Categories
شاعری

مردہ انگلیوں کی وکٹری

قبر کی سیاہ تاریکی نے
 دن کی روشنی کو قتل کر دیا  
چوہے بلوں سے نکل کر 
دستاویز  
کے ساتھ وہ قلم بھی 
کتر گئے 
جن سے کبھی سچائی 
سنہرے لفظ لکھتی تھی 
انصاف کی دیوی نے 
مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی   
تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا 
انسانیت کی مسخ لاش  سے 
خوں ٹپکنے لگا  
 ماں اور بہنیں چیختی رہیں 
 قصاص !!!
 جواں لہو کا 
مگر باپ نے 
عصمتوں کی دھجیوں کی سلائی 
 کی خاطر 
اسٹامپ پیپر ماتھے پر سجا لیا 
جس پر سونے کی تاروں سے
صلح لکھا تھا 
آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں
دلوں سے کوئی دعا اوپر نہیں اٹھتی 
مایوسی کی کثیف دلدل کی
لجلجی بانہوں میں لپٹی پڑی ہے 
گلی کے بوڑھے برگد نے سورج کو فریاد بھیجی
ہچکیاں لیتے منتظر ہیں 
شائد کبھی اسے جلال آئے 
اور 
گھور اندھیرے کو جلاوطن کر دے
Categories
شاعری

بہتی آنکھوں کا خواب

میں خواب دیکھتی ہوں
یہ ست رنگی صبح کا خواب نہیں
کچھ ستے ہوئے سے چہرے ہیں
کھائیوں سے ابھرتی
دکھ کی گہری پرچھائیاں ہیں
بہت سی آنکھیں
چھم چھم نیر بہاتی ہیں
بارش بہتی رہتی ہے
کوئی دیکھتا نہیں
گائے کو سر پر بٹھائے وہ
مدقوق انسانوں کی بلی دیتے ہیں
ماں میرے چہرے پر
گائے کا مکھوٹا چڑھا دیتی ہے
شائد میں بچ جاؤں
ریپ ہونے سے
مگر میرے بھائی کے ادھ کٹے
گلے سے بہتے لہو نے
میرا راز کھول دیا ہے
بھاگتے ہوئے بند گلی میں جا نکلی
جج کی کرسی پر
انسانی کھال کے جوتے پہنے
پتھر کے قلم سے کوئی
انصاف لکھتا ہے
مگر کسی کو نظر نہیں آتا
ہجوم میرے تعاقب میں ہے
اندھے راستہ میں
نیم کے درخت پر سوئی
امن کی فاختہ
پیشاب کی بو سے گھبرا کر
اڑ گئی ہے
درخت کی چھال سے
بدن رگڑتے ہجوم نے
بیت الخلا سمجھ کر
اپنے بلیڈر ہلکے کئے
مجھے ریشمی رومال کی
گانٹھ میں بندھا
تھوڑا سا وقت مل گیا ہے
مگر
انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
میں نے گھبرا کر
آنکھیں کھولنی چاہیں پر
یہ خواب نہیں تھا

Image: Shazia sikandar