Categories
فکشن

یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )

فرض کرو پانچ لوگ تمہاری جان کے در پے ہوں۔ جوتا گانٹھنے والا، ہوٹل کا بہرا، بندر کا تماشا دکھانے والا، گلی کا چوکیدار اور گھر میں کام کرنے والی ادھیڑ عمر کا شوہر۔ فرض کرو ان میں سے ایک کو قتل کرکے ہی تم اپنی جان بچا سکتے ہو تو کس کی گردن دبوچو گے؟

مشکل سوال ہے۔ اس نے کافی دیر سوچنے کے بعد اپنے دوست شہریار کو جواب دیا جو اسے کئی دنوں بعد ملنے آیا تھا—-مگر یہ غریب بے چارے میری جان کے دشمن کیوں بنیں گے؟ اس نے سوال سے جان چھڑاناچاہی۔

دشمن بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟بس ذرا سی بات، ایک لفظ، ایک خیال اور ایک یاد۔شہر یار نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
ہونہہ—-وہ سوچنے لگا۔

چلو بتاو، ان پانچوں میں سے کسے قتل کرو گے۔ شہر یار نےاسے چائے پیش کرتے ہوئے اصرار کیا۔

فرض کیا اگر مجھے کسی کی جان لینی ہی پڑی تو وہ بندرکا تماشا دکھانے والا ہوگا۔اس نے ہنستے ہوئے کہا۔اب تم پوچھو گے کہ اسے ہی کیوں؟ تو جناب اس لیے کہ مجھے بندر پسند نہیں ہیں۔ اور یہ مجھے ابھی سوچتے ہوئے یاد آیاہے۔میں یہی کوئی چار سال کا ہوں گا،جب تماشا دکھانے والے کے ایک بندر نے مجھے اس وقت زخمی کیا تھا،جب میں نے اس کی طرف ادھ کھایا کیلا بڑھایا تھا۔

تو میر اخیال ٹھیک تھا۔ شہر یار نے گہری سنجیدگی سے کہا۔

کون سا خیال ؟
بعد میں بتاتا ہوں۔صرف بندروالے ہی کو قتل کروگےیا—شہر یار نے کریدا۔

نہیں۔میں گلی کے چوکیدار کو بھی قتل کرسکتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے میری بیوی کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو روز مارتا ہے۔ کہتا ہے،میں رات کو پہرہ دیتا ہوں،کون ہے جو تمہارے پاس آتا ہے؟ تب میں نے چوکیدار کے لیے دل میں نفرت محسوس کی تھی،اوراس عورت کے لیے،جسے کبھی نہیں دیکھا، ہمدردی موجزن محسوس کی تھی۔

تم جوتے گانٹھنے والے، ہوٹل کے بہرے اور گھر میں کام کرنے والی عورت کے شوہر کو بھی قتل کرسکتے ہو۔ شہریار نے کہا۔

نہیں، میں جوتے گانٹھنے والے کو نہیں جان سے مار سکتا۔

کیوں؟

میں نے کبھی جوتے مرمت نہیں کروائے۔ لیکن،نہیں۔ ٹھہریے۔ مجھے یاد آیا۔میرے چھوٹے بھائی نے ایک بارایک پٹھان سے جوتے مرمت کروائے تھے۔ اس نے پوچھے بغیر نئے اندرونی تلوے ڈال دیے تھے اور دونوں میں پیسوں پر تکرار ہوئی تھی۔ میں نے اسے دیکھے بغیر اسے موٹی سی گالی دی تھی۔اسے بھی میں قتل کرسکتاہوں۔ اور ہوٹل کے بہرے کو قتل کرنے کا جواز ہے میرے پاس۔ اس نے ایک بار مجھے نظر انداز کرکے دوسری ٹیبل پر بیٹھی ایک خوب رو لڑکی کی بات پہلے سنی تھی اور اس لڑکی نے فاتحانہ نظر سے مجھے دیکھاتھا جس میں حقارت بھی تھی۔

اور گھر میں کام کرنے والی کے شوہرکو؟ شہر یا رنے پوچھا۔

وہ چوکیدار کی طرح بیوی پر شک تو نہیں کرتا مگر کام والی ماسی میری بیوی کو بتاتی ہے کہ ان کے پاس ایک ہی کمرہ ہے جس میں ان کی تین جوان بیٹیاں اورایک بیٹا سوئے ہوتے ہیں۔ اس کا شوہر زبردستی اس کے بستر میں گھس جاتا ہے اور صبح اس کی بیٹیاں ا س کا مذاق اڑاتی ہیں۔ مجھے وہ نظر آجائے تو میں اس کا گلا دبادوں۔ اس نے واقعی سنجیدگی سے کہا۔

تو میرا خیال ٹھیک تھا۔

کیا؟

تم —اور میں —یا کوئی بھی کسی کو کبھی بھی قتل کرسکتا ہے۔شہر یار بولا۔

لیکن تم نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تمہیں میں قتل کرسکتا ہوں؟ اس نے شہر یا ر سے کہا۔

وہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ تم یہ نیک کام ابھی کرسکتے ہو۔کچھ بھی یاد کرکے۔مثلاً مجھے سر نصیر نے فائنل ٹرم میں زیادہ نمبر دیے تھے اور تم ان سے شکایت کرنے پہنچ گئے تھے۔ شہر یار نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ بھی ہنس پڑا۔

فرض کرو تمہیں ان میں سے کسی ایک کی جان بچانی ہو تو کس کی بچاو گے؟ شہریا ر نے نیا سوال داغا۔

ابھی انہیں ٹھکانے لگانے سے فارغ نہیں ہو اور تم نئی بات کررہے ہو؟اس نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا۔

بندر والے نے ابا سے معافی مانگی تھی۔ چوکیدار نے ابھی چند دن پہلے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکٹر شفیع کے گھر ڈاکے کو ناکام بنایا۔ چھوٹے بھائی نے اس پٹھان کے کام کی تعریف کی تھی۔آخر ہوٹل کا بہرہ ایک نوجوان لڑکا تھا، وہ کیسے اس حسینہ کوا نکارکرتا۔کام والی ماسی کا گھر ہے ہی ایک کمرہ۔ پھر اس کا شوہر کسی اور عورت کے پاس بھی تو نہیں جاتا۔ میں ہر ایک کی جان بچا سکتا ہوں۔اس نے کہا۔

تو مان لو کہ تم اس دنیا کا سب سے بڑ اعجوبہ ہو۔ شہریار نے کسی گہری سچائی کے انکشاف کرنے کے انداز میں کہا۔

میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔ وہ بولا۔

تو پھراس میں ایک اور بات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر یار نے کہا۔جان لینا اور بچانا، یاد اور بھول کا کھیل ہے !

کوئی اس کھیل کو کھلانے والا بھی تو ہوگا۔ دونوں پہلے ہنسے اور پھر سنجیدہ اور ساتھ ہی کسی نامعلوم بات پر رنجیدہ ہوئے۔

Categories
فکشن

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔

چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔

’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘

شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔
اس پر قہقہہ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟
کس کی ہے؟
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔
ہم سمجھے نہیں۔
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

Categories
فکشن

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin

Categories
فکشن

ہاں، یہ بھی روشنی ہے!

کچھ نہیں بدلا۔ سب کچھ بدل گیا۔ اس محل میں اس نے انتیس برساتیں گزاری تھیں۔ بارہ سال بعد محل پر پہلی نگاہ پڑی تو لگا کہ کچھ نہیں بدلا، دوسری نظر سے معلوم ہوا، کچھ پہلے جیسا نہیں۔کتنی برساتیں گزریں تب کہیں جاکر دوسری نظر حاصل ہوئی۔ بوڑھے باپ کی التجا اسے محل میں لائی تھی۔باپ سے دیکھا نہیں گیا کہ شاہی قبیلے کا وارث اپنی رعایا کے دروازے پر کھڑا ہو۔باپ نے بیٹے کو دیکھا۔سمجھا پھر بھی نہیں،بیٹااس کا وارث نہیں۔ بیٹے نے وراثت کا اصول بدل دیا تھا۔باپ، بیٹے کو نام دے سکتا ہے، وراثت بیٹاخود بناتاہے۔راجہ کا بیٹا، راج کوگردکی طرح جھاڑ دیتاہے، اور ننگے پاؤں چلتے ان زمانوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں کی خبر بھی باپ کو نہیں ہوتی۔وہ اپنا حسب نسب نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔باپ اور اس کے پرکھوں کا شجرہ الگ ہوجاتاہے۔

اس کو محل کی سیر کی ہو س نہیں تھی۔وہ جہاں چاہتا سیر کے لیے جاسکتا تھا۔محل میں اس کی نظریں سیکڑوں لوگوں پر پڑ رہی تھیں۔وہ سب اسے تعظیم و پرستش کے جذبات سے دیکھ رہے تھے،مگراس وقت اس کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ رفیق خاص نے پہلی بار اس کی آنکھوں کو بے چین دیکھا تو پریشان ہوا۔وہ سمجھ گیا۔رفیق خاص سے کہا:سنو،ایک بے چینی ایسی بھی ہے جوصرف یاددلانے کے لیے ہے کہ وہ اب بھی آدمی ہے۔آدمی ہونا ایک بات ہے، اور آدمی رہنا دوسری بات ہے۔رفیقِ خاص نے عرض کی،آدمی رہنا بڑی بات ہے۔

سب اشارہ پاکر رخصت ہوئے۔

وہ دونوں،اسی کمرے میں ہیں، جس میں اس نے چند گھنٹو ں کے بچے اور اپنی ہم عمربیوی کو چھوڑ کروفادار غلام کے ساتھ جنگل کا راستہ لیا تھا۔کیا میں اس کے دل کو پڑھ سکتا ہوں؟ اس نے سوچا۔وہ جہاں چاہتا تھا،چھن بھر میں پہنچ جاتا تھا۔وہ خود کو ہزاروں صورتوں میں،سب کی صورتوں میں ڈھال سکتا تھا، وہ آدمی سے بڑھ کر تھا،اس کے پاس وہ ساری روشنی تھی،جو آدمی میں ظاہر ہوسکتی ہے،اور جسے آدمی کی ہستی سہار سکتی ہے۔کیاوہ اس روشنی کے ساتھ،عورت کے دل میں اتر سکتاہے؟ اس نے ایک لمحے کو سوچا۔

تم چپ کیوں ہو؟ کچھ بولو۔
اس نے آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہرادیں۔ لو پڑھ لو۔
وہ اس کے دل میں تھا۔گزرے عالم کی سیر کرنے لگا۔

جب تم اس رات رخصت ہورہے تھے،ایک عجب بے قراری تمھارے قدموں میں تھی۔ تم تین مرتبہ کھڑکی تک گئے،باہر جھانکا،قدم آگے کیے،پھرواپس آئے۔ میرے پیروں کو پہلے چھوا،پھر ان پرپلکیں رکھیں،پھر ہونٹ رکھے۔تپش،نمی،مہک،لرزش،کچھ دوسری ان کہی چیزیں پاؤں کے راستے میرے دل میں اتر گئیں۔میرے پیروں پر ہونٹ تم نے رکھے،زمین میں،مَیں گڑ گئی۔تم نے میرے گال یا ماتھا یا ہونٹ اس لیے نہیں چومے کہ کہیں میں جاگ نہ جاؤں۔ تم بارہ سالوں میں یہ تک نہ جان سکے کہ میں تمھیں آنکھوں سے زیادہ،تمھارے بدن کی خوشبواور بدن کے گرد روشنی کے ایک ہالے سے پہچانتی ہوں۔۔۔۔جانے تم کس روشنی کو ڈھونڈنے گئے تھے۔۔۔۔تم جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے، میں نے تمھاری خوشبو محسوس کرلی تھی،حالاں کہ میں اس رات نڈھال تھی،اور خود اپنے جسم سے اٹھتی ایک اور طرح کی مہک محسوس کررہی تھی۔ تم نے سمجھا تم نے مجھ سے معافی مانگ لی،انتظار نہیں کیا کہ میں بتاسکوں کہ مجھ میں معاف کرنے کی سکت ہے بھی یا نہیں۔شاید تمھیں عورت کی استعدادکا خیال بھی نہیں آیا۔ یہ کیسی معافی تھی؟ تمھارادھیان میری طرف تھا کب؟ تم نے پالنے میں سوئے ننھے کو بارباردیکھا،جس کے آنے کا ہم نے بارہ سال۔۔۔پورے بارہ سال۔۔۔۔ہم دونوں نے انتظار کیا۔جب وہ آیا تو تم اسے بارہ گھنٹے بھی نہ دیکھ سکے۔تم نے ثابت کیا،منش کے لیے دنیا ہے،ناری کے لیے منش اور اس کا دیا ہوا تحفہ یعنی بچہ۔ایک نیا منش، جو کوکھ سے سیدھا چھاتی پر آجاتا ہے، پھر سینے میں۔ وہ ایک نئی قید میں آجاتی ہے۔ منش نہیں دیکھتا۔۔۔منش کچھ نہیں دیکھتا کہ کوکھ اور چھاتیاں سوکھتی ہیں تو عورت پر کیا گزرتی ہے،وہ تو دنیا کے لیے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں ساری دنیا کے راز جاننے کا جنون ہوتا ہے،نہیں ہوتا تو عورت کے دل کو جاننے کا جنون۔وہ عورت کے دل کوجیتنے،اور آگے بڑھ جانے سے پرسن ہوتاہے۔
وہ دونوں اپنے کمرے میں تھے۔

تم وہ نہیں ہو، کوئی اور ہو۔تم کیسے اس دل کو پڑھ سکتے ہو؟تم پرائے بن گئے ہو۔تمھیں کہاں معلوم ہوگا،میں نے چھ سال تک تمھارے پل پل کی خبر رکھی۔ تم ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں گئے، ایک کے چرنوں میں بیٹھے، دوسرے کی بندگی میں پیش ہوئے۔سب کو چپ چاپ چھوڑا، اور آگے چلتے رہے۔تم نے بھوک پیاس کاٹی، بھوگ بلاس ترک کیا۔ بدن سو کھ کر کانٹا بن گیا، مانو یہ کانٹا میرے دل میں چبھ گیا۔اس کے بعد کی مجھے خبر نہیں۔ میں سوچتی تھی،تم ضرور واپس آؤ گے۔مجھے خود معلوم نہیں،مجھے یقین کیوں تھا۔شاید اس لیے کہ میں اس زندگی کو دھیان میں بھی نہیں لاسکتی، جس میں تم نہ ہو۔تم آئے ہو،پر کوئی اور بن کر۔ میں غلط سوچتی تھی،مجھے کہاں خبر تھی کہ جو سدھار جاتاہے،وہ واپس نہیں آتا۔وہ آتابھی ہے تو اور بن کر آتاہے۔

یہاں بیٹھو، میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔اس نے اشارے سے بلایا،اور کہا:نہ میں وہ ہوں،نہ تم وہ ہو۔
کیا میں تمھارے بچے کی ماں نہیں ہوں؟

تم میرے ہی بچے کی ماں ہو، مگروہ نہیں ہو، جو پہلے تھیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو بارہ سال پہلے تھے،یہ دھوکا ہے،ایک بھول ہے،اور اس بسواس کا نتیجہ ہے کہ ہم سدا موجودتھے،اور سدا موجود رہیں گے۔
میں تو وہی ہیں،مگر تم واقعی بدل گئے ہو۔اس نے اپنی آواز میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے کہا۔
اچھی بات ہے کہ تم مجھے پہچاننے لگی ہو۔خود کو بھی پہچان جاؤ گی۔ کوئی شے دائم نہیں،مگر دائم ہونے کا مسلسل دھوکا دیتی ہے،یہ گیان کی طرف پہلا قدم ہے۔

سب لوگ تمھیں سب سے بڑی آتما کہتے ہیں،تمھاری پرستش کرتے ہیں، میں تو پہلے دن سے تمھاری پوجا کرتی تھی۔میں نے سب سے پہلے تمھیں پہچانا تھا۔اس نے پرتیت سے کہا۔

آتما؟ کون سی آتما؟ آتما دھوکاہے۔ آتما ہوتی تو تم یوں نراش ہوتیں؟ آتما ہوتی تو میں اس طرح مارا مارا پھرتا؟
تم بدل گئے ہو، یہ تو تمھارے ان گیروے کپڑوں،ننگے پاؤں،ہاتھ میں کاسے ہی سے ظاہر ہے،مگر تم کاٹھ کے بن جاؤ گے،اس کا مجھے بسواس نہیں ہورہا۔اس کا دل جیسے زخمی تھا۔

اِس پراُس نے خاموشی اختیار کی۔ اس کا چہرہ اب بھی مطمئن تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ کمرے کی دیواروں کو دیکھا، اس کھڑکی کو دیکھا،جہاں سے وہ اس رات روانہ ہوا تھا۔ڈھلتے سورج کی زرد کرنیں کمرے کی دیواروں پر پڑرہی تھیں۔کمرہ پہلے ہی کی طرح تھا۔اسے کچھ راتیں یاد آئیں،لیکن رات میں پرچھائیوں کی طرح گزرگئیں۔ اْس نے،اِس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اسے وہ پھول یاد آئے جنھیں وہ باغ میں بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا،ایک لمحے کو کھلے ہوئے،روشن،حسین نظر آتے،اگلے لمحے مرجھاجاتے،اس سے اگلے سمے زمین پر سوکھی زرد پتیاں ہوتیں۔ عورت کا چہرہ بھی پھو ل ہی ہے۔ عورت کا جسم بھی پھول ہے۔ مرد کا جسم بھی پھول ہے۔ اس جہالت کے دور ہونے میں وقت لگتا ہے کہ پھول کا کھلنا، اس کے مرجھانے کی طرف اس کا سفر ہے۔ہر ابتدا، اپنے انت کی طرف بڑھتی ہے۔
تم دنیا کے بڑے بڑے سوالوں کے جواب دیتے ہو، مجھے ایک سوالی سمجھ کر ایک سوال کے جواب کی بھکشا دے دو۔
پہلی بار اس کے دل میں جنبش سی ہوئی۔
پوچھو۔

تمھارے پاس روشنی ہے جو سب کی جہالت دور کرتی ہے۔کیا میرے دل کااندھیرا دور نہیں کرسکتی؟
تم نے صحیح سوال پوچھا۔صحیح سوال،صحیح راستے کی طرف قدم ہے۔
وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی۔اس کے ہاتھ کو چھونا چاہا۔اُس نے روک دیا۔وہ تڑپ اٹھی۔میرے صحیح قدم کو تم نے کیوں روک دیا؟ کیا میرا صحیح
قدم،تمھارے صحیح راستے سے ٹکراتاہے؟

تم ہر سوال پوچھو۔پر قدم اٹھانے سے پہلے صحیح راستہ چنو۔صحیح راستہ یہ ہے کہ تمھارے دل کا اندھیرا میں دور نہیں کرسکتا۔ہاں، تم خود چاہو تو دورکرسکتی ہو۔اس نے کمرے کے ننگے فرش پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

اِس مرتبہ اُ س نے،اُس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔بنتی کی،مجھے اپنے دل کااندھیرا دور کرنے سے نہ روکو۔پاؤں پر مٹی جمی تھی،اس کا جی چاہامٹی کا ایک ایک ذرہ پہلے ہاتھ کی لکیروں میں جذب کرے،پھر یہ ہاتھ وہ اپنی آنکھوں کو لگائے،پھراپنے بدن پر پھیرے۔اسے ایک لمحے میں یقین حاصل ہوگیا کہ صرف ایک پل میں معجزہ ہوسکتاہے، وہ دوبارہ جی سکتی ہے۔سالوں سے سوکھی کھیتی،بس پل بھر میں ہری ہوسکتی ہے۔ اس نے لمبی پتلی انگلیوں والے سوکھے پاؤں سے ہولے ہولے مٹی کی تہ ہٹائی۔لمس کاایک تیز سیل اس کے سارے بدن میں سرایت کرگیا۔ہلکی سی روشنی پھیلی۔اندھیرا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔پرندے پہلے پھڑپھڑائے،پھر چہکنے لگے۔سارے میں تازہ پھول کھل اٹھے۔سویا ہوا شہر جاگ پڑا۔اس نے سہج سہج دونوں پاؤں پہلے ہاتھوں سے صاف کیے،پھر دھوئے۔اس نے ان کھردرے پاؤں پر آنکھیں رکھ دیں۔آسمان پر تارے اگ آئے تھے۔کمرے میں مشعل جلادی گئی تھی۔

اس نے پاؤں کو ذراسی جنبش دی۔

جب تم پاؤں پراپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرتے ہوئے،اپنے بدن کے شہر کو جاگتے ہوئے محسوس کررہی تھیں تو جو روشنی پھیلی تھی،وہ میں تھا، جو پرندہ چہچہایا تھا، وہ میں تھا، جو پھول کھلے تھے،وہ بھی میں تھا۔تم اپنے بدن میں لمس کے جس دھارے کو محسوس کررہی تھیں،وہ بھی میں تھا۔ تمھیں جاننے میں وقت لگے گا کہ تمھارے دل کا اندھیرا اس وقت تک دور نہیں ہوسکتا،جب تک میں تمھارے اندر ہوں۔

میں تمھیں اپنے دروازے کی چوکھٹ سمجھتی ہوں،اور تم خود کو میرے راستے کا پتھر کہتے ہو؟وہ نہیں چاہتی تھی کہ اتنی مدت بعد جاگنے والا شہر دوپہر بھی نہ دیکھے۔
ہر دوسرا، راستے کا پتھر ہے۔تم اپنی روشنی کو خود آکارکرو۔

میں خود کو دوسرا سمجھتی ہوں،اور تمھیں اپنی روشنی محسوس کرتی ہوں۔مجھے میری روشنی سے کیوں دور کرتے ہو؟
تم بھول کا شکار ہو،اس بھول کا،جس کا آغاز تمھارے جنم سے ہوا۔ اسی جنم میں اپنی بھول ختم کرو۔ تمھارے بدن کا شہر کئی سالوں بعد جاگا ہے،تم اس کی سب آوازوں کو سننا چاہتی ہو۔ سنو، ہر آواز شروع ہوتے ہی،اپنے انت کی طرف سفر کرتی ہے۔ہر صبح جب دوپہر کی طرف بڑھتی ہے تو پہلے صبح کا زوال ہوتا ہے،پھر دوپہر کا۔بے بس کر دینے والے لہو کی تپش ٹھنڈی ہوکر رہتی ہے۔کوئی آگ سدا نہیں جلتی۔ہر آگ جلنے بجھنے، شعلے سے راکھ ہونے کا سلسلہ ہے،اور یہ سلسلہ دکھ دیتا ہے۔ تم مجھ میں اپنی روشنی نہیں دیکھ رہیں، اپنا دکھ دیکھ رہی ہو،مگر نہیں جانتی ہو۔اس نے کھیم کے کہانی دہرائی۔ اس نے دیکھا، اس کے سامنے وہ خود کھڑی ہے،ایک موہنی بچی کی صورت، تھوڑی ہی دیر میں خوبرو لڑکی، اگلے چند لمحوں میں کہن سال عورت، پھر لاٹھی ٹیکتی بورھی عورت۔کیاتمھاری آنکھوں پہ بندھی پٹی اب بھی باقی ہے؟ اس نے فتح مندی کے احساس کے ساتھ سوال کیا۔
اس نے سوچا،اگر وہ آج بھی نہ کَہ سکی تو کبھی نہ کَہ سکے گی۔

تمھیں یہ کیوں گھمنڈ ہے کہ تمھارا گیان مکمل ہے؟ تمھارے گیان میں صرف تم ہی تم ہو،کوئی دوسرا نہیں۔ تم نے بارہ سال جنگلوں میں گزارے۔ میں نے بھی بارہ سال اس قید خانے میں گزارے، کاٹھ کی طرح نہیں۔ تم نے اپنے لیے ساری کائنات کو چن لیا، مجھے اس محل کے بندی خانے میں ڈال دیا۔ تمھیں خیال آیا کہ جس سفر پر تم نکلے تھے، اس کی آرزو مجھے نہیں ہوسکتی تھی؟تم بھی یہ سوچتے تھے کہ عورت میں آتما نہیں ہوتی؟ کیا تنہائی میں عورت پراس بات کی یلغار نہیں ہوتی کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے،بڑھاپا کیوں ہے، موت کیو ں ہے؟ تم اپنی کھوپڑی کو میری کھوپڑی سے بڑاسمجھتے ہوگے،مگر تمھارا دل،میرے دل سے بڑا نہیں ہے۔تمھاری کوکھ ہوتی تو پھر بھی جنگل جاتے؟کوکھ بھی سوچتی ہے۔تم ہر زمانے میں،ہر جگہ،کوئی بھی صورت اختیار کرکے جاسکتے ہو۔تم اس زمانے میں بھی گئے ہو،جب تم اپنی ماں کی کوکھ میں قوس بنے ہوئے تھے؟ میں تمھیں بتاتی ہوں کہ کوکھ بھی سوچتی ہے،اور وہاں موجود جیو بھی سوچتا ہے۔باہر آکر سب بھول بھال جاتاہے۔جانتے ہوجیو کیاسوچتا ہے؟ وہی سوچتا ہے جو کوکھ سوچتی ہے،اور جو کوکھ سوچتی ہے وہی جیو سوچتا ہے۔یہ بھی سنو،کوکھ اور جیو سے پہلے ایک پل ایسا آتا ہے، جب دو سانسیں ایک سانس بنتی ہیں۔ایک نہ بن سکیں تو جیو اور کوکھ میں جھگڑا شروع ہوجاتاہے۔مانو جیو پہلے پل ہی جلاوطن ہوجاتاہے،اور آگے جلاوطن ہوتا رہتا ہے۔لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔تم دوسانسوں کے ایک سانس بننے کو بھول چکے ہو۔اس لیے تمھیں یاد نہیں کہ پریم،گیان سے بڑا ہے۔تم کہتے ہو،ہرشے اپنے زوال کی طرف بڑھتی ہے۔میں کہتی ہوں،ہر شے اپنی تکمیل کی طرف بڑھتی ہے۔ شہر کو آنکھیں کھولنے کے بعد انگڑائی لینی چاہیے، چلنا چاہیے،دوڑنا چاہیے۔ دوپہر ہو، رات ہو،تاکہ پھر ایک صبح ہو۔

یہ ایک چکر ہے۔یہ چکر دکھ دیتاہے۔یہ چکر ختم کروگی تو بریت ہو گی۔ اس نے اپدیش کے انداز میں کہا۔

تم کہتے ہو لہو کی تپش شروع ہوتے ہی خاتمے کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ ہے تمھار اگیان! گیان میں اتنی بزدلی،اتنا ڈر بھی ہوتا ہے، مجھے بسواس نہیں آتا۔ جسے تم چکر کہتے ہو، اسی چکر نے تمھیں،مجھے جنم دیا اور پھر ہم نے اُسے جنم دیا۔
تم اور طرح سمجھ رہی ہو۔میں آدمی کے پیدا ہونے کے خلاف نہیں۔

لہو کی تپش کے بغیر آدمی پیدا ہوسکتاہے؟

وہ لاجواب ہوگیا۔ وہ ڈر گیا۔ بارہ سال محل کی چاردیواری میں رہنے والی،کیسے اس کے آنند کے لیے خطرہ ہوسکتی ہے؟ اس نے سوچا۔
لوہا گرم تھا۔

سنو، جب تم چلے گئے تو میں چھ سال روئی۔ پھر میں نے ایک خواب دیکھا۔ اپنی کھوپڑی میں بھرے سارے جہان کی شکتیوں کو بلالو تاکہ اس خواب کو سنتے ہوئے،تمھار اآنند برقرارہے۔ ساتویں سال کی پہلی رات تھی۔ وہ محل کے دوسرے کمرے میں سونے لگا تھا۔ میں نے آدھی رات سے پہلے کنیزوں کو جانے کے لیے کَہ دیا۔ نیند خواب کی طرح تھی۔ میرااس پر اختیار نہیں تھا۔ ذراذراسی دھند پھیلنا شروع ہوئی۔مدھم سرکا آغاز ہوا۔ خیال کا سلسلہ ٹوٹنے لگا،اور ایک نئی دنیا کا دروازہ معمولی چیں کے ساتھ کھلنے لگا۔پھر مکمل بے خبری۔ پھر ایک نئی دنیا میں تھی۔جیسے بیج پھوٹتاہے تو دھرتی کی ناف پر ایک لکیر سی ابھرتی ہے۔ مدت کے بعد وہ لکیر ابھر ی۔بیج نے اودھم مچایا۔مانو دھرتی کی گہرائی میں بھونچال آیا۔ بالآخر بیج ٹوٹ گیا،اور بھونچال کو قرار آگیا۔ بے خبری سے پہلے کی حالت لوٹ آئی۔ اتنی سرشاری۔

اس نے دیکھا، اس کا ہاتھ اس کے کاندھے تک آیا۔ لگا،جیسے اس کی گردن دبوچ ڈالے گا۔ کیا یہ خواب تھا اور بیج کس درخت کا تھا؟ اس کی آواز میں عجب درد تھا۔

وہ اس کی ڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔ تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم سب صورتوں میں ڈھل جاتے ہو۔ وہ درخت تم ہی تھے۔ جب اس نے اس کے سینے کے بالوں پر ہاتھ رکھا تو اس نے محسوس کیا کہ اس نے اطمینان کا سانس لیاہے۔ اس نے مزاحمت ترک کردی تھی۔وہ اس کے سینے سے ہونٹوں تک پہنچی۔ اِدھررات آدھی ہوئی تھی،مشعل بجھادی گئی تھی،اُدھر دونوں کے بدن دہک رہے تھے۔ آگ آگ سے ٹکرا رہی تھی۔سمندر ہچکولے کھارہا تھا۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بھول چکا تھا کہ بارش ختم ہونے کے لیے شروع ہوتی ہے۔بارش کتنی اچھی ہے،اس نے محسوس کیا، لیکن بارش بالآخر تھم گئی۔دونوں کے جسم بارش میں نہائے درخت کی طرح چمک رہے تھے۔دوسانسیں،ایک سانس بننے کے بعد ہموار تھیں۔

مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!

اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،مسکرایا،اور کہا :ہاں! یہ بھی روشنی ہے۔
وہ دوسری مرتبہ مسکرایا تھا۔اس کے گواہ دیوتا نہیں تھے، اکیلی وہ تھی۔
اس نے وہ مسکراہٹ جس پتھر میں قید کی،اسے ابھی کسی نے دریافت نہیں کیا۔

Categories
فکشن

ولدیت کا خانہ

وہی ایک قصہ تھا جو گھروں، دکانوں اورنماز کے بعد مسجد کے باہر کچھ دیر کے لیے جمع ہونے والے زیادہ تر بوڑھے لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ؛اور ماسی جنداں اور دادی سداں کے تنوروں پر اکٹھی ہونے والی عورتوں کی زبان پرتھا۔مہنگائی، دوسروں کی غیبت، چھوٹی موٹی چوریوں،نوجوانوں کے معاشقوں،پاس پڑوس کے بیماروں، یہاں تک کہ مرجانے والوں کا ذکر اذکارسب تھم ساگیا تھا۔وہ قصہ ہی ایسا تھا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس قصے کا ابتدائی خاکہ کیسے،اور کس کے ذریعے یہاں پہنچا تھا۔ انھیں قصے سے دل چسی تھی، قصے کی تاریخ سے نہیں۔البتہ قصے کے راوی سے دل چسپی ضرور تھی کہ اس نے ایک ایسا قصہ ان تک پہنچایا تھا،جس کو جتنی بار دہرایا جاتا، اتنا ہی لطف آتا۔ہر بار اس قصے کا راوی بدل جاتا اور ہر بار اس قصے میں نئے واقعات شامل ہوجاتے تھے،اور ہر بار اسے نئے،زیادہ قابل یقین طریقے سے بیان کیا جاتا۔وہ قصہ اپنے راوی کے اندر عجب جوش بھر دیتا تھا۔وہ اس جوش کی رو میں بَہ جاتا،کچھ اس طرح جیسے اسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو، اور اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ اس خزانے کا کیا کرے،جس نے اسے ایک دم اہم آدمی بنادیاہے۔وہ بڑے آدمی کی طرح ہی سب کو قصہ سناتا۔ایک بات اس گاؤں کے سب لوگوں نے بھی دریافت کی تھی کہ وہ قصہ پرانا ہوتا ہی نہیں تھا۔اس میں بہ یک وقت میٹھے اور نمکین چاولوں جیسا ذائقہ تھا۔ہر روز یہ قصہ دہرایا جاتا،نئے انداز میں کئی کئی بار دہرایا جاتا،اور ہر بار پہلے سے زیادہ دل چسپ اور پہلے سے زیادہ قابل یقین لگتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پرجمع بوڑھوں سے،چھٹی پر آئے ہوئے ماسٹر احمد نے یہ تبصرہ کیا کہ اب یہ قصہ رہ ہی نہیں گیا، ہمارے گاؤں کا ایک جیتا جاگتا فرد بن گیا ہے۔سب نے حیرت سے منھ پھاڑے ماسٹر کی طرف دیکھا،جیسے اس قصے میں ایک نیا موڑ اچانک آیا ہو، اور کوئی شخص قصے سے نکل کر،ان کے درمیان آکھڑا ہواہو۔سب نے ایک دوسرے کی طرف شک اور دل چسپی سے دیکھا۔

کوئی دو ہفتے تک قصہ دل چسپ بھی رہا،اور حیرت انگیز بھی۔اس قصے کا ایک عجب طلسمی ہالہ سب کو اپنی گرفت میں لیے رہا۔پھر آہستہ آہستہ ایک خوف نے انھیں آلیا۔انھیں یہ جاننے میں وقت لگا کہ اس قصے نے ایک طرح سے ان کی اجتماعی روح پر قبضہ کرلیا تھا۔سب کو اس قبضے کا مدھم سا احساس تھا۔ وہ سب ایک زنجیر میں بندھ گئے تھے۔ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے۔ ڈرے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے تھے۔ پہلی بار ایک دوسرے کے اس قدر قریب آئے تھے۔مگر زنجیر کو توڑنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔
کل کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا۔ چک مراد کی ایک لڑکی کو سائیں شریف کے پاس لایا گیا۔وہ بارہ سال سے بیمار تھی۔ اس کی بیماری کسی نے سنی نہ دیکھی۔اسے بخار آتااور ہچکی لگ جاتی۔ دس دس دن ہچکی لگی رہتی۔ نہ کچھ کھا پی سکتی، نہ سو سکتی۔کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔سائیں شیشم کے درخت تلے دری بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی خلقت تھی۔ایسا لگتا تھا کہ گڑ کے بھورے کے گرد چیونٹیاں جمع ہوگئی ہوں۔مگر کوئی کھسر پھسرتک نہیں تھی۔ایک پتھرجیسی چپ تھی،اور انتظار تھا۔کافی دیر تک سائیں نے آنکھیں بند رکھیں۔پھر اچانک کھولیں۔ عورت کو دیکھا۔ فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ سر کو جھٹکا دیا۔ جیسے آدمی کو کرنٹ لگتا ہے۔ سب مخلوق ڈر گئی۔ یااللہ خیر۔ سب کو منھ سے ہولے سے نکلا۔ساری خلقت کی آنکھیں سائیں کی طرف اٹھی تھیں۔ انتظار تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔ بالآخر انتظار تمام ہوا۔ ارشاد ہوا۔ چٹا، گنجا،کیکر۔

جانتے ہو،اس کا مطلب کیاتھا؟شام کے وقت ہوٹل پر جمع لوگوں کی طرف خاصے مرعوب کن انداز میں دیکھتے ہوئے،یعقوب نے پوچھا۔
تمھیں معلوم ہے،سائیں شریف کا مطلب کیا تھا؟ گاؤں کے حکیم کی دکان پر بیٹھے لوگوں سے غلام محمد نے پوچھا۔

پتہ ہے، سائیں نے کیا بتایا؟ تنور پر آنے والی عورتوں سے فاطمہ نے کہا۔

چٹا، گنجا،کیکر سے سائیں کا مطبل کیا تھا؟ سار دن جانور کی طرح کام کرنے والی نوراں نے اپنے گھرپڑے نکھٹو شوہر سے پوچھا۔
ان سب میں یعقوب ہی مستند راوی تھا،کیوں کہ وہ سائیں شریف کی مجلس میں موجود تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دم بتادے کہ ان تین لفظوں کا کیا مطلب تھا۔ اسے لگا تھا کہ اس کے پاس خزانہ ہے۔اس خزانے پر صرف اس کا اختیار ہے۔اس اختیار نے اس میں طاقت بھر دی ہے،اوریہ طاقت عجب طرح کی ہے۔اس طاقت کا اسے قطعاً تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس طاقت سے کچھ کچھ ڈرا ہوا تھا۔وہ اس طاقت کے نئے پن سے ڈراہوا تھا۔اس ڈر کے دوران میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس خزانہ نہیں، ایک راز ہے۔نہیں خزانہ بھی تو ایک راز ہے۔ڈر کے ساتھ وہ ایک طرح کی لذت بھی محسوس کررہا تھا۔وہ ڈر اور لذت کے تعلق سے واقف نہیں تھا،مگر دونوں کو ایک ساتھ محسوس کیے جارہا تھا۔یعقوب نے پہلی دفعہ دریافت کیاکہ کوئی ایسا خزانہ اور راز بھی ہوسکتا ہے،جس کا تعلق لفظ کے مطلب سے ہو۔ سائیں لفظ بولتا تھا اورایک گہری خاموشی میں چلا جاتا تھا۔ پاس ہی اس کا ایک خاص مرید بیٹھا ہوتا جو سائیں کے لفطوں کا مطلب بتاتا تھا۔مجلس میں تو سب لوگ مرید کی بات تسلیم کرلیتے تھے،مگر بعد میں کچھ کچھ شک کرنے لگتے تھے۔لیکن یہی شک،گاؤں میں دہرائے جانے والے قصوں کی بنیاد تھا۔کچھ خود سر نوجوان کھلے لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ شک کی ذمہ داری خود سائیں پر ہے۔آخر وہ پورا جملہ کیوں نہیں فرماتا تھا۔

یعقوب نے کافی دیر سے منتظر لوگوں پربالآخر یہ راز کھول دیا کہ سائیں کے خاص مرید نے چٹا، گنجا،کیکر کا مطلب یہ بتایا تھاکہ چٹے دن کو ایک گنجے آدمی نے کیکر کے درخت کے نیچے اس لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ آدمی اور کیکر سے تعلق تو سب کی سمجھ میں آتاتھا، مگر ’زیادتی ‘ کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟مرید کا کہنا تھا کہ سائیں کو ہر آدمی کے گرد ایک ہالہ نظرآتا ہے،جس میں وہ سب لوگ، جگہیں، واقعات دکھائی دیتے ہیں، جن سے آدمی کا تعلق رہا ہے۔ مرید سے بھی کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں تھی۔حقیقت یہ تھی کہ جس چیز نے لوگوں کو حیرت میں ڈالا تھا،اور خوف زدہ کیا تھا، یہی ہالے کا نظر آنا تھا۔ شاید لوگوں کو یقین نہ آتا۔ لیکن ایک دن ایسا واقعہ ہو اکہ سب کو یقین آگیا۔ اس روزسائیں نے اپنی مجلس میں بیٹھے گاؤں کے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ایک دم کَہ ڈالا: کالی، نکاح۔ مرید نے وضاحت کی کہ مولوی صاحب نے ایک کالے رنگ کی عورت سے نکاح کیاہے۔ مولوی صاحب نے بھی اقرار کرلیا کہ انھوں نے چند ہفتے پہلے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس سے اگلے دن گاؤں کے لائن مین شرافت کو دیکھ کر سائیں نے کہا : دو، بیس، ایک۔ کسی کے پلے نہیں پڑا۔ سائیں کے مرید خاص نے بتایا کہ اس شخص کے دو باپ ہیں،ایک وہ جس نے جنم دیا،اور ایک وہ جس نے اسے پالا، اوربیس سال پہلے پالا،اور وہ ایک ہے ماں باپ کا۔ شرافت کو اس کے چچا نے پالا تھا،جب شرافت کے ماں باپ بیس سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سائیں کی کرامت پر لوگوں کا یقین اپنی آخری حد کو پہنچ گیا،اور وہ ڈر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب لوگ وہاں جانے سے کترانے لگے تھے۔ وہ اپنے ہالے سے ڈرنے لگے تھے،نہیں اس ہالے کے پہچانے جانے سے ڈرنے لگے تھے۔جس بات کو قدرت نے راز رکھا ہے،سائیں اس کو سب کے سامنے لے آتے ہیں، وہ قدرت کے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔ اب لوگ سائیں کے حوالے سے نئی تاویلیں کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شام کے قریب سائیں کی مجلس میں پہنچا۔ کم لوگ رہ گئے تھے۔ وہ ذرا دور ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا،جب سب چلے جائیں تو سائیں کے سامنے جائے،اور اس کے دل کا حال جانیں،اور اسے اذیت سے نجات دلائیں۔سائیں نے سر کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہا: مولا۔خاص مرید سمجھ گیا کہ سائیں اب خلوت چاہتے ہیں۔’ سب لوگ چلے جائیں۔سائیں کی عبادت کا ٹیم ہوگیا ہے‘۔اس نے ملتجی نظروں سے خاص مرید کی طرف دیکھا،جسے لوگ شاہ صاحب کہنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔’ہاں کیہ گل اے‘(کہو کیا بات ہے)۔شاہ صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔اس نے شاہ صاحب کی مٹھی اپنی مٹھی میں لی،اور رقت سے کہا۔’ اکیلے میں بات کرناچاہتاہوں ‘۔شاہ صاحب نے سب کو جانے کا کَہ دیا۔‘ہاں ہنھ دس‘ (اب بتاؤ)۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس نے ایک نظر سائیں کے چہرے پرڈالی۔ گیسوؤں میں آدھا چہرہ چھپا ہواتھا۔ آنکھیں بند تھیں۔لمبوتری ناک جیسے سجدے کی حالت میں تھی۔

میں کیسے کہوں۔ دماغ پھٹ رہاہے۔ پندرہ سالوں سے ہر دن لگتا ہے،دماغ پھٹ جائے گا۔ میں جی نہیں رہا۔ مرنہیں رہا۔پندہ سالوں سے لگتا ہے کوئی میری گردن پر چڑھا بیٹھا ہے۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔

قصہ لمبا نہ کر، مطلب کی بات کر۔

ہاں حضور۔ مجھے مافی دے دو۔ میں گناں گار ہوں۔سائیں مجھے بس اتنا بتادیں۔ اکرو، کس کا بیٹا ہے۔ اسے جنا میری زنانی نے ہے،مگر وہ میرا نہیں۔ اس کی شکل صورت میرے سے،یا میرے خاندان کے کسی بندے سے نہیں ملتی۔ وہ رنگ کا کالاہے۔ قد چھوٹا ہے۔ ناک پتلی ہے۔ یہ میری ناک دیکھوپکوڑے جیسی ہے۔ میرے بھائی،والد سب کی ناکیں ایسی ہیں،لیکن اکر و،مادر چود کی ناک۔۔۔۔ سائیں مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ کس کے تخم سے جنا ہے۔وہ میرے گھر میں، کس خنزیر کی اولادہے۔جس وقت میں نے اس کی شکل دیکھی تھی، اس وقت سے میرا جینا حرام ہے۔

پریشان نہ ہو۔سائیں تجھے ضرور بتائیں گے۔ پر یہ بتا تو کرے گا کیا؟
میں اس کے باپ کو قتل کروں گا۔
ٹھیک ہے۔ پر اکرو۔۔یہی بتایا نہ اپنے بیٹے کا نام۔۔۔۔۔
نہیں وہ میرا بیٹا نہیں۔بس اس کا ان پانی میرے گھر لکھا تھا۔پر اب میں۔۔۔۔
اکرو کا کیا کرے گا۔
اسے بھی مارڈالوں گا۔
اب تک مارا کیوں نہیں

وہ چپ ہوگیا۔ اس کے منھ سے پہلی مرتبہ اکرم کو مارنے کے ارادے کا اظہار ہوا تھا۔وہ حیران ہوا کہ اسے آج تک اسے مارنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔وہ اسے آج تک پیار نہیں کرسکا،مگر اسے مارڈالنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔
لیکن اب میں مارڈالوں گا۔

ٹھیک ہے۔تمھارا مال ہے۔۔۔۔میرا مطلب ہے،تمھارے پاس وہ جی ہے، جیسے تمھارا جی کرے۔
سائیں نے ایک دفعہ پھر سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ مولا۔ شاہ صاحب نے اسے چلے جانے کو کہا۔کل آنا،سائیں آج نہیں بتائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن پورے گاؤں میں اکرم کی ولدیت کا قصہ گردش کررہا تھا،قصہ کیا تھا، بگولہ تھا جس کی لپیٹ میں پوراگاؤں تھا۔کسی کی چادر، کسی کا برقع، کسی کے قمیص کا دامن اس بگولے سے اترا جارہا تھا۔تنور سے لے کر مسجد تک،حکیم کی دکان سے حجام کی دکان تک، ہر جگہ ہرگھر میں یہ سوال نما قصہ تھا کہ اکرم، شیخ اسمٰعیل کا بیٹا نہیں تو کس کا ہے؟ کون کس کا ہے، کون کس کا یار ہےکون کیا کرتا رہا ہے۔ بگولے سے گاؤں کی کتاب کے ورق پھٹے جارہے تھے اور ادھر ادھر اڑے جارہے تھے۔ہائے کیا زمانہ آگیا ہے،اب قیامت آئے کہ آئے۔عورتیں حرام کے بچے پیدا کرکے اروڑی پر نہیں پھینکتیں،گھر میں پالتی ہیں۔تمھیں یاد ہوگا، جب سیلاب آیا تھا تو نہر میں ایک ایک دو دوروز کے کتنے بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔سب حرام کے تھے۔پر ان کی ماؤں کی لاشیں بھی تو تھیں۔ایک عورت تو مری پڑی تھی،مگر اس کا پیٹ سانس لے رہا تھا۔دائی صاباں کہتی تھی،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے،پر کون حرامی بچے پالتاہے۔ نی،تمھیں بھول گیاہے کہ کرم مسور کا بیٹا جو پولس میں ہے، وہ شمو مراثن کا ہے،جسے کرم نے ایک کھولے سے اٹھایا تھا۔نہیں وہ صاحباں بھروانی کا ہے،جسے شمو مراثن کھولے میں پھینک گئی تھی۔جس کا بھی ہے،وہ نیک بچاہے۔سب کو سلام کرتا ہے۔ توبہ ہے۔اس نے تو ایک حرام کے بچے کو اپنا بیٹا بنالیا،پر شیخ اسمٰعیل اپنے سگے بیٹے کو حرام کابتاتاہے۔اللہ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اتنے سال اسے خیال نہیں آیا۔ اس کی بیوی دیکھنے میں تو شریف لگتی ہے۔پر عورت ذات کا کیا بھروسا۔ جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی تو برقع پہن کر اسی سڑک سے گزر کر شہر جاتی تھی۔ شریف عورتیں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ خد اکا خوف کرو، اس کی نوکری تھی۔ شادی کے بعد شیخ اسمٰعیل نے نوکری چھڑوائی تھی۔ماسٹر پہلے دن سے شکی مزاج تھا۔ ہوسکتاہے وہ اس کے کسی چکر وکرسے واقف ہو،ورنہ کون نہیں چاہتا کہ گھر میں چار پیسے آتے رہیں۔ بھائی صاحب،یہ چودھویں صدی ہے۔نہیں جناب پندرھویں صدی ہے۔ہاں ہاں جو بھی ہے،ان ٹیچروں کے سب سے زیادہ یار ہوتے ہیں۔انھیں آزادی بھی تو ہوتی ہے۔ گھر میں اتوار کے دن بھی کہتی ہیں کہ ای ڈی او کے دفتر جانا ہے۔اور اپنے یاروں سے ملنے جاتی ہیں۔ دو مہینے پہلے ٹیچر صائمہ نے سول ہسپتال سے ابارشن کروایا تھا،مجھے خود اسلم ڈرائیورنے بتایا جس کی وین میں سب ٹیچریں سکول جاتی ہیں۔کیا ضروری ہے کہ وہ ہسپتا ل ابارشن کروانے گئی ہو؟ میں نے تو اسے اس کی چال سے پہچان لیا تھا کہ وہ پیٹ سے ہے۔ یاریہ تما م ٹیچریں برقعے کیوں پہنتی ہیں بھولے بادشاہوتمھیں نہیں معلوم،وہ نہیں چاہتیں کہ پہچانی جائیں۔ شیخ اسمٰعیل کے واقعے سے ان ٹیچروں کا کیا تعلق؟ بس ان کے ذکر سے لذت ملتی ہے۔ تمھاری ایک کزن بھی تو ٹیچر ہے۔ اس کانام نہ لو۔ وہ میری بھابھی بننے والی ہے۔ سنا ہے،سب سے زیادہ ابارشن مراثنوں اور مصلنوں کے ہوتے ہیں۔ یارسب کے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کی عورتوں کے گناہ بھی یہ بیچاریاں اپنے سرلے لیتی ہیں۔ اکرم دیکھنے میں کتنا شریف اور پڑھاکو لگتاہے۔ اس نے کبھی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔ سناہے حرام کے تخم قہاری ہوتے ہیں،لیکن یہ تو کبھی گلیوں میں چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ اگر قہاری لڑکے حرام کے ہوتے ہیں تو تمھارا بھائی تو پکا حرامی ہے۔ ماں سے پتا کرو،کس کے ساتھ سوئی تھی۔ تڑاخ۔ یار تم تو جذباتی ہوگئے۔ ہر ماں کسی نہ کسی کے پاس تو سوتی ہے۔ نہیں ماں،صرف بچے پیدا کرتی ہے اور پالتی ہے۔ یار یہ سمجھ نہیں آتی۔اگر بچہ حرامی ہوتا ہے تو عورت اور مرد کیا ہوتے ہیں ہم نے دونوں کو معاف کردیا،پر بچے کو نہیں۔ لیکن سنا ہے شیخ اسمٰیعل دونوں کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔سائیں اور شاہ صاحب آگ لگا کر رہیں گے۔ کتنے امن سے رہ رہے تھے۔ حالاں کہ پتا تھا کہ کون آدھی رات کیاکرتا ہے اور کہاں جاتاہے۔کچھ باتیں چھپی رہنی چاہییں۔ خدا نے آخر رات کس لیے بنائی ہے۔ سائیں رات کو دن بنانے لگاہے۔ لوگو،خدا کے کاموں میں دخل نہ دو۔لیکن اس کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ کسی کو بلا بھیجتا ہے؟ سب اپنی خوشی سے جاتے ہیں۔ تم چھپی باتوں کو جاننا بھی چاہتے ہو،اور ڈرتے بھی ہو۔ یار معلوم کرو، سائیں آیا کہاں سے ہے؟ یہ شاہ صاحب کون ہیں سناہے، شہامند زمیندار کے پاس آئے تھے، اسی نے انھیں بوہڑ تلے بیٹھنے کی اجازت دی۔کیا پتا شہامند کو کچھ حصہ ملتاہو۔ تمھیں یاد ہے، شہامند کے کینڈیڈیٹ کو ہمارے ٹھٹھے کے ووٹ نہیں ملے تھے۔ کیا وہ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے۔ آہستہ بولو،یہ زمیندار بہت ہی گھٹیا ہوتے ہیں۔ یادہے، اسی نے جانو ماچھی کے چھوہر (لڑکے)پر کتے چھوڑدیے تھے۔ غریب کا قصوریہ تھا کہ وہ تیز تیز سائیکل چلا رہا تھا کہ آگے شہامند آگیا تھا، جس پر کچھ گھٹا پڑ گیا تھا۔ چوری کا الزام لگا کر اپنا بولی کتا اس پر چھوڑ دیا تھا۔یار آج کل تو اس کی ویڈیو بنا کر کسی ٹی وی والے کو دے دینی چاہیے۔ شاباش اے،پھر اس غریب کی خیر نہیں۔ شیخ اسمٰعیل اور شہامند کی لڑائی بھی تو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی وجہ سے۔شہامند سے کس کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن بھائی،یہ سائیں وائیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر اس نے یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی جیسی زبان میں کچھ کہہ دیا اور شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ بتادیا کہ اس ٹھٹھے کے سارے مرد حرامی ہیں تو کیا ہوگا۔ ہوگا کیا،مزا آجائے گا۔حرامی مرد تو زبردست چیز ہے۔ بھڑوا مرد برا ہوتا ہے۔ہاں ہاں تمھیں تجربہ جو ہے۔بکواس مت کر۔میں نے سنا ہے کہ حرامی کو کسی بات کا ڈر نہیں ہوتا۔سب بڑوں کو،پیسے والوں کو،تھانیدارکو،تحصیل دار،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر کو بلاوجہ تو حرامی نہیں کہتے۔ حرامی ہونا تو بڑے آدمی کا رینک ہے۔ تمھار امطلب ہے، اکرم بڑا ٓدمی بنے گا۔ ہاں،بالکل اگر واقعی حرامی ہے۔ شریف ہوا تو زہر کھالے گا۔ دفعہ کرو،ان باتوں کو ہمیں کیا لینا دینا۔ دیکھو اس بار بھی بال خراب کاٹے تو اس قینچی سے۔۔۔۔نہیں بھائی پریشان نہ ہو۔۔۔میں پانچ سال کراچی یہی کام کرتا رہا ہوں۔اب اللہ کے واسطے، وہاں کے قصے نہ سنانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل شام شیخ اسمٰعیل کوامید بندھی تھی کہ پندرہ سالوں سے وہ جس سوال کی آگ میں خاموشی سے جل رہا ہے، اسے اس کا جواب مل جائے گا۔ گھر پہنچ کر اس نے اکرم کو کھاناکھاتے دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ بچّو،اب نوالے گن لو۔اگلے ہی لمحے اس نے خود کوایک نامعلوم آدمی کا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھا،اور دل کو مدتوں بعد مطمئن محسوس کیا۔ لیکن اگلا دن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لایا۔اسے لگا کسی نے اس کا سینہ چیر ڈالا ہے۔۔۔۔نہیں۔۔ اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ستر چوراہے کے بیچ کھینچ ڈالاہے۔کسی نے کہا تو پاگل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا،ماسٹر بے غیرت ہے۔پندرہ سالوں بعد آج اسے پتا چلا ہے۔ کسی نے کہا ماسٹر خدا تمھیں صبر دے،جو بھی ہے، بچے کا کیا جرم؟ چاچے رمضو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،پتر میں تیر ا دکھ سمجھتا ہوں۔ پر شکل پر مت جا۔شکلیں دھوکا دیتی ہیں۔ آدمی دھوکا دیتا ہے۔ ہاں چاچا۔عورتیں بھی دھوکا دیتی ہیں۔ پر ماسٹر پتر، عورت مرد کے ساتھ مل کر دھوکا دیتی ہے۔نہیں چاچا، ایک مرد کے ساتھ مل کر دوسرے مرد کو دھوکا دیتی ہے۔تو یوں کہہ نا۔مرد عورت دونوں دھوکا دیتے ہیں۔ ٹھیک کہا،مجھے سائیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔شاہ صاحب نے دھوکا دیا ہے۔ کیا کہا؟ نہیں چاچا کچھ نہیں۔

گھر میں عجب خوف ناک خاموشی طاری تھی۔اس کی بیوی نے سوجی آنکھوں سے اس کی طرف یوں دیکھا،جیسے وہ اس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت اتر جائے گی۔دونوں بیٹے اور چھوٹی بیٹی اسے نظر نہیں آئے۔وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر الانی (بغیر بستر کے)چارپائی پر ڈھ گیا۔ اسے یہ جاننے کی تڑپ ہوئی کہ وہ کون حرام زادہ ہے،جس نے شاہ صاحب کے ساتھ رازداری کی گل بات کو گلی گلی پہنچا دیا۔ اس نے کل شام کے واقعات یاد کرنے شروع کیے۔عصر کی نماز اداکرنے کے کوئی آدھ گھنٹہ بعد اس نے موٹر سائیکل کو کک ماری تھی۔’میں ذرا بھٹے تک جارہا ہوں ‘ کسی کو مخاطب کیے بغیر،سر پر پگڑی باندھتے ہوئے،کہا تھا،اور مغرب کی سمت جانے والی سڑک پر موٹر سائیکل ڈال دیا تھا۔دس منٹ میں وہ نواز کی بستی پہنچ گیا تھا۔اسے یاد آرہا تھا۔۔۔بستی کے عین بیچ بوہڑ کا درخت۔۔۔ سائیں کی ڈاڑھی کی طرح زمین کی طرف لٹکی شاخیں۔۔چاروں طرف گھر۔۔۔کچھ کچے،کچھ پکے۔۔۔۔۔مٹیالے سرخ رنگ کی دری۔۔۔سبز جانماز۔۔۔۔پھل فروٹ، کپڑے،مڑے تڑے روپوں کی ڈھیری۔۔۔سائیں کی زمین کو سجدہ کرتی ناک۔۔۔۔شاہ صاحب۔۔۔مٹھی۔۔۔کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔ہاں،ایک شخص آیا تھا، سائیں کے پاؤں کوہاتھ لگایاتھا،چلا گیا تھا۔۔۔نہیں وہ یقین سے نہیں کَہ سکتا۔۔۔وہ تو سرجھکائے، سائیں اورشاہ صاحب کے آگے دل کا حال بیان کررہا تھا۔وہ کون تھا؟ اُس کے گاؤں کا ہوتا تو وہ پہچان لیتا۔یوں بھی وہاں اب جانے کہاں کہاں سے لوگ آنے لگے تھے۔اس شخص کے لیے اس کا دل غصے سے بھر گیا۔میرے سامنے تو آئے،میں اس حرامی کو اکرو کے باپ سے پہلے اگلے جہان نہ پہنچاؤں تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ایک خیال اچانک اس کے دھیان میں کوندا۔ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں اپنے باپ کا ہوں وہ ڈٖرگیا،مگر جلد ہی اس نے اپنے ڈر پر قابوپالیا۔ ہاں میرے پاس ثبوت ہے۔ میری ماں ایک شریف عورت تھی۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ پوری وضاحت سے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی،اس کی ماں کی طرح شریف نہیں ہے۔ایک دم اس کے ذہن میں غبار بھر گیا۔
اسے یقین تھا کہ اکرو،اس کا بیٹا نہیں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسے کیوں یقین ہے۔ بس اکرو کا ناک نقشہ اس سے نہیں ملتا۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔ کیا میرا ناک نقشہ میرے اپنے باپ سے ملتاہے؟ اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ مغرب کی نماز کے بعد اس نے باپ کو قبرمیں ڈالا تھا۔ اور ٹارچ کی روشنی میں آخری باراس کا چہرہ دیکھا تھا۔ سانولا،لمبوترا چہرہ،جلد اکڑی ہوئی اور جلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنے باپ کا یہ چہرہ کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ بھول ہی گیا کہ وہ اپنے چہرے کو باپ کے چہرے میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ وہ ڈربھی گیا تھا۔ مرے چہرے میں اپنا ناک نقشہ دیکھنے کی اسے ہمت نہیں پڑرہی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اسے باپ نے ہمیشہ اپنا پتر کہا۔

’ابا،اماں پوچھ رہی ہے روٹی اوپر ہی لے آؤں ‘۔وہ چھوٹے بیٹے اسلم کی آواز پر چونک پڑا۔’ہاں،ادھر ہی لے آ‘۔اس نے جیسے جان چھڑانے کے لیے کہا۔اسے پرانی باتیں یاد کرنے میں باقاعدہ لذت مل رہی تھی۔ آٹھویں یا نویں کے چاند کی دودھیا چاندنی میں اس نے اسلم کی پشت کو دیکھا، جب وہ سیڑھیاں الانگتے ہوئے نیچے جارہا تھا۔ بالکل اکر و کی طرح چلتا ہے۔

اس کا دھیان اس بات پر اٹکا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کیسا ہے؟اسے یاد آیا۔لڑکپن کے دن تھے۔وہ سکول سے آنے کے بعد جانگیہ پہن لیتا تھا،اور گلیوں میں دوڑنے لگتاتھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہراس کا دادادکان کے موڑھے پر بیٹھا تھا۔دو آدمی پاس پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے۔خدا جانے کیا باتیں کررہے تھے۔دکان کے سامنے اینٹوں کے فرش پرپانی کے چھڑکاؤ کیاگیا تھا۔مٹی کی سوندھی باس اٹھ رہی تھی۔ یہ باس اس وقت بھی،اتنے سالوں بعد،اسے محسوس ہورہی تھی۔دادا نے اسے گود میں بٹھا لیا تھا،حالاں کہ اس کا سر دادے کی ناک کو چھو رہا تھا۔’ تمھیں دیکھتے ہی مجھے اپنا دادا یاد آجاتاہے۔تمھاراہاڑ اس کی طرح ہے‘۔دادا نے بھی نہیں بتایا کہ اس کا چہرہ کس سے ملتاہے۔اس کا دھیان ماں کی طرف گیا،لیکن اسے ماں کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی۔ہاں ایک بار اس کی چاچی نے کہا تھا،سماعیل تیرا متھاتیرے چاچے کی طرح ہے۔لیکن میری شکل؟ اتنی دیر میں اسلم روٹی لے آیا تھا۔ وہ چارپائی پر سرہانے کی جانب اٹھ بیٹھا۔ اسلم نے گلاس میں پانی ڈالا،تاکہ وہ ہاتھ دھولے۔ ’اماں پوچھ رہی ہے، چائے ابھی بنائے یا۔۔۔۔؟‘اسلم نے باپ کے ہاتھ دھلواتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں ابھی بنادے‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ کسی سے بات کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس نے شکر کیا کہ اس کا سکول دس میل دور گاؤں میں تھا۔اس کے گاؤں میں چلنے والی آندھی سے ا س کی آنکھوں میں کئی ذرے پڑ گئے تھے،جوکانٹوں کی طرح اسے چبھ رہے تھے۔اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کس طرح نوکری،جسے سب لوگ اپنی آزادی کے لیے پھندا سمجھتے ہیں، ایک پناہ گاہ ہوتی ہے،اتنی بڑی پناہ گاہ کہ ریٹائر منٹ کے بعد لوگ بَولاجاتے ہیں،اور کچھ کو تو سوائے مرنے کا انتظار کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔شیخ اسمٰعیل کو ماسٹر نور یاد آئے جو ریٹائر ہونے کے دو سال بعد اس وقت گزر گئے،جب وہ حج کی تیاری کررہے تھے۔ اس نے سامنے سے آنے والی دھول اڑاتی کاردیکھ کر موٹر سائیکل کو کچے راستے پر ڈالتے ہوئے،دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائر ہونے سے پہلے حج کر لے گا۔ لخ لعنت ای۔ کار کی دھول سے آنکھوں میں پڑنے والے ذروں کی چبھن محسوس کرتے ہوئے،اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔وہ آج اپنی عینک اٹھانا بھول گیا تھا۔ وہ سکول کی پناہ میں آکر اپنی آنکھیں صاف کرنا چاہتا تھا۔ وہ پرائمری سکو ل دوکمروں اور دوہی استادوں پر مشتمل تھا۔دوسرے استاد ہفتے میں صرف دو دن آتے تھے۔آج نہیں آئے تھے۔شیخ اسمٰعیل نے ان کی غیر حاضری پر خدا کا شکر ادا کیا۔ شیخ اسمٰعیل نے دو کلاسوں کوسبق یاد کرنے اور باقی تین کلاسوں کو پہاڑے یاد کرنے کے لیے کہا۔ ہر کلاس کا ایک مانیٹر بنا کر،وہ خود سکول کے صحن میں موجود شیشم کے درخت تلے چارپائی بچھوا کر لیٹ گئے۔اپریل کے شروع کے دنوں میں دھوپ ذرا ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ پانچویں کے ایک طالب علم کو گھر سے چائے بنوالانے کا کہا۔

وہ رات بھر سو نہیں سکاتھا۔ لیٹنے پر انھیں آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئیں،لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لگا کہ جیسے ان کا ذہن خاموش ہونا بھول چکا ہے۔ سنسناہٹ کی آواز سے لگتا تھا کہ کوئی تیز لہر ان کی کھوپڑی کو چٹخاتے ہوئے باہر نکل آئے گی۔بند آنکھوں سے سنسناہٹ کو مسلسل سننا عذاب تھا۔میرے اللہ۔اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔پنج ایکم پنج،پنج دونی دس۔ہم سب ایک ہیں۔ نو پنجا پنتالی،نو چھ چرنجا۔ ہندو،مسلمان کا دشمن ہے۔تن ایکم تن۔ بچوں کی آوازوں سے ذرا دیر کے لیے لگا کہ سنسناہٹ کچھ کم ہوئی ہے۔ استاد جی، اجی نے میری کتاب پھاڑ دتی ہے۔ اس بے غیرت کوایک تھپڑ جڑ دو،اور میرے پاس کوئی شکایت لے کر نہ آئے۔اوئے، بالے جا، شانی ڈسپنسر کی دکان سے ایک پیناڈال لے آ۔جی استاد جی۔

ایک حرامی بچے کا باپ ہونے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہوگا دنیا میں اس نے جیسے اپنی صورتِ حال کو پہچانا۔دوزخ۔ میں نے تو اسی دنیا میں دیکھ لیاہے۔اس کا دماغ کی سنسناہٹ بڑھ گئی۔ شاید بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ اسے خیال آیا۔ پانی کا گلاس منگوا کرایک ہی سانس میں پی لیا۔ ان بچوں میں سے کتنے اپنے باپ کے ہوں گے؟ اس نے ایک نگاہ ان سب بچوں پر ڈالی جو کھڑے ہو کر سبق اور پہاڑے یاد کررہے تھے۔سب کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اس نے چوتھی جماعت کے مانیٹر کو پکارا۔ جاؤ، گلام کمہار کے دونوں بھائیوں کو بلا لاؤ۔ایک پانچویں اور دوسرا شاید تیسری یا دوسری میں ہے۔ جی، استاد جی۔ دونوں بچے ڈرتے ڈرتے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک کی ناک کی بھینی ہے۔ دوسرے کا ماتھا چوڑاہے۔ ایک کی آنکھیں بڑی اورکالی،دوسرے کی سرمئی اور بڑی ہیں۔رنگ میں بھی فرق ہے۔ ایک کاسیاہ اور دوسرے کا گندمی ہے۔ تمھارے باپ کا رنگ کالا ہے یا گورا؟ دونوں طالب علم بوکھلا گئے،انھیں اس سوال کی توقع ہی نہیں تھی۔

استادجی،کالاہے۔ نہیں استاد جی گوراہے۔
ایک بات کہو،کیا کبھی اپنے باپ کو غور سے نہیں دیکھا۔
نہیں استاد جی میں روز دیکھتا ہوں۔ وہ آپ کی طر ح تھوڑے تھوڑے کالے ہیں۔ بڑے نے کہا۔
چھوٹا ڈر گیا،اور خاموش ہوگیا۔
اچھا،اب جاؤ۔

چائے کا گرم گھونٹ حلق میں اترا تو شیخ اسمٰعیل کو اپنی طبیعت ذرا بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے خود کو اندر سمٹتے محسوس کرنا شروع کیا،اوراس کے ساتھ ہی اسے لگا کہ کچھ گرد ہٹنے لگی ہے۔سارے فساد کی جڑہی عورت ہے۔عورت ہی بتا سکتی ہے کہ اس کے پیٹ میں کس کا تخم ہے۔عورت کو تخم سے غرض ہے،کسی کا ہو۔ نکاح کے ساتھ ہو، نکاح کے بغیرہو۔یہ عورت بھی کتنی واہیات ہے،بغیر نکاح کے بھی تخم ٹھہرا لیتی ہے۔تف ہے تجھ پر۔یہ تخم بھی تو نہیں دیکھتا کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔یہ تخم باپ ہے؟۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔۔ہائے کیاتماشا ہے۔۔۔۔میں اور تخم۔۔۔تخم مرد کا،مگر مردہی کو خبر نہیں۔۔۔۔اپنے تخم کی خبر نہیں۔۔۔۔۔یامیرے مالک۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔ماسٹر اسمٰعیل کی زندگی میں یہ پہلا لمحہ تھا،جب اسے اپنے اند ر کی اس تنہائی کا سامنا ہوا،جس میں آدمی اپنی تقدیر سے آگاہ ہوتاہے،اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے کچھ کڑوی حقیقتوں کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ آدمی پر وہی لرزہ طاری ہوتا ہے جو قدیم زمانے میں دیوتاؤں جیسی آسمانی مخلوق یا ان کے قاصدوں کے اچانک سامنے آجانے پر طار ی ہوجایا کرتا تھا۔ ماسٹر اسمٰعیل کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ اس نے صافے سے پونچھتے ہوئے سوچاکہ شاید یہ گرم چائے کا اثر ہے۔اس نے خود کو ایک غار میں محسوس کیا، جہاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک چمک سی پیدا ہوتی تھی اور وہ مزید ڈر جاتاتھا۔اس چمک میں کچھ سوالات اسے غراتے محسوس ہوتے۔ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟میرا باپ ہونا میرے تخم سے ہے؟ اتنی غلیظ شے سے میں پیدا ہوا،اور باپ کی حقیقت اس میں ہے؟ چلیں غلیظ سہی،پر میں اس کو اولاد میں محسوس کیوں نہیں کرسکتا؟ میں تو ان کے چہرے دیکھتا ہوں۔ہونہہ، یہ چہرہ،بال،قد کاٹھ، کھوپڑی سب اسی سے۔۔۔۔واہ میرے مالک،تیرے کام۔۔۔۔آدمی کی یہی اوقات ہے۔۔۔۔باپ اور بچے کا رشتہ۔۔۔۔کہاں سے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اس لمحے تو خیال بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔اگر یہ خیال آجائے کہ دونوں کے بیچ بیٹی یا بیٹا۔۔۔۔تو خدا کی قسم آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے۔۔۔خیال سے یاد آیا۔۔۔۔اس لمحے،صرف اسی لمحے کا خیال تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ہاں شروع شروع میں کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا،لگتا تھا کھوپڑی میں سوچنے والی مشین ہے ہی نہیں۔۔۔۔پھر دو ایک ماہ بعدیہ مشین چلنا شروع ہوئی۔۔۔جسم ایک جگہ مصروف اور مشین دوسری جگہ۔۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کیا یہ سچ نہیں کہ تم ہانپ یہاں رہے ہوتے تھے،مگر دھیان کسی اور کی طرف ہوتا تھا؟۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا دھیان بھی کسی اور کی طرف ہوتا تھا۔۔۔۔اللہ،کتنا ظلم۔۔۔۔کتناچھل ہے۔۔۔خودمیری بانہوں میں اور دھیان کسی اور کا۔۔۔۔اولاد حرامی نہیں ہوگی تو اورکیا؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔قیامت کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔مرد کی بات اور ہے۔۔۔وہ سارا دن باہر دھکے کھاتا ہے،اس لیے اسے نماز میں بھی طرح طرح کے خیال ستاتے رہتے ہیں،مگر عورت تو کہیں نہیں جاتی،پھر اس کا دھیان۔۔۔۔اسی لیے تو میں نے نوکری چھڑوادی تھی۔۔۔۔باہر جاتی رہتی تو جانے کس کس کودیکھ کر اس کا دھیان کرتی۔۔۔یاد آیا۔۔۔۔چھوٹی چاچی مجھ سے کوئی آٹھ دس سال بڑی تھی۔۔۔۔سماعیلے میں چاہتی ہوں میرا بیٹا تیری شکل صورت کا ہو۔۔۔۔وہ ہر وقت میرا چہرہ دیکھتی رہتی اور میرے ماتھے پر چومتی ہوئی مجھے دعائیں دیتی تھی۔۔۔۔اس کا بیٹا واقعی میرا چھوٹا بھائی لگتا ہے۔۔۔۔عورت کے دھیان میں اتنی طاقت !!۔۔۔شیماں کس کا دھیان لاتی رہی ہے۔۔۔۔اگر دھیان سے بچے کی صورت پر اثرپڑ سکتا ہے تو۔۔۔۔آدھا باپ وہ بھی ہوتا ہے۔۔۔میں آدھا باپ ہوں۔۔۔۔۔ماں پوری ہوتی ہے۔۔۔۔پر باپ آدھا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں آدھا باپ بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔بچے کو باپ دینے کا سارا اختیار عورت کے پاس کیوں ہے؟۔۔۔۔قدرت مردکو اندھیرے میں کیوں رکھتی ہے؟۔۔۔۔نہیں،قدرت نہیں،عورت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ قدرت کا نام لینے ہی سے ڈر گیا تھا۔اچانک وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا،اور ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر سکول سے باہر کھیتوں کی طرف چل پڑا،اور ایک پگڈنڈی پر ہولیا۔اس کا دل خوف سے بھرا تھا۔اس کا جی چاہا وہ اپنی ساری طاقت بروے کار لاکر بھاگے۔اس دنیا سے کہیں دور نکل جائے۔ پھر جانے کیا سوچ کر وہ آہستہ آہستہ شمال کی طرف چلنے لگا۔شمال کی جانب دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ کسی انسان پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالنا کتنا آسان ہے۔اس نے سوچا۔مگر قدرت پر ذمہ داری۔۔۔نہیں۔۔۔یہ گستاخی ہوگی۔۔۔نہیں یہ گناہ ہوگا۔۔۔۔اس کے ذہن میں قدرت کا مطلب خدا تھا۔اس نے محسوس کیاکہ اس معاملے میں خدا کاذکر گناہ ہے۔پانی کی کھال کوڈگ بھر کر عبور کرتے ہوئے،اسے گناہ کا خیال آیا، اور اپنے ساتھ خوف کی ایک لہر لے کر آیا،مگر وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکا کہ وہ خدا کے ڈر کی وجہ سے،اس معاملے میں اس کا ذکر نہیں لانا چاہتا تھا،یا اس کے ذہن میں اکرو کا معاملہ ہی گناہ کا تھا،اور اس کے لیے یہ ناممکن تھا کہ گناہ کے ساتھ کہیں بھی خدا کا حوالہ آئے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خدا کا عمل دخل نہیں دیکھتا تھا۔وہ خدا کے بغیر اپنا اور اپنی چھوٹی سی دنیاکا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سچ تو یہ ہے کہ ایسا سوچنے سے بھی وہ ڈرتا تھا، مگر وہ اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ غلطی سے شیماں کے گناہ کو۔۔۔۔۔اسے اکرو کوشیماں کا گناہ کہنے میں عار نہیں تھی۔۔۔۔ خدا کی رضا نہ سمجھ لے۔اس نے جلدی جلدی توبہ کی۔اچانک قدرت۔۔۔۔اور خدا کا خیال،اسے نئی مصیبت میں ڈال گیا۔اسے محسوس ہوا کہ ایک بار کسی بات میں خدا کا ذکر آجائے تو اسے خارج کرنا ممکن نہیں رہتا۔خدا کو کسی بات میں سے خارج کرنے کا خیال ہی اسے سخت کافرانہ محسوس ہونے لگا۔اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اس مصیبت سے نکل سکتا ہے۔ہاں یہ سب خدا کی مرضی تھی۔نہ نہ، توبہ توبہ، حرامی بچے خدا کی مرضی نہیں ہوسکتے۔۔۔لیکن خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا،پھر بچہ بننا۔۔۔ایک عورت خود۔۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔۔اس نے کسی نامعلوم طاقت ور جذبے کے تحت،اچانک ایک کھیت کی مینڈھ پر سر سجدے میں گرادیا،اور پورے خلوص سے استغفار کا ورد کرنا شروع کردیا۔

اس کی غیر موجودگی میں بچے کھیل رہے تھے یالڑ رہے تھے۔ خلاف معمول اس نے انھیں گالی نہیں دی۔انھیں،ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ چائے کا ایک اور کپ تھرموس سے انڈیلا۔یااللہ،مجھے معاف کرنا۔ چائے سے لائچی کی خوشبو کے ساتھ گاڑھے پن کی ذرا سی ناگوار باس آرہی تھی،مگر اسے لگا کہ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے،وہ اپنے خیالات میں گم رہ سکتا ہے۔ اس نے پندرہ سال پہلے کا ایک بھولا بسرا لمحہ یاد کیا۔اسے پرائمری سکول میں استاد بھرتی ہوئے پانچواں سال تھا۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔اسے یاد تھا،اس نے کبھی باپ بننے کی خواہش نہیں کی تھی۔باپ بننا کون سا تیر مارنا ہے، اسے اکثر خیال آتا۔باپ نہ بن کر آدمی کون ساتیر مار لیتا ہے۔ اس کے ساتھی استاد نے ایک بار کہا تھا۔ہاں، صحیح کہا،آپ نے،خود آدمی ہوکر کون سا تیر مارتے ہیں ہم۔ تم تو فلسفی ہوتے جارہے ہو شیخ صاحب! ساتھی استاد نے تبصرہ کیا تھا۔ اسے ان لوگوں پر حیرت ہوتی تھی،جو شادی کے اگلے مہینے ہی میں اس باپ بننے کی خبر سننے کے منتظر رہتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔شاید اگست کا مہینہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایک دن پہلے بارش ہوئی تھی، اور ایسا حبس تھا کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔گاؤں کی دائی،اپنی بڑی بہو کے ساتھ، صبح سے ان کے گھر میں تھی۔دوپہر کو ڈسپنسر نے شیماں کو گلوکوز کی بوتل لگادی تھی۔چار یا پانچ کا ٹائم ہوگا،جب اسے بتایا گیاکہ بیٹا ہوا ہے۔اسے دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے مسجد چلا گیا تھا۔ واپسی پر اس نے بچے کو دیکھاتھا۔اسے یاد آیا جب بچے کو پہلی بار روتے سناتھا،تب اسے لگا کہ وہ باپ بن گیا ہے۔کوئی روتا ہوا بچہ تمھاری گود میں ڈالتا ہے تو تمھیں علم ہوتا ہے کہ تم باپ ہو۔ماں ہونا،اور بات ہے۔ ماں کو کوئی اور نہیں بتاتا کہ تم ماں ہو۔ اس کا جسم اسے بتاتا ہے کہ وہ ماں ہے۔ جسم سے بڑی گواہی کیا ہوسکتی ہے؟اسے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جو دلیل کو جسم کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔وہ پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیااگست کی ایک سہ پہر کے واقعات یاد کررہا تھا،یا ان واقعات کو نئے معانی پہنا رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسے دائی پر ہلکا سا غصہ آیا تھا۔کیاتو مجھے بتائے گی کہ میں اس بچے کا باپ ہوں اپنی حیثیت تو پہچان،احمق کہیں کی۔دائی کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچائے تھے۔تو مجھے اس لیے اس بچے کا باپ بتا رہی ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے بچے کو اس جسم سے بر آمد ہوتے دیکھا ہے،جس پر مجھے قانوناً اختیار حاصل ہے؟تف ہے،اس قانونی اختیار پر بھی۔ ایک جسم پر قانونی اختیار،کیا اس جسم پر۔۔۔۔اور اس کے ذہن۔۔۔۔اس کے دل پرکسی دوسرے کو مکمل اختیاردے سکتا ہے؟۔۔۔۔تو اس لمحے کی گواہی دے سکتی ہے کیا،جب۔۔۔۔جب۔۔اس لمحے کی گواہی کون دے سکتا ہے؟ اس کا دل بے بسی کے احساس سے ڈوبنے لگا۔

اسے یاد آرہا تھا۔ دائی نے کہا تھا ماسٹر تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ وہ ہڑبڑا گیا تھا،اور جلدی جلدی بچے کے کان میں اذان انڈیلی تھی۔لے،آج تو مسلمان ہوگیا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو میں نے بھی مسلمان کیا۔ یا اللہ تیر اشکر ہے،تو نے مجھے یہ توفیق دی۔ تجھے بچے سے زیادہ اسے مسلمان بنانے کی خوشی ہوئی ہے دائی نے چوٹ کی، جو شیرینی کی توقع میں کھڑی تھی۔آج وہ پوری دیانت داری سے اس اوّلین لمحے کو یاد کررہا تھا کہ جب اس نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔ اسے واقعی خوشی نہیں ہوئی تھی۔افسوس بھی نہیں ہوا تھا۔وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سرے سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا تھا،مگر کیا محسوس کیا تھا، اسے یاد نہیں آرہا تھا۔خوشی اور دکھ تو یاد رہتے ہیں،پر کسی شے کا آدمی پر اثر ان دونوں سے ہٹ کر بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہی تو مصیبت ہے کہ اسے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے،نہ اس کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے یاد تھا کہ اسے بچے کو دیکھتے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔یہ سب بچے جب پید اہوتے ہیں تو ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دنوں بعد جب اس کا ناک نقشہ واضح ہوا تو معلوم ہوا کہ۔۔۔۔نہیں،ہر بچے کی اپنی شکل صورت ہوتی ہے،اور تبھی اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ اکرو میرا تخم کیسے ہوسکتاہے،جب وہ میری طرح ہے ہی نہیں۔نیا نیا اس نے چلنا شرو ع کیا تھا۔اس کا دوست ماسٹر احمد آیا تھا۔دونوں بیٹھک میں چائے پی رہے تھے۔اکرو ننگے پاؤں بیٹھک میں آیا تھا۔ماسٹر احمد نے کہا تھا۔اسمٰعیل یار اس کی شکل تم پر تو بالکل نہیں۔اسے یاد آیا۔اسے لگا تھا کہ جیسے کسی نے اس کے دل کی بات سر عام کہہ دی ہے۔ وہ پہلا لمحہ تھا،جب اس نے اپنے اندراکرو کے لیے گھناؤنے پن کو محسو س کیا تھا۔اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا۔ حرامی پتا نہیں کس پر گیا ہے۔اس کے بعد اس نے ان سب مردوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا،جو اس کے گھر آتے تھے،یا جتنے مرد اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ یاد کررہا تھا۔اسے سب مرد مجرم نظر آتے تھے۔اس کی آنکھوں میں عیارانہ چمک پیدا ہوگئی تھی۔اس حرامی نے میرے گھر جنم لے کر میری زندگی جہنم بنادی ہے۔جلد ہی سب گھروالوں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ پہلوٹھی کے بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ،ایک پتھر دل شخص کا ہے۔ شیماں سے کئی بار توتومیں میں ہوچکی تھی۔ تم اسے اس طرح دھتکارتے ہو،جیسے یہ تمھارا بیٹا نہیں شیماں نے ایک شام اسے کہا تھا،جب اس نے اکرم کو اس بات پر تھپڑ جڑدیا تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی بھاگ کرآیا تھا،اوراس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا، اور اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔وہ کہنا چاہتاتھا کہ مجھے کیا پتا یہ کس کا تخم ہے،مگر اپنی ماں کو وہاں موجود پاکر رک گیا تھا۔

آج شیشم تلے چارپائی کوچھاؤں کی طرف کھینچتے ہوئے،وہ اذیت کا زمانہ یاد کررہاتھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک گتھی سلجھنے لگی ہے۔ عورت ہی فساد کی جڑ ہے۔ ہاں عورت،مرد کی دنیا میں فساد پیداکرتی ہے۔ عورت اس دکھ کی الف بے نہیں جانتی جومرد کو کسی حرامی بچے کا باپ ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ماں کے لیے بچے کا جائز ناجائز ہونا،سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں،لیکن باپ ہونے کا مطلب ہی،بچے کا جائز ناجائز ہوناہے،اور اسی کا علم اگر باپ کو نہ ہو۔۔۔تو۔۔۔ وہ روح کی ساری گہرائی سے۔۔۔جس کا پہلا اسے کبھی تجربہ نہیں ہواتھا۔۔۔ اس اذیت کو محسوس کررہا تھاجو اس کے باپ ہونے کی بدترین جہالت کی پیدا کردہ تھی۔شاید وہ اس بدترین جہالت کو بھی سہار جاتا،لیکن اس جہالت کے اندھے کنویں پر طرح طرح کے بھوت منڈلانے لگتے تھے،اور اس کے باپ ہونے کو مسلسل مشکوک بناتے تھے،اور اس کے منھ پر تھوکتے ہوئے،اسے اس کی جہالت کا طعنہ دیتے تھے،اور اس کے مرد ہونے پر لعنت بھیجتے تھے۔وہ دیکھتا اچانک یہ سب بھوت ایستادہ ہوگئے ہیں،اور ایک درز میں سے کسی نامعلوم غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس منظر کی تاب اس کے حواس میں نہیں تھی۔اس کا جی چاہا،وہ دنیا کی سب عورتوں کو قتل کردے۔سب عورتیں،مرد کو دھوکا دے سکتی ہیں،اور مرد بے چارہ،ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔عورت تف ہے تجھ پر،کس کس کا تخم تو قبول کرلیتی ہے۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کا لرزہ ختم ہوگیا تھا،اور اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔مرد کی بیچارگی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے،جب وہ اس سے بے خبر کہ کس کا تخم ہے، بچے کو گود لے کر کہتا ہے کہ تو میرا نام روشن کرے گا۔۔۔ صرف عورت جانتی ہے،اس نے کب سر دھویا تھا۔۔۔مگر وہ بتاتی کب ہے؟ عورت سے زیادہ مگھم کوئی شے نہیں۔ اسے اچانک ایک قصہ یاد آیا۔ کسی پرانی کتاب میں شاید پڑھا تھا،یا کسی نے سنایا تھا۔ ایک عورت تھی۔پرلے درجے کی چالباز۔اس نے سہیلی سے شرط لگائی کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اپنے یار سے ہم بستری کرے گی۔توبہ ! پرانے زمانے میں بھی یہ سب تھا،اس نے سوچا۔اس نے ایک دن بہانہ کیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔خاوند سے کہا کہ بستی کی دائی کو بلا لائے۔ وہ دائی کو پہلے کہہ چکی تھی کہ اس کے پیچھے پیچھے اس کا یار بھی آئے گا۔ دائی آئی۔ عورت نے خاوند سے کہا کہ تم بھی یہیں رکو،کسی دوادارو کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔وہ غریب رک گیا۔دائی نے اسے لٹا کر ایک چادر تان دی۔سر اور سینہ چادر سے باہر تھا۔خاوند اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا۔ چادر کی دوسری طرف دائی بول رہی تھی،اور یار مصروف کار تھا۔ عورت کسی میٹھے درد سے کراہے جارہی تھی۔یہ کہانی یاد کرتے ہوئے، شیخ اسمٰعیل کو لگا کہ اس پر کسی بہت ہی خاص راز کا انکشاف ہواہے۔مسئلہ اکرو نہیں،مسئلہ تُوہے۔اگر تُو ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ بات مجھے آج سے پہلے،اتنے سالوں تک کیوں نہیں سوجھی؟ تم نے کبھی،تنہائی میں دو منٹ کے لیے بھی سوچا،اس سے پہلے کہیں دور سے ایک منحنی سی آواز آئی۔ پر وہ ہے کون؟اس نے فلاسک سے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔میں نے تو نوکری بھی اس طعنے کے بعد چھڑائی تھی کہ سب استانیوں کے یار ہوتے ہیں۔ وہ کون حرامی ہے؟ آخر ان دونوں کے بارے میں آج تک کوئی سن گن کیوں نہ ملی۔ کیا اس نے بھی کوئی چادر تانی تھی،اور میں سرہانے بیٹھارہا اور وہ کام کرتے چلا بنا۔ اس کا دماغ شدید غصے اور ناقابل برداشت بے بسی سے بھر گیا۔

تم سب حرام کے تخم ہو۔دفع ہوجاؤ۔وہ بلاوجہ ان بچوں پر چلایا،جو پڑھنا وڑھنا چھوڑ کرکھیل رہے تھے،اور ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی تھے۔بچے یہ سنتے ہی اپنے بستے اٹھائے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے،اور اس نے بھی پاؤں جوتی میں ڈال دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کووہ سکول سے سیدھا سائیں کے پاس پہنچا۔’ شاہ صاحب،تم نے میرا اچھا تما شا بنایا؟‘اس نے گلہ کیا۔
تم خود ہی تماشا بننا چاہتے ہو؟

میں نے رازداری کی گزارش کی تھی۔ وہ منمنایا۔

کون سا راز؟ وہ کیسا راز ہے جسے تم اپنے سینے میں سنبھال نہیں سکے،اور دوسروں سے کہتے ہو کہ وہ سنبھالیں۔ تم سب لوگ اپنے راز ہی تو بھرے بازار میں لانے کے لیے مررہے ہو؟

میں سمجھا نہیں۔

تم نے بتایا تھا کہ تم بچوں کو پڑھاتے ہو۔ خاک پڑھاتے ہو۔سائیں سے کیا پوچھتے ہو؟ میری بیوی کا یار کون ہے؟ میری بہو کے پیٹ میں کس کا تخم ہے؟ میری بیٹی کو دورے کیوں پڑتے ہیں میرے گھر میں کون تعویذ گاڑتا ہے؟پہلے بیٹے کے وقت میری بیوی کس کے ساتھ سوئی تھی شادی سے پہلے وہ برقع پہن کر کس کے ساتھ جاتی تھی فلاں کے پاس ٹوڈی کہاں سے آئی؟ یہ سارے راز ہی تو تم سر عام لانا چاہتے ہو۔کیا نہیں؟

اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔

اتنے میں سائیں نے کہا۔’ ساواپتر، گیلی اگ‘۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا سائیں نے اکرو کے اصل باپ کا بتادیا؟

اس کا وہی مطلب ہے جو تم سمجھنا چاہتے ہو؟سائیں کو تو خود نہیں پتا وہ کیا کہتے ہیں۔ کان کھول کر سنو،سائیں کی باتوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔میں،تم،سب سائیں کی باتوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہناتے ہیں۔ہم سار ادن یہی تو کام کرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،دوسروں کی ہربات کو اپنی مرضی اور منشا کا مطلب دیتا ہے۔ تم ماسٹر ہو،میرا باپ بھی ماسٹر تھا،اور مجھے بے حد پیا ر کرتا تھا،اسی کے صدقے تمھیں سب سچ بتارہاہوں۔ویسے بھی کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے شہامند سے ایک مہینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس نے تم لوگوں سے جتنے بدلے لینے تھے، لے لیے،تم سے تو خاص بدلہ لیا ہے۔میں ہر بار کسی ایک جگہ سے جاتے ہوئے کسی معقول آدمی کو سچ بتا کر جایا کرتاہوں۔ اگرچہ سب سے مشکل کسی بستی میں معقول آدمی کی تلا ش ہے۔ جو سب سے کم احمق ہو،میں تو اسی کو معقول سمجھتا ہوں۔ ماسٹر اسمٰعیل کو اپنے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔دودنوں سے وہ خود کو بزدل بھی سمجھ رہا تھا۔شاہ صاحب نے بات جاری رکھی۔ سائیں اپنی موج میں خدا جانے کیا بات کہتاہے۔ تم،میں سب اس میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں وہ بات کہوں گا،جو تم سننا چاہتے ہو۔میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔تم سب گدھے ہو۔ اگر تمھیں واقعی شک ہے کہ تمھارے گھر میں کسی اور کا بیٹا ہے تو جاؤٹیسٹ ویسٹ کرواؤ۔سناہے،اب ٹیسٹوں سے کسی کی ولدیت کا اسی طرح پتا چل جاتا ہے،جس طرح پیشاب کے ٹیسٹ سے بیماری کا پتا چل جاتاہے۔
جی مجھے اس ٹیسٹ کا معلوم ہے۔ شایدڈی این اے ٹیسٹ کہتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ایک کہانی دیکھی تھی،جس میں بچہ اپنے اصل والدین سے اس ٹیسٹ کے ذریعے مل گیا تھا۔

پھر یہاں کیوں آئے تھے؟

وہاں اکرو کو ساتھ لے جانا پڑتا،اور اس سے پتا نہیں کیا کیا کہانیاں گھڑی جاتیں۔
وہ کہانیاں تو اب بھی گھڑی گئی ہوں گی؟
شاہ صاحب،خد اکے لیے مجھے یہ بتادیں کہ میرے اور آپ کے درمیان کی بات کوٹھوں کیسے چڑھی؟
تو سچ سنو۔ دنیا میں کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ ہم یہاں مفت نہیں بیٹھے۔ سمجھے؟
ہونہہ۔ شہامند۔
اب جاؤ یہاں سے۔ میں اس سے زیادہ تم سے بات نہیں کرسکتا۔
پر ’ساوا پتر، گیلی اگ‘ کا مطلب؟

تم ماسٹر نہیں گھامڑ ہو۔ سنتے جاؤ۔ اس کا کوئی مطلب نہیں،مگر تم پھر بھی اصرار کرو گے کہ اس کا مطلب تمھیں کوئی بتائے۔اس آدمی کی بات تم جلدی مان لیتے ہو، جو ذرا ساپراسرار ہو، مطلب یہ کہ تمھاری سمجھ سے ذرا اوپر ہو۔تم اپنے برابر اور چھوٹے کی بات سنتے ہو،نہ مانتے ہو۔تم سب کو ایک سائیں،اور ایک شاہ صاحب ہر وقت چاہیے۔مجھے یقین ہے،میں ان دو لفظوں کا جو مطلب بھی بتاؤں گا تم مان جاؤ گے۔میں اگر ان کا مطلب یہ بتاؤں کہ تم ایک گیلی آگ میں جل رہے ہو،اور تمھار ا بیٹا تمھارے چھوٹے بھائی سے ہے جو سبز پتے کی طرح نوجوان ہے،تو تم مان جاؤ گے،اور اس غریب کے جاکر ٹوٹے کردوگے۔اگر تم چند دن پہلے آتے تو میں یہی کہتا۔میرے یہاں بیٹھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم آج آخری دن آئے ہو۔سنو، اس کا مطلب ہے، سبز پتے ہوسکتے ہیں، مگر آگ گیلی نہیں ہوسکتی۔تمھیں اگر آگ جلانی ہے تو سوکھے پتے جمع کرو۔ دشمن کو مارو، اپنوں کو نہیں۔ اب سمجھے؟
ہونہہ۔ کچھ کچھ۔

جاؤ، وہ کام کرو،جسے ٹھیک سمجھتے ہو۔

ماسٹر اسمیٰعیل نے کچھ روپے شاہ صاحب کے ہاتھ پہ رکھے،مصافحہ کیا،اور چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہوچکی تھی،اور اس کے گھر کے دروازے کا بلب جل رہا تھا۔ابھی وہ چند قدم دور تھا کہ اسے کئی ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔ وہ کل رات سے اپنے خیالوں سے باہر نہیں آیا تھا۔ اسے ان آوازوں کے حوالے سے کوئی جستجو نہیں ہوئی۔ اس نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا تو اس کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا آیا۔ فوراً دروازہ کھولا۔ اندر کئی لوگ جمع تھے۔ اچانک سب چپ ہوگئے۔ سب ماسٹر اسمٰعیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ماسٹر اسمٰعیل،ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ چند ثانیوں کا سناٹا،سب کو جان لیوا محسوس ہوا۔ اچانک سب لوگ،ایک طرف ہٹ گئے۔ ماسٹر نے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ چارہائی پر اکرو کو گلوکوز کو بوتل لگی ہوئی تھی۔تم یہی چاہتے تھے ناں۔ شیماں نے چیختے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس کرنے سے قاصر رہا تھا۔ تم کہاں چلے گئے تھے؟ اکرم نے گندم والی گولیاں کھالی تھیں۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا۔پھر؟جیسے وہ کوئی خبر سننے کا منتظر ہو۔وہ کسی انجانے احساس کے تحت اکرم کی طرف بڑھا۔ وہ نیند میں تھا۔ شیماں اس کے سر پر مسلسل ہاتھ پھیرے جارہی تھی،اور دعائیں مانگے جارہی تھی۔ اس نے اکرم کے چہرے کو دیکھا۔ تھوڑا مختلف محسوس ہوا۔ اس نے آج تک اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

سب انتظار کررہے ہیں کہ تم آؤ تو اسے سول ہسپتال لے جائیں۔اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔اس کے چھوٹے بھائی نے کہا۔
وہ خاموشی سے باہر نکلا۔ دس منٹ بعد شیخ جمیل سے اس کی کار مانگ کر آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دنوں بعد اکرم کی حالت بہتر ہوئی۔ ان دودنوں میں ماسٹر اسمٰعیل نے ایک لفظ نہیں بولا۔ دونوں دن وہ ہسپتال میں رہا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی دوائیں میڈیکل سٹور سے خرید لاتا۔زیادہ وقت ہسپتال کی کینٹین پر بیٹھا رہتا،یا او پی ڈی میں پڑے بنچوں پر۔رات کو ہسپتال کے او پی ڈی کے برآمدے میں،پنکھے تلے لیٹ جاتا۔وہ اس بات سے بے نیاز تھا کہ اسے نیند آتی ہے،یا نہیں۔ اس نے ان دودنوں میں ساری نمازیں پڑھیں،مگر کوئی دعا نہیں مانگی۔اس نے گزشتہ چند دنوں میں خاموشی اور تنہائی کو زندگی کی سب سے بڑی،سب سے گھناؤنی،سب سے اہم حقیقت کے طور پر محسوس کیا تھا۔ اس کی خاموشی دیکھ کر سب یہ سمجھنے لگے کہ وہ نادم ہے۔شیماں نے اس سے صرف ایک جملہ کہا کہ وہ کپڑنے بدلنے گھر چلا جائے۔ وہ اس کے جواب میں بھی چپ رہا۔چپ رہنے کی وجہ سے،اسے وہ سب باتیں واضح سنائی دینے لگی تھیں،جو پہلے ریل گاڑی سے نظر آنے والے منظروں کی طرح تیزی سے ذہن میں آتیں اور کوئی اثر ڈالے بغیر گز ر جاتی تھیں۔ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا،اگر اکرم مرگیا۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔۔۔اسے اس میں ذرا بھی شک نہیں ہوا کہ کوئی اور نہیں۔وہ۔ میں قاتل کہلاؤں گا۔۔۔ایک باپ نے اپنے بیٹے کو حرامی سمجھ کر قتل کر ڈالا۔پورے علاقے میں یہ خبر۔۔میں قاتل، میر ابیٹا حرامی۔۔۔میں کس کس کا منھ پکڑوں گا۔۔۔۔اسے قبر میں،مَیں اتاروں گا۔۔۔قاتل قبر کو مٹی دے گا۔۔۔قاتل قل پڑھوائے گا۔۔۔قاتل سے لوگ کہیں گے، شیخ صاحب، امر ربی۔شیخ صاحب سورہ فاتحہ۔اس نے ان سب باتوں کوکسی ردعمل کے بغیر سنا۔ میں قاتل بن کر بھی،اس کا با پ کہلاؤں گا۔۔۔اس کا باپ ہونا،میری تقدیر ہے۔۔۔اور اْس کا قاتل ہونا بھی۔۔۔نہیں یہ تقدیر نہیں۔۔۔اگر پندرہ سال گزر گئے تھے تو باقی سال بھی تو گزر سکتے تھے۔۔۔۔تقدیر اٹل ہے۔۔۔اس کی ولدیت کے خانے میں میرانام آنا اٹل ہے۔

اکرم کی ممکنہ موت کا سوال خود بہ خود اسے آگے کھینچ کے لے جارہا تھا۔وہ ہسپتال کی کینٹین کے درخت کی گھنی چھاؤں میں کرسی پر بیٹھا تھا۔آج کے اخبار کے ادارتی صفحے کے سب مضامین پڑھ چکا تھا۔چائے پیتے ہوئے،سوچے چلا جارہا تھا۔نہیں،اس کے لیے سوچنے کا لفظ مناسب نہیں۔سوچنے میں کوشش کا عمل دخل ہے،جب کہ بغیر کسی کوشش کے، اس کے ذہن میں باتیں آتی چلی جارہی تھیں۔اس کا دل اس تقدس سے بھر گیا تھا، جو کچھ بڑی سچائیوں کے ظاہر ہونے سے از خود پیدا ہوتا ہے،اور یہ بڑی سچائیاں ظاہر ہونے کے لیے صرف بڑے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتیں،بلکہ یہ کسی شخص کی اوقات کو سرے سے دیکھتی ہی نہیں، صرف کچھ مخصوص حالات کا انتظار کرتی ہیں۔شیخ اسمٰعیل انھی مخصوص حالات سے گزررہا تھا۔اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔ کسی کو مارنے کا حق کس کو ہے۔۔۔۔جس نے پیدا نہیں کیا،وہ مارنے کا حق رکھتا ہے؟۔۔۔۔پھر۔۔۔۔کیا باپ ہونے کا مطلب کسی کو زندگی دینا ہے۔۔۔۔۔باپ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔زندگی دینا،یا صرف شناخت۔۔۔۔شناخت کون کرےاکرم کی خود کشی کی کوشش نے اس سوال کا زہر نکال دیا تھا،یا اس کی وہ بزدلی ایک نئے رنگ میں لوٹ آئی تھی،جسے وہ پندرہ سالوں سے اکرم سے نفرت کے پردے میں چھپاتا آیا تھا۔وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کسی کو مارنے کا ارادہ کرنے،اور اسے مرتے ہوئے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے،اتنا بڑا فرق جتناایک بھوت کا خیال کرنے اور اسے حقیقت میں سامنے دیکھنے میں ہوتا ہے۔ اب تک اکرم کو صرف بیٹا سمجھتا آیا تھا،اب پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک آدمی بھی ہے۔آدمی کے طور پر وہ ماں، باپ، بہن،دوست سب رشتوں سے الگ۔۔۔اور آزاد۔۔ایک وجودہے۔آدمی رشتوں کے جال سے باہر بھی وجود رکھتا ہے۔جس طرح درخت کہیں اگتا ہے، آدمی کو بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے جنم لیناہوتا ہے۔ کس کوکھ میں کون جنم لیتا ہے، اس کا فیصلہ۔۔۔بخدا مجھے نہیں معلوم،کون کرتا ہے۔اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔کوکھ بنی کس لیے ہے۔۔۔۔جنم دینے کے لیے۔۔۔کوکھ کے لیے کوئی وجود حرام ہے نہ حلال۔۔۔وہ صرف وجود ہے۔۔۔وجود کوظاہر ہونے کے لیے کوکھ چاہیے۔۔۔وجود کے لیے کوئی کوکھ حرام ہے نہ حلال۔۔۔جس طرح درخت کے لیے کوئی مٹی حلال ہے نہ حرام۔۔۔آدمی اور درخت میں فرق ہی کتناہے مٹی اور عورت ایک ہی کام تو کرتے ہیں۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل شیماں کے احترام سے لبریز ہو گیا ہے۔نہیں،دنیا کی سب عورتوں کے لیے۔وہ چائے کا چوتھا کپ پیتے ہوئے سوچے چلا جارہا تھا۔ جنم لینا ہر وجود کا حق ہے۔یہ حق اسے اس قوت نے دیا ہے، جس کا خیال کرتے ہی،آدمی کا دل بے بسی اور انکسار سے بھرجاتاہے۔ اس قوت کے عمل میں مداخلت کرکے،اس نے کتنا سنگین جرم کیا،اس کا احساس اسے اب ہورہا تھا۔اس قوت کے آگے ماں،باپ اتفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔ہاں یہ اتفاق ہے کہ میں شیخ نعیم کے گھر پیدا ہوا،یہ اتفاق ہے کہ اکرم کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا گیا۔کینٹین پر درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے، چائے پیتے ہوئے،اسے لگا کہ اکرم،میں،شیماں، اسلم سب درختوں کی طرح بھی ہیں۔ درخت کو کسی پہچان کی ضرورت نہیں۔ اس کے بچپن کی زندگی کا سب سے المناک واقعات صرف دوتھے۔ جب اس کا باپ مرا تھا،اور جب اس درخت کو اس کے چچا نے کاٹ دیا تھا،جس کی شاخوں سے پینگ کی رسی باندھ کر تینوں بہن بھائی جھولا جھولتے تھے،اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باندر کلا کا کھیل کھیلتا تھا۔ کٹا ہوا درخت،اسے دنیا کا سب سے وحشت ناک منظر محسوس ہواتھا۔اس منظر کودوبارہ دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی۔ وہ درخت کو چھاؤں اور پھل کی خصوصیت سے الگ ہوکر دیکھ رہا تھا،اور اس خاموشی اور تنہائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کررہا تھا، جو سنگین تھیں، ادھیڑ ڈالنے والی تھیں،روح میں خنجر کی طرح اترتی تھیں،آدمی خود کو لق و دق صحرا میں محسوس کرتا تھا،کبھی کبھی خود کو نوچنے کو بھی جی چاہتا تھامگراس کی روح کے کسی آخری منطقے میں اس بات کا یقین بھی ٹمٹما رہا تھا کہ یہی خاموشی اور تنہائی بدترین جہالت کی اذیت سے نجات دلانے والی بھی ہیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعداپنے گھر میں اس نے اکرم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ماتھا چوما،اورخیرات کی۔

Image: Rabia Zuberi

Categories
فکشن

حکایات ِجدید ومابعد جدید

ستر سال اور غار
وہ ستر سالوں سے غار میں تھا۔یہ بات تھوڑے لوگوں کو معلوم تھی۔ان تھوڑے لوگوں میں اسحاق بھی شامل تھے۔اسحاق نے اس بات کو راز میں رکھا کہ اسے کیسے معلوم ہو اتھا،لیکن اس بات کو راز میں نہیں رکھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ ستر سالوں سے غارمیں ہے۔ ایک بات کو راز رکھنے اور دوسری کو عام کرنے کی خاص وجہ تھی،اور اسے بھی اسحاق ہی جانتے تھے،مگر کبھی کبھی کسی خاص شخص کو بتابھی دیا کرتے تھے۔ ایک دن عصر کے بعد اس کے پاس چار لوگ آئے۔ اسحاق مصلے سے اٹھے اور لکڑی کے تخت پر آبیٹھے۔

 

سائیں بڑی مشکل میں ہیں، دعا فرمایئے۔ جس گاؤں سے آئے ہیں،وہاں کے لوگ چھ ماہ سے ایک پل نہیں سوئے۔ روز ایک لاش کہیں سے آتی ہے،مسجد میں اعلان ہوتاہے،کس کی لاش ہے، سب دوڑے دوڑے آتے ہیں، جو دیکھتا ہے،اسے لگتا ہے کہ اسی کی لاش ہے۔ سارا گاؤں مل کر اسے دفناتاہے، واپس آتاہے،سب ایک دوسرے کا کھانا پکاتے ہیں۔

 

کچھ دیر بعد ستھر پر سارا گاؤں بیٹھتا ہے۔سارا گاؤں،ایک دوسرے سے تعزیت کرتا ہے۔ایک دوسرے کو ’امر ربی‘ کہتا ہے،اور فاتحہ پڑھتا رہتا ہے، ابھی سوئم نہیں ہوپاتا کہ پھر ایک لاش کا اعلان ہوتا ہے۔ چھ ماہ سے یہی کچھ ہورہاہے۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں،اور ڈر رہے ہیں کہ کہیں ہماری لاشیں گاؤں میں نہ آچکی ہیں،اور ایسا نہ ہو کہ وہ سڑ جائیں۔ کچھ دن پہلے غلام محمد گاؤں سے ایک دن کے لیے گئے،واپس آئے تو ان کے گھر میں سڑاند پھیل چکی تھی،انھیں اکیلے ہی اپنی لاش دفنانی پڑی،اور کوئی پرسہ دینے بھی نہیں آیا۔گاؤں میں لاش پہنچے کا کوئی وقت نہیں،نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔کوئی خاص جگہ بھی مقرر نہیں جہاں لاش ملتی ہو۔ اسحاق نے ان کی طرف غور سے دیکھا،حیرت ظاہر کی اور کہا۔ میں نہیں، ایک اور شخص تمھاری مدد کرسکتاہے،جس نے ستر سالوں سے باہر کی دنیانہیں دیکھی،پر سب جانتا ہے کہ باہر کیا ہورہا ہے؟

 

وہ چاروں بہ یک وقت حیران ہوئے،یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

 

ستر سالوں سے غار میں رہنا،یا ایک پل کے لیے باہر سر نکالے بغیر باہر کے بارے میں پل پل کی خبر رکھنا؟

 

سائیں، دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تم اپنی مشکل کا حل چاہتے ہو،یااسرار جاننا چاہتے ہو؟ اسحاق نے تسبیح کے دانوں سے وقفہ لیتے ہوئے کہا۔

 

سائیں دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ فلاں درخت کی ایک شاخ کا پتا کھانے سے آدمی بندر بن جاتا ہے،اور دوسری شاخ کا پتا کھانے سے واپس آدمی بن جاتا ہے تو تم کس شاخ کا پتا حاصل کرنا پسند کرو گے؟ اسحاق نے تسبیح سے ایک اور وقفہ لیا۔

 

سائیں، میں دوسری شاخ کا پتا حاصل کروں گا۔ایک بولا۔

 

سائیں، میں دونوں حاصل کرنے کی خواہش کروں گا۔ دوسرا بولا۔

 

تیسرا چپ رہا۔

 

سائیں، میں اس درخت کا علم حاصل کروں گا۔ چوتھا بولا۔

 

تمھاری مشکل کا حل اب دو آدمیوں کے پاس ہے، ایک وہ جو ابھی چپ ہوا،دوسراجو سترسالوں سے چپ ہے۔ اسحاق بولے۔

 

وہ کیسے؟ باقی تین بولے۔

 

تم تینوں نے ایک ایسی صورتِ حال سے اپنے لیے راستہ منتخب کرنا شرو ع کردیا،جو ’ہے ‘ نہیں، ’ہو سکتی ‘ تھی،یا کبھی ’تھی‘۔ جو چپ رہا،وہ جانتا ہے کہ راستہ وہی چنا جاتا ہے جو ’ہو‘۔ اسحاق بولے۔

 

تینوں نے اس چوتھے کی طرف دیکھا جو چپ تھا۔ وہ اب بولا۔ وہ درخت تو میرے اندر ہے۔پر میں نے کبھی اس کے پتے نہیں کھائے۔
space:

 

پر ہمارے اندر تو ایسا کوئی درخت نہیں۔ تینوں بہ یک وقت آواز ہوکر بولے۔

 

تو اس شخص کے درخت سے اپنی مرضی کا پتا لے لو۔ اس مرتبہ اسحاق مسکرائے۔

 

سائیں، اب ہم نئی مشکل میں ہیں، اس درخت کے پتے حاصل کریں یا اس مشکل کا حل تلاش کریں جو ہمارے گاؤں کو لاحق ہے؟ تینوں بہ یک وقت بولے، چوتھا چپ رہا۔

 

اس کا جواب بھی تمھیں ستر سالوں سے چپ شخص سے ملے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے ایک خوں خوار شیر کا راستہ روک رکھا ہے،جو سب انسانوں کو چیر پھاڑ سکتا ہے۔

 

سائیں گستاخی نہ ہو تو عرض کریں۔ اگر اس نے شیر کا راستہ روک رکھا ہے تو کون ہے جو روز ہماری لاشیں ہمیں بھیجتاہے؟ اب چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تمھیں کیسے یقین ہے کہ وہ تمھاری لاشیں ہیں؟ اسحاق نے الٹا ان سے سوال کیا۔
سائیں،ہم خود انھیں دیکھتے اور دفناتے ہیں۔چاروں بولے۔

 

پھر تم کون ہو؟ اسحاق نے تعجب کیا۔

 

چاروں چپ ہوگئے۔

 

اگر وہ واقعی تمھاری لاشیں ہیں تو تم ایک ہی دفعہ خو دکو کیوں نہیں دفناتے؟ کیا اپنی قبر پر تم مٹی نہیں ڈالتے؟ ہوسکتا ہے،تمھی میں سے کوئی ایک شخص ہو جو روز تمھاری لاش کو پھینک جاتا ہو؟اسحاق نے ایک اور سوال کیا۔

 

نہیں سائیں، ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستان بڑھتا جارہا ہے۔ چاروں بولے۔ سائیں کیا آپ ہمیں اس غار کا پتا بتاسکتے ہیں؟ چاروں نے درخواست کی۔

 

وہ چاروں لمبا،کٹھن سفر طے کرکے بالآخر غار میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

 

یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کی غار میں اسحاق کی لاش پڑی تھی،اور ایک شیر کی گرج انھیں سنائی دی۔

 

اب کیا کریں؟ چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر لاش کو سب نے باری باری غور سے دیکھا کہ کہیں یہ انھی کی لاش تو نہیں،جو اس مرتبہ گاؤں کے بجائے یہاں پہنچ گئی ہے،مگر وہ اسحاق ہی کی لاش تھی۔ انھوں نے اسحاق کا مرا ہوا چہرہ غور سے دیکھا،پھراس کا ماتم کیا،پھر اس کی لاش کو نکالا،اور اپنے قبرستان لے گئے،سب گاؤں والوں نے جنازہ پڑھا۔ قبر تیار کروائی اور دفنا دیا۔

 

اس کے بعد گاؤں میں کوئی لاش نہیں ملی۔
بشن سنگھ مرا نہیں تھا!
اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو حیرت نہیں ہوئی تھی کہ منٹو کے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘کا بشن سنگھ مرا نہیں تھا،بے ہوش ہوا تھا۔ان دیکھنے والوں کے ذہن میں پہلا سوال ہی یہ پیدا ہوا کہ جب بشن سنگھ گرا ہے تو کسی کویہ خیال کیوں نہیں آیا کہ اس کی نبض ہی دیکھ لے۔ہو سکتا ہے،چل رہی ہو۔کیا سب اس کی موت چاہتے تھے ؟ ایک پاگل سے اس قدر ڈرے ہوئے تھے ؟یا اُس کے اِس سوال سے ڈرے ہوئے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟دیکھنے والوں کو یہ سوال پریشان کیے جارہا تھا کہ سب نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ بشن سنگھ جب زمین کے اس ٹکڑے پر اوندھے منھ گراہے، جس کا کوئی نام نہیں تھا،تو وہ مر گیا تھا۔ کیا اوندھے منھ پڑا ہوا آدمی لازماً مرا ہوا ہوتا ہے؟ یہ جو ایک نئی جگہ وجود میں آئی تھی،جس کا کوئی نام نہیں تھا،وہاں کوئی آدمی زندہ نہیں رہ سکتا؟زندہ رہنے کے لیے جگہ ہی کتنی چاہیے ؟بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھاکہ کیا زندہ رہنے والوں کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ وہ مٹی کے کس ٹکڑے پر رہنا پسند کریں گے ؟کیازندہ رہنے کا حق صرف انھی کو ہے جو خاردارتاروں کے اِس طرف یا اُس طرف رہتے ہیں؟زمین پر ان دو طرفوں کے وجود میں آنے کے بعد وہ سب لوگ کیا کریں جن کے لیے زمین سب طرفوں سے بے نیاز ہوتی ہے،اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب آدمی کا ہوتا ہے، مٹی کے ٹکڑے کا نہیں؟

 

دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ بشن سنگھ کی چیخ سن کر دوڑنے والے افسر،چوں کہ تبادلے کے کام سے تھکے ہوئے تھے،کیااس لیے انھیں بشن سنگھ کی نبض دیکھنے کا خیال نہیں آیا؟تھکے ہوئے افسرموت کے سوا کچھ نہیں سوچتے؟ان تھکے ہوئے افسروں نے یہ غورکیوں نہیں کیا تھاکہ بشن سنگھ اوندھے منھ ہی کیوں گرا تھا؟ اوندھے منھ تو وہی گرتا ہے جسے دھکا دیا گیا ہو؟اگر بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھنے والے غور کرنے کی تھوڑی سی زحمت کر لیتے تو اس شخص کی تلاش ضرور کرتے،جس نے بشن سنگھ کو خاردار تاروں پر دھکا دیا تھا۔ہوسکتا ہے،دھکا کئی دن پہلے،کئی ہفتے پہلے، یا پندرہ سال پہلے دیا گیا ہو،مگر لحیم شحیم بشن سنگھ گرا،اب ہو۔ان دنوں دھکے بھی تو بہت لگ رہے تھے۔کچھ دھکا دینے والے،پل بھر میں روپوش ہوجاتے تھے،کچھ ڈھٹائی سے وہیں رہتے تھے، لیکن پروا کسی کو نہیں تھی کہ کوئی کہاں،کب،کیسے گرے،جیسے کالی سیاہ آندھی کمزور جھاڑیوں کو جڑوں سمیت اکھاڑ کر کہیں سے کہیں لا پھینکتی ہے۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کا یہ خیال بھی تھا کہ اسے پندرہ سال پہلے ہی ہوا ؤں کی تبدیلی کا احساس ہوگیا تھا،اس لیے اس نے درخت کی طرح جم کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا،اور اس فیصلے پر اس وقت بھی قائم رہا،جب غضب ناک آندھی نے اس کے کئی ساتھیوں کو خاردارتاروں کی دوسری طرف پٹخ دیا تھا۔اس نے آندھی کے مخالف رخ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسے زندہ دیکھنے والوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اتنے بڑے فیصلے کے لیے پاگل پن ہی چاہیے تھا!

 

بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کی متفقہ رائے تھی کہ اگر اس شخص کو تلاش کرلیا جاتا،اور اس کے ٹرائل کی ہمت کرلی جاتی،جس نے بشن سنگھ کودھکا دیا تھا تو خاردارتاروں کے دونوں طرف توپیں نہ گرجا کرتیں۔ایک بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھ کر،اس سے لاتعلق ہونے کی سزا کروڑوں لوگوں کواتنی کڑی نہ ملتی۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے اس بات پر کافی غور کیا کہ سرحد پر تبادلے کے افسر وں نے بشن سنگھ کی چیخ کو مدو اور پکار کیوں نہ سمجھا، آخری ہچکی ہی کیوں سمجھا؟کیا وہ افسر اس شخص کے ساتھ ملے ہوئے تھے،جس نے بشن سنگھ کو دھکا دیا تھا؟ یا تبادلے کا کام کرنے والوں میں مدد کی پکار اور موت کی چیخ میں فرق کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی؟انھوں نے یہ بھی سوچا کہ آوازوں میں فرق نہ کرسکنے کے نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں؟

 

دیکھنے والے،ایک طرف بشن سنگھ کو دیکھتے تھے،اور دوسری طرف آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ سب کا خیال تھا کہ وہ پہلا سوال یہ کرے گا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ اس نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا۔سب سوچنے لگے کہ وہ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ کہے گا،مگر وہ چپ چاپ سب کو دیکھتا رہا۔سب منتظر تھے کہ بشن سنگھ کیا کہتا ہے۔بشن سنگھ نے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا،جوپندرہ سال تک کھڑے ہونے کی وجہ سے سوج گئی تھیں،اور کئی جگہوں سے پھٹ گئی تھیں،اور ان میں گہرے زخم تھے۔اس نے پہلی مرتبہ ان میں شدید درد محسوس کیا۔اپنے سینے کو دیکھا جس پر خاردار تاروں کے زخم تھے،اور خون اب تک تازہ تھا۔اس نے اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا۔پہلی بار اسے ڈاڑھی کے بال کرخت محسوس ہوئے۔

 

دیکھنے والوں سے رہا نہیں گیا۔سب بہ یک زبان بول اٹھے۔بشن سنگھ کچھ کہو گے نہیں؟
بشن سنگھ نے سب کی طرف غور سے دیکھا۔ اس کی پہچان کا کوئی چہرہ نہیں تھا۔ دیکھنے والے سمجھ گئے کہ وہ خود کو اجنبیوں میں محسوس کررہاہے۔ ایک نوجوان بولا۔ تو ہم سب کو نہیں جانتا،ہم اپنا تعارف کروائے دیتے ہیں۔بشن سنگھ، ہمارا جنم تمھارے ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ سے ہوا ہے،جس میں تو کبھی’ لالٹین‘ ہٹا کر’ پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی در فٹے منھ‘،اور آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان ‘کا اضافہ کردیا کرتا تھا۔تو زندہ ہے،اور دیکھ ہم تیری اوپڑ دی گڑ گڑ کی اولاد ہیں،جو کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ہم بھی کسی کو سمجھ نہیں آئے،پر تو ہمیں سمجھ سکتا ہے۔دوسرے نوجوان نے کہا۔ہم تیری اس چیخ کا جواب بھی ہیں جو اس روز سورج نکلنے سے پہلے تیرے حلق سے نکلی تھی،اور جس سے فلک کا سینہ شق ہوگیا تھا،کیوں کہ تب زمین پر موجود لوگوں کے سینے پتھر ہوچکے تھے۔تیری چیخ آسمانوں میں آوارہ پھرتی تھی،اور کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھی۔تو نے اپنے بچاؤ کے لیے پوری قوت سے وہ چیخ ماری تھی، اس چیخ کو سن کر، ساٹھ سالوں سے دوڑتے ہاپنتے یہاں تک کچھ لوگ آئے ہیں،اورانھوں نے اسے اپنے سینوں میں اسے جگہ دی ہے،ہم انھی کے نقش قدم پر چلتے چلتے یہاں پہنچے ہیں؛بالآخر تیری چیخ کی جلاوطنی ختم ہوئی ہے۔تیسرا نوجوان بولا۔تو نو مینزلینڈ پر ساٹھ سالوں سے پڑا تھا۔ ہم تمھیں وہاں سے اٹھالائے ہیں۔ بشن سنگھ نے سب کی طرف مزید حیرت سے دیکھا۔

 

پہلا نوجوان بولا۔ تو،اینکس کا مطلب تو جانتا ہے ناں،نو مینز لینڈ وہ ہے،جس کا اینکس نہیں ہواتھا،نہ اس وقت ہو سکتا تھا۔اس وقت آپا دھاپی تھی۔ذراچین ملا تو جس کا اینکس نہیں ہوسکتا تھا،اس کے لیے بھی بندوقیں نکلیں۔بشن سنگھ،ہم تمھیں کیسے بتائیں یہاں ہم کیسے پہنچے۔جب تو بے ہوش ہو کر گرا تھا،اس وقت اس جگہ پر جھگڑا نہیں تھا۔اس کے بعد کوئی جگہ،ایک انچ ایسانہیں،کوئی لفظ ایسا نہیں جس پر جھگڑا نہ ہو اہو،جہاں خون نہ گرا ہو،جہاں خون گرنے کا ہر وقت امکان نہ ہو۔تو جہاں موجود ہے،اس پر بھی دونوں طرف بہت جھگڑے ہوئے ہیں۔اب جگہ کا مطلب بھی بدل گیا ہے،اب لفظ،کہانی سب جگہ ہیں،ان پر کس طرح کے جھگڑے ہیں، تو سنے تو تیرے سینے میں اس سے بڑاگھاؤ لگے،جو خاردارتاروں پر گرنے سے تجھے لگا تھا۔اب طرح طرح کی خارداریں یہاں وہاں ہیں،اور کچھ تو ایسی ہیں جو دکھائی بھی نہیں دیتی،اور گھائل روح کو کرتی ہیں۔تو کبھی یہاں کے کسی شہر میں چل پھر کے دیکھ، ہر دیوار پر چکر کھاتی خاردار تاریں ہیں۔ زمانے ہوئے،ہم جنگلوں سے آبادیوں میں آئے تھے،اب سب آبادیاں خاردار تاروں کے جنگل بن گئی ہیں،اور آنکھوں سے لے کر سانسوں میں،اور اس سے بھی آگے دلوں میں ترازو ہوتی ہیں۔

 

بشن سنگھ کی حیرت کچھ کم ہوئی،مگر سخت کرب اس کے چہرے سے عیاں تھا،اور اس کی سفید گرد آلود ڈاڑھی بھیگ گئی تھی۔

 

دوسرا نوجوان بولا۔ بشن سنگھ، ہم سب حیران تھے کہ تمھیں مر دہ سمجھنے والوں نے تیرے انتم سنسکار کابھی نہیں سوچا۔

 

تیسراا نوجوان بولا۔اچھا کیانہیں سوچا، ایک جیتے جاگتے آدمی کو چتا میں ڈال دیتے،اور پھر جھگڑااس بات پر ہوتا کہ لاش کس طرف کے گوردوارہ میں لے جائیں، معلوم نہیں کوئی گوردوارے میں جانے کی اجازت بھی دیتا کہ نہیں،کوئی کیرتن کے لیے بھی ملتا کہ نہیں،پھر اس پربھی جھگڑا ہوتا کہ چتا کے لیے لکڑیاں خاردارو تاروں کے اس طرف کی ہوں،یا اس طرف کی، راکھ ٹوبہ ٹیک سنکھ کے پاس کے دریا میں بہائیں یاکہیں اور۔تم جانتے ہو،اس کے بعدجنگل،دریا، شہرسب کو ہماری طرح مذہب مل گیا۔

 

ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سن کر بشن سنگھ کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی،جیسے پوچھ رہا ہو،تم کس طرف کے ہو؟

 

پہلا نوجوان سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ ہم منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف کے ہیں۔

 

بشن سنگھ ایک مرتبہ پھر حیران ہوا۔وہ تو اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے واقف تھا، یہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں سے آگیا۔ دوسرے نوجوان نے اس کی حیرانی دیکھتے ہوئے کہا،بشن سنگھ، تیرے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تو تجھے نکال دیا تھا، منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تمھیں اپنے دل میں جگہ دی۔بشن سنگھ نے دیدے پھاڑ کر دیکھا۔ تیسرا نوجوان اس کی مشکل سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ،تو جس جگہ گرا تھا، وہ کسی کی نہیں تھی،منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اسی خاک کے ٹکڑے سے اگا تھا۔تجھ سے زیادہ کس کو معلوم ہوگا کہ خاک کا وہ ٹکڑا،اسی دھرتی کا حصہ تھا،مگر خاردار تاروں کے بعد اس ٹکڑے کی حالت اس عفریت کی سی ہوگئی تھی،جس کے خون کاقطرہ زمین پر گرتا تھا تو اس سے نئے عفریت جنم لیتے تھے۔خاک کے عفریت بننے کی کہانی پرانوں زمانوں کی کتابوں میں کہیں نہیں ملتی،صرف منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ملتی ہے،جہاں تجھے ٹھکانہ ملاہے۔منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تم دونوں نئے زمانے کی سب سے بڑی اسطورہ ہو۔دوسرے نوجوان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے،بشن سنگھ کی پنڈلی کو چھوا، جس سے پیپ رِس رہی تھی،جس طرح خون پیپ میں بدل کر تکلیف اور گھن پیدا کرتا ہے،ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ہمیں اجنبی نہ سمجھ بشن سنگھ! تو حیران ہے،مگر ذراسوچ اگر منٹو تجھے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جگہ نہ دیتا تو کسی کو پتا ہی نہ چلتاکہ کوئی بشن سنگھ تھا،اور اس کا ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ تھاجہاں اس کی زمینیں تھیں،اور جہاں اس کی بیٹی روپ کور اور اس کا دوست فضل دین رہتا تھا،اور جو اسے تبادلے سے کچھ دن پہلے ملنے آیا تھا۔تجھے منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہ ملتا توہوسکتا ہے تو بھوت بن جاتا،اور تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے راکھشس جنم لیتے،ہم نہیں۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تجھے بچا لیا اور تجھے ابدی ٹھکانہ بھی مل گیا۔ اس نے آنکھیں جھپکیں۔ جیسے پوچھ رہا ہو، میں اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو چھوڑ کر کسی اور کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کیسے رہ سکتا ہوں، جیسے کَہ رہا ہو، میں یہاں سے نکلنا چاہتاہوں۔پہلا نوجوان اس کا سوال سمجھ گیا۔ بولا۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں،تیرا ابدی ٹھکانہ یہی ہے۔لیکن یہ سن کرتیراکلیجہ منھ کو آئے گا کہ تیرے اس ٹھکانے کو بھی لوگوں نے نہیں بخشا۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اینکس کی کوشش،اِدھر اور اُدھر کے پڑھے لکھے لوگوں نے کی،اور ایک اور طرح کے،تیرے تبادلے کامنصوبہ بنایا؛اس منصوبے میں نومینز لینڈ ہے ہی نہیں۔تیری طرح منٹو غریب کو بھی اسی سرحد پر لے گئے،اور اس کے تبادلے پر لمبی چوڑی بحثیں کیں،شکر ہے کچھ سمجھ دار لوگ بیچ میں آگئے،اور انھوں نے منٹو کو اِدھر یا اُدھر گھسیٹنے کی مزاحمت کی،اور ان کی کوششوں کوتیری زبان میں در فٹے منھ کہا۔

 

بشن سنگھ نے ان تینوں کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا،جیسے کَہ رہا ہومجھ سے تو پہلی مصیبت نہیں جھیلی جاتی،اور تم نئی مصیبتوں کے بیان سے میراسینہ چھلنی کیے دیتے ہو۔ دوسر ا نوجوان بولا۔دیکھو،بشن سنگھ،ہم سب اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جب ایک دفعہ نکل جاتے ہیں تو واپس نہیں جاسکتے،اور جس نئے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جابستے ہیں،وہاں سے نکل نہیں سکتے،اور ہر کسی کو نیا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہیں ملتا۔کتنے ہی لوگ ہیں جو صرف مارے مارے پھرتے ہیں۔وہ بالآخر بھوت بن جاتے ہیں،اور انسانوں کی دنیا سے ہمیشہ کے لیے نکل جاتے ہیں۔تمھیں تونیا ٹوبہ ٹیک سنگھ مل گیا،توامر ہوگیا،ہم جیسے کتنے ہی تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے جنمے،اور جنم لیتے رہیں گے،مگر انھیں نہ تو اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ ملے گا،نہ کسی منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ۔

 

بشن سنگھ کی ڈاڑھی بھیگ گئی۔ پہلے نوجوان نے اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا،اوران میں تیرتی نمی کا مفہوم سمجھا،اور بولا۔میں سمجھ گیا بشن سنگھ،تو اس لیے دکھی ہے کہ تو امر تو ہوگیا،لیکن اپنی سوجی ٹانگوں اوردھکا لگتے سمے،سینے میں لگنے والے زخموں کے ساتھ۔ بشن سنگھ،ابدی زندگی خود ایک سزاہے،لیکن سوجی ٹانگوں اور رستے زخموں کے ساتھ امر ہونا، سزاے عظیم ہے،اور یہ دونوں سزائیں ہم تیرے ساتھ چار پشتوں سے بھگت رہے ہیں!!
کھنڈر کی تختی
اس کھنڈر سے وقتاً فوقتاً کئی چیزیں برآمد ہوتی رہتی تھیں۔ ہڈیاں،سکے،ظروف، تختیاں،ہتھیار اورمورتیاں۔ان سب کو عجائب گھر بھجوا دیا جاتا۔کچھ کو دساور بھی چوری چھپے بیچ دیا جاتااور کچھ کو نئے وولتیے بھاری رقم کے عوض خرید لیتے۔جب کوئی نئی چیز برآمد ہوتی،اور وہ چوری چھپے بیچنے سے بچ رہتی تو اس کی خبراخبار میں چھپ جاتی۔رفتہ رفتہ عجائب گھر میں ایک پورا بڑا کمرہ اس کھنڈر کی نایاب اشیا سے بھر گیا تھا۔ عجائب گھر کی انتظامیہ نے نوٹ کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ سیاح اسی کمرے کو دیکھنے آتے ہیں۔ باقی حصوں کو سرسری دیکھتے ہیں،مگر اسے زیادہ دل چسپی اور حیرت سے دیکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ چھ ماہ گزرگئے،کوئی نئی چیز اس کولیکشن میں شامل نہ ہوئی تو عجائب گھر کی انتظامیہ نے آمدنی میں خاصی کمی محسوس کی۔ اگلے ہفتے اخبارات میں ایک بڑی خبر شایع ہوئی۔ اسی کھنڈر سے ایک تختی برآمد ہوئی ہے،جس پرلکھی گئی عبارت کا کچھ حصہ پڑھ لیا گیا ہے، اور اس کا ترجمہ تختی کے نیچے درج کردیا گیا ہے۔یہ واقعی ایک بڑی خبر تھی۔ یہ پہلی تختی تھی،جس کی عبارت کو پڑھنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں عجائب گھرکی ہزاروں ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔ کچھ مہینوں بعد اخبارات میں یہ خبر شایع ہوتی کہ عبارت کی چند سطریں اور پڑھ لی گئی ہیں۔ یہ دیکھا گیا کہ اب لوگوں کو عجائب گھر کی اشیا سے زیادہ اس عبارت سے دل چسپی پیدا ہوگئی ہے۔عجائب گھر میں آنے والوں کی بڑی تعداد اس چبوترے کے گرد اکٹھی ہوتی ہے جہاں وہ تختی رکھی گئی ہے۔کبھی کبھی دھکم پیل بھی دیکھی جاتی،اور عجائب گھر کے گارڈ کو بلانا پڑتا۔ ڈر تھا کہ کہیں وہ تختی ٹوٹ نہ جائے۔

 

اس تختی کی پوری عبارت کو پڑھنے میں ماہرین کو تقریباً پانچ سال لگے۔ ان پانچ سالوں میں عجائب گھر کی آمدنی اس قدر بڑھی کہ ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں،اور وہاں اس کھنڈر کی اشیا کے حقیقی نظر آنے والے ریپلیکا رکھے گئے۔ ان شاخوں میں اس تختی کی نقل مطابق اصل رکھی گئی،اور جیسے جیسے اس کی عبارت کو پڑھا جاتا رہا، وہاں بھی درج کیا جاتا رہا۔

 

جن اخبارات میں اس کھنڈر کی اشیا سے متعلق خبریں شایع ہوتی تھیں،انھی میں سے کچھ بالکل نئی خبریں بھی شایع ہونے لگیں۔یہ خبریں ان بحثوں کا نتیجہ تھیں،جو اس تختی کی عبارت کے بارے میں لوگوں کے مابین ہوتی تھیں۔ شروع شروع میں صرف لفظی جھگڑے ہوا کرتے تھے، بعد میں ہاتھا پائی کی خبریں آنے لگیں۔ پھر قتل و غارت کی۔

 

اس تختی پر جو کچھ لکھا ہوا ہے،وہ سچ ہورہا ہے۔اس تختی کی پانچویں سطر میں لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا،جب لوگ روٹی، عورت، روپے کی خاطر نہیں، اپنی بات منوانے کی خاطر قتل کیا کریں گے،اور بات منوانے والوں کے کئی فرقے بن جائیں گے۔ آج یہ سچ ہورہا ہے۔ اس سے زیادہ ہماری دریافت کردہ تختی کی سچائی کا ثبوت کیا ہوسکتا ہے ؟عجائب گھر کے کیوریٹر نے اخبارات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔

 

کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کی لوح مقدس کو پڑھنے والے کون لوگ ہیں، ان کا اتا پتا؟ ایک رپورٹر نے سوال کیا۔

 

وہ آثاریات اور لسانیات کے ماہرین ہیں،جن کے نام ایک خاص حکمت سے صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں۔ کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

کیا ہم اس حکمت کے بارے میں جان سکتے ہیں؟ دوسرے رپورٹر نے سوال داغا۔
اگر آپ کو دعویٰ ہے کہ ہم عبارت کا غلط مفہوم بتارہے ہیں تو آپ خود اس عبارت کو پڑ ھ لیں۔کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

اس وضاحت کے بعد کچھ دیر خاموشی رہی۔

 

اس تختی کے عجائب گھر میں آنے سے آپ کا بزنس اور جھگڑے ایک ساتھ بڑھے ہیں۔اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ ایک اور اخبار کے رپورٹر نے پوچھا۔

 

تھینک یو ویری مچ۔ یہ کہہ کر کیوریٹر نے بریفنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

 

پانچ سال بعد۔

 

انھی اخبارت میں یہ خبر چھپی کہ اس کھنڈر سے جو تختیاں برآمد ہوئی تھیں، ان پر سرے سے کچھ لکھا ہو اہی نہیں تھا۔ جس تختی کی عبارت نے پانچ سال تک ایک ہیجان برپا کیے رکھا،وہ کسی اور کھنڈر سے لائی گئی تھی!
شر پسند
شہر میں لوگوں کی اموات بڑھتی جارہی تھیں۔ حاکم شہر کو ان اموات سے پریشانی نہیں تھی۔اسے اپنے ایک مشیر کی اس بات سے اطمینا ن رہتا کہ جو دنیا میں آیا ہے، اس نے دنیا سے جانا ہی ہے،وہ آج جائے یا کل۔جنگ میں مرے یاکسی بیماری سے، حادثے میں جاں بحق ہو یابڑھاپے کی نذ رہو یا اس کی حکم عدولی کے نتیجے میں جان سے جائے،کیا فرق پڑتا ہے۔ حاکم شہر نے کچھ دنوں سے ایک تبدیلی محسوس کی،جس سے اس کے اطمینان میں خلل پڑا۔پہلے لوگ مرتے تھے تو لوگ دوچار دن سوگ مناتے اور پھر معمول کی زندگی شروع کردیتے تھے، مگر اب وہ سوگ کم مناتے تھے،اور باتیں زیادہ کرتے تھے۔کچھ باتیں بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچیں۔ان میں ایک بات یہ تھی کہ جنگ،حادثے،بیماری اور بادشاہ کے حکم سے لوگوں کے مرنے سے فرق پڑتا ہے،مرنے والے کو بھی اور مرنے والے کے لوحقین کو بھی۔ بادشاہ نے یہ بھی سنا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بادشاہ کے قلم کی سیاہی، تقدیر کے قلم کی سیاہی سے مختلف ہے۔ یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہوا،اور ا س نے سب سے پہلے اس شخص کی موت کے پروانے پر دستخط کیے، جس نے بادشاہ تک یہ بات پہنچائی تھی۔ غصے میں بادشاہ کو یاد ہی نہیں رہا کہ جس شخص نے یہ بات بادشاہ تک پہنچائی تھی، وہ اس کا مشیر اورہونے والا داماد تھا۔ جوں ہی اس کی موت کے حکم کی خبر ملکہ تک پہنچی،اس نے بیٹی کے سر کے ہونے والے سائیں کی زندگی کی فریاد کی،اور بادشاہ کو اپنا حکم بدلنا پڑا۔ بادشاہ پہلی مرتبہ تھوڑا سا ڈرا،اور اس نے لوگوں کی موت کے پروانوں پر دست خط سے پہلے کچھ غیبی اشارے سمجھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے سونے کا ایک سکہ لیا،اس کے ایک طرف اپنی مہر کھدوائی،اور دوسری طرف فرشتہ غیبی کی تصویر۔ موت کا فیصلہ کرنے سے پہلے وہ سکہ اچھالتا۔اگر فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آتا تو موت کے حکم نامے پر دست خط کردیتا، ورنہ اپنا فیصلہ مؤخر کردیتا۔ اگلے دن پھر یہی عمل دہراتا۔اگلے چند دنوں میں واقعی فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آجاتا۔بادشاہ خوش تھا کہ وہ تقدیر کے فیصلے کا انتظار اور پابندی کرتا تھا۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ لوگوں کی زبانیں اور چلنے لگی تھیں۔ جیسے جیسے اموات بڑھتی جارہی تھیں، لوگوں کی باتوں میں پہلے دبی دبی شکایت ظاہر ہوئی، پھر ہلکا ہلکا طنزاور غصہ، بعد میں کچھ کچھ احتجاج،اور کچھ عرصہ بعد لوگ بغاوت کرتے ہوئے سڑکوں پرنکلنے لگے۔

 

بادشاہ نے اپنے خاص مشیروں وزیروں کی مجلس بلائی۔ سب سے مشورہ مانگا کہ لوگوں کے احتجاج کو کیسے روکا جائے۔

 

لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کی جائے۔جو خلاف ورزی کریں انھیں گولیوں سے بھون ڈالا جائے۔ ایک مشیر نے رائے دی۔

 

جاسوسوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ بہتر ہوگا ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا جاسوس بنادیا جائے۔سب ایک دوسرے سے ڈرنے لگیں گے۔ دوسرا مشیر بولا۔

 

کچھ خاص لفظ چن لیے جائیں،جیسے حق، ذمہ داری، اختیار،مانگنا، چھیننا، بغاوت،احتجاج جوں ہی کسی شخص کی زبان سے نکلیں،اسے تختہ دار پرشہر کے عین چوک میں کھینچا جائے۔ تیسرے مشیر نے تائید کی۔

 

بادشاہ کو آخری تجویز آدھی پسند آئی۔ باتوں کا جواب باتوں ہی سے دینا عقل مندی ہے۔یہ کہتے ہوئے بادشاہ نے کچھ دیر توقف کیا،اور پھر مجلس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

 

پانچ دنوں بعدشہر میں اپنی طرز کا انوکھا واقعہ ہوا۔ شہر کی سب سے بڑی عباد ت گاہ میں بادشاہ کی سپاہ کے لوگوں نے گھس کر درجنوں لوگوں کو عین اس وقت تہ تیغ کیا،جب وہ عبادت میں مصروف تھے۔جوں ہی یہ واقعہ ہوا، اس کے فوراً بعد بادشاہ کے حکم سے شہر کے ہر چوک چوراہے میں نوبت بجنے لگی،اور بادشاہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جانے لگا کہ شہر کی سب سے بڑی عبادت گاہ میں دشمن ملک کے شرپسند گھس آئے تھے،جن کا صفایا کردیا گیا ہے،اور شہر کو ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچالیا گیا۔اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ شرپسند اگر عبادت گاہوں، گھروں یہاں تک کہ غاروں میں بھی چھپے ہوں گے تو ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔
یہ سنتے ہی پورا شہر بادشاہ کے محل کی طرف امڈ پڑا۔ تھوڑی دیر بعد دوراندیش اور رعایا پرور بادشاہ کے حق میں نعرے گونج رہے تھے۔

 

اس کے بعد شہر میں لوگوں کی اموات پہلے سے بھی بڑھیں، مگر رعایا کی طرف سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس سے بادشاہ کے اطمینان میں خلل ہوتا!!

Image: Dariusz Labuzek

Categories
فکشن

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟

“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کردو”۔
وہ کئی مہینوں سے دعا کروانے آرہی تھی۔مولوی صاحب کبھی مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوتے،کبھی مسجد سے ملحق اپنے گھر میں۔وہ عموماً عصر کے بعد آتی۔اور لوگ بھی دعاتعویذ کی خاطر موجود ہوتے۔ زیادہ تر بیمار بچوں کی مائیں ہوتیں۔ری ری کرنے والے سال دو سال کے بچوں کے لیے مولوی صاحب کا دم کیا ہوا دھاگہ گاؤں بھر میں مشہور ومقبول تھا۔ماؤں کو یقین تھا کہ جوں ہی دھاگہ بچے کے گلے میں ڈالاجائے گا، بچہ چپ کرجائے گا۔کچھ عورتوں کو وہم ہوتا کہ ان کے بچوں کے سر بڑھ رہے ہیں،مولوی صاحب کدو دم کردیتے تھے،جیسے جیسے کدو خشک ہوتا،مائیں یقین کرنے لگتیں کہ بچے کے سرکا بڑھنا رک گیا ہے۔ادھر بچوں کے سر بڑھنا رکتے،ادھر مولوی صاحب کے پاس بچوں کی ماؤں کی تعداد بڑھتی۔ہر بچے کی ماں اس وہم میں بھی مبتلا ہوتی کہ اس کے بچے کو ’نظر‘ لگ گئی ہے،ا س لیے اس نے چلنا شروع نہیں کیا،اماں اباسے آگے کوئی لفظ نہیں بول رہا، بے وجہ رات رات بھرروتا ہے،اکثر بیمار رہتا ہے۔ مولوی صاحب بچے کو دم رکھتے،یا تعویذ دیتے۔ گاؤں کی عورتیں، بچوں کے لیے اتنا ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتی تھیں،جتنا مولوی صاحب کے پاس آتی تھیں۔گاؤں میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا،جس میں مولوی صاحب کا کوئی نہ کوئی عقیدت مند موجود نہ ہو۔عورتیں لڑائی جھگڑوں،پیسوں کی چوری،بیماری وغیرہ کا حساب کروانے بھی آتیں۔کبھی تو ایک ہی گھر سے پہلے ساس تعویذ لے جاتی،جسے یقین ہوتا کہ اس کے بیٹے اور خاوند پر جادو کیا گیا ہے،اور کچھ دیر بعد بہو آتی،جو اس بات سے پریشان ہوتی کہ کسی نے اس کے شوہر پر جادو کیا ہے۔گھر میں جن بھوت کا شک ہے تو مولوی صاحب سے رجوع کیاجاتا۔مولوی صاحب سب کی خیر مانگتے۔

 

گاؤں کے ڈاکٹر کے برعکس مولوی صاحب کی فیس مقرر نہیں تھی،مگر کچھ نہ کچھ دینالازم تھا۔مولوی صاحب کا خیال تھا کہ اگر ڈاکٹر اپنے علم کا معاوضہ لے کربھی انسانیت کی خدمت کرنے والا کہلا سکتا ہے تووہ کیوں نہیں۔اس کے پاس بھی تو علم ہے،جس سے لوگوں کو شفا ملتی ہے،اوران کی مشکلات دور ہوتی ہیں۔ دو ایک مرتبہ تو دو ایک مریضوں کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا،وہ مولوی صاحب کے تعویذ سے ٹھیک ہوگئے۔ اس سے مولوی صاحب کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ ہوا۔مولوی صاحب اکثر ڈاکٹر سے اپنا موازنہ کرتے رہتے تھے،اور دل ہی دل میں اس بات کا حساب لگایاکرتے تھے کہ ایک دن میں ان کے پاس کتنے لوگ آئے،اور ڈاکٹر کے پاس کتنے۔کچھ کچھ پیسوں کا حساب بھی لگالیتے۔مگر یہ سب سوچتے ہوئے،وہ پورے خلوص سے شکر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کلام کا علم دیا،جس میں ہر ایک کے لیے شفا ہے۔کبھی کبھی وہ اپنے مدرسے کے استاد حافظ شریف کو بھی یاد کرلیا کرتے،جنھوں نے پیار، ڈانٹ، سزا،شاباش سے انھیں اس قابل بنایا۔

 

وہ جب بھی آتی،کچھ نہ کچھ لے آتی۔حالاں کہ خودوہ مانگ کر لاتی تھی۔شروع میں اس نے مولوی صاحب کو آٹا، چاول،گندم، دالیں،روٹی بھی لاکر دی،مگر تیسری چوتھی مرتبہ مولوی صاحب نے سخت ناراضی کے بعد منع کردیا کہ وہ کم ازکم اس سے یہ چیزیں قبول نہیں کریں گے۔ وہ سمجھ گئی۔مولوی صاحب کمائی ہوئی چیز چاہتے تھے، مانگی ہوئی نہیں۔ اب وہ کبھی دو روپے،کبھی تین روپے،کبھی ایک روپیہ لاتی۔وہ اور مولوی صاحب دونوں جانتے تھے کہ روپیہ ایسی چیز ہے،جس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ مانگ کر لایا گیا ہے،کماکر، چرا کر،یا چھین کر۔جس کے پاس ہے،اسی کا ہے۔

 

اس میں جھجھک، ڈر، انکسار،ادب جمع ہوگئے تھے،جن کا اظہار اس کی التجا میں ہوتا۔اس کے جملے کے لفطوں سے زیادہ،وہ منکسر، ڈرا ڈرا، مؤد ب لہجہ متاثر کن تھا، جسے اس کی گوت کے لوگوں نے صدیوں قرنوں کی ’تپسیا‘ سے حاصل کیا تھا۔آج بھی عصر کے بعد وہ آئی تھی،اور باقی سب عورتوں سے الگ،دور بیٹھک کے ایک کونے میں فرش پر بیٹھ گئی۔سب سے آخر میں،اذان ِ مغرب سے ذرا پہلے، اس کی باری آئی۔وہ گھسٹتے ہوئے،مولوی صاحب تک پہنچی۔ اس نے اپنا مخصوص جملہ دہرایا،اور ایک میلا،مڑا تڑا پانچ کا نوٹ مولوی صاحب کے قدموں میں نہایت ادب سے رکھا،جو اپنی مخصوص چٹائی پر اپنے گھر کی بیٹھک میں بیٹھے تھے۔عموماً مولوی صاحب دعا کردیا کرتے تھے،اور اور کبھی کبھی پانی، دودھ،شربت وغیرہ بھی دم کردیا کرتے تھے۔لیکن آج وہ اس کی التجا سنتے ہی چڑ گئے۔وہ کئی مہینوں سے خود پر ضبط کیے ہوئے تھے۔اسے دیکھ کرانھیں گاؤں کے ڈاکٹر کا خیال آیا کرتا تھا،جس کے پاس ایک مریض چھ ماہ پڑا رہا،مگر ٹھیک نہ ہوا۔ایک دن ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ اس کے پاس مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے۔ وہ مریض کے لواحقین پر برس پڑا۔مریض خاک ٹھیک ہوگا،اگراسے ٹھیک دوا ہی نہ دی جائے گی۔لے جاؤ اسے گھر۔مولوی صاحب کو آج بھی یہ خیال آیااور ان کا ضبط ختم ہوگیا۔

 

“تم کیسی عورت ہو، داکدار کے پاس بھی جاتی ہو،اور اللہ میاں کے پاس بھی آتی ہو”؟
“مولبی صاحب۔۔۔۔”عورت لاجواب سی ہوگئی،اور خود کو کسی نامعلوم طاقت کے آگے بے بس محسوس کیا۔

 

“دیکھو،تم ابھی ایک فیصلہ کرو۔تمھیں اللہ پر یقین ہے،یا داکدار پر؟اگر اللہ کو وحدہ لاشریک مانتی ہو تو کسی اور کی مدد مت مانگو۔۔۔جانتی ہو شرک کیا ہوتاہے”؟

 

(خاموشی کا ایک جان لیوا وقفہ)۔عورت کے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔

 

“شرک یہ ہے کہ خدا کو زبان سے، دل سے، ذہن سے،ہر عمل سے وحدہ لاشریک مانو”۔مولوی صاحب نے باقی بیٹھی عورتوں اور دو ایک لڑکوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
“جی “۔اس نے صدق دل سے کہا۔

 

“شرک گناہ ِ کبیرہ ہے۔ جاؤ پہلے توبہ استغفار کرو۔پھر آج کے بعد کسی حکیم،کسی داکدار کا خیال بھی نہ لاؤ،اپنی اس بے مغز کھوپڑی میں”۔مولوی صاحب نے براہ راست اسے مخاطب کیا۔

 

“جی”۔۔۔۔۔وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے لگی تو مولوی صاحب کی آواز پھر گونجی۔

 

“تمھیں معلوم ہے، تمھارے سارے بیٹے معذور کیوں ہیں”؟اچانک مولوی صاحب نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔

 

اسے کچھ اور معلوم نہیں تھا۔صرف یہ معلوم تھا کہ وہ چار معذور،لاچاربیٹوں کی ماں ہے،جن کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔انھیں مسلسل بخار رہتا اور ہر وقت کھانستے رہتے۔اسے ان کا پیٹ بھرناہوتا، اور پیٹ کے راستے سے بننے والی غلاظتوں کو بھی صاف کرنا ہوتا۔صبح شام گولیاں ان کے منھ میں ٹھونسنی ہوتیں۔ہر دوسرے تیسرے روز مولوی صاحب سے کچھ نہ کچھ دم کروا کے لانا ہوتا۔ باقی سارا دن وہ گھر گھرجاتی، سر پر چھکو(چھابڑی) رکھے، کاندھے سے جھولا لٹکائے،ہاتھ میں ایک چھڑی لیے۔رات کو بیٹھ کر وہ بچوں کے لیے رنگین کاغذوں سے توتیاں(بچوں کی نفیری) اور بھنبھیریاں بناتی،جنھیں صبح اپنے چھکو میں ڈال لیتی۔غبارے وہ دکان سے خرید لاتی۔ہر گھر کے دروازے پردوتین مرتبہ چھڑی مارتی،جیسے اطلا ع دینے کے لیے کوئی کھنکھارتا ہے، پھر بے کھٹکے گھرمیں داخل ہوجاتی۔ بچے اسے دیکھتے ہی دوڑے دوڑے آتے۔توتیوں اور بھنبھیریوں کے بدلے جو کچھ ملتا،اسے جھولے میں ڈالتی۔کئی مرتبہ دھتکاری جاتی،مگر وہ اس کی عادی تھی،اور اسے اپنے پیشے کا لازمی حصہ سمجھ کر اس نے قبول کیا ہوا تھا،تاہم کبھی کبھی جب اسے کوئی دھتکار کے ساتھ دھکا دیتا،یا اچانک کوئی راہ چلتے اس سے لپٹ جاتا،اور خوشی خوشی اعلان کرتا کہ اب اس کی پھل بہری ختم ہوجائے گی،تو اس کے دل پر چوٹ لگتی تھی،اور اس کا جی چاہتا کہ وہ اونچی آواز میں موٹی موٹی گالیاں دے،جس طرح اس کا شوہر اسے دیاکرتا تھا جب شام کو گھر پہنچتی تو اس کے جھولے،چھکو اور ہاتھوں میں بچا ہوا سالن روٹی،خشک آٹا، دال،چاول گندم یا روپے،چونی اٹھنی ہوتی۔

 

اس کا خاوند چوتھے بیٹے کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعدمرگیا تھا۔ہیروئن کانشہ کرتا تھااور موقع بے موقع اسے پیٹتا تھا۔سارے دن کی کمائی چھین لیتا تھا،اوراسے اور بیٹوں کوننگی گالیاں دیتا تھا۔اسے ڈھڈو،چھنال،بدکار اور بیٹوں کوحرامی کہتا تھا۔آج کس کس یار کے ساتھ سوئی ہو؟روزانہ اس کا سواگت اس جملے سے ہواکرتا۔اس کا اپنے بارے میں علم بس یہیں تک محدود تھا۔آٹھ سوکھی ٹانگیں،اور ہر وقت کسی امید میں بھٹکتی مگر بجھی آٹھ آنکھیں اس کی دنیا تھیں؛وہ اس دنیا سے باہر کچھ نہیں دیکھ پاتی تھی۔اسے یہ خیال بھی کبھی نہیں آیا کہ اس کے علم سے باہر بھی کوئی دنیا ہے۔اسے اگر کوئی خیال آتا تھا تو یہ تھا کہ کہیں،کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جو آٹھ سوکھی ٹانگوں کو ہر ا کر سکتی ہے۔یہ خیال اس کا سب سے بڑا آسراتھا،لیکن ساتھ ہی اس کی ایک پریشانی کا باعث بھی تھا۔ وہ اکثر اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اتنا زمانہ گزرگیا،اسے وہ ہستی کیوں نہیں ملی۔مگر ابھی مولوی صاحب کے سوال سے اس کی ڈھارس بندھی۔اسے لگا کہ اس کی پریشانی دور ہونے والی ہے۔اس نے پہلی بار نہایت غور سے مولوی صاحب کے چہرے کو دیکھا۔سفید چمک دار،ترشی ہوئی لمبوتری داڑھی،سانولا مگر روشن چہرہ، چوڑی پیشانی پر محراب،جھکی ہوئی آنکھیں۔

 

“اللہ کی بندی،تم میری بات سن رہی ہو”؟مولوی صاحب گرجے۔
“جی۔۔۔۔جی سن رہی ہوں”۔وہ سہم گئی،اور پوری طرح متوجہ ہوگئی۔

 

“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔

 

اسے اپنے گناہ گار ہونے میں ذرا شک نہیں تھا،یوں بھی اس کا شوہر اپنے جیتے جی ہر شام اسے گناہ گارثابت کیا کرتا تھا،مگر اسے ذرا سی حیرت ہوئی۔اسے کسی بات میں شک نہیں تھا۔

 

اس میں کیا شک تھا کہ وہ کوئی چالیس سال ہوئے، ایک مصلی،چوہڑے کے گھر پیدا ہوئی؛ایک مصلی سے اس کی شادی ہوئی، اس کے باپ نے بدلے میں پانچ ہزار روپیہ نقد لیا تھا؛ شادی سے پہلے کئی لڑکوں نے راہ چلتے ہوئے، سنسان گلی میں اس کی چھاتیوں کو ٹٹولا تھا،کچھ نے تو نیفے میں بھی ہاتھ ڈال کر ایک نازک مقام پر چٹکی بھر لی تھی،اور وہ سی کرکے رہ جاتی تھی اور تین لڑکوں سے وہ خود،دن،دوپہر،شام یارات کسی وقت، کسی کھیت یا کسی بیٹھک یا کسی کھولے (بغیر چھت کا کچا پرانا کمرہ) میں مل لیا کرتی تھی۔یہ سب معمول کے مطابق تھا۔یہ سب معلوم ہونے کے بعد بھی اس سے کسی نے باز پرس کی،نہ اس بات پر اسے ملامت کی۔تاہم ایک پھٹکار اس کے خاندان پر نجانے کن زمانوں سے پڑرہی تھی۔اس پھٹکار میں اس کے،اس کی ماں کے،اس کے باپ کے،اس کے شوہر کے،اس کے بچوں گناہ گار ہونے کا احساس اسی طرح شامل تھا، جس طرح اس کی جلد میں سیاہ رنگ شامل تھا۔ کبھی، رات کے کسی خاموش پہر میں جب اس کی آنکھ اچانک کھلتی تھی،اور دن میں ہونے والا کوئی واقعہ اسے یاد آتا تھا تو ایک مدھم سی لہر اس کے وجود پر چھا جاتی تھی۔جلد کی سیاہی،ایک گناہ نظرآنے لگتی تھی۔وہ گناہ کو ایک کلوانھ کی صورت سمجھتی تھی، اور اس بات سے ایک طویل سمجھوتہ تھا، جو شاید کئی نسلوں سے چلا آرہا تھا۔ اب مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ ہم سب گناہ گار ہیں تواسے ذرا سی حیرت اس بات پر ہوئی تھی مولوی صاحب خود کو کیوں گناہ گاروں میں شامل کررہے ہیں۔کیا اس لیے کہ ان کا رنگ ذراسا سیاہی مائل ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔مگر مولوی صاحب سے وہ کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرپارہی تھی۔

 

اسی دوران میں مولوی صاحب کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ مولوی صاحب نے ’جی میں شام پانچ بجے پہنچ جاؤں گا‘ کَہ کر فون بند کردیا۔ہاں تو میں کَہ رہا تھ کہ ہم سب گناہ گار ہیں۔ مگر خداے وحدہ لاشریک نے ہمیں ایک ایسے بٹن سے نوازا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔یہ بٹن ہے، توبہ استغفار، صدقہ،خیرات اور نماز روزہ، حج۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اچانک مولوی صاحب کو کسی خیال نے روک لیا۔مولوی صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔وہ ایک گٹھڑی سی نظر آرہی تھی۔آدھا سرنیلے رنگ کے میلے سے دوپٹے سے ڈھکا تھا،اور مولوی صاحب کی قدموں کی سمت جھکا ہوا تھا۔مٹیالے الجھے بال اسے وحشت ناک بنارہے تھے۔چہرہ سیا ہ تھا،اور مرجھایا ہوا تھا۔مولوی صاحب کو واقعی اس پر ترس آیا۔ اچھا اب تم جاؤ، میں دعا کیا کروں گا۔ تم ہر وقت اللہ کو یاد کرتی رہا کرو۔ وہ سب کو بخشنے والا ہے۔

 

مدت بعد اس نے اٹھتے ہوئے،اپنے گھٹنوں پر ہاتھ نہیں رکھے۔ایک نامعلوم سی طاقت کا اثر اس نے محسوس کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کرو”۔

 

“اب دعا کی کیا ضرورت ہے؟ مولوی صاحب حیران تھے کہ اس کے چاروں بچے خون تھوکتے تھوکتے، ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اب وہ کس لیے دعا کروانے آئی تھی۔

 

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس کا گلہ رندھ گیا تھا۔ آپ دعا کریں انھیں وہاں ٹانگیں جلد سے جلد نصیب ہوجائیں،اور وہ سکھی رہیں۔اسے کوئی اور بات نہیں سوجھی۔

 

یہ ․․․یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو۔ مولوی صاحب نے اپنی پگڑی درست کرتے ہوئے کہا۔پھر اچانک مولوی صاحب کو ایک خیال آیا۔کیا انھوں نے کلمہ پڑھا تھا؟میرا مطلب ہے،وہ․․․ہمارے نبی پاک ﷺکا کلمہ پڑھ لیتے تھے؟ مولوی صاحب کو یاد نہیں کہ کبھی کسی مصلی نے ان کی اقتدا میں نماز پڑھی ہو۔ انھیں کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ اگر کوئی مصلی مسجد میں داخل ہوگیا تو وہ اسے نماز کی اجازت دیں گے یا نہیں۔گاؤں کے اکثر لوگ ان لوگوں کے مذہب کے سلسلے میں شک میں مبتلا رہتے تھے۔ ایک بات کا البتہ انھیں یقین تھا کہ وہ نہ تو عیسائی ہیں،نہ ہندو،نہ سکھ۔ یہ ایک ایسی بات تھی،جس نے مصلیوں کے پانچ سات خاندانوں کو گاؤں کے لیے قابل ِقبول بنایا ہواتھا،کیوں کہ ان تین مذہبوں سے ہٹ کر وہ کسی مذہب کا تصور نہیں کرتے تھے۔ایک اوروجہ سے بھی وہ گاؤں والوں کے لیے قابل قبول تھے۔ کہیں سے غلاظت کا ڈھیر ہٹا ناہو،شادی بیاہ،موت فوت سے بچ جانے والا جھوٹاکھاناٹھکانے لگانا ہو، یا مکانوں کی تعمیر کے لیے سستے مزدوروں کی ضرورت ہوتو مصلیوں کے خاندان کے سب افراد کام کرتے تھے۔کچھ عرصے سے ان کی لڑکیوں اور عورتوں نے گاؤں کے گھروں میں جھاڑو صفائی کاکام بھی سنبھال لیا تھا،کہ اکثر عورتیں استانیاں لگ گئی تھیں۔

 

“مولبی صاحب، وہ بول نہیں سکتے تھے، سن نہیں سکتے تھے۔گنگے ڈورے تھے”۔ وہ بے حد ڈر گئی تھی۔

 

“تمھیں کلمہ آتا ہے”؟مولوی صاحب نے راست سوال پوچھا۔

 

جی۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔اس نے فر فر پڑھ دیا۔

 

یہ سنتے ہی مولوی صاحب عجیب دبدھے میں پڑ گئے۔ انھیں پریشانی لاحق ہوئی کہ کہیں اس سے کوئی توہین تو نہیں ہوگئی۔ اس نے پہلی مرتبہ ایک مصلن کی زبان سے پاک کلمہ سنا ․․․․لیکن انھیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں؟

 

“اچھا یہ بتاؤ، کبھی ان کی طرف سے کلمہ پڑھا”؟مولوی صاحب نے دریافت کیا۔

 

“ان پر کلمہ پڑھ کر پھونکتی تھی، مگر ان کی طرف سے ․․․․مجھے تو پتا ہی نہیں تھا”۔وہ منمنائی۔

 

“کیا ان کے کان میں اذان دلائی تھی”؟ مولوی صاحب نے پوچھا۔

 

“نہیں۔ میں نے موئے سلی،اپنے خاوند سے کہا بھی کہ مولبی صاحب کو بلالاؤ،بچے کے کان میں اذان دلانی ہے،مگر وہ کہتا تھا ہمارے گھر کبھی کوئی داڑھی والا آیا ہے؟ کوئی اور بھی ہمارے گھر نہیں آتا،مولبی صاحب۔ہمارا گھر ہے ہی کہاں۔اب ایک جھگی ڈالی ہے،نسلوں سے ہم کلیوں میں رہے ہیں۔میں نے بھی کلمہ چھ مہینوں میں یادکیا، ایک اللہ کی نیک بندی نے یاد کرایا،مجھے اس نے کئی تھپڑ بھی مارے،مگر میں نے سہے،اور کلمہ یاد کیا۔ اس لیے یاد کیا کہ شاید اللہ ان کی مصیبت کاٹ دے۔اللہ کے کلام میں برکت ہے”۔ اس نے سچ بول دیا۔
“جب وہ مرے ہیں،ان کی طرف سے کسی نے کلمہ پڑھا”؟

 

“میں ان کے لیے بار بار کلمہ پڑھتی تھی،پر مجھ مورکھ کو کیا پتا کہ ان کی طرف سے پڑھناہے؟ ہمیں کوئی نہیں بتاتا۔ہم میں سے کوئی مسجد،کوئی سکول نہیں جاتا،کوئی ہمیں بتانے نہیں آتا، مولبی صاحب۔ہم یہاں د ونسلوں سے رہ رہے ہیں،آپ کو پتا بھی نہیں ہوگا ہمارا گھر کہاں ہیں۔” وہ رورہی تھی۔

 

مولوی صاحب کارنگ اچانک بدل گیا۔وہ کچھ کہنے لگے،رک گئے۔ پھر غصے میں آگئے:” تم ہندو،کراڑ ہو۔ تم مسلمان ہو ہی نہیں۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے پیدا ہونے کے بعد،اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے،اور جب مرتا ہے تو ا س کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد ہوتا ہے”۔

 

“بعد میں بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا”؟ اس کی آواز میں رقت تھی۔

 

“ہوسکتاہے،ضرور ہوسکتاہے۔اگر اسے خدا اس قابل سمجھے،اوراسے توفیق دے تو”۔مولوی صاحب کا لہجہ اب بھی درشت تھا۔

 

“لیکن مولوی صاحب، میں چاہتی ہوں،آگے میرے بچڑے اپنے پاؤں پر چلیں،ان کا تاپ اتر جائے، انھیں کھگھ نہ ہو،بلغم میں خون نہ ہو،اور بولیں چالیں”۔

 

“کیا ان کا جنازہ پڑھا گیا تھا؟کس نے پڑھا یا تھا؟”

 

“جی،بہت کوشش کی،کوئی تیار نہیں ہوا۔پھرہماری برادری کا ایک بندہ آیا تھا،جو دوسرے گاؤں میں رہتا ہے،اور اس نے پکا گھر بنوایا ہواہے۔اس نے چاروں کے جنازے پڑھائے تھے”۔
“سارے کافر سیدھے جہنم میں جائیں گے”۔مولوی صاحب کا لہجہ دوٹوک تھا۔

 

“کہیں بھی جائیں، اپنے پاؤں پر چل کر جائیں۔میں تو ان کی آواز سن نہیں سکی،کوئی اور انھیں بولتا دیکھے۔مولبی صاحب،وہ ایک دن بھی نہیں چلے تھے ․․․میں ان کا گوہ موت صاف کرتی تھی۔ماں مرے کبھی کبھی دو دون گندے پڑے رہتے تھے۔سب چاہتے تھے،مرجائیں۔مولبی صاحب، پر جب مرے ہیں تو میں نے خود انھیں نہلایا تھا۔میں نے سناہے خدا سب کچھ کرسکتا ہے۔آپ مجھے کوئی تعویذ دے دیں،میں اسے پانی میں گھول کر روزانہ ان کی قبروں پر ڈال آؤں گی”۔ممتا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔

 

“تعویذ مسلمانوں کے لیے دیے جاتے ہیں”۔ مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔
“ٹھیک ہے مولبی صاحب۔ بس اتنا بتادیں،میرے بچڑے مرنے کے بعد کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں”؟ ماں ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں تھی۔

 

مولوی صاحب ایک عالم ِ حیرت میں تھے!

Image: Ali Azmat