Categories
شاعری

جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ

بلاشبہ
وہ بہت اچھا ہے
میری کتھا سن کر رودیتا ہے

آج کل
اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے

محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔
ونٹر کی چھٹیوں میں
اسے گھمانا ایک الگ کام ہے

روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے
کہ
آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا ہے

میں آدھے جھوٹ سے پورا سچ جان جاتی ہوں
اور
“بائے” کہہ کر
دکھی ہوجاتی ہوں

وہ مجھ سے پہلے بھی
کسی اور کا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھدی سوچ کے پاؤں میں کھلتا کنول

مختلف شکلوں کے لوگوں کے ہجوم میں
مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آوازوں کا شور تھا۔
لفظوں کی باتیں کرتی لڑکی کو کٹہرے میں لایا گیا

سچ لکھنے کے جرم میں
خون آشام درندہ الزامات کا بوجھ اٹھائے چیخا
قلم قبیلہ عورت
کلنک کا ٹیکہ ھے

وقت ذرا الٹی چال کیا چلا
نظروں نے سوچ کے زاویہ کو بگڑا دیکھا
ہوا مخالف سمت چلتی
اس کے بدن میں شگاف ڈالنے لگی

وہ بدشکل بھدی سوچ کے پاؤں تلے روندی گئ
لکھتی انگلیوں سے رستے خون سے معصوم چہروں کا نصیب سنوارتے
تن تنہا
پیروں میں الجھے کانٹوں سے
حرف حرف درد ٹپکاتی رہی

پہاڑوں کی چوٹیوں پہ
برف گرتی رہی
لڑکی
قلم تھامے سچ کی نوک سے
بوڑھے خبطی کی ریش پہ مکالمہ لکھتی رہی
آوازوں کا ہجوم
بدن میں تھکن اتارتے اس پہ کیچڑ اچھالتا رہا
کسی آواز کی بیٹی گھر سے بھاگی
تو آوازیں خود کشی کرنے لگیں

آسماں سے خدا نے جھانکا
سورج نے انگڑائی لی
دھوپ نے حدت اوڑھی
برف پگھلا کر
لڑکی کو باعزت بری کر دیا۔

سنا ھے، بالوں میں سفید پھول ٹانکتی لڑکی
بالوں کی چاندی سے اکثر اپنے گھر کا پتہ پوچھتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرارت

نیلی چڑیا نے
ندی کے چمکتے پانی میں
سورج کو نہاتے دیکھا

اس نے سبز شاخوں پہ جھولتی
رو پیلی کرنوں کے سنگ
پانی میں شرارت کرتے
پر کیا بھگوئے
اف!
سارا پانی
نیلگوں ھو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب فاحشہ کا لفظ ایجاد ہوا

جب پہلی بار
گھریلو عورت کے لئے
فاحشہ کا لفظ ایجاد ہوا
یقیناً۔۔۔۔۔۔
اس عورت نے دعا کی ہوگی
زمیں میں پناہ لینے
یا
آسمان کی طرف اڑ جانے کی

میں اب کبھی کبھار فرصت میں
لفظ کے اندر چھپے
درد کے بارے میں سوچتی ہوں
پاؤں خوف سے کانپ جاتے ہیں
ہونٹوں پر خاموشی
اور
ہاتھ کی چوڑیاں
گبھرا کے ٹوٹ جاتی ہیں
اس لئے کہ
اس لفظ کے آزادانہ برتاؤ کے بعد
عورت کا سایہ بھی
ساتھ چلنے سے انکار کر دیتا ہے

میں ڈائری میں لکھتی ہوں
موجودہ معاشرے کے زوال کا سبب
اس لفظ کے غبار میں
تلاش کیا جا سکتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگل اور سمندر کے درمیان

اس نے کہا
مجھ سے ملنے آنا
میرا گھر بہت خوبصورت ہے

میں نے کہا
میرا پہلا عشق سمندر تھا
دوسرا جنگل

سنو!
میرا گھر جنگل اور سمندر کے درمیاں ہے
ہرن اور مچھلیاں
ساتھ ساتھ رقص کرتے ہیں

میرا تیسرا قدم اٹھا ہی رہ گیا
تیسری آواز نے اسے ناشتہ کے لئے
بلا لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صحرا کی ریت پھانکتی لڑکی

تم نے الزامات کی پوٹلی
سر راہ کھول کر
زمانے بھر کی خاک میری مانگ میں بھر دی
میں چپ رہی

تم نے اک اک سے
ناکردہ گناہوں کی خود گھڑی داستاں کہی
میں نے لب سی لئے

معصوم فرشتوں کی بھولی مسکان
میں ھمکتی امیدیں
مجھے جاں سے بڑھ کر عزیز تھیں۔
تونے سب روشنیاں گل کر دیں۔
میرے سینے میں زخم در زخم
فروزاں کی ہیں سب لہو کی شمعیں

تاریک راہوں کو میرا پتہ دے کر
جنگلوں میں بھٹکا کر
آبلہ پیروں میں صحرا باندھ کر
مجھے تنہا چھوڑ دیا۔
میں روئی
کوئی حرف شکایت نہ کہا

مگر تو نے تو۔۔۔۔۔۔
کل شام حد کر دی۔
میری پیوند لگی چادر کھینچ کر
بیچ بازار بو لی لگا دی۔
بہت سستے میں بیچ کر
اپنی انا بچانے والے
یاد تو کر
میں نے کہاں کہاں
اپنی کنواری خواہشوں کو گروی رکھا
صحراوءوں کی ریت پھانکی
اپنی تشنگی بیچ کر
تیری راہ میں رل گئی
اور
تم رشتوں کی زنجیر بدلنے میں
کتنے جلد باز نکلے۔
میں نے تیرے پیروں کے کانٹے نکال کر
دل میں چھپا لئے

میری زباں پہ تیرے بھرم کے وعدے رکھے رہے
اور
زمانہ بھر کی رسوائیاں
میری جھولی میں گرا کر
اب تم کہتے ھو۔۔۔۔
میں وہ نہیں
جسے تم چاھو۔

سنو میرے دوست!
اس نے کیسے مجھے باندھ کر مارا۔
ذات پہ لگے
رسوائیوں کے داغ کیسے دھلتے ہیں
یہ کون بتائے گا۔۔۔۔؟؟؟؟؟

Image: Christian Schloe

Categories
شاعری

لاشوں کا احتجاج

بچے اب درختوں پہ اگیں گے
جنم لینے سے انکار سمے
بچے نے ڈائری لکھی
جس میں
بم دھماکوں سے
بہرے اور اندھے ھونے والے بچوں کی آپ بیتیاں تھیں

ماؤوں کی خوفزدہ سانسوں میں
بسی کہانیوں میں
درد زہ کی چیخیں تھیں۔
زمیں بوس عمارتوں کے ملبے سے
خون آلود لاشیں
ظلم کے خلاف نعرے لگاتی بر آمد ہوئیں۔

حاملہ عورتیں جو بمباری کے زہریلے دھوئیں میں
مرنے کے قریب ہیں
دسویں مہینے میں بھی
بچوں نے جنم لینے سے انکار کر دیا
انھوں نے آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے بتایا

داستانوں کی ڈائری کے لکھاری میں
گل مکئی لکھا جائے
تو شاید
انسانی لاشوں سے
ایسا تخم اگے
جو زمیں کی پیشانی کو سیندور سے بچا سکے۔
ورنہ بچوں کو
درختوں پہ اگنا پڑے گا۔

درخت یہ سن کر تھر تھر کانپ رہے ہیں۔
انھوں نے لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر
خود کو بانجھ کر لیا ہے۔
کوئی انکی مددکو نہیں پہنچا
ابھی تک
آگ لگانے والے مفرور ہیں۔

Categories
شاعری

زہر کی پھانک

جادو کی بانسری بجنے والی ہے
بس تم رکو
پھر دیکھو تماشا

تماشا یہی کہ
ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟
رشتے تو زہر کی پھانک ہیں

کیا کہا۔۔۔؟
رشتے سدا بہار ہوتے ہیں
جھوٹے، منافق، دوغلے
یہاں سب برف، پانی ہیں
سدا کے لئے کچھ نہیں
وقت رکتا ہے۔
صرف میخانے میں

گنبد میں گول گول مت گھومو
جو کرنا ہے
کر گزرو
ورنہ دیوار چاٹتے مر جاؤ گے

ناگ، ناری اور نار کا کہنا ہے
ڈسو، جلو اور راکھ ھو جاؤ
بوڑھے سنیاسی نے
زہر پھانکتے چیخ چیخ کر کہا
انسان کے بنائے رواج ورسوم کو پھونک ڈالو
مر جاوؤ
یا پھر” فطری جینا “سیکھ لو

Categories
شاعری

رات کی بے بسی

وہی رات ہے مگر اداس سی

وہی جگہ ہے مگر سونی سی

وہی گھڑی کی ٹک ٹک مگر روئی سی

شام کے 5 بجے تھے

جب روح تن سے جدا ہو کے پلٹی تھی

وہ سیڑھیاں چڑھا

ٹک ٹک سے ٹھوکر لگی

میں الوادعی بوسے کے ساتھ سوئی تھی

نیند کے پاؤں میں الجھتی بھاگی

 

میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے

وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر

اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

 

ہوا !!!

صحرا سے ریت لاؤ

اسے سراب بناؤ

وہ سرکٹ ہاؤس سے ہوتا

پگڈنڈیوں پہ چلتا

میرے گھر کی دہلیز پہ رکھ دے قدم

 

سنو!!!

میں نے سر شام ہی

ریت کے ہر ذرے میں سورج رکھ دیا ہے

یہ سورج میرا ہے

جب رستہ بھولو

یہ ہر ذرہ میں اگے گا

ذرے سے پھوٹتی کرنیں

گلی کی نکڑ پہ کھڑے

تمھیں رستہ دکھائیں گی

مگر رکو

میں خود تمھیں لینے آتی ہوں

پلٹنا نہ

میں اک پل سے پہلے آتی ہوں

 

یہ کیا۔۔۔؟

رات کا ایک بجا ہے

تم بستر کے سفر میں ہو

اس سے دو راتوں کی دوری کی کہانی سنتے

دو راتوں کے رت جگے کا کاجل

میری آنکھوں سے بہتے دیکھ کر روئے ہو

سونے سے پہلے یاد رکھنا

تم مجھے سرکٹ ہاؤس میں تنہا چھوڑ گئے ہو

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

افراد جو لاپتہ ہوئے

ہم نے بڑی غلطی کی
جو گہرائی کی جستجو میں
ڈوبنا اور تیرنا سیکھ لیا
دریا سے بولنے کا قرینہ جان لیا
لاپتہ فرد نام درج کرواتے
اپنے لبوں پہ نیا تالا لگواتا ہے
بلیک گاؤن پہنے
سٹیج پہ پرفارم کرتا
وہ سوچ نہیں سکتا
وگرنہ وہ دیہاڑی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
سچ بولنے والے گم شدہ افراد
برمودہ تکون میں بھٹکتے ہی
برائے نام جمہوریت کی سیل لگی رہتی ہے
بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے
“شش شش ” چپ رہنے کو کہتے ہیں۔
مگر غیرت مند خون ابلتا ہے
جلدی جلدی جوش کھاتا ہے
بوٹوں کی نوکوں سے
چہروں کو بچاتے
پیٹ پہ لاتوں اور مکوں کی مار سہتے
اکثر سوچتے ہیں۔
گمشدہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔؟
سچ بولنے کی سزا
بچہ جنتی عورت کو بھی ملتی ہے
راکھ پھرولتی ماں
اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈتی رہتی ہے
ہم بد بخت لوگ
مذہب کی تکڑی میں جھولتے
جنسیات کی کتابیں
پرانی ردی میں ڈھونڈتے
عبائے اور ٹوپیاں پہنے
چوری چوری جنسی سبق پڑھاتے ہیں
مگر ذہنوں کی گرد
جھاڑے نہیں جھڑتی۔
اور
گم ہو جانے والوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے

Categories
شاعری

ایک گناہ کی اجازت

عشق کی مٹی سے گندھے بدن
پیاسے دشت وصحرا میں
سانسوں کے ناپسندیدہ تصادم میں
کرب میں ملفوف
درد کے بوجھ سےدھری
نیند سے آزاد آنکھیں
جگراتے کا میلہ لگاتی ہیں
میٹھے درد کی کسک حوصلےتوڑ دے
تو۔۔۔
سماعت و بصیرت
روشنی و تیرگی، دھوپ و سایہ
ایک ہونے لگتے ہیں
جذبے عشق کے سامنے
خاک سر پہ اوڑھے
گرد آلود، مسجود، نابود ہو جاتے ہیں
ہونٹوں سے حرف دعا گرتے
خالی دل کی خالی رات کو
نامراد لوٹا دیتے ہیں۔
طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
اک کندھے کی چاہ میں
جئے بغیر ہی
اگلے جہاز میں سوار ہو جاتے ہیں
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

کل اس نے شراب کے دو پیگ لئے
پھر نفاست سے سچ بولا
” بھوک چمک جاتی ہے”

کبھی دھلے دھلائے چہروں کو دیکھ کر
کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات ادھوری رہی
کوڑا چنتے
بدبودار نسوانی وجود کی تاک میں بھٹکتی نظر
دائروں اور قوسوں میں رستہ ڈھونڈنے لگی

زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی

عورت کی بھول
رات کے کسی پہر جاگی
بھاگتی ہوئی
کوڑے کی بدبو اٹھا لائی
بستر کی چادر پہ ہوس کے داغ پکے نکلے
کبھی نہ دھلے

کوڑے پہ پڑی ہوس
اکثر
آدھی رات کو مرد کے پہلو میں سو جاتی ہے
اور سگریٹ کا دھواں اڑاتا آدمی
سو نہیں پاتا
بدبو
نیلی شرٹ کے بٹنوں میں گھسی رہتی ہے
مٹی سے اٹے بالوں پہ رکھے بوسے
اس کے منہ پہ تھپڑ رسید کرتے ہیں

عورت نومولود کو دودھ پلاتے
اس کو
شراب کے پیگ پیتے دیکھ کر
ہراساں ہو جاتی ہے
سو نہیں پاتی
جب وہ سچ بولنے لگتا ہے

Categories
شاعری

حسرت میں ملفوف ایام

تارکول سڑک پہ تھکاوٹ
دھوئیں کے مرغولوں میں سے گزرتی
یونیفارم میں ملبوس چہروں پہ
مسکراہٹ اچھالتی
لفظوں اور شاعری کی گرہیں کھولتی
جامعہ کے مین گیٹ سے گزرتی ہے

بوجھ تلے دبا ناتواں وجود
کھڑے کھڑے جمع شدہ توانائی کھو کر
جب سیڑھیاں چڑھتا ھے
تقسیم علم کا معاوضہ اسے تھام لیتا ھے
ترازو میں تھکاوٹ کا پلڑا
بھاری ھو کر زمین چھو لیتا ھے
کتابوں کےحرف تتلیوں کا روپ دھار کر
تھکن بانٹتے ہیں۔

وہ کبھی پوری نیند نہیں سو پاتی
فاصلوں کو سمیٹتے پاوں
چلنے سے انکار بھی کر دیں
تو بھی
وہ چلتی رہتی ہے
صبح سے رات تک کا سفر نظمیں چھین لیتا ہے

وہ ایک جملہ لکھتی ہے
بچوں کی فی ووچر نظم پہ آ گرتے ہیں
وہ دوسرا لکھتی ہے
ونٹر یونیفارم نوٹیفیکیشن سامنے آتا ہے
الماری میں گرم کپڑے نہ پاکر
نظم کا سر کچلتی
وہ روتے روتے
کیلینڈر پہ دن گنتی ہے

ابھی تنخواہ ملنے میں
پورے پچیس دن باقی ہیں
نظم ابارشن کے مرحلے سے گزرتی ہے
وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے

Image: Irfan Gul

Categories
شاعری

کور چشم ولدیت

میں نے
کوکھ میں پلنے والے ابدان کو
بطن سے گود میں لا کر
دنیا کے دوزخ میں سزا
خوب پائی

میں الجھی ہی رہتی ہوں
کبھی جاڑے کے
کبھی گرما کے کپڑے
چھوٹے پڑتے جوتے
اور نئے سال کے
نئے نئے خرچے مجھے
بچوں کی
بڑھوتی کی خوشی بھی منانے نہیں دیتے

میں دن بھر سڑکیں ناپتی ہوں
گھروں کی دہلیز یں ٹاپتی ہوں
سکول بیگز کی زپ کھلتی بند ہوتی رہتی ہے
کتابوں میں اسباق کی ٹیوشن دیتی
میں فریج میں جھانکتے
کسی پرانے سالن میں
آنکھوں سے بہتے کھارے پانی سے
نمک تیکھا کر دیتی ہوں

تم اندھے ہو
مگر اپنی کورچشمی کا احساس نہیں
تم بہرے ہو
تمہیں ننھی خواہشات کی
چیخ و پکار کبھی سنائی نہیں دیتی

کسی طرح بھی
تمہارا نام
ولدیت کے خانے کے لئے مناسب نہیں
تم بے فکرے سے
گھر کے کونوں سے فراغت اکٹھی کرتے ہو
نیند میں بڑبڑاتےمجھے کوستے ہو
مجھے فرشتوں کی لعنت سے ڈراتے
اپنے حقوق فراموش کر دیتے ہو

میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
بس آج سے
میں ولدیت کے خانے میں
نام اپنا ہی لکھواؤں گی
خواہ سوسائٹی مجھے
باغی عورت کہے

Categories
شاعری

مٹی کی بد ہضمی

فضا میں اڑتے
بسنتی رنگوں کی بہار
دیسی بدیسی شرابوں کے ذائقے
ضیافتوں کی رونقیں
سب نصیبوں کے چکر ھوتے ہیں۔
محبوبانہ وارفتگیاں
ادائیں۔
تھرکتے لمحوں کی تھاپ
بستر کی خوشکن شکنیں
تکیوں پہ خوابوں کی اچھل کود
خمار آنکھوں کے رتجگے
سب نصیب سے بندھے ہیں

کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے
کبھی
تھکی ماندی جوانی
کو کندھے پہ لے کر نہیں پھرتے
کچی جوانیاں
میلے کچیلے محلوں میں
پیوند لگی اوڑھنیوں میں
بھاگتے بھاگتے
شام کے سرھانے گرتی پڑتی دم توڑتی ہیں۔

امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ھے۔
میکے گئی بیوی کے پلٹنے تک
میلی چادر سے کھیلنے کی خواہش رکھتے
افسر کو لتاڑتی غریب دوشیزہ
رات کے تیسرے پہر گاتی ھے

بد نصیبی کے جراثیم
کینسر سے مہلک ھوتے ہیں۔
ھم سے دور رھنے والے خوشحال رھتے ہیں
ھم سے بغلگیر ھونے والے
ان کے ہتھے چڑھ کے
ہمارے ساتھ ہڈیوں کا برادہ بنتے ہیں۔

ہمیں تو مٹی بھی
کھانے سے انکار کر دیتی ہے۔
کیونکہ اسے
بد ہضمی ہو جاتی ہے
بد نصیبی کھانے سے

Categories
شاعری

ناف کٹوانے کی سزا

کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں
بچہ اور مذہب جڑواں ہیں۔
ماں کھارے پانی کی گھڑتی بچے کو دیتی ھے
مذہب یہ پینے سے انکار کر کے
رنگ نسل اور خطہ میں بٹ جاتا ھے۔

خدا بہت مصروف ہے
وہ چاھتا ہے۔
انسان ناف سے ناف ملانے تک فارغ رہے۔
مگر وہ انگور کی بیل کاشت کرتا کرتا
نشے کے گھونٹ کو حلق سے اترنے تک
لڑکیوں کے قد و قامت کو تاڑتا ہے۔
مگر چند رشتوں کے بھنور میں پھنس کر
خدا کی طرح مصروف ھو جاتا ھے۔

وہ دن رات
خمیر بوتا کاٹتا
اپنے بدن کی مٹی کھرچتا رھتا ھے۔
اچانک ایک دن بلی
پنچہ مار کر مٹی کے ڈھیر کو
اڑاتی خوب ہنستی ھے۔

انسان خدا سے روٹھا روٹھا
زمین سے صرف دو گز جگہ مانگتا ھے۔
کپاس کا پھول
درزی کو دھاگہ
جولاھے کو لٹھا دیتا رہتا ھے۔
بیلچہ زمین کا دل کھود کر روٹھے انسان کو
سونے کی جگہ دینے کے لئے
ایک منٹ بھی نہیں سوتا

وقت کے دیوتا کو فرصت نہیں ملتی۔
اور وہ لٹھے میں ملفوف ضدی کو
کبھی جلاتا ھے
کبھی مٹی میں بو دیتا ھے۔

Categories
شاعری

کائی میں لپٹی بیوہ

وہ بدن پہ مرد کے نام کی
جمی کائی کھرچتی رہی
کھرچن
چاردیواری کے سوراخوں میں
کبھی رستہ نہ بنا پائی تھی
یہ تو
آنگن میں لگے پیڑ نے
ھوا کو پاؤں پہنائے
یہ کم بخت! ایسی کٹھور نکلی
جاتے جاتے ھر پتے پہ
کتھا لکھ گئی
اب سارا جنگل
بھانت بھانت کی بولیاں بولتا ھے۔
کل بھی نیم کے پتے
اس کے عیب لکھ لائے۔
آج بانسوں کے سبزیلے پہ
نامردی کو عورتانہ نااہلی لکھا دیکھا
وہ جنگل کی طرف
ھوا خوری کے لئے نہیں جاتی
سب سرگوشیاں کرتے ہیں۔
اسے دیکھ کر
بوڑھا برگد انھیں خاموش کرواتا ھے۔
وہ مسکراتی بہری
نصیحتوں کے ریشم کو کاٹتی ھے
عزم مصمم کے تیزدانتوں سے
ان گنت لہراتے
بل کھاتے سوالوں کی گھنجلوں میں
الجھی زمانہ سے لڑتی عورت
اپنے زیور
اور
اس کی غیرت و مردانگی کا ادلہ بدلہ کرتی
خوب مطمئن رھتی ھے۔