Laaltain

انتظار کا الو

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

میں جانتا ہوں شہروں کی نیندیں اجڑنا عالمی المیہ ہے
مگر بھاڑ میں جاۓ لندن اور نیو یارک کی لال آنکھیں
وہاں کی اینٹوں کی نظموں کا غزلوں میں ڈھلنے کا غم
وہاں کے رہنے والوں کو ہو تو ہو
مجھے نہیں ہے

حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟