Categories
فکشن

غیرمطبوعہ ناول: ایک خنجر پانی میں (خالد جاوید)

[divider]انتساب[/divider]

زینو کے نام

 

صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
اسد اللہ خاں غالب

قاری کی پیدائش اس وقت ہوتی ہے جب مصنف کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
رولاں بارت

یہ قطعی ضروری نہیں کہ سب آسان ہو۔ زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کو بغیر سمجھے ہی ہم ان سے لطف حاصل کرتے ہیں مثلاً سیکس۔
ایلن شاپرو

نوحہ گری بھی کبھی کبھی نہایت خوش آئیند واقعات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
اتالو کیلوینُو

انسانوں کے ذریعے کیے گئے تمام کام غیر متجانس، غیر مطابق، غیو موزوں اور بے موقع ہوتے ہیں۔ چاہے وہ شاعر اور ادیب ہوں یا قواعددان۔
ہرمین بروخ

چھند سے خالی کوئی سبد نہیں اور نہ ہی شبدوں سے خالی کوئی چھند۔
ناٹیہ شالتر

یہ یقیناً موت کی تیسری کتاب ہے۔ جس کو حاضرِ خدمت کرتے ہوئے میں بس دو یا تین باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ میری تمام گذشتہ تحریروں کی طرح اس کتاب میں بھی وہی خرابیاں موجود ہیں جن کا کافی شہرہ رہا ہے بلکہ ممکن ہے کہ اس بار پہلے سے کچھ زیادہ ہی ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبان کا ایک کام اشیاء کی نمائندگی کرنا ضرور ہے۔ مگرکسی بھی تخلیقی بیانیے میں الفاظ محض خارجی یا داخلی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ورنہ اس طرح تو ہر آرٹ ایک ثانوی درجے کی شے بن کر رہ جائے گا یعنی نمائندگی کرنے کا محض ایک وسیلہ، تخلیقی زبان میں لفظ آپس میں مل کر جو بیانیہ خلق کرتے ہیں۔ اُسے اپنے آپ میں ایک مکمل اور سالم دنیا ہونا چاہیے۔ خود مکتفی اور مقصد بالذات حقیقت۔ میرے لیے پریشانی کا سبب یہی ہے کیونکہ انسانوں کے الفاظ پر چھائیوں کی طرح ہوتے ہیں اور پرچھائیاں روشنی کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں سمجھا سکتیں۔ روشنی اور پرچھائیں کے درمیان ایک دھندلی سطح ہوتی ہے جہاں سے لفظ پیدا ہوتے ہیں۔ زبان کی یہ دوسرحدیں جہاں ملتی ہیں وہاں کھینچی گئی ایک لکیر پر میری تحریراکیلی اور بے یارومددگار بھٹکتی رہتی ہے۔ اپنے معنی کی تلاش میں جو زبان کے اس دو منھ والے پُراسرار سانب جیسے رویے کی وجہ سے کبھی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتے۔ ممکن ہے کہ اس کتاب میں یہ مسئلہ زیادہ گھمبیر ہو۔ تیسری اورآخری بات یہ کہ یہاں اُردو کی مستند لغات، قواعد، صرف و نحو اور ادقاف سے انحراف تو نہیں کیا گیا ہے مگر ہر جگہ سختی سے پابند بھی نہیں رہا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب دراصل بہتے ہوئے وقت اور پانی کی کتاب ہے۔
خالد جاوید

عادت ہمیں فرصت فراہم کرتی ہے اور ہم محفوظ ہو جاتے ہیں۔ عادت ہمیں حساس نہیں رہنے دیتی۔ عادت حساسیت کی دشمن ہے۔
جے کرشنا مورتی

کسی بھی فن پارے کو سمجھنے سے زیادہ اُس کو محسوس کرنا چاہیے۔ جہاں تک سمجھنے کی بات ہے ہم ریاضی کے ایک سوال تک کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اور نہ ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہم وہاں کچھ پہلے سے فرض کرلیتے ہیں۔ اورپھر سوال حل کرنے کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ مشق ہماری عادت بن جاتی ہے۔ ہم ہر مسئلے سے عادتاً گزرنا سیکھ جاتے ہیں۔
برگمین

تواس طرح دنیا ختم ہوجائے گی۔ دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک کمزور سی سِسکی کے ساتھ۔
ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ

[divider]ایک خنجر پانی میں[/divider]

 

[dropcap size=big]صبح[/dropcap]
کے ٹھیک آٹھ بجے سرہانے لگے ہوئے الارم نے اُسے جگا دیا۔ سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔ وہ آنکھیں مَلتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کھرکی کے شیشے سے پردہ سرکایا۔ باہر وہی پیلا پیلا سا دُھند تھا۔ تین دن پیشتر ایک دھول بھری، پیلی آندھی آئی تھی مگرپھر یہیں آکر رُک گئی، آگے نہیں گئی۔ اب ہوا بالکل بند تھی مگرآندھی کا غبار ٹھہرا رہا۔ اگربارش ہو جاتی تو یہ غبار دُھل جاتا مگربارش کا دور تک پتہ نہ تھا۔ کچھ چیزیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ وہ ایک جگہ پہنچ کر رُک جاتی ہیں، وہ جن پہیوں پر سفرکرتی ہیں وہ جام ہو جاتے ہیں۔

یہ بڑا منحوس موسم ہوتا یہ، بڑا حبس پیدا کرتا ہے۔ اُس نے کہا۔ ہر موسم خراب ہوتا ہے۔ اُس کی بیوی اُکتا کربولی۔ وہ کمرے سے نکل کر سیدھا ٹوائیلٹ میں چلا گیا۔ آٹھ منت بعد، ٹھیک آٹھ منٹ بعد اُس نے فلش کی زنجیر کھینچی۔ پانی کے ریلے کی گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ناقابلِ برداشت بدبو کا ریلا بھی آیا۔ اُس نے گھبرا کر ناک بند کرلی۔ پھر نالی بند ہو گئی۔ اس نے سوچا، سڑاندھ ہی سڑاندھ ہے۔ اُس کے سر کے درد میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ باہر آیا، واش بیسن پر جھک کر کلّی کرنے لگا۔ منھ کچھ نمکین ہوگیا اور زبان کڑوی، دانت کر کرانے لگے۔ وہ بڑبڑانے لگا۔ کئی دن سے رات میں سو نہیں پاتا۔ منھ کے ذائقے کا ستیاناس ہوکر رہ گیا۔ سوؤ گے بھی تو کیسے۔ آدھی آدھی رات کو اُٹھ کر تو میرے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہو۔ تم چڑھنے دیتی ہو۔ ہو بھی اس قابل۔ میرا کیا بس یہی مصرف رہ گیا ہے، کیا میں کوئی کائی لگی ہوئی چٹان ہوں کہ تم چڑھتے رہو اور پھسلتے رہو بلکہ پھسلو کچھ زیادہ ہی۔ کڑک چائے بنا کر لاؤ۔ رات میں بتاؤں گا چائے لاؤ، پھر میں جاؤں نہانے، جلدی آفس پہنچنا ہے۔ اُس نے کہا، دفتر جا کرکرتے کیا ہو، ایک پیسے کی کمائی نہیں۔ بیوی ترش روئی سے بولی۔ اچھا، اتنے عیش تو کررہی ہو۔ عیش؟ اتنا بجٹ تو بڑھا نہیں سکے کہ ایک بچہ ہی پیدا ہو جاتا۔ یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ ابھی نہیں۔ ابھی نہیں۔ تین سال ہو گئے، شادی کو، اس منحوس شادی کو۔ دیکھ لینا میں جلد ہی اس عمر سے نکل جاؤں گی۔ چائے، میں نے کہانا کہ چائے کی پیالی۔ گرم، بہت گرم۔ آج موسم بہت خراب ہے۔ بیوی پیر پٹکتی ہوئی کچن کی طرف جانے لگی۔ تمھارے ہاتھ کے بنائے ہوئے مکانوں کے نقشے کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ کوئی انھیں پسند نہیں کرتا۔ پتہ نہیں کیسے آرکی ٹیکٹ ہو۔ ہو بھی یا جعلی ڈگری ہے۔ اوپر سے آفس کھول کر بیٹھے ہیں۔ گلوبل کنسٹرکشن کمیٹی، ہونہہ۔ وہ اُسے کچن میں اِدھر سے اُدھر چلتا پھرتا دیکھ رہا تھا۔ اُس کی چال میں شہوانیت تھی۔ وہ زہریلے انداز میں مسکرانے لگا۔

یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ آس پاس کے چھوٹے چھوٹے گاؤں سے گھرا ہوا۔ شہر کے علاقے سے وہ شاہراہ بہت نزدیک ہے جو ملک کے مغربی خطے کو مشرقی خطے سے ملاتی ہے۔ اس شہر میں یا تو مالدار بنیے ہیں جن کی اولادیں ڈونیشن کے ذریعے ڈگری پاس کرکرکے اپنے کلینک اور نرسنگ ہوم کھولتی جارہی ہیں یا پھر اہلِ حرفہ اور معمولی کاریگر ہیں، بڑھئی درزی، کارچوبی اور راج گیرتو یہاں کے دور دور تک مشہور ہیں۔ یہاں کا سرمہ اور فرنیچر بیرونِ ملک تک جاتا ہے۔ یہ ایک صاف ستھرا شہر ہے (اب تو خیر سارے شہر میں کھدائی کا کام چل رہا ہے) اور مذہبی رواداری نیز امن و امان کے لیے بھی پورے صوبے میں شہرت رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ضلع کے سارے اعلیٰ حکام اپنی ملازمت سے سبک دوشی ہوجانے کے بعد مستقل طورپر یہیں بس جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے شہری ترقی کے نام پر پچھلے پانچ چھ سالوں سے یہاں کئی قیمتی پراجیکٹ چل رہے ہیں اور بلڈر مافیا شہر میں روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں کی زمینیں کٹ کٹ کر کالونیوں میں بدل چکی ہیں۔ شہر پھیلنے لگا ہے اور مضافاتی علاقوں میں دور تک نئے نئے فلیٹ بنتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ انھیں اطراف میں کئی شاپنگ مال بھی کھل گئے ہیں اور کچھ فیکٹریاں بھی جو مقامی سیاست کی کشمکش کے خوش آئند نتائج ہیں۔ انھیں میں وہ مشہور گوشت کی فیکٹری بھی ہے جہاں جدید ترین مشینوں کے ذریعے بڑے جانور ذبح کیے جاتے ہیں اوراُن کے گوشت کی، انٹرنیشنل معیار کے مطابق عمدہ پیکنگ کی جاتی ہے اوراُسے نہ صرف ملک کے دوسرے خطوں میں بے حد احتیاط، صفائی اور حفظانِ صحت کے اُصولوں کا خیال رکھتے ہوئے پہنچایا جاتا ہے بلکہ کئی خلیجی ممالک کو ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔ ذبح میں نکلے ہوئے خون کو مشینوں اور پائپوں کے ذریعہ زمین کے اندر پہنچا دیا جاتا ہے۔ سافٹ اور کولڈ ڈرنک بنانے والی مشہور کمپنیوں نے بھی اپنی اپنی فیکٹریاں کھولنا شروع کردی ہیں۔ جہاں ان مشروبوں کا ڈرائی فارمولا سفوف کی شکل میں تیار شدہ بھیجا جاتا ہے مگرپانی نہیں۔ پانی کو مقامی سطح پر ہی فراہم کیا جاتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ اورسرمایہ کاری کا یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے نجی سیکٹر میں شامل کیے جانے کے بعد سے یہاں انجینئرنگ، میڈیکل اور مینجمنٹ کالج بہت بڑی تعداد میں کھلتے جارہے ہیں یہ شہر چھوٹا ہے اور اتنا پھیلاؤ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے جنگل، کھیت، تالاب اور جھیلیں سب سیمنٹ کے گھروندوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں جگہ جگہ فلائی اوور بنائے جارہے ہیں، اس لیے پچھلے کئی سالوں سے یہ پورا شہر اُدھڑے ہوئے سوئیٹر کی طرح نظرآنے لگا ہے۔ سڑکیں، گلیاں سب کھدی ہوئی نظرآتی ہیں۔ چلنے والوں کو اسی ملبے سے بچ کر نکلنا ہوتا ہے۔ چاہے اُنھیں اسپتال جانا ہو یا کچہری یا پھر سڑک کنارے کھڑے ہوکر گول گپّے ہی کیوں نہ کھانا ہوں۔ بہت سنبھل کر چلنا ہوتا ہے۔ کہیں بھی کوئی گڈّھا راستے میں آسکتا ہے۔ جس میں کیچڑ اور پانی بھرے ہوں۔ گڈّے میں گرکر کوئی بھی اپنے ہاتھ پیر تڑواسکتا ہے یا پھر سڑک کے بیچوں بیچ ڈالی جا رہی سیورلائن کے کھلے ہوئے مین ہول پَل بھرمیں کسی کے پیٹ سے نکلے ہوئے فُضلے یا کینچوئے کی طرح آپ کو شہر کے دوسرے حصے پر بہنے والی قلعے کی ندی کے کنارے پر واقع بائیو گیس کے پلانٹ میں پہنچاکر جہنم رسید کرسکتے ہیں۔ ان نئی بنی ہوئی کالونیوں تک جانے کے لیے آپ کو اتنا ہوشیار تو رہنا ہی پڑے گا۔ چاہے آپ کے پاس بائیک ہو، سائیکل ہو یا رکشہ ہو مگرسب سے زیادہ خطرہ تو پیدل ہی چلنے والوں کو اُٹھانا پڑے گا اور اگر اتفاق سے بارش ہو رہی ہو، پھر تو کہنا ہی کیا۔

یہ بھی ایک نئی سوسائٹی بن کر تیا رہوئی ہے۔ تین منزلہ فلیٹوں کی۔ اس کا نام لائف اپارٹمنٹ ہے۔ اس کالونی کے سارے مکان باہر سے پیلےے رنگ کے پُتے ہوئے ہیں اور مکان کے اندر باہر کے رنگ سے کچھ کم پیلا رنگ کیا گیا ہے۔ پچھلے آٹھے سالوں سے یہی رنگ فیشن میں ہے اور آرکی ٹیکٹ مکانوں کے نقشے تیار کرنے کے بعد اس رنگ کی سفارش کرتا ہے۔ اُس کا خیال ہے کہ مکانوں کے ڈیزائن سے اِسی رنگ کی ایک خاص مطابقت ہے۔ اس رنگ کا فی الحال ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ باہر پھیلی ہوئی پیلی دُھند کی وجہ سے یہ چھوٹے فلیٹ کچھ پھیلے ہوئے اور وسیع و عریض نظرآنے لگے ہیں۔ ایک چھوٹا سا پارک۔ چند ضروری سامان کی دکانیں اور ہمہ وقت یہاں تک کہ دن میں بھی روشن نیون لائٹس۔ یہ وہ عناصر ہیں جن سے لائف اپارٹمنٹ کی تشکیل و تعمیر ہوتی ہے۔ یہ جس زمین پر بنی ہے وہ پہلے ایک تالاب تھی،جسے پاٹ پاٹ کر اور مٹی ڈال ڈال کر خشک زمین میں بدل دیا گیا ہے۔ تالاب کے کنارے کبھی ایک بہت پرانا قبرستان بھی ہوا کرتا تھا جس کی قبریں نہ جانے کب کی دھنس چکی تھیں اوراب وہ ایک بڑے سے گڈھے میں بدل چکا تھا۔ ایک زمانے سے اس قبرستان میں کوئی فاتحہ تک پڑھنے نہیں آتا تھا اور نہ ہی کوئی مُردہ دفن ہونے۔ چند سال پیشتر تک کچھ آسیبی روایات بھی اس جگہ سے منسوب رہی تھیں مگراب شہری منصوبہ بندی اور ترقی کی شاندار اور جگمگاتی ہوئی روشنیوں نے توہم پرستی، خوف اور دہشت کو ہمیشہ کے لیے اپنے اندر نگل لیا تھا۔ اب شاید ہی کسی کو یہ بھی یاد رہ گیا ہو کہ اُس تالاب سے منسلک ایک بہت چھوٹی اور پتلی سی ندی بھی بہا کرتی تھی اوراس طرح کی کالونیوں میں بنے ہوئے مکانات کی بنیادیں انسانی پنجروں اور ہڈیوں کی راکھ اور چونے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ویسے بھی اس قسم کی باتوں کو یاد کرنا یا یاد رکھنا سرے سے بے تُکا تھا۔ اورکسی حد تک غیر اخلاقی بھی کیونکہ اخلاقی اقدار کا تعلق ہمیشہ اپنے زمانے سے ہوا کرتا ہے۔ ‘زمانے’ کو تو بُرا کہا ہی نہیں جا سکتا ممکن ہے کہ زمانہ ہی خدا ہو۔ اور یہ زمانہ ایک دوسری متبادل اخلاقیات گڑھ رہا تھا۔

لائف اپارٹمنٹ میں بجلی کا کنکشن تو بہت جلد ہوگیا تھا مگرپانی کی قلّت ابھی بھی کسی حد تک موجود تھی۔ ضلع جل بورڈ کا پانی چوبیس گھنٹے میں صرف دوبار آتا تھا جس کا کوئی وقت متعین نہ تھا۔ اس لیے اُسے اسٹور کرکے رکھنا پڑتا تھا۔ پانی کے ذخیرے ساری دنیا میں تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں آئندہ سو سال میں ہمیں پانی کے بغیر خوش دِلی کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہوگا اور نسلِ انسانی کو پانی کا کوئی متبادل ڈھونڈنا ہوگا۔ سوسائٹی کی انتظامیہ کمیٹی نے اپنا بورنگ الگ سے کروا رکھا تھا مگربورنگ کا پانی بہت کھارا تھا اوراُس میں کیلشیم، میکنیشم، سوڈیم اور پوٹیشیم کی مقدار خطرناک حد تک تھی۔ اس پانی میں ریت اور مٹّی کے ذرات بھی ملے ہوئے تھے جن کی وجہ سے پانی کا رنگ دھندلا اور مٹیالہ تھا۔ ظاہر ہے کہ اِس پانی کو پینا مشکل بھی تھا اورمُضر بھی۔ خاص طورسے گردوں اور پھیپھڑوں کے لیے۔ بورنگ کے پانی کو اُبال کریا چھان کر بلکہ آر۔او۔ کے ذریعہ بھی آلودگی دورنہیں کی جاسکتی تھی۔ یہ پانی صرف ٹوائلٹ اورکسی حد تک نہانے یا کپڑے دھونے میں ہی بحالتِ مجبوری استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اوپر سے طرّہ یہ کہ ہردوتین مہینے کے بعد بورنگ بند ہو جایا کرتا تھااورپھر نئے سرے سے کوئی دوسری جگہ تلاش کرکے وہاں کی زمین کو کھودنا پڑتا اور بورنگ کرانا پڑتا۔ مگرمحلے کے ذلیل اور نچلے طبقے کے لوگون کے درمیان رہنے سے کہیں بہتر تھا کہ ہر شریف آدمی کو اِس طرح کی نئی کالونیوں میں آکربس جانا چاہیے۔ یہاں اتنی روشنی تھی، اتنا سکون تھا اور بلند سماجی مرتبہ تھا۔ سب سے برھ کر یہ کہ یہاں شریفوں کے بچوں کو کھیلنے کے لیے اچھے اچھے پارک ہیں اور وہ اَب محلے کے گھٹیالوگوں کے بچوں کے ساتھ کھیل کر بگڑیں گے نہیں۔ اب رہا وہ زردغبار اور رہی وہ پیلی دُھند تو جہاں نئی تعمیر ہوتی ہے وہاں یہ غبار اور ملبہ ہونا لازمی ہے۔ اِس غبار کو دیکھا ہی کیوں جائے۔ زمین کھودی جارہی ہے۔ اُس میں گڈّھے کیے جارہے ہیں۔ چاروں طرف مٹی اُڑ رہی ہے یا پھر کوّے۔ اس غبار کو دیکھا ہی کیوں جائے اِن کوؤں کی کائیں کائیں سنی ہی کیوں جائے۔ آنکھوں پرکالا چشمہ لگا لیا جائے اورگھرسے نکلنے سے پہلے اورگھر پہنچنے کے بعد اچھی طرح مَل مَل کر نہا لیا جائے۔ بس اتنا ہی تو کرنا ہے۔ اپارٹمنٹ کے تقریباً تمام افراد مع بچوں کے کالا چشمہ لگا کر باہر نکلتے ہیں اور واپس آکر خوشبودار صابنوں سے غسل کرلیتے ہیں۔ ایک معیاری زندگی گزارنے کے لیے کیا یہ زیادہ ہے۔

[dropcap size=big]اُس[/dropcap]

نے بیوی کے ہاتھ سے سے لے کر چائے کا کپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ بیوی نے جلدی جلدی اپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرنا شروع کردیا۔ یہ اُس کی مدتوں پُرانی عادت تھی۔ اُسے یہ وہم تھا کہ بار باراُس کا ہاتھ سُن ہو جاتا ہے۔ نہ تو میرے اندر خون بچا ہے۔ سارا خون جل گیا ہے اور نہ ہی کچھ اور وہ بڑبڑاتی۔ ویسے دیکھنے میں وہ ایک صحت مند اور طویل القامت عورت تھی جسے سطحی نظررکھنے والے خوبصورت بھی کہہ سکے ہیں اگرچہ عورت کو مرد سے زیادہ خوبصورت سمجھنا تمام جانداروں میں صرف انسانوں کا ہی حماقت آمیز فیصلہ ہے۔ عورت عقل مند اور طاقت ورتو ہے۔ بشرطیکہ طاقت کو اُس کے اصل مفہوم میں سمجھا جائے مگراُس کی خوبصورتی کے بارے میں ہمیشہ شک کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ معاشرے کی تشکیل کرتی ہے اور سماج پر مردسے زیادہ حاوی ہے۔ چاہے لاکھ اس سماج کو مردوں کا سماج کہا جائے۔ کیا اس قسم کی کوئی بھی جابرشے خوبصورت ہوگی مگرعورت کا سماج پر حاوی ہونا انسان کی ننگی آنکھوں سے ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا۔ اُس کی طاقت خون کی بال کی طرح باریک رگوں میں اپنا جال بنا کر معاشرے کی پوری ذہنیت کی ساخت کی تشکیل کرتی ہے۔ عورت کی طاقت کو اُس خوردبین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے جس سے کسی جرثومے یا وائرس کو۔ کیڑے مکوڑے تک اس معاملے میں انسانوں سے زیادہ عقلمند ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ انسانی معاشرے کے نروں سے زیادہ سمجھ دار وہی ہیں۔ اس لیے عورت کے جسم کو حسین سمجھ لینا ایک اندھے حیوان تک کے لیے مشکل بات ہے۔ عورت کے جسم کا ہر حصہ اتنا زیادہ فاضل گوشت سے بھرا ہوا اور تھل تھل کرتا ہوا چربی زدہ ہے کہ یہی ایک بات اس امر کی گواہ ہے کہ یہ خوبصورتی نہیں ہے۔ عورتوں کے جسم کا رنگ بھی قدرتی طورپر اتنا چمکیلا نہیں جتنا کہ ایک مرد کے جسم کا ہوتا ہے۔ اسی لیے اُنھیں میک اپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ نئی نویلی دلہن کو بغیر میک اپ کے زیادہ دن دیکھنے سے مرد کا دماغ خراب ہو سکتا ہے۔ دن میں، گھاس میں پڑا ہوا، سکڑا ہوا، پرڈالے ہوئے ایک بے سدھ نرپتنگا بھی اپنے رنگوں کے لحاظ سے رات کو اُڑنے والی مادہ پتنگے سے زیادہ چمکیلا ہے۔ مردتو صرف جنگ کے لیے پیدا ہوتے ہیں اوراب توجس طرح کی جنگ ہوتی ہے اس میں بھی مردوں کا کوئی خاص کام نہیں رہ گیا ہے۔ اب ان کا ایک ہی کام ہے کہ وہ عورتوں کے پیٹ میں اپنا بیج ڈالتے پھریں۔ ایک بد عقل آوارہ گھومتے ہوئے سانڈ کی طرح اوراس طرح انھیں اور بھی زیادہ مضبوط بناتے پھریں۔ اصل حاکم یقین مانیے کہ عورت ہی ہے۔ اُس نے یونہی کھڑے کھڑے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور فوراً منھ سے اُسے باہر نکالتے ہوئے کلّی سی کرڈالی۔ چائے ہے یا زہر؟ وہ چلاّیا۔ میرے منہ پر ہی کلّی کردیتے نا۔ وہ زور زورسے اپنا ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگی اوراُس کے بھورے بالوں کا جوڑا کھل کر بکھر گیاجس کی وجہ سے اُس کی ایک آنکھ ڈھک گئی۔ وہ اسی چہرے سے ڈرتا تھا جب بھی اُس کی ایک آنکھ ماتھے سے سرکے ہوئے بالوں سے ڈھک جاتی اور بس ایک آنکھ چہرے پر نظرآتی۔ اس ایک آنکھ میں ایک سرد اور خوفناک حکم تھا۔ دراصل یہی ایک اصل جابر حاکم کی آنکھ تھی۔ کسی دیو مالائی کردار کی غصہ ورآنکھ۔ اگراُس کے چہرے پر دونوں آنکھیں نظرآتی رہتیں تو وہ اس غضبناک چہرے کا مقابلہ کر بھی سکتا تھا مگرماتھے پر صرف ایک بڑی بھوری اورسرخی مائل آنکھ گھورتی نظرآتی ہے۔ تقریباً ایک شیطانی آنکھ جس پر کبھی گہائی تک نکلنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ وہ واقعی ڈرگیا۔ اُسے معلوم تھا کہ بُری نظر بھی ایک ہی آنکھ سے لگتی ہے اورجس آنکھ سے لگتی ہے اُس میں کبھی آنسو نہیں ہوتے۔ چائے کا کپ اُس نے ایک اسٹول پر پہلے ہی رکھ دیا تھا۔ اُس خشک آنکھ سے اپنی آنکھیں پھیرتے ہوئے غسل خانے میں جاکر اُس نے دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ وہ شدید سے شدید گرمی میں بھی گرم پانی ہی سے نہاتا تھا۔ اُس نے سب سے پہلے گیزر کا سوئچ آن کیا۔ سوئچ آن کرنے پر ہلکا سا اسپارک کرتا تھا۔ گیزر کی لال بتی روشن ہوئی مگراُس لال بتی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ گیزر میں ایک عجیب خرابی پیدا ہو گئی تھی وہ کبھی گرم پانی دیتا تھا اور کبھی برف کی طرح ٹھنڈا۔ پوری سردیاں اسی طرح بیت گئیں۔ گرم پانی کی علامت اُس لال بتی کے نیچے وہ کانپتا اور ٹھٹھرتا رہا۔ درمیان میں کبھی کبھی گرم پانی کا ریلہ بھی آجاتا جیسے خواب میں کسی دوست کا چہرہ نظرآجائے۔ وہ اپنی مصروفیات کی بنا پر (اگرواقعی اُس کی کوئی مصروفیت تھی) اورکچھ اس یقین کی بنا پر کہ ایسی عجیب و غریب تکنیکی خرابیاں جلدی دور نہیں ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان کا ایک نادیدہ رشتہ انسانوں کے مقدر اور ستاروں کی گردش سے ہوتا ہے۔ یہ پُراسرار باتیں ہیں اور فی الحال وہ پُراسرار باتوں کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا شیو کررہا تھا۔ یہ بھی ایک چٹخا ہو ا آئینہ تھا۔ چٹخے ہوئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ دیکھ کر شیوکرنے کے دوران اکثراُس سے اندازے کی غلطی ہو جاتی۔ بلیڈ کہیں کا کہیں چل جاتا۔ چہرے پر لگے ہوئے صابن کے سفید گاڑھے جھاگوں میں خون کی لکیریں شامل ہو جاتیں۔ آئینے کا نہ بدلنا یقیناً اُسی کی لاپرواہی تھی مگروہ یہ نہیں جانتا تھا کہ آئینہ چاہے چٹخا ہوا نہ بھی ہو تب بھی ہر آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آدمی کی آنکھیں ہمیشہ اندھیرے میں غلطاں ہوتی ہیں۔ وہ مستقبل کے بارے میں تو زیادہ ہی بے خبرہوجاتا ہے۔ صابن کے سفید جھاگوں سے اُس کا سانولا چہرہ اس طرح ڈھک گیا جیسے کسی گڈھے میں کالے اورسڑتے ہوئے پانی پر سفید ریت اور چونا ڈال کر وقتی طورپر ڈھک دیا جاتا ہے۔ اُس نے اس چہرے سے جھانکتی ہوئی آنکھوں سے اپنے دائیں ہاتھ پر نکلے ہوئے پھوڑے کے پرانے نشان کو دیکھا۔ وہ ہمیشہ شیو بناتے ہوئے اس زخم کے نشان کو دیکھتا۔ یہ نشان ہتھیلی کے بالکل نیچے کلائی پراُس جگہ واقع تھا جو گالوں پر ریزر چلاتے وقت بار بار نمایاں ہوجاتی تھی۔ اگریہ زخم اُس کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑتا اور کسی پھوڑے کے باعث نہیں بلکہ چاقو یا تلوار کے کسی خطرناک وار کے نتیجے میں وجود میں آیا ہوتا تو کسی بھی عورت کے لیے اُس کی شخصیت میں سیکس اپیل بہت بڑھ جاتی۔ اُس نے شیو کرنے والےبُرش سے کلائی پرآئے ہوئے اس بھدے نشان پر صابن کے سفید جھاگ لگادیے، بالکل اُسی طرح جیسے دیوار پر اُبھرآئے ہوئے کسی بدنما سیلن کے دھبے پرسفیدی پوت دی جاتی ہے۔ غسل خانے کی کھڑکی کے باہر پھیلا ہوا پیلا غبار اُسی طرح ساکت و جامد موجود تھا۔ آج دفترپہنچ کر وہ اُن تصاویر سے کچھ نئے گوشے نکال کر مکانوں کے چند نقشے نمونے کے طورپر بنائے گا۔ جن کا البم کئی ہفتوں کی محنت کے بعد وہ حاصل کر پایا تھا۔ یہ قبرستانوں کی تصویریں تھیں اور شمشان گھاٹوں کی بھی۔ قبرستان میں جاجاکر طرح طرح کی پکی قبروں کی تصویریں جو اُس نے پوشیدہ طورپر اپنے کیمرے سے لی تھیں۔ کئی ہفتوں سے وہ شہر کے قبرستانوں کا چکر لگاتا پھررہا تھا۔ کبھی فاتحہ پڑھنے کے بہانے کبھی کسی عزیز یا دوست کی قبرتلاش کرنے کے بہانے اوراُن دنوں کسی کی تدفین تواُس نے چھوڑی ہی نہیں تھی کیونکہ قبرستان تک جانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ قبرستانوں کے گرداب فصیل بندی کردی گئی ہے اوربے وجہ قبرستان میں گھومنے پھرنے والے کو شک کی نظرسے دیکھا جانے لگا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان بجّو جیسے قبرکھودو حیوان سے بھی بدتر ہوگئے ہیں۔ بجّو توپھر بھی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے قبر کھود کر مُردے کھاتا ہے۔ مگرانسان تو قبروں سے لاشیں نکال نکال کر بیرونی ممالک کے میڈیکل کالجوں میں اسمگل کرنے لگے ہیں تاکہ ان کے اعضانکال کراُن پر نئے نئے تجربے کیے جاسکیں۔ تجربہ تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ وہ مکانوں کی تعمیر میں وہی رمز پیدا کرنا چاہتا تھا جو قبروں میں پایا جاتا ہے اور یہ یقیناً فنِ تعمیر میں ایک نیا اضافہ ہوگا سنجیدہ باوقار فکرانگیز اور روحانی بھی۔ آجکل اتنے اوٹ پٹانگ قسم کے نقشوں پر مبنی مکان تعمیر کیے جاتے ہیں اور اتنے بچکانہ، بھدے اورآنکھوں میں چبھنے والے تیز رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ ان مکانوں میں رہ کر انسان صرف ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ یا ہسٹیریا کا یا پھر کابوسوں کے ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا۔ انسانوں کو اگرحقیقی سکون اپنے گھر میں چاہیے تواُس کے بنائے ہوئے مکانوں کے ان نقشوں اور ڈیزائنوں میں ملے گا جو مختلف النوع قسم کی قبروں کی اسمبلاژ سے تیار کیے جائیں گے۔ انسانوں کی زندگی میں ہمیشہ موت کی ایک جھلک، ایک آہٹ ضرور شامل رہنی چاہیے۔ موت کو اپنے گھروں کی دیواروں سے بے دخل نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اپنے پاس نئے اور پرانے نوٹ ایک ساتھ جمع کرکے رکھتے ہیں پھرایک دن آتا ہے جب پرانے نوٹ ایک ساتھ جمع کرکے رکھتے ہیں پھرایک دن آتا ہے جب پرانے نوٹ واپس لے لیے جاتے ہیں اور نئی سیریز کے نوٹ بازار میں داخل کردیے جاتے ہیں۔ لوگ نہ مرتے مرتے تھکتے ہیں اور نہ پیدا ہوتے ہوتے اسی لیے گھروں میں دونوں رنگ شامل ہونا چاہئیں۔ زندگی اور موت کی ایک جُگل بندی۔ وہ جب بھی قبرستان سے باہر آتا موت کا کوئی چیتھڑا اُس کے جوتے کے تَلے میں چپک کر اُس کے ساتھ باہر آجاتا۔ وہ اُسے اپنے پیروں کے تلوؤں میں صاف اور واضح طورپر محسوس کرتا۔ اُس کی ٹھنڈک کو، اُس کی اُداسی کو اور اُس کےرمز کو یا اسرار کو۔ اسرار توکسی بھی قسم کا ہو اُسے جانا نہیں جاسکتا صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اُسے یہ احساس تھا کہ اُس کی بیوی بھی ایک اسرار ہے بلکہ یہ شادی بھی ایک اسرار ہی تھی جو کیوں ہوئی۔ اُس کی کوئی خاص وجہ آج تک سمجھ میں نہیں آئی ہے۔ بس اتنا ضرور تھا کہ اُن دنوں شادی سے کچھ ماہ پہلے اُس کی جنسی خواہش ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئی تھی۔ اُسے ایک ہی رات میں کئی کئی بار احتلام ہوجایا کرتا تھا۔ اُسے احتلام سے ہمیشہ سے ہی بہت ڈرلگتا تھا کیونکہ خواب میں نکیلے اور لمبے دانتوں والی چڑیلیں پاؤں میں پائل باندھے چھن چھن چھن کرتی ہوئی اُس کے جسم کا سارا خون پی جانے کے لیے اُس کی چھاتی پر آکر سوار ہو جاتیں۔ اُسے لگتا جیسے وہ پیلا پڑنے لگا ہے۔ اِس لیے اب یہی ایک شریفانہ حل رہ گیا تھا اور وہی اُس نے تلاش کرلیا۔ دوستوں سے کہہ کہلا کر ایک رشتہ طے کیا اورایک عورت کو گھرمیں لے آیا۔ عورت جس کے کہنے کے مطابق خود اُس کے اپنے جسم میں بھی خون جل گیاتھا مگرپھر بھی وہ ایک صحت مند عورت تھی اورحکم چلانے کا مادہ رکھتی تھی۔ بیوی نے کچن میں جا کر انڈے تلاش کرنا شروع کردیے۔ وہ ہمیشہ انڈے کہیں رکھ کر بھول جاتی تھی۔ فریج میں انڈے رکھنے کے وہ سخت خلاف تھی۔ اُس کا خیال تھا کہ فریج کی ٹھنڈک سے انڈوں کی زردی جم جاتی ہے اوراُسے کسی بھی جمی ہوئی چیز کو پگھلانا سخت ناپسند تھا۔ پگھلنے کا منظر اُسے کر یہہ نظر آتا تھا۔ وہ تو پگھلتا ہوا مکھن، گھی اور یہاں تک کہ برف کو بھی پگھلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی، اسی لیے اُس نے پاورکٹ کے زمانے میں اپنے گھر میں آج تک موم بتی نہیں جلائی۔ یہ اتفاق نہیں تھا کہ اپنے شوہر کے کہیں بھی ہاتھ لگانے سے،چھو لینے سے یا بوسہ لینے کی رسمی اوراخلاقی کوشش سے بھی وہ نہیں پگھلی۔ اُس کے جسم میں رقیق مادوں اور پانی کی بہت کمی تھی۔ اُس کے ہونٹ بھی خشک رہتے تھے اور آنکھیں بھی۔ دل کا پتہ نہیں، دل کا پگھلنا تو محض محاورہ ہے۔ اب یہ تو بالکل صاف ہے کہ اُن دونوں میں محبت نہیں تھی اور اگرہوتی بھی تو کیا۔ محبت اور نفرت دو ایسی ندیوں کی مانند ہیں جو تھوڑا سافاصلہ برقرار رکھتے ہوئے برابر برابر چلتی ہیں، مگرکبھی کسی شہر یا گاؤں میں پہنچ کر الگ الگ سمتوں میں نکل جاتی ہیں۔ چکر کاٹتی ہیں، بل کھاتی ہیں، کبھی تو سانپ کی طرح پھر بہت دور کہیں آگے جاکر کوئی ایسا مقام ضرور آتا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتی ہیں۔ پھر جو پانی آگے بڑھتا ہے اُس میں سوائے تکلیف، حسدو جلن اوراوچھے پن کے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آگے بڑھتا ہوا پانی محبت اور نفرت دونوں سے زیادہ کمینے اورخطرناک سمندر میں جا کر گرجاتا ہے۔

جہاں تک ان دونوں کے یہاں بچوں کے نہ ہونے کا سوال ہے تو اس کا ذمہ داراپنے شوہر اوراُس کی معاشی مجبوریوں کو ٹھہرانا ایک غلط الزام تھا۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے جسم میں ایک بھیانک خشکی تھی۔ یوں تو وہ ماں بننا چاہتی تھی مگراِسے کیا کیا جائے کہ شوہر سے مباشرت کے وقت(اگراِسے مباشرت کہا جا سکتا ہو) بغیر کسی محبت اور خواہش کے ساتھ سوکھے ہوئے ہونٹ، لعاب سے یکسر خالی منھ، زبان اورخشک اندام نہانی کے ساتھ لیٹے رہنا داصل ریپ کے عمل سے بھی زیادہ گھناؤنا اور بدتر تھا۔ اگرایسی صورتِ حال میں اتفاق سے اُس کی کوکھ میں کسی بچے کا بیچ پڑ بھی جاتا تو وہ ایک بدنصیب اور بِن بُلائی جان ہی ہوتی۔ وہ خود بھی برف کی ایک جمی ہوئی چٹان تھی۔ اُسے اپنے آپ سے بھی چڑتھی اواپنے آپ کو پگھلتے ہوئے دیکھنے سے تواُس سے بھی زیادہ۔ جہاں تک خواہش کا سوال ہے تو وہ جسم کی ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ وقت کا ایک ذرا سا پانسہ پلٹنے پر، جسم کے اندر بہنے والے کیمیائی مادوں کی معمولی سی غداری سے ہی وہ کینہ پرور، مذاق اُڑاتی ہوئی کٹنی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جس میں محبت، نفرت، خواہش اورمامتا سب ایک ساتھ کسی جادوئی طاقت کے زیرِ اثر سرکے بَل کھڑے نظرآتے ہیں اس لیے اصل بات جو بغیر کسی اخلاقی فراڈ کے اور لاگ لپٹ کے، کہی جا سکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ مراد اپنے، تقریباً ہروقت ایستادہ عضوِ تناسل سے عاجز تھا اورعورت اپنی سوکھی ہوئی معذور اندامِ نہانی سے۔

ٹھیک اُسی لمحے میں بجلی چلی گئی۔ جب اُس نے فرائی پان میں انڈے توڑے، گرم گرم تیل میں ایک ناگوار آواز کے ساتھ زردی اور سفیدی دونوں اپنی اپنی الگ دنیا میں سکڑتی جا رہی تھیں۔ آج کل صبح صبح بھی جانے لگی ہے۔ وہ بڑبڑائی۔ گرمی بڑھ رہی ہے، بجلی جانے کا سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ پسینہ آئے گا۔ اندھیرا تو برداشت کرہی لیا جاتا ہے۔ روشنی کوئی اتنی اچھی چیز بھی نہیں مگرپسینے میں جسم پگھل پگھل کر بہتا ہے۔ جسم اپنے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے۔ نمکین گندے رقیق مادے کی شکل میں اوربدبودار پانی کی شکل میں۔ بجلی کیوں چلی گئی؟ اتنی دیر میں بجلی آگئی۔ لابی میں لگے ہوئے چھت کے پنکھے کے پَر ابھی پوری طرح گھوم بھی نہ پائے تھے کہ بجلی پھر چلی گئی۔ اُس نے بجلی کو کوسنا شروع کردیا اوراپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرنا بھی۔ مگربجلی کو کوسنے سے بہتر تھا کہ اپنے مقدر کو کوس لیا جائے۔ بجلی کی اپنی ایک الگ شخصیت ہے جیسے پانی کی۔ اُس کے اپنے اُصول ہیں اوراپنی اخلاقیات۔

 

پیار محبت
غم غصہ
رونے اور شہوت میں
وہ پیدا ہوتی ہے
پانی سے اُس کی عظیم دوستی کی
مچھلیاں قسمیں کھاتی ہیں
مچھلیاں جو اپنی دُم کے/آخری حصے میں اُسے سلا کررکھتی ہیں
شارک نے اُس کے جھٹکے کو محسوس کیا اور شِو کے تانڈوجیسا رقص دیکھا
پانی میں رقص
اس رقص کے کوئی معنی نہ تھے
اس رقص میں لفظ نہ تھے
نصاب کی کتابیں کبھی کافی نہیں ہوتیں
ربڑ کے دستانے پہن کر
لکڑی پر پیر یا ہاتھ جما لینے سے
ہم اُس سے آزاد نہیں ہو سکتے
اُس میں ایک رمز ہے
جو اس نظم میں نہیں
خالد جاوید

Tell me when the storm is over
When all the lights are down and the sound of
Thunder claps
Bringing silence than a flash
Only the electricity brings light
Shooting from the sky
Brings a new life to the ground
Killing everything around
The smell of dirt and brunt tissue forming dust and smoked death
Azzy writes

[dropcap size=big]کیا[/dropcap]

صابن سڑرہا ہے؟ اُس نے غسل خانے میں بہت ہی عجیب سی ناگوار بُو محسوس کرتے ہوئے سوچا۔ گیزر کی ٹونٹی کے نیچے بالٹی پانی سے آہستہ آہستہ بھر رہی تھی۔ بجلی چلی گئی تھی۔ بس کھڑکی کے شیشے سے پیلا غبار اپنا عکس پانی پر ڈال رہا تھا۔ اُس نے بالٹی کے پانی میں جھانکا۔ پانی زرد نظرآیا۔ باہر پھیلے ہوئے اُس حبس زدہ غبار کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتے ہوئے اُس نے بالٹی کے پانی سے مگ بھرکر اپنے سرپر انڈیلا۔ پانی پہلے اُس کی آنکھوں میں داخل ہوا پھر وہاں سے بہتا ہوا ناک کے نتھنوں میں اوراُس کے بعد اُس کے کی گنجی اور چکنی کھوپڑی سے پھسلتا ہوا کنپٹیوں اورکانوں کے درمیان ایک پَل کو رُکتا ہوا بہت تیزی کے ساتھ دونوں کانوں کے اندر چلا گیا۔ اُس کے تازہ تازہ شیو کیے ہوئے چہرے پر سے پھسلا اور ہونٹوں کے کناروں کو گیلا کردیا۔ اُس نے ایک سانس منھ کھول کر لی تو کچھ بوندیں منھ کے اندر پہنچ گئیں۔ پانی اب گردن سے بہتا ہوا، اُس کے کندھوں، پیٹ اور پیٹھ تک آکررُک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا مگ بھرپتا، اُس نے اپنے منھ، چہرے، آنکھیں، ناک، کان اوریہاں تک کہ اپنے دماغ کو بھی بھیانک بدبو کی یلغار اورنرغے میں پایا۔ اُس کے منھ میں تو جیسے کھارا پیشاب بھرا جارہا تھا۔ اُس کا جی بری طرح متلایا۔ معدے میں اُلٹیوں کا اوراُبکائیوں کا ایک طوفان باہر نکلنے کو بے چین تھا۔ جسے روکتے ہوئے اُس نے مگ کو دور دیوار پر دے مارا اور بہت زور سے چیخا۔ یہ کیسا پانی ہے، دروازہ کھولو۔ بیوی نے ایک بار میں نہیں سنا اُسے پسینہ آرہا تھا۔ وہ پسینے سے پریشان تھی۔ اُس نے نہیں سُنا۔ دروازہ کھولو سُور کی بچی، کھول دروازہ۔ غصے نے اُسے دنیا کا سب سے بہادر مرد بنا دیا۔ خود کیوں نہیں کھولتا کتے، دروازہ تونے اندر سے بند کیا ہے۔ عورت دہاڑی۔ وہ دروازہ کھولتا ہے اورغصے میں حواس باختہ ہوکر ننگا ہی باہر آجاتا ہے۔ اُس کے بدن سے پھوٹنے والی بدبو لابی میں بھر گئی ہے۔ وہ اُس کےسامنے تن کر کھڑی ہے۔ اندرجاؤ، بے حیا، بے شرم، عورت چیختی ہے۔ تونے پانی نہیں دیکھا کتیا۔ صبح سے پڑی پھنّا رہی ہے۔ تو نے پیشاب اورپاخانے کی چائے مجھے پلادی۔ دیکھا نہیں پانی میں کیا ملا ہوا تھا، سُور کی بچی۔ اندر جا بے حیا، باپ کو گالی مت دے ننگے۔ ننگا ہوکر اور ذلیل لگ رہا ہے تُو اور تیرا یہ۔ عورت پوری طاقت سے چلاتی ہے۔ اُس کے سرکے بال کھل گئے ہیں جن سے اُس کی ایک آنکھ ڈھک گئی ہے مگراب وہ اس چہرے سے نہیں ڈرا۔ وہ غصے میں اپنی پرانی ہستی کھو چکا ہے۔ ابھی پوچھتا ہوں تجھ سے، آج تو نہیں بچے گی میرے ہاتھ سے ماری جائے گی۔ وہ پاگل کی طرح بڑ بڑاتا ہوا دوبارہ غسل خانے میں جا رہا ہے۔ شاید تولیہ باندھنے۔ عورت اُس سے بھی زیادہ پاگل ہوتی ہوئی اُس کے پیچھے پیچھے غسل خانے میں گھس آتی ہے، کسی بَلا یا وَبا کی طرح۔ کیا کرے گا، مار ڈالے گا، کیا پوچھے گا بھڑوے کی اولاد۔ وہ بے لباس، گیلا اور بدبودار اُس کےسامنے کھڑا غیظ و غضب سے کانپ رہا ہے۔اُس کا ہاتھ اوپر اٹھتا ہے۔ وہ عورت کو پوری طاقت کے ساتھ پیچھے کی طرف دھکا دیتا ہے۔ وہ تھوڑا سا پیچھے کی طرف جھکتی ہے اورپھر سنبھل کر جواباً اُس کی گردن پکڑ کر دیوار کی طرف دھکیلتی ہے۔ گیزر کے بالکل نیچے۔ اچانک بجلی آجاتی ہے، گیزرکی لال بتی روشن ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو گرنے سے بچانے کے لیے وہ کسی چیز کا سہارا لینا چاہتا ہے۔ وہ دیوار پر لگے ہوئے بجلی کے ساکٹ کو تھام لیتا ہے۔ ایک دھماکہ، روشنی کا ایک جھماکہ، شارٹ سرکٹ۔ ایک زوردار جھٹکا کھاتے ہوئے اُس کا مادرزاد برہنہ جسم کسی وزنی پتھر کی مانند لڑھکتا ہوا بالٹی سے ٹکراتا ہے۔ بالٹی اُلٹ گئی، گندے بدبودار پانی سے اُس کے جسم کا نچلا حصہ ترہوگیا ہے۔ اُس کے دانت پہلے کٹکٹاتے ہیں، پھر بھنچ جاتے ہیں۔ منھ ٹیڑھا ہوکر نیلا پڑنے لگا ہے۔ نیلاہٹ آہستہ آہستہ سارے جسم میں رینگ رہی ہے۔ چند لمحوں تک کے لیے اُس کا نیلا جسم کسی عامیانہ قسم کے آلہ موسیقی کی طرح جھنجھناتا ہے۔ پھر بے جان ہوجاتا ہے۔ غسل خانے میں اب ایک بُو اوربھی آکر شامل ہوجاتی ہے، یہ موت کی بُو ہے۔ چند کھیتوں بعد یا زیادہ سے زیادہ ایک دن کے بعد، اُس کے کمرے میں الماری کے نیچے رکھے ہوئے اُس کے جوتوں کے تلوں میں چپکی ہوئی موت واپس قبرستان کی طرف رینگ جائے گی۔ موت کا یہ محبوب مشغلہ ہے، گھرسے قبرستان۔ قبرستان سے گھر۔

ساڑھے دس بجے عورت پولیس اسٹیشن فون کرتی ہے۔ پونے گیارہ بجے ایک پولیس انسپکٹر دو سپاہیوں کے ساتھ اندر داخل ہوتا ہے۔ لاش کہاں ہے؟ باتھ روم میں۔ انسپکٹر سپاہیوں کے ساتھ باتھ روم کے اندر جاتا ہے پھر ناک پر رومال رکھ کر واپس آتا ہے۔ حادثہ کیسے ہوا؟ انسپکٹر پوچھتا ہے۔ پتہ نہیں۔ عورت جواب دیتی ہے۔ پولیس اور کھلا دروازہ دیکھ کر چند پڑوسی اندرآگئے ہیں۔ دونوں میں روز جھگڑا ہوتا تھا۔ ہمارا جینا حرام کررکھا تھا۔ ایک کہتا ہے۔ شاید وہ مارا گیا۔ دوسرا کہتا ہے۔ انسپکٹر رک کر عورت سے پوچھتا ہے۔ یہ قتل ہے؟ معلوم نہیں۔ عورت جواب دیتی ہے۔ سچ سچ بتاؤ، تم نے قتل کیا ہے۔ تمہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔ انسپکٹر کہتا ہے۔ نہیں، ہاں۔ عورت انسپکٹر کی آنکھوں میں اپنی ایک کھلی ہوئی آنکھ ڈالتے ہوئے کہتی ہے۔ اُس کے سر کےبال ماتھے پرابھی بھی لٹکے ہوئے ہیں اورایک آنکھ اِن بالوں سے بری طرح ڈھک گئی ہے۔ وہ اپنے ایک ہاتھ کو بار بار اوپر نیچے کررہی ہے۔ انسپکٹراُس کی کھلی ہوئی آنکھ کو غورسے دیکھتا ہے۔ وہ حیرت انگیز حد تک خشک ہے۔ مگراُس میں ایک بے حس سی چمک ہے جو محبت اور نفرت دونوں کے دائمی فقدان سے پیدا ہوتی ہے۔ جواب دو۔ انسپکٹر گرجتا ہے۔ ہاں وہ مارا گیا۔ اُسی چکر میں۔ عورت بڑ بڑاتی ہے۔ کس چکر میں؟ انسپکٹر چوکنا ہوکر دلچسپی سے سوال کرتا ہے۔ پانی کے چکر میں۔ وہ پانی کے چکر میں مارا گیا۔ عورت اپنے بال ماتھے سے ہٹاتی ہے اوراب دونوں آنکھوں سے انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے اطمینان کے ساتھ جواب دیتی ہے۔

[dropcap size=small]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے ہرگھر میں اب گندا اور بدبودار پانی آرہا تھا۔ تین دن گزر چکے تھے۔ انھوں نے پینے کا پانی نہانے اور ٹوائلٹ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ مگرپینے کے پانی کا ایک وقت مقرر تھا اور وہ بہت کم مقدار میں آتا تھا۔ تین ہی دنوں میں وہ سخت بیمار پڑگئے۔ بیمارہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔ انھیں دست آنے لگے جن میں خون ملا ہوا تھا۔ اُن کے پیت میں اینٹھن اور مروڑ رہنے لگی۔ پھرانھیں بے تحاشہ خون میں ملی ہوئی اُلٹیاں شروع ہو گئیں۔ اُنھیں تیز بخار رہنے لگا۔ یہاں سے آدھے کلو میٹر کی دوری پر ایک نرسنگ ہوم تھا۔ جب اُس میں مزید مریضوں کے لیے کوئی بیڈ خالی نہیں رہا تو وہ شہر کے دوسرے اسپتالوں کی طرف بھاگنے لگے۔ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ بورنگ والے گندے پانی کی سپلائی روک دی گئی۔ کچھ لوگ سوسائٹی چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں یا احباب کے یہاں منتقل ہوگئے۔ یا کسی دوسری جگہ ضروری سامان ساتھ میں رکھ کر کرایہ پر رہنے لگے۔ ماہ کی آخری تاریخ تھی جب اس بیماری میں مبتلا ایک آٹھ سالہ بچے کی موت ہو گئی۔ کسی بھی پھیلنے والی بیماری میں پہلی موت کی ہی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ جس طرح پہلی محبت کی۔ اُس کے بعد تو سب عمومی بن کر رہ جاتا ہے۔ مریضوں کے لواحقین اوراسپتال کے عملے کے بیچ جھگڑا شروع ہوگیا۔ سب کا خیال تھا کہ محض اسپتال والوں کی لاپرواہی کی وجہ سے بچے کی جان گئی ہے ورنہ کالراسے آج کے زمانے میں کوئی نہیں مرتا۔

مگرکیا یہ واقعی وہی تھا؟ یعنی محض کالراجس سے اب کوئی نہیں مرتا۔ ضلع سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے ایک طویل راہداری میں کھڑے ہوئے لمبی ناک والے اور ایک پیشہ ورمکے باز کا سا چہرہ رکھنےو الے نوجوان ڈاکٹر نے کہا، اُلٹیاں ہو رہی ہیں، کھال سوکھ رہی ہے، رگ پٹھے سکڑ رہے ہیں۔ ہاتھوں اورپیروں پر جھریاں پڑرہی ہیں۔ دست رُک نہیں رہے ہیں، بخار اُتر نہیں رہا ہے۔ آنکھوں سے چمک غائب ہو رہی ہے۔ یقیناً یہ علامات کالرا کی ہیں یا بگڑی ہوئی پیچش کی مگراینتی بائیوٹک دوائیں اثر نہیں دکھا رہی ہیں۔ سیلائن اور گلوکوز چڑھانے پر بھی جسموں میں پانی کی مقدار بڑھ نہیں پارہی ہے۔ ایک ہزار ملی گرام پیراسیٹامول دینے پر بھی بخار ایک ڈگری بھی نیچے آرہا ہے۔ مریض کے جسم کے دوسرے ضروری اعضا گردے، جگر، پھیپھڑے اوردل آہستہ آہستہ اپنا کام چھوڑ رہے ہیں۔ کالراجراثیمی بیماری ہے مگرمریضوں کے خون کی جانچ میں کسی جراثیم کا سراغ بھی نہیں مل رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ وائرس سے پھیلنے والی پیٹ کی بیماری میں اس طرح کے دست نہیں آتے اور نہ ہی مریض کا جسم اس حد تک پیلا پڑجاتا ہے۔ مگرممکن ہے کہ یہ کسی نئے وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہو۔ اس پر تحقیق شروع ہو چکی ہے۔ مگریاد رکھئے جو بھی ہو رہا ہے وہ اُس پانی کے استعمال کی وجہ سے ہورہا ہے۔ جس میں سیورلائن کا گندا پانی آکر مل گیا ہے۔ اب ہمیں کرنا یہ ہے کہ کسی مریض کو بغیر دستانے پہنے چھونا نہیں ہے۔ مریض کے گندے کپڑوں کو جلانا ہے اوراس کے فضلے کو بھی۔ جی جی، ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ آپ یہ کیمرہ تھوڑا مجھ سے دور رکھئے۔ جی، اب بالکل ٹھیک ہے۔ جی تو آپ لوگ بھی اپنا کام کیجئے۔ اب میرے پاس اورکسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ آپ لوگ چیف میڈیکل آفیسر سے بات کرسکتے ہیں۔ سی۔ایم۔او۔، جی ہاں سی۔ ایم۔او۔ صاحب سے۔ وجہ؟ میں نے بتایا نا کہ وجہ صرف گندا پانی ہے۔ پانی سے آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ کتنی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ مثلاً معیادی بخار تک۔ بہت سی بیماریوں کے بارے میں ابھی پتہ نہیں۔ یہ کیمرہ تھوڑا، اوراِدھر اُدھر پیچھے کر لیجئے۔ شکریہ، جی اب ٹھیک ہے۔ لیکن پانی کی سپلائی روک دینے کے بعد بھی کیس لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ ایک رپورٹر نے پوچھا۔ وائرس نہیں مرتا۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ سوکھی ہوئی سطح پر عام وائرس ایک گھنٹہ فعال رہ سکتا ہے اور گیلی سطحوں یا پانی میں تو لگاتار اپنی نسل بڑھاتا رہتا ہے۔ باتھ روم کی ٹونٹیوں، بالٹیوں، مگوں سے بہت ہوشیار رہنا ہے۔ استعمال شدہ صابنوں کو پھینک دیجیے، باتھ روم کی دیواروں اورفرش کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ ایسی جگہوں پر تو وہ بارہ بارہ گھنٹے تک فعال رہ سکتا ہے۔ پانی سے بہت بچنا ہے، بہت ہوشیار رہنا ہے۔ آپ لوگ تو باتھ روم جانا ہی بند کردیجئے۔

باتھ روم جانا بند کردیں؟ اس کا کیا مطلب ہوا۔ کیمرہ مین کے برابر میں کھڑی ہوئی چشمہ لگائے ایک جاذب النظر لڑکی نے سوال کیا۔ لڑکی ٹی۔ وی۔ کے کسی چینل کی رپورٹر معلوم ہوتی تھی۔ وہی مطلب ہوا جو آپ سمجھ رہی ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ تو کیا جنگل میں فارغ ہونا پڑے گا۔ لڑکی بولی، اُس کے ہاتھ میں مائیک تھا جو اُس نے ڈاکٹر کی طرف برھا دیا۔ یہ۔۔۔۔۔۔یہ میں نہیں جانتا۔ ڈاکٹر نے لاپرواہی سے اپنے کندھے اُچکانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اُس صورت میں خواتین کا کیا ہوگا۔ ان کالونیوں کے آس پاس اب ایسے جنگل یا زمینیں نہیں بچی ہیں جہاں خواتین اپنی شرم و حیا کو برقرار رکھتے ہوئے فارغ ہو سکیں اوراپنی عزت و عصمت بھی برقرار رکھ سکیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ممکن ہے؟ لڑکی نے پیشہ ورانہ انداز میں تیزی کے ساتھ جملے اداکیے جس کی وجہ سے اُس کی آنکھوں کی چمک اڑگئی۔ اور کیسے؟ دیکھئے ہمارا کام صرف مریضوں کا علاج کرنا ہے۔ ہم اس صنفی ڈسکورس میں پڑکراپنا وقت کیسے برباد کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ مگرآپ ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں اور دانشور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے کہ کیا ایسی بیماری سے خواتین کی ذہنی اور معاشرتی زندگی پر منفی اثرات پرنے کا خدشہ ہے۔ لڑکی نے اپنا سنہری فریم کا چشمہ اُتارا اوراپنی آنکھوں کو رومال سے صاف کرتے ہوئے پوچھا۔ لڑکی کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اُس کے چشمے سے بھی زیادہ خوبصورت۔ ڈاکٹرایک پَل کو اُس کی آنکھوں میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ پھر کہا، مردوں کے لیے بھی شرم و حیا اُتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خواتین کے لیے۔ کیا آپ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں؟ آپ نے جرنلزم کا کورس کب مکمل کیا؟ اچھا ابھی ایک ماہ پہلے ہی، ویری گُڈ۔ کِس انسٹی ٹیوٹ سے؟ اوہ اچھا، وہ تو بہت اچھا انسٹی ٹیوٹ ہے۔ دیکھئے میں لگاتار آپ سے گزارش کیے جارہا ہوں کہ اپنے کیمرے مجھ سے دور رکھئے۔ جی براہِ کرم مجھے کیمرے سے وحشت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے خالی وقت میں میرے کمرے میں آکر مل سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نے لڑکی کی طرف مسکراتے ہوئے کہا اور لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے وینٹی بیگ سے سفید رنگ کا وِزیٹنگ کارڈ نکالا اورڈاکٹر کے ہاتھ میں تھمادیا۔

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے فلیٹ آدھے سے زیادہ خالی ہوچکےے تھے۔ چالیس مریض جو شہر کے مختلف اسپتالوں میں بھرتی تھے اُن میں سے صرف پندرہ مریض ہی جانبرہوسکےہیں۔ ضلع کے حکام اورانتظامہ کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ تھا۔ جگہ جگہ اعلیٰ افسران کی میٹنگیں ہونے لگیں۔ مقامی سطح کے سیاست دان بھی فعال ہو گئے اور مخالف پارٹیوں پر خطرناک سازش کا الزام دھرنے لگے۔ وہ بلڈر بھی اُن کی زد میں آگیا جس نے لائف اپارٹمنٹس کی سوسائٹی کے لیے فلیٹ تعمیر کروائے تھے۔ اس بلڈر کی ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ تھی۔ یہ مخصوص پارٹی کچھ ماہ پہلے ہی اقتدار کی کرسی سے نیچے آئی تھی اس لیے بلڈر پر مقدمہ چلوانے کے مطالبے اور اپیلیں ہونی شروع ہو گئیں۔ میونسپل کارپوریشن کےدفتر میں بے چارے بلڈر کو طلب کیا گیا۔میٹنگ میں ضلع مجسٹریٹ اور میئر کے علاوہ دوسرے کئی اعلیٰ افسران شامل تھے۔ علاقے کا کارپوریٹر بھی موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ سوسائٹی میں پانی فراہم کرنے کے لیے آپ نے کس کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نے سوال کیا۔ وہ ایک نوجوان آئی۔اے۔ایس آفیسر تھا، ٹرینگ کے بعد اس کی پہلی پوسٹنگ اسی شہر میں ہوئی تھی، وہ سفیدبے داغ قمیض اور فاختئی رنگ کی پتلون میں ملبوس تھا، اس کی آنکھیں الو کی طرح گول گول تھیں جن پراس نے گول شیشوں والی عینک لگا رکھی تھی۔ فی الحال اس کےسرخ و سپید چہرے پر چالاک قسم کی ایمانداری کی چکنائی تھی مگرجلد ہی وہ ایمانداری کے اس روغن کو اپنے خشک چہرے پر لگانا چھوڑدے گا۔ کسی کمپنی کو نہیں جناب۔ پانی فراہم کرنے کے لیے کسی کمپنی کو ٹھیکہ نہیں دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پینے کے پانی کے لیے جل نگم میں عرضی دینا کافی ہوتا ہے۔ جل نگم کی فیس ادا کردی جاتی ہے اور نگم وہاں اپنی پائپ لائن بچھا دیتا ہے۔ بلڈر نے ادب کے ساتھ جواب دیا۔ ٹھیک ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ وہاں پینے پانی بھی آلودہ ہوچکا ہے۔ وہ پیلا اور بدبودار ہے۔ اُس میں انسان کے پیٹ سے نکلا ہوا فضلہ موجود ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، نہیں جناب! مجھے اس بارے میں علم نہیں۔ آپ کو کس بارے میں علم ہے؟ بلڈر نے خاموشی کے ساتھ سرجھکا لیا، اسے پہلی بارکسی سرکاری میٹنگ میں شرکت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا اس لیے اس نے اپنی کالی قمیض کے کالر میں تیز نیلے رنگ کی ٹائی بھی لگا رکھی تھی۔ ٹائی کی گرہ اتنے کامل طریقے سے باندھی گئی تھی کہ اس کے ایک چھوٹے بندر جیسے چہرے کو مضحکہ خیز بنا رہی تھی۔ کاملیت میں حماقت کا یک پہلو ہمیشہ نمایاں رہتا ہے خاص طورپر جب آدمی بلڈر کی طرح جوانی کے دورسے باہر نکل گیا ہو۔ سیورلائن بچھانے کا کام کس شعبہ کا ہے؟ میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے ہاتھ اٹھایا اور کہا، ہمارا شعبہ اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے۔ یہ کام آپ کی نگرانی میں ہوا تھا؟ جی جناب، مگرہم بعض معاملات میں پی۔ ڈبلیو۔ ڈی۔ والوں سے بھی مشورہ کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ سڑکیں وغیرہ بنواتے رہتے ہیں اورسڑک کے نیچے ہی نالیوں کے پاس تھوڑا اوپر کی طرف سیورلائن بھی ڈالی جاتی ہے۔ چیف انجینئر نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ مگرشاید ضلع مجسٹریٹ کو اُس کا یہ پُراعتماد لہجہ اچھا نہیں لگا کیونکہ وہ آئی۔ اے۔ ایس۔ تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نے برا سا منھ بنایا اور کہا یہ آپ مجھے مت بتائیں ہم لوگوں کو سب پڑھایا جاتا ہے۔ انجینئرنگ سے لے کر شاعری تک۔ یس سر، ساری۔ میرا مطلب تھا کہ۔ P.W.D والوں کا بھی اس کام میں رول رہتا ہے۔ چیفف انجینئر نے اپنی غلطی سدھارتے ہوئے کہا۔ آپ کے خیال میں پینے کے پانی میں یہ گندگی کیوں آرہی ہے؟ سر، ہمارا خیال ہے، یہ سیورلائن کا پائپ کہیں کریک ہوگیا ہے یا کسی جنکشن پر لیک ہوررہا ہے۔ زمین کھودکھود کر دیکھنا پڑے گا کہ کہاں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ اچھا۔ ہوں، اب یہ بتائیے کہ آپ لوگ سیور کے پائپوں کی فراہمی کے لیے کس کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں؟ سر، ہر بارٹینڈراِیشو ہوتے ہیں۔ کوئی ایک کمپنی کا اجارہ نہیں، ہم سب کو موقع دیتے ہیں اوراُن کو کو ٹیشنز کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ چیف انجینئر نے جواب دیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ ان پائپوں کی سپلائی کرنے والی کمپنی اورٹھیکے دار دونوں کو فوری طورپر نوٹس بھیجئے۔ اُس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔ یس سر، بالکل سر۔ مگرمیں ایک بات اور کہنا چاہوں گا۔ چیف انجینئر نے کچھ لجاجت سے کہا۔ ہاں بتائیے، کیا بات ہے؟ چیف انجینئر نے کنکھیوں سے میئر کی طرف دیکھا۔ اُس کی میئر سے ایک آنکھ نہ بنتی تھی کیونکہ وہ مخالف پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن جیت کرآیا تھا۔ چیف انجینئر ایک ادھیر عمر کا موٹا آدمی تھا۔ اتنا زیادہ موٹا کہ اس کے بیٹھنے کے لیے یہ کرسی ناکافی پڑ رہی تھی اوروہ اس میں کچھ اس طرح پھنس گیا تھا جیسے چوہے دان میں کوئی موٹا سا چوہا پھنس کر ہانپتا ہے اس کی توند کے دباؤ کی وجہ سے اس کی قمیض کے درمیان میں لگے ہوئے بٹن بار بارکھل جاتے تھے جس کی وجہ سے اس کی ناف کے اوپر پیٹ پر سفید بالوں کی ایک بدنما لکیر نمایاں ہو جاتی تھی۔ اچانک ہال کا دروازہ کھلا۔ علاقے کا ایم۔ایل۔ اے۔ اندر داخل ہوا۔ سارے افسران مع ضلع مجسٹریٹ مؤدبانہ انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہو گئے کیونکہ اُن کا نہ اُٹھنا پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتا تھا۔ اب کھادی کے سفید کُرتے اور پاجامے کا زمانہ بیت چکا تھا۔ وہ تیز گیروئے رنگ کا اونچا سا کُرتہ پہنے ہوئے تھا اوراُس نے موٹی موٹی ٹانگوں پر نیلی جینز منڈھ رکھی تھی جس پر عورتوں کے آڑے تنگ پاجامے کا گمان گزرتا تھا۔ اُس کے کو لہے بھی عورتوں کی طرح پیچھے نکلے ہوئے تھے۔ وہ جوان آدمی تھا اوراُس کی رنگت جی گھبرا کررکھ دینے کی حد تک سفید تھی۔ گلے میں گیروئے رنگ کا انگوچھا ڈال رکھا تھا۔ سر تقریباً گنجا تھا۔ مگرمونچھیں لٹک کر ٹھوڑی پر آرہی تھیں۔ چند ماہ پیشتر تک وہ صرف ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کا مالک تھا جس کے ٹرکوں پر گھٹیا اشعار لکھے ہوئے تھے۔ الیکشن کے بعد وہ ایم۔ایل۔ اے۔ ہو گیا، ایم۔ایل۔ اے ہونے سے پہلے وہ شہر میں بہت بڑے اغلام باز کی حیثیت سے مشہور تھا اگرچہ اب وہ عورت اور مرد کے فطری اور اخلاقی رشتے کی اہمیت پر اخبارات میں بیان دینے لگا تھا۔ ایم۔ایل۔ اے۔ نے ہاتھ جوڑ کر سب کو نمسکار کیا اورمسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔ اب وہ سب بھی اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ باہر آندھی آنے والی ہے۔ وہ بولا۔ اچھا۔ سارے افسروں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر کہا۔ سیاسی لیڈروں کی چمچہ گیری کرنے کا یہ ایک پرانا طریقہ تھا۔ اچھا آندھی آنے والی ہے۔ اوہ آندھی، وہ کہتے رہے۔ ہاں آنا چاہیے، بہت دنوں سے آسمان پر غبار چھایا ہوا تھا۔ بہت دن ہو گئے سرجی۔ ایم۔ایل۔اے۔ نے انگوچھے سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ یہاں اے۔سی۔ چل رہا ہے نا۔ جی سر، چل رہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا، کولنگ اور بڑھا دوں؟ نہیں مجھے نزلہ ہوجاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے، ایم۔ایل۔اے۔ تو کاروائی چل رہی ہے آپ لوگوں کی؟ جی بالکل، ہاں تو آپ کیا کہہ رہے تھے؟ ضلع مجسٹریٹ نے چیف انجینئر سے پوچھا جو ایم۔ایل۔اے۔ کے آجانے کے بعدسے کچھ زیادہ خوش اورپُراعتماد نظرآنے لگا تھا۔ جی سر، میں عرض کررہا تھا کہ ہمارے میئر صاحب کے زوردینےپر شہر کے چند علاقوں میں رسوئی گیس کی پائپ لائن ڈالنے کا کام بھی ایک گیس کمپنی نے میرا مطلب ہے کہ پرائیویٹ گیس کمپنی نے کیا تھا۔ ان علاقوں میں لائف اپارٹمنٹس والی سوسائٹی بھی آتی ہے۔ اس گیس کمپنی میں میئر صاحب کی پارٹی کے کئی عہدے داروں کے بڑے بڑے شیئر ہیں۔ چیف انجینئر بول کر چپ ہوا تو میئر کہہ اُٹھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ میئر پختہ عمر کا ایک وجیہہ آدمی تھا۔ اس کے چوڑے چکلے چہرے پر ایک قسم کا خاندانی وقارتھامگراس وقار میں بے رحمی اور غرور کے رنگ زیادہ شامل تھے۔ اس کی بالوں سے صاف اور چکنی کھوپڑی ان رنگوں کواوربھی چمکیلا بناتے ہوئے منعکس کررہی تھی۔ چیف انجینئر نے جواب دیا، کچھ نہیں بس یہی کہ گیس کمپنی نے بھی تو سڑکوں کی کھدائی کروائی تھی۔ تو؟ تواس سے کیا ہوتا ہے۔ سڑک کی کھدائی تو بجلی والے بھی کرتے ہیں، زیرِ زمین تارڈالنے کے لیے ٹیلی فون والے بھی کرتے ہیں۔ ان سب کو بھی بلائیے اورجواب طلب کیجئے۔ گیس کمپنی – آپ کو بس گیس کمپنی یاد آئی۔ میئر نے ناخوشگوار اور بلند لہجے میں کہا۔ ایم۔ایل۔ اے۔ نے میئر کی طرف ہاتھ اُٹھا کر اشارہ کیا اور بولتا رہا۔ میں چاہتا تھا کہ رین بو گیس کمپنی کو یہ کام سونپا جائے وہ بہت شریف لوگ ہیں۔ یہ اسٹار گیس کمپنی تو بدنام رہی ہے۔ یہ تو غنڈے موالی قسم کے لوگوں کو اپنی لیبرکے لیے ہائر کرتی ہے۔ سیورلائن کے پائپ انھیں مزدوروں نے توڑے ہیں۔ ایم۔ایل۔اے۔ بولا۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں؟ میئر نے کہا انکوائری ہونے دیجئے، ثبوت مل جائیں گے۔

آپ کیا کہیں گے؟ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر سے پوچھا، جو اَب تک سرجھکائے بیٹھا تھا۔ جناب میں کیا کہوں، میں نے تو صرف مکان بنوائے ہیں وہ بھی ٹھیکیداروں کے ذریعے، بلڈر پشیمان سا ہو کر بولا۔ اچھا مگرکیا آپ نے مکان خریدنے والوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ بجلی پانی کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں پائپ لائن والی گیس بھی فراہم کریں گے؟ جی وعدہ کیا تھا۔ اچھا کتنے عرصے بعد؟ جناب، میں نے میئر صاحب کے رشتہ داروں کے لیے دو ایچ۔ آئی۔ جے۔ فلیٹ بُک کیے تھے۔ تب میئر صاحب کے مشورے سے یہ طے کیا گیا جناب کہ پائپ لائن گیس کی سہولت حاصل ہو جانے سے سوسائٹی میں رہنے والے لوگوں کو زیادہ اچھی زندگی، میرا مطلب ہے کہ کوالٹی لائف مل سکتی ہے۔ بلڈر نے جواب دیا اور میئر کی طرف چور نظروں سے دیکھنے لگا۔

اسٹارگیس کمپنی کو بھی نوٹس بھیجئے۔ ضلع مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا۔ میئر ایک بار زورسے کھانسا پھر کہا۔ ہم اس بات کو فراموش کررہے ہیں کہ سب سے پہلے بورنگ والا پانی جو سب مر سبل پمپ (Submersible Pump) کے ذریعے زمین کے اندر سے کھینچا جاتا ہے، آلودہ ہوا ہے۔ یہ کام ظاہرہے کہ مقامی سطح پر کام کرنے والے پلمبروں اورنل لگانے والوں نےکیا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اُن سے رابطہ قائم کرنا ہوگا کہ انھوں نے مقررہ اور طے شدہ گہرائی میں ہی بورنگ کیا تھا یا نہیں؟ اُن سے دریافت کرنا پڑے گا کہ جہاں انھوں نے بورنگ کیا تھا۔ وہاں سے سیور لائن کتنی دور تھی۔ میراخیال ہے کہ انھیں پلمبروں کے ذریعے پائپ لائن ڈ میج ہوئی ہے۔ جناب ہم نے سارے پلمبروں کے ذریعے پہلے ہی ساری لائن چیک کروالی ہے۔ کہیں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی ہے۔ بلڈر نےاپنی صفائی پیش کی۔ میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے فوراً ہی لقمہ دیا۔ سر، میں نے انجینئروں کی ایک ٹیم وہاں روانہ کی تھی۔ اُن کی رپورٹ کے مطابق پینے کے پانی والی لائن میں کہیں کوئی خامی نہیں ہے، وہ محفوظ ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بلڈر کی طرف سردمہری سے دیکھا، پھر کہا۔ آپ اُن سارے نل کا کام کرنے والوں اور پلمبروں کو دوبارہ طلب کیجئے اور محکمہ صحت کے کارکنوں کی موجودگی میں کل اُن کے ساتھ میٹنگ کیجئے۔ کارپوریٹر صاحب آپ بھی شامل رہئے گا۔ اورایم۔ایل۔اے۔ صاحب کو اگروقت ملے تو پبلک کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ ایم۔ایل۔اے۔ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ میں ضرور سیوا میں حاضررہتا مگرکل مجھے راجدھانی جانا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے بلایا ہے۔ کچھ خاص بات کرنے۔ کوئی بات نہیں یہ لوگ دیکھ لیں گے، تو آج کی میٹنگ برخواست میرا مطلب ہے کہ ختم ہو گئی ہے۔ اس کے مِنٹس تیار کرکے ایک گھنٹے کےاندر سارے ممبران تک پہنچا دو۔ ضلع مجسٹریٹ نے اپنے بوڑھے اسٹینو سے کہا جو ایک ماہ پہلے ملازمت سے سبکدوش ہوچکا تھا، مگرابھی تک کسی نے اُس کا چارج نہیں لیا تھا۔ چائے نہیں آئی ابھی تک۔ ضلع مجسٹریٹ نے تھکی ہوئی آواز میں کہا اور اردلی کو بلانے کےلیے گھنٹی بجائی۔

[dropcap size=big]میونسپل[/dropcap]

کارپوریشن کے دفتر کےسامنے مجمع اکٹھا ہونے لگا ہے۔ یہ عجیب دفتر ہے۔ انسانوں کے مرنے جینے کا جتنا حساب کتاب اُس کے پاس ہے اُس سے زیادہ تو بس ملک الموت کے پاس ہی ہوگا۔ اس دفتر میں ایک اندھیرے اور بوسیدہ سے کمرے میں، کسی الماری میں انسانوں کی پیدائش کے ریکارڈ اور سرٹیفیکٹ رکھے ہیں اورایک دوسری الماری میں جو شاید پہلی الماری کے برابر میں ہی رکھی ہوگی اُن کی موت کے سرٹیفیکٹ ہیں۔ اس الماری پر دھول کچھ زیادہ جمی ہوئی ہے۔ اب یہ تو وہاں کے کلرک کی راشی آنکھ ہی جانتی ہے یا پھر خدا کی آنکھ کہ کون سی الماری میں زندے بند ہیں اورکون سی میں مُردے۔ ویسے اب نہ زندوں کو مردوں کی فکر ہے اور نہ مردوں کو زندوں کی۔ مردے بے چارے تو پھر بھی کبھی کبھی زندوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ان کے گھرآجاتے ہیں جہاں سے انھیں بھوت کا لقب دیتے ہوئے ذلیل کرکے نکال دیا جاتا ہے۔ مگرپھر بھی یہ سوال رہ جاتا ہے کہ وہ الماری کہاں ہے جس میں اُن کے ریکارڈ موجود ہیں جو نہ زندوں میں ہیں اور نہ مُردوں میں۔ مردم شماری کے رجسٹرمیں ان کے ناموں کے آگے سرخ روشنائی سے سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہ بدنصیب ہیں جو زندہ اور مردہ انسانوں کے درمیان کھنچی گئی ایک سرخ لکیر پر پڑے ہوئے کپکپاتے ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کی طرح۔

لوگ میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے آگے اکٹھا ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ خرابی کب تک دور کی جائے گی۔ مرمت کیوں نہیں کی جارہی ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کب تک آئے گا۔ مگرپانی میں جو رمز ہے وہ کارپوریشن کے افسروں کو اور کلرکوں کو نہیں معلوم ہے۔ وہ اس بارے میں جواب دینے سے قاصر ہیں۔

بھیڑ کچہری میں بھی ہے، جہاں کلکٹر بیٹھتا ہے، یعنی ضلع مجسٹریٹ جسے لوگ آج بھی ضلع کا مالک یا بادشاہ سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو یقین ہے کہ اُن کے بادشاہ کے پاس اُن کے دُکھوں کا مداوا ضرور ہوگا۔ مگربادشاہ کا خادم سفید وردی میں ملبوس وہ اردلی بھیڑ کو بار بار پیچھے ہٹنے کا حکم دیتا ہے۔ زیادہ شور پکار مچانے والے چند اولوالعزم افراد کو حراست میں لیے جانےکی دھمکی بھی دیتا ہے مگرساتھ ہی اُنھیں معنی خیز لالچی نظروں سے دیکھتا بھی جاتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے محکمہ حفظانِ صحت کے ڈائریکٹر کو اپنے آفس میں طلب کیا ہے جس کے ریٹائر ہونے میں پندرہ دن رہ گئے ہیں اور جو دل کا مریض ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نروس قسم کا آدمی ہے۔ اُس کی ہتھیلیاں ہمیشہ پسیجی رہتی ہیں اور پیروں کے تلوؤں سے آگ نکلتی رہتی ہے۔ اس کا چہرہ ایک مغموم خچر کے چہرے سے مشابہ ہے۔ وہ ضلع مجسٹریٹ کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ ایک نوجوان آئی۔اے۔ ایس۔ آفیسر ہے اورپرانے افسروں کو خاص طورپر وہ جو پرموشن کے ذریعے افسر بنے ہیں، حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک جدید اوراسمارٹ بیوروکریٹ سمجھتا ہے۔ اورپرانی سڑی ہوئی لال فیتہ شاہی کو چمکیلی، نئی اور سبز فیتہ شاہی میں بدل دینا چاہتا ہے۔

ڈی۔ایم۔ صاحب ہیلتھ والوں کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں۔ بعد میں آپ سب سے بات کریں گے۔ اردلی چلّاتا ہے۔ بھیڑ میں اب اپنا اپنا کیمرہ لیے ہوئے میڈیا کے رپورٹر بھی گھس آئے ہیں مگران میں وہ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نہیں ہے۔ وہ یہاں سے تین کلو میٹر دورضلع سرکاری اسپتال میں لمبی ناک والے نوجوان ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھی ہوئی کافی پی رہی ہے۔

آپ کا عملہ اس سلسلے میں کیا کررہا ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ کے نام پر آپ کی کارگردگی کا ریکارڈ گذشتہ بیس سالوں میں مایوس کن رہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ اپنے سامنے رکھی فائلوں کو ٹٹولتے ہوئے کہتا ہے۔ ہم سرہم، جناب، شہر کے تمام محلوں اور کالونیوں کی نالیوں میں ہر ہفتے چونا ڈالواتے ہیں اور ملیریا ڈینگی کے زمانے میں مٹی کے تیل اور ڈی۔ ڈی۔ ٹی۔ پاؤڈر کا چھڑکاؤ بھی کراتے ہیں۔ جناب، جی ہاں۔ آپ کو چونا ڈلوانے کےلیے سرکار اتنی موتی تنخواہ دیتی ہے؟ نہیں سر۔ جناب، ڈائریکٹر کے ماتھے پر پسینے کی لکیریں بہہ رہی ہیں۔ ضلع کا حاکم ایک فائیل کو دوسری فائیل سے الگ کرتے ہوئے رکھ رہا ہے پھر تیسری کو چوتھی سے لائف اپارٹمنٹس کے معاملے میں آپ کیا کررہے ہیں؟ ہم، ہم نے جناب ہم نے۔ سروہاں ہر طرف چونا ہی چونا بکھیر دیا ہے۔ اب ایک مچھر بھی وہاں پر نہیں مارسکتا۔ جناب ڈی۔ ڈی۔ ٹی۔ کا وافر مقدار میں چھڑکاؤ کیا ہے ہم نے جناب۔ اب ایک بھی مچھر۔ ڈائریکٹر نے جلدی جلدی اپنی کارکردگی کا بیان کردیا ہے۔ توآپ کے خیال میں یہ بیماری مچھروں کے ذریعے پھیلی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے سکون آمیز لہجے میں پوچھا۔ جی، جی جناب۔ نہیں، جی نہیں سر۔ مگرمچھروں اور گندگی سے ہی ایسی بیماریاں پھیلتی ہیں جناب۔ میں نے سنا ہے جناب۔ ڈائریکٹر کی آواز لگاتار کپکپارہی ہے۔ جیسے ریڈیو پر کسی اسٹیشن یا چینل کو سیٹ کرتے وقت اُس کی سوئی کپکپاتی ہے۔ آپ نے سنا ہے؟ اپ میڈیکل جرنلز اوراُن کی تازہ ترین رپورٹوں کا مطالعہ کرتے ہیں؟ کیاآپ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیز میں منعقد ہونے والے سیمیناروں میں تشریف لے جاتے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ پوچھتا ہے۔ میں جناب، میں دل کا مریض ہوں اور اگلے ہفتے مجھے پیس میکر لگنے والا ہے۔ ڈائریکٹر نے اپنی پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا۔ اوہ! آپ آکسیجن کا سلنڈر ساتھ نہیں رکھتے؟ جی ہمیشہ جناب۔ باہر رکھا ہے۔ آپ کے کمرے کے باہر۔ اردلی نے اندر لے جانے سے منع کردیا۔ پسینہ ڈائریکٹر کی گردن پر بہنے لگا۔ دو دن بعد لائف اپارٹمنٹس سوسائٹی میں میونسپل کارپوریشن کے کارکن، بلڈر کے عملے کے لوگ، پلمبرز اورایم۔ایل۔ اے۔ صاحب کی ایک تحقیقاتی میٹنگ ہوگی۔ آپ کا بھی وہاں رہنا نہایت ضرورت ہے۔ اگروہاں کی زمین یاپانی میں بیماری جراثیم پائے گئے تو سمجھ لیجئے کہ یہ خطرناک ہوگا اوراُسے دورکرنا ایک ٹیم ورک ہوگا۔ ہمیں سب کا تعاون درکار ہے۔ آپ بھی اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھ لیجئے۔ آپ ایک ماہ بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ جی نہیں سر، پندرہ دن بعد۔ اچھا ریٹائر ہونے کے بعد کیا ارادہ ہے۔ کوئی بزنس کروں گا۔ بیوی بھی یہی چاہتی ہے اور بچے بھی۔ بہت اچھا خیال ہے۔ ضلع مجسٹریٹ مسکراتا ہے اور کہتا ہے، ضرور بزنس کیجے۔ چونے کے ٹھیکے لینا شروع کردیجئے۔ اس میں بڑا منافع ہے۔ جی کیا فرمایا، چوہے کے؟ چوہے کہ نہیں چونے کے۔ ضلع مجسٹریٹ کی مسکراہٹ زہر خند ہوجاتی ہے۔ ڈائریکٹر کا سرذلّت اور شرمندگی کے بوجھ کے نیچے دب کررہ جاتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ گھنٹی بجاتا ہے۔ اردلی اندر آتا ہے۔ باہر کتنے لوگ ہیں؟ تقریباً ڈیڑھ سو حکم۔ ٹھیک ہے اُن کے صرف دو نمائندوں کا انتخاب کرکے اندر بھیجو۔ دونوں نمائندے الگ الگ مذہبوں کے ہونا چاہئیں، کیا سمجھے؟ اپنے ساتھ اسٹینو کو بھی لے لو۔ کیا سمجھے؟ جی حکم۔ اردلی واپس جاتا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب، آپ جا سکتے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا۔ ڈائریکٹر کانپتے ہوئے پیروں کے ساتھ کرسی سے اُٹھتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ اردلی کو بلانے کے لیے دوبارہ گھنٹی بجاتا ہے۔ اردلی اندر آتا ہے۔ کافی بھیجو، بہت گرم کافی۔ ضلع مجسٹریٹ اُس کی طرف دیکھے بغیر حکم دیتا ہے۔

چشمہ لگائے، خوبصورت آنکھوں والی رپورٹر نوجوان ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھی ہوئی کافی کے گھونٹ لے رہی ہے۔ ڈاکٹراُسے رومانی نظروں سے دیکھنے کے باوجود اُس پرادب کے کسی جغادری پروفیسر کی طرح اپنے مطالعے کا رعب ڈالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

آپ نے Illness as Metaphor پڑھی ہے؟ ڈاکٹر پوچھتا ہے۔ نہیں، کسی نے لکھی ہے؟ سوزن سوتانگ نے۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ اچھا میں نے یہ نام پہلی بارسنا ہے۔ لڑکی بولی۔ اوہ! بڑے افسوس کے بات ہے کہ آپ سوزن سوتانگ کو نہیں جانتی ہیں۔ ڈاکٹر نے افسوس اور ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ پھر فخریہ انداز میں بولا۔ میں میڈیکل کالج کے لٹریری اور ڈرامہ کلب کا جنرل سکریٹری تھا۔ خیرآپ نے آر۔ اِسٹیون کا The Paradox Plant تو پڑھا ہوگا۔ وہ تو بیسٹ سیلر رہا ہے۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی اپنے سیاہ ریشمی بال اوپر جھٹکتی ہے۔ دھیرے سے، ادا کے ساتھ مسکراتی ہے اور کہتی ہے۔ نہیں میں نے اس کتاب کا نام سنا ہے۔ چلیے کوئی بات نہیں، مگرمیرے خیال، میں آپ کو پہلی ہی فرصت میں The Emperor of All Maladies پڑھ لینا چاہیے۔ اگرآپ کو جیسا کہ آپ نے بتایا کہ آپ کو بیماری اوراُس کی سماجیات یعنی سوشیولوجی سے بہت دلچسپی ہے۔ ڈاکٹر نے جوشیلے انداز میں جملہ مکمل کیا۔ جی، میں نے یہ کتاب پڑھی تو نہیں ہے مگراس کے بارے میں بہت سنا ہے۔ سدھارتھ بنرجی نے لکھی ہے نا؟ جی نہیں بنرجی نہیں چٹرجی۔ ڈاکٹر نے تصحیح کی۔ ہاٹ کیک کی طرح بِکتی ہے یہ کتاب، مزہ آجائے گا پڑھ کر۔ ڈاکٹرنے کچھ اس انداز میں کہا جیسے وہ کوئی پورنو گرافی کی کتاب ہو۔ خیرمیں آپ کو دوں گا۔ گھرآئیے گا کبھی۔ بہت کتابیں دوں گا اورہاں میں آپ کو میتھوجون اسٹون کی I Had a Black Dog بھی دینا چاہوں گا۔ آپ کافی اورلیں گی؟ جی ضرور۔ مجھے کافی بہت پسند ہے۔ لڑکی مسکرائی۔ مجھے کافی سے زیادہ کافی کی خوشبو پسند ہے۔ ڈاکٹر نے کہا۔ پچھلے سال یورپ گیا تھا، وہاں کی لڑکیاں اپنے پرس میں اوراپنی جیبوں میں برازیلین کافی کے بیج رکھتی ہیں۔ کافی کی مہک سے زیادہ اچھی کسی پرفیوم یاعطر کی مہک بھی نہیں ہو سکتی۔ اُس کی مہک میں ایسا کیا ہے؟ لڑکی اپنی نیل پالش کریدتے ہوئے آہستہ سے بولی۔ وہ دراصل بے حد سیکسی ہوتی ہے۔ نوجوان ڈاکٹرنےاتنی تیزی کے ساتھ کہا کہ وہ لفظ سیکسی پراتنا زورنہیں دے پایا جتنا اس موقع پراُسے دینا چاہیے تھامگراس سے پہلے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوپاتا۔ لڑکی نے اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنا جملہ ادا کیا۔ آپ کا مطلب ‘ہاٹ’ سے ہے نا۔ سیکسی کا لفظ پرانا ہوچکا۔ کم سے کم پانچ سال پرانا۔ ہم میڈیا والے لفظوں کو ہمیشہ اُن کے صحیح تناظرمیں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ہم عصر یت سے الفاظ کا رشتہ کبھی منقطع نہ ہو پائے۔ ڈاکٹر پہلی بار کچھ جھینپ جاتا ہے۔ پھراس جھینپ کو مٹانے کےلیے پوچھتا ہے۔ توآپ نے بیماریوں پرکون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں؟ میں نے اورکافی منگوائی ہے۔ شکریہ۔ جب میں کالج میں پڑھتی تھی تو وہاں کے تقریباً ہر طالب علم کے ہاتھ میں مارکیز کی Love in the Time of Cholera ہوا کرتی تھی۔ مجھے بھی پڑھنا پڑی۔ اُسی زمانے میں البیئر کامیوکی پلیگ کا مطالعہ بھی کیا۔ اورہاں یاد آیا، چین کا ایک مصنف تھالی یان، اُس کے ناول Ding کے بھی صفحات پڑھے تھے مگرآگے نہیں پڑھ پائی۔ دل نہیں لگا۔ لڑکی اپنی لپ اسٹک درست کرنے لگتی ہے جو زیادہ شوخ رنگ کی نہیں تھی اوراُس کی بھوری آنکھوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ ڈاکٹرنے غیرارادی طورپر اپنے نچلے ہونٹ پر زبان پھیری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، مگریہ سب تو ناول ہیں۔ ناول میں ہوتا ہی کیا ہے۔ جھوٹ اور لفاظی کے علاوہ۔ اتنا جھوٹ بکتےہوئے اُن پر بجلی کیوں نہیں گرتی۔ ان سے وقت گزاری اور تفریح بازی کے علاوہ کوئی سنجیدہ مقصد نہیں حاصل ہو سکتا۔ آپ علمی اور تحقیقی کتابیں پڑھا کریں۔ دراصل مجھے لٹریچر کی کوئی سمجھ نہیں۔ آپ نے پوچھا تو بتا دیا۔ لڑکی نے کہا۔ ویسے آپ کو یہ ناول کیسے لگے تھے؟ ڈاکٹر نے پوچھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لڑکی بولی۔ وہی تو، وہی تو۔ ڈاکٹر خوش ہوکر کہنے لگا۔ اپ بجائے ناول پڑھنے کے ناول پر لکھی تنقیدی کتابیں پڑھ لیا کیجئے۔ اُن کو پڑھ کر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ناول نگار سے زیادہ احمق اورکوئی قوم نہیں ہوتی اورناول سے زیادہ فحش اور محذّب اخلاق کوئی شے نہیں ہوتی۔ چپراسی کافی کے دوکپ ٹر ے میں رکھے ہوئے داخل ہوا مگراُس کے پیچھے ایک نرس اور وارڈ بوائے بھی تھے۔ کیا بات ہے؟ ڈاکٹر نے پوچھا۔ ایک مریض اورچل بسا ہے۔ وارڈ کا ماحول بہت بگڑ گیا ہے۔ نرس نے جواب دیا۔ اوہ، اچھا! ٹھیک ہے۔ تم چلو، میں کافی ختم کرکے آتا ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا۔ نرس کنکھیوں سےلڑکی کی طرف دیکھتی ہوئی، وارڈ بوائے کے ساتھ واپس چلی جاتی ہے۔

کیا میں بھی آپ کے ساتھ وارڈ میں چل سکتی ہوں؟ لڑکی نے پوچھا۔ میرے خیال میں شاید یہ مناسب نہ ہو۔ میڈیا کے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ڈاکٹرنے بے چارگی کا اظہارکیا۔ میں بس میڈیا کی رپورٹر ہی ہوں؟ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے پتہ نہیں کس ترکیب سے اپنی آنکھیں اورخوبصورت اور نشیلی بنا لیں۔ اُس نے لپ اسٹک لگے ہوئے اپنے اُبھرے اُبھرے ہونٹ کچھ اس انداز میں آگے بڑھائے جس سے یہ پتہ لگانا مشکل تھا کہ وہ ڈاکٹر کو بوسہ دینا چاہتی ہے یا اُس کا بوسہ لینا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اچھا میں کوشش کرتا ہوں۔ تم اپنا کیمرہ تو ساتھ نہیں لائی ہو؟ اس نے کہا۔ نہیں۔ یہ اچھا ہے۔ چلو پھر جلدی سے کافی ختم کریں۔ ڈاکٹر یہ کہتا ہوا کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے ہوئے اُٹھ کر میز کی دوسری طرف لڑکی کی کرسی کے قریب آگیا۔ لڑکی نے اِدھر اُدھر دیکھا پھر کافی کا ایک لمبا گھونٹ لیا۔ ڈاکٹر نے اپنا کپ میز پر رکھ دیا۔ لڑکی نے بھی اپنا کپ میز پر رکھ دیا۔ لڑکی کے کپ پر لپ اسٹک کا نشان آگیا تھا۔ ڈاکٹرنے اُس نشان کو غورسے دیکھا۔ پھروہ لڑکی کے اور قریب آگیا۔

ایمرجنسی وارڈ کےاندر ایک عورت بُری طرح چیختی تھی، روتی تھی۔ اپنے سینے پر دو ہتھّر مارتی تھی۔ اُس کے تین سال کے معصوم بچے کی لاش ابھی بھی بیڈ پر موجود تھی۔ جس پر لال کمبل ڈال دیا گیا تھا۔ اس کے برابر میں چار پلنگ اورپڑے ہوئے تھے۔ سامنے بھی، دوسری قطار میں پانچ پلنگوں پر مریض لیٹے ہوئے تھے۔ مگراس سے ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ایمرجنسی وارڈ میں صرف دس ہی مریض تھے۔ دراصل پلنگوں کی اورجگہ کی کمی ہونے کے باعث ایک پلنگ پر دو مریض لٹائے گئے تھے۔ یوں دیکھا جائے تو وارد میں بیس افراد بھرتی تھے جن میں سے فی الحال ایک مرچکا تھا۔ مریضوں کی تعداد میں لگاتاراضافہ ہورہا تھا۔ چیف میڈیکل آفیسر کی ہدایت کے مطابق ان مریضوں کو صرف ایمرجنسی وارڈ میں ہی رکھا جاسکتا تھا۔ ان تمام مریضوں سے علیحدہ اورالگ جو دوسری بیماریوں اور دوسری وجوہات کی بنا پر اسپتال میں بھرتی تھے یا جن کے بھرتی ہونے کے امکانات تھے۔ دوسری طرف۔ شہر کے پرائیویٹ اسپتالوں اورنرسنگ ہوموں نے بھی ایسے کسی مریض کو اپنے یہاں بھرتی کرنے سے منع کردیا تھا۔جو لائف اپارٹمنٹس سے آئے ہوں مگراب تو ایسی خبریں بھی ملنی شروع ہو گئیں تھیں کہ یہ بیماری محض لائف اپارٹمنٹس تک ہی محدود نہیں رہ گئی تھی۔ صورتِ حال کی نزاکت اورسنگینی کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک طویل اور گوتھِک طرز کی بنی ہوئی تقریباً سنسان سی رہنے والی راہداری میں بھی مریضوں کے لیے پلنگ بچھا دیے گئے تھے۔ یہاں بھی ایک پلنگ پر دو مریض۔ دونوں مریضوں کے جسم میں چرھائی جانے والی گلوکوز اورسیلائن کی بوتلیں اور نلکیاں آپس میں اُلجھ اُلجھ جاتیں۔ ٹکراتی رہتیں۔ وہ تڑپتے اور بار بارپیٹ میں اُٹھنے والے بھیانک نا معلوم درد کے سبب سے ایک دوسرے کی طرف بے چین ہوکر کروٹیں بدلتے اورایک دوسرے سے لپٹ لپٹ جاتے۔ اُن کے ہاتھوں اور پیروں کی اُنگلیاں ایک دوسرے کی انگلیوں میں پھنس پھنس جاتیں۔ انجکشن کے واسطے اُن کی کلائیوں اور پنڈلیوں میں پیوست سوئیاں بار بار بند ہو جاتیں۔ بوتلوں کی نلکیوں میں ہوا بھرجاتی جس کے سبب اُن کے جسم سے خون نکل نکل کر دوسروں کے کپڑوں اور چہروں پر لگ جایا کرتا۔ وہ درد سے بے حال ہوکر اس طرح چلّاتے جیسے ذبح ہوتے ہوئے جانور۔ کبھی کبھی تو کروٹیں لینے میں وہ پلنگ سے نیچے بھی گرجایا کرتے اوراُن کے جسم کے کسی حصے کی ہڈی ٹوٹ جایا کرتی۔ وہ اپنی دیکھ بھال کرنے والے تیمارداروں کے بس میں نہ آتے تھے۔ یوں بھی وارڈ میں ایک مریض کے ساتھ صرف ایک تیماردار ہی رہ سکتا تھا۔ کبھی کبھی بات بے بات پر ایک پلنگ کے دونوں طرف کھڑے تیماردار ایک دوسرے سے لڑنا بھی شروع کردیتے تھے۔

اِن بد نصیب مریضوں کو کسی حال چین نہ تھا۔ اُن پر نہ تو درد کم کرنے کے انجکشن اثرکرتے اورنہ ہی نیند لانے والے انجکشن۔ وارڈ میں بے حد گندگی پھیلی ہوئی تھی اور بے حد سڑاندھ بھی۔ وارڈ کا تمام عملہ اگرچہ ماسک لگائے ہوئے تھا اور دستانے پہنے ہوئے تھا، پھر بھی بدبوتھی کہ چلی آتی تھی۔ وہ ماسک کے باریک ریشوں کی دیوار کو توڑ دیتی تھی اورناک میں دُرّانہ وار گھسی آتی تھی۔ ناک بند کرلینے اورسانس روک لینے پربھی اس بدبو کی آہٹ کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ بے چارے صفائی کے عملے پر شاید ہی کبھی اس سے زیادہ برا وقت پڑا ہو۔ اُن کےدستانے ہر وقت خون ملی ہوئی اُلٹیوں اور زردگندگی سے آلودہ رہتے تھے۔ اُن کی بالٹیاں اس گندگی سے لبالب بھرچکی تھیں مگراب اسپتال میں ایسی کوئی جگہ بھی باقی نہیں بچی تھی جہاں یہ بالٹیاں خالی کی جاسکتیں۔ فنائل اور ڈیٹول کا اسٹاک ختم ہوچکا تھا۔ صابن اورپونچھے کے کپڑے اب باقی نہ رہے تھے۔

وہ سب چلا رہے تھے۔ مریض ہی نہیں، لاشوں کے وارث ہی نہیں بلکہ وارڈ بوائے، صفائی کا کام کرنے والے اور نرسیں تک سب حیوانوں کی طرح چیخ رہے تھے مگرپھربھی ہر ایک کی چیخ پرایک خاموشی حاوی تھی۔ لاشوں کی خاموشی اورموت کے سناٹے نے وہاں عورتوں کے بَین کو بھی ایک کمزور آواز میں بدل کرکے رکھ دیا۔ جب تین سال کے اُس بچے کی لاش کو بستر سے اُٹھا کر باہر لایاجانے لگا تواس پلنگ پراُس کے برابر لیٹے ہوئے ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے مردہ بچے کے لال کمبل کو پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بچے کی لاش وہاں سے ہٹائی جائے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ایسا وقت بھی آسکتا ہے۔ جب لاشیں زندوں کو خوف زدہ کرنے کے بجائے اُن کی ڈھارس بندھاتی پھریں۔ خاص طورپر وہ زندے جن کے جلد ہی لاشوں میں تبدیل ہونے کے ا مکانات ہوں اس کوشش میں بچے کے گلے میں پڑی ہوئی، تعویذ کی کالی ڈوری ادھیڑ عمر شخص کے ہاتھ میں پھنس گئی۔ بچے کی ماں دلخراش چیخیں مار رہی تھی۔ جب وارڈ بوائے نے کسی نہ کسی طرح بچے کی لاش کو اُٹھا کر باہراسٹریچر پر ڈال دیا تو ماں اُس کےپیچھےپیچھے اس طرح بھاگ رہی تھی جیسے بلی اپنے بچے کو خطرے میں دیکھ کر اُسے بچانے کے لیے دیوانہ وار بھاگتی ہے۔ وارڈ کے باہر پھیلا ہوا پیلا غبار اُسی طرح اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ وارڈ کے شیشوں سے چھن چھن کراپنا عکس مریضوں اوراُن کے بستروں پر ڈال رہا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ سب یرقان زدہ نظرآتے تھے۔ اُن کے بستروں کی سفید چادریں تک زرد دکھائی دیتی تھیں۔ پورا شہر بخار کے اس غبار میں جل رہا ہے اور کپکپا رہا ہے۔ بخار کا یہ منحوس بادل، یہ پیلا مٹیالا بادل، اپنی جگہ سے ہلتا نہیں۔ اِدھر اُدھر جنبش تک نہیں کرتا۔ آسمان اِس زرد دھند کے بادل میں منڈھ کررہ گیا ہے۔ اس بادل میں جراثیم ہی جراثیم ہیں۔ کالے سفید کپڑے پہنے ہوئے،کریہہ بدصورت جوکروں کی طرح ایک دوسرے کے منھ پر طمانچے مارتے ہوئے۔ وائرس اور جراثیم بھیس بدل بدل کرآتے ہوئے جاتے ہوئے۔ وہ انسان کو کسی درخت، گھاس یا پودے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ کچھ بھی نہیں۔

سنہری فریم کا چشمہ لگائے اُس خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے اپنے چہرے پر ماسک لگا لیا ہے اورہاتھوں مین دستانے پہن لیے ہیں۔ وارڈ کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی اُسے چکر آنے لگا ہے۔ نوجوان ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کررہا ہے۔ وہ ڈیوٹی پر موجود جونیئر ڈاکٹرسے پوچھتا ہے۔ مریضوں کے ناخن آپ نے دیکھے؟ یس سر، جونیئر ڈاکٹر نے جواب دیا۔ کوئی خاص بات نوٹ کی آپ نے؟ جونیئر ڈاکٹر تھوگ نگل کر رہ جاتاہے۔ سب کے ناخن ٹیڑھے ہوکر اوپر کی طرف مڑرہے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹرنے فاتحانہ نظروں سے لڑکی کی طرف دیکھا جو گھبرائی ہوئی نظرآرہی ہے۔ اوہ یس سر، یس سر۔ جونیئر ڈاکٹرنے جوا ب دیا۔ بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے جائے گی اور اب تک جتنے لوگوں کی اموات ہوئی ہیں اُن کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں سی۔ایم۔او۔ صاحب کے دستخط کے ساتھ فوری طورپر انسٹی ٹیوٹ آف وایرلوجی او رمائیکروبیالوجی سینٹر کو روانہ کی جائیں گی۔ کیا سمجھے۔ جی سر۔ جونیئر ڈاکٹر نے سرہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ناخنوں کا ٹیڑھا ہونا پُراسرار ہے۔ یہ صرف مہلک قسم کے زہر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگریہ بیکٹیریا ہے تو بھی اور وائرس ہے تو بھی۔ مگرناخن ٹیڑھے نہیں ہو سکتے اور دیکھئے یہ پیلے پڑکر ٹیڑھے ہورہے ہیں۔ پیلے ہی ہو رہے ہیں یا خون کی کمی ہے یا اس کمبخت پیلی دُھند کا ان پر عکس پڑرہا ہے۔ یہ پیلی آندھی یہاں آکر کب سے رُکی کھری ہے۔ اس نے تو یہیں خیمہ ڈال لیا ہے اوروہاں سنئے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسی کو لوجی کو بھی رپورٹ بھیجئے۔ ڈاکٹر نے اپنی بات ختم کی ہی تھی کہ نرس دوڑتی ہوئی آئی۔ سر، وہ اُدھر باہر راہداری میں ایک کی حالت بگڑرہی ہے۔ دونوں ڈاکٹر اور نرس راہداری میں آتے ہیں۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی پیچھے ہے۔

اٹھارہ اُنیس سال کے ایک نوجوان کے منھ سے خون کی لکیر بہتی ہوئی ٹھوڑی تک آرہی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ گئی ہیں۔ وہ بے ہوش ہے یا پھر مررہا ہے۔ بلڈ پریشر ناپا کتنا ہے؟ ڈاکٹر نے نرس سے پوچھا۔ 160/300۔ یہ بہت ہے۔ دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ یہ دیکھئے اس کے بھی ناخنوں کا وہی حال ہے۔ ٹیرھےہوکر آسمان کی طرف جارہے ہیں۔ ڈاکٹر مریض پر جھکتا ہوا کہتا ہے۔ مجھے بچالو، ارے کوئی مجھے بچا لو۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔ اِسی بیڈ پر نوجوان کے برابر میں لیٹا ہوا ایک سِن رسیدہ داڑھی والا آدمی رو رو کر کہنے لگا۔ روئی لاؤ، خون صاف کرو۔ جوان آدمی ہے، بہت خون باہر آئے گا۔ روئی کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے ڈاکٹر۔ نرس کہتی ہے۔ باہر سے منگواؤ۔ جی ڈاکٹر۔ آرڈر دے دیا گیا ہے مگر سپلائی نہیں ہو پارہی ہے۔ تو کوئی کپڑا لاؤ۔ پٹی لاؤ۔ اب ناک سے بھی خون نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ نوجوان کے منھ اور ناک سے بہتا ہوا خون، برابر میں لیٹے ہوئے سِن رسیدہ داڑھی والے شخص کی پسلیوں کو بھگونے لگا۔ اُس نے گھبرا کر دوسری طرف کروٹ لینی چاہی تو اسٹینڈ پر لگی ہوئی گلوکوز کی بوتل نکل کر فرش پر گر کرٹوٹ گئی۔ اس زبردست جھٹکے باعث سوئی بھی اُس کی کلائی سے نکل کر گوشت پھاڑتی ہوئی، دونوں مریضوں کے سروں پر ڈولنے لگی۔ کچھ دیر کے لیے ایسا لگا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ اب داڑھی والے کی کلائی سے بھی خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ بسترکی سفید چادرمیں اُن دونوں کے خون گھل مل کررہ گئے۔

مجھے چکر آرہا ہے، سارا جسم سُن ہوگیا ہے۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی دھیرے سے کہتی ہے۔ بس یہاں سے نکل رہے ہیں۔ مجھے سی۔ ایم۔او۔ سے ملنا ہے۔ ڈاکٹرنے بھی بہت آہستہ سے جواب دیا۔ پھر بلند لہجے میں نرس سے کہا۔ اسپتال میں خون تو وافر مقدار میں موجود ہے۔ جی نہیں سر، اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کے بلڈ بینک سے منگواؤ۔ ڈاکٹرنے برہمی کے ساتھ کہا۔ جی سر، وہاں بھی اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔

اسپتال کی راہداری سے نکل کر، وہ نیچے اُترنے والی سیڑھیاں طے کرتے ہیں۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر لڑکی کا پیر پھسلتا ہے۔ ڈاکٹر اُسے سہارا دیتے ہوئے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ یہ چیف میڈیکل آفیسر کے بنگلے تک جانے والا ایک شارٹ ہے۔ درختوں سے گھرا ہوا یک سنسان راستہ۔ پیڑوں پر بیٹھے ہوئے کچھ کوّے، اُن کے سروں پر کائیں کائیں کررہے ہیں۔ ادھر کوئی آتا جاتا نظر نہیں آتا۔ بائیں طرف مڑکر اسٹاف کے چند چھوٹے چھوٹے کوارٹر ہیں جن کی طرف عورت دودھ کی بالٹی لیے ہوئے جا رہی ہے۔ ایک بھوری بلی نے اُن کا راست کاٹا ہے۔ سامنے گھنے درختوں کا ایک جھنڈ ہے جس کے عقب میں تھوڑے فاصلےپر اسپتال کا وہ پچھلا چھوٹا سا گیٹ ہے جو مقررہ وقت میں صرف اسٹاف کے لیے ہی کھولا جاتا ہے۔ درختوں کے جھنڈ کے نیچے پہنچ کر، اچانک ڈاکٹر، لڑکی کو پوری طاقت کے ساتھ اپنی بانہوں میں جکڑ لیتا ہے۔ وہ لڑکی کے ہونٹوں کا بوسہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکی اپنا سر پیچھے کی طرف کرتی ہے۔ ڈاکٹر کی لمبی ناک کا بانسہ لڑکی کے چشمے سے ٹکراتا ہے۔ چشمہ آنکھوں سے پھسل کر زمین پر گرجاتا ہے۔ وہ چشمہ اُٹھانے کے لیے نیچے جھکتی ہے تو اُس کے گہرے کٹاؤ والے جمپر میں سے چھوٹے چھوٹے پستان اپنی آدھی جھلک دکھانے لگتےہیں۔ ڈاکٹراُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر، اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہئوے اپنے ہونٹ اُس کے سینے کے قریب لے آتا ہے۔ پیڑوں پر بیٹھے کوے زور زور سے بولتے ہیں۔

نہیں، آج نہیں۔ مجھے اُلٹی آرہی ہے۔ بہت زور کی اُلٹی۔ لڑکی گھبرائی اور کانپتی ہوئی آواز میں دوبارہ کہتی ہے۔ میرا جی مِتلا رہا ہے۔ وہ وہیں زمین پر اُکڑوں بیٹھ جاتی ہے اور سرجھکا کر قے کرنے کوشش میں اُبکائیاں لیتی ہوئی کھانسنے لگتی ہے۔ ڈاکٹر اُس کی پیٹھ سہلانے لگتا ہے اوراُس کے بریزیئر کےسخت ہُک کو بھی۔ میں نے سخت منع کیا تھا وارد میں جانے کو۔ عام آدمی یہ سب برداشت نہیں کرسکتا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ ابھی ٹھیک ہو جاؤ گی۔ نہیں زبردستی اُبکائیاں مت لو۔ حلق چھل جائے گا۔ ڈاکٹر کہتا ہے اوراپنی پتلون کی جیب میں سے وٹامن سی کی گولیاں نکالتا ہے۔ لویہ دو گولیاں منھ میں رکھ لو اور گہری سانسیں لو۔

کچھ دیر بعد لڑکی اُٹھ کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ پسینے سے اُس کا چہرہ بھیگا ہوا ہے اور لپ اسٹک بگڑ گئی ہے۔ جسے وہ ٹھیک کرتی ہوئی کہتی ہے۔ میں جاؤں؟ اچھا ٹھیک ہے، میں اپنی کارسے تمہیں چھوڑ دیتا مگرآج سی۔ ایم۔او۔ کے یہاں ضروری میٹنگ ہے۔ ابھی تمام ڈاکٹروں کو اس میں شرکت کرنا ہے۔ ڈاکٹرکہتا ہے۔ نہیں شکریہ، میں چلی جاؤں گی۔ کل کافی پینے کہیں باہر چلتے ہیں۔ دو بجے کے بعد میری ڈیوٹی ختم ہوجائے گی۔ ڈاکٹر مسکرا کر کہتاہے۔ میں فون پر بتادوں گی، رات میں اوکے۔ اور ہاں وہ سوزن سوتانگ کی کتاب لینے گھرکب آؤ گی؟ جلد ہی آؤں گی۔ کتاب کا نام یاد ہے نا؟ ڈاکٹر پوچھتا ہے۔ Illness as Metaphor لڑکی جواب دیتی ہے۔

لڑکی اسپتال کےپچھلے دروازے سے باہر چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹر چیف میڈیکل آفیسر کے بنگلے کی جانب قدم بڑھانے لگتا ہے۔ اُس کا سفید کوٹ، اچانک نہ جانے کہاں سے بھٹک آئے ہوئے ہوا کے ایک جھونکے سے لہرانے لگتا ہے۔ صرف ایک پَل کے لیے۔ شاید وہ جھونکا ایک دھوکہ تھا۔ پیلے غبار نے سورج کو پوری طرح ڈھک لیا ہے۔ دھند کچھ اور گاڑھی ہوئی ہے۔ غبار میں کچھ نئی پرتیں شامل ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ کے علاوہ ہر طرف خاموشی ہے۔ دوسرے قسم کے مریض یہاں آنے سے ڈر رہے ہیں۔ جب بھری دوپہر میں یہ سناٹا ہے تو شام ڈھل جانے کے بعد یہاں کیسا لگے گا۔ رات میں جب اسپتال کی رابداریوں میں کتےگھومیں گے اور آوارہ بلیاں روئیں گی۔ وہ اُس موت کو دیکھ کر روئیں گی جو وہاں آرام سے چہل قدمی کررہی ہے۔ انسان مگرموت سے ڈرتے تو ہیں مگراُس کے قدموں کی حقیقی چاپ نہیں سن سکتے۔

[dropcap size=big]معاملہ[/dropcap]

اب واقعی لائف اپارٹمنٹس تک ہی محدود نہ رہا تھا۔ جلد ہی دوسری کالونیوں سے بھی گھروں میں گندا پانی آنے اور وہاں کے باشندوں کے بیمار پڑجانے کی خبریں آنے لگیں۔ خبریں صرف مقامی اخبارات کی سرخیاں ہی نہیں تھیں بلکہ قومی سطح کے اخبارات بھی یہاں کی خبریں شائع کرنے لگے۔ صوبائی وزارتِ صحت نے شہر کے اعلیٰ حکام کو طرح طرح کی ہدایات دینی شروع کردیں۔ لوگ ان کالونیوں سے نکل نکل کر جانے لگے۔ عالم یہ ہوگیا کہ ستّر سے اسّی فلیٹوں پر مشتمل ہر سوسائٹی میں محض دس یا پندرہ فلیٹ ہی ایسے بچے ہوں گے جن میں ابھی بھی لوگ رہ رہے تھے اوراُنھیں یہ توقع تھی کہ جلد ہی یہ بَلا ٹل جائے گی۔ اِدھر آکر گرمی بھی بڑھ گئی تھی۔ ہوا بند تھی، اِس لیے حبس بہت ہو گیا تھا۔ کچھ لوگ اس لیے بھی یہاں سے نہیں ہٹنا چاہتےتھے کہ اُن کے گھروں میں تمام سہولتیں میسر تھیں۔ سب سے بڑھ کر نعمت تو ایئر کنڈیشنڈ تھے تو آخر اُنھیں دیواروں سے اُکھڑوا کر کہاں لے جایا جاسکتا تھا اور کس گھر میں۔

ایک تبدیلی یہ بھی واقع ہوئی تھی کہ اچانک اس علاقے میں ایمبولینسوں کی آوازیں زیادہ آنے لگیں تھیں۔ آٹورکشہ یا ٹیکسی وغیرہ مشکل سے ہی نظرآتی تھیں۔ آدھی رات میں جب ایمبولینس سائرن دیتی ہوئی گزرتی تو کتے اُس کی لال عقبی روشنی پر بھونکنے لگتے۔ اِس تماشے کو چلتے ہوئے ڈیڑھ ہفتہ ہو چکا تھا۔ دوسرے ہفتہ کے آخری دنوں میں اس تمام علاقے میں پینے کے پانی کی سپلائی بند کردی گئی۔ یہ قدم سینٹر فارڈیزیز کنٹرول کے مشورے پر اُٹھایا گیا تھا۔ ویسے تواس مسئلے کے حوالے سے شہر میں تقریباً روزانہ ہی اعلیٰ حکام کی میٹنگیں ہو رہی تھیں جن میں ڈاکٹروں کے علاوہ سول انجینئر بھی شامل رہتے تھے۔ مگراس ہفتے یہاں کی مٹی اور زیرِ سطح آب کی جانچ پرکھ کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل ریسرچ والوں کی ایک ٹیم بھی دارالحکومت سے آ پہنچی۔ اس ٹیم کے ساتھ جیولوجیکل سروے کے دو سائنسداں بھی موجود تھے۔ یہ کوئی عام بات نہیں تھی۔ میڈیا نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا تھا۔ یہ جل بورڈ کے انجینئروں، میونسپل کارپوریشن کے افسروں اور سیاست دانوں کی موشگافیوں سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اس ٹیم نے متاثر علاقے اوراُس کے آس پاس کی زمین کھودنی شروع کردی۔ کھودی گئی مٹی کے ڈھیر اونچے ہوتے جاتے تھے۔ مٹی کے اِن اونچے ڈھیروں پر چیل اور کوؤں نے آکر بیٹھنا شروع کردیا۔ یہ ٹیم دس افراد پر مشتمل تھی اوراپنے ساتھ زمین کھودنے والی جدید ترین مشینیں اور کئی طاقت ور جنریٹر بھی ساتھ لائی تھی۔ یہ قدرے حیرت کی ہی بات تھی کہ ایک چھوٹے سے نظرانداز کر دیے جانے والے شہر کے ایک مخصوص علاقے میں پانی سے پھیلنے والی ایک بیماری کو روکنے یا اُس کی وجہ کی کھوج بین کرنے کے لیے یہ اقدام نہ صرف صوبائی سطح پر بلکہ مرکزی حکومت کے احکام کے تحت اُٹھائے جارہے تھے۔ مقامی سیاست دان اس کا سہرا اپنے سرلے رہے تھے کیونکہ اس علاقے میں ایک بائی الیکشن بھی ہوتا تھا جس کا دن قریب آرہا تھا۔

مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں اور مریضوں کے خون کی جانچیں پابندی کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کو بھیجی جارہی تھیں مگرابھی تک تو کوئی نتیجہ سامنے آیا نہیں تھا اوراگرآیا تھا تو ظاہر ہے کہ اُسے خفیہ رکھا جارہا تھا۔ جو بھی ہورہا تھا اورجو بھی سننے میں آرہا تھاو ہ طرح طرح کے اندیشوں اور وہموں کا ایک طویل سلسلہ بن کررہ گیا تھا۔ اخبارات میں پورے پورے صفحوں پر ایسے اشتہار شائع کیے جارہے تھے جو عام دنوں میں نظرنہیں آتے۔ مثلاً ان حقائق کی تشہیر کی جارہی تھی کہ حفظانِ صحت کا خیال رکھتے ہوئے سائنس نے بہت سی خطرناک بیماریوں کو جڑ سے ختم کردیا ہے۔ مختلف قسم کی دوائیاں، سرجری کے نئے آلات، مشینیں، سی۔ٹی۔ اسکین، ایم۔ آر۔آئی اور بھی بہت سی ایسی ریڈیائی مشینیں جن کے ذریعے کینسرجیسے موذی مرض تک پر قابو پالیا گیا ہے۔ زراعت کے میدان میں بھی کیمیاوی کھادیں، دوائیں اور مخلوط یا دونسلی بیجوں کے ذریعے نہ صرف فصل کی پیداوار بڑھی ہے بلکہ بنجر اور ریتیلی زمین بھی کاشت کے قابل ہو گئی ہے۔ اناج، پھل اور سبزیوں میں پہلے سے کئی گنا زیادہ پیداوار ہونے لگی ہےمگرایک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ ماحول میں آلودگی بڑھتی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے تحت آلودگی کے بارے میں لگاتار اعدادوشمار فراہم کیے جارہے ہیں اورایشیائی ممالک اس خطرے سے کچھ زیادہ ہی دوچار ہیں۔ ہوا تو آلودہ ہوتی ہی ہے مگرسب زیادہ خطرہ پانی کے آلودہ ہوجانے کی وجہ سے درپیش ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح نہ صرف کم ہوتی جارہی ہے بلکہ زہریلی بھی۔ یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کبھی آگے چل کر پانی کے ذخیرے ختم ہو جائیں۔ ملک کے کئی صوبوں میں پانی کی تقسیم پر آپس میں تنازعہ چل رہا ہے اور ممکن ہے کہ اگرتیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ صرف پانی کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی نیت سے ہوگی۔ ان اشتہارات میں آج کل روز رہے درختوں کو کاٹنے سے منع کیا جاتا ہے اور یہ آگاہ کیا جاتا ہے کہ ہرے جنگلوں اوردرختوں کو کاٹنا اور وہاں کارخانے اور فیکٹریاں قائم کرنا ایک جرم ہے۔ ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے حکومت نے بہت سے اقدام اُٹھائے ہیں، جن کی اطلاع عام آدمی تک پہنچانا بہت ضرور ہے۔ یہ اقدام اب قوانین کے درجہ تک پہنچ گئے ہیں اوران کا نفاذ نہ صرف ریاستی حکومتوں بلکہ مرکزی حکومت کے ذریعے بھی کیا جا رہا ہے۔ ان میں فیکٹری ایکٹ، ماحولیاتی ایکٹ اور قانون برائے آبی آلودگی شامل ہیں۔ آلودگی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدہ طورپر ایک بورڈ کی تشکیل بھی کی گئی ہے جس کی سفارشات پر حکومت کے ذریعے عمل کیا جانا لازمی ہے۔ اس طرح کے اشتہارات نہ صرف اخباروں میں بلکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بھی نشر کیے جارہے ہیں۔ دیواروں پر پوسٹر بھی لگائے جارہے ہیں۔ یہ اچھی علامتیں نہیں ہیں۔ یہ کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہیں۔ حد ہو گئی کہ اچھی صحت کو برقرار رکھنےکے پرانے اور فرسودہ اُصول بھی دہرائے جانے لگے ہیں۔ ورزش کرنا، صبح کا ٹہلنا، متوازن غذا، وقت کی پابندی وغیرہ کے فوائد اور شراب نوشی یا سگریٹ نوشی کے مُضر اثرات گنوائےجارہے ہیں۔ تازہ پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیا جارہا ہے اور گوشت خوری سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں ہدایتیں دی جارہی ہیں۔ حفظانِ صحت کے تمام اصول رٹائے جارہے ہیں جبکہ محکمہ حفظانِ صحت کا سربراہ اِن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور عوام اس قسم کے اشتہارات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی مگرسب سے بڑا اندیشہ تواُس وقت دل میں گھر کرجاتا ہے جب اخبارات کے ان اشتہاروں میں یہ سطر بھی دیکھنے کو ملجاتی ہے کہ “یادرکھئے! پاک و صاف پانی کا نہ تو کوئی رنگ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مزہ اورخوشبو۔” کاش یہ بھی بتا دیا جاتا کہ ہائیڈروجن گیس کے دو سالمے، آکسیجن گیس کے ایک سالمے سے ملنے کے بعدجو شے بناتے ہیں وہ پانی کہلاتی ہے۔ پڑوسی ملک کے سائنس دانوں نے پانی کی اس تعریف میں ایک جملے کا اخلاقی اورمذہبی اضافہ بھی کرلیا ہے۔ اُن کے مطابق ان دونوں گیسوں کے سالمے جب تک آپس میں مل ہی نہیں سکتے جب تک انھیں ملانے میں خدائی مرضی شامل نہ ہو۔ شاید اس لیے چاند پر پانی شروع میں دریافت نہیں کیا جا سکا اگرچہ وہاں آکسیجن بھی تھی اور ہائیڈروجن بھی مگر یہ دونوں گیسیں چاند پر الگ الگ آزاد حالتوں میں تھیں۔ خدا کی مرضی نہیں تھی کہ دونوں ملیں جس طرح اگرخدا کی مرضی نہ ہوتو مجال ہے کہ دو محبت کرنے والے دل بھی مل سکیں۔(اگراب چاند پر پانی دریافت کرلیا گیا ہے یہ بھی خدا کی مرضی ہے)

پتہ نہیں اس قسم کے اشتہارات بچکانہ ہیں یا کسی حملہ آورفوج کے آگے آگے دوڑتےہوئے ڈھول بجا بجا کر آنے والی موت سے خبردار کرنے والے بھانڈوں اور مسخرے۔ یہ اس سے زیادہ اورکیا خبردے سکتے ہیں یا اس کے علاوہ اورکیا بتا سکتے ہیں کہ صاف پانی کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے نہ مزہ اور نہ خوشبو، اگرخدا چاہے تو۔

Water is a lot like people
Not every person is drinkable
Some people carry demons
You cannot rip them off
People can cause damage like other
Some say, that lonliness is killer.
Water is a lot like love
Love causes destruction
Love is different temperatures
Love is antidote to pain and the virus itself
So when you reach the end of your Journey
Remember water and all of its different forms
Remember the abuse
Remember the revival
Because it is all there
We simply do not look close enough.
Authentic

تم نے دریائی گھوڑے کی آنکھیں دیکھی ہیں
شاید نہیں
زمین سے عجیب کوئی سیارہ نہیں
پانی زمین کا بچہ ہے
ہم سب مٹی کی کھاٹ پر لیٹے سو رہے ہیں
کھاٹ کے نیچے
فنا کا پانی ہے
ندی جب چاہے اپنی راہ بدل لتی ہے
مگرزمین اورآسمان کو
تقسیم کردینا
یہ بد سلیقگی ہے
دریائی گھوڑے نے کہا
میں تو تمھارے گھر مچھلیاں کھانے نہیں آسکتا
مگرپانی آسکتا ہے جس میں میرا گھر ہے
دریائی گھوڑے کی اُداس آنکھوں میں
جلےہوئے وصیت ناموں کی راکھ تھی
زمین کے اندر پانی نے کہا
میں بھی اُدھر چل رہا ہوں
مجھے ماں کی دی ہوئی بد دُعائیں یاد ہیں
خالد جاوید

[dropcap size=big]اتنی[/dropcap]

بات تو ہرکوئی جانتا ہے کہ زندگی کی شروعات پانی سےہوئی ہے۔ چار سو سال قبل مسیح یونان کے مشہوو فلسفی تھیلس نے تو پانی کو ہی حقیقت مطلق قراردےدیا تھا۔ مگرزندگی کے ساتھ ساتھ پانی موت اورفنا کی بھی علامت ہے۔زمین پر پانی کے مقابلے خشکی کا حصہ صرف ایک تہائی ہی ہے۔ انسانی جسم کاسترفیصد حصہ پانی ہی ہے۔ قدیم یونان میں پانی کو ایک عظیم دیوتا کا درجہ دیا گیا تھا اوربعد میں جل پری، بنت البحر، آبی حسینہ اور شریر آبی بونے کی ایجاد بھی کرلی گئی تھی۔ وہ مقدس مقامات جہاں دیوتا پیش گوئیاں کرتے تھے، دریاؤں کے کنارے ہی واقع تھے۔ ان کی قدیم عبادت گاہیں اور پرانے بڑے گرجا گھر بھی پانی کے ہی قریب تعمیر کیے گئے تھے آج بھی بپتسمہ کی رسم پاک و صاف پانی کے ذریعے ہی ادا کی جاتی ہے۔ پانی اگرچہ رقیق مادہ ہے مگردرجہ حرارت کی مناسبت سے ٹھوس مادے میں بھی بدل سکتا ہے اور گیس یا ہوا بن کر اڑ بھی سکتا ہے۔ پانی کی مبادیات اتنی آسان نہیں۔ مگردورِ حاضر میں (1988) فرانس کے ایک سائنس دان ژاک بین وِن نے ہومیو پیتھی کےعلاج کے تعلق سے پانی کے بارے میں ایک عجیب و غریب نظریہ پیش کیا۔ ژاک بین وِن کا کہنا تھا کہ پانی کی اپنی ایک باقاعدہ یادداشت بھی ہوتی ہے۔ اِس تھیوری کے مطابق پانی میں جو مادہ بھی گھولا جاتا ہے پانی اُسےبھولتا نہیں، یاد رکھتا ہے۔ اگرکسی مادے کو پانی میں بار بار تحلیل کیا جاتا رہے، یہاں تک کہ جب اُس مادے کا کوئی بھی سالمہ پا نی میں باقی نہ رہے اورپھر اس پانی کو جب کسی دوسرے صاف پانی میں ملایاجائے تو وہی مادہ اپنے کچھ سالموں کی شکل میں اُس صاف پانی میں دوبارہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہو میو پیتھک دوائیاں اسی عقیدے کی بنا پر بنائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کی ایک بڑی جماعت نے بین وِن کے نظریہ کو قبول نہیں کیا ہے مگراس موضوع پر مزید تحقیق جاری ہے۔

دنیا کے ہرمذہب میں پانی کو ایک پاک صاف اور روحانی شے مانا گیا ہے۔ پانی سے بہت سی بیماریوں کاعلاج کیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ ہائیڈروتھیریپی سینٹر کھل گئے ہیں۔ ہندوستان میں بہت سی ندیوں کو پوترمانا گیا ہے جن میں دریائے گنگا کو اولیت حاصل ہے کہ اُس میں نہا لینے سے انسانوں کے پاپ اوراُن کے سارے برے افعال مٹ جایا کرتے ہیں۔ گنگا میں نہانے کے بعد وہ اتنے ہی مقدس ہوجاتے ہیں جتنے کہ وہ تب تھے جب اپنی ماں پیٹ سے اُن کا جنم ہوا تھا۔ ہر گندی شے پانی سے ہی پاک ہوتی ہے۔ پانی ہی ہے جووقت کی طرح بہتا ہے اور پانی ہی ہے جو سر سے اونچا ہوجائے تو موت کو وہاں اپنے پیر جمانے میں بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پانی پر دُعائیں پڑھ پڑھ کر دَم کی جاتی ہیں اور کبھی کبھی بددُعائیں بھی۔ پانی سب یادرکھتا ہے۔ ساری دُعاؤں اور بددعاؤں کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ وہ بولےگئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا۔ اُس کا حافظہ دائمی ہے۔ اُس میں نقش اور تعویذ گھول کر بیماروں کوپلائےجاتے ہیں اورکبھی کبھی محبوب کو اپنے بس میں کرنے کے لیے یا اُس کا دل کسی کی طرف سے پھیر دینے کے لیے۔ لفظ پانی میں تحلیل ہوجانے کے بعد امر ہوتے ہیں۔ ورنہ لغات کے اوراق میں پڑے مُردوں کا عرس مناتا ہے۔ لفظ انسانوں کے ہاتھ آتے ہی بھوت بن جاتے ہیں۔ بھوت زیادہ تر کینہ پرور ہوتے ہیں۔ لفظوں نے دنیا کو تباہ کرڈالا اور پانی، الفاظ اوراُن کی صوتیات کی ملی جُلی سازش کا سب سے بڑا شکار بنا۔ شاید اسی لیے شِو دیوتا کو سمندر کے سارے پانی کا منتھن کرکے اس سے امرت نکالنا پڑا تھا اور وہ رقص ‘تانڈو’ کرنا پڑا تھا جس میں لفظ نہیں ہوتے۔ اس لیے اس رقص کے کوئی معنی بھی نہیں ہوتے۔ یہ اس دنیا کے فنا ہونے کی ایک شکل ہے۔ پانی کوئی مستقل مقام یا مکان نہیں گھیرتا وہ بہتا ہے ہرمقام سے وہ وقت، کال، زمانہ اورموت کو اپنے سیّال کندھوں پر لیے ہوئے گھومتا رہتا ہے وہ پُراسرار حدتک پاکیزہ اورخطرناک حد تک تباہ کن ہے۔

مگرپانی ہی گندا ہوگیا۔ پانی کیسے گندا ہوگیا۔ پانی کو گندا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ گندا پانی گھروں میں چلا آرہا ہے۔ یہ ذلیل کررہا ہے۔ یہ گھٹیا غلیظ پانی جس میں انسانوں کے جسموں کے مَیل کے ساتھ اُترا ہوا صابن، جھاگ، پیشاب کی کھرانداورانسانی فضلے کی دبیز زرد پرت کے ساتھ ایک بھیانک بدبو ہے۔یہ وہ پانی نہیں جسے دیکھ کر کتے کا کاٹا ڈرجایا کرتا ہے۔ یہ وہ پانی ہے جسے دیکھ کر انسان پاگل کتا بن جاتا ہے اورخود بھی سڑتے ہوئے بدبودار پانی میں بدل جاتا ہے۔ جو ٹونٹی کھولو تو یہی سڑاندھ بھرا پانی باہر نکلتا ہے۔ وہ جس شے کو چھو لیتا ہے اُسے بھولتا نہیں۔ وہ اپنے اوپر دم کیے ہوئے کینہ پرور جذبوں کو بھی نہیں بھولتا اوراُن گناہوں کو بھی جنہیں اُس نے دھو کر پاک کیا تھا۔

اب وہی گناہ، پانی انسانوں کو واپس کررہا ہے۔ انسان ہونے کی مجبوریاں ہی انسان کے اصلی اور ازلی گناہ ہیں اوروہی اس کینہ پرورپانی نے اپنے اندر جذب کررکھے ہیں۔ آج وہ انسانوں کو ان کے گناہ لوٹا رہا ہے کچھ اس روپ میں کہ اب ان گناہوں کو پانی سے دھویا بھی نہیں جاسکتا۔

پانی کی سپلائی ناجانے کب سے بند ہے مگروہ غرا رہا ہے۔ زمین کے نیچے سیور لائن کے ٹوٹے، کالے اور مہیب پائپوں میں، ٹنکیوں میں، ٹونٹیوں میں۔ آسیب زدہ پانی زمین کے نیچے لہراتا ہے اورزمین کے اوپر زہریلی دُھند اور پیلا غبار پیداکرتا ہے۔

دورکسی اسپتال کےویران گلیاروں میں عورتوں کے بَین کرنے کی آوازیں اُبھرتی ہیں۔ اس بَین میں آوارہ بلّیوں کے رونے کی دردناک آوازیں بھی شامل ہیں۔ یہ بلّیاں کرائے پر نہیں بلکہ بَین کرنے والی عورتوں کے لیےمفت میں حاصل ہوجانے والی رودالیاں ہیں۔

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے آس پاس کی دوسری کالونیوں میں پانی کی سپلائی مکمل طورپر روک دی گی۔ جل بورڈ والوں نے پانی کے ٹینکروہاں لے جا کر کھڑےکر دیے مگراتنے بڑے رقبے میں پانی کے محض دو ٹینکر ناکافی تھے۔ وہ اپنے اپنے برتن اور بالٹیاں لیے ہوئے ٹینکر کے سامنے قطار بنا کر کھڑےہو گئے مگر یہ قطارانسانوں کی تھی چیونٹیوں کی نہیں کہ زیادہ دیر برقرار رہتی۔ اس لیے ایک گھنٹے کے اندر ہی وہاں حشرکا ساماں برپا ہوگیا۔ وہ قطاریں توڑ کر ٹینکر کی ٹونٹیوں پر جھپٹنے لگے۔ وہ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ گالیاں بک رہے تھے۔ عورتیں تو بری طرح شورمچا رہی تھیں۔ کسی نے کسی کے سر پر بالٹی دے ماری۔ کوئی زمین پر گرپڑا تھا اوراُس کی بالٹی ٹوٹ گئی تھی۔ آہستہ آہستہ زیادہ تر کی بالٹیان اُلٹ گئیں۔ صرف نچلی منزل پر رہنے والے اپنی بالٹیوں کو حفاظت کے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ زمین پر کیچڑ اور پھسلن ہو گئی تھی۔ اس افراتفری میں وہ پھسل پھسل کر گرنے لگے۔ چوٹیں کھانے لگے۔ اُن کے گھٹنوں اور کہنیوں سے خون نکلنے لگا۔

سب سے بڑی مصبیت اُن بوڑھوں کی تھی جو اکیلےرہتے تھے۔ اُنھیں پانی کی ایک بوند بھی نہ مل سکی۔ کالونیوں میں رہنے والےکچھ زیادہ ہی صاحبِ حیثیت لوگوں نے آرڈر دے کر منرل واٹر کے جار اور بولتیں منگوانا شروع کردیں۔ دودن بعد یہ ہوا کہ کئی منرل واٹر کمپنیوں نے اِدھر آکر وقتی طورپر کیمپ لگائے اوراپنی اپنی ایجنسیاں کھول لیں۔ آپس میں مقابلہ آرائی شروع ہو گئی۔ کولڈ ڈرنگ بنانے والی کمپنیاں بھی اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہتیں۔ آخر کولڈڈرنک میں پانی تو ہوتا ہی ہے۔ اس وقت تو اگروہاں خون بھی فروخت کیا جاتا تو وہ بھی کم پڑجاتا۔ خون میں بھی آخر پانی تو ہے ہی۔ کولڈ ڈرنک کے مختلف برانڈوں کے اشتہارات دیواروں پر چسپاں نظرآنے لگے۔ جس میں فلم اسٹاروں اور کھلاڑیوں کی، ایسی تصویریں نظرآنے لگیں جن میں وہ ایک خاص برانڈ کی بوتل منھ میں لگائے ہوئے نروان حاصل کررہے تھے۔

آندھی کو پتہ نہیں کس نے اپنی جھاڑو سے کاٹ دیا تھا کہ وہ اپنے پیلے غبار کے ساتھ یہیں رُکی کھڑی تھی۔ اس شدید حبس اور گرمی سے اور پیاس سے تڑپتے ہوئے، کالونی کے باشندوں کو کولڈڈرنک کی کتنی ضرورت ہوگی اوراُن کے بچے کتنے خوش ہوئے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

کمپنیاں تین ہی دن میں مالا مال ہو گئیں۔ اُنھیں سپلائی دینا مشکل ہوگیا۔ دوسرے شہروں سے پانی کی بوتلیں اور کولڈڈرنک لادے ہوئے چھوٹے ٹرک ہر وقت آتے جاتے دکھائی دینے لگے۔ مگران ٹرکوں کے ساتھ ساتھ ان اطراف میں ایمبولینسوں کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی۔ تقریباً ہر فلیٹ سے کوئی نہ کوئی، روز ہی اسٹریچر پہ لیٹا ہوا ورایمبولینس میں ڈال کر لے جایا جاتا ہوا نظرآنے لگا۔

مگردنیا اتنی بلیک اوروہائٹ نہیں ہے کہ سکھ اور دُکھ کے راستے آسانی سے الگ الگ پہچانے جاسکیں۔ جہاں یہ دونوں دھارائیں ملتی ہیں وہاں ایک نیلا بونڈ رہے جس کے پار دیکھا نہیں جا سکتا۔ دنیا اتفاق سے رنگین ہے۔ رنگ ہمیشہ مخمصے میں ڈالتے ہیں۔ اس لیے دنیا معمہ ہے۔

چنگی کے الیکشن قریب آرہے تھے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی تگ و دوشروع کردی۔ ہر پارٹی کا اُمیدوار اس بیمار علاقے کے مسیحا کے روپ میں سامنے آنے کی کوشش کرنے لگا۔ ہرپارٹی کے کارکن حکام کے دفتروں کے سامنے دھرنا دے کر بیتھ گئے اورپانی پانی کے نعرے لگانے لگے۔ ٹیلی وژن والوں کی بھی چاندی ہو گئی تھی۔اُنھیں کچھ اور نہیں ملا تو وہ ماضی میں پھیلنے والی وباؤں کی تاریخ دہرانے لگے۔ مثلاً کالی موت اور پلیگ کس کس زمانے میں پھیلے تھے اور کتنی اموات ہوئی تھیں۔ اسپینی انفلوئینزا نے کب اور کتنے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ چیچک نے کیا قیامت ڈھائی تھی اورسب سے بڑھ کر کالرانے اورپھر پرندوں اور سُوروں میں پھیلنے والے فلو وغیرہ وغیرہ۔ وہ یہ بھی اطلاع فراہم کرنے لگے کہ تحریک خلافت کے دوران مہاتما گاندھی اسپینی فلو ہوگیا تھا جس کے سبب یہ تحریکِ وقت سے پہلے ہی کچھ کمزور پڑگئی تھی اوریہ بالکل اُسی طرح تھا جیسے کسی مشہور فلمی ہیرو کی موت کے موقع پر ٹیلی وژن پر نہ صرف اُس کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں بلکہ اُن ہیروئنوں کے چہرے بھی دکھائے جاتے ہیں جن کے ساتھ اُس ہیرو نے کام کیا تھا۔

کچھ دنوں بعد اس علاقے میں دودھ والوں نے آنا بند کردیا۔ شاید اِس وجہ سے کہ کچھ لوگوں نے اُن پر دودھ میں گندا پانی ملانے کا الزام لگایا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ ایک افواہ ہو مگرافواہوں کی اپنی ایک سماجیات بھی ہوتی ہے۔ افواہیں گرم تھیں۔ اُن کے پر نکل آئے تھے اور وہ اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جایا کرتی تھیں۔ مثلاً کولڈ ڈرنک اورپانی کی بوتلوں میں بھی گندے پانی کا استعمال کیا جا رہا تھا اور میونسپل کارپوریشن کے ٹینکروں میں بھی۔ یہ بھی اُڑتے اُڑتے سنا گیا کہ یہ وائرس اب شہر کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ ایک ٹی۔وی۔ چینل، جو ہمیشہ بھوت پریتوں کے قصے سناتا اوربے پَرکی اُڑاتا رہتا ہے، نے تو حد کردی۔ اُس نے ایک رپورٹ نشر کی جس کے مطابق ان کالونیوں کے باشندے کولڈ ڈرنک کی بوتلوں کا استعمال حوائج ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد خود کو صاف کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ اس رپورٹ کے نشر ہوتے ہی بازار میں ٹوائلٹ پیپر ملنا دشوار ہو گیا۔ ٹوائلٹ پیپر بنانے والی کمپنیوں کے سیلز مین ہرکالونی کے باہر خوانچے والوں کی طرح صدائیں لگا لگا کر ٹوائلٹ پیپر بیچنے لگے۔ ایک ایسے بھیانک وائرس کے وجود میں آنے کی افواہ گشت کرنے لگی جو پانی سے پیدا ہوتا تھا۔ زمین اور مٹی میں گھومتا تھا اورہوا میں اُڑتا تھا۔ اُس کا وزن زیادہ تھا اس لیے ہوا میں آکر دھوپ کی گرمی سے متاثرہوکر بے ہوش ہو جاتا تھا۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے کو جو کوئی بھی چھو لیتا تھا وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتا تھا۔ اس وائرس کا علاج کچھ نہ تھا، سوائے ایک ذلیل موت کے۔

مگرہمیں افواہوں کو اتنی غیرسنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ افواہیں اپنے حصے کا سچ گہرے راز کی طرح محفوظ رکھتی ہیں۔ جس طرح اونٹ اپنے کوبڑ میں پانی کو محفوظ رکھتا ہے۔ افواہیں دراصل اُس رنگ برنگی تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں جنہیں پکڑ لینے کے بعد اُن کے پروں کا رنگ ہماری اُنگلیوں میں چپک جاتا ہے۔ ایک ناقابلِ یقین رنگ۔

[dropcap size=big]نیشنل[/dropcap]

انسٹی ٹیوٹ آف ویرالوجی کے سائنس دان اس وائرس کے کوڈ کو کریک نہیں کرسکے۔ بس اتنا ہی معلوم ہوشکا کہ کبھی یہ وائرس کی طرح حرکت کرتا نظرآتا ہے اور کبھی بیکٹیریا کی طرح۔ وائرس بیکٹیریا سے بھی بہت چھوٹے خوردبینی اجسام ہوتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا انسان کے دوست اوراُن کے لیے مفید بھی ہوتے ہیں مگروائرس کبھی کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ وہ انسان کو پیڑپودوں اورگھاس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے آپ کو پروٹین کی ایک دبیز چادر میں چھپائے رکھتا ہے۔ وائرس طفیلی اجسام ہیں۔ اُن کو اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے دوسرے زندہ خلیوں کی ضرورت رہتی ہے۔ ان کی درجہ بندی نہ تو نباتات میں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حیوانات میں۔ ان دونوں کے درمیان واقع ہونے پر یہ کبھی کسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور کبھی کسی طرح کا۔ وائرس ہیجڑوں کی طرح پُراسرار اور ناقابلِ یقین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر اینٹی بائیوٹک دواؤں کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ اُن میں اُس قسم کی جان ہے ہی نہیں جو کبھی جسم میں ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ کونسل فارمیڈیکل ریسرچ ابھی اس وائرس کے لیے کوئی دوا تجویز نہیں کرسکتی۔ جہاں تک ویکسین کا سوال ہے تو اُس کے بارے میں بھی تحقیق کی جارہی ہے۔ ویکسین کا تعلق جسم کے مدافعتی نظام سے ہوتا ہے۔ نہ کہ دوا کے ذریعے کیے جانے والے علاج سے۔ اس تحقیقی کام میں کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے ساتھ فارسیلولر اینڈ مولیکولر بیالوجی، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور مرکزی حکومت کا ڈپارٹمنٹ آف بایو ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوائل ریسرچ کی ٹیم بھی اپنی تحقیق میں کچھ نہیں پاتی۔ اس کی رپورٹ صرف یہ تھی کہ اس علاقے کی مٹی چکنی اور جڑی ہے۔ جسے دومت مٹی بھی کہتے ہیں۔ یہ مٹی پوری طرح سے صاف اور قطعی غیر آلودہ ہے۔ یہاں کے کھیتوں سے اُگائے جانے والی گیہوں، چاول اوردالوں کی فصل ملک کے دوسرے خطوں کی فصل سے زیادہ صحت مند، تغذیہ بخش اور صاف ستھری ہے۔ یہاں کے باغات اور گنے اور کپاس کی پیداوار بھی قابلِ رشک ہے۔ فصلوں اورپیڑپودوں کو لگنے والی بیماریاں برائے نام ہیں۔ مہلک حشرات کش کی تعداد بھی مٹی میں تناسب یا اعتدال سے زیادہ نہیں ہے۔ کوئی بھی وائرس یا جراثیم ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ اُس کے اندر سالہا سال پرانے ڈی۔ این۔اے۔ اور آر۔ این۔ اے۔ کی پرتیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ اُس زمانے سے موجود ہیں جب آدمی غاروں میں رہا کرتا تھا۔ یہ جراثیم اور وائرس بھی غاروں میں موجود تھے، کبھی چمگادڑوں میں بطور طفیلی رہ کر اور کبھی سانپ بچھوؤں میں۔ اس علاقے کی مٹی میں کسی قسم کے خطرناک یا پُراسرار خوردبینی اجسام نہیں پائے گئے ہیں۔

جیولوجیکل سروے کرنے والی ٹیم نے زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود پانی کا معائنہ کیا اور پایا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح، اس پورے رقبے میں پوری طرح صاف اور بے ضرر ہے مگرآس پاس خشک چٹانیں موجود ہونے کی وجہ سے، جو قدیم ترین اراولی پہاڑوں کی نشانیاں ہیں پانی میں کیلشیم، میگنیشیم اور سوڈیم کی تعداد کچھ زیادہ ہے مگروہ خطرناک آلودگی کے زمرے میں نہیں آتی ہے۔ پانی میں کسی بھی قسم کی بیماری پھیلانے والے اجسام نہیں پائے گئے ہیں۔

اسی طرح مٹی پر ریسرچ کرنے والوں، پانی کا معائنہ اوراُس کا علاج کرنے والوں اور سِول انجینئروں، سب نے اس معاملے سے اپنا اپنا پلّہ جھاڑلیا۔ اب صرف اس بات کا انتظار ہے کہ وائرس ہو یا جو بھی اَلا بَلا ہو، مریضوں کے خون کی جانچ میں اُس کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کب تلک کیا جائے گا اورکس نتیجے تک کب تک پہنچا جائے گا۔ اس سلسلے میں ممکن ہے کہ ملک کے تحقیقاتی اداروں اور لیبارٹریز کو باہری ممالک سے مدد مانگنا پڑے۔ ہماری مشینیں اور دوسرے آلات اتنے جدید نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو سائنسی تحقیق کا معیار ہی یہاں تسلی بخش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے دماغ وطن چھوڑ کر ترقی یافتہ ملکوں کی راہ لیتے ہیں اورپھرانہیں کی خدمات کے لیے ہمیشہ کے لیے وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔

لیکن یہ سب بہت آئیڈیل بیان ہے اوراس کا کوئی تعلق بدنصیب انسانوں کے مصائب اورمسائل سے نہیں ہے۔ یہ سب رواداری کی باتیں ہیں اورسیاسی رنگ سے رنگی ہوئی بھی ہیں۔ اس رنگ کے علاوہ بھی دنیا میں بہت رنگ ہیں۔ ہر تماشے، ہر کھیل اورہر فلم کا اپنا ایک رنگ ہوتا ہے۔ ان رپورٹوں اور اخباری بیانات سے الگ، وہاں انسانوں کی اصل دنیا میں ایک دوسرا تماشہ چل رہا ہے۔

[dropcap size=big]قیامت[/dropcap]

تو گویا اُس دن آگئی جب اِس خبرکو سرکار کی طرف سے مستند قرار دے دیا گیا کہ نہ صرف لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے نواحی علاقوں میں بلکہ شہر کے دوسرے حصوں میں بھی اس وائرس سے متاثر مریض پائے گئے ہیں۔ سرکار نے اس سلسلے میں ایک وہائٹ پیپر بھی جاری کردیا جس میں اس سنگین مسئلے سے نپٹنے اور لڑنے کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدامات اوراُن کے جواز کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ حالات اب اس درجے تک بگڑ چکے تھے کہ اسپتالوں کے ڈاکٹر اور نرسیں بھی بیماری کی زد میں آچکے تھے۔ یہی نہیں خون اور پیشاب وغیرہ کی جانچ کرنے والی لیبارٹریز کا عملہ بھی بیمار پڑنے لگا لہٰذا اب اِس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں بچی تھی کہ یہ ایک بہت ہی خوفناک اور چھوت چھات سے پھیلنے والی بیماری تھی جو ایک انسان سے دوسرے انسان تک بجلی کی سی تیزی کے ساتھ پہنچ سکتی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچنے میں اسے صرف گیارہ سیکنڈ لگتے تھے۔ حالت یہ تھی کہ اس انتخابی حلقے کا ایم۔ایل۔اے۔ تک بخار، دستوں اور اُلٹیوں میں مبتلا تھا۔ ضلع کا حاکم آئی۔ اے۔ایس۔، میونسپل کارپوریشن کا چیف انجینئر، محکمہ ہیلتھ کا ڈائریکٹر، شہر کا میئر اور وہ بلڈر بھی۔ کون تھا جو اس بیماری کی زد میں نہیں آگیا تھا۔ یہ خطرناک تو تھا ہی مگرکچھ کچھ مضحکہ خیز بھی۔ اب سب کو یقین آگیا تھا کہ یہ بری طرح پھیلنے والی وَبا ہے۔ اسی لیے کتوں اور بلیوں نے رات میں، آسمان کی طرف منھ اُٹھا اُٹھا کر پہلے ہی سے رونا شروع کردیا تھا۔ جو لوگ ابھی اس بلا کی زد میں نہیں آئے تھے، انھوں نے ردِ بلا کی دُعائیں پڑھنا اور ایک دوسرے کو بھیجنا شروع کردیں۔ بہت سوں نے صدقے دینا شروع کردیے۔ اتنی بڑی تعداد میں جان و مال کے صدقے دیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ایسا نظرآنے لگا جیسے صدقہ دینے والوں کا ایک میلہ لگا ہوا ہے جس طرح گاؤں میں ہفتہ بازار لگتے ہیں اوراُن میں جگہ جگہ گیہوں، چاول اور چنے کے اونچے اونچے ڈھیر لگے ہوئے نظرآتے ہیں۔ مگراُنھیں نہیں معلوم کہ خدا کے فیصلے انسانوں کے فیصلوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تو بالکل ہی مخالف۔ خدا کے بھید خدا ہی جانتا ہے یا وہ جو اُس جیسا ہو۔

اُدھر اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ لاشوں کے پہلے تو پوسٹ مارٹم کیے جاتے اورپوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر شراب کے نشے میں چور ہوکر، مگرپھر بھی ڈرے اور سہمے ہوئے مُردہ جسموں پر اپنے بُغدے چلاتے۔ جب لاشیں اُن کے لواحقین کے سپرد کردی جاتیں تواُنھیں تجہیزو تکفین کے لیے گھر نہیں لے جایا جاتا بلکہ اسپتال سے سیدھے، ایمبولینس میں ڈال کر قبرستان یا شمشان گھاٹ پہنچا دیا جاتا جہاں اُنھیں دفنانے یا نذرِ آتش کرنے میں بہت دِقّتوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ ضروری ارکان پورے کرنے کے لیے ملّا، مجاور یا پنڈت کو دس گنا زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی کیونکہ کوئی بھی بیماری کے پوٹ بنے مردہ جسم کو نہ تو غسل دینا چاہتا تھا اور نہ ہی ہاتھ لگانا۔ اس لیے کم سے کم ارکان میں ہی کام چلایا جانے لگا۔ لوگ کسی اور وقت مرنے کی دُعائیں مانگنے لگے۔ وہ اس وبا میں مرکر اپنی لاشوں کی ایسی بے عزتی اور بے حرمتی نہیں کرانا چاہتے تھے۔ مگرکیا یہ صرف لاشوں کی بے عزتی تھی۔ نہیں سب سے بڑھ کر تو یہ موت کی بے عزتی تھی۔ موت جو اتنی شیخی خور واقع ہوئی تھی۔ لوگ جس سے ڈرتے تھے، مگراحترام بھی کرتے تھے۔ اج اتنی خوار ہوکر گلیوں گلیوں بھٹک رہی تھی اُس کی اوقات اُس معمولی چور کی طرح ہو گئی تھی جو کسی کے گھر میں نقب لگانے سے پہلے، کئی دن پہلے اُس گھر کے چاروں طرف گھومتا رہتا ہے۔ محل ِ وقوع کا جائزہ لینے کے لیے اور ماحول کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے کبھی کبھی بھیک مانگنے کے بہانے چور گھر کے دروازے سے اندر ہی چلا آتا ہے۔ تاکہ دیکھ سکے کہ کون سا کمرہ کہاں ہے اور وہ جگہ کہاں ہو سکتی ہے جہاں مال چھپا کررکھا گیا ہوتا۔ بالکل اسی طرح چھپ چھپ کرموت بھی گھر دیکھنے آنے لگی۔ کبھی بیماری کے بہانے، کبھی خودکشی کے بہانے اور کبھی قتل کے بہانے۔ موت بری طرح ذلیل ہو رہی تھی۔ لوگ اُس پر تھوکتے تھے۔ اورجسم

جسم کو تو روح نے اپنی بنائی ہوئی خوفناک اندھیری جیل میں قید کرکے ڈال رکھا ہے۔ نہ جانے کب سے روح خود تو ہرتماشے سے ماورا تھی مگرسرکس کے تنبو کے سارے بانس جسم میں ہی گڑے ہوئے تھے۔ انسانی جسم ہی ہرڈرامے کا اسٹیج بنتا آیا ہے۔ سارا کھیل جسم کی سرحدوں کے اندر ہی کھیلا جاتا ہے۔ موت کی ریاضی بھلے ہی بدل گئی ہو مگرتختہ سیاہ تو انسان کا مقدر کا مارا جسم ہی تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ جیسا لوگ کہتے ہیں کہ یہ وقت خراب تھا۔ وقت کبھی اچھا نہیں ہوتا کیونکہ جانداروں کا جسم وقت میں ہی موجود رہتا ہے۔ وقت سے ماورا ہوکر جسم اپنے آپ کو دُکھ سے آزاد کرسکتا ہے۔ مگرہم سب ابھی وقت میں ہی جی رہے ہیں۔ وقت سے باہر نہیں۔

خبریں ساری دنیا میں پھیلنے لگیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارہ صحت نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لینا شروع کردی اورپھر وہی ہوا جس کی افواہ پہلے ہی سے گشت کررہی تھی۔ یعنی احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے آخرکار حکومت نے چالیس کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے اس علاقے کو پوری طرح سِیل کردیا۔ اب نہ کوئی یہاں سے جا سکتا تھا اور نہ کوئی یہاں آسکتا تھا۔ دیکھا جائے تو تمام شہر کی ناکہ بندی کردی گئی۔ لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں علیحدگی کے ساتھ رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ موبائل نیٹ ورک بھی منقطع کردیا گیا۔اس سے یہ امر بھی آشکار ہوتا ہے کہ محض بیماری بھی انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتی ہے۔ ایک بخار، کھانسی کا ایک ٹھسکہ، حلق سے باہر آتی ہوئی ایک اُلٹی اور فالج کا ایک حملہ ہمارے اور بیمار کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرسکتا ہے۔ اس دیوار کو توڑنا آسان کام نہیں۔ تیمارداری کی اخلاقیات بھی اس پردے کی دیوار کا احترام کرتی ہے۔ اکثر حالات کے مطابق ضرورتوں کوڈھالا جاتا ہے۔ مگرجب ضرورت زیادہ بڑی ہو، زندہ رہنے کی ضرورت تو پھراُس کے مطابق صورتِ حال کی ایجاد کرلی جاتی ہے۔

لائف اپارٹمنٹ، رفیق انکلیو، جنت باغ، فلوراگارڈنز اور دوسری سوسائٹیز کے گرد پولیس کا محاصرہ کردیا گیا۔ بحالتِ مجبوری وہاں اپنا ڈیرہ جمائے بیٹھی ہوئیں منرل واٹر اور کولڈ ڈرنک کی کمپنیوں کی ایجنسیاں بھی اپنی دکانیں بڑھا گئیں۔ حفاظت کے خیال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جل بورڈ کے پانی کے ٹینکر بھی یہاں سے ہٹا لیے گئے۔ اب جو بھی تھا، جہاں بھی تھا، وہیں محصور ہو کر رہ گیا۔ بیماری اب ایک جرم تھی، ایک سماجی انحراف۔ جس گھر میں کوئی موت واقع ہوتی اُس گھر کے دروازے پر کراس کا نشان لگا دیا جاتا اور پولیس والے اُس میں رہنے والے دوسرے افراد کو اپنے ساتھ کار میں بٹھا کر کہیں دور لے جاتے، شاید زندہ انسانوں کا بھی کوئی قبرستان تھا۔ اُسی اندھیرے میں اُنھیں دفن کرنے وہ اُنھیں بھی لے جاتے جو بیمار نہ تھے۔

یہ تو اچھا تھا کہ اس شہر میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں تھا، ہاں مگرایک فوجی ہوائی اڈہ ضرور تھا مگر احتیاطی تدابیر کے طورپر فی الحال اُس کی اُڑانیں بھی روک دی گئی تھیں کیونکہ یہ علاقہ ایئر فورس کا لونی کے نزدیک تھا اور ملٹری چھاؤنی بھی یہاں سے تقریباً ملی ہوئی تھی۔ چاند ماری کے میدان میں ہونے والی فائرنگ کی آوازیں لائف اپارٹمنٹس میں رہنے والے اکثر سنتے رہتے تھے۔ شہر کے اس حصے کو دوسرے حصے سے منسلک کرنے کا کام، کالی ندی پر بنا ہوا ایک پرانا کنگورے دار سفید پُل کرتا تھا۔ اسی پُل کے دونوں سروں پر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا۔ پُل کے مغرب میں ایئر فورس کی پرانی کالونی تھی اور مشرق میں ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں چاند ماری کا میدا تھا اوراُن دونوں کے درمیان سے کالی ندی بہا کرتی تھی۔ وہ چھوٹی اور پتلی سی ندی جو شمالی پہاڑوں میں واقع کسی جھرنے سے نکل کرآتی تھی اوراِس بات کے لیے بدنام تھی کہ نہ جانے کہاں کہاں سے ‘لاوارث لاشیں’ اس میں بہہ بہہ کرآتی ہیں۔ دراصل کالی ندی کا راستہ بہت گھنے اور خطرناک جنگلوں میں سے ہو کر گزرتا تھا۔

پُل کے اِدھر اور اُدھر دونوں طرف ناکہ بندی تھی۔ دونوں طرف لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید تھے، مگرپھر بھی ان دونوں علاقوں میں ایک بڑا اور واضح فرق تھا اور وہ یہ کہ اُدھر پانی کی سپلائی ہو رہی تھی مگراِدھر نل سوکھے پڑے تھے۔ پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔

مگردنیا قائم تھی اگرچہ اب اس دنیا کو بھوگنا، گندے پانی میں پیدا ہونے والی مچھلیوں کو بھون بھون کر کھانے کے برابر ہے۔ سنا ہے کہ گندے اور میلے پانی سے پیدا کی گئی مچھلیاں لذیذ ہوتی ہیں۔

Jesus Christ, you
Travelled through towns
And villages curing
Every disease and illness”
Come to our aid now, that we may
Experience your healing love.

[dropcap size=big]لائف[/dropcap]

اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر13 میں، جو سب سے اوپری منزل پر واقع ہے، ایک ادھیڑ عمر کا شادہ شدہ جوڑا، ساکت و جامد بیٹھا ہوا ایک دوسرے کو خالی خالی آنکھوں سے دیکھے جارہا ہے۔ برابر والے کمرے میں سے ایک لڑکے کی کھانسی کی آواز لگاتار چلی آرہی ہے۔ نہیں، نہیں۔ یہاں وائرس سے بیمار کوئی نہیں ہے۔ مگراس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بیماری کے قیمتی خزانے پر صرف اسی منحوس وائرس کا اجارہ تو نہیں۔ دنیا میں ہزاروں طرح کے جراثیم ہیں اور ایسا کوئی اُصول نہیں کہ جس زمانے میں یہ وائرس چھٹّے بیل کی طرح ہر جگہ گھومتا اور منھ مارتا پھر رہا ہو، دوسری بیماریاں یا دوسرے جراثیم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

لڑکے کو پھیپھڑوں کی پرانی ٹی۔ بی۔ ہے اور لاپرواہی کی وجہ سے اس کا علاج بیچ بیچ میں ٹوٹتا رہتا ہے۔ بیماری بگڑ چکی ہے۔ دن میں کم از کم چارپانچ بار کھانسی کے خشک دوروں کے ساتھ اُس کے منھ سے خون آنے لگتا ہے۔ بخار تو زیادہ نہیں رہتا مگر یہ تو سامنے کی بات ہے کہ ہلکا بخار رہنا زیادہ خطرناک اور کیف پُراسرار ہوتا ہے۔ وہ کھال اور گوشت کے نیچے ہڈیوں میں کسی سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے۔ جہاں سے اُسے آسانی سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔

اُس کی قمیض پر خون لگا ہوا ہے۔ عورت نے کہا، میں نے بھی دیکھا ہے۔ قمیض بدلی نہیں مرد نے کہا، تین قمیضیں اور تین پاجامے خون کے دھبوں سے پٹے پڑے ہیں۔ دھوؤں کیسے؟ اب تو بازار میں بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔ پینے کے پانی کا بس یہ ایک جگ بچا رہ گیا ہے۔ میں نے جانے کیسے کیسے کرکے اکٹھا کیا ہے۔ مرد اُٹھ کرسامنے لکڑی کے اسٹول پر رکھے ہوئے جگ کے اندر جھانکنے لگتا ہے۔ جھانک کیا رہے ہو، پانی ہے۔ عورت کا لہجہ ناگوار ہے۔ مرد خاموشی سے واپس آکر کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ ذرا دیکھو، وہ بہت زور سے کھانس رہا ہے۔ مرد کہتا ہے، تم ہی دیکھ لو۔ پیدا تو تم نے بھی کیا ہے۔ عورت کا لہجہ ابھی بھی ناگوار ہے۔ جا رہا ہوں۔ مرد تھکی ہوئی آواز میں کہتا ہے اور لڑکے کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ عورت بھی کچھ منھ ہی منھ میں بڑ بڑاتی ہوئی اُس کے پیچھے آرہی ہے۔ تقریباً گیارہ سال کا لڑکا ہے۔ اُس کا چہرہ کھانستے کھانستے سرخ ہو گیا ہے۔ اُس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ رکھی ہیں۔ اُس کا سر تکیے میں اس طرح دھنسا ہوا ہے۔ جیسے دلدل میں پھنس گیا ہو۔ اُس کی پتلی پتلی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور پسلیاں چل رہی ہیں۔ عورت اور مرد دونوں زور زور سے اُس کی پیٹھ سہلانے لگتے ہیں۔ نہیں کوئی بات نہیں، بیٹا۔ پھندہ لگ رہا ہے اور کوئی بات نہیں۔ دونوں مل کر کہتے ہیں اوراُن کے جملے شور میں بدل جاتے ہیں۔ پانی۔ پانی۔ لڑکا پھولتی ہوئی سانسوں کے درمیان آہستہ سے بد بداتا ہے۔ اُس کی آواز اُس چوہے سے مشابہہ ہے جو اچانک چوہے دان میں پھنس گیا ہو۔ عورت پانی کے آخری جگ میں سے ایک چھوٹی سی تانبے کی کٹؤری میں پانی اُنڈیلتی ہے۔ پانی نہیں، پانی کی چند بوندیں ہیں۔ پانی کی چند بوندیں لڑکے کے حلق میں ڈال دی جاتی ہیں۔ اور۔ اور پانی۔ اور پانی۔ لڑکا کپکپاتی ہوئی آواز میں کہتا ہے۔ مگرابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جب پانی کی کچھ اور بوندیں اُس کے منھ میں اُنڈیلی جائیں گی۔ جیسے جیسے اُس کی کھانسی کم ہو رہی ہے ویسے ویسے اُس کے سرخ چہرے پر زردی واپس رینگتی ہوئی چلی آرہی ہے۔ جلد ہی اس زردی نے لڑکے کے چہرے کو اس طرح ڈھک لیا جیسے مغرب میں ڈوبتے ہوئے لال سورج کو آسمان پر چھاتا ہو زرد غبار ڈھک لیتا ہے۔

اُس کی قمیض اُتاردیں۔ مرد نے آہستہ سے کہا۔ آج نہیں کل۔ شاید کل پانی آجائے۔ عورت نے کمزور لہجے میں جواب دیا۔ پانی کا کیا بھروسہ۔ مرد نے ٹھنڈی سانس لی۔ اور یہ سچ تھا کہ بہنے والی چیزوں کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ وہ وقت کی طرح ہوتی ہیں۔

مرد کھڑکی کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا۔ دونوں وقت مل رہے ہیں۔ شام ہو رہی ہے۔ کچھ دیر پہلے تک مشرق میں اُڑنے والی چیلیں اب تقریباً ڈوب گئے سورج کی چھوڑی ہوئی لالی کے آس پاس، مغرب میں منڈلانے لگی ہیں۔ اچانک لڑکا دوبارہ کھانستا ہے۔ پہلے آہستہ سے کھانسی کا ایک ٹھسکہ آتا ہے، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔ وہ اُٹھ کر باتھ روم سے ملحق دیوار پر لگے ہوئے واش بیسن کی جانب بھاگتا ہے۔ اُس کا منھ اُبکائی کے لیے کھلتا ہے۔ منھ سے گاڑھا گاڑھا خون نکل کر سفید چینی کے بیسن میں گرنے لگتا ہے۔ بیسن پہلے سے ہی خون سے بھرا پڑا ہے۔ وہاں پانی کا قطرہ تک نہیں۔ وہ لرزتے ہوئے ہاتھ سے ٹونٹی کھولتا ہے تو اُس میں سے صرف سرسراتی ہوئی ہوا باہر نکلتی ہے، ایک بھوتانہ ہوا۔

عورت شاید جاہل اور گنوار ہے۔ وہ اپنے سرکو دونوں ہاتھوں سے بے تحاشہ پیٹنے لگتی ہے۔وہ غم اور غصے سے پاگل ہو رہی ہے۔ وہ ایک ڈائن میں بدل گئی ہے جو اپنے بچے کو کھا جاتی ہے۔ مرجا۔ اس سے تو تُو مرجا۔ کل کا مرتا ہوا آج مرجا۔ جینا حرام کردیا۔ مرتا بھی نہیں۔ ہائے میں کیا کروں۔ وہ بے تحاشا منھ بھر بھر کے لڑکے کو کوس رہی ہے اور اپنے سینے پر دوہتھڑ مارے جا رہی ہے۔ جس کے سبب اُس کے بھاری بھاری پستان اس طرح ہل رہے ہیں جیسے زلزلے کی زد میں آگئے ہوں۔

کیوں کوس رہی ہو بچے کو۔ دونوں وقت ملے بھلا کسی کو کوسا جاتا ہے۔ مرد تنبیہ کرتا ہے۔ یہ آمین کی گھڑی ہوتی ہے۔ مرد تنبیہ کرتا ہے۔ تو کیا کروں مارڈالو مجھے۔ واش بیسن میں ابھی تک وہی پرانا خون جمع ہے جو یہ تین دن سے اُگل رہا ہے، اوک رہا ہے خون کیسے بہاؤں۔ پانی کو موت آگئی ہے۔ خون بھرےکپڑے کیسے دھوؤں۔ پانی کو موت آگئی ہے، اسے کیوں نہیں آتی۔ یہ کیوں نہیں مرجاتا۔ عورت زور زور سے چیختی ہوئی فرش پر اُکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔ مجھے قے آرہی ہے۔ وہ کہتی ہے اور سوکھی سوکھی اُبکائیاں لینے لگتی ہے۔ جو کراہیت اور صدمے سے متاثر ہونے کے سبب آیا کرتی ہیں۔

لڑکا کپکپاتا ہوا اپنی ماں کے قریب آگیا ہے۔ اُس کے ہونٹوں اور ٹھوڑی پہ خون چپکا ہوا ہے۔ وہ اب کھانس نہیں رہا ہے۔ اُس نے کھانسی کو کسی نا معلوم طاقت کے ذریعے روک لیا ہے۔ امی، امی۔ وہ ماں کا کندھا پکڑتا ہے۔ امی ناراض مت ہو۔ اب نہیں کروں گا خون کی اُلٹی۔ کبھی نہیں کروں گا۔ میری اچھی امی۔ لڑکے کو اس وقت ہلکا بخار نہیں بلکہ تیز بخار ہے۔ سارا بدن تپ رہا ہے اور چہرہ نہ تو لال ہے نہ پیلا۔ چہرہ کالا پڑگیا ہے۔ اُس کی قمیض سے پسینے اور خون کی بھاپ اُٹھ رہی ہے۔ عورت فرش سے اُٹھتی ہے اور زور زور سے روتے ہوئے لڑکے کو چمٹا لیتی ہے۔ عورت کی گردن پر، لڑکے کے منھ اور ہونٹوں پر چپکا ہوا خون خاموشی کے ساتھ آکر لگ گیا ہے۔ ماں بیٹے ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے ہیں۔ مگررونے کی یہ آوازیں غیر انسانی ہیں۔ انسان ان آوازوں میں نہیں روتے۔

مرد کو اچانک سخت گرمی میں بھی سردی لگنے لگتی ہے۔ اُس کے دانت بجنے لگتے ہیں۔ دانت بجنے کی وجہ سے وہ اُن کے رونے کی آوازیں نہیں سن سکا ہے۔ وہ یہی سوچے جا رہا ہے کہ کاش اُس کی آنکھوں کا آپریشن کامیاب نہ ہوتا، وہ پہلے کی طرح اندھا ہی رہتا۔ آخر اندھا پن ایک نعمت بھی تو ہے۔

اب اندھیرا ہوگیا ہے،جلد ہی سوسائٹی کی سڑکوں اور پارکوں میں لگے ہوئے بجلی کے کھمبے روشن ہو جائیں گے مگرکسی کو یہ نہیں معلوم کہ پانی کب آئے گا۔

کسی کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جلد ہی یہ بیماری انسانوں کے ساتھ ساتھ کتوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گی۔ کتے پہلی بار ہر جگہ مٹی کریدتے ہوئے نظرآئے۔ پھر گندگی کرتے ہوئے اورپھر اُلٹیاں کرتے ہوئے۔ اُن کے منھ سے ہرے ہرے جھاگ نکلنا شروع ہو گئے۔ کھرکی اور بالکونیوں میں کھڑے ہوئے لوگوں نے اُنھیں دیکھا۔ پہرہ دیتے ہوئے پولیس والوں نے اُنھیں دیکھا۔ کتےپالتو نہ تھے، مگرکالونی والوں کے لیے اجنبی بھی نہ تھے۔ وہ یہیں گھومتے رہتے تھے اور ہرآتے جاتے کو دیکھ کر محبت سے اپنی دُمیں ہلاتے تھے۔ مگراب منھ میں جھاگ بھرے ہوئے یہ کتے حواس باختہ سے اِدھر اُدھر دوڑتے تھے۔ پھر کسی نامعلوم تکلیف کے سبب زمین پر لوٹیں لگانے لگتے تھے۔ اُن کی آنکھیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح سرخ تھیں اوراُن کے جبڑے پھیل گئے ھتے۔ اور کوئی شخص تو گھر سے باہر نکل نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ باہر نکلنے کی سزا جیل تھی۔ مگرکالونیوں میں پہرہ دینے والے پولیس کے سپاہی تو باہر موجود تھے جو سرکار کی طرف سے ڈیوٹی کے لیے دی گئی اپنی اپنی پانی کی بوتلوں کو ایک دوسرے سے چھپا کر رکھتے تھے اور یہ احتیاط بھی کرتے تھے کہ کبھی کھڑکی یا بالکونی میں کھڑے شخص کی نظران بوتلوں پر نہ پڑجائے۔

کتے ان پولیس والوں کو بھنبھوڑنے لگے۔ وہ عجیب و غریب طرح سے پاگل ہو گئے تھے۔ وہ اگرکسی پنڈلی منھ میں دبالیتے تو چھوڑتے ہی نہیں تھے اور طرح طرح کی غراہٹیں اپنے حلق سے نکالتے رہتے جن میں شدید غصے کے علاوہ ایک ناقابلِ فہم قسم کی تکلیف بھی شامل تھی۔ اُن کے سر اور جسم کو ڈنڈوں سے بے تحاشا مارا جاتا تب کہیں جا کر وہ اُس چبائی گئی پنڈلی کو چھوڑتے مگرجیسے ہی وہ یعنی کتے ہٹتے، اُں کے کاٹے کا شکار وہ بدنصیب پولیس والا فوراً ہی کتوں کی ہو بہو آواز میں بھونکنے لگتا۔ چاروں ہاتھ پیروں پر چلتا ہوا، وہ دوسرے آدمیوں کو کتے کی طرح ہی کاٹنے کے لیے دوڑتا۔ اُس کی آنکھیں لوہار کی بھٹی کی طرح سرخ ہوتیں اور جبڑے پھیل جاتے۔ جلد ہی ان اطراف میں نظرآنے والے ہرکتے کو دیکھتے ہی گولی ماردینے کا حکم صادر کردیا گیا اورشاید اُس شخص کو بھی جسے کتے نے کاٹا ہو۔ اگرچہ یہ یقینی طورپر نہیں کہا جا سکتا۔

مگرکیا اس دنیا کے بارے میں یقینی طورپر کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیا دنیا اپنی مرضی سے اب ختم ہونے والی تھی۔ اگر ایسا تھا تو زمین اور فطرت کو اپنے کام کرنے سے روکنے کا حق کس کو تھا۔ اگرفطرت اور زمین نے اپنے آگے کے منصوبے بغیر انسان کی شمولیت کے بنا ہی لیے تھے اور اب وہ اپنا کام جانداروں کی مطلق غیر حاضری میں اکیلے ہی کرنا چاہتی تھیں تو ہمیں اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے دنیا کو ایک اچھے کرایہ دار کی طرح خوش دلی کے ساتھ خالی کردینا چاہیے۔

گلاب اپارٹمنٹس کے ہر فلیٹ میں ایک ہی قسم کی مصیبت آئی ہوتی ہے۔ سب کو ایک ہی شکایت ہے اورسب کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ ویسے یہ مسئلہ ان اطراف کی تمام سوسائٹیز میں مشترک ہے لیکن کسی بھی تاریخی بیانیہ کی تائید کے لیے بس ایک دو مثالیں ہی کافی ہوتی ہیں۔ ورنہ گلاب اپارٹمنٹس کے لفظ کو مون انکلیو، آفتاب باغ اور فلورا گارڈن سٹی بھی پڑھا اور لکھا جا سکتا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گلاب اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر 13 میں ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے بدبوئیں پھیلی ہوتی ہیں۔ گھرمیں ہوا کے دباؤ کے تحت کبھی ایک بدبو حاوی ہوجاتی ہے اورکبھی دوسری اور کبھی تیسری۔ یہ بدبوؤں کا ایک نہ نظرآنے والا اسمبلاژ ہے جس کے مختلف رنگوں کو صرف ناک کی آنکھیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ ان دنوں ناک پر نت نئے انکشافات ہورہے ہیں اور قوتِ شامہ نئے نئے جہانوں کی سیر کو نکل کھڑی ہوئی ہے۔ دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے بند ہونے کے باجود نہ جانے کہاں سے آکر ڈھیر ساری ہرے پروں والی مکھیاں آ کر بھنبھنانے لگی ہیں۔ یہاں کے ہر فلیٹ میں دونوں اقسام کے ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔ ایک مغربی قسم کے کموڈ والا اور دوسرا مشرقی روایت کے پاسداری کرتا ہوا۔ دونوں قسم کے کموڈ انسانی فضلے سے لبا لب بھرے ہوئے ہیں۔ دونوں سیٹوں کی سفید چینی اس گندگی میں ڈھک کررہ گئی ہے۔ فلش کرنے کی ٹنکی نہ جانے کب سے سوکھی پڑی ہے۔ اُس پر موٹے موٹے چیونٹے رینگتے پھر رہے ہیں۔ ہر بالٹی خالی ہے اور ہر برتن خشک اور گندا باورچی خانے میں نہ جانے کب سے جھوٹے برتن پڑے سڑرہے ہیں۔ باورچی خانے سے وہی بدبو اُٹھ رہی ہے جو پاخانے سے آرہی ہے۔ زیرِ زمین نالیاں بھی بند ہیں اوراُن میں گندگی ٹھسی ہوئی ہے۔ سارے گھرمیں سوکھے ہوئے پیشاب کی ایسی کھراند ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ یہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہر طرف ڈھیر سی بکریاں بندھی ہوئی ہیں۔ واش بیسن میں نہ جانے کب کی، کی گئی کلّیوں کے ساتھ منھ سے نکلے ہوئے غذائی ذرات، تھوک اور بلغم اکٹھا ہیں۔ یہ جہنم ہے۔ جیتا جاگتا جہنم جس کی آگ کو اور بھڑکانے کے لیے وہاں تین بچے اوراُن کے ماں باپ بھی زندہ موجود ہیں۔ باپ جس کی آنکھیں بھوری مگربےنور ہیں اوراُس کی ٹانگ میں پلاسٹر بندھا ہے۔ ایک زندگی آلودہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہے۔ اس کی پلاسٹر سے بندھی ہوئی ٹانگ کے نیچے ایڑی میں ایک زخم ہے جس پر بار بار ایک مکھی آکر بیٹھ جاتی ہے۔ باپ، بچوں کی ماں، جس کی آنکھیں اور بھی زیادہ بھوری ہیں، جس کی چپٹی ناک ہے اور جو خونی بواسیر کے موذی مرض میں مبتلا ہے اور جو بیت الخلا کے نام سے خوف کھاتی ہے، کو غصے سے دیکھے جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے مجھے کھا جاؤ گے۔ آنکھیں نہیں ہیں تو یہ حال ہے۔ آنکھیں ہوتیں تو پتہ نہیں اُس میں کتنی نفرت ہوتی۔ عورت کہتی ہے۔ آنکھیں ہوتیں تو دیکھتا کہ تمھارے تھوبڑے پر میرے لیے کتنی نفرت ہے۔ مرد جواب دیتا ہے۔ بچے بے وجہ شور مچا رہے ہیں۔ پھرایک بچہ بھاگا بھاگا آتا ہے اور کہتا ہے۔اماں، اماں! ہم کیا کریں۔ پیٹ میں درد ہورہا ہے۔ میرے سرپر کردوکم بختو! تمھارا ناس جائے۔ بھری دوپہر میں یہ کوئی وقت ہے۔ماں دہاڑتی ہے۔اماں بڑے زورکا لگ رہا ہے۔ چار سالہ بچہ اپنا پیٹ پکڑے ہوئے باپ کے پاس آکر بولا۔ ابا جاؤں کہاں جاؤں۔ ورنہ نکل جائے گا۔ اُس کے پیچھے پیچھے تقریباً آٹھ سال کا دوسرا بچہ بھی اپنا نیکر سنبھالتےہوئے چلا آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پہلے وہ فارغ ہوگا۔ نہیں، پہلے میں۔ نہیں، میں۔۔۔ میں۔

یہ یقیناً مضحکہ خیز بلکہ کسی گھٹیا قسم کے مزاحیہ ڈرامے کا کوئی منظر معلوم ہوتا ہے۔ مگرہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مضحکہ خیزی اور لطیفوں میں ایک ایسی دہشت چھپی رہتی ہے جس کو اگرمحسوس کرلیا جائے تو ہماری ہڈیاں بجنے لگیں۔ ویسے یہ دنیا بھی محض ایک لطیفہ ہے جسے دوسرے سیاروں کی تفریح کی غرض سے بنایا گیا ہے۔

جاؤ،سیٹ پر مت بیٹھنا۔ فرش پر ہی کرلو۔ سوکھ جائے گا۔ باپ نے لاپرواہی سے مشورہ دیا۔ اچھا، خوب مشورہ دے رہے ہو، گندگی پھیلانے کا۔ تم اندھے ہو، تمہیں گندگی نظرنہیں آتی۔ مگرکیا تمھاری ناک بھی مٹ چکی۔ تمہیں کوئی بدبو خوشبو کچھ نہیں آتی۔ خود بھی ہر وقت جانوروں کی طرح چرتے رہتے ہو اور بچوں کو بھی چراتے رہتے ہو۔ جب دیکھو ٹوائلٹ میں گھسے ہوئے ہیں۔ معلوم ہے کہ مرنے کےلیے بھی پانی نہیں ہے۔ عورت کہتے کہتے ایک لمحے کو رُکی، پھر دوبارہ کہنا شروع کردیا۔ بلڈ پریشر کی دوا یونہی چبا لیا کرتی ہوں۔ نگلنے کو پانی نہیں۔ اپنی حاجت روک لیتی ہوں کہ ٹوائلٹ میں نہ جانا پڑے۔ قبض کرنے والی دوائیں لگاتار نگل رہی ہوں چاہے میری آنتیں سڑجائیں مگر میں اُس منحوس اور غلاظت سے بھری ہوئی جگہ پر جاکر ہرگز نہ بیٹھوں گی۔ بولتے بولتے اُس کا گلا بیٹھنے لگا۔ جب میں نے اُس وقت کہا تھا کہ نکل جا تو مایا کے ناگ کی طرح جم کر بیٹھ گئی تھی۔ کچھ بھی ہو جائے، گھر نہیں چھوڑوں گی۔ مرد نے ڈانٹ کر کہا۔ ہاں میں تو نہیں لے جاتی تمہیں اپنے مائیکے اور تو تمھارا کوئی ہے نہیں۔ سسرال کی روٹیاں توڑنے کا شوق ہے۔ ویسے کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ تم میری چھوٹی بہن پر نظررکھتے ہو۔ اپنے اندھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہو اوراُس کے سینے کو اپنے ہاتھوں سے چھونے کی کوشش کرتے رہتے ہو۔ عورت نے زہر آلود لہجے میں کہا۔ تو بکواس بند کرے گی یا نہیں۔ مرد نے کچھ اس انداز میں کہا کہ وہ لمحے بھر کو خاموش ہوئی۔ پھر کچھ اس طرح بڑبڑانا شروع کردیاجسے صرف وہی سن سکتی تھی۔ تقریباً گیارہ سال ہیں جو گھبراہٹ کے موقع پر نکل کرآتے ہیں۔ اماں، اماں۔ اِدھر آؤ، بات سنو۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں کہتی ہے۔ کیا ہوا کم بخت۔ میرے پاس پانی نہیں ہے۔ تجھےہر گھڑی پیاس لگی رہتی ہے۔ بڑی گرمی بھرگئی ہے تیرے اندر۔ عورت چلائی۔ نہیں اماں! پانی نہیں چاہیے، تم اِدھر آکرمیری بات سن لو۔ بچی حواس باختہ ہے۔ عورت کراہتے ہوئے بچی کے پاس جاتی ہے۔ وہ دونوں دوسرےکمرے میں چلی جاتی ہیں۔

بچی ماں کو اپنی شلوار کی طرف دیکھنے کا اشارہ کرتی ہے جس پر خون کے دھبے ہیں۔ میرے پیڑو میں بہت درد ہو رہا ہے۔ وہ رو کر کہتی ہے۔ مرجاحرافہ۔ ابھی ہی جوان ہونے کو رہ گئی تھی۔ دیکھتی نہیں کہ گھرمیں پانی نہیں ہے او ر تو مہینہ شروع کرکے بیٹھ گئی۔ عورت بچی کی پیٹھ پر زور زور سے گھونسے مارتی ہوئی چیخنے لگتی ہے۔ بچی روتی جاتی ہے۔ ماں مارتی جاتی ہے۔ مرد زورسے دہاڑتا ہے۔ عورت بچی کو گھسیٹتے ہوئے کپڑوں کی الماری کے پاس لے جاتی ہے اور کہتی جاتی ہے کہ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ خدا موت دے دے۔ مگرخدا ابھی موت نہیں دینا چاہتا۔ ابھی وہ انھیں اور جینےدینا چاہتا ہے۔

حالانکہ کوئی بھی شعوری طورپر جی نہیں سکتا۔ شعوری طورپر مرتو سکتا ہے۔ خودکشی کرسکتا ہے۔ مگرکوئی یہ نہیں کرسکتا کہ سمجھ سمجھ کر زندگی گزارے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے جیسے ٹائپ رائٹر پر لکھے ہوئے حروف کو غور سے دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ ‘پ’ کہاں اور ‘ژ’ کہاں، ٹائپ کیا جائے۔ انگلی توایک حرف سے دوسرے حرف تک اُڑتی ہوئی پہنچتی ہے۔ انگلی کی اپنی اُڑان ہے اور اپنا دل ہے، اپنا دماغ ہے۔

یہ سب ایک خواب کی طرح ہے۔ ایک ایسا خواب جسے مرنے کے بعد ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس عورت کا قد مشکل سے چار فٹ رہا ہوگا۔ اُس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ اُس سے دب کر گویا وہ زمین میں دھنسی جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی فٹ بال نظرآتی ہے جو آدھی ریت میں دبی ہوتی ہے۔ بے رحمی کی حد تک پیچھے کو نکلے ہوئے اُس کے کولہوں اور پھولے پھولے مہاسوں سے بھرے گالوں میں ایک ناقابلِ یقین مشابہت ہے۔

اندھے مرد کے چہرے پر پرانی چیچک کے نشان ہیں۔ وہ بھی کبھی وبا ہوا کرتی تھی، مگراب دنیا سے اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ لیکن دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے کبھی نہ مٹنے والے نشان یہیں چھوڑ گئی ہے۔ انسانوں کے چہرے پران کو اندھا کردینے کے بعد وہ ہمیشہ اس امر کی یاد دلاتی رہتی ہے کہ وہ تھی، وہ ماضی کے اُن گناہوں کی طرح ہے جو آدمی کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑتے۔

اندھا آدمی بار بار پلاسٹر کے اندر ہاتھ ڈال کر ٹانگ کھجانے کی کوشش کرتا ہے۔ پلاسٹر کا رنگ اب سفید نہیں رہا، وہ میلا ہو چکا ہے اوراُس پر جگہ جگہ سالن کےپیلے دھبے بھی ہیں۔ پلاسٹر کے اندر شاید کھٹمل پیدا ہو گئے ہیں۔ کچھ کھانے کو ہے، وہ کہتا ہے کیونکہ وہ کچھ دیکھتا نہیں۔ کچھ نہیں ہے، ابھی تو کھا کر اُٹھے ہو۔ عورت کھسیا کر جواب دیتی ہے، مگرمجھے بھوک لگ رہی ہے۔ پانی ہے۔ وہ پھر کہتا ہے۔ بس ایک جگ پانی بچا ہے۔ دوا نگلنےکے لیے پانی نہیں ہے۔ میرے گردے خراب ہو رہے ہیں۔ تمھارے ساتھ رہ کر مجھے یہ ساری منحوس بیماریاں لگ گئی ہیں۔ ورنہ شادی سے پہلے میں کتنی تندرست اور خوبصورت لڑکی تھی۔ اب تو اچھا ہے کہ یا تم مرجاؤ یا میں مرجاؤں۔ عورت زور سے بڑبڑاتی ہے۔ اندھا آدمی زور سے ہنستا ہے۔ اُس کی وہیل چیئر کے پہیے ہلنے لگتے ہیں۔ ‘خوبصورت لڑکی۔’ اندھا ہنستے ہوئے کہتا ہے۔ اگرتمھاری آنکھیں ہوتیں تو تم دیکھ پاتے۔ کاش میں نے ترس کھاکے تم سے بیاہ نہ کیا ہوتا۔ عورت کے لہجے میں حقارت تھی۔

ممکن ہے کہ کبھی اُن دونوں میں تھوڑی سی وقتی محبت رہی ہو مگراِسے کیا کہیں کہ محبت کے پڑوس میں بیزاری رہتی ہے اور خلوص کے برابر والی کھڑکی میں سے کینہ کا چہرہ ہمیشہ سڑک پر چلنے والوں کو گھورتا رہتا ہے۔

اندھا اپنی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا کھانے کی میز کی طرف جارہا ہے۔ اُس نے میز پر رکھی ہوئی ڈبل روٹی کے دو ٹھنڈے سلائس نکال لیے ہیں۔ تو نے ترس کھا کر مجھ سے شادی کی تھی؟ تیرے باپ نے میری دولت کے لالچ میں آکر تجھے میرے سر منڈھ دیا تھا۔ میں نے چالیس لاکھ کا یہ فلیٹ اُسی کے کہنے پر تیرے نام کیا تھا۔ میرا بہت بڑا کاروبارتھا۔ میں زردوزی اور کار چوب کے کاریگروں کو سعودی عرب بھجوایا کرتا تھا۔ تیرے دو بھائیوں کے بھی ویزے لگوائے، بھول گئی؟ اندھا کہے جا رہا تھا، مگرتب ہی اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے اُس کی ایڑی کا زخم رِسنے لگا ہے۔ زخم پر دو مکھیاں آکر بیٹھ گئیں۔ مکھیوں کو بھگانے کے لیے وہ اپنی ایڑی کو بار بار فرش پر بجانے لگا۔ مگراس سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ایڑی فرش پر بجانے سے زخم میں سے زیادہ خون نکلنے لگا ہے۔ مکھیاں اب بھلا زخم سے کیوں دورجائیں گی۔

اندھا اندازے سے سلائسوں کو ٹوسٹر کے اندر ڈال رہا ہے۔ اِس ٹوسٹر میں بھی ایک تکنیکی خرابی ہے۔ اس میں سے کبھی تو سیاہ اور کوئلے کی طرح سخت جلا ہوا سلائس باہر نکل آتا ہے اور کبھی بالکل سفید، کچا اور ٹھنڈا۔ بجلی سے چلنے والی چیزوں میں اگراس قسم کی کوئی پُراسرار خرابی پیدا ہو جائے تو وہ جاتی نہیں ہے۔ وہ گھوڑے میں پیدا ہو جانے والے عیب کی طرح ہوتی ہے۔ یاانسان کے مقدر کی خرابی کی طرح۔

اچھا چل چھوڑ، تھوڑا پانی دے۔ گلا سوکھ رہا ہے۔ اندھے نے جھگڑا ٹالنا چاہا مگروہ جھگڑا ختم نہیں کرنا چاہتی۔ اُس کے گال پھول کر کپّا ہو گئے۔ اُس کے بھاری بھاری کولھے ایک نامعمول انتقام لینے کے درپے ہوکر کچھ اور باہر نکل آئے۔ گلا سوکھ رہا ہے۔ ہونہہ، زندگی بھر شراب پیتا رہا، اُسی موت سے گلا ترکر۔ وہ غصے سے آگ بگولا ہوکر زور سے چیخی۔ اپنی زبان بند کر رنڈی۔ بھڑوے تو چُپ رہے۔ تو رنڈی۔ تو بھڑوا۔

بچے اُن کے قریب آکر کھڑے ہو گئے ہیں اور سسکیاں لے کر رو رہے ہیں۔

عورت اندھے مرد کے بہت قریب کھڑی ہوئی غصے سے کانپ رہی ہے اوراُس کے منھ سے تھوک کے جھاگ اُڑ رہے ہیں۔ آنکھیں سرخ ہیں اوراپنے حلقوں سے باہر اُبل آئی ہیں۔ اس کے جبڑے پھیل گئے ہیں۔ وہ پاگل کتیا نظرآرہی ہے۔ دفعتاً اندھا اپنی ٹوٹی ٹانگ سے اُس کے پیٹ پرایک زبردست لات مارتا ہے۔ عورت تھوڑا سا پیچھے کی طرف پھسلتی ہے۔ پھر سنبھل کرسیدھے کھڑے ہوکر اندھے کھے منھ پر نفرت سے تھوک دیتی ہے۔ تھو۔ تھو۔ تھو۔ اندھا دوبارہ اُس کے پیٹ پر لات مارتا ہے۔ عورت میز پررکھے ہوئے پانی کے جگ کو اُس کے سر پر دے مارتی ہے۔ کچے شیشے کا بنا ہوا جگ اندھے کی کھوپڑی سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتا ہے اور پانی سے اُس کا سراورکندھے بھیگ جاتے ہیں۔ اندھا دونوں ہاتھوں سے اپنا سرٹٹولتا ہے۔ اس کے ہاتھ پانی اورخون سے سن ہو گئے ہیں۔ وہیل چیئر کے پہیے جھٹکے سے بے قابو ہو کر بائیں طرف کو چلنے لگے ہیں۔ وہ اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنے ہاتھوں کو اِدھر اُدھر پھیلا رہا ہے۔ اِس سے پہلے کہ بچے دوڑ کراُس کی مدد کریں، غلطی سے پانی اورخون میں تراُس کا ہاتھ ٹوسٹر پر پڑگیا ہے۔ اس کے ہاتھ کی تین انگلیاں ٹوسٹر کے اندر گہرائی میں چلی گئی ہیں۔ اندھے کے منھ سے ایک خوفناک مگرصرف آدھی چیخ ہی برآمد ہوتی ہے۔ وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے کچھ لمحوں کے لیے اس کا جسم اوپر نیچے جھٹکے کھاتا ہے، جیسے گندے پانی میں مینڈک اُچھلتا ہے۔ پھر یہ جسم سیاہ ہوکر بے حس و بے جان ہو جاتا ہے۔

جب پولیس کی جیپ عورت کو جیل کے دروازے پر چھوڑنے آئی تو وہاں پہلے سے ہی ایک ایمبولینس کھڑی تھی۔ جس میں ایک قیدی عورت کو پولیس کی نگرانی میں ضلع سرکاری اسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ قیدی عورت بھی بیماری کا شکار ہو گئی تھی۔ کھلے آسمان میں دونوں عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اسٹریچر پر لیٹی ہوئی بیمار، قیدی عورت کی ایک آنکھ کو اُس کے ماتھے سے ڈھلک آئے ہوئے بالوں نے ڈھک لیا تھا۔ وہ اپنا ایک ہاتھ بار بار اوپر نیچے کررہی تھی۔ وہ پھولے پھولے مہاسوں سے بھرے ہوئے گالوں اور بھاری کولہوں والی موٹی عورت کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے۔ تو تم نے بھی۔ اُس کی مسکراہٹ سوال کرتی ہے۔ ہاں میں نے بھی۔ جیل کے اندر جاتی ہوئی عورت کی مسکراہٹ جواب دیتی ہے۔ پانی کے چکر میں؟ ہاں پانی کے چکر میں۔ ایک عورت جیل سے اسپتال کی طرف جانے والی ایمبولینس میں ڈال دی جاتی ہے۔ دوسری عورت گھرسے جیل کے اندر۔ گھر، جیل، اسپتال اور قبرستان میں سب ایک ہو گئے ہیں۔ شام ہو رہی ہے۔ درخت سلیٹی مائل ہونے لگے ہیں اور گھاس کالی، دھول اُڑاتی ہوئی ایمبولینس کے سائرن پردورکہیں کوئی پاگل کتا بھونکنے لگتا ہے۔

اب کہا جانے لگا ہے کہ مہاماری بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اگریہ واقعی مہا ماری ہے۔ شہر میں جگہ جگہ ایمبولینسیں گھومتی نظرآرہی ہیں مگرکچھ دنوں سے لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے اطراف میں کسی کالونی سے کسی مریض کے ہونے یا مرنے کی خبر نہیں آئی ہے (وہ ایک ایک دوسری موت مررہے ہیں) حالانکہ پانی کی سپلائی بند رہنے کی وجہ سے یہاں کچھ ایسے ذہنی مریض ضرور پائے گئے ہیں جنہیں یا تو پاگل خانے بھجوا دیا گیا ہے یا جیل۔ جہاں تک وائرس کا سوال ہے وہ تو پاگل خانے اور جیل دونوں جگہ پہنچ چکا ہے۔ گھروں میں قیدی بنے ہوئے لوگ اپنی عبادت بھی نہیں کرسکتے اور اگرکریں گے تو تمام ارکان پورے نہ ہو سکیں گے کیونکہ طہارت نام کی کوئی شے فی الحال اُن کے پاس نہیں۔ وہ تواچھا تھا کہ رمضان آکر گزر گئے تھے اور بقر عید ابھی دور تھی ورنہ اُن کے گھر خون میں نہا جاتے اورجانوروں کا گوشت سڑتا رہتا۔ جہاں تک پیاسے مرنے کا سوال تھا وہ تو یہ محرم کے دس دن بھی نہ تھے کہ شہدائے کربلا کی قربانی یاد کرکے، کچھ حوصلہ ملتا اور یہ کرب و بلا کے دن کٹ جاتے۔ مذہبی ارکان پورے نہ کرپانے پر سب ایک دوسرے کو یہ تسلی دیتے پھر رہے تھے کہ ایسی آزمائش کی سخت گھڑی میں خدا اُنھیں معاف کردے گا مگرکیا خدا انسانوں کو اُن کے گناہ اور برے اعمال کے لیے ہمیشہ معاف کرتا رہے گا۔ انسان جو گناہ کرنے سے کبھی دائمی توبہ تک نہیں کرتے تھے۔ خدا کا کام معاف کرنا اور رحم کھانا ہی نہیں، سزا دینا اور عذاب نازل کرنا بھی ہے اوراس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ صرف معاف کردینے والے خدا کو کوئی نہیں مانتا۔

اب ایسا بھی نہیں کہ چور دنیا سے اُٹھ گئے تھے۔ چوروں کی نظرہمیشہ اُن گھروں پر لگی رہتی تھی جن میں رہنے والے تالہ لگا کر وقتی طورپر کہیں اور رہنے چلے گئے ہوں۔ مگرایک تو اُنھیں ان گھروں میں گھسنے پر بیماری لگ جانے کا ڈرتھا اوراگرایک دو بہادرچوروں نے پولیس کی نظروں سے چھپ چھپا کر، کالونی کے اندر گھسنے کی کوشش کی بھی تو وہاں آوارہ گھومتے ہوئے پاگل کتوں نے اُنھیں کاٹ کھایا۔ جس کے بعد اُن کے بس میں صرف یہی رہ گیا کہ وہ خود بھی پاگل کتے کی طرح چارہاتھ پیروں پر چلتے ہوئے اور بھونکتے ہوئے، تندرست اور شریف آدمیوں کو کاٹتے پھریں۔ ایک چورسے زیادہ اس کہاوت پراور کون یقین کرے گا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔

لائف اپارٹمنٹس کے زندہ مگرپیاسے مکینوں نے اپنے پالتو جانوروں کو مارڈالنا شروع کردیا ہے۔ انھوں نے پنجروں سے نکال نکال کربے دردی کے ساتھ اپنے طوطوں کی گردنیں مروڑ ڈالی ہیں جو ہروقت پانی مانگنے کے لیے ٹائیں ٹائیں کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے اپنی پالتو بلیوں کے گلوں میں رسی کا پھندا ڈال کر اُنھیں ختم کردیا ہے جو ہروقت دودھ کی تلاش میں برتن پھینکتی رہتی تھیں اور میاؤں میاؤں کرتے ہوئے انسانوں کی گود میں گھس جاتی تھیں۔ انسان جانور کو جس طرح دیکھتا ہے، جانور اُس طرح نہیں دیکھ سکتا۔ کتے اور بلی کے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں جو کسی شے کو مجموعی طورپر اُس کی مکمل سالمیت میں دیکھ سکیں۔ وہ انسانوں کو صرف الگ الگ حصوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب کتا کاٹنے کے لیے آدمی کی ٹانگ پکڑتا ہے تو وہ اُس آدمی کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا مگرجب وہ آپ کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے تو اُسے آپ کا باقی جسم نظرنہیں آتا۔ وہ انسانی جسم کی بُوسے ہی اپنی وفاداری کا ثبوت دیتا ہے۔ انسانی جسم کے مکمل ادراک کے ذریعے نہیں۔ یہ آنکھیں تو بس انسان کو ہی بخشی گئی ہیں جو اشیا کو ان کی سالمیت میں ایک ساتھ دیکھنے پر قادرہیں۔ اس لیے انسان یہ جانتا ہے کہ دوسرا کتنا کمزور، حقیر، احمق اور بےز بان ہے۔ اُسے کتنی آسانی کے ساتھ مسلا جا سکتا ہے، شکار کیا جاسکتا ہے، غلام بنایا جا سکتا ہے اور ذبح کیا جا سکتا ہے۔ اور جب تک کمزور اور بے جان جانور اس دنیا میں موجود ہیں وہ انسانوں کو اُن کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے اوراُن کی مال و دولت کا خراج اداکرتے رہیں گے۔ مگریہ سوال پھر بھی رہے گا کہ محض گوشت اور ہڈیوں کی قربانی ہی کافی ہے۔ کیا جانور کا دل اور روح اس میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پالتو بے زبان جانوروں کو بغیر رتّی بھر احساسِ جرم کے مار ڈالنے میں حق بجانب تھے۔ اُنھیں اتنے تاریک اور مایوس کن دنوں میں بھی اس امر کا خو ب احساس تھا کہ وہ تو دراصل اشرف المخلوقات ہیں۔

اب اگرکسی کے گھر سے موت کی خبرآتی ہے تو دوسرے لوگ اپنے اپنے فلیٹوں کی بالکونیوں میں کھڑے ہو کر زور زور سے ہنستے ہیں، تالیاں پیٹتے ہیں، برتن بجاتے ہیں۔ کیونکہ موت ہی وہ اصل قانونی دستاویز ہے جو اُنھیں وِرثے میں ملی ہے۔ موت ہی انسانوں کی جائز اور حلال جائیداد ہے اور ملک الموت ہی سب سے طاقتور منصف ہے۔ ایسے افراد کے دماغی توازن بگڑ جانے کی کسی کو پرواہ نہیں اور فی الحال اُن کے گھروں پر، اُنہیں پاگل خانے تک لے جانے والی کوئی گاڑی ابھی تک نہیں آئی ہے۔ اُدھر شہر کے کچھ پسماندہ علاقوں سے کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ وہاں لوگ بیماری سے بچنے کے لیے بھوت بن کر گھوم رہے ہیں۔ وہ تو ہم پرست اور بد عقیدہ لوگ ہیں۔ حاملہ عورتوں کے بھوت اور بچوں کے بھوت کا اور لمبے بالوں والے بھوت کا بھیس بدل کر دراصل وہ ایک ایسا کارنیوال منا رہے ہیں جس کی بنیاد دہشت اور خوف ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اُنھیں عقلیت پسندی اور سائنسی مزاج اخیتار کرنے کا درس دیتا پھرے۔ یہ وہ وقت نہیں جواس تعلیم کے لیے سازگارہو۔

گذشتہ تین دنوں میں اس پُراسرار اور تقریباً لا علاج بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ اس میں پانی کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے خود کشی کرنے والے یا قتل ہو جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔ مگرساتھ ہی ایک خوش آئند اور حیرت انگیز بات بھی سامنے آئی ہے۔ چنگی دفتر کے شعبہ اموات و پیدائش کے ریکارڈ کیپر نے بیان دیا ہے کہ اتفاق سے انھیں دنوں سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش بھی ہوئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسپتال والوں کی شماریات کا جب موازنہ کرکے دیکھا گیا تو ترسیم کے مطابق کسی ایک موت کےوقت کم سے کم چار نوزائیدہ بچوں کا تناسب نظرآیا۔ یہ ابھی ایک اطمینان بخش صورتِ حال کہی جا سکتی ہے کہ فی الحال کسی بھی حاملہ عورت کے اس بیماری کے سبب موت واقع ہونے کی خبر نہیں مل سکی ہے۔ اگرچہ توہم پرست اور ضعیف الاعتقاد حضرات اس مخصوص وقفے کو آسیبی اور شیطانی وقت کا ٹکڑا بتارہے ہیں جس لگاتار اموات کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی زیادہ سے زیادہ پیدائش ہوتی رہے۔ وہ اس وقفے کے دوران پیدا شدہ بچوں کو اس وبا کی شیطانی اولاد سمجھتے ہیں اوراُن کے ماں باپ کو بچوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ یہ پیش گوئی بھی کررہے ہیں کہ ایسے تمام بچے آہستہ آہستہ بہت کمزور اور دُبلے پتلے ہوتے جائیں گے۔ اُن کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا پڑتا جائے گااورآدھی رات میں اُن کے رونے کی آوازیں جنگلی لومڑیوں سے مشابہ ہوں گی۔ مگرچنگی کے دفتر کے اس ریکارڈ کیپر کو نہ تو یہ سب معلوم ہے اورنہ ہی اُس کا ان بچوں سے کوئی واسطہ ہے۔ اُس نے تو بس اتنا کیا ہے کہ اموات اور پیدائش، دونوں کے ریکارڈ اور سرٹیفیکٹ دو الگ الگ الماریوں میں بند کرکے تالہ لگادیا ہے۔

یاتو گرمی بڑھ جانے کے باعث یا کسی اور سبب سے لائف اپارٹمنٹس میں بڑی تعداد میں چھپکلیاں نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔ وہ دیواروں اور فرش پر رینگتی پھرتی ہیں مگربے حد ڈری ڈری اور سہمی ہوئی نظرآتی ہیں۔ اُن کی بٹن جیسی ننھی ننھی ساکت آنکھیں انسانوں سے کچھ مانگتی ہوئی سی نظرآتی ہیں۔ کبھی کبھی تو گرگٹ کی طرح اپنی دُم پر کھڑی ہوکر انسانوں سے اپنے ارتقاء کے سفرمیں پیچھے رہ جانےکا ہرجانہ طلب کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں مگرانسان اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔ اُسے اپنے ہی گناہوں کا اِزالہ کرنے سے فی الحال کوئی فرصت نصیب نہیں۔

آدھی رات کے بعد کھڑکیوں کے شیشوں پر چمگادڑ آآکرٹکراتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں۔ ان اطراف میں چمگادڑ کبھی نہیں پائے گئے ہیں مگراب غول بنا کر نہ جانے کہاں سے چلے آتے ہیں۔ چمگادڑ دنیا کی سب سے خوفناک اور ناقابلِ فہم مخلوق ہے۔ وہ تو ویمپائر تک کے سینےکا خون چوس سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس وائرس نےماحولیاتی توازن کو ضرب پہنچائی ہو۔ پربھی یہ افواہیں ہی کہیں جا سکتی ہیں اور افواہوں کو انسانوں کی طرح گھروں میں قید کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔ چاہے یہ کتنی بھی ناقابلِ یقین کیوں نہ ہوں مگریہ افواہ نہیں تھی ایک حقیقت تھی۔ جسے پہرہ دیتے ہوئے پولیس والوں نے بھی دیکھا کہ دن میں مکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں پراکثر گدھ اور چیلیں آکر اپنی چونچوں سے ٹکر مارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کے چونچیں زخمی ہو جاتی ہیں۔ چونچیں خون میں بھیگ جاتی ہیں، وہ کسی بُو پر پاگل ہو رہے ہیں۔

وہ بُوکس کی ہے؟ انسانی فضلے کی جو اَب اِن گھروں میں ہی سڑکر زرخیز کھاد بن جائے گا۔ خون کی جس کے کالے اور بڑے بڑے دھبے جم کر اور خشک ہو کر فرش کے ڈیزائن میں بدل جائیں گے۔ انسان کی بد مزاجی، غصے، نفرت اور پاگل پن کی جو جلد ہی ہوا بن کر اُڑ جائے گی۔ یا یہ موت کی بُو ہے جو ہمیشہ سے انسان کے بدن سے لپٹی ہوئی ہے۔ اُس کی کھال، گوشت اور ہڈیوں میں سمائی ہوئی موت کی یہ بُو ان دنوں شدید ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ یہاں آتے ہیں۔ شیشوں پر چونچیں مارتے ہیں۔ وہ دراصل گھروں کے اندر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ گھر جو اب ناقابلِ یقین طورپر اُن نقشوں کے مطابق تیار کیے گئے نظرآنے لگے ہیں جو قبروں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان گھروں میں اب وہی رمز ہے جو قبروں میں ہوتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ہر گھر میں ٹیلی ویژن پر صرف ایک ہی فلم چلی رہی ہوتی تھی۔ آج پھر وہ زمانہ لوٹ آیا ہے۔ یہاں ہر گھر میں ایک ہی گندی، بھیانک اور پاگل فلم چل رہی ہے۔

یہ فلورا سِٹی کا فلیٹ نمبر 13 ہے۔ اُن کی شادی ہوئے ابھی بس ایک ماہ ہی ہوا ہے۔ کچھ ضروری کاموں کی وجہ سے بار باراُن کے ہنی مون پر جانے کا پروگرام ٹل جایا کرتا تھا لیکن جس وقت ناکہ بندی کا اعلان ہوا، اُسی وقت اُن کی ٹیکسی اسٹیشن سے واپس کردی گئی اورگھر واپس پہنچ کر مایوسی اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں انھوں نے اپنے وہ بند سوٹ کیس کھولے جو درصل ایک خوبصورت پہاڑے علاقے کے ایک مہنگے ہوٹل کے کسی کمرے میں کھولے جانے کےلیے بند کیے گئے تھے۔ اب کافی دنوں سے وہ گھر میں قید ہیں۔ گھر، جس میں پانی کا نام و نشان نہیں ہے۔ شوہر جو آج سے تین ہفتے قبل تک بے حد اسمارٹ اور صاف ستھرا نوجوان نظرآتا تھا، آج کسی گھٹیا سے موٹر گیراج میں کام کرنے والا مستری نظرآرہا ہے۔ اُس نے اتنے دنوں سے شیو نہیں کیا ہے اوراُس کی داڑھی بے ترتیبی کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس لیے اُس کی بیوی کو وقت سے پہلے ہی یہ پتہ چل گیا ہے کہ اُس داڑھی میں کالے بالوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اُس کی اصل عمر پانی کی مستقل غیر حاضری نے ظاہر کردی ہے۔ وہ نہ جانے کب سے نہیں نہایا ہے۔ اُس کا سرچکٹ گیا ہے۔ سرکے بال تین رنگ کے ہو گئے ہیں۔ کچھ وہ بال جو ابھی سیاہ ہیں، کچھ وہ جو سفید ہیں اور سب سے زیادہ وہ بال جن پر لگایا گیا رنگ آدھا مٹ چکا ہے اس لیے وہ اُس رنگ کے نظرآنے لگے ہیں جو رنگ بندر کی کھال پر اُگے ہوئے روؤں کا ہوتا ہے۔ اُس کے کپڑے بہت گندے ہیں اور کپڑوں کے نیچے بنیان، ان سے بھی زیادہ گندی اور پسینے سے بھیگی ہوئی ہے۔ اُس کے بدن سے بدبو آرہی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہوجانے کے باعث اُس کے ہاتھ پیروں کی کھال پھٹنے لگی ہے۔ چہرے کی کھال کا بھی یہی حال ہے جسے اُس کی بڑھی ہوئی کھچڑی داڑھی نے ابھی چھپا رکھا ہے۔ اُس کی بیوی ایک کم عمر لڑکی ہے یا اب سے تین ہفتے پہلے تک کم عمر تھی اور خاصی قبول صورت بھی۔ اُس کے دہانے اور ہونٹوں پرایک خاص قسم کی معصومیت ہے۔ مگراب اُس کے خدوخال پہلے کی طرح نہیں رہے۔ اُس کی رنگت بہت سفید ہے جس میں ایک ایسا سنہری پن بھی شامل ہے جو لیموں کے تازہ اور شاداب چھلکے میں ہوتا ہے، مگر یہ کچھ ہفتے پرانی باتیں ہیں۔ اب اُس کی سفید جلد پر کالے کالےمیل کے چھپڑ جگہ جگہ جمتے جارہے ہیں۔ اُس کے سیاہ گھونگھرالے بال اُلجھی ہوئی جوٹ کی میلی رسیاں بن گئے ہیں۔ گھونگھرالے بالوں کو اگرپابندی کے ساتھ روز نہ دھویا جائے تو اُن میں بہت جلد جوئیں پڑجاتی ہیں۔ وہ بھی نہ جانے کب سے نہیں نہائی ہے۔ ابھی حال ہی میں گزرے ہوئے ایامِ حیض کے بعد بھی نہیں۔ اس کے بالوں میں جوئیں پڑگئی ہیں۔ جو دن سے زیادہ رات میں اُس کے دماغ کا خون پینے کےلیے بری طرح رینگتی پھرتی ہیں اور کبھی کبھی بالوں سے گر کر تکئے اور کپڑوں پر بھی آجاتی ہیں جنہیں وہ چٹکی سے مسلتی رہتی ہے۔ سراوربالوں میں اس قدر کھجلی ہے کہ وہ ہروقت بالوں میں کنگھا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے مگر کامیاب نہیں ہو پاتی کیونکہ اُس کے بری طرح اُلجھے ہوئے میلے کچیلے گھونگھرالے بالوں میں پھنس کر کنگھے کے دانتے ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔ اُس کے جسم میں پسینے اور سڑاندھ کے سوا کچھ باقی نہیں رہاہے۔ اُس نے اپنی گندی، پسینے سے بھیگی ہوئی بریزئر اُتار کر پھینک دی ہے تاکہ سینے اورپیٹھ پر آسانی سے کھجا سکے۔ اُس کے لمبے لمبے ناخنوں میں کالا میل بھر ا پڑا ہے اور ایڑیاں پھٹ رہی ہیں۔ ایڑیوں میں بڑی بڑی کھانپیں ہو گئی ہیں۔ اُس کے جسم کا سارا پانی سوکھ رہا ہے۔ بریزئر اُتار کر پھینک دینے کے سبب سے اُس کے بڑے بڑے پستان نیچے کو لٹک آئے ہیں۔ وہ ایک عمر رسیدہ اور کئی بچوں کی ماں نظرآنے لگی ہے۔ اُس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں اس لیے بات بات پراُس کی آنکھوں سے آنسو نکل کراُس کے خشک اور پھٹتے ہوئے گالوں پر بہنے لگتے ہیں۔ چھوٹی آنکھوں سے جلدی باہر آتے ہیں۔ بڑی آنکھوں میں پھیل کروہیں خشک ہو جاتے ہیں۔ اُس کی آنکھیں پیلی بھی ہو رہی ہیں بالکل اُلو کی طرح جو رات کو کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے اُن دونوں کو اپنی پیلی پیلی آنکھوں سے گھورتا ہے۔ جہاں تک پیلے غبار کا سوال ہے تو وہ تو رات میں بھی کم نہیں ہوتا۔ وہ بدستور موجود ہے اور ہوا چلنا بھول چکی ہے۔ ہوا کی یادداشت میں صرف سوکھی جھاڑیاں اور ببول کے درخت رہ گئے ہیں جو زمین میں پانی کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں اور انتقاماً اپنے اوپر کانٹے اُگا لیتے ہیں۔ وہ اپنی پیلی پیلی آنکھوں میں ہر وقت آنسو لیے گھر میں اِدھر اُدھر چکر کاٹتی رہتی ہے۔ یہ آنکھیں ہمیشہ ڈبڈبائی رہتی ہیں۔ کبھی کبھی اُس کے شوہر کی محبت میں ایذا پسندی کا تصور دل ہی دل میں پیدا ہو جاتا تھا۔ وہ اکثر سوچا کرتا اور یہ شادی کی پہلی رات کے بعد سے ہی تھا کہ اگراُس کی بیوی کے جسم میں خنجر اُتار دیا جائے تو وہ آنسوؤں کے نمکین پانی کے خزانے میں ڈوب جائے گا۔ شاید اُس کی بیوی کے جسم میں خون تھا ہی نہیں۔ وہاں صرف آنسو ہی رگوں میں دوڑتے تھے۔ محبت کے گھنے کالے بادلوں میں نفرت کو ندے کی طرح چمک کرلپکتی ہے۔ اس روشنی میں اشیا اپنے اصل خدوخال میں پہچان لی جاتی ہیں۔ وہ سوچتا کہ اگراُس کے نازک بدن کو چاقو سے ہلکا سا بھی چھیلا جائے تو وہ کتنا روئے گی۔ اُس کے بدن سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہو جائے گا جس میں اُس کی روتی ہوئی آنکھیں بھی بہہ جائیں گی۔ دراصل ہمیں چہرے نہیں دیے گئے ہیں۔ ہمیں صرف مکھوٹے دیے گئے ہیں۔ ہمیں جذبات کے نام پر غصہ، چڑ چڑاپن، ایذا رسانی، ہسٹریا اور پاگل پن ہی مل پائے ہیں۔ محبت اور معافی تو ایسی چیزیں ہیں جو انسانوں کے چکنے دل پرسے ہمیشہ ہی پھسل کرگرجاتی ہیں، بہہ جاتی ہیں۔

آج بھی پانی نہیں آیا۔ شوہر نے پوچھا تھا۔ نہ۔ بیوی نے جواب دیا۔ تم نے پانی کی ٹونٹی کھول کر دیکھی تھی۔ شوہر نے پوچھا تھا۔ ساڑی ٹونٹیاں کھلی ہوئی ہیں۔ بیوی نے جواب دیا تھا۔ شوہر مایوس ہوگیا تھا۔ حالانکہ اُس کا سوال اوراُس کی مایوسی اس وقت دونوں ہی احمقانہ تھے۔ یہ وہ جوڑا تھا جو ہمیشہ ایک دوسرے سے لپٹا رہتا تھا۔ ہاتھ میں ہاتھ تھام کر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے کی کمر میں ڈال کر باہر نکلا کرتا تھا اور جب دیکھو وقت بے وقت مباشرت کرتا رہتا تھا۔ آج دونوں کو ایک دوسرے کے قریب بیٹھ جانے سے بھی پریشانی ہونے لگتی تھی اور شاید ایک دوسرے کے وجود سے ہی چڑ سی محسوس ہوتی تھی۔ اتنی زیادہ جسمانی خواہش اور شہوت کے باوجود ممکن ہے کہ صرف اس لیےکہ فی الحال وہاں نہ محبت تھی نہ خواہش۔ ویسے بھی محبت ہمیشہ نہیں ہوتی۔ وہ آتی جاتی رہتی ہے۔ آخر محبت کوئی آوارہ مکھی تو نہیں کہ گندگی کی پوٹلیاں بنے ہوئے دونوں کے جسموں پر آکر بیٹھ جاتی اور بدنیتی کے ساتھ انھیں چاٹنے لگتی۔

تمھاری چھاتیاں کتنی لٹکی ہوئی اور ڈھیلی ڈھالی ہیں۔ تم نے اپنی عمر غلط لکھوائی ہے۔ تم مجھ سے عمر میں بڑی ہو۔ شوہر نے مرد میں تبدیل ہوتے ہوئے غصے کے ساتھ کہا۔ وہ رونے لگی۔ تمہیں رونے کے علاوہ کچھ اور بھی آتا ہے۔ وہ اور زور سے رونے لگی۔ یا پھر اگر تمھاری عمر وہی ہے جو تمھاری ماں نے بتائی تھی تو تم شادی سے پہلے کی کھائی کھیلی ہوئی ہو۔ مرد کے لہجے کا زہر آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ جس طرح جسم میں کوئی خطرناک بخار آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ وہ بھونچکی ہوکر اُسے دیکھنے لگی ہے۔ دیکھ کیا رہی ہو، مجھے تو شادی کی پہلی رات میں ہی شک ہو گیا تھا مگر میں نے دل کو سمجھا لیا۔ خیر رونا بند کرو۔ دیکھو تمھارے اندر سے کیسی بدبو آرہی ہے اور یہ کانوں میں بُندے کیوں نہیں ڈالے۔ تمھارے زیور کہاں گئے؟ کیا بیچ کر کھا گئیں؟ چلو بُندے ڈالو کان میں۔ مرد سرد مہری کے ساتھ کہتا ہے۔ کیوں مذاق کررہے ہیں۔ وہ سسکیاں لیتی ہوئی کہتی ہے۔ اچھا تو میں مذاق کررہا ہوں، اداکاری کرکے تمھیں رِجھا رہا ہوں۔ مرد چلاتا ہے۔ واقعی وہ اداکاری نہیں کررہا ہے کیونکہ ایک اداکار کے لیے سب سے مشکل کام اپنے اندرونی جذبات اور تاثرات کے اظہار کو کامیابی کے ساتھ چھپا لینا ہے مگرمرد کے چہرے پراُس کے اپنےاصل نجی تاثرات کے علاوہ اداکاری کی ہلکی سی پرت بھی نہیں ہے۔ یہ سخت نفرت اور غصے سے پاگل ہوتا ہوا ایک نابیدہ چہرہ ہے۔ مرداُٹھتا ہے اور سامنے سنگھار میز پر رکھی ہوئی ایک سرخ ڈبیہ اُٹھاتا ہے۔ ڈبیہ میں سونے کے چمکتے ہوئے دو خوبصورت بُندے ہیں، وہ بُندے نکال کر اُس کے پاس آتا ہے۔ پہنو۔ ڈالوں کان میں۔ اچھا نہیں ڈالو گی۔ وہ پیچھے کی طرف سرک رہی ہے، اُس کا سر دیوار سے جا لگا ہے۔ مرد ایک ہاتھ سے اُس کی گردن تھام لیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے چھِدے ہوئے کان میں بُندہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ نہیں مانتی تو مرد دوسرے ہاتھ سے اُس کے کان کی لَو پکڑ کر پوری طاقت کے ساتھ کھینچتا ہے۔ اور کان کی لَو میں بنے ہوئے ننھے سے سوراخ میں بُندے کا کانٹا پیوست کردیتا ہے۔ اُس کے منھ سے ایک دردناک چیخ برآمد ہوتی ہے۔ سختی اور بے احتیاطی کے ساتھ ڈالے گئے بُندے کے کانٹے نے اُس کے کان کی لَو کو زخمی کردیا ہے۔ وہاں سے تازہ تازہ خون رِس رہا ہے۔ ایک ایسا خون جس میں لال رنگ کم ہے اور پیلا زیادہ۔ وہ روئے جا رہی ہے، کچھ تکلیف کے آنسو ہیں، کچھ صدمے کے مگردونوں آنسوؤں کا رنگ یکسر ایک ہے۔ مرد کے ہاتھ سے دوسرا بُندہ کہیں پھسل کرگرگیا ہے۔ وہ کچھ دیر اُسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ بُندہ نہیں ملتا ہے۔ وہ پھر آکر اُس کے قریب کھڑا ہوگیا ہے۔ شادی سے پہلے تم کون سے بیوٹی پارلر جایا کرتی تھیں؟ میں کبھی نہیں گئی، شادی والے دن دُلہن بنانے کے لیے آئی تھی گھرپر ایک پارلر والی۔ اوہ اچھا! تم تو شادی کے بعد روز میک اپ کرتی تھیں، لپ اسٹک لگاتی تھیں۔ خوب سجتی سنورتی تھیں، مجھے رِجھانے کے لیے۔ وہ کیا تھا۔ کیا اب میں مرگیا ہوں، تم بیوہ ہو گئی ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے۔ میں کچھ نہیں جانتی۔ میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔ حلق سوکھ گیا ہے۔ وہ پھر زور زور سے رونے لگی ہے۔ اُس کے ایک کان میں بُندہ لگ رہا ہے، جس پر خون جمتا جاتا ہے۔ دوسرا کان خالی ہے۔ یہ دونوں کان اچانک ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے ہیں۔ جیسے خدا نے اُنہیں ایک چہرے پر نہیں بنایا تھا۔ یہ جڑواں کان نہ تھے۔ یہ بچھڑ کراِدھر اس چہرے پر غلطی سے آکر چسپاں ہو گئے تھے۔

رات بڑھ رہی ہے اور مرد کی دیوانگی بھی۔ وہ اُسی طرح کھڑا ہو اُسے گھورے جارہا ہے تو اب تمھارا کیا فرض ہے؟ میں تمھارا مجازی خدا۔ نہا دھوکر آؤ۔ اچھا پانی نہیں ہے۔ ہاں مجھے معلوم ہے کہ پانی نہیں ہے تو پھر میک اَپ کرو۔ سنگھار کرو۔ پہلے خوب سجو اورپھر میرے ساتھ سوؤ۔ کھچڑی داڑھی میں پوشیدہ مرد کے گال پتہ نہیں کیوں بار بار پھولنے اور پچکنے لگے ہیں۔ دور کسی کلاک ٹاور نے رات کے بارہ بجائے ہیں۔

ٹھیک ہے تم نہیں مانو گی۔ میں لے کرآتا ہوں تمھار بیوٹی بکس۔ میں سجاؤں گا تمھیں۔ مرد دوڑتا ہوا دوسرے کمرے میں گیا ہے۔ اوراُس کا بیوٹی بکس اُٹھا کر لے آیا ہے۔ دیکھو تمہارے چہرے پر پانی کی وجہ سے کتنی لکیریں ہیں۔ کتنی جھریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔ یہ ڈی ہائیڈ ریڈشن ہے۔ یہ نابیدہ چہرہ نئی نئی دُلہن پر کتنا گندا لگتا ہے۔ اور کتنا زرد ہو رہا ہے۔ کیا سارا خون ضائع کردیا یا تمھیں یرقان ہوگیا ہے۔ چلو لگاؤ یہ۔ مرد کے ہاتھ میں کوئی شیشی ہے، وہ روتی ہوئی فرش پر لڑھک جاتی ہے۔ میں ہاتھ پیر باندھ دوں گا تمہارے۔ یہ روٹھی ہوئی رنڈی جیسے نخرے مت کر۔ ایسا چہرہ بھیانک ہے۔ شادی شدہ عورت کا ایسا بنجر چہرہ خدا کو بھی پسند نہیں۔ مرد غرا کر کہتا ہے۔ اوراُس کے سینے پر سوار ہوکر گالوں پر زبردستی بلش لگا دیتا ہے۔ لے لگا کُتیا، لگا۔ اپنی سخت کھردری انگلیوں سے وہ اُس کی پلکوں پر مسکا لگاتا ہے۔ چہرے پر فاؤنڈیشن مَلتا ہے اورپھراُس پر سفید پاؤڈر ڈال دیتا ہے۔ وہ ایذا پسندی کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اپنی موٹی اور بے رحم اُنگلی سے وہ اُس کی روتی ہوئی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں کاجل پوت دیتا ہے۔ وہ اب رو نہیں سکتی۔ کاجل کی سیاہی سے اُس کی آنکھیں مچ گئی ہیں۔ وہ اب صرف چیخ رہی ہے اور فرش پر پڑی پڑی اپنی ایڑیاں رگڑ رہی ہے۔ ایڑیاں جن میں پانی کے فقدان کے سبب دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ مردا پنا ایک ہاتھ اُس کی گردن پر اس طرح رکھتا ہے جیسے گلا گھونٹ دے گاپھر دوسرے ہاتھ سے اُس کے معصوم ہونٹوں پر بہت تیز سرخ رنگ کی لپ اسٹک پوت دیتا ہے۔ اب اچھا لگانا۔ یہ لے پرفیوم لے۔ بدبو آرہی ہے تجھ میں سے۔ وہ عورت کے میلے کپڑوں اور گندے جسم پر عطر کی پوری شیشی خالی کردیتا ہے۔ گھر میں پہلے سے پھیلی ہوئی بدبو عطر کی خوشبو کے ساتھ مل کر اور بھی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے جیسے شیطان اور فرشتے۔ کسی گہری سازش کے تحت دنیا کو نیست و نابود کردینے کے درپے ہو گئے ہوں۔ دلہن سج گئی۔ مرد بڑبڑاتا ہے اوراُس سے دور جاکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اُس نے آنکھیں کھول لی ہیں اور چھت کو دیکھے جارہی ہے۔ آنکھوں پراتنا کاجل لگا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے اُس نے آنکھوں پر کالی پٹی باندھ رکھی ہو۔ شاید اُس کی آنکھیں بند ہیں۔ نہیں کھلی ہیں۔ اُسے محسوس ہوتا ہے جیسا ہزاروں کی تعداد میں چیونٹیاں آکر اُس کے چہرے پر چمٹ گئی ہیں۔ وہاں ایک خوفناک جلن پڑتی جا رہی ہے۔ اور ایک بھیانک خارش۔ کمرے کی کھڑکی پر اُلّو آکر بیٹھ گیا ہے اور اپنی گول گول پیلی آنکھوں سے نہ جانے کس شے کو گھورے جارہا ہے۔ مرد دیوار کی طرف منھ کرکے کھڑا ہو گیا ہے۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے منھ کو چھپا لیا ہے اور بے اختیار رونا شروع کردیا ہے۔ اُسے پیچھے سے دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی زلزلے کی وجہ سے کوئی قد آدم پتھر اچانک ہلنے لگتا ہے۔ فرش پر پڑی ہوئی عورت کا چہرہ جو اَب سرکس کے کسی گھٹیا جو کر سے مشابہہ ہے یا کسی سڑک چھاپ ہجڑے سے، کندھوں سے تھوڑا اوپر اُٹھتا ہے پھر نیچے ڈھلک جاتا ہے۔ اُس کے منھ سے پہلے ایک ہچکی کی سی آواز نکلتی ہے۔ پھر وہ زور زور سے ہنسنے لگتی ہے۔ اُس کی آنکھوں اور جسم میں پوشیدہ آنسوؤں کا سیلاب خشک ہو چکا ہے۔ یہ ہنسی کچھ ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے کسی برتن کو، اُس سے بھی زیادہ وزنی دھات کے برتن سے کوٹا جا رہا ہو۔ ایک ایسی آواز جسے زیادہ دیر تک سننے کے بعد کسی کو دل کا دورہ پڑسکتا ہے۔

آدمی کے وجود میں وہ کون سا تیزاب پوشیدہ رہتا ہے جو اُس کے ہر نیک اور عظیم جذبے کو جلا ڈالتا ہے۔ ہم نئے نئے دائرے بناتے ہیں، پھر خود ہی اُن میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک نیا دائرہ ہے جس میں قید ہو جانے کے بعد اتنی گندی مایوسی میں اگر کچھ بہتر سوچا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ اگرمحبت نہیں ہے تواِس اجنبی، غلیظ اور خوفناک دنیا میں خدا بھی نہیں ہے کیونکہ خدا محبت کا دوسرا نام ہے۔ انسانوں کا، محبت کا لمس چاہیے۔ اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے خدا چاہیے۔ ورنہ یہ وہ مایوس کن صورتِ حال ہے جس میں آدمی خدا پر بھی یقین کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ شاید یہ ایک خواب ہے جسے انسانوں نے مرنے سے کچھ دیر پہلے دیکھا تھا اوروہ اُن کے تحت الشعور کے کسی ریشے میں پھنسا رہ گیا تھا۔ آج وہی خواب بھٹک کر یہاں آگیا ہے۔ اُسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ خواب ہی اپنے آپ کو دیکھ رہا ہے۔ ہمیں اس کے مآخذ کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خوابوں کے ماخذ، خوابوں سے بھی زیادہ گندے اور سیاہ ہوتے ہیں۔ آدھی رات میں باہر پھیلی ہوئی زرد دُھند میں نہ جانے کہاں سے جھنڈ بنا کر جنگلی لومڑیاں چلی آئی ہیں۔ پاگل کتے سہمی ہوئی اور خوف کھاتی ہوئی آوازیں نکال کر اُن کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ رُک جاتے ہیں کیونکہ جنگلی لومڑیوں کے منھ سے نکلنے والی چیخیں کتوں کی آوازوں سے زیادہ بھیانک ہیں۔ اگر کبھی بارش ہوئی اوراُس میں اتفاق سےدھوپ بھی نکلی ہوئی ہو تو یہ لومڑیاں اپنی شادی رچائیں گی۔ مگرافسوس کہ اس شادی کو دیکھ لینے والا کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک خفیہ شادی ہوگی۔ لومڑیوں کی شادی دیکھنا انسانوں کے لیے منع ہے۔

[dropcap size=big]جنت[/dropcap]

باغ کے 13 نمبر کے فلیٹ میں ایک تنہا جنونی اور بیمار شاعر رہتا ہے۔ فلیٹ کے اندر سے اکثر اُس کے بڑ بڑانے یا بلند آواز میں کچھ پڑھنے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ وہ کسی سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ اکثر اُسے کھڑکی یا بالکونی پر کھڑے ہوئے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ تین ہفتون سے اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ پولیس والوں نے بھی اُس کی کوئی جھلک کھڑکی پر نہیں دیکھی۔ یہ دن ایسے ہیں جب کوئی کسی کو نہیں دیکھتا۔ کوئی کسی کو نہیں سنتا۔ کسی کو کسی کی خبر نہیں ہے۔ ٹیلی فون کے تار کاٹ دیے گئے ہیں۔ کسی کے گھر میں ٹیلی فون کی گھنٹی نہیں بجتی۔ مگرگدھ اور چیلیں دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ آدھی رات میں پیلی آنکھوں والے اُلّو سب کی خبر رکھتے ہیں۔

نہیں! مجھے سب معلوم ہے کہ یہ پانی کی بھیانک کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ میری نظمیں سوکھ چکی ہیں۔ ان میں پانی کا قطرہ تک نہیں ہے۔ یہ جو مجھے وہم ہو رہے ہیں۔ التباس ہو رہے ہیں ان کا سبب خون میں پانی کا ختم ہو جانا ہے۔ یہ وہم ادراک ایک خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ تو اچھا ہی ہے کہ خواب میں میرا جسم بھی شامل ہوتا ہے۔ ورنہ بغیر جسم کی روح تو زیادہ گناہ گار ہوتی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے جسم میں اب نمک کے چند ذرات ہی بچے رہ گئے ہیں۔ اس لیے میں اپنے آپ کو مرتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ شاید یہ میری زندگی کی آخری رات ہو۔ ایک مضحکہ خیز رات جس میں کتے بار بار بُرے خواب دیکھ کر چونکیں گے، جھرجھری لیں گے۔ ایک بار بھونکیں گے، پھر سو جائیں گے۔ کتوں کو نہیں معلوم کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کلینڈر کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ میں دیوار دیکھ رہا ہوں جہاں ایک مکڑی جالا بُن رہی ہے۔ وہ دیوار اور وقت کو ایک ساتھ مٹانے کی کوشش میں ہے۔ میں کچھ اچھی یادوں کی تلاش کرنے میں لگا ہوا ہوں۔ مگراب وہ اچھی یادیں نہیں کہی جا سکتی ہیں۔ ان کی اچھائی میں اُجلا پن نہیں ہے بلکہ موت کی سفیدی ہے۔ جبکہ بُری یادیں میری کھوپڑی کے وسط میں سوراخ کرکے میرے بھیجے کا سارا خون پینے میں مصروف ہیں۔ کیا زندگی اور موت دونوں سے الگ بھی کوئی دنیا ہوگی۔ ابھی میں سو گیا تھا۔ میں نے خواب میں مُردے ڈھونے والی گاڑیاں دیکھیں۔ وہ سب سیاہ رنگ کی اسٹیشن ویگن تھیں اور قطار سے نمبر لگائے کھڑی تھیں۔ ہر گاڑی پر سفید چاک سے لکھا تھا: ‘لاش کے واسطے۔’

کتے بھونک رہے ہیں۔ میرے کان بیماری سے زیادہ سننے لگے ہین۔ وہم میں مبتلا ہر شخص کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ میرے کان توہمیشہ سے ہی بہت تیز ہیں۔ کتے بھونک رہے ہیں۔ کتے کمرے کی دیوار پر آکر بیٹھ گئے ہیں۔ ان سارے کتوں کا رنگ پیلا ہے۔ یا میرا جگر خراب ہوگیا۔ جسم میں پانی نہ رہنے کی وجہ سے سب سے پہلے جگر اور گردے ہی خراب ہوتے ہیں۔ سارا آسمان کتوں سے گھرا ہوا ہے۔ سارا آسمان پیلا ہے۔ زرد بالوں جیسے، رات کے یہ مہیب کتے۔ یقیناً یہ ایک سگ زدہ رات ہے۔ شاید میری آنکھیں پیلی ہوئیں۔ میری آنکھیں بند ہیں۔ مگرمیں اپنی اِن بند آنکھوں سے دیوار پر سب کچھ دیکھ سکتا ہوں۔ دیوار پر تماشہ چل رہا ہے۔ کتنی پرچھائیاں ہیں وہاں اور کتنی روشنی ہے۔ کتنے لوگ سفر پر جارہے ہیں۔ میرے کمرے سے ٹوائلیٹ کی دوری کتنی ہو گی۔ چاقو کی ایک گندی چبھن میری آنتیں کاٹ کر رکھ دے گی۔ میری ساری دنیا زرد پڑ گئی۔ میری محبت بھی۔ میں گھر میں بالکل اکیلا ہوں۔ میرا اکیلا پن بھی زرد ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب دھوکہ ہے۔ فریبِ نظر ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ گھر میں پانی نہیں ہے اور میری آنکھوں میں نیند نہیں ہے۔ نیند یہاں آنا مشکل ہے۔ سوچتا ہوں بیتی ہوئی زندگی کے کوڑے دان میں جاکر اطمینان سے لیٹ جاؤں اور سوجاؤں۔ مگرسارے کوڑے دان لبا لب بھرے ہوئے ہیں۔ اُن میں میرے لیٹنے کے لیے اب جگہ ہی نہیں بچی ہے۔ میرے سر کے عقبی حصے میں روشنی کے جھماکے ہو رہے ہیں۔ اسی روشنی میں، میں اپنے گھر کو دیکھ لیتا ہوں۔ جہاں اتنی بدبو پھیلی ہوئی ہے جیسے ہر کونے میں مرے ہوئے چوہے سڑ رہے ہوں۔ مگراب میری ناک بند ہو گئی۔ اب میں بدبو نہیں سونگھ سکتا۔ دراصل میری ناک میں وہ خون جم گیا ہے جو کچھ دن پہلے میرے دماغ کی رگ پھٹنے کے باعث نکلا تھا مگرکوئی بات نہیں۔ مجھے یہ بدبو نظرآرہی ہے۔ میں یہ بدبو سونگھ نہیں سکتا، مگردیکھ تو سکتا ہوں۔ میری بند آنکھیں، میری بند ناک کی مدد کررہی ہیں۔ ایسا ہی ہونا چاہیے، یہی تو آپسی محبت ہے۔ میں نے بہت پہلے اپنی محبت کو کھو دیا۔ میں اُس کے گھر جانا چاہتا ہوں۔ وہاں جہاں سب کے گھر ختم ہو جاتے ہیں۔ آبادی ختم ہو جاتی ہے۔ تب بہت دور چلنے کے بعد، کئی موڑ مڑنے کے بعد اُس کا گھرآتا ہے۔ یہی گھر تو میرا بھی تھا۔ یہاں اندھیرا بہت ہے اور میں سمت بھول جانے کا پرانا مریض ہوں۔ ہر گناہ گار کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہ اپنے گھرجانے کی سمت بھول جائے تاکہ جہنم کے سپاہی گھر میں جانے سے پہلے ہی اُسے گرفتار کرکے لے جائیں اور جہنم کی آگ کے سپرد کردیں۔ پانی نہیں آرہا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے اور تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ مجھ سے اُٹھا کیوں نہیں جاتا۔ کب سے بستر پر پڑا ہوں۔ ریڑھ کی ہڈی دُکھ گئی، مگرجب اُٹھ جاتا ہوں تو سیدھا لوہاروں والی گلی میں چلا جاتا ہوں۔ا س گلی میں تو میری محبوبہ رہتی ہے۔ اس گلی میں ہر طرف آگ ہی آگ دہک رہی ہے جس میں لوہا تپ رہا ہے۔ میں نے اپنی وہ نظم بھی اِسی آگ میں ڈال دی۔ جو میں نے اُس کے لیے لکھی ہے۔ آگ میں میری نظم بھی تپتا ہوا لوہا بن جائے گی۔ میں نے اُس سے کہا تم سے پہلے میں کسی عورت کو جانتا تک نہیں تھا۔ اُس نے کہا میں تم سے پہلے کسی مرد کو جانتی تک نہ تھی۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے عورت اور مرد ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں پھر آہستہ آہستہ وہ ایک دوسرے کو وہ سب سکھانا شروع کردیتے ہیں جو وہ ازل سے ہی جانتے ہیں۔ شاید سبق سکھانا اسی کو کہتے ہیں۔ اس جاننے اور سیکھنے کے درمیان ایک گندے پوکھر میں محبت ایک بغیر سنّوں والی بدنصیب مچھلی کی طرح پھڑپھڑاتی رہتی ہے اُسے پتہ نہیں کہ اُس کی چکنی جلد کے لیے اُسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ مگرمجھے پسینہ بالکل نہیں آرہا ہے۔ آئے بھی کہاں سے، بدن میں پانی ہی نہیں ہے۔ بس اب کھال پھٹ کر خون باہر آنے کی دیر ہے۔ ہونٹ دیکھو، کیسے پھٹ گئے ہیں۔ زبان جکڑ گئی ہے۔ ورنہ ہونٹوں پر پھیر لیتا۔ اس وقت اُس کے نرم گیلے ہونٹوں کا یک بوسہ ہی میری جان بچا سکتا ہے۔ نہیں مجھے معلوم ہے کہ یہ سب میرا وہم ادراک ہے اور کچھ نہیں۔ پانی کبھی تو آئے گا، پانی مر نہیں سکتا۔ پانی سب کو غرق کرسکتا ہے مگرخود اپنے اپ کو نہیں۔ پتہ نہیں پانی کے مسئلے پر ملک میں جو مختلف صوبائی تنازعے چل رہے ہیں اُن کا کیا ہوا۔ کس صوبے کو زیادہ پانی ملا اوراُس ڈیم کا کیا ہوا جس نے ایک پورے شہر کو ڈُبو کررکھ دیا تھا۔ شاید کل سپریم کورٹ فیصلہ سنادے۔ میں بھی تو سپریم کورٹ کا ایک جج ہوں۔ مگرمجھے یہ سب جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ علم کے جنگل سے سُور کی طرح منھے لٹکائے ہوئے ہی واپس آیا جا سکتا ہے۔ ایک مچھر لگاتار میرے کان میں نوحہ سنائے جارہا ہے۔ یہ میری کھڑکی کے شیشے پر آگ کا سایہ کیسے منڈلایا۔ شاید باہر پولیس والوں نے ایک پاگل کتے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ہے۔ وہ جانور دھڑا دھڑا جل رہا ہے۔ اُس کا جلتا ہوا سایہ بگولے کی طرح ناچ رہا ہے۔ ویسے یہ سب پانی کی وجہ سے ہے۔ یہ فریبِ نظر ہے۔ کیا پانی آگیا۔ دیکھوں تو جا کر۔ چلو بعد میں دیکھوں گا۔ ابھی تو میں ایک ایسے جنگل میں ہوں جہاں نہ درخت ہیں نہ گھاس۔ اصل جنگل تو یہی ہے جہاں جانور ننگے گھوم رہے ہیں۔ زیبرے کی خوبصورت دھاریاں سوکھ کر پپڑی بن کر اُس کے جسم میں گرگئی ہیں۔ میں خدا میں پو را یقین رکھتا ہوں اس لیے دنیا میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں خدا کی خاموشی سے پریشان ہوں۔ اگرمیں خدا کو نہ مانتا ہوتا تو دنیا میری سمجھ میں آجاتی۔ یہ ایک فائدہ تھا کہ پھر تنہائی، خوف اور بے رحمی سب شفاف ہو جاتیں اور موت آسان اور زندگی اُس کے ہونٹوں کی طرح میٹھی اور مزیدار۔ پھر زندگی اور موت کے درمیان خدا نہ ہوتا۔ کسی بھی مطلق سچائی کو نہ تسلیم کرنے میں ہی نجات ہے۔ مگریہ سوچنا گناہ ہے۔ میں اس لیے یہ سوچ رہا ہوں کہ میرے اندر سوکھا پڑ گیا ہے۔ جو کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ پانی کا ارتقا ندیوں اور سمندروں میں نظر آتا ہے۔ ایک شاندار ارتقا۔ مگرہمیں اُس پانی سے ہوشیار رہنا چاہیے جو چھپ چھپ کر، گہرے گڈھے، کنوئیں اور باؤلی میں رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا پانی ہے جس کے دل میں بغض بھرا ہوا ہے۔ چھپی ہوئی چیزون سے ہوشیار۔ مجھے بھوک لگنا بند ہو گئی ہے اور پیاس بھی نہیں لگتی۔ پیاس کے لیے ایک گلا ہونا ضرور ہے اورا ُسے میں لوہاروں کی گلی میں بھول آیا ہوں۔ اب مجھے چلنا چاہیے۔ یہ کتے تو بھونکتے ہی رہیں گے۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی اصل دنیا نہیں معلوم ہوتی۔ یہ اصل دنیا کی پیروڈی ہے۔ شیطان کی لکھی ہوئی پیروڈی۔ مجھے خدا کے پاس جانا ہے۔ خدا کی اصل دنیا میں ہی مجھے پانی ملے گا۔ ہلکورے مارتا ہوا پانی۔ آبِ حیات بھی وہیں۔ یہاں تو آبِ مرگ یا آبِ فنا کا ایک قطرہ نہیں بچا ہے۔ مجھے احساس ہو چلا ہے کہ میرا یہ کہنا یا ارادہ کرنا ایک خنجر کو پانی کے اندر چلانے جیسا ہے۔ اوریہ سب میرے جسم کی نابیدگی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ میرا جسم گیلی گولیے کی طرح کب کا نچوڑا جا چکا اور اب ایک سوکھی جھلّی کی مانند الگنی پر لٹکا ہوا ہوا میں ہل رہا ہے۔ ایک خنجر پانی کے اندر چاقو کا ایک وار پانی کےاوپر، رائیگاں، بیکار۔ وہ ڈوب گیا۔ بس مچھلیاں پانی کے اندر اپنا راستہ بھول گئی ہیں کیونکہ اس بارے مچھیرے جال لے کر نہیں آئے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں میں کھلے ہوئے چاقو دبے ہیں۔

دُور، بہت دور، گھروں میں ساری روشنیاں بند کردی گئی ہیں۔ وہاں مدھم لَو والے چراغ روشن کردیے گئے ہیں۔ جن میں بجلی کی کمینگی اور شیطینیت کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ یہ ایک پاکیزہ روشنی ہے جس میں نیک روحیں دوبارہ جنم لیتی ہیں۔ نیکی بدی پر فتح پانے کے لیے اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ پیلے غبار کی چھت کے نیچے سوتا ہوا یہ شہر جلد ہی جاگنے والا ہے۔

کیا پانی آگیا۔ کیا پانی آنے والا ہے۔ مرنے سے پہلے میں نے اُسے دور سے آتا ہوا دیکھ لیا اوراُس کی آواز سُن لی۔ اب سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جس طرح آنکھ آہستہ آہستہ اپنی روشنی گنواتی ہے۔ جس طرح دق پھیپھڑوں پر آہستہ آہستہ جمتی ہے۔ مجھے بخار ہے۔۔۔۔ تیز بخار۔ اس بخارپر کوئی بالٹی بھر کر پانی ڈال رہا ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ پانی آگیا۔ مگرسچ ہے کیا۔ کتنے راستے ہیں جو اُس کے گھرجاتے ہیں مگرسچ ایک ایسا کرایہ دار ہے جو زیادہ دن ایک مکان میں نہیں ٹھہرتا۔ نقلِ مکانی اُس کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ میں نے پانی کو آتے ہوئے دیکھ لیا ہے، پانی ننگے پیر آرہا ہے۔ میں نے پانی کی کمی کی وجہ سے اپنے جسم کو مرجانے کے لیے راضی کرلیا ہے۔ میں پانی پر اپنا خون معاف کرتا ہوں۔

[dropcap size=big]اس[/dropcap]

نےاپنے بچپن سے ہی یہ کام سیکھ لیا تھا، جب وہ اپنے باپ کے ساتھ جگہ جگہ ٹیوب ویل اور ہینڈ پمپ لگوانے جایا کرتا تھا۔ اُس کا خاندان نل والوں کا خاندان کہا جاتا تھا کیونکہ اِس خاندان اور کنبے کے تمام افراد ایک زمانےسے یہی کام کرتے چلے آرہے تھے۔ اُس کا باپ بہت عمدہ مستری تھا۔ گاؤں سے لے کر شہر تک اُس کی شہرت تھی۔ وہ سوکھی سے سوکھی زمین سے بھی پانی کھینچ کرلے آتا تھا۔ یہاں تک کہ پتھریلی زمین سے بھی۔ زمیں میں اُس کے گاڑے ہوئے نل بہت مشکل سے ہی خراب ہوتے تھے۔ باپ کی موت کے بعد اُس نے اپنا موروثی کام سنبھا ل لیا اوراُسے بخیرو خوبی انجام دینے لگا۔ جب سے پائپ والے پانی کا رواج بڑھا تھا۔ اُس نے یہ کام بھی سیکھ لیا تھا۔ شہر میں نئی تعمیر ہوانے والی کالونیوں میں بورنگ کرنے، نل لگوانے اور اُن کی مرمت وغیرہ کے لیے اُسے بلایا جانے لگا تھا۔ وہ ایک ماہر پلمبر بن گیا تھا۔ لائف اپارٹمنٹس اوراُس کے اطراف کی کالونیوں میں بورنگ کرنے والے مستریوں میں وہ بھی شامل تھا۔ جن کو ٹھیکے دار نے نوکری پر رکھ لیا تھا۔ اُس کا گاؤں کالی ندی کے پُل کے مغرب میں واقع چاند ماری کے میدان سے ملا ہوا تھا۔ چاند ماری کا میدان اب مکمل طورپر ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں شامل کرلیا گیا تھا۔ مگربچپن میں وہ اپنے باپ کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر چاند ماری کا میدان دیکھنے جایا کرتا تھا۔ جہاں فوج کے افسر اور سپاہی نشانے بازی کی مشق کیا کرتے تھے۔ اُسے وہ سرخ رنگ کی اونچی فصیل آج بھی یاد ہے جو کسی چھوٹے سے قلعے کی دیوار کی طرح لال پتھروں کی بنی ہوئی تھی اورجس پر جگہ جگہ کارتوسوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ وہاں کے فوجی لوگ بھی اُس کے باپ کو پہچانتے تھے اوراُس کے سلام کا جواب مسکرا کردیا کرتے تھے۔ اُس کا باپ فوجی علاقے میں بھی اکثر نل لگانے یا بورنگ کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ مگرجب سے اِس علاقے کو ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے اوراُس کے چاروں طرف کانٹوں دار تار کی گھیرا بندی کردی گئی ہے، تب سے عام آدمی کا اس علاقے میں آنا بند ہوگیا ہے۔

یہ بہت اچھی بات تھی کہ بیماری ابھی اُس کے گاؤں نہیں پہنچی تھی، مگراُسے رات میں نیند آنا بند ہو گئی تھی۔ وہ جاگتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ پائپ لائن بچھانے کا اور بورنگ کرنے کا کام تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوا تھا، پھر یہ پانی آخر گندا کیسے ہو گیا۔ اُس کے کام میں تو کبھی کوئی شکایت آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ آج صبح تڑکے، جب پو پھُٹ رہی تھی وہ ٹہلتا ہوا اپنے گاؤں سے آگے چاند ماری کے میدان کے پیچھے سے ہوتا ہوا، کالی ندی کے کنارے کنارے دور تک نکل گیا۔ ان دنوں وہ بیکار تھا۔ شہر میں ناکہ بندی چل رہی تھی۔ اس لیے وہ بے فکری کے ساتھ صبح صبح ٹہلنے نکل جایا کرتا تھا۔ آج ٹہلتے ٹہلتے بے خیالی میں وہ بہت آگے نکل آیا۔ وہاں جہاں اینٹوں کے بھٹّے کی چمنی دُھواں دیتی ہوئی نظرآتی تھی اور جہاں کالی ندی نے ایک بڑا سا موڑ کاٹا تھا۔ اوراُس کے کراڑے اونچے ہوتے چلے گئے تھے۔ ندی کے کالے پانی میں جگہ جگہ سیوار اُگ آیا تھا اُڑی ہوئی ہری رنگت کا سُرخی مائل سیوار۔ کچھ دیر پہلے طلوع ہوئے سورج کی کرنیں جب ترچھی ہو کر اس سیوار پر پڑیں تو پل بھر کواسے دھوکہ ہوا جیسے کالی ندی میں نہ جانے کہاں سے بہت پرانا جما ہوا خون بہتا ہوا چلا آرہا ہے۔ دور دور تک ویرانی پھیلی ہوئی تھی۔ چند مویشی ضرور ندی کے اُس پار گھوم رہے تھے۔ وہ یونہی چلتا رہا۔ کچھ دور کے بعد۔ آگے جا کر درختوں کا ایک گھنا جھنڈ ندی پر جھک آیا تھا۔ یہاں بے شمار کوّے بول رہے تھے۔ ندی کے اس حصے کی طرف شاید ہی کوئی کبھی آتا ہو کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں ندی میں بہہ کرآنے والی لاوارث لاشیں درختوں کے اس گھنے جھنڈ میں پھنسی ہوئی پائی جاتی تھیں۔ گاؤں والے اِدھر آتے ہوئے ڈرتے تھے۔ چاند ماری کے میدان میں فائرنگ ہونے لگی۔ اُسے اندیشہ ہوا کہ کوئی گولی اِدھر کو نہ آبھٹکے۔ وہ تھوڑا ٹھٹکا پھر آگے بڑھنے لگا۔ بڑھتا ہی رہا یہاں تک کہ اُسے وہ اونچا کٹیلا تارنظرآنے لگا جس کے ذریعے ملٹری کے ممنوعہ علاقے کی گھیرا بندی کردی گئی تھی اور جس پر جگہ جگہ سرخ بورڈ ٹانگ دیے گئے تھے جن پر ‘ممنوعہ علاقہ’ موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی جیب سے بیڑی کا بنڈل نکال کرایک بیڑی سلگائی اور تبھی اُس کی نظرکانٹوں دار تار کی فصیل کے اُس پار بجلی کےے ایک ہائی ٹینشن ٹاور پر پڑی۔ اُس نے دیکھا کہ ٹاور کے اوپر بجلی کے تاروں کے جال میں سے ایک لمبا تارٹوٹ کرکالی ندی کے کنارے ایک گڈھے میں گر پڑا تھا۔ اُس نے اپنا چار خانے والا تہبند گھٹنوں تک چڑھا لیا اور جلدی جلدی گڈھے کی طرف قدم بڑھائے۔ وہاں پہنچتے ہی اُس کی ناک سڑ گئی۔ بہت بدبو تھی۔ گڈھے میں نہ جانے کب سے پانی سڑرہا تھا۔ جس میں مویشیوں کی لاشیں تقریباً ڈھانچوں میں تبدیل ہو کر تیر رہی تھیں۔ یہ بہت بڑا گڈھا بن گیا تھا۔ مویشیوں کی لاشوں کو گدھ نوچ رہے تھے۔ اُس نے بیڑی کا ایک گہرا کش لیا اوراُسے پھینکتے ہوئے اپنے انگوچھے سے منھ پر ڈھاٹا باندھ لیا اور تھوڑا اور آگے بڑھتا ہوا گڈھے کے آس پاس کی زمین کا جائزہ لینے لگا۔ اورتب اُسے وہ نظرآگیا۔ گڈھے سے بالکل ملا ہوا۔ سیور لائن کا کالے رنگ کا موٹا ساپئپ جو جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اوراُس میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ گہرے سوراخ بھی بن گئے تھے۔ اُسے اچھی طرح علم تھا کہ یہاں سے صرف دو فیٹ کی دوری پر پینے والے پانی کی لائن بھی گزرتی تھی۔ اُسے سب سمجھ میں آگیا۔ ہائی ٹینشن ٹاور کے اس تار نے زمین کے اندر گہرائی میں ڈالے گئے سیور لائن کے اس پائپ کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ یہ بڑا سا گڈھا اس بجلی کے گرنے اور زبردست دھماکے سے ہی وجود میں آیا ہوگا۔ یہاں اُ س وقت جو مویشی ٹہل رہے ہوں گے وہ اس بجلی کی زد میں آکر جل کر مر گئے ہوں گے اور گڈھے میں دفن ہو گئے ہوں گے۔ گڈھا زمین میں ہوئے ایک دیوقامت زخم کی شکل میں نظرآتا تھا۔ یا ایک بہت بڑی قبر کی طرح جس کے رمز کو سمجھنا مشکل ہے۔ صرف عذابِ قبر کے فرشتے ہی اس سے واقف ہیں یا قبر میں لیٹے ہوئے مُردے۔ پانی پر جھک کر اُس نے یونہی اپنا چہرہ دیکھنا چاہا مگرجانوروں کی لاشوں اوراُن کے پنجروں میں اُس کے چہرے کا عکس کہیں پھنس کررہ گیا۔ کالی ندی اکثر اپنے کناروں سے باہر بہنے لگتی ہے۔ چاہے برسات کا موسم نہ بھی ہو۔ یقینی طورپر جہاں یہ گڈھا ہے وہاں ندی کا پانی اکٹھا ہو گیا ہو گا یا پہلے ہی سے کیچڑ اور دلدل رہی ہوگی۔ بجلی کے ساتھ جب پانی ملا ہوگا تو جو قیامت آئی ہوگی اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ اُسے تو صرف اُن بدنصیب مویشیوں نے ہی دیکھا جن کی لاشیں گڈھے میں سڑ رہی ہیں اور چاروں طرف جراثیم ہی جراثیم ہیں۔ اگرچہ وہ ننگی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ بجلی اور پانی جب زیادہ غصہ ورہوکر بغل گیر ہوتے ہیں تو یہی ہوتا ہے۔ زمین بھی آگ کا گولہ اسی طرح بنی تھی اورہم کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اب اُس کی آگ کم ہو گئی ہے؟

تو یہ تھا اُس پُراسرار بیماری کا راز۔۔۔۔ اُس کا ماخذ یا مرکز۔ ماخذ ہمیشہ گندے ہوتے ہیں چاہے وہ انسانوں کے ہوں یا کسی اور شے کے۔ بڑے بڑے سائنسی ادارے اوراُن کی ٹیمیں، ڈاکٹر،انجینئر جس خرابی کا پتہ نہ لگا سکے اُسے ایک معمولی نل والے نے کھوج لیا۔ ایک غریب پلمبر نے۔ وہ تقریباً دوڑتا ہوا واپس آنے لگا۔ اُسے شہر جانا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنا ہے پھراُسے اخبار، ریڈیو اور ٹیلی وژن تک پہنچنا ہے۔ اُنہیں یہ خوشخبری سنانا ہے کہ یہ محض ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ملڑی پراس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیا تک یہ خبر پہنچنے ہی نہ دی ہوگی کہ اُن کے ممنوعہ علاقے میں ہائی ٹینشن تاروں کے آپس میں اُلجھ جانے کے باعث کبھی بجلی گری تھی۔ نئے تار لگا کر فیوز جوڑ دیے گئے تھے۔یہ وہی تکنیکی خرابی ہے کہ جس کا تعلق انسانوں کے نصیب سے بہت گہرا ہے۔ ایک نادیدہ تعلق جس کے ذریعہ یہ خرابیاں انسانوں سے اپنا رشتہ ہمیشہ استوار رکھتی ہیں۔ اگرچہ ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے اُس وقت کا جب ہم ٹھنڈی سانس لے کر یہ کہیں گے یہی مقدر تھا۔ پتہ نہیں اس تکنیکی خرابی کے باعث وہ سب شہید ہوئے یا کتے کی موت مرے یا کتوں سے بدتر زندگی گزر رہے ہیں۔ اس بارے میں کچھ بھی وثوق کے ساتھ کہہ پانا ہمیشہ مشکل ہی رہے گا۔

وہ شہر کی طرف دوڑتا جاتا ہے۔ اپنا تہبند گھٹنوں تک چڑھائے۔ کیچڑ، پانی سے لت پت گڈھے پھلانگتا ہوا، گرتا پڑتا وہ ننگے پاؤں بھاگتا جاتا ہے۔ اُس کی چپلیں کہیں راستے کی دلدل میں پھنس گئیں۔ اوراُس کے ننگے پیروں کے نیچے کئی مینڈک کچلتے کچلتے بچ گئے۔ وہ غریب مستری جو آج آرکا میدس سے کم نہیں۔ اُسے اس سے بھی زیادہ تیز اور دیوانہ وار دوڑنا چاہیے۔ اخباروں میں اُس کی تصویریں شائع ہوں گی اور ٹی وی چینل والے اُس کا انٹرویو لیں گے۔ اُس کے بیوی بچے خوشی سےپاگل ہو جائیں گے۔ کالی ندی پر بنا ہوا وہ پرانا سفید کنگورے دار پُل اب اُسے نظرآنے لگا ہے۔

[dropcap size=big]ٹی-وی[/dropcap]

کے ایک مشہور نیوز چینل پر چشمہ لگائے خوبصورت آنکھوں والی ایک رپورٹر ضلع اسپتال کے ایک نوجوان مگرذمہ دار ڈاکٹر کا انٹریو لے رہی ہے۔ لڑکی نے اپنے بالوں کا جوڑہ باندھ کر اُن میں ایک سُرخ گلاب لگا رکھا ہے اور ڈاکٹر نے آج اپنی سب سے زیادہ قیمتی چاکلیٹی رنگ کی چارخانے والی قمیض پہن رکھی ہے۔ دونوں آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ درمیان میں ایک شیشے کی میز ہے جس پرایک گل دستہ اور کافی کے دو کپ رکھے ہوئے ہیں۔

آپ لوگوں کا یہ کارنامہ قابلِ ستائش ہے اور تاریخ میں اسے یاد رکھا جائے گا۔ اپ ہمارے ناظرین کو اس بارے میں کیا بتانا چاہیں گے۔ لڑکی مسکرا کر انٹرویو شروع کرتی ہے۔ ڈاکٹر بھی جواباً مسکراتا ہے۔ پھر کہنا شروع کرتا ہے۔ شکریہ۔ یہ سب سخت محنت اور جدو جہد کے سبب ممکن ہوا ہے۔ ہم نے دن رات محنت کرکے، مطالعہ کرکے اور تحقیق کرکے بالآخر اس امر کاسراغ لگا لیا کہ یہ کوئی وائرس نہیں تھا۔ یہ کالرا کا ایک معمولی بیکٹیریا تھا۔ مگرکالرا کا علاج تو اب عام ہے۔ لڑکی نے پوچھا۔

سنئے۔۔۔۔ پوری بات سنئے کہ بیکٹیریا تو وہی پرانا تھا مگراب انسان بدل گئے ہیں۔ ان کے جسموں کے نظام میں بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ اُن کی قوتِ مدافعت کی ساخت بھی بدل رہی ہے۔ اوراُس کا عملی نظام بھی۔ اب اس بیکٹیریا کے تئیں انسانی جسم مختلف ردِ عمل پیش کررہے تھے۔ اُن کے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز باہر سے آئے ہوئے اُس اینٹی جن کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھیں۔ علاج کے دوران دوائیاں اپنا اثر اس لیے نہیں دکھا رہی تھیں کہ مریضوں کے جسم انہیں اپنا تعاون نہیں پیش کررہے تھے۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ مریض کا اپنا تعاون کتنا ضروری ہوتا ہے۔

آپ کو یہ کب معلوم ہوا کہ یہ وائرس نہیں ہے؟ لڑکی نے سوال کیا۔

کافی دن پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا مگرجب تک کونسل آف میڈیکل ریسرچ والوں نے دوا ایجاد نہیں کرلی۔ ہم نے میڈیا سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ ڈاکٹر نے کافی کا کپ اُٹھا لیا۔

تواَب کون سی دوا تجویز کی گئی ہے؟ لڑکی مسکرا کر پوچھتی ہے۔

کوئی خاص نہیں۔ پہلے سے تجویز کردہ کالرا کے اینٹی بائیوٹک یعنی ڈوکسی سائیکلین کو سی فاکزیم جیسے اینٹی بائیوٹک کی مناسب مقدار میں ملا کر دینے سے سارے مریض صحت یاب ہو رہے ہیں اور یہ دوا بجائے پانی کے لیموں یا سنترے کے عرق کے ذریعے دی جائے تو اور بھی بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اگردرمیان میں مریض کو بید کے درخت کی چھال کو پیس کر تھوڑے پانی میں ملا کر دیتے رہیں تو سرکے اُس درد سے بھی نجات مل جائے گی جو ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے ہے۔ بیدِ مجبوں کی چھال دنیا کی سب سے پرانی اور پہلی دوا ہے۔ مریض اب ٹھیک ہوکر واپس گھر جارہے ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا۔ اس وبا کے پھیلنے کی روک تھام کے سلسلے میں سرکار نے جو حفاظتی اقدام اُٹھائے۔ شہر کی ناکہ بندی وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب بہت مستحسن ہے اور یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ ناکہ بندی ختم کردی گئی ہے۔ کالی ندی کے پُل پرسے پولیس کا پہرہ ہٹا دیا گیا ہے۔ لوگ اب گھروں میں بند نہیں رہیں گے۔

مگرجن علاقوں میں پانی کی سپلائی روک دی گئی تھی وہاں کیا حال ہے۔ لڑکی نے بھی کافی کا کپ ہاتھ میں لے لیا ہے۔

دیکھئے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ تو آپ کو ضلع کے حکام ہی بتا پائیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ پانی بالکل ٹھیک تھا، صاف تھا۔ سیور لائن میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی۔ پانی کا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ سپلائی روک دینا محض ایک احتیاطی تدابیر تھی۔

تو وہاں کے لوگوں نے جو بدبودار پانی کی شکایت درج کرائی تھی؟ لڑکی نے پوچھا۔

ڈاکٹر کو پسینہ آنے لگا۔ اُس نے رومال سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ دیکھئے، اصل میں کسی کو باہر کا کچھ اُلٹا سیدھا کھانے سے کالرا ہوا ہوگا۔ اور چونکہ اس بار کا کالرا شدید طورپر چھوت چھات کے ذریعے پھیلنے والا تھا۔ اس سے کسی ایک کے بیمار ہو جانے سے اُس کے گھر والوں اور پڑوسیوں تک بھی یہ بیماری پھیل گئی ہوگی۔ رہی بات پیلے اور بدبودار پانی کی، تو کالونی کے کسی ایک گھر کی ٹنکی کی صفائی عرصے سے نہیں کی گئی ہوگی۔ کچھ بدبووالا وہاں آگیا ہوگا، مگرآپ جانتی ہیں اس ملک میں افواہوں پر کتنا یقین کرتے ہیں لوگ۔ یہ ایک بھیڑ چال ہے جس میں سب کو اپنے گھر کا پانی پیلا اور بدبودار نظرآنے لگا۔ ا ب دیکھئے نا باہر کتنا زبردست پیلا پیلا غبار چھایا ہوا ہے۔ اُس کے عکس میں یہاں بھی سب پیلا ہی نظرآرہا ہے۔ مجھے تو یہ کافی بھی پیلی نظرآرہی ہے۔ جی ہاں!

لڑکی ہنستی ہے۔

ڈاکٹر بھی ہنستا ہے اور کہتا ہے۔ سب لوگ دراصل پانی پرا ِس غبار کا عکس دیکھ کر خوف اور وہم میں مبتلا ہو گئے۔ اصل میں ہرشخص کو تو آج کے زمانے میں ڈپریشن ہے۔ نفسیاتی علاج کی بھی ضرورت ہے ان لوگوں کو۔ آ پ نے سوزن سوتانگ کی کتاب Illness as Metaphor اب تک تو پڑھ ہی لی ہوگی۔ زیادہ ترلوگ ایسے ہی ہیں۔ اپنے دماغ سے سوچتے ہی نہیں ہیں اور بدبو کا تو معاملہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں صفائی رکھنے کا بہت کم رواج ہے۔ مگردیکھئے پھر بھی ہمارے انتظامیہ نے ان وہمی لوگوں کی شکایت پراحتیاط کے طور پر پانی کی سپلائی بند کردی تھی اوراس بات کی جتنی بھی تعریف کی جائے، وہ کم ہے۔

ایک آخری سوال وہ یہ کہ اب اُن اطراف میں پانی کی سپلائی کھول دی گئی ہے۔ لڑکی نے پوچھا۔

جی ہاں۔ ضلع مجسٹریٹ نے بیان دیا ہے کہ آج صبح سے ہی وہاں پانی کھول دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نے جوا ب دیا۔

جی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ پانی میں کوئی بیماری تھی اور نہ یہ پانی سے پھیلی اور نہ ہی پانی کی پائپ لائن یا سیور لائن میں کوئی خرابی تھی۔ جس کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے گویا ٹی۔ وی۔ دیکھنے والوں سے کہا۔

جی بالکل نہیں، کوئی خرابی نہ تھی۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔

آپ کا ہمارے اسٹودیو میں آنے کا شکریہ۔ لڑکی نے کہا۔

آپ کا بھی شکریہ۔ ڈاکٹر نے کہا اورانٹرویو ختم ہوگیا۔

[dropcap size=big]ٹی-وی[/dropcap]

پراس انٹرویو کے ختم ہوجانے کے فوراً بعد خبریں سنائی اور دکھائی جانے لگیں۔ یہ قومی اور بین الاقوامی نوعیت کی بہت اہم خبریں تھیں۔ انہیں اہم خبروں کے ساتھ ٹی۔ وی۔ کے اسکرین پر نیچے بالکل نیچے حاشیے پربھی ایک خبرآرہی تھی جسے نہ کسی نے پڑھا نہ دیکھا۔ وہ خبرکچھ اس طرح تھی۔ آج صبح ملٹری کے ممنوعہ علاقے میں ایک نل لگانے کا کام کرنے والا مستری غیر قانونی طریقے سے جا گھسا۔ اور چاند ماری کے میدان میں ہونے والی فائرنگ کی مشق کے دوران ایک گولی اُس کے سرپر جالگی۔ اُسے فوراً ملٹری اسپتال لے جایا گیا، جہاں اُس کی موت ہو گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

[dropcap size=big]سب[/dropcap]

سے پہلے وہ کسی ننھی سی چڑیا کی آواز محسوس ہوئی۔ پھرایک تیز ہوا کے جھونکے جیسی اوراُس کے بعد کسی پاکیزہ روحانی گیت کے آلاپ کی طرح۔ پھر وہ گیت ہرگھر میں پانی کی ٹونٹیوں سے بہہ نکلا۔ صبح صبح اُن کے گھروں میں پانی کی ندیاں آنکلیں۔ آسمان پر بادل زور سے کڑکے۔ بارش ہونے لگی۔ ہوا بھی چلنے لگی۔ بارش اور ہوا میں باہر پھیلی ہوئی پیلی دُھند آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ آخرکاراِس دُھند کی آخری پرت بھی بارش اور ہوا کے ایک تیز جھونکے کے ساتھ کہیں غائب ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

تنہائی پسند (تصنیف حیدر)

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں کی گرماہٹ سے جھریاں ڈالنے کی جرات کرنا بھی ناممکن ہو۔ جب کبھی انسان اس طرح کی سرور میں لپٹی ہوئی، سماج اور اس کی بھیانک دوپہریوں سے کوسوں دورسرمئی شام کے آسمانی طلسم میں ڈوبتا ہے تو ہوش کاناخن دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کرپاتا۔ مقبول بھی نہیں کرپارہا تھا، وہ بھی عام انسانوں کی طرح تعلق کی زنجیر سے بندھ چکا تھا۔ حالانکہ یہ تعلق بظاہر بس ایک رات کا تھا،ایک رات، جس کی کوئی صبح نہیں، جس کا کوئی مستقبل نہیں، مگر زندگی کی کچھ راتیں ہزار صبحوں سے زیادہ خوبصورت اور ہزار فتنوں سے زیادہ رنگین ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی ہی رات کی داستان ہے۔

یہ کہانی دو لوگوں کی ہے یا یوں کہیے کہ دو جذبوں کی ہے۔ سیتاپور کے قریب کہیں کوئی گمنام سا ایک گاؤں ہے، نام ہے ساہنی۔ گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی ستر بہتر فی صد ہوگی۔ اس لیے مسجدیں زیادہ تھیں، صبح شام اللہ اکبر کی آوازوں سے محلے کے محلے گونجا کرتے تھے، یوں تو مسجدوں کا چیخ چیخ کر گلا چھل جاتا، مگر جمعہ کے علاوہ بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر ایسی رونق نظر نہ آتی۔ البتہ جمعہ کے روز طرح طرح سے نمازیوں کے غول کے غول نکل پڑتے، اتنے کہ ان بہت سی مسجدوں کی جگہ بھی تنگ پڑ جاتی، راستے پر صفیں بچھی ہوئی دکھائی دیتیں۔ سورج جب اپنی تند و تیز شعاعوں کے سہرے کی جھالر ہٹاکر نظر دوڑاتا تو گول گول رنگ برنگی ٹوپیوں کی بہت سی قطاریں دکھائی دیتیں۔ مختلف مسلک، فرقے، جھگڑے، بحثیں، چلے، مزاریں الغرض ساہنی ایک ایسی آبادی پر مشتمل گاؤں بنتا جارہا تھا جوبرصغیر ہند میں اسلامی دعوت کے مختلف جغرافیائی نتیجوں اور طریقوں کا عکس کہا جاسکتا تھا۔ قصائیوں کی دوکانیں، ان کے پاس منڈراتے کتے، چھیچھڑوں پر لڑتی بلیاں، تنگ گلیاں، قاسمی، بدایونی، گلاؤٹھی اور نہ جانے کس کس قماش کی بریانیاں، گنے کا رس نکالتی ہوئی سبز مشینیں، برقعوں اور کرتے پاجاموں کے ساتھ ساتھ مغربی طرز کے نام پر شرٹ اور جینز جیسےلباس میں ملبوس نوجوانوں کی رنگ رلیاں۔ اس گاؤں کے لوگ معلوم ہوتا تھا، کھانے اور پہننے کے کافی شوقین ہیں۔ اس لیے بازار میں ضرورت کی دوسری چیزوں کو ڈھونڈنے لیے نگاہوں کو زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی۔ گاؤں میں دوسری اٹھائیس فی صد آبادی ہندوؤں کی تھی۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اونچی ذاتوں سے تعلق نہ رکھتے تھے۔ مگر جو بات دونوں قوموں کو اس گاؤں میں ایک ہی مشترک نکتے پر لاکھڑا کرتی تھی وہ تھی یہاں کی لاعلمی اورجہالت۔ لوگوں نے مذہبی تہواروں میں طرح طرح کی پائپیں لگا کر رسموں کی سہولتوں کا پانی اپنے اپنے گھروں تک پہنچادیا تھا۔ وقت گزر رہا تھا، ترقی کے نام پر ملک تھری جی اور فور جی کے نت نئے تکنیکی تاروں سے خود کو جوڑ رہا تھا، مگر یہاں کا جو حال تھا سو تھا، پڑھائی کے نام پر گاؤں میں چند دسویں جماعت تک کی تعلیم دینے والے سکول اور دو کالج تھے، جن میں گریجویشن کی منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہاں کی بیشتر آبادی برسوں سے پانچویں اور دسویں کے بیچ میں جھول رہی تھی، جو کالج کا منہ دیکھتے تھے، وہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد اکثر شہروں کا رخ کرلیا کرتے تھے۔ دور سے دیکھنے پر یہ جگہ یکجتہی کی مثال معلوم ہوتی تھی، مگر گھروں، محلوں میں آئے دن لڑکوں میں سر پھٹول ہوتا ہی رہتا تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ ہندو مسلم فساد کی نوبت یہاں بہت کم آئی تھی۔ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے رویے سے کوئی خاص شکایت نہیں تھی۔

ظفر چوک یہاں کا سب سے بارونق محلہ تھا۔ اسی کے چھوٹے سے بازار میں ایک قصائی کی دوکان پر صبح کے نو بجے تازہ تازہ گوشت کانٹوں میں لٹکا ہوا تھا، کچھ پر چاندی کا ورق بھی لگا تھا۔ اندر سل پر ایک بوڑھا خون آلود شرٹ اور لنگی پہنے اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے پڑا تھا ایک گول ٹھیہا۔ اس ٹھیہے پر رکھے ہوئے گوشت کو اس کا مشاق ہاتھ تیزدھار چاقو سے کاٹ کاٹ کر چھوٹی اور صاف بوٹیاں تراش رہا تھا۔ باہر پانچ چھ گاہک کھڑے اپنی اپنی پسند کا گوشت نکلوارہے تھے۔ کسی کے گھر پسندے بننے تھے، کہیں قورمہ، کہیں پلاؤ کا اہتمام ہونا تھا تو کہیں کوفتے کے لیے قیمے کی ضرورت تھی۔ اسی سل پر آگے کی طرف تنگ سی جگہ پر ایک جوان لڑکا پلوتھی مارے بیٹھا مشین سے قیمہ نکال رہا تھا، وہ ایک طرف سے کٹے ہوئے پتلے گوشت کی پھانکیں مشین میں ڈالتا اور دوسری جانب سے باریک قیمہ کی شکل میں گوشت باہر برآمد ہوتا جاتا۔ بوڑھے کا نام مشتاق تھا اور وہ اس پررونق بازار کا سب سے مصروف قصائی تھا، اس کے برابر بیٹھا جوان لڑکا تھا صادق، جس کی عمر اندازے سے بتائی جائے تو پچیس کے پیٹے میں ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور لڑکا، جو گاہکوں کے تیار شدہ گوشت کو کالی تھیلیوں میں بھر بھر کر انہیں تھماتا جارہا تھا، اپنی عمر سے کوئی سترہ برس کا معلوم ہوتا تھا۔ ابھی ایک سال پہلے نویں جماعت میں دو بار فیل ہونے کی وجہ سے اس کو سکول سے اٹھا کر دوکان پر ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لگالیا گیا تھا۔

مقبول کی فطرت میں زیادہ کجی نہیں تھی، کانسے جیسا اس کا رنگ، مونچھیں پھوٹتی ہوئی، بال کانوں پر اترے ہوئے، قلمیں ٹیڑھی بانکی۔ گھر اور باہر کے کام کاج میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا کالر کچھ زیادہ ہی میلا رہا کرتا تھا۔ نہ کوئی دوست، نہ ہمنوا۔ جتنے برس سکول میں رہا، وہاں بھی پڑھائی میں اپنے بودے ہونے کے احساس نے اسے دوسرے لڑکوں سے دور رکھا۔ گھر پر ایسی کوئی سختی نہ تھی۔ باپ کا اصول تھا کہ جتنا کام کہہ دیا جائے، بس وہ وقت پر ہوجائے تو ہاتھ اٹھانے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے،اس لیے زیادہ تر وہ کئی کام اشاروں کی زبان میں ڈھلتے ہی مکمل کردیا کرتا۔ ماں تو مٹی کی مادھو تھی، گھر کا کام، سلائی کڑھائی سے اسے زیادہ فرصت نہ ملتی۔ گھر اور دوکان دونوں جگہوں پر صاف صفائی کا کوئی زیادہ اہتمام نہیں تھا۔ گھر میں ایک بوڑھی دادی بھی تھیں جو مقبول کو چاہتی تو تھیں مگر وقت نے ان کی زبان گنگ کردی تھی۔ زیادہ تر اشاروں میں اپنی باتیں بتایا کرتیں اور شرمندگی سے بچنے کے لیے اس سے بھی زیادہ وقت خاموش رہا کرتیں۔ صادق اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا، محلے میں اس کے کئی دوست تھے، ایک محبوبہ تھی۔ جو کہ اکثر گھر بھی آیا کرتی تھی۔ نام تھا رابعہ۔ چھریرا بدن، لمبوترا چہرہ، رنگ اتنا گورا جیسے درخت کی الٹی چھال ہو۔ اس لیے صادق کو مقبول کے ساتھ وقت بتانے کا نہ کبھی خیال آتا تھا، نہ کبھی فرصت ملتی تھی۔ دوکان سے شام کو فارغ ہوتے ہی وہ نئی موٹر سائیکل لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ نہ جانے کہاں کے لیے نکل جاتا اور جب گھر آتا تب تک تو مقبول کے فرشتے بھی سوچکے ہوتے تھے۔

مقبول صبح صبح دوکان پہنچتا تو اس کی پہلی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ حاجی فدا علی کے گھر گوشت پہنچا کر آنے کی۔ ان کا گھر تھا پانچ میل دور اور کسی دن کا ناغہ نہیں، مقبول چونکہ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا اس لیے وہ پیدل پیدل ہی باپ کا حکم سرآنکھوں پررکھ کر چل پڑتا۔ فدا علی کے گھر کی جانب جانے والا راستہ گاؤں کے ایسے کنارے پر تھا، جہاں آبادی برائے نام بھی نہ تھی۔ راستے میں کتے جگہ جگہ ڈیرہ ڈالے اونگھتے رہا کرتے، رات بھر کی ان کی چونچالیوں کی تھکن ان کی بجھی ہوئی تھوتھنیوں میں اتر آتی۔ کوئی ٹوٹے پھوٹے بوسیدہ ٹھیلے کے نیچے لیٹا سو رہا ہے، کوئی کسی پیڑ کی چھاؤں میں آرام فرما ہے، یہاں تک کہ فدا علی کی کوٹھی کے باہر سیمنٹ کے ایک اوبڑ کھابڑ اوٹے پر بھی دو تین کتے اپنی پسلیوں کو پھلاتے، پچکاتے، آنکھیں بند کیے دنیا و مافیہا سے بے خبر نظر آتے۔ دھوپ ہو، بادل منڈراتے ہوں یا برسات کی جھڑی لگی ہو۔ گوشت ہرحال اور ہر موسم میں حاجی جی کے گھر ضرور پہنچایا جاتا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پر چھوٹے سے ایک خوبصورت قدرتی تالاب میں بطخیں تیر رہی ہوتیں، کنول کے پتے پانی پر ایسے رقص کر رہے ہوتے جیسے بڑے بڑے سمندروں کے خاموش آبی پردے پر جہازی دیویاں ڈولا کرتی ہیں۔ یہیں ایک بڑے سے پتھر پر وہ روزانہ تھوڑی دیر سستانے کے لیے آتے جاتے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس کے دن بھر کی پھیکی روکھی زندگی میں یہ ایک سرسبز لمحہ تھا، جس میں خود کو ان تمام درختوں، سایوں، ہواؤں، تالاب، بطخوں اور کنول کے پتوں کا بادشاہ تصور کرتا تھا۔ یہ شاید دنیا کی ان چند خوش نصیب جگہوں میں سے ایک جگہ تھی، جن پر موسم کی سختی اپنا کوئی برااثر نہیں ڈال سکتی۔ اس کو محسوس ہوتا جیسے پانی میں تیرتی ہوئی بطخوں کی ٹرٹر میں کوئی گیت ہے، جو ہواؤں کی بالیوں سے ٹکراکر ایک ترنگ پیدا کرتا ہے، ایسا سرور، جو شاید گوشت کی تازہ، مہین اور خوبصورت پھانک کو دیکھنے پر بھی نہ ملتا ہو۔ اس نے اپنے اس چھوٹے سے مسحور کن اڈے کا نام ‘ہوائی’رکھ دیا تھا۔

ایک روز کا ذکر ہے، مقبول گوشت دے کر واپس لوٹ رہا تھا۔ موسم بڑا خوشگوار تھا، وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کرخوش ہورہا تھا کہ آج ہوائی پر پہنچ کر زیادہ ہی لطف آئے گا۔ ممکن ہے کہ ہلکی پھلکی برسات بھی ہو۔ اس سے پہلے ایسا سوندھا اور دھنک میں لپٹا ہوا موسم ابھی تک ہوائی پر سے نہ گزرا تھا۔ کم از کم مقبول کے مشاہدے میں تو یہ بات نہ آئی تھی۔ وہ آج سارے منظر کو گھول کر پی جانا چاہتا تھا۔ اس کے ایک ایک گھونٹ کو بڑی آہستگی سے اپنے حلق سے اتارنا چاہتا تھا۔ آس پاس چڑیائیں چہچہارہی تھیں، ہواؤں کے غول اس کے سر پر سے شرارتیں کرتے اڑے جارہے تھے، وہ بادلوں کے بنتے بگڑتے چہرے دیکھتا، نشے کی سی چال میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ہوائی کے جس پتھر پر وہ بیٹھا کرتا، وہ اسے دور ہی سے دکھ جایا کرتا تھا۔ یہ ایک کالا، بڑا سا پتھر تھا، جو زمین پر کسی پیڑ کی طرح اگا ہوا تھا، معلوم ہوتا تھا اس کی جڑیں بھی اندر ہی اندر دوسرے درختوں کی شاخوں کے ساتھ پانی جذب کرکر کے مضبوط ہوتی چلی گئی ہیں۔ اچانک مقبول کی نظر جب اس پتھر پر پڑی تو پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ایک سفید رنگ کی آدمی نما سی کوئی شے اس بڑے سے کالے پتھر پر بیٹھی ہوئی خلا میں گھور رہی تھی۔ یہ آج کیا ہوا؟ ادھر، اس کی مملکت میں، کیسے کوئی دوسرا ذی نفس درآیا تھا۔ کس طرح کسی دوسرے انسان کو اس چھپی ہوئی دولت کا علم ہوا تھا۔ اس کے اندر یک بہ یک رقابت اور جلن کے مادے نے آنکھیں کھول دیں اور وہ کسی آتش فشاں کے ساتھ ابلنے والے لاوے کی طرح بہتا ہوا تیزی سے اپنے اڈے کی جانب بڑھنے لگا۔ ہانپتے ہوئے سینے کے ساتھ جب وہ یہاں پہنچاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ذی نفس اصل میں ایک عورت ہے۔ جو سفید ساڑھی باندھے اس پتھر پر بڑے آرام سے براجمان ہے۔ اس کے کھلے ہوئے بال، کمرسے کچھ اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں، بلاؤز کے نیچے سے جھانکتی ہوئی شفاف بادامی کمرآرام سے بیٹھی موسم کی خوشگواری اور نظارے کی خوبصورتی کو مقابلے کے لیے للکار رہی ہے۔ بوندوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ بادلوں کا سینہ چیر کر اتر آئیں اور اس چمکتی ہوئی بادامی نہر میں ڈوب کر اس کا بوسہ لے لیں۔ مقبول کی نگاہوں کی تپن تھی یا پھر اس کی ہانپ کا اثر، عورت نے محسوس کرلیا کہ پیچھے کوئی کھڑا ہے، یکدم اس نے پلٹ کر دیکھا اور سامنے کھڑے ایک سترہ سالہ لڑکے کو دیکھ کر وہ حیرانی سے تاکتی رہ گئی۔ وہ اس سے عمر میں دوگنی ہو گی۔

‘اے لڑکے! یہاں کیسے؟’عورت نے سوال داغا۔
‘م۔ ۔ م۔ ۔ میں تو یہاں روز آتا ہوں۔ ۔ ۔ آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

عورت نے اس کا الھڑ سا ہمت آمیز جواب سن کر مسکرانے کو ترجیح دی۔ اشارے سے اسے برابر کے ایک کم قدآور پتھر پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ مقبول نے اپنی فطرت کے مطابق حکم کو مان لینے میں کوئی دیر نہ لگائی۔ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی، پھر عورت نے کہنا شروع کیا۔

‘میں یہاں بچپن میں بہت کھیلا کرتی تھی، میں ہی کیا میری سہیلیاں بھی۔ یہ جو سامنے پیڑ دیکھ رہے ہونا۔ ۔ ۔ اسی کی چھالوں سے لٹک کرہم برساتوں میں پینگیں بھرا کرتے تھے۔ گانے گایا کرتے، بڑا مزہ آتا۔ دور دور تک نہ کوئی آدمی نہ آدم زاد۔ ایسی جگہ روز روز کہاں ملتی ہے۔ تم ہی بتاؤ۔ میں اور میری دو سہیلیاں تھیں، سارہ اور جوہی۔ ہم روز ہی آیا کرتے، پھر ایک دن معلوم ہوا کہ سارہ اور جوہی، جو کہ بہنیں بھی تھیں، دوسرے گاؤں چلی گئی ہیں، میرا من بہت اداس ہوا، مگر اس جگہ آتے ہی، اس کی گود میں اکیلے بیٹھ کر، اس سے اٹکھیلیاں کرتے میں سارا دکھ بھول گئی۔ تالاب میں کود گئی، دیر تک نہائی، بطوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہی، باہر نکلی تو شام کا جھٹپٹا ہورہا تھا، گھر بھی جانا تھامگر دل میں دو تین پینگیں بھرنے کا لالچ آیا۔ ایک چھال سے لٹک کر مزے میں جھولا جھول رہی تھی، کہ ڈال ہی ٹوٹ گئی اور دھاڑ سے زمین پر آرہی۔ اس دن بھی موسم کچھ ایسا ہی تھا،بادلوں کے کجرارے نین،یونہی اداس ٹپک پڑنے کو بے قرار ہورہے تھے۔ میں گری تو موچ آگئی، چکر آیا اور وہیں ایک پتھر سے سر ٹکا کر لیٹ گئی، پوری رات سر سے گزر گئی، اگلا دن بیت گیا مگر کوئی پوچھنے یا لینے نہ آیا۔ آتا بھی کیسے؟ انہیں تو کوئی خبر ہی نہ تھی کہ میں یہاں ہوں، آخر اگلی شام گھسٹتے گھساٹتے جب گھر پہنچی تو بخار چڑھ آیا۔ کئی دن کی منتوں، پٹیوں اور پوجاؤں کے بعد ہوش آیا تو دوسرے گاؤں میں تھی۔ میری ماں نے مجھے اپنی موسی کے یہاں بھیج دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ معیادی بخار تھا، ٹوٹتے ٹوٹتے اکیس دن لے گیا۔ میں کب اس خوبصورت جنت سے نکل کر ایک بھری پری اصل اور بدصورت دنیا میں پہنچ گئی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ ماں نے بھی اس بیچ میں گاؤں چھوڑ دیا۔ اب یہاں واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ یہ تالاب، بطخیں، ہوائیں، جھولے، پیڑ، پودے سب میرے لیے بس ایک کہانی بن کر رہ گئے تھے۔ سارہ اور جوہی سے کبھی ملنا ہی نہ ہوا۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، لیکن جیے نہیں۔ اسی لیے تنگ آکر میرے پتی نے مجھے چھوڑ دیا۔ گھر سے نکالی گئی تو کوئی اور جگہ سمجھ نہ آئی، اس لیے سیدھی یہیں چلی آئی ہوں۔ حیرت ہے کہ دنیا دن بدن بدل رہی ہے، لوگ اور زیادہ دھن دولت کمانے کی فکر میں ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، مار رہے ہیں، ٹھگ رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر ہر وقت کچھ حاصل کرنے کی ہیبت نظر آتی ہے، مگر یہ جگہ۔ ۔ ۔ یہ جگہ آج بھی اتنی ہی شانت، اتنی ہی پرسکون ہے۔ اس میں اب بھی کوئی ہیبت نہیں، جیسے یہ اس دنیا کا حصہ ہی نہیں۔ ‘

مقبول اس کی باتیں دھیان سے سن رہا تھا، اچانک اسے دھیان آیا کہ باتوں ہی باتوں میں اتنا وقت بیت گیا ہے کہ اس کے ابا کو تشویش ہونی شروع ہوگئی ہوگی۔ اب تک تو اسے دوکان پر ہونا چاہیے تھا، وہ اٹھا اور کچھ بولے بغیر ہی جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوااپنے راستے پر ہولیا۔ عورت اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ جاتے وقت مقبول نے ایک ہلکی سی آواز سنی، عورت نے فریاد کی تھی کہ ممکن ہو تو مقبول اسے کچھ کھانے کے لیے لادے۔ مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ وہ دوکان پہنچا تو حسب توقع باپ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی، اتنی دیر کہاں لگادی، سب خیریت تو رہی، گوشت پہنچ گیا یا نہیں؟فلاں فلاں۔ سوالوں سے تو وہ بچ نکلا مگر اس عورت کے خیال اور اس کے حسن کے اثر نے اسے سارے دن اپنا گرویدہ رکھا۔ شام کو جب دوکان سے گھر آیا تو نہاتے دھوتے، کھاتے اور سوتے وقت بھی اسی عورت کا خیال سر پر منڈرارہا تھا۔ پوراد ن بیت گیا، کیا اس عورت نے کچھ کھایا ہوگا؟ کیا وہ اب تک وہیں بیٹھی ہوگی؟ جس طرح اس نے جھولے سے گرنے کے بعد اپنے بچپن کی ایک پوری کالی رات اس جگہ بتادی تھی اور کوئی اسے پوچھنے بھی نہ آیا تھا، کیا آج بھی وہ اسی طرح بھوک اور تڑپ سے نڈھال کسی پتھر سے سرٹکاکر کسی بھولے بھٹکے راہ گیر کی چاپ پر کان ٹکائے ہوگی؟ بچپن کے حادثے کے وقت تو کوئی بھی اس بات سے باخبر نہیں تھا، مگر آج تو وہ اس عورت کی ساری کہانی جانتا تھا۔

رات کے قریب ساڑھے دس بجے وہ اپنے کمرے سے نکلا، باہر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ صادق اور ابا دونوں ہی گھر میں نہیں تھے، ماں اپنے کمرے کی بتی بجھا کر گہری نیند سورہی تھی۔ دادی کا کہیں اتا پتہ نہ تھا، شاید وہ بھی اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوگی۔ مقبول خاموشی سے کچن میں داخل ہوا، لائٹ جلانے ہی لگا تھا کہ نیچے رکھے کسی برتن سے اس کا پیر ٹکرایا اور چھن کی آواز پورے گھر میں گونج گئی، وہ دانت پر دانت رکھے، چپکے سے اس آواز کے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مگر بیس تیس سکینڈ گزر جانے پر بھی کچھ نہ ہوا۔ ماں کی آنکھ یا تو کھلی ہی نہ ہوگی اور اگر کھلی ہوگی تو اس نے سوچا ہوگا کہ کوئی بلی ولی آئی ہوگی۔ پتیلیوں میں جھانکا تو چھلکوں والی مسور کی کالی دال پیندے سے لگی ہوئی تھی، اس نے ایک چھوٹے ڈونگے میں دال الٹ دی، اور اسی میں دو پراٹھے رکھ کر، اسے ڈھکنی سے بند کیا۔ پھر کمرے میں جا کر اپنے سکول بیگ کو اچھی طرح جھاڑا، جو قریب سال بھر سے نہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ کی چیزوں کی طرح گردآلود ہوگیا تھا، ڈونگا بیگ میں رکھ وہ دروازہ کھول کر باہرآیا، دروازہ بھیڑ کر، جب وہ سیڑھیاں اتررہا تھا تو اس نے دور سے اپنے بھائی صادق کی موٹر سائیکل کو آتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ صادق یہاں پہنچتا وہ تیزی سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا۔ صادق کے سیڑھیوں پر قدم رکھنے سے پہلے وہ گلی کے باہر تھا۔

کالی رات بھائیں بھائیں کرتی ہوئی ہواؤں کے ساتھ مل جل کر کالا جادو کر رہی تھی۔ جیسے کوئی بھبھوت لگا ہوا سادھو مرگھٹ پر بیٹھا کوئی شیطانی منتر پڑھ پھونک رہا ہو۔ سنسان راستے پر کتوں کی بھونکائیاں، سیاروں کی چمکتی ہوئی آنکھیں، جھکڑوں کے چڑیلوں جیسے پنجے۔ الغرض وہ ڈرتا سہمتا، کندھے سے بیگ لٹکائے، دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے، ٹی شرٹ اور ہاف پینٹ میں آگے بڑھتا جارہا تھا، اتنے اندھیرے میں ممکن تھا اسے ہوائی نظر ہی نہ آتی، مگر ایسا ہوا نہیں، کچھ دیر بعد موسم بہتر معلوم ہونے لگا، ہوائیں خوش گوار ہوگئیں، کہیں سے کوئی آسمانی اجالا دور تک پھیلے ہوئے منظر کو ایک نیلی روشنی میں ڈبوتا چلا گیا تھا۔ مقبول سمجھ گیا کہ ہوائی نزدیک ہے۔ اس نے اسی روشنی کی مدد سے اس بڑے سے پتھر کو دیکھ لیا، وہاں اب عورت نہیں تھی، وہ قریب قریب دوڑتا ہوا پہنچا، ادھر ادھر دیکھا، اچانک اس کی نظر پیڑ کے نیچے لیٹے ہوئے ایک سفید ہیولے پر پڑی۔ وہ آگے بڑھا، عورت اپنے بھوکے اور نڈھال وجود کو سنبھالے پیڑ سے لگی نہ جانے کیسے سورہی تھی، سو بھی رہی تھی یا خود کو دھوکا دے رہی تھی۔ کیا پتہ؟ مقبول نے اس کے کندھے کو ہلکے سے ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس اندھیرے منظر میں بھی، اس کی آنکھیں کسی نیل گائے کی مدھ بھری نگاہوں کی مانند بڑی اور جھیل جیسی دکھائی دے رہی تھیں، اس کے گورے گالوں اور ہلکے گلابی ہونٹوں پر پانی کی چھینٹیں ایسے پڑی تھیں، جیسے قیمے کی دھدھکتی ہوئی تیزی پر چھڑکا ہوا نیبو کا عرق ہو۔ کسی بے باک اور تند چھری کی طرح اس کا سینہ نکیلا اور دھار دار تھا۔ پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں، جن سے شفاف سفیدیوں کے دھارے ابلتے ہوئے ہری گھاس کی بوڑھی جھائیوں میں جذب ہوتے جارہے تھے، جیسے حاجی جی کے کمپاؤنڈ میں لگا ہوا فوارہ نت نئےآبی گل کھلا کر پھر خود کو زمین کی بھوری نگاہوں میں انڈیل دیتا ہے۔

عورت حیرت سے دیکھ رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ مضبوطی سے مقبول کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا۔ مقبول نے نیچے بیٹھ کر اپنے بیگ سے ڈونگا نکالا اور ایک ایک نوالہ بنا کر اسے پیار سے کھلاتا رہا۔ عورت درخت سے ٹیک لگاکر نیم دراز ہوگئی تھی،ایک نوالے پر اسے دھانسہ لگا تو مقبول بھاگ کر تالاب سے چلو میں بھر کر پانی لایا اور اسے پلا دیا۔ ہر نوالہ پہلے سے زیادہ، عورت کی آنکھوں کی کھوئی ہوئی چمک کو لوٹا رہا تھا، جیسے اس میں کوئی برقی رو بھرتی جارہی ہو۔ کھانا کھلا کر مقبول نے تالاب میں ہاتھ دھوئے، عورت نے بھی وہیں پہنچ کر پانی پیا۔ اب وہ دونوں اسی درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ اچانک بادلوں میں گڑگڑاہٹ شروع ہوئی اور برسات نے دھاوا بول دیا۔ مقبول کے چہرے پر بیک وقت خوشی اور اداسی کا سا سماں چھاگیا۔ خوشی اس بات کی کہ موسم خوشگوار ہے،ہر طرح کی خوبصورتی اور تنہائی کی آغوش میں بیٹھا وہ اپنے نصیب کی چمک اور اپنی تنہائی پسندی کے اعزاز پر فخر کرسکتا ہے اور اداسی اس بات کی کہ اگر ابا یا صادق کو گھر پر اس کی غیر موجودگی کا علم ہوگیا تو ڈھونڈ پڑجائے گی اور اس بات کا مطلب اس کی شامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ مگر اب کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا۔ مقبول، عورت کے برابر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا، وہ عورت بھی ایسے ہی انہماک سے مقبول کو دیکھے جارہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں گتھم گتھا تھیں، اچانک عورت نے آگے بڑھ کر اپنے بھیگے ہونٹوں کی شبنم کو مقبول کی زبان پرر کھ دیا۔ مقبول کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی زبان کو کسی لبلبلے اور تازہ بکرے کی ران سے بھڑا دیا ہو۔ وہ اپنی بھیگی اور ہلکی نگاہوں سے عورت کے اس پہلے لمس کو اس کی گردن پر پھیلتے ہوئے پانی کے ساتھ لمحہ لمحہ دیکھنا چاہتا تھا، عورت کی آنکھیں بند تھیں، مگر اس نے اپنے وجود کی ساری آنکھیں کھول دی تھیں۔ عورت نے اسے لٹادیا اور خود اس کے بدن پر کسی سائے کی طرح پھیل گئی، اب اس کی ساڑی اتر چکی تھی،سینے کے دو تیز دریا مقبول کی مٹھی میں تھے اور مقبول کی سانسیں تیزی سے اوپر نیچے دوڑ رہی تھیں۔ خون کا دوران اور دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا بدن ابھی پھٹ پڑے گا۔ عورت کے بالوں سے ڈھکے ہوئے اپنے چہرے کو اس نے اس سے پہلے اتنا شاداب اور ایسا فرحاں کبھی محسوس نہیں کیا تھا، یہ کیسی خوشی تھی جو رگ رگ سے پھوٹی پڑرہی تھی، جس سے خوف بھی آرہا تھااور جس سے جدا ہونے کا دل بھی نہ چاہتا تھا،مقبول کے دل میں اس عورت کی جھیل جیسی نگاہوں کو دیکھنے کی للک تیزی سے سوار ہوئی، اس نے اپنے ہاتھ کو عورت کی کمرپر سے رینگتے ہوئے اوپر کی جانب کھسکایا، بال سرکائے تو دیکھا کہ عورت اس کے سینے پر سر رکھےبے خبری کے عالم میں سورہی ہے۔ مقبول نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک نیم دائرہ بنا کر اس کے پورے بھرے بدن کو اپنے حصار میں لے لیا۔ آج اس کی مملکت میں ایک بیگم بھی شامل ہوگئی تھی۔ وہ اطمینان سے آنکھیں بند کرکے اس خواب سرا کی سبز قالین پر خود بھی سوگیا۔ جب آنکھ کھلی تو اذان کی ہلکی سی آواز اس کے کان میں آرہی تھی، برسات رک چکی تھی، بادلوں کی ٹولیاں ویسے ہی آسمان کی چھالوں سے لٹکی پینگیں بھررہی تھیں، وہ جانتا تھا کہ گھر پر ڈھونڈ پڑ گئی ہوگی، مسجدوں سے اعلان کروادیے ہوں گے، اس کی گمشدگی کی خبر دور و نزدیک گاؤں میں ہر طرف اب تک پھیل چکی ہوگی، ماں کا رو رو کر برا حال ہوگا، صادق اپنے دوستوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں کی مدد سے جگہ جگہ اسے تلاش کررہا ہوگا، بوڑھا باپ یہاں سے وہاں پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہوگا، دادی کی گونگی زبان اس کی ہلکی سی خبر مل جانے کی دعائیں مانگ مانگ کر سوکھ گئی ہوگی، اس کی زندگی سے جڑے تمام لوگوں کی رات اتھل پتھل ہوگئی ہوگی مگر یہاں اس کی ایک رات کی انتہائی خوبصورت بیگم، سفید ساڑی سے بے نیازبے خبر اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی اور مقبول میں اتنی جرات نہیں تھی کہ اس کی جوان نیند کے کندھوں کو تھپتھپاکراسے ہوشیار کردے،اس نے دیکھا بھرپور نیند کے عالم میں بیگم صاحبہ کے ہونٹ نیم وا ہوگئے تھے، مقبول نے ایک گہری سانس بھری اور بائیں ہاتھ کی انگلی سے ان ادھ کھلے ہونٹوں کو آہستگی سے بند کردیا۔

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹِک ٹِک ٹِک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ٹِک ٹِک ٹِک
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔
ٹِک ٹِک ٹِک
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔
’’کوئی نہیں آرہی‘‘
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔
’’سنو، آرہی ہے‘‘
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا
’’السلام علیکم ـ‘‘
’’وعلیکم السلام
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘
۔
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔
’’اوہ میرے خدا
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘

Categories
فکشن

پیالہ پاؤں

وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا یا اس طرح کہا جائے کہ آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں، سایہ بھی ٹین کے ایک پترے کا تھا، تپش ایسی تھی کہ لوگوں کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں۔ آسمان پر دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ جس لکڑی کی بینچ پر وہ بیٹھا تھا، اس میں لوہے کا ایک بڑا سکریو آدھا پیوست تھا، اس طرح کہ دو انگلیوں کی مدد سے گھماؤ تو گھوم جاتا، مگر باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا، غالبا بھوسے نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ کانچ کی چھوٹی سی پیالی اس کے سوکھے ہونٹوں پر گرم اور خاکی بوسہ دینے کو تیار تھی، گلے کی بنجر سرنگ میں یہ خاکی تیر تیزی سے اترتا اور سینے کو سینکتا ہوا، پیٹ میں پھیلے لمبی آنتوں کے جال میں پتہ نہیں کس طرف کو نکل جاتا۔ جب وہ کرسی پر بیٹھا تووہ خاصی گرم تھی، اتنی زیادہ کہ سائے والا حصہ بھی ہانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ کولہے کو ایک گہری تپن سے داغدار کرنے کے بعد کچھ دیر میں اس کے بدن کی گرمی نے بینچ کے ساتھ مصالحت کرلی تھی۔ وہ کھسک کربیٹھ جاتا مگر ذرا سی دور پر ایک شخص بیٹھا تھا، جس نے غالبا تین چار روز سے کپڑے نہیں بدلے تھے، اس کے مٹیالے پنجے اور پنڈلیاں بتارہی تھیں کہ وہ بہت دور تک پیدل چلتا رہا ہے۔ سر پر ایک انگوچھا بندھا تھا اور ہاف شرٹ کی بغلیں کسی بیمار گٹر کی طرح ہوا کے بلبلے چھوڑ رہی تھیں، جن کو برداشت کرنا بڑا مشکل کام تھا،اس کے دماغ نے بڑے حساب سے فاصلے کا ایک نقشہ تیار کیا اور اس کی ہتھیلیاں ، ہلتی ہوئی رانیں اور زمین بجاتے ہوئے بوٹ سب ایسی جگہ براجمان ہوگئے، جہاں سے اس شخص کی بدبو ہوا کے کسی اور رخ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل جارہی تھی، بالکل ہوائی جہازوں کی طرح بدبوؤں اور خوشبوؤں کے بھی اپنے راستے ہوتے ہیں، وہ انہی مصور نقشوں کے مطابق بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور راستوں میں آنے والے مختلف نتھنوں میں اپنی سڑاند، بساند یا پھر مہک کے گھونسلے بنالیتی ہیں۔

وہ ایک عورت کا پیچھا کررہا تھا۔ ورنہ اس بری دھوپ میں اپنے سات سالہ بچے اور جوان بیوی کو چھوڑ کر کون باہر نکلتا ہے۔شادی کے نو سال ہوچکے تھے، پہلا بچہ پیدا ہوا اور دوسری بار چیچک کے حملے کی تاب نہ لاکر دنیا سے چل بسا۔دوسرے ہی سال اس نے پھر کوشش کی ،کامیابی ملی اور اس کی بیوی کی زندہ اولاد کا سکھ بھوگنے کی خواہش مکمل ہوئی۔دراصل وہ اپنی بیوی کو کہیں سے بھگا کر لایا تھا، شادی سے پہلے کوئی ٹٹ پنجیہ سے قسم کے کیس میں جہاں اس کی بڑی تضحیک ہوئی تھی، ذلت اٹھانی پڑی تھی اور پورے پیسے بھی نہیں ملے تھے، صرف یہی ایک عورت تھی، جو اس کے ہاتھ لگی۔کسی انسپکٹر کی رکھیل تھی ، حالات سے پریشان اور تنگ دست۔منہ سے کچھ بولتی ہی نہ تھی، انسپکٹر نے حالانکہ اس کیس میں تھوڑی بہت مدد بھی کی تھی، مگر عشق نے مروت کو بالائے طاق رکھ کر ان دونوں کو ساتھ بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔شادی کے بعد یہ پہلا کیس تھا، جس میں اسے دس ہزار دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ ایک بڑے شہر کا چھوٹا پرائیوٹ جاسوس تھا۔ابتدا میں اس کام میں اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی، اس نے ایک پرائیوٹ ڈیکٹٹو ایجنسی میں کچھ مہینوں نوکری بھی کی، مگر کیسز بہت کم ملتے تھے، تنخواہ بھی زیادہ نہیں تھی اور بہت سے کام کمیشن پر ہی کرنے پڑتے تھے۔کمیشن بھی کیا طے ہوتا، تین ہزار یا چار ہزار۔اس نے سوچا اس سے بہتر ہے کہ اپنا ہی کام شروع کیا جائے، تھوڑا بہت دھکا دینے سے گاڑی چل نکلے گی۔ویسے بھی جاسوس کا دفتر بھی کیا ہوتا ہے، ایک موبائل فون، کچھ تفصیلات اور پھر گلیوں، چوراہوں کی خاک کے ساتھ جیب میں پڑی ہوئی طویل تعاقبوں کی ایک فہرست۔پچھلے کئی برسوں سے وہ ایسے ہی تعاقب پر گزارہ کررہا تھا، جن میں قدموں کی چھاپ سے سکوں کی چھن چھن تک کا بہت معمولی سا سفر اس نے طے کیا تھا۔بریڈ بٹر کے پیسے جٹانے مشکل ہوجاتے، اتفاق سے شادی ہوگئی تو دوجانوں کا بوجھ اور سر پر آن پڑا۔بیوی نے بچے کی ضد کی تھی، ورنہ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا۔بیوی بھی کیا کرتی، وہ ہمیشہ سےعدم تحفظ کا شکار رہی تھی، اسے لگا کہ کہیں یہ بھی ایک وقت کے بعد بغیر نکاح نامے کی اس بیوی کو رکھیل نہ سمجھنے لگے اور جاسوس سے انسپکٹر میں تبدیل ہوجائے، چمڑے کے پٹے سے مارے، شراب سے بھری ہوئی تھوتھنی کو اوک بنا کر اودے ہونٹوں میں انڈیلنا نہ شروع کردے۔چنانچہ وہ درمیان میں اولاد کا لگھڑ ڈال کر دیکھنا چاہتی تھی، جس کی مدد سے وہ جب چاہے اپنے نام نہاد شوہر کو اپنی جانب گھسیٹ سکتی تھی۔

وہ سوچتا تھا کہ ہماری فلموں میں بھی تو جاسوس دکھائے جاتے ہیں، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ، ہمیشہ ان کے عقب میں ایک مہیب موسیقانہ لہر رواں رہتی ہے، خوبصورت لڑکیوں سے چالاکی کےساتھ بنائے جانے والے جنسی تعلقات۔دل میں اترجانے والا چہرہ، دو پل میں ہپنٹائز کردینے والی صلاحیت اور کیسے بھی مشکل حالات میں خود کو بچا لینے والا انداز۔اف! کیا جاسوس ہوتے ہیں، مگر وہ آج تک کسی بھی ایسے جاسوس سے نہیں ملا تھا۔اب تو اس کا پیٹ بھی نکل آیا تھا۔پتلی بانہیں، گہرا سانولا چہرا، آنکھوں میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی کہ دیکھنے والا ہپنائز کیا جاسکے۔زیادہ بھاگنے سے ہانپنے لگتا اور ٹانگیں جواب دے جاتیں، کسی کا تعاقب کرتے وقت اکثر اسے بیچ میں ہی رک جانا ہوتا کیونکہ کوئی ضروری فون آجاتایا بیوی پڑوس کا کوئی نیا دکھڑا سنانے کے لیے فون کردیتی۔پھر اس نئے شہر میں اس کے زیادہ تعلقات بھی نہ تھے، نیا کاروبار اور وہ بھی اس قدر انفرادی اور پراسرار۔اب تو وہ بال اور داڑھی مونچھ کٹوانے بھی زیادہ نہیں جاتا تھا۔شادی سے پہلے بھی بغل اور ناف کے بالوں سے اسے اتنی الجھن کبھی نہیں ہوتی تھی، مگر وہ مونچھیں اور داڑھی ترشوا لیا کرتا تھا۔مگر اب یہ سب مشکل تھا، وہ ٹائٹ جینز اور دھاری دار شرٹ پہنے، کالا چشمہ لگائے کسی دوسری دنیا کے سادھو جیسا لگتا تھا۔اسے اپنی بھگل پر اتنا افسوس نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ جاسوسی کا کام اس کا پسندیدہ کام ہے۔ورنہ ماں باپ نے بہت ضد کی تھی کہ پرچون کی دکان پر بیٹھ جائے اور آج بھی گاؤں میں اس کا بوڑھا باپ بمشکل وہ دکان چلاتا تھا۔کئی دفعہ اس کے جی میں آئی کہ لوٹ جائے،مگر سوچتا تھا کہ اس صورت میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ہے، اسے لگتا تھا کہ بھاگ بدلیں گے، بس کسی کیس میں اس کا نام اخبار میں آجائے اور ذرا سی شہرت مل جائے تو لوگ خود اس کی خدمات لینے آجایا کریں گے۔

رات کو تھک ہار کر جب بیوی کے پاس بیٹھتا تو اس کے کھردرے اور سوراخ دار چہرے کو اپنی سخت انگلیوں سے چھوتے ہوئے بڑے پیار سے باتیں کیا کرتا۔اس کا بیٹا اب پہلی جماعت میں داخل ہوگیا تھا۔وہ رات کو اکثر لنگی پہنا کرتا تھا۔بیوی دنیا بھر کے خرچے بتانے لگتی اور وہ اس فراق میں رہتا کہ بیوی کے بدن کے کون سے پنے سے اسے پڑھنے کی ابتدا کرے۔ایک جاسوس ہونے کی وجہ سے دن بھر وہ اتنے سارے رازوں اور گتھیوں کے ساتھ گزارا کرتا تھا کہ بیوی کو کسی مبہم عبارت کی طرح نہیں پڑھنا چاہتا تھا، اسے بغل میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی جس کا جمپر اٹھا کر وہ پیٹ پر گہرے لمبےرنگ بکھیرتا تھا،جب سسکیاں بھرتے کسی معمے میں تبدیل ہوتی نظر آتی تو وہ اس کی گول اور چکنے نقش بنانے والی پسینے دار بغلوں میں اپنا منہ دفن کردیتا۔بیوی کے پسینے سے اٹھتی ہوئی مخلوط گرم و سرد لہریں اس کے منہ میں بھاپ بن کر داخل ہوتیں اور تالو پر چمگادڑوں کی طرح لٹک کر رقص کرنے لگتیں۔وہ اس ہلکی بھیگی دنیا میں دبے پاؤں داخل ہوجاتا اور بیوی کے گدگدے اور فربہ بدن کی سفید چربی اور سرخ گوشت میں اپنی ہانپ کے بیج بونے لگتا،درمیان میں جب نظر اٹھتی تو اس کی بیوی آنکھیں بندکیے ہوئے ایک ایسی ہی بالکل الگ دنیا میں تیررہی ہوتی، جہاں کسی بچے کے ہوم ورک کا سردرد نہیں تھا، پڑوسن کے اوندھے سیدھے نخرے نہیں تھے، دودھ اور راشن والے کی چڑچڑاہٹیں نہیں تھیں، برتنوں کی کھنکھناہٹ اور سندور یا دوپٹے کا تکلف بھی نہیں تھا، بس خلا میں بجتے ہوئے دو گھنگھرو تھے، جن کی صدائیں اس کے جسم میں غوطے لگاتی تھیں،اور انگوٹھی اور انگلی کی شکل میں تبدیل ہوکر اس کے شکن آلود بدن کی چادر کو چٹکیوں میں سمیٹ لیتی تھیں۔۔۔اسے اپنی بیوی کو یوں دیکھنا بہت پسند تھا،ہلکے گہرے اندھیرے میں جب اس کے پسینہ اگاتے ہوئے چہرے پر بیوی کے چپچپے بال دلدل میں پھنسے ہوئے سانپوں کی طرح جم جاتے تھے۔اور پھر وہ دونوں اس پندرہ بیس منٹ کی سخت محنت کے بعد ایک دوسرے کی ٹانگوں پر ٹانگیں پسارے سو جاتے یا کبھی کبھار جاسوس اٹھتا اور گھر کی بالکنی میں جاکر سگریٹ سلگایا کرتا اور دن کے کسی الجھے ہوئے کیس کے بارے میں از سر نو غور کرتا۔سوچنے کا اسے آج تک اس سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں لگا تھا، بہت سے معاملات انہی لمحوں میں روشن ہوتے تھے، وہ سوچتا تھا کہ وہ کون سے بدنصیب جاسوس ہونگے، جن کے پاس عورت کے بدن سے دماغ کو تیزتر کردینے والا یہ منتر نہیں ہوگا۔

وہ ان لمحوں کو سوچ کر مسکرایا، چائے آدھی ہی ختم ہوئی تھی ، مگر ہنوز گرم تھی۔لو کے ایک تھپیڑے نے اس کے گال کو تھپتھپایا، اب وہ عورت سامنے موجود بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔اتنے میں کوئی بس آئی، عورت جب بھیڑ کے ساتھ بس میں سوار ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر بس کا نمبر دیکھا۔چائے کی دکان کے برابر کھڑی ہوئی ایک پولیس موبائل وین میں بیٹھے ہوئے ڈرائیور نے اسے گھور کر دیکھا، وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔اس نے چائے والے سے معلوم کیا کہ یہ بس کہاں جاتی ہے۔کیونکہ اب اس میں زیادہ پیچھا کرنے کی قوت نہیں تھی، اس نے چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنے گھر کی جانب واپس آنے کے لیے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔قریب ہی سڑک پر دھول اڑاتی ہوئی گاڑیاں گزر رہی تھیں، وہ سوچ رہا تھا کہ ان شیشوں کے پیچھے ٹھنڈی ہوا کھانے والے لوگ کیا کام کرتے ہوں گے، کیا گاڑیوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثلا سوئفٹ ڈزائر کے پرانے اور ٹاپ موڈل میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ تو ایک کمرشیل گاڑی ہے، مگر اب شہروں میں ذاتی ملکیت کے طور پر بھی زیادہ مقبول ہورہی ہے۔جگہ کم گھیرتی ہے اور بہ آسانی ڈرائیورسمیت پانچ لوگ اس میں بیٹھ سکتے ہیں۔یہ تو عام لوگوں کی گاڑی ہے، مثلا اس بڑے شہر میں یہ چائے بیچنے والا بھی اگر ارادہ کرے تو ایک سکینڈ ہینڈ سوئفٹ ڈزائر خرید سکتا ہے۔ نینو گاڑی کم نظر آتی ہے، لوگ اسے دیکھ کر مذاق اڑایا کرتے ہیں، وہ لگتی بھی کسی حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح ہے، اس سے بہتر تو وہ سولر گاڑیاں ہیں، جو ہوتی تو ٹو سیٹر ہیں، مگر ان کی شکل و صورت کتنی کیوٹ ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی بہت بڑی اور رئیس گاڑی کی معصوم اولادیں ہوں۔بہت سی گاڑیا ں ہیں، ورنا، آئی ٹین ، آئی ٹوئنٹی۔ ان گاڑیوں میں کون لوگ ہوں گے۔ سرکاری نوکر، پروفیسر، کلرک، پرائیوٹ کمپنیوں کے ملازمین یا پھر کچھ چھوٹے نجی کاروباری۔اسی سڑک پربی ایم ڈبلیو اور پجیرو جیسی بڑے سائز اور بڑی قیمتوں کی گاڑیاں بھی دوڑتی ہیں۔آٹومیٹک گیئر والی۔بالکل پیروں کی طرح، جن کو کہاں رکنا ہے،کتنی رفتار بڑھانی ہے،کتنا چلنا ہے اچھی طرح پتا ہے۔فٹ پاتھ پر کھل اٹھنے والے ایک ادھ موئے سریے پر سے اس نے چھلانگ لگائی اور ان بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کی حیثیت کا اندازہ کرنے لگا۔ابھی اس کے اندازے کی مٹھیاں ان مخصوص اور بڑے لوگوں کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت ہی جٹارہی تھیں کہ اوپر والی جیب میں موجود فون پر ہمنگ کی دائرہ بناتی لہریں پیدا ہونے لگیں۔اس کے فیچر فون میں کانٹے جیسے نمبروں کے اوپر چکنی سکرین کا ایک گنجا اور ہلکا سبز سر تھا، جس پر نئے کلائنٹ کا نام ابھر رہا تھا۔اس وقت وہ کسی کا بھی فون ریسیو کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، اس نے فون کو جینز کی جیب میں ٹھونسا مگر اس کا وائبریشن بند نہیں کیا۔اسے وائبریشن کی آواز اورننھی سی گرج بہت پسند تھی۔

گھر پہنچا تو بیوی کھانا کھارہی تھی، اس نے ہاتھ منہ دھویا، لنگی پہنی اور بیوی کی بغل میں بیٹھ گیا۔بچہ پڑوس کے ایک گھر میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، دوپہر تھی اور دور دور تک شانتی اور چین کاراج تھا۔اس نے بیوی کے ہاتھ سے نوالہ کھایا اور بیوی کو نئے کیس کے بارے میں بتانے لگا۔یہ کیس ایک دیوالیہ ہو جانے والے رئیس کی طلاق شدہ بیوی کا تھا، رئیس کو اپنی مطلقہ بیوی میں بھی پتہ نہیں کیا دلچسپی تھی کہ وہ اس کے سارے ٹھور ٹھکانوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، مگر مشکل یہ تھی کہ اسے سب کچھ سمجھانا آسان نہ تھا، وہ اونچا سنتا تھا، اس لیے سامنے بیٹھ کر تو کسی نہ کسی طرح ہانپتے کانپتے اسے تفصیلات بتائی جاسکتی تھیں، شور اور دھول بھری سڑک پر ، فون پر چلا چلا کر سب بتانا مشکل تھا۔مگر عجیب قسم کا شکی تھا کہ خود سے الگ ہوجانے والی عورت کا بھی حساب رکھنا چاہتا تھا، بقول اس رئیس کے ، اس کے پاس اب چند لاکھ روپے کی ملکیت باقی رہ گئی تھی، سارا کاروبار تباہ ہوچکا تھا، عمر کے اس پڑاؤ پر تھا، جہاں پتہ نہیں کب دل کا دورہ طعمہ ہوس بن کر اس کی روح کو نگل لے ، مگر وہ باز آنا نہیں چاہتا تھا، پچھلی بار جب جاسوس نے اسے اس کی بیوی یا مطلقہ بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ اکیلی رہ رہی ہے اور کسی ایڈورٹزمنٹ ایجنسی میں کام کررہی ہے تو رئیس کے چہرے پر ایک چمک پیدا ہوگئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے شاید بمجبوری اپنی بیوی سے الگ ہونا پڑا ہوگا، یا پھر اسی عورت نے دیوالہ نکل جانے کے بعد طلاق لی ہوگی، ورنہ وہ آج بھی اپنی بیوی کے ذکر کی بوچھار میں بھیگ کر ہرا ہوجاتا تھا۔اس کے بوڑھے اور اکڑے ہوئے سخت گیر چہرے پر اپنی بیوی کا ذکر سنتے ہوئے بہت سی ملائم پرتیں جاگا کرتی تھیں، جن میں مختلف رنگ ہوتے تھے، کبھی غصہ، کبھی جھنجھلاہٹ، کبھی بے حد پیار اور ترحم کا جذبہ۔وہ چاہتا تھا کہ اس عورت کی کچھ مدد کی جائے، کسی طرح وہ اس کی زندگی میں واپس آجائے یا پھر اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کچھ رقم پہنچا سکے۔جاسوس نے ایک دفعہ کوشش کی تھی کہ رئیس کی دی ہوئی کچھ رقم اس کی بیوی تک ایک بچے کے ذریعے پہنچائی جائے مگر اس نے رئیس کا نام لفافے پر دیکھتے ہی وہ رقم بچے کو واپس لوٹادی تھی اور بہت ڈانٹا پھٹکارا بھی تھا۔رئیس یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ رقم کسی ایسے طریقے سے عورت تک پہنچے جس سے اسے پہنچانے والے کا نام نہ معلوم ہوسکے، وہ عشق میں بھی ایک کاروباری کے ذہن سے کام لے رہا تھا اور یہ توقع رکھتا تھا کہ عورت کبھی نہ کبھی پیسے کی چمکتی ہوئی ہتھیلی پر اپنا سونے جیسا گال رکھ دے گی۔اب تک اس کیس میں اسے تین ہزار روپے مل چکے تھے، باقی رقم کام ہوجانے کے بعد ملنی تھی۔بیوی نے پوچھا:

‘اب کیا کام باقی رہ گیا ہے، سب تو صاف ہوچکا ہے، بیوی اس بڈھے سے ملنا نہیں چاہتی۔اسے تو اس کے پیسوں میں بھی اب دلچسپی نہیں رہی۔’
‘ہاں بات تو سچ ہے، مگر بوڑھے رئیس کی پرابلم کچھ اور ہے؟’
‘کیا؟’
‘وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ چھٹی کے روز اس کی بیوی کیا کرتی ہے؟’
‘عجیب بے وقوف آدمی ہے، ایک عورت نے جب اسے چھوڑ دیا ہے تو اس سے فرق ہی کیا پڑے گا کہ وہ چھٹی یا کام کے دنوں میں کیا کرتی پھر رہی ہے؟’

جاسوس خود اس قصے کو پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا، مگر اس نے بیوی کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہمیں تو اس کام کو کرکے بقیہ سات ہزار روپے لینے ہیں، ہمارا اس بوڑھے کی رنگین دلچسپیوں سے کیا لینا دینا۔بیوی مطمئن ہوگئی ، مگر جاسوس اپنے اندر، بہت اندر غیر مطمئن تھا۔رات کے کسی پہر وہ اٹھا اور نہادھوکر باہر نکل گیا۔ آج اس نے اپنی آنکھوں پر لگانے کے لیے کالا چشمہ بھی نہیں لیا تھا۔وہ اس عورت کے گھر کے باہر جاکر ایک کھمبے سے ٹک کر کھڑا ہوگیا، رات کا وقت تھا، لوہے کی گریل اور ہلکے سانولے ، غیر شفاف کانچ میں سے چھلکتی ہوئی ڈم لائٹ کی روشنی دکھائی پڑرہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ ڈگ بھرتا ہوا عورت کے فلیٹ کی طرف چل پڑا، دوسری منزل پر پہنچنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے کچھ تیز چاپوں کی آواز آئی، چابی کا ایک گچھا جیسے ہوا میں لہرایا اور اس کی آواز نے جاسوس کے کانوں کے ٹنل سے ہوتے ہوئے چھٹی حس کے خانے میں دھم سے ایک ضرب لگائی، وہ اگلی منزل کی سیڑھیوں پر چڑھا اور دبک کر بیٹھ گیا۔ایک نسوانی وجود کا احساس اس اندھیرے میں موجود تھا۔دروازہ لاک کرنے کی آواز آئی اور عورت نیچے کی طرف اتر گئی، وہ اگلے چند منٹوں تک یونہی دبکا رہا۔انہی چند منٹو ںمیں اس نے ایک خیالاتی دنیا آباد کرلی۔اس دنیا میں اس نے دیکھا کہ عورت کے جاتے ہی وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا ہے، اچانک اس کا پھیلا ہوا بدہنگم پیٹ اندر کی طرف چلا گیا، سینہ ابھر آیا، رانوں کے پٹھوں میں نہ جانے کون سی مردانہ طاقت اتر آئی ہے، گال نکل آئے ہیں اور مضبوط مچھلیوں والے بازوؤں سے وہ گھر کی ایک ایک طاق اور دراز کو کھنگال رہا ہے، کاغذوں کے پلندے اتھل پتھل ہوچکے ہیں، باہر سے چھلک چھلک کر آنے والی روشنی میں اس کا پراسرار وجود کسی سرد ملک کے انگریز جاسوس کی طرح سائے جیسا دکھائی دے رہا ہے، دیکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس لیے جاسوس کی ہر حرکت احتیاط اور توجہ سے زیادہ ریاکاری کا تقاضا کررہی ہے۔ہوائی شیشے کھل گئے ہیں، روشنیاں بکھر گئی ہیں اور لیزر بیم کے جال سے بچتے بچاتے جب وہ ایک ایسے لاکر تک پہنچ گیا ہے، جہاں اس کہانی کا سب سے مخفی راز جاسوس کےتیز دماغ اور گرم ہاتھوں کی زیرکی سے بے خبر خاموشی کے دامن میں پڑا سورہا ہے، تو اچانک اس کے گردن پر ریوالرر کی سرد نوک سرسراہٹ پیدا کردیتی ہے۔مگر وہ سرد سرسراہٹ ایک گرم بوسے میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کی گردن پر زبان سے ایک جوان عورت گلابی رنگ کی گیلی لکیریں پیدا کرنے لگتی ہے، جاسوس آہستگی سے پلٹتا ہے ،یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں مزید روشن ہوجاتی ہیں کہ پچھلے روز ساڑی میں بس کا انتظار کرنے والی بوڑھے رئیس کی بیوی ، سٹریٹ بالوں اور مہنگے پرفیوم کی مہک کے ساتھ اپنےفیشیئل کرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے کھڑی ہے،اس نے سانسوں کی گرم دھاریوں میں جاسوس کی احتیاط زدہ آہوں کو لپیٹ لیا ہے اوراس کے حیرت سے کھل جانے والے ہونٹوں پر اپنے دائمی سرخ اورطلسمی ہونٹ رکھ دیے ہیں۔وہ ہر پرت کے ساتھ جاسوس کے اودے ہونٹوں پر اپنی لال لپ سٹک کی تھاپ جگاتی جارہی ہے اور وہ پھر لمحہ آتا ہے جب وہ جاسوس کی پینٹ کا بٹن کھول کر، اس کا لیدر جیکٹ اتار کر پلنگ پر اسےبستر کے ملائم دریا میں ڈوبنے کے لیے دھکا دے دیتی ہے۔

اس خیالاتی دنیا سے دھکیل دیے جانے کے بعد اتر کر اس نے پہلے دروازہ ٹٹولا، پھر اپنے موبائل فون میں موجود ٹارچ کی ننھی اور تیز روشنی میں دروازے کو دیکھا، اسے کھولنا ممکن نہیں تھا، اس نے آس پاس کوئی اوزار ٹٹولا، ایک چھوٹی سی پن اسے زمین پر پڑی دکھائی دی، اٹھاکر لاک کے پیٹ میں اس نے پن کا پتلا وجود اتار دیا، مگر کافی کوششوں کے بعد بھی لاک نہیں کھل سکابلکہ مصیبت یہ ہوئی کہ پن اس میں اتنی بری طرح اٹک گئی کہ اس کا باہر نکلنا دشوار ہوگیا۔زیادہ دیر تک ٹارچ جلانے کا مطلب تھا کہ آس پڑوس میں کسی کو بھی اس پر شک ہوسکتا تھا، اس نے ٹارچ بند کی اور پن کو جھنجھوڑنے لگا، مگر اس احتیاط سے کہ آواز نہ پیدا ہو اور اچانک جھٹ سے پن کا ایک ٹوٹا ہوا سرا اس کے ہاتھ میں آگیا۔اوپر کہیں کھڑکھڑاہٹ سی سنائی دی تو بوکھلاہٹ میں اس نے لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے بلڈنگ سے نیچے اترنا شروع کردیا، پسینہ اس کے ہاتھوں اور کنپٹی پر بہہ رہا تھا،نیچے اترا تو دو کتے بھونکتے ہوئے اس کی طرف بڑھے، وہ نہ چاہتے ہوئے ایک گلی میں بھاگنے لگا، مگر کچھ دور جانے کے بعد معلوم ہوا کہ گلی بند ہے، اس نے آس پاس موجود پتھروں کو اٹھانا چاہا مگر کتوں کی رفتار بہت تیز تھی، ابھی وہ جینز پر لگی بیلٹ کو کھولنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتوں نے اس کے پیروں پر حملہ بول دیا ، ایک کتے نے پنڈلی میں دانت گاڑے تو ہول سے اس کی چیخ نکل پڑی۔اس نے بوکھلاہٹ میں گلی کی دوسری طرف بھاگنا شروع کیا، پنڈلی سے خون بہہ رہا تھا اور درد بھی ہورہا تھا، مگر اس وقت ان کٹ کھنے کتوں سے خود کو بچانا بہت ضروری تھا، اسے لگا جیسے آج اس کے پیچھے بھی ایک مہیب موسیقانہ لہر دوڑ رہی ہے، کتوں کی آوازوں نے اپنی پوشاک تبدیل کی تو آس پاس کی اندھیرے میں اونگھ لگاتی بلڈنگیں بھی شطرنج کے مہروں میں بدل گئیں اور اسے لگا جیسے وہ ایک طویل ، لمبی بساط پر دوڑنے والا بے بس بادشاہ ہے، جسے وزیرکی گھات سے بچنے کے لیے جہاں تک ممکن ہو، خانے بدلتے جانا ہے۔

‘پھر ہر طرف اجالا ہوگیا، اتنا گھنا اجالا کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا، بس ایک دھاپ کی آواز سنائی دی، جس میں گونجتے ہوئے دو لبلبلے ڈرم جیسے ہوش کی ڈانڈیوں سے بے نیاز ہوجائیں۔بہت دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو ایک عورت اس کی پنڈلی پر پٹی باندھ رہی تھی۔

اور وہ عورت جاسوس کی بیوی تھی۔

Categories
فکشن

ولدیت کا خانہ

وہی ایک قصہ تھا جو گھروں، دکانوں اورنماز کے بعد مسجد کے باہر کچھ دیر کے لیے جمع ہونے والے زیادہ تر بوڑھے لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ؛اور ماسی جنداں اور دادی سداں کے تنوروں پر اکٹھی ہونے والی عورتوں کی زبان پرتھا۔مہنگائی، دوسروں کی غیبت، چھوٹی موٹی چوریوں،نوجوانوں کے معاشقوں،پاس پڑوس کے بیماروں، یہاں تک کہ مرجانے والوں کا ذکر اذکارسب تھم ساگیا تھا۔وہ قصہ ہی ایسا تھا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس قصے کا ابتدائی خاکہ کیسے،اور کس کے ذریعے یہاں پہنچا تھا۔ انھیں قصے سے دل چسی تھی، قصے کی تاریخ سے نہیں۔البتہ قصے کے راوی سے دل چسپی ضرور تھی کہ اس نے ایک ایسا قصہ ان تک پہنچایا تھا،جس کو جتنی بار دہرایا جاتا، اتنا ہی لطف آتا۔ہر بار اس قصے کا راوی بدل جاتا اور ہر بار اس قصے میں نئے واقعات شامل ہوجاتے تھے،اور ہر بار اسے نئے،زیادہ قابل یقین طریقے سے بیان کیا جاتا۔وہ قصہ اپنے راوی کے اندر عجب جوش بھر دیتا تھا۔وہ اس جوش کی رو میں بَہ جاتا،کچھ اس طرح جیسے اسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو، اور اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ اس خزانے کا کیا کرے،جس نے اسے ایک دم اہم آدمی بنادیاہے۔وہ بڑے آدمی کی طرح ہی سب کو قصہ سناتا۔ایک بات اس گاؤں کے سب لوگوں نے بھی دریافت کی تھی کہ وہ قصہ پرانا ہوتا ہی نہیں تھا۔اس میں بہ یک وقت میٹھے اور نمکین چاولوں جیسا ذائقہ تھا۔ہر روز یہ قصہ دہرایا جاتا،نئے انداز میں کئی کئی بار دہرایا جاتا،اور ہر بار پہلے سے زیادہ دل چسپ اور پہلے سے زیادہ قابل یقین لگتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پرجمع بوڑھوں سے،چھٹی پر آئے ہوئے ماسٹر احمد نے یہ تبصرہ کیا کہ اب یہ قصہ رہ ہی نہیں گیا، ہمارے گاؤں کا ایک جیتا جاگتا فرد بن گیا ہے۔سب نے حیرت سے منھ پھاڑے ماسٹر کی طرف دیکھا،جیسے اس قصے میں ایک نیا موڑ اچانک آیا ہو، اور کوئی شخص قصے سے نکل کر،ان کے درمیان آکھڑا ہواہو۔سب نے ایک دوسرے کی طرف شک اور دل چسپی سے دیکھا۔

کوئی دو ہفتے تک قصہ دل چسپ بھی رہا،اور حیرت انگیز بھی۔اس قصے کا ایک عجب طلسمی ہالہ سب کو اپنی گرفت میں لیے رہا۔پھر آہستہ آہستہ ایک خوف نے انھیں آلیا۔انھیں یہ جاننے میں وقت لگا کہ اس قصے نے ایک طرح سے ان کی اجتماعی روح پر قبضہ کرلیا تھا۔سب کو اس قبضے کا مدھم سا احساس تھا۔ وہ سب ایک زنجیر میں بندھ گئے تھے۔ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے۔ ڈرے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے تھے۔ پہلی بار ایک دوسرے کے اس قدر قریب آئے تھے۔مگر زنجیر کو توڑنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔
کل کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا۔ چک مراد کی ایک لڑکی کو سائیں شریف کے پاس لایا گیا۔وہ بارہ سال سے بیمار تھی۔ اس کی بیماری کسی نے سنی نہ دیکھی۔اسے بخار آتااور ہچکی لگ جاتی۔ دس دس دن ہچکی لگی رہتی۔ نہ کچھ کھا پی سکتی، نہ سو سکتی۔کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔سائیں شیشم کے درخت تلے دری بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی خلقت تھی۔ایسا لگتا تھا کہ گڑ کے بھورے کے گرد چیونٹیاں جمع ہوگئی ہوں۔مگر کوئی کھسر پھسرتک نہیں تھی۔ایک پتھرجیسی چپ تھی،اور انتظار تھا۔کافی دیر تک سائیں نے آنکھیں بند رکھیں۔پھر اچانک کھولیں۔ عورت کو دیکھا۔ فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ سر کو جھٹکا دیا۔ جیسے آدمی کو کرنٹ لگتا ہے۔ سب مخلوق ڈر گئی۔ یااللہ خیر۔ سب کو منھ سے ہولے سے نکلا۔ساری خلقت کی آنکھیں سائیں کی طرف اٹھی تھیں۔ انتظار تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔ بالآخر انتظار تمام ہوا۔ ارشاد ہوا۔ چٹا، گنجا،کیکر۔

جانتے ہو،اس کا مطلب کیاتھا؟شام کے وقت ہوٹل پر جمع لوگوں کی طرف خاصے مرعوب کن انداز میں دیکھتے ہوئے،یعقوب نے پوچھا۔
تمھیں معلوم ہے،سائیں شریف کا مطلب کیا تھا؟ گاؤں کے حکیم کی دکان پر بیٹھے لوگوں سے غلام محمد نے پوچھا۔

پتہ ہے، سائیں نے کیا بتایا؟ تنور پر آنے والی عورتوں سے فاطمہ نے کہا۔

چٹا، گنجا،کیکر سے سائیں کا مطبل کیا تھا؟ سار دن جانور کی طرح کام کرنے والی نوراں نے اپنے گھرپڑے نکھٹو شوہر سے پوچھا۔
ان سب میں یعقوب ہی مستند راوی تھا،کیوں کہ وہ سائیں شریف کی مجلس میں موجود تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دم بتادے کہ ان تین لفظوں کا کیا مطلب تھا۔ اسے لگا تھا کہ اس کے پاس خزانہ ہے۔اس خزانے پر صرف اس کا اختیار ہے۔اس اختیار نے اس میں طاقت بھر دی ہے،اوریہ طاقت عجب طرح کی ہے۔اس طاقت کا اسے قطعاً تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس طاقت سے کچھ کچھ ڈرا ہوا تھا۔وہ اس طاقت کے نئے پن سے ڈراہوا تھا۔اس ڈر کے دوران میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس خزانہ نہیں، ایک راز ہے۔نہیں خزانہ بھی تو ایک راز ہے۔ڈر کے ساتھ وہ ایک طرح کی لذت بھی محسوس کررہا تھا۔وہ ڈر اور لذت کے تعلق سے واقف نہیں تھا،مگر دونوں کو ایک ساتھ محسوس کیے جارہا تھا۔یعقوب نے پہلی دفعہ دریافت کیاکہ کوئی ایسا خزانہ اور راز بھی ہوسکتا ہے،جس کا تعلق لفظ کے مطلب سے ہو۔ سائیں لفظ بولتا تھا اورایک گہری خاموشی میں چلا جاتا تھا۔ پاس ہی اس کا ایک خاص مرید بیٹھا ہوتا جو سائیں کے لفطوں کا مطلب بتاتا تھا۔مجلس میں تو سب لوگ مرید کی بات تسلیم کرلیتے تھے،مگر بعد میں کچھ کچھ شک کرنے لگتے تھے۔لیکن یہی شک،گاؤں میں دہرائے جانے والے قصوں کی بنیاد تھا۔کچھ خود سر نوجوان کھلے لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ شک کی ذمہ داری خود سائیں پر ہے۔آخر وہ پورا جملہ کیوں نہیں فرماتا تھا۔

یعقوب نے کافی دیر سے منتظر لوگوں پربالآخر یہ راز کھول دیا کہ سائیں کے خاص مرید نے چٹا، گنجا،کیکر کا مطلب یہ بتایا تھاکہ چٹے دن کو ایک گنجے آدمی نے کیکر کے درخت کے نیچے اس لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ آدمی اور کیکر سے تعلق تو سب کی سمجھ میں آتاتھا، مگر ’زیادتی ‘ کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟مرید کا کہنا تھا کہ سائیں کو ہر آدمی کے گرد ایک ہالہ نظرآتا ہے،جس میں وہ سب لوگ، جگہیں، واقعات دکھائی دیتے ہیں، جن سے آدمی کا تعلق رہا ہے۔ مرید سے بھی کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں تھی۔حقیقت یہ تھی کہ جس چیز نے لوگوں کو حیرت میں ڈالا تھا،اور خوف زدہ کیا تھا، یہی ہالے کا نظر آنا تھا۔ شاید لوگوں کو یقین نہ آتا۔ لیکن ایک دن ایسا واقعہ ہو اکہ سب کو یقین آگیا۔ اس روزسائیں نے اپنی مجلس میں بیٹھے گاؤں کے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ایک دم کَہ ڈالا: کالی، نکاح۔ مرید نے وضاحت کی کہ مولوی صاحب نے ایک کالے رنگ کی عورت سے نکاح کیاہے۔ مولوی صاحب نے بھی اقرار کرلیا کہ انھوں نے چند ہفتے پہلے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس سے اگلے دن گاؤں کے لائن مین شرافت کو دیکھ کر سائیں نے کہا : دو، بیس، ایک۔ کسی کے پلے نہیں پڑا۔ سائیں کے مرید خاص نے بتایا کہ اس شخص کے دو باپ ہیں،ایک وہ جس نے جنم دیا،اور ایک وہ جس نے اسے پالا، اوربیس سال پہلے پالا،اور وہ ایک ہے ماں باپ کا۔ شرافت کو اس کے چچا نے پالا تھا،جب شرافت کے ماں باپ بیس سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سائیں کی کرامت پر لوگوں کا یقین اپنی آخری حد کو پہنچ گیا،اور وہ ڈر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب لوگ وہاں جانے سے کترانے لگے تھے۔ وہ اپنے ہالے سے ڈرنے لگے تھے،نہیں اس ہالے کے پہچانے جانے سے ڈرنے لگے تھے۔جس بات کو قدرت نے راز رکھا ہے،سائیں اس کو سب کے سامنے لے آتے ہیں، وہ قدرت کے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔ اب لوگ سائیں کے حوالے سے نئی تاویلیں کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شام کے قریب سائیں کی مجلس میں پہنچا۔ کم لوگ رہ گئے تھے۔ وہ ذرا دور ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا،جب سب چلے جائیں تو سائیں کے سامنے جائے،اور اس کے دل کا حال جانیں،اور اسے اذیت سے نجات دلائیں۔سائیں نے سر کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہا: مولا۔خاص مرید سمجھ گیا کہ سائیں اب خلوت چاہتے ہیں۔’ سب لوگ چلے جائیں۔سائیں کی عبادت کا ٹیم ہوگیا ہے‘۔اس نے ملتجی نظروں سے خاص مرید کی طرف دیکھا،جسے لوگ شاہ صاحب کہنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔’ہاں کیہ گل اے‘(کہو کیا بات ہے)۔شاہ صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔اس نے شاہ صاحب کی مٹھی اپنی مٹھی میں لی،اور رقت سے کہا۔’ اکیلے میں بات کرناچاہتاہوں ‘۔شاہ صاحب نے سب کو جانے کا کَہ دیا۔‘ہاں ہنھ دس‘ (اب بتاؤ)۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس نے ایک نظر سائیں کے چہرے پرڈالی۔ گیسوؤں میں آدھا چہرہ چھپا ہواتھا۔ آنکھیں بند تھیں۔لمبوتری ناک جیسے سجدے کی حالت میں تھی۔

میں کیسے کہوں۔ دماغ پھٹ رہاہے۔ پندرہ سالوں سے ہر دن لگتا ہے،دماغ پھٹ جائے گا۔ میں جی نہیں رہا۔ مرنہیں رہا۔پندہ سالوں سے لگتا ہے کوئی میری گردن پر چڑھا بیٹھا ہے۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔

قصہ لمبا نہ کر، مطلب کی بات کر۔

ہاں حضور۔ مجھے مافی دے دو۔ میں گناں گار ہوں۔سائیں مجھے بس اتنا بتادیں۔ اکرو، کس کا بیٹا ہے۔ اسے جنا میری زنانی نے ہے،مگر وہ میرا نہیں۔ اس کی شکل صورت میرے سے،یا میرے خاندان کے کسی بندے سے نہیں ملتی۔ وہ رنگ کا کالاہے۔ قد چھوٹا ہے۔ ناک پتلی ہے۔ یہ میری ناک دیکھوپکوڑے جیسی ہے۔ میرے بھائی،والد سب کی ناکیں ایسی ہیں،لیکن اکر و،مادر چود کی ناک۔۔۔۔ سائیں مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ کس کے تخم سے جنا ہے۔وہ میرے گھر میں، کس خنزیر کی اولادہے۔جس وقت میں نے اس کی شکل دیکھی تھی، اس وقت سے میرا جینا حرام ہے۔

پریشان نہ ہو۔سائیں تجھے ضرور بتائیں گے۔ پر یہ بتا تو کرے گا کیا؟
میں اس کے باپ کو قتل کروں گا۔
ٹھیک ہے۔ پر اکرو۔۔یہی بتایا نہ اپنے بیٹے کا نام۔۔۔۔۔
نہیں وہ میرا بیٹا نہیں۔بس اس کا ان پانی میرے گھر لکھا تھا۔پر اب میں۔۔۔۔
اکرو کا کیا کرے گا۔
اسے بھی مارڈالوں گا۔
اب تک مارا کیوں نہیں

وہ چپ ہوگیا۔ اس کے منھ سے پہلی مرتبہ اکرم کو مارنے کے ارادے کا اظہار ہوا تھا۔وہ حیران ہوا کہ اسے آج تک اسے مارنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔وہ اسے آج تک پیار نہیں کرسکا،مگر اسے مارڈالنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔
لیکن اب میں مارڈالوں گا۔

ٹھیک ہے۔تمھارا مال ہے۔۔۔۔میرا مطلب ہے،تمھارے پاس وہ جی ہے، جیسے تمھارا جی کرے۔
سائیں نے ایک دفعہ پھر سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ مولا۔ شاہ صاحب نے اسے چلے جانے کو کہا۔کل آنا،سائیں آج نہیں بتائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن پورے گاؤں میں اکرم کی ولدیت کا قصہ گردش کررہا تھا،قصہ کیا تھا، بگولہ تھا جس کی لپیٹ میں پوراگاؤں تھا۔کسی کی چادر، کسی کا برقع، کسی کے قمیص کا دامن اس بگولے سے اترا جارہا تھا۔تنور سے لے کر مسجد تک،حکیم کی دکان سے حجام کی دکان تک، ہر جگہ ہرگھر میں یہ سوال نما قصہ تھا کہ اکرم، شیخ اسمٰعیل کا بیٹا نہیں تو کس کا ہے؟ کون کس کا ہے، کون کس کا یار ہےکون کیا کرتا رہا ہے۔ بگولے سے گاؤں کی کتاب کے ورق پھٹے جارہے تھے اور ادھر ادھر اڑے جارہے تھے۔ہائے کیا زمانہ آگیا ہے،اب قیامت آئے کہ آئے۔عورتیں حرام کے بچے پیدا کرکے اروڑی پر نہیں پھینکتیں،گھر میں پالتی ہیں۔تمھیں یاد ہوگا، جب سیلاب آیا تھا تو نہر میں ایک ایک دو دوروز کے کتنے بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔سب حرام کے تھے۔پر ان کی ماؤں کی لاشیں بھی تو تھیں۔ایک عورت تو مری پڑی تھی،مگر اس کا پیٹ سانس لے رہا تھا۔دائی صاباں کہتی تھی،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے،پر کون حرامی بچے پالتاہے۔ نی،تمھیں بھول گیاہے کہ کرم مسور کا بیٹا جو پولس میں ہے، وہ شمو مراثن کا ہے،جسے کرم نے ایک کھولے سے اٹھایا تھا۔نہیں وہ صاحباں بھروانی کا ہے،جسے شمو مراثن کھولے میں پھینک گئی تھی۔جس کا بھی ہے،وہ نیک بچاہے۔سب کو سلام کرتا ہے۔ توبہ ہے۔اس نے تو ایک حرام کے بچے کو اپنا بیٹا بنالیا،پر شیخ اسمٰعیل اپنے سگے بیٹے کو حرام کابتاتاہے۔اللہ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اتنے سال اسے خیال نہیں آیا۔ اس کی بیوی دیکھنے میں تو شریف لگتی ہے۔پر عورت ذات کا کیا بھروسا۔ جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی تو برقع پہن کر اسی سڑک سے گزر کر شہر جاتی تھی۔ شریف عورتیں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ خد اکا خوف کرو، اس کی نوکری تھی۔ شادی کے بعد شیخ اسمٰعیل نے نوکری چھڑوائی تھی۔ماسٹر پہلے دن سے شکی مزاج تھا۔ ہوسکتاہے وہ اس کے کسی چکر وکرسے واقف ہو،ورنہ کون نہیں چاہتا کہ گھر میں چار پیسے آتے رہیں۔ بھائی صاحب،یہ چودھویں صدی ہے۔نہیں جناب پندرھویں صدی ہے۔ہاں ہاں جو بھی ہے،ان ٹیچروں کے سب سے زیادہ یار ہوتے ہیں۔انھیں آزادی بھی تو ہوتی ہے۔ گھر میں اتوار کے دن بھی کہتی ہیں کہ ای ڈی او کے دفتر جانا ہے۔اور اپنے یاروں سے ملنے جاتی ہیں۔ دو مہینے پہلے ٹیچر صائمہ نے سول ہسپتال سے ابارشن کروایا تھا،مجھے خود اسلم ڈرائیورنے بتایا جس کی وین میں سب ٹیچریں سکول جاتی ہیں۔کیا ضروری ہے کہ وہ ہسپتا ل ابارشن کروانے گئی ہو؟ میں نے تو اسے اس کی چال سے پہچان لیا تھا کہ وہ پیٹ سے ہے۔ یاریہ تما م ٹیچریں برقعے کیوں پہنتی ہیں بھولے بادشاہوتمھیں نہیں معلوم،وہ نہیں چاہتیں کہ پہچانی جائیں۔ شیخ اسمٰعیل کے واقعے سے ان ٹیچروں کا کیا تعلق؟ بس ان کے ذکر سے لذت ملتی ہے۔ تمھاری ایک کزن بھی تو ٹیچر ہے۔ اس کانام نہ لو۔ وہ میری بھابھی بننے والی ہے۔ سنا ہے،سب سے زیادہ ابارشن مراثنوں اور مصلنوں کے ہوتے ہیں۔ یارسب کے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کی عورتوں کے گناہ بھی یہ بیچاریاں اپنے سرلے لیتی ہیں۔ اکرم دیکھنے میں کتنا شریف اور پڑھاکو لگتاہے۔ اس نے کبھی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔ سناہے حرام کے تخم قہاری ہوتے ہیں،لیکن یہ تو کبھی گلیوں میں چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ اگر قہاری لڑکے حرام کے ہوتے ہیں تو تمھارا بھائی تو پکا حرامی ہے۔ ماں سے پتا کرو،کس کے ساتھ سوئی تھی۔ تڑاخ۔ یار تم تو جذباتی ہوگئے۔ ہر ماں کسی نہ کسی کے پاس تو سوتی ہے۔ نہیں ماں،صرف بچے پیدا کرتی ہے اور پالتی ہے۔ یار یہ سمجھ نہیں آتی۔اگر بچہ حرامی ہوتا ہے تو عورت اور مرد کیا ہوتے ہیں ہم نے دونوں کو معاف کردیا،پر بچے کو نہیں۔ لیکن سنا ہے شیخ اسمٰیعل دونوں کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔سائیں اور شاہ صاحب آگ لگا کر رہیں گے۔ کتنے امن سے رہ رہے تھے۔ حالاں کہ پتا تھا کہ کون آدھی رات کیاکرتا ہے اور کہاں جاتاہے۔کچھ باتیں چھپی رہنی چاہییں۔ خدا نے آخر رات کس لیے بنائی ہے۔ سائیں رات کو دن بنانے لگاہے۔ لوگو،خدا کے کاموں میں دخل نہ دو۔لیکن اس کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ کسی کو بلا بھیجتا ہے؟ سب اپنی خوشی سے جاتے ہیں۔ تم چھپی باتوں کو جاننا بھی چاہتے ہو،اور ڈرتے بھی ہو۔ یار معلوم کرو، سائیں آیا کہاں سے ہے؟ یہ شاہ صاحب کون ہیں سناہے، شہامند زمیندار کے پاس آئے تھے، اسی نے انھیں بوہڑ تلے بیٹھنے کی اجازت دی۔کیا پتا شہامند کو کچھ حصہ ملتاہو۔ تمھیں یاد ہے، شہامند کے کینڈیڈیٹ کو ہمارے ٹھٹھے کے ووٹ نہیں ملے تھے۔ کیا وہ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے۔ آہستہ بولو،یہ زمیندار بہت ہی گھٹیا ہوتے ہیں۔ یادہے، اسی نے جانو ماچھی کے چھوہر (لڑکے)پر کتے چھوڑدیے تھے۔ غریب کا قصوریہ تھا کہ وہ تیز تیز سائیکل چلا رہا تھا کہ آگے شہامند آگیا تھا، جس پر کچھ گھٹا پڑ گیا تھا۔ چوری کا الزام لگا کر اپنا بولی کتا اس پر چھوڑ دیا تھا۔یار آج کل تو اس کی ویڈیو بنا کر کسی ٹی وی والے کو دے دینی چاہیے۔ شاباش اے،پھر اس غریب کی خیر نہیں۔ شیخ اسمٰعیل اور شہامند کی لڑائی بھی تو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی وجہ سے۔شہامند سے کس کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن بھائی،یہ سائیں وائیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر اس نے یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی جیسی زبان میں کچھ کہہ دیا اور شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ بتادیا کہ اس ٹھٹھے کے سارے مرد حرامی ہیں تو کیا ہوگا۔ ہوگا کیا،مزا آجائے گا۔حرامی مرد تو زبردست چیز ہے۔ بھڑوا مرد برا ہوتا ہے۔ہاں ہاں تمھیں تجربہ جو ہے۔بکواس مت کر۔میں نے سنا ہے کہ حرامی کو کسی بات کا ڈر نہیں ہوتا۔سب بڑوں کو،پیسے والوں کو،تھانیدارکو،تحصیل دار،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر کو بلاوجہ تو حرامی نہیں کہتے۔ حرامی ہونا تو بڑے آدمی کا رینک ہے۔ تمھار امطلب ہے، اکرم بڑا ٓدمی بنے گا۔ ہاں،بالکل اگر واقعی حرامی ہے۔ شریف ہوا تو زہر کھالے گا۔ دفعہ کرو،ان باتوں کو ہمیں کیا لینا دینا۔ دیکھو اس بار بھی بال خراب کاٹے تو اس قینچی سے۔۔۔۔نہیں بھائی پریشان نہ ہو۔۔۔میں پانچ سال کراچی یہی کام کرتا رہا ہوں۔اب اللہ کے واسطے، وہاں کے قصے نہ سنانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل شام شیخ اسمٰعیل کوامید بندھی تھی کہ پندرہ سالوں سے وہ جس سوال کی آگ میں خاموشی سے جل رہا ہے، اسے اس کا جواب مل جائے گا۔ گھر پہنچ کر اس نے اکرم کو کھاناکھاتے دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ بچّو،اب نوالے گن لو۔اگلے ہی لمحے اس نے خود کوایک نامعلوم آدمی کا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھا،اور دل کو مدتوں بعد مطمئن محسوس کیا۔ لیکن اگلا دن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لایا۔اسے لگا کسی نے اس کا سینہ چیر ڈالا ہے۔۔۔۔نہیں۔۔ اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ستر چوراہے کے بیچ کھینچ ڈالاہے۔کسی نے کہا تو پاگل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا،ماسٹر بے غیرت ہے۔پندرہ سالوں بعد آج اسے پتا چلا ہے۔ کسی نے کہا ماسٹر خدا تمھیں صبر دے،جو بھی ہے، بچے کا کیا جرم؟ چاچے رمضو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،پتر میں تیر ا دکھ سمجھتا ہوں۔ پر شکل پر مت جا۔شکلیں دھوکا دیتی ہیں۔ آدمی دھوکا دیتا ہے۔ ہاں چاچا۔عورتیں بھی دھوکا دیتی ہیں۔ پر ماسٹر پتر، عورت مرد کے ساتھ مل کر دھوکا دیتی ہے۔نہیں چاچا، ایک مرد کے ساتھ مل کر دوسرے مرد کو دھوکا دیتی ہے۔تو یوں کہہ نا۔مرد عورت دونوں دھوکا دیتے ہیں۔ ٹھیک کہا،مجھے سائیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔شاہ صاحب نے دھوکا دیا ہے۔ کیا کہا؟ نہیں چاچا کچھ نہیں۔

گھر میں عجب خوف ناک خاموشی طاری تھی۔اس کی بیوی نے سوجی آنکھوں سے اس کی طرف یوں دیکھا،جیسے وہ اس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت اتر جائے گی۔دونوں بیٹے اور چھوٹی بیٹی اسے نظر نہیں آئے۔وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر الانی (بغیر بستر کے)چارپائی پر ڈھ گیا۔ اسے یہ جاننے کی تڑپ ہوئی کہ وہ کون حرام زادہ ہے،جس نے شاہ صاحب کے ساتھ رازداری کی گل بات کو گلی گلی پہنچا دیا۔ اس نے کل شام کے واقعات یاد کرنے شروع کیے۔عصر کی نماز اداکرنے کے کوئی آدھ گھنٹہ بعد اس نے موٹر سائیکل کو کک ماری تھی۔’میں ذرا بھٹے تک جارہا ہوں ‘ کسی کو مخاطب کیے بغیر،سر پر پگڑی باندھتے ہوئے،کہا تھا،اور مغرب کی سمت جانے والی سڑک پر موٹر سائیکل ڈال دیا تھا۔دس منٹ میں وہ نواز کی بستی پہنچ گیا تھا۔اسے یاد آرہا تھا۔۔۔بستی کے عین بیچ بوہڑ کا درخت۔۔۔ سائیں کی ڈاڑھی کی طرح زمین کی طرف لٹکی شاخیں۔۔چاروں طرف گھر۔۔۔کچھ کچے،کچھ پکے۔۔۔۔۔مٹیالے سرخ رنگ کی دری۔۔۔سبز جانماز۔۔۔۔پھل فروٹ، کپڑے،مڑے تڑے روپوں کی ڈھیری۔۔۔سائیں کی زمین کو سجدہ کرتی ناک۔۔۔۔شاہ صاحب۔۔۔مٹھی۔۔۔کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔ہاں،ایک شخص آیا تھا، سائیں کے پاؤں کوہاتھ لگایاتھا،چلا گیا تھا۔۔۔نہیں وہ یقین سے نہیں کَہ سکتا۔۔۔وہ تو سرجھکائے، سائیں اورشاہ صاحب کے آگے دل کا حال بیان کررہا تھا۔وہ کون تھا؟ اُس کے گاؤں کا ہوتا تو وہ پہچان لیتا۔یوں بھی وہاں اب جانے کہاں کہاں سے لوگ آنے لگے تھے۔اس شخص کے لیے اس کا دل غصے سے بھر گیا۔میرے سامنے تو آئے،میں اس حرامی کو اکرو کے باپ سے پہلے اگلے جہان نہ پہنچاؤں تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ایک خیال اچانک اس کے دھیان میں کوندا۔ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں اپنے باپ کا ہوں وہ ڈٖرگیا،مگر جلد ہی اس نے اپنے ڈر پر قابوپالیا۔ ہاں میرے پاس ثبوت ہے۔ میری ماں ایک شریف عورت تھی۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ پوری وضاحت سے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی،اس کی ماں کی طرح شریف نہیں ہے۔ایک دم اس کے ذہن میں غبار بھر گیا۔
اسے یقین تھا کہ اکرو،اس کا بیٹا نہیں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسے کیوں یقین ہے۔ بس اکرو کا ناک نقشہ اس سے نہیں ملتا۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔ کیا میرا ناک نقشہ میرے اپنے باپ سے ملتاہے؟ اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ مغرب کی نماز کے بعد اس نے باپ کو قبرمیں ڈالا تھا۔ اور ٹارچ کی روشنی میں آخری باراس کا چہرہ دیکھا تھا۔ سانولا،لمبوترا چہرہ،جلد اکڑی ہوئی اور جلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنے باپ کا یہ چہرہ کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ بھول ہی گیا کہ وہ اپنے چہرے کو باپ کے چہرے میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ وہ ڈربھی گیا تھا۔ مرے چہرے میں اپنا ناک نقشہ دیکھنے کی اسے ہمت نہیں پڑرہی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اسے باپ نے ہمیشہ اپنا پتر کہا۔

’ابا،اماں پوچھ رہی ہے روٹی اوپر ہی لے آؤں ‘۔وہ چھوٹے بیٹے اسلم کی آواز پر چونک پڑا۔’ہاں،ادھر ہی لے آ‘۔اس نے جیسے جان چھڑانے کے لیے کہا۔اسے پرانی باتیں یاد کرنے میں باقاعدہ لذت مل رہی تھی۔ آٹھویں یا نویں کے چاند کی دودھیا چاندنی میں اس نے اسلم کی پشت کو دیکھا، جب وہ سیڑھیاں الانگتے ہوئے نیچے جارہا تھا۔ بالکل اکر و کی طرح چلتا ہے۔

اس کا دھیان اس بات پر اٹکا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کیسا ہے؟اسے یاد آیا۔لڑکپن کے دن تھے۔وہ سکول سے آنے کے بعد جانگیہ پہن لیتا تھا،اور گلیوں میں دوڑنے لگتاتھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہراس کا دادادکان کے موڑھے پر بیٹھا تھا۔دو آدمی پاس پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے۔خدا جانے کیا باتیں کررہے تھے۔دکان کے سامنے اینٹوں کے فرش پرپانی کے چھڑکاؤ کیاگیا تھا۔مٹی کی سوندھی باس اٹھ رہی تھی۔ یہ باس اس وقت بھی،اتنے سالوں بعد،اسے محسوس ہورہی تھی۔دادا نے اسے گود میں بٹھا لیا تھا،حالاں کہ اس کا سر دادے کی ناک کو چھو رہا تھا۔’ تمھیں دیکھتے ہی مجھے اپنا دادا یاد آجاتاہے۔تمھاراہاڑ اس کی طرح ہے‘۔دادا نے بھی نہیں بتایا کہ اس کا چہرہ کس سے ملتاہے۔اس کا دھیان ماں کی طرف گیا،لیکن اسے ماں کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی۔ہاں ایک بار اس کی چاچی نے کہا تھا،سماعیل تیرا متھاتیرے چاچے کی طرح ہے۔لیکن میری شکل؟ اتنی دیر میں اسلم روٹی لے آیا تھا۔ وہ چارپائی پر سرہانے کی جانب اٹھ بیٹھا۔ اسلم نے گلاس میں پانی ڈالا،تاکہ وہ ہاتھ دھولے۔ ’اماں پوچھ رہی ہے، چائے ابھی بنائے یا۔۔۔۔؟‘اسلم نے باپ کے ہاتھ دھلواتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں ابھی بنادے‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ کسی سے بات کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس نے شکر کیا کہ اس کا سکول دس میل دور گاؤں میں تھا۔اس کے گاؤں میں چلنے والی آندھی سے ا س کی آنکھوں میں کئی ذرے پڑ گئے تھے،جوکانٹوں کی طرح اسے چبھ رہے تھے۔اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کس طرح نوکری،جسے سب لوگ اپنی آزادی کے لیے پھندا سمجھتے ہیں، ایک پناہ گاہ ہوتی ہے،اتنی بڑی پناہ گاہ کہ ریٹائر منٹ کے بعد لوگ بَولاجاتے ہیں،اور کچھ کو تو سوائے مرنے کا انتظار کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔شیخ اسمٰعیل کو ماسٹر نور یاد آئے جو ریٹائر ہونے کے دو سال بعد اس وقت گزر گئے،جب وہ حج کی تیاری کررہے تھے۔ اس نے سامنے سے آنے والی دھول اڑاتی کاردیکھ کر موٹر سائیکل کو کچے راستے پر ڈالتے ہوئے،دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائر ہونے سے پہلے حج کر لے گا۔ لخ لعنت ای۔ کار کی دھول سے آنکھوں میں پڑنے والے ذروں کی چبھن محسوس کرتے ہوئے،اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔وہ آج اپنی عینک اٹھانا بھول گیا تھا۔ وہ سکول کی پناہ میں آکر اپنی آنکھیں صاف کرنا چاہتا تھا۔ وہ پرائمری سکو ل دوکمروں اور دوہی استادوں پر مشتمل تھا۔دوسرے استاد ہفتے میں صرف دو دن آتے تھے۔آج نہیں آئے تھے۔شیخ اسمٰعیل نے ان کی غیر حاضری پر خدا کا شکر ادا کیا۔ شیخ اسمٰعیل نے دو کلاسوں کوسبق یاد کرنے اور باقی تین کلاسوں کو پہاڑے یاد کرنے کے لیے کہا۔ ہر کلاس کا ایک مانیٹر بنا کر،وہ خود سکول کے صحن میں موجود شیشم کے درخت تلے چارپائی بچھوا کر لیٹ گئے۔اپریل کے شروع کے دنوں میں دھوپ ذرا ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ پانچویں کے ایک طالب علم کو گھر سے چائے بنوالانے کا کہا۔

وہ رات بھر سو نہیں سکاتھا۔ لیٹنے پر انھیں آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئیں،لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لگا کہ جیسے ان کا ذہن خاموش ہونا بھول چکا ہے۔ سنسناہٹ کی آواز سے لگتا تھا کہ کوئی تیز لہر ان کی کھوپڑی کو چٹخاتے ہوئے باہر نکل آئے گی۔بند آنکھوں سے سنسناہٹ کو مسلسل سننا عذاب تھا۔میرے اللہ۔اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔پنج ایکم پنج،پنج دونی دس۔ہم سب ایک ہیں۔ نو پنجا پنتالی،نو چھ چرنجا۔ ہندو،مسلمان کا دشمن ہے۔تن ایکم تن۔ بچوں کی آوازوں سے ذرا دیر کے لیے لگا کہ سنسناہٹ کچھ کم ہوئی ہے۔ استاد جی، اجی نے میری کتاب پھاڑ دتی ہے۔ اس بے غیرت کوایک تھپڑ جڑ دو،اور میرے پاس کوئی شکایت لے کر نہ آئے۔اوئے، بالے جا، شانی ڈسپنسر کی دکان سے ایک پیناڈال لے آ۔جی استاد جی۔

ایک حرامی بچے کا باپ ہونے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہوگا دنیا میں اس نے جیسے اپنی صورتِ حال کو پہچانا۔دوزخ۔ میں نے تو اسی دنیا میں دیکھ لیاہے۔اس کا دماغ کی سنسناہٹ بڑھ گئی۔ شاید بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ اسے خیال آیا۔ پانی کا گلاس منگوا کرایک ہی سانس میں پی لیا۔ ان بچوں میں سے کتنے اپنے باپ کے ہوں گے؟ اس نے ایک نگاہ ان سب بچوں پر ڈالی جو کھڑے ہو کر سبق اور پہاڑے یاد کررہے تھے۔سب کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اس نے چوتھی جماعت کے مانیٹر کو پکارا۔ جاؤ، گلام کمہار کے دونوں بھائیوں کو بلا لاؤ۔ایک پانچویں اور دوسرا شاید تیسری یا دوسری میں ہے۔ جی، استاد جی۔ دونوں بچے ڈرتے ڈرتے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک کی ناک کی بھینی ہے۔ دوسرے کا ماتھا چوڑاہے۔ ایک کی آنکھیں بڑی اورکالی،دوسرے کی سرمئی اور بڑی ہیں۔رنگ میں بھی فرق ہے۔ ایک کاسیاہ اور دوسرے کا گندمی ہے۔ تمھارے باپ کا رنگ کالا ہے یا گورا؟ دونوں طالب علم بوکھلا گئے،انھیں اس سوال کی توقع ہی نہیں تھی۔

استادجی،کالاہے۔ نہیں استاد جی گوراہے۔
ایک بات کہو،کیا کبھی اپنے باپ کو غور سے نہیں دیکھا۔
نہیں استاد جی میں روز دیکھتا ہوں۔ وہ آپ کی طر ح تھوڑے تھوڑے کالے ہیں۔ بڑے نے کہا۔
چھوٹا ڈر گیا،اور خاموش ہوگیا۔
اچھا،اب جاؤ۔

چائے کا گرم گھونٹ حلق میں اترا تو شیخ اسمٰعیل کو اپنی طبیعت ذرا بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے خود کو اندر سمٹتے محسوس کرنا شروع کیا،اوراس کے ساتھ ہی اسے لگا کہ کچھ گرد ہٹنے لگی ہے۔سارے فساد کی جڑہی عورت ہے۔عورت ہی بتا سکتی ہے کہ اس کے پیٹ میں کس کا تخم ہے۔عورت کو تخم سے غرض ہے،کسی کا ہو۔ نکاح کے ساتھ ہو، نکاح کے بغیرہو۔یہ عورت بھی کتنی واہیات ہے،بغیر نکاح کے بھی تخم ٹھہرا لیتی ہے۔تف ہے تجھ پر۔یہ تخم بھی تو نہیں دیکھتا کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔یہ تخم باپ ہے؟۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔۔ہائے کیاتماشا ہے۔۔۔۔میں اور تخم۔۔۔تخم مرد کا،مگر مردہی کو خبر نہیں۔۔۔۔اپنے تخم کی خبر نہیں۔۔۔۔۔یامیرے مالک۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔ماسٹر اسمٰعیل کی زندگی میں یہ پہلا لمحہ تھا،جب اسے اپنے اند ر کی اس تنہائی کا سامنا ہوا،جس میں آدمی اپنی تقدیر سے آگاہ ہوتاہے،اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے کچھ کڑوی حقیقتوں کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ آدمی پر وہی لرزہ طاری ہوتا ہے جو قدیم زمانے میں دیوتاؤں جیسی آسمانی مخلوق یا ان کے قاصدوں کے اچانک سامنے آجانے پر طار ی ہوجایا کرتا تھا۔ ماسٹر اسمٰعیل کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ اس نے صافے سے پونچھتے ہوئے سوچاکہ شاید یہ گرم چائے کا اثر ہے۔اس نے خود کو ایک غار میں محسوس کیا، جہاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک چمک سی پیدا ہوتی تھی اور وہ مزید ڈر جاتاتھا۔اس چمک میں کچھ سوالات اسے غراتے محسوس ہوتے۔ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟میرا باپ ہونا میرے تخم سے ہے؟ اتنی غلیظ شے سے میں پیدا ہوا،اور باپ کی حقیقت اس میں ہے؟ چلیں غلیظ سہی،پر میں اس کو اولاد میں محسوس کیوں نہیں کرسکتا؟ میں تو ان کے چہرے دیکھتا ہوں۔ہونہہ، یہ چہرہ،بال،قد کاٹھ، کھوپڑی سب اسی سے۔۔۔۔واہ میرے مالک،تیرے کام۔۔۔۔آدمی کی یہی اوقات ہے۔۔۔۔باپ اور بچے کا رشتہ۔۔۔۔کہاں سے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اس لمحے تو خیال بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔اگر یہ خیال آجائے کہ دونوں کے بیچ بیٹی یا بیٹا۔۔۔۔تو خدا کی قسم آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے۔۔۔خیال سے یاد آیا۔۔۔۔اس لمحے،صرف اسی لمحے کا خیال تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ہاں شروع شروع میں کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا،لگتا تھا کھوپڑی میں سوچنے والی مشین ہے ہی نہیں۔۔۔۔پھر دو ایک ماہ بعدیہ مشین چلنا شروع ہوئی۔۔۔جسم ایک جگہ مصروف اور مشین دوسری جگہ۔۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کیا یہ سچ نہیں کہ تم ہانپ یہاں رہے ہوتے تھے،مگر دھیان کسی اور کی طرف ہوتا تھا؟۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا دھیان بھی کسی اور کی طرف ہوتا تھا۔۔۔۔اللہ،کتنا ظلم۔۔۔۔کتناچھل ہے۔۔۔خودمیری بانہوں میں اور دھیان کسی اور کا۔۔۔۔اولاد حرامی نہیں ہوگی تو اورکیا؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔قیامت کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔مرد کی بات اور ہے۔۔۔وہ سارا دن باہر دھکے کھاتا ہے،اس لیے اسے نماز میں بھی طرح طرح کے خیال ستاتے رہتے ہیں،مگر عورت تو کہیں نہیں جاتی،پھر اس کا دھیان۔۔۔۔اسی لیے تو میں نے نوکری چھڑوادی تھی۔۔۔۔باہر جاتی رہتی تو جانے کس کس کودیکھ کر اس کا دھیان کرتی۔۔۔یاد آیا۔۔۔۔چھوٹی چاچی مجھ سے کوئی آٹھ دس سال بڑی تھی۔۔۔۔سماعیلے میں چاہتی ہوں میرا بیٹا تیری شکل صورت کا ہو۔۔۔۔وہ ہر وقت میرا چہرہ دیکھتی رہتی اور میرے ماتھے پر چومتی ہوئی مجھے دعائیں دیتی تھی۔۔۔۔اس کا بیٹا واقعی میرا چھوٹا بھائی لگتا ہے۔۔۔۔عورت کے دھیان میں اتنی طاقت !!۔۔۔شیماں کس کا دھیان لاتی رہی ہے۔۔۔۔اگر دھیان سے بچے کی صورت پر اثرپڑ سکتا ہے تو۔۔۔۔آدھا باپ وہ بھی ہوتا ہے۔۔۔میں آدھا باپ ہوں۔۔۔۔۔ماں پوری ہوتی ہے۔۔۔۔پر باپ آدھا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں آدھا باپ بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔بچے کو باپ دینے کا سارا اختیار عورت کے پاس کیوں ہے؟۔۔۔۔قدرت مردکو اندھیرے میں کیوں رکھتی ہے؟۔۔۔۔نہیں،قدرت نہیں،عورت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ قدرت کا نام لینے ہی سے ڈر گیا تھا۔اچانک وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا،اور ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر سکول سے باہر کھیتوں کی طرف چل پڑا،اور ایک پگڈنڈی پر ہولیا۔اس کا دل خوف سے بھرا تھا۔اس کا جی چاہا وہ اپنی ساری طاقت بروے کار لاکر بھاگے۔اس دنیا سے کہیں دور نکل جائے۔ پھر جانے کیا سوچ کر وہ آہستہ آہستہ شمال کی طرف چلنے لگا۔شمال کی جانب دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ کسی انسان پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالنا کتنا آسان ہے۔اس نے سوچا۔مگر قدرت پر ذمہ داری۔۔۔نہیں۔۔۔یہ گستاخی ہوگی۔۔۔نہیں یہ گناہ ہوگا۔۔۔۔اس کے ذہن میں قدرت کا مطلب خدا تھا۔اس نے محسوس کیاکہ اس معاملے میں خدا کاذکر گناہ ہے۔پانی کی کھال کوڈگ بھر کر عبور کرتے ہوئے،اسے گناہ کا خیال آیا، اور اپنے ساتھ خوف کی ایک لہر لے کر آیا،مگر وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکا کہ وہ خدا کے ڈر کی وجہ سے،اس معاملے میں اس کا ذکر نہیں لانا چاہتا تھا،یا اس کے ذہن میں اکرو کا معاملہ ہی گناہ کا تھا،اور اس کے لیے یہ ناممکن تھا کہ گناہ کے ساتھ کہیں بھی خدا کا حوالہ آئے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خدا کا عمل دخل نہیں دیکھتا تھا۔وہ خدا کے بغیر اپنا اور اپنی چھوٹی سی دنیاکا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سچ تو یہ ہے کہ ایسا سوچنے سے بھی وہ ڈرتا تھا، مگر وہ اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ غلطی سے شیماں کے گناہ کو۔۔۔۔۔اسے اکرو کوشیماں کا گناہ کہنے میں عار نہیں تھی۔۔۔۔ خدا کی رضا نہ سمجھ لے۔اس نے جلدی جلدی توبہ کی۔اچانک قدرت۔۔۔۔اور خدا کا خیال،اسے نئی مصیبت میں ڈال گیا۔اسے محسوس ہوا کہ ایک بار کسی بات میں خدا کا ذکر آجائے تو اسے خارج کرنا ممکن نہیں رہتا۔خدا کو کسی بات میں سے خارج کرنے کا خیال ہی اسے سخت کافرانہ محسوس ہونے لگا۔اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اس مصیبت سے نکل سکتا ہے۔ہاں یہ سب خدا کی مرضی تھی۔نہ نہ، توبہ توبہ، حرامی بچے خدا کی مرضی نہیں ہوسکتے۔۔۔لیکن خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا،پھر بچہ بننا۔۔۔ایک عورت خود۔۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔۔اس نے کسی نامعلوم طاقت ور جذبے کے تحت،اچانک ایک کھیت کی مینڈھ پر سر سجدے میں گرادیا،اور پورے خلوص سے استغفار کا ورد کرنا شروع کردیا۔

اس کی غیر موجودگی میں بچے کھیل رہے تھے یالڑ رہے تھے۔ خلاف معمول اس نے انھیں گالی نہیں دی۔انھیں،ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ چائے کا ایک اور کپ تھرموس سے انڈیلا۔یااللہ،مجھے معاف کرنا۔ چائے سے لائچی کی خوشبو کے ساتھ گاڑھے پن کی ذرا سی ناگوار باس آرہی تھی،مگر اسے لگا کہ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے،وہ اپنے خیالات میں گم رہ سکتا ہے۔ اس نے پندرہ سال پہلے کا ایک بھولا بسرا لمحہ یاد کیا۔اسے پرائمری سکول میں استاد بھرتی ہوئے پانچواں سال تھا۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔اسے یاد تھا،اس نے کبھی باپ بننے کی خواہش نہیں کی تھی۔باپ بننا کون سا تیر مارنا ہے، اسے اکثر خیال آتا۔باپ نہ بن کر آدمی کون ساتیر مار لیتا ہے۔ اس کے ساتھی استاد نے ایک بار کہا تھا۔ہاں، صحیح کہا،آپ نے،خود آدمی ہوکر کون سا تیر مارتے ہیں ہم۔ تم تو فلسفی ہوتے جارہے ہو شیخ صاحب! ساتھی استاد نے تبصرہ کیا تھا۔ اسے ان لوگوں پر حیرت ہوتی تھی،جو شادی کے اگلے مہینے ہی میں اس باپ بننے کی خبر سننے کے منتظر رہتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔شاید اگست کا مہینہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایک دن پہلے بارش ہوئی تھی، اور ایسا حبس تھا کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔گاؤں کی دائی،اپنی بڑی بہو کے ساتھ، صبح سے ان کے گھر میں تھی۔دوپہر کو ڈسپنسر نے شیماں کو گلوکوز کی بوتل لگادی تھی۔چار یا پانچ کا ٹائم ہوگا،جب اسے بتایا گیاکہ بیٹا ہوا ہے۔اسے دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے مسجد چلا گیا تھا۔ واپسی پر اس نے بچے کو دیکھاتھا۔اسے یاد آیا جب بچے کو پہلی بار روتے سناتھا،تب اسے لگا کہ وہ باپ بن گیا ہے۔کوئی روتا ہوا بچہ تمھاری گود میں ڈالتا ہے تو تمھیں علم ہوتا ہے کہ تم باپ ہو۔ماں ہونا،اور بات ہے۔ ماں کو کوئی اور نہیں بتاتا کہ تم ماں ہو۔ اس کا جسم اسے بتاتا ہے کہ وہ ماں ہے۔ جسم سے بڑی گواہی کیا ہوسکتی ہے؟اسے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جو دلیل کو جسم کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔وہ پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیااگست کی ایک سہ پہر کے واقعات یاد کررہا تھا،یا ان واقعات کو نئے معانی پہنا رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسے دائی پر ہلکا سا غصہ آیا تھا۔کیاتو مجھے بتائے گی کہ میں اس بچے کا باپ ہوں اپنی حیثیت تو پہچان،احمق کہیں کی۔دائی کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچائے تھے۔تو مجھے اس لیے اس بچے کا باپ بتا رہی ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے بچے کو اس جسم سے بر آمد ہوتے دیکھا ہے،جس پر مجھے قانوناً اختیار حاصل ہے؟تف ہے،اس قانونی اختیار پر بھی۔ ایک جسم پر قانونی اختیار،کیا اس جسم پر۔۔۔۔اور اس کے ذہن۔۔۔۔اس کے دل پرکسی دوسرے کو مکمل اختیاردے سکتا ہے؟۔۔۔۔تو اس لمحے کی گواہی دے سکتی ہے کیا،جب۔۔۔۔جب۔۔اس لمحے کی گواہی کون دے سکتا ہے؟ اس کا دل بے بسی کے احساس سے ڈوبنے لگا۔

اسے یاد آرہا تھا۔ دائی نے کہا تھا ماسٹر تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ وہ ہڑبڑا گیا تھا،اور جلدی جلدی بچے کے کان میں اذان انڈیلی تھی۔لے،آج تو مسلمان ہوگیا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو میں نے بھی مسلمان کیا۔ یا اللہ تیر اشکر ہے،تو نے مجھے یہ توفیق دی۔ تجھے بچے سے زیادہ اسے مسلمان بنانے کی خوشی ہوئی ہے دائی نے چوٹ کی، جو شیرینی کی توقع میں کھڑی تھی۔آج وہ پوری دیانت داری سے اس اوّلین لمحے کو یاد کررہا تھا کہ جب اس نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔ اسے واقعی خوشی نہیں ہوئی تھی۔افسوس بھی نہیں ہوا تھا۔وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سرے سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا تھا،مگر کیا محسوس کیا تھا، اسے یاد نہیں آرہا تھا۔خوشی اور دکھ تو یاد رہتے ہیں،پر کسی شے کا آدمی پر اثر ان دونوں سے ہٹ کر بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہی تو مصیبت ہے کہ اسے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے،نہ اس کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے یاد تھا کہ اسے بچے کو دیکھتے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔یہ سب بچے جب پید اہوتے ہیں تو ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دنوں بعد جب اس کا ناک نقشہ واضح ہوا تو معلوم ہوا کہ۔۔۔۔نہیں،ہر بچے کی اپنی شکل صورت ہوتی ہے،اور تبھی اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ اکرو میرا تخم کیسے ہوسکتاہے،جب وہ میری طرح ہے ہی نہیں۔نیا نیا اس نے چلنا شرو ع کیا تھا۔اس کا دوست ماسٹر احمد آیا تھا۔دونوں بیٹھک میں چائے پی رہے تھے۔اکرو ننگے پاؤں بیٹھک میں آیا تھا۔ماسٹر احمد نے کہا تھا۔اسمٰعیل یار اس کی شکل تم پر تو بالکل نہیں۔اسے یاد آیا۔اسے لگا تھا کہ جیسے کسی نے اس کے دل کی بات سر عام کہہ دی ہے۔ وہ پہلا لمحہ تھا،جب اس نے اپنے اندراکرو کے لیے گھناؤنے پن کو محسو س کیا تھا۔اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا۔ حرامی پتا نہیں کس پر گیا ہے۔اس کے بعد اس نے ان سب مردوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا،جو اس کے گھر آتے تھے،یا جتنے مرد اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ یاد کررہا تھا۔اسے سب مرد مجرم نظر آتے تھے۔اس کی آنکھوں میں عیارانہ چمک پیدا ہوگئی تھی۔اس حرامی نے میرے گھر جنم لے کر میری زندگی جہنم بنادی ہے۔جلد ہی سب گھروالوں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ پہلوٹھی کے بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ،ایک پتھر دل شخص کا ہے۔ شیماں سے کئی بار توتومیں میں ہوچکی تھی۔ تم اسے اس طرح دھتکارتے ہو،جیسے یہ تمھارا بیٹا نہیں شیماں نے ایک شام اسے کہا تھا،جب اس نے اکرم کو اس بات پر تھپڑ جڑدیا تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی بھاگ کرآیا تھا،اوراس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا، اور اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔وہ کہنا چاہتاتھا کہ مجھے کیا پتا یہ کس کا تخم ہے،مگر اپنی ماں کو وہاں موجود پاکر رک گیا تھا۔

آج شیشم تلے چارپائی کوچھاؤں کی طرف کھینچتے ہوئے،وہ اذیت کا زمانہ یاد کررہاتھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک گتھی سلجھنے لگی ہے۔ عورت ہی فساد کی جڑ ہے۔ ہاں عورت،مرد کی دنیا میں فساد پیداکرتی ہے۔ عورت اس دکھ کی الف بے نہیں جانتی جومرد کو کسی حرامی بچے کا باپ ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ماں کے لیے بچے کا جائز ناجائز ہونا،سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں،لیکن باپ ہونے کا مطلب ہی،بچے کا جائز ناجائز ہوناہے،اور اسی کا علم اگر باپ کو نہ ہو۔۔۔تو۔۔۔ وہ روح کی ساری گہرائی سے۔۔۔جس کا پہلا اسے کبھی تجربہ نہیں ہواتھا۔۔۔ اس اذیت کو محسوس کررہا تھاجو اس کے باپ ہونے کی بدترین جہالت کی پیدا کردہ تھی۔شاید وہ اس بدترین جہالت کو بھی سہار جاتا،لیکن اس جہالت کے اندھے کنویں پر طرح طرح کے بھوت منڈلانے لگتے تھے،اور اس کے باپ ہونے کو مسلسل مشکوک بناتے تھے،اور اس کے منھ پر تھوکتے ہوئے،اسے اس کی جہالت کا طعنہ دیتے تھے،اور اس کے مرد ہونے پر لعنت بھیجتے تھے۔وہ دیکھتا اچانک یہ سب بھوت ایستادہ ہوگئے ہیں،اور ایک درز میں سے کسی نامعلوم غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس منظر کی تاب اس کے حواس میں نہیں تھی۔اس کا جی چاہا،وہ دنیا کی سب عورتوں کو قتل کردے۔سب عورتیں،مرد کو دھوکا دے سکتی ہیں،اور مرد بے چارہ،ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔عورت تف ہے تجھ پر،کس کس کا تخم تو قبول کرلیتی ہے۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کا لرزہ ختم ہوگیا تھا،اور اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔مرد کی بیچارگی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے،جب وہ اس سے بے خبر کہ کس کا تخم ہے، بچے کو گود لے کر کہتا ہے کہ تو میرا نام روشن کرے گا۔۔۔ صرف عورت جانتی ہے،اس نے کب سر دھویا تھا۔۔۔مگر وہ بتاتی کب ہے؟ عورت سے زیادہ مگھم کوئی شے نہیں۔ اسے اچانک ایک قصہ یاد آیا۔ کسی پرانی کتاب میں شاید پڑھا تھا،یا کسی نے سنایا تھا۔ ایک عورت تھی۔پرلے درجے کی چالباز۔اس نے سہیلی سے شرط لگائی کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اپنے یار سے ہم بستری کرے گی۔توبہ ! پرانے زمانے میں بھی یہ سب تھا،اس نے سوچا۔اس نے ایک دن بہانہ کیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔خاوند سے کہا کہ بستی کی دائی کو بلا لائے۔ وہ دائی کو پہلے کہہ چکی تھی کہ اس کے پیچھے پیچھے اس کا یار بھی آئے گا۔ دائی آئی۔ عورت نے خاوند سے کہا کہ تم بھی یہیں رکو،کسی دوادارو کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔وہ غریب رک گیا۔دائی نے اسے لٹا کر ایک چادر تان دی۔سر اور سینہ چادر سے باہر تھا۔خاوند اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا۔ چادر کی دوسری طرف دائی بول رہی تھی،اور یار مصروف کار تھا۔ عورت کسی میٹھے درد سے کراہے جارہی تھی۔یہ کہانی یاد کرتے ہوئے، شیخ اسمٰعیل کو لگا کہ اس پر کسی بہت ہی خاص راز کا انکشاف ہواہے۔مسئلہ اکرو نہیں،مسئلہ تُوہے۔اگر تُو ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ بات مجھے آج سے پہلے،اتنے سالوں تک کیوں نہیں سوجھی؟ تم نے کبھی،تنہائی میں دو منٹ کے لیے بھی سوچا،اس سے پہلے کہیں دور سے ایک منحنی سی آواز آئی۔ پر وہ ہے کون؟اس نے فلاسک سے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔میں نے تو نوکری بھی اس طعنے کے بعد چھڑائی تھی کہ سب استانیوں کے یار ہوتے ہیں۔ وہ کون حرامی ہے؟ آخر ان دونوں کے بارے میں آج تک کوئی سن گن کیوں نہ ملی۔ کیا اس نے بھی کوئی چادر تانی تھی،اور میں سرہانے بیٹھارہا اور وہ کام کرتے چلا بنا۔ اس کا دماغ شدید غصے اور ناقابل برداشت بے بسی سے بھر گیا۔

تم سب حرام کے تخم ہو۔دفع ہوجاؤ۔وہ بلاوجہ ان بچوں پر چلایا،جو پڑھنا وڑھنا چھوڑ کرکھیل رہے تھے،اور ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی تھے۔بچے یہ سنتے ہی اپنے بستے اٹھائے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے،اور اس نے بھی پاؤں جوتی میں ڈال دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کووہ سکول سے سیدھا سائیں کے پاس پہنچا۔’ شاہ صاحب،تم نے میرا اچھا تما شا بنایا؟‘اس نے گلہ کیا۔
تم خود ہی تماشا بننا چاہتے ہو؟

میں نے رازداری کی گزارش کی تھی۔ وہ منمنایا۔

کون سا راز؟ وہ کیسا راز ہے جسے تم اپنے سینے میں سنبھال نہیں سکے،اور دوسروں سے کہتے ہو کہ وہ سنبھالیں۔ تم سب لوگ اپنے راز ہی تو بھرے بازار میں لانے کے لیے مررہے ہو؟

میں سمجھا نہیں۔

تم نے بتایا تھا کہ تم بچوں کو پڑھاتے ہو۔ خاک پڑھاتے ہو۔سائیں سے کیا پوچھتے ہو؟ میری بیوی کا یار کون ہے؟ میری بہو کے پیٹ میں کس کا تخم ہے؟ میری بیٹی کو دورے کیوں پڑتے ہیں میرے گھر میں کون تعویذ گاڑتا ہے؟پہلے بیٹے کے وقت میری بیوی کس کے ساتھ سوئی تھی شادی سے پہلے وہ برقع پہن کر کس کے ساتھ جاتی تھی فلاں کے پاس ٹوڈی کہاں سے آئی؟ یہ سارے راز ہی تو تم سر عام لانا چاہتے ہو۔کیا نہیں؟

اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔

اتنے میں سائیں نے کہا۔’ ساواپتر، گیلی اگ‘۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا سائیں نے اکرو کے اصل باپ کا بتادیا؟

اس کا وہی مطلب ہے جو تم سمجھنا چاہتے ہو؟سائیں کو تو خود نہیں پتا وہ کیا کہتے ہیں۔ کان کھول کر سنو،سائیں کی باتوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔میں،تم،سب سائیں کی باتوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہناتے ہیں۔ہم سار ادن یہی تو کام کرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،دوسروں کی ہربات کو اپنی مرضی اور منشا کا مطلب دیتا ہے۔ تم ماسٹر ہو،میرا باپ بھی ماسٹر تھا،اور مجھے بے حد پیا ر کرتا تھا،اسی کے صدقے تمھیں سب سچ بتارہاہوں۔ویسے بھی کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے شہامند سے ایک مہینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس نے تم لوگوں سے جتنے بدلے لینے تھے، لے لیے،تم سے تو خاص بدلہ لیا ہے۔میں ہر بار کسی ایک جگہ سے جاتے ہوئے کسی معقول آدمی کو سچ بتا کر جایا کرتاہوں۔ اگرچہ سب سے مشکل کسی بستی میں معقول آدمی کی تلا ش ہے۔ جو سب سے کم احمق ہو،میں تو اسی کو معقول سمجھتا ہوں۔ ماسٹر اسمٰعیل کو اپنے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔دودنوں سے وہ خود کو بزدل بھی سمجھ رہا تھا۔شاہ صاحب نے بات جاری رکھی۔ سائیں اپنی موج میں خدا جانے کیا بات کہتاہے۔ تم،میں سب اس میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں وہ بات کہوں گا،جو تم سننا چاہتے ہو۔میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔تم سب گدھے ہو۔ اگر تمھیں واقعی شک ہے کہ تمھارے گھر میں کسی اور کا بیٹا ہے تو جاؤٹیسٹ ویسٹ کرواؤ۔سناہے،اب ٹیسٹوں سے کسی کی ولدیت کا اسی طرح پتا چل جاتا ہے،جس طرح پیشاب کے ٹیسٹ سے بیماری کا پتا چل جاتاہے۔
جی مجھے اس ٹیسٹ کا معلوم ہے۔ شایدڈی این اے ٹیسٹ کہتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ایک کہانی دیکھی تھی،جس میں بچہ اپنے اصل والدین سے اس ٹیسٹ کے ذریعے مل گیا تھا۔

پھر یہاں کیوں آئے تھے؟

وہاں اکرو کو ساتھ لے جانا پڑتا،اور اس سے پتا نہیں کیا کیا کہانیاں گھڑی جاتیں۔
وہ کہانیاں تو اب بھی گھڑی گئی ہوں گی؟
شاہ صاحب،خد اکے لیے مجھے یہ بتادیں کہ میرے اور آپ کے درمیان کی بات کوٹھوں کیسے چڑھی؟
تو سچ سنو۔ دنیا میں کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ ہم یہاں مفت نہیں بیٹھے۔ سمجھے؟
ہونہہ۔ شہامند۔
اب جاؤ یہاں سے۔ میں اس سے زیادہ تم سے بات نہیں کرسکتا۔
پر ’ساوا پتر، گیلی اگ‘ کا مطلب؟

تم ماسٹر نہیں گھامڑ ہو۔ سنتے جاؤ۔ اس کا کوئی مطلب نہیں،مگر تم پھر بھی اصرار کرو گے کہ اس کا مطلب تمھیں کوئی بتائے۔اس آدمی کی بات تم جلدی مان لیتے ہو، جو ذرا ساپراسرار ہو، مطلب یہ کہ تمھاری سمجھ سے ذرا اوپر ہو۔تم اپنے برابر اور چھوٹے کی بات سنتے ہو،نہ مانتے ہو۔تم سب کو ایک سائیں،اور ایک شاہ صاحب ہر وقت چاہیے۔مجھے یقین ہے،میں ان دو لفظوں کا جو مطلب بھی بتاؤں گا تم مان جاؤ گے۔میں اگر ان کا مطلب یہ بتاؤں کہ تم ایک گیلی آگ میں جل رہے ہو،اور تمھار ا بیٹا تمھارے چھوٹے بھائی سے ہے جو سبز پتے کی طرح نوجوان ہے،تو تم مان جاؤ گے،اور اس غریب کے جاکر ٹوٹے کردوگے۔اگر تم چند دن پہلے آتے تو میں یہی کہتا۔میرے یہاں بیٹھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم آج آخری دن آئے ہو۔سنو، اس کا مطلب ہے، سبز پتے ہوسکتے ہیں، مگر آگ گیلی نہیں ہوسکتی۔تمھیں اگر آگ جلانی ہے تو سوکھے پتے جمع کرو۔ دشمن کو مارو، اپنوں کو نہیں۔ اب سمجھے؟
ہونہہ۔ کچھ کچھ۔

جاؤ، وہ کام کرو،جسے ٹھیک سمجھتے ہو۔

ماسٹر اسمیٰعیل نے کچھ روپے شاہ صاحب کے ہاتھ پہ رکھے،مصافحہ کیا،اور چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہوچکی تھی،اور اس کے گھر کے دروازے کا بلب جل رہا تھا۔ابھی وہ چند قدم دور تھا کہ اسے کئی ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔ وہ کل رات سے اپنے خیالوں سے باہر نہیں آیا تھا۔ اسے ان آوازوں کے حوالے سے کوئی جستجو نہیں ہوئی۔ اس نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا تو اس کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا آیا۔ فوراً دروازہ کھولا۔ اندر کئی لوگ جمع تھے۔ اچانک سب چپ ہوگئے۔ سب ماسٹر اسمٰعیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ماسٹر اسمٰعیل،ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ چند ثانیوں کا سناٹا،سب کو جان لیوا محسوس ہوا۔ اچانک سب لوگ،ایک طرف ہٹ گئے۔ ماسٹر نے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ چارہائی پر اکرو کو گلوکوز کو بوتل لگی ہوئی تھی۔تم یہی چاہتے تھے ناں۔ شیماں نے چیختے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس کرنے سے قاصر رہا تھا۔ تم کہاں چلے گئے تھے؟ اکرم نے گندم والی گولیاں کھالی تھیں۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا۔پھر؟جیسے وہ کوئی خبر سننے کا منتظر ہو۔وہ کسی انجانے احساس کے تحت اکرم کی طرف بڑھا۔ وہ نیند میں تھا۔ شیماں اس کے سر پر مسلسل ہاتھ پھیرے جارہی تھی،اور دعائیں مانگے جارہی تھی۔ اس نے اکرم کے چہرے کو دیکھا۔ تھوڑا مختلف محسوس ہوا۔ اس نے آج تک اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

سب انتظار کررہے ہیں کہ تم آؤ تو اسے سول ہسپتال لے جائیں۔اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔اس کے چھوٹے بھائی نے کہا۔
وہ خاموشی سے باہر نکلا۔ دس منٹ بعد شیخ جمیل سے اس کی کار مانگ کر آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دنوں بعد اکرم کی حالت بہتر ہوئی۔ ان دودنوں میں ماسٹر اسمٰعیل نے ایک لفظ نہیں بولا۔ دونوں دن وہ ہسپتال میں رہا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی دوائیں میڈیکل سٹور سے خرید لاتا۔زیادہ وقت ہسپتال کی کینٹین پر بیٹھا رہتا،یا او پی ڈی میں پڑے بنچوں پر۔رات کو ہسپتال کے او پی ڈی کے برآمدے میں،پنکھے تلے لیٹ جاتا۔وہ اس بات سے بے نیاز تھا کہ اسے نیند آتی ہے،یا نہیں۔ اس نے ان دودنوں میں ساری نمازیں پڑھیں،مگر کوئی دعا نہیں مانگی۔اس نے گزشتہ چند دنوں میں خاموشی اور تنہائی کو زندگی کی سب سے بڑی،سب سے گھناؤنی،سب سے اہم حقیقت کے طور پر محسوس کیا تھا۔ اس کی خاموشی دیکھ کر سب یہ سمجھنے لگے کہ وہ نادم ہے۔شیماں نے اس سے صرف ایک جملہ کہا کہ وہ کپڑنے بدلنے گھر چلا جائے۔ وہ اس کے جواب میں بھی چپ رہا۔چپ رہنے کی وجہ سے،اسے وہ سب باتیں واضح سنائی دینے لگی تھیں،جو پہلے ریل گاڑی سے نظر آنے والے منظروں کی طرح تیزی سے ذہن میں آتیں اور کوئی اثر ڈالے بغیر گز ر جاتی تھیں۔ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا،اگر اکرم مرگیا۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔۔۔اسے اس میں ذرا بھی شک نہیں ہوا کہ کوئی اور نہیں۔وہ۔ میں قاتل کہلاؤں گا۔۔۔ایک باپ نے اپنے بیٹے کو حرامی سمجھ کر قتل کر ڈالا۔پورے علاقے میں یہ خبر۔۔میں قاتل، میر ابیٹا حرامی۔۔۔میں کس کس کا منھ پکڑوں گا۔۔۔۔اسے قبر میں،مَیں اتاروں گا۔۔۔قاتل قبر کو مٹی دے گا۔۔۔قاتل قل پڑھوائے گا۔۔۔قاتل سے لوگ کہیں گے، شیخ صاحب، امر ربی۔شیخ صاحب سورہ فاتحہ۔اس نے ان سب باتوں کوکسی ردعمل کے بغیر سنا۔ میں قاتل بن کر بھی،اس کا با پ کہلاؤں گا۔۔۔اس کا باپ ہونا،میری تقدیر ہے۔۔۔اور اْس کا قاتل ہونا بھی۔۔۔نہیں یہ تقدیر نہیں۔۔۔اگر پندرہ سال گزر گئے تھے تو باقی سال بھی تو گزر سکتے تھے۔۔۔۔تقدیر اٹل ہے۔۔۔اس کی ولدیت کے خانے میں میرانام آنا اٹل ہے۔

اکرم کی ممکنہ موت کا سوال خود بہ خود اسے آگے کھینچ کے لے جارہا تھا۔وہ ہسپتال کی کینٹین کے درخت کی گھنی چھاؤں میں کرسی پر بیٹھا تھا۔آج کے اخبار کے ادارتی صفحے کے سب مضامین پڑھ چکا تھا۔چائے پیتے ہوئے،سوچے چلا جارہا تھا۔نہیں،اس کے لیے سوچنے کا لفظ مناسب نہیں۔سوچنے میں کوشش کا عمل دخل ہے،جب کہ بغیر کسی کوشش کے، اس کے ذہن میں باتیں آتی چلی جارہی تھیں۔اس کا دل اس تقدس سے بھر گیا تھا، جو کچھ بڑی سچائیوں کے ظاہر ہونے سے از خود پیدا ہوتا ہے،اور یہ بڑی سچائیاں ظاہر ہونے کے لیے صرف بڑے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتیں،بلکہ یہ کسی شخص کی اوقات کو سرے سے دیکھتی ہی نہیں، صرف کچھ مخصوص حالات کا انتظار کرتی ہیں۔شیخ اسمٰعیل انھی مخصوص حالات سے گزررہا تھا۔اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔ کسی کو مارنے کا حق کس کو ہے۔۔۔۔جس نے پیدا نہیں کیا،وہ مارنے کا حق رکھتا ہے؟۔۔۔۔پھر۔۔۔۔کیا باپ ہونے کا مطلب کسی کو زندگی دینا ہے۔۔۔۔۔باپ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔زندگی دینا،یا صرف شناخت۔۔۔۔شناخت کون کرےاکرم کی خود کشی کی کوشش نے اس سوال کا زہر نکال دیا تھا،یا اس کی وہ بزدلی ایک نئے رنگ میں لوٹ آئی تھی،جسے وہ پندرہ سالوں سے اکرم سے نفرت کے پردے میں چھپاتا آیا تھا۔وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کسی کو مارنے کا ارادہ کرنے،اور اسے مرتے ہوئے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے،اتنا بڑا فرق جتناایک بھوت کا خیال کرنے اور اسے حقیقت میں سامنے دیکھنے میں ہوتا ہے۔ اب تک اکرم کو صرف بیٹا سمجھتا آیا تھا،اب پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک آدمی بھی ہے۔آدمی کے طور پر وہ ماں، باپ، بہن،دوست سب رشتوں سے الگ۔۔۔اور آزاد۔۔ایک وجودہے۔آدمی رشتوں کے جال سے باہر بھی وجود رکھتا ہے۔جس طرح درخت کہیں اگتا ہے، آدمی کو بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے جنم لیناہوتا ہے۔ کس کوکھ میں کون جنم لیتا ہے، اس کا فیصلہ۔۔۔بخدا مجھے نہیں معلوم،کون کرتا ہے۔اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔کوکھ بنی کس لیے ہے۔۔۔۔جنم دینے کے لیے۔۔۔کوکھ کے لیے کوئی وجود حرام ہے نہ حلال۔۔۔وہ صرف وجود ہے۔۔۔وجود کوظاہر ہونے کے لیے کوکھ چاہیے۔۔۔وجود کے لیے کوئی کوکھ حرام ہے نہ حلال۔۔۔جس طرح درخت کے لیے کوئی مٹی حلال ہے نہ حرام۔۔۔آدمی اور درخت میں فرق ہی کتناہے مٹی اور عورت ایک ہی کام تو کرتے ہیں۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل شیماں کے احترام سے لبریز ہو گیا ہے۔نہیں،دنیا کی سب عورتوں کے لیے۔وہ چائے کا چوتھا کپ پیتے ہوئے سوچے چلا جارہا تھا۔ جنم لینا ہر وجود کا حق ہے۔یہ حق اسے اس قوت نے دیا ہے، جس کا خیال کرتے ہی،آدمی کا دل بے بسی اور انکسار سے بھرجاتاہے۔ اس قوت کے عمل میں مداخلت کرکے،اس نے کتنا سنگین جرم کیا،اس کا احساس اسے اب ہورہا تھا۔اس قوت کے آگے ماں،باپ اتفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔ہاں یہ اتفاق ہے کہ میں شیخ نعیم کے گھر پیدا ہوا،یہ اتفاق ہے کہ اکرم کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا گیا۔کینٹین پر درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے، چائے پیتے ہوئے،اسے لگا کہ اکرم،میں،شیماں، اسلم سب درختوں کی طرح بھی ہیں۔ درخت کو کسی پہچان کی ضرورت نہیں۔ اس کے بچپن کی زندگی کا سب سے المناک واقعات صرف دوتھے۔ جب اس کا باپ مرا تھا،اور جب اس درخت کو اس کے چچا نے کاٹ دیا تھا،جس کی شاخوں سے پینگ کی رسی باندھ کر تینوں بہن بھائی جھولا جھولتے تھے،اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باندر کلا کا کھیل کھیلتا تھا۔ کٹا ہوا درخت،اسے دنیا کا سب سے وحشت ناک منظر محسوس ہواتھا۔اس منظر کودوبارہ دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی۔ وہ درخت کو چھاؤں اور پھل کی خصوصیت سے الگ ہوکر دیکھ رہا تھا،اور اس خاموشی اور تنہائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کررہا تھا، جو سنگین تھیں، ادھیڑ ڈالنے والی تھیں،روح میں خنجر کی طرح اترتی تھیں،آدمی خود کو لق و دق صحرا میں محسوس کرتا تھا،کبھی کبھی خود کو نوچنے کو بھی جی چاہتا تھامگراس کی روح کے کسی آخری منطقے میں اس بات کا یقین بھی ٹمٹما رہا تھا کہ یہی خاموشی اور تنہائی بدترین جہالت کی اذیت سے نجات دلانے والی بھی ہیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعداپنے گھر میں اس نے اکرم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ماتھا چوما،اورخیرات کی۔

Image: Rabia Zuberi

Categories
فکشن

حکایات ِجدید ومابعد جدید

ستر سال اور غار
وہ ستر سالوں سے غار میں تھا۔یہ بات تھوڑے لوگوں کو معلوم تھی۔ان تھوڑے لوگوں میں اسحاق بھی شامل تھے۔اسحاق نے اس بات کو راز میں رکھا کہ اسے کیسے معلوم ہو اتھا،لیکن اس بات کو راز میں نہیں رکھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ ستر سالوں سے غارمیں ہے۔ ایک بات کو راز رکھنے اور دوسری کو عام کرنے کی خاص وجہ تھی،اور اسے بھی اسحاق ہی جانتے تھے،مگر کبھی کبھی کسی خاص شخص کو بتابھی دیا کرتے تھے۔ ایک دن عصر کے بعد اس کے پاس چار لوگ آئے۔ اسحاق مصلے سے اٹھے اور لکڑی کے تخت پر آبیٹھے۔

 

سائیں بڑی مشکل میں ہیں، دعا فرمایئے۔ جس گاؤں سے آئے ہیں،وہاں کے لوگ چھ ماہ سے ایک پل نہیں سوئے۔ روز ایک لاش کہیں سے آتی ہے،مسجد میں اعلان ہوتاہے،کس کی لاش ہے، سب دوڑے دوڑے آتے ہیں، جو دیکھتا ہے،اسے لگتا ہے کہ اسی کی لاش ہے۔ سارا گاؤں مل کر اسے دفناتاہے، واپس آتاہے،سب ایک دوسرے کا کھانا پکاتے ہیں۔

 

کچھ دیر بعد ستھر پر سارا گاؤں بیٹھتا ہے۔سارا گاؤں،ایک دوسرے سے تعزیت کرتا ہے۔ایک دوسرے کو ’امر ربی‘ کہتا ہے،اور فاتحہ پڑھتا رہتا ہے، ابھی سوئم نہیں ہوپاتا کہ پھر ایک لاش کا اعلان ہوتا ہے۔ چھ ماہ سے یہی کچھ ہورہاہے۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں،اور ڈر رہے ہیں کہ کہیں ہماری لاشیں گاؤں میں نہ آچکی ہیں،اور ایسا نہ ہو کہ وہ سڑ جائیں۔ کچھ دن پہلے غلام محمد گاؤں سے ایک دن کے لیے گئے،واپس آئے تو ان کے گھر میں سڑاند پھیل چکی تھی،انھیں اکیلے ہی اپنی لاش دفنانی پڑی،اور کوئی پرسہ دینے بھی نہیں آیا۔گاؤں میں لاش پہنچے کا کوئی وقت نہیں،نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔کوئی خاص جگہ بھی مقرر نہیں جہاں لاش ملتی ہو۔ اسحاق نے ان کی طرف غور سے دیکھا،حیرت ظاہر کی اور کہا۔ میں نہیں، ایک اور شخص تمھاری مدد کرسکتاہے،جس نے ستر سالوں سے باہر کی دنیانہیں دیکھی،پر سب جانتا ہے کہ باہر کیا ہورہا ہے؟

 

وہ چاروں بہ یک وقت حیران ہوئے،یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

 

ستر سالوں سے غار میں رہنا،یا ایک پل کے لیے باہر سر نکالے بغیر باہر کے بارے میں پل پل کی خبر رکھنا؟

 

سائیں، دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تم اپنی مشکل کا حل چاہتے ہو،یااسرار جاننا چاہتے ہو؟ اسحاق نے تسبیح کے دانوں سے وقفہ لیتے ہوئے کہا۔

 

سائیں دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ فلاں درخت کی ایک شاخ کا پتا کھانے سے آدمی بندر بن جاتا ہے،اور دوسری شاخ کا پتا کھانے سے واپس آدمی بن جاتا ہے تو تم کس شاخ کا پتا حاصل کرنا پسند کرو گے؟ اسحاق نے تسبیح سے ایک اور وقفہ لیا۔

 

سائیں، میں دوسری شاخ کا پتا حاصل کروں گا۔ایک بولا۔

 

سائیں، میں دونوں حاصل کرنے کی خواہش کروں گا۔ دوسرا بولا۔

 

تیسرا چپ رہا۔

 

سائیں، میں اس درخت کا علم حاصل کروں گا۔ چوتھا بولا۔

 

تمھاری مشکل کا حل اب دو آدمیوں کے پاس ہے، ایک وہ جو ابھی چپ ہوا،دوسراجو سترسالوں سے چپ ہے۔ اسحاق بولے۔

 

وہ کیسے؟ باقی تین بولے۔

 

تم تینوں نے ایک ایسی صورتِ حال سے اپنے لیے راستہ منتخب کرنا شرو ع کردیا،جو ’ہے ‘ نہیں، ’ہو سکتی ‘ تھی،یا کبھی ’تھی‘۔ جو چپ رہا،وہ جانتا ہے کہ راستہ وہی چنا جاتا ہے جو ’ہو‘۔ اسحاق بولے۔

 

تینوں نے اس چوتھے کی طرف دیکھا جو چپ تھا۔ وہ اب بولا۔ وہ درخت تو میرے اندر ہے۔پر میں نے کبھی اس کے پتے نہیں کھائے۔
space:

 

پر ہمارے اندر تو ایسا کوئی درخت نہیں۔ تینوں بہ یک وقت آواز ہوکر بولے۔

 

تو اس شخص کے درخت سے اپنی مرضی کا پتا لے لو۔ اس مرتبہ اسحاق مسکرائے۔

 

سائیں، اب ہم نئی مشکل میں ہیں، اس درخت کے پتے حاصل کریں یا اس مشکل کا حل تلاش کریں جو ہمارے گاؤں کو لاحق ہے؟ تینوں بہ یک وقت بولے، چوتھا چپ رہا۔

 

اس کا جواب بھی تمھیں ستر سالوں سے چپ شخص سے ملے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے ایک خوں خوار شیر کا راستہ روک رکھا ہے،جو سب انسانوں کو چیر پھاڑ سکتا ہے۔

 

سائیں گستاخی نہ ہو تو عرض کریں۔ اگر اس نے شیر کا راستہ روک رکھا ہے تو کون ہے جو روز ہماری لاشیں ہمیں بھیجتاہے؟ اب چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تمھیں کیسے یقین ہے کہ وہ تمھاری لاشیں ہیں؟ اسحاق نے الٹا ان سے سوال کیا۔
سائیں،ہم خود انھیں دیکھتے اور دفناتے ہیں۔چاروں بولے۔

 

پھر تم کون ہو؟ اسحاق نے تعجب کیا۔

 

چاروں چپ ہوگئے۔

 

اگر وہ واقعی تمھاری لاشیں ہیں تو تم ایک ہی دفعہ خو دکو کیوں نہیں دفناتے؟ کیا اپنی قبر پر تم مٹی نہیں ڈالتے؟ ہوسکتا ہے،تمھی میں سے کوئی ایک شخص ہو جو روز تمھاری لاش کو پھینک جاتا ہو؟اسحاق نے ایک اور سوال کیا۔

 

نہیں سائیں، ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستان بڑھتا جارہا ہے۔ چاروں بولے۔ سائیں کیا آپ ہمیں اس غار کا پتا بتاسکتے ہیں؟ چاروں نے درخواست کی۔

 

وہ چاروں لمبا،کٹھن سفر طے کرکے بالآخر غار میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

 

یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کی غار میں اسحاق کی لاش پڑی تھی،اور ایک شیر کی گرج انھیں سنائی دی۔

 

اب کیا کریں؟ چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر لاش کو سب نے باری باری غور سے دیکھا کہ کہیں یہ انھی کی لاش تو نہیں،جو اس مرتبہ گاؤں کے بجائے یہاں پہنچ گئی ہے،مگر وہ اسحاق ہی کی لاش تھی۔ انھوں نے اسحاق کا مرا ہوا چہرہ غور سے دیکھا،پھراس کا ماتم کیا،پھر اس کی لاش کو نکالا،اور اپنے قبرستان لے گئے،سب گاؤں والوں نے جنازہ پڑھا۔ قبر تیار کروائی اور دفنا دیا۔

 

اس کے بعد گاؤں میں کوئی لاش نہیں ملی۔
بشن سنگھ مرا نہیں تھا!
اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو حیرت نہیں ہوئی تھی کہ منٹو کے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘کا بشن سنگھ مرا نہیں تھا،بے ہوش ہوا تھا۔ان دیکھنے والوں کے ذہن میں پہلا سوال ہی یہ پیدا ہوا کہ جب بشن سنگھ گرا ہے تو کسی کویہ خیال کیوں نہیں آیا کہ اس کی نبض ہی دیکھ لے۔ہو سکتا ہے،چل رہی ہو۔کیا سب اس کی موت چاہتے تھے ؟ ایک پاگل سے اس قدر ڈرے ہوئے تھے ؟یا اُس کے اِس سوال سے ڈرے ہوئے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟دیکھنے والوں کو یہ سوال پریشان کیے جارہا تھا کہ سب نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ بشن سنگھ جب زمین کے اس ٹکڑے پر اوندھے منھ گراہے، جس کا کوئی نام نہیں تھا،تو وہ مر گیا تھا۔ کیا اوندھے منھ پڑا ہوا آدمی لازماً مرا ہوا ہوتا ہے؟ یہ جو ایک نئی جگہ وجود میں آئی تھی،جس کا کوئی نام نہیں تھا،وہاں کوئی آدمی زندہ نہیں رہ سکتا؟زندہ رہنے کے لیے جگہ ہی کتنی چاہیے ؟بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھاکہ کیا زندہ رہنے والوں کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ وہ مٹی کے کس ٹکڑے پر رہنا پسند کریں گے ؟کیازندہ رہنے کا حق صرف انھی کو ہے جو خاردارتاروں کے اِس طرف یا اُس طرف رہتے ہیں؟زمین پر ان دو طرفوں کے وجود میں آنے کے بعد وہ سب لوگ کیا کریں جن کے لیے زمین سب طرفوں سے بے نیاز ہوتی ہے،اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب آدمی کا ہوتا ہے، مٹی کے ٹکڑے کا نہیں؟

 

دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ بشن سنگھ کی چیخ سن کر دوڑنے والے افسر،چوں کہ تبادلے کے کام سے تھکے ہوئے تھے،کیااس لیے انھیں بشن سنگھ کی نبض دیکھنے کا خیال نہیں آیا؟تھکے ہوئے افسرموت کے سوا کچھ نہیں سوچتے؟ان تھکے ہوئے افسروں نے یہ غورکیوں نہیں کیا تھاکہ بشن سنگھ اوندھے منھ ہی کیوں گرا تھا؟ اوندھے منھ تو وہی گرتا ہے جسے دھکا دیا گیا ہو؟اگر بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھنے والے غور کرنے کی تھوڑی سی زحمت کر لیتے تو اس شخص کی تلاش ضرور کرتے،جس نے بشن سنگھ کو خاردار تاروں پر دھکا دیا تھا۔ہوسکتا ہے،دھکا کئی دن پہلے،کئی ہفتے پہلے، یا پندرہ سال پہلے دیا گیا ہو،مگر لحیم شحیم بشن سنگھ گرا،اب ہو۔ان دنوں دھکے بھی تو بہت لگ رہے تھے۔کچھ دھکا دینے والے،پل بھر میں روپوش ہوجاتے تھے،کچھ ڈھٹائی سے وہیں رہتے تھے، لیکن پروا کسی کو نہیں تھی کہ کوئی کہاں،کب،کیسے گرے،جیسے کالی سیاہ آندھی کمزور جھاڑیوں کو جڑوں سمیت اکھاڑ کر کہیں سے کہیں لا پھینکتی ہے۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کا یہ خیال بھی تھا کہ اسے پندرہ سال پہلے ہی ہوا ؤں کی تبدیلی کا احساس ہوگیا تھا،اس لیے اس نے درخت کی طرح جم کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا،اور اس فیصلے پر اس وقت بھی قائم رہا،جب غضب ناک آندھی نے اس کے کئی ساتھیوں کو خاردارتاروں کی دوسری طرف پٹخ دیا تھا۔اس نے آندھی کے مخالف رخ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسے زندہ دیکھنے والوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اتنے بڑے فیصلے کے لیے پاگل پن ہی چاہیے تھا!

 

بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کی متفقہ رائے تھی کہ اگر اس شخص کو تلاش کرلیا جاتا،اور اس کے ٹرائل کی ہمت کرلی جاتی،جس نے بشن سنگھ کودھکا دیا تھا تو خاردارتاروں کے دونوں طرف توپیں نہ گرجا کرتیں۔ایک بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھ کر،اس سے لاتعلق ہونے کی سزا کروڑوں لوگوں کواتنی کڑی نہ ملتی۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے اس بات پر کافی غور کیا کہ سرحد پر تبادلے کے افسر وں نے بشن سنگھ کی چیخ کو مدو اور پکار کیوں نہ سمجھا، آخری ہچکی ہی کیوں سمجھا؟کیا وہ افسر اس شخص کے ساتھ ملے ہوئے تھے،جس نے بشن سنگھ کو دھکا دیا تھا؟ یا تبادلے کا کام کرنے والوں میں مدد کی پکار اور موت کی چیخ میں فرق کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی؟انھوں نے یہ بھی سوچا کہ آوازوں میں فرق نہ کرسکنے کے نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں؟

 

دیکھنے والے،ایک طرف بشن سنگھ کو دیکھتے تھے،اور دوسری طرف آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ سب کا خیال تھا کہ وہ پہلا سوال یہ کرے گا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ اس نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا۔سب سوچنے لگے کہ وہ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ کہے گا،مگر وہ چپ چاپ سب کو دیکھتا رہا۔سب منتظر تھے کہ بشن سنگھ کیا کہتا ہے۔بشن سنگھ نے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا،جوپندرہ سال تک کھڑے ہونے کی وجہ سے سوج گئی تھیں،اور کئی جگہوں سے پھٹ گئی تھیں،اور ان میں گہرے زخم تھے۔اس نے پہلی مرتبہ ان میں شدید درد محسوس کیا۔اپنے سینے کو دیکھا جس پر خاردار تاروں کے زخم تھے،اور خون اب تک تازہ تھا۔اس نے اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا۔پہلی بار اسے ڈاڑھی کے بال کرخت محسوس ہوئے۔

 

دیکھنے والوں سے رہا نہیں گیا۔سب بہ یک زبان بول اٹھے۔بشن سنگھ کچھ کہو گے نہیں؟
بشن سنگھ نے سب کی طرف غور سے دیکھا۔ اس کی پہچان کا کوئی چہرہ نہیں تھا۔ دیکھنے والے سمجھ گئے کہ وہ خود کو اجنبیوں میں محسوس کررہاہے۔ ایک نوجوان بولا۔ تو ہم سب کو نہیں جانتا،ہم اپنا تعارف کروائے دیتے ہیں۔بشن سنگھ، ہمارا جنم تمھارے ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ سے ہوا ہے،جس میں تو کبھی’ لالٹین‘ ہٹا کر’ پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی در فٹے منھ‘،اور آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان ‘کا اضافہ کردیا کرتا تھا۔تو زندہ ہے،اور دیکھ ہم تیری اوپڑ دی گڑ گڑ کی اولاد ہیں،جو کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ہم بھی کسی کو سمجھ نہیں آئے،پر تو ہمیں سمجھ سکتا ہے۔دوسرے نوجوان نے کہا۔ہم تیری اس چیخ کا جواب بھی ہیں جو اس روز سورج نکلنے سے پہلے تیرے حلق سے نکلی تھی،اور جس سے فلک کا سینہ شق ہوگیا تھا،کیوں کہ تب زمین پر موجود لوگوں کے سینے پتھر ہوچکے تھے۔تیری چیخ آسمانوں میں آوارہ پھرتی تھی،اور کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھی۔تو نے اپنے بچاؤ کے لیے پوری قوت سے وہ چیخ ماری تھی، اس چیخ کو سن کر، ساٹھ سالوں سے دوڑتے ہاپنتے یہاں تک کچھ لوگ آئے ہیں،اورانھوں نے اسے اپنے سینوں میں اسے جگہ دی ہے،ہم انھی کے نقش قدم پر چلتے چلتے یہاں پہنچے ہیں؛بالآخر تیری چیخ کی جلاوطنی ختم ہوئی ہے۔تیسرا نوجوان بولا۔تو نو مینزلینڈ پر ساٹھ سالوں سے پڑا تھا۔ ہم تمھیں وہاں سے اٹھالائے ہیں۔ بشن سنگھ نے سب کی طرف مزید حیرت سے دیکھا۔

 

پہلا نوجوان بولا۔ تو،اینکس کا مطلب تو جانتا ہے ناں،نو مینز لینڈ وہ ہے،جس کا اینکس نہیں ہواتھا،نہ اس وقت ہو سکتا تھا۔اس وقت آپا دھاپی تھی۔ذراچین ملا تو جس کا اینکس نہیں ہوسکتا تھا،اس کے لیے بھی بندوقیں نکلیں۔بشن سنگھ،ہم تمھیں کیسے بتائیں یہاں ہم کیسے پہنچے۔جب تو بے ہوش ہو کر گرا تھا،اس وقت اس جگہ پر جھگڑا نہیں تھا۔اس کے بعد کوئی جگہ،ایک انچ ایسانہیں،کوئی لفظ ایسا نہیں جس پر جھگڑا نہ ہو اہو،جہاں خون نہ گرا ہو،جہاں خون گرنے کا ہر وقت امکان نہ ہو۔تو جہاں موجود ہے،اس پر بھی دونوں طرف بہت جھگڑے ہوئے ہیں۔اب جگہ کا مطلب بھی بدل گیا ہے،اب لفظ،کہانی سب جگہ ہیں،ان پر کس طرح کے جھگڑے ہیں، تو سنے تو تیرے سینے میں اس سے بڑاگھاؤ لگے،جو خاردارتاروں پر گرنے سے تجھے لگا تھا۔اب طرح طرح کی خارداریں یہاں وہاں ہیں،اور کچھ تو ایسی ہیں جو دکھائی بھی نہیں دیتی،اور گھائل روح کو کرتی ہیں۔تو کبھی یہاں کے کسی شہر میں چل پھر کے دیکھ، ہر دیوار پر چکر کھاتی خاردار تاریں ہیں۔ زمانے ہوئے،ہم جنگلوں سے آبادیوں میں آئے تھے،اب سب آبادیاں خاردار تاروں کے جنگل بن گئی ہیں،اور آنکھوں سے لے کر سانسوں میں،اور اس سے بھی آگے دلوں میں ترازو ہوتی ہیں۔

 

بشن سنگھ کی حیرت کچھ کم ہوئی،مگر سخت کرب اس کے چہرے سے عیاں تھا،اور اس کی سفید گرد آلود ڈاڑھی بھیگ گئی تھی۔

 

دوسرا نوجوان بولا۔ بشن سنگھ، ہم سب حیران تھے کہ تمھیں مر دہ سمجھنے والوں نے تیرے انتم سنسکار کابھی نہیں سوچا۔

 

تیسراا نوجوان بولا۔اچھا کیانہیں سوچا، ایک جیتے جاگتے آدمی کو چتا میں ڈال دیتے،اور پھر جھگڑااس بات پر ہوتا کہ لاش کس طرف کے گوردوارہ میں لے جائیں، معلوم نہیں کوئی گوردوارے میں جانے کی اجازت بھی دیتا کہ نہیں،کوئی کیرتن کے لیے بھی ملتا کہ نہیں،پھر اس پربھی جھگڑا ہوتا کہ چتا کے لیے لکڑیاں خاردارو تاروں کے اس طرف کی ہوں،یا اس طرف کی، راکھ ٹوبہ ٹیک سنکھ کے پاس کے دریا میں بہائیں یاکہیں اور۔تم جانتے ہو،اس کے بعدجنگل،دریا، شہرسب کو ہماری طرح مذہب مل گیا۔

 

ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سن کر بشن سنگھ کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی،جیسے پوچھ رہا ہو،تم کس طرف کے ہو؟

 

پہلا نوجوان سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ ہم منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف کے ہیں۔

 

بشن سنگھ ایک مرتبہ پھر حیران ہوا۔وہ تو اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے واقف تھا، یہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں سے آگیا۔ دوسرے نوجوان نے اس کی حیرانی دیکھتے ہوئے کہا،بشن سنگھ، تیرے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تو تجھے نکال دیا تھا، منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تمھیں اپنے دل میں جگہ دی۔بشن سنگھ نے دیدے پھاڑ کر دیکھا۔ تیسرا نوجوان اس کی مشکل سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ،تو جس جگہ گرا تھا، وہ کسی کی نہیں تھی،منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اسی خاک کے ٹکڑے سے اگا تھا۔تجھ سے زیادہ کس کو معلوم ہوگا کہ خاک کا وہ ٹکڑا،اسی دھرتی کا حصہ تھا،مگر خاردار تاروں کے بعد اس ٹکڑے کی حالت اس عفریت کی سی ہوگئی تھی،جس کے خون کاقطرہ زمین پر گرتا تھا تو اس سے نئے عفریت جنم لیتے تھے۔خاک کے عفریت بننے کی کہانی پرانوں زمانوں کی کتابوں میں کہیں نہیں ملتی،صرف منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ملتی ہے،جہاں تجھے ٹھکانہ ملاہے۔منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تم دونوں نئے زمانے کی سب سے بڑی اسطورہ ہو۔دوسرے نوجوان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے،بشن سنگھ کی پنڈلی کو چھوا، جس سے پیپ رِس رہی تھی،جس طرح خون پیپ میں بدل کر تکلیف اور گھن پیدا کرتا ہے،ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ہمیں اجنبی نہ سمجھ بشن سنگھ! تو حیران ہے،مگر ذراسوچ اگر منٹو تجھے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جگہ نہ دیتا تو کسی کو پتا ہی نہ چلتاکہ کوئی بشن سنگھ تھا،اور اس کا ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ تھاجہاں اس کی زمینیں تھیں،اور جہاں اس کی بیٹی روپ کور اور اس کا دوست فضل دین رہتا تھا،اور جو اسے تبادلے سے کچھ دن پہلے ملنے آیا تھا۔تجھے منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہ ملتا توہوسکتا ہے تو بھوت بن جاتا،اور تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے راکھشس جنم لیتے،ہم نہیں۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تجھے بچا لیا اور تجھے ابدی ٹھکانہ بھی مل گیا۔ اس نے آنکھیں جھپکیں۔ جیسے پوچھ رہا ہو، میں اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو چھوڑ کر کسی اور کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کیسے رہ سکتا ہوں، جیسے کَہ رہا ہو، میں یہاں سے نکلنا چاہتاہوں۔پہلا نوجوان اس کا سوال سمجھ گیا۔ بولا۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں،تیرا ابدی ٹھکانہ یہی ہے۔لیکن یہ سن کرتیراکلیجہ منھ کو آئے گا کہ تیرے اس ٹھکانے کو بھی لوگوں نے نہیں بخشا۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اینکس کی کوشش،اِدھر اور اُدھر کے پڑھے لکھے لوگوں نے کی،اور ایک اور طرح کے،تیرے تبادلے کامنصوبہ بنایا؛اس منصوبے میں نومینز لینڈ ہے ہی نہیں۔تیری طرح منٹو غریب کو بھی اسی سرحد پر لے گئے،اور اس کے تبادلے پر لمبی چوڑی بحثیں کیں،شکر ہے کچھ سمجھ دار لوگ بیچ میں آگئے،اور انھوں نے منٹو کو اِدھر یا اُدھر گھسیٹنے کی مزاحمت کی،اور ان کی کوششوں کوتیری زبان میں در فٹے منھ کہا۔

 

بشن سنگھ نے ان تینوں کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا،جیسے کَہ رہا ہومجھ سے تو پہلی مصیبت نہیں جھیلی جاتی،اور تم نئی مصیبتوں کے بیان سے میراسینہ چھلنی کیے دیتے ہو۔ دوسر ا نوجوان بولا۔دیکھو،بشن سنگھ،ہم سب اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جب ایک دفعہ نکل جاتے ہیں تو واپس نہیں جاسکتے،اور جس نئے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جابستے ہیں،وہاں سے نکل نہیں سکتے،اور ہر کسی کو نیا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہیں ملتا۔کتنے ہی لوگ ہیں جو صرف مارے مارے پھرتے ہیں۔وہ بالآخر بھوت بن جاتے ہیں،اور انسانوں کی دنیا سے ہمیشہ کے لیے نکل جاتے ہیں۔تمھیں تونیا ٹوبہ ٹیک سنگھ مل گیا،توامر ہوگیا،ہم جیسے کتنے ہی تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے جنمے،اور جنم لیتے رہیں گے،مگر انھیں نہ تو اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ ملے گا،نہ کسی منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ۔

 

بشن سنگھ کی ڈاڑھی بھیگ گئی۔ پہلے نوجوان نے اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا،اوران میں تیرتی نمی کا مفہوم سمجھا،اور بولا۔میں سمجھ گیا بشن سنگھ،تو اس لیے دکھی ہے کہ تو امر تو ہوگیا،لیکن اپنی سوجی ٹانگوں اوردھکا لگتے سمے،سینے میں لگنے والے زخموں کے ساتھ۔ بشن سنگھ،ابدی زندگی خود ایک سزاہے،لیکن سوجی ٹانگوں اور رستے زخموں کے ساتھ امر ہونا، سزاے عظیم ہے،اور یہ دونوں سزائیں ہم تیرے ساتھ چار پشتوں سے بھگت رہے ہیں!!
کھنڈر کی تختی
اس کھنڈر سے وقتاً فوقتاً کئی چیزیں برآمد ہوتی رہتی تھیں۔ ہڈیاں،سکے،ظروف، تختیاں،ہتھیار اورمورتیاں۔ان سب کو عجائب گھر بھجوا دیا جاتا۔کچھ کو دساور بھی چوری چھپے بیچ دیا جاتااور کچھ کو نئے وولتیے بھاری رقم کے عوض خرید لیتے۔جب کوئی نئی چیز برآمد ہوتی،اور وہ چوری چھپے بیچنے سے بچ رہتی تو اس کی خبراخبار میں چھپ جاتی۔رفتہ رفتہ عجائب گھر میں ایک پورا بڑا کمرہ اس کھنڈر کی نایاب اشیا سے بھر گیا تھا۔ عجائب گھر کی انتظامیہ نے نوٹ کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ سیاح اسی کمرے کو دیکھنے آتے ہیں۔ باقی حصوں کو سرسری دیکھتے ہیں،مگر اسے زیادہ دل چسپی اور حیرت سے دیکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ چھ ماہ گزرگئے،کوئی نئی چیز اس کولیکشن میں شامل نہ ہوئی تو عجائب گھر کی انتظامیہ نے آمدنی میں خاصی کمی محسوس کی۔ اگلے ہفتے اخبارات میں ایک بڑی خبر شایع ہوئی۔ اسی کھنڈر سے ایک تختی برآمد ہوئی ہے،جس پرلکھی گئی عبارت کا کچھ حصہ پڑھ لیا گیا ہے، اور اس کا ترجمہ تختی کے نیچے درج کردیا گیا ہے۔یہ واقعی ایک بڑی خبر تھی۔ یہ پہلی تختی تھی،جس کی عبارت کو پڑھنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں عجائب گھرکی ہزاروں ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔ کچھ مہینوں بعد اخبارات میں یہ خبر شایع ہوتی کہ عبارت کی چند سطریں اور پڑھ لی گئی ہیں۔ یہ دیکھا گیا کہ اب لوگوں کو عجائب گھر کی اشیا سے زیادہ اس عبارت سے دل چسپی پیدا ہوگئی ہے۔عجائب گھر میں آنے والوں کی بڑی تعداد اس چبوترے کے گرد اکٹھی ہوتی ہے جہاں وہ تختی رکھی گئی ہے۔کبھی کبھی دھکم پیل بھی دیکھی جاتی،اور عجائب گھر کے گارڈ کو بلانا پڑتا۔ ڈر تھا کہ کہیں وہ تختی ٹوٹ نہ جائے۔

 

اس تختی کی پوری عبارت کو پڑھنے میں ماہرین کو تقریباً پانچ سال لگے۔ ان پانچ سالوں میں عجائب گھر کی آمدنی اس قدر بڑھی کہ ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں،اور وہاں اس کھنڈر کی اشیا کے حقیقی نظر آنے والے ریپلیکا رکھے گئے۔ ان شاخوں میں اس تختی کی نقل مطابق اصل رکھی گئی،اور جیسے جیسے اس کی عبارت کو پڑھا جاتا رہا، وہاں بھی درج کیا جاتا رہا۔

 

جن اخبارات میں اس کھنڈر کی اشیا سے متعلق خبریں شایع ہوتی تھیں،انھی میں سے کچھ بالکل نئی خبریں بھی شایع ہونے لگیں۔یہ خبریں ان بحثوں کا نتیجہ تھیں،جو اس تختی کی عبارت کے بارے میں لوگوں کے مابین ہوتی تھیں۔ شروع شروع میں صرف لفظی جھگڑے ہوا کرتے تھے، بعد میں ہاتھا پائی کی خبریں آنے لگیں۔ پھر قتل و غارت کی۔

 

اس تختی پر جو کچھ لکھا ہوا ہے،وہ سچ ہورہا ہے۔اس تختی کی پانچویں سطر میں لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا،جب لوگ روٹی، عورت، روپے کی خاطر نہیں، اپنی بات منوانے کی خاطر قتل کیا کریں گے،اور بات منوانے والوں کے کئی فرقے بن جائیں گے۔ آج یہ سچ ہورہا ہے۔ اس سے زیادہ ہماری دریافت کردہ تختی کی سچائی کا ثبوت کیا ہوسکتا ہے ؟عجائب گھر کے کیوریٹر نے اخبارات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔

 

کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کی لوح مقدس کو پڑھنے والے کون لوگ ہیں، ان کا اتا پتا؟ ایک رپورٹر نے سوال کیا۔

 

وہ آثاریات اور لسانیات کے ماہرین ہیں،جن کے نام ایک خاص حکمت سے صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں۔ کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

کیا ہم اس حکمت کے بارے میں جان سکتے ہیں؟ دوسرے رپورٹر نے سوال داغا۔
اگر آپ کو دعویٰ ہے کہ ہم عبارت کا غلط مفہوم بتارہے ہیں تو آپ خود اس عبارت کو پڑ ھ لیں۔کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

اس وضاحت کے بعد کچھ دیر خاموشی رہی۔

 

اس تختی کے عجائب گھر میں آنے سے آپ کا بزنس اور جھگڑے ایک ساتھ بڑھے ہیں۔اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ ایک اور اخبار کے رپورٹر نے پوچھا۔

 

تھینک یو ویری مچ۔ یہ کہہ کر کیوریٹر نے بریفنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

 

پانچ سال بعد۔

 

انھی اخبارت میں یہ خبر چھپی کہ اس کھنڈر سے جو تختیاں برآمد ہوئی تھیں، ان پر سرے سے کچھ لکھا ہو اہی نہیں تھا۔ جس تختی کی عبارت نے پانچ سال تک ایک ہیجان برپا کیے رکھا،وہ کسی اور کھنڈر سے لائی گئی تھی!
شر پسند
شہر میں لوگوں کی اموات بڑھتی جارہی تھیں۔ حاکم شہر کو ان اموات سے پریشانی نہیں تھی۔اسے اپنے ایک مشیر کی اس بات سے اطمینا ن رہتا کہ جو دنیا میں آیا ہے، اس نے دنیا سے جانا ہی ہے،وہ آج جائے یا کل۔جنگ میں مرے یاکسی بیماری سے، حادثے میں جاں بحق ہو یابڑھاپے کی نذ رہو یا اس کی حکم عدولی کے نتیجے میں جان سے جائے،کیا فرق پڑتا ہے۔ حاکم شہر نے کچھ دنوں سے ایک تبدیلی محسوس کی،جس سے اس کے اطمینان میں خلل پڑا۔پہلے لوگ مرتے تھے تو لوگ دوچار دن سوگ مناتے اور پھر معمول کی زندگی شروع کردیتے تھے، مگر اب وہ سوگ کم مناتے تھے،اور باتیں زیادہ کرتے تھے۔کچھ باتیں بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچیں۔ان میں ایک بات یہ تھی کہ جنگ،حادثے،بیماری اور بادشاہ کے حکم سے لوگوں کے مرنے سے فرق پڑتا ہے،مرنے والے کو بھی اور مرنے والے کے لوحقین کو بھی۔ بادشاہ نے یہ بھی سنا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بادشاہ کے قلم کی سیاہی، تقدیر کے قلم کی سیاہی سے مختلف ہے۔ یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہوا،اور ا س نے سب سے پہلے اس شخص کی موت کے پروانے پر دستخط کیے، جس نے بادشاہ تک یہ بات پہنچائی تھی۔ غصے میں بادشاہ کو یاد ہی نہیں رہا کہ جس شخص نے یہ بات بادشاہ تک پہنچائی تھی، وہ اس کا مشیر اورہونے والا داماد تھا۔ جوں ہی اس کی موت کے حکم کی خبر ملکہ تک پہنچی،اس نے بیٹی کے سر کے ہونے والے سائیں کی زندگی کی فریاد کی،اور بادشاہ کو اپنا حکم بدلنا پڑا۔ بادشاہ پہلی مرتبہ تھوڑا سا ڈرا،اور اس نے لوگوں کی موت کے پروانوں پر دست خط سے پہلے کچھ غیبی اشارے سمجھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے سونے کا ایک سکہ لیا،اس کے ایک طرف اپنی مہر کھدوائی،اور دوسری طرف فرشتہ غیبی کی تصویر۔ موت کا فیصلہ کرنے سے پہلے وہ سکہ اچھالتا۔اگر فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آتا تو موت کے حکم نامے پر دست خط کردیتا، ورنہ اپنا فیصلہ مؤخر کردیتا۔ اگلے دن پھر یہی عمل دہراتا۔اگلے چند دنوں میں واقعی فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آجاتا۔بادشاہ خوش تھا کہ وہ تقدیر کے فیصلے کا انتظار اور پابندی کرتا تھا۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ لوگوں کی زبانیں اور چلنے لگی تھیں۔ جیسے جیسے اموات بڑھتی جارہی تھیں، لوگوں کی باتوں میں پہلے دبی دبی شکایت ظاہر ہوئی، پھر ہلکا ہلکا طنزاور غصہ، بعد میں کچھ کچھ احتجاج،اور کچھ عرصہ بعد لوگ بغاوت کرتے ہوئے سڑکوں پرنکلنے لگے۔

 

بادشاہ نے اپنے خاص مشیروں وزیروں کی مجلس بلائی۔ سب سے مشورہ مانگا کہ لوگوں کے احتجاج کو کیسے روکا جائے۔

 

لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کی جائے۔جو خلاف ورزی کریں انھیں گولیوں سے بھون ڈالا جائے۔ ایک مشیر نے رائے دی۔

 

جاسوسوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ بہتر ہوگا ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا جاسوس بنادیا جائے۔سب ایک دوسرے سے ڈرنے لگیں گے۔ دوسرا مشیر بولا۔

 

کچھ خاص لفظ چن لیے جائیں،جیسے حق، ذمہ داری، اختیار،مانگنا، چھیننا، بغاوت،احتجاج جوں ہی کسی شخص کی زبان سے نکلیں،اسے تختہ دار پرشہر کے عین چوک میں کھینچا جائے۔ تیسرے مشیر نے تائید کی۔

 

بادشاہ کو آخری تجویز آدھی پسند آئی۔ باتوں کا جواب باتوں ہی سے دینا عقل مندی ہے۔یہ کہتے ہوئے بادشاہ نے کچھ دیر توقف کیا،اور پھر مجلس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

 

پانچ دنوں بعدشہر میں اپنی طرز کا انوکھا واقعہ ہوا۔ شہر کی سب سے بڑی عباد ت گاہ میں بادشاہ کی سپاہ کے لوگوں نے گھس کر درجنوں لوگوں کو عین اس وقت تہ تیغ کیا،جب وہ عبادت میں مصروف تھے۔جوں ہی یہ واقعہ ہوا، اس کے فوراً بعد بادشاہ کے حکم سے شہر کے ہر چوک چوراہے میں نوبت بجنے لگی،اور بادشاہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جانے لگا کہ شہر کی سب سے بڑی عبادت گاہ میں دشمن ملک کے شرپسند گھس آئے تھے،جن کا صفایا کردیا گیا ہے،اور شہر کو ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچالیا گیا۔اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ شرپسند اگر عبادت گاہوں، گھروں یہاں تک کہ غاروں میں بھی چھپے ہوں گے تو ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔
یہ سنتے ہی پورا شہر بادشاہ کے محل کی طرف امڈ پڑا۔ تھوڑی دیر بعد دوراندیش اور رعایا پرور بادشاہ کے حق میں نعرے گونج رہے تھے۔

 

اس کے بعد شہر میں لوگوں کی اموات پہلے سے بھی بڑھیں، مگر رعایا کی طرف سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس سے بادشاہ کے اطمینان میں خلل ہوتا!!

Image: Dariusz Labuzek

Categories
فکشن

نعمت خانہ – ساتویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہمارا گھر ایک عجیب و غریب اور مثالی مشترکہ خاندان تھا۔ میرے ماں باپ کو چھوڑ کر وہاں سب ہی رہتے تھے۔ ماں میری پیدائش کے کچھ ہی مہینوں بعد چل بسی تھیں۔ اُنھیں پرانی ٹی بی تھی اور باپ پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ میری عمر شاید دوسال رہی ہوگی جب ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ اُن کی گولیوں سے ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ماں باپ کا ذکر ہی کیا کرنا، وہ ایک بند کتاب کی طرح ہے، جسے شاید کبھی نہیں کھولا جا سکے۔

 

مگر اُن کے علاوہ گھر میں افراد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ خاص طور پر چچازاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بھائیوں اور بہنوں کی، دادیہال کے علاوہ شاید میری پوری نانہال بھی یہیں آبسی تھی۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا حالات تھے جس کے سبب میری نانہال کے بہت سے لوگ مثلاً ماموں اور خالہ وغیرہ بھی اس گھر میں رہتے تھے جسے میں اپنا گھر کہہ رہاہوں۔ اصل میں گھر کس کا تھا اور کس کے نام تھا۔ نہ مجھے معلوم تھا اور نہ کبھی یہ دریافت کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوئی۔ مجھے اصل میں کون پال رہا تھا، میری پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری کس کی تھی مجھے یہ بھی نہیں معلوم۔ گاؤں میں ایکڑوں کے حساب سے زمین تھی اور وہاں سے اتنا اناج اور غلّہ آتا تھا کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نہ بچتی تھی۔

 

گھر میں کتنے افراد تھے، میں گن گن کر بتا سکتا ہوں، مگر مانا کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے لیکن آخر اُس پر زور کیوں ڈالاجائے۔ دماغ کے ایک چھوٹے سے حصّے میں اگر اتنی تصویریں زبردستی اکٹھا کرکے اُن کے نام لے لے کر گنایاجائے تو اس سے نہ تو اُن تصویروں کا کوئی بھلا ہوگا نہ دماغ کا۔ بہتر یہی ہے کہ میں پیچھے پیچھے آنے والے اُس وفادارکتّے کی چاپ ہی سنوں۔ اِدھر اُدھر کی دوسری آہٹوں کو نظرانداز کر دوں۔

 

انجم باجی میری خالہ زاد بہن تھیں۔ عمر میں مجھ سے کم از کم دس سال بڑی ضرور رہی ہوںگی۔ اس بھرے پرے گھر میں شاید وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں۔ چھ سات سال کی عمر تک تو وہ مجھے گود میں لیے لیے بھی گھوما کرتیں اور باہری دالان کے داسے کے کنڈے میں لٹکے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس مجھے لے جاتیں۔ اور طوطے سے کہتیں، “لو گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔” طوطا بڑا باتونی تھا، نقل اُتارنے کا ماہر، سُنبل اُس کا نام تھا۔ دو تین منٹ تک تو طوطا خاموشی سے اپنی آنکھیں گھما گھماکر ہم دونوں کو دیکھتا رہتا، پھر فوراً ہی اپنی واضح طور پر توتلی مگر غیر انسانی آواز میں بولتا۔

 

“ گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آ گئے”
انجم باجی ایک ہری مرچ میرے ہاتھوں میں تھما کر کہتیں۔
“لو سنبل کو مرچ کھلاؤ۔”

 

مرچ کو چونچ میں دبائے دبائے وہ ہم دونوں کو دیکھتا رہتا۔ پھرانجم باجی اسی طرح مجھے گود میں لیے لیے نل پر چلی جاتیں، اور اُس سے ملی دیوار پر مٹّی کے وہ گھر دِکھانے لگتیں جو بھڑیں بنا رہی تھیں۔

 

انجم باجی بہت گوری اور دُبلی پتلی نازک سی لڑکی تھیں۔ تب تو نہیں مگر بہت بعد میں غصّے کے کچھ کمزور اور کمینے لمحات میں، میں نے جب اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنا چاہا تو یہ ممکن ہی نہ ہوا۔ شاید کپڑوں کے اندر اُن کا جسم تھا ہی نہیں، یا کپڑے اُتارتے ہی اُن کے بدن کے تمام نشیب و فراز دھواں دھواں ہوکر تحلیل ہوجاتے تھے۔

 

اُن کے گورے بدن میں ایک پیلاہٹ تھی، وہ جس رنگ کا بھی کپڑا پہنتیں، اُس پر مجھے پیلے پن کی ایک پاکیزہ مگرپُراسرار سی چھوٹ پڑتی ہمیشہ محسوس ہوتی۔

 

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کسی شخص میں بس کوئی ایک ہی چیز نظر آتی ہے۔ آخر آنکھوں کی اپنی حماقت بھی تو ہوتی ہے یا اُن کا اپنا انفرادی المیہ۔

 

میری آنکھوں کو نہ تواُن کی آنکھیں کبھی صاف طورپرنظر آئیں اورنہ ناک یا ہونٹ اور جہاں تک گردن کے نیچے کا سوال ہے تواُن کے دوپٹے کا اُبھار مجھے دلکش تو لگتا تھا مگر جتنا دلکش لگتا تھا اُتنا ہی فطری اور عام بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ عورت اور مرد کا فرق تھا جس طرح ایک میز کرسی سے مختلف ہوتی ہے یا ایک کتاب پتھّر کی سل سے۔ اس لیے میرے اندر انجم باجی کے سینے کے اُبھاروں کے بارے میں کوئی تجسس نہ تھا۔ یاد رکھئے جنسی معاملات میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

 

اس لیے مجھے تو صرف ان کی گوری، اجلی، صاف ستھری رنگت ہی نظر آتی تھی۔ پتہ نہیں وہ خوبصورت تھیں یا یونہی سی تھیں۔ میں اپنی فطری یادداشت کو اُلجھن میں کیوں مبتلا کروں؟ میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

 

مجھے انجم باجی سے محبت ہو گئی تھی، بچپن میں، جب میں نیکر پہنتا تھا اور زیر ناف میرے بال بھی نہیں اُگے تھے، مگر میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اپنی ماہیت میں بچپن کا یہ عشق، جوانی بلکہ کسی بوڑھے بوالہوس کے عشق سے مختلف نہ تھا۔ باورچی خانے میں رکھے کچّے گوشت کے مانند جس پر گرم مسالوں کی تہہ نہ لگی ہو اور جو ابھی ہانڈی میں اُبلنے کے لیے نہ رکھا گیا ہو۔

 

محبت اورنفرت میں ایک بڑا واضح اور خطرناک فرق ہے۔ محبت کی شکل صورت، اس کا جسم، اس کے خطوط اور خدوخال یاد نہیں رہتے، مگر نفرت ہمیشہ ایک جسم اور چہرہ رکھتی ہے۔
آفتا ب بھائی سے مجھے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے،چاہے انھوں نے مجھے کتنی بھی ٹافیاں اور قلاقند کھلائے ہوں۔ آفتاب بھائی لمبے چوڑے جسم کے مالک تھے، رنگت اُن کی بھی گوری تھی مگر وہ انجم باجی کی طرح ایک پاکیزہ پیلی سفیدی نہ تھی۔ اُن کی جلد کی سفیدی میں لال رنگ چھپا ہوا تھا۔ ایسی سفیدی ہمیشہ اندر سے داغ دار اور تشدّد کی سیاہی سے پُتی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا پتہ بھلے ہی بعد میں چلتا ہو۔

 

اُن کی آنکھیں بھوری اوربے رحم تھیں اور دہانہ کسی بل ڈاگ سے ملتا جلتا تھا۔ جس کو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور مردانہ پن کی شان سمجھتے تھے۔

 

آفتاب بھائی، انجم باجی کے پھوپھی زاد بھائی تھے تومیرے کون ہوئے؟ پتہ نہیں بڑی گڑبڑ ہے۔ نہ جانے کیوں اس گھر میں اتنے عم زاد آکر کیوں اکٹھا ہوگئے تھے؟ غنیمت یہی تھا کہ یہاں بندروں نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تھا ورنہ وہ بھی ان تمام زادوں میں شامل ہو جاتے تو کوئی بعید نہ تھا۔
یقیناً آفتاب بھائی میں ایسی کوئی شے نہیں تھی جو اُن کے جسم سے ماورا ہونے کا امکان رکھتی۔ وہ پیٹو تھے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے تھے۔ جس کے فوراً بعد مٹھی میں سگریٹ داب کر لگاتار گہرے گہرے کش کھینچتے۔ سگریٹ کی بو اُن کے آس پاس ہونے کی علامت تھی۔
آفتاب بھائی سے میری نفرت کی شدّت میں اُس دن غیر معمولی اضافہ ہوگیا جب میں نے انجم باجی کی سانسوں سے اُس سگریٹ کی بو آتی ہوئی محسوس کی۔

 

میں بڑا ہورہا تھا یا یہ کہاجاسکتا ہے کہ میرے جسم کے اندر عمر کی مقدار بڑھ رہی تھی۔ جس سے جسم آہستہ آہستہ۔ آخر کا ربڑھاپے کی طرف بلکہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

 

اب انجم باجی مجھے گود میں نہیں لیتی تھیں۔ نیکر میں میری پنڈلیاں اور رانیں موٹی موٹی ہو گئی تھیں۔ میں واقعی موٹا ہورہاتھا اور زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزرا کرتا تھا۔ باورچی خانے میں ایک دن جب میں شکر میں دیسی گھی ڈال کر اُسے باسی روٹی کے ساتھ کھا رہا تھا تو میں نے دیکھا۔

 

میں نے باورچی خانے کی جالی میں سے زینے کی چوتھی سیڑھی پر دیکھا، آفتاب بھائی انجم باجی کو اپنے ہاتھ سے کیک کھلا رہے تھے۔

 

میرے ہاتھ سے روٹی گر گئی۔

 

انجم باجی کا منھ چل رہا تھا۔ میں نے شاید پہلی بار اُن کا منہ کھلا دیکھا۔ وہ جلدی جلدی، گھبرا گھبرا کر کیک نگل رہی تھیں۔ میں نے پہلی بار اُن کے حلق کی حرکت اور اُس کی ہڈی کو دیکھا۔ شدید قسم کے غم و غصّے نے مجھے آکر گھیر لیا۔

 

دوپہر تھی، مئی کی تپتی ہوئی دوپہر۔ باورچی خانے کی جالیوں میں زینے سے ہوکر آتی ہوئی لُو ہوک رہی تھی۔ آفتاب بھائی سے مجھے خوف سا محسوس ہوا اور اِس بات پر افسوس بھی کہ اب تک میں نے یہ غور کیوں نہیں کیا تھا کہ انجم باجی کے پیٹ میں بھی آنتیں تھیں۔ نہ جانے کتنی بار میں نے اُن کے ہاتھ ہی کا پکا ہوا پلاؤ کھایا تھا۔ وہ بہت نفیس پلاؤ پکاتی تھیں، جس کا رنگ خود اُن کی اپنی رنگت سے ملتا جلتاہوتا۔ اور اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا پتلا شوربہ جسے میں تام چینی کی سفید رکابی میں اُتار کر بڑے اہتمام سے کھاتا تھا، جس دن بھی انجم باجی کے کھانا پکانے کی باری آتی، میں پڑھنا لکھنا چھوڑ کر باورچی خانے میں اُن کے ساتھ ہی کھڑا رہتا۔ مجھے اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ہی اچھا لگتا تھا اور باورچی خانہ بھی اُس وقت مجھے دنیا کا سب سے حسین مقام معلوم ہوتا تھا جب وہاں انجم باجی کچھ کام کر رہی ہوتیں۔توا رنگ برنگی چنگاریاں بکھیرتے ہوئے ہنسنے لگتا جب وہ روٹیاں پکاتیں۔

 

بارہا میں نے انجم باجی کو کھانا کھاتے دیکھا تھا، مگر نہ جانے کیوں مجھے کبھی اُن کے جسم میں (اگر اُن کا کوئی جسم تھا) آنتوں کے ہونے کا رتّی برابر شائبہ تک نہ ہوا۔

 

مگر آج مئی کی اس سنسان گرم، تپتی ہوئی دوپہر میں۔ جب آسمان پر چیل انڈا چھوڑ رہی تھی، اچانک انجم باجی کے پیٹ میں نہ جانے کہاں سے آنتیں آگئیں۔ پل بھر کو آفتاب بھائی مجھے وہ نفرت انگیز چیل نظرآئے جو سڑک کے کنارے سڑتی ہوئی کسی اوجھڑی کو اپنی چونچ میں دبائے وہاں اُڑ رہی تھی۔

 

یہ غلیظ اور کراہیت سے بھری ہوئی اوجھڑی کسی بھی پاک صاف مقام پر، پاکیزہ جسم پر گر سکتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں چولہے کی بھو بل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔

 

میں نے زینے سے آتی ہوئی سرگوشی سنی۔

 

“باورچی خانے میں گڈّو میاں ہیں۔” انجم باجی تھیں۔

 

“وہ احمق موٹا ہوتا جارہاہے، سب اُسے گڈّو میاں کیوں کہتے ہیں، اُس کا اصل نام حفیظ ہے، حفیظ ہی کہنا چاہئیے۔” آفتاب بھائی ہنسے۔

 

“ابھی چھوٹا ہے، بن ماں باپ کی اولاد— وہ گڈّو ہی ہے۔ گڈّو میاں۔” انجم باجی کے لہجے میں پیار تھا۔

 

“یہ چھوٹاہے۔۔۔ اب کیا بتاؤں اُس دن جب یہ سورہا تھا۔ میں نے دیکھا۔۔۔” آفتاب بھائی نے کچھ آہستہ سے کہا تھا۔ یا جملہ غیر مکمل چھوڑ دیا تھا

 

“شرم نہیں آتی۔” انجم باجی غصے سے بولیں۔

 

اُس کے بعد سناٹا چھا گیا۔ میں چولہے کی بھوبل کے پاس اُسی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں اب رو نہیں رہاتھا۔ میرے کان آفتاب بھائی کے غیر مکمل جملے کے فحش پن کومکمل کر رہے تھے۔

 

اسی لیے میں نے کہا تھا کہ نفرت کا جسم بھی ہوتا ہے۔ اور چہرہ بھی۔ میں اپنی یادداشتوں پر تبصرہ کرتے رہنے کے لیے بھی مجبور ہوں۔ آخر جسم میں اتنی عمر آگئی ہے اور دماغ کے خلیے کمزور ہوکر مٹ رہے ہیں۔ میں جھکّی ہوتا جارہا ہوں۔

 

آفتاب بھائی اب میرے لیے سراپا نفرت کی ایک رسّی تھے جس سے میں بندھا ہوا تھا۔ اس رسّی سے بندھے ہوئے کسی وحشی جانور کی طرح میں انجم باجی کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔

 

وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں یا جان بوجھ کر انجان تھیں۔ اُنھیں دنوں اُنہوںنے مجھے اپنے ہاتھوں سے لال رنگ کا ایک سویٹر بھی بُن کر دیا تھا۔ میں نے وہ سویٹر آج تک نہیں پہنا، وہ اُسی طرح اُس لوہے کے کالے صندوق میں بند ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے سنا تھاکہ وہ میرے ماں باپ کا صندوق تھا۔

 

میں بظاہر اپنا وقت اسکول کی کتابوں میں گزارنے لگا۔ میں نے انجم باجی کے پاس جانا کم کر دیا۔

 

بس کبھی کبھی میں طوطے کے پنجرے کے سامنے جاکر اُداس کھڑا ہوجاتا۔ طوطا دیر تک آنکھیں گھما گھما کر مجھے دیکھتا اور پھر زو رزور سے بولنا شروع کر دیتا۔

 

“گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔ “
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھٹی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اپنی یادداشت پر اتنا غرور ہونے کے باوجود افسوس، میں یہ بتانا توبھول ہی گیا کہ ہمارے گھر میں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔

 

اس گھر میں، باورچی خانہ کبھی کبھی کھسک کر چاروں طرف رینگنے لگتا تھا۔ ٹین میں داسے پر لٹکا ہوا چھینکا جس میں زیادہ تر دودھ کا برتن ہوتا۔ (برابر میں سنبل کا پنجرہ جھولتا رہتا تھا) کبھی کبھی چھینکے میں سالن بھی ہوتا۔

 

داسے کے دوسرے سرے پر مدّھم اور اُداس روشنی والی لالٹین۔ اس روشنی میں چھینکے کا سایہ ہوا میں آہستہ آہستہ ڈولتا تھا۔ اُس وقت آنگن میں پُراسرار طریقے سے غیر مرئی اشیا اکٹھا ہوتی جاتی تھیں۔ کہیں کسی چھینکے میں اُبلا ہوا گوشت لٹکا تھا، کہیں درختوں کی کیاری کے پاس رکھے ایک چھوٹے سے لکڑی کے اسٹول پر بچی ہوئی روٹیاں ڈلیا میں رکھی تھیں۔ باورچی خانے کے جھوٹے برتن نل کی حوضیہ میں پڑے تھے۔ گھر میں کتّا کوئی نہ تھا ا ور بلّیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ توپاک صاف جانور تھے۔

 

آنگن میں کھانوں کی بے ہنگم ڈولتی اور کانپتی ہوئی پرچھائیاں جو چاندنی راتوں میں اپنی سیاہ لکیروں کی حدود سے، پُراسرار اندازمیں ماورا ہوجانے کے درپے تھیں۔ اور ایک نعمت خانہ بھی تو تھا۔باہر والے دالان میں، اندر کی طرف، مغربی دیوار سے لگا ہوا نعمت خانے میں ایک سیاہ جالی تھی۔ سیاہ تو وہ دُھول دھکّڑ سے ہو گئی تھی۔ جالی کے چھید، دھول خاک اور میل سے بند ہوچکے تھے۔ نعمت خانے کا لکڑی کا ڈھانچہ جگہ جگہ سے گل رہا تھا۔ کبھی لکڑی پر سفید رنگ پوتا گیا تھا، مگر اب یہ سفیدی بھی کلجماہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی۔

 

نعمت خانے میں انڈے، ڈبل روٹی، بڑے بڑے گول بسکٹ، کچھ پھل مثلاً زیادہ تر تو امرود یا خربوزے وغیرہ رکھے رہتے تھے۔ سیب اور انار کبھی کبھی ہی آتے اور وہ بھی شاید بیمار لوگوں کے لیے پتہ نہیں اُس کو نعمت خانہ کیوں کہتے تھے۔ مجھے تو وہ نعمت خانہ صرف اسی روز محسوس ہوتا تھا جب اُس میں شاہی ٹکڑے یا فیرینی کے پیالے رکھے ہوتے تھے۔ یا پھر کوئی مٹھائی۔ مگر یہ اشیا نعمت خانے کو روز روز کہاں نصیب تھیں۔

 

تو بس کھانا، کھانا اور کھانا۔ پورا گھر گویا مٹّی، گارے اور اینٹوںسے نہ بن کر پیاز، لہسن، ہلدی، دھنیہ، گرم مصالحوں اور گوشت اور ہڈیوں سے تعمیر ہواتھا۔ سارا سفر باورچی خانے سے شروع ہوتا تھا اور باورچی خانے پر ہی ختم ہوتا تھا۔

 

ساری محبت، ساری نفرت، ہر قسم کی لگاوٹ اور ہر قسم کا تشدّد باورچی خانے کے چولہے کی راکھ اور دھوئیں سے ہی نکل نکل کر گھر کے باقی حصوں یعنی برآمدے، دالان اور کوٹھریوں اور دروازوں تک پہنچتے تھے۔ باورچی خانہ ہی انسانوں کا گڑھا ہوا وہ متن تھا جس میں ہزار ہا معنی پوشیدہ تھے بلکہ معنی لگاتار پیدا ہوتے رہتے تھے۔

 

شادی، موت، ہر ہنگامے پر باورچی خانہ کا ایک انفرادی کردار ہوا کرتا تھا۔ نیاز، نذر اور تیوہار بس اِسی مقام پر اپنی معنویت کا مرکز رکھتے تھے۔ رَت جگوں کے گلگلے، کونڈوں کی پوریاں، کھیر، سویّاں اور موت کا حلوہ، سب اپنے ذائقے اور خوشبو کے لیے اسی کے مرہونِ منت تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ بقیہ تمام گھر، اُس کے آگے کمزور اور بے بس نظر آتا تھا۔ وہ قوت کا مرکز تھا۔ نئے زمانے کے جدید کچن کا باورچی خانوں کی عظیم مگر بھیانک روایت سے بظاہر کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔

 

چندرگُپت موریہ کے زمانے سے لے کر مغلیہ دورِ حکومت کے اختتام تک تاریخ اِس امر کی شاہد ہے کہ رسوئی اور باورچی خانے کا رول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت اہم مگر خفیہ نوعیت کا رہاہے۔ مہاتما بُدھ کی موت بھی بھکشا میں ملے ہوئے سڑے ہوئے گوشت کے کھانے سے ہی ہوئی تھی۔

 

باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔

 

منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔

 

مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟

 

آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!

 

ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔

 

مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔

 

بچپن سے ہی مجھے باورچی خانے سے ایک اجنبی اور نامانوس بُو کے آتے رہنے کا احساس تھا۔ یہ بُو ہلدی، مرچ، پیاز اور لہسن اور سرسوںکے تیل کے بگھار سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اُن سے الگ تھی۔ یہ زیادہ بھاری تھی اور اِسی لیے اس بُو کے سالمے بقیہ سے الگ اپنی ایک تہہ بناتے تھے۔ وہ ان سب اشیا کی بو میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔

 

وہ نامانوس بو کس چیز کی تھی؟

 

تب تو نہیں مگر اب اِس عمر میں، تقریباً بوڑھا ہوجانے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درندوں اور جنگلی جانوروںکے جسم سے آنے والی بو تھی۔

 

باورچی خانہ، آخر سرکس کا ایک تنبو بھی تو تھا۔

 

سرکس کے اس تنبو میں، ایک مسخرہ بن کر جیتے جیتے اور جانوروں کی بدبوئوں کے ساتھ رہ کر میری روح کی تمام خوشبو گھل گھل کر ختم ہوگئی۔

 

شایداب بھی میں کچھ جانوروں کے ساتھ رہتاہوں۔ اُن کا رِنگ ماسٹر اگرچہ مجھے قابو نہیں کرتا مگر میں اپنے آپ ہی اُس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں اُس کے چہرے اور اُس کے کوڑے دونوں ہی کے مزاج پہچانتا ہوں۔

 

میں جانوروں کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھ رہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ہی میرا آب و دانہ ہے اوراُن کے ساتھ ہی میرا پیشاب پاخانہ۔

 

میں اِن سب سے اور باورچی خانے سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ کوئی بھی نہیں جاسکتا۔
انسان کہیں نہیں جاتا۔ سب چیزیں اُس کے پاس آتی ہیں، بالکل آنے والے کل کی طرح۔
آنے والا کل، شاید صرف اُس جسم کے لیے نہ ہو جو آنتوں اور معدے سے خالی ہو۔

 

مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔ اور بھوک ایک آگ۔ پیٹ کی آگ کے لیے کھانا چاہئیے۔ کھانا کھانا ایک یگیہ سے مماثل ہے۔

 

ویسے بات کچھ خاص نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں استعارے سے کتراتا ہوں، مجھے تشبیہ پسند ہے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
فکشن

پھر وہی کہانی

یہ روشن چہرے اور ہنستی آنکھوں والا نوجوان مرنے والوں میں سب سے عجیب تھا۔ یہ بس سکرین کے سامنے آیا تین دفعہ مسکرا کے پلکیں جھکائیں اور کنپٹی پہ پستول رکھ کہ گولی چلا دی۔ اب تک سینکڑوں لوگوں نے میری آنکھوں کہ سامنے جان دی تھی مگر اتنا خاموش تو کوئی بھی نہیں تھا۔ جب سے میں نے انٹرنیٹ پر لائیو خودکشی کے لئے ویب سائٹ بنائی تھی روز درجنوں لوگ براہ ۔ راست خودکشی کیا کرتے تھے۔ اب تو روزانہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ میری ویب سائیٹ پر آتے اور خودکشی کے براہ ِ راست مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ تو بہت چیختے چلاتے اور اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے اور مر کے اپنے تئیں معاشرے سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ کچھ کا انتقام تو محض اپنے چاہنے والوں تک محدود ہوتا تھا۔ کچھ بہادر لوگ تھے وہ نہایت کُھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور مر جاتے۔ ایک طبقہ ان دانشوروں کا تھا جو سکرین پہ آ کر زندگی کی بے ثباتی کا رونا روتے اور موت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے۔ مجھے یہ واعظ طبع لوگ انتہائی مکروہ لگتے تھے۔ یہ خود کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے تھے حالانکہ موت کے خوف سے ان کے چہرے کی سفیدی بڑھ جاتی ان کا گلا بار بار خشک ہو جاتا اور پستول اُٹھاتے وقت ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ بوڑھے بھی انتہائی خبیث ہوتے تھے جو اب زندگی کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لئے مر جاتے مگر مرنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو تلخ کرنے کی کوشش کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان سے اپنے ہی بچوں کی جوانی اور خوشی برداشت نہ ہوتی تھی یہ ٹھہر ٹھہر کر مرتے تھے جیسے یہ ٹھہر ٹھہر کر جیے تھے۔

 

مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ چرچ اسے مذہب کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتا تھا۔ وکلا اسے قانونی طور پر غلط سمجھتے تھے۔ سماجی کارکنوں کے حلقے میں میری ویب سائٹ اور میں دونوں ہی معتوب تھے۔ یہاں تک کہ میرا اپنا بیٹا یہ سمجھتا تھا کہ میں معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ وہ آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے انسان کا مسائل کا حل آرٹ میں ہے۔ آج کے انسان کو روحانی سکون کی ضرورت ہے جب کہ میں سمجھتا تھا کہ آج کے انسان کو مکمل آزادی کی ضرورت ہے۔ میں ایک مسیحا ہوں جو حقیقی معنوں میں روح کو آزاد کروا رہا ہوں۔ آپ لوگوں کی طرح میرے بیٹے کو بھی لگتا تھا کہ اس کہانی کا منطقی انجام یہی ہونا ہے کہ ایک دن مُردہ دل کے ساتھ میں اسی ویب سائٹ پر بیٹھ کر اپنی موت کی خبر سناوں گا۔ پر یقین جانئے کہ اس کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا میں ایک سیدھا سادھا کاروباری آدمی ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی میں خبط ۔عظمت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔

 

بالاخر تنگ نظروں سے انسانوں کی یہ آزادی برداشت نہ ہوئی انہوں نے میری ویب سائٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ میں خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہوں اور میری ویب سائٹ معاشرے کے لئے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ میں عدالت میں ہونے والی تما م جرح پر بس مسکراتا رہتا ہوں۔ عدالت میرے خلاف فیصلہ سنانے والی تھی کہ میں نے (معزز) عدالت کے سامنے تجویز رکھ دی کہ اگر عدالت چاہے تو میں اپنی ویب سائٹ میٰں ایسی تبدیلی کر لیتا ہوں کہ دیکھنے والوں میں سے اگر کوئی خودکشی کرنے والے سے بات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ سوشل ورکر اور مذہبی ٹھیکدار اگر چاہئیں تو اُسے جینے کے لئے قائل کر سکتے ہیں۔ میں اپنی عیاری کے سبب عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایسا کرنے سے خودکشی کے اعداد و شمار میں بے پناہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ میری اس تجویز پر پادری کی ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی اس کا موٹا پیٹ ہلکورے کھا رہا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ موت کے اس کھیل کو مذہب کے چھتری کے ذریعے وہ اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

 

میری یہ تجویز میرے حق میں ہی رہی اب بہت سارے خدائی خدمت گار بھی میری ویب سائٹ پر آنے لگے اور چکنی چُپڑی باتوں سے دوبارہ زندگی کے سبز خواب دکھانے لگے۔ لیکن اب یہ بھی ہوا کہ بہت سے شوقیہ فنکار بھی خودکشی کا ڈرامہ کرتے ،مرنا کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔ موت کے حقیقی شائق آہستہ آہستہ کم ہونے لگے اور میری ویب سائٹ صرف بھانڈوں کی اماج گاہ بن کر رہ گئی۔ مجھے یقینا اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ میں نے راہ ڈھونڈ لی ہے اب خودکشی کرنے والوں کو صرف ان لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا جو پہلے سے ہی میرے تیار کردہ تھے اور یہ ہر گز موت سے نا روکتے بلکہ موت کی ترویج کرتے تھے۔ میرا یہ طریقہ کامیاب رہا اور پہلے کی طرح مجھے کامیابیاں نصیب ہونے لگیں۔ موت لمحہ بہ لمحہ زیادہ تیزی سے زندگی پہ جھپٹنے لگی یہاں تک کہ ایک ایسا نوجوان آیا جو ایک آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کہ وہ اپنے باپ سے کتنی محبت کرتا ہے اور وہ یہ سکول اپنے باپ کے لئے ہی تو کھولنا چاہتا تھا جس کی روح نہ جانے کہاں قید ہو گئی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس سے رابطہ کر سکوں لیکن میرے تیار کردہ افراد اُسے مسلسل موت پر اُکسا رہے تھے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ گولی کی آواز کسی بھی لمحے مجھ تک پہنچ سکتی تھی۔

 

رات کسی بھی لمحہ ختم ہونے والی تھی میرے سامنے میری ویب سائٹ کُھلی ہوئی تھی۔ آج کے دن ایک کم ہزار لوگوں نے خود کُشی کی تھی۔ میں اندر سے بالکل خالی ہوں میرے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ پر میں اس کے نام کا آرٹ سکول نہیں بنا سکتا۔ میں نے ٹیبل کا دراز کھول لیا ہے ۔ میں سچ میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے اپنا وہ دوست بھی بہت یاد آ رہا ہے جو ہمیشہ ایک ہی کہانی سناتا تھا۔

Image: Alvaro Tapia Hidalgo

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوتھی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسا بھی ہے جو مجھے یاد نہیں آتا یا اُسے میں لفظوں کاجامہ نہیں پہنا سکتا، مثلاً مجھے ایک تاریک دُنیا کا بھی احساس ہے جسے آپ عدم کہہ سکتے ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ عدم محض ایک واہمہ ہے۔

 

تو مجھے اِس واہمے کا بھی احساس ہے، تاریک دنیا کی پرچھائیاں، وہاں کی اشیا جو چاقو کی نوک پر لرزتی ہوئی اُن شکلوں کی طرح ہیں جو کبھی نظر نہیں آتیں۔ شاید اِس لیے کہ چاقو سے صرف سفید کاغذ پر لکیریں ڈالی گئی ہوں؟

 

اور وہاں کے کھانے، اُن کا کھٹا میٹھا اور تیکھا ذائقہ۔ اور اُن کھانوں کی خوشبو، میرے پیٹ کی آنتوں کو اُلجھن میں مبتلا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میرے دماغ کے بائیں حصّے میں کچھ کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

 

میں کبھی کبھی تنگ آکر اس وبال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرا حافظہ، وہ میرا وفادار کتّا دبے پاﺅں میرے پیچھے پیچھے چلاآتا ہے۔
بچپن میں اکثر سڑکوں پر چلتے وقت مجھے لگتا تھا جیسے کوئی کتا میرے تعاقب میں ہے، اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ وہ میرا حافظہ تھا۔

 

خیر! اب تو بہت سی باتیں صاف ہو چکی ہیں مثلاً زندگی میں موت کی یاد اور موت میں زندگی کی یاد اس طرح گھلی ملی ہوئی ہیں جیسے بھونے جاتے ہوئے مرغ میں مسالہ۔

 

ویسے بھی زندگی اور موت میں کوئی فرق تو ہوتا نہیں ۔ موت کا چھینا ہوا زندگی میں حاصل ہوجاتا ہے اور موت کے اندھیرے میں کھوئی ہوئی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔

 

اسی لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ انسانوں کا خون مُردوں پر چھڑکتے ہیں یا مُردوں کا خون زندہ انسانوں پر۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی کچھ کھوکر پالینا یا کچھ پاکر کھو دینا۔

 

ریاضی کا ایک معمولی طالب علم بھی اس سے ایک مساوات بنا سکتا ہے۔ مگر اِس مساوات کو حل کرنا یا ثابت کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے میں لگاتار دوچار ہوں اور شیطان کی آنت کی طرح یہ مساوات پھیلتی اور لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اِس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید یہ ہے کہ اس سفر میں انسان اپنی روح کے جغرافیے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا۔ میں نے بچپن کی اپنی خاکی پتلون میں اپنی روح کے جغرافیے والا بوسیدہ کاغد سنبھال کر رکھ لیا تھا، مگر عمر کے نہ جانے کس پڑاﺅ پر اور پتہ نہیں کون سی بارش میں وہ گل سڑ گیا۔ میں نے اُسے گنوا دیا۔

 

اپنے اس بے رحم حافظے، زچ کرکے رکھ دینے کی حد تک اُس وفادار کتّے سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے یہ ترکیب بھی سوچی کہ میں مڑ کر جلدی سے اِس کتّے کا پٹّہ پکڑ کر اُسے ناول کے کنویں میں دھکّہ دے دوں یعنی اپنی یادداشتوں کو میں ناول کے قالب میں ڈھال دوں اوراپنی جان چھڑاﺅں۔

 

میں اور ناول؟ یہ خیال کرکے مجھے ہنسی آتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایک ناول لکھوں۔ مگر میں ناول تو ناول ایک چھوٹی سی کہانی بھی نہیں گڑھ سکتا بلکہ میں ایک پیراگراف تک نہیں لکھ سکتا۔ اس کی ایک، بالکل سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ میرے اندر قابل رحم حد تک تخلیقیت کا فقدان ہے اور دوسری، شاید زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی میری قواعد پوری طرح ٹھپ ہے۔ میں زمانوں میں فر ق نہیں کرسکتا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میرے لیے ایک ہی ہیں بلکہ زمانہ حال اور زمانہ ماضی تو مجھے احساس کی سطح پر ایک دوسرے کے جڑواں نظر آتے ہیں۔ یہی حال مستقبل کا ہے، زمانہ مستقبل مجھے گزرا ہوا زمانہ ہی نظر آتا ہے۔ بچپن میں امتحان میں قواعد کے پرچے میں بس رٹ رٹاکر کام چلا لیا کرتا تھا۔ اس لیے افسوس کہ میں تو صرف مقدموں کی اپیلیں اور عرض داشتیں وغیرہ ہی لکھ سکتا ہوں، اور وہاں بھی اکثر مجھ سے گڑبڑ ہوجاتی ہے، جسے میرا محرّر ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، میں اگر اتنا ناکارہ اور نااہل نہ ہوتا تو میں تو واقعی ناول لکھتا۔

 

میرا ناول ہی میرا گھر ہوتا۔
میرا گھر، میرا گھر۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھر کا سب سے خطرناک حصّہ کون سا ہوتا ہے؟

 

لہٰذا میرا المیہ یہ ہے کہ میں اپنے حافظے کے قدموں کی چاپ سے بھڑک بھڑک کر بھاگ رہا ہوں اور اُن لفظوں کے ساتھ جی رہا ہوں جو ابھی لکھے نہیں گئے۔ ان لفظوں کے شور میں اِس طرح لاپروائی سے ہاتھ پیر پھینک کر چل رہا ہوں جیسے بہرا ہوں۔ میں تو بس اپنی گزری، بھولی بسری یادوں کے اندھیروںمیں لڑکھڑا رہا ہوں۔

 

جائے سب کچھ جہنم میں جائے۔

 

میں لفظوں کی غلامی تو کرنے سے رہا، جس دنیا میں ہر انسان ایک خوفناک راز کی طرح دوسرے انسان کی زندگی پر چھایا ہوا ہو، اُس دنیا کے بارے میں، اور انسانوں کے بارے میں لکھنا ویسے بھی ایک کارِ عبث ہی ہوتا۔

 

ہاں مگر، انسان کی ماہیت کے بارے میں ایک بات کا مجھے بخوبی علم ہے یا احساس ہے، بلکہ میں اسے احساس کی سطح پر ہی رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ احساس جیسے ہی علم بنتا ہے۔ لوگ علم کو اپنے دماغ پر اِس طرح باندھ لیتے ہیں جیسے سُوّر کو باڑے میں۔

 

اور وہ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی آنتوں کے اندر رہتا ہے۔ انسان کے اعضائے پوشیدہ تو محض انسانوں کے ہونے کے امکان، اُن کی پرچھائیوں کے ٹھکانے ہیں۔
ذہنی اور روحانی طورپر آدمی اپنی آنتوں کے اندر ہی چھپا رہتا ہے۔ اپنی بدنیتی، اپنے چٹورپن اور اپنی بھوک کو، دوسرے کے منھ پر مارتا ہوا، ایک دوسرے کی بھوک کے ذلیل لال رنگ سے دوسرے کا منھ سنا ہوا، یہ خون کی ہولی ہے۔

 

خون؟

 

خون، جس کی بُو میرے بچپن کی جیومٹری کی کتاب میں بنے ایک ایک دائرے، ایک ایک مثلث میں اور ہراُس قضیے میں ایک خفیہ گناہ اور فاش غلطی کی مانند شامل ہے جسے میں کبھی حل نہ کر سکا۔

 

اور یہ بھی ایک خفیہ امر ہے کہ انسان کی آنتیں ہی اُس کا گھر ہےں۔

 

گھر؟؟

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر کا سب سے خطرناک مقام کون سا ہے؟

 

یاد رکھیے، ’باورچی خانہ‘ ایک خطرناک اور مخدوش جگہ کا نام ہے۔
Categories
نان فکشن

وہ آنکھیں

تقریباً روز ہی صبح آفس جاتے ہوئے جب میں سٹاپ پراپنی گاڑی کا انتظار کررہا ہوتا ہوں تو پولیس والے قیدیوں سے بھری گاڑیاں لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ آج کل پولیس کو قیدیوں کو لے جانے کے لیے جو نئی گاڑیاں ملی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے مرغیوں کا ڈربہ یاد آ جاتا ہے

 

آپ نے چھوٹے چھوٹے مرغیوں کے ڈربے تو دیکھ رکھے ہوں گے جن کے اوپر ایک چھوٹا سا روشندان بھی بنایا جاتا ہے جو روشنی کا کام دیتا ہے۔ اور مرغیاں زیادہ تر اسی روشندان کے پاس ہی کھڑی ہوتی ہیں۔

 

ذیادہ تر قیدیوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسی روشندان کے پاس ہی کھڑے ہوں شاید ہر شے آزادی کی خواہش مند ہے چاہے انسان ہو کہ جانور۔

 

میں نے کبھی یہ کھڑکی کہ جس کے اوپر لوہے کی سلاخیں لگی ہوتی ہیں، خالی نہیں دیکھی۔ کوئی نہ کوئی آنکھ باہر ضرور جھانک رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ روشندان تقریباً پانچ فٹ اونچائی پر ہے لیکن پھر بھی شاید قیدی اس ڈربے میں بیٹھتے نہیں اور سلاخوں پر آکر چمٹ جاتے ہیں۔

 

یہ گاڑیاں قیدیوں کو صبح جیل سے کچہری لے کر جارہی ہوتی ہیں۔ مجھے اصل میں قیدیوں کی آنکھوں سے ڈر لگتا ہے مجھے انکی آنکھیں دیکھی نہیں جاتیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے محکمے کی گاڑی پہلے آجائے اور میں یہاں سے چلاجاوں آپ کہیں گے آنکھوں سے بھلا کون ڈرتا ہے۔ ہاں بات سچ ہے لیکن آنکھوں آنکھوں میں فرق ہوتا ہے شاید۔ ہر آنکھ ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی ہے۔اب ایسی درد بھری، داستان گو آنکھوں سے وحشت نہ ہو تو کیا ہو۔

 

بعض آنکھیں ایسی وحشت ذدہ سی ہوتی ہیں کہ ایک بار آپ کی نظر پڑ جائے تو آپ کانپ جائیں ایسے قیدیوں کو شاید بڑی سزا ہونے والی ہوتی ہے اور وہ آپ کو یوں دیکھیں گے کہ گویا آپ ہی وہ جج ہیں جس نے ان کی سزا لکھی ہے سو جیسے ہی میری آنکھیں ان آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو وہ آنکھیں چیخ چیخ کر سوال کرنے لگتی ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ سزا، میرا قصور کیا تھا، سارے ثبوت اور گواہ میرے حق میں تھے پھر بھی فیصلہ میرے خلاف کیسے آ گیا۔ میں سوچتا ہوں شاید دوسری پارٹی بہت مضبوط ہوگی یا جج نے پیسے لے لیئے ہونگے۔ ایسے سوالوں کے جواب میں میرا دل کرتا ہے پولیس بس کے ساتھ ساتھ بھاگتا جاوں اور عین کھڑکی کے نیچے پہنچ کر کہوں کہ فیصلہ میں نے نہیں سنایا تم نے جو کہنا ہے جج کو کہو لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا۔اور نظر چرا کر سڑک کے دوسری طرف دیکھنے لگ جاتا ہوں۔

 

کچھ قیدی ایک ہی نظر میں سارا باہر کا منظر اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں پلک جھپکانا بھی بھول جاتے ہیں ایسے قیدیوں کو شاید لگتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہونگے اور اس قید میں ہی باقی زندگی گزرے گی سو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی جتنے منظر دیکھ لو بہت ہیں، ایسی آنکھیں کوئی سوال نہیں پوچھ رہی ہوتیں، شاید پہلے والی آنکھیں جب سوال پوچھ پوچھ کر تھک جاتی ہیں تو وہ ایسی ہو جاتی ہوں، لالچی آنکھیں سارے منظروں کو اپنے اندر سمو لینی کی خواہش میں ڈوبی آنکھیں۔

 

لیکن کچھ آنکھیں بے حد اداس ہوتی ہیں ایک نظر باہر کا منظر دیکھا اور پھر آہ سر دکھینچ کر آنکھیں نیچے جھکا لیں ایسے قیدی شایدعادی مجرم نہیں ہوتے۔ یونہی کبھی کبھار جذبات میں یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ پکڑے بھی جاتے ہیں پھر ضمیر انہیں ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ ایک پچھتاوے کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں۔

 

صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب بھی وہ سامنے سے گزرتی ہیں تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر اٹھا کے دیکھ لیتا ہوں۔

 

اور آج بھی میں یہی سوچ رہا ہوں کہ میرا سامنا نہ ہو لیکن محکمے کی گاڑی آج لیٹ ہے سو انتظار کرنا پڑے گا۔ اور وہ دیکھیں پھر پولیس کی گاڑیاں آ رہی ہیں آج تو میں نہیں دیکھوں گا،پہلی گاڑی گزر گئی میں دوسری جانب دیکھنے لگا، ایسا بھی کیا ڈر مجھے دیکھ لینا چاہیئے میں نے سوچا اور جب دوسری بس نزدیک آئی تو میری نظر فورا کھڑکی کی طرف اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔

 

میری آنکھیں کھڑکی پر کیا کررہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سردار سودھا سنگھ مجبوراً ولیم کو رخصت کرنے کے لیے جیپ تک آیا اور اُس کو سوار ہوتے دیکھتا رہا۔ جیپ جب تک رخصت نہیں ہوئی، وہیں کھڑا رہا۔ کسی نے کوئی بات بھی نہ کی۔ دلبیر سنگھ نے گاڑی کواسٹارٹ کر کے اُ سے گئیر میں ڈال دیا اور وہ رفتہ رفتہ گاؤں والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔جیپ کے گاؤں سے نکل جانے کے بعد سودھا سنگھ نہایت بے چینی سے حویلی کی طرف مڑا۔ مجمع جو چند لمحوں میں قریب دو سو نفوس پر مشتمل ہو گیا تھا، وہ بھی سودھا سنگھ کی حویلی کی طرف چل دیا تاکہ پتہ چلے فرنگی گورنمنٹ کیسے آئی تھی اور سردار سودھا سنگھ کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی مگر فوجا سیؤ نے سب لوگوں کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

حویلی میں داخل ہو کر فوجا سیؤ نے پھاٹک بند کروا دیا۔پھر دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ آخر سودھا سنگھ نے سکوت توڑا اور فوجا سیؤ کی طرف مخاطب ہو کر بولا، فوجے لگتا ہے معاملہ کچھ گھمبیر ہو گیا ہے۔ اس کلکٹر کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔

 

فوجا سیؤ خاموشی سے کان کھجاتا رہا اور سودھے سنگھ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔ حویلی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ کسی دوسرے کے بولنے کی ہمت اس لیے نہیں تھی کہ سودھا سنگھ غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔ نہ جانے کیا ہنگامہ کھڑا کر دیتا۔ آخر جگبیر نے ہمت کی اور بولا، سردار جی واہگرو جی شرماں رکھُو، ہمت سے کام لے۔ غلام حیدر یا انگریز کے پاس کوئی ثبوت تو ہے نہیں۔ کلکٹر آگیا ہے تو کوئی قہر نہیں ٹوٹ پڑا، دیکھی جائے گی۔

 

فوجا سیؤ جو پہلے ہی کلکٹر کی طرف سے کی گئی توہین سے سخت برہم تھا اور جودھا پور پر حملہ بھی اس کے مشورے کے برخلاف ہوا تھا۔جس میں جگبیرنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، جگبیر کے ان جملوں پر ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا۔

 

جگبیرے تیرے جیسے بارہ تالیے شراب کے چوہے ہوتے ہیں، جو دوگھونٹ چڑھا کر اپنی دُم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور شیر کو للکار دینا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ تم ہی تھے جنھوں نے سودھا سنگھ کو الٹی مت دی ہے اور جودھا پور پر دھاوا بول دیا۔اسی وجہ سے فرنگی کو ہمت ہوئی کہ وہ میری اور سردار سودھا سنگھ کی بے عزتی میں ہاتھ ڈبو کر چلا گیا ہے۔ اُس وقت سے ڈر جب چراغ دین مُسلے کا پھندا سودھا سنگھ کے گلے میں فٹ ہو جائے۔ مگر تجھے کیا، تو کوئی اور کڑاھا ڈھونڈ لے گا جہاں پرانے گُڑ کی پت چڑھی ہو گی۔ مسئلہ تو ہمارا ہے کہ جینا مرنا سودھا سنگھ کے ساتھ ہے۔

 

جبگیر نے فوجا سیؤ کے آگ لگا دینے والے جملے سنے تو کرپان کھینچ کر فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ غصے سے نتھنے پھڑکنے لگے اور چہرہ انگارے کی طرح دہک گیا۔
تیری تو میں دو گز لمبی زبان کھینچ لوں گا۔ واہگرو کی سونہہ تیرا قتل نہ کروں تو سمجھ لینا میری ماں پھیروں پر رہی ہے۔ بڈھا پاگل ہو گیا ہے۔ اِسے کسی نے سمجھایا نہیں کہ جگبیر سے بات کن محاوروں میں کی جاتی ہے۔

 

جگبیر کو مشتعل ہوتے دیکھ کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اورپیت سنگھ نے آگے بڑھ کر جگبیر کو جپھا ڈال لیا۔ بیدا سنگھ نے اس کے ہاتھ سے کرپان پکڑ لی۔
مگر اسی اثنا میں جما سنگھ بھڑک اٹھا۔ پیتے چھوڑ دے اس سورمے کو، میں اس کی وراچھیں چیر دوں گا۔ خنزیر چاچے فوجے کو للکارتا ہے۔حرامی کیا یہ نہیں جانتا سردار فوجا سئیو کون ہے؟

 

اس کے ساتھ ہی تلوار کھینچ لی اور بیدا سنگھ کی طرف بھاگا۔ساتھ گالیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ا ِدھر نکل رانی خاں کے سالے تیری ایسی تیسی پھیر دوں گا۔تو نے سمجھا تھا یہاں جھانجھروں والے بیٹھے ہیں۔ لیکن دو تین جوانوں نے اُٹھ کر فوراً جما سنگھ کو پکڑ لیا۔

 

مگر اُدھر سے للکار سُن کر جگبیر دوبارہ پلٹا،چھوڑ دے بیدے مجھے۔یہاں آج لہو کی چکیاں چل ہی لینے دے۔ لاف سرداروں کو مہنا ہے۔ لیکن لوگوں نے جگبیر کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ اس دنگے میں شور اور واویلا اتنا بلند ہوا کہ باہر کھڑا مجمع حواس باختہ ہو کر حویلی کا پھاٹک پیٹنے لگا۔ سودھا سنگھ یہ تماشا دیکھ کر انتہائی کرب اور بے بسی سے چیخا۔ مترو واہگرو کا خوف کرو۔یہ کیا اودھم مچا دیا تم نے۔ کیا جھنڈو والا میں آگ لگ گئی؟ سودھا سنگھ کی آواز میں اس قدر غیظ تھا کہ تمام لوگ حویلی کے اندر اور باہر والے سب ایک ہی دفعہ خاموش ہو گئے۔ اس خموشی سے سودھا سنگھ کو ذرا سکون ملا۔ وہ دوبارہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا، فوجے اب لڑنے اور طعنے مہنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ کیے پر پچھتانا مورکھوں کا شیوہ ہے۔ بس آگے کی سوچو۔

 

فوجا سیؤ نے جب دیکھا کہ سودھا سنگھ بالکل ہی ہتھیار پھینک چکا ہے تو وہ قدرے سکون سے بولا۔ دیکھ بھئی سردار سودھا سنگھ اب میں تب بولوں گا جب میرا مشورہ جڑ سے پرامبلوں تک مانو گے۔ ورنہ(طنز سے جگبیر کو دیکھتے ہوئے ) تیری اور اِن سورموں کی اپنی راہ اور میری اپنی راہ۔

 

سودھا سنگھ نے بڑے سکون سے پگڑی کو درست کیا اور سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گیا۔پھرفوجا سیؤ نے آگے جھک کر اپنی بات شروع کی۔

 

سردار سودھا سنگھ میری دو باتیں غور سے سن اور اس کو پلے باندھ لے۔ ایک یہ کہ اب جھنڈو والا سے باہر قدم نہ نکالنا، چاہے قیامت آ جائے۔کچھ سمے تک یہ حویلی ہی تیرا مرن جیون رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے، مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے کسی سفارش کا بندوبست کر بلکہ میں تو کہتا ہوں دو چار مہینوں کے لیے وہیں پٹیالہ چلا جا اور اُدھر ہی بیٹھ کے سارا مقدمہ لڑ۔دوسری صلاح میری یہ ہے کہ ڈُلھے بیروں کا کچھ نہیں گیا،عبدل گجر کی طرف فوراً بندہ بھیج کے انھیں شاہ پور پر حملے سے روک دے۔

 

فوجا سیؤ کی بات سن کر جگبیر اور پیت سنگھ نے منھ بسورا لیکن کچھ بولے نہیں مگر سودھا سنگھ نے تحمل سے سوال کیا، اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اتنی بزدلی کا ثبوت دیں؟

 

فوجا سیؤ دوبارہ بولا،وجہ یہ ہے سردار سودھا سنگھ اس دفعہ دو کام ایسے ہوئے ہیں جو آج تک نہیں ہوئے تھے۔ اُن کا شگون اچھا نہیں۔ ایک یہ کہ تیری کمر پر غلام حیدر نے قتل کا پرچہ رکھ دیا ہے۔ دوسرا کلکٹر ایسا آ گیا ہے جس کے تیور شینہہ کی طرح خونخوار ہیں۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے۔ ورنہ وہ جھنڈو والا کبھی نہ آتا۔ اب شاہ پور پر حملہ ہوا تو اس میں چاہے تو جتنا بھی پلہ چھڑائے باٹوں کی جگہ تجھے ہی رکھا جائے گا۔ ادھر انگریز راج میں قتل معاف نہیں ہو سکتا۔ رہی غلام حیدر کی بات، وہ بھوکے شیر کی طرح باولا ہوا ہے۔تھانیدار نے جو حالت اس کی بتائی ہے،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے پرچے ورچے سے کچھ غرض نہیں۔ وہ تو بس تیرا سامنا چاہتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں۔

 

تو کیا بزدلوں کی طرح چوڑیاں پہن لوں؟ سودھا سنگھ ذرا تپ کر بولا۔

 

میں نے کب کہا ہے چوڑیاں پہن لے۔ بس ذرا کوئلوں کو سیاہ ہونے دے اور حالات کا رخ دیکھ۔

 

واہ حالات کا رخ دیکھ “اب کے پیت سنگھ بولا”تاکہ پُلس آرام سے آکر سودھا سنگھ کو بیل کی طرح نتھ ڈال کر لے جائے اور پھر جیل میں چکی پر جوت دے۔
اس کا ایک حل ہے، فوجا سیؤ اسی تحمل سے بولا۔

 

وہ کیا؟ سودھا سنگھ نے پوچھا۔

 

دیکھ سردار سودھا سنگھ معاملہ ابھی زیادہ بگڑا نہیں ہے۔ایک قتل کی بات سنبھالی جا سکتی ہے اور مونگی کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اِس سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھے تو سمجھ لو دودھ کا چھنا گوبر میں جا گرے گا۔( پھر تھوڑی دیر رُک کر )میری مان غلام حیدر سے صلح کر لیں اور چراغ دین کا قصاص دے دیں۔ فوجا سیؤ نے لجائے ہوئے لہجے میں کہا۔

 

فوجے سیؤ کی بات سن کر تمام لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ فوجا سیؤ اتنی بزدلی کی بات کرے گا۔ خاص کر جگبیر کے تو گویا سر پر فوجے نے راب کی اُبلی اُبلی دیگ ڈال دی۔ ادھر سودھا سنگھ اور پیت سنگھ بھی غصے سے سرخ اور لال پیلے ہو گئے لیکن ان کے جواب دینے سے پہلے ہی فوجا سیؤ اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ وہ جو جواب دیں گے، وہ اس سے سنا نہیں جائے گا۔اس لیے بہتر ہے حویلی سے نکل جائے اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دے۔

 

فوجا سیؤ کے ساتھ ہی جما بھی حویلی سے نکل گیا۔ اگرچہ فوجا سیؤ کا سردار سودھا سنگھ کو یوں بات سُنے بغیر چھوڑ کے جانا اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ مگر سودھے سنگھ کو بھی فوجا سیؤ کی یہ بات بہت گھٹیا اور شوہدی لگی۔ یہ بزدلی کی حد تھی جو فوجا سیؤ نے کی تھی۔ اس لیے سودھا سنگھ نے اسے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہ کی۔ اُس نے سوچاجگبیر سنگھ اور پیتا ٹھیک کہتے ہیں۔ ابھی کون سی قیامت آگئی ہے کہ مُسلوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ خاص کر کل کے چھوکرے کے آگے،جو ابھی سکول کا مُنڈا ہے۔ پوری سکھ برادری میں نا ک کٹ جائے گی اور شریکے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ بَیر اور لڑائی توجوانوں کا سنگھار ہے ورنہ مر تو وہ بھی جاتے ہیں جو ساری عمر اکھاڑے میں ناچتے ہیں اور کیکر کا نٹاچبھنے سے بیہوش ہو جاتے ہیں۔پھر سودھا سنگھ جگبیر کی طرف منہ کر کے بولا،، جگبیرے اب تیرا مشورہ ہی چلے گا۔ بول واہگرو کے نام سے کیا کہتا ہے۔ فوجا سیؤ نے تو زنخوں والی بات کی ہے،، میرے لیے تو دما،رنگا اور آپ ہی اب سب کچھ ہو۔
جگبیرنے جو ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں سودھاسنگھ کو فوجا سیٔو کے بھرے مجعمے سے اٹھ کر جانے کا افسوس نہ ہوا ہو،،سودھا سنگھ کی طرف سے حوصلہ پا کر کہا،سردار سودھا سنگھ پندرہ جوان میرے ساتھ کر دے اور عبدل گجر کو پیغام بھیج کر پوچھ،اگر وہ کل تک شاہ پور پر حملہ کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ کام بھی میں ہی کرتا ہوں۔ وہ راضی ہو جائے تو میں اس کی فوج میں شامل ہو جاتا ہوں۔ کل رات ہی ہم اور گجر مل کر یہ کام کر دیں تو یہ انگریزی بابو اور غلام حیدر دونوں پاگل ہو جائیں گے اوربول کی جھاگ کی طرح نہ بیٹھ جائیں تو مجھے کہنا۔

 

سودھا نے پیت سنگھ کی طرف دیکھا تو وہ بولا،سردار صاحب، دیکھ شاہ پور پر حملہ اس وقت بڑا مفید ہے۔ جگبیرے نے بڑی ٹھیک صلاح دی ہے۔ شاہ پور میں میرا یار فضلو میو موجود ہے۔بندہ بھیج کر اُسے بلا لے۔ سو روپیہ دے کر سب مخبری لے لیتے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کو پیت سنگھ کی بات پسند آئی۔ ہرے سنگھ کو آواز دے کر سودھے نے پاس بلایا اور اسے فوراً شاہ پور جانے کے لیے کہا کہ جا کر عشا تک فضلو کو لے آئے۔ دوسری طرف نتھا سنگھ کو ہدایات بھیج کر عبدل کی طرف روانہ کر دیا کہ ان کو سودھے کے فیصلے سے آگاہ کر دے اور جو کچھ بھی وہ کہیں وہ آ کر خبر دے لیکن انھیں کہہ دے کہ حملہ ہر صورت کل ہونا چاہیے۔

 

(14)

 

مولوی کرامت کو جودھا پور میں تیسرا دن تھا۔ چراغ دین کے ساتے کو دو دن گزر چکے تھے۔ اُسے فضل دین کی فکر کھائے جا رہی تھی، جسے اکیلا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔مگر اب وہ کمشنر صاحب سے ملے بغیر واپس نہیں جا سکتا تھا۔ دوسری طرف رحمتے اور اس کی بیٹی جودھا پور میں بالکل اکیلی تھیں۔تیسری طرف غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین چراغ دین کی بیوی کے نام کرنے کا اعلان کر کے ایک عجیب کشمکش پیدا کر دی تھی۔ شریفاں رحمت بی بی اور اُس کی بچی کے ساتھ چولہے کی انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔مولوی کرامت دو قدم دور بان کی چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں سہ طرفہ تفکرات کی آندھی چل رہی تھی۔ خدا جانے صاحب کمشنر اُسے تحصیل بلا کر کیا کہنا چاہتا تھا۔ اُس نے کوئی ایسی ویسی بات تو کی نہیں تھی جس سے صاحب کو کچھ شک پیدا ہوا ہو۔ شاید انگریز بہادر اُس سے چراغ کی کسی خفیہ دشمن داری کی بابت سوال کرنا چاہتا تھا ؟ کچھ چیز سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اس نے تنگ آکر سر جھٹک دیا اور دس ایکڑ زمین پر غور کرنے لگا، جو رحمتے کے نام ہونے والی تھی۔ لیکن رحمتے اس زمین کو کیا کرے گی۔ چراغ دین تو مر چکا تھا جبکہ وہ اتنی دور قصور میں رہ کر اُسے کیسے کاشت کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ بعد کی باتیں تھیں۔ اول تو اُسے کل ہر حالت تحصیل جانا تھا۔ خیر دین ٹانگے والے سے اُس نے بات کر لی تھی۔ جو روزانہ جودھا پور سے جلال آبادسواریاں لے کر جاتا تھا۔ اُس نے کرایہ زیادہ مانگا تھا۔ پو رے ایک روپیہ وصول کر رہا تھا۔مگر پندرہ کوس پیدل طے کرنا بھی تو مشکل تھا۔ سارا دن سفر میں کٹ جاتا۔ اس طرح ایک روپے کا نقصان تو ہو جاتا مگر خیر دین کا ٹانگا اُسے دن نکلتے ہی جلال آباد پہنچا سکتا تھا۔ اگر صبح کاذب سے پہلے چل نکلتا۔ وہ انہی نے سوچوں میں گم تھا کہ رحمت بی بی نے مولوی کرامت کو مخاطب کر کے کہا۔

 

بھائی کرامت کچھ پتا ہے کہ سرکار بہادرنے تمہیں کیوں تحصیل بلایا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے سرکار صلح کرانا چاہتی ہے، تمہیں بیچ میں ڈال کے۔

 

مولوی کرامت نے داڑھی کھجاتے ہوئے کہا، دیکھ رحمتے، سرکار کا اُس وقت تک کوئی پتا نہیں چلتا جب تک بات کھل کر نہ کرے۔ میرا خیال ہے سرکار کو اتنی خبر تو ہو گئی ہو گی کہ یہ قتل سودھا سنگھ نے ہی کرایا ہے۔ اب رہی صلح کی بات،وہ تیری مرضی کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر میں نے سنا ہے کہ پرچے کا مدعی غلام حیدر خود بنا ہے اور آج کی خبر یہ ہے کہ وہ فیروز پور بڑے صاحب کو ملنے گیا ہے۔

 

رحمت بی بی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، بھائی کرامت سنا ہے، وائسرا ئے کی بیٹی کا غلام حیدر سے یارا نہ ہے۔ آج مجھے فاتاں اور شیداں نے بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے سودھا سنگھ کو فکر پڑگئی ہے کہ غلام حیدر بدلہ لے کے رہے گا۔ اس لیے وہ صلح کی کوشش کر رہاہے۔ میرا تو خیال ہے چھوٹے صاحب نے سکھوں سے رشوت کھا لی ہے۔وہ تم کو بلا کر دھونس دھاندلی سے سودھا سنگھ کے ساتھ صلح کروا دے گا۔

 

“مولوی کرامت نے فکر مند ہوتے ہوئے سر ہلایا۔

 

“شریفاں رحمت بی بی کی بات سن کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی” ہائے ہائے کیا زمانہ ہے بہن رحمتے۔ یہ تو تم نے بڑی ناہونی سنائی۔ پر وائسرائے کی دھی غلام حیدر سے ملی کہاں؟ نا پر وائسرائے کو پتا ہے اس کہانی کا؟

 

رحمت بی بی چولہے میں جلتی لکڑیوں کو پھونک مارتے ہوئے بولی”اے ہے شریفاں اب بھلا مجھے اس کا کیا پتا؟” بڑے لوگوں کے ملن ملاپ کوئی ہم غریبوں سے پوچھ کر ہوتے ہیں۔ سنا ہے، اُدھر لاہور میں اونچے اونچے بنگلوں میں دونوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ فاتاں کہتی تھی، وائسرائے کی بیٹی بے حد چٹی گوری اور سوہنی سنکھنی ہے۔ یونہی آنکھ سے دیکھے میلی ہو جائے۔ ایسی کُڑی تو پورے ولایت میں نہیں۔

 

شریفاں نے فوراً رحمتے کی بات کاٹ کر لقمہ دیا، پر دیکھ رحمتے،اپنا غلام حیدر بھی تو چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس جیسا گبھرو اُسے بھلا پورے ولایت میں ملے گا؟ آنکھوں سے خداسلامت رکھے خون چھوٹتا ہے اور رنگ مکھنوں پلے کا گلابوں میں ڈھلتا ہے۔

 

رحمت علی چپکے بیٹھا دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے حقے کی نَے ایک طرف کی اور اُٹھ کردروازے کی کُنڈی کھول دی۔ سامنے خیر دین کھڑا تھا ہاتھ میں چابک لیے۔ مولوی کرامت نے پیچھے مڑ کر رحمتے اور شریفاں سے رخصت لی۔ اپنی پگڑی درست کر کے باندھی اور باہر نکل آیا۔دونوں عورتیں دروازے پر آ کر مولوی کرامت کو تانگے پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر دعائیں دینے لگیں کہ خیر سلامت سے واپس لوٹے۔ مولوی کرامت کے بیٹھتے ہی تانگا چل پڑا۔

 

(15)

 

ولیم نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہیٹ اتار کر کھونٹی پر رکھا اور فوراً گھنٹی دی۔ گھنٹی سنتے ہی کرم دین اندر داخل ہو کر باادب کھڑا ہو گیا۔
نجیب شاہ کو بلاؤ، ولیم نے کرم دین کی طرف دیکھے بغیر نہایت سپاٹ لہجے میں حکم دیا۔

 

کرم دین کے باہر نکلتے ہی چند ثانیوں بعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا اور ابھی اُس نے سانس بھی نہ لی تھی کہ ولیم نے ہدایات دینا شروع کر دیں،جنھیں نجیب شاہ کھڑے کھڑے نوٹ بک پر اُتارنے لگا۔

 

نجیب شاہ،تحصیل جلال آباد میں جس قدر سکول ہیں، اُن کا تمام ریکارڈ مجھے جلد از جلد چاہیے۔وہاں پر اساتذہ کی تعداد سے لے کر طلبااور اُن کی تعلیم کے معیار سے متعلق ہر چیز تحصیل ایجوکیشن افسرسے کہو، دو گھنٹے کے اندر لے کر میرے پاس میٹنگ کے لیے پہنچے۔ اِس کے علاوہ انسپکٹر متھرا داس اور منڈی گرو ہرسا کے تھانیدار کو بلواؤ اور غلا م حیدر کے معاملے کی فائل میز پر پہنچا دو۔

 

نجیب شاہ نے ہدایات نوٹ کیں اور پچھلے قدموں پُھرتی سے ُمڑا۔

 

اور سنو! ولیم دوبارہ بولا،آج ایک شخص مولوی کرامت کسی وقت آئے گا، اُسے مجھ سے ملے بغیر نہیں لوٹنا چاہیے۔

 

جی سر جیسے ہی آیا،اُسے سرکار میں حاضر کر دوں گا۔ اِس کے بعد نجیب شاہ نے نہایت ادب سے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔

 

نجیب شاہ کے باہر نکلنے کے بعد کمرے میں پھر سناٹا چھا گیا۔ اس خموشی میں ولیم کا دماغ ایک دفعہ پھر سودھا سنگھ اور غلام حیدر کے بارے میں الجھ گیا۔ ولیم کو اس کیس پر کام کرتے چوتھا دن تھا۔ وہ تمام حاصل شدہ حقائق اور معلومات سامنے رکھتے ہوئے ایک نتیجے پر یقین سے پہنچ چکا تھا۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کے کھیت کی تباہی کا ذمہ دار سودھا سنگھ ہی تھا۔چنانچہ اُس کی گرفتاری بہت ضروری تھی۔ ولیم کمرے میں ٹہلنے لگا اور معاملات کے نشیب و فراز پر مزید غور کرنے لگا۔اسی اثنا میں کمرے کی دیواروں پر اُس کی نظر پڑی،جہاں سابقہ تحصیلداروں اور ایک اسسٹنٹ کمشنر زکی تصاویر آویزاں تھیں،جو یکے بعد دیگرے جلال آبادمیں پوسٹ کیے گئے تھے۔ولیم نے پہلے دن جب اس کمرے میں قدم رکھا تو ان تصویروں پر اُس کی نظر پڑی تھی لیکن وہ نہ جانے کیوں انھیں کمرے کی فالتو چیز سمجھ کر نظر انداز کر گیا تھا۔ اب اُس نے خیال کیا آخر ایسا کیوں ہوا۔ اُس نے ان تصاویر پر کیوں توجہ نہیں دی؟ شاید پہلی پوسٹنگ کی وجہ سے اُسے یہ گمان نہ گزرا ہو کہ اب وہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اُس نے سوچا شاید نئے افسروں کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے، انھیں کافی عرصہ تک باور نہیں آتا کہ وہ افسر بن چکے ہیں۔ اسی لمحے اُسے خیال آیا اُس کی اپنی تصویر پر بھی اب یہاں آویزاں ہو جانی چاہیے۔یہ خیال آتے ہی وہ ہلکا سا مسکرادیاپھر آگے بڑھ کر گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھنٹی سن کر کرم دین دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اس کی طرف دیکھے بغیر کافی کا آرڈر دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرم دین نے کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک چٹ سامنے رکھ دی، جس پر مولوی کرامت لکھا تھا۔

 

ہاں اس کو اندر بھیجو۔ ولیم نے چٹ کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔

 

کرم دین کے جانے کے ایک منٹ بعد ہی مولوی کرامت کمرے میں داخل ہو ااور سلام کر کے کھڑا ہو گیا۔ جیسے نماز میں قیام کی صورت ہو۔ ولیم نے مولوی کرامت کو سامنے بیٹھنے کا حکم دیا پھر کچھ دیر خموشی چھائی رہی۔ اس دوران ولیم نے محسوس کیا کہ مولوی کرامت اندر سے سہما اور ڈرا ڈرا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔اُنہیں حدِ ادب کی وجہ سے صاف کرنے سے گریز کر رہا تھا۔علاوہ ازیں ولیم سے آنکھیں بھی نہیں ملا رہا تھا اور نہ ہی پورے کمرے کو دیکھنے کی جرات کر سکا۔مولوی کرامت نے اپنی آنکھوں کو صرف اتنی اجازت دی تھی کہ وہ کسی شے سے ٹھوکر نہ کھا سکے۔اُس نے اُن کا دائرہ اپنے قدموں سے لے کر ولیم کی میز تک رکھا۔ کمرے میں میز اور ولیم کے سوا کیا کچھ تھا؟ یہ سب کچھ مولوی کرامت نہیں دیکھ سکا۔اِدھر سفید لٹھے کا سوٹ اور سفید پگڑی کی شفافیت نے ولیم کو ایک دفعہ پھر متاثر کیا۔ اسی اثنا میں کرم دین کافی کاکپ رکھ کر چلا گیا، جس کی ولیم چسکیاں لینے لگا۔ ولیم کی احساس تھا کہ اُس کی خموشی مولوی کرامت کے اضطراب کو بڑھا رہی ہے مگر وہ جان بوجھ کر اس عمل سے لطف لے رہا تھا، جو کچھ دیر تک مزید جاری رہا۔ جب ولیم نے کا فی کے گھونٹ کے ساتھ چھ سات چُسکیاں مزید لے لیں اور مولوی صاحب کی بے چینی بھی کافی بڑھ گئی، تو اُس نے بات کا آغاز کر ہی دیا۔
مولوی صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں؟

 

حضور، غلام کچھ کچھ عربی اور فارسی کی سُدھ بُدھ رکھتا ہے۔ عرفی کے قصیدے اور حافظ کی کئی غزلیں بھی یاد ہیں۔ اس کے علاوہ سعدی کی گلستان،بوستاں اور اُردو کے میر تقی اور غالب کے کچھ شعر اور انیس کے دو مرثیے بھی یاد ہیں۔ ہیر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کی ساری شاعری تو الف سے یے تک سب زبانی یاد ہے۔ بس انگریزی سے بے بہرا ہوں۔ سرکاریہ مجھے نہیں آتی حضور۔

 

عربی، فارسی اور اردو کیا لکھ بھی لیتے ہو یا صرف پڑھنا ہی جانتے ہو؟ ولیم نے دوبارہ کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔

 

مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

 

اگر ہم چاہیں کہ آپ انگریزی سیکھو تو کتنے مہینے لگیں گے؟ ولیم نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

 

مولوی کرامت ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا، صا حب بہادر آپ مہینوں کی بات کرتے ہیں، میں کوئی بوند لایا ہوا تھوڑی ہوں۔ تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا تو دنوں میں کر لوں گا۔لیکن سرکار آخر انگریزی بادشاہوں کی زبان ہے اورسب زبانوں کی بادشاہ ہے۔اس کو سیکھنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مَیں اگر اِس عمر میں لکھنے پڑھنے لگ گیا تو بچوں کو کیا کھِلاؤں گا؟

 

اُس کی پرواہ نہ کرو۔ اُسی کا بندوبست ہم آپ کے لیے کرنے والے ہیں،ولیم نے کہا

 

پھر تو حضور بندہ دنوں میں ہی یہ سب کچھ سیکھ جائے گا،،مولوی کرامت انتہائی بے تابی سے بولا،، اور جو کچھ سرکار کی طرف سے کام ملے گا،وہ پورا پورا منشا کے مطابق ہو گا۔

 

او کے مولوی “ولیم نے کہا” ہم تم کو یہاں جلال آباد میں ایک ہیڈ منشی رکھتے ہیں۔تم بچوں کو اردو، فارسی اور عربی پڑھا یا کرو۔ اس جلال آباد کے بڑے سکول میں تمھاری پوسٹینگ کے آرڈر کروا دیتا ہوں۔ ہم نے تمھیں اسی لیے یہاں بلایا کہ تم سرکار کی نوکری میں آجاؤ۔ ہم تمہارا چالیس روپے مہینہ مقرر کروا دیتے ہیں۔
مولوی کرامت ولیم کی بات سن کر حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے کانپنے لگا اور اُٹھ کر دونوں ہاتھ جوڑ کر ولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کی درازی ٔ عمر کی دعا میں مصروف ہو گیا،سرکار بہادر آپ کا احسان میری نسلوں کے ساتھ چلے گا۔ یہ آپ نے مجھ ناچیز پر ایسی عنایت کی ہے،جس کا صلہ خدا وند مسیح آپ کو دے گا اور میرا خدا آپ پر برکتیں نازل کرے۔ حضور برطانیہ کا سایہ ہندوستان پر تاقیامت رہے۔

 

ولیم نے ہاتھ کے اشارے سے مولوی کرامت کو خاموش ہو جانے کے لیے کہا پھر نجیب شاہ کو کمرے میں بلا کر حکم دیا، نجیب شاہ جب تک ٹی ای او نہیں آتا، مولوی کو باہر بٹھاؤ۔

 

مولوی کرامت کے جانے کے بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کچھ اور بھی ہدایات دیں اور اُس کی طرف سے پیش کی گئی بقیہ فائلوں کا ایک ایک کر کے مطالعہ کرنے لگا۔ ان فائلوں میں محکمہ مال، فوجداری،نہری اور تحصیل کے انتظامی معاملات کے متعلق بہت معلومات افزا چیزیں تھیں، جن کا مطالعہ کرنے میں ولیم کو کم ازکم ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔اس عرصے میں، ٹی ای او، تلسی داس خاکی رنگ کی بڑی بڑی جیبوں اور نصف بازؤوں والی شرٹ اور سفید رنگ کا بغیر بیلٹ کے پاجامہ پہنے تحصیل کے ایجوکیشن ریکارڈ کی فائل بغل میں دابے آچکا تھا۔ لیکن اُسے ولیم کے کمرے میں اُس وقت تک جانے کی ہمت نہیں تھی،جب تک صاحب خود دوبارہ یاد نہ فرماتے۔ وہ سر پر دو پلی ٹوپی رکھے،نجیب شاہ کے کمرے ہی میں بیٹھ کر صاحب کے مکرر بُلاوے کا انتظار کرنے لگا۔نجیب شاہ کے کمرے کے باہر مولوی کرامت بھی چپڑاسیوں کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔جس کو ولیم کے حکم کے مطابق باہر بٹھا تو رکھا تھا لیکن اُس کے بارے میں نجیب شاہ کو ابھی کوئی ہدایت نہیں ملی تھی۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد اندر سے بیل کی گھنٹی بجی تو تُلسی داس کی سانس میں سانس آئی کہ صاحب کو یاد تو آیا۔گھنٹی بجنے کے فوراًبعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ تُلسی داس نے پہلے تو اپنی عینک اُتار کر اُس کے شیشوں کو اچھی طرح اپنی شرٹ کی جیب میں اڑسے ہوئے رومال سے صاف کیا۔پھر اُسے آنکھوں پر چڑھا لیا۔اُس کے بعد قمیض کے کالر درست کر کے اُٹھ کھڑا ہوا اور فائل کو کھول کر اُس پر ایک سرسری نظر مارنے لگا۔ اتنے میں نجیب شاہ باہر آ گیا۔ اُس سے پہلے کہ تُلسی داس آگے بڑھ کر اندر جانے کی کوشش کرتا،نجیب شاہ نے اُسے بڑی سنجیدگی سے صاحب کا اگلا حکم سنا دیا،،صاحب کہتے ہیں میٹنگ لنچ کے بعد ہو گی۔پھر انتہائی بے نیازی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

 

صاحب کا حکم سن کر تُلسی داس دوبارہ اپنے آفس کی طرف چلا گیااورسب عملے نے بوسیدہ میزوں کی درازوں سے اپنے اپنے کھانے کے برتن اور گھی سے لپڑے ہوئے رومالوں میں بندھی روٹیاں نکال لیں اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔ جبکہ مولوی کرامت وہیں بنچ پر بیٹھا اُن کو دیکھتا رہا، جس سے تمام لوگ اس طرح بے نیاز ہو چکے تھے جیسے وہ مولوی کرامت نہیں بلکہ صاحب کے آفس میں آج ہی کسی نے لکڑی کا پُتلا لا کر رکھ دیا ہو۔کرم دین چپڑاسی نے ایک رومال میں بندھا ہوا اپنا کھانا کھول لیا،جو محض دو سوکھی روٹیوں پر مشتمل تھا۔ اُن کے اُوپر پِسی ہو ئی لال مرچیں رکھی تھیں۔ کرم دین اپنا کھانا لے کر مولوی کرامت کے پاس آ بیٹھا اور اُسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے دی۔مولوی کرامت بھوکا تو تھا ہی،اشارہ پاتے ہی شریک ہو گیا۔ دونوں نے ایک ایک روٹی کھا کر خدا کا شُکر ادا کیا اور مٹی کے گھڑے سے پانی پی کر دوبارہ ایک طر ف ہو کر بیٹھ گئے۔ دو بجے نجیب شاہ کو دوبارہ بُلاوا آ گیا۔ نجیب شاہ نے باہر آ کر تُلسی داس کو اندر جانے کا اشارہ کر دیا جولنچ کے بعد آ کر بیس منٹ سے نجیب شاہ کمے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔تُلسی داس نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بڑے احترام کے ساتھ ولیم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ فائل اُس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ولیم نے اُسے کچھ دیر تک خموشی سے دیکھا، پھر آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کا حکم دیا۔

 

ولیم نے تُلسی داس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد آخر گفتگو کا آغاز کر ہی دیا،،مسٹر تُلسی مجھے کچھ سوالوں کے جواب جلداور بہت مختصر چاہییں۔
، جی سر، تُلسی داس نے ولیم کی طبیعت کو بھانپتے ہوئے کہا۔

 

جلال آباد میں پرائمری، مڈل اور اپر درجے کے کتنے اسکول ہیں؟ وہاں کے طلبا اور مُنشیوں کی تعداد اور حالات کے بارے میں مجھے بتاؤ،،ولیم نے دو ٹوک لہجہ اپناتے ہوئے سوال کیا۔

 

سرتحصیل جلال آباد میں اس وقت ایک سو ستر پرائمری کے درجے کے، آٹھ مڈل اور دو اپر درجے کے اسکول ہیں۔ جن میں مُنشیوں اور طلبا کی تعداد(فائل کھول کر اُس کا مطلوبہ صفحہ آگے بڑھاتے ہوئے)اِس میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ اِس کے علاوہ بورڈنگ ہاؤس،لائبریریزاوراور دوسری بہت سی معلومات سر اس فائل میں صحیح اندراج کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔

 

ولیم فائل سامنے رکھ کر اُس کا غور سے مطالعہ کرنے لگا۔ اس عرصے میں تُلسی داس غالباً ولیم کے اگلے سوالوں کا دل ہی دل میں اندازہ لگانے میں مصروف ہو گیا۔اسی کیفیت میں پندرہ منٹ گزر گئے۔حتیٰ کہ ولیم نے سر اوپر اُٹھا یااور بولا

 

تُلسی داس اِن اسکولوں میں مسلمان طُلبا اور مُنشیوں کی تعدادتشویشناک حد تک کم ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ ہے؟

 

حضور،سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ نہیں۔خود اُنہی کی طرف سے رُکاوٹ ہے۔

 

مثلاً؟ ولیم نے مختصر پوچھا۔

 

اب تُلسی داس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا،،مسلمانوں کے مُلا وں نے انہیں روک رکھا ہے کہ گورنمنٹ کے اسکولوں میں نصاریٰ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بچوں کو زبردستی عیسائی بنا دیا جاتا ہے۔وہ اسی لیے مسلمان اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے اسکولوں میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔

 

لیکن وہ یہ پراپیگنڈہ اتنے وسیع پیمانے پر کس طر ح کر سکتے ہیں؟،ولیم نے فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،آپ کی اس رپورٹ کے مطابق پوری تحصیل میں مسلمان طلبا کی تعداد محض ایک سو پینتیس ہے، جن میں اپر درجے کے صرف اٹھارہ بچے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟

 

تُلسی داس نے سیاہ ڈوری سے بندھی ہوئی اپنی عینک آنکھوں سے اُتار کر گلے میں لٹکائی لی اور دانشوارانہ انداز میں جواب دیا،،سر،گورنمنٹ کے اسکولوں میں مسلمان طلباکی یہ حالت اسی تحصیل میں نہیں بلکہ ہر جگہ یہی کیفیت ہے۔اُن کے مُلا کے وسیع پرپیگنڈاہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر گاؤں میں ایک مسجد ہوتی ہے، جس میں ایک دن میں پانچ بار یہ لوگ جمع ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور جمعہ کے روز تو ہر شخص نماز کے لیے وہاں حاضر ہوتا ہے۔ جہاں یہ اپنے مولویوں کے خطبے سنتے ہیں۔اُن خطبوں میں اِسی طرح کے درس دیے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اَن پڑھ ہوتے ہیں لہذا وہ اپنے مولویوں کی بات کو سچ مان کر اُس پر پورا پورا عمل کرتے ہیں اور حکومت کی بار بار تاکید کے باوجود اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔

 

اوں وووہوں، ولیم فکرمندی سے ہنکارہ بھرتے ہوئے بولا، اوکے مسٹر داس، ہمیں اس پر غور کر کے اس کا کوئی حل نکالنا ہے۔

 

اس کے بعد کچھ دیر خموشی چھا گئی اور ولیم اپنی کرسی سے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، جسے دیکھ کر تلسی داس بھی احتراماًاُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر چند ثانیوں کے بعد ولیم دوبارہ بولا، تُلسی داس ابھی آپ جا سکتے ہواور یہ فائل یہیں چھوڑ دو۔

 

تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکلنے لگا تو ولیم اُسے دوبارہ مخاطب کر کے بولا،اور سنو
تُلسی داس آواز سُنتے ہی واپس مڑا،حکم سر

 

باہر ایک مُلا بیٹھا ہو گا نجیب شاہ کے پاس۔اُسے جلال آباد ہائی سکول میں مُنشی کی حیثیت سے نوکر کر لو،چالیس روپے ماہوار پر،،ولیم نے اپنا حکم دوٹوک سناتے ہوئے کہا، اور آج ہی اُس کا لیٹرجاری کر کے میرے پاس لاؤ۔کسی فارسی دان سے کہنا،اُس کا انٹرویو بھی کرلے۔

 

جی بہتر سر، تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکل گیا