جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔ ونٹر کی چھٹیوں میں اسے گھمانا ایک الگ کام ہے روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے کہ آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا […]
لاشوں کا احتجاج

صفیہ حیات: جنم لینے سے انکار سمے
بچے نے ڈائری لکھی
جس میں
بم دھماکوں سے
بہرے اور اندھے ھونے والے بچوں کی آپ بیتیاں تھیں
زہر کی پھانک

صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟
رات کی بے بسی

صفیہ حیات: میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے
وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر
اپنے گھر کا رستہ بھول جائے
ایک گناہ کی اجازت

صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی
حسرت میں ملفوف ایام

صفیہ حیات: وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے
کور چشم ولدیت

صفیہ حیات: میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
مٹی کی بد ہضمی

صفیہ حیات: امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ہے
ناف کٹوانے کی سزا

صفیہ حیات: کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں
کائی میں لپٹی بیوہ

صفیہ حیات: وہ بدن پہ مرد کے نام کی
جمی کائی کھرچتی رہی
بد ذائقہ لمحوں کی چپ

صفیہ حیات: چپ دانت نکوستی ہے
جب نظم
ابارشن کے مرحلے سے گزرتی
چیختی ہے