Categories
شاعری

اجنبیت سے بھرا دن (ثاقب ندیم)

اجنبیت سے بھرا دن
اہم شخص کو غیر اہم بنا سکتا ہے
میں ایک اجنبی دن کے اندر سے گُزرا
جہاں خاموشی
کمرے کی درزوں سے بہہ رہی تھی
جہاں تمہاری آنکھوں میں
ایک اجنبی اداسی تھی
یہ میرا پہلا تعارف تھا
اُس لہجے سے
جِس میں اجنبی دن بولا کرتے ہیں
اور پاس سے گزرتے پاؤں کی آہٹ
دل دہلا سکتی ہے
اجنبیت بھرے دن میں
اجنبی رنگوں کی گِنتی
آپ کو پورا دن مصروف رکھ سکتی ہے
آپ اپنی گنگناہٹ میں بہت آسانی سے
بیڈار سُر کا اضافہ کر سکتے ہیں
اور مکمل مصروف رہ کے
اپنے آپ کو
دھوکا دینے کی پریکٹس کر سکتے ہیں
اجنبیت بھرا دن گزارنے کی خاطر
Image: Tadas Zaicikas

Categories
شاعری

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں
سرد رُتوں کی سائیں سائیں
روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی
آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس
مُٹھی بھر ہمدردی
بھوگ رہا ہوں
بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا
کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو
ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی
کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی
ایک عدد حیرانی
شکلیں بدل بدل کے آتے غم کے گھاؤ
کِس کے ہمراہ اکلاپے کی شام مناؤں
ایک پرانی یاد کی تلچھٹ باقی رہ گئی
باقی رہ گئے تم
وہ بھی یہاں کہاں ہو؟
باقی رہ گیا میں
میں بھی کہیں نہیں ہوں
بھوگ رہا ہوں
کب سے اپنے نہ ہونے کو
مٹی ہوتے دیکھ رہا ہوں
میں سونے کو
Images: cristine cambrea

Categories
شاعری

کون بتائے گا

وائلن کے تاروں کی چیخ میں
کتنے سینٹی گریڈ وحشت تھی
خزانی ہوائیں چلیں تو
پتے پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں
اور محبت کو اجنبی راہ میں خالی بنچ پہ
چھوڑ کے جانے والے نے ہمت
کہاں سے مستعار لی
کون بتائے گا؟

آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے
اور جانے والا پرائی دھوپ میں
اپنا بدن کیوں سینکتا رہا
کون بتائے گا؟

وہ۔۔۔۔۔ جسے معلوم ہے کہ
رسے کی کمزوری کے باعث
خود کشی پہ آمادہ لڑکی کی
داھنی ٹانگ کیوں ٹوٹی
یا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنی خود کشی موخر کر کے
زہر میں ملاوٹ کے خلاف
سارا دن احتجاج کرتا رہا
Image: Matthew Li

Categories
شاعری

شہ رگ کی بالکونی سے

خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے
کہ خدا نے اس کی سن لی
اور وہ بھینس کے تھن کو چھُونے سے پہلے
—- کا نعرہ لگائے گا
مگر بھینسیں زیادہ دودھ دینے سے
اس مرتبہ بھی مُکر گئیں
کہ بھینسا ہل میں جُتا ہوا تھا
اختلاط کو ترسی ہوئی بکریاں
احتجاج لکھنے والا قلم ڈھونڈتی رہیں
مگر بکرے قربان ہو چکے تھے
وہ اب کہیں دور سے اپنی اپنی بکری کو
لَو لیٹر بھیجتے ہیں
مگر بکریوں کے کان
دوسری آواز کے انتظار میں کھڑے ہیں
محبت کے شیِرے میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز
خدا شہ رگ کی بالکونی میں براجمان
تماشہ دیکھ رھا ہے
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

کایا کلپ کے بعد

ایک روز صبح سویرے شہر جاگا
تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا
قبضہ ہو چکا تھا
اس روز سارا دن شہر کے نتھنوں سے
سُرخی قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی
اور ستارے اپنی آنکھیں ملتے رہے
اس دن کے بعد سے مہا بلی
آدھی آنکھ سے شہر کو تکتا ہے
کہ شہر کے حصے میں فقط
آدھی آنکھ کی سیاھی رہ گئی ہے
اب اس شہر پہ دندناتے بونوں کا راج ہے
جو لمبی داڑھیوں پہ قدم جما کے
اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں
اور صبح سے شام تک
اذانیں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی کرتی
تھک جاتی ہیں
یُو این او میں بیٹھے درویش کے کان
آج بھی دھواں دیتے ہیں
اور شہر ہٹ دھرمی کے عفریت کے آگے
بھیگی بِلی بن چکا ہے
Image: Gerome Kamrowski

Categories
شاعری

رستے میں کھو جانے والا اعتبار

رستے میں کھو جانے والا اعتبار
چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ناراض ہے اپنے
ستر سالہ بُوڑھے خواب سے
اور سامنے بیٹھی ہوئی
رعونت میں غوطے کھاتی ریش سے
اُس کا جی چاھتا ہے کہ——–؟
لیکن افسوس کہ
اُس کی جیب میں رکھا اُسترا
راستے میں کہیں کھو گیا ہے
نہتے شخص کے خوابوں پر
کیا اعتبار کرنا، اور نہ ہی
اس کے غصے پر۔۔۔۔۔۔۔
استرے کی طرح
اس کا غصہ بھی راستے ہی میں کہیں
کھو سکتا ہے

Image: Henrietta Harris

Categories
شاعری

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں
وہ سال کے مختلف دنوں میں
اپنے اپنے خداؤں کا سنگھار کر کے
باہر نکالتے ہیں
پھر میری طرف استہزایئہ ہنسی کے
کنکر پھینکتے ہیں
میں تیس سال سے
خداؤں کی جنگ دیکھ رہا ہوں
میں نے اکثر دیکھا ہے
خالی کھوپڑیوں والے سپاہیوں کو
اپنے بھیجے کے بم بنا کے
اپنے خداؤں کو خوش کرتے ہوئے
ان کے خدا ان کو
ہر وقت عالمِ خواب میں رکھتے ہیں
میں یہ خواب نہیں دیکھنا چاہتا
میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

Image: Frank Vincentz