[blockquote style=”3″]
[/blockquote]
عجیب دکھ ہے اذیت ہے بے قراری ہے
‘خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے’
کہ اب زمین پہ اندھیروں کی سلطنت ہو گی
وہ ایک چراغ بغات کے قافلے میں جو تھا
وہ بجھ گیا ہے مگر اس نے سر جھکایا نہیں
اب اس کے بعد بغاوت کا کس کو یارا ہے
یہ بزدلوں کا نگر، بوٹ پالشیے ہم لوگ
زمیں پہ راج وہی ظلم کی ہوا کرے گی
کہ اک چراغ کے بھجنے کے بعد کیا ہو گا
اندھیرے اور بڑھیں گے گھٹن ستائے گی
