Categories
شاعری

غصے کی بے مہر چنگاری (سلمیٰ جیلانی)

غصے کی اک
بے مہر چنگاری
کتنا کچھ جھلسا دیتی ہے
بچوں سے پیار اور دلار
چھین کر
ان کی آنکھوں میں خوف و دہشت بھر دیتی ہے
ماں اپنا سوہنا روپ بھلا کے
بھتنی سی بن جاتی ہے
کبھی کبھی
قبر میں جا کر بھی سو جاتی ہے
اور دنیا سائے کے بنا
اجاڑ جنگل میں بدل جاتی ہے
جہاں الو بسیرا کرتے ہیں
سارے کبوتر اور فاختہ
راستہ بھول کے
ویرانوں کو نکل جاتے ہیں
شکاری کے تیروں سے چھلنی ہو کر
پیٹ کا ایندھن بن جاتے ہیں
کیا تھا اگر
باپ تیز نمک کا سالن کھا لیتا
امن کی فاختہ کے گیت
اور بچوں کی ہنسی
جھلسنے سے بچ جاتی

Categories
شاعری

خوشی/ اداسی

جیون ایسی کتھا جس میں
خوشی اور اداسی کے سائے
ہمہ وقت گڈمڈ
رہتے ھیں
پل دو پل کو خوشی کا سورج
افق کے پار ابھرے تو
اداسی اپنے طویل پنکھ
پھیلاتی ھے اور
دل پر اندھیرے کا کبھی نہ
ختم ھونے والا راج پاوں پسار
لیتا ھے
مگر پھر کوئی ننھی کرن
مسکراتی ھے جسے امید کہتے ھیں
بالکل ایسے ہی جیسے
بھوک سے بلکتے بچے کو
ماں کی سوکھی چھاتیوں سے
ٹپکتے دودھ کا خواب آ جائے
اور
پل بھر کے لئے سیراب ہو جائے
مگر آنکھ کھلے تو
پھر وہی بھوک کی چلچلاتی دھوپ
خوشی اور اداسی کی یہ آنکھ مچولی
مرتے دم تک جاری رہتی ھے

Categories
شاعری

بلبلے

دل کرتا ہے
بچپن کی وادیوں میں
پھر سے چلا جاؤں
پرانی رسی کے جھولے میں جھولوں
سارے دکھ صابن میں گھولوں
بلبلے بناؤں
اور ہوا میں انہیں اڑاتا جاؤں
مگر ظالم وقت
جاتے ہوئے
بے فکر خوابوں کے رنگ ،
نلکی اور صابن کی پیالی بھی لے گیا
سچ بتاؤں تو
بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے

Categories
شاعری

ایک روشن روح

(نصیر احمد ناصر کے لئے ایک نظم )
روس کی شاعرہ :یلنا سپرا نووا / اردو مفہوم سلمیٰ جیلانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شفاف چمکیلی برف سے ٹکرا کر
کوئی خیره کن شعا ع
اداس راہداریوں سے نیچے اترتی ہے
اور سب سے روشن ستارے پر پڑتی ہے
وہ سیرس یا ایلڈ باران ہے
یا کوئی اور
بکریوں کے تھنوں سے دودھ دوہتی ہے
اور ہمیں تسکین کا احساس گھیر لیتا ہے
جیسے بچے کی محبت دل میں جاگتی ہے
اور یہ سب کچھ خالق کے نظام فطرت سے
کتنا قریب دکھائی دیتا ہے

جب حسن کی گرد بیٹھتی ہے
تو ابدیت کے طلوع ہوتے اجالے میں
تم اس مقام کی طرف
جاتے دکھائی دیتے ہو
جہاں باز اڑان بھرتے ہیں
وہ تمام تعریفیں بیان کرتے ہوئے
جو لڑائی کو شکست دے کر
امن کی نوید بن کر
انسانیت کے آسماں پر جگمگاتی ہیں

ایک ایسی روح
جو تحیر خیز عجائب کی دنیا میں پیدا ہوئی ہو
اندھیرے سایوں کو مٹاتی ہو
اور امن و آشتی پینٹ کرتی ہو
جس سے تمام کائنات
متحرک ہو جائے
بہت سی تابناکی
اور بالکل مدھم دھندلکے
سب اک توازن میں
جیسے فطرت
اپنے الوہی تناسب میں
سب کو سنبھالے ہوئے ہے

دانائی کے ارفع عالم کے در کھول کر
سننسی خیزی کو
شفاف پاکیزگی میں تبدیل کرتے ہوئے
تم پہاڑوں کی
بلند و بالا چوٹیاں سر کر جاتے ہو
تب کہیں
یہ انمول تحفہ
شفافیت کے پار سے ابھرتا ہے
اور ہماری روحوں کی
خالص ترین تطہیر کو
انتہائی رفعتوں تک

لے جاتا ہے

Categories
شاعری

مردہ انگلیوں کی وکٹری

قبر کی سیاہ تاریکی نے
 دن کی روشنی کو قتل کر دیا  
چوہے بلوں سے نکل کر 
دستاویز  
کے ساتھ وہ قلم بھی 
کتر گئے 
جن سے کبھی سچائی 
سنہرے لفظ لکھتی تھی 
انصاف کی دیوی نے 
مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی   
تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا 
انسانیت کی مسخ لاش  سے 
خوں ٹپکنے لگا  
 ماں اور بہنیں چیختی رہیں 
 قصاص !!!
 جواں لہو کا 
مگر باپ نے 
عصمتوں کی دھجیوں کی سلائی 
 کی خاطر 
اسٹامپ پیپر ماتھے پر سجا لیا 
جس پر سونے کی تاروں سے
صلح لکھا تھا 
آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں
دلوں سے کوئی دعا اوپر نہیں اٹھتی 
مایوسی کی کثیف دلدل کی
لجلجی بانہوں میں لپٹی پڑی ہے 
گلی کے بوڑھے برگد نے سورج کو فریاد بھیجی
ہچکیاں لیتے منتظر ہیں 
شائد کبھی اسے جلال آئے 
اور 
گھور اندھیرے کو جلاوطن کر دے
Categories
شاعری

بہتی آنکھوں کا خواب

میں خواب دیکھتی ہوں
یہ ست رنگی صبح کا خواب نہیں
کچھ ستے ہوئے سے چہرے ہیں
کھائیوں سے ابھرتی
دکھ کی گہری پرچھائیاں ہیں
بہت سی آنکھیں
چھم چھم نیر بہاتی ہیں
بارش بہتی رہتی ہے
کوئی دیکھتا نہیں
گائے کو سر پر بٹھائے وہ
مدقوق انسانوں کی بلی دیتے ہیں
ماں میرے چہرے پر
گائے کا مکھوٹا چڑھا دیتی ہے
شائد میں بچ جاؤں
ریپ ہونے سے
مگر میرے بھائی کے ادھ کٹے
گلے سے بہتے لہو نے
میرا راز کھول دیا ہے
بھاگتے ہوئے بند گلی میں جا نکلی
جج کی کرسی پر
انسانی کھال کے جوتے پہنے
پتھر کے قلم سے کوئی
انصاف لکھتا ہے
مگر کسی کو نظر نہیں آتا
ہجوم میرے تعاقب میں ہے
اندھے راستہ میں
نیم کے درخت پر سوئی
امن کی فاختہ
پیشاب کی بو سے گھبرا کر
اڑ گئی ہے
درخت کی چھال سے
بدن رگڑتے ہجوم نے
بیت الخلا سمجھ کر
اپنے بلیڈر ہلکے کئے
مجھے ریشمی رومال کی
گانٹھ میں بندھا
تھوڑا سا وقت مل گیا ہے
مگر
انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
میں نے گھبرا کر
آنکھیں کھولنی چاہیں پر
یہ خواب نہیں تھا

Image: Shazia sikandar

Categories
شاعری

بھوک کی قاتلانہ سازش

کوڑا چننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
الٹ پلٹ رہا ہے
میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے
مگر میں اس کی مدد سے قاصر ہوں
سوچتی ہوں
اگر ایک کو کھانے کو دے دیا تو
اس جیسے دس اور آ جائیں گے
اور اس طرح ملٹی پلائی ہوتے
ان کوڑا چننے والوں کو کھانا کھلاتے
ساری روٹی ختم ہو جائے گی
پھر میں کیا کھاؤں گی
کھا بھی لوں تو
ان سب کا پیٹ کیسے بھر پاؤں گی
جو میری کھڑکی کے نیچے
لائن بنائے کھڑے ہیں
اس آسرے پر
بچی کچی روٹی کے کچھ ٹکڑے
اور رات کا سالن لے کر اپنے گھر کو جائیں گے
اپنے بھوکے بچوں کو کھلائیں گے
مگر مجھے خوف ہے
ان میں کوئی لٹیرا
چھپ کر مجھ پر وار نہ کر دے
یہی سوچ کر
اپنے بستر میں چھپ کر بیٹھ گئی ہوں
لیکن بھوک کی قاتلانہ سازش
پھر بھی جاری ہے
روٹی صرف ایک ہے
لڑکا اب بھی کوڑے کو پلٹ رہا ہے
میں دکھ سے اسے دیکھتی ہوں
پلیٹ خالی ہے
میں نے ساری روٹی خود ہی کھالی ہے

Image: Kae Ashtin

Categories
شاعری

نمبر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نمبر

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہر طرف اونچے گریڈوں کا شور ہے
انسان کھوگئے ہیں نمبروں کی دوڑ میں
مر بھی جائیں تو گویا صرف ایک نمبر کی موت ہے
ہزار دو ہزار جو مرتے تو کوئی قابل ذکر بات تھی
بھول گئے وہ پرانا سبق
ایک بھی قتل ناحق
اصل میں تمام انسانیت کا قتل ہے
بس یاد رہ گیا ہے
کروس ملٹی پلیکیشن کا شارٹ کٹ
چاہے وہ چارج شیٹ ہو یا
امتحان کی مارکس شیٹ
یا پھر
بے نام اجتماعی قبروں میں پڑیں لاپتا پیاروں کی باقیات

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شکاری چینل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شکاری چینل

[/vc_column_text][vc_column_text]

فضاؤں میں بارود اور فاسفورس کی بو تحلیل ہو کر
مٹیالے غبار کی صورت اوپر کو اٹھتی ہے
جمے ہوئے خون اور جلتے گوشت کی چراند
کہیں سے آ رہی ہے جیسے یہ باس دماغ میں بس گئی ہے
کچھ دن سے کسی خود کش بمبار نے دھماکا نہیں کیا ہے
کوئی نئی اور سستی سنسنی خیز خبر کے انتظار میں
سادیت پسند شہری جماہی لیتے ہوئے چینل بدل رہا ہے
شکاری چینل کو اپنی ریٹنگ کی فکر ہے
کسی مارننگ شو کی پریزنٹر کی بے ہنگم ہنسی کا تسلسل
کراہتے چیختے زخموں کو چھیلیتی سی محسوس ہوتی ہے
لہجوں میں تھکن اترتی چلی جاتی ہے
مگر طوفان ہاؤ و ہو میں شل ہوتے اعصاب کا پتا نہیں چلتا
جیسے کسی جنگل میں جا نکلے
گیڈر وں کی اونچی آوازیں
اور بھی تیز اور تیز ہوگئی ہوں
جھینگروں کا شور اور بہتے جھرنوں کی مدھم لہریں مٹ چکی ہیں
بس سرسراتے سانپوں کی لپلپاتی زبانیں
تہذیب کے سینے سے گرتا لہو چاٹ کر
اور بھی توانا ہوتی جا رہی ہیں
پھر خاموشی سی چھا جاتی ہے
گہرا سکوت جیسے طوفان کی آمد سے پہلے شور تھم جائے
یکایک
سناٹا تڑاخ کی آواز سے چٹخ جاتا ہے
زناٹے دار تھپڑ کی بازگشت فضاء کو چیر جاتی ہے
ایکبارگی ہر طرف سکتہ چھا گیا ہے
مگر سرگوشیاں پھر سے تیز ہونے لگتی ہیں
کانٹوں بھری زبان
یہی ہونا چاہئے تھا اس کے ساتھ
نہیں نہیں کچھ بھی ہے
چہرہ تو پھول جیسا ہے
، عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتے
پھر سب کچھ گڈ مڈ ہونے لگتا ہے
سادیت پسند شہری
تھپڑ والا منظر ریوائنڈ کر کے دیکھتا ہے
شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے
تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں
اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
قدیم دیو مالائی چینل دیکھنے لگتے ہیں

Image: Sabir Nazar
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]