Categories
فکشن

دمِ جنون

میں پچھلے بائیس سالوں میں اس جیل میں ہزاروں لوگ دیکھ چکا ہوں ۔بوڑھے، بچے، جوان، قاتل، مقتول، قصوروار، مظلوم، بے قصور سب۔کچھ یہیں مرے، کچھ نکل گئے، کچھ کے چہرے یاد ہیں، کچھ بس آوازوں کی طرح ذہن میں رہ گئے ہیں۔ یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی لمحے ٹوٹتا ہے ۔جو جرم مان چکے ہوں وہ بھی اور جو انکار میں ڈٹے رہتے ہیں وہ بھی۔ فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ کچھ اونچی آواز میں رو پڑتے ہیں اور کچھ چپ چاپ دیوار سے لگ کر ٹوٹتے ہیں۔ یہاں وقت سب کو ایک سا بنا دیتا ہے ۔بڑے بڑے غنڈے جو دن کو لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں، مگر رات کے وقت جب باقی قیدی خراٹے لینے لگتے، وہ آہستہ آہستہ ” استغفراللہ“ پڑھتے ہیں، اتنی دھیمی آواز میں جیسے خود اپنے گناہ کو جگانا نہ چاہتے ہوں۔ وہ تسبیح کے دانے نہیں گنتے تھے، اپنے دن گنتے تھے۔ مگر نہ دن گننے سے کٹتے ہیں اور نہ گناہ گننے سے دھلتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی تھے جن کو کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے، ”ہم نے جو کیا ٹھیک کیا“ مگر ان کے لہجے میں کہیں نہ کہیں ایک شکست چھپی ہوتی تھی۔ وہ وضاحتیں دیتے تھے کہ ”حالات نے مجبور کیا۔۔ پہل اُس نے کی تھی۔۔ کوئی راستہ نہیں بچا تھا“جیسے اپنے اندر کے کسی جج کے سامنے دلیل دے رہے ہوں۔ ان کے چہروں پر ایک خاص قسم کی ویرانی ہوتی تھی۔ وہ ہنستے بھی تو آنکھوں کے کنارے سُن رہتے۔ یہاں خاموشی سب سے بڑا جج ہے جو ہر رات فیصلہ سناتی ہے۔ کوئی اونچی آواز میں چیخ کر مان لیتا ہے، کوئی وضو کر کے جھوٹ بولتا ہے اور کوئی صرف چپ رہ کر اپنے اندر سچ قبول کر لیتا ہے۔ آخر میں سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ اعتراف کرنے والے بھی اور انکار کرنے والے بھی۔۔

مگر بِلا ان سب سے مختلف تھا۔

بائیس برسوں میں بِلا کئی بار یہاں آیا ۔کبھی سال بھر کے لیے، کبھی دو برس، کبھی چند مہینوں کے لیے۔ مگر ہر بار یوں لوٹا جیسے جیل اور بِلا ایک دوسرے کے پرانے واقف ہوں، جیسے دونوں کے درمیان کوئی خاموش سمجھوتہ ہو چکا ہو۔ باقی سب قیدی وقت کے ساتھ جھک جاتے تھےمگر بِلا نہیں جھکتا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں نہ کبھی پچھتاوا دیکھا، نہ کوئی دراڑ، نہ وہ لرزش جو کسی گناہ کے بعد انسان کے اندر آتی ہے۔ جیسے اس کے اندر کچھ ہو ہی نہیں۔۔ نہ احساس، نہ ندامت، نہ خوف۔

پہلی بار جب آیا تھا تو عمر یہی کوئی سولہ، سترہ برس کی ہو گی۔ جرم تھا اپنے تایا کا قتل۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب اسے لایا گیا تھا۔ چپ چاپ چل رہا تھا، جیسے کسی اسکول کی سزا کے لیے جا رہا ہو۔ سپاہی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے تھا مگر بِلے کے چہرے پر ایک عجیب سی ٹھہراؤ بھری مسکراہٹ تھی جیسے دنیا کے سارے فیصلے وہ پہلے ہی سن چکا ہو۔ سات برس یہاں رہا۔ نہ کبھی اپنے جرم کی وضاحت کی، نہ کبھی اپنی صفائی میں کچھ کہا۔ ایک بار میں نے پوچھا بھی کہ بِلے کیوں کیا تھا تم نے؟ اس نے بس اتنا کہا، ”جو ہونا تھا، وہ ہو گیا“ اور پھر دیر تک خاموش بیٹھا مٹی پر انگلیوں سے لکیر کھینچتا رہا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ جیل کی قید میں نہیں، اپنی ہی ذات کے اندر قید تھا۔۔ ایک ایسی قید جس میں نہ خوف داخل ہو سکتا تھا، نہ پچھتاوا جنم لے سکتا تھا۔

جیل میں اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جو کسی انسان کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ مگر یہاں انسان رہتے کب ہیں۔ انسان ہوں تو سمجھتا کون ہے؟ تنہائی، بھوک، سزا، کوٹھڑی کے اندر اندھیری راتیں مگر بِلا کبھی نہیں ٹوٹا۔ دوسرے قیدیوں کو میں نے دیکھا، وہ وقت کے ساتھ پگھل جاتے تھے۔ بِلا مگر پتھر کی طرح تھا، نہ پگھلا، نہ بکھرا، نہ بدلنے کی خواہش کی۔ کبھی کبھی لگتا تھا جیسے اس کے اندر دل نہیں، ایک خلا ہے ۔۔گہرا، ساکت، بے حس۔ وہ بیٹھا رہتا، دور دیکھتا رہتا، جیسے کسی دوسرے زمانے میں ہو۔ کبھی کبھی اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی تھکن آتی، مگر وہ بھی یوں لگتی جیسے کسی پرانی تصویر پر دھول جم گئی ہو۔

بِلا جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا تھا ۔ ایک ایسا گاؤں جہاں دوپہروں میں دھول اڑتی ہے اور شاموں میں مزار کے چراغوں سے زرد روشنی نکلتی ہے۔ وہاں عزت کے تین ہی پیمانے تھے۔۔ زمین، مزار اور پیر کی قربت۔ جن کے پاس یہ تینوں نہ ہوں ان کے نام کے ساتھ عزت کا لفظ نہیں لگتا تھا۔ بلا اسی خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس کا تایا، پیر قرار حسین مزار کا گدی نشین تھا۔ سفید کپڑوں میں ملبوس، ہاتھ میں تسبیح اور آنکھوں میں وہ غرور جو اختیار کے ساتھ آتا ہے۔ لوگ اس کے قدم چُھوتے، اس کے در پر چڑھاوے رکھتے اور اس کے ایک اشارے کو اپنی تقدیر سمجھتے۔ مگر بِلے کا باپ، ستار حسین، اسی مزار کا پاگل ملنگ تھا۔ دن رات صحن میں پھرتا رہتا۔کبھی درختوں کے سائے سے باتیں کرتا، کبھی مٹی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیتا جیسے کسی اندر کی دنیا میں گم ہو گیا ہو۔ کبھی بے ربط دعائیں مانگتا جن کے آخر میں آمین نہیں ہوتی تھی بس ایک ہنسی یا چیخ نکلتی تھی۔

دونوں ایک ہی احاطے میں رہتے تھے مگر ایک دوسرے سے اجنبی۔ ایک کے پاس دولت، مرید اور دربار کی رونق تھی، دوسرے کے پاس خاموشی، خاک اور ایک چادر جس پر برسوں کی مٹی جم چکی تھی۔ ایک کے در پر روشنی تھی، دوسرے کے قدموں میں سایہ۔ اور انہی دونوں کے بیچ بِلا بڑا ہوا۔ کم گو، الجھا ہوا اور شاید کسی ایسی لکیر پر جہاں عقیدت اور جنون کا فرق مٹ جاتا ہے۔

گاؤں میں ایک پرانی افواہ تھی۔۔ اتنی پرانی کہ اب کوئی یاد بھی نہیں کر پاتا کہ شروع کس نے کی تھی۔ لوگ دبی آواز میں کہتے تھے کہ پیر قرار حسین نے اپنے بھائی ستار حسین کو کوئی “بُوٹی” کھلا دی تھی، کوئی ایسی شے جس نے اس کے ہوش کے دھاگے ایک ایک کر کے کھول دیے۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ پیر قرار حسین کو صرف گدی نہیں، مزار کی تولیت بھی چاہیے تھی۔ وراثت کے حساب سے گدی تو اس کے حصے میں آتی تھی مگر مزار کی چابیاں ستار کے پاس تھیں۔ اور یہی چابیاں آہستہ آہستہ دونوں بھائیوں کے بیچ دیوار بن گئیں۔

پھر ایک دن یہ افواہ بھی پھیلی کہ بِلا اور اس کی بہن صغراں دراصل پیر صاحب کے گناہ کی پیداوار ہیں۔ یہ جملہ پہلے پہل چند زبانوں تک محدود رہا، پھر چائے کے کھوکھوں، حُقے کی مجلسوں اور گھروں کے آنگنوں میں دہرایا جانے لگا۔ کوئی ثبوت نہیں تھا، مگر اتنی بار کہا گیا کہ آخرکار وہی بات سچ بن گئی۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ ستار حسین کو تو اپنے ہوش نہیں رہے تھے تو زوجیت کہاں سے کرتا؟ کہتے ہیں اس کے بعد ستار کا دماغ جیسے کسی اور جہاں میں رہنے لگا۔ وہ مزار کے صحن میں گھنٹوں خالی آسمان کو تکتا رہتا، کبھی ہنستا، کبھی روتا اور کبھی مٹی پر ہاتھ مار کر کہتا ۔۔”یہی سچ ہے!“

بِلا تب پندرہ، سولہ برس کا ہوگا جب اس نے پہلی بار اپنے بارے میں یہ سرگوشیاں سنیں کہ وہ اور صغراں پیر صاحب کے گناہ کی اولاد ہیں۔ پہلے پہل ہنس دیا، جیسے کوئی بچگانہ الزام ہو۔ مگر رات کو جب صحن میں چراغ بجھ جاتے اور مزار کی سمت سے دھواں سا آتا تو وہ جاگتا رہتا۔ اسے لگتا تھا کہ دیواروں کے پار کوئی اس کے اندر جھانک رہا ہے۔ وہ اکثر اپنے باپ کے چہرے کو دیر تک تکتا رہتا، اس کی آنکھوں میں کوئی سچ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا۔ مگر وہاں کچھ نہ تھا، صرف ایک دھند تھی جیسے آنکھوں کے پیچھے کوئی پرانا زخم چھپا ہو۔ کبھی کبھی ستار حسین یونہی زمین پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا، ”سچ دھرتی کے نیچے ہے، اوپر صرف دھواں ہے“ ، بلا اس جملے کے بعد گھنٹوں خاموش رہتا۔

صغراں بِلے سے ایک برس چھوٹی تھی۔ ذہنی طور پر کمزور تھی مگر اتنی نہیں کہ پہچان نہ سکے کہ اس کے بارے میں بھی کچھ کہا جا رہا ہے۔ وہ کبھی بِلے کے کندھے پر سر رکھ کر ہنستی، کبھی اچانک رو پڑتی۔ اس کی ہنسی میں ایک عجیب لرزش ہوتی۔ جیسے معصومیت اور خوف کے درمیان کوئی باریک سی لکیر ہو اور وہ روز اس لکیر پر چلنے کی کوشش کرتی ہو۔ بِلے کے لیے وہ دن ایک ایسی گرہ بن گئے، جنہیں وقت نے کبھی نہیں کھولا۔ بس ہر سال، ہر موسم کے ساتھ وہ گرہ تھوڑی اور سخت ہو جاتی رہی۔

ادھر پیر صاحب کی دسترس ایسی تھی کہ سات سات کوس تک ان کے حکم اور دعا کا اثر مانا جاتا تھا۔ اس علاقے میں بچہ ہو یا بوڑھا، عورت ہو یا مرد، یہاں تک کہ مویشی۔۔۔ سب کے دکھ درد کا ایک ہی علاج تھا، پیر صاحب کا” دم“۔ بخار سے لے کر چیچک اور یہاں تک کہ کینسر جیسے لفظ بھی ان کے آگے ماند پڑ جاتے تھے۔ ڈاکٹر، دوا، حکیم یہ سب اس علاقے میں اجنبی لفظ تھے، جیسے کسی اور زمانے کی بات ہو۔ پیر صاحب کی زبان سے نکلی ہوئی دعا، دوا سے زیادہ اثر رکھتی تھی اور ان کے ہاتھ سے دم کیا ہوا پانی گاؤں کے سب گھروں میں تبرک سمجھ کر رکھا جاتا۔ مردوں کی نسبت عورتیں ” دم“ کے لیے زیادہ لائی جاتی تھیں۔ کوئی بانجھ پن کے علاج کے لیے، کوئی شوہر کی بے رخی کے تعویذ کے لیے، کوئی فقط اس آس پر کہ پیر صاحب کے ہاتھ سے پانی پیا تو نصیب کھل جائے گا۔ مزار کے اندر ایک نیم تاریک حجرہ تھا۔ دیواروں پر تیل کے چراغوں کی کالک، فرش پر پرانے گیلے کپڑے اور ایک خاص قسم کی بو، جس میں لوبان، پسینہ اور دُعا تینوں گھلے ہوتے۔ وہاں ہونے والے ”دم“ کی باتیں کبھی باہر نہیں نکلتیں۔ عورتیں پردوں میں لوٹتیں، مرد نظریں جھکا لیتے اور سب یوں خاموش رہتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر گاؤں کی ہوا سادہ نہیں تھی۔۔ وہ ہر راز کی خوشبو اپنے ساتھ لے جاتی تھی۔ اور پیر صاحب کے حجرے کی خوشبو تو ایسی تھی جو دیر تک مزار کے دروازوں پر ٹھہری رہتی تھی۔ لوگ کچھ نہیں کہتے تھے، بس ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر خاموش رہتے جیسے سب جانتے ہوں مگر کسی کے پاس کہنے کی ہمت نہ ہو۔

صغراں بھی انہی” دَموں“کے زیرِ علاج تھی۔ اس کی ماں کو بتایا گیا تھا کہ بچی پر سایہ ہے، جن کا اثر ہے، پیر صاحب کے دم سے ٹھیک ہو جائے گی۔ دم دس پندرہ دن بعد مزار کے کسی نہ کسی کمرے میں ہوتا۔کبھی حجرے میں، کبھی صحن کے اُس گوشے میں جہاں چراغ کی روشنی کم پڑ جاتی اور لوبان کی خوشبو کچھ زیادہ۔ صغراں وہاں جاتی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگتے، آنکھیں پھیل جاتیں، جیسے روشنی اور سایہ آپس میں الجھ گئے ہوں۔ مگر ماں اسے بازو سے تھام لیتی، سر پر ہاتھ پھیر کر کہتی، ”پیر کے دم سے برکت آتی ہے، بس آنکھیں بند رکھنا، سب ٹھیک ہو جائے گا“ اور وہ خاموش ہو جاتی، جیسے کسی نے اس کے اندر کی آواز بند کر دی ہو۔ حجرے میں کچھ دیر ہلکی ہلکی آہٹیں رہتیں، پھر دروازہ کھلتا، اور صغراں چپ چاپ باہر نکل آتی۔ ماں اس کے ماتھے پر دم کیا ہوا پانی چھڑکتی اور لوگ سمجھتے، شفا کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

ایک دن بِلا ایک جنگلی کبوتر کے پیچھے بھاگتا ہوا مزار کے پچھلے حصے تک جا پہنچا۔ اسے ہمیشہ منع کیا گیا تھا کہ اس طرف نہ جائے۔ وہ حجرہ پیر صاحب کی خلوت تھا جہاں روشنی بھی اجازت لے کر جاتی تھی مگر کبوتروں کی طرح بلا کے اندر بھی ایک اڑان تھی، ضدی اور بے سمت۔ وہ دیوار پر چڑھا، پھر چھت کے کنارے رینگتا ہوا روشن دان تک آیا۔ نیچے جھانکا تو حجرے میں نیم تاریکی تھی۔ لوبان کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پیر قرار حسین بیٹھا تھا اور کے سامنے صغراں تھی۔ پیر صاحب ہاتھوں سے صغراں کے وجود پر دم کر رہے تھے، ایک ایسا دَم جو کسی کتاب میں تھا۔ صغراں کی آنکھوں میں خوف کا دھواں بھرا تھا اور پیر صاحب کے چہرے پر مکروہ سایہ۔ بِلا کچھ دیر چپ چاپ دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں جیسے کوئی گہری چیز ٹوٹ کر نیچے گر گئی جیسے کسی نے دروازہ اندر سے بند کر کے کنجی پھینک دی ہو۔ وہ نیچے اترا تو ہوا میں وہی لوبان کی خوشبو اب خوشبو نہیں ایک ناپاک یاد تھی۔ اس کے اندر ایسا طوفان اٹھا، جو برسوں بعد جیل کی کوٹھریوں میں بھی خاموش نہ ہوا۔ بس پتھر بن کر اس کے سینے میں جم گیا۔

اسی شام مزار پر چراغ جلنے لگے تھے۔ مریدوں کی صفیں ترتیب سے بیٹھ چکی تھیں اور ہوا میں وہ عقیدت گھلی ہوئی تھی جو اکثر اندھے یقین سے جنم لیتی ہے۔ پیر قرار حسین ابھی حجرے سے نکلنے والے تھے، مزار کے دروازے پر ان کے لیے قالین بچھایا جا رہا تھا۔ بِلا کچن کے پیچھے ایک ستون کی آڑ میں کھڑا تھا، چپ، جیسے خود اپنی سانسوں سے بھی چھپ رہا ہو۔ ہاتھ میں چھری تھی اور دل میں وہ خوف جو کبھی ارادہ بن کر دھڑکنے لگتا ہے۔ اس کے سامنے بھیڑ تھی، دعا کے لیے ترستی آنکھیں، عقیدت سے جھکی گردنیں اور ان سب کے بیچ وہ چہرہ جسے وہ اب صرف نفرت کے دھندلے پردے سے دیکھ رہا تھا۔ پیر صاحب مجمع کے بیچ آئے ، سفید لباس، چہرے پر مسکراہٹ۔ لوگ آگے بڑھ بڑھ کر ہاتھ چومنے لگے ۔ انہیں کے درمیان بِلا بھی آگے بڑھا۔ کسی کے سمجھنے سے پہلے اس نے وار کر دیا۔ پیر صاحب کے چہرے پر حیرت لمحہ بھر کو ٹھہری، پھر وہ زمین پر گرے، صحن میں خون کی گرم بُو گھل گئی۔ بِلے نے اتنے وار کئے کہ پیر صاحب کی انتڑیاں فرش پر بکھر گئیں۔ مریدوں کے ہجوم میں شور اٹھا، کوئی بھاگا، کوئی چیخا، کوئی بس سجدے میں گر گیا۔ اور بِلا؟ وہ بس وہیں کھڑا رہا۔۔ جیسے اپنے کیے کو نہیں، اپنی تقدیر کو دیکھ رہا ہو۔ بِلے کو اُسی رات گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں کہا گیا کہ ”عمر کم ہے، فہم ناپختہ ہے“ سو اسے سات سال کی قید سنائی گئی۔ مگر جو طوفان اس کے اندر اس دن بیدار ہوا تھا، وہ کسی سزا سے ختم ہونے والا نہیں تھا۔

سات برس بعد جب بِلا جیل سے نکلا تو گاؤں بدل چکا تھا۔ وہی مزار، وہی صحن مگر فضا میں عقیدت کی وہ نمی نہیں رہی تھی، جیسے وقت نے وہاں بھی اپنا تھوک پھیر دیا ہو۔ ستار حسین اب گدی نشین تھا۔ وہی جو کبھی پاگل ملنگ کہلاتا تھا، اب”دیوانہ پیر“ بن چکا تھا۔ لوگ اس کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے۔ اس کی ہر بے ربط بات کو کرامت مانتے اور اس کے جھولتے ہاتھوں میں شفا تلاش کرتے۔ صغراں مر چکی تھی۔ کسی نے بتایا، ”بخار اٹھا تھا، دو دن میں ختم ہو گئی“۔بس اتنا ہی۔ نہ قبر کا نشان، نہ یاد کا سایہ۔

بِلا دیر تک مزار کے دروازے کے پاس کھڑا رہا۔ دیواروں پر وہی چراغ تھے مگر اس کے اندر سب بجھا ہوا۔

پھر وہ چلا گیا۔۔ ہمیشہ کے لیے۔ پنجاب کے میدانوں سے گزرتا ہوا شہر تک جا پہنچا، جہاں جرم کمائی تھا اور گناہ روزمرہ کی عادت۔ وقت کے ساتھ بِلا ایک آلہ بن گیا۔ سیاسی ٹھیکیداروں، قبضہ گروں اور گینگسٹرز کے ہاتھوں میں۔ اس کے اندر اب رحم نہیں رہا تھا اور نہ ہی خوف۔ بس ایک عادت رہ گئی تھی، مارنے کی، لوٹنے کی، چاہے اندر کچھ بھی مر جائے۔ وہ ہر دو تین سال بعد پھر جیل پہنچ جاتا جیسے جیل ہی اس کی اصل پناہ گاہ ہو۔ مگر اندر کہیں، مٹی کے نیچے، وہی لڑکا اب بھی سانس لے رہا تھا، وہی جو روشن دان کے نیچے اپنی بہن کو دیکھ کر پتھر ہو گیا تھا۔ اسی لیے لوگ کہتے تھے کہ”بِلا ہر جرم کر سکتا ہے سوائے اُس جرم کے جو عورت کی عزت سے جڑا ہو“۔ شاید اسی لیے اس کے ہاتھوں پر خون کے دھبّے تو تھے مگر کسی بے حرمتی کا نشان نہیں۔

آخری بار جب بِلا یہاں سے چھوٹ رہا تھا، تو جاتے ہوئے رُک کر بولا، ”اب میں تھک چکا ہوں ماسٹر“۔اس کے لہجے میں وہی سختی تھی، وہی خراش جو برسوں کی جیل تراشتی ہے، مگر آنکھوں میں ایک دھند تھی۔۔ جیسے جسم ہار گیا ہو مگر انا اب بھی سانس لے رہی ہو۔ پشیمانی اب ابھی نہیں تھی، وہ اس کے قبیلے کا لفظ ہی نہیں تھا۔ مگر تھکن تھی ،گوشت کی، ہڈیوں کی اور شاید وقت کی بھی۔

پھر دو سال تک اس کی کوئی خبر نہ آئی۔

مگر جیل اپنے پرانے قیدیوں کو کبھی بھولتی نہیں۔ یہ دیواریں جانتی ہیں کہ کون کہاں جا کر سانس لے رہا ہے، کون مر گیا اور کون اب بھی زندہ رہنے کا دکھ جھیل رہا ہے۔ ایک دن خبر آئی، آہستہ سے جیسے کسی نے راز کی بات بتائی ہو کہ بِلے نے شہر کے پرانے بازار میں ایک طوائف کے ہاں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ کہا گیا، وہ عورت وہی ہے جو برسوں پہلے، جب بلا پہلی بار شہر آیا تھا اس کی زندگی میں آئی تھی۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ کبھی وہاں جاتا، کبھی مہینوں غائب رہتا مگر ہر بار واپس اسی در پر لوٹتا۔ شاید اس عورت کے کمرے میں، جس میں راتیں دھند اور عطر میں لپٹی رہتی تھیں، بلا کو وہ خاموشی ملتی تھی جو کسی جیل میں نہیں ملتی۔ یا شاید وہ بھی اس کی طرح تھک چکی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے کی تھکن میں پناہ تلاش کر لی تھی۔

کوئی چار مہینے پہلے بلا ایک بار پھر جیل آ گیا۔ خبر پھیلی کہ اس نے اُسی طوائف، سلیمہ کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ جب اسے لایا گیا تو اس کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی مگر اب اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ چہرہ جیسے کسی نے اندر سے مٹا دیا ہو۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا، کسی کو قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ ہر تیسرے چوتھے دن کسی قیدی سے الجھ پڑتا، بے تحاشا مارتا اور پھر دِنوں تنہائی میں بند رہتا۔ کسی کو کچھ خبر نہیں تھی کہ ہوا کیا۔ سب حیران تھے کہ بِلا، جو عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا، وہی بِلا اب قاتل بن گیا۔ جیل کے صحن میں قیدی سرگوشی کرتے تھے؛ ”پندرہ برس وہ اس عورت کے ساتھ رہا اور آخرکار اسی کو مار دیا؟” کوئی کہتا، “محبت کا جنون تھا“، کوئی کہتا، ”پاگل ہو گیا ہے“، مگر سچ کسی کے پاس نہیں تھا۔ وقت گزرتا گیا اور بِلے کی حالت بگڑتی گئی۔ اب وہ دن بھر پاگلوں کی طرح بڑبڑاتا ۔رات کو دیوار سے سر لگاتا اور کان لگا کر کچھ سنتا جیسے کوئی اندر بول رہا ہو۔ خاموشی میں اس کے ہونٹ ہلتے رہتے جیسے کوئی پرانا مکالمہ دہرا رہا ہو۔ کبھی اپنے باپ ستار حسین کا نام لیتا، کبھی تایا قرار حسین کو کوستا، کبھی اپنے گناہوں کو گننے لگتا۔ لیکن ایک بات سب نے نوٹ کی کہ اس کے پاگل پن میں بھی دو نام کبھی زبان پر نہ آئے۔ ایک صغراں اور دوسرا سلیمہ۔ جیسے ان دونوں کو اس نے اپنے اندر کہیں محفوظ کر رکھا ہو، ایک ایسی جگہ جہاں نہ پچھتاوا پہنچ سکتا تھا، نہ ہوش۔

جب اس کی آنکھوں کے نیچے نیلاہٹ اترنے لگی اور راتوں کی نیندیں دن میں بھٹکنے لگیں تو جیلر نے سفارش لکھی کہ قیدی بِلا ولد ستار حسین کو ذہنی امراض کے وارڈ میں منتقل کیا جائے۔ یوں لگتا تھا کہ بِلے کی کہانی اپنے انجام پر نہیں، اپنے دائرے پر واپس آ گئی ہے۔

یہ جیل میں اس کی آخری رات تھی۔ وہ چپ چاپ آیا۔ میرے سامنے بیٹھ گیا اور دیر تک کچھ نہیں بولا۔ میں نے بھی نہیں پوچھا۔ کبھی کبھی سوال بھی توہین لگتا ہے۔ وہ پتھر کی طرح بیٹھا رہا، جیسے اپنی ہی سانسوں کا شور سن رہا ہو۔ پھر آہستہ سے بولا، ”ماسٹر میں اس عورت سے محبت کرتا تھا۔” اس کی آواز میں پہلی بار انسانیت کی کوئی پرت دکھائی دی۔ ”میں نے کبھی اس سے دغا نہیں کی۔ میں نے کسی اور کو دیکھا تک نہیں۔ اس کا ماضی کیا تھا مجھے کبھی فرق نہیں پڑا۔ روپے پیسے کی کمی نہیں ہونے دی۔ اس نے اپنی زندگی بدل لی تھی۔۔ نماز، حج، یتیم خانہ۔ میں نے اسے روکا نہیں۔ میں سمجھا شاید یہی کفارہ ہے اس کا۔ وہ چلّے کاٹنے لگی، ذکر اذکار میں ڈوب گئی۔ میں جانتا تھا ہر کوئی پچھتاوا سہہ نہیں سکتا۔ میں نے کرنے دیا جو وہ کرنا چاہتی تھی۔“ وہ رکا جیسے زبان پر رکھا جملہ زہر بن گیا ہو۔ دیر تک خاموش بیٹھا رہا پھر گردن جھکائے مدھم آواز میں بولا:

”ماسٹر، ہماری ایک بیٹی ہے۔۔ پندرہ برس کی۔ میں نے اس کا نام صغراں رکھا ہے۔“ یہ نام لیتے ہی اس کے چہرے پر ایک کپکپی سی دوڑ گئی۔ آنکھوں میں ایک چمک ابھری، وہی پرانی وحشت جو برسوں پہلے میں نے اس کے اندر دیکھی تھی، جب وہ روشن دان کے نیچے کھڑا اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ لمحہ دوبارہ اس کے اندر زندہ ہو گیا ہو۔ پیر قرار حسین، وہ نیم اندھیری کوٹھڑی، صغراں کی خوفزدہ آنکھیں، لوبان کی بو، اور وہ مٹی جو اس دن سے اس کے اندر جم گئی تھی۔ باہر بارش کے بعد کی زمین کی بو تھی، مگر جیل کے اندر وہی پرانی گھٹن۔ جیسے ماضی بھیگ گیا ہو مگر گناہ ابھی خشک ہو۔

اس کے لب ہلنے لگے، مگر آواز دیر سے نکلی۔

”سلیمہ اسے دم کرانے لے گئی“۔

پھر وہ اچانک سیدھا بیٹھ گیا جیسے کسی نے اس کے جسم میں بجلی بھر دی ہو۔آنکھیں پھیل گئیں، سانس بھاری ہو گئی۔

”نا ماسٹر۔۔۔ نا “

اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر پلٹی۔ ”وہ میری صغراں تھی۔۔ میری خون کی صغراں۔۔میں ایک صغراں کھو چکا تھا۔۔دوسری نہیں۔۔نا ماسٹر نا“ ۔۔۔

میں نے دیکھا اس لمحے وہ جیل میں نہیں تھا۔ وہ پھر اسی مزار میں کھڑا تھا۔ وہی دھند، وہی خوف، وہی گناہ کی بو۔ اس بار ہاتھ میں چھری نہیں، تقدیر تھی۔ اور اس کے وار سے جو چیخ نکلی، وہ شاید سلیمہ کی نہیں تھی۔۔ قرار حسین کی نہیں تھی، صغراں کی تھی اور خود بِلے کی بھی تھی۔ پھر خاموشی اتری۔ وہی جو ہر گناہ کے بعد زمین پر آتی ہے۔

Categories
فکشن

گڑ کی ڈلی

سلطانہ کی زندگی میں کبھی کوئی مرد مستقل طور پر رہا ہی نہیں۔ باپ بچپن میں ہی گزر گیا تو ماں کی دوسری شادی نے اس کی زندگی کے معنی بدل دیے۔ وہ سارا دن تپتے صحن میں چونے والی دیوار کو زبان سے چاٹتی رہتی۔ پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا ماسوائے اس کی دبی دبی ہنسی اور سوتیلے باپ کی اونچی آواز میں دی جانے والی گالیوں کے، جو وہ اکثر اس کی ماں کو دیتا تھا۔ وہ دن چڑھتے ہی چولہے کے سوئچ بنانے والی مشین پر پاؤں جما کر بیٹھ جاتی۔ لوہے کے راڈ کی آواز دھم دھم کر کے اس کے کانوں میں شور کرتی۔ سلطانہ کے ہاتھ کیا تھے گویا نرم گداز گدیلے تھے اور ان پر نمکین کُرکُری پوپٹ جیسی انگلیاں۔ وہ جب بھی دینو حلوائی کے پاس بدانہ لینے جاتی، وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر کہتا: ’’تیرے تو ہاتھ خود نمک پارے ہیں۔‘‘ قریب کھڑے لوگوں کی زبان پرنمک ہی نمک شامل ہو جاتا اور سلطانہ دھڑکتے دل کے ساتھ دوڑ لگا دیتی۔ دینو قصاب دکان سے لٹکتی رسی سے جھولتے ہوئے اس کے نرم ہتھیلیوں سے نوٹ کھینچتا اور وہ پھٹے کے ساتھ گھسٹنے لگتی۔ دکان میں بچھے سٹول زور دار قہقہوں سے گونج اٹھتے اور وہ گوشت کا شاپر کاندھے پر لٹکائے سرپٹ دوڑ لگا دیتی۔ اس نے ڈرکے مارے گھرسے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ اگر اس کا ہاتھ کسی سے مس ہو جاتا تو وہ کھرے میں نل کے آگے اپنے ہاتھ کر دیتی یا کبھی ہتھیلیوں پر تھوکتے ہوئے انھیں پشت سے پونچھنے لگ جاتی۔ اسے اپنے ہاتھوں سے عشق ہونے لگا تھاجن کی نرمی نے پلاسٹک کے سوئچ اور لوہے کی راڈ کو بھی نرم کر دیا تھا۔ وہ بڑی آسانی سے ڈائی میں لگے لوہے کے رنگز کو دباتی کہ سوئچ کھٹا کھٹ بن کر گرتے رہتے۔ اس کے اندر غصہ تھا ہی نہیں بس خاموشی ہی خاموشی تھی۔ ماں اس کے گورے چٹے رنگ پر گلابی پڑتے گالوں کو دیکھ کر لمبا سانس لیتی اور سر نیچے کر کے سوئچوں میں سوراخ کرنے لگ جاتی۔ پھر وہی خاموشی اور لوہے کے راڈ کی دھم دھم سلطانہ کے کانوں میں شور کرنے لگتی تھی۔

سلطانہ کو بہت جلداپنی ماں کی ماں بننا پڑ گیا جس دن اس کا سوتیلا باپ انھیں چھوڑ کر گیا ماں کی حالت بگڑ گئی۔ وہ سارا دن بستر پر پڑی چھت کی کڑیاں گنتی رہتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی خاموشی جنون میں بدلنے لگی، وہ دروازے سے باہر بیٹھ کر اینٹ توڑتی پھر کنکر چبانے لگ جاتی۔ سرخ اینٹ کے ذرے اس کے ہونٹوں کی لوؤں سے لعاب کے ساتھ تیرتے رہتے۔ سلطانہ کے لیے ماں کو سنبھالنا مشکل ہونے لگا تھا۔ ماں کی ذہنی حالت کے دس سال اس نے انگلیوں پر گنتی کر کے کاٹے۔ آخری دنوں میں ماں کو رسی سے باندھ کر مشین کے پاس ہی جکڑنا پڑتا، لوہے کا راڈ دھم دھم کرتا اور ماں اوں اوں کرتی رہتی۔ اس کی خالی آنکھیں آنسو بہاتیں اور وہ دھیمے دھیمے سروں میں سلطانہ کے ساتھ باتیں کرتی چلی جاتی۔

’’ بابا آ، بابا آ۔ ‘‘
’’ باوا کنک لیاوے گا، باوی بے کے چھٹے گی۔ ‘‘

گھر سے باہر بے شمار آنکھیں اس کے دروازے پر اٹکی رہتی تھیں۔ وہ لکی کبوتری کی طرح دونوں بازو پھیلائے دوڑتی بھاگتی تو سب آنکھیں اس کے پیچھے دوڑ لگا دیتیں، پھر اس نے اپنی پرواز گھٹا دی۔ ماں اپنے الجھے بالوں میں انگلیاں پھنسائے پورا زور لگا کر خارش کرتی رہتی۔ ’’آمدھانی، مینوں رہڑکن تیرے گیڑے۔‘‘ سلطانہ ماں کے سر کو کھنگالتے ہوئے بے سروپا جملے بولتی رہتی۔ پورے گھر میں بس اتنا سا ہی شور مچتا تھا اور رات کو زیرو کے بلب کی زہریلی روشنی کمرے میں ادھ موئے سانپ کی طرح لوٹنے لگتی تھی۔ اس کا سوتیلا باپ بھی عجیب آدمی تھا جسے کسی شے سے کوئی سروکار تھا ہی نہیں۔ جب تک اس کی ماں کے حواس قائم تھے وہ گھرمیں بس ماں سے ملنے آتا، وہ اس کی خدمتیں کرتی اور وہ اسے دھتکارتا ہوا باہر نکل جاتا۔ ایک بڑا سا ریڈیو اس کے دائیں کان سے لگا رہتا جسے وہ بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کاندھے پر رکھے پھرتا رہتا تھا۔ ریڈیوسنتے ہوئے اس کی باریک باریک مونچھیں تیرکی طرح مزید سیدھی ہو جاتیں اور وہ تخت پوش پر آڑھے ترچھے اندازمیں لیٹاان پر انگلیاں پھیرتا رہتا۔ صبح ہوتے ہی وہ تکیے کے نیچے سے سارے پیسے لے کر چلتا بنتا اور ماں اپنی کالی اوڑھنی کے پلو سے آنکھیں پونچھتی رہ جاتی۔

ماں کے مرنے کے بعد بھی سلطانہ کے معمولات نہ بدلے، جس رسی سے اس نے ماں کو باندھ رکھا تھا اب وہی اس کی گدی کے نیچے چرمرائی سی پڑی رہتی تھی۔ سوتیلا باپ ہی تو اس کی ماں کے پاگل پن کی وجہ بنا تھا جس کے جانے کے بعد دو کمروں کا مکان فاؤنٹین ہاؤس بن گیا۔ سلطانہ نے خود کو پنجرے میں بند کر لیا تھا، وہ دروازے کی ذرا سی اوٹ سے مزدوری کا سامان پکڑتی۔ مال کے پیسے بھی اسی خاموشی سے ادا ہوتے اور دروازے کے دونوں پٹ زوردار آواز سے بند ہو جاتا۔ سلطانہ زنجیر لگا کر تالہ مارتی اور دروازے کے آگے چارپائی کھسکا کر رکھنے کے باوجود بھی اس کی تسلی نہ ہو پاتی۔ قسمت نے یتیم سلطانہ پر ترس کھانے کے لیے خورشید کو بھیج دیا تھا۔ گندمی رنگت اور بڑے بڑے نقوش والا خورشید رشتے میں اس کا خالہ زاد تھا۔ چھے فٹ سے اوپر قد کاٹھ کا مالک یہ شخص جب دروازے سے سر جھکا کر اندر داخل ہوا تو سلطانہ کو لگا جیسے اس کے وجود سے گھر بھر گیا ہو۔ دو کمروں کی خاموشی کو توڑنے کے لیے وہ سلطانہ کی زندگی میں شامل ہو چکا تھا۔ سوتیلے باپ کے بعد دوسرے مرد کی آمد نے اس کے جسم میں عجیب سا کرنٹ بھر دیا تھا۔ وہ صحن سے کمرے تک ادھ بدائی سی پھرنے لگی۔ خورشید بھی دوائی کی خالی شیشی کی طرح تھا، گہرے رنگ کی شیشی جس میں نہ کوئی رنگ تھا اور نہ بو۔ فٹ پاتھوں اور پارکوں میں سونے والا خورشید بچپن میں ایک آدھ بار ہی سلطانہ کے گھر اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا۔ جذبات سے عاری خورشید کو رہنے کے لیے چھت درکار تھی اور بدلے میں ایک چارپائی جس کی ادوائن کو کس کر باندھنے کے لیے بھی سلطانہ کو ہی زور لگانا پڑتا۔ خورشید لوہے کی راڈ اور سوئچوں کے شور سے تنگ پڑنے لگا تھا، وہ سارا دن چارپائی پر لیٹا رہتا اور سلطانہ دھم دھم مشین چلاتی رہتی۔ پیچ کس سے سوئچوں میں سوراخ کرتے ہوئے عجیب سی کڑک گونجتی تو خورشید کو لگتا جیسے اس کے دماغ میں کوئی ناخنوں سے لکیریں کھینچ رہا ہو۔ وہ سختی سے منہ بھینچ کر کروٹ بدل لیتا۔ پھر اس نے گھر کے سناٹے اور مشین کے شور سے گھبرا کر باہر رہنا شروع کر دیا۔

جسیال کی زمین سونا نہیں اگاتی تھی سو اس نے قریبی فیکٹری میں پتھر رگڑنے کی مزدوری شروع کر دی۔ پتھروں اور کنکروں میں رہنے والا خود بھی بڑا سا پتھرکا بت بن چکا تھا۔ جب وہ گھر آتا تو اس کا سر گرینائیٹ کی سلیں رگڑتے رگڑتے سفید ہوچکا ہوتا۔ وہ ہولے ہولے کھانستا ہوا چارپائی پر لڑھک جاتا۔ دونو ں کی چارپائیوں کے درمیان فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا رہ گیا تھاکہ نیچے جوتے قرینے سے دھرے رہتے۔ صبح سے شام تک راڈ چلاتے چلاتے اس کی ٹانگیں بے جان ہو جاتیں تو وہ کپڑوں کی گدڑیوں سے بنے تکیوں کو اپنی پنڈلیوں کے درمیان رکھ کر سکون محسوس کرتی۔ پچکے ہوئے گدیلے اس کی بے جان ٹانگوں کا ملبہ اٹھا چکے تھے۔ صبح مشین کی دھم دھم اور رات کو خورشیدکی کھوں کھوں نے اس کے دماغ کو سنسنا دیا تھا۔ وہ اس شور میں کچھ بچے کھچے دنوں کو یاد کرتے کرتے سو جاتی۔ اکثر اسے شادی کے بعد کا وہ میلہ یاد آنے لگتا جس میں جانے کے لیے اس نے پہلی بار اصرار کیاتھا۔ اسے بڑے سے میدان میں لگے جھولوں پر بیٹھنے کا موقع ملا تو ہنسی جیسے جبڑوں کے بند ٹوٹ کر باہر ابل رہی تھی۔ یہاں بھی بہت ساری نظریں اس کے تعاقب میں تھیں۔ ’’یہ قتلمہ کہیں میں تو نہیں۔‘‘ سلطانہ نے کڑاھی کے قریب کھڑے ہو کر سوچا۔ کیا خوبصورت رنگ ہے لیکن گھی میں سنا ہوا۔ ’’ اے میدے کی روٹی، تیری قسمت مجھ سے اچھی ہے۔ ابھی تھال خالی ہو جائے گا۔‘‘

’’کیا بڑ بڑ کر رہی ہے۔‘‘ خورشید نے پاؤں سے سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا۔ سلطانہ نے گھبراکر اس کا بازو پکڑنا چاہا لیکن وہ آگے نکل چکا تھا۔ اتنے برسوں سے ایسا ہی ہو رہا تھا خورشید کو اس کا حسن بھی اپنی طرف کھینچتا نہیں تھا۔ بس ہر وقت ایک سگریٹ اس کے ہونٹوں میں دبا رہتا اور دوسرا اس کی انگلیوں میں۔ سلطانہ میں بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی تھی وہ بھی ویسی ہی خاموش، بے زار اور الگ تھلگ سی رہنے لگی تھی۔ شادی کے دو سال بعد زلیخا پیدا ہوئی تو سلطانہ کو لگا زندگی بدل گئی ہے۔

خورشید کی سیلانی طبیعت نے اسے کوئی کام بھی مستقل طور پر کرنے نہ دیالیکن جس دن سے اس نے گڑ بنانا شروع کیا تھا اس کی زبان میں مٹھاس پیدا ہو گئی تھی۔ اس نے سلطانہ کی مشین بند کروا دی تھی اور اب وہ دونوں صحن میں لوئی لگائے گڑ بناتے۔ شادی کے پانچ سال بعد دونوں کوایک دوسرے سے بات کرنے کا سلیقہ آیا تھا ورنہ تو دونوں طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ وقت نے سلطانہ کو مزید حسین بنا دیا، سفید رنگت انڈے کی سفیدی بن کر پھل پھول رہی تھی۔ گداز کندھے اور کتابی چہرے نے بھی اسے آبشار کی طرح صاف شفاف بنا دیا تھالیکن خورشید کی سختی نرمی میں نہ بدل سکی۔ پہلے وہ سخت سل کا پتھر تھا اور اب گڑ کے بڑے بڑے ڈلوں کی طرح جڑا پڑا رہتا تھا۔ وہ سلطانہ کے حسن سے خائف گھرکی ڈیوڑھی میں اکڑوں بیٹھا سگریٹ پھونکتا رہتا۔ ’’ یہ اتنا بہت سارا حسن اس میں کہاں سے آ گیا۔‘‘ خورشید کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر سوچتا۔ لوئی میں آگ سلگتی رہتی، سلطانہ بڑے پتیلے میں گنے کا رس انڈیلے اسے پکانے رکھ دیتی اور خورشید چلم سلگا کر بڑے بڑے اپنے اندرکش کھینچتا رہتا۔ دھوئیں کے مرغولے کبھی دائرے بناتے اور کبھی اس کے ناک اور منہ سے چھلے بن کر نکلتے رہتے۔ زلیخا سکول جانے لگی تھی لیکن سلطانہ کی قسمت میں بس مشینوں اور برتنوں کا شور زندہ تھا۔ کالے بھجنگ پتیلے پر رکھی ہوئی روکے گرم چھینٹے اس کی کومل جلد کو جلاتے تو گلابی نشان اس کی گوری کلائیوں پر تمغوں کی طرح سجنے لگتے۔

’’خورشید، کہیں میں بھی ماں کی طرح پاگل نہ ہو جاؤں۔ ‘‘
’’ہو جاؤں سے کیا مطلب ہے، تم ہو۔ ‘‘ خورشید بے حسی سے جواب دیتے ہوئے، دھواں اس کے منہ پر چھوڑتا۔
’’خورشید، تیرے پاؤں دبا دوں۔ ‘‘ سلطانہ قریب رہنے کی چاہت میں آگے بڑھتی۔
’’ہونہہ، ہاتھ نہ لگانا، تیرے جیسی پاگل کا کیا پتہ، بوٹی ہی توڑ کے لے جائے میری۔‘‘ خورشید نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ ایک تو تیرے سے بو بڑی آتی ہے، کتنی بار کہا ہے کہ گنے کے رس میں شہد جیسی مٹھاس ہوتی ہے۔ بیلنے کے بعد نہایا کر۔ ‘‘

سلطانہ خود کو سونگھتی پھرتی لیکن اسے کہیں سے بو تو دور کٹھاس تک محسوس نہ ہوتی تھی۔ خورشید کے لیے اتنا کافی تھاکہ سلطانہ کی توجہ اب اس پر نہیں تھی۔ ہر گزرتا دن تبدیلی بن کر آ رہا تھا۔ چالیس کا سن لگتے ہی سلطانہ جیسے آبشار سے جھیل سیف الملوک بن گئی ہو۔ ویسی ہی گہری اور نیلی نیلی اداسی اس کی آنکھوں میں بھی ہلکورے لینے لگی تھی۔ ان دنوں جوبن اس پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھا، اس کے جسم کی تپش سامنے والوں کو زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ شیشہ دیکھتے ہوئے اپنے گھنگھریالے بالوں کو کنگھا کرتے ہوئے بڑبڑاتی: ’’قسم سے بہت جی چاہتا ہے دوبارہ شادی کر لوں۔ چلو، تم سے کر لوں، اے میرے شیشے۔ ‘‘ سلطانہ اپنے دونوں بازوؤں کے درمیان چہرہ کرتے ہوئے مسکراتی اور پھر کتنی ہی دیر قہقہے پر قہقہہ لگاتے ہوئے اس کے آنسو نکل جاتے۔ وہ کبھی روتی، کبھی ناک سنکتی اور کبھی گول گول گھومنے لگ جاتی۔

ویسی ہی گہری اور نیلی نیلی اداسی اس کی آنکھوں میں بھی ہلکورے لینے لگی تھی۔ ’’ ماں، تم شادی کر لو۔‘‘ زلیخا نے جیسے سلطانہ کو آلو کی طرح چھیل کر پلیٹ میں چار ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ ’’ ابا کو بس نشہ چاہیے، تم نہیں۔‘‘

سلطانہ خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ’’ادھر آؤ، یہ دیکھو شیشہ، دیکھو خود کو۔‘‘ زلیخا نے کانپتے ہاتھوں والی سلطانہ کو زور سے پکڑا۔ ’’یہ گھر مرد کے بغیر رہنے کا عادی ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا، شادی کروں یا نہ کروں۔ تو گڑ کی ڈلیاں بنا۔‘‘ سلطانہ نے ماتھے پر سے بال ہٹاتے ہوئے کہا اور صحن میں چلی گئی۔ اس رات سے سوچوں کی سوئی ٹوٹ چکی تھی، سلطانہ نے نئی سوئی لگاکر دھاگہ پرویا اور خیال سینے لگی۔ اس نے کتنی ہی بار خورشید کو چھوڑنے کی بات کی، دونوں میں تکرار ہوتی اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا کر ختم ہو جاتی اور نتیجہ صفر ہی نکلتا۔ خالی گھر، بنجر کوکھ اور سامنے لوئی میں رکھا ہوا پتیلا، اب اسے ایک جیسے لگتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب اس پتیلے میں گنے کے رس کے بجائے وہ خود تیر رہی تھی۔ گرم گرم پانی بلبلے بن کر اس کے وجود سے اٹھ رہا تھا۔ ذرا سا سیک لگنے پر وہ دھواں دھواں ہونے لگی تھی۔ پھر جس دن اس نے خورشید سے الگ ہونے کا سوچا وہ چارپائی پر اوندھا پڑا کراہ رہا تھا۔ ’’ کیا ہوا تمہیں؟‘‘

’’پتہ نہیں بڑے دنوں سے کمر میں درد ہے۔ آج تو اٹھا ہی نہیں جا رہا۔‘‘
سلطانہ نے گڑ کے ڈھیلے بنا کر پرات میں رکھے اور اس کی چارپائی کے پاس بیٹھ گئی۔ ’’دکھاؤ، کہیں ناف نہ پڑ گئی ہو۔‘‘

’’ہاتھ مت لگا۔ دور بیٹھ۔‘‘ خورشید ہنکارا۔ سلطانہ دوبارہ پیڑھی پر آ کر بیٹھ گئی۔ خورشید مزید دو دن اسی تکلیف میں رہا۔ بالآخر شہر ی ڈاکٹر نے بتا دیا کہ پنچھی آزاد ہونے والا ہے۔ جگر کام چھوڑ چکا تھا، وہ کسی بھی وقت داغ مفارقت دے سکتا تھا۔ سلطانہ کی آنکھیں پانیوں سے تر تھیں۔ خورشید چارپائی پر بے سدھ پڑا کراہ رہا تھا کہ یکدم اس نے سلطانہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’سلطانہ، مجھے ٹھیک ہونے دے، تیری قسم روز سینما دیکھنے جائیں گے۔ کیا کہتی ہے۔‘‘ سلطانہ نے اس کے مرجھائے ہوئے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ اس رات دونوں نے بہت باتیں کیں، بچپن، جوانی، شادی اور پھر درمیان میں پاٹ دینے والے دریا کی کہانی۔ سلطانہ کو لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ پرانے والا خورشید ہے سنگدل، کٹھور۔ وہ جی بھر کر اس سے باتیں کرتی رہی، کبھی اس کے ماتھے کو سہلاتی تو کبھی دلار سے گال کھینچ لیتی۔ تبھی اسے اپنی ماں یاد آئی جو بالکل ایسے ہی اس کے سوتیلے باپ کی خدمت میں حاضر رہتی تھی۔ کبھی اس کے پاؤں کے تلوے ملتی کبھی کندھے دباتی، وہ اس دوران غصہ بھی کرتا تو ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیتی۔

’’اس گھر کو مرد کی کتنی ضرورت تھی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔‘‘ سلطانہ سوچتے سوچتے دور جا نکلی۔

خورشید نے آخری ہچکی لی تو اس کا ہاتھ سلطانہ کے ہاتھ میں تھا۔ ’’میں نے تمہیں معاف کیا خورشید۔ تم نہ جاؤ۔ کالی کملی والے اسے موڑ دے۔‘‘ سلطانہ کی خاموشی پھٹ پڑی۔ خورشید کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل چکی تھیں، اس نے اپنے ہونٹ زور سے بھینچے اور روح پرواز کر گئی۔ سلطانہ کے گورے چٹے ہاتھوں میں مرے ہوئے مرد کا ہاتھ ایسے ہی تھا جیسے گنے کا پھوک لوئی کے پاس رکھا ہو۔ ’’پندرہ سال کی بیوگی آج ختم ہو گئی خورشید، پندرہ سال۔‘‘ سلطانہ بڑبڑاتے ہوئے سوچتی چلی جارہی تھی۔ ’’قبر میں تو میں نے تمہیں اب ڈالا ہے۔ مر تو تم کب کے چکے تھے۔‘‘

’’میں پندرہ سال سے اکیلی، تنہا، میرا کمرہ الگ میرا، بستر الگ۔ میں ایک مرد تک پیدا نہیں کر سکی۔ یہ گھر ویرانہ مانگتا ہے ویرانہ، میری ماں کو بھی پاگل کرنے والا مرد تھا۔ مجھے تم نے پاگل کر دیا خورشید۔ کالی کملی والے، میرے لیرے رل گئے۔‘‘ سلطانہ ہسٹیریائی انداز میں چیخ رہی تھی۔ روز اس گھر کے صحن میں گڑ بنتا تھا، ڈلیاں پیڑوں میں بدل جاتی تھیں۔ خالص گڑ، جسے سوڈے نے چھوا بھی نہیں تھا۔ جسے بنانے والے ہاتھوں نے اپنے جسم کی مٹھاس کشید کرکے پرات میں جمایا تھا لیکن وہاں گڑ کی ڈلی چکھنے والا کوئی تھاہی نہیں۔ سلطانہ نے خورشید کی قبر پر گڑکی ڈلی رکھی۔ دور کہیں دور لوہے کے راڈ کی دھم دھم سنائی دے رہی تھی۔

Categories
فکشن

گرے شرٹ

وہ آفس سے تین دن کی چھٹی پر ہے۔ خواتین کے ایک نجی ہوسٹل میں اپنے کمرے میں کمپیوٹر ٹیبل پر بیٹھی وہ دیوار پہ لگے کلاک کی طرف دیکھتی ہے۔ دن کے گیارہ بجے ہیں اور اس کے پاس ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے۔ابھی وہ تیس برس سے کچھ کم کی ہے لیکن اس کی نزدیک کی نظر نہ جانے کیسے کمزور ہو گئی کہ اب اس کے پاس ایک نزدیک کی اور ایک اینٹی گلیر عینک کمپیوٹر کے لیے ہے۔ بعض اوقات تو وہ گڑبڑا جاتی ہے کہ کون سے چشمے کا استعمال مناسب رہے گا۔ تاہم اس وقت وہ اینٹی گلیر شیشوں والا چشمہ لگائے لیپ ٹاپ پر نظر آنے والی وڈیو میں کسی سمندر کا منظر دیکھ رہی ہے جس کا پانی بہت شور کرتا ہوا ایسی لہریں اچھال رہا ہے کہ گویا ابھی سکرین سے باہر آ جائے گا۔ وہ مضطرب ہے۔ سمندر کے پانی سے اٹھتی لہریں اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔۔ ماوس پر جمی اس کی انگلیاں بھی بے قرار ہیں۔ سمندر کی وڈیو بند کر کے وہ بے خیالی میں کئی اور کلپس کھولتی ہے۔ عینک بدلتی ہے۔ سکرین پر مختلف کمپنیوں کی برانڈڈ مصنوعات کی خبریں، سلے ان سلے کپڑوں کے اشتہار، فیشن کے نئے ڈیزائن ہیں۔۔۔۔ سکرین منی مائز کر کے وہ اپنی پینٹنگز کا فولڈر کھولتی ہے۔ اپنی بنائی تصویروں کی دل ہی دل میں ستائش کرتی ہے۔ حال ہی میں لگی اپنی ینٹنگز کی نمائش پر آئے کومنٹس پڑھتی ہے۔ لیکن اسے کچھ بھی پسند نہیں آ رہا۔ شاید اس عینک کے شیشے دھندلے ہیں یا وہ اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف ہے۔ عینک بدل کر وہ پھر گوگل سرچ کی ونڈو پر آ جاتی ہے۔ سرچ بار پر ” نور بانو” ٹائپ کرتی ہے۔ سکرین پر فیروزی رنگ کی ایک کھڑکی کھلتی ہے جس میں دنیا جہان کی نور بانووں کے نام نظر آتے ہیں۔ وہ عینک اتار کر آنکھیں سکرین کے قریب لے جا کر دیکھتی ہے کہ اس نام کو بایئس ہزار مرتبہ سرچ کیا جا چکا ہے۔ اس کی نظر ایک بار پھر کمرے میں لگے کلاک کی طرف اٹھتی ہے۔ ابھی بھی خاصا وقت ہے۔ اس کی بے چین انگلیاں پھر کی بورڈ پر ہیں۔ وہ سرچ بار میں ” باسل احمد” ٹائپ کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نام کو کوئی پچاس ہزار بار سرچ کیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر اسے بیک وقت خوشی اور رقابت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اسے غصہ بھی آتا ہے کہ باسل نے اسے دوپہر کو آنے کا کیوں کہا؟ آخر وہ صبح ہی اس کی طرف کیوں نہیں جا سکتی تھی۔ ” گاڈ نوز بیٹر” وہ بڑ بڑاتی ہے اور سرچ بار پر لفظ گاڈ ٹائپ کرتی ہے۔۔ اس لفظ کے اعدادو شمار نے دونوں ناموں کو شکست دے دی۔ دور کسی کمرے سے یا شاید ساتھ والے کمرے سے اسے جسٹن بائبر کے گانے کی آواز سنائی دی تو اس نے سرچ بار پر اس کا نام لکھ دیا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جسٹن بائبر کا نام، گاڈ سے کہیں زیادہ بار تلاش کیا گیا ہے۔

ایک کے بعد دوسری عینک بدلتے ہوئے وہ یونہی بے خیالی میں سرچ بار پر لفظ پورن ٹائپ کرتی ہے۔۔ لمحے بھر میں ان گنت پورن سائٹس کے لنک جگمگانے لگتے۔ بوس و کنار کرتے مرد عورت، سستی سی ہیجان خیزی اور میکانکی مشغولیات۔ یہ سب اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ تنگ آ کر وہ لیپ ٹاپ ہی بند کر دیتی ہے۔ اور لباس تبدیل کرنے کو اٹھ جاتی ہے۔ گرے رنگ کی شرٹ اور سفید جینز پہتنی ہے اور کندھوں تک لٹکے بالوں کو برش سے آراستہ کرتی ہے۔ سیل فون پر وقت دیکھتی ہے تو ابھی چالیس منٹ باقی ہیں۔ ہلکا سا میک اپ کرنے کے بعد وہ میچنگ کلر کی لپ سٹک لگاتی ہے۔ شولڈر بیگ اٹھاتی ہے۔ اس میں فیشن میگزین کا تازہ پرچہ رکھتی ہے اور بیگ کندھے پر لٹکا کر اپنا جائزہ لیتی ہے۔ گرے نہیں، سفید شرٹ پہننا چاہئے تھی۔ وہ اسے گرے شرٹ میں دیکھ کر خوش نہیں ہو گا۔ ‘لیکن میں شرٹ تبدیل نہیں کروں گی’ وہ سوچتی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے یہ رنگ۔ اضطراب اس کے ماتھے اور چہرے پر نمایاں ہے۔ وہ سیل فون اٹھاتی ہے اور ٹیکسی آرڈر کرتی ہے۔۔ پانچ سات منٹ کے بعد وہ ہوسٹل کے مین گیٹ پر رکی سلور رنگ کی ٹیکسی کی پچھلی نشست پر تقریباً گرنے کے انداز میں بیٹھتی ہے اور ڈرایئور کو منزل کا پتہ بتاتی ہے۔ آدھے سفر کے دوران وہ بیگ میں سے چھوٹا سا آیئنہ نکالتی ہے اور اپنے چہرے کا جائزہ لیتی ہے۔ اپنے رخساروں کو دایئں بایئں حرکت دے کر اپنے آپ کو ری لیکس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ عینک اتار کر بیگ میں رکھتی ہے۔۔ گرے شرٹ نہیں پہننی چاہئے تھی وہ پھر سوچتی ہے۔ یقیننا باسل کو نا پسند ہے یہ رنگ۔ اس کے ماتھے پر ایک شکن سی ابھرتی ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہ ”سو وٹ” کہہ کر اس خیال کو جھٹک دیتی ہے۔ کوئی دس منٹ کی مسافت کے بعد ٹیکسی ایک ہوٹل کے گیٹ پر رکتی ہے۔ داخلے پر چوکیدار کو باسل احمد اور کمرہ نمبر 110 بتا کر وہ ٹیکسی سے اترجاتی ہے۔

کمرہ نمبر 110 پر دستک دے کر وہ ٹشو پیپر سے پیشانی پر آیا خیالی پسینہ صاف کرتی ہے۔ دروازے پہ لگے اندھے سے شیشے میں اپنے سراپا کا جائزہ لیتی ہے۔ گرے شرٹ دھندلے شیشے میں سیاہی مائل لگ رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر دستک دی تو قدموں کی آواز کی بجائے “دروازہ کھلا ہے۔ اندر آ جاو۔” کی آواز سنائی دی۔وہ اندر داخل ہوتی ہے تو تین چھوٹے چھوٹے کمروں کا ایک سویٹ ہے۔ اس کی ہائی ہیل لکڑی کے فرش پر کھٹ کھٹ بجاتی ہے۔ “باسل۔۔۔ باسل۔۔۔ بھئی کہاں ہو تم۔ کہتی ہوئی وہ اس کمرے تک تک پہنچتی ہے جہاں باسل فون پر گفتگو میں مصروف ہے اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ فون بند کر کے وہ اسے ہیلو کہتا ہے۔
“تو تم باہر دروازے تک نہیں آ سکتے تھے۔۔۔۔۔” وہ ذرا ترش لہجے میں پوچھتی ہے۔

“یار وہ اچانک باس کا فون آ گیا تھا، میں نے اسی لیے بھاگ کر دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ تم پہنچنے والی ہوگی۔ ” باسل نے اطمینان سے جواب دیا۔
“ہاں ہاں، اندازے لگانے میں تم بہت ماہر ہو اور یہ باس کہاں سے آ گیا۔اسی لیے تم نے مجھے صبح آنے کو منع کیا تھا؟ باس کا فون۔۔۔ تم تو تین دن کی چھٹی پر یہاں آئے ہو اور تم جانتے ہو میں نے بھی اسی لیے چھٹی لی ہوئی ہے۔ ” وہ ایک ہی سانس میں سب کہہ گئی۔

” میں کیا کرتا۔ چھٹی تو اسی لیے لی تھی کہ یہ دن ساتھ گزاریں گے لیکن وہ سیلاب کی ایمرجنسی۔۔۔ یا باس کی ایمرجنسی کہہ لو، کہتا ہے یہاں ہو تو چھوٹا سا پراجیکٹ ہی کر لو اورشام تک میری ٹیم کے بندے بھی بھیج دے گا۔۔۔۔۔ اب بتاو کوئی راہ فرار ہے؟ ”

” تو ٹھیک ہے میں فرار ہو جاتی ہوں۔ ٹیم لیڈ صاحب آپ اپنی ٹیم کے ساتھ سیر و تفریح کریں۔ ”

” رکو تو۔ سانس تو لو۔ آتے ہی جانے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ میری پوزیشن سمجھو ناں۔ ”

” نہیں تم ایک نمبرکے جھوٹے ہو، یہ پروگرام پہلے سے ہی طے ہوگا۔ تم آئے ہی سیلاب کور کرنے ہو۔۔۔ تمہاری ٹیم بھی آنے والی ہے۔ وہ ہے ناں کبریٰ ، تمہاری اسسٹنٹ، سنبھال لے گی سب، تم فوٹو گرافی نہیں کروگے تو کیا آفت۔۔۔۔۔۔۔”

“نہیں۔ نہیں نور بانو، یہ جو تم میری نیت پر شک کرتی ہو اور مجھ پر اعتبار نہیں کرتی ناں یہ مجھے سخت تکلیف دیتا ہے۔” باسل نے ترش لہجے میں کہا۔ “ابھی بہت وقت ہے۔ کھانا کھاتے ہیں۔ گپ شپ کرتے ہیں، بس پروگرام کا کچھ حصہ منسوخ کرنا پڑے گا۔ آئی ایم سوری۔ ”

” نہیں کھانا مجھے کچھ بھی۔ تم نے میرا دن برباد کر دیا اور لگتا ہے باقی کے دن بھی۔”

باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ روم سروس کے ویٹر ٹرالی میں خورد و نوش کی چیزین لے کر آئے اور رکھ کر خاموشی سے واپس چلے گئے۔

” چلو غصہ تھوک دو، چلو غصہ تھوڑی دیر کے لیے معطل کر دو۔ دیکھو تمہاری پسند کی ڈشز ہیں۔” باسل نے ٹرالی نور بانو کے قریب لاتے ہوئے کہا اور اس کے برابر ہی بیڈ نما صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے عجیب نظروں سے گھورتی رہی۔ باسل نے اس کے کندھوں پر آہستہ سے ہاتھ رکھے اور اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا،” تم جب بھی یہ رنگ پہنتی ہو تو تمہارا موڈ بھی اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ آو کھانا کھایئں، لڑائی بعد میں کر لینا۔ ”

نور بانو ، ہاسٹل سے صرف کافی کا ایک کپ پی کر نکلی تھی بھوک اسے بھی محسوس ہو رہی تھی۔ دونوں نے خاموشی سے ایک لفظ کہے بغیر کھانا کھایا۔
” تم یقیناً کافی پینا پسند کرو گی۔” باسل نے ٹرالی ایک طرف کر کے چوکڑی مار کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں۔ کافی کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ تم بتاو یہ کیا بکواس لکھی تم نے فیشن میگزین میں میری پینٹنگ کی نمائش کے بارے میں۔۔ مانا کہ تم ایک نامی گرامی فوٹو گرافر ہو لیکن تم نے کبھی پینٹ کیا کچھ؟”

” اوہو تو اس بات کا غصہ ہے۔ یار دیکھو تمہارے ساتھ پینٹنگ اور فوٹو گرافی پڑھی تو تھی ناں۔ اور پانچ نمبر تم سے زیادہ ہی لیے تھے۔ یہ اور بات کہ جاب فوٹوگرافی کی ملی۔ ویسے بھی فوٹوگرافی اور مصوری جڑواں بہنں ہی کہلاتی ہیں۔ میں تو پینٹنگ کے بارے میں نئی نئی چیزیں پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ آج کل کیا چل رہا ہے مجھے سب پتہ ہے۔ ”

“پانچ نمبر زیادہ۔۔ ہونہہ۔۔۔ یہ کیا لکھا تم نے” نور بانو نے بات کاٹ کر بیگ سے میگزین نکال کر گود میں رکھ لیا، ” یہ۔۔۔ یہ سٹروکس میں روانی اور حساسیت نہیں ہے۔ یہ تم کسی ایک پینٹنگ کے بارے میں کہتے تو بھی تھا۔۔۔ تم نے تو عمومی بات کر دی۔۔۔ ساری پینٹنگز ہی ایسی ہیں؟ ”

” دیکھو مجھے جو لگا وہ میں نے لکھ دیا۔ میں نے اپنے تاثرات کے اظہار میں کبھی بے ایمانی نہیں کی۔”

” یہ پڑھو، ” اس نے میگزین باسل کی آنکھوں کے قریب تر کرتے ہوئے کہا، “یہ میڈم شاہین کا ریویو۔۔۔ نور بانو کی پینٹنگز میں گلیزنگ اور واش کا میڈیم بہت خوبصورتی سے استعمال کیا نظر آتا ہے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔۔۔۔ تمہاری ٹیچر تھیں ناں میڈم شاہین ”

“اور یہ پڑھو۔ قدرت شیخ کیا لکھتا ہے، ۔۔۔ نور بانو کی پینٹنگز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مصوری کے اس قافلے میں اس کا اپنا راستہ اور اپنی منزل ہے۔ ”

” اور یہ تم کیا لکھتے ہو، یوں لگتا ہے برش پر کنٹرول نہیں رہا، پورے بازو سے پینٹ کرنے کی بجائے صرف کلائی سے پینٹ کرنے کا شبہ ہوتا ہے، تم سمجھتے ہو مجھے برش پکڑنا نہیں آتا؟”

” ہاں وہ والی پینٹنگ یاد کرو،” باسل نے یاد کراتے ہوئےکہا، ” وہ زمین پر سنگریزے اور پس منظر میں ٹنڈ منڈ درخت، وہ درخت بناتے ہوئے یقیناً تمہاری ذاتی سوچ اس وقت تمہارے سٹروکس پہ حاوی ہو گئی لگتی ہے۔”

” ہونہہ، ذاتی سوچ۔۔۔ ذاتی سوچ اور الہامی کیفیت نہ ہو تو فن پارہ کیسے بن سکتا ہے۔ عجیب بات کی تم نے۔”

” نہیں، میں ذاتی سوچ اور الہامی کیفیت کے خلاف نہیں لیکن وہ آرٹسٹ پر اتنی حاوی نہیں ہونا چاہئےکہ برش ہاتھ سے نکل جائے۔ ”

” بس کرو۔ ایک تو میری پینٹنگ میں اتنی برائیاں نکالیں اوپر سے معذرت بھی نہیں کر رہے ہو” یہ کہہ کر نور بانو نے میگزین باسل کے منہ پر دے مارا۔ وہ میگزین کے نشانے سے بچنے کے لیے آگے کو جھکا تو دونوں کے درمیان صرف سانس بھر کا فاصلہ تھا۔ نور بانو کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس کے تنفس کا زیر و بم اس قدر شدید تھا کہ جس صوفے پر وہ بیٹھے تھے وہ زلزلے کے ہلکے جھٹکوں کی طرح ہلتا محسوس ہونے لگا۔ وہ چند ثانیے اسے گھورتی رہی پھر ایک دم اس نے باسل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔ باسل کو محسوس ہوا گویا کوئی شدید تپتی ہوئی نرم سی چیز اس کے لبوں پر پیوست ہو گئی ہے۔ باسل نے اسے سر سے پکڑ کر پیچھے ہٹانے کی کوشش کی لیکن بانو اس وقت اپنے آپ میں نہیں تھی۔ یہ غصہ تھا اور کس بات پہ تھا یا کیا تھا۔۔۔ اس نے ہونٹ ہٹائے بغیر باسل کی کمر پر زور زور سے مکے رسید کرنے شروع کر دیئے۔ باسل کو محسوس ہوا کہ ان ضربوں میں شدید اضطراب ہے۔ اس اچانک حملے کی شدت سے بچنے کے لیے باسل نے زور سے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا جس سے مکوں کی شدت کچھ کم ہو گئی۔ بانو کو بھی اپنی سانس گھٹتی محسوس ہوئی تو اس نے باسل کے سر کے بال نوچنا شروع کر دیئے اور اس کی شرٹ اتار کر اس کے کندھوں پر دانت گاڑ دیئے۔ باسل کو وہ نور بانو نہیں بلکہ کوئی ایسی عورت لگ رہی تھی جس کے اندر کسی پدمنی ، سنکھنی یا ہستنی کی روح آ گئی ہو۔۔اس نے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کی لیکن اسے محسوس ہوا کہ گرفت خاصی مضبوط ہے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس ہیجانی کیفیت سے کیونکر نمٹا جائے۔

کوئی دوڈھائی گھنٹے کی گہری نیند کے بعد ملگجی سی روشنی میں نور بانو کی آنکھ کھلی تو چند لمحے اسے یہ معلوم کرنے میں لگے کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے اپنے اوپر پڑی چادر کو ہٹایا اور اپنے زیر جامے تلاش کر کے پہنے۔ صوفے پر بیٹھ کر اس نے گرے شرٹ اٹھائی تو وہ تار تار تھی اور پہننے کے قابل نہیں رہی تھی۔ قریب ہی ایک سفید شرٹ رکھی تھی۔ اسے پہن کر وہ اٹھی اور باسل کو آوازیں دیتی واش روم کی طرف چلی گئی۔ واپس آ کر اس نے صوفے پر پڑی جینز پہننے کے لیے اٹھائی تو اس کی نگاہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے قریب کی عینک لگا کر دیکھا۔ باسل نے لکھا تھا کہ وہ ٹیم کے ساتھ کسی گوٹھ کی طرف جا رہا ہے۔ واپسی کا کچھ پتہ نہیں۔ وہ چاہے تو رات یہیں رہ سکتی ہے۔ ہوٹل والوں کو بتا دیا ہے۔ جانا چاہے تو باہر نکل کے دروازہ بند کردے۔ خودکار دروازہ لاک ہو جائے گا۔ نور بانو نے کاغذ کا ٹکڑا مسکراتے ہوئے پرزے پرزے کردیا او شولڈر بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔

Categories
فکشن

ممنوعہ موسموں کی کہانی (صنوبر الطاف)

یہ اس کی کہانی ہے لیکن میں اس کا آغاز بھول گئی ہوں۔ دراصل اس کا آغاز تھا ہی نہیں۔اس نے مجھے بتایا تھا کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک نئی کہانی کی تشکیل کرتا ہے۔تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ ایک کہانی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ یہاں اس نے مجھ سے چالاکی کی ہے اور جان بوجھ کر مجھے آغاز سے بے خبر رکھا ہے۔اب میں ہر لمحے کی کہانی تو بیان نہیں کرسکتی لیکن کوشش کروں گی کہ کچھ اہم لمحے میری گرفت میں آجائیں۔یہ کہانی اس لیے لکھی جارہی ہے کہ یہ محفوظ رہے۔اس وقت سے جب کوئی آگ کا گولہ آئے اور ہم سب کو بھسم کردے۔ اور جب خدا داڑھی کھجاتے ہوئے ہمارے جلے ہوئے جسموں کو تاسف سے دیکھ رہا ہو تو اسے یہ اوراق نظر آئیں اور وہ جبریل سے مخاطب ہوکر کہے۔ــــــ’’انہیں سنبھال رکھو۔ممکن ہے کسی اگلے صحیفے میں کام آئیں۔‘‘

تو کہانی کہاں سے شروع کی جائے؟ویسے تو کہانی جبریل کو ملنے والے اس حکم سے بھی شروع کی جاسکتی ہے لیکن ہم اس کے کچھ اور پہلو بھی دیکھ لیتے ہیں۔مثلاًوہاں سے جب اس نے جنم لیا۔وہ پہلی اولاد تھی تو خوشیاں بانٹی گئیں۔ حسین بھی تھی تو اسے لاڈ بھی ملا لیکن کچھ چہ مگوئیاں بھی ہوئیں کہ اس کی ماں کا کوئی بھائی نہیں ہے تو شاید اب اس کا بھی کوئی بھائی نہ ہوسکے۔ اس کی ماں جو چہک رہی تھی یہ سن کر مرجھاگئی اور اسے پرے دھکیل دیا۔اس کی ماں نے سوچا کہ آخر زندگی ایسی کیوں ہے؟ ایک پل کی خوشی بھی مجھے راس نہیں۔

ذرا ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ جیسے کہانیوں میں ایک بادشاہ ہوتا ہے۔ ویسے ہی اس کے گھر میں بھی ایک بادشاہ ہے جو اس کا باپ ہے۔ سب گھر والے اس کی رعایا ہیں۔ وہ چاہے تو سانس کھینچ لے اور چاہے تو گلے کا ہار بخش دے۔ ایک شام چھت پر اپنے دائیں گال کے زخم کو سہلاتے ہوئے اور آنسو پیتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ زندگی ایسی تو نہیں ہونی چاہیے۔

زندگی کے عذاب پہلے ہی کم نہ تھے جب ایک صبح اس نے بستر کو خون میں رنگے دیکھا۔ وہ فوراًسے غسل خانے میں بند ہو گئی اور اپنی موت کا انتظار کرنے لگی۔آخر بڑی منت سماجت کے بعد ماں اسے کمرے میں لائی اور اسے سمجھایا کہ وہ بڑی ہوگئی ہے۔اسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔پہلے تو اسے صرف گھر کی حکومت سے گلے تھے اب خود اپنے وجود سے شکوے ہونے لگے۔ میرا جسم باعث شرم کیوں ہے؟ یہ چھاتیاں میں نے تو نہیں اگائیں؟ بازار میں چلتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوتا کہ ہر ہاتھ اس کو چھونے دبوچنے کے لیے بڑھ رہا ہے۔ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجود ناجائز،گندا اور ایک بوجھ ہے۔دو آنسو ٹپکے لیکن اس نے چھپا لیے۔گھر کی آمریت سے گھبرا کر اس نے آنسو باہر لانا چھوڑ دیے۔ اب وہ اندر گرتے تھے اور خون کے ساتھ مل کر سارے جسم میں دوڑتے تھے۔ زندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے۔

اس کی زندگی کی ایک کہانی تو وہ بھی ہے جب اس نے پہلی دفعہ اپنے محبوب کو دیکھا تھا ۔یہ رومانوی آغاز یقینا پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔جب اس نے پہلی دفعہ اپنے محبوب کو دیکھا تب وہ دو انسانوں کے درمیان اچانک آنے والی ان شعاعوں کو سمجھتی نہ تھی لیکن اس دن اسے ایک نئی ترنگ ملی۔ وہ راستے جن سے وہ گھبراتی تھی اب ان پر اترا اترا کر چلنے لگی۔ وہ بھول گئی کہ اسے زندگی سے کیسے کیسے شکوے تھے۔کیا کیا غم ہیں جو اس نے اٹھائے ہیں۔وہ خود کو کسی پرندے کی طرح آزاد محسوس کرنے لگی۔ اس کا دل زور زور سے یہ کہتا کہ زندگی ایسی ہونی چاہیے۔

کہانی وہاں سے بھی شروع کی جاسکتی ہے جب اسے پتہ چلا کہ بند کمرےاور ہلکی روشنی میں ہونے والا عمل بھی محبت ہی ہے لیکن محبت کا یہ گوشہ خوف سے جڑا ہے۔ مکمل ہو جانے کا فرحت بخش احساس اور اس کے بالکل ساتھ سروس روڈ پر چلنے والاڈر۔ اس نے جانا کہ زندگی ہاں یا نہیں، گناہ و ثواب، خدا اور شیطان، صحیح اور غلط کے درمیان ایک الجھی ہوئی پتنگ کی ڈور ہے۔ اس ڈور کا سرا ملنا ناممکن ہے اور اگر وہ مل بھی جائے تو زندگی بے سواد ہو جائے۔

کہانی تو وہ بھی ہے جب پہلی بار اس کا دل ٹوٹا۔ اس کی محبت پامال ہوئی اور خلوص پاؤں تلے روند دیا گیا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ شاید محبت ہی زندگی ہے لیکن یہ دھوکا کھانے کے بعد اسے پتہ چلا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ محبت اور نا محبت دو متضاد کنارے ہیں، جن کے بیچ ہم ہینگر پر ٹنگے کپڑوں کی طرح ہیں۔زندگی میں شاید ایک ہی بار محبت کی ہواچلتی ہے جو ہمیں محبت کی سرزمین پر لے جاتی ہے اور ہمیں لگنے لگتا ہے کہ یہی محبت ہے۔اور پھر کچھ کالی گھٹائیں چلتی ہیںجو ہمیں اس گھڑے میں پھینک دیتی ہیں جہاں محبت نہیں ہوتی۔ایک پچھتاوا ہوتا ہے اور انسان موت کی دعا کرتا ہے۔

کہانی وہاں سے بھی خوبصورت ہے جب اس نے اپنے پہلے بچے کو جنم دیا۔ اسے لگا کہ وہ صرف ایک بچہ نہیں ہے بلکہ اس کی ساری کائنات ہے۔تو اس نے اپنے صبح و شام اس کے نام کردیے۔کبھی کبھی وہ بچہ اس کی سہیلی بن جاتا اور وہ راز کی ساری باتیں اسے کہہ دیتی۔کبھی وہ اس کی ماں بن جاتا تو وہ اسے گلے لگاکر رولیتی۔کبھی کبھی اس بچے کی شکل اس کے محبوب جیسی ہوجاتی تو وہ اس کے جسم کے ہر کونے کو دیوانہ وار چومتی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی یہ نہیں ہے اور ایک دن یہ بچہ بڑا ہو کر سب کچھ بھول جائے گا۔دور جاکر کہیں اپنی زندگی خود بنائے گا۔تب وہ اس کے لیے کچھ نہیں ہوگی۔

کہانی ان چھ مہینوں کی بھی ہوسکتی ہے جب وہ بستر پر لیٹے چھت پر گھومتے پنکھے کو تکتی رہتی تھی۔ اس کے ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ وہ چھ ماہ کی مہمان ہے۔اس کی آنکھوں کے وہ سفید ڈولے جو اپنی سفیدی کے باعث کبھی نیلے لگتے تھے اب ماند پڑچکے تھے۔ ان پر پیلے رنگ کی ایک تہہ بن گئی تھی۔اب وہ کچھ کھا نہیں سکتی تھی،اس کے ہونٹوں پر پیپڑی جمی رہتی اگر کچھ کھا لیتی تو وہ خوراک بھی اس کے خشک ہونٹوں پر جم جاتی۔جنہیں وہ زبان سے اتارنے کی کوشش کرتی رہتی۔اس کے گال پچک چکے تھے۔ہاتھوں کی کھال لٹک چکی تھی۔اس کی چھاتیاں گوشت کی دکان پر لٹکی اوجھڑی کی مانند معلوم ہوتیں۔اسے بستر سے سہارا دے کر اٹھایا جاتاتو اس کے گلے کی رگیں دھاگوں کی طرح تن جاتیں۔ لیکن اس کے ناک میں چمکتی سونے کی لونگ کی چمک ابھی بھی قائم تھی۔وہ ان چھ ماہ میں سب کو یاد کرتی رہی۔اپنی اس سہیلی کو جس کے ساتھ اس نے گرمیوں کی دوپہریں گزاری تھیں۔اپنی پہلی کلاس کی استانی کو یاد کیا۔اس لڑکے کو بھی یاد کیا جس نے اسے ایک محبت نامہ لکھا تھا۔مرنے سے تین گھنٹے اور دس منٹ پہلے بند ہوتی آنکھوں کے دھندلکے میں کسی کی یہ سرگوشی اس کے کانوں سے ٹکرائی کہ بس اب کہانی ختم ہونے کو ہے۔

Categories
فکشن

کلرک کا افسانہ محبت (تصنیف حیدر)

دیکھنے سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے کہ کسی انسان کی شادی ہو رہی ہے۔شادی ایک غیر قدرتی عمل ہے، محبت کے بالکل برخلاف۔ایک ٹھونسی ہوئی اور گھسی پٹی سی چیز۔ مگر اس پر ایسے سونے چاندی کے ورق لگا کر، رسموں کا پانی چھڑک کر، خاندان کی رضامندی اور آشیرواد کے عطر میں ڈبو کر مختلف قسم کے سماجوں نے صدیوں کے عرصے میں اسےکتنا سندر بنادیا ہے۔کلرک خطیب یہی سب سوچا کرتا تھا۔ناٹا قد، پیٹھ میں کوبڑ تو نہ تھا، مگر ایک بہت ہلکی سی اٹھان تھی، جو کہ خاص طور پر جب وہ چلتا تو ابھر آتی اور اس کی چال میں ایک قسم کی چمپیزیت پیدا ہوجاتی۔چہرے پر کچی داڑھی، رنگ سانولا، جسم گٹھا ہوا اور ایک ہاتھ میں دو جڑواں انگوٹھے یعنی چھ انگلیاں۔کام کرتا تھا وہ ایک اسکول میں۔ پرائمری اسکول تھا، اور وہ فیس، اسکول کی عمارت پر ہونے والے اخراجات، اساتذہ کی سیلیری اور دوسرے تمام خرچوں کا حساب رکھتا تھا۔کلرک ہونا جرم نہیں، مگر کنوارا کلرک ہونا جرم ہے۔ایک سماجی جرم۔ وہ خاندان سے دور تھا، رشتے ناتوں سے علیحدہ اس کی اپنی زندگی گوتم بدھ نگر کے چِراسی گائوں میں ایک پرانے اپارٹمنٹ میں بسر ہو رہی تھی۔ گاؤں کی آبادی زیادہ نہ تھی۔آس پاس کے تین چار گاؤں اور جوڑ لیے جائیں تو آبادی دس ہزار پر مشتمل ہوتی تھی۔دہلی سے قریب ہونے کی وجہ سے کشادہ سڑکیں۔ عالی شان عمارتیں، کہیں کہیں پکے کچے مکانات بھی تھے۔فٹ پاتھ بھی خوب صاف ستھرے۔جس بلڈنگ میں اس کا قیام تھا، وہ چھ منزلہ تھی، پرانی مگر تمام سہولیات سے لیس۔لفٹ بھی تھی، پانی بھی ۔گرمیوں میں پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ضرور کرنا پڑتا تھا مگر وہ اکیلی جان تھی، سو تھوڑی کفایت سے کام چل جاتا۔اسکول سرکاری تھا، اس کی نوکری تھی معاہدے کے رو سے گیارہ مہینے کی مگر اسے یہاں تیرہواں مہینہ لگ گیا تھا۔کانٹریکٹ مزید چھ ماہ کے لیے بڑھ گیا تھا۔جب وہ یہاں آکر بسا تھا تو رشتے داروں کی آئے دن کی چخ چخ سے کچھ روز کے لیے اسے نجات مل گئی تھی۔ بال کنپٹیوں پر سے چاندی جھلکا رہے تھے، سو ان کی بھی کائیں کائیں بڑھ گئی۔ بیٹا! اب تو شادی کرلو، تم کو کوئی لڑکی پسند ہو تو بتاؤ۔۔دو چار سال اور نکل گئے تو پھر نہ ہوسکے گی۔الغرض اتنی باتیں کبھی دبے منہ، کبھی مذاق یا سنجیدگی سے کہی جاتیں کہ وہ جھلا جاتا۔ شادی ہی شادی۔ ایسا لگتا تھا یہ پورا سماج ایک قسم کا دلال ہے، شادی کا دلال۔موٹی موٹی رقمیں، پھیلی پھیلی جیبیں، کھلی کھلی بانچھیں ، ہر چیز میں شادی کی رال لگی ہوئی تھی۔ہر جسم سے شادی کا بور پھوٹتا تھا، ہر روح میں شادی کی کلی کھلتی تھی۔ نہیں ہوئی شادی۔ کرنی بھی نہیں۔کرے بھی تو کس سے۔آدمی کی عمر بیت رہی ہو، وقت گزر رہا ہو، قبر میں پائوں لٹکے ہوں یا منہ میں چُسنی ہو۔جب تک من بھایا کوئی نہ ملے، دماغ میں اتر سکنے والی کوئی سنگنی نظر نہ آئے یا پھر یونہی من نہ کرے، ارادہ نہ ہو، جی نہ چاہے تو کیا زبردستی یہ نوالہ ٹھونس لیا جائے۔

اسے یاد ہے، اسی جھلاہٹ میں ایک دن اس نے بڑا لور لفنگ کیا تھا۔ حافظ الہام گھر پر بتانے آیا تھا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ الہام کو حفظ کیے تین برس ہوئے تھے، تیئس برس کا سن تھا۔ گھر والوں نے ہاتھ میں شادی کا کارڈ لے کر کیا کیا اسے نہیں سنا ڈالا تھا۔غصے میں اس نے پاس پڑا والد کا سروتا بڑی زور سے دیوار پر مارا۔نشانہ خطا ہوا اور سروتا جاکر ٹکرایا موٹے مضبوط آئنے سے۔جس کے ٹھیک شکم پر ایک چھوٹی درار ابھر آئی۔سب تو چپ ہوگئے مگر وہ دراڑ چپ نہ ہوئی، روز اس کی انگڑائی پھیلتی جاتی اور ایک روز چھاڑڑڑڑ کرکے آدھا آئنہ زمین پر آ رہا۔اس نے بھی سوچا اچھا ہوا۔ایک تو جسم کمینہ ایسا کہ اپنی ہی قد کاٹھی پر اوب آنے لگتی ہے۔ یہ کیا کہ جب چل رہے ہیں تو ایسا لگ رہا ہے، جیسے کوئی بندر پھو پھو کرتا بھاگا جارہا ہو۔ کوئی اسے ٹوکتا نہ تھا۔مگر اسے اندر سے اپنی اس چال کی بد ہنگم اور بد شکل نمائش سے خوف بھی آتا تھا، چڑ بھی ہوتی تھی۔وہ کس سے یہ بات کہتا، ان گھر والوں سے جن کے نزدیک شادی کا مطلب تھا، اس کی مرضی اور خواہش جانے بغیر ایک عورت لاکر اس کے سر منڈھ دینا۔جسے نہ وہ جانے، نہ پہچانے۔وہ فلموں میں دیکھتا تھا کیسے ہیرو، ہیروئن سے کسی خاص موقعے پر ملتا ہے، دونوں کی آنکھیں چار ہوتی ہیں۔پھر موسم موسم دونوں کا پیار بانس کے پودے جیسا بڑھتا، پھلتا پھولتا ہےا ور ایک دن جب وہ لٹھ جتنا مضبوط ہوجاتا ہے تو دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ شادی نہیں چاہتا تھا۔ اسے بھی خواہش تھی، مگر وہ کمبخت فلمی فیلنگ اجاگر ہی نہیں ہوتی تھی۔ سب کے پاس عورت تھی، اس کے باپ کے پاس بھی، اس کے بڑے بھائی کے پاس بھی، پڑوس کے قریب قریب ہر مرد کے پاس اور اب تو حافظ الہام جیسے لونڈے کو بھی عورت مل رہی تھی۔ مگر ہیروئن ایک کی بھی دسترس میں نہ تھی۔ کیونکہ ہیروئن ملتی نہیں، ڈھونڈتی پڑتی ہے، کمانی پڑتی ہے۔ایسی خالص، سچی اور بے داغ محبت جو تاعمر رہے، جس میں ایک دوسرے کو سمجھا جا سکے، جس میں ایک دوسرے کا انتظار کیا جا سکے، جس میں ایک دوسرے کی عزت کی جا سکے۔ اس سماج سے ناپید تھی، مگر یہ سماج پردے پر اس محبت کو بڑے چاؤ سے دیکھتا تھا، پر خود ہیروئن کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا تھا، خود کو بدلنا نہیں چاہتا تھا۔بس پڑے پڑے عورت لادو، کھاٹ سے اسے باندھ دو، اس کی نتھ پہنائی کی رسم ادا کرو، اسے کھیت کی بھربھری زمین میں بدل دو اور خود کولہو کے بیل بن کر اسے جوتے جاؤ، جوتے جاؤ۔نہ عورت کا کوئی وجود، نہ اپنا، نہ اس کی شناخت، نہ اپنی۔بس سب کچھ اللہ میاں کی مرضی پر ڈال دو۔کون عورت ملے گی، کتنے بچے ہوں گے، وہ کیسے پلیں گے، عورت کیسے جیے گی، سب مشیت ایزدی کے حساب سے ہی طے ہو گا۔

اب وہ ان جھنجھٹوں سے نکل آیا تھا۔ اسکول میں جاکر اس کا خیال تھا کہ رشتے داروں کی سوالوں والی جہنم سے اسے چھٹکارا ملے گا۔وہ اپنے کام سے کام رکھے گا۔ اور ایسا ہوا بھی ۔چراسی میں اس سے کسی نے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی۔اساتذہ اس کے کمرے سے ملحق اسٹاف روم میں سیاست، سماج اور مذہب سے لے کر ایک دوسرے کی ذاتی زندگیوں پر اظہار خیال کرتے۔ مگر کمپیوٹر سے الجھے اس کبڑے کلرک کو ایک قسم کی مشین ہی گردانتے۔صبح اس کی آمد پر جس سے بھی مڈبھیڑ ہوتی، وہ گردن ہلا کر اظہار تعلق تو کر دیتا مگر اس سے آگے ایک پھیلی ہوئی خاموشی۔ پھر دفتر میں اسے اتنا سمے بھی نہیں ملتا تھا کہ وہ انہی سب باتوں میں مصروف رہتا کہ کس کی فیس آئی ہے، کس کی نہیں آئی۔ کس کی فیس معاف ہونی ہے، کون سا افیڈیوٹ، کون سا معاہدہ، اور بلڈنگ پر ہونے والے خرچ ورچ کا حساب کیا ہے۔الجھاؤ بہت تھا۔ دن تیز ی کے ساتھ گزرتا۔اس کی زندگی میں دو وقت مگر ایسے تھے، جب وہ تنہائی کی الجھی ہوئی رسیوں پر نٹوں کی طرح رقص کرتا اور زمین سے دوری کا احساس اسے کاٹنے کو دوڑتا اور یہ وقت وہ ہوتا تھا جب وہ اپنے گھر سے پیدل اسکول کے لیے صبح کو جاتا اور شام کو گھر کی جانب واپس لوٹتا۔ ایک جانب کا فاصلہ تین، ساڑھے تین کلومیٹر تھا۔ سائیکل رکشہ وغیرہ مل سکتا تھا، مگر اس کا خیال تھا کہ پیدل چلتے رہنے کے بدلے دن میں بیٹھے رہنے سے جمع ہونے والی چربی کچھ تو پگھلے گی۔جس فٹ پاتھ سے وہ گزرتا، اس پر اکثر ہی صبح کے وقت دھیما ٹریفک ہوا کرتا تھا۔ خوبصورت گاڑیوں اور آٹو رکشہ میں بیٹھی ہوئی عورتیں اسے دکھائی دیتیں اور اس کا دل کھٹ پٹ کرنے لگتا۔صبح کی تازگی ان کے رنگین چہروں سے ایسے جھانکتی جیسے سردی کی بھور، رات کی چٹان سے ابھرتی ہے۔لجیلے سجیلے بدن، ڈرائیونگ سیٹ پر ہوں یا پچھلی نشست پر۔ان کے جسم کے خطوط دیکھ کر اس کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ بڑھ جاتی، جسم میں ہڈیاں چٹخ اٹھتیں۔ماتھا شن شن کرنے لگتا اور حواس چوپٹ ہوکر کانوں میں اتر آتے اور شور مچاتے۔ ناف کے نیچے ایک حجلہ عروسی کا در کھلتا، آنکھیں شدت جذبات سے بھیگ بھیگ اٹھتیں اور وہ دھیان بٹانے کے لیے فورا دن کے دوسرے ضروری امور پر غور کرنے لگتا۔کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ وہ سوچتا، کیسا ہو اگر میں ان عورتوں کے بدن میں ڈھل جاؤں، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مجھے اچانک کوئی اپار شکتی پراپت ہو جائے اور میں انہیں نظر نہ آؤں۔ان کے برابر بیٹھوں، ان کو حسرت سے دیکھتا رہوں، دیکھتا جاؤں۔ ان کی دن چریا معلوم کروں، ان کے سونے، جاگنے کے اوقات، ہنسنے بولنے کے انداز، جینے کے طور طریقے۔اس کے لیے مجھے نہ کسی میٹریمونیل سائٹ کی ضرورت ہو، نہ کسی ایجنٹ کی۔میں انہیں دیکھ سکوں، مختلف لباسوں میں اور کبھی بے لباس۔میں جان سکوں کہ فلاں عورت کھانا کھاتے وقت کیسی دکھتی ہوگی، کوئی دوسری عورت کس طرح رفع حاجت کے لیے ٹانگیں پھیلا کر، گھٹنوں سے اپنے سینے کے ابھاروں کو دبائے ،پیٹ پر زور ڈالتی ہوگی اور کیا اس وقت اس کی کنپٹیاں سرخ ہوجاتی ہوں گی۔مجھے دیکھنا ہے، جاننا ہے کہ شادی کے لیے ان تفصیلات کا ذکر کبھی کیوں نہیں ہوتا۔یا اگر ان کی کوئی اہمیت نہیں، ضرورت نہیں تو ان باتوں کی کیوں ہے کہ کوئی لڑکی اپنے آچار وچار میں کیسی ہے، اس کا چرتر کیسا ہے، وہ ساس سسر اور شوہر کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہے۔مشرقی عورت کے گلے میں یہ تمغہ کیوں ڈالا گیا ہے کہ اس کے ریاح کی آواز گھر کے کسی فرد تک نے نہیں سنی۔تہذیب کا ریاح سے کیا تعلق ہے؟ کراہت کو لحاظ سے اتنی دوری پر کیوں رکھا گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کسی کو جان بوجھ، سمجھ کر ہی شادی کی جائے۔مگر کسی کو برت کر شادی کیوں نہیں ہوسکتی۔ پھر یکدم اسے خیال آیا کہ شادی ہی کی کیا ضرورت ہے؟ شادی کا بھوت اتنا گہرا کیوں ہے کہ اس کے دماغ کے پاتالوں میں بھی اس نے اپنے ڈیرے بسائے ہوئے ہیں۔ و ہ نہیں کرے گا شادی، ساری عمر نہیں کرے گا۔بھوکا مرجائے گا، مگر اس شرط پر کھانے کو ہاتھ نہیں لگائے گا کہ اگر ابھی نہ کھایا تو وہ بعد میں بھوکا رکھا جائے گا۔

اسے کسی لحاظ سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شادی کی ایک عمر ہوتی ہے۔ عمر ایک بہت دھوکے باز چیز ہے۔اسے محسوس ہوتا تھا کہ عمر کسی چیز کی نہیں ہوتی، جنسی خواہش کی بھی نہیں۔ ستر ستر اسی اسی سال کے مرد، جوان لڑکیوں کے گدرائے سینے کو للچائی نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں؟ اسے یہ سب باتیں ڈھکوسلا لگتی تھیں۔کسی ہم خیال کے ساتھ گزاری ہوئی دس سال کی پرسکون زندگی اس کی نظر میں کچرا رقابتوں کی پچاس سالہ قید بامشقت سے کہیں زیادہ بہتر تھیں۔اور وہ لوگ جو شادی نہیں کرتے، کیا سماج باہر کے ہیں؟ کیا ان کے ماتھے پر سینگ نکل آتے ہیں؟ کیا ان کی ٹانگیں گھٹ جاتی ہیں یا پیٹ پر کوئی چپکے سے غیر شادی شدہ گود جاتا ہے۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ہمارے سماجوں میں دراصل شادی کے لیے اتنا مجبور اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان جنسی خواہش کی کوئی دوسری صورت، کوئی آزادانہ اور کھلی ہوئی خواہش لے کر نہ جینے لگے۔ وہ کسی کے ساتھ کوئی ایسی رات نہ بسر کرلے، جس کی ننگئی سے دھرم، سماج اور خاندان تھر تھر کانپتے ہیں۔ جس کی ہنستی ہوئی، کھلکھلاتی ہوئی، سکون بخش قمیص پر انہوں نے ناجائز اور غیر مقدس کے بڑے بڑے بٹن ٹانک دیے ہیں۔

کل شام اس کی والدہ نے ایک لڑکی کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجی تھی۔اور ساتھ میں چھوٹا سا پیغام بھی الف کردیا تھا۔
’بیٹا ! یہ بھاگل پور کی ایک فیملی ہے، شریف لوگ ہیں، لڑکی کا باپ موذن ہے، ہوسکے تو اپنے دفتر کی ایک اچھی سی تصویر کھینچ کر بھیج دے، تفصیل میں چھوٹے سے لکھواکر کر ان کو بھجوادوں گی۔‘

اس نے پہلے تو کچھ الفاظ ٹائپ کیے، پھر انہیں مٹا کر قمیص اتار کر گہرے نیلے اجالے میں چوں ں ں ں کرتے ہوئے پنکھے کو گھورنے لگا۔اس کے دماغ میں بجلیاں کوندنے لگیں۔پھر وہی سب۔تصویر بھیجو، تفصیل بھیجو۔پھر وہاں سے لڑکی والے ملنے کا وقت دیں گے، وہاں ملنے جاؤ، خاندان بھر کے بیچ میں بیٹھ کر لڑکی کو دیکھو،اس بے چاری کی نمائش لگاؤ۔کیا کرتی ہو؟ آپ کیا کرتے ہیں؟ زندگی سے کیا چاہتی ہو؟ ایک طویل خاموشی اور پھر بتاتے ہیں کہہ کر پلٹ آنے والا اس کا خاندان۔پھر اس بے چاری کے گھر، خاندان اور اس کے کردار کی پرتیں بیٹھ کر یا تو خود اتارو یا اپنے خاندان والوں کو اتارتے دیکھو۔ اچھا نوکری کرنا چاہتی ہے؟ کوئی بات نہیں، یہ سب تو آج کل ہر گھر میں ہوتا ہے، سنا ہے، تیس کے قریب کی ہے، مگر کہیں کسی لڑکے وڑکے سے دوستی نہیں، شریف گھرانہ ہے۔بات آگے بڑھائی جائے۔اور پھر کیا کہتے ہو کیا سنتے ہو کی ایک لمبی تکرار؟ یہ کیا بات ہوئی؟ کیا چند ملاقاتوں میں وہ ایک دوسرے کو سمجھ لیں گے؟ کیا لوگوں کے بیچ چلنے بیٹھنے، اٹھنے سے ہی سب کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔اس کے گھر دن دو دن کے لیے جب مہمان آتے تو ماں باپ کیسے اسی کے بدن میں اس کا ایک نقلی جڑواں بھائی پیدا کر دیتے۔سرگوشیاں ہوتیں۔یہ مت کرو، ایسے مت چلو، یہاں مت بیٹھو۔انکل کو یہ کرکے دکھاؤ۔اور وہ تکلف کی کتنی تکلیف دہ کھائیوں سے گزرتا ہوا وہ سارے کرتب دکھاتا جاتا۔اس بے چاری لڑکی کے ساتھ بھی تو یہی ہوا ہوگا۔اسے بھی کہا جاتا ہوگا؟ کب تک گھر پر بیٹھی رہو گی؟ تمہاری اور بھی بہنیں ہیں؟ شادی کر لو، شادی کرلو۔۔۔اتنے تازیانے پڑتے ہوں گے کہ آخر کو مجبور ہوکر وہ بھی ایک بندریا کی طرح گھروالوں کی مرضی کے کرتب دکھانے پر راضی ہو جاتی ہو گی۔پھر یہی گھر والے جب دھوم دھام سے شادی کرکے اس لڑکی کو بہو بنا کر لے آئیں گے تو زندگی بھر یہ کہہ کہہ کر اس کا جینا حرام کر دیں گے کہ شادی سے پہلے ہم نے اسے جیسا دیکھا تھا، وہ اب ویسی نہیں ہے۔ارے تو تم بھی تو اس کے سامنے کپڑے پھاڑ کر یوں ننگے ہوکر ہوہو کرتے نہیں آگئے تھے۔جنگل کی آگ اور رشتے داروں سے بچنا ہو تو دوڑ لگانی ہی پڑتی ہے، ان سے دور بھاگنا ہی پڑتا ہے۔مگر سماج ہے کہ اس بات پر مصر ہے کہ چاہے جھلس جاؤ، مگر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو۔

یہی سب سوچتے سوچتے وہ کب سوگیا پتہ ہی نہ چلا۔

صبح اٹھا تو ایک نئے لحاف میں بسا ہوا دن اس کا انتظار کر رہا تھا۔اس نے پہلے کچی داڑھی مونڈ ڈالی۔ آج اتوار تھا۔اسکول جانا نہیں تھا۔یوں وہ زیادہ تر اتوار تنہائی میں گزارتا تھا۔مگر آج نہا دھو کر پرفیوم لگا کر ٹی شرٹ جینز پہن کر وہ گھر سے نکلا اور قریب کے ہی مونڈھا مارکیٹ میں بے مقصد گشت کرنے لگا۔بازار میں بھیڑ تھی۔ حسب معمول عورتیں زیادہ ، آدمی کم۔اس کی کنوار پن والی رگ پھڑک اٹھی۔وہ ادھر ادھر ہوتا ہوا، گھوم گھوم کر چہرے دیکھتا، ہونٹوں سے ہلکی وسل بجاتا۔جینز کی چھوٹی جیبوں میں چار انگلیاں ٹھونسے ٹٹ پٹ چلے جارہا تھا۔کیا فرسٹ کلاس دن ہے۔آج وہ مشین نہیں ہے اور ایک ایسے بازار میں سیر کر رہا ہے، جس میں کسی کو اس بات سے غرض نہیں کہ اس کی کنپٹیاں سفید ہونے کو آئیں، عمر چالیس کے پیٹے میں آ گئی، توند سی نکلنے لگی اور ٹھوڑی کے نیچے کی کھال کچھ لٹکنے لگی۔وہ اس بازار کو بازار حسن کہے، بازار مصر کہے یا کہے ایک ایسا سماج ، جس میں شادی کا کوئی وجود نہیں۔جسمو ں کا رشتہ بس اتنا کہ ٹکراجائیں، کہیں کوئی چھاتی چھن سے بولے، کہیں کوئی ہتھیلی گھسڑ جائے۔پیچھے ہٹے تو کسی کے کولہے سے کولہا ٹکرا جائے، آگے بڑھے تو کسی کا دھونکنی سا سانس چہرے پر پھلواریاں بنادے۔سکنڈوں کی دنیا، منٹوں کا ساتھ۔یہ آیا وہ گیا، یہ رکا، وہ چلا۔

اسے دکھا کہ ایک دکان پر ایک سانولی رنگ کی لڑکی پشت کیے کھڑی ہے، جس نے بڑا روایتی سوٹ زیب تن کیا ہوا ہے۔وہ اپنی سریلی آواز میں دکاندار سے کسی شوپیس کو خریدنے پر بحث و تکرار کررہی ہے۔اس کے دل میں تجسس جاگا۔ایک ادا سے اسی طرح ہونٹ سکیڑے ہوئے وہ آگے بڑھا اور دکان کے کنارے پر جاکر کھڑا ہوگیا۔لڑکی اب بھی دکاندار سے الجھی ہوئی تھی، اس نے دکان کی کھپچی پر ٹنگے ایک بانس کا ہیٹ کو اتارا،سر پر جمایا۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ آئنہ کس طرف رکھا ہے، مگر پھر بھی اس نے لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے دکاندار سے بآواز بلند پوچھا۔

’آئنہ کدھر ہے؟‘ لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر اس کے بندر نما چہرے پر بڑا سا ہیٹ دیکھ کر وہ بحث بھول کر مسکرانے لگی، خطیب نے لڑکی کی مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، ہیٹ پہنے پہنے ایک ہیرو کی طرح جست بھری، اور آئنے کے سامنے دو انگلیوں کی بندوق بناتے ہوئے بائیں ہاتھ کو سینے پر ٹیڑھا کرکے اس کے نیچے سے تین فائروں کی آواز نکالی۔
’ٹھش ٹھش ٹھش‘


Categories
فکشن

سہاگ کے پھول (محمد عباس)

بے بے کی انگلیوں کا لمس زہریلی تاثیر رکھتا تھا۔ کسی بھی قسم کے پھول ہوں، بے بے کے ہاتھ میں آتے ہی مرجھاجاتے تھے۔ کتنے ہی مہکتے ہوئے کیوں نہ ہوں، ایک پل میں سوکھے سرکنڈے بن جاتے۔ ابھی تازہ اور زندہ خوشبو سے نہائے ہوئے ننھے بچوں جیسے معصوم اور دلکش لگتے اور اگلے ہی لمحے وہ کسی ٹھنٹھ بوڑھے جیسے چمڑیس ہو جاتے۔ بچپن میں یہ بات ہمارے لیے حیران کن تھی اور ہم بار بار اس کا تجربہ بھی کرتے تھے۔ جہاں سے کوئی پھول ملتا، تو ڑ کر ہاتھوں میں لیے بے بے کے پاس جاتے اور اسے تھما دیتے۔ بے بے پھول کو ہاتھ میں لیے جانے کس مسموم نظر سے دیکھتی کہ پھول جھلس کر رہ جاتا۔ اس کا چمکتا چہرہ روکھ جاتا۔ ساری خوشبو نچڑ جاتی اورتازہ پھول سڑی ہوئی لاش بن جاتا۔ اور تو اور جو پھول بے بے نے اپنے ہاتھوں سے سینچ کر ویہڑے میں لگا رکھے تھے، وہ بھی بے بے کے ہاتھوں کا لمس نہ سہہ پاتے۔ سرخ سرخ گلابوں کے درجنوں پودے تھے جو بے بے نے ایک بڑی سی کیاری میں سلیقے سے اگا رکھے تھے۔ ان پھولوں میں بے بے کی جان تھی۔ جانے کب بے بے نے یہ کیاری بنائی تھی اور یہ پودے لگائے تھے۔ ہم نے تواپنے بچپن کی پہلی نظر سے ہی ان پھولوں کو دیکھ رکھا تھا۔ بے بے جس نظر سے ان پھولوں کو دیکھتی تھی، ایسی نظر سے تو کوئی ماں اپنے اکلوتے بچے کو بھی نہیں دیکھتی۔ دیوتا کے سامنے کھڑے کسی عقیدت مند پجاری کی نظروں سے پھولوں کو نہارتی تھی۔ میری بہن نے تو ایک دفعہ کہہ دیا تھا کہ بے بے کوہم سے زیادہ ان پھولوں سے پیار ہے۔ اس بات پر اسے بے بے سے جھڑکیاں بھی پڑی تھیں لیکن ہم جانتے تھے کہ بات ایسی غلط بھی نہیں تھی۔ لگتا تھا کہ بے بے ان پھولوں کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ ہر نیا پھول کھلتا دیکھ بے بے کے چہرے پر جواں جذبے دمکنے لگتے تھے۔ البتہ اس سب کے باوجود بے بے ان پھولوں کے قریب نہیں جاتی تھی۔ یہ بھی نہیں کہ ان پھولوں کی طرف سے بے پروا ہو۔ صبح شام اسے ان پھولوں کی فکر ہوتی تھی لیکن خوداپنے ہاتھوں سے کچھ کرنے کی بجائے ہم بہن بھائیوں سے ان کی دیکھ ریکھ کرواتی تھی۔ خود کبھی کام نہ کرتی۔ صبح پانی دو، شام پانی دو۔ کبھی گوڈی کرنے پر بٹھا دیا، کبھی شاخیں تراشنے پر لگا دیا۔ اُس پودے کی جگہ نیا لگانا ہے، اِس کی نئی قلمیں لگانی ہیں۔ روز ہی کوئی نہ کوئی کام اس کیاری میں نکل آتا تھا۔ ان سب لاڈیوں کے باوجود یہ پھول بھی بے بے کے ہاتھوں کی مار نہیں سہہ پاتے تھے۔ ادھر ہاتھ لگا، ادھر پھول کا بدن ٹھنڈا پڑ گیا۔ کسی اور کو بتائیں تو کوئی یقین ہی نہ کرے لیکن ہم نے ہرے بھرے پودوں کے اوپر بھی یکدم مرجھاتے پھول دیکھے ہیں۔ پودا، ٹہنیاں اور پتیاں ہری رہیں جب کہ پھول وہیں کا وہیں سوکھ گیا۔ یہ تھا بے بے کا لمس۔

بے بے کہتی تھی کہ اس میں سارا قصور تمہارے بابے کا ہے۔ اس نے میرے وجود میں ایسا زہر رکھ چھوڑا ہے کہ کوئی پھول میری قربت سہہ ہی نہیں سکتا۔ بے بے کی اس بات پر ہم بہت حیران ہوتے کیوں کہ اس ایک بات کے علاوہ جب بھی وہ بابے کا ذکر کرتی تواس کے منھ سے چھتے سے تازہ اترا خوشبو دارشہد ٹپکنے لگتاتھا۔ میں اور میری بہنوں نے بابے کو بالکل دیکھا ہی نہ تھا بلکہ ہمارے ابا جی نے بھی نہ دیکھا تھا۔ صرف ان کا نام سنا تھایا ذکر سنتے رہے تھے۔ ہم سب بے بے کی زبانی سنی باتوں سے جانتے تھے کہ بابا کیا تھا اور اس میں کیا گُن تھے۔ بے بے بتاتی ہے کہ بابے جیسا جوان پورے گاؤں میں کیا، پورے علاقے میں نہ ہو گا۔ طاقت میں کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔ دن بھر گاؤں کے مختلف لوگوں کا بلاواآیا رہتا تھا جنہیں طاقت سے کرنے والا کام درپیش ہوتا۔ لوہے کے پھال بنانے کو وزنی ہتھوڑے کی زور دار ضرب چاہیے ہوتی تو سبھی کو ایک ہی شخص یاد آتا۔ دور دراز کے گاؤں دیہاتوں تک جب کسی کنویں کے ستونوں پر کانجن رکھنے کا وقت آتا تو میرے بابے کو ضرور بلایا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک طرف سے چارچار آدمی کندھا دے کے کانجن اٹھاتے تھے اور دوسری طرف سے اکیلا بابا کانجن کو رکھ دیتا تھا۔ کسی کی بارات دوسرے گاؤں جائے تو داخلی راستے پر وزنی مگدر رکھا ہوتا، سبھی جانتے ہوتے کہ یہ مگد ر بارات میں کا کوئی بندہ اٹھائے گا تو بارات آگے جا سکتی ہے۔ ایسے موقع کے لیے میرے بابے کو آواز دی جاتی۔ خیر، بے بے کے بیان تو چلیں محبت کے مبالغے پربھی مبنی ہو سکتے تھے لیکن بابے کی جسمانی طاقت کے قصے میں نے اُن کے کئی ہم عمروں سے بھی سُن رکھے ہیں۔ چار دن کی جوانی میں جانے انہوں نے کتنے کام ایسے کیے تھے کہ ان کے ہم عمر انہیں بھولتے ہی نہ تھے۔ سبھی کے پاس کوئی نہ کوئی نیا قصہ ہوتا تھا اور ان سبھی قصوں کو سن سن کر مجھے یہی لگتا تھا کہ میرا بابا اپنے زمانے کا ہرکولیس ہو گا۔ بے بے کا کرنل بھائی میری کمزور صحت پر مسکرا کر کہتا تھا کہ بھائی صاحب اگر زندہ ہوتے تو اس بڑھاپے میں بھی تم جیسے دو جوانوں کو گھٹنوں تلے دبا کر آرام سے کھانا کھاتے رہتے۔ البتہ ان سب باتوں میں وہ رَس نہ تھا جو بے بے کی تصویر کشی میں ہوتا تھا۔ اُس نے بابے کو جن والہانہ نظروں سے دیکھا تھا، ویسے پُر شوق لفظوں میں اس کو بیان بھی کرتی تھی۔ اُچا لما قد،بھرا بھرا پینڈاجثّہ،مگدر جتنا چوڑا پتھریلا سینہ، چوڑے ہاڈ پیر، سوہنا لشکتا چہرہ، ہونٹوں کے اوپر بھاری بھاری مونچھیں، آنکھوں میں پہاڑوں پر اڑتے باز جیسی چمک، کوری تختی جیسا چکنا ماتھا۔ چارپائی پر لیٹا ہوتا تو چارپائی چھوٹی لگتی۔ جب چٹے تہمد پر چٹا کرتہ اور کندھے پر رانگلا پَرنا رکھے گلیوں سے گزرتا تو اُس کی ٹَور دیکھنے والی ہوتی، لگتا تھا کہ جوانی کا دیوتا اپنا اَصلی روپ دکھانے دھرتی پر اتر آیا ہے۔ اسے گلی سے گزرتے دیکھ گاؤں کی کنواری لڑکیوں کے سانس ان کے سینوں میں اٹک اٹک جاتے۔ جانے کتنی لڑکیوں نے اس کو دکھانے کے لیے نت نئے انداز کے کپڑے سلوائے تھے، وَن سونّی گُت بندھوائی تھی اور رنگو رنگ پراندے پروئے تھے۔ وہ کسی شادی بیاہ میں جاتا تو اُسے دیکھ کر کنواریوں کے دل بے تاب جھانجھروں کی طرح چھنکنے لگتے تھے۔ مگر، بے بے بتاتی تھی کہ وہ نگاہ کا ایسا پاک اور نظر کااتنا سُچا تھا کہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا۔ اس کی ایک مسکراہٹ پر جانے کتنے دل پگھل کر اس کی طرف بہنے کو تیار ہوتے مگر اس کا دل اس کی اکڑی مونچھوں سا سخت تھا اور کسی لڑکی کو کبھی اس کے سرد ہونٹوں پر مسکراہٹ کی گرمی محسوس نہ ہوئی۔

میرے ہوش سنبھالنے سے لے کر آج چالیس سال کی عمر تک میں نے بے بے کے منھ سے ایک ہی شخص کا ذکر سنا۔ بابا۔ دوسرے کسی شخص کا ذکر کرنا بھی پڑے تو حتی الامکان بابے کے ساتھ رشتہ جوڑ کر بتاتی، تمہارے بابے کا باپ، تمہارے بابے کی ماں۔ بابے کابھی نام نہ لیتی تھی بلکہ تمہارا بابا کہہ کر ذکر کرتی مگر کون سی گھڑی نہ تھی جب اس نے یہ ذکر نہ کیا ہو۔ بابا لہوبن کر تمام زندگی بےبے کے انگ انگ میں شامل رہا۔ بے بے کا ہر عمل بابے کے خیال سے نمو پاتا تھا۔ ایسے بابے کے متعلق بے بے کا یہ شکوہ عجیب لگتا تھا۔ ہم نہ سمجھ پاتے کہ اپنے محبوب سے گلہ کس وجہ سے ہے۔ میں نے تو کئی بار پوچھا تھا مگر بے بے یوں ٹال جاتی جیسے سوال سنا ہی نہ ہو۔

جس دن میری بہن کی شادی ہوئی۔ ڈولی رخصت ہو کر گھر سے چلی گئی۔ پورا گھر اداس تھا۔ اماں اور ابا چپ سے تھے۔ میرا دل بھی ہلکا پڑا ہوا تھا لیکن بے بے کی آنکھوں میں خوشی کے دیے ٹمٹما رہے تھے۔ بہن کی تازہ جدائی کے صدمے سے بے حال دل یہ دیکھ کر رہ نہ سکا۔ نم آنکھوں نے بے بے سے پوچھ لیا:’تم اتنی خوش کیوں ہو؟میری پھولوں کے پنگھوڑے میں پلی بہن کو غیر لے گئے اور پتا نہیں اب اس کی زندگی سرکنڈوں کے جنگل میں گزرتی ہے یا تپتے تھلوںمیں۔ اس کی آئندہ زندگی کا سوچ سوچ کر میرا دل پھٹنے کو آ رہا ہے اور تم بیٹھی کھِل رہی ہو۔ تمہاری آنکھوں میں خوشیوں کی لَو چمک رہی ہے۔ کیا تمہیں پوتی سے لگاؤنہ تھا۔‘ یہ سوال کرتے وقت میں جانتا بھی تھا کہ پوتی میں اس کی جان تھی۔ بے بے نے جواب دیا:’پتر! تم عورت نہیں ہو نا، اس لیے تم نہیں جانتے۔ بہن بیٹی کو گھر سے ودیاہ (وداع) کر کے یہی دعا کرتے ہیں کہ اس کا نصیب اچھا ہو۔ اس کے بخت کبھی مرجھائیں نہیں۔ عورت کے نصیبوں میں برا نہ ہو تو اس کا جیون سسرال میں ہی ہوتا ہے۔ سہاگ سے عورت زندگی کے رنگ دیکھتی ہے۔ اکیلی جندڑی چِٹّے لٹھے کی طرح روکھی پھیکی ہوتی ہے۔ ‘بے بے کی آنکھیں بھیگنے لگیں تو میں نے جھٹ کہہ دیا:’بابا یاد آرہا ہے کیا؟ ‘ بے بے کی آنکھوں میں بابے کا تصورسرخ لاچا باندھے رقصاں تھا، آج قصہ چھیڑ بیٹھی۔ ’وہ بھولتا ہی کب ہے۔ زندگی اسی کے ساتھ گزری ہے۔ سار ی خوشیاں، سارے غم اسی کے سانجھے میں گزرے ہیں۔ ‘ برسوں سے مچلتا تجسس بول اٹھا:’ تو پھر بابے سے گِلہ کیوں کرتی ہو؟‘بے بے کی آنکھوں میں دُکھ کے سائے لہرانے لگے۔ ’تمہارے بابے سے مجھے دو ہی گِلے ہیں۔ ایک یہ کہ مجھے اتنا جلدی کیوں چھوڑ کے چلا گیا تھا۔ دوسرا گِلہ جو بے بے نے سنایا تھا، وہ تفصیل طلب ہے۔ بے بے کے الفاظ کی بجائے میں اپنے انداز میں بتاتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بے بے ابھی نئی نئی جوان ہوئی تھی، عمرپندرہ یا ساڑھے پندرہ ہو گی۔ دودھ مکھن کی پلی، گورا چٹا رنگ تھا۔ نزاکت میں اپنی مثال آپ تھی۔ گاؤں میں اس جیسی حسین بھی کوئی کم ہو گی، اس پر مستزاد ملکانی تھی اور اونچے نخرے والے گھر کی لڑکی تھی۔ حسن کی دولت فرواں تھی مگر کاجل کے بوجھ سے جھکی آنکھوں میں ایسی معصومیت تھی کہ زمانے بھر کی گناہ گار نظریں بھی حیا سے شرما جائیں۔ بے بے اپنی مست جوانی کے نشے میں جانے کب میرے بابے کی بے پروا اَکھ پر فدا ہو گئی جو اسے کبھی دیکھتی بھی نہ تھی۔ اس بے طرح آگ کی تپش نے بے بے کو یہ بھی دیکھنے نہ دیا کہ وہ ملکانی ہے اور بابا ایک عام واہک جس کے پاس محض چودہ بیگھے زمین ہے۔ وہ سوہنا ہے،تنو مند ہے لیکن اس کے پاس زندگی گزارنے کے وہ وسائل نہیں ہیں جو اسے باپ کے گھر میسر ہیں۔ عشق کا غبار اسے یہ حقیقت دیکھنے بھی نہ دیتا تھا کہ وہ زندگی میں دوبارہ اِس سُکھ کے خواب بھی نہ دیکھ سکے گی جو ابھی اس کے چاروں طرف رقص کرتا ہے۔

بے بے کی کسی نے نہ سنی تھی لیکن بے بے اپنی ضد پر قائم رہی۔ اس کی ہَٹ پر والدین کو ہار ماننی پڑی اور رشتہ طے ہو گیا۔ بے بے شادی سے پہلے خاصی شوخ مزاج اور چاؤ چونچلوں والی تھی۔ ملکانی ہونے کی وجہ سے اس کا نخرہ بنتا بھی تھا۔ بابے کے ساتھ محبت بھی اور شادی بھی اپنی مرضی سے کی تھی۔ اسے بابے سے کچھ درکار نہ تھا۔ البتہ شادی سے پہلے اس نے بابے سے اپنی اس خواہش کا اظہارکیا تھا کہ جب ان کے وصل کی رات ہو تو مسہری پھولوں سے سجی ہونی چاہیے، اصلی گلابوں سے جن کی مہک سے پوری رات اس کے حواس پر مستی چھائی رہے اوراس مہکتی رات کا نشیلا خمار کبھی اس کی یادوں سے محو نہ ہو پائے۔ بے بے نے اپنی ایک مسیر کی مسہری دیکھی تھی۔ اس پر اپنے سہاگ کے انتظار میں بیٹھی نئی نویلی دلہن کا نظارہ بے بے کے خیا ل میں کسی بھی لڑکی کی زندگی کا سب سے حسین اور یادگار نظارہ تھا۔ بے بے کے دل میں بھی یہ حسرت تھی کہ اس کی مسہری بھی پھولوں سے لدی ہوئی ہو اور وہ اسی طرح وصل کے خیال سے مہکتی ہوئی اس پر بیٹھی اپنے محبوب کا انتظار کرے۔

لڑکے والوں نے بارات سے پہلے بھی اور بارات کے دن بھی شادی کی رسومات کچھ زیادہ نہ کروائی تھیں اور ہر پل یہی لگتا کہ اس خوشی کے موقع پر بھی انہیں بچت کی سوجھ رہی ہے۔ دولہے والوں کا یہ رویہ بے بے کے گھر میں سب نے محسوس کیا تھا اور ایجاب و قبول سے پہلے ہی بے بے تک چہ میگوئیاں پہنچ گئی تھیں لیکن بابے کی محبت میں شرابور وہ ان فضول باتوں کو خاطر میں نہ لائی۔ اس کا ذہن تو آنے والی رات کے پھولوں بھرے گلنار تصورسے مخمور تھا لیکن جب بے بے سہاگ کی مسہری تک پہنچی تو وہاں عجب منظر تھا۔ نواڑ کا پلنگ بچھا تھا جس پر پلاسٹک کے پھولوں کی چند لڑیوں سے برائے نام سجاوٹ کی گئی تھی۔ وہ جب مسہری پر بیٹھی تو ارد گرد لٹکتے بے جان پھول اس کے کومل احساس پر چبھنے لگے۔ بابا سادہ جٹ آدمی تھا، ملکانی کی دلار بھری خواہش کی نزاکت نہ سمجھ پایا اور بھلا بیٹھا تھا۔ بے بے کا دل جو اپنے محبوب کی بانہوں میں سمٹنے کے لیے بے تاب تھا، اپنے ارمانوں کی یہ بے جان صورت دیکھ کر بجھ گیا۔ بابے نے بھی اس فاصلے کو محسوس کیا اور اپنی عاشق بیوی سے اس بے رخی، بے نیازی کا سبب پوچھا۔ بے بے نے،جس کے گال جواں جذبوں کی آگ سے دہکتے تھے، بجھ کر بابے کو سبب بتایا۔ بابے نے شرمندہ ہوکروقتی عذر پیش کیا اور پھر کبھی موقع دیکھ کر مسہری سجوا کر اس پر بیوی کو بٹھانے کا وعدہ کیا۔ بے بے کا دل یہ سن کر بہل تو گیا مگر بابے کا ہو نہ سکا۔ یو ں تو یہ دل دھڑکتا بابے کے لیے ہی تھا لیکن اس حسرت میں ایسا دھواں تھا کہ بے بے کے دل میں بابے کے نام کا دیا جلنے نہ پایا۔ دُکھ کی سواہ اس کے وجود کی تہہ میں بیٹھ گئی اور وہیں جمتی رہی۔

بابے کے اس وعدے کے انتظار میں بے بے بیٹھی رہی۔ پورا وجود بابے کو سونپ چکی تھی لیکن دل کبھی بابے کو نہ دے پائی۔ یہ دل منتظر رہا کہ کب بابا پھولوں سے بھری مسہری لگوائے گا،کس دن وہ اس کے وصال کی مہکتی ہوئی دولت سے مالا مال ہو گی اور تب دل پوری طرح اس کاہو جائے گا۔ ادھر بابا جٹ آدمی تھا،لطیف جذبات سے عاری،مشقتوں تلے دبا ہوا، اوپر سے غربت پاؤں جکڑ لیتی تھی، اس وعدے کو پورا کرنے میں کبھی سنجیدہ نہ ہوا۔ اگر پورا کرنا چاہتابھی تو کرتا کیسے۔چودہ بیگھے کی ہل واہی صرف اشد ضرورتیں پوری کرتی تھی۔ پیٹ بھر جاتا تھا، تن ڈھک جاتا تھا اور گاؤں کی پنچایت میں چٹا صافہ باندھ کر بیٹھنے لائق ہو جاتا تھا۔ اس کے پاس نقد روپیہ تو کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ بے بے خود بتاتی ہے کہ بیاہ کے ڈیڑھ سال میں اس نے صرف دو دفعہ روپے کا سکہ ہتھیلی پردیکھا تھا ورنہ لین دین ہمیشہ گندم کے بدلے ہی ہوتا تھا۔ بے چارہ بابا پندرہ سے سترہ روپے خرچ کر کے مسہری لگواتا کیسے۔ بے بے اسی مسہری کے انتظار میں مرجھائی رہی مگر مسہری نے سجنا تھا نہ ہی سجی۔

بے بے کو اپنی زندگی کی ہر خوشی حاصل تھی مگراس نے بتایا کہ مسہری کا دکھ ایک دفعہ بھی اس کے دل سے نہ نکلا تھا۔ کانٹے سا چبھتا تھا۔ خوشیوں بھرے پل گزرتے رہے۔ بابے کا پیار بے بے کے وجود کی گہرائیوں میں اتر کر نمو پا نے لگا اور شادی کے ایک سال بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ یہ میرے ابا جی تھے۔ اس تحفے کو پا کر دونوں خوش تھے۔ بابا خود اکیلا بھائی تھا، پھولے نہ سماتا تھا کہ اتنی جوان عمر میں بیٹا مل گیا۔ بھائی کی طرح ساتھ کھڑا ہو ا کرے گا۔

ہمارے ابا جی ڈیڑھ سال کے ہوئے تھے اور بے بے کے بیاہ کو تین سال ؛ بے بے کی عمر بیس سال ہوگی اور بابے کی چوبیس کہ بابا دنیا سے رخصت ہوگیا۔ چلتا پھرتا ایک دن چارپائی پر لیٹا اور پھر اٹھ نہ سکا۔ اس کی چارپائی لے کر برادری کے لوگ شہر تک بھاگے مگر اس کے سانس پورے ہو چکے تھے۔ جو علامتیں بتائی جاتی ہیں،ان سے میرا اندازہ ہے کہ شاید بابے کی اپنڈکس پھٹ گئی تھی۔ بے بے بھری جوانی میں رانڈ ہو گئی۔ ابھی دھان کی طرح نِسری تھی، لچکیلی، مہکتی، ہری کچور اور ابھی باجرے کا ٹانڈہ ہو گئی، سوکھی، سڑی اور پھیکی۔ ساس سسر کا ایک ہی بیٹا تھا، ان کا دکھ اپنی جگہ لیکن انہیں زیادہ افسوس بے بے کا تھا۔ اگر ان کا کوئی اور بیٹا ہوتا تو شاید اس کے ساتھ بہو کو بیاہنے کا سوچا کرتے لیکن صرف جوان بہو کواکیلے گھر میں بورائی پھرتی دیکھ دیکھ گھُلتے تھے۔ انہوں نے بارہا بے بے سے کہا کہ ماں باپ کے گھر لوٹ جائے اور دوبارہ شادی کر لے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے۔ مگر بے بے نے،جو اس وقت بے بے تو نہ تھی، جوانی کی تپش سے دمکتی، امنگوں سے چھلکتی ہو گی، کسی اور کا ہونے کا سوچا بھی نہیں۔ بابے کی ہو گئی تھی، اب اسی کی تھی۔ بیٹے کو سینے سے لگائے کہ اب وہی اسے بابے کی جگہ لگتا تھا، سا س سسر کے پاس ٹھہری رہی۔ اپنے ماں باپ، سبھی بھائی اصرارکرتے رہے کہ واپس آ جاؤ،ایک دفعہ زبردستی بے بے کا سامان بھی اٹھا کے لے گئے لیکن بے بے اپنی محبت پر جمی رہی۔ کوئی آندھی، کوئی طوفان اسے اکھاڑ نہ سکا۔ ملکانی تھی، گاؤں میں ان کی خاصی جاگیر تھی۔ ماں باپ کے پاس زندگی کی ہر سہولت موجود تھی۔ اکیلے رہتی تب بھی ٹھاٹھ کرتی اور کسی اپنے جیسے گھرانے میں شادی ہو جاتی تو پھر بھی راج کرتی۔ لیکن اسے اپنے رانجھن کا گھر چھوڑنا گوارا نہ تھا۔ ساس سسر غریب تھے، صبح سے شام محنت، مشقت کرتے تب جا کر روکھی سوکھی کھانے کے قابل ہوتے تھے۔ اس گھر میں کوئی فرد فارغ بیٹھ رہے تو گھر کی بنیادیں بیٹھ سکتی تھیں لیکن پھر بھی انہوں نے بہو کو انگلی کا چھالہ بنا کے رکھا۔ ملکانی ہونے کا مان رکھا اورکسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیا۔ اسے کبھی گھر سے باہر پاؤں نہ رکھناپڑا۔ کھیتی، زمینداری، مال ڈنگر اور گھر کی ذمہ داریاں انہوں نے خود سنبھالے رکھیں۔ بہو اونچے گھر کی تھی، اسے خود سے اونچا ہی بٹھائے رکھا۔ بے بے کو کچھ بھی نہ کرنا پڑتا۔ بس یکسوئی سے اپنے بچے کا خیال رکھتی تھی۔ فکر نہ پریشانی۔ اُڑتا پٹولہ بن کر عمرگزاری تھی۔ کھیتی کے سہارے اور وہ بھی چودہ بیگھوں کا مالک،کیسے جی سکتا ہے۔ ان سب نے مشکل سے بسر کی۔ جب ساس سسر رخصت ہوئے تب زمین ٹھیکے پردینی پڑی مگر تب تک بیٹا جوان ہو کر دبئی چلا گیا تھا اور زندگی کے دن آسان ہو گئے تھے۔

بے بے نے بابے کے بعد تریسٹھ سال گزارے تھے۔ میں بابے کے مرنے کے تیئس سال بعد پیدا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ تیئس سال بے بے نے کیسے گزارے۔ مجھے تو آخر ی چالیس برسوں کا حال معلوم ہے۔ یہ چالیس سال گویا مجھ پر بھی بیتے ہیں۔ بچہ تھا تو اس نے میرے اُس بابے کی محبت میرے دل میں ڈال تھی جسے میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ بابے کا حلیہ، بابے کی عادتیں، اس کی ایک ایک ادا؛بے بے نے اتنی دفعہ سب بتایا تھاکہ مجھے لگتا ہے میں نے سنا نہیں، دیکھ رکھا ہے۔ بابا بیلوں کے پیچھے چلتا زمین میں ہل گڑوتا تو اس کی طاقت کے آگے بیل بھی عاجز آنے لگتے۔ گھر میں داخل ہوتا تو چوکھٹ سے جھک کے گزرنا پڑتا تھا۔ کمرے کے دروازے میں کھڑا ہوتا تو روشنی کو بھی درز نہ ملتی تھی۔ بابا جب کھانے بیٹھتا تو پاس بیٹھا شخص روٹیوں کی گنتی بھول جاتا تھا۔ لسّی کا پورا دَور ایک سانس میں پی مارتا تھا۔ اسے بھنڈیوں کی لیس زہر لگتی تھی اور بینگن کا رنگ آنکھوں کو کاٹتا تھا۔ جب کبھی لوہار نے درانتی، کھرپے، کسّی، بیلچے کے نئے پھال بنانے ہوں تو سارا دن وزنی بدان چلانے کے لیے اسے گاؤں میں ایک ہی آدمی ملتا تھا، بابا۔ برادری کی پنچایت میں بابے کے بغیر فیصلہ نہ ہوتا تھا۔ بیلوں کو، بھینسوں کو کاڑھا پلانا ہو تو یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ پھلہ لگانا ہو، سمیٹنا ہو، گندم کا پسّا لگانا ہو، سبھی کاموں میں اس جیسا سلیقہ کسی میں نہ تھا۔ رفتہ رفتہ بابے کی محبت میرے دل میں اپنی جگہ بنانے لگی تھی۔ جوان ہونے تک میں اپنے ان دیکھے بابے کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہو چکا تھا۔ سو بے بے جب کبھی بابے سے جدائی کے دکھ میں جلتی ہوتی تو مجھے اپنی ہڈیاں بھی اسی آگ سے تڑختی محسوس ہوتیں۔ بابا اپنی خوبیوں کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے اچھا لگتا تھا کہ وہ میری بے بے کا محبوب تھا۔ میری بے بے، جس نے مجھے وہ انمول محبت دی جس کا بدل دنیا میں کوئی اور ہستی نہیں دے سکتی۔ ماں نے زندگی دی، باپ نے زندگی کا مان سمجھالیکن بے بے نے جو پیار دیا، وہ مجھے کہیں اور سے نہ مل سکتا تھا۔ بے بے نے مجھے اسی پیار میں سے حصہ دیا جو ابدی شکل میں اسے بابے کے ساتھ تھا۔ بے بے کی ایک چمی میں مجھے تین پیار ملتے تھے۔ ایک تو میں بے بے کا پوتا تھا، دوسرے اکلوتا تھا اور تیسرے میری صورت میرے بابے سے ملتی تھی۔

بے بے کی حالت دیکھ کر میں تصور کر سکتا ہوں کہ بابے کی وفات کے بعدبے بے کے دن کیسے اُجڑ گئے ہوں گے۔ جس عمر میں ہاتھوں پر خوشیوں کی شوخ رنگ مہندی لگتی ہے، اس عمر میں بے بے کے سینے میں ارمانوں کا خون ہو گیا تھا۔ امڈتی جوانی جو بابے کی توانا بانہوں کی چھاؤں میں ٹھنڈے ٹھار گزر جانی تھی، یک دم تپتی دھوپ میں آ گئی تھی۔ ا س عمر میں فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ زندگی اکیلے گزاری جائے لیکن بے بے نے ذرا پروا نہ کی تھی۔

بے بے ہمارے بابے کا نام نہیں لیتی تھی لیکن زندگی اس نے بابے کے نام پر ہی گزاری۔ نہ کسی غیر مرد کی طرف دیکھا نہ کسی غیر کا سایہ اس کے سایے کے قریب سے گزر سکا۔ بابے کے ذکر سے اس کی صبح ہوتی تھی، بابے کو یاد کرتی تو دن گزرتا تھا اور اسی کے روشن خیالوں سے اس کی اکیلی تاریک راتیں جگمگاتی تھیں۔ بے بے پانچ وقت نماز کی پابند تھی۔ قضا کرتے کبھی نہ دیکھا۔ ہر نماز کے بعد بہت دیر تک دعا کرتی رہتی۔ سب کہے بغیر جانتے تھے کہ یہ بابے کے لیے تھیں۔ بے بے بتاتی تھی کہ ہمارا بابا نمازی نہ تھا۔ شادی کے بعد تین سال اکٹھے گزرے مگر بابے نے کبھی نماز نہ پڑھی۔ جوانی کے اندھے نشے میں اس کا سر جھکتا ہی نہ تھا۔ کہتا تھا کبھی جب بوڑھے ہوں گے، ہاتھ پیر کام نہ کریں گے،کمر جھک جائے گی تب لاٹھی ٹیکتے مسجد کے چکر لگایا کریں گے۔ ابھی جوانی اور طاقت کام کرنے کے لیے ہے، سو کام ہی کرتے ہیں۔ دعاؤں کے علاوہ بابے کے نام پر ہفتہ وار’ختم‘ بھی پورے اہتمام سے ہوتا تھا۔ ہر جمعرات کی شام مغرب کی آخری رکعت کے سلام پھیرتے ہی بے بے امیدانہ رسوئی کی طرف دیکھنے لگتی۔ پہلے میری اماں ا ورمیری شادی کے بعد میری بیوی ’ختم‘ کا سامان لیے تیار ہوتی تھیں۔ سامان زیادہ کچھ نہ ہوتا لیکن اتنا ضرورہوتا کہ جوان آدمی اگر کھاتا تو پیٹ بھر کے اٹھتا۔ بے بے کہتی تھی کہ ’جمعرات کی شام ہوتے ہی گزری روحیں گھر کی منڈیر پر آ بیٹھتی ہیں اور آخرت کی دنیا کے لیے زادِ راہ سمیٹ لے جاتی ہیں۔ جس گھر سے مل جائے، وہاں سے روحیں خوش خوش جاتی ہیں اور جس گھر سے کچھ نہ ملے، وہاں سے روتی ہوئی جاتی ہیں۔ جو ثواب انہیں یہاں سے ملتا ہے، وہ آخرت کی دنیا میں جا اپنے کھاتے میں جمع کراتی ہیں۔ ‘ بے بے کی وضع داری کا کمال ہے کہ تریسٹھ برسوں میں ایک دفعہ بھی بابے کی روح خالی ہاتھ نہ لوٹی ہو گی۔ آخرت کی دنیامیں اس کی کمائی بڑھتی گئی ہو گی۔

قبرستان جاتے رہنا بے بے کا معمول تھا۔ کچھ دن اور تہوار مخصوص بھی تھے۔ جمعہ کی صبح قبرستان جانا اور بابے کی قبر پر پنج سورۃ پڑھنا بے بے کے لیے لازم تھا اورہر خاص اسلامی دن پر پورے اہتمام کے ساتھ جاتی تھی۔ محرم، شب برات، شب معراج، شب قدر، عید میلاد النبی، حج اور عیدین کوئی دن بابے کے بغیر آغاز نہ کر تی تھی۔ تغاری میں کھرپا، درانتی لے کر بابے کی قبر پر پہنچ جاتی۔ خاص لگاؤ سے اُس کی صفائی کرتی۔ جھاڑ جھنکار صاف کر کے تازہ مٹی ڈالتی۔ اگر کوئی جھاڑی یا پودا اُگے ہوتے تو رکھوالے سے کٹوا دیتی۔ پھراُس پر اگر بتیاں لگاتی جِن کا دھواں پھیلنے سے ماحول گاڑھی خوشبو سے بوجھل ہو جاتا۔ کوئی اچھا موقع ہوتا تو اس دن صبح سب سے پہلے بابے کے پاس جا کے حاضری دیتی۔ ہزار خوشی ہو،لاکھ مصروفیت ہو،بے بے صبح صبح ضرور قبرستان جاتی اور وہاں ہمارے بابے کے ساتھ پتا نہیں کیا کیا باتیں کر کے روتی رہتی۔ وہاں رو کر آتی تو خوشی میں شامل ہو پاتی تھی۔ ہمیں کبھی معلوم نہیں ہوا کہ بے بے کیا باتیں کر کے روتی تھی لیکن سمجھ تو سکتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ یقینا بے بے کے اتنے دُکھ بھرے آنسو دیکھ کر قبر کے اندربابا بھی رو پڑتا ہو گا۔ کہتی تھی کہ تمہارے بابے کے بغیر میری کوئی خوشی ہے ہی کدھر۔ اُس کا نام نہ لوں، اس کے سرہانے جا کر نہ بیٹھوں تو خوشی پر نحوست چھاجاتی ہے۔ خوشی پھر بھی بے بے سے برداشت ہو جاتی تھی، دُکھ کی ہلکی سی چھایا بھی آتی تو بے بے سے رہا نہ جاتا۔ بابے کے پاس جا کے پناہ لے لیتی۔ کسی فکر، پریشانی کا سامنا ہو تو بابے کی پائینتی بیٹھ کر پہروں ڈسکورے بھرتی رہتی۔ وہ بے بے کی زندگی میں ابھی تک پوری طرح شامل تھا۔

ان سب معمولات کے ساتھ بے بے ایک ایسی رسم بھی باقاعدگی سے نبھاتی تھی جو ہمیں بہت حیران کرتی تھی۔ ویہڑے میں بنی بےبے کی کیاری میں سدا بہار گلاب تھے۔ بے بے اِن کی بہت دیکھ بھال کرتی تھی۔ بہار کے موسم میں ان پھولوں پر جوبن ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی سارا سال اس میں گلاب کھِلے رہتے تھے۔ سیج کے سرخ اور سدا بہارگلاب۔ بے بے قبرستان جانے سے پہلے ہمیں کہہ کر جتنے پھول لگے ہوتے، سبھی اتروا کے تھیلے میں ڈلوا کرساتھ لے جاتی۔ جب خوب خوب رو چکتی، جی بھر کے دعا مانگ لیتی تو پھولوں کو اپنے ہاتھوں سے پتی پتی کر کے بابے کی قبر پر پیار سے بکھیرنے لگتی۔ پھول جو چند لمحے پہلے خوشبو سے ماحول کو مہکائے ہوتے تھے، بے بے کے ہاتھوں کے لمس سے یک دم مرجھا کرمردہ ہو جاتے، خوشبو کا نام تک نہ رہتا۔ بابے کی قبر پر پڑے یہ پھول یوں لگتے جیسے پھول نہ ہوں، پھولوں کی لاشیں ہوں۔ جیسے بے بے نے قبر پر پھول نہ بکھیرے ہوں، مردے کو کنکریاں ماری ہوں۔ بے بے کی رگوں میں بابے کی وعدہ شکنی نے جانے کیسا زہر بھر دیا تھا۔ ہم اکثر بے بے کو کہتے کہ پھول ہم پھینک دیا کریں گے، اگر مرجھا کر ہی پھینکنے ہیں تو پھر پھینکنے کا فائدہ کیا۔ بے بے کی جلتی آنکھیں بتاتی تھیں کہ ایسے مرجھائے پھول قبر پر ڈال کر وہ بابے کو یاد دلاتی ہے کہ پھولوں بھری سیج کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ ابھی بھی خوشبوئوں سے لدی سیج پر لیٹ کر اپنا دل، اپنی سلگتی جوانی بابے کو سونپنے کا خواب اس کی آنکھوں میں رڑکتا ہے۔ اگر اسے خوشبو والے پھول ملنے لگے تو بیوی کے سینے کا سینک اُس تک کیسے پہنچے گا۔

مجھے بے بے کے ساتھ قبرستان جانے کااکثرموقع ملتا تھا۔ کئی دفعہ بے بے نے مجھ سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا تھا۔ خواہش عجیب تھی اور ہمارے گاؤں کے قبرستان کے حالات دیکھتے ہوئے ناممکن۔ ہمارے قبرستان کے گرد،شہرکے قبرستانوں کی مانند، چاردیواری نہیں تھی۔ کھلے میں قبروں کا ایک بہت بڑ اجھنڈ تھا جہاں گزشتہ دو سو سال کے مردے دفن تھے۔ قبرستان کی کوئی حد بندی نہیں تھی۔ بس اتنا تھا کہ جہاں تک قبریں ہیں، وہ قبرستان ہے۔ اس کے چاروں طرف کھیت تھے جہاں فصلیں کاشت ہوتی تھیں۔ اگر قبرستان میں کوئی مردہ مزید نگلنے کی گنجائش نہ رہے تو کوئی نہ کوئی زمین دار اپنی متصل زمین قبرستان کے لیے وقف کر دیتا یا قبرستان کمیٹی اپنے جمع کردہ چندے سے جگہ خرید کر ساتھ شامل کر دیتی۔ اس میں کوئی ترتیب نہ ہوتی اور قبرستان کوچاروں طرف سے جدھر بھی جگہ ملتی، ادرک کی طرح ادھر سے پھیلنے لگتا۔ قبریں بہت گنجان تھیں، لوگوں کی یہی خواہش ہوتی کہ ایک کرم جگہ بھی خالی نہ رہے۔ جہاں کوئی خالی جگہ نظر آتی، وہاں کسی نہ کسی مردے کو ٹھونس دیا جاتا۔ قبرستان کے مرکز میں جہاں شاید ڈیڑھ دو سو سال پہلے کوئی مردے دفنائے گئے تھے، وہاں سے لے کر قبرستان کے بیرونی سروں تک کوئی جگہ خالی نہ تھی۔ قبر کے ساتھ جوڑ کر دوسری قبر کھودی گئی تھی۔ اگر کہیں خالی جگہ رہ بھی جائے تو کچھ ہی دنوں میں وہاں سنگِ مر مر کی نئی تختی لگی ہوگی۔ اس وجہ سے قبرستان کے اندر کوئی جگہ خالی نہ رہی تھی اور باوجود ہزار خواہش کے کوئی اپنے کسی پیارے کے ساتھ دفن نہ ہو سکتا تھا۔ کئی دفعہ ایسے ہوا کہ قبرستان کے درمیان میں جہاں جھاڑ جھنکار زیادہ تھا اور موجود قبروں پر 1880ء کے آس پاس کی تختیاں لگی تھیں، کسی نے خالی جگہ دیکھ کر اپنا مردہ دفنانا چاہا لیکن چار فٹ نیچے جانے پر بیلچے الٹے گھڑوں سے ٹکرانے لگتے۔ (بزرگ بتاتے ہیں کہ مدتوں پہلے آج کل کی طرح لحد پر پتھر کی سلیں رکھنے کی بجائے الٹے گھڑے رکھے جاتے تھے۔ ) اس قبر کواحترام سے دوبارہ پاٹ دیا جاتا۔

کچھ مدت سے ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک نیا رواج چل نکلاتھا۔ لوگوں کے دل میں اپنے پیاروں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش ہمیشہ سے رہی ہے۔ ہمارے گاؤں میں اس سوچ نے نیا رنگ اختیار کیا۔ جب گھر کا کوئی ایک فرد کسی جگہ دفن ہوتا تو اس گھر کے باقی زندہ افراد کی خواہش ہوتی کہ جب ان کا وقت پورا ہوتو انہیں دفن کے لیے اس کے آس پاس جگہ ملے۔ یہ خواہش صرف آرزو کی بات نہ تھی، لوگ اس کے لیے عملی کوشش بھی کرتے تھے۔ آج ایک مردہ دفن ہوتا، کل اس کے بہن بھائی، ماں باپ کی کل تعداد گن کر اتنی قبروں کی جگہ ناپ کر اس کے چاروں طرف دیوارچی سے چاردیواری بنا دی جاتی۔ لوگوں کو تسلی ہوجاتی تھی کہ سب اپنے اکٹھے دفن ہوں گے۔ ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ مرنے سے پہلے اپنی مخصوص جگہ دیکھ کرآدمی کو روحانی تشفی ملتی تھی اوربعد از وفات اسے اپنے خون کے رشتوں کے پاس دفن دیکھ کر اس کے لواحقین کو طمانیتِ قلبی بھی میسر ہو جاتی۔

قبرستان کی جگہ کسی کی ملکیت نہیں تھی۔ اس کا نظام ایک کمیٹی چلاتی تھی جو میت کی تدفین پر کوئی پائی پیسہ وصول نہ کرتی۔ فی سبیل اللہ کام تھا۔ سارا نظام چندے پر چلتا تھا۔ پہلے پہل کمیٹی نے لوگوں کی یہ در اندازی نظر انداز کی، پھر جب یہ چلن عام ہونے لگا تو کمیٹی والوں نے بھی کاروباری ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ ایسے خاندانوں سے جو اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا چاہتے، ان سے اس زمین کی قیمت لے کرجگہ دی جاتی اور حاصل شدہ رقم سے مزید کچھ زمین خرید کر قبرستان میں شامل کر دی جاتی۔ خاندانی شرف اور دولت پر نازاں لوگ اپنے خاندان بھر کے لیے جگہ مخصوص کر لیتے جب کہ غریب لوگ ایسے ہی اکیلے دُکیلے دفن ہوتے۔ گاؤں کے تقریباً ہر اچھے اور قابلِ ذکر خاندان نے اپنے لیے جگہ مخصوص کر رکھی تھی۔ ایسی جگہ کے گرد چاردیواری لگی ہوتی۔ چاردیواری پر خوبصورت ٹائلیں لگی ہوتیں اور قبروں کی آرائش بڑھ چڑھ کرکی جاتی۔ شان و شوکت کے جن مظاہر کا مقابلہ زندگی میں ہوتا تھا، اب موت کے بعد بھی وہی مقابلہ شروع ہو گیا تھا۔ سب کی یہی خواہش ہوتی کہ اپنے خاندان کا امتیاز قائم کرنے کے لیے قبرستان میں دو تین مرلے جگہ حاصل کر لیں۔ جگہ پر قبضہ جمانے کی اس دوڑ میں وہ لوگ زیادہ مستعد تھے جو یورپ اور امریکہ یا خلیجی ممالک میں اپنے خاندانوں سمیت رہائش پذیر ہیں۔ یہ لوگ جب کسی پیارے کی میت واپس لے کر آتے تو ان کی خواہش ہوتی کہ کسی اپنے سگے کے ساتھ دفن ہوں، اگر کسی اجنبی کے ساتھ ہی دفن ہونا ہے تو باہر ہی کیوں نہ مٹی ہو جائیں۔ ایسے لوگ جب اپنا کوئی ایک پیارا دفن کر دیتے تو اس کے آس پاس کی جگہ اپنی برادری کے باقی بزرگوں کے لیے مَل لیتے۔ کمیٹی کو اس جگہ کی معقول قیمت ادا کر کے اس کی اپنی حیثیت کے مطابق آرائش کر لیتے۔ کسی خاندان کی عظمت اسی میں جھلکتی تھی کہ اس کے کتنے لوگ ایک جگہ اکٹھے دفن ہیں۔ جیسے قبائلی جیون میں زندہ لوگوں کے سروں کی تعداد سے قبیلے کی بڑائی کا اندازہ ہوتاتھا، ایسے ہی یہاں مرنے کے بعد تختیوں کی اکٹھی تعدادخاند ان کی برتری قائم کرنے لگی تھی۔ اگر کسی خاندان کی قبریں مختلف جگہ پر بکھری ہوتیں تو انہیں قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا اور وہ خود بھی قبرستان میں جاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے تھے۔

اس طریقے سے جگہ پر قابض ہوئے بغیر اگر کوئی یہ خواہش کرے کہ اس کے مرنے پر اس کی قبر اس کے کسی قریبی عزیز کے سا تھ بنائی جائے تو آرزو امکان کی حدوں سے باہر نظر آتی تھی۔ ایک سال کے دوران قبر کے چاروں طرف درجنوں غیروں کی قبریں چھاؤنی جمائے پڑی ہوتی ہیں۔ ادھر ہماری پاگل بے بے چاہتی تھی کہ وہ مرے تو اُس کی قبر بابے کے پہلو میں بنائی جائے۔ اس خواہش کا اظہار پہلی بار اس نے اپنے بڑے بھائی سے کیا تھا۔ وہ فوج کا ریٹائر ڈکرنل تھا اور شہر میں رہتا تھا۔ نانا کی وفات پر گاؤں آیا تو اس نے باپ کی قبر کے ساتھ چھ قبروں کی مزید جگہ کے پیسے دے کر ایک چار دیواری تعمیر کروا دی۔ وہاں سے فارغ ہو کر وہ ہمارے گھر آیا اور بے بے کے پاس بیٹھ گیا۔ باتوں کے دوران اس نے بے بے کو بتایا کہ اس نے جو چھ قبروں کی جگہ خریدی ہے، وہ اپنے ماں باپ، چاروں بھائیوں اور بہن کے لیے ہے۔ بے بے کا چہرہ تمتما اٹھا اور اس نے وہیں اپنے بھائی کو ٹوک دیا۔

’’نہیں! ہر گز نہیں!میں کسی صورت بھی وہاں دفن نہیں ہو گی۔ ‘‘

بے بے کا بھائی حیران رہ گیا۔ بے بے کے چہرے کو تکتا رہا اور پھر حیرانی سے پوچھا:’’پر بہن! اس میں غلط کیا ہے؟ تمہیں اپنے ماں باپ کا ساتھ گوارا نہیں ہے کیا؟یابھائیو ں سے ناراضی ہے؟‘‘

’’نہ بھائی۔ تم لوگوں سے کیوں ناراض ہوں گی۔ میں نے اپنی جگہ پہلے سے ہی مَل رکھی ہے۔ ‘‘
’’وہ کہاں؟ پہلے کبھی بتایا نہیں۔ ‘‘
’’یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ جہاں میرے سر کا سائیں ہے، میں بھی وہیں جاؤں گی نا۔ ‘‘
’’پر وہ تو قبرستان کے عین درمیان میں ہے۔ قبر پر قبر چڑھی ہے۔ تمہارے لیے ادھر جگہ کہاں سے ملے گی؟‘‘
’’تم لوگ کبھی اس کی قبر پر جاؤ تو پتا چلے نا۔ میں جاتی رہتی ہوں،مجھے پتا ہے۔ اس کے دائیں پہلو میں ابھی تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ بس اسی جگہ کو میں نے مَل رکھا ہے۔ ‘‘
’’مگر وہاں کسی نے چاردیواری بنائی ہی نہیں۔ ‘‘
’’قبر کے لیے قبضہ ضروری ہے؟ دل کی ملکیت کافی نہیں ؟ جس دن احسان کا بابا دفن ہوا تھا، اسی دن میں نے اپنے لیے جگہ مَل لی تھی۔ ‘‘
’’لیکن خالی جگہ قبرستان میں کون چھوڑتا ہے؟ جانے کب کسی کو ادھر دفن کر دیا جائے۔ تمہاری حسرت دل میں ہی رہ جائے گی۔ ‘‘
’’چالیس سال ہو گئے اسے وہاں لیٹے۔ آج تک کسی کی جرأت نہیں ہوئی اس کے ساتھ قبر کھودنے کی۔ آگے بھی دیکھ لینا، وہاں کوئی نہیں آئے گا۔ وہ جگہ میں نے پکی مَل رکھی ہے۔ ‘‘
’’تو تمہارا بیٹا اب خوشحال ہے۔ تھوڑے سے پیسے خرچ کر لو۔ وہ جگہ خرید کے اپنے لیے چاردیواری بنا دو۔ ‘‘
’’ وہ جگہ ہے ہی میری۔ چاردیواری کی ضرورت ہی نہیں؟ اپنی جگہ کون خریدتا ہے ؟‘‘
’’لیکن اگر کسی اور نے وہاں قبر بنا لی توپھر۔۔۔؟‘‘
’’ہر گز نہیں۔۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ میری ملکیت ہے۔‘‘
’’پر بہن! اس جگہ دن کو بھی ڈر لگتا ہے۔ ہماری طرف قبرستان خاصا کشادہ ہے۔ صفائی بھی ہوتی رہتی ہے…‘‘
’’اپنے گھر میں کبھی کسی کو ڈر لگتا ہے بھلا؟‘‘

یہ بات آج سے تیئس سال پہلے کی ہے۔ تب میں لڑکا تھا۔ بے بے کی بات مجھے اتنی عجیب نہیں لگی تھی۔ بے بے کے لہجے کا تیقن مجھے ابھی تک یاد ہے۔ بے بے کی پائینتی بیٹھے یہ باتیں سنتے ہوئے اُس کے تندرست جسم اور سیدھی اٹھی گردن دیکھ کر یہ خیال آیا تھا کہ کیا پتا بے بے کب مرتی ہے اور کون جانتا ہے کہ وہ جگہ خالی رہے گی یا نہیں۔ لیکن بے بے درست کہتی تھی۔ کون سا زبان سے کہتی تھی۔ وہ تو دل سے اس جگہ پر قابض تھی۔ وہ جگہ اسی کی رہنی تھی۔

آج بابے کی وفات کے تریسٹھ سال بعد جب ابا جی کی عمر بھی چونسٹھ سال ہو چکی ہے اور میں خود بھی جوانی کی آخری صفوں میں کھڑا ہوں، بے بے میرے تقریباً جوان بچوں کو کھیلتے کودتے دیکھنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔ بے بے نے اپنی تمام عمر جس سکون اور اطمینان سے گزاری ہے، اسی طرح اگلی دنیا کو سدھار گئی ہے۔ جیسے کوئی کامل پیر محبوبِ ازلی کے وصل کی امید میں چہرے پر سکون اور اطمینان کا احساس لیے نزع کے کرب ناک مراحل سے گزر جاتے ہیں۔ آخری سانس لیتے وقت بے بے ویسے ہی سرشار تھی۔ میری بڑی بچی اور اس سے چھوٹا بیٹا بے بے کے آخری لمحوں میں قریب تھے، وہ بتاتے ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ بے بے نے کب اور کس وقت آخری سانس لیا۔ بس بستر پر لیٹی ہے۔ طبیعت خراب ہے، لبوں پر مسکراہٹ ہے۔ اسی حالت میں معلوم نہیں کب دم دے دیا۔ خود میں نے بھی جب بے بے کاچہرہ دیکھا تو وہی میٹھی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر ثبت تھی جو بابے کا ذکر کرتے وقت ہوتی تھی۔

بے بے کی وفات کے وقت ابا جی یو اے ای میں تھے۔ عمر نوکری کرنے کی حد سے آگے گزر گئی تھی،پرانی جگہ سے جواب مل گیا تھا۔ ابھی ان کی خواہش تھی کہ کچھ برس اور ادھر لگ جائیں تا کہ گھر چلتا رہے۔ ایک نئی کمپنی میں ملازمت ملنے والی تھی اور اس کا ویزہ لگنے کے لیے پاسپورٹ ایمبیسی میں جمع تھا۔ یو اے ای میں پاسپورٹ جمع ہو تو یہ ایک لحاظ سے کالے پانی کی سزا ہوتی ہے۔ پاکستان آنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ فون پر جتنی دفعہ بات ہوئی، آواز کی بجائے رندھے ہوئے الفاظ کا گریہ ہی سنائی دیتا تھا۔ ان کی تلملاہٹ، ان کی بے تابی اور دکھ اپنی جگہ لیکن وہ بے بے کی فوتیدگی پر آ نہ سکے۔ میں اور میرے بچے تھے۔ بہن بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ پہنچ گئی تھی۔ بے بے کے سبھی بھائی بھی خبر سنتے ہی آ گئے تھے۔ اپنی برادری تھی۔ ہمیں کسی طرح کی مشکل نہ ہوئی تھی۔ مرن کی سبھی رسومات مناسب طریقے سے نپٹتی چلی گئی تھیں۔ میرا زیادہ وقت تعزیت کے لیے آئے لوگوں کے ساتھ ہی گزرا۔رسومات کی تمام ذمہ داریاں برادری والوں نے سنبھال لی تھیں۔ جب قبر کھودنے کا وقت آیا تو مجھے کہا گیا کہ قبرستان میں جا کر قبر کی جگہ نشان زد کر وا آؤں۔

ہمارے گاؤں میں قبر کھودنے کے لیے کوئی پیشہ ور آدمی نہیں ہے۔ جب کوئی فوت ہو جائے تو برادری اور گاؤں کے لوگ مل جُل کر خود ہی قبر کھودلیتے ہیں۔ درجنوں لوگ یوں باری باری ہاتھ بٹاتے ہیں کہ کسی کو احساس تک نہیں ہوتا کہ کچھ کام کیا گیا ہے۔ پہلے رشتہ دار پہنچتے ہیں، نشان لگا کر کھودنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ٹولیوں کی ٹولیاں جوانوں کی آنے لگتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے قبر تیار پڑی ہوتی ہے۔

بے بے کی میت کا ناپ لے کر جب میں قبرستان پہنچا اور کسیاں بیلچے لے کر مستعد کھڑے رشتہ داروں کو قبر کی جگہ بتائی تو سبھی نے اعتراض کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہاں قبر کے لیے جگہ خالی ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ بھلاکیسے ہو سکتا ہے کہ تریسٹھ سال سے ادھر کوئی مردہ دفن نہ ہوا ہو۔ چھ فٹ کی جان توڑ کھدائی کے بعد کسی کی کڑکڑاتی ہڈیاں برآمد ہو جائیں گی۔ نئے سرے سے گرد پھانکنی پڑ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنازے میں وقت کچھ زیادہ نہیں ہے، اتنی دیر میں ایک ہی قبر نکل سکتی ہے۔ آخر پر ہڈیاں نکل آئیں تو نئی قبر کی تیاری تک میت کو انتظار کرنا پڑے گا۔ مجھے ان سب باتوں کی کوئی پروا نہ تھی۔ میں جانتا تھا، جس نے اپنی جگہ مَلی ہوئی تھی،وہی اس جگہ دفن ہو گی۔ اس نے تریسٹھ سال انتظار کیا ہے اپنے محبوب کے پہلومیں لیٹنے کا۔ وہ یہیں دفن ہو گی۔

جب بے بے کو نہلا دھلا،کفن پہنا کر چارپائی پرلٹایا گیا تو میں چہرہ دیکھنے کوگیا۔ چہرے پر جمی مسکراہٹ دیکھ کر میرے آنسو نہ رک سکے۔ وہاں جمع مردوں اور عورتوں نے مجھے بہت روکا مگر میرے جذبات قابو میں نہ رہے تھے۔ پہلے بے بے کے پاؤں چومے، پھر ہاتھ اور آخر پر ماتھا چوما۔ یہ میری بے بے تھی جس کے ہاتھوں اور پیروں نے کبھی غیر مرد کی طرف جانے کا سوچا بھی نہ تھا۔ میرے بابے کے ہوئے تھے اور مرتے دم تک اسی کے لمس کو زندہ رکھا تھا۔ یہ میری بے بے کے ہاتھ اور پائوں تھے جو مجھ سے اس لیے حد درجہ محبت کرتی تھی کیوں کہ میری صورت میرے بابے سے ملتی تھی۔ یہ میری بے بے تھی جس کی بے لوث محبت جیسی دولت مجھے دوبارہ نہ ملنی تھی۔ اس بے بے کی محبت کا لاوا تھا جو اس کے آخری دیدار کے لیے آنکھوں سے پھوٹتا چلا آرہا تھا۔ کب جنازہ اٹھا، کب جنازہ گاہ پہنچے اور کس طرح جنازہ پڑھا گیا، مجھے کچھ ہوش نہ تھا۔ آنکھوں میں بے بے کی محبت کے تمام مناظر گریہ کناں تھے اور اشکوں کی پوری برادری میرے اس نقصان پر ماتم کرتی چلی آ رہی تھی۔ جناز ے کے بعد بے بے کو قبر کی طرف لے جایا گیا۔ تریسٹھ سال پہلے چار کہاروں کے کندھے پر لد کر وہ بابے کے پاس آئی تھی اور آج اسی طرح چار کندھوں پر سوار بابے کے پاس لے جائی جا رہی تھی۔ قبر بابے کے بالکل پہلو میں تیار پڑی تھی۔ امام صاحب نے تدفین سے پہلے کی دعا مانگی اور پھر بے بے کی میت کو لحد میں اتارا جانے لگا۔ مجھ میں صبرکی تاب نہ تھی۔ بے بے کے بدن کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ تھی۔ سو بے بے کا ایک بھائی اور بھتیجا میت کو لحد میں اتارنے لگے۔ بے بے کا بے جان وجود لحد میں لٹایا جا رہا تھا جب میرا بھانجا میرے قریب آ کر مجھے ایک تھیلا تھما گیا۔ تھیلا بھرا ہوا تھا اور اس میں بے بے کے گلابوں کی مہک آ رہی تھی۔ اس نے اشارے سے بتایا کہ امی نے توڑ کے دیے ہیں اور بے بے کی قبر پر ڈالنے ہیں۔ میں نے پھول بے بے کے بھائی کو تھما دیے اور اس نے پتی پتی کر کے کفن میں لپٹی بے بے پر ڈال دیے۔ سفید کفن سرخ پھولوں میں چھپ گیا۔ مجھے بے بے کی حسرت یاد آ گئی۔ یہ میت کے پھول کیا ان پھولوں کا مداوا ہو سکتے ہیں جو بابے نے وعدہ کر کے بھی نہیں دیے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پھولوں سے لدے بے بے کے وجود کو پتھر کی سلوں سے ڈھک دیا گیا اور بے بے کا مادی وجود نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

اس دن عصر تک ہماری بیٹھک میں فاتحہ خوانی کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعد میرے ذمے آگ کی ذمہ داری لگا دی گئی۔ میں اِس رسم کا قائل نہیں تھا لیکن دنیا داری کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ مشہور ہے کہ قبر میں مردہ دفن کرنے کے پہلے ہفتے کے دوران کسی بھی رات کوبِجّو آتا ہے اور پائینتی کی طرف سے قبر کھود کر میت تک جا پہنچتا ہے۔ میت کے پاؤں کے انگوٹھے کو منھ میں دباتا ہے تو اس میں دوبارہ جان آ جاتی ہے اور وہ بِجّوکے پیچھے چلتا چلتا اس کے ٹھکانے پر جا پہنچتا ہے جہاں بِجّو اس کا سارا ماس نوچ نوچ کر کھا جاتا ہے۔ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بِجّو آگ سے بہت ڈرتا ہے۔ اگر قبر کے پائینتی ساری رات آگ جلتی رہے توقبر کے قریب بھی نہیں آتا۔ ایسی آگ لگانا مشکل ہے کہ جو شام کو لگائی جائے اور صبح تک جلتی رہے۔ اپلوں کی آگ دھیمی ہوتی ہے، پانچ تھاپیاں ہوں تو تمام رات دُھختے رہتے ہیں۔ بھوسے کی آگ بھی دیر تک دہکتی ہے۔ سو بھوسہ اور اپلے ملا کر انہیں سلگا دیا جاتا ہے۔ یہ روایت جانے کب سے ہے اور جانے کب تک رہے گی۔ میں اگر نہیں کرتا تو ساری برادری کے طعنے ماتھے پر لگتے رہیں گے کہ اسے مرنے والی سے کوئی لگاؤتھا ہی نہیں۔

میں اپلوں اور بھوسے سے بھرا توڑا لیے قبرستان پہنچا تو سورج سرخ تھالی بن چکاتھا۔ قبرستان کے باہر ابھی روشنی میں چمک تھی۔ اندر روشنی ذرا کم تھی لیکن بے بے کی قبر کا گیلا خاکی رنگ پوری طرح نظر آرہا تھا۔ قبر کی تازہ کچی مٹی دیکھ کر تازہ درد تڑپ اٹھا۔ دن بھر لوگوں کے سامنے جس ضبط کا مظاہرہ کیا تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ میں نے اپلوں اور بھوسے کا توڑاوہیں پھینکا اور خود بے اختیار بے بے کی پائینتی گر گیا۔ بے بے نے چالیس سال کی عمر میں جتناپیار دیا تھا اور آئندہ کی تمام زندگی جس پیار سے محروم رہنا تھا، اس کا احساس پانی ہو کر آنکھوں سے بہہ نکلا۔ جانے کتنی دیر میں بے بے کی امڈتی یادوں کے سہارے وہاں پڑا رہا اور بے بے کو پکار پکارکے بچوں کی طرح روتا رہا۔ آنسو میری آنکھوں سے بہتے چلے جارہے تھے۔ کوئی خیال نہ تھا کہ میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں، کوئی روتا دیکھ لے تو کیا کہے گا۔ بس یہی خیال تھا کہ میری جو سب سے پیاری ہستی تھی،وہ اب نہیں رہی اور اس کی دائمی جدائی پر مجھے بہت زیادہ رونا ہے۔

جب خوب دل بھر گیا تو دھیان آیا کہ میں کس کام کے لیے آیا تھا۔ اٹھا اور بے بے کی پائینتی بھوسے اور اپلوں کی ڈھیری لگا دی۔ ماچس جیب سے نکال کر آگ جلانے لگا تھا کہ تبھی میری شامہ سے ایک تیز امڈتی ہوئی خوشبو ٹکرائی۔ خوشبو مانوس تھی۔ میں چونک اٹھا۔ یا حیرت!یہ خوشبو واضح طور پر بے بے کے پھولوں کی تھی۔ ان کی منفرد خوشبو کے متعلق میرے گھر کا کوئی فرد بھی ایک دفعہ سونگھ کر بتا سکتا ہے۔ البتہ یہ خوشبوعام دنوں کی نسبت بہت تیز تھی۔ میں انہی پھولوں میں پلا بڑھا تھا، کسی بھی موسم میں ان پھولوں کی خوشبو اتنی تیز نہ ہوتی تھی، عین بہار میں جب ویہڑے میں سرخ سرخ پھولوں کے کھیس بچھے نظر آتے تھے، تب بھی خوشبو کا احساس اس قدر جوان نہ ہوتا تھا۔ مجھے بھلا دھوکا کیا ہو سکتا تھا کہ ان پھولوں کی خوشبو میری ہر رگ میں بسی ہوئی تھی۔ عمر بھر ان کی گوڈی کی تھی۔ ان پھولوں کی مست خوشبو اپنے دل آنگن میں کھلتی محسوس کی تھی۔ لیکن ے بے کے پھول تو بڑی اداس، دھیمی اور ٹھنڈی خوشبو رکھتے تھے۔ ابھی جو خوشبو آرہی تھی اس میں تیزی تھی،گرمی تھی اور خوشی کے رقص تھے۔ لیکن تھی یہ خوشبو بے بے کے پھولوں کی ہی۔ یہ خوشبو قبرستان میں آ کیسے رہی ہے؟ ادھر کھلے میں کہیں بھی پھول نہیں پڑے ہوئے اور اگر پڑے بھی ہوتے تو اتنی تیز خوشبو نہ آتی؟ آخر اس خوشبو کا منبع کیا ہے؟ دماغ میں کونداسا ہوا کہ یقینا یہ خوشبو ان پھولوں کی ہے جو بے بے کی لحدمیں منوں مٹی نیچے بے بے کے کفن پر ڈالے گئے تھے۔ یقیناً یہ وہی پھول تھے ورنہ ادھر بے بے کے کوئی اَورپھول تو لائے ہی نہیں گئے تھے۔ یقینا یہ وہی پھول تھے جو بے بے کے وجود کے ساتھ مَس ہو کر مرجھا جانے چاہیے تھے لیکن جانے آج کیا ماجرا ہوا۔ خوشبو مری بھی نہیں تھی اور رات کی تاریکی اترنے کے ساتھ پھول اس شدت سے مہکنے لگے تھے کہ منوں مٹی بھی ان کی مہک کونہ روک پائی تھی۔ امڈ امڈ کے باہر آرہی تھی۔ آنسوؤں کی ماری میری آنکھیں خوشی سے سجری ہو گئیں۔ بھوسہ اور تھاپیاں وہیں پڑے رہنے دیے اور ماچس جیب میں ڈال لی۔ بھلا آج کی رات اپلے جلانے کا کیا جواز۔۔؟رونا بھی نحس تھا۔

قبرستان سے نکلتے وقت آخری بار پلٹ کر اس سمت دیکھا جدھر بے بے کی تازہ کھدی قبر تھی۔ پھولوں کی خوشبو یہاں تک آرہی تھی۔ میں دھیرے سے مسکرا اُٹھا۔ یوں ہی خیال آگیا تھا کہ ابدی زندگی کے آغاز پر آج بے بے کے دونوں شکوے ختم ہو گئے۔ اب بابا کبھی جدا بھی نہیں ہو گااور پھولوں بھری مہکتی ہوئی سیج بھی مل گئی ہے۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے آخری بار ان پھولوں کی خوشبو کو اپنے وجود میں اتارا اور تیزی سے ہٹ آیا۔

آج بے بے کو خلوت کی ضرورت تھی۔ آخر تریسٹھ سال بعد سُچے وصال کی رات آئی تھی۔

Categories
فکشن

مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

موت کے قیدی کی گفتگو سے زیادہ اداس کیا چیز ہو سکتی ہے سوائے اس کی خاموشی کے۔ میں پچھلے تیس سال سے سنٹرل جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کے روزنامچے لکھنے پر مامور ہوں۔ میں پچھلے تیس سال سے ایک پل کے لئے بھی نہیں سویا کیونکہ ایسے میں بہت سی قیمتی معلومات کھوجانے کا اندیشہ تھا۔ میں سزائے موت ہو جانے سے لے کر پھندے پر جھول جانے تک کے عرصے کی سبھی جزئیات اپنے بڑے سے سیاہ رجسٹر میں لکھتا ہوں۔ اب تک بلا مبالغہ سینکڑوں موت کے قیدیوں کی آخری دنوں کی تفصیلات کا اندراج کرچکا ہوں۔ میں اتنا با برکت ہوں کہ جس قیدی کو بھی ایک دفعہ درج کرلیتا پھر کوئی بھی واقعہ اسے پھندے تک پہنچنے سے نہ بچا سکتا۔ یہاں تک کہ آج تک کسی قیدی کو دل کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا نہ ہی کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی نے ہلاک کیا تھا۔ صدر بھی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ دینے سے پہلے میرے رجسٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ میرے اس رجسٹر میں، شاہی خاندان کے افراد، فوجی جرنیلوں، باغیوں، بڑے بڑے ڈاکو، پیشہ ور قاتلوں، سیریل کلرز، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے، تفریحاً قتل کرنے والے اور سبھی طرح کے لوگوں کے آخری ایام کے حالات قلم بند ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ میں نے ان کو چیخ و پکار سے لےکر بڑ بڑاہٹ تک ہر شے لکھ رکھی ہے۔ میں نے وہ دلاسے، وہ دعائیں، وہ خواہشیں اور وہ معافی نامے سن رکھے ہیں جو قیدی رات کی تنہائی میں سبق کی طرح بار بار دہراتے ہیں۔ موت کا قیدی ایک ہی یاد کو اتنی بار دہراتا ہے کہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میں قدموں کی تعداد بھی بتا سکتا ہوں جو قیدی زندان کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے لیتے ہیں۔ کوٹھری سے لے کر پھانسی گھاٹ کا فاصلہ (جس کا حساب معین ہے) اس کو طے کرنے میں کس قیدی نے کتنی دیر لگائی میرے پاس سب درج ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کے باب لڑکھڑاہٹ میں وہ سب تفصیلات لکھی ہیں کہ قیدی جب پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو وہ کتنی بار لڑکھڑاتا ہے۔ میں قیدیوں کے آنسوؤں کے قطروں سے لے کر کپڑوں میں پیشاب خطاء ہونے تک کی گیلاہٹ کا حساب بھی بخوبی جانتا ہوں۔ دیواروں پر کندہ نام، قیدیوں کی محبوباؤں کے نام، ان کے ناجائز بچوں کی تفصیلات، ان کی آدھی ادھوری تحریریں اور پینٹنگز، ان کے خفیہ وصیت نامے اور ایسی لاکھوں چیزوں کے بارے میں میں مکمل آگاہی رکھتا ہوں۔ میں نے قیدیوں کے وہ اعترافات لکھ رکھے ہیں جو وہ پادریوں کے سامنے کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ کتنے ہی قیدیوں کو میں نے موت سے چند دن بیشتر دونوں ہاتھوں سے مشت زنی کرتے دیکھا ہے۔ اففف ان میں کچھ تو اتنے جنونی تھے کہ اگران کی ریڑھ ہڈی نہ ہوتی تو وہ اپنے دانتوں سے اپنے عضوء تناسل کو چبا جاتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنے قیدیوں نے اپنے ملنے والوں کے بعد کتنی دیر تک کوٹھری کی ٹھنڈی سلاخوں پراپنے چاہنے والوں کا لمس ڈھونڈا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی میرے علم میں ہے کہ صبح سورج کی روشنی سب سے پہلے جیل کے کس حصے پر پڑتی ہے اوراس روشنی کو اپنے وجود کے انتہائی تاریک گوشوں میں اتارنے کے لئے بعض قیدی کتنی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں۔ روشنی ہی پر کیا منحصر میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ باہر کی تازہ ہوا جیل کی جالیوں میں کس حصے میں کتنی دیر بعد قیدیوں تک پہنچتی ہے۔ میں نے قیدیوں کو پورے اشتیاق کے ساتھ باسی بدبودار کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید آپ لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں مگرایک قیدی کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس میں موجود موت کے خوف کو جانچا جا سکتا ہے۔ میں نے رات کی تاریکی میں دعاؤں کو خود کشی کرتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب قیدی “چکی” کی سزا کاٹ کر پہلی بار روشنی میں آتا ہے تو وہ ایک معصوم پاگل بچے کی طرح دکھتا ہے۔ وہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا جیلر سے بات کرتے ہوئے نہایت منافقانہ خوش اخلاقی سے کام لینے لگتا ہے۔ میرے رجسٹر میں ایک باب “رسومات” کے نام سے ہے جس میں ان تمام رسومات کا ذکر ہے جو موت کے قیدی ایجاد یا دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے دلچسپ رسم “مکالمہ” ہے۔ اس میں ایک قیدی خود کو دو، تین یا اس سے زیادہ افراد میں بدل لیتا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیے یہ محض وقت گزاری کے لئے نہیں ہوتا۔ عام طورپر قیدی یا تو اس شخص سے گفتگو کرتا ہے جسے اس نے قتل کیا ہوتا ہے یا پھر اپنے کسی قریبی عزیز دوست یا رشتہ دار سے۔ بعض اوقات وہ اپنے آپ سے بھی مکالمہ کرتا ہے لیکن اس کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا لہذا وہ جلد ہی اسے ترک کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری اہم رسم “پراسرار طاقتوں کا حصول” ہے۔ یہ رسم عام طور پر رات کی تنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ قیدی کافی دیر تک مراقبے میں رہتا ہے اور بنیادی طورپر دو طاقتوں کا حصول چاہتا ہے۔ ماضی میں واپسی یا غائب ہو جانا، کچھ قیدی اسے مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ رسم صرف غیر سنجیدہ قیدیوں ہی میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کچھ رسمیں جسموں پر نام کندوانے، راتوں کو عریاں پھرنے، کھانے میں پیشاب ملانے وغیرہ جیسی بھی میں نے تفصیل سے درج کی ہوئی ہیں۔ عموماً قیدی موت سے کئی دن پہلے اپنی کوٹھری میں ان مردہ لوگوں کی روحوں سے بات چیت کرتے ہیں جو ان سے پہلے اس کوٹھری کے مکین رہے ہوں۔ میں نے بہت بار قیدیوں سے کہا کہ مجھے بھی اس گفتگو میں شامل کرلو میں اس کی تفصیلات اپنے رجسٹر کے باب بعد از موت میں لکھنا چاہتا تھا پروہ کبھی بھی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ لوگوں کی روح سے بات کرنے کے لئے موت کا قیدی ہونا ضروری ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری بور خیس سے ملاقات ہوتی تو میں اسے بتاتا کہ قیدی کے خیالات قلمبند کرتے ہوئے اس سے کہاں کہاں چوک ہوئی، میں سارتر کو بتاتا کہ وہ باغیوں کی گفتگو بیان کرتے ہوئے کس قدر مبالغے سے کام لیتا رہا ہے۔ میں کافکا کو بتانا چاہتا تھا کہ مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کی پتلیاں کس سمت کتنی دفعہ حرکت کرتی ہیں۔ میں وکٹر ہیو گو کو یہ بات بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک موت کے قیدی کو اپنی بچپن سے جوانی تک سب یاد کرنے میں کل چودہ منٹ لگتے ہیں جنہیں چودہ صفحات میں لکھنا ناممکن ہے۔ میں مارکیز کی۔ ٹالسٹائی اور دیگر بے شمار مصنفوں کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتا ہوں پر مجھے فرصت ہی نہیں ملتی اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں خود بھی ابھی تک سیکھ رہا ہوں۔ ہر قیدی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف ضرور کرتا ہے کہ میرے اندازے غلط ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے کسی بھی قیدی کے متعلق پیشگی اندازے لگانا بند کردیئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں چھ جلاد اور چودہ جیلربدل چکے ہیں۔ تین کوٹھریوں کی از سرِ نو تعمیر ہوئی ہیں، چارکا رنگ و روغن ہوا ہے۔ پھانسی گھاٹ کے لیور کو چھ سو تیرہ مرتبہ تیل دیا گیا ہے اور پھندے کی رسی کی لمبائی میں چار دفعہ کمی بیشی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ سب لکھنا میرے فرائض میں نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی قیدی پھندے پر جھول جاتا ہے میں سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ ایسے لمحے بڑے الہامی ہوتے ہیں اگرمیں شاعر ہوتا تو ایسے ہی لمحوں میں شاعری کرتا۔ بعض اوقات جب جیلر اور جلاد سوئے ہوتے ہیں تو میں خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں اس کی ایک ایک شے کو اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ پھندے کی رسی کو چھوتے ہوئے جو کپکپی میرے وجود پر طاری ہوتے ہے میں پہروں اس کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوبار سوچا کہ اس رسی کو اپنے گلے میں ڈال کر دیکھوں مگرایک انتہائی بزدل شخص ہوں لہذا ایسا کبھی نہیں کرپایا۔

مجھے بتایا جا رہا ہے کہ نئے صدارتی احکامات کے تحت ملک بھر میں سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت میری خدمات کے پیشِ نظر چاہتی ہے کہ اب میں عمر قید کے مجرموں کا روزنامچہ لکھوں پر میں نے معذرت کرلی ہے کیونکہ میں مردہ لوگوں کا روزنامچہ نہیں لکھ سکتا۔ میں اپنا رجسٹر جیلر کے حوالے کرنا چاہتا ہوں مگراُسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک آخری دفعہ کوٹھری سے پیدل پھانسی گھاٹ تک چل کرجاؤں مگریہ فاصلہ یکایک کئی نوری سال پر محیط ہوگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگرمیں نے چلنا شروع کیا تو میں نہ نظرآنے والی بھول بلیوں میں کھو جاؤں گا اور یہ سفر کبھی طے نہیں ہوپائے گا۔ میں نے جانے کتنے برسوں کے بعد آج آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ میں خود کو پہچان نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چہرے میرے چہرے پر تھوپ دیئے گئے ہیں۔ یہ سب بہت خوفزدہ کردینے والا ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کو بغل میں دبایا اور چپکے سے تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا۔

میں ٹھیک سے یاد نہیں کرپا رہا کہ کب پہلی دفعہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب مجھے مرجانا چاہیے۔ شایدسگریٹ پیتے ہوئے یا جیل کا دروازہ کراس کرتے ہوئے یا شاید آخری بارمڑکر دیکھتے ہوئے۔ بہرحال یہ خیال پوری طرح میرے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔ جیل کے باہر سڑکوں پر لوگ ایسے سکون سے چل رہے ہیں گویا انہیں صدارتی حکم کی خبرہی نہیں۔ ان کے چہروں پر نہ ہی خوشی ہے نہ کوئی دُکھ۔ میں ان کے چہروں میں آنے والے دنوں کے قاتلوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب میری نظرایک دم کٹے کتے پر پڑی جو ایک ٹانگ سے لنگڑا کرچل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑائی کتنی زبردست ہوگی جس میں اس نے اپنی دُم کھوئی ہے۔ یہ یقیناً انا کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی یہ اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے اپنے سے طاقت ورکتے سے لڑا ہو گا۔ بلکہ اسے بقاء کی جنگ کہنا بھی شاید مناسب نہ ہو بلکہ یہ تو محض زندگی کی وحشت تھی جو موت کی خاموشی پر حملہ آور ہوئی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک پرانے سے درخت کے نیچے موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس درخت کے پاس بھی یادوں کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ ہو گا۔ وہ پریمی جوڑا جس نے اس کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے عہدو پیمان باندھے ہوں گے اور درخت کے کسی حصے پرشاید اپنے نام کندہ کئے ہوں یا وعدے کی یاداشت کے طورپر کوئی سُرخ کپڑا باندھا ہو۔ اب وہ جوڑا اس درخت کو مکمل طورپر فراموش کرچکا ہوگا۔ یا کوئی قیدی پولیس سے بھاگتے ہوئے کچھ پل کے لئے اس درخت کے پیچھے چھپا ہوگا۔ درخت ان سب یادوں کو لئے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طورپر لا علم تھا کہ اگلی خزاں کے آنے سے پہلے اسے کاٹ دیا جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم زندگی وہ یادیں جمع کرنے میں گزاردیتے ہیں جنہیں ہمارے مرنے کے بعد دوسرے لوگ دہرائیں گے۔ ہماری زندگی زندہ رہنے کی خواہش کے ایک پُر فریب بندوبست کے سوا کچھ نہ تھی۔ میرے پاس سیاہ رجسٹر میں تیس سالوں کی یادوں کے کباڑخانے کے سوا کچھ نہ تھے۔ یہ وہ یادیں تھیں جن میں میرا پنا آپ کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر دو بچے نہایت انہماک سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورایک لڑکی جو شاید ان کی والدہ ہے میرے بالمقابل بینچ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ایک زردرنگ کا کوٹ پہن رکھا ہے اورایک ٹوپی سے اپنے سراورکان چھپا رکھے ہیں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک نظرمیری طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اورپھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اس کتاب میں لکھی کہانی سے واقف ہوں بلکہ میں تمام ترکتابوں میں لکھی تمام کہانیوں سے واقف ہوں۔ مجھے وہ سارے موت کے قیدی یاد آنے لگے جو رات کی تاریکی میں سُرنگ کھود کر جیل سے فرار ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ میرے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مگراس کا دھیان اس کتاب کی طرف ہے۔ لڑکیاں فرار کی داستانوں کو ایسے انہماک سے پڑھتی ہیں گویا وہ سچی داستانیں ہوں۔ میں اس لڑکی کے پاس جاتا ہوں اوراس سے سگریٹ مانگتا ہوں۔ وہ اپنے بیگ کو کھول کر سگریٹ نکال کر مجھے دیتی ہے۔ میری انگلیاں کوٹ میں ماچس ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ لائٹر جلاتی ہے جب میں جھک کر سگریٹ سلگانے لگتا ہوں تو مجھے اس کے جسم سے سستے پرفیوم، زنگ، پسینے اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو آنے لگتی ہے۔ میرے دل میں آتا ہے کاش میں ایک لمبی سے رسی نکالوں اور اس لڑکی کو اسی درخت پر پھانسی دے دوں اور اس کے نرخرے سے ابھرنے والی گڑگڑاہٹ کی گنتی اپنے رجسٹر میں نوٹ کرلوں۔ آہستہ آہستہ شام کے سائے پھیل رہے ہیں سورج کسی بھی لمحے غروب ہونے والا ہے۔ میرے لئے یہ بڑا حیران کن ہے کہ جیل کے باہر کسی کو بھی سورج کے غروب ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن ختم ہونے والا ہے ایک اور شخص اپنے گلے میں پھندا لٹکا کر جھولنے والا ہے۔ یہ خیال مجھے غم زدہ کررہا ہے۔ مجھے وہ دس برس کا لڑکا یاد آتا ہے جو آج سے تیس سال پہلے اپنے والد کے ہمراہ جیل میں آیا تھا۔ اس کے والد پرالزام تھا کہ اس نے شہر کے تین پادریوں کو قتل کیا ہے جس کے سامنے وہ اپنے اعترافات کیا کرتا تھا۔ یہ لڑکا جو اپنے والد کو ایک پیغمبر سمجھتا تھا اس امید پر جیل میں آیا تھا کہ وہ شام کے کھانے سے قبل اپنے گھرواپس پہنچ جائے گا۔ مگراسے روک دیا گیا۔ یہاں وہ اگلے تین ماہ تک اپنے باپ کی تنہائیوں کا ساتھی بنا رہا اوراپنے باپ کے اعترافات اپنی ڈائری میں لکھتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو بتائے بغیر بہت سی دیگر معلومات بھی اس ڈائری میں لکھ لیں۔ اسے پہلا نکتہ یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔ تنہائی میں بھی، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے بھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج اس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہے جلد ہی وہ تھکا دینے والی یادوں سےپیچھا چھڑا لے گا مگرایسا نہیں ہوا۔ میں بینچ سے اٹھ کر دکان پر گیا۔ وہاں سے ایک رسی لی اور لالچی شخص سے ایک ماہ کا ایڈوانس دے کر ایک کمرہ لیا۔ میں نے ڈائری کو آگ کے شعلوں کے حوالے کیا۔ پنکھے کے ساتھ رسی باندھی۔ ایک بینچ پر چڑھ کر رسی اپنے گلے میں ڈالی۔ مگراس کے بعد کے واقعات کچھ مبہم سے ہیں۔ میں رات بھرمردوں کی چیخیں سنتا رہا میں تلاش کرتا رہا کہ ان چیخوں میں دس سالہ بچے کی چیخیں کون سی ہیں۔ مگرمیرا خیال ہے وہ ایک رونے والی بلی کی منحوس آوازیں تھیں۔

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ ویسے ان دنوں میں ایک خفیہ روزنامچہ لکھ رہا ہوں جس کی بابت میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔

Categories
نان فکشن

لکھت لکھواتی ہے (صنوبر الطاف)

میں ایک پیشہ ور لکھاری ہوں۔

منظروں سے اپنی لکھت کشید کرتا ہوں۔خاموشی میں دبی سسکیوں کو سنتا ہوں،آہوں کا مطلب سمجھتا ہوں،بند آنکھوں کے خوابوں کو دیکھ سکتا ہوں،درد سے بلکتے انسانوں کی نہ نکلنے والی چیخوں کو سنتا ہوں اور پھر انہیں لکھتا ہوں۔

میں ان آنسووں کو دیکھ سکتا ہوں جو بہے نہیں ہوتے۔میں برف جیسے سرد لوگوں کو بھی جانتا ہوں۔ان کے سرد رویوں کو بھی سمجھتا ہوں۔میں کسی کے برے ہو جانے کے مسائل سمجھ سکتا ہوں اور انہیں سلجھا بھی سکتا ہوں۔میں نے ہمیشہ انسانوں سے پیار کیا ہے،انہیں اپنا سمجھا ہے۔دنیا کے تمام انسان میری لکھت کا خام مال ہیں۔گہری نیند میں گم بلکتے انسان اور ان کی بند آنکھوں میں جاگتے خواب،سب میرے وجود کا حصہ ہیں۔یہ سب لوگ میری قلم کی نوک پر ہیں۔میں جسے چاہوں،جیسے چاہوں درج کرسکتا ہوں۔کسی کو زندہ کردوں ،کسی کومٹادوں،یہ سب مجھ پر ہے۔یہ سب مجھے اس لیے عزیز ہیں کہ ان کی بدولت میں خود زندہ ہوں اور میرے پیارے بھی۔میں ان کے درد کو اپنی لکھت بنا کر بیچتا ہوں اور پیسے کماتا ہوں۔اگر دنیا میں درد مٹ جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان میرے جیسے لیکھک کا ہی ہوگا۔

میرے پڑھنے والے کہتے ہیں کہ میں درد شناس ہوں،مجھے درد رقم کرنے آتے ہیں۔لوگ میری لکھت کو پڑھ کر بہت عرصے تک اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔میں حقیقتوں کو روندتا،درد کی گھاٹیوں میں اترتا،تکلیف کی گہرائیوں میں ٹھہرنے کا فن جانتا ہوں۔

کچھ عرصے سے میں کچھ نہیں لکھ پارہا۔شاید ایسا تب ہوتا ہے جب میں نے کسی نئے شاہکار کو وجود میں لانا ہوتا ہے۔میں اس عمل میں ایک عجیب سی بے معنویت کا شکار ہوجاتا ہوں۔کوئی بھی منظر،کوئی بھی چہرہ،کوئی بات مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کر پا رہی۔مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور لکھنا ان پیسوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

آج میرے پیارے بیٹے نے مجھ سے پہلی مرتبہ کسی چیز کی فرمائش کی ہے۔اسے ایک ویڈیوگیم چاہیے۔میں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ آج میں اسے وہ دلواکر رہوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔گو مجھے معلوم ہے کہ وہ کوئی ضدی بچہ نہیں ہے۔بہت فرمانبرداراور صابر ہے۔ہم نے زندگی کے کئی دن ایسے بھی گزارے ہیں جب ہمارے گھر کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن میرے بچے نے کبھی مجھ سے شکایت نہیں کی۔

سڑک کے دوسری طرف ایک ہجوم کھڑا ہے۔شاید کسی گاڑی نے کسی کو کچل دیا ہے۔ ارے!یہ ایک بچہ ہے جو سڑک کے درمیان درد سے تڑپ رہا ہے۔وہ بری طرح لہو لہان تو ہے لیکن اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔اس کا بستہ جو پاس ہی پڑا ہے خون میں لت پت ہے۔وہ درد کے مارے بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں۔کبھی اپنا پیٹ پکڑتا اور کبھی سر۔سب لوگ دائرے کی صورت میں کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح دم توڑتا ہے اور میں،لکھنا جس کا پیشہ ہے سوچ رہا ہوں کہ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔میری انگلیاں لکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔میں زمین پر بچے کے پاس ہی دو زانو بیٹھ گیا ہوں۔میں نے تیزی سے قلم کاغذ نکال کر لکھنا شروع کر دیا ہے۔میں اس بچے کے منہ سے نکلنے والی آہ اور اس کا درد لکھنے لگا ہوں۔میں لکھنے لگا ہوں کہ موت اور زندگی کی لڑائی کیسی ہوتی ہے؟کیسے انسان خود کو موت کے پاس جانے سے روکتا ہے اور کیسے موت اس کو اپنے قریب گھسیٹتی ہے۔

اچانک مجمع میں سے ایک شخص نمودار ہوتا ہے۔وہ ایک کمزور سا نوجوان ہے ،آنکھوں کے گرد بڑی سی عینک،ہاتھ میں ایک کاغذ اور پنسل ہے۔اس نے بچے کے سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر بنانی شروع کر دی ہے۔ایسی درد بھری اور حقیقی تصویر بنانے کا موقع اسے شاید پھر کبھی نہ ملے۔ اس کی پنسل بڑی تیزی کے ساتھ اسکیچ بنارہی ہے۔وہ بچے کی ایک ایک تکلیف کی تصویر کاغذ پر اتار رہا ہے۔اِدھر میں درد کو لفظوں میں پرو رہا ہوں اور اُدھر وہ لکیروں کے ذریعے درد کی شکلیں بنارہا ہے ۔ہم دونوں اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔مجمع ساکت ہے اور بچہ تڑپ رہا ہے۔

کچھ اور لوگ بھی دھکم پیل کرتے ہوئے بچے کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ہر طرف سے کیمروں سے تصویریں کھینچنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔تصویروں کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے اور تڑپتے بچے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے وہ فوکس نہیں کر پا رہے ہیں۔ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں کہ ایک شخص نے مائیک پکڑ کر کیمرے کے سامنے بولنا شروع کر دیا ہے:”آج کلمہ چوک میں سڑک پر ایک آٹھ سالہ بچے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ منچلے نوجوانوں نے اس مصروف سڑک پر کارریسنگ کا مقابلہ رکھا تھا۔ یہ بچہ باری باری تین کاروں کی زد میں آیا ہے۔ کہا جاتا ہے اس میں سے ایک کار حساس ادارے کے اعلیٰ افسر کے صاحبزادے کی بھی تھی۔ بچہ ابھی زندہ ہے لیکن بری طرح زخمی ہے۔آپ اپنی ٹی وی سکرین پر بچے کو تڑپتا دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بول نہیں پا رہا ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے ٹریفک جام ہو چکی ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ سب حکومت کی ناکامی کو منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیمرہ مین فلاں کے ساتھ، میں فلاں،فلاں نیوز چینل، اسلام آباد”

میں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ جب تک بچہ آخری سانس نہیں لیتا میں لکھنا نہیں چھوڑوں گا۔ کبھی کبھار وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے لیکن میں ان نظروں کو مفہوم سمجھنا نہیں چاہتا۔میں صرف لکھنا چاہتا ہوں۔

اچانک وہ اپنا خون آلود ہاتھ میرے کاغذ کے اس ڈھیر پر رکھ دیتا ہے جو میرے گھٹنوں پر دھرے ہیں۔میں تھوڑا ناراضگی کے انداز میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ شاید یہ اس کی آخری سانس تھی۔میرا قلم رک جاتا ہے۔تصویریں اور رپوٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔ فوٹوگرافر چلے گئے اور ٹی وی والے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔ مجمع پہلے کی طرح ساکت ہے۔میں اس خون بھرے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگتا ہوں جو اب بھی میرے گھٹنوں پر دھرا ہے۔وہ ایک چھوٹا سا نرم ہاتھ ہے۔ جس کے ناخن بڑی نفاست سے ترشے ہوئے ہیں۔

“کل ہی تو اس کی ماں نے اس کے ناخن کاٹے ہیں” یہ شاید میری آواز ہے۔

“یہ وہی ہاتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے بڑی مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔ انہی ہاتھوں کو پکڑ کر میں نے اسے چلنا سکھایا تھا۔ اسے پنسل پکڑنی سکھائی تھی۔ انہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میں نے کئی بار اس سے پنجہ لڑایا تھا،پھر جان بوجھ کر ہارا تھا ۔نہیں، یہ بے جان ہاتھ میرے بیٹے کے نہیں ہیں۔ یہ تو کہانی کا کردار ہے۔ ایک رپورٹ، ایک خبر اور ایک تصویر ہے۔”

Categories
فکشن

عبدالغنی جیکسن (نیر مصطفیٰ)

ڈان کے بچے! تمہیں کس نے بتایا مجھے پھٹّے والے ہوٹلوں کی چائے پسند ہے؟ شکل سے تَو میں ٹرک ڈرائیور بالکل نہیں لگتا۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ بکواس مت کر، اِتنابھی سکوٹر نہیں ہوں،ٹھیک ہے میری سکولنگ دیہات کی ہے پر جو پچھلے نو سالوں سے یہاں جھک مار رہا ہوں وہ؟تُوبھی ایک نمبر کا بودم ہے، کہا تَو ہے پیچھے سے بالکل وِرجن ہوں اور ویسے بھی نمبردار کے اکلوتے بیٹے سے کوئی پنگا نہیں لیتا۔ ہا۔ہا۔ نمبردار کو اپنا باپ نہیں بنا رہا، سچ میں ایسا تھا، ویسے تم لاہوری بھی بڑے منحوس لوگ ہویار، اچھے بھلے آدمی کی بلاسٹ کر دیتے ہو، میں تَو صرف کڑک چائے کی بات کر رہا تھا، چل ادھر لاسگریٹ کی ڈبی۔

ہاں تَو میں بتا رہا تھا مجھے پھٹّے والے ہوٹل پسند ہیں پر یہ جو انہوں نے فُل والیوم میں جمن خان چلا رکھا ہے، اِس سے سَڑتی ہے میری ! عشق اب غلطی سے آتش لے بھی آیا تو اِس میں چنگھاڑنے کی کیا بات ہے۔جمن خان تَو چلو پھر بھی ہضم ہوجاتا ہے، سوچ اِس جگہ پر نصیبو لعل یا اللہ دتہ لونے والا ہوتا تَو کتنی کِٹ لگتی۔ ہاں استاد! مجھے بھی یہ گانا بہت بکواس لگتا ہے پر جب بھی کہیں بجتاسن لوں، اُٹھنے کا دل نہیں کرتا۔ غلط جا رہا ہے بھائی! بچی شچی والی کوئی گیم نہیں، بس یونیورسٹی زمانے کا ایک دوست فٹ ہوگیا ہے کہیں۔ بہت بڑی فلم تھا حرامی، اگر تُوچائے کا ایک کپ اور پلائے تَو میں اُس کی کہانی سنا سکتا ہوں، لیکن ایک شرط ہے، تُو بیچ میں کوئی یکّی نہیں کرے گا۔

چل تَوپھر سن، نام تو اُس کا عبدالغنی تھا، پر سارے اُسے جیکسن کہتے تھے، مجھ سے دو کمرے چھوڑ کر اس کا روم تھا،ڈیپارٹمنٹ بھی ہمارے قریب ہی تھے۔ اُلو کا پٹھا! بول پڑا نا درمیان میں، اب مجھے کیا پتا جیکسن ہی کیوں کہتے تھے، چوبیس گھنٹے انگلش گانے سنتا تھا شاید اِس لیے، ایک آدھ فنکشن میں گٹار بھی بجایا تھا مگر برے طریقے سے ہوٹ ہوگیا۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا رول نمبرایک تھا لیکن کبھی اُسے کتاب کھولے نہیں دیکھا۔ ہر بار خشکے اور تھیٹے لوگوں کی ماں بہن ایک کرتے ہی سنا۔ سب لوگ اُسے فل ٹائم سٹڈ سمجھتے تھے۔ او تمہیں سٹڈکا نہیں پتا؟ اُف میرے خدایا ! کتنے جاہل آدمی ہو تم۔ بھائی میرے ! سٹڈ اُس وحشی گھوڑے کو بولتے ہیں جس کا کام صرف اور صرف گھوڑیاں لگانا ہو، البتہ ہماری یونیورسٹی میں یہ ٹائٹل صرف اُن لوگوں کو دیا جاتا تھا جو بچیوں کو بالکل نہ لفٹائیں۔

جیکسن تو خیر اِس معاملے میں بہت ہی عجیب آدمی تھا، نہ صرف خود بچیوں کوڈیش پہ لکھتا تھا بلکہ ہمیں بھی کہتا اِس خود غرض اور مکار مخلوق کی اسٹوریوں سے بچو۔ کیاکہا دیکھنے میں بھیڑا تھا؟ بالکل بھی نہیں گدھے ! چھ فٹ سے بھی کچھ لمبا قد اور پٹھانوں جیسا رنگ، وہ تَو اتنا پپو آدمی تھا کہ ایک اشارہ کرتا اور سینکڑوں لڑکیاں پَٹ جاتیں۔ باقی چھوڑ میری اپنی دو تین کلاس فیلوز لائن مانگتی رہیں پر اُس نے دانہ ہی نہیں ڈالا۔ واہ اُستاد! بڑا کتی کا بچہ ہے، تجھے کیسے پتا چلا آخری بات جھوٹ تھی۔ کیا؟ اُس کے پیچھے والے بھی۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ ٹھیک ہے بابا ! بس گزارے لائق ہی تھا اور رنگ تَو بالکل کالا سیاہ تھا اُس کا، لڑکیاں اُسے چٹّا کہہ کر چھیڑتی تھیں، اُس کے ایک دوست نے بتایا پہلے وہ صرف لتا اور کشور کو سنتا تھا، مگر یونیورسٹی میں آنے کے کچھ ہی دنوں بعد اُس نے اپنی ساری کیسٹوں کو آگ لگا دی۔ اِس کے بعد جیکسن نے صرف کالوں کو سنا، کپڑے بھی اُنہی جیسے پہنتا تھا، یہ کھلی کھلی گھٹنوں تک لمبی ٹی شرٹیں اور منٹگمری سے بھی نیچے آتا ہوا ٹراوزر، گلے میں تین تین چینیں۔

نشے کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا، کچھ بھی پلا دو چڑھتی ہی نہیں تھی۔ ایک بار گردا کیا پی لیا اُس کے ساتھ، میں نے تَوچرس سے ہی توبہ کر لی، البتہ بوتل میں ہم دونوں برابر کا جوڑ تھے۔ بس ایک ہی دفعہ بہکا تھا وہ، پہلے تَو اُس نے اپنی ماں کو بہت گندی گندی گالیاں دیں پر کوئی وجہ نہیں بتائی۔ پھر اپنے مرحوم باپ کو دلیپ کمار کے ڈائیلاگ اور اُستاد نصرت کی قوالیاں سناتا رہا اور گیڈر جیسی آوازیں نکال نکال کے روتا رہا۔ٹائٹ ہو گئی نا لڑکے ؟یہ تَو کچھ بھی نہیں، ابھی آگے سن،پھر دیکھتا ہوں تیرا شاپر ڈبل ہوتا ہے کہ نہیں۔

اُس کے مذہبی عقائد اِتنے عجیب تھے کہ تیری سوچ ہوگی۔زیادہ لوگوں کو نہیں پتا، بس ہم یار دوست ہی جانتے تھے کہ وہ بغیر چاند والی راتوں میں ہسپتال کے بلڈ بینک سے ایکسپائرڈ خون کی بوتلیں لے آتا، پھر اُنہیں اپنے کمرے کی دیواروں پہ چھڑک کے شیطان کی پوجا کرتا، تیز چیخوںوالے گانے بھی ساتھ چلا دیتا۔ شروع میں تَو ہم یہی سمجھتے رہے ٹُن ہو کے ڈرامے کرتا ہے، بعد میں پتا چلا کافی سیریس تھا۔ ہماری تو ایسی چِری تھی کہ ہاتھ میں ہی آگئی۔ ٹھیک ہے لالے! تُو چاہے کافر کہہ لے، پر تھا یاروں کا یار،ا ور ہمارے اپنے عقیدے بھی تَو اُس وقت بس ایسے ہی تھے!جہاں تک میری بات ہے میں نے اُس کا نام جیکسن سے بدل کر شیطان کر دیا تھا مگر وہ ایسی کتی نسل تھا کہ اِسے بھی انجوائے کرتا۔ اُس کے لتا اور کشور والے دوست کا خیال تھاشیطان اور انگلش گانے اُس پر کہیں اکٹھے ہی نازل ہوئے ہیں ورنہ پہلے تَو وہ ضرورت سے بھی زیادہ پکاسچا مسلمان تھا۔ یاریہ چائے کب آئے گی؟ اے چھوٹے! ۔۔۔بات سن!۔۔۔کیا کہا ابھی پانچ منٹ اور؟۔۔۔جاپان سے آرہی ہے کیا؟۔۔۔ پیدل ہے؟۔۔ہاں تَو چکنے ! میں تجھے جیکسن کے بارے میں بتا رہا تھا، کون سی حرامزدگی تھی جو اُس نے نہیں کی، پر جب فرسٹ ائیر کا نتیجہ آیا تَواُس نے پھر ٹاپ کیا تھا۔ ہم سپلی والوں کی تَو بج کے رہ گئی۔

ہاں بھیا! میں تَو بس ایویں ہی تھا مگر وہ سالاجینیئس تھا_____ فل ٹائم جینیئس، اور پرابلم یہی ہے کوئی چیز بھی زیادہ ہو جائے تَو آدمی کو سلفیٹ بنا دیتی ہے،جیسے بہت ہی امیر بندے سے دولت نہیں پچتی، بالکل ویسے ہی زیادہ ذہن والا آدمی ڈیش پہ لٹکا رہتا ہے۔ یہ کائنات بھی بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے میرے دوست! عیاشی سے جینا ہو تَو درمیان والے بن جاو۔ ہا۔ہا۔ہا۔ ابے تالیاں بجا بجا کے مت دکھا جاہل آدمی! درمیان والے کا ایک مطلب میڈیاکر بھی تَو ہے۔ کیا کہا؟ فلسفہ نہیں سننا، کہانی سننی ہے؟ ٹھیک ہے، تَو پھر بیچ بیچ میں بھین پٹکیاں نہ کر ناں۔ جیکسن کو بھی یہی تیرے والی بیماری تھی مگر اُس کو تَو اور بھی بہت ساری بیماریاں تھیں۔ شروع میں اُس کے سٹنٹس پہ بہت حیران ہوتے تھے،پھر آہستہ آہستہ عادت ہوتی گئی، لیکن اِس کے باوجو دایک بات اِتنی عجیب ہوئی کہ میٹر کی گھنٹی کھنچ کے رہ گئی۔ ہم اکٹھے ڈارلنگ کے چکلے پر گئے تھے، واپسی پر جیکسن نے بتایا کہ اُس نے بالکل بھی گیم نہیں ڈالی، بس اپنی بیلٹ اُتار کر پَرا س کو پکڑا دی، پہلے تَو وہ مانی ہی نہیں،پھر اُس نے دو سو روپے زیادہ لے کر قریب قریب پندرہ منٹ تک اُسے مارا، تب جا کے وہ چُھٹا ! اُس نے مجھے قمیض کھول کے نشان بھی دکھائے تھے۔ پاگل؟ نہیں یار! بس تھوڑا اینٹیک قسم کا پیس تھا اور کچھ نہیں۔

ہاں اُستاد! ویسے تَو چِل ہی رہتا تھا، البتہ سیشن کے آخری دنوں میں اُس کی فل ٹائم ٹھک گئی، پتا نہیں اندر ہی اندر کب سے ہریسہ پک رہا تھا، اُس نے کسی کو بتایا ہی نہیں، خیر بتا بھی دیتا تَو ہم کیا کر لیتے، لڑکی کا چکر تھا بھائی۔ اینگل تو پہلے سے ہی کچھ خاص ٹھیک نہیں تھے مگر فیئرویل نائٹ کو وہ ایسا اُلٹا کہ ساری فلم خراب ہو گئی____بالکل خراب۔ ایک سیکنڈ یار! چائے کا سِپ تَو لینے دے، بھاگا تَونہیں جارہا ہوں۔ ہاں، تَو جیسے ہی فیئرویل نائٹ اپنے پِیک پر گئی اور ڈانس پارٹی شروع کرنے کا ٹائم آیا تَواُس نے ہر فنکشن کی طرح اِس بار بھی کمپیوٹر پر اپنی پوزیشن لے لی اور فلم والیوم میں ٹیکنوچلا دیا۔ اِتنا بم گانا تھا استاد کہ سب لوگ مست ہو گئے اور لمبا سا دائرہ بنا کر ناچنے لگے۔ پھر پتا نہیں جیکسن کو کیا ہوا، اُس نے ایک دم ٹیکنو بندکیا اور جمن خان چلا دیا۔ سب کچھ جیسے رُک سا گیا تھا۔ پوری پبلک حیرت سے اُسے ہی دیکھے جارہی تھی۔ جیکسن سٹیج سے اترا اورناک کی سیدھ میں چلتا گیا۔ آخر کار وہ اپنی ایک کلاس فیلو کے بالکل سامنے جا کر فل سٹاپ ہوگیا تھا_____کسی اسٹیچو کی طرح ! پھر جو ہوا وہ ہم سے بہت اوپر کی گیم تھا، شیطان سجدے میں پڑا تھا لالے۔ اونہوں فرنچی نہیں، سجدے کا مطلب سجدہ ہی ہے،وہی جو لوگ خدا کو کرتے ہیں یار! ابے کہاں، لڑکی تَو اُس پر تھوک کے چلی گئی تھی۔بعد میں میری ایک کلاس فیلونے بتایا وہ اوپر والی لیزبین تھی، مجھے تَوخیر بتانے والی پر بھی پورا پورا شک تھا۔ چھوٹے بھائی! ۔۔ہیلو! ۔۔۔ ادھر آو! کتنے پیسے ہو گئے؟____ ہاں استاد! تُو ٹھیک ہی کہتا ہے ایسے کافر کو جینے کا کوئی حق نہیں،کچھ دنوں بعد وہ اپنا ہی بنایا ہوا تیزاب پی کے مر گیا تھا____ نہیں میری جان! آنسو کا اِدھر کیا کام؟ سگریٹ کا دھواں گھس گیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔

Categories
فکشن

ڈھاک کے تین پات (تصنیف حیدر)

(1)

رات کے سوا بارہ بج رہے تھے، باہر تیز برسات ہورہی تھی۔بجلیوں کی دھاڑ پاڑ کے ساتھ ہی گھر میں لکڑیوں کی الماریاں اور کانچ بج رہے تھے۔بعض دفعہ تو ایسی زبردست آواز آتی گویا بجلی بالکل ان کی عمارت سے باہر کے جنگلے پر ہی گری ہو۔ایسے موسم میں وہ دونوں عورتیں باہر کی آوازوں سے بے پروا اپنی باتوں میں مگن تھیں، اکثر وہ بجلی کی تیز چمک سے چونک کر باہر کالے آسمان کو گھورتیں اور پھر واپس اپنی باتوں میں ڈوب جاتیں۔دراصل وہ بھوت پریتوں، آسیبوں اور ماورائی قصوں کو یاد کررہی تھیں، ان میں کچھ ان کی زندگی سے متعلق تھے اور کچھ کتابی۔انہی کتابی قصوں میں ہوتے ہوتے روسی کہانی کار پوشکن کی مشہور کہانی ‘حکم کی رانی’ کا ذکر آیا۔اور اس کہانی میں آننا فیدوتوونا کے کردار، اس کی شخصیت، قتل اور بھوت بن کر واپس آنے کی چرچا شروع ہوئی۔

‘مجھے اس عورت کا کردار بہت پسند ہے، وجہ یہ ہے کہ مزاج میں وہ کچھ کچھ میری دادی سے ملتی جلتی ہے۔’ شاردا نے کہا۔وہ ایک سانولی عورت تھی، قریب چالیس بیالیس برس کا سن تھا، مگر بدن کسا ہوا، ہونٹ ترشے ہوئے، گھنے کالے بال، چست سینہ اور لمبی گردن۔وہ اس وقت ایک ہرے رنگ کا ٹی شرٹ پہنے تھی، جو شانوں پر سے دو دائروں کی شکل میں کٹا ہوا تھا، جہاں سے اس کے چمکتے ہوئے گول گول کندھوں کی ہڈیاں اور ان پر تنی ہوئی چکنی سانولی جلد نمایاں ہورہی تھی۔اس کی باتوں کا انداز خاصا تحکمانہ تھا، وجہ اس کی شاید یہ تھی کہ وہ شہر کے بڑے رئیسوں میں شمار ہوتی تھی، سب کچھ اب تک اس نے اپنے بل بوتے پر کیا تھا، مگر ایک بات جو دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ تھی وہ یہ کہ اس کے جسمانی تعلقات کسی مرد کے بجائے ایک عورت کے ساتھ تھے، اور یہ دوسری عورت مریم تھی۔مریم کی کہانی بھی دلچسپ تھی، اسے ایک پچاس سالہ عیسائی سکول ٹیچر سے بالکل اوائل جوانی میں محبت ہوئی تھی، مگر اس محبت میں وہ کچھ خاموش خاموش اور جھجھکی ہوئی سی رہتی۔عیسائی آدمی اس سے بہت محبت جتاتا تھا، لہذا اس محبت کا نتیجہ یوں نکلا کہ اچانک ایک روز گھر والوں کی نظر مریم کے بڑھتے ہوئے پیٹ پر پڑی، اس وقت مریم کی عمر یہی کوئی سولہ، سترہ سال کی رہی ہوگی۔

گھر والوں نے اسے بہت مارا پیٹا، باپ سخت گیر مسلمان تھا اس لیے، یہ پتہ لگنے پر کہ مریم کو کسی عیسائی آدمی سے عشق ہے، اس نے اپنی بیٹی کو گھر سے باہر پھینک دیا۔مریم دردر کی ٹھوکریں کھاتی رہی، سکول ٹیچر اس جرم کے ڈر کی وجہ سے پہلے ہی کہیں روپوش ہوچکا تھا، مگر اتفاق سے اسے ایک عیسائی عورت نے، جو کہ نن تھی اور ایک مشنری میں کام کرتی تھی، سہارا دیا، پانچ مہینوں بعد مریم نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا، مگر اسے اس بات کا زیادہ دکھ نہیں ہوا، عیسائی عورت نے مریم کی ادھوری پڑھائی مکمل کروائی اور بعد میں اس کا مذہب تبدیل کرواکر قریب چوبیس برس کی عمر میں جوزف نام کے ایک ادھیڑ عمر شخص سے اس کی شادی کروادی۔جوزف ویسے تو شریف آدمی تھا، مگر وہ جنسی عمل کے دوران مریم کو بہت ایذائیں دیتا تھا، رات رات بھر جگاتا، اس کی حالت پتلی کردیتا، اسے مارتا پیٹتا اور صبح رو رو کر معافی مانگتا۔یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا، مگر جب بات حد سے نکل گئی تو سال بھر کے اندر ہی اندر مریم بھاگ کر ایک دوسرے شہر چلی گئی۔یہاں وہ اپنی سہیلی کی مدد سے پہنچی تھی، اس شہر میں سب سے انجان تھی، اس لیے جس عورت کے یہاں رکی، اسی نے اسے دنیا کے سرد و گر م سے واقف کرایا، شہر بھی گھمایا اور کام بھی دلوایا۔نام وام اس کا کچھ پتہ نہیں، مگر شاید وہی عورت مریم کی زندگی میں اس کی پہلی باضابطہ محبت بن گئی تھی۔دو سال تک وہ دونوں ساتھ رہے، مگر پھر اچانک کسی دن معلوم ہوا کہ اس عورت کو کوئی عجیب و غریب بیماری ہے، جس کے چلتے چند ہی دنوں میں اس کا انتقال بھی ہوگیا۔اب مریم کی عمر قریب ستائیس برس تھی۔اس نے اپنی مرحوم محبت کو زندہ رکھنے کے لیے تین سال تک اسی شہر میں رہ کر کام کیا، مگر ایک رات د ل پر ایسی اداسی کا غلبہ ہوا کہ وہ اگلے ہی دن اس شہر چھوڑ کر ایک پہاڑی مقام پر چلی گئی۔وہاں اس نے اپنے جمع شدہ پیسوں سے اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔یہ ایک چھوٹا سا ریستوراں تھا، جو چائے ناشتے کے لیے مخصوص رکھا گیا، اس لیے دن بھر کہر آلود پہاڑی فضاوں میں آتے جاتے سیاح اس ریستوراں پر جمع ہوتے رہتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال میں کاروبار اچھا خاصا چل پڑا۔مریم نے بہت سوچ بچار کرکے نزدیک کے ایک پرانے ہوٹل کو قسطوں پر خرید لیا۔اس کی ترقی اور موجودہ مالی حیثیت کے اعتبار سے اس کے پروجیکٹ پر ایک نیم سرکاری بینک نے اسے اچھا خاصا لون دے دیا اور اس طرح وہ کھنڈر نما ہوٹل سیاحوں کے ٹھہرنے لائق بنادیا گیا۔ اس ہوٹل میں قریب بیس بائیس کمرے تھے۔نئے شادی شدہ جوڑے سے لے کر غیر ملکی سیاح سبھی یہاں ٹھہرنے لگے اور کبھی کبھی تو سکولوں کالجوں کے طالب علموں کا کوئی گروپ جب ادھر کا چکر لگاتا تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے۔دیکھتے دیکھتے ایسی کچھ تنظیموں سے اس کا رابطہ ہوگیا جو مختلف شہروں سے سیاح بٹور کر لاتے اور اس کے ہوٹل میں ان کے قیام کا انتظام کرواتے۔مزید تین برسوں میں نہ صرف اس کا سارا قرض ادا ہوگیا بلکہ اب وہ ایک او ر ہوٹل خریدنے کا ارادہ کررہی تھی، قریب تیس چالیس افراد کا عملہ ہوٹل اور ریستوراں کو ملا کر کل وقتی یا جز وقتی طور پر اس کے یہاں ملازم تھا۔

اتنے برسوں میں کبھی بھی مریم نے اپنے گھروالوں سے دوبارہ بات نہیں کی تھی، بہت سے لوگوں کواس کا مذہب بھی پتہ نہیں تھا، وہ ایسی خاص مذہبی تھی بھی نہیں،نہ اس کے ریستوران اور ہوٹل میں کوئی ایسی مورتی یا تصویر تھی، جس سے اس کے مذہب کا کوئی اندازہ لگایا جاسکتا۔البتہ وہ پڑھنے کی بہت شوقین تھی۔گورا چٹا رنگ تھا، بدن چھریرا، بال ہلکے سنہری مائل، ہونٹ گہرے گلابی اور پچھلے کئی برسوں سے پہاڑی مقام پر ایک یوگا کلاس میں مستقل جانے کے سبب اس کے چہرے اور بدن کی جلد بالکل تنی اور چمکدار تھی۔اب سوال یہ ہے کہ دو مصروف ترین عورتیں اس وقت اس عمارت کے اکیلے کمرے میں کیسے اکٹھا ہوگئی تھیں۔بات یہ تھی کہ پہلی دفعہ شاردا سے مریم کی ملاقات ایک معمولی سے جھگڑے کے سبب ہوئی تھی۔شاردا کسی بات سے خفا ہوکر ہوٹل کے مینجر کو بلانے پر رات کے ڈھائی بجے اڑ گئی تھی، جب مریم، جو کہ اپنے ہوٹل کی مینجر بھی تھی، تڑکے چھ بجے وہاں پہنچی تو اسے پتہ لگا کہ کمرہ نمبر گیارہ میں جو خاتون ٹھہری تھیں وہ کمرے کی حالت سے خوش نہیں تھیں، چنانچہ فی الوقت ان کا روم بدلوادیا گیا ہے، مگر وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ مریم اس عورت سے ملی، کیونکہ ایسا اور اتنا ناخوشگوار واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا، اس لیے اس کے دل میں خوف اور ایک نئے تجربے کا احساس شور مچارہا تھا۔لیکن جب تک وہ شاردا سے ملی، شاردا کا غصہ ٹھنڈا ہوچکا تھا۔

پہلی نظر کی محبت پر یقین کم ہی ہوتا ہے، مگر ایسا نہیں کہ یہ چیز دنیا میں ناپید ہے،بہت سے ایسے لوگ ہیں، جنہیں پہلی بار دیکھنے پر دل اتنی زور سے دھڑک اٹھتا ہے جیسے اچھل کر حلق میں آبیٹھا ہو۔بعض دفعہ ایسی محبتوں کی عمر بس اسی لمحے تک محدود رہ جاتی ہے، مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ پہلا خوف میں ڈوبا ہوا خوشی سے بھرپور لمحہ زندگی کے آخری چھور تک ساتھ ساتھ چلا آئے، خاص طور پر تب، جب ایک ہی وقت میں دو دل اچھل کر حلق میں آبیٹھے ہوں۔ اس سے پہلے کہ شاردا کچھ کہتی، مریم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، برابر میں بٹھایا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر اپنی زندگی کی ساری روداد اسے ایک ہی سانس میں سنادی۔ اس بات نے ان دونوں کا رشتہ اور گہرا کردیا۔وہ دونوں ہی عورتیں اپنا اپنا کاروبار چلا رہی تھیں، حالانکہ کسی کام کے سلسلے میں شاردا کو اس ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا تھا، جسے وہ اپنی شان سے بہت کم آنک رہی تھی اور بظاہر کمرے کی ہر چیز ٹھیک ہونے پر بھی اسے کسی قسم کی کمی کا احساس ہورہا تھا۔وہ دل ہی دل میں اس کلائنٹ کو کوس رہی تھی، جس کی وجہ سے اسے سردی کے اس موسم میں یہاں کی کہر آلود فضا میں اترنا پڑا تھا اور سیاحوں کی زیادتی اور پہلے سے کوئی بکنگ نہ ہو پانے کی وجہ سے اس کھٹارا ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا تھا۔ شاردا اپنے رتبے کے اعتبار سے زیادہ تر خاموش ہی رہا کرتی تھی، وہ ان عورتوں میں سے تھی، جن کی خود اعتمادی ایسی بلا کی ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑا مرد ان سے بات کرتے ہوئے خوف کھاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ زندگی کی پینتیس سے زائد بہاریں دیکھنے کے باوجود کسی مرد کی اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ آگے بڑھ کر اس سے اظہار محبت کرسکے۔

وہ پیدائشی رئیس تھی، اس لیے اس کی آن بان میں، چال ڈھال میں ہر طرح سے ایک قسم کی امارت ٹپکتی تھی۔ چہرے پر ایسا سرمئی تیج تھا اور آنکھیں اتنی گھنی کالی کہ بعض دفعہ اس کے دیکھ لینے بھر سے ہی اس کے قریبی سٹاف کی جان سوکھ جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ اس نے خود بھی کسی کو اپنے برابر آنکا ہی نہیں،اور اس کی اس بارعب زندگی میں محبت کے چھینٹے اب تک پڑے ہی نہیں تھے۔مگر مریم سے اس کی محبت کا احساس اتنا یقینی اور گہرا تھا کہ وہ اسے چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکی۔دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں کے درمیان نہ صرف جسمانی بلکہ گہرا جذباتی تعلق قائم ہوگیا۔مگر جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محبت میں اپنی تحکمانہ روش کو ترک نہیں کرسکتے،شاردا بھی اسی قسم کی عورت تھی۔وہ خود بھی جانتی تھی کہ مریم تیزی سے ترقی کرنے کے باوجود اس کی بھنووں کی جنبش تک سے اندر تک ہل جاتی تھی، کسی بات پر شاردا کے ماتھے پر بل نہ پڑجائیں، کوئی شکن تک نہ آجائے، اس لیے وہ ہر بات میں اتنی احتیاط برتتی کہ بعض دفعہ اپنے دل میں اپنی ہی غلامانہ روش پر شرمندہ ہوجاتی مگر اگلے ہی لمحے شاردا کا سنجیدہ چہرہ، اس کی کالی آنکھیں اور گھنے بال مریم کے خیال کے میدان میں اتر کر اس احساس شرمندگی کا ایسا صفایا کرتے، گویا اس نے کبھی وہاں جنم ہی نہ لیا ہو۔

مریم نے چیخوف کی کہانی ‘محبت کے بارے میں’ کئی بار پڑھی تھی۔ اور وہ اس بات سے اتفاق رکھتی تھی کہ محبت میں خود سپردگی کا جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک پڑھی لکھی، مہذب اور خوبصورت خاتون کسی ان پڑھ باورچی کی مارپیٹ سہنے تک پر خود کو راضی کرلیتی ہے۔شاردا تو خیر ایک بہت اعلی ٰ درجے کی خاتون تھی، کبھی کبھی مریم یہ بات سوچ کر فخر سے بھر جاتی کہ اخباروں میں جب ملک کے اعلیٰ ترین معماروں کے نام چھپتے ہیں تو ان میں ایک نام اس کی معشوقہ کا بھی ہوتا ہے۔مانا کہ وہ شادی شدہ ہے، اس کی ایک مصروف زندگی ہے، مگر ہر تین مہینے میں ایک دفعہ وہ یہاں آتی ہے، کبھی ایک تو کبھی دو روز کے لیے، اور آپ شاید یقین نہ کریں مگر ان دو دنوں کی اطلاع ملتے ہی ہوٹل میں ان دنوں کی کوئی بکنگ نہیں کی جاتی۔پورا ہوٹل صرف ایک عورت کے لیے بک ہوتا تھا،سٹاف ان کی دیکھ ریکھ کرتا، چہ میگوئیاں بھی۔مگر وہ پہاڑی درمیانہ درجے کے لڑکے لڑکیاں چاہے کچھ بھی بکیں، ان کی اوقات ان دو صاحب حیثیت عورتوں کے سامنے کیڑے مکوڑوں جیسی بھی نہیں تھی۔چنانچہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کی نگاہیں نیچی رہتیں۔ اس بات کو اخلاقی طور پر برا سمجھتے ہوئے بھی وہ اس لیے اس موقع کا انتظار کرتے تھے کیونکہ مریم انہیں ان دنوں کے لیے خصوصی طور پر بونس دیا کرتی تھی۔شاردا کی پسندیدہ مخصوص ڈشیں یا تو بنوائی جاتیں یا کسی ہوٹل سے انہیں بنوا کر یہاں لایا جاتا۔ہر کام وقت پر ہوتا، ذرا چون و چرا نہ ہوتی۔ اس بھید بھری محبت میں بھی اک جرم کی لذت کا سا احساس شامل تھا، جو ان دونوں عورتو ں کو اندر سے شرابور کردیتا۔ان کے اعتماد کو بڑھاتا اور ان کی تشنہ کامی کو اگلے تین مہینوں کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا۔اس ایک یا دو دنوں کے موقعے میں ہونے والی ان کی محبت اتنی شدید اور ایسی والہانہ ہوتی کہ مریم کو کئی دفعہ شاردا کی ایذادہی کی وجہ سے جوزف کا خوفناک چہرہ یاد آجاتا، مگر یہ بڑا نفسیاتی بھید تھا کہ جس ایذارسانی کے خوف سے بھاگ کر، اتنا لمبا سفر کرکے وہ شاردا کی بانہوں تک پہنچی تھی، وہاں یہی ایذادہی اس کو لذت پہنچاتی تھی۔بہرحال بھید کچھ بھی ہو، مگر ان کا رشتہ چلتا جارہا تھا، بالکل کسی آبشار کی طرح رواں دواں۔

قریب پانچ سال کے عرصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شاردا نے تین مہینوں میں ایک دفعہ ادھر کا چکر نہ لگایا ہو۔جب رات کو ایک بھرپور وصل کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی یا علیحدہ لیٹتیں تو دنیا بھر کے ادب اور لیکھکوں کا ذکر نکل آتا۔کبھی شاردا کہتی۔

‘مریم! میں سمجھ نہیں پاتی کہ تمہاری آنکھوں میں موجود ہروقت کی یہ اداسی کیسی ہے؟’
مریم جواب میں پوچھتی’کیسی اداسی شاردا’
‘تکمیلیت کی اداسی، ایسی اداسی جو یاسوناری کاواباتا کے کرداروں کے یہاں ہوتی ہے، جو اس کی کہانیوں کی خاصیت ہے۔’
‘شاید سرد علاقے میں رہنے کا اثر ہے۔’مریم جواب دیتی۔

اور اسی طرح جب وہ بچھڑتے تو ضرور کوئی نہ کوئی کتاب مریم شاردا کو تھمادیتی۔اور اتفاق یہ تھا کہ وہ ایسی ہی کوئی کتاب ہوتی جو شاردا نے کبھی اس سے پہلے پڑھی نہ ہوتی۔یہ کتاب ہمیشہ ملفوف ہوتی تھی، شاردا ہمیشہ کتاب ملتے ہی کھولنے لگتی تو جواب میں مریم کہتی۔’تم اس معاملے میں اتنی بے صبر کیوں ہو؟ میں چاہتی ہوں یہ کتاب تم پلین میں بورڈ ہونے کے بعد دیکھو۔اور اتنی آہستگی سے اسے کھولو، جیسے یہ کتاب نہیں، ریمنڈ چینڈلر کے کسی ناول کی گتھی ہے۔’

اور جواب میں شاردا مسکرادیتی۔

(2)

اس بار شاردا کے آنے سے پہلے ہی ایک وبائی مرض پورے ملک کو دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔جولائی کا موسم آتے آتے ایک طرف زوروں کی برساتیں شروع ہونے والی تھیں، دوسری طرف ایسی سن گن تھی کہ پورے ملک میں لاک ڈاون لگنے والا ہے۔اور ہوا بھی یونہی، جس دن شاردا آنے والی تھی، ہوٹل اس سے ایک روز پہلے ہی سنسان ہوگیا تھا۔قریب دو ایک کمروں میں لوگ ٹھہرے ہوئے تھے، مگر سرکاری ہدایتوں کے مطابق ان سے بھی اگلے روز تک ہوٹل خالی کرنے کی درخواست کی گئی، اور پورے ہوٹل کو جراثیم کش کیمیکل کی مدد سے صاف کرنے کا کا م ہوا۔شاردا کی آمد والے دن صبح سے ہی ہلکی ہلکی برسات ہورہی تھی، طے یہ ہوا تھا کہ شاردا اس بار تین روز رکے گی، اور مریم کے اصرار پر یہ بات گزشتہ ملاقات پر ہی طے ہوگئی تھی۔چنانچہ جب شاردا پہنچی تو اس روز یونہی ہوٹل خالی ہوچکا تھا۔باہر ‘نو روم’ کا بورڈ تو لگا ہی دیا گیا تھا، ساتھ ہی ساتھ سٹاف کے بھی اب چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی کو چھٹی دے دی گئی تھی۔

لاک ڈاون لگنے سے دو دن پہلے وزیر اعظم نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تھا، یہ ایک ایسا کرفیو تھا، جس میں سرکاری طور پر کسی قسم کا دباو نہیں تھا، مگر لوگوں سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ ملک بھر میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے خود ہی صبح سے رات گئے تک گھر سے نہ نکلیں، اس بات سے بھی مریم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ دو چار روز میں مکمل لاک ڈاون لگنے ہی والا ہے۔ ویسے تو ہوٹل کے آخری فلور پر، جو چھوٹا سا گودام تھا، اس میں اگلے چھ مہینے کے راشن کی تقریبا تمام چیزیں جمع تھیں، پھر بھی ایک نظر دیکھ کر جن چیزوں کی کمی محسوس ہوئی، انہیں اگلے دو یا تین مہینوں کے حساب سے منگواکر جمع کرلیا گیا۔ان مصروفیات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مریم کے دل میں یہ خوشی کہیں اندر ہلچل مچارہی تھی کہ شاید جیسا کہ خبروں میں دکھایا جارہا ہے، اگلے اکیس دن تک اگر لاک ڈاون نافذ کردیا گیا تو اس کو شاردا کے ساتھ اس بار کتنے لمبے عرصے کے لیے رہنے کا موقع ملے گا۔اس بات کا خیال آتے ہی اس کے گالوں میں سرخی دوڑ جاتی اور کنپٹیاں تک محبت کے اس عظیم عرصے کی تیاری میں جوش سے سرخ ہواٹھتیں۔

بہرحال ہوا بھی ٹھیک مریم کی توقعات کے مطابق، شاردا کے آنے کے اگلے دن ہی ملک میں اکیس دنوں کا لاک ڈاون نافذ کردیا گیا۔وبا نہ پھیلے، اس لیے لاک ڈاون میں ٹرینوں اور پلینوں کی کہیں بھی آوا جاہی پر سختی سے پابندی لگادی گئی۔مال گاڑیوں اور کارگو پلینز کے علاوہ کسی کو کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی، ساری ریاستوں کے بارڈر سیل کردیے گئے۔ سرکاری سطح پر ایک ایک بات کا دھیان رکھا جارہا تھا، انٹرنیشنل فلائٹس تو ایک ہفتے پہلے ہی بند ہوچکی تھیں، مگر ان کے ذریعے بھی جو لوگ آئے ان کی ایئرپورٹ پر سکریننگ کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ اپنے گھروں میں کم از کم چودہ دن کے لیے خود کو کوارنٹین کرلیں۔وائرس چونکہ نیا نیا تھا، اس لیے سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سی افواہیں بھی گرم ہورہی تھیں۔ادھر شاردا کو بھی معاملے کی مکمل جانکاری تھی، اتنا سب کچھ ہونے پر بھی اس نے مریم سے ملنے کا ارادہ ترک نہیں کیا تھا، وہ بھی اس بات کی وجہ سے دل ہی دل میں کہیں مسکرارہی تھی کہ ان دونوں کو پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ لمبے وقت تک رہنے کا موقع میسر آئے گا۔اس کے شوہر نے بھی اس بار، جس کے ساتھ اس کے رشتے کی ناچاقی بہت پرانی تھی، اسے ایسے وقت میں جانے سے روکنا چاہا، مگر وہ نہیں رکی۔حالانکہ وہ اور اس کا شوہر اب علیحدہ رہتے تھے، مگر پھر بھی جتنا زور وہ فون پر ڈال سکتا تھا،اسے جتنا سمجھا سکتا تھا، اس نے کوشش کرکے دیکھ لی، مگر شاردا نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کبھی جھگڑا نہیں کرتی تھی، تمام باتیں سن کر بس کہہ دیتی’آئی ول تھنک اباوئٹ اٹ!’

اور یہ جملہ کچھ اس انداز میں کہا جاتا کہ سننے والے کو سمجھ میں آجاتا کہ شاردا کا جواب کیا ہے۔کیونکہ عام طور پر اس کے آس پاس موجود لوگ جانتے تھے کہ وہ جھٹ پٹ فیصلے کرنے والی ایک خود مختار عورت ہے۔اپنی صحت کا بھی بھرپور خیال رکھتی ہے، مگر اس بار اس کے شوہر کو حیرت ہورہی تھی کہ اچانک اسے اپنی زندگی سےایسی کیا بیزاری ہوگئی کہ وہ اتنے خراب وقت میں بھی گھر پر رکنے کو تیار نہیں۔شاردا کے شوہر کو آخری وقت تک یہی لگتا رہا کہ شاید وہ اسے تکلیف پہنچانے کی غرض سے ایسا کررہی ہے، اور عین وقت پر کہیں نہیں جائے گی، مگر جب اس کے جانے کی اطلاع ملی تو اس نے سوچا،عورت کا ارادہ پختہ ہوتا ہے، وہ مرد کی طرح ڈانواڈول نہیں ہوتا، عورت اپنی روحانی اور ذہنی ساخت میں اتنی مضبوط ہے کہ چاہے کسی کے قتل کا ارادہ کرلے یا خودکشی کا، جب تک وہ اس عمل کو انجام نہیں دے لے گی، تب تک اسے اطمینان نہیں ہوگا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ عقل سے کام لیتی ہے، بعض کہتے ہیں کہ جذبات سے۔لیکن عورت ایک ایسی واحد ہستی ہے، جو شدید سے شدید جذباتی لمحوں میں بھی عقل کا بھرپور استعمال کرتی ہے۔

شاردا نے ایئرپورٹ سے مریم کے ہوٹل کے لیے ٹیکسی لی۔ویسے بھی پہاڑی راستوں پر شہروں کی کشادہ سڑکوں جیسا ہنگامہ اور شور کم دیکھنے کو ملتا ہے۔مگر دھیمی رفتار سے چلتا ہوا ٹریفک اونچائیوں پر اکثر نظر آجاتا ہے۔مگر اس بار واقعی راستے کافی صاف تھے، پانی ہلکا ہلکا برسے جارہا تھا، اس نے پچھلی کھڑکی کو تھوڑا سا کھول کر باہر کی پھوار میں آنکھوں کو بھگونا شروع کردیا۔تیز ہوا کے سرد جھونکے، اس کے چہرے کو اپنی ان دیکھی بانہوں میں سمیٹ لیتے، بال حالانکہ بندھے ہوئے تھے، پھر بھی جو لٹیں ادھر ادھر سے ملیں، انہیں ان جنگلی ہواوں نے بکھیرنا شروع کردیا۔کئی بار ماتھے اور آنکھوں پر بال آجاتے، جنہیں اسے چارانگلیوں کی مدد سے ایک طرف کرنا پڑتا۔دائیں بائیں انسانی مشقت کے بل پر تراشی ہوئی پہاڑیوں کے منظر اس کی ناف میں ہمیشہ ہی گدگدی پیدا کردیتے تھے،کہیں کہیں برابر بہتے ہوئے دریا کا بدن بالکل کسی سانپ کی طرح لچکیلا اور گہرا کاہی ہوجاتا۔پانی میں سے جھانکتے ہوئے پتھر اور ان کی گول چکنائیوں کو دیکھ کر اسے مریم کے پستانوں کا خیال آجاتا۔کہیں راستے میں کوئی لکڑی کا چھوٹا سا پل مین سڑک کو کسی پہاڑی کے چھور پر بنے چھوٹے سے سکول سے جوڑتا تھا، لکڑی کا یہ چرمراتا ہوا پل، دیکھنے میں بالکل کسی مصنوعی بیل کی طرح لگتا، جس کے نیچے کل کل بہتی ہوئی لہریں پہاڑوں کے مضبوط دامن میں اس چھوٹی سی انسانی کوشش پر کلکاریاں مارتی، لطیفے گڑھتی، سرگوشیوں میں پل کی کمزوری پر رائے زنی کرتی اور اونچی آواز میں ہواوں کی ہمت کو للکارتی ہوئی گزرتی معلوم ہوتی تھیں۔

شاردا اور مریم کی ملاقات کی اس رات زیادہ باتیں نہیں ہوسکیں۔مریم ہوٹل کے کچھ ضروری کاموں میں مصروف تھی اور شاردا کو بھی ایک کمرے میں اپنا چھوٹا سا سیٹ اپ تیار کرنا تھا تاکہ اگلے دن سے، وہ یہیں سے آن لائن ویڈیو کالنگ کی مدد سے سارا کام کاج دیکھ سکے۔جب ملازمین کی مدد سے سارے کام طے پائے گئے تو رات کو ان دونوں کی ملاقات ہوئی، مگر تھوڑی بہت جنسی مشقت کے بعد وہ دونوں تھک کر چور ہوگئیں اور ایسی پڑ کر سوئیں کہ اگلی دوپہر بارہ ساڑھے بارہ بجے کے قریب ان کی آنکھ کھلی۔ اتنی دیر ہونے کی وجہ سے شاردا فوراً برابر کے کمرے میں، جو کہ اب اس کا عارضی دفتر تھا، چلی گئی۔اس کا ناشتہ بھی وہیں بھجوادیا گیا۔مریم نے باہر کا منظر دیکھا، کل رات سے برسات ایک ہی دھج سے ہوئی جارہی تھی، اس کی رفتار اب نہ بہت زیادہ تھی، نہ بہت کم۔مگر اتنا ضرور تھا کہ سڑک پر چلتے ہوئے اکا دکا لوگوں کی چھتریاں ہوا سے الٹی ہوئی جارہی تھیں اور معلوم ہوتا تھا کہ کھڑکی سے برسات جتنی خوبصورت اور معصوم نظر آرہی ہے، سڑک پر اتنی ہی منہ زور اور بے لگا م ہوچلی ہے۔بہرحال فریش ہوکر جب وہ کچھ دیر کے لیے اپنے دفتر جارہی تھی، تو اس نے دو لمحے کان لگا کر شاردا کے کمرے سے آتی ہوئی اس کی دھیمی مگر تحکمانہ آواز سنی، وہ کسی کو ہدایتیں دے رہی تھی، ‘اف یہ آواز!’ مریم نے ایک آہ بھری اور وہ نیچے کے کمرے کی طرف لپک گئی۔

(3)

اسی رات ٹیلی ویژن پر وزیر اعظم نے خود آکر ملک بھر میں اگلے دن سے اکیس روز کے سخت گیر لاک ڈاون کا اعلان کردیا۔یہ خبر ان دونوں نے ساتھ ہی میں دیکھی۔حالانکہ شاردا نے لاکھ چھپانا چاہا، مگر اس کے چہرے کی سرخی مریم کی آنکھوں سے چھپ نہ سکی۔ شام سے برسات کا زور بھی بڑھ گیا تھا۔اور اس وقت وہ دونوں قریب بارہ بجے، ڈائننگ روم میں بیٹھے، پہاڑ وں کے دامن میں لکڑی اور پتھر کے بنی ہوئی اس ہوٹل کی عمارت میں اپنی رومانی خلوت کا لطف لے رہے تھے۔ شاردا نے ایک نظر باہر دیکھتے ہوئے کہا، ‘آج موسم بڑا خوفناک ہے۔’اور اسی بات سے خوفناک قصوں، ہیبت ناک یادوں اور بھوتوں، پریتوں کی باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ایڈگر ایلن پو، بورخیس، کافکا، پارلاگر کوئست سے لے کر سٹیفن کنگ تک کا ذکر آیا۔روسی کہانی کاروں کی بات چل پڑی تو بہت دیر تک گوگول کی مشہور کہانی اوورکوٹ کا ذکرہوا۔میخائل بلگاکوف کے ناول ماسٹر اینڈ ماگریٹا کے مافوق العقل قصوں کی داستان چھڑی، دوستوئفسکی کے ناول برادرز کراموزوف میں موجود مذہبی ماورائی قصوں کی بات بھی ہوئی اور اس طرح ہوتے ہوتے روسی فکشن اور شاعری کے سب سے بڑے استاد پوشکن کی کہانی ‘حکم کی رانی’ کا ذکر نکل آیا۔

مریم نے ہلکی نائٹی پہن رکھی تھی، اور گہری اودی رنگ کی ا س نائٹی میں سے چھلکتے ہوئے اس کے گورے پستانوں کو دیکھ کر شاردا کو پہاڑی ندی سے جھانکتے گول پتھروں کی ایک بار پھر یاد آگئی۔وہ جب کسی بات پر ہنستی تو اس کے دانتوں سے داڑھوں تک کی سفید قطار اور منہ میں سے جھانکتا ہوا گلابی غار، گہری عنابی زبان اوراس پر چمکتی ہوئی لعاب کی تھیلی شاردا کو اندر تک سرشار کردیتی۔انسانی بدن کے اس راز اور اس سے ہونے والے نفسیاتی اثر کی جنگلی خواہشیں شاردا پر جیسے نشہ طاری کررہی تھیں۔لیکن اسی وقت مریم کی کھنکھتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

‘تم نے کئی بار اپنی دادی کا ذکر چھیڑا اور بتایا کہ وہ بڑی پراسرار اور دلچسپ شخصیت تھیں، مگر کبھی ان کے بارے میں بتایا نہیں، آج موقع ہے، کیا تم مجھے ان کے بارے میں تفصیل سے بتاسکتی ہو؟’

‘کیا تمہیں میں نے بتایا ہے کہ میرا نام انہی کے نام پر رکھا گیا ہے؟ یہ بات بہت کم لوگوں کو پتہ ہے، شاید میں نے اس کا ذکر پہلے کیا ہو۔’
‘ہاں! تم نے ایک دو دفعہ ذکر کیا ہے۔اسی وجہ سے میری جستجو کو مزید پر لگ گئے ہیں۔’
شاردا کچھ دیر تک مریم کو بالکل مبہوت ہوکر دیکھتی رہی۔جیسے سوچ رہی ہو کہ وہ بات کہاں سے شروع کرے۔پھر اس نے پاس رکھی پانی کی بوتل کھول کر ایک بڑا سا گھونٹ بھرا اور بات شروع کی۔
‘حالانکہ میں کوئی اچھی قصہ گو نہیں ہوں، لیکن میں تمہیں اپنی دادی کی روداد انہی کی زبان میں سنانا چاہوں گی، مگر اس سے پہلے یہ جان لو کہ یہ بات کسی کو پتہ نہیں، ہمارے درمیان بھی آج اس کا پہلی اور آخری بار ذکر ہورہا ہے۔چونکہ یہ بھید تین انسانی زندگیوں سے متعلق ہے،او ر وہ تینوں اپنے زمانے کی باعزت شخصیات تھیں، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ تم اس کہانی کو سن کر اپنے سینے میں ایسے دفن کرلو، جیسے میرے من کی مٹھی میں تمہاری محبت ہے۔’
مریم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہامی بھری۔شاردا نے مزید کہا۔

‘میری عمر قریب اٹھارہ برس ہوگی، میں ان دنوں بی ایف اے کے سکینڈ ائیر میں تھی۔ہاسٹل میں رہ رہی تھی کہ ایک روز پاپا لینے آن پہنچے، پتہ چلا کہ دادی کی طبیعت کافی خراب ہے اور انہوں نے گھر کے ہر فرد کو ملنے کے لیے بلایا ہے، چنانچہ دور و نزدیک کے سبھی رشتے دار جمع ہوئے۔اس رات ہم سب چھوٹے بڑے دائرے بناکر دادی کے بڑے سے بستر کے آس پاس کرسیوں پر بیٹھے تھے، جنہیں کرسیوں پر جگہ نہیں ملی تھی، وہ بلا جھجھک زمین پر بچھے قالین پر بیٹھ گئے۔دادی کے پاس بے انتہا دولت تھی، تم سمجھ ہی سکتی ہو کہ ایک کھانستی ہوئی بڑھیا کے ارد گرد اتنے دنیادار، مصروف ترین لوگ آخر کیا سوچ کر جمع ہوئے تھے، یقینا وہ سوچ رہے تھے کہ دادی اپنی وصیت سنائیں گی، مگر انہوں نے وصیت سے پہلے ایک طویل اور صبرآزما کہانی سننے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بوڑھی عورت کسی برگد کے نیچے بنے گول چبوترے پر بیٹھی کہانی سنانے جارہی ہو اور اس کے آس پاس کہانی کے شوقین اور مشتاق بچوں کا جمگھٹا لگ گیا ہو۔موسم سردی کا تھا، رات کا قریب یہی دس سوا دس بجا ہوگا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے صبح کے تین بج رہے ہوں۔ دادی کا رعب اور رشتہ داروں کا اشتیاق ایسا لائق دید تھا اور اتنی خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرے تو صاف آواز سنائی دے۔ادھر باہر سردی میں کوئی پنچھی چیختا ہوا گزرا اور ادھر دادی کے لب گویا ہوئے۔

(4)

تم سب لوگ جانتے ہو کہ میں نے اپنی زندگی نہایت کھرے اصولوں پر بتائی ہے۔روپے پیسے کی فراوانی ہونے کے باجود مجھے ان سے کبھی اتنی محبت نہیں رہی کہ میں انہیں کلیجے سے لگا کر رکھتی۔پیسا ویسے بھی انسانی زندگی کا آخری مقصد نہیں ہوسکتا، جیسا کہ میرے بابا کہتے تھے۔وہ صرف انسانی سہولتوں کو بڑھاتا ہے، اصل چیز ہے انسان کا خوش رہنا۔آدمی من سے ہی امیر یا غریب ہوتا ہے۔ اور میری نگاہ میں امارت کی سب سے بڑی مثال ایک بھرپور محبت ہے، جس کے لیے میں زندگی بھر ترستی رہی۔مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ سوچو گے کہ تمہارے والد یا دادا مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔لیکن میرے بچو! انسانی زندگی بہت انوکھی اور مخفی ہے۔تم سب نے جو دیکھا، میں نے اس سے بہت کچھ الگ، بہت کچھ ڈراونا دیکھا ہے۔اپنے شوہر کے چہرے سے جب ڈرتے ڈرتے میں نے نقاب اٹھایا یا کہوں نوچ پھینکا تو میرا کلیجہ چھلنی ہوگیا، روح زخمی ہوگئی اور اس بھیانک حقیقت کو برداشت کرنا میرے لیے ناممکن ہوگیا، جس کے سامنے آتے ہی دنیا میری نظروں میں کچھ دنوں کے لیے اندھیر ہوگئی۔اور پھر اسی اندھیرے میں میرے وحشی اور جنونی دل نے ایک فیصلہ کیا۔ایک نہایت خطرناک اور عقل کی تمام منطقوں سے ماورا ایک فیصلہ۔جس نے مجھے خود اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا، اور اس راز کو من میں ڈھوتے ڈھوتے اپنے ہی خوف کی پرتیں اتارتے اتارتے آج میں اتنی تھک گئی ہوں کہ مجھے یقین ہوچلا ہے کہ میری جان لینے کے پیچھے میرا یہی غم اور میرا یہی احساس گناہ ہے۔مگر اس سب کے باوجود مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے، کوئی دکھ نہیں ہے۔میں نے جو کچھ کیا، اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے میں تیار تھی اور سچ پوچھو تو میں نے اس کی قیمت چکائی بھی۔میرے بچو! تم جب اس بوڑھی عورت کو دیکھتے ہو، جسے دنیا شاردا دیوی کہہ کر بلاتی ہے، لوگ ہاتھ جوڑے، ہاتھ باندھے جس کے آگے پیچھے دوڑتے ہیں، جس کو دولت و زر کی نہ کوئی کمی ہے اور جس کے پاس ایک بھرے پرے خاندان کی سچی محبت بھی ہے۔تب تم نہیں جانتے کہ اس کی روح پر ایک گہرا گھاو ہے! ایک بوجھ ہے جو یہ بڑھیا اپنے ناتواں کندھوں پر لیے لیے پھررہی ہے اور اب تھک کر اس گٹھری کو آج اپنے سر سے اتاردینا چاہتی ہے۔شاید وہ بات جسے آدمی کا اندرون قبول نہ کرے، ایک ایسی ہی چیز ہے، جسے باہر نہ نکالا جائے تو وہ ٹیومر کی طرح اندر ہی اندر پھیلتی جاتی ہے۔حالانکہ، اب بہت دیر ہوچکی ہے،لیکن پھر بھی(تھوڑی دیر خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہنا شروع کیا) میں چاہتی ہوں کہ تم سب میری اس بیماری کے بارے میں جان لو، شاید یہ بات تمہاری زندگیوں میں کبھی اور کہیں کام آسکے۔

یہ غالبا انیس سو اکیاون کے آس پاس کی بات ہے، میری عمر اس وقت یہی کوئی پینتیس برس کی رہی ہوگی۔ تب تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔میں ان دنوں کی ان بے حد غیر معمولی خواتین کی فہرست میں شمار کی جاسکتی تھی، جو نہ صرف بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئی ہوں بلکہ اب اپنے والد کےساتھ مل کر ملک بھر میں پھیلا ہوا اپنا کاروبار سنبھال رہی ہوں۔اس وقت تک ہم نے کوئلے اور پتھروں کے کاروبار میں ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ہمارا کاروبار مختلف قسم کی لکڑیوں کی سپلائی پر منحصر تھا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے کپڑوں کے کارخانے اور کچھ حد تک نئی نئی پولٹری فارمنگ بھی ہم نے شروع کی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ میرے لیے لڑکوں کے رشتے نہ آتے ہوں، مگر میں انہیں کسی نہ کسی بہانے سے نظر انداز کردیتی تھی، بابا نے کبھی کوئی زور زبردستی نہیں کی، باقی لوگوں نےبھی دباو نہیں ڈالا۔

میں اکثر لوگوں سے چھپ چھپا کر انگریزی، ہندی اور اردو کی رومانی کہانیاں پڑھا کرتی تھی۔کچھ پرانے ہندی، اردو ڈائجسٹ تو شاید اب بھی میری ذاتی لائبریری میں تمہیں مل جائیں گے، جنہیں بند ہوئے ایک مدت ہوگئی ہے۔انہی کہانیوں کا اثر تھا کہ میری زندگی میں محبت کی کمی کا احساس بہت بڑھ گیا۔میرے پاس سب کچھ تھا، وسائل بھی، لوگ بھی۔مگر کوئی ایسا شخص آس پاس نظر نہ آتا، جس سے میرے دل کی وابستگی ممکن ہو۔اور پھر ایک روز تمہارے دادا سے میری ملاقات ہوئی۔شاید تم سبھی لوگوں کو علم ہو کہ تمہارے دادا یا والد مجھ سے قریب دو یا تین سال چھوٹے تھے۔ انہیں ان کے والد کے ساتھ میرے دور کے ایک چچا لے کر آئے تھے۔معلوم ہوا کہ وہ لوگ شرنارتھی ہیں، دو سال پہلے لاہور سے لٹ پٹ کر، بھارت آئے ہیں اور اسی بیچ جو سرمایہ ان کے پاس تھا، اسے اپنے آبائی کام میں لگا کر اور دوسروں سے قرض لے لوا کر انہوں نے اپنے پرانے کام کے لیے جو پیسہ جمع کیا تھا، وہ ختم ہوچکا ہے اور اب ایک طرف قرضدار پیچھے پڑے تھے، تو دوسری طرف کھانے کے بھی لالے ہوگئے تھے۔ تمہارے پر دادا کی حالت بہت غیر تھی، میں نے جب انہیں پہلی بار دیکھا تو ان کی حالت واقعی نازک تھی، پتلے دبلے شریر کے مالک تھے، ایک پھٹا ہوا کرتا پہنے تھے، آنکھیں حالات کے بوجھ اور تقسیم کی بے وقت مار سے تھکن آلود اور ماتھا شکن زدہ تھا۔البتہ تمہارے دادا کی آنکھوں میں دکھ بھی تھا اور اس سے لڑنے کا عزم بھی لیکن جو خاص بات تھی وہ یہ کہ جوانی کی اس دربدری نے انہیں بے حد وجیہ بنادیا تھا۔ان کے گورے ماتھے پر ایک چھوٹی سی لٹ تیر رہی تھی، جسے وہ بار بار اپنی پیشانی سے ہٹاتے، مگر وہ ضدی لٹ دوبارہ وہیں آن پہنچتی۔کمرے میں اس وقت ان دولوگوں کے علاوہ میرے والد، وہی دور کے چچا اور میں موجود تھی۔میرے والد تمہارے پردادا کو سمجھارہے تھے کہ انہوں نے غلط وقت پر غلط کام کے لیے پیسا بازار سے اٹھا لیا ہے۔ان لوگوں کا کام دفتر کے فرش پر جمانے والے پتھروں کی خرید اور بکری کا تھا، اس کے علاوہ وہ ان پتھروں کو فکس بھی کرواتے تھے۔مگر ظاہر ہے کہ ملک نے ابھی ابھی بٹوارے جیسا عظیم نقصان سہا تھا۔چوٹ کھائے، زخمی اور لہولہان بزنس اپنی اپنی کمر سیدھی کررہے تھے، ایسے میں کس شخص کے پاس اتنا فالتو پیسا تھا کہ دفتروں کے فرش ٹھیک کرواتا پھرے۔ تم لوگوں کو شاید ہنسی آئے مگر اس زمانے میں جب کبھی میں دہلی کے اس رو ڈ پر، جسے آج منٹو روڈ کہتے ہیں، اور بومبے کے اس مقام پر جسے باندرہ کہا جاتا ہے، گزرتی تو دیکھتی کہ سڑک سے لپٹے یا سمندر کے کنارے کنارے بہت سے ٹیبل کرسی ڈالے ہوئے لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی کاروباری تختیاں لگائے بیٹھے ہوتے تھے، بعضوں کے پاس تو کرسی بھی نہ ہوتی، آج ان میں سے کئی بڑی کمپنیاں بن چکی ہیں۔وہ ایک انقلابی وقت تھا، خون میں ڈوبا ہوا انقلابی وقت۔ایسا وقت جو تاریخ بناتا ہے، تاریخ لکھتا ہے۔

میرے والد ایک گھاگھ بزنس مین تھے، چنانچہ انہوں نے تمہارے دادا، پردادا کی کوئی بھی مدد کرنے سے ہاتھ اٹھالیا۔مگر ایک آخری مشورے کے لیے مجھےبھی بلوایا گیا تھا۔میں چپ چاپ بیٹھ کر اپنے والد کی باتیں سنتی رہی۔اس دوران کئی بار میں نے اس جوان کو دیکھا، جو سامنے کی کرسی پر بیٹھا ہمارے عالیشان دفتر کے کمرے کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی رعب نہیں تھا، بلکہ ایک قسم کی ناسٹلجیک لہر تھی۔شاید ایسا ہی کمرہ، انہوں نے لاہور کی مار کاٹ میں گنوادیا تھا۔ اچانک مجھے لگا جیسے سامنے والی کرسی پر بیٹھا وہ جوان میری طرف دیکھ رہا ہے، ہماری نظریں ملیں اور ایک دم سے اپنی پڑھی ہوئی تمام رومانی کہانیوں کا فلیش بیک میری آنکھوں میں اوپر سے نیچے کسی ریل کی صورت بہنے لگا۔اور اس ایک پل میں میں نے فیصلہ کرلیا کہ یہی شخص میرا ہم سفر بن سکتا ہے۔چنانچہ جب مجھے مشورے کے لیے لب کشا ہونے کا موقع ملا تو میں نے ان لوگوں کے سامنے ایک تجویز رکھی۔ کیوں نہ جب تک حالات ٹھیک ہوں، وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کریں، اور جب چیزیں بہتر ہونے لگیں تو ہم ان کے پتھروں کے کاروبار میں پیسہ لگادیں جسے بعد میں وہ اپنی سہولت سے لوٹاتے رہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں یہ تجویز سنارہی تھی تو میرے والد زیر لب مسکرارہے تھے، وہ شاید میری آنکھوں کی چمک سے میرا ارادہ بھانپ گئے تھے۔اس تجویز کو مکمل سننے کے بعد جب تمہارے پر دادا کشورگپتا نے میرے والد کی طرف سوالیہ نظروں سےدیکھا تو انہوں نے ایک زوردار قہقہہ مارتے ہوئے کہا

‘بھئی! اس دفتر میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، اس پر آخری مہر ہماری شاردا بٹیا ہی لگاتی ہے۔اگر آپ کو تجویز پسند ہے تو کل تک ضرور بتادیں۔’

ظاہر ہے ان لوگوں کے پاس ہماری تجویز قبول کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور اس طرح تمہارے دادا اور میری قربت کا ایک مستقل وسیلہ بن گیا۔ہم کام کے سلسلے میں اکثر دوسرے شہروں میں بھی جاتے، وقت گزاری کرتے، مختلف جگہوں پر رکتے۔مجھے تمہارے دادا کی مسکراہٹ بہت پسند تھی، سو میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ مسکراہٹ قائم رہے۔مجھے اس اعتراف میں کوئی برائی محسوس نہیں ہوتی کہ اس مسکراہٹ کے لیے میں نے خود پر ظلم کیے، جبر کیے۔ایک ڈیڑھ سال میں ہی ہم نے تمہارے پر دادا کے اصرار پر ان کے پتھروں کے کام کے لیے انہیں نہ صرف پیسا دیا بلکہ اپنے کئی آشنا بزنس مین افراد سے ذاتی طور پر درخواست کی کہ وہ اپنے دفتر کا کام انہی کی کمپنی سے کروائیں۔نتیجے کے طور پر مزید ایک سال میں ان کاکام بھی چل پڑا۔تمہارے پردادا خود دار آدمی تھے، انہوں نے پہلی فرصت میں اپنا قرض اتارنا شروع کردیا۔اور جب وہ میرے بابا کے پاس قرض کی پہلی قسط لے کر آئے تو میرے بابا نے رقم لینے سے انکار کردیا اور ان کے سامنے میری اور تمہارے دادا کی شادی کی تجویز رکھی۔تمہارے پردادا کو میں پسند تھی، مگر میری اتنی آزادہ روی انہیں شاید قبول نہیں تھی، وہ لاہور کے پرانے بنیا خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جہاں پردے کی روایت تقسیم کے وقت سے کچھ پہلے تک ایلیٹ طبقے کے یہاں بھی بدستور جاری تھی۔ان کے گھر کی عورتیں بھی زیادہ پڑھی ہوئی نہیں تھیں۔لیکن اس کے باوجود انہیں اس میں یہ فائدہ بھی نظر آیا کہ میں اپنے بابا کی اکلوتی اولاد تھی اور میرے ساتھ اپنے بیٹے کی شادی کرادینے کا مطلب یہ تھا کہ انہیں بیٹھے بٹھائے بہت ساری دولت ہاتھ آجاتی۔حالانکہ وہ بہت لالچی آدمی نہیں تھے، مگر موقع پسند ضرور تھے۔چنانچہ میری شادی اس طرح تمہارے دادا اشوِن گپتا سے ہوگئی۔شادی کے چند برسوں میں کئی بڑی تبدیلیاں ہوئیں۔اشوِن کی والدہ کا انتقال تو پہلے ہی ہوچکا تھا، ان کے والد بھی اب کافی بیمار ہوگئے تھے، انہیں دق کا مرض لاحق ہوگیا تھا اور وہ خون کی الٹیاں کرتے تھے۔میں اپنے دن رات بھول کر ان کی خدمت میں لگ گئی، لیکن میری محنتیں کارگر ثابت نہ ہوئیں اور قریب دو مہینوں کی شدید تکلیف سہنے کے بعد تمہارے پردادا کا انتقال ہوگیا، ابھی میں اس انتھک محنت سے چور ہوکر کمر بھی نہ ٹکانے پائی تھی کہ خبر آئی کہ میرے والد کی اچانک ایک پلین کریش میں موت ہوگئی ہے۔میرے لیے مشکل تھا کہ میں اپنے اس صدمے سے خود نڈھال ہوجائوں یا پھر اشوِن کو سنبھالوں، جس نے اپنے اس باپ کی شفقت کو ہمیشہ کے لیے کھودیا تھا، جس کے ساتھ کنکروں پتھروں پر چل کر اس نے لاہور سے دلی تک کا سفر کیا تھا، جس کے خاندان کی آخری نشانی صرف اس کے والد ہی تھے، اس کی دو بہنیں راستے میں ہی فسادیوں نے اغوا کرلی تھیں اور اب ان کے بارے میں کسی کو کوئی خبر نہ تھی کہ وہ کہاں ہیں۔اسی طرح میرے والد کا غم بھی کچھ کم نہ تھا، جنہوں نے اپنی آخری سانس تک میری خواہشوں کا ہمیشہ خیال رکھا، اس دور میں جب کسی عورت کی آزادی کی بات کرنا تک جرم تھا، انہوں نے سماج اور پریوار سے لڑ کر مجھے نہ صرف پڑھایا لکھایا بلکہ میری شادی تک میری مرضی سے کی۔اور سارا کاروبار، دھن، دولت، جائیداد میرے نام کرکے ایک طیارے کی لپٹوں میں ڈوب کر اپنی جان گنوادی۔میں نے ہر حال میں اپنے شوہر کی محبت کو ترجیح دی اور غم چھپاکر اس کی دل جوئی کرتی رہی۔

باپ کی موت کے بعد قریب دو برس تک اس کی یہ حالت تھی کہ وہ کسی کام کاج کے لائق نہ تھا، پہلے غم سے اس کی حالت بری رہی، پھر وہ شراب نوشی میں ڈوب گیا، اور اس کے بعد اس کی بغلوںمیں پھڑیاں نکل آئیں، ٹانگیں بھی جواب دے گئیں۔ مجھے دفتر اور گھر کا سارا کام کاج دیکھنا ہوتا تھا، میں صبح اٹھتی، اس کی خدمت پر مامور نرسوں کو ہدایتیں دیتی، اس کے لیے خود ناشتہ بناتی، اسے پیار سے کھلاتی، اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی، برا وقت گزرنے کی تسلی دیتی، کاروبار کے ٹھیک چلنے کا یقین دلاتی، حساب کتاب سمجھاتی اور اکثر خود بغیر ناشتہ کیے ہی دفتر پہنچ جاتی۔وہاں پہنچ کر مختلف قسم کی میٹنگز اور موٹی موٹی فائلیں میرا انتظار کرتی تھیں، کبھی سائٹ وغیرہ پر جانا ہوتا، کوئی جھگڑا چکانا ہوتا تو ایسے میں کوئی دور و نزدیک ایسا نہیں تھا، جس پر میں کمپنی کے ان کاموں کی خاطر بھروسہ کرسکتی۔چنانچہ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ صبح کی چائے دوپہر کو نصیب ہوتی، دوپہر کا کھانا گل اور رات کو گھر آکر اتنی ہمت ہی نہ پڑتی کہ بھوک لگنے کے باوجود بھی دو لقمے تر کرسکوں۔مجھے یاد ہے، ایک دفعہ میں کس بری طرح چکر کھاکر دفتر کی سیڑھیوں پر گر پڑی تھی۔مگر میں نے اپنی طبیعت کی خرابی اور صحت کی بحالی کا دھیان نہ رکھتے ہوئے، بس اپنے شوہر اور دفتر کی ذمہ داریوں میں خود کو غرق کردیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے شوہر کی عدم توجہی سے جو کاروبار نقصان اٹھارہا تھا، اب پھر وہ فائدے کے رخ پر آگیا۔دو سال اسی کشمکش میں گزرے، خدا خدا کرکے اشوِن کی حالت بہتر ہوئی اور اس نے بھی دفتر آنا شروع کیا۔ اس کے اندر کا حوصلہ یکدم اتنی دولت ہاتھ آجانے سے لگتا تھا سرد ہوگیا تھا۔وہ بہت آرام طلب اور کاہل ہوگیا تھا، ہر کام میں اسے میری مدد کی ضرورت ہوتی۔گھر سے لے کر باہر تک وہ میرے بغیر دو قدم بھی نہیں چل سکتا تھا۔یہاں تک کہ کسی چیک پر سائن پر کرنا ہوتا تو پہلے مجھ سے اس کے بارے میں استفسار کرتا۔رفتہ رفتہ میں نے اس کا اعتماد بحال کروایا۔شادی کے پانچ سال بعد ہمارے یہاں ایک خوبصورت لڑکی کا جنم ہوا، یعنی میری سب سے بڑی بیٹی سُنیتا، پھر ایک سال بعد کبیر اور مزید دو سال بعد سب سے چھوٹی بیٹی سونم۔تم لوگوں کو شاید اس بات پر یقین کرنے میں پریشانی ہو، مگر میں نے تمہارے دادا کا ساتھ میٹرنٹی روم میں ہونے کے باوجود دیا۔ایک بار وہ ڈلیوری سے چندگھنٹوں پہلے، جب میرا پانی چھوٹ چکا تھا، ایک بہت اہم مسئلے میں میری رائے لینے آئے اور میں نے اس حالت میں بھی انہیں مایوس نہیں لوٹایا۔

اور جانتے ہو(ہنستے اور کھانستے ہوئے)انہوں نے اس بات کا ایک دفعہ ایک محفل میں اپنے دوستوں سے ذکر بھی کیا تھا۔وہ ان مردوں میں سے تھے، جو اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کی بیویوں نے انہیں کس طرح اور کن موقعوں پر سہارا دیا۔حالانکہ مجھے یاد ہے کہ میں نے اس بات کا کافی برا منایا تھا، دو دن تک بات بھی نہیں کی تھی۔خیر، اب میں نے خود کو بچوں کی تربیت میں ڈبو دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پتہ ہی نہ چلا کہ ہمارے باغ کے یہ پودے کب پھول اور پھل بن کر اتنے بڑے ہوگئے،ان کی بھی شادیاں ہوگئیں۔مجھے یاد ہے، کبیر کی شادی سب سے پہلے ہوئی تھی، یہ کمبخت سنیتا تو شادی کے لیے مانتی ہی نہیں تھی، بالکل ڈھیٹ تھی، مجھ پر ہی گئی تھی۔کبیر کے لیے جس پہلے گھر کا رشتہ آیا، وہ بہت مہذب لوگ تھے۔اس لیے میں نے ان سے دو ملاقاتوں میں ہی یہ فیصلہ کرلیا کہ کبیر کی شادی اسی گھر میں ہوگی،وِنیتا بڑی اچھی بہو بھی ثابت ہوئی۔وقت اور گزرا، اور دیکھتے دیکھتے کب سُنیتا اور سونم کی شادی ہوگئی، پتہ ہی نہ چلا۔ میری عمر اب بہتر، تہتر کے قریب پہنچ چکی تھی۔میرے بچو! اب تک کی اس پوری زندگی میں، میں نے تین نہیں چار بچوں کو پال پوس کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا، ہاں تمہارا دادا، نانا یا باپ بھی میرے بچے کی ہی طرح تھا۔ابتدا سے لے کر اب تک میں اس کی آنکھوں میں ایک خلا دیکھتی تھی، ان آنکھوں میں چمک تھی، حوصلہ تھا، رنگ تھے، مگر وہاں ایک محرومی اور اداسی کی ایسی جھلک بھی تھی، جس نے میرے دل سے ایک اننت اور اٹوٹ رشتہ بنالیا تھا۔ میں نے اپنے شوہر کی اس اداسی کو ہمیشہ ختم کرنے کے جتن کیے تھے، ہر بار جب میں ان اداس آنکھوں کو دیکھتی، تو وہ معصوم چہرہ ایک میٹھا سوال بن کر میرے من کو چھیدتا ہوا گزر جاتا۔میں اس سوال کو حل کرنے میں لگ جاتی، جب تک اس کا جواب ملتا، پتہ نہیں کون سی کائنات سے تمہارا دادا پھر ایک نیا سوال اپنی آنکھوں میں سمیٹ لاتا اور میری نئی جدوجہد شروع ہوجاتی۔

ہاں! میں نے اس کے ساتھ بہت اچھا وقت بتایا تھا، بہت سی خوشگوار راتیں کاٹی تھیں، ہماری تنہائی میں پرخلوص اور سچی محبت تھی۔محبت جو دنیا کا سب سے عظیم جذبہ ہے، محبت جس کی آستین پر سر رکھتے ہی سکون کی ایسی کومل دھاریاں نکل کر اپنی آغوش میں لے لیتی ہیں کہ ایسی خوشگوار نیند تو شاید دنیا کی کسی نشہ آور دوا سے بھی ملنا ممکن نہیں۔تمہارے دادا کی مسکراہٹ، اف ! وہ قاتل، جان لیوا اور دھیمی ہنسی جو میرے پرانوں کو نچوڑ کر رکھ دیتی تھی۔میرے اندر کہیں بہت اندر ایک لاوا ابلتا رہتا تھا، میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس شخص کو اپنے من کے کہیں اتنے بھیتر چھپالوں کہ اس کا سراغ ملنا کسی خدا اور کسی خدائی کے بس کی بات نہ ہو۔تمہارے دادا نے ایک روز لاہور سے دلی پہنچنے پر یہاں موجود کسی ربڑی والے کا ذکر کیا، انہوں نے بتایا کہ جب وہ لوگ تھکے ہارے، زخمی پیروں اور بوجھل دلوں کے ساتھ دلی کی سرزمین پر پہنچے تو کئی دن کے بھوکے تھے، ایسے میں ایک ربڑی کا خوانچہ لے کر پھرنے والے شخص نے انہیں اور ان کے والد کو مفت میں پتوں کی کٹوریوں میں بھر کر ربڑی کھلائی،تمہارے دادا بتاتے تھے کہ آج بھی اس کی دور تک جاتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں گونجتی تھی

ربڑی کھاو ٹیسو میں، ٹسووں کی کیا بات
جیون مرن سو کچھ نہیں، ڈھاک کے تین پات

انہیں بہت افسوس تھا کہ اس ربڑی والے سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوسکی۔ میرے بچو! یقین جانو، ان کی سالگرہ سوا مہینے دور تھی اور ایسے میں ان سے چھپ چھپا کر، اپنے سارے وسائل استعمال کرکے، اخباروں میں اور پوسٹروں اور جاسوسوں تک کے ذریعے میں نے یہ تلاش شروع کروادی کہ ان الفاظ کو بولنے والا کوئی شخص، جو دس سال پہلے تک ربڑی بیچا کرتا ہو، کسی طرح مل جائے۔اور تم یقین نہیں کروگے، شاید میری سچی لگن تھی کہ ایک دن، یعنی تمہارے دادا کی سالگرہ سے ٹھیک چار روز پہلے مجھے اطلاع ملی کہ احمدآباد سے ایک شخص کا تار آیا ہے، جو خود کو مطلوبہ ربڑی والا بتاتا ہے۔میں نے اس دن سچے من سے بھگوان کا شکر ادا کیا اور فورا اس شخص کو دلی بلانے کے انتظامات کروائے۔اور سالگرہ کے روز جب میں نے تمہارے دادا سے اس کی ملاقات کروائی تو ان کی آنکھیں خوشی سے چھلک پڑیں۔مجھے یاد ہے، اس پوری رات وہ میرا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں میں انگلیاں سہلاتے ہوئے دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے۔اف ! کیا رات تھی! ایسا لگتا تھا، زندگی ٹھہرگئی ہے۔میں جس محبت کی تلاش میں اتنے عرصے تک سرگرداں رہی تھی، لگتا تھا وہ مجھ پر مہربان ہوکر اس وقت ان کی انگلیوں میں اتر آئی ہے۔

الغرض مجھے اس بات کی بہت خوشی تھی کہ جس شخص کے ساتھ میں نے اتنی محبت کی، اسی کے ساتھ میری شادی ہوئی اور اب اس عمر میں پہنچ کر میں اور وہ ساتھ ہی ساتھ دادا دادی اور نانا نانی بن گئے تھے۔کتنے لوگ ہیں، جن کو دنیا میں ایسی خوش نصیبی ملتی ہے؟ میں جب بھی محبت، روٹی اور چھتوں کے لیے ترستے انسانوں کے بارے میں سنتی یا پڑھتی، بھگوان کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی۔مگر میرے بچو! زندگی، بہت عجیب ہے، اتنی زیادہ کہ جو باتیں ہمارے سان گمان میں نہیں ہوتیں، جو حیرتیں ہماری توجہ کبھی نہیں پاسکتیں وہ بھی گھات لگا کر ہم پر ایک روز حملہ کردیتی ہیں۔ ایک دن خبر ملی کہ وِنیتا کے والد کا دیہانت ہوگیا ہے، اس کی ماں اپنے پتی سے قریب بیس سال چھوٹی تھی، ان کی عمر یہی کوئی پچاس کے پیٹے میں اس وقت ہوگی، وہ کچھ روز ونیتا کے یہاں رہیں، مگر جب ایک روز میں اور تمہارے دادا کبیر سے ملنے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں کچھ خوش نہیں ہیں، ظاہر ہے بھاگتی دوڑتی دنیا میں جہاں ساری سہولتیں موجود ہوں،وقت سب سے قیمتی اور نایاب چیزبن کر رہ جاتا ہے۔ وہ بظاہر ایک سیدھی سادی عورت تھیں، اور جب میں نے ان کے شانت سبھاو میں اتنا گہرا دکھ محسوس کیا تو کبیر اور ونیتا سے کہہ کر میں انہیں اپنے ساتھ، اپنے ہی بنگلے میں لے آئی۔

اب اس بڑے سے گھر میں ہم تین بوڑھے لوگ تھے، اکثر محفلیں جمتیں، طرح طرح کے لوگ آتے۔میں نے ونیتا کی دادی، شانی کو اپنی بہت سی سہیلیوں اوردوستوں سے ملوایا۔ہم اکثر شام کو آنگن میں بیٹھ کر شرابیں پیتے۔پرانے قصے، لطیفے دوہراتے اور خوب ہنستے۔ان کی دل لگی کے لیے میں نے غزلوں کے کئی پروگرام کروائے۔وجہ یہ تھی کہ انہیں غزلیں بہت زیادہ پسند تھیں۔ان کی وجہ سے مجھے اور اشوِن کو بھی اپنا پرانا وقت یاد کرنے اور اس بڑھاپے میں بھی محبت کے سمندر میں غوطے لگانے کا ایک نیا موقع ہاتھ آیا۔مجھے محسوس ہوتا جیسے میں اب بھی وہی پینتیس برس کی عورت ہوں، اور اشوِن تینتیس برس کے گبرو جوان۔میں غزلیں سنتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانکتی، اکثر وہ اس عمر میں بھی شرما کر آنکھیں نیچی کرلیتے یا گھمالیتے۔

وقت بہت اچھی طرح گزر رہا تھا۔ایک رات میری آنکھ کھلی تو اشوِن بستر پر نہیں تھے۔میں یہ سوچ کر کروٹ لے کر سوگئی کہ شاید واش روم گئے ہوں گے۔مگر صبح بھی انہیں اپنی بغل میں نہ پاکر میں بے چین ہوگئی۔باہر آئی تو دیکھا کہ ڈرائنگ روم میں پڑے کاوچ پر لیٹے ہوئے سو رہے ہیں۔مجھے حیرت تو بہت ہوئی، مگر میں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا۔اس واقعے کے بعد بھی کئی روز تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ اکثر اشوِن رات کو غائب ہوجاتے۔مگر میں جب بھی باہر آتی، انہیں کاوچ پر سوتا ہوا ہی پاتی۔عجیب بات یہ تھی کہ میں اس معاملے میں ان سےکوئی استفسار بھی نہیں کرپارہی تھی۔ذہن ایک بے نام سی کیفیت اور کشمکش کا شکار تھا۔شانی سے میں نے پوچھنا چاہا، پھر سوچا کہ وہ بھی کیا سوچے گی کہ بڑھیا کتنی شکی ہے۔ہم لوگ اکثر تمہارے یہاں بھی آتے رہتے تھے، اور اتفاق دیکھو کہ اس دوران ہم دو یا تین بار تم بچوں کے یہاں گئے، اور ان راتوں میں اشوِن میرے برابر سے اٹھ کر کہیں نہ گئے۔مجھے اب شک ہوچلا تھا، اور میں اس بڑھاپے میں اپنی محبت کے تیج کو بالکل ماند نہیں کرسکتی تھی۔پتہ نہیں کہاں سے ان دنوں مجھ میں ایک نوجوان لڑکی کے رشک وحسد کے جذبے نے جنم لینا شروع کردیا۔چنانچہ میں نے ایک فیصلہ کیا۔ وہاں سے واپس آتے ہی میں نے کوئی بہانہ بنا کر شانی کو ایک علیحدہ فلیٹ ایک دور دراز علاقے میں لے کر دے دیا۔اس میں ساری ضروریات کی چیزیں بھی فراہم کروادیں، اور کبیراور ونیتا پر ہر ہفتے ان سے مل کر آنے کی ذمہ داری بھی عائد کردی۔

معاملات بظاہر پھر معمول پر آگئے تھے۔مگر اگلے تین مہینوں کے دوران میں دیکھ ر ہی تھی کہ کام کاج میں تمہارے دادا کی دلچسپی کافی بڑھ گئی تھی۔وہ دیر رات تک دفتر رہتے، مجھے گھریا باہر کے کسی ضروری کام میں الجھا کر مجھ سے فاصلہ بنائے رکھتے۔پہلے پہل مجھے لگا کہ یہ سب میرا وہم ہے، اتنی عمر گزرنے کے بعد ان کے دل میں مجھ سے بے وفائی کا خیال بھی نہیں آسکتا۔اور بے وفائی بھی کس کی خاطر، شانی کی؟ نہیں نہیں، اگر بفرض محال وہ ایسا کچھ سوچ بھی رہے ہیں تو مجھے شانی کے کردار کی مضبوطی اور اس کے سنجیدہ مزاج پر بھرپور بھروسہ تھا۔وہ اپنی لڑکی کا گھر اس طرح کی بے وقوفیوں سے تباہ نہیں کرسکتی۔مگر میرے بچو! میں نہیں جانتی تھی کہ بے وقوفی ایک نہایت ذاتی قسم کا خیال ہے، جو بات میرے لیے بے وقوفی ہے، کسی کے لیے زندہ رہنے کا سبب بھی ہوسکتی ہے۔بہرحال، جب پانی سر کے اوپر چڑھتا محسوس ہوا تو میں نے ایک لیڈی جاسوس کی خدمات لینے کا ارادہ کیا۔اس کی خدمات لینے کے پیچھے میرا مقصد بس یہ تھا کہ وہ مجھے یہ بتادے کہ اشوِن مجھ سے دور رہ کر کیا کرتے ہیں؟ کس سے ملتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

قریب ہفتے بھر کے اندر ہی اس نے مجھے کچھ تصاویر لاکر دکھائیں۔ میں نے جب وہ تصویریں دیکھیں تو میری آنکھوں میں شعلے دہکنے لگے۔میرے بچو! اس کا میری عمر سے کوئی تعلق نہیں، مگر تمہارے دادا سے میری محبت کی شرم کا یہی تقاضہ ہے کہ میں یہ ذکر نہ کروں کہ ان تصویروں میں میں نے کیا دیکھا تھا۔بس اتنا سمجھ لو کہ انہیں دیکھ پانے کی تاب نہ لاکر، میں نے اسی وقت انہیں نذر آتش کردیا اور جاسوس کو پیسے دے کر رخصت کیا۔

میں سوچ رہی تھی۔کیا میری برسوں کی محنت، میری محبت کی تلاش، تمہارے دادا کی مجھ سے محبت۔سب کچھ بس ایک دھوکہ تھا؟ ایک فریب، ایک جھوٹ۔جس نے اب تک مجھ سے تمام طرح کی محنتیں کروائیں، میری زندگی جس تنکے کے سہارے اتنے بڑے دریا عبور کرآئی تھی، وہ تنکا بھی محض میری نگاہوں کا دھوکا تھا؟ اکثر لوگوں کو کسی کے مرنے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا صرف مایا ہے، اس کو حاصل کرنے، اسے پانےاور ڈھونڈنے کی ہماری غلط فہمیاں ہم پر اس وقت ہنس رہی ہوتی ہیں، جب ہم اپنے کسی بہت قریبی کو دنیا سے گزرتا ہوا دیکھتے ہیں۔میرے سینے میں ٹھیک ایسا ہی احساس موجیں ماررہا تھا۔حالانکہ کوئی مرا نہیں تھا، مگر وہ زندہ حقیقت، جس سے میں اب تک بہرہ ور نہ ہوسکی تھی، کپڑے اتار کر آج میری آنکھوں کے آگے رقص کررہی تھی۔

اس رات میں گویا کانٹوں کے بستر پر پڑی تھی، میرا شریر جل رہا تھا۔دماغ بھنا رہا تھا، آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور ایسے ہی وقت میں اچانک میرے دل نے ایک تباہ کن فیصلہ کیا۔میں جانتی تھی کہ تمہارے دادا خوب سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک عمردراز، شریف اور صاحب حیثیت آدمی ہیں، اس لیے مجھے ان پر اس بات کا کبھی شک نہیں ہوگا کہ وہ میری آنکھوں سے چھپ کر کسی عورت کے ساتھ ایسی کریہہ حرکت بھی کرسکتے ہیں۔اسی بڑھاپے، انہی جھریوں کا انہوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔چنانچہ میں نے بھی عمر کے اس حصے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور جب ایک بار یہ فیصلہ میرے ذہن میں پک کر تیار ہوگیا تو میں بہت گہری نیند سوگئی۔

اگلی شام کو تمہارے دادا جب گھر آئے تو میں نے ان سے بے حد محبت سے بات کی۔ان کے ساتھ رات کا بیشتر وقت جاگ کر گزارا۔تمام پچھلی زندگی کی یادوں کو ان پر روشن کیا۔میرے بچو! اس وقت ان کی آنکھیں گویا میری باتیں نہیں سن رہی تھیں، ان کی آنکھوں میں اب وہ اداسی کی جھلی دور دور تک نہیں تھی، جس نے زندگی بھر مجھ سے کولہو کے بیل کی طرح مشقت کروائی تھی۔اور اس بات نے مجھے اور زیادہ سرخ کردیا۔رات کے کسی وقت وہ گہری نیند میں ڈوب گئے، مگر میں نہیں سوئی۔صبح سویرے جب وہ پھر دفتر جانے کے لیے تیار ہونے لگے تو میں نے ضد باندھ لی کہ میں انہیں نہلاوں گی۔اس بات پر وہ زور سے ہنسنے لگے، مگر جب میری ضد سے انہیں میری سنجیدگی کا اندازہ ہوا تو چڑ کر کہنے لگے کہ اچھا جلدی کرو! بہت کام ہے مجھے!

میں نے ان کے انگ انگ کو اچھی طرح ملا، بدن پر سب جگہ صابن لگایا، ایک ایک جگہ کو ٹھیک سے صاف کیا، اپنی بوڑھی ہڈیوں کے زور سے ان کے جسم کا میل اتارتی رہی اور میری زبان پر بار بار بس ایک ہی سوال رینگ رہا تھا۔

‘آپ کو مجھ سے کچھ کہنا تو نہیں ہے، آپ مجھے کچھ بتانا بھول تو نہیں گئے؟’

میرے بچو! افسوس کہ انسان دوسرے انسان کے تن کا میل اتار سکتا ہے، لیکن من کا نہیں۔جواب میں وہ صرف ہنستے اور انکار کرتے رہے۔جب پورا بدن دھل کر اچھی طرح صاف ہوگیا تو میں نے ان کے بالوں میں ڈھیر سا شیمپو لگادیا۔اتنا کہ شیمپو نے ان کی آنکھوں تک کو اپنے نرغے میں لے لیا، انہوں نے آنکھیں کس کر بھینچ رکھی تھیں۔وہ میرے سامنے ایک بچے کی طرح بیٹھے تھے،اور امید کررہے تھے کہ میں ان پر پانی ڈال کر سارا شیمپو بہادوں گی۔مگر اسی وقت ایک کوندا سا ہوا، اور میں نے کونے میں رکھا ایک لکڑی کا دُھکا اٹھا کران کے سر کے اوپر عین بیچ میں مارا، ان کی ایک بھونڈی سی چیخ بلند ہوئی، انہوں نے ہاتھ ہلانا شروع کیے، مگر کچھ دیر میں وہ بے دم ہوگئے۔ خون شیمپو کے جھاگ کے ساتھ گھل کر نالی میں بہتا ہوا جارہا تھا۔اور میرے چہرے پر پڑی ہوئی چھینٹیں مجھے باتھ روم کی دیوار میں نصب آئنے میں صاف نظر آرہی تھیں۔ان چھینٹوں میں میری فتح تھی، ایک لال رنگ کا جشن تھا، تمہارے دادا کی تمام دھوکے بازیوں کی سزا تھی اور میری زندگی بھر کی محنت کا صلہ تھا۔

(5)

یہاں تک کہانی سناکر شارداخاموش ہوگئی۔مریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔اس نے پوچھا۔
‘پھر تمہاری دادی کو کوئی سزا نہیں ہوئی؟’

‘نہیں! اول بات تو وہ ایک رئیس ترین عورت تھیں، پولیس اور وکیلوں کے ذریعےکسی قتل پر پردہ ڈلوانا ان کے لیے مشکل کام نہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ پولیس فائل میں رپورٹ بھی یہی لکھی گئی تھی کہ دادا نہاتے وقت گرپڑے تھے اور باتھ روم کے فرش سے ٹکرانے کی وجہ سے ان کا سر پھٹ گیا تھا۔ کیا ایک بوڑھی عورت پر کوئی یہ شک کرسکتا تھا کہ اس نے اس عمر میں اپنے پتی کا قتل کیا ہو گا؟’

‘اور اس عورت کا کیا ہوا جس کے ساتھ دادا کا تعلق تھا، اور وہ عورت تھی کون؟’

شاردا نے پانی کا ایک گھونٹ بھر کر انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔

‘کچھ روز بعد انہوں نے نیند آور دوائوں کے ذریعےخودکشی کرلی، اور وہ عورت وہی تھی، یعنی میری نانی۔۔۔شانی!’

مریم نے کھڑکی کو دیکھا، برسات پھر دھیمی ہوچکی تھی، مگر پہاڑوں کے کاہی اندھیرے پردوں پراور چیختی ہوائوں میں اسے شاردا دیوی کی خونی اور قہقہہ باز آنکھیں گھورتی ہوئی معلوم ہوئیں۔اس نے فورا گردن دوسری طرف موڑ لی۔
***

Categories
نان فکشن

میں، افسانہ اور مصنف (تیسرا حصہ) – تالیف حیدر

میں جب اصولی طور پر افسانے کی ترسیل کے مسئلے پر غور کرتا ہوں تو لفظ ایک دیو قامت جن کی مانند میرے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اس کی مختلف حالتیں اور نوعیتیں مجھے مجبور کرنے لگتی ہیں کہ اس کے مشتقات پر غور کروں، اس کی مختلف ہئیتوں کو سمجھوں اس کی ترتیب اور وضع کے پیرائے کو عمیق انداز میں جانوں۔ لفظ کا کاروبار افسانے میں سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ اپنی اصطلاحی اور استعاراتی حیثیت سے کم اپنی روایتی شکل میں زیادہ۔

افسانہ اور شاعری میں یہ فرق ہے کہ شاعری میں لفظ لطیف انداز میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ افسانے میں اس کی کھردراہٹ کو ہم متن کےتسلسل میں محسوس کر لیتے ہیں۔ اس صنف میں الفاظ کی نشست و برخاست کا زیادہ دھیان رکھنا پڑتا ہے اور تخلیقیت کے لسانی بہاو کو اس طرح تشکیل دینا ہوتا ہے کہ کوئی لفظ غیر شعور ی طور پر بھی ایسا داخل نہ ہو جس کی روایت میں معنی کا تصادم موجود ہو۔ افسانہ ایسے الفاظ کو اپنی صف میں شامل نہیں ہونے دیتا۔

روایت اور لفظ کا ظاہری رشتہ بہت قدیم ہے۔ اس لیے لفظ اس رشتے کی قواعد میں ڈھلتے ڈھلتے ہمارے لیے بعض اوقات اتنا سہل ہو جاتا ہے کہ ہم کسی پس منظر کو تشکیل دیے بنا لفظ کی روایتی حیثیت کے ظاہری وجود کو بلا دلیل قبول کر لیتے ہیں۔ مثلاً اگر میں یہ سمجھوں کہ افسانہ ایسی صنف ہے جس کا مقصد کہانی ہے، خواہ وہ زندگی کے کسی ماخذ سے متعلق ہو، تو میں اس کہانی میں موجود الفاظ کی انہیں حیثیتوں پر غور کروں گا جس سے مجھے میرے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، میری بلا سے لفظ خواہ مجھ سے کیسا ہی تقاضہ کیوں نہ کرے اور روایت میں ڈھلے ہوئے الفاظ مجھے میرے فعل میں کامیاب بنانے میں معاون بھی ثابت ہوں گے۔

میں بالخصوص یہ عرض کر دوں کہ یہ کیفیت شاعری میں نہیں پائی جاتی۔ کیوں کہ شاعری میں کسی خیال کی ترسیل کے لیے الفاظ کا جیسا استعمال کیا جا تا ہے وہ اگر ذرا بھی روایت سے لگا کھاتا ہو تو اس کے معنی پوشیدہ رکھ پانا ممکن نہیں رہتا، اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ شاعری میں کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ باتیں کہنے کا چلن رائج ہے، اور غزل کی شاعری میں تو اس صورت حال کی قید اور زیادہ لگائی جاتی ہے۔ مگر افسانے میں ا لفاظ بہت سلیقے سے استعمال ہوتےہیں ساتھ ہی کثرت میں پائے جاتے ہیں اس لیے یہاں الفاظ کی روایت لفظ کی ظاہری حیثیت کے بجائے اس کے باطن میں ضم ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث قاری کو اس روایت کی تلاش میں سر گر داں رہنا پڑتا ہے۔ یہاں لفظ چونکہ ایک ایسے کتھا ساگر میں بہہ رہا ہوتا ہے جس پر قدم رکھ کر قاری منزل کے منارے کی طرف بڑھ جاتا ہے اس لیے اسے اس امر کا احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ ان الفاظ نے کہانی کو جس ظاہر معنی کی طرف دکھیلا ہے وہ اصل میں کہانی کے سطحی معنی ہیں۔ اصل شئے تہہ میں ہے جو الفاظ کی ماہئیت اور اس کے چلن کو سمجھنے کے بعد حاصل ہو گی۔

میں نے کسی بھی کہانی کو ہمیشہ ایک اکائی کے طور پر پڑھا ہے، عین ممکن ہے کہ عموماً افسانے کا قاری اسی طرح پڑھتا ہو، لیکن کہانی کو اس طرح پڑھنے سے یا سمجھنے سے ایک بڑا مسئلہ اس کی ترسیل کا وجود میں آتا ہے۔ ترسیل کیا ہے ؟ اس پہ آپ غور کیجیے تو یقیناً کہانی کے مطالعے کے بعد بھی آپ کہانی کی دلچسپ دنیا سے دیر تک محظوظ ہوتے رہیں گے۔ ترسیل کوئی چھلاوا نہیں، یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ کسی کہانی کا متن جو مصنف کی ذات تک کسی انجان حوالے سے پہنچتا ہے اور پھر الفاظ کی شکل میں ڈھل کے قاری تک پہنچتا ہے۔ الفاظ میں معنی کی ترسیل ایک معنیاتی نظام کے تحت ہوتی ہے۔ جو نظام زبان کا تشکیل کردہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس روایتی نظام کو نہ بھی مانے تو بھی معنی کے نئے معنیاتی نظم کے تحت سے الفاظ کی باطنی حرکت کو ایک اکائی کے تحت قبول کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کہانی کا ایک وجود ہے جو ایک مکمل معنی کے بغیر ادھورا تصور کیا جائے گا۔ ان مسئلوں میں ترسیل ہر مقام پر ایک ایسے سیال کی مانند کام کرتی ہے جو لفظ اور معنی اور مصنف اور قاری کے اندور میں متحرک رہتا ہے۔

ترسیل کے لفظی معنی اور اصطلاحی معنی دو مختلف صورتوں میں بٹے ہوئے ہیں، یعنی جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی شئے کی ترسیل ہوئی تو اس کے مادی معنی مراد لیے جاتے ہیں، لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی خیال کی ترسیل ہوئی تو اس کے معنی بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔حالاں کہ یہ مسئلہ شاعری کی حد ود میں بھی خاصہ پیچیدہ ہے، لیکن کہانی میں اس کا فسوں مختلف نوعیت کا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کہانی میں سہل معلوم ہوتا ہے جبکہ ہوتا زیادہ مشکل اور دلچسپ ہے۔ میرا کہانی کو پڑھنے کا تجربہ بتاتا ہے کہ میں اس لفظ کے باطن میں اکثر داخل ہونے سے گریز کرتا ہوں۔ مثلاً میں نے کہانی سے کیا حاصل کیا یا یوں کہوں کہ کہانی نے مجھ تک کس غیر مادی وجود کی ترسیل کی اس کو میں بہت دیر تک نہیں سمجھ پاتا۔

غور کرنے والی بات ہے کہ کیا کہانی میں ترسیل کا مسئلہ اس کے اختتام سے وابستہ ہے۔ یعنی کہانی اس وقت تک مجھ میں کچھ رد و بدل نہیں کرے گی یا تحریک پیدا نہیں کرے گی جب تک میں اسے از اول تا آخر پڑھ نہ لوں۔ یہ استفسار اس لیے ضروری ہے کیوں کہ میں بض اوقات کہانی کو کئی مرتبہ ختم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہوں، اور اس سے خود میں ایک نوع کی تبدیلی بھی محسوس کرتا ہوں۔مادی وجود تو لفظ اور جملے کی ترسیل کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ مثلاً ایک لفظ ہے” ردا” میں نے کہانی کے دوران اس کا مطالعہ کیا اور فوراً اس کی ترسیل ہو گئی۔ اس کی ترسیل کے لیے میں نے ایک شکل کی مدد لی اور پھر معنی کے نظام میں داخل ہو کر اسے ایک طے شدہ معنی میں ڈھالا اور مسئلہ حل ہو گیا یا اس کے برعکس ایک جملہ ہے کہ “عصمت نے ردا کھینچی۔”یہاں لفظ کی اکائی بے معنی ہو گئی اور جملہ اس طرح اپنی ترسیل میں کامیاب ہو کہ کئی تصویروں نے مل کر ایک فریم بنایا جو اصل میں ایک اکائی کی صورت میں ڈھل گیا اب آپ اس فریم کو مزید بڑا کیجیے اور اسے کہانی کے پورے وجود پر پھیلا دیجیے، پھر جو خیال یا تصویر بنے گی اس کو ایک اکائی میں ڈھال لیجیے۔

افسانے کا یہ چھلاوا آپ کو محسوس کرائے گا کہ کہانی کے جس نکتے کو آپ اہمیت دینا چاہتے ہیں اس کی ترسیل ہو گئی ہے۔ ایک فریم جس میں کہانی کی تمام اکائیاں آ کر جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن واقعتاً ایسا ہے نہیں اسی لیے میں نے شعر کی ترسیل کو افسانے کی ترسیل کے مقابلے آسان کہا تھا۔ یہ واقعہ ہے کہ لفظ جس کی ایک اپنی کائنات ہوتی ہے وہ جس صنف میں جتنا زیادہ کھپے گا اس کا صنف کی ترسیل اتنی ہی وسیع ہوتی چلی جائے گی۔ کہانی کو اس طرح پڑھنا کہ اس سے ایک خیال تک رسائی حاصل ہو یہ کوئی کامیاب مطالعہ نہیں ہو سکتا، خواہ کہانی دو صفحات کی ہو یا سو۔

کہانی میں ترسیل کا نظام مختلف اکائیوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جس کو صرف نظر کرنے سے کہانی کی غیر مادی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مصنف ایک آلے سے بڑھ کر کہانی کو تخلیق کرنے والا ایسا وجود ہوتا ہے جو نامعلوم دنیا کی انجانی روشنیوں سے پُر ہوتا ہے۔ اگر کوئی مصنف یہ دعوی کرے کہ اس کی تصنیف کسی ایک معنی تک قاری کو پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوں گے کہ کہانی کا ارتکازی نکتہ جو مصنف کی نظر میں جلی ہو رہا ہے وہ کہانی کا واحد نکتہ ہے۔ مصنف نے جس طرح توجہ دلائی اس طرف قاری نے نظریں نہ بھی جمائیں تو بھی اسے کہانی کے بطن میں پلنے والے بے شمار نکتوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع ملتا ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ قاری اپنی مرضی سے کسی ایک نکتے کو کہانی کا حاصل تصور کرتا ہے جو مصنف سے مختلف ہے۔ اس سے حاصل یہ آتا ہے کہ ایک کہانی میں بیک وقت دو نکتے ابھر کے سامنے آ جاتے ہیں۔ جس سے کہانی کے وجود کی ظاہری توسیع ہو جاتی ہے۔ اس توسیع کو مزید کرنا ہو تواجتماعی قرات کا تجربہ کرنا چاہیے، جس میں بیک وقت کئی لوگ مختلف نکات کو کہانی کا مرکزی نکتہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسئلہ کہانی سے زیادہ طباع کا ہو جاتا ہے۔ ایک مرقومہ نکتے کی مختلف حالتوں کا بیان مختلف تجربوں کا بیان ہوتا ہے اس میں ترسیل اپنی مختلف شکلوں میں کام کرتی ہے۔ وہ الفاظ اور ان کے معنی کی حالتوں کو انسانی ذہنوں کے مطابق بنا لیتی ہے۔ کہانی آگے کی طرف بڑھتی جاتی اور لوگ جملوں اور پھر اقتباسوں سے ایک ایک اکائی اخذ کر کے انہیں دوسری اکائیوں سے ملاتے جاتے ہیں،اس طرح جیسے ایک تھال میں پڑے ہوئے مختلف آنٹے کے ذرے پانی کی دھار سے ایک دوسرے سے لپٹتے جاتے ہیں اور پھر گندھتے جاتے ہیں کئی ذرے پہلے آنٹے سے پینڈ کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر پینڈ سے ایک سخت گولے کی جو ایک جامد شئے بن جاتا ہے۔ خیال کے مدغم ہونے کا عمل بھی ایسا ہی ہے۔

کہانی کے اختتام پہ ترسیل کی جلد بازی میں الجھے ہوئے بیش تر ذہنوں کو کہانی کے اختتام میں ایک گندھا ہوا ٹھوس خیال نصیب ہوتا ہے جس سے لطف اندوز ہونے کا عمل بھی ویسا ہی گاڑھا اور سخت ہوتا ہے جیسا کہ و ہ خیال۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کہانی کی ترسیل کے مسئلے پہ غور کرنا کہانی کے مطالعے کے بعد سب سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی ایک عرصے تک کہانی کی ایک اکائی سے محظوظ ہونے کو ہی کہانی کا حاصل سمجھا، مگر اس امر نے مجھے غیر مطمئن کیا اور میرے اندر یہ ارتعاش پیدا کیا کہ کہانی اتنی آسانی سے اپنی ترسیل نہیں ہونے دے سکتی۔ اس میں کہیں کوئی ترسیلی فسوں ہے جو مجھے اس کے چو طرفہ حلقوں تک پہنچنے سے روک رہاہے۔ اس ترسیل کے عمل میں مانع ہونے والی مختلف حالتیں اس غورو فکر کے بعد مجھ پہ روشن ہونا شروع ہوئیں جن میں سب سے دلچسپ اکائی لفظ کی ہے۔

یہاں یہ بحث بے معنی ہے کہ شاعری میں استعمال ہونے والا لفظ اور کہانی میں استعمال ہونے والا لفظ کس طرح سے دو مختلف حالتوں میں اپنی معنیاتی فضا تشکیل کرتا ہے۔حالاں کہ اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ میرا موضوع نہیں، میں صرف اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ لفظ ہر صنف کے تقاضوں کے تحت کام کرتا ہے اگر شاعری میں ہے تو شاعرانہ تقاضے کے تحت کام کرے گا اور اگر نثر میں ہے تو نثریہ تقاضے کے تحت۔ بہر کیف کہانی میں لفظ کئی اقسام میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں سادہ اور اکہرے لفظ، تشبیہاتی اور استعاراتی لفظ، گہرے اور تہہ دار لفظ اور کلیدی وذوی معنی لفظ۔ ترسیل کے عمل میں ہر لفظ جس طرح ایک مقدمے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اس مقدمے کی شکل کو بنانے اور بگاڑنے کا عمل لفظ کی حالت کو مختلف صورتوں میں بدل دیتا ہے۔ مثلاً میں نے اوپر لفظ کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا تھا کہ لفظ”ردا” کی ترسیل کہانی میں کیسے ہوتی ہے۔ اب دوسری حالت دیکھیے کہ اگر کوئی لفظ کہانی میں گہرے یا تہہ دار معنی میں استعمال ہو رہا ہے تو وہ کس طرح ترسیل کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔اگر کسی کہانی میں ایک لفظ استعمال ہو رہا ہے “منجنیق “تو آپ اس سے کیا مراد لیں گے۔ کہانی کا بیانیہ آپ سے مطالبہ کرے گا کہ آپ ا س کے لغوی معنی مراد لیجیے، لیکن ترسیل کا عمل اس کے اصطلاحی معنی سے محظوظ ہو رہا ہے۔ مغربی کہانیوں میں ایسے بیشتر الفاظ استعمال ہوتے ہیں، روایت کی پاسداری آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ کسی لفظ کے وہ معنی مراد لیے جائیں جو زبان کے بہاو کو مجروح نہ کریں، لیکن وقت معنی کے باطنی نظام کو بالکل تبدیل کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں ترسیل کا عمل کبھی ذہانت کا مظاہرہ کرتا ہے اور معنی کی ترسیل میں دونوں رکاوٹیں ختم کر دیتا ہے اور کبھی کند ذہنی کا مظاہرہ کرتا ہے اور لفظ کو مردار بنا دیتا ہے۔ یہ لفظ کی تہہ داری کا مسئلہ ہے۔

اگر آپ ایک قاری ہیں ایسے جو الفاظ کو کم نہیں آنکتے تو یقیناً آپ لفظ کے مختلف معنی کے ترسیل کے مختلف زاویے تراشیں گے اور کہانی کے کینوس پہ بکھرے ہوئے مختلف رنگوں کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن اگر آپ الفاظ کی ترسیل کے عمل کو اہمیت نہیں دیتے تو اختتام میں لفظ بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ لفظ کی ترسیل اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ کہانی میں اس کے معنی کی تلاش میں سرگرداں رہا جائے۔ تاکہ ہر لفظ کے ایک سٹیک معنی کے ساتھ ساتھ مختلف پیچیدہ اور گھماو دار معنی بھی متن کے بین السطور پہ ابھر سکیں۔ سوچنے والا ذہن متن کے اندور میں چھپے معنی کو اسی طرح روشن کرتا ہے۔ کیوں کہ کہانی کا کل سرمہ متن ہوتا ہے اس لیے لفظ کی ترسیل کے لیے ہمیں اس کے معنی کے نظام میں داخل ہونے کی ہر کوشش کو اہمیت دینا پڑتی ہے۔ لفظ اپنی مجموعی حالت میں کس طرح ایک معنی کی ترسیل کریں کے اس کا انحصار ہماری فکر پہ ہوتا ہے۔ میں لفظ کو ایک ایسے شیشے سے دیکھنے کو اہمیت دیتا ہو ں جس سےا س کی رگوں میں بہتےہوے مختلف معنوں کا لہو نظر آ جائے۔ تاکہ ترسیل کے عمل میں سب سے پہلی اکائی ہی مانع نہ ثابت ہو۔

Categories
فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (دوسرا حصہ) – تالیف حیدر

میرے افسانے پڑھنے کا تجربہ انفرادی نوعیت کا رہا ہے۔ اس لیے میں نے اپنے اکثر افسانوں میں خود کو مظلوم اور مترحم پایا ہے۔ وحشی اور عاشق کی شکل میں دیکھا ہے، انسان اور جانور کی طرح پایا ہے۔ انفرادی قرات کی یہ آزادی ہے کہ آپ کو جو کردار ٹھیک لگا، جو جذبہ بہتر پایا اسی کو اپنا بنا لیا۔ انسانی ذہن زیادہ تر اپنے لیے آسانی، نمائندگی اور گدازی تلاش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو طبائع ایسےہوتے ہیں جن کو اس سے متضاد کیفیت میں لطف آتا ہے وہ اس قالب میں خود کو ڈھال لیتے ہیں۔

افسانہ کیوں وجود میں آیا ہے اس پر ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے۔ مشرقی ذہن کا عام میلان یہ بھی ہے کہ وہ نصیحت کی باتوں کے پیچھے خوب دوڑتا ہے۔ کہانی میں اول صورت میں جہاں کوئی ایسی بات نظر آئی جس سے معاشرے یا تہذیب کے لیے کوئی مثالی واقعہ مل جائے اسے ذہن کے گوشے میں محفوظ کر لیتا ہے تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ جنسیت سے ذرا گھبرانے کے باوجود اس کے تذکرے سےقاری کے اندر فرحت و انبساط کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ لاکھ چھپائے مگر افسانے کے اس حصے کو بھوکے شخص کی طرح بڑے بڑے نوالوں میں غٹک جاتا ہے۔

کہانی کے تسلسل کو شاعرانہ نگاہ سے دیکھنے کا وصف بھی ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں عام اور غیر تخلیقی نثر میں بھی ہم شاعری زیادہ تلاش کرتے ہیں اور اس کے بنا نثر کے حسن کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ مگر تخلیق میں اس کی ضرورت اور اہمیت کو ناگزیر تصور کرنے لگتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعری ہمارے لاشعور سے عرصہ دراز سے چپکی ہوئی ہے۔ افسانے کی ترتیب سے بھی ہمارا ایک ازلی رشتہ ہے ہم کہانی کو ایک کرم میں دیکھنے کے عادی رہے ہیں۔ اس لیے انفرادی نوعیت کی قرات میں زیادہ تر ان واقع سے زیادہ لطف اندروز ہوتے ہیں جن میں تسلسل مربوط ہو یا یوں کہا جائے کہ ہماری منشا کے مطابق ہو۔ کہانی خواہ کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہو مگر واقعات کی ڈور سلیقے سے بنی گئی ہو اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے زیادہ محنت نہ کرنا پڑے یہ اکثر ہماری خواہش ہوتی ہے۔

میں اپنے افسانے کے سفر سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوں کیوں کہ میں جب افسانے کی قرات کی طرف مائل ہوا تو اس وقت میری عمر کچھ سولہ، سترہ برس تھی اور آج تقریباً اپنی قرات کے سولہ برس بعد میں اس بات پر کف افسوس مل رہا ہوں کہ افسانے کے پڑھنے کا جو نظام میں نے خود بنایا تھا وہ کتنا ناقص تھا، اس نقص کا احساس مجھے اس لیے نہیں کہ میں نے کہانیوں کا انتخاب کرنے میں کسی نوع کی کوتاہی کی ہے یا افسانے کو وقت گزاری کے لیے پڑھا ہے۔ بلکہ افسانے سے اپنا ایک با قاعدہ رشتہ بنانے میں کبھی دلچسپی نہیں لی۔ میں نے بتدریج مطالعے کو یکسر غیر اہم سمجھا اس لیے کبھی مغربی افسانہ نگاروں کے افسانے طبیعت کو بھائے تو کبھی مشرقی۔ اردو، عربی، فارسی، ہندی، انگریزی اور نہ جانے کتنی زبانوں کے افسانے جن سے بس ایک سلسلے کے تحت ہم آہنگ ہوتا گیا۔ کوئی کہانی دیکھی، اسے اٹھا کر پڑھنے لگا اور تقابل کی سطح پر کبھی ایک کو دوسرے سے بہتر گردانہ اور کبھی دوسرے کو تیسرے سے۔ اب میں اسے کئی وجوہات کی بنا پر حماقت کا عمل تصور کرتا ہوں۔ مثلاًجس زمانے میں مجھے روسی ادب کاشوق سوار تھا تو میں ٹالسٹائی کے افسانوں کے تراجم تلاش کر کے پڑھا کرتا تھا۔ اسے پڑھ کر اپنے نفس کو یہ تسکین پہنچاتا کہ میں نے روسی افسانے بھی پڑھے ہیں، جن کا اثبات میں مجمع عام میں کر سکتا ہوں، کوئی امتحاناً دریافت کرے تو ٹالسٹائی کی کہانیوں کے نام بتا سکتا ہوں، ان کے کردار اور کہانیوں کا خلاصہ بھی بیان کر سکتا ہوں۔ اسی کو میں اپنے افسانوی سفر کا حاصل سمجھ رہا تھا اور دو چار برس تک نہیں بلکہ پورے پندرہ برس تک۔ کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ جسے میں روسی ادب کا مطالعہ کہتا ہوں آخر وہ بلائے جاں ہے کیا چیز۔

کسی بھی غیر زبان کا ادب پڑھنا کیا ہوتا ہے وہ بھی بالخصوص افسانہ جس کی تہہ اور واقعاتی لہر ہمیں کسی بھی معاشرت کی کتنی گہری تفہیم عطا کر سکتی ہے۔ اس معاشرت کے ان باریک نکات سے آگاہ کر سکتی ہے جس کی بنا پر ہم انسانی نفسیات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ میں نے کبھی ٹالسٹائی کے افسانوں کو اس نظر سے نہیں پڑھا کہ وہ دنیا کی ایک عظیم معاشرت کی ترسیل کا تکملہ ہیں۔ صرف اس نظر سے کہ کہانی میں کیا ہے۔ کس طرح اسے جانا جا سکتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عرصے تک ٹالسٹائی کی بعض کہانیاں مجھے اپنے معاشرے میں موجود ان کہانی نگاروں سے بھی کہیں زیادہ کمزور لگیں جو ہمارے یہاں بہت زیادہ اہمیت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔

کوئی بھی بڑا ادیب افسانے کی زمین پر کیا شاہ کار تعمیر کر رہا ہے اس کا ادراک اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم اس کی معاشرت کے کماحقہ ادراک سے لبریز ہوں۔ کسی قوم کی تاریخ۔ اس کے وجود میں آنے، مہذب ہونے، ثقافتی سطح پہ تنوع اختیار کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں بڑھتے چلے جانے کے رازوں سے آگاہ ہوں۔ مثلاً جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں روسی افسانہ پڑ ھ رہا ہوں تو مجھے یقین ہونا چاہیے کہ میں ایک ایسی زبان میں لکھی جانے والی کہانی کا متن پڑھ رہا ہوں جس کی تاریخ اور جغرافیہ سے میں واقف ہوں۔ جس کی سیاسی تاریخ کا مجھے علم ہے۔ جس کے تہذیبی اور اعتقادی اعمال سے آشنائی حاصل ہے۔ جہاں کے انفرادی نوعیت کے معاملات میں دخیل ہونا میرا منشا بن گیا ہے۔ اس کے بعد جب میں ادب کی زمین پر کھڑا ہوا کر افسانے کے حوالے سے کسی عظیم تخلیق کار کا متن پڑھتا ہوں تو اس معاشرت کی ترسیل کے تکملے تک رسائی حاصل کرتاہوں۔ وہاں کی زبان کےنظام کو جانتا ہوں، وہاں کے معاملات زندگی میں استعمال ہونے والے محاورات سے آگاہ ہو تا ہوں۔ جس سے نہ صرف یہ کہ میں سمجھ پا رہا ہوں کہ منشائے مصنف کیا ہے بلکہ مجھے اس کا بھی علم ہے کہ کس جملے کی تطبیق کس پر ہو گئی اور معنی کے اخذ کرنے کا نظام کیا ہوگا۔

میرا افسانوی تجربہ مجھے ہر لحاظ سے بعض بہت ہی بنیادی باتوں کے متعلق غور کرنے کی دعوت دیتارہتاہے۔ جس میں افسانے کی ترسیل کا مسئلہ سب سے اہم ہے کہ میں نے افسانے کو کس طرح اس کی مختلف شکلوں میں پایا اور وہ کن کن صورتوں میں مجھ سے دو چار ہوا یا مجھ تک پہنچا۔ یہ پہنچنے کی حالت بعینہ مجھ تک پہنچنے کی نہیں بلکہ میرے احساس تک پہنچنے کی ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا اہم معاملہ افسانے کی مجھ میں تحلیل کا ہے کہ افسانہ میرے شعور میں گھل کر کس طرح مرے اعمال و افکار میں شامل ہو گیا۔ آخر میں اس کی تاثیر کا مسئلہ کہ وہ ماحصل کس نوعیت کا ہے جو گذشتہ دونوں اعمال کے اختلاط سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک بنیادی بات کی طرف مزید اشارہ کرتے ہوئے میں اپنے اصل موضوع کی طرف بڑھوں گا کہ میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ جب میں نے اپنی زبان میں لکھی ہوئی کوئی افسانوی تحریر پڑھی ہے تو اس سے رشتہ قائم کرنے،اس کی تہہ میں موجود افکار کی نفسیاتی وجوہات معلوم کرنے اور اس کی تخلیق کے اسباب جاننے میں مجھے کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنہ کرنا پڑا جس کی بہ نسبت دوسری زبان میں لکھے ہوئے افسانے کے متن سے میں جلد ہی گھل مل گیا۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کچھ غیر زبان کے افسانوں نے مجھے پریشان کیا ہو، اس کی وجہ مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ میں اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود غیر تہذیبی اور لسانی متن کی ان باریکوں تک رسائی حاصل نہیں کر پایا ہوں جو میری اپنی تہذیب کی علامتوں کے ادراک کی صورت میں میرے اندر سوالات کا ایک ڈھیر لگا دیتی ہیں۔ یقیناً میں غیر تہذیبی و لسانی متن کو ایک نوع کی آسانی کے ساتھ ہی قبول کرتا ہوں، جب تک کہ اس میں کوئی بہت گہری علامت واضح طور پر رقم نہ کی گئی ہو یا وہ ابہام کی شکل میں تخلیق نہ کیا گیا ہو۔ اس سے مجھے یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ دوسری زبانوں کو پڑھتے وقت ہم بہت سے نکات میں مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال یہ ہے یہ کہ اپنی زبان کے افسانہ نگار سے میرے مطالبے زیادہ ہوتے ہیں۔ چوں کہ وہ ایک ایسے ماحول میں تحریر لکھ رہا ہے جو میرا جا نا پہچانا ہے، جس کی جزیات پر میں اپنی نظریں جمائے رہتا ہوں، لہذا تخلیقی وفور کے باوجود میرے اپنے ادیب سے جہاں کہی جزوی بیانیہ میں بھی غلطی ہوتی ہے تو میرے لیے وہ متن غیر دلچسپ یا غیر اہم سا ہو جا تا ہے۔ یہ مایوسی اس بات کی دلیل ہے کہ میں ان لوگوں کی نگاہوں کا مداح ہوں جو اپنے اطراف کو غور سے دیکھتے ہیں، ان میں پوشیدہ بہت ہی معمولی اجزا کو بھی اتنا بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں کہ مجھے ان کی تفہیم میں مزید آسانی پیدا ہو جاتی ہے، یہاں تخلیق کی سطح سے زیادہ اطراف کی اٹکھیلیوں پر دھیان لگا رہتا ہے۔ کوئی ایک بے ترتیب بات، کوئی غچہ کھانے والا جملہ، کوئی غلط تشبیہ، ایک ہلکی سی بے معنویت تخلیق کار کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اگر میں ایسے متن کو جس میں خواہ معمولی سے معمولی باتوں میں اعتقاد اور رسومات کی سطح پر بھی سقم نظر آتا ہے کلیتاً غیر اہم نہ بھی گردانوں تو بھی اس کی وہ اہمیت نہیں رہتی جو ایک کامل متن کی ہو نا میرے نزدیک شرط ہے۔ اسے آپ مجھ جیسے قاری کی کسوٹی بھی کہہ سکتے ہیں اور زیادتی بھی۔ لیکن اس میں تخلیق کار کو بھی اتنا تو دخل ہے کہ وہ اپنی بصیرت کی آنکھ کو کہیں نہ کہیں بند کیے ہوئے ہے یا کسی اتفاقی صورت حال میں وہ چوک گیا ہے جس کے باعث متن میں ایسے اجزا شامل ہو گئے ہیں جنہیں میں معیوب تصور کرتا ہوں۔ لا محالہ یہ میرا اپنا پیمانہ ہے، ہر قاری کا ہوتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ عیوب کے معیارات جدا ہیں اور حسن بھی، لہذا ہر قاری کے نزدیک متن کی کچھ شکل بہتر یا بد تر ہو جاتی ہے۔ ایک افسانوی متن سے یہ تضاضہ بالکل انفرادی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر اس کے بالمقابل اجتماعی نوعیت کی قرات میں بھی عیوب اور حسن کی تحلیل انفرادی طور پر ہی منقسم ہوتی ہے۔ غیر ملکی متن کو یہ آزادی حاصل ہوتی ہے کہ اس کی جزیات اس کے کل میں ضم ہو جاتی ہیں۔ لہذا نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری والا معاملہ ہے کہ اگر مجھے علم ہی نہیں کہ فرانس میں فلاں روایت کو کس طرح سے عوام دیکھتی ہے قبول کرتی ہے یا رد کرتی ہے تو میں اسکا اپنا ایک مقامی ترازو بنا لیتا ہوں، جس میں روایت کا بری طرح قلع قما ہو جاتا ہے اور حاصل نہ عیب آتا ہے اور نہ ہنر۔

افسانے کی ترسیل کا عمل کیا ہے ہوتا ہے، یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں، لیکن ترسیل کے کئی ایک معنی ہونے کے باعث میں یہ واضح کر دینا بہتر سمجھتا ہوں کہ میری مراد اس لفظ سے یہاں میرے احساس تک افسانے کی رسائی سے ہے۔ جسے آپ ابلاغ تصور بھی کہہ سکتے ہیں۔ افسانے کی ترسیل خواہ ظاہری طور پر چھوٹی چیز معلوم ہو مگر جب کہانی کے تنوعات کے ساتھ اس پر غور کیا جائے تو لا محالہ یہ بہت بڑی اور اہم شئے ہو جاتی ہے۔ کوئی اگر یہ سمجھے کہ اس کے یہاں افسانے کی درجہ بندی کسی مرحلے پر نہیں ہوتی تو یہ ایک منفی (غلط)خیال ہوگا۔افسانہ اتنی چھلاوے والی شئے ہے کہ اس کو معلوم ہے کہ کس طرح کن کن مرحلوں سے گزرتے ہوئے قاری کے احساس تک پہنچنا ہے۔ اگر آپ ایک باشعور قاری ہیں توافسانے کے اس چھلاوے کو جلد ہی گرفت میں لے لیں گے۔ کیوں کہ افسانہ جب جب اپنے اسالیب کے مختلف ناگ آپ کی چھاتی پر رنگنے کے لیے چھوڑ دے گا تب تب آپ مچل مچل کر اس کی الگ الگ پھنکاروں سے واقف ہونے لگیں گے۔ افسانے کا اسلوب اس کی ترسیل کے دامن سے پیوست ہوتا ہے۔ ہر افسانہ کئی کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اور کئی کئی شکلوں میں اپنی پسند اور نا پسند کے معیارات قائم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ افسانے کا چھلاوا ہی ہے کہ اگر آپ کسی افسانوی متن کو اس کی بعض غیر مانوس یا علامتی نوعیتوں سے گھبرا کر اپنے احساس میں ضم نہیں کر پائیں گے تو بھی وہ یک گنا آپ کو محظوظ کر ے گا۔ کہانی یا تو آپ کے حسیاتی پہلووں کو مس کرے گی یا آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی نکل جائے گی۔

Categories
نان فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (پہلا حصہ) – تالیف حیدر

ادب کھیل تماشا نہیں، نہ ہی تفنن طبع ہے۔ ادب ایک ذمہ داری ہے، ہر اس پڑھنے والے کے لیے جو اس کے مسائل پہ غور کرتا ہے، جو جاننا چاہتا ہے کہ ادب کی ماہئیت کیا ہے؟ اس کے وجود میں آنے کی اسباب و علل کیا ہیں اور اس کے قائم اور دائمی ہو جانے کی وجوہات کیا ہیں۔ یہ خواہ بادی النظری میں تفنن طبع معلوم ہو، مگر اس کی جہات اور شقوں پر غور کیا جائے، اس کے مقاصد اور اثرات کو سنجیدگی سے جانچا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس کے تفنن میں کاری گری اور فکر و نظر کی جلوہ سامانیاں پائی جاتی ہیں۔ میرا موضوع اس مضمون کی حد تک افسانہ ہے، افسانے کا وجود، اس کی ترسیل، اس کی تحلیل، میرا اس سے رشتہ اور میرے اطراف میں افسانے کا پھیلاو وغیرہ۔لیکن اس پر گفتگو کرنے سے قبل میں چند ایک باتیں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کن سوالات سے میرے افسانوی استفہامے کا رشتہ جڑتا ہے اور کیوں میں اس خیال کے بھنور میں خود کو پھنسا پاتا ہوں کہ افسانے کی شعریات سے الجھوں اور اس کے وجود اور اپنے وجود کے رشتے کی گتھیوں کو ظاہر کروں۔

ادب ہی اس مضمون کا پیش خیمہ ہے۔ ادب جس کا وجود اور جس کے اثرات مجھے پریشان کرنے میں گذشتہ دس برس سے مستقل لگے ہوئے ہیں۔ شاعری، نثر، تخلیق، تنقید، تحقیق یہ سب کیا ہے اس کے ہونے سے ہمیں کیا حاصل ہو رہا ہے۔ اس پر مستقل غور کرنے سے ہمارا کیا نفع ہے اور کیا نقصان ہے یا کون سی شئے ہے جو مجھے سر گرم رکھتی ہے ادب کی تحصیل میں۔ میں اکثر اپنے دوستو ں سے اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ ادب وہ خواہ شاعری ہو یا نثر ایک مسلسل عمل ہے، ظاہری نہیں بلکہ باطنی، اس عمل کو روایتی زبان میں بیان کیا جائے تو واردات کا لفظ اس کے لیے خاصہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ شعر ا س کی تکرار،اس کاجنون، اس میں پوشیدہ دل بستگی کا سامان، یہ سب معمہ ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں کہ آخر یہ کون سی آوازوں کی تکرار ہے جو ہمیں زندہ رکھنے میں اور ہمارے تحرک میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ کاروباری نوعیت کے لوگ ہوں یا غور کرنے والے اذہان۔ سب اس کی گرفت میں ہیں۔ پھر مزید یہ کہ تخلیق کی سطح پر ہم صیقل کیوں ہو تے چلے آئے ہیں اور مستقل ہو رہے ہیں۔ ہمیں ابہام اور الجھی ہوئی گتھیاں لبھا رہی ہیں۔ نثر کی لٹھ چلاتی ہوئی تخلیقات اپنے حلقہ اثر میں لے رہی ہیں۔ موزونیت کے روز بروز نئے قائدے مرتب ہو رہے ہیں، مگر اس بلائے بے اماں سے ہمارا پیچھا نہیں چھٹ رہا ہے۔

موجودہ عہد پہ غور کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک انتشار کی لہر ہے جو زندگی کے بے شمار خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جو انسان کو انسان سے غیر متعلق کرنے میں کوشاں ہے۔ جو زندگی کے معمے کو حل کرنے کی جستجو میں، نئی دنیاوں، خلاوں اور کائناتوں کی تلاش میں سر گرم ہے۔ سیاسی بازار میں رقابتوں کا خونی کھیل جاری ہے، زمینیں تنگ ہو رہی ہیں، انسانی نفوس کے حلقوم پرمسائل کی مٹھیوں کی گرفت تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی جا رہے، مگر انسان نے ایسے عالم میں بھی شعر، افسانہ، ناول اور تخلیق سے اپنا رشتہ غیر مستحکم نہیں ہونے دیا ہے۔ سب ہو رہا ہے اور یہ بھی ہو رہا ہے کہ ہم خود غرضی کی چادر تلے انسان دوستی،امن و آتشی کے خواب دیکھنے کی آنکھیں نہیں بند کر پا رہے ہیں۔ مظالم اور افلاس کے نعروں میں جھوم جھوم کر آزادی کے ترانے گا رہے ہیں۔ ادب جی رہے ہیں اور اس کے حلقہ اثر کو جسے کم یا اب تک انسانی زندگی سے ختم ہو جانا چاہیے تھا اس کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی لاکھ صرف نظر کرے مگر میں اپنے اطراف کی ایک اہم صنف ادب ایک فکری ترنگ کے مالہ و ما الیہ پہ غور کرنے پر مجبور ہوں اور خود سے اس طلسم بے فسوں کا تعلق ظاہر کرنے پہ آمادہ معلوم ہوتا ہوں۔ یہ کوئی فریضہ نہیں بلکہ جبر ہے، میرے باطن کا میری ذات پر اور میرے فسون دروں کا میرے اظہار پر۔ اس لیے افسانے کی شعریات سے میں الجھ رہا ہوں اور اس کے اصول و افتراق کو بیان کر رہا ہوں کہ اپنی ذات کی گتھیوں کو سلجھانے میں معاونت حاصل کر سکوں اور جان سکوں کہ افسانہ میرے درون ذات کی ظلمتوں میں تحلیل ہو کر مجھے کن سطحوں پر روشنی بخش رہا ہے۔

افسانے کی تخلیق کا عمل کب شروع ہوا یا کیوں شروع ہوا، یہ سوال میرے لیے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ایک پیرایہ بیان جو وجود میں آیا، جس نے ترقی کی، انسانی زندگی میں اپنی جگہ بنا لی، اس کے وجود میں آنے کی تاریخ جاننے سے یا اسکے اسباب جاننے سے اتنی دور آ کر ہم کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ مغرب اور مشرق کے جھگڑوں میں الجھنے سے یا یہ سمجھنے میں اپنا وقت صرف کرنے سے کہ اس کا وجوداول اول کن لوگوں کے درمیان پنپا۔ میں نے جس معاشرت میں آنکھ کھولی، جس ماحول میں پلا بڑھا وہاں افسانہ اپنی مکمل جامعیت کے ساتھ موجود تھا۔ اس کی گھنٹیوں کا شور چاروں جانب پھیلا ہوا تھا۔ کیا مغرب اور کیا مشرق اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے دیکھتے دیکھتے سرحدوں کی لکیروں کو اتنا مٹتے دیکھا کہ سب ایک دوسرے میں گھل مل گیے۔

یہ میرا بھی معمول رہا ہے کہ کبھی افسانے کی کسی کتاب میں ٹالسٹائی کا افسانہ پڑھ لیا، کبھی، منٹو وبیدی کا۔ کبھی کسی ہندی افسانوی متن میں کھو گئے تو کبھی بنگالی۔ کبھی ایڈگر کو اٹھا لیا تو کبھی بالکل ہی نامعلوم قسم کے کسی غیر معروف افسانہ نگا ر کو جس کا نام بھی کبھی نہیں سنا تھا۔ کسی بھی صنف کو پڑھنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہوتا۔ لہذا اسی طرح افسانے سے ایک رشتہ قائم ہوا اور افسانے کی رنگینیوں کو جانا اس کے مختلف چوکھٹے دیکھے اور سمجھنے لگے کہ افسانہ ہماری صنف ہے، ہماری سے مراد ہماری طبیعت کے موافق اور اس میں واقعات کا جو سلسلہ ہوتا ہے اس کو جان لینے سے افسانے کی قرات کے مسائل خود بہ خود ہم پر روشن ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زندگی کا ایک ادنی واقعہ ہی تو ہے جو وحدت تاثر کی شکل میں ہم سے روبرو ہوتا ہے، ہم اس میں کھو جاتے ہیں اور آخر کی دو چار سطروں میں اپنے بدن میں اک جنبش یا تھرتھراہٹ محسوس کرتے ہوئے افسانے کے قفس مزینہ سے باہر آ جاتے ہیں۔ واقعی اس کی قرات کی قواعد پر کبھی غورنہیں کیا کہ آخر یہ گل بدن، شیشہ رو صنف جس کے جسم پر پتھر سے مینا کاری کی گئی ہے اس کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ صنف کا مطالبہ تو تب سمجھ میں آتا جب ان حقائق سے آگاہ ہوتے کہ یہ بلا صرف لفظوں کی بازی گری نہیں اور نہ واقعے کی آماج گاہ ہے۔ یہ تو تہہ داری کاایک روشن سائبان ہے جس سے یکباری آنکھیں ملانا اپنی بینائی کو خیر باد کہنا ہے۔ جس کی تحلیل کے لیے ایک ریاضت درکار ہے۔ زندگی جس کے تنوع کو سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی نہایت الجھی ہوئی ڈور کے ریشوں کو گننا۔ اس کا طریقہ کار جب تک نہیں آیا۔ اس وقت تک افسانے کی دیواروں سے سر مارتے ہی بنے گی۔

میں نے افسانے کا مطالعہ بے ترتیبی سے شروع کیا۔ اس کا ادراک مجھے اب ہوتا ہے کہ افسانے کی قرات کے قواعدِکا تعین اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم افسانے کا ماحصل صرف ظاہری واقعے کی مرتب کڑیوں کو ہی نہ سمجھیں۔ افسانہ میری ذاتی کوششوں سے مجھے اچھا نہیں لگا۔ یہ افسانے کا مجھ پر ایک غیر شعوری تاثر ہے کہ اس نے مجھے اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ ایک کہانی، دوسری کہانی، ایک معاشرت کا بیان، ایک اور معاشرت کا بیان، کچھ نئے مسائل اور کچھ مختلف حالات یہی سب افسانے کا فسوں کدہ بنے۔ کرداروں کی کیفیت، ان کے ذاتی معاملات کا انشراح اور ان کا الجھاو اس نے مزید رسی ڈال کر اپنی طرف کھینچا۔ جب ذرا صاف اور دو ٹوک باتوں سے جی گھبرانے لگا تو کچھ نفسیاتی حالت نے اپنا اسیر بنالیا۔اس سے بھی کچھ اوبےتو علامت نے اپنے دام میں لے لیا۔ وہ بھی ناقص معلوم ہونے لگی تو واقعہ در واقعہ اور استعاراتی در استعاراتی تففن میں گرفتار ہونے لگے۔ سبھی کچھ دیکھ لیا تو پھر فن کے نام پر سادی اور اکہری تحریروں سے سر ٹکراکر خود کو جنون فسانہ شوقی کا مداح ٹھہرا لیا۔ یقیناً یہ ایک عمل ہے بہنے کا۔ جس میں سب بہتے ہیں۔ یہ ایک راہ ہے جس پر چلے بنا افسانے کی تفہیم تک پہنچنانا ممکن ہے۔ اس عمل سے مفر افسانے کی بساط سے مفر ہے۔ لیکن حاصل تو کچھ نہیں وہی ڈھاک کے تین پات۔ افسانہ ایک کان سے آتا ہے اور دوسرے سے نکل جاتا ہے۔ اب مان لیجئے کہ اسے کوئی افسانے کی قرات کا عمومی عمل کہے یا اسی کو سب کچھ سمجھ کر اس راستے پر سفر کرتا رہے اور دلیل یہ لائے کہ اس کے علاوہ کسی طرز عمل سے افسانے کی ماہئیت روشن نہیں ہو سکتی۔ قاعدے بے سود ہیں۔ یہ تخلیق کے لیے غیر ضروری اور خرافات کے لیے ناگزیر ہیں تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کیوں کہ افسانے کی ترسیل اور تفہیم کوئی ایسا کام نہیں کہ جس سے شرعی قوانین متاثر ہو جائیں۔ انسانی زندگی تھم جائے اور ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کے دروازوں پر تالا پڑ جائے۔ یہ عمل ہے راست بازی کا یا فکر بسیار کا۔ اگر ماضی میں یہ نہ سوچا گیا ہو کہ افسانے کی قرات کا کوئی قاعدہ ہونا چاہیے تو حال یا مستقبل بھی اس خیال سے خالی رہے اس میں کچھ حسن تو نہیں۔ افسانے کی قواعد کا علانیہ اظہار عین ممکن ہے معیوب ہو، مگر جو اس صنف کی چہار دیواری میں سانس لیتی ہوئی کہانی کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے اور غور کرنا چاہتا ہے کہ انفرادی سطح کا قاعدہ وجود میں آئے، جس سے اظہار کے سوتوں کی رنگینی کا ادراک ہو۔ اس کی تحلیل و ترسیل کا مسئلہ حل ہو تو میری ذاتی رائے میں وہ حق بجانب ہے۔

افسانے کی مکاری اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اسے دام اثر میں لے پانا نہایت مشکل ہے۔ کہانی وہ بھی گڑھے ہوئے قصوں سے سجی ہوئی کہانی اپنا کوئی احاطہ نہیں بننے دیتی۔ وہ ایک نوع کی آزادی کی قائل ہوتی ہے۔ جس میں کلو اور نتھو بھی سما سکیں اور سیٹھ دینا ناتھ اور کروڑی مل بھی۔ ہم افسانے کا مطالعہ اپنے تجربات کی روشنی میں کرتے ہیں، ایک پس منظر بناتے ہیں، لفظوں کے معنی کا ایک خاص نظام قائم کرتے ہیں، کرداروں کی آوازوں کو اپنے ماضی کے انسانی لہجے عطا کرتے ہیں۔ بین السطور کو اپنی منشا کے مطابق سجا سنوار کر اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اس سے افسانہ لکھنے والے کی مٹھی سے نکل کر ہماری مٹھی میں آ جاتا ہے۔ اس سے جو کچھ ہمیں اخذ کرنا ہے کیا اور اس کے متن کو اپنے اصول زندگی کا متن بنا کر اس کی خود پر ترسیل کے مرحلے سے گزر گئے۔ میں نے یوں بھی اکثر کچھ کہانیوں کی گہری قرات کے بعد یہ سوچا ہے کہ اگر اسے میں نہ پڑھتا تو کیا ہوتا اور اگر کبھی اس کہانی میں موجود کرداروں کی حالت مجھ پر ظاہر نہیں ہوتی تو میں خود کو اس کردار کے قالب میں کیسے ڈھالتا۔ میرے خیال کی معراج افسانے کی معنوی سطح کوایک حد تک لے جاتی ہے اور پھر اس کے متن کو بے سود بنا دیتی ہے۔ لہذا افسانے کے متعلق مجھے یہ خیال زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ یہ انفرادی مطالعے سے زیادہ اجتماعی مطالعے کی چیز ہے۔ کوئی پڑھے گا اور دس بارہ لوگ سنیں گے۔ سب کا اپنا ایک تاریخی شعور ہوگا، ماضی ہوگا، تجربے ہوں گے اور افسانے کی زمین کو کئی رنگوں کی ذہنیت سے رنگا جائے گا۔ ایک شخص کا کسی ایک نتیجے پر پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ یوں تو بعض معنوی گمراہیوں سے بچنے کا امکان قوی ہے۔ پھر یہ بھی ہوگا کہ افسانے کے درمیان موجود ظلم مجھے لبھائے گا نہیں اور نہ میں کسی ایک واقعے کو اپنی ملکیت سمجھ لوں گا کہ یہ وہ ہی کچھ ہے جو میری زندگی میں گذرا ہے اور گذر رہا ہے۔ میں نے افسانے کی اجتماعی قرات کبھی نہیں کی، البتہ دیکھا ہے کہ اس نئی معاشرتی فضا میں جب کبھی کوئی افسانہ نگار کسی بزم میں عزت و احترام سے بلایا گیا ہے تو وہ اپنا بستا کاندھے پر ڈال کر وہاں پہنچا ہے، لوگوں نے اس کی کہانیاں اس کے منہ سے سنی ہیں اور اسے افسانے سے جدا کر کے کہانی کی چاشنی سےلطف اندوز ہوئے ہیں۔ اجتماعی قرات میں لہجے سے مصنف یا قاری یہ کتنا ہی باور کرنے کی کوشش کیوں نہ کرے کہ افسانے کو اس کی آواز نصیب ہو رہی ہے اس لیے لفظوں کا زور بیان اسے اس کہانی کا نا نظر آنے والا بنیادی کردار بنا دے گا، مگرایسا ہو نہیں پاتا۔ لفظ سننے میں اور پڑھنے میں چھلاووں کے دو مختلف قائدے کام کرتے ہیں، ہم جب کسی کہانی کے متن کو سنتے ہیں تو اسے اپنی مرضی کے مطابق اس خوف کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اطراف میں موجود اشخاص بھی اسے اپنی مرضی کے مطابق قبول کر رہے ہیں، اس نفسیاتی شعور کی بنا پر لفظوں کا دھاگا ذہن کی چادر پہ ویسے ہی نقش مرتب کرتا ہے جیسے اسے اجتماعی حالت کے ادراک کی صورت میں مرتب کرنا چاہیے۔ اس حالت میں نہ متن اپنا ہوتا ہے، نہ مصنف کا نہ اطراف میں موجود کسی شخص کا۔ کہانی کی فضا ایک سوالیہ کردار سے شروع ہو کر ایک نوع کی فرضی مخلوق تک ہی محدود رہتی ہے۔ جس کی تطبیق کسی پر نہیں ہوتی اور سب پر ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

آخری غروب آفتاب (نجم الدین احمد)

“ڈاکٹر،… میں… اپنی زندگی کا… آخری… غروبِ آفتاب… دیکھنا… چاہتا ہُوں۔”

ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اِس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ اُنھیں پُورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی خواہش بھی تھی جسے اُنہوں نے پُورا کرنے کے لیے اپنی بھرپُور کوشش کی لیکن اُن کی تمام تر سعی رائیگاں گئی۔ وہ اپنے بیٹی اور بیٹے سے ملنے کا متمنّی تھا۔ اُنہوں نے اجازت کے باقاعدہ حصول کے بعد لڑکی اور لڑکے کی حفاظت کے لیے تمام انتظامات کیے، لیکن اُنہوں نے، ہسپتال انتظامیہ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود، اپنے باپ سے ملنے سے صاف انکار کر دیا کیوں کہ وہ کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن کھانستے اور اُکھڑی ہُوئی سانسوں والے اِس مریض کی ٹکڑوں میں اظہار کی گئی یہ خواہش— اور مسلمہ طور پر آخری خواہش— اِتنی بڑی، پیچیدہ اور ناممکن نہیں جسے پُورا نہ کیا جا سکے، ڈاکٹر نے سوچا۔

اُس نے ہونٹ سُکیڑتے ہُوئے وینٹی لیٹر کے شیشے میں مقید مریض کے کھلے مُنھ کو دیکھا۔ وہ خُود بھی سرتاپا ڈھنپا ہُوا تھا— خلابازوں جیسا نیلی پٹّیوں والا سفید لباس، ہاتھوں پر سفید دستانے، سر پر کنٹوپ جس کے سامنے والا حِصّہ کھلا مگر آنکھوں پر شفاف شیشے کے گوگلز اور ناک مُنھ پر اَین۔۹۵ ماسک۔ اُس کی نگاہوں نے مریض کے مُنھ سے آنکھوں تک کا سفر کیا، جن میں رچی موت کی پیش آگاہی کی سپیدی میں شدّید یاس اور حسرت پھیلی ہُوئی تھی۔ ڈاکٹر نے سر جھٹک کر نظریں چُراتے ہُوئے بستر کے ساتھ پڑی درازوں والی آہنی تپائی سے مریض کی کیس ہسٹری کی فائل نسخے میں ردّوبدل کی غرض سے اُٹھا لی۔

مریض کا نام آفتاب احمد تھا،جو ایک پاکستانی طالب علم تھا اور وُوہان یُونیورسٹی کی شاخ چائینیز اکیڈمی آف انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے چین میں آیا تھا۔ وہ اپنے آخری تعلیمی سال میں تھا اور جُون ۲۰۲۰ء میں امتحانات سے فراغت کے بعد اُس کی اپنے وطن پاکستان واپسی متوقع تھی کہ یکایک دسمبر ۲۰۱۹ء میں وُوہان میں کورونا وائرس کی وبا پُھوٹ پڑی— جس نے آناًفاناً عالمی وبا کی صُورت اختیار کر کے پُوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس کا شکار ہو کر وہ بھی دُوسروں کے ساتھ دو منزلہ ہؤشین شان (Huoshenshan) ہسپتال میں پہنچ گیا۔ کچھ دِن قرنطینہ اور آئیسولیشن میں گزارنے کے بعد اب وہ ہسپتال کے تیس آئی سی یُوز میں سے ایک میںتھا جہاں ڈاکٹر لیو (Liu) کے ساتھ ساتھ دِیگر ڈاکٹر اور طبّی عملہ مریضوں کے علاج میں دِن رات ایک کیے ہُوئے تھا لیکن اُس نے اُن دونوں نرسوں کے ہم رَاہ ڈاکٹر لیو کو متواتر اپنا خاص معالج پایا تھا۔ پس، اُس نے اُن ہی کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر لیو نے فائل کی ورق گردانی کے بعد کچھ نئی ادویات تجویز کیں اور ایک دوا کو نشان زد کرتے ہُوئے ہٹ کر ایک دُوسرے سے مقررہ فاصلہ رکھ کر کھڑی ہُوئی دو نرسوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر بولا۔ “سسٹر چَینگ یِنگ (Changying)، یہ انجکشن مریض کو ابھی دے دیں۔ باقی ادویات معمول کے مطابق جاری رکھنا ہیں۔”

اُس نے روانگی سے قبل مریض کی طرف کن اَکھیوں سے دیکھا، جسے مریض نے فوراً تاڑ لیا کیوں کہ وہ پہلے ہی ڈاکٹر کی طرف ملتمس اور آس بھری نگاہیں جمائے ہُوئے تھا۔

“ڈاکٹر، پلیز۔ یہ… میری آخری… خواہش… ہے۔” وہ گڑگڑایا۔ “دُنیا بھر میں… کہیں بھی… مرتے ہُوئے… شخص کی… آخری… خواہش… کبھی ردّ… نہیں کی… جاتی۔”

ڈاکٹر مُڑا اَور گہری نگاہوں سے اُسے تکنے لگا۔ پھر اُس کی آنکھیں یُوں پُرخیال ہو گئیں جیسے وہ اُس کی استدعا پر غوروخوض کر رہا ہو۔ وہ تھوڑی دیر تک اُسی حالت میں کھڑا اُسے تکتا رہا لیکن اُس کی آنکھیں غمازی تھیں کہ وہ اُسے دیکھنے کے بجائے کسی گہری سوچ بچار میں کھویا ہُوا ہے۔

“ڈاکٹر،… خُدا کے… لیے!”مریض نے دوبارہ سماجت کی۔

“ہم م م م…!” ڈاکٹر چونکتے ہُوئے اپنی غائب دماغی کی کیفیت سے نکلا۔

“ڈاکٹر…؟”

ڈاکٹر لیو نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے کچھ اَور کہنے سے منع کیا اور پھر بولا۔ “مجھے تمھاری خواہش کا احترام ہے لیکن میں اپنے طور پر اِسے پُورا نہیں کر سکتا۔ اِس کے لیے مجھے اپنے اعلیٰ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا ہو گی۔” اُس نے سوچنے کے لیے ذرا سا تؤقف کیا تو مریض متواتر ٹکٹکی باندھے اشتیاق سے اُس کے مزید بولنے کا منتظر رہا۔ تاہم اُس کی آنکھوں میں نااُمیدی کے سائے گہرے ہو گئے تھے کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ہؤشین شان ہسپتال ۴۰۰ افراد کے طبّی عملے کے ساتھ پیپلز لبریشن آرمی اپنے سخت نظم و نسق کے ساتھ چلا رہی ہے۔ نرس نے، جو اِس دوران میں انجکشن تیار کر چکی تھی، انگوٹھے کی داب سے چھوٹا سا پہیہ گھما کر ڈِرپ بند کر کے سُوئی اُس کی ہتھیلی کے پشت پر لگے برونولا میں داخل کی تو مریض کا دھیان ڈاکٹر کی طرف سے لمحہ بھر کے لیے بٹا۔

نرس کے سُوئی نکالنے کے بعد ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لیتے ہُوئے اپنی بات کا سلسلہ جوڑا۔ “میں معاملے کو اُن کے علم میں لاؤں گا۔ مجھے قوّی توقع ہے کہ تمہاری خواہش ردّ نہیں کی جائے گی۔”

یہ سنتے ہی مریض کی بجھی ہُوئی آنکھوں میں آس کی ہلکی سی دمک موجزن ہو گئی اور نراس دَم توڑتی دِکھائی دینے لگی۔ اُس کے چہرے پر اظہارِ تشکر کے جذبات کی لالی کے اثرات نمایاں تھے۔

“شکریہ… ڈاکٹر،… بے حد… شکریہ۔” مسرت کی شدّت سے اُس کی رُندھی ہُوئی آواز حسبِ سابق اٹکتی ہُوئی نکلی۔

ڈاکٹر نے اُس کی ڈبڈبائی ہُوئی آنکھوں کی طرف آخری نگاہ ڈالی اور دروازے کا رُخ کیا۔ پھر وہ رُکا اور ماسک کے نیچے سے مُڑ کر پھیکی مُسکراہٹ کے ساتھ لیکن حوصلہ افزا لہجے میں بولا۔ “میں تمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمہاری آخری خواہش نہیں ہے۔”

لیکن اُس کے لہجے میں یقین کا فقدان تھا کیوں کہ مریض کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔ البتّہ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ اپنی فرض بخوبی نبھا رہا تھا کہ آخری دَم تک آس نہ ٹُوٹنے دے۔

اُسی شام جب ڈاکٹر اپنے معمول کے دورے پر معائنے کے لیے آیا تو وہ ڈاکٹر سے مستفسار ہُوا۔ “ڈاکٹر،… آج سُورج… ڈوب گیا۔ کیا میں کل… سہ پہر کا سُورج… دیکھنے کی اُمید رکھوں؟”

“ہاں، ضرور۔ کیوں نہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ میں کل تک منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا اور تم کل ڈُوبتا ہُوا سُورج ضرور دیکھو گے۔”
“شکریہ… ڈاکٹر۔” مریض نے اِس بار بے حد مطمئن لہجے میں اُس کا شکریہ ادا کیا اور آنکھیں موند لیں، جن میں ٹھیرے آنسو پلکوں کے دباؤ سے گالوں پر پھسل آئے۔

چُوں کہ ڈِرپ ختم ہونے میں ابھی وقت تھا اور مریض کو مزید کوئی دوا بھی نہیں دی جانا تھا، پس دونوں نرسیں بھی ڈاکٹر لیو کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئیں۔
چند مِنّٹ کے بعد، اُس نے اپنے بستر کے پاس قدموں کی مدہم آواز سُن کرآنکھیں کھولیں تو اُن دونوں نرسوں میں سے ایک—جس کا نام شیاؤہُوئی (Shiaohui) تھا— ساتھ والی آہنی تپائی سے اُس کی کیس ہسٹری والی فائل اُٹھا رہی تھی۔ وہ اُسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ماسک کے اندر مُسکرائی تو اُس کے گال چڑھ گئے اور آنکھوں کے کونوں پر گِرد کوّے کے پنجے بن گئے۔ اُس نے رَسانیت سے دریافت کیا۔ “کیا تمہیں غروبِ آفتاب دیکھنا بہت زیادہ پسند ہے؟”

“ہاں۔” وہ مدہم آواز میں گویا ہُوا۔ “مجھ سے کبھی— سوائے اِن چند ایّام کے— یہ منظر نہیں چُھوٹا۔ پتا نہیں کیوں، ڈُوبتا ہُوا سُورج، اُس کی سنہری سے لال پڑتی کِرنیں اور اُن کِرنوں میں اپنا رنگ اور رُوپ بدلتی اشیاء— درخت، پودے، پُھول، پہاڑ، زمین، حتّٰی کہ خُود سُورج تک— مجھ پر سحر طاری کرتی ہیں اور مجھ میں اگلے روز کے غروبِ آفتاب کا انتظار کرنے کی توانائی کو جنم دیتی ہیں۔” اُس نے پُرخیال انداز میں ٹھیر ٹھیر کر بولتے ہُوئے اپنی بات مکمل کی تاکہ کھانسی چھڑے نہ ہی سانسوں کی مالا ٹُوٹے اور بات کا تواتر قائم رہے۔
اُس نے اثبات میں سر ہِلایا اور مُسکراتی ہُوئی چلی گئی۔

بعض اوقات— کم از کم ایک مرتبہ لازماً— زندگی میں نگاہوں کا پالا کسی ایسے مسحور کُن اور تحیّرزا منظر سے یا کسی ایسی مغلوب کر ڈالنے والی ہستی سے ضرور پڑتا ہے، جس کے طلسم اور حیرانی سے تم زندگی بھر نہیں نکل پاتے اور نہ نکلنا چاہتے ہو بَل کہ اُس سے عشق ہی زندگی بن جاتا ہے۔ بعد میں جب کبھی اُس کی یاد آتی ہے تو— اور یہ یاد اکثر آتی ہے— جیسے سارا منظر اپنی مکمل جزئیات سمیت ایک بار پھر نظروں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے، وہ شخصیت مجسم ہو کر آنکھوں میں آبستی ہے۔ سو، یہی آفتاب احمد کے ساتھ ہُوا تھا۔ اُس کی عمر بمشکل سات آٹھ برس رہی ہو گی کہ جب اُس نے پہلی مرتبہ غروبِ آفتاب کا نظارہ کیا تھا۔ وہ مارچ کے وسط کے خُوش گوار موسم میں گاؤں کے دُوسرے بچّوں کے ہم رَاہ آبادی سے باہر کپاس کی پچھیتی فصل کی چُنائی اور ڈنٹھلوں کے اُکھاڑ لیے جانے کے بعد خالی چھوڑ دینے والے ایک قطعۂِ اراضی میں کھیل میں مگن تھا کہ یکایک اُس کی نظر مغرب میں ڈُوبنے سے پہلے کے سُورج پر پڑی اور وہ سُورج کا دمکتا ہُوا سنہرا پن دیکھ کر جہاں کا تہاں مبہوت کھڑا رہ گیا۔ اُس نے گیند وہیں چھوڑی اور تنویم زدہ ہو کر سُورج کو تکنے لگا، اُسے اپنے ہم جولیوں کی چِلّاچِلّا کر اُسے پُکارنے کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں نہ ہی مخالف کھلاڑیوں کا اُودھم۔ وہ اُسی حیرت زدگی اور محویت کے عالم میں سُورج کی طرف بڑھا گویا وہ اُس نظارے کے طلسمی جال میں پھنس کر دُنیاومافیہا سے یکسر بے خبر ہو چکا ہو اور اُس کی طرف یُوں کھنچا چلا جا رہا تھا جیسے اُس تک پہنچ کر اُسے اپنی ہتھیلی پر رکھ لے گا۔ چلتے چلتے جب اُس نے آگے آجانے والے کھیت کی منڈیر سے ٹھوکر کھائی تو وہ چونکا۔ اُس نے پہلے خفگی سے نیچے دیکھا کہ سدِّراہ کیا شے بنی ہے، اور پھر آس پاس نظریں دوڑائیں۔ ہر سُو، سنہرا پن چھایا ہُوا تھا جیسے ہر چیز پر کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر سونے کا سفوف چھڑک دیا ہو۔ گندم کے پودوں کی خیرگی بڑھ گئی تھی اور وہ کاملاً سونے سے تراشے ہُوئے لگ رہے تھے۔ زمین اور کھیتوں کی منڈیروں کے کنارے ایستادہ درختوں کے پتّوں پر اَٹی دُھول میں سونے کے ذرّات ستاروں کے مانند چمک رہے تھے۔ ہر شے کا اپنا اصل رنگ کہیں بہت نیچے چھپ گیا تھا۔ پھر جب دِھیرے دِھیرے سُورج کچھ نیچے اُترا تو اُس کی سنہری دُھوپ میں نارنجی رنگ کی آمیزش نے ماحول کو ایک اَور مسحور کُن نیا رنگ دے دیا۔ اور پھر جب کچھ ہی دیر میں سُورج جب کچھ اَور نیچے ہُوا تو اُس کا چہرہ گویا طبیعت کے خلاف بات پر طیش میں آجانے والے کی طرح لال پڑنے لگا جیسے وہ اپنی فنا سامنے دیکھ کر جلال میں آگیا ہو۔ اُس لالگی کو اُس نے اپنی سنگتری مائل سنہری کِرنوں میں شامل کر کے دھرتی پر پھینکا تو آسمان اور فضاء کے ساتھ ساتھ زمین کی ہر شے میں بھی لال جھلک دِکھائی دینے لگی۔ اور جب سنہرے، نارنجی اور ہلکی جھلک والے دُوسرے رنگوں پر رِفتہ رِفتہ سُرخی نے غالب آکر اُنھیں ماند کیا تو گویا کائنات پر لالی کی تَہ یُوں گہری ہو گئی جیسے کسی حسینہ نے اپنے ہونٹوں پر لال رنگ کی سُرخی کی تازہ تازہ تَہ جمائی ہو۔ اور پھر آہستہ آہستہ تاریکی کی پرت نے تمام منظر پر چھا کر حسن کے زوال پذیر ہونے پر مہر ثبت کرتے ہُوئے تکمیل کر دی۔ قلیل وقت کے ایک ہی منظر کے بہ یک وقت مختلف رنگوں کے امتزاج سے لمحہ بہ لمحہ بدلتے اَن گِنت طلسماتی رُوپ— جنھیں وہ الفاظ میں بیان کرنے سے قطعی قاصر تھا لیکن اُس کی رُوح اُنھیں اپنی گہرائی میں محسوس کرتی تھی— اور بظاہر اُس ایک منظر نے اُس پر ایسا سحر طاری کیا جس سے وہ کبھی نہیں نکل پایا۔

جب تک آفتاب احمد گاؤں میں رہا— اپنی نوجوانی تک— وہ اُس منظر کو ہر روز اپنی آنکھوں کے راستے اپنی رُوح میں سمانے کے لیے بستی باہر آبیٹھتا اور جھٹپٹا چھانے تک اپنے اطراف و اکناف سے کاملاً بے خبر رہ کر بیٹھا رہتا۔ جس روز اِکادُکا بادلوں کی ٹکڑیاں ایک دُوسرے سے فاصلے پر ہوتیں تو اُن سے چھنتی ہُوئی سُورج کی سنہری، زرد، سُرخ کرنیں ایک نیا طلسم جنم دیتیں۔ البتّہ کبھی کبھار گھِر آنے والے بادل— اکثر ساون بھادوں کے بادل— آفتاب احمد کو اپنے من پسند منظر کے چھِن جانے پر مایُوسی اور افسردگی سے دوچار کر دیتے۔ تاہم منظر اُس سے کبھی نہیں چُھوٹا کہ وہ بادلوں سے بھرے آسمان والے ایسے دِن میں بھی نظارے کے لیے نکلتا البتّہ منظر خُود اُسے چھوڑ جاتا، جس کا اُسے بے حد قلق ہوتا۔ وہ دو دفعہ سیاحت کی غرض سے شمالی علاقہ جات میں گیا— پہلی مرتبہ کالج کے ساتھی طلباء کے ساتھ اور دُوسری بار اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ— لیکن وہاں غروبِ آفتاب کے منظر کی عدم موجودگی نے اُسے ایک بے طرح کی مایُوسی بخشی۔ میدانی علاقوں کی نسبت وہاں سُورج پہاڑ کے پیچھے یکلخت ہی غائب ہو جاتا اور تاریکی اُترنے لگتی جب کہ ابھی دِن کھڑا ہوتا۔ وہ پہاڑ کی چوٹی کے عقب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتی روشنی سے دِل بہلانے کی سعی کرتا لیکن تشفی نہ ہوتی بَل کہ بے کلی فزوں ہو جاتی۔ وُوہان آنے سے قبل ہی اُس نے غروبِ آفتاب کے نظارے کی منصوبہ بندی کر لی تھی کہ وہ بھی چینیوں کے مانند ایک بائیسیکل رکھے گا اور رَوزانہ سہ پہر کو اُس پر سوار ہو کر آبادی سے باہر نکل جایا کرے گا۔ لیکن اُسے اِس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کئی منزلہ ہاسٹل کی آخری منزل نے اُس کا مسئلہ حل کر دیا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اُسے زیادہ پاپڑ بیلنا پڑتے کیوں کہ وسطی چین کے صوبہ ہُوبے (Hubei) کا دارلخلافہ وُوہان، جو دریائے یانگسے (Yangtze) اور دریائے ہان (Han) کی وجہ سے منقسم تھا، قریب قریب واقع تین شہروں کے— وُوچانگ (Wuchang)، ہان کو (Hankou) اور ہان یانگ (Hanyang)، جن کے ناموں کے اِبتدائی حروف لے کر اِن شہروں کو مشترکہ نام وُوہان دیا گیا تھا— آپس میں جُڑ جانے کی وجہ سے ایک نہایت گنجان آباد اور مِیلوں پر پھیلا ہُوا ایک ایسا شہر تھا جس کی عمارتیں فلک بوس تھیں اور پہاڑوں ہی کی طرح غروب ہونے سے بہت پہلے سُورج کو اپنی اَوٹ میں لے لیتی تھیں۔ البتّہ جلد ہی آفتاب احمد کو ایک ایسا مقام مل گیا جہاں سے وہ ڈُوبتے سُورج کا بھرپُور نظارہ کر سکتا تھا— وُوہان کی تمام جھیلوں میں سب سے خُوب صُورت اور قابلِ دِید مناظر والی ’شرقی جھیل ‘کا کنارہ، جس کے پانی میں کِرنوں کا عکس جھیل کے آرپار لحظہ بہ لحظہ بدلتے اور مختلف رنگوں کے امتزاج والا ایک ایسا راستہ تشکیل دیتا تھا جو بالآخر دِھیرے دِھیرے سُرخ پڑ جاتا تھا۔ ہَوا سے بننے والی لہریں اُس بے مثل راستے میں ایسا تموّج پیدا کرتیں کہ یُوں لگتا جیسے وہ سنہری، نارنجی اور سُرخ سنگریزوں سے بنی ہُوئی فن کارانہ مہارت کی عکاس ایک عمدہ روش ہو— ایک اَور بے حد مسحور کُن منظر، جس سے شاید وہ پاکستان میں رہتے ہُوئے محروم رہتا تاآنکہ کسی جھیل یا تالاب کے کنارے اُس کا اتفاقاً واسطہ نہ پڑ جاتا۔

آفتاب احمد کی تمام رات غروبِ آفتاب کے تصوّر سے ہوتی ہُوئی خوابوں کو دیکھتے ہُوئے تمام ہُوئی اور اُسے پتا بھی نہیں چلا کہ کس نرس نے کب آکر اُس کی ڈِرپ بند کی یا معمول کے انجکشن دیے؟ کب اُس کی کیس ہسٹری والی فائل لا کر واپس رکھی گئی؟ اُسے تو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ حسبِ معمول رات کے نو بجے اُس کا پیمپر تبدیل گیا تھا یا نہیں؟ البتّہ اب اُس نے اپنا پائجامہ نیچے سرکتا محسوس کیا تو آنکھیں کھول کر صفائی والے عملے کو ایک ریڑھی پر نئے پیمپروں کے ڈھیر، بھیگے ہُوئے ٹشو پیپروں (wipes)، ڈیٹول، سینی ٹائزر اور دُوسری پر اُتارے ہُوئے غلیظ پیمپر ڈالنے کے لیے ڈھکن والی پلاسٹک کی جسیم ٹوکری وغیرہم کے ساتھ دیکھا تو بے اختیار بول اُٹھا۔ “میں صاف ہُوں۔” لیکن اُنہوں نے سنی اَن سنی کرتے ہُوئے اپنی معمول کی کاررَوائی جاری رکھی اور ایک کارکن اپنا کام ختم کرنے کے بعد اُس کا پائجامہ واپس اُوپر چڑھاتے ہُوئے بولا۔ “خارش سے بچاؤ کے لیے یہ ضروری ہے۔ لیکن اب تمہارا پیمپر دوبارہ رات کے نو بجے ہی بدلا جائے گا۔”

اُس نے اثبات میں سر ہِلا دیا۔

ڈاکٹر اپنے مقررہ وقت پر دونوں نرسوں کے ساتھ آیا اور اُس نے بتایا کہ اُس کی خواہش سے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر مطلع کر کے اُن سے انسانی ہم دردی اور مریض کی بہتری کو سبب بنا کر منظوری عطا کرنے کی استدعا کی گئی ہے؛ اُس نے اُس کے معالج کی حیثیت سے ذاتی طور پر اُنہیں ٹیلی فون پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور توقع ظاہر کی کہ بہت جلد مثبت ردِّعمل ملے گا۔ ڈاکٹر کے لہجے میں وثوق نے آفتاب احمد کو اطمینان بھرا حوصلہ اور ہمّت بخشی۔ اُسے ڈاکٹر لیو ایک ہم درد اور شفیق انسان لگا، جو اُس کی ایک خواہش پُوری کرنے کے لیے بے حد تگ ودَو کر رہا تھا۔ اُس کا اندر ڈاکٹر کے لیے شدّید احساسِ تشکر کے جذبات سے بھر گیا اور اُس کی آنکھیں اُمڈ آئیں۔ ڈاکٹر نے اُسے تسلّی دینے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور ایک بار پھر یقین دِلایا کہ وہ بہت جلد غروبِ آفتاب کا نظارہ کر رہا ہو گا۔

اگرچہ اُس روز اجازت نامہ موصول نہیں ہُوا تاہم ڈاکٹر نے اپنے رات کے دورے کے دوران میں اُسے تیقّن بھرے لہجے میں تشفی دی۔ “بے فکر رہو۔ مجھے یقین ہے کہ کل ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب کا نظارہ کریں گے۔”

“ڈاکٹر، کیا کل دوپہر تک اجازت مل جائے گی؟” اُس کے لہجے میں تشکیک تھی۔

“ہاں، کیوں نہیں۔ شاید آج رات ہی یا کل صبح تک۔ مجھے اِس کا یقین ہے کیوں کہ مجھے یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ تم ایک کام کیوں نہیں کرتے؟”

آفتاب احمد نے استفسار بھری نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔

“تمہاری اِس خواہش کے اظہار سے لگتا ہے کہ تمہیں اِتنا پسند ہے کہ تم نے اکثر اِس کا نظارہ کیا ہے۔ پس، تم اپنی بیماری کو بُھول جاؤ اور جب تک ہم واقعی اِس منظر کو نہیں دیکھتے، اِس دوران میں تم ماضی کے مناظر سے تصوّر کشید کرو کہ وہ نظارہ کیسا دِل فریب ہو گا۔”

ڈاکٹر کی تجویز معقول تھی، لیکن اجازت نامہ ملنے اور نہ ملنے کے اندیشے کی درمیانی کیفیت زیادہ غالب قوّت رکھتی تھی، جس کی وجہ سے رات یُوں بسر ہُوئی کہ جب بھی تصوّر قائم ہُوا خدشے کے ناگ نے اپنا پھن اُٹھا کر اُسے زمیں بوس کر دیا۔ البتّہ اِس کشمکش نے اُسے بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے دِلی اور مایوسی سے دُور کر دیا تھا۔

اگلے روز نرسیں اپنے معمول کے وقت پر دِن گیارہ بجے آئیں لیکن اُن کے ہم رَاہ کوئی ڈاکٹر نہیں تھا— ڈاکٹر لیو بھی نہیں۔ اُس نے بے صبری سے ڈاکٹر لیو کے بارے میں استفسار کیا تو سسٹر چَینگ یِنگ کی جانب سے پیشہ ورانہ لہجے میں جواب ملا۔ “اچانک ہی مریضوں کی ایک بڑی کھیپ آگئی ہے اور اُنھیں فوری توّجہ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر لیو دِیگر ڈاکٹروں کے ہم رَاہ اُن کے علاج میں دُوسرے آئی سی یُوز میں مصروف ہیں۔ جُوں ہی فارغ ہَوں گے، آجائیں گے۔”

“— بس تھوڑی دیر میں،تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے تھرما گن اُس کی پیشانی کے سامنے تانتے ہُوئے اضافہ کیا۔

“میں بس اِتنا دریافت کرنا چاہتا ہُوں کہ میری درخواست پر اُنھوں نے کچھ کیا؟” وہ مستفسار ہُوا۔

دونوں نرسوں نے اپنے اپنے کام سے دھیان ہٹا کر ایک دُوسرے کی طرف دیکھا۔

“یہ تمہیں وہی بتا سکیں گے۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے جواب دیا۔

اُن دونوں نے اپنا کام نپٹایا اور اُسے مضطرب چھوڑ کر نکل گئیں۔ وہ ایک ایک لمحہ شمار کرتے ہُوئے لگ بھگ دو گھنٹے تک انتظار کے کرب سے گزرتا رہا۔

جب ڈاکٹر لیو کی آمد ہُوئی تو اُس کے ساتھ صرف سسٹر چَینگ یِنگ تھی۔ اُس نے آتے ہی شگفتگی سے دریافت کیا۔ “ہیلو نوجوان، کیسے ہو؟”

“ڈاکٹر بہت مضطرب ہُوں۔” اُس نے دیانت داری سے جواب دیا۔

“ہَم۔” ڈاکٹر نے پُوچھا۔ “مضطرب کیوں ہو؟” اور اُس کا بلڈ پریشر، نبض، دِل کی دھڑکن، سینے میں کھڑکھڑاہٹ ماپنے لگا۔ اُس نے جواب دینے کے لیے مُنھ کھولا لیکن ڈاکٹر کو مصروف دیکھ کر دوبارہ سختی سے بند کر لیا البتّہ اُس آنکھیں مجسم سوال بنی ہُوئی تھیں۔

“سسٹر۔” ڈاکٹر نرس سے مخاطب ہُوا۔ “پہلے یہ سب آپ نے چیک کیا تھا؟”

“سسٹر شیاؤ ہُوئی نے، ڈاکٹر۔”

“اُنہیں بُلائیں۔”

“جی بہتر، ڈاکٹر۔” کہتے ہُوئے نرس چَینگ یِنگ چلی گئی۔

ڈاکٹر نے اُسے کروٹ لینے کے لیے کہا اور اُس کی پشت پر سٹیتھوسکوپ رکھ کر گہرے گہرے سانس لینے کی ہدایت کر کے پھیپھڑوں میں سانس کی رَوانی کا معائنہ کرنے کے بعد فائل میں اندراج کرنے لگا۔ اِسی اثنا میں دونوں نرسیں آگئیں۔

“سسٹر، ہم دونوں کی رِیڈنگز میں یہ فرق کیوں ہے؟” ڈاکٹر نے فائل شیاؤ ہُوئی کی طرف بڑھائی۔

“ڈاکٹر، اُس وقت یہی رِیڈنگز آرہی تھی۔” نرس نے جواب دیا۔

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر ہنکارا بھر کر آفتاب سے مخاطب ہُوا۔ “تم غروبِ آفتاب دیکھنے کے اِتنے شائق کیوں ہو؟ کسی سے ملنا نہیں چاہتے؟” پھر یاد آنے پر بولا۔ “اوہ، تم تو پاکستانی ہو۔ ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی اَور سے سکائپ پر تمہاری بات کروا دیں تو کیسا رہے گا؟”

“ڈاکٹر، میں اُنہیں بہت یاد کرتا ہُوں۔ لیکن مجھے اِس حال میں دیکھ کر وہ بے حد دُکھی ہَوں گے۔ یہاں پھیلنے والی اِس وبا کی خبریں یقینا اُن تک پہنچ گئی ہَوں گی اور وہ میرے لیے خاصے پریشان ہَوں گے۔ میں اُنہیں مزید دُکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔”

“تو اِس لیے تم صرف اِس منظر پر اکتفا کرنا چاہتے ہو؟”

“نہیں، ڈاکٹر۔ میرا نام آفتاب ہے— سُورج۔ شاید اِسی لیے میں بچپن سے ہی اِس منظر کے سحر کا اسیر ہُوں۔ میں نے سسٹر شیاؤ ہُوئی کو بھی بتایا ہے۔”

“آفتاب… سُورج… شیاؤ ہُوئی۔” ڈاکٹر نے پُرخیال انداز میں دُہرایا۔ “تمھیں شیاؤ ہُوئی کا معنی معلوم ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔” اُس نے جواب دیا۔ “صبح سویرے کی نرم دُھوپ۔” وہ چین میں پچھلے چار برسوں کے قیام کے دوران میں چینی زبان پر خاصا عبور حاصل کر چکا تھا۔

“اگر تم طلوعِ آفتاب دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو میں بِلاتاخیر، بِلاجھجک کہتا سسٹر شیاؤہُوئی کو دیکھ لو۔” ڈاکٹر لیو ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہُوئے بولا تو دونوں نرسیں بھی ہنس پڑیں۔

“ڈاکٹر، طلوعِ آفتاب میں وہ نیرنگی نہیں جو غروبِ آفتاب میں ہے۔ آپ چاہیں تو خُود دونوں کا نظارہ کر کے دیکھ لیں۔”

“اَوہو، بہت خُوب۔ گویا تم نے دونوں کا نہایت ڈُوب کر نظارہ کیا ہے۔”

“جی، ڈاکٹر۔ طلوع بہت جلد ہو جاتا ہے، رنگوں کے ناپائیدار سحر کے ساتھ جب کہ غروبِ آفتاب میں…”

“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “بہرحال، تمھارے لیے خُوش خبری ہے کہ حفاظتی نقطۂِ نظر کی کچھ شرائط کی پابندی کے ساتھ اُصولی طور پر تمھاری خواہش پُوری کرنے کے لیے منظوری ہو چکی ہے۔ ہمیں بس تحریری حکم نامے کا انتظار ہے۔ جیسے ہی ہمیں وہ موصول ہُوا، ہم تمہیں آج ہی نظارہ کروا دیں گے۔ ٹھیک ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔ بے حد شکریہ۔”

جواباً ڈاکٹر مُسکرایا اور رُخصت ہو گیا۔ اور وہ دِل ہی دِل میں اجازت نامہ جلد ملنے کی دُعائیں کرتے ہُوئے شدّت سے انتظار کرنے لگا۔

شام پڑ گئی تھی۔ اِس دوران میں وقفے وقفے سے طبّی عملے کا معمول کے مطابق آنا جانا لگا رہا، لیکن ڈاکٹر لیو اور وہ دونوں خاص نرسیں غائب تھیں۔ شاید ڈاکٹر کثیر تعداد میں نئے آنے والے مریضوں کے فوری علاج معالجے میں اُلجھا ہُوا ہو لیکن نرسیں؟ نرسیں بھی تو خاص معاون ہوتی ہیں جن کے بغیر ڈاکٹر ادھورے ہوتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے کوئی ایک تو آکر اُسے اجازت نامہ ملنے کی نوید سنا سکتا تھا۔ شاید ابھی اجازت نامہ موصول ہی نہ ہُوا ہو؟ یا شاید ہو گیا ہو؟ لیکن باقی انتظامات نہ ہو سکے ہَوں؟ یا کسی غیر متعلّقہ فرد کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ہو، جسے اُس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو اور اُس نے اُسے عملے کی ہنگامی مصروفیات کے پیشِ نظر معاملے کو بعد پر ٹالتے ہُوئے اِدھر اُدھر رکھ دیا ہو؟ یا فوری توّجہ کے متقاضی مریضوں کی بڑی تعداد کی اچانک آمد کی وجہ سے دانستہ معاملہ کل پر ٹال دیا گیا ہو؟ اور یہ قیاس اُسے زیادہ غالب لگا، تاہم کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ اُس تمام وقت میں ایسی ادھیڑبن میں اپنے اندر اضطراب کی بڑی بڑی لہریں اُٹھتی محسوس کر تا رہا۔ وہ ڈاکٹر کے وعدے کو یاد کر کے اپنی بے قراری کو تھپکیاں دے کر سلانے کی سعی کرتا رہا۔

جس وقت سسٹر چَینگ یِنگ اپنے ہاتھ میں ایک فائل لیے آئی تو آفتاب احمد کے قیاس کے مطابق سُورج ڈُوب چکا تھا یا ڈُوب رہا ہو گا۔ اُس نے فائل میں رکھا ہُوا کاغذ اُس کے سامنے کیا جو اُسے ہسپتال کے سامنے والے حِصّے کے علاوہ موزونیت کو مدِّنظر رکھتے ہُوئے دونوں ا طراف یا عقبی سمت میں سے کسی ایک مقام سے غروبِ آفتاب کا نظارہ کرانے کا اجازت نامہ تھا، جس میں معیاری طریقہ کار (SOPs) درج کر کے اُن پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اُس نے بتایا کہ یکایک مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ اجازت نامے کی تیاری میں تاخیر کا باعث بنا کیوں کہ اِس سے اُوپر تک ہلچل مچ گئی ہے اور ڈاکٹر لیو سمیت تمام ڈاکٹر اِس ہنگامی صُورتِ حال سے نپٹ رہے ہیں؛ ہسپتال ہی کے ایک حِصّے میں سستانے کے لیے جانے والے ڈاکٹروں اور دُوسرے طبّی عملے کو بھی بُلا لیا گیا ہے؛ تاہم اب حالات خاصے قابو میں ہیں اور وہ اگلے روز ہی اپنے مطلوبہ منظر کا نظارہ کر سکے گا کیوں کہ احتیاطی تدابیر کا بھی انتظام کرنا ہے۔ اِس تمام تفصیل کو بیان کرنے کے بعد اُس نے اجازت نامے کو آفتاب احمد کی کیس ہسٹری کے کاغذگیر کے آخری مومی لفافے میں رکھا اور رَوانہ ہو گئی۔

باقاعدہ اجازت ملنے کی خبر نے اُسے نچنت کر دیا۔ اُس کے اندر اضطراب کا موجزن جواربھاٹا بڑی حد تک پُرسکون ہو گیا۔ اُسے اب ڈاکٹر لیو کی آمد کا انتظار تھا تاکہ وہ اُس کی کاوشوں کا شکریہ ادا کر سکے، لیکن اُس شب ڈاکٹر لیو کے بجائے دِیگر دو نوجوان ڈاکٹروں کی جماعت نے اُس کا اور اُس جیسے دُوسرے مستقل کیفیت کے حامل مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فائل پر اپنے مشاہدات کا اندراج کیا اور شریکِ کار نرسوں کو کچھ ضروری ہدایات دیں۔ اُن نرسوں میں سسٹرز چانگ یِنگ اور شیاؤہُوئی شامل نہیں تھیں۔

آفتاب احمد نے وہ رات بھی گذشتہ دونوں راتوں ہی کے مانند غروبِ آفتاب کے مختلف مناظر کے تصوّرات اور خوابوں میں بسر کی۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ اگلے نظارے کے مناظر میں بھی کھویا رہا۔ کبھی اُسے صاف شفاف آسمان پر ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی بوقلمونی بکھیرتا ہُوا دِکھائی دیا جس میں ہسپتال کے گِردونواح میں پھیلی وُوہان کی فلک بوس عمارتوں میں سے کسی کا وجود نہیں تھا۔ تو کبھی اُس نے اُسے جھیل کے پانی میں— جسے وہ اپنے تخیّل یا خواب میں یا دونوں کی وسطی کیفیت میں ہسپتال کے پہلو میں واقع جھیل زِہی یِن (Zhiyin) سمجھتا رہا تھا— اُترے اور پھر کچھ نیچا ہونے پر ترچھی کرنوں سے ہفت رنگ سنگریزوں راستہ تشکیل دیتے دیکھا۔ اِسی طرح کبھی وہ کسی میدانی علاقے میں نظارہ کر رہا تھا تو کبھی کسی پہاڑی علاقے میں تو کبھی کسی اَور جگہ۔ حد یہ کہ ایک بار تو اُس کا تخیّل اُسے صحرا میں لے گیا، غالباً جس کا سبب اُس کا تجسس تھا کہ صحرا میں غروبِ آفتاب کا منظر کیا بہار دِکھاتا ہو گا کیوں کہ اُس نے وہاں کا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یقینا ریت کے ذرّات ستارے بن کر دمکتے ہَوں گے! ہر منظر اپنی جگہ مکمل اور اِتنے طویل دورانیے کا تھا کہ اُسے صبح ہونے کا پتا تک نہیں چلا۔ اور اب وہ ڈاکٹر لیو کو سوالیہ نظروں سے لگاتار تکے جا رہا تھا، جس کی آنکھیں یُوں متورم اور لال تھیں جیسے اُس نے رات بھر پلک تک نہ جھپکی ہو اور اُس کی ڈھلمل بدنی حرکات اُس کے خاصا مضمحل ہونے کی غماز تھیں۔ ڈاکٹر نے پہلے اپنے فرائض نبھائے اور پھر اُس کی آنکھوں کے سوال کی طرف متوجہ ہُوا۔

“ہسپتال کی سطح پر ہونے والے انتظامات— مثلاً تمہیں باہر لے جانے سے پہلے اور واپس لانے کے بعد ہائیڈروکسی کلورو کوِین و دِیگر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ، غیر متعلّقہ افراد سے خالی راہداری وغیرہ— زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ آکسیجن کے سلنڈر کا ہے کیوں کہ ہسپتال میں تمام وینٹی لیٹر مستقلاً نصب شدہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حرکت ہیں۔ ہم نے دُوسرے ہسپتالوں سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ہسپتال میں چھوٹا سلنڈر دستیاب ہے، جسے وہ بھجوا رہے ہیں۔ اِس لیے، تم یقین رکھو کہ آج تم اپنے سب سے پسندیدہ منظر کے نظارے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہو۔” ڈاکٹر نے اپنی بات مکمل کی تو اُس نے آفتاب احمد کے چہرے پر گہرے سکون کے تأثرات کو پھیلتے دیکھا۔ وہ روانہ ہُوا، لیکن پھر مُڑا اَور بولا۔ “تب تک میں تھوڑی سی نیند لے کر اپنی تھکن اُتار لوں اور یہ دونوں سسٹرز بھی۔ پچھلے چھتیس گھنٹے سے ہمیں آرام کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آیا۔ لیکن تم بے فکر رہو، تمام معاملہ طے پا چکا ہے۔ ہمیں بروقت جگا دیا جائے گا۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔”

ڈاکٹر لیو مزید کچھ کہے بغیر دونوں نرسوں کے ہم رَاہ روانہ ہو گیا۔

من پسند شے یا شخصیت سے ملن کے لمحات جُوں جُوں شمار میں کم ہوتے جائیںانتظار کے لمحات کی کربناکی مسرت بھری سنسنی کے پہلو کے غالب آنے پر دب جاتی ہے، جس کا اپنا ہی ایک لطف اور سرخوشی ہوتی ہے۔ آفتاب احمد کے بھی کچھ ایسے ہی احساسات و جذبات تھے۔ لیکن جب انتظار کے لمحات طویل ہو کر آس ختم کرنے لگیں اور دِل بہلانے کو مناسب جواز نہ ملے تو تو نراس غالب آنے لگتی ہے۔ سامنے لگے دِیوارگیر گھڑیال پر شام کا دھندلکا پھیلنے کا وقت دیکھ کر اُس کی کیفیت میں تبدیلی کا اگلا دور شروع ہُوا جس میں نااُمیدی اور مایوسی کا عنصر غالب ہوتا جا رہا تھا، جسے مدہم کرنے کے لیے: سلنڈر نہیں پہنچا ہو گا، یا کسی نے ڈاکٹر لیو کو نیند سے نہیں اُٹھایا ہو گا، یا مزید ایسے مریض آگئے ہَوں گے جنھیں فوری توّجہ کی ترجیحی بنیادوں پر زیادہ ضرورت ہو گی، جیسی طفل تسلیاں بھی ناکام ٹھیر رہی تھیں۔ اگر اُس روز ڈاکٹر لیو اپنے معمول سے ہٹ کر جلد نہ آتا تو شاید آفتاب احمد کو اپنے آپ کو سہارنا مشکل ہو جاتا، جو اُس کے لیے ازحد نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ غالباً ڈاکٹر کو اِس صُورتِ حال کا بخوبی اندازہ تھا۔

“مجھے افسوس ہے کہ ہم آج غروبِ آفتاب کا نظارہ نہیں کر سکے، شاید کل بھی نہ کر سکیں۔ اُمید ہے کہ پرسوں ممکن ہو گا۔” ڈاکٹر نے اُسے سوال کا موقع دیے بغیر چھوٹتے ہی کہا۔

“کیوں، ڈاکٹر؟ کیا مزید مریض آگئے ہیں؟”

“مزید مریض تو ہر روز آرہے ہیں۔ لیکن شاید قدرت ابھی تمہاری مزید آزمائش چاہتی ہے۔ شاید یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تمہاری خواہش کی شدّت کتنی ہے۔” ڈاکٹر لحظہ بھر کے تؤقف کے بعد دوبارہ گویا ہُوا۔ “آسمان پر گہرے بادل چھائے ہیں اور پھوہار پڑ رہی ہے۔”

“واقعی؟ اِس موسم میں؟” اُس کے مُنھ سے بے اختیار نکلا۔ اُس کی حیرانی بجا تھی کیوں کہ اوّل تو وُوہان میں سال بھر میں بارش اور برف باری کا تناسب کم تھا اور ثانیاً اُس نے اپنے اب تک کے قیام کے دوران میں مارچ کے مہینے میں بارش پڑتی نہیں دیکھی تھی۔ ہمیشہ مطلع صاف اور خُوش گوار، اور سُورج خُوب روشن ہوتا تھا۔

“یہ دیکھو۔” ڈاکٹر نے سٹول کھینچ کر بیٹھتے ہُوئے اپنے سیلولر فون کی سکرین اُس کے سامنے کی، جہاں موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ سارے وُوہان میں گھنے بادلوں اور بارش کا پتا دے رہی تھی۔ اُس نے اپنے انگوٹھے کی سِرے سے چُھو کر سکرین کو حرکت دی اور بولا۔ “یہ موسم کل تک برقرار رہے گا۔ البتّہ پرسوں سُورج معمول کے مطابق اپنی رُونُمائی کرے گا۔”

ڈاکٹر نے اُس کا مُنھ اُترتے دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا۔ “دِل چھوٹا مت کرو۔ سلنڈر آچکا ہے۔ باقی انتظامات بھی مکمل ہیں۔ آج کا دِن کم و بیش گزر ہی چکا ہے۔ کل کا بھی گذر جائے گا۔ اِس وقت کو سہل طریقے سے کاٹنے کے لیے ہم ایک کام کرتے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسان لہجے میں بات کرتے ہُوئے تجویز دی۔ “خُوش گوار یادیں اچھی چیز ہوتی ہیں۔ میرے پاس تمھارے لیے تھوڑا سا وقت ہے۔ اپنی کچھ یادیں میرے ساتھ بٹاؤ۔ تم نے یقینا آج تک بے شمار مرتبہ سُورج ڈوبتے دیکھا ہے، کیا نہیں دیکھا؟ کیا ہر روز، ہر موسم میں یکساں منظر ہوتا ہے؟ یا ہر بار ایک نیا اور مختلف؟”

آفتاب احمد کچھ دیر پُرخیال نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا، پھر بولا۔ “نہیں، ہر روز ایک اَور ہی سُورج ڈُوب رہا ہوتا ہے، جس کا نظارہ بھی اَور ہی ہوتا ہے۔ یقینا روزانہ ایک نیا سُورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، اِس طرح روزانہ نظارہ بھی گذشتہ روز سے کچھ ہٹ کے، کچھ مختلف، کچھ نیا ہوتا ہے۔” اُس کی آنکھیں خوابیدہ ہو گئیں۔ “یہ سب محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن اِسے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے بہت دُشوار ہے۔ بس یُوں سمجھ لیں، آج کا سُورج پچھلے روز کے سُورج کی تقلید تو کرتا ہے لیکن مکمل نہیں، معمولی سے نئے پن کے ساتھ۔ آہستہ آہستہ موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ نیا پن بڑھتا جاتا ہے اور منظر بدلتے بدلتے یکسر بدل جاتا ہے۔ سرما میں وہ منظر نہیں رہتا جو گرما میں تھا، جو موسمِ بہار میں تھا وہ خزاں میں نہیں رہتا۔ اور جب دو موسم ہم آغوش ہو رہے ہَوں— جیسے ابھی سرما گیا ہے، بہار آئی ہے تو اِن دونوں کے عین درمیان بھی ایک موسم تھا— تو نظارہ کچھ اَور ہوتا ہے، چاروں باقاعدہ موسموں سے بے حد مختلف۔ یہ چاروں واضح موسم اور اِن کے نظارے بھی سال میں چار مرتبہ آتے ہیں، لیکن ہم نے اِن موسموں کو کوئی نام ہی نہیں دیا۔ نہیں دیا نا؟” ڈاکٹر نے جواب دے کر اُس کی محویت کو توڑنا مناسب نہیں سمجھا اور اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔ “اِس کے علاوہ زمینی مناظر بھی غروبِ آفتاب کا نظارہ بدلتے ہیں، طلوعِ آفتاب کو بدلتے ہَوں گے۔ میدان، پہاڑ، ریگستان، جھیل یا دریا کنارے: ہر جگہ کا منظر دُوسرے مقام کے نظارے سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہر نظارے کا اپنا طلسم ہوتا ہے۔” وہ بولتے بولتے رُکا۔ بہت دِنوں کے بعد طویل بات کرنے کے باعث اُس کا سانس پُھولنے لگا تھا۔ اِس سے بھی بڑھ کر وہ کورونا وائرس سے متأثرہ ایسا مریض تھا، جس کی سانسیں قابُو سے باہر ہو چکی تھیں۔ اگر وہ وینٹی لیٹر پر نہ ہوتا تو شاید اُس کے پھیپھڑے اب تک جواب دے چکے ہوتے۔

ڈاکٹر لیو نے اپنا دستانہ پہنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اُس کا کندھا نرمی سے تھپتھپا کر اُسے پُرسکون ہونے میں مدد دی۔ وہ اپنی سانسیں درست کرتا رہا اور ڈاکٹر بدستور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھے صبرو تحمل سے چُپ چاپ منتظر رہا۔

“سردیوں کے موسم میں جب آسمان پر کُہر چھائی ہوتی ہے— دبیز پرت والی نہیں بَل کہ بُوندوں والا کُہرا— وہ بُوندیں یُوں دِکھائی دیتی ہیں جیسے آسمان پر سنہرے رنگ کے موتی ٹانک دیے گئے ہَوں۔ سُورج کے بہت قریب کی بُوندیں کبھی انگوروں کے بڑے بڑے خوشے دِکھائی دیتی ہیں تو کبھی منشور بن کر ساتوں رنگ منعکس کرتی ہیں۔ جب سُورج نیچے ہونے لگتا ہے تو اُن کا رنگ بھی بدلتا ہے، زرد اور سُرخ میں اور وہ لٹکے ہُوئے پکھراج اور لعل دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ آہستہ آہستہ— سُورج کے زمین کی مزید اَوٹ میں آنے پر— اُن کے ایک طرف کا حِصّہ سیاہ پڑنے لگتا ہے اور پھر دِھیرے دِھیرے تمام بُوندیں چُھپ جاتی ہیں، بس اُن کے ایک رُخ کی کمان بہت تھوڑی دیر کے لیے یُوں زردی مائل سُرخ رہتی ہے جیسے پہلی کے بے شمار چھوٹے چھوٹے چاند طلوع ہو گئے ہَوں۔ واہ، کیا خُوب نظارہ ہوتا ہے! قطعی ناقابلِ بیان! پھر وہ چاند بھی سُورج کے ساتھ غروب ہو جاتے ہیں۔” وہ گہرے گہرے سانس بھرتے ہُوئے قلیل وقفے کے لیے چُپ ہُوا تو ڈاکٹر نے اُس کی خوابیدہ آنکھوں میں اُس منظر کا نظارہ کرنے کی کوشش کی۔ “اور برف باری کے بعد— جب ابھی ہَوا چلنے کے بعد برف مکمل طور پر شیشہ نہ بنی ہو بَل کہ کچھ کچھ دُھندلی ہو تو— یہی رنگ ایک مختلف بہار دِکھاتے ہیں۔ مدہم مدہم جھلمل میں کہیں کہیں دمکتے برف کے ذرّات یُوں لگتے ہیں جیسے زمین ستاروں سے سج گئی ہو۔ لیکن سخت اور چمک دار برف پر کِرنیں اِس قدر زیادہ تیکھی اور چبھنے والی ہوتی ہیں کہ انعکاس کی سیدھ سے نظارہ کرنے سے بینائی متأثر ہو سکتی ہے۔ میں ہلکی سی چمک پڑتے ہی یہ خطرہ بھانپ کر ایک طرف ہو گیا تھا۔”

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر نے ہنکارا بھرتے ہُوئے اُسے متوجّہ کرنے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور دِیوار گیر گھڑیال کی طرف دیکھا۔

“ڈاکٹر۔” وہ یُوںچونکتے ہُوئے بولا جیسے کسی اَور دُنیا سے ابھی ابھی پلٹا ہو۔ “جھیل کے پانی پر رنگ برنگے سنگریزوں کا لہراتا ہُوا راستہ اپنے اُوپر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ کبھی دیکھا ہے، ڈاکٹر؟”

“اُمید ہے کسی روز تمہارے ساتھ یہ تمام مناظر دیکھوں گا۔” ڈاکٹر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھتے ہُوئے بولا۔ “تم نے صاف آسمان پر بدلتے رنگوں اور مناظر کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں؟”

“اوہ ہاں، ڈاکٹر۔ آسمان پر رنگ…”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “باقی کل سنوں گا۔ اب مجھے بہت سے دُوسرے مریضوں کا معائنہ کرنا ہے۔ شام کو ملاقات ہو گی۔”

لیکن اُس شام اور اگلے روز ڈاکٹر لیو کا دورہ، محض معائنے کی حد تک، بے حد سنجیدہ اور مختصر رہا۔ لگتا تھا جیسے وہ خاصا مصروف ہو۔ آفتاب احمد آگاہ تھا کہ کہ وہ دِن بھی بے موسمی بادوباراں کا ہے لیکن پھر بھی اُس نے بے چین ہو کر نرسوں سے دریافت کیا اور تصدیق ہونے پر اپنی بے کلی کو تھپک تھپک کر سلایا۔ اُس کا وہ دِن اور آنے والی تمام رات اگلے روز کے غروبِ آفتاب کے منظر کے مختلف تصوّرات اور خوابوں میں بیتی۔

اپنے معمول کے دورے پر ڈاکٹر لیو اور نرسوں نے اُسے خُوش خبری سنائی کہ وہ نظارے کے لیے تیار رہے۔ وہ نہ صرف پہلے ہی سے تیار بَل کہ اپنی خواہش کی تکمیل کا منتظر تھا۔

سہ پہر ہوتے ہی ڈاکٹر لیو دونوں نرسوں چَینگ یِنگ اور شیاؤہُوئی کے ہم راہ آیا۔ اُس نے کچھ وقت اُس کا دوبارہ معائنہ کرنے میں صرف کیا۔ آفتاب احمد بے قراری سے معائنے کے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ معائنہ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر نے گذشتہ روز ہی کے مانند سٹول کھینچا اور بیٹھ کر بولا۔ “نوجوان، تم اِن مناظر کو اِتنا خُوب صُورتی سے بیان کرتے ہو، اِس موضوع پر کچھ لکھتے کیوں نہیں؟ کوئی مضمون؟ کوئی کہانی؟ کوئی کتاب؟”

“ڈاکٹر، کیا ہمیں کسی کا انتظار ہے؟” اُس نے اپنے اندر مچی کلبلی کو دباتے ہُوئے استفسار کیا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو نے گہری سانس لیتے ہُوئے جواب دیا۔ “ہمیں ایک اَور دِن انتظار کرنا پڑے گا۔”

اور اُس نے اپنا سیل فون نکال کر اُس کی سکرین کو شہادت کی اُنگلی کی پَور سے مَس کر کے اُس کے سامنے کر دیا۔ روشن پردے پر موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ گھنگور گھٹا دِکھا رہی تھی۔

“کچھ ہی دیر پہلے میں نے بیرونی انتظامات کے جائزے کے لیے ہسپتال سے باہر کا چکّر لگایا تو آسمان بالکل صاف تھا۔ اچانک شمال سے گھٹا اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئی۔ خیر، آج رات تک بادل مکمل طور پر چھٹ جائیں گے اور کل سارا دِن مطلع صاف رہے گا۔ یہ بتاؤ، تمہیں میری تجویز کیسی لگی؟”

“کون سی تجویز؟” اُس نے غائب دماغی سے پُوچھا۔

“اِن مناظر کو قلم بند کرنے والی۔ تم سُورج کی کِرنوں کے ساتھ زمین و آسمان کے بدلتے رنگوں کو کھول کر لکھو۔ میرا خیال ہے، تم اپنا گہرا مشاہدہ عمدگی کے ساتھ بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہو۔”

“ڈاکٹر، آسمان کے رنگ…”

ابھی وہ اِتنا ہی کہہ پایا تھا کہ ایک نرس تِیر کی سی تیزی کے ساتھ آئی اور ڈاکٹر لیو سے مخاطب ہُوئی۔ “ڈاکٹر، آپ کی وہاں فوراً ضرورت ہے۔”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر ترنت اُٹھتے ہُوئے اُتنی ہی سریع آواز میں بولا۔ “میری تجویز پر غور کرو۔ کل ہم ضرور نظارہ کریں گے۔”

اگلے روز، معمول کے معائنے کے بعد، ڈاکٹر لیو کی دوبارہ آمد سہ پہر کو ہُوئی۔”یومِ تکمیل!” اُس نے آتے ہی قدرے اُونچی آواز میں نعرہ بلند کرنے کے اندز میں کہا۔ “تم خواہ مخواہ پریشان تھے۔”

اپنے ہم راہ آنے والے عملے کو کچھ ضروری ہدایات دینے کے بعد، ڈاکٹر اُس کا معائنہ کرنے لگا— تنفس کی رفتار، دِل کی دھڑکن، نبض، فشارِ خُون، انفراریڈ تھرما میٹر سے جسم کا درجۂِ حرارت۔ “پُرسکون رہو۔ ہیجان میں مبتلا ہونے سے گُریز کرو۔ تم پہلی مرتبہ یہ نظارہ کرنے نہیں جا رہے… نہ ہی آخری بار۔ بس، یہ سمجھو کہ تم اپنا ٹُوٹا ہُوا معمول دوبارہ بحال کرنے جا رہے ہو۔” پھر اُس کے مُنھ سے وینٹی لیٹر کا ماسک ہٹاتے ہُوئے کہا۔ “کچھ گہرے سانس لو۔ اِس سے تمھیں اپنی کیفیت پُرسکون رکھنے میں مدد ملے گی۔”

چند مِنّٹ تک اُس کی حالت کے متوازن ہونے کا انتظار کرتے ہُوئے وہ مختلف مشینوں پر نظریں دوڑاتا رہا۔ پھر بولا۔ “ایک بات اچھی طرح جان لو کہ تم نے اپنے آپ کو قائم نہ رکھا تو تمھیں دوبارہ کبھی یہ موقع نہیں ملے گا۔”

“جی، ڈاکٹر۔” آفتاب احمد نے یقین دہانی کروائی۔ “میں اپنے آپ پر مکمل قابُو رکھنے کی کوشش کروں گا۔”

“خُوب۔” اور پھر وہ دوبارہ عملے سے مخاطب ہُوا۔ “جلدی کرو۔ ماسک کا پائپ وینٹی لیٹر سے ہٹا کر سلنڈر کے ساتھ لگا کے سلنڈر کو پلنگ کے سرہانے ایک طرف رکھ دو۔”

راہداری میں پہیوں والے پلنگ کے برابر چلتے ہُوئے ڈاکٹر لیو بولا۔ “سُورج غروب ہونے میں لگ بھگ ایک گھنٹا باقی ہے۔ اِس تمام وقت میں تم اچھی طرح نظارہ کر لو گے۔”

آفتاب احمد نے خاموشی سے سر ہِلا دیا۔

“ارے، ہاں۔” وہ یکایک یُوں چونکتے ہُوئے بولا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو۔ “تم نے میری تجویز پر غور کیا؟”

“جی، ڈاکٹر۔ گذشتہ ساری رات میں اِسی ادھیڑبن میں رہا۔ اپنے دیکھے ہُوئے تمام مناظر یاد کر کے اُنھیں لکھنے کے لیے بہترین الفاظ سوچتا رہا۔”

“عمدہ۔ کیا لکھو گے؟ مضمون؟ مختصر کہانی؟ یا ناول؟ یا کوئی اَور کتاب؟”

“آپ کے خیال میں کیا مناسب رہے گا؟”

“میرے خیال میں… ہَم…” ڈاکٹر سوچنے لگا۔ “میرے خیال میں…”

اور یُوں ہسپتال سے باہر نکلنے تک ڈاکٹر نے اُسے باتوں میں اُلجھائے رکھا تاکہ وہ کسی ہیجانی کیفیت کا شکار نہ ہو۔

جب وہ اُسے لے کر ہسپتال کا بغلی دروازہ عبور کر کے باہر نکلے تو ایک فلک بوس عمارت کی داہنی جانب ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی پُوری آب و تاب کے ساتھ عین سامنے موجود تھا۔ فلک بوس عمارت کے سُورج والی طرف زمین تک کوئی عمارت، کوئی رُکاوٹ نہ ہونے کے سبب اُفق تک نظر جاتی تھی۔ ڈاکٹر نے منظر دِکھانے کے لیے عمدہ مقام کا انتخاب کیا تھا۔ پہیوں والا پلنگ دھکیلنے والے دونوں افراد اُلٹے چلتے ہُوئے پیچھے ہٹ کر دروازے ہی پر ٹھیر جانے والے بقیہ عملے کے ساتھ جا ملے۔ آفتاب احمد نے تحیّر بھری مسرت سے سُورج کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر لیو کی طرف آنکھیں گھمائیں۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو، جو پہلے ہی ٹکٹکی لگائے اُسے دیکھ رہا تھا، تھوڑا سا نیچے جھکا۔ اُس نے اپنا ایک ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور دُوسرا سُورج کی طرف بڑھایا۔ “وہ دیکھو۔”

آفتاب احمد نے سر موڑ کر نگاہیں دوبارہ سُورج کی سمت سیدھی کیں۔ سُورج سے ذرا اُوپر گذشتہ دو روز کی گھٹاؤں کے پیچھے رہ جانے والے سفید بادلوں کی نچلے سنہرے کنارے والی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں تھیں۔ اُس کی نگاہوں نے سُورج کے اِردگِرد کا سفر کیا کیوں کہ ابھی اُس کی کِرنوں میں اِتنی خیرگی تھی جو آنکھوں کو چبھتی اور دیر تک دیکھتے رہنے پر نگاہوں میں سُورج کا چمک دار پرتو جنم دے کر وقتی طور پر نابینائی کا سبب بن سکتی تھیں جس سے وہ خاصی دیر تک منظر سے محروم ہو جاتا۔ فلک بوس عمارت کی سُورج والی سمت بے حد روشن لیکن سامنے والا حِصّہ نیم تاریک تھا۔ نگاہیں عمارت کے ساتھ ساتھ پھسلتی ہُوئی نیچے زمین کی طرف آئیں۔ وہ ہسپتال کے دروازے کے بیرون تک آنے والی سڑک پر بستر میں لیٹا تھا، جو سیدھی جا کر بڑی شاہراہ سے ملتی تھی۔ بڑی شاہراہ، جس پر شب و روز کثرت سے کاریں، بسیں اور دُوسری گاڑیاں دوڑتی دِکھائی دیتی تھیں، آج سنسان نظر آرہی تھی۔ اُس نے مستعجب ہو کر دِھیرے دِھیرے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں۔ پچھلے دو دِنوں کی بارش سے ماحول نکھرا نکھرا اَور درختوں کے گہرے سبز پتّے دُھل کر سہ پہر کی دُھوپ میں چمک رہے تھے، لیکن ہر جانب ہُو کا عالم تھا۔ چہار سُو سنّاٹے اور ویرانی کا راج تھا۔ حد یہ کہ کوئی پرندہ تک پر مارتا دِکھائی نہیں دیا، شاید وہ بھی خوف زدہ ہو کر انسانوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے لاک ڈاؤن ہو گئے تھے۔ آج ویسا سنّاٹا طاری تھا جس کا وہ ہمیشہ متمنّی رہا تھا تاکہ دُنیاومافیہا سے بے خبر ہو کر اپنے پسندیدہ منظر میں محو ہو سکے، لیکن آج وہی سنّاٹا اُس کے اندر تیزدھار نشتر کے مانند کچوکے لگا رہا تھا۔

جب سُورج مکمل طور پر غروب ہو گیا اور اُس کی بچی کھچی لالی پر بھی تاریکی غالب آنے لگی تو اُس نے ڈاکٹر لیو کے عملے کو پُکارنے کی آواز پر پلکیں جھپکیں۔

“زندگی سے محبت کے لیے اُمنگ بہت ضروری ہے، چاہے وہ کسی خاص منظر سے عشق ہی ہو۔” ڈاکٹر راہداری میں اُس سے مخاطب ہُوا۔ “اُس اُمنگ سے تم موت کو بھی شکست دے سکتے ہو، جیسا کہ تم نے کیا ہے۔”
اُس نے چونکتے ہُوئے نظریں اُٹھا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر نے توثیقی انداز میں اپنی پلکیں جھپکائیں۔ “ ہم تمہاری زندگی کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے۔ لیکن پھر غروبِ آفتاب کا نظارہ کرنے کی اُمنگ نے تمھیں اپنی بیماری اور موت کی پیش آگاہی بُھلا دی۔ اِس چاہ میں تم کھانسنا اور ہونکنا بُھولتے چلے گئے، جس سے تمہارے پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے زخم مندمل ہونے لگے؛ دوائیں مؤثر ہو گئیں۔ پچھلے تین دِن میں تمھارے بدن کا درجہ حرارت گِرتے گِرتے آج بالکل نارمل ہو گیا۔ اِن دِنوں میں ہم نے کئی مرتبہ تمھارے وینٹی لیٹر کی آکسیجن پہلے مختصر اور پھر طویل وقفوں کے لیے بند کر کے تمھارے تنفس کی بحالی کی استعدادِ کار کو جانچا۔ اور آج تم بغیر وینٹی لیٹر کے سانس لے رہے ہو۔ اِسی لیے میں نے تمھیں باربار یقین دِلایا اور اب ایک بار پھر یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمھارا آخری غروبِ آفتاب نہیں تھا۔”

ڈاکٹر لیو کی اِس تمام گفتگو کے دوران میں— جسے آفتاب احمد مُنھ کھولے ہکابکا ہو کر سُنتے ہُوئے سوچ رہا تھا کہ وہ جب سے اِس مرض کا شکار ہُوا تھا کھانس کھانس کر اُس کی اگلی پچھلی پسلیاں اور پھیپھڑے بُری طرح درد کرنے لگے تھے، یہاں تک کہ ہلکا سا کھانسنا بھی بے حد تکلیف دِہ ہوتا اور شدّید بخار سے اُسے خُود بھی اپنا جسم پُھنکتا ہُوا محسوس ہوتا۔ لیکن پچھلے چند روز کے دوران میں اُسے کھانسی نے کم تنگ کیا اور سانس لینے میں بھی کم دُشواری کا سامنا ہُوا۔ بدن کی حرارت بھی پہلے جیسی محسوس نہیں ہُوئی تھی۔ شاید اِس سب کا سبب اُس کے دھیان کا بیماری سے ہٹنا اور غروبِ آفتاب کے نظارے کی آس پر مرتکز ہونا تھا— اُس کا پلنگ اپنے مخصوص مقام پر پہنچ گیا۔ “آج کی شب تم آنے والے ایّام میں اپنے پسندیدہ منظر کو دیکھنے کے تصوّر، یا آج کے منظر کے بارے میں سوچتے ہُوئے، یا ماضی کے مناظر کی یادوں میں بسر کر سکتے ہو۔ کل تمھارا نمونہ ٹیسٹ کے لیے بھجوایا جائے گا۔ علامات کی بنیاد پر میں یقینی قیاس کر سکتا ہُوں کہ نتیجہ منفی آئے گا۔”

“ڈاکٹر، آج کا منظر بہت اُداس کر دینے والا تھا۔ زندگی سے عاری یا غالباً زندگی کی محبوسیت کے گہرے تأثر کا حامل۔ ڈُوبتے ہُوئے سُورج کے سامنے پرندہ تک نہیں اُڑ رہا تھا۔” آفتاب احمد کے لہجے میں افسردگی اور تأسف تھا۔

“مجھے توقع ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا— بہت جلد۔” ڈاکٹر نے اُس کے کندھے پر تسلّی بھری تھپکی دی۔ “مایُوس سوچوں سے اجتناب بہتر ہے۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔” اُس نے واپسی کے لیے جاتے ہُوئے ڈاکٹر کو مخاطب کیا۔ “آپ کا یہ احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”

ڈاکٹر سر ہِلاتے ہُوئے جواب دیے بغیر روانہ ہو گیا۔

ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی خُوش خبری اُسے نرس شیاؤہُوئی نے آکر چہکتے ہُوئے لہجے میں سنائی۔ “مبارک ہو۔ اگرچہ تمھیں شیاؤہُوئی— صبح سویرے کی نرم دُھوپ— پسند نہیں لیکن میں تمھیں زندگی کی صبحِ نو کی مبارک باد دیتی ہُوں۔ تمھیں فوراً آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

“کیا جانے سے پہلے میری ملاقات ڈاکٹر لیو سے ہو سکے گی؟”

“نہیں، وہ بہت مصروف ہیں۔”

آفتاب احمد کو آئیسولیشن وارڈ میں دو دِن رکھنے کے بعد قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ جہاں سے چند روز کے بعد ایک بار پھر ٹیسٹ کے لیے اُس کا نمونہ لیا گیا۔ دُوسری مرتبہ بھی نتیجہ منفی آنے پر اُسے ہسپتال میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

“ڈاکٹر۔” اُس نے ہسپتال سے فارغ کرنے کی نوید سنانے والے قرنطینہ کے ڈاکٹر سے دریافت کیا۔ “میں ڈاکٹر لیو سے کہاں مل سکتا ہُوں؟”

چُوں کہ ہسپتال بھر کے تمام عملے میں اُس کے غروبِ آفتاب کے منظر دیکھنے کی خواہش کا چرچا رہا تھا اور بعد کے دِنوں میں اُس کے سامنے اِس کا متعدّد بار تذکرہ دِلچسپی بھرے انداز میں ہُوا تھا، اِس لیے عملے کے کسی رُکن کے لیے اُس کا ڈاکٹر لیو سے ملنے کی خواہش کا اظہار اچنبھے کی بات نہیں تھی۔

“تم اُن سے نہیں مل سکتے۔ COVID-19 کا نتیجہ مثبت آنے پر وہ پچھلے چند روز سے آئیسولیشن میں ہیں۔” ڈاکٹر نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

جب ضروری کاغذات کی تکمیل کے بعد ایمبولینس اُسے لے کر ہسپتال سے نکلی تو اُس نے اُس بغلی سمت میں الوداعی نگاہ ڈالنے کی نیت سے کھڑکی کے شیشے میں سے جھانکا، جہاں سے اُس نے نظارہ کیا تھا، وہاں ہسپتال کے تمام عملے کو پیپلز لبریشن آرمی کا چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا تھا، جن میں یقینا ڈاکٹر لیو شامل نہیں تھا۔ اُس کے دُکھ میں اضافہ ہو گیا۔

Categories
فکشن

جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔

اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے دو مہینے چھوٹا تھا۔ ہر سال جب بھی اس کے چچیرے بھائی کا جنم دن آتا اس کی ماں آہ بھر کر کہتی۔” ہائے میرا جمیل ہوتا تو اب وہ بھی اتنے سال کا ہوتا”۔ اور جب اکبر (اس کا ہم عمر چچیرا بھائی) کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں دیر تک روتی رہی اور خیالوں ہی خیالوں میں اپنے خاک میں خاک ہو چکے بیٹے کو سہرے باندھتی رہی۔

جمیل ہوتا تو اب کیسا گبھرو جوان ہوتا۔ ماں کے ساتھ کبھی کبھی وہ بھی سوچنے لگتی۔ جمیل کی وجہ سے ان بہن بھائیوں کی تعداد میں عجیب توازن تھا۔ جب وہ زندہ تھا تب وہ برابر برابر تھے تین بٹا تین۔ جمیل کی وفات کے بعد ان کے توازن میں فرق آ گیا ہے اور وہ دو بٹا تین ہو گئے تھے۔ مگر یہ ترتیب زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی تھی کیونکہ اس کی وفات کے دو سال بعد ان کی چوتھی بہن ثانیہ پیدا ہوئی اور یوں تین بٹا تین کا توازن چار بٹا دو میں بدل گیا۔ اب مساوات کی جگہ دو چوتھائی آ گئی تھی۔

اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اور سینہ پیدائشی ضعف جگر کی وجہ سے ابھرا ہوا تھا۔ اس کی پسلیوں کا پنجرہ ہموار نہیں تھا بلکہ زیادہ اوپر اٹھ گیا تھا۔ اپنی مختصر حیات میں اس نے ڈھیر درد سہے اور پھر بہار کی ایک دوپہر کو اس نے برآمدے میں لیٹے ہوئے ماں کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پکوڑے کھانے کی فرمائش کردی۔ماں نے اسے(عالیہ) کہا کہ جا کے باہر سے پالک توڑ لائے۔ وہ پالک توڑنے چلی گئی۔ اس نے پالک کاٹی، آلو کاٹے لیکن وہ سب کچھ درمیان میں ہی رہ گیا۔ بے حد خوبصورت آنکھوں اور سینے کے ابھرے ہوئے پنجرے والا جا چکا تھا۔ وہ کٹی ہوئی پالک بعد میں کتنے ہی دن آگ والی کوٹھڑی کی پڑچھتی پر پڑی سوکھتی رہی۔ عالیہ انہیں دنوں دسویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔ بہار جس کا آغاز نمناک ہوا تھا اس کی بلوغت کی زندگی میں سوچ لے کر آئی۔ سوچ جس سے وہ بعد میں کبھی مفر حاصل نہ کرسکی۔ وہ بارہ سال کی زندگی جس کا غالب حصہ درد اور بخار سے بھرا ہوا تھا،وہ کیوں زمانے کے کھاتے میں درج ہوئی تھی۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ کبھی وہ یہ سوال ماں کے آ گے رکھتی تو ماں تقدیر کے کندھے پہ سارا بوجھ ڈال کے آزاد ہو جاتی۔ اس چمکتی دوپہر جب اس نے ماں سے سوال کیا تو وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ ماں گندم کو جھج میں پھٹک کے چارپائی پہ بچھے کپڑے پہ ڈال رہی تھی اور وہ پاس بیٹھی دانوں کے اندر سے گھنڈیاں اور مٹی کے روڑ نکال رہی تھی۔

گندم صاف کرتے ہوئے اس نے دانوں کی ایک مٹھی بھری اور پاس چگتی مرغیوں کے آگے پھینک دی۔ باقی دانے ایک بوری میں ڈالے جانے تھے تاکہ پسوائی کے لیے چکی پر بھیجے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کچھ اور بھی دانے چارپائی پر پھیلے کپڑے سے نیچے گر کے کچے صحن کی مٹی میں مل گئے ہیں۔ جب جھاڑو پھرے گی تو یہ کوڑے کے ساتھ باہر گرا دیئے جائیں گے۔ تب اس نے سوچا خدا بھی انسانوں کی تقدیر ایسے ہی طے کرتا ہوگا۔ کچھ کی مٹھیاں بھر کے سکھ کے جزیرے میں پھینک دیتا ہو گا۔ کچھ کو مٹی میں رول دیتا ہو گا۔ کچھ کو بچا کے رکھ لیتا ہوگا کہ آگے بیجائی اور مزید پیداوار کے کام لائے جاسکیں۔ اور جو اکثریت ہے ان کی پراتیں بھر بھر کے بوری میں ڈال دیتا ہو گا تاکہ وہ چکی کے تیز پاٹوں میں پس کر آٹا بن جائیں۔ پھر ان کو گوندھا جائے۔اس کے بعد بیلا جائے۔پھر تنور یا توے پر پکایا جائے اور پھر کھالیا جائے۔سب سے زیادہ آ زادی تو پیداواری مقاصد کے لیے رکھے گئے دانوں کے حصے میں آ تی ہے۔ مگر بعد میں ہوتا ان کے ساتھ بھی وہی ہے۔ مگر یہ آزادی بھی کب تک ہے۔ نئے پودوں کے اگنے اور سٹے میں دانے پکنے تک بس۔ اس کے بعد ان کی جڑوں میں درانتی پڑتی ہے اور پھر وہی ایک جیسا چکرشروع ہوجاتا ہے۔ تو گویا یہ تقدیر ہے۔اس نے پھر مٹھی بھری جیسے تقدیر طے کر رہی ہو۔اب اس مٹھی میں جو دانے آئے ہیں وہ ان کی کیا تقدیر طے کرے؟
مرغیوں کے آ گے ڈالے۔
زمین پہ پھینک دے
یا بوری میں ڈال دے۔

اور اس مٹھی میں جو دانے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقدیر طے کی جارہی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو کیا وہ دعا کررہے ہیں کہ انہیں کس طرف ڈالا جائے۔کیا انہوں نے کوئی وظیفہ کیا تھا؟ کوئی عبادت کی تھی۔گڑگڑائے تھے۔ سجدے میں گرے تھے۔ یا ایسے ہی میری مٹھی میں جو آنے تھے وہی آ ئے۔ یہ ان کی تقدیر ہے۔اور جو بوری میں ڈالے جا رہے ہیں وہ ان کی تقدیر ہے۔

اس نے ماں کی طرف دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس کے چہرے پہ گہری خاموشی تھی جیسے اب کبھی نہیں بولے گی، یا جیسے وہ اپنے سارے سوال ختم کرکے پرسکون ہو چکی ہو۔ کیا ماں کو اس سب کا پتا ہے جو وہ سوچ رہی ہے۔

موت ایک صدمہ ہے۔ ہاں مگر موت آس پاس والوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔ لیکن زیست آس پاس والوں کے لیے صدموں کا مجموعہ ہے۔ ہمارا روٹھنا، کھانا نہ کھانا، بات نہ کرنا، بیمار ہو جانا، کسی ہڈی کا ٹوٹنا، معذور ہونا، ہماری غربت، ہماری خواہشوں کی عدم تکمیل، ہماری ناکامیاں، کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے قریبی رشتوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور ہماری کامیابیاں ہمارا اچھا نہ چاہنے والوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ جینا پھر بھی موت پہ فائق ہے اگرچہ موت صرف اکلوتا صدمہ ہے۔

جمیل بارہ برس کی عمر میں مرا، مگر موت نے کچھ بھی ساکت نہیں کیا۔ خاندان کے تصویری البم میں اس کی عمر بارہ برس ہی تھی مگر ماں کی یاداشت میں وہ سال ہا سال بڑا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ماں خیالوں میں اس کی دلہن بھی تلاشنے لگی تھی۔وہ سردیوں کی راتوں میں جب دیر سے آ نے والے خاوند کا انتظار چولہے کے پاس پیڑھی پہ بیٹھ کے کرتی تو لکڑیوں کے چولہے کی دوسری طرف جمیل بیٹھا رہتا۔ماں بیٹا گھنٹوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہتے۔ماں بیٹھی بیٹھی اونگھ جاتی تو اس کا سر انگیٹھی کی دیوار سے جا لگتا۔جمیل بیٹھا سر کو دائیں بائیں مسلسل ہلاتے ہوئے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنکے توڑ کے آ گ میں پھینکتا رہتا اور آگ جلتی بجھتی رہتی۔ان کی زندگی ایسی ہی تھی ایک وقت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور بیک وقت جدا بھی۔وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔باقی بہنیں بھائی اس دوران آ گ والی اسی کوٹھری کے دھواں دھار ماحول میں اپنے لحافوں میں دبکے سوتے رہتے۔دائیں بائیں سر کو ہلاتے ہوئے وہ سوچتا چلا جاتا۔اس کا ذہن بہت تخلیقی تھا۔پلاسٹک کے خریداری والے لفافے کو نیچے سے کاٹ سے سویٹر یا بنیان کی طرح پہننے کا طریقہ بھی پہلی بار اس نے نکالا تھا۔ایک دوپہر جب ماں ساگ توڑ کر شہر میں اپنی دیورانی کو بھجوانے کے لیے لفافہ ڈھونڈ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ اسے جمیل نے کسی بنیان کی طرح اپنے نحیف بدن پہ پہن رکھا ہے اور بہت آ رام سے آ نکھیں موندے سر کو ہلا رہا ہے جیسے کسی ان دیکھے جھولے کی لذت لے رہا ہو۔تو اسے تپ چڑھ گئی۔ایسے موقعوں پر وہ مارنے سے بھی گریز نہ کرتی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پلاسٹک کے معمولی خریداری لفافے بھی سنبھال کے رکھے جاتے تھے۔

اب اسے یاد کریں تو یاداشت میں اس کے نیلے رنگ کے کپڑے اور پلاسٹک کے سفید بوٹ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ بھی ایسا نہیں جو اس کے تعلق سے یاداشت میں بچا ہو،سوائے آ نکھیں بند کرکے ہنستے ہوئے اس کا سر دائیں سے بائیں ہلاتے رہنا اور اس کا چیزوں کے عجیب عجیب نام رکھنا۔یہ بھی بڑاعجیب واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار ہمسایوں کے بہت پستہ قد اور سفید رنگت کے لمبی فر والے کتے کا نام “غونی غیبی”رکھ دیا تھا۔ دوپہر کو جب سارا خاندان صحن کے بڑے درخت کے نیچے اکٹھا بیٹھا تھا اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کرکے کہا وہ “غونی غیبی”ہے۔ سب نے اس کے اشارے کی طرف نگاہ کی وہاں ہمسایوں کا جانا پہچانا کتا کھڑا تھا۔اور پھر سب اس کے اس نام پہ ہنسنے لگے تھے۔اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے ایک پرندے کا نام رکھا۔ایک لمبی دم والا پرندہ ہر روز ظہر کے وقت آ کے ماں کی لاڈلی مرغی کا انڈا پی جاتا تھا جسے ماں نے گندم کے بھڑولے کی چھت پہ مٹی کی انگیٹھی رکھ کے کڑک بٹھایا ہوا تھا۔جمیل اس پرندے کو آ تے اور انڈا پی کر جاتے دیکھتا رہتا مگر اس نے کبھی پرندے کی شکایت ماں سے نہیں کی۔ایک شام جب ماں نے انڈے سنبھالے تو سب خالی تھے اور کوئی چوزہ بھی نہیں تھا،تب پریشان حال ماں کو جمیل نے بتایا کہ “مریا میگی”سارے انڈے پی گیا تھا۔جب ماں نے حیرت اور خوف سے آ نکھیں پھیلا کر پوچھا کہ یہ “مریا میگی”کون ہے تو اس نے بتایا کہ بہت لمبی دم والا پرندہ جو ظہر کے وقت بلاناغہ آ تا ہے اور ایک انڈا پی کر چلا جاتا ہے۔سارے بہنیں بھائی جو پاس کھڑے تھے ہنس پڑے اور مریا میگی،مریا میگی کا ورد کرتے صحن میں چکرانے لگے۔ وہ ان کی اس حرکت پہ بہت خوش ہوا اور انہیں دیکھتا خوشی سے ایک جگہ کھڑا ہوکے سر ہلاتا رہا۔ان دنوں جمیل بظاہر خاندان کے لیے کوئی کار آمد فرد نہیں تھا۔جیسے اس کے باقی بہن بھائی یا چچاؤں کے بیٹے بیٹیاں تھے۔ وہ سارا دن باہر کھیتوں میں اچھلتے کودتے اور پھر اکتوبر کی مخزوں عصر کے وقت بکریاں چرانے نکل پڑتے۔یہ بکریاں چرانا بھی ان کے لیے کسی مہم جوئی جیسا تھا۔دور دور تک پھیلے کھیت کے خالی میدان ان کے اپنے تھے جن میں مکئی اور چاول کی فصل کاٹ کے اٹھالی جاتی اور کھیت کچھ دن آ رام کرتے تھے۔نہری پانی کی رواں کھالوں کے کناروں پہ اگے اونچے اور گھنے پاپلر کے پیڑ روح میں عجیب سی سرشاری بھردیتے۔بکریاں آ گے ہی آ گے منہ اٹھائے جاتیں اور بکروال اپنی مستیوں میں مگن کبھی کسی سانپ کی متابعت میں ہوتے تو کبھی امرود کے کوتاہ درخت کی شاخوں سے بندر کی طرح لٹکے ہوتے۔ایسے میں جمیل کو ساتھ لے جانا کسی خطرے سے خالی نہ تھا کیونکہ وہ ان کی ایک ایک بد عنوانی کی مفصل رپورٹ گھر میں دیا کرتا۔وہ سب اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔خود تو کرتا کچھ نہیں انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتا۔اسی طیش میں وہ موقع بموقع اسے مارپیٹ بھی لیا کرتے تھے۔

اس کی بارہ سالہ حیات اتنی اہم نہیں تھی کہ اس سے وابستہ کسی یاد کا اہتمام کیا جاتا۔ آ دمی کار آ مد تب گردانا جاتا ہے جب وہ موجد بنتا ہے۔اپنا خاندان خود بناتا ہے۔وہ تو ابھی خام مال تھا جس کی بقا کا انحصار جس کے اصل مادے پر ہوتا ہے۔مگر اس دورانیے کو بھلانا ممکن نہیں تھا۔زمانے کے جس مختصر وقفے میں اس نے اپنی سانسوں کا حصہ ڈالا۔اس کے بعد کے برسوں میں بہت روحیں جنمی ہیں۔مگر ایسا کوئی بھی نہیں جسے کسی شئے کا نام نہ پوچھنا پڑا ہو۔اور جو اپنے ہردکھ کی ستر پوشی خود کرلیتا ہو۔سبھی چیزوں کے نام خود رکھ لیتا ہو۔