Categories
شاعری

ہم زندہ رہیں گے! – ایچ- بی- بلوچ

دور سے نظر آتا موسم
بادل اور برفیلی سفیدی
نزدیک آنے پر آٹے کا تھیلا
یا اسپرٹ میں بھیگا کپاس کا ڈھیلا بن جاتی ہے
راشن پر لپکتے جم غفیر نے لاک ڈاؤن کا
کہیں پر خاموشی نے دن اور رات کا فرق ختم کردیا ہے
لیکن جب تک ہم زندہ ہیں
ہم ایک امید پر عمل پیرا رہیں گے

ان خوش گوار بولیوں
اور گول چوک پر نصب سائن بورڈ پر
ماڈل کی پلکوں کی یکسانیت کے اندر
جس میں موت جیسے لفظ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

جب ہم
اپنائیت کی لذت آشنائی سے منور کر دیئے جائیں گے
جب تک ہمیں
کھیت پکانے کے لیے ادھاری آگ کی ضرورت نہیں پڑے گی
کسی طور پر ہم
جسم کی قید کے دورانیے کو طویل کر سکتے ہیں

جب تک خون کا رنگ لال
اور ہمارے دل احساس کی چبھن سے آگاہ رہیں گے
ہم ان سیٹیوں کے آگے لیٹ جائیں گے
جو ہمیں
ملانے اور جدا کرنے کے لیے ایندھن کھپاتی ہیں
جو ایک بار کو دوسرے اسٹیشن
اور ایک مرض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتی ہیں

جب تک ہم زندہ رہیں گے
خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی
اور سنگینوں کی نوک کو گدگداتی رہے گی

ہم زندہ رہیں گے
مجھے یقین ہے کہ ہم زندہ رہیں گے
تنگ اور تاریک گلیوں میں
تمباکو چباتے لوگ اس لیے زندہ ہیں
کہ وہ جانتے ہیں
سرہانے کھڑا مسیحا اور زندگی
کبھی بھی ایک موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی!
Image: Sukhpal Grewal

Categories
شاعری

یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

وہ گول مٹول ہے
سانولا سا ہے
نقوش پیارے ہیں
تین سال کا ہے
بڑی بڑی آنکھوں سے
بغیر خوف کھائے
مجھے دیکھتا ہے
ندیدہ بھی نہیں
میری دی ہوئی
کھانے کی چیزیں
آدھی کھاتا ہے
اس کے کپڑے بھی
صاف ستھرے ہیں
جوتے بھی ٹھیک ہیں
پر اعتماد ہے
جیسے کہ اسے
بہت پیار ملا ہے
صوفے پر ٹیک لگائے
ایسے بیٹھا ہے
جیسے کہ ایسے صوفوں پر
روز بیٹھتا ہو

بہت دنوں سے
میں نے کسی بچے کو
گود میں نہیں اٹھایا
اک شدید خواہش
میرے اندر اٹھتی ہے
اسے گود میں لے کر
بے تحاشہ پیار کرنے کی

لیکن میں خود کو روک لیتی ہوں
ایسا نہیں ہے
کہ وہ ایسا کرنے سے
گھبرا کر رونے لگے گا
بلکہ ایسا ہے
کہ ایک نوکرانی کے بچے کو
گود میں لے کربے تحاشہ پیار کرنا
نامناسب ہے

Categories
شاعری

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر
ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں
ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں
گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے
اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت سے بچی ہوئی لکڑی سے بنائیں
اور انہیں راہدری کی طویل دیواروں چرچ کی کرسیوں کی طرز پر ترتیب دیا
کرسیاں جن کی ٹکٹکی پر ہم سے زیادہ زندہ رہنے والوں کو اذیت دی جائے گی
آتش دان میں جلتی کھپچیاں ہماری ہڈیوں کی طرح چٹختی ہیں
کچھ دیر میں یہ شور اس سلگتی ہوئی بھنبھناہٹ میں بدل جائے گا
جو اشلوک دہرانے کے عادی بوڑھوں کے پاس سے اٹھتی ہے
ہماری انگلیاں پٹ سن کی گرہیں کھولتے بے تابی کے تشنج کا شکار ہیں
ہم اپنے پھندے کی رسی بنتے ہوئے اس خدا کی حمد گائیں گے جس نے ہمیں زندگی دی۔۔۔
Image: Ma Desheng

Categories
شاعری

ایک تلوار کی داستان

یہ آئینے کا سفرنامہ نہیں
کسی اور رنگ کی کشتی کی کہانی ہے
جس کے ہزار پاؤں تھے
یہ کنویں کا ٹھنڈا پانی نہیں
کسی اور جگہ کے جنگلی چشمے کا بیان ہے
جس میں ایک ہزار مشعلچی
ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے ہوں گے
یہ جوتوں کی ایک نرم جوڑی کا معاملہ نہیں
جس کے تلووں میں ایک جانور کے نرم
اور اوپری حصے میں اس کی مادہ کی کھال ہم جفت ہو رہی ہے
یہ ایک اینٹ کا قصہ نہیں
آگ پانی اور مٹی کا فیصلہ ہے
یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
یہ بستر پر دھلی دھلائی ایڑیاں رگڑنے کا تذکرہ نہیں
ایک قتلِ عام کا حلفیہ ہے
جس میں ایک آدمی کی ایک ہزار بار جاں بخشی کی گئی
Image: Abdullah al-Muharraqi

Categories
شاعری

کور چشم ولدیت

میں نے
کوکھ میں پلنے والے ابدان کو
بطن سے گود میں لا کر
دنیا کے دوزخ میں سزا
خوب پائی

میں الجھی ہی رہتی ہوں
کبھی جاڑے کے
کبھی گرما کے کپڑے
چھوٹے پڑتے جوتے
اور نئے سال کے
نئے نئے خرچے مجھے
بچوں کی
بڑھوتی کی خوشی بھی منانے نہیں دیتے

میں دن بھر سڑکیں ناپتی ہوں
گھروں کی دہلیز یں ٹاپتی ہوں
سکول بیگز کی زپ کھلتی بند ہوتی رہتی ہے
کتابوں میں اسباق کی ٹیوشن دیتی
میں فریج میں جھانکتے
کسی پرانے سالن میں
آنکھوں سے بہتے کھارے پانی سے
نمک تیکھا کر دیتی ہوں

تم اندھے ہو
مگر اپنی کورچشمی کا احساس نہیں
تم بہرے ہو
تمہیں ننھی خواہشات کی
چیخ و پکار کبھی سنائی نہیں دیتی

کسی طرح بھی
تمہارا نام
ولدیت کے خانے کے لئے مناسب نہیں
تم بے فکرے سے
گھر کے کونوں سے فراغت اکٹھی کرتے ہو
نیند میں بڑبڑاتےمجھے کوستے ہو
مجھے فرشتوں کی لعنت سے ڈراتے
اپنے حقوق فراموش کر دیتے ہو

میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
بس آج سے
میں ولدیت کے خانے میں
نام اپنا ہی لکھواؤں گی
خواہ سوسائٹی مجھے
باغی عورت کہے

Categories
شاعری

مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

برف باری کاشت کرنے کے موسم میں
ہم نے آگ سے بوریاں بنا ئیں
ہماری آنکھیں کلہاڑی سے زیادہ تیز
اور درختوں سے زیادہ سایہ دار نکلیں
تم مجسمے کی طرح باغ میں کھڑے تھے
میں نے سورج کے آنے سے پہلے
پرندے آزاد کر دیئے
تم آسمان کی پرتوں میں چھپ گئے
سورج تمہیں رات کے نام سے پکارتا رہا
دیکھو۔۔۔ گھنگرو ہوا کے پیر سے پھسل چکے
اور میری آوارگی مجھے راس آ گئی
میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں

Image: Gabriel Isak

Categories
شاعری

گن رہی ہوکیا

گن رہی ہوکیا
کیا انگلیوں کی پوریں ہیں
گنتی کے لیے
جو گنتی رہتی ہوتم
انگلیوں کی پوروں پر
سوتے اور جاگتے
پتا نہیں کیا کیا
کیوں دہلاتی ہو
پیار کرنے والوں کو
اپنے پاگل پن کی واضح نشانیوں سے

جب دنیا کی بیشتر چیزیں
قابل شمار ہیں
وہ کیونکر سمجھ پائیں گے
تمہارے دل کے راز

تو گن رہی ہو کیا جس کا شمارختم نہیں ہوتا
سورج کی کرنیں
جنگل کے درخت
ہواؤں کے جھونکے
آسمان کے تارے

یا اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں

Image: Ali Azmat

Categories
شاعری

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں
وہ رقص مر گیا
جو مذہب کے کسی دھاگے سے باندھا نہیں جا سکا
وہ دھمالیں موت کے خوف سے پاگل ہوئیں
جو آنکھ کی چرخیو ں پہ گھومتی تھیں
مر گئے زندگی کا مطلب پوچھنے والے
اور۔۔۔ سوگ کے کنووں میں پھینکا گیا
وہ وقت
جو موت کے پیروں سے رسیاں
لپیٹتا تھا

تم نے دھماکے کی آواز سنی
ہم نے موت کا اعلان
تم نے قیامت کی برہنہ تصویریں اتاریں
ہم نے زندگی کا خوف
ان جسموں کو کھول کر دیکھو
جن میں آنکھیں زندہ گاڑ دی گئیں

ہم اپنے آپ سے بے دخل ہو کر
کیا اس مٹی کے گیت گائیں؟
جو خدا کے بارے سوال کرتی ہے
اور۔۔۔ ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں !!

Image: The News

Categories
شاعری

وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟
میں ایک پُرامن، قانون پسند، محبِ وطن شریف شہری ہوں
وقت پر بجلی، گیس، فون اور پانی کے بل جمع کراتا ہوں
ٹیکس دیتا ہوں
ٹریفک کے اشاروں کی پابندی کرتا ہوں
دفتر سے کبھی لیٹ نہیں ہوتا
ہر جگہ
دیے گئے وقت پر پہنچ جاتا ہوں
اپنی باری کے انتظار میں
گھنٹوں قطار میں کھڑا رہتا ہوں

ایک عام آدمی کی طرح
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں
سب سے پیچھے کھڑا ہوتا ہوں
سیر کے دوران
خاموشی سے راستے کے ایک طرف چلتا ہوں
اور سڑک پار کرتے ہوئے
دونوں طرف دیکھتا ہوں

زندگی کی چوہا دوڑ میں
دوسروں کو روند کر آگے نہیں بڑھتا
تیز بھاگنے والوں کے لیے
میدان کھلا چھوڑ دیتا ہوں
اور دوستوں کو آگے بڑھاتے بڑھاتے
خود پیچھے رہ جاتا ہوں
بہت اداس ہو جاؤں تو
کتابیں پڑھتا ہوں
نظمیں لکھتا ہوں
موسیقی سنتا ہوں
حاسدوں اور بدخواہوں سے بھی محبت کرتا ہوں
اور سچ بولتے بولتے خود جھوٹا بن جاتا ہوں

صبح اٹھ کر اخبار دیکھتا ہوں
اور شب خوابی سے پہلے
ٹی وی پر خبریں سنتا ہوں
زندہ ہوں
لیکن زندگی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے
جیتے جی مر چکا ہوں
صرف اعلانِ مرگ باقی ہے
پھر بھی وہ دن رات میرا پیچھا کرتے ہیں
اور مجھے بے موت مار دینا چاہتے ہیں!
Categories
شاعری

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
اس سرد شام میں
دنیا کتنی مصروف ہے
باتیں کرنے میں
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟
مجھے سارتر اور غالب سے کچھ کہنا سننا نہیں
تارکووسکی، اولیور سٹون
اور تلخ چاند کے خالق پولانسکی کو
میں کمرے سے نکال چکا ہوں
کاسترو مر چکا ہے
میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
دنیا کتنی مصروف ہے
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟

Image: Argyle Plaids

Categories
شاعری

بارہ سال کی ماں


[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بارہ سال کی ماں

[/vc_column_text][vc_column_text]

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

آج گلی میں کچھ منٹ کے پھندے سے
جھولتی لاش کو تالیاں بجاتے دیکھا ہے
ایک طمانیت اتری ہے غلط جگہ پر
موبائل فون کے ٹاور پر چڑھ کر نوعِ انساں
اناالحق کے نعرے لگاتی ہے
تمام آوازیں ٹکرا کر واپس آجاتی ہیں
وقت اپنے بچے کھا کر اتنا بڑا ہوا ہے
میرا عضوِ تناسل، میرا بچہ
وقت کو للکارتا ہے

 

زمین چپٹی ہے
اس پر بسنے والے تمام ہنسنے والے چپٹے ہیں
خدا ایک بھوت ہے
اور جو ہے وہ بھوت بنگلہ ہے
جس میں تمام شخصی سچائیاں جھوٹی پرچھائیں پہن کر
چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں
خدا بارہ سال کی لڑکی ہے
میں بھی بارہ سال کی لڑکی ہوں
میں نے مرد کا خون پیا ہے
میں نے اپنا باپ کھا کر خود کو جنا ہے
میں جاپانی جنسیات کی وحشت پر کھلتا ہوا پھول ہوں
میں ندامت ہوں زانیوں کی، حرامیوں کی
شرابیوں کی، دیواروں کی
اور ان دیواروں میں چنی ہوئی عورتوں کے تھوک کی گلابی خوشبو کی
میری روح میرے بدن سے چھوٹی ہے
میرا عیش گرتی عمارتوں کی چیخیں ہیں
میں نے چائنا کے خداؤں کی چڈھیوں میں دیکھا ہے
کالا دھواں، دھرتی ماں کا غصہ

 

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

خدا کرے میری پستان میں وہ کشادگی پیدا ہو
کہ میں ہر ایک نظم کو اپنے ابلتے جسم میں چھپا لوں
خدا کرے میرے ہاتھ فولاد کی چیخیں بن جائیں
میرے دانت جوہری دھماکوں سے پرورش پائیں
اور میں ایک ایک ہندسہ چبا کر تھوک دوں
میں ہندسوں کی بھوک جس سے بلکتی ہے نظموں کی چھوٹی روح
میں انکا گلا گھونٹ دوں
کاش میں ایسی ماں بن سکوں
جس نے کہکشاں پھٹنے سے جنم لیا ہو
جو کبھی ایک کو دو نہ ہونے دے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ممتاز حسین کی ایک نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب انسانیت کا گلاب
روح افزا بنا
ماتمی جلوسوں پر
سوگ کی پتیاں بکھیرے ہوئے
آنکھوں کی پلکوں سے
لٹکی زنجیریں سے
دوسروں کی پشت پر
جھانکتے ڈیلوں کو
چیرنے لگتی ہیں
گروہوں میں بٹے
مالک مکانوں کے چوکیدار کتے
اپنے ہی زخموں کو چاٹنے لگتے ہیں
دماغ کی گلیوں میں
چپ کا ماتم ہوتا ہے
دل کے تھرکتے لب
نفرت کے نشتر سے
سل جاتے ہیں
کانوں میں لفظوں کا پگھلا سیسہ
صبر کی صراحی کا
گلہ گھونٹ دیتا ہے
عقیدت کا آٹھواں برج
کندھوں پر اٹھائے تعزیے
کو بارگاہوں کی صفوں کے نیچے
شہادت کے کلموں میں
دفن کر دیتا ہے
دس دنوں کا بھوکا پیاسا ذولجناح
جسم میں پروئے تیروں کو
چاندی کے ورق لگے پیالے
سنہری خوں سے
لبا لب بھر لیتا ہے
کراہت کا بہتا دریا
گندھارا کے بھوکے بدھا کو
سیم اور تھور کے
نمک سے ہنوز کر دیتا یے
دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے

Image: Kadhim Haider
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1478082644346{background-color: #caedc7 !important;}”]

Light House

Tell me, O moisture lying awake in my eyes which slumber of which eon has surrounded you! God is weeping rains on some land of pain; Why a tear jewel has caught in her eyelashes somewhere?

Tell me, O breeze of shores! in which city she looks for me the one who told me in a sodden voyage that love is the island and grief, the sail!

Tell me, O the sacred name of redemption I’ll perform the rituals of departing Amidst the long row of stony pillars I will meet her; and holding her in my arms will commend all the odysseys of land to her just for a kiss!

Tell me, O the sign of light! the peak-less rocks buried under the water are these abstractions of bygone centuries lying on the brink of eternity, or figurines of image-less yelps of slaves rowing in a parable?

Tell me, O the magical bird flying over the farthest end of the time! Tell me where is she by remembering whom the masts of the ancient voices are anchored in my heart! Tell me, O the earthly star why the voyagers dream of you?

 [/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css=”.vc_custom_1478083531356{background-color: #f7ce88 !important;}”]

ﻻﺋﭧ ﮨﺎﺅﺱ
ﺑﺘﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻢ!
ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻦ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ
ﺧﺪﺍ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻣِﺮﺍ
ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﺘﺎ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺍ !
ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣِﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﮕﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﮨﮯ ﺩکھ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎ ﻣجھ ﮐﻮ ﺍﺳﻢِ ﺭﮨﺎﺋﯽ!
ﻣﯿﮟ ﺭﺳمِ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺳﻨﮕﯿﮟ ﺳﺘﻮﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﮞ ﮔﺎ
ﺍُﺳﮯ ﺑﺎﺯﻭﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻮ ﮐﺮ
ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﮯ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ
ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﺍُﺳﮯ ﺳﻮﻧﭗ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ
ﺑﺘﺎ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ!
ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼُﮭﭙﯽ ﺳﺮﺑﺮﯾﺪﮦ ﭼﭩﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﯽ ﺷﺒﯿﮩﯿﮟ
ﺍﺑﺪ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺳﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﺮﯾﺪ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﭙﻮ ﭼﻼﺗﮯ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ
ﺑﮯ ﻋﮑﺲ ﭼﯿﺨﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﺴﯿﻢ ﮨﯿﮟ
ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﭘﮧ ﺍُﮌﺗﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﭘﺮﻧﺪﮮ!
ﺑﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ
ﺟﺴﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻋﺘﯿﻘﯽ ﺻﺪﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻮﻝ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺘﺎ ﺍﮮ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺳﺘﺎﺭﮮ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺗِﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں؟

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
Image: Enkel Dika

Categories
شاعری

لیک

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لیک

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہ رستے اور تو کچھ بھی نہیں ہیں
کسی بچے نے بس یوں ہی شرارت میں
بنا کر پونچھ کاغذ کی
دبے پیروں سے پیچھے جا کر اک دن
لگا دی منزلوں کی پینٹ میں
ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گندی روح روتی رہے گی؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گندی روح روتی رہے گی؟

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم
جس کی ہڈی ہڈی پر
گوشت اور چربی پر
روح اور گرمی سردی پر
میرے تمام گناہ فرض ہوئے ہیں
تم
سانسوں کی مشقت میں گھنٹی بجو گی؟

 

قصّے مختصر کرنے والے
میری کہانی میں جان ڈال دے

 

اے چشمِ قدر
تمھاری بینائی نے مجھے جنا ہے
خدا کے لیے
اب پلک جھپک لو
خدا کی قسم
میرے ماں باپ نے جھوٹ بولا ہے
میں نے اس دلدلی گہرائی سے جنم لیا ہے
جس کے پانیوں پر زندگی مایوس بیٹھی ہے
میرے سینگوں پر شیطان کے بھجن لکھے ہیں
میری زبان پر خدا کی حمد و ثناء ہے
جسم رکا ہوا اور روح رواں ہے
میں کھینچا تانی سے بنا ہوں
مجھے توڑ کر دیکھو
ایک حیران دباؤ ہے بڑھتا ہوا
میں اپنے واقعے سے الجھا ہوا ہوں
تم مجھے بچا سکتی ہو

 

فرشتے
اپنے پروں کو آگ لگا کر
وقت کا سور بھون رہے ہیں
ایک جانور
اپنی زمین پر تھوک کر
مرنے چلا ہے
اور خدا کی تمام نظمیں
لمبائی میں لیٹی
دھوپ سینک رہی ہیں
گرد و غبار میں اٹا ہوا
یہ منصوبہ نفرتوں کا
محبتوں سے سینچا ہوا
اپنے اختتام کو کھرچتا ہوا
پوچھتا ہے
مجھ پر انصاف کون کرے گا؟
ہے کوئی کالی روح کا سفید جسم؟
جس کی آواز میں
گھنٹی بج سکتی ہے
جو مجھ پر
سورج چھڑک سکے
یا یہ گندی روح روتی رہے گی؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]