کششِ ثقل (رضوان علی)

میرے پیر زمین پہ جمے ہوئے ہیں لیکن میں دراصل اس زمین سمیت خلاء میں تیر رہا ہوں ایک کائنات سے دوسری کی طرف جاتے ہوئے ازل سے ابد تک کا سفر مجھے اپنے اندر ہی طے کرنا ہے بہت جلد سارے خداؤں کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑے گی بس وہی فیصلے کی […]
محبت کے سیارے سے آخری پیغام (نصیر احمد ناصر)

تم تک کب پہنچیں گے
میری نظموں کے سگنل!
تمہارا نام اور دیگر نظمیں (فاطمہ مہرو)

تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا
ہم آنکھیں موند کر
صرف تمہارا دیکھنا سوچتے
اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا
پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ بڑے سبھاؤ سے گزار چکا تھا میں بھی __ بھلا دس برس پہلے میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟ شاید عمر کے اس حِصے میں جہاں خواب بنے جاتے ہیں اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے […]
Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر […]
رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

عمران ازفر: رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
رات کی بے بسی

صفیہ حیات: میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے
وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر
اپنے گھر کا رستہ بھول جائے
ایک گناہ کی اجازت

صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !
خود کلامی

ابرار احمد: تم نے ٹھیک سمجھا
ہر تعلق ایک ذلت آمیز معاہدہ ہے
تھکے ہارے دلوں کا ، اپنے ارادوں کے ساتھ