Categories
نان فکشن

شمیم حنفی : اس بزم میں پھر لوٹ کے آنے کے نہیں ہم (تصنیف حیدر)

اس (ادیب) کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عمومیت زدہ مسئلوں اور عامیانہ باتوں میں ضائع نہ کرے اور اپنی پوری توجہ ادب یا آرٹ پر مرکوز رکھے۔ اپنی تخلیقی سرگرمی کا سودا نہ کرے اور ہر قیمت پر فن کی حرمت اور فن کی تشکیل کے عمل کی حفاظت کرے۔ عام مقبولیت کے پھیر میں نہ پڑے۔ ایسی باتیں نہ کہے جن کا مقصد سب کوخوش کرناہو۔ اسے اپنی ترجیحات کاپتہ ہونا چاہیے۔ روزمرہ کی سیاست اور سمجھوتوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت جب سچ کو خطرہ لاحق ہو، اس کی حفاظت کے لیے کھل کر سامنے آجانا چاہیے یا پھر اپنے اخلاقی ملال اور احتجاج کوسامنے لانے کا ایک طریقہ جو بظاہر تجریدی ہے، ایک لمبی گہری خاموشی کے طور پر رونما ہوتاہے۔

(، شمیم حنفیادب میں انسان دوستی کا تصور

سیاسی قدروں کے زوال نے ادب اور آرٹ کی دنیامیں بھی ایک ہولناک درباری کلچر کو فروغ دیا ہے اور ’’ادب اور آرٹ کی تخلیق کا جوکھم اٹھانے والوں‘‘ کے ضمیر کو داغدار کیا ہے۔ انعامات، اعزازات، مناصب، مراعات، ادب اور آرٹ کی ترقی اور نمائندگی کے لیے اوپر سے بچھائے ہوئے راستوں پر اور معینہ مقاصد کے ساتھ دور دراز ملکوں کے دورے، یہ تمام باتیں ادیب اور آرٹسٹ کی بصیرت کے گرد لکیریں کھینچنے والی ہیں، اس کے شعور کو محدود کرنے والی اور ادب یا آرٹ کے مقدس اور پاکیزہ مقاصد سے توجہ ہٹانے والی ہیں۔ اس قسم کی مراعات اور سہولتیں قبول کرنے میں ہمیشہ کسی جانے انجانے راستے سے ذہنی غلامی کے درآنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور ذہنی غلامی چاہے کسی فرد کی ہو یا ادارے یا نظریے کی، انسانی ضمیر اور تخلیقی اظہار کو ہمیشہ راس نہیں آتی۔ آرٹ اور ادب کی دنیا میں اس طرح کے موسم اورمعاملات انسان دوستی کے اس عظیم تصور کو بھی راس نہیں آتے جس کی تعمیر اور ترویج کا قصہ، تہذیب و تاریخ کی کئی صدیوں سے پھیلا ہوا ہے۔ اپنے شعور اور حافظے کو جھٹلا کر ادب اور آرٹ کی بامعنی تخلیق ممکن نہیں اور یہ معنی بہرحال انسان شناسی اور انسان دوستی کے دائرے میں ہی گردش کرتے آئے ہیں۔

(ادب میں انسان دوستی کا تصور، شمیم حنفی)

اوپر دیے ہوئے ان دو ٹکڑوں سے میں شمیم حنفی کے نظریہ ادب اور نظریہ زندگی کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ اب اپنے آس پاس نظر دوڑائیے اور کہیے کہ اردو میں اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ بھی کتنے رہ گئے ہیں۔ یہ تو ہم سب کہیں گے کہ ایک عہد ختم ہوا، ایک ایسا زریں دور جس نے جدیدیت کو ہندوستان میں پروان چڑھتے دیکھا۔ جو ریڈیو کی گھڑگھڑاتی سوئی سے 4G تک کا زمانہ اپنی آنکھوں میں بسائے تھا۔ مگر ادب کی جو تعریف شمیم حنفی نے گڑھی تھی، وہ اس پر قائم رہے۔

نہایت گورا چٹا رنگ، درمیانہ قد، ماتھے پر گمبھیرتا کی کچھ گہری لکیریں اور گفتگو میں ایک خاص قسم کی نفاست۔ یہ ان کی پہچان تھی۔ آپ ان سے پہلی بار ملیں یا کئی ملاقاتیں کرچکے ہوں، وہ تپاک سے ملتے تھے۔آپ کی لکھی پڑھی چیزوں پر ایماندارانہ رائے دیتے تھے۔ جو نہ پڑھا ہو، اس کے لیے صاف انکار کردیتے تھے۔ ایسے لوگوں سے گھبراتے تھے، جواپنی صلاحیتوں کو بڑھ چڑھ کر بیان کرتے ہوں اور سب سے اہم بات اپنے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ میں نے ان میں ایک خاص بات یہ نوٹ کی کہ وہ آپ کی شخصیت کو صرف علمی معیار پر جانچتے تھے یا تخلیقی بنیاد پر۔ ذاتی حوالے سے آپ زندگی میں کیا کررہے ہیں کیا نہیں، اس پر رائے زنی کرنا، کوئی مشفقانہ یا بزرگانہ مشورہ دینا ان کا وطیرہ نہیں تھا۔

شمیم حنفی اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی شخصیت سے جو باتیں میں نے سیکھی ہیں، وہ میرے اور ان بہت سے دوسرے ہم عصروں کے ساتھ رہیں گی، جو ان سے ایک بار یا کئی بار مل چکے ہیں۔ ان سے میرا تعارف دہلی آنے سے پہلے ہو چکا تھا۔ میں جدیدیت پر لکھی ہوئی ان کی کتاب (جو کہ غالباً ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی تھا) جدیدیت کی فلسفیانہ اساس کو پڑھ چکا تھا، مگر اس سے بھی پہلے میں نے کہانی کے پانچ رنگ پڑھی تھی، جو میرے لیے ان کی دوسری تحریروں یا کتابوں کو پڑھنے کی ترغیب بھی بنی تھی۔ مگر کچھ آگے چل کر فاروقی اور عسکری جیسے ادیبوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں نے شمیم حنفی کو پڑھنا بہت کم کردیا تھا۔ بہت بعد میں منٹو پر لکھی ہوئی ان کی ایک کتاب اور میرا جی کا نگار خانہ میں نے پڑھی، جس کو انہوں نے ترتیب دیا تھا۔

پی ایچ ڈی کے مقالے کا ذکر ہوا تو یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ شمیم حنفی اس نسل کے ادیب تھے، جہاں پی ایچ ڈی کے کچھ کام اردو کے ادب کا اہم سرمایہ بن کر لوگوں کے سامنے آئے۔ مثال کے طور پر خلیل الرحمٰن اعظمی کی کتاب اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، محمد حسن کی کتاب دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی اور فکری پس منظر، گوپی چند نارنگ کی کتاب اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب۔اب تو ہم دیکھتے ہیں کہ یونیورسٹیاں پڑھائی کے نام پر نوکری کی لجلجی خوشامدوں اور چاپلوسیوں کا گڑھ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے لوگ جن کے اندر تنقیدی، تخلیقی صلاحیت نام کو نہیں اور جنہیں کسی ڈھنگ کے ادبی و علمی سماج میں ایک اچھے طالب علم کی حیثیت حاصل نہ ہو، وہ پروفیسر بنے بیٹھے ہیں۔ شمیم حنفی اس بات سے خود بھی زیادہ خوش نہیں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ چیزیں جس تیزی سے بدلی ہیں اور خاص طور پر ہندوستانی یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو کے طلبا، ذہنی بلندی سے دور مذہبی شناخت پر مصر ایک ایسے خول میں ڈھل گئے ہیں، جہاں علم کا گزر ہرگز نہیں ہے، تبدیلی کی خواہش نہیں ہے اور ارتقا کی گنجائش نہیں ہے، وہ لائق تشویش بات ہے۔

اس وقت مجھے ان کی کہی ہوئی کئی باتیں یاد آرہی ہیں۔ وہ باتیں اس انداز سے کرتے تھے کہ آپ بیٹھ کر انہیں گھنٹوں سن سکتے تھے۔ شمیم حنفی کے یہاں یہ جو فن تھا، وہ دوسرے نقادوں میں ویسا نہیں تھا۔ گفتگو بھی ایک قسم کا سلیقہ مانگتی ہے، میں نے دوسرے ادیبوں کو بھی بات کرتے سنا ہے مگر شرط ادب کے لحاظ سے یہاں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا، مگر شمیم حنفی جیسی صاف و شفاف اور دل کو چھوتی ہوئی گفتگو میں نے کسی ادیب کے یہاں نہیں پائی۔ وہ اگر آپ کو کسی شہر کے بارے میں بتاتے تو کوئی ایسا نکتہ ضرور ہوتا جو اس شہر کی خاصیت کو بالکل نئے سرے سے آپ پر روشن کرتا۔مثال کے طور پر انہوں نے اپنے آبائی وطن سلطانپور کے حوالے سے ایک دفعہ بتایا تھا کہ ’سلطانپور وہ واحد جگہ ہے، جہاں تقسیم ہند کے وقت ایک بھی فساد نہیں ہوا۔‘

میں جب بھی ان کے پاس جاتا، کسی نہ کسی ادبی موقف پر اختلاف کا کوئی پہلو بھی نکل آتا۔ میں ججھکتے ہوئے اپنی بات ان کے سامنے رکھتا تو کبھی جھلاتے نہیں تھے، وہ پوری طرح بات سنتے اور پھر اپنی رائے کو دوبارہ واضح کرتے۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ دہلی شہر اردو کے ہی نہیں، ہندوستانی ادب کے ایک ایسے ادیب سے محروم ہوا ہے، جس کی رگوں میں اختلاف رائے کا احترام، رواں دواں تھا۔ ادب میں ان کا اصرار بھی یہی تھا کہ زندگی کو کسی بھی چیز پر فوقیت نہ دی جائے، چاہے وہ پڑھنا لکھنا ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا ماننا تھا کہ آدمی کا تعلق براہ راست زندگی سے ہے، اس لیے زندگی کی اہمیت کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ اسی مضمون میں انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو زبانی بھی مجھے ایک دو مرتبہ سنایا تھا۔ بھاگلپور کے فسادات کے وقت ایک صاحب نے جو نظمیں لکھی تھیں، انہیں کتابی شکل دے کر شمیم حنفی کو بھیج دیا اور اس بات کو بڑے فخر سے بیان کیا کہ جس وقت میرے پڑوس میں آگ لگی تھی اور ایک گھر بھائیں بھائیں جل رہا تھا۔ میں نے تب یہ نظمیں لکھی ہیں۔ شمیم حنفی نے کتاب تو ایک طرف اٹھا کر رکھ دی، ساتھ میں ان صاحب کو یہ جواب لکھا کہ انسانی ہمدردی کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ اس وقت ان نظموں کو لکھنے کے بجائے ایک بالٹی پانی لے کر جاتے اور پڑوس میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کرتے۔

میں جب بھی ان سے ملا، انہیں مطالعے کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیتے ہوئے پایا۔ ہمیشہ پوچھتے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو۔ میں کسی کتاب کا نام لیتا تو اس کے بارے میں بات کرتے۔ ان کی نظر وسیع تھی، مطالعہ جس سنجیدگی کا تقاضہ کرتا ہے، وہ شمیم حنفی سے سیکھنا چاہیے۔ اردو کے کسی ادیب نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ شمیم صاحب کی یادداشت پر رشک آتا ہے۔ وہ جو کچھ پڑھتے ہیں، انہیں یاد بھی رہ جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یادداشت کے کونوں میں وہی پڑھائی رہ جاتی ہے، جسے بہت سنجیدگی سے پڑھا گیا ہو۔ شمیم حنفی سے ملنے پر ایسے لوگوں کو جو ادب میں آپ کے invisible ہیروز رہے ہیں، دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ اگر میں کہوں کہ میں نے شمیم حنفی کے قالب میں کبھی محمد سلیم الرحمٰن، کبھی احمد مشتاق، کبھی زاہد ڈار اور کبھی اکرام اللہ جیسے عظیم ادیبوں سے ملاقاتیں کی ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ وہ پاکستان دوروں کی اپنی روداد اور ان ادیبوں سے اپنی دوستیوں یا ملاقاتوں کے جو قصے سناتے، جی چاہتا کہ بس انہیں سنے جاؤ۔کیا اب اس شہر میں کوئی ایسا ادیب ہے، جو ہمیں سرحد پار کے ان ادیبوں کی پسند ناپسند، لکھائی، پڑھائی، ہنسنے بولنے کے قصے یوں سنا سکے، گویا ہم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک ادیب سے ہی نہیں، شمیم حنفی کے جانے سے بیک وقت بہت سے اساتذہ ادب کی صحبت سے محروم ہوگئے ہیں۔

اسی طرح ہم بلراج مین را، سریندر پرکاش، عمیق حنفی اور ان گنت ہندوستانی ادیبوں کو بھی ان کی گفتگو میں دریافت کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ فراق گورکھپوری کی تنقیدی کتاب پر میں نے کچھ اعتراض کیا تو انہوں نے ایک یاد رکھنے والی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا” ہر ادیب و شاعر کتاب کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا، کئی ایسے ادیب ہیں جن کے ادبی وتخلیقی قد کو جاننے کے لیے ان کی گفتگو سننی ضروری ہے، کاش کسی نے فراق صاحب کی باتوں کو سن کر محفوظ کرلیا ہوتا تو وہ ان کے لکھے ہوئے تنقیدی سرمایے سے بڑی چیز ہوتی۔” آج یہی بات میں شمیم حنفی کے لیے بھی کہہ سکتا ہوں۔ انہیں اب پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے چاہے بہت غیر معمولی قسم کی تنقید نہ لکھی ہو، چاہے وہ غزل کے اعلیٰ نمونے پیش نہ کرسکے ہوں، چاہے ان کے یہاں وہ تخلیقی صفت موجود نہ ہو، مگر ان کی باتیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے جانے کے لائق تھیں۔ اور بہت ممکن تھا کہ ان باتوں میں ادب اور زندگی، دونوں کی راہیں اگلے مسافروں کے لیے زیادہ روشن ہوجاتیں۔

میں ان سے پہلی دفعہ کب ملا، مجھے یاد نہیں۔آخری ملاقات بھی ذہن میں تازہ نہیں کہ اسے بھی شاید کافی لمبا عرصہ گزر گیا۔ فون پر بھی اتنی باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ مگر دل کو ایک احساس رہتا تھا، ایک اطمینان سا تھا کہ دلی میں شمیم حنفی ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ، چیخ پکار اور پاگل کردینے والی الجھنوں سے کچھ وقت چرا کر ان کے پاس بیٹھا جاسکتا ہے، ان سے بہت کچھ جانا اور سیکھا جاسکتا ہے۔ مگر اب یہ شہر، شہر افسوس میں بدل چکا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ وہ شاعری پر فکشن کو بہت ترجیح دیتے تھے۔ شاعری بھی انہیں پسند تھی، مگر کہتے تھے کہ یہ دور ناولوں کا دور ہے۔ میرے مضامین پڑھتے تھے، اس پر رائے دیتے تھے اور زور دے کر کہتے تھے کہ آپ ناول ضرور لکھیے۔اب جب میرا پہلا ناول شائع ہونے والا تھا، تو میں نے سوچا تھا کہ خود جاکر انہیں دوں گا اور پوچھوں گا کہ اسے پڑھ کر بتائیے کہ کیا آپ کی مجھ سے جو توقعات تھیں، وہ مناسب تھیں؟ مگر افسوس۔۔۔۔۔یہ حسرت بھی آج صبح نذر خاک ہوگئی۔

Categories
نان فکشن

خالد طور کی ناول نگاری (تصنیف حیدر)

کچھ روز پہلے سید کاشف رضا کی فیس بک وال سےیہ خبر ملی کہ خالد طور انتقال کرگئے ہیں۔ کاشف رضا نے خود یہ بات لکھی تھی کہ جیسا ان کا حق تھا، ویسی ان کو شہرت نہیں مل سکی۔اجمل کمال نے بھی جب کانی نکاح اور ان کی ایک کہانی سائیں موسم کو آج کے ایک شمارے میں شائع کیا تھا، تب بھی یہی بات کہی تھی کہ ان کے استحقاق کے مطابق ان کو پذیرائی نہیں ملی ہے۔ان دونوں ادیبوں کی بات بالکل درست ہے۔میں نے خالد طور کو اجمل کمال کے ہی توسط سے پڑھا۔ظاہر ہے اگر آج میں وہ انہیں شائع نہ کرتے اور ایک طرح سے ان کی بازیافت نہ کرتے تو کانی نکاح ہو یا بالوں کا گچھا دونوں ہی ہماری نظروں سے اوجھل رہتے۔ قریب آٹھ نو سال پہلے آج کے ایک شمارے میں ان کا ناول بالوں کا گچھا دیکھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ اجمل کمال اگر کسی کے محض ایک ناول کو پورے شمارے میں جگہ دے رہے ہیں تو واقعی وہ فنکار قابل مطالعہ ہے۔فکشن کے تعلق سے اجمل کمال کام کرتے کرتے اب خود ایک معیار بن چکے ہیں۔ اس لیے ان کے شمارے میں شائع ہونے والے ادیبوں کو بڑی سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے اس وقت تک کانی نکاح نہیں پڑھا تھا۔ اسے بعد میں پڑھا اور سچ پوچھیے تو کانی نکاح نے ہی مجھے ترغیب دی کہ میں ان کا دوسرا ناول بالوں کا گچھا بھی پڑھوں،مگر ناول چونکہ ضخیم تھا، اس لیے دلچسپ ہونے کے باوجود میں اسے کسی وجہ سے مکمل نہیں پڑھ پایا تھا۔ اب جب ان کے انتقال کی خبر آئی تو میرے دل میں اس ادھوری خواہش نے پھر زور پکڑا اور میں نے بالوں کا گچھا کو پڑھنا شروع کردیا۔ ناول کو ختم کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ خالد طور کے ان دونوں ناولوں میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ زیادہ بہتر کون سا ہے تو میں جھٹ سے کانی نکاح کا نام لوں گا۔ بلکہ یہ تک کہوں گا کہ کانی نکاح کو اردو کے صف اول کے ناولوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ اس ناول میں تکنیک، واقعہ نگاری، تجسس اور تحیر کے اتنے زبردست پہلو موجود ہیں کہ پڑھ کر واقعی خالد طور کو نظر انداز کیے جانے کی سیاست پر حیرت ہوتی ہے۔ میں جہاں تک سمجھا ہوں ، ان کو نظر انداز کرنے کی دو ایک وجہیں تو بڑی صاف مجھے نظر آئی ہیں۔ جس کا ایک چھوٹا سا حوالہ ان کے یہاں ہندوتہذیب و تمدن سے گہری دلچسپی اور غیر اسلامی مظاہر اور تاریخ سے ان کا تعلق ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایسے سبھی لوگوں کو اردو میں کہیں نہ کہیں سائڈ لائن کیا گیا ہے، جنہوں نے ہندی، ہندی تمدن، ہندوی تہذیب، ہندو منادر و تعمیرات یا پھر ایسے ہی دوسرے پہلوؤں سے کھل کر اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہو ۔اس کی مثالیں بھی میں آپ کو دے سکتا ہوں، حالانکہ اسے قبول کرنے کے لیے ایک ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر غور کرنا ضروری ہوگا اور میں اپنے لوگوں سے اس کی توقع کم ہی کرتا ہوں۔ ابھی ہم عظمت اللہ خاں کو درکنار بھی کردیں تب بھی ابن انشا اور میراجی جیسے شاعروں کو ان کے ہندوی اسلوب کی بنیاد پر یہی سب کچھ جھیلنا پڑا۔منچندا بانی جیسے شاعروں کو ان کا ویسا حق نہیں ملا، جیسا ملنا چاہیے تھا اور جو میری نظر میں ناصرکاظمی جیسے شاعروں سے کئی گنا بہتر اور اپنے اسلوب و زبان کے لحاظ سے بالکل یگانہ و یکتا شاعر تھے۔بہت سے دوسرے غیر مسلم شاعر یا پھر ہندوی تہذیب سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے والے شاعروں کو وہ شہرت اسی لیے نہیں مل پائی۔جبکہ فراق گورکھپوری کو اسی معاشرے کی بھونڈی خوشامد کے بدلے میں بھی خوب خوب سراہا گیا۔ بات کہیں اور نکل جائے گی، میرا مقصد تو محض اس سیاست کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ کرنا تھا، جس نے خالد طور کر نظر انداز کرنے کی شعوری کوشش میں اہم رول ادا کیا تھا۔

میں نے پنجاب کو خالد طور کی نگاہوں سے دیکھا اور وہ مجھے بے حد خوبصورت اور طرح طرح کے رنگ روپ سے سجا ہوا نظر آیا۔ میں نے ان کی مدد سے (پاکستان میں موجود) پنجاب کے مختلف گاؤوں اور ان کی تہذیبوں کے بارے میں جو جانا وہ بے حد دلچسپ تھا۔ خالد طور جس چیز سے بددل ہوگئے ، مجھے لگتا ہے کہیں نہ کہیں ان کے فکشن پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔ اس پر میں مزید بات کروں گا۔ مگر ابھی ان کے دو ناولوں کی ان خاصیتوں کا ذکر کردوں جو میرے لیے باعث حیرت و مسرت تھے۔ خالد طورکا فکشن مکالموں پر کم یقین رکھتا ہے، مجھے اس معاملے میں ان سے ذہنی قربت کا بھی احساس ہوا، یعنی یہ کہ میں ناولوں میں غیر ضروری یا کبھی کبھی ضروری مکالموں سے بھی اکتا جاتا ہوں ۔اگر ضرورت پڑ جائے تو وہ بہت کم مکالموں سے ایسا کام لیتے ہیں کہ بات بھی قاری تک پہنچ جائے اور واقعہ نگاری کو مکالمے کے زنگ سے کوئی نقصان بھی نہ پہنچے۔ اس کی پہلی مثال تو کانی نکاح میں موجود ہیروئن کی ہے، جس کے اوپر بڑی قیامت گزر جانے کے باوجود اسے مصنف نے ایک بھی مکالمہ نہیں دیا۔ پورا ناول ایک قسم کی پراسرار فضا میں آگے بڑھتا ہے اور یہی پراسرار فضا مجھے خالد طور کی دوسری اہمیت خاصیت لگتی ہے۔ ان کے یہاں قاری متجسس رہتا ہے، کہانی پڑھتے ہوئے اس کے دماغ میں کرداروں، معاشرت اور گاؤں کی رسموں ، رواجوں کو حیرت سے پڑھتے اور جانتے ہوئے مختلف قسم کے خوف گھیر لیتے ہیں۔ کانی نکاح کے مرکزی کردار کے ساتھ جو کچھ آخر میں ہوا ہے، مجھے اس کا اندیشہ ہر دوسرے پنے پر تھا، خاص طور پر تب سے، جب سے کانی کا بنایا ہوا گڈا ٹوٹ جاتا ہے۔ میں ناولوں کے بارے میں لکھتے وقت حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ کہانی کے بارے میں پڑھنے والے کو نہ بتاؤں، اس کا مزہ نہ کرکرا کروں، اس لیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ کانی نکاح میں جس سحربالمثل کو خالد طور نے نمایاں کیا ہے اور جس طرح دیباچے میں اس کے حو الے سے علمی گفتگو کی ہے، وہ ایک فکشن نگار کی اپنے موضوع سے ایمانداری کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کانی نکاح کی اخلاقی توجیہ تو کیا ہوگی یہ مجھے پتہ نہیں مگر اس کی سماجی توجیہ تو انسانی سرشت میں موجود تعلق کے ایک علامتی نظام سے وابستہ ہے، آج ہمارے پاس تصویریں ہیں، ویڈیوز ہیں، ہماری یادوں اور توقعات دونوں کے سرے چلتے پھرتے یا قید کیے ہوئے انسانی چہروں اور جسموں سے بندھے ہوئے ہیں، مگر گزرے ہوئے کل میں جن سماجوں نے اپنی جنسی اور اخلاقی توقعات کو مختلف گڈے گڑیاؤں سے جوڑ دیا تھا، اس کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ سماج مشترکہ طور پر جس قسم کی نفسیات کو جنم دیتا تھا ، اس کی راہیں جرم یا قربانی کی منزلوں تک بھی جا پہنچتی تھیں۔ اسی لیے شیشو خان نے جو کچھ کیا ، وہ دراصل خدا اور دعا کے ساتھ ساتھ ہیرو کے صحیح سلامت لوٹ آنے کی حقیقت سے بھی نہ دور ہونے والی نفسیاتی الجھن کے باعث کیا ہے، جس میں صرف وہ ہی نہیں بلکہ معاشرے کی تمام چھوٹی بڑی ہستیاں گرفتار تھیں، خود مولوی صاحب بھی۔

اب بات کرتے ہیں بالوں کا گچھا کی۔بالوں کا گچھا، محض ان لوگوں کو پڑھنا چاہیے، جوفکشن سے الجھی ہوئی فلسفہ نگاری سے گھبراتے نہیں ہیں۔ ویسے میرا دعویٰ ہے کہ ساڑھے چار سو صفحات کے اس ناول کے چار سو صفحات آپ کو مضطرب کریں گے، چونکائیں گے، پریشان بھی کریں گے اور لطف بھی خوب آئے گا۔ بس آپ کے لیے انت تک پہنچ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ یہ ناول پنجاب میں پیروں ، ملنگوں کے بٹھائے ہوئے خوف کے تعلق سے لکھا گیا تھا یا پھر اسے زبردستی بعد میں ایک رومانی ناول بنانے کی ہوس نے خالد طور کو جھٹکا دیا اور وہ آخر کے پچاس صفحات میں اسے بالکل خراب کربیٹھے۔ایسا ہوسکتا ہے، خالد طور نے (بقول اجمل کمال) یہ ناول لکھتے لکھتے بددل ہوکر چھوڑ دیا تھا اور انہوں نے اسے ایک لمبے عرصے بعد مکمل کیا۔ مجھے ایسا لگتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ خالد طور جب پہلی رو میں اس ناول کو لکھ رہے ہوں گے تو ان کے دماغ میں وہ انت نہیں ہوگا، جو انہوں نے اس خوبصورت ناول کو دے کر اس کا بیڑہ بعد میں غرق کردیا ہے۔ میں اس کی خوبیوں پر بھی بات کروں گا، مگر پہلے خامیوں کی نشاندہی کردوں۔ اول تو ناول میں سچ اور جھوٹ، خیر اور شر کا فرق اس طرح بیان کیا گیا ہے جیسے یہ دنیا ان دو خانوںمیں سیدھی سیدھی بٹی ہے۔ کئی جگہ تو ان کے کرداروں کے بھونڈے ردعمل نے مجھے اکتادیا، جیسے رقیہ کا پیر کو گالیاں دینا۔ناول میں بچے کی رکھ (بالوں کا گچھا) کٹ جانے کے بعد رقیہ کا کمرے سے باہر آکر چھت پر سونا(خواہ وہ مائی جیراں اور گلنازی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو) اتنا غیر یقینی تھا کہ میں مایوس ہوگیا۔ کہانی میں جہاں جہاں واقعہ الجھا مصنف موصوف نے فلسفے کا ٹانکا لگا کر، اسے خیر و شر کے دھاگے سے سی کر کوئی اور ہی رخ دے دیا۔ پھر سب سے زیادہ بیزار کرنے والی بات خوبصورتی اور بدصورتی کی وہ علامتیں تھیں، جن میں سانولے اور کالے رنگ کو بدصورتی کی اور گورے اور گلابی رنگ کو خوبصورتی کی کھلی علامت بنا کر پیش کردیا گیا۔ اس بات سے بھی خالد طور کے ذہن میں موجود اچھائی برائی کے تصور کی دقیانوسی جھلک ہی نظروں کے سامنے آئی۔

بہرحال پھر بھی میں بہت سے دوستوں کو خالد طور کے اس ناول کو پڑھنے کا مشورہ اس لیے دوں گا کیونکہ ناول کا بیانیہ بہت خوبصورت ہے۔ واقعہ نگاری میں تو آپ خالد طور کو پورے نمبر دینے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔ بس مجھے لگتا ہے کہ بددل ہوکر تخلیقیت سے دور ہوجانے کی ان کی کھسیاہٹ نے ان کے اس ہنر کو زنگ ضرور لگایا ہوگا ورنہ بالوں کا گچھا بھی کانی نکاح کی طرح ایک کامیاب ناول ہوتا۔ اس ناول میں انسانی ذہن پر مذہبی خوف کے حوالے سے خالد طور نے جو بحث کی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ناول نگار کسی کردار کے ذریعے اپنی سوچ کو نمایاں کرے اور وہ سوچ ناول میں موجود حالات و واقعات سے ایسی گہری مطابقت رکھتی ہو کہ پڑھنے والا اس سوچ کو بھی کسی واقعے کی طرح حیرت و تجسس میں ڈوب کراپنے اندر جذب کرتا رہے۔ ’بالوں کا گچھا‘ کو پڑھنے کے بعد مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ خالد طور نے کشمیر پر بڑی اچھی بحث اس ناول کے ذریعے چھیڑی ہے، اگر یہ ناول ہمارے ادبی مذاکروں کا حصہ بن پاتا تو ہم دیکھتے کہ اس بنیاد پر بھی خاص طور پر پاکستان میں اس کی گہری مخالفت ہوسکتی تھی، مگر جن تاریخی حقائق اور جس بے باکی سے انہوں نے اپنا موقف بیان کیا ہے، وہ ہر پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔ تقسیم سے پہلے ہندومسلمانوں کے رشتوں کی جو چمک خالد طور کے یہاں دکھائی دیتی ہے، ویسی ابھی تک تو کسی دوسرے پاکستانی ناول نگار کے یہاں میں نے نہیں پڑھی یا شاید یہ موقف اردو والوں نے ہی بہت کم اپنایا ہے۔ کس طرح انگریز اور مسلم لیڈرشپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے کشمیر سے چلے جانے کی خبر باغیوں سے چھپائی اور اس وجہ سے یہ مسئلہ اتنا گمبھیر ہوگیا، اتنے لوگوں کی جان گئی۔اس پر اتنا صاف اور ایسا اجلا حرف کسی اور اردو فکشن نگار کے یہاں شاید دیکھنے کو نہ ملے گا۔

خالد طور کو اور بہت کچھ لکھنا چاہیے تھا۔شاید ہمارے نام نہاد نقاد بندھے ٹکے اصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی پسند کے کھوکھلے فکشن نگاروں کو مسند پر اس طرح نہ بٹھاتے ، جیسا وہ کرتے ہیں تو ضرور خالد طور کو وہ مقام ملتا، جو انہیں ملنا چاہیے تھا۔اجمل کمال نے ان کی کہانیاں اور ناول پڑھوائیں، کیونکہ وہ فکشن کے قاری ہیں اور نقاد سے زیادہ قاری کی دلچسپی گمشدہ اور نظر انداز کردیے جانے والے فن پاروں سے گہری ہوتی ہے۔ خالد طور اگر مزید لکھتے ، ان کے اور بھی ناول سامنے آتے تو ہم دیکھتے کہ کھوڑگائوں، چکوال، بلکسر، تلہ گنگ وغیرہ کی مزید کہانیاں ہمارے سامنے آتیں، وہاں کی معاشرت اور اس سے خالد کی دلچسپی کے سبب ہم کئی ڈھکے چھپے معاملات کو نمایاں ہوتے دیکھتے، وہ اہم کام جو فکشن کی ذمہ داری بھی ہے اور اس کا حسن بھی۔

مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ میں ان کے فکشن پر بات کرنے کا پورا پورا حق ادا کرپایا ہوں یا نہیں ، مگر پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ ان کے فن فکشن نگاری پر بات کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے، جنہیں ان کے اپنے وقت میں کسی بھی وجہ سے مگر حاشیے کے پرے دھکیل دیا گیا تھا۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر ان کا لکھا ہوا فکشن اردو دنیا کے لیے کسی اہم سرمایے سے کم نہیں۔

Categories
فکشن

کلرک کا افسانہ محبت (تصنیف حیدر)

دیکھنے سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے کہ کسی انسان کی شادی ہو رہی ہے۔شادی ایک غیر قدرتی عمل ہے، محبت کے بالکل برخلاف۔ایک ٹھونسی ہوئی اور گھسی پٹی سی چیز۔ مگر اس پر ایسے سونے چاندی کے ورق لگا کر، رسموں کا پانی چھڑک کر، خاندان کی رضامندی اور آشیرواد کے عطر میں ڈبو کر مختلف قسم کے سماجوں نے صدیوں کے عرصے میں اسےکتنا سندر بنادیا ہے۔کلرک خطیب یہی سب سوچا کرتا تھا۔ناٹا قد، پیٹھ میں کوبڑ تو نہ تھا، مگر ایک بہت ہلکی سی اٹھان تھی، جو کہ خاص طور پر جب وہ چلتا تو ابھر آتی اور اس کی چال میں ایک قسم کی چمپیزیت پیدا ہوجاتی۔چہرے پر کچی داڑھی، رنگ سانولا، جسم گٹھا ہوا اور ایک ہاتھ میں دو جڑواں انگوٹھے یعنی چھ انگلیاں۔کام کرتا تھا وہ ایک اسکول میں۔ پرائمری اسکول تھا، اور وہ فیس، اسکول کی عمارت پر ہونے والے اخراجات، اساتذہ کی سیلیری اور دوسرے تمام خرچوں کا حساب رکھتا تھا۔کلرک ہونا جرم نہیں، مگر کنوارا کلرک ہونا جرم ہے۔ایک سماجی جرم۔ وہ خاندان سے دور تھا، رشتے ناتوں سے علیحدہ اس کی اپنی زندگی گوتم بدھ نگر کے چِراسی گائوں میں ایک پرانے اپارٹمنٹ میں بسر ہو رہی تھی۔ گاؤں کی آبادی زیادہ نہ تھی۔آس پاس کے تین چار گاؤں اور جوڑ لیے جائیں تو آبادی دس ہزار پر مشتمل ہوتی تھی۔دہلی سے قریب ہونے کی وجہ سے کشادہ سڑکیں۔ عالی شان عمارتیں، کہیں کہیں پکے کچے مکانات بھی تھے۔فٹ پاتھ بھی خوب صاف ستھرے۔جس بلڈنگ میں اس کا قیام تھا، وہ چھ منزلہ تھی، پرانی مگر تمام سہولیات سے لیس۔لفٹ بھی تھی، پانی بھی ۔گرمیوں میں پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ضرور کرنا پڑتا تھا مگر وہ اکیلی جان تھی، سو تھوڑی کفایت سے کام چل جاتا۔اسکول سرکاری تھا، اس کی نوکری تھی معاہدے کے رو سے گیارہ مہینے کی مگر اسے یہاں تیرہواں مہینہ لگ گیا تھا۔کانٹریکٹ مزید چھ ماہ کے لیے بڑھ گیا تھا۔جب وہ یہاں آکر بسا تھا تو رشتے داروں کی آئے دن کی چخ چخ سے کچھ روز کے لیے اسے نجات مل گئی تھی۔ بال کنپٹیوں پر سے چاندی جھلکا رہے تھے، سو ان کی بھی کائیں کائیں بڑھ گئی۔ بیٹا! اب تو شادی کرلو، تم کو کوئی لڑکی پسند ہو تو بتاؤ۔۔دو چار سال اور نکل گئے تو پھر نہ ہوسکے گی۔الغرض اتنی باتیں کبھی دبے منہ، کبھی مذاق یا سنجیدگی سے کہی جاتیں کہ وہ جھلا جاتا۔ شادی ہی شادی۔ ایسا لگتا تھا یہ پورا سماج ایک قسم کا دلال ہے، شادی کا دلال۔موٹی موٹی رقمیں، پھیلی پھیلی جیبیں، کھلی کھلی بانچھیں ، ہر چیز میں شادی کی رال لگی ہوئی تھی۔ہر جسم سے شادی کا بور پھوٹتا تھا، ہر روح میں شادی کی کلی کھلتی تھی۔ نہیں ہوئی شادی۔ کرنی بھی نہیں۔کرے بھی تو کس سے۔آدمی کی عمر بیت رہی ہو، وقت گزر رہا ہو، قبر میں پائوں لٹکے ہوں یا منہ میں چُسنی ہو۔جب تک من بھایا کوئی نہ ملے، دماغ میں اتر سکنے والی کوئی سنگنی نظر نہ آئے یا پھر یونہی من نہ کرے، ارادہ نہ ہو، جی نہ چاہے تو کیا زبردستی یہ نوالہ ٹھونس لیا جائے۔

اسے یاد ہے، اسی جھلاہٹ میں ایک دن اس نے بڑا لور لفنگ کیا تھا۔ حافظ الہام گھر پر بتانے آیا تھا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ الہام کو حفظ کیے تین برس ہوئے تھے، تیئس برس کا سن تھا۔ گھر والوں نے ہاتھ میں شادی کا کارڈ لے کر کیا کیا اسے نہیں سنا ڈالا تھا۔غصے میں اس نے پاس پڑا والد کا سروتا بڑی زور سے دیوار پر مارا۔نشانہ خطا ہوا اور سروتا جاکر ٹکرایا موٹے مضبوط آئنے سے۔جس کے ٹھیک شکم پر ایک چھوٹی درار ابھر آئی۔سب تو چپ ہوگئے مگر وہ دراڑ چپ نہ ہوئی، روز اس کی انگڑائی پھیلتی جاتی اور ایک روز چھاڑڑڑڑ کرکے آدھا آئنہ زمین پر آ رہا۔اس نے بھی سوچا اچھا ہوا۔ایک تو جسم کمینہ ایسا کہ اپنی ہی قد کاٹھی پر اوب آنے لگتی ہے۔ یہ کیا کہ جب چل رہے ہیں تو ایسا لگ رہا ہے، جیسے کوئی بندر پھو پھو کرتا بھاگا جارہا ہو۔ کوئی اسے ٹوکتا نہ تھا۔مگر اسے اندر سے اپنی اس چال کی بد ہنگم اور بد شکل نمائش سے خوف بھی آتا تھا، چڑ بھی ہوتی تھی۔وہ کس سے یہ بات کہتا، ان گھر والوں سے جن کے نزدیک شادی کا مطلب تھا، اس کی مرضی اور خواہش جانے بغیر ایک عورت لاکر اس کے سر منڈھ دینا۔جسے نہ وہ جانے، نہ پہچانے۔وہ فلموں میں دیکھتا تھا کیسے ہیرو، ہیروئن سے کسی خاص موقعے پر ملتا ہے، دونوں کی آنکھیں چار ہوتی ہیں۔پھر موسم موسم دونوں کا پیار بانس کے پودے جیسا بڑھتا، پھلتا پھولتا ہےا ور ایک دن جب وہ لٹھ جتنا مضبوط ہوجاتا ہے تو دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ شادی نہیں چاہتا تھا۔ اسے بھی خواہش تھی، مگر وہ کمبخت فلمی فیلنگ اجاگر ہی نہیں ہوتی تھی۔ سب کے پاس عورت تھی، اس کے باپ کے پاس بھی، اس کے بڑے بھائی کے پاس بھی، پڑوس کے قریب قریب ہر مرد کے پاس اور اب تو حافظ الہام جیسے لونڈے کو بھی عورت مل رہی تھی۔ مگر ہیروئن ایک کی بھی دسترس میں نہ تھی۔ کیونکہ ہیروئن ملتی نہیں، ڈھونڈتی پڑتی ہے، کمانی پڑتی ہے۔ایسی خالص، سچی اور بے داغ محبت جو تاعمر رہے، جس میں ایک دوسرے کو سمجھا جا سکے، جس میں ایک دوسرے کا انتظار کیا جا سکے، جس میں ایک دوسرے کی عزت کی جا سکے۔ اس سماج سے ناپید تھی، مگر یہ سماج پردے پر اس محبت کو بڑے چاؤ سے دیکھتا تھا، پر خود ہیروئن کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا تھا، خود کو بدلنا نہیں چاہتا تھا۔بس پڑے پڑے عورت لادو، کھاٹ سے اسے باندھ دو، اس کی نتھ پہنائی کی رسم ادا کرو، اسے کھیت کی بھربھری زمین میں بدل دو اور خود کولہو کے بیل بن کر اسے جوتے جاؤ، جوتے جاؤ۔نہ عورت کا کوئی وجود، نہ اپنا، نہ اس کی شناخت، نہ اپنی۔بس سب کچھ اللہ میاں کی مرضی پر ڈال دو۔کون عورت ملے گی، کتنے بچے ہوں گے، وہ کیسے پلیں گے، عورت کیسے جیے گی، سب مشیت ایزدی کے حساب سے ہی طے ہو گا۔

اب وہ ان جھنجھٹوں سے نکل آیا تھا۔ اسکول میں جاکر اس کا خیال تھا کہ رشتے داروں کی سوالوں والی جہنم سے اسے چھٹکارا ملے گا۔وہ اپنے کام سے کام رکھے گا۔ اور ایسا ہوا بھی ۔چراسی میں اس سے کسی نے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی۔اساتذہ اس کے کمرے سے ملحق اسٹاف روم میں سیاست، سماج اور مذہب سے لے کر ایک دوسرے کی ذاتی زندگیوں پر اظہار خیال کرتے۔ مگر کمپیوٹر سے الجھے اس کبڑے کلرک کو ایک قسم کی مشین ہی گردانتے۔صبح اس کی آمد پر جس سے بھی مڈبھیڑ ہوتی، وہ گردن ہلا کر اظہار تعلق تو کر دیتا مگر اس سے آگے ایک پھیلی ہوئی خاموشی۔ پھر دفتر میں اسے اتنا سمے بھی نہیں ملتا تھا کہ وہ انہی سب باتوں میں مصروف رہتا کہ کس کی فیس آئی ہے، کس کی نہیں آئی۔ کس کی فیس معاف ہونی ہے، کون سا افیڈیوٹ، کون سا معاہدہ، اور بلڈنگ پر ہونے والے خرچ ورچ کا حساب کیا ہے۔الجھاؤ بہت تھا۔ دن تیز ی کے ساتھ گزرتا۔اس کی زندگی میں دو وقت مگر ایسے تھے، جب وہ تنہائی کی الجھی ہوئی رسیوں پر نٹوں کی طرح رقص کرتا اور زمین سے دوری کا احساس اسے کاٹنے کو دوڑتا اور یہ وقت وہ ہوتا تھا جب وہ اپنے گھر سے پیدل اسکول کے لیے صبح کو جاتا اور شام کو گھر کی جانب واپس لوٹتا۔ ایک جانب کا فاصلہ تین، ساڑھے تین کلومیٹر تھا۔ سائیکل رکشہ وغیرہ مل سکتا تھا، مگر اس کا خیال تھا کہ پیدل چلتے رہنے کے بدلے دن میں بیٹھے رہنے سے جمع ہونے والی چربی کچھ تو پگھلے گی۔جس فٹ پاتھ سے وہ گزرتا، اس پر اکثر ہی صبح کے وقت دھیما ٹریفک ہوا کرتا تھا۔ خوبصورت گاڑیوں اور آٹو رکشہ میں بیٹھی ہوئی عورتیں اسے دکھائی دیتیں اور اس کا دل کھٹ پٹ کرنے لگتا۔صبح کی تازگی ان کے رنگین چہروں سے ایسے جھانکتی جیسے سردی کی بھور، رات کی چٹان سے ابھرتی ہے۔لجیلے سجیلے بدن، ڈرائیونگ سیٹ پر ہوں یا پچھلی نشست پر۔ان کے جسم کے خطوط دیکھ کر اس کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ بڑھ جاتی، جسم میں ہڈیاں چٹخ اٹھتیں۔ماتھا شن شن کرنے لگتا اور حواس چوپٹ ہوکر کانوں میں اتر آتے اور شور مچاتے۔ ناف کے نیچے ایک حجلہ عروسی کا در کھلتا، آنکھیں شدت جذبات سے بھیگ بھیگ اٹھتیں اور وہ دھیان بٹانے کے لیے فورا دن کے دوسرے ضروری امور پر غور کرنے لگتا۔کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ وہ سوچتا، کیسا ہو اگر میں ان عورتوں کے بدن میں ڈھل جاؤں، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مجھے اچانک کوئی اپار شکتی پراپت ہو جائے اور میں انہیں نظر نہ آؤں۔ان کے برابر بیٹھوں، ان کو حسرت سے دیکھتا رہوں، دیکھتا جاؤں۔ ان کی دن چریا معلوم کروں، ان کے سونے، جاگنے کے اوقات، ہنسنے بولنے کے انداز، جینے کے طور طریقے۔اس کے لیے مجھے نہ کسی میٹریمونیل سائٹ کی ضرورت ہو، نہ کسی ایجنٹ کی۔میں انہیں دیکھ سکوں، مختلف لباسوں میں اور کبھی بے لباس۔میں جان سکوں کہ فلاں عورت کھانا کھاتے وقت کیسی دکھتی ہوگی، کوئی دوسری عورت کس طرح رفع حاجت کے لیے ٹانگیں پھیلا کر، گھٹنوں سے اپنے سینے کے ابھاروں کو دبائے ،پیٹ پر زور ڈالتی ہوگی اور کیا اس وقت اس کی کنپٹیاں سرخ ہوجاتی ہوں گی۔مجھے دیکھنا ہے، جاننا ہے کہ شادی کے لیے ان تفصیلات کا ذکر کبھی کیوں نہیں ہوتا۔یا اگر ان کی کوئی اہمیت نہیں، ضرورت نہیں تو ان باتوں کی کیوں ہے کہ کوئی لڑکی اپنے آچار وچار میں کیسی ہے، اس کا چرتر کیسا ہے، وہ ساس سسر اور شوہر کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہے۔مشرقی عورت کے گلے میں یہ تمغہ کیوں ڈالا گیا ہے کہ اس کے ریاح کی آواز گھر کے کسی فرد تک نے نہیں سنی۔تہذیب کا ریاح سے کیا تعلق ہے؟ کراہت کو لحاظ سے اتنی دوری پر کیوں رکھا گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کسی کو جان بوجھ، سمجھ کر ہی شادی کی جائے۔مگر کسی کو برت کر شادی کیوں نہیں ہوسکتی۔ پھر یکدم اسے خیال آیا کہ شادی ہی کی کیا ضرورت ہے؟ شادی کا بھوت اتنا گہرا کیوں ہے کہ اس کے دماغ کے پاتالوں میں بھی اس نے اپنے ڈیرے بسائے ہوئے ہیں۔ و ہ نہیں کرے گا شادی، ساری عمر نہیں کرے گا۔بھوکا مرجائے گا، مگر اس شرط پر کھانے کو ہاتھ نہیں لگائے گا کہ اگر ابھی نہ کھایا تو وہ بعد میں بھوکا رکھا جائے گا۔

اسے کسی لحاظ سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شادی کی ایک عمر ہوتی ہے۔ عمر ایک بہت دھوکے باز چیز ہے۔اسے محسوس ہوتا تھا کہ عمر کسی چیز کی نہیں ہوتی، جنسی خواہش کی بھی نہیں۔ ستر ستر اسی اسی سال کے مرد، جوان لڑکیوں کے گدرائے سینے کو للچائی نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں؟ اسے یہ سب باتیں ڈھکوسلا لگتی تھیں۔کسی ہم خیال کے ساتھ گزاری ہوئی دس سال کی پرسکون زندگی اس کی نظر میں کچرا رقابتوں کی پچاس سالہ قید بامشقت سے کہیں زیادہ بہتر تھیں۔اور وہ لوگ جو شادی نہیں کرتے، کیا سماج باہر کے ہیں؟ کیا ان کے ماتھے پر سینگ نکل آتے ہیں؟ کیا ان کی ٹانگیں گھٹ جاتی ہیں یا پیٹ پر کوئی چپکے سے غیر شادی شدہ گود جاتا ہے۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ہمارے سماجوں میں دراصل شادی کے لیے اتنا مجبور اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان جنسی خواہش کی کوئی دوسری صورت، کوئی آزادانہ اور کھلی ہوئی خواہش لے کر نہ جینے لگے۔ وہ کسی کے ساتھ کوئی ایسی رات نہ بسر کرلے، جس کی ننگئی سے دھرم، سماج اور خاندان تھر تھر کانپتے ہیں۔ جس کی ہنستی ہوئی، کھلکھلاتی ہوئی، سکون بخش قمیص پر انہوں نے ناجائز اور غیر مقدس کے بڑے بڑے بٹن ٹانک دیے ہیں۔

کل شام اس کی والدہ نے ایک لڑکی کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجی تھی۔اور ساتھ میں چھوٹا سا پیغام بھی الف کردیا تھا۔
’بیٹا ! یہ بھاگل پور کی ایک فیملی ہے، شریف لوگ ہیں، لڑکی کا باپ موذن ہے، ہوسکے تو اپنے دفتر کی ایک اچھی سی تصویر کھینچ کر بھیج دے، تفصیل میں چھوٹے سے لکھواکر کر ان کو بھجوادوں گی۔‘

اس نے پہلے تو کچھ الفاظ ٹائپ کیے، پھر انہیں مٹا کر قمیص اتار کر گہرے نیلے اجالے میں چوں ں ں ں کرتے ہوئے پنکھے کو گھورنے لگا۔اس کے دماغ میں بجلیاں کوندنے لگیں۔پھر وہی سب۔تصویر بھیجو، تفصیل بھیجو۔پھر وہاں سے لڑکی والے ملنے کا وقت دیں گے، وہاں ملنے جاؤ، خاندان بھر کے بیچ میں بیٹھ کر لڑکی کو دیکھو،اس بے چاری کی نمائش لگاؤ۔کیا کرتی ہو؟ آپ کیا کرتے ہیں؟ زندگی سے کیا چاہتی ہو؟ ایک طویل خاموشی اور پھر بتاتے ہیں کہہ کر پلٹ آنے والا اس کا خاندان۔پھر اس بے چاری کے گھر، خاندان اور اس کے کردار کی پرتیں بیٹھ کر یا تو خود اتارو یا اپنے خاندان والوں کو اتارتے دیکھو۔ اچھا نوکری کرنا چاہتی ہے؟ کوئی بات نہیں، یہ سب تو آج کل ہر گھر میں ہوتا ہے، سنا ہے، تیس کے قریب کی ہے، مگر کہیں کسی لڑکے وڑکے سے دوستی نہیں، شریف گھرانہ ہے۔بات آگے بڑھائی جائے۔اور پھر کیا کہتے ہو کیا سنتے ہو کی ایک لمبی تکرار؟ یہ کیا بات ہوئی؟ کیا چند ملاقاتوں میں وہ ایک دوسرے کو سمجھ لیں گے؟ کیا لوگوں کے بیچ چلنے بیٹھنے، اٹھنے سے ہی سب کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔اس کے گھر دن دو دن کے لیے جب مہمان آتے تو ماں باپ کیسے اسی کے بدن میں اس کا ایک نقلی جڑواں بھائی پیدا کر دیتے۔سرگوشیاں ہوتیں۔یہ مت کرو، ایسے مت چلو، یہاں مت بیٹھو۔انکل کو یہ کرکے دکھاؤ۔اور وہ تکلف کی کتنی تکلیف دہ کھائیوں سے گزرتا ہوا وہ سارے کرتب دکھاتا جاتا۔اس بے چاری لڑکی کے ساتھ بھی تو یہی ہوا ہوگا۔اسے بھی کہا جاتا ہوگا؟ کب تک گھر پر بیٹھی رہو گی؟ تمہاری اور بھی بہنیں ہیں؟ شادی کر لو، شادی کرلو۔۔۔اتنے تازیانے پڑتے ہوں گے کہ آخر کو مجبور ہوکر وہ بھی ایک بندریا کی طرح گھروالوں کی مرضی کے کرتب دکھانے پر راضی ہو جاتی ہو گی۔پھر یہی گھر والے جب دھوم دھام سے شادی کرکے اس لڑکی کو بہو بنا کر لے آئیں گے تو زندگی بھر یہ کہہ کہہ کر اس کا جینا حرام کر دیں گے کہ شادی سے پہلے ہم نے اسے جیسا دیکھا تھا، وہ اب ویسی نہیں ہے۔ارے تو تم بھی تو اس کے سامنے کپڑے پھاڑ کر یوں ننگے ہوکر ہوہو کرتے نہیں آگئے تھے۔جنگل کی آگ اور رشتے داروں سے بچنا ہو تو دوڑ لگانی ہی پڑتی ہے، ان سے دور بھاگنا ہی پڑتا ہے۔مگر سماج ہے کہ اس بات پر مصر ہے کہ چاہے جھلس جاؤ، مگر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو۔

یہی سب سوچتے سوچتے وہ کب سوگیا پتہ ہی نہ چلا۔

صبح اٹھا تو ایک نئے لحاف میں بسا ہوا دن اس کا انتظار کر رہا تھا۔اس نے پہلے کچی داڑھی مونڈ ڈالی۔ آج اتوار تھا۔اسکول جانا نہیں تھا۔یوں وہ زیادہ تر اتوار تنہائی میں گزارتا تھا۔مگر آج نہا دھو کر پرفیوم لگا کر ٹی شرٹ جینز پہن کر وہ گھر سے نکلا اور قریب کے ہی مونڈھا مارکیٹ میں بے مقصد گشت کرنے لگا۔بازار میں بھیڑ تھی۔ حسب معمول عورتیں زیادہ ، آدمی کم۔اس کی کنوار پن والی رگ پھڑک اٹھی۔وہ ادھر ادھر ہوتا ہوا، گھوم گھوم کر چہرے دیکھتا، ہونٹوں سے ہلکی وسل بجاتا۔جینز کی چھوٹی جیبوں میں چار انگلیاں ٹھونسے ٹٹ پٹ چلے جارہا تھا۔کیا فرسٹ کلاس دن ہے۔آج وہ مشین نہیں ہے اور ایک ایسے بازار میں سیر کر رہا ہے، جس میں کسی کو اس بات سے غرض نہیں کہ اس کی کنپٹیاں سفید ہونے کو آئیں، عمر چالیس کے پیٹے میں آ گئی، توند سی نکلنے لگی اور ٹھوڑی کے نیچے کی کھال کچھ لٹکنے لگی۔وہ اس بازار کو بازار حسن کہے، بازار مصر کہے یا کہے ایک ایسا سماج ، جس میں شادی کا کوئی وجود نہیں۔جسمو ں کا رشتہ بس اتنا کہ ٹکراجائیں، کہیں کوئی چھاتی چھن سے بولے، کہیں کوئی ہتھیلی گھسڑ جائے۔پیچھے ہٹے تو کسی کے کولہے سے کولہا ٹکرا جائے، آگے بڑھے تو کسی کا دھونکنی سا سانس چہرے پر پھلواریاں بنادے۔سکنڈوں کی دنیا، منٹوں کا ساتھ۔یہ آیا وہ گیا، یہ رکا، وہ چلا۔

اسے دکھا کہ ایک دکان پر ایک سانولی رنگ کی لڑکی پشت کیے کھڑی ہے، جس نے بڑا روایتی سوٹ زیب تن کیا ہوا ہے۔وہ اپنی سریلی آواز میں دکاندار سے کسی شوپیس کو خریدنے پر بحث و تکرار کررہی ہے۔اس کے دل میں تجسس جاگا۔ایک ادا سے اسی طرح ہونٹ سکیڑے ہوئے وہ آگے بڑھا اور دکان کے کنارے پر جاکر کھڑا ہوگیا۔لڑکی اب بھی دکاندار سے الجھی ہوئی تھی، اس نے دکان کی کھپچی پر ٹنگے ایک بانس کا ہیٹ کو اتارا،سر پر جمایا۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ آئنہ کس طرف رکھا ہے، مگر پھر بھی اس نے لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے دکاندار سے بآواز بلند پوچھا۔

’آئنہ کدھر ہے؟‘ لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر اس کے بندر نما چہرے پر بڑا سا ہیٹ دیکھ کر وہ بحث بھول کر مسکرانے لگی، خطیب نے لڑکی کی مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، ہیٹ پہنے پہنے ایک ہیرو کی طرح جست بھری، اور آئنے کے سامنے دو انگلیوں کی بندوق بناتے ہوئے بائیں ہاتھ کو سینے پر ٹیڑھا کرکے اس کے نیچے سے تین فائروں کی آواز نکالی۔
’ٹھش ٹھش ٹھش‘


Categories
فکشن

ڈھاک کے تین پات (تصنیف حیدر)

(1)

رات کے سوا بارہ بج رہے تھے، باہر تیز برسات ہورہی تھی۔بجلیوں کی دھاڑ پاڑ کے ساتھ ہی گھر میں لکڑیوں کی الماریاں اور کانچ بج رہے تھے۔بعض دفعہ تو ایسی زبردست آواز آتی گویا بجلی بالکل ان کی عمارت سے باہر کے جنگلے پر ہی گری ہو۔ایسے موسم میں وہ دونوں عورتیں باہر کی آوازوں سے بے پروا اپنی باتوں میں مگن تھیں، اکثر وہ بجلی کی تیز چمک سے چونک کر باہر کالے آسمان کو گھورتیں اور پھر واپس اپنی باتوں میں ڈوب جاتیں۔دراصل وہ بھوت پریتوں، آسیبوں اور ماورائی قصوں کو یاد کررہی تھیں، ان میں کچھ ان کی زندگی سے متعلق تھے اور کچھ کتابی۔انہی کتابی قصوں میں ہوتے ہوتے روسی کہانی کار پوشکن کی مشہور کہانی ‘حکم کی رانی’ کا ذکر آیا۔اور اس کہانی میں آننا فیدوتوونا کے کردار، اس کی شخصیت، قتل اور بھوت بن کر واپس آنے کی چرچا شروع ہوئی۔

‘مجھے اس عورت کا کردار بہت پسند ہے، وجہ یہ ہے کہ مزاج میں وہ کچھ کچھ میری دادی سے ملتی جلتی ہے۔’ شاردا نے کہا۔وہ ایک سانولی عورت تھی، قریب چالیس بیالیس برس کا سن تھا، مگر بدن کسا ہوا، ہونٹ ترشے ہوئے، گھنے کالے بال، چست سینہ اور لمبی گردن۔وہ اس وقت ایک ہرے رنگ کا ٹی شرٹ پہنے تھی، جو شانوں پر سے دو دائروں کی شکل میں کٹا ہوا تھا، جہاں سے اس کے چمکتے ہوئے گول گول کندھوں کی ہڈیاں اور ان پر تنی ہوئی چکنی سانولی جلد نمایاں ہورہی تھی۔اس کی باتوں کا انداز خاصا تحکمانہ تھا، وجہ اس کی شاید یہ تھی کہ وہ شہر کے بڑے رئیسوں میں شمار ہوتی تھی، سب کچھ اب تک اس نے اپنے بل بوتے پر کیا تھا، مگر ایک بات جو دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ تھی وہ یہ کہ اس کے جسمانی تعلقات کسی مرد کے بجائے ایک عورت کے ساتھ تھے، اور یہ دوسری عورت مریم تھی۔مریم کی کہانی بھی دلچسپ تھی، اسے ایک پچاس سالہ عیسائی سکول ٹیچر سے بالکل اوائل جوانی میں محبت ہوئی تھی، مگر اس محبت میں وہ کچھ خاموش خاموش اور جھجھکی ہوئی سی رہتی۔عیسائی آدمی اس سے بہت محبت جتاتا تھا، لہذا اس محبت کا نتیجہ یوں نکلا کہ اچانک ایک روز گھر والوں کی نظر مریم کے بڑھتے ہوئے پیٹ پر پڑی، اس وقت مریم کی عمر یہی کوئی سولہ، سترہ سال کی رہی ہوگی۔

گھر والوں نے اسے بہت مارا پیٹا، باپ سخت گیر مسلمان تھا اس لیے، یہ پتہ لگنے پر کہ مریم کو کسی عیسائی آدمی سے عشق ہے، اس نے اپنی بیٹی کو گھر سے باہر پھینک دیا۔مریم دردر کی ٹھوکریں کھاتی رہی، سکول ٹیچر اس جرم کے ڈر کی وجہ سے پہلے ہی کہیں روپوش ہوچکا تھا، مگر اتفاق سے اسے ایک عیسائی عورت نے، جو کہ نن تھی اور ایک مشنری میں کام کرتی تھی، سہارا دیا، پانچ مہینوں بعد مریم نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا، مگر اسے اس بات کا زیادہ دکھ نہیں ہوا، عیسائی عورت نے مریم کی ادھوری پڑھائی مکمل کروائی اور بعد میں اس کا مذہب تبدیل کرواکر قریب چوبیس برس کی عمر میں جوزف نام کے ایک ادھیڑ عمر شخص سے اس کی شادی کروادی۔جوزف ویسے تو شریف آدمی تھا، مگر وہ جنسی عمل کے دوران مریم کو بہت ایذائیں دیتا تھا، رات رات بھر جگاتا، اس کی حالت پتلی کردیتا، اسے مارتا پیٹتا اور صبح رو رو کر معافی مانگتا۔یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا، مگر جب بات حد سے نکل گئی تو سال بھر کے اندر ہی اندر مریم بھاگ کر ایک دوسرے شہر چلی گئی۔یہاں وہ اپنی سہیلی کی مدد سے پہنچی تھی، اس شہر میں سب سے انجان تھی، اس لیے جس عورت کے یہاں رکی، اسی نے اسے دنیا کے سرد و گر م سے واقف کرایا، شہر بھی گھمایا اور کام بھی دلوایا۔نام وام اس کا کچھ پتہ نہیں، مگر شاید وہی عورت مریم کی زندگی میں اس کی پہلی باضابطہ محبت بن گئی تھی۔دو سال تک وہ دونوں ساتھ رہے، مگر پھر اچانک کسی دن معلوم ہوا کہ اس عورت کو کوئی عجیب و غریب بیماری ہے، جس کے چلتے چند ہی دنوں میں اس کا انتقال بھی ہوگیا۔اب مریم کی عمر قریب ستائیس برس تھی۔اس نے اپنی مرحوم محبت کو زندہ رکھنے کے لیے تین سال تک اسی شہر میں رہ کر کام کیا، مگر ایک رات د ل پر ایسی اداسی کا غلبہ ہوا کہ وہ اگلے ہی دن اس شہر چھوڑ کر ایک پہاڑی مقام پر چلی گئی۔وہاں اس نے اپنے جمع شدہ پیسوں سے اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔یہ ایک چھوٹا سا ریستوراں تھا، جو چائے ناشتے کے لیے مخصوص رکھا گیا، اس لیے دن بھر کہر آلود پہاڑی فضاوں میں آتے جاتے سیاح اس ریستوراں پر جمع ہوتے رہتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال میں کاروبار اچھا خاصا چل پڑا۔مریم نے بہت سوچ بچار کرکے نزدیک کے ایک پرانے ہوٹل کو قسطوں پر خرید لیا۔اس کی ترقی اور موجودہ مالی حیثیت کے اعتبار سے اس کے پروجیکٹ پر ایک نیم سرکاری بینک نے اسے اچھا خاصا لون دے دیا اور اس طرح وہ کھنڈر نما ہوٹل سیاحوں کے ٹھہرنے لائق بنادیا گیا۔ اس ہوٹل میں قریب بیس بائیس کمرے تھے۔نئے شادی شدہ جوڑے سے لے کر غیر ملکی سیاح سبھی یہاں ٹھہرنے لگے اور کبھی کبھی تو سکولوں کالجوں کے طالب علموں کا کوئی گروپ جب ادھر کا چکر لگاتا تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے۔دیکھتے دیکھتے ایسی کچھ تنظیموں سے اس کا رابطہ ہوگیا جو مختلف شہروں سے سیاح بٹور کر لاتے اور اس کے ہوٹل میں ان کے قیام کا انتظام کرواتے۔مزید تین برسوں میں نہ صرف اس کا سارا قرض ادا ہوگیا بلکہ اب وہ ایک او ر ہوٹل خریدنے کا ارادہ کررہی تھی، قریب تیس چالیس افراد کا عملہ ہوٹل اور ریستوراں کو ملا کر کل وقتی یا جز وقتی طور پر اس کے یہاں ملازم تھا۔

اتنے برسوں میں کبھی بھی مریم نے اپنے گھروالوں سے دوبارہ بات نہیں کی تھی، بہت سے لوگوں کواس کا مذہب بھی پتہ نہیں تھا، وہ ایسی خاص مذہبی تھی بھی نہیں،نہ اس کے ریستوران اور ہوٹل میں کوئی ایسی مورتی یا تصویر تھی، جس سے اس کے مذہب کا کوئی اندازہ لگایا جاسکتا۔البتہ وہ پڑھنے کی بہت شوقین تھی۔گورا چٹا رنگ تھا، بدن چھریرا، بال ہلکے سنہری مائل، ہونٹ گہرے گلابی اور پچھلے کئی برسوں سے پہاڑی مقام پر ایک یوگا کلاس میں مستقل جانے کے سبب اس کے چہرے اور بدن کی جلد بالکل تنی اور چمکدار تھی۔اب سوال یہ ہے کہ دو مصروف ترین عورتیں اس وقت اس عمارت کے اکیلے کمرے میں کیسے اکٹھا ہوگئی تھیں۔بات یہ تھی کہ پہلی دفعہ شاردا سے مریم کی ملاقات ایک معمولی سے جھگڑے کے سبب ہوئی تھی۔شاردا کسی بات سے خفا ہوکر ہوٹل کے مینجر کو بلانے پر رات کے ڈھائی بجے اڑ گئی تھی، جب مریم، جو کہ اپنے ہوٹل کی مینجر بھی تھی، تڑکے چھ بجے وہاں پہنچی تو اسے پتہ لگا کہ کمرہ نمبر گیارہ میں جو خاتون ٹھہری تھیں وہ کمرے کی حالت سے خوش نہیں تھیں، چنانچہ فی الوقت ان کا روم بدلوادیا گیا ہے، مگر وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ مریم اس عورت سے ملی، کیونکہ ایسا اور اتنا ناخوشگوار واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا، اس لیے اس کے دل میں خوف اور ایک نئے تجربے کا احساس شور مچارہا تھا۔لیکن جب تک وہ شاردا سے ملی، شاردا کا غصہ ٹھنڈا ہوچکا تھا۔

پہلی نظر کی محبت پر یقین کم ہی ہوتا ہے، مگر ایسا نہیں کہ یہ چیز دنیا میں ناپید ہے،بہت سے ایسے لوگ ہیں، جنہیں پہلی بار دیکھنے پر دل اتنی زور سے دھڑک اٹھتا ہے جیسے اچھل کر حلق میں آبیٹھا ہو۔بعض دفعہ ایسی محبتوں کی عمر بس اسی لمحے تک محدود رہ جاتی ہے، مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ پہلا خوف میں ڈوبا ہوا خوشی سے بھرپور لمحہ زندگی کے آخری چھور تک ساتھ ساتھ چلا آئے، خاص طور پر تب، جب ایک ہی وقت میں دو دل اچھل کر حلق میں آبیٹھے ہوں۔ اس سے پہلے کہ شاردا کچھ کہتی، مریم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، برابر میں بٹھایا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر اپنی زندگی کی ساری روداد اسے ایک ہی سانس میں سنادی۔ اس بات نے ان دونوں کا رشتہ اور گہرا کردیا۔وہ دونوں ہی عورتیں اپنا اپنا کاروبار چلا رہی تھیں، حالانکہ کسی کام کے سلسلے میں شاردا کو اس ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا تھا، جسے وہ اپنی شان سے بہت کم آنک رہی تھی اور بظاہر کمرے کی ہر چیز ٹھیک ہونے پر بھی اسے کسی قسم کی کمی کا احساس ہورہا تھا۔وہ دل ہی دل میں اس کلائنٹ کو کوس رہی تھی، جس کی وجہ سے اسے سردی کے اس موسم میں یہاں کی کہر آلود فضا میں اترنا پڑا تھا اور سیاحوں کی زیادتی اور پہلے سے کوئی بکنگ نہ ہو پانے کی وجہ سے اس کھٹارا ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا تھا۔ شاردا اپنے رتبے کے اعتبار سے زیادہ تر خاموش ہی رہا کرتی تھی، وہ ان عورتوں میں سے تھی، جن کی خود اعتمادی ایسی بلا کی ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑا مرد ان سے بات کرتے ہوئے خوف کھاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ زندگی کی پینتیس سے زائد بہاریں دیکھنے کے باوجود کسی مرد کی اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ آگے بڑھ کر اس سے اظہار محبت کرسکے۔

وہ پیدائشی رئیس تھی، اس لیے اس کی آن بان میں، چال ڈھال میں ہر طرح سے ایک قسم کی امارت ٹپکتی تھی۔ چہرے پر ایسا سرمئی تیج تھا اور آنکھیں اتنی گھنی کالی کہ بعض دفعہ اس کے دیکھ لینے بھر سے ہی اس کے قریبی سٹاف کی جان سوکھ جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ اس نے خود بھی کسی کو اپنے برابر آنکا ہی نہیں،اور اس کی اس بارعب زندگی میں محبت کے چھینٹے اب تک پڑے ہی نہیں تھے۔مگر مریم سے اس کی محبت کا احساس اتنا یقینی اور گہرا تھا کہ وہ اسے چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکی۔دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں کے درمیان نہ صرف جسمانی بلکہ گہرا جذباتی تعلق قائم ہوگیا۔مگر جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محبت میں اپنی تحکمانہ روش کو ترک نہیں کرسکتے،شاردا بھی اسی قسم کی عورت تھی۔وہ خود بھی جانتی تھی کہ مریم تیزی سے ترقی کرنے کے باوجود اس کی بھنووں کی جنبش تک سے اندر تک ہل جاتی تھی، کسی بات پر شاردا کے ماتھے پر بل نہ پڑجائیں، کوئی شکن تک نہ آجائے، اس لیے وہ ہر بات میں اتنی احتیاط برتتی کہ بعض دفعہ اپنے دل میں اپنی ہی غلامانہ روش پر شرمندہ ہوجاتی مگر اگلے ہی لمحے شاردا کا سنجیدہ چہرہ، اس کی کالی آنکھیں اور گھنے بال مریم کے خیال کے میدان میں اتر کر اس احساس شرمندگی کا ایسا صفایا کرتے، گویا اس نے کبھی وہاں جنم ہی نہ لیا ہو۔

مریم نے چیخوف کی کہانی ‘محبت کے بارے میں’ کئی بار پڑھی تھی۔ اور وہ اس بات سے اتفاق رکھتی تھی کہ محبت میں خود سپردگی کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک پڑھی لکھی، مہذب اور خوبصورت خاتون کسی ان پڑھ باورچی کی مارپیٹ سہنے تک پر خود کو راضی کرلیتی ہے۔شاردا تو خیر ایک بہت اعلی ٰ درجے کی خاتون تھی، کبھی کبھی مریم یہ بات سوچ کر فخر سے بھر جاتی کہ اخباروں میں جب ملک کے اعلیٰ ترین معماروں کے نام چھپتے ہیں تو ان میں ایک نام اس کی معشوقہ کا بھی ہوتا ہے۔مانا کہ وہ شادی شدہ ہے، اس کی ایک مصروف زندگی ہے، مگر ہر تین مہینے میں ایک دفعہ وہ یہاں آتی ہے، کبھی ایک تو کبھی دو روز کے لیے، اور آپ شاید یقین نہ کریں مگر ان دو دنوں کی اطلاع ملتے ہی ہوٹل میں ان دنوں کی کوئی بکنگ نہیں کی جاتی۔پورا ہوٹل صرف ایک عورت کے لیے بک ہوتا تھا،سٹاف ان کی دیکھ ریکھ کرتا، چہ میگوئیاں بھی۔مگر وہ پہاڑی درمیانہ درجے کے لڑکے لڑکیاں چاہے کچھ بھی بکیں، ان کی اوقات ان دو صاحب حیثیت عورتوں کے سامنے کیڑے مکوڑوں جیسی بھی نہیں تھی۔چنانچہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کی نگاہیں نیچی رہتیں۔ اس بات کو اخلاقی طور پر برا سمجھتے ہوئے بھی وہ اس لیے اس موقع کا انتظار کرتے تھے کیونکہ مریم انہیں ان دنوں کے لیے خصوصی طور پر بونس دیا کرتی تھی۔شاردا کی پسندیدہ مخصوص ڈشیں یا تو بنوائی جاتیں یا کسی ہوٹل سے انہیں بنوا کر یہاں لایا جاتا۔ہر کام وقت پر ہوتا، ذرا چون و چرا نہ ہوتی۔ اس بھید بھری محبت میں بھی اک جرم کی لذت کا سا احساس شامل تھا، جو ان دونوں عورتو ں کو اندر سے شرابور کردیتا۔ان کے اعتماد کو بڑھاتا اور ان کی تشنہ کامی کو اگلے تین مہینوں کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا۔اس ایک یا دو دنوں کے موقعے میں ہونے والی ان کی محبت اتنی شدید اور ایسی والہانہ ہوتی کہ مریم کو کئی دفعہ شاردا کی ایذادہی کی وجہ سے جوزف کا خوفناک چہرہ یاد آجاتا، مگر یہ بڑا نفسیاتی بھید تھا کہ جس ایذارسانی کے خوف سے بھاگ کر، اتنا لمبا سفر کرکے وہ شاردا کی بانہوں تک پہنچی تھی، وہاں یہی ایذادہی اس کو لذت پہنچاتی تھی۔بہرحال بھید کچھ بھی ہو، مگر ان کا رشتہ چلتا جارہا تھا، بالکل کسی آبشار کی طرح رواں دواں۔

قریب پانچ سال کے عرصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شاردا نے تین مہینوں میں ایک دفعہ ادھر کا چکر نہ لگایا ہو۔جب رات کو ایک بھرپور وصل کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی یا علیحدہ لیٹتیں تو دنیا بھر کے ادب اور لیکھکوں کا ذکر نکل آتا۔کبھی شاردا کہتی۔

‘مریم! میں سمجھ نہیں پاتی کہ تمہاری آنکھوں میں موجود ہروقت کی یہ اداسی کیسی ہے؟’
مریم جواب میں پوچھتی’کیسی اداسی شاردا’
‘تکمیلیت کی اداسی، ایسی اداسی جو یاسوناری کاواباتا کے کرداروں کے یہاں ہوتی ہے، جو اس کی کہانیوں کی خاصیت ہے۔’
‘شاید سرد علاقے میں رہنے کا اثر ہے۔’مریم جواب دیتی۔

اور اسی طرح جب وہ بچھڑتے تو ضرور کوئی نہ کوئی کتاب مریم شاردا کو تھمادیتی۔اور اتفاق یہ تھا کہ وہ ایسی ہی کوئی کتاب ہوتی جو شاردا نے کبھی اس سے پہلے پڑھی نہ ہوتی۔یہ کتاب ہمیشہ ملفوف ہوتی تھی، شاردا ہمیشہ کتاب ملتے ہی کھولنے لگتی تو جواب میں مریم کہتی۔’تم اس معاملے میں اتنی بے صبر کیوں ہو؟ میں چاہتی ہوں یہ کتاب تم پلین میں بورڈ ہونے کے بعد دیکھو۔اور اتنی آہستگی سے اسے کھولو، جیسے یہ کتاب نہیں، ریمنڈ چینڈلر کے کسی ناول کی گتھی ہے۔’

اور جواب میں شاردا مسکرادیتی۔

(2)

اس بار شاردا کے آنے سے پہلے ہی ایک وبائی مرض پورے ملک کو دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔جولائی کا موسم آتے آتے ایک طرف زوروں کی برساتیں شروع ہونے والی تھیں، دوسری طرف ایسی سن گن تھی کہ پورے ملک میں لاک ڈاون لگنے والا ہے۔اور ہوا بھی یونہی، جس دن شاردا آنے والی تھی، ہوٹل اس سے ایک روز پہلے ہی سنسان ہوگیا تھا۔قریب دو ایک کمروں میں لوگ ٹھہرے ہوئے تھے، مگر سرکاری ہدایتوں کے مطابق ان سے بھی اگلے روز تک ہوٹل خالی کرنے کی درخواست کی گئی، اور پورے ہوٹل کو جراثیم کش کیمیکل کی مدد سے صاف کرنے کا کا م ہوا۔شاردا کی آمد والے دن صبح سے ہی ہلکی ہلکی برسات ہورہی تھی، طے یہ ہوا تھا کہ شاردا اس بار تین روز رکے گی، اور مریم کے اصرار پر یہ بات گزشتہ ملاقات پر ہی طے ہوگئی تھی۔چنانچہ جب شاردا پہنچی تو اس روز یونہی ہوٹل خالی ہوچکا تھا۔باہر ‘نو روم’ کا بورڈ تو لگا ہی دیا گیا تھا، ساتھ ہی ساتھ سٹاف کے بھی اب چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی کو چھٹی دے دی گئی تھی۔

لاک ڈاون لگنے سے دو دن پہلے وزیر اعظم نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تھا، یہ ایک ایسا کرفیو تھا، جس میں سرکاری طور پر کسی قسم کا دباو نہیں تھا، مگر لوگوں سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ ملک بھر میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے خود ہی صبح سے رات گئے تک گھر سے نہ نکلیں، اس بات سے بھی مریم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ دو چار روز میں مکمل لاک ڈاون لگنے ہی والا ہے۔ ویسے تو ہوٹل کے آخری فلور پر، جو چھوٹا سا گودام تھا، اس میں اگلے چھ مہینے کے راشن کی تقریبا تمام چیزیں جمع تھیں، پھر بھی ایک نظر دیکھ کر جن چیزوں کی کمی محسوس ہوئی، انہیں اگلے دو یا تین مہینوں کے حساب سے منگواکر جمع کرلیا گیا۔ان مصروفیات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مریم کے دل میں یہ خوشی کہیں اندر ہلچل مچارہی تھی کہ شاید جیسا کہ خبروں میں دکھایا جارہا ہے، اگلے اکیس دن تک اگر لاک ڈاون نافذ کردیا گیا تو اس کو شاردا کے ساتھ اس بار کتنے لمبے عرصے کے لیے رہنے کا موقع ملے گا۔اس بات کا خیال آتے ہی اس کے گالوں میں سرخی دوڑ جاتی اور کنپٹیاں تک محبت کے اس عظیم عرصے کی تیاری میں جوش سے سرخ ہواٹھتیں۔

بہرحال ہوا بھی ٹھیک مریم کی توقعات کے مطابق، شاردا کے آنے کے اگلے دن ہی ملک میں اکیس دنوں کا لاک ڈاون نافذ کردیا گیا۔وبا نہ پھیلے، اس لیے لاک ڈاون میں ٹرینوں اور پلینوں کی کہیں بھی آوا جاہی پر سختی سے پابندی لگادی گئی۔مال گاڑیوں اور کارگو پلینز کے علاوہ کسی کو کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی، ساری ریاستوں کے بارڈر سیل کردیے گئے۔ سرکاری سطح پر ایک ایک بات کا دھیان رکھا جارہا تھا، انٹرنیشنل فلائٹس تو ایک ہفتے پہلے ہی بند ہوچکی تھیں، مگر ان کے ذریعے بھی جو لوگ آئے ان کی ایئرپورٹ پر سکریننگ کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ اپنے گھروں میں کم از کم چودہ دن کے لیے خود کو کوارنٹین کرلیں۔وائرس چونکہ نیا نیا تھا، اس لیے سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سی افواہیں بھی گرم ہورہی تھیں۔ادھر شاردا کو بھی معاملے کی مکمل جانکاری تھی، اتنا سب کچھ ہونے پر بھی اس نے مریم سے ملنے کا ارادہ ترک نہیں کیا تھا، وہ بھی اس بات کی وجہ سے دل ہی دل میں کہیں مسکرارہی تھی کہ ان دونوں کو پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ لمبے وقت تک رہنے کا موقع میسر آئے گا۔اس کے شوہر نے بھی اس بار، جس کے ساتھ اس کے رشتے کی ناچاقی بہت پرانی تھی، اسے ایسے وقت میں جانے سے روکنا چاہا، مگر وہ نہیں رکی۔حالانکہ وہ اور اس کا شوہر اب علیحدہ رہتے تھے، مگر پھر بھی جتنا زور وہ فون پر ڈال سکتا تھا،اسے جتنا سمجھا سکتا تھا، اس نے کوشش کرکے دیکھ لی، مگر شاردا نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کبھی جھگڑا نہیں کرتی تھی، تمام باتیں سن کر بس کہہ دیتی’آئی ول تھنک اباوئٹ اٹ!’

اور یہ جملہ کچھ اس انداز میں کہا جاتا کہ سننے والے کو سمجھ میں آجاتا کہ شاردا کا جواب کیا ہے۔کیونکہ عام طور پر اس کے آس پاس موجود لوگ جانتے تھے کہ وہ جھٹ پٹ فیصلے کرنے والی ایک خود مختار عورت ہے۔اپنی صحت کا بھی بھرپور خیال رکھتی ہے، مگر اس بار اس کے شوہر کو حیرت ہورہی تھی کہ اچانک اسے اپنی زندگی سےایسی کیا بیزاری ہوگئی کہ وہ اتنے خراب وقت میں بھی گھر پر رکنے کو تیار نہیں۔شاردا کے شوہر کو آخری وقت تک یہی لگتا رہا کہ شاید وہ اسے تکلیف پہنچانے کی غرض سے ایسا کررہی ہے، اور عین وقت پر کہیں نہیں جائے گی، مگر جب اس کے جانے کی اطلاع ملی تو اس نے سوچا،عورت کا ارادہ پختہ ہوتا ہے، وہ مرد کی طرح ڈانواڈول نہیں ہوتا، عورت اپنی روحانی اور ذہنی ساخت میں اتنی مضبوط ہے کہ چاہے کسی کے قتل کا ارادہ کرلے یا خودکشی کا، جب تک وہ اس عمل کو انجام نہیں دے لے گی، تب تک اسے اطمینان نہیں ہوگا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ عقل سے کام لیتی ہے، بعض کہتے ہیں کہ جذبات سے۔لیکن عورت ایک ایسی واحد ہستی ہے، جو شدید سے شدید جذباتی لمحوں میں بھی عقل کا بھرپور استعمال کرتی ہے۔

شاردا نے ایئرپورٹ سے مریم کے ہوٹل کے لیے ٹیکسی لی۔ویسے بھی پہاڑی راستوں پر شہروں کی کشادہ سڑکوں جیسا ہنگامہ اور شور کم دیکھنے کو ملتا ہے۔مگر دھیمی رفتار سے چلتا ہوا ٹریفک اونچائیوں پر اکثر نظر آجاتا ہے۔مگر اس بار واقعی راستے کافی صاف تھے، پانی ہلکا ہلکا برسے جارہا تھا، اس نے پچھلی کھڑکی کو تھوڑا سا کھول کر باہر کی پھوار میں آنکھوں کو بھگونا شروع کردیا۔تیز ہوا کے سرد جھونکے، اس کے چہرے کو اپنی ان دیکھی بانہوں میں سمیٹ لیتے، بال حالانکہ بندھے ہوئے تھے، پھر بھی جو لٹیں ادھر ادھر سے ملیں، انہیں ان جنگلی ہواوں نے بکھیرنا شروع کردیا۔کئی بار ماتھے اور آنکھوں پر بال آجاتے، جنہیں اسے چارانگلیوں کی مدد سے ایک طرف کرنا پڑتا۔دائیں بائیں انسانی مشقت کے بل پر تراشی ہوئی پہاڑیوں کے منظر اس کی ناف میں ہمیشہ ہی گدگدی پیدا کردیتے تھے،کہیں کہیں برابر بہتے ہوئے دریا کا بدن بالکل کسی سانپ کی طرح لچکیلا اور گہرا کاہی ہوجاتا۔پانی میں سے جھانکتے ہوئے پتھر اور ان کی گول چکنائیوں کو دیکھ کر اسے مریم کے پستانوں کا خیال آجاتا۔کہیں راستے میں کوئی لکڑی کا چھوٹا سا پل مین سڑک کو کسی پہاڑی کے چھور پر بنے چھوٹے سے سکول سے جوڑتا تھا، لکڑی کا یہ چرمراتا ہوا پل، دیکھنے میں بالکل کسی مصنوعی بیل کی طرح لگتا، جس کے نیچے کل کل بہتی ہوئی لہریں پہاڑوں کے مضبوط دامن میں اس چھوٹی سی انسانی کوشش پر کلکاریاں مارتی، لطیفے گڑھتی، سرگوشیوں میں پل کی کمزوری پر رائے زنی کرتی اور اونچی آواز میں ہواوں کی ہمت کو للکارتی ہوئی گزرتی معلوم ہوتی تھیں۔

شاردا اور مریم کی ملاقات کی اس رات زیادہ باتیں نہیں ہوسکیں۔مریم ہوٹل کے کچھ ضروری کاموں میں مصروف تھی اور شاردا کو بھی ایک کمرے میں اپنا چھوٹا سا سیٹ اپ تیار کرنا تھا تاکہ اگلے دن سے، وہ یہیں سے آن لائن ویڈیو کالنگ کی مدد سے سارا کام کاج دیکھ سکے۔جب ملازمین کی مدد سے سارے کام طے پائے گئے تو رات کو ان دونوں کی ملاقات ہوئی، مگر تھوڑی بہت جنسی مشقت کے بعد وہ دونوں تھک کر چور ہوگئیں اور ایسی پڑ کر سوئیں کہ اگلی دوپہر بارہ ساڑھے بارہ بجے کے قریب ان کی آنکھ کھلی۔ اتنی دیر ہونے کی وجہ سے شاردا فوراً برابر کے کمرے میں، جو کہ اب اس کا عارضی دفتر تھا، چلی گئی۔اس کا ناشتہ بھی وہیں بھجوادیا گیا۔مریم نے باہر کا منظر دیکھا، کل رات سے برسات ایک ہی دھج سے ہوئی جارہی تھی، اس کی رفتار اب نہ بہت زیادہ تھی، نہ بہت کم۔مگر اتنا ضرور تھا کہ سڑک پر چلتے ہوئے اکا دکا لوگوں کی چھتریاں ہوا سے الٹی ہوئی جارہی تھیں اور معلوم ہوتا تھا کہ کھڑکی سے برسات جتنی خوبصورت اور معصوم نظر آرہی ہے، سڑک پر اتنی ہی منہ زور اور بے لگا م ہوچلی ہے۔بہرحال فریش ہوکر جب وہ کچھ دیر کے لیے اپنے دفتر جارہی تھی، تو اس نے دو لمحے کان لگا کر شاردا کے کمرے سے آتی ہوئی اس کی دھیمی مگر تحکمانہ آواز سنی، وہ کسی کو ہدایتیں دے رہی تھی، ‘اف یہ آواز!’ مریم نے ایک آہ بھری اور وہ نیچے کے کمرے کی طرف لپک گئی۔

(3)

اسی رات ٹیلی ویژن پر وزیر اعظم نے خود آکر ملک بھر میں اگلے دن سے اکیس روز کے سخت گیر لاک ڈاون کا اعلان کردیا۔یہ خبر ان دونوں نے ساتھ ہی میں دیکھی۔حالانکہ شاردا نے لاکھ چھپانا چاہا، مگر اس کے چہرے کی سرخی مریم کی آنکھوں سے چھپ نہ سکی۔ شام سے برسات کا زور بھی بڑھ گیا تھا۔اور اس وقت وہ دونوں قریب بارہ بجے، ڈائننگ روم میں بیٹھے، پہاڑ وں کے دامن میں لکڑی اور پتھر کے بنی ہوئی اس ہوٹل کی عمارت میں اپنی رومانی خلوت کا لطف لے رہے تھے۔ شاردا نے ایک نظر باہر دیکھتے ہوئے کہا، ‘آج موسم بڑا خوفناک ہے۔’اور اسی بات سے خوفناک قصوں، ہیبت ناک یادوں اور بھوتوں، پریتوں کی باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ایڈگر ایلن پو، بورخیس، کافکا، پارلاگر کوئست سے لے کر سٹیفن کنگ تک کا ذکر آیا۔روسی کہانی کاروں کی بات چل پڑی تو بہت دیر تک گوگول کی مشہور کہانی اوورکوٹ کا ذکرہوا۔میخائل بلگاکوف کے ناول ماسٹر اینڈ ماگریٹا کے مافوق العقل قصوں کی داستان چھڑی، دوستوئفسکی کے ناول برادرز کراموزوف میں موجود مذہبی ماورائی قصوں کی بات بھی ہوئی اور اس طرح ہوتے ہوتے روسی فکشن اور شاعری کے سب سے بڑے استاد پوشکن کی کہانی ‘حکم کی رانی’ کا ذکر نکل آیا۔

مریم نے ہلکی نائٹی پہن رکھی تھی، اور گہری اودی رنگ کی ا س نائٹی میں سے چھلکتے ہوئے اس کے گورے پستانوں کو دیکھ کر شاردا کو پہاڑی ندی سے جھانکتے گول پتھروں کی ایک بار پھر یاد آگئی۔وہ جب کسی بات پر ہنستی تو اس کے دانتوں سے داڑھوں تک کی سفید قطار اور منہ میں سے جھانکتا ہوا گلابی غار، گہری عنابی زبان اوراس پر چمکتی ہوئی لعاب کی تھیلی شاردا کو اندر تک سرشار کردیتی۔انسانی بدن کے اس راز اور اس سے ہونے والے نفسیاتی اثر کی جنگلی خواہشیں شاردا پر جیسے نشہ طاری کررہی تھیں۔لیکن اسی وقت مریم کی کھنکھتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

‘تم نے کئی بار اپنی دادی کا ذکر چھیڑا اور بتایا کہ وہ بڑی پراسرار اور دلچسپ شخصیت تھیں، مگر کبھی ان کے بارے میں بتایا نہیں، آج موقع ہے، کیا تم مجھے ان کے بارے میں تفصیل سے بتاسکتی ہو؟’

‘کیا تمہیں میں نے بتایا ہے کہ میرا نام انہی کے نام پر رکھا گیا ہے؟ یہ بات بہت کم لوگوں کو پتہ ہے، شاید میں نے اس کا ذکر پہلے کیا ہو۔’
‘ہاں! تم نے ایک دو دفعہ ذکر کیا ہے۔اسی وجہ سے میری جستجو کو مزید پر لگ گئے ہیں۔’
شاردا کچھ دیر تک مریم کو بالکل مبہوت ہوکر دیکھتی رہی۔جیسے سوچ رہی ہو کہ وہ بات کہاں سے شروع کرے۔پھر اس نے پاس رکھی پانی کی بوتل کھول کر ایک بڑا سا گھونٹ بھرا اور بات شروع کی۔
‘حالانکہ میں کوئی اچھی قصہ گو نہیں ہوں، لیکن میں تمہیں اپنی دادی کی روداد انہی کی زبان میں سنانا چاہوں گی، مگر اس سے پہلے یہ جان لو کہ یہ بات کسی کو پتہ نہیں، ہمارے درمیان بھی آج اس کا پہلی اور آخری بار ذکر ہورہا ہے۔چونکہ یہ بھید تین انسانی زندگیوں سے متعلق ہے،او ر وہ تینوں اپنے زمانے کی باعزت شخصیات تھیں، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ تم اس کہانی کو سن کر اپنے سینے میں ایسے دفن کرلو، جیسے میرے من کی مٹھی میں تمہاری محبت ہے۔’
مریم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہامی بھری۔شاردا نے مزید کہا۔

‘میری عمر قریب اٹھارہ برس ہوگی، میں ان دنوں بی ایف اے کے سکینڈ ائیر میں تھی۔ہاسٹل میں رہ رہی تھی کہ ایک روز پاپا لینے آن پہنچے، پتہ چلا کہ دادی کی طبیعت کافی خراب ہے اور انہوں نے گھر کے ہر فرد کو ملنے کے لیے بلایا ہے، چنانچہ دور و نزدیک کے سبھی رشتے دار جمع ہوئے۔اس رات ہم سب چھوٹے بڑے دائرے بناکر دادی کے بڑے سے بستر کے آس پاس کرسیوں پر بیٹھے تھے، جنہیں کرسیوں پر جگہ نہیں ملی تھی، وہ بلا جھجھک زمین پر بچھے قالین پر بیٹھ گئے۔دادی کے پاس بے انتہا دولت تھی، تم سمجھ ہی سکتی ہو کہ ایک کھانستی ہوئی بڑھیا کے ارد گرد اتنے دنیادار، مصروف ترین لوگ آخر کیا سوچ کر جمع ہوئے تھے، یقینا وہ سوچ رہے تھے کہ دادی اپنی وصیت سنائیں گی، مگر انہوں نے وصیت سے پہلے ایک طویل اور صبرآزما کہانی سننے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بوڑھی عورت کسی برگد کے نیچے بنے گول چبوترے پر بیٹھی کہانی سنانے جارہی ہو اور اس کے آس پاس کہانی کے شوقین اور مشتاق بچوں کا جمگھٹا لگ گیا ہو۔موسم سردی کا تھا، رات کا قریب یہی دس سوا دس بجا ہوگا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے صبح کے تین بج رہے ہوں۔ دادی کا رعب اور رشتہ داروں کا اشتیاق ایسا لائق دید تھا اور اتنی خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرے تو صاف آواز سنائی دے۔ادھر باہر سردی میں کوئی پنچھی چیختا ہوا گزرا اور ادھر دادی کے لب گویا ہوئے۔

(4)

تم سب لوگ جانتے ہو کہ میں نے اپنی زندگی نہایت کھرے اصولوں پر بتائی ہے۔روپے پیسے کی فراوانی ہونے کے باجود مجھے ان سے کبھی اتنی محبت نہیں رہی کہ میں انہیں کلیجے سے لگا کر رکھتی۔پیسا ویسے بھی انسانی زندگی کا آخری مقصد نہیں ہوسکتا، جیسا کہ میرے بابا کہتے تھے۔وہ صرف انسانی سہولتوں کو بڑھاتا ہے، اصل چیز ہے انسان کا خوش رہنا۔آدمی من سے ہی امیر یا غریب ہوتا ہے۔ اور میری نگاہ میں امارت کی سب سے بڑی مثال ایک بھرپور محبت ہے، جس کے لیے میں زندگی بھر ترستی رہی۔مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ سوچو گے کہ تمہارے والد یا دادا مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔لیکن میرے بچو! انسانی زندگی بہت انوکھی اور مخفی ہے۔تم سب نے جو دیکھا، میں نے اس سے بہت کچھ الگ، بہت کچھ ڈراونا دیکھا ہے۔اپنے شوہر کے چہرے سے جب ڈرتے ڈرتے میں نے نقاب اٹھایا یا کہوں نوچ پھینکا تو میرا کلیجہ چھلنی ہوگیا، روح زخمی ہوگئی اور اس بھیانک حقیقت کو برداشت کرنا میرے لیے ناممکن ہوگیا، جس کے سامنے آتے ہی دنیا میری نظروں میں کچھ دنوں کے لیے اندھیر ہوگئی۔اور پھر اسی اندھیرے میں میرے وحشی اور جنونی دل نے ایک فیصلہ کیا۔ایک نہایت خطرناک اور عقل کی تمام منطقوں سے ماورا ایک فیصلہ۔جس نے مجھے خود اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا، اور اس راز کو من میں ڈھوتے ڈھوتے اپنے ہی خوف کی پرتیں اتارتے اتارتے آج میں اتنی تھک گئی ہوں کہ مجھے یقین ہوچلا ہے کہ میری جان لینے کے پیچھے میرا یہی غم اور میرا یہی احساس گناہ ہے۔مگر اس سب کے باوجود مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے، کوئی دکھ نہیں ہے۔میں نے جو کچھ کیا، اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے میں تیار تھی اور سچ پوچھو تو میں نے اس کی قیمت چکائی بھی۔میرے بچو! تم جب اس بوڑھی عورت کو دیکھتے ہو، جسے دنیا شاردا دیوی کہہ کر بلاتی ہے، لوگ ہاتھ جوڑے، ہاتھ باندھے جس کے آگے پیچھے دوڑتے ہیں، جس کو دولت و زر کی نہ کوئی کمی ہے اور جس کے پاس ایک بھرے پرے خاندان کی سچی محبت بھی ہے۔تب تم نہیں جانتے کہ اس کی روح پر ایک گہرا گھاو ہے! ایک بوجھ ہے جو یہ بڑھیا اپنے ناتواں کندھوں پر لیے لیے پھررہی ہے اور اب تھک کر اس گٹھری کو آج اپنے سر سے اتاردینا چاہتی ہے۔شاید وہ بات جسے آدمی کا اندرون قبول نہ کرے، ایک ایسی ہی چیز ہے، جسے باہر نہ نکالا جائے تو وہ ٹیومر کی طرح اندر ہی اندر پھیلتی جاتی ہے۔حالانکہ، اب بہت دیر ہوچکی ہے،لیکن پھر بھی(تھوڑی دیر خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہنا شروع کیا) میں چاہتی ہوں کہ تم سب میری اس بیماری کے بارے میں جان لو، شاید یہ بات تمہاری زندگیوں میں کبھی اور کہیں کام آسکے۔

یہ غالبا انیس سو اکیاون کے آس پاس کی بات ہے، میری عمر اس وقت یہی کوئی پینتیس برس کی رہی ہوگی۔ تب تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔میں ان دنوں کی ان بے حد غیر معمولی خواتین کی فہرست میں شمار کی جاسکتی تھی، جو نہ صرف بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئی ہوں بلکہ اب اپنے والد کےساتھ مل کر ملک بھر میں پھیلا ہوا اپنا کاروبار سنبھال رہی ہوں۔اس وقت تک ہم نے کوئلے اور پتھروں کے کاروبار میں ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ہمارا کاروبار مختلف قسم کی لکڑیوں کی سپلائی پر منحصر تھا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے کپڑوں کے کارخانے اور کچھ حد تک نئی نئی پولٹری فارمنگ بھی ہم نے شروع کی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ میرے لیے لڑکوں کے رشتے نہ آتے ہوں، مگر میں انہیں کسی نہ کسی بہانے سے نظر انداز کردیتی تھی، بابا نے کبھی کوئی زور زبردستی نہیں کی، باقی لوگوں نےبھی دباو نہیں ڈالا۔

میں اکثر لوگوں سے چھپ چھپا کر انگریزی، ہندی اور اردو کی رومانی کہانیاں پڑھا کرتی تھی۔کچھ پرانے ہندی، اردو ڈائجسٹ تو شاید اب بھی میری ذاتی لائبریری میں تمہیں مل جائیں گے، جنہیں بند ہوئے ایک مدت ہوگئی ہے۔انہی کہانیوں کا اثر تھا کہ میری زندگی میں محبت کی کمی کا احساس بہت بڑھ گیا۔میرے پاس سب کچھ تھا، وسائل بھی، لوگ بھی۔مگر کوئی ایسا شخص آس پاس نظر نہ آتا، جس سے میرے دل کی وابستگی ممکن ہو۔اور پھر ایک روز تمہارے دادا سے میری ملاقات ہوئی۔شاید تم سبھی لوگوں کو علم ہو کہ تمہارے دادا یا والد مجھ سے قریب دو یا تین سال چھوٹے تھے۔ انہیں ان کے والد کے ساتھ میرے دور کے ایک چچا لے کر آئے تھے۔معلوم ہوا کہ وہ لوگ شرنارتھی ہیں، دو سال پہلے لاہور سے لٹ پٹ کر، بھارت آئے ہیں اور اسی بیچ جو سرمایہ ان کے پاس تھا، اسے اپنے آبائی کام میں لگا کر اور دوسروں سے قرض لے لوا کر انہوں نے اپنے پرانے کام کے لیے جو پیسہ جمع کیا تھا، وہ ختم ہوچکا ہے اور اب ایک طرف قرضدار پیچھے پڑے تھے، تو دوسری طرف کھانے کے بھی لالے ہوگئے تھے۔ تمہارے پر دادا کی حالت بہت غیر تھی، میں نے جب انہیں پہلی بار دیکھا تو ان کی حالت واقعی نازک تھی، پتلے دبلے شریر کے مالک تھے، ایک پھٹا ہوا کرتا پہنے تھے، آنکھیں حالات کے بوجھ اور تقسیم کی بے وقت مار سے تھکن آلود اور ماتھا شکن زدہ تھا۔البتہ تمہارے دادا کی آنکھوں میں دکھ بھی تھا اور اس سے لڑنے کا عزم بھی لیکن جو خاص بات تھی وہ یہ کہ جوانی کی اس دربدری نے انہیں بے حد وجیہ بنادیا تھا۔ان کے گورے ماتھے پر ایک چھوٹی سی لٹ تیر رہی تھی، جسے وہ بار بار اپنی پیشانی سے ہٹاتے، مگر وہ ضدی لٹ دوبارہ وہیں آن پہنچتی۔کمرے میں اس وقت ان دولوگوں کے علاوہ میرے والد، وہی دور کے چچا اور میں موجود تھی۔میرے والد تمہارے پردادا کو سمجھارہے تھے کہ انہوں نے غلط وقت پر غلط کام کے لیے پیسا بازار سے اٹھا لیا ہے۔ان لوگوں کا کام دفتر کے فرش پر جمانے والے پتھروں کی خرید اور بکری کا تھا، اس کے علاوہ وہ ان پتھروں کو فکس بھی کرواتے تھے۔مگر ظاہر ہے کہ ملک نے ابھی ابھی بٹوارے جیسا عظیم نقصان سہا تھا۔چوٹ کھائے، زخمی اور لہولہان بزنس اپنی اپنی کمر سیدھی کررہے تھے، ایسے میں کس شخص کے پاس اتنا فالتو پیسا تھا کہ دفتروں کے فرش ٹھیک کرواتا پھرے۔ تم لوگوں کو شاید ہنسی آئے مگر اس زمانے میں جب کبھی میں دہلی کے اس رو ڈ پر، جسے آج منٹو روڈ کہتے ہیں، اور بومبے کے اس مقام پر جسے باندرہ کہا جاتا ہے، گزرتی تو دیکھتی کہ سڑک سے لپٹے یا سمندر کے کنارے کنارے بہت سے ٹیبل کرسی ڈالے ہوئے لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی کاروباری تختیاں لگائے بیٹھے ہوتے تھے، بعضوں کے پاس تو کرسی بھی نہ ہوتی، آج ان میں سے کئی بڑی کمپنیاں بن چکی ہیں۔وہ ایک انقلابی وقت تھا، خون میں ڈوبا ہوا انقلابی وقت۔ایسا وقت جو تاریخ بناتا ہے، تاریخ لکھتا ہے۔

میرے والد ایک گھاگھ بزنس مین تھے، چنانچہ انہوں نے تمہارے دادا، پردادا کی کوئی بھی مدد کرنے سے ہاتھ اٹھالیا۔مگر ایک آخری مشورے کے لیے مجھےبھی بلوایا گیا تھا۔میں چپ چاپ بیٹھ کر اپنے والد کی باتیں سنتی رہی۔اس دوران کئی بار میں نے اس جوان کو دیکھا، جو سامنے کی کرسی پر بیٹھا ہمارے عالیشان دفتر کے کمرے کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی رعب نہیں تھا، بلکہ ایک قسم کی ناسٹلجیک لہر تھی۔شاید ایسا ہی کمرہ، انہوں نے لاہور کی مار کاٹ میں گنوادیا تھا۔ اچانک مجھے لگا جیسے سامنے والی کرسی پر بیٹھا وہ جوان میری طرف دیکھ رہا ہے، ہماری نظریں ملیں اور ایک دم سے اپنی پڑھی ہوئی تمام رومانی کہانیوں کا فلیش بیک میری آنکھوں میں اوپر سے نیچے کسی ریل کی صورت بہنے لگا۔اور اس ایک پل میں میں نے فیصلہ کرلیا کہ یہی شخص میرا ہم سفر بن سکتا ہے۔چنانچہ جب مجھے مشورے کے لیے لب کشا ہونے کا موقع ملا تو میں نے ان لوگوں کے سامنے ایک تجویز رکھی۔ کیوں نہ جب تک حالات ٹھیک ہوں، وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کریں، اور جب چیزیں بہتر ہونے لگیں تو ہم ان کے پتھروں کے کاروبار میں پیسہ لگادیں جسے بعد میں وہ اپنی سہولت سے لوٹاتے رہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں یہ تجویز سنارہی تھی تو میرے والد زیر لب مسکرارہے تھے، وہ شاید میری آنکھوں کی چمک سے میرا ارادہ بھانپ گئے تھے۔اس تجویز کو مکمل سننے کے بعد جب تمہارے پر دادا کشورگپتا نے میرے والد کی طرف سوالیہ نظروں سےدیکھا تو انہوں نے ایک زوردار قہقہہ مارتے ہوئے کہا

‘بھئی! اس دفتر میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، اس پر آخری مہر ہماری شاردا بٹیا ہی لگاتی ہے۔اگر آپ کو تجویز پسند ہے تو کل تک ضرور بتادیں۔’

ظاہر ہے ان لوگوں کے پاس ہماری تجویز قبول کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور اس طرح تمہارے دادا اور میری قربت کا ایک مستقل وسیلہ بن گیا۔ہم کام کے سلسلے میں اکثر دوسرے شہروں میں بھی جاتے، وقت گزاری کرتے، مختلف جگہوں پر رکتے۔مجھے تمہارے دادا کی مسکراہٹ بہت پسند تھی، سو میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ مسکراہٹ قائم رہے۔مجھے اس اعتراف میں کوئی برائی محسوس نہیں ہوتی کہ اس مسکراہٹ کے لیے میں نے خود پر ظلم کیے، جبر کیے۔ایک ڈیڑھ سال میں ہی ہم نے تمہارے پر دادا کے اصرار پر ان کے پتھروں کے کام کے لیے انہیں نہ صرف پیسا دیا بلکہ اپنے کئی آشنا بزنس مین افراد سے ذاتی طور پر درخواست کی کہ وہ اپنے دفتر کا کام انہی کی کمپنی سے کروائیں۔نتیجے کے طور پر مزید ایک سال میں ان کاکام بھی چل پڑا۔تمہارے پردادا خود دار آدمی تھے، انہوں نے پہلی فرصت میں اپنا قرض اتارنا شروع کردیا۔اور جب وہ میرے بابا کے پاس قرض کی پہلی قسط لے کر آئے تو میرے بابا نے رقم لینے سے انکار کردیا اور ان کے سامنے میری اور تمہارے دادا کی شادی کی تجویز رکھی۔تمہارے پردادا کو میں پسند تھی، مگر میری اتنی آزادہ روی انہیں شاید قبول نہیں تھی، وہ لاہور کے پرانے بنیا خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جہاں پردے کی روایت تقسیم کے وقت سے کچھ پہلے تک ایلیٹ طبقے کے یہاں بھی بدستور جاری تھی۔ان کے گھر کی عورتیں بھی زیادہ پڑھی ہوئی نہیں تھیں۔لیکن اس کے باوجود انہیں اس میں یہ فائدہ بھی نظر آیا کہ میں اپنے بابا کی اکلوتی اولاد تھی اور میرے ساتھ اپنے بیٹے کی شادی کرادینے کا مطلب یہ تھا کہ انہیں بیٹھے بٹھائے بہت ساری دولت ہاتھ آجاتی۔حالانکہ وہ بہت لالچی آدمی نہیں تھے، مگر موقع پسند ضرور تھے۔چنانچہ میری شادی اس طرح تمہارے دادا اشوِن گپتا سے ہوگئی۔شادی کے چند برسوں میں کئی بڑی تبدیلیاں ہوئیں۔اشوِن کی والدہ کا انتقال تو پہلے ہی ہوچکا تھا، ان کے والد بھی اب کافی بیمار ہوگئے تھے، انہیں دق کا مرض لاحق ہوگیا تھا اور وہ خون کی الٹیاں کرتے تھے۔میں اپنے دن رات بھول کر ان کی خدمت میں لگ گئی، لیکن میری محنتیں کارگر ثابت نہ ہوئیں اور قریب دو مہینوں کی شدید تکلیف سہنے کے بعد تمہارے پردادا کا انتقال ہوگیا، ابھی میں اس انتھک محنت سے چور ہوکر کمر بھی نہ ٹکانے پائی تھی کہ خبر آئی کہ میرے والد کی اچانک ایک پلین کریش میں موت ہوگئی ہے۔میرے لیے مشکل تھا کہ میں اپنے اس صدمے سے خود نڈھال ہوجائوں یا پھر اشوِن کو سنبھالوں، جس نے اپنے اس باپ کی شفقت کو ہمیشہ کے لیے کھودیا تھا، جس کے ساتھ کنکروں پتھروں پر چل کر اس نے لاہور سے دلی تک کا سفر کیا تھا، جس کے خاندان کی آخری نشانی صرف اس کے والد ہی تھے، اس کی دو بہنیں راستے میں ہی فسادیوں نے اغوا کرلی تھیں اور اب ان کے بارے میں کسی کو کوئی خبر نہ تھی کہ وہ کہاں ہیں۔اسی طرح میرے والد کا غم بھی کچھ کم نہ تھا، جنہوں نے اپنی آخری سانس تک میری خواہشوں کا ہمیشہ خیال رکھا، اس دور میں جب کسی عورت کی آزادی کی بات کرنا تک جرم تھا، انہوں نے سماج اور پریوار سے لڑ کر مجھے نہ صرف پڑھایا لکھایا بلکہ میری شادی تک میری مرضی سے کی۔اور سارا کاروبار، دھن، دولت، جائیداد میرے نام کرکے ایک طیارے کی لپٹوں میں ڈوب کر اپنی جان گنوادی۔میں نے ہر حال میں اپنے شوہر کی محبت کو ترجیح دی اور غم چھپاکر اس کی دل جوئی کرتی رہی۔

باپ کی موت کے بعد قریب دو برس تک اس کی یہ حالت تھی کہ وہ کسی کام کاج کے لائق نہ تھا، پہلے غم سے اس کی حالت بری رہی، پھر وہ شراب نوشی میں ڈوب گیا، اور اس کے بعد اس کی بغلوںمیں پھڑیاں نکل آئیں، ٹانگیں بھی جواب دے گئیں۔ مجھے دفتر اور گھر کا سارا کام کاج دیکھنا ہوتا تھا، میں صبح اٹھتی، اس کی خدمت پر مامور نرسوں کو ہدایتیں دیتی، اس کے لیے خود ناشتہ بناتی، اسے پیار سے کھلاتی، اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی، برا وقت گزرنے کی تسلی دیتی، کاروبار کے ٹھیک چلنے کا یقین دلاتی، حساب کتاب سمجھاتی اور اکثر خود بغیر ناشتہ کیے ہی دفتر پہنچ جاتی۔وہاں پہنچ کر مختلف قسم کی میٹنگز اور موٹی موٹی فائلیں میرا انتظار کرتی تھیں، کبھی سائٹ وغیرہ پر جانا ہوتا، کوئی جھگڑا چکانا ہوتا تو ایسے میں کوئی دور و نزدیک ایسا نہیں تھا، جس پر میں کمپنی کے ان کاموں کی خاطر بھروسہ کرسکتی۔چنانچہ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ صبح کی چائے دوپہر کو نصیب ہوتی، دوپہر کا کھانا گل اور رات کو گھر آکر اتنی ہمت ہی نہ پڑتی کہ بھوک لگنے کے باوجود بھی دو لقمے تر کرسکوں۔مجھے یاد ہے، ایک دفعہ میں کس بری طرح چکر کھاکر دفتر کی سیڑھیوں پر گر پڑی تھی۔مگر میں نے اپنی طبیعت کی خرابی اور صحت کی بحالی کا دھیان نہ رکھتے ہوئے، بس اپنے شوہر اور دفتر کی ذمہ داریوں میں خود کو غرق کردیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے شوہر کی عدم توجہی سے جو کاروبار نقصان اٹھارہا تھا، اب پھر وہ فائدے کے رخ پر آگیا۔دو سال اسی کشمکش میں گزرے، خدا خدا کرکے اشوِن کی حالت بہتر ہوئی اور اس نے بھی دفتر آنا شروع کیا۔ اس کے اندر کا حوصلہ یکدم اتنی دولت ہاتھ آجانے سے لگتا تھا سرد ہوگیا تھا۔وہ بہت آرام طلب اور کاہل ہوگیا تھا، ہر کام میں اسے میری مدد کی ضرورت ہوتی۔گھر سے لے کر باہر تک وہ میرے بغیر دو قدم بھی نہیں چل سکتا تھا۔یہاں تک کہ کسی چیک پر سائن پر کرنا ہوتا تو پہلے مجھ سے اس کے بارے میں استفسار کرتا۔رفتہ رفتہ میں نے اس کا اعتماد بحال کروایا۔شادی کے پانچ سال بعد ہمارے یہاں ایک خوبصورت لڑکی کا جنم ہوا، یعنی میری سب سے بڑی بیٹی سُنیتا، پھر ایک سال بعد کبیر اور مزید دو سال بعد سب سے چھوٹی بیٹی سونم۔تم لوگوں کو شاید اس بات پر یقین کرنے میں پریشانی ہو، مگر میں نے تمہارے دادا کا ساتھ میٹرنٹی روم میں ہونے کے باوجود دیا۔ایک بار وہ ڈلیوری سے چندگھنٹوں پہلے، جب میرا پانی چھوٹ چکا تھا، ایک بہت اہم مسئلے میں میری رائے لینے آئے اور میں نے اس حالت میں بھی انہیں مایوس نہیں لوٹایا۔

اور جانتے ہو(ہنستے اور کھانستے ہوئے)انہوں نے اس بات کا ایک دفعہ ایک محفل میں اپنے دوستوں سے ذکر بھی کیا تھا۔وہ ان مردوں میں سے تھے، جو اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کی بیویوں نے انہیں کس طرح اور کن موقعوں پر سہارا دیا۔حالانکہ مجھے یاد ہے کہ میں نے اس بات کا کافی برا منایا تھا، دو دن تک بات بھی نہیں کی تھی۔خیر، اب میں نے خود کو بچوں کی تربیت میں ڈبو دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پتہ ہی نہ چلا کہ ہمارے باغ کے یہ پودے کب پھول اور پھل بن کر اتنے بڑے ہوگئے،ان کی بھی شادیاں ہوگئیں۔مجھے یاد ہے، کبیر کی شادی سب سے پہلے ہوئی تھی، یہ کمبخت سنیتا تو شادی کے لیے مانتی ہی نہیں تھی، بالکل ڈھیٹ تھی، مجھ پر ہی گئی تھی۔کبیر کے لیے جس پہلے گھر کا رشتہ آیا، وہ بہت مہذب لوگ تھے۔اس لیے میں نے ان سے دو ملاقاتوں میں ہی یہ فیصلہ کرلیا کہ کبیر کی شادی اسی گھر میں ہوگی،وِنیتا بڑی اچھی بہو بھی ثابت ہوئی۔وقت اور گزرا، اور دیکھتے دیکھتے کب سُنیتا اور سونم کی شادی ہوگئی، پتہ ہی نہ چلا۔ میری عمر اب بہتر، تہتر کے قریب پہنچ چکی تھی۔میرے بچو! اب تک کی اس پوری زندگی میں، میں نے تین نہیں چار بچوں کو پال پوس کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا، ہاں تمہارا دادا، نانا یا باپ بھی میرے بچے کی ہی طرح تھا۔ابتدا سے لے کر اب تک میں اس کی آنکھوں میں ایک خلا دیکھتی تھی، ان آنکھوں میں چمک تھی، حوصلہ تھا، رنگ تھے، مگر وہاں ایک محرومی اور اداسی کی ایسی جھلک بھی تھی، جس نے میرے دل سے ایک اننت اور اٹوٹ رشتہ بنالیا تھا۔ میں نے اپنے شوہر کی اس اداسی کو ہمیشہ ختم کرنے کے جتن کیے تھے، ہر بار جب میں ان اداس آنکھوں کو دیکھتی، تو وہ معصوم چہرہ ایک میٹھا سوال بن کر میرے من کو چھیدتا ہوا گزر جاتا۔میں اس سوال کو حل کرنے میں لگ جاتی، جب تک اس کا جواب ملتا، پتہ نہیں کون سی کائنات سے تمہارا دادا پھر ایک نیا سوال اپنی آنکھوں میں سمیٹ لاتا اور میری نئی جدوجہد شروع ہوجاتی۔

ہاں! میں نے اس کے ساتھ بہت اچھا وقت بتایا تھا، بہت سی خوشگوار راتیں کاٹی تھیں، ہماری تنہائی میں پرخلوص اور سچی محبت تھی۔محبت جو دنیا کا سب سے عظیم جذبہ ہے، محبت جس کی آستین پر سر رکھتے ہی سکون کی ایسی کومل دھاریاں نکل کر اپنی آغوش میں لے لیتی ہیں کہ ایسی خوشگوار نیند تو شاید دنیا کی کسی نشہ آور دوا سے بھی ملنا ممکن نہیں۔تمہارے دادا کی مسکراہٹ، اف ! وہ قاتل، جان لیوا اور دھیمی ہنسی جو میرے پرانوں کو نچوڑ کر رکھ دیتی تھی۔میرے اندر کہیں بہت اندر ایک لاوا ابلتا رہتا تھا، میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس شخص کو اپنے من کے کہیں اتنے بھیتر چھپالوں کہ اس کا سراغ ملنا کسی خدا اور کسی خدائی کے بس کی بات نہ ہو۔تمہارے دادا نے ایک روز لاہور سے دلی پہنچنے پر یہاں موجود کسی ربڑی والے کا ذکر کیا، انہوں نے بتایا کہ جب وہ لوگ تھکے ہارے، زخمی پیروں اور بوجھل دلوں کے ساتھ دلی کی سرزمین پر پہنچے تو کئی دن کے بھوکے تھے، ایسے میں ایک ربڑی کا خوانچہ لے کر پھرنے والے شخص نے انہیں اور ان کے والد کو مفت میں پتوں کی کٹوریوں میں بھر کر ربڑی کھلائی،تمہارے دادا بتاتے تھے کہ آج بھی اس کی دور تک جاتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں گونجتی تھی

ربڑی کھاو ٹیسو میں، ٹسووں کی کیا بات
جیون مرن سو کچھ نہیں، ڈھاک کے تین پات

انہیں بہت افسوس تھا کہ اس ربڑی والے سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوسکی۔ میرے بچو! یقین جانو، ان کی سالگرہ سوا مہینے دور تھی اور ایسے میں ان سے چھپ چھپا کر، اپنے سارے وسائل استعمال کرکے، اخباروں میں اور پوسٹروں اور جاسوسوں تک کے ذریعے میں نے یہ تلاش شروع کروادی کہ ان الفاظ کو بولنے والا کوئی شخص، جو دس سال پہلے تک ربڑی بیچا کرتا ہو، کسی طرح مل جائے۔اور تم یقین نہیں کروگے، شاید میری سچی لگن تھی کہ ایک دن، یعنی تمہارے دادا کی سالگرہ سے ٹھیک چار روز پہلے مجھے اطلاع ملی کہ احمدآباد سے ایک شخص کا تار آیا ہے، جو خود کو مطلوبہ ربڑی والا بتاتا ہے۔میں نے اس دن سچے من سے بھگوان کا شکر ادا کیا اور فورا اس شخص کو دلی بلانے کے انتظامات کروائے۔اور سالگرہ کے روز جب میں نے تمہارے دادا سے اس کی ملاقات کروائی تو ان کی آنکھیں خوشی سے چھلک پڑیں۔مجھے یاد ہے، اس پوری رات وہ میرا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں میں انگلیاں سہلاتے ہوئے دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے۔اف ! کیا رات تھی! ایسا لگتا تھا، زندگی ٹھہرگئی ہے۔میں جس محبت کی تلاش میں اتنے عرصے تک سرگرداں رہی تھی، لگتا تھا وہ مجھ پر مہربان ہوکر اس وقت ان کی انگلیوں میں اتر آئی ہے۔

الغرض مجھے اس بات کی بہت خوشی تھی کہ جس شخص کے ساتھ میں نے اتنی محبت کی، اسی کے ساتھ میری شادی ہوئی اور اب اس عمر میں پہنچ کر میں اور وہ ساتھ ہی ساتھ دادا دادی اور نانا نانی بن گئے تھے۔کتنے لوگ ہیں، جن کو دنیا میں ایسی خوش نصیبی ملتی ہے؟ میں جب بھی محبت، روٹی اور چھتوں کے لیے ترستے انسانوں کے بارے میں سنتی یا پڑھتی، بھگوان کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی۔مگر میرے بچو! زندگی، بہت عجیب ہے، اتنی زیادہ کہ جو باتیں ہمارے سان گمان میں نہیں ہوتیں، جو حیرتیں ہماری توجہ کبھی نہیں پاسکتیں وہ بھی گھات لگا کر ہم پر ایک روز حملہ کردیتی ہیں۔ ایک دن خبر ملی کہ وِنیتا کے والد کا دیہانت ہوگیا ہے، اس کی ماں اپنے پتی سے قریب بیس سال چھوٹی تھی، ان کی عمر یہی کوئی پچاس کے پیٹے میں اس وقت ہوگی، وہ کچھ روز ونیتا کے یہاں رہیں، مگر جب ایک روز میں اور تمہارے دادا کبیر سے ملنے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں کچھ خوش نہیں ہیں، ظاہر ہے بھاگتی دوڑتی دنیا میں جہاں ساری سہولتیں موجود ہوں،وقت سب سے قیمتی اور نایاب چیزبن کر رہ جاتا ہے۔ وہ بظاہر ایک سیدھی سادی عورت تھیں، اور جب میں نے ان کے شانت سبھاو میں اتنا گہرا دکھ محسوس کیا تو کبیر اور ونیتا سے کہہ کر میں انہیں اپنے ساتھ، اپنے ہی بنگلے میں لے آئی۔

اب اس بڑے سے گھر میں ہم تین بوڑھے لوگ تھے، اکثر محفلیں جمتیں، طرح طرح کے لوگ آتے۔میں نے ونیتا کی دادی، شانی کو اپنی بہت سی سہیلیوں اوردوستوں سے ملوایا۔ہم اکثر شام کو آنگن میں بیٹھ کر شرابیں پیتے۔پرانے قصے، لطیفے دوہراتے اور خوب ہنستے۔ان کی دل لگی کے لیے میں نے غزلوں کے کئی پروگرام کروائے۔وجہ یہ تھی کہ انہیں غزلیں بہت زیادہ پسند تھیں۔ان کی وجہ سے مجھے اور اشوِن کو بھی اپنا پرانا وقت یاد کرنے اور اس بڑھاپے میں بھی محبت کے سمندر میں غوطے لگانے کا ایک نیا موقع ہاتھ آیا۔مجھے محسوس ہوتا جیسے میں اب بھی وہی پینتیس برس کی عورت ہوں، اور اشوِن تینتیس برس کے گبرو جوان۔میں غزلیں سنتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانکتی، اکثر وہ اس عمر میں بھی شرما کر آنکھیں نیچی کرلیتے یا گھمالیتے۔

وقت بہت اچھی طرح گزر رہا تھا۔ایک رات میری آنکھ کھلی تو اشوِن بستر پر نہیں تھے۔میں یہ سوچ کر کروٹ لے کر سوگئی کہ شاید واش روم گئے ہوں گے۔مگر صبح بھی انہیں اپنی بغل میں نہ پاکر میں بے چین ہوگئی۔باہر آئی تو دیکھا کہ ڈرائنگ روم میں پڑے کاوچ پر لیٹے ہوئے سو رہے ہیں۔مجھے حیرت تو بہت ہوئی، مگر میں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا۔اس واقعے کے بعد بھی کئی روز تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ اکثر اشوِن رات کو غائب ہوجاتے۔مگر میں جب بھی باہر آتی، انہیں کاوچ پر سوتا ہوا ہی پاتی۔عجیب بات یہ تھی کہ میں اس معاملے میں ان سےکوئی استفسار بھی نہیں کرپارہی تھی۔ذہن ایک بے نام سی کیفیت اور کشمکش کا شکار تھا۔شانی سے میں نے پوچھنا چاہا، پھر سوچا کہ وہ بھی کیا سوچے گی کہ بڑھیا کتنی شکی ہے۔ہم لوگ اکثر تمہارے یہاں بھی آتے رہتے تھے، اور اتفاق دیکھو کہ اس دوران ہم دو یا تین بار تم بچوں کے یہاں گئے، اور ان راتوں میں اشوِن میرے برابر سے اٹھ کر کہیں نہ گئے۔مجھے اب شک ہوچلا تھا، اور میں اس بڑھاپے میں اپنی محبت کے تیج کو بالکل ماند نہیں کرسکتی تھی۔پتہ نہیں کہاں سے ان دنوں مجھ میں ایک نوجوان لڑکی کے رشک وحسد کے جذبے نے جنم لینا شروع کردیا۔چنانچہ میں نے ایک فیصلہ کیا۔ وہاں سے واپس آتے ہی میں نے کوئی بہانہ بنا کر شانی کو ایک علیحدہ فلیٹ ایک دور دراز علاقے میں لے کر دے دیا۔اس میں ساری ضروریات کی چیزیں بھی فراہم کروادیں، اور کبیراور ونیتا پر ہر ہفتے ان سے مل کر آنے کی ذمہ داری بھی عائد کردی۔

معاملات بظاہر پھر معمول پر آگئے تھے۔مگر اگلے تین مہینوں کے دوران میں دیکھ ر ہی تھی کہ کام کاج میں تمہارے دادا کی دلچسپی کافی بڑھ گئی تھی۔وہ دیر رات تک دفتر رہتے، مجھے گھریا باہر کے کسی ضروری کام میں الجھا کر مجھ سے فاصلہ بنائے رکھتے۔پہلے پہل مجھے لگا کہ یہ سب میرا وہم ہے، اتنی عمر گزرنے کے بعد ان کے دل میں مجھ سے بے وفائی کا خیال بھی نہیں آسکتا۔اور بے وفائی بھی کس کی خاطر، شانی کی؟ نہیں نہیں، اگر بفرض محال وہ ایسا کچھ سوچ بھی رہے ہیں تو مجھے شانی کے کردار کی مضبوطی اور اس کے سنجیدہ مزاج پر بھرپور بھروسہ تھا۔وہ اپنی لڑکی کا گھر اس طرح کی بے وقوفیوں سے تباہ نہیں کرسکتی۔مگر میرے بچو! میں نہیں جانتی تھی کہ بے وقوفی ایک نہایت ذاتی قسم کا خیال ہے، جو بات میرے لیے بے وقوفی ہے، کسی کے لیے زندہ رہنے کا سبب بھی ہوسکتی ہے۔بہرحال، جب پانی سر کے اوپر چڑھتا محسوس ہوا تو میں نے ایک لیڈی جاسوس کی خدمات لینے کا ارادہ کیا۔اس کی خدمات لینے کے پیچھے میرا مقصد بس یہ تھا کہ وہ مجھے یہ بتادے کہ اشوِن مجھ سے دور رہ کر کیا کرتے ہیں؟ کس سے ملتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

قریب ہفتے بھر کے اندر ہی اس نے مجھے کچھ تصاویر لاکر دکھائیں۔ میں نے جب وہ تصویریں دیکھیں تو میری آنکھوں میں شعلے دہکنے لگے۔میرے بچو! اس کا میری عمر سے کوئی تعلق نہیں، مگر تمہارے دادا سے میری محبت کی شرم کا یہی تقاضہ ہے کہ میں یہ ذکر نہ کروں کہ ان تصویروں میں میں نے کیا دیکھا تھا۔بس اتنا سمجھ لو کہ انہیں دیکھ پانے کی تاب نہ لاکر، میں نے اسی وقت انہیں نذر آتش کردیا اور جاسوس کو پیسے دے کر رخصت کیا۔

میں سوچ رہی تھی۔کیا میری برسوں کی محنت، میری محبت کی تلاش، تمہارے دادا کی مجھ سے محبت۔سب کچھ بس ایک دھوکہ تھا؟ ایک فریب، ایک جھوٹ۔جس نے اب تک مجھ سے تمام طرح کی محنتیں کروائیں، میری زندگی جس تنکے کے سہارے اتنے بڑے دریا عبور کرآئی تھی، وہ تنکا بھی محض میری نگاہوں کا دھوکا تھا؟ اکثر لوگوں کو کسی کے مرنے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا صرف مایا ہے، اس کو حاصل کرنے، اسے پانےاور ڈھونڈنے کی ہماری غلط فہمیاں ہم پر اس وقت ہنس رہی ہوتی ہیں، جب ہم اپنے کسی بہت قریبی کو دنیا سے گزرتا ہوا دیکھتے ہیں۔میرے سینے میں ٹھیک ایسا ہی احساس موجیں ماررہا تھا۔حالانکہ کوئی مرا نہیں تھا، مگر وہ زندہ حقیقت، جس سے میں اب تک بہرہ ور نہ ہوسکی تھی، کپڑے اتار کر آج میری آنکھوں کے آگے رقص کررہی تھی۔

اس رات میں گویا کانٹوں کے بستر پر پڑی تھی، میرا شریر جل رہا تھا۔دماغ بھنا رہا تھا، آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور ایسے ہی وقت میں اچانک میرے دل نے ایک تباہ کن فیصلہ کیا۔میں جانتی تھی کہ تمہارے دادا خوب سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک عمردراز، شریف اور صاحب حیثیت آدمی ہیں، اس لیے مجھے ان پر اس بات کا کبھی شک نہیں ہوگا کہ وہ میری آنکھوں سے چھپ کر کسی عورت کے ساتھ ایسی کریہہ حرکت بھی کرسکتے ہیں۔اسی بڑھاپے، انہی جھریوں کا انہوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔چنانچہ میں نے بھی عمر کے اس حصے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور جب ایک بار یہ فیصلہ میرے ذہن میں پک کر تیار ہوگیا تو میں بہت گہری نیند سوگئی۔

اگلی شام کو تمہارے دادا جب گھر آئے تو میں نے ان سے بے حد محبت سے بات کی۔ان کے ساتھ رات کا بیشتر وقت جاگ کر گزارا۔تمام پچھلی زندگی کی یادوں کو ان پر روشن کیا۔میرے بچو! اس وقت ان کی آنکھیں گویا میری باتیں نہیں سن رہی تھیں، ان کی آنکھوں میں اب وہ اداسی کی جھلی دور دور تک نہیں تھی، جس نے زندگی بھر مجھ سے کولہو کے بیل کی طرح مشقت کروائی تھی۔اور اس بات نے مجھے اور زیادہ سرخ کردیا۔رات کے کسی وقت وہ گہری نیند میں ڈوب گئے، مگر میں نہیں سوئی۔صبح سویرے جب وہ پھر دفتر جانے کے لیے تیار ہونے لگے تو میں نے ضد باندھ لی کہ میں انہیں نہلاوں گی۔اس بات پر وہ زور سے ہنسنے لگے، مگر جب میری ضد سے انہیں میری سنجیدگی کا اندازہ ہوا تو چڑ کر کہنے لگے کہ اچھا جلدی کرو! بہت کام ہے مجھے!

میں نے ان کے انگ انگ کو اچھی طرح ملا، بدن پر سب جگہ صابن لگایا، ایک ایک جگہ کو ٹھیک سے صاف کیا، اپنی بوڑھی ہڈیوں کے زور سے ان کے جسم کا میل اتارتی رہی اور میری زبان پر بار بار بس ایک ہی سوال رینگ رہا تھا۔

‘آپ کو مجھ سے کچھ کہنا تو نہیں ہے، آپ مجھے کچھ بتانا بھول تو نہیں گئے؟’

میرے بچو! افسوس کہ انسان دوسرے انسان کے تن کا میل اتار سکتا ہے، لیکن من کا نہیں۔جواب میں وہ صرف ہنستے اور انکار کرتے رہے۔جب پورا بدن دھل کر اچھی طرح صاف ہوگیا تو میں نے ان کے بالوں میں ڈھیر سا شیمپو لگادیا۔اتنا کہ شیمپو نے ان کی آنکھوں تک کو اپنے نرغے میں لے لیا، انہوں نے آنکھیں کس کر بھینچ رکھی تھیں۔وہ میرے سامنے ایک بچے کی طرح بیٹھے تھے،اور امید کررہے تھے کہ میں ان پر پانی ڈال کر سارا شیمپو بہادوں گی۔مگر اسی وقت ایک کوندا سا ہوا، اور میں نے کونے میں رکھا ایک لکڑی کا دُھکا اٹھا کران کے سر کے اوپر عین بیچ میں مارا، ان کی ایک بھونڈی سی چیخ بلند ہوئی، انہوں نے ہاتھ ہلانا شروع کیے، مگر کچھ دیر میں وہ بے دم ہوگئے۔ خون شیمپو کے جھاگ کے ساتھ گھل کر نالی میں بہتا ہوا جارہا تھا۔اور میرے چہرے پر پڑی ہوئی چھینٹیں مجھے باتھ روم کی دیوار میں نصب آئنے میں صاف نظر آرہی تھیں۔ان چھینٹوں میں میری فتح تھی، ایک لال رنگ کا جشن تھا، تمہارے دادا کی تمام دھوکے بازیوں کی سزا تھی اور میری زندگی بھر کی محنت کا صلہ تھا۔

(5)

یہاں تک کہانی سناکر شارداخاموش ہوگئی۔مریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔اس نے پوچھا۔
‘پھر تمہاری دادی کو کوئی سزا نہیں ہوئی؟’

‘نہیں! اول بات تو وہ ایک رئیس ترین عورت تھیں، پولیس اور وکیلوں کے ذریعےکسی قتل پر پردہ ڈلوانا ان کے لیے مشکل کام نہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ پولیس فائل میں رپورٹ بھی یہی لکھی گئی تھی کہ دادا نہاتے وقت گرپڑے تھے اور باتھ روم کے فرش سے ٹکرانے کی وجہ سے ان کا سر پھٹ گیا تھا۔ کیا ایک بوڑھی عورت پر کوئی یہ شک کرسکتا تھا کہ اس نے اس عمر میں اپنے پتی کا قتل کیا ہو گا؟’

‘اور اس عورت کا کیا ہوا جس کے ساتھ دادا کا تعلق تھا، اور وہ عورت تھی کون؟’

شاردا نے پانی کا ایک گھونٹ بھر کر انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔

‘کچھ روز بعد انہوں نے نیند آور دوائوں کے ذریعےخودکشی کرلی، اور وہ عورت وہی تھی، یعنی میری نانی۔۔۔شانی!’

مریم نے کھڑکی کو دیکھا، برسات پھر دھیمی ہوچکی تھی، مگر پہاڑوں کے کاہی اندھیرے پردوں پراور چیختی ہوائوں میں اسے شاردا دیوی کی خونی اور قہقہہ باز آنکھیں گھورتی ہوئی معلوم ہوئیں۔اس نے فورا گردن دوسری طرف موڑ لی۔
***

Categories
فکشن

تنہائی پسند (تصنیف حیدر)

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں کی گرماہٹ سے جھریاں ڈالنے کی جرات کرنا بھی ناممکن ہو۔ جب کبھی انسان اس طرح کی سرور میں لپٹی ہوئی، سماج اور اس کی بھیانک دوپہریوں سے کوسوں دورسرمئی شام کے آسمانی طلسم میں ڈوبتا ہے تو ہوش کاناخن دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کرپاتا۔ مقبول بھی نہیں کرپارہا تھا، وہ بھی عام انسانوں کی طرح تعلق کی زنجیر سے بندھ چکا تھا۔ حالانکہ یہ تعلق بظاہر بس ایک رات کا تھا،ایک رات، جس کی کوئی صبح نہیں، جس کا کوئی مستقبل نہیں، مگر زندگی کی کچھ راتیں ہزار صبحوں سے زیادہ خوبصورت اور ہزار فتنوں سے زیادہ رنگین ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی ہی رات کی داستان ہے۔

یہ کہانی دو لوگوں کی ہے یا یوں کہیے کہ دو جذبوں کی ہے۔ سیتاپور کے قریب کہیں کوئی گمنام سا ایک گاؤں ہے، نام ہے ساہنی۔ گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی ستر بہتر فی صد ہوگی۔ اس لیے مسجدیں زیادہ تھیں، صبح شام اللہ اکبر کی آوازوں سے محلے کے محلے گونجا کرتے تھے، یوں تو مسجدوں کا چیخ چیخ کر گلا چھل جاتا، مگر جمعہ کے علاوہ بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر ایسی رونق نظر نہ آتی۔ البتہ جمعہ کے روز طرح طرح سے نمازیوں کے غول کے غول نکل پڑتے، اتنے کہ ان بہت سی مسجدوں کی جگہ بھی تنگ پڑ جاتی، راستے پر صفیں بچھی ہوئی دکھائی دیتیں۔ سورج جب اپنی تند و تیز شعاعوں کے سہرے کی جھالر ہٹاکر نظر دوڑاتا تو گول گول رنگ برنگی ٹوپیوں کی بہت سی قطاریں دکھائی دیتیں۔ مختلف مسلک، فرقے، جھگڑے، بحثیں، چلے، مزاریں الغرض ساہنی ایک ایسی آبادی پر مشتمل گاؤں بنتا جارہا تھا جوبرصغیر ہند میں اسلامی دعوت کے مختلف جغرافیائی نتیجوں اور طریقوں کا عکس کہا جاسکتا تھا۔ قصائیوں کی دوکانیں، ان کے پاس منڈراتے کتے، چھیچھڑوں پر لڑتی بلیاں، تنگ گلیاں، قاسمی، بدایونی، گلاؤٹھی اور نہ جانے کس کس قماش کی بریانیاں، گنے کا رس نکالتی ہوئی سبز مشینیں، برقعوں اور کرتے پاجاموں کے ساتھ ساتھ مغربی طرز کے نام پر شرٹ اور جینز جیسےلباس میں ملبوس نوجوانوں کی رنگ رلیاں۔ اس گاؤں کے لوگ معلوم ہوتا تھا، کھانے اور پہننے کے کافی شوقین ہیں۔ اس لیے بازار میں ضرورت کی دوسری چیزوں کو ڈھونڈنے لیے نگاہوں کو زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی۔ گاؤں میں دوسری اٹھائیس فی صد آبادی ہندوؤں کی تھی۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اونچی ذاتوں سے تعلق نہ رکھتے تھے۔ مگر جو بات دونوں قوموں کو اس گاؤں میں ایک ہی مشترک نکتے پر لاکھڑا کرتی تھی وہ تھی یہاں کی لاعلمی اورجہالت۔ لوگوں نے مذہبی تہواروں میں طرح طرح کی پائپیں لگا کر رسموں کی سہولتوں کا پانی اپنے اپنے گھروں تک پہنچادیا تھا۔ وقت گزر رہا تھا، ترقی کے نام پر ملک تھری جی اور فور جی کے نت نئے تکنیکی تاروں سے خود کو جوڑ رہا تھا، مگر یہاں کا جو حال تھا سو تھا، پڑھائی کے نام پر گاؤں میں چند دسویں جماعت تک کی تعلیم دینے والے سکول اور دو کالج تھے، جن میں گریجویشن کی منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہاں کی بیشتر آبادی برسوں سے پانچویں اور دسویں کے بیچ میں جھول رہی تھی، جو کالج کا منہ دیکھتے تھے، وہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اکثر شہروں کا رخ کرلیا کرتے تھے۔ دور سے دیکھنے پر یہ جگہ یکجتہی کی مثال معلوم ہوتی تھی، مگر گھروں، محلوں میں آئے دن لڑکوں میں سر پھٹول ہوتا ہی رہتا تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ ہندو مسلم فساد کی نوبت یہاں بہت کم آئی تھی۔ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے رویے سے کوئی خاص شکایت نہیں تھی۔

ظفر چوک یہاں کا سب سے بارونق محلہ تھا۔ اسی کے چھوٹے سے بازار میں ایک قصائی کی دوکان پر صبح کے نو بجے تازہ تازہ گوشت کانٹوں میں لٹکا ہوا تھا، کچھ پر چاندی کا ورق بھی لگا تھا۔ اندر سل پر ایک بوڑھا خون آلود شرٹ اور لنگی پہنے اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے پڑا تھا ایک گول ٹھیہا۔ اس ٹھیہے پر رکھے ہوئے گوشت کو اس کا مشاق ہاتھ تیزدھار چاقو سے کاٹ کاٹ کر چھوٹی اور صاف بوٹیاں تراش رہا تھا۔ باہر پانچ چھ گاہک کھڑے اپنی اپنی پسند کا گوشت نکلوارہے تھے۔ کسی کے گھر پسندے بننے تھے، کہیں قورمہ، کہیں پلاؤ کا اہتمام ہونا تھا تو کہیں کوفتے کے لیے قیمے کی ضرورت تھی۔ اسی سل پر آگے کی طرف تنگ سی جگہ پر ایک جوان لڑکا پلوتھی مارے بیٹھا مشین سے قیمہ نکال رہا تھا، وہ ایک طرف سے کٹے ہوئے پتلے گوشت کی پھانکیں مشین میں ڈالتا اور دوسری جانب سے باریک قیمہ کی شکل میں گوشت باہر برآمد ہوتا جاتا۔ بوڑھے کا نام مشتاق تھا اور وہ اس پررونق بازار کا سب سے مصروف قصائی تھا، اس کے برابر بیٹھا جوان لڑکا تھا صادق، جس کی عمر اندازے سے بتائی جائے تو پچیس کے پیٹے میں ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور لڑکا، جو گاہکوں کے تیار شدہ گوشت کو کالی تھیلیوں میں بھر بھر کر انہیں تھماتا جارہا تھا، اپنی عمر سے کوئی سترہ برس کا معلوم ہوتا تھا۔ ابھی ایک سال پہلے نویں جماعت میں دو بار فیل ہونے کی وجہ سے اس کو سکول سے اٹھا کر دوکان پر ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لگالیا گیا تھا۔

مقبول کی فطرت میں زیادہ کجی نہیں تھی، کانسے جیسا اس کا رنگ، مونچھیں پھوٹتی ہوئی، بال کانوں پر اترے ہوئے، قلمیں ٹیڑھی بانکی۔ گھر اور باہر کے کام کاج میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا کالر کچھ زیادہ ہی میلا رہا کرتا تھا۔ نہ کوئی دوست، نہ ہمنوا۔ جتنے برس سکول میں رہا، وہاں بھی پڑھائی میں اپنے بودے ہونے کے احساس نے اسے دوسرے لڑکوں سے دور رکھا۔ گھر پر ایسی کوئی سختی نہ تھی۔ باپ کا اصول تھا کہ جتنا کام کہہ دیا جائے، بس وہ وقت پر ہوجائے تو ہاتھ اٹھانے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے،اس لیے زیادہ تر وہ کئی کام اشاروں کی زبان میں ڈھلتے ہی مکمل کردیا کرتا۔ ماں تو مٹی کی مادھو تھی، گھر کا کام، سلائی کڑھائی سے اسے زیادہ فرصت نہ ملتی۔ گھر اور دوکان دونوں جگہوں پر صاف صفائی کا کوئی زیادہ اہتمام نہیں تھا۔ گھر میں ایک بوڑھی دادی بھی تھیں جو مقبول کو چاہتی تو تھیں مگر وقت نے ان کی زبان گنگ کردی تھی۔ زیادہ تر اشاروں میں اپنی باتیں بتایا کرتیں اور شرمندگی سے بچنے کے لیے اس سے بھی زیادہ وقت خاموش رہا کرتیں۔ صادق اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا، محلے میں اس کے کئی دوست تھے، ایک محبوبہ تھی۔ جو کہ اکثر گھر بھی آیا کرتی تھی۔ نام تھا رابعہ۔ چھریرا بدن، لمبوترا چہرہ، رنگ اتنا گورا جیسے درخت کی الٹی چھال ہو۔ اس لیے صادق کو مقبول کے ساتھ وقت بتانے کا نہ کبھی خیال آتا تھا، نہ کبھی فرصت ملتی تھی۔ دوکان سے شام کو فارغ ہوتے ہی وہ نئی موٹر سائیکل لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ نہ جانے کہاں کے لیے نکل جاتا اور جب گھر آتا تب تک تو مقبول کے فرشتے بھی سوچکے ہوتے تھے۔

مقبول صبح صبح دوکان پہنچتا تو اس کی پہلی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ حاجی فدا علی کے گھر گوشت پہنچا کر آنے کی۔ ان کا گھر تھا پانچ میل دور اور کسی دن کا ناغہ نہیں، مقبول چونکہ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا اس لیے وہ پیدل پیدل ہی باپ کا حکم سرآنکھوں پررکھ کر چل پڑتا۔ فدا علی کے گھر کی جانب جانے والا راستہ گاؤں کے ایسے کنارے پر تھا، جہاں آبادی برائے نام بھی نہ تھی۔ راستے میں کتے جگہ جگہ ڈیرہ ڈالے اونگھتے رہا کرتے، رات بھر کی ان کی چونچالیوں کی تھکن ان کی بجھی ہوئی تھوتھنیوں میں اتر آتی۔ کوئی ٹوٹے پھوٹے بوسیدہ ٹھیلے کے نیچے لیٹا سو رہا ہے، کوئی کسی پیڑ کی چھاؤں میں آرام فرما ہے، یہاں تک کہ فدا علی کی کوٹھی کے باہر سیمنٹ کے ایک اوبڑ کھابڑ اوٹے پر بھی دو تین کتے اپنی پسلیوں کو پھلاتے، پچکاتے، آنکھیں بند کیے دنیا و مافیہا سے بے خبر نظر آتے۔ دھوپ ہو، بادل منڈراتے ہوں یا برسات کی جھڑی لگی ہو۔ گوشت ہرحال اور ہر موسم میں حاجی جی کے گھر ضرور پہنچایا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پر چھوٹے سے ایک خوبصورت قدرتی تالاب میں بطخیں تیر رہی ہوتیں، کنول کے پتے پانی پر ایسے رقص کر رہے ہوتے جیسے بڑے بڑے سمندروں کے خاموش آبی پردے پر جہازی دیویاں ڈولا کرتی ہیں۔ یہیں ایک بڑے سے پتھر پر وہ روزانہ تھوڑی دیر سستانے کے لیے آتے جاتے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس کے دن بھر کی پھیکی روکھی زندگی میں یہ ایک سرسبز لمحہ تھا، جس میں خود کو ان تمام درختوں، سایوں، ہواؤں، تالاب، بطخوں اور کنول کے پتوں کا بادشاہ تصور کرتا تھا۔ یہ شاید دنیا کی ان چند خوش نصیب جگہوں میں سے ایک جگہ تھی، جن پر موسم کی سختی اپنا کوئی برااثر نہیں ڈال سکتی۔ اس کو محسوس ہوتا جیسے پانی میں تیرتی ہوئی بطخوں کی ٹرٹر میں کوئی گیت ہے، جو ہواؤں کی بالیوں سے ٹکراکر ایک ترنگ پیدا کرتا ہے، ایسا سرور، جو شاید گوشت کی تازہ، مہین اور خوبصورت پھانک کو دیکھنے پر بھی نہ ملتا ہو۔ اس نے اپنے اس چھوٹے سے مسحور کن اڈے کا نام ‘ہوائی’رکھ دیا تھا۔

ایک روز کا ذکر ہے، مقبول گوشت دے کر واپس لوٹ رہا تھا۔ موسم بڑا خوشگوار تھا، وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کرخوش ہورہا تھا کہ آج ہوائی پر پہنچ کر زیادہ ہی لطف آئے گا۔ ممکن ہے کہ ہلکی پھلکی برسات بھی ہو۔ اس سے پہلے ایسا سوندھا اور دھنک میں لپٹا ہوا موسم ابھی تک ہوائی پر سے نہ گزرا تھا۔ کم از کم مقبول کے مشاہدے میں تو یہ بات نہ آئی تھی۔ وہ آج سارے منظر کو گھول کر پی جانا چاہتا تھا۔ اس کے ایک ایک گھونٹ کو بڑی آہستگی سے اپنے حلق سے اتارنا چاہتا تھا۔ آس پاس چڑیائیں چہچہارہی تھیں، ہواؤں کے غول اس کے سر پر سے شرارتیں کرتے اڑے جارہے تھے، وہ بادلوں کے بنتے بگڑتے چہرے دیکھتا، نشے کی سی چال میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ہوائی کے جس پتھر پر وہ بیٹھا کرتا، وہ اسے دور ہی سے دکھ جایا کرتا تھا۔ یہ ایک کالا، بڑا سا پتھر تھا، جو زمین پر کسی پیڑ کی طرح اگا ہوا تھا، معلوم ہوتا تھا اس کی جڑیں بھی اندر ہی اندر دوسرے درختوں کی شاخوں کے ساتھ پانی جذب کرکر کے مضبوط ہوتی چلی گئی ہیں۔ اچانک مقبول کی نظر جب اس پتھر پر پڑی تو پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ایک سفید رنگ کی آدمی نما سی کوئی شے اس بڑے سے کالے پتھر پر بیٹھی ہوئی خلا میں گھور رہی تھی۔ یہ آج کیا ہوا؟ ادھر، اس کی مملکت میں، کیسے کوئی دوسرا ذی نفس درآیا تھا۔ کس طرح کسی دوسرے انسان کو اس چھپی ہوئی دولت کا علم ہوا تھا۔ اس کے اندر یک بہ یک رقابت اور جلن کے مادے نے آنکھیں کھول دیں اور وہ کسی آتش فشاں کے ساتھ ابلنے والے لاوے کی طرح بہتا ہوا تیزی سے اپنے اڈے کی جانب بڑھنے لگا۔ ہانپتے ہوئے سینے کے ساتھ جب وہ یہاں پہنچاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ذی نفس اصل میں ایک عورت ہے۔ جو سفید ساڑھی باندھے اس پتھر پر بڑے آرام سے براجمان ہے۔ اس کے کھلے ہوئے بال، کمرسے کچھ اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں، بلاؤز کے نیچے سے جھانکتی ہوئی شفاف بادامی کمرآرام سے بیٹھی موسم کی خوشگواری اور نظارے کی خوبصورتی کو مقابلے کے لیے للکار رہی ہے۔ بوندوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ بادلوں کا سینہ چیر کر اتر آئیں اور اس چمکتی ہوئی بادامی نہر میں ڈوب کر اس کا بوسہ لے لیں۔ مقبول کی نگاہوں کی تپن تھی یا پھر اس کی ہانپ کا اثر، عورت نے محسوس کرلیا کہ پیچھے کوئی کھڑا ہے، یکدم اس نے پلٹ کر دیکھا اور سامنے کھڑے ایک سترہ سالہ لڑکے کو دیکھ کر وہ حیرانی سے تاکتی رہ گئی۔ وہ اس سے عمر میں دوگنی ہو گی۔

‘اے لڑکے! یہاں کیسے؟’عورت نے سوال داغا۔
‘م۔ ۔ م۔ ۔ میں تو یہاں روز آتا ہوں۔ ۔ ۔ آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

عورت نے اس کا الھڑ سا ہمت آمیز جواب سن کر مسکرانے کو ترجیح دی۔ اشارے سے اسے برابر کے ایک کم قدآور پتھر پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ مقبول نے اپنی فطرت کے مطابق حکم کو مان لینے میں کوئی دیر نہ لگائی۔ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی، پھر عورت نے کہنا شروع کیا۔

‘میں یہاں بچپن میں بہت کھیلا کرتی تھی، میں ہی کیا میری سہیلیاں بھی۔ یہ جو سامنے پیڑ دیکھ رہے ہونا۔ ۔ ۔ اسی کی چھالوں سے لٹک کرہم برساتوں میں پینگیں بھرا کرتے تھے۔ گانے گایا کرتے، بڑا مزہ آتا۔ دور دور تک نہ کوئی آدمی نہ آدم زاد۔ ایسی جگہ روز روز کہاں ملتی ہے۔ تم ہی بتاؤ۔ میں اور میری دو سہیلیاں تھیں، سارہ اور جوہی۔ ہم روز ہی آیا کرتے، پھر ایک دن معلوم ہوا کہ سارہ اور جوہی، جو کہ بہنیں بھی تھیں، دوسرے گاؤں چلی گئی ہیں، میرا من بہت اداس ہوا، مگر اس جگہ آتے ہی، اس کی گود میں اکیلے بیٹھ کر، اس سے اٹکھیلیاں کرتے میں سارا دکھ بھول گئی۔ تالاب میں کود گئی، دیر تک نہائی، بطوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہی، باہر نکلی تو شام کا جھٹپٹا ہورہا تھا، گھر بھی جانا تھامگر دل میں دو تین پینگیں بھرنے کا لالچ آیا۔ ایک چھال سے لٹک کر مزے میں جھولا جھول رہی تھی، کہ ڈال ہی ٹوٹ گئی اور دھاڑ سے زمین پر آرہی۔ اس دن بھی موسم کچھ ایسا ہی تھا،بادلوں کے کجرارے نین،یونہی اداس ٹپک پڑنے کو بے قرار ہورہے تھے۔ میں گری تو موچ آگئی، چکر آیا اور وہیں ایک پتھر سے سر ٹکا کر لیٹ گئی، پوری رات سر سے گزر گئی، اگلا دن بیت گیا مگر کوئی پوچھنے یا لینے نہ آیا۔ آتا بھی کیسے؟ انہیں تو کوئی خبر ہی نہ تھی کہ میں یہاں ہوں، آخر اگلی شام گھسٹتے گھساٹتے جب گھر پہنچی تو بخار چڑھ آیا۔ کئی دن کی منتوں، پٹیوں اور پوجاؤں کے بعد ہوش آیا تو دوسرے گاؤں میں تھی۔ میری ماں نے مجھے اپنی موسی کے یہاں بھیج دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ معیادی بخار تھا، ٹوٹتے ٹوٹتے اکیس دن لے گیا۔ میں کب اس خوبصورت جنت سے نکل کر ایک بھری پری اصل اور بدصورت دنیا میں پہنچ گئی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ ماں نے بھی اس بیچ میں گاؤں چھوڑ دیا۔ اب یہاں واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ یہ تالاب، بطخیں، ہوائیں، جھولے، پیڑ، پودے سب میرے لیے بس ایک کہانی بن کر رہ گئے تھے۔ سارہ اور جوہی سے کبھی ملنا ہی نہ ہوا۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، لیکن جیے نہیں۔ اسی لیے تنگ آکر میرے پتی نے مجھے چھوڑ دیا۔ گھر سے نکالی گئی تو کوئی اور جگہ سمجھ نہ آئی، اس لیے سیدھی یہیں چلی آئی ہوں۔ حیرت ہے کہ دنیا دن بدن بدل رہی ہے، لوگ اور زیادہ دھن دولت کمانے کی فکر میں ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، مار رہے ہیں، ٹھگ رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر ہر وقت کچھ حاصل کرنے کی ہیبت نظر آتی ہے، مگر یہ جگہ۔ ۔ ۔ یہ جگہ آج بھی اتنی ہی شانت، اتنی ہی پرسکون ہے۔ اس میں اب بھی کوئی ہیبت نہیں، جیسے یہ اس دنیا کا حصہ ہی نہیں۔ ‘

مقبول اس کی باتیں دھیان سے سن رہا تھا، اچانک اسے دھیان آیا کہ باتوں ہی باتوں میں اتنا وقت بیت گیا ہے کہ اس کے ابا کو تشویش ہونی شروع ہوگئی ہوگی۔ اب تک تو اسے دوکان پر ہونا چاہیے تھا، وہ اٹھا اور کچھ بولے بغیر ہی جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوااپنے راستے پر ہولیا۔ عورت اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ جاتے وقت مقبول نے ایک ہلکی سی آواز سنی، عورت نے فریاد کی تھی کہ ممکن ہو تو مقبول اسے کچھ کھانے کے لیے لادے۔ مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ وہ دوکان پہنچا تو حسب توقع باپ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی، اتنی دیر کہاں لگادی، سب خیریت تو رہی، گوشت پہنچ گیا یا نہیں؟فلاں فلاں۔ سوالوں سے تو وہ بچ نکلا مگر اس عورت کے خیال اور اس کے حسن کے اثر نے اسے سارے دن اپنا گرویدہ رکھا۔ شام کو جب دوکان سے گھر آیا تو نہاتے دھوتے، کھاتے اور سوتے وقت بھی اسی عورت کا خیال سر پر منڈرارہا تھا۔ پوراد ن بیت گیا، کیا اس عورت نے کچھ کھایا ہوگا؟ کیا وہ اب تک وہیں بیٹھی ہوگی؟ جس طرح اس نے جھولے سے گرنے کے بعد اپنے بچپن کی ایک پوری کالی رات اس جگہ بتادی تھی اور کوئی اسے پوچھنے بھی نہ آیا تھا، کیا آج بھی وہ اسی طرح بھوک اور تڑپ سے نڈھال کسی پتھر سے سرٹکاکر کسی بھولے بھٹکے راہ گیر کی چاپ پر کان ٹکائے ہوگی؟ بچپن کے حادثے کے وقت تو کوئی بھی اس بات سے باخبر نہیں تھا، مگر آج تو وہ اس عورت کی ساری کہانی جانتا تھا۔

رات کے قریب ساڑھے دس بجے وہ اپنے کمرے سے نکلا، باہر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ صادق اور ابا دونوں ہی گھر میں نہیں تھے، ماں اپنے کمرے کی بتی بجھا کر گہری نیند سورہی تھی۔ دادی کا کہیں اتا پتہ نہ تھا، شاید وہ بھی اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوگی۔ مقبول خاموشی سے کچن میں داخل ہوا، لائٹ جلانے ہی لگا تھا کہ نیچے رکھے کسی برتن سے اس کا پیر ٹکرایا اور چھن کی آواز پورے گھر میں گونج گئی، وہ دانت پر دانت رکھے، چپکے سے اس آواز کے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مگر بیس تیس سکینڈ گزر جانے پر بھی کچھ نہ ہوا۔ ماں کی آنکھ یا تو کھلی ہی نہ ہوگی اور اگر کھلی ہوگی تو اس نے سوچا ہوگا کہ کوئی بلی ولی آئی ہوگی۔ پتیلیوں میں جھانکا تو چھلکوں والی مسور کی کالی دال پیندے سے لگی ہوئی تھی، اس نے ایک چھوٹے ڈونگے میں دال الٹ دی، اور اسی میں دو پراٹھے رکھ کر، اسے ڈھکنی سے بند کیا۔ پھر کمرے میں جا کر اپنے سکول بیگ کو اچھی طرح جھاڑا، جو قریب سال بھر سے نہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ کی چیزوں کی طرح گردآلود ہوگیا تھا، ڈونگا بیگ میں رکھ وہ دروازہ کھول کر باہرآیا، دروازہ بھیڑ کر، جب وہ سیڑھیاں اتررہا تھا تو اس نے دور سے اپنے بھائی صادق کی موٹر سائیکل کو آتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ صادق یہاں پہنچتا وہ تیزی سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا۔ صادق کے سیڑھیوں پر قدم رکھنے سے پہلے وہ گلی کے باہر تھا۔

کالی رات بھائیں بھائیں کرتی ہوئی ہواؤں کے ساتھ مل جل کر کالا جادو کر رہی تھی۔ جیسے کوئی بھبھوت لگا ہوا سادھو مرگھٹ پر بیٹھا کوئی شیطانی منتر پڑھ پھونک رہا ہو۔ سنسان راستے پر کتوں کی بھونکائیاں، سیاروں کی چمکتی ہوئی آنکھیں، جھکڑوں کے چڑیلوں جیسے پنجے۔ الغرض وہ ڈرتا سہمتا، کندھے سے بیگ لٹکائے، دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے، ٹی شرٹ اور ہاف پینٹ میں آگے بڑھتا جارہا تھا، اتنے اندھیرے میں ممکن تھا اسے ہوائی نظر ہی نہ آتی، مگر ایسا ہوا نہیں، کچھ دیر بعد موسم بہتر معلوم ہونے لگا، ہوائیں خوش گوار ہوگئیں، کہیں سے کوئی آسمانی اجالا دور تک پھیلے ہوئے منظر کو ایک نیلی روشنی میں ڈبوتا چلا گیا تھا۔ مقبول سمجھ گیا کہ ہوائی نزدیک ہے۔ اس نے اسی روشنی کی مدد سے اس بڑے سے پتھر کو دیکھ لیا، وہاں اب عورت نہیں تھی، وہ قریب قریب دوڑتا ہوا پہنچا، ادھر ادھر دیکھا، اچانک اس کی نظر پیڑ کے نیچے لیٹے ہوئے ایک سفید ہیولے پر پڑی۔ وہ آگے بڑھا، عورت اپنے بھوکے اور نڈھال وجود کو سنبھالے پیڑ سے لگی نہ جانے کیسے سورہی تھی، سو بھی رہی تھی یا خود کو دھوکا دے رہی تھی۔ کیا پتہ؟ مقبول نے اس کے کندھے کو ہلکے سے ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس اندھیرے منظر میں بھی، اس کی آنکھیں کسی نیل گائے کی مدھ بھری نگاہوں کی مانند بڑی اور جھیل جیسی دکھائی دے رہی تھیں، اس کے گورے گالوں اور ہلکے گلابی ہونٹوں پر پانی کی چھینٹیں ایسے پڑی تھیں، جیسے قیمے کی دھدھکتی ہوئی تیزی پر چھڑکا ہوا نیبو کا عرق ہو۔ کسی بے باک اور تند چھری کی طرح اس کا سینہ نکیلا اور دھار دار تھا۔ پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں، جن سے شفاف سفیدیوں کے دھارے ابلتے ہوئے ہری گھاس کی بوڑھی جھائیوں میں جذب ہوتے جارہے تھے، جیسے حاجی جی کے کمپاؤنڈ میں لگا ہوا فوارہ نت نئےآبی گل کھلا کر پھر خود کو زمین کی بھوری نگاہوں میں انڈیل دیتا ہے۔

عورت حیرت سے دیکھ رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ مضبوطی سے مقبول کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا۔ مقبول نے نیچے بیٹھ کر اپنے بیگ سے ڈونگا نکالا اور ایک ایک نوالہ بنا کر اسے پیار سے کھلاتا رہا۔ عورت درخت سے ٹیک لگاکر نیم دراز ہوگئی تھی،ایک نوالے پر اسے دھانسہ لگا تو مقبول بھاگ کر تالاب سے چلو میں بھر کر پانی لایا اور اسے پلا دیا۔ ہر نوالہ پہلے سے زیادہ، عورت کی آنکھوں کی کھوئی ہوئی چمک کو لوٹا رہا تھا، جیسے اس میں کوئی برقی رو بھرتی جارہی ہو۔ کھانا کھلا کر مقبول نے تالاب میں ہاتھ دھوئے، عورت نے بھی وہیں پہنچ کر پانی پیا۔ اب وہ دونوں اسی درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ اچانک بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوئی اور برسات نے دھاوا بول دیا۔ مقبول کے چہرے پر بیک وقت خوشی اور اداسی کا سا سماں چھاگیا۔ خوشی اس بات کی کہ موسم خوشگوار ہے،ہر طرح کی خوبصورتی اور تنہائی کی آغوش میں بیٹھا وہ اپنے نصیب کی چمک اور اپنی تنہائی پسندی کے اعزاز پر فخر کرسکتا ہے اور اداسی اس بات کی کہ اگر ابا یا صادق کو گھر پر اس کی غیر موجودگی کا علم ہوگیا تو ڈھونڈ پڑجائے گی اور اس بات کا مطلب اس کی شامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ مگر اب کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا۔ مقبول، عورت کے برابر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا، وہ عورت بھی ایسے ہی انہماک سے مقبول کو دیکھے جارہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں گتھم گتھا تھیں، اچانک عورت نے آگے بڑھ کر اپنے بھیگے ہونٹوں کی شبنم کو مقبول کی زبان پرر کھ دیا۔ مقبول کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی زبان کو کسی لبلبلے اور تازہ بکرے کی ران سے بھڑا دیا ہو۔ وہ اپنی بھیگی اور ہلکی نگاہوں سے عورت کے اس پہلے لمس کو اس کی گردن پر پھیلتے ہوئے پانی کے ساتھ لمحہ لمحہ دیکھنا چاہتا تھا، عورت کی آنکھیں بند تھیں، مگر اس نے اپنے وجود کی ساری آنکھیں کھول دی تھیں۔ عورت نے اسے لٹادیا اور خود اس کے بدن پر کسی سائے کی طرح پھیل گئی، اب اس کی ساڑی اتر چکی تھی،سینے کے دو تیز دریا مقبول کی مٹھی میں تھے اور مقبول کی سانسیں تیزی سے اوپر نیچے دوڑ رہی تھیں۔ خون کا دوران اور دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا بدن ابھی پھٹ پڑے گا۔ عورت کے بالوں سے ڈھکے ہوئے اپنے چہرے کو اس نے اس سے پہلے اتنا شاداب اور ایسا فرحاں کبھی محسوس نہیں کیا تھا، یہ کیسی خوشی تھی جو رگ رگ سے پھوٹی پڑرہی تھی، جس سے خوف بھی آرہا تھااور جس سے جدا ہونے کا دل بھی نہ چاہتا تھا،مقبول کے دل میں اس عورت کی جھیل جیسی نگاہوں کو دیکھنے کی للک تیزی سے سوار ہوئی، اس نے اپنے ہاتھ کو عورت کی کمرپر سے رینگتے ہوئے اوپر کی جانب کھسکایا، بال سرکائے تو دیکھا کہ عورت اس کے سینے پر سر رکھےبے خبری کے عالم میں سورہی ہے۔ مقبول نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک نیم دائرہ بنا کر اس کے پورے بھرے بدن کو اپنے حصار میں لے لیا۔ آج اس کی مملکت میں ایک بیگم بھی شامل ہوگئی تھی۔ وہ اطمینان سے آنکھیں بند کرکے اس خواب سرا کی سبز قالین پر خود بھی سوگیا۔ جب آنکھ کھلی تو اذان کی ہلکی سی آواز اس کے کان میں آرہی تھی، برسات رک چکی تھی، بادلوں کی ٹولیاں ویسے ہی آسمان کی چھالوں سے لٹکی پینگیں بھررہی تھیں، وہ جانتا تھا کہ گھر پر ڈھونڈ پڑ گئی ہوگی، مسجدوں سے اعلان کروادیے ہوں گے، اس کی گمشدگی کی خبر دور و نزدیک گاؤں میں ہر طرف اب تک پھیل چکی ہوگی، ماں کا رو رو کر برا حال ہوگا، صادق اپنے دوستوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں کی مدد سے جگہ جگہ اسے تلاش کررہا ہوگا، بوڑھا باپ یہاں سے وہاں پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہوگا، دادی کی گونگی زبان اس کی ہلکی سی خبر مل جانے کی دعائیں مانگ مانگ کر سوکھ گئی ہوگی، اس کی زندگی سے جڑے تمام لوگوں کی رات اتھل پتھل ہوگئی ہوگی مگر یہاں اس کی ایک رات کی انتہائی خوبصورت بیگم، سفید ساڑی سے بے نیازبے خبر اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی اور مقبول میں اتنی جرات نہیں تھی کہ اس کی جوان نیند کے کندھوں کو تھپتھپاکراسے ہوشیار کردے،اس نے دیکھا بھرپور نیند کے عالم میں بیگم صاحبہ کے ہونٹ نیم وا ہوگئے تھے، مقبول نے ایک گہری سانس بھری اور بائیں ہاتھ کی انگلی سے ان ادھ کھلے ہونٹوں کو آہستگی سے بند کردیا۔

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
نان فکشن

پردے کی صفت (تصنیف حیدر)

پردہ داری انسانی فطرت ہے، انسان پردہ کرتا ہے یا شاید پردہ ڈالتا ہے، ان تمام چیزوں پر جو اسے دکھانا ٹھیک نہیں معلوم ہوتیں یا اور زیادہ نفسیاتی توجیح کیجیے تو جن کو دکھانا برا یا معیوب سمجھا جاتا ہے یا جن کے دکھ جانے سے کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ آج اس مضمون میں یہ سمجھنے کی کوشش کرکے دیکھنی چاہیے کہ آخر انسان کیوں چاہتا ہے کہ عورت پردے میں رہے۔ انسان کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے، اول بات تو یہ تنگ نظری کسی خاص مذہب اور خاص خطے تک محدود نہیں ہے۔دنیا کے بہت سے ایسے ممالک اورکئی ایسی قومیں ہیں جو مختلف طریقوں سے عورتوں کے بدن، ان کے چہروں، بالوں اور حتیٰ کہ ناخنوں کے دکھ جانے سے خوف زدہ رہتی ہیں۔ دوسری وجہ انسان کہنے کی یہ ہے کہ اس میں صرف مرد حضرات ہی شامل نہیں، بلکہ بہت سی عورتوں کا اصرار بھی اسی بات پر ہے کہ پردہ کیا جائے۔ انٹرنیٹ پر ایک روز لفظ نسا کے تعلق سے کسی کھوج بین میں کوئی دلچسپ سا آرٹیکل نظر آیا۔ دیکھا کہ ایک صاحبہ نے لکھا ہے کہ لفظ نسا کے معنی بھی چھپانے کے ہیں، پردہ کرنے کے ہیں۔میں عربی سے واقف نہیں، اس لیے اپنے کچھ عربی داں دوستوں سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ نسا کا لفظ دور و نزدیک چھپانے سے کسی بھی طرح تعلق نہیں رکھتا۔مگر فرض کر ہی لیجیے کہ ایسا کوئی مطلب بڑی کوششوں اور عرق ریزی کے بعد برآمد بھی ہو جاتا ہے تب بھی یہ سوال قائم کیا جا سکتا ہے کہ آج کے انسان کو سینکڑوں اور ہزاروں سال پرانے قوانین اور فرسودہ معاشروں کی دلیلوں سے کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو ان خاتون کی بات تھی، اب میں اپنے گھر کی بات بتاتا ہوں، حالانکہ لکھنے والے اکثر ایسی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں، مگر میں چانکیہ کی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارا سماج ہمارا گھر ہی ہے، یعنی جن چند افراد کے ساتھ مل کر آپ زندگی گزار رہے ہیں اور جو آپ کے چوبیس گھنٹوں کے رفیق ہیں، دراصل وہی آپ کا سماج ہیں، یہی وہ لوگ ہیں، جو بات بات پر آپ کو دھیان دلاتے ہیں، شرم دلاتے ہیں، باہر کے ایک خیالی سماج کی ننگی آنکھوں سے ڈراتے رہتے ہیں، لوگ کیا کہیں گے، لوگ کیا سوچیں گے جیسے جملے اتنی تیزی سے آپ کے دماغ میں گڑھتے ہیں کہ آپ بھی ایک خاص عمر تک پہنچتے پہنچتے اس ‘غیر موجود باہری سماج’ سے خوف کھانے لگتے ہیں اور اپنے کسی دوسرے بھائی بندو کو ڈرانا شروع کر دیتے ہیں۔خیر، بات یہ تھی کہ ایک دن جب گھر میں عورتوں، لڑکیوں کے لباس کے تعلق سے بحث چلی تو میری والدہ نے مجھے دلیل پیش کی کہ لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے لباس کا خیال اس لیے رکھنا چاہیے کیونکہ اگر بازار میں کسی دکان پر گوشت ٹنگا ہوگا تو کتے ضرور آئیں گے۔میں نے ان کی بات کے جواب میں انہیں سمجھایا کہ اول تو عورت بازار میں ٹنگا ہوا گوشت نہیں ہے،دوسرے یہ کہ سماج میں رہنے والا ہر شخص کتا نہیں ہے۔ ہم انسانوں کی بستی میں رہتے ہیں، ہم نے بقول مذہب خدائی احکامات کی مدد سے بہت سی برائیوں کو گھٹنوں کے نیچے دبایا ہے، تو پھر اس برائی میں ایسی کیا طاقت ہے کہ مذہب نے کتوں سے خوف کھاکر، عورت پر ہی پردہ ڈالنا مناسب خیال کیا ہے۔ایسا بالکل غلط ہوگا کہ کوئی مضمون عورت کے تعلق سے اور خاص طور پر اسے تقدس کا شرف بخشنے کے حوالے سے لکھا جائے اور اس میں صرف مذہبی اخلاقیات کو دوش دیا جائے، اس میں سماج بھی برابر کا حصہ دار ہے۔ابھی زیادہ دن نہیں گزرے، اسی اور نوے کی دہائی میں بننے والی بالی ووڈ فلموں میں ہمارے معاشروںں کی ایک خاص کمزوری کو بھنا بھنا کر خوب روپیہ بٹورا گیا ہے، بلکہ آج بھی ایسا ہوتا ہے، ایسی غیر عقلی اور غیر منطقی قسم کی باتیں بالی ووڈ کا حصہ ہیں کہ کیا بتایا جائے، دونوں کی مثالیں پیش کرکے پھر اپنی بات پر واپس آتا ہوں۔گزشتہ دو یا تین سالوں کے دوران کوئی فلم آئی تھی، جس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کے کرداروں کو بہت آزاد خیال، بے پروا اور معاشی طور پر مستحکم دکھایا گیا تھا، اسی فلم میں ایک منظر ہے، جہاں لڑکے اور لڑکی کے درمیان ایک رومانٹک گانے کے دوران اچھا خاصا رومانس ہوتا ہے، بات آگے بڑھنے والی ہوتی ہے کہ گانا ختم ہوجاتا ہے، اس بے موقع گانے کے ختم ہونے پر جو اعتراض ہوسکتا ہے وہ تو اپنی جگہ مگر سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ گانے کے آخر میں لڑکا اشاروں اشاروں میں ہی لڑکی سے اس کے بیڈ پر سونے کی اجازت طلب کرتا ہے، مگر لڑکی اسے لات مار کر بھگا دیتی ہے اور وہ اسی کمرے میں پڑے ہوئے ایک صوفے پر جاکر سوجاتا ہے۔کنڈوم کے زمانے میں دو نہایت آزاد خیال لوگوں کے درمیان ہونے والے جنسی عمل کو صرف اس لیے روکنا کیونکہ اس سے ایک خالص باکردار ‘ہندوستانی لڑکی’ کی امیج بلڈنگ کی جاسکے، نہایت احمقانہ بات ہے۔پہلی بات تو سیکس کرنے سے کوئی خراب یا اچھا نہیں ہوجاتا اور دوسری بات یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ لڑکی کو بیڈ اور لڑکے کو صوفہ عطا کردینے سے فیمنزم کی حمایت کرنا، حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے برابر ہے۔اب دوسرے منظر کی بات بھی کرلیتے ہیں، جو اسی نوے کی دہائی میں زیادہ دکھایا گیا اور اب حالانکہ کم ہے، مگر کہیں نہ کہیں موجود ہے،ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی کچھ لوگ کسی عورت کا ریپ کرنے آگے بڑھتے ہیں، تو عورت ان سے بچنے کے لیے اپنے ہی پیٹ میں چاقو مار لیتی ہے، یہ بہت عام منظر رہا ہے، حالیہ کسی فلم میں دو اندھے کرداروں کی اچھی خاصی کہانی میں بھی ایک عورت کا دو بار ریپ ہوجانے پر اسے پھانسی لگانی پڑگئی تھی، اور وجہ صرف یہ تھی کہ ہیرو کو اپنی محبوبہ کی موت کا بدلہ لینا تھا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ریپ ایک شدید قسم کا نفسیاتی دکھ ضرور پیدا کرتا ہے،جذباتی مسائل بھی اس سے پیدا ہوجاتے ہیں، مگر کسی عورت کے ریپ ہونے سے اس کی عزت میں بال برابر بھی فرق نہیں آنا چاہیے، دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی حادثہ، خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، اس سے بچنے یا اس کے ہوجانے کے نتیجے میں موت کو ترجیح دینا یا اس نظریہ کی توسیع کرنا ایک غلط اور جاہلانہ بات ہے۔آپ کہیں گے کہ میں نے پردے کے تعلق سے لکھتے لکھتے یہ کون سی بحث چھیڑ دی، مگر اس کا تعلق پردے کی بحث سے اس لیے ہے کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہے، ایک شدید عمل کی طرفداری۔یعنی ایک خطرے سے بچانے کے لیے، اس سے بھی بڑے خطرے کی جانب دھکیل دینا۔

گزشتہ دنوں ہم کچھ دوست بیٹھے تھے، باتیں ہورہی تھیں تو پردے کا ذکر بھی نکل آیا۔اس ذکر میں کسی دوست نے اعتراض کیا کہ لوگ چار یا پانچ سال کی بچیوں کو بھی نقاب میں ڈھانپے رکھتے ہیں۔میں نے کہا کہ ٹھیک یہ مسئلہ اس سوسائٹی میں ساٹھ ستر سال کی عورتوں کے ساتھ بھی ہے۔ماورائی اور خیالی قسم کی ثواب و گناہ والی دنیا کو ایک منٹ کے لیے نظر سے اوجھل کرکے دیکھیے،جنت کی لالچ میں انسان بہت کچھ کرتا ہے، سو اس نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ بچے کو اتنی کم عمری سے اس لبادے میں ڈھال دو کہ اسے ایک عمر کے بعد یہ اپنی ‘آزادی انتخاب لباس’ جیسی کوئی چیز معلوم ہونے لگے۔ایسی زیادہ تر لڑکیاں، جن پر پردہ ٹھونسا گیا ہے، اور جن کو اپنے تنگ نظر خاندان کا دفاع کرنے کی اور کوئی سبیل نظر نہیں آتی، وہ پردے کو اپنی پسند کا نام دے دیتی ہیں۔اس سے نکلنا بعض اوقات بے حد مشکل کام ہوتا ہے، اسی بحث میں ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ انہیں لباس کا ایسا عادی بچپن سے بنایا گیا ہے کہ وہ شارٹس پہننے کا تصور چاہ کر بھی نہیں کرسکتے، میں نے خود بہت زمانے تک رہنے والی اپنی ایک نفسیاتی الجھن کو اس محفل میں پیش کیا۔ہوتا یہ تھا کہ ایک وقت تک جب کپڑے پر سے بھی عضو تناسل کو ہاتھ لگ جاتا تو میں جاکر ہاتھ دھویا کرتا تھا۔یعنی اپنے ہی بدن کے ایک صاف حصے سے اس قسم کی الجھن پیدا کردی گئی تھی کہ وہ الجھن رفتہ رفتہ ‘ناپاکی کے نام نہاد خوف’ میں تبدیل ہوگئی۔

شاید دو یا تین برس پہلے اردو کے ایک معروف محقق، جو کہ امریکا میں کئی برسوں سے رہتے ہیں، ان کا ایک مضمون پڑھا تھا، پردے کے ہی تعلق سے تھا۔انہوں نے اس میں لکھا تھا کہ نائن الیون کے بعد وہ شناخت کے جس بحران کا شکار ہوئے، اس سے تب باہر نکل سکے، جب انہوں نے کسی جگہ ایک لڑکی کو بھرے مجمع میں یہ کہتے سنا کہ پردہ اس کی پہچان ہے، اور وہ اسے نہیں بدل سکتی۔میری پچھلے سال ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے یہ اعتراض ان کے سامنے بھی پیش کیا کہ آپ کا مضمون اپنی شناخت کے بچائو سے زیادہ پردے کے بچائو میں نظر آتا تھا۔انسانی تشخص اور اس کی شناخت کادفاع ایسے ماحول میں ضروری ہے، جہاں اسے، اس کے نام، مذہب، رنگ، وطن یا کلچر کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہو، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنے ہی معاشرے کی بے سر پیر کی تقدیس آمیز چیزوں کو اپنی شناخت بھی سمجھ لیا جائے۔جس لڑکی کو چار پانچ سال کی عمر سے پردہ اڑھایا جارہا ہے،اگر وہ صرف اس بنیاد پر اسے اپنی شناخت سمجھنے لگی ہے تو اس میں اور ایسے شخص میں کوئی فرق نہیں ہے جو بہت سی روڑھی وادی سوچوں کابچائو صرف اس لیے کرتا ہے، کیونکہ وہ اس کے دماغ میں بہت چھوٹی عمر سے ٹھونسی گئی ہیں۔

اس ذیل میں ایک واقعہ اور سن لیجیے، فیس بک پر پچھلے دنوں اپنی کسی شناسا لڑکی کی ایک پوسٹ دیکھی، جس میں اس نے لکھا تھا کہ اسے ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے کا موقع صرف اس لیے نہیں دیا گیا کیونکہ اس بچے کے ماں باپ کو اس بات پر اعتراض تھا کہ وہ حجاب پہنتی ہے۔محض حجاب پہننے پر کسی سے نہ پڑھوانے کا فیصلہ بظاہر بہت متعصب معلوم ہوتا ہے، مگر ممکن ہے کہ وہ ماں باپ کسی ایسے ٹیچر سے بھی اپنے بچے کو نہ پڑھوانا چاہیں جو ٹیکہ لگاتی ہو، بھگوا رنگ کے کپڑے پہنتی ہو اور گلے میں مالا ڈال کر گھومتی ہو۔جب آپ حجاب کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں تو آپ کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ شناخت مذہبی ہے اور دنیاوی معاملات میں بھی اپنی مذہبی شناخت کو ہرحال میں قائم رکھنے کا رویہ بھی تعصب کی ہی ایک صورت ہے۔میں نے دو تین سال قبل ایک جگہ نوکری کی تھی، یہ کوئی سرکاری دفتر تھا، مگر تھا اردو زبان سے تعلق رکھنے والا، چنانچہ لوگ منہ اٹھاکر یہاں ٹوپی لگائے، کرتاپاجامہ پہنے آجایا کرتے تھے۔پھر ایسے لوگوں کو اس بات پر اعتراض کرنے کا کیا حق رہ جاتا ہے کہ دوسری قومیں اپنی مذہبی شناخت کے قائم رکھنے پر مصر ہیں اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔کپڑا کسی کی شناخت نہیں ہوسکتا، جیسے کھانا کسی کی شناخت نہیں ہے، یہ خود پر اوڑھی ہوئی چیزیں ہیں اور ان سے باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے، اپنے ہی سماج یعنی اپنے ہی گھرکی پیدا کی ہوئی فکر پر سوالیہ نشان داغنے کی جرات کرنا۔

میں بہت برسوں پہلے ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے گیا تو پہلے ہی دن دیکھا کہ وہاں ایک خاتون ہیں، جو اپنے ہی گھر میں سر سے پیر تک کالے لباس میں صرف اس لیے ملبوس ہیں کیونکہ میں انہیں پڑھانے جارہا ہوں، اور ایسا نہ تھا کہ جب میں انہیں پڑھارہا تھا تو ان کے شوہر موجود نہیں تھے۔مگر مسئلہ خوف سے زیادہ مذہبی شناخت کے تحفظ کا تھا۔ اور ایسا کوئی بھی شخص جو کسی کی مذہبی شناخت کے تحفظ پر اصرار کرتا ہو، اسے کسی دوسرے مذہب کی مذہبی شناخت یا شناخت کی علامتوں پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر پردے کی حفاظت ضروری ہے تو گائے کی حفاظت بھی ضروری ہے اور گائے تو اس معاملے میں زیادہ نمبر لے جاتی ہے کہ وہ جاندار ہے، کوئی گز بھر کا کپڑا نہیں۔
Image: Parastou Forouhar

Categories
تبصرہ

آج کا تیسرا شمارہ؛ تاثراتی جائزہ

• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی ایک خاص حالت میں پہنچنے کے بعد اس کے ابطال کا اندازہ ہمیں ہو جاتا ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ انسان خود سے بے انتہا جھوٹ بولتا ہے، یا پھر اس با ت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کی مختلف حالتوں کا سچ مختلف ہے۔ محبت کے معاملےمیں ایسا بہت ہوتا ہے اور اس کا علم ہمیں محبت کی مختلف کہانیوں سے ہی ہوپاتا ہے۔ اتالوکلوینو(Italo Calvino)جو اطالوی زبان کے ایک مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کی کہانی چاند کی دوری اس کی اچھی مثال ہے۔اجمل کمال یا زینت حسام ان دونوں میں سے جس نے بھی ان کی کہانی سے قبل ان کے تعارف کے طور پر چند جملے لکھتے وقت اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی افسانوی تحریروں میں قاری کی ملاقات ایک بے حد فراواں تخیل اور بیان پر بے پناہ گرفت سے ہوتی ہے ۔ اس سے مجھے مکمل اتفاق ہے۔ (بیان پر قدرت کی شدت اتنی تھی کہ وہ ترجمے کی صورت میں بھی زائل نہیں ہوئی۔)اس کہانی میں اتالو کلوینو نے محبت کے دو مختلف احساسات کو نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ حالاں کہ ان دو محبتوں کے درمیان بھی مختلف النوع محبتیں پائی جاتی ہے۔ مثلاً مسز وحد وحد کا گونگے عم زادکو چاہنا، گونگے کاچاند کو چاہنا ، کشتی والوں کا پنیر یا دودھ کے ٹکڑوں کو چاہنا ، بوڑھے قفوفق کو کپتان کی بیوی، اس کے پستانوں ، کولہوں، بدن کی گدازی اور چاند کے ایک ماہ کے سفر (جو کہ مسز وحد وحد کے ساتھ مطلوب ہے) ان سب کو چاہتے ہوئے زمین کو چاہنا اور اپنے زمینی احساسات کے ادراک کو چاہنا۔ ان تمام چاہتوں سے اتالو کلووینو نے کشمکش سی بھری ہوئی انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیوں کو دلچسپ کہانی کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پھر احساسات کو پیش کرنے کے لیے چاند کے ان تاریخی دنوں کی کہانی گڑھنا بھی خوب ہے کہ جب چاند زمین سے بالکل ایسا لگا ہوا تھا جیسے ہمارے سروں پر گھر کی چھت۔ گونگا اور مسز وحد وحد اور قفوفق تواس کہانی کے جاندار کردار ہیں ہی ساتھ ہی کپتان کی وہ صورت حال بھی قابل توجہ ہے جس کے تحت وہ اپنی بیوی سے لا تعلق سا نظر آتا ہے۔ وہی مسز وحد وحد جن کے لمس کی حرارت کے لیے قفوفق اپنے عم زاد گونگے سے حسد کر رہا ہے اور اس کے پستانوں کی گھلاوٹ پہ مرا جا رہا ہے، اسی سے کپتان لا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کہانی کے مختلف موڑ بھی قابل توجہ ہیں جس کے تحت کہانی چاند سے شروع ہو کر محبت کے ایک نازک احساس پر ختم ہوتی ہے۔۔کہانی کا بنیادی خیال یعنی چاند کی زمین سے قربت اور اس کے بعد بتدیج دوری اتالوکلوینو کو سر جارج ایچ ڈارون George Howard Darwinجو چارلس ڈارون Charles Darwinکے بیٹے تھے ان کی تھیوری کے مطالعے سے آیا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک زمانے میں چاند زمین سے بے حد قریب ہوا کرتا تھا، پھرسمندر کی لہروں نے اسے دور دھکیل دیا۔ حالاں کہ یہ ایک سائنسی اور تحقیق نکتہ ہے اور یقیناً اس برطانوی Astronomerکا اتا کلوینو کے عہد میں اٹلی میں چرچا شباب پر ہوگا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اتالو کلوینو نے ایک فلکیاتی مقدمے کو بیناد بنا کر کس خوبصورتی سے ادبی متن تراش لیا۔ایک ادیب واقعتاً ایسا ہی ہوتا ہے۔

• عام زن جرکسی امین مالوف کے مشہور ناول (Leo Africanus) کی تیسری کتاب کا دوسرا باب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے، عمر میمن نے اس ترجمے کی شروعات میں ایک مختصر سا تبصرہ اس کہانی کے متعلق کیا ہے جو عام زن جرکسی میں بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے ترجمے سے قبل انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جرکس شمال غربی قفقاض کے وہ قبائل تھے جو ہجرت کر کے ترکی شام اور اردن میں آباد ہو گئے۔قفقاض کا املا زیادہ تر قفقاز دیکھنے میں آیا ہے ،اسے انگریزی میں Caucasusکہتے ہیں۔(بشکریہ سید کاشف رضا) اسی قوم کی ایک حسین عورت کی کہانی اس ترجمے میں بیان کی گئی ہے۔ جس کا حسن نایاب ہے۔ حسن الوزان وہ جغرافیہ داں ہےجس کی آپ بیتی یہ ناول ہے۔ وہ اس جرکسی عورت سے اتفاقاً ملتا ہے، پھر ان دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے۔ باب بہت مختصر ہے اس لیے عشق کے تمام مراحل بہت جلد طے ہوتے دکھائے ہیں ، جس سے بعض مقامات پر کہانی کے تاثر پر حرف آتا ہے ۔ناول کا بیانیہ الف لیلوی داستانوں جیساہے، کہانی میں عشقیہ داستان کے علاوہ جو قصے ہیں وہ بھی مشرقی داستانوں سے ملتے جلتے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امین مالوف نے عربی داستانوں سے استفادہ کر کے اس رنگ کو وضع کرنے کی کوشش کی ہے یا ممکن ہے کہ مترجم نے ترجمے میں اپنے حافظے کو داخل کیا ہو۔ کہانی پر مترجم نے نہایت عمدہ تبصرہ کیا ہے جس کے بعد اس کے عشقیہ تاثر پر کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔بقول عمر صاحب:

اس کہانی میں حسن نہ اپنے تغافل میں جرات آزما ہے ، نہ جسم و جاں کے تقاضوں کے اظہار میں مظاہراتی۔ دوسری طرف عشق اپنی بر انگیختگی میں توانا سہی ، بے وقار نہیں ۔ یہ توازن ہی اس کہانی کی جان ہے ۔ ایک دھیما پن ! ایک قابل برداشت اور اتنی ہی دل نواز حسرت زندگی کا حزنیہ احساس جو دشنام طرازی کی ادنا ترین کوشش کا بھی سزاوار نہیں ، عورت کی خود آگاہ سپردگی ! مرد کی بے وقار بے تابی ! زبان کی تلمیحی وسعت ، جس سے پیدا شدہ نت نئے تلازمے احساس کی رگ رگ میں ایک جاندار لمس کو جگا دیتے ہیں ! اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں تعلق خاطر یک طرفہ نہیں اور نہ ہی اس میں انائے بے جا کا گھمس ہے! بلکہ اس کی پرورش باھمی پاس داری کے ارفع ترین اصولوں پر ہوئی ہے۔ یہاں مرد عورت کو استعمال نہیں کر رہا، بلکہ جسم بڑی صحت مند بے قراری کے ساتھ اپنے ہم نفس کا جویا ہے۔ آخراً یہ زندگی کا اس کی تمام مہجوریو کا باوصف جشن ہے۔(ص:20، عمر میمن، آج :شمارہ نمبر 3۔)

کہانی میں صرف ایک مقام ایسا آتا ہے جب مصر کے اہراموں کی طرف سفر کرتے ہوئے ابن بطوطہ کے تذکرے پر جرکسی خاتون جس طرح قہقہہ لگاتی ہے وہاں کہانی کا عشقیہ تاثر متاثر ہوتا ہے اورایک نوع کی بے لاگ اور غارت گر ہنسی سے جرکسی خاتون کا تصور کہانی کے تسلسل سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابن بطوطہ پر اس کی رائے سے اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ جرکسی خاتون نہیں بلکہ حسن الوزان ایک جغرافیہ داں کی حیثیت سے ابن بطوطہ پر تنقید کر رہا ہے۔

ترجمے میں کہیں کہیں جملے ادھورے رہ گئے ہیں یا انہیں انشا یا پروف کی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
وہ اس سیر سے کافی متاثر ہوتی تھی ، گو اس کی وجہ میری سمجھ نہ آسکی۔(ص:28)
صفحہ 27 پر بلسان کا ذکر آیا ہے جو ایک درخت کا نام ہے ، لیکن اس جگہ یہ بھی جملہ لکھا ہے کہ: وہ واحد درخت جس سے بلسان پیدا ہوتا ہے۔ گویا اس سےیہ بات واضح نہیں ہوتی کہ بلسان کوئی پھل ، پھول یا اسی طرح کی کوئی اور شئے ہے یا خود درخت ہے۔ حالاں کہ لغت کی رو سے بلسان ایک درخت ہوتا ہے جس سے ایک مخصوص روغن نکلتا ہے۔ جسے حکیم نفس کو موٹا اور لمبا کرنے کے لیے تجویز کرتے ہیں۔

• اس شمارے میں موجود محمدعمر میمن کا مضمون یا وہ جو بھی ہے جس کا عنوان”کولاژ،مونتاژ،اسمبلاژاور سبوتاژ” ہے ، میری سمجھ سے باہر ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی یا ان کی نسل کے دیگر لوگوں کے لیے ہی لکھا گیا ہو۔ اس لیے غور کرنے کے با وجود کہ آخر یہ مجذوبا نہ باتیں ہیں کیا ، میرے پلے کچھ نہیں پڑا۔

• محمد سلیم الرحمن کی تحریر ایک نا مکمل ناول کے اوراق اگر آج میں شائع نہ ہوتے تو غالباً کسی اور پرچے میں بھی جگہ نہ پاتے۔ یہ میرا خیال ہے کہ آج میں اس نےاپنا صحیح مقام حاصل کیا۔ تنہا بھی اسے نہیں شائع کیا جا سکتا تھا کیوں کہ یہ کوئی باقاعدہ ناول نہیں ۔ جتنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اتنا تو ہرگز نہیں ۔ لیکن یہ اس تحریر کا کمال ہے کہ اس کے مطالعے سے ایک مکمل ناول کا تاثر حاصل ہے۔ میں نے سلیم الرحمن کی چند ایک تحریریں اس ناول سے قبل بھی پڑھی ہیں ، لیکن ان کا اس طرح کا بیانیہ ان میں نہ تھا۔ نہایت دل گرفتہ ۔بلا کی منظر کشی جس کو پڑھتے ہوئے دل پر وہ کیفیت گزرتی ہے جس کا اظہار وہ اپنے منظر میں کرتے ہیں ۔ یہ تحریر کیا ہے اچھا خاصا ایک سفر ہے جس پر قاری مشیر کے ہمراہ نکل سکتا ہے۔ کبھی دھوپ، کبھی چھاوں ، کبھی جنگل ، شہر ندیا ں تو کبھی اوبڑ کھابڑ راستے۔ ہر طرف ایک گہری فکر کے ساتھ موسم اور ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سفر جاری رہتا ہے۔ کبھی ذہن ان حالات میں گھر کر مشیر کی طرح سوچنے لگتا ہے اور دنیا جہان کی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں ۔ کبھی ایک عجیب سی مایوسی دل پر چھا جاتی ہے جس کا لطف متن سے جڑنے والا قاری ہی محسوس کر سکتا ہے۔ ناول کے واقعات کبھی اتنے حقیقی ہو جاتے ہیں کہ ان پر اصل زندگی کا گمان ہونے لگتا ہے اور کبھی ایسے پیچیدہ کے ان کی گتھیوں کو سمجھنا اور سمجھانا ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے۔ نہایت گہری بصیرت کے ساتھ مشیر کے ساتھ چلتے چلتے مجید کی اٹکھیلیاں اکتادینے والی معلوم ہوتی ہیں ۔ مگر زندگی سے بھر پور اس کا قہقہہ ہمیں زیست کی دوسری سچائیوں سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ واجدہ کا کردار بھی سلیم الرحمن نے خوب نکالا ہے ، جس سے ناول میں ایک جمالیاتی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ پورے ناول میں ان کا ایک جملہ کہ جب واجدہ چائے کا ایک گھونٹ لیتی ہے اور مشیر اس کے چمکتے ہوئے ہونٹوں کو للچائی ہوئی نگاہ سے دیکھ کر اپنا چہرا دوسری طرف گھما لیتا ہے کہانی کو رومانی رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ ناول کی زبان اس کا بیانیہ اور اس کے کردار تینوں لا جواب اور دلچسپ ہیں۔ ایسا مختصر ناول اردو کے ان ہزار ہا ضخیم ناولوں پر بھاری ہے جن میں نہ کہانی ہوتی ہے نہ بیایانیہ۔

• محمد انور خالد انگریزی زبان کے استاد اور اردو کے نظم گو ، ان کی اس شمارے میں موجود چھ نظمیں اردو کی نئی شاعری کی پرتیک ہیں ۔ ان کی نظموں کی زبان صاف اور سرل ہے۔ کہیں کہیں تراکیب کی ژولیدگی نظر آتی ہے ، مگر اکثر مقامات پر سیدھے اور سامنے کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ نظمو ں کا معنیاتی نظام پیچیدہ سہی مگر شاعرانہ اور پر لطف ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشرقی استعاروں کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔ جو اردو کلاسکل شاعری میں بہت ملتے ہیں ۔ نظمیں طویل نہیں ہے، اس لیے قاری کو پڑھنے میں الجھن نہیں ہوتی۔ ایک ستھرا ادبی ذوق رکھنے والا قاری جو نئی نظم کو غیر مربوط اور آزادانہ اظہار کی طرح قبول کرتا ہے اس کے لیے نظموں میں گہرے راز چھپے ہیں جن سے داستانی رنگ کی کہانیاں مترشح ہوتی ہیں ۔ اسلوب کی سادگی نے شاعری کو مزید بلیغ بناا دیا ہے۔ کہیں کہیں کوئی ترکیب بوجھل لگتی ہے اور کہیں کہیں کوئی استعارہ یا تلمیح خاصی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود ہر نظم میں ایسے چار سے آٹھ مقام ہیں جن پر بے ساختہ دل سے آہ نکلتی ہے۔ محمد انور خالد کی نظموں میں رومان بھی ہے اور زندگی کی پیچیدہ حقیقتیں بھی۔ ان کے یہاں معنی کا ٹھہراو بھی ہے اور تحرک بھی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی نظم “یخ زدہ انگلیاں ” اور “آسماں خاکداں”خاصی دلچسپ لگیں۔

• محمد انور خالد کے بعد زیبا الیاس کی آٹھ نظمیں دی گئی ہیں ۔ ان میں زیادہ تر جذباتی نوعیت کی نظمیں ہیں جن میں رشتوں، لمحوں اور یادوں کے جذبات کام کررہے ہیں ۔ کہیں کہیں سیاسی نوعیت کے مصرعے بھی ہیں ۔ان کی نظموں میں عورت کے احساسات کا بیان کثرت سے کیا گیا ہے۔ نظمیں اتنی زیادہ متاثر کن نہیں ۔ کچھ کچھ” تعفن “کو چھوڑ کر۔

• اس شمارے میں شامل جیک لنڈن کی کہانی الاو انگریزی زبان سے ترجمہ کی گئی ہے۔ جس کا ترجمہ صغیر ملال نے کیا ہے۔ جیک لنڈن ایک مشہور امیریکی ناول نگار تھے جن کی پیدائش 12 جنوری 1876 میں سن فرانسسکو ، کیلی فورنیا میں ہوئی تھی۔ بنیادی طور پر وہ ایک صحافی اور سماجی کارکن تھے لیکن ان کی ادبی حیثیت بھی مثلم ہے۔ ان کی کہانی To Build of Fire (الاو)بہت مشہور ہوئی ۔ اس کا کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ اردو میں صغیر ملال نے اس کا ترجمہ بہت آسان زبان میں کیا ہے۔ اس کہانی میں ایک مسافر کی داستان بیان کی گئی ہے جو برفیلے علاقوں کا سفر کرتا ہے اور اپنے احباب کو ان اسفار کے قصے سناتا ہے۔ برفیلے علاقوں میں سفر کرنا اس کی ہابی ہے۔ لیکن اپنے تیسرے سفر میں وہ ایک ایسے خطر ناک برفیلے علاقے میں چلا جاتا ہے جہاں کا درجہ حرارت صفر سے ستر درجے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس سفر میں اس پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح وہ اپنے پالتو کتے کے ساتھ اس برفیلے علاقے کے شدائد برداشت کرتا ہے۔ ان واقعات کا بیان نہایت دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے۔ کہانی کی جان وہ حصہ ہے جب اس کہانی کا مین کردار الاو جلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا کتا اس کوشش میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا نظر آتا۔ جانور اور انسان کا رشتہ، جانور کی جبلت، انسان کی خطرات سے لڑنے کی فطرت اور ڈر کے غلبے سے نجات پانے کی صورت حال کو اس کہانی میں متاثر کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیک لنڈن نے ایک انسان اور کتے کے کردارسے کہانی کی نفسیاتی فضا کو تشکیل دیا ہے۔ کہانی میں ایک مقام اور بھی بہت اہم ہے جہاں کہانی کا مین کردار ٹھنڈ کی شدت سے نجات پانے کے لیے اپنے پالتوکتے کو مارنے کی کوشش کرتا ہے اور کتا کسی انجانی قوت سے اس خطرے کو بھانپ لیتا ہے ۔اس کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیک لنڈن کو جانوروں کی نفسیات کا بہت گہرا علم تھا۔

• تادیوش روزے وچ(Tadeusz Rozewicz)پولینڈ کا ایک مشہور شاعر جس کی چند نظمیں اس شمارے میں دیگر تین پولینڈ کے شعرا کے ساتھ دی گئی ہیں ۔ تادوش روزے وچ انیسویں صدی کے شاعر ہیں جنہوں نے پولینڈ میں اس زمانے میں ہوش سنبھالا جب وہاں کے سیاسی حالات بہت خراب تھے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک اچھے اور بڑے شاعر ہیں ، جن کی نظموں میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے علاوہ بھی بہت کچھ نظر آتا ہے ،لیکن بیسویں صدی کے یورپی سیاسی حالات کے سیاق میں ان کی شاعری زیادہ معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ اس شمارے میں افضال احمد سید، اجمل کمال اور آصف فرخی کی ترجمہ شدہ نظموں کا مطالعہ کر کے ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے تو نہیں قائم کی جاسکتی ۔ لیکن غالب رجحان یہ بنتا ہے کہ وہ اپنی آس پاس کی دنیا سے اتنے متاثر تھے کے ان کی شاعر میں اپنے ماحول کی زمینی حقیقتیں کثرت سے شامل ہو گئیں (اس کی ایک وجہ ان کا پولینڈ کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ہونا بھی ہے)۔ ان کی نظم پونی ٹیل اس کی ایک اچھی مثال ہے جس میں ہالوکوسٹ کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ تادیوش کی نظموں کو ایک اردو طالب علم کی حیثیت سے پڑھنے کے بعد ان کی نظموں کے تاثر کو بیان کرنا بھی ذرا مشکل کام ہے۔ ان کی نظمیں بہت الگ نہیں ہے ، لیکن ان کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اردو شاعری سے ملتی ہوئی بھی نہیں ۔ حالاں کہ بیسویں صدی کے عالمی حقائق پوری دنیا میں خاصے ملتے جلتے تھے، جن میں سیاسی اور سماجی افراتفری ، شخصی آزادی، سرحدی اور مذہبی منافرت اس کا پر تو ہر جگہ نظر آتا ہے ۔ اس کے باوجود آپ ان کی نظموں کو فیض یا جوش یا اسی قبیل کے اردو کے کسی اور شاعر سے مشابہ قرار نہیں دے سکتے۔ ان کی شاعری میں ایک نوع کی اجنبیت ہے جو ملکی یا جغرافیائی اظہار کی حالت سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کے یہاں جرات اور اظہار کرب ہے، سماجی مظلومیت ہے اور باطنی خلش بھی،لیکن ایک نئی تشبیہ اور استعارے کے ساتھ۔ تادیوش کی شاعری میں کھردراہٹ نہیں ہے ایک طرح کی لطیف جاذبیت ہے جو قاری کو ان مسائل کے قریب لے جاتی ہے جو ان کے ملک کے ہیں اوران کی شاعری پڑھتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے مسائل و معاملات کو شاعرانہ زبان دے کر انسانیت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ مجھے ان کی دو تین نظموں نے ذاتی طور پر خاصہ متاثر کیا جن میں سبک دوشی پونی ٹیل، محبت 1944،ایک ملاقات، سیب اورضروری کاموں میں مصروف شامل ہیں۔تادیوش کا تعارف اجمل صاحب نے اپنے اس انتخاب کی ابتدا میں دیا ہے جس میں مجھے ایک صفائی نظر نہیں آئی کہ تادیوش نے اپنی تعلیم کراکو یونیورسٹی سے مکمل کی تھی لیکن اس یونیورسٹی کا اصل نام Jagiellonian Universityہے جسے عرف عام میں Krakow Universityبھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ کراکو میں واقع ہے۔

• تادیوش کے بعد زبگنیو ہربرٹ کی نظمیں پیش کی گئی ہیں ۔ زبگنیو بھی پولینڈ کے اسی عہد کے شاعر ہیں جس عہد کے تادیوش ہیں ۔ ان کی نظموں کے عناوین تاریخی واقعات اور اساطیری کرداروں سے ماخوذ ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے ان کی شاعری میں تلمیحاتی عناصر کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ زبگنیو کی 20 نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ جن میں سے بعض نظموں کو نثریئے بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان 20 نظموں کا ترجمہ انگریزی سے افضال احمد سید اور آصف فرخی نے کیا ہے۔ نظموں کے عناویں سے ہی ان کی دلچسپی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً فورٹن براس کا مرثیہ(فورٹن براس شکسپیر کے مشہور ڈرامے ہیملٹ کا کردار)،سلطنت روم کے ایک صوبے دار کی واپسی، وادی کے دروازے پر، آنسووں کی صنعت،واں کے نکالے ہوئے،بادشاہ کا خواب،زبان یار ، کتب خانے میں ایک سانحہ اور بادشاہت کا خاتمہ وغیرہ۔ان میں کچھ نظمیں طویل ہیں اور کچھ مختصر، ان نظموں کو اردو زبان میں پڑھتے ہوئے اس وقت تک کچھ خاص لطف نہیں ملتا جب تک ہم شاعر کی تہذیب اور اس کے تاریخی سیاق کو اچھی طرح سمجھ نہ لیں ۔ کچھ ادھورے سے واقعات کا تاثر ذہن پر مرتسم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم شاعر سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں تو ان نظموں کا اصل جوہر سامنے آتا ہے۔ فورٹن براس کے مرثیے کا مطالعہ کرنے کے لیے ہیملٹ کا مطالعہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی تین نظموں بارش ، آنسووں کی صنعت اور مرغی نے متاثر کیا۔ نظم بارش ایک بھر پور المیہ ہے جس میں تاریخی حالات، جنگی اور خونی حادثات کے ساتھ ساتھ جذباتی اشتعال کو جذب کیا گیا ہے۔ اس میں شاعر نے زندگی کی گہری سچائیوں کو مختلف استعاروں سے بیان کیا ہے۔ نظم کا پہلا تاثر پر لطف ہے ۔ دوسرا گہرا اور تیسرا تفکر آمیز۔ ایک بھر پور نظم جس میں احساسات کی برستی بوندوں کا منظر دکھایا گیا ہے۔ آنسووں کی صنعت میں ایک نوع کی ٹیس ہے ۔ ایک طنز بھی اور نئی تہذیب کا المیہ بھی۔ مرغی ایک لاجواب تشبیہاتی نظم ہیں ۔ اس میں انسانی رویوں کی تشبیہات ہیں ۔شاعر کا یہ کمال ہے کہ اس نے مرغی کے اعمال اور प्रभावکو حکایت بنا کر پیش کیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس نظم کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

• وسلاواشمبورسکا(Wislawa Symborska) کی ایک نظم یاسلوکے قریب فاقہ کیمپ اس شمارے کی زینت ہے۔ مصنفہ پولینڈ کی بہت مشہور خاتون ہیں۔ان کو 1996 میں نوبل انعام بھی مل چلا ہے۔ انہوں فرانسسی زبان سے پولش زبان میں کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے اور 2012 میں ان کی موت 88 برس کی عمر میں کراکو، پولینڈ میں ہوئی۔ وسلاوا کی نظم کا عنوان یاسلو کے قریب فاقہ کیمپ ہے ۔ یہ لفظ یاسلو دراصل یسوو ہے جس کو انگریزی میں Jasloلکھا جاتا ہے۔ اس کا پولش تلفظ بھی یسوو ہی ہے ۔ یہ ایک قصبے کا نام ہے جو پولینڈ کے جنوب مشرقی علاقے میں ہے۔خاصہ خوبصورت اور مجلا ومصفا۔ نظم کا عنوان چونکہ فاقہ کیمپ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظم میں ایک نوع کے طنزیہ لہجے کو روا رکھا گیا ہے کیوں کہ وہ یسوو کے قریب آباد ہے۔اس نظم میں ایک فاقہ زدہ کیمپ کی ابتری کو استعاراتی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک گہرے المیہ کی صورت۔ جس سےانسانی ابتری اور زندگی کی بے مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک شکستہ خیال جس میں بار بار تاریخی زندہ حقیقتوں پر سوال قائم کیے گئے ہیں اور انسانی رویوں کی تغلیب کو بیان کیا گیا ہے۔

• الیگزانڈر واٹ(Aleksander Wat) کی صرف تین نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ پہلی بہ عنوان نظم دوسری عہد نامہ عتیق کے ایک باب کی تفسیر اور تیسری یکے از حکایات فارسی۔ ان تنیوں نظموں میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں ایک الہامی کیفیت نظر آتی ہے۔ نظم کا بیانیہ مترجم کا تراشا ہوا ہے مگر متاثر کن ہے ، شاعر کے اصل اسلوب کا علم نہیں مگر نظم ترجمے کی صورت میں مختلف طرز کی معلوم ہوتی ہے۔ پولینڈ میں ایسی شاعری اللہ جانے کتنے لوگوں نے کی ہے۔ لیکن ان چار شاعروں میں یہ لہجہ ذرا الگ ہے۔ عہد نامہ عتیق کی تفسیر بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان نظموں کا ترجمہ افضال احمد سید(پہلی اور دوسری) اور آصف فرخی(تیسری) نے کیا ہے۔

Categories
نان فکشن

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

آج چودہ فروری ہے۔محبت کا مخصوص دن۔اچھی بات ہے، ہر شخص کی سالگرہ ہوتی ہے سو حضرت دل کی بھی ہونی چاہیے جو مختلف محبتوں سے آباد کبھی مایوس ہوکر گیلی چھتوں کی دیوار سے پاوں لٹکا کر بیٹھاکرتے ہیں تو کبھی سمندر کنارےسورج کی سنہری رسیوں پر یادوں کی بیلیں سکھاتے نظر آجاتے ہیں۔یہ دن تیسری صدی کے ایک صوفی ویلنٹائن سے وابستہ ہے، مگر معاف کیجیے گا، میں ان سے زیادہ واقف نہیں۔میں کرشن اور رادھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں۔چنانچہ محبت کی پری بھاشا میرے لیے ویسی ہے،جیسی میری مٹی نے مجھ پر آشکار کی ہے۔پہلے تو بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو سبھیتا یا تہذیب کی رکھوالی کرنے کا نام لے کر اس خاص روز لڑکوں اور لڑکیوں کو نہ تو لب سڑک ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کشادہ ریستوراں کی چھوٹی سی میز پر آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔تو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقی سماجوں اور تہذیبوں میں محبت سے اس قدر پریشانی کیوں ہے۔یہ جو پرمیشور یا خدا کی چھوٹی چھوٹی دبنگ ٹولیاں، ٹوپی یا تلک لگائے شہروں میں چیختی چلاتی گھومتی ہیں، اس سے یہ سوال تو لازمی طور پر پیدا ہونا چاہیے کہ محبت کی مخالفت کرنے والی کوئی بھی تہذیب کیا اس لائق نہیں کہ اسے نفرت کا پرچارک سمجھا جائے۔لیکن یہ بھی یہ سننا نہ چاہیں گے۔کیونکہ ان کے مذاہب ، جو کہ ان کی تہذیب کااصل مآخذ ہیں ، اس بات کی تشہیر کرتے نہیں تھکتے کہ خدا کے بندوں سےپیار کیجیے۔اب کوئی شخص پیار کو سمجھے تو کیسے سمجھے، جانے تو کیسے جانے۔۔۔کیونکہ آپ نے لوگوں کی سادہ سی تفہیم پر موٹے موٹے تالے یہ سوچ کر لگائے ہیں کہ اس سے تہذیب کا دامن داغدار ہوتا ہے۔یعنی اگر کوئی اکیس سال کا لڑکا، اٹھارہ سال کی لڑکی سے دوستی یا محبت کرنا چاہے تو یہ ایک تہذیبی خسارہ ہوگا۔اب جب ہم پوچھتے ہیں کیسے؟ تو اس کا جواب ایک ہے، وہ ہے بے حیائی اور بے شرمی کا فروغ۔بے حیائی ۔۔میں محبت کے اس مخصوص دن پر اس لفظ کی از سر نو تعریف لکھنا پسند کروں گا۔

بے حیا ہونے کا ایک مطلب ہے، بے لحاظ ہونا۔مطلب آپ جب کوئی غلط کام ببانگ دہل کرتے ہیں تو اسے آپ کی بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔اب یہ غلط کام کون طے کرے گا؟ مطلب کسی شخص کا دوسرے کسی شخص سے متعارف ہونا اگر بے حیائی ہے، اسے پسند کرنا، اس کے ساتھ بیٹھنا، ہاتھ میں ہاتھ ڈالنا، آنکھوں سے آنکھیں چار کرنا اور محبت کے ایک خوبصورت تعلق کوا ستوار کرنا اگر بے حیائی ہے تو پھر ہمیں برسوں سے چلے آرہے اس لفظ کی تفہیم پر غور کرنا ہی پڑے گا۔اخباروں میں ہم اکثر خبریں پڑھتے ہیں کہ دن دہاڑے لوٹ مچ گئی، سڑک پر قتل کردیا گیا، سی سی ٹی وی کے ہوتے ہوئے لڑکیوں کو چھیڑا گیا، گالم گلوچ ہوئی ، یہاں تک کہ یہ تو معمولی ہی سی بات ہے کہ عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی سڑکوں پر جس قسم کا ٹریفک لگ جایا کرتاہے، وہ لوگوں کی اتنی سی بے توجہی کے کارن ہوتا ہے کہ وہ خود جلدی اپنی منز ل پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس چکر میں دوسری گاڑیوں کے ساتھ الجھ پڑتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سڑک کافی دیر تک کے لیے ٹھس ہوجاتی ہے، وجہ یہ ہے کہ سارے لوگ انسانیت کا لحاظ نہیں کرتے، دوسروں کا خیال نہیں کرتے، درگزر سے کام نہیں لیتے اور تحمل اور محبت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک مسلسل طاری رہنے والے غصے اور چڑ کے نیتجے میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ بعض اوقات نتائج بڑے بھیانک اور عقل کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ابھی الہ آباد میں چند دنوں قبل ایک کالج کے لڑکے کا پیر ٹکرا جانے سے ہونے والا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انجام یہ ہوا کہ دوسرے فریق نے اسے اتنا ماراکہ وہ کوما میں چلا گیا، ہمارے ہی محلے میں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے ایسے جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ لوگوں کو جیل ہوجایا کرتی ہے، جان و مال کا نقصان ہوتا ہے، محلے بھر میں چٹپٹی باتوں اور خوف و ہراس کا ماحول ایک ساتھ مختلف شاخوں کے ساتھ جنم لیتا ہے اور اس گرد کو بیٹھنے میں کئی کئی دن لگ جایا کرتے ہیں۔یہ سب کیوں ہوتا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے،معمول کی زندگی پر نگاہ دوڑائیے تو معلوم ہوگا کہ دنیا جن دو کھرے جذبات پر قائم ہے، وہ صرف محبت یا نفرت ہیں، جہاں ایک کی کمی ہوگی، وہاں دوسرا دوڑ کر ہوا کی طرح ماحول کو بیلنس کرنے کے لیے اپنا دبائو بڑھا دے گا۔یہ ایک قدرتی نظام ہے کہ جہاں فرسٹریشن، ضد، جھنجھلاہٹ اور منافقت کے رویے موجود ہونگے، اس سماج میں اطمینان، درگزر اور شفقت کے رویے کم سے کم دکھائی دیں گے ۔ہم اکثر ٹیلی ویزن پر دیکھتے ہیں کہ اچھی خبروں کے ساتھ رپورٹر حضرات یہ کہتے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں کہ ‘ابھی انسانیت مری نہیں ہے۔’ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔کیونکہ یہ جملہ ایک حیرت کی نمائندگی کرتا ہے ، خوشی سے بھرپور ایک مثبت حیرت جو ہمیں بتاتی ہے کہ ابھی ہم ایک ایسے سماج میں ہیں، جہاں نفرت کا تناسب محبت سے کئی گنا زیادہ ضرور ہے، مگر نفرت کے پھیلے ہوئے گھنے سمندروںمیں کہیں کہیں محبت کے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ماحول بنا کیسے۔جواب بھی اسی فکر میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ آخر بے حیا یا بدلحاظ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ وابستہ اصطلاح ہونی چاہیے تھی اور کس کے ساتھ وابستہ ہے۔ایسے لوگ جنہیں محبت سے اس قدر ڈرایا گیا ہو کہ اگر وہ کہیں نظر آجائے تو اسے بے حیا سمجھ کر اس کا سر کچلنے پر وہ آمادہ ہوجائیں ، کس طرح ایک ایسا سماج گوارہ کرسکتے ہیں، جس میں محبت اور درگزر کی تعلیمات دی جاتی ہوں۔یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کے اس عجیب و غریب نظام میں ایک اور پہلو پوشیدہ ہے جو بہت دلچسپ ہے، حالانکہ دنیا کا ہر خطہ ان دونوں جذبات کے زیر اثر پروان چڑھنے والے رویوں سے معمور ہے ، مگر پھر بھی کوئی سماج اس وقت تو قائم رہ سکتا ہے، جب اس میں نفرت کا عنصر بالکل موجود نہ ہو، مگر محبت کے سائے کے بغیر ، یعنی مکمل نفرت کے ساتھ کسی سماج کا قائم رہ پانا بالکل غیر ممکن ہے، نفرت سے بھرا پرا سماج ایک ایسا بدہونق راکھشس ہے جو لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے ایک روز انہی کے اندر دھنس جائے اور اپنی تمام تر قابل فخر تہذیبوں اور مذاہب کے ساتھ کبھی زمین پر دوبارہ تازہ سانسیں لیتے ہوئے نہ ابھر سکے۔ہمیں زندگی کے نئے اور بالکل متضاد بیانیوں کو نہ صرف خود کو سننے کے لائق بنانا چاہیے بلکہ اپنے پرانے رسم و رواج اور ثقافتوں پر سخت سے سخت تنقید کو غور سے سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ضروری نہیں ہے کہ وہ لوگ جنہیں ہم روشن دماغ کہا کرتے ہیں، ہمیشہ ٹھیک بات ہی کہیں، مگر ان کی بات سننے اور انہیں سمجھنے سے تازہ ہوا کے راستے پیدا ہوسکیں گے اور ہم سیلن اور گھٹن زدہ سوسائٹی میں گل سڑ اور پچک کر مرجانے سے بچ سکیں گے اور اس کی ابتدا ہوتی ہے اس عملی قسم کی معمولی سی تبدیلی سے، جس میں بغیر کسی جبر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے والے ایک نوجوان جوڑے کو دیکھنے کے لیے ہم اپنی آنکھوں کی تھوڑی سی تربیت کرسکیں۔

خیر، یہ تو بات ہوئی مخالفت کرنے والوں کی۔اب موافقت والوں پر بھی کچھ بحث ہوجائے۔ویلنٹائن ڈے،ایک لائق ستائش نظریہ محبت کو ہماری جھولی میں ڈالتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی اتنی تنگ نہیں ہوئی ہے کہ ہم محبت نہ کرسکیں۔مگر یہ ہرگز ضروری نہیں کہ محبت کا کوئی جامد یا روایتی تصور ذہنوں میں پیدا کرکے اسے خود پر طاری کرلیا جائے۔محبت ہم میں ہوتی ہے، یہ ہماری صفت ہے، ہمارا وصف ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ فلاں محبت ناکام ہوئی تو پھر ساری زندگی نہ ہوپائے گی یا پہلی محبت کی بات ہی کچھ اور ہوا کرتی ہےوغیرہ وغیرہ۔یہ ساری باتیں سر آنکھوں پر مگر سوچ کر دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے، انسان ناامیدی اور مایوسی کے دامن سے باہر نکل کر نئی دنیائیں آباد کرلینے کے ہنر کا دوسرا نام ہے۔ایک ایسا سماج جو محبت کے حاصل نہ کرپانے پر تیزاب پھینک دینے کی نہایت سفاک حرکت پر اتر آئے، محبت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اپنے آس پاس موجود زندگیوں پر نگاہ ڈالیے، معلوم ہوگا کہ محبت کے نام پر ہم نے ضدی اور پاگل لوگوں کی بے وقوفانہ تربیت کی ہے، یہ لوگ اپنی محبوبائوں کی مرضی کا خیال نہیں کرتے، ان کے انکار کی عزت نہیں کرتے، ان کو بدکردار ثابت کرتے ہیں، ان کو لعن طعن کرتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے ہیں اور اتفاق سے اگر وہ انہیں حاصل ہوجائیں تو ساری زندگی بے عزت کرتے ہیں، انہیں ان کی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک سے گزارتے ہیں، راتوں کو بیوی کا نام دے کر جبرا ان کے ساتھ سیکس کرتے ہیں اور اپنی ایک غیر سنجیدہ اور ناکام حسرت کو مستقل محبت کا نام دیتے چلے جاتے ہیں۔اس سے بہتر ہے کہ ایک ایسا سماج تشکیل دیا جائے جس میں ایک سے زیادہ محبت جرم نہ ہو، ساتوں جنم والے کسی رشتے کا تصور نہ ہو اور کسی کو حاصل کرلینے کے نظریے پر از سر نو غور کیا جائے اور لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ انسان، کبھی کسی دوسرے انسان کو مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتا اور ایسا سوچنا بھی کسی کی آزادی ، اس کی زندگی اور اس کی خواہشات پر قدغن لگانے جیسی بات ہے، حاصل غیر جاندار چیزیں کی جاسکتی ہیں، زندہ اور متحرک چیزوں کو حاصل نہیں کیاجاسکتا، بس ان کے ساتھ وقت گزارا جاسکتا ہے اور وہ بھی اس وقت تک، جب تک وہ چاہیں۔ہمیں محبت کے اس خاص دن پر اپنے احتساب کی سخت ضرورت ہے۔

لڑکے ہوں یا لڑکیاں، محبت میں ایک دوسرے کو اپنی پراپرٹی گرداننے لگتے ہیں، میں نے اپنے کئی دوستوں کو موبائل سے ہسٹری ڈیلیٹ کرتے دیکھا ہے، لڑکیوں کو چھپ چھپا کر بات کرتے دیکھا ہے،لڑکوں کو لڑکیوں پر اور لڑکیوں کو لڑکوں پر یہ حکم چلاتے دیکھا ہے کہ تم فلاں سے نہیں ملو گے، فلاں وقت کے بعد گھر سے باہر نہیں جائو گی، ایسے کپڑے پہنوگے یا ایسی جگہوں پر نہیں جائو گی۔یہ سب احکامات محبت کی تردید کرنے والے ہیں۔ہم اپنی Insecurityکو بعض دفعہ بڑی خوبصورتی سے ایسے جملوں میں ڈھالتے ہیں کہ ‘میں تو فلاں کا دھیان رکھتا/رکھتی ہوں ‘ یا ‘ وہ بے چارہ/بے چاری دنیا کو نہیں سمجھ پاتا/پاتی’۔یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔اس میں غلطی ہماری بھی نہیں ہے، برسوں سے ہماری کہانیاں، ہمارے ڈرامے، ہمارے اساطیر ، ہمیں اس جذبے کے ایک ایسے رخ کا دیدار کراتے رہے ہیں، جس میں محبت کے نام پر جلن، اندیشوں اور جنگ تک کے تصورات وابستہ ہیں۔ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم کوئی متبادل راستہ بھی تلاش کرتے اور دیکھتے کہ دنیا اس راستے پر چل کر کن منزلوں تک پہنچتی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ محبت کرتے ہوئے کسی طرح کا اندیشہ نہ پالنے والے شخص کے لیے ہماری زبانوں میں کوئی لفظ ہی نہیں ہے اور اگر اس قسم کے کسی بے نیاز شخص کے لیے کوئی لفظ عربی وغیرہ میں ہے بھی تو دیوث جیسی گالی ہے، جسے اردو میں آپ بھڑوا یا دلال کہہ سکتے ہیں۔

ہم نے محبت کی مخالفت اورموافقت دونوں معاملات میں انتہاپسندی کی بھی حد کردی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسا سماج بنایا جائے جو ہماری مرضی کے مطابق ہو اور جس میں ہمارے لیے مختلف قسم کی سہولتیں میسر آسکیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے آفت جان بن کر ، ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ،زرد بوسوں اور کالے پڑتے ہوئے رشتوں کو محبت کا نام دیتے ہیں اور آواز بھی بلند کرتے ہیں تو ایسی ہی محبت کا حق وصول کرنے کے لیے۔میرے خیال میں دونوں سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔

Categories
فکشن

محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ پہلے جو کچھ سیکھا سکھایا تھا، سمجھاسمجھایا تھا وہ سب اب میرے کسی کام کا نہیں تھا۔یعنی آپ یہ سمجھیے کہ تہذیب کی حروف تہجی کا علم اگر نکال دیں تو میں بعض اوقات اپنی پوشاک اور علیک سلیک سے بھی بغاوت پر اتر سکتی تھی۔دل کبھی مایوس ہوتا تو اتنا بیٹھنے لگتا جیسے ہتھیلی پر امید کی کوئی لکیر ہی نہ بنی ہو، خوش ہوتی تو اس قدر چہچہاتی جیسے تمام دنیا کو اسیر کرلیا ہو، چاند سورج مسخر کرلیے ہوں، دریائوں، سمندروں اور آسمانوں کو اپنا مطیع کرلیا ہو۔میں وقت کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز سے جو مجھے سونپی گئی تھی، کچھ بیزاری محسوس کرنے لگی، تعلیم، تہذیب،مذہب اور یہاں تک کہ دوست احباب، جو انسان کی تنہائی اور اداسی کا آخری سہارا سمجھے جاتے ہیں۔میرا اندرون کچھ بدل رہا تھا، کیا کروں، کسے دکھائوں۔ایک سخت گیر مذہبی معاشرے میں پروان چڑھنے کے باوجود میں دوسروں کی طرح کیوں نہیں ہوں۔میری شادی گھروالوں نے ایک لڑکے سے طے کردی تھی، جب کبھی میں چھٹپھٹا کر امی سے اس بات پر احتجاج کرنا چاہتی تو وہ مرحوم ابو کا حوالہ دے کر مجھے جذباتی طور پر قائل کرنا چاہتی تھیں، مجھ جیسی بگڑیل گھوڑی کے لیے شاید ان کے آنسو ہی لگام کا کام کرسکتے تھے۔میں چپ ہوجاتی اور وہ یہ سمجھتیں کہ میں مان گئی ہوں۔کوئی بہت بڑا دکھ نہیں تھا یہ کہ میں اس شخص سے شادی کروں، جسے میری ماں نے میرے لیے منتخب کیا ہے۔مگر میں اس شخص میں اپنا بدلا ہوا روپ منتقل کرسکتی تھی، میں اسے اپنے اندرون کی بھیانک تبدیلیوں کا گواہ نہیں بناسکتی تھی۔میں ایک پاکباز سماج میں اپنے خوابوں کے بدن سے جمپر ہٹادوں تو سب دیکھ سکیں گے کہ میں ایک فاحشہ ہوں، گندی خواہشیں رکھنے والی، ناجائزرشتوں کی تلاش میں گھومنے والی، بدتمیز اور بداطوارفاحشہ۔جسے خود پر رونے کی اجازت نہیں ہے۔میں ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی، جو مجھے ننگا دیکھنے کی ہمت رکھتا ہو۔صرف مجھے ہی کیا، میرے جلتے ہوئے سانسوں کی خونی خواہشوں اور بدکردار سوچوں کی تپش کو مسکراتے ہوئے اپنی زبان پر اکیر لے۔یہ سب ناممکن تھا، اس سخت گیر مذہبی معاشرے میں تو کیا۔کہیں بھی ممکن نہیں تھا۔کہانی کا مصنف سمجھتا ہے کہ وہ مجھے جھیل لے گا، میرے بدن کی تپتی ہوئی بد آموز اور بدہیت خواہشوں کو خوشی خوشی اپنی آنکھوں اور رانوں کا گواہ بنالے گا لیکن میں مشکوک ہوں اس کے معاملے میں بھی۔وہ بھی ایک مرد ہے، اور دنیا کا ہر مرد عورت کو اپنے جسم کے چھلکے میں قید کردینا چاہتا ہے اور اس کی لذت سے اپنے سوا کسی کو بھی آگاہ نہیں کرنا چاہتا۔

زبیر چلا گیا، اس کی شادی ہوگئی۔لیکن میں رات کے جھروکوں سے اب بھی اپنی امید کے چاند کو دیکھنا نہیں بھولی تھی۔کبھی کبھی یونیورسٹی ہاسٹل سے رات کے تین بجے میں سرد کہرے میں باہر نکل جایا کرتی۔میری جلد کو ٹھنڈا اور سفید دھواں اپنی گرفت میں لے لیا کرتا تھا۔میں ہاتھوں سے آنکھوں کے دائرے پر موجود دھوئیں کی اجلی لکیروں کو کاٹ کر سامنے بنے ہوئے چھوٹے سے پارک کی بینچ ڈھونڈتی اور اس پر بیٹھ جاتی۔اسی کے سامنے ایک درخت تھا، یہ درخت میری گونگی تابناکیوں اور اندھی خواہشوں کا گواہ تھا۔میں اس کی آبنوسی چھال اور اس کے گرد لپٹی ہوئی ایک موٹی شیشم کی آنت سے گھنٹوں محو گفتگو رہتی۔وہ مجھے دیکھتا اور سوچتا کہ کاش میں آدمی ہوتا، ایک ایسا آدمی جس کو صبا کے بدن کی حدت کا سکون میسر آسکتا اور جو یہاں رات کے کالے اکھاڑے میں کھڑا سفید ٹھنڈ سے یوں بے فائدہ کشتی میں مصروف نہ ہوتا۔میں اس کے بالکل برخلاف سوچا کرتی تھی، بلکہ اس سے کہا بھی کرتی کہ میں ایک لڑکی ہونے کے بجائے اس پتھریلے اور کاٹ دار معاشرے میں ایک بودا پیڑ ہونا زیادہ پسند کروں گی، جو اپنی خاموشی کی لپیٹ میں کسی محبوب درخت کو زمین کے اندر اندر جڑوں کے مضبوط پنجوں میں جکڑ لینے کا روادار تو ہوسکتا ہے۔میں پیڑ ہوجانا چاہتی تھی، چاہے بودا ہی سہی، کمزور ہی سہی، ہوا کے تیز جھونکے میں اکھڑ جانے والا ایک پتلا دبلا درخت۔مگر شاید قدرت کا طریقہ یہی ہے، وہ ہماری دشمن ہے۔وہ ہمیں ویسا بناتی ہے، جیسے ہم نہیں ہونا نہیں چاہتے۔میری ننگی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہوا سفید دھواں، میری ناک کی سرخی اور نتھنوں کے تیزابی سبز پانی سے عجیب سی بحثوں میں مصروف ہے۔یہ نہ سمجھ میں آنے والی بحث میرے ماتھے کا درجہ حرارت بڑھا دیتی ہے اور میں اپنی ننگی بانہیں لیے ہوئے آگے بڑھ کر بھوکے پیڑ کی موٹی آنت پر ہاتھ پھراتی ہوں۔اف۔۔۔کتنی تیز للک ہے اس پیڑ میں، اس کی چیخ سے میرے بدن کی ننھی جڑوں میں دھڑکتا ہوا گرم لہو اچھال مارنے لگتا ہے۔میں ایک نکیلا پتھر اٹھا کر اس کے بدن پر بڑا سا صاد بنادیتی ہوں۔پھر اس صاد پر اپنے گرم گلابی ہونٹوں سے بوسہ دے کر وہاں سے ہٹنے لگتی ہوں، یہ کیا۔۔۔ایک فی میل گارڈ بڑی حیرت سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔اس کے نینوں پر بھی اوس نے ٹھنڈی جالیاں تان دی ہیں، وہ ان جالیوں سے نکل کر، انہیں چھاٹ کر میرا چہرہ پہچاننے کی کوشش کرتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مجھے جان لے، میں وہاں سے چھو ہوجاتی ہوں۔

میرے خاندان میں صرف ایک صاحب ایسے ہیں، جن سے مجھے امید ہے کہ وہ مجھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ میرے بہنوئی ہیں، ان کا نام تو آدرش ہونا چاہیے، مگر لوگ انہیں عقیل کے نام سے جانتے ہیں۔آدرش کے نام سے انہوں نے اپنی کچھ ٹوٹی پھوٹی تحریریں لکھی ہیں، کتنا اچھا نام چنا ہے لکھنے کے لیے، حالانکہ یہ لفظ اپنے معانی کے ساتھ اتنا زیادہ متاثر کن نہیں ہے، مگر مجھے سننے میں ہمیشہ اتنا ہی خوبصورت معلوم ہوتا ہے جتنی کوئی نہ سمجھ میں آنے والی نظم یا پینٹنگ، غیر مانوس شخصیت، اجنبی جگہ یا ناقابل فہم جادو۔خیر، وہ لکھتے ہیں، یعنی ادب تخلیق کرتے ہیں، کہانیاں۔۔۔اف ! کہانیاں مجھے کتنا متاثر کرتی ہیں،کاش میرے پاس یہ قوت ہوتی کہ میں مختلف کہانیاں پڑھ کر اپنے من پسند کرداروں میں خود کو ڈھال کر انہیں جی سکتی۔میں بہت سے کردار ادا کرتی، بہت سی مٹیوں کی گود سے اٹھنے والی مہک کے دامنوں میں پناہ لیتی اور سرحدوں اور زمانوں کی قید سے آزاد ہوکر کہانیوں کے دور میں جی سکتی۔کبھی جے گیٹسبی بن جاتی، کبھی ڈیوڈ کوپر فیلڈ، کبھی نستاسیا فلوپوونا، کبھی گوتم نیلمبر۔الغرض، ہواوں میں اڑتی پھرتی۔میں اس معاملے میں اتنی ہی مجبور تھی جتنی کہ میرے کمرے کے باہر پارک میں موجود وہ موٹا اور بھوکا درخت۔ہم دونوں اپنی زمین چھوڑ کر ،اپنی جون بدل کر کچھ اور ہوجانے پر قادر نہیں تھے۔خیر، ایسا بھی نہیں کہ میں بالکل ہی مجبور ہوں، میں بدلتی رہی ہوں، میں نے ڈائری لکھنا بالکل ترک کردیا ہے۔حالانکہ میری ڈائری کون سی اینی فرینک جتنی مشہور ہوجاتی، مگر میں اسے لکھتی تھی۔میرا ارادہ تھا کہ ایک روز میں اسے شائع کروائوں گی، مگر پھر پتہ نہیں وہ کہاں گم ہوگئی۔میں ڈائری کو تاریخ، دن یا مہینے کے حساب سے نہیں لکھتی تھی، بلکہ میری ڈائری میرا خفیہ ہتھیار تھا، اس زمانے میں میں نے اس میں کچھ چھوٹے موٹے وظیفے لکھے تھے، کچھ شعر اور پھر بعد میں کچھ اچھے نثری نمونوں کو بھی ان میں شامل کیا تھا۔پھر میں نقل کرنے سے تنگ آگئی اور میں نے اول جلول شبدوں میں ہی سہی، اپنی بات لکھنی شروع کردی۔ہائے کیا زمانہ تھا، میں ہر ایک بات پر تنقید کرنے کی کوشش کرتی تھی۔۔میری عقل کا چشمہ باریک نہیں تھا، میں بس چاہتی تھی کہ ہر بات کو کسی دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کروں۔امی کہتی تھیں کہ جلدی سوجائو تو ڈائری میں اس کی مخالفت درج کرتی۔شلوار ٹھیک کرو، ایسے بیٹھو، ویسے کھائو، ادھر مت جائو، لڑکوں کے ساتھ مت کھیلو اور بھائیوں کے ساتھ چوما چاٹی نہ کرو۔ان سب باتوں کے خلاف میں نے اس میں لکھا، کیا آپ یقین کریں گے اگر میں آپ کو بتائوں کہ میں نے اپنی ڈائری میں ایک روز امی کے شیر خرما بنانے کے طریقے پر بھی تنقید کی تھی۔وہ شیر بہت میٹھی کردیا کرتی تھیں، ہمارے مرحوم ابو پیار سے چھیڑتے ہوئے انہیں کہتے’لگتا ہے تم نے شکر کو کفگیر سے نہیں، اپنی انگلیوں سے گھولا ہے۔’

شاید اس دن کے بعد میں نے ڈائری لکھنی بند کردی تھی۔اس شرم میں کہ میں تنقید کی کتنی عادی ہوگئی ہوں۔نہیں۔۔۔مگر اس واقعے کے بعد نہیں، ایک واقعہ اور ہوا تھا۔ابو کے سانحہ ارتحال کے بعد سب لوگ گھر میں جمع تھے۔امی بے سدھ تھیں اور بہنیں خاموش۔ایسے میں پتہ نہیں کب میرے جی میں آئی کہ میں رونے دھونے کی متحمل نہیں ہوسکتی، خاموشی اور مایوسی کا بھی ڈھونگ نہیں کروں گی۔جو مایوسی میرے اندر ہے، اس کی گھنیری طاقت مجھ سے یہ منوانے پر راضی ہوگئی تھی کہ میرے والد اس دنیا میں ٹھیک ویسے ہی نہیں ہیں، جیسے بہت سی لڑکیوں کے نہیں ہوا کرتے۔حالانکہ میں غمگین تھی اور اب بھی کبھی کبھی ان کی یاد مجھے اپنے دکھ کے حصار میں ڈھانک لیتی ہے مگر میں اور معاملوں کی طرح اس میں بھی عقلی طور پر سوچنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہوں، میں بھی تو مرہی جاوں گی اور کیا پتہ کسی بیماری یا کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاوں۔دونوں صورتوں بلکہ طبعی قسم کی موت میں بھی مجھے اس مرحلے سے آزادی تو نہیں ملنی، پھر میں یہ سب کچھ کیوں سوچوں اور محض دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ مجھے اس وقت خاص ہمدردی کی ضرورت ہے، اپنا منہ کیوں بسور لوں۔میں نے ڈائری میں یہ سب کچھ لکھا اور پھر پتہ نہیں ڈائری کہاں رکھ دی۔مجھے شک ہے کہ میری بہن کے ہاتھ وہ ڈائری لگ گئی تھی، حالانکہ اس نے کبھی ایسا مجھ پر ظاہر نہیں کیا، مگر وہ اکثر مجھے انسانی رشتوں اور تہذیب و اخلاق کے تعلق سے جو بنیادی اسباق کے گھول پلاتی ہے، اس سے مجھے یہ شک ضرور ہوتا ہے۔بہرحال وہ ڈائری کھو گئی۔ڈائری نہ بھی کھوتی تو مجھے اپنے سنگدل ہونے کا مسلسل افسوس ہوتا اور کیا پتہ میں کسی رات کو اس پیڑ کی ننھی کھوہ میں جاچھپاتی۔

دوپہر تک میں نے ناشتہ نہیں کیا،اور سوچتی رہی کہ کیا کھاوں، میں اکثر برنچ کرلیا کرتی ہوں۔کیمپس کی زندگی ہی ایسی ہے۔جتنی آزادانہ اتنی ہی منحوس۔جتنی اچھی، اتنی ہی خراب، جتنی سرخ، اتنی ہی سیاہ۔الغرض میں باہر نکلی اورایک ڈھابے پر جاکر کچھ کھاپی لیا۔۔۔۔کندھے پر ایک نیلا بیگ ٹنگا تھا اور میں جھولتی ہوئی ننگی بانہیں ہاف سلیو شرٹ سے باہر نکلی ہوئی ٹھنڈ کو اب بھی منہ چڑا رہی تھیں، حالانکہ دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی، مگر بہت مریل سی، پیڑوں پر کچھ انجان چڑیائیں لوک گیت گاتی محسوس ہوتی تھیں۔آگے پکی سڑک پر دو کتے دھوپ میں لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔میں نے دور سے آتے ہوئے وقاص کو دیکھا، وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تھا۔میں بددل ہوگئی، آج کل اسے دیکھنے کا میرا بالکل جی نہیں چاہتا تھا۔حالانکہ ابھی پچھلے سال تک میں اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر فوٹوزکھنچواتے نہیں تھکتی تھی۔

وقاص اپنے سیاسی کیرئیر کے لیے سرگرم تھا۔یونیورسٹی میں اسے کافی مقبولیت حاصل ہورہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں بھی میرے اندرون کی تبدیلی بہت حد تک چبھنے لگی تھی۔وہ بھی میرے معاملے میں عام مردوں کی سی حسد رکھنے والا ایک عجیب و غریب محبت کا نمونہ بن کر پیش آتا تھا۔شاید اسے بھی سینکڑوں لڑکوں کی طرح لگتا ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ حسد کے جذبے سے لڑکیوں کو متاثر اور مطیع کرسکتے ہیں، مگر میں اس کی توقعات پر پوری نہیں اتری تھی، وہ قدیم آریائی ثقافت کے ایک پروہت کی طرح معلوم ہوتا تھا، اس کا چہرہ ہڈیوں کے ابھار سے کچھ سخت ہوچلا تھا، کھال پر جگہ جگہ بالوں کے گچھے اگے ہوئے تھے اور وہ ان بے طرح اور بے مصرف گچھوں کو داڑھی مونچھ کہا کرتا تھا۔حالانکہ ابھی کچھ وقت پہلے مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا، مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب شاید۔۔۔۔آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔اس نے میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا تو میں جواب میں مسکرادی، مجھے معلوم تھا کہ وہ اسی طرف آرہا ہے، میں نے گھوم کر اپنے ہاسٹل اور کیمپس کے بیچ حائل لال اینٹوں کی دیوار کو دیکھا، وہی پرانا او ربھوکا پیڑ اپنی ڈالیوں پر مایوس چہرہ لیے مجھے ڈھلتی بڑھتی دھوپ میں چکن کے ریشے چباتے ہوئے غور سے دیکھ رہا تھا۔
Image: Gyuri Lohmuller

Categories
شاعری

آدمی قید ہے

آدمی قید ہے

وقت میں، خون میں، لفظ میں

آدمی قید ہے

 

آدمی کا نہیں کوئی پرسان حال

دیوزاد طرب سے خدائے شبستان غم تک نہیں

دار کی نوک سے

آبنوسی تفکر لٹاتے قلم تک نہیں

آدمی کا لہو،بے نشاں، نوحہ خواں

آدمی کا سفر رائگاں، بے اماں

بستیوں میں ہیں آباد

سب بے کفن آدمی بے پیرہن آدمی،

اور ان کے تعفن زدہ ذہن میں زندگی قید ہے

آدمی قید ہے

 

مذہبوں کے علمدار، شب کے پرستار یہ آدمی

سرحدوں کے نگہدار یہ آدمی

اک طلسم سیہ پھونکتے خواب کے زیر منقار یہ آدمی

بے یار، بے کار یہ آدمی

اپنی تقدیس کا بوجھ کاندھوں پہ لے کر

اپنی تاریخ کا درد آنکھوں میں لے کر

موت کے ہیں طلبگار یہ آدمی

بھاگتے دوڑتے آدمیوں کے ریوڑ میں

ہونٹوں کی آہستگی قید ہے

 اپنے ہی شہر کو بھسم کرتی ہوئی آگ میں روشنی قید ہے

آدمی قید ہے

 

آدمی سے کہو

موت نزدیک ہے

آدمی سے کہو،راہ تاریک ہے

آدمی سے کہو،وہ جو کچھ کررہا ہے، نہیں ٹھیک ہے

آدمی سے کہو

اپنے جلتے گھروں کی حفاظت کرے

اپنے بیمار ہوتے ہوئے موسموں کی حفاظت کرے

اپنی تاریخ کو چھوڑ دے، اپنے مستقبلوں کی حفاظت کرے

آدمی سے کہو

وہ گزرتے ہوئے اور گزرے ہوئے وقت کے درمیاں

آج بھی قید ہے

آدمی قید ہے

Image: Arshile Gorky

Categories
شاعری

محبت کی نظمیں (حصہ اول)

[blockquote style=”3″]

محبت کی نظمیں کسی کے عشق میں گرفتار ہوکر لکھی جاسکتی ہیں۔ یہ نظمیں پچھلے پندرہ بیس دنوں میں فیس بک پر دیوناگری میں پوسٹ کرتا رہا ہوں، اردو میں اب تک کی پوسٹ شدہ ساری نظمیں لالٹین ویب سائٹ پر شائع ہورہی ہیں، یہ بے ترتیب نظمیں ایک لڑکی سے عجیب و غریب قسم کے کہر آمیز رشتے کی دین ہیں، جس کو میں محبت کا نام دے رہا ہوں۔ چنانچہ جب یہ کتابی صورت میں شائع ہونگی تو اسی کے نام انہیں انتساب بھی کیا جائے گا اور ٹائٹل کور پر اسی کی تصویر بھی آراستہ کی جائے گی۔ ابھی تک پچاس کے قریب یہ نظمیں لکھی جاچکی ہیں، جو اسی بیاسی تک پہنچ کر کتابی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ (تصنیف حیدر)

[/blockquote]

(1)

رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
جیسے سرخ پانیوں میں
سبز پرندوں کا عکس ہو
اس کے لبوں سے لفظ یوں جھڑ رہے تھے
جیسے جھرنوں سے سفیدی
دلوں سے درد
اور بہت جاگی ہوئی آنکھوں سے
خمار ٹپکتا ہے
٭٭٭

(2)

برق ایک بدن کا نام ہوسکتا ہے
ساون دو آنکھوں کا مکین بن سکتا ہے
ابرقوں کی طرح ہتھیلیوں سے شرارے پھوٹ سکتے ہیں
ونڈ چائم ایک ہنسی میں تیر سکتی ہے
تھاپ کو ہونٹوں کی جنبش سے بھی پیدا کیا جاسکتا ہے
سرگم، سروں کی مالا اتار کر لفظ کا زنار پہن سکتی ہے
دھوپ سائبان بن سکتی ہے
دکھ مہربان لگ سکتا ہے
عقل حیران ہوسکتی ہے
اور محبت
سناٹے کے پسینے سے تربتر
سنہرے صحرائوں کے سینے پر
زخم کے بجائے پھول بھی کھلا سکتی ہے
٭٭٭

(3)

تمہاری
ناراضگی
جھپکی کی طرح
پیدا ہوتی ہے
سرد رات میں لمبی اور
سنسان سڑک پر
سواری دوڑاتے ہوئے

قصاب کی دوکان میں
لکڑی کے گول ٹھیہے پر
انگلیوں کے پاس سے
گزرتے ہوئے
دھاردار چھرے کی طرح

آندھی میں کسی
شاخ سے لپٹے ہوئے
پتے کی مانند

اور
اس وقت کی مثال
جو حسرتوں کے بادلوں
میں لپٹی ہوئی چاندنی رات
بن کر نازل ہو
٭٭٭

(4)

محبت میں کبھی
ایسا بھی ہوتا ہے
کہ آس پاس لیٹے
دو انتہائی ننگے بدن
خواب کے
زخم دکھ جانے کے ڈر سے
ایک دوسرے کی آنکھوں پر
ہاتھ رکھ دیتے ہیں
٭٭٭

(5)

باتوں کو
کسی رشتے کی بنیاد
ماننے والی لڑکی
کل رات
بہت خاموش تھی
٭٭٭

(6)

محبت میں غلط فہمیاں
پیٹھ پر
اجالوں کا بوجھ اٹھائے
سینے پر
اندھیروں کا زخم سجائے
دور سے دکھ جاتی ہیں
خلائوں میں
تیرتی ہوئی ان غلط فہمیوں
کا دوسرا نام امید ہے
اور اس امید کا پیرہن
پیچھے سے جل رہا ہے
اور
آگے سے برس رہا ہے
٭٭٭

(7)

خوبصورتی میں اس کی
مثال ڈھونڈھنا
ممکن نہیں

کیوں کہ وہ
کتابوں کی سیلی پر
سجی مہک ہے
سمندری لہراتوں سے
تراشا ہوا
سرمئی پتھر ہے
سرد راتوں میں
سلائڈنگ سے نظر آتی
ہلکی نیلی چمک ہے
چٹخارے کے ٹھیک درمیان
پیدا ہونے والا رس ہے

پھر بھی
اس کافر کو
میرے اس یقین پر
شک ہے
کہ وہ قدرت کی
سب سے حسین تخلیق ہے
٭٭٭

(8)

میں
تمہارے سرمئی سینے پر
اپنی انگلیوں سے
لمس کی وہ دھاریاں بنانا چاہتا ہوں
جنہیں وقت
سانسوں کے دھوئیں سے اتنا سرخ کردے
کہ تمہاری گردن سے رانوں تک
پھیلے ہوئے تاروں میں
میری خواہش کے
گرم سیال کے علاوہ
اور کچھ نہ بہے

میری کروٹوں میں
چٹختی ہوئی دوپہریں
تمہارے جسم کی ان
سرد سسکیوں تک
پہنچنے پر آمادہ ہیں
جن کا رازدار ہوجانا
کانوں کی معراج ہے

وہ دن دور نہیں
جب تصور کا دم
بھرنے والی
دمے کی شکار محبت
تمہارے جسم کے سانولے
عرش تلے لیٹی
تازہ سانسیں لے رہی ہوگی
٭٭٭

(9)

محبت کو
اتنا ہی بے خوف ہونا چاہیے
جتنے سفاک
قدموں سے بھری
اس دنیا میں
مہین کیچوے ہوتے ہیں
٭٭٭

(10)

تم نہیں دیکھ سکتے
اس کو اداس
کیونکہ وہ
ایسے میں
نظر آتی ہے
سبز پہاڑی فرش
اور
تاروں بھرے آسمان
کے بیچ موجود
کسی بینچ پر بیٹھے
تنہا انسان جیسی
٭٭٭

(11)

جب کہا جاچکا ہے
کہ دروازہ بند ہے
جب بتایا گیا ہے
کہ سامنے دیوار ہے
جب لکھا ہوا ہے
کہ آگے راستہ نہیں ہے

پھر یہاں رکنے کا مطلب
پالی ہوئ مایوسی
اور بوئے گئے
افسوس کے سوا کچھ نہیں

تم کیکروں کے بیچ
موجود پانی کی
گونجتی ہوئی لہر نہیں ہو
جس کے نصیب میں
ایک لمبا اور سنہرا راستہ ہو
بغیر رکاوٹ والا
٭٭٭

(12)

وہ ایک کتاب ہے
جسے
حرف بہ حرف
پڑھنے کی میری خواہش

آئنوں کے دل
ہوا کے رقص
اور
رات کے دھندلے سناٹے میں

پہلے سے موجود تھی

مگر ہم سب
صدیوں سے
اسکا چہرہ پڑھے جارہے ہیں

جو تابناکی کا
شہر ہے
سوندھے موسموں کا بازار ہے
نمکین پھولوں سے لدی ہوئی
شاخ ہے
٭٭٭

(13)

ان آنکھوں کی بات نہ کرنا ورنہ نیند نہیں آئے گی

تاروں کے ہمراہ جگیں گے پیتل کے تالاب
ہونٹ کی دھرتی سے پھوٹیں گے شبدوں کے برفاب
جلتا رہے گا رات گئے تک دل کا یہ تنور
شہر کی رات میں خواب لکھے گا سناٹے کا نور
آسمان کی مانگ میں نیلے پانی کا سندور
پنکھے کے بلیڈوں سے رقص اگاتی اک آواز
ڈیسک ٹاپ کے کاندھے پر تنہائی نیم دراز
دیواروں سے ناک رگڑتے گیتوں کے یاجوج
ایک اداس خوشی کے میداں میں سینے کی فوج
اس کی آنکھیں دنیا بھر کے زخموں پر مرہم
سب سے اچھا دنیا میں ان آنکھوں کا موسم
دنیا والو! ان آنکھوں میں ڈوب گئے ہیں ہم
ہم کو کیسا غم
٭٭٭

(14)

جب ایک شاعر
تم سے محبت کرے
تو لازمی ہے
کہ تم قافیوں کی پازیب پہن کر
ذہن کی بے آرام چھتوں پر
رقص کرو
حرف اور لفظ کے بیچ
موجود خلا میں
ٹانگی گئی وقت کی کنجی
اپنی رانوں میں چھپا لو
اور شاعر کی زبان
کھال کی
گرم پرتوں پر لہریں اگاتی ہوئی
تمہارے جسم کے
ان ہلکے سیاہ ہونٹوں تک پہنچ جائے
جو بولنے کے لیے نہیں
دھڑکنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں
٭٭٭

Categories
شاعری

نظم (تصنیف حیدر)

خودکشی حرام نہیں
بلکہ موت کو پالنے پوسنے والوں کا
اس پر مکمل ایمان ہے
جسم کے کچرہ گھروں میں
سڑتی ہوئی خواہشوں کی لاشیں
ہڈیاں اگلتا ہوا متعفن گوشت
بھبھکے چھوڑتی ہوئی حرارت
ٹوپیوں میں دفنائی ہوئی عقل
داڑھیوں سے جھانکتی ہوئی ستر
گھگھیاتی ہوئی جوان لڑکیوں کا خوف
بسورتے ہوئے بچوں کا نکلتا ہوا پیشاب
توند جھلاتی پاکباز عورتوں کی کسی ہوئی چھاتیاں
شرمگاہوں پر لٹکے ہوئے بڑے بڑے تالے
اور ان کی نقلی چابیاں تیار کرنے والے مولوی
تاریخ کے بیوپاری اور مردوں کے پجاری
چلے کاٹتی ہوئی سفید پوش لاشیں
موت کی تیاری کے آہنی انجکشن لیے ہوئے
پھٹی ہوئی آستینیں
خون آلود تہوار
شہید ہوجانے کی جلد بازی اور
مایوسی پر کفر کی ایک مضحکہ خیز مہر
خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے

Image: Safa Al-Rubaye

Categories
فکشن

زمینی اور آسمانی خواہشوں سے گندھی لڑکی

یہ آج سے قریب دس سال پرانا قصہ ہے، شاید اسے دس برس پورے ہوگئے ہیں یا نہیں ہوئے۔البتہ میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں ایک چار ایپی سوڈ پر مشتمل مختصر سی فکشن سیریز کے لیے جموں روانہ ہونے والا تھا۔ہمارے ڈائریکٹر کو ایک عدد لڑکی کی تلاش تھی جو کشمیری معلوم ہوتی ہو اور جس کی اردو بھی ٹھیک ٹھاک ہو۔میرے دوست فیضان علی نے کہا کہ ان کی ایک کزن ہے، جو ان دنوں کام کی تلاش میں ہے ، وائسنگ کا اسے کافی تجربہ ہے ، غالبا ایکٹنگ بھی کرلے گی۔میں نے اس کی تصویر منگا کر اپنے ڈائرکٹر کو بھیج دی، مگر انہوں نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھالیے کہ یہ لڑکی کشمیری نہیں معلوم ہوتی، البتہ میزورم کی کوئی خوبصورت گڑیا جیسی لگتی ہے۔بات آئی گئی ہوگئی، مگر اس دوران اس لڑکی سے میری فون پر بات ہوئی تھی، اخلاقی طور پر مجھے برا محسوس ہوا کیونکہ وہ میرے اندازے کے مطابق اس سیریز کا حصہ نہیں بن سکی تھی،چنانچہ میں نے جموں جانے والی ٹرین میں بیٹھ کر اسے موبائل پر ایک پیغام بھیجا ، جس میں فارمل قسم کی معافی مانگی اور یہ امید جتائی کہ آئندہ ہم ضرور کسی دوسرے پراجیکٹ میں ساتھ کام کرسکیں گے۔آئندہ کا لفظ انسانی زندگی کا سب سے غیر یقینی اور مشکوک لفظ ہے، مگر کبھی کبھی یہ اپنے اندر لوہے سے بھی زیادہ استحکام رکھتا ہے، جس طرح شکست ہونی یا فتح ،ہوکر رہتی ہے، اسی طرح انسان کے تعلقات کا معاملہ ہے، آپ کہیں چلے جائیے، کسی سے ملنے کا ارادہ رکھیے نہ رکھیے، کسی کو قریب لائیے یا دور لے جاکر پٹخ آئیے، ذہن کی چمکتی کھڑکی پر محبت کی دھندلپیٹیے یا نفرت کا کہر جمائیے، جس سے جب تک تعلق رہنا ہے اور جس صورت بننا ہے، وہ بن ہی جاتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ اس جہان رنگ و بو میں سبز و سرخ قسم کی اس عجیب و غریب سانپ سیڑھی کے پھیر سے نکل جائیں۔کوئی سیڑھی پلک جھپکتے ہی آپ کو آسمانی مسند سے متعلق کردے گی اور کوئی سانپ دم کے دم میں آپ کو پاتال کی لاتعلقی کی سمت دھکیل دے گا۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ فاطمہ خان نامی اس لڑکی سے ملنے کی میری کوئی خواہش نہ تھی، لڑکیوں اور وہ بھی جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے ملنے کی خواہش کس کی نہیں ہوتی۔مگر مجھے امید بالکل نہ تھی کہ میں نہ صرف اس سے تعلق بناسکوں گا بلکہ اس کا تعلق میری زندگی کی سب سے گہری دوستیوں اور محبت کی علامت بن جائے گا۔اب محبت ایک طرفہ ہی سہی۔یہ تو طے ہے کہ فاطمہ خان نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی، اس نے شاید ہی کسی شخص سے محبت کی ہو، اس کا خمیر ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ وہ دنیا کے سود و زیاں کو جھیلتے جھیلتے محبت اور نفرت کے دائروں سے باہر نکل آئی ہے، وہ کوئی شاعر نہیں ہے جو آئیڈیل کردار تراشے ، ایک فرضی براق پر سوار ہو اور عشق کی معراج کے لیے نکل پڑے ، وہ ایک سمپل اور سادھارن قسم کی لڑکی ہے، جس کی خواہشیں زمینی بھی ہیں اور آسمانی بھی۔کسی بھی شخص کے بارے میں لکھی گئی کوئی تحریر دراصل اس شخص کی زندگی کا ایک زاویہ ہے، برٹرنڈ رسل نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ اگر کسی کمرے میں ٹیبل رکھی ہو اور چاروں طرف سے دھوپ اندر آتی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ہر رخ سے دھوپ اور ٹیبل کا منظر کچھ مختلف نظر آرہا ہے، یہی زندگی اور اس میں موجود کرداروں کی حقیقت ہے۔ہر آدمی، ہر آدمی کے لیے ایک جیسا نہیں ہے، اس لیے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ہر شخص کے لیے اپنی عقل کی عدالت میں ایک فیصلہ کرتے ہیں اورہمارے جسم ان فیصلوں کی حفاظت میں ساری زندگی کھپا دیتے ہیں۔فاطمہ خان کے بارے میں یہ تحریر اس کے لیے میرے دماغ کا فیصلہ ہے، اس فیصلے میں میرے تجربات ہی میرے شواہد ہیں، حالانکہ دماغ کی اس عدالت میں مجھے کسی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ یہ کہنے کی کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ ہی کہوں گا۔لیکن کوشش کروں گا کہ لفظ سے ایمانداری کا رشتہ قائم رکھ سکوں۔اور وہی کہوں جو میں نے دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا ہے۔

فاطمہ خان ایک مضبوط اعصاب کی لڑکی ہے، اس کے والد کا انتقال اس عمر میں ہوا جب لڑکیوں کو ہمارے معاشروں میں والد کے مضبوط اور گھنے سائے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اس کے والد ایک کسرتی بدن کے ، اونچی قد و قامت والے خوبصورت آدمی تھے، جنہیں ایک بے ضرر دکھنے والے بخار نے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔میں نے ان کی ایک ہی تصویر دیکھی ہے، وہ اپنی قدکاٹھی سے افغانوں سے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، تصویر اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی اسی بے نیازی اور بے قدری کے ساتھ گزارا ہوگا، جس طرح ان کے گیسو شانوں کو چھیڑتے ہوئے بے پروائی سے لہر بہر ہوتے نظر آتے ہیں۔فاطمہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے، والد کا انتقال جلد ہوگیا، ماں نے بڑی محنتوں سے دلی میں سیلم پور کی ایک زمین کو فروخت کرکے بیٹی کو وائسنگ کا کورس کروایا۔کورس کافی مہنگا تھا اور بالکل بے سود، کیونکہ فاطمہ کو اس کا سرٹیفکٹ تک نہ مل سکا۔فاطمہ کی والدہ سانولی رنگت والی ایک عورت ہیں، وقت نے ان کے اندر موجود نسوانیت کو کھروچ کھروچ کر محنتوں، مشقتوں کی پتیلی میں انڈیل دیا اور اب وہ ایک ایسے بنجر کی طرح دکھائی دینے لگی ہیں، جن کی دنیا اپنے اندرون سے بیرون تک صرف فاطمہ کی حفاظت اور محبت پر مامور ہے، جسے اپنی پھٹی ہوئی ایڑیوں، جھکتی ہوئی کمر اور مرجھاتے ہوئے جسم کی کوئی فکر نہیں رہ گئی۔ان کا سراپا بتاتا ہے کہ فاطمہ کی فکر کے ساتھ ساتھ، ان کے شوہر کا اچانک طاری کردیا جانے والا ہجر بھی ان پر کتنا گراں گزرا ہے۔وہ زندگی کی بہتی ہوئی سفاک دھاروں سے لڑنے والی ایک چٹان کی طرح اب بھی اپنے وجود کو لیے ساکت و جامد کھڑی ہیں ، مگر پانی کےنکیلے ناخنوں نے ان پر بہت سی خراشیں بھی ڈال دی ہیں۔

فاطمہ کا حسن دلفریب ہے۔وہ ہلکی فربہ اندام ہے، گورا چٹا رنگ۔ لمبے کالے بال، بھرا ہوا گول سینہ، کمر کی پھسلونی ڈھلوان اور پشت سے پچھلی ٹانگوں تک گوشت کی بالکل نپی تلی مقدار نے اسے حسن کے معاملے میں امیر ترین بنادیا ہے۔چہرے سے وہ ضرور شمال مشرقی بھارت کی ایک لڑکی معلوم ہوتی ہے،چھوٹی چھوٹی آنکھیں، کشادہ پیشانی، بھرے ہوئے گال اور پتلے پتلے گلابی ہونٹ۔قد اس کا درمیانہ ہے، نہ بہت لمبا نہ بہت چھوٹا۔آنکھیں لاکھ چھوٹی ہوں، مگر ان میں پھیلی ہوئی پتلی کی چمک ، دیکھنے والے کی روح تک کو نچوڑ لینے کا ہنر جانتی ہے۔وہ اپنے مزاج سے تھوڑی کرخت ہے، ہر کسی سے جلدی بات نہیں کرسکتی۔کتابوں کو جمع کرنے سے بہت دلچسپی ہے، نت نئی کتابیں، الگ الگ موضوعات پر اس کے سرہانے اونگھتی رہتی ہیں، مگر کیا فرق کہ وہ بوسیدہ ہوجائیں، پیلی پڑجائیں اور ان کے بدن میں کاہی رنگ کی مہین مچھلیاں رینگنے لگیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ فاطمہ کتابوں کو پڑھے بھی۔اسے ٹھیل ٹھیل کر کوئی کتاب پڑھوانی پڑتی ہے۔انگریزی سے اس نےآزادانہ طور پر ایم اے کیا ہے، جو شاید اب مکمل ہوگیا ہوگا۔اردو مگر اس کی بہتر ہے، زبان شستہ شائستہ استعمال کرتی ہے، اپنی روزمرہ کی گفتگو میں بہت سے ایسے اردو الفاظ میں نے اس سے سنے کہ میں بھونچکا رہ گیا کہ انہیں تو میرے خاندان میں بھی اس طرح استعما ل نہیں کیا جاتا ہے۔اس کی پیدائش دہلی میں ہی ہوئی ہے، مگر اس کی والدہ کا تعلق اترپردیش کے شہر رامپور سے نزدیک ایک علاقے شاہ آباد سے تھا، چنانچہ اس نے بھی بہت سا وقت وہاں گزارا۔والد کے انتقال کے بعد(جو کہ خالص دہلی والے تھے) اسے بھی بہت کڑے وقت سے گزرنا پڑا۔رشتہ دار بڑی عجیب بلا ہوتے ہیں، خاص طور پر ان لڑکیوں کے لیے جن کے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجائے۔اسے سمجھایا گیا کہ بارہویں جماعت تک کی تعلیم سکول میں پڑھانے کے لیے کافی ہے، ایک تو ریاست اترپردیش کے رشتے دار، اس پر مسلمان۔نہایت پچھڑی ہوئی ذہنیت کے مالک لوگوں سے اس کا سابقہ تھا، انہوں نے اسے پاکیزگی، خاندان، نسبت اور نہ جانے کتنے حوالوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر وہ کسی سکول میں پڑھانے کا مہذب پیشہ نہیں اپنائے گی تو بدنام ہوجائے گی۔سوال بدنام ہونے کا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے، سماج بدنام ہونے سے جن معاملات میں لڑکیوں کو ڈراتا ہے ، دراصل وہ انہیں بدنام کردیے جانے کی ایک کھلی دھمکی ہوتی ہے۔فلاں کام مت کرو، ورنہ بدنام ہوجاؤ گی، ارے بھئی بدنام تو تم ہی کروگے، تم چاہو تو نیک نام بھی کرسکتے ہو، یہ تو اسی طرح کی بات ہے کہ کوئی شخص ہاتھوں میں بندوق اٹھاکر کہے کہ میری بات مان لو، ورنہ بندوق چل جائے گی اور ستم یہ ہے کہ بزرگوں، عقلمندوں اور دانشوروں کی ستر فی صد آبادی بندوق تھامے کھڑے ہوئے ایسے ہی سماج کی طرفدار ہوتی ہے۔اس نے سکول میں نہیں پڑھایا اور خوب بدنام ہوئی، رشتہ داروں نے ہی یہ ذمہ لیا اور اس کو بحسن و خوبی ادا بھی کیا۔مجھے یاد ہے ایک روز میرے چھوٹے بھائی سے کسی نے اس کے بارے میں کوئی اول فول بات کی تھی، ہمارے محلے میں ایک اور’ نیک نام’ بزرگ پیارے میاں رہتے ہیں، ان کے کارنامے یہ ہیں کہ پیری مریدی کے فضائل کو خوب سمجھتے ہیں، انہوں نے ان دنوں یہ دکان کھولی نہیں تھی، البتہ اس کی فراق میں ضرور تھے، ان کے بچے ، جن میں بیٹیاں بھی شامل تھیں ، اس قسم کی خرافات کو پسند نہیں کرتی تھیں، وہ محنت کرکے پیسے کمانے والے کاموں میں یقین رکھتی تھیں، چنانچہ فاطمہ کا ان کی بیٹی سے اسی سلسلے میں تعلق قائم ہوا۔مسلمانوں کا محلہ، کمانے والی دو لڑکیاں، جینز پہننے والی، دوپٹے کو خیرباد کہنے والی، ظاہر ہے کوئی اچھا کام تو کرتی نہیں ہوں گی، سماج نے یہی فتویٰ ان کے حق میں دیا اور انہیں ایک خاص نسبت سے رسوا کرنا شروع کردیا۔مگر ہمارے معاشروں کی باغی اور ضرورت مند دونوں قسم کی لڑکیاں،اس بیمار ذہنیت کی اتنی عادی ہوگئی ہیں کہ اس کی بڑ پر دھیان نہ دینے میں ہی انہیں عافیت نظر آتی ہے۔مجھ سے جب تالیف نے اس بات کا ذکر کیا تو مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی، وجہ اس کی یہ تھی کہ میں بھی ایسے ہی قماش کا عزلت نشیں ہوں، جسے کمرے میں بیٹھ کر باہر اپنی بدنامی کروانے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے، اب لڑکا ہوں تو کچھ پیدائشی مراعات حاصل ہیں، یعنی لوگ عزت لٹنے، عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے یا باپ دادا کا نام مٹی میں ملا دینے کا طعنہ اس چھوٹی سی بات پر تو ہرگز نہیں دے سکتے کہ میں جینز پہنتا ہوں اور دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتا۔

فاطمہ سے میرا تعلق دھیرے دھیرے بنا، جیسے کوئی ہرن دشت میں اگ آنے والے پانی کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، کانوں کو پھیلائے ہوئے، پتوں کی سرسراہٹ اور ذرا سی بھی کھسر پھسر پر دھیان جمائے ہوئے۔میں فاطمہ سے میسجز میں بات کرنے لگا تھا، کبھی کبھار اس سے فون پر بھی بات ہوجاتی، پھر یہ ہوا کہ ہم نے باقاعدہ فون پر گفتگو کرنی شروع کردی۔مجھے کبھی کام ہوتا، کبھی نہیں ہوتا۔فارغ اوقات میں زیادہ تر میں اسی کے ساتھ بات کرتا تھا۔ مجھے اس کی عادت سی ہونے لگی تھی، پھر ایک روز اچانک اس نے کہا کہ ہمیں ملاقات کرنی چاہیے۔میں نے ایک دو بار اسے ٹال دیا، وہ گھر آنا چاہتی تھی، مگر میں خوف کھاتا تھا۔ڈر مجھے ملاقات سے زیادہ اپنی ہیت سے تھا۔میں نے اس کی تصویر دیکھی تھی۔جس میں وہ بالوں کو پیچھے سمیٹے، ایک خوبصورت ٹی شرٹ اور جینز میں جامعہ کے کسی کھلے احاطے میں موجود خاموش سیڑھیوں پر بے پروائی سے بیٹھی ہوئی تھی۔ایک تو اس کا رنگ بہت گورا تھا، پھر بیٹھے ہونے کی وجہ سے اس کی قامت کا ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں لگ سکتا تھا، مگر وہ بیٹھ کر اپنے قد سے کچھ لمبی ہی معلوم ہوتی تھی۔میں نے تصویر دیکھی تھی، آواز سنی تھی، دونوں بہت خوبصورت اور جاذب تھے، اب سوال تھا، اپنی مٹھی کو کھول کر لکیروں کی کٹی پھٹی ، کالی ، کانی کتری دھجیاں دکھانے کا۔مجھے اس زمانے میں لڑکیوں سے خوف بھی آتا تھا، میں ایک عشق میں تازہ تازہ چوٹ بھی کھائے ہوئے تھا اور میرا اعتماد اس قدر زخمی اور وحشی تھا کہ خوبصورت شیرنی کی آہٹ سنتے ہی دبک کر میں واپس پیاسے اور پھیلے ہوئے دشت کی کوکھ میں اترجانے کو راضی تھا۔پھر ایک روز ایسا آیا کہ اس کے اصرار پر مجھے اس سے ملنا ہی پڑا۔

پہلی بار کی ملاقات کا واقعہ دلچسپ بھی ہے اور میرے لیے ایک بھونڈی یاد بھی، مگر پھر بھی سچ کہنے کی قسم کھا چکا ہوں سو عرض کرتا ہوں۔طے یہ ہوا تھا کہ ہم کمیونٹی سینٹر پر جو کہ میرے گھر سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ایک ریسٹورنٹ میں ملیں گے۔جہاں ہمارا ملنا طے ہوا وہ فاسٹ ٹریک نامی مشہور ریسٹورنٹ کی ایک فرنچائز تھی۔فاطمہ جانتی ہے کہ آج بھی اس کے سامنے میرا اعتماد ڈول جاتا ہے، میں اوروں کے سامنے جس قدریقین اور پختگی کے ساتھ بیٹھ کر عالیشان جگہوں پر بے نیازی سے ٹھٹھے لگا سکتا ہوں، اس کے نظر آتے ہی میرے چہرے کی ساری ترنگیں بدروحوں کی بھائیں بھائیں میں بدل جاتی ہیں۔وہ سامنے ہوتی ہے تو مینیو کو دیکھنے کی بھی تاب نہیں ہوپاتی۔اوٹ پٹانگ ہانکنے لگتا ہوں، کبھی ادھر کی، کبھی ادھرکی، وہ مجھے سنبھال لیتی ہے، اس کے اندر یہ خاص صلاحیت ہے کہ اس نے ہمیشہ میرے اندر موجود ایک الہڑ قسم کے بے ہودہ اور جنگلی انسان کو سنبھل کر رہنا سکھایا ہے، میرے کسی غیر شائستہ مذاق پر وہ آنکھیں دکھادیتی ہے، زیادہ تر باتیں سنجیدگی سے کرتی ہے، وہ قہقہے نہیں لگاتی، بلکہ زیادہ ہنستی ہے تو اس کی آواز غائب ہوجاتی ہے۔وہ سوٹ پہنے یا ٹی شرٹ اور جینزیاکوئی اور لباس زیب تن کرے، اس کی بردباری، وقار اور زمانے کو دیکھ سکنی والی ایک دکھی آنکھ کا آنسو کبھی خشک ہی نہیں ہوتا۔گوری گردن پر جھولتے ہوئے کالے یا ہلکے سنہری مائل بالوں کی لٹیں مجھے مبہوت کردیتی ہیں اور میں ان رنگوں کو تکتے تکتے اس سے دنیا جہان کی باتیں کرتا ہوں۔پہلی ملاقات کا واقعہ ادھورا رہ گیا۔ہوا یہ کہ میں سفید شرٹ اور کالی فارمل پینٹ میں اس سے ملنے فاسٹ ٹریک پہنچا، ہڑبڑاہٹ میں کانچ کا وہ وسیع و عریض دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا، جو زنجیر سے بندھا ہوا تھا،اندر بیٹھے ہوئے لوگ بے ساختگی سے میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگے۔کچھ دیر بعد مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی تو آگے کے دوسرے دروازے سے اندر داخل ہوا اور ایک خالی ٹیبل کے آگے بیزار پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔اور کوئی موقع ہوتا تو میں شرمندگی میں اس ریسٹورنٹ میں ہی نہ جاتا، مگر آج تو ملاقات طے تھی، چنانچہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مجھے لوگوں کی ہنستی ہوئی آنکھوں کے درمیان اپنے عشق کی جائے نماز بچھاتے ہی بنی، فاطمہ کچھ دیر بعد وارد ہوئی، میں نے اسے جتنا دراز قامت تصور کیا تھا، وہ اس کی نسبت سے مجھے کافی پستہ قد معلوم ہوئی، مگر اس کے گورے رنگ کی جگمگاہٹ نے میرے چہرے پر موجود سیاہی کو پسینے میں گوندھ کر بوکھلاہٹ میں تبدیل کردیا۔وہ آگے بڑھی اور اس نے ہاتھ بڑھایا، میں نے ہاتھ ملایا اور اس کے آگے بیٹھ گیا، اب سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سارا بدن تو کرسی کے سہارے چھوڑ دیا ہے مگر ان کمبخت ہاتھوں کو کہاں لے جاؤں، کبھی ٹیبل پر دراز ہوجاتے، کبھی بغلوں میں گھسے چلے جاتے، کبھی پیچھے کی طرف کھسکتے، کبھی آگے کو بڑھتے۔بہرحال میں نے پوچھا کہ آپ کیا لینا پسند فرمائیں گی، اس نے کیلی فورنیا برگرکا نام بتادیا۔میں نے ہچکچاتے ہوئے اٹھ کرآرڈر دینے کی سعی کی۔اس سے پہلے میں اس قسم کے ریسٹورنٹ میں نہیں جایا کرتا تھا، میرے لیے کھلے ، آواز لگا کر لوگوں کو بلانے والے بے ساختہ اور غیر مہذب قسم کے ہوٹلوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔میں نے آرڈر لینے والے شخص سے ایک کیلی فورنیا برگر دینے کی درخواست کی۔اس نے بہت محبت کے ساتھ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ‘سرآج نان ویج دستیاب نہیں ہے۔’ موقع پر اگ آنے والی بوکھلاہٹ کی گھانس نے اپنا کام کردکھایا اور میں نے اس سے کہا ‘کوئی بات نہیں! آپ ویج میں ہی کیلی فورنیا برگر دے دیجیے’اس نے پہلے تو ایک نظر مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر زیر لب مسکراتے ہوئے کہا’سر! کیلی فورنیا برگر خالص نان ویج ہوتا ہے۔’ہمارے درمیان جب بھی اس پہلی ملاقات کا ذکر ہوتا ہے، ہم دونوں خوب ہنستے ہیں۔اس دن کے بعد سے آج تک فاطمہ نے ہی ہر ریسٹورنٹ میں میرے لیے آرڈر دیا ہے، ہم جہاں بھی گئے، جتنی بار بھی ملے۔میں نے اس کے سامنے دوبارہ کبھی آرڈر دینے کی جرات نہیں کی، اب تو وقت بہت گزر گیا اور یہ خاص سی مخملی سچویشن میرے لیے ٹاٹ کی طرح روزمرہ کا معمول ہوگئ ، دوست ہو یا کوئی پروڈیوسر یا کوئی اور ملنے والا۔کمیونٹی سینٹر یعنی سی سی پر مجھے ہر دن ایسی ہی جگہوں پر ملنا ہوتا تھا،میرا اعتماد دوسروں کے سامنے جتنا مضبوط ہوتا گیا، فاطمہ کے آگے میں اتنا ہی بودا،خمیدہ کمر اور کمزور ہوتا چلا گیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے رہن سہن، پہننے اوڑھنے ، کھانے پینے، چلنے پھرنے ہر بات پر اس کی شخصیت کا ایک اثر تھا۔کتابیں پڑھنا میرا شوق تھا، مگر زندگی جینا اور شعور و وقار کے ساتھ، یہ مجھے فاطمہ نے ہی سکھایا۔فاطمہ سے ابتدائی دنوں کی چند ملاقاتوں کے بعد میری زندگی میں آفرین نامی ایک لڑکی داخل ہوگئ،وہ فاطمہ کی طرح بالکل نہ تھی۔فاطمہ اپنے دوستوں اور تعلقات میں بے تکلف ہوسکتی تھی، ان کے سامنے اپنے دکھڑے رو سکتی تھی، ان کے غم اور خوشیوں کے تعلق سے ساری باتیں سن سکتی تھی، مگر آفرین ایک الگ قسم کی لڑکی تھی، اس کا نیچر ڈومیننٹ تھا۔اس نے مجھے پہلی بار بدن کی لذت سے بخوبی آگاہ کیا، وہ مجھ سے بہت سے کام لینے لگی، میں نے اس کے لیے کافی سکرپٹس لکھیں، وہ مجھے بلاتی، کام کرواتی اور بغیر پیسے دیے اپنے جسم کی حرارت دے کر ایک خوبصورت ترین استحصال کا جرم کرتی۔آفرین کی اپنی دنیا تھی، اپنے طریقے اور اپنے اصول تھے، وہ سب ہی کے ساتھ ایسی ہی تھی، اسے نہ دنیا کی فکر تھی، نہ دین کی۔فاطمہ کی طرح نہیں، جو دین اور دنیا کے درمیان ،جدیدیت اور قدامت کے دوراہے پر کھڑی ہوئی ایک متذبذب انسان کی طرح بہت سے مسائل سے گھری تھی، جسے ماں کی محبت بھی عزیز تھی، عقبیٰ کی فکر بھی اور دنیا کمانے کی خواہش بھی۔فاطمہ کا تعلق میرے ساتھ ایک کام کی غرض سے بنا تھا، وہ کام نہیں ہوسکا، مگر تعلق بن گیا، لیکن پھر تعلق میں بھی درار آنے لگی اور آفرین اس درار کا بڑا سبب بن گئی، جن دنوں آفرین سے میں نیا نیا ملا تھا، مجھے اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا، وہ مجھے ملنے بلائے، گھنٹوں اپنے ساتھ رکھے، کام کروائے، پیسے دے نہ دے، مجھے ان سب باتوں سے کوئی غرض نہیں تھی، وہ میرے ہوس پرست تخیل کی پیدا کردہ ایک ایسی جیتی جاگتی تصویر تھی، جو مجھ سے اپنی مرضی کا کام لیتی تھی اور مجھ میں میری مرضیوں کے آئنے روشن کرتی چلی جاتی تھی۔اس کی شفاف پنڈلیوں پر بہنے والے پسینے سے لر ، اس کے پستانوں کی چھوٹی چھوٹی کٹوریوں تک میں نے اس کے بدن کا سارا ذائقہ اپنی زبان کی نوک پر رکھ کر دیکھا تھا ۔ وہ کوئی ساحرہ تھی، جس کی کشش سے نکلنا دنیا کا سب سے مشکل کام معلوم ہوتا تھا۔مگر پانی ہو یا سودا، سرپرچڑھتا بھی ہے تو اترنا بھی اسی حقیقت کا ایک دوسرا پہلو ہے۔

آفرین کا جادو بھی اترا اور ایسا اتر اکہ فاطمہ کا جادو سر پر چڑھ گیا، ان دنوں فاطمہ سے گھر پر ملاقاتیں ہوتی تھیں، وہ گھر آجاتی اور ہم ایک کمرے میں بیٹھے بہت سی باتیں کرتے رہتے۔ اس کے مغربی طرز کے اندازرہائش کے پیچھے ایک نہایت مشرقی قسم کی خاتون موجود تھی، جو نیل پالش کے مسائل پر بھی اسلام سے ایک قسم کا جانبدارانہ سرٹیفکٹ طلب کرتی معلوم ہوتی تھی۔ان دنوں میرا وتیرہ یہ بن گیا تھا کہ میں حقیقت میں کم اور تصور میں زیادہ اس کے بدن کی گلابیوں کو پیتا رہتا اور بہت سے شعر بناتا۔میرے پہلے شعری مجموعے کے زیادہ تر اشعار فاطمہ کی بغلوں، چھاتیوں اور گردن سے پھوٹنے والی دھواں دار مہک کا ہی نتیجہ ہیں، آٹے جیسی گندھی ہوئی رنگت سے پھیلنے والی خوشبو میرے نتھنوں سے ہوتے ہوئے نسوں کے باریک اور گتھے ہوئے جال میں پھیل جاتی۔وہ کوئی بے وقوف ہوگا، جس نے کہا کہ عشق میں ہوس کا کوئی دخل نہیں۔میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ ہوس پرستی کا شکار فاطمہ کے قرب کے لیے رہا ہوں، وہ ساتھ ہوتی ہے تو نہ جسم بات کرتا ہے نہ زبان،آنکھیں بے سمت راہوں میں گھورتی ہیں اور ہاتھ بے اندازہ جگہوں پر دوڑتے ہیں، مگر میں اس سے ملاقات کی نت نئی تدبیریں ڈھونڈ کر، زندگی کی باسی مٹھائیوں پر چاندی کے ورق چڑھاتا رہتا ہوں۔اس سیم گوں رنگ لڑکی کے جسم کی گھلاوٹوں نے رفتہ رفتہ آفرین کے یاد کرائے ہوئے سبق کو قصہ پارینہ بنا کر رکھ دیا۔
فاطمہ کی اپنی ایک دنیا ہے، وہ سیر و تفریح کی غرض سے اپنے تین مزید دوستوں کے ساتھ پہاڑوں کے سبزی مائل فاصلے ناپتی رہتی ہے۔کبھی شملہ، کبھی منالی، کبھی چوکٹا تو کبھی کہیں اور۔اس نے چند لوگوں سے دوستی کی اور خوب نبھائی ہے۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں، جو خوبصورت سا سرکل اس نے اپنے تعلقات کا بنایا ہے اس پر کسی بھی قسم کی بیزاری کا سایا تک منڈراتا نظر نہیں آتا۔اسے فطرت سے ایک خاص قسم کی رغبت ہے۔دوردرشن اردو میں نوکری کرتی ہے، مگر اردو کے شاعروں ، ادیبوں کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتی نہ ہی اسے لٹریچر میں کوئی خاص دلچسپی ہے، میرے کہنے پر جب اس نے ادبی دنیا کے لیے ریکارڈنگز کرنا شروع کیں تو بہت سی کہانیاں پڑھیں، ہم راتوں میں بیٹھ کر وہ کہانیاں پڑھتے اور انہیں ایڈٹ کرکے یوٹیوب کی سنہری جھیل میں سرکا دیتے۔اس کی پڑھی ہوئی کہانیوں میں آواز کے نپے تلے قدم صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔مکالموں کی ادائیگی ہو یا گہرا، مبہم بیانیہ وہ دونوں کو بیان کرنے کا طریقہ جانتی ہے۔یہ تو ہندوستان کا المیہ ہے کہ یہاں ہر شخص کو زبردستی وہ کام کرنا پڑتا ہے، جو اس کی مرضی کے برخلاف بس پیٹ کی دوزخ کو بجھانے میں ہی کام آسکے ورنہ فاطمہ اتنی شاندار وائز اوور آرٹسٹ ہے کہ اگر اس کو تھوڑی سی مزید تربیت اور ایک بہتر ماحول مل جائے تو وہ اس میدان میں شہرت کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔میں ایسا اس لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ میں اسے پسند کرتا ہوں، پسند اور محبت کے دائرے اپنی جگہ مگر صلاحیت کے پھلنے پھولنے والے خطوط کو ان سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

میں نے فاطمہ کو قریب دس برس تک دیکھا، آس لگائی کہ ساری زندگی اسی کے ساتھ گزرے ، مگر وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی اور ایک دن جب اس نے اپنی شادی کا اعلان کیا تو ہمارے درمیان موجود فاصلوں کی کھائی کچھ اور گہری ہوگئی۔میں اس کھائی کو پاٹ کر اس کے پاس پہنچنا تو چاہتا ہوں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ وہ جس شخص کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی، اسی کے پہلو سے لگ کر کل کل کرتے ہوئے جھرنے کی طرح بہنے کا اسے موقع ملا ہے، زندگی ایسے موقعے بہت کم لوگوں کو دیتی ہے۔اس نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے، پٹرول پمپ پر کام کیا، تپتی ہوئی دھوپ میں پروموشن کے لیے جب وہ پٹرول پمپ کی تپا دینے والی گرم ہوائوں کے سائے میں کھڑی رہتی تھی تو اس کی جلد سفید سے گہری ، سرخ آمیز گلابی ہوجاتی اور کئی بار دیکھنے والوں کی نگاہیں بھی اس سفاک منظر سے دہشت کھاکر پگھل جاتیں۔مگر وہ اپنے عزم اور استقلال کے لحاظ سے مستحکم تھی، وہ چاہے تو آج بھی اپنے ارادوں کے چوپائے کو کامیابی کے مائونٹ ایورسٹ پر پہنچا سکتی ہے، مگر شاید ‘وہ چاہے تو’کہنا ہمارے معاشرے کی لڑکیوں کے لیے زیادہ آسان ہے، جہاں ان کو اپنی ہر کامیابی کے لیے بدن اور لگاوٹ کے چھوٹے بڑے خراج ادا کرنے پڑتے ہیں۔فاطمہ یہ خراج دینے پر آمادہ نہیں ہے، اس لیے ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی مرد اس سے بغیر کسی وعدے اور ارادے کےوہ خدمات لینا چاہے ، جن کو ادا کرنے کے لیے اسے صرف اپنے گلے سے کام لینا ہو۔کیونکہ مجھ سمیت دنیا کا ہر مرد ایک گرسنہ کتا ہے، جس کی بھوکی اور ننگی نگاہیں عورتوں کی مہک کو کچلنے کے علاوہ اور کوئی مقصد ہی نہیں رکھتیں، پھر وہ عورتیں، چاہے دوست ہوں، چاہے محبت، خواہ ہمدرد ہوں، خواہ دشمن۔

Categories
نان فکشن

صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں نے دسویں جماعت کے پرائیوٹ امتحان کا فارم بھرا تھا اورمجھے انگریزی پڑھنے کے لیے کسی اچھے استاد کی ضرورت تھی۔ایک صاحبہ اس سکول میں بھی پڑھایا کرتی تھیں، جسے میں نے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے آٹھویں جماعت میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ پھر اک دن جب میں یونہی واہی تواہی دوستوں کے ہمراہ گھومتا گھامتا، آوارہ گردی کرتا گھر پہنچا تو میری والدہ نے بتایا کہ انہوں نے سکول کے پرنسپل سے بات کرلی ہے اور وہ اب چاہتی ہیں کہ میں دسویں جماعت کا فارم بھردوں۔ میں یہ بات ٹال دیتا مگر ان کے لہجے میں ایک عجیب قسم کی بے چارگی تھی، اس بے چارگی کا قصہ اور اسباب کبھی اور ذکر میں لائوں گالیکن ہوا یہ کہ پھر میں نے فارم بھر دیا۔ایڈمیشن کے بعد سکول نے مجھے یہ رعایت دی تھی کہ میں جب چاہوں دسویں کی کلاسز اٹینڈ کرسکتا ہوں، مگر میں بہت کم سکول گیا، ان دنوں زمین کی پیروں سے نئی نئی شناسائی ہوئی تھی، ہم گلی محلوں کے نقشے ناپا کرتے،دوستوں کے ساتھ مل کر کبھی سانگلی، کبھی ران گائوں اور وسئی اور اس کے مضافات کی پیدل یا سائیکل پر خوب سیر کیا کرتے۔ وہ بلڈنگ، جس میں ہم کبھی بڑی شان سے رہا کرتے تھے، اب اس کی گریل میں سے جھانکتی ہوئی سلائڈنگ کی چھلی ہوئی بغلیں، ان گلابی دیواروں کے سایے سے دکھایا کرتی تھیں، جن کو دیکھ کر سولہ برس کی عمر کا ایک لڑکا کافی ناسٹلجیک ہوجایا کرتا تھا۔بہرحال ہم پھر بھی ناریل کے جھومتے ہوئے درختوں، ان پر سینہ پھلاتے گرگٹوں کو دیکھتے ہوئے، بلڈنگ کے اوبڑکھابڑ میدان میں جس پر کسی قیدی کے گالوں کی طرح ان چاہی گھانس اگ آتی تھی، روز کھیلا کرتے تھے۔اس عمر میں دھوپ کی ہتھیلیوں سے بچنے کے لیے ہم سڑکوں پر اونگھتے ہوئے آٹورکشا میں بیٹھ جایا کرتے، کسی دوست کی لڑائی ہورہی ہے تو ساتھ لگ لیے،مچھلی بازار میں، مین مارکیٹ میں، کنوئوں پر، مندر کے باہر اور کونونٹ کے ارد گرد، صبحوں، شاموں اور ان کے درمیان یا اگلی پچھلی ساعتوں میں دوست سگریٹ پھونکا کرتے، گالیاں بکا کرتے اور بلے بازی اور گیند بازی کی نت نئی ترکیبوں پر گفتگو کرتے۔الغرض چھوٹی عمر میں بڑے دریا عبور کرنے لگے۔والد ایک بڑے معاشی نقصان کی تلافی میں دن بہ دن سفید داڑھی کا لبادہ اوڑھتے جارہے تھے، اس دوران وہ اپنی عمر سے کئی گنا بوڑھے معلوم ہونے لگے، ان کی شاندار ماضی والی زندگی، جس کے قصے، ہم مزے لے لے کر ان سے اسی بچھڑے ہوئے فلیٹ کی ٹھنڈی اور چکتے دار زمین پر بیٹھ کر سنا کرتے تھے، اب خود ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوتی جارہی تھی اور اس کی جگہ ایک پپڑی زدہ چیخ اور چبھتی ہوئی کاروباری غلطیوں کے احساس نے لے لی تھی۔لیکن میری ماں، جو کہ سخت حالات میں کسی دہقانی لہجے کی طرح ٹھوس اور مضبوط بنی رہیں، اپنے نرم ہاتھوں سے ہمیں راتوں میں نوالہ کھلاتے ہوئے ضرور سوچا کرتی تھیں کہ زندگی کا یہ طریقہ نامناسب اور ناقابل قبول ہے اور اگر یہی سب یونہی چلتا رہا تو ایک دن حالات کے یہ مہین کیچوے میرے بچوں کو اپنے لجلجے پیٹ میں اتارلیں گے۔

بہرحال ایڈمیشن کے بعد میں سب سے پہلے سکول میں پڑھانے والی استاد سلطانہ باجی کے پاس پڑھنے کے لیے گیا۔ کچھ روز تک ان کے یہاں ٹیوشن جانے کے بعد میں نے اور دوسرے دوستوں نے فیصلہ لیا کہ ہمیں یہ ٹیوشن چھوڑدینی چاہیے۔وہ ایک تھل تھل پیٹ اور پھیلے ہوئے سینے والی عورت تھیں، خفا ہوتیں تو اپنا اوپری موٹا ہونٹ، جو کہ ان کے نچلے ہونٹ کی دبازت کے لحاظ سے کچھ دبلا تھا، ناک پر ٹکا کرہمیں گھورنے لگتیں۔ان کے یہاں پڑھائی کم ہوتی تھی، گھر کے کام زیادہ کرنے پڑتے تھے، گھر ان کا بھی بڑے خوبصورت مقام پر تھا، گرائونڈ فلور پر بیٹھے ہوئے ہم اکثر باہر پھیلے ہوئے نمک کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسانوں کو دیکھا کرتے۔وہ بڑے بڑے ٹوکروں میں وائپر نما کسی بڑی سی چیز سے نمک حاصل کرکے ٹوکروں میں انڈیلتے تھے اور عورتیں انہیں اٹھا کر اپنی علیحدہ سجی ہوئی جھونپڑیوں کے پچھلے حصے میں ڈھیر لگایا کرتی تھیں۔ہم چونکہ سکول میں تمام ٹیچرز کو باجی ہی کہا کرتے تھے، اس لیے سلطانہ بھی اس رشتے سے ہماری باجی ہی ہوتی تھیں، مگر ان میں باجیوں والی کچھ عجیب سی حرکتیں بھی تھیں، مثال کے طور پر برتن دھلوانا، جھاڑو دلوانا، موٹی موٹی بھیگی ہوئی دریوں کو لڑکوں کی مدد سے نچڑوا کر پھیلوانا۔یہ سب کام اضافی مشقت کے زمرے میں آتے تھے، چنانچہ یہاں سے بھاگ لینا زیادہ مناسب تھا۔ہم نے وہ ٹیوشن چھوڑ دی، پھر کسی روز مجھے معلوم ہوا کہ ایک صاحبہ ہیں جو ہمارے ہی اردو میڈیم سکول سے پڑھی ہوئی ہیں، اور بچوں کو انگریزی پڑھاتی ہیں،میں ان صاحبہ سے کچھ کچھ واقف تھا، وجہ یہ تھی کہ ایک سال پہلے بھی، جب میں نے والدہ کی زبردستی پر فارم بھرا تھا تو انگریزی کی ٹیوشن کے لیے ان کے پاس گیا تھا، مگر چونکہ مجھے امتحانات دینے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس لیے صرف بات کرکے واپس آگیا، جب میں نے پہلی دفعہ انہیں دیکھا تھا تو وہ ایک شال میں لپٹی ہوئی تھیں، ان کے بالوں پر ایک ہلکا شفون کا دوپٹہ تھا، جو بار بار سرک جاتا تھا، آنکھوں کی لکیروں پر ہلکا کاجل اور وہ باتیں کرتے وقت اپنے سیدھے ہاتھ کو کچھ جنبش بھی دیتی تھیں۔بہرحال، جب ایک سال بعد دوبارہ انہی کی چوکھٹ پر جانا پڑا تو معلوم ہوا کہ ان کا نام صفیہ ہے، سارے طلبا انہیں صفیہ باجی کہہ کر پکارتے تھے، سو ہم بھی پکارنے لگے۔

لوگوں نے عشقیہ جذبات اور والہانہ تعلقات کے ساتھ کچھ عجیب و غریب سے جھوٹ گھڑ رکھے ہیں، یہ جھوٹ ڈائجسٹوں میں رومانی کہانیاں لکھتے اور بالی ووڈ کی فلمیں بناتے وقت بہت کام آتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آپ کسی کو دیکھیں اور دیکھتے ہی آپ کو محبت ہوجائے۔محبت برتے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، لگاؤ یا نسبت بغیر ذہنی ہم آہنگی کے کیسے ممکن ہے۔ہم کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں، کسے کتنا جانتے ہیں اور پرکھتے ہیں، اسی کے بعد تو ہم اس انسان کے ساتھ مل کر جذبات کی ہانڈی تیار کرسکتے ہیں۔دل ملتے ہی نہیں کبھی، حقیقت میں صرف دماغ ملا کرتے ہیں، مگر یہ نکتہ ہماری لسانیاتی جمالیات کو ہلکا سا مجروح کرتا ہے کہ ‘میرا کسی شخص پر دماغ آگیا ہے’ اس لیے ہم یہاں دل کو دماغ کو متبادل بناکر حسن کی ایک پرفیکٹ دنیا بنایاکرتے ہیں۔صفیہ باجی کا مکمل نام صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری تھا۔میں نے بہت بعد میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہماری اخلاقیات ہمیں اس قدر جھوٹ سکھاتی ہے کہ دنیا کی تمام چالاکیاں اس کے آگے ہیچ ہیں۔آخر جن لوگوں سے ہمارا صرف اتنا تعلق ہو کہ ہم ان سے کسی خاص معاملے پر تعلیم حاصل کریں، انہیں باجی کہنے کا مطلب ہی کیا ہے۔ہم نے کبھی کسی مرد ٹیچر کو تو باپ یا بڑے بھائی کا درجہ نہیں دیا، لفظی سطح پر بھی نہیں۔ ہم نے کبھی کسی ایسے مرد کو جو ہمیں پڑھاتا رہا ہو، فلاں بھائی یا بھیا کہہ کرپکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،آخر وہ نظریہ حیات کتنا منجمد اور تنگ ہوگا، جو سکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں سے یہ خوف کھاتا ہے کہ اگر یہ ان عورتوں کو جو انہیں پڑھاتی ہیں، باجی نہیں کہیں گے تو ان سے کوئی جذباتی یا جنسی رشتہ قائم کربیٹھیں گے۔اب یہ عورتوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے ہے یا بچوں کے لیے کسی قسم کا حفظ ما تقدم، مگر ہے بڑی بھونڈی بات۔ہمیں یاد ہے کہ ہم اپنے سکول میں چھٹی، ساتویں جماعت میں ہی سعدیہ اور شگفتہ نام کی دو ‘باجیوں’ کو بڑی حسرت آمیز نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ان کے حسن کو سراہتے اور یقینی طور پر اس ستائش میں ہوس کا پہلو بھی شامل تھا۔ہم خوابوں میں انہیں دیکھتے اور مشترکہ طور پر ہم بہت سے دوستوں کی یہ رائے تھی کہ وہ دونوں بہت خوبصورت ہیں اور کسی فلمی ہیروئن سے کم معلوم نہیں ہوتیں۔ باجی نام کا کوئی بھی لفظ، ان کے لیے ہمارے جذبات کو ابھارنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور ہم نے ان کے تعلق سے نت نئے خیالات سجائے، ان سے باتیں کرکے حظ اٹھایا اور نوجوانی کی اس کچی دہلیز پر جہاں ہماری شریانیں، جنسی جذبات سے بالکل ابھی ابھی واقف ہوئی تھیں، ان کی قربت کو خود کے لیے بہت فرحت بخش محسوس کیا۔آپ اسے عمر کے کسی بھی پڑائو پر پرورٹ قسم کی سوچ سے تعبیر کرسکتے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ جسم دریا بنتے بنتے، سمندروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایک ننگی حقیقت ہے، جس سے بچنا ممکن نہیں۔

الغرض صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری کے یہاں میرا ٹیوشن جانا شروع ہوا، میں نے قریب چھ مہینے ان سے انگریزی پڑھی۔انگریزی میں رفتہ رفتہ میرا دل دوسرے مضامین کی بہ نسبت زیادہ لگنے لگا۔ وجہ یہ تھی کہ میں انہیں پسند کرنے لگا تھا، ان کی بولتی ہوئی آنکھوں میں ہرنیوں کی سی قلانچیں موجود تھیں، ان کی چمکدار سیاہ پتلیوں پر کانچ کی سی رمق تھی، وہ ایک سخت مذہبی گھرانے میں پلی بڑھی تھیں، ان کے والد ایک وہابی مولوی تھے، جو کہ جمعے کی نماز پڑھانے کے لیے اپنے گھر سے قریب آٹھ کلو میٹر دور ایک مسجد میں جایا کرتے تھے۔دو بھائی تھے، جن میں ایک شاید باہر گائوں (دبئی وغیرہ) میں تھا اور ایک کسی گیراج میں کام کیا کرتا تھا۔ ایک چھوٹی بہن بھی تھی، شگفتہ نام کی، جوپہلے ہماری کلاس میٹ بھی رہ چکی تھی۔صفیہ کا حسن اپنے گھر میں سب سے الگ تھا، ان کی شکل و شباہت میں بھائیوں اور بہن والا نقشہ تو ہلکا ہلکا ضرور تھا، مگر حسن کی تیزی ایسی تھی کہ بہت دیر تک آنکھیں ملانا ممکن نہ تھا۔باتوں میں بلا کا اعتماد، ہنسی ایسی، جیسے سرسوں کی بالیوں سے پیدا ہونے والے رقص کی آواز ہو، دانت سفید، چمکدار موتیوں کی طرح، دہانہ نہ بہت بڑا، نہ بالکل چھوٹا۔ جب وہ باتیں کرتی تھیں تو کئی بار ماتھے پر شکنیں پیدا ہوجایا کرتیں، مگر یہ بہت خوبصورت سی شکنیں تھیں، جیسے بے فکر نیندوں میں چکنی پنڈلیاں، سفید چادروں پر سلوٹوں کا حسن دریافت کرتی رہتی ہوں۔

میرے ساتھ ایک بات یہ ہوئی تھی کہ چونکہ میں پرائیوٹ تعلیم حاصل کررہا تھا، اس لیے انہوں نے مجھے دوسروں سے الگ طور پر پڑھانے کا فیصلہ کیا۔یہ کوئی خوش فہمی کی بات نہ تھی، بلکہ ان کی ایک طالب علم کے لیے خاص توجہ کا معاملہ تھا۔وہ چاہتی تھیں کہ میں کسی طرح اچھے نمبر لاؤں، وہ میری اردو سے کچھ متاثر بھی تھیں، انہیں معلوم ہوا کہ میں اس سے پہلے کچھ شاعری واعری کرتا رہا ہوں تو انہوں نے ایک دن میری ڈائری منگا کر دیکھی، اس میں بہت سی نعتیں، بزرگوں کے لیے مناقب اور منظوم شجرے لکھے ہوئے تھے، جو کہ میں نے اس زمانے میں قصص الانبیا، تذکرۃ الاولیا، سفینۃ الاولیا جیسی بہت سی کتابیں پڑھ کر لکھے تھے۔نظریاتی اعتبار سے انہیں یہ سب کچھ پڑھ کر غصہ آنا چاہیے تھا، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، انہوں نے انہی چیزوں کی بہت تعریف کی اور مجھ سے پوچھا کہ شاعری، اتنی عمر میں اتنی کیسے کرلیتے ہو۔میں نے پتہ نہیں کیا جواب دیا، مگر اسی طرح کی غیر روایتی باتوں نے مجھے ان کے قریب کردیا۔ میں دن میں زیادہ تر وقت وہیں رہا کرتا تھا، جب وہاں جانا ہوتا تو والد کی اچھی اچھی شرٹیں، جو کہ میرے پتلے بدن پر کافی پھیلی ہوا کرتی تھیں، اپنی جھولا نما پینٹوں کے ساتھ پہن کر وہاں جایا کرتا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ کبھی انہوں نے مجھے کپڑوں پر ٹوکا نہیں، مجھے یہ احساس نہ دلایا کہ میں حد سے زیادہ ان کے قریب آنے کی کوشش کررہا ہوں اور ایک عجیب قسم کی سچویشن پیدا کرنے کی کوشش میں ہوں، جس میں اس توقع کے شائبات شامل ہیں کہ میں ان سے اظہار عشق بس کرنے ہی والا ہوں۔مگر، انہوں نے کسی بات پر کبھی برا نہیں منایا۔بہت سی خالی دوپہریوں میں جب ان کے گھر پر ٹاٹ کے پردے پڑے تپ رہے ہوتے، میں ان کے ساتھ ایک الگ تھلگ کمرے میں بیٹھ کر اوٹ پٹانگ باتیں کیا کرتا، مجھے ان کو دیکھتے رہنا ہی بہت پسند تھا۔شاید میری زندگی کا ایک سب سے گہرا جذباتی پہلو یہی ہے کہ میں جس لڑکی یا عورت کے حسن کو پسند کرنے لگتا ہوں، اور اتفاق سے اگر اس کے ساتھ میری ذہنی ہم آہنگی بھی ہو تو اس سے جدائی کا کوئی بھی لمحہ مجھے پریشان کرتا ہے۔ اب تو خیر میں نے اپنی تربیت اس طرح کرلی ہے کہ جی کو کہیں اور لگا لیتا ہوں، مگران دنوں معاملہ ایسا نہیں تھا، میں ذرا ذرا سی دیر کے لیے بھی ہڑکنے لگتا اور جس وقت گھر پر رہا کرتا، صرف گھڑی دیکھا کرتا، حد تو یہ تھی کہ جب ان سے رخصت لیتا تو دل ہی دل میں اگلے دن کی ملاقات میں حائل گھنٹوں کو ناپنے لگتا۔جیسے جیسے وقت گزرتا، میرے دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگتیں اور کئی بار میں وقت سے بہت پہلے تیار ہوکر گھر سے نکل جایا کرتا، راستوں میں سست رفتار سے چلتا، کہیں بیٹھ جایا کرتا، مجھے یاد ہے کہ بارہ بجے کے معینہ وقت پر پہنچنے کے لیے کئی دفعہ میں گھر سے گیارہ بجے نکل گیا، جبکہ ان کے گھر کا فاصلہ میرے گھر سے یہی کوئی آٹھ دس فرلانگ کا تھا۔راستے میں ایک مزار کا احاطہ پڑتا تھا، جس میں ایک ساتھ چار پانچ قبریں ہوا کرتی تھیں، میں دھوپ میں وہیں بیٹھ جایا کرتا، سامنے کچھ کھپریلوں والے پکے گھر تھے، ایک چھوٹا سا میدان اور اس کے بیچوں بیچ ایک کنواں۔ پائوڈر گلے پر تھپا ہوا ہے، جسے چھپانے کے لیے میں نے کالر کا بٹن لگا رکھا ہے، جوتے ہلکے پھٹے ہوئے ہیں، کہیں سے کچھ کھٹک رہاہے، مگر میں ہوں کہ کسی بات کا دھیان ہی نہیں۔بس ایک ہی دھن ہے کہ شاید اب بیس منٹ گزر گئے ہونگے، شاید اب چالیس منٹ۔کئی دفعہ راستے میں ظہیر ملا کرتا تھا، جس کے ساتھ میں قیوم بھائی جوتے والے کی دکان پر کچھ عرصہ کام کرچکا تھا۔مدت بہت کم تھی، مگر وہ بھی چونکہ میری طرح پتلا دبلا لڑکا تھا، اس لیے ہماری گاڑھی چھننے لگی تھی۔مگر ظہیر سے زیادہ مجھے اس وقت اس وقتی فاصلے کے کم ہونے کی فکر رہتی تھی، جسے عرف عام میں ‘گھنٹہ’ کہا کرتے ہیں۔
صفیہ کی اپنی قد کاٹھی بہت چست درست تھی، ایسا لگتا تھا کہ وہ قدرت کا کہا ہوا ایک ایسا شعر ہیں، جس میں کہیں سے کوئی لفظ زیادہ یا کم کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔میں ان کے ساتھ تنہائی میں کیا باتیں کرتا تھا، کوئی ایسی عاشقانہ باتیں نہ تھیں، اس کے لیے بڑی ہمت چاہیے تھی، مجھے یاد ہے کہ میں نے ٹیوشن چھوڑنے کے بعد ایک طویل خط لکھا تھا، جسے دو ایک دفعہ اپنے دوستوں کی مدد سے انہیں پہنچانا چاہا، مگر وہ بھی میری ہی طرح نکھٹو نکلے۔میرا بس چلتا تو آنکھوں کو صرف اسی کام پر لگادیتا کہ انہیں دیکھتی رہیں، مگر یہ سب ممکن نہ تھا۔ ہائے ! کیا دن تھے، پڑوس میں آباد قبرستان کے دامن پر بہت سے گھنے اور پتلے دبلے پیڑ تھے، ان پیڑوں پر ہر وقت مختلف رنگوں اور نسلوں کی چڑیائیں سریلی آوازیں پیدا کرتی رہتی تھیں، اس کمرے کے باہر ایک ہرے رنگ کی دیوار تھی، برابر میں ایک پلنگ پڑا رہتا تھا، جس پر شام کو اکثر ان کی امی بیٹھا کرتی تھیں،صفیہ بتاتی تھیں کہ جب قبرستان میں لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں تو میں اور شگفتہ اسی دیوار سے میچ دیکھا کرتے ہیں، ان کے گھر میں اس زمانے میں ٹی وی نہیں تھا۔جب کبھی باہر جانا ہوتا، وہ ایک کالے چست برقعے میں اپنے آپ کو ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور اس طرح ان کے بدن پر صرف دو چمکدار آنکھیں رہ جایا کرتی تھیں۔ اپنے خیالات سے وہ ہمیشہ لبرل تھیں، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ وکیل بننا چاہتی تھیں مگر پڑوس میں رہنے والے انگریزی کے کہنہ مشق استاد جنہیں ہم سب سعید سر کے نام سے جانتے تھے، ان کے والد کی آواز سے آواز ملا کر ہمیشہ انہیں بڑی شفقت سے بتاتے کہ بیٹا! یہ پیشہ لڑکیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔تم ایک پڑھے لکھے مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی ہو اور وکالت کے پیشے میں سو طرح کے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں،میں نے اسی وقت ان سے کہا تھا کہ میں آپ کے والد کو قائل کرسکتا ہوں، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ تھا اور وہ بھی اس بات کو جانتی تھیں کہ ان کے والد کو جو کہ محلے میں مشہور ایک باعزت مولوی کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور خاندان کی چوکھٹ سے اندر اور باہر بڑی دور تک حبیب اللہ انصاری کے رعب و دبدبے کی دھوپ پھیلی ہوئی ہے، اس بات پر آمادہ کرنا ناممکن ہے کہ وہ بیٹی کو کسی بھی قسم کا ایسا کام کرنے کی اجازت دیں جو سو مردوں کے بیچ میں کھڑے ہوکر جرح کرنے کی نسبت سے بدنام ہے۔اکثر وہ جھنجھلاتی بھی تھیں اور ان کا یہ احتجاج ‘شادی نہ کرنے کی صورت میں’ نمایاں ہوا کرتا تھا۔

وہ مجھ سے عمر میں سات برس بڑی تھیں، یعنی کہ میں سترہ سال کا تھا اور وہ چوبیس سال کی تھیں۔اب اس حادثہ راہ و رسم کو قریب تیرہ چودہ سال گزر گئے ہیں، مگر اب بھی وہ چہرہ آنکھوں میں دمکتے ہوئے سورج کی طرح روشن ہے، وہ آنکھیں، گالوں میں پڑھنے والے گڑھے، وہ مسکراہٹ، وہ تیکھے نقوش، وہ لہجہ، وہ آواز سب کچھ گویا دل کے کسی خاص کمرے میں رکھا ہوا ہے، اس کمرے میں خود کو جانے کی اجازت بھی میں روز روز نہیں دیتا، کوئی بھی حادثہ، کوئی بھی واقعہ زندگی کے ان چھ مہینوں کی یاد اب شاید ہی کبھی دھندلا سکے۔اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ میں نے سب سے پہلے انہی کے لیے غزل لکھی تھی، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ قافیہ بندی (جسے اصل میں تک بندی کہنا چاہیے)غلط سلط تلفظات کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی بحروں میں تو میں بہت پہلے سے کرتا تھا، یعنی شاید پانچویں جماعت میں میں نے کلاسیکی رنگ کی ایک غزل کہی تھی، پھر دوسری اور تیسری۔میرے والد ان غزلوں کو سنتے، ہنستے بھی اور حوصلہ افزائی بھی کرتے جاتے۔ایک اچھی بات انہوں نے یہ کی کہ کبھی ٹوکا نہیں، گرپڑ کر، دوڑ ہانپ کر اسی وجہ سے میں نے خود ہی شاعری کو سیکھا، شاعری مجھے ان موٹی موٹی کتابوں نے نہیں سکھائی، جنہیں ‘حسن بلاغت’ یا ‘آئینہ بلاغت’ کے نام سے جانا جاتا ہے، بلکہ شاعری کا فن تو میں نے صفیہ کے حسن سے کشید کیا تھا۔دوسرے بچوں کی طرح میں بھی انہیں باجی تو کہتا تھا مگر اب یہ لاحقہ میرے لیے بالکل ہی بے معنی تھا، دوسرے طلبا بھی مجھ سے ان کا نام لے لے کر ہنسی ٹھٹھول کیا کرتے تھے۔
میرا ایک کزن ترجمان جو کہ انگریزی میڈیم میں پڑھا کرتا تھا، ان سے کافی اچھی طرح واقف ہوگیا تھا۔میں نے ہی ان دونوں کی ملاقات صفیہ کی سالگرہ پر کروائی تھی، وہ مجھے بہت ٹھیلا کرتا تھا کہ کسی طرح میں ان کو یہ بتادوں کہ میرے دل میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں، کیا باتیں ہیں، جو مجھے ان سے کہنی چاہیے، مگر میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آخر یہ سب باتیں کیسے کہی جاتی ہیں۔پھر یہ ہوا کہ ٹیوشن کا عرصہ ختم ہونے کے بعد بھی میں ان کے پاس جاتا رہا، ان سے جھوٹ کہتا رہا کہ میں فلمی دنیا میں کیرئیر بنائوں گا، مجھے لگتا تھا کہ شاید یہ دائو ان پر کچھ کام کرجائے اور وہ ایک دن خود ہی محبت کا اظہار کربیٹھیں۔مگر ظاہر ہے ایسا کچھ بھی تو نہیں ہونا تھا۔
وقت بھی کیا چیز ہے، گزر جاتا ہے اور بڑی بڑی باتوں کو ایسے بہادیتا ہے، جیسے سنامی قد آدم عمارتوں کے پائوں اکھاڑ کر انہیں سمندر کے گہرے نیلے پیٹ میں ڈبو کر شانت ہوجاتی ہے۔صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری، میری زندگی کا ایسا ورق ہے، جس کو میں بھول نہیں سکتا۔ان سے تعلق کیسے ٹوٹا، یہ ایک الگ داستان ہے، مگر اس داستان کو بیان کرنے سے کیا فائدہ۔ وقت گزر گیا ہے، اور اس کے بس میں محض اتنا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے میرے چہرے کو گوشت کی کمی زیادتی، کھال کی اترن اور چڑھن کے ساتھ مختلف روپ میں ڈھالتا رہے گا، پھر دھیرے دھیرے جھریاں پڑ جائیں گی اور اس کے بعد ایک دن میں اس دنیا سے ساری یادداشتیں اور تجربے لے کر ایک سنسان قبرستان میں دفن ہوجائوں گا۔کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ قبرستان دہلی کا ہو، کہیں اور کا ہو یا پھر وہ ہو، جس کی گہری بھوری آنکھیں، میرے اور صفیہ کے ہمراہ گزارے ہوئے چھ مہینے کی گواہ ہیں۔