Categories
فکشن

مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

موت کے قیدی کی گفتگو سے زیادہ اداس کیا چیز ہو سکتی ہے سوائے اس کی خاموشی کے۔ میں پچھلے تیس سال سے سنٹرل جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کے روزنامچے لکھنے پر مامور ہوں۔ میں پچھلے تیس سال سے ایک پل کے لئے بھی نہیں سویا کیونکہ ایسے میں بہت سی قیمتی معلومات کھوجانے کا اندیشہ تھا۔ میں سزائے موت ہو جانے سے لے کر پھندے پر جھول جانے تک کے عرصے کی سبھی جزئیات اپنے بڑے سے سیاہ رجسٹر میں لکھتا ہوں۔ اب تک بلا مبالغہ سینکڑوں موت کے قیدیوں کی آخری دنوں کی تفصیلات کا اندراج کرچکا ہوں۔ میں اتنا با برکت ہوں کہ جس قیدی کو بھی ایک دفعہ درج کرلیتا پھر کوئی بھی واقعہ اسے پھندے تک پہنچنے سے نہ بچا سکتا۔ یہاں تک کہ آج تک کسی قیدی کو دل کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا نہ ہی کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی نے ہلاک کیا تھا۔ صدر بھی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ دینے سے پہلے میرے رجسٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ میرے اس رجسٹر میں، شاہی خاندان کے افراد، فوجی جرنیلوں، باغیوں، بڑے بڑے ڈاکو، پیشہ ور قاتلوں، سیریل کلرز، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے، تفریحاً قتل کرنے والے اور سبھی طرح کے لوگوں کے آخری ایام کے حالات قلم بند ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ میں نے ان کو چیخ و پکار سے لےکر بڑ بڑاہٹ تک ہر شے لکھ رکھی ہے۔ میں نے وہ دلاسے، وہ دعائیں، وہ خواہشیں اور وہ معافی نامے سن رکھے ہیں جو قیدی رات کی تنہائی میں سبق کی طرح بار بار دہراتے ہیں۔ موت کا قیدی ایک ہی یاد کو اتنی بار دہراتا ہے کہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میں قدموں کی تعداد بھی بتا سکتا ہوں جو قیدی زندان کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے لیتے ہیں۔ کوٹھری سے لے کر پھانسی گھاٹ کا فاصلہ (جس کا حساب معین ہے) اس کو طے کرنے میں کس قیدی نے کتنی دیر لگائی میرے پاس سب درج ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کے باب لڑکھڑاہٹ میں وہ سب تفصیلات لکھی ہیں کہ قیدی جب پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو وہ کتنی بار لڑکھڑاتا ہے۔ میں قیدیوں کے آنسوؤں کے قطروں سے لے کر کپڑوں میں پیشاب خطاء ہونے تک کی گیلاہٹ کا حساب بھی بخوبی جانتا ہوں۔ دیواروں پر کندہ نام، قیدیوں کی محبوباؤں کے نام، ان کے ناجائز بچوں کی تفصیلات، ان کی آدھی ادھوری تحریریں اور پینٹنگز، ان کے خفیہ وصیت نامے اور ایسی لاکھوں چیزوں کے بارے میں میں مکمل آگاہی رکھتا ہوں۔ میں نے قیدیوں کے وہ اعترافات لکھ رکھے ہیں جو وہ پادریوں کے سامنے کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ کتنے ہی قیدیوں کو میں نے موت سے چند دن بیشتر دونوں ہاتھوں سے مشت زنی کرتے دیکھا ہے۔ اففف ان میں کچھ تو اتنے جنونی تھے کہ اگران کی ریڑھ ہڈی نہ ہوتی تو وہ اپنے دانتوں سے اپنے عضوء تناسل کو چبا جاتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنے قیدیوں نے اپنے ملنے والوں کے بعد کتنی دیر تک کوٹھری کی ٹھنڈی سلاخوں پراپنے چاہنے والوں کا لمس ڈھونڈا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی میرے علم میں ہے کہ صبح سورج کی روشنی سب سے پہلے جیل کے کس حصے پر پڑتی ہے اوراس روشنی کو اپنے وجود کے انتہائی تاریک گوشوں میں اتارنے کے لئے بعض قیدی کتنی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں۔ روشنی ہی پر کیا منحصر میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ باہر کی تازہ ہوا جیل کی جالیوں میں کس حصے میں کتنی دیر بعد قیدیوں تک پہنچتی ہے۔ میں نے قیدیوں کو پورے اشتیاق کے ساتھ باسی بدبودار کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید آپ لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں مگرایک قیدی کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس میں موجود موت کے خوف کو جانچا جا سکتا ہے۔ میں نے رات کی تاریکی میں دعاؤں کو خود کشی کرتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب قیدی “چکی” کی سزا کاٹ کر پہلی بار روشنی میں آتا ہے تو وہ ایک معصوم پاگل بچے کی طرح دکھتا ہے۔ وہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا جیلر سے بات کرتے ہوئے نہایت منافقانہ خوش اخلاقی سے کام لینے لگتا ہے۔ میرے رجسٹر میں ایک باب “رسومات” کے نام سے ہے جس میں ان تمام رسومات کا ذکر ہے جو موت کے قیدی ایجاد یا دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے دلچسپ رسم “مکالمہ” ہے۔ اس میں ایک قیدی خود کو دو، تین یا اس سے زیادہ افراد میں بدل لیتا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیے یہ محض وقت گزاری کے لئے نہیں ہوتا۔ عام طورپر قیدی یا تو اس شخص سے گفتگو کرتا ہے جسے اس نے قتل کیا ہوتا ہے یا پھر اپنے کسی قریبی عزیز دوست یا رشتہ دار سے۔ بعض اوقات وہ اپنے آپ سے بھی مکالمہ کرتا ہے لیکن اس کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا لہذا وہ جلد ہی اسے ترک کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری اہم رسم “پراسرار طاقتوں کا حصول” ہے۔ یہ رسم عام طور پر رات کی تنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ قیدی کافی دیر تک مراقبے میں رہتا ہے اور بنیادی طورپر دو طاقتوں کا حصول چاہتا ہے۔ ماضی میں واپسی یا غائب ہو جانا، کچھ قیدی اسے مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ رسم صرف غیر سنجیدہ قیدیوں ہی میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کچھ رسمیں جسموں پر نام کندوانے، راتوں کو عریاں پھرنے، کھانے میں پیشاب ملانے وغیرہ جیسی بھی میں نے تفصیل سے درج کی ہوئی ہیں۔ عموماً قیدی موت سے کئی دن پہلے اپنی کوٹھری میں ان مردہ لوگوں کی روحوں سے بات چیت کرتے ہیں جو ان سے پہلے اس کوٹھری کے مکین رہے ہوں۔ میں نے بہت بار قیدیوں سے کہا کہ مجھے بھی اس گفتگو میں شامل کرلو میں اس کی تفصیلات اپنے رجسٹر کے باب بعد از موت میں لکھنا چاہتا تھا پروہ کبھی بھی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ لوگوں کی روح سے بات کرنے کے لئے موت کا قیدی ہونا ضروری ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری بور خیس سے ملاقات ہوتی تو میں اسے بتاتا کہ قیدی کے خیالات قلمبند کرتے ہوئے اس سے کہاں کہاں چوک ہوئی، میں سارتر کو بتاتا کہ وہ باغیوں کی گفتگو بیان کرتے ہوئے کس قدر مبالغے سے کام لیتا رہا ہے۔ میں کافکا کو بتانا چاہتا تھا کہ مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کی پتلیاں کس سمت کتنی دفعہ حرکت کرتی ہیں۔ میں وکٹر ہیو گو کو یہ بات بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک موت کے قیدی کو اپنی بچپن سے جوانی تک سب یاد کرنے میں کل چودہ منٹ لگتے ہیں جنہیں چودہ صفحات میں لکھنا ناممکن ہے۔ میں مارکیز کی۔ ٹالسٹائی اور دیگر بے شمار مصنفوں کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتا ہوں پر مجھے فرصت ہی نہیں ملتی اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں خود بھی ابھی تک سیکھ رہا ہوں۔ ہر قیدی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف ضرور کرتا ہے کہ میرے اندازے غلط ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے کسی بھی قیدی کے متعلق پیشگی اندازے لگانا بند کردیئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں چھ جلاد اور چودہ جیلربدل چکے ہیں۔ تین کوٹھریوں کی از سرِ نو تعمیر ہوئی ہیں، چارکا رنگ و روغن ہوا ہے۔ پھانسی گھاٹ کے لیور کو چھ سو تیرہ مرتبہ تیل دیا گیا ہے اور پھندے کی رسی کی لمبائی میں چار دفعہ کمی بیشی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ سب لکھنا میرے فرائض میں نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی قیدی پھندے پر جھول جاتا ہے میں سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ ایسے لمحے بڑے الہامی ہوتے ہیں اگرمیں شاعر ہوتا تو ایسے ہی لمحوں میں شاعری کرتا۔ بعض اوقات جب جیلر اور جلاد سوئے ہوتے ہیں تو میں خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں اس کی ایک ایک شے کو اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ پھندے کی رسی کو چھوتے ہوئے جو کپکپی میرے وجود پر طاری ہوتے ہے میں پہروں اس کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوبار سوچا کہ اس رسی کو اپنے گلے میں ڈال کر دیکھوں مگرایک انتہائی بزدل شخص ہوں لہذا ایسا کبھی نہیں کرپایا۔

مجھے بتایا جا رہا ہے کہ نئے صدارتی احکامات کے تحت ملک بھر میں سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت میری خدمات کے پیشِ نظر چاہتی ہے کہ اب میں عمر قید کے مجرموں کا روزنامچہ لکھوں پر میں نے معذرت کرلی ہے کیونکہ میں مردہ لوگوں کا روزنامچہ نہیں لکھ سکتا۔ میں اپنا رجسٹر جیلر کے حوالے کرنا چاہتا ہوں مگراُسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک آخری دفعہ کوٹھری سے پیدل پھانسی گھاٹ تک چل کرجاؤں مگریہ فاصلہ یکایک کئی نوری سال پر محیط ہوگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگرمیں نے چلنا شروع کیا تو میں نہ نظرآنے والی بھول بلیوں میں کھو جاؤں گا اور یہ سفر کبھی طے نہیں ہوپائے گا۔ میں نے جانے کتنے برسوں کے بعد آج آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ میں خود کو پہچان نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چہرے میرے چہرے پر تھوپ دیئے گئے ہیں۔ یہ سب بہت خوفزدہ کردینے والا ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کو بغل میں دبایا اور چپکے سے تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا۔

میں ٹھیک سے یاد نہیں کرپا رہا کہ کب پہلی دفعہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب مجھے مرجانا چاہیے۔ شایدسگریٹ پیتے ہوئے یا جیل کا دروازہ کراس کرتے ہوئے یا شاید آخری بارمڑکر دیکھتے ہوئے۔ بہرحال یہ خیال پوری طرح میرے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔ جیل کے باہر سڑکوں پر لوگ ایسے سکون سے چل رہے ہیں گویا انہیں صدارتی حکم کی خبرہی نہیں۔ ان کے چہروں پر نہ ہی خوشی ہے نہ کوئی دُکھ۔ میں ان کے چہروں میں آنے والے دنوں کے قاتلوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب میری نظرایک دم کٹے کتے پر پڑی جو ایک ٹانگ سے لنگڑا کرچل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑائی کتنی زبردست ہوگی جس میں اس نے اپنی دُم کھوئی ہے۔ یہ یقیناً انا کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی یہ اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے اپنے سے طاقت ورکتے سے لڑا ہو گا۔ بلکہ اسے بقاء کی جنگ کہنا بھی شاید مناسب نہ ہو بلکہ یہ تو محض زندگی کی وحشت تھی جو موت کی خاموشی پر حملہ آور ہوئی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک پرانے سے درخت کے نیچے موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس درخت کے پاس بھی یادوں کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ ہو گا۔ وہ پریمی جوڑا جس نے اس کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے عہدو پیمان باندھے ہوں گے اور درخت کے کسی حصے پرشاید اپنے نام کندہ کئے ہوں یا وعدے کی یاداشت کے طورپر کوئی سُرخ کپڑا باندھا ہو۔ اب وہ جوڑا اس درخت کو مکمل طورپر فراموش کرچکا ہوگا۔ یا کوئی قیدی پولیس سے بھاگتے ہوئے کچھ پل کے لئے اس درخت کے پیچھے چھپا ہوگا۔ درخت ان سب یادوں کو لئے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طورپر لا علم تھا کہ اگلی خزاں کے آنے سے پہلے اسے کاٹ دیا جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم زندگی وہ یادیں جمع کرنے میں گزاردیتے ہیں جنہیں ہمارے مرنے کے بعد دوسرے لوگ دہرائیں گے۔ ہماری زندگی زندہ رہنے کی خواہش کے ایک پُر فریب بندوبست کے سوا کچھ نہ تھی۔ میرے پاس سیاہ رجسٹر میں تیس سالوں کی یادوں کے کباڑخانے کے سوا کچھ نہ تھے۔ یہ وہ یادیں تھیں جن میں میرا پنا آپ کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر دو بچے نہایت انہماک سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورایک لڑکی جو شاید ان کی والدہ ہے میرے بالمقابل بینچ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ایک زردرنگ کا کوٹ پہن رکھا ہے اورایک ٹوپی سے اپنے سراورکان چھپا رکھے ہیں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک نظرمیری طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اورپھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اس کتاب میں لکھی کہانی سے واقف ہوں بلکہ میں تمام ترکتابوں میں لکھی تمام کہانیوں سے واقف ہوں۔ مجھے وہ سارے موت کے قیدی یاد آنے لگے جو رات کی تاریکی میں سُرنگ کھود کر جیل سے فرار ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ میرے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مگراس کا دھیان اس کتاب کی طرف ہے۔ لڑکیاں فرار کی داستانوں کو ایسے انہماک سے پڑھتی ہیں گویا وہ سچی داستانیں ہوں۔ میں اس لڑکی کے پاس جاتا ہوں اوراس سے سگریٹ مانگتا ہوں۔ وہ اپنے بیگ کو کھول کر سگریٹ نکال کر مجھے دیتی ہے۔ میری انگلیاں کوٹ میں ماچس ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ لائٹر جلاتی ہے جب میں جھک کر سگریٹ سلگانے لگتا ہوں تو مجھے اس کے جسم سے سستے پرفیوم، زنگ، پسینے اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو آنے لگتی ہے۔ میرے دل میں آتا ہے کاش میں ایک لمبی سے رسی نکالوں اور اس لڑکی کو اسی درخت پر پھانسی دے دوں اور اس کے نرخرے سے ابھرنے والی گڑگڑاہٹ کی گنتی اپنے رجسٹر میں نوٹ کرلوں۔ آہستہ آہستہ شام کے سائے پھیل رہے ہیں سورج کسی بھی لمحے غروب ہونے والا ہے۔ میرے لئے یہ بڑا حیران کن ہے کہ جیل کے باہر کسی کو بھی سورج کے غروب ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن ختم ہونے والا ہے ایک اور شخص اپنے گلے میں پھندا لٹکا کر جھولنے والا ہے۔ یہ خیال مجھے غم زدہ کررہا ہے۔ مجھے وہ دس برس کا لڑکا یاد آتا ہے جو آج سے تیس سال پہلے اپنے والد کے ہمراہ جیل میں آیا تھا۔ اس کے والد پرالزام تھا کہ اس نے شہر کے تین پادریوں کو قتل کیا ہے جس کے سامنے وہ اپنے اعترافات کیا کرتا تھا۔ یہ لڑکا جو اپنے والد کو ایک پیغمبر سمجھتا تھا اس امید پر جیل میں آیا تھا کہ وہ شام کے کھانے سے قبل اپنے گھرواپس پہنچ جائے گا۔ مگراسے روک دیا گیا۔ یہاں وہ اگلے تین ماہ تک اپنے باپ کی تنہائیوں کا ساتھی بنا رہا اوراپنے باپ کے اعترافات اپنی ڈائری میں لکھتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو بتائے بغیر بہت سی دیگر معلومات بھی اس ڈائری میں لکھ لیں۔ اسے پہلا نکتہ یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔ تنہائی میں بھی، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے بھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج اس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہے جلد ہی وہ تھکا دینے والی یادوں سےپیچھا چھڑا لے گا مگرایسا نہیں ہوا۔ میں بینچ سے اٹھ کر دکان پر گیا۔ وہاں سے ایک رسی لی اور لالچی شخص سے ایک ماہ کا ایڈوانس دے کر ایک کمرہ لیا۔ میں نے ڈائری کو آگ کے شعلوں کے حوالے کیا۔ پنکھے کے ساتھ رسی باندھی۔ ایک بینچ پر چڑھ کر رسی اپنے گلے میں ڈالی۔ مگراس کے بعد کے واقعات کچھ مبہم سے ہیں۔ میں رات بھرمردوں کی چیخیں سنتا رہا میں تلاش کرتا رہا کہ ان چیخوں میں دس سالہ بچے کی چیخیں کون سی ہیں۔ مگرمیرا خیال ہے وہ ایک رونے والی بلی کی منحوس آوازیں تھیں۔

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ ویسے ان دنوں میں ایک خفیہ روزنامچہ لکھ رہا ہوں جس کی بابت میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔

Categories
فکشن

جاوید بسام کے دو افسانے (جاوید بسام)

[divider]پرچھائی[/divider]

وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا اور ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کئی دنوں سے وہ مختلف آہٹیں سن رہا تھا۔ کبھی چلنے کی سرسراہٹ سنائی دیتی کبھی کرسی گھسیٹنے کی آواز آتی اور کبھی کوئی کسی کو پکارتا۔ وہ وہاں اکیلا رہتا تھا۔ بال بچے دوسرے شہر میں تھے۔ بیوی اپنی بیمار ماں کی تیمارداری میں مصروف تھی۔ ان کی یاد ہوا کے جھونکے کی طرح چلی آتی اور وہ اداسیوں میں گھر جاتا۔ دفترسے آنے کے بعد رات گئے تک فارغ ہوتا۔ اجنبی شہر میں اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ لہذا مطالعہ کی پرانی عادت عود آئی تھی۔ وہ کتابیں خرید لاتا اور ٹانگیں میز پر ٹکائے گھنٹوں مطالعے میں غرق رہتا۔ گھر پر زیادہ تر خاموشی چھائی رہتی تھی۔ پھر وہ آہٹیں غیر محسوس طور پر اسے سنائی دینے لگی۔ پہلے پہل تو اس نے اسے اپنا وہم سمجھا۔ پھر دھیرے دھیرے یقین آنے لگا اور اب اس کا یقین اس جستجو میں لگا تھا کہ آواز کا منبع کہاں ہے۔

وہاں سب گھر ایک جیسے بنے تھے۔ پیچھے گھر میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ دونوں گھروں کے درمیان دیوار ایک ہی تھی۔ اس میں کوئی روزن یا کھڑکی نہیں تھی، لیکن اسے لگتا تھا کہ آوازیں پیچھے گھر سے آتی ہیں۔ اب جیسے ہی آواز محسوس ہوتی۔ وہ اچھل کر کھڑا ہو جاتا اور درمیانی دیوار سے کان لگا دیتا۔ آخر اس کا انہماک رنگ لایا۔ اس کی سماعت بتدریج کچھ اور آوازوں کو سننے کے قابل ہوتی گئی۔ کبھی کسی مرد کے بولنے کی آواز آتی کبھی چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی اور کوئی بچہ مچلتا۔ یہ سب سننا اس کے معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ اگرچہ وہ مطالعہ کر رہا ہوتا لیکن کان آہٹوں کے منتظر ہوتے اور جوں ہی آواز آتی وہ کتاب میز پر الٹی دھردیتا۔ حتیٰ کہ مزید کی جستجو میں چھت سے لٹکے پنکھے کو بھی بند کر دیتا کہ اس کی چرخ چو آواز میں مزاحم ہوتی تھی۔ بالآخر وہ کامیابی حاصل کرتا۔ مرد کبھی غصے میں اول فول بکتا تو اسے سنائی دیتا۔ بچہ دوائی پیتے ہوئے روتا تو وہ اس سے بھی محسوس کرتا۔

وہ سوچتا، معلوم نہیں وہ کون لوگ ہیں۔ وہ کبھی پچھلی گلی میں نہیں گیا تھا۔ اس کا تجسس عروج پر پہنچ جاتا۔ وہ ان سے ملنا چاہتا تھا مگر خفت محسوس کرتا بھلا بلاجواز کوئی کسی سے کب ملتا ہے؟ پھر اس کی شام بجائے مطالعہ کے اس مشغلے میں صرف ہونے لگی۔ اس نے میز کرسی کا رخ پچھلی دیوار کی طرف کردیا۔ جب آہٹ سنائی دیتی تو وہ اپنی نگاہیں بنا پلکیں جھپکائے دیوار پر مرکوز کر دیتا۔ بہت سا وقت گزر جاتا۔ وہ ایسے ہی بے حس و حرکت بیٹھا رہتا۔ آخرکار ایک دن اسے دوسری طرف کا گھر نظر آنے لگا۔ وہ اسے اپنے گھر جیسا ہی لگا۔ دو کمرے، کشادہ صحن، ایک گوشے میں باورچی خانہ وغیرہ۔ دوسری طرف کیاریاں جس میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ مکین بھی عام سے لوگ تھے۔ مرد غالباً کسی دفتر میں کام کرتا تھا۔ عورت اگرچہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی، لیکن جوان تھی اور اپنے لباس کی تراش خراش کا خوب خیال رکھتی تھی۔ اور بچہ تو اسے بیٹے جیسا ہی لگا۔ وہ دیکھتا مرد اخبار پڑھ رہا ہے، عورت کھانا پکاررہی ہے اور بچہ کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ پھر وہ سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ وہ یک ٹک دیوار پر نظریں جمائے یہ مناظر دیکھتا رہتا۔ وقت چیونٹی کی چال چلتا رہتا۔ دھوپ دیواروں پر سے غائب ہو جاتی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا رہتا۔ اس کی کیاری میں گلاب کے پودے پر ہمیشہ ایک ہی پھول کھلتا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہوتے رات کے اندھیرے میں ڈھل جاتے۔ وہ یونہی بیٹھا رہا تھا۔ اسے روشنی کرنا بھی یاد نہ رہتا۔ پھر کچھ دنوں سے وہ کاغذ اور پنسل لے کر خاکے بنانے لگا ۔ آڑی ترچھی لکیروں میں یکے بعد دیگرے عریاں نسوانی پیکر نمایاں ہو جاتے۔ بعد ازاں وہ انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے کوڑے دان میں ڈال دیتا۔ اسے ان کی جیتی جاگتی فلم دیکھنے میں مزا آتا تھا۔ کبھی وہ دیکھتا مرد عورت ایک دوسرے میں گم ہیں۔ بچہ چولہے کی طرف بڑھ رہا ہے وہ چیخ کر انھیں آگاہ کرتا، پھر اچانک سب کچھ غائب ہوجاتا ہے اور سپاٹ دیوار جس کا چونا جگہ جگہ سے اکھڑ رہا تھا، سامنے رہ جاتی۔ وہ سر کو دونوں ہاتھوں میں دبائے گھنٹوں شکستہ بےحس و حرکت بیٹھا رہتا۔ اگرچہ اس مشق سے اس کی سوچوں اور ذہنی خلفشار میں اضافہ ہوگیا تھا، لیکن اس کی ہموار اور سپاٹ زندگی میں تھوڑی سی ہلچل بھی پیدا ہوگئی تھی۔

ایک دن اس کی بیوی کا تار آیا۔ وہ پریشان تھی۔ اس کی بوڑھی ماں بستر مرگ پر آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اس کا اصرار تھا کہ چھٹی لے کر گھر آجائے۔ جس دن تار آیا۔ اس دن اسے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی۔ اس نے سوچا وہ لوگ شاید کہیں گئے ہوئے ہیں۔ کوشش کرنے سے دس دن کی چھٹی مل گئی۔ جانے سے پہلے اس نے سوچا اپنے پڑوسیوں سے ملنا چاہیے۔ ہمت کرکے وہ لمبی گلی میں چلتا چلا گیا۔ موڑ مڑ کر دوسری گلی بھی اپنے گلی جیسی ہی لگی۔ بس فرق چند درختوں کا تھا جو زیادہ تھے۔ وہ چلتا ہوا اس گھر تک جاپہنچی جس میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ لیکن دروازے پر لگے تالے کو دیکھ کر وہ سخت مایوس ہوا۔ وہ ٹھوڑی کھجاتے ہوئے الجھن آمیز انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ آگے ایک گھر کا دروازہ کھلا اور ایک بڑے میاں نمودار ہوئے۔ اس نے سوچا ان سے معلوم کروں، لیکن پھر خیال آیا انہیں کسی ضروری کام سے جانا پڑ گیا ہوگا۔ دس دن کی تو بات ہے واپس آ کر ملاقات کرلوں گا، ممکن ہے بیوی بھی ساتھ ہو۔ وہ واپس پلٹ گیا۔ اس سے دروازے کی اڑی ہوئی رنگت، زنگ آلود تالے اور چوکھٹ کے آگے جمی ہوئی مٹی کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔

[divider]راستہ بند ہے[/divider]

وہ گہری نیند میں ڈوبا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی ، فوراً ہی اس کی نیند ٹوٹ گئی، لیکن وہ آنکھیں بند کیے پڑا رہا ہے۔ گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے کان آوازوں کی کھوج میں لگے تھے لیکن کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تو سڑک گاڑیوں سے خالی ہوگئی ہے، پھیری والوں کے منہ پر مہریں لگ گئی ہیں اور پڑوسیوں نے جھگڑوں سے توبہ کر لی ہے یا پھر آوازوں اور کانوں کے درمیان بھاری دیواریں حائل ہو گئی ہیں۔ ایسی بےکراں خاموشی اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ اسے گزری شب یاد آئی جو کسی عذاب کی طرح اس پر مسلط رہی تھی۔ ساری رات نادیدہ ہاتھ اسے توڑتے مروڑتے رہے تھے۔ اب اس کی حالت اس نچوڑے ہوئے کپڑے جیسی ہو رہی تھی۔ جسے کوئی پھیلانا بھول گیا ہو۔ وہ انتظار کر رہا تھا کہ کوئی آواز سنائی دے تو اٹھے، لیکن سکوت کی دبیز چادر نے ہر آواز کو ڈھانپ لیا تھا۔ ” کیا میں قبر میں ہوں ؟ ” وہ بڑبڑایا۔ لیکن جب اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو انہی میلے در دیوار کے درمیان پایا جنہیں وہ مدتوں سے دیکھتا آرہا تھا۔ وہ اذیت سے مسکرایا اور اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا، لیکن نل میں پانی نہیں آرہا تھا۔ وہ برآمدے میں چلا آیا۔ نیچے سڑک سنسان پڑی تھی کوئی زی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اسے خیال آیا کہ کوئی سیاسی یا مذہبی جلوس گزرنے والا ہے۔

اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے اس نے مسرت سے ایک ہاتھ کمر پر رکھا پھر پیر اٹھاکر رقص کے انداز میں گھوما اور بڑبڑایا۔ ” آہاں۔۔۔۔ مزا آئے گا۔ ” وہ دوبارہ نیچے دیکھنے لگا۔ سیاہ سڑک سنسان پڑی تھی، حالانکہ کل تک وہ کسی چونچال ناگن کی طرح متحرک بل کھاتی نظر آتی تھی۔ اسے سڑک کے درمیان سفید لکیر اندھیری رات میں چمکتی اس روشن بدلی کی طرح لگ رہی تھی۔جس نے چاند کو چھپا لیا ہو اور جس کی مدد سے کارواں اپنی راہ ڈھونڈتے کی کوشش کرتے آئے تھے۔ اس نے اپنے اندر خوشی کا ایک بھپرا دریا بہتا محسوس کیا۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اور جسم کا رواں رواں متحرک ہو گیا، اسے یاد آیا کہ وہ مدت سے اس دن کا منتظر ہے۔ اس کی کئی نسلیں اس انتظار میں عدم سے وجود میں آنے سے پہلے ہی فنا ہو گئیں۔ وہ آرزؤں کی مضبوط بوتل میں سر پٹکتی رہیں، لیکن مسائل کی مضبوط ڈاٹ نے انہیں باہر نہ آنے دیا، لیکن آج موقع مل رہا تھا۔ وہ چاہتا تھاسڑک کے درمیان سفید لکیر پر سینہ تان کر چلے اور وہ بے شمار فرمودات جو وہ بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہے، پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے دوہرائے یعنی ” ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے “۔ ” ہم ہر فیصلہ قوم کے وسیع تر مفاد میں کریں گے۔ ” اس کے مجہول اور ناتواں جسم میں حیرت انگیز پھرتی پیدا ہوگئی۔ آج بڑے دنوں بعد اس کی تمنا کی تکمیل کا لمحہ آپہنچا تھا۔ وہ اپنی کمزوری بھول کر تیزی سے سیڑھیوں کی طرف لپکا اور ایک ساتھ کئی سیڑھیاں اترتا چلا گیا ایسا لگتا تھا، جیسے پاتال میں اتر جائے گا۔ عمارت کے دروازے پر کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھ کر وہ رک گیا۔ کیسے بے ہودہ لوگ ہیں راستہ روکے کھڑے ہیں۔

” ہٹو۔۔۔۔۔ ہٹو! ” وہ چیخا۔

وہ دونوں پلٹے تو اس نے دیکھا کہ وہ وردی پوش ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بندوقیں بھی نظر آرہی تھی۔ انھوں نے غصے سے اسے گھورا اور ڈپٹ کر ہاتھ سر پر رکھنے کا حکم صادر کیا۔ وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک وردی پوش آگے بڑھا اور اس کی تلاشی لینے لگا۔

” دیکھو! پیٹ پر ہاتھ نہ لگانا۔ ” وہ کراہا۔

دفعتاً اسے اپنی تکلیف یاد آگئی تھی۔ وردی پوش گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر اسے قمیض اوپر کرنے کا حکم ملا۔ اس نے قمیض اوپر کی تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔

وہ بولا۔ ” جناب طبیعت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ ”

” سڑک بند ہے۔ گھر میں رہو۔ ” وردی پوش بولا۔

” کیوں۔۔۔۔ سڑک کیوں بند ہے ؟ ” اس نے حیرت سے پوچھا۔

” صاحب گزرنے والے ہیں۔ ” وہ بولے۔

اس نے ڈرتے ڈرتے گردن نکال کر باہر جھانکا۔ جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر وردی پوش چوکس کھڑے تھے۔ اب اس کی سمجھ میں وجہ سکوت آئی۔ خالی سڑک دیکھ کر وہ پھر بے چین ہو گیا۔

” حضور! تھوڑی دیر کے لیے سڑک پر جانے دیں۔ جلد واپس آ جاؤں گا۔ ” وہ گھگھیایا۔

” بالکل نہیں۔۔۔۔ گھر جاؤ۔ ” انھوں نے زینے کی طرف اشارہ کیا۔

وہ اسے غصیلی نظروں سے گھور رہے تھے۔ وہ اوپر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ برابر والے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

” شیخ صاحب! درد کی گولی مل جائے گی ؟ ”

” میاں یہاں کوئی میڈیکل اسٹور نہیں کھول رکھا۔” دروازہ جھٹ سے بند ہوگیا۔

وہ سر کھجاتے ہوئے سوچنے لگا۔ لوگ اتنے چڑچڑے کیوں ہو گئے ہیں۔ پہلے تو شیخ صاحب اس کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے تھے۔ وہ پھر برآمدے میں چلا آیا، اچانک سیٹیاں بجنے لگیں اس نے نیچے جھانکا، غالبا صاحب کی سواری آپہنچی تھی، لیکن سڑک اسی طرح خالی تھی۔ وردی پوش اسے برآمدے سے ہٹنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اس کا دل چاہا نیچے کود جائے۔ یہ کیسا دن تھا ؟ کوئی سڑک پر نہیں آ سکتا تھا، کوئی اپنے برآمدے میں کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کمرے میں چلا گیا، لیکن بے چینی چیونٹیوں کی طرح اس کے بدن پر برابر رینگ رہی تھی۔ وہ اسی تگ ودو میں تھا کہ عمارت سے کیسے باہر نکلا جائے۔ آخر اسے چھت کا خیال آیا۔ سب عمارتوں کی چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ وہ مکاری سے مسکرایا۔ چھت پر قدم رکھتے ہی تیز ہوا نے اس کا استقبال کیا، لیکن چاروں کونوں پر وردی پوش بھی موجود تھے۔ انھوں نے نخوت سے اسے گھورا اور نیچے جانے کا اشارہ کیا۔ اس نے دوسری چھتوں پر نظر دوڑائی۔ وہ ہر چھت پر موجود تھے۔ آج کوئی اپنی چھت پر بھی نہیں آسکتا تھا۔ اس نے حسرت سے ان کبوتروں کو دیکھا جو منڈیروں پر آزادی سے اٹھکھیلیاں کررہے تھے اور واپس پلٹ گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا جھلاہٹ میں برابر سوچے جا رہا تھا۔ آخر اس کے ذہن میں کھٹ سے نیا خانہ کھلا۔ وہ پتلا گلیارہ جو بھنگی استعمال کرتے ہیں۔ وہ فورا نیچے آیا۔ وہ دونوں اسی طرح باہر کی طرف رخ کیے کھڑے تھے۔ وہ دبے پاؤں گلیارے میں ہولیا۔ جیسے ہی وہ راستے سے گزر کر سڑک پر پہنچا۔

دو مضبوط ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا۔

“چھوڑو چھوڑو!۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔ ” وہ چیخا۔

اس کی نظریں سڑک پر چمکتی لکیر پر جمی تھیں، لیکن کوشش کے باوجود خود کو ان سے نہ چھڑا سکا۔ اس کے بازو مضبوط گرفت میں تھے۔ اتنے میں کچھ اور وردی پوش اس کے قریب چلے آئے۔

” اوئے تو کون ہے ؟ ” کسی نے کرخت لہجے میں پوچھا۔

” میں بیمار ہوں۔ مجھے سڑک پر جانے دو۔ ” وہ تمسخر سے ہنسے۔

” سڑک تیرا علاج کرے گی ؟ ”

” ہاں آج کل سڑک پر آنے سے ہی کام بنتا ہے۔ ”

” آج تیرا سڑک پر کوئی کام نہیں، اس کی تلاشی لو۔ مجھے تو یہ خود کش بمبار لگتا ہے۔ ایک بولا۔

دوسرے نے آگے بڑھ کر قمیض اوپر کردی۔ وہاں دھنسے ہوئے استخوانی پیٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

” مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔ ” وہ ہذیانی آواز میں چیخ رہا تھا۔

ایک آہنی ہاتھ نے اس کا گلا دبا کر آواز بن کر دی۔ پھر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے گلیارے تک لے گئے اور اندر دھکیل دیا۔

Categories
فکشن

یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )

فرض کرو پانچ لوگ تمہاری جان کے در پے ہوں۔ جوتا گانٹھنے والا، ہوٹل کا بہرا، بندر کا تماشا دکھانے والا، گلی کا چوکیدار اور گھر میں کام کرنے والی ادھیڑ عمر کا شوہر۔ فرض کرو ان میں سے ایک کو قتل کرکے ہی تم اپنی جان بچا سکتے ہو تو کس کی گردن دبوچو گے؟

مشکل سوال ہے۔ اس نے کافی دیر سوچنے کے بعد اپنے دوست شہریار کو جواب دیا جو اسے کئی دنوں بعد ملنے آیا تھا—-مگر یہ غریب بے چارے میری جان کے دشمن کیوں بنیں گے؟ اس نے سوال سے جان چھڑاناچاہی۔

دشمن بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟بس ذرا سی بات، ایک لفظ، ایک خیال اور ایک یاد۔شہر یار نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
ہونہہ—-وہ سوچنے لگا۔

چلو بتاو، ان پانچوں میں سے کسے قتل کرو گے۔ شہر یار نےاسے چائے پیش کرتے ہوئے اصرار کیا۔

فرض کیا اگر مجھے کسی کی جان لینی ہی پڑی تو وہ بندرکا تماشا دکھانے والا ہوگا۔اس نے ہنستے ہوئے کہا۔اب تم پوچھو گے کہ اسے ہی کیوں؟ تو جناب اس لیے کہ مجھے بندر پسند نہیں ہیں۔ اور یہ مجھے ابھی سوچتے ہوئے یاد آیاہے۔میں یہی کوئی چار سال کا ہوں گا،جب تماشا دکھانے والے کے ایک بندر نے مجھے اس وقت زخمی کیا تھا،جب میں نے اس کی طرف ادھ کھایا کیلا بڑھایا تھا۔

تو میر اخیال ٹھیک تھا۔ شہر یار نے گہری سنجیدگی سے کہا۔

کون سا خیال ؟
بعد میں بتاتا ہوں۔صرف بندروالے ہی کو قتل کروگےیا—شہر یار نے کریدا۔

نہیں۔میں گلی کے چوکیدار کو بھی قتل کرسکتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے میری بیوی کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو روز مارتا ہے۔ کہتا ہے،میں رات کو پہرہ دیتا ہوں،کون ہے جو تمہارے پاس آتا ہے؟ تب میں نے چوکیدار کے لیے دل میں نفرت محسوس کی تھی،اوراس عورت کے لیے،جسے کبھی نہیں دیکھا، ہمدردی موجزن محسوس کی تھی۔

تم جوتے گانٹھنے والے، ہوٹل کے بہرے اور گھر میں کام کرنے والی عورت کے شوہر کو بھی قتل کرسکتے ہو۔ شہریار نے کہا۔

نہیں، میں جوتے گانٹھنے والے کو نہیں جان سے مار سکتا۔

کیوں؟

میں نے کبھی جوتے مرمت نہیں کروائے۔ لیکن،نہیں۔ ٹھہریے۔ مجھے یاد آیا۔میرے چھوٹے بھائی نے ایک بارایک پٹھان سے جوتے مرمت کروائے تھے۔ اس نے پوچھے بغیر نئے اندرونی تلوے ڈال دیے تھے اور دونوں میں پیسوں پر تکرار ہوئی تھی۔ میں نے اسے دیکھے بغیر اسے موٹی سی گالی دی تھی۔اسے بھی میں قتل کرسکتاہوں۔ اور ہوٹل کے بہرے کو قتل کرنے کا جواز ہے میرے پاس۔ اس نے ایک بار مجھے نظر انداز کرکے دوسری ٹیبل پر بیٹھی ایک خوب رو لڑکی کی بات پہلے سنی تھی اور اس لڑکی نے فاتحانہ نظر سے مجھے دیکھاتھا جس میں حقارت بھی تھی۔

اور گھر میں کام کرنے والی کے شوہرکو؟ شہر یا رنے پوچھا۔

وہ چوکیدار کی طرح بیوی پر شک تو نہیں کرتا مگر کام والی ماسی میری بیوی کو بتاتی ہے کہ ان کے پاس ایک ہی کمرہ ہے جس میں ان کی تین جوان بیٹیاں اورایک بیٹا سوئے ہوتے ہیں۔ اس کا شوہر زبردستی اس کے بستر میں گھس جاتا ہے اور صبح اس کی بیٹیاں ا س کا مذاق اڑاتی ہیں۔ مجھے وہ نظر آجائے تو میں اس کا گلا دبادوں۔ اس نے واقعی سنجیدگی سے کہا۔

تو میرا خیال ٹھیک تھا۔

کیا؟

تم —اور میں —یا کوئی بھی کسی کو کبھی بھی قتل کرسکتا ہے۔شہر یار بولا۔

لیکن تم نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تمہیں میں قتل کرسکتا ہوں؟ اس نے شہر یا ر سے کہا۔

وہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ تم یہ نیک کام ابھی کرسکتے ہو۔کچھ بھی یاد کرکے۔مثلاً مجھے سر نصیر نے فائنل ٹرم میں زیادہ نمبر دیے تھے اور تم ان سے شکایت کرنے پہنچ گئے تھے۔ شہر یار نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ بھی ہنس پڑا۔

فرض کرو تمہیں ان میں سے کسی ایک کی جان بچانی ہو تو کس کی بچاو گے؟ شہریا ر نے نیا سوال داغا۔

ابھی انہیں ٹھکانے لگانے سے فارغ نہیں ہو اور تم نئی بات کررہے ہو؟اس نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا۔

بندر والے نے ابا سے معافی مانگی تھی۔ چوکیدار نے ابھی چند دن پہلے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکٹر شفیع کے گھر ڈاکے کو ناکام بنایا۔ چھوٹے بھائی نے اس پٹھان کے کام کی تعریف کی تھی۔آخر ہوٹل کا بہرہ ایک نوجوان لڑکا تھا، وہ کیسے اس حسینہ کوا نکارکرتا۔کام والی ماسی کا گھر ہے ہی ایک کمرہ۔ پھر اس کا شوہر کسی اور عورت کے پاس بھی تو نہیں جاتا۔ میں ہر ایک کی جان بچا سکتا ہوں۔اس نے کہا۔

تو مان لو کہ تم اس دنیا کا سب سے بڑ اعجوبہ ہو۔ شہریار نے کسی گہری سچائی کے انکشاف کرنے کے انداز میں کہا۔

میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔ وہ بولا۔

تو پھراس میں ایک اور بات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر یار نے کہا۔جان لینا اور بچانا، یاد اور بھول کا کھیل ہے !

کوئی اس کھیل کو کھلانے والا بھی تو ہوگا۔ دونوں پہلے ہنسے اور پھر سنجیدہ اور ساتھ ہی کسی نامعلوم بات پر رنجیدہ ہوئے۔

Categories
نان فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (پہلا حصہ) – تالیف حیدر

ادب کھیل تماشا نہیں، نہ ہی تفنن طبع ہے۔ ادب ایک ذمہ داری ہے، ہر اس پڑھنے والے کے لیے جو اس کے مسائل پہ غور کرتا ہے، جو جاننا چاہتا ہے کہ ادب کی ماہئیت کیا ہے؟ اس کے وجود میں آنے کی اسباب و علل کیا ہیں اور اس کے قائم اور دائمی ہو جانے کی وجوہات کیا ہیں۔ یہ خواہ بادی النظری میں تفنن طبع معلوم ہو، مگر اس کی جہات اور شقوں پر غور کیا جائے، اس کے مقاصد اور اثرات کو سنجیدگی سے جانچا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس کے تفنن میں کاری گری اور فکر و نظر کی جلوہ سامانیاں پائی جاتی ہیں۔ میرا موضوع اس مضمون کی حد تک افسانہ ہے، افسانے کا وجود، اس کی ترسیل، اس کی تحلیل، میرا اس سے رشتہ اور میرے اطراف میں افسانے کا پھیلاو وغیرہ۔لیکن اس پر گفتگو کرنے سے قبل میں چند ایک باتیں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کن سوالات سے میرے افسانوی استفہامے کا رشتہ جڑتا ہے اور کیوں میں اس خیال کے بھنور میں خود کو پھنسا پاتا ہوں کہ افسانے کی شعریات سے الجھوں اور اس کے وجود اور اپنے وجود کے رشتے کی گتھیوں کو ظاہر کروں۔

ادب ہی اس مضمون کا پیش خیمہ ہے۔ ادب جس کا وجود اور جس کے اثرات مجھے پریشان کرنے میں گذشتہ دس برس سے مستقل لگے ہوئے ہیں۔ شاعری، نثر، تخلیق، تنقید، تحقیق یہ سب کیا ہے اس کے ہونے سے ہمیں کیا حاصل ہو رہا ہے۔ اس پر مستقل غور کرنے سے ہمارا کیا نفع ہے اور کیا نقصان ہے یا کون سی شئے ہے جو مجھے سر گرم رکھتی ہے ادب کی تحصیل میں۔ میں اکثر اپنے دوستو ں سے اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ ادب وہ خواہ شاعری ہو یا نثر ایک مسلسل عمل ہے، ظاہری نہیں بلکہ باطنی، اس عمل کو روایتی زبان میں بیان کیا جائے تو واردات کا لفظ اس کے لیے خاصہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ شعر ا س کی تکرار،اس کاجنون، اس میں پوشیدہ دل بستگی کا سامان، یہ سب معمہ ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں کہ آخر یہ کون سی آوازوں کی تکرار ہے جو ہمیں زندہ رکھنے میں اور ہمارے تحرک میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ کاروباری نوعیت کے لوگ ہوں یا غور کرنے والے اذہان۔ سب اس کی گرفت میں ہیں۔ پھر مزید یہ کہ تخلیق کی سطح پر ہم صیقل کیوں ہو تے چلے آئے ہیں اور مستقل ہو رہے ہیں۔ ہمیں ابہام اور الجھی ہوئی گتھیاں لبھا رہی ہیں۔ نثر کی لٹھ چلاتی ہوئی تخلیقات اپنے حلقہ اثر میں لے رہی ہیں۔ موزونیت کے روز بروز نئے قائدے مرتب ہو رہے ہیں، مگر اس بلائے بے اماں سے ہمارا پیچھا نہیں چھٹ رہا ہے۔

موجودہ عہد پہ غور کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک انتشار کی لہر ہے جو زندگی کے بے شمار خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جو انسان کو انسان سے غیر متعلق کرنے میں کوشاں ہے۔ جو زندگی کے معمے کو حل کرنے کی جستجو میں، نئی دنیاوں، خلاوں اور کائناتوں کی تلاش میں سر گرم ہے۔ سیاسی بازار میں رقابتوں کا خونی کھیل جاری ہے، زمینیں تنگ ہو رہی ہیں، انسانی نفوس کے حلقوم پرمسائل کی مٹھیوں کی گرفت تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی جا رہے، مگر انسان نے ایسے عالم میں بھی شعر، افسانہ، ناول اور تخلیق سے اپنا رشتہ غیر مستحکم نہیں ہونے دیا ہے۔ سب ہو رہا ہے اور یہ بھی ہو رہا ہے کہ ہم خود غرضی کی چادر تلے انسان دوستی،امن و آتشی کے خواب دیکھنے کی آنکھیں نہیں بند کر پا رہے ہیں۔ مظالم اور افلاس کے نعروں میں جھوم جھوم کر آزادی کے ترانے گا رہے ہیں۔ ادب جی رہے ہیں اور اس کے حلقہ اثر کو جسے کم یا اب تک انسانی زندگی سے ختم ہو جانا چاہیے تھا اس کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی لاکھ صرف نظر کرے مگر میں اپنے اطراف کی ایک اہم صنف ادب ایک فکری ترنگ کے مالہ و ما الیہ پہ غور کرنے پر مجبور ہوں اور خود سے اس طلسم بے فسوں کا تعلق ظاہر کرنے پہ آمادہ معلوم ہوتا ہوں۔ یہ کوئی فریضہ نہیں بلکہ جبر ہے، میرے باطن کا میری ذات پر اور میرے فسون دروں کا میرے اظہار پر۔ اس لیے افسانے کی شعریات سے میں الجھ رہا ہوں اور اس کے اصول و افتراق کو بیان کر رہا ہوں کہ اپنی ذات کی گتھیوں کو سلجھانے میں معاونت حاصل کر سکوں اور جان سکوں کہ افسانہ میرے درون ذات کی ظلمتوں میں تحلیل ہو کر مجھے کن سطحوں پر روشنی بخش رہا ہے۔

افسانے کی تخلیق کا عمل کب شروع ہوا یا کیوں شروع ہوا، یہ سوال میرے لیے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ایک پیرایہ بیان جو وجود میں آیا، جس نے ترقی کی، انسانی زندگی میں اپنی جگہ بنا لی، اس کے وجود میں آنے کی تاریخ جاننے سے یا اسکے اسباب جاننے سے اتنی دور آ کر ہم کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ مغرب اور مشرق کے جھگڑوں میں الجھنے سے یا یہ سمجھنے میں اپنا وقت صرف کرنے سے کہ اس کا وجوداول اول کن لوگوں کے درمیان پنپا۔ میں نے جس معاشرت میں آنکھ کھولی، جس ماحول میں پلا بڑھا وہاں افسانہ اپنی مکمل جامعیت کے ساتھ موجود تھا۔ اس کی گھنٹیوں کا شور چاروں جانب پھیلا ہوا تھا۔ کیا مغرب اور کیا مشرق اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے دیکھتے دیکھتے سرحدوں کی لکیروں کو اتنا مٹتے دیکھا کہ سب ایک دوسرے میں گھل مل گیے۔

یہ میرا بھی معمول رہا ہے کہ کبھی افسانے کی کسی کتاب میں ٹالسٹائی کا افسانہ پڑھ لیا، کبھی، منٹو وبیدی کا۔ کبھی کسی ہندی افسانوی متن میں کھو گئے تو کبھی بنگالی۔ کبھی ایڈگر کو اٹھا لیا تو کبھی بالکل ہی نامعلوم قسم کے کسی غیر معروف افسانہ نگا ر کو جس کا نام بھی کبھی نہیں سنا تھا۔ کسی بھی صنف کو پڑھنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہوتا۔ لہذا اسی طرح افسانے سے ایک رشتہ قائم ہوا اور افسانے کی رنگینیوں کو جانا اس کے مختلف چوکھٹے دیکھے اور سمجھنے لگے کہ افسانہ ہماری صنف ہے، ہماری سے مراد ہماری طبیعت کے موافق اور اس میں واقعات کا جو سلسلہ ہوتا ہے اس کو جان لینے سے افسانے کی قرات کے مسائل خود بہ خود ہم پر روشن ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زندگی کا ایک ادنی واقعہ ہی تو ہے جو وحدت تاثر کی شکل میں ہم سے روبرو ہوتا ہے، ہم اس میں کھو جاتے ہیں اور آخر کی دو چار سطروں میں اپنے بدن میں اک جنبش یا تھرتھراہٹ محسوس کرتے ہوئے افسانے کے قفس مزینہ سے باہر آ جاتے ہیں۔ واقعی اس کی قرات کی قواعد پر کبھی غورنہیں کیا کہ آخر یہ گل بدن، شیشہ رو صنف جس کے جسم پر پتھر سے مینا کاری کی گئی ہے اس کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ صنف کا مطالبہ تو تب سمجھ میں آتا جب ان حقائق سے آگاہ ہوتے کہ یہ بلا صرف لفظوں کی بازی گری نہیں اور نہ واقعے کی آماج گاہ ہے۔ یہ تو تہہ داری کاایک روشن سائبان ہے جس سے یکباری آنکھیں ملانا اپنی بینائی کو خیر باد کہنا ہے۔ جس کی تحلیل کے لیے ایک ریاضت درکار ہے۔ زندگی جس کے تنوع کو سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی نہایت الجھی ہوئی ڈور کے ریشوں کو گننا۔ اس کا طریقہ کار جب تک نہیں آیا۔ اس وقت تک افسانے کی دیواروں سے سر مارتے ہی بنے گی۔

میں نے افسانے کا مطالعہ بے ترتیبی سے شروع کیا۔ اس کا ادراک مجھے اب ہوتا ہے کہ افسانے کی قرات کے قواعدِکا تعین اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم افسانے کا ماحصل صرف ظاہری واقعے کی مرتب کڑیوں کو ہی نہ سمجھیں۔ افسانہ میری ذاتی کوششوں سے مجھے اچھا نہیں لگا۔ یہ افسانے کا مجھ پر ایک غیر شعوری تاثر ہے کہ اس نے مجھے اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ ایک کہانی، دوسری کہانی، ایک معاشرت کا بیان، ایک اور معاشرت کا بیان، کچھ نئے مسائل اور کچھ مختلف حالات یہی سب افسانے کا فسوں کدہ بنے۔ کرداروں کی کیفیت، ان کے ذاتی معاملات کا انشراح اور ان کا الجھاو اس نے مزید رسی ڈال کر اپنی طرف کھینچا۔ جب ذرا صاف اور دو ٹوک باتوں سے جی گھبرانے لگا تو کچھ نفسیاتی حالت نے اپنا اسیر بنالیا۔اس سے بھی کچھ اوبےتو علامت نے اپنے دام میں لے لیا۔ وہ بھی ناقص معلوم ہونے لگی تو واقعہ در واقعہ اور استعاراتی در استعاراتی تففن میں گرفتار ہونے لگے۔ سبھی کچھ دیکھ لیا تو پھر فن کے نام پر سادی اور اکہری تحریروں سے سر ٹکراکر خود کو جنون فسانہ شوقی کا مداح ٹھہرا لیا۔ یقیناً یہ ایک عمل ہے بہنے کا۔ جس میں سب بہتے ہیں۔ یہ ایک راہ ہے جس پر چلے بنا افسانے کی تفہیم تک پہنچنانا ممکن ہے۔ اس عمل سے مفر افسانے کی بساط سے مفر ہے۔ لیکن حاصل تو کچھ نہیں وہی ڈھاک کے تین پات۔ افسانہ ایک کان سے آتا ہے اور دوسرے سے نکل جاتا ہے۔ اب مان لیجئے کہ اسے کوئی افسانے کی قرات کا عمومی عمل کہے یا اسی کو سب کچھ سمجھ کر اس راستے پر سفر کرتا رہے اور دلیل یہ لائے کہ اس کے علاوہ کسی طرز عمل سے افسانے کی ماہئیت روشن نہیں ہو سکتی۔ قاعدے بے سود ہیں۔ یہ تخلیق کے لیے غیر ضروری اور خرافات کے لیے ناگزیر ہیں تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کیوں کہ افسانے کی ترسیل اور تفہیم کوئی ایسا کام نہیں کہ جس سے شرعی قوانین متاثر ہو جائیں۔ انسانی زندگی تھم جائے اور ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کے دروازوں پر تالا پڑ جائے۔ یہ عمل ہے راست بازی کا یا فکر بسیار کا۔ اگر ماضی میں یہ نہ سوچا گیا ہو کہ افسانے کی قرات کا کوئی قاعدہ ہونا چاہیے تو حال یا مستقبل بھی اس خیال سے خالی رہے اس میں کچھ حسن تو نہیں۔ افسانے کی قواعد کا علانیہ اظہار عین ممکن ہے معیوب ہو، مگر جو اس صنف کی چہار دیواری میں سانس لیتی ہوئی کہانی کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے اور غور کرنا چاہتا ہے کہ انفرادی سطح کا قاعدہ وجود میں آئے، جس سے اظہار کے سوتوں کی رنگینی کا ادراک ہو۔ اس کی تحلیل و ترسیل کا مسئلہ حل ہو تو میری ذاتی رائے میں وہ حق بجانب ہے۔

افسانے کی مکاری اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اسے دام اثر میں لے پانا نہایت مشکل ہے۔ کہانی وہ بھی گڑھے ہوئے قصوں سے سجی ہوئی کہانی اپنا کوئی احاطہ نہیں بننے دیتی۔ وہ ایک نوع کی آزادی کی قائل ہوتی ہے۔ جس میں کلو اور نتھو بھی سما سکیں اور سیٹھ دینا ناتھ اور کروڑی مل بھی۔ ہم افسانے کا مطالعہ اپنے تجربات کی روشنی میں کرتے ہیں، ایک پس منظر بناتے ہیں، لفظوں کے معنی کا ایک خاص نظام قائم کرتے ہیں، کرداروں کی آوازوں کو اپنے ماضی کے انسانی لہجے عطا کرتے ہیں۔ بین السطور کو اپنی منشا کے مطابق سجا سنوار کر اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اس سے افسانہ لکھنے والے کی مٹھی سے نکل کر ہماری مٹھی میں آ جاتا ہے۔ اس سے جو کچھ ہمیں اخذ کرنا ہے کیا اور اس کے متن کو اپنے اصول زندگی کا متن بنا کر اس کی خود پر ترسیل کے مرحلے سے گزر گئے۔ میں نے یوں بھی اکثر کچھ کہانیوں کی گہری قرات کے بعد یہ سوچا ہے کہ اگر اسے میں نہ پڑھتا تو کیا ہوتا اور اگر کبھی اس کہانی میں موجود کرداروں کی حالت مجھ پر ظاہر نہیں ہوتی تو میں خود کو اس کردار کے قالب میں کیسے ڈھالتا۔ میرے خیال کی معراج افسانے کی معنوی سطح کوایک حد تک لے جاتی ہے اور پھر اس کے متن کو بے سود بنا دیتی ہے۔ لہذا افسانے کے متعلق مجھے یہ خیال زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ یہ انفرادی مطالعے سے زیادہ اجتماعی مطالعے کی چیز ہے۔ کوئی پڑھے گا اور دس بارہ لوگ سنیں گے۔ سب کا اپنا ایک تاریخی شعور ہوگا، ماضی ہوگا، تجربے ہوں گے اور افسانے کی زمین کو کئی رنگوں کی ذہنیت سے رنگا جائے گا۔ ایک شخص کا کسی ایک نتیجے پر پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ یوں تو بعض معنوی گمراہیوں سے بچنے کا امکان قوی ہے۔ پھر یہ بھی ہوگا کہ افسانے کے درمیان موجود ظلم مجھے لبھائے گا نہیں اور نہ میں کسی ایک واقعے کو اپنی ملکیت سمجھ لوں گا کہ یہ وہ ہی کچھ ہے جو میری زندگی میں گذرا ہے اور گذر رہا ہے۔ میں نے افسانے کی اجتماعی قرات کبھی نہیں کی، البتہ دیکھا ہے کہ اس نئی معاشرتی فضا میں جب کبھی کوئی افسانہ نگار کسی بزم میں عزت و احترام سے بلایا گیا ہے تو وہ اپنا بستا کاندھے پر ڈال کر وہاں پہنچا ہے، لوگوں نے اس کی کہانیاں اس کے منہ سے سنی ہیں اور اسے افسانے سے جدا کر کے کہانی کی چاشنی سےلطف اندوز ہوئے ہیں۔ اجتماعی قرات میں لہجے سے مصنف یا قاری یہ کتنا ہی باور کرنے کی کوشش کیوں نہ کرے کہ افسانے کو اس کی آواز نصیب ہو رہی ہے اس لیے لفظوں کا زور بیان اسے اس کہانی کا نا نظر آنے والا بنیادی کردار بنا دے گا، مگرایسا ہو نہیں پاتا۔ لفظ سننے میں اور پڑھنے میں چھلاووں کے دو مختلف قائدے کام کرتے ہیں، ہم جب کسی کہانی کے متن کو سنتے ہیں تو اسے اپنی مرضی کے مطابق اس خوف کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اطراف میں موجود اشخاص بھی اسے اپنی مرضی کے مطابق قبول کر رہے ہیں، اس نفسیاتی شعور کی بنا پر لفظوں کا دھاگا ذہن کی چادر پہ ویسے ہی نقش مرتب کرتا ہے جیسے اسے اجتماعی حالت کے ادراک کی صورت میں مرتب کرنا چاہیے۔ اس حالت میں نہ متن اپنا ہوتا ہے، نہ مصنف کا نہ اطراف میں موجود کسی شخص کا۔ کہانی کی فضا ایک سوالیہ کردار سے شروع ہو کر ایک نوع کی فرضی مخلوق تک ہی محدود رہتی ہے۔ جس کی تطبیق کسی پر نہیں ہوتی اور سب پر ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

آج سرخ قمیض اور نیلی جینز والی لڑکی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔اس لڑکی کے چہرے پر غصے کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی ساتھی نے جب لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کان میں کہا۔ ” رہنے دو۔” تو لڑکی نے اپنی ساتھی کا ہاتھ جھٹک دیا۔

” کیوں رہنے دوں۔ انہیں بھی تو معلوم ہو کہ ہم پندرہ دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آخر کسی بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔”

اس کی ساتھی ذرا سہمی ہوئی تھی۔ مگر لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس نے لڑکے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ ایک صاف ستھراسفید رنگ کا شارٹ کرتا اور کالی پتلون پہنے ہوا تھا۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور رنگت سانولے پن سے ذرا زیادہ سیاہی مائل۔ لڑکے کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی شاور لے کر آیا ہے۔

“کیوں بھئی آپ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔ میں پچھلے پندہ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ روز ہمارے پیچھے پیچھے نئی سٹرک کے چوراہے تک آتے ہیں۔”
اس نے محسوس کیا کے لڑکی کی آنکھوں اور لہجے میں غصہ ضرور ہے، مگر اس کے بولنے کا انداز بہت شگفتہ ہے۔ وہ جب پلٹی تھی تو اسے لگا تھا کہ آج تو شامت آ گئی۔ مگر اب جب کہ لڑکی اس سے اس کی حرکت کی شکایت کر رہی ہے تو اس کا خوف کچھ کم ہونے لگا تھا۔

“ہو سکتا ہے یہ ہمارا وہم ہو۔”

لڑکی کی ساتھی نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“وہم! تمہارا داماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ یہ مسٹر پچھلے پندرہ دنوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور تم کہتی ہو کہ یہ میرا وہم ہے۔ ”

لڑکی نے پھر سفید شارٹ کرتے والے لڑکے کی جانب دیکھا۔ “کیا آپ گونگے ہیں، میں آپ سے کچھ پوچھ ہی ہوں۔سنائی نہیں دیتا۔”

اس بات پر اسے ہنسی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکی شاید اتنے بھی غصے میں نہیں ہے جتنا میں اسے سمجھ رہا ہوں۔

لڑکی اور اس کی ساتھی نے جب اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ اس بار لڑکی کی ساتھی نے۔ تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور یہ کہتے ہوئے نئی سٹرک کے چوراہے کی طرف بڑھنے لگی “ہو سکتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہو تم کیوں بلا وجہ کسی کے بھی منہ لگتی ہو۔ اگر پیچھا بھی کر رہا ہے تو کرنےدو کون سا ہمیں کھا لے گا۔ “لڑکی اس دوران اپنا ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ پلٹ پلٹ کر اس لڑکے کی جانب بھی دیکھے جا رہی تھی جو ابھی تک اسی جگہ مبہوت انداز میں کھڑا تھا۔

وہ کافی دیر تک اسی جگہ کھڑا جاتی ہوئی لڑکی اور اس کی ساتھی کو گھورتا رہا۔ اسے اپنی بد اخلاقی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے لڑکی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ بھی کہ اس طرح کسی لڑکی کے پیچھے روز لپکناک ون سی اچھی بات ہے۔ حالاں کہ اسے آخری درجے تک یقین تھا کہ وہ دونوں لڑکیاں اس بات سے نا واقف ہیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ سے نئی سڑک کے چوراہے تک آتا ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ یہ جان گیا تھا اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ تھا کہ جس روز اس نے اپنی سینٹ کی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو اپنے بدن پہ لگائی اسی روز وہ لڑکیاں ایک ایسی خوشبو لگا کر حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آئی تھیں جن خوسے اس کے سینٹ کی خوشبو مل کر ایک بالکل ہی انوکھی مہک پیدا کر رہی تھی۔ جس سے اسے ایسا سرور ملتا کہ وہ دوبارہ گھر پہنچ کر بھی اسی سرور میں کھویا رہتا۔ اس نے شائد گزشتہ پندرہ روز میں ایک دن بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے خد و خال کیسے ہیں یا وہ کن رنگوں کے کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے ان لڑکیوں کے سامنے اپنی زبان نہیں کھولی۔ آخر وہ بولتا بھی تو کیا۔ اسے یہ بات سمجھا پانا بھی مشکل معلوم ہوئی تھی کہ وہ ان کا نہیں بلکہ ان کے اندر سے اٹھنے والی ایک خاص مہک کا پیچھا کر تا ہے۔ نئی سڑک پہ جب وہ لڑکیاں مڑ جاتیں تو وہ وہیں سواری لے کر اپنے گھر لوٹ آتا۔ اسے روز کے اسی روپے مل رہے تھے۔ اس لیے صبح سے شام تک اپنا کام کرنے کے بعد ایک نئی اور دلچسپ مصروفیت اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔ پہلے تو چند روز تک وہ انہی پرانے کپڑوں میں حکومتی عمارتوں کے فٹ پاتھ تک جاتا تھا۔ پھر اس نےخود کو مزید سنوارنے کا عزم کیا اور ایک دن جب اس کی کارخانے کی چھٹی تھی وہ اپنے علاقے کے اختتام پر واقع بازار تک گیا اور اپنے لیے تین نئے شارٹ کرتے اور تین جینز خرید لایا۔ ان کرتوں کا آئیڈیا اسے اپنے مالک سے ملا تھا۔ ان دنوں وہ اسی طرح کے کرتے پہن کر کار خانے میں آیا کرتا تھا۔ وہ سلیقے سے اپنے تینوں جوڑ نئے کپڑوں کو اپنے بکس میں ایک سفید پنی میں رکھتا اور شام کو کا ر خانے سے لوٹنے کے بعد نہا دھو کر ان میں سےکسی ایک کو پہنتا اور حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ کے طرف روانہ ہو جاتا۔ واپسی پر اسی سلیقے سے انہیں تہہ کر کے پنی میں لپیٹ کر دوبارہ اپنے صدوق میں رکھ دیتا۔

دو ماہ سے یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ مگر آج جب وہ لوٹا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل سے ان فٹ پاتھوں کی طرف ہر گز نہیں جائے گا۔ اسے کسی انجان لڑکی کے پیچھے اس طرح سے ٹہلتے پھرنا ٹھیک نہیں لگا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان لڑکیوں کے پیچھا گیا تو وہ سخت قدم اٹھائیں گی اور وہ اس شرمندگی کے لیے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ ادھر جانا ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ مگر آج اسے ایک اور نیا احساس نصیب ہوا تھا۔ اس نے کسی خوبصورت لڑکی کواتنی نازک آواز میں خود سےکبھی مخاطب ہوتے نہ سنا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ غصے میں اتنے آہستہ لہجے میں بات کر ر ہی تھی تو اس کا محبت بھرا لہجہ کیسا ہو گا۔ اس خیال سے اس کے ہونٹوں پہ دوبارہ ہنسی بکھر گئی۔ پل بھر کے لیے اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی نے اپنی خفگی کا اظہار کر کے اس کے اندر کچھ بدل دیا ہے۔ مگر وہ بدلی ہوئی چیز کیا تھی ابھی وہ خود شناخت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے آثار رہ رہ کر اس کے دماغ میں روشن ہوتے۔ گوراچہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ، کھلی گردن اور بھرا بھرا سینہ جو اس قمیض سے باہر کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا۔ اسے لڑکی کا حلیہ اوپر سے نیچے تک رٹ گیا تھا اور جب وہ اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ اور چلتی ہوئی سانسوں کو تصور کرتا جو خفگی کے باعث نمایاں ہو رہی تھیں تو ایک دم ہڑ بڑا جاتا۔

(8)

آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو تھکا ہوا پایا۔ بدن اس سے اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اسی طرح آنکھیں میچے پڑا رہے، کل کی رات اس پہ نہ جانے کیسی گزری تھی۔ اس نے خود سے الجھنا ٹھیک نہیں سمجھا اور چادر منہ تک اوڑھ کر سو گیا۔ دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ سورج سر پہ آ چکا ہے۔ آج وہ کارخانے نہیں گیا تھا۔ صبح آنکھیں موندتے وقت اسے اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ دوبارہ سو گیا تو اٹھ نہیں پائے گا۔ اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اب اس کی طبیعت میں وہ بوجھل پن نہ تھا جو وہ صبح میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بستر سے اٹھ کر کھڑ کی سے منہ باہر نکالا تو سورج کی شعاعوں سے اس کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ کل شام کا منظر پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگا اور لڑکی کی شکل ذہن میں صاف ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اس نے خوشی کے عالم میں سوچا کہ آج ٹیلے کی طرف چلا جائے۔ حالاں کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب ٹیلے کی طرف کبھی نہ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی منہ دھویا۔ کھونٹی پہ ٹنگے کل شام والے کپڑے پہنے اور ٹیلے کی طرف نکل گیا۔ راستے میں ایک چائے خانے پہ رک کر اس نے چائے پی اور تھوڑا بہت ناشتہ کیا۔ ایک پان کے کھوکھے سے کچھ سگریٹیں خریدیں اور ٹیلے کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آج اس طرف وردی والے کچھ زیادہ ہی نظر آ رہے تھے۔ اس نے کبھی اتنے وردی والوں کو اس علاقے میں گھومتے نہ دیکھا تھا۔ اسے کسی وردی والے نے روکا تو نہیں، مگر اس کی چھٹی حس اسے احساس دلا رہی تھی کہ ماحول کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ وہ ٹیلے پہ پہنچا تو ٹیلا دھوپ کی تپش سے جل رہا تھا۔ ہر وہ چیز جس میں سے بد بو آرہی تھی وہ مزید بدبو دار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا زمین کے اس بنجر ٹکڑے کی طرف گیا جہاں سے سامنے کی شاہراہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سگریٹ جلا یا اور روڈ کی طرف دیکھ کر رات والی لڑکی کے خدو خال کے متعلق سوچنے لگا۔ کیا اگر میں اس سے دوبارہ جا کر ملوں تو وہ مجھے مارنے لگے گی ؟ اچانک اس سے ملنے کی خواہش کہیں اند ر ہی اندر سر ابھارنے لگی۔ لیکن وہ تو اسے جانتی تک نہیں ہے اور پھر اس کے لہجے میں لاکھ نرمی سہی، تھی تو وہ غصے میں ہی۔اسے یہ بات پسند نہ آئی تھی کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا پیچھا کر ہی کہاں رہا تھا؟ وہ اس خاص خوشبو کے پیچھے تھا جس کی کشش اب اس کے خدو خال کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔ اگر اسی کا پیچھا کرنا ہے تو وہ اب کرے گا۔

وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جوان عورت ہاتھ میں پلاسٹک کا لوٹا لیے دور سے آتی دکھائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ ٹیلے کے قریب کے جھونپڑوں میں رہنے والے مرد، عورت اور بچے ٹیلے پہ رفع حاجت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس نے اس بات پہ کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں کتنے مرد، عورتیں یا بچے ٹیلے کی بدبووں میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس سے خاصے فاصلے پہ لوٹا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ عورت کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس سے وہ اس کے کولہے اور اس سے نکلتا ہوا مل دیکھ سکتا تھا۔ وہ حالیہ دنوں جن خوشبووں کا عادی تھا اس کے پیش نظر اس عمل سے اس کا گھنا جانا لازمی تھا، مگر ایسا ہوا نہیں، نہ جانے کیوں اس کی نگاہ عورت کے پٹھے سے نکلنے والے مل کے بجائے اس کے کولہوں کی گولائی پہ جمی ہوئی تھی۔ اسے یہ منظر بہت لبھا رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کولہوں کو دیکھتا رہا، پھر اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا کر شاہراہ کی جانب کر لیں۔سگریٹ کے دو تین کش لیے اور پھر کولہوں کی گولائی پہ نظریں جما دیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ عورت اس بھری دوپہری میں صرف اسی لیے ٹیلے پہ ہگنے آئی ہے تاکہ اسے اپنے کولہے دکھا سکے۔ جب تک عورت بیٹھی رہی وہ اس کے کولہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور عورت اس سے بے خبر اپنے عمل میں لگی رہی۔ پھر اس نے اپنے کولہوں پہ پانی ڈالا اپنے بائیں ہاتھ سے کولہوں کے بیچ کی گندگی صاف کی اور لوٹا اٹھا کر ادھر ادھر دیکھے بنا ٹیلے سے رخصت ہو گئی۔

وہ اب سے پہلے کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ ننگی عورتوں کے دیکھنے کا شوق تو کجا اسے لڑکیوں میں ہی کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی، حالاں کہ اس کے بہت سے ساتھیوں نے بچپن سے اسے کئی بار ننگی عورتوں کی تصویریں اور پورن فلمیں دکھائی تھیں، لیکن وہ انہیں دلچسپی سے نہیں دیکھتا تھا۔اسے اس عمل سے ایک انجانی گھن کا احسا س ہوتا تھا۔ مگر کل شام کے واقعے سے اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔ اس نے جب دوبارہ کل والی لڑکی کے خدو خال یاد کیے تو اس بار اس عورت کے کولہے بھی اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی گولائیوں سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بدبو کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ علاقے کی طرف لوٹا تو پھر اسے وردی والوں کی سر گرمیوں پر شبہ ہوا۔ وہ بڑ ھ رہے تھے ایسے جیسے وہ شہر کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہوں۔ اس نے چائے خانے کے قریب سگریٹ کے کھوکے سے دو سگرٹیں اور خریدیں اور انہیں جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
آج شام تک وہ گھر کے اندر ہی رہا مختلف لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ کسی کسی صبح وہ جس دودھ والی دکان پہ بیٹھی موٹی لڑکی سے دودھ خریدا کرتا تھا یا کار خانے کے برابر میں رنگائی کی دکانوں پہ جو لڑکیاں اس کی نگاہوں سے روز گزرتی تھیں۔ اس نے سوچا کے وہ ان ساری لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا، مگر آج ان کے متعلق سوچ کر جانے کیوں اسے لطف مل رہا تھا۔ اسی دوران اسے یاد آیا کہ جب وہ پچھلی مرتبہ کسی کام سے شہر کے باہر گیا تھا تو ایک بس اڈے پہ اسے ہتھا کھینچتی ہوئی ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دکھی تھی۔وہ اپنے اطراف کے لیے ایک عجوبہ بنی ہوئی تھی جسے اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سارے مرد گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ جب اس نے اس لڑ کی کی ان دو بڑی بڑی چھاتیوں پہ نظر ڈالی تھی جو اس کے ہتھا چلانے کی وجہ سے رہ رہ کر ابھر رہی تھیں تو اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی تو اسے اس کی دونوں چھاتیوں کی ہری ہری رگیں جو دانوں کے مقام پر زور پڑنے کی وجہ سے ابھر رہی تھیں صاف نظر آئی تھیں۔ مگر وہ ان چھاتیوں کو ویسی للچائی ہوئی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تھا جس طرح اس کے اطراف کے نوجوان لڑکے اور مرد دیکھ رہے تھے۔ ان کی شکلوں سے محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ چھاتیاں انہیں ایک لمحے کے لیے بھی مل جائیں تو وہ انہیں اتنی زور سے دبائیں کہ ان چھاتیوں میں موجود دیدار کی لذت ان کے بدن میں سرایت کر جائے۔ اس نے یہ سوچ کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کے بدن میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی اس کا ہاتھ دھیرے دھیر اپنی پتلون کے اندر کھسک گیا۔ اچانک اس کا ہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں چھاتیاں کہیں خلا سے نمادار ہو کر اس کے ہاتھوں میں آ جائیں اوروہ انہیں مسل کر اپنی انجان اور دبی ہوئی خواہش کو پورا کر لے۔

(9)

وردی والے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلے کے اطراف جمع تھے۔لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں پورے جنوبی شہر میں گونج رہی تھے۔ آسمان پہ کالے دھوئیں کے بادل بڑھتے جارہے تھے۔ ودری والوں نے ٹیلے کے آس پاس کی تمام جھونپڑوں میں اور ٹیلے کے کچرے میں آگ لگا دی تھی۔ اس کا حکم اس ملک کی انتظامیہ کی طرف سے آیا تھا جس کا قرض اس شہر پہ چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ شہر کے جنوبی علاقے کو ایک عرصے سے نظر میں رکھا جا رہا تھا۔ یہاں نشے کا کاروبار زوروں پہ تھا اور عورتوں اور بچوں کی کالا بازاری بھی ہوتی تھی۔ مگر آگ لگانے کا فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں لیا گیا تھا۔ یہ پورے شہر میں مذہبی جھگڑے بڑھانے کی شروعات تھی۔راتوں رات پورے شہر میں وردی والے چار گنا ہو گئے تھے۔ جنوبی علاقے میں آگ لگا کر یہاں کے وردی والوں نے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور غریب شہریوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ ان کو اطلاع دی جا رہی تھی کہ اس کا آڈر سیدھا ان کے ملکوں سے آیا ہے۔ جنوبی علاقے کے عوام پریشان تو تھے مگر ان میں غصے کی شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جن ملکوں کے حکم پہ ان کے گھروں کو جلایا گیا وہاں کے عقیدت مندوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی اسی طرح جلا کر راکھ کر دیا جائے۔ ایک طرف وردی والے لاٹھیاں اور بندوقیں لیے عوام کے ریلے کو دھیرے دھیرے ٹیلے سے شہر کی طرف دھکیل رہے تھے اور باری باری بستی کے چھونپڑوں پہ بلڈوزر چلا کر ان میں آگ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف نوجوان لڑکے اور بستی کے غصے سے بھرے مرد یہ منصوبہ تیار کر رہے تھے کہ کسی طرح ان وردی والوں کی بندوقیں چھین کر اس تماشے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ عورتوں کی چیخ پکار تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ بچے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ایک لڑکا جو ان مردوں اور نوجوانوں کی باتیں کا فی دیر سے سن رہا تھا اس نے دانت پیس کے ایک وردی والے کو گالی دی اور ایک پتھر اس پہ کھینچ مارا۔پتھر وردی والے کے جبڑے پہ لگا جس سےاس کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ اس کے منہ سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ اس صورت حال کی امید نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کرہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ جوں ہی اسے ہوش آیا اس نے فوراً اپنا ہیلمٹ پہنا۔ اسی دوران اس کے اطراف کے وردی والے بھی سنبھل گئے۔ جس لڑکے نے پتھر پھینکا تھا۔ تین، چار وردی والے اس کی جانب ڈنڈے اور بندوقیں لے کر بڑھے جس کے جواب میں وہاں کھرے کئی نوجوانوں اور مردوں نے پتھروں کی بارش کرنا شروع کر دی۔ وردی والوں نے اپنی ڈھالیں سنبھال لیں اور آن واحد میں کئی سو وردی والے وہاں جمع ہو کر پتھراو کرنے والوں پہ ٹوٹ پڑے۔ پہلے کچھ گولیاں چلیں، پھر لاٹھیا ں برسی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے ٹینکروں سے وردی والوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ افراتفری کا ماحول تو پہلے ہی سے تھا۔ اس لاٹھی چارج نے ٹیلے کے اطراف کی بستی کو ویران بنا دیا۔ عورتیں اور مرد سب شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔ جو ڈٹے ہوئے تھے وہ خون سے لت پت تھے اور جگہ جگہ پڑے سسکیاں لے رہے تھے۔ وردی والوں نے بہت سے لڑکوں کو اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں بند کر دیا تھا اور ان پہ گاڑی کے اندر لاٹھیا ں چل رہی تھیں۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 11

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔

اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔

حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔

کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔

اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔

دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)

آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘

گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔

بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘

بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘

دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔

لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

[blockquote style=”3″]

خالد جاوید کا یہ افسانہ اشعر نجمی کی زیر ادارت شائع ہونے والے ادبی رسالے “اثبات” کے شمارہ نمبر چار اور پانچ کا حصہ ہے۔ ہم اشعر نجمی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے “اثبات” جیسے معیاری رسالے کو آن لائن قارئین تک پہنچانے کی اجازت عنایت کی۔

[/blockquote]
اثبات میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

نیند کے خلاف ایک بیانیہ
تحریر: خالد جاوید
(شمس الرحمن فاروقی کے نام)

وہ جو ایک کتے کی طرح گم ہو جائے گا، آخر میں ایک دیوتا کی طرح دریافت کیا جائے گا۔
(یہودا امی خائی)

(۱)
ڈاک گھر اور ڈاکیے

ادھر کچھ عرصے سے لگاتار چند قصہ گو حضرات کے ساتھ رات کو دیر تک وقت گزارنے کی وجہ سے میرے اندر بھی یہ خبط پیدا ہونے لگا ہے کہ میں کچھ لکھوں۔ یہ خبط یا شوق مجھے زندگی میں پہلی بار ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ ابھی بھی نہ ہوتا ، اگر چند ماہ پیشتر میری بیوی طاعون کا شکار ہوکر مر نہ گئی ہوتی۔ حالاں کہ جب اسے پلیگ ہوا تو وبا تقریباً اپنے خاتمے پر ہی تھی ، کیوں کہ محلے کے سرکاری شفا خانے میں اسی دن سیاہ دیوار پر چاک سے آخری کراس بنایا گیا تھا۔ سرکاری شفا خانے کی عقبی دیواریں کالے رنگ کی ہیں۔ اسی دن، سوائے ایک لڑکھڑاتے ہوئے مریل سے چوہے کے، جس کے منھ سے خون کی لکیر پھوٹ رہی تھی، دوسرا کوئی چوہا بھی علاقے میں نظر نہیں آیا۔ مگر کسی بھی وبا میں پہلی یا آخری موت بہرحال انفرادی اور امتیازی نوعیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔

مغرب کی اذان کے وقت ، جب وہ مررہی تھی تو اس کا بخار سے تپتا ہوا جسم حیرت انگیز طور پر پسینے چھوڑتے ہوئے ٹھنڈا ہونے لگا۔ میرے دونوں بچے (بڑا تیرہ سال کا ہے اور چھوٹا بارہ کا) پلنگ کے پائنتی بیٹھے اس کا پاؤں سہلا رہے تھے کہ اچانک اس کے منھ اور ناک سے ڈھیر سارا خون باہر آیا۔ میں نے بیوی کے سرہانے سے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ اس کی بغلوں میں دیتے ہوئے اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کا سارا جسم شل اور بے جان ہوگیا تھا۔ وہ تو نہ اٹھ سکی مگر میری دونوں ہتھیلیاں اس کی بغلوں میں ابھری ہوئی طاعون کی بڑی بڑی گانٹھوں سے ٹکرا کر رہ گئیں۔ گانٹھوں سے رسنے والی پیپ سے میری انگلیاں گیلی ہوگئیں۔

میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ مجھے بے حد کراہیت اور گھن محسوس ہوئی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس وقت اس کے منھ اور ناک سے نکلتے خون اور بغلوں اور رانوں کے درمیان گانٹھوں سے رستے بدبو دار مواد کی وجہ سے مجھے اس نیک بخت کی موت کا صدمہ محسوس ہی نہ ہوسکا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ یہ بس آخری بار ہے یعنی یہ گندگی ، یہ تعفن اور شب بیداریوں کے سبب جاگتی جلتی آنکھیں جو کہ ایک تیماردار کا ازلی مقدر ہوتے ہیں۔

مگر میں یہاں اپنی بیوی کے بارے میں یا اس کی بیماری اور موت کے بارے میں یوں ہی لکھ بیٹھا ہوں، شاید اپنے اناڑی پن اور ناتجربہ کار ہونے کے سبب۔میری سات پشتوں میں بھی کسی نے اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں یا اپنے احساسات و جذبات کے بارے میں کچھ نہ لکھا ہوگا۔ میں نہ تو کوئی ادیب ہوں اور نہ کوئی کاتب یا منشی۔ میں تو ایک معمولی ڈاکیہ ہوں۔ جی ہاں ! ایک بے حد معمولی اور حقیر ڈاکیہ جس کی انگلیوں کو اس طرح سے قلم پکڑنے کی عادت ہی نہیں ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ اگر وہ یعنی گھر والی مر نہ گئی ہوتی تو میں شاید اس وقت گہری نیند سو رہا ہوتا۔ مگر ٹھہریے، اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ میں نے اس کی موت سے متاثر ہو کر کچھ لکھنا شروع کردیا ہے جس طرح میں نے سنا ہے کہ شاعر لوگ کرتے رہتے ہیں۔ میں جو لکھ رہا ہوں ، اس کی نوعیت ادبی یا علمی قسم کی نہیں ہے۔

ہوا دراصل یوں ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد میرے لیے رات کاٹنا مشکل ہو گیا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے میں نے اپنی ایک بیوہ بہن کو گاؤں سے بلوا لیا ہے۔ میں صبح آٹھ بجے اپنی وردی پہن کر ڈیوٹی کے لیے سائیکل پر گھر سے نکلتا ہوں۔ ڈاک خانے پہنچ کر اپنے حصے کی ڈاک وصول کرتا ہوں، پھر اس ڈاک کو جس میں سینکڑوں چٹھیاں ، منی آرڈر، پارسل وغیرہ ہوتے ہیں، سائیکل کے کیرئیر پر لاد کر اپنے علاقے میں بانٹنے نکل جاتا ہوں۔ آج کل میرے پاس دادو کا کنواں نام کا محلہ ہے۔ شام کو جب تھکا ہارا گھر واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے اپنی وردی اتار کر دیوار پر لگی ہوئی کھونٹی پر ٹانگ دیتاہوں۔ میرا چھوٹا بیٹا وردی کو پلک جھپکائے بغیر دیکھتا رہتا ہے۔ خیر اس تفصیل میں جانے سے کیا فائدہ؟ بہرحال جب رات کو کھانے کے بعد گھر سے نکلتا ہوں تو محلے کے کچھ شناسا لوگ مجھے اپنے ساتھ چبوترے پر بٹھا لیتے ہیں۔ ہیں تو یہ بالکل ان پڑھ لوگ، مگر بلا کے قصہ گو۔ یا پھر یوں کہیں کہ اول نمبر کے غپی لوگ۔ آج کل گرمیاں ہیں۔ رات کو یہ سب طرح طرح کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ بھوت پریتوں کے قصے، سنیما کے قصے، شکار کے اور فاحشہ عورتوں کے قصے۔ میرا وقت واقعی اچھا کٹ جاتا ہے۔ اب ان کی یہ اوٹ پٹانگ قصے سن سن کر میرے دل میں بھی یہ خواہش بڑی شدت سے پیدا ہوئی ہے کہ میں بھی کچھ سناؤں یا کہوں۔ لیکن میں بڑا جھینپو اور دبو قسم کا انسان واقع ہوا ہوں، اسی لیے میں نے سوچا کہ بجائے کہنے کے، کیوں نہ میں کچھ لکھنا شروع کردوں۔ کہنے اور لکھنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ لکھتے وقت آدمی زیادہ جھوٹ نہیں بول سکتا ، جب کہ قصہ گوئی ، بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر قسم کی گفتگو زیادہ تر جھوٹ کا پلندہ ہی ہوتی ہے۔ میرا کام تو ویسے بھی لکھے گئے الفاظ کو ہی اِدھر سے اُدھر کرنا ہے۔ آخر کو میں ایک ڈاکیہ ہوں نہ۔

اسی لیے اب میں نے سوچا ہے کہ اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں کیوں نہ کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں۔ حالاں کہ مجھے یہ بھی علم ہے کہ اپنے بارے میں یا اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بھی لکھنا، میرے لیے شاید ڈاک گھر اور ڈاکیوں کے بارے میں لکھنے کے ہی برابر ہوگا۔ ویسے ایمان کی بات تو یہ ہے کہ آدمی کو جہاں تک ہو سکے، ذاتی یا نجی باتوں کے بارے میں کم سے کم لکھنا چاہیے۔ یہ باتیں ہوتی ہی کیا ہیں سوائے نفرت یا محبت یا پھر غصے یا انتقام وغیرہ کے بارے میں ….ناپختہ تجربوں کے سوائے ان میں کیا ہوتا ہے۔ ذاتی یا نجی باتیں بدلتی رہتی ہیں۔ وہ تقریباً اس قصے کی طرح ہوتی ہیں جو ہر بار سنانے میں اپنے بارے میں کچھ نہ کچھ اضافہ ، تبدیلی یا ترمیم کر لیتے ہیں۔ نجی واقعات چاہے وہ کتنے ہی ٹھوس انداز میں کیوں نہ پیش آئے ہوں، ایک نہ ایک دن سفید جھوٹ ہی ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ لکھنے کے لیے اور بہت سی باتیں ہیں، مثلاً ڈاکیوں کی، ڈاک گھروں کی، ریلوے اسٹیشنوں کی، گلیوں کی، محلوں کی وغیرہ وغیرہ۔

تو جب میں اپنی سائیکل پر دن بھر کی ڈاک لاد کر سڑکیں ناپنے چلتا ہوں تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ پتلی سے پتلی گلیاں، یہاں تک کہ بند گلیاں تک مجھے آسمان پر جانے والی سیڑھیاں محسوس ہوتی ہیں جن پر گویا میں تیزی سے چڑھتا جاتا ہوں۔ ابھی حال میں ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ آدمی چاند تک پہنچ گیاہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو مجھے لگتا ہے کہ چاند پر پہنچنے کے لیے اس نے جو سفر طے کیا ہوگا، وہ میرے اس روز کے چٹھی پہنچانے تک کے سفر کے برابر ہی مسرت آگیں رہا ہوگا۔ یہاں میرے اس چھوٹے سے شہر کے آس پاس ندیاں بہت ہیں۔ کبھی کبھی مجھے ان کے کنارے، دلدل پر بھی چلنا ہوتا ہے۔ وہاں میری سائیکل کے پہیے بھی کبھی کبھی دھنس جاتے ہیں مگر مجھے وہ دلدل اس دنیا کی نہیں بلکہ بہشت کی دلدل نظر آتی ہے۔

مگر مجھے علم ہے کہ سب ہی ڈاکیے اس طرح سے نہیں سوچتے۔ بہت سے تو اپنی نوکری کو کوستے بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس بارے میں بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہاں، اتنا تو ہے کہ ڈاکیوں کی نوکری میں خطرے بھی بہت رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ بتاتے ہیں کہ ہر ڈاکیے کے ساتھ میں ایک ڈھول بجانے والا بھی رہتا تھاجو جنگل کے خطرناک راستوں سے گزرتے وقت زور زور سے ڈھول بجاتا رہتا تھا تاکہ جنگلی جانور وہاں سے بھاگ جائیں۔ بہت رات ہوجانے پر ڈاکیے کے ساتھ دو مشعلچی اور دو تیر انداز بھی چلا کرتے تھے۔ میں نے کل اپنے چھوٹے لڑکے کو بتایا کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ڈاکیے کو شیر اٹھا کر لے گیا۔ ایک ڈاکیہ بے چارہ ندی کی باڑھ کی زد میں آکر ڈوب گیاتھا۔۔۔۔۔۔اور بھی کتنے قصے ہیں۔ نہ جانے کتنے ڈاکیوں کو زہریلے سانپوں نے ڈس لیا ۔ بہت سے کسی چٹان کے پھسلنے سے یا ملبے میں دب کر مرگئے۔ لٹیروں اور ٹھگوں نے بھی بہت سے ڈاکیوں کو راستے میں لوٹ کر قتل کیا ہے۔ مگر یہ سب پرانی باتیں ہیں، بہت پرانی۔ اب کسی ڈاکیے کو اس طرح کے خطرات کا سامنا نہیں ہے۔

کچھ دنوں سے اپنے چھوٹے لڑکے میں ایک عجیب بات میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اسے ڈاکیوں کی باتوں اور ڈاک خانوں کے تذکروں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ میں اس کی طرف سے تھوڑا سا فکرمند بھی ہوں۔ اب میں کیسے لکھوں۔۔۔۔بات تو ہے بے حد ذاتی نوعیت کی مگر لکھ دینے میں بھی کیا حرج ہے۔ اب آدمی اس طرح کی باتیں لکھنے سے بالکل ہی تو بچ نہیں سکتا۔

اصل میں، میرا یہ چھوٹا ان دنوں پیدا ہوا تھا جب شہر میں طاعون پھیلا ہوا تھا۔ یہ خدا کی مہربانی ہی تھی کہ ان دنوں ہمارا گھر وبا سے پوری طرح محفوظ رہا۔ اب سوچا جائے تو یہ بھی بڑی عجیب بلکہ مضحکہ خیز سی بات ہے کہ طاعون کی زد میں آکر ہی میری بیوی، یعنی اس کی ماں خدا کو پیاری ہوئی اور طاعون کے زمانے میں ہی یہ کم بخت پیدا ہوا تھا۔ بہر نوع، یہ سب تو مشیت ہے۔ اللہ کی جو مرضی۔ ادھر کے اطراف میں تو طاعون پھیلتا ہی رہتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے کا سر کچھ نہ کچھ چوہے سے ملتا جلتا ہے۔ خیر وہ بھی ایسی کوئی بات نہیں۔ بہت سے لوگوں کے سروں کی بناوٹ کسی جانور کے سر سے مشابہ ہوتی ہے۔ کسی کا سر گھوڑے سے ملتا جلتا ہے تو کسی کا بلڈاگ کے سر سے۔ مگر بات یہ ہے کہ وہ مجھے دماغی طور پر کچھ کمزور محسوس ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ میرا وہم ہی ہو۔ ویسے وہ اسکول پابندی سے جاتا ہے۔ (بڑے لڑکے کو تو سوائے محلوں کے لونڈوں کے ساتھ اودھم مچانے کے اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔)

مگر چھوٹا۔۔۔۔۔وہ آخر اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلتا کیوں نہیں؟ بس ڈاکیوں اور ڈاک گھروں کے بارے میں پوچھ پوچھ کر میری جان کیوں کھاتا رہتا ہے؟ اور جب میں اسے جو کچھ بھی جانتا ہوں، وہ بتاتا ہوں تو بجائے بچوں کی طرح خوش ہونے کے، کچھ سنجیدہ سا ہو جاتا ہے یا پھر کہیں دور خلا میں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا ہے۔میں نے اسے ڈاکیوں کے بارے میں بہت سے دلچسپ قصے بھی سنائے ہیں۔ اصل میں یہ من گھڑت قصے ہی ہوں گے، کیوں کہ انھیں میں بھی اپنے بچپن سے سنتا چلا آیا ہوں۔ مثال کے طور پر جاڑوں کی سرد اور ویران راتوں میں ایک ڈاکیے کا بھوت سنسان گلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ رات کے ٹھیک دو بجے کسی کا دروازہ کھڑکتا ہے۔۔۔۔۔۔’’تار۔تار‘‘۔ اور جو کوئی بھی اٹھ کر تار لینے کے لیے دروازہ کھولتا ہے، اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے ویران سے ریلوے اسٹیشن پر سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جب رات کے دو بجے وہاں پہنچنے والی طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ آپ ہی آپ کٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔ ٹرین ایک منٹ وہاں رکنے کے بعد روانہ ہوجاتی ہے ۔ مگر ڈاک کا وہ کٹا ہوا لال رنگ کا ڈبہ ، آپ ہی آپ، بغیر انجن کے اندھیری رات میں خاموش جھاڑیوں سے گھری ویران ریلوے کی پٹریوں میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا پھرتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ میرا تو اس اسٹیشن پر جانے کا کبھی اتفاق ہوا نہیں مگر بتانے والے بتاتے ہیں کہ غدر کے زمانے میں بہت سے سرکاری محکموں کے ساتھ ڈاک گھر بھی نشانہ بنے تھے۔ تب، ایک رات جب ڈاک گھر میں آگ لگائی جارہی تھی، اپنی جان پر کھیل کر کچھ فرنگی ڈاکیے وہاں کی ڈاک کو طوفان میل سے منسلک ڈاک کے ڈبے میں کسی نہ کسی طرح رکھ دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ مگر آخری وقت میں انقلابیوں نے ڈاک کے اس لال ڈبے کو ٹرین سے کاٹ کر الگ کردیا تھا اور اس میں آگ لگا دی تھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح انھوں نے وہاں تک ڈاک لانے والے فرنگی ڈاکیوں کے سر دھڑ کاٹ کر الگ کر دیے تھے اور پھر ان کی لاشوں کو آگ لگادی تھی۔

کہتے ہیں کہ تب سے لے کر اب تک ہر سال اسی تاریخ کو رات کے دو بجے، سر کٹے ہوئے اور جلی ہوئی وردی پہنے چند ڈاکیے اسی اندھیرے اسٹیشن پر لالٹین ہاتھ میں لیے گھومتے نظر آتے ہیں اور طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ کٹ کر ریلوے لائینوں پر اکیلا ہی دوڑتا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔ایک حواس باختہ بھوت کی طرح۔

میں اس قسم کے ڈراؤنے اور دلچسپ قصے جب اسے سناتا ہوں تو وہ جواب میں کچھ نہیں کہتا، نہ ہی ڈرا ہوا سا محسوس ہوتا ہے۔ ہاں، اس دن ضرور وہ کچھ خوف زدہ سا محسوس ہوا تھا جب کالی ندی کے پُل پر سے مغرب کے وقت س نے ان لوگوں کو دیکھا جو اپنے پیروں پر بانس باندھے قطار بنا کر گزررہے تھے۔ میں نے اسے سمجھایا تھا کہ ان سے ڈرنے کے کیا معنی؟ یہ توسگریٹ کے کسی خاص برانڈ کے اشتہار کی خاطر مسخرہ پن کے لیے نکلے ہیں۔

اِدھر چھوٹے کو دین اور اللہ رسولؐ کی باتوں میں بہت دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ قرآن شریف تو خیر اس کی بُوا نے پہلے ہی اس کو پڑھا دیا تھا۔ مگر فرشتے جس اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اپنے فرائض منصبی پورا کرتے ہیں، تو اس پورے الوہی نظام سے وہ بہت متاثر معلوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر جبرئیل علیہ السلام سے۔

جہاں تک بڑے لڑکے کا سوال ہے ، تو اسے نہ تو اسکول کی تعلیم سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی دینی تعلیم سے۔ میرا خیال ہے کہ وہ آوارہ ہوتا جارہا ہے۔

تقریباً بیس دن سے اس کاغذ پر میں نے کچھ نہیں لکھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا دل ہی نہیں چاہا۔ دراصل ہوا یوں کہ چھوٹے کی گردن پتنگ کے مانجھے میں پھنس گئی تھی۔ نرخرہ کٹتے کٹتے بچا۔ خدا نے بڑی خیر کی۔ اس بے چارے کو پتنگ وغیرہ سے کیا کام، مگر اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ وہ میرے گھر کے سامنے، کچھ دور نکل کر کالی ندی کے پُل ہے، اس کی ریلنگ پر دونوں طرف مانجھا بنانے والے مانجھا تانتے ہیں۔ بس وہ گزر رہا ہوگا پُل پر سے۔ اسے ندیاں دیکھنے کا شوق بھی بہت ہے۔ (حالاں کہ ندیوں اور کنوؤں کے آس پاس گھومنا خطرناک بات ہے۔)وہیں اس اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے میں پھنس گئی۔ میں تو ڈاک بانٹنے گیا ہوا تھا۔ میری بہن اور محلے کے کچھ لوگ اسے لے کر سامنے والے گھر لے گئے جہاں حال ہی میں ایک سرکاری ڈاکٹر کہیں سے تبادلہ ہوکر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہت اچھے ہیں۔ انھوں نے ٹانکے لگانے اور مرہم پٹی کرنے کی کوئی فیس بھی نہیں لی۔ ان کی بیگم صاحبہ بھی بہت اچھی ہیں۔ بیگم صاحبہ نے چھوٹے کو پڑھنے کے لیے انگریزی کی ایک کتاب بھی دی ہے۔ کتاب پر ان کی بیٹی کا نام لکھا ہوا ہے۔ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔ چھوٹے سے دو سال بڑی ہوگی۔ بڑا گول چہرہ ہے اس کا ہے اور بالکل سفید۔ اتنا گول اور سفید چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔

مگر چھوٹے کا زخم بھرنے میں بیس دن لگ گئے۔ ٹانکوں میں بار بار مواد پڑجاتا تھا۔ ہلکا ہلکا بخار بھی رہنے لگا۔اس درمیان ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیٹی کو کئی بار ہمارے گھر، چھوٹے کی خیریت کے لیے بھیجا۔کتنی بڑی بات ہے۔ ایک معمولی ڈاکیے کے بچے کا اتنا خیال۔ یقیناًان کے دل میں خوف خدا ہوگا۔ دنیا ایسے ہی نیک لوگوں پر قائم ہے۔

تو بس میں انھیں ذہنی الجھنوں میں گرفتار رہا۔ لکھنے کا دل ہی نہ چاہا۔ ویسے بھی میں کوئی ڈائری تو لکھ نہیں رہا ہوں۔ یہ تو بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں کے کام ہیں۔ میں بس ایک جعلی قسم قصہ گوئی کررہا ہوں جس کا چسکا مجھے ان غپ مارنے والوں نے لگادیا ہے۔ جعلی میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر قصہ زبانی نہ سنایاجائے تو وہ قصہ ہی کیا۔ اور اسے لکھا جائے تو وہ حرف دل کی ایک بھڑاس ہوتا ہے۔ اس میں دوسرے کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟ کیا میرے اندر بھی ایسی ہی کوئی بھڑاس ہے جسے میں دل سے باہر نکال کر پھینکنا چاہتا ہوں؟ اگر یہ بات ہے تو بہت غلط ہے۔ کچھ کچھ ایسے جیسے کیلے کے چھلکوں کو گھر سے باہر سڑک پر پھینک دینا، دوسروں کو پھسلتے رہنے کے سامان فراہم کرنے کے برابر۔

چھوٹے کے پاس وہ جو انگریزی کی کتاب ہے، اس میں بہت سے موضوعات پر مضامین لکھنے کے اصول بتائے گئے ہیں اور ساتھ میں نمونے کے طور پر کچھ مضامین بھی شامل کر دیے گئے ہیں مثلاً تاج محل پر، گائے پر اور پوسٹ مین پر۔

اب تو پاگل کو رٹ ہی لگ گئی ہے کہ وہ پوسٹ مین پر ایک ایسا طویل اور زبردست مضمون لکھے گا جو دنیا میں آج تک کسی نے نہ لکھا ہو۔ اب میں اسے لاکھ سمجھاتا ہوں کہ تمھاری جماعت کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ دو سو الفاظ کا مضمون لکھنا ہوتا ہے، ورنہ نمبر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ مگر وہ مانے تب نہ۔ اس نے تو ضد پکڑ لی ہے۔ ڈاکیوں کے بارے میں ایک سے ایک معلومات اس نے نہ جانے کہاں سے حاصل کرلی ہیں۔ شاید وہ یہ مضمون لکھ کر ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو بھی دکھائے گا۔ کل رات میں نے اس کا پوسٹ مین پر لکھا ہوا مضمون پڑھا ہے جو ابھی ادھورا ہے۔ مضمون ابھی میرے سامنے ہی ہے۔ کیوں نہ اس کا ایک آدھ اقتباس میں یہاں نقل کردوں۔

خطوں کے ساتھ اگر ڈاکیے کی یاد نہ آئے تو وہ خط ہی کیا۔ ڈاکیے کی پہنچ جس طرح دنیا کے عام سے عام آدمی تک ہے،ایسی کسی اور سرکاری نوکر کی کہاں۔ لوگ چاہے شہروں میں رہتے ہوں یا قصبوں میں یا پھر گاؤں اور دوردراز کے جنگل کے علاقوں میں،وہ ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔ایک فرشتے کی طرح۔ اس کے پاس عام آدمی کی پیاری سواری یعنی سائیکل ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ پیدل بھی چلتا تھا۔ کبھی گھوڑوں پر بھی قاصد بجلی کی رفتار سے دوڑتے تھے اور اپنے اپنے علاقے کی سرحد تک پہنچ کر وہ دوسرے گھڑ سوار قاصد کو خط سونپ دیا کرتے تھے۔ دنیا میں امن کے کتنے مجاہد ان قاصدوں کی رفتار کے مرہون منت رہے ہیں۔ کچھ مقاموں پر کبوتروں نے بھی ڈاکیے کا کام انجام دیا ہے۔ اس لیے کبوتر کو فرشتہ نما اور پاکیزہ جانور مانا جاتا ہے۔ ڈاکیے کا سماج کے ہر طبقے میں استقبال ہے۔ تیوہاروں کے موقع پر ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ بخشش دی جاتی ہے۔ ڈاکیہ سرکار کا پرزہ نہیں بلکہ سماج کا ایک حصہ ہے۔ وہ جب کسی کے گھر تار لے کر جاتا تھا تو تھوڑی دیر وہیں ٹھہر جاتا تھا، انسان کے سکھ یا دکھ میں ایمان داری کے ساتھ شریک ہونے کے لیے۔آج بھی بہت سے ڈاکیے اجنبی انسانوں کے سکھ دکھ میں اسی طرح شریک ہیں۔ میرے بابو بھی ایک ایسے ہی ڈاکیے ہیں….ایک عظیم ڈاکیے۔

بہت کم لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ اس کی وردی کا رنگ پولیس والوں کی وردی سے ملتا جلتا ہے۔ مگر پولیس والوں کی وردی نے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے سوا اب تک کیا کیا ہے؟ اور ڈاکیے کی وردی دیکھ کر لوگوں کے دل اپنائیت اور انسیت کی خوشبو سے بھر جاتے ہیں۔ گرمیوں کی سخت اور سنسان دوپہر میں، جب آسمان میں چیل انڈا چھوڑ رہی ہوتی ہے، اس کی خاکی وردی کی ایک جھلک دور سے نظر آنے پر ہی وہ ویران دوپہر رونق افزا ہو جاتی ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں امیدوں کے گلزار سجنے لگتے ہیں۔ کسی کو خط لکھنا اور کسی سے خط پانا بہت بڑی نعمت ہیں۔ میرے بابو یہی کہتے ہیں۔ میں نے پڑھا ہے کہ گاندھی جی خطوں کا جواب فوراً ہی لکھنا شروع کردیتے تھے۔ ان کے پاس روزانہ ڈھیر سارے خطوط آتے تھے۔ خط کا جواب لکھتے لکھتے جب ان کا دایاں ہاتھ تھک جاتا تھا تب وہ بائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کردیتے تھے۔ کتنے اچھے تھے گاندھی جی۔ اتنے نیک اور عظیم انسان کو بھی کسی نے قتل کردیا۔۔۔۔۔آخر کیوں؟

خطوں کے حوالے سے پوسٹ کارڈ کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔سرکار ہر شے کو مہنگا کر سکتی ہے مگر پوسٹ کارڈ کے دام بڑھاتے ہوئے ڈرتی ہے۔ ایک وہی تو عوام کی سب سے پیاری چیز ہے۔ روٹی اور دودھ اور دال اور چاول سے بھی پیاری چیز جو حقیر سے حقیر انسان کے وجود کو بھی بامعنی اور باوقار بنا دیتی ہے۔ ابھی حال میں اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکہ میں ایک الیکٹرانک میوزک بینڈ کی ایجاد ہوئی ہے جس کا نام پوسٹل سروس رکھا گیا ہے۔ یہ نام اس لیے ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جانے کن کن ملکوں سے آپس میں پوسٹ کارڈ لکھ لکھ کر آلات موسیقی کے بارے میں اپنے اپنے تجربات بیان کیے جن کو جمع کرکے یہ عظیم الشان بینڈ بنایا گیا۔

ڈاکیے کا نہ کوئی مذہب ہے نہ ذات اور نہ ہی کوئی طبقہ بلکہ وہ سماج کی مختلف اکائیوں اور طبقوں کو آپس میں ملانے اور پرونے کا کام انجام دیتا ہے۔
ہماری فلموں میں بھی اکثر ڈاکیے کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔میں نے تو ابھی تک کوئی فلم نہیں دیکھی ہے مگر بابو نے وعدہ کیا ہے کہ جب بھی کبھی ان کی جوانی کے دنوں کی مشہور فلم ’’ڈاک ہرکارہ‘‘ دوبارہ نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو وہ مجھے دکھانے کے لیے ضرور لے جائیں گے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ڈاکیہ فلموں کا نہیں بلکہ اصلی زندگی کا ہیرو ہے۔۔۔۔۔۔میرے بابو کی طرح۔ جب وہ اپنی خاکی رنگ کی وردی پہن کر ، ٹوپی لگا کر ، ڈاک گھر جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس طرح جگمگانے لگتے ہیں جس طرح مٹی میں ہیرا۔

اور اب آخر میں یہ بتانا بھی چاہتا ہوں کہ شروعات کے دنوں میں صرف خط یا چٹھی تقسیم کرنا ہی ڈاک والوں کا کام نہ تھا بلکہ وہ سرایوں کی دیکھ بھال بھی کرتے تھے۔ وہ سڑک پر دن رات چلنے والے مسافروں کے سفر کو آسان اور سہولت سے بھرا ہوا بنا دیتے تھے۔ انھیں ٹھگوں اور راہزنوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ یہی سرائے بعد میں آگے چل کر ڈاک بنگلوں کے نام سے مشہور ہوگئے۔ رات کو مسافر راستے میں پڑنے والی ڈاک چوکیوں میں بھی آرام کرسکتے تھے۔ اور سب سے اہم بات تو یہ کہ کچھ عرصے تک گاؤں اور دوردراز کے علاقوں میں ڈاکیوں نے پلیگ کی دوائیں مریضوں تک پہنچا نے کا فریضہ بھی انجام دیا۔

اب بھلا بتائیے کیا یہ بارہ تیرہ سال کے بچے کی تحریر معلوم ہوتی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ مضمون میں بڑی بے ربطی ہے۔ جگہ جگہ کچا پن بھی ہے مگر وہ تو فطری ہی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس نے اتنی ساری معلومات کہاں سے حاصل کی ہیں اور بھلا ان تمام معلومات کا فائدہ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب اس کے ذہن کا تخیل ہوا۔ اس میں سے کسی بھی بات میں کوئی صداقت نہ ہو ۔ مگر اگر ایسا ہے تو یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ آخر اس کے ننھے سے ذہن پر ڈاکیے اور ڈاک گھر اتنا حاوی کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ میں ہوں؟ لیکن اب ایمان اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ میں ایک حقیر سا ڈاکیہ۔ یہ بھی کوئی رتبہ ہوا؟ اگر میں ڈاکٹر یا وکیل یا کوئی نیتا وغیرہ ہوتا تو بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ ان لوگوں کے بچے اپنے ماں باپ کی نقل اتارا ہی کرتے ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ میں خواب میں بھی ہرگز نہ چاہوں گا کہ میری اولاد بھی ڈاکیہ بنے، بھلے ہی مجھے اپنی چٹھیاں بانٹنے کے لیے نکلنا کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگتا ہو۔ امتحان میں ڈاکیے پر ہزار پانچ سو لفظوں میں مضمون لکھ دینا الگ بات ہے اور ڈاکیہ ایک قطعاً مختلف اور دوسری بات۔ دنیا ایسی ہی منافقتوں کی وجہ سے تو اتنی خوب صورت نظر آتی ہے۔

کچھ عرصے سے میں یہ واضح طور پر محسوس کرنے لگا ہوں کہ زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس میں سے شرافت غائب ہوتی جارہی ہے۔ میں بہت کم پڑھا لکھا انسان ہوں مگر یہ پیشن گوئی کرسکتا ہوں کہ آگے آنے والا زمانہ بہت ہی خراب ہوگا۔ میرا بڑا لڑکا بھی غلط صحبت میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ اسے پڑھنے لکھنے میں تو کیا، قاعدے کے کھیل کود میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری ڈانٹ پھٹکار کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وہ اتنا بے غیرت ہوچکا ہے کہ میں نے اسے اب زیادہ کچھ کہنا سننا چھوڑ دیا ہے۔ محلے میں غنڈہ گردی بڑھتی جارہی ہے۔ گلیوں میں لفنگوں اور شہدوں کے جتھے ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ بے روزگاری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ اس ماحول کی وجہ سے ہی شاید سامنے والے ڈاکٹر صاحب یہ محلہ چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں،یا شاید ان کا کہیں تبادلہ ہوگیا ہے۔وہ لوگ اتنی خاموشی سے مکان خالی کرگئے کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ اچھا ہی ہوا۔ ویسے بھی یہ بڑا منحوس علاقہ ہے۔ جب دیکھو تب یہاں طاعون ہی پھیلتا رہتا ہے۔ مگر ان کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا ہے کہ چھوٹا کچھ گم سم سا رہنے لگا ہے۔

کل یہاں ایک بہت ہی تکلیف دہ اور شرم ناک واقعہ ہوا۔ کالی ندی کے پُل کو پار کرتے ہی بائیں طرف سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سے ہری مسجد ہے۔ وہاں کوئی پردیسی آکر ظہر کی نماز پڑھنے لگا۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے مسلک کا ہے۔ بس پھر کیا تھا، نمازیوں نے اپنی نیت توڑ کر اس پر حملہ کردیا جیسے وہ کوئی موذی سانپ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ انھوں نے مسجد سے اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ محلے کے کچھ نوجوان غنڈے اس کی طرف چاقو نکال کر بھی دوڑے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ اسے لگا نہیں۔ کسی طرح اپنی جان بچا کر بھاگا۔ اس کے بعد مسجد کا فرش، دیواریں اور یہاں تک مینار بھی دھو کر ’’پاک‘‘ کیے گئے۔ امام صاحب کا کہنا تھا کہ غیر مسلک کا آدمی وہاں نماز ادا کرے تو اللہ کا گھر ناپاک ہوجاتا ہے۔ پتہ نہیں، میں دین و مذہب کی اتنی باریک باتیں نہیں جانتا۔ مگر میں ایک بات سے اور فکر مند ہوں اور وہ یہ کہ مجھے شبہ ہے کہ بڑا بھی ان لونڈوں میں شامل تھا جو اس بے چارے کے اوپر چاقو تانتے ہوئے دوڑے تھے۔ اس واقعے سے آج کل ماحول میں تناؤ سا ہے۔ کل کوئی کہہ رہا تھا کہ آس پاس کے لڑکے زیادہ تر اپنے پاس چاقو اور دیسی طمنچہ رکھنے لگے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی حفاظت کرنا سمجھ داری کی بات ہے، کیوں کہ پورب کی سمت سے، جہاں نچلے طبقے کے ہندؤں کی بستی ہے، کبھی بھی مسلمانوں پر دھاوا بولا جا سکتا ہے۔

مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے کہ آج کل ڈاک بانٹنے کے کام میں میری طبیعت لگتی نہیں۔ مسجد والے واقعے کے بعد سے میرا دل برا ہوگیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ جو اتنے سارے خط ، پیغامات وغیرہ میں ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچاتا رہتا ہوں، آخر ان میں ہوتا کیا ہے؟ یہ محبت نامے ہیں یا طاعون کے جراثیم؟ کیا انسان دوسرے سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے یا پھر یہ سارے لوگ ایک بھیانک نیند کے شکار تو نہیں ہوگئے ہیں؟ کسی ہدایت، کسی تلقین، کسی پیغام ، محبت اور خوشی کی ان تک واقعتا کوئی رسائی ہی نہیں ہے۔ وہ اس سیاہ نیند میں حرف نفرت اور تشدد کے خواب دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایسی نیند کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ کام صور اسرافیل کے علاوہ اور کسی کے بس میں نہیں۔

ایک عرصہ ہوا جب مجھے لکھنے کا یہ شوق چرایا تھا۔ میں نے چاہا تھا کہ ذاتی باتیں لکھوں ۔مگر اب جو اپنا لکھا ہوا پڑھتا ہوں تو یہ سب مجھے اپنی نجی ڈائری کی طرح نظر آتا ہے۔ اگر کل کلاں کسی کو میرا یہ پلندہ مل جائے تو اس بکواس کو وہ ایک ڈاکیے کی ڈائری ہی سمجھے گا ، کوئی قصہ کہانی تو ہرگز نہیں۔ لہٰذا اب جا کر اس افسوسناک امر کا احساس مجھے ہوا ہے کہ جس طرح کسی جانور کی کھال اتارتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس سے لگا لپٹا خون نہ باہر آئے، بالکل اسی طرح دنیا کے بارے میں کوئی بھی بات لکھتے وقت انسان کی ذات کے لہو کی بو لفظوں سے ہمیشہ لپٹی رہتی ہے۔
اس لیے مایوس ہو کر میں یہ بیکار کا مشغلہ اب ترک کررہا ہوں ۔ بس اتنے ہی میں میرا شوق پورا ہوگیا، یا یہ کہیے کہ اب میرا دل بھر گیا۔ میں اس کے آگے کچھ بھی لکھنے سے بھر پایا۔

اس کے بجائے میں نے سوچا ہے کہ مجھے اپنی توجہ اپنی بوسیدہ سائیکل کو دینا چاہیے جس کی مرمت ایک عرصے سے ٹل رہی ہے۔ اس کے دونوں پہیوں میں لہر آگئی ہے اور مڈگارڈ کھڑ کھڑ بولتا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مجھے چھوٹے کے ساتھ اب زیادہ وقت گذارنا چاہیے۔ آج کل رات کو سوتے وقت وہ بڑے بھاری بھاری خراٹے لینے لگا ہے۔ اور اس کا سر تو اب بالکل ایک طاعون زدہ چوہے کے سر جیسا ہی ہوتا جارہا ہے۔

(۲)
خون سے خالی سفید گول چہرہ

’’تم پھر یہاں آگئے؟ ‘‘ بڑے بھائی نے لیہی بناتے بناتے اسے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

وہ جواب میں کچھ نہ بولا۔ بس سامنے پڑی لکڑی کی کالی اور گندی میز پر ٹین کے ایک بدرنگ ڈبے میں رکھی ہوئی سفید گاڑھی لیہی کو اور کالی کالی مہروں کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اس لیہی سے لفافے بند کیے جائیں گے۔ ڈاک ٹکٹ چپکائے جائیں گے اور پھر یہ کالی مہریں ان پر ثبت کردی جائیں گی۔

یہ ایک چھوٹا سا ڈاک گھر تھا۔ انگریزوں کے زمانے کی گوتھک طرز کی ایک گول اور منحوس پرانی عمارت۔ عام طور سے یہ گول ڈاک خانہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا بھائی اس گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔

’’تم بھاگ جاؤ یہاں سے۔ میرا مذاق نہ بنوایا کرو۔‘‘ بڑے بھائی نے لیہی سنی انگلیاں ایک کپڑے سے صاف کیں۔
’’میں وہ سرنگیں دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ وہ سر جھکائے ہوئے آہستہ سے بولا ۔
’’کون سے سرنگیں؟‘‘
’’بابو نے بتایا تھا کہ اس ڈاک خانے کے نیچے کچھ سرنگیں ہیں جو بہت دور دور کے شہروں کے ڈاک خانوں میں جا کر کھلتی ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ سنا میں نے بھی ہے مگر ان تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ فوجی تحویل میں ہیں اور ان میں اسلحہ بھرا ہوا ہے۔‘‘
وہ مایوس ہوگیا۔

’’اچھا تو پھر میں چلتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی وردی کی شکنیں درست کیں۔ سر پر لگی ہوئی ٹوپی کو سیدھا کیا اور اپنا تھیلا سنبھالتے ہوئے تقریباً دوڑتا ہوا وہاں سے واپس جانے لگا۔
’’سیدھے گھر جانا۔‘‘ بڑے بھائی نے آواز لگائی۔ ’’آج سورج گرہن پڑے گا۔‘‘
اس نے اپنے چوہے جیسا سر ہلایا۔

اس کا سر تو ضرور ایک طاعون زدہ چوہے کی طرح بے بس اور مغموم نظر آتا تھا مگر جسم مضبوط اور قد بہت لمبا تھا۔ اس کے حلیے کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ بھی گمان گذرتا تھا جیسے کسی تندرست و توانا آدمی نے کسی تماشے کے لیے چوہے کا نقاب پہن رکھا ہے۔ یہ ایسا سر تھاجسے دیکھ کر یہ اندیشہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید ابھی ابھی اس کے منھ سے خون کی پتلی لکیر پھوٹنے لگے اور ننھے ننھے دانت اس طرح باہر نکل آئیں جس طرح طاعون میں دم توڑتے ہوئے چوہے کے۔

مگر اس کے دانت بھی ننھے ننھے نہیں تھے۔ وہ عام دانتوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی بڑے اور چوڑے تھے۔ جب وہ ہنستا تھا (ایسا کم ہی ہوتا تھا) تو دیکھنے والوں کو لگتا کہ جیسے یہ دانت منھ سے باہر نکل کر خود اس کی ہنسی کو ہی چبا چبا کر نیست نابود کررہے ہوں۔

گرمی بہت بڑھ گئی تھی۔ جون کا مہینہ تھا۔ جون کی گرمی اور تپش کی انفرادیت ہی یہ ہے کہ وہ بار بار آدمی کے دل کو ایک گیلے تولیے کی طرح نچوڑتی رہتی ہے۔

تیز تیز چلتا ہوا وہ گول ڈاک خانے سے بہت دور نکل آیا تھا۔ سڑک کے چاروں طرف جنگلی جھاڑیاں اُگ رہی تھیں۔ بس تھوڑا آگے چل کر بائیں طرف مڑنے پر کالی ندی کا وہ بوسیدہ پُل پڑتا تھا جس کے تین در تھے۔ برسات کے دنوں کو چھوڑ کر صرف ایک در میں ہی پانی بہتا تھا۔ ویسے کالی ندی کا کیا تھا، وہ تو یہاں بھی بہہ رہی تھی۔ ادھر جھاڑیوں کے پیچھے خاموشی کے ساتھ۔

کچھ دور نکل آنے پر اسے ندی کا پُل نظر آنے لگا۔ وہ چونک پڑا، مگر اس بار خوف زدہ نہیں ہوا۔ آج وہ اسے تیسری بار نظر آئے تھے۔ وہ پُل پر سے جا رہے تھے۔ قطار بنا کر، پیروں میں لمبی لمبی لکڑیاں لگائے ہوئے۔

اسے یاد تھا۔ پہلی بار جب انھیں دیکھا تھا،زمانہ گذر گیا۔
خوف زدہ ہو کر اس نے بابو کا ہاتھ سختی سے بھینچ لیا تھا۔
’’بابو یہ کیا ہے؟‘‘

’’ ارے یہ؟ یہ تو ’پاسنگ شو‘، سگریٹ کا اشتہار ہے۔ یہ ایک کرتب ہے۔ نٹوں کا کرتب۔ یہ اپنے پیروں میں بانس لگا کر چل لیتے ہیں۔ مگر اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟‘‘

وہ اسی طرح بابو کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے کھڑا رہا۔

وہ سب سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔ اتنے طویل قامت کہ ان کے سروں کی، جوکروں جیسی سفید ٹوپیاں پُل کے کنارے لگے بجلی کے کھمبوں کے تاروں کو چھُو رہی تھیں۔ وہ گھر وں کی دیواروں سے بھی اونچے تھے۔ یہ ایک بھیانک منظر تھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ دوسرے ہاتھ میں دبی ہوئی میٹھے چورن کی پڑیا چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ کہیں بہت دور سے، سردی میں بھی نہ کہاں سے بھٹکتا ہوا پسینہ آگیا۔

اور دوسری بار اس نے انھیں جب دیکھا تو اس کے بابو کا جنازہ جا رہا تھا۔ وہ بھی جنازے کے ساتھ ساتھ تھا۔ جب میت ندی کے پُل پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ سامنے سے وہ آ رہے تھے۔ سفید کپڑے، پیروں میں وہی لمبے لمبے بانس لگائے۔ ایک خاموش جلوس کی شکل میں چلتے ہوئے وہ خود بھی ایک جنازے ہی کی مانند نظر آئے۔

بابو کی میت جب ان کے قریب پہنچی تو وہ سب رک گئے۔ اسے اس وقت احساس ہوا کہ چار اشخاص کے کاندھوں پر اٹھا کر لے جائے جانے والا میت کا پلنگ ان درجنوں کی تعداد میں، پیروں میں بانس لگا کر چلنے والے مہیب طویل قامت لوگوں سے اتنا نیچا ہوگیا تھا کہ نظر ہی نہ آتا تھا۔

’’کیا تم ڈر رہے ہو؟یہ ایک کرتب ہے۔ کرتب تب ہی دکھائے جاتے ہیں جب لفظ مر جاتے ہیں اور دنیا کو نیند آنے لگتی ہے۔‘‘ مغرب کی اذان ہونے والی تھی۔ پُل کے نیچے بہتی کالی ندی میں شام گر رہی تھی۔ بابو کے جنازے اور ان ہولناک اشخاص کے عکس کالی ندی میں ٹوٹ ٹوٹ کر بہنے لگے۔

وہ نہ جانے کب سے یہیں کھڑا تھا۔ وہ تو پُل پر سے نہ جانے کب کے غائب ہوچکے تھے۔ وہاں اب ہر طرف سناٹا تھا۔ بچپن میں وہ بار بار اس پُل پر سے گذرتا تھا۔ ویران سا خستہ حال پُل۔ دونوں طرف زنگ لگی ہوئی کمزور سی ریلنگ ۔ وہ اس کے گزرنے سے ہلتا تھا۔

وہ دن وہ کیسے بھول سکتا تھا۔ پُل پر بادلوں کے سائے تھے اور گذری ہوئی بارشوں کے چھینٹے تھے۔ ریلنگ پر دونوں طرف سفید رنگ کا مانجھا تنا ہوا تھا۔
سڑک نہ جانے کب ہوئی بارش سے بھیگی پڑی تھی۔ اسی بھیگی سڑک پر اس کا پیر پھسل گیا۔ اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے کے درمیان پھڑ پھڑا کر رہ گئی۔ وہ مانجھا نہیں تھا۔ ایک چاقو تھا ۔ ایک تیز دھار والا بے رحم ہنسی ہنستا ہوا چاقو۔

گردن سے بہتی خون کی دھار کو اپنے دونوں ہاتھوں سے روکتے ہوئے، بارش سے بھیگے اسی ہلتے پُل کے نیچے بہتی ہوئی کالی ندی اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس کا سر چکرا نے لگا۔ وہ ندی کو اور نہ دیکھ پایا اور آنکھیں موند لیں۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے وہ کھڑی تھی۔ ایک لڑکی جو عمر میں اس سے دو تین سال بڑی تھی۔ اس کا چہرہ بالکل گول اور بے حد سفید تھا۔ اتنا سفید کہ اسے شائبہ گذرا کہ شاید اس میں خون ہی نہیں ہے۔ لڑکی کی دو گھورتی ہوئی آنکھیں اسی پرٹکی ہوئی تھیں۔ نہ جانے کیوں وہ اس کے چہرے سے لاکھ کوشش کرنے پر بھی نظریں نہ اٹھا سکا۔

ڈاکٹر صاحب نے ٹانکے لگانے اور پٹی باندھنے کی کوئی فیس نہیں لی۔ بوا نے اس کا ہاتھ تھاما اور ان لوگوں کو دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دیں۔

آہستہ آہستہ اس کا زخم بھرنے لگا۔ مگر اسے ہلکا ہلکا سا بخار ہوجاتا تھا۔ آواز میں بھی تھوڑی سی تبدیلی آگئی تھی۔ دراصل زخم تو بھر رہا تھا مگر ٹانکوں میں کہیں کہیں مواد پڑ گیا تھا۔ مواد ہمیشہ آنے والے کھرنڈ کا راستہ روک لیتا ہے۔

ان دنوں وہ اپنے پلنگ پر لیٹا لیٹا صرف گول ڈاک خانوں اور گول سفید چہروں کا ہی آپس میں موازنہ کرتا رہتا تھا۔
پھر ایک دن وہ آئی، اس کا حال دریافت کرنے۔ اس کے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب تھی۔
’’یہ امی نے تمھیں دی ہے۔ اسے پڑھنا۔ دل بہلے گا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ اور اسے محسوس ہوا جیسے یہ آواز بھی اس کے چہرے ہی کی طرح سفید اور خون سے خالی تھی۔

لڑکی نے تھوڑی دیر بوا سے کچھ رسمی باتیں کیں پھر یہ کہہ کر کہ وہ کل آئے گی، رخصت ہوگئی۔مگر دروازے پر پہنچ کر اس نے ایک بار مڑ کر اسی کی طرف دیکھا تھا۔ دیکھا تھا یا گھورا تھا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل تھا۔

تب تو نہیں مگر اب وہ واضح طور پر سب جانتا ہے کہ دراصل اس کی آنکھیں ہی ایسی تھیں۔ وہ گھورتی رہتی تھیں۔ وہ کسی شکرے کی آنکھیں تھیں۔ گھورنے سے ہی ان آنکھوں میں قوت اور بصارت کا نور پیدا ہوسکتا تھا۔ ورنہ وہ صرف اندھے کی آنکھیں تھیں۔ مگر بچپن میں وہ یہ سب کہاں جانتا تھا۔ان دنوں تو اسے ان گھورتی ہوئی آنکھوں اور خون سے خالی سفید گول چہرے سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ تقریباً روز ہی اس کے گھر آتی تھی مگر باتیں صرف بوا سے کرتی تھی۔ اسے تو صرف گھورتی رہتی تھی۔

وہ اب ٹھیک ہوگیا تھا، اسے بخار بھی نہیں آتا تھا۔ مگر جب وہ اس سفید چہرے کی جانب نظر اٹھاتا تو اسے اپنی ہڈیوں کے اندر پوشیدہ ایک تازہ بخار کا احساس ضرور ہوتا۔ عجیب بات تھی کہ اسے صرف اس کا چہرہ ہی نظر آتا تھا۔ کوشش کرنے پر بھی وہاں اور کچھ نہیں دیکھا یا محسوس کیا جاسکتا تھا۔ وہ بہت ڈھیلے ڈھالے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کپڑے پہنتی تھی۔ اس کے پیٹ کی طرف دیکھنے پر لگتا جیسے وہ آنتوں سے خالی پیٹ ہو۔ جیسے وہاں صرف ہوا بھری ہو۔ وہ کبھی کبھی اس کی کہنیوں کی ہڈیوں یا کلائی کی ہڈیوں کو دیکھنا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔

وہ گول سفید چہرہ بھی دراصل ایک خالی طشتری ہی کی طرح تھا جس پر اس کی بے حس ، گھورتی ہوئی دو چھوٹی چھوٹی آنکھیں کسی ڈیزائن کی مانند چسپاں تھیں۔ یقیناًوہاں ناک تھی، ہونٹ تھے، ٹھوڑی تھی اور کان بھی تھے مگر وہ یاد نہ آتے تھے۔ اور اکثر وہ چہرہ انھیں اپنی حبس بھری سفید گول دھند میں چھپا لیتا تھا۔

’’شاید وہ مجھ سے محبت کرتی ہے ،اس لیے گھورتی ہے۔‘‘ وہ اکثر سوچتا۔ دراصل گھورنا ایک پراسرار عمل ہے۔محبت میں، نفرت میں، غصے میں، غوروفکر میں اور یہاں تک کہ بے خیالی میں بھی آنکھوں کو بہرحال گھورنے کا فرض تو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ تو پھوٹ پھوٹ کر رونے کا وقت ہی ہے جب آنکھوں کو گھورنے سے نجات ملتی ہے۔

اس لیے وہ کوئی فیصلہ نہ کرپاتا مگر ایک دن آخر اس نے ارادہ کر ہی لیا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے ایک سفید کاغذ پر لکھا۔
’’مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘
پھرا س جملے کو انگریزی میں بھی لکھا ، کیوں کہ اسے یاد آیا کہ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔
“I love you”

عبارت کے نیچے اس نے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا دیا تھا۔ یہ اس کا محبت نامہ تھا۔ زندگی کا پہلا اور آخری محبت نامہ جسے اس نے لڑکی کو دی ہوئی انگریزی کتاب میں احتیاط کے ساتھ رکھ دیا۔

اس دن صبح سے دوپہر تک بارش ہی ہوتی رہی۔ جب بارش تھمی تو وہ آئی۔ اس کے آنے پر وہ کتاب ہاتھ میں تھام کر دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اگست کا مہینہ تھا۔ بارش کے بعد دھوپ نکل آئی تھی۔ محلے کے گھروں کی دیواریں اور منڈیر یں صبح کی بارش سے بھیگی ہوئی تھیں مگر اب ان پر سنہری دھوپ چمکنے لگی تھی۔

کچھ دیر بوا سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے گھر واپس آنے کے لیے نکلی۔اس نے اسے دروازے پر کھڑے دیکھا تو چونک گئی۔
’’لو اپنی کتاب۔‘‘ اس نے اسی گھرگھراتی ہوئی آواز میں کہا جو گردن کے زخم کے بعد اس کے حلق سے نکلنے لگی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ آواز خود ایک کٹا پھٹا زخم تھا جس میں پیپ بھر گئی ہو۔ ایک پل کے لیے اس نے خود کو دروازے پر کھڑا ایک ڈاکیہ تصور کیا۔
’’اس میں ایک خط ہے۔‘‘ اس نے اپنی پیپ بھری آواز میں اس طرح کہا جیسے ڈاکیے دروازے پر آواز لگاتے ہیں۔

لڑکی نے کتاب تھامی ، پھر اس کے اندر سے وہ سفید کاغذ نکالا۔اس کا سفید گول چہرہ اور بھی زیادہ خطرناک حد تک سفید ہوگیا۔ اس کی گھورتی ہوئی دو آنکھیں اس کے چہرے سے نکل کر اُڑنے لگیں ، کسی شکاری عقاب کی طرح۔

’’میں تمھارے چوہے جیسے نفرت آمیز سر کو دیکھتی تھی۔ میں تم سے نفرت۔۔۔۔۔۔۔‘‘ لڑکی کی خون سے خالی آواز دروازے کی چوکھٹ سے ٹکرائی۔ اس نے کاغذ کا وہ ٹکڑا پرزہ پرزہ کرکے اس کے منھ پر دے مارا۔ پھر اس کے جسم پر کپڑے اور بھی زیادہ بڑھ گئے۔ اتنے زیادہ کہ اس کے بعد وہ اسے دوبارہ نہ دیکھ سکا۔

ٹھیک اس وقت آسمان پر کہیں رینگتا ہوا گھنا سیاہ بادل آ پہنچا اور دیواروں، منڈیروں سے چپکی ہوئی دھوپ پٹ کی آواز کے ساتھ ایک حواس باختہ یا مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گر گئی اور سڑک کنارے، کالا پانی لے جاتی ہوئی تنگ نالی میں کسی زرد سانپ کی طرح بل کھاتی ، بہتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

وہ سفید چہرہ اس کا اکلوتا اندھیرا بن گیا۔ اس اندھیرے میں ایک تیز دھاروالا نفرت آگیں چاقو پھر اس کی گردن پر آکر ٹھہر گیا۔

وہ پُل اب بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ چلتے چلتے وہ وہاں سے دور نکل آیا ہے۔ اب وہ بچہ یا کم سن لڑکا نہیں ہے۔ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ہے۔ مگر اب بھی اس کے خوابوں میں سبز رنگ کا ایک بڑا سا ڈاک ٹکٹ اُڑتا ہوا آتا ہے جس پر وہ گول اور سفید چہرہ بنا ہوا ہے۔ ان خوابوں میں، جنھیں دیکھ کر سوتے وقت وہ زور زور سے خراٹے لیتا ہے اور کبھی کبھی اس کی بیوی بے رحمی کے ساتھ زور زور سے اس کا شانہ جھنجھوڑ کر جگا دیتی ہے۔

چلتے چلتے اسے محسوس ہوا کہ تھیلے میں سے کاغذ ڈھیلے ہو کر باہر آ رہے تھے۔ تھیلے کا توازن بگڑنے لگا۔ وہ سڑک پر اکڑوں بیٹھ گیا اور تھیلے کے کاغذوں کو ایک ڈوری سے کس کر باندھنے لگا۔

اور تب اس نے سوچا کہ محبت اور نفرت دونوں اپنی الگ الگ تاریخ لکھتی ہیں۔ دو متوازی تاریخیں اور پھر آخر میں یہ دونوں ایک ہی ڈوری سے بندھ جاتی ہیں۔ کبھی نہ سمجھ میں آنے کے لیے، ایک راز، ایک معمہ بن جاتی ہیں۔

اس نے اپنی گردن کو چھوا۔ زخم جب بھر جاتے ہیں تو ان کے اندر رہنے والا درد کہاں جاتا ہے۔ کس اندھیرے گوشے میں جاکر چھپ جاتا ہے؟ کیوں کہ اس ناقابل معافی دنیا میں کوئی بھی شے ، کوئی بھی کیفیت کبھی مٹتی نہیں۔ وہ صرف اپنا چولا بدل لیتی ہے۔

وہ دوڑ دوڑ کر چل رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ چوبیس سال بعد آج پھر سورج گرہن پڑنے والا ہے۔ مگر دھوپ میں ایک دوسرے قسم کی تیزی ہے۔ ایک شدید احتجاج، ایک تپتا ہوا غصہ چاند کے خلاف۔ زمین کے خلاف۔ آسمان کے پردے سے باہر آرہاتھا۔ دور کسی پنجرے میں بند درندے کی غراہٹ کی طرح۔ اس نے اسے واضح طور پر سنا۔

(۳)
قتل کا حلیہ کیسا ہے؟

’’بھیا۔ ڈبے میں کریلے اور روٹیاں رکھ دی ہیں۔ مگر ہوسکے تو آج دوپہر سے پہلے ہی گھر آ جانا۔ آج سورج گرہن ہے۔‘‘ بہن نے بھائی سے کہا تھا۔
’’اب جتنی ڈاک ہوگی وہ تو بانٹنا ہی پڑے گی مگر تم دونوں بچوں کو دوپہر میں گھر سے باہر مت نکلنے دینا۔‘‘ اس نے چائے پیتے پیتے جواب دیا تھا۔
’’بابو سورج گرہن میں کیا ہوتا ہے؟‘‘ چھوٹے نے باپ کی وردی پر رینگتی ہوئی چیونٹی کو جھاڑتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کم ہوجاتی ہے۔‘‘
’’بابو میں بھی چلوں تمھارے ساتھ، سورج گرہن دیکھنے؟‘‘

’’میں سورج گرہن دیکھنے تھوڑی جا رہا ہوں۔ میں تو اپنی ڈیوٹی پر جا رہا ہوں۔ مگر تم دوپہر میں گھر سے مت نکلنا۔ اس کے اثرات خراب ہوتے ہیں۔‘‘
وہ اپنی چائے ختم کرکے اٹھ گیا۔ اپنی وردی اور ٹوپی کو سنبھالتے ہوئے اس نے دروازے میں کھڑی سائیکل اٹھائی جس کے کیرئیر میں چھوٹا سا المونیم کا ناشتہ دان لگاہوا تھا۔

بابو آج ہیرو نظر آ رہے ہیں، یہ وردی ان پر کتنی سجتی ہے۔ چھوٹے نے سوچا تھا۔

گیارہ بجے سے لگاتار ڈاک بانٹتے بانٹتے وہ تھک گیا تھا۔ اب دوپہر ہو رہی تھی۔ اس کی سائیکل کچھ دنوں سے بہت بھاری چلنے لگی تھی۔ پیڈل مارنے میں پیروں کی جان ہی نکل جاتی تھی۔ مئی کی دوپہر تھی۔ لُو بہت تیز چل رہی تھی، گرم گرم جھکڑ اس کی وردی کو اڑائے دے رہے تھے اور سائیل ہوا کے زور سے باربار پیچھے کی طرف جاتی تھی۔ اسے بہت طاقت لگانا پڑرہی تھی۔ سڑکیں اور گلیاں آج تقریباً ویران تھیں۔ ایک تو دوپہر کی وجہ سے اور شاید گرہن کے سبب بھی۔

بس یہ دو منی آرڈر اور پہنچا دوں، پھر آرام سے بیٹھ کر کہیں کھانا کھاؤں گا۔ اس نے سوچا۔ بھوک اور پیاس سے اس کی حالت خراب ہورہی تھی۔
اب وہ دادو کے کنویں کے قریب آگیا تھا جس کے پاس پاکھڑ کا ایک پرانا درخت تھا۔ اسے دادو کے کنویں کے سامنے والی گلی میں جانا تھا جو آگے چل کر بند تھی۔

تب اسے خیال آیا کہ یہی وقت سورج گرہن کا ہے۔
دھوپ مٹیالی ہوگئی تھی۔ دھوپ کا یہ مٹیالا پن خوش گوار نہ تھا۔ سورج کے سامنے بادل کا کوئی چیتھڑا تک نہ تھا مگر کسی پراسرار سبب سے اس کی چمک کم ہوتی سی محسوس ہوئی۔

ویران دوپہر میں آسمان میں کوئی چیل انڈا چھوڑ رہی تھی۔
ماحول میں ایک عجیب سی، ناقابل تشریح قسم کی نحوست طاری ہوگئی۔

وہ سائیکل سے اتر کر ، پیدل، سائیکل کا ہینڈل تھامے تھامے اس سنسان بند گلی میں داخل ہوا۔
اس نے دیکھا سامنے تین چار لڑکے کھڑے ایک فحش سا گیت گاتے ہوئے اس کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔
’’ہٹ جانا بھائی،آگے جانا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔

’’چپ تیری بہن کی۔۔۔۔۔نکال کتنے پیسے ہیں تیرے تھیلے میں ۔‘‘
’’اسے ہاتھ مت لگانا۔ یہ منی آرڈر کے پیسے ہیں۔ میری جیب میں جو ملے، وہ لے لو۔‘‘ وہ سہم کر تقریباًگڑگڑاتے ہوئے بولا۔
’’تیری تو ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ایک لڑکے نے جیب میں سے لمبا سا چاقو نکالا ۔
اس نے ڈاک کے تھیلے کو کس کر اپنے سینے سے لگالیا۔
لڑکوں نے مل کر اسے دبوچ لیا اور اس پر پے درپے چاقو کے وار کرنے لگے۔

وہ بڑی ہذیانی چیخیں تھیں مگر اس وقت جیسے انھیں سننے والا کوئی نہ تھا۔ تھیلا چھین کر وہ چاروں دادو کے کنویں کی طرف بھاگتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے ہوئے چیختا ہوا دادو کے کنویں کی طرف دوڑا مگر پھر اس میں سکت نہ رہی۔ اپنا پیٹ تھامے تھامے وہ جھکتا چلا گیا۔ پھر بے دم ہو کر زمین پر پڑی ہوئی اپنی سائیکل پر گر پڑا۔

وہ یوں ہی اپنی سائیکل پر گرا ہوا تھا۔ اس کے پیٹ سے آنتیں نکل کر باہر آگئی تھیں۔ اس کے نیچے زمین پر خون کا دھبہ بڑا ہوتا جارہاتھا۔ اسی خون پر اس کا ناشتہ دان کھل کر الٹ گیا تھا جس میں سے کریلوں کی سبزی اور دو روٹیاں نکل کر اس کے پیٹ سے باہر آئی ہوئی بھوکی آنتوں سے جا لپٹی تھیں۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے دم توڑ رہا تھا۔ آسمان اور بھی مٹیالا ہونے کی طرف جھکا۔ دھوپ یکبارگی کو بالکل مدھم ہوگئی۔آسمان کی اونچائیوں میں ایک چیل چیخی اور دادو کے کنویں میں بیٹ کرتی ہوئی گذر گئی۔ دور خلا میں سورج کو گرہن لگا۔ پھر ایک ثانیے بعد دھوپ تیز ہوئی اور تب دادو کے کنویں کی طرف سے ایک شور اٹھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے ادھر چلے آ رہے تھے۔

’’ارے ڈاکیے کو مارڈالا۔ بے چارے غریب ڈاکیے کو۔‘‘ کوئی چلا چلا کر کہہ رہا تھا مگر اس کے کانوں میں یہ آواز بہت مدھم سی سرگوشی بن کر آئی اور شاید یہ اس دنیا کی آخری آواز تھی جو اس کے کانوں نے سنی۔

چھوٹے کو صرف اتنا یاد ہے کہ بھری دوپہر میں سڑک پر خون کا ایک بڑا سا دھبہ تھا جو لُو کے گرم تھپیڑوں سے خشک اور سیاہ ہوتا جاتا تھا۔ سائیکل کی گھنٹی، مڈ گارڈ، پہیے، تیلیاں، گدی، سب پر خون کے چھینٹے تھے۔ بابو کی خاکی رنگ کی وردی خون میں اس طرح لتھڑی ہوئی تھی جیسے مٹی خون سے لتھڑ جاتی ہے۔ اس کو بابو کی شکل نظر نہیں آئی، یہاں تک کہ اس شام جب اسے باپ کی میت کے پاس لے جایا گیا تو وہاں بھی اسے کوئی شکل نہیں دکھائی دی۔ سفید کفن کے نیچے جھانکتا ہوا صرف وہی خون کا بڑا سا دھبہ ہی چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔

بہت عرصہ گذر جانے کے بعد کسی مسخرے نے اس سے پوچھا تھا۔
’’قتل کا حلیہ کیسا ہوتا ہے، وہ دیکھنے میں کیا لگتا ہے؟‘‘
تب چھوٹے نے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ جواب دیا تھا کہ قتل خون کے رنگ کا ایک ڈاک ٹکٹ ہے جس پر ایک چاقو بنا ہوا ہے۔

(۴)
بہروپیا

جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو بیوی باہر ہی کھڑی مل گئی۔
’’آگئے؟ آج کتنا کمایا؟‘‘ وہ زہر خند لہجے میں بولی۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر چہرے سے خوشی کا اظہار کیاا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے تک آیا، پھر وردی اتار کر دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دی۔ پھر سر سے ٹوپی اتاری اور فرش پر پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

’’روٹی کھاؤگے؟‘‘
اس نے بظاہر خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفی میں سر ہلادیا۔
’’اچھا ہو اگر تم اپنی ٹوپی ہر وقت سر پر لگائے رہو، ایک تو بالکل گنجے ہو چکے ہو، اوپر سے ٹوپی اتارنے پر تمھارے سر کا چوہاپن کچھ اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔
اچانک اس کے چہرے کی خوش دلی غائب ہوگئی۔ اس کے اندر سے اداسی اس طرح نمایاں ہوگئی جیسے رنگے ہوئے بالوں میں سے سفیدی جھانکنے لگتی ہے۔
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
’’کیا بات ہے۔ آج کچھ جلدی آگئے؟‘‘
وہ بیوی کو بغیر پلکیں ہلائے دیکھنے لگا۔جب بھی وہ اس طرح بغیر پلکیں ہلائے دیکھا کرتا تو محسوس ہوتا جیسے وہ ساری دنیا کو اپنی پلکوں پر ڈھیر کی طرح اکٹھا کرکے بیٹھا ہے اور جب پلکیں ہلاتا تو لگتا جیسے وہ ساری دنیا کو غصے کی آگ میں جلا کر راکھ کر دینے کے لیے بار بار دیا سلائیاں رگڑ رہا ہے۔
’’آج سورج گرہن پڑے گا۔ پورے چوبیس سال بعد۔‘‘ وہ افسردگی کے ساتھ بولا۔

’’تو…تو تم کیا کروگے؟ کیا کالا چشمہ لگا کر گرہن لگنے کا منظر دیکھو گے؟‘‘ وہ درشتی کے ساتھ بولی۔
اس نے بیوی کے درشت لہجے کو محسوس کیا اور یہ سوچنے لگا کہ وہ گرہن لگنے کا ایک منظر دیکھ چکا ہے…چوبیس سال پہلے کالے شیشے کے بغیر مگر آسمان پر نہیں سڑک پر۔

بیوی بھی گویا اس وقت اس کے سر ہی ہوگئی تھی۔
’’تمھیں اپنا بہروپیا پن جتنا دکھانا ہے، دکھاؤ۔ مگر اس سڑی گلی ، اگھور وردی کو تو لے جا کر کوڑے میں پھینک آؤ۔ اس میں نہ جانے کتنے جوئیں اور پسّو پڑ گئے ہوں گے۔ ایسی بھی کیا باپ کی نشانی۔ تم کیسے اسے برداشت کرتے ہو؟ اس پر تمھارے باپ کے خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔‘‘
اور یہ حقیقت تھی کہ وردی پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے جو وردی کے دھلتے رہنے کے ساتھ اور وقت گذرجانے کے باعث کالے اور جامنی رنگ میں بدل گئے تھے۔ اس میں جگہ جگہ سوراخ ہوگئے تھے۔برسات میں پانی بھیگ کر اس سے ایسی سڑاندھ نکلتی کہ قریب کھڑے آدمی کو اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑ جاتا۔ بوا نے باپ کے مرنے کے بعد ہی خون سے سنی اس منحوس وردی کو پھینک دینا چاہا تھا مگر اس نے ضد پکڑ لی تھی۔

’’وردی نہیں جائے گی۔ ہر گز نہیں جائے گی۔ وردی میری ہے۔‘‘ وہ رو رو کر کہہ رہا تھا۔ آخر بوا کو بن ماں باپ کے اس سنکی سے بچے کے سامنے ہار ماننا ہی پڑا۔

’’سنو! پرانے کپڑے فروخت کر کر کے اب مجھ سے گذر بسر نہیں ہو سکتی۔ تم یہ بہروپیا پن چھوڑ کر کوئی ٹھیلہ ہی لگا لو۔‘‘ بیوی نے اس بار نرمی اور سمجھانے والے انداز میں کہا تھا۔ بیوی کے سانولے ماتھے پر پھر چند دانے ابھر آئے تھے، جیسے مچھروں کے کاٹنے سے ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی اس کی نظر ان دانوں پر پڑی، اسے اپنے جسم کے اندر ایک جانی پہچانی سی بو کا احساس ہوا۔ ایک ایسی بُو جو صرف شہوت جگاتی تھی اور کھال کے مساموں میں کوئی شے باہر سے آ کر رینگنے لگتی ہے۔ اس کی بیوی نے اس بُو کو پہچان لیا۔

’’ہوش میں رہو۔‘‘ اس نے حقارت کے ساتھ کہا اور اندر چلی گئی۔

وہ تھوڑی دیر یوں ہی فرش پر بیٹھا رہا، پھر لیٹ گیا اور بوا کو یاد کرنے لگا جسے گذرے ہوئے دس سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس کی بیوی بوا کی سسرال کی ایک دور کی رشتے دار ہوتی تھی۔ وہ ایک مطلقہ عورت تھی جس کے کوئی بچہ نہ ہوسکا تھا۔ بوا نے اس کے ماں باپ کو پتہ نہیں کیا پٹّی پڑھائی تھی کہ وہ اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔ بیوی کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی ضرور تھیں مگر ان میں کوئی جاذبیت نہ تھی بلکہ وہ ہمیشہ اس طرح پھٹی پھٹی رہتیں جیسے ان میں تنکا پڑ گیاہو اور وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے کسی سے نکلوانا چاہتی ہو۔ دبلی پتلی ہونے کے باوجود اس کے کولہے بھاری اور ضرورت سے زیادہ گول مٹول تھے۔ اس کے پستان چھوٹے اور ڈھلکے ہوئے تھے مگر ان میں گولائی نام کو نہ تھی۔ وہ کچھ لمبوترے سے تھے۔ ایک عجیب بات اس میں یہ بھی تھی کہ اکثر اس کے ماتھے پر ایسے سرخ سرخ دانے ابھر آیا کرتے تھے جو گرمیوں میں نکلنے والی پھنسیوں سے مشابہ تھے یا پھر مچھر کاٹے سے ۔ ان دانوں کا کوئی وقت یا موسم نہ تھا ۔ وہ پراسرار انداز میں کبھی بھی نکل سکتے تھے۔ اور جب وہ نکلتے تو انھیں دیکھ کر وہ جنسی خواہش سے بے قابو ہو جاتا۔ ایک ایسی خالص اور ایمان دار جنسی خواہش جس میں محبت کی ملاوٹ کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ بس یہی وہ زمانہ ہوتا جب رات کے اندھیرے میں پلنگ پر وہ دونوں وحشیوں کی طرح مضحکہ خیز انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی سی کرتے، جب تک کہ ا ن کی سانسیں ڈھیلی نہ پڑ جاتیں۔ تب اس کا مضبوط جسم سر خرو ہوتا مگر اس کا چوہے جیسا سر تکیے پر ڈھلک جاتا۔
پھر بیوی اندر والے کمرے میں جا کر سو جاتی جہاں تک اس کے خراٹوں کی آواز نہ آتی تھی۔

یقیناًیہ ایک بھیانک بات تھی مگر ہر ایمان دار اور خالص جذبے میں قسم کا ناقابل فہم اور اس کا بالکل نجی بھیانک پن ہوتا ہی ہے جس کے لیے اسے معاف کردینا چاہیے۔

اور یہ تو سب کو عیاں تھا کہ اس کی بیوی کے بچے نہ ہوسکتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے ایک ایسے شخص سے بیاہ دیا گیا تھا جو دنیا کی نظر میں صحیح الدماغ نہ تھا، بلکہ شاید پاگل تھا۔
شاید یہی سبب تھا کہ ٹھیک ٹھاک پڑھ لکھ لینے کے باوجود اس کو محکمۂ ڈاک میں اپنے باپ کی جگہ نوکری نہ مل پائی تھی۔ ہاں، اس کے بھائی کو ضرور گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کی ایک حقیر سی نوکری مل گئی تھی۔ بڑا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ مکان میں رہتا تھا اور چھوٹے بھائی کے سنکی پن سے اتنا نالاں تھا کہ اس سے تقریباً ہر قسم کا تعلق ہی توڑ چکا تھا۔

’’بہروپیا۔ بہروپیا!‘‘ باہر گلی میں بچوں نے آواز لگائی۔
وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ شاید اسے جھپکی آگئی تھی۔ شام ہورہی تھی۔ سورج گرہن گذر چکا تھا۔ شاید ساتھ خیریت کے۔ صرف اس کے ہاتھ پیر کچھ گرم سے تھے۔
’’بہروپیا!‘‘ باہر بچے پھر چلائے۔

اور یہ حقیقت تھی کہ وہ ایک بہروپیا تھا۔ مگر کیسا عجیب بہروپیا، کہ صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا۔ بچپن سے ہی وہ باپ کی زندگی میں ہی نہ جانے کہاں کہاں کے ڈاک گھروں میں بھٹکتا پھرتا۔ باپ کی چھٹی کے دن وہ اس کی وردی پہن کر ڈاکیے کی نقل اتارتا۔ یہ سلسلہ باپ کے قتل کے بعد رکا نہیں بلکہ پاگل پن میں بدل گیا۔ محلے والے اسے چھیڑا کرتے اور یوں تو شہر میں بہت سے بہروپیے گھومتے رہتے تھے، کوئی ڈاکٹر کا بہروپ بھرتا تھا، کوئی وکیل کا، کوئی ٹریفک کے سپاہی کا تو کوئی ڈاکو کا، یا چیتھڑے لگائے ہوئے مجنوں کا۔ جو بھی ہو، بہروپیے بھکاریوں سے تو بہتر تھے اور انھیں بھکاریوں کے مقابلے زیادہ عزت اور قدر کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے تھا۔ مگر وہ تو صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا اور کچھ لوگ اسے مجذوب بھی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کئی بار پولیس بھی اسے غیر ملکی جاسوس ہونے کے شبہ میں پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لے گئی تھی۔ لیکن اب اسے سب جاننے لگے تھے۔ وہ تقریباً تمام شہر میں مذاق کا نشانہ بن گیا تھا۔ خاص طور پر محکمۂ ڈاک کے لیے۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ بخوبی جانتا تھا کہ مذاق اڑانے والوں میں اور مذاق کا موضوع بننے والوں میں آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں ہوتا۔ یہ کوئی رشتہ ہی نہیں ہے، اگرچہ دنیا کے سب سے زیادہ دلچسپ اور تفریح کن رشتے کا التباس ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں قطعی طور پر مختلف دنیاؤں کی مخلوق ہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی دو دنیائیں۔ مذاق اڑانے والوں کے سر طاعون سے بیمار چوہوں جیسے نہیں ہوتے اور سوتے وقت انھیں بھیانک خراٹے نہیں آتے، وہ ایک الگ دنیا کے بہروپیے ہیں۔

باہر گلی میں اب بہت سے بچوں نے مل کر ہانک لگائی۔
’’بہروپیے۔۔۔بہروپیے! کہاں ہو تم؟‘‘
مغرب کی اذان ہو چکی تھی۔ وہ گھر سے باہر آنے لگا۔ محلے کے بچے اسے دیکھ کر اچھلنے کودنے لگے۔ پھر وہ چلائے۔
’’وردی پہن کر آؤ۔ وردی پہن کر آؤ۔‘‘
وہ واپس گھر میں وردی پہننے کے لیے دوڑا۔
صبح سے شام تک اور کبھی کبھی رات میں یہی اس کا مشغلہ تھا جسے وہ ایک عین اخلاقی فرض کی حیثیت سے سالہا سال سے کرتا آرہا تھا۔ بہروپیا بن کر اپنی دانست میں وہ معاشرے میں مسرت پیدا کررہا تھا۔ ایک ایسی مسرت جو حیرت زدگی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ معصوم حیرت زدگی جو صرف اس لیے غائب ہوتی جارہی تھی کہ خود لوگوں نے نہ جانے کتنے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ معصوم حیرت زدگی بہرحال لوگوں کو اپنے اصل روپ کے اندر تک تو لے جاتی تھی مگر وہ تھا ہی کیا؟ اس کی اوقات ہی کیا تھی؟ وہ تو شاید ایک ڈاکیہ بھی نہ تھا۔ صرف ڈاکیے کا بہروپیا تھا جو دوپہر، شام، رات ہر وقت گلی ، کوچوں، ویران علاقوں اور کبھی کبھی کالی ندی کے سنسان اور ویران کناروں پر بھی بھٹکتا پھرتا تھا۔ وہی کالی ندی جو شاید اس کے جسم سے امر بیل کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔
وہ پیدل دوڑ دوڑ کر، ڈاک بانٹا کرتا اور یہ ڈاک کچھ اس طرح کی ہوتی۔
ردی کاغذ کے ٹکڑے، بچوں کی ردی میں بیچی گئی کتابیں اور کاپیوں کے اوراق، سودا فروخت کرنے والوں کی اخباری یا بانس کے کاغذ کی بنی تھیلیاں، جن میں وہ جھوٹ موٹ کے پارسل بنا لیتا۔ ان میں جنگلی پھول، گھاس اور کنکریاں وغیرہ بھردیتا تھا۔ کسی غریب بچے کو سڑک کنارے روتا ہوا دیکھتا تو بھاگ کر اس کے پاس آتا اور کہتا۔
’’لو تمھاری چٹھی آئی ہے۔‘‘ اور پھر اس کے ہاتھ میں ایک میلا سا دبا مسلا رنگین کاغذ پکڑا دیتا، جس پر کچھ نہ کچھ لکھا ضرور ہوتا تھا، کیوں کہ تحریر کے بغیر کاغذ کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ایک چھوٹا بچہ بھی اس نکتے کو بہرحال بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کے تھیلے میں پرانے رنگین کلینڈر، پرانے شادی کے کارڈ، سال گرہ یا تیوہاروں کی مبارک باد وغیرہ کے کارڈ بھی رہتے تھے۔ بچوں کی طرح وہ ان بوڑھے ماں باپ کو بھی کوئی نہ کوئی کاغذ یا کارڈ دے کر بہلا دیتا تھا جو اپنی اولادوں کے خطوں کے انتظار میں تقریباً مردہ ہوچکے تھے۔

کیا واقعی یہ ایک قسم کی اداکاری تھی؟ صبح سے شام تک یہ بہروپ بھرنے کے بعد اس کے پاس صرف ایک خالی اور بے معنی دنیا رہ جاتی تھی جو کہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ ہر عظیم اداکار کا مقدر ہوتی ہے۔ مگر نہیں اس خالی اور بے معنی زندگی میں رات کے وقت اس کے لیے ایک شے اور پوشیدہ تھی اور وہ تھی اس کے خراٹے۔ یہ کوئی عام خراٹے نہ تھے۔ اس کے سوجانے کے بعد اس کے قریب لیٹ کر دنیا کے کسی بھی شخص کو نیند نہیں آ سکتی تھی۔ دوسروں کے لیے یہ بے حد خوف ناک اور پراسرار خراٹے تھے۔ ویسے تو یہ بیماری اسے ہمیشہ سے تھی مگر بچپن میں مانجھے سے گردن کٹ جانے کے بعد سے یہ بڑھ گئی تھی اور گذشتہ دو سال سے اس نے بے حد شدت اختیار کرلی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خراٹے لینے کی وجہ ناک کے پچھلے حصے ، تالو، حلق کے کوے اور زبان کی کوئی نہ کوئی خرابی ہوتی ہے۔ دراصل ہوا کا راستہ بند ہو جانے سے آدمی خراٹے لیتا ہے۔ اس کے لیے یا تو تالو کا آپریشن کرانا ہوگا یا پھر حلق کے کوے نکلوانے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہ تو وہ اپنے ظاہری یا جسمانی زندگی کے تئیں اتنا چوکنا تھا اور نہ کوئی دوسرا اس کے لیے یہ درد سر مول سکتا تھا۔ مگر ڈاکٹروں کا اندیشہ تھا کہ اس طرح کے خراٹوں میں دل پر دباؤ بڑھتا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے کبھی بھی سانس رک سکتی تھی۔ دل کی دھڑکن بند ہو سکتی تھی اور وہ مر سکتا تھا۔

کبھی کبھی جب اس کے گلے کے غدود بڑھ جاتے تو یہ خراٹے اٹک اٹک کر آنے لگتے۔ کچھ اس طرح جیسے تالو میں ازل سے بیج کی صورت پوشیدہ ’شبد‘ ناک اور منھ سے نکلتی ہوئی ہوا کے سہارے باہر آنا چاہتے ہوں۔ کسی نادیدہ، پرا سرار اور عظیم زبان کے حروف تہجی میں شامل ہوکر نیند کی خاموشی کے خلاف ایک بیانیہ کی تشکیل کرنے کے لیے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے یہ خراٹے اداس اور دکھی تھے۔ ایسے خراٹے موت کے کتنا قریب تھے اور شاید اس کالی ندی سے بھی جو اس کے شہر میں ہر طرف بہتی پھرتی تھی۔

وردی پہن کر اور کاغذوں سے بھر اہوا خاکی رنگ کا تھیلا لیے ہوئے وہ گھر سے پھر نکلا اور گلیوں گلیوں دوڑتا ہوا گھومنے لگا۔کسی بچے کے ہاتھ میں کوئی رنگین کاغذ تھماتا ہوا ، کسی راہ گیر کو کسی ایسی شادی کا کارڈ دیتا ہوا جس کی تاریخ نکل چکی تھی۔ ایک سچے بہروپیے کی طرح اپنا فرض پورا کرتے ہوئے وہ دوڑ دوڑ کر اپنی ڈاک بانٹا کرتا۔ دوڑنے میں اس کی سانس بری طرح پھول جاتی تب وہ دم بھر کو سڑک کنارے یا کسی دوکان کے پٹلے پر بیٹھ جاتا۔ مگر آہستہ چلنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ شاید اسے معلوم تھا کہ جدید انسان کے ارتقا میں دوڑنے کا کتنا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ دوڑنے میں انسانوں کی گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں کے گُر یوں نے تمام دھچکے برداشت کرنا سیکھ لیا۔ دونوں بانہوں اور کاندھوں نے توازن برقرار رکھنے کا کام انجام دیا ہے اور یہ انسانی کولہے ہی تو ہیں جودوڑتے وقت تیزی سے مڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ قدیم انسان جب درختوں سے نیچے اترے تب دوڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔
مگر وہ اور بھی تیز دوڑنا چاہتا تھا، تقریباً اڑنا چاہتا تھا۔ مگر کسی پرندے کی طرح نہیں بلکہ ایک پاگل ہوا کی طرح۔۔۔۔۔۔آزاد۔ ادھر سے ادھر۔ تقدیر میں بدلتی ہوئی ہوا، ریگستان میں ریت کے تودوں کی جگہ بدل دینے والی ہوا کی طرح۔
وہ اکثر سوچا کرتا کہ زمانہ کسی چٹھی رساں کے قدموں کے بنائے ہوئے راستوں پر کیوں نہیں چلتا۔
اور یوں تو زمانہ قیامت کی چال چل گیا تھا۔

وہ بہت تیز رفتار ہوگیا تھا۔ مگر انسانی جسم کی حرکت و رفتار تقریباً ایک مردے کے جسم کے برابر ہی رہ گئی تھی۔ جسم نظر آتے تھے، پہیوں پر بیٹھے بے جان مورتیوں کی طرح۔ پہیے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔ انسانی جسم نہ ہلتا تھا۔ اس کو پسینہ تک نہ آتا تھا۔نظر نہ آنے والی قوت کے کاندھوں پر سوار پل بھر میں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے تھے۔ صرف ان کی انگلیاں ادا کے ساتھ ہلتی تھیں اور اس کے خیال میں یہ ایک فحش بات تھی۔ سب کچھ مایوس کن حد تک خوب صورت ہوتا جا رہا تھا۔

یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت تھی کہ لوگ اب اس کے اس بہروپ سے تقریباً اکتا گئے تھے۔ پھر بھی بھکاریوں کی طرح دن بھر میں اسے چند پیسے مل ہی جایا کرتے جن سے اس کی خودداری کو ٹھیس لگتی تھی۔ اسی لیے وہ ان پیسوں سے پرچون کی دوکان پر جا کر ردی کاغذ خرید لاتا۔ گھر کا خرچ بیوی ہی چلارہی تھی۔ وہ بڑے شہر جا کر وہاں سے پرانے کپڑے خرید لاتی اور یہاں غریب گھروں میں بیچ آتی۔ مگر پرانے کپڑوں میں آج تک اسے کبھی ڈاکیے کی وردی بھولے سے بھی نہ مل پائی۔ ہاں کچھ سال پہلے پرانے کپڑوں میں اسے ایک بوسیدہ سے رنگ کا کوٹ ضرور مل گیا تھا۔ یہ کوٹ کسی ایسے شخص کا رہا ہوگا جسے موٹاپے کی بیماری ہو۔ جاڑوں میں کبھی وہ اسے پہنتا تو اس کا سارا جسم اس میں چھپ جاتا۔ وہ اس کوٹ میں بھس بھرا ہوا آدمی نظر آتا اور جس طرح بھس بھرے شیر کی بے چارگی صاف اس کے منھ سے عیاں ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اس کا چوہے جیسا سر مضحکہ خیز انداز میں بے چارہ ہو جاتا۔
اور لوگ۔۔۔۔۔۔وہ بہروپیے تو کیا، دراصل ڈاکیے سے ہی اکتا گئے تھے اور خود ڈاکیہ بھی اپنے وجود کی توقیر برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کی زندگی سے نکل کر حاشیے پر آگیا تھا۔ وہ بس اب سمن، قانونی نوٹس، شئیر مارکیٹ کے بانڈ، ٹیلی فون کے بل، منی آرڈر اور کچھ میگزین وغیرہ ہی اِدھر سے اُدھر ڈھونڈتا نظر آتا تھا۔ بمشکل ہی کسی کے پاس کوئی خط ہوتا تھا۔ لوگوں نے خط لکھنا ہی چھوڑدیے تھے۔ دنیا کی ہڈیاں سُکڑ گئی تھیں۔ وہ بونی ہوگئی تھی جس پر کروڑوں کی تعداد میں انسان اس طرح چمٹے ہوئے تھے جیسے مٹھائی پر چیونٹیاں اور مکھیاں۔ بس ایک بالشت بھر کی دوری رہ گئی تھی جس میں دنیا کو سر سے لے کے پاؤں تک چھوا جا سکتا تھا۔ لوگوں کو صرف خبروں کی ضرورت تھی، کسی پیغام یا ہدایت کی نہیں۔ خبریں پلیگ کے زہریلے جراثیم کی طرح تھیں۔ وہ دنیا پر برس رہی تھی۔ لوگ خبروں کے اس لیے خواہاں تھے کہ وہ اپنی موت میں دوسروں کی شمولیت بھی چاہتے تھے۔ وہ وبا میں مرنا پسند کرنے والے لوگ تھے اور یقیناًانفرادی موت سے اجتماعی موت کی طرف بھاگنا قدرے عافیت کی بات تھی۔
ویسے تو ڈاکیہ ہمیشہ ہی انسانوں کے پیغامات، ان کے دکھ سکھ کو ایک دوسرے تک پہنچانے میں اپنی انفرادی شخصیت اور ساخت قربان کرتا آیا ہے۔ اس کی شکل سیال ہوکر بہتی ہے۔ تم اس کا اکثر نوٹس نہیں لیتے ، کیوں کہ وہ انسانوں کے شادی و مرگ کے کاغذوں کے حساب کتاب ڈھوتے رہنے میں تجریدی ہوجاتا ہے۔ ڈاکیے گلی میں گونجتی ہوئی وہ آوازیں ہیں جن کے ہم عادی ہوگئے یا آسمان پر آوارہ گردی کرتے ہوئے وہ بادل جن سے بھیانک بارش کا کوئی امکان نہ ہو اور اس لیے وہ اپنے حصے کا رعب اور وقار کھو چکے ہیں۔

اسے یاد ہے وہ بابو کے ساتھ شادی کی ایک تقریب میں گیا تھا۔ ایک شاندار سجی سجائی محفل جہاں بابو مٹی کے رنگ کی وردی پہنے خاموش کھڑے تھے۔ وہ سہما سہما ان کی انگلی تھامے تھے۔ محفل میں بابو کے ہاتھ پر صرف ایک نوٹ رکھ دیا گیا تھا۔ فضا میں چاروں طرف دیسی گھی کی کچوریوں کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ اس کا دل کچوری کھانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ مگر دعوت اور آؤ بھگت کے وہ دونوں باپ بیٹے حقدار نہ تھے۔ انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ یہ کیسی عجیب بات تھی کہ جن مسرتوں اور تقریبوں کے پیغام اور بلاوے وہ ساری دنیا میں بانٹتے پھرتے تھے، انھیں میں شرکت کے لیے ان کے پاس نہ کوئی بلاوا تھا اور نہ ہی کوئی مقام۔

گلیوں گلیوں بھٹکتے، وہ اچانک شہر کے سب سے رونق افزا بازار والی سڑک پر آ نکلا۔سڑک کے دونوں طرف نیون بلب، اونچے کھمبوں میں سڑک کی طرف منھ کیے اپنی روشنی پھینک رہے تھے۔ سڑک اتنی روشن تھی کہ اس پر گری ہوئی باریک سے باریک سوئی بھی نظر آ سکتی تھی۔ دوکانوں کے ساتھ بورڈ رنگین بدلتی ہوئی روشنیوں میں جھلملا رہے تھے۔ کاروں، بسوں اور موٹر سائیکلوں کا جم غفیر تھا۔ اس بھیڑ میں فیشن ایبل، نیم عریاں گداز بدن والی پکی پکائی عمر کی عورتیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔خوشبوؤں کے ریلے اڑ رہے تھے۔ فٹ پاتھ پر آئس کریم اور چاٹ کے ٹھیلوں کے برابر ایک غبار والا کھڑا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر سحر زدہ سا ہوگیا۔ اگرچہ وہ سینکڑوں بار ادھر سے گذرا تھا مگر آج اس سڑک کی رونق کچھ دوسری طرح کی تھی۔
ٹھیک اسی وقت ایک عجیب سے گھر گھراہٹ سنائی پڑی۔ جیسے سڑک پر کچھ گھسیٹا جا رہا ہو اور تب اس نے دیکھا۔
دور سڑک پر سامنے سے کوڑھیوں کی گاڑیاں قطار باندے چلی آ رہی تھیں۔ لکڑی کی گاڑیاں جن میں بال بیرنگ کے چھوٹے چھوٹے پہیے لگے تھے۔ ان گاڑیوں کی اونچائی سڑک سے بس اتنی ہی تھی جتنی ایک خاص نسل کے کتے کے پیٹ کی زمین سے ہوتی ہے۔ گاڑیاں مہیب اور کریہہ آوازوں کے ساتھ گھسٹتی ہوئی قریب آ گئیں۔ کوڑھی مرد اور عورت انھیں کھینچ رہے تھے۔

مگر اس دہشت ناک منظر سے الگ ایک اور منظر بھی تھا۔ یا شاید منظر نہیں بلکہ منظر کو کھرچتی ہوئی ایک لکیر۔ ایک خراش۔ کسی کسی گاڑی میں کوڑھیوں کے معصوم بچے بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں گیس کے غبارے دبے ہوئے تھے۔ یقیناًکوڑھیوں نے بھی اپنے بچوں کے لیے رنگین غبارے خریدے تھے۔
بازار رواں دواں تھا۔ تمام افراد ان گاڑیوں سے بچ کر نکل رہے تھے۔ مگر کوڑھیوں کے بچوں کے ہاتھ میں تھمے اونچے اٹھتے ہوئے گیس کے وہ رنگین غبارے جیسے ساری دنیا کا مضحکہ اڑا رہے تھے، زندگی کا بھی اور اپنا بھی ۔
اس نے خود کو شدت سے اداس محسوس کیا۔ اس کے تھیلے میں ایسا کوئی کاغذ نہیں تھا جو وہ ان سڑتی گلتی انگلیوں میں تھما سکتا۔ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے بہروپیے پن کی لا حاصلی کا احساس ہوا۔
گاڑیاں آہستہ آہستہ اپنی دہشت سڑک پر گراتی ہوئی اس کے پاس سے گذرگئیں۔ اور تب اس نے بے اختیار چیخ کر کہا۔
’’میں وہ رقعہ جلد ہی لے کر آؤں گا جس میں تمھارے جسم کی کھال کو کندن کی طرح دمکنے کی خبر دی جائے گی۔ تمھاری ٹیرھی اور ناپاک انگلیاں سیدھی اور پاک ہو جائیں گی۔ چہروں پر ستواں ناک جگمگائے گی۔ بس اپنے بچوں کے ہاتھوں میں غبارے تھمائے رکھنا۔ یہ غبارے اونچے اڑتے اڑتے ایک دن آسمان تک پہنچیں گے اور خدا کو تمھاری داستان سنائیں گے۔۔۔‘‘
مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے منھ سے جو الفاظ باہر آ رہے ہیں، ان پر لگاتار اس کے حلق کے بڑھے ہوئے غدود کا دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس لیے اس کی آواز محض ایک بھیانک خراٹے سے مشابہ ہے۔ اسی لیے اپنی اپنی گاڑیاں گھسیٹتے ہوئے کوڑھیوں نے اسے نہیں سنا۔ یا اگر سنا بھی ہوگا تو اس آواز کو بھی اپنی گاڑی کے پہیوں سے نکلنے والی کریہہ آواز ہی سمجھا ہوگا۔
اسے لگا جیسے اسے تیز بخار چڑھ رہا ہو۔
دور چمکتی ہوئی روشنی میں کوڑھیوں کی گاڑیوں کے بدنصیب سائے بے ہنگم انداز میں سڑک پر پڑتے نظر آئے۔ پھر وہیں کہیں دب کر رہ گئے۔

اس رات جب وہ سویا تو خراٹوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ دوسرے کمرے میں لیٹی ہوئی بیوی کو وہاں تک آتی رہی اور وہ وہاں بھی چین کی نیند نہ سو سکی۔ اس بار خراٹوں کے ساتھ ان کی ہمزاد کھانسی بھی تھی۔ بار بار گلے میں پھندا سی لگاتی ہوئی کھانسی۔ شاید اس کے حلق کے غدود بڑھ کر سُوج گئے تھے، کیوں کہ رات بھر اسے بخار بھی رہا۔ گرمی اور حبس اپنی انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ پوری رات جی کو متلا کر رکھ دینے والی گرمی کے منحوس سائے میں ہی گذر گئی۔

صبح جب وہ دیر سے اٹھا تو بیوی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح چپ رہا۔ وہ جانتا تھا کہ ماتھے پر ہاتھ رکھنے کے پیچھے کوئی ہمدردی نہ تھی۔

’’تمہارا ماتھا جل رہا ہے۔ اور گھومو ایسی قیامت کی گرمی میں۔‘‘
’’تم نے مجھے اٹھایا نہیں۔ دن چڑھ آیا۔‘‘ اس نے اپنی گھرگھراتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’مجھے کیا پڑی تھی کہ اٹھاتی۔ کیا اپنی کمائی لاکر مجھے دیتے ہو؟ ویسے بھی رات اتنے خراٹے لیے ہیں اور اتنا کھانسے ہو کہ جینا دو بھر کردیا۔‘‘ بیوی کا لہجہ بدل گیا۔
وہ خاموشی سے اٹھا ۔ اس نے اپنے کاغذوں کے تھیلے کو فرش پر پلٹ دیا اور ایک سے ایک الم غلم شے کو اٹھا کر اس طرح قرینے سے لگانے لگا جیسے کسی دفتر کا بابو فائلیں لگاتا ہے۔ بیوی نے اس کی طرف نفرت سے گھورا ، پھر تیز تیز چلتی ہوئی دوسرے کمرے میں گھس گئی جہاں اسے پرانے کپڑے سلیقے سے لگا کر گھڑی میں باندھنا تھے۔
اور تب اس کی نظر تھیلے سے نکلی اخبار کے کا غذ کی بنائی ہوئی ایک تھیلی پر پڑی۔ وہ چونک پڑا۔ اس پر ایک بچی کی تصویر تھی۔ آٹھ نو سال کی بچی۔ گٹھنوں تک فراک پہنے بچی کا چہرہ بے حد اداس تھا۔ بڑی بڑی معصوم آنکھوں میں شاید آنسوؤں کی نمی تھی۔ بال بکھر کر اس کے ماتھے پر آ رہے تھے۔ تصویر کے نیچے ایک عبارت تھی۔
سات سال کی بچی اپنی چٹھی کی تلاش میں ایک سال سے شہر کے ہر ڈاک گھر میں چکر لگاتی گھوم رہی ہے۔ ’’روشنی‘‘ نام کی یہ بچی ستیہ پرکاش سنگھ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ستیہ پرکاش نے سال بھر پہلے سینٹرل جیل عزت نگر میں خود کشی کر لی تھی۔ اس پر اپنی بیوی کے قتل کا الزام تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ستیہ پرکاش نے یہ چٹھی اپنی خودکشی سے پہلے جیل کے کسی کارکن کے ذریعے اپنی بچی کے نام پوسٹ کروائی تھی۔ جیل کے کارکن کا بیان ہے کہ وہ چٹھی روشنی کی سال گرہ کا کارڈ تھی۔ مگر سال گرہ کی مبارکباد محکمۂ ڈاک کی گھٹیا اور غیر ذمے دارانہ کار کردگی کی وجہ سے ایک برس بیت جانے پر بھی روشنی کو نہ مل سکی۔ محکمۂ ڈاک کا بیان ہے کہ شاید وہ چٹھی ’ڈیڈ لیٹر‘ بن گئی ہے اور اسے آسانی سے اب تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اُدھر روشنی ماں باپ کے نہ رہنے اور چٹھی کے کھو جانے کے غم میں تقریباً پاگل ہوچکی ہے۔ وہ نہ کچھ کھاتی ہے، نہ پیتی ہے۔ بس صبح سے لے کے شام تک چھوٹے بڑے ہر طرح کے ڈاک گھروں کے سامنے کھڑی رہتی ہے۔ نائب وزیر برائے امور خزانہ نے بچی کی پرورش اور تعلیم کے لیے اپنے فنڈ میں سے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ معصوم روشنی کو باپ کی طرف سے اپنی سال گرہ کی مبارک باد مل پائے گی یا نہیں؟‘‘

وہ بری طرح بے چین ہوگیا۔ اس کے جسم کا سارا بخار اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں اتر آیا۔ اور اس کا چوہے جیسا سر آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے فرش پر سے اٹھ گیا۔ سامنے سادہ ورقوں والی وہ کاپی رکھی تھی جس میں اس کی بیوی پرانے کپڑوں کے خرید و فروخت کا حساب لکھواتی تھی۔ اس نے کاپی میں سے ایک سادہ ورق پھاڑا۔ کچھ لکھنے کے لیے اس نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں ۔ کوئی قلم، پنسل، افسوس کہ کوئلے کا ٹکڑاتک نہ تھا۔ وہ گھبرانے لگا۔اب اور زیادہ وقت برباد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس نے سوچا۔

اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے پلنگ پر تکیے کے اوپر بیوی کا ہئیرپن پڑا ہوا ہے جس میں بیوی کے دو تین کھچڑی بال پھنسے ہوئے تھے۔ اس نے جھپٹ کر ہئیر پن اٹھایا اور پوری طاقت کے ساتھ اپنی بائیں ہتھیلی میں بھونک دیا۔ لال لال خون آہستگی کے ساتھ رسنے لگا۔ تب اس نے دوسرے ہاتھ ہاتھ کی کلمے کی انگلی کے پور کو اس خون سے تر کیا اور سادہ ورق پر لکھا۔

پیاری بیٹی روشنی کو جان نچھاور کرنے والے باپ کی طرف سے جنم دن بہت بہت مبارک ہو۔

۔ ستیہ پرکاش
پھر اس نے عبارت کے نیچے خون سے گلاب کا ایک پھول بھی بنا دیا۔ ورق کو پھونک مار کر سکھانے کے بعد اسے احتیاط کے ساتھ کھونٹی میں ٹنگی وردی کی اندرونی جیب میں رکھ دیا۔ اس کے بعد دو اخباری کاغذ کی اس تھیلی کو ہاتھ میں تھامے تھامے دروازے کی طرف دوڑا مگر اسے خیال آیا کہ اس نے وردی تو پہنی ہی نہیں ہے۔ تب بہروپیے نے ڈاکیے کی وردی پہنی ، سر پر ٹوپی لگائی اور بھوکا پیاسا ہی نکل کھڑا ہوا۔

دوپہر ہو چکی تھی۔ موسم دم گھونٹ دینے کی حد تک حبس زدہ تھا۔ ماحول اور فضا میں بے حد دھول اور دھند تھی۔ ایسا گمان ہوتا تھا جیسے ساری دنیا جس مٹی سے بنی تھی ، وہ آہستہ آہستہ کھرچی جا رہی تھی۔توڑی جا رہی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے مٹی کی کسی عظیم الشان مورت کے توڑنے پر دھول کا ایک غبار اٹھتا ہے۔ ہوا کا تو نام بھی نہ تھا۔ جو بھی ہوا تھی وہ اس کی اپنی تھی اور اس کے دوڑنے سے پیدا ہوتی تھی۔

اور وہ دوڑ رہا تھا۔ ریل سے کٹے ہوئے ایک بدبخت ڈبے کی طرح جو ویران راتوں میں ریل کی پٹریوں پر اکیلا ہی دوڑتا تھا، بغیر انجن کے۔
آج اس کے ساتھ بچوں کی بھیڑ نہ تھی۔ سڑکیں، گلیاں ویران پڑی تھیں۔ بار بار وہ اخبار میں چھپی اس بچی کی تصویر دیکھتا۔ اسے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا پھر اِدھر سے اُدھر نکل جاتا۔ وہ دھند کے ایک بگولے کی طرح چکرارہا تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ اپنا وقت برباد کررہا ہے۔ بچی کسی ڈاک خانے پر ہی ملے گی۔ یہ خیال آتے ہی وہ کالی ندی کے پُل پر بے تحاشا بھاگنے لگا۔ پُل سے ایک ڈیڑھ میل کی دوری پر ہی وہ چھوٹا سا گول ڈاک خانہ تھا جہاں اس کا بھائی لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ اس چھوٹے سے ڈاک خانے کے اندر کہیں سرنگیں تھیں جو کہ زمین کے اندر ہی اندر کائنات کے سارے ڈاک خانے سے جا ملتی تھیں۔

اتنا تیز تیز دوڑنے پر بھی آج ڈاک گھر آتا نظر نہیں آتا۔ کدھر گیا؟ اس نے فکر مند ہو کر سوچا۔ اب اسے احساس ہوا کہ پُل پار کرنے کے بعد وہ غلط سمت کو نکل آیا تھا۔

وہ حواس باختہ ہو کر واپس مڑا اور مخالف سمت میں دوڑنے لگا۔ دھند اور مٹی کا غبار اور دبیز ہوتا جارہا تھا۔ اس کی سانس بری طرح پھولنے لگی۔ اس کی ناک اور آنکھوں میں دھول بھر گئی تھی۔ اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا۔ وہ ایک لمحے کو رکا اور سینے میں نہ سماتی ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگا۔ اس کے منھ اور ناک سے مٹی کی بو آتی تھی۔

وہ پھر دوڑنے لگا اور تب دور وہ نظر آیا۔ وہ پرانا چھوٹا سا گول ڈاک خانہ۔ وہ امید سے بھر گیا۔ جلدی جلدی بھاگتے ہوئے وہ اس تک پہنچ گیا۔
گول ڈاک خانہ دھند اور دھول کے پہلے غبار میں لپٹا خاموش کھڑا تھا۔ اس کے صدر دروازے پر ایک موٹا سا زنگ آلود تالا جھول رہا تھا۔

اُف! آج اتوار تھا۔ اس نے افسوس اور صدمے کے ساتھ سانس بھری اور ڈاک خانے کی زرد دیوار سے پیٹھ ٹیک کر بیٹھ گیا۔ اب روشنی کو وہ کہاں تلاش کرے؟ روشنی کہاں ہوگی؟ اس بے رحم اور بے حس دنیا میں وہ اپنے باپ کی چٹھی کا انتظار کررہی ہے مگر کہاں؟ کدھر؟

اس کے جی میں آیا کہ وہ گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر وہ جانتا تھا کہ وہ سب اس وقت بھی نیند میں ڈوبے ہوں گے۔ یہ شہر تو مرگی کے ایک مریض کی طرح تھا جہاں ہر شخص بے ہوش تھا یا ایک پاگل نیند کا عادی ۔ افسوس کہ ایسے شہر میں کوئی خط ، کوئی پیغام یا کوئی تہنیت نامہ کس طرح دیا جاسکتا تھا۔

بہرحال، وہ پھر اٹھا۔ اسے اپنا فریضہ اداکرنا تھا۔ اس بار تیز تیز چلتے ہوئے اسے غیر معمولی تھکن کا احساس ہوا۔ سامنے دور تک سنسان سڑک پھیلی ہوئی تھی۔ کاش کے وہ اڑ سکتا۔ مگر بعد میں اس نے یہ بھی سوچا کہ اسے اپنے جسم پر بال و پر نہ ہونے کا افسوس نہ کرنا چاہیے۔ پرندے ارتقا کے سفر میں انسان سے اس طرح پیچھے رہ گئے تھے جس طرح فرشتے۔

اسے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

اچانک وہ پھر تیز تیز دوڑنے لگا۔ دوپہر کیا، سہ پہر گذر چکی تھی۔ اور اب تو شام قریب تھی ۔ اگرچہ دھند کی اس چادر کے نیچے وقت اپنے خد وخال مسخ کرچکا تھا۔

اس کا سارا دن اسی طرح بھٹکتے بھٹکتے ختم ہوگیا۔ شہر پر مٹی برس رہی تھی جس میں وہ خود بھی خاک، دھول اور مٹی کا ایک چلتا پھرتا پتلا ہی نظر آ رہا تھا۔

اچانک سامنے اسے کالی ندی بل کھاتی ہوئی نظر آئی۔ وہ بھٹکتے بھٹکتے ندی کے کنارے آ نکلا۔ کنارے ویران پڑے تھے۔ وہ رک گیا۔ اب بارش ہونا چاہیے۔ اس نے خواہش کی۔ صرف بارش ہی زمین سے آسمان تک تنے ہوئے مٹی کے اس مہیب پردے کو دھو کر مٹا سکتی ہے۔

اور یقیناًوہ آ رہی تھی۔ اسے بارش کی آہٹ سنائی دی۔ وہ کہیں دور ہو رہی ہوگی مگر اس کے آگے آگے چلنے والی ہواؤں کا ایک اداس، ٹھنڈا جھونکا ادھر کو آ نکلا۔

اس نے آسمان کی طرف منھ اٹھایا۔ ایک بوند اس کے ماتھے پر گری اور پھر کوندے، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ وہ خاک اور دھول کے اس خواب غفلت میں مبتلا شہر پر برسنے لگی۔ بارش نے پانی سے بنے اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے دھند کو مسل کر رکھ دیا۔ کالی ندی کے کنارے اندھیرے ہونے لگے۔ بارش بہت تیز تھی۔ آہستہ آہستہ ندی کے کنارے کی زمین دلدل بنتی جارہی تھی۔ پانی کے زور سے ندی میں جیسے سیلاب آ گیا تھا۔ اس سیلاب کا پانی اسی طرح زمین پر پھیل رہا تھا جیسے گھاس کو چرتا ہوا جانور۔

تیز ہوا میں اس کی وردی اڑی جارہی تھی۔ اس نے تصویر والا اخبار سنبھال کر وردی کی جیب میں رکھ لیا۔ مگر اب واپس جانا ناممکن تھا۔ واپس جانے کے لیے گھونگے کی مانند رینگنا ضروری تھا۔ ارتقا کے ٹوٹے ہوئے پیر صرف آگے کی طرف گھسٹ سکتے تھے۔ گوشت کے لوتھڑوں کی طرح لڑھکتے ہوئے ہی سہی، مگر آگے کی طرف۔

اسے اب اپنی بائیں ہتھیلی میں سخت درد محسوس ہوا۔ ہتھیلی پھول کر کپا ہوگئی تھی۔ وہ بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس کے پھیپھڑے بارش اور ہوا کے سخت دباؤ سے گویا پھٹنے لگے۔ اس کا بخار اس کے جسم پر گرتی ہولناک بارش کے نیچے دبا کچلا پڑا تھا۔

اب اسے ایک بھیانک نیند آتی محسوس ہوئی مگر نیند کا یہ غلبہ شاید صرف اس کے جسم پر تھا۔ اس کی روح کو تو اس نیند کے خلاف چلتے ہی جانا تھا۔ اس لیے اس کی آنکھیں بار بار نیند سے چپک چپک کر چھوٹ جاتی تھیں۔

(۵)
دلدل میں چاقو

رات تقریباً آدھی بیت گئی تھی جب کچھ آدمی اسے اس حالت میں گھر لے کر آئے کہ اس کے منھ سے خراٹے جاری تھے۔ بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا تھا۔ اس کی وردی کیچڑ اور پانی میں سنی ہوئی تھی۔ بیوی نے ہراساں ہو کر جب اس کی وردی اتار کر کھونٹی میں ٹانگی تو پانی میں بھیگ جانے کے سبب اس میں سے ایسی بدبو آ رہی تھی جیسی اصطبل سے آتی ہے۔

وہ سیدھا سیدھا پلنگ پر پڑا ہوا تھا۔ بائیں ہتھیلی پر ایک چھوٹا سا زخم تھا مگر ہتھیلی اتنی سُوج گئی تھی کہ وہ کسی انسان کی نہ ہوکر کسی عفریت کی ہتھیلی معلوم ہوتی تھی۔

کچھ لوگوں نے مل کر اس کے بھیگے ہوئے کپڑے اتار کر سوکھے کپڑے پہنادیے اور ایک چادر سے اس کے جسم کو ڈھک دیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور منھ آدھا کھلا ہوا تھا جس سے وہ بلند آواز میں وحشت ناک خراٹے لگاتار آئے چلے جا رہے تھے۔

’’ذرا بارش کم ہو تو ڈاکٹر کو لے کر آتے ہیں۔‘‘ کوئی بولا۔

کھونٹی کے نیچے جہاں اس کی وردی سے ٹپکتا ہوا پانی فرش کو گیلا کر رہا تھا، اس کی بیوی اس جگہ کو ایک کپڑے سے پونچھنے لگی۔ اسی وقت اس نے اخباری کاغذ کی ایک بڑی سی تھیلی کو دیکھا جو پانی میں بھیگ کر گل چکی تھی۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آیا کہ وہ احتیاط کے ساتھ تھیلی اٹھا کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔

کوئی تصویر تھی جس کے نقش و نگار بارش کے پانی نے اپنے اندر جذبے کر لیے تھے۔ تصویر کے اوپر اخبار کی تاریخ قدرے مٹ جانے کے باوجود پڑھی جا سکتی تھی۔

وہ آج سے ٹھیک چودہ سال پرانا اخبار تھا۔
بیوی نے تھیلی اٹھائی اور کمرے سے باہر آنگن کی موری میں پھینک دی۔

’’اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لائیں؟‘‘ کسی نے آہستہ سے کہا تھا۔
’’نہیں۔ ڈاکٹر کو آنے دو۔‘‘
مگر کیا وہ واقعی بے ہوش تھا؟

اگر یہ ممکن تھا کہ کسی کا عکس آئینے میں نظر نہ آئے اور آئینے سے کہیں بہت دور جا کر بھٹکے تو شاید اس کا عکس بھی کہیں اور….بھٹک رہا تھا۔ وہ دلدل پر بنے ایک چھوٹے سے ڈاک بنگلے کے سامنے ہاتھ میں ایک خط لیے کھڑا تھا۔ یہ ڈاک بنگلہ جس کی بناوٹ گرجا گھروں کی سی تھی۔ ڈاک بنگلے کے اندر ایک کمرے میں ایک لڑکی کمپیوٹر پر بیٹھی تھی ور اس کے کان سے ایک سیل فون لگا ہوا تھا۔

لڑکی کا چہرہ بے حد گول اور سفید تھا۔ اتنا سفید کہ جیسے قلت خون کا مارا ہوا ہو۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ دروازے پر سرجھکائے وہ خاموش کھڑا تھا۔
’’آپ کے شوہر نے آپ کو یہ محبت نامہ بھیجا ہے۔‘‘ اس نے لڑکی کی طرف ایک کاغذ بڑھایا جس پر ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ لکھا ہوا تھا اور نیچے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا تھا۔

لڑکی مسکرائی اور شرماتے ہوئے اس کے ہاتھ سے خط لے لیا۔

اس نے بہت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے تھے مگر اس کے پیٹ کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے آج اس میں آنتیں واپس آ گئی ہوں۔

پھر لڑکی نے اسے لگاوٹ کے ساتھ گھورا۔ ان آنکھوں میں پیار کرنے کی جنگلی سی خوشبو اتر آئی۔ لڑکی نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے تپتے ہوئے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی خاکی وردی جنگلی پھولوں کی خوشبوؤں سے بھر گئی۔

وہ دونوں یوں ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے ہوئے دلدل میں دھنسنے لگے۔ دلدل کے نیچے پانی میں دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ جس طرح کسی مکان کی کھلی بنیادوں میں دھوپ چمکتی ہے۔

دلدل کے نیچے موجود پانی میں ۔۔۔۔۔۔۔گہرے پانی میں انھوں نے ایک دوسرے سے جی بھر کر پیار کیا۔ لڑکی کے بدن پر بہت کپڑے تھے مگر اس کے بڑے بڑے پستان کپڑوں سے باہر لٹک رہے تھے۔ پستانوں سے دودھ کی ایک سفید نہر دلدل پر بہتی جاتی تھی۔

پھر وہ آہستہ آہستہ پانی سے اوپر آنے لگے۔ ساری کائنات ہی جیسے پانی سے ابھر رہی تھی۔ زندگی آ رہی تھی۔ پانی سے نکل کر زمین کی طرف۔ کائی سے لتھڑ کر دونوں کے جسم ہرے ہوگئے تھے۔

’’تم مجھ سے پیار کرتی تھیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مانجھے سے میرا گلا کٹ گیا تھا۔‘‘
’’ہاں ہاں۔‘‘
’’تمھیں دادو کا کنواں یاد ہے اور وہ بند گلی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میرے بابو کو وہیں تو مار ڈالا تھا۔ اتنا بڑا خون کا دھبہ۔‘‘

اچانک سفید ، خون سے خالی گول چہرہ اس کے منھ پر ایک غبارے کی طرح پھٹ گیا۔ غبارہ جس میں گندہ، رقیق بدبو دار سفید پانی بھی تھا۔ ایسا پانی جس کی جگہ کوئی چہرہ نہ ہو سکتا تھا۔ پھر وہ سفید پانی ایک نفرت آمیز بے رحم چاقو میں بدل گیا۔ بہت تیز ہوا چلی جھاڑیاں دلدل کے چاروں طرف اس بے ترتیبی سے پھیل گئیں جیسے وہ پاگل ہو گئی ہوں۔

چاقو ایک فحش چمک کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھتا ہے۔ پھر خاص اس کے نرخرے کی طرف۔
اسے گلا کٹنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ وہ تو صرف کالی ندی کے بارش سے بھیگے ہوئے پُل کو دیکھے جارہا ہے جہاں آج نہ جانے کہاں سے اتنے بہت سے کوے آکر بیٹھ گئے ہیں۔

(۶)
نیند کے خلاف

’’یہ کس قسم کے خراٹے ہیں؟‘‘ اچانک بیوی نے سراسیمہ ہو کر کہا۔
’’اسے تو یہ خراٹے آتے ہی ہیں۔‘‘ بڑا بھائی آہستہ سے بولا جو ابھی ابھی بارش میں بھیگتا ہوا آیا تھا۔
’’نہیں ۔ یہ ویسے نہیں ہیں۔ یہ تو کچھ اس طرح کی آوازیں ہیں جیسے کسی کا نرخرہ کاٹا جاتا ہو۔‘‘ بیوی چلائی۔

اور یہ درست تھاکہ اب اس کے منھ سے باہر آنے والے خراٹے دوسری ہی طرح کے تھے۔ یہ کسی شے کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی بے زبانی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ اب منھ بھی پورا بند تھا۔ ہونٹ آپس میں بھنچ گئے تھے۔

پھر یہ خراٹے کہاں سے نکل رہے تھے؟ شاید اس کے پورے جسم سے، جسم کے تمام مساموں سے؟ ہر بار کے خراٹے میں اس کی سانس اٹک جاتی۔ سینہ اور پیٹ اوپر کو اٹھ جاتے جیسے دم نکل رہا ہو مگر چند ہی ثانیے بعد اکھڑتی اور اٹکتی سانس پھر اپنی جگہ واپس آ جاتی۔ اس کا سُوجا ہوا زخمی ہاتھ متواتر اس انداز میں آگے کو پھیلا ہوا تھا جیسے وہ کسی کو کوئی شے سونپ رہا ہو۔ مگر حیران کن امر یہ تھا کہ اس کا چہرہ اپنے تمام عضلات سمیت بالکل پر سکون تھا۔ بھائی نے اس کا ماتھا چھوا اور جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ ماتھا انگارے کی طرح جل رہا تھا۔ آنگن میں بارش کا پانی بھرتے بھرتے گھٹنوں تک آگیا۔

مگر وہ ۔۔۔۔وہ تو دراصل گانا گا رہا تھا۔ اس کا جسم بے حد فعال ہو گیا تھا ۔ اتنا فعال اور سبک رفتار کہ بستر پر لیٹے لیٹے ہی وہ سب سے دور کہیں گاتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ کوئی گیت تھا جو لوگوں کو خراٹوں کی صورت سنائی دیتا تھا۔ وہ اپنی ہی ہوا میں جھومتا ہوا دلدل پر چلا جارہا تھا جہاں کمل کے پھول اور جڑیں بکھری ہوئی تھیں۔

خدا کے پیغام آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ لکھا گیا لفظ ہی سب کچھ تھا چاہے وہ قلب پر ہی کیوں نہ لکھا جائے یا انسانوں کے حلق، تالو اور غدود کے درمیان۔ وہ بھی لکھے ہوئے لفظ کو اپنے قلب، حلق اور تالو میں ثبت کررہا ہے ۔ اس کے سر کے اوپر کبوتر، بادل اور ہوائیں ہیں ۔ کبوتر کے پنجے میں لفظ بندھا ہے۔ پانی پانی بادل میں لفظ کا عکس تھا اور ہواؤں میں لفظ کی خوشبو۔ یہ سب بھی اسی جانب جا رہے ہیں جہاں وہ دلدل میں جھومتا گاتا چلا جا رہا ہے۔ دلدل پر اس کے پیروں کے نشان بنتے جاتے تھے۔ یہ ایک چٹھی رساں کے اکیلے قدم تھے۔

اسی طرح گیت گاتے گاتے اس نے دیکھا کہ وہ ندی جو امربیل کی طرح اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی، وہ قطرہ قطرہ ہو کر اس سے الگ ہورہی ہے۔ وہ اب نیچے ایک گہری گھاٹی میں بہہ رہی تھی۔ ایک کالی ندی بن کر، پتلی سی، رینگتے ہوئے سانپ کی مانند۔ وہ خوشی خوشی، نشے میں جھومتے ہوئے اس گہری گھاٹی کی طرف جانے والی ڈھلان کی جانب چلا۔ اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا، کیوں کہ وہاں ڈھلان پر، دلدل میں وہ چھوٹی سی سات سال کی بچی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بال بکھر کر ماتھے پر آگئے تھے۔ گھٹنوں سے اونچی فراک کیچڑ سے سنی ہوئی تھی۔

’’روشنی۔ روشنی! میں آگیا۔ تمھارے پاپا کی چٹھی لے کر۔ سال گرہ مبارک ہو۔‘‘
وہ اس کے پیروں سے لپٹ گئی۔ وہ خوشی سے رو رہی تھی۔
اس نے بچی کے روکھے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر اپنی وردی کی اندرونی جیب سے وہ کاغذ نکال کر اس کی معصوم مٹھی میں تھما دیا۔
’’میں نے تمھارے گانے کی آواز دور سے سن لی تھی۔‘‘
’’ میں تمھارے لیے ہی تو گا رہا تھا۔‘‘
’’سچ؟‘‘
’’ہاں۔آؤ اس دلدل پر گلاب اُگائیں۔‘‘
اس نے بچی کے ہاتھ میں گلاب کا ایک پھول دیا۔ پھر دونوں نے مل کر گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے دلدل میں گلاب بویا۔
’’وہاں روشنی ہو گئی۔‘‘
’’اچھا روشنی۔ میں چلتا ہوں۔‘‘
’’فرشتے! تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘
’’مجھے ابھی اپنا گیت مکمل کرنا ہے۔‘‘

ڈھلان پر وہ آگے چلنے لگا۔ اس کے پیر یہاں دھنس رہے تھے مگر اسے محسوس ہوا جیسے وہ اُڑ رہا تھا۔ زوال کا راستہ ہی روح کی اُڑان تھا۔ جب وہ وردی میں نیچے بہنے والی کالی ندی میں گر رہا تھا تو ندی سے ایک بھیانک بارش کی طرح نظر آئی جو گھاٹی سے آسمان کی طرف بہہ رہی تھی۔ ندی ایک سرکش گھوڑی کی طرح کسی طور قابو میں ہی نہ آتی تھی مگر اب وہ قطعاً نہیں گھبرایا۔ پیچھے روشنی کھڑی تھی۔ اس نے اپنے وجود کو ایک عظیم الشان چھتری کی مانند کھلتا اور پھیلتا پایا جس کے اوپر سے ندی کی شور مچاتی بھیانک موجیں گذر رہی تھیں۔ اسے اپنے تمام خط، تمام محبت نامے اور پیغام بھیگنے سے بچانے تھے اور وہ کامیاب ہوگیا۔ طوفانی ہوائیں اور خوفناک بارش اس کے چھتری جیسے وجود کو صرف پھڑ پھڑانے پر مجبور کرسکی تھیں۔ بس!

اس نے اپنا گیت پھر شروع کیا۔
یہ گیت اس ردعمل کا نام تھا جو وہ دنیا اور فطرت کی خوب صورتی کو بھینٹ کر رہا تھا۔ اگرچہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ خوب صورتی کی طرف جانے والے راستے خوب صورتی کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یہ وہ گیت تھا جو سناٹے کی طرف نہیں جا رہا تھا بلکہ سناٹے کے خلاف لڑ رہا تھا۔
وہ اب بھی دلدل پر چل رہا تھا مگر اس کے پیروں کے نشان اب دلدل سے باہر بن رہے تھے۔

تو کتنا طویل، دکھ بھرا راستہ اس نے کاٹا تھا۔ ہوا کے اندر ہوا، بارش کے اندر بارش، لاش کے اندر لاش اور خواب کے اندر خواب کو پار کرتے ، گذرتے رہنا ہی اس کا عظیم مقدر تھا۔

یہ ایک اکیلے، اداس بہروپیے کے سونے اور بوجھل پاؤں کے نشان تھے جو غفلت اور نیند کے خلاف ایک نیا بیانیہ گڑھ رہے تھے۔
کیا انسانیت ان نشانوں کے پیچھے چلنے کو تیار تھی؟
مگر اب اسے اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اس کے عقب میں دلدل پر گلزار سج رہے تھے۔ ساری سرنگوں کے دہانے روشن ہو گئے تھے….
دنیا میں پھول ہی پھول۔ روشنی ہی روشنی۔ گیت ہی گیت۔

صبح کے چار بج رہے تھے جب بارش رکی۔
ڈاکٹر آیا اور اس کا معائنہ کیا۔
’’بخار تو اب بہت کم ہے۔ کل سے اس علاقے میں پھر طاعون کی افواہ اڑ رہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے اس کی بغلوں اور رانوں کو ٹٹولا۔
’’نہیں پلیگ تو نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’مگر بخار میں بھیگ جانے کے سبب سخت اور جان لیوا نمونیا ہوگیا ہے۔‘‘
’’اور ایک بات اور….‘‘ ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں کی پتلیوں کو کھول کر دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا۔
’’یہ کوما میں چلے گئے ہیں۔ شاید ایک گھنٹہ پہلے انھیں ایک ہارٹ اٹیک بھی ہوچکا ہے۔‘‘
’’کوما؟‘‘ سب نے ڈاکٹر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’ہاں۔ ایک ایسی بے ہوشی یا نیند جس میں مر کر بھی آدمی نہیں مرتا۔ کبھی سال بھر کبھی دوسال اور کبھی کبھی تو بیس سال تک بھی یا اس سے بھی زیادہ۔ کوما میں گئے ہوئے انسان کے دماغ کے خلیے کچھ اس طرح کام کرتے ہیں کہ وہ خواب ہی دیکھتا رہتا ہے۔ اور خواب بھی زیادہ تر اچھے اور خوب صورت۔ مثلاً پھولوں کے، بچوں کے، وادیوں کے اور روشنی کے۔‘‘
اس کے بلند خراٹے اسی طرح جاری تھے۔
’’یہ کیا بات ہوئی ڈاکٹر؟ یہ تو کتے کی موت مرنا ہوا۔‘‘ اس کی بیوی نے نفرت اور شکایت بھرے انداز میں کہا۔
’’ہاں مگر کہا نہیں جا سکتا کہ یہ حالت کب تک رہے گی۔ انسان کبھی کبھی اس طرح بھی لڑتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’کس سے؟‘‘ بڑے بھائی نے پوچھا۔
’’پتہ نہیں۔شاید موت سے، یا زندگی سے یا پھر کسی اور شے سے۔‘‘ ڈاکٹر نے چپکے سے کہا اور تیزی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔

Categories
فکشن

دائرہ

مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔ بس مجھے تقریر کرنی تھی کہ اسی لئے مجھے مبعوث کیا گیا تھا۔ میں نے ان ساری صدیوں کو یاد کیا جس میں میں نے اس تقریر کی تیاری کی تھی۔ ان ساری زبانوں کے متعلق سوچا جس مین مجھے یہ تحریر مرتب کرنی تھی۔ مجھے یاد ہے بہت سی باتوں کے لئے مجھے کسی زبان میں بھی الفاظ نہیں ملے تھے سو میں نے جیومیٹری کی کچھ اشکال بنا رکھی تھی۔ جہاں جہاں اشکال سے بات نہیں چل سکتی تھی وہاں میں نے خالی سانسیں رکھ چھوڑی تھی اور بعض جگہوں پر تو محض خلا تھا۔ مجھے رسی کے ذریعے مجمع کے عین بیچ وبیچ اتارا گیا۔ میں ابھی تقریر کے ابتدائیے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ایک سُرخ بالوں والا بچہ پکارا۔۔۔تم کون ہو۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے تقریر کے صفحات سے تن ڈھاپنے کی کوشش کی مگر وہ تو سارے کورے کاغذ تھے۔ میں نے جلدی سے رسی کو تھاما اور سوچا کہ مجھے واپس اوپر جانا چاہیے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔رسی تو اوپر سے کاٹی جا چُکی تھی۔

Image: Pawel kuczynski

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پندرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(29)

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کی بلندو بالا سُرخ عمارت کی ہیبت میں دب کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے پہاڑ جیسی سرخ عمارت بڑی بڑی حویلیوں کا سر نیچا کر رہی تھی۔ جس کے کئی کئی دالان اور بیسیوں کمرے اِدھر اُدھر پھیلتے چلے گئے تھے۔ دائیں بائیں کے کمروں کے اندر راہداریاں اور راہ داریوں میں بلند و بالا تیس درجے کی ڈاٹ والے در۔ اِن دروں کے ستون گول اور اونٹوں کی قامت سے دگنے تھے۔ واقعی انگریز سرکار نے بڑے پیسے خرچ کر کے یہ عمارت بنائی تھی۔ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا گرجا بھی تھا۔ بڑے بڑے گھاس کے میدان اور اُن کے کناروں پر لگے ہوئے ٹاہلیو ں،نیم،پیپل اور شریہنہ کے درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے۔ کچھ بچے قطار بنا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ اُن سب نے ملیشیے کی سیاہ رنگ کی قمیضیں اور شلواریں پہن رکھی تھیں۔ بچوں کے سروں پر پگڑیاں تھیں۔ کچھ ٹوپیاں پہنے ہوئے۔ ایک دو بچے ننگے سر بھی نظر آئے۔ مولوی کرامت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کس سے ملے اور کیا کرے ؟ وہ دیر تک گیٹ کے اندر داخل ہو کر سکول کے اُس چوکیدار کے پاس کھڑا رہا،جو گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے بیٹھا تھا۔ چوکیدار اپنی ہی ذات میں مگن،سر نیچا کیے،کچھ منہ کے اندر ہی اندر گنگنا تا رہا اور نظر اُٹھا کر مولوی کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ چوکیدارایک سکھ نوجوان لڑکا تھا،جس کے سر پر اتنی بڑی پگڑی تھی کہ پورے جسم کو دبا رہی تھی۔ جب اُس نے مولوی پر کچھ توجہ نہ دی تو مولوی کرامت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،سردار صاحب،ہیڈ منشی صاحب سے ملنا ہے اور جیب سے نکال کر وہ رقعہ دکھایا،جو تُلسی داس نے مولوی کرامت کو دیا تھا اور کہا تھا کہ جا کر منشی بھیم داس کو دکھا دینا۔ باقی وہ سب کچھ تمھیں سمجھا دے گا۔ چوکیدار نے مولوی کی آواز پر پہلی دفعہ سر اُٹھا کر غور سے دیکھااور اُس کے لباس،داڑھی،پگڑی اور چہرے کی سادگی اور نفاست سے متاثر ہو کر بولا، شاہ جی کیہ کہنا ہیڈ منشی نوں؟

 

مَیِں یہاں منشی بن کے آیا ہوں،اُسے رپورٹ کرنی ہے۔

 

یہ سُن کر وہ جلدی سے اُٹھا اور بِنا کچھ بولے مولوی کے آگے چل دیا۔ مولوی کرامت اُس نوجوان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا،یہاں تک کہ ایک کمرے کے سامنے جا کر،جس کی چھت پر دو جھنڈے لگے تھے۔ ایک برطانیہ سرکار کا اور دوسرا پنجاب ایجوکیشن منسٹری کے مونو گرام کا،وہاں پہنچ کر نوجوان نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب ہیڈ ماشٹر صاحب اندر بیٹھے آ۔
یہ کہ کر وہ وہیں سے اُلٹے قدموں واپس ہو گیا۔ جبکہ مولوی کرامت آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہو گیا اور جھٹ اسلام و علیکم کہ دیا۔ اندردوتین منشی اور بھی بیٹھے تھے لیکن مولوی کرامت نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہیڈ منشی وہی ہے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا ہے۔ کمرہ اندر سے کافی کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ جس میں آٹھ دس لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ ایسی کرسیاں وہ پہلے بھی ولیم کے دفتر میں دیکھ چکا تھا۔ سامنے ایک چوکور لکڑی کی ہی میز تھی،جس پر نیلے رنگ کا میز پوش بچھا تھا۔ اُسی میز کی دوسری طرف ہیڈ منشی صاحب بیٹھے تھے۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی،جن پر بڑے اور موٹے شیشوں کی عینک چڑھی تھی۔ رنگ سیاہی مائل مٹیا لااور سر پر سفید رنگ کی دوپًلی ٹوپی اِس طرح دبا کے جمائی تھی کہ پورا سر اُس میں چھپ گیا تھا۔ منشی صاحب خود بھی کرسی پر بیٹھے میز کے پیچھے گویا چھپے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی گردن سے اُوپر کا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔ اُس کے اس طرح بیٹھے ہونے سے قامت کااندازہ بھی ہو رہا تھا کہ ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن آنکھوں سے اطمنان اور سکون صاف جھلکتا تھا۔ اِس بات سے ثابت ہو رہا تھا کہ ہیڈ منشی کو ہرطرف سے مکمل سکون ہے اوراُن کے خانگی اور روزی روٹی کے معاملات صحیح چل رہے تھے۔ مولوی کرامت نے سوچا کہ اب اُس کے حالات بھی جلد ہی اللہ نے چاہا تو اِسی منشی جیسے ہو جائیں گے۔

 

رقعہ ابھی تک مولوی کرامت کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہیڈ منشی صاحب سلام کا جواب دیتا،مولوی کرامت نے وہ رقعہ اُن کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ منشی نے رقعہ اُٹھا کر کھولااور جیسے ہی اُس کی تحریر پڑھی،اُٹھ کر مولوی کرامت سے ہاتھ ملایا اور کہا،بیٹھیں مولوی صاحب،آپ کے بارے میں مجھے دو دن پہلے اطلاع مل چکی تھی اور میں آپ کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پھر ایک کُرسی کی طرف اشارہ کر کے،مولوی صاحب تشریف رکھیں۔

 

مولوی کرامت ہیڈمنشی کا اشارہ پا کر ایک کُرسی پر بیٹھ گیا لیکن اضطراری طور پر اِس طرح بیٹھا جیسے جمعے کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھا ہو۔ ہیڈ منشی صاحب بڑے کائیاں تھے فوراً بھانپ گئے اور بولے،مولانا آپ کہیں پیش امام تھے؟

 

جی حضور،تین پشتوں سے ہم یہی کرتے ہیں،ضلع قصور کے ایک گاؤں راڑے میں پیش امامت کرتا ہوں۔

 

تعلیم کی سرکار میں کوئی واقف تھا،جس نے آپ کی سفارش کی ؟

 

بس سرکار خدا واقف تھا،یا ہماری سرکار انگریز بہادر کمشنر صاحب کی مہربانی تھی۔ ورنہ اس عاجز کو کون جانتا تھا۔

 

ہیڈ منشی سمجھا مولوی کرامت کی انکساری اصل میں اپنی سفارش کو چھپانے کے لیے ہے۔ ورنہ اسسٹنٹ کمشنر سے تو ملنا ہی ناممکن ہے۔ کجا وہ خود سردردی لے کر اُسے سرکار میں منشی رکھیں۔ اس کے پیچھے لازماًکسی نواب کا ہاتھ ہو گا یا کوئی چال ہے۔ بہر حال جو بھی ہے تلسی داس نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ مولوی کرامت کا خیال رکھنا صاحب کا خاص آدمی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ تعاون ہی کیا جائے اور اسی کی مرضی کے مطابق کام بھی دیا جائے۔ کہیں شکایت کر کے ہماری نوکری کو ہی نہ لے ڈوبے۔

 

آپ کون سے درجے کو پڑھانا چاہیں گے ؟

 

حضور،میں تو نوکر ہوں۔ جہاں سے کہیں گے،بچوں کو پڑھا دوں گا۔ درجوں کا تو مجھے حساب نہیں۔ اِس معاملے میں صاف کورا ہوں۔

 

ٹھیک مولانا،آپ آٹھویں کے درجے کو فی الحال فارسی اور عربی گرائمر کی مبادیات کا درس دے دیا کریں۔

 

بہتر سرکار،مولوی کرامت نے بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلو بدلا۔

 

ٹھیک ہے مولوی صاحب،آپ اب آرام سے گھر جائیں۔ کل اتوار کی چھٹی ہے۔ پرسوں تشریف لے آئیں،ذکاء اللہ صاحب ہمارے ایک عربی اور فارسی کے منشی ہیں،وہ آج چھٹی پر ہیں،پرسوں وہ بھی آ جائیں گے۔ وہ آپ کا تعارف بچوں سے کرا دیں گے اور پڑھانے کے طور طریقے بھی بتا دیں گے۔ آج سے آپ کی حاضری اور تنخواہ شروع ہوگئی ہے (ایک رجسٹر مولوی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے ) اپنا نام مولوی صاحب اِس رجسٹر پر درج کر کے انگوٹھا بھی لگا دیں۔
مولوی کرامت نے ہیڈ منشی کے کہنے پر تمام کام نپٹا دیا،پھر کہا،حضور اب جاؤں ؟
جی مولوی صاحب لیکن پرسوں ضرور تشریف لے آئیں۔

 

جی سرکار،اور اُٹھ کھڑا ہوا لیکن گھبراہٹ میں گرتے گرتے بچا۔

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ گویا ایک جیل سے باہر نکلا ہے۔ ہیڈ منشی کے کمرے میں اُس کا دم گھُٹنے لگا تھا۔ پہلی بار سرکاری رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اپنی قید کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔ اِسی وجہ سے گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی۔ اب دروازے سے باہر نکلا تو گھبراہٹ کا تاثر فوراً ہی زائل ہو گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

مولوی کرامت نے سکول جانے کے لیے کھدر کا سفید کُرتہ،سفید ہی کھدر کی چادر پہن لی۔ کبھی شادی بیاہ یا ختم درود کے لیے مولوی کرامت کی بیوی نے اُس کے لیے بنا کر لکڑی کے صندوق میں رکھے ہوئے تھے لیکن سال ہا سال سے اُن کے استعمال کا وقت نہیں آیا تھا۔ یا یہ کہیں کہ استعمال کرنے کو جی نہیں چاہا تھا کہ پھر کون روز روز اس طرح کے کپڑے بنائے گا۔ ویسے بھی کسی نہ کسی کے ہاں سے سال میں ایک لُنگی اور کُرتا فوتگی یا شادی پر مل ہی جاتا تھا۔ اِتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اِتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئیں تھیں،جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا۔ بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اِن بے شمارسلوٹوں کے باوجود مولوی کے کُپڑوں میں صفائی اور نفاست موجود تھی۔ صافہ بھی بالکل نیا تھا،جو کل ہی جلال آباد کے بازار سے خریدا تھا۔ جوتے البتہ پُرانے ہی تھے۔ ویسے بھی جوتوں کو جب تک وہ نہ ٹوٹیں،کون پُرانا کہتا ہے۔ یہ جوتے انتہائی موٹے چمڑے کے تھے،جنہیں موچی نے سخت قسم کے دھاگے سے سیا تھا۔ تین سال گزرنے کے باوجود یہ نہ تو پھٹے تھے اور نہ ہی سلائی اُدھڑی تھی۔ پگڑی میں بھی کئی کئی پیچ دیے اور طرہ بھی چھوڑا۔ داڑھی ویسے بھی سفید ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے سفید لباس اور بھی جچ رہا تھا۔ القصہ مولوی پہلے دن بن ٹھن کے سکول میں گیا کہ سب دیکھنے والے اُس کے لباس اور چال ڈھال سے بہت متاثر ہوئے۔

 

مولوی یوں تو فارسی،عربی اور اردو کے ابتدائی اور بنیادی گرائمر اور زبان کے بارے میں کافی سُدھ بدھ رکھتا تھا لیکن اُسے سکول میں بچے پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہر چند وہ اپنی معلمی کے تمام کمالات فضل دین پر آزما کر اِس کام میں ماہر ہو چکا تھا لیکن دوسروں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع پہلی ہی دفعہ ہی ملا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ خدا جانے کیا غضب ہو جائے۔ خاص کر اُسے سکول کے ہیڈ منشی سے انگریز افسر کی نسبت زیادہ خوف تھا۔ لیکن جب مولوی نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو کام بہت آسان لگا۔ کیونکہ جو کتابیں مولوی کرامت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے دی گئیں تھیں،وہ اِتنی آسان اور سادہ تھیں کہ اُنہیں فضل دین بھی پلک جھپکنے میں فر فر پڑھ جاتا۔ بلکہ پڑھانے پر بھی قادر تھا۔ یہ کتابیں عربی کے ابتدائی افعال اور گردانوں کے صیغوں پر مشتمل تھیں،جس میں چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال تھا اور اُن کے اردو میں استعمال کے طریقے بتائے گئے تھے۔ مولوی کرامت کے سامنے فضل دین کی مثال موجود تھی۔ یہاں بھی وہی طریقہ لگاتے ہوئے سبق شروع کیا اور بچوں کو وہ وہ نقطے بتائے کہ وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہیں پورا پورا سبق یاد ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کے منہ سے ایسی گالی نکل جاتی جس میں پنجابی کا ایک گُوڑا رچاہو ہوتا کہ بچے پڑھنے کے ساتھ محظوظ بھی ہوتے رہے۔ آہستہ آہستہ اِسی وقت کے دوران مولوی کرامت کی ایک تو جھجھک بھی دور ہو گئی،دوم آگے کے لیے رستہ صاف آسان ہو گیا۔ مولوی کرامت نے سوچا اگر یہی پڑھانا کہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ چھٹی ہوئی تو مولوی اتنا خوش تھا کہ بغلیں بجاتا ہوا گھر تک گیا۔

 

(30)

 

ولیم کے کمرے میں تمام تحصیل کابینہ جمع تھی۔ پولیس آفیسر لوئیس،ایجوکیشن آفیسر تُلسی داس،محکمہ مال کے آفیسر،محکمہ نہر کے آفیسراور دوسرے آٹھ دس آفیسر مزید کرسیوں پر لکڑی کی لمبی میز کے دو طرفہ اپنی اپنی فائلوں کوسامنے رکھے مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یوں تو یہ سب دیسی اور انگریزی افسر اپنے کام کو احسن طریقے سے سمجھتے تھے اور اُسے پورا کرنے کا تجربہ بھی کسی بڑے افسر سے کہیں زیادہ تھاکہ اگر اُن کو آزادی سے کام انجام دینے کی اجازت مل جائے تو منٹوں میں نپٹا دیں لیکن بیوروکریسی اِس با ت کو نہیں مانتی۔ عموماً تحصیل جلال آباد میں ایسے افسر آتے رہے جو خود تو خیر کام کو سمجھتے نہیں تھے،اگر ماتحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی تھا تو اُسے ایسی پیچیدہ اور نافہم قسم کی ہدایات میں اُلجھا دیتے کہ ایک آسان سا کام بھی اقلیدسی قاعدوں اور کلیوں کا اچھا خاصا تماشا بن جاتا۔ پھر یا وہ کام فائلوں ہی میں دب کر مر جاتا ورنہ نہایت بے کار حالت میں انجام پاتا اور بالآخر اُس کمشنر کا تبادلہ کہیں اور ہو جاتا۔ اِس طرح تحصیل کی ترقی ہو تو رہی تھی لیکن کچھوے کی چال سے۔ مگر ولیم کا معاملہ اور تھا اور یہ بات پچھلے عرصے کے دوران تمام افسر بھی جان گئے تھے کہ اُن کو ہرن کی قلانچوں کے حساب سے دوڑنا پڑے گا ورنہ ولیم آگے نکل جائے گا،وہ پیچھے رہ جائیں گے اور ولیم سے پیچھے رہ جانے کا مطلب نوکری سے فارغ ہونا تھا،جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ ابھی ولیم صاحب کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن افسروں پر اس طرح خاموشی چھائی تھی جیسے جنازے کی دعا میں بیٹھے ہوں۔ ہر ایک اپنی فائل پر نظریں جمائے ولیم کے انتظار میں متوقع سوالات کا جواب سوچنے میں مگن تھا۔ سب افسران کو بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے اور اب کچھ ہی دیر میں ولیم صاحب کمرے میں داخل ہونے والے تھے۔ پھرچند ثانیوں بعد وہ وقت آگیا جب نجیب شاہ نے باہر سے ولیم کے لیے دروازہ کھولا۔ اُس نے بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کردائیں ہاتھ اُس کا ایک پٹ کھول دیا اور اُسی لمحے ولیم سُرمئی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں اندر داخل ہو گیا۔ تمام افسر اُٹھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ نجیب شاہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ ولیم نے افسروں کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور دیر سے آنے پر سوری کرتے ہوئے لیڈنگ کُرسی پر بیٹھ گیا۔ یوں تو ولیم نے مسکراتے ہوئے اپنی دیر آید پر معذرت کی تھی لیکن سب جانتے تھے کہ یہ اُن وی آئی پی تکلفات میں سے ایک تکلف ہے جو ہر افسر کا اپنے جونیئر سے فرق واضح کرتا ہے۔ جس کا وہ خود بھی عملی طور پر اکثر مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ولیم کے کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی تمام لوگ اٹین شن ہوچکے تھے کیونکہ یہ ایک اہم میٹنگ تھی،جو فائلوں سے آگے عملی طور پر کام کرنے کے لیے بُلائی گئی تھی۔ اِس میٹنگ میں اصلاً وہی کام ڈسکس ہونے تھے،جن کے بارے میں ولیم ڈی سی صاحب سے بات کر چکا تھا۔ اُس نے لیڈنگ چیئر پر بیٹھ کر ایک دفعہ تمام آفیسر زپر ایک طائرانہ نظر ماری پھر سب سے پہلے ڈی ایس پی لوئیس سے مخاطب ہوا،لوئیس صاحب پہلے آپ بتایے،کیابنا سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے حوالے سے؟

 

سوال کے دوران ولیم کا لہجہ اتنا سپاٹ اور دو ٹوک تھا جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ آج صاحب بہادر کا معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ لوئیس صاحب کی خو ش بختی تھی کہ اُس نے پچھلے تین دن میں اِس معاملے میں کافی کچھ کام کر لیا تھا۔ جس پر ولیم داد کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔

 

لوئیس نے فائل سے سر اُوپر اُٹھاکر ایک بار ولیم کو دیکھا اور بولا،سر مَیں نے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے لیے باقاعدہ پولیس کارروائی کو عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو گرفتار نہیں ہو سکے اُن کا مال بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شاہ پور اور جودھا پور کے واقعات میں ملوث تھے۔ اُن کے ملوث ہونے کا ثبوت مخبروں اور دیگر ذرائع کی ہم آہنگی سے مہیا کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سی آئی ڈی آفیسر متھرا اور تھانیدار بلرام کے علاوہ تین سب انسپیکٹر بھی شامل تھے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ملزموں نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ جھنڈووالا میں مَیں خود پولیس کے ساتھ تھا جبکہ عبدل گجر کی طرف انسپیکٹر ڈیوس کو بھیجا گیا۔ اُس نے نہایت کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔ فی الحال واقعات کے مرکزی ملزم سردار سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اُمید ہے اُنہیں بھی جلد ہی قانون کے چاک پر بٹھا دیا جائے گا (پھر فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے )سر اِس فائل میں کیس کی تمام تفصیلات،گرفتار ملزمان اورمال کی ضبطی کے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

 

لیکن لوئیس صاحب،ولیم نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا،اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہی مرکزی ملزم جنہیں آپ ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے،وہ جلد ہی کوئی دوسری کارروائی نہ کریں گے ؟اگر اِسی طرح کی ایک اور کارروائی ہوگئی تو اِس کا مطلب ہے ہم اپنی جڑیں خود ہی کاٹ رہے ہیں۔

 

سر اب ایک اور کارروائی نہیں ہوگی،لوئیس نے انتہائی پُر اعتماد لہجے سے جواب دیتے ہوئے کہا،مزید کارروائی کے لیے نہ تو اُن کے پاس آدمی ہیں اور نہ ہی ہمت۔ تیسری ضر ب مَیں نے اُن پر اخلاقی بے توقیری کی لگائی ہے۔ میں نے اُن کو اِس طرح ذلیل کیا ہے کہ اب اُنہیں اپنے وقار کو سمیٹنے میں زمانے لگیں گے۔ (ولیم کے ہاتھ کے نیچے پڑی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سر اِس فائل میں کارروائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ آپ اِس کا آرام سے مطالعہ کر کے میرے لیے مزید جو حکم چھوڑیں گے،مَیں اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوں گا۔
ولیم نے لوئیس کی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،گُڈ،مرکزی ملزم کب تک گرفتار ہوں گے؟

 

لوئیس نے اپنا دایاں کان کھجا کر ولیم کی طرف دوبارہ دیکھا اورکہا،سر اُس کے لیے میں نے مہاراجہ پٹیالا کو سردار سودھا سنگھ کے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔ اب صورتِحال یہ ہے کہ مہاراجہ نے سودھا سنگھ کی گرفتاری نہ بھی دی،جس کی ہمیں عین توقع ہے،تو ہم اُس کا عدالت میں انتظار کریں گے۔ وہ لامحالہ عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروائے گا،جب ہم اُسے گرفتار تو نہ کر سکیں گے۔ لیکن اُس کے فرار کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی۔ اِس طرح وہ عدالت میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو مجرم قرار پا کر اشتہاری ہو جائے گا۔ اشتہاری ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اُس کی کوئی مدد نہیں کر پائے گا لیکن بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ عبوری ضمانت پر حاضری کے وقت اُس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی اور ہم اُسے گرفتار کر لیں گے۔ یہی کچھ عبدل گجر اور شریف بودلہ کا معاملہ ہے۔ ہم نے کچھ اُن کے بندے پکڑے ہیں۔ وہ خود اُن کے خلاف ثبوت ہیں۔ یہ لوگ بھی عبوری ضمانت کے بعد عدالت میں حاضر ہونے کے پابند ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مقدمے کا سامنا تو بہر حال کرنا ہے،جو چند ہی روز میں شروع ہو جائے گا۔ بھاگ یہ اِس لیے نہیں سکتے کہ یہاں ان کی زمین،گھر بار،اولاد اور رشتے داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی گنوانے کی حماقت نہیں کریں گے اور یہیں رہیں گے۔ (مسکرا کر ) زیادہ سے زیادہ حج پر چلے جائیں گے لیکن واپس یہیں آئیں گے۔

 

ویل ڈن مسٹر لوئیس،ولیم نے سنجیدہ لہجے میں لوئیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا،غلام حیدر کی کیا خبر ہے آپ کے پاس ؟ میرا خیال ہے اُس پر ہمیں نظر رکھنی چا ہیے۔ یہ اُس پر دوسرا حملہ ہے اور ایسے میں کوئی شخص کچھ بھی غلط کارروائی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں اِس بارے میں ؟

 

سر آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،لوئیس تائید میں بولا،احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے،اُسے بھی عینک میں رکھا جائے۔ آپ جو بھی اُس کے بارے میں فرمائیں گے،اُس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

 

لوئیس،ولیم نے فائل کو بند کرتے ہوئے دو ٹوک کہا،غلام حیدر کے پاس سُنا ہے ایک ریفل ہے۔ آپ اُس سے وہ ریفل فوراً تین ماہ کے لیے قبضے میں لے لیں اور اُسے پیغام بھیج دیں،وہ اپنے آدمیوں کا اسلحہ بھی کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کو جمع کروا دے۔

 

جی بہت بہتر،لوئیس پوری فرمانبرداری سے بولا،یہ ہو جائے گا سر۔

 

کوئی اور بات ؟ ولیم نے لوئیس سے بات قریباً ختم کرتے ہوئے پوچھا۔

 

نو سر،لوئیس نے جواب دیا

 

اوکے،لیکن اس کیس کے بارے میں جو بھی اہم پیشرفت ہو،آپ مجھے اُس سے مطلع کرنے کے پابند ہو ں گے،ولیم یہ کہ کر اب تحصیل ایجوکیشن تُ افسرتلسی داس کی طرف متوجہ ہوا،جو گول شیشوں کی عینک لگائے اپنی فائل کے اُوپر قریب قریب گرا ہوا تھا۔

 

تُلسی داس آپ بتائیں،آپ کی طرف سے کیا پرفارمنس ہوئی ؟ابھی تک،مجھے سب سے زیادہ تشویش آپ کے محکمے کی طرف سے ہے۔ جس کی کارکردگی خوردبین سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تُلسی داس نے فائل ولیم کی طرف سرکا کر اپنی عینک کو اُتارا اور بات شروع کی،سر میں نے آپ کے حکم کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی اس طرح ترتیب دی ہے کہ جلال آباد کے جتنے گاؤں ہیں،اُن کو دس پر تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دس گاؤں کا ایک مرکزی گاؤں بنا دیا ہے۔ جس میں ایک آٹھویں درجے کا اسکول ہو گا۔ اُس میں پورے دس گاؤں کے بچے آ کر پڑھا کریں گے۔ اِسی طرح ہر پانچ گاؤں کے لیے ایک پانچویں درجے کا اسکول بنایا جائے گا۔ یوں تحصیل میں آٹھویں درجے کے مزید تیس سکول بنیں گے اور پانچویں درجے کے ساٹھ اسکول ہوں گے۔ جن پر کل لاگت اوراسکولوں کے مقام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے،جو اس فائل میں درج ہے۔ اِسی طر ح دسویں درجے کے اسکول کے بارے میں بھی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جن کی تعداد مزید چار تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام کام دو سال کے عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گُڈ تُلسی داس،ولیم نے خوش ہو کر تُلسی داس کو شاباش دی،۔ ہم یقیناً اِس کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کریں گے اور جلد ہی گورنمنٹ سے اِس کے لیے فنڈ منظور کرا لیں گے۔ تم کام کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ بتاؤ مسلمان بچوں کی اسکول میں حاضری پوری کرنے کے لیے کیا حل نکالا ہے آپ نے ؟

 

سر یہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے،تُلسی داس نے معذرت دارانہ لہجے میں اپنی وضاحت پیش کی،جب تک مسلمان مولوی راستے میں حائل ہے،یہ کام مشکل نظر آتا ہے۔ لوگ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے لاکھ طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ آپ ہی کچھ اِس بارے میں حکم دیں یا پھر پولیس کے ذریعے جبر سے اُنہیں لایا جائے اور جرمانے یا سزا کا عمل دخل کیا جائے۔

 

اوں ! ولیم تھوڑی دیر کے لیے خموشی سے تُلسی داس کی بات پر غور کرنے لگا پھر سر اوپر اُٹھا کر بولا،تُلسی داس! مَیں نے آپ کے حوالے ایک مولوی صاحب کو کیا تھا،وہ کہاں ہے ؟
اُسے سر آپ کے حکم پر جلال آباد کے مرکزی ہائی اسکول میں فارسی اور عربی کا مُنشی رکھ لیا ہے تیس روپے ماہانہ پر۔

 

تُلسی داس،ولیم بولا،مولوی،کیا نام ہے اُ س کا؟
کرامت سر،تُلسی داس نے یاد دلایا

 

ہاں کرامت،مولوی کرامت۔ تُلسی داس اُسے آپ ٹارگٹ دو کہ سرکار کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلے کے لیے لے کر آنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُسے بتاؤ،وہ جس قدر مسلمان بچوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا،سرکار اتنا ہی اُس کی تنخواہ میں اضافہ کرے گی۔ اِس لیے فی الحال اُس کا کام لوگوں کو اس بات پر تیار کرنا ہے۔ یقینایہ کام وہی کر سکتے ہیں۔ آپ اِس فارمولے کو آزماؤ۔ اِس کے علاوہ اِس طرح کے مزید پانچ مولوی جلال آباد تحصیل کے ہی رہنے والے ملازم رکھ لو اور اِس مولوی کو اُن کا ہیڈ بنا دو۔ میرا خیال ہے،اِس طرح سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

 

ولیم کی اِس انوکھی ترکیب پر تُلسی داس سمیت سب ہلکا سا مسکرا دیے۔ یہ ایک ایسا نکتہ تھا،جو ابھی تک کسی کو بھی نہ سوجھا تھا اور ولیم ہی کا خلاق ذہن تھا،جو ایسا بے ضرر اور زود اثر حل نکال سکتا تھا۔ مولویوں کو سرکاری اسکول کی ملازمت دے کر اور اُنہیں مسلمان بچوں کے داخلے پر نامزد کر کے حقیقت میں ایک تیر سے دو کام لیے جا سکتے تھے کہ جو روکنے والے تھے،وہ اب دعوت دینے والے ہوجاتے اور لوہے سے لوہا کا ٹنا نہایت ہی آسان ہو جاتا۔

 

تُلسی داس سے فارغ ہو کر ولیم نے تحصیل دار مالیکم کی طرف رخ کیا اور بولا،جی مالیکم صاحب آپ اور ڈیوڈ صاحب کا کام قریب قریب مشترک ہے۔ آپ کے کام میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ آخر جلال آباد میں ہر طرف اُڑتی ہوئی خاک اور گردو غبار کا کیا علاج ہے ؟ مجھے حیرت ہے آپ پچھلے دو سال سے یہاں موجود ہیں لیکن یہاں کی مٹی جم نہیں پائی اور خاکی میدانوں نے سبزی کا لباس نہیں پہنا۔ آج یہ طے ہو جائے کہ اس تحصیل کے چہرے پر کب رونق آئے گی۔

 

مالیکم صاحب،جو بے چینی سے میٹنگ کا دورانیہ لمبا ہوتے دیکھ رہے تھے،نے آگے کی طرف ہوتے ہوئے وضاحت کی،سر اصل میں ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے۔ ورنہ تو چھ ماہ میں ہی خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہااُٹھیں۔

 

وہ کون سی جہالت ہے جس کا علاج نہیں ؟ولیم حیرانی سے بولا،اگر گورنمنٹ جہالت دور کرنے پر قادر نہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں ملازمت کرنے کا۔ ہم آرام سے بستر سمیٹیں او ر برطانیہ کی سردی میں آگ تاپیں اور دُھند سے لطف اُٹھا ئیں۔

 

مالیکم ولیم کے اِس تُرش جواب سے گھبرا گیا اور شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اُسے مشکل سے نکالنے کے لیے ڈیوڈ نے اپنی عینک اُتاری اور بات آگے بڑھائی،سر مالیکم کی بات کا مقصد ہے کہ عوام ساتھ نہیں دیتی۔ مثلاً بیلداروں اور نہری سُپر وائزروں نے ہمیں بتایا کہ لوگ نہر سے نکالے گئے کھالوں کے نگال میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھر دیتے ہیں اور نہر کا پانی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے۔ اُن کے خیال میں گورنمنٹ نے نہر کے پانی میں ایسی دوائی ملا رکھی ہے،جس سے فصلوں میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس فصل کا غلہ لوگ استعمال کرتے ہیں تو وہ بیماری لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ یعنی انسان نامرد ہو جاتا ہے اور نسل آگے نہیں بڑھتی۔ اِس لیے یہ لوگ نہر کا پانی ہی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے اور مکمل طور پر بارشوں کے سہارے رہتے ہیں۔

 

ڈیوڈ کی بات سے حوصلہ پا کر مالکم نے مزید وضاحت کی،سر ایک بات اور ہے۔ زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
ولیم ان کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ ہنس دیا،پھر تحمل سے بولا،مالیکم صاحب آپ مجھے بتایے اگر یہ قوم اتنی جاہل اور سادہ نہ ہوتی تو کیا ہم پندرہ بیس ہزار لوگ اِن کروڑوں گدھوں پر حکومت کر سکتے تھے ؟اِن کی یہی جہالت تو آپ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن اب ہمی نے اِن کو تعلیم دینی ہے،اِنہیں سکھانا ہے۔ اِن کی معاشی اور ذہنی ترقی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ میں نے نہری منصوبے کی فائل لاہور تک پہنچا دی ہے۔ جلد واپس آ جائے گی۔ چھ مہینے تک میں یہاں ایک مزید نہر دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس سے پہلے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ جن کا پانی منظور ہو چکا ہے،اُن کی ٖفصلوں تک پانی لے جانے کے ذمہ دار آپ دونوں ہیں۔ نہری پانی کے علاقوں کا دورہ کرو اور تمام زمینداروں کی حلقہ وار میٹنگ بلاؤ۔ انہیں بتاؤ،آیندہ کسی نے اپنا الاٹ شدہ پانی ضایع کیا تو اُس کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔ اپنے مالی اور نہری پٹواریوں کو اِس کا بنیادی طور پر پابند بناؤ۔ وہ اپنے اپنے علاقے کے گوشوارے ہر مہینے آپ کو جمع کرائیں۔ جو کچھ مالیے یا خراج کا حساب ہو اُسے تحصیل میں آ کر کانو گووں سے پاس کروائیں۔ میں دو مہینے کے اندر یہ تمام کام درست دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے اور کارکردگی صفر ہے،جومجھے منظور نہیں( پھر لوئیس صاحب کی طرف منہ کر کے )لوئیس صاحب آپ اس معاملے میں جو کچھ مدد اِن کو در کار ہو،بلا چون و چرا دیجیے گا۔

 

لوئیس نے فقط،ہاں،میں سر ہلانے پر اکتفا کی۔ کچھ دیر توقف کے بعد ولیم دوبارہ بولا،مَیں چار روز کے لیے چھٹی پر جا رہا ہوں۔ آج سے پانچویں روز واپس آؤں گا۔ آپ اِس عرصے میں اپنی تمام بریفنگ تیار کر لیں۔ مَیں نہیں جانتا،مجھے کتنے دن تحصیل جلال آباد میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں،جب یہاں سے جاؤں،لوگ خوشحال ہو چکے ہوں اور گورنمنٹ کا خراج بیس گنا زیادہ ہو چکا ہو۔ اِس گفتگو کے بعد ولیم نے میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
فکشن

بھولا گُجر شہید

میرا نام ملک شوکت علی رحمانی ہے اور صحافت میرا مشغلہ ہے، پیشہ نہیں۔ میری تعلیم ایف۔اے ہے جو میں نے اپنے آبائی شہر ننکانہ صاحب کے بابا گُرو نانک ڈگری کالج سے حاصل کی۔ اللہ کے فضل سے فیصل آباد میں اپنا بیوپار چل نکلا ہے لہٰذا صحافت سے کمائی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ اس لئے کسی کو راضی کرنے یا ناراض کر بیٹھنے کے خیال سے آزاد ہو کر لکھتا ہوں البتہ زیرِ نظر تحریر مجھے الحاج چودھری ظہور حسین گجر صاحب کے حکم پر لکھنی پڑ رہی ہے جو کہ اُن کے خیال میں میرا اخلاقی فریضہ ہے۔ اخلاقی فریضہ صرف بھولے گُجر سے ہمسائیگی کا حق نہیں بلکہ چودھری ظہور حسین گجر صاحب کی اُن مہربانیوں کا شکریہ ادا کرنا بھی ہے جن کی بدولت میرے دادا منا کمہار سے ملک منظور حسین رحمانی بنے- خیر وہ تو لمبی کہانی ہے، آمدم بر سرِ مطلب- بھولے گجر کی شہادت کے بعد کچھ دن تک الحاج صاحب مسلسل اصرار کرتے تھے کہ اُس کے بارے میں کچھ لکھوں، آخر ہمارے محلے کا سپوت ہے، مجھے ضرور کچھ نہ کچھ لکھنا چاہیئے اُس کی زندگی اور موت کے بارے میں؛ وہ موت جسے سرکاری طور پر شہادت کا رُتبہ ملا ہے۔

 

یہ فیصل آباد مزدوروں کا شہر ہے، دہقانوں کا ضلع ہے۔ سو یہاں ہر دور میں ارباب ِ تخت و تاج نے قانون کی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ صرف امن و مان ہی قائم نہ ہو بلکہ صنعت کار اور سیاستدان طبقے کے جملہ مفادات بھی محفوظ رہیں۔ مجھے پنجابی ذہن کے ارتقاء اور تاریخ میں وقت ضائع کیے بغیر یہ بات اپنے پڑھے لکھے قاری پر چھوڑ دینی چاہیئے کہ فیصل آباد میں قانون کی گرفت کا دوسرا مطلب “پولیس گردی” کس طرح پڑ گیا۔ میرا عزیز بھولا گجر اسی ماحول کی پیداوار ایک پولیس انسپکٹر تھا۔ بھولے کا اصل نام عدنان گجر تھا اور وہ چودھری ظہور حسین کی دوسری اولاد تھا۔ چودھری صاحب کی فیصل آباد میں لکڑی کی آڑھت تھی (جس پہ اُنہوں نے میرے دادا کو منشی مقرر کیا تھا) اور کم عمری میں ہی کافی با حیثیت آدمی بن گئے تھے۔ اُن کی پہلی شادی تو اپنے خاندان میں ہی ہوئی لیکن اولاد نہ تھی۔ دوسری شادی ایک رانا خاندان میں کی جو کہ کاروباری اور سیاسی، دونوں حوالوں سے بہت با اثر خاندان تھا۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہوئے، ایک بیٹی (فرحانہ) اور ایک بیٹا (عدنان) جو کہ بیٹی سے دو سال چھوٹا تھا۔ چودھری صاحب نے تابہ مقدور ان بچوں کو بہترین تعلیم دی۔ فرحانہ تو ایم۔اے تک پڑھی اور پنجاب یونیورسٹی تک پہنچی لیکن عدنان کو شروع ہی سے کھیلوں میں دلچسپی تھی، اپنے سن سے بڑے قد کاٹھ کا لڑکا اور ہاکی کا بڑا دھانسُو کھلاڑی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انٹرنس کے بعد اگے نہ پڑھ سکا۔ انہی دنوں چودھری صاحب کے سُسر کے بھائی رانا حامد علی ایم پی اے منتخب ہو گئے اور پھر صوبائی وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی مل گیا تو عدنان کی، جو اب بھولا کے عُرفی نام سے جانا جاتا تھا، نوکری کا مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ قد کاٹھ کا اپنی عمر کے لڑکوں سے کافی نکلتا ہوا تو تھا ہی، ایف اے کی تعلیم بھی تھی، پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا گیا۔ فرحانہ نے گریجوایشن کے بعد ایم۔اے فلسفہ کی ڈگری لی تو اس وقت تک بھولا گجر محکمہ پولیس میں ایک باجبروت، نڈر اور سخت کوش “چھوٹے تھانیدار” کے طور پہ نام کما چکا تھا۔ بھولا جس چوکی کا انچارج ہوتا، وہاں چھوٹے موٹے جرائم پیشہ افراد کی تو شامت رہتی ہی تھی، شرفاء بھی شام ڈھلنے کے بعد ناکے پر سے گزرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ بھولا بلا کا بددماغ ہی نہیں، بدزبان اور ہتھ چھٹ تھانیدار بھی تھا (پھر وزیرِ داخلہ کا قریبی عزیز ہو تو کیا ہی کہنے)۔ اپنے طبیہ کالج کے پرانے اُستاد اور شاعر، ڈاکٹر محبوب مسیح کی مثال تمام اہلِ محلہ کو یاد تھی۔

 

ایک ناکے پہ ڈاکٹر صاحب کی موٹر سائیکل روکتے ہی بھولے نے اپنے اہلِ محکمہ کے روائتی انداز میں موٹر سائیکل کی چابی اُچک لی تو عمر رسیدہ ہومیو فزیشن کو بہت بُرا لگا کہ اُن کی بیٹی بھی اُن کے ہمراہ تھی۔ انہوں نے بھولے کو ڈانٹنے کے انداز میں کہہ دیا “نوجوان، اگر میرے سفید بالوں کا حیا نہیں کرنا تو اپنے نام نہاد قانون کا خیال ہی رکھ لو ! یہ جو حرکت تُم نے کی ہے، یہ بھی تو ٹریس پاسنگ کے زمرے میں آسکتی ہے!!” پولیس والوں کو قانون بتانا اور وہ ٹارٹ جیسا قانون جو کہ مہذب ملکوں کے چونچلوں کا محافظ ہے، ایک صریح غلطی تھی جو ڈاکٹر صاحب نے کر دی تھی۔ بھولے نے ڈاکٹر صاحب کو گریبان سے پکڑ کر موٹر سائیکل سے اُتارا، ایک گھونسا اور دھکا ملا جُلا ڈاکٹر صاحب کے رسید کیا اور انہیں چلتا کیا۔ موٹر سائیکل، جس کے کاغذات اس وقت ڈاکٹر موصوف کے پاس نہ تھے، لاوارث پراپرٹی کی دفعہ کے تحت تھانے میں جمع کروا دی۔ ڈاکٹر صاحب اس کے والد کے پاس پہنچے، سفارش کیلئے، تو چودھری صاحب نے ہامی بھر لی لیکن بھولے نے ان کی ایک نہ مانی۔ ڈاکٹر صاحب نے تھانے سے موٹر سائیکل واپس لینے کیلئے محرر کو رشوت کی رقم ادا کی (جو کہ محرر نے قسم کھا کے کہی تھی کہ ایس پی صاحب کے ریڈر کو جمع کروانی تھی، خود اس پہ اس کا ایک روپیہ بھی حرام تھا) اور اپنی موٹر سائیکل گھسیٹ کے تھانے سے نکل رہے تھے تو میں نے خود انکی آنکھوں میں آنسو دیکھے- میں اُن کے ساتھ تھا۔ بھولا اس وقت اپنی غیر قانونی (مدت پہلے ڈکیتوں سے چھینی گئی) ہنڈا ایک سو پچیس موٹر سائیکل پر سوار تھانے میں جا رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرا دیا۔ یہ معمول کا ایک واقعہ تھا جو ایک ڈاکٹر محبوب مسیح کے ساتھ ہی کیا، فیصل آباد میں سیکڑوں لوگوں کے ساتھ، روز ہوا کرتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب حساس طبیعت کے آدمی تھے، ادیب شاعر قسم کے، اُنہوں نے محتسب، ڈی پی او، آئی جی اور وزیرِ اعلیٰ کے شکایات سیل میں بھولے کی بدتمیزی کے خلاف درخواستیں دیں لیکن ایک سال گزر گیا، کوئی نتیجہ نہ نکلا، سوائے اس کے، کہ ڈاکٹر صاحب بھولے کی ‘نظرِ کرم’ کا مستقل مرکز بن گئے۔ ایس پی صاحب کا تو ایک ہی جواب ڈاکٹر صاحب کیلئے کافی تھا : “سر اگر فقط بدتمیزی کے الزام پہ میں تھانے دار معطل کرنا شروع کردوں تو میرا سارا محکمہ گھر بیٹھا ہو گا، آپ صبروتحمل سے کام لیں، خداوند اجر دے گا”۔ اس کے بعد دو دفعہ ڈاکٹر صاحب کا لڑکا غیر قانونی شراب فروخت کرنے کے ‘صلے’ میں حوالات کی ہوا کھا آیا اور ایک بار مکان پر ریڈ میں اُن کی بیٹی بھی بھولے سے جی بھر کے گالیاں کھا چکی تو ڈاکٹر صاحب اپنے چک جھمرے والے آبائی گھر منتقل ہو گئے۔ ایک عیسائی کے گھر پر ریڈ کا آسان ترین بہانہ ‘شراب’ ہے اور یہ رمز سب تھانیدار جانتے ہیں۔تاہم اس کے بعد بھولے کو کسی ایسے معمولی معاملے میں وقت ضائع کرکے اہلِ محلہ پر دھاک بٹھانے کی ضرورت نہ پڑی۔

 

میرا اور اُس کا بچپن کا دوست رانا چاند اسلحے اور منشیات کا معمولی سا اسمگلر تھا اور اب دو ایک اقدامِ قتل کی وارداتوں میں اشتہاری ہو کر نسبتاً بڑے نام والا مجرم بن گیا ہوا تھا۔ رانا چاند مجھ پہ بہت بھروسہ کرتا تھا لیکن میں نے کئی دفعہ اُسے سمجھایا کہ بھولے پر بہت ذیادہ بھروسہ نہ کرے مگر اُس کو مان تھا کہ وہ بھولے کا دوست ہی نہیں اُس کے ننہالیوں کا دور کا رشتے دار بھی تھا۔

 

میں اُس شام بھولے کی بیٹھک پہ رانا چاند سے مختصر سی ملاقات کے بعد تراویح کی نماز پڑھنے کے لئے آ گیا کہ پہلا روزہ تھا اور اسکی تراویح نماز تو پڑھنی چاہیئے تھی ناں۔ دوسرے چاند اور بھولے نے میخواری کی محفل جما لی تھی اور مجھے یہ عادت کم از کم ماہِ صیام کے دورانیئے کی حد تک نہ تھی، سو میں نے اُن سے اجازت لی اور مسجد کی طرف نکل آیا۔ میں تراویح کی نماز ادا کر کے گھر پہنچا تو گلی میں پولیس کی گاڑیوں کی قطاریں، عوام کا ہجوم اور شوروغوغا کا عالم دیکھ کے میں نے راہگیروں سے پوچھا کہ بھائی خیر تو ہے؟ پتہ چلا کہ گلی میں فائرنگ ہوئی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ بھولے گجر نے رانا چاند کو قتل کردیا ہے۔ میرے اندر کے صحافی نے کروٹ لی اور میں بھی پولیس کے ناکوں پہ بحث کرتا، منت گزارش کرتا جائے وقوعہ پر پہنچا- میں نے دانستہ صحافی والا کارڈ استعمال نہ کیا۔ پتہ چلا کہ گلی میں کسی بات پہ تکرار اور جھگڑا ہوا تھا۔ بیٹھک میں بھولے کے چند دوست سادہ کپڑوں میں ملبوس بھی بیٹھے تھے جن سے میرا تعارف نہیں کروایا گیا تھا، اب پتہ چلا کہ اُن میں ایک صاحب اُس کے آئی ایس ایچ او بھی تھے۔ دو چار دن عجیب اُدھیڑ بُن میں گزرے، میں بھی منظرِ عام سے ہٹ سا گیا۔ مجھے اس دوران بھولے نے کسی انجان فون نمبر سے فون کر کے کہا کہ میں اس معاملے میں مکمل بے خبری کا اظہار کروں۔ رانا چاند کے اقارب میں سے کسی نے مجھ سے رابطہ نہ کیا کہ کسی کو میرے جائے وقوعہ پر جانے کا پتہ بھی نہ تھا۔ میرے خاموش رہنے کی وجہ فقط تفتیش میں شامل ہونے کا خوف تھا نہ کہ بھولے سے کسی طرح کی ہمدردی۔صوبائی وزیرِ داخلہ رانا حامد علی خاں نے معاملے کا “نوٹس لیا” تو اخباروں اور مقامی ٹیلی ویژن پہ خبر جاری ہوئی کہ : “خطرناک اشتہاری رانا چاند مقابلے میں مارا گیا”۔ تفصیلات کے مطابق خطرناک مجرم نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ڈیوٹی پر مامور اہل کاروں کو گلی میں دیکھتے ہی فائرنگ شروع کی اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا وغیرہ۔ دراصل بھولے نے پولیس کو رانا چاند کی یہاں موجودگی کا پہلے بتا رکھا تھا اور وہ چاند کو کسی پولیس مقابلے کے بغیر پکڑوانا چاہتا تھا لیکن پولیس کی گاڑی کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی چاند کو بھی اطلاع مل گئی تھی۔ وہ فون کال سُننے کے بہانے اُٹھ کے گلی میں آیا تو بھولے سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ بھی اُٹھ کر باہر نکل آیا جس سے چاند کے شک کو تقویت ملی۔ یہاں دونوں کی تکرار نے گالم گلوچ کا رُوپ دھارا تو تھانے دار صاحب باہر نکل آئے، چاند نے طیش میں آکر تھانے دار پر پستول تان لیا لیکن بھولے نے اسے پستول لوڈ کرنے کی مہلت نہ دی۔

 

بھولا نہ صرف ہفتے بھر میں ملازمت پر بحال ہو گیا بلکہ اگلی “گیلنٹری پروموشن” میں بھولا سب انسپکٹر بن گیا۔ پولیس کے افسران اور تھانے داروں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم وفاداری کا عفریت اتنا خوفناک ہے کہ اس کے خوف سے، وہ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اسی باریک ڈور سے پولیس کا مضبوط نطام بندھا ہے۔

 

کچھ عرصے بعد بھولا جب ہمارے تھانے کا آئی ایس ایچ او بنا تو لا محالہ طور پر علاقے میں چھوٹے جرائم کی شرح بھی بہت کم ہو گئی اور بڑے جرائم جو ہوئے وہ اسی لئے قابلِ ذکر ہیں کہ وہ پولیس کی نظر میں جرائم نہیں تھے اور ان میں بھولے کا کردار بھی پہلے سے ذیادہ ‘آب و تاب’ سے نمایاں ہے۔ میرے وطن پنجاب کی پولیس میں اگر کوئی تھانے دار اس امر کا دعویٰ کرے کہ وہ رشوت نہیں لیتا تو اُس کی صداقت یا ذہنی توازن، دونوں میں سے ایک یقینی طور پر مشکوک ہے لیکن اس حوالے سے بھولے کی ایک عادت اُس کو انسانوں کی اس پولیس میں فرشتہ بنا دیتی ہے کہ وہ ‘کرپشن کی اخلاقیات’ کا قائل تھا۔ جہاں صوبے بھر میں تھانے داروں کی عادت ہے کہ مقدمات میں دونوں پارٹیوں، یا فریقین سے رشوت لے کر بالآخر تفتیش کا اختتام “میرٹ” پر کرتے ہیں، وہاں بھولا ایسا نہیں کرتا تھا۔ بھولے نے جس کسی سے رشوت کی مد میں ایک وقت کا کھانا بھی کھایا، اُس کے ایک ایک لقمے سے وفادار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بھولے نے جب بھی رشوت لی، سوچ سمجھ کر لی اور بڑا ہی ہاتھ مارا۔

 

بھولا اگرچہ خود بلا کا میخوار تھا لیکن شراب نوشی کے الزام میں پکڑے جانے والوں کو چوراہے پہ لٹا کے ان کی چھترول کرتا تھا، اگرچہ اُس کی اپنی کمر سے ہمیشہ بغیر لائسنس کا پیٹرو بریٹا پستول لٹکا رہتا تھا لیکن اپنے تھانے کی حدود میں نا جائز اسلحے کی مخبری پر تلاشی کی آخری حدوں تک چلا جاتا تھا جس کی مثال مَیں آگے چل کر بیان کروں گا۔ اگرچہ بھولا خود سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر مقامی ہاسٹلوں پہ جب ریڈ کرتا تھا تو رات گئے اور نصف شب تک طالب علموں کو گلی میں صف بستہ کھڑا کئے رکھتا اور ذرا ذرا سی لغزشوں پہ تھپڑوں سے اُن کی یادگار تواضع کرتا لیکن اگر اسی تھانے کی حدود میں کسی پرائیویٹ یا سرکاری ٹیچر کے خلاف طالب علم کو تھپڑ مارنے کی شکائیت موصول ہوتی تو وہ جس ‘اہتمام’ سے اسے گرفتار کرکے تھانے تک لاتا، وہ ٹیچر دوبارہ کسی بچے پہ ہاتھ اُٹھانا تو درکنار، دوبارہ اپنے طلباء سے آنکھ ملا کر بات کرنے کے قابل نہ رہتا۔

 

شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین ‘آوارہ گردی’ کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔ الغرض بھولے کے ہوتے ہوئےپولیس کے افسرانِ بالا کو اس امر کا اطمینان تھا کہ خوف کا عنصر، جو قانون نافذ کرنے کے لئے بہت ضروری ہے، اُن کے ہاتھ میں تھا۔ بھولے کو افسروں کی اس خوشنودی کے عوض عوام کی نفرت کا نشانہ ہونے کی چنداں پروا نہ تھی کہ یہ کامیابی کی قیمت ہے جو ہر تھانے دار کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

 

جن دو واقعات کا ذکر میں کررہا تھا ان میں پہلے واقعے کا تو میں بڑی حد تک عینی شاہد ہوں (اور کسی حد تک دوسرے کا بھی)۔ بگا وٹُو تاندلیانوالہ کا ایک نامی گرامی ڈکیت تھا جس نے تھانہ باہلک کے عین سامنے ضلعے کے نامی گرامی انکاؤنٹر اسپیشلسٹ تھانیدار رانا اظہارالحق کی کھوپڑی میں گولی اُتاری تھی، اور چند روز بعد ایلیٹ کے کمانڈوز کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ ایلیٹ کے جوانوں نے مقابلے کے دوران اس کی کھوپڑی کو بڑی مہارت سے نشانے پر رکھا، ایک ہی گولی سے اس کا کام تمام ہو گیا اور قانون کی بالادستی کی ایک با رعب مثال قائم ہو گئی۔ یہ رُعب بگے وٹُو کے پسماندگان پر بھی لامحالہ طور پر طاری ہوا، اُس کی بیوہ اپنے کم سن بیٹے کو لے کر فیصل آباد شہر آکررہنے لگی جہاں اسے اسکول داخل کروا کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کروانے لگی تاکہ کم سن خالد اپنے باپ کی بدنامی کے اثرات سے دور ہو کر معاشرے کا ایک شریف فرد بنے۔ میری والدہ اکثر اس کی مالی امداد کیا کرتی تھیں جس وجہ سے وہ اکثر ہمارے گھر آئی رہتی تھی۔ اس کے سلائی کڑھائی کے کام کا یہاں چرچا تھا۔ خالد دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور مسلم ہائی اسکول میں پڑھتا تھا۔ بہت شرمیلا اور ڈرپوک لڑکا تھا – اب اس کے برعکس ہے۔ یہ تبدیلی خالد میں اس طرح آئی کہ ایک دفعہ بھولے گجر کو “مخبری” ہوئی کہ “بدنام اشتہاری بگے وٹُو کا بیٹا خالد عُرف خالدی وٹو مجرمانہ قماش کا نوجوان ہے اور اس کے پاس غیر قانونی ٹی ٹی پسٹل ہمراہ دیگر خنجر وغیرہ کے موجود ہے” مخبری کے درست اور سنجیدہ ہونے کے لئے بگے وٹُو کے نام کا عنوان ہی کافی تھا۔ فرض شناس بھولے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسی رات خالد کے گھر پر ‘ریڈ’ کردیا۔ سپاہیوں نے اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ کے پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق دروازے کے بجائے ذیلی راستوں اور دیواروں سے ‘انٹری’ کی اور آن کی آن میں “مشکوک افراد” پر قابو پا لیا۔ ان “مشکوک افراد” میں بگے کی بیوہ، خالد اور خالد کی شادی شدہ بہن جو کہ اُمید سے تھی اور آج ماں سے ملنے فیصل آباد آئی تھی۔ انہیں جب دبوچ کر پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا تو میں اُس وقت وہاں پہنچ چکا تھا کہ میرا گھر وہاں سے چند گز کے فاصلے پر بھی تو نہ ہوگا۔

 

“پستول تو تیرے بھائی کی — سے نکلا یا تیرے اس گیابھ سے، نکال کے ہی دکھاؤں گا!!”

 

خالد کی بہن نے پولیس کی گاڑی میں دھکیلے جاتے ہوئے بھولے سے چلا کر کچھ کہا تھا جس کا جواب بھولے نے اُس کی قمیص اُٹھاتے ہوئے دیا۔ لڑکی کے چلانے میں صرف گالی ہی سمجھ میں آسکی۔ وہ بھولے اور دیگر پولیس والوں کی ماں بہن کے حق میں جو قصیدے پڑھ رہی تھی، وہ پنجابی گالیوں کا “ادبِ معلیٰ” تھے اور وہ اس میں حق بجانب بھی تو تھی۔ خالد کی ماں اور بہن تو ایک رات ہی حوالات میں گزار کے واپس آگئیں البتہ خالد نے حوالات سے جیل تک کا سفر مکمل کیا۔ خالد جیسے “مجرم ذادے” لیکن لاوارث لڑکے سے پستول برآمد کروانا کون سا مشکل کام تھا کہ بہت وقت لیتا۔ گھر سے پستول برآمد نہ بھی ہوا تو کیا فکر، تھانے داروں کے پاس ہمہ وقت کچھ بے لائسنس اسلحہ ایسے وقت پر اپنی تھانے داری کی عزت رکھنے کیلئے رکھا ہوتا ہے۔ روزنامہ “امن و انصاف” کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ خالد کی ماں اور بہن سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا انٹرویو شائع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ چند روز بعد ایڈیٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور صحافتی زبان کے رمز و کنایہ میں بھولے کیلئے پیغام دیا کہ اگر وہ ایڈیٹر صاحب کی مُٹھی گرم کردے تو یہ خبر لاہور سے چھپنے سے روکی جا سکتی ہے۔ میں نے یہ دلالی کرنے سے معذرت کرلی لیکن کچھ دنوں بعد خود بھولے کی زبان سے یہ سُنا کہ ایڈیٹر موصوف سے “بات چیت” ہو گئی تھی۔ ہم دونوں کی دوستی میں جو دراڑ رانا چاند کے قتل کے بعد پڑی تھی وہ اب خلیج بن گئی۔ میں نے فرحانہ کیلئے اپنے دل میں موجود عزت و احترام اور پسندیدگی کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فقط بھولے سے ہی دوستی ختم کی، چودھری صاحب اور چودھرانی چچی سے نیازمندی کا تعلق قائم رہا۔ بھولے کی منگنی کی تقریب میں بھی میں اماں جان کے ہمراہ بصد اہتمام گیا۔

 

فرحانہ بلاشبہ ایک مثالی کردار کی لڑکی تھی؛ دلیر اور اعلیٰ ظرف ہی نہیں، تعلیم میں بھی بہت قابل تھی لیکن ایم فِل کے دوران ہی یونیورسٹی سے نکال لی گئی (یا نکال دی گئی )۔ پنجاب یونیورسٹی میں “یومِ حیاء” کے موقعے پر ایک مذہبی تنظیم کے ناظم صاحب نےجو خود بھی طالبِ علم تھے، فرحانہ کو ایک ہم جماعت لڑکے کے ساتھ دیکھ کر اُسے کچھ سخت الفاظ کہہ دیئے جس میں اس پر بے حیائی اور فحاشی کے الزام تھے، فرحانہ نے بگولے کی طرح بھڑک کر ناظم صاحب کے گریبان کو جالیا اور یکے بعد دیگرے دو تین تھپڑ بھی جڑ دیئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرحانہ کو ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ کے “مشورے” پر والدین نے یونیورسٹی سے نکال کر گھر بٹھا لیا۔ چودھری صاحب کو جب پتہ چلا کہ بیٹی کو عورتوں کے حقوق والی کسی این جی او نے ‘بگاڑا’ تھا، توبیٹی کو باغی قرار دے کر اُس کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی۔ بھولا اس واقعے پر بڑا آگ بگولا ہوا کہ بہن نے ناک کٹوا دی برادری میں لیکن سوائے اس کے، کہ اُس سے بول چال کم کردی، بہن سے کچھ نہ کہا۔ پہلے ہم دونوں فرحانہ کو ‘آپی’ کہہ کر پکارتے تھے، اب بھولا اسے اُس کے عرفی نام سے، “فَری” کہہ کر پکارنے لگا کہ اس کے خیال میں اب فرحانہ اُس محترم لقب کے قابل نہ تھی۔ کافی عرصے بعد جب پابندیاں نرم ہوئیں تو فرحانہ کو گھر کے ساتھ ہی ایک خالی مکان میں اپنا ایک بیوٹی پارلر کھولنے کی اجازت مل گئی۔ بیوٹی پارلر بنانے میں محلے کی لڑکیوں سے اس رابطے نہ صرف بحال ہوئے بلکہ اس کے باقی مشاغل بھی ازسرِ نَو زندہ ہو گئے کیونکہ اس کے بعد میں نے اُسے دو تین دفعہ “دی وومین فاؤنڈیشن” کے اجلاس میں دیکھا اور ایک رسالے میں اس کی تحریریں بھی پڑھیں۔ اس کے بعد اُس سے ایک دفعہ ہی مُلاقات ہوئی۔

 

ایک شام اُس کا ایس ایم ایس ملا؛ “شوکے! پارلر پہ آؤ، تُم سے کام ہے!” میں نے “آیا آپی جی” لکھ بھیجا اور تھوڑی دیر سے سہی لیکن پارلر پہ پہنچا تو وہ پارلر کے تالہ لگا کر جانے لگی تھی۔ میں نے بلوائے جانے کی وجہ پوچھی تو میرے ذمے دو کام لگائے، ایک تو یہ کہ پارلر پہ انگریزی اخبار لگوا دوں، دوسرا کیبل والے سے کنکشن لگانے کا کہوں۔ “جی بہتر آپی جی” میں نے نیازمندی سے کہا اور واپس آگیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اس سے ڈرتا بھی تھا۔ فرحانہ گھر پہنچی تو بھولا ٹریک سوٹ پہنے ہاکی تھامے کسی میچ میں جانے کو تیار تھا۔ چودھرانی چچی نے بعد میں اماں کو بتایا تھا کہ اُس شام وہ بڑے خراب مُوڈ میں تھا۔

 

“فَری!”

 

بھولے نے سخت ناگواری سے اُسے مخاطب کیا۔

 

“ہاں کیا ہے؟”

 

فرحانہ بھی اب اُس سے پہلے سا لگاؤ نہیں رکھتی تھی۔

 

“یہ پارلر بند کردے!”

 

“کیا مطلب؟”

 

“بس کہہ دیا ناں، بند کرو یہ تماشہ!”

 

“بھولے تُو دُنیا جہان کیلئے تھانے دار ہوگا، لیکن مجھ سے بڑا کب ہو گیا کہ اس طرح حُکم چلا رہا ہے مجھ پہ؟؟؟”
فرحانہ کے جواب میں بھی سخت ناگواری اور غصہ بھر آیا۔

 

“فَری! جو باتیں مَیں باہر اور تھانے میں سُن کر آتا ہوں، وہ یہاں نہیں کہنا چاہتا! بس مجھے یہ پسند نہیں! بند کردے پارلر اپنا! بس!”

 

بھولے نے غُصے پر قابو پاتے ہوئے کہا تو ہاکی پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی۔

 

“بھولے اپنی گندی سوچ تھانے میں رکھ کے آیا کر! اور اپنی گندی زبان بھی! بڑی بہن ہُوں تیری! اور اگر میرے پارلر پر تُجھے یاردوستوں کے سامنے شرمندگی ہوتی ہے ناں! تو سُن لے! تیرے تھانیدار ہونے پہ بھی مجھے فخر نہیں ہے! جیسا تُو تھانے دار ہے، مَیں جانتی ہُوں!”

 

فرحانہ بھی زبان کی بڑی تیز اور دلائل کی اٹل تھی!

 

“زبان کھینچ لُوں گا تیری!! مَیں مرد ہوں، معاشرے میں ناک میری کٹتی ہے، تیری نہیں! تیرے پارلر کو لوگ ‘چکلا’ کہتے ہیں، ‘چکلا’! سمجھیں؟؟؟”

 

بھولے کی زبان سے قحبہ خانے جیسا غلیظ لفظ گھر کی چاردیواری میں سُن کر کسی کو بھی یقین نہ آیا- ماں تو گُنگ رہ گئی، فرحانہ چِلا اُٹھی۔

 

“بھولے! میرا پارلر ‘چکلا’ ہے؟؟ چکلا تو تیرا تھانہ ہے جہاں قانون رنڈی بن کر ناچتا ہے اور تُم کالی وردیوں والے دلال اُس کی قیمتیں وصول کرکے جیبیں بھرتے ہو! جو جتنی قیمت چُکائے، اُتنا لطف اُٹھا لے!!!”

 

فرحانہ کا یہ چلانا ایک چیخ سے بدل گیا کیونکہ “بکواس بند کر گشتیئے!!!” کے ایک فلک شگاف حُکم کے ساتھ بھولے نے جو فرحانہ کے سر میں ہاکی کی ایک ضرب لگائی تو پھر فرحانہ کی چیخ مکان کے باہر تک گونجی۔ وہ بے جان پُتلی کی طرح فرش پہ گری اور خون میں لت پت ہوگئی۔ بھولا ہاکی پھینک کر گلی میں نکل آیا۔ چودھرانی چچی کی آہ و زاری سُن کر کام والی ماسی دوڑی چلی آئی، اُس نے فوراً مجھے فون کیا۔ “شوکے! ذرا جلدی سے آ! فرحانہ کو۔۔۔” اور پھر وہ رو پڑی۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے نکلا اور بھولے کی گلی میں پہنچا۔ بھولا وہاں نہیں تھا۔ گھر میں آیا تو فرحانہ کو خُون میں لت پت دیکھا۔ اپنی سی کوشش کی تو ریسکیو کی ایمبولینس کے آنے تک فرحانہ کے سر سے خون بہنا کم ہو گیا تھا البتہ ناک سے ایک سفید سیال مادہ رِس رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ فرحانہ کی موت اُسی سیال کے ضائع ہو جانے سے ہوئی تھی۔

 

فرحانہ کا قتل- جو کہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا- اگرچہ رانا چاند کے قتل سے برا سانحہ تھا لیکن یہ سانحہ بھی بھولے کی وردی نہ اُتروا سکا۔ تین ماہ کے اندر اندر بھولا دوبارہ ڈیوٹی پر تھا۔ فرحانہ کے قتل کا مقدمہ چودھری صاحب کی مدعیت میں درج ہوا تھا۔ بھولے نے اقبالِ جُرم میں کوئی دیر نہ لگائی لیکن عدالت کا فیصلہ ہونے سے قبل ورثاء کی طرف سے معافی ہو جانے پر بھولا نہ صرف قید سے رہا ہو گیا بلکہ ا س کی نوکری بھی بحال ہو گئی۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے غیرت کے نام پر اس اقدام پہ بھولے کی تعریف بھی کی کہ فرحانہ تو پنجاب یونیورسٹی سے ہی ایک “بُری عورت” کا استناد لے کر آئی تھی لیکن بھولا ایک عرصے تک اس واقعے پر شدید نادم رہا۔ شراب نوشی ترک کردی اور صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو گیا۔ اکثر بُرے کام چھوڑ دئیے لیکن تھانے آنے والوں کے ساتھ جو مُٹھی گرم والا سلسلہ تھا، وہ ختم کرنا اُس کے اختیار سے باہر تھا- اس ناسور کی جڑیں بھولے کی توبہ سے بھی گہری ہیں۔

 

جوں جوں بھولا اپنے احساسِ ندامت پہ قابو پاتا گیا، اُس کا دل مضبوط ہوتا چلا گیا اور ایک سال کے اندر اندر اس کے پہلو میں وہی سنگ و خشت کا دل تھا۔ پھر وہی معمولاتِ زندگی تھے لیکن ایک خاموش تبدیلی جو فرحانہ کے مرنے کے بعد گھر کی چاردیواری میں پل رہی تھی، وہ چودھرانی چچی کی حالت تھی۔ وہ بیٹی کی موت کے بعد بیٹھے کی کوٹھڑی کی متحمل نہ ہو سکتی تھیں اور اسی دیوانی مامتا سے لاچار ہو کر اُنہوں نے بھولے کو معافی دلوائی تھی لیکن ضمیر کی خلش اور فرحانہ کی جُدائی نے اُنہیں ایک سال کے اندر اندر ختم کردیا۔ ایک شام چودھرانی چچی نے نمازِ عشاء کے آخری سجدے میں سر رکھا تو کبھی نہ اُٹھایا۔ جتنی خاموشی سے فوت ہوئیں، اُتنی خاموشی سے دفن بھی ہوگئیں- میں اُن کی تدفین تک ساتھ رہا۔ بھولے کو چند روز زہد و ورع کا جو دورہ پڑا تو اس بار جلد ہی ٹھنڈا ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد بھولے کی دوبارہ منگنی ہوئی کیونکہ پہلی منگنی فرحانہ کی موت کے بعد ٹُوٹ گئی تھی۔ منگنی کے ایک ماہ بعد اُس کی شادی ہوئی تو مجھے تقریب میں جانا پڑا۔ میری بہن کو چودھری صاحب کے کہنے پر بھولے کی خالہ ذاد بہنوں کے ساتھ مل کر رسومات میں بہنوں کے فرائض ادا کرنے پڑے۔ فرحانہ کی کمی سب نے محسوس کی، حتیٰ کہ بھولا بھی رو دیا۔ شادی ہو چکی تو بھولے کی زندگی میں کافی حد تک خُوشی اور طمانیت شاملِ حال ہو گئی۔ دُلہن نے ایم ایس سی کررکھا تھا اور بہت حسیِن گُجر لڑکی تھی۔ اب بھولا ایک پختہ کار سب انسپکٹر تھا اور افسرانِ بالا کا منظورِ نظر بھی۔ رانا حامد علیخاں نے حکومت بدلتے ہی پارٹی بدل لی تھی اور اب وزارتِ قانون کے قلمدان کے ساتھ اسمبلی میں براجمان تھے لہٰذا بھولا بھی آئی ایس ایچ او کی ذمہ داریوں پر ہی رہا۔ نامی گرامی ڈکیت کاشی موچی کو جعلی مقابلے میں مارنے کیلئے آر پی او صاحب نے بھولے گجر کا انتخاب اس کی اسی پروفائل کو دیکھ کر کیا۔ بھولے نے بھی اس ذمہ داری کو خوب نبھایا۔ بھولے کا تھانے کی حدود پر حکمرانی کا انداز ویسا ہی رہا۔ اُس کے دفتر میں کسی بھی حیثیت کے سائل کو کُرسی نہیں پیش کی جاتی تھی تا آنکہ وہ سائل قانونی طور پر بھولے کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں ہو۔ پورے ضلعے سے اقبالِ جُرم نہ کرنے والے ڈھیِٹ سے ڈھیِٹ مجرم اُس کے پاس بھیجے جاتے جنہیں وہ کامی وڑائچ کے ڈیرے پر قائم “خصوصی سیل” میں لے جاتا اور ایک رات کے اندر اند سب کچھ اگلوا دیتا۔ اُسے صرف ایک دفعہ ناکامی ہوئی جب ایک نو عمر ملزم سے مطلوبہ مواد اگلوانے کی کوشش میں غیر مطلوبہ مواد اگلوا بیٹھا۔ اُس کے مُنہ اور پیشاب کے مقام نے اتنا خُون اُگلا کہ وہ ڈاکٹر کے آنے سے قبل ہی چل بسا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اس مُلک میں اندھیر نگری ہے اور کوئی پولیس والوں کو نہیں پوچھتا، سیکڑوں شکایات اور ہزاروں پیشیاں بھولے نے بھگتی ہوں گی لیکن کامیاب تھانیدار وہی ہے جو اس معاملے میں مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور بھولے جیسے مضبوط اعصاب کے مالک تھانے داروں کو سزا دے کر پولیس افسران کبھی اپنے محکمے کو کمزور نہیں کر سکتے۔

 

اس صبح طالبان کے کسی ماسٹر مائنڈ دہشت گرد کو فیصل آباد جیل میں پھانسی ہوئی تھی اور ایک خفیہ وائرلیس سگنل کے ذریعے شہر بھر کی پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔ بھولا بھی اپنے ناکے پر موجود تھا اور ایک ایک مشکوک اور غیر مشکوک گاڑی کو چیک کر رہا تھا۔ ایک اسکول وین میں بیٹھی کسی اُستانی نے سپاہی سے بحث شروع کی تو بھولے کو بحث میں مداخلت کرنا پڑی۔ اس نے تمام اُستانیوں کو وین سے اُتار لیا اور تلاشی کیلئے لیڈی کانسٹیبل کے انتطار میں انہیں فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا۔لیڈی کانسٹیبل کہیں موجود تھی ہی نہیں لیکن ‘اُستاد’ کو سبق دینا سب نہیں جانتے۔ بھولا باقی گاڑیوں کی تلاشی میں مصروف ہو گیا۔ اسی اثناء میں ایک مشکوک کار کو سپاہیوں نے جو رُکنے کا اشارہ کیاتو وہ رفتار بڑھا کر فُٹ پاتھ پہ چڑھ دوڑی جہاں اُستانیاں کھڑی تھیں۔ اُستانیاں چیخ کر منتشر ہوئی تھیں کہ بھولا لپک کر اس کار کے سامنے آگیا۔ دو سپاہیوں نے گاڑی پر فائر کھول دیا۔ کار سے جوابی فائرنگ ہوئی اور ایک بھگڈر مچ گئی۔ اگر چہ کار میں سوار تمام لوگ مارے جاچکے تھے یا زخمی تھے تاہم ڈرائیور سلامت تھا جو کار کو لے کر نکل بھاگا۔ اس کا تعاقب کیا جا تا لیکن سڑک کے درمیان بھولا اوندھے مُنہ پڑا تھا۔ اُستانیاں اپنی ایک ساتھی کے لہولہان جسم کے گرد اکٹھی تھیں۔ جب ایک اُستانی اور بھولے کی لاش ہسپتال سے واپس لائی گئیں تو کچھ یقین سے نہ کہا جاسکتا تھا کہ ان کی موت پولیس کی گولی سے ہوئی یا حملہ آوروں کی گولی سے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حملہ آوروں کا تعلق کسی کالعدم دہشتگرد تنظیم سے تھا جس کی وجہ سے وفاقی حکومت نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔

 

وزیرِ اعلیٰ اور آئی جی پنجاب نے فاتحہ خوانی اور دلاسے کیلئے بھولے کی بیوہ کو سرکاری خرچ پر لاہور بلوایا اور دونوں نے باری باری اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فوٹو بھی کھنچوائے۔ بھولے کی بیوہ کو شہداء فنڈ سے پیسے ملے اور کچھ پنشن بھی بن گئی۔ ایک دفعہ جب آئی جی صاحب نے پولیس شہداء کی بیواؤں میں سلائی مشینیں تقسیم کیں تو بھولے کی بیوہ کو بھی تقریب میں جانا پڑا، اگرچہ وہ دی گئی سلائی مشین بعد میں پولیس لائن میں ہی چھوڑ آئی۔ بے چاری کو ایم ایس سی پاس کروانے والے والدین نے سلائی کڑھائی کی تربیت جو نہیں دی تھی۔۔۔

 

اگرچہ چودھری صاحب جوان بیٹے کی شہادت کے بعد سے اب تک ذہنی طور پر اس قابل بھی نہیں رہے کہ اس داستان کو مکمل پڑھ لیں گے لیکن مجھے اُن سے معافی ضرور مانگنی چاہیئے کہ میرے بے لحاظ قلم نے اس تھانے دار سے بھی رعائیت نہ کی جسے خُدا نے شہادت کیلئے چُن رکھا تھا۔ بھولے کی زندگی میں اس کی غیرت کی داد دینے والے یا اُس کی پیٹھ پیچھے اُسے گالیاں دینے والے، سبھی لوگ اب بھولے کی موت کو “قدرت کا انصاف” قرار دے رہے ہیں۔ میرے لئے اس تحریر کا اختتام اسی لئے مشکل ہے کہ اگر اتنے لوگوں کی جان، مال اور عزت کے نقصان کے عوض خُدا ہی نے بھولے کو بھری جوانی میں سڑک پر مرنے کی سزا دی یا پھر اگر نظام کے ہاتھوں بھولے کے مسخ ہونے والے کردار کا داغ دھونے کیلئے خُدا ہی نے اسے شہادت کیلئے منتخب کیا، دونوں صورتوں میں مجھے اس ‘انصاف’ میں اپنے وطن کے نظامِ انصاف کا رنگ جھلکتا نظر آتا ہے کیونکہ بھولے کے غمزدہ اور نیم پاگل باپ، بے سہارا بیوہ اور اس کی شہادت کے دو ماہ بعد پیدا ہونے والی اس کی بیٹی کا مستقبل مجھے اس معاشرے میں بڑا پُر آشوب دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے لئے خُدا سے معافی کا طلبگار ہوں۔۔۔
Categories
فکشن

سرائے

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رہنما

 

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

 

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

 

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

 

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

 

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

 

میں حیران تھا۔

 

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

 

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

 

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

 

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

 

سرائے

 

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

 

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

 

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

 

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

 

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

 

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

 

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

 

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

 

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
Categories
فکشن

چیخوف کی گلی میں

ٹوٹے بان والی چارپائی پہ لیٹا اسلم نائی مسلسل چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ کسٹرڈ جیسے سبز روغن سے رنگی دیواریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جس کمرہ میں وہ لیٹا تھا وہ محض پرانا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی آرائش کیے ہوئے بھی عرصہ بیت چکا تھا۔ بڑے بوڑھوں کے بقول یہ اسی زمانے کی بات ہے جب گاؤں میں پہلی بار لوگوں نے سفید چینی کے بارے میں سنا تھا اور پھر اس کا کوٹہ منظور ہوا جو گاؤں کے سب سے معتبر اور سمجھدار سمجھے جانیوالے شخص کو ملا۔ اسی زمانے میں بی ڈی ممبر کے بیٹے کی شادی پرگاؤں میں بجلی کی تاریں بچھیں اور کھمبے لگائے گئے اور پہلی بار مکانوں کو رنگ کیا گیا۔ شروع شروع میں روغن کرانے والوں کے متعلق لطیفے بھی کسے گئے۔ جیسے لوگ اب مکانوں میں نہیں بلکہ متنجن چاولوں میں رہا کریں گے۔ پھر دیکھے ہی دیکھتے ابلے ہوئے چاولوں کی طرح بے رنگ مکانوں کے متنجن بنتے گئے۔

 

اسی کسٹرڈ نما رنگ کے کمرے میں لیٹے ہوئے آج وہ مسلسل ماضی کو یاد کیے جا رہا تھا۔ گلی کے کنارے پر واقع ہونے کے باعث لوگوں کی آوازوں کا شور اسے بار بار حال میں کھینچ لاتا۔ لیکن ہر مرتبہ وہ سر کو جھٹک کر خود کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہو جاتا۔ شور سے اس کے ذہن میں آندھی سی چلنے لگ جاتی مگر بستر میں دبکے ہونے کی بدولت اسے انجانے سے تحفظ کا احساس بھی تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ ان لوگوں سے اچھی تو یہ ٹوٹے روشندان والی دیواریں ہیں جنہوں نے لاکھ نظر انداز کئے جانے کے باوجود اسے پناہ دی ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج کی رسوائی کے بعد اگر یہ دیواریں بھی اپنی بے اعتنائی کا ہرجانہ طلب کرنے لگیں تو وہ کہاں پناہ ڈھونڈے گا۔ انہی سوچوں میں اسے گھر والوں کا خیال آیا جنہیں وہ کبھی اپنے قصے سنایا کرتا تھا کہ کیسے جب اس نے نوجوانی میں پہلی مرتبہ نے میلاد پر دیگ پکائی تو چاول یوں ختم ہو گئے کہ گویا کبھی پکے ہی نہ تھے۔ حالانکہ پہلے چاول پکوانے والے گھروں کو بھی لے جاتے اور ٹِپ کا بھی حصہ رکھا جاتا جہاں مولوی صاحب اور باہر سے آنے والے مہمان قیام کرتے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ آس پاس کے دیہات میں بھی اس کے ذائقے اور ہنر کے چرچے ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کے تمام نائیوں کا روزگار ٹھپ ہونے لگا سوائے موسیٰ نائی کے جس نے مندی کے ان دنوں میں بھی اپنی پہچان قائم کیے رکھی۔

 

اس پذیرائی کے باوجود اس نے کبھی نخرے نہیں کیے اور نہ کسی کو وقت دے کر عین موقع پہ اسے جواب دے دیا۔ تمام تر مصروفیت کے باوجود اس نے کبھی چودھری یا کمی میں تمیز نہیں کی۔ تعریف سن کر بھی اس نے ہمیشہ عاجزی کا اظہار کیا۔ وہ اپنی تعریف سن کر ہمیشہ یہی کہتا کہ یہ سب قدرت کا نظام ہے۔ نظامِ قدرت ہر کسی کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ ہمیشہ یہ سمجھنے میں سستی کر جاتے ہیں کہ شاید یہ وہ موقع نہیں جو ان کی قسمت بدل دے گا۔ اس روز اگر میں بھی یہ موقع گنوا دیتا یہ سمجھ کر کہ لنگر اچھا یا برا نہیں ہوتا اس کا کھایا جانا ہی کافی ہے تب کیا ہو جاتا۔ کیا لوگ گھر میں کھانا نہیں کھاتے؟ لوگ کھاتے، پکاتے اور بانٹتے رہتے۔ بھوک کا لگنا ایک فطری عمل ہے، میں نے لوگوں کی قدر کی، ان کی بھوک کی قدر کی اور انہوں نے اس کو میری ایمانداری جانا۔ بات تو فقط اتنی سی ہے۔

 

مگر جو آج اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے ماضی کا آئینہ کرچی کرچی کر دیا تھا۔ ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی مگر کیا یہ سزا کم نہیں تھی کہ کھانے کے وقت سب کو یہ کہہ دیا جاتا کہ اسلم اب بوڑھا ہو چکا ہے، اس کی نظر کمزور اور حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ باقی لوگ بھی تو یہی غلطی کر جاتے ہیں جیسے الیکشن کے دنوں میں میرو نے دو دیگیں خراب کر دیں لیکن اگلے دن پھر اسی کو بلا لیا گیا کہ پہلی غلطی تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر اس کی جگہ میرو یہ دیگیں خراب کر دیتا تو کیا تب بھی وہ اُس کو بلاتے۔

 

پریشانی کے عالم میں وہ گھر سے اٹھا اور گاؤں سے باہر ایک ڈیرے میں چلا گیا تاکہ ان لوگوں اور دیواروں سے آزاد ہو کر کچھ دیر مراقبہ کر لے۔ یہاں کے درخت اور در و دیوار اس کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ سے بے خبر اپنی اپنی دھن میں مست چاندنی میں نہا رہے تھے۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگا جب اس نے اپنے لئے دیگیں پکانے کا پیشہ اختیار کیا۔ پانچ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد وہ بیلدار بھرتی ہو جاتا لیکن وائے قسمت کہ وہ اس کام میں کود گیا۔ شروع شروع میں اسے اس کام میں مزہ آتا تھا جب دیگیں پکانے کے دوران وہ مالکوں سے مختلف چیزوں کی فرمائش کرتا۔ اس کی فرمائشوں میں سستے میسی سگریٹوں کی ڈبی اور چائے یا سوڈا ضرور شامل ہوتا۔ وقت گزاری کے لئے باتیں کرتا رہتا، اس کی باتیں بھی پکوائی کے گرد ہی گھومتی تھیں۔ کبھی بتاتا کہ لیموں چاولوں کو کھٹا کر دیتے ہیں اور کبھی کہتا کہ مسالہ جس قدر تیکھا ہوگا کھانا اس قدر کم کھایا جائے گا۔

 

مگر اس دوران آگ کے قریب کھڑے رہنے کے سبب اس کی ٹانگوں کا اوپر والا حصہ جلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں جلن شروع ہو گئی اور یہی سوچتے سوچتے جگراتے بڑھنے لگے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ آگ سے دور بھاگنے لگا۔ کھڑے کھڑے اسے محسوس ہوتا کہ اس کی ٹانگوں اور ناف کے نچلے حصے میں فشار خون بند ہو چکا ہے اور اندر موجود خون لاوے کی مانند پھٹ کر باہر نکلنے کو ہے۔ پھر اس کا دھیان کل شام کی طرف مڑ گیا جب اسے پیغام ملا کہ اشتیاق جٹ کے گھر میلاد ہے جس کا کھانا وہ پکائے گا۔ وہ انکار کرنے والا تھا کہ اچانک اسے بیوی کا خیال آیا جسے پچھلے چار سال سے یرقان تھا۔ اس نے دوائی لینے کے خیال سے ہاں کر دی اور اگلے دن دیگ پکانے پہنچ گیا۔ مگر قسمت کی بتی گل ہونے کا احساس اسے دیگ پک جانے کے بعد ہوا۔ وہ جسے اپنے ساتھ مدد کے لیے لایا تھا اس نے نمکین سمجھ کر بارہ کلو چاول تولے تھے جبکہ اسلم نے آٹھ کلو کے حساب سے پانی ڈال دیا اور بعد میں جب چاول پک کر تیار ہوئے تو وہ اتنے خشک تھے کہ ٹھنڈا ہونے پر جیبوں میں بھر کے بھی کھائے جا سکتے تھے۔ اس غلطی کے بعد اس کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔ اپنی معتدل طبعیت کے باعث وہ بغیر کوئی احتجاج کیے کڑچھے اٹھائے گھر روانہ ہو گیا۔ جب شام کو اشتیاق جٹ کا لڑکا پیسے لینے آیا تو اسے احساس ہوا کہ فطرت نے ماضی کا دیا ہوا لمحہ واپس لے لیا ہے۔

 

یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں کہ اچانک کسی نے نرمی سے اس کا کندھا دبایا۔ یہ جلیل تھا۔ اقبال موچی کا لڑکا جو کبھی ویگن ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ ایک دن طالبعلموں کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں اس نے گاڑی بھگائی تو گاڑی بے قابو ہو جانے کے باعث ایک طالبعلم کچلا گیا۔ کچھ عرصہ اس نے جیل میں بھی گزارا لیکن پھر رہا کر دیا گیا اور اس کے بعد ڈرائیوری سے تائب ہو کر فیکٹری میں کام کرنے لگا۔ ان دنوں وہ چھٹی پہ گھر آیا ہوا تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا اسلم سے ہی بال کٹواتا۔ آج جب اس نے اس بارے سنا تو پتہ کرنے چلا آیا۔ اسے گھر نہ پا کر وہ بھی یہیں ڈیرے پر آگیا کہ گھر سے باہر یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ آجایا کرتا تھا۔ جلیل نے اسے تسلی دی اور کچھ دیر بعد اپنے بارے میں اسے بتانے لگا کہ کس طرح وہ بھی ایک انجانے جرم کی سزا کاٹ چکا تھا۔ اس دن اگر وہ طالبعلموں کے ہاتھ لگ جاتا تو شاید ہڈیاں تڑوا بیٹھتا اور اسی ڈر سے اس نے گاڑی بھگائی۔ باتیں ختم ہو جانے اور کڑھنے کے بعد جب کچھ نہ بچا تو دونوں اٹھے اور گھروں کو روانہ ہو گئے۔

 

اسی رات اسلم نے فیصلہ کیا کہ جلیل کی طرح وہ بھی کچھ اور کرنے لگ جائے گا یا اس کا میٹرک پاس بیٹا بیلدار تو بن ہی سکتا ہے۔

 

دور کہیں فطرت اس بات پہ مسکرا رہی تھی کہ خود کو آزاد کہنے والا انسان کیا آزاد ہے؟
فطرت کا غلام۔ فطرت کے قانون کا غلام۔ لاچار انسان۔