Categories
تبصرہ

پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت کے روبرو کھڑا کرتا ہے۔ اسد فاطمی کا مجموعہ “پس انداز” ہمارے سامنے آتا ہے تو پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شاعر محض قافیہ پیمائی کی مشق کر رہا ہے یا اس کے اندر وہ “قدیم آدمی” زندہ ہے جو لفظ کو اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر خرچ کرتا ہے؟ حسن عسکری نے کہا تھا کہ مغرب کی ہوائیں ہمارے گھر کے اندر تک آ گئی ہیں، لیکن اسد فاطمی کے کلام کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس شخص نے اپنے گھر کی کھڑکیاں اب تک شعوری طور پر بند رکھی ہیں، یا شاید یہ ان کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے آنے والی ہوا کو بھی اپنے چراغ کی لو کا حصہ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔

شاعر کا تعلق اس قبیلے سے معلوم ہوتا ہے جو اب ناپید ہو چکا ہے۔ وہ قبیلہ جو شاعری کو الہام اور کسب کے درمیان ایک پل سمجھتا تھا۔ اسد فاطمی کی غزل میں جو فارسیت اور کلاسیکی تراکیب کا ہجوم ہے، وہ محض لغت دانی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے تہذیبی نظام سے وابستگی کا اعلان ہے جسے ہمارا نیا “ترقی پسند” اور “جدید” ذہن رد کر چکا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ہنر کے کشکول میں جفا کے ثمر کی اک قاش رکھ گیا ہے” تو یہاں “کشکول” اور “ثمر” محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک پوری روایت کے استعارے بن جاتے ہیں جہاں فنکار بھکاری بھی ہے اور بادشاہ بھی۔

ان کی شاعری کے پس منظر میں “استاد” کا کردار محض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا استعارہ بن جاتا ہے جس کی “کلکِ بے نیازی” نے شاعر کی ہستی کی لوحِ خالی پر پیش لفظ لکھا تھا۔ ان کی نظم دراصل اسی روایت سے انحراف اور پھر اسی کی طرف واپسی کا ایک بلیغ اعتراف ہے جہاں شاعر یہ مانتا ہے کہ اس نے استاد کی ہر ہدایت کو “قط بہ قط، خط بہ خط غلط لکھا” مگر بالآخر وہ اسی دائرے میں واپس لوٹتا ہے جہاں روایت کا تقدس اسے پناہ دیتا ہے۔ یہ شعور انہیں جدید دور کی “کمرشلائزیشن” اور ادبی “شِٹ” (جیسا کہ انہوں نے “ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ” میں طنزیہ انداز میں استعمال کیا) کے خلاف کھڑا کرتا ہے، جہاں وہ اپنی “بیاضِ غزل” کو دو ٹکے کی شہرت پر قربان کرنے کے بجائے اسے اپنی “آخری بچت” یا “پس انداز” کے طور پر سنبھال کر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”پس انداز” کا عنوان ہی جدید انسان کی نفسیات پر ایک گہرا طنز ہے۔ یہ اس “سیونگ” کا نام نہیں جو بنکوں میں رکھی جاتی ہے، بلکہ یہ اس روحانی سرمائے کا اشارہ ہے جو تہذیبی شکست و ریخت کے بعد ایک حساس روح کے تہہ خانے میں بچ رہتا ہے۔

اسد فاطمی کے ہاں “استاد” کا تصور محض ایک سکھانے والے کا نہیں، بلکہ ایک روحانی نسب نامے کا ہے۔ جدیدیت نے انسان کو باپ اور استاد سے محروم کر کے اسے “یتیم” بنا دیا ہے، مگر اسد فاطمی بضد ہیں کہ وہ یتیم نہیں ہیں۔ وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں بار بار اس “نسب” کا حوالہ دیتے ہیں جو انہیں ماضی کے ایک غیر منقطع سلسلے سے جوڑتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو ایک خاص قسم کی حزنیہ فضا ہے، وہ ذاتی ناکامی کا نوحہ نہیں بلکہ یہ اس “اجتماعی لاشعور” کی بازگشت ہے جو محسوس کر رہی ہے کہ کچھ بہت اہم کھو گیا ہے۔ وہ “بازارِ زیاں” میں کھڑے ہو کر بھی منافع کی امید نہیں رکھتے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شاعری ایک “روحانی مزاحمت” بن جاتی ہے۔ ان کا مصرعہ “بیٹھے ہیں اپنے دھیان میں محفل کو چھوڑ چھاڑ کر” اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعر ہجوم میں تنہا نہیں ہے، بلکہ ہجوم سے “بیزار” ہے، اور یہ بیزاری ہی اس کے تخلیقی جوہر کو زنگ لگنے سے بچاتی ہے۔

عام طور پر غزل میں جسم یا تو محبوب کا ہوتا ہے یا پھر ایک تجریدی وجود، مگر اسد فاطمی کے ہاں شاعر کا اپنا جسم ایک “کھنڈر” کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وہ اپنی ذات کے داخلی کرب کو محض روحانی سطح پر نہیں رکھتے بلکہ اسے “جسمانی اذیت” میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب وہ “تن تندور الاؤ بھیا” کی بات کرتے ہیں تو یہاں گرمی موسم کی نہیں بلکہ ہڈیوں میں سلگتی ہوئی اس آگ کی ہے جو وجود کو آہستہ آہستہ بھسم کر رہی ہے۔ ان کی شاعری میں گرد اور دھول محض راستے کی نہیں بلکہ ان کے مساموں میں اتری ہوئی ہے۔ یہ “جسمانی ٹوٹ پھوٹ” دراصل اس تہذیبی شکست کا استعارہ ہے جو اب صرف روح تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہڈی، ماس اور جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ اپنے ہونے کو ایک ایسے “بوجھ” کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں جو اب ان کے کاندھوں کو چھلنی کر رہا ہے۔
اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “بے اعتنائی” اور “ملنگانہ طنز” موجود ہے جو خود ان کی اپنی ذات پر مرکوز ہے۔ وہ اپنے آپ کو “کم بخت”، “آفت” اور “ملغوبہ” کہہ کر پکارتے ہیں، اور یہ خود تضحیکی دراصل ان کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان پر ہنسے گی، اس لیے دنیا کے ہنسنے سے پہلے وہ خود اپنے اوپر قہقہہ لگا دیتے ہیں تاکہ دنیا کا وار خالی جائے۔ یہ وہ “رندانہ شوخی” ہے جو شدید ترین المیے کو بھی ایک “کامیڈی” میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔ وہ المیے کو رو رو کر بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو آنسوؤں سے زیادہ دلدوز ہوتی ہے۔ ان کا یہ انداز انہیں روایتی غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے جو صرف “رونا” جانتے ہیں، جبکہ اسد فاطمی “ہنستے ہوئے” مرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

پس انداز کی شاعری میں جہاں وہ فارسی کی سنگلاخ زمین سے اتر کر اپنے “مقامی لہجے” میں بات کرتے ہیں، وہاں ان کی تاثیر دوچند ہو جاتی ہے۔ وہ کمرشلائزیشن” اور “ادبی سیاست” پر جب چوٹ کرتے ہیں تو ان کا لہجہ کسی صوفی کا نہیں بلکہ ایک ایسے “چڑچڑے دانشور” کا ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
“دہقان”، “دریا”، “نہر”، “دوپہر”۔ یہ سب روایتی لفظ اور استعارے لگتے ہیں نا؟ مگر ٹھہریے اسد کا دہقان وہ پریم چند والا سیدھا سادا کسان نہیں ہے، یہ وجودی کرب کا مارا ہوا جدید انسان ہے جو “دریا” (وقت) کے کنارے کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔ دریا بہہ رہا ہے اور دہقان کی آنکھوں میں ویرانی ہے۔ یہ تصویر کشی کسی مصور کا کام نہیں، ایک حساس شاعر کا کام ہے جس نے زندگی کو بہت قریب سے، شاید بہت قریب سے “چوٹ” کھا کر دیکھا ہے۔
اور یہ “گردِ سفر” کا قصہ کیا ہے؟ پوری کتاب میں شاعر کہیں ٹک کر نہیں بیٹھتا۔ کبھی وہ بازارِ زیاں میں ہے، کبھی رنگپورے کی نہر پر، کبھی چنیوٹ کی گلیوں میں۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہی تو وہ ایندھن ہے جس سے شعر کی بھٹی جلتی ہے۔ اگر شاعر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو سمجھو مر گیا۔ اسد فاطمی زندہ ہے، کیونکہ وہ بے چین ہے۔ وہ اپنے “اندر” کے آدمی سے لڑ رہا ہے، باہر کی دنیا سے الجھ رہا ہے۔

ہمارے نئے لکھنے والوں نے “ذات” کے جس تصور کو مغرب کی اترن سمجھ کر پہن لیا ہے، وہ انہیں اندر سے کھوکھلا کیے جا رہا ہے، مگر اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “ضد” دکھائی دیتی ہے۔اپنی ذات کو بکھرنے سے بچانے کی ضد۔ ان کی شاعری میں جو “میں” ہے، وہ کوئی نرگسیت کا شکار جدید فرد نہیں بلکہ وہ “قدیم انسان” ہے جو جانتا ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نامیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور اب اسے یہ رشتہ اپنے لہو سے دوبارہ جوڑنا پڑے گا۔ جب وہ غزل کے روایتی ڈھانچے میں اپنے وجودی تجربے کو ڈھالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پلاسٹر چڑھا رہے ہیں۔ یہ عمل تکلیف دہ ضرور ہے اور قاری کو بھی اس تکلیف میں شریک کرتا ہے، مگر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں۔ ان کا لفظی نظام اس بات کا گواہ ہے کہ وہ زبان کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ “وجود کا گھر” سمجھتے ہیں، اور جب گھر میں آگ لگی ہو تو آدمی کھڑکی سے باہر کے نظارے نہیں کرتا، بلکہ پہلے آگ بجھانے کی فکر کرتا ہے، چاہے اس کوشش میں ہاتھ ہی کیوں نہ جھلس جائیں۔
پھر معاملہ صرف ذات کا نہیں، “عشق” کا بھی ہے جو ہمارے عہدِ زریں میں یا تو جنسی ہیجان کا نام ہو گیا ہے یا پھر سماجی تعلقات کی ایک مسخ شدہ صورت۔ اسد فاطمی کے مجموعے میں عشق ایک “تہذیبی قوت” بن کر ابھرتا ہے، ایک ایسی قوت جو “مارکیٹ” کے اصولوں کو ماننے سے انکاری ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کسی اشتہار کا ماڈل نہیں بناتے اور نہ ہی اسے کھپت کی کوئی شے سمجھتے ہیں بلکہ اسے اس “غیب” کا استعارہ بنا دیتے ہیں جس سے مکالمہ کیے بغیر انسانی زندگی بے معنی اور بے رس ہے۔ ان کے ہاں محبت، وصال کی خواہش سے زیادہ “فراق” کے ان آداب کا نام ہے جو انسان کو اندر سے پختہ کرتے ہیں۔ آج کا قاری جو “انسٹنٹ کافی” کی طرح فوری نتیجے اور فوری سرشاری کا عادی ہے، اسے اسد کی یہ “ریاضت” شاید بوجھل لگے، مگر شاعر کو اس کی پروا اس لیے نہیں کہ وہ جانتا ہے کہ سچی شاعری قاری کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اپنی روح کی تطہیر اور کائنات سے اپنے تعلق کی بازیافت کے لیے کی جاتی ہے۔

مزید برآں، اسد فاطمی وقت کو جس پیمانے سے ناپتے ہیں وہ گھڑی کی سوئیوں والا حسابی وقت نہیں بلکہ وہ “ازلی وقت” ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ مابعد جدید عہد نے ہمیں “لمحہِ موجود” کا اسیر بنا دیا ہے اور ہم تاریخ کے تسلسل سے کٹ گئے ہیں، مگر اسد فاطمی اس لمحے کو پھلانگ کر اس “دائمی سچائی” تک پہنچنا چاہتے ہیں جو روایت کے دامن میں چھپی ہے۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ “تاریخ” کے جبر کو تسلیم تو کرتے ہیں مگر اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں، وہ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو آج کل کے شعری منظرنامے میں نایاب ہے۔

ان کی زبان کا کھردرا پن اور فارسی آمیز لہجہ دراصل اس “چکنی چپڑی” زبان کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جس نے ہماری فکر کو مفلوج اور ہمارے احساس کو کند کر دیا ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو قاری کو “ٹھوکر” لگائیں، تاکہ وہ رک کر سوچے کہ یہ لفظ یہاں کیوں ہے؟ یہ “لسانی مزاحمت” ہی ان کا اصل ہتھیار ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اردو شاعری کا مزاج محض محفل میں “واہ واہ” کروانا نہیں تھا بلکہ قاری کے شعور کو ایک ایسی سطح پر لے جانا تھا جہاں اسے اپنی “کم مائیگی” اور کائنات کی ہیبت کا احساس ہو سکے۔ اسد فاطمی کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو جھوٹی تسلی نہیں دیتے بلکہ اسے بے چین کرتے ہیں، اسے اس کے خواب غفلت سے جھنجھوڑتے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جس فن سے قاری کا سکون برباد نہ ہو، وہ فن نہیں، محض ایک نشہ ہے جو اتر جائے گا۔

مجموعی طور پر، “پس انداز” ایک ایسے شاعر کی دستاویز ہے جو اپنے عہد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔ یہ شاعری ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو ادب میں “تفریح” تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ادب میں “اپنا چہرہ” دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ چہرہ کتنا ہی مسخ شدہ کیوں نہ ہو۔ اسد فاطمی نے ثابت کیا ہے کہ روایت کی راکھ کریدنے سے صرف ہاتھ کالے نہیں ہوتے، بلکہ کبھی کبھی اس میں سے کوئی چنگاری بھی نکل آتی ہے جو اس ٹھنڈے اور بے حس معاشرے میں آگ لگانے کے کام آ سکتی ہے۔ یہ کتاب ایک اعلان ہے کہ “آدمی” ابھی پوری طرح نہیں مرا، اس کے اندر کا “دکھ” ابھی زندہ ہے، اور جب تک دکھ زندہ ہے، شاعری زندہ رہے گی۔ اسد فاطمی کی کامیابی یہ نہیں کہ انہوں نے کوئی نیا فلسفہ پیش کیا ہے، بلکہ ان کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہم کیا بھول چکے ہیں۔ اور یقین مانیے، آج کے دور میں یاد دہانی سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔

Categories
نان فکشن

پس انداز خواب کی تلخی میں

اپنے ناول Identity میں میلان کنڈیرا اپنے ایک کردار کے بارے میں کہتا ہے:

She dislikes dreams: they impose an unacceptable equivalence among the various periods of the same life, a levelling contemporaneity of everything a person has ever experienced; they discredit the present by denying it its privileged status.

اور یہیں مجھے اسد فاطمی کی پس انداز کو کھولنے کی ایک کلید مل جاتی ہے۔ اسد زمانوں میں برتی جانے والی متنوع زبانوں کو اپنے احوال کا حصہ بناتا ہے اور الگ الگ زمانے اپنی ماہیت کو قائم نہیں رکھ پاتے۔ نتیجتاً ایک خواب آمیز دنیا وجود میں آتی ہے، جسے میں اسد کی دنیا کہہ سکتا ہوں۔

مجھے اسد فاطمی کی شاعری، غزل ہو یا نظم، اس میں سب سے پر کشش پہلو اس کا اپنی داخلی، خارجی واردات کو زبان کے متنوع پہلوؤں کے ساتھ آمیز کرنے کا عمل لگتا ہے۔ کتاب کھولتے ہی میری نظر پہلی ہی غزل پر پڑتی ہے تو جو شعر سامنے آ کر مجھے روکتے ہیں، انہیں ہی دیکھ لیتے ہیں:

درِ خانۂ دلربایاں کے درباں، ٹھہرنے تو دے بات تو سن مری جاں
سلاموں، کلاموں، پیاموں کے صدقے ابھی تیرے سر سے اتارے نہیں ہیں

وہ کٹیا جہاں پچھلا موسم کٹا تھا، وہاں اپنا کچھ ساز و ساماں پڑا تھا
پہ جن پہ تواضع کی مینا بنی ہو، سمجھنا وہ برتن ہمارے نہیں ہیں

یہ دونوں شعر اپنی بنت میں اس خطے میں صدیوں سے رائج فارسی اور ہندوستانی کا وہ نکتۂ اشتراک ہیں جہاں یہ دونوں آپس میں ایسے گھل مل جاتی ہیں کہ اپنی الگ الگ شناخت سے دستبردار ہو جاتی ہیں ۔ اب کیا کہیے گا کہ یہ بیت مفرّس ہیں یا ہندی سے متاثرہ؟ شاید آپ یہ دونوں باتیں نہ کہہ سکیں۔ اگر آپ کسی طرح کی ٹکسالی زبان کی تلاش میں اس شاعری تک آئے ہیں تو شاید آپ مایوس ہوں۔

اسد کے ہاں ماجرا دلچسپ ایسے ہوتا ہے کہ وہ تنقید کے دبستانوں اور چائے خانوں میں جاری ہئیت کی بحثوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور یہی وہ اہم کام ہے جو پس انداز کے ذریعے فی زمانہ اس نے کیا ہے کہ یہاں غزل ہے مگر وہ غزل نہیں جسے مجلسی واہ وا سے علاقہ ہو ، نظم ہے معری بھی پابند بھی آزاد بھی لیکن ایسی نہیں جسے مجھ سے، آپ سے ،اپنے عصر سے علاقہ نہ ہو:

قیدِ تنہائی کا گوشہ ہے خموشی کی سزا
ملنا جلنا ہے کہ اک جبر ہے گویائی کا
بات اک سنتا ہوں اور دوسری کہہ جاتا ہوں،
چھوڑتا جاتا ہوں اک صوت و علامت کی لکیر
اور امکانِ معانی کا ہیولا سا کوئی
پیچھے پیچھے اسی خط پر کہیں چلتے چلتے
آخرِ کار مجھے ڈھونڈ کے آ ملتا ہے
(نطق و نفس)

اب بتائیے کیا اس معرّیٰ ٹکڑے کو مجھ، آپ سے، اس عصر سے کوئی علاقہ ہے کہ نہیں۔ نفی میں جواب دینا شاید میرے لیے ممکن نہ ہو کہ میں اسی نوع کے داخلی اور خارجی جبر کے سنگم پہ کھڑا جب کوئی اظہار منتخب کرنا چاہتا ہوں تو یہ نظم میرا ہاتھ پکڑ لیتی ہے اور مجھے نہیں کہنے دیتی کہ میں معریٰ ہوں یا میری زبان تو وہی “روایتی” ہے سو مجھ سے فاصلے پہ رہو۔ پھر یہ زبان کا پرانا یا نیا ہونا میں تو کبھی نہیں سمجھ سکتا:

جو گم ہوئے پریم پتر سارے مہاجنوں کی بہی سے نکلے
شبِ عروسی کے رزمیوں نے طرب کے پیالوں میں زہر گھولے

اس شعر کو پڑھتے ہوئے میں مصرعِ اولیٰ کو دیکھتا ہوں تو ہند میں رچا ہوا ایک احساس میرے رگ و پے میں اترتا ہے اور وہاں مصرعِ ثانی مجھے اسی کی ایک extension محسوس ہوتا ہے بغیر کسی غرابت یا اجنبیت کے۔ جیسے یہ ملاپ بڑا فطری ہو۔ یہی شاید شاعر کا کام ہے لفظ کو اٹھا کے یوں برت دینا کہ جو عمارت ان لفظوں کی اینٹوں سے بنے، اس میں کوئی اینٹ بدنما نہ لگے۔۔۔

خیر پہلو تو اور بھی ہیں اور خاصے دلچسپ، بات بڑھتے بڑھتے “دہقان و دریا” تک لے آئی ہے مجھے۔ دہقان و دریا میں جو اسطورہ اسد فاطمی نے تخلیق کیا ہے، اس کا احساس وہ کس زبان میں اپنے قاری تک پہنچا سکے گا، کہاں لفظ کو پر شکوہ ہونا ہے کہاں عجز آمیز، اسد جانتا ہے اور اس کا مظہر یہ شاندار نظم ہے جس میں داستان کا سا رویہ ہے:

گفت دہقان: یہ کرشمہ ہے، پہیلی ہے، فریبِ چشم ہے یا کوئی مخفی رمز ہے؟
گفت مردِ پیر: یہ اک معجزہ ہے اور اس میں کچھ نہیں جائے کلام۔۔۔

یہ معجزہ کیسے خود عجز کا شکار ہوتا ہوتا اپنے انجام تک یہاں آ پہنچتا ہے:

چھت پہ اک چمنی ہے اور چمنی پہ اک گھڑیال ہے

گویا یہ نظم “تراشیدم، پرستیدم، شکستم” کی ایک ایسی شکل میرے سامنے لاتی ہے جس کو پہچاننے میں مجھے دقت ہوتی ہے آغاز میں، لیکن پھر مجھے میرے ہی ایک تاریک پہلو سے جوڑ کر ایک نیا جمالیاتی زاویہ کھولتی ہے جس کے ساتھ میں بہت دیر رہنا چاہوں گا۔

صحن میں سر چڑھی عشقِ پیچاں کہیں تتلیوں کے ترنجن سے کہنے لگی۔۔۔

میں یہاں عشق پیچاں اور تتلیوں کے ترنجن میں رک کے مسکرا رہا ہوں، خود اس بات سے بے غرض کہ اب کہا کیا جانے والا ہے۔ تمثیل کا اعجاز حیرت بھی ہے اور جہاں حیرت آ جائے وہاں کلام کی کیا حاجت۔ میر صاحب کا شعر یاد آگیا:

تصویر سے دروازے پہ ہم اس کے کھڑے ہیں
انسان کو حیرانی بھی دیوار کرے ہے۔۔۔

اچھا مجھے جس شے نے اس کتاب سے جوڑ رکھا ہے وہ اسی نوع کا ایک استعجاب ہے۔ اب تو خال خال یہ استعجاب بہم پہنچتا ہے۔ استعجاب و حیرت دیر پا احساسات ہیں، چونکانے کا کام کچھ دیر پا نہیں سو آس پاس بہ کثرت ہوتا ہے۔ جو شے اسد کو الگ کرتی ہے وہ اس کا “حال” کے لیے موزوں “قال” کھوجنے کی کاوش ہے۔ وہ ہونے اور کہنے کا درمیانی سفر بڑی دقت طلبی سے طے کر کے ہمارے سامنے بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے:

یار بناں جو جی پر گزری کون لکھے اور کون سنائے
کاتب تجھ کو اللہ رکھے، قاصد تجھ کو رام سَہائے

جھونکا، موسم، کاگ، پپیہا، سَنت، نجومی، دست شناس
کس سے اُس کی خبر نہ مانگی، کس کے نہیں ہیں ناز اٹھائے۔۔۔

بتائیے ہے ناں دلچسپ بات! پہلے مصرعے کے استفہامیے ہی میں جناب کہہ بھی گئے کہ ماجرا کیا ہے۔۔۔

اچھا ایک خاص بات ہے جسے انگریزی میں Satire کہتے ہیں ہم۔ وہ اسد کے یہاں کبھی بلند آہنگ میں آئے تو ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ جیسی نظم سامنے آتی ہے اور زیر لب آئے تو شاید ہی آپ ایسی چیز ڈھونڈ سکیں جہاں آپ یہ Satire محسوس نہ کریں۔ یہ طنز بڑا گہرا ہے اور زندگی، سماج، وجود کے تئیں اسد کے رویے کی اور نشاندہی کرتا ہے:

خالی بٹووں میں ناکام غزلیں لیے کب تلک خود کو خود ہی سناتے پھریں
زندگی تیرے بے دام مزدور ہیں، شعر کہنے کی فرصت کجا، ہم کجا

ظہیر انور کون تھا، صدا کر چلے، حَسن حجام سے کہتا ہے، اور بہت سی نظمیں، ذرا گہرا اتر کے دیکھنا ہوں گی تاکہ ہم پس انداز سے اپنے اپنے حصے کی تلخی پائیں اور جانیں کہ گاہے یہ کاٹ دینے والی تلخی اپنے وجود کا حصہ بنانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ تلخی اور Satire کا ملاپ ہمیں ہمارے زندگی جینے کے رویے کو شاید ازسر نو دیکھنے کا موقع ہی مہیا کر دے:

عدم کی شاہرہ پر راستے کیا اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھل بھلیاں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو اور پھر ہانپ جاؤ گے
(صدا کر چلے)
۔۔۔۔۔
یہ ناک کی سیدھ جس میں کوئی خم و تغیر،
کوئی دوراہا، نہ دایاں بایاں،
خطِ معین سے ہٹ کے کچھ لغزش و تجاوز کی جا نہیں ہے،
۔۔۔
رمِ رہِ مستقیم والوں کے جان و تن کی تھکن نہ پوچھو
(سدِ راہ)

وہ خطِ مستقیم کو سدِ راہ جانتا ہے، بتاتا ہے اور اس کے منحرفین کا آزار لکھتا ہے۔ اس کے لیے خطِ مستقیم میں زمانہ چلتا ہے نہ زبان اور نہ وارداتِ وجود۔ سو وہ ان کو ملاتا ہے یا اس کے وجود میں ان سب کے اندر ایک ہم عصریت پیدا ہو کے ہمیں ایسے خواب سے دوچار کرنا چاہتی ہے جسے شاید ہم پسند نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ اس ہم عصریت کی تلخی ہمارے تالو تک پہنچاتا ہے کہ وہ اور ہم اسی خواب کے باشندے ہیں:

دہر کے ہر آن میں سو نام ہیں سو کام ہیں
ہم یہاں دل نام کا لَلُو لبھاتے رہ گئے

کہیں بین السطور دل نام کا لَلو لبھانا ہی نہیں سو نام اور سو کام کا خطِ مستقیم سے منحرف واقعہ بھی ہے جس کا حصہ ہوتے ہوئے محض ناظر رہ جانے کا رنج جان کھاتا ہے:

ذرا تھم کے کتر اے کِرمِ مردہ خور تیرے پنجہ و دندان نازک ہیں
یہ چمڑی نیم اور کیکر کی جڑ سے بڑھ کے کڑوی ہے
(شگافِ گور سے ایک آواز)

یہاں ایک زندگی نامہ آغاز ہوتا ہے، کیسی ہو گی اس زندگی کی بڑھت، بڑھ کے نظم اٹھائیے اور ہمت کر کے اس کے انت تک چلے جائیے۔۔۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر مجھے شعری مجموعوں پہ کلام کرنا نہیں آتا، محسوس کرنا آتا ہے سو اس کا مختصر اظہار ہی مجھ ایسے سے ممکن ہے۔ آخر میں “ہفت سین” کے نام سے چھ فارسی غزلیں اور دو نظمیں موجود ہیں۔ غزل کا ذائقہ آپ چکھیے اور نظم پڑھنا ہو تو “وداعیہ بہ مہاجرانِ افغان” پڑھ ڈالیے:

مردمی اشکِ نہنگ است
مردمی نوبتِ دیدن بہ رمِ آہوئے غافل ز دو چشمانِ پلنگ است
مردمی یک اثرِ پائے گریزاں ز رہِ گورِ غریب
۔۔۔
برسرِ چوبِ درِ خود بنوشتیم
این سوی چوبِ دری ہیچ کسی خانہ ندارد

یہ وداعیہ کیا ان کے لیے تھا جو رخصت ہوئے یا اپنے لیے بھی، جو مقامِ رفتن پہ ٹھہر گئے ہوئے ہیں:

اینسوی چوبِ دری ہیچ کسی خانہ ندارد

اگر آپ اس خواب سے نفرت کرتے ہیں تو ایک بار اسے جینا آپ کے لیے لازم ہے اور اسد اس خواب میں آپ کو خوش آمدید کہہ رہا ہے مسکراتے ہوئے۔ اس مسکراہٹ میں طنز ہے لیکن اس طنز کی تلخی اس ہم عصریت کا شاخسانہ ہے جو ہم آپ پہ مسلط ہے سو مسکرا کر اس خواب میں داخل ہو جائیے جہاں دروازے پہ کھڑا اسد فاطمی کہتا ہے:

اے اشک سوئے دیدۂ خشکم نگاہ کن
بگذار این دمم کہ گلویم گرفتہ ای۔۔۔