارپائی پہ لم لیٹ ہو گیا۔ پھر تو میاں صاحب کیا اور ان کے دیگر چیلے چانٹے کیا، وہ مارو مارو، جانے نہ پائے کا شور تھا اور وہ دونوں گویا معرکہ تو مار چکے تھے، بھاگ نکلے، اور سبھی ان کے تعاقب میں تھے۔

جونہی وہ دونوں بھاگتے ہوئے باوا گُل حُسین شاہ کی حویلی کے پاس اچانک مُڑ کر جنگل میں روپوش ہو ئے، مگر اس طرح کہ سبھی نے سمجھا کہ باوا جی کے گھر میں پناہ لینے کو جا گھُسے ہیں۔ ”گھُس جاؤ اندار!!” میاں غفار شاہ دھاڑے تو سبھی باوا گُل حسین شاہ کی حویلی میں جا گھسے۔ وہاں کی مستورات نے آسمان سر پہ اُٹھا لیا، ادھر تعاقب کرنے والوں میں سے کسی کی آوازیں بھی آئیں، ”اوئے سیدوں کا گھر ہے، اندر مت جاؤ اوئے!” مگر بے سود۔ ادھر سیدوں کے ہاتھ میں جو بھی آیا، پل پڑے میاں صاحب کے حواریوں میں ایک کا سر کھول دیا اور ایک کی پیٹھ میں سبزی کاٹنے کی چھُری اُتار دی۔ جب تک میاں صاحب کو اپنی حماقت کا اندازہ ہوا، اسلم اور فوجی کہیں دور نکل چکے تھے۔

کرم خان کو جو پتہ چلا تو اُن کے لئے پہلا سردرد یہ تھا کہ باوا گُل حسین شاہ کی حویلی کا جو تقدس پامال ہوا ہے، وہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اُنہوں نے صبح منہ اندھیرے باوا گُل مرحوم کے بیٹے سید بُلبُل حُسین شاہ کو ہمراہ لیا اور تھانے میں جا کر میاں غفار شاہ اور دیگر کے خلاف چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا پرچہ جڑ دیا۔ اسی اثنا میں میاں غفار شاہ صاحب بھی اپنے حواریوں کو لے کر تھانے آپہنچے۔ نیا ایس ایچ او میانوالی کا کوئی پٹھان تھا اور اس تک ساری خبر رات ہی کو پہنچ چکی تھی، غُصے میں سُرخ ہوا بیٹھا تھا، چھوٹتے ہی بولا؛ ”پہلے تو مجھے یہ سارے بندے دیں جنہوں سیدوں کے گھر کی بے ادبی کی ہے ورنہ میں ابھی جا کر سارے کوٹ سکھے خان والوں کو ننگا کرکے سڑک پر کھڑا کردوں گا۔۔۔” میاں صاحب نے کئی برسوں میں کسی تھانے دار سے ایسی بات نہ سُنی تھی، سہم سے گئے۔ بُلبُل حسین شاہ نے بتایا کہ شاہ صاحب کے ہمراہیوں میں بھی کچھ لوگ درخواست میں شامل ہیں، تھانے دار نے فورا ان سب کو پکڑ لیا، بلکہ ایک میاں صاحب کو ہی باہر رہنے دیا وورنہ سبھی حوالات میں۔ عملے کو حُکم دیا گیا کہ ان سب کی یادگار چھترول کی جائے۔ میاں صاحب کا تو رنگ ہی اُڑ گیا۔ اب جو میاں صاحب سے ان کے آنے کا مقصد سُنا تو نرمی سے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا، ”میاں صاحب، مجھے ڈی پی او صاحب کہہ دیں، میں سیدوں کے خلاف چھرا گھونپنے کا اور بلوچوں کے خلاف بھی پرچہ کاٹ دوں گا۔۔۔ اقدام قتل کا پرچہ کوئی مذاق نہیں ہے!” میاں صاحب نے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ انہیں ایک کونے میں لے گیا اور کچھ کھسر پھسر کرنے لگا۔

جب تک ڈی پی او صاحب کا حُکم آیا کہ دونوں پارٹیوں کو پابند کریں کہ پنچایت کر لی جائے کیونکہ چھرا گھونپنے کا کیس بالخصوص کمزور ہے، اس میں سیدوں کا کچھ نہیں بگڑنے کا البتہ بلوچوں کے ساتھ پنچایت کی جائے اور میاں صاحب کے بندے فوری رہا کئے جائیں۔ مہر جیون خان گوندل جنہیں اسلم خان کی ضرب لگی تھی، ان کا کوٹ مبارک خان کے بلوچوں سے خُوب تعلق تھا، اُن سے بلوچوں نے اُن کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگ لی اور فوجی کو ان کے سامنے پیش کر دیا کہ جو سزا چاہے دیں، اُنہوں نے کہا وہ میاں غفار شاہ سے مشورہ کریں گے۔

پٹھان تھانے دار نے میاں صاحب کے حواریوں کو جب چھوڑا تو بیچاروں کی کافی چھترول ہو چکی تھی۔ گاؤں میں پنچایت کا اہتمام ہوا تو ایس ایچ او صاحب بھی آدھمکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچوں اور میاں صاحب کے جھگڑے کا جو فیصلہ ہو سر آنکھوں پر مگر اس پنچایت میں گاؤں والے سید بلبل حسین شاہ سے معافی مانگیں گے ورنہ جب تک وہ یہاں تھانے میں تعینات ہیں، کوٹ سکھے خان والوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ چند بوڑھوں نے پورے گاؤں کی نمائیندگی کی اور باوا جی سے معافی مانگی۔ پنچایت بھی باہمی معافی تلافی پر ختم ہو گئی اور فریقین نے درخواستیں تھانے سے واپس لے لیں۔ جو لوگ ملوث تھے، وہی کیا، سبھی شرمسار نظر آرہے تھے۔ گاؤں میں پر زبان پر یہی تبصرہ تھا اور ہر شخص میاں غفار شاہ کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا، ضعیف العقیدہ عورتیں تو یوں سہمی ہوئی تھیں گویا پوری بستی پر کوئی عذاب آنے والا ہو۔ فوجی کے بارے میں افواہ پھیلی کہ اس نے بنوں سے پٹھان اور اسلحہ منگوا لئے ہیں کہ جو میاں صاحب کو ووٹ دے گا، اسے نشانِ عبرت بنا دے گا۔ یہ فقط افواہ تھی مگر خدشہء نقصِ امن کے تحت پولیس نے اسے چند ہی روز بعد گرفتار کر لیا اور الیکشن کے بعد چھوڑا۔ بلوچوں میں کسی نے ضمانت کی کوشش نہ کی کہ فوجی پر بھروسہ انہیں بھی نہ تھا۔

اب یہ تبصرے بھی ہونے لگے کہ اُستانی جی کی وجہ سے جھگڑے کا آغاز ہوا اور آخر پہ اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا۔ ابھی اس بات نے پر نہ پکڑے تھے کہ مادام سائرہ نے کرم خان صاحب سے کہہ دیا کہ نکاح خواں بلوائیے۔ باوا سید بُلبل حسین شاہ صاحب نے کرم خان صاحب کا نکاح پڑھایا اور سادہ سی تقریب جو برخوردار خان مرحوم کی حویلی میں ہوئی، اس کے بعد کرم خان صاحب انہیں اپنے ڈیرے پہ لے گئے جس کی چار دیواری بلند کرکے اسے حال ہی میں گھر بنایا گیا تھا۔ یہ اب مادام سائرہ اور ان کی بیٹی کا گھر تھا۔ ابھی اس خبر کی گہماگہمی گاؤں میں چل رہی تھی کہ میاں غفار شاہ کے کاغذاتِ نامزدگی قبول ہونے کی خبر ملی لیکن خبر تب بنی جب اُن کے مقابلے میں اسلم خان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دئیے گئے۔

[dropcap size=big]انتخابات[/dropcap] تک کا عرصہ خُوب چہل پہل کا تھا جو کہ کرم خان نے تو عجیب سر خوشی میں گزارا۔ سوتیلی بیٹی انہیں بے حد عزیز تھی۔ وہ ماں کے ساتھ آئی تھی اور آتے ہی کرم خان اور ثمینہ کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ کرم خان اب بے حد خوش رہا کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ کرم خان کو دوسری شادی نے پھر سے جوان کر دیا ہے مگر کون جانے کہ شمع بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔

الیکشن کا دن کافی مصروف گزرا۔ کرم خان شام کو اسلم خان کا جشنِ فتح منا کر گھر آئے تو وہاں بھی مبارک باد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ میاں غفار شاہ کو شکست ہو گئی تھی اور وہ بھی بدترین قسم کی۔ خان صاحب نے مدثر مصلی عرف اکشے کے ہاتھ میاں صاحب کو ایک چٹھی لکھوا بھیجی کہ لڑائی جھگڑوں کا انہیں افسوس ہے مگر یہ انتقام تھا جو وہ اُن سے گذشتہ الیکشن کے بعد لینا چاہتے تھے۔ خان صاحب نے جشن منانے والے دیگر لوگوں سے معذرت چاہی اور گھر آکر چارپائی پر لم لیٹ ہو گئے۔

”ذرا میرا سر دبا دو گے میرے سردار؟”
کرم خان نے نہایت محبت بھرے لہجے میں بیگم صاحب سے کہا۔ وہ اُٹھیں اور ان کے سرہانے آ کر بیٹھیں۔

”میرے سردار۔ اگر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیں تو غُلام احسان مند رہے گا” کرم خان صاحب نے ایک بیمار سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو پہلے تو مادام سائرہ نے چاچا ریاض کی طرف دیکھا جو قریب ہی کھڑے چارپائیوں کی ادوائین کھینچ رہا تھا مگر اس نے تاثر دیا کہ اس کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ اُستانی جی نے کرم خان کا سر اپنی گود میں رکھا اور دبانے لگیں۔ کرم خان نے آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی اداکاری کرنے لگے۔ چاچا ریاض کام سے فارغ ہو چکا تو چپ کر کے کھسکنے لگا۔

”ریاضُو! حرامی! کدھر چُپ کرکے نکل رہا ہے؟” کرم خان صاحب نے آنکھیں بند کرکے ہی کہا۔ چاچا ریاض مُڑا تو کرم خان نے اپنا ہاتھ ایسے بلند کیا جیسے کوئی ڈوبنے والا التجا میں اپنا ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ چاچا ریاض نے گھبرا کران کا ہاتھ پکڑا۔ خان صاحب نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا، آنکھیں کھول کر سائرہ کے گھبرائے ہوئے چہرے پہ نگاہیں گاڑیں اور ایک ہی جملہ زبان سے ادا کیا؛
”میری چھوٹی بیٹی کا خیال رکھنا!”

چاچا ریاض نے چند بزرگوں کو جانِ عزیز، جان دینے والے کے سپرد کرتے دیکھاہوا تھا، سمجھ گئے۔ اُنہوں نے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور زمین پر ڈھلکا دی اور سسکیاں لے کر رونے لگے۔ کرم خان بلوچ جس وقار سے اپنی دُھن میں مگن جیئے تھے، اسی سکون اور سکوت سے مر گئے۔

کرم خان کے بعد الکرم گرامر اسکول کبھی پہلے کی سی روانی کے ساتھ نہ چل سکا۔ بیگم کرم خان کو اب اس گاؤں میں تنہائی کا آسیب بہت ڈرانے لگا تھا ان کی بیٹی کا داخلہ بھی ایک میڈیکل کالج میں ہو چکا تھا، اُنہوں نے اسکول کے معاملات ثمینہ کے حوالے کئے اور سرگودھے چلی گئیں جہاں بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی۔ اسلم خان نے ہمیشہ دامے درمے ان کی مدد بھی کی کیونکہ اسکول کے مالکانہ حقوق مادام کے نام ہی تھے اور گھر کی جگہ بھی چھوٹی بیٹی کے نام ہو چکی تھی۔ کچھ بلوچوں نے کوشش تو کی اس پر جھگڑا پیدا کریں مگر اسلم خان وہی کرتا تھا جو اسے ثمینہ خانم کہتی تھی جو کہ ایک وسیع القلب خاتون تھیں۔

میاں غفار شاہ اس کے بعد پندرہ سال تک زندہ رہے۔اس دوران انہوں نے چاچے فوجی کے قتل سے لے کر ثمینہ خانم کی کردار کشی کی مہم تک، علاقے میں ہر طریقے سے کرم خان کے خاندان کو زچ کرکے اپنی سیاسی و معاشی ساکھ کافی مضبوط کر لی جو اُن کے بعد ان کے بیٹوں نے سنبھالی۔ اسلم خان سیاست سے ہمیشہ کےلئے کنارہ کش ہو گیا۔حاجی یار محمد بھی میاں صاحب کی صحبت کے فیض سے بڑا سیٹھ بن گیا اور اس نے شہر جا کر اپنا تھوک کا کاروبار بڑھایا اور چند ہی سال میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک شاندار کوٹھی تعمیر کی۔ اس کے تینوں پوتے شہر کے اعلیٰ پبلک اداروں میں پڑھنے لگے۔ یہ لونڈے بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے تھے، محنتی اور پبلک اسکول ڈسپلن کے کاربند۔ اُمید تھی کہ وہ ذات پات والے ذلیل نظام سے چھوٹ چکے ہیں تو اس پہ یقین نہ رکھیں گے مگر اُنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ایک اور ذات کا لاحقہ لگا لیا جس کے تحفظ کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے پہ مستعد رہتے تھے۔ یوں بڑے درست چال چلن کے تھے۔ سید بُلبل حسین شاہ صاحب کے پانچ بیٹے تھے، ایک کو چھوڑ سارے نااہل اور نکمے نکلے۔ ان کی آخری عمر میں ان لڑکوں نے بھی میاں صاحب کے ٹاؤٹوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔

[dropcap size=big]کرم خان کا ورثہ[/dropcap] مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا جس کا وجود اگر کوئی تھا تو الکرم گرامر اسکول کی خستہ حال عمارت تھی جس کے سامنے گلی میں سارا سال گندا پانی اکٹھا ہوا رہتا تھا اور جس میں اینٹیں رکھ کر پیدل چلنے والوں کےلئے آسانی پیدا کی گئی تھی۔ میاں غفار شاہ ہاشمی کا بیٹا مخدوم فیضان علی شاہ ہاشمی ایم پی اے بنا تو اسی گلی سے گزر کر ووٹ مانگنے آیا تھا۔ اس کی مدت کو پانچ سال ہونے کو آئے ہیں، آج کل میں دوبارہ آئے گا۔ یہ گلی اپنے کیچڑ اور تعفن کے ساتھ یہیں رہے گی؛ کہاں جائے گی؟ یا پھر اسی گلی کے اگلے موڑ پر وسیع و عریض میدان ہے جس کے دائیں طرف ٹیلے پر پیر کبیر شاہ بخاری کا میلا لگتا ہے، بائیں جانب پیر صاحب کا مزار اور قبرستان ہے۔ سڑک کے کنارے پر، میدان والی جانب ایک گھنا پیڑ ہے جو اس علاقے میں شیشم کے معدوم ہو جانے کے بعد علاقے کا واحد شیشم کا پیڑ ہے، اس کے نیچے چاچا ریاض نائی نے حجام والا پھٹا لگا رکھا ہے۔ وہ کرم خان کی وفات کے بعد سے ان کے اسکول کا چپڑاسی ہے مگر اس کی تنخواہ نہیں لیتا ماسوائے اس کے کہ ثمینہ یا اسلم اپنے پلے سے کچھ دے دیں، ورنہ وہ اپنے آبائی پیشے سے ہی روٹی کماتا ہے۔ اس پھٹے سے مخالف سمت قبرستان کی حدود میں پہلی نمایاں قبر کرم خان مرحوم کی ہے جس پر ہر شام چاچا ریاض نائی چراغ جلاتا ہے۔اس نے اپنے دوست کو کوٹ سُکھے خان کا ‘دانتے’ بنا دیا ہے۔۔۔ دانتے، جس کی قبر پر اس کی موت سے آج تک اطالویوں نے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔

”چاچا ریاض! یہ چراغ کب تک جلاؤ گے؟” کرم خان کا قصہ سُن چکنے کے بعد میں نے جو ریاض نائی سے پوچھا تو وہ ہنس دیا۔ ایک شکستہ سی ہنسی۔
”جب تک زندگی نے وفا کی۔۔۔ اتنا ہی ہوتا ہے یار۔۔۔ میرے دوست کو بھی تو اس چراغ کے سوا آخر بچتا ہی کیا ہے؟” اس کی آنکھ تر ہو گئی۔ چاچا ریاض نے اپنے کام کےلئے اس جگہ کا انتخاب بلاوجہ نہیں کیا تھا۔

میری نظریں قبرستان کی جانب اُٹھیں جہاں سامنے ہی کرم خان صاحب کی قبر تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔ وہ مٹی کا دیا جسے ابھی کچھ دیر میں پھر روشن ہو جانا تھا، سنگِ مر مر کی سفید قبر کے پس منظر کے ساتھ ایسے نمایاں لگ رہا تھا گویا واقعی کسی بڑے شاعر، نوابی پیشہ زمیندار، عاشقِ باصفا اور دریا دل رئیس کی کُل زندگی کا اثاثہ ایک سیاہ نُکتے میں سما گیا ہو۔۔۔
دسمبر 2020
چک نمبر سات تھل شمالی

Categories
فکشن

اولاد (محمد عباس)

بات بابے کی ٹھیک تھی۔ اس نے بابے کا نام چمکا کے رکھ دیاتھا۔ یوں آج کسے معلوم تھا کہ یہ بڈھا لاٹھی ٹیک جھِیلا جوانی میں کیا چیز تھا مگراس کے ہم نام کی وجہ سے نئی نسل کو بھی اندازہ ہو چکا تھاکہ باباجھِیلاکیا کیا کمال رکھتا ہو گا۔
٭٭٭
باباجھِیلا، ظاہر ہے کہ شروع سے ہی بابا نہیں تھا۔ جوانی میں اس کا نام پورے علاقے میں فخر سے لیا جاتا تھا۔ جھِیلا پہلوان۔ کبڈی کا نامور کھلاڑی۔ نڈر اور مقابلے کا شوقین۔ زور اور پھرتی میں ایک سا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ وارا بھی کرتا تھا اور جاپھا بھی۔ جس ٹیم میں وہ ہوتا، اس کو آدھے پوائنٹ توجھِیلا لے دیتا تھا۔ جب وہ میدان میں اترتا تو سارا میدان اس کے نام کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔ ایک مدت تک اس نے راج کیا۔ جس میدان میں اُس نے اترنا ہو، وہاں ہزاروں کا مجمع اسے دیکھنے پہنچ جاتا تھا۔ دور دراز کے کھلاڑی بھی بڑے چاؤ سے اس کے مقابلے پہ کھیلنے آتے۔ وہ بھی پتا نہیں کتنی جگہوں پر کھیلنے گیاتھا۔ جب اس نے فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور ساہیوال کے بڑے بڑے نامی پہلوانوں کو نیچا دکھایا تو اس کا نام پورے پنجاب میں مشہور ہو گیا تھا۔ بڑے بڑے کبڈر اس کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ جتنی مدت وہ کبڈی کھیلا، سوائے دو چار وارے جاپھے ناکام ہونے کے، کبھی سر جھکا کر میدان سے باہر نہیں نکلا۔ اِتنی ٹرافیاں اس نے جیتی ہوئی تھیں کہ گاؤں کے چوہدری کے گھر میں اُتنے برتن بھی نہیں ہو ں گے۔ اس کی وجہ سے برموٹ گاؤں کا نام پورے پنجاب میں بولتا تھا۔ پورے گاؤں کو اس پر فخر تھا۔

جب اس کا نام اتنا مشہور ہو گیا تو اس کو بڑی بڑی ٹیموں کے لیے بلا یا جانے لگا تھا۔ وہ کبھی راولپنڈی ڈویژن کی طرف سے کھیل کے آتا، کبھی پنجاب کی ٹیم میں شامل ہو تا۔ اپنے علاقے کی تو جب بھی کوئی ٹیم بنتی، وہ اس میں ضرور شامل ہو تا تھا بلکہ ٹیم کا مان بن کر جاتا تھا۔ دوسری ٹیم کو جب مرعوب کرنا ہوتا تو اسے بتایا جاتا کہ ہمارے پاس جھِیلا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا نام ہی اس قدر تھا کہ دوسری ٹیم میچ سے پہلے ڈول جاتی تھی۔ کھیل کی بنا پر اسے فوج اور واپڈا کی طرف سے کئی بار نوکری کی پیش کش بھی ہوئی تھی لیکن اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے وہ ایسی کوئی پابندی قبول نہ کر سکا تھا۔

آٹھ دس سال اس نے کبڈی کے میدان پر راج کیاتھا۔ شادی، بچے اور زندگی کی ذمہ داریاں کندھوں پر آ لدیں تو اس کا بدن ماند پڑنے لگا۔ جب مسلسل چار جاپھے ناکام گئے تو اس نے جاپھا کرنا چھوڑا اور صرف وارا کرنے لگا۔ اپنی پھرتی کی بنا پر وہ وارا بھی کمال کرتا رہا مگر ایک بار جب ایک تنو مند جاپھی کا کان پر پڑنے والا ہاتھ اس کے دماغ کی چولیں تک ہلا گیا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ کبڈی اب اس کے بس کی بات نہیں رہی۔ یہ ضرب پڑی بھی بہت زوردارتھی۔ اس کا کان سُن اور دماغ جھنجھنا گیا تھا لیکن اس نے تب ظاہر نہ کیا اور کسی ایسی ناکامی سے بچنے کے لیے جو عمر بھر اس کے ماتھے پر سجی رہتی، اس نے چپکے سے میدان کو الوداع کہہ دیا۔ کبھی میدان کا رخ ہی نہ کیا۔ اس ضرب سے وہ عمر بھر کے لیے دائیں کان سے سننے کو معذور ہو گیا تھا۔ برسوں بعد بابے کی سماعت کی یہ معذوری سب جان گئے تھے لیکن وجہ کسی کو معلوم نہ تھی۔

اب تو وہ دمے کا مارا، ستر سال کا کھانستا ہوا بوڑھا تھا۔ سیدھی طرح چلنے پھرنے سے بھی معذور۔ صرف کھُنڈی کے سہارے چل پاتا تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی۔ دو بیٹے تھے۔ اس کی پوری خواہش کے باوجود کہ وہ بھی کبڈی میں اُسی کی طرح نام پیدا کریں، وہ دونوں صرف مزدور ہی بن سکے تھے۔ آج کل اٹلی میں مقیم تھے۔ وہ اکیلا پاکستان میں رہ گیا تھا اوراپنے بیٹوں کی بنوائی کوٹھی میں رہتا تھا۔ کھانے اور دوا دارو کا خیال رکھنے کے لیے ایک بھانجی کی اولاد تھی۔ اسی کے گھر سے کھانا آ جاتا، اگر بیمار پڑتا تو اسی کے بچوں میں سے کوئی مستقل اس کے پاس رہنے لگتا۔ کھاٹ توڑنے اور کھُنڈی ٹھکورنے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہ تھا۔ گرمی کے موسم میں اکثر اس کی کوٹھی میں ہم عمر دوستوں کی محفل جمتی تھی۔ جہاں سب اپنی اپنی جوانی سنایا کرتے تھے۔ بابے کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ جب شروع کردیتا تو پھر سارا دن باتیں ختم نہ ہوتیں۔

گو کہ وہ کب کا کبڈی کے میدان سے نکل چکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا نام ایک مثال تھا۔ جھِیلے کا نام علاقے کے حافظے پر نقش ہو گیا تھا۔ مائیں جب اپنے بچوں کو پھرتی کا مظاہرہ کرتے دیکھتیں تو انہیں جھِیلا پہلوان کہتیں۔ باپ اپنے بیٹوں کی تابدار جوانی اور طاقت دیکھتے تو انہیں جھِیلا پہلوان کے نام سے پکارتے۔ اس کا نام ایک داستانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اس کے گاؤں کے لوگ خواہش کرتے تھے کہ کاش گاؤں میں پھر کوئی ایسا ہی جوان پیدا ہو جو کبڈی میں ان کا نام جھِیلے کی طرح روشن کرے۔

بابا جو اَب کسی کام کا نہ رہا تھا، جب اپنی جوانی کے قصے سنا سنا کے تھک جاتا تو پھر ایک ٹھنڈی اور لمبی آہ بھر کے افسوس سے کہتا کہ کاش اس کے بیٹے بھی کبڈی کے میدان میں اترتے اورجھِیلے کا نام آج بھی چلتا رہتا۔ اس کے دوست بھی جانتے تھے کہ عمر میں جھِیلے کو ایک ہی دکھ رہا ہے کہ اس کی اولاد اس جیسی نہیں ہو سکی، حالانکہ جب اس کے ہاں پہلا بیٹا ہوا تھا تو وہ خوشی سے چیخ پڑا تھا کہ ایک اورجھِیلا پیدا ہو گیا ہے۔ دوسرے کی پیدائش پر تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتا اور کہتا کہ اپنے بیٹوں کو بھی کبڈی کے میدان میں اتارے گا۔ شیر ہوں گے، شیر۔ آخر بیٹے کس کے ہیں۔ اس کے دوستوں کو بھی یقین تھا کہ اس کے بیٹے اس کا نام آگے بڑھائیں گے۔ باپ کی ناف برابر ہوئے توجھِیلے نے انہیں کبڈی کی طرف لگا دیا تھا۔ روزانہ ان کی دوڑ کراتا۔ ڈنڈ بیٹھکیں لگواتا۔ پھر کھانے کو ایسی چیزیں دیتا جن سے بدن میں طاقت اور چستی آجاتی ہے۔ وہ خودبتاتا تھا کہ اس نے کبھی اپنے بیٹوں کو بھینس کا دودھ نہیں پینے دیا کہ اس سے بندے کا جسم تھلتھلا ہو جاتا ہے۔ ان کو چست رکھنے کے لیے ہمیشہ گائے کا دودھ پلایا کہ بچھڑے کی طرح اَتھرے رہیں۔ لیکن پتا نہیں کیا ہوا، ماں نے انہیں اندر ہی اندر اس پٹڑی سے ہٹا دیا تھا یا وہ خود اس قابل تھے ہی نہیں کہ جوانی میں پاؤں رکھنے تک وہ کبڈی سے متنفر ہو چکے تھے۔ میدان میں اترتے تو بالکل اناڑیوں کی طرح ہاتھ پاؤ ں مار کے اس کا نام ڈبو آتے۔ جھِیلے نے کچھ ہی دن انہیں آزمایا، جب جان گیا کہ یہ پھوکے گنّے ہیں تو انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ پڑھائی سے توپہلے ہی فارغ تھے، کھیل سے بھی گئے۔ آخر بنے تو محض مزدور بنے، خود بابے نے ہی کوشش کر کے اور چار بیگھے زمین بہا کر انہیں اٹلی بھجوادیا تھا اور پھر جب وہ وہاں سیٹل ہو گئے تو خود ہی اُس نے کہا تھا کہ اپنے بیوی بچے بھی ساتھ لے جاؤ۔ جب انہوں نے پوچھا کہ آپ کا اکیلے کیا بنے گا تو، باباخود بتا تا ہے، اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری کسی طرح گزر ہی جائے گی۔ تم لوگ اپنے بچوں کی زندگی بناؤ۔

بابا جب اپنے بیٹوں کی طرف سے مایوس ہو گیا تو اس نے دوسروں کی طر ف توجہ دینا شروع کر دی تھی۔ ابھی جوانی کی کچھ چنگاریاں باقی تھیں۔ شوق پر دھیان دے سکتا تھا۔ بابا خود ہی کسی کے کہے بغیر میدان میں چلا جاتا اور کبڈی کے شوقین لڑکوں کو تربیت دیتا۔ بارہا بابے نے کبڈی کے میدان میں بالکل نئے لڑکے اتارے جن کا نام بھی پہلے کسی نے نہ سنا ہوتا۔ بابے کے تیار کیے ہوئے لڑکے آسانی سے کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔ اس کا نام کبڈی کے میدان میں بولتارہا۔ لیکن وہ خود مطمئن نہیں تھا۔ کہا کرتا تھا کہ کبڈر تو بہت ہیں، میرے ہاتھوں کے سکھائے اچھا کھیل لیتے ہیں لیکن ان میں کوئی جھِیلا نہیں بن سکا۔ بہت بعد میں جب دوستوں کی ایک محفل میں اسے یہ طعنہ سننے کو ملا کہ اس کی ساری تربیت کے باوجود آج تک گاؤں میں اس کے پائے کا کوئی کبڈر نہیں بن سکا، شاید وہ ہی دوسروں کو سکھانے میں کوئی کمی رکھ دیتا ہے،تو اس نے کہا تھا کہ جھِیلابنایا نہیں جاتا، بنا بنا یا آتا ہے۔ کسی پر جتنی بھی محنت کرلی جائے،وہ جھِیلا نہیں بن سکتا۔ جب جھِیلے کے اپنے خون سے بھی ایک جھِیلا نہیں نکل سکا تو پھر میں کسی اور کو جھِیلا کیسے بنا سکتا ہوں!!

٭٭٭
بر موٹ، جھِیلے کا گاؤں بالکل پہاڑی سلسلے کے نیچے تھا۔ کوہستانِ نمک کے اس سلسلے میں جھِیلے کے گاؤں سے اوپر پہاڑیوںمیں بہت بڑاجنگل تھا۔ اس جنگل میں تیتر، بٹیر، جنگلی کبوتر، بھگیاڑ، گیدڑ، ہڑیال،سیہہ، خرگوش، لومڑ، ہرن اور سٔور بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ پوری تحصیل کے لوگ کھنچ کھنچ کر ادھر شکار کھیلنے کو آتے تھے۔ ہر ہفتے، کوئی نہ کوئی ٹولی اپنے کتوں، بندوقوں، جالوں،پھندوں، ٹارچوں اور دُوربینوں کے ساتھ پہاڑیوں پر ہڑل ہڑل کررہی ہوتی تھی۔

ویسے تو وہاں ہر قسم کے شکاری آتے تھے۔ کوئی خرگوش مارکھاتا، کوئی ہرن لیکن سبھی شکاریوں میں یہ بات مسلم تھی کہ اصل شکار تو سٔور کا ہے۔ یہ واحد شکار ہے جو نہ زبان کے چسکے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کسی مالی منفعت کے لیے۔ شکار برائے شکار۔ حوصلے اور ہمت کے ساتھ ساتھ پوری لگن کا کھیل۔ جس میں شکار کوصرف گھیر مارنے پر توجہ ہوتی ہے، مصالحے لے کر اسے بھوننے کی فکر نہیں ہوتی۔

سٔور کے شکار کا وہاں بڑ اشہرہ تھا۔ بے قاعدہ قسم کے مقابلے ہوتے تھے۔ آپس میں کسی تنظیم کے بغیر ہی یہ طے تھا کہ جس سیزن میں جو ٹولی زیادہ نر پکڑ کر لائے گی، وہی اس سال کی بہترین ٹولی کہلائے گی۔ گرمی کا پورا موسم شکار نہیں کھیلا جاتا تھا حتیٰ کہ اس موسم میں کتے کھولے ہی نہ جاتے۔ یہ شکاریوں کی اپنی اخلاقیات تھی کہ اس موسم میں سٔورنی بچے دیتی ہے، اس موسم میں شکار کا مطلب یا تو بچہ سٔور کو مارنا ہے، یا سٔورنی کو مار کر اس کے دودھ پیتے بچوں کی بلاوجہ موت کا سبب بننا تھا، اس لیے وہ گرمی کے موسم میں شکار کا نام بھی نہ لیتے تھے مگر جب سردیاں آ جاتیں تو ٹولیوں کی ٹولیاں خون گرمانے کے لیے سٔوروں کے پیچھے ہو لیتیں۔ اس دوران جنگل میں شاید ہی کوئی سٔور بچتا ہو جس کے پیچھے کسی کتے کے پاؤں نہ پڑتے ہوں۔ شام ہوتے ہی ٹولیاں للکار کر نکل جاتیں اور ساری رات جنگل کتوں کی بھونکاروں اور شکاریوں کے نعروں سے گونجتا رہتا۔

سٔور کا شکار اس علاقے میں صرف کتوں سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ اگر کوئی شکاری، سٔور کے شکار پر جاتے وقت اپنی حفاظت کے لیے رائفل ساتھ لے کر جائے تو اسے ڈراکل اور ہیجڑا کہا جاتا تھا۔ یارُو کا مشہور قول تھا کہ’’ رائفل تو زنانہ سہارا ہے، مردوں کے کھیل میں لطف بگاڑ دیتا ہے، اگر اپنی جان بچانے کی اتنی ہی فکر ہے تو مارو خرگوش اور کھا کے جان شان بناؤ۔ سٔور مردوں کے مارنے کے لیے رہنے دو۔ ‘‘اسی رِیت کی وجہ سے باوجود اتنی شکاری ٹولیوں کی آمد کے علاقے میں کبھی سٔور ختم نہیں ہوئے۔ اوبڑ کھابڑ علاقے اور گھنے درختوں، جھاڑیوں کی وجہ سے شکاری ٹولیاںاکثر ناکامی کی تھکن سے چور ہی لوٹتی تھیں۔ اکثر تو رات رات بھر پوری ٹولی ذلیل ہوتی رہتی، کتے بھی کٹ پھٹ جاتے اور سٔور کا بال تک نہ ملتا۔ علاقے کی جو نامی ٹولیاں تھیں، یارُو، حیدری اور خضرے کی، انہیں بھی ابھی تک صرف چھ یا سات نر پکڑنے کا اعزاز ہی حاصل تھا۔ وہ لوگ بھی بیشتر صرف شکار کی سنسنی ہی لُوٹ کر لاتے تھے۔

شکار کا ایک سادہ سا ضابطہ تھا۔ ہر شکاری ٹولی اس ضابطے سے واقف تھی۔ صرف دو شرطیں تھیں، پہلی یہ کہ سٔور کا شکار اس وقت ہی مانا جائے گا جب قتلیوں والانر سٔور ہاتھ آئے گا، مادہ سٔور کسی گنتی میں نہیں۔ دوسری یہ کہ کسی بھی ٹولی کا شکار تب ہی گنا جائے گا جب نر کو زندہ پکڑ کر گاؤں میں لایا جائے گا۔ اگر جنگل میں مر گیا تو وہ شکار نہیں گنا جائے گا۔ بس یہ سادہ سی شرطیں تھیں۔ کتے جب کسی نر کو ادھ موا کر کے گھیرے میں لے آتے توشکاری مختلف حربوں سے اسے بے بس کر لیتے۔ اس کے بعد لوڈر یا ٹرالی میں ڈال کر اپنے گاؤں( جس گائوں کی ٹولی ہو) میں لے جاتے۔ باقاعدہ ڈھول اور باجوں کے ساتھ اسے لے جا کر گاؤں کے مرکزی چوراہے پر باندھ دیتے اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ اس پر کتے چھوڑ دیتے۔ وہ کتے، جو ابھی نئے ہوں اور انہیں سٔور کے شکار پر لگانا ہو۔ اس طرح کتوں کے دل سے سٔور کا خوف نکل جاتا اور انہیں سٔور کے گوشت کا ایسا چسکا پڑتا کہ جہاں سٔور نظر آتا،اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔

کوئی ٹولی جب نر پکڑ لاتی تو پورا گاؤں اکٹھا ہو کر اسے بوٹی بوٹی ہوتے دیکھتا تھا۔ ڈھول بجتے، جوان بھنگڑا ڈالتے، اپنے اپنے کتوں کی ہلا شیری کی جاتی، میراثی شغل میں اس تنو مند کی ناگہانی موت پر بین کرتے۔ پلید ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کسی کی ہمدردی نہ جاگتی تھی بلکہ خون کے ہر چھوٹتے فوارے پر داد، شاباش کا غلغلہ بلند ہوتا۔ اتنے مجمع کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ٹولی کا شکار گنتی میں آ جاتا تھا۔ اگر کبھی کسی خاص سٔور کے شکار کا چیلنج ہو تو پھر اسے برموٹ گاؤں میں پکڑ لانے کا اعلان ہوتا تھا جو علاقے کا مرکزی گاؤں تھا۔ جیسا کہ جھِیلے کے لیے اعلان ہوا تھا۔

٭٭٭

سب سے پہلے وہ ایک قریبی گاؤں کی شکاری ٹولی کو نظر آیا تھا۔ یہ لمبا چوڑا اور تازی کتے سے بھی تیز۔ وہ صرف ایک ہی بار ان کی ٹارچ کے گھیرے میں آیا تھا، اس کے بعد دکھائی بھی نہ دیا۔ لیکن اس کا جثہ اس قدر گٹھیلا اور پھرتی کچھ ایسی تھی کہ وہ ٹولی حیران رہ گئی تھی۔ اگلی صبح انہوں نے یارُو کی بیٹھک میں الوداعی ملاقات کے وقت اس سٔور کا ذکر کیا اور پوچھا کہ ایسا چھلاوہ انہوں نے دیکھا ہے کیا؟ لیکن یارُو لوگوں کو کیا پتا کہ یہ کس سٔور کی بات ہو رہی ہے۔ دیکھا ہوتا تو کچھ بتاتے۔ یونہی سر ہلا کر رہ گئے، کہ ہوگا کوئی ذرا شُرتا قسم کا سٔور، گھبرا کر بھاگا ہو گا تو زیادہ تیز لگا ہوگا۔ ورنہ ایساکوئی خاص سٔور تو ہماری نظر میں نہیں ہے۔

کچھ ہی دنوں بعد خود یارُو کی ٹولی کا سامنا اس سے ہو گیا۔ اپنے دوستوں اور کتوں کی چار جوڑیوں کے ساتھ وہ شکار پر تھا۔ سرچ لائٹ کی روشنی میں ایک سٔور نظر آیا۔ لیکن روشنی پڑتے ہی وہ کچھ ایسی تیزی سے غائب ہو گیا کہ باوجود اپنے ہزار تجربے کے، یارُو کی ٹارچ اسے دوبارہ دیکھ ہی نہ پائی، بس بھٹک کے رہ گئی۔ اس کی جھلک دیکھ کے یارُو کے منھ سے بے ساختہ ’اوئے ہوئے ‘نکلا تھا۔ یہ وہ پہلا توصیفی اظہار تھا جو اس کے بارے میں ادا ہواتھا۔ اس کے بعد تو جس نے بھی دیکھا، ایسی ایسی تعریف کی کہ اس پہ سٔور کا نہیں، کسی ’باہر کی چیز‘ کا گمان ہوتا تھا۔

یارُو کو اسی ایک ہی جھلک میں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی عام سٔور نہیں ہے بلکہ کسی ’کُتی نسل کا سٔور‘ ہے۔ اس نے سٔور کا ہیولا ذہن میں رکھ لیا۔ اگلی بار بھی یہ یارُو کے نصیبوں میں ہی تھا کہ اس سے ملاقات ہوتی یا شاید کسی اور ٹولی نے بھی اسے دیکھا تو ہو مگر پرکھ نہ سکے ہوں کہ یہ کوئی نئی بلا ہے۔ یارُو تو دیکھ چکا تھا، سو پہچان گیا۔ اب کی بار یارُو پوری طرح چوکنا تھا۔ سو اس نے اپنے کتوں کو اس کے پیچھے پوری مہارت سے لگا دیا۔ لیکن بے سود، بہت جلد وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ اس دوسرے ٹاکرے سے یارُو اور اس کی ٹولی کے سب جوان جان چکے تھے کہ اب کے سال کوئی ایسا سٔور میدان میں آیا ہے جس کا شکار،شکاریوں کی مہارت کی دلیل ہو گا۔ سب نے مل کے تہیہ کیا کہ اگلی رات زیادہ کتے اور بڑی ٹارچیں لے کے آئیں گے اور صرف اسی سٔور کو گھیرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے اگلی رات ان کے پاس پانچ جوڑیاں تھیں۔ ان میں دو بوہلی وہ تھے جن کا علاقے میں چرچا تھا۔ جب وہ اسی کی جستجو میں نکلے تھے تو بہت جلد اسے پا بھی لیا۔ دیوانوں کی طرح کتوں کو کھول دیاگیا۔ پوری رات کتے اس کے پیچھے لپکتے رہے لیکن اس کے نقشِ رفتار کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ الٹا ایک تازی کتا جو شاید اپنی تیز رفتاری سے اس کے پاس جا پہنچا تھا، پیٹ میں قتلی کا گھاؤ لیے پڑا تھا۔ اسے وہیں مار دینا پڑا۔ باقی ساری ٹولی بے مرا دواپس آ گئی۔ یارُو لوگوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ سٔور ہاتھ نہ آیا بلکہ ٹولی میں دولوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تک نہ تھا۔ وہ سب اس ٹاکرے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ کسی عام طریقے سے مرنے والا سٔور نہیں ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص قسم کے دائو اپنانے پڑیں گے۔

یارُو کے بارے میں لوگ جانتے تھے کہ کسی سٔور سے ڈرنے والی مٹی اس میں لگائی ہی نہیں گئی۔ وہ توسٔور کے شکار پر جاتے وقت محض اپنی دلیری کی بنا پر کبھی کوئی ہتھیار لے کر نہیں جاتا تھا۔ رائفل سے لے کر خنجر تک، کسی بھی قسم کا ہتھیار ساتھ لے جانا اس کے آئین سے باہر تھا۔ ایسا شخص جس سٔور کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائے، اس کی موت یقینی تھی اور اگر پکڑ کر لا نہ بھی سکے، پھر بھی وہ اتناکچھ کر آتا تھا کہ اگلی دفعہ کسی اَور کے لیے آسان شکار ثابت ہوتا۔ ان سب خوبیوں کے باوصف جب اس کی ٹیم جان توڑ کوشش کے باوجود ناکام لوٹی اور اس سٔور کے گن گاتی رہی تو ان کی باتوں سے دوسری ٹولیوں میں بھی شوق پیدا ہوا۔ اس کا رنگ اور قد وغیرہ تفصیل سے رٹ لیے گئے۔ مزیدایک خاص نشانی یہ تھی کہ تازی کتوں کے علاوہ کوئی اور کتا جس سٔور کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکے، سمجھ لینا کہ وہی ہمارا مطلوبہ سٔور ہے۔

اب تو کئی ٹولیوں کو جنون ہوا کہ وہ اس سٔور کو مار لائیں۔ ظاہر ہے کہ ایک تو ایسا پھنے خان سٔور مارنے کا اعزا ز بھی مل جاتا اورپھر یارُو کی ٹیم کو بھی نیچا دکھایا جا سکتا تھا۔ کئی ٹولیاں اس کی تلاش میں نکلیں، کچھ کو نظر ہی نہ آیا، کچھ کو نظر تو آیا، لیکن محض ہیولہ ہی، اس کے بعد ان کے کچھ کر سکنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو گیا۔ دو تین ٹولیاں اس کے پیچھے بھاگنے کا تمغہ بھی لے چکی تھیں لیکن کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا تھا۔ الٹا اپنے ہی کچھ کتے زخمی کرا کے لے آئے تھے۔ یارُو لوگوں کے ساتھ مسابقت کی وجہ سے خضرے اور حیدری کی پوری تمنا تھی کہ یہ شکار ان کے ہاتھ سے ہی مارا جائے تا کہ ان کی ٹولی یارُو سے بہتر ثابت ہو سکے۔ جب وہ علیحدہ علیحدہ کچھ نہ کر سکے تو پھر دونوں کی ٹولی نے مل کر بھی دو راتوں تک کوشش کی۔ کوئی بھی اور سٔور نظر آتا تو اس کے طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ صرف اپنے خاص شکار کی تلاش میں ہی رہتے۔ دوسری رات کی ہی بات ہے جب وہ ان کے گھیرے میں آ گیا۔ انہوں نے ٹارچیں جلا کرہر طرف سے اس پر روشنی کا تمبو تان دیا کہ کسی طرح ان کی نظروں سے بچ کے نہ بھاگ سکے۔ درجنوں نظریں اس پہ جمی تھیں اور سولہ کتے اس کے پیچھے پڑے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ گھیرے میں آ گیا ہے تو شاید پہلی دفعہ کسی ٹولی کے کتوں پہ سیدھا حملہ کرنے لگا۔ اس کی رفتار اور طاقت اتنی تھی کہ بوہلی کتے کو بھی قتلیوں پہ اٹھا کے پوری رفتار سے کئی فرلانگ تک بھاگتا چلا جاتا۔ گھنٹوں یہ تماشا جاری رہا۔ اس کا بدن کافی حد تک سرخ ہو چکا تھا، لیکن نہ خضرے اور نہ ہی حیدر ی کی ٹولی کا کوئی آدمی وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یہ اس کا اپنا ہی لہو تھا۔ اس نے دونوں ٹولیوں کے اتنے کتے لمبے لٹا دیے تھے کہ اگلے سیزن تک وہ شکار پر نکلنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔

صبح کا اجالا جب پھیلنا شروع ہوا توزندہ بچ جانے والے کتے اپنی دمیں ہلاتے ہوئے اپنے اپنے مالکوں کے قدموں میں گھس رہے تھے۔ حلق سے چاؤں چاؤں کی خوفزدہ آواز نکل رہی تھی۔ وہ سٔور گو کہ تھکا ہو ا لگتا تھا، پھر بھی اپنی پہلی شاندار فتح کے غرور میں اطمینان سے آہستہ آہستہ چلتا ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حیدری بعد میں بھی اکثر کہا کرتا تھا کہ اس رات اسے اتنا دکھ ہوا تھا کہ اگر وہ رائفل ساتھ لے کر گیا ہوتا تو اسے گولی سے مار دیتا۔ بھلے سارے اصول کی ایسی تیسی ہوجاتی، اپنے کتوں کے مرنے کا دکھ تو کم ہو جاتا۔ واپسی پر دونوں ٹولیوں کے پاس کل پانچ کتے ایسے تھے جو اپنے پیروں پر چل کر ان کے ساتھ آ سکے تھے۔ دو کو اٹھا کر لایا گیا اور باقی مردہ کتے ساتھ لا کے کرنے بھی کیا تھے۔

٭٭٭

وہ سیزن تو یوں ہی گزر گیا۔ مزید کسی ٹولی کا اس سے ایسا بھر پورسامنا نہ ہوا لیکن ایک سال بعد جب پھر شکار کاسیزن آیا تو اس سٔور کی شہرت جاگ اٹھی۔ خاص طور پہ جب ایک دور کی ٹیم کو اس کے ہاتھوں ناقابلِ یقین گزند پہنچا۔ بے چارے ہفتے بھر کا شکارکھیلنے آئے تھے لیکن پہلی رات کے بعدہی پانچ میں سے تین کتے مروا کر، ایک خود ہی ناقابل علاج سمجھ، ٹھکانے لگا کے فقط ایک سہمے، لرزتے کتے کی زنجیر تھامے واپس چلے گئے۔ انہوں نے سٔور کا جو جثہ اور جس طرح کی رفتار بتائی تھی، یارُو، بلکہ اس کے گاؤں کے اکثر شکاری سمجھ گئے تھے کہ یہ وہی سٔور ہے۔ اتنا پھرتِیلا اور جسیم سٔور ان کے علاقے میں او رکوئی تھا ہی نہیں۔ سب شکاریوں نے آپس میں گویا یہ طے کر لیا کہ یہ سٔور اگلا سیزن نہ دیکھ پائے۔ البتہ یارُو نے،سب سے اچھا شکاری ہونے کے زعم میں،اس کے شکار کو ایک بڑے مقابلے کی حیثیت دے دی اور سب کے اتفاقِ رائے سے اس کو پکڑنے کے لیے کچھ اصول بنا دیے۔ پہلا اصول تو وہی تھا کہ کوئی شخص بھی اسے سوائے کتوں کے کسی اور طریقے سے نہیں مارے گا۔ دوسرے،اس کو پکڑنے کے لیے کوئی دو ٹولیاں اکٹھی نہیں ہوں گی۔ پکڑے گی تو کوئی ایک ہی ٹولی اور جس ٹولی نے مار لیا، وہ آئندہ سب سے اعلیٰ ٹولی سمجھی جائے گی۔ تیسرے، اس کا شکار صرف سردیوں میں ہی کرنا ہے۔ اگر سردیوں میں نہ ہو سکا تو پھر گرمیوں کی بجائے اگلے جاڑے میں۔ گرمیوں میں حسبِ معمول کوئی اس کا شکار نہیں کرے گا۔ چوتھے، دن کے وقت اس کے پیچھے کسی نے نہیں بھاگنا، اگر جانا ہے تو صرف رات کوکہ شکار کا اصل لطف رات کو ہی ہے۔ پانچویں جو ٹولی بھی اسے پکڑے گی، برموٹ گاؤں میں ہی لائے گی۔ کسی اور جگہ لے جانے پراُس کے شکار کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان اصولوں کے طے ہو نے کے بعد تمام ٹولیوں میں اس سٔور کو پکڑنے کا ایک عجیب طر ح کا جوش پیدا ہو گیا تھا۔ گویا وہ سٔور نہ تھا، کوئی ٹرافی تھی جو جسے مل جاتی وہ چیمپئن کہلاتا۔ اس سال سبھی شکاریوں کو سٔوروں کے شکار کی بجائے صرف اِسی کے شکار کی دھن تھی۔ خاص طور پر یارُو لوگوں نے تو تہیہ کر لیا تھا کہ دوسرے سٔور تو مارتے ہی رہتے ہیں اور مارتے ہی رہیں گے،اِس بارکوئی اَور سٔور نہیں مارنا بلکہ اِسی نَر کو باندھ کے لانا ہے۔ یارُو کی ٹولی شام ہوتے ہی نکل پڑتی پھر کسی اور سٔور کی چھایا پر دھیان نہ دیے آگے بڑھتی رہتی۔ انہوں نے کئی باراسے دیکھا بھی تھا لیکن اس کا کچھ اُکھاڑ نہ پائے۔

ایک دن شاید وہ ان کی اس مسلسل مڈبھیڑ سے تنگ آ کر خود ہی سامنے آگیا۔ یارُو لوگوں کے کتے اس پر کھول دیے گئے۔ وہ اپنی پوری جھپٹ سے اس پر ٹوٹ پڑے لیکن وہ بھی کچھ اس رفتار سے خود ان کی طرف بڑھا کہ ایک گلٹری کو اپنی قتلی پہ پروئے خود یارُواور اس کے ساتھیوں تک بھاگتا آیا۔ انہوں نے فوراً اپنے بچاؤ کا سوچا، حتیٰ کہ یارُو نے بھی لیکن سٔور ان کی طرف دیکھے بنا رُکا، گھوم کرپلٹا اور اپنے پیچھے آنے والے دوسرے کتوں کو اپنے بھاری وجود سے روندتا آگے بھاگتا چلا گیا۔ یہی کھیل کافی دیر تک جاری رہا۔ جب اس کی دھاڑ رُکی تو سب کتے صاف تھے اور وہ خود اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف دبکے ہوئے تھے۔ سٔور بھی شاید انسانوں سے پنگا لینے کا خواہش مند نہ تھا اس لیے واپس پلٹ گیا۔ گو کہ ناکامی کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا مگر ایک بات یارُو جان گیا تھا۔ بعد میں جب بھی اس کے کتے پھاڑے جاتے تو وہ اپنے آپ کو کوستا تھا۔ اس سٔور کا دایاں کان کٹا ہوا تھا۔ یارُو کو اچھی طرح یاد تھا کہ تین سال پہلے اس کے ہتھے اسی رنگ کا ایک بچہ سٔور لگ گیا تھا۔ اس نے ترس کھاکر اسے آزاد کر دیا تھالیکن آزاد کرنے سے پہلے نشانی کے طور پر اس کا دایاں کان کاٹ دیا تھا۔ اس سٔورکا دایاں کان کٹا ہواتھا اور یقیناًیہ وہی تھا۔ ہر ناکامی پر خود کو کوستے ہوئے وہ یہی کہتا کہ کاش اسی دن اسے اپنے کتوں کو کھلا دیتا، آج ہمیں اتنا ذلیل تو نہ کرتا۔

یارُو کی ٹولی دوسری بار ناکام اور پھر اس بری طرح کٹ کر واپس آئی تھی۔ تمام شکاریوں میں اُس کی شہرت پھیلتی گئی اور ہر جگہ سے آپہنچنے والے شکاری ارمان کرنے لگے کہ کاش وہ اس کا شکار کر سکیں۔ اس سال بھی اسی سٔور کا شہرہ رہا۔ ہر ٹولی اس کا سامنا ہونے کی دعا کرتی۔ پورے سیزن کے دوران وہ کئی ٹولیوں کے ساتھ نپٹ چکا تھا۔ جب سب نے ایک بار اس کی طاقت چکھ لی تو کئی کمزور دل سکھاڑیوں نے اس کے شکا ر کا ارادہ ہی ترک کر دیا اور کوشش کرنے لگے کہ اگر اس کا سامنا ہو بھی جائے تو کنی کترا کے نکل جائیں، خواہ مخواہ اپنے کتے مروانے کا کیا فائدہ۔ مگر جنہیں شکار کا اصل ٹھرک تھا،وہ اسی ’حرامی‘ کو ادھیڑنے کی خواہش میں مرتے تھے۔ بہت بھاگتے، بہت دوڑتے مگر وہ کبھی ہاتھ نہ آتا۔ اس سال اس نے کل انیس کتے ہلاک کیے۔ وہ تھا بھی تو ایسی ہی بلا،سیاہ رنگ کا ایسا بھرا بھرا جثہ جیسے خوفناک کالی رات اپنی پوری ہیبت کے ساتھ مجسم ہو گئی ہو۔ بڑی بڑی قتلیاں اور ان میں اتنی طاقت کہ سر جھکائے، قتلیاں زمین میں گڑو کرگزوں دور تک پوری رفتار سے زمین ادھیڑتا چلا جاتا تھا۔ اس اندھے زور کے ساتھ وہ اس قدر چَھٹ رکھتا تھا کہ تین تین چار چار کتوں کے گھیر ے سے نکل جانا اس کے لیے عام سی بات تھی۔ ایک ہی رفتار سے پوری پہاڑی چڑھ جاتا۔ بلکہ خضرا تو حیرت سے کہتا تھا کہ ’ہے تو سٔور لیکن لگتا نہیں ہے۔ پوری رفتار سے بھاگتا ہوا یک دم رکتا ہے، اور پھرپلٹ کر اسی رفتار سے پیچھے کو دوڑ پڑتا ہے۔ کتے ابھی اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آدھے راستے میں پہنچے ہوتے ہیں کہ وہ واپس مڑ کر انہیں روندنے کے لیے لوٹ رہا ہوتاہے۔ ‘

اس کی اصل مہارت ایک ہی ہلے میں دو کتوں کو پھڑکا جانا تھی اور سب سے بڑی خوبی، کہ دس دس کتے بھی مل کر اسے گھیر کے روک سکے اور نہ ہی اسے ہراساں کر سکے۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ ان سے نپٹتا، جیسے کتے نہ ہوں، چھوٹے نوالے ہوں جنہیں وہ نگل جائے گا۔ یہ اسی سیزن کی بات ہے کہ اس کا ذکر ’’جھِیلے‘‘ کے نام سے کیا گیا۔ اس کی پھرتی اور طاقت کے لحاظ سے وہ عین مین اسی جھِیلے کی طرح لگتا تھا جس کے قصے نوجوانوں نے اپنے بڑوں سے سن رکھے تھے،اس لیے جس نے بھی اس کا یہ لقب سنا، اسے موزوں جانا۔ علاقے کے جن لوگوں نے بابے جھِیلے کو جوانی میں دیکھ رکھا تھا، اس سٔور کے اس نام کو پسند کیا اور اب وہ ہر ایک کے لیے جھِیلا تھا۔ خود بابے جھِیلے کو بھی یہ خبر مل گئی کہ اس سٔور کو لوگ جھِیلا کہہ کے پکارتے ہیں۔ اس نے بھی اس کے قصے سن رکھے تھے۔ ہنس کر بولا’شکر ہے، قدرت نے جھِیلے کا نام زندہ تو کیا۔ ‘ تب سے اسے جھِیلا ہی کہا جانے لگا۔

اس سے اگلے سال صرف آٹھ ٹولیاں رہ گئیں جو جھِیلے کو مارنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ باقی سب لوگ دِل چھوڑ گئے تھے۔ لیکن یہ ٹولیاں بھی اپنے کئی کتوں کو کٹوا دینے کے باوجود جھِیلے کو قابو نہ کر سکیں۔ باہر سے آنے والے شکاری بھی جب یہاں آتے تو اس کا شہرہ سن کر اسی کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتے۔ ایسے ہی کسی شکاری نے حیدری سے جھِیلے کی نشانی پوچھی تو حیدری نے زہر خند سے کہا تھا: ’’نشانی پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب تمہارے سب کتے مر جائیں تو سمجھ لینا کہ مقابل جھِیلا ہی تھا۔ ‘‘

اس بار تو اس نے واقعی تباہی مچا کے رکھ دی تھی۔ ایک اور حیران کن بات شکاریوں نے یہ دیکھی کہ جو شکاری کتے ایک بار پہلے جھِیلے سے لڑ چکے ہوں، وہ جھِیلے کے سامنے جاتے ہی نہ تھے۔ بس دور کھڑے اس پہ بھونکتے ر ہتے۔ یہ واقعی تعجب کی بات تھی۔ ورنہ شکاری کتے تو ایسے سٔور کو، جو انہیں پہلے کبھی زک پہنچا چکا ہو، زیادہ غضب سے چیرنے کو دوڑتے تھے۔ لیکن جھِیلے کے سامنے معاملہ الٹ ہو گیا تھا۔ وہ اس کی طاقت سے دہشت زدہ ہو چکے تھے۔ اس سیزن میں بھی سب ٹولیوں کی کوششیں ناکام گئیں۔ جھِیلا سبھی کے بس سے باہر تھا۔ کتوں کے بس میں وہ آ نہیں سکتا تھا۔ بندوق کے متعلق سوچنا بھی شکاریوں کے خلافِ شان تھا۔ جھِیلا جواں مردوں کی طرح جیے جا رہا تھا۔
اس سیزن کے بعد علاقے کے دو تین چوہدریوں نے جھِیلے کو مارنے کا اچھا خاصا انعام مقرر کر دیا تھا۔ ان دنوں یارُو وغیرہ سب اسی تمنا میں جیتے تھے کہ اب کے سال اسے رگڑ ڈالنا ہے۔ یارُو، جو تاڑ گیا تھا کہ جھِیلے کے سامنے پرانے کتے یرَک جاتے ہیں، خاص طور پہ جھنگ گیا تھااور وہاں کے کسی وڈیرے دوست سے تین جوڑیاں؛ دو بوہلی، ایک گل ٹریا کتوں کی، لے آیاتھا اور اب انہیں چھ الگ الگ گڑھوں میں رکھ کر پال رہا تھاتا کہ جھِیلے کے شکار کے لیے خاص طور پرخونخوار ہو جائیں۔ تمام ٹولیوں کے ساتھ اس نے شرط باندھی تھی؛ اس دفعہ میں اسے مار کے ہی رہوں گا۔ ان دنوں جھِیلے کو مرتے دیکھنے کا جنون تمام برموٹ بلکہ پورے علاقے میں تھا۔ مرد عورت، بچے، بوڑھے اسی پہ بحث کرتے کہ کون سی ٹولی اس قابل ہے کہ جھِیلے کو مار سکے۔ جب بحث کہیں نہ پہنچتی تو آخر شرطیں بدنے لگتے۔ ’تو جس ٹولی کا کہہ رہا ہے، اگر جیت جائے توتمہاری ٹانگ کے نیچے سے گزر جاؤں گا‘۔ ’خضرے کی ٹولی اس کا ایک بال بھی نہیں لا سکتی۔ جس دن وہ اسے پکڑ لائے، میں اپنی مونچھیں مُوت سے مُنڈوالوں گا۔ ‘لیکن سب جانتے تھے کہ اس بحث اور ان شرطوں کا کوئی مقصد نہ تھا۔ جھِیلا کسی کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔

گرمی کے اس موسم میں جھِیلا بہت ہی اکڑ خان بن گیا تھا۔ اپنے آپ کو شاید علاقے کا تھانیدار سمجھنے لگا تھا اور تھانیدار کی طرح ہی گھومتا ہوا عین آبادی میں آجاتا تھا۔ گائوں کی گلیوں میں اس طرح گھومتا، گویا اس کے اپنے باپ کی بنائی گلیاں ہیں۔ ایک مستانی چال سے اپنی تھوتھنی کے ساتھ گلیوں میں گند پھرولتا وہ ایک شان سے چلتا جاتا۔ لیکن کبھی ایک جگہ پر ٹھہرتا نہیں تھا۔ شاید ٹھہرنا اس کااصول تھا بھی نہیں۔ ایک طرف سے آتااور ایسے اعتماد کے ساتھ چلتاہوا، جو سب سے طاقتور ہونے کا احساس ہی دے سکتا ہے،دوسری طرف نکل جاتا تھا۔

جب وہ پہلی بار گاؤں میں آیا تھا تو ایک دہشت تھی جو گاؤں کے اس کونے سے اس کونے تک پھیل گئی تھی۔ ایسا کبھی ہوا تھا اور نہ کبھی ایسا ہو سکتا تھا۔ بھلا سٔور جیسانجس جانور گائوں کا رُخ کیسے کر سکتا تھا۔ برموٹ کے علاوہ کوئی بھی اَورگاؤں ہوتا تو اُس کی بوٹیاں اڑا دی جاتیں لیکن یہ خضرے، حیدری اور یارُو کا گاؤں تھا۔ یہاں شکار کے اصول پر سبھی عمل کرتے تھے۔ اسے مارنے کی بجائے اس کا پِیچا دیکھنے کے لیے کچھ شکاری اس سے بہت آگے چِّلاتے ہوئے گاؤں والوں کو خبردار کرتے گئے کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس کرد روازے بند کر لیں،جھِیلا گاؤں کے اندر آ رہا ہے۔ یارُو، حیدری اور دوسرے کچھ شکاری بندوق لے کر نکل آئے اوراس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے کہ اگرکسی آدمی کے لیے کوئی خطرہ بنا تو اس’ماں کے یار‘کو اُڑادیں گے۔ اصول وَڑ گئے کھڈے میں۔ گاؤں کے باسیوں سے ہمارے اصول اہم تو نہیں۔ لیکن جھِیلا جس نے آج تک شکار کے دوران بھی کسی انسان پر حملہ نہ کیا تھا، کسی گھر کو چھیڑے بغیر آرام سے چلتا ہوا گلیوں سے گزرتا رہا۔ صرف جہاں کسی چاردیواری کے پیچھے شکاری ٹولی کے کوئی کتے بندھے ہوتے، وہاں کتوں کی سہمی ہوئی آوازیں بلند ہوتی سن کر وہ کچھ دیر ٹھٹک جاتا تھا، لیکن جب کسی کتے کو اپنے مقابل نہ پاتا تو پھر چل پڑتا۔ یا رو اور دوسرے سبھی شکاری حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔ آج تک سننے میں نہ آیا تھا کہ کوئی سؤر انسان کو دیکھ کر سامنے کھڑا بھی رہا ہواور یہ جھِیلا کم بخت بھرے پُرے گاؤں میں آ کر انسانوں کے بیچوں بیچ آرام سے گھوم رہا تھا۔ کیا اسے انسانوں سے خوف نہیں آتا؟ کیا اسے معلوم ہے کہ ہم لوگ اسے یوں مارنا نہیں چاہتے یا اسے یقین ہے کہ ہم لوگ اسے مار نہیں سکتے؟جھِیلا ان کی حیرت سے بے نیازکافی دیر گلیوں میں گھومتا رہا اور پھر اسی اطمینان کے ساتھ گاؤں سے نکل گیا جو وہ شکار کے وقت بھی اوڑھے رکھتا تھا۔

اس دن کے بعد شکاریوں کی ٹولیاں ایک بار پھر مل کر بیٹھیں اور اس کے شکار کے لیے بنائے گئے اصولوں پر نظرِ ثانی کی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اب وہ بہت دیدہ دلیر ہو چکا ہے، جس بھی طرح بن پڑے اسے مار دینا چاہیے۔ بندوق سے مارنے میں ہمارا کیا جاتا ہے، جب وہ گاؤں کے لوگوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ آج تو اس نے کچھ نہیں کیا لیکن آئندہ اُس نے کسی آدمی کو چیر دیا تو اس کے مجرم ہمی ہو ں گے جنہوں نے اپنی جوانمردی ثابت کرنے کے لیے اسے چھوٹ دی ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے جن کا کئی دفعہ رات کو اس کے ساتھ ٹاکرا ہو چکا تھا، واضح کیا کہ وہ آدمیوں پر حملہ نہیں کرتا۔ یارُو نے پورے تیقن سے کہا کہ وہ کبھی کرے گا بھی نہیں اس لیے ہم بھی اسے بندوق سے نہیں ماریں گے۔ یہ ہمارے شکاری ہونے پر ایک گالی ہے۔ ماریں گے تو کتوں کی مدد سے ہی۔ ہاں اگر وہ آئندہ بھی کبھی گاؤں آیاتو ہم لوگ اس کے پیچھے آج کی طرح پہرا دیں گے،کوئی خطرہ محسوس کیا تو فائرٹھوک دیں گے، نہیں توکوئی بھی شخص اس کو گولی نہیں مارے گا۔ کافی دیر کی بحث کے بعد وہ اس پہ متفق ہو گئے۔

جھِیلا دیدہ دلیری پر اتر آیا تھا۔ وہ کئی بار گاؤں میں آ چکا تھا۔ عین دن کے وقت جب سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے، وہ کہیں سے گھومتا گھامتا نکل آتا، گاؤں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مردانہ وار چلتاجنگل کی طرف لوٹ جاتا۔ گاؤں کے لوگ اس کے آتے ہی اپنے اپنے گھروں میں گھس جاتے۔ جو لوگ شکاری نہ تھے اور اس کے قصے سن سن کے اس کی طاقت اور پھرتی کے قائل ہوچکے تھے، وہ اسے دیکھنے کے سخت خواہش مند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس دن اسے پکڑ کر لایا گیا تب دیکھ لیں گے مگر اب جو وہ خودگاؤں آ جاتا تھا تو وہ اپنے گھروں کی منڈیروں سے جھک جھک کراسے دیکھتے، مرعوب ہوتے اور اس کی تعریف کیا کرتے، کہ واقعی صحیح معنوں میں ’جنا‘ ہے اور پورا حق دار ہے جھِیلا کہلانے کا۔

اس کے انداز سے کبھی یہ ظاہر نہیں ہوا تھاکہ وہ گاؤں میں کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ شاید وہ وہاں کے شکاریوں کو یہ دکھانے آتا تھا کہ یہ میں آ رہا ہوں، اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ شکاریوں نے کیوں کہ طے کیا ہوا تھا کہ ا س کا شکار سردیوں میں کرنا ہے، اس لیے وہ اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔ صرف سیزن کے انتظار میں تھے۔ جب بھی وہ اسے گاؤں میں دیکھتے، انہیں آگ سی لگ جاتی تھی، یارُو تو ہرروز جھنگ سے لائے اپنے کتوں کو جتاتا تھا کہ اب کی بار سیزن میں اس کے ٹکڑے کر کے چھوڑنے ہیں۔ بڑا آیا سٔور کا بچہ، ہمیں ہمارے ہی گاؤں میں آ کے للکارتاہے۔

٭٭٭

اَسا ڑھ کے مہینے کی بات ہے۔ ایک دن بابا جھِیلاگرمی سے گھبرایا ہوا تھا۔ کچھ دوست اس کے پاس گپ ٹھپ کے لیے آئے تو اس نے ان سے کہہ کر اپنی چارپائی باہر گلی میں شہتوت کے نیچے بچھوا لی، جہاں چھاؤں تازہ اور ہوا ٹھنڈی تھی۔ سب وہیں بیٹھ کے گپیں ہانکنے لگے۔ بابے کی جوانی کی باتیں شروع ہو گئیں تو حسبِ معمول ختم ہونے میں نہ آئیں۔ اسی دوران گلی میں شور مچ گیا کہ جھِیلا اس طرف آ رہا ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگے۔ بابے جھِیلے کے پاس بیٹھے دوست اٹھ کر اس کی کوٹھی میں داخل ہو نے لگے۔ بابے جھِیلے کو انہوں نے کہا بھی کہ وہ سٔور آ رہا ہے، تم بھی اٹھ کے اندر آجاؤ، خواہ مخواہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھوگے۔ لیکن بابا ان کے جواب میں ہنس دیا۔ ’مذاق مت کرو۔ اگر جھِیلا آرہا ہے تو کیا، اصل جھِیلا تو میں ہوں۔ مجھے کیا پروا‘۔ دوست اس کی ضدی طبیعت سے واقف تھے کہ جو بھی کام کرے گا، اپنی مرضی سے کرے گا، ان کے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کے خود کوٹھی میں گھس گئے۔ باباجھِیلا وہیں اپنی چارپائی پہ بیٹھا رہا۔

کچھ دیر بعد جھِیلا گلی کی نکڑ پہ نمودار ہوا۔ اسی مطمئن اور باوقار چال کے ساتھ چل رہا تھاجو اس کی صفت تھی۔ آہستہ آہستہ وہ گلی کے اندر آتاچلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے گلی میں بابے کی موجودگی کو محسوس کر لیا۔ شاید حیران ہو ا ہو گا کہ آج کوئی آدمی اس کے راستے میں کیسے آ گیا۔ وہ چال تھوڑی تیز کر کے بابے کی طرف بڑھا۔ محلے والے حسب معمول اپنی چھتوں پر کھڑے تھے۔ البتہ آج انہوں نے دم سادھ لیا تھا۔ جب جھِیلے نے بابے کی طرف رخ کیا تو کئی عورتوں کے حلق سے مارے خوف کے دبی دبی چیخ نکل گئی۔ پتا نہیں کتنی آوازوں نے بابے کو پکارا، ’اندر چلے جاؤ، اُٹھو،بھاگو! ‘ لیکن بابے کو کچھ پروا نہ تھی۔ وہ بڑی دلچسپی سے جھِیلے کواپنی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ صرف ایک بار اس کی توجہ بٹی، جب اس نے جھِیلے کے پیچھے حسبِ معمول پہرہ دیتے، یارُو اور اس کے ساتھیوں کو بندوقیں اٹھائے گلی کی نکڑ پر نمودار ہوتے دیکھا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں کچھ بھی نہ کرنے کا اشارہ کیا لیکن یارُو اور اس کے ساتھی جھِیلے کو بابے کی طرف بڑھتے دیکھ چکے تھے، وہ تیزی سے آگے بڑھنے لگے،ان کی بندوقیں فائر کرنے کی پوزیشن میں آنے لگی تھیں۔ جھِیلا چلتا چلتا بابے کے پاس آ کے رُک گیا۔ کافی دیر وہیں ٹھہرا رہا، اتنی دیر میں یارُو اور اس کے ساتھی اسے اپنی شِست میں لے چکے تھے۔ چھتوں پر کھڑ ے لوگ اس انتظار میں تھے کہ پہلے یارُو لوگوں کی بندوق چلتی ہے یا جھِیلا اپنا وار کرتا ہے۔

جھِیلے نے اپنا سر جھکایا اور فرمانبرداری سے پہلے بابے کے پاؤں کو سونگھا اور پھر چاٹنے لگا۔ بابے نے بلند آواز سے پکار کر یارُو کو فائر نہ کرنے کا کہا اوریارُو اور اس کے ساتھیوں کی انگلیاں حرکت میں آتے آتے رک گئی۔ ان سب کی آنکھوں میں بھی چھتوں پہ کھڑے لوگوں کی طرح حیرت تھی۔ بس انگلیاں ٹریگروں پر ٹھہرائے بُت بنے کھڑے دیکھتے رہے۔ جھِیلے نے پہلے تو کافی دیر بابے کا پیر چاٹا پھر بھولے بچوں کی طرح اپنا سر بابے کی چارپائی کی پٹی پر رکھ دیا، انداز ایسا تھا گویا کسی بزرگ سے سر پہ ہاتھ پھروانا چاہتا ہو۔ بابابڑ ے دلار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا کٹا ہوا دایاں کان دیکھ کر بابے کو اپنی چوٹ یاد آ گئی۔ بابا اس کے کان والی جگہ کو پیار سے یوں سہلانے لگا جیسے کٹاؤ کا درد کم کرنا چاہتا ہو۔ کافی دیر بعد جب جھِیلے نے اپنی نگاہیں کچھ اوپر اٹھائیں اور بابے کی طرف یوں دیکھا گویا جانے کی اجازت مانگ رہا ہو تو بابے نے اس کے بائیں کان کی طرف ذرا آگے جھک کربڑے لاڈ سے کہا: ’’شاباش پتر! حق ادا کر دیا ہے۔ مگر دیکھ، ہار کبھی نہیں ماننی۔ جب تک میدان میں ہے، تب تک نہیں۔ جب ہارنظر آنے لگی تو پھر میدان میں اترنا بھی مت۔ پکا چھوڑ دینا۔ اب جا میرا پتر، موجاں کر۔ ‘‘

جھِیلے نے یوں سر ہلایا جیسے پوری بات سمجھ گیا ہو۔ آرام سے سیدھا ہوا، ایک بار پھر بابے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت چاہی اور بابے کا اشارہ پا کراپنی پہلی چال سے آگے چل دیا۔ بابا اسے گلی کا موڑ مڑنے تک ایسے فخر سے دیکھتا رہا جیسے اس کا اپنا بیٹاہو،جس کا نام جگ میں بولا جاتا ہو۔

اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی یارُو اوراس کے ساتھی، جو اَب تک اپنی حیرت پر قابو پا چکے تھے، اپنی ڈیوٹی نبھانے کو بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے۔

کچھ دیر بعد بابے کے دوست بھی کوٹھی سے نکل کے دوبارہ اس کے گرد جمع تھے۔ سب کے چہرے اور زبان پہ ایک ہی سوال تھا ’یہ جھِیلے نے کیا کِیاہے؟ ‘

بابے نے مان بھرے انداز میں انہیں جواب دینے کی کوشش کی۔ ’’ میری بڑی مدت سے خواہش تھی کہ جھِیلے سے ملاقات ہو، شکر ہے کہ خود ہی آ کے مل گیا۔ ‘‘

کچھ دوستوں نے اس کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آخربابے نے جھِیلے کو پتر کیوں کہا تھا۔ ’ ’شرم نہیں آئی کہ ایک سٔور کو اپنا پتر کہہ دیا۔ اس کا نام لینے سے زبان چالیس دن پلید رہتی ہے اور تم ہو کہ اسے پتر کہہ دیا ہے۔ کوئی ایمان کی رتّی بھی ہے تم میں؟‘‘

بابا کافی دیر ان کی باتیں سنتارہا۔ وہ سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شور مچاتے رہے۔ آخر تنگ آ کر بابے نے انہیں ایک ہی جواب سے خاموش کر دیا۔ بابا بے بسی کے سے انداز میں چہرے پر مسکرا ہٹ لا کر بولا تھا:
’’اوئے جھلیو!پتر تو وہی ہوتا ہے جس سے باپ کا نام روشن ہو۔ اس نے میرا نام علاقے میں ایک بار پھر مشہور کر دیا ہے۔ میری اصل اولاد تو وہی ہے نا۔ ‘‘

Categories
فکشن

غیر مطبوعہ ناولٹ: اندھیرا، موت اورمسیح سپرا (مشرف عالم ذوقی)

 

باب اوّل

 

[divider](1)[/divider]

[dropcap size=big]زندگی[/dropcap]

آپ میں سے کچھ نہ کچھ خالی کرجاتی ہے۔ پیدائش سے موت تک یعنی آخری سانس تک روح کا باقی اثاثہ بھی آپ سے چھین لیتی ہے اور سرد جسم دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ اس سرد جسم کا قصہ یوں ہے کہ کچھ دیر تک یونہی لاوارث چھوڑ دیجیے تو مکھیاں بیٹھنے لگتی ہیں کچھ دیر اور چھوڑ دیجیے تو چیونٹیاں سوراخوں سے نکل کر خوراک بنا لیتی ہیں۔ اور کچھ ہی گھنٹوں میں اس سرد جسم کی بدبو پھیلنے لگتی ہے جو کچھ دیر پہلے یا کچھ ماہ قبل جب زندہ تھا تو خواہشات کا مجسمہ تھا۔ اس مجسمے میں تپش بھی تھی اور خواہش بھی۔ روح کا اثاثہ چلا گیا تو ایک بے حس جسم، جس پر کوّے بھی منڈرائیں گے اور گدھ بھی۔ اور مسیح سپرا کے لیے یہ معاملہ یوں دلچسپ تھا کہ اس نے خو د کو زندگی میں ہی مردہ تصور کرلیا تھا۔ وہ تین زبانیں جانتا تھا۔ اردو، ہندی اور انگریزی۔ اسی لیے وہ سوچتا تھا اور اس وقت سوچتا تھا جب اس نے خود کو مردہ تصور نہیں کیا تھا کہ انگریزی میں موت کو ڈیتھ کہا جاتا ہے۔ ڈیتھ سے ڈ نکال دیجیے تو ایٹ یا کھا نے کے لیے اُمنگ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی پیدا ہوتے ہی موت آپ کا شکار کرنے یا آپ کو کھانے بیٹھ جاتی ہے۔ ہندی میں موت کے لیے مرتیو کا لفظ ہے۔ آپ م نکال دیجیے تو ریتو کی موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ مگر یہ موسیقی اس قسم کی ہے جو آپ کو اداسی اور موت کی طرف لے جاتی ہے۔ یعنی موت کا موسم۔ موت قریب ہے۔ آپ بدنصیب ہیں کہ پیدا ہوگئے۔ اب ساری زندگی مرتیو کی رتیو کا انتظار کیجیے۔ اردو میں مرنا سے م نکال دیجیے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ رورہے ہیں۔ اور یہ رونا زندگی کی صداقت ہے۔ پیدائش سے موت تک انسان روتا ہی ہے۔ موت سے م نکال دیجیے تو بھوت کا تصور پیدا ہوتاہے۔ یعنی انسان پیدائش سے موت تک بھوت رہتا ہے۔ ہندی میں بھوت ماضی کو کہتے ہیں۔ یعنی انسان زندگی نہیں گزارتاہے بلکہ ایک طرح سے بھوت کال یا ماضی میں ہوتا ہے جہاں تاریخ کے گڑے مردے ہوتے ہیں اور یہ مردے زندہ انسانوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

مسیح سپرا کو موت کا خیال کسی سایے کی طرح نظر آتا تھا، ایسا سایہ جو سفید لباس میں معلق ہو یا نیلے آسمان پر چلتے سفید بادلوں میں وہ موت کا عکس دیکھا کرتا تھا۔ اور جب اس نے سوچ لیا کہ وہ مرچکا ہے تو سب سے پہلے اسے سرد خانے میں کام کرنے والے ملازم مجومدار کا خیال آیا۔ ایک زمانہ تھا جب وہ مجومدار سے کئی بار ملا۔ اور مجومدار سردخانہ کے بارے میں بہت دلچسپ باتیں بتایا کرتا تھا۔ جیسے مجومدار نے بتایا کہ مردے خاموش رہ کر باتیں کرتے ہیں اور ان کی باتیں اتنی مزیدار ہوا کرتی ہیں کہ سرد خانے کے آہنی گیٹ سے باہر نکل کر، باہر کی دنیا کو دیکھنے کا خیال بھی اسے ناگوار گزرتا ہے۔ یہ مجومدار نے ہی بتایا کہ سرد خانے کے آہنی گیٹ سے باہر جو دنیا ہے، وہ بھی ایک مردہ خانہ ہے۔ وہاں شور ہے، سازشیں ہیں اوریہاں تنہائی۔ کوئی سازش نہیں۔ مجومدارنے ہنستے ہوئے بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھویہ سینگیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سر میں ؟’

‘ لو، سینگیں کہاں ہوتی ہیں؟’

‘ لیکن سر میں سینگیں۔ ۔ ۔ ۔ نظر تو نہیں آتیں۔’

‘ مجھے آتی ہیں۔ سینگیں چیختی بھی ہیں۔’

‘ لیکن سینگیں کہاں سے آئیں؟’
‘ٹھنڈ سے۔’

‘ٹھنڈ سے ؟’

‘ لاشوں سے او ر ان کی باتوں سے۔’

مسیح سپرا کے لیے اس کی بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بیسیوں بار وہ ایسی سینگیں اپنے سر پر بھی محسوس کرچکا تھا، جب اس کی بیوی زندہ تھی اور کسی بات پر غصہ ہوجاتی تھی تو اچانک اس کے سر پر بھی سینگیں پیدا ہوجاتی تھیں۔ وہ ہنستا تو مرحومہ کے سر کی سینگیں اور بڑی ہوجاتی تھیں۔ پھر کچھ دیر میں یہ سینگیں غائب ہوجاتی تھیں۔ سڑک پر آوارہ گردی کرتے ہوئے کتنے ہی لوگوں کے سروں پر اس نے یہ سینگیں دیکھی تھیں۔ اس لیے مسیح سپرا کو مجومدار کی سینگوں میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی، مگر مجومدار نے مردہ خانے کے بارے میں جو کچھ بتایا، اس کے تجسس میں اضافہ کرنے ک لیے کافی تھا۔

‘ زندہ یہی لوگ ہیں۔ جو باہر ہیں، سب مرے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسی لیے میں بھی زندہ ہوں، کیونکہ ان کے درمیان ہوں۔’

مجومدار ہمیشہ سفید کرتہ اور پائجامہ میں ہوتا تھا۔ سفید چادروں سے ڈھکی لاشوں کے درمیان ایک زندہ سفید لاش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بقول مجومدار، دودھیا رنگ کے سفیدجمے پانیوں میں تیرتے اجنبی سیاح۔ ۔ ۔ ۔ ایک کولڈ اسٹوریج۔ ۔ ۔ ۔ سنگ مرمر کا سفید فرش۔ آہنی دروازہ کے کھلتے ہی ایک مختصرراہداری۔ رات میں مردے گفتگو کرتے ہوئے دروازے تک آکر ٹہلتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور دلچسپ یہ کہ چلتی پھرتی لاشیں موسم بہار اور موسم خزاں دونوں پر گفتگو کرتی ہیں اور جیساکہ اس نے سنا، موسم خزاں کا لطف یہ مردے زیادہ اٹھاتے ہیں۔ مجومدار نے یہ بھی بتایا کہ کئی بار اس کی ملاقات موت کے فرشتے سے بھی ہوچکی ہے۔ وہ کبھی بیل پر سواری کرتا ہوا آتا ہے کبھی عورت کی شکل میں جس کی آنکھیں بڑی بڑی اور چہرے پر سفید رنگ کا نقاب ہوتا ہے۔ سپرا کی دلچسپی ان باتوں میں اس لیے بھی نہیں تھی کہ اب وہ بھی خود کو مردہ سمجھ رہا تھا بلکہ اس کو یقین تھا کہ وہ مرچکا ہے اور گھر کو اصل مردہ خانے میں تبدیل کرنے کے لیے اسے کچھ انتظام بھی کرنے ہوں گے۔ گھر میں کل ملاکر چھ کمرے تھے۔ ہر کمرے میں دیوار پر گھڑیاں سجی تھیں۔ وقت رُک گیا تھا، اس لیے گھڑیاں بھی رُکی پڑی تھیں۔ مردوں کو وقت سے کیا کام۔ وقت سے کام تو زندوں کو ہوتا ہے اس لیے مسیح سپرا نے پہلا کام یہ کیا کہ ایک ہتھوڑا لیا اور گھڑیوں کے ٹکرے ٹکرے کردیے۔ پھر ان ٹکروں کو ڈسٹ بین میں ڈال آیا۔ مسیح سپرا نے گھر کی دیواروں کا جائزہ لیا۔ دیواریں بے رونق تھیں۔ سفیدی سیاہی میں تبدیل ہوچکی تھی۔ مردے چلتے ہیں، جیساکہ مجومدار نے بتایا تھا اور اس لیے گھر سے باہر نکلنے میں اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ سپرا آرام سے باہر نکلا۔ سڑکوں پر ٹہلتا رہا۔ ٹریفک کو دیکھ کر اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اسے ہنسی آرہی تھی۔ یہ لوگ کل نہیں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہوگاا ور یہ لوگ اپنی موت سے کس قدر بے خبر ہیں۔ سپرا نے شاپنگ کی اور گھر آگیا۔ سفید چادروں کا ایک بنڈل تھا، جو اس نے دیواروں پر سجانے کے لیے خریدا تھا۔ ایک ہالی وڈ کی ہارر فلم میں اس نے مردہ خانہ کی یہ تصویر دیکھ رکھی تھی۔ پورے گھر کو سفید چادروں سے ڈھک دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ کھڑکی، روزن کو بھی۔ گھر کے چھ کمروں میں سفید چادریں دیواروں پر چڑھاتے ہوئے اسے پانچ گھنٹے لگ گئے۔ ایک بار تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی اور بھی ہے جو اس کے ساتھ کام میں شریک ہے۔ ہوسکتا ہے مرحومہ کی روح ہو۔ سفید سفے چادروں کے درمیان اب ایک دھندلکاطاری تھا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ان سفید چادروں سے نکلنے والی دھند نے کمرے کو اپنے حصار میں لے لیا ہو۔ اس نے گھر کی ساری بتیاں بجھادیں۔ ہوا میں لہراتے سفید پردے تھے جو دیواروں پر جھول رہے تھے۔ کچھ دیر کے لیے مسیح سپرا زمین پر لیٹ گیا۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور اچانک اس نے محسوس کیا، ایک عورت نقاب لگائے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ مجومدار نے اس عورت کو موت کا فرشتہ کہا تھا۔ سپرا کے اندر کہیں بھی خوف کا احساس نہیں تھا۔ بلکہ وہ آہستہ آہستہ بدبدا رہا تھا۔ وہ مردہ گھر میں ہے۔ او ر اب اسے اسی حال میں رہنا ہے۔ موت ہر حال میں زندگی سے بہتر ہے۔ موت آپ کے اندر سے احساس اور جذبات کا سمندر لے جاتی ہے۔ موت آپ کو بے نیاز اور خوش رکھتی ہے۔ مسیح سپرا کو کچھ ایسے جابر اور ظالم حکمراں بھی یاد آئے جو خود کو زندہ رکھنے کے لیے اور عمر بڑھانے کے لیے عجیب عجیب طریقے اپنایا کرتے تھے۔ برما کا ایک سابق حکمراں ڈولفن مچھلی کا خون پیتا تھا۔ چنگیز خاں کو جانوروں اور انسانوں کے خون کی مہک پسند تھی۔ کچھ ایسے بھی حکمراں تھے جو جوان اور کنواری لڑکی کو ہلاک کرکے، اس کے لہو سے غسل کیا کرتے تھے۔ مسیح سپرا کو حیرت تھی، ایک بے مقصد اور بد تر زندگی کے لیے خون پینا، غسل کرنا، عیاشی کرنا، سفر کرنا، آوارہ گردی کرنا، ان مشاغل کی کیا ضرورت ہے۔ ۔ ۔ ؟ اور اسی لیے پہلے دن جب مردہ ہونے کا خیال آیا تو اس نے اپنی پرانی خادمہ کو،جو اہلیہ کے انتقال کے بعد اس کی ضرورتوں کا پورا خیال رکھتی تھی، بلایا اور ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا بڑا سا ٹی وی اور کچھ روپے اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، اب تم جاؤ اور آج سے، تم سے جو بھی جسمانی رشتہ تھا، اس کو ختم کررہا ہوں۔ سپرا جانتا تھا کہ یہاں جسمانی رشتے کا مفہوم وہ نہیں تھا، جو عام طور پر لیا جاتا ہے۔ اب وہ ایک مردہ دنیا سے وابستہ تھا، جہاں رشتے صرف روح کے ہوتے ہیں۔ برسوں پرانی خادمہ نے خوف سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ جھک کر سر ہلایا۔ ایک آٹو والے کو بلایا اور ٹی وی کا ڈبہ لے کر چلی گئی۔ اب اس گھر میں تفریح کا کوئی سامان نہیں تھا۔ ویسے بھی مردوں کو تفریح کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ اور سپرا کے لیے یہ خیال کافی تھا کہ وہ مرچکا ہے اور اس کا زندگی سے ہرطرح کا تعلق ختم ہوچکا ہے۔ بقول مجومدار وہ ایک انجانے جزیرے کا سیاح ہے اور اس کے چہار اطراف دودھیا نہر بہہ رہی ہے۔ اسے احساس ہوا،باہر کتے رورہے ہیں اور بلّیاں بھی۔ رونے کی ان آوازوں کا تعلق بھی موت سے ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ بلّیاں اور کتے انسانوں سے زیادہ موت کی آہٹ کو محسوس کرنے کی حس رکھتے ہیں۔ مسیح سپرا ہر انسانی کیفیت سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔ مگر جس وقت وہ لیٹا ہوا تھا اور خود کو موت کی آغوش میں محسوس کررہا تھا اور اس عورت کو جو موت کا فرشتہ تھی اور نقاب میں تھی، اس کو بھی قریب سے دیکھ رہا تھا، ٹھیک اسی لمحہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی پرانی خادمہ کو موبائل دینا بھول گیا۔ یہ انسانی تحفہ اسے آگے بھی پریشان کرسکتا ہے۔ کچھ دیر تک موبائل کی گھنٹی بجتی رہی۔ پھر گھنٹی خاموش ہوگئی۔ مسیح سپرا کو موت کی ان وادیوں میں بس ایک ہی بات کا خطرہ تھا کہ ریحانہ کے رشتے دار اس سے ملنے آسکتے ہیں۔ ریحانہ، اس کی اہلیہ، جس کی موت ایک ماہ قبل ہوئی تھی اور جس کے رشتے دار دور دراز علاقے میں کافی تھے۔ یہ رشتے دار کبھی بھی آسکتے تھے اور اسے موت کی وادیوں سے الگ ایک بیزار، بد مزہ اور خوفناک زندگی کے تجربوں میں واپس لاسکتے تھے۔ مسیح سپرا نے کروٹ بدلی۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ میز پر موبائل پڑا تھا اس نے موبائل پر یہ دیکھنا ضرور نہیں سمجھا کہ کس نے فون کیا تھا۔ موبائل آف کرنے کے بعد وہ ریوالونگ چیئرپر بیٹھ گیا۔ سفید سفید چادروں کے درمیان اس وقت وہ ایک مجسمہ تھا اور ریوالونگ چیئر کو ہلانے کی کوشش کررہا تھا اور بلا مبالغہ، ایسا کرتے ہوئے اسے سکون مل رہا تھا، پھر اس نے دیکھا کہ سفید چادروں کے درمیان سے ایک عقاب نکلا اور کمرے میں رقص کرنے لگا۔ وہ جنگلی بھیڑیوں کی آواز یں سننا چاہتا تھا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے کانوں میں بھیڑیوں کے چیخنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اب وہ خلا میں سفید گھوڑوں کو اڑتے اور قلابازیاں کھاتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔ سفید چادروں سے سفید گھوڑے برآمد ہوئے اور ہوا میں تیرنے لگے۔ اس نے ایک ہالی وڈ کی فلم میں سفید پروں کو پھیلائے ایک راج ہنس کو دیکھا تھا جو بادلوں کے درمیان اڑ رہا تھا۔ یہ منظر بھی زندہ ہوگیا۔ مسیح سپرا کو خوشی تھی کہ وہ موت کے انجان جزیرے میں داخل ہوچکا ہے اور محیرالعقل واقعات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس نے شیش ناگ کاتصور کیا اور اچھل کر شیش ناگ پر بیٹھ گیا۔ ٹھیک اسی وقت دروازے کی بیل بجی۔ سپرا کو غصہ تھا کہ یہ انسان’موت’سے جینے بھی نہیں دیتے۔ وہ کرسی سے اٹھا۔ دروازہ کھولا۔ ۔ ۔ ۔ سامنے دودھ والا تھا۔ اس نے دودھ والے کا حساب برابر کیا۔ اور کہا۔

‘ اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔’

‘ آپ جات ہو؟’

‘ اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔’

مسیح سپرا نے چیخ کر کہا۔ دودھ والا گھبراکر دو قدم پیچھے ہٹا پھر سائیکل چلاتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ مسیح سپرا نے دروازہ بند کیااور دوبارہ ریوالونگ چیئر پر آکر بیٹھ گیا۔ اسے احساس ہوا، کوئی چیز ہے جو چمک رہی ہے اور جس سے اس کا قریبی رشتہ بھی رہا ہے۔ اُف۔ ۔ ۔ اس نے دھیان سے دیکھا۔ پردے کے پاس اہلیہ کی ریڈیم کی تسبیح تھی، مرحومہ تسبیح ہمیشہ اسی جگہ رکھتی تھیں۔ اس سے ان کو سہولت ہوتی تھی۔ زندگی نہیں ہونے کے باوجود اپنی نشانیوں میں یاد رکھی جاتی ہے۔ جبکہ مسیح سپرا کی حقیقت یہ تھی کہ وہ زندگی سے وابستہ ہر شئے، پریشانی کو بھولنا چاہتا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور خود کو ایک نیلی جھیل کے درمیان پایا۔ جھیل میں بطخ تیر رہے تھے اور پھر مسیح سپرا نے کرنل سدھو کو دیکھا۔ کرنل سدھو، جو ایک زمانے میں ان کے ساتھ جاگنگ کیا کرتے تھے۔ فوج سے ریٹائر ہوچکے تھے۔ گورے چٹے اور کیا جسم پایا تھا۔ لحیم شحیم۔ سب سے زیادہ دلچسپ ان کی باتیں ہوا کرتی تھیں وہ فوج کی بات کم ہی کرتے تھے۔ مستقبل کی باتیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔

مسیح سپرا نے خیال کیا کہ وہ کرنا سدھو کے ساتھ جاگنگ پر ہیں۔ کرنل ٹھہاکے لگا رہے ہیں۔

‘ایک بیوی بہت دنوں تک ساتھ نہیں دیتی۔ ۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔’

‘پھر کیا کروگے کرنل؟’

‘ مرغابیوں کا شکار کریں گے۔’

‘اس عمر میں مرغابیاں ملنے سے رہیں۔’

‘ہاہا۔ ۔ ۔ ۔ یہ عمر۔ ۔ ۔ اصل تو یہی عمر ہے سپرا۔ لڑکیاں اسی عمر پر فدا ہوتی ہیں۔ یہ بات تم کوکون سمجھائے۔’

‘ پھر شادی بھی کروگے۔’

‘ نہیں یار، لڑکیاں پٹاؤ۔ عشق لڑا ؤ۔ پتنگیں کاٹو اور بھول جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاہا۔ ۔ ۔ ۔’

مسیح سپرا کو ایک دوسری ملاقات یا دآئی، جس میں کرنا سدھو نے ساتھ ساتھ جاگنگ کرتے ہوئے امرت کور کے بارے میں بتایا تھا۔

‘اسے فوجی پسند ہیں۔’

‘یعنی کوئی مل ہی گئی۔’

‘ تازہ انار کا جوس ہے۔ تم کیا جانو ذائقہ۔’

‘ پھر آگے کیا پروگرام ہے۔’

‘ دو روز بعد ہم نینی تال جارہے ہیں۔’

‘ امرت کور کے ساتھ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔’

کرنل سدھو نے ٹھہاکہ لگایا۔ اور اس کے ٹھیک دوسرے دن، جب آسمان پر کہرا چھایا تھا۔ دس بجے تک دھوپ غائب تھی،سردی میں بستر چھوڑناظلم تھا، موبائل کی گھنٹی بجی اور مسیح سپرا کو فون پرسدھو اس کے بیٹے نے بتایا، کرنل نینی تال نہیں گئے، بہت دور نکل گئے۔ مسیح سپرا ٹھنڈک کے جان لیوا احساس کو بھول گیا۔ سدھودودن بعد نینی تال جانے والا تھا، یہ کیسے ممکن ہے؟ دود ن قبل جاگنگ کرتے ہوئے اس کے ٹھہاکے گونج رہے تھے۔ کرنل سدھو کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد آرہا تھا۔ اس عمر میں کہیں بوجھل پن یا تھکاوٹ نہیں تھی، بھر پور زندگی کا احساس تھا۔ بیمار بھی نہیں تھے۔ مگر اچانک۔ ۔ ۔ منصوبے دھرے رہ گئے۔ آسمان کی فلائٹ پکڑ لی۔ یہ چور دروازے سے موت کیوں آتی ہے؟ موت پیچھا کرتی ہے بلکہ موت دیکھ رہی ہوتی ہے۔ جاگنگ کرتے ہوئے کرنل سدھو نے بھی موت کو دیکھا ہوگا۔ موت نے ممکن ہے اشارے بھی کئے ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موت سال بھر سے اشارے کرنے شروع کردیتی ہے۔

سپرا نے کرنل سدھو کے مردہ جسم کو دیکھا —سرد چہرے کو۔ چہرہ بولتا ہوا، جیسے کرنل ابھی ٹھہاکے لگائیں گے۔ سپرا کو پتہ نہیں، وہ ان کے بیٹے سے کیا کیا باتیں کرتا رہا۔ حیر ت وخوف نے اس کے الفاظ کو برف بنادیا تھا۔

‘ ہاں وہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور موت بھی تھی، جس وقت ہم جاگنگ کررہے تھے اس نے سیاہ نقاب لگارکھی تھی اور وہ ایک عورت تھی۔ وہ کرنل کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ لیکن کرنل اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ میں۔ ۔ ۔ ۔ اور یقیناً میری آنکھیں اس کا تعاقب کررہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ذرا فاصلے پر مرغابیاں تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

کرنل سدھو کے بیٹے نے غصے سے سپرا کی طرف دیکھا۔ پھر وہ کسی کے ساتھ سیاست کی باتیں کرنے لگا۔’پنجاب میں ڈرگز کا کاروبار بڑھ گیا ہے۔ پنجاب کی سیاست میں اس کی دلچسپی ہے۔ ڈیڈی کو سیاست پسند نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور مرغابیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

مرغابیاں کہتے ہوئے پلٹ کر اس نے سپرا کی طرف غصے سے دیکھا۔ سپرا کو دھویں سے بھرے آسمان میں کرنل سدھو کاچہرہ نظر آیا۔ وہ ٹھہاکے لگا رہا تھا۔

کمرے میں ایک چوہا آگیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور سفید چادروں کے درمیان گھسنے کی تیاری کررہا تھا۔ مسیح سپرا اٹھا لیکن اس نے چوہے کو بھگانے کی کوشش نہیں کی۔ اسے یقین تھا کہ وہ مرنے کی ریہرسل نہیں کررہا ہے بلکہ وہ مرچکا ہے اور اس یقین کو پختہ کرنے کے لیے اس وقت اسے بازار کے لیے نکلنا ہوگا۔ یہ ضروری بھی ہے اور ایسا کرنا اس کے یقین کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہے۔ وہ بازار کے لیے نکلا۔ کافی دوڑ دھوپ کے بعد اس کو ایک عورت کا ایک مجسمہ نظر آیا۔ عورت شان سے پتھروں میں لپٹی ہوئی اس طرح کھڑی تھی کہ زندہ معلوم ہورہی تھی۔ وہ اس مجسمہ کو لے کر گھر آگیا۔ چادروں کے درمیان اس نے مجسمہ کو رکھ دیا۔ مجسمہ پر سفید چادر لپیٹ دیا۔ سر پر سیاہ نقاب ڈال دیا۔ اب ایک چھڑی کی کمی تھی۔ برسوں قبل اس کا ایک دوست واشنگٹن سے آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ یہ چھڑی سانپ کی طرح آڑی ترچھی تھی اور دیکھنے میں خوبصورت لگتی تھی۔ سپرا وہ چھڑی لے آیا اور چھڑی کو عورت کے ہاتھ میں دے دیا۔ پھر ایک دیوار سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ دودھیا چاندنی میں اب وہ عورت موت کا فرشتہ معلوم ہورہی تھی۔ سفید چادروں کے درمیان کھڑی، جیسے اسے لے جانے آئی ہو۔ وہ اس منظر سے خوش تھا۔ ایک لمحے کے لیے زمین پر لیٹے لیٹے اس نے موسم بہار کا تصور کیا۔ پھر وہ اپنے رفیقوں کی تلاش میں نکلا۔ اس نے چڑیوں کی چہچہاہٹ محسوس کی۔ ۔ ۔ ۔ اور خیال کیا کہ جادوگر کے کرشمہ کی طرح آنکھیں بند کرتے ہی اس کا جسم ہوا میں معلق ہوسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اوریقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انجانے جزیرے پر، جہاں موت کے فرشتے کا ساتھ ہوگا،یہ مناظر اس کے ہمراہ ہوں گے اور جیسا کہ ڈاکٹر سدھاکر کہتا ہے، ہم ایک دھند میں رہتے ہیں اور ایک دن یہی دھند ہمارا شکار کرلیتی ہے۔

ڈاکٹر سدھاکر کو یاد کرنا مسیح سپرا کو خاصہ تقویت دے رہا تھا۔ ایک خوبصورت شخص، جس کی باتیں جسم میں گرمی پہنچانے کا کام کیا کرتی تھیں اور جب وہ اپنی آنکھوں سے حیرانیوں کا اعتراف کرتا تو ایک خاص قسم کا چمکتا ہوا ہیرا ہوتا، جو اس کی آنکھوں میں نظر آتاتھااور اس ہیرے سے روشنی پھوٹتی تھی۔ ڈاکٹر سدھاکر مذہب کو نہیں مانتا تھابلکہ کسی بھی طر ح کے عقیدے کو نہیں مانتاتھا۔ وہ کہتا تھا، ہم ایک بے ڈھب گوشت کے لوتھڑوں کے ساتھ آنکھیں کھولتے ہیں۔ پھر یہ بے ڈھب گوشت کا لوتھڑہ ایک دن مردہ گھر میں کھوجاتا ہے۔

مگر اس دن، جیسا کہ مسیح سپرا کو یاد ہے، ڈاکٹر سدھاکر سیاست کی باتیں کررہا تھا۔ بدلتے ہوئے حالات پر اس کی ناراضی تھی اور وہ ساری دنیا میں آگ لگانے کی باتیں کررہا تھا۔ اس کی حیرانیوں میں وہ چمکتا ہوا ہیرا مسیح سپرا کو صاف نظر آرہا تھا۔

‘ میں نے ایک خطرناک انجکشن تیار کیا ہے۔ یہ ڈرون اور میزائل کی شکل کا ہوگا اور یہ اس شخص کو ہلاک کرے گاجو سیاست کا بدترین مجرم ہے۔’

‘سیاست کا بدترین مجرم؟’

‘ اس کے لیے جس نے ہندوستان کو ایک گندے میلے تالاب میں تبدیل کردیا۔’

ڈاکٹر سدھار ہنسا۔

‘ تم سائنسداں کب سے ہوگئے؟’

‘ ڈاکٹر بھی سائنسداں ہوتا ہے۔’

‘ سیاست میں کیوں نہیں جاتے؟’

‘ یہی تو مشکل ہے۔ سیاست گندے ریس کا میدان بن چکی ہے۔ یہ ہم لوگوں کے لیے نہیں ہے۔’

ڈاکٹر سدھاکر مسکرائے۔’اب دیکھو،کل کی فلائٹ سے لندن جارہا ہوں۔ لندن میں ایڈز پر ایک سمینار ہے۔ گندے لوگ اور گندی سیاست نے ہمیں ایڈز کا تحفہ دیا ہے۔ وہاں سے واپس آکر تم سے ملتا ہوں۔’

‘ کل کتنے بجے کی فلائٹ ہے؟’

‘ شام کی۔’

دھند میں سدھاکر کا چہرہ تیرتا ہے۔ سدھاکر لندن سمینار کا حصہ نہیں بن سکا۔ صبح ہارٹ اٹیک ہوا۔ لندن کی جگہ عدم آباد پہنچ گیا۔ صبح ہی صبح ڈاکٹرکستوری نے موبائل پر یہ خوفزدہ کرنے والی خبر سنائی۔ وہ سنتا رہا۔ سپرا کی آوازکہیں کھوگئی تھی۔ چہرہ سرد تھا۔ جسم بھی۔ کافی دیر تک وہ موبائل تھامے رہا۔ جب تک کستوری کی آواز گم نہیں ہوگئی۔ یہ کیسے منصوبے ہیں؟ کرنل ڈیٹس پر جانے والے تھے۔ ڈاکٹر سدھاکر لندن۔ منصوبے میں جھول آگیا تھا۔ جھول میں نقاب والی عورت۔ ایک رات۔ کچھ لمحے۔ لیکن ڈاکٹر سدھاکر نہیں جانتا تھا کہ صر ف کچھ گھنٹوں کے بعد کیا ہونے والا ہے۔

اس دن وہ آخری تماشے کا حصہ نہیں بنا۔ ۔ ۔ ۔ اس دن وہ دیر تک سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ یہ گاڑیاں جو سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، ابھی اچھا ل لیں گی اور ایک دوسرے سے ٹکراکر بکھر جائیں گی۔ یہ لوگ جو سڑکوں پر چل رہے ہیں، یہ گھر جانے سے قبل ہی موت کو پیارے ہو جائیں گے۔ اس دن وہ گھر لوٹا تو ریحا نہ اوراپنے کاشف کو حیرت سے دیکھا۔ اس دن آخری بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ مثال کے لیے اس نے کاشف سے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔

‘تو تم ہونا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں پاپا کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نہیں۔ کچھ نہیں۔ تم ہو اور یہ میرے لیے مزے کی بات ہے۔’

یہی سوال اس نے ریحانہ سے کیا۔

‘تو تم ہونا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘کیوں ؟’

‘ پتہ نہیں۔ میری تسلی نہیں ہوئی۔’

‘یعنی میں نہیں ہوں؟’

‘ ہوسکتا ہے۔’

ریحانہ نے مسیح سپرا کو عجیب نظروں سے دیکھا۔ پھر پوچھا۔’ تو آج تم نے پھر سے بلڈ پریشر کی دوا نہیں لی۔’

‘بھول گیا۔’

‘ بھولا مت کرو۔ اس دوا میں ایک جنگلی بلی ہوتی ہے، جو تمہیں تھپکیاں دے کر نارمل کردیتی ہے۔’

‘ جنگلی بلّی۔’ سپرا زور سے ہنسا۔

ریحانہ پتلی دبلی سی عورت تھی۔ شادی کے بعد بھی اور کاشف کی پیدائش کے بعد بھی اس میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس کی آنکھیں گہری تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ذات مکمل طور پر ریحانہ پر منحصر تھی۔ ناشتہ، کھانا، دوا، یہاں تک کہ باہری خرید وفروخت کے لیے بھی ریحانہ نے کبھی اس کو پریشانی میں نہیں ڈالا۔ عام طورپر اس کا چہرہ سپاٹ رہتا تھا اور اندازہ لگانا مشکل ہوتا تھا کہ کس وقت وہ کس فکر میں غلطاں ہے۔ کاشف اٹھارہ کا ہوگیا تھا اور اب سپرا کو کاشف کے کیریر کو لے کر فکر ہورہی تھی۔ کاشف موٹر سائیکل تیز چلاتا تھا اور کئی بار سپرا نے کاشف کو تیز چلانے سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ڈاکٹر سدھاکر کے جانے کے بعد ٹی وی اینکرسیمتا میں اس کی دلچسپی بڑھی تھی۔ یہ ملاقات بھی اچانک ہوئی تھی انڈیا انٹرنیشل کیفے میں، جہاں وہ ہندوستانی سیاست کو لے کر ایک سابق سیاستداں سے کچھ سوال کررہی تھی۔ سپرا، انڈیا انٹر نیشنل کاممبر تھا۔ سیمتا میں اس کی دلچسپی پیدا ہوئی۔ اچانک سیمتا نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر چونک گئی۔

‘ آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘تو آپ مجھے جانتی ہیں؟’

سمیتا کھلکھلاکر ہنسی۔’سیاست میں سو سال بھی کم ہوتے ہیں۔ یہاں سب کو جاننا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی بائیٹ دیں گے۔’

‘ کیوں نہیں۔’

اب سمیتا نے مائک کا رخ سپرا کی طرف کردیا۔

‘حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف میں کچھ لوگ بخالت سے کیوں کام لیتے ہیں؟’

سپرا کو ہنسی آئی۔’ آپ نے جارج آرویل کا۱۹۸۴ پڑھا ہے؟’

‘ ہاں۔’

‘ تعریف بدل دیجیے۔’

‘مطلب ؟’سمیتا چونکی۔

‘ اچھے کو برا بنا دیجیے۔ بُرے کو اچھا۔ مثال کے لیے چنگیز اور ہلاکو اچھے لوگ تھے’، سمیتامسکرائی۔’ تعریف بدلنے سے کیا ہوگا؟’

‘ پھر آپ یہ سوال نہیں پوچھیں گی۔’

اس دن سمیتا نے ساتھ بیٹھ کر کافی شیئر کی۔ دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا۔
سپرا نے ایک ملاقات کے دوران پوچھا۔

‘ تم نے شادی کیوں نہیں کی؟’

‘ پہلے ایک فلیٹ خریدنا چاہتی ہوں۔’

‘ اسی لیے حکومت کی چاپلوسی ہورہی ہے؟’

‘ ہاں۔’ وہ کھلکھلاکر ہنسی۔ اس کے دانت موتیوں کی طرح سفید تھے اور سفید موتیوں سے الفاظ آبشار کی طرح بہتے تھے۔

‘ نہیں کروں گی۔ توپیسے تم دوگے؟’

سپرا مسکرایا۔

‘ دودن بعد ہی ایک فلیٹ بُک کررہی ہوں۔ پھر شادی۔’

‘ فلیٹ دیکھ لیا؟’

‘ ہاں۔ گریٹر نوئیڈا میں ہے۔ خوش ہو ں کہ اب اپنے فلیٹ میں چلی جاوں گی۔’

سمیتا نے بتایا کہ ایک خبر کے لیے آج شام وہ دہرا دون جاری ہے۔ کل صبح واپس ہوگی۔’ٹیم کے ساتھ جارہی ہے۔’

‘ میں تمہارے نئے فلیٹ میں تم سے ملنے آؤں گا۔’

‘ ضرور۔’

سمیتا کے جانے کے بعد مسیح سپرا باہر آیا۔ دیر تک دیواروں پر آویزاں پینٹنگس کو دیکھتا رہا۔ آسمان پر پرندوں کا ایک ہجوم جارہا تھا۔ ایسے مناظر اسے پسند تھے۔ اس نے ایک خوشحال زندگی گزاری تھی۔ باہر گاڑیاں مسافروں کو اتار کر آگے بڑھ رہی تھیں۔ سپرا کو آنکھوں کے آگے دھند کا احساس ہوا۔ اسے یقین تھا، خالی وقت میں یہ لوگ موسیقی بھی سنتے ہو ں گے، ہوٹل میں بیٹھ کر شراب بھی پیتے ہوں گے۔ عیاشیاں بھی کرتے ہوں گے۔ معصوم لوگ، جو بہت زیادہ آگے یا مستقبل کی فکر کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایک دن دھند میں آسمان اورنہ ختم ہونے والی فصیلیں بھی گم ہوجاتی ہیں۔ کیا یہ ایک واہیات دن تھا یا خوشیوں بھرا دن کہ سمیتا کے ساتھ کچھ لمحے گزارنے کا موقع ملاتھا۔ لیکن جس وقت سمیتا اس کے پاس سے اٹھ کر جارہی تھی، مسیح سپرا کو احساس ہوا کہ ہوا میں معلق ایک صلیب ہے،جس پر موٹی موٹی کیلیں ہیں اور ان کیلوں میں سمیتا جھول رہی ہے۔ یہی لمحہ تھا جب اس کے چہرے پر جھریا ں پیدا ہوئیں اور اسے اپنے چہرے کی جلد کے سرد ہونے کا احساس ہوا۔ جہاں پر وہ کھڑا تھا، اس سے کچھ دوری پر دو عورتیں تھیں جو مچھلی کے شکار کی باتیں کررہی تھیں اور ایک بوڑھا شخص دیوار سے لگا کھڑا تھا جو ایک نوجوان کو اپنی عشق کی داستان سنا رہا تھا۔ مسیح سپرا کو احساس ہوا کہ عشق ومحبت کی داستان کے درمیان صلیبیں آجاتی ہیں اور مچھلیاں کیلوں میں پھنس جاتی ہیں۔ پھر یہی عورتیں نگاڑے ڈھول کے درمیاں جنگل میں مناسب جگہ تلاش کرکے بھنی ہوئی مچھلیوں کاذائقہ لیتی ہوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انڈیا انٹر نیشنل کے دروازے سے باہر نکل کر اس نے ایک پولیس والے کو دیکھا جو ہتھکڑیاں لگائے ایک قیدی کو ساتھ لیے جارہا تھا اور مسکرا مسکرا کر اس سے بات بھی کررہا تھا۔ کہیں نہ کہیں زندگی کی رمق موجود ہے۔ تنہائی میں، احساس جرم میں، قید خانے کی گھٹن میں اور جنگل کی وادیوں میں۔ اس دن گھر پہنچنے کے بعد ریحانہ نے اس کے چمکتے دمکتے چہرے کو دیکھ کر پوچھا تھا۔

‘ شکار کیا ؟’

‘ کس کا ؟’

‘ مچھلیوں کا؟’

‘ اب یہ عمر مچھلیوں کے شکار کی نہیں رہی۔’

‘ جھوٹ۔ مچھلیاں اس عمر میں بغیر کانٹے کے بھی پھنس جاتی ہیں۔’

‘ یہ تمہارا تجربہ ہے؟’

‘ تمہارے تجربے سے ایش ٹرے بناتی ہوں۔’

‘ پھر ایش ٹرے میں راکھ کس کی ہوتی ہے؟’

‘ تمہارے اندر کی خواہشوں کی۔ ان میں سگریٹ سے زیادہ کاربن ہوتا ہے۔’

‘ سگریٹ کی مہک آرہی ہے؟’

‘ باہر کوئی قیدی پی رہا ہوگا۔ ایک تم بھی جلالو اپنے لیے۔’

اس رات خواب میں صلیبیں دوبارہ روشن ہوئیں۔ پھر اس نے آگ کے بڑے بڑے تندور دیکھے جہاں مچھلیوں کو بھونا جارہا تھا۔ اس نے اس بوڑھے کو بھی دیکھا جو اپنی خادمہ کے ساتھ ہم بستری کررہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو کھڑکی کے باہر کا آسمان سیاہ تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ بارش کی موسیقی کے مزے لیتا، موبائل کی گھنٹی نے خیالوں کے بنتے ابھرتے سلسلے کو روک دیا۔ اسے خبر ملی کہ دہرا دون سے واپس آتے ہوئے کار ایکسیڈینٹ میں سمیتا اور تین لوگوں کی موت ہوگئی۔ سمیتا واپسی کے بعد اپنے فلیٹ میں جانا چاہتی تھی۔ شادی کرناچاہتی تھی۔ وہ کل تک تھی مگر اب نہیں تھی۔ ۔ ۔ صلیبیں، کیلیں۔ ۔ ۔ بارش۔ ۔ ۔ اب وہ کچھ نہیں دیکھ سکتی۔

دھند میں اب ایک نورانی گھوڑا تھا جس کو کافی عرصہ پہلے مسیح سپرا نے ایک جیل کے برآمدے میں دیکھا تھا جب وہ بیرکوں اور کچھ قیدیوں کے معائنہ کے لیے گیا تھا۔ وہی اسپ نورانی اس وقت اس کی نگاہوں کے سامنے تھا اور نظروں میں وہ بزرگ قیدی تھے جو اب زندگی سے تھک چکے تھے۔ مسیح سپرا نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ کوئی جنبش نہیں۔ لیٹے لیٹے اس نے پاؤں اٹھانے کی کوشش کی مگر محسوس ہوا، پاؤں اکڑ چکے ہیں۔ اس نے سرہلانے کی کوشش کی تو اس کوشش میں بھی ناکام رہا۔ دھند میں سفید چادروں کے درمیان نقاب والی عورت سامنے تھی۔ سپرا کو احساس ہوا، اس عورت نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور اب وہ اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اور جب راتیں چاند پر مہربان تھیں کہ چاند ستاروں کے درمیان اٹکھیلیاں کرتا ہوا نیلگوں آسمان کے درمیان یوں تیر رہا تھا جیسے بدمست مجذوب ہو یا نشے کی حالت میں دنیا ومافیہا سے بے خبر شرابی یا پھر وجد کی وادیوں میں رقص کرتا ہوا صوفی یا پھر آسمانی چادر پر اڑتا ہوا پرندوں کا ہجوم اور مسیح سپرا نے دیکھا کہ ایک پرانی عمارت ہے اور اس شہر میں ہے، جسے بندروں نے گھیر رکھا ہے۔ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ شرارتی بندر— اور اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔

[divider](2) خانہ بدوشوں کامقدمہ[/divider]

[dropcap size=big]وہ[/dropcap]

تعداد میں کئی تھے اور انہیں جاننے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ الگ الگ شہروں سے جمع ہوئے تھے اور ان میں ایک تھا جو خود کو مارکیز کے شہر کا خانہ بدوش کہتا تھا اور یہ بھی کہ سوسال کی تنہائی میں اس نے اس بوڑھے کو طوطے کا تحفہ دیا تھا جو انسانی آواز میں بولنا جانتا تھا—اور یہ وہ شخص تھا، جس کے سرکے بال نہیں تھے۔ چہرے کا رنگ گورا تھا— اور اس وقت جو بھی خانہ بدوش تھے، وہ ان سب سے زیادہ پڑھا لکھا تھا اور زیادہ انسانوں جیسی باتیں کرسکتا تھا جبکہ ان میں وہ بھی تھے جو ابھی بھی سرخ گرم آگ پر چھریاں تیز کررہے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جن کے ہاتھوں میں ترشول تھے اور ان خانہ بدوشوں میں ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے اپنے ہاتھوں میں ایک ایک اینٹ سنبھالی ہوئی تھی۔ اینٹ کسی اچھی بھٹی سے نکالی ہوئی تھی۔ اس لیے اینٹیں بھری بھری نہیں تھیں بلکہ سخت تھیں اور ان پر ہندی میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے آسانی سے پڑھا جاسکتا تھا۔ ان میں کوئی بھی قطار کا مطلب نہیں جانتا تھا اور یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ یہ وحشت کی تہذیب کو لے کر اس ہال میں جمع ہوئے تھے، جس کی دیواریں بے رونق تھیں۔ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے کے بعد دور تک گھاس اُگی ہوئی تھی۔ اور گھاس پر اس وقت بھی گائیں آرام سے گھوم رہی تھیں اور جس وقت مندر سے بھجن کی آواز آئی، خانہ بدوشوں میں سے پانچ شخص ایسے تھے جنہوں نے گردن میں لپٹے ہوئے رومال کو نکالا اور پیشانی پر باندھ لیا۔ اب وہ پوری طرح سے لچے اور شہدے نظر آرہے تھے اور کمال یہ کہ خود کو اس حالت میں محسوس کرکے وہ خوش تھے کہ زندگی کی بدلی ہوئی تعریف میں اب یہی تعریف ایسی تھی، جس کے ذریعہ خانہ بدوش کی زندگی کو ایک نئی سیاسی زندگی میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ غارت ہو اس سیاہ روشنی کا کہ بھجن کے دوران ہی پاس کی کسی مسجد سے اذان کی آواز آنی شروع ہوئی۔ بوڑھا، جو انسانی آوازمیں بولنا جانتا تھا، اس وقت اس کے تیور بدل گئے تھے اور وہ ایسی آوازمیں باتیں کررہا تھا،جیسے وہ بھیڑیوں کے منہ سے نکلی ہوئی آوازوں کے مطلب سمجھتا ہو۔ اذان کی آواز ختم ہونے کے بعد اس نے ہونق بھیڑ کی طر ف دیکھا۔ اور مسکرا یا۔ اس کی باتوں کا جواب دینے والے کئی خانہ بدوش تھے۔ اس وقت جن کے ناموں کا جاننا ضروری نہیں۔ جن کی شناخت خانہ بدوش کے طورپرہی تھی اور جو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ یہاں کس لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ مگر وہ خوش تھے کہ نئے موسم میں اور اس نئی صبح میں ایک نئے کھیل کی شروعات ہونے والی ہے اور ان سب کے پیچھے وہ بوڑھا ہے، جسے خود پر ضرورت سے زیادہ یقین ہے اور جو طوطے کی طرح اس بات کو فراموش کرگیا ہے کہ زیادہ یقین سے آپ کیڑے لگی ہوئی گیلی لکڑی کی طرح کھوکھلے ہوجاتے ہیں اور ایک ایسے خانہ بدوش میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس کے لیے صرف رحم کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ وہ خوش تھا کہ وہ اپنی ذات کے جنوں خانے سے نکل کر اس قبیلے کا حصہ بنا تھا، جسے’ گھومنتو’ قبیلہ کہا جاتا ہے۔ اور اس قبیلے کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ شعوری فکر کے روزن میں روشنیوں کو آنے دیں۔ روشن خیال وافکار کی دھوپ جمع کریں۔ کیونکہ جب مرغا بیاں گاتی ہیں تو سازندے اس گیت کے سُر میں سُرملاتے ہیں۔ پھر جو نغمہ گونجتا ہے وہ کمزور ذہنوں کی آبیاری کرتا ہے اور اس لیے خانہ ندوشوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مذہبی عبادت گاہوں پر چڑھ جائیں۔ اینٹ سے اینٹ بجادیں اور خانہ بدوشی کی تعلیمات میں نئے علم کا اضافہ کریں کہ دو اور دو مل کر ایک سو بیس کروڑ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس وقت بوڑھا مارکیز کی سوسال کی اداسی کے صفحات سے نکل کر ا ن چراغوں کو دیکھ رہا تھا جن کی ٹمٹماہٹ وقت کے ساتھ کمزور پڑتی گئی تھی اور ایک دن ایسا بھی آیا جب سیاسی دیے بجھ گئے۔ ان دیوں میں روشنی کا فقدان تھا۔ ان دیوں میں تیور نہیں تھے، خانہ بدوش نہیں تھے۔ پتھر پھینکنے والے اور پتھر سنبھال کر رکھنے والے اورغیض وغضب سے پیدا شدہ نسل کو ہر طرح کی فکر سے محروم کرنے والے اور خانہ بدوش نسل میں قبیلے کی قدیم لڑاکو تہذیب کے جراثیم رکھنے والے اور اپنی چنگیزی طبیعت سے ایک مخصوص طبقے کو غلام بنانے والے اور اسی لیے۱۹۲۵ کے دھندلے آسمان سے، آسمانی اور دھارمک منتروں کے ذریعہ قبیلہ نے وش کاپیالہ حاصل کیا تھا اور بوڑھے کو امید تھی کہ وش کا پیالہ پیتے ہی طوطے کی جان چلی جائے گی مگر سمندر منتھن کی طرح اس بار فتح دیوتاؤں کے حصے میں نہیں آئے گی بلکہ فاتح راکشش ہوں گے کہ ایک طبقے کو غلام کرنے کے لیے کبھی کبھی راکشش کی پناہوں میں بھی جانا پڑتا ہے۔ لہذا بنجاروں کو اجازت دی گئی کہ وہ مہینوں جانوروں کے ساتھ رہیں اور اپنا وقت جنگل میں گزاریں اور خطرناک جانوروں کی بولیوں کو ازبر کریں کہ مستقبل قریب میں ان آوازوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ بانسری، طبلے، ہارمونیم، تنبورے کے سریلے راگوں میں درندگی کی موسیقی کا سر پیدا کرنا ہے۔ اور اسروں ( راکچھس) کی جماعت میں شامل ہوکر ملک کو آزاد کرنا ہے۔ اس لیے گھروں کو مقفل کرکے مذہبی عمارت سے اینٹیں لے کر قومی سلامتی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور طوطے سے بچے وش کو ساتوں سمندر، دریأوں، پہاڑوں پر اچھال دینا ہے۔

بوڑھے کے دماغ میں اس وقت بھی سیٹیاں بج رہی تھیں جب سورج کا گولہ گرم ہونے کی تیاری کررہا تھا اور اپنی اگنی شعاؤں سے دسمبر کی برف کو پگھلانے کی کوشش کررہا تھا۔ تاریخ کے تناظر میں ہم قدیم خانہ بدوش ٹھہرے مگر ملا کیا ؟ جب ملک کی ہوا سہ رنگی پرچم میں رنگ بھرنے کی تیاری کررہی تھی کچھ سریلے فنکار، فلاسفر اور تاریخ داں بوسیدہ دیواروں پر بجھی ہوئی راکھ سے آزادی اور سیکولرزم کے نعرے کو لکھ رہے تھے۔ خانہ بدوش حیران کہ یہ رنگ مٹے نہیں تو جبریہ طاقت اور ذہن کیسے پیدا ہوگا؟

ایک خانہ بدوش نے دریافت کیا۔’ماچس ہے؟’

‘ نہیں۔ مگر تیلیاں ہیں۔’

‘ تیلیاں آگ پکڑیں گی ؟’

‘ تیلیاں نقشوں کو جلانے میں ماہر ہیں مگر تیلیوں کو گرم پتھر وں سے رگڑ کر چنگاری پیدا کرنا ہوگا۔’

‘ کیا چنگاری سے چھریاں تیز ہوں گی؟’

‘ ترشول بھی؟’

‘ کیا مذہبی عمارت پر چڑھنے میں مدد ملے گی؟’

‘ اگر پیسے ملتے ہیں تو ہم خانہ بدوش پجاری بن جائیں گے۔’

بوڑھے کو ہنسی آئی۔ وہ ان خانہ بدوشوں کی باتیں سن رہا تھا۔ اور یہ کہ اسے ماچس کی تیلیوں میں آگ کا سمندر نظر آرہا تھا اور وہ خوش تھا کہ آگ کے سمندر سے اس وقت چیخیں نمودار ہورہی تھیں اور وہ ان چیخوں میں موسیقی تلاش کررہا تھا۔ اس نے پھر ان خانہ بدوشوں کی طرف دیکھا جنہوں نے اپنی پیشانی کو سرخ رومال سے باندھ رکھا تھا اور ان کے کھلے دانت پیلے تھے اور ان میں کیڑے لگے ہوئے تھے۔

‘ کیا ہمارے رسم وراوج عجیب نہیں تھے؟’

‘ تھے۔’

‘ ہماری طرز زندگی، ہماری زبان۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ان میں اخروٹ کی سختی شامل تھی اور چھریوں کی دھار۔’

‘ ہم ننگے رہتے تھے اور جسم پر نقش ونگار بناتے تھے۔’

‘ اور یہ باتیں ہمیں گندے تہذیبی لوگوں سے دور رکھتی تھیں۔’

‘ لکڑی اور گھاس پھوس کے گھر ہوتے تھے۔ زمین میں بڑے بڑے کندے نصب کرتے اور دوسروں کی جھوپڑیوںمیں رات کے وقت آگ لگادیتے۔’

‘ خانہ بدوشی کا اپنا ذائقہ ہے۔’

‘ کیا ہم دسمبر کے بارے میں سوچ سکتے تھے؟’ ان میں سے ایک نے پوچھا جو ابھی تک ایک بڑے سے چھرے کو پتھر پر رگڑ رہا تھا۔

‘ دسمبر، جہاں آگ روشنی دیتی ہے۔ کدال اور پھاوڑے گنبدوں کو ڈھادیتے ہیں اور پرندے آسمانوں میں چھپ جاتے ہیں۔’

‘ خوب۔ دسمبر۔’ اور بوڑھے نے فرض کیا کہ اس کے ہاتھ میں بھی ایک اینٹ ہے، جس پر سنسکرت زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ کاش وہ سنسکرت کی سمجھ رکھتا۔ مگر اس نے اپنے لیے یاترائیں چنیں۔ تیرتھ یاترا۔ رتھ یاترا۔ رتھ یاترا اور دسمبر، جب کہرے آسمان پر چھا جاتے ہیں اور رتھ یاترا کے ٹائر اس طرح گھومتے ہیں اور ناچتے ہیں جیسے سفید گھوڑے آسمانوں پر رقص کررہے ہوں۔ جب رات کو ٹمٹماتے دیے بجھ رہے تھے،وہ خانہ بدوشوں کو جمع کررہا تھا اور یہ خانہ بدوش پورے ملک کے جنگلوں سے آئے تھے۔ یہ مہذب دنیا کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں جانتے تھے۔ یہ پتھروں سے آگ نکالنا، جھوپڑیوں کو جلانا بخوبی جانتے تھے۔ یہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے تھے اور انسانی رشتوں کی پہچان نہیں رکھتے تھے۔ ایسا قدیم زمانے سے چلا آرہا تھا اور بو ڑھے نے ایک بار انڈمان کے جزیرے میں ان قبائلیوں کو دیکھا تھا جو ننگے رہتے تھے اور خوب ہنستے تھے۔ بوڑھے نے ان قبائلیوں کے ساتھ رقص بھی کیا تھا اور بتایا تھا کہ حضرت نوح کی طرح وہ بھی ایک کشتی کی تعمیر کررہا ہے مگر یہ رتھ ہوگا اور یہاں جنگلی سور ہوں گے جن کی چمڑیاں سخت ہوں گی اور جو گندے کیچڑوں میں لوٹتے ہوں گے۔ انڈمان کے روایتی قبیلے والوں نے بتایا کہ ایسے بے شمار سور ان کے پاس ہیں، جن کا شکار وہ تیر بھالوں سے کرتے ہیں۔ پھر پتھروں سے آگ جلا کر سوروں کو بھون کر جشن مانتے ہیں اور بوڑھے نے کہا تھا، اب ان سوروں کو جلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں بھی ہتھیار دینے کی ضرورت ہے۔ ہم تمہیں ان سؤروں کے لیے مناسب رقم دیں گے۔ بوڑھے کو یقین ہے کہ اس ہجوم میں انڈمان کے قبائلی بھی ہوں گے، کیونکہ ان خانہ بدوشوں میں کئیوں کے پاس لباس نہیں تھے مگر ہاتھوں میں اینٹیں موجود تھیں۔

وہ عمارت کے سب سے بدنما کمرے میں کھڑے تھے اور ایک عجیب سی بدبو تھی جو ماحول میں پیدا ہورہی تھی اور ممکن ہے کہ یہ بدبو ان خانہ بدوشوں کے جسم سے آرہی ہو، جنہوں نے پسینہ بہاکر مذہبی عمارت کے گنبد کو زمین میں دفن کردیا تھا۔ آسمان سے پرندوں کا قافلہ اس طرح رخصت ہوا، جیسے اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ بوڑھے کو تاہم اطمینان ہے کہ اسے تمام اختیارت حاصل ہیں اور اس وقت خانہ بدوشوں کے درمیان اس کی حیثیت کسی راجہ یا مکھیا کی ہے، جس کے آگے سب کوسر جھکانا ہے۔ اس نے کٹورے سے پانی پیا اور اس لیے پیا کہ چلاّتے شور کرتے ہوئے اس کی زبان بیٹھ گئی تھی۔ گلے سے گھڑ گھڑانے کی آواز آرہی تھی اور مذہبی عمارت کی اونچی چوٹی پر دیر تک رہنے کی وجہ سے اس کے قدموں میں نقاہت آگئی تھی۔ اس نے خانہ بدوشوں کی گفتگو کا رُخ قدیم زمانے سے آج کی تاریخی فتح تک موڑنے کی کوشش کی مگر سب کے سب ایسے ترشول لہرا رہے تھے جیسے بھالو اور خنزیروں کا شکار کرنے آئے ہوں۔ ان کے جسم توانا تھے اور بوڑھے کو یقین تھا کہ آج کے بعد اس کی عظیم الشان کامیابی کے درمیان محض چند قدم کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ اس کے بعد مرغابیاں جھیلوں پر اتریں گی اور وش کا نغمہ سنائیں گی۔ وہ اچانک چونکا، جب اس نے ایک خانہ بدوش کی آواز سنی۔ اس خانہ بدوش کے ساتھ کئی دوسرے خانہ بدوش بھی کھڑے تھے۔

‘ تو تم اس وقت رورہے تھے۔’

‘ ہاں۔’

‘ مگر کیوں ؟’

‘ میں نے پنکھوں والے ایک فرشتہ کو دیکھا جس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔’

‘ سب غارت۔ فرشتہ کہاں سے آگیا؟’

‘ اس کے دوسرے ہاتھ میں چاقو بھی تھا۔’

‘۔ ۔ ۔ ۔ اور یقین ہے، تیسرا ہاتھ نہیں ہوگا۔’

‘ اورتم اس لیے روئے کہ فرشتہ کے ہاتھ کی لالٹین بجھ گئی تھی؟’

‘ نہیں۔ تیز ہوا کے باوجو د جل رہی تھی۔ بلکہ لالٹین کے اندر سے شعلے نکل رہے تھے۔’

پہلے نے گھور کر دیکھا۔’کیا تم اقبال جرم کررہے ہو ؟’
‘ نہیں۔ اس نے کندھے اُچکائے۔ اس وقت میرے ہاتھ میں ایک کدال تھی اور میں فرشتہ کا سرقلم کرنا چاہتا تھا۔’

‘ اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے تم اس قابل نہیں تھے۔ تم نے چار گھنٹے میں صرف چار اینٹیں جمع کیں۔ اور پاجامہ کو بہت حد تک گیلا کردیا۔’

بوڑھے کو ہنسی آئی اور ہنسی اس بات پر آئی کہ جس وقت وہ گنبد تک پہنچنے کی کوشش کررہا تھا، ایک سیال اس کے پیٹ کے نیچے جمع ہورہا تھا۔ اس نے چپ چپاہٹ محسوس کی اور یقین کیا کہ اس کا پیشاب خطا ہوگیا ہے جو اکثر جوش جوانی میں ہوجاتا ہے۔ جسم میں رتھ یاتراؤں کی تھکاوٹ اب بھی موجود تھی اور جشن مناتی وہ بھیڑ بھی اب بھی نظروں میں گھوم رہی تھی کہ بوڑھے نے اپنی زندگی میں ایسی کسی بھیڑ کا تصور نہیں کیا تھا۔ سارے ہندوستان میں گھومتے ہوئے رتھ کا پہیہ ایک ایسے علاقے میں جام ہو ا، جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ یہاں سوروں کے شکار ہوتے ہیں اور یہاں کی زمین پتھریلی ہے۔ یہاں گنوار، دیہاتی مگر پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں جو اب بھی تہذیبی زبان سے واقف ہیں اور اس خطے میں اتنے گڑھے ہیں کہ رتھ کا پہیہ کسی وقت بھی اچھل کر رتھ سے نکل سکتا ہے یا رتھ کے پہیے پتھریلی زمین پر جام ہوسکتے ہیں۔ اسے یہ بھی خیال تھا کہ اگر پہیے اس خطے یا علاقے میں جام نہیں ہوتے تو اسے کامیابی نہیں ملتی۔ کیونکہ خانہ بدوش جماعت ناراض تھی اور غصے میں ترشول لہراتی ہوئی اس بات کو فراموش کرگئی تھی کہ بوڑھا تھک چکا ہے اور واپس دارالسلطنت لوٹنا چاہتا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر خون کی پپڑیاں جمی تھیں کیونکہ دوبار رتھ کے پہیے ایسے اچھلے کہ اس کا سر رتھ کی پشت سے ٹکرایا اور کمزور دانتوں نے ہونٹ کو زخمی کردیا۔ اس نے خفیف سی جھر جھری لی کہ وہ گر بھی سکتا تھااور گرنے کی صورت میں اس کی موت بھی ہوسکتی تھی۔ بوڑھے کو اس بات کا گمان تھا کہ وہ صفر سے طلوع ہوا اور رتھ کی کمان تھام کر ان خانہ بدوشوں کا امیر کارواں بن گیا۔ اس نے سنا۔ وہاں کچھ خانہ بدوش اور بھی تھے، جو اب سیاست کی اولادوں میں سے تھے اوہ یہ بھی جانتا تھا کہ پسندنہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور تھے اس نے کان لگایا اور ان کی باتوں پر دھیان دیا۔

‘ کیا اینٹیں نرم تھیں؟’

‘ نہیں۔ اس میں سے انسانی خون کی بو آرہی تھی۔’

‘ اور تم نے ڈھانچے پر چڑھتے ہوئے ایک گارڈ کو مکّا مارا تھا۔’

‘ مجھے وہ عمارت کی نگرانی کرنے والا معلوم ہوا۔’

‘ جبکہ وہ بھی خانہ بدوش تھا اور بوڑھے کا قریبی۔’

‘ یہ بوڑھا ان خانہ بدوشوں سے کیا کام لے گا؟’

‘ وہ اپنی سلطنت بنائے گا۔’

‘ لیکن اس سے قبل گماں آباد کے خانہ بدوش اسے چپ کرادیں گے۔’

‘ کیا تم تقدیر کو مانتے ہو؟’

‘ نہیں۔ رتھ کو۔ مذہبی عمارت کو اور وحشتوں کو۔’

‘ وحشتوں نے ہر دور میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔’

‘ اور اس بار بھی وحشتیں ساتھ دیں گی۔’

بوڑھے نے اطمینان سے ان کی باتیں سنیں اور اسے پہلے سے علم تھا کہ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو ابھی بستروں پرسیاہ حبشی کو بھی اپنے ساتھ سلالیں۔ مگر ان میں آپس میں بھی اختلاف ہے اور یہ لوگ کسی حد تک اس کی شہرت اور مقبولیت سے بدگمان بھی ہیں۔ مگر وہ رتھ لے کر کافی دور نکل چکا تھا اور جہاں نکل آیا تھا، وہاں پتھر سخت تھے، دریا اونچائی پر تھا اور دسمبر کے زمانے میں زمین برف سے ڈھک چکی تھی۔ مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کا گولہ ٹھنڈا تھا اور بوسیدہ دروازے کے باہر لوگوں کا ہجوم اس کا منتظر تھا۔ وہ تاریخ اور اپنے قریبی دوستوں کا شکرگزار تھا جنہوں نے سنبھل کر، آگے بڑھ کر مذہبی عمارت کا قفل کھولا تھا۔ پھر انہی دوستوں نے آگے بڑھ کر پتھر کے مجسمہ کو اس عمارت میں منتقل کیا تھا۔ لیکن منتقل کرتے ہوئے اور قفل کھولتے ہوئے وہ اس فن سے واقف نہیں تھے، جس سے وہ واقف تھا۔ اور اب آسمان سے زمین تک سارا نظارہ اسے سرخ نظر آرہا تھا۔ اس سرخی سے اسے زعفران پیدا کرنا تھا اور ملک بھر میں زعفران کی کھیتی کرنی تھی۔ وہ ہجوم کے قریب آیا۔ چیختے چلاتے،جوشیلے قبائلیوں کو دیکھا۔ اس کے کمزور ہاتھوں میں جنبش ہوئی اور اس نے نرم لہجہ اختیار کیا۔ اس نے وحشتوں سے پر ہجوم کی طرف دیکھا اور اس ہجوم کے کسی گوشے میں بوڑھے کو لاٹھی ٹیکے ہو ئے وہ ننگا فقیر بھی نظر آیا، جس کا وہ منکر تھا اور سخت نفرت کرتا تھا۔ مگر یہ نظر آنا ایک چھلاوہ تھا۔ دراصل آہنی دروازے کے باہر رکھا ہوا رتھ کاپہیہ تھا، جو اس مقام تک آتے آتے رتھ سے نکل گیا تھا۔ اس نے آنکھیں ملیں۔ دروازے کی بھربھری لکڑی کو دیکھا اور نئی مہم کے لیے روانگی سے قبل اپنے الفاظ کو جنبش دی۔

‘ وہ سفید فام نسل تھی، جو اس ملک میں آئے اور جن کے لیے ہم نے فرمانبرداریاں پیش کیں۔ ان کی عظمت کو سلام کہ وہ ہمیں سمجھتے تھے مگر وہ ہمیں ایک ایسی زمین دے کر گئے جہاں لاٹھی ٹیکنے والاایک نیم برہنہ فقیر رہتا تھا، ہم نے کوشش کی اور فقیر کو غائب کردیا۔ لیکن غائب ہونے کے بعد فقیر دوبارہ زندہ ہوگیا اور یہ اس کی تعلیمات کا جادو تھا کہ ہم رتھ کی لگام تھامے مستقل کھڑے رہے اور راستہ گم رہا۔ پھر میں آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

بوڑھے نے شان سے ہاتھ ہلایا۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت چناروں کے درمیان بجلیاں کڑک رہی تھیں اور برفیلی چٹانیں پگھل رہی تھیں۔ خوبصورت دھماکوں کے شور بھی تھے جو ہم ا پنے ساتھ لائے تھے اور پھر میں رتھ پر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ممکن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بوڑھے نے ہجوم کی طرف دیکھا۔

‘ ممکن ہے، زنداں کا دروازہ کھل جائے۔ ممکن ہے، مذہبی عمارت کو گرانے کے عوض ہم پر مقدمہ چلایا جائے۔ مگر یہاں سب دوست ہیں جو زنداں کے پالن ہار ہیں، وہ بھی۔ جو بیڑیوں میں بند ہیں وہ بھی۔ جو وحشتوں کے اسیر ہیں، وہ بھی۔ جو سیاست کے مزدور ہیں، وہ بھی۔ جو حکومت کے طرفدار ہیں، وہ بھی۔ اس لیے تماشہ ضرور ہوگا مگر کوئی نتیجہ برامد نہیں ہوگا۔ کیونکہ سب اپنے ہیں اور ان کی تعداد بے حد کم ہے جو پرانی عمارت سے چپکے ہوئے ہیں۔’

بوڑھے نے ایک بار پھر ہجوم کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے احساس تھا کہ وہ ابھی اس وقت ایک مقدمے سے گزر رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوردسمبر کی ٹھنڈک کے باوجود زمین گرم ہے۔ یہاں وہ لوگ ہیں، جن کو غسل کیے ہوئے کئی روز گزر چکے ہیں اور جن کے لباس سیاہ پڑ گئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود دھوپ میں ان کے چہرے چمک رہے ہیں اور بندوق کی جگہ اینٹوں کا تحفہ لے کر یہ خوش ہیں کہ زندگی میں سب سے بڑا انعام یہ حاصل کرچکے ہیں۔ بوڑھا مسکرایا اور قیاس کیا کہ وہ اپنے لو گوں کی عدالت میں ہے اور یہ صحیح وقت ہے کہ اس ہجوم سے مکالمہ قائم کیا جاسکتاہے۔

‘ جب آسمان سرخ دھول سے غسل کررہا تھا، کیاوہاں کوئی آبادی تھی، جہاں ایک پرانی عمارت کھڑی تھی؟’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

بوڑھے کو یاد آیا، وہاں دور تک جنگل جھاڑ تھا۔ دھول بھری سڑک تھی۔ اور ٹیمپو والے مسافروں کو دھول بھری سڑک پر لاکر اتار دیتے تھے۔ اور جب بسوں، ٹرکوں میں بھر بھر کر لوگ اس مقام پر پہنچے تو فضا میں چاروں طرف دھول ہی دھول تھی اور عمارت کی جگہ ایک دلدل یا ملبہ نظر آرہا تھا۔ چند قدموں کا فاصلہ اور مٹی کا ملبہ۔

‘ ہم پرانی کی جگہ نئی اور عالیشان عمارت کھڑی کریں گے اور ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا اس دن سوروں کا گوشت تقسیم ہوگا۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

‘ کیا اس دن مادہ کبوتروں کو حمل ٹھہرے گا؟’

بوڑھے نے مڑکر دیکھا۔ وہ ایک ناگا خانہ بدوش تھا — اور اس وقت اپنے برہنہ جسم کا مظاہرہ کررہا تھا۔

‘ کیا اس دن فاختائیں ہوں گی؟’

‘ اس دن ہم ہوں گے اور نئی عمارت ہوگی۔’ بوڑھے نے جوش سے کہا۔

‘ — اور اس یقین کو گھسنے میں کتنے برس لگ جائیں گے؟’

‘ جتنے دن جنگلی بلّیوں کے دانت نوکیلے ہونے میں لگتے ہیں۔’

‘ جنگلی بلیاں۔ کیا ان بلیوں کا رنگ زعفرانی ہو گا؟’

‘ ہاں۔ اور زمین کا رنگ بھی۔ اور ملک کے نقشے کا رنگ بھی۔ فصیلوں کا رنگ بھی۔ یہاں تک کہ ہمارے چہروں کا رنگ بھی۔’

‘ کیا ہمارے لیے زنداں کے دروازے بھی ہوں گے؟’

‘ ہاں ہوں گے۔ تب تک ہم اپنے گھوڑوں پر بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔’

بوڑھے نے اشارہ کیا۔ دو برس قبل ہم نے اسی مقام پر گولیاں کھائی تھیں۔ اور اب پرندے اڑ گئے۔ گنبد ٹوٹ گیا۔ ملبہ میں حیرتیں دفن ہیں۔

اس نے ہجوم کے درمیان سے آواز سنی، کوئی کہہ رہا تھا۔

‘ ایک دن تم بھی حیرتوں میں دفن ہو جاؤ گے۔’

بوڑھے نے اس مکالمے کو نظر انداز کیا۔ دسمبر فتح کے لیے آتا ہے اور دسمبر میں دھوپ کی کرنوں پر دھند کی حکومت رہتی ہے۔ کچھ لوگ ابھی بھی دھند میں ہیں اور یقیناً درختوں پر چڑھے ہوئے، بندر ایسے لوگوں کا راستہ تنگ کردیں گے۔ بوڑھا جب ان اطراف میں آیا تھا تو اسے چاروں طرف بند ر ہی بندر نظر آئے تھے۔ مگر خانہ بدوشوں کو دیکھ کر یہ بندر بھی بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

‘ کیا ابھی بھی ہم بندروں کے ساتھ ہیں؟’

‘ ہاں۔ وہ ہر چوراہے پر ہیں۔ درختوں پر بھی ہیں۔ ملبے کے آس پاس ہیں اور عمارتوں کی چھت پر بھی نظر آرہے ہیں۔’

‘ ہمیں ان بندروں کو بھی ساتھ لینا ہوگا؟’

بوڑھے نے ہاتھ ہلایا اور ٹھیک اسی لمحہ اس نے دیکھا، ایک شخص نے جھک کر اس کے ہاتھ کو تھاما ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی داڑھی تھی۔ وہ دبلا پتلا تھا۔ کپڑے گندے اور دھول سے بھرے تھے۔ اور اس نے بوڑھے کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور عقیدت سے دریافت کیا۔

‘ آپ تھک گئے ہیں۔ میں آپ کے لیے چائے لے کر ابھی حاضر ہوتا ہوں۔’

[divider](3) ۱۹۹۲—[/divider]

[dropcap size=big]دور[/dropcap]

تک پھیلی ہوئی دھند میں مسیح سپرا کو اس بوڑھے کا چہرہ یاد تھا، جس کانام وشال کرشن ناتھانی تھا جو ایک سندھی تھا اور تقسیم کے وقت جس کا خاندان ہجرت کرکے دارالسلطنت میں آباد ہوا تھا۔ دھند میں اور کچھ تصویریں بھی تھیں، جو واضح نہیں تھیں، مگر مسیح سپرا خود کو اس دھند کے آئینہ میں دیکھ سکتا تھا۔ اس زمانے تک وہ ایک ڈیٹکٹیو رائٹر تھا اور مسیح سپرا کے نام سے ہی اس کے جاسوسی ناول شہرت یافتہ ادارہ پگمل سے شائع ہوا کرتے تھے۔ سراغ رسانی میں اس کی بچپن سے دلچسپی تھی مگر وہ سراغ رساں نہیں بن سکا۔ ہر چند کہ اس نے کوشش بہت کی مگر کامیابی نہیں ملی۔ پھر اسی زمانے میں اسے لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور اس وقت اس کی عمر پچیس سال تھی۔ پہلا ہی ناول’ناگن کا قاتل’ نے کامیابی کے پرچم لہرائے تو پگمل کے ادارے سے باضابطہ پانچ برس کا معاہدہ ہوگیا۔ اس زمانے میں ٹی وی اورموبائل کا چلن نہیں تھا اور ایک بہت بڑی آبادی جاسوسی ناولوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔ یہ بات سپرا جانتا تھا کہ تھکے ہوئے دماغ میں بہت زہر بھرا ہوتا ہے۔ زہر کی پوٹلی میں سازشیں ہوا کرتی ہیں۔ لذت وصل، گناہ اور قتل جیسے واقعات میں لوگوں کی دلچسپی ہوا کرتی ہے۔ اس عمر میں اس نے سینکڑوں ناول پڑھ رکھے تھے۔ سر آرتھر کانن ڈائل اور اگاتھا کرسٹی میں اس کی خاص دلچسپی تھی۔ کرداروں کا ہجوم اس کے آس پاس ہی رہتا تھا۔ مسیح سپرا نے کرنل سوامی اور مس کرشنا کے کردار کو گڑھا اور یہ کردار اتنے دلچسپ تھے کہ اس کے ناولوں کی مانگ بڑھتی چلی گئی۔ پیسے آنے لگے تو شادی کرنے میں دیر نہیں کی۔ ریحانہ سے شادی ہوگئی۔ مگر ان سب کے باوجود مسیح سپرا کو احساس تھا کہ اسے کچھ اور چاہیے، جس کا تصور ابھی ذہن میں واضح نہیں ہے۔ اس کی دلچسپی سیاست میں تھی مگر اس بات پر اس کو ہنسی آتی تھی کہ کہاں ایک جاسوسی ناول نگار اور کہاں سیاست۔ پھر اس عہد میں اس پر کون سی پارٹی مہر بان ہوسکتی ہے۔ اس نے کئی ناول لکھے—گنگا کنارے قتل، دوہرا قتل، قاتل عورت، قتل ایک چھلاوہ، قاتل کی واپسی، گنہگار کون، سیریل کلر— اس کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ سنجیدہ ادیبوں سے لے کر سیاستداں تک اس کے ناول پڑھتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کا نام ایسے تمام لوگوں کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔ اپنے ناول سیریل کِلر میں اس نے ایک سیاستداں کی زندگی پر روشنی ڈالی تھی جو معصوم تھا مگر رات کے اندھیرے میں خاموشی سے لڑکیوں کا قتل کیا کرتا تھا۔ یہ ناول اس قدر مشہور ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس ناول کے کئی ایڈیشن آگئے۔ اور اسی زمانے میں حکمراں پارٹی کے لیڈر مسٹر کمار سے ایک پارٹی میں اس کی ملاقات ہوئی۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ وہ ان کے فین ہیں اور سپراکے، اب تک کے تمام ناول انہوں نے پڑھ رکھے ہیں۔ مسٹر کمارنے حکمراں پارٹی کے کئی لیڈران سے اس کی ملاقات کرائی اور اس طرح جب پارٹی کا دعوت نامہ ملا تو سپرا انکار نہیں کرسکا۔ پارٹی میں پہنچ ہوئی تو راجیہ سبھا کے ایک ممبر کے فوت ہونے پر لاٹری سپرا کے نام کھلی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس طرح مسیح سپرا راجیہ سبھا میں پہنچ گیا۔ یہ ایک لمبی چھلانگ تھی۔ مگر سپرا کی مجبوری تھی کہ و ہ سیاست سے ناواقف تھا اور جذباتی آدمی تھا۔ اسے سیاست کے قاعدے قانون پسند نہیں آتے تھے۔ اس لیے راجیہ سبھا پہنچنے کے بعد جس ناول کے لکھنے کا آغاز اس نے کیا، وہ ایک جاسوسی ناول ضرور تھا، مگر سپرا اس ناول میں اپنے عہد کے المیہ کو بھی پیش کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس لیے اس نے ناول میں سیاسی فضا پیدا کرتے ہوئے ایک اہم کردار کو، جس نے مذہبی عمارت کے ملبہ میں تبدیل ہونے کی کہانی کو آسان بنایا تھا، دلچسپ مکالمے کے ذریعہ عدالت میں پیش کردیا تھا۔ جرح کے دوران اس سے پوچھا جاتا ہے۔

تم سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو۔

‘ ہاں،ایسا ہے۔ ۔ ۔ ۔’

اور تم ایک سیاسی آدمی ہو۔

‘ منظور۔’

‘ اور تم پر ذمہ داری تھی کہ پرانی عمارت۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ میں ایک مذہبی آدمی بھی ہوں۔’

‘ کیا مذہبی آدمی آئین اور دستور کا خیال نہیں رکھتا؟’

‘ مذہب کا دائرہ ان دائروں سے زیادہ بلند ہے۔’

‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ افراتفری میں کتنے لوگوں کی جان گئی؟’

‘ تین سو چھیاسی۔’

‘اور اس موقع پر کتنے شہروں میں فساد ہوا۔’

‘ ایک سو باون۔’

‘ ذمہ دار کون ہوا؟’

‘ سلطان۔’

‘ کیا سلطان نے پرانی عمارت کی تعمیر کی تھی؟’

‘ ایسا ہی ہے۔’

‘ کیا پرانی عمارت سے پہلے بھی کوئی عمارت تھی، اس کا کوئی ثبوت ہے؟’

‘ آستھا ہے۔’

‘ آستھا اور آئین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟’

‘ جتنا فاصلہ آپ کے اور ہمارے درمیان۔’

‘ کیا آپ کو پرانی عمارت کے ٹوٹنے کا غم ہے؟’

‘ نہیں۔ حادثہ یہ ہے کہ آپ مجھے عدالت میں لے کر آئے اور اس ملک میں یہ پہلی بار ہورہا ہے۔’

‘ کیا پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ بغیر جواز یا ثبوت کے ایک پرانی عمارت محض اس قیاس پر ڈھادی گئی کہ اس کے نیچے کوئی اور عمارت موجود تھی؟’

‘ آستھا۔’

‘ آستھا کا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟’

‘ صرف اکثریت سے۔’

‘ اور اقلیت ؟’

‘ حکومت اقلیتوں کے ووٹ سے تعمیر نہیں ہوتی۔’

‘ اقلیتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری نہیں ہے؟’

‘ ہاں۔’

‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ پرانی عمارت اب جبکہ ایک تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، یہ تاریخ آپ کے مرنے کے بعد بھی دہرائی جاتی رہے گی اور آپ کا نام۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ زندہ رہے گا؟’

‘ آخری سوال۔ آپ کی حکومت کا رنگ کیا ہے؟’

‘ زعفرانی۔’

‘ اور جو دوسری پارٹی سامنے آئی ہے؟’

‘ اس وقت سب سے بڑی طاقت زعفران ہے۔ جس کا حصہ مضبوط ہوگا، بندر اسی کے ہوں گے۔’

‘ بندر کیوں؟’

‘ ڈارون نے کہا تھا۔ ہم سب بندر ہیں۔’

‘ اور بندر پرانی عمارت پر چڑھ کر، عمارت کو ملبہ بناسکتے ہیں؟’

‘ آستھا۔ اب میری میٹنگ کا وقت ہے۔’

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھند بڑھ گئی تھی۔ سپرا کو احسا ہوا کہ اس کے پاس ریحانہ لیٹی ہوئی ہے اور اس کے ہاتھ ریحانہ کے پستانوں کو چھو رہے ہیں۔ اس نے جھینگا مچھلی کا تصور کیا اور گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا۔ سپرا کو احسا س ہوا کہ وہ چیخنا چاہتا ہے مگر چیخ اس کے اندر اندر کہیں کھوگئی ہے۔ سفید سفید چادروں کے درمیان ایک نا معلوم جزیرہ آباد ہے اور وہ ایک ویران چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں کچھ فاصلے پر تیزی سے گاڑیاں بھاگ رہی ہیں۔ موہن راؤ۔ یہ نام اسے یاد آیا۔ اور سپرا دوبارہ اپنی جگہ لیٹ گیا۔ یہ موہن راؤ تھا، حکمراں پارٹی کا سربراہ— اور وہ ناول جو اس نے لکھا، اس کا عنوان سیاسی قاتل تھا۔ آنکھوں کے آگے دھند کا سفر جاری تھا— اور اس سفر میں سپرا سیاسی قاتل کے صفحات کو کھول رہا تھا۔ کچھ اور بھی دلچسپ مکالمے تھے، جس کو لکھتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر ہونے کے باوجود اس نے سکون محسوس کیا تھا۔

قومی صدر کے ذریعہ دریافت کیا جاتا ہے

‘ آپ نے پارٹی کے موقف کے خلاف کام کیا۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

‘ پارٹی کا کام پرانی عمارت کو بچانا تھا نہ کہ مسمار کرنا۔’

‘ جو اکثریت کو پسند تھا، میں نے وہی کیا۔’

‘ کون سی اکثریت؟’

‘ ہم، آپ اور کروڑوں۔’

‘ لیکن یہ کروڑوں لباس کے اندر زعفران نہیں رکھتے۔’

‘ یہ غلط فہمی ہے۔’

‘ کیا میں بھی زعفرانی ہوں؟’

‘ ہاں۔ کچھ اقلیتوں کو چھوڑ کر۔’

‘ کیا ہم پہلے بھی یہی تھے۔’

‘ آزادی کے بعد کی پہلی کابینہ سے لے کر اب تک۔’

‘ پھر اقلیت ہمارے ساتھ کیوں ہے ؟’

‘ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں۔’

‘ کیا پرانی عمارت کے ڈھانے کے بعد بھی وہ ہمارے ساتھ ہوں گے ؟’

‘ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیوں کہ ہم نے انہیں خوفزدہ کر رکھا ہے۔’

‘ کس سے؟’

‘ زعفران سے۔’

‘ بقول آپ کے، زعفرانی آپ بھی ہیں۔’

‘ اور آپ بھی۔’

‘ تو اقلیتیں ہم سے خوفزدہ کیوں نہیں؟’

‘ کیونکہ ہمارے اندر کا زعفران انہیں نظر نہیں آتا۔’

‘ فرض کیجیے نظر آگیا۔ اس کے بعد؟’
‘ کچھ نہیں ہوگا۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیونکہ ان کے پاس لڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔’

‘ ہماری اصلیت واضح ہوجانے کے بعد وہ کس کو ووٹ دیں گے؟’

‘ ہم کو۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیونکہ ان کو یقین ہے،تحفظ ہم ہی دے سکتے ہیں۔’

‘ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

قومی صدر نے قہقہہ لگایا۔ اور اس طرح یہ میٹنگ مشترکہ قہقہوں کے ساتھ ختم ہوگئی۔

مسیح سپرا آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کے اب تک کے واقعات سے آگاہ تھا۔ اس کے پاس عمر وعیار کی زنبیل ہوتی تو وہ تمام شاطر سیاست دانوں کا قتل کرچکا ہوتا۔ ریحانہ اسے خوب سمجھتی تھی۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اسے قابو میں رکھتی تھی وہ کسی میٹنگ میں حصہ لینے کی تیاری کرتا تو ریحانہ پہلے اس کے ہاتھوں کو تھام لیتی اس سے قبل کہ وہ کچھ سمجھتا۔ ریحانہ اس کے ہاتھوں کو اپنے سر پرلے آتی۔

‘ میری قسم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا؟’

‘ میٹنگ میں کسی سے بکواس نہیں کروگے۔’

‘ میں بکواس کرتا ہوں؟’

‘ جھگڑا تو کرتے ہو۔’

‘ سچ بولنا گناہ ہے؟’

‘ اب تم کرائم رائٹر نہیں ہو۔’

‘ یعنی انسان بھی نہیں ہوں۔’

‘ یہی سمجھو۔ اب تم سیاست داں ہو۔ ایک نمبر کے جھوٹے۔’

وہ ریحانہ کی باتوں کا مزہ لیتا۔’ یعنی اب جھوٹا بھی ہوگیا ؟’

‘ تمہارا کوئی ساتھی سچ بولتا ہے کیا؟’

‘ ہاں۔ یہ تو ہے۔’

‘ اور سچ اب تم بھی نہیں بولتے، بہت ساری باتیںمجھ سے چھپالے جاتے ہو۔’

‘ یہ بھی ہے۔’

سپرا قہقہہ مارکر ہنسا۔ پھر ناز ک سی ریحانہ کو اپنی آغوش میں بھر لیتا۔

‘ ایک بات کہوں؟’

‘ ہاں۔’

‘ اب لگتا ہے۔ سیاست میں آکر اچھا نہیں کیا۔ پارٹی کا اس قدر پریشر رہتا ہے کہ ہم اپنی بات بھی نہیں کرپاتے۔’

‘ تم ایک اقلیتی ڈنکی ہو۔ ‘

‘ اقلیت والے ڈنکی ہوتے ہیں۔’

‘ ساری عمر بوجھ ڈھونے کے بعد ملتا کیا ہے، اقلیت والوں کو؟’

‘ کیوں نہیں ملتا؟’

‘ وہ ہمیشہ سے حاشیہ پر ہیں۔ اس لیے کہ تم جیسے لوگ بھی پریشر میں ہو۔’

اسے پہلی بار احسا ہوا کہ ریحانہ سچ بول رہی ہے۔ ریحانہ اس دھند کو دیکھ چکی ہے، جس کے اس پار جھوٹ کے سمندر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہاں آپ پارلیمنٹ میں ہیں تواپنی مرضی سے تقریر بھی نہیں کرسکتے۔ کسی اخبار والے کو اپنے حساب سے بائیٹ بھی نہیں دے سکتے۔ پارٹی کا پریشر۔ آپ کے منہ میں پارٹی کی زبان ڈالی جاتی ہے اور پارٹی کیا ہے؟ کیا حقیقت میں پارٹی نے سیکولرزم اور جمہوریت کا لباس پہنا ہوا ہے؟ یا یہ سیکولر زم محض فریب ہے جیسا کہ وہ اپنے ناول میں لکھ رہا ہے۔ پرانی عمارت شہید ہوگئی۔ آپ اس کو پرانی عمارت، مذہبی عمارت بھی نہیں کہہ سکتے۔ پارٹی کے اصولوں کے مطابق آپ کو ڈھانچہ کہنا ہے۔ پارٹی اگر سیکولرزم کے اصولوں پر چلتی تو کیا آزادی کے بعد ہزاروں فسادات ہوتے؟ کیا پارٹی فسادات کو روکنے میں ناکام رہتی؟ راجیہ سبھا کا ممبر بننے کے بعد سپرا صاف دیکھ رہا ہے کہ گندگی کہاں ہے؟ فرق کہاں ہے؟ بھید بھاؤ کہاں ہے؟ اور اس فرق کو چھپانے کے لیے وعدے کیے جاتے ہیں۔ سفارشات لائی جاتی ہیں۔ کمیٹی بیٹھائی جاتی ہے۔ باربار اقلیت کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن پارٹی نے اقلیت کی سطح پر کیا کیا ہے؟ سارے واقعات نظروں کے سامنے تھے۔ کلیم پورہ، جہاں بندوق کے نشانہ پر حکمراں پارٹی کی پولیس اقلیتوں پر گولی چلانے کے لیے لے گئی تھی۔ حسن پور، جہاں فسادات کے بعد ایک برسوں پرانا کنواں جلیاں والا باغ بن گیا تھا۔ سپرا کو احساس تھا کہ زعفران ہر جگہ ہے اور ملک میں بڑے پیمانے پر زعفران کی کھیتی ہورہی ہے۔ اور سپرا کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ بار بار اقلیتوں کا نام لینے سے ایک دن یہ اقلیت، اکثریت کے نشانے پر آجائیں گے اور وشال کرشن ناتھانی، بانسری جوشی، شردھا بھارتی جیسے لوگ اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ ایک دن یہ چیخ ایک بہت بڑے نقصان میں تبدیل ہوجائے گی۔ سپرا کو احساس ہوا، ریحانہ کچھ غلط نہیں کہتی ہے۔ بلکہ ریحانہ اس سے کہیں زیادہ دور کی سوچتی ہے۔ اسے ریحانہ پر پیار پر آیا۔ وہ دیر تک ریحانہ کو آغوش میں لیے رہا۔ ایک عجیب سی ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ نور کا جھروکہ کھلا۔ اسے احساس ہوا۔ وہ نور کے اس جھروکے میں داخل ہورہا ہے۔ مگر اس جھروکے میں بھی زعفران کھلا ہے۔ وہ فوراً ریحانہ سے الگ ہوا۔

‘ کیا ہوا؟’

سپرا ہنسا۔’’خوفزدہ ہوگیا۔’

‘ کیا میری جگہ نتاشا کو دیکھ لیا؟’

‘ نتاشا کون؟’

‘ سیما کہہ لو۔ ۔ ۔ آصفہ کہہ لو۔ ۔ ۔ کچھ بھی۔ سیاستداں ہو۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سیاستداں کیا پانی میں تیرتے ہیں؟’

‘ اکیلے نہیں۔ مگر تیرتے ہیں۔’

‘ کس کے ساتھ ؟’

‘ نتاشا، آصفہ اور سیما کے ساتھ۔’

‘ تم پاگل ہو۔’

ریحانہ ہنسی۔’’ایک شک تو رہتا ہے میرے اندر اور میرے اندر اس شک کو رہنے دیا کرو۔’

‘ اس سے کیا ہوگا؟’

‘ شک کی کھیتی سے بادام نکلے گا۔ بادام جسم کو طاقت پہنچاتا ہے۔’

‘ اچھا۔ چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ بند کرو۔’

بادام نکلے گا۔ ۔ ۔ ۔ وہ دیر تک اس محاورے پر غور کرتا رہا مگر آخر تک سپرا کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ پرانی عمارت کا قصہ تمام ہونے کے بعد ملک میں بی مشن کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔ اس مشن کے امام وشال کرشن ناتھانی تھے۔ لیکن پارٹی کو مضبوطی دینے کے لیے گردھر باجپائی کو آگے رکھا گیا تھا۔ گردھر باجپائی پارٹی کا سیکولر چہرہ تسلیم کیے جاتے تھے۔ پارلیمنٹ میں ان کی تقریر نپی تلی ہوتی تھی اور حکمراں پارٹی کے لیڈران بھی ان کو پسند کرتے تھے۔ دھوتی اور کرتا پسندیدہ لباس تھے۔ مشن کے پرانے ساتھی تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کے آنے سے مشن کے نرم چہرے کو آگے رکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ وشال کرشن ناتھانی کو آئرن مین کہا جارہا تھا اور یہ پارٹی کا گرم چہرہ تھے۔ پرانی عمارت کا ٹوٹنا تاریخ کا ایک ایسا حصہ تھا، جس کے بارے میں سپرا سوچتا تھا کہ ملک کی تقدیر اب اسی عمارت کے بھروسے لکھی جائے گی اور سیاست میں تبدیلی یہی عمارت لے کر آئے گی۔ عمارت مسمار کرنے کے بعد وہاں ایک چہار دیواری کے چاروں طرف زعفرانی کپڑوں کی ایک دیوار کھڑی کردی گئی تھی۔ ملک کا موسم اس وقت سے بدترین ہونے لگا تھا جب اس مقام پر دو سال قبل گولیاں چلائی گئی تھیں۔ ادھر چنار کے درختوں سے شعلے نکلنے شروع ہوگئے تھے۔ سپرا سیاست میں ان موسموں کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی محسوس کررہا تھا کہ ہوا بدل رہی ہے اور اس ہوا میں نفرت کے کیڑے لگنے شروع ہوگئے ہیں۔

سیاسی قتل لکھنے کے دوران وہ حکمراں پارٹی کے ایک مسلم لیڈر سے ملا جو کبھی وزیر رہ چکے تھے۔ محمود خورشید۔ حکمراں پارٹی کے پرانے آدمی۔ وکیل بھی تھے۔ شاندار شخصیت کے مالک۔ اکثر پارلیمانی اجلاس کے بعد محمود خورشید کا ساتھ ہوتا تو گفتگو کا مزاج دلچسپ ہوجاتا۔ باہر سے تعلیم حاصل کرکے لوٹے تھے اور سیاست میں بلند مقام حاصل کیا تھا۔ اقلیتوں کے رہنما بھی تھے۔ مسیح سپرا نے محمود خورشید کو سیاسی قتل کے بارے میں بتایا تو وہ اچھل پڑے۔

‘ پارٹی سے بغاوت کرناچاہتے ہیں ؟’

‘ یہ بغاوت ہے؟’

‘ سیدھے سیدھے بغاوت۔ اور آپ کو اس کا اختیار نہیں ہے۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیوں کہ ہم اس مہان آتما کے بندر ہیں۔ آنکھ بند۔ کان بند۔ زبان بند۔’

‘ کیا یہ زبان بندی آپ کو پسند ہے ؟’

‘ پسند ناپسند کا سوال نہیں۔ سوال ہے کہ آپ پارٹی میں ہیں تو آپ کو پارٹی کے اصولوں پر چلنا ہے۔’

‘ کیا پارٹی اپنے اصولوں پر چل رہی ہے؟’

‘ نہیں۔’

‘ کیا پارٹی ملک کو دھوکہ نہیں دے رہی ہے۔’

‘ زبان بند۔’

‘ کیا اقلیتوں کو نچایا نہیں جارہا؟’

‘ زبان بند۔’

‘ کیا زبان بندی پہلی بار ہورہی ہے؟’

‘ نہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہے۔ ہم سے پہلے جو آئے، انہوں نے بھی زبان بند رکھی۔’

‘ آپ کو کیا لگتا ہے؟’

محمود خورشید نے سپرا کی طرف دیکھا۔’ دو ناؤ پر سواری ہماری پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔’

مسیح سپرا کو احساس تھا کہ پرانی عمارت کے ڈھانے کے بعد ملک کا موجودہ ثقافتی، سماجی، معاشرتی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس تبدیلی کی آہٹ سیاست سے سماج تک واضح تھی۔

اس رات ریحانہ کے برہنہ جسم سے کھیلتے ہوئے سپرا نے ریحانہ کے پستانوں پر ہاتھ پھیرا تو نرم پستانوں میں گرمی کا احساس نہیں ہوا۔ اس نے ریحانہ کے چہرے کو ہلایا۔

‘ تمہارے پستان بھی سیاسی ہوگئے ہیں۔’

‘ مطلب؟’ریحانہ کھلکھلاکر ہنسی۔

‘ تمہارے مزاج و معیار سے چلتے ہیں۔ میری ہاتھوں کی پرواہ نہیں کرتے۔’

ریحانہ نے قہقہہ لگایا۔’ کرائم رائٹر بن گئے ہیں۔’

‘ کون؟ پستان۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔ جذبات کا پتہ لگنے نہیں دیتے۔’

مسیح سپرا نے قہقہہ لگایا۔ اور دوسرے ہی لمحے اس نے محسوس کیا کہ ریحانہ کا جسم تندور بن چکا ہے اور پستانوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔

‘ سب سیاست۔’

سپرا زور سے ہنسا اور سفید گھوڑے کی طرح ہوا میں اڑا اور ریحانہ کے جسم پر چھا گیا۔

[divider](4) قدیم شہر: زندگی یا ملبہ[/divider]

[dropcap size=big]پارلیمانی[/dropcap]

اجلاس میں، پرانی عمارت کو لے کر مختلف پارٹیوں کے لیڈران نے نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ تخریبی عمل کی مخالفت بھی کی۔ کلال پاسبان جم کر گرجے۔ مسیح سپرا نے باہر نکل کر مبارکباد بھی دی۔ میڈیا نے بھی پرانی عمارت کا ساتھ دیا۔ اخبارات نے شرم کی سرخیاں لگا کر جمہوریت کی اہمیت کو واضح کیا۔ مگر محمودخورشید کا خیال تھا کہ یہ تمام باتیں پارلیمانی اجلاس تک محدود ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایسے تمام مقررین کب چھلانگ لگا کر کہاں پہنچ جائیں، کوئی بھروسہ نہیں۔ مسیح سپرا نے اس قدیم شہر کا دیدار اس وقت بھی کیا تھا جب وہ پرانی عمارت موجود تھی۔ اور جب اس نے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا، تو اس کا پہلا استقبال بندروں نے کیا تھا۔ اس وقت یہ تنازعہ ہنگامی شکل اختیار کرچکا تھا۔ جب اس نے اس سرزمین پر قدم رکھا۔ اس وقت بھی سردیوں کا موسم تھا۔ کچھ جگہوں پر الاؤ جل رہے تھے۔ سورج کے نمودار ہونے تک وہ اس مقام تک پہنچ جانا چاہتا تھا، جہاں پرانی عمارت واقع تھی۔ اب اس جگہ پر پولیس پہرہ دے رہی تھی۔ مگر پرانی عمارت شان سے کھڑی تھی۔ آس پاس جنگلی گھاس اُگی ہوئی تھی۔ عمارت بہت پرانی لگ رہی تھی اور جیسا کہ کہا جارہا تھا کہ عمارت چارسو برس پرانی ہے۔ سپرا کو اس وقت بھی عمارت کے قریب جانے نہیں دیا گیا۔ مگر وہ اس تاریخی عمارت کو جی بھرکر دیکھنے کے بعد اپنی آنکھوں میں بسا لینا چاہتا تھا۔ درختوں کے جھرمٹ میں عمارت کے گنبد صاف کہتے نظر آئے کہ ابھی پولیس کا پہرہ ہے۔ مگر بھوکی نگاہیں میرا مشاہدہ کررہی ہیں۔ کرگس آئیں گے اور ساتھ میں چیتے بھی۔ اس وقت دریا کا پانی سرخ ہوگا اور درختوں سے پتے زرد ہوکر زمین پر گررہے ہوں گے۔ سپرانے ایک نظر پولیس والوں کو دیکھا اور پھر احساس ہوا کہ قدیم شہر کی یہ قدیم عمارت آثار قدیمہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ بہت سے مزدور ہیں جو کھدائی کررہے ہیں اور عمارت سے خوفزدہ کرنے والی آوازیں آرہی ہیں۔

( قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ سے )

آوازیں بند ہوگئیں۔ سپرا خواب سے جاگا تو زندگی سرائے کا دروازہ بند تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور کوئی اس سے دریافت کررہا تھا کہ تاریخ کو فراموش کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ کیا تاریخ کی کوئی اہمیت ہے؟ کیا چارسو برس کی طویل مدت کے بعد بھی تاریخ بدل سکتی ہے؟ سپرا کو محمود خورشید کی باتیں یاد آئیں۔ اس نے ہنس کر کہا تھا کہ تاریخ میں اتنے سوراخ ہیں کہ جیل کی سلاخوں میں بھی نہیں ہوں گے۔ ان سوراخوں کے آر پار کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اور ہے تو وہ تبدیل ہوجاتا ہے یا کردیا جاتا ہے۔

سپرا کو مزدوروں کی آوازیں ابھی بھی پریشان کررہی تھیں۔ ریحانہ کو اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

‘ وہ اس قدیم شہر کو ایک بار پھر دیکھنا چاہتا ہے۔’

‘ اس سے بہتر ہے کہ بھالو کا تماشہ دیکھ لو۔’

‘ کیوں ؟’

‘ تم بھی جانتے ہو کہ موسم بدل چکا ہے۔’

‘ اب اتنا بھی نہیں بدلا۔’

‘ تمہاری فکر سے زیادہ بدل چکا ہے۔ بلکہ مجھے احساس ہے کہ تمہاری فکر میں بھی کیکٹس چبھ رہے ہوں گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ یہ تو مجھ سے بہترتم جانتے ہو۔ اور کیوں جانا چاہتے ہو مجھے پتہ ہے۔’

‘ تم کچھ نہیں جانتی۔’

‘ تم اپنی حیرانیوں کو مزیدموقع دینا چاہتے ہو۔’

‘ حیران ہونے کا۔’

‘ ہاں۔ اور غمزدہ ہونے کا بھی۔’

مسیح سپرا نے مسکرا کر پوچھا تھا۔ ‘مجھے اتنا کیوں جانتی ہو؟’

ریحانہ مسکرائی۔ ‘اس لیے کہ میرے اندر کی جنگلی بلی زندہ رہے۔’

‘ جنگلی بلّی۔’

مسیح سپرا ریحانہ کی ان باتوں پر ہی فدا تھا۔ اس نے ایک نرم گداز بوسہ ریحانہ کے حوالے کیا او دوسرے دن قدیم شہر کی پرانی عمارت کو دیکھنے نکل گیا۔

کبھی یہ قدیم شہر اودھ کے نوابوں کی جاگیریں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں کی شان وشوکت اور تھی۔ واجد علی شاہ اس قدیم شہر کے آخری نواب وزیر تھے۔ جب واجد علی شاہ کا اودھ سے حقہ پانی ختم کیا گیا، بیگم حضرت محل نے اس جاگیر کی حفاظت کی۔ انگریز ۱۸۵۶ تک شہر پر شب خون مارنے سے گھبراتے رہے۔ اس شہر کو لے کر صرف ایک مذہب کی کہانیاں روشن نہیں تھیں، بلکہ اس قدیم شہر پر جین، مسلمان، بودھ سب کی نشانیاں موجود تھیں۔ ایک دفعہ اس قدیم شہر میں ایک گڑھی کو لے کر تنازع پیدا ہوا تو نواب واجد علی شاہ نے ہندؤں کے حق میں فیصلہ سنایا۔

ہم عشق کے بندے ہیں، مذہب سے نہیں واقف
گر کعبہ ہوا تو کیا، بت خانہ ہوا تو کیا

عشق کے بندے، عشق سے دور ہوگئے، بت خانہ آباد ہوا اور پرانی عمارت ملبہ میں تبدیل ہوگئی۔ ۱۲ ویں سے ۱۷ ویں صدی تک اس شہر پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ شمال میں میلوں پھیلی ہوئی سرمئی زمین۔ کچھ مٹی کے ٹیلے۔ اسٹیشن پر وہی بندروں کا ہجوم۔ اور اسٹیشن پر قدیم شہر کی سواری چیختے ہوئے ٹیمپو والے۔ مغربی علاقے کی طرف کچھ کچے پکے مکانات۔ مسیح سپرا کی آنکھیں اس پرانی عمارت کو تلاش کررہی تھیں۔ مگر اب وہاں ملبہ تھا اور ملبہ کا کچھ حصہ زعفرانی چادر سے گھرا ہوا تھا۔ مزدور پسینہ بہاتے ہوئے کھدائی کررہے تھے۔ سپرا کو شہر کی فصیلیں نظر آرہی تھیں۔ وہ دوبارہ ان آوازوں کی زد میں تھا، جو اس نے پچھلی بار سنی تھیں۔ مزدوروں کو یہ آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ کافی تعداد میں پولیس والے تھے۔ سپرا کو دور ہی روک دیا گیا۔ رسّیوں کا ایک گھیرا بنایا گیا تھا۔ گھیرے کے پاس کھڑے لوگ اب بھی چیخ رہے تھے اور نعرے لگارہے تھے۔ مسیح سپرا کو اس وقت پہلی بار دورہ پڑا تھا۔

یہاں پرانی عمارت تھی۔
اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

ابّاحضور تھے۔ ۔ ۔
اب نہیں ہیں۔ ۔ ۔

امّاں حضور تھیں۔ ۔ ۔
اب نہیں ہیں۔ ۔ ۔

پرانی عمارت میں تین گنبد تھے۔ ۔ ۔
اب کچھ بھی نہیں ہیں۔ ۔ ۔

— اس کے بچپن کا ایک دوست رفیق تھا۔
— اب نہیں ہے۔

پرانی عمارت تھی۔ اور یہ نظروں کا دھوکہ نہیں ہے۔
— مگر اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

— صرف انسان نہیں گم ہوتے۔ نقشے گم ہوجاتے ہیں۔ عمارتیں گم ہوجاتی ہیں۔ مکاں گم ہوجاتے ہیں۔ مکیں گم ہوجاتے ہیں۔

مسیح سپرا ہے۔ ۔ ۔
مسیح سپرا بھی نہیں رہے گا۔

یہ مردوں کی بستی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کھنڈرات سے بلند ہونے والی آوازیں دوبارہ اس کے کانوں میں چنگھاڑنے لگیں۔ سپرا کو لگا، روحیں ہیں جو آثار قدیمہ میں بھٹک رہی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھیرا بندی کرنے والی رسّی بوسیدہ دھاگے میں تبدیل ہوگئی اور اس نے الجھے دھاگو ں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ پھر اس نے دیکھا کہ جو لوگ رسّیوں کے پیچھے کھڑے تھے، وہ ارواح میں تبدیل ہوگئے۔ ان کے لباس سفید تھے۔ پاؤں ہوا میں معلق تھے۔ آسمان کا رنگ گیہواں تھا۔ ایک سفید گھوڑا تھا، جو آسمان پر اڑرہا تھااور بادلوں کے نرغے میں وہی عورت تھی، جو نقاب پہنے تھی۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی چمک تھی۔ سپرا نے زیر لب بڑ بڑانا جاری رکھا۔

وہ ہے۔ ۔ ۔
وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔

پرانی عمارت تھی۔ ۔ ۔ پرانی عمارت اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

ملبے کو دیکھنے والے ابھی، یہیں رسّیوں کے قریب جھول رہے تھے۔ ۔ ۔
اب یہ ارواح ہیں اور مرچکے ہیں۔

وہ مردوں کی بستی میں ہے اور مردوں کے ساتھ چل رہا ہے۔ سپرا کی سانسیں گھٹ رہی تھیں وہ اضطرابی کیفیت میں تھا۔ گھر لوٹنے تک وہ اسی کیفیت میں رہا۔ ریحانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ مگر بے آواز رہی اور خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔

‘ کیا میں ہوں۔’
‘ہاں تم ہو۔ اور میں بھی ہوں۔’

پھر اسے کچھ یاد نہیں۔ پرانی عمارت، ملبہ، ارواح جیسے کچھ الفاظ دہراتے ہوئے اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔

ریحانہ کے مطابق وہ ۴ گھنٹے تک بے ہوش رہا۔

سپرا کو یقین ہے، یہ چار لمحے اس نے اس عورت کے ساتھ گزارے جو بادلوں کے درمیان نقاب لگائے کھڑی تھی اور اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

[divider](5)[/divider]

[dropcap size=big]پارلیمانی[/dropcap]

اجلاس کے ساتویں دن گاڑی سے اترتے ہی کلاّ پاسبان سے دوبارہ ملاقات ہوگئی۔ اس کی داڑھی بڑھی تھی۔ رنگ کالا تھا۔ لمبا تھا اور زیادہ تر سفاری سوٹ میں ہوتا تھا۔ وہ ان لیڈروں میں سے ایک تھا جو وقت کے ساتھ بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ اقلیتوں کے حقوق کی باتیں کرتا تھا۔ ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی باتیں کرتا تھا اور ایک خاص طبقہ کے درمیان وہ مقبول ترین لیڈروں میں سے ایک تھا۔ مسیح سپرا نے پاسبان کے ہاتھوں کو گرمجوشی سے اپنے ہاتھ میں لیا۔

‘آپ نے کمال کردیا۔’

‘ کیسا کمال۔’

‘ اس دن جوآپ نے تقریر کی۔’

ارے یار’پاسبان مسکرایا۔’ قیدیوں کی تکلیف سننے کے لیے کہاں جاؤگے، ظاہر ہے جیل میں؟ وہاں ان کے پسینے کی بدبو بھی سونگھوگے۔ یہ اقلیت بھی قید میں ہیں اور صدیوں سے سسٹم انہیں قید کرتا رہا ہے۔ انہیں روشنی سے زیادہ پیار کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے اپنے ہیں۔ پرانی عمارت ڈھادی گئی؟ بنیاد کیا تھی؟ محافظ ہی دشمن بن جائیں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ آپ اتنا سوچتے ہیں۔’

‘سوچنا پڑتا ہے اور بولنا توآپ کو بھی چاہیے۔ ایک انہیں سسٹم لگاتار صاف کرنے پر مجبور ہے اور یہ سہارا چاہتے ہیں۔ سیاست میں آنے کا مطلب کیا ہے؟ سیاست میں ہمارے کون ہیں۔ یہی محدود اقلیت والے۔ ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا۔ اتنی زحمت تو اٹھانی ہوگی۔’

‘ لیکن اقلیتوں کے بارے میں کون سوچتا ہے۔’

‘سوچنا تو ہوگا۔ اقلیتیں محض ووٹ بینک بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو اپنی مضبوطی کا احساس کرانا ہوگا۔ مسیح سپرا کے لیے یہ ایک بے حد خاص دن تھا۔ کلّا پاسبان کی باتوں نے اس پر اثر کیا تھا۔ مگر مجبوری تھی کہ پارٹی لائن کو دیکھتے ہوئے وہ زبان بندی کے لیے مجبور تھا۔ اس رات سیاسی قتل کے لیے اس نے ایک اور منظر لکھا۔ ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ہائی کورٹ کے ایک جج نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدلیہ اور حکمراں طبقہ میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ پھر اسی جج نے ناظم پورہ کے ان پولیس والوں کی رہائی کا حکم دیا تھا، جن کے قتل کے شواہد موجود تھے۔ یہ ایک دلچسپ منظر تھا اور مسیح سپرا نے اس منظر کو اسی طرح لکھا جس طرح یہ پیش آیا تھا۔ ناظم پورہ پولیس والوں کی رہائی کے بعد جب دوبارہ پریس کانفرنس ہوئی تو جج بھٹا چاریہ سے پریس والوں نے کئی طرح کے سوال پوچھے، لیکن بھٹا چاریہ کے پاس ہرسوال کا جواب موجود تھا۔

‘ جب پولیس والے بے گناہوں کو لیے جارہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ؟’
‘ میں وہاں نہیں تھا۔’

‘ وہ اقلیت تھے اور خوفزدہ اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’
‘ میں وہاں نہیں تھا۔’

‘ کچھ دن پہلے آپ نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ ۔ ۔ ۔’
‘مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اور آپ بھی یاد رکھیے کہ آئین اور عدلیہ پر سوال اٹھانا بھی جرم ہے۔ آپ کو اس کی سزا مل سکتی ہے۔’

‘ کیا پولیس والوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔’
‘ پولیس مجرموں کو پکڑنے کے لیے ہوتی ہے۔’

‘ کیا وہ بے قصور تھے یا بے گناہ؟’
‘وہ مجرم تھے۔’

‘ کیا اقلیت میں ہونا مجرم ہونا ہے؟’
‘ مجرم کوئی بھی ہوسکتا ہے۔’

‘ لیکن شواہد موجود ہیں۔ ۔ فوٹیج موجو د ہے۔ تصاویر موجود ہیں۔’
‘ ثبوت کوئی بھی نہیں۔’

ثبوت تو تصویریں ہیں۔’
‘ تصویروں کوثبوت نہیں مانا جاسکتا۔’

‘اچھا، ایک سوال اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو مجرم جیت کر پارلیمنٹ پہنچ جاتے ہیں۔’
‘ پھر وہ مجرم نہیں رہتے۔’

‘ سیاست بدل رہی ہے یا دنیا؟’
‘ دونوں طرف تبدیلی کا استقبال کرنا چاہیے۔’

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسیح سپرا کو پرانی عمارت کا ڈھایا جانا ہندوستان اور سیاست کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ لگتا ہے۔ اس موقع پر جشن منانے والوں کی کمی نہیں تھی۔ ایک بڑا طبقہ اسے فتح کے طور پر لے رہا تھا اور دوسرا طبقہ صدمے میں گم۔ مسیح سپرا جانتا تھا کہ یہ سیاست آگے بھی چلتی رہے گی اور ایک مخصوص طبقے پر اپنا اثر ڈالے گی۔ اس کا ناول ‘سیاسی قتل’ مکمل ہوچکا تھا۔ وہ اس ناول پر ہونے والے ہنگامے سے واقف تھا لیکن یہ بھی جانتا تھا کے سیاست میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور بہت سے راستے کھلے رہتے ہیں۔ ‘سیاسی قتل’ پریس میں جاچکا تھا۔ ان دنوں ریحانہ امید سے تھی سپرا اس کا پورا خیال رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس موقع پر عورت کیا چاہتی ہے۔ اس کو آرام سے زیادہ شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ایک اچھا شوہر بن کر دکھانا چاہتا تھا۔

پرانی عمارت گرنے کے بعد کئی شہروں میں فسادات ہوئے۔ نفرت کی آگ بڑھتی جارہی تھی۔ اس رات سپرا نے پھر ایک خوفزدہ کرنے والا خواب دیکھا۔ یہ خواب وہ مسلسل قدیم شہر سے لوٹنے کے بعد دیکھ رہا تھا۔ وہی، وحشیوں کا ہجوم جو پرنی عمارت کے گنبد پر چڑھ گئے ہیں اور پرندوں کا ہجوم واپس جارہا ہے۔ پھر اس وحشی ہجوم کو اس نے اپنے گھر کے دروازے پر دیکھا۔ لیکن ایک بات عجیب تھی۔ وحشی ہجوم کے گھیرے میں ریحانہ تھی۔ اور ریحانہ کے ہاتھ خون سے تربتر تھے۔ خواب کی یہ تعبیر سپرا کو ایک ماہ بعد سمجھ میں آئی۔ جب رات کے پچھلے پہر ریحانہ کی تیز چیخ گونجی۔ سپرا خوفزدہ ہوکر اٹھ گیا۔ کمرے میں روشنی کی۔ ریحانہ کو دیکھا۔ وہ بستر پر تڑپ رہی تھی اور اس کے ہاتھ خون سے بھیگے تھے۔ رات کے وقت ہی سپرا ریحانہ کو لے کر مدر اسپتال گیا۔ وہاں کے معالج نے ریحانہ کو فوراً آپریشن تھیٹر بھیج دیا۔ کاریڈورمیں کھڑا ہواسپرا رب سے دعائیں مانگ رہا تھا۔

دھند۔ ۔ ۔ ۔ دھند میں کتنے چہرے کھوجاتے ہیں۔ عمارت کھوگئی۔ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔ کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹروں نے آکر بتایا کہ ۵ ماہ کا حمل تھا۔ سپرا زور سے چیخا۔ گوشت کا زندہ لوتھرا۔ ۔ ۔ ؟

اس کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ ریحانہ کے پیٹ میں تھا۔ پیٹ سے ہی چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ اندھیرے سے اندھیرے کی طرف۔ تین دن تک ریحانہ اسپتال میں رہی۔ وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مگر سپرا کو احساس تھا کہ وہ جلد نارمل نہیں ہوسکے گا۔ وہ پانچ ماہ کے گوشت کے لوتھّڑے کو دیکھ بھی نہیں سکا۔ لوتھڑا، جس میں اس کا خون بھی شامل تھا۔ ایسا بھی ہوتا ہے، جسم کے اندھیرے سے بھی ایک راستہ انجان جزیرے کی طرف جاتا ہے۔ ایک ایسے جزیرے کی طرف جہاں روشنی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ گھر آنے کے ایک ہفتہ کے اندر ریحانہ نے بہت حد تک خود کو نارمل کرلیا تھا مگر مسیح سپرا پر دورے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔ اور اس رات جب آسمان میں چاند روشن تھا، اس کا خیال تھا کہ شہر کی فصیلوں پر بھیڑیے دوڑ رہے ہوں گے۔ متواتر دوڑنے کے عمل سے دھول اڑ رہی ہوگی۔ گزرگاہوں سے بنجاروں کا قافلہ جارہا ہوگا۔ بے نیاز۔ اور بھیڑیے اچانک بنجاروں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

تم نے آواز سنی۔ ۔ ۔ ۔ سپرا کا چہرہ سپید پڑگیا تھا
کیا؟ ریحانہ نے پوچھا۔ ۔ ۔
وہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔
مگر وہ تھا۔ گوشت کا لوھڑہ

ریحانہ زور سے چیخی۔ میں بھول چکی ہوں۔ تم بھی بھول جاؤ۔

‘ کیسے ؟ میں نے تو اسے دیکھا بھی نہیں۔ وہ تنہائی سے تنہائی میں گزر گیا۔ خیال سے خیال آباد میں، تاریکی سے نکل کر خوفناک تاریکی میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ وہ نہیں ہے۔ اور تمہارے جذباتی ہونے سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا زور سے چیخا۔ ‘میں جذباتی نہیں ہوں۔ اس سے رشتہ تھا میرا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کو میں دیکھ بھی نہیں سکا۔’

سپرا سسک رہا تھا۔ دھند میں بنجاروں کی تکا بوٹی کی ہوئی لاشیں پڑی تھیں۔ سپرا کو کب نیند آئی اسے پتہ بھی نہیں چلا۔
صبح آسمان زرد تھا۔ ریحانہ نے بتایا کہ آندھی آئی تھی مگر وقفہ کم تھا۔ کچھ دیر میں ہی آندھی گزر گئی۔ وہ ڈرائنگ روم میں آکر کچھ دیر تک اخبار پڑھتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ تمام باتیں جھوٹی ہیں۔ سیاست جھوٹ کے راستے پر چل پڑی ہے۔ اس کی انتہا خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس کی خاموشی میں اجنبیت کا عنصر قائم تھا۔ اس وقت وہ خود کی شناخت نہیں کرپارہا تھا۔ اس کی کتاب مارکیٹ میں آچکی تھی۔ مگر وہ ابھی کتاب کے بارے میں کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا وہ خود فراموشی کی کیفیت میں تھا مگر وہ لوتھڑابار بار اس کی نگاہوں کے سامنے آکر اس کو زخمی کررہا تھا۔

ریحانہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

‘ تم اس پورے ہفتے کہیں نہیں گئے۔’

‘ ہاں۔’

‘ سیاست میں ہو۔ سیاست میں گرگٹ بننا پڑتا ہے۔’

‘ میں نہیں بن سکتا۔’

‘ پھر لومڑی بن جاؤ۔’

‘وہ بھی نہیں۔’

‘ پھر سیاست میں کیوں ہو؟’

‘ میرا خیال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا آہستہ سے بولا۔ ۔ ۔ سیاست مجھ سے اپنا رشتہ ختم کررہی ہے۔ اور یہ بہت جلد ہوگا۔’

‘ انتظام تم نے ہی کیا ہے۔’

‘ ہاں۔ سیاسی قتل۔’

‘ یہ قتل تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔ سیاسی قتل۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

ریحانہ آہستہ سے بولی۔ اس کے بعد وہ رُکی نہیں۔ کمرے سے باہر نکل گئی۔

[divider](6)[/divider]

[dropcap size=big]سپرا[/dropcap]

کے سر میں تکلیف ہے۔ بہت کچھ گڈ مڈ ہورہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور گڈ مڈ ہونے کا احساس کوئی نیا نہیں۔ مثال کے لیے اس وقت تیسری آنکھ سے وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ وہ دیکھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کمان تک اس کا ذکر ہورہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ پارٹی میں اس کی موجود گی کو پسند نہیں کیا جارہا ہے۔ اور وہ جانتا ہے کہ میٹنگ میں اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے اور اس کی تیسری آنکھ کھلی ہے۔ ناسترو دومس اس تیسری آنکھ میں خود آکر بیٹھ گیا ہے۔ اور وہ اسے اس منظر کو دکھانے کی کوشش کررہا ہے۔ ، جو وہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ ایک ہال ہے۔ ایک بڑی سی میزہے۔ محمود خورشید اور پارٹی کے دوسرے ممبرز خاموش بیٹھے ہیں۔ محمود خورشید انہیں ناول کے کچھ الگ الگ حصے پڑکر سنا رہا ہے۔ اس منظر میں اعلیٰ کمان اور قومی صدر کی موجودگی نہیں ہے۔ ذمہ داری کچھ ممبرز پر ڈالی گئی ہے۔ محمود خورشید کچھ الگ الگ حصے سنانے کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔
سنیتا میڈم کی آواز ابھرتی ہے۔ ویری بیڈ

اعظم قریشی کہتے ہیں۔ باسٹرڈ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چپ ہوجاتے ہیں۔

محمود خورشید کا بیان آتا ہے۔ ‘زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ تیسرے درجے کا ادیب ہے۔’

اعظم قریشی کہتے ہیں۔’ مگر عوام میں مقبولیت تو ہے۔ ۔ ‘

رنجن ریڈی کہتے ہیں۔ ‘اقلیتوں کا ووٹ بینک ختم ہوجائے گا۔ ‘

محمود خورشید جواب دیتے ہیں۔’ کم ہوسکتا ہے ختم تو نہیں ہوگا۔ ‘

نیل سریواستو کے چہرے پر الجھن ہے۔ سپرا کو سمجھنا تو چاہیے تھا کہ وہ پارٹی میں ہے۔ پارٹی کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اس نے تو صاف صاف لکھ دیا کہ سب کچھ راؤ کی نگرانی میں ہوا۔ ذمہ دار راؤ ہے۔

محمود خورشید مسکرائے۔ سب کچھ صاف۔ بی مشن کی ذمہ داری کم۔ حکومت کی زیادہ۔ قاتل ہم ہیں۔ یہی پیغام دیا گیا۔

‘ یہ پیغام دور تک جائے گا۔’

‘ضرور جائے گا۔’رنجن ریڈی نے کہا، وہ عوام میں پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

نیل سریواستو نے کہا۔ یہ سیدھے سیدھے بغاوت ہے۔

رجنی سنگھ نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا۔ پھر کہا۔ لیکن کیا یہ غلط ہے۔ ایسا تو ہوا ہے۔ اس سے ایک اور پہلو سامنے آتا ہے کہ پارٹی میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو صرف کٹھ پتلی نہیں ہیں۔

‘ یہ پیغام کتنے لوگ سمجھیں گے؟’

رجنی نے نیل سریواستو کی طرف دیکھا۔ ‘کیا راؤ کی مرضی کے بغیر پرانی عمارت کو ڈھایا جانا آسان تھا؟’

‘ آپ بھی سیدھے سیدھے بغاوت کررہی ہیں۔’

‘ ابھی بغاوت کئی لوگ کریں گے۔’ رجنی کی آواز گونجی۔ میں بھولی نہیں ہوں۔ جب امرتسر گولڈن ٹیمپل میں گولیاں چلی تھیں۔ اب یہ حادثہ۔ کیا اس حادثہ کو روکا نہیں جاسکتا تھا؟

نور پٹیل نے لقمہ دیا۔’کیا آپ بھی راؤ پر الزام لگارہی ہیں؟’

‘ میں پوچھ رہی ہوں۔’

‘ کیا اس طرح کی باتیں ان حالات میں پوچھنا مناسب ہے؟’

محمود خورشید نے کہا۔’ہم یہاں مسیح سپرا پر فیصلہ لینے آئے ہیں۔’

نور پٹیل نے سختی سے کہا۔ ‘اعلیٰ کمان ناراض ہء۔ بہتر ہوگا کہ اسے پارٹی سے بغاوت کرنے کے جرم میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پارٹی مسیح سپرا کے خیال سے اتفاق نہیں کرتی۔’

‘ یہ معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔’

‘ ہر معاملہ طول پکڑ تا ہے۔’

‘ یہ آزادی کے بعد کا سب سے اہم معاملہ ہے۔’

‘ اور ہماری ہی پارٹی کو قصوروار کہا جارہا ہے۔’

رجنی نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔’پارٹی میں بولنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پھر تو میں بھی جلد نکال دی جاؤں گی۔’

نور پٹیل بولے۔’پھر تو آہستہ آہستہ سب بغاوت کرنے لگیں گے۔’

‘کبھی بغاوت کے بارے میں سوچا ہے؟’ نور پٹیل نے مسکراکر پوچھا۔’پارٹی کے لیے مشکل یہ ہوگا کہ ریاستی سطح کی پارٹیاں کامیابی کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی اور دوسرا راستہ بی مشن بن جائے گا۔ بی مشن کو کم نہ سمجھئے۔’

‘ حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔’

‘ میں نہیں مانتا۔’ نور پٹیل نے لقمہ دیا۔ وہ سنجیدہ تھے۔ ہماری پارٹی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب وقت بدل رہا ہے نور پٹیل صاحب۔’

‘ ہندوستان میں اکیلی ہماری پارٹی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ میں سوچتی ہوں۔’رجنی نے بات آگے بڑھائی۔ ‘ریاستی سطح پر ہمارا زوال شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہے۔ یہاں سے بغاوت ہوگی تو ریاستی پارٹیاں اوربی مشن کا راستہ کھلے گا۔ پارٹی کو گمان و غرور سے باہر نکلنا چاہیے۔ ‘

‘ پھر کیا کرنا چاہیے؟’ محمود خورشید کی آواز کمزور تھی۔

‘ ہم ایک بار اعلیٰ کمان سے بات کریں۔ پھر کوئی مناسب فیصلہ لیں۔’رنجن ریڈی بولے

‘ بہتر۔’

اعلیٰ کمان سے بات اور اگلی میٹنگ پر سب کی مہر لگ گئی — اور میٹنگ برخاست ہوگئی۔

سپرا کا خیال تھاکہ ابھی طوفان کا زور ختم نہیں ہوا ہے۔ ایک سلسلہ ہے، جو ابھی ختم نہیں ہوگا۔ ابھی ان طوفانوں کو آنا بھی باقی ہے جو ملک کی تقدیر کا نیا صفحہ لکھیں گے۔

سپرا کھڑکی کھولتا ہے تو سامنے عمارتیں نظر آتی ہیں۔ وہ کھڑکی کی سلاخوں کو تھامے سامنے اُگی ہوئی جھاڑیوں کو دیکھتا ہے۔ کچھ دیر بے بسی کے عالم میں یونہی باہر کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ واپس اپنے کمرے میں لوٹتا ہے تودیوار سے لگے ریک پر سجی ہوئی اپنی کتابوں کو دیکھتا ہے۔ سرائے میں قتل۔ ۔ ۔ ۔ قاتل عورت، موت ہے دروازے پر۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنی ہی کتابوں سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکل جائے، اس وقت اس کو کھلی اورخوشگوار ہوا کی ضرورت ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور بند بند فلیٹ سے اس کو گھٹن ہورہی ہے۔ دروازہ کھول کر وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکلتا ہے۔ مخالف سمت میں جامن کے درخت ہیں۔ ایک چھوٹا سا پارک ہے پھر ایک قطار سے کچھ دکانیں بنی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ اسے پہچانتے بھی ہیں۔ مگر اس وقت وہ خود کو لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہتا ہے۔ اسے ایک بڑی تبدیلی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ پرانی عمارت کے ڈھائے جانے سے اخلاق اور کردار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ اب ایک نئی بحث چل پڑی ہے۔ اسے شدت سے احساس ہے کہ وہ حاشیہ پر آگیا ہے۔ اسے ریحانہ کی لہو سے تر انگلیاں نظر آتی ہیں۔ اس وقت وہ پریشان ہے۔ اس لیے ذہن ودماغ کی سکرین پر ایک کے بعد ایک منظر تبدیل ہورہا ہے۔ اور شاید یہ سب بہت ڈراؤنا ہے۔ آنے والے وقت میں بہت کچھ تیزی سے بدل جائے گا۔ سامنے کے فلیٹ سے ایک لڑکی اترتی ہے۔ وہ اس لڑکی کو جانتا ہے۔ عام دنوں میں یہ لڑکی سپرا کی طرف دیکھ کر ہیلو انکل ضرور کہتی تھی۔ پھر یہ بھی پوچھتی تھی کہ ان دنوں آپ کیا لکھ رہے ہیں۔ اسے یقین ہے، لڑکی نے اسے دیکھا ہے۔ مگر وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ ممکن ہے وہ جلدی میں ہو۔ مگر ایک پہلو اور بھی ہے کہ نظریں بدل رہی ہیں۔ اس وقت وہ شکست خوردہ ہے۔ اور اس لیے اس کے ساتھ پارٹی کوئی بھی فیصلہ سنا سکتی ہے—

اس کے پاس میڈیا والوں کے کئی فون آئے۔ اخبارات سے فون آئے۔ مگر وہ ایک خوفزدہ شخص ہے۔ اس لیے سپرا نے کسی سے گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ گھر کے فون بجتے رہے۔ اس نے ریحانہ کو بھی ہدایت کر رکھی تھی کہ فون نہ اٹھایا جائے۔ اسے کسی سے بات نہیں کرنی ہے۔ پبلشر کا فون آیا تھا کہ یہ کتاب سابقہ کتابوں سے زیادہ مقبولیت حاصل کررہی ہے۔ بلکہ ریکارڈ بنا رہی ہے۔ سپرا کو یقین ہے کہ معاوضہ اس بار زیادہ ملے گا۔ اگر پارٹی سے الگ ہوتا ہے تو وہ دوبارہ لکھنے کی طرف لوٹ آئے گا اور بار پبلشر سے بڑی قیمت وصول کرلے گا اور نیا معاہدہ تیار کرے گا۔

سپرا اچانک ٹھہرتا ہے۔ وہی خانہ بدوشوں کی ٹولی۔ یہ خانہ بدوش دور سے اپنے لباس میں نظر آجاتے ہیں۔ سپرا کو احساس ہوتا ہے، پہلے یہ خانہ بدوش ملک میں نظر نہیں آتے تھے اب بہت تیزی سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور اسے یقین تھا کہ ایسے خانہ بدوشوں کے گھر بار نہیں ہیں۔ وحشیوں کے پاس احساس وجذبات نہیں ہوتے۔ یہ خانہ بدوش دراصل وحشیوں کے قبیلے سے ہیں اور یہ ہر وقت ہتھیار سے لیس رہتے ہیں۔ ۔ ۔ اور اب یہ ملک کے چپّے چپّے پر پھیل رہے ہیں۔

وہ دیر تک ان وحشیوں کو دیکھتا رہا جو نعرے لگاتے ہوئے سڑک سے گزر رہے تھے۔ سپرا کو خبر ملی تھی کہ رجنی سنگھ نے پارٹی چھوڑدی اور خاموشی سے بی مشن کو جوائن کرلیا۔ جوائن کرتے ہوئے اس نے بیان دیا کہ پارٹی اپنے اصولوں سے الگ ہوکر کمزور پڑ گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور آہستہ آہستہ پارٹی کمزور ہوجائے گی۔ کلا پاسبان نے بیان دیا تھا کہ ملک کی جمہوریت اور ملت کو قائم رکھنے کے لیے سب کو ایک ساتھ ہوکر چلنا ضروری ہے۔ سپرا ان بیانوں کی حقیقت جانتا تھا۔ مگر اس وقت اس کے ذہن میں وحشی ناچ رہے تھے۔ کچھ دیر کی آوارہ گردی کے بعد وہ گھر آگیا۔ ریحانہ نے خاموشی سے پوچھا۔

‘ تمھارے چہرے پر تین طرح کے تاثرات ملتے ہیں۔’

سپرا ایک دم سے چونک گیا۔’ وہ کیا؟’

‘ پہلا تاثر۔ بغیر ہتھیار کے خود سے جنگ کررہے ہو۔ ‘

‘ دوسرا ؟’

‘ خرگوش اور لومڑی میں فرق کرنا بھول گئے ہو۔’

‘ مطلب؟’

‘ کنفیوز ہو۔’

‘ اور تیسرا؟’

‘ ٹھگ بننے جارہے ہو۔’

‘ ٹھگ۔ ۔ ۔ امیر علی جیسا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا نے چونک کر دیکھا۔

‘ امیر علی کیوں۔ دنیا میں صرف ایک ہی ٹھگ ہے کیا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں ٹھگ کیسے ہوگیا؟’

ریحانہ زور سے ہنسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’تمہارے اندر جو کشمکش چل رہی ہے، اس کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کشمکش یہ ہے کہ سیاست سے الگ ہوتے ہو توپبلشر کو ٹھگوگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ مائی گاڈ۔’

سپرا اداس موسم سے ایک لمحے میں باہر نکل آیا۔ یہ عورت؟ یہ عورت پاگل ہے یاناسترودومس؟یہ کتنا پہچانتی ہے اس کو۔ یہ اس کی آنکھوں کو پڑھتی ہے۔ اور دل کے تمام راز جا ن لیتی ہے۔ سپرا نے قہقہہ لگایا۔ کتنے دنوں بعد وہ کھل کر ہنسا تھا۔ اس کی چوری پکڑی گئی تھی۔ ریحانہ نے مسکراتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔

‘ چاند کو زیادہ مت دیکھا کرو۔ تمہارے لیے چائے لاتی ہوں۔’

سپرا کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

‘یہ تم ہی ہو جو مجھے قدیم شہر کے ملبے سے صاف نکال لیتی ہو۔’

سپرا کو نہیں پتہ کہ ریحانہ تک اس کی آواز پہنچی یا نہیں پہنچی۔ کافی دنوں بعد گھر کا ماحول بدلا تھا۔ وہ ابھی کچھ اور سوچنے کی منزل میں نہیں تھا۔ سیاست سے اس کی نفرت بڑھتی جارہی تھی۔

[divider](7) پھر وہی خانہ بدوش[/divider]

[dropcap size=big]وہ[/dropcap]

ہتھیاروں سے لیس آسمان سے ٹپکے اور زمین پر چھا گئے۔ وہ زمانۂ قدیم کی تہذیبوں کو زندہ کرانے آئے تھے اور اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ پہلے بھی وہ خانہ بدوش تھے۔ صحرا صحرا بھٹکتے تھے۔ اور پتھروں سے آگ نکالتے تھے۔ چھریاں چاقو بناتے تھے اور خانہ بدوشوں کو زمین کا ہر خطہ اپنا لگتا تھا۔ ۔ وہ ایک بار پھر نئی تاریخ کے روبرو کھڑے تھے۔ جب پتھر نرم تھے اور ہاتھ کھردرے، وہ لہو کی نمائش دیکھنے آئے تھے۔ ۔ ۔ اور ان خانہ بدوشوں میں سے کچھ نے مہذب دنیا کو اختیار کیا ہوا تھا اور ان کے ارادے بلند تھے، ان کے گھوڑے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔

وشال کرشن ناتھانی قدما کی کتابیں پڑھتا تھا اور نرم اسلحے جمع کرتاتھا۔ اسے یقین تھا، اس نے موجوں کا رُخ تبدیل کردیا ہے۔ ہوا اس کے اشارے کی محتاج ہے۔ زمین پر خانہ بدوشوں کے قدم جم چکے ہیں اور اب لال قلعہ کی فصیلوں سے پرچم لہرانے کا وقت آچکا ہے۔ اس وقت بانسری جوشی اس کے ساتھ تھے۔ موسم بہار کا تھا مگر گفتگو میں سنجیدگی تھی۔

— ملبے سے زلزلے کی آوازیں آرہی ہیں۔

وہم ہے، بانسری جوشی نے کہا۔

—ہم ملبہ سے اٹھیں گے۔

‘ اور چاروںطرف پھیل جائیں گے۔’
‘ مگر کچھ خانہ بدوش۔ ۔ ۔ ۔ ۔’بانسری جوشی کے لہجہ میں شک کے جراثیم تھے۔

‘ کچھ لوگ۔’ وشال کرشن ناتھانی دیر تک کمرے میں ٹہلتے رہے۔ پھر بانسری جوشی سے مخاطب ہوئے۔ یہ کچھ لوگ ہمیشہ سے ہیں۔ ان خانہ بدوشوں کو ساتھ لے کر چلنا کبھی کبھی دشوار ہوجاتا ہے۔

‘ ان میں باغی بھی ہیں۔’

‘ اور یہ فیصلہ کرنا مشکل کہ کون ہمارے ہیں اور کون باغی۔’ وشال کرشن ناتھانی نے عینک اتاری۔ آنکھوں کو صاف کیا۔ بانسری جوشی کی طرف دیکھا۔

‘کیا جمنا کا پانی مختلف سمت بہہ رہا ہے؟

‘ اس کا رخ ہماری طرف ہے۔’

‘ یہاں سے لال قلعہ کی فصیلیں کتنی دور ہیں؟’

‘ فاصلہ زیادہ نہیں۔’

‘ کیا ان فاصلوں کو اور کم نہیں کیا جاسکتا؟’

‘ ابھی اتنا بہت ہے کہ ہوا نے رُخ تبدیل کردیا ہے۔’

ناتھانی ہنسے۔ ۔ ۔ ۔’ اور ہمارے گھوڑے ہوا میں اچھل رہے ہیں۔ قلابازیاں کھا رہے ہیں۔’

‘ کیا ہماری سلطنت قائم ہوگی؟’ بانسری جوشی نے آہستہ سے پوچھا۔

‘ اب دلّی چار قدم ہے۔’ ناتھانی نے کہا۔

‘ یہ چار قدم بہت زیادہ نہیں؟’

‘ مزید شرارتوں کے صفحے کھولے جاسکتے ہیں۔’

‘ نقصان۔’

‘ دھند میں سیکولرازم ہے۔’

‘ آپ سیکولرازم کو دھند میں دفن نہیں کرسکتے؟’

‘ ابھی مشکل ہے۔’

بانسری جوشی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔’ یہ مت بھولیے کہ ہمارارتھ بیل گاڑی سے زیادہ کمزور تھا اور رتھ کی چال بھی دھیمی تھی۔’

‘ مجھے احساس ہے۔’

‘ کل کوئی میزائل لے آئے تو۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ دیکھا جائے گا۔ ابھی سرور ونغمہ کا وقت ہے اور گھوڑے ہوا میں اڑ رہے ہیں۔’

‘ ان گھوڑوں پر لگام لگائیے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ بانسری۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ناتھانی نے بانسری کو غور سے دیکھا۔ انعام تو تمہیں بھی برابر کا ملے گا۔’

‘ مگر تاج کسی اور کا ہوگا۔’

‘ مجھے احساس ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ملک کا نقشہ تبدیل کردیا۔’

‘ تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔’

‘ مجھے احساس ہے۔’ اس بار ناتھانی کا لہجہ کمزور تھا۔’ مگر حکمراں جماعت کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں۔ انہیں خبر ہے کہ آندھی آسکتی ہے۔’

‘ وہاں ہمارے لوگ بھی ہیں۔’

‘ حکمراںجماعت یہ بات بھی جانتی ہے۔’

‘ اب گھوڑے دوڑانے کا وقت ہے۔’ ناتھانی نے گھڑی کی طرف دیکھا، جو دیوار سے لگی ہوئی تھی۔’’وقت ضائع کیے بغیر ہمیں ایک اہم میٹنگ میں شامل ہونا ہے۔ انتخابات نزدیک ہیں۔ رتھ کے پہیے مضبوط کرنے ہوں گے۔

‘ میں کوشش کرتا ہوں۔’بانسری جوشی جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور بغاوت ہوئی تھی۔ کلا پاسبان نے اپنی الگ پارٹی بنالی تھی۔

۱۹۹۱ کے بعد آنے والی ہر تبدیلی پر سپرا کی نگاہ تھی۔ وہ سیاست کا کوئی ماہر کھلاڑی نہیں تھا، مگر آہستہ آہستہ سیاسی چہروں کو قریب سے شناخت کرنے لگا تھا۔ پارٹی دفتر میں اس کی طلبی ہوئی تھی اور سپرا جانتا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔ سپرا کو میجر جو جو کی یاد آئی جو کہا کرتے تھے کہ زندگی کے ہر فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ شروع میں لگتا ہے کہ یہ فیصلہ زندگی کو ناکام بنا دے گا۔ پھرہزار نئے راستے کامیابی کے کھل جاتے ہیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں اسے میجر جوجو کا چہرہ نظر آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کون لوگ ہیں۔ کہاں سے آتے ہیں اورپھر کہاں چلے جاتے ہیں۔

‘ ذرا سی تفریح چاہیے تمہیں۔ چلو شاپنگ کے لیے چلتے ہیں۔’

اس دن ریحانہ کے ساتھ اس نے شاپنگ بھی کی۔ ریحانہ نے اپنے اور اس کے لیے کچھ نئے کپڑے خریدے۔ ریحانہ کے مطابق شاپنگ کا مطلب تفریح ہے۔ ذہن بوجھل ہوتو تفریح کرلو۔ وہ اس تفریح کے بعد گھر آیا تو اسے پارٹی میٹنگ کا خیال آیا۔ شام میں نور پٹیل اور محمود خورشید کے ساتھ اس کی میٹنگ تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس میٹنگ میں اس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ وہ اس کے لیے تیار تھا اور اس لیے ذہنی طور پر اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

میٹنگ آدھے گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ نور پٹیل ٹریفک میں پھنس گئے تھے۔ پہلے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔ چائے پی گئی۔ کسی فیصلے پر پہنچنے تک اس طرح کی فارملٹی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نور پٹیل نے سپرا کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ پھر پوچھا۔

‘ کسی نئی پارٹی سے آفر تو نہیں؟’

‘ کیوں؟ سب چھوڑکر جارہے ہیں اس لیے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ایسا نہیں ہے۔ جوجارہے ہیں، وہ نقصان میں رہیں گے’

‘ یہ فیصلہ کون کرے گا، وقت ؟’مسیح سپرا نے مسکرا کر پوچھا۔

‘ پہلے آپ یہ بتائیے کہ ہمارے علاوہ کوئی مستحکم پارٹی ہے ؟’ محمود خورشید نے اس بار مسکرا کر پوچھا۔

سپرا زور سے ہنسا۔’یہی خوش فہمی ہے۔ دروازہ بند کرلیجیے، آندھی آنے والی ہے۔’

‘ آندھی۔’نورپٹیل چونک گئے۔

مسیح سپرا کا لہجہ اس بار تلخ تھا۔ چیل اڑ رہی ہے۔ سامنے عقاب دیکھ رہا ہے۔ گدھ منڈرا رہے ہیں۔ اگر سچ مچ ایسا ہے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ میں دیکھ رہا ہوں اور اس لیے میں مطمئن ہوں۔ آسمان گدھوں سے بھر گیا ہے۔ ۔ ۔ اور پارٹی کو اطمینان ہے کہ کوئی مصیبت اس پر نہیں آئے گی۔’

‘ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں مسٹر سپرا؟’ نور پٹیل کے تیور سخت تھے۔ آپ جانتے ہیں، آپ کی کتاب نے راؤ کا کتنا مذاق اڑایا ہے۔ اپوزیشن کے لوگ لطف لے رہے ہیں۔’

‘ اس قدر سنجیدگی سے ناول کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بھی لطف لیجیے۔ ایک مرڈر ہوتا ہے اور آخر میں مرڈر ایک سیاسی قتل ثابت ہوتا ہے۔ اب اس کے درمیان کیا کیا واقعات ہیں، اس پر خاک ڈالیے۔’

‘ خاک ہی تو نہیں ڈالی جاسکتی۔ آپ راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں۔’

مسیح سپرا نے اس بار دونوں کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ کمرے کی سفید دیواروں میں بے شمار چہرے پیدا ہوگئے تھے۔ ہر چہرے کی ایک تاریخ تھی۔ وقت کے ساتھ کتنے ہی چہروں پر گرد پڑ چکی تھی۔ ہال کے باہر سے آوازیں آرہی تھیں۔ میجر جوجو کاچہرہ اب نظروں کے سامنے تھا۔ سپرا کو احساس ہوتا ہے، وہ دھول اور طوفان کی سمت دوڑ رہا ہے۔ اس کے پیچھے کچھ لوگ ہیں۔ دوڑتے ہوئے ایک دروازہ نظر آتا ہے۔ ایک پرانی عمارت ہے۔ یہاں ہوا کا گزر نہیں۔ ایک لیمپ ہے جو ٹمٹمارہا ہے۔ کوئی آہستہ سے کہتا ہے، اٹھارہویں صدی۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ ہیں، جن کے چہرے گھٹنوں کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔ ایک چہرہ سر اٹھاتا ہے تو یہ محمود خورشید کا چہرہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا کو اس خاموشی میں بھی خفت ہوتی ہے کہ وہ کن خیالوں کے درمیان ہے۔ یہاں اس کی سیاسی تقدیر پر مہر لگنے والی ہے اور وہ آندھیوں کا تعاقب کررہا ہے۔

‘ آپ کیا سوچتے ہیں۔’ نور پٹیل کی آنکھیں اس بار جھکی تھیں۔

‘ میرا سوچنا ضروری نہیں ہے۔ سوال ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔’

‘ اعلیٰ کمان ناراض ہے۔’محمود خورشید کی آواز ابھرتی ہے۔

‘ کیا آپ اس ہال کے باہر دیکھ رہے ہیں؟’ مسیح سپرا دونوں کی آنکھوں میں جھانکتا ہے۔

‘ ہال کے باہر۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ خانہ بدوش ہیں۔ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اور ایک طوفان ہے۔’

‘ آپ مستقبل کی بات تو نہیں کررہے؟’ نور پٹیل کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔

‘ ہال کے باہر ایک دھند ہے۔ ریاستی سطح کی پارٹیوں کے قد میں اضافہ ہوا ہے۔ اور بی مشن مضبوط۔ کھیلنے کا وقت پہلے بھی نہیں تھا مسٹر نور پٹیل۔ آزادی کے گواہ سب تھے لیکن مسلمان لٹو تھے۔ لٹو؟ لٹو جانتے ہیں آپ؟ میں نے نچایا ہے لٹو۔ مسلمان لٹو کی طرح ناچ رہے تھے۔ آپ ان کے ہاتھوں میں تسبیح تھما رہے تھے۔ پانچ وقت کی نماز اور پارٹی۔ آپ جانتے ہیں، اس راگ کا مطلب کیا ہے؟ آنے والے وقت میں مسلمانوں کے ہزار برس کا حساب لیا جائے گا اور آزادی کے بعد کے برسوں کا بھی۔ آپ کے پاس ایک ڈگڈگی تھی۔ جمہوریت کی۔ پرانی عمارت نے وہ ڈگڈگی چھین لی۔ پھر بھی آپ کوکرگس نظر نہیں آرہے۔ نہ چیل نہ گدھ۔ میں تو بس یہی دیکھ رہا ہوں کہ پارٹی کی بنیاد رکھنے والا بھی ایک فرنگی تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور پارٹی ایک خوبصورت یو ٹو پیا میں جیتی رہی۔ مگر اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب کیا؟’ محمود خورشید کا چہرہ سرخ تھا۔

‘ اخروٹ توڑنے میں کبھی کبھی ہاتھ زخمی ہوجاتے ہیں۔’

‘ یہاں اخروٹ کا ذکر کیسے آگیا؟’نورپٹیل کے چہرے پر ناراضگی تھی۔

‘ اخروٹ۔’مسیح سپرا نے قہقہہ لگایا۔ ‘خانہ بدوشوں کو اخروٹ پسند ہیں۔ اور اب اخروٹ کا موسم آنے والا ہے۔’

‘ واہیات۔’

‘ بے بنیاد باتیں۔’

‘ اخروٹ کا ذکر بے بنیاد ہے مگر راؤ کا نہیں۔ جبکہ پورا ملک یہ جانتا ہے کہ راؤ چاہتے تو پرانی عمارت محفوظ رہتی۔’

‘ یعنی کھلی بغاوت۔’

‘ ہم گلے میں پھندا ڈالے بیٹھے ہیں۔ ناتھانی اور جوشی ریس لگارہے ہیں۔’

‘ اس سے کیا ہوگا۔’

‘ ایک دن تاریخ زرد پتے کی طرح جھڑ جائے گی۔ پھر آپ بھی حاشیہ پر ہوں گے۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔ غلط فہمی ہے آپ کی۔’محمود خورشید ذرا زور سے بولے۔

‘ جب تاریخ بدل رہی تھی ہماری لیڈر شپ یاتو قبرستانوں میں اونگھ رہی تھی یا دفن ہونے کی تیاری کررہی تھی۔’

مسیح سپرا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اب اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ہال کے باہر بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ وہ سیڑھیاں اتر کر لان میں آگیا۔ اسے یقین تھا، اب وہ آزاد ہے۔ اور وہ کسی قبرستان میں نہیں ہے۔ اس کو یاد آیا، اسے شاپنگ کرنی ہے۔ پبلشر سے ملاقات طے ہے۔ وہ کسی ریستوراں میں کھانا کھائے گا۔ اور اپنی آزادی کا جشن منائے گا۔ اس درمیان سپراخا موشی سے اپنا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کی گول گول پتلیاں حرکت میں تھیں۔ پاؤں تیزی سے اٹھ رہے تھے۔ ہتھیلیاں گرم تھیں۔ کچھ چھوٹ رہا ہے۔ ابھی وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا۔ وہ پلٹا اور ایک بار پھر سے اس کمرے میں تھا، جس کی دیواریں سفید تھیں۔ زمین پر بھی سفید ٹائلس بچھے تھے۔ دیواروں پر کو ئی پینٹنگس نہیں تھی اور چھت سے دو پنکھے جھول رہے تھے۔ نور پٹیل اور محمود خورشید نے چونک کر، پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔

سپرا مسکرایا۔’ایک بات رہ گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ وہ پھر مسکرایا۔ ۔ ۔’ان کمروں میں چھپکلی نہیں ہے۔ ہونی چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ چھپکلی کیڑوں کا صفایا کردیتی ہے۔’ وہ مسکرا رہا تھا۔

‘ تو تم یہی کہنے آئے ہو۔ ۔ ۔ ۔’نور پٹیل نے پوچھا۔

‘ نہیں۔ پارٹی کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ آزادی کے صرف دو برس بعد پرانی عمارت کا قفل کھول دیا۔ یہ قفل ذرا سی عقل اور رضامندی کے ساتھ بند کیا جاسکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہونہہ۔’محمود خورشید کا چہرہ فق تھا۔

‘ پھر آج جو کچھ ہورہا ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ۔ ۔ اور بہتر ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا بہتر ہے؟’ نور پٹیل کا چہرہ بھی زرد تھا۔

‘ ایسے تمام کمروں میں دو ایک چھپکلیاں ضرور ہونی چاہئیں۔’

سپرا مسکرایا۔ اس کے بعد وہ ٹھہرا نہیں۔ گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی طرف چل دیا۔ اسے ریحانہ کو ساتھ لے کر شاپنگ کے لیے جانا تھا۔ پروگرام میں تبدیلی آگئی تھی۔ اس کے بعد اسے پبلشر سے ملنا تھا۔ اس نے کچھ اور بھی سوچ رکھا تھا۔ جیسے اسے کتّے پسند تھے۔ اس نے جنگلی کتّوں کے بارے میں کافی پڑھا تھا۔ کچھ کتے بھیڑیے کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک بل ڈاگ پالنا چاہتا تھا۔ مگر کتے ریحانہ کو پسند نہیں ہیں۔ ریحانہ کہتی ہے، گھر ناپاک ہوجاتا ہے۔ کتوں کی موجودگی سے گھر میں فرشتے نہیں آتے۔ مسیح سپرا اب خود کو آزاد محسوس کررہا تھا، جبکہ ابھی تک فیصلہ نہیں آیا تھا اور اسے علم نہیں تھا کہ اس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کیا آنے والا ہے۔

آگے ٹریفک جام تھا۔ کوئی حادثہ ہوگیا تھا۔ سپرا نے دیکھا، ایک موٹر سائیکل والا تھا۔ وہ بری طرح زخمی تھا اور پولیس اسے اٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔ کچھ دیر میں ٹریفک صاف ہوگیا۔ اب سپرا کی گاڑی ہائی وے پر دوڑ رہی تھی۔

وہ اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا۔ نئے ناول کا پلاٹ بھی اس نے سوچ رکھا تھا۔ مستقبل کی موت۔ ۔ ۔ اسے احساس تھا، خانہ بدوش اب مستقبل پر گولیاں چلارہے ہیں۔ سارے خانہ بدوش ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مگر کچھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ان جنگلی خانہ بدوشوں سے شکایت تھی جو ملک کی تقدیر بدلنا چاہتے تھے۔ اور اس کے لیے انسانی لہو سے کھیلنا ضروری تھا۔

باب دوم

نئی دنیا، پرانی عمارت اور مردہ گھر

ایک دن
کھدائیوں سے صرف مردہ گھر نکلیں گے
لیکن ہم
ان مردہ گھروں کی شناخت نہیں کر پائیں گے

[divider](1)[/divider]

[dropcap size=big]سڑکوں[/dropcap]

چوراہوں پر ترشول اٹھائے اب ا ن خانہ بدوشوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ سپرا نے ان خانہ بدوشوں کو ہالی وڈ کی فلموں میں دیکھا تھا۔ مارکیز کے ناول میں یہ بھلے خانہ بدوش تھے جو ہر دن نئی دنیا سے ٹکرارہے تھے۔ ان کا ایک سماج تھا اور اس سماج میں محبت جیسی شئے بھی قائم تھی۔ مگر ان خانہ بدوشوں کے چہرے سے زہریلے پوسٹر جھولتے تھے اور ان کے پیچھے وہ لوگ تھے جو تعلیم یافتہ تھے، مہذب معاشرے کے ٹھیکیدار تھے مگر ان کا تعلق اس کیمپ سے تھا، جس کی بنیاد پر نفرت کی فصیلیں قائم کرکے ہی یہ اپنی سلطنت کی بنیاد رکھ سکتے تھے۔

گلیشیرپگھل رہے تھے۔ سائبریا میں گھاس اُگ رہی تھی۔ سائنس کی تجربہ گاہ میں انسان بنائے جارہے تھے اور ناسا نئی دنیاؤں کی دریافت کے لیے تجربے کررہا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی جنگوں کے دروازے کھلے تھے۔ اب ایٹمی ہتھیاروں کی باتیں پہلے سے کہیں زیادہ ہونے لگی تھیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک بھی ایٹمی ہتھیار بنانے پر زور دے رہے تھے۔ اور جیسا کہ ہر من ہیسے نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا، ایک نئی دنیا، مرغی کے انڈے سے باہر نکلنے والی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ دنیا ان لوگوں کے لیے خطرناک ہوگی جو پرانی دنیاؤں سے ابھی بھی چپکے ہوئے تھے۔

سپرا کی آنکھوں میں ایک ٹائم مشین فٹ تھی، جس سے ہوکر وہ اکثر ماضی کی وادیوں میں نکل جاتا تھا۔ اسے شدت سے احساس تھا کہ بچپن سے اب تک کافی حد تک تبدیلی آچکی ہے۔ مگر اس تبدیلی کو بہتر ماننے سے وہ انکار کرتا تھا۔ جب کوئی سہولت یا آسانیاں نہیں تھیں، جب گرمی کے موسم میں پنکھے بھی نہیں ہوتے تھے اور جسم پسینے سے تر بتر ہوا کرتا تھا تب ایک آزادی تھی۔ دوڑنے کی آزادی۔ ۔ ۔ ۔ خوش رہنے کی آزادی۔ اپنی بات کہنے کی آزادی۔ وقت کے چھلانگ لگاتے ہی آزادی کا تصور بہت حد تک ختم ہوگیا تھا۔

یہ دوسرے دن کی خوشنما صبح تھی۔

وہ باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھا تھا۔ ریحانہ چائے کا طشت لے کر آگئی۔ وہ آہستہ آہستہ چائے کا لطف لیتا رہا۔ اس نے ریحانہ کی طرف دیکھا جو اپنی دنیامیں کھوئی ہوئی تھی۔

‘ کیا تم مانتی ہوکہ نئی دنیا کا کوئی خیال ہے جو ہمارے ساتھ چلتا ہے۔’

‘ نہیں، میں نہیں مانتی۔ دراصل یہ پرانی دنیا ہے، جس میں ہم زندہ ہیں۔’

ریحانہ سپرا کی طرف دیکھ رہی تھی۔

‘ یعنی نئی دنیا کا کوئی تصور؟’

‘ ایسا کوئی تصور نہیں۔ یہ وقت ہے جو آگے بڑھتا ہے اور اپنے حساب سے بڑھتا ہے۔ کبھی کبھی ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں، وقت تیزی سے بھاگ رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وقت تیزی سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ہم بچے ہوتے ہیں۔ پھر ایک دن بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ صد ہا سال سے ایک ہی دنیا ہے جو ہمارا تعاقب کررہی ہے۔’

‘ سائنس، گلوبل تبدیلی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور’

‘ یہ سب نئی اصطلاحیں ہیں۔ ہم ہمیشہ پرانی دنیا کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ ۔ ۔ اور نئی دنیا کے احساس کو قائم رکھنے کے لیے نئی اصطلاحیں گڑھتے رہتے ہیں۔’

لیکن ایک نئی دنیا تھی اور اس دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو سپرا نے اس سے قبل محسوس نہیں کی تھیں۔ نئی پرانی دنیا کے تصور میں وقت کا پیمانہ رہ جاتا ہے۔ ایک درزی ہے جو لباس کے لیے جسم کا ناپ لے رہا ہے۔ ایک وقت ہے جو کبھی پیچھے چلا جاتا ہے اور کھسک کر پاس آجاتا ہے۔ ریحانہ اس تصور کو نہیں مانتی تھی مگر اس کے باوجود ایک نئی دنیا برآمد ہورہی تھی۔ اس درمیان بغاوت کے جرم میں، سپرا کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینا پڑا۔ سپرا اپنی کرائم کی دنیا میں واپس آگیا۔

۱۹۹۵ تک سیاست کی دنیا میں کئی طوفان آچکے تھے۔ پرانی عمارت کا معاملہ گرم تھا۔ ایک نئی دنیا اور بھی سامنے تھی۔ اب ٹی وی گھر گھر پہنچ چکا تھا اور کتابیں پڑھنے کی روایت بہت حد تک کم ہوچکی تھی۔ جاسوسی، رومانی کتابوں کا مارکیٹ بھی زد میں آیا تھا۔ پبلشر نے کئی بار شکایت کی۔ اب ڈیمانڈ کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ پتہ نہیں آنے والے برسوں میں کیا ہوگا۔ سپرا پر کئی سیاسی پارٹیوں کا دباؤ تھا مگر اس نے خود کو سیاست سے الگ رکھا۔ وہ اب اس دنیا سے خود کوعلیحدہ کرچکا تھا۔ اس درمیان کاشف کی پیدائش ہوئی۔ اب ایک ننھے سے لوتھڑے کو چہرہ اور جسم مل چکا تھا۔ ریحانہ خوش تھی۔ سپرا کو بھی باپ بننے کی خوشی تھی۔ یہ خون کا رشتہ بھی کیسا عجیب ہوتا ہے۔ پہلے وہ کسی نوزائیدہ بچے کو دیکھتا تو چھونے سے بھی گھبراتا تھا اور اب۔ سارا دن وہ کاشف کے ارد گرد گھومتا رہا۔ سپرا زمانے کی چال کو دیکھ رہا تھا۔ مصروف ترین دنیا کے لوگ کتابوں سے کٹ گئے تھے۔ اب ٹی وی کی دنیا تھی اور نئے نئے سیریل۔ کچھ ایسے بھی سیرئیل تھے کہ دکانیں بند ہوجاتیں۔ سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا۔ ہر شخص اپنا پسندیدہ سیرئیل دیکھنے کے لیے گھر میں وقت گزارنا چاہتا تھا۔ پھر ٹی وی پر فلمیں دکھانے کا رواج شروع ہوا توکتابیں پڑھنے والوں کی تعداد اور کم ہوگئی۔ سپرا کو پبلشر نے بلوایا تھا۔ سپرا کو یاد ہے۔ پبلشر اداس تھا۔ وہاں کام کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہوچکی تھی۔ پہلے بہت سے لوگ ہوا کرتے تھے۔ خاص کر رامیشور سے اس کی بہت بنتی تھی۔ رامیشور سیلس دیکھتا تھا اور اس کا قاری بھی تھا۔ پبلشر نے رامیشور کو بھی نکال دیا تھا۔ سپرا کو احساس ہوا کہ اب ایک ایسی دنیا سامنے ہے جہاں ہر طرح کی کتابوں کی ضرورت کم ہوچکی ہے۔ پہلے ٹرین، ہوائی جہاز ہر جگہ کتابیں پڑھتے ہوئے لوگ ملتے تھے۔ مگر اب، گلیشیر پگھل رہے تھے اور کتابیں پانیوں میں تیر رہی تھیں۔

پبلشر نے ذرا ٹھہر کر کہا۔’ سوچتا ہوں، کوئی اور پیشہ اختیار کروں۔’

سپرا نے کچھ بھی نہیں کہا۔
‘ اب کتابیں نہیں بکتیں۔ پہلے لاکھوں کی تعداد میں فروحت ہوتی تھیں۔ اب پڑھنے والے نہیں رہے۔’

سپرا نے اس بار بھی خاموشی سے کام لیا۔

‘آپ کیا سوچتے ہیں؟’

سپرا مسکرایا۔’ جب مارکیٹ نہیں۔ تو ہم بھی نہیں۔ ہم تو مارکیٹ کا حصہ ہیں۔ جب پڑھنے والے نہیں تو آپ بھی نہیں۔’

‘ اب نیابازار ہے۔’ پبلشر کی آواز کمزور تھی۔

‘ بہتر ہے، آپ ماڈرن جوتوں کی ایک بڑی دکان کھول لیں۔’

‘ ماڈرن جوتے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ کتابوں میں اور جوتوں میں فرق یہ ہے کہ جوتے ہمیشہ بکیں گے اور ایک دن ایک کتاب کا فروخت ہونا بھی بند ہوجائے گا۔’

پبلشر مسکرایا۔’ مجھ سے زیادہ آپ حالات کو سمجھ رہے ہیں۔’

‘ میں بھی سوچ رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا؟’

‘ جب آپ جوتوں کی شاپ کھولیں گے تو وہاں نوکری کر لوں گا۔’

مسیح سپرا باہر آیا تو اس کا سر گھوم رہا تھا۔ وہ سیاست سے پہلے ہی الگ ہوچکا تھا۔ اب کرائم بڑھ رہے تھے۔ مگر کرائم اسٹوری کوئی پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ ٹی وی پر کئی کرائم اسٹوری سیریز دکھائی جارہی تھی۔ یہ بھی ایک تبدیلی تھی۔ سپرا نے خیال کیا، اس کے ساتھ کے لکھنے والے اچانک زمین پر آگئے۔ ایسے لوگ جو کتابوں کی بدولت زندہ تھے اور جن کے فرضی ناموں کوایک دنیاجانتی تھی، اب یہ فرضی چہرے وقت کی دھند میں گم ہونے کی تیاری کررہے تھے۔ ایسا ہی ایک چہرہ اس کا بھی تھا۔ ایک فرضی چہرہ۔ لیکن سیاست میں اس نے کچھ پیسے بنائے تھے اور کچھ دولت کتابوں کی مارکیٹ سے بھی اس کے حصے میں آئی تھی۔ آگے کیا کرنا ہے، وہ زیادہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر یہ خیال ضرورتھا کہ اس کو وقت کے ساتھ چلنا ہے۔ بدلے ہوئے موسم میں کبھی کبھی آسمان پر آنسوؤں کی جھلملاہٹ نظر آتی، جو بارش کی صورت برس تو جاتے لیکن اس سے ماحول پر زیادہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کبھی کبھی آگ کی لپٹیں دکھائی دیتیں۔ شمال میں انگریزوں کا ایک پرانا چرچ تھا، جس کے بند دروازے کے اندر اکثر وہ چمگادڑوں کو الٹا لٹکے ہوئے اور کبھی کبھی اڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وقت کی زد میں اب اقلیتی طبقہ بھی آچکا تھا۔ گرمیاں شروع ہوگئی تھیں۔ اندھیری راتوں میں جب آسمان زمین پر جھکا نظر آتا تو تاحد نظر اسے کیکٹس کے درخت نظر آتے۔ یہ اس کا وہم تھا لیکن کیکٹس کے درختوں کو مسلسل دیکھنا اسے اچھا لگتا تھا۔ کیکٹس سے نکلے ہوئے کانٹے سیدھے اس کی روح کو زخمی کرتے تھے اور ان کی چبھن کا احساس پرانے گڑے مردوں کی یاد دلاتا تھا۔ دلی والے ویسے بھی اب دیر تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ مگر سپرا کو یقین ہے، وہ ان شعلوں کو ضرور دیکھتے ہوں گے، جو کبھی کبھی آسمان سے اٹھتے ہوئے نظر آتے تھے۔

خانہ بدوش مطمئن تھے کہ بغاوت اب زیادہ دور نہیں۔ اور اسی طری پارٹی مطمئن تھی کہ ۱۹۲۵ سے اب تک یہ سرد الاؤ تو جلاتے رہے مگرحاصل کچھ نہیں ہوا اور اس لیے پرانی عمارت کا غم یا حادثہ دلوں سے جلد نکل جائے گا۔ وشال کرشن ناتھانی کو وہ شخص عزیز تھا جو اکثر ان کا خیال رکھتا تھا اور انہیں چائے پلایا کرتا تھا۔ جبکہ باجپائی نے کئی بار انہیں ہدایت دی تھی کہ لوگوں کے چہرے کو پڑھنا سیکھیں ورنہ آیندہ مشکل ہوسکتی ہے۔ اور ناتھانی اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے مطمئن تھے کہ فضا اب ان کے حق میں ہے۔ اور بدلتے ماحول میں نئی پارٹی کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔

سپرا کاشف اور ریحانہ کو لے کر اب دوسرے فلیٹ میں آچکے تھے۔ راجیہ سبھا والا مکان اب کسی اور ممبر کے حوالے کیا جاچکا تھا۔ اس بات سے سپرا کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہاں، اب وہ اپنے ناول کی تیاری کررہا تھا اور اس ناول میں پرانی عمارت کا ذکر بھی تھا۔ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کے درمیان ایودھیا میں ایک شخص کا قتل ہوا تھا اور تفتیش کا مرحلہ ایسا دلچسپ مرحلہ تھا کہ نئے نئے انکشافات سامنے آرہے تھے۔ سپرا کو یہ بھی یقین تھا کہ بہت جلد پبلشر اپنی کتابوں کی دکان بند کردے گا اور دکان کی جگہ بھلے جوتوں کی دکان نہ کھولے، کوئی دوسرا کاروبار تو شروع کرہی دے گا۔ ایسا کاروبار جس میں منافع ہو۔

اس میں شک نہیں کہ سن ۲۰۰۰ء آتے آتے یہ پوری دنیابہت حد تک تبدیل ہوچکی تھی۔ سیاست میں اخلاقیات کے معنی بدل چکے تھے۔ زندگی بدل چکی تھی۔ اور بدلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ہر دوسرے دن سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے نئے کارنامے اور کرشمے سامنے آجاتے تھے۔ سن ۲۰۰۰ء تک بچوں کی دنیا بدل چکی تھی۔ پہلے جہاں صرف دور درشن دکھایا جاتا تھا، اب بہت سے ٹی وی چینلز آچکے تھے۔ اب کوئی سرکاری بھونپو کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا تھا۔ کاشف پانچ برس کا ہوگیا تھا۔ ریحانہ شوگر اور دیگر امراض میں گرفتار ہوکر پریشان رہنے لگی تھی۔ ۔ ۔ اور آسمان پر عقاب اڑرہے تھے۔ بی مشن نے حکومت بنالی تھی۔ پارٹی کا غرور خاک میں مل گیا تھا مگر پارٹی کو اس کا علم تھا کہ ان کی واپسی ضرور ہوگی۔ مگر یہ علم نہیں تھا کہ ان کی واپسی کاکتنااثر ملک کے عوام پر پڑے گا۔ کیونکہ عوام کے فکر میںبہت تیزی کے ساتھ تبدیلی آئی تھی۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ نئے بچوں کے کھان پان کا تصور بدل گیا تھااب فاسٹ فوڈ کا زمانہ تھا۔ بچے فاسٹ فوڈ کی دنیا میں، خود کو نئی زندگی میں محسوس کررہے تھے۔ ماں باپ کے ساتھ یا خاندان کے ساتھ رشتوں کی ڈور بہت حد تک کمزور پڑ چکی تھی۔ یہ بدلا ہوا ہندوستان تھا۔ جبکہ صبح کی کرنوں میں ابھی بھی اس پرانے ہندوستان کی جھلک دیکھنے والوں کو نظر آتی تھی۔ گلابی دھوپ کا پیغام پڑھنے والوں کی کمی تھی۔ مگر زندگی تیز رفتار ہوگئی تھی۔ سن۲۰۰۰ء کی شروعات نے سب سے بڑا حملہ اقتصادیات پر کیا۔ کئی ملکوں میں چیخ وپکار مچ گئی۔

ہندوستان میں کمرشل نائٹ سروس کا آغاز ہوا۔ نوجوان بچے غیر ملکی اداروں سے وابستہ ہونے لگے جہاں پیسے بہت زیادہ تھے اور زندگی آپ کو زیادہ غور و فکر کرنے کا موقع نہیں دیتی تھی۔

۲۰۰۵ء تک کاشف دس برس کا ہوچکا تھا۔ سپرا کو اب کاشف کی فکر ہورہی تھی۔ اس درمیان کئی ملکوں میں آنے والی سونامی نے بھی معیشت پر حملہ کیا تھا اور اس بات کا احساس دلایا تھا کہ ارنیسٹ ہیمنگ وے کا بوڑھا آدمی ہر مورچے پر کامیاب نہیں رہتا۔ سمندری غصے کے آگے انسان بے بس اور لاچار ہے۔ اور یہ لاچاری اس ملک میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب گجرات میں ہونے والے فسادات نے ہندو اور مسلمانوں کو دو زہریلے حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اور اس میں شک نہیں کہ ریاست کے سربراہ نے معصوموں پر گولیاں چلوائی تھیں اور اس شخص کو یہ عہدہ کرشن ناتھانی کی خدمت سے ملا تھا۔ کرشن ناتھانی کا ایک خواب تو پورا ہوا لیکن جس خواب کے لیے انھوں نے رتھ یاترا سے سماج کو تقسیم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا، وہ خواب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ مگر سیاست میں ناتھانی کی حیثیت مضبوط تھی۔ اوریہ وہی زمانہ تھا جب گاڑیوں کی زیادہ آمد ورفت کی وجہ سے جمنا کا پل کمزور ہوگیا تھا۔ ابھی فلائی اوورز کے جال نہیں بچھے تھے۔ ریاستی سطح کی نئی پارٹیاں سر نکال رہی تھیں اور سب سے بڑا خطرہ اس پارٹی کو تھا، جو اب تک خوش فہمی میں تھی کہ آیندہ بھی اسی کی حکومت قائم رہے گی، جبکہ عوام کی نفسیات، تبدیلیاں، ہوا کا رُخ، بدلتے موسم کو دیکھنے میں پارٹی پوری طرح ناکام رہی تھی۔ اس درمیان کئی سیاسی قائد آئے اور گئے۔ ملک ایک کھلونا تھا، جس سے کھیلنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ پارٹی کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ایک دن پارٹی میں روح پھونکنے والے قائد بھی حاشیے پر ڈالے جاسکتے ہیں اور یہی پارٹی کی سب سے بڑی کمی تھی کہ ان کے کسی بھی لیڈر کے پاس مستقبل کی پلاننگ یا دور اندیشی نہیں تھی۔

کاشف اب اسکول جانے لگا تھا۔ اور دس برس کی عمر میں ہی اس کی ڈیمانڈ یہ تھی کہ اس کو ایک موٹر سائیکل چاہیے۔ ریحانہ سے زیادہ سپرا خائف تھا۔ دس برس کا بچہ موٹر سائیکل کیسے چلائے گا مگر کاشف کا بچپن یہ تھا کہ و ہ پستول، راکٹ لانچروں اور ایسے ویڈیو گیموں میں پناہ لیتا تھا، جوسپراکے نزدیک بہتر نہیں تھے۔ دس برس کی عمر سے ہی اس نے گھر کے کھانوں سے انکار کردیا تھا۔ اس کے لیے میک ڈونالڈ جیسی کمپنیوں سے پزا اور برگر کے آرڈر دیے جاتے تھے۔ اس کو چاؤمین پسند تھا۔ ریحانہ ناراض ہوتی تھی کہ اس کا اثر کاشف کی صحت پر پڑے گا۔ یو ں تو کاشف دس برس کی عمر میں بھی متوازن شخصیت کا مالک تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس میں ایک خاص قسم کی بغاوت بھی پیدا ہورہی تھی۔ دوسرے بچوں کو دیکھ کر اس کی فرمائشوں کے انداز بھی تبدیل ہورہے تھے۔ سپرا نے سوچ رکھا تھا کہ ہر ممکن وہ کاشف کی مدد کرے گا۔ کیونکہ کاشف اور ریحانہ اس کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں اور ان دونوں کو الگ کرکے وہ اپنی زندگی کے بارے میں کوئی تصور نہیں کرسکتا۔

لیکن کچھ باتیں تھیں جو سپرا کو ناگوار بھی گزرتی تھیں۔

‘ میرے دوست کے پاپا منسٹر ہیں۔’
‘ہوں گے۔’

‘ وہ پوری فوج کے ساتھ آتا ہے۔’
‘ آتا ہوگا۔’

‘ اس کے پاس بہت مہنگی گاڑی ہے۔’
‘ گاڑیاں سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔’

‘ وہ بہت تیز موٹر سائیکل چلاتا ہے۔’
‘ اور میں ابھی تم کو موٹر سائیکل چلانے نہیں دے سکتا۔’

‘ کیوں ؟’
‘ کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے کاشف۔’

‘ یہ کیا بات ہوئی۔ وہ بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹاہے۔’
‘ ان کی بات ہم سے مختلف ہے۔’

‘ وہ زیادہ پیسے والے ہیں اس لیے۔’
‘ یہ دنیا پیسے والوں سے نہیں چلتی۔’

‘ پھر کس سے چلتی ہیں۔’
‘ یہ بات آہستہ آہستہ تمہاری سمجھ میں آئے گی۔’

‘ اور نہیں آئی تو ؟’
‘ اس کے ذمہ دار تم ہوگے۔’

کاشف میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ زیادہ بحث نہیں کرتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس میں تبدیلی آرہی تھی۔ پندرہ برس کی عمر میں اس نے اچھا خاصہ ہاتھ پاؤں نکالا تھا۔ ہلکی سی مونچھ بھی آگئی تھی۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ ریحانہ کا عالم یہ تھا کہ کاشف کہیں بھی جاتا، وہ اس کے لیے صدقہ نکالتی۔ دعائیں پڑھ کر پھونکتی، پھر اسے جانے دیتی۔ اور جب تک کاشف گھر نہیں لوٹتا، وہ پریشان رہتی تھی۔

۲۰۱۰ تک ہماری دنیا لینڈ لائن اور سرکاری فون سے باہر نکل آئی تھی۔ اب موبائل کا زمانہ تھا اور دنیا کے اڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ ہم جس قدر سہولتوں کے عادی ہوتے ہیں، اسی سطح پر ہم ایک زمانے سے کٹ بھی جاتے ہیں۔ پریوں کی کہانیاں گم ہوگئیں۔ شہزادی شہزادے وقت کے اندھیرے میں کھوگئے۔ بادشاہوں کے قصے پرانے پڑگئے۔ نصاب نئے ہوگئے، فکر بدل گئی، کمپیوٹر، موبائل اور لیپ ٹاپ نے بچوں کی زندگی کے مزاج اور معیار کو تبدیل کرڈالا۔ سپرا کو احساس تھا، اسی تبدیلی سے ایک مردہ گھر پیدا ہورہا ہے اور وہ اب مردہ خانے کے احساس سے خوفزدہ ہونے لگا ہے۔ ۔ ۔ ۔
‘ رجنی چلی گئی۔ مگر کیسے؟’

‘ شارو چلاگیا۔ کیا بات؟’

‘ مہندرو کی ابھی عمر ہی کیا تھی۔ ۔ ۔’

‘ بڑی باجی کو کیا ہوا تھا؟’

‘ منجھلی باجی کا بیٹا تو اب کاشف کے ساتھ کا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کیسے ہوگیا۔ ۔ ؟’

‘ ناظر میاں کے ساتھ تو کل اس نے شطرنج کھیلا تھا۔’

‘ واصف بھائی کے ساتھ کل صبح جاگنگ کی تھی۔’

‘ نارائن کیسے جاسکتا ہے۔ ۔ ؟’

‘ رشمی کو کیاہواتھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

ہر دن ایک موت۔ ۔ ۔ ۔ اور اس میں شک نہیں کہ موت سپرا کے احساس کو قید کرلیتی ہے۔ سپرا کئی کئی دنوں تک موت کے احساس سے باہر نہیں نکل پاتا۔ یہ قریبی لوگ۔ ۔ ۔ ۔ دوست، رشتے دار۔ ۔ ۔ ۔ یہ سارے گم ہو کیسے سکتے ہیں؟جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی، جانے والوں کا قافلہ تیز تھا۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کے بارے میں کوئی خوفزدہ کرنے والی خبر آجاتی۔ کسی کو ہارٹ اٹیک، کسی کو ہیمرج، کسی کو کینسر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بیمار دنیا، جہاں موت کا اندھیرا بڑھ چکا تھا اور کچھ لوگ اس بیمار دنیا میں نفرت کے پوسٹر لے کر کھڑے تھے۔ یہ تضاد اس کی سمجھ سے باہر تھا۔

پزا اور برگر کی دنیا کا ہر دن اب اسے تکلیف پہنچانے لگا تھا اور کاشف کی کچھ باتیں بھی ایسی تھیں، جو اسے پسند نہیں تھیں۔

— میں چھٹیوں میں گوا جارہا ہوں
— اسکول کے بچوں کے ساتھ دبئی جانا ہے۔
— فٹ بال کی پریکٹس کرنی ہے
— کرکٹ کے لیے جارہا ہوں۔

‘ چوٹ مت لگانا۔’ریحانہ ہمیشہ ایک ہی بات کہتی۔ صدقہ اتارتی۔ دعا پڑھ کر پھونکتی پھر کاشف کو جانے دیتی۔ وہ کچھ سوال کرتا تو جواب ملتا، کاشف کو اب باندھ کر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ وہ بڑا ہورہا ہے۔ باندھ کر رکھیں گے تو احساس کمتری میں مبتلا ہوجائے گا۔’

‘ ہاں یہ تو ہے۔ کیونکہ ہم سے زیادہ بچے تبدیل ہوگئے ہیں۔’

سپرا کو احساس تھا، یہ نوجوان بچے جس سمت نظریں دوڑائیں گے، وہاں منزل نما گرد کا غبار ہوگا۔ منزل نہیں۔ لاکھوں بچے اسی سمت دوڑ پڑتے ہیں اور ایک دن گرد غبار میں کھوجاتے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں خانہ جنگی جیسا ماحول تھا۔ اس ماحول کو پیدا ہونا ہی تھا۔ سپرا جانتا تھا کہ سیاست نئی قدروں اور نئی اخلاقیات سے گزر رہی ہے۔ ۲۰۱۰ تک کتنی ہی آندھیاں آئیں۔ اس درمیان پبلشنگ ادارے بہت حد تک بند ہوچکے تھے۔ جاسوسی اور رومانی کتابیں اب کوئی نئی پڑھتا تھا۔ اس نے بھی لکھنا بند کردیا تھا۔ اب وہ لائزننگ کاکام کرتا تھا۔ سیاست میں رہنے کا ایک فائدہ یہ تھا کہ نئے پرانے تمام چہروں سے ملاقات تھی۔ کئی چہرے تو اس کے دیکھتے ہی دیکھتے سیاست کے اُفق پر چھاگئے۔ لیکن یہ دوستی اب کام آرہی تھی۔ بہت سے ایسے جاننے والے تھے، جن کا کام حکومت سے رہتا تھا۔ کسی کو پٹرول پمپ چاہیے۔ کسی کو ایڈمیشن۔ کچھ ایسے تھے جو منسٹر سے مل کر کی خوش ہوجاتے تھے۔ سپرا جانتا تھا کہ لائزننگ کے ذریعہ زندگی آسانی سے گزاری جاسکتی ہے۔ ایک برس میں تین لوگوں کا بھی کام ہوگیا تو کافی پیسے مل جائیں گے۔ کبھی کبھی سپرا سوچتا ہے اور ہنستا ہے کہ زندگی کے بھی کیا رنگ ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب وہ مسخرہ تھا۔ پھر جاسوس بننے کا خیال آیا۔ پھر کرائم اسٹوری لکھنے لگا اور یہاں سے چھلانگ لگا کر راجیہ سبھا پہنچ گیا اور اب یہ دلالی کاکام۔ لیکن اس کام میں کوئی برائی نہیں ہے، وہ اپنا حصہ لیتا ہے بس۔ اور اس لیے لیتا ہے کہ زندگی گزارنی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ کاشف نے اب سوال کرنا شروع کردیا تھا۔ سپرا خاموشی سے اپنے بیٹے کے چہرے کے تاثرات پڑھتا تھا۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ پر فدا ہوتا تھا۔ اس کے گلے شکوے کا حل نکالتا تھا اور جواب دیتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر کاشف اپنا مقابلہ اب اپنے دوستوں سے کرنے لگا تھا۔

آپ نے راجیہ سبھا کیوں چھوڑ دیا ؟

وہاں ہوتے تو ہم منسٹروں جیسے ہوتے۔

مجھے آپ پر فخر ہوتا۔

‘ اب فخر نہیں؟’ سپرا نے پوچھا۔

‘ کیا بتاؤں دوستوں کو کہ کیا کرتا ہے میرا باپ۔’

‘ کہہ دینا کہ فروٹس بیچتا ہے۔’

‘ نہیں۔ میں کہہ دیتا ہوں کہ وہ راجیہ سبھا کے ممبر تھے۔’

‘ ماضی سے کھیلتے ہو؟’

‘ کھیلنا پڑتا ہے ڈیڈ۔’

ماضی۔ ۔ ۔ ۔ سپرا کو احساس تھا کہ ماضی سے کھیلنا پڑتا ہے کیونکہ ماضی ہرجگہ، ہر قدم آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ ایک مہیب راستہ نکال کر آپ کے ذہن میں داخل ہوجاتا ہے۔ وہ پھر چور دروازے سے اور آپ کو اداس کرجاتا ہے۔ اور خاص کر جب آپ پریشان ہوتے ہیں، ماضی ذہن ودماغ میں وسیع مقام حاصل کر نے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ یعنی ڈپریشن۔ اس کے اوپر ڈپریشن۔ یہ ماضی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔ وہ اکثر تنہائی میں ماضی کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ ابا حضور، اماں حضور، لئیق چاچا، شمو ماموں، حلیمہ نانی۔ ۔ ۔ ۔ کیسے کیسے چہرے۔ ۔ ۔ ۔ آئس کریم والا آیا نہیں کہ حلیمہ نانی کی آواز ابھرتی۔ ۔ ۔ ۔ ارے آئس کریم لے لو۔ ۔ ۔ لئیق چاچا شعر وادب کا ذوق رکھتے تھے۔ ۔ خوبصورت آدمی تھے۔ شموں ماموں داستان گو تھے۔ ساری دنیا کی رامائن سن لیجیے۔ یہ احساس اس وقت کہاں تھا کہ یہ لوگ اوجھل ہوجائیں گے۔ پھر نظر نہیں آئیں گے۔ داستانیں گم ہوجائیں گی۔ کمرے خالی ہوجائیں گے۔ صحن ویران ہوجائے گا۔ ایک آواز آتی ہے۔ میرے لیے آئس کریم لے آؤ۔ آواز کے ساتھ ایک جسم ہوتا ہے۔ جسم جگہ گھیرتا ہے۔ پلنگ پر، مسہری پر، کہیں بھی۔ ایک دن آواز خاموش۔ جسموں کا گھیرا ختم۔ سب کچھ ختم۔

اس نے ریحانہ سے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔ ہم کہاں ملیں گے؟

وہ بری طرح چونک گئی۔ کہاں ملیں گے؟

‘جب نہیں ہوں گے۔’

‘ فاسفورس کے ڈھیر میں چمک رہے ہوں گے۔’

‘ نہیں۔ سچ بتاؤ۔ کیا جنت جیسی کوئی جگہ ہے؟’

‘ مردہ خانہ تو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

مسیح سپرا پہلی بار چوکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ مردہ خانہ؟

‘ چونکے کیوں؟’

‘ تم نے مردہ خانہ کہا؟’

‘ کیا جنت میں زندہ لوگ ہوں گے؟’

‘ پتہ نہیں۔’

‘ اور ہماری دنیا میں؟’ریحانہ زور سے ہنسی۔

‘ پتہ نہیں۔’

‘آدھے سے زیادہ مردے ہیں۔ چھپکلی۔’

‘ چھپکلی کیوں؟’

‘ دیواروں پر اس طرح تیرتے ہیں کہ کوئی بھی چھپکلی کی طرح مارسکتا ہے۔’

ٹھیک اسی وقت سپرا نے ایک چھپکلی کو دیکھا جو روشنی کے ارد گرد منڈرا رہی تھی۔ مردہ خانہ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے کانوں میں یہ لفظ دیر تک گونجتا رہا۔

[divider](2)[/divider]

[dropcap size=big]مردہ خانہ[/dropcap]

دوسری بار یہ لفظ ۲۰۱۳ میں سنا۔ سیاست نئی کڑوٹ لے رہی تھی۔ پارٹی ملک کی کئی ریاستوں سے غائب ہورہی تھی۔ بی مشن کا قبضہ ہر جگہ ہورہا تھا۔ پرانی مذہبی عمارت کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا۔ سپرا کو وہ گنبد یاد تھا۔ پرانی عمارت کی یاد تازہ تھی۔ پھر وہ عمارت کا ملبہ بھی، جس کے چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا۔ پرانی عمارت کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر نے اب سیاست پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان محض ووٹ بینک بن گئے تھے اور اس بات سے سہمے ہوئے تھے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ جبکہ پارٹی بھی مستقبل کو لے کر خوفزدہ تھی۔ عوام میں بگ مین کے نعرے گونج رہے تھے اور یہ نعرے اثر دکھارہے تھے۔ اس بات کا احساس ہوچکا تھا کہ بگ مین کے آتے ہی ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ دستور بدل جائیں گے۔ مسلمان بدل جائیں گے۔ اقلیتیں بدل جائیں گی۔ ان حالات میں پارٹی بے حد کمزور نظر آرہی تھی اور اس بات کا شدت سے احساس ہورہا تھا کہ اگلے انتخابات کے لیے پارٹی نے ابھی سے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پارٹی اور پارٹی سے وابستہ لوگوں میں جوش وخروش کی کمی تھی۔ اپوزیشن نے کرپشن اور قومیت کے معاملے کواٹھاکر عوام کو متنبہ کردیا تھا کہ یہ کمزور لوگ ہیں اور کمزور لوگ حکومت کے قابل نہیں ہوتے۔

سیاست سے الگ ایک حادثہ ہوا تھا۔ ایسا حادثہ جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کاشف اٹھارہ کا ہوچکا تھا۔ ایک بالغ نوجوان۔ اب اس کے پاس نئی موٹر سائیکل بھی تھی۔ وہ لمبا تھا۔ چہرہ پر کشش اور اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ریحانہ کو ہمیشہ کاشف کو لے کر خوف کا احساس ہوتا رہتا تھا اور اس خوف کا کوئی علاج نہیں تھا۔

‘ وہ کبھی کبھی میٹھے سروں میں اپنے کمرے میں گاتا ہے۔’

‘ اچھا۔’

‘ موبائل پر گھنٹوں بات کرتا ہے۔’

‘ بیٹا جوان ہوگیا ہے۔’

سپرا ریحانہ کو دیکھتا ہے۔ ریحانہ اسے ایک پریشان ماں کے طورپر نظر آتی ہے۔ سپرا کا قیاس ہے کہ ماں کہیں نہ کہیں بیٹے کی مصروفیت میں خود کو تقسیم ہوتے ہوئے دیکھتی ہے۔ کاشف نے اب اپنا وقت اپنے دوستوں کو دینا شروع کردیا ہے۔

یہ ایک بڑا سا کمرہ ہے، جہاں دونوں صوفے پر بیٹھے ہیں۔ دیوار پر ایک پینٹنگ ہے، جس میں درخت کی شاخ پر دو کبوتر خاموش بیٹھے ہیں۔ پینٹنگ کے قریب ہی ایک کھڑکی ہے۔ ریحانہ اس وقت کھڑکی کے باہر دیکھ رہی ہے۔ سپرا اس کی کشمکش کو پڑھ سکتا ہے۔ ماں ہمیشہ کمزور نہیں رہتی مگر وہ بیٹے کے لیے اکثر کمزور ہوجاتی ہے۔ ریحانہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ سپرا کو یقین ہے کہ اس وقت وہ باہر کے مناظر کی جگہ کاشف کو دیکھ رہی ہوگی اور یہ خیال کررہی ہوگی کہ اس وقت وہ کہاں ہوگا۔ وہ اکثر تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جیسا کہ دو روز قبل ہوا، کاشف رات کو تاخیر سے آیا۔ وہ دوستوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلا گیا تھا۔ ریحانہ دیر تک ٹہلتی رہی پھر کاشف کے آنے کے بعد اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔

‘ تم مجھے مار ڈالو گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ ایک فون نہیں کر سکتے تھے؟’

‘ سنیما ہال میں تھا۔ فون سائلنٹ پر تھا۔’

‘ ایک فون تو کرسکتے تھے کہ دیری سے آؤگے۔’

‘ غلطی ہوگئی ممی۔’

کاشف کے معافی مانگنے کے باوجود ریحانہ غصے میں رہی اور اب وہ اس بات پر پریشان ہے کہ کاشف جوان ہوگیا ہے۔ یعنی وقت کو اس تیزی کے ساتھ اڑنا نہیں چاہیے تھا۔ اس تیزی کے ساتھ پھڑپھڑانا نہیں چاہیے تھا۔

اسی دن چار بجے کے آس پاس سنگیت سوامی کا فون آیا۔ سنگیت سوامی داڑھی رکھتے تھے۔ کرتا پائجامہ پہنتے تھے۔ راجیہ سبھا کے ممبر بھی تھے۔ اب بزرگ ہوگئے ہیں گھر پر دوستوں کو بلاکر خود کو زندہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ سنگیت سوامی نے کہا تھا، وقت ہوتو آجاؤ۔ کچھ دیر عیش کریں گے۔ سوامی بولنے والے لوگوں میں تھے اور سپرا کا خیال تھا کہ سوامی کو راجیہ سبھا میں دوسرا ٹرم ملنا چاہیے تھا، جو انہیں نہیں مل سکا۔ شام کے وقت سپراسنگیت سوامی سے ملنے گیا۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد سنگیت سوامی نے گفتگو کا رخ پرانی عمارت کی طرف موڑ دیا۔ وہ اداس تھے اور پارلیمنٹ میں بھی دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھا کرتے تھے۔

‘ ایک غیر محفوظ مستقبل تمہاری قوم کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ شاید۔ ۔ ۔ ۔’

‘شاید نہیں اب قبول کرلو۔ پرانی عمارت کو مرکز بناکر ایک راستہ پکڑ لو۔ ۔ ۔ ۔ اور دیکھو، یہ راستہ کہاں تک جاتا ہے۔ یہ راستہ بی مشن کی حکومت تک جاتا ہے اور صرف دو برس بعد پارٹی نہیں ہوگی، بی مشن ہوگا۔ ان کے دستور ہوں گے۔ ان کے قاعدے قانون ہوں گے۔ میڈیا پہلے ہی فروخت ہوچکا ہے۔ کیا تمہاری پارٹی میڈیا کو خرید نہیں سکتی تھی؟ سکتی تھی۔ مگر تمہاری پارٹی کے پاس تجربے اورمشاہدے کی کمی تھی۔ بی مشن نے میڈیا پر قبضہ کرلیا۔ اب تمام ایجنسی پر وہ قبضہ کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی چاہیں گے، جو ان کے دل میں ہوگا۔’

‘ کیا یہ آسان ہوگا؟’

‘ صبح سورج نکلنے کی طرح آسان۔ وہ بہت آسانی سے تمہاری پارٹی کو ختم کردیں گے اور پھر ہر جگہ وہ ہوں گے اور پرانی عمارت کا راستہ بھی آسان ہوجائے گا۔’

‘ ناتھانی اور جوشی کا کیا ہوگا؟’

‘ ان کے ہاتھ کاپراجیکٹ ہائی جیک کرلیا گیا ہے۔ اب ایسے لوگ کسی ڈارک بنگلے میں ڈال دیے جائیں گے۔’

‘ کیا یہ لوگ جلدبازی میں ہیں؟’

‘ جلد بازی میں ہوں گے تو اپنا بیڑا غرق کریں گے مگر مسیح سپرا، کھیل مزیدار ہوگا۔’

‘ مزیدار۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ تم نے چوہوں کی کہانی سنی ہے۔ جب جہاز میں پانی آنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘چوہے اچھل اچھل کر بھاگتے ہیں۔’

‘ یہ کہاں جاتے ہیں؟’

سوامی ہنسے۔’بی مشن کے پاس۔ دیکھ لینا۔ تمام چوہے بی مشن کو اپنا لیں گے۔ اس وقت نہ کوئی اصول ہوگا اور نہ قانون۔ نہ سیاست کی اخلاقیات۔ تمام جرائم پیشہ افراد بڑے عہدوں پر ہوں گے اور میڈیا ایسے تمام لوگوں کو ہیرو بتارہی ہوگی۔’

‘ کیا آپ سورج کے پار دیکھ رہے ہیں؟’

‘ تمہیں بھی دیکھنا چاہیے مسیح سپرا۔ بلکہ تمہیں زیادہ دیکھنا چاہیے۔’

‘ ہونہہ۔’

‘ اقلیتوں سے زیادہ نشانے پر تم ہوگے۔ ۔ ۔ ۔ اور تم کچھ نہیں کرپاؤ گے۔’

‘ اس کے آگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سوامی ہنسے۔’کھلا کھیل فرخ آبادی۔ جیت کو ممکن بنانے کے لیے وہ کچھ بھی کریں گے اورتمہاری پارٹی دیکھتی رہ جائے گی۔ جانتے ہو فرق کیا پڑے گا۔’

سوامی کی نگاہیں خلا میں دیکھ رہی تھیں۔’برسوں کی ملّت کو شراپ ملے گا۔ جمہوریت نہیں ہوگی۔ سیکولرزم کی باتیں کرنے والے غدار ہوں گے۔ راشٹر واد کا موضوع اٹھایا جائے گا۔ ۔ ۔ اور تمام سیکولر ذہن کو حاشیہ پر ڈال دیا جائے گا۔’

سوای ٹھہر کر بولے۔’مجھے سیاست کا پرانا تجربہ ہے مسیح سپرا۔ اس لیے اس وقت جو میں دیکھ رہا ہوں، تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ سیاست تم لوگوں کو بھی اتنے حصوں میں تقسیم کردے گی کہ شمار کرنا مشکل ہوگا کہ مشرق سے آئے ہو یا مغرب سے۔’سوامی ہنسے۔’مجھے خوف اس بات کا ہے کہ ملک کی حالت کیا ہوگی۔ لو چائے آگئی۔’

اس درمیان خادم چائے کی پلیٹ لاکر رکھ گیا۔ کچھ ڈرائی فروٹس بھی تھے۔

‘ حل کیا ہے ؟’

‘ ابھی حل کی مت سوچو۔ اپنے تحفظ کے بارے میں سوچو۔’

‘ تحفظ۔’

‘جو پہلے ہوا، اب اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہوگا۔’

چائے پینے کے بعد سنگیت سوامی سے اجازت لے کر سپرا گھر کی طرف چل پڑا۔ سوای نے مستقبل کا ذکر کرکے ان وحشتوں کو جگا دیا تھا، جس کے بارے میں سپراا بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ خانہ بدوش یہ لفظ دوبارہ اس کی زبان پر آیا۔ اور وہ بگ مین بھی جو کبھی ناتھانی کے لیے چائے لایا کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ناتھانی، جوشی حاشیہ پر چلے گئے تھے۔ گھوڑا جو ہوا میں اڑتا ہے، اسے زمین پر بھی اپنے پاؤں رکھنے ہوتے ہیں۔

پیچھے چھوٹی چھوٹی عمارتیں ہیں۔ سڑک اچھی ہے۔ سڑک کے دوسری طرف درختوں کی قطار ہے۔ سوامی جس جگہ رہتے ہیں وہاں کئی فلیٹ سابق فوجی افسروں کے ہیں۔ یہ فوجی افسر بھی اس مسخرے سے خوش نہیں جو آخری حد تک اقتدار پر قابض ہونے کے خواب دیکھتاہے۔ سپرا، سوامی کی گفتگو کے بارے میں سوچتا ہے تو آسمان سے اترتی ہوئی ایک دھند نظر آتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی عمارتیں چھپ گئی ہیں۔ درختوں کی قطار بھی۔ اپنی گاڑی تک پہنچنے میں سپرا کو وقت لگتا ہے۔ یہ دھند کیوں پیدا ہوئی؟

اب دھند نہیں ہے۔ مگر دوسرے دن دھند کے اچانک پیدا ہونے کا جواز مل گیا۔ فون پر خبر ملی۔ سنگیت سوامی چلے گئے۔ رشتہ داروں کو شک ہے کہ کسی نے زہر دیا۔ پوسٹ مارٹم ہوگا۔ لاش مردہ خانے میں رکھی جائے گی۔ گھر نہیں آئے گی۔ وہیں سے شمشان لے جایا جائے گا۔ دنیا احمق انسان پر خرچ نہیں کرنا چاہتی۔ سوامی راجیہ سبھا میں ابھی بھی ہوتے تو شان کے ساتھ انہیں آخری آرام گاہ تک پہنچایا جاتا۔ مگر اب۔ ۔ ۔ ۔

سوامی کل تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانی عمارت کی باتیں کررہے تھے۔ ملک کے مستقبل کی۔ کتنے گھنٹے گزرے ہیں؟ زیادہ نہیں۔ کل وہ زندہ تھے۔ اس کی طرف کاجو کی پلیٹ بڑھائی۔ دوبار اٹھ کر اندر گئے۔ کل تک گوشت پوست کے انسان تھے۔ کچھ گھنٹے پہلے تک مگر اب۔ ۔ ۔ ۔ سپرا موت سے ہمکلام تھا۔ اس پر وحشت طاری تھی وہ کافی دیر تک بستر پر لیٹا رہا۔ سوامی کا چہرہ یاد آتا رہا۔ سوامی کی آنکھیں، سوامی کے ہونٹ، سوامی کے لباس، مگر اب سوامی نہیں ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد مردہ گھر۔ مردہ گھر سے شمشان۔ ایک زندہ انسان دیکھتے ہی دیکھتے غائب۔ ۔ ۔

شام کا وقت ہے۔ سپرا اسپتال کے مردہ گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ کنارے گاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ سوامی کے دوچار رشتے دار کھڑے ہیں۔ وہ اسپتال کے چاروں طرف دیکھتا ہے۔ سامنے ایک چھوٹا سا دروازہ ہے۔ دروازے کے آس پاس بدبو ہے۔ یہ بدبو کہاں سے آرہی ہے؟ وہ دیر تک مردہ گھر کے پیچھے کھڑا رہتا ہے۔ ایک سگریٹ جلاتا ہے۔ بدبو ابھی بھی ہے۔ اور یہ طے ہے کہ بدبو مردہ گھر سے نہیں آرہی، پھر کہاں سے آرہی ہے؟

وہ مریضوں اور رشتے داروں کو دیکھتا ہے۔ ہر کچھ فاصلے پر ایک نئی عمارت بنی ہوئی ہے۔ اور ایسا خیال آتا ہے، جیسے دنیا کے سارے مریض ایک ہی اسپتال میں جمع ہوئے ہوں۔ کوئی رو رہا ہے۔ کچھ لوگ ایک خاتون کو چپ کرانے میں لگے ہیں۔ بدبو؟ سپرا کو پھر بدبو کا خیال آتا ہے۔ یہ بدبو زندہ لوگوں کے جسم سے تو نہیں آرہی؟ زندہ لوگ جو سوامی کی طرح غائب ہونے والے ہیں۔

اب وہ مردہ گھر کے گیٹ پر ہے۔ دروازے پرانے ہیں۔ اس وقت دروازے پر کوئی نہیں۔ وہ دروازے سے اندر جاتا ہے۔ اندر جاتے ہی احساس ہوتا ہے وہ کسی اور دنیا میں آگیا ہے۔ اس دنیا کا تعلق باہری دنیا سے نہیں ہے۔ یہ خاموش لوگوں کی بستی ہے۔ یہاں جو لائے جاتے ہیں وہ ہر برائیوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ سفید ٹائلس لگے ہیں۔ دیواریں بھی سفید اور ٹھنڈی ہیں۔ یہاں کئی کمرے ہیں۔ ایک شخص نظر آتا ہے، جو ایک اسٹریچر لیے جارہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ غور سے مردہ گھر کا جائزہ لیتا ہے۔ یہاں ٹھنڈ کافی ہے۔ مردہ جسم کی حفاظت کے لیے کمرے کو زیادہ سرد رکھا گیا ہے۔ پاس والے کمرے میں سفید چادریں رکھی ہیں۔ یہ اسٹور روم ہے۔ سامانوں سے بھرا ہوا— اس کے آگے ایک کمرہ ہے اور کمرے میں کئی اسٹریچر ہیں، جن پر مردے رکھے ہیں اور مردوں کے جسم پر سفید چادریں پڑی ہیں۔ ایک، دو، تین،چار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایک جسم میں حرکت نظر آئی۔ ممکن ہے یہ وہم ہو لیکن سپرا خوفزدہ ہوکر باہر نکل آیا۔

سات بجے سوامی کے مردہ جسم کو آگ کے حوالے کردیا گیا۔ ایک جسم اب آگ کے شعلوں کے درمیان جھلس رہا تھا۔

‘ شکریہ کہ تم مرگئے ہو۔ ہم سب بھی بہت جلد مر کھپ جائیں گے۔’

مسیح سپرا باہر نکل آیا۔ ۔ ۔ ۔ اور قیاس ہے کہ سڑک پر چلتے لوگوں کے درمیان اس نے موت کو دیکھا تھا اور اسے اس بات کا احساس ہورہا تھا کہ موت اس کے تعاقب میں ہے۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ مڑا تو سپرا کو اس کا قیاس صحیح معلوم ہوا۔ کوئی اس کا پیچھا کررہا تھا اور یہ یقیناً موت کا فرشتہ ہوگا۔ اب اسے اس بات سے کوئی الجھن نہیں تھی۔

[divider](3)[/divider]

[dropcap size=big]۲۰۱۳[/dropcap]

کی سردیوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس درمیان دوبار اس نے مورچری کے چکّر لگائے۔ کیوں؟ وہ نہیں جانتا۔ اس نے مورچری اور مردہ گھروں کے بارے میں بہت ساری کہانیاں پڑھ ڈالیں۔ کچھ کہانیاں ہیبت ناک تھیں۔ لاش پر کیمیائی عمل کے بعد کسی مردہ کوگھر کے ڈرائنگ روم میں اس طرح رکھا جاتا جیسے وہ کرسی پر بیٹھا ہے یا صبح کا اخبار پڑھ رہا ہے۔ لیکن اب ان کہانیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نہ کوئی پیدا ہوتاہے نہ مرتا ہے۔ یہ سب وہم ہے۔ جیسے بچے کرکٹ یا فٹ بال کھیلتے ہیں، ایک زمین یا ایک گھر مل جاتا ہے۔ کچھ دن کھیلئے پھر مردہ گھر—پھر مردہ گھر آجائیے اور زندگی کی مدت کس قدر کم ہوتی ہے۔ دنیا میں آنے والا وہ شخص خود سمجھاتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور سانس لے رہا ہے اور باہر کمانے جارہا ہے۔ اس نے گھر تعمیر کیا ہے۔ وہ صبح کو اخبار پڑھتا ہے۔ جسم کو ترو تازہ رکھنے کے لیے جاگنگ کرتا ہے۔ وہ کھانے کے لیے منہ میں نوالے ڈالتا ہے اور سارا دن گھرسے باہر بھاگتا رہتا ہے۔ گھر میں ایک بیوی لے آتا ہے۔ پھر بچے آجاتے ہیں اورپھر ایک بچوں کی پرورش کے بعد سیر کرتا ہوا وہ شمشان یا قبرستان میں نکل جاتا ہے۔ پھر وہاں سے واپس نہیں آتا۔

اس درمیا ن ریحانہ کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی تھی۔ سپرا پر بھی بزرگی چڑھنے لگی تھی۔ سردی کا موسم اس کے لیے خاصہ تکلیف دہ ثابت ہوتا۔ وہ جرابیں، دستانے نکال لیتا۔ رات اور دن میں بندروں والا کیپ لگائے رہتا۔ جسم کی بنیاد کمزور ہوچکی تھی۔ سردی سے بچنے کے لیے وہ دودو سویٹر اندر ڈال دیتا۔ گرم لباسوں کے باوجود سارا دن اس کے بدن میں درد رہتا۔ اب یہ درد روز کا معمول بن گیا تھا۔ کبھی کبھی لگتا کہ پاؤں میں خون جم گیا ہے۔ گھٹنوں کا درد لاعلاج ہوچکا تھا۔ کبھی کبھی اچانک اٹھنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی اور اسے احساس تھا کہ موت کا فرشتہ اسے دیکھ رہا ہے۔

ریحانہ کے پاس اب کاشف کے لیے زیادہ باتیں تھیں۔ وہ کاشف کو لے کر فکر مند رہتی تھی۔

‘ وہ گھر سے باہر کیا کرتا ہے؟’

‘ اس کے دوست کیسے ہیں؟’

‘ گھر کے باہر وہ کچھ کھاتا پیتا تو نہیں ؟’

‘ تم اس سے کچھ پوچھتے کیوں نہیں؟’

کاشف کے پاس ہر بات ایک ہی جواب تھا۔

‘ اتنے سوال مت پوچھا کرو ممی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔’

‘ بس مجھے ڈرایا مت کرو۔’ کاشف غصے میں، اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ریحانہ چونک کر بولی ‘ابھی کیا کہا اس نے؟’

‘ کچھ نہیں کہا۔’

‘ نہیں۔ کچھ کہا ہے۔’

‘ کچھ کہا ہوتا تو میں نے بھی سنا ہوتا۔’

ریحانہ کا چہرہ سپید تھا۔ بچے بڑے ہوجائیں تو خوف ہوتا ہے۔ وہ کہاں جارہے ہیں۔ کس کے ساتھ ہیں، یہ سب سوچنا پڑتا ہے۔ مگر کاشف کسی کی سنتا کہاں ہے۔ اپنی مرضی کا مالک ہے۔

کھڑکی ہوا سے کھل گئی ہے۔ اس وقت سپرا کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں۔ کچھ دیر بعد سناٹا چھا جاتا ہے۔ ریحانہ اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ اس سناٹے میں سپرا اکیلا نہیں ہے،اس کے ساتھ سوامی بھی ہے۔ پرانی عمارت بھی ہے۔ نئی سیاست کا شور بھی ہے۔ انتخابات میں اب کم دن رہ گئے ہیں اور یہ قدیم خانہ بدوش جنگلوں سے نکل کر شہر شہر قریہ قریہ پھیلتے جارہے ہیں۔

ریحانہ کو سپرا سے شکایت تھی۔ تم انہیں خانہ بدوش کیوں کہتے ہو؟یہ قدیم قبائل میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح، حضرت یعقوب کے زمانے میں بھی تھے۔ سردی، گرمی، بارش میں کھلے آسمان کے نیچے رہتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں۔ ان کی ہنرمندی کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ ان کی عورتیں محلے گلیوں میں پھیریاں لگاتی ہیں۔ اور ان کے دلچسپ قصے ساری دنیا میں مشہور ہیں۔

‘ یہ وہ خانہ بدوش نہیں۔’سپرا نے ہنس کر کہا۔ یہ وہ ہیں جہاں تہذیب نے پردہ کرلیا ہے۔ وہ یہ ہیں جن کا استعمال حکومتیں کررہی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور انسانوں کو کئی حصوں میں تقسیم کررہے ہیں۔ یہ فرقہ پرست ہیں اور گروہوں میں آباد ہیں اور اب یہ پھیل رہے ہیں۔ ناسور بن رہے ہیں۔ اس کے لہجے میں سختی ہے۔ ۔ ۔ اور یہ موت فروخت کررہے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بے رحم کی سردیاں تھیں، جب حقیقتاً سڑکوں چوراہوں پر موت فروخت کی جارہی تھی۔ ایک طبقہ گھروں میں خوفزدہ تھا اور پارٹی نے آسانی سے خود کو ان کا شکار بننے دیا تھااور ایک تصویر تھی جو ہر دو قدم پر لہراتی تھی اور جارج آرویل کے بگ برادر کی یاد دلاتی تھی۔
‘ یہ ہم کہاں آگئے؟’

مسیح سپرا کو احساس تھا کہ وقت اس فکر سے کہیں زیادہ خوفناک ہے، جو اس کی سوچ میں سفر کرتا ہے۔ سپرا کو ان اندھیروں کا احساس نہیں تھا جو سیّال کے مانند اس کے جسم میں اتر رہے تھے۔ تاہم اسے احساس تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ جب آپ خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے تو آپ کی چھٹی حس میں ایک اسکرین پر کچھ تصویریں جھلملاتی ہیں۔ یہ تصویریں کبھی کبھی یقیناً آپ کو خوفزدہ کردیتی ہیں۔ کبھی کبھی انسان اس احساس سے باہر ہوتا ہے کہ ایک سونامی تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ سونامی ایک لمحہ کے اندر گھر کے شیرازے کو بکھیر سکتی ہے۔ آنکھوں کے آگے جو ایک فریم فریز ہے، کبھی کبھی ہم اس سے آگئے نہیں دیکھتے۔ جبکہ تیز رفتار وقت اچانک اس فریم کو تبدیل کردیتا ہے۔

فریم اچانک تبدیل ہوا تھا

‘ تو تم جارہے ہو؟’ ریحانہ نے کاشف سے پوچھا

‘ ہاں۔’

‘ اور تم ہمیشہ کی طرح دیر سے آؤگے۔’

‘ ہاں۔’

‘ زیادہ دیر تو نہیں ہوگی؟’

‘ نہیں ممی۔’

‘ پھر ٹھیک ہے۔ زیادہ دیر ہوتی ہے تو میری الجھن بڑھ جاتی ہے۔’

کاشف مسکرایا۔’ تم بھول جاتی ہو کہ تمہارابیٹا بڑا ہوگیا ہے۔’

‘ اب اتنا بھی بڑا نہیں۔’ریحانہ نے حکم دیا۔’موٹر سائیکل آرام سے چلانا۔ زیادہ تیز بھگانے کی ضرورت نہیں۔ اور اپنا خیال رکھنا۔’

اس دن آسمان کی رنگت اچانک تبدیل ہوگئی۔ سیاہ بادل آسمان پر چھاگئے۔ کچھ دیر میں تیز بارش ہونے لگی۔ کھڑکی کے باہر خانہ بدوشوں کا ایک’جتھا’ تھا جو بھیگتا ہوا، نعرے لگاتا شور کرتا ہوا گزر رہا تھا۔ بارش کے رم جھم کی آواز آرہی تھی۔ کھڑکی کے باہر ایک چھت پر دو کبوتر بھیگتے ہوئے اڑے اور درخت کے پتوں کے درمیان جگہ بنانے کی کوشش کرنے لگے۔

کو ئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

دونوں صوفے پر بیٹھے تھے اور ماحول میں خاموشی تھی۔ سپرا نے ریحانہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں گہری سوچ میں گرفتار نظر آرہی تھیں۔ ریحانہ نے اچانک سپرا کی طرف دیکھا۔

‘ خیال کیا ہے ؟’
‘گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلتی ہوئی سائیکل۔’

‘ اور جنون ؟’
‘ڈگمگاتا ہوا ڈرون۔’

‘ زندگی کیاہے ؟’
‘ واہمہ۔’

‘ خوف کیا ہے؟’
‘ جسم میں ہر لمحہ اٹھنے والی سونامی لہر۔’

‘ موت کیا ہے؟’
‘ آہ۔ ۔ ۔ اس کا جواب میرے پاس نہیں۔’

‘ اور میرے پاس بھی نہیں۔’
ریحانہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔

سپرا کو اس کے سوالوں سے کوئی حیرانی نہیں تھی۔ اس کے برعکس وہ بھی اپنے دل کو ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا۔ مگر کیوں؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ کھلے دروازے سے غرّاتی ہوئی ایک بلّی کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔ ریحانہ کو، بلی کو باہر بھگانے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے دروازہ بند کیا۔ بارش ابھی بھی تیز تھی۔ آسمان سیاہ بادلوں کے نرغے میں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش کے باوجود خانہ بدوشوں کا شور کان کے پردے پھاڑ رہا تھا۔ بھیگتے ہوئے خانہ بدوش زور زور سے نعرے لگاتے ہوئے سڑک سے گزر رہے تھے۔ ان کے لہجے میں سختی تھی اور جسم میں بارود کے بھرے ہونے کا احساس ہورہا تھا۔ اب یہ خانہ بدوش مطمئن تھے کہ یہ سڑک ان کی ہے، عمارتیں ا ن کی ہیں اور کچھ دن بعد ملک کی ہر شے پر ان کا حق ہوگا۔ بے خوف سڑک پر ادھر ادھر آتے جاتے انہیں ٹریفک کے ہونے نہ ہونے کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔ یہ پرچم ہوا میں لہراتے اس طرح ادھر ادھر اجارہے تھے جیسے مقابلہ انہوں نے جیت لیا ہو اور اب ملک کی تقدیر لکھنے کی ذمہ داری ان کی ہے۔

یہی وقت تھا جب ایک خانہ بدوش کو بچاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل ہوا میں اچھلی اور پھسلتی ہوئی کراسنگ سے ٹکرائی۔ اس سے قبل کہ پولیس آتی یا لوگ جمع ہوتے، موٹر سائیکل چلانے والا کراسنگ کے کھمبے سے ٹکرانے کے بعد بیہوش ہوچکا تھا۔ پولیس نے زخمی نوجوان کو کنارے کیا۔ کچھ دیر بعد شور کرتی ایمبولنس آئی اور زخمی نوجوان کو لے کر اسپتال روانہ ہوگئی۔ جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد اس کے مردہ ہونے کا اعلان کردیا۔

سپرا نے فون پر خاموشی سے یہ خبر سنی۔

جذباتی لہجہ میں اس نے ریحانہ کو بتایا کہ اب خانہ بدوشوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ریحانہ کو ہوش میں لانے میں کافی وقت گزر گیا۔

سپرا ایک بار پھر اسپتال کی عمارت میں تھا۔ چاروں طرف اسے مردے نظر آرہے تھے۔ مورچری کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہوا تھا۔ اسے یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک دن اپنے پیارے بیٹے کے لیے اسے مورچری میں آنا ہوگا۔ اس کے قدموں میں لڑکھڑا ہٹ تھی۔ آنکھوں کے آگے دھند میں اضافہ ہوچکا تھا۔ وہ گہری نیند میں چل رہا تھا۔ اسے یقین تھا، کارروائی مکمل ہونے میں کافی دیر لگ جائے گی۔ رات ۳ بجے کی لاش کو لے جانے کا کلیرنس ملا۔ ظہر بعد تجہیز وتکفین کے لیے وقت مقرر ہوا۔ اس وقت تک دونوں ہوش میں نہیں تھے۔ بلکہ دونوں نیند کے مسافر تھے۔ انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ وقت کے دریا نے انہیں کہاں اور کس مقام پر لا کھڑا کیاہے۔

تجہیز وتکفین کے بعد سپرا جب گھر آیا تو گھر خالی خالی لگ رہا تھا۔ ریحانہ کسی مجسمہ میں تبدیل ہوگئی تھی۔ اس نے ہزاروں پتھروں کو دیکھا ہے۔ ریحانہ پتھروں کا ایک ایسا مجسمہ تھی، جس میں نہ حرکت تھی، نہ زندگی۔ وہ بستر پر نڈھال پڑی تھی۔ سپرا گول گول گھومتا ہوا کاشف کے کمرے میں آیا۔ ۔ ۔ ۔

وہ ابھی یہیں تھا۔ ۔ ۔
اسی کرسی پر بیٹھا ہوا۔ ۔ ۔
کل اسی وقت وہ گھر سے نکلا تھا۔ اس نے جینس پہن رکھی تھی اور وہ دنیا کا سب سے خوبصورت شہزادہ لگ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر اب۔ ۔ ۔ وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پکارنے پر بھی نہیں آئے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سپرا دیر تک ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔ اسے سکون نہیں تھا۔ جیسے کاشف اپنے ساتھ اس کے صبرو سکون کو بھی سمیٹ کر لے گیا ہو۔ وہ ایک بار پھر خیالوں کے مردہ گھر میں تھا۔ اور اس مردہ گھر میں لاشیں سجی تھیں۔ سوامی کی۔ ۔ ۔ کاشف کی۔ ۔ ۔ ایک خالی اسٹریچر تھا۔ سپرا اس اسٹریچر پر آنکھیں موند کر لیٹ جانا چاہتا تھا۔

خود کو سمجھنے سمجھانے کی تمام دلیلیں ناکام ثابت ہوگئی تھیں۔ آنکھوں کے آگے دھند بڑھ گئی تھی۔ سپرا کو احساس تھا، اب اس دھند سے باہر نکلنا دونوں کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ کچھ دنوں تک ریحانہ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی۔ جیسے ایک دن رات میںاچانک وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پھر سپرا کو جھنجھوڑ کر اٹھایا۔

‘ ہاں وہ آیا تھا۔ اور اس نے مجھ سے بات بھی کی۔’

‘ سوجاؤ ریحانہ۔’

‘ نہیں۔ وہاں اسے کھانے پینے کی تکلیف ہے۔ پزا اور برگر نہیں ملتا۔’

‘ میں اسے کچھ اچھا سا بناکر بھیجنا چاہتی ہوں۔’

‘ صدقہ کردو۔’

‘ صدقہ کرنے سے کاشف تک پہنچ جائے گا؟’

‘ کیوں نہیں۔’

‘ اچھا پھر آرام کرو۔’

کچھ حادثوں کا اثر زندگی پر پڑتا ہے۔ کچھ حادثے آپ کے جسم کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ چہرے ہر وقت آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد بھی یادوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا اور ایسی یادیں بھی ساتھ چھوڑدیں تو پھر زندگی کا مطلب کیا ہے۔ سپرا ان یادوں کے ساتھ چلتا رہا۔ مردہ خانے کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ جگہ گھیرتا رہا۔ اب یہ گھر بھی اسے مردہ خانہ لگتا تھا۔ لیکن اس وقت تک اسے یہ یقین نہیں تھا کہ یہ گھر ایک دن حقیقت میں مردہ گھر ثابت ہوگا۔

وقت نے صفحے تیزی سے تبدیل کردیے تھے۔

[divider](4) ۲۰۲۰ جنوری[/divider]

[dropcap size=small]۲۰۱۴[/dropcap]

بھی آیا۔ پھر وقت نے ۲۰۱۹ کا فاصلہ بھی طے کرلیا۔ ۔ ۔ اور ۲۰۲۰ کی صبح نمودار ہوئی۔ اس صبح کے آنے تک منظر صاف ہوچکا تھا۔ خانہ بدوش حکومت میں تھے۔ بگ برادر اور بگ مین کے علاوہ پارٹی میں اور کوئی بھی نہیں تھا، جس کے پاس طاقت ہو یا جس کی آواز میں ارتعاش ہو، کچھ کہنے کی ہمت ہو۔ خانہ بدوش سڑکوں پرآزادانہ گھوم رہے تھے۔ قتل کررہے تھے اور ایک بڑی آباد ی کو شہریت سے محروم کرنے کے میپ بنائے جاچکے تھے۔ عدلیہ کے فیصلوں پر حکومت کی مہر تھی اور تمام ایجنسیاں حکومت کی نگرانی میں کام کررہی تھیں۔ میڈیا بھونپو بن کر رہ گیا تھا اور شہر میں جگہ جگہ چوراہے پر نفرت کی قندیلیں روشن تھیں۔ پرانی عمارت کا فیصلہ آچکا تھا۔ اور آیندہ کے انتخابات کے لیے اس فیصلے نے تمام راستے صاف کردیے تھے۔ اور جن دنوں فیصلے کی ۴۰ دن تک سنوائی ہورہی تھی، یہ حاثہ انہی دنوں پیش آیا۔

ریحانہ کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ کاشف کی موت کے بعد وہ ایک دن بھی خوش نظر نہیں آئی۔ کئی بار وہ کمزور لفظوں میں کہہ چکی تھی کہ اسے کاشف کے پاس جانا ہے۔ کاشف اسے یاد کرتا ہے۔ اور جس دن عدلیہ مسلم ثبوتوں کا اعتراف کررہی تھی اور یہ احساس ہورہا تھا کہ پرانی عمارت کے فیصلے میں انصاف سے کام لیا جائے گا، اس دن ریحانہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس کاچہرہ سرخ تھا اور اس کی پیشانی گرم۔ اس کو اٹھنے، چلنے میں پریشانی ہورہی تھی۔ سپرا خاموشی سے اس نظام کو دیکھ رہا تھا،جہاں چپکے سے یا اچانک لوگ گم ہوجاتے ہیں۔ پھر نظر نہیں آتے۔ وہ شکست خوردہ ایک گوشہ میں بیٹھا تھااور ذہن ودماغ پر مردہ گھر کے سوا کوئی تصور نہیں تھا۔

ان دنوں کا موسم کچھ اور تھا۔ موت انسانی حیرانیوں سے طلوع ہورہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی وقت تھا جب سپرا نے اپنے کئی عزیزوں اور جاننے والوں کندھا دیا تھا۔ لوگ ایسے بھی جاتے ہیں کیا کہ کل تھے اور آج نہیں۔ صبح تھے۔ شام نہیں۔ ایک گھنٹہ قبل گفتگو کررہے تھے اور ایک گھنٹے بعد کرہ ارض سے غائب۔ موت نے سپرا کا اعتبار کھویا تھا۔ وہ گھنے جنگلوں میں بھٹک رہا ہے۔ کوئی دور سے دوڑتا ہوا آتا ہے۔ سپرا اسے پہچانتا ہے۔

‘ چلومیرے ساتھ۔’

‘ مگر کہاں ؟’

‘ سوال مت پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ چلو میرے ساتھ۔ ۔ ۔’

‘ اس جنگل سے باہر۔’

‘ اب چاروں طرف گھنے جنگل ہیں۔ جہاں جاؤگے وہاں جنگل۔ آواز سنو۔’

‘ یہ آواز تو بھیڑیے کی ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نہیں خانہ بدوش کی، یہ سارے خانہ بدوش بھیڑیے بن گئے ہیں۔’

‘ مگر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا ممنوع ہے۔’

‘ اوراسی لیے۔ ۔ ۔ ۔ چلو بھاگو۔ ۔ ۔ ۔ نکلو یہاں سے۔’

کوئی اس کو تھامتا ہے۔ جنگلوں سے آگے پہاڑیاں ہیں۔ کچھ پہاڑیاں ایسی ہیں، جہاں سے بڑے بڑے پتھر کھسک کر ہزاروں فٹ نیچے کھائی میں گر رہے ہیں۔ ایک جگہ کچھ مزدور کھڑے ہیں۔ بارودی سرنگ اڑائی جارہی ہے۔ کچھ دوری پر پولیس کے سپاہی ہیں۔ اس علاقے میں کھدائی چل رہی ہے۔

‘ یہاں سے بھی نکلو۔ دھماکہ ہونے والا ہے۔’

‘ پھر ہم کہاں جائیں گے؟’

‘ وہ سامنے دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سامنے کیا ہے؟’

‘ مردہ گھر۔’

‘ مردہ گھر؟’وہ چونکتا ہے۔

یہاں پناہ ہے۔ سب کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ جو مکانوں میں ہیں، سڑکوں پر ہیں، چوراہوں پر ہیں، دفتروں میں ہیں، خطرے میں ہیں۔ اور سنو۔ ان کی جیب بہت بڑی ہوگئی ہے۔’

‘ جیب ؟’

‘ ہاں جیب۔ اس میں فلائی اوورز ہیں۔ نیشنل انٹر نیشنل بینک ہیں۔ عدلیہ ہے۔ ایجنسیاں ہیں۔ خانہ بدوش ہیں۔ مذہب ہے اور ہتھیار۔ ۔ ۔ ۔ ‘

‘ پھر باہر کیا ہے؟’

‘ موت۔ اس لیے سوچو مت بھاگ چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا دھند سے واپس آتا ہے توریحانہ کی کمزور آواز سنتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک گلاس میں پانی لاکر دیتا ہے۔ تو ریحانہ اسے کافی کمزور نظر آتی ہے۔ کمزوروی کے باوجود ریحانہ اس کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہے۔

‘ تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔ ۔ ۔ ۔ میں اسے دیکھ رہی ہوں اور بہت قریب سے دیکھ رہی ہوں۔ ‘

‘ کس کو ؟’ سپرا زور سے چیختا ہے

‘ آہ۔ ۔ ۔ ۔ چیخو مت۔ میری روح کو تکلیف ہوتی ہے۔’

‘ کس کو دیکھ رہی ہو۔’

‘ وہ ہے ناکمرے میں، اس وقت بھی۔ موت کا فرشتہ۔ وہ آچکا ہے۔’

‘ ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’سپرا کچھ کہتے کہتے ٹھہر جاتا ہے۔

‘ تمہیں اکیلا چھوڑ کر جارہی ہوں۔ اس کا صدمہ ہے۔ تم بہت اکیلے رہ جاؤگے —مجھے اس کا احساس ہے— مگر کاشف کے بعد۔ ۔ ۔ ۔ میں جینا بھول گئی۔ میں کاشف کے پاس جارہی ہوں۔ وہ بار بار مجھے آواز دیتا ہے۔’ریحانہ دھند میں دیکھ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ یہ پہیلی کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ ۔ ۔ ۔ اس کی آواز سنتی ہوں تو وہ سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ کتنے دنوں کی بات ہے وہ مجھ سے ناراض تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اس کا چہرہ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی باتیں سب یاد ہیں۔ ۔ ۔ بلکہ میں کچھ بھی نہیں بھول سکی۔ ۔ ۔ ۔ اور کیوں بھولوں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے آواز لگاتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ بہت پیار سے۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے جھگڑا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک لمحہ زندگی کو کہاں لے جاتا ہے؟’

‘ ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ۔ ۔ ۔’ یہ سب کیوں سوچ رہی ہو۔ اور ہاں تم کہیں نہیں جارہی ہو۔ تم مجھے جانتی ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ میرے بارے میں سوچتی ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس تاریکی کے بوجھ کو اکیلے اٹھانے کے قابل نہیں ہوں ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

پہلی بار سپرا پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ صبر ہونٹوں تک آکر باندھ توڑ گیا۔ آگ کی لپٹیں اٹھیں۔ اس نے ریحانہ کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ یہ چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے بے نیاز تھا۔ سرد۔ صرف آنکھیں تھیں، جن میں جان باقی تھی۔ جسم میں کوئی ہلچل نہیں۔ اس نے ریحانہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ ایک لمہ کے لیے اسے گھر گھومتا ہوا نظر آیا۔ خلا میں ایک جسم جھول رہا ہے۔ ۔ ۔ اور یہ اس کا جسم ہے۔ سپرا نے محسوس کیا، ریحانہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ کچھ کہنے کے لیے خود کو سمیٹ رہی ہے۔ ایک نور کا دائرہ ہے جو اس کے سر پہ منڈلا رہا ہے۔

‘ کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔ ۔ ۔ ۔’ ریحانہ کی آواز ابھری۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس وقت تک میں نہیں رہوں گی۔ اب سوچتی ہوں، کاشف کا جانا غلط نہیں تھا۔ وہ اس ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ معصوم تھا اور اب جو کچھ ہورہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ تم سمجھ رہے ہو نا۔ ۔ ۔ تم سے کچھ باتیں کرلوں۔ ۔ ۔ جی ہلکا کرلوں۔ ۔ ۔ سنو۔ ۔ ۔ کافی اندھیرا جمع ہوگیا ہے آنکھوں کے پاس۔ ان میں اجالے کی کہیں بھی کوئی کرن نہیں۔ تیس کروڑ لوگوں کو نکالنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ کیونکہ ان کو کسی بھی طرح کی خوں ریزی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ۔ ۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس موسم میں تم کیسے رہوگے۔ ۔ ۔ تمہیں سیاست راس نہیں آئی۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

ریحانہ کے لفظ کھورہے تھے، سپرا نے محسوس کیا، ریحانہ کے چہرے پر سرخ رنگ کے ساتھ ایک تناؤ ہے۔ ۔ ۔ وہ گہری سوچ میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ خود نہیں جانتی کہ اس وقت وہ کیا کہہ رہی ہے۔ مگر وہ بہت کچھ سوچ رہی ہے اور اس کی فکر کا محور سپرا ہے۔ ۔ ۔ اس وقت ریحانہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہے، وہ دیکھ سکتا ہے۔ اس کے اندر کی حرارت تھم رہی ہے۔ ہوا رک گئی ہے۔ ایک خوفناک ہوا ملک میں بہہ رہی ہے۔ ریحانہ کے چہرے پر اس ہوا کا اثر موجود ہے۔ اس کے چہرے کے آس پاس ایک جالہ سا بن گیا ہے وہ ایک ٹک سپرا کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہوا ساکت۔ پانی سے بہتے ہوئے بلبلہ میں کچھ چہرے بنتے ہیں۔ مٹ جاتے ہیں۔ کسی کے مرجانے پر موت ایک لکیر چھوڑ جاتی ہے۔ ۔ ۔ یہ لکیر کبھی کبھی صاف نظر آتی ہے۔ جیسے کاشف نظر آتا ہے۔ کبھی اس کمرے سے اس کمرے میں جاتاہوا۔ ۔ ۔ کمرے میں روشنی اور ہوا کی ضرورت ہے۔ اس وقت تاریکی بہت زیادہ ہے۔ سپرا ہاتھ تھامے ہوئے ریحانہ کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ ۔ ۔

‘تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ بس، تم خوفزدہ ہوگئی ہو۔ کاشف کے صدمے سے تم باہر نہیں نکل سکی۔ میں تمہیں اسی وقت اسپتال لے چلوں گا۔ ڈاکٹر ہے نا۔ ۔ ۔ تم ٹھیک ہوجاؤگی۔ ۔ ۔ سنا تم نے ریحانہ۔ ۔ ۔’

‘ تم مجھے دھند سے باہر لانا چاہتے ہو۔ میں دھند میں پاؤں بڑھا چکی ہوں۔’ریحانہ کی آنکھیں خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ ۔ ۔ ایک بڑھیا ہوتی ہے جو چاند پر بیٹھ کر چرخہ کاتتی ہے۔ میں اکثر اس کو دیکھا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کاشف اس کے پاس ہی ہوتا تھا۔ اب چرخہ کاتنے والی بڑھیا مجھے آواز دے رہی ہے۔ ۔ ۔’

سپرا زور سے چلاّیا۔ کیا بک رہی ہو تم۔ ۔ ۔ ۔

اسے احساس ہوا، اس کے پاس لفظ نہیں ہیں۔ ایک گہری کھائی ہے اور ریحانہ اس کھائی میں گرتی جارہی ہے۔

‘ ٹھہرو۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا اٹھا۔ موبائل سے اس نے قریبی ڈاکٹر دوست کو فون لگایا۔ ۔ ۔ یہی لمحہ تھا، جب وہ ریحانہ کے پاس سے دور ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ فوراً آرہا ہے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دوبارہ ریحانہ کے پاس آیا تو ریحانہ کی آنکھیں ہوا میں معلق تھیں۔ اس نے ریحانہ کے پاتھوں کو چھوکر دیکھا۔ ہاتھ سرد اور بے جان تھے۔

سپرا گھبراکر پیچھے ہٹا۔ ۔ ۔ ابھی تھی۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے تک۔ چاند والی بڑھیا کا ذکر کرتی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ابھی۔ ۔ ۔ ابھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس کا سر گھوم رہا تھا۔ وہ زور زور سے ریحانہ کا نام لے کر چلاّیا۔ ۔ ۔ مگر کوئی فائدہ نہیں۔

سپرا کو احساس تھا۔ وہ مردہ گھر میں ہے۔ یہاں کوئی زندہ نہیں۔ سب کے سب ابھی ہوتے ہیں اور ابھی نہیں۔ ایک دم سے اس طرح کھوجاتے ہیں، جیسے کوئی وجود کبھی رہا ہی نہیں ہو۔ یہ جسم نہ آواز۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہیں۔ نہ نشانیاں۔ ۔ ۔ ۔ انسان جسم اور روح سے ہوتا ہے، نشانیوں سے نہیں۔ ریحانہ تھی۔ اب نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی سچ ہے۔ وہ ہے اور نہیں ہے۔ ۔ ۔ ایک مردہ گھر کا دروازہ کھلا۔ ۔ ۔ سپرا نے دیکھا۔ ۔ ۔ اس کے قدم مردہ گھر میں داخل ہورہے ہیں۔ یہاں کچھ لوگ پہلے سے ہیں، کچھ لاشوں پر جھکے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ اور لاشوں پر سفید چادریں پڑی ہیں۔ ۔ ۔ اور یہاں بھی وہ عورت موجود ہے۔ ۔ ۔ نقاب لگائے۔ وہ دیوار کے پاس چھپ کر کھڑی ہے۔

اس وقت مردہ گھر میں ہونا اس کو سکون دے رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ بھی مردہ ہے۔ کاشف کی طرح۔ ۔ ۔ ریحانہ کی طرح۔ ۔ ۔ چاروں طرف دھند ہے۔ ۔ ۔ وہ دھند میں معلق ہے۔ ۔ ۔ ہوا میں لہراتے لباس کی طرح جھول رہا ہے۔

[divider](5)[/divider]

[dropcap size=big]ریحانہ[/dropcap]

کی تدفین کے بعد وہ گھر آ گیا۔ دروازے بند کرلیے۔ زندگی واہمہ ہے اور موت حقیقت۔ پھر نمائشی زندگی کیوں ضروری ہے۔

اب وہ ایک مردے کی طرح زمین پر لیٹا تھا اور اسے یقین تھا مجسمہ والی عورت اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سفید چادر یں سرسرارہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور اس مردہ گھر میں کسی اور کا وجود نہیں۔ اس نے کہیں پڑھا تھا، مردو ں کو بھی بھوک لگتی ہے۔ اس لیے فلیٹ میں رکھے فریزر سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کبھی کبھی گھر سے باہر جانے میں بھی۔ کیونکہ اسے یقین تھا، باہر جو لوگ ہیں، وہ بھی مردہ ہیں۔ ابھی ہیں۔ ابھی نہیں ہوں گے۔ ۔ ۔ ۔

اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اسے احساس ہوا، وہ کسی سرد خانے میں ہے۔ اور اس کے جسم کے اعضا بے جان اور بے حس ہوچکے ہیں۔

مسیح سپرا کی تیاری میں کوئی کمی نہیں تھی۔ گھر کے باہر مردہ خانے کا بورڈ لگانے کا بعد وہ مطمئن تھا کہ اب اس کے پاس کوئی نہیں آئے گا۔ مردہ خانے میں کون آتا ہے۔ سپرا کو یقین تھا کہ مردہ خانے کا بورڈ دیکھ کر اس سے ملاقات کے لیے آنے والے بھی راستہ بدل کر آگے بڑھ جائیں گے۔ اسے سکون کی ضرورت تھی۔ ایک ایسے سکون کی، جو صرف کسی مردے کے پاس ہوتی ہے، جس کے تمام اعضا اپنا کام بند کرچکے ہوتے ہیں۔ دماغ سوچتا نہیں۔ آنکھیں دیکھتی نہیں۔ ہونٹ بولتے نہیں اور وقفۂ سکون کو ابدیت تب نصیب ہوتی ہے جب یہ بولنا بند کردیتے ہیں۔ اس نے سنا تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک انسانی جسم میں تقریباً دس کھرب خلیات، حیاتیاتی اکائی کی صورت میں ہوتے ہیں۔ عضو آپس میں مل کر نظام اعضاء کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس وقت ان خلیوں کے ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری تھا۔ ایک دلچسپ کھیل سپرا کے ہاتھ لگا تھا جبکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے سوچنے کے تمام سلسلے بند ہوجائیں۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں کی جگہ محسوس کیا اور چہرے کو پیٹ کے درمیان لے آیا۔ اسے یقین نہیں ہے کہ اس کے چہرے پر اس احساس کے ساتھ مسکراہٹ پیدا ہوئی ہو تاہم اس وقت وہ پیوند کاری کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اعضاء کی پیوند کاری اسے بالکل پسند نہیں تھی۔ اس نے خیال کیا، مردے سوچا نہیں کرتے اور اس نے آنکھیں بند کرنے کے بعد خود کو نور کے دائرے میں دیکھا کہ اس کا قیاس تھا کہ ایک نور کا ہالہ ہوتا ہے جو روح مقدس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ مسیح سپرا نور کے ہالہ پر سوار تھا اور ٹھیک یہی وقت تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔ سپرا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اسے غصہ اس بات پر تھا کہ اس دنیا کے لوگ مردوں کو چین سے رہنے نہیں دیتے۔

اس نے دروازہ کھولا توسامنے ایک پولیس والا تھا۔ پولیس والے کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا اور وہ ڈنڈے سے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

‘ یہ کیا ہے ؟’

سپرا کا لہجہ سرد تھا۔ مردہ خانہ

‘ کیوں۔ ۔ ۔ ۔’ پولیس والے کے چہرے پر نا راضی تھی۔

سپرا نے کہنا چاہا کہ میں ایک مردہ ہوں، اس لیے، مگر وہ پولیس والے سے اس وقت الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ دیر تک وہ جواب سوچتا رہا۔ اس درمیان پولیس والا کھلے دروازے سے اندر کی طرف دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔

‘میں تنہائی چاہتا ہوں۔’

‘ تو گھر کے باہر مردہ خانہ لکھ دوگے؟’

‘ میں کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں اکیلا رہتا ہوں’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

‘ مجھے دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی دقت ہوتی ہے۔’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

پولیس والا گہری نظروں سے سپرا کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‘ تمہارا نام ؟’

‘ مسیح سپرا’

‘ مسلمان ہو ؟’

‘ ہاں جی’

‘ اورہ۔ ۔ ۔ ۔’ پولیس والے کے چہرے پر ایک تناؤ نظر آرہا تھا تاہم وہ اپنے غصے کو چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ اچانک وہ زور سے ہنسا۔

‘ مردہ خانہ۔ ۔ ۔ ۔ جانتے ہو یہ بوڈ لگانا قانوناً جرم ہے۔’

‘ نہیں جانتا’

‘ تو اب جان لو۔ رہائشی علاقے میں مردہ گھر نہیں ہوسکتا۔’

‘ لیکن یہ مردہ گھر تو صرف میرے لیے ہے۔’

‘ تمہیں اس کے لیے اجازت نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ اور پولیس سے اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ کورٹ بھی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔ کہیں کوئی غیر قانونی کام تو نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں مرچکا ہوں۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا کا لہجہ اس بار برف سے زیادہ سرد تھا

‘ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟’

پولیس والا پہلے چونکا۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے اندر کی طرف قدم رکھا۔ وہ حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے قدم پیچھے کیے۔ پولیس والے لہجہ اس بار سہما ہوا تھا۔

‘ اس بورڈ کو ہٹا دو۔’

اس نے پولیس والے کو تیزی سے بھا گتے ہوئے دیکھا۔ سپرا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ مردے کو دیکھ کر اکثر لوگ ڈر جایاکرتے ہیں۔ اسے بورڈ ہٹانا ہوگا۔ کیونکہ پولیس والا کہہ کر گیا ہے کہ قانون سے بھی اس کی اجازت نہیں مل سکتی۔ رہائشی علاقے میں مردہ گھر نہیں ہوسکتا۔ کیوں نہیں ہوسکتا؟ سپرا نے خود کو سمجھایا اور ذرا سی کوششوں کے بعد بورڈ اس کے ہاتھ میں تھا۔ بورڈ اس نے کچرے کے ڈبے میں ڈال دیا۔ اب اسے سکون و عافیت کے لمحے درکار تھے۔ اس کے گھر کے دو دروازے تھے، اس نے گھر کا پچھلا دروازہ کھولا۔ آگے کے دروازے پر قفل لگایا۔ پھر پچھلے دروازے سے اندر آکر دروازہ بند کردیا۔ دیواروں پر سفید چادریں جھول رہی تھیں اور ان سفید چادروں سے دھند کے جھاگ نکل رہے تھے اور ان چادروں کے پاس ایک طرف وہ مجسمہ تھا، جہاں حجاب والی عورت کو جگہ ملی تھی۔ موت کا فرشتہ، سپرا کو احساس ہوا کہ عورت کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ہے گویا اس نے بھی پولیس والے کو بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔

سپرا دوبارہ زمین پر لیٹ گیا۔

آنکھیں بند کرلیں۔

اب وہ اپنی موت کی دنیا میں تنہائی چاہتا تھا اور اسے یقین تھا باہر قفل لگا ہوا دیکھ کر کوئی بھی اس سے ملنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

سپرا نے خود کو ایک طویل نیند کے حوالے کردیا۔ مگر یہ کیا۔ آنکھوں کے پردے پر ایک تصویر ابھر رہی تھی۔ اس تصویر میں دولوگ تھے۔ کیا مردے خواب دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ؟کیا مردے چلتے پھرتے ہیں؟ یہ دو لوگ جو باتیں کررہے تھے، سپراان کی باتوں کو سن سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کا سر گنجا تھا۔ پستہ قد۔ موٹا بھائی۔ دوسرے کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی۔ یہ ایک عالیشان کمرہ تھا۔ میز پر بریانی اور کباب کی خالی پلیٹ پڑی تھی۔ دروازے بند تھے۔ شیشے کے باہر صرف نیلا آسمان نظر آرہا تھا۔ گھنی داڑھی والا اس وقت کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ جبکہ موٹا آدمی عینک صاف کرتا ہوا پرسکون تھا۔ وہ اتنا پرسکون تھا جتنا کوئی سمندر یا دریا ہوسکتا ہے۔ اس کے پرسکون رہنے کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ کوئی بھی اس کے سامنے کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ ایسا وہ سوچتا تھا اورعملی طور پر ہوتا بھی یہی تھا۔ بساط اس کے کرتے کی داہنی جیب میں تھی اور بائیں جیب میں سکّے۔ وہ سکے اچھالتا تھا اور پھر اپنی مرضی مطابق بساط سمیٹ لیتا تھا۔ موٹے آدمی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ سامنے والا آدمی کیا سوچتا ہے؟ لوگ کیا سوچتے ہیں؟ اس کے حریف اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اگر وہ یہی سب سوچتا رہتا تو شاید ملک کا سب سے طاقتور آدمی ثابت نہیں ہوتا۔

اور اس وقت جب سامنے، کھڑکی سے باہر نیلا آسمان تھا۔ میز پر بریانی کی خالی پلیٹ پڑی تھی، موٹے آدمی نے داہنی جیب سے لیمنیشن کرائی ہوئی بساط نکالی اور گھنی داڑھی والے کے سامنے میز پر رکھ دی۔

گھنی داڑھی والا مسکرایا۔’یہ بساط تمہاری جیب میں آجاتی ہے؟’

‘ میری جیب میں تو دنیا آجاتی ہے۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’ گھنی داڑھی والا ہنسا۔’ لیکن تمہاری جیب تو چھوٹی ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہاتھ تو لمبے ہیں۔’ موٹی بھائی نے اس بار چشمہ ٹھیک کیا۔

‘ پھر بھی۔ یہ بساط جیب میں رکھنے سے مڑ تڑ سکتی ہے۔’

‘ سوال ہی نہیں۔’ موٹا آدمی مسکر ایا۔’لیمینشن پر خون کے چھینٹے اور اس پر اسپرٹ۔ لیمنیشن مضبوط رہتا ہے۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’ گھنی داڑی والا مسکرایا۔ ‘تم خون کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے؟’

‘ کیا خو ن کے بغیر کوئی کام ہو سکتا ہے سر۔’

‘ لیکن بساط پر خون کے چھینٹے اور اس پر اسپرٹ؟’

‘ اصل تو بساط ہے۔ سارا کام تو اس بساط کا ہے۔ خون کا چھینٹا دینا پڑتا ہے۔’

‘ پورا بنیا۔’ گھنی داڑھی والا ہنسا۔’ تو تم کو ہر کھیل میں خون کے چھینٹے کی ضرورت ہوتی ہے؟’

‘ ایسا نہیں ہے۔’موٹا بھائی ہنسا۔’بلڈ اسپرے، یہ جلدی کام کرتا ہے۔’

‘ ہونہہ۔ ملک بیمار ہوگیا ہے۔’ گھنی داڑھی والا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ٹہلتا ہوا کھڑکی کے پاس آگیا، جہاں سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا۔’۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کو لگتا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سر، کیا اب تک ہم ناکام ہوئے؟’

‘ نہیں۔’

‘ پہلے دن سے۔ اب تو بیس برس گزر گئے۔’

‘ ہاں۔’

‘ مگر کبھی کبھی تم سے ڈر لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیوں سر۔’

‘ تم ذرا تیز بھاگتے ہو۔’

‘ آپ سے بھی تیز۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔’داڑھی والا مڑا۔ اب وہ موٹے آدمی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ گو تمہارے فیصلے سے میں کبھی ناخوش نہیں ہوا۔ اور میں جس مقام پر ہوں، اس میں صرف تمہارا ہاتھ ہے۔ مجھ سے بھی کہیں زیادہ۔ میں کامیاب ہی نہیں ہوتا اگر تمہاراساتھ نہ ہوتا اور یہی بات مجھے ڈراتی بھی ہے۔

‘ کیوں سر ؟’

‘ سیاست۔’ گھنی داڑھی والے کا چہرہ ا ب بھی سنجیدہ تھا اور وہ اب عقاب جیسی نظروں سے موٹے آدمی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‘ آپ کوڈرنا نہیں چاہیے سر۔’

‘ کیوں؟’

‘ مجھے آپ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ لوگ آپ کو جانتے ہیں۔ مقبولیت آپ کی ہے اور میں فقط کیشئر ہوں۔ اس مقبولیت کو کیش کرتا ہوں۔ میں کبھی آپ نہیں بن سکتا۔ لوگ مجھے قبول بھی نہیں کریں گے۔’

‘ لیکن تم پتے تیز چل رہے ہو۔’

‘ تاش کے پتے ہیں سر۔’

‘ ہاں۔ مگر ساری جیت تم اکیلے اپنے نام کررہے ہو۔ ۔ ۔ ۔’

موٹے بھائی کے چہرے پر تبدیلی آئی۔’’نہیں سر۔ تاش بھی آپ کا۔ پتے بھی آپ کے۔ میں وہی کررہا ہوں، جس کی اجازت آپ سے ملی۔’

‘ چنار کی اجازت کیا مجھ سے ملی تھی؟’

‘ صد فی صد تو نہیں۔’

‘ اور ڈلواما کی۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ وہ میری پلاننگ تھی مگر کام کرگئی۔’

گھنی داڑھی والے نے ٹہلنا جاری رکھا۔’اور اسی لیے اب تم خطرہ بنتے جارہے ہو۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ایسا نہیں ہے سر۔’

گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ‘خطرہ مت بننا۔ سب ہمارے دشمن ہیں۔ ایک نہیں دو جانیں جائیں گی۔’

‘ میں سمجھتا ہو ں سر۔’

‘ کبھی کبھی میں ڈر جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔’گھنی داڑھی والا کہتے کہتے رک گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

‘ کیا۔ ۔ ۔ ؟’

‘ نئے انتخاب سے پہلے۔ کیا مجھے امید تھی۔ ۔ ۔ ۔’

موٹا بھائی ہنسا۔’ آخری پریس کانفرنس میں آپ نروس تھے سر۔ مگر بساط۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے مہرے چل دئے تھے۔’

‘ ہاں۔ اور تمہارے سارے مہرے کامیاب رہے۔’

‘ مجھ پر یقین قائم رکھیے سر۔’

‘ میں بھی تو بنیا ہوں۔’ گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ‘تم کو اب کیسا لگتا ہے، یہ لوگ مان جائیں گے؟’

‘ کس بات پر ؟’

‘ پلّوں کو آؤٹ کرنے کے معاملے میں۔’

موٹا بھائی مسکرایا۔ میرے مہرے کبھی نہیں پٹے سر۔ یہ عبارت تو کانگریس نے لکھی تھی۔ ملک کا بٹوارہ مذہب کے نام پر ہوا۔ آزادی کے بعد میں نے مذہب کا صفحہ کھول دیا۔’

‘ اس دلیری کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ دلیری تو آپ سے سیکھی ہے سر۔’

‘ زلزلہ آجائے گا۔’

‘ آنے دیجیے سر۔ مندر ہمارا ہوگیا۔ اب بہت کم مہرے بچے ہیں۔’

‘ معیشت کی کشتی میں سوراخ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ لوگ سوکھی روٹی کھائیں گے مگر ہمارا ساتھ دیں گے۔’

‘ اتنا اعتبار کہاں سے لاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ بنیا ہوں سر۔ آپ سے سیکھا ہے۔’

گھنی داڑھی والا دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔’بہت تیز جارہے ہو اور اسی لیے کبھی کبھی تم سے ڈر لگتا ہے۔’

‘ ابھی اور بھی تیز جانا ہے سر۔ بلڈ اسپرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ بلڈ اسپرے۔’گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ۔ ۔ ۔’ ابھی کچھ دن تک اس اسپرے کو بند رکھو۔ حالات کا جائزہ لو۔’

‘ یس سر۔’

میز کے آمنے سامنے دونوں بیٹھ گئے تھے۔ سامنے غروب آفتاب کا منظر تھا کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔

مسیح سپرا کا چہرہ کھلا تھا۔ سفید چادروں کے درمیان موت کے فرشتہ نے جب اس کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب وہ کچھ دیر نیند کی آغوش میں جانا چاتا تھا۔ مگر اب اس کی نیند ٹوٹ گئی تھی۔ وہ اندھیرے کے دائرے میں تھا۔ موبائل، ٹی وی، اخبار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب سے کٹ چکا تھا۔ وہ ایک مردہ تھا بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔ اس بار کچھ لوگ تھے جو ایک مینارے پر چڑھے ہوئے تھے۔ جن کے پاس اسلحے تھے۔ ہتھوڑے تھے۔ کچھ لوگ نعرے لگارہے تھے۔ وہ مینار کو مسمار ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے کبوتروں کے جھنڈ کو دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اڑتے ہوئے کسی سیاہ سوراخ میں سمانے کی کوشش کررہے تھے۔ پھر اس نے جلتی ہوئی آگ دیکھی۔ کچھ قبائلی تھے جو ڈھول بجارہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ وہ جس زبان میں گفتگو کررہے تھے، مسیح سپرا اس سے واقف نہیں تھا۔ پھر اس نے کچھ سلگتے ہوئے گھر دیکھے۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں کو جان بچاکر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا کو یقین تھا۔ موت ہر جگہ ہے اور موت کے فرشتے ہر اس جگہ پہنچ چکے ہیں جہاں ایک بھی انسان باقی ہے۔ ۔ ۔

ایک دن مینار ٹوٹ جاتے ہیں۔ ۔ ۔

ایک دن پرندے اڑ جاتے ہیں۔ ۔ ۔
‘ اُڑ۔ ۔ ۔ اُڑ۔ ۔ ۔ چل خسرو گھر آپ نے سانجھ بھئی چودیس۔’

اب مسیح سپرا گہری نیند میں تھا۔

[divider](6)[/divider]

[dropcap size=big]باہر[/dropcap]

کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز تھی۔ پھر ایک ساتھ بہت سارے فوجی بوٹ کی آواز سنائی دی۔ جیسے کوئی لشکر گزر رہا ہو۔ کچھ دیربعد سناّٹاچھاگیا۔ دروازے کے باہر کچھ لوگوں کے چلنے کی ہلچل تھی۔ سناٹے میں اچانک فائرنگ کی آوازگونجی۔ اس کے بعد پھر سناٹا چھا گیا۔ فائرنگ کس نے کی؟ فوجی کہاں جارہے تھے؟ یا یہ سب دماغ کا وہم ہے۔ دماغ اندھیرے میں کچھ زیادہ ہی سوچتا اور کام کرتا ہے۔ کہیں وہ پولیس والا دوبارہ ادھر نہ آجائے۔ دروازے پر قفل ہے۔ اس لیے وہ نہیں آسکتا۔ وہ مر چکا ہے تو پھر ایسے خیال اسے کیوں آرہے ہیں۔ مسیح سپرا کو پیاس محسوس ہوئی۔ فریزر سے بوتل نکال کر ایک گھونٹ پیا۔ پھر زمین پر آکر لیٹ گیا۔ کل اس نے برگر کھایا تھا۔ سامان کم ہورہے ہیں۔ ایک ہفتہ میں شاپنگ کے لیے اسے باہر جانا پڑ سکتا ہے۔ مگر وہ مطمئن تھا۔ وہ مردہ ہے اور ادھر ادھر گھوم سکتا ہے۔ کھاپی سکتا ہے۔ مگر وہ مر چکا ہے۔ حقیقت یہی ہے۔ اس نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ وہ ہرطرح کی فکر سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ کیا۔ سامنے دونوں کھڑے تھے اور یہ کسی محل کی عمارت تھی۔ کمرہ بند تھا۔ وہ دونوں پھر سے موجود تھے۔ ایک گنجے سروالا۔ دوسرا گھنی گھنی داڑھی والا۔ دونوں عجب انداز میں ہنس رہے تھے اور اس وقت ان کے چہرے ڈارون کے قدیم بندروں جیسے تھے۔ ۔ ۔ ۔

‘ کیا تمہیں لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ داڑھی والا کچھ پوچھتے ہوئے خاموش رہ گیا۔

‘ ایک سوراخ برابر غفلت اور ہم دونوں نہیں ہوں گے۔’

‘ ہاں۔’ گھنی داڑھی والا خیالوں میں کھویا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہم نہیں ہوں گے۔

‘ اور ہمارا ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں۔’ گنجے سروالے نے کہا۔

‘ یہ بھی صحیح۔ مگر ہمارا ایک ایک قدم۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ بس یہی راستہ ہمیں زندہ رکھ سکتا ہے۔’

‘ شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔’ گھنی داڑھی والے کی آنکھیں چھوٹی تھیں۔ فکر کے دوران یہ آنکھیں اتنی چھوٹی ہوجاتی تھیں کہ ان آنکھوں کے نہ ہونے کا گمان ہوتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔

‘ ایک تاریخی فیصلہ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اور بہت سارے مردے۔’گنجے سروالا ہنسا۔ اب دوہی ذات ہیں۔ ‘زندہ اور مردہ۔’

‘ کیا مردے بولیں گے؟’

‘ کیا مردے بول سکتے ہیں۔’ گنجے سر والا زور سے ہنسا۔

‘ تم نے چتر بنیا کہا تھا۔’

‘ اس چتر بنیے کی لاش کو بھی دفن کردیں گے۔’

‘ اب تک سبھی کچھ ہماری مرضی سے ہورہا ہے۔ یعنی جیسا ہم نے چاہا۔’

‘ آگے بھی اپنی مرضی سے ہوگا۔ یعنی جیسا ہم چاہیں گے۔’

‘ گڈ۔’گھنی داڑھی والا کچھ سوچ رہا تھا’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم وہ مرگ نیتی لائے ہو۔ ۔ ۔’

‘ کاغذ کہیے سر۔’

‘ ہاں۔ کاغذ کا ڈھیر۔ لائے ہو؟’

‘ اس کی ضرورت نہیں تھی۔’

‘ ہاں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اور مجھے یقین ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نئی تاریخ نئے کاغذ پر لکھی جائے گی۔’

‘ سچ۔ بالکل سچ۔ یہی ہوتا رہا ہے۔ ہم ان سے سیکھ رہے ہیں، جنہوں نے ہم سے پہلے کچھ غلطیاں کیں۔’

‘ نئے کاغذ پر نیا نقشہ بنے گا۔’

‘ اوہ۔ ۔ ۔ میں زندہ ہوں۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ مگر تم سے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ تم سے کیا سر۔ ‘

‘ تم سے ڈر لگتا ہے۔ تم جسمانی طور پربھی مجھ سے زیادہ طاقتور ہو۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’گنجے سر والا ہنسا مگر بولا کچھ نہیں۔

‘ گھوڑوں کی ریس ہے سر۔’

‘ کچھ کمزور گھوڑے بھی ہوں گے۔’

‘ ہاں انہیں پیچھے رکھا گیاہے۔’

‘ چلو۔ ریس دیکھتے ہیں۔’

محل نما کمرے میں اب سناٹا تھا۔ مسیح سپرا کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ اب بہت سے گھوڑے تھے، جنہیں وہ ریس کورس میں دوڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ کچھ گھوڑے تیز دوڑ رہے تھے۔ کچھ گھوڑے نقاہت کی وجہ سے گر گئے تھے۔ کچھ گھوڑے آدھے راستے میں ہی دم توڑ گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ سفید چادروں کے درمیان والی عورت اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

مسیح سپرا نے آنکھیں بند کرلیں۔

Categories
نان فکشن

لینڈ مارک (قیصر نذیر خاور)

اِس شہرکے بہت سے لینڈ مارک گم ہو چکے ہیں ؛ اِس کا تاریخی ‘زیرو سنگ ِمیل’ تک غائب ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہ پر اب ‘ایس ایم رولو’ نہیں رہا، ‘ زیدیز’ ختم ہو چکا، ‘ایڈل جی’ اور ‘فرنچ وائن سٹور’ بھی بند ہو گئے۔ اوپن ائیر ریستوراں ‘مال لگژری’ بھی قصہ پارینہ ہوا، ‘شیزان کانٹی نینٹل’ کی جگہ ایک بنک نے لے لی۔ ‘کافی ہاؤس’ اور ‘چائنیز لنچ ہوم’ بھی برباد ہوئے۔ ‘فیروزسنز’ جل کر خاک ہوا، ‘نیشنل بک گیلری’ کی جگہ باٹا کے شو روم نے لے لی، ‘بمبئے کلاتھ ہاؤس’ نہ رہا، جیولری کی دکان ‘لیڈیز اون چوائس’ نہ رہی، ‘نرالا’ کی مٹھائی نہ رہی، ‘ریگل’ جیسے سینما کھنڈر ہوئے یہاں تک کہ وہ چینی جفت ساز بھی اب نہیں رہے جن کے نرم و ملائم جوتے پہننا کبھی ایک شان سمجھی جاتی تھی۔ بٹوارے کے وقت ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی عمدہ تعمیر والی حویلیاں اور گھر کٹڑیوں میں بدل گئے اور تو اور ان کے گوردواروں اور مندروں میں سے بھی اکثر کو اویکُوئیی پراپرٹی کے کھاتے میں شامل کرکے ان میں مہاجروں کے کئی خاندان بسا دئیے گئے، ان کے شمشان گھاٹ اور مڑیاں بھی ختم ہو چکیں ؛ لے دے کے وہ احاطہ ہی بچا ہے جس میں رنجیت سنگھ کی مڑی ہے۔ بیلی رام کی فارمیسی کو نیشنل فارمیسی میں بدل دیا گیا اور نجانے کیا کچھ بدلا گیا یا بدل گیا ہے اور۔۔۔ اور نجانے کتنے اور لینڈ مارک یا تو ڈھا دئیے گئے یا پھر وقت کے بے رحم ہاتھوں نے انہیں مِٹا دیا۔

میں اپنے خاندان کی چوتھی نسل سے ہوں جو اب بھی تابوت سازی اور میتیں اُسارنے و سنوارنے کا کام کرتی ہے۔ اس شہر کی آبادی کا بیشتر حصہ ایک ایسے مذہب کا پیروکار ہے جو نہ تو تابوت بنواتا ہے اور نہ ہی میت کو اسارنے اور سنوار کر دفنانے کا قائل ہے ؛ یہ صرف اسے غسل دیتے ہیں اور سفید لٹھے، جسے یہ کفن کہتے ہیں، میں لپیٹ کر دفنا دیتے ہیں۔ میرے مذہب کے لوگ البتہ یہ دونوں کام کرتے ہیں اور ہم اس شہر میں اقلیت ہونے کے باوجود کم نہیں ہیں۔ مجھے اپنے دادا اور پڑدادا کے بارے میں براہ راست تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اپنے والد کی زبانی مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ کبھی اس شہر میں، جب ابھی انگریز کی حکومت تھی تو بہت سے گورے اور اینگلو انڈین بھی شہر کی آبادی کا حصہ تھے۔ تب یہاں کئی لوگ تابوت ساز اور میتیں سنوارنے کے پیشے سے وابستہ تھے جن میں وہ خود بھی شامل تھے۔ مالدار گورے تو تھے ہی لیکن کئی اینگلو انڈین اور دیسی خاندان بھی خاصے امیر اور مسیحی اشرافیہ کا حصہ تھے۔ میرے والد کے بقول میرے پڑدادا پہلے تھے، جنہوں نے ایک کیتھولک مشنری کے ہاتھوں مسیحیت قبول کی تھی؛ وہ پیشے کے لحاظ سے ترکھان تھے اور جاتی کے اعتبار سے وِیشواکرم۔ اسی کیتھولک مشنری نے ہی انہیں تابوت سازی کی طرف مائل کیا تھا اور میتوں کو اُسارنے سنوارنے والے کچھ کاریگر ان کے ساتھ جوڑے تھے۔ جلد ہی میرے پڑدادا کا نام چل نکلا تھا اور گورا قبرستان کے پاس ان کی ورکشاپ میں دور دور سے نہ صرف کیتھولک آتے بلکہ ہمارے مذہب کے دیگر فرقوں کے لوگ بھی انہی سے اپنی بساط کے مطابق میت کی آرائش و تزئن کرواتے اور تابوت تیار کرواتے۔ میرے والد بتایا کرتے کہ دادا کے زمانے میں ان کا کاروبار اپنے عروج پر تھا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے بعد، اس شہر سے گوروں کے چلے جانے کے ساتھ ہی کئی مالدار اینگلو اور دیسی مسیحی بھی ہجرت کر گئے۔ تب سے ہماراکام زیادہ تر تابوت سازی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور اب تو میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے کا کام کم سے کم ہوتا جا رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہم مسیحیوں میں سے اکثر کا غریب ہونا ہے۔ گورا قبرستان بھر جانے کے بعد مسیحیوں کے لئے ایک نیا قبرستان قائم ہوا تھا جو اس شہر کی چھاؤنی شروع ہونے سے پہلے آتا ہے۔ ہمارے والد نے پرانی ورکشاپ ایک مسلمان کو بیچ دی جس نے وہاں کریانے اور منیاری کی دکان کھول لی اور ساتھ میں مزارں پر چڑھائی جانے والی ہری چادریں رکھ لیں کہ پاس ہی پیر مکی شریف اور داتا دربار تھا۔ ہمارے والد نے نہ صرف یہ ورکشاپ بیچی بلکہ کچے راوی روڈ پر وہ گھر بھی بیچ دیا جس کو میرے پڑدادا نے آباد کیا تھا، یوں انہوں نے پرانے لاہور کو خیر آباد کہا اور نئے قبرستان کے نزدیک کنال پارک کے ساتھ بنی نئی بستی میں پلاٹ لے کر پچھواڑے گھر اور اَگواڑے میں ورکشاپ قائم کی۔

میرے والد نے میرے بڑے بھائی اورمجھے خصوصی طور پر میت اسارنے، سنوارنے اور سجانے کی تربیت دی تھی۔ یہ ایک نازک اور پیچیدہ کام ہے۔ ہمیں میت کو نہ صرف سنوارنا اور سجانا ہوتا ہے بلکہ لواحقین کی خواہش کے مطابق کچھ ایسا بھی کرنا ہوتا ہے کہ بندہ، مردہ نہ لگے، کچھ ایسا لگے کہ جیسے وہ سویا ہوا ہے ؛ ایسے میں وہ ہمیں مرحوم یا مرحومہ کی کوئی ایسی تصویر بھی مہیا کرتے ہیں جیسا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں چہرے اور ہاتھوں پر خصوصی توجہ دینی پڑتی ہے کہ تابوت میں یہی نظر آتے ہیں، باقی جسم تو کپڑوں میں ڈھکا ہوتا ہے۔ ہمیں بڑھاپے کے نشانات ختم کرنے پڑتے ہیں اور کچھ ایسا میک اَپ کرنا پڑتا ہے کہ جھریاں، پھولی ہوئی نسیں، دھنسے ہوئے رخسار، کھڈا ہوئی آنکھیں سب اُس شکل میں آ جائیں جیسے وہ تصویر میں نظر آتی ہو، مطلب مرا بندہ یا بندی، ایسے لگے جیسے وہ سویا یا سوئی ہو۔ اگر موت کسی حادثے یا قتل میں ہوئی ہو تو ہمیں اس کے اُن سارے زخموں کو بھی ختم کرنا پڑتا ہے جو اس کے چہرے اور ہاتھوں پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ سب کرنے میں ہمیں یہ احتیاط لازماً برتنا ہوتی ہے کہ ہماری لیپا پوتی، میک اَپ کا تاثر نہ دے۔ لوگ میت کو تو دفنا دیتے ہیں لیکن مرحوم کے جسم، بلکہ چہرے، گردن اور ہاتھوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا، کو ہمارا دیا گیا اُسار برسوں، یاد رکھا جاتا ہے ؛ ایسے ہی جیسے لوگ دلہنوں کے میک اَپ کے حوالے سے آپس میں باتیں کرتے ہیں۔

جس طرح لوگوں کے فیملی ڈاکٹر ہوتے ہیں، اسی طرح ہم بھی کئی خاندانوں کے فیملی تابوت ساز اور میت اُسارنے و سنوارنے والوں میں سے ایک ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی رومن کیتھولک خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو ہے تو خالص دیسی چودھری خاندان لیکن اِس شہر کا ایک اہم خاندان رہا ہے اور اس کی میتیں تیاری کے لئے ہمارے ہی پاس آتی رہیں ہیں۔

یہ چند برس پہلے، اپریل کے دوسرے عشرے کی بات ہے کہ اس خاندان میں ایک بہت ہی اداس کر دینے والی موت ہوئی۔ ایک سو چار سالہ باپ زندہ تھا، بڑا بھائی بھی حیات تھا لیکن چھوٹا بیٹا چوہدری جونیئر جن کی عمر لگ بھگ ستر سال تھی، فوت ہو گئے ؛ وہ کئی برسوں سے پھیپھڑوں کے کینسر کو جھیل رہے تھے۔ جب ان کا مردہ جسم ہمارے حوالے کیا گیا تو خاصی دیر تک میں اسے پہچان نہیں پایا حالانکہ میں اس سکول میں دس سال پڑھا تھا، جہاں وہ پرنسپل رہے تھے۔ ان کے پورے جسم میں ایک عجیب طرح کا تناؤ تھا ؛ درد کی لہریں پیروں سے چلتی جلد پر اپنے نشان، متوازی طور پر چھوڑتی ماتھے سے ہوتی، جھڑے ہوئے بالوں والے سر سے واپس گھوم کر پیٹھ سے ہوتی پیروں کی طرف لوٹ گئی تھیں۔ کینسرکی ایسی ہی پِیڑھا نے ان لکیروں کو عمودی طور پر کاٹ کر سارے جسم پر باریک جھریوں کے مربعے، مستطیلیں اور بے شکل ڈبے بنا رکھے تھے۔ میرے والد ابھی زندہ تھے۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی لاش کو دیکھا۔ میں اور میرا بھائی بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہم سے لاش کو تین چار بار پلٹوایا اور اسے غور سے دیکھتے رہے۔ وہ خاصے متفکر نظر آرہے تھے۔ پاس ہی تپائی پر ایک تصویر پڑی تھی جو اُن کی بیوی نے ہمیں دی تھی اور خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے خاوند کا چہرہ ویسا ہی نظر آئے جیسا کہ تصویر میں تھا ؛ یہ تصویر لگ بھگ تیس برس پرانی تھی۔ اس میں چودھری جونئیر، ائیر فورس کی وردی میں ملبوس کراچی کے ساحل پر کھڑے تھے۔ یہ ایک ایسا ’ کلوز اپ ‘ تھا جس میں ان کا چہرہ واضح اور آدھا دھڑ نظر آ رہا تھا جبکہ پیچھے وسیع و عریض سمندر اور لامتناہی حد تک پھیلے آسمان کا ملاپ تھا ؛ سورج شاید تصویر کھینچنے والے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے گروپ کیپٹن کی وردی پہن رکھی تھی۔

ہم نے پہلے بھی بہت سی پیچیدہ نعشوں کو پھر سے اُسارا تھا لیکن یہ ایک انوکھی نعش تھی۔ میرے والد نے ہمیں برف کے ڈھیلے لا کر اس میز، جس پر نعش پڑی تھی، کے چاروں طرف رکھنے کے لئے کہا اور خود ان کتابوں میں کھو گئے جن میں میت اُسارنے اور حنوط کرنے کے سینکڑوں طریقے درج تھے۔ برف کا انتظام کرکے میں ان کے ایک طرف اور میرا بھائی دوسری طرف بیٹھے انہیں کتابوں کے ورق الٹاتے پلٹاتے دیکھتے رہے ؛ ایسے میں مجھے یاد آنے لگا کہ وہ سکول کے پرنسپل بننے سے پہلے پاکستانی ائیر فورس کے ایک جیالے فائٹر پائلٹ تھے اور انہوں نے ایک پڑوسی ملک کے ساتھ دو جنگوں میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور حکومت نے انہیں کوئی میڈل بھی دیا تھا ؛ ان کی یہ شاندار کارکردگی کیا تھی وہ تو ہم نے صرف اخباروں میں ہی پڑھی تھی لیکن وہ کتنے شفیق اور عمدہ استاد اور پرنسپل تھے، اس کا گواہ میں خود اور میرا بھائی تھا۔

اگلا سارا دن ہمارے والد چودھری جونئیر کی لاش پر کام کرتے رہے اور ہم دونوں بھائی انہیں مختلف قسم کے محلول اور لیپ بنا کر دیتے رہے۔ ہمارے والد نے گردن سے کام شروع کیا لیکن نیچے سے اوپر آتی، منجمد درد کی لہریں، اس لیپ میں، پھر سے دراڑیں ڈال دیتیں، جن کو وہ پھر سے بھرنے کی کوشش کرتے ؛ یہ کچھ ایسا تھا جیسے جسم تو بے جان ہو لیکن کینسر کی پِیڑھا میں ابھی تک جان باقی ہو۔ اگر سیدھی لہریں بند ہو جاتیں تو عمودی انہیں پھر سے کاٹ دیتیں، یا پھر اس کے الٹ ہوتا۔ سہ پہر کے قریب میرے والد نے تب ہمت ہاری جب درد سے اینٹھی یہ لاش ان کے قابو میں نہیں آئی۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی بیوی کو فون کیا اور انہیں اپنی مشکل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سروس و تدفین کے وقت کو فی الحال ملتوی کردیں۔ وہ ایک بار پھر کتابوں میں کھو گئے۔ اپریل کے دوسرے عشرے میں موسم ابھی گرم نہیں ہوا تھا لیکن ہم میز کے گرد برف کے ڈھیلے پگھلنے پر انہیں مسلسل بدلتے رہے۔ سورج غروب ہو گیا، بتیاں روشن ہو گئیں لیکن میرے والد مسلسل کتابوں میں گم رہے۔ گھر کی طرف سے گھنٹی کی آواز آئی ؛ ہماری ماں کی عادت تھی کہ میز پر کھانا لگانے سے پہلے پیتل کی وہ چھوٹی سی چمکیلی گھنٹی بجایا کرتی تھیں کہ اسے سن کر سب کھانے کے کمرے میں پہنچ جائیں۔ ہمیں اندازہ ہوتا کہ گھنٹی کے بجنے کے بعد دس منٹ میں کھانا لگ جانا ہوتا تھا اور اس دوران ان کے پاس نہ پہنچنے کا مطلب ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس گھنٹی کی آواز کو تو ہمارے والد بھی نظرانداز نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے اسے نظرانداز کیا اور کتاب پڑھنے میں مشغول رہے۔ اس روز پہلی بار ہوا تھا کہ ہماری والدہ نے لگ بھگ پندرہ منٹ کے بعد پھر سے گھنٹی بجائی تھی اور اس کی آواز کی لہروں کے اِرتعاش میں ان کے غصے کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہمارے والد نے مطالعہ جاری رکھا اور پھر کتاب کے ایک ورقے کا کونہ موڑ کر اسے بند کر دیا۔ انہوں نے نظر بھر کر میز پر پڑی لاش کو دیکھا اور پھر بولے ؛ ” ساری برف یہاں سے ہٹا دو۔ ”

“لیکن ڈیڈی۔۔۔۔۔ “، میرا بھائی بولا۔

“میں جیسا کہہ رہا ہوں، ویسے کرو۔ ”

ہم نے برف ہٹا دی۔ مجھے لگا جیسے ہمارے والد کو راہ مل گئی ہو۔ وہ اطمینان سے اٹھے اور بولے :
“چلو کھانا کھاتے ہیں۔ ہم اب اِس پر صبح کام کریں گے۔”

ہم جب ورکشاپ کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھے تو ماں جالی والے دروازے کے پٹ کے ساتھ لگی کھڑی تھیں اور ان کے چہرے پر غصہ تھا۔

اگلی صبح ہم ناشتہ کرکے ورکشاپ کے اس کمرے میں آئے جہاں چودھری جونئیر کا لاشہ میز پر پڑا تھا۔ والد صاحب نے ان کے جسم کو کئی جگہ سے ٹٹولا اور منہ ہی منہ میں بولے ؛

“اب یہ نرم ہو گئی ہے اور ہم اسے سنبھال لیں گے “، وہ کچھ دیر چودھری جونئیر کے مردہ جسم کو دیکھتے رہے۔

اور پھر انہوں نے الماری میں رکھی بوتلوں اور مرتبانوں میں سے چار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں ان میں پڑے محلولوں اور کیمیاوی مادوں سے لیپ بنانے کو کہا۔

“مقداروں کا تناسب کتاب میں اس صفحے پر درج ہے جسے میں نے موڑ رکھا ہے۔ اسے سامنے رکھو۔ ”

ہم نے لیپ تیار کر لیا تو انہوں نے ایک بار پھر ہاتھوں سے لاش کو ٹٹولا اور پھر لیپ کو پسلیوں پر لگانے سے کام شروع کیا ؛ ہمارے لئے یہ بات نئی تھی۔ ہم عام طور پر چہرے، گردن اور ہاتھوں پر ہی اُساری اور آرائش کا کام کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ یہ لیپ گولائی میں لگا رہے تھے جیسے پِیڑھا کی لکیروں کو لیپ کے مساج سے مٹانا چاہتے ہوں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھے بغیر کہا ؛

“جسم میں منجمد درد یہیں سے سارے جسم میں پھیلا ہے۔ ”

ہم دیکھ رہے تھے کہ اب لیپ میں دڑاریں نہیں پڑ رہی تھیں۔ دوگھنٹے کی محنت کے بعد ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے پورے جسم کو لیپ سے ڈھانپ دیا اور مجھے کافی لانے کو بولا۔ میں کافی لایا۔ انہوں نے ہاتھ دھوئے اور کرسی پر بیٹھ کر کافی پینے لگے۔ ان کی نظریں مسلسل میز پر جمی ہوئی تھیں۔ کافی ختم کرکے وہ اٹھے، لیپ کردہ جسم کو الٹوا پلٹوا کر تفصیلی معائنہ کیا۔ انہیں جب لیپ لگے جسم پر کوئی دراڑ نظر نہ آئی اور ان کی تسلی ہو گئی کہ لیپ کہیں سے بھی چٹخا نہیں تھا تو انہوں نے چِلمچی میں ایک بار پھر سے ہاتھ دھوئے اور بولے ؛

“اب چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں۔ تصویر کو لٹا کر سامنے رکھو اور چہرے کو ویسے ہی اُسار دو۔۔۔۔ پھر گردن، اور ہاتھ آخر میں کرنا “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔

وہ اس میز کی طرف بڑھے جہاں بیکولائٹ کا بنا کالا فون، جس کے ڈائل پر سفید رنگ سے گولائی میں نمبر لکھے ہوئے تھے، پڑا تھا۔ انہوں نے نمبر گھمائے۔ ہم نے چہرے پر کام کرنا شروع کر دیا تھا اور ہم اس پر موم کی ایک مہین تہہ لگا رہے تھے۔

“ہیلو، گڈ آفٹر نون مسز چودھری، آپ اب تدفین کا اعلان کر سکتیں ہیں۔ ”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جو میرے بھائی اور مجھے سنائی نہ دیا۔

“جی، جی، کل شام چھ بجے چرچ کی سروس اور اس کے بعد تدفین مناسب رہے گی۔ “، وہ کہہ رہے تھے۔

ہم اپنے کام میں لگے رہے اور وہ اس کمرے میں چلے گئے جہاں کاریگر میت کے لیے بنے تابوت کو پالش کی آخری گدیاں لگا رہے تھے ؛ ہمارے ہاں بہت عرصے بعد سیاہ آبنوسی لکڑی کا تابوت تیار ہو رہا تھا۔

میرے بھائی نے بھی اسی سکول سے میڑک کیا تھا جہاں چودھری جونئیر پرنسپل رہ چکے تھے۔ جب ہمارے والد نے یہ کہا تھا کہ چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں، تو میں سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا ؛ ایک تو ہم اس کام میں ماہر ہو چکے تھے اور دوسرے ہم نے چودھری صاحب کو دس سال تک بہت قریب سے دیکھا تھا ؛ ان کے چہرے کو عام، شفیق، غصے بلکہ ہر طرح کی حالت میں۔ جب ہم پہلی جماعت میں تھے تو وہ اس وقت ائیر فورس سے نئے نئے ریٹائر ہوئے تھے اور کیتھولک چرچ کے بڑوں نے انہیں اس سکول کا پرنسپل بنایا تھا۔ ہمیں ان کے ہاتھوں کی بھی گہری شناخت تھی، وہ ہاتھ جو کبھی بھی کسی طالب علم کو جسمانی سزا کے لیے استعمال نہ ہوئے تھے ؛ ان کی کلائیاں مضبوط، ہتھیلیاں چوڑی جبکہ انگلیاں کسی فنکار کی طرح لمبی اور مخروطی تھیں۔

میرا بھائی اور میں ان کا چہرہ، گردن اور ہاتھ اسارنے میں فخر محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ کام ایک کڑے امتحان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ ہمارے والد شام تک اس کمرے میں دوبارہ نہ آئے اور جب وہ کافی کا مگ تھامے ہمارے پاس آئے تو ہم اپنا کام ختم کر چکے تھے اور اُن کپڑوں کو ترتیب دے رہے تھے، جو ان کو پہنائے جانے تھے ؛ یہ اُن کا سب سے بہترین سوٹ تھا ؛ آسمانی رنگ کی بہترین سِلکی قمیض، بہترین نیلی ٹائی، سیاہ چمڑے کی بیلٹ، چاندی کے عمدہ کف لِنگز جن میں یاقوت جڑے تھے، ٹائی پر لگایا جانے والا یاقوت جڑا چاندی کا کلپ، ان کی شادی کا سونے کا چَھلا، سیاہ موزے اور تسموں والے سیاہ ہی جوتے۔ یہ لباس ہمیں اجنبی نہ لگا کیونکہ ہم نے ان کی زندگی میں انہیں ایسے ہی نیوی بلیو ڈبل بریسٹ سوٹ میں کئی بار دیکھا ہوا تھا۔ ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے چہرے، گردن اور ہاتھوں کو دیکھا، وہ کچھ دیر ان پر نظر جمائے دیکھتے رہے، بیچ بیچ میں وہ تصویر پر بھی نظر ڈالتے رہے، ہم سے ہونٹوں کی لالی مدہم کرائی اور پھر انہوں نے ہمیں دیکھا ؛ ان کی نظر میں توصیف تھی۔

گھر کے پچھواڑے سورج غروب ہو رہا تھا اور پرندوں کی چہچہاہٹ اس بات کی غماز تھی کہ وہ اپنے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے اور ہم چودھری جونئیر کو ہر طرح سے سنوار اور سجا کر تابوت میں لٹا رہے تھے ؛ اس تابوت میں، جس میں لیٹے لیٹے، انہوں نے نئے مسیحی قبرستان تک اپنا آخری سفر طے کرنا تھا۔ تابوت میں لیٹے چودھری جونئیرکی میت کو دیکھ کر یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کینسر کی پِیڑھا جو ان کے جسم میں تب منجمد ہو گئی تھی، جب انہوں نے آخری سانس لیا تھا اور ان کے چہرے پر کریہہ طور پر نمایاں تھی۔ اب ان کا چہرہ ویسے ہی تر و تازہ اور جوان لگتا تھا جیسا ہم نے، برسوں پہلے، اپنے سکول کے زمانے میں دیکھا تھا۔

یہ آخری میت تھی جو ہمارے والد نے خود اور اپنی نگرانی میں تیار کروائی تھی۔

سال بھی نہ گزرا تھا کہ مارچ کے مہینے میں ہمارے والد صاحب ایک روز سہ پہر کے وقت ہمیں ساتھ لیے چودھری سینئر کے گھر گئے ؛ یہ سکول سے ملحقہ گرجا گھر کے احاطے میں تھا جس میں کبھی چودھری جونیئر بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔

“کل بڑے چودھری صاحب کی سالگرہ ہے۔ یہ ان کی 105 ویں سالگرہ ہو گی۔ ”

” تو ہمیں کل جانا چاہیے۔ “، میرے بڑے بھائی نے کہا۔

” کل ایک طرح کا فیملی فنکشن ہو گا۔۔۔۔ بہت سے لوگ ہوں گے، بچے، بچوں کے بچے اور اب تو آگے ان کے بھی بچے ہیں۔ ایسے میں آج جانا ہی بہتر ہے۔ ”

راستے میں انہوں نے مارکیٹ کے پاس مجھ سے گاڑی رُکوائی اور جب ہم وہاں پھول بیچنے والی ایک دکان سے 105 گلابوں کا گلدستہ تیار کروا رہے تھے تو انہوں نے کہا؛

” لوگ انہیں ایک فوٹوگرافر کے طور پر جانتے ہیں، فوٹوجرنلزم میں ان کے شاگرد انہیں چاچا کہتے ہیں لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ پہلے اسی سکول میں استاد تھے، جہاں تم دونوں بھی پڑھتے رہے ہو۔ ”

گلدستہ تیار ہوا تو انہوں نے اس کے پھول گنتے ہوئے پھر کہا؛

“یہ تب کی بات ہے جب میں اس سکول میں میڑک کا طالب علم تھا، اس وقت جرمنی میں ہٹلر نے نیا نیا اقتدار سنبھالا تھا اور ہند کی انگریز سرکار دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی پر گھبرائی ہوئی تھی۔ میں نے فزکس اور ریاضی کے مضمون انہی سے پڑھے تھے۔ ”

پھر وہ سوچ میں پڑ گئے اور انہوں نے گلدستہ بنانے والے کو گلدستہ واپس دیتے ہوئے اسے کہا کہ وہ اس میں سے ایک پھول کم کر دے۔

بڑے چودھری صاحب ہم سے تپاک کے ساتھ ملے۔ والد صاحب نے انہیں گلدستہ پیش کیا اور 104 سال مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ ہم نے کچھ دیر ان کے ساتھ وقت گزارا، چائے کے ساتھ چودھری جونیئر کی مسز کے ہاتھوں کی بنی ہوئی تازہ ‘کوکیز’ اور ‘براؤنیز’ کھائیں جو وہ بڑی تعداد میں اپنی جیٹھانی اور نندوں کے ساتھ مل کر اگلے روز کے لیے تیار کر رہی تھیں؛ اگلے روز کو جشن کی طرح منانے کے حوالے سے سب ہی اُن کے ہاں اکٹھے تھے اور گھر بھر میں چھوٹے بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں؛ وہ لیونگ روم، جہاں ہم بیٹھے تھے، سے ملحقہ باورچی خانے میں گھستے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود کوکیز اور براؤنیز اڑا لے جاتے۔ سورج نے جب خود کو مغرب میں، نیچے تک اترے بادلوں، میں چھپانا شروع کیا تو ہم ان سے اجازت لے کر گھر لوٹے؛ ہمارے والد نے ان کے پیروں کو چُھو کر ان سے وداعی لی تھی۔

اگلی صبح ہم ابھی ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ہماری تربیت میں شامل تھا کہ اگر والد صاحب موجود ہوں تو ہم میں سے کوئی فون تب تک نہیں اٹھاتا تھا، جب تک وہ نہ کہتے۔ عام طور پر وہ خود ہی فون اٹھاتے تھے۔ ہماری والدہ اٹھیں اور فون اٹھا کر ان کے پاس لائیں۔ انہوں نے فون اٹھایا ؛

“ہیلو، گڈ مورننگ”، انہوں نے بس اتنا ہی کہا اور دوسری طرف سے آتی آواز سنتے ہوئے ” جی۔۔۔۔۔ جی” ہی کہتے رہے۔ اور پھر فون رکھ کر انہوں نے اتنا ہی کہا

” بڑے چودھری صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ میت تیار کرنے کے حوالے سے تیاری کر لو۔ “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔ مجھے لگا جیسے ان کی آنکھیں نم آلود ہوں۔ انہوں نے ناشتہ ادھورا چھوڑا، چائے کا مگ اٹھایا اور بِنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئے۔ ہماری والدہ بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیں۔

بھائی اور مجھے بڑے چودھری صاحب کی میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے میں چنداں دشواری پیش نہ آئی کیونکہ اتنی عمر کے باوجود ان کا جسم توانا تھا، کسی موذی بیماری نے ان کے جسم کو کھایا نہ تھا اور بڑھاپے نے بھی اِس جسم کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ ان کے چہرے پر ایک ایسا سکون تھا جو ہم نے کم ہی کسی کے چہرے پر دیکھا تھا ؛ ہلکا پیازی غازہ ہی اس پُرسکون چہرے، گردن اور ہاتھوں کو نکھارنے کے لئے کافی ثابت ہوا تھا۔

تدفین کے وقت، جب ہم قبرستان میں تھے تو مجھے پتہ چلا کہ وہ رات کو کھانا کھا کر اپنی آل اولاد کے ساتھ ہنستے کھیلتے رات دیر تک جاگتے رہے تھے۔ انہوں نے رات بارہ بجے اپنے بچوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں اور ان کے بچوں کا کورس میں گایا ‘ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔’ سنا تھا اور ان سب کے ماتھے چوم کر دُعا دیتے ہوئے سونے کے لیے لیٹے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسی روز، لگ بھگ پو پھٹنے کے وقت سوتے میں ہی دم دیا تھا۔

Categories
فکشن

نروان (نیر مصطفیٰ)

اضطراب اپنی آخر ی حدوں کو چھونے لگا ، تشنگی نا قابل برداشت ہو گئی اور نیند کی دیوی کو روٹھے ہوئے ہفتہ ہو چلا تَواُس نے زندگی میں پہلی بار بڑے چائو سے اکٹھے کئے گئے سامانِ تعیشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے سنگ ِمرمر سے بنے محل کو الوداع کہہ کر کسی انجانی ڈگر پہ چل پڑا۔

اُس نے منبر پر بیٹھے خطیب سے سکون کی شاہراہ کا راستہ پوچھا اور پہلو میں ذہنی خلفشار سمیٹ کر لوٹ آیا، شاعر سے اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کھوکھلے جذباتی دلائل کا جواب ایک استہزائیہ قہقہے سے دیتا ہو ا آگے بڑھ گیا، فلسفی سے ملاقات کا نتیجہ تجرید کی ایک بے ڈھنگی عمارت کی تعمیر تھی جس نے اُس کے لاشعور کی چولیں ہلا ڈالیں ، موسیقار اُس کے سامنے سے وہی صدیوں پرانی دھنیں بجاتا ہو ا گزر گیا جن میں اب کوئی کشش اور مدھرتا باقی نہ رہی تھی، وہ چلتا ہو ا شہروں کی حدود سے باہر نکل آیا۔

وہ زمان ومکان کی کیفیتوں سے بے نیاز ہو کر چلتا رہا ۔ اُس کی جوتیاں گِھس گئیں،پائوںمتّورم ہو گئے، کپڑے چیتھڑوں کی صورت تن پر جھولنے لگے، بال مٹی سے اَٹ گئے اور چہرے کے خدوخال گرد نے گہنا دئیے یہاں تک کہ وہ ایک وسیع و عریض جنگل میں جا پہنچا۔

وحشت، اب اُس کے اختیار سے باہر ہو چلی تھی۔ اُس نے ایک نعرۂ مستا نہ بلند کر کے تن کے چیتھڑے اتار پھینکے اور پتوں کا لباس پہن لیا۔

اُس نے درختوں کی سر گوشیاں سنیں، کلی کا چٹکنا دیکھا، دھنک کے رنگ گنے اور چاندنی سے کلام کیا مگر سب بے سود۔فطرت کی مہربان آغوش میں کہیں کوئی غیبی اشارہ تھا بھی تَواُس کو نہ مل پایا۔ ہر نئے دن کے ساتھ افق کے اُس پار سے ابھر نے والا سورج امید کا استعارہ بن کر طلوع ہوتا اور مایوسی کی علامت بن کر ڈوب جاتا۔ تھک ہار کر اُس نے آنکھیں مو ند لیں اور اکڑوں بیٹھ کر تپسیا شروع کر دی ____جسم سے دل اور دل سے روح تک رسائی کی تپسیا۔

بالآخر اُس نے دل اور روح کے دو جہانوں تک رسائی حاصل کر لی مگر المیہ یہ ہو ا کہ دونوں ہی اندر سے خالی نکلے ۔ تہی دامانگی کا احساس اِتنا گہرا اور گھمبیر تھا کہ خودی اور بے خودی،امید اور مایوسی، سبھی اپنے مفہوم کھو بیٹھے اور جب سکوت اور کلام میں فرق نہ رہ جائے تَو شہر اور جنگل بھی ایک ہو جاتے ہیں۔

وقت آگیا تھا کہ مکتی کو دیوا نے کا خواب اور نروان کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر واپسی کی راہ اختیار کی جائے ____ سفر شروع ہوا !

اُسے معلوم تھا کہ واپسی کا راستہ سہل نہ ہوگا ۔ بچے اُسے دیکھ کر تالیاں بجاتے، لونڈے لپاڑے پتھر مارتے، شرفاء راستہ بدل لیتے اور عورتیں حقارت سے دیکھتیں۔ پہلی بار وہ اپنی بد ہیئتی پر کڑھا اور محل کی جانب بڑھتے قدم تیز سے تیز تر ہوتے چلے گئے۔ آخرکار وہ اپنے محل کی دہلیز پر جا پہنچا۔

کچھ دیر تک وہ اپنے عالی شان محل کی دیواروں کو بہ غور دیکھتا رہا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ کچھ بھی تَو نہ بدلاتھا۔ مگر جو نہی اُس نے محل کی چوکھٹ پر پہلا قدم رکھا ، رائیگانی کا احساس ایک دم اپنی پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ اُسے یوں لگا جیسے اب تک وہ محض ایک دائر ے میں گھومتا رہا ہو اور یہ خیال اِتنا ہیبت ناک تھا کہ اُس کا نحیف بدن، ہوا کی زد پر آئے پتوں کی طرح کپکپانے لگا۔

ٹھیک اُسی لمحے، ایک مدھم سی آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ اُس نے فی الفور آواز کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں۔ سامنے فٹ پاتھ پر، میلی سی چادر میں لپٹا، ایک شیر خوار بچہ رو رہا تھا۔

فٹ پاتھ کی دوسری جانب سے ایک پکھی واسن دوڑتی ہوئی آئی اور اُس میلے کچیلے بچے کو اپنی چھاتیوں سے لپٹا کر دودھ پلانے لگی جو ایک دم یوں خاموش ہو گیا جیسے کبھی رویا ہی نہ ہو؛ آسمان سے نور کا ایک ہالہ اترا اور اُن کے مد قوق اور پیلے چہروں پر روشنی بن کے جگمگا اُٹھا ۔

نروان کی تلاش میں نگری نگری پھرنے والے سیلانی نے اپنے سنگِ مر مر سے بنے سفید محل کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر یہ سارا منظر دیکھا اور نروان کی حقیقت جان گیا۔

Categories
فکشن

بوئے خوں (رفاقت حیات)

وہ اندھیرے میں دکھائی نہ دینے والی سرخ اینٹوں کے کھردرے فرش پر گھٹنے ٹیک کر اس طرح بیٹھا تھا، جیسے نماز پڑھ رہا ہو۔ گھٹنوں پر رکھے ہوئے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور کاندھے میں بھی تیز دُکھن تھی جب کہ اس کا دایاں ہاتھ فرش پر بے حس لٹکا پڑا تھا۔ ایک لمحے کے بعد اس کی اوپر کو اٹھی ہوئی گردن آہستگی سے نیچے آئی اور ڈھلک کے رہ گئی۔ دھونکنی کی طرح چلتے اس کے سینے کو قرار آگیا اور دھیرے دھیرے اس کی سانسیں ہموار ہونے لگیں۔ اپنے جسم اور چہرے کی مختلف جگہوں پر جلن اور درد کو محسوس کرتے ہی اس کے ہاتھ یہاں وہاں زخموں کو ٹٹولنے لگے۔ کہیں پرناخنوں کی کھرونچوں سے اس کا گوشت سلگ رہا تھا اور کہیں پر دانتوں کے کاٹنے سے اسے تکلیف ہورہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک اس کی نگاہ میں گھمبیر تاریکی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن دھیرے سے آنکھیں مچ مچا کر، پھیلا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ کمرے کی چیزوں کو ان کی جگہ پر دیکھنے اور پہچاننے لگا۔ کمرے کی چھت اور دیواریں، بند کھڑکی اور دروازہ، الماری، صندوق اور پلنگ۔ وہ ہر طرف دیکھتا رہا مگر جب اس نے اپنے بہت قریب فرش کو دیکھا تو چونک پڑا۔”یہ۔۔۔یہ کیا تھا”؟ اس نے سوچا۔ “شاید کوئی چیز پڑی ہوئی تھی۔ لیکن نہیں، وہ تو ایک جسم تھا”۔

اس کے ٹوٹے ہوئی جسم کی طرح اس کا ذہن بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ دیر پہلے کے واقعے کو یاد کرنا یا اس کے بارے میں سوچنا فی الحال ممکن نہیں تھا۔ لیکن اسے معلوم تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نزدیک پڑا جسم بھولے کا تھا۔ اس کی انگلیوں کی کپکپاہٹ تھم گئی اور کندھے کی دکھن بھی ختم ہو گئی۔ اس نے جھک کر ہاتھ آگے بڑھایا تو اس کی انگلیاں ایک پیر سے ٹکرائیں اور اس پر رینگنے لگیں۔

وہ پیر مٹی اور گرد سے اٹا ہوا تھا۔ اس پر ایک موٹی سی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس نے پیر کو ہلایا، جلایا لیکن بے حرکت جسم بے حرکت ہی رہا۔ اپنے گھٹنے گھسیٹ کر وہ آگے بڑھا۔ اب اس کا ہاتھ اس کے پیر کی پنڈلی کو ٹٹولنے لگا۔ وہ پنڈلی بہت نرم تھی اور اس پر کوئی بال نہیں تھا۔ گوشت کو دباتے ہوئے اس کی آہ نکل گئی اور دفعتاً اس کا ہاتھ پھسلا تو اس نے فرش پر رینگتے ہوئے سیال کو محسوس کیا۔ وہ بھولے کا خون تھا۔

وہ یک دم سناٹے میں آ گیا اور کمرے کی تاریکی میں آنکھیں پھیلا کر آس پاس دیکھنے لگا۔ پھر وہ اپنی جیبیں ٹٹولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ ماچس کی تلاش میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوئے اس کا پاؤں فرش پر کسی چیز سے ٹکرا گیا اور وہ چیز گھسٹتی ہوئی، خاموشی میں تیز آواز پیدا کرتی ہوئی پلنگ کے نیچے چلی گئی۔ اس نے پرواہ نہیں کی اور صندوق، الماری اور پلنگ پر ہاتھ مارتا رہا۔ اسے ماچس مل گئی۔ لیکن پچھلی موم بتی بہت پہلے ختم ہو چکی تھی اور نئی موم بتی کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں رکھی ہوئی تھی۔ وہ دیا سلائیاں جلا کر، بھڑکا کر، کونوں کھدروں میں ڈھونڈ تا ٹٹولتا رہا۔ دیا سلائیوں کی بجھتی بھڑکتی روشنی میں اس نے یونہی بھولے کی طرف دیکھا تو نجانے کیوں وہ اسے پہلے سے زیادہ خوب صورت معلوم ہوا۔

پلنگ کے نیچے اسے آدھی موم بتی کا ٹکڑا مل گیا۔ وہیں فرش پر گری ہوئی چھری بھی اس کے ہاتھ لگ گئی۔ چھری کو فوراً پھینک کر، اس نے موم بتی روشن کی اور بھولے کے پاس پہنچا۔ زرد اور پھیکی سی روشنی میں اس نے دیکھا کہ ابھی تک اس کی آنکھوں میں نفرت تھی اور چہرے پر غصیلا پن جھلک رہا تھا۔ اس نے بھولے کی کھلی ہوئی آنکھوں اور ادھ کھلے ہونٹوں کو بند کر دیا۔ اچانک اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور غم کی تیز لہرنے اس کے پورے بدن کو جکڑ لیا۔ اس نے بمشکل مو م بتی فرش پر رکھی اور سسکیاں لینے لگا۔ اس کی آنکھوں میں پہلا آنسو جگمگایا اور اس نے بلند لہجے میں ماتم شروع کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن صبح سے بوندا باندی ہورہی تھی۔ وہ شام ڈھلنے سے ذرا پہلے کارخانے سے باہر نکلا تھا اور کیچڑ سے چپچپاتی گلیوں میں آہستگی سے چلتا فوارے والے چوک تک پہنچا تھا۔ بازار کی دکانیں وقت سے پہلے بند ہو گئی تھیں اور خریداروں کے بجائے راہگیروں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ بھی اسٹینڈ پر تانگے کے انتظار میں کھڑی بھیڑ میں شامل ہوگیا تھا۔ ہجوم کی دھکم پیل کی وجہ سے آنے والا ہر تانگہ فوراً بھر جاتا اور تھوڑی سی دیر میں واپس چلا جاتا۔ تین مرتبہ تانگے پر سوار ہونے کی کوشش میں اسے ناکامی ہوئی تھی۔ چوک سے اس کی رہائش کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ لیکن وہ تھکاوٹ محسوس کر رہاتھا۔ اور اسے مکان پر پہنچنے کی جلدی بھی تھی۔

ایک پرانے اور خستہ حال تانگے کو دیکھ کر لوگ اس پر سوار ہونے سے کترائے اور وہ پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اس میں بیٹھ کر بوندا باندی اور ہوا کے سرد جھونکوں سے بچنا محال تھا۔ اس تانگے کا نو عمر کو چوان آوازے لگا رہاتھا۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس نے اگلی نشست پر اپنے ایک دوست کو بٹھا دیا تھا۔

وہ ٹھٹھرنے اور بھیگ جانے کی پرواہ کیے بغیر تانگے پر سوار ہو گیا تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی تین اور لوگ بھی چڑھ کر بیٹھ گئے تھے۔ اسے کوچوان کے دوست کے پہلو میں جگہ ملی تھی، جو سر سے پاؤں تک برسات میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ بہت کم عمر دکھائی دیتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور جسم صحت مند تھا۔ اس کے سرخ ہونٹوں میں کوئی کشش تھی کہ وہ اسے غورسے دیکھے بنا نہیں رہ سکا تھا۔

تانگے کا مریل گھوڑا سست رفتاری سے بازار کی مرکزی سڑک پر دوڑنے لگا۔ آگے اور پیچھے بیٹھے لوگ، ایک دوسرے سے منہ موڑ کر شام کے دھندلکے میں گم ہوتی اِدھر اُدھر کی معمولی چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اور پانی کی پھوار ان کے چہروں کو چومتی اور سہلاتی رہی۔ خنکی سے بچنے کے لیے وہ خود بخود اپنے جسموں کے اندر ہی اندر سمٹتے رہے۔

اس کے جسم کا دایاں حصّہ کو چوان کے دوست کے بائیں حصے کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ لڑ کھڑا کر اور ڈگمگا کر چلتے تانگے کی وجہ سے ان دونوں کے گھٹنے، کولہے اور کندھے آپس میں رگڑ کھا رہے تھے۔ تھکاوٹ کے سبب سردی اس کے جسم پر غالب آرہی تھی۔ اس کی مندی ہوئی نگاہ سامنے تھی اور دھیرے سے کم ہوتے فاصلے کو ناپ رہی تھی۔

کوچوان اور اس کا دوست آپس میں سرگوشی اور کبھی دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے تھے، مشینوں کے درمیان دن بھر کی مشقت کی وجہ سے وہ تھوڑا سا بہرا ہوگیا تھا اور یوں بھی اس کا دھیان اس قابل نہیں تھا کہ کسی بھی چیز پر دیر تک لٹکا رہ سکے۔ مگر ان دونوں کا کوئی آدھا پورا جملہ خود بخود اس کے کان پڑ جاتا تھا۔

کوچوان دھیرے سے چابک چلاتے ہوئے اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔ “تونے چاچا رحیم کی نوکری چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ سوچ لے۔ وہ شہر کے آدھے تانگوں کا مالک ہے”۔ اس کے لہجے میں پر خلوص تنبیہ تھی اور نصیحت بھی۔

اس کا دوست پہلو بدلنے کے لئے تلملاتے ہوئے بولا۔ “تجھے نہیں پتہ۔ وہ ایک نمبری کنجوس ہے رات دن افیم چرس پیتا رہتا ہے۔ نشے کے بعد وہ بندہ تو رہتا ہی نہیں”۔

“تجھے کیا ؟ وہ جو بھی کرتا رہے”۔

“سارا غصہ سارا زور تو وہ مجھ پر نکالتا تھا”۔ اس نے چپکے سے آنکھوں کے کونوں سے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو دیکھا۔ ان کے جسم اس طرح جھول رہے تھے، جیسے وہ خواب میں چل رہے ہوں۔

“وہ تو بڈھا ہے اس میں زور کہاں”؟ کوچوان نے گھوڑے کو ہشکارتے ہوئے کہا۔

“وہ خبیث بڈھا نہیں ہے ڈنڈا ہے ڈنڈا۔ ابھی تک میرے درد ہو رہا ہے کوئی رات خالی نہیں گزاری۔”

دونوں دوست آپس میں بولتے رہے۔

ایک آدھ جملہ سن کے نجانے کیوں وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ ایک تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے پہلے جھک کر اور بعد میں پہلو بدل کر کوچوان کے دوست کو اچھی طرح دیکھا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنے کندھے اور گھٹنے کو اس کے ساتھ زور سے رگڑا اور اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اپنے آپ اس کی ران کے خوشگوار لمس کی جھیل میں بھٹکنے لگیں۔ چڑھائی اترتے وقت اس نے ہاتھ پھیلا کر نرم گوشت کو دبایا۔ نرمی کو چھوتے ہوئے اس کے اندر کی کھردراہٹ کو چین تو ملا لیکن اس کی بے قراری میں جیسے کھلبلی سی مچ گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد تانگا اس پل کے نزدیک پہنچ گیا، جہاں اسے اترنا تھا۔

اترتے ہوئے اس نے کوچوان کے دوست کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے ایک غصیلی بے بسی دکھائی دی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک بدمعاش مسکراہٹ پھیل گئی جو سڑک پر چلتے ہوئے بدمعاش ہنسی میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے کالے آسمان کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور اپنی تاریک اور گھٹن زدہ رہائش کی طرف اترنے والی غلیظ گلی میں چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرش پر رکھی موم بتی کے اوپر نیچے ہوتے شعلے کی روشنی میں اس کا سایہ کانپتا رہا۔ ایک پتنگا تھوڑی دیر تک شمع کے گرد منڈلایا اور اس کی پھڑ پھڑاہٹ کمرے کی خاموشی میں دوچار لمحے گونجی لیکن پھر وہ شعلے میں راکھ ہوگیا۔ دھیرے دھیرے اس کا رونا مدہم پڑ گیا اور کچھ آنسو گالوں سے پھسل کر اس کی ٹھوڑی سے اس کی جھولی میں گرے اور اس کے بعد اس کی آنکھیں خشک ہو گئیں۔

ہاتھ چہرے سے ہٹا کر وہ ایک مرتبہ پھر بھولے کو غور سے دیکھتا رہا۔ وہ آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے نزدیک لے گیا۔ اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے پہلی بار اسے اپنے دانتوں کے نشان دکھائی دیے۔ نشان، جو گہرے تھے اور جنہیں شمار کرنا ممکن نہیں تھا، جو پیشانی اور آنکھوں کے سوا تمام چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔

موم بتی ہاتھ میں لے کر اس نے گالوں کی سرخی کو دیکھا تو اس کی نگاہ ہونٹوں کی سرخی پر جم کے رہ گئی۔ ابھی تک وہ گیلے تھے اور سوجے ہوئے بھی، وہ ان کی نیم گرم نرمائیت کو انگلیوں کی پوروں میں جمع کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں بھولے کے بغیر بالوں والے سینے پر گھومنے لگیں۔

اس کے جسم کے خفیہ ترین گوشوں میں کوئی شے سرسرانے لگی۔ کوئی مانوس اور گمنام سی شے۔ اس نے موم بتی فرش پر رکھ دی اور لمبے سانس لینے لگا۔ یہ کیفیت اس کے لیے بالکل نئی تھی اور انوکھی بھی۔ اچانک اسے چرس بھرے سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی۔ نادانستہ اس نے داہنی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ اپنی جیب کو غائب پا کر اسے اپنی حماقت پر ہنسی آگئی۔ بھولے کی طرح وہ بھی ننگا تھا۔ اس نے یہاں وہاں نظر پھینکی تو اپنی قمیض کو پلنگ پر پڑے ہوئے دیکھا۔

اس نے قمیض اٹھائی اور اس کے بعد سگریٹ کی ڈبیا نکال کر لپک جھپک میں اس نے چرس کا سگریٹ بنایا۔

پہلا کش لیتے ہی اس کی بند ناک کھل گئی اور ایک بدبو کی بھبک زبردستی اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی۔ اس نے فورًا اٹھ کر کمرے کی اکیلی کھڑکی کھول دی لیکن اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا کہ اگر کسی نے جھانک کر دیکھ لیا تو۔

وہ سہم گیا اور اس نے کھڑے کھڑے ایک دو کش لگانے کے بعد اپنے سر کو سلاخوں کے پاس لے جاکر باہر کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ دیر تک پوری آنکھیں کھول کر کوئی مشتبہ چیز دیکھنے کی کوشش کرتا رہا اور کان لگا کر خطرے کی کوئی آواز ڈھونڈتا رہا۔

کھڑکی کے سامنے کچی اور غلیظ ڈھلان تھی، جس کے نیچے گندا نالہ بہتا تھا۔ دوسری طرف قبرستان تھا۔ اور اس کے ٹنڈمنڈ وحشت ناک درخت، پور امنظر تاریک تھا لیکن اسے سب کچھ نظر آرہا تھا۔ زمین کی چیزوں کو غور سے دیکھنے کے بعد وہ آسمان کو دیکھنے لگا۔ سگریٹ ختم ہوا تو اس نے کھڑکی بند کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جمعرات کی شام تھی اور ابھی تک بونداباندی رُک رُک کر جاری تھی۔

بوندا باندی کی یک رنگی نے اس کی زندگی کو بے مزہ بنا دیا تھا۔ کام سے فراغت کے بعد اپنے تاریک کمرے میں دبک کر بیٹھنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے کمرے میں شام سے بہت پہلے رات اتر آئی تھی اور بہت دیر تک کونوں کھدروںمیں چھپی رہتی تھی۔وہ کارخانے کے جس کمرے میں کام کرتا تھا، وہ بھی کھوہ جیسا تھا۔ اس کا پورا دن ہزار وولٹ کے بلب کی روشنی میں مولڈنگ مشین کے سرخ شعلے کو گھورتے ہوئے گزر جاتا تھا۔ شام کو وہ اپنی آنکھوں میں جلن اور جوڑوں میں دکھن لیے باہر نکلتا تو اسے رات کے رنگ کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک سال ہونے کو آیا تھا، اس کے لیے شہر کی اجنبیت ابھی تک ختم نہ ہو سکی تھی۔ دوستی کے بجائے لوگوں سے اس کے تعلق کی بنیاد صرف ضرورت پر قائم تھی۔ ہوٹل پر کھانے کی ضرورت، مانڈلی پر سگریٹ خریدنے کی ضرورت۔ اس کی ضرورتیں پوری کرنے والے لوگ اس کے لیے غیر اہم تھے۔

اس نے اس شام فوارہ چوک کے بجائے شاہ چن چراغ کے مزار کا رخ کیا تھا۔ وہاں سے مزار زیادہ دوری پر واقع نہیں تھا۔ درمیان میں صرف چند آڑی ترچھی گلیوں کا راستہ تھا۔

گلیاں نیم تاریک اور بھیگی ہوئی تھیں۔ جا بجا کیچڑ اور برساتی پانی کی بہتات تھی۔ مٹی اور سرخ اینٹوں کی سوندھی مہک تمام راستے میں پھیلی تھی۔ آسمان سرمئی اور سیاہ بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی۔ ایک چھوٹے اور تنگ سے ہوٹل میں بیٹھ کر اس نے چائے پیتے ہوئے کیک پیس کھایا اور چلنے لگا۔مزار کی جنوبی دیوار ایک چڑھائی سے شروع ہو کر کشادہ گلی کے نکڑ تک جاتی تھی۔ دیوار پیلی تھی مگر اس وقت سرمئی نظر آرہی تھی۔ وہ دیوار کے ساتھ چلتا مرکزی دروازے تک پہنچا اور اندر داخل ہوا۔ احاطے میں چند بکھری ہوئی روشنیاں تھیں مگر اندھیرے کی کیفیت غالب تھی۔ دا ہنی طرف ذرا اونچائی پر ایک حجرہ بنا ہوا تھا۔

حجرے کے ساتھ خالی زمین پر درخت اور پودے لگے ہوئے تھے۔ بائیں طرف نیچے مزار تھا اور اس کا برآمدہ اور صحن بھی۔ یہ چیزیں سفید سنگِ مرمر کی تھیں، نیم اندھیرے میں بھی سنگِ مر مر کا میلا پن دکھائی دے رہا تھا۔ پورے احاطے میں گلاب کے سوکھے پھولوں اور اگربتیوں کی گاڑھی خوشبو تھی۔ وہاں سوگوار چہروں والے چند لوگ بھی تھے، جو دبے پاؤں چلتے تھے اور سرگوشیاں کرتے تھے۔

وہ برآمدے کے ستون سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا اور شاہ چن چراغ کی قبر کو دیکھتے ہوئے درود شریف پڑھنے لگا۔

اس سے ذرا فاصلے پر ایک نو عمر لڑکا فرش پر گہری نیند میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک اچٹتی نگاہ ڈالنے کے بعد اس نے لڑکے کی طرف دوبارہ نہیں دیکھا۔ لڑکے کا لباس بہت گندا تھا اور سر کے بال آپس میں چپکے ہوئے تھے۔

کچھ لوگ چاولوں کی دیگ اٹھائے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے تو ذرا سی دیر میں پورے احاطے میں لنگر بٹنے کا شور مچ گیا۔

وہ اپنی جگہ پر بیٹھا چپ چاپ بھوکے لوگوں کا تماشا دیکھتا رہا۔

کسی نے اس لڑکے کو بھی جگا دیا تھا۔ وہ اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں مسلتا، جماہی لیتا اٹھ کھڑا ہوا اور بے ترتیب قدم اٹھاتا دیگ کی طرف چلنے لگا۔

نا گاہ اس نے لڑکے کو دیکھا اور فورًا پہچان لیا۔ پھر اس کی نظریں اس کا تعاقب کرنے لگیں۔

مڑے تڑے اخبار کے ٹکٹرے پر گرما گرم چاول سمیٹے وہ لڑکا وہیں آ بیٹھا اور اپنی انگلیوں کے جلنے کی پرواہ کیے بغیر وہ بے صبری سے اپنی غذا کھانے لگا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور پورے جسم میں عجیب سی حرکت۔ چاول ختم ہو گئے تو اس نے پہلے اخبار کے ٹکڑے کو اور بعد میں اپنی انگلیوں کو اچھی طرح چاٹا۔ اسے پانی کی طلب کا بھی احساس نہیں تھا۔

وہ اسے مسلسل تکے جارہا تھا۔

لڑکے نے قمیض سے ہاتھ صاف کئے اور پھر اپنا سر کھجانے لگا۔

وہ اس کے پاس جا بیٹھا۔

لڑکا اپنے آپ میں مگن رہا۔

اس نے سگریٹ سلگایا تو لڑکے نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے لڑکے کو سگریٹ پینے کی پیشکش کی تو اس نے فورًا قبول کر لی۔

وہ ایک لمبا کش لیتے ہوئے لڑکے سے مخاطب ہوا۔ “یہاں کا لنگر مزیدار ہوتا ہے نا”۔

بہت سی دیا سلائیاں ضائع کرنے کے بعد وہ لڑکا سگریٹ سلگانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ وہ اناڑی کی طرح کش لیتے ہوئے بولا۔ “بہت مزیدار۔ میں تین دن سے یہاں پر ہوں صبح، دوپہر، شام لنگر بٹتا ہے میں تو موج اڑاتا ہوں۔ سگریٹ کا دھواں اس کے گلے میں اٹک گیا۔ اپنی کھانسی پر قابو پاکر اس نے کہا۔ تم نے کھایا نہیں؟”

وہ ہنستے ہوئے بولا۔ “آج میری جیب گرم ہے۔ اس لیے میرے پلے جب کچھ نہیں ہوتا ۔ تب یہاں سے کھاتا ہوں”۔

“تو کرتے کیا ہو”؟
“ڈھلائی کے کارخانے کا م، اور تم”؟

“میں کوچوان تھا۔ اب کچھ بھی نہیں ہوں”۔

“تمہارا گھر کہاں ہے ” ؟

“یہ مزار میرا گھر ہے۔ یہیں پر کھاتا ہوں اور سوتا ہوں”۔

“میرے ساتھ چلو گے”؟

کوچوان زور سے ہنسا۔” تمہارے ساتھ چلا گیا۔ پھر تم مجھے نہیں چھوڑو گے”۔ اس کی ہنسی قہقہے میں تبدیل ہو گئی۔

“کیا مطلب”؟

“تم جانتے ہو”۔ اس کی طرف دیکھے بغیر وہ لڑکا اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ اسے پانی کی ٹینکی کے پاس جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھڑکی بند کرنے کے بعد بھی تیز بد بو کی بھبھک زائل نہیں ہو سکی اور وہ چرس کی خوشبو کے ساتھ مل کر کمرے کی فضا میں تیرتی رہی۔ وہ کمرے کے دروازے سے لگ کر کھڑاہوگیا اور جھک کر آڑی تر چھی درزوں سے باہر جھانکنے لگا۔ اسے اندھیرے کی تجرید کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں اور دماغ پر سرا سیمہ کیفیت چھائی تھی۔ جو باہر کی خاموشی میں غیر محسوس آوازوں کا شور سن رہی تھی۔

وہ دبے پاؤں کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اسے وہم تھا کہ چلتے ہو ئے اس کا پاؤں کسی اینٹ سے ٹھوکر کھا کر زخمی ہو جائے گا۔ وہ ہر قدم اٹھا اٹھا کر چلتا رہا۔

موم بتی پگھلتی جارہی تھی اور اس کے ٹمٹماتے شعلے کی روشنی اور مدھم پڑ گئی تھی۔

وہ بھولے کے پاس آ بیٹھا اس نے چرس کا ایک اور سگریٹ بنا کر سلگایا۔

سگریٹ پیتے ہوئے وہ بھولے کے ابھرے ہوئے پیٹ کی طرف دیکھتا رہا۔ ابھی تک اس کا خون بہہ رہا تھا اور فرش پر کچھ گہری لکیریں رینگتی ہوئی دور تک چلی گئی تھیں۔ اس نے اٹھ کر کپڑے سے لکیروں کو صاف کر نے کی کوشش کی وہ مٹ گئیں اور ان کی جگہ ایک دھبہ سا بن گیا اس کے بعد اس نے بڑی مشکل سے آنتوں کو اندر دبا کر وہی کپڑا بھولے کے پیٹ پر باندھ دیا۔ ذرا دیر بعد کپڑے سے بھی خون رسنے لگا۔ پھر وہ دیوار سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔

وہ بھولے کے ساتھ گزارے ہوئے شام کے وقت کو یاد کر کے ہنستا رہا اسے شدید بوسے یاد آئے اور تیز جھٹکے بھی، گالوں پر کاٹنا اور بدن کو نوچنا بھی۔ وہ بھولے کی سسکیوں اور گالیوں کو فراموش نہیں کر سکا تھا۔

اچانک اپنے خون میں عجیب سنسنی خیزی کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی رانوں اور پیٹ کو زور سے کھجاتا رہا۔ اس نے بڑے جتن سے بھولے کا مردہ اٹھایا اور اسے اپنی کھاٹ پر لٹا دیا۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ بھی اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے ہفتے وہ تین مرتبہ مزار پر گیا تھا اور ہر بار کوچوان لڑکے سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس سے دوستی کی کوشش کرتا رہا۔ جس میں اسے کامیابی ہو ئی تھی۔ کوچوان لڑکے کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی چپل چوری ہو گئی تھی۔ کپڑے پھٹنے لگے تھے اور اس کی جیب میں کبھی ایک دھیلا نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت مزار کے کسی کونے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا۔

وہ اسے اپنے ساتھ ہوٹل لے گیا اور اس نے کڑاہی مرغ سے اس کی تواضع کی۔ اگلی بار اس نے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا اور تیسری ملاقات میں اس نے چپل خرید کر اسے لے دی۔اس کے بعد وہ جان بوجھ کر کچھ دنوں کے لیے مزار پر نہیں گیا تھا۔

وہ پانچ روز کے بعد پہنچا تو کوچوان لڑکا اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔برآمد ے کے پاس وہ اس کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ لڑکا آیا تو پہلی نگاہ میں وہ اسے پہچان نہیں سکا۔

کسی حمام میں غسل کے بعد اس کی رنگت نکھر آئی تھی۔ سرخ و سپید چہرہ اور چمکتی آنکھیں۔ بال ترشے۔ وہ بالکل نئے کپڑوں میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ برآمدے سے اٹھ کر خالی زمین پر درختوں اور پودوں کے درمیان جا بیٹھے وہاں روشنی نہیں تھی اور کوئی ان کی باتیں نہیں سن سکتا تھا۔

اپنی فکر مندی چھپاتے ہوئے اس نے پوچھا۔”آج بہت لش پش ہو؟ کیا بات ہے”؟

کوچوان لڑکا شرما کر مسکرایا “تمہارے جیسے یار کی مہربانی ہے”۔

“کتنے یار بنا لیے؟”

ایک وہ اور ایک تم۔”

“اس کے ساتھ باہر چلے گئے میرے ساتھ جاتے ہوئے ڈرتے ہو۔” اس نے دو سگریٹ سلگائے ایک خود پینے لگا اور دوسرا کوچوان لڑکے کو دے دیا۔

“تمہارے ساتھ بھی جاؤں گا۔”

“کب۔”

“جب کہو۔”

“آج ہی چلو۔”

“سو روپے لوں گا وہ بھی ایک بار کے۔”

“اگر دو سو دوں، تو پھر دو مرتبہ؟ ٹھیک ہے ـ”

“نہیں صرف ایک بار سو روپے میں۔”

“جیسے میرے یار کی مرضی، وہ اپنی خوشی ضبط نہیں کر سکا۔”

وہ ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے مزار سے باہر آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بالاآخر وہ نڈھال ہو گیا اور اس کی خواہش بھی مر گئی۔ اس کی پنڈلیوں اور گھٹنوں میں تیز درد ہونے لگا۔ وہ بہت دیر تک اپنی کھاٹ پر گم صم اور بے حس بیٹھا رہا پھر چونکتے ہوئے اٹھا ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہو ئے اس نے اپنے کپڑے ڈھونڈے اور فوراً پہن لیے۔

کمرے میں ٹہل کر وہ لگاتار سگریٹ پینے لگا بڑبڑاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو بے شمار گالیاں دیں۔

وہ غسل خانے میں گھس گیا اور اپنے بدن پر پانی بہاتا رہا باہر نکلا تو اسے وہ بات سجھائی دی بہت دیر سے وہ جس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

اس نے بھولے کے بھاری جسم کو اٹھایا اور اسے غسل خانے میں لے گیا اس نے تمام جگہوں پر چپکا ہوا خون دھو ڈالا پانی کے لوٹے بھولے کے بدن پر بہاتے ہوئے وہ درود شریف اور سورتیں پڑھتا رہا جو اسے ٹوٹی پھوٹی یاد تھیں۔

اس نے کھاٹ کو صاف کیا اور ناپاک بستر کو تہہ کر کے فرش پر رکھ دیا۔

بھولے کو چارپائی پر لٹانے کے بعد اس نے پہلے صندوق اور پھر الماری کو چھان مارا بڑی مشکل سے پاؤڈر کا ڈبہ اور عطر کی شیشی ہاتھ آئی اس نے مردہ جسم پر دونوں چیزیں خالی کر دیں۔

کھڑکی کھول کر وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑا ٹھنڈے سانس لیتا رہا۔

گندے نالے کے پانی کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ قبر ستان کے منظر کی وحشت اور گھمبیرتا میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اس نے پلنگ کے بہت نیچے رکھی ہوئی کدال اٹھائی اور دروازہ کھول کر کمرے سے نکل گیا۔

Categories
فکشن

عبدالغنی جیکسن (نیر مصطفیٰ)

ڈان کے بچے! تمہیں کس نے بتایا مجھے پھٹّے والے ہوٹلوں کی چائے پسند ہے؟ شکل سے تَو میں ٹرک ڈرائیور بالکل نہیں لگتا۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ بکواس مت کر، اِتنابھی سکوٹر نہیں ہوں،ٹھیک ہے میری سکولنگ دیہات کی ہے پر جو پچھلے نو سالوں سے یہاں جھک مار رہا ہوں وہ؟تُوبھی ایک نمبر کا بودم ہے، کہا تَو ہے پیچھے سے بالکل وِرجن ہوں اور ویسے بھی نمبردار کے اکلوتے بیٹے سے کوئی پنگا نہیں لیتا۔ ہا۔ہا۔ نمبردار کو اپنا باپ نہیں بنا رہا، سچ میں ایسا تھا، ویسے تم لاہوری بھی بڑے منحوس لوگ ہویار، اچھے بھلے آدمی کی بلاسٹ کر دیتے ہو، میں تَو صرف کڑک چائے کی بات کر رہا تھا، چل ادھر لاسگریٹ کی ڈبی۔

ہاں تَو میں بتا رہا تھا مجھے پھٹّے والے ہوٹل پسند ہیں پر یہ جو انہوں نے فُل والیوم میں جمن خان چلا رکھا ہے، اِس سے سَڑتی ہے میری ! عشق اب غلطی سے آتش لے بھی آیا تو اِس میں چنگھاڑنے کی کیا بات ہے۔جمن خان تَو چلو پھر بھی ہضم ہوجاتا ہے، سوچ اِس جگہ پر نصیبو لعل یا اللہ دتہ لونے والا ہوتا تَو کتنی کِٹ لگتی۔ ہاں استاد! مجھے بھی یہ گانا بہت بکواس لگتا ہے پر جب بھی کہیں بجتاسن لوں، اُٹھنے کا دل نہیں کرتا۔ غلط جا رہا ہے بھائی! بچی شچی والی کوئی گیم نہیں، بس یونیورسٹی زمانے کا ایک دوست فٹ ہوگیا ہے کہیں۔ بہت بڑی فلم تھا حرامی، اگر تُوچائے کا ایک کپ اور پلائے تَو میں اُس کی کہانی سنا سکتا ہوں، لیکن ایک شرط ہے، تُو بیچ میں کوئی یکّی نہیں کرے گا۔

چل تَوپھر سن، نام تو اُس کا عبدالغنی تھا، پر سارے اُسے جیکسن کہتے تھے، مجھ سے دو کمرے چھوڑ کر اس کا روم تھا،ڈیپارٹمنٹ بھی ہمارے قریب ہی تھے۔ اُلو کا پٹھا! بول پڑا نا درمیان میں، اب مجھے کیا پتا جیکسن ہی کیوں کہتے تھے، چوبیس گھنٹے انگلش گانے سنتا تھا شاید اِس لیے، ایک آدھ فنکشن میں گٹار بھی بجایا تھا مگر برے طریقے سے ہوٹ ہوگیا۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا رول نمبرایک تھا لیکن کبھی اُسے کتاب کھولے نہیں دیکھا۔ ہر بار خشکے اور تھیٹے لوگوں کی ماں بہن ایک کرتے ہی سنا۔ سب لوگ اُسے فل ٹائم سٹڈ سمجھتے تھے۔ او تمہیں سٹڈکا نہیں پتا؟ اُف میرے خدایا ! کتنے جاہل آدمی ہو تم۔ بھائی میرے ! سٹڈ اُس وحشی گھوڑے کو بولتے ہیں جس کا کام صرف اور صرف گھوڑیاں لگانا ہو، البتہ ہماری یونیورسٹی میں یہ ٹائٹل صرف اُن لوگوں کو دیا جاتا تھا جو بچیوں کو بالکل نہ لفٹائیں۔

جیکسن تو خیر اِس معاملے میں بہت ہی عجیب آدمی تھا، نہ صرف خود بچیوں کوڈیش پہ لکھتا تھا بلکہ ہمیں بھی کہتا اِس خود غرض اور مکار مخلوق کی اسٹوریوں سے بچو۔ کیاکہا دیکھنے میں بھیڑا تھا؟ بالکل بھی نہیں گدھے ! چھ فٹ سے بھی کچھ لمبا قد اور پٹھانوں جیسا رنگ، وہ تَو اتنا پپو آدمی تھا کہ ایک اشارہ کرتا اور سینکڑوں لڑکیاں پَٹ جاتیں۔ باقی چھوڑ میری اپنی دو تین کلاس فیلوز لائن مانگتی رہیں پر اُس نے دانہ ہی نہیں ڈالا۔ واہ اُستاد! بڑا کتی کا بچہ ہے، تجھے کیسے پتا چلا آخری بات جھوٹ تھی۔ کیا؟ اُس کے پیچھے والے بھی۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ ٹھیک ہے بابا ! بس گزارے لائق ہی تھا اور رنگ تَو بالکل کالا سیاہ تھا اُس کا، لڑکیاں اُسے چٹّا کہہ کر چھیڑتی تھیں، اُس کے ایک دوست نے بتایا پہلے وہ صرف لتا اور کشور کو سنتا تھا، مگر یونیورسٹی میں آنے کے کچھ ہی دنوں بعد اُس نے اپنی ساری کیسٹوں کو آگ لگا دی۔ اِس کے بعد جیکسن نے صرف کالوں کو سنا، کپڑے بھی اُنہی جیسے پہنتا تھا، یہ کھلی کھلی گھٹنوں تک لمبی ٹی شرٹیں اور منٹگمری سے بھی نیچے آتا ہوا ٹراوزر، گلے میں تین تین چینیں۔

نشے کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا، کچھ بھی پلا دو چڑھتی ہی نہیں تھی۔ ایک بار گردا کیا پی لیا اُس کے ساتھ، میں نے تَوچرس سے ہی توبہ کر لی، البتہ بوتل میں ہم دونوں برابر کا جوڑ تھے۔ بس ایک ہی دفعہ بہکا تھا وہ، پہلے تَو اُس نے اپنی ماں کو بہت گندی گندی گالیاں دیں پر کوئی وجہ نہیں بتائی۔ پھر اپنے مرحوم باپ کو دلیپ کمار کے ڈائیلاگ اور اُستاد نصرت کی قوالیاں سناتا رہا اور گیڈر جیسی آوازیں نکال نکال کے روتا رہا۔ٹائٹ ہو گئی نا لڑکے ؟یہ تَو کچھ بھی نہیں، ابھی آگے سن،پھر دیکھتا ہوں تیرا شاپر ڈبل ہوتا ہے کہ نہیں۔

اُس کے مذہبی عقائد اِتنے عجیب تھے کہ تیری سوچ ہوگی۔زیادہ لوگوں کو نہیں پتا، بس ہم یار دوست ہی جانتے تھے کہ وہ بغیر چاند والی راتوں میں ہسپتال کے بلڈ بینک سے ایکسپائرڈ خون کی بوتلیں لے آتا، پھر اُنہیں اپنے کمرے کی دیواروں پہ چھڑک کے شیطان کی پوجا کرتا، تیز چیخوںوالے گانے بھی ساتھ چلا دیتا۔ شروع میں تَو ہم یہی سمجھتے رہے ٹُن ہو کے ڈرامے کرتا ہے، بعد میں پتا چلا کافی سیریس تھا۔ ہماری تو ایسی چِری تھی کہ ہاتھ میں ہی آگئی۔ ٹھیک ہے لالے! تُو چاہے کافر کہہ لے، پر تھا یاروں کا یار،ا ور ہمارے اپنے عقیدے بھی تَو اُس وقت بس ایسے ہی تھے!جہاں تک میری بات ہے میں نے اُس کا نام جیکسن سے بدل کر شیطان کر دیا تھا مگر وہ ایسی کتی نسل تھا کہ اِسے بھی انجوائے کرتا۔ اُس کے لتا اور کشور والے دوست کا خیال تھاشیطان اور انگلش گانے اُس پر کہیں اکٹھے ہی نازل ہوئے ہیں ورنہ پہلے تَو وہ ضرورت سے بھی زیادہ پکاسچا مسلمان تھا۔ یاریہ چائے کب آئے گی؟ اے چھوٹے! ۔۔۔بات سن!۔۔۔کیا کہا ابھی پانچ منٹ اور؟۔۔۔جاپان سے آرہی ہے کیا؟۔۔۔ پیدل ہے؟۔۔ہاں تَو چکنے ! میں تجھے جیکسن کے بارے میں بتا رہا تھا، کون سی حرامزدگی تھی جو اُس نے نہیں کی، پر جب فرسٹ ائیر کا نتیجہ آیا تَواُس نے پھر ٹاپ کیا تھا۔ ہم سپلی والوں کی تَو بج کے رہ گئی۔

ہاں بھیا! میں تَو بس ایویں ہی تھا مگر وہ سالاجینیئس تھا_____ فل ٹائم جینیئس، اور پرابلم یہی ہے کوئی چیز بھی زیادہ ہو جائے تَو آدمی کو سلفیٹ بنا دیتی ہے،جیسے بہت ہی امیر بندے سے دولت نہیں پچتی، بالکل ویسے ہی زیادہ ذہن والا آدمی ڈیش پہ لٹکا رہتا ہے۔ یہ کائنات بھی بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے میرے دوست! عیاشی سے جینا ہو تَو درمیان والے بن جاو۔ ہا۔ہا۔ہا۔ ابے تالیاں بجا بجا کے مت دکھا جاہل آدمی! درمیان والے کا ایک مطلب میڈیاکر بھی تَو ہے۔ کیا کہا؟ فلسفہ نہیں سننا، کہانی سننی ہے؟ ٹھیک ہے، تَو پھر بیچ بیچ میں بھین پٹکیاں نہ کر ناں۔ جیکسن کو بھی یہی تیرے والی بیماری تھی مگر اُس کو تَو اور بھی بہت ساری بیماریاں تھیں۔ شروع میں اُس کے سٹنٹس پہ بہت حیران ہوتے تھے،پھر آہستہ آہستہ عادت ہوتی گئی، لیکن اِس کے باوجو دایک بات اِتنی عجیب ہوئی کہ میٹر کی گھنٹی کھنچ کے رہ گئی۔ ہم اکٹھے ڈارلنگ کے چکلے پر گئے تھے، واپسی پر جیکسن نے بتایا کہ اُس نے بالکل بھی گیم نہیں ڈالی، بس اپنی بیلٹ اُتار کر پَرا س کو پکڑا دی، پہلے تَو وہ مانی ہی نہیں،پھر اُس نے دو سو روپے زیادہ لے کر قریب قریب پندرہ منٹ تک اُسے مارا، تب جا کے وہ چُھٹا ! اُس نے مجھے قمیض کھول کے نشان بھی دکھائے تھے۔ پاگل؟ نہیں یار! بس تھوڑا اینٹیک قسم کا پیس تھا اور کچھ نہیں۔

ہاں اُستاد! ویسے تَو چِل ہی رہتا تھا، البتہ سیشن کے آخری دنوں میں اُس کی فل ٹائم ٹھک گئی، پتا نہیں اندر ہی اندر کب سے ہریسہ پک رہا تھا، اُس نے کسی کو بتایا ہی نہیں، خیر بتا بھی دیتا تَو ہم کیا کر لیتے، لڑکی کا چکر تھا بھائی۔ اینگل تو پہلے سے ہی کچھ خاص ٹھیک نہیں تھے مگر فیئرویل نائٹ کو وہ ایسا اُلٹا کہ ساری فلم خراب ہو گئی____بالکل خراب۔ ایک سیکنڈ یار! چائے کا سِپ تَو لینے دے، بھاگا تَونہیں جارہا ہوں۔ ہاں، تَو جیسے ہی فیئرویل نائٹ اپنے پِیک پر گئی اور ڈانس پارٹی شروع کرنے کا ٹائم آیا تَواُس نے ہر فنکشن کی طرح اِس بار بھی کمپیوٹر پر اپنی پوزیشن لے لی اور فلم والیوم میں ٹیکنوچلا دیا۔ اِتنا بم گانا تھا استاد کہ سب لوگ مست ہو گئے اور لمبا سا دائرہ بنا کر ناچنے لگے۔ پھر پتا نہیں جیکسن کو کیا ہوا، اُس نے ایک دم ٹیکنو بندکیا اور جمن خان چلا دیا۔ سب کچھ جیسے رُک سا گیا تھا۔ پوری پبلک حیرت سے اُسے ہی دیکھے جارہی تھی۔ جیکسن سٹیج سے اترا اورناک کی سیدھ میں چلتا گیا۔ آخر کار وہ اپنی ایک کلاس فیلو کے بالکل سامنے جا کر فل سٹاپ ہوگیا تھا_____کسی اسٹیچو کی طرح ! پھر جو ہوا وہ ہم سے بہت اوپر کی گیم تھا، شیطان سجدے میں پڑا تھا لالے۔ اونہوں فرنچی نہیں، سجدے کا مطلب سجدہ ہی ہے،وہی جو لوگ خدا کو کرتے ہیں یار! ابے کہاں، لڑکی تَو اُس پر تھوک کے چلی گئی تھی۔بعد میں میری ایک کلاس فیلونے بتایا وہ اوپر والی لیزبین تھی، مجھے تَوخیر بتانے والی پر بھی پورا پورا شک تھا۔ چھوٹے بھائی! ۔۔ہیلو! ۔۔۔ ادھر آو! کتنے پیسے ہو گئے؟____ ہاں استاد! تُو ٹھیک ہی کہتا ہے ایسے کافر کو جینے کا کوئی حق نہیں،کچھ دنوں بعد وہ اپنا ہی بنایا ہوا تیزاب پی کے مر گیا تھا____ نہیں میری جان! آنسو کا اِدھر کیا کام؟ سگریٹ کا دھواں گھس گیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔

Categories
فکشن

رفتار – تالیف حیدر

ناز نے اپنا بستہ درست کیا اس پہ لگی دھول جھاڑی اورلوئر برتھ کے نیچے سے نکال اسے سائیڈ اپر برتھ کی خالی کناری میں گھسیڑ دیا۔ آج بھی اس روٹ(Route) پر آنا اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ اس کے بوڑھے ماں، باپ اپنےگاوں کو خیر باد کہنے پر راضی نہ ہوئے تھےاور شہر کی زندگی جس میں ناز کو لطف کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اس کے ماں، باپ کو وحشت ہوتی تھی،یہی وجہ ہے کہ ناز سال،چھ مہینے میں اپنے والدین سے اس وقت اپنے چھوٹے بھائی کی نیم شہری علاقے میں واقع رہائش گاہ پر جاکر مل لیا کرتا تھا جب وہ اپنے منجھلے بیٹے کی محبت میں گاوں سے وہاں تک کھنچے چلے جاتے تھے۔ اس کااپنے آبائی مکان تک جانے کا اتفاق کم ہوتا تھا۔ اس مرتبہ بابا کی طبیعت خراب تھی اور ناز کے بھائی،بہن بھی ان سے ملنے گاوں پہنچے ہوئے تھے۔ باعث مجبوری اسے بھی گاوں کا سفر کرنا پڑا۔

ناز اپنے شہر سے گاوں جانے کے لیے سوائے ٹرین کسی اور ذریعے کا استعمال نہیں کر سکتا تھا، کیوں کہ ا س کا آبائی مکان جس گاوں میں تھا وہاں تک پہنچنے کے لیے “چھوٹی لائن “پہ چلنے والی ٹرین سے سفر کرنا ہوتا تھا۔ راستے کچے تھے اور گاڑی سے اس گاوں میں اکا دکا لوگ ہی آیا کرتے تھے۔ جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی زمین کا سینہ گاڑی کے پہیوں کو اتنا اچھالتا کہ اندر بیٹھے لوگوں کا کلیجہ منہ کو آجاتا۔ یوں بھی شہر سےآنے والے ان لوگوں کو جو ٹرین کے بجائے گاڑی کو ترجیح دیتے،گاوں کے لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، اول تو گاوں والے اس کے عادی نہیں تھے، دوسرے انہیں اس طرح کے مہمانوں سے خوف آتا تھا۔ ناز گاوں والوں کی ان نفسیاتی الجھنوں سے واقف تھا کیوں کہ وہ بھی ایک عرصے تک انہیں کے درمیان رہا تھا۔

جس ٹرین سے ناز سفر کر رہا تھا اس میں پریشانی یہ تھی کہ ریزرویشن کی سہولت برائے نام تھی، ہر ڈبہ،فرسٹ کلاس ہو یا سکینڈ کلاس ایک طرح کے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کس کے پاس ٹکٹ ہے اور کس کے پاس نہیں اس کا تصور کر پانا مشکل تھا، جب گاڑی چمن گنج سے ہوتی ہوئی بھدریہ آتی تو گاڑی میں سفید جلیبی نما پگڑی باندھے، مٹ میلے کرتے اور دھوتی میں ملبوس لوگوں کا اتنا اضافہ ہو جاتا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی۔ ناز کا گاوں بھدریہ سے چھ گھنٹے کی دوری پہ تھا۔ وہ شہر سے فرسٹ کلاس،رزرویشن کروا کر چلا تھا مگر اس کا ڈبہ تھرڈ ڈویژن بن چکا تھا۔ اسےہر طرف سر ہی سر دکھائی دے رہے تھے، جس نے اسے الجھن میں ڈال دیا تھا۔وہ جلد گھبرا جانے والا کمزور ارادہ شخص تھا۔ مجبوری نہ ہوتی تو وہ اس طرح سفر نہ کرتا۔ باربار اسےخیال آتا کہ اپنے ارد گرد جمع بھیڑ کو ڈانٹ کر دور بھگا دے اور ریزر وسیٹ پہ لیٹ جائے۔ وہ جانتا تھا کہ جس طرح اس نے اپنے سفر کے چھے گھنٹے حبس زدہ ماحول میں گزارے ہیں مزید چھے گھنٹے اسی ماحول میں گزارنا ہیں۔ کسی کسی لمحے میں یہ خیال اسے چڑ چڑا بنا دیتا۔ وہ اپنی سیٹ پر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے ماتھے پر ابھرنے والی لکیروں کو ہلکے ہلکے دبا رہا تھا۔ ایک ٹانگ ٹرین کے فرش پر تھی اور دوسری تنگ دستی کے باعث پہلی پر موڑ کر رکھنا پڑی تھی۔ ٹرین جب جب ذرا دھیمی ہوتی تو وہ آنکھیں کھول کر اپنے اطراف کا جائزہ لیتا۔ کچھ میلی کچیلی گردنیں، جن کے گرد سفید کالر کا سیاہی مائل حلقہ اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہوتا۔ ابھرے ہوئے پیٹ کی بٹیاں نکالی ہوئی پرانی رنگ برنگی ساڑیوں میں ملبوس عورتیں جن کے چہروں سے مصیبت اور پریشانی کا اندازہ لگا یا جا سکتا تھا۔ جگہ جگہ دو،دو، تین تین برس کے بچے جن میں سے کچھ بھیڑ کی حرکتوں کو حیرانی سے تکتے ہوئے اور کچھ چیخ مار کر روتے ہوئے۔ وہ اپنے اطراف سے بری طرح اکتایا ہوا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ گاڑی کی رفتار کم ہو رہی ہے، اس نے بھیڑ کے درمیانی خلا سے ٹرین کی کھڑکی کے باہر نظر ڈالی، چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے، دور کہیں چھوٹی چھوٹی دو ایک پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں، دھوپ بہت تیز تھی جس کی شدت کھڑکی کے قریب بیٹھے دو چار بوڑھے محسوس کر رہے تھے۔ گاڑی دھیمی ہوتے ہوتے رک گئی۔ ناز تھوڑی دیر تک اسی حالت میں بیٹھا گاڑی کے چلنے کا انتظار کرتا رہا، مگر جب اسے اس حبس زدہ ماحول میں سانس لینا بھی مشکل معلوم ہونے لگا تو اس نے اپنا بستہ اوپر والی سیٹ کی جھری سے کھینچا اسے اپنی نشست پہ رکھا اور اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے شخص سے یہ کہتا ہوا کہ وہ ابھی واپس آ رہا ہے وہاں سے دروازے کی طرف چلا گیا۔ دروازے تک پہنچنے میں اسے خاصی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جگہ جگہ لوگوں سے ٹکراتا ہوا کسی کو دھکا دیتا اور کسی سے معذرت کر کے جگہ طلب کرتا ہوا جب دروازے تک پہنچا تو ہوا کا ایک جھکڑ اس کے چہرے سےٹکرایا۔اس بے وقت کی تازہ ہوا نے اس کے پورے بدن میں ایک خوشگوار لہر دوڑا دی۔ناز نے دو ایک لوگوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ بنا کر وہیں کھڑے رہنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ دیر میں گاڑی دھیمی رفتار سے چلنے لگی اور دھوپ کی شدت میں قدر ےکمی محسوس ہونے لگی۔ عین ممکن ہے دھوپ کی شدت کو گاڑی کی بڑھتی رفتار نے کم کر دیا ہو۔ دھوپ کی تمازت کو کم کرنے میں بادلوں کے وہ دو چار ٹکڑے بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے جو آسمان کی تھالی میں کہیں کہیں روئی کے بکھرے ہوئے گچھوں کی مانند پڑے تھے۔ گاڑی کی رفتار دھیرے دھیرے بڑھتی چلی گئی۔ نا ز ٹرین کے دروازے پراس طرح کھڑا تھا کہ اس کے ایک پاوں کی صرف ایڑی ٹرین کے باہری دروازے کی پائیری پر رکھی ہوئی تھی اورپنجہ ہوا میں تھا۔ وہ کبھی باہر کی بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھتا اور کبھی آسمان میں بکھرے بادل کے گچھوں کو۔ اس کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے کھیت کھلیان اسےدھوپ کے باعث بیزار کن معلوم ہورہےتھے جب کہیں کوئی گائے، بکری یا کتوں کا جھنڈ نظر آتا تو وہ اسے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا۔وہ سامنے آتے اور آن واحد میں تیزی سے پیچھے کی طرف چلے جاتے، ناز اپنی گردن گھما کر اس وقت تک ان کا تعاقب کرتا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔ منظروں کی قلت اسے جانداروں کے دیدار میں سکون بخش رہی تھی۔اچانک اسے ایسا محسوس ہوا کہ گاڑی ایک زور دار جھٹکے سے تھرا اٹھی ہے۔ ایک لہر جو اس کے اریب قریب کے لوگوں نے بھی محسوس کی تھی، سب کے منہ سے بیک وقت ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی۔ اب سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں چہ مگویاں شروع ہو گئیں۔ ناز بھی حیران تھا۔ اگر اس نے ٹرین کے ہتھے کو مضبوطی سے نہ تھاما ہوتا تو شائد وہ باہر لڑھک جاتا۔ اس نے اپنے برابر والے شخص کو دیکھا جو حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ “یہ کیا تھا؟”ناز نے استفسار کیا۔”شائد کوئی جانور ٹکرا گیا ہے۔ ایسا اس لائن پہ اکثر ہوتا ہے۔” ناز نے سو چا کہ اگر کوئی جانورٹکراتا تو بھی کیا اتنی زور کا جھٹکا محسوس ہوتا۔ اس نے فوراً اپنی دوسری ٹانگ اندر لے لی اور دروازے کی طرف پیٹھ کر کے اپنے سرہانے موجود آہنی ڈنڈے کو مضبوطی سے تھام کر کھڑا ہو گیا۔ “مجھے نہیں لگتا، شائد زمین ہلی ہے۔” اس نے اپنے مخاطب سے کہا۔ “نہیں بھائی، یہ کوئی بڑا جانور ہی تھا۔”قریب کھڑے لوگوں نے بھی اس کی بات کی تائید کرنا شروع کر دی۔ ناز نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ہوا میں کسی چیز کے جلنے کی چراند شامل ہو گئی ہے۔ اس نے اپنے نتھنے اپنی جیب میں پڑے رومال کو نکال کر اس سے ڈھک لیے۔ اس کا جی متلا رہا تھا۔ “یہ اسی جانور کے خون کی مہک ہے بابو “اس کے برابر میں کھڑے ایک بوڑھے آدمی نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا۔ “ایسا یہاں ہوتا رہتا ہے۔ڈرائیور صاحب بھی کیا کریں گے۔ گاڑی تیز ہوتی ہے اور یہ سسری گائے بھینس بیچ ٹریک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ لاکھ ہارن دو نہیں سنتی اور گاڑی کی اسپیڈ ان کی وجہ سے بار بار کم کرتے رہے تو ایک دن کا سفر چار دن میں پورا ہوگا۔ “ناز اس بوڑھے شخص کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ گاوں میں انسان اور جانور دونوں کے متعلق اسی طرح سوچا جاتا ہے۔ اگر کوئی گاوں والا بھی اس ٹریک کے درمیان اپنی دھوتی پٹری میں اٹک جانے کی وجہ سے کھڑا ہوتا تو بھی ڈرائور صاحب گاڑی نہیں روکتے۔ اس نے گاوں کو ہمیشہ سے ایسا ہی پایا تھا، جہاں جان کی قیمت شہر کے مقابلے میں خاصی کم تھی۔ اسے یاد آیا کہ جب کبھی وہ بچپن میں اپنے آٹھ،دس دوستوں کے ساتھ املی یا آم کے پیڑ پر چڑھا کرتا اور پیر پھسلنے کی وجہ سے گر جاتا تھا تو اس کے تمام دوست صرف اس پر ہنستے تھے کوئی اسے اٹھانے یا اس کی مدد کرنے آگے نہیں آتا تھا۔ ایک دفع تو” بدھ پورہ” کا ایک لڑکا اسی کے سامنے پیڑ سے گر کر مر بھی کیا تھا اور تمام دوست صرف ہنستے ہی رہے تھے۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ مر چکا ہے تو اسے چھوڑ کروہاں سے بھاگ گئے۔بعد میں باغبان نے اس کی موت کی خبر گاوں والوں اور اس کے گھر والوں تک پہنچائی تھی۔

ناز یہ تمام باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ ٹرین کی ایک زور دار سیٹی نے اس کے تخیل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گاڑی کی رفتار ایک مرتبہ پھر سے کم ہو رہی تھی۔ اس نے ٹرین کے باہر جھانک کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی اسٹیشن آنے والا ہے۔ جگہ جگہ لوہے کی پچاس پچاس فٹ لمبی پٹریاں بے ترتیبی سے پڑی تھیں۔ کہیں کچھ اینٹوں کا ڈھیر نظر آ رہا تھا اور کہیں کہیں بالوں، مٹی اور بجری کے تودے دکھائی دے رہے تھے۔بجلی کے کھمبے اب دروازے سے کچھ قریب آگئے تھے۔ اس کے پیچھے سے کچھ لوگوں نے اپنا سامان اٹھا کر دروازے کی طرف آنا شروع کر دیا تھا۔ ناز اور اس کے برابر میں کھڑے شخص نے اندر سے دروازے کی طرف آتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو کچھ کھسکنے کی کوشش کی۔ ناز کو لگا کہ اس وقت اس ریلے کو پار کر کے اپنی جگہ تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا اس لیے وہ اپنی جگہ کھڑا رہا اس کے برابر والا شخص مشقت کرتا ہوا ریلے کے درمیان کہیں گم ہو گیا تھا۔ ناز نے سوچا میں اگلے اسٹیشن پہ اتر کے اس ریلے کو باہر نکال دوں گا اور دوبارہ سوار ہو جاوں گا۔ اس خیال نے اسے مطمئن کر دیا تھا۔ بھیڑ دروازے تک آچکی تھی۔ دو ایک لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ اترے گا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ گاڑی کی رفتار اب خاصی کم ہو چکی تھی۔ ناز اپنا چہرہ باہر نکال کر آتے ہوئے اسٹیشن کو دور سے دیکھ سکتا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اسٹیشن پر خاصی بھیڑ ہے۔ یہ اندازہ کر پانا مشکل تھا کہ کتنے لوگ گاڑی میں موجود لوگوں کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں اور کتنے اسی گاڑی میں چڑھنے کے لیے۔ اس نے سوچا کہ اس چھوٹے سے گاوں میں بھی کتنے زیادہ لوگ رہتے ہیں کہ ایک ٹرین کے آنے پر اتنی تعداد اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہے۔ناز کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اسٹیشن پہ موجود لوگ ٹرین میں سوار ہونے ہی آئے ہیں اور اس نے وقت پر پیچھے نہ جا کر غلطی کی ہے، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے بھی اب خاصی تعداد اترنے والوں کی تھی اور وہ اس بات کا اعتراف بھی کر چکا تھا کہ اسے بھی آنے والے اسٹیشن پہ اترنا ہے۔ گاڑی اسٹیشن پہ پہنچی تو اترنے اور چڑھنے والوں میں ایک ہنگامی لہر دوڑ گئی۔ سب اتنی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے لگے کہ ناز کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کے پیچھے والے اسے دھکیل کر آگے آنے کی کوشش کر نے لگے۔ دو ایک ہلکی چلتی ہوئی ٹرین سے ہی کود گئے۔ کچھ چلتی ہوئی ٹرین کے آہنی ڈنڈوں سے بھاگ بھاگ کر لٹکنے لگے۔ ابھی گاڑی رکی بھی نہ تھی کہ ایک جم غفیر دونوں طرف سے ٹوٹ پڑا۔ چڑھنے اور اترنے والے دونوں ایک دوسرے میں گندھ گئے۔ناز ان دونوں کے درمیان بری طرح پھنس گیا تھا۔ جب گاڑی پوری طرح رکی۔ ایک ایک دو دو لوگ طاقت لگا کر اترنے لگے۔ ناز نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ کسی طرح اتر جائے۔ اس نے اپنے آس پاس والوں کو اپنی پوری طاقت سے دھکیلا۔ کسی پر چلایا، کسی کے کوہنی گڑائی اور نہایت محنت و مشقت کا سامنا کرتے ہوئے اس بھیڑ سے خود کو باہر نکالا۔

دو منٹ تو اس بھیڑ سے الگ ہٹ کر ایک کونے میں گیا اور اپنی سانس درست کی۔ اور اگلے ہی لمحے میں دروازے کی طرف نگاہ کی تو اس کی روح کانپ گئی۔ دروازے پر لٹکے ہوئے لوگ اس طرح باہر کی طرف گرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے جیسے کسی نے زبر دستی انہیں ٹرین کے ڈبوں میں ٹھونس دیا ہو۔ دروازوں پر، چھتوں پر، کھڑکیوں پر ہر طرف صرف آدمی ہی آدمی نظر آرہا تھا۔ ناز کو فوراً اپنی حماقت کا احسا س ہوا کہ اس نے اپنی نشست سے اٹھ کر دروازے پہ آ کے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ وہ حیران اور پریشان تھا کہ اب کس طرح دوبارہ اپنے ڈبے میں سوار ہو۔ پھر فوراً اسے اپنے بستے کا خیال آیا کہ یقیناً اس جگہ پہ بھی اب تک کوئی نہ کوئی بیٹھ چکا ہوگا اور اللہ جانے اس کے بیگ کا کیا بنا ہوگا۔

ناز کچھ دیر اسی حالت میں کھڑا رہا، پھر اس نے کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو جائے وہ اس ڈبے میں سوار ہو کر رہے گا۔ اس کا گھر پہنچنا ضروری تھا اور وہ اس طرح اپنے سامان کا بستہ ٹرین میں چھوڑ کر کسی انجان جگہ تو نہیں رک سکتا تھا اور اگر رک بھی جاتا تو یہاں سے نکلنے کا یہ ہی ایک طریقہ تھا کہ اگلی ٹرین آئے اور اس میں سوار ہو کر اپنے گاوں جائے اور یقیناً اگلی ٹرین کا بھی یہ ہی عالم ہو گا۔ اول تو اس اسٹیشن پہ ٹرنیں ہی بہت دیر دیر میں آیا کرتی تھیں، پھر بہت کم ٹرینیں تھیں جو یہاں رکتی بھی تھیں۔وہ انہیں سب باتوں پہ غور کرتا ہوا اپنی جگہ سے آگے بڑا اور مشقت کرنے لگا کہ کہیں کسی تھوڑی سی جگہ پہ صرف پیر ٹکانے بھر کا آسرا ہو جائے تو وہ اپنے گاوں تک کاسفر اسی طرح طے کر لےگا۔ لیکن اس کی ہزار کوششوں کے باوجود اسے رائی برابر جگہ نہ ملی۔ ناز نے اپنے ڈبے کے اگلے اور پچھلے ڈبوں میں کونے کھدرے تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہاں بھی ناکامی ہاتھ آئی۔ وہ چھت پہ چڑھنے میں بھی ناکام رہا تھا کیوں کہ چھت کے ہر اس مقام پر جہاں لوگ سوار ہو سکتے تھے سوار تھے، حتی کہ ڈبوں کے درمیان موجود آہنی ستونوں پر بھی دس دس، پندرہ پندرہ لوگ جمے ہوئے تھے۔ ناز کی کئی مرتبہ کی کوششوں کے باوجود بھی جب اسے کامیابی نہ ملی تو وہ ایک اور بار نا امید نظر آنے لگا۔ اسی دوران ٹرین نے روانگی کی صدا بلند کی اور ناز کے دل کی دھڑ کن بڑھنے لگی۔ اس کے ذہن میں برے برے خیالات آنے لگے۔ اب میرا کیا ہوگا؟ میں گھر کیسے پہنچوں گا؟ یہاں کہاں رکوں گا؟ کب تک رکنا ہوگا؟ یہ ٹرین چھٹ گئی تو اگلی ٹرین جانے کب تک آئے گی؟ اسے کئی طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ٹرین نے جوں ہی دوسری سیٹی بجائی کہ اسی کے ساتھ اس میں حرکت بھی پیدا ہو گئی۔ اب ٹرین دھیمی رفتار سے پلیٹ فارم سے آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ناز کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں وہ کچھ دیر تو اپنے ڈبے کے ساتھ چلا پھر، کچھ سوچ کر اپنے ڈبے کی اس کھڑکی کے پاس دوڑا جہاں سے اس نے باہر جھانک کر بھاگتے کھیتوں اور پہاڑیوں کا منظر دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں سوار نہیں ہو سکتا تو کسی سے کہہ کر اپنا بستہ کھڑکی سے باہر پھنکوا لوں۔ اس افرا تفری میں وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ لوہے کی سلاخوں سے بستہ کسی صورت باہر نہیں آ سکتا۔ مگر جوں ہی وہ کھڑکی کے قریب پہنچا اسے یہ راہ بھی تاریک دکھائی دینے لگی۔ کیوں کہ کھڑکی سے ڈبے کے اندر کا منظر نہایت وحشت ناک تھا۔ صرف کچھ عورتوں اور مردوں کی کمر کے گرد کا علاقہ کھڑکی سے نظر آ رہا تھا۔ کچھ دیر قبل جو دو چار بوڑھے اس کی کھڑکی سے لگے بیٹھے تھے اب وہ بھی ندارت تھے اور ان کی جگہ سات، آٹھ لوگ بہت مشکل سے کھڑکی کے قریب والی سیٹ پر ٹھنسے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ٹرین کی رفتارمیں اب مزید اضافہ ہو گیا تھا، ناز کچھ دور تک اپنے ڈبے کے تعاقب میں دوڑتا رہا پھر اس سے پیچھے ہو گیا۔ پھر مزید پیچھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بالکل آخری ڈبے کے قریب آ گیا۔ ٹرین اب اس رفتار سے چلنے لگی تھی کہ ناز پوری طرح مایوس ہو گیا تھا کہ اچانک اسے آخری ڈبے کے پاس اپنے لیے پاوں ٹکانے کی ایک جگہ نظر آ گئی۔ جوں ہی اس کی نگاہ اس پائدان پر پڑی اس کے بدن میں برق سی دوڑ گئی۔ اس نے نا قابل بیان تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوڑ لگا دی اور آخری ڈبے سے ملحق آہنی ڈنڈے کو تھام کر اس پائدان پر اپنا ایک پیر ٹکا دیا۔ ناز کا پیر ٹکتے ہی ٹرین اپنی مکمل رفتار پر آ گئی۔ اگر اسے ذرا بھی دیر ہوتی تو وہ کسی طرح اس پائدان تک نہیں پہنچ پاتا۔ ناز اب اس آہنی ڈنڈے کو پکڑ کے ایک پیر ٹرین کے پائدان پہ ٹکائے ہوا میں جھول رہا تھا۔ دوڑنے کی وجہ سے اس کا سارا بدن پسینے سے شرابور ہو گیا تھا۔ اس کی سانس تیزی سے چل رہی تھی اور ان کے چہرے پر تھکن کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہے۔ اس کی خوشی کا اظہار اس مسکراہٹ سے بھی ہورہا تھا جو اس کے تھکے ہوئے چہرے پر رہ رہ کر چھا رہی تھی۔ اس بھاگم دوڑی میں کچھ دیر کے لیے ناز سب کچھ بھول گیا تھا کہ وہ کیوں دوڑ رہا ہے، کتنا دوڑ رہا ہے اور اس دوڑنے کا حاصل کیا ہے۔ وہ تو بس دوڑ کر اس پائدان پر اپنا پاوں جمانا چاہتا تھا، جس میں اسے کامیابی نصیب ہوئی تھی اور اس کی پھولتی سانسیں پسینے میں بھیگاہوا سے تروتازہ ہوتا بدن اس بات کا جشن منا رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ تقریباً پندہ سے بیس منٹ ناز کی یہی کیفیت رہی کہ وہ رہ رہ کر خوش ہوتا رہتا۔ مگر جیسے جیسے وہ اس کیفیت سے باہر آ رہا تھا اسے ایک نئی مصیبت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب گاڑی اگلے چھ گھنٹوں تک چلتی رہے گی یا کہیں رکے گی بھی اسے اس عالم میں ایک ہاتھ سے آہنی ڈنڈا تھامے ایک پاوں ہوامیں لٹکائے کب تک جھولتے رہنا تھا۔ اس خیال نے اسے اندر تک لرزا دیا۔ اس کے آس پاس اور بھی کئی لوگ تھے جو اسی طرح جھول رہے تھے مگر ناز کے مقابلے میں وہ تجربے کار معلوم ہوتے تھے۔ ناز نے ایک بار بغور اپنے اطراف کا جائزہ لیا اس کے آگے فوجی کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان لڑکا تھا جس کی عمر تقریباً بیس یا اکیس برس کی تھی۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کےساتھ زور زور سے کچھ گا رہا تھا۔ ان میں وقتاً فوقتاً کوئی مذاق ہوتا اور سب ایک ساتھ ٹھھٹے مار کر ہنستے۔ ناز نے کافی دیر تک اسی کشمکش میں رہنے کے بعد اس نوجوان سے تقریباً چیخ کر پوچھا کہ گاڑی اب کہاں رکے گی۔ فوجی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔” بھیم پورہ” یہ سنتے ہی ناز کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ کیوں کہ یہ خود اس کے اپنے گاوں کا نام تھا۔ اس نے دوبارہ ہمت جٹا کر پوچھا ” کیا اس سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔” لڑکے نے اپنے علاقائی لہجے میں کہا”کہ اگر رکنا چاہے گی تو رک جائے گی، البتہ اگلا اسٹوپ تو و ہی ہے۔ ”

یہ سننا تھا کہ ناز کی الجھن انتہا تک پہنچ گئی۔ وہ اب اپنی ٹرین پکڑنے کی خوشی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دانت مضبوطی سے بھنچے ہوئے تھے اور اس کا بدن ایک انجان غصے میں کانپ رہا تھا۔ اس نے خود پر لاکھ لعنت، ملامت کی، اس سفر کو ہزاروں صلواتیں سنائیں اور گاوں کی ولدیت پہلے وضع کی پھر اس میں کئی مرتبہ ترمیم کی۔ اسے خو د پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر ایسا کیا تھا کہ وہ ٹرین چھوڑ نہیں سکتا تھا، وہ اپنے گذشتہ فیصلے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ خود کی حماقتوں کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا۔ اسے شدت سے محسوس ہوا کہ اپنی نشت سے اٹھ کر اس نے بہت بڑی غلطی کی تھی، مگر اب ان تمام باتوں سے کیا ہو سکتا تھا، اس کو اسی طرح لٹکا رہنا تھا، اسی طرح جھولتے ہوئے چھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنا تھی، اس کا یہ ارادہ کہ اب کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا خاندان والا خواہ مر بھی کیوں نہ جائے وہ اس گاوں کا سفر کبھی نہیں کرے گا۔ لیکن اس سے بھی اس کی تکلیف میں کمی پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ اپنے مزاج سے واقف تھا کہ اسے کتنی دیر تک اپنی حماقتوں پر غصہ آتا رہے گا۔ ساتھ ہی بدن کو مشقت میں ڈالنا بھی اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ چھ گھنٹے تک آدھے بدن کے ساتھ ہوا میں جھولتے رہنےکا خیال ہی اسے پریشان کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ناز اسی عالم میں گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔ جوں جوں ٹرین کسی موڑ پر جھٹکا کھاتی یا پٹری بدل کر ہلکا سا لڑ کھڑاتی تو اسے محسوس ہوتا کہ اس کی جان پورے بدن سے کھنچ کر گلے میں آ گئی ہے۔ وہ ایک طرح کی سرد لہر ایسے موقعوں پر اپنے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس کرتا۔ پھر جب ٹرین دوبارہ اعتدال سے چلنے لگتی تو اسے اپنی غلطیوں کا احساس ستانے لگتا۔ سورج کی تپن اب کچھ کم ہونے لگی تھی اور اس کی جگہ سایہ لے رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو یوں لگا جیسے آسمان اس کی حماقتوں پر قہقہے لگا رہا ہے۔ ناز کے باطنی حالات اس دورانیے میں خاصی پیچیدہ کیفیات سے دو چار ہو رہے تھے۔ جس میں نفرت کا جذبہ واضح طور پر اس کے دل پر چھا رہا تھا۔ وہ جب غور کرتا کہ اس نے اپنے والدین سے کئی مرتبہ کہا کہ وہ گاوں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں اور اس کے ساتھ شہر میں رہیں، جہاں ان کے لیے ہر طرح کی سہولیات مہیا تھیں،مگر اس معاملے میں انہوں نے اس کی ایک نہ سنی،تو اس کا غصہ مزید بڑھ جاتا،وہ ماں، باپ کو جاہل اور دیہاتی تصور کرنے لگتا، جو ایک ایسے کھونٹے سے بندھے رہنے کو سب کچھ سمجھتے تھے جہاں زندگی کی معمولی سے معمولی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں۔ اسے اپنے بھائی، بہن پر بھی غصہ آ رہا تھا جنہوں نے اجتماعی طور پر اسے گاوں آنے کی دعوت دی تھی۔ جب جب ناز کو ایسا لگتا کہ اس کا پاوں ہوا کے تیز جھونکے سے پائدان پر سے کھسک جائے گا تو اس کے تمام احساسات ہوا ہو جاتے اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ اس درمیان میں اس نے اپنے سے آگے لٹکے ہوئے لوگوں سے کئی بار منتیں مانگ مانگ کر گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ اندر کھسک جانے کی التجائیں بھی کی تھیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ دو ایک مرتبہ جب اس نے رو دینے والے انداز میں اس فوجی لباس میں ملبوس نوجوان سے استدعاکی تھی تو اس نے پلٹ کے ہنستے ہوئے کھرا سا جواب دے دیا تھا کہ” لٹکا رہنا ہے تو رہ نہیں تو کود جا۔” پھر اپنی علاقائی زبان میں اپنے تمام دوستوں سے کچھ کہا جس پر سب ایک ساتھ روز سے ہنسے۔

ناز کو تھوڑی تھوڑی دیر میں گھبراہٹ کے باعث اپنی انگلیوں میں پسینے کی بوندوں کے ابھرنے کا خدشہ بھی محسوس ہوتا تھا۔ وہ خود پر قابو پانے کے لیے اپنے ہوا میں جھولتے ہوئے ہاتھ کو با ر بار اپنے چہرے پر پھیرتا، بدن کو اکڑا کر ہاتھ کی گرفت میں مضبوطی پیدا کرنے کی سعی کرتا اورپاوں گا اگلا حصہ جو پائدان پر ٹکا ہوا تھااس کو ہلکی ہلکی جنبش سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا۔ وہ اس وقت جس حال میں تھا اسے اپنے بدن کی گردش اور قوت کی سلامتی پر بھر پور توجہ صرف کرنی پڑ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی ذرا سی غفلت اسے موت کے اندھے غار میں کہیں گم کردے گی۔ انہیں حرکتوں کے درمیان جب اسے لمحے بھر کا سکون ملتا یا ڈر کی کیفیت پر ذہن جوں ہی قابو پاتا تووہ اپنی زندگی سے متعلق لوگوں کے بارے میں سوچنے لگتا کہ اگر اس کی ہمت جواب دے گئی، اگر اس کا ہاتھ چھٹ گیا تو اس کے خاندان اور گھر بار کے تمام لوگ کیسا محسوس کریں گے۔ کیا اس کی موت سے اس کے والدین اور بھائی بہن کو صدمہ پہنچے گا؟ کیا اسے اجتماعی طور پر گاوں بلوانے کی تجویز پر سب کف افسوس ملیں گے؟ کیا وہ شدت غم سے خود اسی کی طرح موت کے اندھیروں میں کہیں کھو جائیں گے؟پھر جوں ہی خیالات کے بھنور پر ہوا کا ایک تیز چھپکا پڑتا تو سارے تصورات رخصت ہو جاتے وہ پھر ہاتھ کی گرفت اور پاوں کو آگے کھسکانے کے متعلق غور کرنے لگتا۔ ناز اس دورنیے میں اپنا بدن آخری حد اکڑائے ہوئے تھا جس کی وجہ سے اس کی پسلیوں میں ہلکا سا درد سرایت کرنے لگا تھا۔ پٹھے آہستہ آہستہ اکڑ رہے تھے، جب اس کا ذہن بدن میں درد کے گھروندے تعمیر کرتی ہوئی لہر پر جاتا تو وہ زور سے چیختا جس پر اس آگے لٹکے ہوئے نوجوان بھی یک زبان ہو کر اس کی صدا کا ساتھ دیتے پھر اجتماعی طور پر ہنستے اور ناز بیچارگی کے عالم میں ان کی ہنسی کی صدا پر دل ہی دل میں روہانسا ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اس چیخنے کے عمل سے اسے نہ جانے کیسے ایک انجانی طاقت حاصل ہو تی، وہ چیخنے سے پہلے اور اس کے بعد کی توانائی میں خاصافرق محسوس کرتا۔ اسے لگتا جیسے چیخ کر اس نے اپنے بدن پر رینگتے ہوئے کمزوری کے کیڑوں کو اس طرح جھاڑ دیا ہے جیسے کوئی بھیڑ،بکری یا کتا اپنے بدن سے لپٹی گندگی کو خود سے دور کر دیتا ہے۔

وہ اسی عالم میں اپنی نفسیاتی الجھنوں سے جوجھتے ہوئے اور اپنی گرفت کو مضبوطی سے برقرار رکھے ہوئے تقریباً ایک گھنٹے تک لٹکا رہا۔ اس دوران ٹرین مستقل ہوا سے باتیں کرتی رہی، کبھی ندی، تالاب اور جھیل کے اوپر سے گزرتی، کبھی دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں میں ترچھی،بانکی ہو کر دوڑتی رہتی، کبھی کسی نیم آباد گاوں کی جھوپڑیوں اور پھوس کے چھپروں سے مزین گھروں کے درمیان سے نکلتی اور کبھی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے بیچ ناگن کی طرح لہراتی ہوئی آگے کی طرف بڑھتی۔ ناز اب اس لمحے کے بارے میں رہ رہ کر سوچ رہا تھا جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا بھیڑ کی آوازوں سے اکتا رہا تھا۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ان لمحوں میں کیسا سکون تھا، کتنی بے پروائی اور کیسی اندورنی خاموشی جس میں مشقت کا شائبہ بھی موجود نہ تھا۔ ان لمحوں میں اس کے لیے زندگی کی قیمت دو کوڑی کی تھی۔ وہ اپنے ہونے کو بھی کچھ خاص اہمیت نہیں دے رہا تھا اور اب جبکہ اس کے بازو تکلیف سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ بدن تھکن کے باعث ڈھیلا پڑتا چلا جا رہا ہے، سانسیں تیز ہوا سے الجھ کر اپنی حقیقت سے نا آشنا ہو رہی ہیں، زندگی اس کے لیے ایک قیمتی شے بن گئی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ وہ تھک چکا ہے، مگر اپنی گرفت کو ڈھیلا نہیں کرسکتا، وہ جانتا تھا کہ اس کی پیٹھ،گردن اور رانوں کے پٹھے تن گئے ہیں مگر انہیں خاطر میں نہیں لا سکتا تھا، جبکہ اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور ان کی قربت اسے اتنی گراں گزر رہی تھی کہ وہ حبس دم میں مبتلا ہوتا چلا گیا تھا۔ ناز کو احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اطراف سے کتنی جلد اکتا گیا تھا جبکہ وہ اطراف اس کے لیے کسی مصیبت کی وجہ نہ بنا تھا۔

ٹرین کی رفتار دھیمی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، سورج اب مغرب کی طرف اتنا جھک گیا تھا کہ آسمان کی کناری پہ شام کی لالی ابھر آئی تھی۔ ٹرین کی رفتار سے ہوا میں جو ارتعاش پیدا ہورہا تھا اس کی لہر آس پاس کے منظرکو متحرک بنا رہی تھی۔پرندوں کی غور ہوا میں تیرتے ہوئے جب ٹرین کے قریب سے گزرتے تو ان کے پروں میں تھرتھرا ہٹ پیدا ہو جاتی۔ ابھی سایہ اتنا دراز نہیں ہوا تھا کہ پہاڑیوں کی کھوہ میں لٹکے ہوئے چمگاڈر اپنے پنچے ڈھیلے کر دیں۔ مگر اتنا تو ہو چلا تھا کہ مغرب میں دور کا منظر جلتا ہوا دکھائی دے جائے۔ سورج جیسے جیسے اپنے پر سمیٹ رہا تھا، ویسے ویسے ناز کی تکلیف شدت کو عادت کی طرح قبول کرتی چلی جا رہی تھی۔ لوہے کاوہ آہنی ڈنڈا ب جو ناز کی گرفت میں تھا اس کی گنگناہٹ، ٹھنڈک میں تبدیل ہونے لگی تھی، پاوں کا وہ حصہ جو اگلے مسافر کی کولوں سے مس تھا اس کی گرماہٹ میں اعتدال پید ا ہو گیا تھا اور ناز کے پٹھے اتنے تن گئے تھے کہ اب ان میں مزید تناو پیدا ہونے کی گنجائش نہیں بچی تھی۔ ناز کو تقریباً اسی عالم میں بیس، پچیس منٹ مزید لٹکے رہنے کے بعدکچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ جیسے ہوا اس کے سفر کو آسان بنا رہی ہے۔ یہ خیال خود اسے چونکا دینے کے لیے کافی تھا کہ ہوارہ رہ کر گیلے موگھرے کے مٹھی بھر پھولوں کی طرح اس کے چہرے سے ٹکرارہی ہے۔ اس کے کپڑوں میں داخل ہو کر اس کے بدن پہ پھیلنے والے پسینے کو سکھانے کی جلد بازی میں اسے ایک انجانا سکون بخشتی رہی ہے، ہوا کی رفتار سے اس کا پھولا ہوا لباس اس کی رگوں میں شادمانیاں گھول رہا ہے۔ اس کا ذہن آہستہ آہستہ ان دھڑکوں سے خالی ہو رہا ہے جو اسے زندگی کی چاہت میں لرزہ بر اندام کر رہے تھے۔ یہ خیالات اس کے لیے ایک انجان سی مسرت بھی لے کر آئے تھے، دو ایک مرتبہ جب اسی عالم میں اس نے اپنے آگے لٹکے ہوئے نوجوانوں کو ہنتے کھلکھلاتے سنا تو یکبارگی اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ چھا گئی۔ اب اسے ان کی آواز میں زہر کے بجائے نغمگی محسوس ہو رہی تھی۔ اب جتنی دیر وہ خاموش رہتے اسے تنہائی کا احساس ہوتا،وہ اپنے نوجوان ساتھیوں کے قہقہوں کا منتظر تھا کہ وہ کب ہنسیں اور کب اسے دوبارہ اسی لذت کا سرور حاصل ہو۔ اس نے دو ایک بار انہیں ہنسانے کی مصنوعی کوشش بھی کی تھی جس پر وہ ہنسے تھے اور اسے اپنے لٹکے رہنے کے احساس کو بھلا دینے والی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ ناز جب کچھ دیر تک یوں ہی ان کی صداوں میں گم ہوتا رہا تو اسے لگا کہ اب اس کا ڈر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس کا بدن اس سے بغاوت نہیں کر رہا ہے، اس کا جھولتا ہوا آدھا جسم اسے ہوا میں تیرتا ہوا محسوس ہونے لگا، اس نے اپنا وہ ہاتھ جو ہوا میں لٹکا ہوا تھا اسے ہلکے ہلکے دراز کرنا شروع کیا، جب ہاتھ پوری طرح کھل گیا توہوا میں جھولتی ہوئی ٹانگ کو بھی ہلانے لگا۔ دو ایک مرتبہ اسی طرح کرنے پر اس کاخوف بالکل کافور ہوگیا اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔اس کی ہنسی کی آواز اب اتنی تیز تھی کہ اس کے نوجوان دوست اس پر پہلے تو زور سے ہنسے پھر اسے تنہا ہنستا ہوا چھوڑ کر خاموشی کے دریامیں غرق ہو گئے۔ ناز کو اب ان کی خاموشی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، اب تو اسے اپنی خوشی سے سروکا ر تھا۔ اس کے لیے یہ ایک خوش گوار تصور تھا کہ اسے رائی برابر بھی ڈر نہیں لگ رہا ہے، اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کسی نے مضبوطی سے تھا م رکھی ہے اور اسے ہوا میں جھولنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اب ناز اپنے اطراف پر زیادہ غور کر سکتا تھا، وہ دیکھ سکتا تھا کہ سورج کے ڈوبتے ہوئے منظر میں چلتی ہوئی ٹرین نے وہ حسن پیدا کر دیا ہے جو اس نے کبھی اپنی عمارت کی چھت پہ نہیں دکھا تھا۔سورج اور ٹرین کے درمیان حائل ہوتے پہاڑ ان کے آگے پھیلی ہوئی سبز اور کھردری زمین، کہیں کہیں کھیتوں میں کھڑے مصنوعی انسان آسمان کی گود میں چھلانگ لگاتے پرندے اور دور تک لہراتی اور بل کھاتی ہوئی ٹرین اور اس پر لدے بے شمار انسان سب ایک نقلی منظر بنا رہے تھے، ایسا نقلی منظر جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے لگا کہ شائد اگر میں اس وقت ٹرین میں دوڑ کر سوار نہ ہوتا توزندگی کے اتنے حسین پل سے ہمیشہ کے لیے محروم رہ جاتا۔ یہ سوچ کر اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا جس پر اس کے آگے والے شخص نے چیخ کر اسے ماں کی گالی دی۔ ناز کو اب یہ گالی بہت حقیر معلوم ہو رہی تھی، کیوں کہ وہ فطرت کی حسین پالکی میں سوار ہو کر خوش نما نظاروں کا لطف لے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ کتنا احمق ہے کہ ایک ایسے منظر تک پہنچنے کے خطروں سے ڈر رہا تھا، وہ کتنا لا علم تھا کہ اس ظاہری خوف میں مبتلا ہو کر اس مقام تک آنے سے کترا رہا تھا۔ اسے اپنا ٹرین کو دوڑ کر پکڑنے والا فیصلہ اچانک انوکھا اور اچھوتا معلوم ہونے لگا۔ اس نے ایک بار دل ہی دل میں خود کو شاباشی دی۔ اپنے ماں اور باپ، بہن اور بھائیوں کو دعائیں دیں کہ انہوں نے اسے گاوں بلوایا۔ وہ اب اپنے والدین کے متعلق سو چ رہا تھا کہ اگر وہ گاوں میں نہ رہتے تو اسے ہر گز ان فطری مناظر کی جھلک نہ دیکھنے کو ملتی۔ اس نے اپنے تمام گذشتہ خیالات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور خود کو اپنے اطراف کے حوالے کر دیا۔

گاڑی دیر تک اسی طرح چلتی رہی اور ناز اسی طرح ایک ہاتھ سے جھولتا رہا۔اب شام کا دھندلکا ہو چلا تھا آسمان پر ستاروں کا ظہور ہونے لگا تھا، آسمان کے تھال میں چاندی کا ایک بڑا سکہ اپنی ٹمٹماہٹ چاروں طرف مترشح کر رہا تھا۔ ناز کو لگا جیسے گاڑی کی رفتار اچانک کم ہو رہی ہےکیوں کہ اس کی پٹریوں سے اٹھتی ہوئی گڑ گڑاہٹ مدھم ہونے لگی تھی۔ ناز کی نظر یں آسمان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں اس نے گاڑی کی دھیمی رفتار کو محسوس کرتے ہوئے بھی اپنی نظریں نیچی نہیں کیں، کچھ دیر بعد، لوہے کی موٹی سلاخوں کا ڈھیر آیا،پھر بالوں کے کچھ تودے پڑے، سمنٹ کی بوریوں کا جتھا دکھائی دیا مگر ناز اسی منظر میں کھویا رہا تھوڑی دیر بعد ٹرین کی رفتار خاصی کم ہو چکی تھی لوگوں کی طرح طرح کی آوازوں کا شور ناز کے کانوں سے ٹکرانے لگا تو اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا اس نے حیرانی سےنیم خوابیدہ حالت میں اس طرح اپنے اطراف پر نظر ڈالی جیسے ابھی کسی خواب سے جاگا ہو۔جوں ہی اس کی نظر سامنے موجود تختی پر پڑی اس پر ایک قسم کی مایوسی چھا گئی کیوں کہ تختی پر جلی حروف میں “بھیم پورہ” لکھا ہوا تھا۔

Categories
فکشن

زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) – ذکی نقوی

تصور اور سونیا کی شادی بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد ہوئی تھی۔ دسویں جماعت کے زمانے میں تصور علی کانونٹ اسکول میں پراکٹر بنا تو تب سونیا اسکول کی تمام تقاریب میں ملی نغمے، نعتیں اور مسیحی گیت سُنا کر داد سمیٹا کرتی تھی۔ اُس کی آواز کی تعریف تو سبھی کرتے تھے لیکن تصور علی تعریف سے تھوڑا آگے بڑھا اور اُس سے محبت کر بیٹھا۔ یہ عمر۔۔۔، دسویں گیارہویں جماعت کی طالب علمی کی عمر بڑ ی منہ زور ہوتی ہے۔ تصور نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، سونیا سے اظہارِ محبت بھی کرمارا۔ لیکن گڑ بڑ یہ ہوئی کہ اظہارِ محبت کا خط، جو کہ جنونِ عشق کی سطور اور اس کی تائید میں اشعار سے خوب مرقع تھا، غلط ہاتھ میں جا پہنچا اور دونوں کی پیشی پرنسپل، چوہدری وکٹر ممتاز کے پاس ہوئی۔ پرنسپل موصوف اپنے بددماغ اور سخت ہونے کی وجہ سے طلبا میں مشہور، یا بدنام، جو کہہ لیں، تھے۔ سونیا تک تو یہ خط پہنچا ہی نہ تھا سو اس نے معصومیت سے روتے ہوئے قسم کھا لی کہ وہ اس معاملے سے مکمل لا علم اور بے قصور تھی، تصور نے چھاتی ٹھونک کر اقبال ِ جرم کر لیا! فلم اسٹار بنے کا شوق تو اسے تھا ہی، یہاں صورت حال بھی بڑی فلمی سی بن گئی تھی کہ محبوب سامنے اور الزامِ محبت کا ٹھینگا سر پر، جراتِ رندانہ کیوں نہ آتی۔ چوہدری صاحب نے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر کے جو تصور کا پراکٹر والا امتیازی سیش کھینچ اُتارا تو یہی سزا کافی سمجھی گئی۔ البتہ اس سے یہ ہوا کہ جو کام وہ خط بخوبی نہ کرسکا، یہ تھپڑ اور”تنزلی” کر گئے۔ سونیا کے کم سن اور بھولے بھالے دل میں تصور کے لئے ہمدردی اور محبت کے وہ جذبات پیدا ہوئے کہ شاید خط پڑھنے سے کبھی نہ ہوتے۔ یہ عمر جلد باز ہوتی ہے لہٰذا طرفین سے اظہار، اقرار اور پختہ عہد و پیمان کی منزلیں طے ہونے میں بہت کم وقت لگا۔ موٹی موٹی آنکھوں، سانولی رنگت، میانہ قد اور واجبی سی ذہانت کی مالک طالبہ سونیا اپنی ہم سنوں میں ماسوائے اپنے خوش گلو ہونے کے، کسی وجہ سے نمایاں بھی نہ تھی البتہ تصور خوش شکل، لائق اور اچھے قد قامت کا ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں نمایاں تھا، تو سونیا نے بھی اس نعمت کا کفران نہ کیا اور اُسے دل و جان سے چاہا۔

اس محبت میں آنے والے سالوں میں بھی کمی نہ آئی۔ ادھر کبھی سونیا روٹھ جاتی تو تصور، جو اب شعر بھی کہنے لگا تھا، اس کے لئے کوئی غزل یا نظم کہہ کر اُسے سناتا تو وہ رام ہو جاتی۔تصور شعر اچھے کہہ لیتا تھا لیکن اگر اچھے نہ بھی ہوتے تو کیا، سونیا جو ایف۔اے سے آگے پڑھ سکی تھی نہ کوئی ادبی ذوق رکھتی تھی، اُس کے لئے یہ بھی بڑی بات تھی کہ کوئی اس کے لئے شاعری کیا کرتا تھا۔ تصور نے البتہ مشقِ سخن بھی جاری رکھی اورتعلیم بھی بی۔اے تک پہنچا کر وسط میں چھوڑی۔

دونوں کے لئے ایک اندیشہ ان برسوں میں جانکاہ سوال بن کر لٹکا رہا اور وہ یہ تھا کہ اب شادی کے بندھن میں بندھنا تو ناممکن نظر آرہا تھا، تو پھر یہ عمر کیونکر گزرے گی؟ تصور علی کے والد اگرچہ پابندِ شرع لیکن سمجھدار آدمی تھے تاہم ایک کرسچن لڑکی کو بہو بنانا اُن کے لئے یقیناً ناقابلِ قبول تھا۔ ادھر ماسٹر رحمت مسیح جو کہ ٹیچر نہیں بلکہ ہارمونیم کا اُستاد ہونے کی وجہ سے ماسٹر کہلاتا تھا، بہت مذہبی قسم کا کرسچن تھا لیکن اپنی بیٹی سے بھی بے پناہ محبت کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ بھی شاید کبھی ترکِ مذہب کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہ کرتا۔

اُن دونوں کی اب تک کی داستانِ محبت میں سب سے کٹھن موڑ تب آیا جب سونیا کی شادی اُس کے دُور کے رشتے داروں میں طے ہونے لگی۔ سونیا کی بڑی بہن اُس کی ہمراز تھی، اُس نے بھانڈا پھوڑ دیا تو ایک بار تو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں موت کا سا سناٹا چھا گیا۔ سونیا کی ما ں کا پھسر پھسر رونا ہی رُکنے میں نہ آرہا تھا اور حالت اُس کی اپنی بھی کم دگرگوں نہ تھی۔ ادھر تصور اُن لوگوں میں سے تھا جو زندگی میں ایک ہی دفعہ محبت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن پھر اس محبت کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ وہاں جو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں تناؤ کی صورتحال بڑھی تو یہاں تصور نے اپنے ماں باپ کے پاؤں آلیے۔ کافی طویل مباحث ہوئے، بزرگوار آدمی معقول تھے لیکن اسی شرط پہ مانے کہ لڑکی اسلام قبول کرلے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ تصور بصد مشکل ماسٹر رحمت مسیح کو اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ ماسٹر نے بسیار سماجت کی کہ ملک صاحب، آپ تو سماج کا دباؤ اُٹھا سکتے ہیں، معزز آدمی ہیں میں غریب آدمی ہوں، مان لیجئے، سونیا کے ترکِ مذہب پہ زور نہ ڈالیں، پھر اسلام نے تو اس کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ پھر پاسٹر یعقوب بھی قرآن کی تفسیر اور سفید ڈاڑھی لے کر بیچ میں آئے تو بھی تصور کے ابا اسی صورت قائل ہوئے کہ اگر سونیا نے قبولِ اسلام نہ کیا اور تصور کی بیوی بنی تو وہ اس تمام معاملے سے لاتعلق ہوں گے اور بیٹے کو فارخطی دے دیں گے۔ اس بات کا کہیں ذکر نہ تھا کہ سونیا بیچاری تو اب قبولِ اسلام کیلئے بھی راضی تھی۔ خیر، قصہ مختصر، ماسٹر رحمت مسیح سے بیٹی کی مایوسی اور پژمردگی دیکھی نہ گئی اور وہ ایک شکستہ و آزردہ دل کے ساتھ سونیا کو خود مولوی کفایت اللہ کے پاس قبول اسلام کے لئے لے گئے اور بعدہ،اُس کا ہاتھ تصور کے ہاتھ میں تھما دیا۔ مختصر سی بارات کو مٹھائی کھلائی گئی، کھانے کا انتظام بھی تھا لیکن سوائے تصور، اس کے ابا اور شہبالے کے، کسی مسلمان باراتی نے عیسائی کے گھر سے کھانا کھانا مناسب نہ سمجھا البتہ سونیا کو سعدیہ فاطمہ بنا کر بڑے فاتحانہ جوش و خروش کے ساتھ بیاہ لائے۔

ماسٹر رحمت مسیح مدت سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اب کرسچن کالونی میں رہنا ممکن نہ رہا تھا، وہاں سے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے آبائی گاؤں چک ۵۷ کی طرف نقل مکانی کر گئے۔تاہم سونیا شادی کے بعد بھی مائیکے آتی جاتی رہی۔ ایک بات، جس کا شاید کسی کو علم نہ تھا، وہ یہ تھی کہ تصور علی کو اس سارے اہتمام کا دِلی دُکھ تھا لیکن وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرتا تھا۔اور اس نے شادی سے اگلی ہی صبح کہہ دیا تھا،

“سونی! تُم اس کمرے کی تنہائی میں سونیا ہی رہو گی، باہر دُنیا کی نظر میں سعدیہ فاطمہ بن کے رہو تو رہو۔۔۔”

اس کے بعد وہ جب بھی مائیکے جاتی، ماں باپ کے ساتھ مل کر مسیحی گیت بھی گاتی، بائبل مقدس بھی پڑھ لیتی اور یہاں سسرال میں گیارہویں کی نیاز بھی پکاتی اور عاشور کے جلوسوں میں بھی حاضری کی حد تک چلی جاتی تھی اور تصور نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا۔ ان کے کمرے میں جو چہار اصحاب کے ناموں والی لوح آویزاں ہے، اُس کے نیچے اب بھی سونیا کے ہاتھ کی لگائی پلاسٹر آف پیرس کی تختی لٹکی ہے جس پر لکھا ہے؛
“GOD IS LOVE!”

اور وہ اس سب کے باوجود فتووں اور زجر و توبیخ سے اس لیے بچے رہے کہ کوئی ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی زحمت نہ کرتا۔ سعدیہ فاطمہ کو سسرالی رشتے داروں نے بھی سونیا ہی سمجھ کے نظر انداز کیا جس پر وہ بھی خوش تھی اور اپنے حال میں مگن۔

تصور شاعر کے طور پر تو خوب جانا جاتا تھا لیکن ایک چھوٹے سے اخبار سے وابستہ ایک صحافی کے طور پر کامیاب نہ تھا۔ ساتھ تصور نے آس پاس کے دیہی علاقوں میں سولر پلیٹیں بیچنے کا دھندا بھی آغاز کر دیا جو کہ بہت کامیاب تو نہ تھا لیکن فقط گزر بسر کے قابل ہی آمدن تھی۔ پھر سونیا نے ایک نجی اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا تو چند ہزار روپے اس مد میں بھی ماہانہ گھر آنے شروع ہو گئے۔تصور عملی زندگی میں غریب ہی نہیں، کافی پھانک آدمی تھا لیکن سونیا نے اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا کیونکہ وہ عورت مالی معاملات میں کمال کی سلیقہ شعار نکلی۔

زنجیر کا قصہ تو یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ایک زنجیر تھی۔۔۔ محبت کیلئے ذات پات، رنگ مذہب کی زنجیروں سے باغی ہونے والے تصور کو سونے کی اس باریک سی زنجیر سے وہ لگاؤ تھا کہ سونیا بھی حیران ہو کر ہنس دیتی۔ سونیا کی ماں نے پائی پائی جوڑ کر نجانے کتنے عرصے میں اُس کے جہیز کے لئے گلے میں پہننے کی ایک زنجیر بنوا رکھی تھی جسے ہم انگریزی میں ’چین‘ کہتے ہیں۔ شادی کے بعد ایک شب بہت قربت کے لمحوں میں تصور نے محسوس کیا کہ جب سونیا کے اُجلے، سانولے جسم پر، یعنی گردن میں فقط یہ سنہری زنجیر ہوتی ہے تو اُس لمحے اُس کا جسم کسی دیومالا کی دیوی کی طرح ایک پر اسرار سے، ملکوتی حُسن کا پیکر لگتا ہے۔ایسے میں وہ دیر تک ٹکٹکی باندھے اُس کے گلے اور سینے پر کسی خوابیدہ سی سنہری پٹڑی کی طرح بچھی پیچدار زنجیر کو دیکھتا رہتا حتیٰ کہ سونیا شرم سے سمٹنے لگتی اور اور اوڑھنی یا دوپٹے سے اپنا سینہ چھپا لیتی،

“پاگل ہو گئے ہو تصور؟” اور ہنس دیتی۔ “کتنے بے شرم ہوتے ہو تم شاعر لوگ!” اور تصور اسے بازوؤں میں سمیٹ لیتا لیکن اس کیفیت کا بیان جن الفاظ کا محتاج تھا، وہ االفاظ اس شاعر کے پاس ہنوز نہ تھے۔

شادی ہوئے دو سال ہونے کو آئے تھے اور ایک مرد کے لئے عورت کے جسم سے سیر ہوجانے کے لئے یہ عرصہ کافی ہوتا ہے لیکن تصور کے ہاں صورتحال مختلف تھی۔ دن بھر کے کام کاج کے دوران عام سی عورت، سعدیہ فاطمہ جب رات کو اُس کے پہلو میں سونیا بن کر آتی اور اُس کے سینے پر، جہاں سے چھاتیوں کے اُبھار آغاز ہوتے ہیں، ایک سنہری زنجیر، سانولے رنگ پر پیچ و تاب کھارہی ہوتی تو تو وہی عورت تصور کے لئے حُسن ِ انسان کا حرفِ آخر بن جاتی، اُس کے فکر سخن کیلئے مہمیز بنتی۔ اس کے برہنہ سینے پہ لوٹتی فقط ایک زنجیر میں تصور کے ذوقِ نظارہ کیلئے و ہ سیرابی تھی کہ ایک عرصے تک اُس کے جسم کے دیگر اُبھار اور خم تصور کی خصوصی توجہ حاصل نہ کر سکے تا آنکہ سونیا کا پیٹ اُمید کی بلندی تک اُبھرنے لگا؛ وہ ماں بننے والی تھی۔ دونوں بے حد خوش تھے کہ زندگی میں ایک معصوم سا غلغلہ اور ہنگامہ بہت سی رجائیت کا جواز بن کر آنے والا تھا۔

“سونیا! تُم اب بھی حسین ہو اور چار بچوں کی ماں بن کے بھی یونہی حسین رہو گی!” وہ اُس سنہری زنجیر کے پس منظر میں سونیا کے سینے پر نظریں جمائے کہتا اور سونیا سمٹ کر موضوع بدل جاتی جو اب زیادہ تر ان کے متوقع بچے کے بارے میں ہوتا۔ کبھی بچے کے نام کا مسئلہ زیرِ بحث آتا تو کبھی یہ کہ سوال کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا ؟ اور یہ سوال کہ وہ اپنی ماں کی طرح ہو گا یا باپ کی طرح ہو گا یا پھر یہ کہ بچے کی پیدائش کے بعد اُن کی محبت بَٹ جائے گی یا بڑھ جائے اور اختتام پہ کچھ دیر وہ ان سوالات کے احمقانہ ہونے پر ہنستے رہتے اور تصور کی نگاہیں پھر وہیں زنجیر پر جا رُکتیں جہاں سے بات آغاز ہوئی تھی اور سونیا پھر شرما کر اوڑھنی اوڑھ لیتی، “بے شرم شاعر”

ایک دفعہ قربت کے ایسے ہی ایک لمحے میں جب تصور اس کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو سانولے سلونے ابھاروں کے درمیان پیچ در پیچ سمٹی ہوئی حالت میں دیکھے جا رہا تھا، اور سونیا نے اپنی چھاتیوں کو آدھا ڈھانپ رکھا تھا جبکہ وہ حسب معمول اپنے آنے والے بچے کے بارے میں باتیں کررہے تھے تو سونیا چونکی،

“تصور! تُم میرے ہونے والے بچے کیلئے ایک نظم لکھو، بچوں والی نظم”

“مجھے کیا خبر تمہارے بیٹی ہو گی یا بیٹا۔۔۔”

“ہوں۔۔۔ تُم وہ نظم لکھو جو بیٹے کیلئے بھی ہو اور بیٹی کیلئے بھی۔۔۔”

سونیا نے مسکرا کر کہا تو تصور بھی کچھ دیر گہری سوچ میں ڈُوبا مسکراتا رہا۔ بیچ میں وہ انگلی کی پوروں سے سونیا کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو چھو کر گاہے بگاہے لمبی سی “ہُوں۔۔۔” کر دیتا۔۔۔ کچھ دیر بعد اُس نے اُٹھ کر قلم اٹھایا، لکھنے کا ایک بوسیدہ سا پیڈ تھاما اور چند اشعار لکھ کر سونیا کو تھما دئیے،

میری گُڑیا میری گُڑیا نین ترے کجرارے
سب دُکھیا سنسار کے اندر، دھرتی، چاند ستارے
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے گال گلابی
کلجگ اندھیاری رینا ہے من اپنا مہتابی
میری گڑیا میری گڑیا انگیا تیری دھانی
سب مانس مجبور اس جگ میں کیا راجہ کیا رانی
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے ہونٹ رسیلے
جیون میلہ چار پہر کا کھالے،پی لے، جی لے!

سونیا یہ نظم پڑھ چکی تو اُس نے ایک دو لفظوں کے مطلب تصور سے پوچھے اور اُس کے بتانے پر جو سونیا کو نظم کی پوری سمجھ آئی تو اُس کو ہنسی کا وہ دورہ پڑا کہ تصور بھی کھسیانا سا ہو کررہ گیا۔ “میرے بچے خراب کرنے ہیں ایسی نظمیں سُنا کے؟” وہ خوب ہنسی اور تصور بھی اُسے ہنسانے کیلئے کج بحثی کرتا رہا۔ اور یوں اُمیدواری کا اُمیدوں اور خوشیوں سے بھرا عرصہ خوب گزر ا مگر پھر ایک پریشانی کے موڑ پر آ کر رُک گیا۔ اب نو ماہ بڑی مہارت اور مہنگی مہنگی ولایتی دواؤں سے سعدیہ کی زچگی کی دیکھ بھال کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے آٹھویں ماہ کے اختتام پر تصور کو زچگی کی ممکنہ پیچیدگیوں سے ڈرانا شروع کر دیا تھا۔ اب چند دن کی بات تھی، چند دن میں آپریشن کی فیس اور ڈاکٹر کے ممکنہ اخراجات، جو کہ ان کے میڈیکل اردلی کے مطابق ساٹھ ستر ہزار سے اوپر کے تھے، کہاں سے آتے؟ ؟ ڈاکٹر صاحبہ نے تو بچے کی موت کے امکان پر روشنی ڈال کر اُس کی عقل کو اتناماؤف کر دیا تھا کہ وہ کسی اور ڈاکٹر سے مشورہ تک کرنے کا نہ سوچ سکا۔۔۔ ان “مسیحا” لیڈیوں کی معاش ایسے ہی بزدلوں پر کھڑی ہے مگر اولاد کی محبت کسے بزدل نہیں بناتی؟ اب سوال تھا پیسے کا انتظام۔۔۔ اپنے رشتے داروں نے سونیا کے آنے کے بعد واجبی سا تعلق باقی رکھا تھا، سونیا کے رشتے داروں سے تو اتنا تعلق بھی نہ تھا۔ موٹر سائیکل بیچنے نکلا تو جس ڈیلر نے چند روز پہلے چالیس ہزار میں دی تھی، پوری بے لحاظی سے بائیس ہزار پہ اَڑ گیا بلکہ کلمہ طیبہ پڑھ کر قسم کھا لی کہ موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں یہی چل رہا ہے۔ بالآخر جب ناُامید ہو کے بیٹھ رہا تو جیسا کہ مشرق کی کبھی نہ لکھے جانے والی ہزار سالہ تاریخ میں ہمیشہ گھر کی عورت نے کیا ہے، سونیا نے اپنے تھوڑے سے گہنے پیش کر دئیے۔ تصور انہیں بیچنے پہ ہرگز تیار نہ تھا۔ ایک زنجیر، کان کے بُندے، انگوٹھی اور ناک کی نتھلی سونیا کے والدین نے سالوں کی مشقت سے بنائے تھے اور اب بک جاتے تو ان کا نعم البدل کوئی نہ تھا۔ کم از کم تصور کے خیال میں ایسا ہی تھا ! پھر اسے زنجیر کا بکنا گوارا نہ تھا جس کی بدولت دُنیا بھر کا حُسن سونیا کے وجود میں سمٹ آیا تھا۔۔۔ پھر کسی بھلے آدمی نے مشورہ دیا کہ گہنے فروخت کر دینے سے بہتر ہے کہ کسی بینک میں گروی رکھ کر قرض لے لو۔

تصور کو یہ تجویز فقط اس لیے پسند آئی کہ اس میں گہنوں کے لوٹ آنے کی اُمید تھی۔ بھاگ دوڑ میں گہنوں کا سنار سے وزن کرایا گیا، پروانہ بنا، اورئینٹل بینک کے نمائیندے نے بہت سے کاغذوں پر دستخط کروائے، گہنوں کو کاغذوں کی جس تھیلی میں بند کر کے سر بمہر کیا تھا، اُس پر کچھ اعداد لکھے، دستخط کئے، کروائے اور یوں تصور علی کو پینسٹھ ہزار روپے کا قرض مل گیا۔

بیٹی کی پیدائش چونکہ شہر کی ایک مشہور گائناکالوجسٹ کے ہاں ہوئی لہٰذا سیزرئین آپریشن سے ہی ہوئی اور لگ بھگ قرض کے تمام پیسے اُس شام ڈاکٹر شازیہ رانا کے اکاؤنٹ میں جا پہنچے، تصور کی گود میں اس کی ننھی سی بیٹی کو ڈال دیا گیا۔۔۔ تب تو اسے ایک لحظے کوقدرت یا بندوں سے کئے گئے اس بے رحمانہ لین دین کا ہر تلخ پہلو بھول ہی گیا۔بچی کی ننہال سے خوشی اور تہنیت کے جذبات اور پیغامات زیادہ آئے۔ ددھیال کی طرف سے بھی ایک دو رسمی سی مبارک بادیں آئیں لیکن سونیا اور تصور کو خوشی کی وہ سرشاری تھی کہ انہیں اس امر کی پروا بھی نہ تھی کہ کس کی خوشی میں ریا تھی او ر کس کی خوشی میں صفا!! چند روز تو اسی خوشی اور سرشاری میں گزرے کہ تصور کو قرض کی بے رحم نحوست بھی بھول گئی۔

ننھی سارہ نے جہاں اُن دونوں کی باہمی محبت کو ایک نیا موڑ دیا، ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، وہاں سونیا اور تصور کے درمیان باہمی توجہ کے دھاروں کو بڑی حد تک اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ اور یہ بھی پہلوٹھی کے بچوں کا حق سمجھا جاتا ہے لہٰذا انہیں یہ بات کچھ اجنبی بھی نہ لگی کہ اب ان کے قرب کے لمحے مختصر بھی ہوتے تھے اور پہلے سی رومانوی روحانی احساسات سے بھرپور بھی نہ ہوتے۔ اب شاید اے سونیا کے سانولے جسم کے متناسب اور صحتمند نشیب و فراز میں حُسنِ انسان کا کوئی دیو مالائی رنگ جھلکتا دکھائی نہ دے سکتا تھا۔ وجہ یہ نہ تھی کہ سونیا کا حُسن ڈھل چُکا تھا یا ماند پڑ چُکا تھا، ایسا ہرگز نہ تھا۔ وجہ کا دراک تصور کو بخوبی تھا لیکن وہ اسے اپنے شعور کی سطح پر ابھرنے بھی نہ دیتا تھا۔ تصورات اور خیالات کی دُنیا میں رہنے والا تصور زندگی کی جن بے رحم حقیقتوں سے چشم پوشی اور فرار کا خواہاں تھا ان میں سے ایک وہ قرض بھی تھا جس کی بدولت اب سونیا کی گردن سے وہ سنہری زنجیر غائب ہو چکی تھی اور جس نظارے سے سے وہ اپنے ذوقِ جمال کی آبیاری کرتا تھا، اب اسے وہ نظارا کرنے کی ہمت نہ تھی۔سونیا کا اس زنجیر سے خالی سینہ اسے اس کی خالی جیب اور تنگ دستی کا احساس دلاتا رہتا کہ سارہ کی پیدائش کے کئی ماہ بعد تک بھی قرض کی پہلی قسط نہ دی جاسکی تھی اور اب یہ خالی پن تصور کیلئے سوہانِ روح بنتا چلا جا رہا تھا۔ اُسے اپنے پہلو میں لیٹی اپنی محبوب بیوی کا جو پہلو بہت بھاتا تھا اب اسی کو نظر انداز کرنا اس کی غیر ارادی سی عادت بن گیا۔ یوں بھی اب ننھی سارہ کی شیرخوارگی تصور کے رومان کی جاگیر پر قابض ہو گئی تو پھر کئی ماہ گزر گئے کہ وہ سونیا کو اپنی شیر خوار بیٹی کی ماں ہی کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ سارہ نے اپنے سہارے پر بیٹھنا اور معصوم غوں غاں سے سب کی توجہ حاصل کرنا شروع کی تو نہ چاہتے ہوئے بھی تصور علی کبھی اپنی سوچ کے دھارے کو سونیا کی طرف پوری طرح مرکوز نہ کر سکا۔ غریب کے بچے ہمیشہ ماں کی صحت سے خراج وصول کر کے ہی پلتے ہیں۔ سارہ ایک سال کی ہوئی تو سونیا کی صحت بہت ڈھل چکی تھی۔ کچھ اندرونی مسائل نے ایک غیر ضروری آپریشن کے دوررس اثرات کے طور پر سر اُٹھانا شروع کر دیا اور کچھ چھوٹے موٹے عارضے یونہی طبیعت کا مستقل حصہ بن گئے۔ سردرد تو اکثر رہتا تھا، بخار ہوتا تو کئی کئی روز تک رہتا۔ گلی محلے کے ہومیو فزیشنوں سے علاج معالجہ بھی چلتا رہا کہ تصور ان کی اُجرت تو جیسے تیسے ادا کر سکتا تھا، شہر کے ڈاکٹروں کی جیب بھرنے کی استطاعت اسے نہ تھی۔ پینسٹھ ہزار سے شروع ہونے والا قرض جو اب سود کے ہاتھوں ایک لاکھ تک پہنچ چکا تھا، اس کا خیال ہی اب شہر کے اچھے ڈاکٹروں سے دُور رکھنے کیلئے کافی تھا۔ یوں بھی زکام، سردرد اور بخار جیسی عامیانہ بیماریوں کا مقابلہ غریب لوگ اٹکل پچو، دیسی علاج اور حکیم یا ہومیو فزیشن کے سہارے ہی کر لیا کرتے ہیں۔ گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر سونیا نے جب پرائیویٹ اسکول کی نوکری چھوڑی تو جو پانچ ہزار روپے ہر ماہ ایک بے قاعدہ سی با قاعدگی سے آیا کرتے تھے، آنا بند ہو گئے۔ سولر پلیٹوں کاکام ٹھپ ہو چکا تھا اور تصور اب ایک فوٹو اسٹیٹ مشین لے کر کچہری کے پاس بیٹھ گیا۔ سونیا بیما ر نہ پڑتی تو یہ معاش بھی روٹی کمانے کو کافی تھا۔

یہ موسمِ سرما نجانے کیسی ہوائیں لے کر آیا کہ اب کی بار جو شعر و شاعری کا مشغلہ ترک ہو چکا تھا اور جو گلی محلے کے مشاعروں میں جانا ترک ہو چکا تھا، وہ دوبارہ بحال ہو گیا۔ کچھ سونیا بھی بہتر نظر آنے لگی۔ سارہ بولنے لگی تو اپنی توتلی زبان سے گھر کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔

اس رات سونیا کھڑکی کے سامنے بچھے پلنگ پہ سوئی پورے چاند کی چاندنی میں کسی مرمریں بُت کی طرح دہک رہی تھی۔کرائے کے اس مکان میں دو ہی کمرے تھے، ایک پختہ اور ایک کچے اور پکے میٹیریل کا ملغوبہ جس کی چھت ٹین سے بنی تھی اور آنگن سارا کچا تھا۔ تصور نے اپنا چھوٹا پلنگ دانستہ پختہ کمرے کی کھڑکی کے ساتھ لگایا تھا کہ پورے چاند کی رات میں پلنگ کا نصف رقبہ چاندنی سے روشن ہو جاتا تھا، ایسے میں وہ بلب بند کردیتا۔ بجلی ہمسائے کے میٹر سے تار کھینچ کر خریدی گئی تھی۔

“سونیا!”۔ تصور نے اُسے متوجہ کرنے کیلئے اس کے بالوں میں اُنگلی سے مانگ بناتے ہوئے مخاطب کیا، وہ اچانک کسی سوچ میں ڈوب گئی تھی، چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ سونیا کی غزالی آنکھوں کا حُسن بیماری سے بھی مات نہ ہوا تھا بلکہ کمزور چہرے پر آنکھیں اور بھی نمایاں ہو گئی تھیں۔ البتہ اب ان میں ایک گہری اداسی نے ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ وہ تصور کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔

“تُم ایسی شرمیلی کبھی نہ تھیں۔۔۔ سارہ کی ماں ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ امّاؤں کی سی حیا کرنا شروع کر دو !”

تصور نے آہستہ سے اس کی ریشمی، جالی دار قمیص کو اپنی انگلی کی پوروں سے محسوس کیا۔ سونیا سمجھ گئی کہ وہی بحث جو روزانہ ہوا کرتی ہے۔

“نہیں تصور۔۔۔ تم سے کیا شرمانا اوراور حیا کرنا۔۔۔ بس اب جی نہیں چاہتا اتنی بے باکی کو۔۔۔”

اُس نے آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھتے ہوئے نرمی سے کہا۔ تصور نے ایک سانس خارج کی جو واضح طور پر ناگواری کے اظہار میں تھی۔
“تصور! سچ بتاؤں؟ میں یہ ضد کیوں کرنے لگی ہوں؟ میری چھاتیاں دُکھتی ہیں۔۔۔ اب مجھے اس سے گھبراہٹ سی ہوتی ہے۔۔۔مگر تم سے کب تک چھپاؤں گی۔۔۔”
سونیا یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ تصور گھبرا تو گیا مگر کروٹ بدل کر سونے کی اداکاری کر گیا۔ وہ رات دونوں سو نہ سکے مگر آنکھیں بند کئے کروٹیں بدلتے رہے۔

جس دن خیراتی ہسپتال کی ڈاکٹروں نے انہیں لاہور بھیج کر تفصیلی طبی معائنے کے لئے کہا، اُس دن سونیا کی شرم و حجاب کے معنی واضح ہونے لگے۔ سونیا کو چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) تھا اور وہ ایک عرصے سے یہ بات تصور سے چھپائے ہوئے تھی۔ زنجیر کے چلے جانے کے بعد جس طرف تصور کی توجہ کم رہنے لگی تھی، وہیں سونیا اپنی زندگی کا سب سے کڑا درد چھپائے پھر تی تھی!! صبر کی فطرت اور شوہر کی غربت کے خیال نے سونیا کو یہ راز تب تک چھپائے رکھنے پر آمادہ رکھا جب تک اس کا علاج ممکن تھا۔ اگر چہ اس کی عمر کی عورتوں میں مرض کے اس خطرناک مرحلے تک پہنچنے کا تناسب انتہائی کم ہے لیکن غریبی یہ شماریات بھی کہاں پڑھتی ہے سو اب کافی دیر ہو چکی تھی مگر زندگی پھر بھی آخری لمحے تک نا اُمیدی سے لڑنے کا نام ہے۔ تصور نے قرض، قرضِ حسنہ، کمائی، امداد اور ہر طرح کی آمدن میں تمیز کیے بغیر سونیا پہ خرچ کرنا شروع کر دیا۔ لاہور کے خیراتی ہسپتال نے بھی، جو کچھ ہو سکا، مریضہ کیلئے کیا۔ بدقسمتی یہ تھی کہ ایک موذی مرض نے دو ایک درمیانی شدت کے دیگر امراض کو بھی شدید بنا دیا۔ یہ عرصہ ان کے لیے مسلسل سفر کا تھا،۔۔۔ مایوسی سے امید اور امید سے مایوسی تک کا سفر، چک ستاون سے لاہور کی طرف اور لاہور سے چک ستاون کی طرف جہاں ماسٹر رحمت مسیح کے پاس بے پناہ محبت، مخلصانہ دعاؤں اور حتی الوسع تواضع ملنے پر سونیا اپنی تکلیف میں راحت محسوس کرتی تھی۔ ملک مظہر علی کے دروازے اپنے بیٹے کے لئے کچھ کرسچن بہو کی وجہ سے بند ہو چکے تھے کچھ بیٹے کے کچھ برس سے والدین کی حالت سے مطلق غافل رہنے کی سزا کے طور پر۔ تاہم پھر بھی سعدیہ فاطمہ کے موذی مرض کی خبر سُن کر ملک صاحب ایک دفعہ تو بہت بے قرار ہوئے اور خود عیادت کیلئے بھی چلے آئے اور دو ایک دفعہ بیٹے کی دامے درمے مدد بھی کی لیکن یہ ابتلا کے آغاز کے دنوں کی بات ہے۔ سونیا کی تیمارداری کچھ آسان کام نہ تھا۔ جب علاج معالجے کی بھاگ دوڑ میں اُمید کی کوئی کرن پیدا ہوتی تو کوئی اسے بڑھانے کو ساتھ تھا نہ کبھی مایوسی پیدا ہونے کی صورت میں کوئی بے چارگی کم کرنے یا غم بانٹنے والا ہوتا۔ یہ شب و روز مصروف بھی بہت ہوتے تھے۔ روزی روٹی کے جھمیلوں سے چھوٹتے ہی تیمارداری کے جانکاہ مرحلے جن کی وجہ سے ان کی خلوتوں میں بھی دونوں اکیلے نہ ہوتے بلکہ ڈاکٹر، قرض خواہ اور مرض کا تذکرہ انہیں زندگی کے بے پناہ چوراہے پر لا پھینکتا۔ محبت کے دو بول تو شاید اس مصیبت نے ان کی زبانوں سے چھین ہی لیے تھے۔۔۔

اس ہفتہ اتوار کی درمیانی شب خیراتی ہسپتال کا زیادہ تر عملہ اور ڈاکٹر چھٹی پر تھے سوائے ڈیوٹی اسٹاف کے۔ کچھ سونیا کی حالت بھی ایسی تھی کہ رحم دل وارڈ انچارج نے تصور کو رات گئے تک اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ سارہ بھی ساتھ تھی۔

“سونیا!”

تصور نے پاس بیٹھے ہوئے، ذرا قریب ہو کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نرمی سے مخاطب ہوا۔ سونیا نے اپنی کمزور سی پلکیں جھپکا کر تصور کی طرف دیکھا۔ اس کے ابرو اور پلکیں علاج کے سخت مرحلوں میں تباہ ہو چکے تھے اور اب پہلے سے گھنے بھی نہ رہے۔اس کے بیمار اور سانولے چہرے پہ یہ موٹی اور بجھتی ہوئی مگر پھر بھی کافی روشن آنکھیں زندگی کی آخری علامت رہ گئی تھیں۔ شاید اسے مرض سے زیادہ اُداسی نے گھُلا دیا تھا۔

“سونی! چُپ کیوں ہو؟ آج میرا دل بے حد اُداس ہے۔۔۔ تُم بھی ایسے چُپ ہو کہ میرا جی گھبرا ہے۔۔۔ کچھ بات کرو!”

تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔ آج سونیا کئی دنوں بعد مسکرائی تھی اور تصور کے لئے یہ اُمید افزا بات تھی۔ اسے لگا کہ یقیناً اس کے بعد ہمیں ہسپتال کا ایک آدھ چکر ہی کرنا پڑے گا، پھر علاج کے بہتر نتائج سامنے آنے لگیں گے۔ وہ بھی مسکرا کر ننھی سارہ کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے سونیا سے ادھر اُدھر کی باتیں شروع کردیں۔ بالخصوص ہائی اسکول کی یادیں، پرنسپل کی بددماغی، نئی نئی محبت کے جذبے اور کئی دلچسپ واقعے۔۔۔ سونیا بھی محظوظ ہوتی رہی، کبھی ایک تھکی سی ہنسی ہنس دیتی، کبھی مسکرا دیتی۔ اچانک تصور کو ایک خیال آیا؛

“سونی! میں تمہاری آواز پہ عاشق تھا”

“پتہ ہے۔۔۔”

لیکن ایک مسیحی گیت تمہاری آواز میں مجھے خاص طور پر بہت پسند تھا۔۔۔ اگرچہ مجھے سمجھ نہ آتا تھا”

تصور کی بات پر سونیا نے بھنویں سکیڑیں اور پھر مسکرا دی

“مجھے یاد ہے۔۔۔ سُناؤں؟ میرا جی چاہ رہا ہے کہ سُناؤں۔۔۔تصور۔۔۔”

سونیا آہستہ سے مسکرا کر بولی تو تصور آہستہ سے اُس کی طرف جھکا جیسے بہت اشتیاق سے اور پہلی بار سننے لگا ہو۔ سونیا کی آواز کا حُسن بھی اُس کی آنکھوں کی طرح آج تک ماند نہ پڑا تھا۔۔۔ یہ ایک مسیحی گیت تھا جو پنجابی میں تھا؛

چلو چلیے اج دُعا دے لئی، گتھ سمنی باغ دے ول یارو
اج کٹھیاں وقت گزار لئیے جہڑے رہ گئے نیں دو پل یارو!

سونیا کی آواز نحیف تھی مگر سریلی اتنی ہی تھی اور درد اتنا کہ جیسے استاد کی سیکھی ہوئی گائیک ہو اور نجانے دل کی کس گہرائی سے گا رہی ہو۔۔۔ تصور کو یہ آواز سناٹے میں بھی گونجتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب گیت ختم ہوا اور سونیا نے خموش ہوکر آنکھیں بند کر لیں تو تصور چونکا، اُس کی آنکھوں میں اتنے آنسو بھر آئے کہ اس کے سامنے کا منظر ڈوب گیا۔ یہ گیت جناب عیسیٰؑ کے اپنے چاہنے والوں، حواریوں سے آخری خطاب کے الفاظ پر مشتمل تھا اور اسے سنتے ہی تصور کا دل بھر آیا۔۔۔ شاید پیغمبروں کے دکھوں کا رشتہ بھی آ کر غریبوں کے دکھوں سے ملتا ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھ کر باہر آگیا اور برآمدے میں کھڑا ہو کر اپنے آنسو پونچھنے اور سسکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس طرف راؤنڈ پہ آئی ہوئی ٹرینی نرس نے جو اُسے دیکھا تو گھبرا اُٹھی اور تیزی سے سونیا کے بیڈ کی طرف لپکی جو اس بارک نما وارڈ کے ایک کونے میں تھا۔ چند لمحے بعد پہ تصور واپس سونیا کی طرف لپکا۔ بیڈ کے برابر کھڑی نرس نے سارہ کو اُٹھا کر سینے سے لگا رکھا تھا اور سونیا کے سرہانے کھڑی سسکیاں لے کر روئے جا رہی تھی۔ تصور بوکھلا کر جونہی قریب گیا تو نرس نے سارہ کو اس کے حوالے کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر کو بُلانے کے لیے دوڑ گئی۔ تصور کو قصہ سمجھ آیا تو وہ چکرا کر زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا اور ٹانگیں جواب دے گئیں۔ ڈاکٹر اور عملے کے چند افراد وہاں آگئے، سونیا کی میت کو سفید اُجلی چادر سے ڈھانپ دیا گیا اور زاروقطار روتے اور دھاڑیں مارتے ہوئے تصور علی کو دلاسے دئیے جانے لگے۔ نیند سے چونکی سارہ نے بھی رونا شروع کردیا لیکن اُسے خبر نہ تھی کہ وہ کس لئے رو رہی ہے۔۔۔

سعدیہ فاطمہ، یعنی سونیا کو، جسے زندگی میں تو مسلمان معاشرے میں بڑی تنگ سی جگہ ملی تھی، موت کے بعد چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں کشادہ قبر مل گئی۔ اس کی تدفین کے بعد تصور نے سارہ کو اس کی ننہال میں چھوڑا جہاں اس کی پرورش کی جانے لگی۔ فوٹو اسٹیٹ مشین بیچ کر اس نے تدفین و تکفین کے اخراجات کیلئے لیا گیا قرض چکایا اور دوبارہ چک ستاون چلا آیا۔ سونیا کے بہنوئی کو حال ہی میں ایک اچھی سرکاری نوکری ملی تھی، اُس نے قرض حسنہ کے طور پر اپنا آٹو رکشا تصور کو دے دیا تاکہ وہ زندگی کا پہیہ چلا سکے جسے چلانے کی واحد قوت اب فقط سارہ تھی۔۔۔ سونیا کے بعد اُسے جو اندھیرا نظر آرہا تھا، اس میں اُمید کی کرن فقط اس کی بیٹی ہی تھی۔ امید کی کرن کہیں یا زندگی کے جبر کو سہنے کا جواز۔۔۔ تصور رکشا لے کر شہر آگیا۔ رکشے کی کمائی سے وہ تھوڑا تھوڑا کرکے وہ قرض چکانے لگا جو سونیا کی بیماری میں اُٹھا رکھا تھا۔ اس دوران اورئینٹل بینک کے کئی ہرکارے آئے اور چلے گئے۔۔۔ اُن کا سود اب قرض کے برابر ہو چکا تھا سو اس نے اسے مجبوراً نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور دوسرے قرضوں پر توجہ مبذول رکھی جو اس نے اپنی محنت اور جانفشانی سے آئیندہ دو سالوں میں لگ بھگ مکمل طور پر چکا لئے مگر پھر بھی سونیا کے گہنوں کا خیال اس کے دل و دماغ سے ہٹا نہ تھا۔ زنجیر تو گویا اس کے دل کا سب سے بڑا بوجھ بن چکی تھی۔

ایک دن اسے کوئی سواری اورئینٹل بینک اُتارنی تھی۔ اس نے سواری اتاری تو ایک خیال سا آیا۔ وہ رکشے سے اتر کر اس بوڑھی عورت کے پیچھے پیچھے ہی بینک کے اندر چلا گیا۔ وہاں ایک بابوُ سے چہرہ شناسائی تھی، اُسے جا کر سلام کیا لیکن تھوڑے تردد کے بعد ہی اسے یاد دلا سکا کہ وہ کون تھا۔ مصنوعی تپاک سے اسے بیٹھے کا کہا گیا اور آنے کا مقصد پوچھا گیا۔ اس نے اپنی مرحوم بیوی کے گہنوں کا ذکر کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ تو نیلام ہو چکے تھے۔ اسے کئی دفعہ بینک نے خطوط لکھے تھے، ہرکارے بھیجے تھے لیکن اس نے قرض مع سود کے واپس نہ لوٹایا تھا، سو آخری تنبیہہ اخبار میں شائع کروائی گئی، بالآخر نیلام کر دئیے گئے۔ وہ خاموشی سے وہاں سے اُٹھ آیا اور شہر کی سڑکوں پر بے مقصد رکشا چلانے لگا، اس دوراں وہ زاروقطاررویا۔ اس کی آواز شہر کے ٹریفک کے شور میں دب گئی۔ یہ ایک نیا زخم تو تھا ہی، تصور کے گذشتہ سبھی دُکھ جاگ اُٹھے۔ اُسے یوں لگا جیسے زندگی کے کی بے رحمیوں کا مقابلہ کرنے کی اس میں جو ہمت باقی تھی، سبھی بکھر گئی تھی۔ پھر بھی کئی دن گزر گئے اور کئی مہینے۔ زندگی چھوٹے چھوٹے دکھوں اور بڑی بڑی مشقتوں کے معمول پر آگئی۔ وہ زنجیر اس کے لاشعور کی کھونٹی پہ کہیں ٹنگی رہ گئی۔ نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو سارہ اسکول کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ اسے اسی اسکول میں داخل کرایا گیا جہاں اس کے ماں باپ پڑھتے تھے اور جہاں وہ پہلی دفعہ ملے تھے۔ تصور اب صبح دم اسے ستاون چک سے، ہمراہ چند اور بچوں کے، رکشے میں بٹھاتا اور شہر لا کر اسکول چھوڑتا۔ شاید سارہ کی پیدائس کے بعد پہلی بار اسے کوئی پائیدار خوشی ملی تھی۔ اگرچہ یہ خوشی بھی دکھوں کے سرمئی سائے میں دھندلا گئی تھی۔ تاہم سارہ کو اسکول چھوڑنا اور اسے وہاں سے لینا اس کے لئے مسرت کے لمحات ہوتے تھے۔ یہ گذشتہ زمانے کی یادوں کی باز آفرینی کا ایک خوبصورت معمول بن گیا۔ چوہدری وکٹر ممتاز صاحب، پرنسپل بھی لگ بھگ اسی وقت اپنی کار سے اتر کو اسکول میں داخل ہو رہے ہوتے تھے جب وہ سارہ کو اسکول چھوڑتا تھا۔ پرنسپل صاحب اب بہت بوڑھے ہو چکے تھے، بال پہلے سے بھی روشن سفید اور رنگت پہلے سے بھی سیاہ۔ تصور اب بھی ان سے سے کتراتا البتہ ایک دفعہ جب وہ چھٹی کے بعد بدیر پہنچا تو چوکیدار نے بتایا کہ چند بچے پرنسپل صاحب کے دفتر میں ان کے پاس بیٹھے ہیں، آپ کی بچی وہاں ہو گی۔ یہ ان کا پرانا معمول تھا کہ پہلی جماعت کے چند بچوں کو دفتر بلوا کر ان سے باتیں کرتے تھے اور انہیں پیار بھی کرتے۔۔۔۔ بڑی جماعتوں کیلئے ان کی سختی مشہور تھی اور تصورکو فقط اسی کا پتہ تھا۔ اس پر اسے ان کے دفتر جانا ہی پڑا۔ پرنسپل صاحب نے اسے تعارف کی ابتدائی منازل میں ہی پہچان لیا او ر بڑی محبت سے پیش آئے۔ اساتذہ کا ایک روائیتی سوال ہی ایسے موقعے پر پہلا سوال ہوتا ہے

“تو آج کل کیا کررہے ہو؟”

جب تصور نے رکشا ڈرائیوری کا بتایا تو چودھری صاحب کافی پریشان سے ہو گئے۔ جب دفتر میں پرنسپل صاحب، ننھی سارہ اور تصور ہی رہ گئے تو انہوں نے پانی اور جوس منگوایا اور تصور کو کچھ دیر بیٹھنے کا حکم دیا۔ وہ نیازمندی سے بیٹھ گیا۔

“سُنا ہے ہماری اسی کرسچین لڑکی سے شادی کی تھی تُو نے! دُھن کا پکا ہے لڑکے!”

چودھری صاحب نے مسکرا کر کہا تو تصور نے نحیف سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ اب کہیں سے بھی لڑکا نہیں لگتا تھا

“تبھی میں کہوں کہ تمہاری بیٹی بھی اتنی سریلی کیوں ہے! ابھی سے اسمبلی میں ملی نغمے سناتی ہے!”

اُنہوں نے ہنس کر سارہ کے سر پر ہاتھ پھیرا جو کہ اپنی ماں کے بچپن کا عکس تھی جسے صرف وکٹر صاحب نے ہی دیکھ رکھا ہو گا۔ تصور کے چہرے پر ایک طرفہ گھبراہٹ امڈ آئی جسے چودھری صاحب نے بھی بھانپ لیا۔

“کیوں تصور؟ پریشان سے لگ رہے ہو، گھر میں سب ٹھیک تو ہے ناں؟ ہماری سونیا بیٹی تو ٹھیک ہے ناں؟؟۔۔۔سوری یار اُس کا مسلم نام مجھے معلوم نہیں ہے !”
اُنہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا تو تصور کا جی بھر آیا مگر اب وہ بڑا با ہمت ہو چکا تھا۔

“سر وہ تو کب کی اللہ کو پیاری ہو چکی۔۔۔”

تصور نے سپاٹ سے لہجے سے کہا گویا فقط ایک خبر سنا رہا تھا لیکن چودھری صاحب ایک دم غمگین سے ہو گئے۔ انہیں چند منٹ میں یہ دوسرا صدمہ مل رہا تھا کہ ایک تو ان کا سابق پراکٹر اب رکشا ڈرائیور تھا، پھر اب ان کی طالبہ جو کہ ابھی جوانی ہی میں تھی، اس کا مرنا تو صدمہ ہی تھا۔ اب جب انہوں نے سوالات کرنے شروع کیے تو ایک ایک کر کے ان پر سارے واقعات آشکارا ہوئے۔ تصور کو خود یہ اندازہ نہ تھا وہ ان تمام مشکلات کے تذکرے میں سونیا کے گہنے بک جانے کی بات پر ہی رو دے گا۔۔۔ حالانکہ سانحہ اس کے مرنے کا بھی کم جانکاہ نہ تھا!چودھری صاحب تو جیسے پگھل سے گئے اور ان کی آنکھ میں نمی آ گئی۔ تصور نے ان کی شخصیت کا فقط سخت پہلو ہی دیکھا تھا، انہیں اس قدر غمگین اور اداس نہ دیکھا تھا۔ اس اثنا میں انہوں نے کھانا منگوا لیا جو تصور کو ان کے ساتھ ہی حکماً کھانا پڑا، جس پہ اندر ہی اندر سے وہ ان کی انسانیت کا قائل ہو گیا تھا۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اسی دوران پرنسپل صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اپنے تدریسی کیرئر میں ہمیشہ ایک یا دو بچوں کے تعلیمی اخراجات اپنے ذمے لیتے آئے ہیں لیکن یہ سلسلہ اب چند برس سے منقطع ہے۔ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ اب سے سارہ کی تعلیم اُن کی ذمہ داری ہے اور تصور اس ضمن میں کسی بھی نوعیت کی فکر سے آزاد رہے۔ تصور کی آنکھیں اب کے ممنونیت کے احساس سے بھر آئیں۔ قدم قدم پر لوگوں کی بے اعتنائی اور خود غرضی سے سابقہ رہا تھا، زندگی کی اتنی تلخ حقیقتیں بھی دیکھ لی تھیں کہ اب اسے یقین نہ آرہا تھا کہ دُنیا میں ایسے مسیحا نفس انسان بھی ہوتے ہیں؟ اسے دعائیں دینے کا طور طریقہ نہ تھا، یا شاید جھجک کہ وہ چاہتے ہوئے بھی چودھری صاحب کو دعائیں نہ دے سکا۔ سہ پہر ڈھلنے لگی تو پرنسپل صاحب کا ڈرائیور انہیں لینے آ گیا اور یہ صحبت برخواست ہوئی۔

“تصور!”

کار میں بیٹھتے ہی چودھری صاحب کو اچانک جیسے ایک خیال سا آیا، اُنہوں نے تصور علی کو آواز دی جو کہ قریب ہی کھڑے اپنے آٹو رکشے میں بیٹھ چکا تھا۔ وہ لپک کر اترا اور کار کے پاس جا کر پرنسپل صاحب کے برابر جھک گیا۔

“تُو بتا رہا تھا کہ سونیا کے گہنے بھی نیلام ہو گئے۔۔۔ کیا کیا تھا اُن گہنوں میں؟”

وہ اس سوال پر چونکا۔

“سر باقی آئٹم تو کچھ خاص نہ تھے۔۔۔ ایک سونے کی زنجیر اچھے سے یاد ہے۔۔۔ اس سے ایک چھوٹا سا بُندہ لٹکا تھا اس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا۔۔۔” تصور نے آہستہ سے بتایا۔

“آہ۔۔۔ فرشتہ نفس بچی تھی، خداوند اس پر اپنی ابدی برکت کا سایہ کرے۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز نے دردمندانہ لہجے میں کہا اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارا کیا۔
آج کی رات رکشا بڑھا کر وہ ایک اور شاعر دوست کے اپس چلا گیا جو کہ اسکول ٹیچر تھا۔ دیر تک وہ اپنی مرحوم بیوی کو یاد کرتا رہا، آج کی واردات بھی سنائی۔ دونوں چودھری وکٹر ممتاز کی شرافت اور خُدا رسیدگی کی داد دیتے رہے کہ غیر مسلم ہو کر بھی وہ دل رکھتا ہے کہ جو مسلمان کے سینے میں ہو تو وہ ولی اللہ کہلائے! خیر، اب اکثر وہ وکٹر ممتاز صاحب کے بارے میں سوچتا رہتا کہ چہار سمت سے نگل جانے کو تیار اس بستی میں ان جیسے مہرپرور انسان بھی ہیں۔۔۔ پھر وہ اسے بھی قدرت کی ستم ظریفی سمجھتا اور ہنس دیتا کہ یہ بھی آدمی کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ اسے زندگی کی نامہربانیوں کے درمیان کوئی ایک آدھ امید کی کرن، کوئی ایک آدھ اچھا انسان دکھا کر اسے اس زندگی کے جبر کو گوارا کر لینے پر مجبور کرنا۔ پھر وہ کہتا کہ چودھری صاحب ایسے بڑے آدمی کیلئے کون سا اتنی مہربانی کوئی بڑی بات ہے، آخر بڑے آدمی بھی تو ہیں ناں! لیکن ایسا نہیں تھا، وہ اپنی تصحیح کرتا۔ چودھری صاحب واقعی ایک سچا مسیحی دل لے کر آئے تھے، یا یوں کہہ لیں کہ ایک حقیقی انسان کا سا شفاف دل! تصور کو اس کا اندازہ تب ہوا جب سونیا مرحومہ کے بہنوئی نے کسی ضرورت کے تحت اپنا رکشا بیچنے کا فیصلہ کیا اور تصور کو کچھ عرصے کی مہلت دی کہ وہ اپنا کچھ اور کام کاج تلاش کر لےاور معینہ تاریخ تک اس کا رکشا اسے لوٹا دے۔یہ عرصہ تصور کے لئے سخت پریشانی کا تھا۔ سونیا کے علاج کی غرض سے لیے گئے قرض ابھی کاملاً ادا نہ ہوئے تھے۔ ایک ککے زئی تاجر کے تقاضے تو اب پولیس اور تھانے کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ محلے کے معززین میں سے دو ایک کی مداخلت اس تاجر نے اس کے خلاف دی گئی درخواست تو پولیس سے واپس لے لی مگر چھے ماہ کا الٹی میٹم تھا۔ تصور میں بھی تھانے کے اس ایک پہر کے قیام کے بعد مزید ہمت نہ تھی، سو اب رکشے کی فروخت کا مطلب سارے اندیشے اور خوف پورے ہونے کا تھا۔ پھر یہ ابتلا ننھی سارہ پر بھی منفی اثر ڈالنے والا تھا کہ اب وہ بھی بالکل چھوٹی نہ تھی۔

بآسانی سمجھ میں آجانے والا تو یہی حل تھا، سو تصور کے ذہن میں بھی یہی آیا کہ چودھری وکٹر ممتاز صاحب سے بات کرے۔ وہ اس دن دانستہ سارہ کو لینے بدیر پہنچا۔ چودھری صاحب کا سب کو علم تھا کہ دیر تک دفتر میں بیٹھتے ہیں۔ چپراسی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ اندر سے پیغام آیا کہ تھوڑا سا انتظار کیا جائے، نظامت تعلیمات کے کچھ افسران اور لاہور سے ایک پادری صاحب آئے بیٹھے تھے۔ معزز مہمان جا چکے تو تصور کو اندر بلوایا گیا۔ واجبی احوال پرسی کے بعد تصور نے مدعا بیان کیا۔ چودھری صاحب نے تمام بات غور سے سُنی، چپراسی کو بلایا اور کھانا مگوایا۔ یہ ادا کمال تھی اُن کی، ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اچھا مسیحی کسی کو بھی کھانا کھلا کر خداوند کے قریب تر ہو جاتا ہے۔ ان کے گھر پر بھی فراخ دلی کا یہی عالم تھا۔ وہ خاموشی سے کچھ فائلیں دیکھنے بیٹھ گئے۔ کھانے تک وہ خاموش تھے، تصور بھی چُپ رہا لیکن اس کے چہرے پر اُمید و بیم کے تاثرات واضح تھے۔

“تصور بیٹا۔۔۔ آپ اپنے ہم زلف سے رکشا لوٹانے کی معینہ تاریخ میں کچھ توسیع لے لیں۔۔۔ ایک ماہ کی۔۔۔ پھر میرے لیے دعا کریں کہ جو کچھ میں کرنا چاہ رہا ہوں، خداوند خُدا مجھے اس میں کامیاب کریں۔۔۔”

تصور نے کھانے سے اپنی نظریں اُٹھائیں۔۔۔ چودھری صاحب دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے تھے، وہ فقط چائے کی سست رو چسکیاں لے رہے تھے۔

“تصور بیٹا میں سوچ رہا ہوں کہ اپریل تک میرے دفتر میں نائب قاصد کی آسامی بن رہی ہے۔۔۔ بُوٹا ریٹائر ہو رہا ہے۔۔۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ اس پہ تمہارا تقرر ہو۔۔۔ اگرچہ ایک مسلم کے لئے یہ فیور مانگنے میں مجھے بورڈ ممبرز میں کسی نہ کسی کی مخالفت مول لینا پڑے گی، پھر تم جیسے مسلم کے لئے جس نے ماضی میں ایک مومن لڑکی کو مسلم کیا ہو، کرسچن بہت نرم گوشہ نہ رکھتے ہوں گے۔۔۔ تُم سمجھ گئے ناں؟”

تصور نے زور سے کسی معصوم بچے کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔

“خیر تُم پر امید رہو۔۔۔ خداوند ہمیں کامیاب کرے گا۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز صاحب کے لہجے میں خلو ص اور عزم تھا۔ سو وقت آنے پر خداوند نے انہیں کامیاب بھی کیا۔ تصور کو اس نوکری نے صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی طور پر بھی کچھ سہارا دیا۔ کچھ مسلمان کمیونٹی میں اور کچھ عیسائی کمیونٹی میں۔ معمولات میں ایک روانی آئی، اگرچہ مفلسی تو نہ گئی مگر محتاجی سے بچ کو آبرو میں کٹنے لگی۔ قرض خواہوں کے تقاضوں میں شدت تو ہوتی مگر اب پہلے سی بدتمیزی نہ تھی۔ حاجی صاحب سے تعلقات بھی بحال ہو گئے۔ عید تہوار پہ سارہ نے بھی ددھیال جانا شروع کر دیا اور ننہال تو اس کا اصل ٹھکانا تھا۔ ماسٹر رحمت مسیح تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ تصور کا گزشتہ شعر وسخن کا سلسلہ بھی کچھ بحال ہوا مگر اب سامعین اس کے غم اور یاس سے بھرے اشعار سے اُکتا گئے تھے۔

پھر کچھ سال اسی باعزت غریبی میں گزر گئے۔ عمر گذشتہ کے دکھوں کا مداوا ہو سکا نہ کوئی بڑی خوشی ملی۔ تصور بھی اس پر صابر وشاکر تھا کہ بے شک کوئی اور خوشی نہ ملے، کیا یہ کم ہے کہ جو کچھ میسر ہے، اس کا دُکھ نہ دیکھنا پڑے۔ دوسری شادی کے لئے کئی دفعہ احباب، دوستوں کی طرف سے اصرار بھی ہوا مگر اب تصور اس خیال سے بھی گھبراتا تھا۔ اسے سونیا کی یادوں سے بھی دوری گوارا نہ تھی۔ اور یہ باب کچھ اس لئے بھی بند ہونے لگا کہ تصور کے سر میں وقت سے زرا پہلے چاندی اترنے لگی تھی۔ نوکری میں اگرچہ عیسائی رفقائے کار کے ساتھ کبھی کبھار رنجشیں بھی ہوئیں مگر ایذا رسانی کی حد تک کبھی نہ پہنچیں۔ کچھ چودھری وکٹر ممتاز صاحب کی شفقتوں نے بھی اسے مامون رکھا۔ البتہ اب چودھری صاحب کی ریٹائرمنٹ قریب تھی۔

ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل کی بات ہے، اس روز چودھری صاحب گھر جا کر دوبارہ شام کو دفتر آئے اور تصور کو بھی بلوا لیا۔ دفتر میں پا س بٹھا کر ادھر ادھر کی بات چیت کرنے لگے۔جب سے تصور ان کے ہاں ملازم ہوا تھا، اب اس کے لئے کھانا نہ منگواتے۔ چائے البتہ منگوا لی۔ باتوں باتوں میں اپنی بیٹی کی شادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ سلویا ممتاز ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی۔

“تصور۔۔۔ میں جب سلویا کی شادی کے کپڑے گہنے بنا رہا تھا تو مجھے اورنٹیئل بینک کے ایک دوست کی وساطت سے کچھ گہنے نیلام کی قیمت پہ بھی ملے تھے۔۔۔”
وکٹر صاحب کے اس جملے پر تصور چونک اُٹھا۔ وہ لگ بھگ ساری بات سمجھ چکا تھا۔ ساتھ ہی چودھری صاحب نے کوٹ کی جیب سے ایک سنہری زنجیر نکال کر میز پر پھیلا دی۔ تصور اسے پہچان گیا کیونکہ یہ اس کے لئے فقط ایک زنجیر نہ تھی۔۔۔ اس کے دل کی ایک دھڑکن گویا قضا ہو گئی۔

“تصور۔۔۔ یہ زنجیر پہچانتے ہو؟”

وکٹر صاحب نے پوچھا۔ پتلی سی زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹا سا بُندہ، جس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا، تصور کو خوب یاد تھی، خوب پہچانتا تھا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار ڈبڈبا گئیں۔

“تصور۔۔۔ یہ زنجیر تمہاری مرحوم بیوی کی۔۔۔ سونیا کی۔۔۔ مجھے اس کے باقی گہنوں کا بہت افسوس ہے لیکن یہ زنجیر اتفاق سے میرے پاس تھی۔۔۔ جب پہلی بار میں نے تُم سے اورنٹئیل بینک کا سُن کر سونیا بیٹی کے گہنوں کی تفصیل پوچھی تھی تو تب تک میں یہ زنجیر سلویا کو دے چکا تھا لیکن تب سے اب تک یہ ایک پھانس بن کر میرے دل میں اٹکی تھی۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز صاحب نے زنجیر تصور کی طرف بڑھائی تو اُس نے ڈبڈبائی آنکھوں اور رندھے ہوئے گلے کے ساتھ ایک نامکمل سا لفظ ادا کیا “شکریہ سر۔۔۔” لیکن اس کا ہاتھ اب بھی زنجیر کی طرف نہ بڑھا تھا۔

“شکریہ تو تُم سلویا کا ادا کرو جسے ابھی چند روز قبل بہت اندیشوں کے ساتھ اور بڑی ردوکد کے بعد میں نے سونیا کے گہنوں کا قصہ سُنایا تھا۔ اُسے بھی سونیا کے گہنوں کا بہت دُکھ ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ سلویا نے یہ سب سنتے ہی بنا کسی جھجک یا مزید سوال جواب کے، یہ زنجیر مجھے لاکر دی جو اُسے یقین تھا کہ سونیا کی ہو گی۔۔۔”

یہ رات اُس نے چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں سونیا کی قبر کے سرہانے پہ بیٹھ کر گزاردی۔۔۔ سونیا کے گلے کی جس زنجیر نے اُسے ملکوتی حُسن عطا کیا تھا اور اس شاعر کی نظر میں اُسے دونوں جہانوں کے حُسن کا پیکر بنایا تھا، وہ زنجیر، سونیا اور یہ شاعر جو اول الذکر ہر دو پہ کبھی جان وارتا تھا، تینوں آج مدت بعد ایک جگہ تھے۔ اگرچہ ان کے مابین فاصلہ بھی وہ تھا جو کبھی عبور نہ ہونے والا تھا! جب رات کا آخری پہر ہونے آیا اور تصور کو نقاہت سی ہونے لگی تو اس نے قبر کو مخاطب کیا؛

“سونی! مجھے لگتا ہے میری غریبی نے ہی یہ دن دکھائے۔ شاید یہ زنجیر تُم سے جُدا نہ ہوتی تو تمہارا حُسن بھی سرطان کے بھیانک عفریت کی غذا نہ بنتا! کسے خبر تُم پر یہ ابتلا فقط غریبی کی وجہ سے آئی ہے۔ خیر، یہ رہی تمہاری زنجیر۔۔۔اسے تُم سے بہتر کوئی نہیں پہن سکتا! مجھے معاف کرنا کہ میں اسے واپس حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن دیکھ لو، مجھے بھی اس کٹھن سفر نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔۔۔خیر، یہ لو۔۔۔ تمہاری۔۔۔زنجیر۔۔۔”

تصور نے اس کی قبر کی بالیں کی جانب کافی گہرائی تک مٹی کھود کر اس میں زنجیر دبا دی۔۔۔وہ اس زنجیر کو سارہ کے جہیز کیلئے نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ تصور وہاں سے اُٹھا تو اس کے سفید بال اور چہرے کی جھریاں پسینے میں تر تھیں اور قریب بستی کے کسی بلب کی بھولی بھٹکی روشنی میں پسینے کے قطرے تھکی تھکی سے چمک دکھا رہے تھے۔۔۔

رِیت رسموں کی زنجیر توڑ پھینکنے والا تصور اس زنجیر کے بوجھ سے آزاد ی پا کر اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑا کہ اب نجانے کب تک اسے زندگی کے جبر کی زنجیر میں بھی ہاتھ پاؤں مارنے تھے۔۔۔

(سرگودھا، ۱۰ جولائی ۲۰۱۹)
Image: Heitham Adjina

Categories
فکشن

جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔

اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے دو مہینے چھوٹا تھا۔ ہر سال جب بھی اس کے چچیرے بھائی کا جنم دن آتا اس کی ماں آہ بھر کر کہتی۔” ہائے میرا جمیل ہوتا تو اب وہ بھی اتنے سال کا ہوتا”۔ اور جب اکبر (اس کا ہم عمر چچیرا بھائی) کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں دیر تک روتی رہی اور خیالوں ہی خیالوں میں اپنے خاک میں خاک ہو چکے بیٹے کو سہرے باندھتی رہی۔

جمیل ہوتا تو اب کیسا گبھرو جوان ہوتا۔ ماں کے ساتھ کبھی کبھی وہ بھی سوچنے لگتی۔ جمیل کی وجہ سے ان بہن بھائیوں کی تعداد میں عجیب توازن تھا۔ جب وہ زندہ تھا تب وہ برابر برابر تھے تین بٹا تین۔ جمیل کی وفات کے بعد ان کے توازن میں فرق آ گیا ہے اور وہ دو بٹا تین ہو گئے تھے۔ مگر یہ ترتیب زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی تھی کیونکہ اس کی وفات کے دو سال بعد ان کی چوتھی بہن ثانیہ پیدا ہوئی اور یوں تین بٹا تین کا توازن چار بٹا دو میں بدل گیا۔ اب مساوات کی جگہ دو چوتھائی آ گئی تھی۔

اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اور سینہ پیدائشی ضعف جگر کی وجہ سے ابھرا ہوا تھا۔ اس کی پسلیوں کا پنجرہ ہموار نہیں تھا بلکہ زیادہ اوپر اٹھ گیا تھا۔ اپنی مختصر حیات میں اس نے ڈھیر درد سہے اور پھر بہار کی ایک دوپہر کو اس نے برآمدے میں لیٹے ہوئے ماں کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پکوڑے کھانے کی فرمائش کردی۔ماں نے اسے(عالیہ) کہا کہ جا کے باہر سے پالک توڑ لائے۔ وہ پالک توڑنے چلی گئی۔ اس نے پالک کاٹی، آلو کاٹے لیکن وہ سب کچھ درمیان میں ہی رہ گیا۔ بے حد خوبصورت آنکھوں اور سینے کے ابھرے ہوئے پنجرے والا جا چکا تھا۔ وہ کٹی ہوئی پالک بعد میں کتنے ہی دن آگ والی کوٹھڑی کی پڑچھتی پر پڑی سوکھتی رہی۔ عالیہ انہیں دنوں دسویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔ بہار جس کا آغاز نمناک ہوا تھا اس کی بلوغت کی زندگی میں سوچ لے کر آئی۔ سوچ جس سے وہ بعد میں کبھی مفر حاصل نہ کرسکی۔ وہ بارہ سال کی زندگی جس کا غالب حصہ درد اور بخار سے بھرا ہوا تھا،وہ کیوں زمانے کے کھاتے میں درج ہوئی تھی۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ کبھی وہ یہ سوال ماں کے آ گے رکھتی تو ماں تقدیر کے کندھے پہ سارا بوجھ ڈال کے آزاد ہو جاتی۔ اس چمکتی دوپہر جب اس نے ماں سے سوال کیا تو وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ ماں گندم کو جھج میں پھٹک کے چارپائی پہ بچھے کپڑے پہ ڈال رہی تھی اور وہ پاس بیٹھی دانوں کے اندر سے گھنڈیاں اور مٹی کے روڑ نکال رہی تھی۔

گندم صاف کرتے ہوئے اس نے دانوں کی ایک مٹھی بھری اور پاس چگتی مرغیوں کے آگے پھینک دی۔ باقی دانے ایک بوری میں ڈالے جانے تھے تاکہ پسوائی کے لیے چکی پر بھیجے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کچھ اور بھی دانے چارپائی پر پھیلے کپڑے سے نیچے گر کے کچے صحن کی مٹی میں مل گئے ہیں۔ جب جھاڑو پھرے گی تو یہ کوڑے کے ساتھ باہر گرا دیئے جائیں گے۔ تب اس نے سوچا خدا بھی انسانوں کی تقدیر ایسے ہی طے کرتا ہوگا۔ کچھ کی مٹھیاں بھر کے سکھ کے جزیرے میں پھینک دیتا ہو گا۔ کچھ کو مٹی میں رول دیتا ہو گا۔ کچھ کو بچا کے رکھ لیتا ہوگا کہ آگے بیجائی اور مزید پیداوار کے کام لائے جاسکیں۔ اور جو اکثریت ہے ان کی پراتیں بھر بھر کے بوری میں ڈال دیتا ہو گا تاکہ وہ چکی کے تیز پاٹوں میں پس کر آٹا بن جائیں۔ پھر ان کو گوندھا جائے۔اس کے بعد بیلا جائے۔پھر تنور یا توے پر پکایا جائے اور پھر کھالیا جائے۔سب سے زیادہ آ زادی تو پیداواری مقاصد کے لیے رکھے گئے دانوں کے حصے میں آ تی ہے۔ مگر بعد میں ہوتا ان کے ساتھ بھی وہی ہے۔ مگر یہ آزادی بھی کب تک ہے۔ نئے پودوں کے اگنے اور سٹے میں دانے پکنے تک بس۔ اس کے بعد ان کی جڑوں میں درانتی پڑتی ہے اور پھر وہی ایک جیسا چکرشروع ہوجاتا ہے۔ تو گویا یہ تقدیر ہے۔اس نے پھر مٹھی بھری جیسے تقدیر طے کر رہی ہو۔اب اس مٹھی میں جو دانے آئے ہیں وہ ان کی کیا تقدیر طے کرے؟
مرغیوں کے آ گے ڈالے۔
زمین پہ پھینک دے
یا بوری میں ڈال دے۔

اور اس مٹھی میں جو دانے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقدیر طے کی جارہی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو کیا وہ دعا کررہے ہیں کہ انہیں کس طرف ڈالا جائے۔کیا انہوں نے کوئی وظیفہ کیا تھا؟ کوئی عبادت کی تھی۔گڑگڑائے تھے۔ سجدے میں گرے تھے۔ یا ایسے ہی میری مٹھی میں جو آنے تھے وہی آ ئے۔ یہ ان کی تقدیر ہے۔اور جو بوری میں ڈالے جا رہے ہیں وہ ان کی تقدیر ہے۔

اس نے ماں کی طرف دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس کے چہرے پہ گہری خاموشی تھی جیسے اب کبھی نہیں بولے گی، یا جیسے وہ اپنے سارے سوال ختم کرکے پرسکون ہو چکی ہو۔ کیا ماں کو اس سب کا پتا ہے جو وہ سوچ رہی ہے۔

موت ایک صدمہ ہے۔ ہاں مگر موت آس پاس والوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔ لیکن زیست آس پاس والوں کے لیے صدموں کا مجموعہ ہے۔ ہمارا روٹھنا، کھانا نہ کھانا، بات نہ کرنا، بیمار ہو جانا، کسی ہڈی کا ٹوٹنا، معذور ہونا، ہماری غربت، ہماری خواہشوں کی عدم تکمیل، ہماری ناکامیاں، کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے قریبی رشتوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور ہماری کامیابیاں ہمارا اچھا نہ چاہنے والوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ جینا پھر بھی موت پہ فائق ہے اگرچہ موت صرف اکلوتا صدمہ ہے۔

جمیل بارہ برس کی عمر میں مرا، مگر موت نے کچھ بھی ساکت نہیں کیا۔ خاندان کے تصویری البم میں اس کی عمر بارہ برس ہی تھی مگر ماں کی یاداشت میں وہ سال ہا سال بڑا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ماں خیالوں میں اس کی دلہن بھی تلاشنے لگی تھی۔وہ سردیوں کی راتوں میں جب دیر سے آ نے والے خاوند کا انتظار چولہے کے پاس پیڑھی پہ بیٹھ کے کرتی تو لکڑیوں کے چولہے کی دوسری طرف جمیل بیٹھا رہتا۔ماں بیٹا گھنٹوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہتے۔ماں بیٹھی بیٹھی اونگھ جاتی تو اس کا سر انگیٹھی کی دیوار سے جا لگتا۔جمیل بیٹھا سر کو دائیں بائیں مسلسل ہلاتے ہوئے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنکے توڑ کے آ گ میں پھینکتا رہتا اور آگ جلتی بجھتی رہتی۔ان کی زندگی ایسی ہی تھی ایک وقت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور بیک وقت جدا بھی۔وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔باقی بہنیں بھائی اس دوران آ گ والی اسی کوٹھری کے دھواں دھار ماحول میں اپنے لحافوں میں دبکے سوتے رہتے۔دائیں بائیں سر کو ہلاتے ہوئے وہ سوچتا چلا جاتا۔اس کا ذہن بہت تخلیقی تھا۔پلاسٹک کے خریداری والے لفافے کو نیچے سے کاٹ سے سویٹر یا بنیان کی طرح پہننے کا طریقہ بھی پہلی بار اس نے نکالا تھا۔ایک دوپہر جب ماں ساگ توڑ کر شہر میں اپنی دیورانی کو بھجوانے کے لیے لفافہ ڈھونڈ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ اسے جمیل نے کسی بنیان کی طرح اپنے نحیف بدن پہ پہن رکھا ہے اور بہت آ رام سے آ نکھیں موندے سر کو ہلا رہا ہے جیسے کسی ان دیکھے جھولے کی لذت لے رہا ہو۔تو اسے تپ چڑھ گئی۔ایسے موقعوں پر وہ مارنے سے بھی گریز نہ کرتی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پلاسٹک کے معمولی خریداری لفافے بھی سنبھال کے رکھے جاتے تھے۔

اب اسے یاد کریں تو یاداشت میں اس کے نیلے رنگ کے کپڑے اور پلاسٹک کے سفید بوٹ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ بھی ایسا نہیں جو اس کے تعلق سے یاداشت میں بچا ہو،سوائے آ نکھیں بند کرکے ہنستے ہوئے اس کا سر دائیں سے بائیں ہلاتے رہنا اور اس کا چیزوں کے عجیب عجیب نام رکھنا۔یہ بھی بڑاعجیب واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار ہمسایوں کے بہت پستہ قد اور سفید رنگت کے لمبی فر والے کتے کا نام “غونی غیبی”رکھ دیا تھا۔ دوپہر کو جب سارا خاندان صحن کے بڑے درخت کے نیچے اکٹھا بیٹھا تھا اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کرکے کہا وہ “غونی غیبی”ہے۔ سب نے اس کے اشارے کی طرف نگاہ کی وہاں ہمسایوں کا جانا پہچانا کتا کھڑا تھا۔اور پھر سب اس کے اس نام پہ ہنسنے لگے تھے۔اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے ایک پرندے کا نام رکھا۔ایک لمبی دم والا پرندہ ہر روز ظہر کے وقت آ کے ماں کی لاڈلی مرغی کا انڈا پی جاتا تھا جسے ماں نے گندم کے بھڑولے کی چھت پہ مٹی کی انگیٹھی رکھ کے کڑک بٹھایا ہوا تھا۔جمیل اس پرندے کو آ تے اور انڈا پی کر جاتے دیکھتا رہتا مگر اس نے کبھی پرندے کی شکایت ماں سے نہیں کی۔ایک شام جب ماں نے انڈے سنبھالے تو سب خالی تھے اور کوئی چوزہ بھی نہیں تھا،تب پریشان حال ماں کو جمیل نے بتایا کہ “مریا میگی”سارے انڈے پی گیا تھا۔جب ماں نے حیرت اور خوف سے آ نکھیں پھیلا کر پوچھا کہ یہ “مریا میگی”کون ہے تو اس نے بتایا کہ بہت لمبی دم والا پرندہ جو ظہر کے وقت بلاناغہ آ تا ہے اور ایک انڈا پی کر چلا جاتا ہے۔سارے بہنیں بھائی جو پاس کھڑے تھے ہنس پڑے اور مریا میگی،مریا میگی کا ورد کرتے صحن میں چکرانے لگے۔ وہ ان کی اس حرکت پہ بہت خوش ہوا اور انہیں دیکھتا خوشی سے ایک جگہ کھڑا ہوکے سر ہلاتا رہا۔ان دنوں جمیل بظاہر خاندان کے لیے کوئی کار آمد فرد نہیں تھا۔جیسے اس کے باقی بہن بھائی یا چچاؤں کے بیٹے بیٹیاں تھے۔ وہ سارا دن باہر کھیتوں میں اچھلتے کودتے اور پھر اکتوبر کی مخزوں عصر کے وقت بکریاں چرانے نکل پڑتے۔یہ بکریاں چرانا بھی ان کے لیے کسی مہم جوئی جیسا تھا۔دور دور تک پھیلے کھیت کے خالی میدان ان کے اپنے تھے جن میں مکئی اور چاول کی فصل کاٹ کے اٹھالی جاتی اور کھیت کچھ دن آ رام کرتے تھے۔نہری پانی کی رواں کھالوں کے کناروں پہ اگے اونچے اور گھنے پاپلر کے پیڑ روح میں عجیب سی سرشاری بھردیتے۔بکریاں آ گے ہی آ گے منہ اٹھائے جاتیں اور بکروال اپنی مستیوں میں مگن کبھی کسی سانپ کی متابعت میں ہوتے تو کبھی امرود کے کوتاہ درخت کی شاخوں سے بندر کی طرح لٹکے ہوتے۔ایسے میں جمیل کو ساتھ لے جانا کسی خطرے سے خالی نہ تھا کیونکہ وہ ان کی ایک ایک بد عنوانی کی مفصل رپورٹ گھر میں دیا کرتا۔وہ سب اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔خود تو کرتا کچھ نہیں انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتا۔اسی طیش میں وہ موقع بموقع اسے مارپیٹ بھی لیا کرتے تھے۔

اس کی بارہ سالہ حیات اتنی اہم نہیں تھی کہ اس سے وابستہ کسی یاد کا اہتمام کیا جاتا۔ آ دمی کار آ مد تب گردانا جاتا ہے جب وہ موجد بنتا ہے۔اپنا خاندان خود بناتا ہے۔وہ تو ابھی خام مال تھا جس کی بقا کا انحصار جس کے اصل مادے پر ہوتا ہے۔مگر اس دورانیے کو بھلانا ممکن نہیں تھا۔زمانے کے جس مختصر وقفے میں اس نے اپنی سانسوں کا حصہ ڈالا۔اس کے بعد کے برسوں میں بہت روحیں جنمی ہیں۔مگر ایسا کوئی بھی نہیں جسے کسی شئے کا نام نہ پوچھنا پڑا ہو۔اور جو اپنے ہردکھ کی ستر پوشی خود کرلیتا ہو۔سبھی چیزوں کے نام خود رکھ لیتا ہو۔

Categories
فکشن

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔

کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔

خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔

’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔

یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔

اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔

ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔

مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔

اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔

رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔

اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔

چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘

’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔

نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔

گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔

سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔

ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔

جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔

میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔

اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔

وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔

جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔

میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔

چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔

دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔

میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔

دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔

’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔

عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔

شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘

میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔
Image: Mehwish Iqbal

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 11

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔

اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔

حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔

کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔

اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔

دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)

آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘

گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔

بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘

بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘

دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔

لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)

ہندسوں میں بٹی زندگی

’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘
’’ جی میں ہوں”
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘

اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔

سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔

’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘
’’ جی فرمائیے‘‘
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘

گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل چہرہ

گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔

اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو منظر

پہلا منظر:

یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔

دوسرا منظر :

یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔

مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔

دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گونگا وائلن نواز

اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔

بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔

عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘

چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوجھ

وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔

کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔

ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘

کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوتل میں قید آدمی

محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعبدہ گر

وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔

وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔

اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”

ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقسیم

یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الزام

یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نابینا محبت کی سرگزشت

میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔

میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔

میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔

میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رُکا ہوا آدمی

رُکا ہوا آدمی

’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘
’’لیکن پھر؟‘‘
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے
اخبار لے لو ، اخبار”
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘

’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Imzge: Banksy

Categories
فکشن

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔

نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔

اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔

آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔

اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔

میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔

’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا
’’نہیں۔۔۔
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔

میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔

چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔

سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔

سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔

میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔

میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔

پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔

سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔
Image: Marylise Vigneau