Categories
فکشن

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔

نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔

اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔

آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔

اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔

میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔

’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا
’’نہیں۔۔۔
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔

میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔

چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔

سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔

سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔

میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔

میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔

پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔

سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔
Image: Marylise Vigneau

Categories
فکشن

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل کر دو قدمچے نیچے سڑک تک پہنچانے کی کوشش کی۔گاڑی عدم توازن کا شکار ہو تی،قدمچوں سےدھڑدھڑاتی سڑک پر آگے کھسکتی گئی۔قدمچوں اور کرسی گاڑی کا درمیانی فاصلہ جانچ کر موتی نے دروازے کے بیچ لگی کنڈی کو بند کر کے تالا لگایا۔خودکودونوں ہاتھوں کے بل گھسیٹ کر بازو کرسی کے ہتھوں پر جمائے اور جسم کواونچا اٹھاتے پہیے دار کرسی پر پڑی میل کچیل کے چکٹوں والی گدیلی پر رکھ دیا۔روز کا معمول ہونے کے باوجود اس مشقت نےموتی کوتھکا دیا۔ اب وہ وقت تھا کہ کپڑے بدلتے ہوئے بھی تھکن ہوجاتی اور نڈھال کر دیتی۔ سانس کے ٹھیرجانے کے بعد اس نے دھڑ کے نچلے حصہ کو ادھر ادھر کرکے گدیلی کا نرم حصہ جانچا اور جسم کو آرامدہ جگہ محسوس کرنے کے بعد پہیے دار کرسی کو دھکیلنے والی چرخی کے ہینڈل کوسیدھے ہاتھ سے گھماتا سینما والی گلی سے چمن بزار کی طرف بڑھنےلگا۔ابھی بہت سویرپن تھی۔نیم اندھیرا۔مگر پھر بھی جانے کیوں ملا کی آذان سے پہلے موتی کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔پہلے پہل تو وہ دیر تک پڑا اینڈتا تھا۔آذان کی آوازتک اس کے کان میں مچھر کی طرح بھنبھنا پاتی تھی۔اب یوں کہ آخری پہر کےآتےسحر خیز مرغے کی مانند اٹھ بیٹھ جاتا۔ چمن بزار کے قریب ہوتے سوچ آنے لگی وہ اس سویر جائے گا کدھر؟ہوٹل پر۔پر چائے والے نے ہوٹل کھولا ہوگا کہ نہیں؟ابھی تو سورج بھی خوفزدہ چوہے کی طرح دبکا پڑا ہے۔لیکن بھلا وہ پڑے پڑے کتنی کروٹیں بدلے؟ نذو لنگڑے کے چلے جانے کےبعد اس سےاکیلے گھر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ ہینڈل گھماتاموتی کا ہاتھ بلا ارادہ آہستہ ہوتا گیا۔ گاڑی کی رفتار سست ہوتی گئی۔گاڑی کا ایک پہیہ لہرائے جا رہا تھا۔اسی لہرانے سے موتی کو نذو لنگڑے کی یاد آنےلگی۔نذو لنگڑے کی دونوں ٹانگیں کمزور تھیں۔جیسے ان میں ہڈیاں ہی نہ ہوں۔ خالی گوشت سے بنی۔ان لچکتی ٹانگوں کے بل چلتے نذو لنگڑے کا جسم عجیب فحش انداز میں مٹکتا تھا۔موتی کو ایک بات یاد آگئی۔ایک دن موج میں موتی نے نذولنگڑے سے پوچھ لیا تھا

“ابے لنگڑےیہ تو جھٹکے لے لے کر سارا دن کس کو چو۔۔۔رہتا ہے؟”۔
“اپنی قسمت کو اور کس کو ب۔۔۔۔” نذو لنگڑے نے سانپ کی طرح بل کھا کر گالی دی تھی۔

” شکر نہیں کرتا کنجر چ۔۔تو رہا ہے” جواب دیتے موتی کے حلق سے بے اختیار قہقہہ ابل پڑا تھا۔ تب نذو لنگڑا لچکتا اس کے منہ پر لعنت رکھنے آیا تھا اور موتی نے کرسی گاڑی بھگا کر اپنی جان بچائی تھی۔اس یاد کے آتے ہنس پڑنے سے موتی کے کھلے منہ کے اوپری ہونٹ کے دونوں کناروں اور گالوں کے درمیاں لکیرمزید گہری ہوگئی۔نذو لنگڑے سے موتی کی لگتی بھی بڑی تھی اور رہتے تو وہ کٹھے تھے۔اسی ایک کمرے میں جس سے آج کل موتی اپنے نکالے جانے کی فکرمیں پستا رہتا۔ان دنوں موتی کو یوں گھسٹ گھسٹ کر کرسی گاڑی قدمچوں سے کھسکانی نہیں پڑتی تھی۔نذو لنگڑا گاڑی کو گھر سے سڑک،سڑک سے گھر میں رکھتا۔ موتی کو اس پر جم جانے میں مدد کرتا۔پتا نہیں حرام زادہ بنا بتائے کہاں چلا گیا؟اب موتی ڈھونڈے تو کہاں؟چند ایک دن تو اس نے واپسی کی آس سجائے رکھی۔ جب وہ ٹوٹی تب موتی نےکرسی گاڑی کے پیچھے شہزاد پنٹر سے لکھوادیا “کوئی کسی کا نہیں”۔

چمن بزارپہنچ کر موتی نے دکھن کا رخ کیا۔بزار کے اوپر میلی ترپالوں اور پرانےشامیانوں کے سائبان نے اندھیر اکر رکھا تھا۔اس اندھیر پن میں ساری بزارسرنگ بنی ہوئی تھی۔کہیں کہیں جلتے زرد بلبوں کی پیلاہٹ میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور مڑے تڑے کاغذ ہوا کے زور پر اپنی جگہیں بدل رہے تھے۔بزار پہنچ کر سڑک اوبڑ کھابڑ ہوگئی۔دکاندار لوگ صفائی کرکے کچرا سڑک پر پھینک دیتےتھے۔پھر اس کا کچھ حصہ جمعداروں کے جھاڑو سمیٹتے اور کچھ سڑک سے لپٹا رہ جاتا۔ وہی گند،مٹی اور پانی کا سہارا لے کر چھوٹے موٹے انسان کی طرح اپنی جگہ بنالیتا۔تب جمعداراور جھاڑو بھی ان کا بال بیکا کرنے سے قاصر ہو جاتے۔ان اوبڑ کھابڑوں کے ساتھ گندکچرے کی دھیڑیاں بھی تھیں۔ ابھری ہوئی۔جیسے اونٹ کے کوہان ہوتے ہیں۔یا ان سے تھوڑا مختلف۔ ایک ڈھیر میں سے سڑتے ٹماٹروں کی بو موتی کے نتھنوں میں گھسی۔ہتھ گاڑی چلاتا موتی کا ہاتھ تیز ہو گیا۔رجب قصائی کے تھڑے کے پاس خون کی بساند تھی۔اسی جگہ آوارہ کتےمرغی کے پروں اور انتڑیوں میں تھوتھنیاں گھمارہے تھے۔موتی کا ہاتھ تھکنے لگا۔اس نےتھوڑا آگے گاڑی لدھا رام جنرل مرچنٹ کے دکان پر روک دی۔پر اب لدھا رام کہاں؟اب تویہ مجاہد جنرل اسٹور ہے۔یہ سب یکایک کیسے ہو گیا؟ اس خیال کے آتے موتی کی زبان پر لفظ”یکایک” پھنس گیا۔زبان تانگے میں جتے گھوڑے کی ٹاپوں کی طرح” یکا،یک” کو دو حصوں میں دھرانے لگی۔یادیں عبد الحق ساند کے گایوں کے ریوڑ کی طرح اچھلتی ٹاپتیں موتی کے اندر آگھسیں۔آگے پیچھے،بے ترتیب و بے مہار۔اسے لدھارام کےدکان کے آگے بنا چھپر یاد آنے لگا۔تب اس بزار کا راستہ سیدھااور یکساں تھا۔روز پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو سڑک پر درخت کھڑے جھومتے رہتے۔ دواطراف قائم دکانیں ایک دوسرے سے دوردور تھیں۔اب کی مانند قبر کے کناروں کی طرح پسلیاں نہیں توڑتی تھیں۔ بزار کےاوپر نیلا آسماں دمکتا تھا۔موتی کو چاچا محمد پناہ کے ہاتھ سے بنی گلقند والی چائے کی یاد آئی۔وہ کبھی کبھی چائے پینے لدھا رام والےچھپر کے نیچے آٹھیرتا۔یہ چھپر جیسےدکان کا صحن تھا۔ اس میں پڑی بینچ پر کوئی نا کوئی بیٹھنے والا دکان کےاندرموجود لدھا رام سے حال احوال کر رہا ہوتا۔سردیوں کی اس شام جب وہ یہاں پہنچا لدھارام ایک تغاری میں آگ جلوائے اپنے ہاتھ تاپ رہا تھا۔ ابھی موتی سے حال احوال ہو رہا تھا کہ آخوند صاحب آپہنچے۔یہاں پہنچ کر موتی کی یادیں گڑبڑا گئیں۔آخوند صاحب کا اصل نام اس نے یاد کرنا چاہامگر اس وقت اسے اپنا اصل نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ہاں یہ یقین تھا جیسے سارے اسے موتی بلاتے تھے، شہر بھر انہیں آخوند صاحب کہتا تھا۔سن پینتالیس پچاس کے لگ بھگ۔دبلے پتلے۔لمباسا قد۔شانوں پر بکھری زلفیں اور بڑھائی ہوئی قلمیں۔داڑھی مونچھ صفا چٹ۔بوسکی کی قمیص اور سفیدلٹھے کی شلوار۔یہ تھے آخوند صاحب۔ان کا کپڑا لتا،کھانا پینا سب شہروالے کرتے تھے۔رہائش ڈاکٹر سبحان علی شاہ کے بنگلےمیں۔موتی کو یاد نہ آیا کہ آخوند صاحب کس کے بیٹے تھے۔ بس اسی بنگلے کی نچلی منزل میں آخوند صاحب کے ساتھ والے کمرے میں ڈاکٹر صاحب کی اسپتال تھی۔ڈاکٹر صاحب اوپر ی منزل پر رہتے تھے۔ موتی کو یاد آیا شاید ڈاکٹر سبحان شاہ کے بڑے یا چھوٹے بھائی ہوں۔لیکن اس خیال پر موتی کو یقین نہ تھا۔اور ہاں ڈاکٹر سبحان شاہ تھے تو ڈاکٹر مگر ان کی اسپتال میں ہمیشہ کمپوڈر بیٹھا ہوتا۔ ان کو اپنی اسپتال میں موتی نے کبھی بیٹھا نہ دیکھا۔ وہ اوپر اپنے گھر پر ہی ہوتے۔ جب کوئی مریض آیا،کمپاؤنڈرنے گھنٹی دبا ئی،ڈاکٹر صاحب اسی لمحے سیڑھیاں اتر آپہنچتے۔مریض دیکھ کر اس کی دوا درمل کرتے۔اور پھر جھٹ سے اوپر چڑھ جاتے۔مریض سے پیسےتک کمپاؤنڈر لیتا رہتا۔ انہیں اپنی بیوی سے عشق تھا۔اس کے بغیر رہ نہ پاتے۔ان کو شہر بھر “زال مرید” کہتا۔خود بولتے “کچھ سمجھ نہیں آتا قبر میں اس کے بغیر کیسے رہ پاؤں گا۔”اپنے بڑے بیٹے کو وصیت کی ہوئی تھی”خبردار جو ان ملا مولویوں کی بات پرمیری قبر کچی بنوائی۔یاد رکھناباہر نکل آؤں گا۔”

آخوند صاحب پر نظر پڑتے ہی سیٹھ لدھارام اٹھ کھڑا ہواتھا۔

“شائیں بھلی کرے آیا،بھلی کرے آیا”۔لدھا رام نے اپنی کرسی خالی کر کے آخوند صاحب کو بٹھایا اورخود سامنے پڑی لکڑی کی بینچ پر جا بیٹھا۔
“اباپٹ نور محمد۔ جا۔جا بابا ایک اور گلقند والی چائے بول آ۔چاچا پناہ کو بتانا خاص آخوند صاحب کے لئے ہے۔ایسا کر تو موتی اور میرے لئے بھی لے آ۔دل کرے تو اپنے لئے بھی بول دینا۔آج آخوند صاحب کے ساتھ ہم بھی عیش کرتے ہیں۔”لدھا رام نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو روانہ کیا۔
“سائیں لدھارام آج ارادہ کیا تمہارے پاس آکر تمہیں عزت دیں اور دو باتیں بھی کرلیں گے “۔آخوند صاحب لدھا رام سے بولے۔

“شائیں آج توقرب کر دیا آپ نے۔ میرے بھاگ شائیں”۔موتی کی یادداشت کی تختی پر وہ منظر صاف ابھر آیا۔لدھارام کی باتیں سنتے آخوند صاحب ہلکی مسکان میں سر ہلاتے جا رہے تھے۔ لدھا رام جھک کر آخوند صاحب کے قریب ہوا۔

“شائیں دو دن پہلے ایک جوڑا خرید کر پریل درزی کو دے آیا تھا”۔
“ہاؤلدھا رام خمیسو دھوبی کپڑے لایا تھا تو اس نے بتایا تھابابا۔”
“شائیں وہی بوسکی۔میں نے کہا آپ کو اور کپڑا پسند نہیں،شائیں میں خود لینے گیا تھا۔”لدھا رام نے بات کی اخیر کرتے دونوں ہاتھ آخوند صاحب کے سامنے جوڑے۔

“اچھا کیا میاں لدھارام۔اور سنا پٹ۔تکلیف تو نہیں کوئی؟”۔آخوند صاحب بیچ جملے میں موتی سے مخاطب ہوئے۔
“نہ ابا نہ۔آپ کے ہوتےہمیں کوئی دکھ تکلیف پہنچی گی؟خیر ہی خیر”۔موتی کے دونوں ہاتھ جڑے تھے۔
“ہاں شائیں موتی بیچارے کی بات برابر ہے۔آپ کے ہوتے ہمیں کیا فکر”۔
“ادا لدھارام وہ شمشاد مٹھائی والے نے تمہاری ادھار چکادی بابا؟”۔

“آخوند شائیں ادا شمشاد کے وعدے کو مہینہ اوپر ہوگیا ہے۔پر شائیں مجھے حیا آتی ہے کہ اس سے پوچھنے جاؤں۔ہوگا بیچارہ کسی مشلے میں “۔
“میاں لدھا رام تم نے عزت داروں والی بات کی ہے۔شمشاد کل میرے پاس آیا تھا۔ اس سے دیر سویر ہوگئی ہے۔کہہ رہا تھا اب تو مجھے تو ادا لدھارام کے دکان کے سامنے گذرتے شرم آتی ہے۔ایک ہفتے میں چکادے گا بابا”۔

“نہ شائیں نہ۔ہماری اپنی بات ہے۔کیا میں کیا ادا شمشاد؟چھ بیسوں(بیس روپے) کی تو بات ہے۔اورشائیں کچھ دن پہلے وڈیرابھورل آیا تھا۔بتا رہا تھا کہ آپ اس کے بیٹے کی نوکری “۔لدھارام نے آدھی بات پر جملہ ختم کردیا۔موتی کو دکھ لگ گیا۔وڈیرا بھورل آیا اور مجھ سے ملے بغیر چلا گیا۔وڈیرے بھورل سے میل ملاپ کا چھوٹا بڑا منتظر رہتا تھا۔جب وہ اپنے گاؤں سے شہر آتا تو گھوڑا مختیار کار آفیس میں باندھ کر پہلے ساری بزارکا چکر لگاتا۔ اور ہر ایک سے مل ملا کر، خیر خیریت دریافت کرکے پھر اپنے کام دھندھے کی فکر کرتا۔اس کے حالی احوالی ہونے کا انداز اتنا نرم اور میٹھا تھا کہ موتی کو کبھی شمشاد مٹھائی والے کی جلیبیاں اتنی میٹھی نہیں لگیں۔ویسے وڈیرے بھورل کا سارا گاؤں اپنی مثال آپ تھا۔سب کے سب اشراف اور مہربان ہونے میں ایک دوجے سے بڑھ کر تھے۔ مگر وڈیرے بھورل سا بیٹا کوئی ماں کیسے جنے؟وڈیرےبھورل کی شرافت اور مٹھاس پن کا واقعہ موتی کی گدلی آنکھوں میں پانی لانے لگا۔ایک مرتبہ وڈیرے کے گھر ایک چور نے نقب لگالی۔مٹی کی موٹی دیوارکو رنبے سے کھودتے کھودتے چور کوفجر ہو گئی۔ تب وڈیرابھورل جو یہ سارا ماجرا دیکھ رہاتھا،چور کو رسان سے بولا” ابا اب تم جاؤ۔اب تو سورج بھی نکلنے والا ہوگا۔”بس چور روتادھاڑیں مارتا بھاگ نکلا۔اسی شام کو وہ سارے خاندان سمیت معافی کے لئے آپہنچا۔وڈیرا بھورل بھلا کیسے معاف نہ کرتا۔اوپر سے کھانا وانا کھلا کر ان کے غریبی حال پر اپنی بھوری بھینس بھی ان کے ساتھ کردی تھی۔

“سائیں وڈیرا بھورل تو ہم سے ملا ہی نہیں”۔موتی اپنے الفاظ کونکلنے سے روک نہ سکا۔
“ابا موتی وڈیرے کے مہمان آئے ہوئے تھے۔وہ مہمانداری کا سامان لینے آیا تھا۔بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ وڈیرا آئے اور کسی سے نہ ملے؟تو بھی صفا چریا ہے”۔
“ہاؤ سائیں بات تو حق کی ہے”۔موتی ہلکا پھلکا ہوگیا۔پھر اسے خود پر غصہ آنے لگا یہ وڈیرے بھورل کے بارے میں اس نے ایسے منہ پھاڑ کر کیسے بول دیا؟۔
“میاں لدھا رام اپنے بھورل کا بیٹا شہر پڑہ آیا ہے۔اب ہم نے سوچا اپنا بچہ ہے۔اپنے اسکول میں اچھی پڑھائی کروائے گا۔ ہے کہ نہیں؟”
“شائیں بلکل بلکل۔اس کی نوکری کب کروا رہے ہیں ؟”۔

لدھارام اس کی نوکری ہوگئی ہے بابا۔تمہیں سب پتا ہے ڈی سی صاحب سے ہمارے کتنے واسطے ہیں۔پر صرف ڈی سی کیا۔اوپر تک ہماری پہنچ ہے۔اب ڈی سی صاحب ہمیں کوئی جواب دیتا؟پر نہ۔ڈی سی صاحب اپنے ماسٹر منظور کا پرانہ واسطے دار ہے۔ہم نے سوچا خود ڈی سی کے پاس چلے جائیں تو ماسٹر منظور سوچے گا ہم نے اسے پھلانگ کر راہ بنالی۔سو اس کو لے کر گئے تھے اور ماسٹری لے کر آگئے”۔

“وہوا شائیں وہوا۔شائیں آفرین ہو۔ بڑا خیال رکھتے ہیں آپ اپنے شہر کا۔”۔
“لدھا رام بابا اپنا شہر ہے۔ہمیں ہی کرنا ہے”۔
شائیں برابر۔غریب شاہوکار سب آپ کو دعائیں کرتے ہیں”۔
“کرنی بھی چاہییں بابا۔یہ کام وام ایسے ہی آساں تھوڑی ہیں”۔
“صدقے صدقے۔سائیں میرا مالک مکان بھی بڑا نیک مرد ہے۔سائیں اس پر بھی شفقت کی نظر”۔موتی کے الفاظ دل سے نکل پڑے۔
“بابا موتی ہم نے بھلا کبھی کوتاہی کی ہے”۔
“نہ بابا نہ۔توبہ توبہ۔ایسےنہیں سائیں۔وہ ہمارا بڑا لیحاظ رکھتا ہے”۔
“بابا لدھا رام اپنے موتی کو ہماری طرف سے آٹھ آنے دیدو”۔
“بابا ویسے بھی آپ کا کھاتے ہیں۔ “۔موتی آٹھ آنے لیتے ہوئے بولا۔اتنے میں گلقند والی چائے بھی آگئی اور ساتھ ہوٹل کا مالک چاچا محمد پناہ بھی۔
“سائیں لڑکا چائے لینے آیا تو بتایا کہ آخوند صاحب بیٹھے ہیں۔میں نے کہا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔”
“نہ محمد پناہ بابا نہ۔آؤ بیٹھو۔کوئی خیر خبر؟”
“سائیں آخوند صاحب حال احوال سب خیر۔وہ میونسپل والوں کو آپ نے کہہ دیا تو پھر وہ نہیں آئے۔اور سائیں حق انصاف کی بات تھی ان لوگوں کی۔ گلی میں بھینسیں باندھنے والا اپنا کام مجھے بھی ٹھیک نہیں لگا۔بس گھر کے ساتھ باڑا بنوا رہا ہوں۔بھینسوں کو وہاں رکھوں گا”۔
“کام تم نے اچھا سوچا ہے محمد پناہ پر میونسپل والوں کی بھی زورا زوری ہے۔ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ عزت دار کے داروازے پر جا پہنچے۔اگر ایسی بات ہے تو ہمیں کہیں۔ہم کس لئے ہیں؟۔ہم محمد پناہ کو سمجھا دیں گے۔اپنا آدمی ہے بھلا ہم سے باہر جائے گا؟کیوں میاں لدھا رام؟”۔
“ہاں شائیں ہوتا تو ایسے ہے۔ ہمارے شہر کی ریت رواج بھی یہ ہے کہ کوئی مسئلہ معاملہ ہو،خانگی سرکاری۔سب آپ کے پاس آتا ہے”۔
“بس بابا وہ بھی انسان ذات ہیں۔کبھی ایسے کبھی ویسے۔خیرمحمد پناہ تم دل میں نہ کرنا بابا”۔

“نہ سائیں نہ۔محمد پناہ دل میں برائی نہیں رکھتا آخوند صاحب”۔موتی کا تصور اسے کڑھے ہوئے دودھ کی گاڑھی چائے میں گلقند کے تیرتے ذرات کی جانب لے گیا۔اس کے منہ میں مٹھاس آگئی۔تا وقتیکہ اس نےٹھنڈی آہ بھر کر کرسی کی پشت سے لگے سر کو اٹھایا۔آنکھیں کھول کر ادھر ادھر جانچا۔یہاں وہاں کچھ نہ تھا۔لدھا رام اپنا دکان گھر سمیٹ کر کب کا کہیں چلا گیا تھا۔ موتی کے پاس نذو لنگڑے کی طرح لدھا رام کی بھی کوئی خیر خبر نہ تھی۔ بس وہ دونوں اسے یاد بہت آتے تھے۔ موتی نے کرسی گاڑی کے ہینڈل پر دباؤ ڈالا۔ گاڑی لہراتے چلنے لگی۔یہ لہراہٹ بھی کچھ دن پہلے کی تھی۔مالک مکان مولا بخش مرحوم کا بیٹا فضل تیسری بار کرایہ لینے آیا تب بھی موتی کے پاس کرایہ کی رقم پوری نہ تھی۔اب لوگ کہاں ہاتھ ڈھیلا کرتے ہیں۔پورا دن مانگ مانگ،جھولی پھیلاتے پھیلا تےموتی نیم جان ہوجاتا تب بھی شام تک اتنا مل نہ پاتا کہ اگلا سورج سکھ سے ابھرے۔وہ دن گم ہوگئے جب شہر کےلوگ بزار سے گذرتے موتی کو روک کردو آنے چار آنے دے جاتے تھے۔کبھی موتی کو جلدی ہوتی تودکان والے سے اگلے دن کا کہہ کرگاڑی آگے بڑھا جاتا۔بس دن راتوں میں بدل گئے۔اب تو فضل نے کرایہ نہ ملنے پر موتی کی کرسی گاڑی اٹھا کر سڑک پر پھینک ماری۔پھر موتی نے اپنے کفن دفن کے لئے رکھی رقم سے پیسے نکالنا ضروری سمجھا۔کرایہ تو پورا ہوگیا مگر گاڑی میں لہراہٹ آگئی۔بزار کے اوپر ٹنگے ترپالوں اور شامیانوں کے پھٹے سوراخوں سے روشنی کے لہریے بزار میں اترنے لگے۔جمعدار اور جمعدارنیاں لمبے لمبے جھاڑو سنبھالے سڑک بہارنے شروع ہوگئےتھے۔جھاڑؤں کی زرد تیلیاں جمعداروں کے چہروں کی طرح سسست سست بے جان انداز میں ادھرادھر رینگ رہی تھیں۔سمیٹی جانے والی گندگی کے درمیاں گذرتے موتی نے گرد و غبار کے ذرات کے دھندلکے میں بخشل کلاتھ اسٹور کا بورڈ دیکھا۔ٹین کی چادر کے بورڈ پر سرخ الفاظ میں بڑے بڑے الفاظ۔ اس دکان سے ایک ہفتہ پہلے موتی کو دھکے اور گالیاں پڑی تھیں۔ صبح کا وقت تھا اور ہمیشہ کی طرح اس نے دکان کے سامنے آواز لگائی تھی۔ “سائیں کا خیر،بادشاہ کا خیر۔ بابا اللہ کے نام پر موتی مجبور کو روپیہ دو۔”بس دکان کا مالک عبد الجبار دکان کی سیڑھیاں اترتا گالیاں دیتا آیا۔”ابھی کوئی گراہک نہیں آیا اور یہ حرامی آمرا۔نکل یہاں سے بے غیرت۔ ہم نے تمہارا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔”۔ اپنےقصور کی وجہ موتی کی سمجھ میں نہ آئی اور عبدالجبار کی غصہ میں بند ہوتی آنکھوں اور منہ پر پڑتی جھریوں کی وجہ بھی وہ سمجھ نہ پایا۔یہ عبد الجبار چاچا حسن کا بیٹا تھا۔ جب چاچا حسن اس دکان پر ہوتا تھا تب یہ چھوٹی سی دکان تھی۔موجودہ دکان کا ایک تہائی۔سفید داڑھی والا چاچاحسن اس پر بیٹھا ہنستا رہتا۔بچوں کو وہ ہمیشہ “او تمہاری نانی مر جائے کیا چاہیے تمہیں ” کہا کرتا تھا۔ اس کی دکان پر ناس نسوار سے بیڑی اور تمباکو تک،پراندوں سےلے کر ٹوپی میں کاڑہے جانے والے شیشوں اور موتیوں تک،آٹے دال سے تیل صابن تک ہر چیز مل جاتی تھی۔ شہر کا قریب ہر فرد ماما حسن کا کاہگ تھا۔اورصرف کاہگ نہیں بلکہ قرضی بھی۔ کیا مرد کیا عورت۔ عورتیں بزار نہ آسکنے کی صورت میں بچے کے ہاتھ مکھیاری “دیکھنے اور پسند کرنے کے لئے ” چیزیں منگوالیتی تھیں۔ جو پسند نہ آئی۔ واپس پہنچ جاتی۔ پیسے کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ بس ضرورت ہونی کافی تھی۔ بھلا کوئی آج تک پیسے ساتھ لے گیا؟۔ اگلے چاند یا اگلے فصل پر چاچا حسن کو پیسے پہنچ جاتے۔ موتی اور نذو لنگڑے تو روز کسی نہ کسی وقت اس کے ہاں پہنچ جاتے۔ پھر ان کا مذاق ہوتا۔ بڑا پد مارنے کا مقابلہ ہوتا جس میں چاچا حسن ان سے ہمیشہ جیت جاتا۔ موتی اور نذو لنگڑا چاند کے چاند ایک ایک بیسا چاچا حسن کے پاس رکھوا دیتے پھر ان پیسوں سے کبھی صابن تیل،کبھی نسوار بیڑی،کبھی موم بتی تو کبھی چاول یا چینی لیتے رہتے۔موتی کو لگتا تھاچاچا حسن سے ایک دو روپے کی چیزیں زیادہ ہی لے لی ہیں مگر چاچا ان سے حساب کہاں کرتا؟۔کبھی تو یوں بھی ہوا کسی مجبوری میں چاچا حسن سے پیسے مانگنے جا پہنچے اور اس نے دو چار روپے نکال کر رکھ دیے “بھئی سب پیسے اما نت ہیں۔ چاہو تو سارے لے جاؤ۔”چاچاحسن کی یاد پر موتی کی آنکھوں سےدو آنسولڑھک کر خالی جھولی میں آٹپکے۔اسے پھر خیال ستانےلگا یہ سب کچھ یکایک بدل کیسے گیا؟ کاش “یکایک”اس شہر میں بدروح کی طرح نہ اترتا۔ اس کی سوچوں میں غمزدگی ہربند کو توڑنےلگی۔ انگنت دائرے طواف کی ابتداکرنے لگے۔اختتام ہنوز منتظر۔

موتی کی کہانی ابھی جاری ہے مگر نذو لنگڑے کی کہانی اختتام تک پہنچ چکی ہے۔یہ تب ہوا جب بہت پہلے ایک شام، جس وقت سورج اپنا وجود خاتمہ کی نذر کرنے لگا تھا،اس وقت نذو لنگڑا تانگہ اسٹینڈ کے پاس گذر رہا تھا۔اسی چال میں۔ مٹکتا،جھٹکے لیتا۔ اس نے چار دیواری سے عاری تھانے کی پیلی عمارت کے آگے منظر دیکھا تھا اور اس منظر نے اسے وہیں گاڑ دیا۔چھڑکاؤ کی ہوئی مٹی پر ٹاہلی کے نیچے،تھانے کے سامنے باہر سے آنے والانیا تھانیدار ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھا تھا۔آخوند صاحب اس تھانیدار سے ملنے ملانےگئے تھے۔ معمول کی طرح یہی کہنے اور سمجھانے۔ شہر میں کوئی فساد،جھگڑا یا جرم ہو آپ کو کسی کاروائی کی ضرورت نہیں۔بس آخوند صاحب کو آگاہ کردیں۔آخوند صاحب خود سنبھال لیں گے۔اور وہ سنبھالتے رہے ہیں۔یہ سنتے ہی باہرسے آنے والاتھانیدار غضبناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اور وہ آخوند صاحب کی زلفوں کو پکڑےایک دو تھپڑیں جڑ نے کے بعدسیفٹی ریزر سے آخوند صاحب کی زلفیں مونڈ وا رہا تھا۔تب نذو لنگڑے نے اپنے آپ کو وہاں سے آزاد کیا اور موتی کوخبر کئے بغیر چل نکلا۔ہو سکتا ہے اس نامختمم “یکایک” کایہی آغازہو۔ہوسکتاہے نہ ہو۔بھلا نذو لنگڑے جیسے بے وفا شخص کا کیا اعتبار۔

Categories
فکشن

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں میں مقید مُردوں کو سنائے جاتے ہیں۔ وہ سچ جن کی تجلی زندوں کے حواسِ سامعہ کو سرمہ کر دے۔

تو پھر یہ سچ مجھے کیوں سنائے جا رہے ہیں؟ میں تو زندہ ہوں___کیا میں زندہ ہوں؟؟

جون گر رہا تھا، کالے بادلوں سے بارش کے قطروں کے ساتھ۔ وہ بھی ایک قطرہ تھا،خون کا، ایک لوتھڑا، ایک جنین، بچہ دانی کی تلاش میں۔مگر جس بچہ دانی میں اسے جگہ ملی وہ خاردار تاروں سے گِھری تھی-جس کے باہر بندوق بردار لمبے قد اور داڑھی والے، پٹے رکھے پہرہ دار، پہرہ دے رہے تھے۔یاداشت کے خالی رخنے تخلیق کیے جا رہے ہیں، جہاں چالیس سال بعد وہ اپنی تخلیق کے بوسیدہ پنے کھودنے آئے گا۔ دل میں خدا کا وہم پرویا جا رہا تھا جہاں چالیس سال بعد خدا کی جگہ ایک شگاف ہو گا، کالے بادلوں میں گِھرا۔۔ وہ زبانوں کےاس بدنصیب شہر میں پیدا ہوا جہاں چپ کا دریا بہتا تھا۔

“حقیقت وہ شام ہے جس کا ڈوبتا سورج گگن کے چہرے پر اپنی سرخ پیک تھوک کر نہاں ہوتا ہے۔

تف ہے تمہارے پندار کی پنہاں داریوں پر ، اپنی خام خرد کے خُنخُنے سن رہے ہو؟ سورج ڈوبا نہیں کرتے، تم ڈوب رہے ہو!” اس نے سوچا۔

سک سک سک

ادھورے کمرے کا پنکھا، جو خراماں خراماں چلے جا رہا تھا، جس کے پروں پر سرخ ساڑھی پہنے ایک عورت کا خاکہ بنا تھا، رک گیا اور وہ تین حصوں میں بٹ گیا۔ جون جو خاموشی سے چارپائی پر لیٹا اپنی تخلیق کے سحر میں محصور تھا، بجلی جاتے ہی دنیا میں واپس آگیا تھا۔ اس کے کمرے کی دیواروں پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر آویزاں تھیں جو اس نے پچھلے کئی سالوں میں کھینچی تھیں۔

ہا! بے معنی تصاویر!

اب اسے اُن سے کوئی لگاو نہیں تھا۔ وہ انکا انتا عادی ہو چکا تھا کہ انکے فریمز کے اندر سےدیوار کے اُکھڑتے پینٹ کو دیکھ سکتا تھا۔

بلڈ پریشر مشین کا پارہ جو ہر رات اس کی شریانوں کی تغیانی پر کان دھرتا، چڑھے جاتا اور سرگوشی کرتا کہ مورکھ ! سوالوں سے کہہ دے رات کی چادر اوڑھ کر سو جائیں یا انہیں کسی پیٹی میں بند رکھ ،اور مغز میں فروعی عادتوں کی غلاظت بھر!

مانا کہ زندگی اور اس سے متصل تمام محرکات بے معنی ہیں، اس شعبدہ بازی کو شیڈو باکسنگ سمجھ، تیرا خرخشہ، تیری ہی خصومت___ تو خود تجھی کو لڑنا ہے۔ لال بوشٹیں پہنے یہ بود اور نبود کے بونے ہمیشہ ناچتے رہیں گے ___ انہیں صرفِ نظر کر دے۔

خفقان کسی نہنگ کی مانند ساحل پر اس کے محزون دل کو نوچ کھانے میں مصروف تھا-

جبلت، خصلت کیسے بھونڑے الفاظ ہیں اس نے سوچا۔ پر حقیقت جتنی بھونڈی ہو اتنی ہی یقینی ہوتی ہے۔جون زندگی کے تجربے کو پھوکل دلائل سے بھر دینا چاھتا تھا۔ پر زندگی کے ارادے جسے شوپنھار نے “ول آف لائف” کہا تھا اس سے کہیں زیادہ پختہ تھے۔

“زندگی ایک پچھل پیری ہے”وہ بڑبڑانے لگا،

“جو روحیں نگلنے پر قادر ہے۔”

“ہم بھاگ رہے ہیں اور بے لاگ بھاگ رہے ہیں، شورہ پشت بونے! گمبدِ خِضرا کے برجوں کو تسخیر کرنے کےخواہاں اور خود کی رمیدگی سے مُسَخّر ___ پِپڑی جمے ہونٹوں پر لالیاں لیپنے والے، سوختہ گالوں پر غازے تھوپنے والے___ تف ہے ہم پر “وہ ہنسنے لگا۔

ڈاکٹر عالیہ مننجائٹس کے مرض میں مبتلا جون کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ مسکراتا، بڑبڑاتا مریض اس کے لئے بو العجب نہ ہوتا اگر اس نے اپنی بیوی کی ساڑھی پہن نہ رکھی ہوتی، اپنے پھٹے ہونٹوں پر اسکی لپسٹک لیپ نہ رکھی ہوتی۔ جلال لالا جرنیٹر چلا آیا تھا۔اور پنکھا گھومنا شروع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جون کی آنکھیں بھی۔

وہ نظمیں جو کبھی نوجوانی میں جون نے لکھیں، سٹیپٹوکوکس کے جرثوموں کے ساتھ برہنہ ناچ ناچ رہی تھیں۔ ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو جون کے سر اور گٹنوں کو جوڑ کر سختی سے پکڑنے کو کہا۔ اور ایسا کرتے ہی سرنج جون کی ریڑھ کی ہڈّی کے مُہروں میں انجیٹ کر دی، پِسٹَن کھینچتے ہی رقص کناں جرثوموں کا ایک غول ٹیکے میں بھر گیا۔

“ترے بغیر مری نیند کے صفحوں پر،
خالی قلم سے خاموش نظمیں لکھی گئیں
نِب میری کھال کی پپڑیاں اتارتی ہے
جیسے اُکھڑتے پینٹ سے لیپی دیواریں
کمرے میں ایک خاص سڑانھد ، بھر دیتی ہے
میرے خوابوں کے سیم زدہ کمرے بھی
ایسی ہی باس سے بھرے ہیں”
جرثومے ابھی بھی گنگنا رہے تھے۔

ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو بتایا کہ بیماری کی علامتیں گردن توڑ بخار کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور یہ بخار جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جلال لالا نے کھنگارتے ہوئے کہا :

” ڈاکٹر صاحب برا نہ مانیں تو عرض کروں، ہمارے والد امروہے کے بہت بڑے حکیم تھے، وہ اخوینی البخاری صاحب کی کتاب کا ذکر کرتے تھے، سنا تو ہو گا بخاری صاحب کے بارے آپ نے ؟

بڑے حکیم ہوئے ہیں وہ،

مالیخولیا کے بارے میں بخاری صاحب کی کتاب میں ذکر ہے بابا کہتے تھے ،

ایک ان دیکھا ڈر، ایسے سوالوں کا دل میں اٹھنا کہ جن کے جواب نہ ہوں، خود پہ ہنسنا، خود پہ رونا، بے وجہ بڑبڑانا۔ یہ سب تو ہے ان کو، ورنہ کون پہنتا ہے اپنی بیوی کی ساڑھی، لپ اسٹک لگائی ہے دیکھو ”

اور اس نے رونا شروع کر دیا۔

وہ جون کے پاس گیا اور اس کے ہونٹوں سے لپ اسٹک اتارنے لگا۔ عالیہ نے بوڑھے جلال کی بات سنی ان سنی کر دی۔

“کل تک ٹسٹ کے رزلٹ آ جائیں گے۔ میں انٹی بائٹک لکھ رہی ہوں فوراً لائیے اگر صبح تک حالت بہتر نہ ہو تو فوراً ہسپتال داخل کیجیے۔

میں صبح راونڈ پر ہی ہوں گی۔ مجھ سے آ کہ ملیے گا۔ میں بتاوں گی آگے کیا کرنا ہے۔ ”

یہ کہہ کر عالیہ نے اپنی سٹیتھو سکوپ اٹھائی اور باہر کی طرف چل دی۔ خاموشی کا سفید شور، جون کے کانوں کے پردوں کو ہزاروں ٹڈیوں کی ماند کتر رہا تھا کہ اخیونی البخاری نے جون کے کان میں سرگوشی کی “السوداء”، ” السوداء”، “السوداء”۔

اور اس سودائی جون کی تلی سے بلیک بائل کا اس قدر اِخراج ہوا کہ ایک اِستخر بن گیا۔ اور وہ اس بلیک بائل میں ڈوبنے لگا۔ ابن سینا کی کتاب ” القانون فی الطب ” کے صفحے خود کو جَگَتی چھند میں بڑبڑانے لگے۔ چھند کے 48 اکشر جون کی ناف سے نئی ناڑ بن رہے تھے وہ ایک جنین بن گیا تھا۔ ایک فیٹس۔

کہ پھر اچانک ___ لوگوں کے قدموں کی آوازیں طبلے کی تال بن گئیں۔

تا، کی، تَا، کی، تَا، دِھن، گِھنا، تُم۔

راگ للت ہسپتال کی اس صبح کے کشکول میں ریزگاری بھرنے لگا۔

ایک رکی ہوئی چیخ، ہوا میں معلق تھی جیسے سیاہی کی بوند پانی میں لٹک رہی ہو۔ نگار نے، جس کے دائیں گال پر ایک کالا آنسو چمک رہا تھا، زور سے کہا:

“میں جا رہی ہوں جون ”

اور اس کے جاتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ یوں جون خاموشی کےخالی گلاس میں مقید تھا، مقید ہے ۔ وائن کی بوتل آدھی ہو چکی تھی اور وہ شعر بڑبڑا رہا تھا۔

اس کو کیسے نکالیے دل سے
ہم کہ دل ہی نکال بیٹھے ہیں
دل سے مردے کے خون پینے کو
کچھ گِدھوں سے ملال بیٹھے ہیں

محبتیں بھلائی جا سکتی ہوں گی، عادتیں نوچ کھاتی ہیں۔ ہم خود کو محبتوں اور عادتوں کے رخنوں میں بھرتے ہیں۔ اور ایک دفعہ یہ رخنے بھر جائیں تو ان سے نکلنا محال۔

جون بڑبڑانے لگا

” وائے عادتیں !! اور حیف ان کے رخنے !!جن کی غلام گردشوں میں آدمزاد برہنہ مقید ہیں۔”

“کیا بکتے ہو، کیوں بکھارتے ہو۔۔۔ خاموش!”

“تمام یاوہ گویان ساکت باشید!
تمام ہرزہ گویان بےصدا باشید!”

جون کے لئے عالیہ کی آواز کسی شور سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی تصویروں کی طرح، جن کے اندر سے وہ اُکھڑتے پینٹ کی پپڑیاں دیکھ سکتا تھا۔ یہی نہیں وہ اپنی لال آنکھوں سے کئی سال آگے کئی سال پیچھے دیکھنے پر مقدور تھا۔

“خاموش!!! خاموش!! سفید شور خاموش!!!”

جون نے کئی سال بعد یا کئی سال پہلے پر نظر کی، تو دیکھا کہ ایک زمیں دوز غار سے بارہ سنگے یکے بعد دیگرے نکل رہے ہیں۔ اور پھر جون خود نکلتا ہے۔ وہ خود ایک بارہ سنگا بن چکا ہے ۔ اچانک ایک ہیجانی گرم چیخ جون کے دل میں داغ دی جاتی ہے، وہ کراہ رہا ہے۔ لہو آہستہ آہستہ جون کے پیٹ سے نکل رہا ہے اور اسکے نافہ سے نکلتی مُشک سارے میں پھیل رہی ہے۔

ٰImage: Zedekiah Schild

Categories
فکشن

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔

چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔

’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘

شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔
اس پر قہقہہ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟
کس کی ہے؟
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔
ہم سمجھے نہیں۔
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

Categories
فکشن

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin

Categories
فکشن

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے

وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ رک نہیں سکتا تھا۔ مگر اسے اچانک رکنا پڑا۔ اچانک سامنے آئے دو گہرے سیاہ گڑھوں نے اس کا راستہ روک لیا تھا ۔وہ ٹھٹک گیا، اس نے ان سیاہ گڑھوں اور ان کو پار کرکے آنے والی گھاٹی میں رہنے والے لوگوں کے متعلق مبہم مگر کچھ پراسرارسا سن رکھا تھا۔ سپاہیوں اور کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ وہ دونوں گڑھوں کے بیچ بنے تنگ راستے پر چڑھ گیا اور جیسے ہی اس کے پار اترا، اس کے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اور وہ بے ہوش ہو گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو روشن دان سے چھن چھن کر آتی روشنی میں پایا کہ وہ کسی کوٹھری میں بند ہے ۔ابھی وہ صورتِ حال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ تبھی کوٹھری کا دروازہ کھلا اور ایک بارعب بوڑھا اندر آیا۔جو قدیم طرز کا لبادہ پہنے تھا، جس نے اس کا پورا منہ ڈھانپ رکھا تھا۔وہ اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔’’میں معافی چاہتا ہوں میرا قطعی ارادہ یہاں آنے کانہیں تھا۔ پر میرے پیچھے سپاہی پڑے تھے۔میں جلد ہی یہاں سے چلا جاوں گا۔‘‘

’’اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی یہاں سے زندہ واپس گیا ہو۔تم بھی نہیں جا سکو گے۔ کل صبح تمہیں مار دیا جائے گا۔ ویسے بھی واپس جا کرتمہیں مرنا ہی ہے۔‘‘
’’مجھ پر رحم کرو۔کوئی تو حل ہوگاکہ میں زندہ بھی رہوں اور یہاں بھی رہوں۔ کیونکہ اب میرے لئے واپسی کی راہ مفقود ہو چکی ہے۔‘‘
’’پھر تو ایک ہی حل ہے کہ تم ہمارے جیسے ہو جاو۔‘‘
’’تمہارے جیسے؟ میں تمہارا جیسا ہی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم ہمارے جیسے نہیں ہو ۔لیکن اگر تم را ضی ہو، ہمارے جیسا بننے پر تو خوش آمدید۔‘‘
’’میں راضی ہوں۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘ اس نے بیتابی سے کہا۔ ابھی اس کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ گھنٹا بجنے کی تیز آوازیں آنے لگیں ۔
’’یہ آواز کیسی؟‘‘
’’اس کا مطلب کہ بارہ بج گئے اور دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ۔میں تمہارے لئے کھانا لاتا ہوں۔ ویسے یہ گھنٹا صرف دن میں کھانے پر بلانے کیلئے بجایا جاتا ہے۔ جب سب کام پر دور دور ہوتے۔ رات کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘

سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس نے کھانا کھایااور کھاتے ہی اس پر غنودگی سوار ہو گئی۔نیم بیداری ، نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ ایک سپنا دیکھ رہا تھاکہ اس کے پیچھے پیچھے سپاہی اور کتے ہیں اوروہ بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے اچانک دو سیاہ گڑھے آ جاتے ہیں اور وہ ان میں گر جاتا ہے۔اور گرتا چلا جاتا۔ درد کے شدید احساس کے ساتھ گڑھوں کی کبھی نا ختم ہوسکنے والی تاریکی، اسے ڈرا دیتی ہے۔ وہ چیخنا شروع کر دیتا ہے اور ہڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہے۔کوٹھری میں گھپ اندھیراتھا۔اور گھنٹے کی آواز کوٹھری میں گونج رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہاری ہاؤس

انورکی اس نہاری ہائوس میں اکثر آنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پورے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ لذیذ اور منفرد ذائقے والی نہاری ملتی تھی۔بلکہ یہاں آنے کی ایک وجہ ا سکے کام کے حوالے سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ وہ افرادی قوت فراہم کرتا تھا۔اور اس مد میں کمیشن پاتا تھا۔ اور یہ ہوٹل تو اس کے بڑے کلائنٹ میں شمار ہوتا تھا۔

بڑھتے ہجوم کے باوجود اسے سیٹھ کے کاونٹر کے پاس والی ہی میز مل گئی۔ کافی دیر تک جب کوئی آرڈر لینے نہیں آیا تو اس نے سیٹھ کو آواز لگائی۔
’’اورسیٹھ، سناو کیا حال چال ہیں، دھندہ کیسا چل رہا ہے۔ مجھے اتنی دیر ہوگئی کوئی آرڈر لینے ہی نہیں آیا۔ ذرا ایک اسپیشل نہاری تو منگوا دو۔”

’’ ارے واہ انور،ایکدم بڑھیا۔تم سنائو کیا چل رہا ہے۔ معافی ،دیر لگ رہی ہے تمہیں، ادھر چھوکروں کا ذرا مسئلہ ہے۔ کمی چل رہی ہے۔سالے ٹکتے ہی نہیں۔‘‘

’’ارے کیا سیٹھ وہ جو پچھلے ہفتے آٹھ پہاڑی لڑکے دیئے تھے ۔ انکا کیا ہوا نظر نہیں آرہے۔اور لوچا ووچا کچھ نہیں، یہ آج کل کے لڑکے حرام خور ہوگئے ہیں۔ کھانا جانتے ہیں پر کام نہیں ہوتا ان سے۔ خیر میرے ہوتے تمہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ بولو کتنے لڑکے بھیجوں۔ لڑکوں کی تازہ تازہ کھیپ آئی ہے۔‘‘
’’دس پندرہ تو بھیج ہی دو، ہوٹل کا رش تو تم دیکھ ہی رہے ہو ۔گراہکی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘‘

’’دس پندرہ؟‘‘ وہ ششدر رہ گیا۔ زیادہ لوگوں کا مطلب، زیادہ کمیشن۔ ہال کی جانب اس کی نظریں غیر ارادی طور پر اٹھ گئیں، ہال معمول کے مقابلے میں دگنا بھرا تھا اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ ’’سیٹھ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔‘‘اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اور بھاری کمیشن کا سوچ کر مسکرا اٹھا۔
’’ہاں، اتنے تو میں مانگتا ہی ہوں۔ اور ہاں پہاڑی چھوکرے ہی لانا۔‘‘
’’پر سیٹھ، وہ توپھر بھاگ جا۔۔۔‘‘اس کے جملہ ادھورا رہ گیا۔سیٹھ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔

’’بولانا، اب سے ادھرپہاڑی چھوکرے ہی چلیں گے اور ہاں پہلے کے طرح ہی ہٹے کٹے اور قد آور ہوں۔ اور ہاں، ان کے بھاگنے کی مجھے پرواہ نہیں، تم ہو نا۔‘‘
اس نے اثبات میں اپنی گردن ہلائی، اور اپنی نہاری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ گرم گرم نہاری سے اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس نے لوازمات ڈالتے ہوئے ،بے قراری سے پہلا نوالہ لیا۔

’’واہ سیٹھ۔ تمہاری نہاری تو دن بدن لاجواب ہوتی جارہی ہے۔اب تو گوشت کی بوٹی بھی پہلے سے بڑی دینے لگے ہو، ایک دم رسدار، چربیلی،اور نرم۔‘‘
اس نے نہاری کی تعریف کرتے ہوئے سیٹھ کی جانب دیکھا۔ پر وہ چاروں جانب سے ادائیگی کرتے گاہکوں سے گھرا تھا۔ اس کی نظریں دفعتاً ہال کی جانب اٹھ گئیں ، ہال میں اب تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔اور ہوٹل کے باہر،اپنی باری کا انتظار کرتے گاہکوں کی طویل قطار دور تک چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتبان

’’گو کہ صاحب میں بس ابھی دکان بند کرنے ہی والا تھے۔ پھر بھی آپ کا سامان پیک کرتے ہوئے، جلدی جلدی آپ کے سوال کا جواب بھی دیتا جاتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ زلزلہ انتہائی بھیانک تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زمین سے اٹھتی لہریں سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیں گی۔ جدھر نظریں دوڑائیں، تباہی و بربادی کا عالم تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی،کراہیں تھیں، رونا دھونا تھا۔ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے لوگوں کی پکاریں تھیں۔ قیامت اس سے کیا کم ہوگی؟۔۔۔ اورجیسا کے آپ دیکھ ہی ہیں کہ میرا ذریعۂ معاش پہاڑی جڑی بوٹیوں اور ان جانوروں پر ہے ،جو طبّی نقطۂ نظر سے فائدہ مند ہیں۔ سواس دن بھی میں جنگل میں انہیں کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔‘‘

میں بخوبی جانتا تھا کہ میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں اور کس مقصد سے آیا ہوں ، پھر بھی غیر ارادی طور پر میری نگاہیں دکان کی اطراف گھوم گئیں۔ نیم تاریکی میں جو کچھ میں دیکھ پایا، وہ تھیں شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں، سوکھے کیڑے مکوڑے اورشفاف محلول میں ڈوبے جنگلی جانوروں کے مردہ اجسام۔

“زلزلے کے جھٹکے وہاں جنگل میں بھی محسوس ہوئے۔ لیکن اتنے نہیں۔ میں نے اپنی سائیکل اٹھائی اور تیزی سے یہاں آیا۔ میرا مکان بھی ڈھے چکا تھا۔ ممتا سے محروم میرا چھ ماہ کا بچہ اور اس کی خادمہ دونوں ملبے تلے دب چکے تھے۔ میں پاگلوں کی طرح اکیلے ہی ملبہ ہٹانے لگا۔ وہاں میری مدد کرنے والا بھی بھلا کون تھا۔میں دنیاو مافیہا سے بے خبر ۔ اس وقت تک اپنے کام میں جٹا رہا، جب تک میں نے اپنے بچے کو ملبے سے نکال نہیں لیا۔‘‘وہ کچھ دیر تک ہاتھ میں موجود گلاب کی خشک پتیوں کو دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا ،’’بس اس دن سے ایسا خوف بیٹھا صاحب کہ اب میں کبھی بھی اپنے بچے کو خود سے جدا نہیں کرتا ہوں۔ اب وہ ہر جگہ میرے ساتھ جاتا ہے ، یہاں تک کے جنگل میں بھی۔ ‘‘

میں سامان لے کر باہر نکلا۔ اتنی دیر میں اس نے بھی شٹر گرا دیا۔اور سائیکل پر بیٹھ کر مجھے سلام کرتا ہوا، جنگل کی جانب جاتی تنگ پگڈنڈی پر چڑھ گیا۔ اس کی سائیکل کے اسٹینڈ پر ایک مرتبان رکھا ہوا تھا۔
ٰImage: Wassily Wassilyevich Kandinsky

Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹِک ٹِک ٹِک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ٹِک ٹِک ٹِک
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔
ٹِک ٹِک ٹِک
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔
’’کوئی نہیں آرہی‘‘
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔
’’سنو، آرہی ہے‘‘
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا
’’السلام علیکم ـ‘‘
’’وعلیکم السلام
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘
۔
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔
’’اوہ میرے خدا
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘

Categories
فکشن

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “
“نہیں جناب، یہی حل ہے”
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔
“اچھا “ جواب ملا۔
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔

ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔

ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔

اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا
“جی ہاں۔”

“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”
“جی جانتا ہوں“
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”

“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”
“خدا حافظ”
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔

Categories
نان فکشن

اسما حسن کے افسانے “شہرِ بُتاں” کا تاثراتی جائزہ

اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ ہے ظلم و بربریت کا نوحہ ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے نقارہ ِ خدا بننے کا ماجر ہے اس کہانی کا پیٹرن اس خوبصورتی سے بُنا گیا ہے کہ بار بار کی قرات لطف دوبالا کیے دے رہی ہے اس کے لیے مصنفہ بے شک داد کی مستحق ہیں چودہ پندرہ سال کا لڑکا سلے ہونٹ ابی کے قتل کا ماجرا بائیس کا اس کے وطن میں آ کر خیمے لگانا اس کا ان کے کانوں میں سرگوشی کرنا سورج کا طلوع ہونا لوگوں کا اتنے سالوں بعد سورج کو دیکھ کر مزید سہم جانا سلائی کا ادھڑ جانا دانش مندوں کا اس کے ہونٹوں کی سلائی ادھڑی دیکھنا بائیس گواہیاں لڑکے کے چہرے پر خوشی کے آثار اس کا باقی سلائی کو یوں ادھیڑنا جیسے اس کے ابی کی کھال نوچ لی گئی تھی اس کا اس سمت بھاگنا جس سمت سے آواز آ رہی تھی اس کی تیئسویں گواہی اور پھر ہر سمت سے گواہی کی آواز آنے لگنا یہ سب سامراجیت کے خلاف متحد ہونے کے اشارے ہیں میرا خیال ہے اس پوری کہانی کا میکنزم سمجھنے کی ضرورت ہے ان بائیس کو اس کہانی سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے نا کہ کہانی کو ان بائیس سے جوڑ کر دیکھنے کی۔۔۔۔۔

“ﺟﺐ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ”

ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ ” ﺑﺎﺋﯿﺲ ” ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍﮨﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ یہ بائیس ہر اس شخص کا نمائندہ ہیں جو باطل کے خلاف حق کی گواہی دینے پر آمادہ ہے

“ﻭﮦ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﻮﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭﻏﺮﻭﺏِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﮯﻣﻨﮑﺮﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺭﺧﺖِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ”

ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﻭﺏ ِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﻣﻨﮑﺮﯼ ۔ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ , ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺧﺖ ِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺭ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎ۔

“ﻭﮦ ﮐُﻞ ” ﺑﺎﺋﯿﺲ ” ﺗﮭﮯ،ﺟﻮ ﭘﺎ ﭘﯿﺎﺩﮦ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﮩﺎﻥِ ﺑُﺘﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ،ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﺤﻼﺕ ﻭﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﻮﻧﺎ، ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ” ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﻮ ﻋﯿﺶ ﻭ ﻋﺸﺮﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺷﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺑﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ اس سے آگے زندہ لاشیں غریب اور مفلوک الحال تمام عوام / انسانوں کی علامت ہیں۔ اس کے بعد مصنفہ ظلم کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں اور اس لڑکے کے ہونٹ سینے کا ماجرا بیان کرتی ہیں جسے وہ “بائیس “چور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں”۔

“ﻣﺤﮑﻮﻡ ﻓﻀﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣُﻠﺘﻤﺲِ ﻧﻮ ﺑﮩﺎﺭﺗﮭﯽ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ۔ ﺩﯾﮑﺘﮯﺍﻻﺅ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻭﮦ، ﻟﮑﮍﯼ ﮐﮯﭼﮭﻮﭨﮯ،ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﻠﮧ ﺳﺎ ﺑﮭﮍﮎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﺎﺋﯽ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯾﺘﺎ۔ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﮭﮍﮐﺘﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﮐﻮ ﺩﮨﮑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﻧﺌﯽ ﺍﻣﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭨﮭﺎﭨﯿﮟ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﺁﮒ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯿﮟ۔ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ،ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭘﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭﮈﺍﻟﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ ﻣﭩﯽ ﮐﮯﻧﻨﮭﮯﻧﻨﮭﮯ ﺫﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯﭨﮑﺮﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ۔۔”

درج بالا پیراگراف میں بہت خوبصورتی سے مصنفہ نے ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے بیدار ہوتی سوچ کو ظاہر کیا ہے کہ اس پر جتنی بھی داد دوں کم ہے کمال فنکارانہ مہارت اس پیرے میں دیکھی جا سکتی ہے ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا محکوم فضا کا ان کے قدم چھو کر ملتمس ِ نوبہار ہونا لکڑیاں جمع کر کے آگ جلانا لکڑیاں آگ میں ڈالنے سے شعلہ بھڑکنا اور روشنی کا چہروں پر پھیلنا امنگوں کا جنم لینا اور چنگاریوں کا چہروں سے ٹکرا کر دھرتی ماں کا قرض یاد دلانا کمال ہی کمال بہت داد مصنفہ کے لیے یہ افسانہ سکھاتا ہے کے ظلم سے بھاگنے کا کوئی راستا نہیں ظلم کے خلاف متحد ہو کر حق کا علم بلند کرنا ضروری ہے ظلم کی جگہ اگر میں سامراجی قوتوں کا لفظ استعمال کروں جنہوں نے ایک طبقے کو اپنے فائدے کے لیے دولت اور عیش و عشرت کے بدلے خرید کر اندھا بہرا گونگا بنا دیا ہے اور یہ چند لوگ سات ارب انسانوں پر حکمران بن کر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور یہ افسانہ منتج ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی چھوٹی آواز کو چھوٹا نہ سمجھا جائے ایک چھوٹی کرن بھی ایسا سورج بن کر نمودار ہو سکتی ہے جو ایک ہنستا مسکراتا سماج تشکیل دے دے “مگر اس کے لیے جس طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے وہ ممکن نہیں میرے نزدیک اس خواب کا شرمندہ ِ تعبیر ہونا بعید از قیاس ہے”” خیر مصنفہ کا یہ افسانہ ظلم کے خلاف چوبیسویں گواہی تو بہر حال ہے اتنا اچھا فن پارہ پیش کرنے پر مصنفہ کے لیے مبارک باد اور داد و تحسین۔

شہرِبُتاں اسماء حسن

وہ طلوعِ شام کوسجدہ کرنے کے منحرف اورغروبِ آفتاب کی پرستش کےمنکرٹھہرے تھے۔۔۔ انہوں نے کسی نئے مسکن کی تلاش میں رختِ سفر باندھ لیا تھا۔۔۔وہ کُل بائیس تھے،جو پا پیادہ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے جہانِ بُتاں میں داخل ہوئے،جس کے محلات وایوان سونا، چاندی کے ورق سے آراستہ تھے۔۔۔جہاں “صُم بُکم,عُمی” کے پہرے تھے۔خوابیدہ محل کے وہ لوگ جن کے ہونٹوں کو موٹی سوئی اوردھاگہ لےکرسی دیا گیا تھا۔۔جہاں زرخرید روحیں قیدِ با مشقت کاٹ رہی تھیں اور فرمانرواؤں کے پاؤں تلے دھرتی ماں بھی کانپ رہی تھی۔۔جب وہ وہاں پہنچے تھےتو زندہ لاشیں ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔۔ڈرے،سہمے اور مٹی میں اٹے چہروں نےجب انہیں دیکھا تو بھاگتے ہوئے،کسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔۔۔نہ توکسی نے ان پر پتھر اچھالے اور نہ ہی ان کے متحرک چُست قدموں کوزنجیرپہنائی گئ۔۔ وہ آگے بڑھتے رہے تو زندہ لاشیں پیچھےہٹتی رہیں۔۔ ان کے سرخ وسفید چہروں پر کسی مہیب پرچھائی کا بسیرا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔ ان بائیس نے کچھ دور پہنچ کر ایک خاص مقام پرخیمے گاڑنے شروع کر دیئے تھے۔کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کی دھرتی ماں پر قدم رکھنےکی لغزش میں کوئی ان سےجراتِ استفسار کرتا۔وہ کیلوں پرضرب لگاتے ہوئے خیمے گاڑتے چلے جا رہے تھے۔ زوردار آوازیں لوگوں کے کانوں تک پہنچتیں تو وہ اپنی قوتِ سماعت سے محروم ہونے کی دعا کرنے لگتے۔ان کے لئے اس سے زیادہ مناسب جگہ اور کوئی نہ تھی،جہاں سب کے ہونٹوں کے پیچھے قُفلِ ابجد کا سا راز پوشیدہ تھا۔جن کےھاتھ کٹے ہوئے تھے اور سیسہ پگھلا کر ان کی آنکھوں میں ڈال دیا گیا تھا۔۔ایسی زندہ لاشیں دیکھ کر وہ مطمئن ہو چلے تھے کہ وہ بالکل صحیح مقام پر ڈیرے ڈالنے والے ہیں۔شام گہری ہوتی چلی گئی اورآسمان پرسیاہ رات،کسی کالی ناگن کی طرح کنڈلی مارکر بیٹھ گئی۔ تاروں پر آزُردگی نے بُکل مارلی۔۔ہوکا ساعالم چاروں اور دکھائی دینے لگا۔سب اپنے اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے۔ لیکن ایک چودہ،پندرہ سال کا نوجوان خیموں کے سامنے والی کٹیا سے،غیض وغضب کےعالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایسی ہی کالی رات کا ایک کرب ناک منظر،اس کی آنکھوں میں نقشِ جاوداں کی مانند ثبت تھا۔جس میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔جب اس کے”ابی”کو بڑی بےدردی سے گھسیٹا جا رہا تھا۔وہ اپنےابا کو پیارسے”ابی”بلایا کرتا تھا۔۔ باپ کا ھاتھ ابھی بیٹے کی انگلی تک ہی پہنچا تھا کہ اچانک “ابی” کو کچھ جانور نما ھاتھوں نے یوں گھسیٹا کہ رات کے آوارہ جانور بھی انسانی درندگی سے خوف زدہ ہو کر جھاڑیوں میں منہ چھپانے لگے۔ وہ “ابی ابی” پکارتا ہوا ان کے پیچھے بھاگتا رہا۔ مگر ! ظلم کی رفتار نے مظلومیت کو مات دے ڈالی تھی۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چولا خون میں لت پت تھا۔اس کے ابی کو سزا ملی تھی،کالے پانی کی سی سزا۔وہ اماں کو کہا کرتا تھا کہ وہ کبھی اپنے لب نہیں سیئے گا۔ ” نہیں اماں میں اپنے ہونٹ کبھی نہیں سیئوں گا۔میں بولوں گا،کبھی چُپ نہیں رہوں گا۔۔ تب وہ آخری باربولاتھا۔جب کانپتےہونٹوں سے اس نے”ابی”کا قصہ ماں کو بتایا تھا۔اس دن اس کی ماں نے اس کے ہونٹوں کو بھی موٹے دھاگے سے سی دیا۔ وہ مسافر چور آنکھ سے اس “لڑکے” کو دیکھتے رہے۔جاڑے کی یخ بستہ ٹھنڈ ان کی رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ محکوم فضا ان کے قدموں کو چھوتی ہوئی مُلتمسِ نو بہارتھی۔انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی۔ دیکتےالاؤ کے گرد بیٹھے وہ، لکڑی کےچھوٹے،چھوٹے ٹکڑوں کو آگ کے سپرد کرتے تو ایک شعلہ سا بھڑک کر ان کے چہروں پر روشنائی بکھیر دیتا۔جوں جوں شعلہ بھڑکتا کوئی ان دیکھا خواب ان کی روح تک کو دہکانے لگتا۔نئی امنگیں جنم لیتیں اوران کا تخیل کسی بے کراں سمندر کی طرح ان کے اندر ٹھاٹیں مارنے لگتا۔آگ کے شعلوں سے اٹھنے والی چنگاریاں ان کے چہروں کو چھوتیں اور آسمان کی طرف پرواز کر جاتیں۔تیز ہوا،درختوں کے خشک پتوں اورڈالی سے بچھڑے پھولوں کو آگ کے بطن میں خودکشی کرنے پر آمادہ کر رہی تھی۔۔ مٹی کےننھےننھے ذرے ان کے چہروں سےٹکراتے اور دھرتی ماں کا قرض یاد کرواتے۔۔ دور بیٹھا وہ “لڑکا” بھی یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ اس کےہونٹوں پر لگی سلائیاں ادھڑنے لگیں۔۔ چاند کی آنکھ میں دُبکی بیٹھی زردی باہر نکلنے لگی۔ آسمان پر ستارہ صبح نمودار ہونے لگا،جس نے کالی بدلی کو اٹھا کر افق کے اُس پار پھینک دیا۔۔اُس نے علم اٹھایا اور لےجا کر،دیکتے الاؤ کے ساتھ گاڑ دیا۔ ان بائیس کےکان میں کوئی سرگوشی کی اور بھاگ کر کٹیا میں واپس چلا گیا۔ مدت کے بعد، صبح نے کھل کرانگڑائی لی تھی۔ موجِ شفق نےگھروں کےکونوں،کھدروں میں جھانکنےکی جسارت کی تولوگ خوفزدہ ہوکراٹھ بیٹھےاور ڈرے،سہمے ہوئے باہر نکلے، تو دیکھا کہ میدان پوری طرح صاف تھا اور خیمے اتار لئے گئے تھے۔۔ وہاں صرف دہکتےکوئلوں کی آخری چنگاری باقی تھی۔۔ آفتاب کی کرنیں چہارسُو پھیل رہی تھیں اور زندہ لاشوں پرمسکراہٹ پھیلا رہی تھیں۔ مگر وہ لوگ زندان خانے کے ایسے مقید تھے،جنہیں،صدیوں بعد سورج کی رفاقت کا موقع ملے تو وہ اس کی تمازت اور حدت کو برداشت نہ کرپائیں۔کوئےبتاں کے وہ مکین پہلے سے بھی زہادہ سہم گئے اوراپنےبچوں کی آنکھوں پرھاتھ رکھ کرکسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔ شائد وہ پھر سے جذبات فروشی کا سودا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ انسانیت سوز درندگی کے پھر سے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ جہاں زندہ انسانوں کی کھالیں کھینچوا دی جاتی ہیں۔جہاں حق بات کہنے کا خراجِ متخرفہ نہ جانے، کتنی دہائیوں تک ادا کرنا پڑتا ہے۔ سورج کی روشنی بڑھتی چلی جا رہی تھی مگر وہ لوگ، ہراساں و پریشان، ابھی بھی لات و منات جیسے بتوں کو پوچنے کے پابند تھے۔ جو سالہا سال اندھیروں کے پس منظر میں جیتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ جب روشنی پھیلتی ہے تو معمولی سوراخ بھی پورے کمرے کوروشن کرسکتا ہے۔خوف اور دہشت کے مارے وہ لوگ،اپنے بچوں کے ہونٹوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دھاگوں میں پرونے لگے۔۔۔گھروں میں موت کا ماتم روح قبض پونے سے پہلے ہی منایا جانے لگا۔۔ ان کے سامنے ٹنکے آئینوں میں مُردے نوحہ کناں تھے۔۔ جن کے کفن بھی جگہ جگہ سے تار تار تھے۔۔ وہ سب لوگ اس”لڑکے”کی طرف مشکوک نظروں سےدیکھ رہے تھے،مگر وہ دُبک کر بیٹھا رہا۔۔ کچھ بینا و دانا نے اس کےہونٹوں کی اُدھڑی سلائی دیکھ لی تھی۔۔۔ اسی اثنا میں دُور کہیں سے ایک آواز سنائی دی”میں گواہی دیتا ہوں”اور ساتھ ہی آواز دم توڑ گئی۔یہ سنتے ہی اس”لڑکے”کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس نے ہونٹوں کی سلائی کو پکڑ کر کچھ یوں اُدھیڑا، جیسے اس کے سامنے اس کے”ابی” کی کھال کو کھینچ کر اتار دیا گیا تھا۔۔۔ ڈرے سہمے ہوئے شہر بُتاں والے محو حیرت تھے۔۔ سکتہ کسی بھوت پریت کی طرح سایہ فِگن تھا۔۔ اس “لڑکے” نے گھر کی دہلیز سے باہر ننگے پاؤں قدم رکھ دیا تھا۔ وہ اس سمت بھاگنے لگا جہاں سے”میں گواہی دیتا ہوں”کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں اور دم توڑتی چلی جا رہی تھیں۔۔بائیسویں گواہی کے دم توڑتے توڑتے وہ “لڑکا” وہاں پہنچ چکا تھا۔۔ظالم سامراج قہقہے لگاتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے۔۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اب کوئی گواہی باقی نہ رہی ہو۔مگر انہیں کیا معلوم کہ تئیسویں گواہی ابھی باقی تھی۔ فضا میں پھر سے ایک زوردار آواز گونجی تھی”میں گواہی دیتا ہوں “نشانہ باندھنےوالوں نےدیوانہ وار نشانےلگانےشروع کئے مگر کوئی نشانہ اپنی سمت متعین نہ کر سکا۔۔ کیوںکہ آواز اب چاروں طرف سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

Categories
نان فکشن

طویل افسانے کی نظری اساس

صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ صنفیاتی مطالعے کے اہم موضوعات ہیں جو کسی صنف کی وجودیات پرمکالمہ قائم کرتے وقت زیر بحث آتے ہیں۔جدیدفکشن کی تاریخ میں ناول،ناولٹ،طویل افسانہ اور مختصر افسانے کی مختلف شکلیں ہم رشتہ تصور کی جاتی ہیں۔اس وقت ہمارے زیر بحث طویل افسانے کی وجودیات ہیں۔ان خطوط کی تلاش جو طویل افسانے کو مختصر افسانے سے مختلف بناتے ہیں،ہمارا عین مدعا ہے۔

صنف فقط ہیئتی تجربے کانام نہیں ہے۔تجربے کاتسلسل واستحکام بھی صنفی شناخت کالازمہ ہیں بلکہ یہ کہہ لیجیے کہ ادبی روایت میں بہ تکرار کسی تجرباتی شناخت کا ورودتجربے کوصنف کی صورت دینے میں اہم رول اداکرتاہے۔اردو کی ادبی روایت میں ہیئت اور مواد دونوں ہی صنف کی تشکیل اور شناخت میں اہم رہے ہیں۔ہمارے یہاں ایسی کئی اصناف ہیں جو صرف موضوع کے اختلاف کی وجہ سے صنفی شناخت کی حامل ہیں۔غزل قصیدے کی ہیئت میں لکھی جاتی ہے بلکہ وہ تو اس کے بطن سے پیداہوئی اورقصیدے کے ایک جزء نے صنف کی صورت لے لی(بعض ناقدین اس خیال کو غیر تاریخی اور غیر منطقی خیال کرتے ہیں۔)۔اس ہم رشتگی کے باوجود غزل کے ہر شعر کی خود مکتفی حیثیت اس کی شناخت کااہم پہلو ہے۔غزل اور قصیدے میں خیال کی سطح پر پائی جانے والی دوئیاں بھی اہم ہیں۔قصیدہ اپنے اجزائے ترکیبی میں جس نظم وضبط،تسلسل وارتقااور موضوعاتی دائرہ کاپابند ہے،غزل ہرگز نہیں ہے۔حمد اورنعت ہیئت میںغزل سے مشابہت رکھتی ہیں،اس کے باوجود موضوع کااختصاص انھیں صنفی شناخت عطاکرتاہے۔کہنے کامطلب یہ ہے کہ صنف کو شناخت کرنے کاکوئی لگابندھااصول نہیں ہے اور نہ ہی صنف کے خودساختہ اورکسی صنف سے ہم رشتہ نہ ہونے کاتصور قائم کیاجاناہی ممکن ہے۔صنف موجود متن سے برآمد ہوتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک نئی زبان دوسری موجود زبان سے۔

صنفی شناخت اور اس کے ایسے امتیازی اوصاف کاتعین جوصرف اسی صنف کے ساتھ خاص ہوں،آسان کام نہیں ہے۔صنف شناسی کے کاوشیں صنفی شناخت کالگابندھااصول دریافت کرنے،ہیئت ومواد کی سطح پر انفرادیت،ندرت،دیگر اصناف سے کلی اختلاف کو قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔صنفیات کے باب میں یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ادبی متون سے اکتساب ومماثلت کے باوصف کسی بھی نومولود صنف کی اپنی علاحدہ شان قائم ہوتی ہے یانہیں۔ایسے امتیازی نشانات جو صنف کی ناگزیریت کو باور کراتے ہوں،کاپایاجاناہی صنفی شناخت اوراستحکام کے لئے کافی ہے۔بس تجربے کے تسلسل،مقبولیت اور روایت کاحصہ بننے میں اس کی کامیابی لازمی ہے۔قاضی افضال حسین نے صنفی نشانیات کی اہمیت متن کی تشکیل میں اس کے کردار پر معنی خیز گفتگو کی ہے اگر چہ ان کی گفتگو نظمیہ اصناف کے ذکر پر مبنی ہے لیکن تخلیقی عمل میں صنف کے تشکیلی اجزاء کی کارفرمائی کو سمجھنے میں معاون ہیں۔وہ لکھتے ہیں :

’’اصناف کی امتیازی صفات،صرف صنف کی شناخت کا فریضہ انجام نہیں دیتی بلکہ متن کی تخلیق کے عمل (Process)میں اس کے تشکیلی اجزاء کے تفاعل یعنی Function بھی متعین کرتی ہیں۔یعنی ہر صنف میں متن مرتب کرنے کے اصول اس کی صنفی شناخت کے پا بند ہوتے ہیں۔غزل میں الفاظ کے ارتباط کی نوعیت اور اس ارتباط سے برآمد ہو نے والے معنی یا ان کی تعبیرات،قصیدہ،مثنوی یا جدید نظموں میں الفاظ کے باہم ارتباط سے برآمد ہو نے والے معنی سے بالکل مختلف طور پر نمو کرتی ہیں۔‘‘(۳۷صنف کی تشکیل،امتیازات اور اردو کی اصناف سخن،مرتب افضال)

نظم کے مقابلے میں نثر کامعاملہ مختلف ہے بالخصوص ایسی نثر جو واقعہ اساس ہو۔اب واقعہ اساس نثر میں بھی افسانوی نثر اور غیرافسانوی نثر کے مابین حدفاصل موجود ہے۔ناول، ناولٹ، طویل افسانہ اور مختصر افسانہ واقعہ اساس ہیں۔خاکہ،سوانح اوررپورتاژ بھی واقعہ اساس ہیں لیکن ان مابین فرق یہ ہے کہ ان میں ایک کے واقعہ کی صداقت،تاریخیت،واقعیت اورصحت ناگزیر ہے اوردوسرااس سے بے نیاز ہے۔وہاں توبس واقعہ کااس کی امکانی صورت میں ہوناہی کافی ہے،چاہے وہ واقع ہوا ہویانہ ہوا ہو۔ناول،افسانہ میں واقعہ کاحجم اورجہت،پیشکش کاطریقۂ کار حد فاصل قائم کرتے ہیں۔یہاں جو بات تمام جدیدافسانوی اصناف میں مشترک ہے وہ یہ کہ یہاں واقعہ میں سبب اور نتیجے کانسبت کاہونالازمی ہے۔واقعہ کی امکانی صورت منطق سے جس قدر قریب ہوگی،اس کے مختلف پہلواور جہتیں اسی قدر مربوط،منظم،چست اور درست ہوگیں۔

ناول سے پہلے ہمارے یہاں شافی وکافی نثری افسانوی بیانیہ داستان ہے۔داستان اورناول کے مابین رشتہ ہے،زبان کا،واقعہ کا،کردارکا،منظر کشی کا،عمل وردعمل کا لیکن ان کے مابین واقعہ کی منطقی امکانی صورت کی شرط حد فاصل کوقائم اور مستحکم کر دیتی ہے۔مزید زمانی عرصہ کی صراحت ناول کی صنفی شناخت کومزیداجالتی ہے۔کرداروں کی باہمی کشمکش،وقوعات کاتصادم،تطابق وتخالف اور اس سے متشکل ہوتے منطقی زمانی ومکانی بیانیے سے وسط وانجام کی طرف بڑھتاقصہ ناول کی تکمیل کرتاہے۔ناول کے برخلاف داستان میں ہم منطقیت کی شرط کو لازم خیال نہیں کرتے۔داستان ایسی تہذیبی وتمدنی معاشرت کی زائیدہ ہے جہاں اسطوراورمافوق الفطرت عناصر کی کارفرمائی بہت سی مشکلات حل کردیتی ہے۔اسی طرح زمان ومکان کی تبدیلی بھی وہاں اس منطق کی پابند نہیں ہوتی جوکہ ناول کاخاصہ ہے۔داستان کی اپنی جداگانہ منطق ہے۔موضوع کی سطح پر ناول خیر وشر کی ایسی آماجگاہ نہیں بنتاجیسی کہ داستان۔ناول کے کرداربشری جون میں اچھابراسب کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔داستان کی صنفی خصوصیات پر گفتگو کرتے ہوئے افضال حسین نے لکھاہے:

ــ’’۔۔۔۔داستان میں واقعہ اور اس کے کردار جس مخصوص فکری اور تہذیبی بنیادوں پر تشکیل دئیے گئے ہیں اس میں سبب اور نتیجے والی منطق کہیں بھی استعمال نہیں ہوئی ہے۔گھنے اندھیرے جنگل میں،زمین کے نیچے محل کیسے نکل آتا ہے یا کٹی ہوئی گردن سے ٹپکنے والا خون دریا میں گرتے ہی کیسے لعل بن جاتا ہے داستان کا قاری،اپنے متن سے یہ سوال نہیں کرتا۔جس تہذیبی اور فکری ماحول میں داستانیں لکھی گئیں ان میں رچا بسا قاری اس پر یقین رکھتا ہے کہ قدرت کا کارخانہ ایک قادر مطلق کی منشا کا ظہور ہے۔اس لئے اس میں جو وہ چاہے وہ بلا اسباب ہونا ممکن ہے کہ اس نے جو کہا وہ ہو گیا۔ اس لئے داستان کے کرداروں نے ماحول معاشرت یا زمانے کی تبدیلی کے سبب کوئی تغیر / ارتقا بھی نہیں ہوتا۔‘‘۳۹،۴۰ایضا
ناول اورافسانے کی اساس بھی جیسا کہ پہلے ذکرآیامنطقی واقعہ ہے۔دونوں جگہوں پر سبب اورنتیجے کی کارفرمائی ناگزیر ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ناول میں کردار کاارتقاہوتاہواور افسانے میں نہ ہوتاہو۔البتہ تطابق وتخالف کی جوصورت ناول میں ہوتی ہے افسانے میں نہیں ہوتی۔کرداروں کاتفاعل عمل کے تسلسل اورتکرار کی جوصورتیں پیدا کرتاہے،اس سے ناول کی واقعاتی اساس افسانے سے علاحدہ ہوکر قائم ہوتی ہے۔اس نکتہ کوواضح کرتے ہوئے افضال حسین نے لکھاہے:

’’ناول کے کرداروں میں ارتقاکے تصور کے ساتھ ہی ان کے اعمال میںتکرار کی صفت لازماً موجود ہوتی ہے یعنی مختلف situationsمیں کردار ایک خاص طرح عمل کرتے ہیں۔مختلف صورت حال میں عمل کے اس تکرار کے سبب قاری ان کی فطرت یا صفات کے متعلق قیاس یا فیصلہ کر سکتا ہے۔ افسانہ میں عمل یا Behaviourکے تکرار کی فضا نہیںہوتی یا متعدد واقعات کے باہم عمل اور رد عمل کا کوئی سلسلہ قائم ہو سکتا ہے (صرف ان افسانوں کے علاوہ جو کسی کردار کی صفات کے متعلق لکھے گئے ہوں )،اس لئے افسانے میں واقعہ بیشتر کشمکش کے بیان سے شروع ہو کر سبب اور نتیجے کے منطقی انجام پر ختم ہوتا ہے۔اس لئے خود واقعہ کی تعریف میں اشتراک کے باوجود افسانہ ناول سے الگ صنف کی حیثیت سے قائم ہو گیا ہے۔ ۴۰،۴۱ایضا‘‘
ناول اور ناولٹ کا مسئلہ اس وقت زیر بحث آیا جب شہاب کی سرگزشت،ایک شاعر کا انجام،شاما،ایک چادر میلی سی،مجو بھیا،سیتا ہرن،دلربا،ہائوسنگ سوسائٹی،چراغ تہ داماں جیسی تخلیقات ادبی دنیا میں نمودار ہوئیں۔جو اپنے فارم کے اعتبار سے اور ساخت اور اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے تو ناولیں ہی تھیں لیکن ان میں وہ گیرائی و گہرائی اور وہ وسعت نہیں تھی جو عموما ناولوں میں ہوتی ہے۔اس لئے تخلیق کار خود بھی ایسی تخلیق کے سلسلے میں مخمصے میں رہے اور ساتھ ہی نقاد بھی اس تخلیق کے حوالہ سے کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کر پائے۔

اولا ًناولٹیں اس احساس و شعور کے ساتھ نہیں لکھی گئیں کہ وہ ناولٹ ہیں ان کے ٹائٹل پر ناول ہی لکھا ہوتا تھا۔اور آج بھی اس بحث کو کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے کیونکہ ایک شاعر کا انجام،شہاب کی سرگزشت ان کو کوئی ناولٹ کہتا ہے تو کوئی طویل افسانہ۔مرزا حامد بیگ انہیں طویل افسانہ ہی مانتے ہیں اور احسن فاروقی کے بقول :

ــ’’حقیقت یہ ہے کہ نثر اور نظم اور معلومات میں جس قدر ان کا مذاق اعلیٰ ہے ناول کے سلسلے میں اتنا ہی ناقابل اطمینان ہے ان کی کم ازکم دو تصنیفیں ناول ضرور کہلاتی ہیں،ایک شہاب کی سرگزشت اور دوسری ’’شاعر کا انجام ‘‘یہ اتنی مختصر ہیں کہ ان کو زیادہ سے زیادہ ناول کہا جا سکتا ہے۔‘‘۱

اسی طرح ضبط کی دیوار،ہائوسنگ سوسائٹی کے بارے میں بھی اختلافات ہیں۔
آگے اسی کتاب میں صفحہ ۲۰۶پر ناولٹوں کا اردو ادب میں وجود کس طرح ہوا اس کے بارے میں احسن فاروقی لکھتے ہیں :
’’َ۔۔۔۔۔۔۔۔ناول کے نام کا رواج بہت ہوا اور اس میں عام دلچسپی بھی بہت بڑھی۔مگر ایسی ایسی چیزیں ناول کے نام سے مشہور ہو گئیں جنہیں ناول سے محض سطحی ہی تعلق تھا ان ناول نما اصناف میں دو فارم خاص طور پر نمایاں ہوئے۔ایک ناولٹوں کا اور دوسرے خاکوں کے مجموعوں کا۔ان فارموں کے عاملین یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناولیں لکھ رہے ہیں اور ان کے پڑھنے والے انہیں ناولیں سمجھ کر پڑھتے رہے۔ان کو ناول کے مناسب مگر اس سے مختلف ضرور سمجھا جانا چاہئے۔‘‘۲

جیسا کہ احسن فاروقی کا کہنا ہے کہ ان فارموں کے عاملین یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناول لکھ رہے ہیں،تو کیا اس بیان سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اردو ادب میں ناولٹ کا وجود ناقص ناول نگارے کے سبب ہوا۔کیوں کہ انہیں ناول کہا جائے تو ان کا نقص عیاں ہے کہ یہ ناول نگاری کے فن پر پورا نہیں اترتیں۔گہرائی و گیرائی،حقیقت بیانی،کرداری ارتقاء،زندگی کا ایک وسیع منظر نامہ ان سارے لوازمات سے عاری ہیں۔

ان جیسی تخلیقوں کے سبب جو ناول کے مماثل تو تھیں لیکن جنہیں ناول کہنے میں تردد بھی تھا،ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔اور ناول اور ناولٹ دو صنفوں کے اصول متعین کرنے میں نقاد کافی شش و پنج میں مبتلا رہے۔ان میں کچھ مماثلتیں بھی تھیں تو افتراق کی بھی صورتیں تھیں۔یہیں سے ناول اور ناولٹ میں نظریاتی و اصولی ٹکرائو کی صورتوں نے جنم لیا اور کچھ سوالات پیدا ہوئے۔

اصناف ادب کے تعین میں طوالت کا دلیل بنانا عجیب بات ہے۔افسانوی اصناف پر نظر ڈالیں تو داستانیں عموماًطویل ہوتی ہیں لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ اگر وہ ناول سے ضخامت میں کم ہوں تو ہم اسے ناول کے زمرے میں شامل کر لیں گے ؟قطعی نہیں کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو باغ و بہار،فسانۂ عجائب،طوطا کہانی،نو طرز مرصع وغیرہ ناولیں تسلیم کی جانے لگتیں اور لہو کے پھول،آگ کا دریا،کئی چاند تھے سر آسماں داستانیں بن جاتیں۔کسی تخلیق کے سلسلے میں طوالت کا جواز کسی نئی صنف کی علاحدہ شناخت کی حیثیت میں ادھوری اور نا کافی ہے۔

حالانکہ Edger ellen .poeنے ناول اور افسانہ میں فرق طوالت کی بنیاد پر کیا ہے۔لیکن آج افسانے کے ساتھ ساتھ ناولٹ اور طویل افسانے کا صنفی مسئلہ میں درپیش ہے تو افتراق کا یہ پیمانہ کیا قابل قبول ہے ؟

قاضی افضال صاحب اپنی کتاب صنفیات میں صفحہ ۱۹۳پر لکھتے ہیں :

’’متن کی طوالت کو امتیاز کی بنیاد۔شرط قرار دینا ایک غیر تنقیدی رویہ ہے۔فکشن کی تشکیل کی شرائط اور ان کے اجزاء کے درمیان یکسانیت کے باوجود صرف صفحات۔الفاظ کی تعداد یا قرأت کے دورانیہ کی بنیاد پر کوئی متن ایک نئی صنف کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا ‘‘گویا کہ صرف صفحات کی بنا پر ہم کسی تخلیق کو نئی صنف کا درجہ نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر صبا عارف لکھتی ہیں :

’’صرف صفحات کی تعداد کے اعتبار سے ناول اور ناولٹ میں امتیاز کرنا تو صحیح نہیں معلوم ہوتا۔دونوں کے درمیان خط فاصل کھینچنے کے لئے کچھ واضح اصول کرنا ہی مناسب ہو گا۔‘‘ڈاکٹر صبا عارف واضح اصول بنانے کا مشورہ تو دیتی ہیں اور ساتھ ہی اسے ایک الگ صنف بھی تسلیم کرتی ہیں لیکن اس کے اصول متعین کر نے سے قا صر ہیں۔وضع اصول کو مستقبل پر ٹا ل دیتی ہیں۔ملاحظہ ہو :

ــ’’ہمارے یہاں ہی نہیں مغرب کی زبانوں میں بھی معیاری ناولٹوں کے مقابلے میں کم تر درجے کی ناولٹوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔قبول عام اسی درجیکے ناولٹوں کو حاصل ہو تا ہے مگر صرف عوام کی پسند ادب کا معیار نہیں ہو سکتی۔معیاری ناولٹوں کی تعداد جیسے جیسے بڑھتی جائے گی اس صنف کے اصول اور میزان کا تعین بھی آسان ہوتا جائے گا۔‘‘

عبدالمغنی ناولٹ کے حوالے سے رقم طراز ہیں :’’افسانہ جب بہت طویل ہو جاتا ہے پھر بھی ناول کے حجم تک نہیں پہنچتاتو اسے ناولٹ کہہ دیا جاتا ہے یعنی یہ ایک مختصر ناول ہے ‘‘گویا ان کے نزدیک افسانہ اور ناولٹ اور ناول میں وجہ امتیاز محض طوالت ہے۔یہ ایک ناقابل فہم بیان ہے۔صنفی شناخت محض طوالت کے سبب متعین نہیں کی جاسکتی۔اگر ایسا ہوتا تو قصیدہ،مثنوی اور مرثیہ کی شناخت کس طرح عمل میں آتی،داستانوں کو ناولوں سے کس طرح متمائز کرتے،یہ ایک انتہائی بھونڈی بات ہے۔

ان ناقدین کے علاوہ جب ہم انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں ناولٹ کے متعلق تحقیق کرتے ہیں تو وہاں ناولٹ کو کچھ یوں Discribe کیا جاتا ہے۔’’When any piece of fiction is long enough to book ,than it may be said to have achived novel hood .But this state admits of its own quantitative categories ,so that a relatively brief novel may be termed a novella(or if the substantiality of the content matches its brevity ,a novellet ),and a very long novel may overflow the banks of a single volume a roman fleuve or river novel
آرنلڈ کیٹل ناولٹ کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے An entroduction to the english novel میں لکھتا ہے
[The question of lenth i leave ,deliberately ,vague.}
ابرامس ناولٹ کے بارے میں یوں خیال ظاہر کرتے ہیں :

{As an extended narrative ,the novel is distinguished from the short story and from the works of middle lenth called the novellet }
ان تمام بیانات سے کہیں بھی یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ ہم ناولٹ کی شناخت کیسے کریں۔

اگر ہم بحالت مجبوری طوالت کو صنفی شناخت کے طور پر تسلیم بھی کر لیں تو نئی دقتیں سامنے آجائیں گی اور افسانہ طویل افسانہ اور ناولٹ کے ساتھ ناول یہ سب خلط ملط ہو جائیں گے اور ہم کوئی واضح شناخت متعین نہیں کر سکیں گے۔ان کے درمیان اجزائے ترکیبی مشترک ہیں،لیکن ان کے ہر ایک قصے کے حدود میں تفاوت ہے اس لئے ان میں حد فاصل قائم کرنے کی صورت ان کا طرز تعمیر ہی ہو سکتا ہے۔

فکشن کی اولین شرط واقعہ ہے۔اور واقعہ ایسا جو حقیقت تو نہ ہو لیکن حقیقت سے بعید بھی نہ ہو۔جو حقیقی زندگی سے نہ لیا گیا ہو بلکہ اسے با تکلف گڑھا گیا ہو۔ناول ناولٹ اور افسانہ میں تخلیقی متن کی تعمیر میں بروئے کار آنے والے وسائل یکساں ہیں مثلا قصہ،پلاٹ،کردار،مکالمہ،منظر نگاری وغیرہ لیکن ان میں واقعہ کی نوعیتیں مختلف ہو تی ہیں اور واقعہ کی مختلف نوعیت ہی کے سبب ان کا طرز تعمیر بھی تشکیل پاتا ہے۔واقعہ ہی کے بدولت ان اصناف میں بکار آنے والے وسائل اپنی تعمیری و تشکیلی صلاحیتوں کی نشو ونما کرتے ہیں۔فکشن کے ان اجزائے ترکیبی کا دائرہ کار واقعہکی نوعیتوں کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔واقعہ کی بناء پر الگ الگ صنفی شناخت متعین کی جا سکتی ہے اس کی تصدیق قاضی افضال حسین اپنی کتاب صنفیات میں صفحہ ۱۷۹پر یوں کرتے ہیں :

’’افسانوی متون میں واقعہ کے تخلیقی۔۔تشکیلی کردار کے بنیادی اشتراک کے باوجود ان اصناف میں واقعہ کی ’’نوعیت‘‘ایک دوسرے سے مختلف ہو گی۔’واقعہ ‘کی نوعیت میں اسی اختلاف کے سبب افسانوی متون کی الگ الگ صنفی شناخت متعین ہوتی ہے۔‘‘

اس کے باوجود قاضی صاحب ناولٹ،اور طویل افسانہ کو الگ صنف تصور نہیںکرتے۔قاضی صاحب کے نزدیک کسی ادب میں کسی علحٰدہ صنفی شناخت کے لئے کم از کم دو واضح شناختی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ان کے انھیںدونوں بیانات سے ہم ناولٹ کے لئے علاحدہ صنف ہونے کا جواز تلاش کر سکتے ہیں۔۔کیوں کہ ناولٹ میں ناول سے مختلف واقعہ بھی ہے اور اس سے علحٰدہ ٹریٹمنٹ بھی۔

ناولٹ کے ضمن میں احسن فاروقی کی رائے معقول معلوم ہوتی ہے کہ :

’’سوال محض طوالت کا نہیں ہے۔دس صفحے تک کے قصے کو افسانہ بیس سے سو تک کے قصے کو ناولٹ اور سو سے چار سو تک یا زیادہ کے قصے کو ناول کہہ دینا محض سطحیت ہے۔یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک خاص اونچان کے ہر جانور کو کتا کہا جائے اس سے اونچے کو گدھا اور اس سے اونچے کو گھوڑا۔نہیں صاحب تینوں جانوروں کے تصور میں فرق ہے،اسی طرح تینوں اصناف کے ڈھانچے الگ الگ ہیں۔جن سے ساخت اور شکل میں نمایاں فرق ہو جاتا ہے حالاں کہ سب میں جان مشترک ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے ذرائع بھی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔غرض سارا معاملہ تعمیر یا طرز تعمیر کا ہے۔‘‘

اسی طرح بعض ناولیں ضخامت میں ناولٹوں کے دائرے میںآتی ہیں لیکن وہ ناولیں ہیں مثلا بازدید کی ضخامت تقریبا ۲۴۰ صفحات ہے اور وہیں ’’رہ و رسم آشنائی ‘‘بھی ۲۴۰ صفحات کی ہے۔حالاں کہ ’’رہ و رسم آشنائی ‘‘اپنے دائرہ عمل اور واقعاتی خصوصیات کی بنا پر ناولٹ ہے اور بازدید میں علامتی پیرائے میں ہم اس کے موضوع کو وسیع منظر نامے میں دیکھتے ہیں۔اسی طرح چراغ تہ داماں تقریبا ۲۵۰ صفحات پر محیط ہے لیکن اس کا کینوس اور واقعہ اسے ناول کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیتا،غرض جس طرح ناولیں طویل اور مختصر ہو سکتی ہیں اسی طرح ناولٹیں بھی طویل اور مختصر ہو سکتی ہیں۔
ناولٹ چونکہ ناول کی تصغیر ہے اس لئے ناقدین اس وجہ سے بھی ناولٹ کو علاحدہ صنف ماننے میں پس و پیش میں رہتے ہیں۔ناولٹ کو مختصر نا ول کے نام سے بھی پکارا جا تا ہے۔سلیم اختر اس پر یو ںروشنی ڈالتے ہیں :

’’گرائمر کی رو سے نا ولٹ ناول کی تصغیر سہی لیکن اسے مرد کی مشا بہت پر بچہ نہیں سمجھا جا سکتا۔اس حقیقت کا اس لئے ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ اس میں جو منظقی مغالطہ پایا جا تا ہے اسی باعث اکثر لوگ مختصرناول کو ناولٹ سمجھ لیتے ہیں۔لیکن ’’ریڈر ڈائجسٹ ‘‘کی مانند ناول کا خلاصہ کر دینے سے وہ ناولٹ نہیں بنے گا بلکہ بلحاظ ناول بیشتر فنی محاسن بھی گم کر دینے کا امکان ہے

{War and peace,Brothers kramanzoy ,,Idiot ,,Possessed..Gone with the wind ,,and ,,Quiet flows the dawn,,

وغیرہ طویل ترین ناولوں میں سے ہیں لیکن اگر انہیں ڈیڑھ سو صفحات تک سکیڑ دیا جائے تو نتیجہ ظاہر ہے۔یہ تلواروں کی آبداری نشتر میں بھرنے والی بات نہ ہو گی کیوں کہ یہ مفروضہ غلط ہے۔‘‘

غرض ناولٹ ایک علاحدہ صنف ہے کسی ناول کی اگر تلخیص کر دی جائے اور اسے ناولٹ کا نام دیا جائے تو اسے ناول کا خلاصہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن ناولٹ کا نام نہیں دے سکتے کیوں کہ ناولٹ خلاصہ کا نام نہیں اسکے اپنے لوازمات اور فنی حیثیت ہے۔یہ تو طے ہوا کہ ناول اور ناولٹ میں وجہ امتیاز طوالت کی بناء پر نہیں ہے۔لیکن سوال ابھی ہنوز وہیں ہے کہ آخر پھر حد امتیاز کیا ہے ؟آئیے ہم احسن فاروقی کے اس بیان کی طرف واپس چلتے ہیں کہ :

’’دس صفحے تک کے قصے کو افسانہ بیس سے سو تک کے قصے کو ناولٹ اور سو سے چار سو تک یا زیادہ کے قصے کو ناول کہہ دینا محض سطحیت ہے۔یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک خاص اونچان کے ہر جانور کو کتا کہا جائے اس سے اونچے کو گدھا اور اس سے اونچے کو گھوڑا۔نہیں صاحب تینوں جانوروں کے تصور میں فرق ہے اسی طرح تینوں اصناف کے ڈھانچے الگ الگ ہیں جن سے ساخت اور شکل میں نمایاں فرق ہو جا تا ہے حالاں کہ سب میں جان مشترک ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے ذرائع بھی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں،غرض سارا معاملہ تعمیر یا طرز تعمیر کا ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ جب معاملہ صرف طرز تعمیر کا ہے لیکن قصہ میں بروئے کار آنے والے وسائل یکساں ہیں تو طرز تعمیر میں اختلاف کیوں ؟جب کہ اس طرز تعمیر کے سبب نتائج کی نوعیت مختلف ہو جارہی ہے۔دراصل ناول اور ناولٹ کے واقعاتی نوعیت میں فرق ہے۔یہی سبب ہے کہ جب کہانی کا دائرہ کار ناول کے جیسا وسیع نہیں تو اس میں بروئے کار آنے والے وسائل کی تعمیری خصوصیات میں تغیر واقع ہوتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ناولٹ کا ڈھانچہ اور اس کی ساخت ناول سے مختلف ہو جاتی ہے۔مثلا کہا جاتا ہے کہ ناول کے مقابلے میں ناولٹ میں کرداروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ایسا اس وجہ سے کہ ناولٹ کا کینوس اتنا وسیع نہیں۔ناول کے دائرہ کار میں بہت سے کردار سما سکتے ہیں لیکن ناولٹ میں وہی کردار آتے ہیں جو کہانی کے ارتقاء میں معاون ہوں۔اس کے علاوہ ناول اور ناولٹ کے کرداروں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ناولٹ کے شاہ کردار اور اس کے مرکزی فکر کی معاونت میں جو کردار آتے ہیں ان کے بس وہی پہلو سامنے لائے جاتے ہیں جو قصے کو بڑھاے میں معاون ہوں۔ناولٹ کے شاہ کردار کے علاوہ کسی اور کردار کی مکمل نشو ونما نہیں ہوتی۔احسن فاروقی نے اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’پوری فطرت ہر کردار کی ناول میں ہی واضح ہو سکتی ہے۔مختصر افسانے میں محض ایک صفت ہی کو دکھانے کی گنجائش ہوتی ہے،ناولٹ میں ایک ہی صفت پر سب سے زیادہ زور ہوتا ہے اور دوسری صفات محض اشاروں ہی سے لائی جاتی ہیں ان کا مقصد بھی مخصوص صفت ہی کو واضح کرنا ہوتا ہے۔‘‘
ناولٹ میں مر کزی کرداروں کی بھی نشو ونما ناول کے مرکزی کرداروں جیسی نہیں ہوتی۔مثلا چراغ تہ داماں کی مرکزی کردار اور ٹیڑھی لکیر کے شمن کے کردار میں یوں فرق ہے کہ آخر الذکر کا کردار کا ارتقاء اس کے بچپن بلکہ جب دنیا میں آئی بھی نہیں اس وقت سے اس کا ذکر ناول میں ہونے لگتا ہے۔پھر بچپن سے لے کر جوانی تک ہم اس کو بڑھتے پھیلتے دیکھتے ہیں اس کی ہر حر کت و عمل سے ہم واقف ہیں۔کردار کے کسی ڈائمنشن یا صفت کی وضاحت کسی پس منظری تکنیک سے نہیں کی گئی ہے۔اس کی فکر اور اس کا عمل اس کردار کی نشو ونما کرتا ہے۔اور مکمل کردار کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔اس کے بر عکس چراغ تہ داماں میں قصہ درمیان سے شروع ہوتاہے،ٹھیک ہے ناول میںبھی یہ ممکن ہے کہ قصہ کی ابتداء درمیان سے ہو لیکن ناول میںایک مقام پر پیچھے پلٹتے ہیں اور کردار کے سارے ابعاد پر ناول نگار روشنی ڈالتا ہے۔اور صرف کردار نہیں اس سے متعلق دیگر واقعات اور پس منظر کو تمام تفصیلات کے ساتھ سامنے لاتا ہے جس سے ناول بتدریج اپنے مقصود تک پہنچتا ہے۔اس کے برعکس چراغ تہ داماں میں کردار کی اپنی ایک شناخت پہلے سے متعین ہے جو شناخت قائم ہوئی اس تک پہنچنے کے تمام مراحل کو صرف چند جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔اسی طرح ایک چادر میلی سی میںبھی مرکزی کردار رانو کی ایک شناخت متعین کر دی جاتی ہے کہ وہ تلوکا کی بیوی ہے جسے کہ اس کے غریب ماں باپ نے کھانے کپڑے کے عوض تلوکا کو سونپ دیتے ہیں۔اس سے زیادہ رانو کی پچھلی زندگی کے بارے میں ناولٹ نگار کوئی اطلاع نہیں دیتا۔اس کے آگے ناولٹ نگار رانو پر گزرنے والے واقعات کے ذریعہ کردار کی وضاحت کرتا ہے۔اور واقعات کا تانا بانا اسی حد تک گڑھتا ہے جو رانو کے کردار پر مکمل روشنی ڈال سکے۔ضمنی کردار کی وہی خصوصیات ناول نگار سامنے لاتا ہے جو اس کہانی کے مرکزی خیال کے ارتقاء میں معاون ہیں۔کوئی کردار اپنی علاحدہ شناخت مکمل طور سے نہیں بنا پاتا۔اسی وجہ سے شاہ کردار کے علاوہ ضمنی کردار ہمارے ذہن سے جلد محو ہونے لگتے ہیں۔انفرادی شناخت کا کردار ناولٹ میں ممکن نہیں جیسے کہ ناولوںمیں شاہ کردار کے علاوہ دیگر کردار بھی مکمل شخصیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ان کی خوبیاں خامیاں سب پر روشنی پڑتی ہے۔محمد اشرف کا نمبردار کا نیلا ہو یا قاضی عبد الستار کا مجو بھیا،بیدی کا ایک چادر میلی سی ہو یا اقبال متین کا چراغ تہ داماں یا احسن فاروقی کا رہ و رسم آشنائی،ان تمام ناولٹوں میں ضمنی کرداروں کی وہی صورتحال ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔

قاضی عبدلستار کے ناولٹ میں ’’مجو بھیا ‘‘مرکزی کردار ہے۔اس کی نشو ونما اوپر مذکور دونوں ناولٹوں سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کی جڑیں مضبوطی سے زمین میں گڑی ہیں۔اس کی ا ٹھان کا گراف نیچے سے بتدریج اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔لیکن یہاں بھی کردار کی نشو ونما ایک خاص نکتہ کو لے کر ہی آگے بڑھتا ہے۔زمیندارانہ ماحول کا پروردہ ایک کردار جسکا اطراف اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کے حرکت و عمل سے اس کا کردار مکمل ہوتا ہے۔ایک نظر میں اس میں ناول سی گہما گہمی عمل اور رد عمل کے سبب واقعا ت کا رونما ہونا ناول سا معلوم ہونے لگتا ہے۔لیکن ذرا دیر ٹھہر کر دیکھیں تو رد عمل کی تمام صورتوں میں مخالف کرداروں کی زندگی کا خاتمہ شاہ کردار مجو بھیا کے ہی کردار کی اکمالیت کا پتہ دیتے ہیں۔ناولٹ میں تراب اور للی کا کردار ایسا ہے کہ اگر انہیں زندگی ملتی اور وہ مخالف کردار کی مکمل نشوو نما کی فضا پاتے تو ممکن تھا کہ یہ ناولٹ،ناول کے زمرے میں داخل ہو جاتا۔تراب کے کردار کی جھلک ہمیں یوں نظر آتی ہے۔

’’وہ واحد آدمی تھا جو ان کے دروازے کے سامنے سے سانڈ کی طرجھومتا ہوا نکل جاتا۔کبھی دو انگلی اٹھا کر سلام کا بھی روادار نہ ہوتا۔پھر تراب کی بھینس اکثر ان کے بار میں دندناتی ہوئی گھس پڑتیں۔بظاہر تو وہ کوئی خاص توجہ نہ دیتے لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ حرکتیں ان کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو مجروح کرنے کے لئے سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں۔پھر ہولی والے دن تو تراب نے کھل کر نوکروں سے کہہ دیا تھا کہ بڑے شیخ کے بیٹے ہوں تو ہانک دیں آکر تراب کی بھینسیں۔‘‘

تراب کے یہ تیور بتاتے ہیں کہ اس کا کردار جی دار بن سکتا تھا۔لیکن قاضی عبدالستار نے مجو بھیا کے ذریعہ سازشی واقعہ کی بنت کر کے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔اور اس سے یہ واضح ہو گیا کہ ناولٹ نگار کا مقصد زندگی کے رزمیے کی عکاسی نہیں ایک مخصوص کردار کے اطراف اور اس کی بنت میں شامل دیگر کرداروں کے ذریعے اس کی نمائندگی اور ایک خاص طبقہ یا نکتۂ نظر کی عکاسی مقصود ہے۔

صبا عارف اس ناولٹ کے بارے میں یو رقم طراز ہیں :’’اس ناولٹ میں دیہاتی معاشرے کی منھ بولتی تصویریں ہیں۔یہ تصویریں دیہات کے ہر پہلو اور ہر طبقہ کی مکمل نمائندگی نہیں کرتیں کیوں کہ یہ کام ناول کا ہے مگر چند مسائل،چند کردار اور ان کے گرد گھومتے ہوئے تھوڑے سے واقعات قاری کو بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔۔‘‘

کرداری نوعیت کا ہی ایک فرق یہ بھی ہے کہ ناول کے کردار عموما جسم و جان دماغ اور جسم کے تمام اعضاء جب مل کر ایک انسان کی شناخت پاتے ہیں اسی طرح ناول کے کردار ہیں جس طرح اعضاء جسم کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ علاحدہ علاحدہ شناخت بھی رکھتے ہیں،اسی طرح ناول کے کردار ایک جان و جسم ہوتے ہوئے بھی اپنی علاحدہ پہچان بھی بناتے ہیں۔عقل کا دعویدار دماغ ہوتا ہے اس کے باوجود ہاتھ کا لمس پاکر کچھ مختلف حاصل کرتا ہے۔ناول کے کردار بھی عموما سوچ کے مختلف زاوئیے دے جاتے ہیں۔غرض جس طرح جسم میں جان و روح کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کے بعد بھی جسم میں سرایت کرتی ہیں تو دوسروں کی زندگیاں بھی جی اٹھتی ہیں اسی طرح ناول کے کردار بھی حسیت و احساس کے علاحدہ علاحدہ ذرائع ہیں۔یہ خصوصیت آپ کو ناولٹ میں نظر نہیں آئے گی۔

اس کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ناول کی مثال۔۔۔۔۔کی مانند ہے جس کی جڑوں کی شاخیں اندرون میں کافی پھیلی ہوتی ہیں،اور انہیں شاخوں سے نئے پودھے جڑوں سے متصل سطح زمین پر نمودار ہوتے ہیں جو زمین کے اندرون میں تو ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں لیکن سطح زمین پر نئے پودھے ایک دوسرے پودھے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔جو انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔اور ناولٹ کی مثال۔۔۔۔۔کی ہے۔اس کی جڑیں زیر زمیں بہت پھیلائو نہیں رکھتیں۔کچھ شاخیں ادھر ادھر ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ نئے پودھے کو پنپنے دیتی ہیں۔

قاضی افضال نے ناول اور افسانے کے متعلق ایک سوال اٹھایا تھا جو ناولٹ کو سمجھنے میںممد ہو سکتا ہے کہ متن کی خارجی تشکیل کی سطح پر ناول اور افسانے میں کیا فرق ہے ؟اس کی وضاحت کے لئے قاضی صاحب کے ایک اقتباس پر غور کرتے ہیں۔افسانہ اور ناول میں فرق کرتے ہوئے قاضی صاحب لکھتے ہیں :

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تخلیق کی قواعد اور شناخت کی یکساں نشانیوں کے باوجود متن کے آغاز و انجام،خواہش و مقصود یا تحریک اور تحصیل کے درمیان کا فاصلہ ناول کے مقابلے میں کم واقعات سے مکمل/پر کیا جاتا ہے۔لیکن کتنے کم واقعات ؟اس کی کوئی حد /تعداد متعین نہیں کی جاسکتی۔بعض مرتبہ تو تعداد کا یہ خط فاصل اتنا موہوم ہو جاتا ہے کہ ان دونو ںمیں کوئی فرق معلوم ہی نہیں ہوتا۔مثلا عبد اللہ حسین کے افسانے ’’ندی ‘‘اور ’’نشیب ‘‘ان کے افسانوی مجموعے ’’سات رنگ ‘‘میں شامل ہیں اور ہندوستان کے کسی ناشر نے انہیں ناولٹ کے عنوان سے بھی شائع کیا ہے۔‘‘

گویا ناول اور ناولٹ ایک ہی صنف ہیں۔اس نکتہ کو تقویت قاضی صاحب کے اگلے اقتباس سے ملتی ہے۔’’یہاں ناولٹ کا ذکر آگیا ہے تو ضمنا ًیہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ناول کے مقابلے میں افسانے کے لئے دو اور نام ’مختصر افسانہ‘اور ’طویل افسانہ‘(یا بالکل نا مناسب طور پر ’طویل مختصر افسانہ ‘)بھی چلن میں ہیں۔تنقیدی شعور یہ بات قبول نہیں کرتا کہ کسی متن کی صفحات کی تعداد سے اس کی صنف کا تعین کیا جائے۔‘‘قاضی افضال ناولٹ اور طویل افسانہ میں طوالت کے بجز ان میں کوئی مختلف امتیاز ی خصوصیت نہیں دیکھتے اور انہیں طوالت کی بناء پر جو علاحدہ شناخت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے یا ناشروں نے طوالت کے سبب جو ان کا ٹائٹل بدلا ہے اسے رد کرتے ہیں۔

یہ بات معقول ہے کہ طوالت کوئی سبب نہیں کسی تخلیق کو علاحدہ صنفی حیثیت دینے کا،لیکن جب خود قاضی افضال یہ کہتے ہیں ’’تخلیق کی قواعد اور شناخت کی یکساں نشانیوں کے باوجود متن کے آغاز و انجام،خواہش و مقصود یا تحریک اور تحصیل کے درمیان کا فاصلہ ناول کے مقابلے میں کم واقعات سے مکمل۔۔پر کیا جاتا ہے ‘‘ناول اور افسانہ میں اگر یہ دلیل وجہ امتیاز بن سکتی ہے تو ناولٹ پر بھی اس نقطۂ نگاہ سے نظر ڈالی جا سکتی ہے۔کیوں کہ ناول ناولٹ،افسانہ تینوں کی تخلیقی قواعد ایک جیسی ہیں اور تینوں میں متن کی خارجی تشکیل کی سطح پر فرق واقع ہوتا ہے۔اور اگر ناول اور افسانہ میں فاصلہ واقع ہوتا ہے اور واقعات میں کمی بیشی ہے تو ناول اور ناولٹ کے ما بین بھی واقعاتی فاصلہ واقع ہوتا ہے۔دراصل قاضی افضال نے پہلے ہی یہ بات متعین کر لی ہے کہ ناولٹ ناول کی تصغیر ہے۔حالاں کہ تصغیری نوعیت ماننے پر بھی ناولٹ پر تنقیدی زاوئیے سے نظر کی جائے تو تقریبا ایسے ہی اور اتنے ہی افتراق کے نکات سامنے آئیں گے جتنی کہ ناول اور افسانہ میں افتراق کی صورتیں ہیں۔

قاضی افضال آگے لکھتے ہیں کہ :
’’یہ زیادہ تنقیدی طریقۂ کار ہوگا کہ ناول اور افسانے کے درمیان فرق کی نشاندہی کے لئے واقعہ کی صفات و کردار کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ناول اور افسانے میں واقعہ کی ترتیب کا طریقہ اور اس کے ارتقاء کی جہت بالکل یکساں نہیں ہے۔یعنی ’’واقعہ سازی ‘‘ کا طریقہ کار تو ناول اور افسانہ میں یکساں ہے لیکن جہاں ناول کی اساسی ساخت میں مرکزی موضوع کے آغاز و انجام(خواہش و مقصود )کے درمیان ارتباط کی جہت تو یک سمتی ہوتی ہے۔یعنی آغاز اپنے انجام کی طرف ہی بڑھتا ہے لیکن اس بنیادی وضع سے واقعات کا وہ سلسلہ بھی پھوٹتا رہتا ہے جسے ہم اساسی وضع کے لئے تائیدی واقعات کہہ سکتے ہیں۔‘‘

یہاں تک کا بیان ناول اور ناولٹ میں یکسانیت کا ظاہر کرتا ہے۔اور افسانے سے ان دونوں کو متمائز کرتا ہے۔لیکن جب ’’تائیدی واقعات ‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے قاضی افضال یہ کہتے ہیں کہ ’’ناول کی اس اساسی ’وضع ‘میں تائیدی واقعات کی شمولیت سے ناول میں بیانیہ کا تحرک کثیرالجہات ہو جاتا ہے (مثال ؛خدا کی بستی از :شوکت صدیقی )ناول میں بیانیہ کا یہ کثیر الجہتی تحرک،افسانے میں ممکن نہیں۔‘‘

تو یہ بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ ناولٹ میں بھی کثیر الجہات بیانیہ نہیں پایا جاتا۔اگرچہ کہ تائیدی واقعات ہوتے ہیں جو ناولٹ کے مرکزی مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں لیکن ان کی نوعیت علاحدہ بیانیہ کی نہیں ہوتی۔یہاں ’’تائیدی واقعات ‘‘کی دو قسمیں سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جن سے ایک دوسرے بیانیہ کی تعمیر ہوتی ہے۔اور ایک وہ جو صرف بنیادی نکتہ میں معاون تو ہوتے ہیں لیکن وہ علاحدہ بیانیہ وضع نہیں کرتے۔ناول میں علاحدہ بیانیہ وضع کرنے کے سلسلے میں قاضی صاحب نے ’’امرائو جان ادا ‘‘کے دو کردار کی مثال پیش کی ہے۔ایک مرکزی کردار امیرن کی اور اس کی ایک معاون کردار رام دئی عرف بسم اللہ جان کی۔بسم اللہ جان کے واقعات کی ترتیب سے ایک ضمنی پلاٹ تعمیر ہو جاتا ہے۔غرض ناول میں قصہ مرکزی واقعہ کے ساتھ ساتھ ضمنی قصوں۔پلاٹوں کو بھی تشکیل دیتا ہے اور اپنے اندر پلاٹ در پلاٹ،پیچیدہ اور مرکب پلاٹوں کی خصوصیات رکھتا ہے۔جبکہ ناولٹ دو پلاٹ ایک ساتھ لے کر چلنے سے قاصر ہے۔

ناول اور ناولٹ کے مابین مذکورہ امتیازات کے بعد ہم افسانہ اور طویل افسانہ کی طرف آتے ہیں۔طویل افسانہ افسانے سے علاحدہ کوئی صنف ہے یا مختصر افسانہ ہی کو طوالت کے سبب طویل افسانہ کہا جاتا ہے ؟یہ ایک بڑا اور پیچیدہ سوال ہے۔افسانہ کی روایت پر نظر ڈالیں تو راشد الخیری اردو کے اولین افسانہ نگار شمار کئے جاتے ہیں۔جنہوں نے ’’نصیر و خدیجہ ‘‘خط کی تکنیک میں لکھ کر افسانہ کا بیج بویا۔۔انہوں نے ہی کئی طویل افسانے بھی لکھے۔اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ افسانہ کی ابتداء و ارتقاء کے ساتھ ہی ساتھ طویل افسانہ کا وجود بھی ملنا شروع ہو گیا تھا۔لیکن اس تاریخی بات سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ طویل افسانہ کیا ہے ؟اس کے لوازمات کیا ہیں ؟اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟کس بناء پر ہم کسی افسانے کو طویل افسانہ کے ذیل میں رکھیں ؟کیا طویل افسانہ کو علاحدہ صنف کی حیثیت دی جا سکتی ہے ؟

طویل افسانہ کے فن پر نقادوں نے کم ہی توجہ کی ہے۔اور جن نقادوں نے اس پر تنقیدی نظر ڈالی بھی ہے ان کی آراء باہم متنوع و متحارب قسم کی ہیں،جو کبھی ایک دوسرے کی ضد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں تو کبھی مماثل ہو جاتی ہیں۔خورشید احمد طویل افسانہ کو افسانے کی ہی ایک قسم مانتے ہیں۔

’’افسانے کو جب طول کے لحاظ سے منقسم کرتے ہیں تو اردو افسانے کے آغاز سے لے کر آج تک تین طرح کے افسا نے ملتے ہیں۔۱۔مختصر افسانہ ۲۔طویل افسانہ ۳۔ افسانچہ ‘‘

ان اقسام کی نشاندہی کے ساتھ ہی ان کی تحدید الفاظ کی تعداد سے کرتے ہیں۔

’’مختصر افسانہ میں پانچ سو سے لے پندرہ ہزار تک الفاظ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طویل افسانے پندرہ بیس ہزار الفاظ کا احاطہ کرتے ہیں ‘‘
The science fiction and fantasy writers of america,نامی ادارہ نے ,,Nabula award for science fiction ,,میں کہانی کی تحدید ۷۵۰۰ الفاظ میں کی ہے۔ارچنا ورما ’’ہنس ‘‘کے ’’لمبی کہانی نمبر ‘‘کے مقدمہ میں لکھتی ہیں کہ مختصر افسانہ سے ایسی تخلیق مراد لی جاتی ہے جو کم سے کم ۱۰۰۰لفاظ سے لے کر ۲۰۰۰۰پر مشتمل ہو۔ہزار صفحے سے کم کی تخلیق کو فلیش فکشن یا شارٹ سٹوری کہا جاتا ہے۔

طوالت کے ذیل میں مذکورہ بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔الفاظ کی تعداد کا تعین کر کے افسانہ،طویل افسانہ اور افسانچہ کو تعددی چوکھٹے میں مقید کرنا بہت مشکل امر ہے۔کیوں کہ ہر قاری اپنے حساب سے بھی طویل اور مختصر افسانہ کو طوالت کی بناء پر ایک دوسرے سے متمائز کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ تمام قارئین علاحدہ علاحدہ نتیجہ پر پہنچیں۔ایسے میں یہ کہنا کہ اتنے الفاظ کسی تخلیق میں ہیں تو وہ افسانہ اور اتنے تو وہ طویل افسانہ ہے،سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اولاً جو چیز پہلی نگاہ میں دونوں میں فرق کی صورتیں پیدا کرتی ہیں وہ طوالت ہے۔ایسا کہنا کہ طوالت ہی ایک واحد افتراق کی وجہ ہے نزاعی بحث کو جنم دینے والی بات ہوگی۔

وکی پیڈیا آن لائن پر جولیا کیمرون نے مختصر افسانے کی جو تعریف درج کی ہے اس میں بھی طویل مختصر افسانہ کا ذکر ملتا ہے۔اس کی تعریف کا ماحصل یہ ہے کہ مختصر افسانہ نثری تحریر کی بیانیہ صنف ہے جسکے اوصاف ان الفاظ کی تعداد سے ہوتا ہے جن پر وہ مشتمل ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ:
مختصر افسانہ کی طوالت کا تعین پر پیچ مسئلہ ہے۔مختصر افسانے کے طوالت کی جو کلاسیکی تعریف کی جاتی ہے،وہ یہ کہ اس ایک نشست میں پڑھا جا سکے لیکن ہم عصر عہد میں اس نقطہ کا اطلاق ایسے افسانوی ٹکڑے پر ہوتا ہے جو بیس ہزار الفاظ پر مبنی ہو۔حالاں کہ مختصر افسانے کی طوالت کا تعین میں اختلاف مقام اشاعت کے اعتبار سے ہوا ہے۔مثلا ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مختصر افسانہ دس ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے (اور اسے طویل مختصر افسانہ کہا جاتا ہے )برطانیہ میں مختصر افسانے بالعموم پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔آسٹریلیا میں مختصر افسانہ بمشکل۔۔۔سو الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے۔باوجود یکہ چندمختصر افسانے کچھ الفاظ پر مشتمل ہو سکتے ہیں (مائیکرو بیانیہ کہا جاتا ہے )ہم عصر قارئین کی توقع کے مطابق مختصر افسانہ کم از کم طوالت میںایک ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔بیشتر مختصر کہانیاں افسانوی تحریر کے زمرے میں آتی ہیں۔نیز شائع ہونے والی مختصر کہانیاں افسانوی صنف سائنس فکشن،ہارر فکشن اور جاسوسی فکشن پر مشتمل ہوتی ہیں۔مختصر کہانی نے غیر افسانوی اصناف مثلا سفر نامہ،نثری شاعری اور مابعد جدیدیت کے تغیرات کو ہم حلقہ کر لیا ہے۔افسانوی مختصر کہانیاں جو مختصر افسانہ حتی کہ طویل مختصر افسانے کی طوالت سے متجاوز ہوتی ہیں ناولا کہلاتی ہیں۔کوئی ایسی طویل افسانوی تخلیق جو چالیس ہزار یا اس سے زائد الفاظ پر مشتمل ہو ناول کہلاتی ہے۔

اس تعریف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام تصور افسانہ اور طویل افسانہ کا الگ الگ نہیں ہے اور طوالت ہی ان کی شناخت کو قائم کرتی ہے۔یہاں منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم طوالت کو اصناف کا شناختی کارڈ تسلیم کر سکتے ہیں یا نہیں ؟اگر تعداد الفاظ ہی صنف کے تعین کے لئے کافی قرار پائیں تو دیگر فنی خصوصیات اور تکنیکی امورکی بظاہر کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ہم اس تعریف کے سلسلے میں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ ناول کے الفاظ کی تعداد بالعموم یہ ہوتی ہے اور ناولٹ اور افسانہ کی یہ،یہ ضخامت کے ایک عمومی فرق کو واضح کرنے والی تعریف ہے۔اس کا تعلق فنی امور سے نہیں ہے۔بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ اصناف کو سمجھنے کی یہ عامیانہ حد بندی /تعین ہے تو بے جا نہ ہوگا۔اردو میں فکشن کے ناقدین نے الفاظ کی تعداد کو مد نظر رکھ کر قائم کی جانے والی صنفی شناخت کو بہت اچھی نظروں سے نہیں دیکھا ہے۔اس بارے میں ہم قاضی افضال اور احسن فاروقی کی رائیں پیش کر چکے ہیں۔طویل افسانے کی وجودیات کوسمجھنے اوراسے پہچاننے کے کے صرف اس قدر کاوش کافی نہیں ہے۔ہمیں عملی ونظری سطح پر اس تلاش کومزید سرگرم سفر رکھنا ہو گا۔

مختصر افسانے کی خصوصیت اختصار جامعیت اور کفایت شعاری ہے۔یہاں بے جا تفصیل،لفظوں کے استعمال میںفضول خرچی،واقعات کے انتخاب و ترتیب میں امکانی صورتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے۔جا و بے جا وقوعات کا استعمال مختصر افسانے کے حسن کو غارت کر دیتا ہے۔اس تساہل اور سقم کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ مختصر افسانے کا ظاہری حجم طویل افسانے کے حجم سے بھی متجاوز ہو جائے لیکن ان اقسام کے سبب اس کی فنی ساکھ کامیاب افسانہ میں بدلنے سے رہ جائے گی۔جب یہ ظاہر ہو گیا کہ کھینچ تان کر کی جانے والی حجم کی توسیع اور بے جا طوالت اس کی فنی حیثیت کو مجروح کرتی ہے تو یہ کیوں کر ممکن ہے اسے طویل افسانے کے زمرے میں شمار کیا جائے۔جیسا کہ ممتاز شیریں نے لکھا ہے :

’’طویل مختصر افسانے کی ہیئت اور فنی لوازمات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی طوالت کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درکار ہے۔محض طوالت ہی شرط ہوتی تو کسی بھی افسانے کو کھینچ تان کر طویل مختصر افسانہ بنانا آسان بات ہوتی۔‘‘

یہاں پر یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ پھر وہ کیسی طوالت ہے جو مختصر افسانے کے بجائے افسانے کے نام میں طویل کا سابقہ لگا کر اسے طویل مختصر افسانہ کہنے پر مجبور کرتی ہے۔افسانے کی مروجہ ہیئتوں اور اس کی حرکیات کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کچھ موضوعات،کردار وقوعات جو محاکاتی۔۔۔دونوں سطحوں پر اپنا رنگ اختصار میں نہ ظاہر کرتے ہوں۔ان کے رنگ کے کھلنے اور چہرے کے کھلنے کے لئے بیان میں وسعت چاہتے ہوں۔تنگنائے مختصر افسانہ ان کے لئے کافی نہ ہو۔اور بے جا اختصار اور کفایت شعاری کا اہتمام کیا جائے تو ممکن ہے کہ افسانے کی حرکیات کو اظہار کے پورے امکانات میسر نہ ہوں۔افسانے کی ساخت بتائے کہ اظہار کے لئے مطلوب پیرائے سے انحراف /تغافل نے کہانی یا کردار اور اس کے ارتقاء کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے۔یہی وہ امکان ہے جو طویل مختصر افسانے کے وجود کو ضروری اور لا بدی بناتا ہے اس صورت میں افسانے کے حرکیاتی نظام میں سارے امکانات طبعی نظام کے تحت وجود پاتے ہیں تو افسانہ مختصر افسانے کے دائرے سے قدم باہر نکال کر طویل افسانے کی سرحد میں داخل ہوتا ہے اور افسانے کی ذیلی قسم رہتے ہوئے اپنا تشخص مستحکم کرتا ہے۔ایسے افسانوں کا حجم فطری انداز میں مختصر افسانوں کے حجم سے بڑھ جاتا ہے اور اس طرح صوری اور معنوی طور پر طویل افسانہ کہلانے کا بجا طور پر مستحق قرار پاتا ہے۔جلیل کریر نے طویل افسانے کے جواز اور اس کی نا گزیریت پر کارآمد اور مفید مطلب باتیں کہی ہیں۔انہوں نے مختصر افسانے کے وسیع امکانات کا اقرار کرنے کے بعد طویل افسانے کے امکان پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے،اور اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جہاں فنکار کو ہلکے خطوط و نقوش کو اجاگر کرنے کے لئے فنی ضرورت لاحق ہوتی ہے وہاں وہ مختصر افسانے کا انتخاب کرتا ہے۔اور جہاں لمبے خطوط اور تفصیل طلب نقوش ہوتے ہیں وہاں طویل افسانے کو کام میں لاتا ہے۔(طویل مختصر افسانہ نمبر،ادب لطیف )

کیا طویل افسانے کے لئے لازم ہے کہ اس کا حجم مختصر افسانے سے بڑا ہو ؟اگر ایسا ہے تو الفاظ کی تعداد سے صنفی شناخت کو قائم کرنے کے تصور کو تقویت پہنچے گی اور طویل و ضخیم ناولوں اور کم سے کم صفحات پر مشتمل ناولوں پر بھی سوالیہ نشان قائم ہو گا۔آج کے ناولوں کو ہم ناول کیوں کہیں ان کی ضخامت تو ناولٹ کے برابر ہو رہی ہے۔اگر ایک بڑے موضوع اور طویل زمان اور وسیع مکان کو کفایت شعاری سے لفظوں کے آئینہ میں اتارنے کی کامیاب کوشش سو سوا سو صفحات کے ناول کو ممکن کر سکتی ہے تو افسانے کے حدود میں صنفی دائرے کی پابندی کرتے ہوئے ایسے افسانے کا لکھا جانا ممکن ہے جو ضخامت میں مختصر افسانے سے کم ہو لیکن اپنے معنیاتی اور منظریاتی جہان میں طویل افسانے کو سموئے ہو۔معنیاتی و منظریاتی جہان کی وسعت کے لئے بھی ہمیں ایک حد مقرر کرنا ہو گی۔ایسا نہیں ہے کہ کوئی افسانہ،افسانچہ کے حجم کی کہانی اپنے لازمانی انسلاکات اور اشارات کی وجہ سے بڑے معنی رکھتی ہو اور ہم اسے طویل افسانہ کہیں بلکہ اس کے افسانے کے بطون سے ہی زمان و مکان اور کردار کے عمل وردعمل سے اس کابڑاہوناظاہر ہوتاہو۔طویل افسانے کی یہ ایک امکانی صورت ہے۔طویل افسانے کی نظری اساس کوسمجھنے کے بعد اس کی عملی صورتوں کودیکھنابھی ضروری ہے۔ایساممکن ہے کہ ایک مرکزی کردار سے متعلق مختلف انسانی رویوں اور متصادم تہذیبی اقدار کی رونمائی کا عمل جب افسانے میں انجام پایے تو اس کی جہت ایک نہ ہو کر متعدد ہو جا ئے جیسے کہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے۔۔۔۔‘‘میں ہوا ہے۔پادری کی بیٹی کی آمد کی خبر پر ایک رد عمل قدامت پرستانہ ہے۔ جس میں پردہ داری اور عورت کے روایتی مثالی کردار بالمقابل پادری کی بیٹی کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نئی تہذیبی کثافتوں کی سبیل بن کر گھروں میں تہذیبی و معاشرتی کدورت کا گدلا پانی پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک ردعمل محظوظانہ ہے۔جس میں مختلف پیشہ کے لوگ اپنے سفلہ پن اور غیر صحتمند جنسی نفسیات کے اظہار کو لفظوں کا روپ دیتے،پادری کی بیٹی سے متعلق اپنے تجسس کو بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پادری کا گھر اور اس کی بیوی ایک الگ دنیا کی تصویر ہیں۔ایک الگ سمت رکھتے ہیں۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایسی صورت میں افسانہ کا حجم بڑا نہ ہو اور ضخامت کے خوف سے کتر بیونت کی جائے تو کہانی کی روح بری طرح مجروح ہو گی اور افسانہ انکشاف بننے کے بجائے تشنہ گھونٹ بن جائے گا۔یا پھر کہانی کا ستیاناس ہوگا کہ وہ پوری طرح کھل کر سامنے نہ آئے گی۔جن جن پہلوؤں کا تجزیہ مصنف کے ذریعہ نہیں بلکہ مختلف پس منظر کے کرداروں کے زبانی اس افسانے میں ہوا ہے اگر ہم اس تجزیے کی طوالت کو اختصار میں بدلنے کی کوشش کریں گے تو کیا ہوگا،یہی کہ اک سادہ بیان، کفایت شعارانہ راست بیانیہ ان پہلوؤں کو معروضیت سے پیش کر دے گا۔مگر افسانے کا حسن،بولتی صورت حال اور محاضراتی اسلوب سب چوپٹ ہو جائیں گے۔زبان و بیان کے اسالیب کی مدد سے جو لسانی تنوع افسانہ کا حصہ بن کر الگ جہات و ابعاد کا اس قدر خوبصورت اظہار کر رہا وہ اظہار بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔اس سے پتہ یہ چلا کہ طوالت فقط طوالت نہیں ہے بلکہ وہ طویل افسانہ کی ناگزیر اور لا بدی ضرورت بھی بنتی ہے۔زاویہ،رتبہ اور طبقہ کے بدلتے ہی گلیڈس کی حیثیت بدل جا تی ہے۔ایک افسانے کے مکتوباتی حصہ میں خط اور روزنامچہ سے جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ فکرو نظر اور اقدار کی سطحیں بھی کسی قدر طبقاتی اور درجہ بند ہیں۔ایک فضا میں جینے والے اور ایک دوسرے سے کتنے الگ۔افسانے روزنامچے اور مکتوب گلیڈس کے دل میں اٹھنے والے جذبات کے انکشاف کو قاری پر تو کھولتا ہے لیکن وہ ان دو کرداروں سے ڈھکا چھپا ہی رہتا ہے۔یہ ہے وہ کثیر جہتی پہلو جسے طویل افسانے میں ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

’’چائے کی پیالی ‘‘ طویل افسانہ ہے۔اس افسانہ میں نہ تو جہتیں زیادہ ہیں اور نہ وقوعات اس قدر ہیں کہ وہ طوالت کو نا گزیر کریں۔لیکن اس امکان کی معدومیت کے باوجود مصنف نے بڑی چابکدستی سے اس افسانے کو فقط کیفیت اور کردار کی نفسیاتی حالت و خود کلامی کی مدد سے نہایت ہوشیاری سے بنا ہے۔ جو تلازمات اس افسانے میں لائے گئے ہیں،ڈولی کا کردار ان تلازموں کے بغیر پوری طرح کھل کر نہیں آتا۔یہ افسانہ اپنے دورانیہ کے اعتبار سے حد درجہ مختصر ہے کہ اس کا دورانیہ بمشکل دن بھر کا ہے۔لیکن اس قلیل وقت میں دوران سفر جو خیالات،کیفیات اور خود کلامیاں اس افسانہ کی شہ کردار’’مس ڈولی روبنسن ‘‘کے ذہن کا تلازمہ بنتے ہیں،اور جس ڈھنگ سے اس کی شخصیت نگاری اور شبیہ سازی کا کام انجام دیتے ہیں اس سے یہ افسانہ ایک بھر پور شخصیت کا آئینہ بن کر اپنی طوالت کا جواز پیدا کر لیتا ہے۔’’کرسچین گرلز انسٹی ٹیوٹ ‘‘کی طالب علم کی یہ کہانی تمدن کاری کے اثرات اور انسانی جبلت کے اظہارات کا مرکب ہے۔کالج کی چہار دیواری کے قریب سے گزرنے والے لڑکے کے متعلق مس ڈولی کے جذبات فطری ہیں کہ اس عمر میں یہ امکان سے باہر نہیں کہ یہ باہمی کشش جبلی فطرت کا نتیجہ ہے۔وہی دوسری طرف نوکرانی سے اس کی انگلش بولنے کی خواہش اور نئے نئے نام اور چیزیں بتا کر پریشان کر نے کی تمنا نو آبادیاتی فضا میں تربیت پانے والے ذہن کی غمازہیں کہ حکمراں کے طور طریق مرعوبانہ ذہن سے سیکھ کر اپنے دست نگروں پر انہیں کے ذریعہ دھونس جما کر ایسا تسلط و تفوق قائم کرنا۔

دوران سفر اپنی سہیلی برنس سے اختلاط کی گزشتہ رات کا یاد آنا اور اس تفصیل سے یاد آنا،مس ڈولی کی شخصیت کے ایک الگ پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ہم جنسوں کے بیچ اس کشش کی اس ہلکی اور حقیقی جھلک سے رو برو کرتا ہے جسے ہم جنس کشش کہہ سکتے ہیں،کہ مخالف صنف سے اختلاط کا خلا بھی ہم جنس اختلاط کی وجہ بنتا ہے۔جس انداز سے افسانہ نگار نے برنس کی کہانی بیان کر نے کے بعد پیار کرنے کی التجا کو ظاہر کیا ہے،اس سے یہی معلوم ہو تا ہے۔

ہم درسوں کے مابین رشک اور چپقلش کی جو صورتیں ہو تی ہیں ان میں سے ایک صورت کا افسانہ نگار نے ذکر کیا ہے۔یہ رشک ڈولی کو ایمی سے ہے۔جو حسد کی نفسیات کا زائیدہ ہے اور عہد شباب سے پہلے کی منزل میں تو یہ خوب خوب ہوتا ہے۔اب ہم یہاں یہ دیکھتے ہیں کہ افسانہ نگار نے اپنے قلم کا رخ شہ کردار کے ذہن کی طرف کیا ہو اہے۔گویا شہ کردار کا ذہن ہی افسانہ نگار کے قلم کی سیاہی ہے جس سے وہ موضوع کو نچوڑ رہا ہے۔اس افسانے کی بنت یہ بتاتی ہے کہ ناگزیر جزیات نگاری اور آزاد تلازموں کے استعمال سے کم کم دورانیہ میں بھی طویل افسانہ کو خلق کیا جا نا ممکن ہے،بس شرط یہ کہ کوئی پہلو غیر فطری یا ٹھونسا ہوا معلوم نہ ہو۔کہانی کو بنانے اور بتانے کا موڈ واقعی اور امکانی ہو۔

طویل افسانے کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نفس موضوع کا دورانیہ فقط سالوں پر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہو۔کسی ایک معروض یا مسئلہ کی تفہیم اور اس متعلق مختلف عہد اور زمانوں میں بدلتے انسانی رویے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہو۔عزیز احمد کا افسانہ مدن سینا اور صدیاں‘‘اسی نوع کا افسانہ ہے جس میں مرد عورت کے رشتے کی زمانی تقسیم ہے۔وقت کے ساتھ جو ں جوں معاشیات نے اور حصول معاش کے لئے بپا کی جانے والی اقتداری۔۔۔۔نے اپنا چولا بدلا ڈھنگ اور رنگ کے اعتبار سے عورت اور مرد کے رشتہ کا ڈولا بھی بدلا ہے۔اس افسانہ میں قدیم عہد کی کہانی بھی ہے،نوآبادیاتی عہد کا رویہ بھی اور اشتراکی معاشرت کا نظریہ بھی۔فی الواقع ہر عہد کی عورت کہانی رکھتی ہے۔ہر کہانی میں ایک عاشق ایک شوہر اور ایک۔۔۔ضرور ہے۔اور پھر ا ن میں سے ایثار کس کے حصہ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔وی کے سوال و جواب سے مل جاتا ہے۔اس افسانہ میں مدن سینا،عورت کا روپ ہے۔ یہ عورت عہد اور زمانے عبور کرتی جاتی ہے تو مردوں کے عورت کے تئیں رویے میں کس قدر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔یہ منسوب کسی سے ہے اور اس عاشق کوئی اور ہے۔عاشق تنہائی میں ملتا ہے اور اس کی حالت زار دیکھ کر یہ اس سے وصل ازدواجی سے پہلے ملنے کا وعدہ کرتی ہے۔شادی کی رات سارا قصہ شوہر سے کہہ کر اس سے ملنے کی اجازت چاہتی ہے۔شوہر اجازت دے دیتا ہے۔یہ اپنے معشوق کی طرف چلنے لگتی ہے کہ راستے میں ڈاکوؤں سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ اس کے تن من کے زیور کو لوٹنے پر آمادہ ہوتا ہے۔یہ اپنا قصہ کہہ کر عاشق س ملنے کے بعد ان کے پاس واپس آنے کا وعدہ کرتی ہے۔عاشق کے گھر پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے ’’تم نے اپنا بچن پورا کیا لیکن تم جو کسی دوسرے کی پتنی ہو میرے کس کام کی جس طرح تم آئی ہو ویسے ہی چلی جائو کوئی تمہیں دیکھنے نہ پائے۔ایک آنکھ سے ہنستی اور دوسری سے روتی مدن سینا اسی راستے واپس ہوتی ‘‘ڈاکوؤں سے مدن سینا کو ایفائے عہد کرنا تھا سو وہاں پہنچتی تو ڈاکو نے قصہ سنا واپسی کا تو اس نے کہا،تیری سچائی سے خوش ہو کر میں بھی تجھے چھوڑتا ہوں۔جا اپنے سونے چاندی اور عزت کے زیوروں سمیت اپنے گھر جا ‘‘اس قصہ کے خاتمہ پر ویتال نے مہاراج تری وکرم سینا سے اس قصہ میں سب سے فراخ دل شخص کی نشاندھی چاہی۔انہوں نے ڈاکو کو فراخ دل بتایا ’’لیکن ڈاکو،وہ بے اصول،بدمعاش،اندھیارے کا باسی،وہ سچ مچ فیاض اور فراخ دل تھا۔اس نے ایسی خوبصورت عورت کو جواہرات سمیت چلے جانے دیا۔‘‘

یہ طویل افسانہ اس تصور کی طرف بھی رخ کرتا ہے کہ عشق آزادی کا آئینہ ہے۔وہاں جذبہ عمل،قول کا تبادلہ آزادانہ ہوتا ہے۔کسی معاہدے کے جبر سے آزاد کسی اخلاقی معاشرتی رعایت سے عاری۔واضح رہے کہ عمل میں ہر نوع کا جبلی عمل بھی شامل جو کسی انسانی جوڑے کے لئے ضروری ہے۔اور یہ تصور ملکہ شامینیںکے فیصلہ کی صورت افسانے میں داخل ہوتا ہے۔’’ہم اعلان کرتے ہیں اور ہم اسے امر طے شدہ سمجھتے ہیں کہ عشق ایسے دو افراد کے درمیان اپنی طاقتوں کا اثر نہیں ڈال سکتا جو ایک دوسرے سے منکوح ہوں۔کیوں کہ عشاق ایک دوسرے کو ہر چیز آزادی سے دیتے ہیں،کسی جبر یا مجبوری سے نہیں۔لیکن شادی شدہ جوڑے میں فریقین مجبور ہیں کہ بطور فرض ایک دوسرے کی خواہشیں پوری کریں۔اور ایک دوسرے سے اس امر میں انکار نہ کریں۔‘‘اس تصور عشق میں سپردگی یا دو طرفہ احتظاظ اور معاونت کی جو صورت ہے،وہ صورت ایک خاص ماحول اور عہد کی زائیدہ ہے۔وقت بدلتا ہے طرز زندگانی ایک ڈھرے پر جا پڑتی ہے تو رویے بھی بدل جاتے ہیں۔مارکس،اینگلز کے ذریعہ افسانہ نگار اس قصہ پر نظر ثانی کرواتا ہے۔’’ہمارے بورژوا اپنی مزدوروںکی بیویوں اور بیٹیوں پر ہی اکتفاء نہیں کرتے،رنڈیوں کا تو ذکر ہی کیا انہیں ایک دوسرے کی بیویوں کو پھسلانے میں انتہائی لطف آتا ہے۔‘‘؎؎؎؎؎؎؎افسانہ مثالیت پسندی اور انسانی جبلت کی اور فطری معصومیت کے عہد سے نکل کر اور اقتصادیات کی تعبیر کی وجہ سے وقت کی انارکی اور ابتذال کا آئینہ بننے لگتا ہے۔قرون وسطیٰ کے ایک قصہ سے پھر مدن سینا کے مثل ایک قصہ یورپ کے پس منظر میں افسانے کے بیانیہ کا حصہ بنتا ہے اور اس کا انجام بھی تقریبا وہی ہے۔

چوتھے قصہ میں افسانہ نو آبادیاتی عہدمیں آگھستا ہے اور یہاں کے بورژوا طبقہ کی معاشرت کی آئینہ گری کرتا ہے۔اس حصہ میں پس منظر ہندوستان ہے۔تفریحی جلسہ یا پارتی کے جلومیں عورت مرد کے رشتوںکے روپ جگمگاتے ہیں اور کثافتیں اپنا رنگ چوکھا کرتی ہیں۔رقص و سرود اور لذت جام و کام و دہن اس کثافت کی تصویر بنتے ہیں۔انجام صمدر کی کم عمر بیوی کے اس ازدواجی حدود سے پرے اس جنسی تعلق اور صمدر کے درگزر پر ہوتا ہے کہ اس سے احساس ہمدردی کی ایک معقول وجہ اس کے پاس یہ ہوتی ہے کہ عمر کا تفاوت ان کے ما بین وہی ہے جو باپ بیٹی کے درمیان ہو سکتا ہے۔اس پر صمدر کا رد عمل ملاحظہ کیجئے۔

’’کپڑے بدلتے ہوئے وہ سوچنے لگے۔ہم سب میں زیادہ فیاض کون ہے ؟۔۔۔میں جو مالک ہوں اور اپنی ملکیت پر جبر نہیں کرتا ؟یا۔۔۔جس نے اپنا پیار بیچا ؟یا میری چندرا جس نے اپنے ریشمی آرام و آسائش کے لئے اپنے والدین کو اپنا جسم میرے ہاتھوں میں لینے دیا۔وہ۔۔۔۔۔۔راج میں کون فیاض ہے ؟کون فیاض رہ سکتا ہے ؟یہاں تو ہر طرف لین دین ہی لین دین ہے۔یہاں شکر و شکایت اور گلہ شکوہ کیا ؟‘‘

افسانے کے آکری حصے میں صغیراور ناہید جہاں اشتراکی میاں بیوی کا قصہ شروع ہوتا ہے۔یہاں سہولت پسند بورژوا اشتراکیت جو آسائش و آرائش کے ساتھ اشتراک کو بناہنے والے گروہ کا ذکر کرنے کے بعد تخلیق کار اس جوڑے کا ذکر کرتا ہے جو عملا اشتراکیت پسند ہے۔دونوں میاں بیوی اپنی اپنی اپنی اپنی جدو جہد اور تحریکی سر گرمیوں میں مصروف ہوتے ہوئے پر سکون زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک دن ناہید مقبول کے ساتھ سنیما چلی جاتی ہے اور اسے واپس لوٹنے میں دیر ہو جاتی ہے۔اس دوران صغیر کے دل میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اور یہ وسوسے رشتہ مناکحت کی فلسفیانہ تفہیم کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔تخلیق کار کردار صغیر کے ذریعہ مناکحت کی تمدنی صورتوں پر غورو فکر کرتا ہے۔

’’اس نے سگریٹ سلگایا اور ٹہلنے لگا۔سوچنے لگا کہ مجھے شک اور کسی قسم کے صدمے کاحق ہی کیا ہے۔ناہید اور اس کا جسم میری ملکیت تو ہے نہیں۔کیا اس مہاجنی تمدن سے پہلے بر بریت کے سنہری دور میں تمام عورتیں تمام مردوں اور تمام مرد تمام عورتوں کی ملکیت نہیں ہوتے تھے۔ممکن ہو یہی قانون فطرت ہو۔ممکن ہے ’’جوڑے دار ‘‘شادیاں قانون فطرت کی خلاف ورزی ہوں۔تمدن کی صبح کاذب کے ساتھ ساتھ یہ شادیاں وجود میں آئی ہیں۔پہلے مائیں بہنیں حرام ہوئیں،پھر قبیلے کی عورتیں حرام ہوئیں۔پھر ایک مرد اور ایک عورت کی جوڑے دار شادیاں ہونے لگیں۔‘‘

افسانے کے بطن اور متن میں سماجی فلسفہ کھپانے کا یہ سلیقہ بھی خوب ہے کہ اشتراکی فلسفہ کی رو سے کی جانے والی معاشرتی نظام کی تعبیر کو نئے عہد کی مدن سینا کی تفہیم میں حسن و خوبی سے استعمال کیا ہے۔صغیر کی خود کلامی اور فکر کی رو سے جو مکالمہ قائم ہوتا ہے وہ ایک متمدن اور تعلیم یافتہ انسان کا مکالمہ معلوم ہوتا ہے جو اپنے عہد میں رائج تصورات سے ذہنی کشمکش کر رہا ہے کہ کیوں کر عصمت صرف عورت پر واجب ہے۔اور اگر عشق کے ذریعہ یہی کچھ واجب ہو تو دونوں پر واجب ہو۔ادھر اس کی بیوی ناہید مقبول کے دلکش جمالیات بدن میں محو ہے کہ دونوں کی آنکھوں نے ہی بس بے معلوم عشقیہ خاموش سرگوشیاں کی ہیں۔نگاہوں کے رابطے جنسی کشش تو لے آئے لیکن جذب مطلق کی صورت نہ ہوئی۔صغیر کے دل میں کوئی شک نہ ابھرے یہ اندیشہ لئے گھر کے زینے چڑھنے شروع کئے اور اپنی سوچ پر حیرت زدہ ہو کر اس نتیجہ پر پہنچی کہ اسے اپنی برأت کی کیا حاجت،وہ صغیر کی ملکیت تو نہیں ؟اور ایک گرم بوسے پر تخلیق کار کے اس مثالی جوڑے کی کہانی تمام ہوتی ہے۔اس مقام پر ویتال نے مہاراج سے وہی سوال کیا کہ بتائیے سب سے زیادہ فیاض کون تھا ؟تخلیق کار کے ذہن میں اشتراکیت کی مثالیت پسند کوندے لپک رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سماجی فلسفہ کے ذہن کی دسترس آنے کے بعد انسانی فطرت کی کوئی کل ٹیڑھی ہو جائے،یہ کہاں ممکن ہے۔اب تو سب مبنی بر حق ہی ہوتا ہے تو مبنی بر حق ہی ہوا۔ہر فرد یہاں اس قدر کا ذمہ دار ہے اور دوسرے کے حق کی تمیز رکھتا ہے۔مہاراج کی زبانی ہی سنئیے ’’اور ایسا واقعہ جیسا تو بیان کرتا ہے،پیش آئے تو میں یہ کہوں گا کہ صغیر ناہید اور مقبول برابر فیاض تھے۔یا یہ کہ ان میں سے کوئی خاص طور پر فیاض اور فراخ دل نہ تھا۔ہر ایک اپنا اور دوسرے کا حق جانتا تھا۔اور دل اور جسم کی محبت میں امتیاز کر سکتا تھا۔ان دونوں کے فرق کو سمجھتا تھا۔‘‘

میں یہ کہنے کی پوزیشن میں ہر گز نہیں ہوں کہ یہ طویل افسانہ حد درجہ کامیاب افسانہ ہے۔یہاں تو انسانی جبلت خط مستقیم پر چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اس میں کوئی کجی کوئی ٹیڑھ سب کثیف ماحول میں ہی پیدا ہوتی ہے۔صمدر اور اس کی بیوی کو چھوڑ کر ہر جگہ مثالیت پسندی حاوی ہے۔قدیم عہد کی مدن سینا اور عہد وسطیٰ کا۔۔۔۔۔قابل اعتبار اس لئے معلوم ہوتے ہیں کہ اس عہد کے پس منظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عہد تک تمدن نے آدمی پر اس قدر خول نہیں چڑھائے کہ انسان کا خول آدمی کو اس کی جیون سے باہر نہ آنے دے۔لیکن بعد کی صورتیں قابل غور ہیں۔اگر چہ امکانی صورت صمدر بھی ہے اور صغیر و ناہید بھی۔ان کی فلسفیانہ سرگوشیاں اور خود کلامیاں بھی لیکن محل نظر بات اس افسانہ کا انجام ہے۔جو بتاتا ہے یہاں انسانی رویوں کو ترازو پر تول کر استعمال میں لایا گیا ہے جو فطری معلوم نہیں ہوتا ہے۔اشتراکیت لاکھ تیز سہی لیکن اتنی بھی نہیں کہ روح کا تزکیہ کرے،وہ تو ذہن کی غذا بھر ہے۔

اس طویل تجزیہ سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ طویل افسانے میں کسی موضوع کو برتنے کا امکان کس حد تک ہے اور یہ کام مختصر افسانے سے کیوں کر ممکن نہیں ہے۔عورت کو تاریخی تناظر میں دیکھنے اور تہذیبی تسلسل کے سیاق میں دیکھنے کی یہ کوشش طویل افسانے میں ہی ممکن تھی۔مختصر افسانہ اسے سہار سکنے کا اہل نہیں ہو سکتا تھا۔اس طرح کے بہتیرے موضوعات طویل افسانے میں بہتر ڈھنگ سے اظہار پا سکتے ہیں۔

کو ئی بھی مستقل صنف اپنے خالق سے نام نہیں پاتی،نہ ہی قاری سے بلکہ اس صنف کا ساختیاتی نظام اس میں کارفرما تشکیلی طریقہ کار ان خطوط کی طرف لے جانے میں مدد کرتے ہیں جو ایسی اختصاصی شناختوں کو اجا گر کرتے ہیں جن کی بنیاد پر صنف کا مستقل وجود قائم ہو تا ہے۔صرف فکرو خیال کو صنفی شناخت کی بنیاد قرار دینا ممکن نہیں ہے۔خارجی ہیئت اور طریقہ اظہار ہی کسی امتیازی اظہار کی صنفی صورت گری کر تے ہیں۔صرف ایک واحد تجربہ صنف کو مستحکم اور قائم کرنے کا اہل نہیں،بلکہ تخلیقی عمل کے تسلسل میں اس کی وافر شہادتیں بھی ضروری ہیں جو صنفی خصوصیات کی عملی شہادتیں مہیا۔ کرتی ہیں۔کوئی ایک تجربہ فقط شذوذ کے دائرہ میں ہی رکھا جاسکتا ہے۔قاضی افضال رقم طراز ہیں کہ :

’’صنف کے قائم ہونے کے لئے متون میں کم سے کم دو صفات کا مشترک ہونا ضروری ہے۔اور ایک مثالی صنف میں کم سے کم ایک صفت ہیئت اور ایک صفت موضوع یا بیان کی لازما مشترک ہونی چاہئے (مثلا رباعی )یا موضوع میں خود موضوع کیدو تخصیصی صفات ہونی چاہئے تاکہ وہ صنف کہی جا سکے۔کسی ایک صفت کی بنیاد پر اردو میں کوئی صنف قائم نہیں ہوتی۔ایک صفت کی بنیاد پر کسی صنف کی کوئی قسم قائم ہو سکتی ہے،صنف نہیں۔
’’صنف کے قیام کی ایک بنیادی شرط،مشترک صفات کا متون میں تواتر ہے۔تجربہ پسندی کے شوق میں یا ’’موجد صنف ‘‘ کہلانے کے شوق میں کوئی تخلیق کار کسی صنف کی مشترک صفات کی شکل بگاڑ کر کوء صنف ’’ایجاد‘‘ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے (مثلا آزاد غزل )اور اپنے دعوے کے ثبوت میں خود اپنے کلام کے علاوہ بمشکل اپنے گروہ کے کسی دوست،شاگرد یا مؤید کا کلام ہی پیش کر سکتا ہے،تو وہ صنف نہیں ایجاد کر رہا،اپنی عجب کی تسکین کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔‘‘

طویل افسانہ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو متون کا ایسا وافر ذخیرہ ملتا ہے جو متون میںمشترک صفات کی موجودگی کی شہادت دیتا ہے۔ہیئت کی سطح پر ہم طویل افسانے کو مختصر افسانے سے ان معنوں میں مختلف پاتے ہیں کہ اس کا بیانیہ اختصار کے بجائے تفصیل طلب ہو تا ہے۔اس میں جزئیات کی نہ صرف گنجائش ہوتی ہے بلکہ کردار کے بھر پور اظہار کے لئے بسا اوقات جزئیات نگاری لازم ہو جاتی ہے۔طویل افسانے کا حسیاتی و منظریاتی جہان بھی مختصر افسانے سے قدرے وسیع اور بھر پور ہوتا ہے۔اگر ہم مختصر افسانے اور طویل افسانے کے ما بین یہ خطوط فاصل پاتے ہیں تو کیا ان کی بنیاد پر طویل افسانہ کو علاحدہ صنف کا درجہ دے سکتے ہیں ؟جلیل کریر طویل افسانے کے وجود کو معرض سوال میں لاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جب مختصر افسانے میں ہم صنعتی زندگی اور انقلابی تبدیلیوں کا عکس اتار سکتے ہیں تو طویل افسانہ کیوں کر لازم ہوا۔اس کی ضرورت اور وجود کا جواز کیا ہے ؟وہ لکھتے ہیں:

’’اگر مختصر افسانے میں صنعتی زندگی کی لال چری کو اپنے شیشے میں اتار سکتے تھے تو خواہ مخواہ طویل افسانہ کیوں آزمایا گیا ؟اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’طویل مختصر افسانہ‘کوئی بالکل علاحدہ صنف ادب نہیں۔دوسرے یہ کہ افسانوی فارم تمام تر مواد اور موضوع پر مبنی ہوتی ہے۔فن کار سب سے پہلے اپنے موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے حسب حال خام مواد اکٹھا کرتا ہے۔یہی اسے فارم کے انتخاب میں ممد ہوتا ہے۔کئی جگہ اشاراتی انداز کی ضرورت ہوتی ہے اور کہیں پھیلائو اور وضاحت کی۔اگر فنکار سمجھتا ہے کہ وہ کہنے کی بات کو چند ہلکے ہلکے خطوں میں اجاگر کر سکتا ہے تو وہ یقینا مختصر افسانے کا انتخاب کرے گا۔اگر تصویر کو ابھارنے میں لمبے اور واضح خطوں کی ضرورت ہے تو وہ قدرتی طور پر طویل مختصر افسانے کی صنف کا استعمال کرے گا۔‘‘

کیا طویل افسانے کے موضوع اور مواد میں ایسی تخصیصی صفات ہیں جو اسی کے ساتھ خاص ہوں تو اس باب میں ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ تخصیصی صفت اجمال کے مقابلے تفصیل کی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ا س کے ساتھ کوئی موضوع خاص ہو کہ وہ موضوع طویل افسانے میں بیان ہو سکتا ہے اور کہیں نہیں۔تکنیک کی سطح پر جو تغیر اور طویل افسانے کی طوالت طلبی اور کثیر جہتی اور ابعادی تنوع کو کیا ہم اس کی ایسی صفات قرار دے سکتے ہیں جو بطور صنف اس کی تشکیل کرتی ہوں۔طویل افسانہ موضوع اور مواد سے جوسلوک کرتا ہے اور جس طرح اپنے حجم کے حجرے میں مسند نشین کرتا ہے اس سے ابو بکر عباد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ ایک جداگانہ صنف ہے۔لکھتے ہیں :

’’طویل مختصر افسانہ ناول اور مختصر افسانے سے جدا صنف اور انتہائی محتاط فن ہے۔جس میں نہ تو مختصر افسانے کا سا اختصار ہے نہ ہی ناول کا سا پھیلائو بلکہ مختصر افسانہ جن چیزوں کا متحمل نہیں ہو سکتا طویل مختصر افسانے میں وہ چیزیں بڑی خوبی سے جگہ پاسکتی ہیں۔اور ناول میں بھی ہمارے بعض ماہرین سے بھی جو بے اعتدالیاں ہو تی ہیں اس کی گنجائش بھی اس صنف میں بہت کم رہ جاتی ہے۔‘‘

قاضی افضال نے طوالت کے باعث طویل افسانہ کو صنف ماننے سے احتراز کیا ہے۔۱

میں اس بحث میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ فقط طوالت طویل افسانہ کا وصف نہیں بلکہ موضوع و مواد کو برتنے اور بیانیہ کو قائم کرنے کا اس کا اپنا طریقہ مختصر افسانے سے مختلف ہے۔اگر با ضابطہ طویل افسانے کے لوازم کو مد نظر رکھ کر یہ سوال قائم کیا جاتا اور اس سوال کا تسلسل نہ ٹوٹتا تو اب تک یہ بات واضح ہو گئی ہوتی کہ طویل افسانہ کے شناختی امتیازات اور علامات اس نوع کے ہیں کہ اسے علاحدہ صنف کا درجہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ناقدین کے پس و پیش کی جو وجہ معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اب تک ہمارے یہاں الگ زاویے سے طویل افسانے کو دیکھنے کی کوششیں کم ہوئیں ہیں۔آج سے نصف صدی پہلے جو کوششیں جلیل کریر،مظفر سید اور ممتاز شیریں نے اس باب میں کی ہیں، اس پر مستقل مکالمہ قائم ہوا ہوتا تو مختصر افسانے اور طویل افسانے کا فرق واضح ہو گیا ہوتا۔

Categories
فکشن

کچا

اس کی پیدائش وقت سے پہلےہوئی۔ دائی نے لا کر باپ کی گود میں ڈالا تو اس کے نا مکنل ہاتھ پاؤں کا بتا دیا۔ باپ کو اپنے باپ کی بد دعا یاد آئی۔باپ نے اس کاکچا ہونا جان لیا۔ بعد میں کچھ اور باتیں باپ کے سامنے اس کے کچے ہونے کے ثبوت لاتی رہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کی یاداشت سے دو مناظر کبھی دھندلا ئے نہیں گئے۔ جانے کیسے وہ پکے رہ گئے۔

پہلا منظر تب کا تھا جب ماں کی وفات کے بعد وہ نانی کے پاس رہا تھا ،چارسال بعد اس کا باپ اسے واپس لینے آیا تھا۔ اس منظر میں اس کی روتی ہوئی نانی کے دو سوکھے سےبازو تھے جو اسے اس کے باپ سےواپس لینے کے لئے منتیں کرتے وقت اٹھے ہوئے تھے۔

دوسرے منظر میں اس کی اپنی ماں تھی۔اس کے پیچھے پیچھے چلتی۔اپنے مر جانے سے پہلے۔ قبرستان سے لکڑیاں جمع کرنے جاتے وقت وہ اسے ساتھ لے جاتی تھی۔ آم اورلیموں کے باغات کے درمیان گذرتے گری ہوئی کیری یا لیموں اٹھانے پر کبھی جھڑکتی تو کبھی چپت مار دیتی۔پھر پھینک دینے پر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی چلتی۔واپسی پر ماں کے دونوں ہاتھ سر پر پڑے لکڑیوں کے گٹھے کو سنبھالنے میں لگے ہوتے تو وہ کیری یا لیموں اٹھانے کی جرات کرلیتا۔بڑا آم تو اس کے ادھورے ہاتھوں نے کبھی نہ اٹھایا۔ زرد رنگ کے لیموں کی خوشبو اور کٹھاس اچھی لگتی تھی۔وہ لیموں سونگھتا ،ماں کی جھڑکیاں کھاتا گھرکی طرف چلتا رہتا۔گھر تک پہنچتے ماں کا غصہ ٹھنڈا پڑ جاتا۔پھر وہ لیموں کو دن بھر پسیجتے ہاتھ میں پکڑے سونگھتا رہتا۔مگر اب لکڑیاں لینے قبرستان جاتے کیری یا لیموں اٹھانے کی ہمت نہ پڑتی۔ویسے بھی خالی پیٹ اسے پیلو کا پھل کھانے پر اکساتا ہوتا۔نئی اماں جب صبح میں اس کا کان اینٹھتے لکڑیوں کے لئے گھر سے باہر نکالتی ، وہ سہما ہوا آم اور لیموں کے باغوں کے درمیان گذر جاتا۔بس اس وقت اماں زیادہ یاد آنے لگتی جب کانٹے دار جھاڑیوں سے لکڑیاں چنتے کانٹا چبھ جاتا۔ اس کے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا اور اشہد انگلی چونکہ پیدائشی ناخن والے حصے سے محروم تھے، اس لئے کانٹا بہت مشکل سے نکل پاتا۔اور جس دن لکڑیاں گھر لے جانے میں دیر ہوتی اس دوپہر کھانا نہ ملتا۔نئی اماں دھکیل کر دروازہ اندر سے بند کرلیتی۔وہ گاؤں کی گلیوں میں پھرتا یا جوہڑ کنارے درختوں کے سائے میں جا بیٹھتا۔بھوک زیادہ ستاتی تو گاؤں کے چنگے مڑس(وڈیرے) کی دیوڑھی میں چپ چاپ اکڑوں بیٹھ جاتا۔دیر سویر چنگے مڑس کی بیوہ بہن کی نظر پڑتی تو وہ اس کے سامنے کھانا لا کر رکھتی اور پھر اس کی نئی اماں کو صلواتیں سناتی۔ایسی باتیں باپ تک پہنچانے کا اسے کبھی خیال نہ آیا۔دو تین مرتبہ نئی اماں نے باپ کو اس کے لکڑیاں دیر سے لانے کی شکایت کی تھی۔ باپ نے گرم ہوکر اسے طمانچے جڑ دیے۔ اب باپ کا لال بھبوکا چہرہ بھوک سہنے میں مزید مدد دیتا۔ویسے بھی وہ باپ کو دیکھ کر بلی کے بچے کی طرح ادھر ادھر دبکنے لگتا۔

اس کے کچھ بڑے ہوجانے پر باپ نے شہر کے مدرسے میں داخل کروادیا۔اسی شہر میں باپ کی سائیکل پنکچر کی دکان تھی۔صبح کو باپ ساتھ لے جاتا اور شام ڈھلے واپس لے آتا۔اب کانٹوں اور بھوک سے اس کی جان چھوٹ چکی تھی۔مگر خوش وہ پھر بھی نہ تھا۔اس سے قاعدہ بغدادی کا سبق ہی یاد نہ ہوتا تھا۔مدرسے کے پکے فرش پر استاد حافظ کے آگے دورویہ قطار میں بیٹھے،سبق کو زور زور سے دھرانے کے بعد بھی وہ الفاظ کو بھلا بیٹھتا۔وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجاتے اور وہ انہیں پہچان ہی نہ پاتا۔استاد حافظ کے ڈنڈے کا ڈرمحنت تو کرواتا مگر سنانے جاتا تو سبق اس کے اندر سے پھسل جاتا۔ ہاتھوں پر بید کی ضربیں سہتا وہ پھر سبق پکا کرنے میں مگن ہوجاتا۔اگر کسی وقت ٹنڈ منڈ درخت جیسے بغیر ناخن والی سیدھے ہاتھ کی دو اور الٹے ہاتھ کی چار انگلیوں کے سرے پر بید پڑتا ، اس پر سکون حرام ہوجاتا۔آنکھیں مدرسے کی چھت میں لگے پر نالے کی طرح بہہ نکلتیں۔جیسے تیسے کر کے اس نے قاعدہ بغدادی ختم کیا اور قرآن پڑھنا شروع ہوا۔ایک شام وہ روزانہ کی طرح عصر نماز کے بعد مدرسے کے باہر روڈ پر آبیٹھا اور اور باپ کا انتظار کرنے لگا۔سورج غروب ہوتا گیا۔مغرب کی آذان ہوگئی۔باپ نہ آیا۔وہ مسجد میں نماز پر جانے کی بجائے وہیں باپ کا انتظار کرتا رہا۔تھوڑی دیر میں بازار کی سنسانی، اندھیرے اور انتظار نے دل کو دہلانا شروع کیا۔ وہ اٹھ کر گاؤں جاتے راستے پر چلنے لگا۔کچھ دور چلنے کے بعد خالی راستے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگوادی۔ وہ مدرسے گیا تو استاد حافظ نے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔استاد حافظ اپنی مقرر کردہ مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔مسافر شاگرد سبق پڑھ رہے تھے۔

“تیرا ابا کہہ گیا ہے کہ اب تو یہاں رہے گا۔جا ،جاکر سبق پڑھ”یہ بات سن کر اس کا دل دھڑکنا چھوڑ کر پاؤں کی تلیوں میں جا پڑا۔وہ اٹھا اور مسافر شاگردوں کی صف میں جا بیٹھا۔رات کو سونے کا وقت ہوا۔ ہر ایک اپنا اپنا بستر کھول کر سونے کی تیاری کرنے لگا۔اس کے پاس بستر تھا ہی نہیں۔اس نے مدرسے کے ساتھ موجود مسجد میں ایک صف کو لپیٹ کر سرہانہ بنایا اور وہیں لیٹ گیا۔دوسرے دن باپ کی دکان پرچلا گیا۔

“اب تو مدرسے میں رہ اورپڑھائی کر۔میں تیرا بستر اور کپڑے لے آؤں گا۔”باپ نے دیکھا تو اتنا بول دیا۔وہ بیٹھا ٹکر ٹکر باپ کی صورت دیکھتا رہا۔ایک دو دن میں بستر اور کپڑے آگئے۔دن بدن اس کی کمزور یاداشت سے گاؤں کی گلیاں،جوہڑ نکلتا گیا۔وہ مسجد میں بچھی صفوں میں سے ایک صف بن گیا۔اسے خود یاد نہیں رہا کہ کتنے سال اس کو قرآن پورا کرنے میں لگ گئے۔قرآن ختم کرنے کے بعد استاد حافظ نے باپ کو بلایا۔

“تیرا بیٹا کسی کام کا نہیں۔اس کا ذہن ہی نہیں۔اس سے چھ کلمے اور سورتیں یاد نہیں ہوتیں وہ سارا قرآن کیسے حفظ کرے گا۔”
“حافظ جی میرے بھی تو کسی کام کا نہیں۔ہاتھ دیکھیں ہیں آپ نے اس کے؟وہ نہ پنکچر لگانے کا کام کر سکتا ہے نہ اس سے کدال بیلچا پکڑ کر مزدوری کی جائے گی۔میں اس کا کروں گا کیا؟آپ مہربانی کرو۔”

“اس کو درس نظامی والے مدرسے میں چھوڑ آؤ میں مولانا صاحب کو کہتا ہوں۔وہ اس کا کچھ کرلیں گے۔”باپ نے جا کر دوسرے مدرسے مولانا صاحب کے حوالے کیا۔درس نظامی شروع ہوا۔پہلے سال میں فارسی کی کتب تھیں۔یہ کام اسے ذرا آسان لگا۔آہستہ آہستہ پھر وہی دن لوٹ آئے۔عربی گرامر کی ابتدا کیا ہوئی۔اس کو کچھ سمجھ نہ آتا۔مار،کٹائی،تذلیل سہنے میں مشکل تب تک رہی جب تک اس نے ان سے ہم آہنگی پیدا نہ کرلی۔وقت کٹ رہا تھا۔کبھی پاس کبھی فیل کا سلسلہ جاری رہا۔اس نےروز شب کے مروجہ ڈگر پرخود کو ڈھالنے کی قوت حاصل کرلی تھی۔پھر ایک عرصہ بعد مصائب کے ایک دھارے نے اس کا رخ کرلیا۔اس وقت وہ چھٹی جماعت میں ہونے کے ساتھ اس مسجد میں مؤذن کے طور پر آذان کہتا اور صفائی کا کام کرتا تھا جہاں مدرسہ کا ایک استاد پیش امامت کرتا تھا۔اس کو کھانا وغیرہ مل جاتا تھا۔ باقی تنخواہ کے بارے استاد صاحب سے بات کرنا مؤخر ہوتی رہی۔کبھی کبھار کوئی شاگرد کہنے پر ابھارتا۔کہتا مسجد کمیٹی والے استاد صاحب کو مؤذنی کی تنخواہ دیتے ہیں۔وہ استاد صاحب سے مانگ لے۔مگر ایسا مناسب موقعہ کبھی پیدا نہ ہواکہ وہ اپنی تنخواہ حاصل کرنے کا استاد کو عرض کر سکے۔ ایک جمعہ مسجدمیں استاد صاحب نے چھٹی کی اور اسے خطابت و نماز کے لئے کہہ دیا۔ اس نے اپنے تئیں تیاری کی اور سنبھل سنبھل کر خطابت کی اور جمعہ پڑھایا۔کمیٹی کے صدر کو اس کا انداز بہت پسند آیا۔اس نے بعد جمعہ نمازیوں سے کٹھے کیے جانے والے چندہ میں سے چند سو اس کو دیے اور تقریر کی تعریف کی۔وہ وہاں سے اٹھا اور ہوٹل پر جا کر پہلی بار اپنی مرضی سے کچھ کھانے کا ارمان پورا کیا۔دوسرے دن اوقات تدریس میں استاد صاحب نے بلایا۔وہ صدر صاحب کے دیے پیسوں کا پوچھ رہے تھے۔ اس نے پیسے خرچ کردینے سے آگاہ کیا کیا استاد صاحب نے اسے زبان کی دھار پر رکھ لیا۔تفسیر کی کتاب سامنے رکھے انہوں نے اس کے قریبی زنانہ رشتوں کو خوب ادھیڑا۔اس دوران نادانستگی میں اس نے دلیل کے طور پر صدر صاحب کے خود پیسے دینے کی بات کہہ ڈالی۔استاد صاحب نے نہ صرف پاس رکھا بید اٹھایا بلکہ خود اٹھ کھڑے ہوئے۔ پہلے خیال نے اس کے دونوں ہاتھ بغلوں میں چھپاکر بچانے کی سعی کی اور نشانہ پیٹھ و بازو بنے۔کاروائی مکمل ہونےکے بعد وہ کراہتا جان بخشی کا خیال لاتے رخصت ہوگیا۔ مگر یہ ممکن نہ ہوا۔اگلی صبح وہ سبق پکا نہ ہونے پر نشانہ بنا۔رات بھر سبق یاد کر کے پکا سنانے کے بعد عبارت میں غلطیاں سرزد ہونے پر دھنک دیا گیا۔اس سے کچھ دن بعد دور پکا نہ ہونے پر مارا گیا۔روز مرہ کی سزا سہنے کی تو وہ طاقت رکھتا تھا مگر مقدار اس قدر تھی وہ داڑھی آنے کے بعد پہلی بار دھاڑیں مار مار کر رویا۔ الگ بات یہ تھی اسے مسجد کی مؤذنی سے نکال دیا گیا۔ہاتھ پاؤں مار کر ایک ہم سبق کی کوشش سے اس نے اور مسجد میں جگہ حاصل کی۔دو دن کے بعد اوقات کار کی بے ضابطگی اور پڑھائی میں پیچھے ہونے کی وجوہات بتا کر کہیں بھی مؤذنی و امامت پر روک لگادی گئی۔ساتھ میں عتاب و سزا تعطل کے بغیر چلتا رہا۔یہ دن تھے جب اس کے لئے نہ پائے ماندن تھی نہ جائے رفتن۔اگر کہیں بھی کوئی در کھلا ہوتا وہ اس کو چل نکلتا۔البتہ شہر کا قبرستان تھا جہاں وہ عصر کے بعد جا بیٹھتا۔ کسی دن کوئی اپنے عزیز و اقارب کی قبر پر آیا ہوا اس سے فاتحہ اور دعا کرواتا اور اس کے ہاتھ چند روپے پکڑا دیتا۔

چھٹیوں میں جب وہ گاؤں گیا عرصہ دراز بعد چنگے مڑس کی بیوہ بہن سے ملنے گیا۔اس نے اس کو اپنے شوہر کی قبر پر جا کر فاتحہ خوانی کا کہا اور آتی سردیوں کی مناسبت سے ایک رضائی دے دی۔قبرستان پہنچ کر اس نے قبر کی صفائی کی اور فاتحہ پڑھ کر واپس ہونے لگا۔اسے ماں کی قبر یاد آئی۔وہ جا کر خستہ حال قبر پر کھڑا ہوا۔جب قبر کی مٹی اور کچی اینٹوں کو درست جگہ ٹکا کر فارغ ہوا سورج ڈھلنے پر آگیا تھا۔وہ قبر کی پائینتی کی طرف فاتحہ خوانی کے لئے جا بیٹھا۔فاتحہ خوانی شروع تو کردی تھی مگر پورا کرنے پر قادر ہی نہ ہو رہا تھا۔چند الفاظ ادا کرتا اور آگے ہچکیاں نکل جاتیں۔دہرا ہوتے ہوئے وہ قبر کے تعویذ پر ماتھا ٹیک دیتا۔دل تھا کہ پھٹنے پر آیا ہوا تھا۔ قبرستان کی حد پھلانگ کر لیموں کے باغ میں قدم رکھا تو اسے لگا جیسے بچپن کی مانند ماں قدم بہ قدم اس کے پیچھے چلتے آرہی ہو۔وہ وہیں سے واپس بھاگا۔جب گھر پہنچاعشا ہوئے دیر ہو چکی تھی۔اس دن سے چھٹی ختم ہونے کے دن تک بلا ناغہ قبرستان جانا اور ماں کی قبر پر بیٹھنا لازم ہوگیا۔وہاں کے سنسان اور اجاڑ ماحول میں بیٹھے رہتے اسے کچھ قرار حاصل ہو جاتا۔ مدرسے کے کھلنے کا دن آیا۔اس نے کپڑے پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر رضائی سر پر رکھی اور پیدل چلتا مدرسے جا پہنچا۔اس بار سردیوں میں گرم رضائی نے سکھ سے سلایا۔پہلے تو دو رلیاں اوپر لینے کے باوجود ٹھیک طرح نیند ہی نہ آتی تھی۔

باقی آخری دو سال تھے۔ایک ساتویں جماعت ،جسے موقوف علیہ بھی کہا جاتا تھا اور پھر دورہ حدیث۔ان دونوں سالوں میں اس نے جمعرات کی جمعرات مدرسے میں ہونے والی تربیتی نشست کے ذریعے خطابت کا طریقہ سیکھ لیا۔دورہ حدیث کے اختتام تک وہ اچھا بولنے پر قدرت حاصل کر چکا تھا۔صدر مدرس صاحب اس کی اس خوبی سے واقف تھے۔دورہ حدیث مکمل کر کے جب وہ درس نظامی سے فارغ ہوا تب سالانہ پروگرام کے اندر اسے دستار فضیلت پہنائی گئی۔پر فخر باپ نے گلے لگا کر ماتھا چوم لیا۔گاؤں جانے کی نوبت نہ آئی۔ صدر مدرس نے شہر کی ایک مسجد میں اسے خطیب و امام مسجد مقرر کروادیا۔بطور خطیب و امام اس کا پہلا جمعہ تھا۔ مؤذن آذان کہہ کر ،منبر پر مصلا جما کر اسے خطابت کے لئے عرض کرنے آیا۔ وہ نہا دھو کر عطر لگائے تیار تھا۔ سفید لباس پہنے اور سفید رومال سر پر ڈالے وہ حجرے سے نکل کر مسجد کو آیا۔حاضرین اسے دیکھ کر احتراما اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے منبر پر تشریف فرما ہونے تک کھڑے رہے۔مؤذن نے بٹن آن کیا۔لائوڈ چیک کرکے مائیک اس کے منہ کے آگے رکھا اور پھر سامنے موجود صف میں دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔اس نے عربی الفاظ سے خطبے کی ابتدا کی اور پھر موضوع تک آتے آواز متاثر کن حد تک بھاری ہو چکی تھی۔دوراں خطبہ ایک نکتہ بیان کرتے وہ جوش میں آیا۔اس نے جملے کا اختتام کیا تو مسجد حاضرین مجلس کی سبحان اللہ سے گونج اٹھی۔ اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

Categories
فکشن

بساند

کنجی تالے میں پیوست ہونے کے بجائے، ہاتھوں سے چھوٹ گئی‪‬ گرد آلود فرش پر ٹیڑھے میڑھے نشانات بن گئے۔ بیٹے احمد نے جھک کر کنجی اٹھائی، تالا کھولا، تالے کو کنڈے سے الگ کیا اور دروازے کو وا کر دیا۔ سامنے آبائی مکان کا صحن گرد کی دبیز تہہ میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ دالان سے گذر کر، صحن میں چند قدم چلنے کے بعد، احمد نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور کہا کہ ہمارے جوتوں کے تازہ تازہ نشانات کیسے عجیب لگ رہے ہیں؟ ‪”لیکن ابو! جوتوں کے شانہ بشانہ یہ سوئیوں جیسے نشانات کیسے ہیں؟‪” ‪” ان نشانات کے مقابلے میں ہمارے قدموں کے نشانات بھوت یا ڈاکو کے قدموں کے نشانات لگ رہے ہیں۔‪”
‪” گوریوں کے۔‪”

مختصر سا جواب دیتے ہوئے میری نگاہ برآمدے سے منسلک کمروں کی دیوار میں نصب جالیوں پر پڑ گئی۔ دادا مرحوم کے کمرے، جس کو ان کی وفات کے بعد ہم لائبریری کی طرح استعمال کرنے لگے تھے، کی جالی سے ایک گوریا بڑی ہی نفاست کے ساتھ باہر نکلی اور پھر سے اڑ گئی۔ بچپن کی متعدد تصویریں نہاں خانوں سے باہر نکل آئیں، گویا یادوں کا ایک البم سا کھل گیا۔ دادا کے کمرے والی جالی کے سامنے ایک چٹائی پر دو چھوٹے چھوٹے ڈیسک لگا کر ہم دونوں بھائی پڑھا کرتے اور دادا ابو سامنے چارپائی پر لیٹ کر حقہ گڑگڑاتے ہوئے اخبار دیکھا کرتے تھے۔ ہم دونوں بھائیوں کی دلچسپی اپنی کتاب اورتختی میں کم، چڑیوں کی آمد و رفت، ان کی تعداد اور ان کی چوں چوں میں زیادہ ہوا کرتی تھی۔ آج بھی ذہن میں وہ واقعہ تازہ ہے جب دادا کے کمرے میں ایک روز اچانک دھم سے کچھ گرنے کی آواز سنائی دی تھی۔ مجھ سے دو برس بڑے، بھائی ہارون نل پر بیٹھے اپنی تختی دھونے میں مصروف تھے۔ میں دوڑ کر دادا کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ الماری سے ایک موٹی سی کتاب نیچے گری ہوئی تھی۔ میں نے جھک کر کتاب اٹھائی، جس کے نیچے دم توڑتی ہوئی ایک گوریا برآمد ہوئی۔ احتیاط سے اس کو اٹھا کر پانی پلایا، زندگی برقرار رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی لیکن وہ چند منٹوں میں ہی جاں بحق ہو گئی۔ جس کو میں نے صحن کے وسط میں موجودکیاری میں مٹی کھود کر دفن کر دیا۔

دادا ابو کے حکم کے مطابق ہم دونوں بھائی ناشتے کے بعد سے بارہ بجے تک قاعدہ،تختی اور قلم دوات لے کر بیٹھے رہتے۔ یہ بارہ بجنے کا لمحہ بھی ان دنوں کتنا جانفزا ہوا کرتا تھا۔ اس سے متعلق ایک واقعہ آج بھی بالکل تازہ ہے۔ ہوا یوں کہ بارہ بجے سے قبل اجابت کا بہانہ بنا کر، گھر کے، بالکل دوسرے کونہ میں واقع بیت الخلا میں گھس گیا۔ کافی دیر تک اندر بیٹھا رہا۔ بیٹھے بیٹھے ٹانگیں دکھنے لگیں لیکن بارہ بجے سےقبل باہر نکلنا، دادا کے حضور بیٹھ کر ‪”الف‪” ‪”ب‪” زبر ‪”اب‪”، ‪”الف‪” ‪”پ‪” زبر ‪”اپ‪” یا تختی کو سفید سے سیاہ کرنے کے بے کار عمل کو دعوت دینا تھا۔ اس سے بہتر تو یہی تھا کہ بارہ بجے تک کا وقت یہیں گزارا جائے۔ بیت الخلا میں بیٹھا یہی سب کچھ سوچ رہا تھا کہ بیت الخلا والی گلی میں کچھ آہٹ محسوس ہوئی۔ مجھے لگا کہ بھائی ہارون ہیں اور میں نے وہیں سے استفسار کیا کہ بھائی! امی سے پوچھیے کہ بارہ بج گئے کہ نہیں۔ بھائی یا امی کے بجائے، بیت الخلا سے ملحق استنجا خانے سے دادا کی پھٹکار سنائی دی ‪” کامچور باہر نکل بتاتا ہوں۔‪”

اس بیت الخلا والے منظر پر گوریا کے مرنے والی تصویر اچانک حاوی ہو جاتی ہے۔ اس کی وفات بارہ بجے سے کچھ قبل ہوئی تھی اور فورا ہی میں نے اسے دفن کر دیا تھا اور پھر سے دادا کے سامنے بیٹھ کر بظاہر پڑھنے لکھنے میں مصروف ہو گیا تھا لیکن جیسے ہی گوریا والی جالی کے اوپر نصب گھڑیال نے بارہ کا گھنٹا بجایا میں تیزی سے اٹھا۔ ہینڈ پمپ کے نیچے لوٹا رکھا، پوری طاقت صرف کرکے آدھا لوٹا پانی بھرا اور مدفون گوریا کے اوپر ڈالنے لگا۔ دادا تو اپنے مطالعے میں مصروف رہے لیکن باورچی خانے میں موجود امی جو ہمارے لیے کھانا نکال رہی تھیں آواز لگائی ‪”بیٹے! اس بھری دوپہر کے وقت دھوپ میں کیا کر رہے ہو؟‪” میں نے بھی بڑی معصومیت سے جواب دیا تھا کہ ایک چڑیا مر گئی۔ اسے یہاں بو دیا ہے جلد ہی چڑیا کا پیڑ نکلے گا۔ اس میں بہت ساری چڑیاں نکلیں گی جو پورے گھر میں چوں چوں کریں گی۔ اس جواب کو سن کر دادا ابو بھی زور سے ہنسے تھے۔

چڑیاں ہی شاید پہلی جاندار شئے تھی جن سے جزباتی رشتہ استوار ہو گیا تھا جن کی چوں چوں زبر زیر اور پیش کی یکسانیت کو زیر و زبر کرنے کے لیے کافی تھی لہذا پڑھنے کے لیے بیٹھنے سے قبل ہم ان کے لیے دانہ اور پانی رکھنا نہیں بھولتے تھے۔ ان کو چھو لینے کی ایسی خواہش تھی کہ ایک ڈنڈے میں لمبی سی رسی باندھتے اور اس ڈنڈے کے سہارے ایک دوری کو اوندھا کرکے ٹکا دیتے نیز دوری کے نیچے تھوڑا سا دانہ بکھیر دیتے‪پھر رسی ہاتھوں میں لیے گھنٹوں انتظار کرتے رہتے کہ کب چڑیا دانہ چگنے کے لیے دوری کے زیر سایہ آتی ہے اور ہم رسی کھینچ کر اسے دوری میں قید کر لیں گے۔چڑیاں آتیں دانہ بھی چگتیں لیکن رسی کھیچنے سے قبل ہی پھر سے اڑ جاتیں۔ ان کے لمس کی حسرت لیے ایک دن ہم دونوں بھائی میز پر اسٹول رکھ کر، اس جالی کی پشت پر بنی سیمنٹ کی الماری تک جا پہچے لیکن وا حسرتا کہ وہ پھر سے اڑ گئی۔ لیکن ہم نے اپنا پیار جتاتے ہوئے اس کے گھونسلے کو جوتے کے ڈبے میں رکھ کر اپنے تئیں اس کو ایک کاشانہ عطا کر دیا۔ وہ رمضان کا آخری عشرہ تھا، ہم سب کے جوتے کپڑے خریدے جا چکے تھے۔ کپڑے تو امی نے احتیاط سے بکس میں بند کر دئے تھے ہاں جوتے ہمارے ہاتھوں میں تھما دیے گئے، جن کو روزآنہ، صبح سویرے، ہم دونوں بنا ضرورت کپڑوں سے رگڑ رگڑ کر صاف کرتے پھر احتیاط سے ڈبوں میں بند کر دیتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گوریے کے لیے اپنے جوتے کے ڈبے کی قربانی بالکل بھی گراں نہیں گذری تھی۔ بلکہ خوش تھا کہ میرے ایثار کے سبب گوریوں کو ایک اچھا سا گھر مل گیا ہے۔ جس سے قبل بیچاری کے پاس محض دروازے ہی دروازے تھے جالی کے سوراخوں کی شکل میں۔

غالبا ‪”دروازہ‪” وہ پہلا لفظ تھا جس کو پڑھنا اور لکھنا بہت اچھا لگا تھا۔ کتنا آسان کہ ہر حرف کو علیحدہ علیحدہ لکھتے جاو اور ایک بامعنی خوبصورت لفظ تیار ہو جائے۔ شاید یہی وہ پہلا لفظ تھا جس کے معنی و مفہوم کے دروازے پہلی ہی بار میں ہی مجھ پر وا ہو گئے تھے، جس کے باہر ایک عجیب و غریب اور حیرت انگیز دنیا آباد ہے جبکہ گھر، گرچہ بہت کشادہ تھا، چڑیوں کے گھونسلوں کے مانند محسوس ہوتا تھا۔ جبکہ آج پچاس کے پیٹے میں داخل ہونے کے بعد دروازے کی لعنت اور گھونسلے کی برکت واضح ہونے لگی تو اب یہی دروازہ اندر کے بجائے باہر کی جانب سے کتنا من موہک لگتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ تقریبا ایک سال سے مقفل تھا۔ ہوا یوں کہ والد صاحب کی زندگی میں ہی ہم سب یکے بعد دیگرے، تلاش معاش کے سبب دور دراز شہروں میں منتقل ہو گئے اور ان کی وفات کے بعد مجبورا گھر مقفل کرنا پڑا۔ ہم سب کے بچے بڑے ہونے لگے تھے ان کی تعلیمی مصروفیات، بورڈ کے امتحانات اور کالج میں داخلے کے مسائل آبائی وطن کی جانب لوٹنے کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے تاہم امسال ہم سب بھائی بہنوں نے مل کر یہ پروگرام بنایا کہ گرمی کی چھٹیوں میں، ایک ہفتہ ہی سہی، ہم سب آبائی گھر میں میں گذاریں گے۔ میں دیگر بھائی بہنوں کی آمد سے ایک روز قبل ہی پہنچ گیا۔ اس طرح سے صاف صفائی کی ذمہ داری میری تھی۔

تین چار گھر چھوڑ کر کام کرنے والی ملازمہ کا گھر تھا۔ اس کے گھر جا کر دستک دی وہ اور اس کے گھر والے اپنوں کے مانند ملے۔ ملازمہ اور اس کے بیٹے نے آکر گھر کی صاف صفائی کی اور میں راشن لینے کے لیے بازا کی جانب چل پڑا۔ راستے میں متعدد جاننے والوں سے ملاقات ہوئی لیکن سب سے وقت کی تنگی کاذکر اور بعد میں ملنے کا وعدہ کرتے ہوئے، راشن کی دکان میں داخل ہو گیا، اور ایک ٹھیلے پر اجناس لدوا کر گھر پہنچا۔ ملازمہ نے در و دیوار کی قاعدے سے صفائی کر دی تھی، جھاڑو لگانے سے گرد و غبار بھی نسبتاََ کم ہو چکا تھا تاہم اب بھی بچپن والے گھر کی مخصوص خوشبوناپید تھی۔ مجھے لگا کہ ایک بار پورے گھر کی دھلائی پونچھائی سے وہ مخصوص خوشبو دوبارہ آنے لگے گی۔ ادھربیوی نے کچن سنبھال لیا اور میں دونوں بچوں کے ساتھ گھر کی دھلائی پونچھائی میں مصروف ہو گیا۔مختصرا، کھانا تیار ہونے تک ہم تینوں نے پورے گھر کو رہنے کے قابل بنا لیا۔ بس لائبریری کی صفائی رہ گئی تھی۔ بچوں کے ساتھ مل یہ طے کیا کہ لائبریری کی صفائی دوپہر کے کھانے کے بعد کی جائے۔ اس لیے ہم سب نہا دھو کے کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔

دال روٹی چٹنی اور اچار پر مشتمل کھانا ہم سب نے بڑی ہی رغبت سے کھایا۔ بچوں کے مطابق محنت کے بعد سادے کھانے کی لذت بھی دو چند ہو جاتی ہے جبکہ میرا خیال تھا کہ اس گھر کی آب و ہوا میں ہی لذت ہے اور یہ لذت اس وقت اور بھی زیادہ تھی جب والدین کا سایہ ہمارے سروں پر موجود تھا۔ ان کا وجود سروں پر گہرے رنگ کے تنے ہوئے دبیز شامیانوں کے مانند تھا جن کے پرے موجود موسم کی سختی، بھوک پیاس کی شدت اور دیگر پریشانیاں عبور کرنے سے گھبراتی تھیں حتی کہ اس شامیانے نے اندیشہائے فردا کے خوفناک سایوں کو بھی اپنی دبازت اور گہرے رنگ کے باعث روک رکھا تھا۔ موجِ فکر بھی ایسی تھی کہ اپنی موت کا تصور بھی ایک جشن جیسا لگتا تھا۔ لیکن دونوں بچے ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ان کے نزدیک میں بذات خود اتنا ذہین، قوی اور پختہ ہوں کہ مجھے کسی سہارے یا شامیانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس نوعیت کی باتیں کرتے ہوئے ہم نے کھانا ختم کیا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر چکرایا اور میں سر پکڑ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔ بیٹے احمد اور بیٹی شفا نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ میں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا کہ شاید بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ابھی دوا کھاتے ہی ٹھیک ہو جاوں گا اور تم لوگوں کے ساتھ لائبریری کی صفائی کروں گا۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع ہو کر گردن بلکہ بازؤں تک درد کی شدید لہر اٹھ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سر کے پچھلے حصے پر کوئی ایک تسلسل کے ساتھ چھوٹی سی ہتھوڑی سے چوٹ کر رہا ہے۔ بچے بھی میری اس بیماری سے واقف تھے لہذا دونوں یک زبان ہو کر بولے کہ آپ دوا کھا کر کچھ دیر کے لیے سو جائیں ہم دونوں لائبریری کی صفائی کر دیں گے۔

میں دوا کھا کر برآمدے میں بچھی چارپائی پر دراز ہو گیا‪۔‬ سر میں شدید دھمک ہنوز جاری تھی جن سے پیدا ہونے والی لرزش کو آنکھوں دانتوں اور جبڑوں تک محسوس کر رہا تھا۔ اور ہر دھمک پر آنکھیں حلقوم سے اور دانت جبڑوں سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہوئے محسوس ہوتے۔ ذہن بٹانے کے لیے میں نے اپنی نگاہیں چڑیوں والی جالی پر مرکوز کر دیں۔ چڑیوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ پورا برآمدہ ان کی چوں چوں سے بھرا پرا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ چڑیاں بھی مہمان یعنی ہماری آمد سے بہت خوش ہیں۔ یہی سب سوچتے ہوئے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ آنکھ لگتے ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ دونوں بچے صفائی کرنے کے لیے جیسے ہی لائبریری میں داخل ہوئے چڑیوں کی استقبالیہ چوں چوں احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن بچوں نے ان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے کتابوں کو یکے بعد دیگرےالماری سے نکالا۔ الماری کو کپڑے سے صاف کیا اور کتابوں کو پونچھ پونچھ کر رکھنا شروع کیا حتی کہ انہوں نے ساری الماریاں صاف کرکے کتابوں کو قرینے سے لگانے کا کام مکمل کر لیا صرف چڑیوں والی جالی کی پشت پر واقع الماری رہ گئی تھی جن میں جہازی سائز کی کتابیں لگی ہوئی تھیں۔

اس جالی والی الماری کے نیچے ایک کھڑکی تھی اور کمرے کی اس دیوار کی چوڑائی کھڑکی کے ایک پٹ کے برابر یعنی تقریبا ایک فٹ تھی۔کھڑکی میں برآمدے کی جانب سے سلاخیں نصب تھیں۔ احمد نے پہلے تو کھڑکی پر چڑھ کر کتابیں اتارنے کی کوشش کی لیکن ایسی صورت میں ایک ہاتھ سے جنگلے کی سلاخ پر گرفت بنائے رکھنا ضروری تھا اس لیے اس نے ایک میز کھسکائی اور ساری کتابیں اتار کر میز کے ایک جانب ڈھیر کر دیں۔ کتابوں اور جالی کے درمیان گوریوں کے گھونسلے اور پر وغیرہ تھے۔ اس نے جھاڑو سے جمع شدہ سارا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر بالٹی میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک گھونسلے میں دو انڈے بھی تھے جو بالٹی میں گرتے ہی ٹوٹ گئے۔ گوریا احتجاجا چوں چوں کرتی رہیں۔جالی سے نکل کر چھت سے لٹکے کنڈوں پر بیٹھتیں، اضطراری کیفیت کے سبب بار بار جھٹکے سےاڑ اڑ کر اپنا رخ تبدیل کرتیں اور پھر تیزی سے جالی کی جانب اڑتیں۔ میں پوری شدت سے چلایا کہ چڑیوں کے گھونسلوں کو مت چھیڑو لیکن حلق سے آواز ہی نہیں نکلی۔ پسینے سے شرابور سر کو ادھر ادھر جھٹکے دیے اور بلآخر اس ناپسندیدہ اور تکلیف دہ خواب کا مقابلہ کرنے کے لیے بیداری ایک طاقت ور مد مقابل کی صورت سامنے آئی۔ بیدار ہوتے ہی لائبریری میں پہنچا بیٹی نے خوشی خوشی بتایا کہ ہم نے لائبریری کو اچھی طرح صاف کر دیا اور بیٹے نے کہا جالی کے پیچھے والی اس الماری میں کتابوں کے پیچھے بہت سارا کوڑا کرکٹ جمع ہو گیا تھا میں نے اسے بھی صاف کر دیا۔ میں نے حسرت کے ساتھ کوڑے کرکٹ والی بالٹی میں جھانک کر دیکھا جس سے ٹوٹے ہوئے انڈوں کی بساند آ رہی تھی،ایسی بساند جو نہایت کڑوے کسیلے اور خود مختار لمحوں میں ہوا کرتی ہے، ایسی بساند جو حقیت اور خواب، حال اور مستقبل دونوں کو محیط ہو۔

Categories
فکشن

گدلا پانی

تحریر: منشا یاد

ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبّت لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں۔ محبّت بھی ایمان کی طرح زبان سے اقرار چاہتی اور الفاظ مانگتی ہے ،اِس کے بغیر ہوس کہلاتی ہے،لیکن اُس وقت تک اُسے یہ معلوم نہیں تھا۔

یوں اُس کا ارادہ تھا اُسے اپنے دل کا سارا حال بڑھا چڑھا کر بتائے گا کہ کس طرح وہ اُسے اچھی لگنے لگی اور پھر ہوش و حواس پرچھاتی چلی گئی اور کس طرح وہ اُسے چھین لینے کے منصوبے بناتا تھا، لیکن جب وہ آئی تو اُسے یہ سب کہنا عجیب سا لگااور اِسی سے ساری خرابی پیدا ہوئی۔ بے شک اب وہ اُس کی بیوی تھی اور بیوٹی کوئین بنی بیٹھی تھی، لیکن تھی توکچھو ہی،گوٹ پاکٹ نہ کر سکنے پر روپڑنے اور امتحان میں اِتنے نمبر وں کے سوال چھوڑ آنے والی کہ اُن میں ایک اور لڑکی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہو جائے۔

جس طرح بعض نغمے ایسے ہوتے ہیں کہ سرسری یا پہلی بار سنیں تو دل پر کچھ اثر نہیں کرتے ،لیکن اُنھیں بار بار اور دل جمعی سے سنا جائے تو اُن کی دُھن یا بول دل کو لبھانے لگتے ہیں، ایسے ہی وہ بھی اُن عورتوں میں سے تھی جو سرسری طور پر دیکھنے سے متأثّر نہیں کرتیں، لیکن جیسے جیسے اُنھیں قریب سے دیکھا اور ملا جائے اُن کی دل کشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، بلکہ اعصاب مضبوط نہ ہوں تو ہوش و حواس پر چھا جاتی ہے۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو روٹین میں دیکھتے رہتے ہیں اور معمول کا حصّہ سمجھ کر اُس کی خوبیوں پر غور نہیں کرتے، لیکن جب وہ چیز چھن یا کھو جاتی ہے تو آپ کو اُس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بس کچھ ایسا ہی ہُوا تھا۔

بچپن سے اُن کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا تھا ایک ساتھ کھیلتے بھی رہے تھے۔ وہ اپنے آدھی درجن بھائی بہنوں میں تیسرے یا شاید چوتھے نمبر پر تھی۔ بڑی تھی نہ چھوٹی، اِس لیے کبھی الگ اور نمایاں نظر نہ آتی تھی۔ اُسے کبھی خاص طور پر اِس کا خیال نہ آیا۔ اُسے اب بھی اُس زمانے کی بہت تھوڑی باتیں یاد آتی ہیں۔ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے وہ چور بنتی تو اکثر پکڑی نہ جاتی (اُس وقت کیا پتا تھا آگے چل کر اُسے اُس کی بکل کا چور بننا ہے) پھر جب سب تھک ہار جاتے تو بالکل کسی قریبی دروازے کی اوٹ، صوفے کے پیچھے یا بستروں کی پیٹی سے برآمد ہو جاتی۔ کیرم کی دل دادہ تھی، مگر کچھ خاص مہارت نہ تھی۔ سارا وقت کوئین گوٹ کو پاکٹ کرنے میں لگی رہتی۔ ہاں اُسے اُس کی پتلی پتلی نرم اور اُجلی انگلیاں یاد آتی ہیں ،مگر اُس وقت انگلیوں سے زیادہ گوٹوں کی فکر ہوتی تھی۔ یوں بھی اُس کی بہنوں کی انگلیاں بھی ویسی ہی پتلی، نرم اور اُجلی تھیں، بلکہ شاید کیرم کھیلنے والی ساری لڑکیوں کی انگلیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔وہ سوچتاکیاپتا لڑکیوں میں کیرم اِسی لیے مقبول ہو کہ انگلیوں،ناخنوں، ہاتھوں اور چوڑیوں سے بھری کلائیوں کی نمائش کا موقع ملتا ہے۔ ہاں ایک بات اور یاد آتی ہے تب وہ کالج میں پڑھتا تھا اور اُس کا دسویں کا نتیجہ آیا تھا، اُس نے ساڑھے آٹھ سو میں سے سوا چار سو نمبر لیے تھے یعنی بالکل ففٹی پرسنٹ۔ ایک نمبر کم نہ زیادہ۔ اِسی لیے بات یاد رہ گئی۔ اُس نے اُس کا مذاق اُڑایا تھا:
’’تم نے کمال کر دیا کچھو… جتنے نمبر چھوڑ دیے، اِن میں تمھاری کوئی سہیلی پاس ہو گئی ہو گی۔‘‘

’’سیکنڈ ڈویژن ہے جناب۔‘‘
اُس نے یوں اِترا کر جواب دیا تھا جیسے سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہو کر بڑا تیر مارا ہو یا جیسے سیکنڈ ڈویژن کی بجاے بورڈ میں سیکنڈ پوزیشن لی ہو، لیکن بعد میں اُسے اندازہ ہُوا،وہ تو تھی ہی سیکنڈ ڈویژن۔ دوسری قطار کی لڑکی۔ اُس کی بہنیں اُس سے زیادہ ہوشیار اور دیکھنے میں پُرکشش تھیں۔ اِن کے رشتے بھی اوّل نمبر کے آئے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں اور شاید اوّل درجے کی زندگی گزار رہی تھیں۔ بس ایک وہی پیچھے رہ گئی اور جس طرح میلے کے آخری روز دُکان دار کھانے پینے کی بچی کھچی چیزیں اونے پونے بیچ کر جلدی جلدی گھروں کو لَوٹنا چاہتے ہیں ،اُس کے والدین کو بھی فارغ ہونے کی شتابی تھی جو پہلا رشتہ آیا اُسے آخری سمجھ کر ہاں کر دی۔

وہ عام طور پر مرے ہوئے آدمیوں اور دلہن بنی عورتوں کے چہرے نہیں دیکھتا تھا۔ مرے ہوئے آدمی کا چہرا اِس لیے کہ اُس کی جیتی جاگتی صورت کی بجاے وہی مردہ اور بے رونق چہرا ہمیشہ کے لیے ذہن سے چپک جاتا ہے اور دلہن کا چہراپہلے سہیلیاں اورڈومنیاں اور اب بیوٹی پارلر والے اتنا بگاڑ دیتے ہیں کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے ،ساری دلہنیں ایک جیسی نظر آتی ہیں۔کٹ آؤٹس کے سے روغنی چہرے ، لیکن اُس نے اُسے دلہن بنے ہوئے دیکھا اور پریشان ہو گیا۔ جب شفاعت اللہ سے اُس کا نکاح پڑھا جانے والا تھا ،اُسے نکاح کے وکیل اور گواہ کے ساتھ اندر بھیجا گیا۔ اُس نے نکاح کے فارم اُس کے سامنے رکھ کر اور تھوک نگل کر بہ مشکل کہا،
’’یہاں دستخط کر دو۔‘‘

اُس نے دستخط کرنے سے پہلے عجیب نظروں سے اُسے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو ’’یہ تم کہ، رہے ہو؟‘‘
اُس کی آنکھوں میں پتا نہیں کیا تھا کہ اُس کی راتوں کی نیند اُڑ گئی جب بھی یاد کرتا، طرح طرح کے خیالوں اور سوالوں سے دماغ پھٹنے لگتا۔ رہی سہی کسر اُس شام پوری ہو گئی جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ اُن کے ہاں کھانے پر آئی۔

اُس کی شادی ہوئے دسواں روز تھا،اُس نے آتے ہی ایک عجیب جادو بھری بھر پور نگاہ اُس پر ڈالی۔
یہ اُس کچھو کی نہیں جسے وہ جانتا تھا ایک عورت کی نگاہ تھی۔ اِس میں شکایت، دکھ اورکوئی عجیب سا سندیسہ تھا ۔وہ اُسے بار بار دیکھتا اور خود کو کوستا کہ اِس سے پہلے اُسے پتا کیوں نہ چلا وہ اِس قدر خوب صورت تھی اور اُس سے محبّت کرتی تھی۔ اُسے اپنی بہنوں پر غصّہ آتا جو اُس کی طرح اندھی تھیں اور اُس کے ہوتے ہوئے انھیں چاند سی بھابی کی تلاش تھی۔ وہ جیسے جیسے دیکھتا وہ اور نکھرتی جاتی، لیکن اُس نے دوبارہ اُس کی طرف نہیں دیکھا ،شاید اُسے یقین تھا کہ پہلی نگاہ ہی اپنا کام کرگئی تھی۔

عورت کے مقابلے میں مردیوں بھی ون ٹچ سسٹم ہوتا ہے۔ پری سیٹ الیکٹرانک میوزک ڈیک کی طرح ۔جو ریموٹ کنٹرول کو ذرا سا چھو دینے سے آن ہو جاتا اور نغمے بکھیرنے لگتا ہے۔اور عورت خواہ کچھو کی طرح بے وقوف ہی دکھائی دے، اپنے ہنر میں تاک ہوتی ہے۔ عام طور پر خوب صورت عورتوں کے شوہر بہت حسّاس ہوتے اور الرٹ رہتے ہیں اور نجی محفلوں میں بھی نظروں سے اُن کی نگرانی کرتے رہتے ہیں ،مگر شفاعت اللہ اُس سے غافل بیٹھا ہُواتھا اور پیٹھ موڑے چھوٹی چھوٹی اور فضول باتوں پر ہنس رہا تھا۔اُسے جیسے خبر ہی نہیں تھی کہ وہ اتنی حسین بیوی کا شوہر ہے ،بلکہ رویّے سے وہ شوہر کی بجائے اُس کا گارڈین لگ رہا تھا۔

وہ ایم اے میں اُس کا کلاس فیلو رہ چکا تھا۔ نیک، شریف اور شرمیلا تھا۔ صوم و صلات کا پابند۔ گورے چٹّے چہرے پر بھٹّے کے بالوں ایسی داڑھی خوب سجتی تھی۔ کالج کے ہر فنکشن میں وہی تلاوت کرتا اور نعت سناتا۔سب اُسے صوفی کے لقب سے پکارتے تھے۔ اُس سے رسمی سی واقفیت تھی، لیکن اُسے یہ اندازہ نہیں تھاکہ اُس کی شادی اُن کے فیملی فرینڈ انکل خواجہ کے ہاں ہو گی جو نسبتًاایک آزاد خیال گھرانا تھا اور اُس لڑکی سے ہو گی جو اپنے بھائی بہنوں کی طرح فلموں اور موسیقی کی رسیا تھی۔ اِدھر صوفی تھا کہ کسی لڑکی کو آنکھ اُٹھا کر دیکھنا یا بات کرنا تو دُور کی بات ہے، کوئی لڑکی قریب سے گزر جاتی تواُس کا چہرا سرخ ہو جاتا۔ کیفے ٹیریا میں ریڈیو پر محبّت کا کوئی گیت سُن کر اور ٹیلی ویژن پر کسی جوان عورت کی تصویر دیکھ کر اُسے پسینا آ جاتا۔ لڑکے ہی نہیں لڑکیاں بھی اُسے چھیڑتی رہتیں۔ پتانہیں اُسے دیکھ کر اُسے ٹیلی ویژن کے پروگرام وائلڈ لائف میں دیکھا ہُوا اندھیری غاروں میں رہنے والا گوہ ایسا وہ جانور کیوں یاد آجا تاتھا جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اُس کی آنکھیں نہیں ہوتیں۔ شاید اِس لیے کہ اُسے کچھ دیکھنا ہی نہیں ہوتا ،خدا نے اُس کی آنکھیں بنائی ہی نہیں تھیں۔ کیا پتا پہلے بنائی بھی ہوں پھر بے مصرف جان کر واپس لے لی ہوں۔ کشور کا اِس کا کیا جوڑ؟…لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اُس کے جانے کے بعد وہ جیسے کسی طلسم سے رہا ہُوا۔ عقل و شعور نے کام کرنا شروع کر دیا اور اُسے اپنے خیالات پر ندامت سی ہونے لگی۔

اِس کے بعد اُس کے ہاں جانے کے کئی موقِع آئے،مگر اُس نے دانستہ گریز کیا کہ جس بستی جانا نہ ہو اُس کا راستاپوچھنے کا کیا فائدہ، مگر اُس کی امّی لمبی بیمار پڑ گئیں۔ اِدھر شفاعت اللہ شادی کے چند روز بعد دو تین مہینوں کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھ بیرونِ ملک چلا گیا۔ وہ اُس کی امّی کو دیکھنے ہر تیسرے چوتھے روز آنے لگی۔ کبھی ساس یا سسر کے ساتھ ،کبھی اکیلی اور اُسے ہر بار پہلے سے زیادہ خوب صورت نظر آتی، وہ چلی جاتی تو خود کو ملامت کرتا۔ آئندہ اُسے آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھنے کا عہد کرتا، مگر جب وہ آتی جتنی دیر رہتی،خود کو اُسے دیکھنے پر مجبور پاتا اور دیکھ کر بے کل سا رہتا۔ خدا نے عورت کو یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ بہ وقتِ ضرورت اُس کی کنپٹی پر ایک تیسری آنکھ اگ آتی ہے ،وہ مرد کواپنی طرف دیکھتے، نہ بھی دیکھ رہی ہو تو اُسے نظروں کا لمس محسوس ہو جاتاہے اور یہ پتا بھی چل جاتا ہے کہ کون اُسے کن نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ جب کبھی اُس کی امّی کے پاس اکیلی بیٹھی ہوتی اور وہ چھپ کر اُسے دیکھتا تب بھی وہ بار بار پلّو ٹھیک کرتی، سر ڈھانپتی اور بے چین نظر آتی۔ وہ اکثر نظریں چراتی رہتی، لیکن کبھی کبھار جیسے ایک تیر سا آ لگتا۔

آہستہ آہستہ اُس کے خواب سہانے اور سوچیں گدلی ہونے لگیں۔ صوفی کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے بناتا۔ وہ تیرنا نہ جانتا ہو تو اُسے اپنے ساتھ جھیل یا دریا پر لے جائے، اُس کی موٹر سائیکل سے بم باندھ دے۔ کشور مان جائے تو اُس کے ذریعے کھانے میں کچھ ملا دے، لیکن ہر بار پکڑا جاتا یا کشور کو بھی نقصان پہنچ جاتا،لیکن پھر ایک عجیب واقعہ ہو گیا، بالکل ناقابلِ یقین۔ کیا شدید اور سچّے جذبوں میں واقعی اتنی طاقت ہوتی ہے یا زمانہ بدل گیا ہے ا ور کوّوں کی دعا سے ڈھور ڈنگر مرنے لگے ہیں،اُسے رہ رہ کر خیال آتا۔

شادی کے تین چار مہینوں بعد صوفی نے اچانک اُسے طلّاق دے دی۔ سب دنگ رہ گئے۔ ہر کسی کو افسوس تھا، لیکن اُس کے اندر جیسے خوشی کی جھانجھروں والے لقے کبوتر جلی ڈالنے لگے ،

اگرچہ اِس خوشی کی نوعیّت کچھ ایسی تھی جیسے آدمی اپنے مدِّمقابل کھلاڑی کے زخمی ہوجانے کی وجہ سے مقابلہ جیت جائے تو خوشی میں کچھ ملاوٹ سی ہو جاتی ہے، لیکن جیت تو بہ ہر حال جیت ہوتی ہے اور محبّت اور جنگ میں بہت کچھ جائز ہوتا ہے۔

تفصیل معلوم کی تو پتا چلا ،اُس گھر میں طرح طرح کی پابندیاں تھیں۔ اخبار تک نہ آتا تھا کہ اُس میں ایسی تصویریں اورخبریں ہوتی ہیں جن سے بے حیائی پھیلتی ہے۔ تلاوت اور خبروں کے سوا ریڈیو اورٹیلی ویژن دیکھنے کی ممانعت تھی۔ کچھ عرصے تو وہ اجازت حاصل کرنے کی کوشش اور انتظار کرتی رہی، پھر چُھپ چُھپ کر ڈرامے وغیرہ دیکھ لیتی۔ ٹیلی ویژن، وی سی آر اور میوزک ڈیک وہ اپنے ساتھ جہیز میں لے گئی تھی۔ جس روز یہ واقعہ پیش آیا وہ شوہر کی عدم موجودی میں وی سی آر پر کوئی فلم دیکھ رہی تھی۔ یہ پتا تو نہ چل سکا کہ کیسی اور کون سی فلم تھی، مگر وی سی آر اور فلم کے نام سے سننے والوں کی آنکھوں میں ایک خاص چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی۔ شوہر کوپتا چلا تو اُس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ تکرار ہوئی اور نتیجے میں طلّاق۔

شروع شروع میں اُس کی امّی نے مخالفت کی ،’’میرے بیٹے کے لیے اترن رہ گئی ہے کیا؟‘‘ لیکن جب اُنھیں پتاچلا کہ یہ سب تو اُن کے اِس بیٹے کی دعاؤں یا بددعاؤں کا نتیجہ تھا جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا تووہ حیران پریشان رہ گئیں۔ رضا مند ہو جانے کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔
اُس نے یہ بھی سوچاہُواتھا کہ پوچھے گا صوفی بے وقوف تھا یا نا شکرا جس نے اُس کی قدر نہیں کی تھی یا سب کچھ کسی حادثے کی صورت میں ہو گیا ،مگر اُس کے منہ، سے پھنکار سی نکل گئی۔’’آج تم دوسری بار دلہن بنی ہو۔‘‘

اُس نے چونک کر اُسے دیکھا۔ اُس کے سرخ و سفید چہرے پر ویرانی سی چھاگئی۔ بڑی بڑی بندہ ڈباو آنکھوں میں بے بسی کا دھواں سا پھیل گیا ،پھر جیسے دو حصّے ہائیڈروجن اور ایک حصّہ آکسیجن مل کر پانی بناتی ہیں ،شکایت او ربے بسی نے مل کر دو موٹے موٹے آنسو بنائے جو رخساروں سے ہوتے ہوئے ٹھوڑی تک پھیل گئے۔ فرصت تھی نہ موقع، مگر اُس نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ د و دو دریاؤں کے نام ایک ساتھ کیوں لیے جاتے ہیں،ستلج بیاس ،راوی چناب ،گنگا جمنا، دجلہ فرات ،جیہوں سیہوں وغیرہ ۔ اچانک وہ ہاتھوں سے چہراچھپا کر رونے لگی۔

سامنے والا جب انتہائی غصّے میں ہو یافرطِ جذبات سے رونے لگے توکچھ دیر کے لیے خاموش رہنا چاہیے۔ یہ بات اُس نے اپنے ابّا سے سیکھی تھی۔ ویسے بھی وہ اِس صورتِ حال کے لیے تیار نہ تھا۔ نہ ہی رونے کا سبب اتنا سادہ تھا۔ خاموش بیٹھا آنسوؤں کار یلا گزر جانے کا انتظار کرنے لگا، لیکن جب اُس کا رونا ہچکیوں میں تبدیل ہو گیا اور ہچکیاں طول پکڑ گئیں تو اُس کے اندر اندیشوں اور وسوسوں کے بلبلے سے اٹھنے لگے۔’ توکیا اِسے اپنی پہلی شبِ عروسی یاد آگئی! کسی جدا ہو جانے والے ہاتھ کا لمس یاد آیا!‘

اُس نے اپنا تجزیہ اور احتساب شروع کر دیا۔ کہیں ساری خرابی اُس کے اپنے اندر تو نہیں تھی۔ امّی بچپن میں اُسے دکھیارا بچّہ کہا کرتی تھیں۔ شاید یہ ٹھیک ہی تھا۔ اُسے وہی کھلونا پسند آتا جو کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا۔ اسکول اورکالج میں اُس کے ہمیشہ اچھے نمبر آتے ،لیکن اُس سے زیادہ نمبر اوربہترپوزیشن لینے والے اُس کی ساری خوشی غارت کر دیتے ۔ اب بھی اُسے وہی لباس زیادہ خوب صورت معلوم ہوتا تھا جو کسی دوسرے پر سج رہا ہو اور وہی ریل یا بس زیادہ آرام دہ اور تیز رفتار معلوم ہوتی تھی جو نکل چکی ہو۔ صرف یہی نہیں،بلکہ گھر میں اُس کی ہر چیز اپنی اور علاحدہ تھی۔ دوسرا کوئی اُس کی کسی چیز کو چھو دیتا یا استعمال کر لیتا تو وہ اُسے اُسی کے پاس ہی چھوڑ دیتا یا ضائع کر دیتا۔ بڑے بھائیوں کے چھوٹے پڑ جانے اور اُتارے ہوئے کپڑے اور جوتے، اُن کی پڑھی ہوئی کورس کی کتابیں اور میلے کیے ہوئے کھلونے چھو کر بھی نہ دیکھتا۔ کھانے پینے کی جس چیز کے بارے میں ذرا سا بھی شک ہوتا کہ جو ٹھی یاچکھی ہوئی ہے اُس کے لیے حرام ہو جاتی۔ گھر میں سب اُس کی عادتوں سے واقف تھے اور اِن باتو ں کا خیال رکھتے تھے۔ شاید یہ سب کچھ اِس لاڈ پیار کا نتیجہ تھا جو چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُس کے حصّے میں آیا تھا۔

اُس نے اُس سے کچھ پوچھا ،نہ ہی اُس نے کچھ بتایا اور صبح ہو گئی۔
وہ سوچتا بہت تھا، مگر زیادہ تر گفتگو اپنے اندر کرنے کا عادی تھا۔ وہ بھی بہت جھینپتی شرماتی تھی۔ دونوں طرف کی چپ گہری ہوتی چلی گئی اور تکلّف اور جھجک کی ایک چادر سی اُن کے درمیان تن گئی۔ بدن قریب رہے ،لیکن روحیں دُور ہوتی چلی گئیں،مگر لفظوں کا تبادلہ کبھی نہ ہُوا۔ اپنے ہاں کے بیش ترلوگ اِسی طرح کی خاموش اور بہ راہِ راست محبّت کرتے ہیں ۔ایپی ٹائزرز کی ضرورت تو اُنھیں ہوتی ہے جن کو بھوک نہ لگتی ہو۔ ہم تیسری دنیا کے جنم جنم کے بھوکے لوگ ،کھانا سامنے آ جائے تو باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ یوں بھی تب تک اُسے معلوم نہ تھا کہ محبّت بدن کے لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، مگر الفاظ کے بغیر نہیں۔ محبّت بھی ایمان کی طرح زبان سے اقرار چاہتی اور الفاظ مانگتی ہے، اِس کے بغیر ہوس کہلاتی ہے۔
اُسے پانے سے پہلے اُس کا اندر جذبات سے یوں لبالب تھا جیسے اساڑھ مہینے میں اناج سے بھرا ہُوا بھڑولا،مگر اِس اناج کو چپ کی سسری لگ گئی اور چند ہی مہینوں میں اندر خالی ہو گیااور خانہ خالی را دیومی گیرند کے مصداق دل میں طرح طرح کے بھوت خیالوں نے بسیرا کر لیا۔ ’کیا واقعی عورت زندگی میں ایک ہی بار محبّت کرتی ہے۔ کیا اُ س نے صوفی سے محبّت کی؟ اگر اُس کا عقدِ ثانی اُس کی بجاے کسی اور سے ہو جاتا تو کیا وہ اُس دوسرے مرد سے بھی اِسی طرح محبّت کرتی!‘

آہستہ آہستہ وہ اُسے اجنبی اور بیگانی بیگانی سی لگنے لگی۔ ایک تیسرا شخص ان کی تنہائیوں میں مخل ہونے لگا۔ وہ اُس کا ہاتھ چھونے لگتا تو اُس پر دوسرے ہاتھ کی گرفت کے نشان نظر آتے۔ اُس کی انگلیاں اب بھی ویسی ہی پتلی، نرم اور اُجلی تھیں، مگر وہ گندی اور ناپاک معلوم ہوتیں۔ اُس کے بدن سے اُسے کسی اجنبی وجود کے پسینے کی باس آتی ،وہ سوچتا۔ وہ محض جسم ہوتی تو بھی اُسے یقین اور محبّت کے زم زم سے نہلایا اور پاک کیا جا سکتا تھا ،مگراصل عورت تو اندر ہوتی ہے جسے کنوئیں کی طرح پانی کے بوکے نکال کر، تالاب کی طرح کلورین ملا کر، لباس کی طرح دھلوا کر اور کمرے کی طرح اسپرے کروا کر ڈس انفیکٹ اور صاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اُسے وہ ایسا خط معلوم ہوتی جسے مکتوب الیہ نے پڑھنے کے بعد دوبارہ پوسٹ کر دیا ہو۔ اُس کی حالت اُس پیاسے کی سی تھی جو پیاس کی شدّت میں گدلا پانی پی جائے، لیکن جوں ہی حواس درست ہوں،پانی کے پاک یا ناپاک ہونے کے مخمصے میں پڑ جائے۔ اُسے خبط سا ہو گیا کہ اُس کا جسم ہی نہیں روح بھی آلودہ تھی اور اُس کے اندر اب تک کسی نہ کسی صورت میں صوفی موجود تھا۔

کبھی کبھی اُسے خیال آتا۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے جو چیزمل جائے اُس کی قدرنہیں کرتا، اگرچہ سب لوگ ایسے نہیں تھے تب بھی دو آدمی یقینًا بہت نا شکرے تھے ،ایک صوفی شفاعت اللہ اور دوسرا وہ خود، لیکن قدرت کا صحت و صفائی کا اپنا ایک نظام ہے۔ بارشوں سے زمین کی غلاظتیں دُھل جاتی ہیں،بدبوؤں کو ہَوااپنے دامن میں سمیٹ لے جاتی ہے۔ وہ کیچڑ میں کنول کھلاتی اور ملھڑ( گوبرکھاد) سے پھلوں پھولوں کی نشوونما کرتی ہے۔ اچانک ایک روز پتا چلا اُس کے اندر ایک اور چراغ جل اُٹھا ہے۔ گھر بھر میں اجالا پھیل گیا۔ شادی کی سال گرہ قریب آ رہی تھی، گھر والوں نے سال گرہ اور گود بھرائی کی تقریب ایک ساتھ اور دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں شروع کر دیں، لیکن شاید اُسے ابھی ایک اور امتحان سے گزرنا تھا۔
ایک روز اچانک صوفی اُن کے ہاں آگیا۔

وہ تو اچھاہُواکہ وہ گھر پر نہیں تھا ،ورنہ اُس سے پوچھتا کہ وہ یہاں کیا لینے آیا تھا، شاید اُسے وہیں گیٹ سے واپس کر دیتا، یا دھکّے دے کر باہر نکال دیتا۔شروع شروع میں بھی دو ایک بار اُس کا کشور کے لیے فون آیا تھا جس کا اُس کی امّی نے برا مانا تھا اور کشور نے بھی بات کرنا پسندنہیں کیاتھا، لیکن وہ خودکسی روزآدھمکے گایہ اُس کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا،لیکن دکھ اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ اُس نے نہ صرف اُسے ڈرائنگ روم کھول کر بٹھایا، بلکہ کچھ دیر اکیلے میں اُس سے باتیں بھی کرتی رہی تھی، ’توکیا صوفی پشیمان ہے ،اگر وہ تلافی کرنا چاہے تو؟‘

’اور کیا وہ بھی؟‘
اُس کے دماغ میں جھکّڑسے چلنے لگے۔
’’وہ یہاں کیا لینے آیا تھا؟‘‘ اُس نے اُسے ایک طرف بلا کر پوچھا۔
اُس نے خلافِ توقّع نہایت جرأت او راعتماد کے ساتھ جواب دیا،
’’میں نے خود انھیں بلایا تھا۔‘‘
’’تم نے؟ ‘‘اُس نے غصّے سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’ اداس ہو گئی تھیں؟‘‘
’’اُن سے اجازت لینا تھی؟‘‘
’’کس بات کی؟‘‘
’’میں نے قسم کھائی تھی کہ اُن کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتاؤں گی، مگراب ضروری ہو گیا تھا کہ آپ کو بتا دوں۔‘‘
’’یہ کیا پہیلیاں بجھوا رہی ہو۔‘‘ اُس نے درشت لہجے میں کہا،’’ سیدھی طرح بات کرو۔‘‘
’’صوفی صاحب اچھے ااور نیک آدمی ہیں اور ہمارے محسن ہیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’محسن؟‘‘
’’ہاں۔ انھوں نے پہلے روز ہی وعدہ کر لیا تھا کہ وہ کچھ عرصے بعد کسی بہانے مجھے آزاد کر دیں گے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
’’اِس لیے کہ میں نے انھیں صاف صاف بتا دیا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’اب یہ بھی بتانا پڑے گا۔‘‘ اُس نے نگاہیں جھکا کر کہا۔
بات اُس کی سمجھ میں آگئی۔

اور یہ سوچ کر کہ اُس نے اِتنا بڑا رسک لیاتھا، اُس کا دل محبّت اور خوشی سے بھر گیا اور اُسے یقین بھی آگیا کہ صرف صوفی جیسا شخص ہی ایسا کر سکتا تھا اور اُسے اِس کے اندر سے نہیں نکالاجا سکتا تھا۔ اُن کی صعوبتوں کا تصوّر کر کے اُسے لگا جیسے تاریک غاروں میں رہنے والا آنکھوں کے بغیر گوہ وہ خود تھا۔
Image: Lubna Agha

Categories
فکشن

باپ دادا

وہ چھوٹا سا گاؤں، جس کا نام سُکا یعنی سوکھا ہےاور جو میاں والی سے تلہ گنگ جانے والے راستے پر واقع ہے۔وہ چھوٹا ساگاؤں بہت پہلے سر کولن کیمپ بیل کے نام پر رکھے جانے والےشمالی پنجاب کے ضلع کیمپ بیل پور کی حدود میں آتا تھا، جسے مقامی لوگ اپنی سادہ لوحی کے سبب ضلع کیمبل پور کہتے تھے۔ بعد میں اس ضلعے کا نام اٹک رکھ دیا گیا۔ عرصہ دراز تک وہ گاؤں اسی ضلعے میں شامل رہا،لیکن پھر اسے ضلع چکوال کا حصہ بنادیا گیا۔ تب سے آج تک یہ گاؤں اسی ضلعے کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔

خشک سالی سے ہمیشہ متاثر رہنے والے اس گاؤں کے جوان شوقیہ طور پرنہیں بلکہ اپنی تنگ دستی اورتنگ دامانی سے عاجز آکر انگریز کی فوج میں شامل ہو کر پہلی جنگِ عظیم کا حصہ بنے تھے۔انہیں سیاحت کا کوئی شوق نہیں تھا مگر وہ انگریز سرکار کی خاطر ملکوں ملکوں جنگ کرنے میں مصروف رہے۔ یورپ اور ایشیا ئی ممالک کا حسن بھی ان کی نگاہوں کو خیرہ نہیں کرسکا، کیوں کہ ان کی آنکھوں میں ہروقت اپنے” گِراں” کی یاد چراغ کی لو کی مانند روشن رہتی تھی۔وہ سب دیارِ غیر کی نامہربان گلیوں میں بھٹکتے اپنے گاؤں کی مہربان گلیوں کےآسودہ سائے تلاش کرتے رہے۔

انگریزی فوج کی نوکری داداملک شیر محمد کے مزاج کے خلاف تھی، اس لیے انہوں نے بہت جلد ریٹائر منٹ لے لی۔سبک دوشی سے حاصل ہونے والی رقم بھی تادیر نہ چل سکی، کیوں کہ ملک شیر محمد ضرورت سے زیادہ شاہ خرچ واقع ہوئے تھے۔جو تھوڑی بہت زمین ان کے پاس تھی،وہ سب کی سب بارانی تھی اور باران ِ رحمت کو کبھی آدم زاد کی اغراض سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ وہ سدا کی من موجی ہے، جیسے ملک شیر محمد اپنی زندگی میں رہے۔

ان کے بڑے بھائی ملک باقی خان نے جب زرخیز اور سرسبز زمین کی تلاش اور اس کے حصول کی خاطر ایک بار پھر اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو دادا کو ان کا یہ فیصلہ بادل نخواستہ قبول کرکے ان کے ساتھ ایک طویل سفر پر جانا پڑا۔ انہوں نے اس سفر سے بچنے کی خاطر کئی حیلے تراشے، لیکن بڑے بھائی کا حکم بجا لانا ہی پڑا۔

جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں سے شروع ہونے والازمینوں کی خریدوفروخت اور عارضی سکونت کا سلسلہ سندھ کے ضلع خیر پور میں میرواہ نہر کے کنارےایک چھوٹے سے گاؤں کی آبادکاری پر تمام ہوا۔اس گاؤں کا نام دادا کے بڑے بھائی کےنام پر گوٹھ ملک باقی خان رکھا گیا۔ دونوں بھائی میر واہ نہر کےکنارے واقع اس زرخیز سرزمین پر آباد ہوگئے۔ انہوں نے بعص لوگوں کو بھی سُکا سے یہاں سے لاکر آباد کیا۔ان میں چند نے دونوں کے درمیان سنگین اختلافات پیدا کیے، جس کی وجہ سے دادا نے کئی بار ناراض ہوکرگاؤں چھوڑا۔
اوپر تلے پانچ بیٹیوں کی پیدائش بھی دادا کی متلون مزاجی اور رومان پسند طبیعت پر اثرانداز نہ ہوسکی۔بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے بےچاری دادی زیادہ پریشان رہتی تھیں۔ انہوں نے مزارات پر بیٹے کی پیدائش کے لیے منتین بھی مانیں۔1940 کے ابتدائی مہینوں کی ایک شب ان کے ہاں ان کے پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی،جس کا نام ملک خضر حیات رکھا گیا۔اس پیدائش پر گاؤں بھر میں مکھانے اور بتاشے تقسیم کیے گئے تھے۔

ابو جب چار پانچ سال کے ہوئے تو دادا نے دادی کی مرضی کے برخلاف انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیےآبائی گاؤں سُکا بھجوادیا۔ گاؤں کے نزدیک واقع ایک پرائمری اسکول سے پانچ جماعتیں پاس کرنے کے بعد ان کا داخلہ جس ہائی اسکول میں کروایا گیا، وہ گاؤں سے بارہ پندرہ میل دور واقع تھا۔وہاں طلبا کے لیے ہاسٹل کا انتظام بھی تھا۔ہفتے کے آخری دن سارے طلبا اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔ سو ابو کوبھی اپنے گاؤں آنا پڑتا تھا۔ چھٹی ختم ہونے والے دن رات گئے وہ گاؤں سے اسکول کے لیے پیدل روانہ ہوتے۔راستے میں پڑنے والے دیہات سے اسکول کے ساتھیوں کو ہم راہ لیتے، گھُپ اندھیرے میں کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد صبحِ کاذب کے وقت وہ سب اسکول پہنچتے۔وہ کچھ عرصہ اپنے دو چچازاد بھائیوں کے ساتھ ایک گھوڑی پر سوار ہو کر بھی اسکول جاتے رہے۔انہیں ہر بار گھوڑی کی پیٹھ پر سب سے پیچھے بیٹھناپڑتا، جہاں بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ نیچے گرنے کا ڈر لاحق رہتا۔بعد میں ان چچا زاد بھائیوں نے پڑھنا چھوڑ دیا تو وہ پھر سے پیدل ہی اسکول جانے لگے۔

دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد ابو لاہور جاکر کسی کالج میں داخلہ لے کر تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے تھے، مگر ان کی قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔دادا نے انہیں واپس بلوا لیا کیوں کہ دادا نے اپنے بھائی سے شدید اختلافات کی وجہ سے اپنا آباد کیا ہواگاؤں چھوڑدیا تھا اور تحصیل ٹھری میرواہ میں واقع سنجرانی بلوچوں کے ایک گاؤں میں آباد ہوگئے تھے۔ابو واپس آکر اسی گاؤں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ انہیں جلد ہی محکمہِ زراعت میں فیلڈ سپروائزر کی ملازمت مل گئی۔اب دادا اور دادی کو ان کی شادی کا خیال تنگ کرنے لگا۔

ابو کی بارات سنجرانیوں کے گوٹھ سے ان کے آبائی گاؤں سُکاروانہ ہوئی۔وہاں ان کی ماموں زاد بہن سے ان کا نکاح پڑھایا گیا۔رخصتی کے بعد امی ان کے ساتھ آکر اسی گوٹھ میں رہنے لگیں۔ابتدا میں انہیں سندھی سمجھنے اور بولنے میں خاصی دقت کا سامنا پڑا۔بعد میں آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت ہوتی چلی گئی۔

دادا کے ہاتھوں ایک سنجرانی بلوچ کےقتل کےبعد انہیں وہ گاؤں بھی چھوڑنا پڑگیا۔ قتل دادا نے کیا تھا مگر سنجرانیوں کے سردار نے پرچہ میرے چچا کے خلاف کٹوایا۔ابو بے چارے عدالت کی پیشیاں بھگتتے رہے اور اپنے چھوٹے بھائی کی رہائی کے لیے کوشش کرتے رہے۔سابق وزیرِ اعلی سندھ سید غوث علی شاہ نے وہ مقدمہ لڑا اور ایک سال بعد وہ مقدمہ جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔یو ں چچا کی رہائی عمل میں آئی۔

اس دوران ابو کے ہاں دوبچوں کی ولادت ہوچکی تھی۔ان کے کچھ بڑا ہونے کے بعد انہیں ان کی تعلیم کی فکر ہوئی۔ دادا نے کوٹ ڈیجی کے قریب کچھ زمین خریدی اور چچا کے ساتھ وہاں منتقل ہوگئے۔ ابو، امی اور دوبچوں کے ساتھ محراب پور نامی قصبے میں منتقل ہوگئےاور وہاں رہنے لگے۔

محکمہِ زراعت کی نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نےاسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے بھی کام شروع کردیا تھا۔اس کام میں انہیں جلد ہی ترقی حاصل ہوئی، جس کی وجہ سے انہوں نے محکمہِ زراعت کو خیر آباد کہا اور مستقل طور پر اسی کام سے وابستہ ہوگئے۔اس دوران ان کے ہاں چار مزید بچوں کی پیدائش ہوئی۔

پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔ محراب پور سے نکل کر نواب شاہ میں تین برس قیام کیا۔ اس کے بعد ٹھٹھہ شہر میں پانچ برس رہے۔ٹھٹھہ ان کے لیے ایک آسیبی شہر ثابت ہوا۔انہوں نے جمعرات کی ہر شب مکلی کی پہاڑی پر واقع عبداللہ شاہ اصحابی کے مزار پرگزارنا اپنا معمول بنا لیا۔ اسی مزار پر گزاری ہوئی جمعراتوں کے دوران وہ ایک خاتون کی زلفوں کے اسیر ہوگئے،جو اپنی والدہ کے ساتھ روحانی علاج کی غرض سے وہاں آئی ہوئی تھی۔

ٹھٹھہ میں قیام کو پانچ برس ہونے والے تھے، جب شاہ جہانی مسجد کے نزدیک میں اپنے ایک دوست کے گھر پر اس کی مدد کرنےمیں مصروف تھاتوابو مجھے تلاش کرتے ہوئے وہاں آگئے تھے۔ دوست کے اہلِ خانہ اپنا سامان باندھ رہے تھے تا کہ راتوں رات کہیں اور منتقل ہوجائیں۔انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ یہ ضیاءالحق کی سفاک آمریت کے اثرات تھے، جن کی وجہ سے سارا سندھ یکایک تعصب کی آگ میں جلنے لگا تھا۔وہ دوست اردواسپیکنگ تھا اور اس کے گھر والے خطرہ محسوس کر رہےتھے۔

اسی خطرے کی بو سونگھتے ہوئے ابو نے فیصلہ کیا کہ ہم پہلے انہیں روانہ کریں گے، پھر گھر جائیں گے۔ وہ لوگ گھر میں اپنا سامان باندھنے میں مصروف تھے۔ میں اور ابو باہر واٹر سپلائی کی ٹینکی پر بیٹھے ہوئے ٹرک کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔

اچانک چہروں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے دوموٹر سائیکل سوار نمودار ہوئے۔ پیچھے بیٹھے شخص نے پستول تان کر ہم پر سیدھے سیدھے چھ فائر کیے۔پانچ گولیاں ابو کے جسم کے مختلف حصوں میں اترگئیں۔ایک گولی میری کلائی چھوتی ہوئی گزر گئی۔میں نے دوڑ کر اپنے دوست کے گھر دروازہ بجایا۔ انہوں نے خوف سے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔ دوست کے دادا نے اندر سے کہا۔‘‘گھر پر کوئی نہیں ہے’’۔

اپنےگھر واپس آتے ہوئے میں نے سہارے کے لیے اپنا ہاتھ ابو کی طرف بڑھایا مگر انہوں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ جب لہولہان پہلی منزل پر واقع مکان کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اندر داخل ہوئے، توامی نے جیسے ہی انہیں دیکھا، ا سی دم ان کے اوسان خطا ہوگئے۔

ٹھٹھہ کے سول ہاسپٹل میں طبی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے راتوں رات انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔پہلے چند روز وہ سِول ہاسپٹل کراچی میں داخل رہے، پھر انہیں ایک پرائیویٹ ہاسپٹل شفٹ کردیا گیا۔وہ تقریباً چھ مہینے زیرِ علاج رہے۔ ان کے بدن میں داخل ہونے والی پوری پانچ گولیاں باہر نکال لی گئیں، لیکن وہ دوست، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، وہ خود یا اس کے گھر کا کوئی فرد ابو کی مزاج پرسی کرنے کبھی نہیں آیا۔

اس واقعے کے بعد ٹھٹھہ میں مزید قیام کرناممکن نہیں رہا تھا، اسی لیے ہنگامی بنیاد پر کراچی کا رخ اختیارکیا گیا۔ ابو جیسا باہمت اور آہنی مزاج رکھنے والاشخص، شاید دنیا میں نہ ہوگا۔وہ سمجھ رہے تھے کہ پانچ گولیاں نکالے جانے کے بعد ان کابدن پہلے کی طرح توانا اور بھرپور ہوچکا ہے، مگر یہ ان کی خام خیالی تھی۔وہ کئی برسوں سے اسٹیٹ لائف میں ایریا مینیجرکی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔نجانے ان کے دل میں کیا سمائی، انہوں نے اپنا تبادلہ راول پنڈی کروالیا۔ بہت کوشش کے باوجودوہاں ان کا کام صحیح طرح جم نہ سکا۔مجبوراً انہیں دوبارہ سندھ کا رخ اختیار کرنا پڑا۔

امی اور ابو کی ایک خاص عادت، میں جس کا عمر بھر گواہ رہا، وہ یہ تھی کہ دونوںرات گئے تک آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے۔کبھی ہنس کر، کبھی اداسی سے،غرض کہ ان کی یہ گفتگو کئی تیور بدلتی دیر تک جاری رہتی۔امی صوم الصلوات کی پابند تھیں، اس لیے فجر پڑھنے میں ناغہ کم ہی کرتیں، جب کہ ابو کے مزاج پر سندھ کا صوفی رنگ غالب آچکا تھااور وہ مذہب سے بہت حد تک بیگانہ ہی رہتے تھے۔ کبھی کبھار امی کے بےحد اصرار کے بعد جمعے کی نماز یا عیدین پڑھ لیتےتھے۔

امی کی صحت زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔انہیں بہ یک وقت کئی بیماریوں نے آلیا تھا۔ابو پوری دل جمعی سے ان کا علاج کرواتے رہےلیکن امی دن بہ دن کمزور ہوتی چلی گئیں۔اپنے آبائی گاؤں کا آخری دورہ کرتے ہوئےان کی طبیعت ایسی بگڑی کہ انہیں اسلام آباد کے پمز ہاسپٹل میں داخل کروانا پڑا۔ وہ کئی روز تک وہاں زیرِ علاج رہیں، پھر اچانک ان کی سانسیں تھم گئیں۔انہیں گاؤں کے قبرستان میں نانا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ان کی وفات کے بعد ابوتیرہ برس زندہ رہے، لیکن یہ پہلے والے ابو نہ رہے تھے،کیوں کہ ان کا ہر حکم بجالانے والی،ان کے ناز اٹھانے والی، اب دنیا میں نہ رہی تھی۔امی کی وفات کے بعد ابو مستقل گھر پر رہنے لگے تھے۔بس شام کے وقت گھر سے نکلتے اور قریبی ہوٹل پر بیٹھ کر، لوگوں سے گپ شپ کر کے واپس آجاتے تھے۔

تین ساڑھے تین برس پہلے ان پر دل کا دورہ پڑنے کے ساتھ فالج کا حملہ بھی ہوا۔فالج کا ظاہری اثر تو کچھ عرصے میں زائل ہوگیالیکن اس حملے کے بعد وہ زیادہ گم صم اور خاموش ہوتے چلے گئے۔ان کی وہ دبنگ آواز، جسے سن کر ان کے بھتیجوں، بھانجوں اور ان کی اولادکے پیشاب خطا ہوجاتے تھے،اب وہ دھیرے دھیرے نحیف ہونے لگی تھی۔ ان کی وہ آنکھیں، جو مشکل ترین حالات میں ہمیشہ غیر متزلزل اعتماد سے چمکتی دکھائی دیتی تھیں، اب وہ ہولے ہولے بجھنے لگی تھیں۔ان کی پُر اعتماد چال میں ڈگمگاہٹ در آئی تھی لیکن وہ اب بھی چلتے ہوئے میرا سہارے کے بڑھا ہوا ہاتھ آسانی سے قبول نہیں کرتے تھے۔پھر اچانک، ایک روز وہ ایسی جگہ چلے گئے، جہاں انہیں کسی کے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔شاید اب وہ سات آسمان اوپر کسی کہکشاں کے سائے میں میں امی سے دادا کے بارے میں باتیں کر رہے ہوں گے۔