Categories
شاعری

کششِ ثقل (رضوان علی)

میرے پیر زمین پہ جمے ہوئے ہیں
لیکن میں دراصل
اس زمین سمیت
خلاء میں تیر رہا ہوں
ایک کائنات سے دوسری کی طرف
جاتے ہوئے

ازل سے ابد تک کا سفر
مجھے اپنے اندر ہی طے کرنا ہے

بہت جلد
سارے خداؤں کے درمیان
ایک گھمسان کی جنگ چھڑے گی
بس وہی فیصلے کی گھڑی ہے
اور پھر ۔۔۔
نو آسمان تہہ بہ تہہ
ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گے
اور میں تم سے
بہت دور چلا جاؤں گا

مجھے تمہاری کمی
پہلے سے بھی زیادہ
محسوس ہو رہی ہے

یہاں آؤ ۔۔۔
بچھڑنے سے پہلے
میں ایک بار تمھیں
بہت قریب سے
دیکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

محبت کے سیارے سے آخری پیغام (نصیر احمد ناصر)

اے نُوری سالوں کی
دُوری پر رہنے والی
تم تک کب پہنچیں گے
میری نظموں کے سگنل!

Categories
شاعری

تمہارا نام اور دیگر نظمیں (فاطمہ مہرو)

صبحِ خوبصورت

وہ اپنی پسندیدہ لِپ سٹِک
پستول کی نوک سے لگاتی ہے
کئی طرح کے پسینوں کی خوشبؤوں سے
اُس کی ڈریسنگ ٹیبل بھری رہتی ہے
اُسے لفافوں کو بوسوں سے
بند کرنے کی پُرانی عادت ہے
خواہ ڈاکیا اُنہیں خود پڑھ لے
اُس کی الماری
جاگ کر بدلے جانے والے کپڑوں سے
خالی خالی
چاند، اُسے، اپنے ماتھے
اور ستارے، کلائی پر باندھنے سے فُرصت نہیں
ناشتے کی میز پر، اخبار میں، اُسے
گزشتہ شب کی سُرخی پسند ہے
اور خادموں میں، کُتے
کسی نئے مہمان کو خوش آمدید کہنے کو
ہر برینڈ کا سگرٹ
اُس نے شام سے پہلے ہی لے رکھا ہے
وہ الکوحل کی بوتل
اپنے بیڈ کے بائیں طرف
کھڑکی کے سامنے چُھپائے رکھتی ہے
رات گئے ایک سیب اور خنجر
اُس کے سرہانے چمکتے ہیں
اور اندھیرے، اُس کا لباس بنے
ساری رات بدن چاٹ کر
صبح کی روشنی تیار کرتے رہتے ہیں !

عورتیں ہمیں دھکیلتی ہیں

ہم گندم پر اکتفا کر لیتے
لیکن ہمارے سامنے کچی روٹی کی مہک رکھی گئی
اور پھر روزے توڑنے پڑے
ہم ایک گناہ پر راضی تھے
لیکن اُن میں مامتا کوٹ کوٹ کے بھری تھی
سو ہمیں سارے ثواب کھونے پڑے
ہم اپنی زمینوں پہ مطمئن ہونے کو تھے
کہ جنگل میں لکڑہارے سے ملاقات ہو گئی
اور اچانک برسات
ہمیں چار کے معنی معلوم نہ ہو پاتے
اگر کبھی ہم ایک سے سیر نہ ہوئے ہوتے
اور عمل کو ضربِ مسلسل سے نہ گزارا جاتا
ہمیں ہر کنویں میں خودکشی کا شوق بھی نہ ہوتا
اگر وہ ہماری رات سے زیادہ گہرے نہ ہو سکتے
اور پانی مزید سستا
ہم ان کے پیروں تلک رہتے
اگر دل کو راستہ، ناف سے ہو کر نہ جاتا
اور دماغ، وہ تکیوں پہ نہ دھر آتیں
ہمیں سرخ رنگ کی عادت ڈالی گئی
جس سے ان پر لگنے والے سارے دھبے ہمارے کہلائے
اور شراب کے معنی بدلتے رہے
ہمیں آگ سے کھیلتے ہوئے
ایک رات بھی نہ مکمل ہوئی کہ اعلان ہوا:
اپنی مرضی سے کھیلنے پر ہاویہ ہمیشہ کے لیے تمہاری ہوئی !

چشمہ

وہ اِس سے ساری عورتوں کو
دیکھتا ہے
اور میَں
سارے مردوں کو

اُسے دن میں اِس سے بلیک ہول کا ہالہ
اور رات میں کہکشاں دکھائی دیتی ہے
مجھے، مکھیوں کے لئے شہد

سونے سے پہلے اِسے اتارنے پر
مَیں دھندلا جاتی ہوں
اور وہ مجھے صاف نظر آنے لگتا ہے

مجھے ہمیشہ اس میں اپنا ماضی نظر آتا ہے
اُسے، اپنا حال
سو ہم اِس بد صورتحال میں
مستقبل سے بے نیاز رہتے ہیں

اِسے ڈھنگ سے پہن کر کوئی بھی
آدم و حوا کی جبلت و خصلت
کی ناک پر بنا کوئی نشان چھوڑے
سارے جسم کا رنگین سی ٹی سکین کر سکتا ہے

وہ اِسے زیادہ تر بارش
اور مَیں، دھوپ میں استعمال کرتی ہوں
استعمال، اکارت نہیں جاتا

اُسے، اِس میں سے سب کچھ سُرخ
اور مجھے، گندمی دکھائی پڑتا ہے
یہ گرگٹان رنگ بدلنے میں ماہر ہے

اِس چشمے کو رہن رکھ کر
پانی بیچا
اور شہد خریدا جا سکتا ہے

وہ سب اِسے دن میں کھُلےعام بیچنے
اور رات کو، چُپکے سے خریدنے پر تُلے ہوئے ہیں
یہ منافع بخش کاروبار کی ضمانت ہے

ایک بار کسی نے اِسے بے دھیانی سے کھولا
اور جلد بازی میں جوڑ دیا
اب کسی سائز کا فیتہ، دوبارہ،
اس کا نظارہ ایڈجسٹ نہیں کر سکتا !

تمہارا نام

تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا
ہم آنکھیں موند کر
صرف تمہارا دیکھنا سوچتے
اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا

تمہارا نام سمندر ہونا چاہیے تھا
کہ تمہاری بحرالکاہلی گہرائی
ماپنے کو دنیا کے تمام جزائر سے زیادہ
فاصلہ طے کرنا پڑتا

تمہارا نام پینٹنگ ہونا چاہیے تھا
کوئی مونا لیزا تمہیں سمجھ نہ پاتی
اور تمہارے قیمتی ترین ہونے پر
ساری زندگی تمہاری قیمت جمع کرنے میں لگا دیتی

تمہارا نام موسیقی ہونا چاہیے تھا
تاکہ تمہاری خامشی اور منظر کے درمیان
موجود لہروں کو ترتیب دے کر
اک نیا سلامت علی خان بنایا جا سکتا

تمہارا نام دیوتا ہونا چاہیے تھا
کہ تمہاری داڑھی میں اک سفید بال کو
دن میں سات مرتبہ چوم کر
گھر بیٹھے حج کیا جا سکتا !!

برائے فروخت

برائے فروخت
برائے فروخت
سانپ کی کھال اور بکرے کا گوشت
زبان، ضمیر، دل گُردے یا پوست
تازہ، مفید اور سستا مرے دوست
برائے فروخت

کوڑے دان میں دسترخوان سجاتا فقیر
دھکا دے کر گاڑی بھگاتا امیر
کارل مارکس کے سارے مخالف یا اسیر
برائے فروخت

ٹی ہاٶس میں ملنے والی چائے
جگت بازی، مباحثے، نقادوں کی رائے
اونچے ایوانوں میں دیوانوں کی ہائے
برائے فروخت

دنیا کو تیسری جنگ سے بچانے کی ترکیب
خُدا، خلا، سزا ، جزا اور بلاِ مہیب
گیتا، قرآن اور نظم پڑھنے کی ترغیب
براۓ فروخت

آۓ روز سڑکوں پہ احتجاجی صدا
ہڑتالوں میں نعرے لگاتے چند بے نوا
خودکشی، خواب اور مستقبل کا پتہ
برائے فروخت

ترتیب سے درخت کاٹتا آدمی
انگلیاں چھیدتی ہوئی بانسری
ان سے چِھلے کاغذ پہ لکھی شاعری
برائے فروخت

عزت،بشہرت، سچ اور کھوٹ
سرطان، عقرب، حمل یا حوت
زندگی، عمر، پیدائش اور موت
برائے فروخت !

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
ادھار دے سکتی ہے دودھیا چاندنی
رات کی رانی کو خوشبوٶں کے سراب
گھنے درخت کو ایک سانپ

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
پیدا کر سکتی ہے کسی بھی دریا میں
کششِ ثقل کی لہریں
غزل کہنے والوں کے لئے بحریں

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
بھیج سکتی ہے ہوا کے ہاتھ
اپنے سے دُور محبوب کو رنگین راتیں
خواب، رتجگے اور برساتیں

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کاٹ سکتی ہے آنکھوں میں رات
گُھپ اندھیروں میں بن کر ستارے
مچھلی ہو کر سمندر کے دھارے

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کر سکتی ہے ہر اندھے کنویں میں
گولائیوں کی صورت اجالا
اچانک خطا کا بر وقت ازالہ

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کھول سکتی ہے پچھلے پہر
صبح کاذب میں پھوٹنے والے راز
کون جانے چاند کے نیچے سو جانے
سے۔۔۔۔ چاندنی۔۔ پاکباز۔۔۔

چال

چلنے کے لئے
رُکنا پڑتا ہے
اور ایک جگہ رُکنے کے لئے
بہت زیادہ چلنا پڑ سکتا ہے
چلتے چلتے
اک دَم رُک جانے سے
قدم ڈگمگا سکتے ہیں
اور رُکنے کی جگہ پہ
اچانک چلنے سے، چلن خراب ہو سکتا ہے
رُکنا اور چلنا
آدمی کو
نظروں میں اُٹھا اور گِرا سکتا ہے

Categories
شاعری

پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی
وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے سبھاؤ سے
گزار چکا تھا
میں بھی __
بھلا دس برس پہلے
میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟
شاید عمر کے اس حِصے میں
جہاں خواب بنے جاتے ہیں
اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے
کسا جاتا ہے
میں بہت خاموش رہ کر
بہت کچھ سہہ کر
جب اس تک پہنچی
تو اس کے ساتھ میں نے کئی زمانوں کو
الیوژن کی صورت خود پر بیتتے دیکھا
میں نے بھری دوپہروں میں اس کے ہمراہ
سنسان گلیوں میں
اتنی سائیکلنگ کی کہ ہم دونوں اور ہمارے ساتھی
تمتماتے سرخ چہروں کے ساتھ
سورج سے لڑتے تھے
باغِ جناح کے کئی ٹریک
ہمارے قدموں کو پہچانتے ہیں اب بھی
کئی کلیاں کھلنے سے پہلے ہم توڑ لاتے تھے
کئی بارش کی بوندیں
چھپاک چھپاک ہمارے پیروں تلے روندی جاتی تھیں
ہم ہنستے تھے تو ہوائیں چلتیں
بولتے تو وقت رک جاتا
وہ اب اپنی عمر کی چار دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے ہی سبھاؤ سے گزار چکا ہے
اور میں
عمر کے اس حِصے میں ہوں
جہاں
سمجھ پختگی کے دھاگوں سے سِل کر
مکمل اک کتاب بن کر
سامنے آ چکی ہے _!!!
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو
تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں
مگر تم نے کبھی سوچا ہے!
تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں
نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر دیا تھا
تم نے کبھی دیکھا ہے!
میں بھی وعدوں اور قسموں کے دریا کا صرف ایک حصہ پار کر پائی ہوں
پھر بھی اقرار عنایت احساس کے تحفوں کی میں خود کو زیادہ حقدار سمجھتی ہوں
لگتا نہیں مگر سچ یہی ہے
ہم کہانی بن چکے ہیں
مگر لیلیٰ مجنوں ہو نہیں سکتے
پچھلی چھٹیاں ہم نے پھولوں کے ساتھ گزاری تھیں
پر اِن چھٹیوں سے پہلے ہی ساری خوشبو ختم ہو چکی ہے
کتنی طویل راتوں میں ہم ستاروں کی محفل میں بیٹھے ہیں
مگر تمھاری جیب اور میرے پرس میں روشن لمحوں کی کوئی بچت نہیں ہوتی
جنوری کی پہلی تاریخ پر ہم خوشیوں کی کمیٹی ڈالتے ہیں
اور اکتیس دسمبر تک ایک دوسرے کو گنتی کی مسکراہٹیں دے پاتے ہیں
یوں تو تم فائلوں کے پاس اور میں کچن کی شیلف کے کونے پر خاص دنوں کی فہرست رکھتی ہوں
لیکن زندگی کے ریڈیو پر یاد کا وہ نغمہ ضرورتوں کے گیت کے بعد ہی آتا ہے
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم محبت کا سمندر نہیں
بس ایک قطرہ ہیں
اور محبت کی ہارٹ بیٹ نارمل رکھنے کے لیے وہی ایک قطرہ ہی کافی ہے
اگر سنبھال لیا جائے ــــــــــــ
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
جس میں جلتے
تار پہ لٹکے ہمارے روزوشب کے خواب بھی

رات کا خیمہ جو روشن ہوگیا
دائروں میں رقص کرتی دودھیا سی خواہشوں کی جوڑیاں
چُونچیں مِنقاروں سے اُلجھی اپنے پٙر پھیلائے
جیسے انگلیوں کے تار پہ الجھے ہے
ریشم سا جہاں

آنکھ میں بہتا ہے
دھیمی لے میں اُڑتا گیت
نیلی آبشاروں کی دھنوں پہ چل رہا تھا

بازووں کے تار پہ لٹکے
ہمارے رُوبہ رُو
دودھیا سی روشنی
میرا بدن، تیرا وجود
اور آسماں کی گود میں ہے پل رہا
وہ خواب جو قوسِ قزح کے تار
پہ ہے کِھل اُٹھا
اور زندگی
ہونٹوں کی نرمی میں پھسلتی تازگی
جو وقت سے تلچھٹ کی دوری پر کھڑی ہے
زندگی
جو چلتے پانی میں دہکتی آگ ہے
روشن آلاو
گرد جس کے دائروں میں رقص کرتا ہے خدا
جو روشنی کی تازگی کا ہے نگہباں
رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
تیرا خدا، میرا وجود
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

رات کی بے بسی

وہی رات ہے مگر اداس سی

وہی جگہ ہے مگر سونی سی

وہی گھڑی کی ٹک ٹک مگر روئی سی

شام کے 5 بجے تھے

جب روح تن سے جدا ہو کے پلٹی تھی

وہ سیڑھیاں چڑھا

ٹک ٹک سے ٹھوکر لگی

میں الوادعی بوسے کے ساتھ سوئی تھی

نیند کے پاؤں میں الجھتی بھاگی

 

میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے

وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر

اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

 

ہوا !!!

صحرا سے ریت لاؤ

اسے سراب بناؤ

وہ سرکٹ ہاؤس سے ہوتا

پگڈنڈیوں پہ چلتا

میرے گھر کی دہلیز پہ رکھ دے قدم

 

سنو!!!

میں نے سر شام ہی

ریت کے ہر ذرے میں سورج رکھ دیا ہے

یہ سورج میرا ہے

جب رستہ بھولو

یہ ہر ذرہ میں اگے گا

ذرے سے پھوٹتی کرنیں

گلی کی نکڑ پہ کھڑے

تمھیں رستہ دکھائیں گی

مگر رکو

میں خود تمھیں لینے آتی ہوں

پلٹنا نہ

میں اک پل سے پہلے آتی ہوں

 

یہ کیا۔۔۔؟

رات کا ایک بجا ہے

تم بستر کے سفر میں ہو

اس سے دو راتوں کی دوری کی کہانی سنتے

دو راتوں کے رت جگے کا کاجل

میری آنکھوں سے بہتے دیکھ کر روئے ہو

سونے سے پہلے یاد رکھنا

تم مجھے سرکٹ ہاؤس میں تنہا چھوڑ گئے ہو

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

ایک گناہ کی اجازت

عشق کی مٹی سے گندھے بدن
پیاسے دشت وصحرا میں
سانسوں کے ناپسندیدہ تصادم میں
کرب میں ملفوف
درد کے بوجھ سےدھری
نیند سے آزاد آنکھیں
جگراتے کا میلہ لگاتی ہیں
میٹھے درد کی کسک حوصلےتوڑ دے
تو۔۔۔
سماعت و بصیرت
روشنی و تیرگی، دھوپ و سایہ
ایک ہونے لگتے ہیں
جذبے عشق کے سامنے
خاک سر پہ اوڑھے
گرد آلود، مسجود، نابود ہو جاتے ہیں
ہونٹوں سے حرف دعا گرتے
خالی دل کی خالی رات کو
نامراد لوٹا دیتے ہیں۔
طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
اک کندھے کی چاہ میں
جئے بغیر ہی
اگلے جہاز میں سوار ہو جاتے ہیں
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

میں جا چکی ہوں

میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
تمہاری حد سے گزرچکی ہوں
یہ وقت کی ڈور ہے، جو چرخی سے میری
ہنس کے لپٹ رہی ہے
یہ رنگ جیسے ، پتنگ جیسے
حسین موسم ہیں ، تالیاں جو بجا رہے ہیں
یہ گٹھڑیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سنبھالو اپنی
تمہاری چالا ک سرحدوں سے
نہ جانے کب کی
میں جا چکی ہوں
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
نرم پوروں سے کوئی ہولے سے
دل کی دیوار گرا دیتا ہے
ایک کھڑکی کہیں کھل جاتی ہے
آنکھ اک جلوہ صد رنگ سے بھر جاتی ہے
کوئی آواز بلاتی ہے ہمیں

تم جو آتے ہو
تو اس حبس، دکھن کے گھر سے
رنج آئندہ و رفتہ کی تھکاوٹ سے
نکل لیتے ہیں
تم سے ملتے ہیں
تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
کبھی نہ ختم ہونے کے لیے
وہ کتنے خوش رہتے ہیں
جو بظاہر مِل کر بھی در اصل نہیں مِلتے
اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے
دل کا دل سے
روح کا روح سے
اور شریر کا شریر سے ملنا
یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں
پتا نہیں
زندگی تنہائی کے بغیر ادھوری ہے
یا تنہائی زندگی کے بغیر
لیکن ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں
اور جہاں ٹکتے ہیں
یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس
کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے
گاہے زیادہ
گاہے کم ہونے سے
تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

خود کلامی

تم نے ٹھیک سمجھا
ہر تعلق ایک ذلت آمیز معاہدہ ہے
تھکے ہارے دلوں کا، اپنے ارادوں کے ساتھ
ہر ربط،ایک مسلسل فریب
ہر لمس، ایک رائیگاں سچائی
جس میں سہمے ہوے جھوٹ سے ہماری پوریں، پناہ مانگتی ہیں
ہاں —فراق ایک ابد ہے
تیرے میرے زمانوں کا آخری علاقہ
تیرے میرے امکانات کا آخری سانس ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے ٹھیک سمجھا
زندگی، پانیوں میں تیرتے ہوئے جزیرے پر
خود رو گھاس کی طرح،
بے معنی اور خوبصورت ہے
تم نے ٹھیک سمجھا
وقت، دلوں سے لپٹ کر
آس اور نراس کا ہر قطرہ نچوڑ دیتا ہے
وقت ایک بھاری جاذب
جس میں، میں اور تو بوندوں کی طرح گرتے رہتے ہیں
تو اور میں
ازل سے ابد تک چلنے والے ایک مسلسل واہمے کے خال و خد
بوجھل پلکوں سے اس پار کے اندھیرے کو جھٹکتے ہوئے
ایک دوجے کو صدیوں سے گھورتے چلے آ رہے ہیں
تم نے ٹھیک سمجھا
کہ نیند ایک بے پناہ آغوش کا لمس،
کہ رات سب وقتوں کی ایک سچائی
اور صبح کی مقدس روشنی
اس سکوت میں چلنے والے ایک لمحے کی کروٹ
اس سناٹے میں دراڑ، جو زمان و مکان پر چھاۓ ہوئے
گھنے ابر کی چادر ہے
جس سے ہمارے ناموں کی ڈوریاں بندھی ہیں
ہاں۔۔۔۔۔ لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا ہے
لمحہ، جو تیری میری آنکھوں کے کھلنے کا جواز ہے
لمحہ، جو عافیت کی بے خودی میں سرشار ایک مسلسل رقص ہے
لمحہ جو تو ہے
لمحہ جو میں ہوں
تم نے ٹھیک سمجھا
کہ سمجھ لینے میں،
کبھی نہ ہونے کا خوف ہی ہمارا رشتہ ہے
جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے

Image: Henn Kim