مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔
جاوید بسام کے دو افسانے (جاوید بسام)

[divider]پرچھائی[/divider] وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا اور ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کئی دنوں سے وہ مختلف آہٹیں سن رہا تھا۔ کبھی چلنے کی سرسراہٹ سنائی دیتی کبھی کرسی گھسیٹنے کی آواز آتی اور کبھی کوئی کسی کو پکارتا۔ وہ وہاں اکیلا رہتا تھا۔ بال بچے دوسرے شہر میں تھے۔ بیوی اپنی بیمار ماں کی […]
یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )

میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔
میں، مصنف اور افسانہ (پہلا حصہ) — تالیف حیدر

افسانے کی مکاری اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اسے دام اثر میں لے پانا نہایت مشکل ہے۔
آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر

تالیف حیدر: وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔
باجے والی گلی — قسط 11

[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]
باجے والی گلی — قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]
گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور […]
نیند کے خلاف ایک بیانیہ

خالد جاوید: سے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔
دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔
نولکھی کوٹھی — پندرہویں قسط

نولکھی کوٹھی — گیارہویں قسط

بھولا گُجر شہید

سرائے

چیخوف کی گلی میں
