Categories
فکشن

انار گلے (حمزہ حسن شیخ)

اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔

انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔

زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔

ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔

انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔

کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔

وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔

’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔

’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔

انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔

Categories
فکشن

جہاد النکاح

“اپنے دین کو بچا نے کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کی قسم کھاتے ہیں”

 

المدینہ نے باقی دس لڑکیوں کے ساتھ آواز میں آواز ملائی لیکن اس کی آواز کا جوش الگ ہی سنائی دے رہا تھا ۔
عائشہ نے المدینہ کا کندھا پیار سے تھپتھپایا۔

 

“تم پر خدا کی رحمت ، ہو مجھے یقین ہے کہ تم اللہ کی پسندیدہ ہو”
عائشہ جو ان لڑکیوں سے عمر میں کافی بڑی تھی اب اس نے کچھ اور بلند آوا ز میں لڑکیوں کو مخاطب کیا

 

میں نے آپ کو یہ قسم دہرانے کو اس لئے کہا کہ آپ کی آواز کی سچائی اور جوش نہ صرف اللہ پاک کے حضور سربسجود ہے بلکہ امیر ابو ربا ب بھی سن رہے ہیں اور گواہ ہیں آ پ کی ہمتوں کے، آپ نے چھ ماہ میں اپنا ہر مشن نہایت شاندار کامیابی سے پورا کیا اور اب اللہ کی منتخب عورتوں میں سے ہیں۔ ہمارے امیر حضرت ابورباب نے بہت خا ص لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے اس محترم کام کے لئےجو آپ کو جنت میں اعلی درجہ پر فائز کر ے گا اور وہ دس خوش نصیب آپ ہیں۔

 

امیر ابورباب کا نام سنتے ہی لڑکیوں نے ادب سے اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کے سر جھکا لئے تھے ۔
“آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے مرد اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں سے بارود باندھ کےخود کو قربان کرنے میں بھی ذرا سی دیر نہیں کرتے ،،
وہ ایمان کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ کیا ہماری جان، ہمارے جسم ہمارے مال کی اللہ کی راہ میں جہاد کے آگے کوئی اہمیت ہے؟
“نہیں ہے، ہمارا سب کچھ قربان اس کے نام پر” لڑکیوں نے جوش سے کہا ۔
“جو بھی اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے”
“یہی ہے نا ہماری قسم؟”عائشہ نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“یہی ہمارا ایمان ہے مادام”ا لمدینہ نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“تو اب یہ قسم پوری کرنے کاوقت آ گیا ہے”
لڑکیوں نے جوش سے تالی بجائی ۔

 

“ہمارے مرد اپنے بیوی بچوں سے دور رہ کے خدا کی راہ میں جہا د کررہے ہیں۔اللہ ان کو اپنے خاص بندے مانتا ہے اور آپ کو منتخب کیا گیا ہے اس سعادت کے لئے کہ ان کے کام آئیں حضرت ابورباب نے اللہ کی ہدایت پر فتوی جاری کیا ہے ۔ آپ سب جانے کی تیاری کریں سعادت کا یہ سفر بہت مبارک ہو آپ کو۔”

 

ہم کہاں جارہے ہیں مادام ؟ فروا کی آواز سے خوشی کی جھلک رہی تھی ۔
عائشہ گہری نظروں سے کچھ سیکنڈ فروا کو دیکھتی رہی پھر غصہ کی ہلکی سی آمیزش سے فروا سے مخاطب ہوئی۔

 

“کیا آپ کو تاکید نہیں ہے کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں کریں؟

 

فروانے گھبرا کے ہاتھ سینے پہ باند ھ لئے اوراقرا رمیں سرہلایا ۔

 

ماہم کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن اس سے پہلے فروابول پڑی تھی اورعائشہ نے یہ دیکھ لیا تھا لہذا اب وہ ماہم سے مخا طب ہوئ ی۔
“ ماہم جوسوال ادھورا چھوڑدیا تھا پوچھیں “

 

ماہم گھبرا گئی اوراٹک اٹک کے بولی۔ “ جی۔۔۔ نہیں۔۔ مادام۔۔ کوئی سوال نہیں ہے“
“مجھ سے ادھوری بات کرنے کی اجازت نہیں ہے آپ لوگوں کو، کیا کہہ رہی تھیں آپ ؟ “ عائشہ نے غصہ سے ایک ایک لفظ پر زور دے کے کہا ۔

 

ماہم ؔنے نظریں جھکا کے اور ہاتھ سینے پر باندھ کے ڈری ڈری سی آواز میں سوال کیا
“ہمارے سپرد کیا کام ہے مادام؟”

 

عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا ۔ اب وہ مسکرا رہی تھی ۔

 

“آپ سب کو جہاد کی سعادت کے برابر سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ ہمارے جہادی اپنے جسم اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی طلب میں بے چین ہیں لیکن کتنا عرصہ لگ جائے اس قربانی کی قبولیت میں اس کا انہیں اور ہمیں علم نہیں ۔ میرے لئے اور آپ سب کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ ہم دل و جان سے ان کی ہر خدمت کے لئے مستعد رہیں”

 

عائشہ نے جوش سے کہا ۔پھر کچھ سوچ کے وہ چند سیکنڈ ماہم کے چہرے پر نظریں گاڑے اسے کڑی نظروں سے دیکھتی رہی اور اس کے قریب آ کے اس کاجھکا ہوا سر ایک جھٹکے سے اوپر کیا ، اب اس کا لہجہ میں چنگاریاں سی بھڑک رہی تھیں ۔

 

“کیا تمہارے دل میں شیطانی وسوسے جگہ لے رہے ہیں ؟ ماہم نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا اس کے لہجہ میں خوف کی کپکپاہٹ تھی ۔

 

“ مجھے معاف کردیں مادام ، میں نادم ہوں ، مجھ سے بڑا گناہ سرزد ہواہے “

 

“ درست کہا ، اللہ کے حکم پر کسی سوال کی گنجائش نہیں، آپ کو کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے اللہ کی اطاعت اورامیر ابورباب کے پیغام کے بعد کسی سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیا ہماری تربیت میں میں کمی رہ گئی اورکیا ہم نے جہاد کے لئے آپ کا انتخاب غلط کیا؟”
عائشہ اپنی جگہ پر واپس گئی اور پھر ساری لڑکیوں سے مخاطب ہوئی:

 

“آپ کو مجاہدین کے لئے امیر ابوربا ب نے اللہ کے حکم سے حلال قرار دیا ہے۔ یاد رہے ہم نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ہمارا سب کچھ اس کا ہے اور یہ سب کچھ آپ اللہ کے حکم پرکر یں گی”
ماہم کے اندر بے چینی کی ایک اونچی لہر اٹھی، وہ پھرکچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کی آواز اس میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر گئی۔
“میں تو شادی شدہ۔۔۔۔ اور میرا شوہر؟”پھراس نے جلدی سے اپنا سرجھٹکا ۔دل میں توبہ کا ورد کیا
“میری توبہ قبول کرمالک، میرے وسوسے شیطانی ہیں، امیر ابور باب کے فتوی پر صدقِ دل سے ایمان رکھتی ہوں “
عائشہ اپنی بات ختم کرچکی تھی ۔
لڑکیوں نے اللہ اکبر کاپر جوش نعرہ لگایا اور بلند آواز سے کہا ۔
“پرور دگار دین کے لئے ہماری رضا قبول کر”
ماہم نے آنکھوں سے آنسوپوچھے اور آنکھیں بند کرکے صدق دل سے آمین کہا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

گاڑی کے شیشوں پر گہرے سیاہ شیشے ہونے کے سبب باہر کا منظر لڑکیوں کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔ان کی تربیت ہنسی مذاق کی اجازت نہیں دیتی تھی اور ایک دوسرے سے صرف ضروری بات کرنے کی اجازت تھی لہذا سب خاموشی سے سفر کررہی تھیں لیکن ان کے چہرے سے تھکن عیاں تھی ۔اس گاڑی میں صرف چار لڑکیاں تھیں اور انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ باقی لڑکیوں کو الگ الگ گاڑیوں میں اورمختلف اوقات میں سفر کرنا تھا ۔ تربیت کیمپ میں لڑکیوں کو گھڑی پہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ کیوں نہیں تھی نہیں تھی؟ انہیں ایسا کوئی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ تھکن سے چور اونگھتی ہوئی ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا
“ ہم کتنے گھنٹوں سے سفر کررہے ہیں ؟”

 

“ آرام کرو آنکھیں بند کرکے فضول سوال مت کروـ” اس لڑکی نے درشت لہجہ میں کہا جس کو عائشہ نے “ٓآپ سب کی رہنما” کہہ کے تعارف کرایا تھا اور جس کو ان لڑکیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

 

رات کے گہرے اندھیرے میں گاڑی اونچی اونچی دیواروں والے احاطہ میں داخل ہوئی اورگیٹ کو واپس بند کردیا گیا ۔ڈرائیور نے گاڑی ورانڈے کے قریب لا کے کھڑی کی ۔ لڑکیوں کی رہنما لڑکی سب سے پہلے اتری اوراس کے پیچھے با قی لڑکیاں ورانڈے سے ملحق ہال میں داخل ہوئیں ۔ ہال کےاندرسامنے کی دیوار میں ایک دردوازہ تھا جوبند تھا اور ایک نقاب پوش شانے سے بندوق لٹکا ئ کھڑا تھا اس نے دروازہ کھولا اور رہ نمالڑکی کے ہاتھ میں ایک لال ٹین تھما دی ۔ وہ سب ایک سرنگ نما راستے پر چلتی ہوئی ایک اورلق ودق ہال میں پہنچیں جس کے چارونطرف چھوٹی چھوٹی کو ٹھریان بنی ہوئی تھیں ۔ ہال میں لالٹینوں کی ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیوں نے چار عورتوں کواپنی طرف آتے دیکھا۔ان عورتوں نے قریب آ کے بھی اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹا ئی اوربنا کچھ بولے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کے لڑکیوں کی محافظ کوجھک کے تعظیم پیش کی پھر باری باری سب نے لڑکیوں کے ہاتھ پکڑکے اپنے ماتھے سے چھلائے تھوڑا سا جھک کے بہت ادب سے اپنے پیچھے آنے کی اشارے سے درخواست کی ۔ چاروں لڑکیاں الگ الگ کوٹھریوں میں پہنچا دی گئیں۔ان کوٹھریوں میں ایک جیسا سامان تھا۔۔ کوٹھری کی ۔ایک دیوار کے ساتھ بچھا ہوا گدا جس پر ہرے رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی ۔سامنے کی دیوار کے ساتھ لکڑی کے کھوکھے پر جائے نماز اور قرآن مجید، اورسلے ہوئے کپڑوں کا ایک پیکٹ جس میں ہرے رنگ کے دو جوڑے کپڑے ۔اسی کے ساتھ ذرا ہٹ کے دیوار پر کپڑا ٹانگنے کی کھونٹی سب کوایک سی ہری چا دریں اورایک سا ہرے رنگ کالباس دیا گیا تھا ۔

 

لڑکیاں تھکن سے چور تھیں اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کے بے سدھ ہوکے گدے پر گریں اور سو گئیں۔

 

ناشتہ کے وقت تمام لڑکیوں کی ان ہدایات کی ایک ایک کاپی بانٹ دی گئی جس میں ان کی دن بھر کی مصروفیات کی تفصیل اور دیگر ہدایات درج تھیں ۔اس ہدایت نامہ میں دن کو چار گھنٹہ سونے کو بھی دیا گیا تا کہ رات کو جہاد کی عبادت ادا کرتے وقت ان کے چہروں پر تھکن نہ ہو۔

 

المدینہ دس لڑکیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ۔ اس کی گہری سبز آنکھیں، سو رج کی کرنوں جیسےسنہرے، گھنے اورلمبے بال، بہت مہارت سے تر اشے ہو ئے سنگ مرمر کے مجسمے جیسا دودھیا بدن بھوکے جہادیوں کے لئے جنت کے توشے جیسا تھا سو سب کی بھوک اس پر ٹوٹ پڑی وہ سب اس کو نوالہ نوالہ توڑ کے کھا رہے تھے۔ ۔جس کا جی چاہتا تین بار اللہ اکبر کہہ کے اسے حلال کرلیتا ۔ پندرہ دن گزر چکے تھے ۔ المدینہ اپنے سوندھے بدن کی خوشبو ایک کے بعد دوسری پلیٹ میں دھرتے دھرتے اب خود کو کسی جھوٹی پلیٹ جیسا ہی محسو س کرنے لگی تھی ایسی پلیٹ جس کو وہ جیسے ہی دھوتی پھر جھوٹی ہو جاتی ۔وہ گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح پڑھتی جب اس کے اندر کے فخر پر اسے کائی جمتی محسو س ہوتی ۔”پروردگار دیں کے لئے میری رضا قبول کر ، مجھے خود پر فخر کرنے کی توفیق عطا کر، یہ کون سا بے دینی کا گدھ ہے جو مجھے اندر سے نوچ نوچ کے کھا رہا ہے؟ میں اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے اپنے وعدوں سے مکرتا کیوں محسو س کررہی ہوں خود کو۔ میری مدر فرما میرے معبود”اس کا چہرہ آنسووں سے تر ہو جاتا توبہ استغفا ر کرتے ہوئے ۔ لیکن دن رات کی مشقت اس کی تر بیت کو پھر سے ادھ موا کرنے لگتی ۔

 

المدینہ ، ماہم ، دعا اور باقی ساری لڑکیاں صرف کھانا کھانے ، با جماعت نماز پڑھنے یا جنگی مشقوں کے لئے اکھٹا ہوتی تھیں باقی وقت وہ کب کس کے تصرف میں ہوں گی انہیں خود معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن جب وہ ایک جگہ موجود ہوتیں تو ان کی آ نکھون کی ویرانی اور بدن کی تھکن ایک دوسرے سے مخا طب رہتی تھی ۔ انکے اندر کا خوف انکی زبانیں کا ٹ چکا تھا انکی تربیت انہیں اپنی زنجیروں میں جکڑ کے خا موشی کی کال کوٹھڑی میںبند کرچکی تھی ۔ لیکن بدن چیخ چیخ کے فریاد کرتا سنا ئ دیتا ایک دوسرے کو جس کو وہ استغفار کی تسبیح کے ورد سے چپ کرا دیتیں۔ اس دن ساری لڑکیا ں مغرب کی نمازکے لئے اکٹھا تھیں ماہم بھی مو جود تھی لیکن اس حال میں جیسےاس پر کوڑے برسائے گئے ہوں اس کے ہونٹوں کے کنا رے پر خون جما ہوا تھا ،چہرے پر نیل اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ اس نے نہ وضو کیا نہ نما ز پڑھی نہ ہی کسی کے سوال کا کوئی جواب دیا بس سر جھکائے اپنی سوچوں میں غرق بیٹھی رہی ۔نماز ختم ہوتے ہی عائشہ دو مجاہدین کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور ماہم کو گھسیٹے ہوئے وہ لوگ باہر لے گئے ۔ دوسری صبج لڑکیا اس گرا ونڈ میں لے جائی گئیں جہاں ماہم کے سر پہ شیطانی سایہ ہو جانے اور دیں کے احکامات سے روگردانی کرنے کے سبب موت کی سزا سنا ئی جانی تھی ۔ ما ہم سر سے پیر تک سیاہ برقعہ میں لپٹی دو برقع پوش عورتوں کی ہمراہی میں لڑ کھڑاتی ہوئی بیچ میدا ن کے لا ئی گئی گھٹنوں کے بل اسے زمیں پر بیٹھایا گیا ایک مجاہد آگے بڑھا اس نے بلند آواز سے ماہم کے گناہ گنوائے ”یہ اللہ کے فرمان پر سوال اٹھاتی ہے، اس نے ایک جہادی کے منہ پر طمانچہ مارکے دین کے منہ پر طمانچہ مارا ہے اور جہاد النکا ح کے نام پر چیخ چیخ کے گالیاں بک کے توہینِ فرمانِ رسالت کی مرتکب ہوئی ہے اور ایسے مرتد کی سزا موت ہے ۔بیشک بیشک اور اللہ اکبر کے پر جو ش نعروں سے میدان گونج رہا تھا ۔ ایک جہا دی کی بندوق نے ماہم کے سر کا نشانہ لیا ۔ لڑ کیوں نے گھبرا کے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ان کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ نشانہ گو ماہم کے سرکا لیا گیا تھا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ اس ایک گولی نے باقی لڑکیوں کے بچے کھچے وجود کو بھی پھٹکی پھٹکی کرکے ان کے اندر دور دور تک بچھے خوف کے کوڑے دان پر ڈال دیا ۔ المدینہ کی عجب کیفیت تھی اسے لگ رہا تھا کہ ماہم کا خون زمیں پہ نہیں بلکہ اس کی رگوں میں جم رہا تھا۔ ماہم کی آخری چیخ اسے اپنے سینے میں تڑپتی محسوس ہورہی تھی ۔ المدینہ اس واقعہ کے بعد وہ المدینہ نہیں رہی جو جہا د کےجذبہ سے سر شار تھی اب وہ اپنی سوچو ں پر گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح نہیں پڑھتی تھی بلکہ اب تو اسے اپنے بدن سے سڑے ہوئے مردار جیسی بو آتی محسو س ہوتی تھی مقدس گدھ جتنا نوچ نوچ کے اس کا بدن کھاتے اس کی روح میں نئی سوچوں کے اتنے ہی اکھوے پھوٹ رہے تھے۔ ماہم کے سانحے پر کسی لڑکی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا سوا ئے اس کے کہ اب ان کی آنکھوں میں خوف کی تہہ کچھ اور دبیز ہو گئی تھی ۔

 

تمام معاملا ت اس سانحے کے فوراً بعد ہی معمول پر آگئے یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگرالمدینہ کواپنے بدن سے کٹر کی بدبوابلتی محسوس ہو رہی تھی اوراندر کوئی آ گ تھی جواسے پھونکے دے رہی تھی ۔وہ اپنے کمرے میں دیوانہ وار چکرلگا تی اوردعا کرتی “ کوئی راستہ سجھا دے مرے معبود یہاں سے نکلنے کا یا مرجانے کا ۔ اس کی ہرسانس دعا بن گئی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ یہاں سے زندہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔اسے ہررات مرنا ہوگا اورہرصبح اس خبیث گدھ کا شکرانہ ادا کرنا ہوگا جس نے اس کی جسم کونوچ نوچ کے کھایا ہو ۔المدینہ کوہرچیز سے نفرت ہوتی جارہی تھی ۔جانمازپربیٹھتی توصف ایک ہی گردان ہوتی اس کے اندر۔” میرے معبود اس ذلت کی زندگی کے بجائے مجھے موت دے دے۔”

 

۔ المدینہ کے حسین بدن کا ذائقہ جب مجاہدین کانشہ بڑھاتا تو وہ ایک دوسرے کو اپنی اپنی سرشاریاں اور اپنی اپنی فتوحات کی دا ستان مزے لے لے کے سناتے ۔ یوں امیرابو رباب تک بھی اس حسن بے مثال کی دا ستان پہنچ گئی ۔انہیں افسوس تھا کہ سا ت مہینے سے تربیت کیمپ میں موجود ہونے کے باوجود انہوں نے ا س کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ان کے اندر کی بیتا بی ہاتھ مل رہی تھی، بپھر رہی تھی، ڈکار رہی تھی ۔وہ کئی دنوں تک گہری سو چ میں غرق رہے اور پھر ان کی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک در آئی جو ہر فتوی سے پہلے نظر آتی تھی ۔انہوں نے مادام عائشہ کو فوراً طلب کیا ۔

 

“آج لڑکیوں کی نشانہ بازی کی تربیت کا ہم خود جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اطلا ع ملی ہے کہ المد ینہ نامی لڑکی سر کش ہے اور وہ جہاد کی تر بیت میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتی؟
عائشہ نے حیرانی سے جواب دیا ۔

 

“ایسا نہیں ہے میرے آقا ۔ بلکہ اسک ا نشانہ تو کبھی چوکتا ہی نہیں ۔ یہ اطلا ع بالکل غلط ہے آپ خود جائزہ لےسکتے ہیں”

 

“ٹھیک ہے ۔ ہم خود جائزہ لیں گے”

 

ٹریننگ کے وقت لڑکیاں سر پرصرف حجاب لیتی تھیں ۔ عائشہ نے ابورباب کی مو جودگی کی خوشخبری سنائی لڑکیوں کو اور سب سے پہلے المدینہ کا نام پکارا گیا ۔

 

المدینہ بندوق کا نشانہ باندھے زمیں پر مخصوص پوزیشن میں لیٹی تھی اور ابورباب کی بھوکی آنکھیں اس کی چا ندی کی صراحی جیسی گردن سے ہو تی ہوئی جسم کے چپہ چپہ کی سیر میں مصروف تھیں ۔ ابو رباب کو ایسا مدہوش کن نظارہ اس قیامت خیز حسن کی طلب کی بھٹی میں ڈال بھون رہا تھا ۔ المدینہ کا ایک بھی نشانہ خطا نہیں ہوا تھا ۔ ابو رباب مرحبا مرحبا کو ورد کرتے ہوئے المدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ ان کا جی چا ہ رہا تھا کہ اسی وقت اسے اپنے سینے سے لگا کے اپنی خواب گاہ میں لے جا ئیں لیکن اپنے مر تبے کا خیال صرف المدینہ کے سر پا ہا تھ رکھنے پر مجبور کررہا تھا ۔ دوسرے دن ابورباب نے پھر ما دام عائشہ کو طلب کیا ۔
“مادام عائشہ ۔ ہمیں المدینہ کے بارے میں خا ص ہدا یات سر کار دوعالم کی جانب سے مل رہی ہیں ۔ میری جان فدا ہو میرے سرکار کے فرمان پر۔ میں ان کے غلا موں کا غلام بہت گڑ گڑایا ان کے حضور کہ مجھے سوائے ان کی غلامی کے اور کو ئی کام نہ سونپا جائے مگر آقا کا حکم ماننا غلام کا فرض اولین ہے ۔ اس لڑکی کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ہمیں بذات خود تر بیت دینے کی تاکید فرمائی ہے آقا نے ۔ اسے ہماری خدمت میں پیش کیا جا ئے مادام عائشہ ۔ امیرابورباب کی لہجے میں رقت آمیز جلال تھا ۔

 

“جو حکم میرے آقا”عائشہ نے جھک کے تعظیم پیش کی ۔

 

المدینہ نے عائشہ کا سنایا امیرابو رباب کاپیغام سر جھکا کے سنا لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کے تا ئثرات نہیں تھے نہ غم کے نہ خوشی کے نہ فخر کے ۔ عائشہ نے حیرانی سے سوال کیا “المدینہ کیا تم اتنے بڑے اعزاز پر خو ش نہیں ہو”

 

“ما دام۔۔۔ خوشی اور غم موت اور زندگی سب کے معنی اب بدل چکے ہیں میرے لئے ۔ میں اس خبر کو اپنی کسی مراد کی قبولیت جیسا سمجھ کے اندر سے سر شا ر ہوں ۔ میں اپنے کسی فیصلے کے سامنے سرخرو ہونے جا رہی ہوں اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی ، میری دعا قبول ہوئی، ما لک کی شکر گزار ہوں ، میں اس حکم کو خدا وند کا ایک عظیم فیصلہ سمجھ رہی ہوں ۔

 

عائشہ نے خوشی سے اسے سینے سے لگا لیا ۔

 

“یاد رہے کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے ۔تمہارے لئے خاص لباس منگوایا گیا ہے کل کے لئے تا کہ تمہارے حسن میں چار چاند لگ جائے”

 

جمعہ کے نماز کے بعد امیرابو رباب کا خطبہ تھا لہذا مجاہدین کا اشتیاق لائق دید تھا کہ انہیں ان کی ذیارت کا شرف کم کم نصیب ہوتا تھا ۔وہ بہت خاص مو قع پر تشریف لا تے تھے ۔
امیر ابورباب نے خطبہ دیا اور ایمان کے حرارت سے دلوں کو گرما دیا ۔ انہوں نے آ خر میں رقت آمیز لہجے میں المدینہ کے بارے میں سر کار دو عالم کی ہدایات کا ذکر ا یسے دلگیر اورایمان افروز لہجے میں کیا کہ فضا اللہ اکبر ک نعروں سے گونج اٹھی۔ سر سے پیر تک سیاہ عبایا میں لپٹی المدینہ کو بہت احترام سے امیر ابورباب کے روبرو لا کے کھڑا کیا گیا ۔
امیرابو رباب نے تین بار اللہ اکبر کہا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو اپنی ذاتی تربیت میں نہیں رکھنا چا ہتے تھے ۔ المدینہ اب ان پر حلال تھی۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج رہی تھی اور ابورباب کا چہرہ خو شی سے تمتما رہا تھا ۔ المدینہ نے اچا نک اپنا نقاب الٹ دیا اپنا برقع اتار کے مجمع کی طرف پھینکا اور پوری قوت سے جنونی انداز میں چلائی ۔”تو نہیں جانتا ابو رباب کہ مجھے میرے اللہ نے کیا
ہدایت فرمائی ہے”

 

اس نے پورے جلال کے ساتھ اپنا ہا تھ بلند کیا اور پلک چھپتے میں وہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے۔ المدینہ ہررات مرتی تھی اورہرصبح اپنی زندگی ختم کرنے کی ترکیبیں سوچا کرتی تھی۔ ابو رباب کا پیغام اسے اس جہاد کو اپنی ذات سے نوچ کے پھینک دینے کا پیغام دے گیا جس نے اسے عورت سے کیچڑ میں بدل دیا تھا۔ المدینہ نے ایک گولی اپنے لئے بچا لی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ المدینہ نے پلٹ کے لڑکیوں کی طرف دیکھا، اس کی آواز غصہ سے کانپ رہی تھی “ تم سب گواہی دینا کہ المدینہ نے اس جہاد کو ٹھوکر ماردی جس نے اسے عورت سے رنڈی بنا دیا۔ اس نے پستول اپنی کنپٹی پر رکھی اور سر آسمان کی طرف سر اٹھایا”پر وردگار میں تجھے ان مقدس شیطانوں کے مکروہ کرتوتوں پر گواہ کرتی ہوں”

 

اور اس کا واحد گواہ، اس کا معبود ! شاید اپنی بنائی ہر مورت میں اس مورت کو سب سے اونچے طاق پہ رکھ کے مسکرارہا ہوگا