Categories
فکشن

Sunset (عظمیٰ طور)

دونوں اپنے پسندیدہ سپاٹ پر بیٹھے تھے ۔ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے وہ کئی ساعتوں سے سامنے ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا ۔ اور وہ اسے۔ اس کے پیلے سویٹر کی بنت میں جتنے دھاگے تھے وہ اتنے ہی پل اس کے ہمراہ گزارنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے پاس وقت کی قلت تھی۔قریب رکھے سگریٹ بھی اور اس کے قریب رکھا لائٹر بھی اس بات کے گواہ تھے ۔ اس کے ہاتھ میں موجود سفید پتھر والی انگوٹھی اور اس کے گلے میں نظر لگ جانے کے ڈر سے پہنا گیا کالا دھاگا بھی گواہ تھا۔ وہ سبھی اسے بتا رہے تھے ۔اس کے مصروف ہونے کی دہائیاں دے رہے تھے۔

” میں آج بھی زیادہ وقت نہیں دے پاؤں گا۔ ”

اس کی آواز کہیں پہاڑوں سے ہوتی بازگشت بن کر اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی ۔ وہ کئی پل ہولتی رہی۔ جو پل ابھی اس کی گرفت میں تھے وہ ان کے گزر جانے کے ڈر میں آنکھیں میچے چپ چاپ بیٹھی تھی۔ لیکن وقت بھی کب اس کی گرفت میں ہوتا ہے وہ جب کبھی بھی وقت کو باندھ کر اپنی گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے اس مخصوص مقام پر آتا ہے جہاں وہ اس کی منتظر ہوتی ہے تو وقت تب بھی اسی کے تابع ہوتا ہے۔

” ڈوبتا سورج مجھے ہمیشہ بھاتا ہے۔ تم خاموش کیوں ہو؟”

اس کے مڑ کر دیکھنے پر اس نے آنکھیں کھولیں خشک لبوں پر زبان پھیری ۔وہ جانتا تھا وہ جب تک یہاں اس کے قریب چند قدم کے فاصلے پر بیٹھا رہے گا ،وہ خاموش رہے گی ۔ اس کے قریب رکھی سگریٹ کی ڈبی میں موجود سگریٹ بولنے لگا تھا اس نے ہونٹوں میں سگریٹ دبا کر ذرا سی آنکھیں سکیڑیں اور دور کہیں خلا میں موجود وقت کی ڈوری کو اپنی انگلی کے گرد لپیٹا۔ لائٹر نے سگریٹ کے ایک سِرے کو سورج کی مانند دہکا دیا اس میں اس کی اپنی سانسوں نے جو زور لگایا وہ دیکھنے والے کیلئے دیکھنا مشکل تھا اس نے ایک بار پھر آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں۔ وقت بھی تو خاموش تھا اتنا کہ اس کے ہونے کا یقین تک نہ ہوتا تھا دھواں اب اس کی سانسوں کو لیے اس کے ارد گرد منڈلانے لگا تھا اسے لگا آکسیجن کم ہونے لگی ہے دل نے پمپ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ دماغ 40% پھر آ جائے تو سائنس دماغ کو ڈیڈ مان لیتی ہے اس کے لیے ایسی صورتحال میں زندہ رہنا مشکل ہوتا تھا لیکن ۔۔۔۔۔ وقت کی رفتار تیز دھاری تلوار سے وار کرتی ہے تو نہیں جانتی کہ کہ تلوار کند تھی ۔وقت نے جس زندگی کا گلہ کاٹا وہاں اب صرف خون ہی نہیں کچھ لوتھڑے بھی وہیں گرے ہیں۔ تیز تندی بن کر زندگی کی گُڈی کا بو کاٹا کرنے والا وقت کب مڑ کر دیکھتا ہے کب دیکھتا ہے کس کے ہاتھوں کی جھریوں میں موجود نیلی رگوں کا خون جم گیا ہے، کب دیکھتا ہے چاندی بالوں میں اتری تو کتنی دھوپ اور کاٹنے کے مرحلے پیچھے چھوڑ آیا ہے اسے تو بس بھاگنا ہے محبوب آئے نہ آئے، اگر آ جائے تو اور تیزی کرتا ہے کہ کہیں چاہنے والا مان ہی نہ کر بیٹھے وقت کے اپنے ہونے کا ۔ اور اگر آ نہ سکے تو نئے وقت کی چاہ میں اسے کوسا نہ کرے ۔ سست روی بھی وقت کی خصلت ہے، آپ لاکھ گھڑیاں بدل لیں ٹک ٹک ایک ہی رہے گی۔ مجبوری، بے بسی جتنا بھی سوئی پر وزن ڈال لے مجال ہے جو وقت اپنی فطرت سے ہٹ جائے ۔ اس نے آنکھیں بند کر کے پھر کھولیں اس کی پیلی اون والا سوئٹر کے دھاگے ادھڑنے لگے تھے ۔ ایک اور سگریٹ وہ اپنی انگلیوں میں دبائے بیٹھا تھا لائٹر کے اندر موجود گیس سے دھماکہ ہوا اور اندھیرا پھیل گیا وقت کے پہیے کے نیچے روندے جانے والی زندگی ایسے ہوتی جیسے کوئی پچکے منہ والا مسکرائے اور ذرا مزا نہ آئے ایسی مسکراہٹ کا کیا فائدہ جس میں خوبصورتی نہ ہو۔ مسکراہٹ کے نتیجے میں پڑنے والے بھنور میں کیسے نہ کوئی کھو جائے۔ اسے بہت پہلے کہی کسی کی بات یاد آگئی شکل سوہنی ہونی چاہیے پیار کرنے کا کچھ مزا تو رہے لیکن زندگی کسی بھیانک چڑیل کا منہ دھار لے اور وقت کے نوکیلے ناخن چبھونے لگے تب بھی کہیں نہ کہیں اندر کہیں عزیز رہتی ہے۔طلب کے بجتے دروازے بھلے ان میں ہاتھ آ جانے کا خدشہ ہو، بجتے رہتے ہیں۔

اس نے اندھیرے میں ایک لمبا کش لگایا، جب وہ سگریٹ کا کش بھرتا تو اس کے گال اندر کی جانب کھچ جاتے، لیکن نیم اندھیرے کے باعث وہ اس پل اسے دیکھ نہ پائی تھی۔ سگریٹ کی وہی مخصوص کڑوی سی مہک۔۔۔ اس کی سانس تنگ ہونے لگی تھی، اس نے دھیرے سے قریب رکھے اس کے لائے پھولوں کو چھوا درد کی شدت آنکھوں میں امڈ آئی تھی۔

” تم جانتی ہو درد کی شدت، کانٹا چبھ جائے تو درد کی ایک limit ہوتی ہے لیکن اگر پھول دے کر واپس لے لیا جائے تو تمام عمر خسارے بھرے جا ہی نہیں سکتے۔ میں پھول دے کر واپس نہیں لوں گا ،تم خود ہی لوٹا دینا کسی روز۔”

اس کے کندھے میں کسی نے زور سے ایک موٹی سوئی والی نالی داخل کی۔ سب مشینوں سے ٹوووووووں کی آواز برآمد ہونے لگی۔ اندھیرا پھیل رہا تھا وقت ڈگی میں پھڑ پھڑا رہا تھا۔ اس کی گاڑی کی چابی بے چینی سے ادھر ادھر لگی تھی۔

میں پھر آنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ مشینیں واپس اپنی پرانی حالت میں آنے لگیں ٹیں ٹیں ۔۔۔وقت کے سمندر میں ملے زندگی کے آنسو اسے کھارے کیے رکھتے ہیں، حلق سے اترتا ہی نہیں ۔ وقت کی سوغاتوں میں ایک لاٹھی بھی ہے، تمام عمر کوئی نہ کوئی لاٹھی ہمراہ ہوتی ہے ،کبھی کسی محبت کی صورت کبھی نوکری کی شکل میں تو کبھی کسی تعلق کی ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دینے کی خاطر، لیکن اگر یہ لاٹھی نہ رہے اور چھن جائے یا چھین لی جائے تو سارے جوڑ ہل جاتے ہیں، پھر بندہ ہینڈی کیپ ہو جاتا ہے۔اور مکمل نہ دکھنے والی چیزیں کب کسی کو بھاتی ہے۔ سگریٹ کے ایک سرے پر جلتا سورج گاہے گاہے روشن ہو رہا تھا، کتنی سانسیں لگ رہی تھیں اس روشنی کے نتیجے میں ۔۔۔ لیکن یہ وقتی روشنی دل کے تہہ خانوں میں دبی سیلن کی باس تک پہنچنے سے پہلے یا تو کہیں اور کسی کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے یا پھر وہ دل اپنے کندھوں سے موٹی سوئی میں پھنسے پائپ کو نکال باہر پھینکتا ہے، دراصل یہ وقتی روشنی کسی وقت کے تلخ رویے کے نتیجے میں ہمیں خاموشی کی صورت انعام کے طور پر دی جانی ہوتی ہے ،لیکن جب وقت تلخ زبانی کرتا ہے تو کہاں کوئی زبان اپنا ذائقہ برقرار رکھ پاتی ہے۔ تو وہ جو ساری سانسیں لگی ہوتی ہیں روشنی کو پانے میں ان سانسوں کی طنابیں کھچ جاتی ہیں ٹینس ہو جاتی ہیں اور دل پمپ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اندھیرا پوری طرح پھیل چکا تھا۔ وقت ڈگی میں پھڑ پھڑا رہا تھا۔ اس کی گاڑی کی چابی بے چینی سے ادھر ادھر جھولنے لگی۔

Categories
شاعری

وحشت کا سایہ (عظمیٰ طور)

وحشت کا سایہ

میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی
کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
میں ہاتھوں سے کرنے والے کاموں سے پہلے سہ بار ہاتھ دھوتی ہوں اپنی پوریں رگڑتی ہوں
میری وحشت کہیں کسی کے اندر منتقل نہ ہو جائے
میں زور زور سے قہقہے لگانا چھوڑ چکی ہوں
کہیں اس قہقہے میں دبی چیخ ہوا میں رہ جائے
اور کسی کو چھو جائے اور وہ اداس ہو جائے
میں چلتے ہوئے قدم تیزی سے اٹھاتی ہوں
کہیں میری وحشتوں کا کوئی سایہ زمین پر پڑا رہ جائے
اور کسی کے پاؤں پڑ جائے
میری وحشتیں میری غیرت ہیں
میں عظیم اداسیوں میں گھلا ایک وحشت ذدہ گمنام سایہ ہوں
مجھے چاہ اور آہ کی طلب نہیں _

Categories
شاعری

پھول (عظمیٰ طور)

میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے
اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر
جنہیں تم اپنی توجہ سے راکھ ہونے سے روکے ہوئے ہو
میرے زخموں کو میرا گہنا بنا کر مجھے ہنسنا سکھانے والے
پھول کی پتیاں تمھاری محبت کا کاسنی رنگ تھامے ہوئے ہیں
میں اس پھول کو انتظار کے پانیوں سے سینچ رہی ہوں
اور جب تم خزاں کے گرتے پتوں پہ چلتے ہوئے
میرے سرد ہاتھوں اور نیلے ناخنوں کو اپنے نیلے کوٹ کی جیبوں میں ڈال کر مجھے لمس کی حرمت کی اہمیت جتانے
پھولوں کے ٹہنیوں سے بچھڑ جانے کے موسم میں ملنے آؤ گے
تو یہ پھول میں تمہارے نیلے کوٹ کی سینے والی جیب میں سجاؤں گی

Categories
شاعری

ہینگروں میں لٹکے سائے اور دیگر نظمیں (عظمیٰ طور)

ہینگروں میں لٹکے سائے

کئی برس سے گرد سے اٹی پشت جھاڑی ہے
تمام بوسیدہ حوصلے رینگتے ہوئے میرے رنگوں سے لپٹ رہے ہیں
کمر سیدھی کرنے کی کوشش میں میری ریڑھ کی ہڈی میں کڑکڑاتے بے حس وقت کے سبھی بے جان لمحے زمین پہ گر پڑے ہیں
تمام سائے جنہیں میں نے کئی ریاضتوں کے بعد بے مروتی کی دیواروں سے جمع کیا تھا
میری الماری میں میرے مان اور خلوص کے ساتھ کچھ فاصلے پہ لٹکا رکھے تھے آج میں نے گرد جھاڑی
انہیں بلایا
کسی نے میرے چہرے پہ مارے طمانچوں پہ میرا تمسخر اڑایا
کسی کی بے اعتنائی نے میرے بال نوچے
کسی نے بڑھ کر ہاتھ پکڑ کر جھٹک کر واپس لے لیا سہارا
میں گر پڑی ہوں
میرے کمرے کی زمین پہلے ہی میرے بے لمس وجود سے اکتا چکی تھی
سو میرے گھٹنے پہ نیل ڈال گئی ہے
میں نے بڑھ کر دیواروں سے لپٹی وحشتوں کو پکارا تو میری چیخیں میرے گلے میں اپنے شکنجے گاڑتی مجھے بے دم کیے جانے لگی ہیں
میں ان سے ہٹ کر ایک کونے میں دبک گئی ہوں
میں سوچتی ہوں
ہینگروں میں لٹکے سائے تنہائی کا کیا چارہ کریں گے

“تخلیہ”

تخلیہ تخلیہ
درد و الم تخلیہ
میرے غم تخلیہ
دل میں اٹھتی ہر پیڑ تخلیہ
میرے نوچے گئے خوابوں کے زخم تخلیہ
امیدوں تمناؤں کے ڈھونگ تخلیہ
تخلیہ میرے درد
میرے درد تخلیہ
بس اب تخلیہ
میں بے بس ہوئی
سب رنج تخلیہ
میرے پیروں میں چھالے _ سبھی تخلیہ
آنکھوں کے نم تخلیہ
تیری آواز جن کواڑوں سے آتی ہے اب تلک
ان کواڑوں سے چھنتی روشنی تخلیہ
تخلیہ روزن
ہر در تخلیہ
میرے دل تخلیہ
تخلیہ میرے دل
تجھ کو باندھا زنجیروں سے میں نے سدا
ان کو لے جا یہاں سے اور تو بھی اب جا
سب ختم _ سب ختم _ سب ختم
تخلیہ
کوئی خواہش نہیں
فرمائش نہیں
آزمائش کر دے کرم _ کر کرم تخلیہ
میرے محبوب تک جانے والے ہر خط میں لکھو
اب آنا ضروری نہیں
سب دیواروں پہ لکھ دو
مٹادو راستوں کے نشاں
اور بجھا دو دیئے جلا دو سارے سانسیں لیتی وفاؤں کے دیپ
اب کوئی نہ قرب کی خواہش کرے
سب کرم تخلیہ
تخلیہ زندگی
تخلیہ اے وقت
اے جہاں تخلیہ

“چاہ کے دیوتا”

تمہیں دان کرنے کو سب اپنے گھروں سے قیمتی اشیاء اکھٹے کیے آ رہے تھے
میں تنہا کھڑی مجمعے سے پرے مسکراتے لبوں سے تمھیں الوہی نظروں سے تکے جا رہی تھی
میں ایسی ہی ہوں
میں ایسی ہی ہوں محبت کو دیکھوں تو لبوں سے مسکراتے ہوئے ملوں
چاہ کے دیوتا
مجھے دیواتاؤں کے چرنوں میں رکھنے کو نہ آنکھیں ملیں نہ خوابوں کے موتی
سنو چاہ کے دیوتا
مجھ کو اندازہ نہیں ہے کہ جب کوئی دیوتا محبت کی قندیلیں کو اٹھائے اندھیر بستیوں کی جانب رخ کیے پکارتا ہے
ہے کوئی جسم جس کی بلی چڑھے اور خوشدلی سے اس کے بدن پہ میں تیز نظروں سے جب جب وار کروں
وہ بدن اور میری جانب کو کھچتا ہوا میری توقیر بڑھاتا ہوا دوڑتا چلے ،، مجھے آ ملے
دیواتا چاہ کے دیوتا
مجھے کیا خبر کہ محبت بانٹنے والے کے سامنے نہ کھڑے رہو تو وہ اپنی تجوری کو خالی کرتے ہوئے کسی رہ جانے والے کے نام کو پکارتا نہیں
دیوتا !
مجھے کیا خبر کہ مجھے رقص کرتے ہوئے دیکھ کر ہی کئی مچلتی انگلیاں اپنی آنکھوں کو ملتیں تو میرا بدن بے وقعتی کی عمروں کی طوالت سے ذرا کم بڑھتا
کہ میرے بدن میں کئی خواہشوں کی چنٹیوں نے رات رات میں کئی سرنگیں بنا کر میرے بدن کو کسی غار کی شکل دے کر اپنا رزق سجھا ہوا ہے
(کہ میرا بدن رات رات بھر)
ناجانے کتنی ہی راتیں گزاری گئیں
کسی لمس کی بے خودی سے مبرا خوابوں کی ڈھیروں چونٹیوں کے تقدس میں ہلتا نہیں _ یہ میرا بے جان جسم __
سچ کے دیوتا ! مجھے کیا خبر کہ تو باقی بچا تھا
یہ بستی نئے دیوتاؤں محبت کے دیوتاؤں، چاہ رکھنے والوں پہ واری جانے کے لیے روز ہر روز نئے سرے سے سجائی جاتی رہی ہے
اور پرانے جسموں کو بڑے گھڑوں میں دبا کر نئے بدنوں کا رقص کرنا سکھایا جاتا رہا ہے
مگر میرا جلتا روشنی دیتا جسم کسی دھوکے میں دفنایا نہ گیا
اور تیری آمدوں سے میں بے خبر کسی معجزے سے قطع تعلق
میٹھے لبوں سے مسکراتے ہوئے تجھے تکتی رہی
(کہ میں سچ کی توقیر مسکرا کر کیے جا رہی تھی)
مگر تیری روشنی جوں ہی مجھ پر پڑی
میرا کھایا بدن جل اٹھا
چاہ کے دیوتا میں داسی نہیں
میری ہنسی کہیں مردہ جسموں کے ساتھ دفن ہونے چلی گئی
میں کمہلا گئی __

“خاموشی کی عمر طویل ہے “

بہت بول چکنے کے بعد
ایک مختصر لمحہ خاموشی کا
اشارہ ہے
اس خاموشی کا جو اس کائنات کے وجود سے پہلے بہت پہلے سے
خلا میں موجود ہے
اس خاموش کن کے سحر میں ڈوبی خاموشی کا
اس بولتی، چیختی ،چنگھاڑتی دنیا کے ختم ہونے پر چھا جانے والی خاموشی کا
رب نے جس سکوت کو خود توڑا اور پھر اس کی ضد میں ایک اور خاموشی طاری کرے گا
ایک بھرپور چیخ کے بعد چھا جانے والی
ایک طویل خاموشی _

“ہم “

ماں نے صبر کر لیا ہے
مگر سبھی صبر کرنے والے نہیں ہیں
بغاوت نوجوانوں کے مساموں سے پھوٹ رہی ہے
عورتوں نے اپنی چادریں ناموس سے چڑ کر اتار پھینکی ہیں
بھوکے اپنے بچوں سمیت نہر میں کود رہے ہیں
بھوک صرف پیٹ کی ضرورت نہیں رہی
اس کی جنگ اناؤں کا موجب بن چکی ہے
ننھے اور معصوم بچوں کی عزتیں محفوظ نہیں
اور غیرت والے سڑکوں پہ دندناتے پھرتے ہیں
داڑھیاں گناہوں کے پیچھے چھپنے کا بہترین طریق مانی جاتی ہیں
اور انھیں مونڈھ کر اپنی بے ایمانی کی توقیر کرنے والوں کو بہترین بہانے ملنے لگے ہیں
اب حلال حرام عمل نہیں مقابلہ کرنے کی چیزیں ہیں
اب قران گائڈ بک نہیں ہے
بلکہ ہر انسان اپنی بغل میں ایک گائیڈ بک لیے گھوم رہا ہے
جو قران کی نقل ہے اور دوسروں کو زبردستی اس پر عمل کروایا جا رہا ہے
اب مذہب انسانیت نہیں ہے __ انسانیت مذہب ہے
( اب لوگ اپنا نام کسی مذہب سے جوڑ کر پیٹر ،بشیر ،کرشن نہیں رکھیں گے ،اب لوگ اپنا نام انسان یا پھر انسانیت رکھا کریں گے )
اور انسانی عزتِ نفس اور انائیں بالائے طاق رکھ کر جنگ گروہوں کو جتوانے کی ہے
ہم جدید صدی کے بہترین انسان ہیں .

“لڑکے “

نوجوان لڑکے محبت کرنا چھوڑ چکے ہیں
ان کا رجحان کسی انقلابی مہم کی جانب ہے یا پھر وہ پٹڑیاں ڈھونڈنے میں لگے ہیں
لڑکیاں جامنی پھول اپنی جھولیوں میں جمع کیے
سفید چمکتی تاریں سروں میں پروئے بیٹھی ہیں
انھیں محبت ہی انقلاب لگتی ہے اور اس کی حد خودکشی
لڑکے اب ایک ہی رنگ کی طرف کھچتے ہیں
سرخ
مگر لڑکیوں کے سروں کی سیاہی گلاب چوستے جاتے ہیں
اور لڑکے فرقت کے فریب سے نکل کر کسی نئے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو انھیں زندگی کی اصل حقیقت سانس چلنے سے پہلے سمجھا سکے
لڑکیاں اب بھی معصوم ہیں ان کے جھریوں سے بھرے چہروں پر اب بھی کسی لمس کے کھچاؤ کی امید باقی ہے
اور وہ جانتے ہوئے بھی لڑکوں کے شعروں پر جو ان کے لیے یا کسی بھی لڑکی کے لیے نہیں کہے گئے (محض بہلاوے ہیں )سر دھن رہی ہیں مگر
اندر کہیں لرز رہی ہیں
لڑکے زندہ رہنے کی کوشش میں مرتے جا رہے ہیں _

“تم”

تم خاموشی ہوتے
تو میں تمہارے چوڑے سینے پر اپنا سر رکھتی
اور مجھے کہنے اور نہ کہنے کی الجھن سے چھٹی مل جاتی
تم وحشت ہوتے تو تمھارے نوکیلے ناخنوں سے میں اپنی گردن پہ محرومی کے نقشے کھینچتی
اور تمھیں وقت بنا کر ان زخموں کو چاٹنے کا کہتی
تم تنہائی ہوتے تو میں اندھیروں میں اپنے پیر زخمی ہو جانے کے ڈر تمھارے پیروں پہ دھر دیتی
تم اندھیر مقدر ہوتے
میں اپنے ماتھے اور ہاتھوں کی لکیریں چوم کر راضی بہ رضا ہو جاتی
اداسی ہوتے تو میں تمھیں خود پہ طاری کر کے قہقہوں کے مصنوعی گھونٹ نہ بھرتی اور گالوں کے بھنور تمھاری شہادت کی انگلی سے پر کر لیتی اور تمھیں بتاتی
کہ میں نے کتنی باتیں ، ارادے ،ہنسی اور خوش رہنے کے لمحے کس مشکل میں کاٹے ہیں __

آدمی زندان ہے

آدمی زندان ہے
اور بنا روزن کے اپنے ہی بدن میں پڑا سر کو ڈھلکائے ہوئے
مغرب کی جانب جھکائے ہوئے
اپنے بڑھتے ناخنوں کو روز ترشتا بھی ہے
اور بالوں سے خاک جھاڑتا بھی ہے
مشرق سے ابھرتی ہوئی کوئی روشنی کسی ان دیکھے روزن سے وارد ہوئی
تو دھیرے سے اس کے لبوں پہ خاموشیوں کو مات نہ دے سکنے والی ہنسی نمو پانے لگی
اور جزبے اگنے لگے
پھول کی کونپلیں ابھی پھوٹی نہ تھیں
کہ زندان میں ایک چھماکا ہوا
اور سبھی سمتیں مغربی دیوار سے جا لگیں
آدمی زندان میں پڑا کا پڑا رہ گیا
ناخن تراشتا ہوا
خاک ہٹاتا ہوا
بیٹھے بیٹھے سامنے کو بڑھتا ہوا
ضعفیت کے بار اٹھائے بیٹھے بیٹھے آگے کو بڑھتا ہوا _

“آدمی زندگی کے ہیرے کو چاٹ لے “

آدمی چاہ کی راہ پر چل سکتا نہیں
آدمی زندگی کے تماشے کا حصہ بنا
آدمی جوڑا گیا جوڑ کر توڑا گیا
توڑ کر پھر جوڑا گیا
آدمی گھٹ گیا
آدمی بڑھ گیا
آدمی زندگی رکھتے ہوئے موت سے بھڑ گیا
آدمی سامنا کرنے سے گھبراتا ہے کیوں
آدمی ڈر کو کاندھے سے ٹانگے ہوئے ڈر سے بغاوت کیے اپنی ششدر آنکھوں کے طاقچوں میں شعلے بھڑکاتی ہوئی آگ کے لپکے اپنے بدن سے چمٹائے ہوئے دن بہ دن آگے کی جانب بڑھتا ہوا
آدمی زندگی کی مشقت سے اکتایا ہوا
آدمی ہار اور جیت کے مسخرے پن سے اکتایا ہوا
آدمی کو لکیروں کے سانپ ڈسنے لگیں
مقدروں کے اژدھے نگلنے لگیں
آدمی لکیروں میں بچھو کی مانند رینگتی موت کے زہر کو چکھنے کی خواہش کرنے لگے
آدمی مرنے لگے

Categories
شاعری

قہقیوں کے گھونٹ اور دیگر نظمیں – عظمیٰ طور

“قہقیوں کے گھونٹ”

میں نے طویل چیخ کے بعد
چیخ کے خلا کو پر کرنے کے واسطے
قہقہوں کے کئی بڑے بڑے گھونٹ نگلے ہیں
سات جہانوں اور خلاؤں اور کہکشاؤں کی بنیادیں پھر بھی اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں
اندھے پیروں پر
جن کے نشانوں کو ڈھونڈنے کے واسطے مجھے اور میرے جیسے کئی نقطوں کو
وزن برابر رکھنے کی تگ و دو میں لگا دیا گیا ہے
اور ایک دن نقطے معدوم ہو جائیں گے
جیسے تھے ہی نہیں
جیسے سات آسمانوں اور خلاؤں اور کہکشاؤں کے اندھے پیر
قہقہوں کے گھونٹ نگلنا کیا تمھیں آسان لگتا ہے _

…………………..

“کوزہ گر”

حسن کوزہ گر پڑھتے پڑھتے
وہ بھی کوزہ گر بن گیا تھا
جن سچے ہاتھوں کے عشق میں مٹی کی پریاں اپنے نقش سنوار رہی تھیں
وہ دراصل جلد ہی ٹوٹنے والی تھیں
محبت کے کئی کوزے اس کی آواز کی تیز لہروں سے بھر جاتے
اور مٹی کی پریاں انھیں اپنی لچکتی کمروں پہ ٹکائے
اونچی نیچی دشوار پگڈنڈیوں پہ لہکنے لگتیں
انھیں اپنے حسین نقوش پانی میں دکھائی دیتے تو
اپنی بھربھری مٹی سے آگاہی رکھتے ہوئے بھی
اس لوچ کی لہر میں بہتی جاتیں
اس کے سچے ہاتھوں میں آئی ایک نیم پتھرائی مورت
جس کی دھوپ نے اس کو آدھا کچا آدھا پکا رکھا تھا
احتیاطاً _
چاک پر دھر دی گئی
نہ ٹوٹی نہ جڑ پائی
اور حسن کوزہ گر
اب
کسی نئی دنیا میں
کسی نئی مٹی سے
کسی نئی پری کو تراشنے نکل گیا ہے _!

…………………..

“موجود”

کمرے میں جانے کونسے رنگ کا بلب روشن تھا ،جانے روشن تھا بھی یا نہیں
روشنی یا پیلی ہوتی ہے یا سفید اس کا تیسرا کوئی رنگ نہیں
رنگ بدلتی روشنی اگر کہیں دکھے بھی تو کسی آئینے، کسی اور رنگ کا عکس ہوتی ہے
پیلی روشنی میں گول گول چکر کاٹتے ذرے _ شاید سورج کا بھی کوئی دیوانہ ہو
کمرے میں نہ پیلا بلب تھا نہ چمچمتی سفید روشنی
سلیٹی تھا کچھ _ سرمئی سا _ گرے سا __
کچھ واضح نہیں _ کچھ واضح تھا بھی نہیں _
کمرے کی سفید ٹائلز ،سفید چھت ،اس کے بستر کی سفید چادر ،پنکھا ، سفید ٹی روز سب سلیٹی تھے
سرمئی ،گرے _ غیر واضح __ ٹی روز کی خوشبو بھی __
اس کے سفید کاٹن کے سوٹ پر سلیٹی دھبے تھے __
آنکھوں کے سنہرے ہلکے ناجانے کب سے سلیٹی لگنے لگے تھے __
دیوار پر ایک قطار میں گھڑیاں ابھر آئیں جن پر وقت کے ساتھ تاریخیں بھی درج تھیں
چودہ اکتوبر _ صبح آٹھ
بارہ دسمبر _ رات دس
مئی کی تاریخ دھندلی تھی( سنہ اسے یاد تھا) مگراس سے جڑا وقت پوری دیوار پہ پھیلنے لگا
کمرے کا سلیٹی رنگ اور بھی جم کر پھیل گیا
اس نے بظاہر سلیٹی نظر آتی فرش کی ایک چوکور ٹائل پر ننھے ننھے سیاہ دھبوں کو چھوا
وہ دھبے راکھ بن کر اس کی پوروں کی باریک لکیروں میں دھنس گئے
اس کے ایک کان میں کمرے کا پورا ماحول بول رہا تھا اور دوسرے میں تاریخیں، واقعات، لوگ، دھوکے، نصیحتیں، باز پرس گرزنے والا ہر واضح اور غیر واضح پل دھڑک رہا تھا
موجود کی طاقت اس کے کانوں کو فالج ذدہ کرنا چاہتی تھیں
ناموجود کی تپش، اس کی لوئیں سرخ ہونے لگیں
ناموجود میں موجود سی زندگی تھی تلخی کے باوجود ،برے تجربات، تلخ مشاہدات کے باوجود ہونٹوں کے کنارے تھرتھراتے تھے
آنکھیں لو دیتیں
ہاتھ کپکپاتے
پیر لڑکھڑاتے
مگر حاضر ہونے میں ہلاکت کا جو مزہ تھا اس سے بھی منکر نہ ہوا جا سکتا تھا
حاضری لازم تھی
وقت کے سامنے
گھٹنے ٹیکتی عمر کے سامنے
زندگی کرتے انفاس کے سامنے
سانس لیتے دھڑکتے رستوں کے سامنے
حاضر کی طاقت کمزور پڑتی تھی
اس کی سانسیں جو وہ پہلے بہت پہلے ہی کھینچ چکی تھی اب حاضر میں خارج ہو رہی تھیں
یہ بھی اس کے زندہ ہونے کی علامت تھی
پوروں کی لکیروں میں پھیلتی سرمئی راکھ پورے بدن میں پھیل گئی تھی
اس نے تجربہ کیا تھا
اس کا خون اب خون رنگ نہیں تھا جم کر کچھ گاڑھا سا ہو گیا تھا
موجود کی مہک ناموجود کے سرور کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی تو وہ تھرتھراتے ہونٹوں کو مسکرانے کا حکم دیتی
اس نے اٹھ کر کمرے کے ٹیپ ریکارڈر میں ناموجود کی آواز کو پلے کیا
اور کمرے کے بیچوں بیچ پنکھے کے ساتھ ساتھ دائرے میں گھومنے لگی
اس کے پیروں کے نیچے سرمئی زمین اور بھی سرمئی ہو گئی
موجود _ موجود _ موجود
اس نے باہیں پھیلا کر ناموجود کو آواز دی
بازو بھاری ہونے لگے
کندھے جھکنے لگے
پیروں میں جیسے کچھ بھاری بندھ گیا
مگر وہ گھومتی رہی
گھومتی رہی
گھومتی رہی
جب ناموجود اور موجود دونوں اس کے سنگ ایک ہی چکر میں چکرانے لگے تو اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا
اس کا کام ختم ہو چکا تھا
جسم پر نیلے نشان تھے
سرخ دھاریں جسم کی مختلف پور سے رستی تھیں
اور پیروں میں سرمئی، سلیٹی بھنور تھے _

Categories
فکشن

آواز (عظمیٰ طور)

آواز

آوازوں کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اس کن سے اس کے کن سے اور سلسلہ پھیلتا گیا ۔
اس نے لمبا سانس کھینچ کر کرسی سے ٹیک لگا لی.
قلم کو بے جان انگلیوں میں تھامے وہ کرسی پہ ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھی تھی۔
میز پر رکھے دو تین طرح کے ہیڈ فونز اسے منہ چڑھا رہے تھے.
سرخ رنگ کے وائرلیس ہیڈ فونز اس نے مری کی ایک موبائل شاپ سے ایک ہزار میں خریدے تھے ۔
سفید گچھ مچھ ہینڈ فریز اس کے موبائل کے ڈبے میں اس کے موبائل کے ساتھ ملی تھیں.
تیز سبز رنگ کے ہینڈ فری جس کی کانوں کی ٹوٹیاں اس کے کانوں سے بڑی تھیں ۔
یہ سلسلہ فقط دو چار سننے کے آلات پہ مشتمل نہیں تھا ۔ گیارہ برسوں میں اس نے کئی آلے خریدے اور ان کی معیاد ختم ہونے سے پہلے کئی آلے نئے خرید لاتی ۔
ہیڈ فونز کی ٹوٹیوں سے بہتی ایک آواز ہر آلے سے ایک ہی طرح اور ایک ہی زاویے سے برآمد ہوتی تھی
اس نے موبائل کے ساتھ لگے ہینڈ فریز کانوں میں اڑیس کر موبائل کے سیو ڈیٹا سے ریکارڈنگ نکالی اور کاغذ پہ جھک گئی
اس آواز کی تاریخ شاید باقی آوازوں سے بڑی حقیقت تھی
اس کے قلم سے نکلتے لفظ اس کے ہاتھوں پہ چڑھ آئے
کانوں میں بہتی آواز در و دیوار سے لپٹ گئی
زندہ ہونے کے بجائے دیواریں رسنے لگیں
گہری شدید گہری دراڑیں ابھر آئیں
دو مسکراتے لب سامنے کی دیوار پہ ابھرے
اس نے آنکھیں میچ لیں
اسے اس آواز سے رغبت تھی
وہ اس آواز سے ڈرتی تھی بے انتہا چاہ کے باوجود ایک رعب اس کے دل میں بیٹھا تھا
اس نے آنکھیں کھولیں تو آواز نے اس بالوں کو زور سے جکڑ لیا
سارا وجود تھر تھر کانپنے لگا
وہ مسکرانے لگی
پوروں سے شہد رسنے لگا
آنکھوں میں بجلی کوند گئی
اس کی سماعت کم ہونے لگی
سبھی حسیں فقط آواز میں بدلنے لگیں
اس نے کن کے بعد اس آواز کے ساتھ سفر کیا تھا
اس کے بھنور میں گھومتے گھومتے اسے گیارہ برس ہو گئے
اس کی آنکھیں کان تھے
اس کے ہونٹ کان تھے
اس کے ماتھے اس کی پوریں سبھی کانوں سے بھر گئیں
اسے سماعتوں سے گلہ تھا
محدود سماعتوں سے
اندھیرے کمرے میں آواز پورے وجود کے ساتھ ٹہل رہی تھی
اس نے چھپ کر اس آواز کے وجود کو چھوا
اس کی پوروں پہ ننھے ننھے لفظ ابھر آئے
کاغذ بھرنے لگے
تم __ آپ _ سنو _ کہو __
ننھے ننھے لفظوں میں جان پڑ گئی
وہ ان لفظوں، نقطوں کی بے وقعتی سے عاجز حیران تھی۔ یہ ننھے ننھے لفظ اسے سہلاتے اسے نیند آ جاتی
اس نے اندھیرے میں ٹہلتی آواز کو سنا وہ اسے کسی الجھے ہوئے ریشم میں سلجھی ہوئی سوچ کا عندیہ دے رہی تھی
اس نے سرابوں کو پیروں میں باندھا اور گھومنے لگی
سماعتیں گلے شکووں سے نکل کر مسکرا رہی تھیں
ہر پرانی بات نئی بات کے پیرہن زیب تن کئے ہوئے تھی
گھڑی پہ رات کے چار بج رہے تھے
اس نے ہیڈ فونز سے بہتی آواز کی تاریخ کو صفحوں پر اتارا
کئی پلندے کئی حاشیے سیاہ ہونے لگے
اس کا دل بجھ رہا تھا
پوروں پر کانٹے تھے
سرخ ہیڈ فون کے کانوں پہ دو مسکراتے ہونٹ اسے تک رہے تھے
وہ آواز کن کا جادو تھی
وہ آواز رہتی دنیا تک خلا میں رہنے والی تھی _

Categories
شاعری

میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند
میں پرانی ہو چکی ہوں
کسی پوسیدہ تحریر کی مانند
کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف
اپنے معنی کھو چکے ہیں
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند
کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس مکان کی مانند
کہ جس کے مکیں اس کی بوسیدہ دیواروں
ٹوٹی ٹپکتی چھتوں
سے بیزار نکلے تھے
اور مڑ کر دیکھنے والوں نے
دروازے کے شکستہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ لوٹنے کی قسم کھائی تھی
میں اس مکاں کی دیواروں سے اکھڑے روغن
گھسی ہوئی کھڑکیوں سے جھانکتی
بوسیدگی کی علامت ہوں
میں اتنی پرانی ہوں کہ جتنی پرانی گھڑی سامنے دیوار پہ ٹنگی نجانے کب سے
ایک ہی وقت پہ اٹکی ہے
جیسے ضد پکڑے کھڑی ہے
آؤ مجھے واپس بلاؤ
میرے سیل تھک چکے ہیں
میں چلنا چاہتی تھی مگر
میرے اندر اب سکت باقی نہیں ہے
میں اتنی ہی پرانی تھی تو مجھے
کیوں نئی دنیا بخشی تھی
جہاں نئے پن سے مانوس ہونے کے لیے مجھے پرانا پن دان کرنا پڑ رہا تھا
مجھے کیوں نیا نہ بنایا گیا
کہ میں بھی سمجھ پاتی نئے پن کے تقاضوں کو __

Categories
شاعری

پہلے کئی بار کہا گیا سوچا گیا خیال (عظمیٰ طور)

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کہ جب وقت کا پہیہ اچھی طرح سے گھوم کر
ایک نئے چکر کے لیے
اپنے ہی ہاتھوں سے پھر سے گھمایا جاتا ہے
کہ دنیا رک جانے کے لیے تو نہیں ہے ناں
یہاں کوئی رک جائے اگر
اسے کھڑے پانی کی مثالوں سے تم تشبیہ دیتے ہو
میرا دل یوں تو اب کم ہی مسکراتا یے
ہاں مگر کبھی جب ہنستا تھا تم پر
تمھاری دنیا کی
بے تکی اصطلاح میں چھپے طنز و ہمدردی پر
میں یادوں کا ذرا سا گیڑ لگا کر اس ہنستے دل کو
کسی دھندلے آئینے سے تکتی ہوں
مسکراہٹ گہری ہوا کرتی تھی تب
مگر اب _ خیر
یہاں اک شعر کہنے کو جی کرتا ہے

“پہلے ہم خیر کہا کرتے تھے کہ جانے دو
اب کہتے ہیں بہرحال ہر بات کے بعد”

یعنی اب گنجائش کی گنجائش باقی نہیں ہے
طلب، امید، خواب، حسرت کے ڈھکوسلے حقیقت پسندوں کے ہاں نہیں ہوا کرتے
کہیں جب جیب خالی ہو
خالی برتن میں بھاپ اڑاتا فقط سادہ پانی
دیوار سے لگ کر بیٹھ جانے والوں کو اس سے کیا کہ سورج ان کی پشت سے نمودار ہوا
یا اس نے سامنے سے جھلسایا
ٹوٹی چپلیں دراصل ننگے پاؤں ہی ہیں
ایک پیوند پورے لباس کا ننگ ہے
یہ حالتیں امید جیسے ہلکے میٹھے سے حقیقت کی ترشی کو دور نہیں کر سکتیں
سو تمھارے ہونے نہ ہونے سے فقط اتنا ربط تھا کہ خود تک رسائی ممکن ہونے لگی تھی
جیسا کہ ہوتا ہے محبت میں
تم سے پہلے تمھارے بعد اس احساس نے زور پکڑا ہے
کہ ہم محبت کرتے رہنے کے لیے ہیں
اس کے لیے کسی وجود کا حاظر ہونا ضروری نہیں _

Categories
شاعری

سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں
کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں
مگر ٹوٹ چکی ہیں
اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت کہاں ہے
میں اس سماعت کے مفلوج ہونے کی بھی گواہ ہوں
جو گفتار کو اپاہج سمجھ کر
خود اپنی ہی سناٹوں میں گونجتی اپنی آوازوں سے محظوظ ہونے کی عادی ہے
میں جانتی ہوں اس دکھ کو
جو میرا ہے
اور صرف میرا ہے
جہاں سماعتوں کے اندھیروں سے جوجتے کئی ہیں
جن کے *ہاتھ بولتے ہیں
میں ان اندھیروں کی قسم کھاتی ہوں
میرے پیارو !
اس دنیا کو سننا اتنا بھی آسان نہیں تھا
سو تم تسلی رکھو
اس اذیت کو سنبھل کر جھیل لو
یہ اپنی آوازیں سننے کی عادی سماعتوں کی دنیا ہے
تم تسلی رکھو کہ تم
کم از کم اپاہج نہیں ہو __!

*sign language

Categories
شاعری

نو سال (عظمیٰ طور)

وہ جب کتاب ہاتھ میں لیے
“حسن کوزہ گر” پڑھتا
تو اس کے لہجے میں اِک عجیب درد اتر آتا
شروع کی سطریں پڑھتے ہوئے
وہ اُسے مخاطب کئے
اُسے پکارتا
“جہاں زاد یہ میں حسن کوزہ گر ہوں”
اُس کی آواز کے زیروبم سے “نظم”
دلوں میں گھر کئے ہوئے تھی
وہ اکثر یہ بھی کہتا
جہاں زاد نو سال ہونے میں فقط دو ہی برس بچے ہیں
میں جو نہ کوزے بنانا جانتا ہوں
اور نہ تیری آنکھیں
مجھے اب تک
کسی قبر کے کتبے کی مانند کر سکی ہیں
کہ اپنی محبت اپنے ماتھے پہ کندہ کر کے
مَیں اس کا یقیں گلے میں ڈالے
گریباں چاک کئے
تیرے بھروسے کی کچی قبر پر ہی ٹک سکا ہوں
مجھے خبر ہے تُو محبت کو پرکھنے کی مَد میں
برسوں کے امتحاں کی قائل نہیں ہے
مگر یہ میری ہی ضد ہے
مجھے یہ نو سال پورے کرنا ہیں
کہ ان برسوں کو جب میں
اپنی محبت کی کہانی سمجھ کر
تجھے سناؤں
تو یہ بتاؤں
کہ میں بھلے ہی حسن کوزہ گر نہیں ہوں
مگر میری جاں !
میرا دل ایک کوزہ ہے
جس میں فقط تیری محبت کی مٹی شامل کر کے
ََمَیں نے اس دل کو
ان برسوں کے ہر ہر پل کی بھٹی میں
اس قدر بختہ کیا ہے کہ
تیری بے یقینی کی ضربیں اس پر کچھ اثر نہیں کرتیں
تو میری جاں تُو ابھی نہ پوچھ
کچھ نہ پوچھ
تو ابھی نو برس کے امتحاں سے مجھے گزرنے دے
Image: Sasha Vinci

Categories
شاعری

رشتوں کے گدھ (عظمیٰ طور)

ہمارے دل ایک نہیں ہوتے
مگر کمرے ایک ہوتے ہیں
الماری میں الگ الگ طرز کے کپڑے ایک دوسرے سے نہ لپٹ جائیں اسی الجھن میں اپنے اندر رہ جانے والی جسموں کی بساند میں لپٹے خاموشی سے کئی کئی برس گزار دیتے ہیں
کمرے دو مختلف لوگوں کی مختلف سوچوں کے وزن سے کسی خوشبو کے بغیر مردہ محسوس ہوتے ہیں
بستر پر الگ الگ سرہانوں اور الگ الگ لحافوں سے الگ الگ ہمک اٹھتی ہے

ہم اپنے جسموں کے منکر ہیں
ہم جذبوں سے روحیں نکال کر ٹھکانے لگا چکے ہیں
ہمارے اپنے دل ،دماغ اور زبان کسی لمحہ بھی ایک ڈگر پر نہیں چلتے
ہم رشتوں کو پائمالی سے بچانے کے لیے جسموں کو تیاگے ہوئے ہیں
تعلق کے گدھ ہمارے جسم نوچتے ہیں
اور ہم تمام عمر مصلیحتوں کی قبروں میں گڑے رہتے ہیں
ہماری قبروں سے اٹھنے والا تعفن ہماری ہی سانسیں تنگ کرتا ہے

Categories
شاعری

پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی
وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے سبھاؤ سے
گزار چکا تھا
میں بھی __
بھلا دس برس پہلے
میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟
شاید عمر کے اس حِصے میں
جہاں خواب بنے جاتے ہیں
اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے
کسا جاتا ہے
میں بہت خاموش رہ کر
بہت کچھ سہہ کر
جب اس تک پہنچی
تو اس کے ساتھ میں نے کئی زمانوں کو
الیوژن کی صورت خود پر بیتتے دیکھا
میں نے بھری دوپہروں میں اس کے ہمراہ
سنسان گلیوں میں
اتنی سائیکلنگ کی کہ ہم دونوں اور ہمارے ساتھی
تمتماتے سرخ چہروں کے ساتھ
سورج سے لڑتے تھے
باغِ جناح کے کئی ٹریک
ہمارے قدموں کو پہچانتے ہیں اب بھی
کئی کلیاں کھلنے سے پہلے ہم توڑ لاتے تھے
کئی بارش کی بوندیں
چھپاک چھپاک ہمارے پیروں تلے روندی جاتی تھیں
ہم ہنستے تھے تو ہوائیں چلتیں
بولتے تو وقت رک جاتا
وہ اب اپنی عمر کی چار دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے ہی سبھاؤ سے گزار چکا ہے
اور میں
عمر کے اس حِصے میں ہوں
جہاں
سمجھ پختگی کے دھاگوں سے سِل کر
مکمل اک کتاب بن کر
سامنے آ چکی ہے _!!!
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

آنکھ لگی تو
خواب میں اک بازار لگا تھا
طرح طرح کے اسٹال لگے تھے
ایک ریڑھی پر کوئی
مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا
محبت کی قیمت اتنی کم تھی
سنتے ہی میں رو پڑی تھی
احساس بیچنے والا
مجھ سے نظریں نہ ملا پایا
دل کی دھڑکن
اپنے بکنے پر نالاں تھی
مروت تروڑی مروڑی پڑی ہوئی تھی
آنسوؤں کے پیالے کے نیچے خواب پڑے تھے
بلک رہے تھے
امیدوں کی چھوٹی سی گٹھڑی کھلی پڑی تھی
سسک رہی تھی
آس پتھر کی مورت کی صورت
ایک کونے میں دھری تھی
میری آنکھیں جلنے لگی تھیں
خواب میں اک بازار لگا تھا
اک ریڑھی پر کوئی
مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا

Categories
شاعری

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus