کیا سورج غروب ہو چکا ہے؟ (ایچ-بی-بلوچ)

آواز کو وہ فاختہ سمجھ کر پکڑتے ہیں
آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے! (ایچ-بی-بلوچ)

یہ ہماری گلی کا نکڑ ہے !
یہاں گھوڑے باندھنے کی کوئی جگہ نہیں !
ضرور کوئی ستارہ نیچے آ رہا ہے! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)
یہ یخ بستہ ہوائیں
اور تمہاری نیم گرم باتیں
ضرور موسم کی تبدیلی کا اشارہ ہیں!
لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت! میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا ! میں اکیلائی کے جسم پر مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں […]
ہم زندہ رہیں گے! — ایچ- بی- بلوچ

ایچ-بی-بلوچ: جب تک ہم زندہ رہیں گے
خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی
اور سنگینوں کی نوک کو گدگداتی رہے گی
خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

ایچ بی بلوچ:مچلھیاں اور سیدھے لوگ
آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے
انہیں کسی بھی وقت
کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے
ایک پتھر خواب کا المیہ

لاکھ چاہے اسے گوندھے
اسے پتھر نہیں بنا سکت
ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے