Categories
فکشن

گُم شُدہ شہر کی کہانی (محمد جمیل اختر)

آدھی رات کو اُس نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی تو اُسے یوںمحسوس ہوا کہ وہ ساری عُمر دستک دیتا رہے گااوریہ دروازہ کبھی بھی نہیں کھُلے گا۔۔۔وہ جوان ہوگیا تھا لیکن اُس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا،اُس نے بہت چاہاکہ وہ بڑا ہوجائے لیکن ہر بارناکام رہا اب جب کہ وہ ایک پینتیس سال کا جوان آدمی تھاتو وہ کوشش کرتا کہ ہراُس صورت حال سے بچے کہ جس سے لوگوں کو اُس کے ’’پانچ سالہ دل‘‘ کے بارے معلوم ہوجائے۔۔

جب تک یہ آدمی دروازے پہ کھڑا ہے،اِتنی دیر میں ہم درج ذیل تین باتیں پڑھ لیتے ہیں
ٌ*افشین نے ایک عمارت کے چوتھے فلور سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔
**افشین کے باپ نے چارلاکھ کا انگلش بُل ڈاگ منگوالیا۔۔
***افشین نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر لکھا ’’میں اِن زہریلے مچھروں سے تنگ ہوں، شاید میں جلد مرجاؤں ‘‘

بھلا اِن باتوں کاآپس میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟بہت سی باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔۔

اس کہانی کو لکھنے کے لیے مجھے مکمل خاموشی چاہیے جو ایک کمرے کے مکان میں میسر نہیں سو مجھے بار بار گلی میں جاکر سگریٹ پھونک کر کرداروں کے بارے سوچنا پڑتا ہے سو آپ کو وقفوں وقفوں میں مختلف کرداروں کی کہانی پڑھناہوگی۔۔۔میری بیوی کا خیال ہے کہ کہانیاں لکھنے سے گھر نہیں چل سکتا، میرا بھی یہی خیال ہے لیکن میں اب کیا کرسکتاہوں۔۔۔وہ مجھے بتارہی ہے کہ میرے بھائی نے اپنا مکان لے لیا ہے۔

’’ ہم کب تک کرائے کے ایک کمرے میں رہیں گے؟‘‘میرے پاس اِس بات کا کوئی جواب نہیں۔۔۔

میں سگریٹ پینے گلی میں چلا جاتا ہوں۔۔۔واپسی پر میری بیوی کی آنکھ لگ چکی تھی۔۔۔آئیے ! ہم کہانی کی جانب لوٹتے ہیں۔۔

اب جب کہ وہ بڑا ہوچکاتھا لیکن دل بالکل بچوں جیسا ہونے کی وجہ سے راتوں کو روتا رہتا اُس کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ اخبار نہ پڑھے لیکن جب کبھی لوگ اُس کے سامنے کسی خبر پربحث کرتے تو وہ کوئی جواب نہ دیتاکہ شاید لوگ موضوع بدل لیں۔ قتل وغارت اوردھماکوں کی خبروں سے وہ بے انتہااُداس ہوجاتالیکن اُس شہر کے لوگ زندگی کی بجائے موت کے بارے زیادہ گفتگوکرتے،وہ جلدی جلدی اپنے گھرپہنچتا اور ساری رات کانوں میں ہیڈفون لگاکر گانے سُنتا رہتا اور کمبل میں منہ چھپا کرروتے روتے سو جاتا۔۔جوں جوں اُس کی عمر بڑھتی جارہی تھی،شہر بدلتا جارہا تھااور قتل وغارت کی خبریں بڑھ گئی تھیں، وہ دعا کرتا کہ ’’ یاخدا اِس شہر کو کوئی قانون عطافرما‘‘

وہ نوجوان ابھی تک دروازے پہ کھڑا کانپ رہا ہے لیکن دروازہ نہیں کُھل رہا۔۔کوئی تو دروازہ کھولے کہ بڑی مشکلوں کے بعد اُسے اپنا گھر ملا تھایہاں پہنچنے سے پہلے وہ شہر کی کئی گلیاں دوڑتا رہا تھا، دراصل اُس کے پیچھے کتے پڑ گئے تھے، ایک گلی کے سِرے پر چند لڑکے کتوں کی لڑائی کرانے کا سوچ رہے تھے، رات کافی بیت چکی تھی اور اُس نے دیکھا کہ تمام کتے نیند میں اونگھ رہے ہیں،لڑکوں نے کتوں کو چابک رسید کیے تو کتوں نے بھونک بھونک کر سارا شہر جگادیا۔۔۔

وہیں ایک بچی رو رہی تھی۔۔۔

’’یہ رو کیوں رہی ہے ؟‘‘ اُس نوجوان نے سوچا،شاید وہ بھی کتوں سے ڈر گئی ہے۔وہ اُسے حوصلہ دے کر چپ کرانا چاہتا تھا لیکن اُس کا اپنا ڈر کے مارے برا حال تھا سواُس کی آواز اندر ہی دب گئی۔۔وہ ننھی لڑکی دوڑ کے آگے بڑھ جاتی ہے لیکن یہ کیا وہ پھر واپس آرہی ہے شاید آگے گلی بند تھی یا پھر آگے بھی کتے تھے،اُسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے شہر کو کتوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔۔حالانکہ افشین نے اُسے درج ذیل تین باتیں بتائی تھیں۔۔

*اِس شہر میں ایسے مچھر ہیں جن کے سر آدمیوں کی طرح ہیں اورروز بَہ روز اِن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔۔۔
**میرے باپ نے میری ماں کو طلاق دے دی ہے،وہ باہر سے کتے امپورٹ کرتا تھالیکن میر ی ماں کو اعتراض تھاسو اُس نے طلاق دے دی۔۔۔۔
***اب میں جہاں رہتی ہوں وہاں ہر طرف مچھر ہی مچھر ہیں، مجھے اُمید ہے تم مجھے اِس شہر سے ضرور دور لے جاؤ گے۔
۔
اُس ننھی لڑکی کی آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو کتوں اور لڑکوں کے سوا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔۔

وہ آدمی کہ جس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، ڈر گیا اُس نے سوچا ’’اِن کتوں کو کوئی روکتا کیوں نہیں ؟‘‘

لیکن اِس شہر میں اب کوئی کسی کونہیں روک سکتا تھا۔۔

یہ بالکل نیا شہر تھا، پرانا شہر آہستہ آہستہ معدوم ہوتے ہوتے آج مکمل طور پہ گُم ہوگیا تھا۔

وہ وہاں سے بھاگا کہ اُسے پرانا شہر ڈھونڈنا تھا۔۔۔

’’کیایونہی بھاگتا جاؤں، بھاگتا جاؤں تو مجھے گُم ہوا شہر مل جائے گا؟‘‘اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا

’’نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔گُم ہوئے شہر کبھی نہیں ملتے ‘‘اندر سے جواب ملا تھا۔۔۔

وہ اِس نئے شہر سے بھاگ جانا چاہتا تھا،چند روز پہلے افشین نے اُسے بتایا تھا کہ
* وہ تو اِس شہر سے دور جانے والی ہے بہت دوربلکہ خواب میں اُس نے ایک گاڑی بھی پکڑ لی تھی جس پہ وہ بغیر ٹکٹ سوار ہوگئی تھی اور اُس نے کئی ہزارکلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے یہ شہر پارکرلیا تھا، خوا ب میں انسان بہت تیز سفر کرتا ہے،صدیوں بھرا دن لمحوں میں کٹ سکتا ہے۔

’’ہوسکتا ہے یہ زندگی عرصہِ خواب ہو؟‘‘ اُس نے افشین سے پوچھا تھا۔

’’نہیں بالکل نہیں، یہاں ایک ایک لمحہ صدیاں بن گیا ہے یہ خواب نہیں ہوسکتا‘‘افشین نے کہا تھا۔۔

’’اِس سے پہلے کہ دالیں سبزیوں کے بھاؤ، سبزیاں گوشت کی قیمت پر بکیں اور گوشت ہماری قوتِ خرید سے باہر ہوجائے ہمیں اُس سے پہلے اِس شہر سے بھاگ کر شادی کرلینی چاہیے ‘‘افشین نے کہا تھا۔

’’لیکن میری تو شادی ہوچکی ہے میرا ایک بچہ بھی ہے پھر بھی تم مجھے سے شادی کرنا چاہتی ہو تو سنو،ہم ضرور شادی کرلیں گے، بس کچھ رقم میرے ہاتھ آجائے،میں روپے جمع کررہا ہوں،مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘‘

’’وقت ہی تو نہیں ہے ‘‘افشین نے کہا تھا اور اُس کے پاس واقعی وقت نہیں تھا،اُس نے آج ایک بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔۔۔اُس شہر میں اب ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس سے یہ ثابت کیا جاسکتاکہ اُس نے بلڈنگ سے چھلانگ لگائی تھی یا اُسے مچھروں نے نیچے پھینکا تھا۔۔

وہ ڈرا ہوا لڑکا بھاگتا بھاگتا ایک گلی میں داخل ہوا جو اُس کی اپنی گلی ہی کی طرح تھی لیکن اُس کا گھر کہیں موجودنہیں تھا۔۔۔صبح تک تو اُس کا گھر اِسی گلی میں موجودتھا، معلوم نہیں اب اُس کا گھر کہاں ہے۔۔ابھی وہ یہ سو چ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکا ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے اُس کے سامنے آگیا، لڑکے اور کتے کی آنکھوں میں وحشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔

’’دیکھو مجھ سے لڑنا مت،مجھے لڑنا نہیں آتا ‘‘اُس نے گھبرا کر کتے والے نوجوان سے التجا کی ۔

لڑکے نے اُس کا گریبان پکڑ لیا اور ایک زور دار تھپڑ اُسے رسید کیا۔۔

’’دیکھومجھے چھوڑ دو میں ڈر اہوا انسان ہوں، میرے ماں باپ بھی ڈرے ہوئے تھے انہوں نے مجھے سکھایا تھا کہ کسی سے مت لڑنا ‘‘۔

لڑکے نے اُسے دھکا دے کر نیچے گرا دیا’’سالے اتنے بڑے ہوگئے ہو ڈرتے ہو، یہ لو کتا اور شہر کی گلی گلی میں گھومو‘‘۔

’’کتا۔۔۔نہیں مجھے کتوں سے خوف آتا ہے ‘‘

’’خوف ؟ اب بھلا کس بات کا خوف؟ اب تو شہر میں انسانوں سے زیادہ کتے ہیں۔۔۔‘‘

وہ وہاں سے بھاگا توکتے والے لڑکے نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ’’نئے شہر میں رہنے کے لیے ہمارے جیسے ہوجاؤ، ورنہ تمہیں شہر چھوڑنا پڑے گا‘‘۔

وہ بھاگتا رہا، بھاگتا رہا حتٰی کہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔لیکن اب دروازہ نہیں کُھل رہاتھا۔۔

’’آپ رات کے اِس وقت باہر کیوں گئے تھے ؟‘‘ میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں دراصل میری بیوی کی آنکھ پھرکُھل گئی ہے۔

’’سگریٹ پینے گیا تھا‘‘ میں نے اُسے بتایا۔

’’چارپیسے جو کماتے ہو، وہ بھی دھوئیں میں اُڑا دیتے ہو۔۔۔اِس بچے کو دیکھو،کل کو اِس نے سکول جانا ہے کچھ بننا ہے کیا تم نے اِس بارے کچھ سوچا ہے؟ـ‘‘میرے پاس اِن میں سے کسی سوال کا جواب نہیں۔۔

رکیے! میں سگریٹ پی کر آتا ہوں۔

’’اب پھر باہر جارہے ہو۔۔۔؟تم کبھی بھی ہمارے بارے نہیں سوچتے ‘‘۔

میں اپنے ایک کمرے کے مکان سے باہر آجاتا ہوں، باہر بے انتہاسردی ہے لیکن میرے اندر آگ جل رہی ہے، سگریٹ سلگاکر میں نے سامنے دیکھا تو ایک آدمی تھر تھر کانپ رہا تھا۔

’’کیا ہوا؟خیریت تو ہے ؟‘‘میں نے پوچھا۔

آدمی نے سراُٹھایا۔۔۔

’’تم؟؟؟؟؟ ‘‘

’’تم یہاں کیا کررہے ہو، تم تو کہانی میں تھے ‘‘میں نے اُس سے پوچھا۔

اُس آدمی نے میرا گریبان پکڑلیا۔

’’سالے، مجھے یہاں اکیلا کھڑا کرکے تم نے اچھا نہیں کیا،شہر میں ہرطرف کتے ہی کتے دندنا رہے ہیں اور یہ چوٹیں دیکھو جو بھاگ بھاگ کر لگی ہیں، اب یہ دروازہ کھلواؤ ورنہ میں خوف سے مرجاؤں گا‘‘وہ رونے لگ گیا۔

’’لیکن تم تو کہانی میں تھے تم یہاں کیسے پہنچے ہو؟‘‘

’’دروازہ کھلواؤ، میں مرجاؤں گا،یہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا‘‘وہ چلایا۔

’’جب اِتنا حوصلہ نہیں تھا تو محبت کیوں کی تھی ؟‘‘میں چلایا۔

’’میں نے تو اُسے بتایا بھی تھا کہ میرا دل ایک پانچ سال کے بچے جتنا ہے،میں اِن کتوں اور مچھروں سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا،
خدا کے لیے دروازہ کھلواؤمیرا دل خوف سے پھٹ جائے گا‘‘

’’اندر آجائیے باہر بہت سردی ہے ‘‘میری بیوی نے کھڑکی سے کہا تھا۔

Categories
فکشن

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔

نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔

اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔

آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔

اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔

میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔

’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا
’’نہیں۔۔۔
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔

میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔

چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔

سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔

سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔

میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔

میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔

پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔

سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔
Image: Marylise Vigneau

Categories
فکشن

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

قسمت

پہلی سیڑھی پرڈرکم تھا، درمیان میں خوف کچھ اوربڑھ گیااورآخری سیڑھی پراُس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔
’’آخری سیڑھی کے آگے لہراتے پردے کے پیچھے کیا ہوگا، کیوں نا یہیں سے واپس لوٹ جاؤں؟
اب آگیا ہوں تو واپس کیا جاناکچھ نا کچھ تو لے کرہی جاؤں گا‘‘۔اُس نے سوچا
وہ بھوکاتھا اور اُس نے کئی گلیاں چھان ماری تھیں صرف اِسی گھر کا بیرونی دروازہ کُھلا تھاسو اُس نے سوچاکہ اِس سے اچھا موقع چوری کا بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔
اُس نے ہمت کرکے آخری سیڑھی کے آگے لٹکتاپردہ سرکایا لیکن کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔
’’ کون؟‘‘ اُس نے آہستہ سے کہا
’’ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سرگوشی ہوئی
’’میں مُسافرہوں ‘‘
’’ بکواس، چور ہو تم‘‘ دوسرے شخص نے کہا
’’ ہاں، مگر، نہیں ، وہ پہلی بار، وہ بھوک۔۔۔۔‘‘ اُس کے الفاظ گُم ہوگئے
’’ہاں، ہاں، مجھے سب پتا ہے ، چلو اِدھرسے کہیں اور قسمت آزمائیں، کوئی سالا ہم سے پہلے ہی ہاتھ دِکھا گیا ہے ‘‘۔۔۔

محاذ پر

’’ پہلے کسی محاذ پرگئے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’تویہ پہلی دفعہ ہے ؟‘‘
’’جی سر‘‘
’’ ڈر رہے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’جھوٹ بولتے ہو؟‘‘
’’نہیں سر، تھوڑا ساڈرہے ‘‘
’’کوئی یاد آتاہے ‘‘
’’جی سر‘‘
’’کون؟‘‘
’’اپنے بچے سر‘‘
’’فائر کھول دو جوان‘‘
’’آگے بچے ہیں سر‘‘
’’خیرہے ، دُشمن کے ہیں ۔۔۔‘‘

پتھرکی سِل

بیٹی کی پیدائش پر اُسے آدھی رات کو گھر سے نکال دیاگیاتھا۔
پیچھے والادروازہ مرنے کے بعدکُھلنا تھااورآگے کا دروازہ بیٹے کے بغیرنہیں کُھل سکتاتھا۔۔۔صبح اُس کے شوہر نے دروازہ کھولاتو باہرایک پتھرکی سِل پڑی تھی جس کے اوپر پتھرکی آنکھیں اورہونٹ بنے ہوئے تھے ۔
شوہر نے کہا ’’ اندرآجاؤ، سردی سے برف ہوجاؤ گی ‘‘
پتھرکی سِل نے کوئی جواب نہ دیا۔
شوہر نے پتھرکی سِل کو اٹھایااور روتے ہوئے کہا
’’ آہ ! میری بیوی کو ٹھنڈ لگ گئی ہے ‘‘ اور اُس نے اُسے اٹھا کرباقی سِلوں کے نیچے رکھ دیا۔۔۔

اُلٹ

’’جج صاحب ! یہ فیصلہ اُلٹ ہے ، آپ نے دائیں سمت کو بائیں اور بائیں کو دائیں لکھ کر تمام فیصلہ تبدیل کردیا ہے اور میں مجرم ثابت ہوگیا ہوں ‘‘ کٹہرے میں کھڑے ملزم نے کہا
’’ فیصلہ درست ہے ‘‘ جج نے کہا
’’ جناب سمتیں غلط ہیں ‘‘
’’ فیصلے میں ہرسمت درست ہے ‘‘
’’ لیکن جناب واردات دوسری سمت سے بڑے صاحب نے کی تھی اور ان کو آپ نے بری کردیا ہے ‘‘
’’ وہ صاحب بے گناہ تھے ‘‘
’’یہ فیصلہ الٹ ہے جج صاحب میرا یقین کریں ‘‘
’’فیصلہ ابھی مکمل نہیں ہوا، قید بامشقت کے ساتھ عدالت یہ حکم بھی سُناتی ہے کہ تمہیں جیل میں روز اُلٹالٹکایا جائے تاکہ تمہیں سیدھا دکھائی دینے لگے ‘‘

گھڑی اور وقت

اُس شخص کا خیال تھا کہ وقت بدلے گااور اُسے اِس بدلاؤ کا اِس شدت سے انتظار تھاکہ وہ گھڑی کے اندر ہی رہنے لگ گیاتھا۔
وہ صبح اٹھتا، وقت دیکھتا، گھڑی کی سوئیاں روز بدل جاتی تھیں لیکن وقت وہیں کا وہیں تھا۔
ساری رات وہ بدلے ہوئے وقت کے خواب دیکھتارہتاتھا۔ گھڑیاں دنوں اور سالوں میں ڈھل گئیں اُس کے بال سفیدہوگئے وہ تھک گیااوراُس نے سوچاا ب وقت کبھی نہیں بدلے گاسو مجھے گھڑی سے باہر نکلنا چاہیے اور وہ چھڑی کے سہارے گھڑی سے باہر نکلاتو اُس کی بدلے ہوئے وقت سے ملاقات ہوئی۔

شیش محل

اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔
صبح کو وہ مرمت کرتاتورات کوکوئی پتھر اُٹھائے آجاتا، حتٰی کہ بعض دفعہ سوتے ہوئے بھی شیشے کے گھر پر حملہ ہوا تھا۔
اُس نے باہر ایک بورڈ لگوا یا۔
’’ براہِ مہربانی یہاں پتھرمت ماریں ‘‘
لوگوں نے بورڈپر لکھی تحریرکو یکسرنظرانداز کردیا۔
ایک روز تنگ آکراُس نے شیش محل کے باہر پتھر کی دیواریں چڑھادیں ۔

چھڑی

’’ مُسکراؤ‘‘
’’ جناب ! آپ کے ہاتھ میں چھڑی ہے ‘‘
’’تمہیں ضروں خوش رہناہوگا‘‘
’’ جی مجھے چھڑی سے ڈر لگتاہے ‘‘
’’میں کہتاہوں ہنسو‘‘
’’یہ دیکھیں میں چھڑی سے زخمی ہوگیاہوں ‘‘
’’ہنسو ورنہ میں مارڈالوں گا‘‘
’’جی اچھا ہنستاہوں ‘‘
ایک قہقہہ کہ جس میں آنسو اوردکھ شامل تھا۔
’’ آہا ! یعنی اب تم خوش ہو‘‘
’’جی ہاں، لیکن میں زخمی ہوگیا ہوں ‘‘
’’ہنسو اور ہنستے رہو‘‘
’’ جناب میں اِس سے زیادہ نہیں ہنس سکتا، تکلیف ہوتی ہے ‘‘
’’کمبخت نوکر تم کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتے ‘‘
Image: Marc Chagall

Categories
فکشن

جنگل اور دوسری کہانیاں

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
جنگل
” یہ پتھر اُٹھا لوں؟‘‘ بچے نے بوڑھے سے پوچھا
’’ نہیں ، پتھروں کا کیا کروگے؟‘‘
’’ اِن سے کھیلوں گا، راستے میں کسی نے حملہ کیا تو میں پتھروں سے مُقابلہ کروں گا‘‘
’’ راستے طویل ہوں توہرچیز ساتھ لے کر نہیں جاتے ‘‘بوڑھے نے جواب دیا
’’ یہ پتھر خوبصورت ہیں، چاند کی طرح ۔۔‘‘
’’یہ ہم چاند کے ساتھ چلتے ہیں یا چاند ہمارے ساتھ؟‘‘ بچے نے دوڑتے ہوئے پوچھا
’’ سب اپنے اپنے مدار میں چلتے ہیں، اب کوئی کسی کے ساتھ نہیں چلتا‘‘
’’ یہ جنگل کب آئے گا؟‘‘ بچے نے پوچھا
’’ بس ہم جنگل میں پہنچ چکے ہیں ‘‘
’’یہاں اندھیرا کتنا زیادہ ہے، مجھے لگتا ہے وہ لوگ بندوقیں لے کر آئیں گے اور ہم پر حملہ کردیں گے، جیسا ہمارے گاوں پر کیا تھا، کتنے بُرے ہیں وہ لوگ ۔۔۔مجھے اُن سے ڈر لگتاہے اگر ہم پتھروں کے پیچھے نہ چھپتے تو وہ ہمیں بھی مارڈالتے۔‘‘
کیا جنگل میں بھی وہ آسکتے ہیں ؟‘‘
’’ نہیں اب ہم محفوظ ہیں‘‘
بوڑھے نے لمبی سانس کھینچ کر کہا
خواب
جھونپڑی کے اندر کا خواب
” بارش آئی تو کیا پانی اندر آئے گا؟ بچے نے جھونپڑی کے کپڑے کو ہاتھ لگا کر باپ سے پوچھا
” نہیں آئے گا” باپ نے جواب دیا
” اگر بہت بارش ہوئی تب آئے گا؟”
” نہیں آئے گا کیونکہ میں نے چوہدری صاحب کے الیکشن والا بینر چھت پر لگا دیا ہے اب پانی اندر نہیں آئے گا ”
بچہ خواب میں گم ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھونپڑی کے باہر کا خواب
” چوہدری صاحب مبارک ہو آپ الیکشن جیت گئے وہ اب کچی بستی کا کیا کرنا ہے؟ ” چوہدری صاحب کے پی اے نے کہا
” وہاں تو اب پلازہ بنانا ہے”
دیوار
” کیا شہر کے چاروں طرف سے دیوار بنانی ہے ؟ ”
” جی ہاں چاروں طرف سے ”
” کوئی دروازہ؟ ”
” نہیں کوئی نہیں ”
” کوئی کھڑکی ؟ ”
” بالکل نہیں ”
” مگر پھر؟ ”
” کسی اور کو بلاو یہ دیوار نہیں بناسکتا ”
” نہیں ، نہیں ، میں نے ایسا کب کہا؟ ”
” ابھی ”
” میں نے تو کہا کہ لوگ باہر کیسے نکلیں گے؟”
” اس کی فکر نہ کرو ، انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ اندر ہیں کہ باہر “
اندھیرا
” یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ”
” کنویں سے ”
” کون ہے؟ ”
” میں ہوں ”
” میں کون؟ ”
” میں ایک اندھا ہوں ”
” کنویں میں کیا کر رہے ہو؟ ”
” پاؤں پھسل گیا تھا ”
” باہر آو ”
” نہیں، یہاں باہر کی نسبت کم اندھیرا ہے”
Categories
نان فکشن

وہ آنکھیں

تقریباً روز ہی صبح آفس جاتے ہوئے جب میں سٹاپ پراپنی گاڑی کا انتظار کررہا ہوتا ہوں تو پولیس والے قیدیوں سے بھری گاڑیاں لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ آج کل پولیس کو قیدیوں کو لے جانے کے لیے جو نئی گاڑیاں ملی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے مرغیوں کا ڈربہ یاد آ جاتا ہے

 

آپ نے چھوٹے چھوٹے مرغیوں کے ڈربے تو دیکھ رکھے ہوں گے جن کے اوپر ایک چھوٹا سا روشندان بھی بنایا جاتا ہے جو روشنی کا کام دیتا ہے۔ اور مرغیاں زیادہ تر اسی روشندان کے پاس ہی کھڑی ہوتی ہیں۔

 

ذیادہ تر قیدیوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسی روشندان کے پاس ہی کھڑے ہوں شاید ہر شے آزادی کی خواہش مند ہے چاہے انسان ہو کہ جانور۔

 

میں نے کبھی یہ کھڑکی کہ جس کے اوپر لوہے کی سلاخیں لگی ہوتی ہیں، خالی نہیں دیکھی۔ کوئی نہ کوئی آنکھ باہر ضرور جھانک رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ روشندان تقریباً پانچ فٹ اونچائی پر ہے لیکن پھر بھی شاید قیدی اس ڈربے میں بیٹھتے نہیں اور سلاخوں پر آکر چمٹ جاتے ہیں۔

 

یہ گاڑیاں قیدیوں کو صبح جیل سے کچہری لے کر جارہی ہوتی ہیں۔ مجھے اصل میں قیدیوں کی آنکھوں سے ڈر لگتا ہے مجھے انکی آنکھیں دیکھی نہیں جاتیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے محکمے کی گاڑی پہلے آجائے اور میں یہاں سے چلاجاوں آپ کہیں گے آنکھوں سے بھلا کون ڈرتا ہے۔ ہاں بات سچ ہے لیکن آنکھوں آنکھوں میں فرق ہوتا ہے شاید۔ ہر آنکھ ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی ہے۔اب ایسی درد بھری، داستان گو آنکھوں سے وحشت نہ ہو تو کیا ہو۔

 

بعض آنکھیں ایسی وحشت ذدہ سی ہوتی ہیں کہ ایک بار آپ کی نظر پڑ جائے تو آپ کانپ جائیں ایسے قیدیوں کو شاید بڑی سزا ہونے والی ہوتی ہے اور وہ آپ کو یوں دیکھیں گے کہ گویا آپ ہی وہ جج ہیں جس نے ان کی سزا لکھی ہے سو جیسے ہی میری آنکھیں ان آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو وہ آنکھیں چیخ چیخ کر سوال کرنے لگتی ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ سزا، میرا قصور کیا تھا، سارے ثبوت اور گواہ میرے حق میں تھے پھر بھی فیصلہ میرے خلاف کیسے آ گیا۔ میں سوچتا ہوں شاید دوسری پارٹی بہت مضبوط ہوگی یا جج نے پیسے لے لیئے ہونگے۔ ایسے سوالوں کے جواب میں میرا دل کرتا ہے پولیس بس کے ساتھ ساتھ بھاگتا جاوں اور عین کھڑکی کے نیچے پہنچ کر کہوں کہ فیصلہ میں نے نہیں سنایا تم نے جو کہنا ہے جج کو کہو لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا۔اور نظر چرا کر سڑک کے دوسری طرف دیکھنے لگ جاتا ہوں۔

 

کچھ قیدی ایک ہی نظر میں سارا باہر کا منظر اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں پلک جھپکانا بھی بھول جاتے ہیں ایسے قیدیوں کو شاید لگتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہونگے اور اس قید میں ہی باقی زندگی گزرے گی سو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی جتنے منظر دیکھ لو بہت ہیں، ایسی آنکھیں کوئی سوال نہیں پوچھ رہی ہوتیں، شاید پہلے والی آنکھیں جب سوال پوچھ پوچھ کر تھک جاتی ہیں تو وہ ایسی ہو جاتی ہوں، لالچی آنکھیں سارے منظروں کو اپنے اندر سمو لینی کی خواہش میں ڈوبی آنکھیں۔

 

لیکن کچھ آنکھیں بے حد اداس ہوتی ہیں ایک نظر باہر کا منظر دیکھا اور پھر آہ سر دکھینچ کر آنکھیں نیچے جھکا لیں ایسے قیدی شایدعادی مجرم نہیں ہوتے۔ یونہی کبھی کبھار جذبات میں یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ پکڑے بھی جاتے ہیں پھر ضمیر انہیں ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ ایک پچھتاوے کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں۔

 

صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب بھی وہ سامنے سے گزرتی ہیں تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر اٹھا کے دیکھ لیتا ہوں۔

 

اور آج بھی میں یہی سوچ رہا ہوں کہ میرا سامنا نہ ہو لیکن محکمے کی گاڑی آج لیٹ ہے سو انتظار کرنا پڑے گا۔ اور وہ دیکھیں پھر پولیس کی گاڑیاں آ رہی ہیں آج تو میں نہیں دیکھوں گا،پہلی گاڑی گزر گئی میں دوسری جانب دیکھنے لگا، ایسا بھی کیا ڈر مجھے دیکھ لینا چاہیئے میں نے سوچا اور جب دوسری بس نزدیک آئی تو میری نظر فورا کھڑکی کی طرف اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔

 

میری آنکھیں کھڑکی پر کیا کررہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
Categories
فکشن

کس جرم کی پائی ہے سزا

پہلاقیدی: “ہاں تنہائی زہرہے، ایک قاتل ہے وہ قاتل کہ جسے مقتول کی کوئی پرواہ نہیں، لیکن لوگ کب سمجھتے ہیں پہلے میں بھی نہیں سمجھتا تھاکہ پہلے اس کی میری ایسی ملاقات نہیں رہی تھی، وہ جوانی کہ جسے میں اب ایک خواب سمجھتا ہوں اور وہ دن کہ جواتنی تیزی سے گزرے کہ میں کچھ یاد بھی کروں تو بھی ذرا بھی حقیت کا گماں نہیں ہوتا، شاید تم بور ہوگئے ہو اتنی لمبی تمہید سن کر، لیکن میں مجبور ہوں۔۔۔تنہائی نے مجھے فلسفی بنا دیاہے۔
تمہیں اب اس بیرک میں میرے ساتھ رہنا ہے تو میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے بارے معلوم ہونا چاہیئے۔۔۔
کیا تم میری کہانی سنو گے؟؟؟”
پہلے قیدی نے سوالیہ نظروں سے دوسرے قیدی کو دیکھا جو کہ آج ہی اس بیرک میں آیا تھا۔
نئے قیدی نے پرانے قیدی کو پاگل سمجھا اور ایک نظراسے دیکھ کرزمین کو گھورنے لگ گیا۔
پہلا قیدی پھر گویا ہوا۔
“اچھا، یعنی تم میری کہانی سننا چاہتے ہو”
تو میرے دوست کہانی سات سال پرانی ہے”
“ جی ہاں اس جیل میں آئے مجھے ساتواں سال ہے۔ سات سال اس کمرے میں رہتے رہتے میں نے ہر بات جو سوچی جا سکتی تھی سوچ ڈالی ہے اور اب تو یوں ہے کہ میرے پاس سوچنے کو بھی کچھ نہیں ہے۔ ایک قیدی آخر کتنا سوچے؟ ہاں، ہاں تم ضرور کہو گے کہ سوچ کی بھلا حد تھوڑی ہے جتنا مرضی سوچو، جو مرضی سوچو۔۔ لیکن یقین جانو، انسان پر یہ وقت بھی آتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں سوچ سکتا یا یوں کہیں کہ وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا۔
اوہ میں شاید پھر کہانی سے ہٹ رہاہوں۔
میں مجرم نہیں ہوں۔
ہاں یقین تو نہیں آئے گا کہ مجرم نہیں ہوں آپ کہیں گے کہ مجرم نہیں ہوں تو یہاں جیل میں کیا کر رہا ہوں، لیکن میرا یقین کرو میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ میں اپنی صفائی میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں آپ کو یقین آئے سو آئے نہ آئے تو میں کچھ کر نہیں سکتا کہ ضروری نہیں کہ دنیا آپ کی ہر بات سے اتفاق کرے۔۔۔ اورسچ تو یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں کہ جس ہر سارے انسان متفق ہوں۔”
“قابل افسوس”۔۔۔ دوسرے قیدی نے نظر اٹھائے بغیر کہا۔
“ ہاں قابل افسوس لیکن یہ سچ ہے۔۔۔ سات سال میں اب یہ حالت ہے کہ میں سوچتا ہوں تو گماں ہوتا ہے کہ میں شاید کبھی بھی آزاد نہیں رہا۔۔۔۔ اگر ان سات سالوں کو بھی میری زندگی کے بقیہ تیس سالوں میں جمع کیاجائے جو کہ میں نہیں کرتا تو میری عمر اب سینتیس برس ہے جب کہ میں تیس سال میں مرگیا تھا وہ اس لیے کہ مجھے اب زندگی اس طرح نہیں محسوس ہوتی جو تیس سال میں محسوس کرتا رہا ہوں۔
آزادی کے دنوں میں، میں آزاد طبع اور آزاد خیال انسان تھا، ادھر یار دوست بیٹھے ہیں تو آدھی رات تک گپیں ہانک رہے ہیں اور پھر یہ تاریک کمرہ کہ جس کہ درو دیوار مجھے اب زبانی یاد ہو چکے ہیں۔ ایک ایک اینٹ گن چکا ہوں۔ پہلے پہل ایک مدت تک میں اپنے ماضی کو یاد کرکے آہیں بھرتا رہا پھر آہستہ آہستہ آہیں ختم ہوئیں تو کمرے کے دوردیوار پر غور کیاکہ اب یہاں ایک عمر گزارنی تھی “
“چھت کی اینٹیں تک گن چکا ہوں “ پہلے قیدی نے بیرک کی چھت کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“ایک عرصے تک میری یہ مصروفیت رہی ہے۔۔۔ ایک ہی کام تھا، بس اینٹیں گنتے رہو۔۔ سو اینٹیں گنتا رہا۔۔۔۔۔۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

“ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں مجرم نہیں ہوں۔ میں نے گریجویشن کر رکھا ہے۔ بی اے کرنے کے بعد ہی مجھے محکمہ ڈاک میں نوکری مل گئی، نوکری ملے دوسرا سال تھا جب میری شادی ہوگئی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے تو پھر جیل میں کیسے آیا ہوں۔”
دوسرے قیدی نے کوئی جواب نہ دیا۔
“ ہاں سنیئے تو۔۔۔۔
شادی کے دو سال بعد میرا بیٹا پیدا ہوا گویا کہ رونق بھی ہوگئی۔۔۔۔۔ اور پھر جب اس نے چلنا سیکھا۔۔۔۔ میں کتنا خوش ہوتا تھا اسے چلتا دیکھ کر۔ میں وہ خوشی شاید لفظوں میں بیاں نہ کرسکو ں۔ کبھی کبھی لفظ ہار جاتے ہیں، اور جذبات کی جیت ہوتی ہے۔۔۔
کہانی اس دن شروع ہوتی ہے جب ایک دن میرا بچہ، میرا پیارا بچہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور اس کا پاوں پھسلا اور وہ زمین پر آن گرا۔
ہم اسے اسپتال لے کر گئے ڈاکٹروں نے بہت سارے ٹیسٹ کیے اور ٹانگ کا آپریشن کرنے کا کہا۔۔۔۔۔اور جب تک روپے کا انتظام نہیں ہوجاتاڈاکٹراپنا فرض ادا کرنے سے قاصر تھے۔۔۔۔جی آپ کہیں گے کہ ڈاکٹر انسانیت کے خادم ہیں۔ جی بہتر لیکن بڑے مجبور خادم ہیں۔
مجھے ایک خطیر رقم درکار تھی۔۔۔ پہلی بار۔ ہاں پہلی بار مجھے لگا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں کہ جس کے پاس کوئی جائیداد نہیں اور جو کرائے کے مکان میں رہتا ہے اس سے پہلے کبھی ایسا خیال نہیں آیا تھا یا شاید میں نے اس طرح غور نہیں کیا یا یوں کہیں کہ کبھی ایسے حالات سر پر نہیں پڑے تھے۔
میں بھاگم بھاگ تمام قریبی رشتہ داروں کے پاس گیاتو اس دن مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایسے بھی قریبی نہیں ہیں کہ جیسا میں سمجھتا رہاہوں۔سارے بہت مجبور لوگ تھے۔
بیوی کے زیور بھی اتنے ہی تھے کہ ان سے آدھی رقم کا بندوبست ہوا، ایک سائیکل تھی وہ بھی بیچ دی۔ گھر میں اس سے بڑھ کرکوئی قیمتی سامان نہیں تھاکہ جس سے بقیہ رقم کا انتظام ہوسکے، بینک سے قرضہ لینے کے لیئے بھی کسی چیز کو بطور ضمانت رکھوانا پڑ رہا تھا اور ادھر تو یہ حال تھا کہ سائیکل تک پاس نہیں رہی تھی کہ اسے بطورضمانت رکھوا دوں۔۔۔۔
پھر میں نے فیصلہ کر لیا۔۔۔۔
اور اس فیصلے پر عمل درآمدکے لیئے آدھی رات کو چودھریوں کی حویلی کی دیوار پھلانگ کر اندر کودپڑا۔۔۔۔
گناہ اور وہ بھی پہلا گناہ۔۔۔اف توبہ۔۔۔دل یوں دھڑک رہاتھا کہ گویا ابھی کے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔ٹانگیں کانپ رہی تھیں، اور ضمیر الگ جھگڑا کررہا تھا کہ “دیکھ خادم حسین، دیکھ خادم حسین، تو ایک شریف آدمی ہے اور شریف آدمی یوں آدھی رات کو لوگوں کی دیواریں نہیں پھلانگا کرتے “
میں نے سوچا یہیں سے واپس چلاجاوں کہ میں ایک شریف آدمی تھا۔
دیوار پر واپسی کے لیئے ہاتھ بلند کیے تھے کہ میرا بیٹا میرا ہاتھ تھام کر “ ابا، ابا چلانے لگا۔۔۔میرے بچے نے میرے پاوں پکڑ لیئے، ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گئے۔
نہیں، نہیں میں واپس نہیں جاسکتا تھامجھے صبح تک ہرحال میں پیسے چاہیئے تھے اور اتنے سے پیسوں سے چودھریوں کی دولت میں کون سی کمی آجانی تھی۔۔ سارا گاوں کہتا تھا کہ چودھریوں نے بڑا حرام کما رکھا ہے۔۔۔
سو میں حویلی میں جانے کے لیئے مڑا۔ اندھیرا کافی ذیادہ تھامیں سرچ لائٹ ساتھ لایا تھاجو ابھی تک بجھارکھی تھی۔۔۔۔سوچا اس سے کام لیا جائے۔
میں نے ڈرتے ڈرتے سرچ لائٹ جلائی۔۔۔
سامنے چودھریوں کا کتا کھڑاتھا جو لائٹ کے جلتے ہی بھونکنے لگا، میں ڈر کے واپسی کے لیے بھاگا لیکن کتے نے میری ٹانگ پر اس زور سے کاٹا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعدبھی کبھی کبھی برسات کے دنوں میں مجھے وہ درد پھر ٹانگ میں محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔
مرکزی دروازے پر بیٹھا چوکیدار چلایا۔۔۔” کون ہے، کون ہے” پہلے قیدی نے باآواز بلند دو بار کہا۔
“ اور عین اسی لمحے اوپر حویلی کی دوسری منزل سے فائرکی آواز آئی۔۔۔میں جو درد کے مارے مراجارہا تھا، ابھی اٹھا ہی تھا کہ چوکیدار نے آن دبوچا۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک خاموشی کا وقفہ۔۔۔۔
دوسرے قیدی نے نظر اٹھا کر دیکھا اور کہا” پھر؟؟؟”
“نہیں کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ پولیس کو بلوا لیا گیاتھا کہ کسی نے چودھری صاحب کو گولی ماردی تھی اور ملزم واپسی پر بھاگتے ہوئے کتے کے حملے سے زخمی ہوگیا تھا
اور وہیں کئی گواہ بھی آ گئے تھے کہ جنہوں نے مجھے گولی چلاتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔ مجھے اس دن معلوم ہوا کہ قانون اندھا کیوں ہے۔”
تمام گواہوں کی موجودگی میں عدالت نے مجھے دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی”
دوسرا قیدی پریشانی میں گویا ہوا۔ “ ختم؟؟؟؟”
نہیں۔۔۔۔کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔۔
چودھری صاحب کو فورا اسپتال پہنچایا گیا اور ڈاکٹروں کی انتھک محنت رنگ لائی اور ان کی جان بچی۔ عین اسی اسپتال میں، جہاں چودھری صاحب کا علاج ہوا اسی اسپتال میں عین اسی دن ایک بچہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔۔۔۔
اور اس کے بعد سے میں یہاں ہوں۔۔۔۔
دوست، تم سن رہے ہو نا؟؟؟
اور خاموشی سسکیوں میں ڈھل گئی تھی۔۔۔
تم سن رہے ہو کیا؟؟؟؟”
“چپ کرو سالے، ہر روز نئی کہانی سنا رہے ہوتے ہو،” بیرک سے باہر کھڑا حوالدار شوکت چلایا۔
“ پچھلے سات سال سے، میں کوئی پچیس مختلف کہانیاں سن چکا ہوں۔ کبھی موبائل چرا کر آرہا ہے تو کبھی کسی کی گاڑی چوری کا الزام اس پر لگ گیا ہے”
شوکت صاحب۔۔دیکھیں “ پہلاقیدی منمنایا۔
چپ کر جھوٹا۔ آدمی”
نہیں میں جھوٹا نہیں ہوں
تو یہ جو ہر روز نئی کہانیاں سنا رہے ہوتے ہو یہ جھوٹ نہیں تو کیا ہے؟
“وہ تو میں خود پر کوئی الزام ڈھونڈرہاہوتاہوں”
نیا قیدی حیرانی سے کبھی خادم حسین کو دیکھتا تو کبھی حوالدار شوکت کو۔۔۔۔

Image: Wayne Tully