ہماری گلوبلائزڈ زندگی (تنویر انجم)

روزروز جاتے ہوتم
گھر سے دور، دوروں پر
مگر زیادہ دنوں کے لیے مت جانا
یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

وہ گول مٹول ہے سانولا سا ہے نقوش پیارے ہیں تین سال کا ہے بڑی بڑی آنکھوں سے بغیر خوف کھائے مجھے دیکھتا ہے ندیدہ بھی نہیں میری دی ہوئی کھانے کی چیزیں آدھی کھاتا ہے اس کے کپڑے بھی صاف ستھرے ہیں جوتے بھی ٹھیک ہیں پر اعتماد ہے جیسے کہ اسے بہت پیار […]
جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]
نظموں کے لیے ایک سباٹیکل (تنویر انجم)

آپ کا کام خاصا توجہ طلب ہے ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے پڑھانا باقی تیس گھنٹوں میں دنیا کے مشہور شاعروں اور ادیبوں پر تحقیق کرنا اور کروانا کانفرنسوں میں جانا سیمینار کروانا پینلز میں شامل ہونا بین الاقوامی جریدوں کے لیے مضامین لکھنا اور آپ کو تنخواہ کے علاوہ ملے گا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ایک […]
تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں

تنویر انجم: پرندے نے سوچا
ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں
دائیں مڑے یا بائیں
آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو
میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ
میری زندگی کا شیزوفرینیا

تنویر انجم: میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں
ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
پیچھے مڑ کر مت دیکھو

ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
گن رہی ہوکیا

تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں
ایک نظم اپنے اداس شہر پر

اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
میرا نازک موتی

مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
