مردہ انگلیوں کی وکٹری

سلمیٰ جیلانی: آنکھوں سے اب پانی نہیں
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں
برستی ہیں
بہتی آنکھوں کا خواب

سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے

سلمیٰ جیلانی: آنکھوں سے اب پانی نہیں
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں
برستی ہیں

سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے