Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)

باب دوئم
زمان اور مکان

کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔

ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔

گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔

ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔

مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔

ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔

ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔

ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔

ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔

اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔

کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔

اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔

عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔

نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Categories
شاعری

وقت کی بوطیقا

وقت کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا

لیکن یہ جس کا ہو جائے

اُسے بھاری کر دیتا ہے

اور جس کا نہ ہو

اُسے بے وزن

 

وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی

ہم ہی اس کا چہرہ ہیں

ہم ہی آنکھیں

اور ہم ہی اس کے پاؤں

لیکن کبھی کبھی یہ ہم سے آگے نکل جاتا ہے

یا ہم اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں

متواتر اس کے ساتھ چلنا

دنیا کا مشکل ترین کام ہے

 

بعض لوگ وقت کو پہیے لگا لیتے ہیں یا پَر

اور دوڑنا یا اُڑنا شروع کر دیتے ہیں

یہاں تک کہ وقت کی

یا اُن کی اپنی حد ختم ہو جاتی ہے

وقت سدا دوڑ سکتا ہے نہ اُڑ سکتا ہے

اسے بس چلتے رہنے کے مَوڈ میں رکھا گیا ہے

اس کی اصل سائنس کیا ہے

اسے کب چلنا ہے

اور کب رک کر عظیم دائمی ٹھہراؤ کا حصہ بن جانا ہے

یہ کوئی نہیں جانتا!

Image: duy Huynh

Categories
شاعری

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی
وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
کبھی ہمارے دو ٹکڑے کرتا ہوا
کبھی ہمیں گھسیٹتا ہوا
کسی ایسی جگہ پھینک کر چلا جاتا ہے
جہاں ہم کبھی نہیں گئے
کبھی نہیں گئے
شاید ان خوابوں میں
جو ہمیشہ نیند سے چمٹے ہوئے ہیں
اور ہماری آنکھوں کو کھلنے نہیں دیتے
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

Image: Daehyun Kim

Categories
فکشن

چوتھا بُعد

اُس رات خواب ہڑتال پر تھے اور نیند ان کی غیرموجودگی میں خود کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی نڈھال ہو چکی تھی ۔ نرم ترین بستروںمیں اتنی کروٹیں لی گئی تھیں کہ سخت ترین بدن بھی شل ہو کر رہ گئے تھے۔ رات بےحد بے چین تھی اور اس نے اپنی دسترس میں آنے والی ہر شے کو بے چین کر رکھا تھا۔
معاملہ یہ تھاکہ وہ سب عظیم لوگ جنہوں نے زندگی میں کسی کو چین نہ لینےدیا تھا اور جن کو مرے مدتیں ہوگئی تھیں، اس وقت اپنی جانب سے ایک بڑی شکایت لیے وقت کے سامنے مدعی تھے، جسے وقت اپنی ازلی لاتعلقی سے سن رہا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ کسی فلسفی نے ایک لا یعنی سی بات کہی کہ‘ہر شخص اور معاملہ کے دو پہلو ہوتے ہیں، کوئی بھی مکمل اچھا یا مکمل برا نہیں ہو سکتا‘۔ وہی ہوا جو ہوتا ہے کچھ نے حمایت کی اور کچھ مخالفت میں بولے، زیادہ تر نے سنا ہی نہیں۔ لوگ تو کہہ سن کر اپنی راہ پڑے مگر ہمیشہ کے فسادی شوق کو یہ سن کر بڑا مزہ آیا۔ اس نے سوچا کہ نئے لوگ مدت سے مجھے فراموش کیے بیٹھے ہیں تو کیوں نہ ان پرانے ساتھیوں کو جگا لیا جائے جن کے ساتھ اچھا وقت گزرا تھا۔ شوق ان پرانے بادشاہوں کے پاس گیا جو مختلف اچھی بری باتوں کی وجہ سے کبھی اس کے اسیر رہ چکے تھے، ہمیشہ زندہ رہ جانے کے شوقین ان رہنماؤں کو بھی بلا لایا جن میں سے کچھ نے دوسروں کی موت کو اپنے لیے امرت گردانا تھا اور کچھ نے زندگیاں بچانے کو۔ شوق نے ان سور ماؤں کو بھی جگا ڈالا جو اپنا کام مکمل کر کے اطمینان کی منزل کو پہنچے اور زندگی اور موت میں یکساں مقبول رہےتھے۔ خبر ان کو بھی دی گئی جن کی زندگیاں شر پھیلانےکے جنون میں کٹی تھیں اور وہ مرنے کے بعدبھی اتنے ہی ملعون تھے جتنا کہ زندگی میں۔ سب، لا دین، کافر اور غاصب بھی اور تمام خدا کے نام لیوا، نیکو کار بھی۔ ہر نیک، سارے بد اپنی اپنی زندگی کی کتاب اٹھائے سرگرداں پھرنے لگے کہ ہم سے ہماری شناخت چھینی جا رہی ہے۔
بالآاخر طے یہ پایا کہ اپنی اچھائی اور برائی کے مکمل ثبوت کے ساتھ وقت کے پاس چلا جائے۔
وہ سب وقت کے پاس پہنچے اور اسے دیکھ کرٹھٹھک گئے۔ وہ ویسا ہی تھا جیسا کبھی ان کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ سنہری بالوں اور ٹیڑھی گردن والا حسین وقت، لاپرواہ اور بے نیاز،اپنے کام پورے کرنے اوران سے آگے کچھ نہ سننے کا عادی۔۔۔ اُسے اپنے عظیم ہونے کا صرف احساس تھا، غرور نہیں۔ وہ مغرور ہو کر دکھاتا بھی کسے، کبھی کوئی اس کے سامنے ٹھہر ہی نہ پایا تھا۔ اس نے لا تعداد خدا اپنے سامنے بنتے اور مٹتے دیکھے تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے نظر ملانے کی جرأت نہ کر سکاتھا۔
لوگ حیران ہوئے کہ وقت اپنے سِوا ہر شے پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ وہ اسے دیکھ کر ذرا گھبرائے مگر ہمت کر کر کے اپنا مسئلہ بیان کر ہی دیا۔وقت سن کر ذرا سا مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں وہ سب تجربے بھی شامل تھے جواس کی ہمیشگی نے اس کو بخشے تھےاور انسان کی بے وقعتی کا تمسخر بھی۔لیکن وہ ان چھوٹے چھوٹے لوگوں کا دل نہیں دُکھانا چاہتا تھا جو اپنے زُعم میں تھے اورخود کو عظیم سمجھتے تھے۔ وقت نے سر جھکا کر چند لمحے سوچا۔ وہ کچھ نرم الفاظ میں بات کرنا چاہتا مگر اُسے حیرت ہوئی کہ اس کے ذخیرہ الفاظ میں ایسے لفظ ہیں ہی نہیں ہیں جو کسی کو کاٹ کر نہ رکھ دیں۔ وقت کو اپنی حیرت اچھی لگی۔اس نے شفقت اور خوش مز اجی سے لوگوں کی طرف دیکھا اور بولا”لوگو! بات یہ ہے کہ میں تم پر سے گزر چکا ہوں سو اب شناخت تمہارا مسئلہ نہیں رہی۔ تم وقت کی ضرورت تھے اوروقت نے تمہیں برت لیا۔ کائنات کی ہر چیز صرف اپنی زندگی کا دورانیہ پورا کر رہی ہے۔ اچھابرا کچھ نہیں ہوتا، تم سب زندگی بھر وقت کو کاٹنے کی بھونڈی کوشش میں مصروف رہتے ہو اور وقت تمہیں کاٹتا ہوا گزر جاتاہے۔ شناخت بھی کچھ نہیں ہوتی۔ تمہارے خدا تک خود کو قائم نہ رکھ پائے تو تمہاری کیا حیثیت ہے؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ سورماؤں کے حسین مجسمے تراش کر چوکوں میں نصب کیے جائیں یا توڑ کر راستوں کے برابر کر دیےجائیں۔ راہنماؤں کے اقوال رد کردیے جائیں اور قاتلوں کو مقدس سمجھ کر سر آنکھوں پر رکھا جائے۔۔۔ تم بھی گزر گئے ہو اور تمہارے نام لیوا بھی گزر جائیں گے۔ کسے پرواہ ہے کہ برائی اچھائی بن جائے اور نیکی بدی؟ آج کے خدا کل متروک ہو جائیں؟کیافرق پڑتا ہے؟”
لوگ سناٹے میں آگئے۔ شناخت بچانے کی کوشش میں وہ اپنا رہا سہا وجود بھی کھو بیٹھے تھے۔وقت اپنی کاٹ کی طاقت سے بے حد مطمئن ہوا اور سب سونے والوں کو بہترین خواب روانہ کیے۔ ا گلی صبح لوگ جاگے تو اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پر امید تھے۔
وقت نے اپنے سنگھاسن سے لا محدود کائنات پر نظر کی اور لاپرواہی سے سنہری بال جھٹکے،سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق تھا۔