Categories
شاعری

رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
جس میں جلتے
تار پہ لٹکے ہمارے روزوشب کے خواب بھی

رات کا خیمہ جو روشن ہوگیا
دائروں میں رقص کرتی دودھیا سی خواہشوں کی جوڑیاں
چُونچیں مِنقاروں سے اُلجھی اپنے پٙر پھیلائے
جیسے انگلیوں کے تار پہ الجھے ہے
ریشم سا جہاں

آنکھ میں بہتا ہے
دھیمی لے میں اُڑتا گیت
نیلی آبشاروں کی دھنوں پہ چل رہا تھا

بازووں کے تار پہ لٹکے
ہمارے رُوبہ رُو
دودھیا سی روشنی
میرا بدن، تیرا وجود
اور آسماں کی گود میں ہے پل رہا
وہ خواب جو قوسِ قزح کے تار
پہ ہے کِھل اُٹھا
اور زندگی
ہونٹوں کی نرمی میں پھسلتی تازگی
جو وقت سے تلچھٹ کی دوری پر کھڑی ہے
زندگی
جو چلتے پانی میں دہکتی آگ ہے
روشن آلاو
گرد جس کے دائروں میں رقص کرتا ہے خدا
جو روشنی کی تازگی کا ہے نگہباں
رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
تیرا خدا، میرا وجود
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

روشنی کا لہو

وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی
بہت سیاہ رات ہی تھی کیا
یا زندگی کا رنگ تھا
جو چہرے سے اُتر گیا
وہ خواہشوں کی بیل تھی
جو آسماں کی اَور کو بڑھی چلی
مگر زمیں سے جا لگی
جو خاک سے لپٹ گئی
وہ رات تھی
مرے بدن میں چار سُو
میری نظر کے باغ میں
مری پھٹی قبا پر
جو نقش تھیں کہانیاں
جو خواب تھے بُنے ہوئے
کہ کاڑھ کر جنہیں نگاہ
خاک سے لپٹ گئی۔

Categories
شاعری

یاد ایک جھولنا ہے

یاد ایک جُھولنا ہے
جس میں جُھولتا ہے دم بہ دم
ترا بدن مرا بدن
کہ جیسے تیز پانیوں پہ تیرتی ہے
رات بھر
یہ خواب سے اور اصل سے جڑی
حیاتِ جاوداں

تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے

تو رات کے طلسمی جال سے بہت ہی دور
جُھولنے میں پاؤں
جُھولتے ہیں روز و شب
جو گفتگو کا ورد ہے
ترا بدن مرا بدن

جو رات میں اتر رہا ہے دم بہ دم
جو ذات میں اتر رہا ہے دم بہ دم

یہ تیز پانیوں کا اک جو شور ہے
جو رقص آب میں ہے محو
خواہشوں کی جھیل کے کناروں پر چھلک رہا
طویل گفتگو کا ورد ہے
ترا بدن مرا بدن

Categories
شاعری

پھر سویرا ناچ رہا ہے

شب بھر میں نے
کمرے کی کھڑکی سے جھک کر, باہر دیکھا
اپنا ہونا
اجلے بیڈ کے کونے پر جو راکھ پڑی تھی
خوب کریدی
انگلی چھیدی,ماس جلایا,خوب تلاشا
اپنا چہرہ
وہ چہرہ جو روزوشب کی چکی کے پاٹوں میں پستا
چپٹی ٹیڑھی شکلوں کی ترتیب بدلتا
کتنی راتوں کی مجبوری کے گھیرے میں تنہا تنہا
پگھل رہا تھا
چہرہ گویا برف کی سل ہے
جلتی مشعل جیسا جس میں بھید بھرا ہے
درد چھپا ہے
کھڑکی سے تم جھانکو اندر
دیکھو کتنے آدھے پورے چہرے ہر سو بکھر رہے ہیں
کاغذ کی کشتی ہے گویا
اور سمندر ریت کے ذروں کا حاصل ہے
پھولوں کا اک طشت دھرا ہے
باس بھرا ہے
خالی آنکھیں چاروں جانب گھور رہی ہیں

اس کے خط میں میری نظمیں,اس کے قہقہے
میری چپ ہے
اس کی حدت دھوپ کی مانند
چاروں جانب کھیل رہی ہے
کاغذ کی کشتی سے لپٹے,کنگھے کے دانتوں سے الجھے
بال پڑے ہیں
خالی آنکھیں چاروں جانب گھور رہی ہیں
شب بھر میں نے
تجھ کو دیکھا,خود کو ڈھونڈا
اور سویرا سر پر آ کر ناچ رہا ہے

Categories
شاعری

تمنا آنکھ بھرتی ہے

ازفر
تُو آتش ہے
جو پھولوں سے مہکتی ہے
زمانہ گرد جس کے دائروں میں رقص کرتا ہے
تمنا سے بھری آنکھیں تمھاری راہ تکتی ہیں

وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

کوئی بادل ہے تُو
جو اوک بھر برسے تو
دھرتی جاگ اُٹھتی ہے

مری شاخوں کے اندر تیری چہکاریں بھی زندہ ہیں
ترے اس جسم سے کِھلتی وہ ساری حیرتیں
مجھ پر الہام بھیجیں گی
میں جن سے خود ڈھانپوں گا

تیرے خال و خط سے
اور خوشبو کے جہاں سے
آسمانوں کی فضاؤں کی طرح وسعت
مرے اندر اترتی ہے….

Image: Benito Salmerón

Categories
شاعری

جہلم پر اترتی شام

جہلم پر اترتی شام
لال گلابی ہو کر سورج
جانے کس کو ڈھونڈھ رہا ہے
دور اندھیرے سے کمرے کی
اندھی ٹوٹی کھڑکی کھولے
چاروں جانب دیکھ رہا ہے
بوڑھی آنکھوں کے پردے سے
جاتے دن کو کوس رہا ہے
اور اندھیری رات کے ڈر سے
اندر اندر مرتا سورج
بہتے جہلم کی وادی میں چپکے چپکے ڈوب رہا ہے
اپنا ہونا سونپ رہا ہے

میں جہلم ہوں، میں ہوں سورج
میرے اندر شور بپا ہے
میرے اندر درد چھپا ہے
خوف بسا ہے
جس کو اپنے من میں رکھے
آگے بڑھتا جاتا ہوں میں
ہر گزران کے دکھ کے بدلے
تھوڑا مرتا جاتا ہوں میں
جہلم بھرتا جاتا ہوں میں
Categories
شاعری

سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے

[blockquote style=”3″]

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے
ہمیشہ زور میں بہتا
سمندر کھیلتا رہتا ہے پیروں سے لپٹ کر
رات بھر بانہوں میں بھرے کسمساتا ہے
تمھاری اوک میں بھر کر
کئی گزرے جزیروں کی مٹھائی سے بھری لہریں
مری کمزور چھاتی پر بچھی رہتی ہیں
دھیمے ساز میں لپٹے عروسی گیت گاتی ہیں
گلانی آبگینوں سے مسلسل خواب اُڑتے ہیں
بنفشی پھول سا چہرہ
نظارہ لے کے لہروں سے اُبھرتا ہے
سمندر رات ہے جس میں
خبر احوال کی کب ہے
لہو جو دوڑتا پھرتا ہے
ریشم سی تنابوں سے وہ آنکھوں میں ٹھہرتا ہے
سمندر کوکھ سے اپنی زمانے خلق کرتا ہے
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
کئی قوسیں بناتی ہیں
جو میرے جسم شجرے پر تمھارا نام لکھتی ہیں
تمھارے جسم جادو پر مرا چہرہ بناتی ہیں
حسیں لہروں پہ رقصاں فاختاؤں کے
پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے
دھنیں ترتیب پاتی ہیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
ہوا میں گیت گاتی ہیں
مری نظمیں,ترا رخ آرزؤں کے لحافوں میں چھپا
سب کونپلوں پھولوں کو اپنا لمس دیتا ہے
بدن تقسیم ہوتا ہے
کئی ٹکڑے، کئی قاشیں
سنہری دائرے تخلیق کرتے ہیں
میرے پیروں کی پوروں سے لپٹ کر
سب شکستہ آرزوئیں پوچھتی ہیں
اب تمنا اوڑھ کر
یہ کون سوتا ہے۔۔۔۔

Image: Chalermphol Harnchakkham

Categories
شاعری

خوبانی

[blockquote style=”3″]

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
خوبانی
میری خواہش، میری ساتھی
خوبانی ہے
کل دن نکلا تو
اپنے کچے صحن کے تھالے کے پیندے پر
اپنے بدن کو کچی مٹی کی بانہوں میں
سونپ دیا
اور گیلے گیلے ہونٹوں والے چہرے کی
مخمور ہنسی میں اپنے آپ کو چھوڑ دیا

خوبانی ہے
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں

خوبانی ہے
ڈھیلے ڈھالے لچکیلے سے ٹہنوں اوپر
جیسے بیج بدن سے لہرائیں
ان البیلی سی قاشوں میں
جب جسم کا سونا اُگنا ہے
ہر خواب خوبانی ہونا ہے
اور دھوپ کے تھالے میں چمکیں
وہ شوق کی حدت
جس میں خوبانی سے باداموں کی نرمی
پوشیدہ ہے…..
Categories
شاعری

دریا مرتا جاتا ہے

دریا مرتا جاتا ہے
ہانپتے گِرتے جہلم کی البیلی لہروں کے اُس جانب
بستی جو چرخہ کاتتی شور مچاتی رہتی ہے
دن کے سارے پہروں میں
اُس بستی کے آنگن اندر
رات کو پہرہ دار کی سیٹی
سُن کر بستر گرماتے ہیں بچے
وہ بستی اب قصبہ بن کر پھیلتی جاتی ہے
شیطان کی الجھی آنت کے جیسی
جس کے سارے اُلجھاوے سے
سانس رکے ہے
اُس بستی میں
دور دور تک پھیلے باغوں کی مٹی سے
تازہ کنوں مہک سے اپنی
ٹھنڈے جسموں کے ریشوں میں تازہ لہو کا رقص جمائیں
ریشم خوابوں کے جگنو بھی
بہکی سانسوں کو گرمائیں
اُس بستی میں
جیون اپنی چوکھٹ پر سب
رنگ رنگ کے کھیل سجائے
چلتا جائے
اور تمھاری راہ کو تکتی
روگ میں لپٹی
شپھی کے چہرے پر رقصاں
اڑی ترچھی قندیلوں سے پھوٹتی حدت
دیپ سی روشن

بہتے جہلم کے ماضی کی کتھا کہانی
بولتا پانی، کہتا جائے
بوڑھا دریا چلتا جائے
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے
Categories
شاعری

آسمان زیور ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آسمان زیور ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

چھے سمتوں میں
سب سمتوں کا رس بھرا ہے
گاڑھا اور کسیلا مادہ
شب کی گرمی سے جو پک کر
آنکھ کے رستے اب گرتا ہے

 

چھے سمتوں میں
جتنے پیڑ ہیں جتنے شجر ہیں
سب پر اس کا نام لکھا ہے
جس کا کوئی نام نہیں ہے
جس کی آگ میں تم ٹھہرے ہو
جس کی خاک میں ہم رہتے ہیں

 

چھے سمتوں میں
اوپر نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے
کیسی آگ سی جلتی ہے جو
کڑوے کسیلے پیندے والے
میرے تالو کی گلیوں میں
روز کا چکر کاٹ رہی ہے
آگ کا آنا، اس کا جانا
ایک تماشا ہے یہ سب بھی

 

میں اور میرے خواب ادھورے
صحن میں لٹکی تار کے اوپر سوکھ رہے ہیں
چائے بناتے ہاتھ سا ریشم
چھے سمتوں سے ان کے اندر
دیپ کی شکل میں جلتا ہے اور
دل کے دریچے تو سوکھی لکڑی جیسے ہیں
چٹ چٹ چٹخے جاتے ہیں

 

دریا رات کی پیڑھی پر اب
گھوم گھوم کے تھک بیٹھا ہے
اور اک چوڑی کشتی جیسا
سونے کی رنگت کا تختہ جائے اماں ہے
جس کے ریشم پتل اوپر میری آنکھیں دھری ہوئی ہیں
رات کی جھولی بھرتا چہرہ
اجلی چاندی کے عکسوں سے
اپنے عکس کو جھلکاتا ہے

Image: Jimmy Ovadia
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]