Categories
شاعری

ہماری گلوبلائزڈ زندگی (تنویر انجم)

(1)
روزروز جاتے ہوتم
گھر سے دور، دوروں پر
مگر زیادہ دنوں کے لیے مت جانا
یاد آنے لگے گا مجھے
اپنے ٹوتھ برش کے ساتھ
تمھارے ٹوتھ برش کو دھونا

(2)
تو یاد رہے گا نا تمھیں
دھوبی سے کپڑے پورے گن کر لینا
الیکڑک کیتیلی میں چائے کے لیے پانی نشان سے کم مت رکھنا
شیمپو کی بوتل کو استعمال کے بعد بند ضرور کرنا
رات کو غیرضروری بتیاں ضرور بجھا دینا
اور دروازہ بھی بند کردینا
اور میرا فون اٹھا لینا
اور کال مس ہوجائے تو جلدی کال کرلینا
منسٹر صاحب کے تھنک ٹینک کی میٹنگ تو اس بار ایک ہفتہ چلے گی
لگتا ہے آئی ایم ایف کا دباؤ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے

(3)
کام کچھ زیادہ ہی جمع ہوگئے ہیں
نیا مہینہ بھی شروع ہوگیا ہے
آج تو بنانا ہی پڑے گی کاموں کی فہرست

(1)رات لکھی گئی نظم کو رف ڈائری سے نوٹ بک میں اتارنا
(2)نیویارک میں رات ہونے سے پہلے بچوں کو ٹیلیفون کرنا
(3)گیزر کے لیے پلمبر کو فون کرنا
(4)سٹی بینک میں کریڈٹ کارڈ کا بل دینا
(5)سودے کی فہرست بنانا، دکاندار کو دینا
(6)نئے کورس کی آؤٹ لائن بنانا
(7)ریڈرز کلب میں پیش کرنے کے لیے لائبریری سے کتاب لینا
(8)شاپنگ مال سے ہئیر کلر اور میک اپ کا سامان خریدنا
(9)چھٹی کے دن دعوت کے لیے نوکروں کو ہدایات دینا
(10)ڈنر کے بعد ایرانی فلم دیکھنا
(11)رات کو سونے سے پہلے نظم لکھنا
(12)سونے کے دوران ایک خواب دیکھنا
جس میں ہررات کی طرح دھند میں چھپا ایک ہیولا ہو

Categories
شاعری

یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

وہ گول مٹول ہے
سانولا سا ہے
نقوش پیارے ہیں
تین سال کا ہے
بڑی بڑی آنکھوں سے
بغیر خوف کھائے
مجھے دیکھتا ہے
ندیدہ بھی نہیں
میری دی ہوئی
کھانے کی چیزیں
آدھی کھاتا ہے
اس کے کپڑے بھی
صاف ستھرے ہیں
جوتے بھی ٹھیک ہیں
پر اعتماد ہے
جیسے کہ اسے
بہت پیار ملا ہے
صوفے پر ٹیک لگائے
ایسے بیٹھا ہے
جیسے کہ ایسے صوفوں پر
روز بیٹھتا ہو

بہت دنوں سے
میں نے کسی بچے کو
گود میں نہیں اٹھایا
اک شدید خواہش
میرے اندر اٹھتی ہے
اسے گود میں لے کر
بے تحاشہ پیار کرنے کی

لیکن میں خود کو روک لیتی ہوں
ایسا نہیں ہے
کہ وہ ایسا کرنے سے
گھبرا کر رونے لگے گا
بلکہ ایسا ہے
کہ ایک نوکرانی کے بچے کو
گود میں لے کربے تحاشہ پیار کرنا
نامناسب ہے

Categories
شاعری

جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
ماں کی نظروں سے مجبور
اٹھا کر نہیں کھائے گی
آپ کے ہاتھوں سے گرے
چپس کے ٹکڑے

پیار کرتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
عزت سے مجبور
آپ کے تقاضوں پر
چھوڑ دے گی آپ کو
ہمیشہ کے لیے

اچھی بیوی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
بچوں سے مجبور
چھین لے گی واپس آپ سے
اپنے چرائے ہوئے پیسے

دعائیں دیتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
خودداری سے مجبور
چلی جائے گی
آپ کے گھر سے
فٹ پاتھوں پر رہنے

ٹھیک لگتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
کمر درد سے مجبور
اٹھا کر دے دیجئے
زمین پر پڑے
بھیک کے پیسے

Categories
شاعری

نظموں کے لیے ایک سباٹیکل (تنویر انجم)

آپ کا کام خاصا توجہ طلب ہے
ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے پڑھانا
باقی تیس گھنٹوں میں
دنیا کے مشہور شاعروں اور ادیبوں پر
تحقیق کرنا اور کروانا
کانفرنسوں میں جانا
سیمینار کروانا
پینلز میں شامل ہونا
بین الاقوامی جریدوں کے لیے مضامین لکھنا
اور آپ کو تنخواہ کے علاوہ ملے گا
ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ایک کیوبیکل
ہفتے میں ایک دن کی رخصت
اور سال میں دس اتفاقی، دس بیماری کی، اور دس استحقاقی رخصتیں
اور پانچ سال کے بعد آپ چاہیں تو درخواست دیں
ایک سباٹیکل کی
یہ ہے ہمارا پیکیج

یہ میرے لیے کچھ ٹھیک نہیں ہے
آپ ایسا کریں مجھے دے دیں
ملازمت شروع ہوتے ہی
نظمیں لکھنے کے لیے ایک سباٹیکل

Categories
شاعری

تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں

(1)
کہیں نہ کہیں
تتلیاں پھڑپھڑارہی ہیں اپنے پر
اوربرپا کررہی ہیں طوفان
مختلف جگہوں پر
بدل دیتی ہیں موسم
تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں
اور ستاروں کی سمت اور رفتار
اور ہماری قسمتیں
سوچنے کا مقام ہے ہرپل
قدم کس طرح اور کس طرف پڑے
اور کیسے بدل جائیں ہماری منزلیں
تتلیاں نادان ہیں
ناواقف ہیں اپنے برپا کیے ہوئے طوفانوں سے
بالکل ہماری طرح
جو نہیں جانتے
اچھا ہے یا برا
ہمارا سانس لینا یاسانس روک لینا

(2)
مڑچکی تھی میں
جب گر گیا ٹوٹ کر درخت سے
ایک سوکھا پتہ
میرے شانے پر
اور دیکھ لیا تم نے
اور رک گئے
جھاڑنے کے لیے
میرے شانے سے
وہ سوکھا پتہ
ایک بار پھر کہا تم نے
سوچ لو ایک بار اور
بات کرلینے میں کیا ہرج ہے
اور بات کرلی ہم نے
اور گزار لی ایک زندگی
ایک دوسرے کے خاندانوں کو جان کر
اپنے بچوں کے ساتھ
اور جب لے جارہے تھے لوگ
تمھیں کاندھوں پر
مجھے یاد آگیا یونہی ایک لمحے کو
اگر نہ گرا ہوتا ٹوٹ کر درخت سے
وہ سوکھا پتہ
میرے شانے پر

(3)
وہ غلط پھینکی گئی تیز گیند تھی
جو لگی پیٹ میں جاکر ایک لڑکے کے
اور پھاڑ دیا اس کا اپینڈکس
اور غم سے پاگل کردیا اس کے بھائی کو
سوسال گزر چکے ہیں
میں ہاتھ مل رہی ہوں
اس تیز گیند پر
آنسوئوں کے درمیان
ایک صدی کے نسل درنسل جاری
پاگل پن کا بوجھ
اپنے سر پر اٹھائے

(4)
رات ڈرامہ دلچسپ تھا
نیند دیر سے آئی
بھول گئی وہ جلدی میں
میز پر پڑا نظر کا چشمہ
اس اہم دن
جب مل گیا اسے وہ
اور ہوگیا پہلی نظر میں
ہمیشہ کے لیے اس کا اپنا
باوجود اس بات کے
کہ بہت نفرت تھی اسے نظر کے چشمے سے
بہت سال بیت گئے
جب اس نے سوچا
کاش اس رات نہ دیکھا ہوتا اس نے
وہ دلچسپ ڈرامہ
یا نہ بھولا ہوتا جلدی میں
میز پر پڑا نظر کا چشمہ

(5)
معمولی زکام تھا مگر
نہیں کرسکی وہ ہمت
بچے کے اسکول کی میٹنگ میں جانے کی
نہیں جاسکا وہ وقت پر دفتر
بچے کے اسکول کی میٹنگ کے باعث
نہیں دے سکا وہ اس کی تنخواہ
صحیح وقت پر
نہیں دے سکی وہ واجب الادا فیس
بچے کے اسکول میں
صحیح وقت پر
نہیں کرسکا وہ برداشت
فیس نہ لانے پر
ماسٹر کی مار
نہیں پڑھ سکا دوسری جماعت کے بعد
کرتے رہ گئے دھوپ میں مزدوری
وہ اور اس کے بچے
کسی اجنبی کے
معمولی زکام کے باعث

(6)
بھول گئی نوکرانی اس رات
پانی کا گلاس سرہانے رکھنا
کھل گئی اس کی آنکھ
آدھی رات کو
روتے روتے سونے کے بعد
شدید پیاس سے
اور بلا لیا اسے
صحن میں رکھے مٹکے کے برابر
کنویں کے اندر سے
اس کے عکس نے
کھل جاتی ہے آنکھ
آدھی رات کو
روتے روتے سونے کے بعد
میرے پیاروں کی
دل کے درد سے
دیرینہ یادوں سے
ڈرائونے خوابوں سے
جو جگائے رکھتے ہیں مجھے دن اور رات
کبھی نہیں بھولتی
میں پانی کا گلاس
ان کے سرہانے رکھنا

(7)
پرندے نے سوچا
ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں
دائیں مڑے یا بائیں
اور مڑ گیا بائیں
اور ٹکرا گیا
شور مچاتے، تیز رفتار
بہت بڑے پرندے سے
جو اسے نگلتے ہی گرا
اور پاش پاش ہوگیا
شہر کے معززین آدھے رہ گئے
بدل گئے خاندانوں کے سربراہ
تباہ ہوگئے کچھ کارو بار
کچھ چھونے لگے آسمانوں کو
الٹ گئیں تقدیریں
ہزاروں موجود لوگوں کی
اور ان کی بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے
جب مڑ گیا پرندہ
دائیں جانب کے بجائے
بائیں جانب

(8)
اجنبی ہے وہ
مگر سنا تھا کہیں اس نے میرا نام
ڈھونڈ کر نکال لی ہے اس نے میری فائل
اور فیصلہ کیا ہے
میں اس کام کے لیے مناسب ہوں
اب چھوڑنا ہوگی
مجھے یہ سرزمین
بڑا ہونا ہوگا میرے بچوں کے میرے بغیر
بھول جائیں گے مجھے وہ
جنھیں میں قریب رکھتی ہوں
آجائیں گے قریب
پتا نہیں کون سے اجنبی لوگ
شریک نہ ہو پائوں میں شاید
شادیوں اور اموات میں
اپنے پیاروں کی
نہ جانے کون تھا
جس نے لیا تھا میرا نام
اس کے سامنے
برسبیلِ تذکرہ

(9)
ہوگئی بارش
غیر متوقع
پھیل گئی کیچڑ
پھسل گئے گھوڑے
ہار گیا وہ
ایک اہم جنگ
بن گئی محکوم
اس کی جنگجو قوم
بدل گئی تاریخ
ہمیشہ کے لیے

(10)
جب کھڑا کیا تھا استاد نے
اسے بنچ پر
وہ سب پیدا نہیں ہوئے تھے
جو مارے گئے اس کی شرمندگی کے ہاتھوں
پلتی رہی اک آگ
تیس سال تک
اس کے سینے میں
اور گھس گیا ایک دن
وہ ان کی کلاس میں
اور ایک ایک کرکے ختم کردیں
سب بچوں کی تمسخرانہ مسکراہٹیں
لے لیا اپنی ذلت کا انتقام
بے رحم دنیا سے

(11)
جارہی تھی اس کی بیوی کی دوست
ملک سے باہر
ملنا ضروری تھا
بلائے جارہی تھی کب سے
اسے چلنے کے لیے
بغیر پڑھے دینا پڑے
اسے اوسط نمبر آخری جوابی کاپی کے
اور باندھ دیا اس نے بنڈل
نہیں مل سکا کسی یونیورسٹی میں داخلہ
مستقبل کے عظیم سائنسداں کو
نہیں ہوسکی وہ عظیم ایجاد
جو بدل دیتی ہماری قوم کی تقدیر

(12)
سوچا تو ضرور ہوگا اس نے
کیلے کا چھلکا گلی میں پھینکنے سے پہلے
میری قسمت کے بارے میں
پہنچ گئی میں ہسپتال
کھو بیٹھی اپنی ملازمت
بند ہوگئے ترقی کے دروازے
روٹھ گئی خوشحالی
نہ بن سکے میرے بچے
جو بننا تھا انھیں
اور ان کے بچے
سوچا تو ضرور ہوگا اس نے
کیلے کا چھلکا گلی میں پھینکنے سے پہلے

Categories
شاعری

آج کے دن

آج کے دن کوئی سستی نہیں کی جا سکتی
کپڑے بکھرے پڑے ہیں
فرنیچر پر دھول جم گئی ہے
کھانے کی میز کتابوں سے بھر گئی ہے
فرج میں کھانا ختم ہو چکا ہے
دفتر سے جتنی چھٹیاں کر سکتی تھیں کر چکی ہو
مزید چھٹی کی تو تنخواہ کٹ جائے گی
کپڑوں کو الماری میں رکھو
فرنیچر صاف کرو
ہر طرف بکھری کتابوں کو ان کی جگہوں پر رکھو
فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو

Categories
شاعری

میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی

ہماری بیٹریاں
انسانی جسموں کی طرح
اک سائنسی اصول کے مطابق کام کرتی ہیں
جب وہ نئی ہوتی ہیں
تھوڑی دیر کے ریچارج پر قوت سے بھر جاتی ہیں
پرانی ہونے پر انھیں لمبے ریچارج کی ضرورت ہوتی ہے
اور ایک وقت آتا ہے
جب کوئی ریچارج انھیں زندہ نہیں کر سکتا

اگر ہم بیٹریوں کو ریچارج کرنا بھول جائیں
تو اہم کاموں میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے

اگر تم نے مجھے ریچارج کر لیا ہوتا
تو میں تمہاری موت پر رو سکتی تھی

Image: Gino Rubert

Categories
شاعری

میں بالکل ٹھیک ہوں

تمہارا فون آتا ہے
اور میں کسی ضروری کام کی مصروفیت کو چھوڑ کر
فون اٹھاتی ہوں
تم پوچھتے ہوـ کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کر تے ہو
تفصیلات کے ساتھ
اپنی زندگی کے نئے حقائق سے پردے اٹھاتے ہو
بیوی بچوں کے اہم مسائل پر بات کرتے ہو
پرانے دوستوں کو یاد کرتے ہو
نئے منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہو
جو تمھاری بگڑی ہوئی زندگی کو ٹھیک کر دیں گے
میں تمھاری ہاں میں ہاں ملاتی ہوں
سچے دل سے تمھیں تسلی دیتی ہوں
اور خدا حافظ کے بعد اپنی مصروفیت کو
وہیں سے شروع کرتی ہوں
جہاں تم نے اسے روکا تھا

اور پھر کسی دن
تھوڑی زیادہ فرصت سے
میں تمھیں فون کرتی ہوں
تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

Categories
شاعری

میری زندگی کا شیزوفرینیا

میری زندگی کا شیزوفرینیا
مجھے مسلسل ایک جیسی زندگی گزارنے نہیں دیتا
ایک ایسی زندگی
جس میں میں چاہوں تو
لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھوں
سب سے ملنا چھوڑ دوں
سچ بول بول کر لوگوں سے تعلقات توڑ لوں
نظموں کی برسات میں بیٹھی بھیگتی رہوں

لیکن افسوس
میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں
اور مجبور کر دیتا ہے مجھے
اپنی کہی باتوں پر شرمندہ ہونے کے لیے
ایک طویل بے حد طویل عرصے تک کے لیے
حتیٰ کہ ناامیدی قدم اکھاڑنے کے قریب ہوتی ہے
تو مجھے بچانے کے لیے
زندگی لے لیتی ہے
ایک شیزوفرینک کروٹ

Image: Henrietta Harris

Categories
شاعری

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
اک گہرا ربط ہے

تم نے سنائیں ہمیں پریوں کی کہانیاں
ہم نے بنا لی اک جادو بھری کوٹھری

تم نے سنائیں ہمیں عشقیہ داستانیں
ہم نے اپنا لیا محبت میں مٹ جانے کا اصول

تم نے سنائے ہمیں اچھی بیویوں اور ماؤں کے قصے
ہم نے بنا لیا اپنے خون سے اک گھر

تم نے سنائے ہمیں وطن کے لیے قربانیوں کے افسانے
ہم نے ترجیح دی پردیس کی شاہراہوں پر اپنی تنگ گلی کو

تم نے سنائیں ہمیں عظیم اموات کی حکایتیں
ہم نے انتظام کر لیا اک با عزت موت کا

ہم خاموش لوگوں کو کبھی کسی نے یاد نہ کیا
اور تم رہے مقبول اپنی داستانوں کے ساتھ
بد نما حقیقتوں کے درمیان
نفرتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے
بغیر کسی گھر کے
پردیس کی شاہراہوں میں
ایک گمنام موت مر جانے کے لیے۔

لیکن ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم

Image: Penelope Slinger

Categories
شاعری

پیچھے مڑ کر مت دیکھو

پیچھے مڑ کر مت دیکھو
کتنی بار کہیں
پیچھے مڑ کر مت دیکھو
بیس برس پیچھے

مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔

مت یاد کرو
گلدستوں کے رنگ
جو بے سلیقہ لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تمہارے دروازے پرآکر لوٹ گئے۔

مت یاد کرو
زنجیروں کا بوجھ
جو بے صبر لڑکیوں کہ دیکھتے ہوئے
تم پر ڈالا گیا۔

مت یاد کرو
خوبصورت گیت
جو بے ہنر لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
بیچ ہی میں روک دیے گئے۔

پیچھے مڑ کر مت دیکھو
ہم جیسی بے حجاب،بے سلیقہ،بے صبر،بے ہنر
لڑکیوں کی طرف

اور کرنا شروع کرو
پاکیزگی سے پرہیز
پھولوں سے آرائش
زنجیروں کا توڑ
اور گیتوں کی مشق

Image: Shadi Ghadirian

Categories
شاعری

گن رہی ہوکیا

گن رہی ہوکیا
کیا انگلیوں کی پوریں ہیں
گنتی کے لیے
جو گنتی رہتی ہوتم
انگلیوں کی پوروں پر
سوتے اور جاگتے
پتا نہیں کیا کیا
کیوں دہلاتی ہو
پیار کرنے والوں کو
اپنے پاگل پن کی واضح نشانیوں سے

جب دنیا کی بیشتر چیزیں
قابل شمار ہیں
وہ کیونکر سمجھ پائیں گے
تمہارے دل کے راز

تو گن رہی ہو کیا جس کا شمارختم نہیں ہوتا
سورج کی کرنیں
جنگل کے درخت
ہواؤں کے جھونکے
آسمان کے تارے

یا اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں

Image: Ali Azmat

Categories
شاعری

ایک نظم اپنے اداس شہر پر

ایک نظم اپنے اداس شہر پر
چلے گئے وہ سب
میرے شہر سے
جو بنا سکتے تھے
سیدھی مضبوط دیواریں
ان شہروں کو
جہاں مل سکتا ہے انھیں
زیادہ معاوضہ
سیدھی مضبوط دیواروں کا
رہ گئی ہیں میرے شہر میں
اب صرف ٹیڑھی کمزور دیواریں
ٹیڑھی کمزور تہذیب کی علامت
میرے شہر کی دیواریں

دوڑ رہی ہیں
اونچی نیچی سڑکوں پر میرے شہر کی
بسیں، سائیکلیں اور گاڑیاں
اندھا دھند
تصادم کے خوف سے بے نیاز
ایک دوسرے کا راستہ کاٹتی ہوئی
اذیت سے بھرے دلوں کا عکس ہیں
میرے شہر کی
اونچی نیچی سڑکیں

میرے شہر کے ساحل پر
چل رہی ہیں
مون سون کی ہوائیں
اتنی تیز
ہلادیں قلم
اڑا دیں کاغذ
شاعری کی دشمن ہیں
میرے شہر کے ساحل سے چلتی
مون سون کی ہوائیں

ٹیڑھی کمزور دیواروں سے دور بیٹھوں
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
Categories
شاعری

میرا نازک موتی

میرا نازک موتی
ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی

کبھی آگ مانگتا ہے وہ
کبھی پانی
کبھی مٹی
کبھی ہوا
ماند پڑنے لگتا ہے
بہت تیزی سے
ذرا سی دیر میں
میرا نازک موتی

اسے چمکانے میں مصروف
میں کرتی ہوں
کبھی محبت کبھی نفرت
دوستوں سے
استادوں سے
اوزاروں سے
ہتھیاروں سے
سیاحوں سے
عبادت گاہوں سے

کبھی دور چلی جاتی ہوں
کبھی مل کر بیٹھتی ہوں سب کے ساتھ
موازنے کے لیے اپنے موتی کا
ان کے موتیوں کے ساتھ

کبھی لگتا ہے
غائب ہو رہا ہے نظروں سے
بھٹکتی پھرتی ہوں پھر
اس کی تلاش میں
مل جاتا ہے کبھی پڑا ہوا
درخت کے نیچے
یا دریا کے کنارے
کبھی کسی بچے کے پاس

جب مر رہے ہوتے ہیں لوگ
میرے چاروں طرف
اور مار رہے ہوتے ہیں لوگ
سامنے کھڑے رہنا اچھا ہے
یا چھپ جانا
میرے موتی کی چمک کے لیے
سمجھنا آسان نہیں ہے

سوچا تھا حیران کردوں گی سب کو
ایک دن اپنے موتی کی چمک سے
سناؤں گی اس کی کہانی
تفصیل سے
مگر نہیں سہار پاتا
نظروں کا بوجھ
میرا نازک موتی

لگتا ہے پسند کرے گا
میرے ساتھ ہی غائب ہوجانا
ہمیشہ کے لیے
میرا نازک موتی

Image: Pnina Osguthorpe