Laaltain

جاوید بسام کے دو افسانے (جاوید بسام)

[divider]پرچھائی[/divider] وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا اور ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کئی دنوں سے وہ مختلف آہٹیں سن رہا تھا۔ کبھی چلنے کی سرسراہٹ سنائی دیتی کبھی کرسی گھسیٹنے کی آواز آتی اور کبھی کوئی کسی کو پکارتا۔ وہ وہاں اکیلا رہتا تھا۔ بال بچے دوسرے شہر میں تھے۔ بیوی اپنی بیمار ماں کی […]

باجے والی گلی — قسط 11

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

باجے والی گلی — قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور […]

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

خالد جاوید: سے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

نولکھی کوٹھی — پندرہویں قسط

علی اکبر ناطق: زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟

نولکھی کوٹھی — گیارہویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔

بھولا گُجر شہید

ذکی نقوی: شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین ‘آوارہ گردی’ کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔

سرائے

فیصل قریشی: بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔

چیخوف کی گلی میں

جنیدالدین: اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔