Categories
فکشن

دمِ جنون

میں پچھلے بائیس سالوں میں اس جیل میں ہزاروں لوگ دیکھ چکا ہوں ۔بوڑھے، بچے، جوان، قاتل، مقتول، قصوروار، مظلوم، بے قصور سب۔کچھ یہیں مرے، کچھ نکل گئے، کچھ کے چہرے یاد ہیں، کچھ بس آوازوں کی طرح ذہن میں رہ گئے ہیں۔ یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی لمحے ٹوٹتا ہے ۔جو جرم مان چکے ہوں وہ بھی اور جو انکار میں ڈٹے رہتے ہیں وہ بھی۔ فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ کچھ اونچی آواز میں رو پڑتے ہیں اور کچھ چپ چاپ دیوار سے لگ کر ٹوٹتے ہیں۔ یہاں وقت سب کو ایک سا بنا دیتا ہے ۔بڑے بڑے غنڈے جو دن کو لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں، مگر رات کے وقت جب باقی قیدی خراٹے لینے لگتے، وہ آہستہ آہستہ ” استغفراللہ“ پڑھتے ہیں، اتنی دھیمی آواز میں جیسے خود اپنے گناہ کو جگانا نہ چاہتے ہوں۔ وہ تسبیح کے دانے نہیں گنتے تھے، اپنے دن گنتے تھے۔ مگر نہ دن گننے سے کٹتے ہیں اور نہ گناہ گننے سے دھلتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی تھے جن کو کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے، ”ہم نے جو کیا ٹھیک کیا“ مگر ان کے لہجے میں کہیں نہ کہیں ایک شکست چھپی ہوتی تھی۔ وہ وضاحتیں دیتے تھے کہ ”حالات نے مجبور کیا۔۔ پہل اُس نے کی تھی۔۔ کوئی راستہ نہیں بچا تھا“جیسے اپنے اندر کے کسی جج کے سامنے دلیل دے رہے ہوں۔ ان کے چہروں پر ایک خاص قسم کی ویرانی ہوتی تھی۔ وہ ہنستے بھی تو آنکھوں کے کنارے سُن رہتے۔ یہاں خاموشی سب سے بڑا جج ہے جو ہر رات فیصلہ سناتی ہے۔ کوئی اونچی آواز میں چیخ کر مان لیتا ہے، کوئی وضو کر کے جھوٹ بولتا ہے اور کوئی صرف چپ رہ کر اپنے اندر سچ قبول کر لیتا ہے۔ آخر میں سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ اعتراف کرنے والے بھی اور انکار کرنے والے بھی۔۔

مگر بِلا ان سب سے مختلف تھا۔

بائیس برسوں میں بِلا کئی بار یہاں آیا ۔کبھی سال بھر کے لیے، کبھی دو برس، کبھی چند مہینوں کے لیے۔ مگر ہر بار یوں لوٹا جیسے جیل اور بِلا ایک دوسرے کے پرانے واقف ہوں، جیسے دونوں کے درمیان کوئی خاموش سمجھوتہ ہو چکا ہو۔ باقی سب قیدی وقت کے ساتھ جھک جاتے تھےمگر بِلا نہیں جھکتا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں نہ کبھی پچھتاوا دیکھا، نہ کوئی دراڑ، نہ وہ لرزش جو کسی گناہ کے بعد انسان کے اندر آتی ہے۔ جیسے اس کے اندر کچھ ہو ہی نہیں۔۔ نہ احساس، نہ ندامت، نہ خوف۔

پہلی بار جب آیا تھا تو عمر یہی کوئی سولہ، سترہ برس کی ہو گی۔ جرم تھا اپنے تایا کا قتل۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب اسے لایا گیا تھا۔ چپ چاپ چل رہا تھا، جیسے کسی اسکول کی سزا کے لیے جا رہا ہو۔ سپاہی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے تھا مگر بِلے کے چہرے پر ایک عجیب سی ٹھہراؤ بھری مسکراہٹ تھی جیسے دنیا کے سارے فیصلے وہ پہلے ہی سن چکا ہو۔ سات برس یہاں رہا۔ نہ کبھی اپنے جرم کی وضاحت کی، نہ کبھی اپنی صفائی میں کچھ کہا۔ ایک بار میں نے پوچھا بھی کہ بِلے کیوں کیا تھا تم نے؟ اس نے بس اتنا کہا، ”جو ہونا تھا، وہ ہو گیا“ اور پھر دیر تک خاموش بیٹھا مٹی پر انگلیوں سے لکیر کھینچتا رہا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ جیل کی قید میں نہیں، اپنی ہی ذات کے اندر قید تھا۔۔ ایک ایسی قید جس میں نہ خوف داخل ہو سکتا تھا، نہ پچھتاوا جنم لے سکتا تھا۔

جیل میں اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جو کسی انسان کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ مگر یہاں انسان رہتے کب ہیں۔ انسان ہوں تو سمجھتا کون ہے؟ تنہائی، بھوک، سزا، کوٹھڑی کے اندر اندھیری راتیں مگر بِلا کبھی نہیں ٹوٹا۔ دوسرے قیدیوں کو میں نے دیکھا، وہ وقت کے ساتھ پگھل جاتے تھے۔ بِلا مگر پتھر کی طرح تھا، نہ پگھلا، نہ بکھرا، نہ بدلنے کی خواہش کی۔ کبھی کبھی لگتا تھا جیسے اس کے اندر دل نہیں، ایک خلا ہے ۔۔گہرا، ساکت، بے حس۔ وہ بیٹھا رہتا، دور دیکھتا رہتا، جیسے کسی دوسرے زمانے میں ہو۔ کبھی کبھی اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی تھکن آتی، مگر وہ بھی یوں لگتی جیسے کسی پرانی تصویر پر دھول جم گئی ہو۔

بِلا جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا تھا ۔ ایک ایسا گاؤں جہاں دوپہروں میں دھول اڑتی ہے اور شاموں میں مزار کے چراغوں سے زرد روشنی نکلتی ہے۔ وہاں عزت کے تین ہی پیمانے تھے۔۔ زمین، مزار اور پیر کی قربت۔ جن کے پاس یہ تینوں نہ ہوں ان کے نام کے ساتھ عزت کا لفظ نہیں لگتا تھا۔ بلا اسی خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس کا تایا، پیر قرار حسین مزار کا گدی نشین تھا۔ سفید کپڑوں میں ملبوس، ہاتھ میں تسبیح اور آنکھوں میں وہ غرور جو اختیار کے ساتھ آتا ہے۔ لوگ اس کے قدم چُھوتے، اس کے در پر چڑھاوے رکھتے اور اس کے ایک اشارے کو اپنی تقدیر سمجھتے۔ مگر بِلے کا باپ، ستار حسین، اسی مزار کا پاگل ملنگ تھا۔ دن رات صحن میں پھرتا رہتا۔کبھی درختوں کے سائے سے باتیں کرتا، کبھی مٹی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیتا جیسے کسی اندر کی دنیا میں گم ہو گیا ہو۔ کبھی بے ربط دعائیں مانگتا جن کے آخر میں آمین نہیں ہوتی تھی بس ایک ہنسی یا چیخ نکلتی تھی۔

دونوں ایک ہی احاطے میں رہتے تھے مگر ایک دوسرے سے اجنبی۔ ایک کے پاس دولت، مرید اور دربار کی رونق تھی، دوسرے کے پاس خاموشی، خاک اور ایک چادر جس پر برسوں کی مٹی جم چکی تھی۔ ایک کے در پر روشنی تھی، دوسرے کے قدموں میں سایہ۔ اور انہی دونوں کے بیچ بِلا بڑا ہوا۔ کم گو، الجھا ہوا اور شاید کسی ایسی لکیر پر جہاں عقیدت اور جنون کا فرق مٹ جاتا ہے۔

گاؤں میں ایک پرانی افواہ تھی۔۔ اتنی پرانی کہ اب کوئی یاد بھی نہیں کر پاتا کہ شروع کس نے کی تھی۔ لوگ دبی آواز میں کہتے تھے کہ پیر قرار حسین نے اپنے بھائی ستار حسین کو کوئی “بُوٹی” کھلا دی تھی، کوئی ایسی شے جس نے اس کے ہوش کے دھاگے ایک ایک کر کے کھول دیے۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ پیر قرار حسین کو صرف گدی نہیں، مزار کی تولیت بھی چاہیے تھی۔ وراثت کے حساب سے گدی تو اس کے حصے میں آتی تھی مگر مزار کی چابیاں ستار کے پاس تھیں۔ اور یہی چابیاں آہستہ آہستہ دونوں بھائیوں کے بیچ دیوار بن گئیں۔

پھر ایک دن یہ افواہ بھی پھیلی کہ بِلا اور اس کی بہن صغراں دراصل پیر صاحب کے گناہ کی پیداوار ہیں۔ یہ جملہ پہلے پہل چند زبانوں تک محدود رہا، پھر چائے کے کھوکھوں، حُقے کی مجلسوں اور گھروں کے آنگنوں میں دہرایا جانے لگا۔ کوئی ثبوت نہیں تھا، مگر اتنی بار کہا گیا کہ آخرکار وہی بات سچ بن گئی۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ ستار حسین کو تو اپنے ہوش نہیں رہے تھے تو زوجیت کہاں سے کرتا؟ کہتے ہیں اس کے بعد ستار کا دماغ جیسے کسی اور جہاں میں رہنے لگا۔ وہ مزار کے صحن میں گھنٹوں خالی آسمان کو تکتا رہتا، کبھی ہنستا، کبھی روتا اور کبھی مٹی پر ہاتھ مار کر کہتا ۔۔”یہی سچ ہے!“

بِلا تب پندرہ، سولہ برس کا ہوگا جب اس نے پہلی بار اپنے بارے میں یہ سرگوشیاں سنیں کہ وہ اور صغراں پیر صاحب کے گناہ کی اولاد ہیں۔ پہلے پہل ہنس دیا، جیسے کوئی بچگانہ الزام ہو۔ مگر رات کو جب صحن میں چراغ بجھ جاتے اور مزار کی سمت سے دھواں سا آتا تو وہ جاگتا رہتا۔ اسے لگتا تھا کہ دیواروں کے پار کوئی اس کے اندر جھانک رہا ہے۔ وہ اکثر اپنے باپ کے چہرے کو دیر تک تکتا رہتا، اس کی آنکھوں میں کوئی سچ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا۔ مگر وہاں کچھ نہ تھا، صرف ایک دھند تھی جیسے آنکھوں کے پیچھے کوئی پرانا زخم چھپا ہو۔ کبھی کبھی ستار حسین یونہی زمین پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا، ”سچ دھرتی کے نیچے ہے، اوپر صرف دھواں ہے“ ، بلا اس جملے کے بعد گھنٹوں خاموش رہتا۔

صغراں بِلے سے ایک برس چھوٹی تھی۔ ذہنی طور پر کمزور تھی مگر اتنی نہیں کہ پہچان نہ سکے کہ اس کے بارے میں بھی کچھ کہا جا رہا ہے۔ وہ کبھی بِلے کے کندھے پر سر رکھ کر ہنستی، کبھی اچانک رو پڑتی۔ اس کی ہنسی میں ایک عجیب لرزش ہوتی۔ جیسے معصومیت اور خوف کے درمیان کوئی باریک سی لکیر ہو اور وہ روز اس لکیر پر چلنے کی کوشش کرتی ہو۔ بِلے کے لیے وہ دن ایک ایسی گرہ بن گئے، جنہیں وقت نے کبھی نہیں کھولا۔ بس ہر سال، ہر موسم کے ساتھ وہ گرہ تھوڑی اور سخت ہو جاتی رہی۔

ادھر پیر صاحب کی دسترس ایسی تھی کہ سات سات کوس تک ان کے حکم اور دعا کا اثر مانا جاتا تھا۔ اس علاقے میں بچہ ہو یا بوڑھا، عورت ہو یا مرد، یہاں تک کہ مویشی۔۔۔ سب کے دکھ درد کا ایک ہی علاج تھا، پیر صاحب کا” دم“۔ بخار سے لے کر چیچک اور یہاں تک کہ کینسر جیسے لفظ بھی ان کے آگے ماند پڑ جاتے تھے۔ ڈاکٹر، دوا، حکیم یہ سب اس علاقے میں اجنبی لفظ تھے، جیسے کسی اور زمانے کی بات ہو۔ پیر صاحب کی زبان سے نکلی ہوئی دعا، دوا سے زیادہ اثر رکھتی تھی اور ان کے ہاتھ سے دم کیا ہوا پانی گاؤں کے سب گھروں میں تبرک سمجھ کر رکھا جاتا۔ مردوں کی نسبت عورتیں ” دم“ کے لیے زیادہ لائی جاتی تھیں۔ کوئی بانجھ پن کے علاج کے لیے، کوئی شوہر کی بے رخی کے تعویذ کے لیے، کوئی فقط اس آس پر کہ پیر صاحب کے ہاتھ سے پانی پیا تو نصیب کھل جائے گا۔ مزار کے اندر ایک نیم تاریک حجرہ تھا۔ دیواروں پر تیل کے چراغوں کی کالک، فرش پر پرانے گیلے کپڑے اور ایک خاص قسم کی بو، جس میں لوبان، پسینہ اور دُعا تینوں گھلے ہوتے۔ وہاں ہونے والے ”دم“ کی باتیں کبھی باہر نہیں نکلتیں۔ عورتیں پردوں میں لوٹتیں، مرد نظریں جھکا لیتے اور سب یوں خاموش رہتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر گاؤں کی ہوا سادہ نہیں تھی۔۔ وہ ہر راز کی خوشبو اپنے ساتھ لے جاتی تھی۔ اور پیر صاحب کے حجرے کی خوشبو تو ایسی تھی جو دیر تک مزار کے دروازوں پر ٹھہری رہتی تھی۔ لوگ کچھ نہیں کہتے تھے، بس ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر خاموش رہتے جیسے سب جانتے ہوں مگر کسی کے پاس کہنے کی ہمت نہ ہو۔

صغراں بھی انہی” دَموں“کے زیرِ علاج تھی۔ اس کی ماں کو بتایا گیا تھا کہ بچی پر سایہ ہے، جن کا اثر ہے، پیر صاحب کے دم سے ٹھیک ہو جائے گی۔ دم دس پندرہ دن بعد مزار کے کسی نہ کسی کمرے میں ہوتا۔کبھی حجرے میں، کبھی صحن کے اُس گوشے میں جہاں چراغ کی روشنی کم پڑ جاتی اور لوبان کی خوشبو کچھ زیادہ۔ صغراں وہاں جاتی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگتے، آنکھیں پھیل جاتیں، جیسے روشنی اور سایہ آپس میں الجھ گئے ہوں۔ مگر ماں اسے بازو سے تھام لیتی، سر پر ہاتھ پھیر کر کہتی، ”پیر کے دم سے برکت آتی ہے، بس آنکھیں بند رکھنا، سب ٹھیک ہو جائے گا“ اور وہ خاموش ہو جاتی، جیسے کسی نے اس کے اندر کی آواز بند کر دی ہو۔ حجرے میں کچھ دیر ہلکی ہلکی آہٹیں رہتیں، پھر دروازہ کھلتا، اور صغراں چپ چاپ باہر نکل آتی۔ ماں اس کے ماتھے پر دم کیا ہوا پانی چھڑکتی اور لوگ سمجھتے، شفا کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

ایک دن بِلا ایک جنگلی کبوتر کے پیچھے بھاگتا ہوا مزار کے پچھلے حصے تک جا پہنچا۔ اسے ہمیشہ منع کیا گیا تھا کہ اس طرف نہ جائے۔ وہ حجرہ پیر صاحب کی خلوت تھا جہاں روشنی بھی اجازت لے کر جاتی تھی مگر کبوتروں کی طرح بلا کے اندر بھی ایک اڑان تھی، ضدی اور بے سمت۔ وہ دیوار پر چڑھا، پھر چھت کے کنارے رینگتا ہوا روشن دان تک آیا۔ نیچے جھانکا تو حجرے میں نیم تاریکی تھی۔ لوبان کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پیر قرار حسین بیٹھا تھا اور کے سامنے صغراں تھی۔ پیر صاحب ہاتھوں سے صغراں کے وجود پر دم کر رہے تھے، ایک ایسا دَم جو کسی کتاب میں تھا۔ صغراں کی آنکھوں میں خوف کا دھواں بھرا تھا اور پیر صاحب کے چہرے پر مکروہ سایہ۔ بِلا کچھ دیر چپ چاپ دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں جیسے کوئی گہری چیز ٹوٹ کر نیچے گر گئی جیسے کسی نے دروازہ اندر سے بند کر کے کنجی پھینک دی ہو۔ وہ نیچے اترا تو ہوا میں وہی لوبان کی خوشبو اب خوشبو نہیں ایک ناپاک یاد تھی۔ اس کے اندر ایسا طوفان اٹھا، جو برسوں بعد جیل کی کوٹھریوں میں بھی خاموش نہ ہوا۔ بس پتھر بن کر اس کے سینے میں جم گیا۔

اسی شام مزار پر چراغ جلنے لگے تھے۔ مریدوں کی صفیں ترتیب سے بیٹھ چکی تھیں اور ہوا میں وہ عقیدت گھلی ہوئی تھی جو اکثر اندھے یقین سے جنم لیتی ہے۔ پیر قرار حسین ابھی حجرے سے نکلنے والے تھے، مزار کے دروازے پر ان کے لیے قالین بچھایا جا رہا تھا۔ بِلا کچن کے پیچھے ایک ستون کی آڑ میں کھڑا تھا، چپ، جیسے خود اپنی سانسوں سے بھی چھپ رہا ہو۔ ہاتھ میں چھری تھی اور دل میں وہ خوف جو کبھی ارادہ بن کر دھڑکنے لگتا ہے۔ اس کے سامنے بھیڑ تھی، دعا کے لیے ترستی آنکھیں، عقیدت سے جھکی گردنیں اور ان سب کے بیچ وہ چہرہ جسے وہ اب صرف نفرت کے دھندلے پردے سے دیکھ رہا تھا۔ پیر صاحب مجمع کے بیچ آئے ، سفید لباس، چہرے پر مسکراہٹ۔ لوگ آگے بڑھ بڑھ کر ہاتھ چومنے لگے ۔ انہیں کے درمیان بِلا بھی آگے بڑھا۔ کسی کے سمجھنے سے پہلے اس نے وار کر دیا۔ پیر صاحب کے چہرے پر حیرت لمحہ بھر کو ٹھہری، پھر وہ زمین پر گرے، صحن میں خون کی گرم بُو گھل گئی۔ بِلے نے اتنے وار کئے کہ پیر صاحب کی انتڑیاں فرش پر بکھر گئیں۔ مریدوں کے ہجوم میں شور اٹھا، کوئی بھاگا، کوئی چیخا، کوئی بس سجدے میں گر گیا۔ اور بِلا؟ وہ بس وہیں کھڑا رہا۔۔ جیسے اپنے کیے کو نہیں، اپنی تقدیر کو دیکھ رہا ہو۔ بِلے کو اُسی رات گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں کہا گیا کہ ”عمر کم ہے، فہم ناپختہ ہے“ سو اسے سات سال کی قید سنائی گئی۔ مگر جو طوفان اس کے اندر اس دن بیدار ہوا تھا، وہ کسی سزا سے ختم ہونے والا نہیں تھا۔

سات برس بعد جب بِلا جیل سے نکلا تو گاؤں بدل چکا تھا۔ وہی مزار، وہی صحن مگر فضا میں عقیدت کی وہ نمی نہیں رہی تھی، جیسے وقت نے وہاں بھی اپنا تھوک پھیر دیا ہو۔ ستار حسین اب گدی نشین تھا۔ وہی جو کبھی پاگل ملنگ کہلاتا تھا، اب”دیوانہ پیر“ بن چکا تھا۔ لوگ اس کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے۔ اس کی ہر بے ربط بات کو کرامت مانتے اور اس کے جھولتے ہاتھوں میں شفا تلاش کرتے۔ صغراں مر چکی تھی۔ کسی نے بتایا، ”بخار اٹھا تھا، دو دن میں ختم ہو گئی“۔بس اتنا ہی۔ نہ قبر کا نشان، نہ یاد کا سایہ۔

بِلا دیر تک مزار کے دروازے کے پاس کھڑا رہا۔ دیواروں پر وہی چراغ تھے مگر اس کے اندر سب بجھا ہوا۔

پھر وہ چلا گیا۔۔ ہمیشہ کے لیے۔ پنجاب کے میدانوں سے گزرتا ہوا شہر تک جا پہنچا، جہاں جرم کمائی تھا اور گناہ روزمرہ کی عادت۔ وقت کے ساتھ بِلا ایک آلہ بن گیا۔ سیاسی ٹھیکیداروں، قبضہ گروں اور گینگسٹرز کے ہاتھوں میں۔ اس کے اندر اب رحم نہیں رہا تھا اور نہ ہی خوف۔ بس ایک عادت رہ گئی تھی، مارنے کی، لوٹنے کی، چاہے اندر کچھ بھی مر جائے۔ وہ ہر دو تین سال بعد پھر جیل پہنچ جاتا جیسے جیل ہی اس کی اصل پناہ گاہ ہو۔ مگر اندر کہیں، مٹی کے نیچے، وہی لڑکا اب بھی سانس لے رہا تھا، وہی جو روشن دان کے نیچے اپنی بہن کو دیکھ کر پتھر ہو گیا تھا۔ اسی لیے لوگ کہتے تھے کہ”بِلا ہر جرم کر سکتا ہے سوائے اُس جرم کے جو عورت کی عزت سے جڑا ہو“۔ شاید اسی لیے اس کے ہاتھوں پر خون کے دھبّے تو تھے مگر کسی بے حرمتی کا نشان نہیں۔

آخری بار جب بِلا یہاں سے چھوٹ رہا تھا، تو جاتے ہوئے رُک کر بولا، ”اب میں تھک چکا ہوں ماسٹر“۔اس کے لہجے میں وہی سختی تھی، وہی خراش جو برسوں کی جیل تراشتی ہے، مگر آنکھوں میں ایک دھند تھی۔۔ جیسے جسم ہار گیا ہو مگر انا اب بھی سانس لے رہی ہو۔ پشیمانی اب ابھی نہیں تھی، وہ اس کے قبیلے کا لفظ ہی نہیں تھا۔ مگر تھکن تھی ،گوشت کی، ہڈیوں کی اور شاید وقت کی بھی۔

پھر دو سال تک اس کی کوئی خبر نہ آئی۔

مگر جیل اپنے پرانے قیدیوں کو کبھی بھولتی نہیں۔ یہ دیواریں جانتی ہیں کہ کون کہاں جا کر سانس لے رہا ہے، کون مر گیا اور کون اب بھی زندہ رہنے کا دکھ جھیل رہا ہے۔ ایک دن خبر آئی، آہستہ سے جیسے کسی نے راز کی بات بتائی ہو کہ بِلے نے شہر کے پرانے بازار میں ایک طوائف کے ہاں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ کہا گیا، وہ عورت وہی ہے جو برسوں پہلے، جب بلا پہلی بار شہر آیا تھا اس کی زندگی میں آئی تھی۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ کبھی وہاں جاتا، کبھی مہینوں غائب رہتا مگر ہر بار واپس اسی در پر لوٹتا۔ شاید اس عورت کے کمرے میں، جس میں راتیں دھند اور عطر میں لپٹی رہتی تھیں، بلا کو وہ خاموشی ملتی تھی جو کسی جیل میں نہیں ملتی۔ یا شاید وہ بھی اس کی طرح تھک چکی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے کی تھکن میں پناہ تلاش کر لی تھی۔

کوئی چار مہینے پہلے بلا ایک بار پھر جیل آ گیا۔ خبر پھیلی کہ اس نے اُسی طوائف، سلیمہ کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ جب اسے لایا گیا تو اس کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی مگر اب اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ چہرہ جیسے کسی نے اندر سے مٹا دیا ہو۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا، کسی کو قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ ہر تیسرے چوتھے دن کسی قیدی سے الجھ پڑتا، بے تحاشا مارتا اور پھر دِنوں تنہائی میں بند رہتا۔ کسی کو کچھ خبر نہیں تھی کہ ہوا کیا۔ سب حیران تھے کہ بِلا، جو عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا، وہی بِلا اب قاتل بن گیا۔ جیل کے صحن میں قیدی سرگوشی کرتے تھے؛ ”پندرہ برس وہ اس عورت کے ساتھ رہا اور آخرکار اسی کو مار دیا؟” کوئی کہتا، “محبت کا جنون تھا“، کوئی کہتا، ”پاگل ہو گیا ہے“، مگر سچ کسی کے پاس نہیں تھا۔ وقت گزرتا گیا اور بِلے کی حالت بگڑتی گئی۔ اب وہ دن بھر پاگلوں کی طرح بڑبڑاتا ۔رات کو دیوار سے سر لگاتا اور کان لگا کر کچھ سنتا جیسے کوئی اندر بول رہا ہو۔ خاموشی میں اس کے ہونٹ ہلتے رہتے جیسے کوئی پرانا مکالمہ دہرا رہا ہو۔ کبھی اپنے باپ ستار حسین کا نام لیتا، کبھی تایا قرار حسین کو کوستا، کبھی اپنے گناہوں کو گننے لگتا۔ لیکن ایک بات سب نے نوٹ کی کہ اس کے پاگل پن میں بھی دو نام کبھی زبان پر نہ آئے۔ ایک صغراں اور دوسرا سلیمہ۔ جیسے ان دونوں کو اس نے اپنے اندر کہیں محفوظ کر رکھا ہو، ایک ایسی جگہ جہاں نہ پچھتاوا پہنچ سکتا تھا، نہ ہوش۔

جب اس کی آنکھوں کے نیچے نیلاہٹ اترنے لگی اور راتوں کی نیندیں دن میں بھٹکنے لگیں تو جیلر نے سفارش لکھی کہ قیدی بِلا ولد ستار حسین کو ذہنی امراض کے وارڈ میں منتقل کیا جائے۔ یوں لگتا تھا کہ بِلے کی کہانی اپنے انجام پر نہیں، اپنے دائرے پر واپس آ گئی ہے۔

یہ جیل میں اس کی آخری رات تھی۔ وہ چپ چاپ آیا۔ میرے سامنے بیٹھ گیا اور دیر تک کچھ نہیں بولا۔ میں نے بھی نہیں پوچھا۔ کبھی کبھی سوال بھی توہین لگتا ہے۔ وہ پتھر کی طرح بیٹھا رہا، جیسے اپنی ہی سانسوں کا شور سن رہا ہو۔ پھر آہستہ سے بولا، ”ماسٹر میں اس عورت سے محبت کرتا تھا۔” اس کی آواز میں پہلی بار انسانیت کی کوئی پرت دکھائی دی۔ ”میں نے کبھی اس سے دغا نہیں کی۔ میں نے کسی اور کو دیکھا تک نہیں۔ اس کا ماضی کیا تھا مجھے کبھی فرق نہیں پڑا۔ روپے پیسے کی کمی نہیں ہونے دی۔ اس نے اپنی زندگی بدل لی تھی۔۔ نماز، حج، یتیم خانہ۔ میں نے اسے روکا نہیں۔ میں سمجھا شاید یہی کفارہ ہے اس کا۔ وہ چلّے کاٹنے لگی، ذکر اذکار میں ڈوب گئی۔ میں جانتا تھا ہر کوئی پچھتاوا سہہ نہیں سکتا۔ میں نے کرنے دیا جو وہ کرنا چاہتی تھی۔“ وہ رکا جیسے زبان پر رکھا جملہ زہر بن گیا ہو۔ دیر تک خاموش بیٹھا رہا پھر گردن جھکائے مدھم آواز میں بولا:

”ماسٹر، ہماری ایک بیٹی ہے۔۔ پندرہ برس کی۔ میں نے اس کا نام صغراں رکھا ہے۔“ یہ نام لیتے ہی اس کے چہرے پر ایک کپکپی سی دوڑ گئی۔ آنکھوں میں ایک چمک ابھری، وہی پرانی وحشت جو برسوں پہلے میں نے اس کے اندر دیکھی تھی، جب وہ روشن دان کے نیچے کھڑا اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ لمحہ دوبارہ اس کے اندر زندہ ہو گیا ہو۔ پیر قرار حسین، وہ نیم اندھیری کوٹھڑی، صغراں کی خوفزدہ آنکھیں، لوبان کی بو، اور وہ مٹی جو اس دن سے اس کے اندر جم گئی تھی۔ باہر بارش کے بعد کی زمین کی بو تھی، مگر جیل کے اندر وہی پرانی گھٹن۔ جیسے ماضی بھیگ گیا ہو مگر گناہ ابھی خشک ہو۔

اس کے لب ہلنے لگے، مگر آواز دیر سے نکلی۔

”سلیمہ اسے دم کرانے لے گئی“۔

پھر وہ اچانک سیدھا بیٹھ گیا جیسے کسی نے اس کے جسم میں بجلی بھر دی ہو۔آنکھیں پھیل گئیں، سانس بھاری ہو گئی۔

”نا ماسٹر۔۔۔ نا “

اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر پلٹی۔ ”وہ میری صغراں تھی۔۔ میری خون کی صغراں۔۔میں ایک صغراں کھو چکا تھا۔۔دوسری نہیں۔۔نا ماسٹر نا“ ۔۔۔

میں نے دیکھا اس لمحے وہ جیل میں نہیں تھا۔ وہ پھر اسی مزار میں کھڑا تھا۔ وہی دھند، وہی خوف، وہی گناہ کی بو۔ اس بار ہاتھ میں چھری نہیں، تقدیر تھی۔ اور اس کے وار سے جو چیخ نکلی، وہ شاید سلیمہ کی نہیں تھی۔۔ قرار حسین کی نہیں تھی، صغراں کی تھی اور خود بِلے کی بھی تھی۔ پھر خاموشی اتری۔ وہی جو ہر گناہ کے بعد زمین پر آتی ہے۔

Categories
فکشن

منگول – ذکی نقوی

وہ منگول تھا تو ہرگز نہیں مگر یہ دونوں لڑکے اسے منگول ہی کہتے تھے جس کی وجہ اُس کی شکل و صورت، قد قامت، ایک پر اسرار سی اجنبیت جو وہ بظاہر ہر کسی سے روا رکھتا تھا اور اس پہ طُرہ اس کی کھردری شخصیت تھی جس سے بہادری اور بے باکی ٹپکتی تھی۔ درمیانہ سا قد جو اس کی چوڑی چکلی چھاتی اور کشادہ پیشانی اور بڑے بڑے سخت ہاتھوں کی وجہ سے چھوٹا ہی لگتا تھا، چھوٹی چھوٹی افغان ترکمانوں جیسی آنکھیں جن میں ایک بیزار سی مگر بے پناہ اور خطرناک ذہانت جھلکتی تھی، سفیدی مائل زرد رنگت، سیاہ گھنگھریالے بال، مونچھیں جو نتھنوں کے نیچے تو پیدا نہ تھیں تھیں البتہ ہونٹوں کے کونوں تک پہنچ کر اتنی گھنی ہو جاتی تھیں کہ وہ انہیں تاؤ بھی دے لیتا تھا, جس کے بعد ہو واقعی منگول لگتا تھا۔ ڈاڑھی مونڈتا تھا اور سر کے بال بھی بہت ہی چھوٹے رکھتا تھا جس وجہ سے کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ گھنگھریالے ہی تھے۔

اشفاق اور بوبی اُسے دور دور سے ہی دیکھتے رہتے تھے کیونکہ انہیں اس سے ذیادہ اسے جاننے میں دلچسپی تھی ہی نہیں کہ وہ منگول لگتا تھا، بالیقین وہ منگول نہیں تھا اور وہ دونوں اسے منگول کہتے تھے۔

اسے مزید نہ جاننے کی خواہش کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سینئر تھا۔ اُس کی وردی پہ نان کمیشنڈ افسر کی امتیازی دھجی ہی انہیں اس سے آدھے فرسنگ کی دوری پہ رکھتی تھی کیونکہ اشفاق اور بوبی پلٹن میں نئے آئے تھے، جیونئیر سپاہی تھے اور نہایت شوخ و شنگ بلکہ فوجی معیارات کے مطابق کسی حد تک بدتمیز لونڈے تھے۔ منگول کی ظاہری متانت کا مطلب یہ تھا کہ وہ ان دونوں کی شوخ صحبتوں کو پسند نہ کرے گا۔ وہ دونوں اگرچہ ہر طرح کی بدتمیزیوں کے شائق تھے مگر کتاب بینی کے شوق نے انہیں دوست بنایا تھا اور وہ چھاؤنی کی لائبریری میں ہی پہلی دفعہ ملے تھے۔ اشفاق کا مطالعاتی ذوق قدرے عامیانہ تھا اور بوبی کا نہایت عجیب۔۔۔

زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انہوں نے منگول کو ایک نوجوان میجر کے ساتھ بڑی رواں اور درست انگریزی میں جس میں کہیں کہیں اردو بھی ملی تھی، تیز تیز گفتگو کرتے دیکھا، بلکہ سُنا تو اس کے لب و لہجے سے یہ تو پتہ چل گیا کہ وہ پٹھان تھا۔ وہ نہایت سنجیدگی سے کچھ کہے جا رہا تھا اور میجر صاحب سر جھکائے ہنسے جا رہے تھے، شاید منگول کی بات سے لفظ اندوز ہو رہے تھے۔

بعد میں پتہ چلا کہ واقعہ ہی بڑا گھمبیر تھا جس پر منگول بڑی دلچسپ گفتگو کر رہا تھا۔

اس مستقر میں کچھ ایسا ماحول تھا کہ زمینی، بحری اور فضائی فوج کے دستے ساتھ ساتھ ہی ہوا کرتے تھے۔ یہاں ہر قماش کے سپاہی لوگ پائے جاتے تھے، پیشہ ورانہ قابلیت کے سخت کوش محنتی سپاہی، فقط وقت گزاری میں پڑے رہنے والے سست اور کاہل جنہیں سرکار نے غیر اہم کاموں پر مامور کیا ہوا تھا، ہر وقت ریٹائرمنٹ کے منصوبوں پر بحث کرنے والے، بہت ذہین اور دنیادار بھی اور موٹے دماغوں والے نیم مذہبی بھی، کتابیں پڑھنے، شعر کہنے والے بھی اور چھاؤنی اور شہر بھر کی عورتوں اور خوبرو لڑکوں کا تعاقب کرنے والے بھی، وہ بھی جن پر سپاہ کو ناز تھا اور وہ بھی جو اپنی اپنی پلٹن کے لیے باعثِ شرم تھے۔ منگول ان کے ساتھ پریڈ پر اکٹھا ہوتا تھا یا کھانے پر۔ وہ بحری فوج کا غوطہ خور تھا اور حال ہی میں سپاہی سے این سی او بنا تھا۔ ان دنوں فضائیہ والوں کا ایک لڑاکا طیارہ کسی دریا میں گرا تھا اور وہ اسے نکالنے والی ٹیم میں شامل تھا۔ وہ بحری فوج کے میجر صاحب کے ساتھ دلچسپ بحث اسی موضوع پر ہو رہی تھی۔ خیر اس کے انگریزی بولنے نے پہلی دفعہ انہیں اس سے متاثر ہونے کی ٹھوس وجہ فراہم کی، پھر کسی نے انہیں بتایا کہ وہ ہسٹری کے مضمون میں گریجویٹ ہے تو انہیں امید بندھی کہ کتب بینی کا شائق بھی ہو گا اور اسی رشتے سے ان دونوں کو اس کے حلقہء احباب میں جگہ ملے گی۔ فوج تھی اور کچھ ایسا بھی نہیں تھا کہ اس حوالے سے کوئی موقع بھی جلد میسر آ جاتا۔ ان کی پلٹن کے کرنے کے بیسیوں کام تھے سو وہ مصروف رکھے جاتے تھے۔ دن بھر تربیتی قواعد میں جان توڑنا، کبھی کسی فوجی کی میت کو اعزاز کے ساتھ تدفین دینے کی پریڈ، کبھی کسی کمانڈر کے معائنے کے لئے چھاؤنی کے درودیوار کو تیار کرنا، کبھی کسی سرکاری مہمان، سیاستدان کو اعزازی گارد پیش کرنا، کبھی چھاؤنی کے طول و عرض میں اُگتی بے پناہ گھاس میں چھپے دشمن یعنی مچھروں کے مسکنوں کا قلع قمع کرنا اور کبھی کبھی سچ مچ کے دشمنوں، حملہ آوروں کے ممکنہ حملے کے مقابل اقدام کرنا، ٹھیکری پہرے دینا اور تلاش (سرچ) کے آپریشن کرنا کیونکہ اب وہ بدصورت صدی آغاز ہو چکی تھی کہ سپاہی جنگ لڑنے کے لیے میدان جنگ میں نہیں جاتے تھے بلکہ ایک بیہودہ سی موت اور بالکل غیر سپاہیانہ سی موت اُنہیں اچانک چھاونی کے صدر دروازے پر، میس ہال میں، فوجی لاری کی سیٹ پر یا راہ چلتے کسی بازار کی بھیڑ میں آ دبوچتی تھی اور یہ اتنی بدصورت جنگ تھی کہ اس پر کوئی ناول لکھنا چاہے گا نہ کوئی فلم بنانا پسند کرے گا۔

ان حالات میں منگول کا کردار ایک دلچسپ فلم یا ناول کے پلاٹ کی طرح ان دونوں کے سامنے آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ وہ کتاب بینی کا شائق تو تھا مگر کسی تفریح اور وقت گزاری کرتے، موسیقی سنتے یا فلم دیکھتے ہوئے کبھی نظر نہ آتا۔۔۔ بس نظر ہی آتا۔

ایک جمعے کی شام اشفاق اور بوبی آپس میں خرافات بکتے، ہنسی مخول کرتے اور قہقہے اڑاتے تفریح کے ہال میں داخل ہوئے جہاں سپاہی عموماً اپنے فارغ وقت میں بیٹھ کر فلمیں دیکھتے یا اخبارات پڑھتے اور سگریٹ پھونکتے تھے۔ اس وقت ہال کی طرف سے کسی شور غلغلے کی آواز نہ سُن کر انہوں نے فرض کر لیا کہ ہال خالی ہی ہے سو ان کے قدموں میں ایک لاپروائی اور آوازوں میں ایک اعتماد اور آزادہ روی تھی۔ ہال میں داخلہ اور ایک دھماکے دار قہقہہ بیک وقت واقع ہوئے تو ہال میں بیٹھا واحد شخص چونکا۔ یہ منگول تھا جو کہ صوفے پر نیم دراز آنکھیں موندے بڑے انہماک سے سگریٹ پئے جا رہا تھا، وہ پورے قبائلی لباس میں ہمیشہ سے زیادہ کرخت نظر آ رہا تھا۔

سیاہ قبائلی لباس میں اس کی زرد رنگت اور بھی نمایاں ہو رہی تھی، اور اس پہ اس کی مونچھوں کی سیاہی یوں لگ رہی تھی جیسے اس کے ہونٹوں کے گرد دو سیاہ امریکن بریکٹ ذرا ترچھے لکھ دیے گئے ہوں۔ اُس نےناگواری سے ان دونوں پر نگاہ ڈالی، دونوں لڑکے فوراً شرمندگی کی اداکاری کرتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو گئے اور چہرے پر سپاٹ سپاہیانہ تاثرات، جو کہ کوئی تاثرات نہیں ہوتے، لے آنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ دونوں وردی میں تھے سو انہوں نے ایڑیاں جوڑ لیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے، منگول نے گرج کر انگریزی میں کچھ کہا جو انہیں ہرگز سمجھ نہ آیا، وہ احمقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے تو منگول نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا جیسا کہ فلموں میں جناتی کردار لگایا کرتے ہیں۔ وہ مزید چونک گئے۔ وہ فوراً اپنے قہقہے کو ایک مسکراہٹ تک سمیٹتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔

“میری بات نہیں سمجھے تم؟”
“نو سر، سوری سر” ان کا جواب بالکل میکانکی انداز میں مگر ایک احمقانہ دیانت داری کے ساتھ تھا۔
“گدھے ہو!! تم دونوں! کیا بچپن میں کارٹون فلم نہیں دیکھے؟ یہ میرے پسندیدہ کارٹون فلم کا ڈائیلاگ تھا۔ ایک جن نے اپنے باغ میں داخل ہونے والے دو معصوم بچوں سے کہا تھا”

یہ کہہ کر منگول نے پھر اسی جناتی انگریزی میں وہ ڈائیلاگ دہرایا جو انہیں سمجھ نہ آیا مگر منگول نے کم بلند آواز میں طویل دورانیے کا ایک قہقہہ لگایا تو یہ دونوں” آسان باش” ہو کر ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنے لگے۔

منگول انہیں دلچسپ کردار لگ رہا تھا۔ اُس نے دونوں نوواردوں کو قریب کے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گئے۔ منگول نے باری باری ان دونوں کی طرف سگریٹ کی ڈبیا بڑھائی، دونوں نے ادب سے معذرت کر لی۔ انہیں ابھی تک یہ عادت نہیں پڑی تھی۔

“اَیز یُو لائک اٹ” منگول نے ایک سگریٹ نکالا اور سلگائے بغیر انگلیوں میں اڑس لیا۔ اس نے ان کی وردیوں پر لگی نام کی تختیوں کو پڑھنے کے لئے خود کو آگے جھکایا اور نام پڑھے۔

“اشفاق۔۔۔ خالد۔۔۔ نہایت غیر دلچسپ نام۔۔۔ دونوں کے۔۔۔۔ آئی ڈِس لائیک۔۔۔ رادر۔۔۔ آئی ہیٹ اریبک نیمز” ان کے نام پڑھ کر وہ مصنوعی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بولا تو وہ دونوں ہنس دیے۔ بوبی ائر فورس سے آیا تھا اور اشفاق سے قد میں لمبا، خوبرو اور زیادہ شوخ چنچل سا تھا اور خطہ پوٹھوہار کی مردانہ وجاہت کے ساتھ ساتھ ذہانت اس کی شخصیت پہ عیاں تھی۔ اس نے اس مردانہ وجاہت کے بل پر کئی نوخیز حسیناؤں کے دل جیت رکھے تھے۔ حُسن پرست اور رومانوی طبیعت بلا کی پائی تھی۔ اشفاق اس کے بر عکس۔ قد، قامت، شکل، صورت نے ناصرف اسے ان نعمتوں سے دور رکھا تھا بلکہ اس کی اماں جان اور بڑی بہن نے بچپن سے ہی اسے عورت ذات سے بیزار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ خیر، بوبی پر کشش تھا۔ منگول نے سگریٹ سے اس کی طرف اشارہ کیا۔

“تمہیں میں ایلسی‌بائیڈیز کہا کروں گا!” دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر سوالیہ نگاہیں منگول کی طرف پھیر لیں۔ منگول پھر قہقہہ لگا کر ہنسا گویا انہیں اس طرح ششدر کرنے میں اسے لُطف آ رہا تھا۔

“سقراط کے فوجی دوست کا نام۔۔۔ خوبصورت جوان تھا وہ۔۔۔ ” منگول نے مسکراتے ہوئے نوعمر سپاہیوں کی آنکھوں میں اٹکے سوال کا جواب دیا تو بوبی شوخی سے مسکرایا۔
“یعنی مجھے آپ سقراط کہیں گے؟” اشفاق نے چہکتے ہوئے کہا۔
“تمہیں سقراط کہا تو خود زہر کا پیالہ پی لوں گا!”
منگول نے مصنوعی ناگواری سے اس کی طرف دیکھ کر کہا تو اس پر وہ تینوں ہنس پڑے۔
“تمہیں میں کسی بھی نام سے پکار لوں گا۔۔۔ موقعے کی مناسبت سے”
اشفاق کی طرف رُخ کیے بغیر سگریٹ سلگاتے ہوئے منگول نے کہا۔
“ویسے سر ہم اسے فوکر کہا کرتے ہیں” بوبی نے لقمہ دیا لیکن اس نے اشفاق کی حماقت کا وہ قصہ نہیں سنایا جس کی وجہ سے اس کا نام فوکر پڑا تھا۔
“کتنی تعلیم ہے تم دونوں کی؟” منگول نے انگلی گھمائی۔”سر بی اے” “سر ایف ایس سی” بوبی اور اشفاق نے بالترتیب اپنی اپنی تعلیمی قابلیت بتائی۔ منگول نے بوبی کی طرف تحسین آمیز نظر سے دیکھا اور مسکرایا۔
“تنخواہ سے بچت فنڈ میں کتنا چھوڑ رہے ہو؟”
“سر بیس فیصد” بوبی نے فوراً کہا مگر اشفاق چپ رہا۔
“یعنی تعلیم بھی کم ہے اور دنیاداری میں بھی احمق ہو!” منگول نے اشفاق کی طرف دیکھ کر نرم سی سرزنش کرتے ہوئے کہا۔ “یس سر” کے سوا وہ کیا جواب دے سکتا تھا۔
“فوجیوں کے بچے ہو؟” اس سوال پر دونوں نے ہم آواز ہو کر “یس سر” اور منگول کی بھنووں کی حرکت سے ہی بھانپ گئے کہ اب وہ پوچھے گا کہ ان کے باپ کس کس صیغے سے تھے۔ بوبی بولا “پلٹن”۔۔۔ “ائر فورس” اشفاق نے آہستہ سے کہا تو منگول نے قہقہہ لگایا۔
“پلٹن والے کا بیٹا ائر فورس میں اور ائر فورس والے کا بیٹا پلٹن میں!” اشفاق بھانپ گیا کہ اب پھر کوئی شگوفہ چھوڑے گا۔
“برخوردار، جیسا کہ پہلی نظر میں لگے، ہر لحاظ سے گاؤدی ثابت ہو رہے ہو!”
منگول نے ہنستے ہوئے کہا تو اشفاق کھسیانا سا ہو گیا۔
“بُرا مت ماننا، لوگوں کا مذاق اڑانا، ہنسی مذاق کے پیرائے میں ان کی توہین کرنا بھی ایک فن ہے جو تمہیں بھی سیکھنا چاہیئے، میں بھی اس عمر میں آ کر یہ شاندار صلاحیت خود میں پیدا کر رہا ہوں۔۔۔”
منگول نے مربیانہ انداز میں کہا۔
“اگرچہ میں اس کا قائل نہیں۔ آج تک مروت کو بڑی چیز سمجھتا رہا ہوں” منگول نے پھر ایک قہقہہ لگایا۔
“سر میرا دوست بوبی پہلے ہی اس فن میں طاق ہے!” اشفاق نے بوبی کو آنکھ مارتے ہوئے کہا تو وہ دونوں بھی منگول کے قہقہے کے آخری ‘مصرعے’ میں شامل ہو گئے۔

“ٹھیک ہے لڑکو۔۔۔ تم سے تعارف اچھا لگا۔ آئی ایم شیرانی۔۔۔ تم لوگوں سے ملاقاتیں رہیں گی” یہ کہہ کر منگول نے ایک طرف کے میز پر پڑا ایک کارل والتھر پستول، ایک سرخ چمڑے کی جلد والی ڈائری اور سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکے بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور محفل برخاست ہوئی۔

” ایلسی‌بائیڈیز!” چند قدم چل کر منگول نے بوبی کو پکارا تو وہ دونوں اُٹھ کر دروازے میں آ گئے۔
“تمہاری شخصیت میں ایک رعنائی ہے جو مجھے اچھی لگی ہے مگر تم خطرناک ہو۔۔۔ یہ رعنائی خطرناک ہے!” وہ دونوں منہ کھولے رہ گئے اور منگول چلا گیا۔

منگول سے اس کے بعد کئی دن تک ان کا آمنا سامنا بھی نہ ہوا مگر اشفاق اور بوبی ہمہ وقت، سنتری ڈیوٹی کے دوران، میس میں کھانا کھاتے ہوئے، کینٹین پہ چائے پیتے ہوئے، ہر آن منگول کے بارے میں باتیں کرتے رہتے کہ وہ کتنا عجیب کردار ہے۔ اور یہ موضوع گفتگو ملنا اس وجہ سے اچھا ثابت ہوا کہ بوبی اب گفتگو میں خدا اور مذہب کے بارے میں جو متشککوں والی گفتگو چھیڑتا تھا، اشفاق کو بُری لگنے لگی تھی اور قریب تھا کہ وہ اس سے کنارا کر لیتا لیکن وہ منگول کو موضوع بنا کر گھنٹوں باتیں کیا کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن سنتری ڈیوٹی کے دوران وہ دونوں منگول کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ خدا جانے وہ کوئی جاسوس ہے یا پھر کوئی جن، وہ کوئی حقیقی کردار ہے یا ان دونوں کو ‘ہالوسی‌نیشنز’ ہو رہی ہیں۔ انہیں حیرت تھی کہ ہماری فوج میں اس طرح کے سپاہی این سی او تو کیا افسر بھی کم ہی ملتے ہیں۔ یہاں تو ہر شخص سیدھا سا کھلی کتاب کی طرح اور فقط ضرورت کے مطابق پڑھا لکھا تھا، بلکہ سپاہیوں میں تو بنیادی قابلیتوں کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔

“تو کیا وہ جاسوس ہے؟”
“ذرا ادھر دیکھنا، منگول!” بوبی نے اسے کہنی مارتے ہوئے متوجہ کیا تو منگول سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ اشفاق ایم ٹی یارڈ کے سنتری پہرے پر تھا اور بوبی فقط اس سے گپ لگانے کو اپنے کیمپ سے آیا تھا اور باوردی تھا۔ منگول فوجی گاڑیوں اور ٹرکوں کی لمبی قطار کے اُس سرے کے پاس سے ایک سیاہ ہیولے کی طرح نمودار ہوا۔ اُس نے بحری فوج والی سیاہ ڈانگری اور سر پر سیاہ بیری ٹوپی پہن رکھی تھی جبکہ پاؤں میں لمبے فوجی بوٹ جن کی وجہ سے وہ غوطہ خور کم اور ٹینک ڈرائیور زیادہ لگ رہا تھا۔ انہیں لگا اُس کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے جس سے وہ کھیلتا چلا آ رہا ہے۔ قریب پہنچا تو انہوں نے تاڑا کہ ایک پستول تھا، مگر یہ وہ کارل والتھر نہیں تھا جو پہلے روز اس کے ہاتھ میں دیکھا گیا تھا بلکہ یہ ایک ریوالور تھا جو بالیقین پلٹن کی کوت کا تو ہرگز نہ تھا۔ “خدایا اس شیطان کے پاس یہ مردود ہتھیار کہاں سے آیا!” بوبی نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے کہا تو اسی اثنا میں منگول ان سے دس قدم کے فاصلے پر آ کر رک گیا۔ “السلام علیکم سر” دونوں نے ایڑیاں جوڑ کر زبانی سلام کیا۔ منگول نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ ایک ایسے زاویے سے ریوالور میں گولی بھرنے لگا کہ دونوں واضح طور پر ریوالور دیکھ رہے تھے۔ اس نے ریوالور میں ایک ہی گولی بھری اور چرخی کو زور سے گھمایا، چرخی ایک موٹر کی سی تیزی سے گھوم رہی تھی کہ منگول نے کھٹاک سے ریوالور بند کر دیا اور بوبی پر تان لیا۔ وہ دونوں ہکا بکا رہ گئے۔

“تم تقدیر پر یقین رکھتے ہو؟” منگول نے بلند آواز میں سوال کیا تو بوبی نے بھی بلند آواز میں کہا “نہیں؟” وہ پڑھا لکھا اور سائنسی مزاج کا آدمی تھا اور اپنے جدید نظریات کا بے دھڑک اظہار کرتا تھا۔ اشفاق اس سے قدرے متاثر ضرور تھا سو کسی حد تک اس کا ہم خیال بھی تھا۔”اسی لیے سر آپ سے گزارش ہے کہ پنگا نہ لیں اور پستول نیچے کریں، پلیز!” بوبی نے کانپتی ہوئی مگر بلند آواز میں کہا مگر اشفاق کے تو پاؤں لڑکھڑانے اور ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ “ہاہاہا۔۔۔ میں تقدیر پہ یقین رکھتا ہوں۔۔۔ تم جدت کے اغلام زدہ شہری لونڈے نہیں سمجھو گے! سنو میں ٹرِگر دبانے لگا ہوں اور تمہیں بتانے لگا ہوں کہ تم پر گولی نہیں چلے گی!” منگول نے تیزی سے کہا اور اس سے پہلے کہ بوبی ہلتا بھی، منگول نے ٹرگر دبایا اور ریوالور کے ہیمر کی ننھی سی ٹِک کی آواز ان دونوں کی سماعتوں پر بم کے گولے کی طرح آن لگی۔ ظاہر ہے کہ گولی نہیں چلی تھی اشفاق کے تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ بوبی ساکت کھڑا رہا۔ اشفاق کافی دیر سے پیشاب روکے کھڑا تھا اسے اس کی فکر لاحق ہونے لگی۔

“اور تُم!” منگول نے پستول اشفاق پر تانا تو اس کے دانتوں میں بھی بجلی کی لہر دوڑ گئی۔
“بچنا! میں گولی چلانے لگا ہوں فوکر!” یہ کہہ کر منگول نے اشفاق کی پیشانی کا نشانہ لے کر ٹرگر دبا دیا!

ایک زوردار دھماکے سے اس کی ٹوپی پر لگا ہوا پنجاب رجمنٹ کا پلُوم ایک ایسی بدنصیب مرغابی کی طرح، جسے حالتِ پرواز میں ہی شکاری کی بندوق نے آ لیا ہو، کئی پروں کی صورت ہوا میں بکھر گیا اور ٹوپی اُڑ کر دور جا گری۔ نجانے کس طرح مگر اسی وقت اشفاق کو محسوس ہوا کہ اسی لمحے اس کی خاکی پتلون گرم گرم مائع سے بھیگ گئی۔ یہ پیشاب روکے رکھنے کی کوشش ناکام ہونے کا بڑا غلط لمحہ تھا۔ منگول نے اشفاق کی بزدلی کی داد کے طور پر ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا جو کسی توپ کے دنادن چلنے کی طرح اشفاق کے سر پر برسا۔ وہ بھاگا بیت الخلاء کی طرف۔ اسے بیت الخلاء میں بھی منگول کے قہقہے سنائی دے رہے تھے البتہ بوبی کی آواز میں ایک بلند بانگ ماں کی گالی سنائی دی جو نجانے فوکر کے حق میں تھی یا منگول کے لیے۔ اشفاق نے شاور کھولا اور وردی سمیت نہا کر خود کو مکمل بھگو لیا۔ جب وہ باہر نکلا تو ملٹری پولیس کے لوگ، ایجوٹنٹ، بحری فوج کا ایک سردار صاحب اور فضائی فوج کے دو اہلکار وہاں موجود پائے جو کہ منگول کو حراست میں لیے ہوئے تھے۔ بوبی کو اُس سے دور کھڑا کر دیا گیا اور اشفاق کو بھی جاتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور پھر سوال جواب کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بورڈ آف انکوائری کے سامنے پیش ہونے سے پہلے بوبی نے اشفاق سے کہا کہ سب کچھ سچ بتانے کے ساتھ ساتھ یہ ضرور کہنا کہ منگول ہمارا دوست ہے اور ہم اس طرح کی خطرناک شرطیں بدتے رہتے ہیں۔ اشفاق نے اس کی بات مان لی۔ اس نے اپنے ابا جان سے بھی سن رکھا تھا کہ فضائی فوج والے ایسی صورت حال میں جُرم کی ذمہ داری آپس میں بانٹ لیتے ہیں تاکہ کوئی ایک فریق کڑی سزا کا نشانہ نہ بنے۔

بحری فوج والوں کا یہ قاعدہ ان دونوں کو عجیب لگا کہ اگلے ہی منگل کو پریڈ گراؤنڈ میں انٹر سروسز کے تمام لوگ فال اِن یعنی جمع کیے گئے۔
ان کے سامنے منگول ملٹری پولیس کے دو جوانوں کی تحویل میں اپنی پوری تقریباتی وردی میں ہوشیار کھڑا تھا، کمان افسر نے انگریزی میں اس کی فردِ جرم اور پھر سزا پڑھ کر سنائی تو بحری پولیس کے ایک پیٹی افسر نے آگے بڑھ کر بڑی درشتی سے منگول کے بازو پر لگی عہدے والی دھجی جس پر نیلے رنگ کا لنگر کڑھا ہوا تھا، اچک کر کھینچ لی۔ وہ پھر سے سپاہی بنا دیا گیا تھا۔ پھر ایک کاشن پر منگول وہاں سے مارچ کرتا ہوا چلا گیا۔ ان دونوں کے لئے دو باتیں حیران کرنے والی تھیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے ہاں اس طرح کسی مجرم کو سرِعام رسوا نہیں کیا جاتا تھا، دوسری یہ کہ منگول کا نام انگریزی فرد جرم میں “ایم کے شیرانی تمغہ ء بسالت” پڑھ کر سنایا گیا تھا۔

“یعنی یہ شیطان صرف دلیر نہیں بلکہ دلیری کا تمغہ بھی لے چکا ہے” بوبی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ خیر دونوں لڑکوں کو ان کی یونٹوں سے شرطیں بدنے کے جرم پر سزا ملی مگر کم شدت کی۔ بوبی پر ایک ماہ تک کیمپ سے چھٹی اور بُک آؤٹ جانے پر پابندی لگی جبکہ اشفاق کو سات دن کوارٹر گارڈ کی قید۔ اس کی کوارٹر گارڈ کی قید ختم ہوئی تو وہ بوبی سے ملنے اس کے کیمپ گیا۔ منگول اسے کہیں نظر نہ آیا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ منگول سے ڈرا ہوا تھا۔ بوبی کا کہنا تھا کہ جب اس کی سزا ختم ہو گی تو وہ دونوں منگول سے ملنے جائیں گے لیکن اشفاق نہ مانا۔ وہ بھانپ گیا تھا کہ بوبی منگول سے بہت متاثر ہے۔ بوبی کی سزا ختم ہوئی تو وہ اشفاق سے ملنے آیا اور وہ دونوں منگول سے ملنے اس کے کیمپ چلے گئے۔ وہ مصروف تھا مگر انہیں تپاک سے ملا۔

“سندھی! مجھے اندازہ ہے کہ ایم ٹی یارڈ کی سنتری ڈیوٹی میں آدمی کو پیشاب بڑے زور سے آتا ہے، شرمسار نہ ہو!” منگول نے اشفاق سے گلے ملتے ہوئے کہا اور قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ اشفاق نے دل میں شکر ادا کیا کہ اس بات کا بوبی اور اشفاق کے سوا صرف شیرانی کو پتہ تھا اور کسی سے ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ خیر وہ کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔

” لڑکو! مجھے معاف کرنا، اُس دن میں نے ایک عجیب سی کتاب پڑھ لی تھی!” پھر بڑے گھمبیر انداز میں بولا تو وہ دونوں ہنس دیے۔
“تم دونوں لڑکے مجھے بہت پسند ہو اور میں جنہیں پسند کرتا ہوں، ان کے ساتھ ایسی حرکتیں کرتا ہوں کہ وہ مجھے بھلا نہ دیں!” یہ کہہ کر پھر ایک قہقہہ لگایا اور ان دونوں کے لئے چائے منگوائی۔ یہ مختصر سی ملاقات تھی۔ اشفاق کو وہاں سے اٹھنے کے بعد یاد آیا کہ منگول کو جو تمغہء بسالت ملا تھا، اس کی کہانی اس سے پوچھنے سے رہ گئی۔ چند دن بعد پتہ چلا کہ اُسے واپس سمندر میں بحری جہازوں پر بھیجا جا رہا ہے۔ ضابطے کے مطابق بڑی سزا کے بعد اس کا تبادلہ ضروری تھا۔ سو وہ جا رہا تھا۔ جب اس کی روانگی کا پتہ چلا تو اس وقت وہ اپنا سازوسامان بحری فوج کے بھدے سُرمئی ٹرک میں لاد کر چھاؤنی سے نکلنے والا تھا۔ وہ دونوں بھی پھاند کر اس پرانے برطانوی ساختہ ٹرک پر سوار ہو گئے۔
“بوبی! اگر نیپولین آرٹلری اسکول میں ہی کوئی توپ اُلٹی چل جانے سے مر جاتا، تو بھی اٹھارہ سو بیس تک فرانس اور یورپ کے وہی حالات ہوتے جو نیپولین کر کے مرا تھا۔۔۔ مانتے ہو؟” منگول بلند آواز میں بولا، خدا جانے بوبی نے کیا جواب دیا، اشفاق کو بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کہنا کیا چاہتا تھا۔” اوئے سندھی! تُو سمجھ گیا ناں؟” وہ اشفاق کی طرف رخ کر کے بلند آواز میں بولا۔ ٹرک چل چکا تھا اور اس کے انجن کا شور بہت تھا۔” یس سر!” اشفاق نے میکانکی انداز میں کہا۔

“آدمی بے بس ہے، وقت کا ریلا ایک پر اسرار چلن رکھتا ہے جس کا ہر قدم نپا تُلا ہوتا ہے، اس کا نام تقدیر رکھ لو یا کچھ۔۔۔ البتہ کچھ لوگ اس چلن سے وقت کا اگلا قدم بھانپ جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک پر اسرار طاقت ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔۔۔ سمجھے؟” منگول کی بات اشفاق کو حرف بہ حرف یاد ہو گئی مگر وہ سمجھا نہیں۔ ٹرک اب پہاڑی سے اتر کر شہر کی شاہراہ پہ چڑھ رہا تھا جہاں چھاؤنی کا صدر دروازہ تھا۔ اشفاق کی وہاں سنتری ڈیوٹی تھی۔ اس نے ٹرک کے ڈرائیور کو آوازیں لگائیں مگر وہ ٹیپ پر بآواز بلند بھارتی گانے چلا کر مست بیٹھا تھا، جب تک اس نے ڈرائیور والے ہودے کی چھت پر مُکے مار مار کر اُسے متوجہ کیا، ٹرک کافی آگے نکل چکا تھا۔ ٹرک رُکا اور وہ دانت پیستا ہوا اور بحری فوج کے کھٹارا ٹرکوں اور گنوار ڈرائیوروں کو کوستا ہوا ٹرک سے چھلانگ لگا کر اتر گیا۔ “اس حرامزادے کی وجہ سے اب پندرہ بیس منٹ کی پیدل مسافت کرنی پڑے گی” اشفاق نے سوچا۔ “اشفاق! سُنو!” اچانک منگول نے چونک کر اسے بلایا۔ “سر!”

وہ ایڑھی پر پیچھے گھوما۔
“اگر میری بات سمجھ جاؤ تو یہاں تک میرے ساتھ سفر فائدہ مند تھا! اب ڈرائیور کو کوسنا بند کرو اور دفع ہو جاؤ! خدا حافظ!”
منگول نے مربیانہ انداز میں کہا اور ٹرک راولپنڈی کی طرف چل پڑا۔

” حرامی۔۔۔ سمجھتا ہے کہ ایسی فضولیات پہ ہم اسے فلسفی سمجھیں گے!” اشفاق نے ہنستے ہوئے زیرِ لب منگول کی شان میں یہ جملہ خود سے کہا اور رائفل سنبھالتے ہوئے واپس چھاؤنی کی طرف پیدل چلنے لگا۔ بوبی کو راولپنڈی اسٹیشن تک منگول کے ہمراہ جانا تھا، فقط رسمِ مشایعت کے طور پر۔

چند قدم کے بعد ہی اشفاق منگول کو ذہن سے جھٹک کر اور باتوں پر سوچنے لگا۔ عامیانہ سی باتیں جن کے بارے میں نصف ملین کے اس باوردی ہجوم میں ہر ایک سوچتا ہے۔ جو باتیں منگول اور بوبی سوچتے تھے، وہ کوئی بھی نہیں سوچتا یا پھر سپاہ کے بگڑے ہوئے چند افسر سوچتے ہوں گے جو یا تو کپتان بننے کے بعد سدھر جاتے ہیں یا پھر ایسی اُلٹی سوچوں کے طفیل ہی میجر ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اشفاق کی سوچ کا موضوع اس کی لانس نائیک کے عہدے پہ ممکنہ ترقی تھی مگر ایک فلک شگاف دھماکے کی آواز نے اس کی سوچوں کا تسلسل توڑ دیا۔ چھاؤنی کا صدر دروازہ جس پر اس کی ڈیوٹی تھی اور ابھی تو وہ دس منٹ کی پیدل مسافت پر تھا، وہاں ایک بم دھماکا ہوا تھا جو یقیناً خودکش حملہ تھا۔

دھویں کا ایک خفیف سا مرغولہ ہی جو کہ دھماکے کی آواز کے مقابلے میں کم تھا، اُسے نظر آیا۔ وہ دیوانہ وار اس طرف بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔ وہ پانچ سے چھ منٹ میں ہی وہاں تک پہنچ سکا مگر ملٹری پولیس والے تب تک جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے چکے تھے۔ ایمبولینس ابھی تک نہ پہنچی تھی البتہ اس کے بھونپو کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی سنائی دے رہی تھی۔ چند گاڑیاں اور گارڈ روم کی کھڑکیاں شیشوں سے محروم دکھائی دے رہی تھیں، چند زخمی سپاہی اور سویلین زمین پر لیٹے یا بیٹھے کراہ رہے تھے۔ ایک ہنگامہ تھا مگر اشفاق کو بھی وقوعہ سے ذرا فاصلے پر ہی روک لیا گیا۔ اس واقعے میں ایک سنتری مارا گیا باقی تمام زخمی ہوئے۔ مارے جانے والا سنتری ایک بلتستانی لانس نائیک مرجان تھا جس کی جگہ آدھا گھنٹہ قبل سے اشفاق کو موجود ہونا تھا۔ اس کے ذہن میں منگول کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔

“بوبی سچ کہتا ہے اُسے۔۔۔ شیطان۔۔۔ ایک دم شیطانی حس ہے اُس کی!” وہ سر جھٹک کے خود کلامی کے انداز میں ایم پی کے پیچھے کھڑا کہے جا رہا تھا۔

پھر کئی دن اس سانحے کی انکوائری کی نذر ہو گئے اور اسے یاد تک نہ رہا کہ منگول کون تھا۔ یاد تو رہا مگر واقعات نے وقت کو پہیے لگا دیے جس کی وجہ سے وہ نام یادداشت کی کسی اونچی الماری میں چلا گیا جہاں روزمرہ کی زندگی میں خیال کا ہاتھ نہ پہنچتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہی دنوں میں یہ ہوا کہ بوبی کی گریجویشن اس کے کام آ گئی اور اسے فضائی فوج میں ہی انگریزی کا استاد بنا کر وارنٹ افسر کا عہدہ دے دیا گیا۔ اشفاق کو اس امر کی خوشی تھی کہ اس کا دوست اتنی کم عمر میں ان کے سردار کے برابر عہدہ پا گیا تھا اور اب افسر بننا بھی شاید دور نہ تھا۔ جس روز اشفاق نے اسے کراچی کے لیے رخصت کیا، اس نے اسے تاکید کی کہ کراچی میں منگول سے ملے تو اس کا سلام ضرور پہنچائے۔
دوسرا واقعہ اشفاق کا اپنا کمیشن کی امیدواری کا امتحان تھا۔ سلیکشن بورڈ نے اسے کمیشن کے لیے موزوں قرار دے دیا لیکن خدا جانے کیا ابتلاء پڑی کہ تربیت کے لئے بلایا ہی نہ گیا۔ یہ دن اس کے لیے سخت مایوسی کے دن تھے۔ پھر ایک دن اسے بحری فوج کی طرف سے خط ملا کہ اُسی سابقہ امتحان کی کامیابی کی بنیاد پر اسے بحری فوج میں کمیشن کی تربیت پانے کی پیشکش دی جاتی ہے۔ اس کے تو وارے نیارے ہو گئے۔ سانگھڑ اشفاق کا آبائی وطن تھا، بحری فوج میں کمیشن تو گویا دہری خوش قسمتی تھی۔ اُس نے فوراً رضامندی ظاہر کر دی اور کراچی پہنچ گیا۔
اگلے تین سال اشفاق کے لیے بہت طویل تھے۔ یوں لگا گویا صدی گزر گئی اور وہ بھی بہت کڑی۔ بحری فوج کی تربیت مکمل ہونے تک اسے جہان دیگر کا ہوش نہ تھا۔ اس دوران بوبی کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ بھی رہا اور گاہے گاہے ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں سر راہے منگول کا ذکر بھی ہوتا کہ ان کی مشترکہ کہانی میں منگول کا کردار اب بھی ناگزیر تھا۔ یہ کردار ایک دن اچانک نمودار ہوا جیسے کوئی غرقاب چیز سطح آب پر آ نکلتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“شرارِ دریا” نام کی ایک جنگی مشق ہو رہی تھی۔ اشفاق بحری جہاز پر تعینات تھا۔ مخالف بحریہ یا “فوکس نیوی” کو جو جہاز سونپے گئے تھے، اُن کی طرف سے اِن کے خلاف کی گئی سب کارروائیاں ناکام ہو رہی تھیں لیکن فوکس نیوی کے غوطہ خور ان کے جہاز کے نیچے سبوتاژ کی کارروائیاں اور نقلی بم لگانے میں بار بار کامیاب ہو رہے تھے اور امپائروں کی نظر میں اشفاق کے جہاز کے کپتان کو سخت سبکی کا سامنا ہو رہا تھا۔ انہوں نے اپنے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے اور ایک رات انہوں نے مخالف بحریہ یعنی فوکس نیوی کا وہ چھلاوہ صفت غوطہ خور رات کے اندھیرے میں اپنے جہاز کے نیچے نقلی بم لگاتے ہوئے پکڑ ہی لیا۔ اس کے طریقے اتنے اچھوتے تھے کہ سبھی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ہر دفعہ یہی ایک حملہ آور آتا تھا۔ جب اُسے اوپر لایا گیا تو وہ پورے غوطہ خوری کے لباس میں تھا اور چہرے پر گریس اور کالک ملی ہوئی تھی، کالا بھجنگ غوطہ خور کوئی سمندری بلا معلوم ہو رہا تھا۔

اشفاق ٹریک سوٹ پہنے ہینگر میں گیا تو وہ غوطہ خور اپنے حراست میں لینے والوں سے سگریٹ طلب کر رہا تھا۔

“ہیلو آئی ایم سب لیفٹیننٹ اشفاق!” اشفاق نے اس کی طرف سلام کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ وہ اسے اس کے سابقہ مشنوں کی وجہ سے داد دینا چاہ رہا تھا۔ جواب میں ایک فلک شگاف قہقہہ آیا اور اشفاق نے خوب جانی پہچانی آواز میں ایک جانا پہچانا انگریزی جملہ سُنا جو کسی کارٹون فلم میں ایک جن نے اپنے باغ میں داخل ہونے والے دو معصوم بچوں سے کہا تھا۔ اشفاق نے قہقہے کا جواب قہقہے سے دیا اور وہ دونوں بغلگیر ہو گئے۔ منگول گذشتہ چار پانچ سالوں میں ذرا بھی نہیں بدلا تھا بلکہ ویسا ہی سخت جان اور زندہ دل۔ اشفاق نے اس کے لیے چائے اور کباب منگوائے اور وہ دیر تک بیٹھے گپیں ہانکتے رہے۔ اُس کا جو نائیک کے برابر عہدہ چند سال پہلے اترا تھا، ضابطے کے مطابق اسے واپس تو مل گیا تھا مگر وہ تب سے اسی عہدے پر تھا۔ وہ جتنی بے پناہ صلاحیتوں کا مالک تھا، کامیابی اور ناکامی اور ترقی تنزلی کے دنیاوی فلسفے سے اتنا ہی بیزار، ورنہ خُدا جانے کیا طغیانی مچاتا۔ اشفاق اس دوران اس کے بارے میں یہی سوچ رہا تھا۔ ضابطے کی کارروائی کے بعد اشفاق اُسے بیڑے کی میس میں چھوڑ آیا اور پھر ایک عرصے تک منگول کی خبر نہ سنی۔ البتہ بوبی کو یہ واقعہ سنایا تو وہ دونوں دوست خوب ہنسے۔ تاہم بوبی نے اشفاق کو اس بات پر لے ڈالا کہ اس نے اس ملاقات میں بھی منگول سے تمغہ ملنے کا قصہ نہیں پوچھا۔

اشفاق اکثر بوبی سے ملنے جاتا تھا کہ اسے آفیسرز میس سے زیادہ لطف بوبی کے سارجنٹ میس کے ماحول میں آتا جہاں سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور فلسطین کے سارجنٹ اور کارپورل بھی ہوتے تھے اور بڑے دلچسپ لوگ تھے، تکلفات اور ڈسپلن کی قید سے آزاد راتیں خوب یادگار تھیں۔ بیئر کے خم لنڈھائے جاتے اور سگریٹ کے کش لگتے، گویا عروس البلاد کی ساری رونقیں ایک کھاڑی میں واقع سارجنٹ میس کے اس کمرے میں سمٹ آئی ہوں۔ اس پہ بوبی کے نت نئے معاشقوں کی ناکامیوں کے قصے اور ان میں کہیں کہیں منگول کا تذکرہ! لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انہیں وہاں بھی وہ دن رہ رہ کر یاد آتے جو انہوں نے شمال میں سپاہی کی حیثیت سے اکٹھے گزارے تھے۔ بوبی کو وارنٹ افسری کا نشہ چڑھا تھا نہ اشفاق کو لفٹینی کا۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنے ساتھیوں کی نظر میں تو کامیاب انسان بن چکے تھے لیکن اب وہ اس کامیابی کے نشے سے بھی اکتا گئے تھے۔ اشفاق کی اکتاہٹ کی وجوہ تو شاید پیشہ ورانہ تھیں کہ وہ اپنے یونٹ کے قابل افسروں میں شمار نہیں ہوتا تھا اور اس بابت اب اسے کوئی خاص پروا بھی نہ تھی۔ لیکن بوبی کی کئی اور وجوہ تھیں جیسا کہ اس کی ناخوشگوار ازدواجی زندگی، اُس کے باپ کا اس کو عاق کر دینا، چھوٹے بھائیوں کا بے مروت ہو جانا اور بہنیں، جو اسے جان سے پیاری تھیں، ان میں بڑی کا زچگی کے دوران مر جانا اور منجھلی کا شادی کے بعد شوہر کے ساتھ بیرون ملک چلے جانا۔۔۔ بھیانک تنہائی!!! بوبی اب کتابیں پڑھتا یا پھر ویک اینڈ پہ شراب کے نشے میں دھت، بےحد خوش ہونے کی اداکاری کرتا اور رانگ نمبروں پر ٹیلی فون کر کے کراچی کی حسیناؤں کے دلوں سے کھیلتا۔ ٹیلی فون پر اس کی آواز اتنی پر کشش تھی کہ لڑکیاں نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے گھنٹوں باتیں کیا کرتیں۔ اشفاق اور بوبی کی ان حرکتوں کے طفیل اب ان کی اعلیٰ کمان ان کی تقدیر پر مہر لگا چکی تھی۔ بوبی کو اب وردی میں عمر گزار کر بھی وارنٹ افسر ہی ریٹائر ہونا تھا اور اشفاق کو بھی لیفٹیننٹ کمانڈر سے اوپر نہیں جانا تھا۔
اس امر نے انہیں ایک بدمعاشوں کی سی طمانیت بخشی تھی اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ طمانیت بھی ایک اکتاہٹ سے بدل رہی تھی کہ انہیں کوئی بھی چیز اب خوش نہ کرتی تھی۔ بوبی کو اس کی اپنی درخواست پر کراچی میں ہی ایک لڑاکا طیاروں کے مستقر پر لائبریری کا انچارج بنا کر بھیج دیا گیا۔ انہی دنوں اشفاق کو بوٹ کیمپ میں تدریسی ذمہ داریوں پر مامور کر دیا گیا۔ فضائی اور بحری فوجوں میں یہ دونوں جگہیں ایسی سمجھی جاتی تھیں کہ یہاں معتوب افسروں، سرداروں اور سپاہیوں کو بھیجا جاتا ہے مگر وہ اس سے بھی بے نیاز تھے بلکہ دونوں جگہوں کے قریب ہونے کے سبب اب اشفاق کا بوبی کے ہاں آنا جانا اور بھی بڑھ گیا کیونکہ اس مستقر میں اس کا بچپن گزرا تھا، اس کے مرحوم والدین کی جوانی گزری تھی تو اسے اس جگہ سے محبت تھی۔ بوبی ساحلِ سمندر پر چھٹی کا دن گزارنے کے شوق میں اس کے ہاں آ کر ٹھہرنے کی ضد کرتا تو وہ اسے لعن طعن کر کے باز رکھتا۔

خیر اس یکسانیت سے بھرپور تالاب میں ایک بلبلہ ان کی دلچسپی کا پھر ابھرا۔ اشفاق کے کمانڈانٹ بڑے شاندار آدمی تھے۔ کیپٹن جمشید جی منوچہر اسفندیار نٹ بولٹ والا شاید اپنی بحری فوج کے آخری آخری پارسی افسر ہوں گے ورنہ ایک زمانہ تھا کہ اس فوج کی تو پرورش ہی پاکستان بننے کے بعد ایک عرصے تک پارسی اور انگریز افسروں نے کی تھی۔ پارسی کمیونٹی میں یہ جمی نٹ بولٹ والا کے نام سے مشہور تھے کہ وہاں ان کی پہچان خاندانی کاروبار کے حوالے سے ہی ہوتی تھی۔ ان کے والد مہربان جی فرام جی آرام جی نٹ بولٹ والا بمبئی میں انڈین نیوی کے سپیئر پارٹس کے بڑے سپلائر تھے لیکن گوداوری کی بغاوت کے بعد تھوڑے سیاسی ہو بیٹھے، بعدہٗ کراچی آنا پڑا۔ جمی نٹ بولٹ والا کی صفات اور اخلاق کی صرف پارسی کمیونٹی ہی نہیں بلکہ تمام شہر اور بحری فوج دلدادہ تھی۔ یونٹ کے افسران بھی ان کا تذکرہ جمی یا “جے این بی” (جمی نٹ بولٹ والا) کے نام سے کرتے، سیلر انہیں نٹ بولٹ کے نام سے یاد کرتے اور بے حد محبت اور اپنائیت سے کرتے۔ ان کی بیگم، بھابی منیژہ اگرچہ کیپٹن صاحب سے ہر وقت جھگڑتی رہتی تھیں مگر پھر بھی ان سے بڑھ کر شاید ہی دنیا میں کسی اور افسر کی اہلیہ مہمان نواز اور گھر داری کا سلیقہ رکھنے والی ہو گی۔

ان دنوں اشفاق بوبی سے ملاقاتوں میں انہی کیپٹن صاحب کے قصے سناتا رہتا تھا۔

جمی نٹ بولٹ والا کی دو بیٹیاں تھیں جو نہایت لائق اور چندے ماہتاب، چندے آفتاب قسم کی لڑکیاں تھیں اور الترتیب آٹھویں اور تیسری جماعت میں پڑھتی تھیں۔ تمام بوٹ کیمپ کے افسروں اور چیف صاحبان کو ان سے اپنی بیٹیوں کی طرح انسیت تھی۔ حتیٰ کہ افسروں سے بیزار اور شاکی سیلر بھی ان بچوں پر جان چھڑکتے تھے۔ وہ خوش ہوتیں تو تمام چھاؤنی خوش، ان میں سے کوئی بیمار پڑ جاتی تو تمام یونٹ اداس۔

خیر قصہ یہ ہوا کہ بڑی صاحبزادی شیریں منوچہر نے جونیئر کیمبرج میں داخلہ لیا تھا اور حال ہی میں مضمون نویسی کے ایک مقابلے میں دولتِ مشترکہ کے ممالک میں اول آئی تھی۔ (چھوٹی کا نام اشفاق کو کبھی یاد نہیں رہا)۔ کیپٹن صاحب نے تمام افسروں اور کو پیغام بھجوایا کہ شیریں کے ٹیوٹر صاحب کے اعزاز میں ان کے گھر پر ایک عشائیہ ہو گا کہ انہوں نے بیٹی کو بڑی محنت سے پڑھایا اور اس مقابلے کے لئے تیار کروایا تھا۔ کچھ چیف اور پیٹی افسران بھی مدعو تھے۔ ہفتے کی شام کو کمانڈانٹ کے بنگلے پر ایک سادہ سی تقریب عشائیے کی ہوئی تو اکثر افسروں کو یہ دیکھ کر حیرت کا ایک جھٹکا سا لگا کہ معزز ٹیوٹر صاحب اسی کیمپ میں واقع غوطہ خوری کے اسکول کے انسٹرکٹروں میں سے ایک یعنی ایم کے شیرانی تمغہ ء بسالت تھے۔ لیکن اس حیرت کو اپنے افتتاحی خطاب میں ان کے ہردلعزیز جمی نٹ بولٹ والا نے ایک خوشگوار احساس سے بدل دیا۔
“جنٹلمین، یہ عشائیہ ایک کمانڈانٹ کی طرف سے اپنے یونٹ کے ایک سپاہی کے لیے نہیں بلکہ ایک باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کے استاد کے اعزاز میں ہے!” یہ کہہ کر وہ اٹھے اور “سر!” کہہ کر منگول کو مرکزی کرسی پر براجمان ہونے کی دعوت دی، پورا جزیرہ تالیوں سے گونج اٹھا۔

اسی لمحے اشفاق نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ بحری فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد استاد بنے گا۔” ہم اہلِ مشرق کے پاس بھی کیا دلگداز جادو ہیں!” وہ سوچتا رہا۔ اس دن اشفاق نے پہلی بار منگول کو پتلون کوٹ میں دیکھا، بہت باوقار اور متین لگ رہا تھا۔

عشائیہ خیر خیریت سے ہو چکا تھا، چائے کا دور چل رہا تھا، افسروں کا ایک بڑا دائرہ لان میں کھڑا گپیں ہانک رہا تھا جس میں مرکزی کردار ان کے محبوب کمانڈر جمی نٹ بولٹ والا تھے اور اشفاق کا پرانا دوست منگول! ایک منحوس خیال اس کے ذہن میں کوندا۔

“منگول ہر ملاقات میں کچھ ایسا کرتا ہے کہ چونکا کر رکھ دیتا ہے بلکہ بَولا دیتا ہے۔۔۔ کیا اب وہ بدل چکا ہے یا اس چونکا دینے والی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے؟” وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کمانڈنٹ نے ایک جوان افسر کو مخاطب کر کے پوچھا،
“عمر! اب اگلی ضیافت تمہارے لیے ہو گی (چہکتے ہوئے) بیٹا پیدا ہونے کی مبارک۔۔۔ بہت بہت مبارک!” باقی افسران اسے مبارک باد دینے لگے تو اشفاق کی جو شامت آئی، اس نے پوچھ لیا کہ بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟

“نوشیروان” لیفٹیننٹ عمر نے یک گونہ مسرت سے بیٹے کا نام پکارا۔ اس سے پہلے کہ کوئی افسر اس نام کی تعریف کرتا، منگول تنک کر بولا،
” سر یہ کس حرامزادے کے نام سے بیٹے کو موسوم کر دیا؟” یہ جملہ تمام محفل پر بم کی طرح پھٹا۔
“سر اُس نے تو مزدک جیسے جلیل القدر پیغمبر کی ناموس مٹی میں رول دی تھی!” یہ جملہ تو گویا بم پھٹنے کے بعد کا کولیٹرل ڈیمج تھا! سب زبانیں گنگ، جمی نٹ بولٹ والا کے چہرے سے پہلی بار رنگ اڑا دیکھا گیا۔ کسے کیا کہنا تھا، کسی کو کچھ پتہ نہ تھا۔ منگول شاید کچھ اور بھی بولتا لیکن اس سخت لمحے میں شیریں منوچہر کی معصومیت نے کسی مدد کے فرشتے کی طرح سب کو آن بچایا اور اس کی آواز درمیان میں گونجی۔
“بابا، میں سب مہمانوں کو اپنی پینٹنگز دکھانا چاہتی ہوں!”
“جی جی، کیوں نہیں بٹیا، بڑے شوق سے” تمام افسر یک زبان ہو کر بولے۔
دوسرے دن اشفاق کے دفتر کے ٹیلی فون پر منگول کی کال آئی
“فوکر۔۔۔ یار میرا خیال ہے کہ مجھے وہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی”
یہ کہہ کر فون بند۔ پھر اس کے بعد ایک عرصے تک ان کی ملاقات نہ ہوئی۔

اب بوبی سے ملاقات میں بھی اشفاق کا موضوع گفتگو زیادہ تر کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا ہی ہوتے تھے، منگول دوسری ترجیح بن گیا۔

جمی نٹ بولٹ والا نیوی ایوی ایشن کے پائلٹ تھے اور جلد ہی واپس نیول ائیر آرم میں چلے گئے مگر بڑی حسین یادیں چھوڑ گئے۔ اُن کی الوداعی پارٹی میں انہوں نے کفایت شعاری اور قومی وسائل کے استعمال میں احتیاط کے موضوع پر جو گفتگو کی تھی وہ اشفاق کو ہمیشہ یاد رہی۔
لیکن اس کہانی سے متعلق بات اس گفتگو میں یہ تھی کہ کیپٹن صاحب نے منگول کے بارے میں ایک یاد رہنے والی مثال دی جس سے اندازہ ہوا کہ آخری بدمزگی کو وہ جھٹک چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ منگول ان کا پسندیدہ سپاہی کس واقعے سے بنا۔

چینل میں غوطہ خوری ہو رہی تھی اور جب منگول اپنی باری پہ غوطہ لگا کر سطح آب پر آیا تو ڈائیونگ ٹینڈر پر کیپٹن موصوف اتفاق سے موجود تھے۔ منگول بری طرح ہانپ رہا تھا۔ پتہ چلا کہ وہ زیر آب آپریشنوں میں آکسیجن سلنڈر ختم ہونے تک کام کرتا تھا اور ہمیشہ آخری لمحے میں ہی ابھرتا تھا۔ کیپٹن صاحب نے اس بے احتیاطی سے بازپرس کی تو منگول کا جواب تھا؛

سر! جو سانس میں زیرِ آب لیتا ہوں، میری قوم ایک ایک سانس کی قیمت ادا کرتی ہے!” کیپٹن صاحب نے اس طرز عمل سے تو تکنیکی بنیاد پر اتفاق نہ کیا مگر اس کے پیچھے کارفرما فلسفہ انہیں بھا گیا۔ اس مکالمے کے بعد منگول ان کا پسندیدہ سپاہی اور مزید بعد میں ان کی بیٹی کا ٹیوٹر قرار پایا۔ خیر، جمی نٹ بولٹ والا کے چلے جانے کے بعد حُسنِ اتفاق دیکھیں کہ اشفاق بھی نیوی ایوی ایشن کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ یا پھر شاید نیول ہیڈکوارٹرز میں اس کا آرمی کے زمانے کا وہ لطیفہ پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا عرفی نام فوکر پڑا تھا۔ وہ سپاہی تھا اور اپنے ایک افسر کو پنڈی ائرپورٹ پر چھوڑنے گیا جس نے وہاں سے نیوی کے ایک فوکر طیارے کے ذریعے کراچی جانا تھا:

کرنل صاحب نے اسے اپنا بریف کیس دیا اور کہا “اسے فوکر کے پاس لے چلو، میں آتا ہوں” اور انہوں نے جہاز کی طرف اشارہ کیا جس کے پاس عملے کے کچھ افسر کھڑے تھے۔ اشفاق بریف کیس لے کر عملے کے افسران کے پاس گیا اور نہایت سادگی سے انہیں مخاطب کر کے کہا،
“سر آپ میں سے فوکر صاحب کون ہیں؟”

اسے پرواز کی بنیادی تربیت کے لئے گوجرانوالہ بھیج دیا گیا۔ اس دوران منگول سے رابطہ ہوا نہ کوئی اس کی خبر سنی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روٹری ونگ پائلٹ کورس کے بعد اشفاق واپس آیا تو جمی نٹ بولٹ والا کے زیرِ کمان نوکری کا دوبارہ موقع ملا۔ یہاں ایک شعبہ تھا جس کا کام سمندر میں گرنے والے طیاروں کے پائلٹوں کو بچاؤ کی تربیت دینا تھا۔ یہاں ایک غوطہ خور کی آسامی پہ جمی نے منگول کا تبادلہ خصوصی احکامات پر کروا لیا۔ حُسنِ اتفاق دیکھئے کہ فضائی فوج کے جس مستقر کے ساتھ ان کا رن وے سانجھا تھا، بوبی بھی عارضی تبادلے پر وہاں کی لائبریری کا وارنٹ افسر انچارج بن کر آ گیا اور اشفاق کی صبحیں جمی نٹ بولٹ والا اور شامیں بوبی اور منگول کی رفاقت میں گزرنے لگیں۔ یہ تینوں دوست ڈرگ روڈ ریلوے لائن کے کنارے، جسے بوبی سارہ شگفتہ روڈ کہتا تھا شاموں میں لمبی آوارہ گردی کرتے اور اشفاق زیادہ تر بوبی اور منگول کی علمی و نیم علمی بحثوں سے خوب لطف اندوز ہوتا تھا۔ اور اکثر علمی بحث کے نام پہ عجب احمقانہ قضیے چھڑتے۔

ایک بار منگول نے کہا،
“لونڈو! تم کیا جانو، ملٹری ہسٹری میں ایک سے بڑھ کر ایک نابغے جرنیل پڑے ہیں۔۔۔ جنرل ہرمن مورائس کو جانتے ہو؟ جس نے میدان جنگ کی ایک رات میں اسّی جوان دوشیزاؤں کے ساتھ جفتی کرنے کی کوشش کی اور اسی مورچے پر جان دے دی؟” پہلے تو وہ دیر تک قہقہے لگا کر ہنستے رہے پھر جو بوبی نے مہتابی دکھائی کہ “سراسر بکواس، یہ عملی طور پر ممکن ہی نہیں!” تو منگول صاحب تو دَن سے چلے بپھری ہوئی توپ کی طرح اور علم الابدان اور جنسیات کے علم کے وہ راز آشکار کیے کہ بوبی اور اشفاق پسینہ پسینہ ہو گئے! منگول کچھ تو عمر میں دونوں دوستوں سے بڑا تھا اور تھا بھی بددماغ، سو وہ کبھی دوستوں کے عہدے کے رعب میں نہ آیا۔ اشفاق بھی باوجود ساتھی افسران کے اظہارِ ناپسندیدگی کے، اس “گنوار قبائلی” کی صحبت سے باز نہ آیا۔ یہ شامیں بڑی یادگار تھیں۔ انہی شاموں میں انہیں پتہ چلا کہ ایک بہت بڑے سیلاب میں کتنی ہی انسانی جانیں بچانے پر منگول کو تمغہ ء بسالت ملا تھا اور وہ فخر سے بولا کہ میں وہ خوش قسمت سپاہی ہوں کہ مجھے جان لینے پر یا جان دینے پر نہیں بلکہ جانیں بچانے پر تمغہ ملا ہے۔ منگول کی یہ بات بظاہر متاثر کرنے والی ضرور تھی لیکن چونکا دینے والی نہ تھی سوائے اس قصے کے کہ کس طرح وہ ایک خاندان کے افراد کو سیلاب سے نکالنے کے بعد ان کی ایک کم سن بچی کی گڑیا کو ڈھونڈنے کے لیے دوبارہ پانی کے ریلے میں کود گیا تھا۔

ایک شام اچانک چلتے چلتے وہ رک گیا اور بولا
“تم دونوں اپنے اپنے ہاتھ دکھاؤ!” انہوں نے ہاتھوں کی ہتھیلیاں سامنے کر دیں۔ منگول غور سے ان کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھتا رہا گویا لکیروں میں چھپی قسمت کی بجھارتیں پڑھ رہا ہو پھر اچانک قہقہہ لگا کر ہنسا۔
“ابے تم دونوں ہاتھ کی لکیروں پہ یقین رکھتے ہو؟” وہ دونوں کھسیانے سے ہو گئے مگر پھر وہ سنجیدہ گیا،

“بوبی، فوکر! تم دونوں جتنا خوش رہنے کی اداکاری کرتے ہو، اتنی ہی غمگینی اور اداسی تمہاری منتظر ہے!” ان دونوں کے چہرے اتر سے گئے تو وہ پھر قہقہہ لگا کر ہنسا “مادر۔۔۔! بہت ہی تھڑدِلّے ہو!!” صحبت کا رنگ پھر وہی ہو گیا۔ یہ صحبتیں تب تک خوب رہیں جب تک کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا کی کمان رہی۔ وہ سمندری سیکیورٹی ایجنسی میں کسی کمان پر چلے گئے تو نئے کمانڈر نے اشفاق کو شامیں دوستوں کے ساتھ گزارنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ کئی ماہ گزر گئے، اس دوران بوبی اور منگول سے ملاقاتیں تو رہیں مگر وہ محفلیں برہم ہو گئیں بلکہ بوبی کا کثرتِ مے نوشی کے الزام میں سزا کے طور پر جیکب آباد تبادلہ ہو گیا، اشفاق اور منگول ہی رہ گئے۔ اس عرصے میں کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا کے بارے میں منگول نے ہی بتایا کہ بھابی منیژہ کے ساتھ ان کی اَن بَن چل رہی ہے اور وہ بیٹیوں کو لے کر جرمنی چلی گئی ہیں۔ منگول کیپٹن جمی کو اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں بہت جاننے لگ گیا تھا اسے بعد میں نٹ بولٹ والا فیملی سے ہی پتہ چلا کہ شیریں منوچہر کی بی ایس سی کے فوراً بعد شادی ہو گئی تھی اور وہ اپنے میاں کے ساتھ کینیڈا میں تھی، جبکہ چھوٹی بیٹی ماں کے ہمراہ جرمنی جا کر تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ کیپٹن جمی کی ریٹائرمنٹ قریب آئی تو فوکر نے کئی بار سوچا کہ وہ اُن سے جا کر مل لے کیونکہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد جرمنی جا کر بیگم سے مصالحت کرنا اور بدگمانیاں رفع کرنا چاہتے تھے لیکن نئے کمانڈر نے اشفاق کو ذاتی زندگی کی کسی دلچسپی کے قابل ہی نہ چھوڑا سوائے منگول کی کسی کسی وقت کی صحبت کے۔ یوں تو لیفٹیننٹ کمانڈر وقاص، لیفٹیننٹ شیر علی اور اسکواڈرن لیڈر شکیب الحسن بھی اس کے ہر وقت کے ساتھی تھے مگر ان کی صحبت بھی کتنی ملتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ موسمِ سرما کا آغاز تھا، ان دنوں اشفاق منگول کے ہمراہ شام کو اکثر کہیں نہ کہیں سیر یا چہل قدمی پہ نکلتا تھا۔ یا پھر وہ شہر میں پارسیوں کی ایک لائبریری میں جا بیٹھتے تھے۔ اس شام وہ ڈرگ ریلوے لائن کے کنارے ٹریک سوٹ پہنے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ریلوے لائن کے دونوں جانب اُگے قد آدم سرکنڈے ڈرگ روڈ کی شاہراہ اور فضائی فوج کے مستقر کو ان کی نظروں سے یوں چھپائے ہوئے تھے گویا یہاں اس پٹڑی اور ان سرکنڈوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس وجہ سے ان کے کان دونوں اطراف سے پیدا ہوتے شور سے بھی بے نیاز تھے جو اب شام کے فسوں سے کمزور پڑ رہا تھا۔ منگول کچھ کھویا کھویا سا لگ رہا تھا،

“اشفاق۔۔۔” اس نے لگ بھگ تین سے پانچ منٹ کی لمبی خاموشی توڑی۔ وہ جب اسے فوکر کی بجائے سیدھے نام سے پکارتا تھا تو وہ بھانپ جاتا کہ کوئی سنجیدہ مذاق کرنے یا گھمبیر نکتہ بیان کرنے والا ہے۔

“میں ریٹائر ہونے والا ہوں۔۔۔ پیسہ کمانے کی عمر کتابیں پڑھنے اور یادیں سمیٹنے میں گزار دی لیکن اب شاید کتابیں پڑھنے کی عمر میں پیسہ نہ کما سکوں۔۔۔ نہ ہی یادیں سمیٹ سکوں۔ اور یوں بھی بعد کی زندگی میں میرا کلیرنس ڈائیور ایم کے شیرانی تمغہء بسالت ہونا کوئی معنی نہ رکھے گا۔۔۔ بہرام اور شہرام جوان ہو رہے ہیں لیکن وہ باپ کے طور پر میری ذات سے اتنے مانوس نہیں ہیں کہ میں اب ان کی تعلیم و تربیت پر اثر انداز ہو سکوں۔ سچ یہ ہے کہ مجھے اب اُن سے زندگی میں کچھ بننے کی توقع ہی نہیں رہی۔۔۔ یا یوں کہوں کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے، مجھے اس سے کوئی گہری دلچسپی نہیں رہی۔۔۔ تم جیسے دوستوں سے پیچھے رہ جانے کا ہیجان اور غصہ مجھ میں تھا ہی کب اور میں کیرئیر کی دوڑ میں شریک ہی کب تھا۔۔۔” وہ اشفاق کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر روانی سے کہے جا رہا تھا”

“فوکر نکتہ یہ ہے کہ میں آگے آنے والی زندگی کی یکسانیت سے ڈر رہا ہوں اور ڈھلتی عمر اور اختتام کے قریب تر ہونے کا احساس بھی مجھے خوفزدہ کر رہا ہے۔۔۔” اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے بات جاری رکھی۔ اشفاق نے بھی سگریٹ سلگا لی۔

” تمہارا کبھی جے این بی سے رابطہ ہوا ہے؟” منگول نے غیر متوقع سوال کیا۔

“نہیں شیرانی صاحب، بالکل نہیں۔۔۔ خیر؟” اس بے تکلفی میں بھی وہ اُسے شیرانی صاحب ہی کہہ کر پکارتا تھا اور وہ اسے کبھی اشفاق، کبھی فوکر اور کبھی فقط ‘سر’ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔

“میں پرسوں ملا تھا اس سے، کیا کھلی کتاب جیسا آدمی ہے۔۔۔ مگر اس پریشانی میں وہ بھی مجھ سے مختلف نہیں۔۔۔ بلکہ وہ تو ذہنی طور پر بالکل کھسک چکا ہے! وہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کی بے معنویت سے بے حد گھبرایا ہوا لگ رہا تھا کیونکہ فلائنگ اور دونوں بیٹیاں ہی اس کی کل کائنات کا محور رہی ہیں۔۔۔ اب وہ ان سے دور ہوتا ہوا بہت بوکھلا گیا ہے۔ بڑے آدمی کو ایک چھوٹے خول نے مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا۔۔۔”

“وہ ٹھیک تو ہیں؟” اشفاق کو تشویش سی ہوئی۔
” کیا ہونا ہے۔۔۔ بس یہی کہ وہی خوف ہے جو مجھ میں ہے! باوردی زندگی کا آدھا عرصہ زندگی کی بے مقصدیت پہ سوچنے میں گزرا کیونکہ ہمیں جتنی ذہنی فراغت اس فوجی زندگی سے ملی ہے، کہیں نہ مل سکتی تھی!

بحرِ عرب، خلیجِ فارس، انگلش چینل اور بحرِ احمر کی گہرائیوں میں اتر چکا ہوں، سب سے زیادہ وقت اپنے سمندر کی غواصی میں گزرا، باقی تو ایک ایک دفعہ کے تجربے تھے۔۔۔ غواصی کا مطلب جانتے ہو؟ مطلب غوطہ خوری۔۔۔ یہ وہ مواقع تھے جو اس پیشے نے مجھے دنیا کو دنیا سے ہٹ کر اور زندگی کو زندگی سے الگ ہو کر دیکھنے کے فراہم کیے۔ پھر آدھی سروس زندگی کی بے مقصدیت سے آنکھیں چرانے میں گزر گئی۔ ساری عمر گزر جاتی مگر یہ جو آخری دنوں میں ایک بدصورت جنگ دیکھنی پڑی۔۔۔ وار آن ٹیرر۔۔۔ جو کہ آغاز میں ہم نے قومی جذبے سے مغلوب ہو کر جرات مندی سے گزاری اور پھر باقی جو تھی وہ اس احساس کے زیرِ اثر شدید بے دلی میں گزاری کہ مغرب کے ہتھیار مشرق میں بیچنے کے حیلے بہانے آج کل جنگ کہلاتے ہیں۔۔۔ اور اب ایک خوف اس جرات مندی کی جگہ لے چکا ہے۔ زندگی کے بارے میں جو وحی مجھ پہ خلیجِ فارس کے ایک غوطے کے دوران اُتری تھی۔۔۔ یہ تب کی بات ہے جب ہم اُس طرف جایا کرتے تھے۔۔۔ اور ہاں! وحی سے مراد تم سمجھے ناں؟ جو ایک مایوس کر دینے والی سرد روشنی میرے دل میں اس گہرائی میں اُتری تھی، وہی روشنی کلی منجارو کی پہاڑی کے پر اسرار برفانی تاج کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے کیپٹن جمی کو بھی ملی تھی، تب وہ لیفٹیننٹ کمانڈر تھا شاید۔۔۔ میں اسے نہیں جانتا تھا، نہ وہ مجھے۔۔۔ لیکن ہماری منزل ایک تھی، سفر جدا جدا رہا! اب ہم اس خود فریبی سے نکلنے والے ہیں تو خوفزدہ ہیں۔

میرا انگلش چینل میں جان پہ کھیل کر اترنا اور کوئی دھماکا خیز مواد ڈی فیوز کرنا، سینکڑوں گھنٹے سمندر کی گہرائی میں ویلڈنگ، کٹنگ، ڈیمولیشن کرنا یا کچھ بھی میرے لیے یہاں سے جانے کے بعد جہانِ دیگر کے لیے کیا معنی رکھے گا جس کی بنا پر میں نیوی میں بڑا ٹارزن بنا پھرتا رہا، باقی جو کتابیں میں نے پڑھیں، کراچی کے ہندووں، پارسیوں، شیعوں، اسماعیلیوں، عیسائیوں اور شاعروں ادیبوں کے ساتھ مذہب کے ابطال پر بحثیں کی ہیں، ان سے شہرام اور بہرام کی زندگی پہ بھی تو کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا! زندگی کے بارے میں وہ کون سا بُدھا کے درجے کا گیان پا لیں گے؟
ہمارے ایلسی‌بائیڈیز کو بھی شراب میں ڈبونے والی طاقت یہی انکشافات ہیں! میں نے زندگی کو جس بلوری مرتبان میں رکھ کر مدتوں اس کی پوجا کی، اسے میرے خیالات کی قطرہ قطرہ ٹھیس نے کریک کرکے توڑ ڈالا، اپنے ایلسی بائیڈیز کے معاملے میں بس ایک ہتھوڑا ہی کافی ثابت ہوا یعنی اُس کا محبت سے ایمان اٹھ گیا اور زندگی کی جس مورتی کو وہ پوجتا تھا، وہ ریزہ ریزہ ہو گئی!” پھر سگریٹ کو آخری لمبے سے کش میں ختم کر کے منگول قہقہہ لگا کر ہنسا۔ اشفاق مسکراتا رہ گیا۔۔۔ اب فوکر کو اس کی باتیں سمجھ آتی تھیں۔ بوبی کو اس کی بیوی اس لیے چھوڑ کر چلی گئی تھی کہ وہ کسی اور نوعمر لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا اور اس سے بیاہ کے عہدوپیمان بھی کر چکا تھا۔ مگر بیوی کے چھوڑ جانے نے اسے حیران کن حد تک توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اس کا کم سن بیٹا بھی ساتھ لے گئی تھی۔ اب وہ ہمہ وقت شراب میں غرق رہتا تھا۔ خداجانے اب جیکب آباد میں یہ منحوس چیز اسے کون مہیا کر رہا تھا۔ کچھ دنوں سے اس کا معمول یہ تھا کہ وہ بیس لائبریری میں دھت پڑا رہتا تھا اور دوست یار اسے گھسیٹ کر میس میں لے جاتے۔ شکیب کے ذریعے چند روز قبل پتہ چلا تھا کہ اس کے خلاف پھر انکوائری چل رہی ہے۔

“بوبی کا قصور نہیں، اُسے ائر فورس نے کورنگی کے علاوہ ہر جگہ لائبریری انچارج بنا کر خود اس کے پاگل پن کا سامان کیا، مگر لگتا ہے نیوی نے آپ کو بہت مصروف نہیں رکھا!” فوکر کی اس بات پر وہ دونوں ہنس پڑے مگر منگول کے چہرے پر سنجیدگی کے تاثرات اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

” لیکن!” وہ سنجیدہ ہوا” اشفاق یار لعنت بھیجو میرے اور جمی صاحب کے اندیشوں پہ، بوبی کو سیریس لو! وہ مرنے والا ہے!” اشفاق چونکا۔
” کیا اس کو کوئی عارضہ ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے اس کے گردوں۔۔۔” اشفاق کہہ ہی رہا تھا کہ منگول نے ٹوکا،
“شراب نہیں! خود کشی! اشفاق میں نے ایک مدت پہلے بوبی کی آنکھوں میں دلیری اور بزدلی کا وہ مرقع دیکھ لیا تھا جو آدمی کو خود کشی کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔ وہ خود کشی کر لے گا!!” منگول کی اس بات نے فوکر کو دہلا کر رکھ دیا۔ اب اسے منگول کی نادیدہ قوت یا “شکتی” پر اتنا یقین نہ تھا کہ وہ وقت کے قدموں کی چاپ سن لیتا ہے مگر بوبی کےاحوال ذیادہ پریشان کُن تھے۔ فوکر نے فوراً سوچ لیا کہ واپس جاتے ہی کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا سے بات کرے گا کہ وہ اپنے نسبتی بھائی گروپ کیپٹن بہزاد سے کہہ کر بوبی کا تبادلہ یہیں کراچی میں کروا دیں تاکہ وہ تنہائی کے اس عفریت سے بچ جائے جو کہ جیکب آباد میں اسے کھانے کو آ رہا تھا، دوسرے یہ کہ اسے شراب کی لت سے بچا لے۔ اور اس نے اس معاملے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا کا ردعمل فوکر کی توقع سے بھی زیادہ مشفقانہ اور سریع نکلا۔ تھوڑی ہی دیر میں وارڈ روم میس میں اشفاق کے کمرے کا فون بجا اور ایک فوجی لب و لہجے کی آواز آئی،

“لیفٹیننٹ کمانڈر اشفاق؟”
“جی جناب”
“بیٹا میں گروپ کیپٹن بہزاد جی مانک بات کر رہا ہوں۔۔۔ جمی کے ریفرنس سے۔۔۔”
ایک مربیانہ لہجے کی باوقار آواز گونجی۔ اس نے ان کی شفقت اور فوری رابطے پہ شکریہ ادا کیا۔

“اشفاق مجھے معلوم تو نہیں کہ وارنٹ افسر خالد واسطی سے تمہارا کیا رشتہ ہے مگر۔۔۔ جمی کا فون آتے ہی میں نے بیس کمانڈر جیکب آباد سے بات کی ہے جو میرا سرگودھیئن کلاس فیلو ہے۔۔۔ اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔۔۔ وارنٹ افسر خالد نے ابھی کچھ دیر پہلے آرڈرلی افسر ڈیوٹی کے دوران فوجی پستول سے اپنی جان لے لی ہے۔۔۔ اس کی خود کشی کی وجوہ بیس کمانڈر کو بھی پوری طرح معلوم نہیں، سوائے اس کے کہ کل اس کا سمری کورٹ مارشل ٹرائل ہونا تھا۔۔۔” گروپ کیپٹن کی بات نے اس پہ گویا ہزاروں وولٹ کا کرنٹ چھوڑ دیا ہو۔

“سر، آپ کے کنسرن کا شکریہ۔۔۔” اس نے بمشکل کہا اور فون رکھ کر سسکیاں لے کر رونے لگا، وارڈ روم میس کا اسٹیوارڈ نہ پہنچتا تو شاید وہ چکرا کر گر بھی جاتا مگر اس اسے تھام کر بیڈ پہ بٹھایا اور دلاسہ دیا۔

اشفاق اور منگول اسی رات ائر فورس کے ایک سی ون تھرٹی طیارے سے جو اتفاق سے اسکردو کے لئے انہی کے رن وے سے اڑان بھر رہا تھا اور اسی طیارے نے جیکب آباد سے بوبی کی میت اٹھانی تھی، راولپنڈی پہنچے اور گوجر خان میں بوبی کی تدفین میں حصہ لیا۔ اُس کے بوڑھے باپ کی غمزدگی دل ہلا دینے والی تھی۔ وہ ریٹائر صوبیدار تھے، بڑے قد آور، دلاور آدمی، پینسٹھ اور اکہتر دونوں جنگوں میں قیدی ہوئے تھے مگر ثابت قدم رہے مگر آج اُن کی حالت قابلِ رحم تھی۔

واپسی پر اشفاق ایک ہفتے تک فلائنگ پہ نہ جا سکا اور نیند کی گولیاں کھاتے رہنے کی وجہ سے میس میں پڑا رہا۔ اس عرصے میں کئی دفعہ منگول اس کے پاس آیا مگر وہ دونوں خاموش بیٹھے رہتے اور ایک جملہ بھی نہ بولتے، پھر شیر یا شکیب کے آنے پہ منگول اُٹھ کر چلا آتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک شام وہ اپنے یونٹ کی کینٹین پر بیٹھے خاموشی سے چائے پی رہے تھے جب ایک پیٹی افسر فوکر کی طرف بڑھا، اس کے ہاتھ میں خط کا نیلا لفافہ تھا۔ انہیں ذرا حیرت ہوئی کہ فی زمانہ خط کون لکھتا ہے، جیبی ٹیلی فون ہماری زندگی میں آ چکا تھا اور خط فقط سرکاری یا کاروباری نوعیت کے ہوتے تھے۔ یہ خط عام ڈاک سے بھیجا گیا تھا اور اس کے پیچھے بھیجنے والے کے پتے پر صرف “بوبی” لکھا تھا۔ یہ کوئی ڈیڑھ ہفتے قبل جیکب آباد سے پوسٹ کیا گیا تھا۔۔۔ فوکر نے نہایت ناصبوری سے اسے کھولا۔

“فوکر!
یہ خط میں تمہیں عام ڈاک سے یہ یقینی بنانے کے لیے بھیج رہا ہوں کہ یہ خط تمہیں میری زندگی میں نہ ملے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ اب مجھے کوئی ایسا شخص روکے جس کی بات میں ٹال نہ سکوں جیسا کہ تم ہو (یا منگول جیسا شیطانی دماغ جس کی دلیل میں رد نہ کر سکوں) خدا حافظ میرے دوست!!

فوکر! مجھے مدت پہلے منگول نے کسی دانا کا قول سنایا تھا کہ اگر بنی نوع انسان کو ‘ایگزسٹنس’ کا کرب معلوم ہو جائے تو وہ خود اپنی نسل کو معدوم کر لے۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں بڑی دیر لگی اور پھر میں نے جانا کہ ہم میں سے ہر شخص کسی سراب یا خود فریبی کے سہارے یہ وجود کی یکسانیت اور مشقت گزار رہا ہے۔ جب سراب چھٹ جائے یا خود فریبی سے نگاہیں بدل جانے کی ہمت پیدا ہو جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ ایگزسٹنس فقط بے معنی ہی نہیں بلکہ کتنی کربناک ابتلا بھی ہے۔ مجھے محبت نے عمر کے بتیس سال اس فریب میں رکھا۔ میں جب زندگی کی لایعنیت کا قائل ہو رہا تھا تب بھی محبت نے ہی مجھے یہ دلیل دی کہ محبت کے ہوتے ہوئے زندگی لایعنی ہو ہی نہیں سکتی۔

سیارہء زمین پر زندگی کا آغاز جس فطری حادثے کے نتیجے میں ہوا تھا، شاید وہ بھی محبت ہی کی کوئی صورت تھی، بہرحال محبت کو ہی حیات کا محور و مقصد سمجھا۔ صدف میں اتنی قابلیت نہیں تھی کہ وہ میری نظریاتی ہستی کا پندار ہلا دیتی لیکن پھر بھی منگول کی دلیلوں سے گہرا کام صدف کی بے رُخی اور بے اعتنائی نے کر ڈالا۔ وہ چھوڑ کر نہ جاتی تو میں اس فریب میں مزید عمر گزار دیتا اور پھر آخر عمر میں تو یونہی توہمات کے لئے ہماری زمین زیادہ نرم پڑ چکی ہوتی ہے مگر۔۔۔ اس نے، میری بیوی نے مجھے اس کی مہلت ہی نہ دی۔ وہ میرے بیٹے کو ساتھ لے کر چلی گئی اور مجھے اتنی بھیانک فراغت دے گئی کہ میں وجود کی لا یعنیت اور اُن تمام حقیقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آمنے سامنے ہو گیا جو میں نے بڑی کوشش سے نظر انداز کی ہوئی تھیں۔

اُسے الزام نہیں دیا جا سکتا، اُس کا ذہن اگر اس امر کو تسلیم نہیں کرتا تھا کہ مجھے اُس سے بے پناہ محبت کیسے ہو سکتی ہے جبکہ میں شارقہ سے بھی کم و بیش اتنی ہی والہانہ محبت کرتا تھا تو وہ حق بجانب ہے! اُس کے لئے میں ایک بے وفا مرد تھا، محبت کا جھوٹا دعوے دار تھا اور ہرجائی! اور شارقہ کی نگاہوں میں اس سے بھی بڑا مجرم! علی بڑا ہو گا تو اپنے باپ کو اس بنا پر ناپسند بھی کرے گا! خیر اس سے کیا فرق پڑے گا۔

کاش اس وسیع و عریض کائنات میں میرا دل کہیں پورا آ سکتا!

مجھے مرتے ہوئے بس یہ اضطراب اور گھبراہٹ ہے کہ خدا، مذہب، وطن، ملت، ذات پات، رشتے، زندگی، خوشی، مسرت، دولت، ہر بُت ٹوٹ جائے، محبت کا بُت نہ ٹوٹے! میں اس بت کے ٹوٹنے سے پہلے خود کو پاش پاش کرنے لگا ہوں کیونکہ کسے خبر یہ میرے ہی ہاتھ سے گر کر ٹوٹ جائے! اور یہ گھبراہٹ کہ میں علی کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکوں گا!

میں خدا سے ملنے نہیں جا رہا۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ کائنات اپنے زمان و مکان اور امکانات میں اتنی وسیع ہے کہ شاید اس کے بنانے والے کو اب اس سیارہء زمین کی اس مخلوق کے حال کی خبر تک نہ ہو! میں خدا کے وجود کا منکر نہیں ہوں بلکہ اس کے کرب کو سمجھنے کا دعویدار ہوں کہ وہ اس کائنات کو تخلیق کر کے کتنا اکیلا ہے! اس تنہائی کی اکتاہٹ نے اسے بے نیاز کر دیا ہے، ہر دوعالم سے بے نیاز۔۔۔ خیر اب میری بات کی بے ربطی اور ابسرڈٹی بڑھ رہی ہے کہ شراب اپنا کمال دکھا رہی ہے۔۔۔

منگول سے کہنا کہ وہ ہرگز پریشان نہ ہو، دس بارہ سال پہلے پنڈی کے ریلوے اسٹیشن پر اُس نے جو مجھے کہا تھا، ایلسی‌بائیڈیز، خدا نہ کرے ایسا ہو مگر تمہارا انجام خود کشی ہے۔۔۔ تو میرے اس انجام کا ذمہ دار وہ ہرگز نہیں ہے۔ وہ آدمی ہم تم جیسوں سے بہتر زندگی کا ادراک رکھتا ہے۔۔۔ اُسے میرے سلام کہنا۔

فوکر! تم سے جدا ہونا بہت مشکل لگ رہا ہے کیونکہ تمہاری (یہاں انگریزی کا کوئی لفظ تھا جو اسے سمجھ آیا نہ منگول کو) اور صحبت میری زندگی کا سرمایہ تھی۔ تمہاری سادہ لوحی اور مستقل مزاجی کتنی اچھی ہے کہ تم منگول اور میرے جیسوں کی صحبت میں بھی راستے سے نہیں اترے۔ اب میرے لیے لکھنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

الوداع۔

نوٹ: ہو سکے تو میری تدفین پہ آنا اور مجھے خود قبر میں اتارنا۔ ابا جان سے کہنا، آپ کا بیٹا ہو کر میں کورٹ مارشل کی ذلت نہیں اٹھا سکتا تھا تبھی میں نے مرنے کے لئے آج کی تاریخ کا انتخاب کیا ورنہ چاردن بعد تو میری بتیسویں سالگرہ تھی!
بوبی ”

اشفاق کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے کیونکہ وہ بوبی کے کسی فلسفے سے متفق تھا نہ قائل۔ اسے یقین تھا کہ بوبی غلط تھا۔ اس نے اپنا بہترین دوست کو کھو دیا تھا! اُس نے وہ خط منگول کی طرف بڑھا دیا جس کا ڈکشن بعینہٖ ویسا ہی تھا جیسا منگول کی گفتگو اور دلائل کا ہوا کرتا تھا۔ اس نے خط پڑھ کر ایک طرف رکھا اور سگریٹ سلگا لی۔ فوکر کچھ نم آنکھوں سے خلا میں گھورتا رہا تا آنکہ اسے احساس ہوا کہ وہ کینٹین پر بیٹھے تھے اور کتنے سیلر سپاہی اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہے تھے۔ فوکر نے اپنی کار کی چابی منگول کو تھمائی اور وہ شہر کی طرف نکل گئے۔

اس عرصے میں اشفاق اور منگول اکثر اکٹھے رہتے مگر بات بہت کم کیا کرتے تھے۔ اُسے یوں لگا جیسے وہ منگول سے دور کھنچتا چلا جا رہا تھا، وہ نجانے اسے بھانپ گیا یا کیا، وہ بھی آہستہ آہستہ دامن تہی کرنے لگا۔ مگر پھر وہ دونوں اس کے ایک دو ماہ بعد ملے تو بڑے تپاک سے ملے۔ وہ دونوں ائر پورٹ پر کیپٹن جمی نٹ بولٹ والا کو رخصت کرنے والے طائفے میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن اشفاق کی منحوس کار ناتھا خان کے پُل کے عین اوپر خراب ہو گئی۔ جب تک وہ ائرپورٹ پہنچ سکے، وہ صرف جمی سے بغلگیر ہو کر خدا حافظ کہہ سکے۔ بعد میں سُنا کہ وہ جرمنی بیگم کے ساتھ ہی مستقل رہ رہے تھے۔ انہی دنوں منگول نے پیٹی افسر کے عہدے پر ترقی کی پیشکش مسترد کی تو قاعدے کے مطابق اسے بھی ریٹائر ہونا تھا۔ وہ اپنی کاغذی کارروائیوں میں مصروف ہو گیا اور فوکر اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں، کیونکہ اسے بھی متوسط کارکردگی کی وجہ سے فلائنگ سے گراؤنڈ کر کے ایک ٹریننگ یونٹ میں بھیج دیا گیا تھا۔

اشفاق کا منگول کو الوداعی عشائیہ دینے کا ارادہ بنا تو یونٹ کے مذہبی تعلیمات کے انسٹرکٹر اور اشفاق کے دوست لیفٹیننٹ کمانڈر وقاص نے بھی دلچسپی ظاہر کی کیونکہ وہ بھی سپاہیوں میں مقبول تھے اور منگول کے تمغہ ء بسالت کی بڑی قدر کرتے تھے۔ فوکر نے انہیں ہمراہ لیا، ادھر سے اسکواڈرن لیڈر شکیب اور لیفٹیننٹ شیر علی بھی آ گئے اور وہ منگول کی بارک پہنچے، اسے ساتھ بٹھایا اور شہر کے ایک اچھے ہوٹل جا دھمکے۔
منگول بڑا تازہ دم تھا اور چہک چہک کر باتیں کر رہا تھا۔ اُسے کھانے پینے کی ضیافتوں کا سوشل پہلو پسند تھا کھانے کے میز پر خوب گپ شپ رہی۔

معزز میزبانوں میں لیفٹیننٹ کمانڈر وقاص سینیئر ترین تھے، ان کا تعلق نظامت تعلیماتِ اسلامی کی برانچ سے تھا اور کسی بڑے دینی مدرسے کے فارغ التحصیل عالم بھی تھے۔ ان کی جو شامت آئی تو پوچھ لیا کہ نیوی کے ماحول میں بیس سال سے زائد وقت گزارا، آپ کو کچھ ناپسند بھی آیا؟ منگول نے بریانی کا بھرا چمچ اور کانٹا ہاتھ سے رکھ کر بڑے مدبرانہ انداز میں سب کے پسینے چھڑا دیئے۔

“سر یہاں کے ماحول میں ریاکاری کی حد تک مذہبی رنگ مجھے سخت بُرا لگا۔”

وقاص کی تلملاہٹ دیدنی تھی مگر ایک کھسیانی ہنسی میں اڑا گئے اور فوکر کی مداخلت سے کسی اور موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ منگول نے ریٹائرمنٹ پر ملنے والی ایک سال کی رخصت کراچی میں گزارنے کا فیصلہ کیا تو اشفاق کو کچھ طمانیت ہوئی کہ ملتے رہا کریں گے مگر وہ تو اس کے بعد ایسا غائب ہوا کہ چھے ماہ بعد کہیں فوکر کو فون کیا اور بتایا کہ اس نے موبائل ٹیلیفون لے لیا ہے اور رابطہ رہے گا۔ اس کے بعد پھر غائب۔ سال ہونے کو آیا تو ایک دن اس کا فون آ گیا۔

“فوکر! کیسے ہو، یار میں ایک مصیبت میں پھنس گیا ہوں، کچھ کر سکتے ہو؟”

اس کے لہجے میں تو کوئی گھبراہٹ نہ تھی مگر اشفاق نے گھبرا کر پوچھا کہ اسے کیا مدد درکار تھی؟ قضیہ یہ تھا کہ موصوف ایک سال سے یہاں پارسیوں کے کسی کالج میں بی ایس آنرز کے طلباء و طالبات کو ہسٹری کا اختیاری مضمون پڑھا رہے تھے اور بڑے ہردلعزیز پروفیسر تھے، کیا لڑکے کیا لڑکیاں، سب ان کے علم کے گرویدہ تھے، اوپر تلے سبھی کالج انتظامیہ اس کی کارکردگی سے خوش تھی۔

“خدایا، کسی لڑکی کا معاملہ نہ ہو!” اشفاق نے سوچا۔ دراصل حال ہی میں انکشاف یہ ہوا تھا کہ موصوف کی اپنی ایم اے ہسٹری کی ڈگری جعلی تھی۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ انکشاف سچ تھا اور منگول نے اس کا فوری اعتراف کر لیا تھا۔ یعنی سپاہی رینک میں بی اے کر لینے کے بعد آنجناب نے فقط اپنی وسعتِ مطالعہ کی بنا پر دنیائے دیگر کو یہ داؤ لگائے رکھا تھا، پہلے پہل زبانی دعویٰ تھا، بعد میں بوبی کی مہارت سے جعلی سند بھی چھاپ لی گئی تھی، فوکر کو ہمراز نہ بنایا گیا۔

خیر، اشفاق نے ایک جاننے والے پولیس افسر کو ہمراہ لیا اور پرنسپل صاحب سے جا کر منت سماجت کی اور اس کا پنڈ چھڑایا اور اسے مشورہ دیا کہ فوراً کراچی چھوڑ کر واپس صوبہ سرحد چلا جائے۔ جس روز اسے ریلوے اسٹیشن پر رخصت کرنے آیا تو وہ بڑا فکرمند نظر آ رہا تھا۔
“فوکر، مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اب شادی کر لینی چاہیے!” اُس نے سنجیدگی سے کہا۔

“ہاں شیرانی صاحب۔۔۔ کالج سے نکلتے ہوئے میں نے آپ کو منگنی کی تقریب کی تصویریں دکھائی تھیں ناں۔۔۔ ہونے والی ہے شادی۔ آپا کا اصرار بہت بڑھ گیا تھا اور مجھے بھی آپ کے جانے کے بعد لگا کہ زندگی میں اب کافی بوریت آ چکی ہے۔۔۔ یا ٹھہراؤ کہہ لیں۔ سو اس میں کچھ بُرا ہی ہو مگر نیا ہو۔ میں نے ہاں کر دی ہے۔ لیکن منگیتر صاحبہ کسی اور موڈ میں ہیں اسے فوجیوں سے چڑ، بلکہ نفرت ہو چکی ہے” فوکر نے ہنستے ہوئے کہا تو منگول بھی ہنسا۔ اس کی منگیتر میڈیا کے شعبے سے وابستہ تھی اور یہ چڑ سمجھ آنے والی تھی۔

” اُسے سمجھانا میرا کام ہے۔ صاعقہ بہت اچھی لڑکی ہے، اگرچہ عمر میں تم سے کچھ زیادہ ہی چھوٹی ہے مگر موزوں رہے گی تمہارے لیے!” منگول کی بات پر وہ چونکا۔ اسے فوکر کی منگیتر کا نام بھی معلوم تھا اور عمر بھی۔ پتہ چلا کہ وہ بی ایس میں اس کی شاگرد رہ چکی تھی مگر کالج والی ملاقات میں شاید بتانے کا محل نہ تھا۔ خیر آنے والے دنوں میں وہ منگول کی ثالثی کے بغیر ہی راہ راست پر آ گئی۔
شادی کے بعد کی زندگی اگرچہ بہت دلچسپ یا قابلِ ذکر نہ تھی مگر اشفاق کی مستقل مزاجی کی بدولت بہت ناگوار یا مشکل بھی نہ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت دن نہیں ہوئے جب اشفاق کو سرحد میں بھرتی مہم کے لیے جانے کا موقع ملا تو لامحالہ طور پر منگول سے ملاقات ایک لازمی امر تھا۔ اشفاق اس سے ملنے کا ارادہ کرتے ہی اس سے ملنے کے لیے بےتاب ہو گیا حالانکہ رابطے نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے مگر ان کی دوستی عجب ہی تو تھی۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ بوبی کی موت اور منگول کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دوستی اور رفاقت کے حقیقی ذائقے سے محروم ہو گیا تھا۔ ساتھی افسران ہر لحاظ سے مشفق اور بامروت تھے لیکن یوں لگتا تھا کہ ان کی موجودگی میں اسے کوئی چیز گھٹن کا احساس دلاتی تھی۔۔۔ وہ گھٹن جو سپاہی سے افسر بننے والے ہر افسر کو باقی افسران دانستہ یا نادانستہ محسوس کراتے ہیں۔ منگول سے مل کر دل کا غبار جھاڑنا ضروری تھا۔

مانسہرہ کے پہاڑوں کے درمیان ایک بے نام سی پہاڑی پر کوئی سرکاری مواصلاتی تنصیب تھی جس پر منگول کو بطورِ سیکیورٹی گارڈ ملازمت ملی جو کہ اس نے فقط اس وجہ سے حاصل کی تھی کہ کہ اس کے گاؤں سے آدھے میل کے فاصلے پر تو ہو گی۔ اشفاق راستہ پوچھتا پہچانتا وہاں جا پہنچا اس کی کار پہاڑی کی چوٹی پر ایک پھاٹک نما جنگلے کے سامنے رُکی، منگول پہلے ہی منتظر تھا۔ چھے سال بعد ملاقات کے خیال سے اشفاق قدرے پر جوش تھا کیونکہ جب سے وہ شناسا ہوئے تھے سال بھر سے زیادہ کبھی ملاقات میں وقفہ نہ ہوا تھا۔ ان چھ سالوں میں فون پر رابطے بھی فقط احوال پرسی کی حد تک تھے جن کی روشنی میں اسے یہ پتہ چلا تھا کہ منگول کا بڑا بیٹا میٹرک کے بعد گھر سے باغی ہو گیا تھا اور ہمیشہ کے لیے پشاور چلا گیا تھا جہاں کبھی کبھار کوئی نوکری، مدام آوارگی اور مستقلاً چرس اور شراب نوشی کے سوا اسے کوئی کام نہ تھا۔ منگول نے اسے عاق تو نہ کیا مگر اس سے لاتعلق ضرور رہتا تھا البتہ وہ کبھی کبھار گھر آ نکلتا تو منگول اسے محبت سے ملتا تھا۔ چھوٹا بیٹا نا صرف محنتی اور لائق نکلا بلکہ اب کسی معمولی سی نوکری کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی تعلیم تک پہنچ چکا تھا۔ منگول کی شادی فوجی زندگی کے دوسرے سال میں ہو گئی تھی جب وہ اٹھارہ سال کا تھا اور اس کی بیوی چودہ سال کی تھی۔ زندگی اس پر جیسی بھی گزری تھی، اس کی بیوی اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی، اَن پڑھ تھی مگر ہزاروں پشتو اشعار اسے ازبر تھے جو وہ منگول کے ہجر میں گنگناتی تھی۔ اب وہ خوش تھی کہ اس کاسرتاج ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ اس کا نام شگوفہ بی بی تھا اور بھلے وقتوں میں بوبی اور اشفاق اس نام سے اسے خوب چھیڑا کرتے تھے۔ جب فوکر پہنچا تو منگول پھاٹک کے تالا لگا رہا تھا۔ اشفاق کو دیکھتے ہی خدا جانے پشتو میں کیا نعرہ لگایا اور اس کی کار کا دروازہ کھول کر اس سے بغلگیر ہو گیا۔ وہی مضبوط جسم، چہرے پر صحتمندی کی سرخی، پہلے سے زیادہ جاندار مسکراہٹ مگر آنکھوں وہ دیرینہ ذہانت دم توڑتی نظر آ رہی تھی۔ ڈاڑھی رکھ لینے کی وجہ سے وہ منگول نہیں بلکہ کوئی آزردہ حال برمی مسلمان لگ رہا تھا۔ سیکیورٹی گارڈ والی ملیشیا شلوار قمیض پر سبز فوجی ویب بیلٹ کی وجہ سے واضح ہورہا تھا کہ اس کا جسم اب بھی تنو مند تھا اور فربہی کی طرف مائل نہیں ہوا تھا۔ پھاٹک کے ساتھ ایک بظاہر کمزور سا اور بدرنگ بھورا گھوڑا بندھا تھا جس پر ایک خستہ حال زین کسی گئی تھی۔ منگول نے فوکر کو کار پر اس کے پیچھے پیچھے آنے کا کہا اور وہ خود گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ وہ بے ساختہ مسکرادیا۔ وہ اپنی چونکا دینے والی عادات سے باز نہیں آیا تھا۔ اشفاق نے گھوڑے کی ظاہری حالت پر افسوس کیا کہ منگول کی انفرادیت کی خواہش میں یہ بیچارہ اس کے ہاتھ سستے داموں آ گیا ہو گا اور اب اسے کار کے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔

دوسرے وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اسے منگول کا نام دینے کی بوبی کی تجویز کچھ بے جا بھی نہ تھی۔ شجاعت سے قناعت تک، ہر صفت منگولوں والی تھی ہی، اب پتہ چلا کہ موصوف شہسواری بھی جانتے ہیں۔ اُس نے جو گھوڑے کو ایڑ لگائی، اشفاق گھوڑے کی رفتار سے دنگ رہ گیا۔ پہاڑی راستوں پر اس کی محتاط ڈرائیونگ اس گھوڑے کا تعاقب کرنے میں بہت پیچھے رہ گئی۔ مگر خیر گزری کہ پانچ دس منٹ میں ہی وہ ایک بڑے ڈرائیور ہوٹل کے سامنے رکے جو شاہراہ پر واقع تھا۔ منگول نے گھوڑا باندھا اور اشفاق کار سے اُترا۔ وہ ایک بار پھر بغلگیر ہو کر ہنسنے لگے۔

پشتو میں ہوٹل کے بیرے کو لمبی چوڑی ہدایات دینے کے بعد منگول نے اشفاق کو ایک بڑی چارپائی پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ رسمی احوال پرسی ہونے لگی، پھر بوبی کا ذکر چھڑا، پھر اس سے باتیں نکلتی چلی گئیں۔

“زندگی کی جس بے مقصدیت اور رائیگانی کے احساس سے آپ کو گھبراہٹ ہوتی تھی شیرانی صاحب، اُس کا حال سُنائیں!”
فوکر نے چھیڑا۔ اس پہ منگول نے ہاتھ سے پانی کا گلاس رکھا اور وہ جناتی قہقہہ لگایا جو اس کا ٹریڈ مارک ہوتا تھا اور بوبی کی موت کے بعد منگول نے وہ قہقہہ کبھی اچھالا تھا، نہ ہی اس قہقہے کی کمی کسی نے محسوس کی تھی۔۔۔

” سب سے پہلی بات!” منگول نے اپنی مونچھ سے پانی کے قطرے پونچھتے ہوئے کہا۔
“تمہارا عرفی نام فوکر ہے اور چھ سات سال سے ویسٹ لینڈ کے ہیلی کاپٹر اڑا رہے ہو، پہلے تو اپنی ذات کو رائیگانی سے بچاؤ!” منگول اپنی ہی اسی بات پر پھر کھل کے ہنسا اور اشفاق نے اس قہقہے کا ساتھ ایک کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ دیا۔

“فوکر! یہ میری، شیرانی کی یا جسے تم دونوں منگول کہتے ہو، کی زندگی کی کہانی ہی نہیں بلکہ وہ بوبی ہو، نٹ بولٹ والا ہو یا۔۔۔ بے شک مدر ٹریسا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ سب کی زندگی ایک حسرت ناک رائیگانی ہے۔۔۔ وحدتِ تاثر سے محروم ایک کہانی جس کے بالآخر کوئی معنی نہیں ہوتے، کوئی پلاٹ نہیں ہوتا۔ سو یہ کہانی فقط سننے سنانے کے لیے ہوتی ہے ناکہ اس فکر میں گھلنے کے لیے کہ اس کا مورل کیا ہے، پلاٹ کیا ہے؟ دیکھو ارسطو، سقراط، موسیٰ، بُدھا اور مشرق کے دیگر پیغمبروں نے جو اونچے آدرش دیئے، وہ چند قدم ہمارے ساتھ چلے بھی تو کیا! آج پھر ہم نے سیارۂ زمین زندگی کے قابل نہیں چھوڑا اور ‘انشاءاللہ’ فنا ہونے والے ہیں! یہ جو چہار روزہ زندگی کا ڈرامہ انسان رچاتا ہے، مرنے کے بعد اس کی اسٹوری ‘ہسٹری’ کے حوالے کر دی جاتی ہے، عام آدمی کی کہانی فیملی ہسٹری کے دفتر میں جاتی ہے۔

مین کائنڈ ہسٹری کا دفتر جو کسی زمانے میں بڑا مقدس دفتر تھا جسے بڑے عظیم دماغوں نے سنبھال رکھا تھا، جسے میں بنی نوع انسان کی کولیکٹو میموری کہتا ہوں۔۔۔ یہ میموری کرپٹ ہونے جا رہی ہے اور اب ہماری انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی کے قصے، سب بے معنی ہو گئے ہیں سو اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم اس رائیگانی کا دکھ منائیں۔۔۔ یا میں مناؤں؟ میری رائیگانی اُس عظیم رائگانی کا ادنیٰ سا حصہ ہے۔۔۔ مرگِ انبوہ جشنی دارد۔ جب ساری بنی نوع انسان رائیگانی کے گڑھے میں گر گئی ہے تو میں کیوں نہ اس غوطے سے لطف اندوز ہوں؟ وہ خوف اب فقط فنا کے خوف سے بدل گیا ہے لیکن یہ بھی تو ایک لایعنی سا خوف ہے۔ یہ سیاہ وردی اور یہ بھورا گھوڑا میرا وقت گزارنے کے لیے کافی ہے اور ہاں! موت تک کے عرصے کے لیے میں نے ایک اور مشغلہ اپنا لیا ہے!” کھانا چنا جا رہا تھا، اس جملے کے بعد منگول نے تھوڑا توقف کیا۔” کیا مشغلہ؟” اشفاق نے تجسس سے پوچھا۔ شاید وہ پھر چونکانا چاہ رہا تھا۔

“مذہب، خُدا، عبادت! کیسا مشغلہ ہے!” منگول نے مسکرا کر کہا،
“فوکر! میں خدا کے وجود کا پوری طرح منکر ہی کب تھا جو اس کا نیم قائل ہونے میں اتنا وقت لگتا! کچھ ہم بُڈھوں کو موت کے ڈر، فنا کے ڈر سے لڑنے کے لیے ایک بُری بھلی لاٹھی بھی چاہیئے ہوتی ہے ناں۔۔۔ سو میں نے سوچا کہ خدا سے ہی چند باتیں ہو جایا کریں! عدم کی طرف رواں بُڈھے کی بات عدم میں بیٹھے اکیلے بُڈھے سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے! ” یہ کہہ کر وہ پھر ہنسا۔

” تو پھر پُوجا کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں یا کوئی آگ بھڑکا کر اوِستا پڑھتے ہیں؟ اشفاق نے بھی چھیڑا۔
“نہیں نماز پڑھتا ہوں! مسلمانوں والے خدا سے ناتا جوڑا ہے کیونکہ ہم سرحد والوں کو وہی خُدا نزدیک پڑتا ہے!” منگول کے اس جملے پہ ان دونوں نے ایسا بے ساختہ قہقہہ لگایا کہ ہوٹل پہ آس پاس بیٹھے لوگ بھی چونک گئے۔ وہ دیر تک اسی بات پر ہنستے اور کھانا چباتے رہے۔
“فوکر! میں اگر متشکک کی بجائے ملحد بھی ہوتا تو لوَٹنے کے فیصلے پر لوٹ کر اسلام کی طرف ہی آتا اور جمی نٹ بولٹ والا ملحد ہوتا تو لوٹ کر زرتشت کے دین کی طرف ہی آتا!” منگول سنجیدہ ہوا اور پھر بولنے لگا،

“فوکر سارے مذاہب برابر سچے ہیں لیکن ہم دراصل عمر بھر چند بنیادی تعصبات کے ساتھ وفادار رہتے ہیں۔ بظاہر ہمارے نظریات ہمارے مطالعے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ہم تعصبات کی ایک حسبِ مقدور موٹی تہہ اپنے اوپر سے جھاڑ کر پرے پھینکتے ہیں مگر کچھ تعصبات عمر بھر ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔۔۔

مشرق ہو یا مغرب، اپنے ظاہری فکری عروج پہ ہیں لیکن تعصب ان دونوں سمتوں میں ہمیشہ سے بڑھ کر ہے کیونکہ انسان اپنی شعوری بلوغت اور دانائی کا عروج کئی صدیاں پہلے دیکھ چکا ہے اور اب ذہنی طور پر اپاہج، غبی، سطحی سوچ والا اور متعصب ہے!”
” لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اہلِ مغرب ہم سے کہیں کم متعصب ہیں۔۔۔ آپ مذہبی عصبیت کو بھی دیکھ لیں۔۔۔ اس معاملے میں۔۔۔”
اشفاق نے موقع پاتے ہی اپنا سوال داغ دیا

” نہیں فوکر، اہلِ مغرب کے تعصبات مذہب کے معاملے میں اور نسل کے بارے میں ہمیشہ ان کے تعصبات پر غالب رہے ہیں! وہ مشرق کے پر اسرار انسان کو نہیں سمجھ پاتے تو اس کے پیغمبروں اور ادیان کی اہانت کرکے اپنی جہالت چھپاتے ہیں!” وہ رکا اور پانی کا گھونٹ پینے لگا۔
“خیر، تعصب ایک حقیقت ہے، اس سے فرار تو ممکن نہیں لیکن اسے خوشنما لبادے پہنائے جا سکتے ہیں” پھر وہ دیر تک تعصب، محبت، دولت اور تقدیر کے موضوع پر فلسفے بگھارتا رہا جس میں تقدیر والا فلسفہ اشفاق کو سب سے مشکل لگا بلکہ اس کے اوپر سے گزر گیا۔
وہ کھانا کھا چکے تو قہوے کے پیالوں پر یہ گفتگو جاری رہی۔۔۔ اب شاید زندگی کی بے وقعتی کا موضوع چل رہا تھا کہ انہیں اندازہ ہوا کہ شام ڈھل رہی ہے۔۔۔ اشفاق نے اجازت چاہی مگر اُس نے جیسے نظر انداز کر دیا اور کسی اچانک چل جانے والی بندوق کی طرح گویا ہوا۔۔۔
“عورت خدا کی سب سے دلچسپ تخلیقی شرارت ہے۔۔۔ نعوذبااللہ (قہقہہ) مگر دیکھو اُس نے ایک ایسا نازک آبگینہ جو بخدا مرد سے برتر تخلیقی کارنامہ ہے، بنا کر آدمی کے پہلو میں رکھ دیا۔

مگر مرد نہ تو اس پراسرار آبگینے کو سمجھنے کی صلاحیت آج تک حاصل کر سکا نہ اسے پا لینے کی اور نہ اسے چھُو سکنے کی۔۔۔ جب بھی چھوا، یہ آبگینہ ٹوٹ گیا۔۔۔ مرد کو ہر طرح کا ہنر سکھایا گیا مگر یہی ایک ہُنر مرد کو نہ آیا اور وہ نالائقی، نااہلی کے احساس میں پاگل ہوا پھر رہا ہے اور عورت کے اُلٹے سیدھے نام رکھتا ہے۔۔۔ احمق۔۔۔ سو سمجھدار مرد وہ ہوتے ہیں جو عورت کو فقط ایک بیگانہ روی کی نگاہ سے دیکھتے، اُسے سمجھنے کی احمقانہ کوشش سے پرہیز کرتے اور اس سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔۔۔” اشفاق کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ زور سے ہنسا، پھر خاموش ہو گیا۔ چند لمحے وہ دونوں خاموش بیٹھے رہے اشفاق یہی سوچ رہا تھاکہ” آبگینہ کسے کہتے ہیں؟ ہاں! نازک شیشہ کا ظرف! ایک تو یہ مردود اب بھی اتنی مشکل اردو بولتا ہے!”

“ارے! تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ میری شاگرد اور بھابی کیسی ہے؟” وہ چونکا اور اٹھتے ہوئے پوچھا۔
“صاعقہ میری توقع سے اچھی بیوی ثابت ہوئی ہے، وہ بہت خوش ہے اور میرا بہت خیال رکھتی ہے مگر۔۔۔” اشفاق کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔
“فوکر! میں اس حوالے سے ایک پیشن گوئی کروں؟” اسی اثنا میں فوکر اس سے معانقے کرنے کے بعد اپنی کار میں بیٹھ چکا تھا۔
“نہیں! شیرانی!! پلیز!!” اشفاق نے بوکھلا کر اُسے ٹوکا تو وہ مسکرا دیا لیکن اشفاق نجانے کیوں اتنا بدحواس ہو گیا تھا۔ انہوں نے خدا حافظ کے اشارے کئے اور منگول بھی اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اشفاق نے کار اسٹارٹ کی تو وہ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا چکا تھا اور گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا سڑک سے پرے ایک کچی پگڈنڈی پر شفاف قسم کی پہاڑی گرد اڑاتا ہوا دوڑا جس رہا تھا۔ اشفاق دیر تک اُسے دیکھتا رہا تاآنکہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ اس نے بھی گاڑی سڑک پر ڈال دی۔

“میں آئندہ کبھی منگول سے نہیں ملوں گا۔۔۔
زندہ رہنے کے لیے ایسے چونکا دینے والے کرداروں سے دور رہنا ضروری ہے جو حیرت کی کہانیوں سے نکلے ہوتے ہیں انہی کہانیوں میں رہ جاتے ہیں۔ حقیقی زندگی سے ان کا کیا تعلق ہے؟ حقیقی زندگی سے ان کا کیا تعلق ہے؟ حقیقی زندگی؟ بکواس لفظ ہے یہ بھی لیکن زندگی تو ایک اٹل حقیقت ہے۔۔۔ سو زندہ رہنے کے لئے۔۔۔ ”

واپسی کے سفر کے ساتھ ساتھ سوچوں کا ایک نیا ہجوم اس کے ہمراہ ہو لیا۔۔۔
(ایبٹ آباد)
10 اگست 2022ء

Categories
فکشن

چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] مرحوم کا عرفی نام ”ایلس کدوری” بھی ہمارے ہی ذہن کی اختراع تھی جس کی وجہ اتنی ہی بچگانہ سی تھی۔ بات یہ ہے کہ بڑے بھائی صاحب قبلہ دُنیائے دیگر کی عجیب و غریب باتیں بتایا کرتے تھے۔ اپنے قومی مشاہیر میں سے کسی کا ذکر تھا، آپ نے بتایا کہ اُنہوں نے میٹرک ہانگ کانگ کے ایلس کدوری ہائی اسکول سے کیا، ہم نے پوچھا بھیا یہ اسکول کا نام کیسا عجیب سا ہے؟ بتلایا کہ ایلس کدوری اسکول کے ان پڑھ مالک کا نام تھا، ہم دیر تک اسی بات پر ہنستے رہے اور پھر کرم خاں صاحب کا نام چاچا ایلس کدوری رکھ دیا جو کہ اس وقت الکرم گرامر اسکول کے مالک اور پرنسپل تھے اور یہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کا پہلا نجی اسکول تھا۔

کرم خان بلوچ ہمیشہ سے چاچا ایلس کدوری نہ تھے۔ ہم ایسے بدتمیز دیہاتی لونڈوں کی ہنسی کا نشانہ بننے سے کئی برس قبل وہ سردار کرم حسین خان بلوچ آف کوٹ سُکھے خان، سابق چئیرمین یونین کونسل کہلاتے تھے۔ اُن کا یہ نام ثقافتی میلوں پر نیزے بازی کے کھیل کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر گونجتا تھا۔ نقابت کے فرائض پر ہمیشہ سے مامور مظہر عباس دُکھی اور فاروق پروانہ تھل اور بار کے ملے جُلے لہجے کی جھنگوچی زبان میں شہسواروں کی حوصلہ افزائی اور شائقین کی ضیافتِ طبع کے لئے جن جملہ شعراء کرام کے ماہیئے اور ‘دوہڑے’ سناتے تھے، ان میں کرم خان صاحب کا کلام بھی شامل ہوتا تھا۔ گھڑسواروں، نیزے بازوں کی بازی میں خاں صاحب کے کلب کے گھوڑے دوڑتے تو کرم خاں صاحب کا نام اور بھی آن بان سے لیا جاتا۔ پکھوُ، پُنوں، مکھنا اور بُلبل اُن کے لاڈلے گھوڑے تھے جو کسی الہڑ اور خوبرو دُلھے کی سی نخوت اور شان کے ساتھ، سجے سجائے میدان کے ایک سرے پر نمودار ہوتے تو شائقین مرعوب ہوئے بغیر رہ پاتے نہ ہی داد میں کمی کرتے۔

یہ علاقہ لسانی اعتبار سے سرائیکی اور پنجابی کی سرحد پر واقع ہے اور غریب اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے اسے کسی زبان اور کسی سیاسی گروہ نے نہیں اپنایا، سو یہ ایک ثقافتی بھول بھلیاں ہے جس کے باسیوں کو خود پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس گمشدگی کا اپنا ایک کلچر ہے۔ یہاں زرعی اور سیاسی طور پر سیالوں کا رُسوخ سکھوں کے دورِ حکومت سے بھی پہلے سے تھا بلکہ سرداری تھی جبکہ موضع جات اور دیہاتوں کے بانی سبھی بلوچ تھے جو سر ڈینزل ابٹسن کے مطابق جو روہی اور بار میں پھیلی پنجاب کی سب سے بڑی ذات تھے۔ کوٹ سکھے خان واحد گاؤں تھا جس کے بانی بھی بلوچ تھے اور سردار بھی وہی۔ جب کوٹ نیازی خان بلوچ، ڈیرہ شاکر خان تتاری، ڈیرہ دریا خان بلوچ، ڈیرہ جلال خان لشاری، کوٹ نصرت خان سیال اور بستی علی خان سیال کے بلوچ زمینداروں اور سرداروں کو دو سے ذیادہ گھوڑے پالنے اور تین تو کیا، ایک دو موٹر کاریں رکھنے کی استطاعت بھی کم ہی ہوتی تھی، اُس زمانے میں بھی کرم خان کے گھوڑے، گھوڑوں کو میلے تک لانے والی لاری، موٹر کار اور پجارو موٹر کا کاروان نیزہ بازی کے میدان میں نوابی دبدبے کے ساتھ آدھمکتا تھا۔

قدمیانہ، رنگت سانولی، بال لمبے اور گھنگھریالے جن کی خوشنما کاکلیں بن جاتی تھیں، آنکھیں خوبصورت اورروشن، اور مونچھیں باریک اور سلیقے سے ترشی ہوئی ہوتیں۔۔۔۔ عام دنوں میں ایک زمیندار اور شاعر کی سی سادگی کے ساتھ ملبوس رہتے۔۔۔ لیکن نیزہ بازی کے کھیل کے دوران کئی میٹر کی طُرے دار اکڑی ہوئی پگڑی، چنٹوں والی آستینوں کی قمیص، لٹھے کی لُنگی اور پاؤں میں پیر محل کے کُھسے انہیں دیگر معزز مہمانوں کی صف میں، جہاں بلاشبہ سیاسی طور پر اُن سے بڑی سیاسی حیثیت کے سردار، اور زیادہ رسوخ کے نواب لوگ بھی ہوتے تھے، نمایاں رکھتے تھے۔ پنچایتوں میں منصفی کرتے اور ہر ایک کے خوشی غم میں دامے درمے شریک ہوتے مگر غرباء کے ساتھ برابری کی سطح پہ آ کر برتتے تھے۔

سردار موصوف کی وضعداری پھر بھی کمال تھی۔ نیزے بازی میں سرپٹ دوڑ کر میدان کے ایک سرے سے نمودار ہوتے ہوئے جھنگ، سرگودھے، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے شہسواروں کی آن بان، اُن کا باری باری ہدف پر جھپٹ کر اس میں نیزہ گاڑنے کے لمحے کا رعب اور پھر اسے اکھاڑ کر نیزے کو گھڑیال کی بڑی سوئی کی طرح دوبار گھما کر، پھر بازو آگے پھیلا کر ‘دکھاوا’ کرنے کا منظر نہایت دلکش اور خون کو گرما دینے والا ہوتا تھا، لیکن جب ”سیکشن” کی دوڑ میں بیک وقت ایک صف میں کرم خان کے چار گھوڑوں کا چھوٹا سا ‘رسالہ’ ایک ہی ہلے میں یہ مظاہرہ دکھاتا تو آنکھوں کے آگے قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی شجاعت اور پامردی کا نقشہ کھنچ جاتا اور میلہ لُوٹ لیتا۔ اس پر نجانے کتنی دیر تک ڈھول بجتا رہتا اور داد کی واہ واہ ہوتی رہتی۔ کرم خان کا نیزہ گرفت کی جگہ چھوڑ کر، جس پر کَسی ہوئی رنگین ڈوریوں سے دستہ بنایا گیا تھا، اپنی نوک تک اور پیچھے کی ”ڈوڈی” تک منڈھے ہوئے سنہری پیتل کی وجہ سے دور تک لشکارے مارتا تھا۔ خاں صاحب ہمیشہ چار کے سیکشن میں ہدف اکھاڑتے تھے اور ہمیشہ چار مصرعے کی مقامی صنف میں شاعری کرتے جسے ”دوہڑا” کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کئی اشعار نیزے بازی کے شہسواروں کی شان میں کہے اور ہر کھیل میلے کے اختتام پر شہسواروں کو نقد انعام دے کر رخصت کرتے تھے۔ سوار کے لئے الگ انعام اور گھوڑے کے نام کا الگ انعام۔

دلچسپ منظر ان کی اپنی رُخصت (اور آمد) کا بھی ہوتا تھا۔ جب اکثر سردار اور نواب اپنی ستر ماڈل کی ٹویوٹا کاروں، فوجی نیلام سے لی گئی موٹے ترپال کی چھتوں والی بدرنگ جیپوں اور شاہی ہاتھیوں کے جیسے پرتکلف انداز میں آراستہ ہودوں والے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر روانہ ہوتے، کرم خان ان سواریوں سے اونچی اور لمبی ‘پجارو’ میں سوار ہو رہے ہوتے تھے اور ایک عالم انہیں رُخصت کرنے والا (یا استقبال کرنے والا) ہوتا۔ یہ ”پجارو” لگ بھگ لاری کے جتنی بڑی گاڑی تو ہوگی جو فقط الیکشن کے دنوں میں شاہ جیونے کے مخدوموں کے کاروان میں نظر آیا کرتی تھی یا پھر ہمارے علاقے میں کرم خان کے پاس تھی۔ الوداع کہنے والوں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم بڑھ کر گاڑی کو قریب سے دیکھنے کے خواہشمندوں کا بھی دیکھنے کو ملتا۔ دوسرے علاقوں سے آنے والے شہسواروں کی مہمان نوازی اکثر کرم خان کے ڈیرے پر ہوتی تھی اور اس اہتمام سے ہوتی کہ مہمان سوار یاد رکھتے تھے اور دیکھنے والے مثالیں دیتے۔

خان صاحب کی ‘پجارو’ کی طرح ان کی مسکرانے کی ادا بھی ان کے مداحوں کے لئے ایک نظارہ تھی۔ یہ مسکراہٹ کبھی ان کے نیم وا ہونٹوں سے رُخصت ہوتی تھی نہ کبھی ان کے مداح اس سے سیر ہوئے تھے۔ بات کرنے کا لہجہ نہایت دھیما تھا اور بلا کی حسِ مزاح پائی تھی۔ پھر خاں صاحب شرمیلے بھی ایسے ہی تھے جیسے کمال کے شاعر تھے۔ مشاعروں میں وہ کبھی نہ گئے البتہ نجی محفلوں میں شعر کہہ کر محفلیں لوُٹ لیتے۔ ہمارے اُردو کے ایک اُستاد جناب ثاقب عثمانی صاحب انہیں جھنگوچی زبان کا اختر شیرانی کہا کرتے تھے۔ کرم خان کی شاعری کا کاتب ان کا دوست ریاض نائی تھا کیونکہ خان موصوف خود لکھنا نہ جانتے تھے۔ ریاض دس جماعتیں پاس تھا اور بہت خوبصورت جوان تھا۔ کوٹ سُکھے خان کا نائی تھا اور میں نے اسے ایک عرصے تک پٹھان سمجھا۔ خوش شکل ہی نہیں، خوش اطوار اور خوش کردار جوان تھا۔ یہی اوصاف کرم خان نے ہمیشہ اپنے دوستوں میں تلاش کئے لہٰذا کم ہی دوست بنائے، اگرچہ اس کی وجہ کچھ کرم خان کی سادہ مزاجی اور کم آمیزی بھی تھی۔ ان اوصاف کے ساتھ ان کا دولت مند ہونا فقط اس وجہ سے ممکن تھا کہ انہیں یہ سارا ٹھاٹ باٹھ اپنے والد، محمد خان بلوچ مرحوم اور نانا سردار سرخرو خان نواب آف کوٹ مبارک سیال سے ملا تھا۔ کرم خان کی سادہ مزاجی، مروت، دوست پروری اور دریا دلی ان کی دولت کے لئے ایک خطرہ تھی کیونکہ نئی صدی اب وقت کی دہلیز پہ دستک دے رہی تھی اور معزز ہونے کے میعارات بدل رہے تھے۔ آس پاس سے سادہ مزاجی، قناعت، بے لوث محبت، مروت اور بندہ پروری رخصت ہورہی تھی اور سب سے بڑی بات حُسن، جو کرم خان کے نزدیک کائنات کا محور و مرکز تھا اور حسن کی پرستش مقصدِ حیات، یہ دونوں چیزیں اپنے مفہوم بدل رہی تھیں اور بڑے قاتل بہروپ بھر رہی تھیں۔

[dropcap size=big]خان صاحب[/dropcap] حُسن کے شیدائی تھے اور حُسن و عشق کی حد تک تو ذات پات کے قائل بھی نہ تھے۔ ایک دفعہ گلی میں سر پر چھابہ اٹھائے ایک بنجارن کو چوڑیاں بیچتے دیکھا۔ سانولے رنگ کی بنجارن کے دنداسے سے چمکتے دانتوں سے منور ایک ہی مسکراہٹ نے خان صاحب کو چونکا دیا۔ قریب آکر دیکھا تو بلا کی حسیِن نکلی۔ ہم تھل باسیوں میں ابھی سانولے رنگ کی قدردانی کا زمانہ باقی تھا۔ کرم خان نے پوچھا،

”یہ سب چوڑیاں کتنے میں بیچو گی؟”
بنجارن بھی شاید مردم شناس تھی، بولی؛
”جب ساری کی ساری چاہیئیں تو دام کیسے؟”

خاں صاحب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے مگر جب پاس سے گزرتی عورتوں نے مکالمہ سُنا تو رُک گئیں، خان صاحب بدحواس سے ہو گئے۔ جس زمانے میں وہ ساری کی ساری چوڑیاں ڈیڑھ سو روپئے سے زیادہ کی نہ ہوں گی، خان صاحب نے پانچ سو روپئے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور ساری چوڑیاں اپنی ڈیوڑھی میں رکھوا لیں۔ ان کے اپنے گھر میں تو کوئی پہننے والا نہ تھا، سو اسی شام یہ چوڑیاں ہمسائے اور آس پاس کی بچیوں، کمسن لڑکیوں میں بانٹ دیں۔ عورتیں بھی چھیڑنے کو پوچھتی رہیں، ”بھائی کرم خان کتنے کی لیں؟ کہاں سے لیں اتنی پیاری چوڑیاں؟”

ہم، کہ کرم خان صاحب کے زوال ہی کو دیکھنے والی نسل ہیں، یہی سوچتے تھے کہ اپنی دولت اور رسوخ کے عروج کے زمانے میں خان صاحب خاصی شکل و صورت کے جوان ہوں گے اور یقیناً حُسن کی دیوی بھی ان پر مہربان ہوئی ہو گی۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ”کیوں نہیں!!!”۔ اپنے عروج اور جوانی کے زمانے میں خان صاحب کو دریا پار کے ایک سردار قبیلے کی ڈاکٹرنی سے عشق ہو گیا۔ خان صاحب نے فقط اس کے دیدار کی خاطر خالق پور کے دیہی مرکزِ صحت کے اتنے چکر لگائے کہ وہاں کے لوگ ان کی ولیز جیپ کا وہاں اس تواتر سے آنا نظرانداز نہ کر سکے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ وہاں کا نمبردار خان صاحب کا دوست تھا۔ اور بعد از خواریء بسیار ڈاکٹر صاحبہ سے ملاقات کی سبیل نکلی۔ خاتون بڑی باوقار اور بااعتماد تھی۔ جب دوسری ملاقات میں کچھ بے تکلفی کی فضا بنی تو کہنے لگیں؛

”خان صاحب میں امیر گھرانے سے تو ہوں مگر امیروں کے سے ٹھاٹ باٹھ مجھے متاثر نہیں کرتے، بلکہ”
ڈاکٹر صاحبہ ہنسیں،
”آپ کی جیپ سے تو مجھے ڈر لگتا ہے”

ڈاکٹر صاحبہ نے تو مذاقاً کہا مگر اگلی ملاقات میں بھولے بھالے کرم خان نے دریا تک گھوڑے پر سفر کیا، پھر اسے ملاحوں کے حوالے کرکے کشتی سے دریا پار کیا اور خالق پور تک چار پانچ میل پیدل چل کر گئے تو ڈاکٹر صاحبہ کا دل پسیجا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا دل چند ایسے ہی واقعات میں خان صاحب پر لہرایا کہ شکل و صورت کا یہ بھولا بھالا سا امیرزادہ اندرون سے بھی کھرا اور مخلص آدمی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے دل میں کرم خان کے لئے جو جگہ بن چکی تھی، اب وہ پختہ ہونے لگی۔ جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور خان صاحب کے جذبہء دل کو قبولیت ملی تو اس خاتون نے بھی خوب نباہی۔ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ کرم خان کے اصرار اور اثر و رسوخ کی بدولت بآسانی کوٹ سُکھے خان بلوچ کے دیہی مرکزِ صحت میں ہو گیا جو کہ ”سرکاری ہسپتال” کہلاتا ہے۔

ان دنوں کا ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک روز جاڑے کی شدت عروج پہ تھی اور بارش بھی شدید تھی، ڈاکٹر صاحبہ گھر واپس نہ جا سکیں تو رات ہسپتال ہی ٹھہرنا پڑا۔ ہسپتال کی دایہ جو اُن کی ہم راز بھی تھی، رات ڈاکٹر صاحبہ کے پاس شب بسری پر مامور تھی، کرم خان کے پاس خبر لے کر آئی تو خان صاحب نے اُسی کے ہاتھ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے ہاں رات کے کھانے کی دعوت دے دی۔ خان صاحب کی اہلیہ وفات پا چکی تھیں اور ایک ننھی سی بیٹی تھی جو اکثر ننھیال میں رہتی تھی سو گھر پہ سوائے نوکروں کے کوئی نہ تھا۔ اُنہوں نے شام ہوتے ہی نوکروں کو چھٹی کروا دی اور باورچن سے کہا کہ وہ بھی کھانا پکا کر چلی جائے۔ رات پھیلے سے جب باورچن چلی گئی تو ساتھ ہی ڈاکٹر صاحبہ آ گئیں۔ خان صاحب نے خُود کھانا لگایا اور خود ہی آفتابے بھر بھر معزز مہمان کے ہاتھ پاؤں دھلوائے اور خُوب مدارات کیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی دلبری کے سارے انداز خؤب آتے تھے، اُنہوں نے بھی خان صاحب کے والہانہ پن کا دل رکھا۔ اب پریشانی یہ لاحق ہوئی کہ ڈاکٹر صاحبہ شہر کی تھیں اور کھانے کے بعد اُنہوں نے چائے کی فرمائش کر دی جبکہ خان صاحب نے باورچن کو چائے کے لئے روکا ہی نہ تھا، اس طرف اُن کا دھیان ہی نہ گیا تھا۔ اب بارش بھی اتنی شدید تھی کہ کوئی اور چارہ نہ تھا، خان صاحب خُود توشہ خانے میں گئے، دودھ، چائے کی پتی اور گُڑ نکالا، چائے بنانے لگے تو دیکھا کہ چولھے میں راکھ بُجھ چُکی تھی اور نوکر جانے کی جلدی میں جلانے کا ایندھن اور اُپلے باہر کُھلے میں چھوڑ گئے تھے جو مکمل طور پر بھیگ چُکے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے بڑے زمینداروں کے گھر سادہ اور اکثر کچے ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنی امارت کی نمود و ونمائش زیادہ تر ڈیرے، بیٹھک پر ہی کرتے تھے جس کا میعار عموماً مویشیوں کی تعداد ہی ہوتی اور یہ ڈیرے، تھان اکثر گھروں سے دور، کھیتوں زمینوں میں اور گاؤں سے ذرا ہٹ کر ہوتے تھے۔ ان کچے گھروں پر گارے کا لیپ اور نقش و نگار کا سلیقہ بھی ہر گھر کا اپنا ہی ہوتا تھا جس میں عموماً خاتونِ خانہ کی حسِ جمال کا اظہار ہوتا تھا۔ منڈیروں پر پھول بوٹے، طاقچوں کی کناریوں پر بنائے گئے نقش یا کبوتر، مور، تتلیاں وغیرہ عموماً مقامی طور پر تیار کئے گئے رنگوں سے رنگین کئے گئے ہوتے تھے۔ چونے کا استعمال ابھی یہاں عام نہ ہوا تھا۔ اب خان صاحب پکانے کے کمرے میں جلانے کے لئے کچھ تلاش کررہے تھے، کوئی خُشک اور جلانے کے قابل چیز نہ ملی، دو چار خشک پارچے تو ضرور ملے لیکن ان کے جلانے سے ان کی بدبو چائے میں مل جانے کا خدشہ تھا۔ بارش کی شدت نے باہر جا کر کچھ ڈھونڈنے کا امکان بھی خبط کر دیا۔ گھر میں کلامِ مجید کے سوا کوئی کتاب نہ تھی کہ خان صاحب موصوف ان پڑھ تھے۔ کاغذ کی مد میں فقط جائیداد کی دستاویزات ہوا کرتی تھیں مگر کچھ دنوں سے چوری وغیرہ کے ڈر سے امانتاً وہ بھی اُنہوں نے اپنے چچا برخوردار خان کے گھر رکھ چھوڑی تھیں۔ اب سوچا کہ کسی مونڈھے یا کرسی کو کاٹ کر جلا ڈالاجائے مگر بہت تلاش کے باوجود کلہاڑی نہ ملی۔ مسئلے کا کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہوگا مگر اب جو کرم خان کے جذبہءِ محبت نے جوش مارا تو سامان کے کمرے میں آئے، اپنے ذاتی ٹرنک کا تالا کھولا۔ اس میں سو سو، پچاس پچاس، اور دس دس، پانچ پانچ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں رکھی تھیں۔ یہ کل ہی بیچی گئی بھینس اور گیہوں غلے کی مد میں وصول ہونے والی بھاری رقم تھی اور ہنوز شہر جا کر بینک میں جمع نہیں کروائی گئی تھی۔ اُس زمانے میں سو پچاس بھی خاصی رقم کی رقم تھی۔ خان صاحب نے نسبتاً نئے نوٹوں کو جو دیا سلائی دکھائی تو وہ الگ الگ جلنے لگے۔ باورچی خانے کے کمرے میں آئے اور پھر خان صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، نوٹ جلنے لگے، چائے پکنے لگی۔ ادھر ڈاکٹر صاحبہ کو جو فکر لاحق ہوئی کہ خاں صاحب نے چائے منگوانے میں کیوں تاخیر کر دی؟ دیکھتی بھالتی توشہ خانے کے کمرے میں آئیں اور یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔

”کرم خان، رُک جائیے، یہ کیا کر رہے ہیں؟”
ڈاکٹڑ صاحبہ نے انہیں منع کیا تو خان صاحب لمحے بھر کو رُکے پھر ہنس کر جواب دیا؛

”یہ غریب شاعر اپنے محبوب کی مہمان نوازی کے کہاں قابل ہو سکتا تھا، دیکھیئے، جلانے کی لکڑی تک نہ تھی آج گھر میں۔۔۔”

یہ کہہ کر دوبارہ چولہے میں نوٹ جھونکنے لگے۔ سو پچاس کی گڈیاں کم تھیں جلدی پھنک گئیں، اب دس اور پانچ والی گڈیاں تھیں۔ تب پانچ روپئے کا نوٹ آج کے ہزار والے سے چوڑا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ خاموش کھڑی دیکھنے لگیں۔ چائے غالباً دوسری یا تیسری دفعہ ‘اُبھری’ تو خان صاحب نے اُتار کر چینک میں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحبہ مہمان داری کے کمرے میں آبیٹھیں اور خموشی سے رنگین مونڈھے پر بیٹھی چائے پینے لگیں جو ساتھ ہی خان صاحب لے کر آن پہنچے تھے۔

”معاف کیجئے گا اگر اچھی نہ بنی ہو، مجھے چائے بنانے کا سلیقہ نہیں”

کرم خان نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو ڈاکٹر صاحبہ کے ہونٹوں پر ایک دلبرانہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر چُپ رہیں۔ اسی اثناء میں بارش تھمی اور ڈاکٹر صاحبہ کے جانے کا قصد ہوا تو کرم خان متفکر تھے اور ڈاکٹر صاحبہ بھی بدستور خاموش تھیں۔
”آپ چُپ کیوں ہیں میرے سردار؟”
کرم خان نے پوچھا۔ اس قصے کے راوی چاچا ریاض نائی بتاتے ہیں کہ خان صاحب کو جس کسی سے بہت محبت ہوتی اُسے ‘میرا سردار؛کہہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ گھوڑوں میں بھی ‘دلبر’ جو انہیں بیحد پیارا تھا اور کافی پہلے مر گیا تھا، اُسے بھی اکثر پچکارتے ہوئے کہتے تھے، ”مزاج کیسے ہیں میرے سردار؟”

”خان صاحب! دس ہزار تو جلا دئیے ہوں گے آپ نے۔۔۔ میں فقط پانچ ہزار کی تنخواہ دار سرکاری ملازم ہوں، مجھ پہ اس مظاہرے کا رعب طاری رہے گا!” ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی شال سمیٹ کر روانگی کا خاموش اعلان کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو کرم خان کی آنکھ میں آنسو بھر آئے۔

”اسے دولت کی نمائش سمجھیں یا عقیدت کا اظہار، آپ کو اختیار ہے میرے سردار۔۔۔”

یہ کہہ کر انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کے جوتے اٹھا کر ان کے پاؤں کے سامنے سیدھے کر دئیے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جوتے پہنے اور اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ خان صاحب انہیں واپس ہسپتال چھوڑ آئے۔ اب اس سوال کا جواب چاچا ریاض کے پاس ہے نہ کسی اور شناسا کے پاس کہ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کا کرم خان سے نہ تو کوئی ربط کوئی تعلق رہا نہ کوٹ سُکھے خان آنا جانا ہوا تواس کی کیا وجہ تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بے رُخی کا شکوہ کرم خان نے کبھی کسی دوست سے کیا نہ اپنی شاعری میں۔ البتہ اس کے بعد کی شاعری میں جو درد اور سوز ظاہر ہوا، کمال تھا۔ ہماری بولی کے ایک لوک گائیک جو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بڑے مشہور ہوئے اور لاکھوں میں ان کے کیسٹ ریکارڈ فروخت ہوئے، اکثر کرم خان کے اشعار گایا کرتے تھے جو فقط محبت، دوستی، جانثاری، وفاشعاری، تسلیم و رضا اور حُسن کی حکمرانی کے موضوع لئے ہوتے۔

[dropcap size=big]ڈاکٹر صاحبہ[/dropcap] کے چلے جانے کو کرم خان کے زوال کی وجہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے زوال کی کرونالوجی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اُنہوں نے وہ ولیز جیپ اور پجارو آئندہ دو ایک سالوں میں ہی بیچ ڈالیں اور سفر کے لئے کبھی کبھار وہی کار استعمال کرنے لگے جو ان کے چچا جان اور کم سن بیٹی کے لئے مختص تھی۔ دو تین موسم ایسے ہی گزر گئے تو جاڑوں کی کسی رات میں کوٹ سُکھے خان کے ایک دُکاندار حاجی یار محمد کمہار کی دُکان سے کچھ سامان چوری ہو گیا جس میں ریاض نائی کا چھوٹا بھائی حیات نائی ملوث تھا یا اس پر شبہ تھا۔

جب تھانے میں کارروائی ہونے لگی تو یار محمد کمہار نے کرم خان کا نام بھی درخواست میں ڈلوا دیا۔ برسوں پہلے کرم خان نے کسی پنچایت میں یار محمد کمہار کے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کا کینہ نکالنے کا موقع اب اسے حیات نائی کے ذریعے مل گیا تھا کہ حیات نائی اپنے بڑے بھائی ریاض کو بیحد عزیز تھا اور اسی وساطت سے کرم خان کا بھی خوب نیازمند تھا۔ پہلے تو تھانیدار نے پس و پیش سے کام لیا کہ اُس نے کرم خان کو ایم این اے اور ایم پی اے سطح کے لوگوں کے ہاں مہمان ہوتے ہوئے بھی دیکھ رکھا تھا لیکن پھر حاجی یار محمد نے میاں غفار شاہ کے توسط سے تھانیدار کو قائل کر لیا۔ حالیہ الیکشن کے بعد ایک کرم خان پر ہی کیا موقوف، سبھی بلوچوں کا اثر و رسوخ پہلے سا نہ رہا تھا۔ کرم خان اب مھض ایک ڈھلتے ہوئے زمیندار اور ایک ”عاشق مزاج” شاعر کے سوا تھا ہی کیا، وہ مہمانداریاں اور وہ رسوخ اب قصہ ہائے پارینہ پن چکی تھیں۔ تھانیدار کو بات سمجھ آ گئی۔ حیات نائی نے تھانے میں ایک رات کی ”مہمان نوازی” میں ہی چوری تسلیم کر لی اور اقبالی بیان کے لئے خالی کاغذ پر انگوٹھا بھی لگا دیا۔ اب ریاض نائی کی شامت آئی۔ غرض تھانیدار، محرر، تفتیشی اور ہر اس شخص جس کا تعلق تھانے کی کسی کارروائی سے تھا نے کرم خان کو اس تمام کھیل میں ناصرف خُوب رگیدا بلکہ پیسے بھی خُوب اینٹھے۔ خان صاحب کو ایک تو اپنی عزت ناموس کا خیال تھا کہ ایک کمہار کی مدعیت کی وجہ سے اگر ایک بار بھی کچہری جانا پڑ گیا تو بھلے بعد میں بری بھی ہو گئے تو بھی ساری ساکھ اور عزت کی فوج پلٹن ہو کر رہ جائے گی۔ دوسرا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ریاض یہ سمجھے کہ اُس کے معاملے میں خان صاحب نے پیسے کو عزیز تر رکھا۔ تھانوں کی اکنامکس میں ایسے سفید پوشوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ خیر، تھانیدار صاحب کو بالآخر اندازہ ہو گیا کہ حاجی یار محمد کمہار کی دی گئی رشوت بہرحال ایک بے قصور اور معزز زمیندار کو تادیر رگیدنے کے لئے کوئی معقول معاوضہ نہیں ہے۔اس نے فریقین کو پابند کیا کہ مسئلہ پنچایت میں حل کریں اور اور پرچہ کاٹنے کے بجائے خارج کر دیا۔

مسئلہ پنچایت میں فیصل ہوا، حیات نے چوری کا سامان لوٹا دیا، جرمانہ ہرجانہ بھی دینے پر رضامند ہو گیا۔ ریاض نے کلامِ مجید پر قسم دے دی جبکہ خان صاحب کو اور تو کچھ نہ کہا گیا مگر جب یار محمد کمہار کے مدعا علیہہ کے طورپر پنچایت میں بیٹھے تو پھر وہ وقار اور دبدبہ علاقے میں نہ رہا، جگ ہنسائی اور کاناپھوسیاں تو فطری امر تھیں۔ چھوٹی چھوٹی حیثیت کے ٹھگ، لُچے، مقدمے باز اور ٹاؤٹ بے تکلف ہونے لگے اور اُن پر سے خان صاحب کا رعب جاتا رہا۔ ڈاکٹرنی کا قصہ تو برسوں سے زبان ذدِ خاص و عام تھا اب نائیوں اور کمہاروں کے تنازعے میں پارٹی بن کر اور بھی سبک ہوئے۔ نائی تو اپنا یار تھا ان کا، رہی بات کمہار کی، تو وہ بھی ایسی تشویش کی بات نہ تھی مگر کمہاروں نے خود اس معاملے کی تشہیر کی۔

اصل خرابی یہ ہوئی تھی کہ دریا پار کے میدانی علاقے کا کوئی متوسط سا زمیندار کچھ سال قبل یہاں آکر صحرا نشین ہوا تھا۔ وہاں کے میراثیوں میں سے تھا مگر یہاں آ کر پہلے میاں کہلانے لگا اور سفید پوشی اور وضعداری اور معززینِ علاقہ کی خوشامد میں کمال حاصل کیا، پھر ہاشمی بن گیا۔ پہلے تو سال بھر خوب لعن طعن کا مورد ٹھہرا پھر لوگ طنزاً اسے شاہ صاحب کہنے لگے۔ اب جبکہ اس کا کاروبار بڑھا اور کسی سیاستدان کا چمچہ بنا تو پانچ سات سال کے اندر ہی پوری جلالت مآبی سے سید کہلانے لگا۔ یہاں کے جو نسبی سید اُردو بان مہاجر تھے، وہ تھے تو پڑھے لکھے مگر سیلانی سی طبیعتوں کے نیم پاگل سے لوگ ہونے کی وجہ سے اتنے غریب اور کنگال تھے کہ ڈٹ کر اس سے لڑ بھی نہ سکے، آخر لے دے کے ان کے پاس بھی تو وہی ناموس ہی بچی تھی۔ ان کے بڑے بزرگ باوا گُل حسین شاہ نے تھانے میں میاں غفار شاہ کے خلاف درخواست بھی دی لیکن بے سود۔ کرم خان نے ان کا ساتھ دیا کہ چار پشتوں سے انہی کے مرید تھے مگر اب ان کا سورج بھی ڈھل چُکا تھا؛ غفار شاہ کو اس بات کا غم و غُصہ تب سے تھا۔ مرحوم محمد خان بلوچ اور برخوردار خان بلوچ نے ایک معقول قطعہ ء اراضی باوا گُل حسین شاہ کو مدتوں پہلے نذرانہ کیا تھا جسے وہ تب سے کاشت کررہے تھے اور ان کی گزران اسی آمدن سے تھی۔

بلدیاتی الیکشن ہوئے تو کرم خان صاحب نے ان الیکشنوں میں چئیرمین کی نشست کے لئے دوبارہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دئیے کہ شاید اسی سے کچھ ساکھ بحال ہو۔ ان کے مقابلے میں کوئی ٹکر کے نواب زمیندار بھی ہوں گے مگر امید افزا بات یہ تھی کہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کے آس پاس میں بلوچ آبادی کم نہ تھی اور سیاسی طور پر اب بھی بطور قبیلہ ان کا ووٹ بینک بھاری تھا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر پھر خرابی یہ ہوئی کہ میاں غفار شاہ نے عدالت میں یہ درخواست دے دی کہ کرم خان اکہتر کی جنگ میں فوج سے بھگوڑا ہو گیا تھا، اس کی اہلیت مشکوک ہے۔ کرم خان نے جج کے سامنے پیش ہو کر یہ بتایا وہ ایک امیر گھرانے کے اکلوتے بیٹے تھےاور ساری آسائشیں چھوڑ کر اور ماں کی مرضی کے خلاف سترہ سال کی کچی سی عمر میں بھرتی ہوئے تھے۔ بنگالے کی قید سے لوٹے تو ماں انتظار میں مرچکی تھی۔ بس اسی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ نوکری پر نہ گئے اور یہ ان کی زندگی کا ایسا تلخ تجربہ تھا کہ اس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کیا۔ رانچی میں ہلالِ احمر کے توسط سے ملنے والا ماں کا آخری خط جج کے سامنے رکھا تو اُن کی بھی آنکھ بھر آئی۔جج صاحب نے کہا؛ بلوچ صاحب مجھے آپ کی نیک نیتی پہ کوئی شک نہیں، مادرِ وطن ہو یا مادرِ مہربان ہو، دونوں کی محبت میں انسان کچھ بھی کربیٹھتا ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں ورنہ مجھے ویریفیکیشن کا کیس رجمنٹل سنٹر بھیجنا پڑے گا۔

خان صاحب نے میاں صاحب کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس بے ہودگی کا بدلہ ضرور لیں گے۔ مشورہ دینے والوں نے کہا کہ میاں صاحب دھیان رہے، کرم خان کا غُصہ کئی برسوں میں ایک ہی دفعہ دیکھنے کو ملاتھا مگر کوٹ سُکھے خان کی ہر دیکھنے والی آنکھ کو آج بھی یاد تھا۔ خیر، گذشتہ را صلوات، الیکشن کے بعد میاں غفار شاہ ہاشمی جونہی یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اُنہیں خیال آیا کہ اب ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں۔ میاں صاحب نے اب باوا گُل حُسین شاہ کے قطعہ ء اراضی میں واقع کیکر کا ایک بڑا سا جھنڈ کٹوا کر راتوں رات اس پر ہل چلوا دئیے۔ صبحدم جب اس بر ‘بِجائی’ ہو رہی تھی تو فساد برپا ہو گیا۔ سید تو تعداد میں اتنے نہ تھے، مگر بلوچوں کے نوجوانوں نے ڈنڈے بلم کھینچ لئے اور خُوب سر پھٹول ہو گئی۔ سرفراز خان بلوچ علاقے کے آخری بلم بازوں میں سے تھا اور اس وقت بہتر سال کا بوڑھا تھا، اُن نے جو بلم کھینچا میاں غفار شاہ کے چھوٹے سالے کو اچار کی ڈلی کے مانند پرو کر رکھ دیا۔ اُدھر میاں غفار شاہ کو کچھ اور نہ سوجھی تو دفعہ سات اکیاون کی درخواست تھانے میں دے دی اور ساتھ ہی گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس کو چارہ نہ تھا سو کرم خان اور باوا گُل حسین شاہ کو بھی گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور دن بھر تھانے میں رکھ کر شام کو چھوڑ دیا کہ میاں صاحب خود ہی پنچایت کرنے پر راضی ہوگئے۔ پھر بھی زمین پر دعوے کی دیوانی کی کارروائی کئی سال عدالت میں چلتی رہی۔ پھر فوجداری بھی اس طرح شامل ہو گئی کہ میاں صاحب کا سالا زخموں سے وہ چُور ہوا کہ مہینہ بھر صاحبِ فراش رہ کر مر گیا۔ میاں غفار شاہ نے کسی مصلحت کی بنا پر اس کا پرچہ ریاض نائی پر کروا دیا اور کرم خان کو مشاورتِ قتل کے زمرے میں شامل کیا جس کی پیروی ریاض کی طرف سے بھی کرم خان کے وکیل نے کی۔ آئے روز کئی چھوٹے بڑے جھوٹے مقدمات میاں صاحب ان کے علاوہ کرواتے رہتے تاکہ خان صاحب دم نہ لینے پائیں۔ پنجابی زمیندار کی سب سے بڑی دشمن کچہری ہے۔ ان سالوں میں کرم خان کے گھوڑوں والی لاری بِکی، پھر گھوڑے بکے اور گائے بھینسوں کا باڑہ بھی گھٹتا گیا۔ پہلے کبھی جو لوگ کرم خان کی املاک خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے مگر انہیں خریدنے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا، اُنہی نے اب یہ تمام املاک بھی خرید لیں۔ پُنوں، پکھُو، مکھنا اور بُلبُل اب یا تو چھوٹے شوقینوں کی سواریاں تھے یا تانگوں کی مشقت میں ذلیل ہو رہے تھے۔

[dropcap size=small]زمانے[/dropcap] کا چلن بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔ ہماری دیسی رہتل میں ذات پات کا نظام ختم تو ہرگز نہیں ہوا تھا لیکن غریب اور چھوٹی ذاتوں کے لوگوں میں اس بدبودار نظام کے طوق کو اپنے گلے سے نکال کر کسی اور ڈوبتے ہوئے کے گلے ڈال دینے کا حوصلہ آرہا تھا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کررہے تھے اور دن رات پیسہ جمع کرنے میں بھی جُتے ہوئے تھے۔ جہاں تعلیم انہیں چھوٹی ذاتوں والے فرسودہ خیال کی قید اور احساسِ کمتری سے نکال رہی تھی، وہاں کئی ایک کو دولت یہ اعتماد بخش رہی تھی کہ ماضی کے اشراف اور نجیبوں کی توہین و تضحیک کر کے یک گونہ سرور اور لُطف حاصل کریں اور اپنے آباء و اجداد کی توہین و تضحیک کے انتقام کا فریضہ بھی ادا کریں۔ شاید قدرت کا انصاف اسی میں مضمر تھا لیکن یہ جو کرم خان کی توقیر اور دبدبہ گھٹتا چلا گیا، وقت کی اس نا انصافی کا شکوہ اب اُن کے شعروں میں بھی ملتا تھا۔ اُن کے ایک چہار مصرع شعر کا مفہوم:
”اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے گھائل ہوئے اور بِجُو اُن کے سروں پر سوار ہوگئے، نجیب ہار گئے اور بداصل لوگ حکمران بن گئے۔ لیکن کرم خاں! اُن سے کہہ دو کہ گیدڑ اگر شیر کا خُون پی بھی لے تو شیر کا خُون اس کی رگوں میں نہیں دوڑے گا!”

لیکن کرم خان کے ایک قدر دان، ہمارے اُردو کے اُستاد جناب عثمانی صاحب کے بقول کرم خان ٹھہرے بھولے آدمی، وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اشراف اور کمین ہونا کوئی بائیولوجی کا سوال نہیں بلکہ سوشیالوجی کا سوال ہے۔ پروفیسر صاحب کے خیال میں انہی ٹُچوں، ٹاؤٹوں، مقدمے باز ٹھگوں، لُچوں اور بدمعاشوں کے پاس دولت آئے گی تو ان کی اگلی نسل کے پاس تعلیم بھی آئے گی تو تعلیم کی برکت سے اُن میں شرفاء والے اوصاف بھی آجائیں گے پھر کسے خبر کہ کرم خان کی اولاد اور قبیلے میں سے غریبی اور تنگدستی کے باعث آئیندہ ایک دونسلوں میں لُچے اور کمینہ سوچ کے لوگ سر اُٹھالیں۔

خیر کرم خان کی دولت، جاگیر جائیداد گھٹی تو میاں غفار شاہ ہاشمی صاحب کا ستارہء اقبال بلند تر ہونے لگا اور انہوں نے اپنے ٹُچے چمچے نوازنے شروع کر دئیے اور وہ بھی اب لٹھے اور دو گھوڑا بوسکی کے کپڑے پہن، طرے دار پگڑیاں باندھ پنچایتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے لگے اور سَتھی سر پنچ بن کر جھوٹ کا ساتھ دینے لگے۔

قدرت نے ایک کرم بہرحال کرم خان پر ضرور کئے رکھا کہ اُن کی حسِ مزاح اور اعلیٰ ظرفی میں ان ابتلاء اور آزمائش کے برسوں میں بھی کوئی لغزش نہ آئی۔ ان دنوں ڈیرہ شاکر خان تتاری کے لونڈوں نے ایک بڑی سنجیدہ شرارت کی۔ ڈیرہ ایک بڑا قصبہ تھا جو کہ تقسیم سے پہلے تو شہر کا شہر رہ چکا تھا اور کوٹ سُکھے خان سے دس ایک میل کی مسافت پر تھا، وہاں کی ٹیم چند دن پہلے کبڈی کے ایک کھیل میں ہاری تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس میں کوٹ سکھے خان والوں نے امپائر منصف کے ساتھ ساز باز کی تھی اور اس پر سخت نالاں تھے۔ڈیرے میں انہی دنوں میں اچانک آوارہ کُتوں کی بہتات ہو گئی اور لوگ عاجز آگئے کہ آئے روز کسی بھیڑ بکری کو کاٹ لیتے یا راہگیروں کو ستاتے تھے۔ ایک رات وہاں کے لڑکے بالوں نے کیا حرکت کی کہ سارے آوارہ کُتوں کو پکڑ کر ایک لاری میں ڈالا اور کوٹ سکھے خان بلوچ چھوڑ کر واپس بھاگ گئے۔ اگلے ہی روز کوٹ سکھے خان کے لوگوں کو اس حرکت کا اندازہ ہوا اور یہ خبر بھی کہیں سے مل گئی کہ یہ حرکت کس کی ہے۔ کرم خان کے ڈیرے پر بات چھڑی تو لوگوں نے کہہ دیا کہ خان صاحب اس مسئلے کا حل نکالیں کہ ڈیرے کے عوام کو کیونکر سبق سکھایا جائے۔ خان صاحب نے کوٹ سکھے خان کے چند شریر لڑکوں کو بُلا کر حُکم دیا کہ ڈیرے سے آنے والے تمام آوارہ کُتوں کو بلکہ اپنے گاؤں کے بھی جو پکڑے جاسکیں، پکڑا جائے۔ خان صاحب نے ریاض نائی اور ایک دور کے بھانجے بھتیجے کی مدد سے گتے کے کئی بورڈ بالشت بالشت کے، بنوائے اور ان پر ایک خوشنما تحریر لکھ کر تمام کُتوں کے گلے میں لٹکانے کا حُکم دیا۔ رات ہوتے ہی ان سب کو ایک ویگن میں لاد واپس ڈیرہ شاکر خان تتاری بھجوا دیا گیا۔ اگلی صبح وہاں ہر گلی کوچے میں آوارہ کُتوں کے گلے میں یہ تحریر لٹکی نظر آئی،
”مژدہ ہو اہلِ ڈیرہ، ہم واپس آگئے!”
اور جہاں ڈیرے کے لوگوں کو ہنسی اور شرم مل کر آئی، وہاں وہ کوٹ سُکھے خان والوں کی حسِ مزاح کے قائل بھی ہو گئے۔

اس سے ضمناً ایک اور قصہ بیچ میں آ پڑتا ہے جو کرم خان کے بھلے وقتوں کی یاد گارہے۔ باوا گل حسین شاہ کے ایک چچا زاد بھائی سید ببر علی شاہ صاحب کوٹ نیازی خان بلوچ میں رہتے تھے۔ سابق فوجی تھے اور نہایت ہٹ دھرم، ضدی اور فتنہ پرداز تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کرم خان صاحب سے گائے خریدنی چاہی جو انہیں بقرعید کے لئے بہت پسند آئی تھی۔ سید صاحب لین دین کے بھی بڑے بد دیانت تھے، سو خان صاحب حیلے بہانے سے ٹرخا گئے۔ سید موصوف کو سخت غصہ آیا، رات کے اندھیرے میں کوٹ سکھے خان آئے اور گائے کی دُم کاٹ کر فرار ہو گئے۔ گائے کو شرعی عیب لگ گیا۔ خان صاحب کو اگلے ہی روز مخبری ہو گئی۔ آپ سادات کی عزت بھی خوب کرتے تھے، ناراض بھی بہت تھے۔ ریاض نائی کو بلایا، اس ظلم پر اردو میں ایک مرثیہ لکھا اور امام باڑے کے نوحہ خواں کو بلوایا، جلوس اکٹھا کیا اور لے کر کوٹ نیازی خاں پہنچے جہاں پورے گاؤں کی گلیوں میں گائے کو آگے آگے چلا کر سبھی نے ماتم کرتے ہوئے بآواز بلند یہ مرثیہ پڑھا؛
زمانے والو یہ اُمت پہ کیا ستم ٹُوٹا
کہ کاٹ لائے ہیں سادات ان کی گائے کی دُم
ہائے یہ دُم، گائے کی دُم، ہائے یہ دُم، گائے کی دُم!
کہتے ہیں کہ سید ببر علی کی اپنے سادات نے وہ گت بنائی کہ آج تک نہیں بھولے”

[dropcap size=big]اعلیٰ ظرفی[/dropcap] کی بات کریں تو انہی دنوں میں کرم خان کو ایک اور پنچایت کا بھی سامنا ہوا۔ یارمحمد کمہار اب حاجی یار محمد کہلاتا تھا، اس کی دُکان اب اتنی پھل پھول چکی تھی کہ وہ گاؤں کا سیٹھ بن چکا تھا اور تھوک پرچون کے سودے سلف کا بڑا کاروباری تھا۔ اس کی بیٹی چند سال قبل دریا پار کے غیرب کمہاروں میں بیاہی گئی تھی۔ اب وہ کسی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے روٹھ کر مائیکے آن بیٹھی۔ ایک ہی ماہ گزرا تھا کہ دریا پار کے کمہاروں کا ایک وفد کوٹ سُکھے خان آ پہنچا اور کرم خان سے پنچایت کی ثالثی کرنے کا کہا۔ وہ لوگ آج بھی کرم خان کو میاں غفار شاہ صاحب سے بڑھ کر معزز گردانتے تھے۔ حاجی یار محمد نے اعتراض کیا کہ میاں صاحب اُس کے محسن ہیں، ثالثی وہ کریں گے تو پنچایت ہو گی۔ کرم خان نے میاں صاحب کی ثالثی تسلیم کر لی اور کہا کہ وہ پار والے کمہاروں کی طرف سے پنچایت میں بیٹھیں گے۔ ایسی پنچایتوں کا انعقاد ڈیرے پر نہیں بلکہ گھر کے آنگن میں ہوتا ہے۔ پنچایت ہوئی تو معاملہ کھلا۔ جیسا کہ ہم دیہاتیوں کا کلچر ہے کہ آغازِ رنج نہایت معمولی سی بات سے ہوا تھا۔ یار محمد کی لڑکی کے ہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، کسی دن بچوں کے لئے دودھ لیتے ہوئے ساس نے اُسے سُنا دی کہ ”جنتے ہوئے تو لڑکیوں کی قطار لگا دی، دودھ کے لئے یوں مٹکے بھر رہی ہے جیسے باپ کی بھینس کھڑی ہے اس کی!” بحث جرح ہوئی تو پار کے کمہاروں نے اتنی بات تو تسلیم کر لی کہ ساس نے یہ کہا تھا مگر اُن کے خیال میں یار محمد کی لڑکی نے جو جواباً سب کے بخیے ادھیڑے تھے، وہ ناروا بات تھی اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ معافی مانگ کر لڑکی کو واپس لینے آئے ہیں۔ یار محمد اس پر بھی راضی نہ تھا کہ لڑکی کو واپس بھیج دے۔ کرم خان کو معلوم تھا کہ یار محمد میں نودولتیوں کی سی انا ہے، لڑکی بے قصور اس کی بھینٹ چڑھے گی۔ وہ گھر بسانا چاہتی تھی اور یار محمد کے لہجے میں پیسے کا غرور بول رہا تھا۔ کرم خان نے بھری پنچایت میں کہہ دیا؛ ”حاجی یار محمد! میں تیری دریا پار والی برادری کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری سماجت کرتا ہوں کہ بیٹی کا گھر بسنے دے، آئیندہ انہوں نے اسے کچھ کہا تو پھر یہ ناانصافی میں سمجھوں گا کہ میری بیٹی سے ہوئی ہے” یار محمد لاجواب ہوگیا۔ اس کی بیٹی کو واپس بھیجے جانے کےلئے تیار کیا جانے لگا۔ پنچایت کے شرکاء کو ابھی چائے پانی پلایا جا رہا تھا کہ کرم خان نے ریاض نائی کو بھیج کر اپنے ڈیرے سے ایک بھوری گائے کھلوائی اور جب یار محمد کی بیٹی اپنی بچیوں کے ہمراہ تیار ہو کر رُخصت ہونے لگی تو کرم خان نے گائے کی راسیں اُسے تھماتے ہوئے کہا؛
کسی کی جرات ہے کہ کوٹ سُکھے خان کی بیٹیوں کو طعنہ دے! یہ گائے تیری ہے بیٹا، بیٹیاں بھی تیری ہیں۔۔۔ گائے بھی رب سوہنے نے دی ہے، بیٹیاں بھی رب سوہنے نے دی ہیں۔۔۔ بندہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ہم مٹی سے بھی کمتر ہیں۔۔۔ بڑے بول رب سوہنے کو پسند نہیں۔۔۔”
وہ لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے جارہے تھے اور سوائے میاں غفار اور حاجی یار کے، سب کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔ زوال کی اترائی پر بھی کرم خان کی اعلیٰ ظرفی اپنے کمال پر تھی۔

[dropcap size=big]کچہری[/dropcap] کے چکروں نے جب خان صاحب کو شہر کا مستقل مسافر بنا دیا تو ایک دفعہ خان صاحب بیمار پڑ گئے۔ اگرچہ گُردے کی تکلیف کی وجہ سے ایک مدت سے مے نوشی کا شغل بھی ترک کر چکے تھے لیکن اب پھر اس روگ نے سر اُٹھا لیا۔ کچھ پتھری سی تھی جو اُن دنوں ایک کڑا روگ سمجھی جاتی تھی۔ ایک روز کچہری سے نکلتے ہی شدید درد نے آلیا۔ چاچا ریاض نائی انہیں شہر کے بڑے ہسپتال لے گئے۔ وہ انہیں سہارا دے کر تانگے سے اتار رہے تھے (کار ان دنوں چچا کی خدمت پر مامور تھی کہ وہ بہت ہی بیمار تھے) کہ بالکل پہلو میں ایک سرخ کرولا کار رکی اورسفید لیب کوٹ میں ملبوس ایک خاتون کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ اس شہر کی گہماگہمی میں ہزاروں اجنبی چہروں میں یہ ایک چہرہ کرم خان کا خُوب دیکھا ہوا تھا۔ اسی لمحے خاتون ڈاکٹر نے انہیں دیکھا تو قطعی غیر ارادی طور پر آگے بڑھ کر خان صاحب کو مخاطب کر کے بولیں؛ ”خان صاحب؟ آپ؟ کیا ہوا آپ کو؟” خان صاحب تکلیف کی شدت یا کسی اور وجہ سے کچھ جواب نہ دے سکے۔ ڈاکٹر رابعہ نے کار پارک کی اور انہیں ہمراہ لے گئیں۔ ایمرجنسی سے انہیں طبی امداد دلوائی اور جب وہ اُٹھ بیٹھے تو انہیں اپنے دفتر لے گئیں جس کے باہر ” ڈاکٹر رابعہ عمر حیات” کا بورڈ لگا تھا اور ریاض نائی نے آہستہ سے یہ تحریر اُن کے کان میں سُنا دی۔ اُن کا یہ نام پہلے نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھے، احوال پرسی کا آغاز ہوا۔ خان صاحب کی ہلکی پھلکی سی نمی لئے حیران آنکھیں ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھے جا رہی تھیں۔ فطرت حُسن اور نزاکت اگر انسان کو ودیعت کردے تو وہ ہر عمر میں کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب بھی حسین تھیں، سر میں سفید بالوں کی ایک باریک سی لٹ کے باوجود پتلے نقش نین، ہونٹوں کی لالی اور مخروطی انگلیوں کی نزاکت ویسی ہی تھی۔ دُبلی ہو جانے میں پہلے سے بھی نازک لگ رہی تھیں اور آنکھوں میں کامیاب لوگوں کی سی پروقار تھکن کے ڈورے تھے۔آنکھوں کا وہ حُسن باقی تھا جس پہ کرم خان کی شاعری میں تشبیہوں اور استعاروں کے لشکر قربان ہو چکے تھے۔ دوا دارو کی بات ہو چکی تو ڈاکٹر صاحبہ خالی خالی سی نگاہوں سے کچھ دیر کرم خان کو دیکھتی رہیں۔ چہرے کی جھریوں اور سر میں سفید اور سیاہ بالوں کی کھچڑی نے خان صاحب کی شخصیت کی متانت اور وقار کو بڑھا تو دیا تھا مگر رئیس زادوں والے رعب، دبدبے، صحت اور جوانی کی آخری رمق بھی اس چہرے سے رُخصت ہو چکی تھی۔ جو بھولپن کبھی اس چہرے پر تھا، وہ ایک بے چارگی سے بدل رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان سے بیٹی کی خیرئیت کا پوچھا۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے خداجانے کیا جواب دیا۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ان کی آواز بہت دھیمی تھی۔ ”اب بھی شعر کہتے ہیں؟” ڈاکٹر صاحبہ نے نرمی سے پوچھا۔
”اب اور بچا ہی کیا ہے کرنے کو؟” خان صاحب نے مسکرا کر کہا تو ریاض نے انہیں کہنی ماری کہ ایسے مسکینی کا اظہار نہ کریں مگر وہ سیدھے آدمی تھے۔ ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ خان صاحب نے اُن سے یہ ہرگز نہ پوچھا کہ وہ کہاں چلی گئی تھیں اچانک اور اتنے سال کہاں غائب رہیں۔ دوا کی پرچی لے کر اُٹھنے لگے تو ڈاکٹر صاحبہ چونکیں،
”خان صاحب! آپ چائے پیے بغیر نہیں جاسکتے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہم بلوچوں کی مہمان نوازی کو تو نہیں پہنچ سکتے لیکن آپ نے مجھ سے چائے نہ پی تو یہ میری نالائقی ہوگی”

خان صاحب سادگی سے مسکرا کر بیٹھ رہے۔ چائے کے دوران کچھ خاص بات نہ ہوئی، ڈاکٹر صاحبہ اپنے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں اور چاچا ریاض سے ان کے گھر بار کی خیرئیت پوچھتی رہیں۔ آخر پہ اُنہوں نے اپنے دفتر اور گھر کا ٹیلی فون نمبر ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور تاکید کی کہ خان صاحب ان کے پاس چائے پینے ضرور آیا کریں، یہاں ہسپتال چاہیں یا ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ کی رہائش پہ، وہ ہمیشہ ان کے معزز مہمان ہوں گے۔

چاچا ریاض نائی کا قول ہے کہ ڈھلتی عمر میں جوانی کی کسی محبت کا جاگ اُٹھنا کسی سمجھدار آدمی کو احمق اور معزز آدمی کو بے وقعت کرنے میں آخری کسر ہوتی ہے جس کے بعد نہ عقل رہتی ہے نہ وقار۔ کرم خان صاحب کو ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے کون سا شکوہ تھا جو اب روا رکھتے، اُسی والہانہ پن سے اُن کی محبت کا دم بھرنے لگے۔ ہر دوسرے روز ڈیرہ شاکر خان تتاری والے پبلک کال آفس پہنچے ہوتے اور آپریٹر کے وارے نیارے ہو جاتے۔ ہفتہ بھی نہ ہونے پاتا تھا کہ ان کی پچاسی ماڈل کار کوٹ سُکھے خان کی صبح کے سکوت میں تیرتی ہوئی شہر روانہ ہو جاتی۔ چاچا ریاض نائی ڈرائیور ہوتا اور کرم خان صاحب ہسپتال کے لئے عازم ہوتے۔ گُردے کا عارضہ تو تھا ہی مگر کہتے تھے کہ ڈاکٹر رابعہ دولتانہ کی چائے سے بڑا میرے مرض کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے اکثر شدید تکلیف میں روانہ ہوتے مگر ڈاکٹر صاحبہ کے دفتر میں وارد ہوتے ہی بھلے چنگے ہو جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بڑی مروت سے پیش آتیں، اُن کی سرائیکی شاعری پہ خوب داد دیتیں اور اُن کے لطائف پر خُوب کھلکھلا کر ہنستیں۔ شہر میں بڑا ریستوراں بن چکا تھا، کبھی وہاں دوپہر کے کھانے کا اہتمام ہوتا کبھی لائل پور نکل جاتے جس کا نام تو بدل چکا تھا مگر ہم دیہاتیوں کو ابھی بھی فیصل آباد کہنے میں دقت ہوتی تھی۔ شہر کے سنیما گھروں میں نیا فلم آتا تو اکثر کرم خان صاحب منت سماجت کرکے ڈاکٹر صاحبہ کو فلم بھی دکھا لاتے۔ ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ سے بھی شناسائی بن گئی جو کہ شاعری کا کمال ذوق رکھتے تھے اور کرم خان صاحب کے مداح ہوگئے۔ انہیں کسی قسم کا شک شائبہ یا اعتراض نہ تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ کے مہمان کیوں ہوتے تھے۔ دراصل انہیں اس طرح کے سوالات کی فرصت تھی نہ ضرورت۔ ڈاکٹر صاحبہ سے ان کی شادی باہمی محبت کی تھی اور آج تک ان کے درمیان کوئی بدگمانی نہ ہوئی تھی۔ پھر بھی کچھ عرصے بعد دفتر یا گھر کے بجائے صرف لائل پور میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جن میں ڈاکٹر صاحبہ تو فقط دوستانہ مروت سے پیش آتیں مگر خان صاحب تو گویا ان کے قدموں میں بچھ جایا کرتے تھے۔

اب احوال یہ تھا کہ خان صاحب، ڈاکٹر صاحبہ کےلئے تحائف خریدنے کبھی لاہور پہنچے ہوتے تو کبھی راولپنڈی اور کوئی عید، تہوار قضا نہ کرتے۔ پھر جب ڈاکٹر صاحبہ نے شہر میں اپنی کوٹھی کی تعمیر کا کام شروع کروایا تو دفتر میں اس کا ذکر ہوا۔ خان صاحب جھٹ سے بولے، ”آپ کو جس طرح کا بلڈنگ میٹیریل درکار ہو، بتائیے گا، سرگودھے میں میں نے اپنا کاروبار آغاز کیا ہوا ہے، میری کمپنی کے ہوتے ہوئے آپ کا مکان کوئی اور بنائے گا تو آپ میرا دل توڑیں گی” ڈاکٹر صاحبہ کو پیشکش پسند آئی۔ باہر نکل کر ریاض نائی سے کہنے لگے چلو سرگودھے، ملک شبیر، پُل گیارہ والے کے پاس!! ملک موصوف ان کے پرانے شناسا اور ایک کرشنگ پلانٹ اور ایک معمولی سی تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔الغرض ڈاکٹر صاحبہ کی کوٹھی کی تعمیر پر جو لاگت ہوئی اس کا نصف سے زیادہ انہیں اس لئے بچت میں رہا کہ خان صاحب کی ”کمپنی” نے ان سے کمال رعایت کی تھی۔ ملک شبیر کو پورے پیسے مل گئے، اسے اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ ہمارے ضلعے میں اس کی مشینری کسی کے نام سے چلے۔عمر حیات صاحب ایک دیانت دار افسر تھے، سو انہوں نے اس رعایت پر خان صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا ورنہ اس لاگت کا مکان اُن کی بچت اور تنخواہ کے بس سے ذرا باہر ہی تھا۔

خان صاحب نے جو لاکھوں روپیہ اپنی گرہ سے ادا کیا تھا، اس میں ان کے مویشی لگ بھگ سبھی بک گئے، پھر دریا کنارے والی زرعی اراضی بک گئی، پھر صحرا کی چنے کی کاشت والی بارانی زمین فروخت ہوئی۔ چاچا ریاض اکثر اُن سے الجھتے کہ یہ پاگل پن نہ کیجئے مگر خان صاحب کہاں سنتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بھانپ تو گئیں کہ سیدھا سادہ دیہاتی چالاکی و پرکاری دکھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے مگر چُپ رہیں۔ خان صاحب کی نیت بھی تو صاف تھی۔ فقط بے لوث محبت کے سوا ان کا کوئی مدعا نہ تھا۔ جلد ہی ڈاکٹر صاحبہ بھی گھبرانے سی لگیں اور اگر نرمی سے منع بھی کرتیں یا تعمیراتی کام کی بقایا کی رقم ادا کرنے کا تذکرہ کرتیں تو خان صاحب کی آزردگی کا عالم دیدنی ہوتا۔

سال ہی گزرا ہوگا کہ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ لائل پور ہو گیا تو خان صاحب نے بھی لائل پور ٹھکانہ کر لیا۔ ایک سادہ سا مکان شہر کے مضافات میں خریدا اور اکثر وہیں قیام کرنے لگے۔ڈاکٹر صاحبہ کو اب اپنے نئے گھر سے لائل پور آنے میں دو گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی جو کہ پولیس کی جیپ میں تو اور بھی تھکا دینے والی ہوتی تھی۔ اپنی کار وہ گھر بنانے کے عمل میں فروخت کرچکی تھیں۔ سو ایک دفعہ پھر کرم خان کے جوشِ محبت نے کھولاؤ دکھایا اور کوٹ مبارک سیال والی زرعی زمین کا ایک قطعہ بیچ کر لاہور سےنئی کار خرید لائے اور ڈاکٹر صاحبہ کی سالگرہ کے تحفے کے طور پر اُن کی خدمت میں پیش کر دی جو اس اونٹ کی پیٹھ کا آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اب ڈاکٹر رابعہ نے ناصرف سختی سے منع کردیا بلکہ ریاض سے کہا ”ریاض بھائی کار واپس لے جائیے اور کرم خان کو سمجھائیں کہ یہ حقِ دوستی ادا کرنے سے کہیں آگے کی حرکت ہے، مجھے مزید شرمسار نہ کریں” چند روز بحث ہوتی رہی پھر ڈاکٹر صاحبہ نے حتمی طور پر کہہ دیا کہ وہ یہ تحفہ قبول نہیں کر سکتیں اور یہ کہ وہ خان صاحب کی سابقہ محبت اور والہانہ جذبات کی قدر کے طور پر یہ سب کچھ مروتاً کررہی تھیں اور ان سے مل جل رہی تھیں مگر اب خان صاحب معقول نہیں رہے۔ ”کرم خان، اس ڈھلتی عمر میں مجھے بھی رُسوا نہ کیجئے اور خُود بھی نہ ہوں۔ بہتر ہے واپس گاؤں چلے جائیں، میں آپ کی ایک چائے کا قرض نہیں اُتار سکی تھی، اس پاگل پن کو کہاں سہار سکوں گی۔ آئیندہ آپ میرے دفتر نہ آئیے گا، یہاں آپ کو چائے پلانے والا کوئی نہ ہوگا!!” یہ کہہ کر ڈاکٹر رابعہ نے ٹیلی فون کریڈل پر گرا دیا۔ کرم خان نے بہت دل برداشتگی کے عالم میں کار اونے پونے فروخت کی، جو رقم ملی، اس سے چند مویشی خریدے اور گاؤں لوٹ آئے۔

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] ایک مدت تک مضمحل اور بیمار سے رہے۔ اب مے نوشی بھی اس قدر بڑھا دی کہ جس بُری عادت کی آج تک گاؤں میں کم ہی کسی کو خبر تھی، کسی کے لئے ڈھکی چھپی بات نہ رہی۔ اب احوال یہ تھے کہ ہمہ وقت دو ایک ہم مشرب دوست یار ان کے ڈیرے پر آئے رہتے تھے، محفلِ میگساری چلتی، ساقی گری ریاض نائی کا فریضہ تھا۔ ریاض نے آغاز میں منع کیا کہ اس طرح مرض بڑھ جائے گا مگر وہ کہاں مانتے تھے۔ اپنی مشہورِ زمانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک شعر سناتے جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ ”اے نادان خیر خواہو، جس مریض سے چارہ گر روٹھ جائے، اسے دوا سے غرض؟ اب چارہ گر آئے تب بھی موت اور نہ آئے تب بھی موت ہے!” اور اسی طرح ایک شعر میں کہا؛ ” خُدا نے تو بیماری کے عالم میں شراب بھی اپنے بندوں پر حرام نہ رکھی، میرے چارہ گر کی بے نیازی دیکھو جس نے مجھ پر دوا یعنی اپنا التفات بھی حرام کر رکھا ہے”

اس عشق کی بازگشت کے دو سالوں میں خان صاحب کی بے خُودی اور گم خیالی کا مادی فائدہ ان کے زمین کے تنازعے سے وابستہ لوگوں نے خُوب اُٹھایا۔ جو تنازعہ کیکر کے جھنڈ والی زمین سے آغاز ہواتھا، اب اس سے کئی جھگڑوں کی کونپلیں اور بھی پھوٹ چکی تھیں۔ میاں غفار شاہ دیوانی معاملات میں بہت چالاک اور گرگِ باراں دیدہ تھا البتہ فوجداریوں میں ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھا۔ ان کے سالے کے قتل کے مقدمے میں صلح صفائی کی وجہ فقط یہی تھی کہ وہ فوجداریوں میں آگے بڑھنے سے ڈرتے تھے۔ اس خوف کی جڑیں شایداس تنازعے کے آغاز کی ایک پنچایت میں پیوست تھیں۔ کوٹ سکھے خان کے بلوچ اگرچہ باقی ہر معاملے میں زبانی کلامی ہی کرم خان کے ہمدرد رہے مگر لڑائی جھگڑے کے معاملے میں آغاز کی کسی پنچایت میں ہی سرفراز خان بلوچ نے کہہ دیا تھا: ”میاں شاہ صاحب، آپ قانونی جنگ کسی سے بھی لڑ لیں، ایم پی اے آپ کا، وزیر آپ کا، تھانہ آپ کا۔۔۔مگر کرم خان کی جان اور عزت کا خطرہ اگر پیدا کیا تو یاد رکھئے سادات میں آپ کی پیڑھی ابھی نئی اور بڑی مختصر سی ہے، اگر ایک کے بدلے دس بلوچ بھی پھانسی چڑھ گئے تو خسارہ آپ ہی کاہے!” اس پر ساری پنچایت ہنس پڑی تھی اور میاں صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔

ایک دن کرم خان کو نجانے کیا سوجھی کہ ریاض نائی اور چچا برخوردار خان کو ہمراہ لیا اور شہر جا کر کر اے سی دفتر کچہری میں سوائے اپنے گھر کے باقی ماندہ تمام جائیداد، جاگیر، اپنی بیٹی کے نام لکھوا آئے۔کوٹ سُکھے خان، کوٹ نیازی خان اور ڈیرہ علی خان سیال میں کچھ زرعی زمین، کوٹ مبارک سیال کی بڑی جاگیر، تھل کی بارانی زمین کا ایک قطعہ، کوٹ سُکھے خان میں کچھ دُکانیں، خوشاب روڈ پہ ایک پٹرول پمپ اور مویشی۔۔۔ سبھی کچھ بیٹی کے نام کر دیا۔ مویشیوں میں اکثر گائیں بھینسیں سانجھے کی تھیں، پھر بھی بیس کے قریب گائیں بھینسیں، بچھڑے بدھیا خالصتاً ان کے اپنے تھے جو بیٹی کے نام کرنے کے بعد قانوناً اب کرم خان کے پاس ماسوائے اپنے گھر اور پرانی کھٹارا کار کے کوئی جائیداد نہ تھی۔ سال ہی گزرا ہوگا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح برخوردار خان کے بڑے پوتے سے کروا دیا اور رخصتی کے لئے اس کی بیس سال کی عمر ہونے کی مہلت مانگی۔ ثمینہ خانم اب دسویں میں پڑھتی تھی اور خان صاحب اسے اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجنا چاہتے تھے۔ اگرچہ رشتے داروں نے بہت کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کہ اس زمانے میں دس جماعتیں لڑکی کےلئے کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی لیکن خان صاحب نے ایک نہ سنی۔ رُخصتی کے وقت تک ثمینہ خانم چودہ جماعتیں سر میلکم ہیلی کالج سے پڑھ چکی تھی۔ کرم خان نے بیٹی کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور حریفوں نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ اُن کی تمام تر جائیداد برخوردار خان کی پیڑھی کو منتقل ہو چکی تھی۔ چند لوگ کرم خان کے گُن گا رہے تھے، زیادہ لوگ حیران تھے کہ اسی شے سے بچنے کےلئے تو لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دیتے تھے۔ خیر اب کرم خان اپنے آبائی گھر میں اکیلے رہتے، شعر کہتے اور ریاض نائی جیسے معدودے چند دوستوں کی صحبت میں وقت گزارتے۔

ایک مدت سے اُن کا معمول تھا کہ اڑوس پڑوس اور گاوں کے غریبوں کو اناج اور اجناس تحفہ کیا کرتے تھے، اب یہ بھی نہ رہا۔ مے نوشی کی محفلیں بھی برخواست ہو گئیں۔ تنگدستی نے نیکی اور بُرائی، دونوں کی بساط لپیٹ دی۔

ادھر میاں غفار شاہ اور اُن کے چیلے چمچے علاقے میں اتنے بارسوخ ہو چکے تھے کہ اب انہیں کسی کا لحاظ رہا، نہ ڈر نہ۔ جب ریاض نائی کی بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو وہ پرانی کار بھی بک گئی۔ ریاض کی بیٹی اور ثمینہ بچپن کی سہیلیاں اور ہم جماعت تھیں،وہ کرم خان کو اپنی بیٹی کی طرح عزیز رہین سو اس کی شادی کے اخراجات بھی اپنا فرض گردانے۔ اسے دس جماعت تک تعلیم بھی خان صاحب نے اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ دلوائی۔ وہ شاید اسے اور بھی پڑھاتے مگر چاچا ریاض کو اس کا فرض ادا کرنے کی جلدی تھی۔ ایک ریاض کی بیٹی پہ ہی کیا موقوف، کوٹ سُکھے خان کے آٹھ دس لڑکے لڑکیوں کے پہلی جماعت سے تعلیمی اخراجات خان صاحب نےا ہی ٹھائے تھے۔ ان میں سے چند لڑکیاں کالج اور دو ایک یونیورسٹی تک بھی پہنچ چُکی تھیں۔ خیر، خان صاحب کی وہ سُرخ کرولا ایک مدت تک ہم نے عالم قصائی سب انسپکٹر کے پاس دیکھی، پھر نجانے کہاں گئی۔

[dropcap size=big]یہ[/dropcap] وہ زمانہ تھا جب خوشاب، مظفر گڑھ روڈ پر لاری سے اُتر کر نیچے ڈیرہ شاکر خان تتاری تک دو اڑھائی میل کا سفر پیدل طے کرتے ہوئے کرم خان صاحب کو ہم بھی دیکھا کرتے تھے۔ہم اسکول کی خاکی وردی پہنے، گہرے سبز رنگ کے موٹے کپڑے والے بستے باندھے ننھے ننھے سپاہیوں کی طرح اسکول جا رہے ہوتے تھے تو ہمارا ٹکراؤ بابا بُدھو شاہ سرکار کے دربار والے جھُنڈ، قبرستان والے جنگل یا اس کے پاس جو سیلابی جھیل ہے، اس کے کنارے ہوتا تھا۔ اب اُن کے گنجے سر پر چند ہی بال باقی رہ گئے تھے جنہیں خضاب لگا کر سیاہ کرنے کی کوشش میں وہ اپنی چندیا پر بھی سیاہ داغ لگا بیٹھے جو ان کی سانولی رنگت پر بہت بھدے لگتے۔ چہرے پہ جھریاں نمودار ہو چکی تھیں جن سے لگتا تھا کہ وہ ہر وقت ہنستے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب کبھی اپنا کوئی شعر سناتے ہوئے روہانسے ہو جاتے، تب بھی لگتا کہ ہنس رہے ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ مسکراہٹ اب اس مضحکہ خیز سی ہنسی کے نیچے قابل رحم حد تک دب چکی تھی۔ بکثرت سگریٹ نوشی اور کبھی کبھار کی مے نوشی نے آنکھوں میں سُرخی اور پیلاہٹ کا ملا جلا سا مستقل رنگ بکھیر دیا تھاجن میں ہمہ وقت ایک نمی سی تیرتی رہتی تھی۔ قامت میں خم آگیا تھا۔ل کبھی کبھار کھانسی کی کھنک بھی شعروں اور گفتگو میں رموز واوقاف کے طور پرشامل ہوجاتی۔ لیکن آواز کی تندرستی باقی تھی۔لہجے کی اُداسی نے وہ سوز و گداز پیدا کر دیا تھا کہ بولتے تو سننے والوں کو پرے سے یوں لگتا تھا کہ سندھی یا سرائیکی شاعری سُنا رہے ہیں۔
ہمیں تو خیر اس کا دماغ نہ تھا لیکن دیکھنے والے تاڑ گئے کہ خان صاحب کا اس تواتر سے ڈیرہ شاکر خان تتاری آنا جان کس کےلئے تھا؟

جب ڈیرے میں کئی سال قبل پہلا نجی اسکول بنا تھا تو مادام سائرہ جنہیں ڈیرے کے سبھی چھوٹے بڑے باجی سائرہ کہتے تھے دس سال اس کی ہیڈ ٹیچر رہی تھیں۔ مالک اسلام آباد منتقل ہوا تو ادارہ اونے پونے میں فروخت کر کے چلا گیا۔ نیا مالک کوئی احمق سا امیرزادہ تھا، مادام سائرہ، اُس کے ساتھ نہ چل سکیں اور نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے حُسن کا شیدائی تو ایک عالم تھا لیکن شادی ایک وکیل صاحب سے ہوئی جو انہیں بڑی چاہ سے دلھن بنا کر لے گئے۔ وکیل صاحب موصوف جتنے خوش قسمت سمجھے جارہے تھے، اس قدر خوش قسمت نہ نکلے۔ دو ہی سال گزرے ہوں گے کہ وکیل صاحب کسی بیماری میں گزر گئے اور ساس صاحبہ نے انہیں منحوس ٹھہرا کر گھر سے نکال دیا۔وہ اپنی شیر خوار بیٹی کے ہمراہ واپس اپنےمیکے آ گئیں۔ والدین کا سایہ بھی کچھ عرصے بعد سر پر نہ رہا۔ پھر ایک عرصہ انہوں نے مقامی سطح کا دستکاری کا سکول چلایا جس میں بچیوں کو ہنر سکھاتی تھیں۔ اب ان کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ تھی لیکن حُسن میں آج بھی تیس تیس کی سہاگنوں کی ٹکر کی تھیں۔ خُدا جانے کرم خان صاحب کا اُن سے کیسے ٹکراؤ ہوا کہ اُن پر مر مٹے۔۔۔ اور وہ بھی اس ڈھلتی عمر میں۔ ہمیشہ کی طرح ریاض نائی ان کے زخمِ عشق پر پھاہے رکھنے کے لئے حاضر تھا۔ چڑھتی جوانی اور ڈھلتی عُمر کا عشق جان لیوا ہو سکتا ہے اور خان صاحب کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی۔ سُنا ہے کہ خان صاحب نے ایک منظوم خط مادام سائرہ کو بھیجا۔ استانی جی کی عزت تو ہر شخص کرتا تھا کہ گزشتہ بیس سال میں نجانے کتنی بیٹیاں اس بستی کی ان سے پڑھ چکی تھیں مگر پھر بھی کچھ لُچے لقندرے ان پہ ڈورے ڈال چُکے تھے اور وہ مردوں میں چُھپے حرامزادوںکو بہت جلد بھانپ لیتی تھیں۔ کرم خان کے بارے میں انہوں نے سُن تو رکھا تھا مگر ان کی دولت، شاعری اور حُسن پرستی کے قصوں نے اُن کا تاثر بہت خراب کر رکھا تھا، اُستانی جی نے کچھ دن تامل کیا اور پھر انگریزی میں ایک مختصر سی تحریر میں ایک چٹھی لکھی جس میں خان صاحب کو سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اپنی عمر اور عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ یقیناًیہ چٹھی انگریزی میں مشقی کاپی کے صفحے پر اس لئے لکھی گئی تھی کہ اگر غلطی سے راستے میں کھو جائے، کسی اور کے ہاتھ لگ جائے تو دیکھنے والا اس کاغذ کے ٹکڑے کو کسی بچے کی جماعت کی کاپی کا ایک ورق سمجھے۔ انگریزی سمجھنے والے تو شاید جھنگ سے خوشاب تک کے درمیان بھی کوئی ڈھونڈنے سے ہی ملتے۔ خان صاحب کے بارے میں ان کو یقین ہو گا کہ کسی سے پڑھوا لیں گے۔ سردار کرم خان بلوچ کے خط کا جواب نہ دینا بہرحال آج بھی کسی کے لئے آسان کام نہ تھا۔ چٹھی ریاض نائی کے پاس پہنچی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ انگریزی میں کیا لکھ ڈالا۔ اتنا تو وہ بھی پڑھنے کے قابل نہ تھے۔ کرم خان نے اپنے ایک اور پرانے دوست کو بلوایا جو کہ ریٹائرڈ ایجوکیشن کلرک تھا اور خط پڑھنے کا کہا۔ کلرک موصوف نے خط پڑھ کر حرف بحرف سمجھایا تو چاچا ریاض کے ساتھ مل کر خان صاحب کو خوب چھیڑا البتہ وہ یہ نہ جان سکا کہ خط کس نے لکھا ہے۔ بعد میں بھی کئی دفعہ آمنا سامنا ہونے پر کلرک صاحب انہیں آنکھ مار کر گُڈ مارننگ کہتے تو خان صاحب کھسیانے سے ہو کر ”چخا چخا” (دفع دفع) کہتے ہوئے کھسک جاتے۔ اس کے بعد کرم خان نے مادام سائرہ کو کوئی خط نہ لکھوا بھیجا البتہ ڈیرے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہا۔ یہاں کی ایک درزن ان کی مرحومہ بیوی کی پرانی سہیلی تھی، اس کی خدمات حاصل کی گئیں تو کرم خان کو فقط یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مادام اس درزن کے گھر آکر خان صاحب کی بات ایک دفعہ سننے پر آمادہ ہو گئیں۔

یہ ملاقات ایک رومانوی تجربہ ہرگز نہ تھا۔ سائرہ نے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا کہ ان کی بیٹی اب کالج جانے کی عمر کو ہے۔ اور وہی اب ان کی زندگی کا سارا مرکز ہے تو وہ کیسے کسی ایسے قصے میں پڑ سکتی ہیں جس کی عمر ہی گزر چکی ہے۔ انہوں نے تو وکیل صاحب سے بھی تھوڑی ہی دیر آنکھ لڑائی تھی کہ وکیل صاحب نے رشتہ بھیج دیاتھا۔ کرم خان صاحب کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جس سے ہٹنا بھی بے توقیری ہے اور آگے بڑھنا بھی اچھا نہیں۔ سو جو کچھ انہوں نے بہت آگے کےلئے سوچ رکھا تھا، ابھی کہہ دیا یعنی شادی کی پیشکش کردی اور وعدہ کیا کہ کسی بھی جواب کی صورت میں مادام سائرہ کی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی سمجھیں گے اور اس کی تعلیم کےلئے ہر طرح کی کاوش کریں گے۔ انہوں نے مادام کو سوچنے کی مہلت بھی دی۔

ابھی سوچنے کی مہلت کے دن چل رہے تھے اور درزن بھی مادام سائرہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس دنیا میں اکیلی ہیں اور بیوگی کی بیچارگی میں جو اتنے کٹھن سال گزرے ہیں، بیٹی کی شادی کے بعد مزید کٹھن ہو جائیں گے، بہتر ہے کہ ایک خاندانی آدمی کی اہلیہ بن جائیں تو بیٹی کو بھی کوئی شناخت مل جائے گی۔ انہی دنوں میں ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی ہو گیا اور وہ یہ کہ خان صاحب کے کپڑے جو ثمینہ کے گھر دھلنے گئے تو مادام سائرہ کی انگریزی چٹھی ان کے قمیض کی جیب میں رہ گئی۔ نوکرانی نے کپڑے دھونے سے پہلے جیبیں دیکھیں جیسا کہ بی بیوں کا معمول ہے، چٹھی نکلی۔ ”چھوٹی بی بی، یہ خان صاحب کی دواؤں والی پرچی ہے شاید، سنبھال لیں”۔ ثمینہ کو نوکرانی نے پرچی دی تو پہلے تو وہ بوکھلا گئی کہ گردے کی تلکیف کی صورت میں تو وہ ایک ہی دوا لیتے ہیں جس سے افاقہ ہوتا ہے، اب یہ کون سا نیا مرض لاحق ہوا جو چھپا رہے تھے۔ پھر چٹ پڑھی تو حیران بھی ہوئی اور ہنسی بھی۔ نوکرانی سے باپ کو بلوا بھیجا۔

”ابا جی! مجھے نہیں پتہ تھا آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں!”

ثمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو کرم خان صاحب شرمندہ اور کھسیانے ہو کر ہنسنے لگے۔ پہلے تو چاچا ریاض پہ ڈالنے کی کوشش کی مگر ثمینہ نے تو خوب تنگ کیا، آخر پہ ضد کرکے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھول گئی۔

”ابا مجھے ایک دفعہ دکھائیں تو!! ورنہ بابا بکھے (برخوردار) کو بتا دوں گی، پھر خیر نہیں ہونی آپ کی!”

ثمینہ نے خوب چہلیں کیں لیکن خان صاحب شرماتے لجاتے ہوئے وہاں سے اُٹھ آئے اور پھر ریاض کو بھجوا کر ثمینہ کو بتلایا کہ ”بھائی کرم خان باجی سائرہ کو تمہاری امی بنانے کے چکر میں ہیں۔۔۔” ثمینہ یہ سُن کر پہلے تو مسکرا دی، پھر سنجیدہ ہو گئی۔
چونکہ پہلی مُلاقات میں کرم خان انہیں بھلے آدمی لگے تھے، اُستانی صاحبہ نے انہیں پھر درزن کے گھر بلوا بھیجا کہ جواب دینے سے پہلے کچھ معاملات معلوم کرنے تھے۔ خان صاحب خضاب لگا کر بلیوں اچھلتے ہوئے جاپہنچے۔ استانی صاحبہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا اُن کیلئے اس قدر آسان نہیں۔

”کون جانے کل بلوچ قبیلے، برادری میں ہی مجھے قبول نہ کیا جائے! آپ پر رشتہ داروں کا دباؤ یا ٹھٹھہ مخول اتنا ہو کہ آپ ہار ہی جائیں اور میں اپنی عزت کا جنازہ لے کر پھر یہاں آبیٹھوں” گویا انہیں بھی خبر تھی کہ کرم خان کا رعب دبدبہ جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی مادام سائرہ نے عمرِ گذشتہ کی کٹھنائیوں کا جو ذکر چھیڑا تو رو رو کر چہرہ دھو ڈالا۔ وہ بڑی پختہ اعصاب کی خاتون تھیں مگر شاید کرم خان کی محبت کا جادو اس عمر میں بھی اپنی تاثیر دکھا رہا تھا۔ خان صاحب بھانپ گئے کہ اُن کا خوف کس نوعیت کے عدم تحفظ کی وجہ سے ہے، تاہم یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ہونے کی بجائے بڑے جذباتی انداز میں ختم ہوئی۔ خان صاحب نے انہیں دلاسہ دیا تو باہمی اپنایت کا ایک اٹل سا جذبہ سر اُٹھانے لگا۔ خان صاحب نے اس دن واپس آتے ہی ریاض نائی اور اپنے دوست ایجوکیشن کلرک سے صلاح مشورہ کیا۔ پروفیسر ثاقب عثمانی صاحب کو بھی چٹھی بھیج کر بلوایا اور انہیں ساتھ لے کر شہر میں جا درخواست جمع کروادی کہ پرائیویٹ اسکول قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہاں سرکاری دفتروں میں بھی کئی پرانے شناسا نکل آئے تو مہینوں کا کام دنوں میں ہوا۔ خان صاحب نے اپنے داماد اسلم کے ذمے لگایا کہ لائل پور میں ایک مکان کا پلاٹ جو ایک مدت سے اُن کے نام کا پڑا تھا اور کسی وجہ سے ثمینہ کے نام نہ ہو سکا تھا، اس کو فروخت کیا جائے۔ داماد صاحب لائل پور پہنچے تو پتہ چلا کہ پلاٹ پر قبضہ گروپ کے کوئی رانا صاحب قابض ہیں۔ کرم خان کی خوش قسمتی کہ جب ایم این اے کی چٹھی لے کر ڈی آئی جی صاحب کے پاس پہنچے تو وہ چھٹی پر تھے اور قائم مقام ڈی آئی جی صاحب پرانے شناسا نکلے؛ عمر حیات دولتانہ صاحب۔ خیر، اس پلاٹ کی قیمت رانا صاحب نے کرم خان کی توقع سے بھی ذیادہ ادا کر دی۔ مادام سائرہ کو پتہ چلا کہ کرم خان اپنے گاؤں میں اسکول کے قیام کےیلئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں تو اُنہیں بُلوا بھیجا کہ ماجرا کیا ہے؟ ادھر سرکاری رجسٹریشن نمبر ملنے سے پہلے اسکول کا فرنیچر پہنچ چکا تھا، خان صاحب کی آبائی حویلی جو ثمینہ کی شادی کے بعد عملاً سنسان پڑی تھی اس کے وسیع آنگن میں جماعت کے کمروں کی قطار کھڑی کر دی گئی تھی اور اب مستری پلستر چونے والے کام میں مشغول تھے اور باغیچے کے مالی کا کام چاچا ریاض نائی نے دھڑادھڑ جاری رکھا ہوا تھا کہ کرم خان صاحب اُستانی جی سے ملنے کےلئے پہنچ گئے۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی ساری توانائیاں کہیں سے لوٹ آئی ہیں۔ اُنہوں نے ملتے ہی مادام سائرہ سے کہا کہ انہیں الکرم گرلز اسکول کی پرنسپل کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ مادام سائرہ کو شک تو پڑ چکا تھا کہ کرم خان یہ سب اہتمام انہی کےلئے کر رہے ہیں مگر اب جو کرم خان کی زبانی سُنا تو یقین آگیا۔

”سائرہ اب اگر آپ میری درخواست ٹھکرائیں گی تو خُدا کرے میرے مرنے کی خبر سُنیں!”
کرم خان کی التجا میں خلوص اور محبت واضح تھی اور اتنی تھی کہ سائرہ صاحبہ مان گئیں۔

[dropcap size=big]اسکول[/dropcap] کا شاندار افتتاح ہوا، مادام بھی مدعو تھیں۔ ان کے نام سے سبھی واقف تھے، سو اکثر لوگوں نے کرم خان کے اس فیصلے کی تعریف کی کہ اُنہوں نے ایک نہایت قابل اور شریف خاتون کا پرنسپل کے عہدے کےلئے انتخاب کیا ہے، بلکہ انہی خاتون کی وجہ سے پہلے روز ہی کئی نام داخلے کےلئے لکھوائے گئے۔ معلوم نہیں کرم خان جانے کہاں کہاں کی تقاریب میں عمر بھر مہمان اور مہمانِ خصوصی کے طور پر جاتے رہےتھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے کرم خان کو باقاعدہ اسٹیج پہ بولتے دیکھا۔ تقریر مختصر تھی۔انہوں نے ایک ہی بات کی؛
”لوگ کہتے ہیں کرم خان کے پاس دولت تھی مگر اس نے اس کی قدر نہ کی، میرے عزیزو! میرے پاس دولت تھی ہی کب؟؟ مجھے عمر بھر میں ایک ہی تو حسرت رہی کہ میرے پاس دولت ہوتی۔ علم کی دولت!”
اس پر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں اور خان صاحب نے شرما کر دذدیدہ نظر سے مادام سائرہ کی طرف دیکھا۔ ثمینہ خانم بہر حال سب بھانپ گئی تھی۔

اسکول چلا تو کرم خان کےلئے موسمِ بہار کا آغاز ہو گیا۔ صبح دم جاگتے اور اسکول جاتے۔رہائش اب مستقلاً ڈیرے پر تھی، مالی سے چھڑکاؤ کرواتے، تالے کھلواتے اور فرنیچر کی صفائی اپنی نگرانی میں کرواتے البتہ پرنسپل کی میز کرسی اور ان کے چھوٹے سے دفتر کی جھاڑ پونچھ خُود کرتے اور پھر پرنسپل صاحبہ کے آنے تک مختلف بہانوں سے وہیں منڈلاتے پھرتے۔ مادام سائرہ آ جاتیں تو خان صاحب ان کے پاس بیٹھ کر چائے منگوا لیتے۔ اُن کا سفر تھوڑا طویل تھا، سو وہ دیر سے آتی تھیں اور قدرے تھکی بھی ہوتیں سو یہ خُوب بہانہ تھا چائے پینے کا۔ اسی اثناء میں دیگر اُستانیاں جن میں ثمینہ خانم زبردستی، ضد کر کے شامل ہوئی تھی، آ جاتیں تو خان صاحب رُخصت ہو جاتے۔ مادام سائرہ نے نہ صرف محنت سے اسکول کو ایک میعاری ادارہ بنایا بلکہ اپنی خوش اخلاقی سے کوٹ سُکھے خان کی خواتین کے دل بھی جیت لئے۔ کرم خان کو قریب سے دیکھا تو بہت بھلا آدمی پایا اور اُن کی والہانہ محبت کا جواب عزت، مروت اور نہایت توجہ سے دیا۔ وہ کئی دفعہ خان صاحب سے اُن کی اپنی صحت اور حُلیے سے لاپروائی کی وجہ سے اُلجھ بھی پڑتیں جس میں کرم خان کو التفات کا وہ شائبہ نظر آتا کہ خُوش ہو جاتے مگر وہ شادی کا سوال انہیں دوبارہ اُٹھانے کی ہمت ہوئی نہ ہی مادام سائرہ نے اس موضوع پر بات کی۔ ثمینہ خانم بھی مادام سائرہ کو بہت پسند کرنے لگی لیکن ساتھ ہی ساتھ مستعد بھی رہتی کہ والد صاحب کوئی گُل نہ کھلا دیں لہٰذا وہ خان صاحب کو احساس دلاتی رہتی کہ وہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کرم خان اکثر ایسے سوال جواب کے دوران اسے پیار سے چپت رسید کرتے یا اس کی پیشانی چوم کر کہتے،
”تو گویا میں نے غلطی کی تمہیں تعلیم دلوا کر۔۔۔۔ باپ سے بھی ذیادہ سیانی ہو گئی ہو ثمینہ خانم۔۔۔” اور بات ٹال جاتے۔

وہ ضرب المثل ہے کہ عشق اور مشک نہیں چھپتے۔ خان صاحب کا راز بھی کسی اناڑی کے ہاتھوں باندھے گئے غبارے کی ہوا کی طرح آہستہ آہستہ سے نکلنا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ گاؤں میں طبل زیرِ گلیم بن گیا۔کرم خان اس سب سے لاپروا مادام سائرہ کے حُسن و خُوبی میں یوں مگن تھے گویا انہیں دُنیائے دیگر کی پروا بھی نہ تھی۔ اس بے نیازی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب لوگوں نے بھی ان کی سرپرستی، کورٹ کچہری کے مسائل میں ہر کس و ناکس کی مدد، پنچایتوں کے منصفانہ فیصلوں اور معمولی کاشتکاروں پر ٹھیکوں، لین دین اور دیگر معاملات میں خاص رعایتوں کے وہ معاملات بُھلا دیئے تھے جنہوں نے انہیں علاقے والوں کا پسندیدہ زمیندار اور سردار بنایا تھا۔اب ان باتوں کو پس پُشت ڈال کر ان کی خامی پر توجہ رکھنا شروع کر دیا تھا اور سرداری کی دستار اُن لوگوں کے سروں پر آ چکی تھی جن میں سب اخلاقی بُرائیاں تھیں۔ سو خان صاحب نہ صرف لاپروا ہو گئے بلکہ کسی بھی عام دیہاتی کی سی غیر ذمہ داری ان کے مزاج میں آ گئی تھی۔ اسکول کے معاملات میں بھی ان کی دلچسپی مادام سائرہ کی حد تک ہی تھی کہ تعلیم و تعلم کا یوں بھی اس بھلے مانس کو کیا پتہ تھا؟ کرم خان صاحب نے تمام اسکول، عمارت اور مالکانہ حقوق سمیت مادام سائرہ کے نام منتقل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا لیکن مادام سائرہ نے ابھی تک اس بات کو بالائے طاق ہی رکھا کیونکہ اس طرح اُن پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کرم خان کو شریکِ حیات کے طور پر اپنا لیں۔

اب تک مادام سائرہ کے حُسن کے مدار سے باہر کی تمام کائنات کرم خان کےلئے خاموش تھی کہ اچانک اس میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کی آمد آمد تھی اور علاقے میں ایک ہنگامہ اور چہل پہل تھی۔ میاں غفار شاہ کے ڈیرے پر انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں اکثر لوگوں کا ہجوم رہنے لگا جس میں ذیادہ تر سیاسی چہ مگوئیوں کے شوقین لوگ آ موجود ہوتے۔ اب کی بار مقابل میں کوئی تگڑا اُمیدوار بھی نہ تھا، میاں صاحب کا مزاج عرشِ معلیٰ پر پہنچا ہوا تھا۔ اگلے ہی روز اس نے دھوم دھام اور طبل و علم کے ساتھ شہر جا کر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے تھے۔ کسی نے بات چھیڑی کہ کیا اس دفعہ پھر کرم خان اُن کے مقابل انتخابات میں اُٹھے گا؟؟ میاں غفار شاہ اس وقت غرور کے نشے میں تھے، بولے؛
”ارے وہ اُس اُستانی کی رانوں کے بیچ پڑا ہو گا اس وقت۔۔۔ اُسے کیا لینا دینا سیاست سے!!” لوگوں کو اندازہ تو خُوب تھا کہ میاں صاحب کس قدر بے ہودہ بات کہہ گئے تھے مگر خوشامدیوں، ٹاؤٹوں کا جو ٹولہ حاضر تھا، اُنہوں نے جو تالی پِیٹ کر قہقہہ بلند کیا، یوں لگا کہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ چھُوٹا تھا۔ خیر شام تک بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ کسی کو ہمت نہ پڑی کہ کرم خان سے کہتا، چاچا ریاض نائی اُس روز گاؤں میں تھا نہیں، لیکن ثمینہ جو ان دنوں اُمید سے تھی اور اسکول نہ جاتی تھی، اُس تک یہ بات پہنچ ہی گئی۔

رات کی روٹی کے وقت اسلم سے جو اس بات کا ذکر کیا تو ثمینہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ کرم خان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتاری کا کسی یہاں کے مخالف کو بھی کبھی نہ حوصلہ نہ پڑا تھا، ثمینہ کی بے چینی سمجھ آنے والی تھی، بولی؛
”میرا جو کوئی بھائی ہوتا، اُس میراثن کے بیٹے سے بدلہ تو لیتا میرے باپ کی توہین کا!”
ثمینہ کا یہ جملہ اسلم کے حلق میں تیر کی طرح اٹک گیا۔ اُس نے روٹی کا توڑا ہوا لقمہ رکھ دیا۔
”سمی! میں تیرا بھائی تو نہیں ہو سکتا، لیکن چچا کرم خان کا بیٹا تو ہوں، اور رہوں گا! کسی ماں کے یار کو شک ہے تو آج دیکھ لے گا!”

اسلم خان کسی بے چین پرندے کی طرح تڑپتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ سرفراز خان بلوچ کے گھر پہنچا۔ خان صاحب ایک مدت ہوئی فوت ہو چکے تھے، ان کا ایک بیٹا ریٹائرڈ فوجی تھا۔ نیم پاگل اور دنگے فساد کا شائق بلکہ کافی حد تک جرائم پیشہ آدمی تھا۔ نام تو نجانے کیا تھا لیکن سب اسے چاچا فوجی کہتے تھے۔ اسلم چاچا فوجی کے گھر گیا اور اُس کے ابا جان کا بلم مانگا۔ فوجی نے کافی عرصہ پہلے سرکاری مال خانے اور تھانے کے لوگوں میں جان پہچان بنا کر وہاں سے اپنے باپ کا بلم واپس لے لیا تھا اور بڑا سینت سینت کر رکھا ہوا تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ااٹھارہ سو ستاون کے غازی، مردانہ بلوچ کا بلم ہے اور لیفٹنینٹ لین صاحب بہادر کے سینے میں بھی پیوست ہو چکا ہے، خُدا جانے اس میں کس حد تک سچائی تھی۔ اُس نے بلم اٹُھا کر اسلم کو دے دیا اور جب اسلم گھر سے نکل چکا تو چاچے فوجی کو عقل آئی کہ قرائن تو خطرناک تھے۔ خیر میاں غفار شاہ صاحب ابھی ڈیرے پر تھے اور کسی مہمان کی خاطر ہو رہی تھی، نوکر اور خوشامدی اب بھی کافی سارے حاضر تھے۔ اسلم خان جو بلم لہرا کر وہاں پہنچا تو سبھی تاڑ گئے لیکن شاہ صاحب نے انہیں چُپ رہنے کا اشارہ کیا کہ مہمان مذکور بھی سیاسی طور پر ان سے کم معزز نہ تھے۔
”میاں صاحب!!!” اسلم نے نہایت درشتی سے آتے ہی کہا۔
”ہاں اسلم بیٹا، خیر تو ہے، آج بڑے غُصے میں لگ رہے ہو” میاں صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
”شاہ صاحب! اپنی گندی سیاست کھُل کھیلو مگر خبردار، چچا کرم خان کے بارے میں دوبارہ غلیظ زبان استعمال کی تو یہ بلم پہچانتے ہو؟؟ نواز میراثی کے تو پہلو میں گھسیڑا تھا، تمہارے پچھواڑے۔۔۔۔”
ابھی اسلم یہی کہہ پایا تھا کہ میاں صاحب گرجے،
”بکواس بند کرو!” اسلم بھی چونک سا گیا۔
”کرم خان اور میں ہم عمر ہیں! مجھ سے ایسے بات کرے تو وہ، تُم کب سے اتنے بڑے ہو گئے؟؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ!!” میاں غفار شاہ بھی ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ چاچا فوجی بھی وہاں آ دھمکا۔

ہوا یہ تھا کہ جونہی فوجی کو شک پڑا کہ ہو نہ ہو اسلم خان اپنے سسر کی توہین کے انتقام کے درپے ہے، اُسے فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں لڑکے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ اس کا فوجی لائسنس کا پستول اور رائفل خوش قسمتی سے اس کی بیوی نے بڑے صندوقوں میں کہیں بستروں کے نیچے دبا رکھے تھے کہ وہ بات بات پر اسلحہ تان لینے کا عادی تھا۔ آج چاچی فوجن گھر پہ نہ تھی، اسلحہ ڈھونڈنے کا وقت نہ تھا، سو فوجی نے لوہے کی ایک وزنی سلاخ پکڑی اور بھاگم بھاگ اسلم کے پیچھے۔ فوجی نے ڈیرے کا صحن چڑھتے ہی جو دیکھا کہ میاں صاحب اسلم خان کو دفع ہو جانے کا حُکم دے رہے ہیں، اُس کا پارہ کھول اُٹھا۔ اسلم تو شاید دو چار باتیں اور کڑوی کسیلی کر کے لوٹ آتا مگر فوجی نے تو چڑھتے ہی نعرہ لگایا،
”بکواس بند کر اوئے میراثن کے بچے!” ایک دفعہ تو سبھی بوکھلا کر رہ گئے۔

”خبردار اگر تُو نے کرم خان کے خلاف نامزدگی جمع کروائی! تیرے پورے خاندان کے ہر بندے کے حصے میں میرے سو سو راؤنڈ بھی آئے تو میرا اسلحہ ختم نہیں ہوگا!!!” فوجی نے میاں صاحب کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا ”اور میں نسل ختم کر دوں گا اس کی جس نے ووٹ دیا اس میراثی کے نُطفے کو!!” فوجی نے میراثی والا حوالہ دہرایا ہی تھا کہ میاں صاحب کے ہاتھ میں جو چائے کا کپ تھا، سیدھا کھینچ کے مارا جو فوجی کی بتیسی پہ کھٹاک سے آن لگا، پھر کیا تھا، فوجی نے جو باؤلا ہو کے لوہے کی بھاری سلاخ ماری تو وہ میاں صاحب کا سر بچا کر لگی مہمانِ گرامی کے بائیں کان پہ اور وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح چارپائی پہ لم لیٹ ہو گیا۔ پھر تو میاں صاحب کیا اور ان کے دیگر چیلے چانٹے کیا، وہ مارو مارو، جانے نہ پائے کا شور تھا اور وہ دونوں گویا معرکہ تو مار چکے تھے، بھاگ نکلے، اور سبھی ان کے تعاقب میں تھے۔

جونہی وہ دونوں بھاگتے ہوئے باوا گُل حُسین شاہ کی حویلی کے پاس اچانک مُڑ کر جنگل میں روپوش ہو ئے، مگر اس طرح کہ سبھی نے سمجھا کہ باوا جی کے گھر میں پناہ لینے کو جا گھُسے ہیں۔ ”گھُس جاؤ اندار!!” میاں غفار شاہ دھاڑے تو سبھی باوا گُل حسین شاہ کی حویلی میں جا گھسے۔ وہاں کی مستورات نے آسمان سر پہ اُٹھا لیا، ادھر تعاقب کرنے والوں میں سے کسی کی آوازیں بھی آئیں، ”اوئے سیدوں کا گھر ہے، اندر مت جاؤ اوئے!” مگر بے سود۔ ادھر سیدوں کے ہاتھ میں جو بھی آیا، پل پڑے میاں صاحب کے حواریوں میں ایک کا سر کھول دیا اور ایک کی پیٹھ میں سبزی کاٹنے کی چھُری اُتار دی۔ جب تک میاں صاحب کو اپنی حماقت کا اندازہ ہوا، اسلم اور فوجی کہیں دور نکل چکے تھے۔

کرم خان کو جو پتہ چلا تو اُن کے لئے پہلا سردرد یہ تھا کہ باوا گُل حسین شاہ کی حویلی کا جو تقدس پامال ہوا ہے، وہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اُنہوں نے صبح منہ اندھیرے باوا گُل مرحوم کے بیٹے سید بُلبُل حُسین شاہ کو ہمراہ لیا اور تھانے میں جا کر میاں غفار شاہ اور دیگر کے خلاف چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا پرچہ جڑ دیا۔ اسی اثنا میں میاں غفار شاہ صاحب بھی اپنے حواریوں کو لے کر تھانے آپہنچے۔ نیا ایس ایچ او میانوالی کا کوئی پٹھان تھا اور اس تک ساری خبر رات ہی کو پہنچ چکی تھی، غُصے میں سُرخ ہوا بیٹھا تھا، چھوٹتے ہی بولا؛ ”پہلے تو مجھے یہ سارے بندے دیں جنہوں سیدوں کے گھر کی بے ادبی کی ہے ورنہ میں ابھی جا کر سارے کوٹ سکھے خان والوں کو ننگا کرکے سڑک پر کھڑا کردوں گا۔۔۔” میاں صاحب نے کئی برسوں میں کسی تھانے دار سے ایسی بات نہ سُنی تھی، سہم سے گئے۔ بُلبُل حسین شاہ نے بتایا کہ شاہ صاحب کے ہمراہیوں میں بھی کچھ لوگ درخواست میں شامل ہیں، تھانے دار نے فورا ان سب کو پکڑ لیا، بلکہ ایک میاں صاحب کو ہی باہر رہنے دیا وورنہ سبھی حوالات میں۔ عملے کو حُکم دیا گیا کہ ان سب کی یادگار چھترول کی جائے۔ میاں صاحب کا تو رنگ ہی اُڑ گیا۔ اب جو میاں صاحب سے ان کے آنے کا مقصد سُنا تو نرمی سے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا، ”میاں صاحب، مجھے ڈی پی او صاحب کہہ دیں، میں سیدوں کے خلاف چھرا گھونپنے کا اور بلوچوں کے خلاف بھی پرچہ کاٹ دوں گا۔۔۔ اقدام قتل کا پرچہ کوئی مذاق نہیں ہے!” میاں صاحب نے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ انہیں ایک کونے میں لے گیا اور کچھ کھسر پھسر کرنے لگا۔

جب تک ڈی پی او صاحب کا حُکم آیا کہ دونوں پارٹیوں کو پابند کریں کہ پنچایت کر لی جائے کیونکہ چھرا گھونپنے کا کیس بالخصوص کمزور ہے، اس میں سیدوں کا کچھ نہیں بگڑنے کا البتہ بلوچوں کے ساتھ پنچایت کی جائے اور میاں صاحب کے بندے فوری رہا کئے جائیں۔ مہر جیون خان گوندل جنہیں اسلم خان کی ضرب لگی تھی، ان کا کوٹ مبارک خان کے بلوچوں سے خُوب تعلق تھا، اُن سے بلوچوں نے اُن کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگ لی اور فوجی کو ان کے سامنے پیش کر دیا کہ جو سزا چاہے دیں، اُنہوں نے کہا وہ میاں غفار شاہ سے مشورہ کریں گے۔

پٹھان تھانے دار نے میاں صاحب کے حواریوں کو جب چھوڑا تو بیچاروں کی کافی چھترول ہو چکی تھی۔ گاؤں میں پنچایت کا اہتمام ہوا تو ایس ایچ او صاحب بھی آدھمکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچوں اور میاں صاحب کے جھگڑے کا جو فیصلہ ہو سر آنکھوں پر مگر اس پنچایت میں گاؤں والے سید بلبل حسین شاہ سے معافی مانگیں گے ورنہ جب تک وہ یہاں تھانے میں تعینات ہیں، کوٹ سکھے خان والوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ چند بوڑھوں نے پورے گاؤں کی نمائیندگی کی اور باوا جی سے معافی مانگی۔ پنچایت بھی باہمی معافی تلافی پر ختم ہو گئی اور فریقین نے درخواستیں تھانے سے واپس لے لیں۔ جو لوگ ملوث تھے، وہی کیا، سبھی شرمسار نظر آرہے تھے۔ گاؤں میں پر زبان پر یہی تبصرہ تھا اور ہر شخص میاں غفار شاہ کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا، ضعیف العقیدہ عورتیں تو یوں سہمی ہوئی تھیں گویا پوری بستی پر کوئی عذاب آنے والا ہو۔ فوجی کے بارے میں افواہ پھیلی کہ اس نے بنوں سے پٹھان اور اسلحہ منگوا لئے ہیں کہ جو میاں صاحب کو ووٹ دے گا، اسے نشانِ عبرت بنا دے گا۔ یہ فقط افواہ تھی مگر خدشہء نقصِ امن کے تحت پولیس نے اسے چند ہی روز بعد گرفتار کر لیا اور الیکشن کے بعد چھوڑا۔ بلوچوں میں کسی نے ضمانت کی کوشش نہ کی کہ فوجی پر بھروسہ انہیں بھی نہ تھا۔

اب یہ تبصرے بھی ہونے لگے کہ اُستانی جی کی وجہ سے جھگڑے کا آغاز ہوا اور آخر پہ اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا۔ ابھی اس بات نے پر نہ پکڑے تھے کہ مادام سائرہ نے کرم خان صاحب سے کہہ دیا کہ نکاح خواں بلوائیے۔ باوا سید بُلبل حسین شاہ صاحب نے کرم خان صاحب کا نکاح پڑھایا اور سادہ سی تقریب جو برخوردار خان مرحوم کی حویلی میں ہوئی، اس کے بعد کرم خان صاحب انہیں اپنے ڈیرے پہ لے گئے جس کی چار دیواری بلند کرکے اسے حال ہی میں گھر بنایا گیا تھا۔ یہ اب مادام سائرہ اور ان کی بیٹی کا گھر تھا۔ ابھی اس خبر کی گہماگہمی گاؤں میں چل رہی تھی کہ میاں غفار شاہ کے کاغذاتِ نامزدگی قبول ہونے کی خبر ملی لیکن خبر تب بنی جب اُن کے مقابلے میں اسلم خان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دئیے گئے۔

[dropcap size=big]انتخابات[/dropcap] تک کا عرصہ خُوب چہل پہل کا تھا جو کہ کرم خان نے تو عجیب سر خوشی میں گزارا۔ سوتیلی بیٹی انہیں بے حد عزیز تھی۔ وہ ماں کے ساتھ آئی تھی اور آتے ہی کرم خان اور ثمینہ کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ کرم خان اب بے حد خوش رہا کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ کرم خان کو دوسری شادی نے پھر سے جوان کر دیا ہے مگر کون جانے کہ شمع بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔

الیکشن کا دن کافی مصروف گزرا۔ کرم خان شام کو اسلم خان کا جشنِ فتح منا کر گھر آئے تو وہاں بھی مبارک باد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ میاں غفار شاہ کو شکست ہو گئی تھی اور وہ بھی بدترین قسم کی۔ خان صاحب نے مدثر مصلی عرف اکشے کے ہاتھ میاں صاحب کو ایک چٹھی لکھوا بھیجی کہ لڑائی جھگڑوں کا انہیں افسوس ہے مگر یہ انتقام تھا جو وہ اُن سے گذشتہ الیکشن کے بعد لینا چاہتے تھے۔ خان صاحب نے جشن منانے والے دیگر لوگوں سے معذرت چاہی اور گھر آکر چارپائی پر لم لیٹ ہو گئے۔

”ذرا میرا سر دبا دو گے میرے سردار؟”
کرم خان نے نہایت محبت بھرے لہجے میں بیگم صاحب سے کہا۔ وہ اُٹھیں اور ان کے سرہانے آ کر بیٹھیں۔

”میرے سردار۔ اگر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیں تو غُلام احسان مند رہے گا” کرم خان صاحب نے ایک بیمار سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو پہلے تو مادام سائرہ نے چاچا ریاض کی طرف دیکھا جو قریب ہی کھڑے چارپائیوں کی ادوائین کھینچ رہا تھا مگر اس نے تاثر دیا کہ اس کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ اُستانی جی نے کرم خان کا سر اپنی گود میں رکھا اور دبانے لگیں۔ کرم خان نے آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی اداکاری کرنے لگے۔ چاچا ریاض کام سے فارغ ہو چکا تو چپ کر کے کھسکنے لگا۔

”ریاضُو! حرامی! کدھر چُپ کرکے نکل رہا ہے؟” کرم خان صاحب نے آنکھیں بند کرکے ہی کہا۔ چاچا ریاض مُڑا تو کرم خان نے اپنا ہاتھ ایسے بلند کیا جیسے کوئی ڈوبنے والا التجا میں اپنا ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ چاچا ریاض نے گھبرا کران کا ہاتھ پکڑا۔ خان صاحب نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا، آنکھیں کھول کر سائرہ کے گھبرائے ہوئے چہرے پہ نگاہیں گاڑیں اور ایک ہی جملہ زبان سے ادا کیا؛
”میری چھوٹی بیٹی کا خیال رکھنا!”

چاچا ریاض نے چند بزرگوں کو جانِ عزیز، جان دینے والے کے سپرد کرتے دیکھاہوا تھا، سمجھ گئے۔ اُنہوں نے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور زمین پر ڈھلکا دی اور سسکیاں لے کر رونے لگے۔ کرم خان بلوچ جس وقار سے اپنی دُھن میں مگن جیئے تھے، اسی سکون اور سکوت سے مر گئے۔

کرم خان کے بعد الکرم گرامر اسکول کبھی پہلے کی سی روانی کے ساتھ نہ چل سکا۔ بیگم کرم خان کو اب اس گاؤں میں تنہائی کا آسیب بہت ڈرانے لگا تھا ان کی بیٹی کا داخلہ بھی ایک میڈیکل کالج میں ہو چکا تھا، اُنہوں نے اسکول کے معاملات ثمینہ کے حوالے کئے اور سرگودھے چلی گئیں جہاں بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی۔ اسلم خان نے ہمیشہ دامے درمے ان کی مدد بھی کی کیونکہ اسکول کے مالکانہ حقوق مادام کے نام ہی تھے اور گھر کی جگہ بھی چھوٹی بیٹی کے نام ہو چکی تھی۔ کچھ بلوچوں نے کوشش تو کی اس پر جھگڑا پیدا کریں مگر اسلم خان وہی کرتا تھا جو اسے ثمینہ خانم کہتی تھی جو کہ ایک وسیع القلب خاتون تھیں۔

میاں غفار شاہ اس کے بعد پندرہ سال تک زندہ رہے۔اس دوران انہوں نے چاچے فوجی کے قتل سے لے کر ثمینہ خانم کی کردار کشی کی مہم تک، علاقے میں ہر طریقے سے کرم خان کے خاندان کو زچ کرکے اپنی سیاسی و معاشی ساکھ کافی مضبوط کر لی جو اُن کے بعد ان کے بیٹوں نے سنبھالی۔ اسلم خان سیاست سے ہمیشہ کےلئے کنارہ کش ہو گیا۔حاجی یار محمد بھی میاں صاحب کی صحبت کے فیض سے بڑا سیٹھ بن گیا اور اس نے شہر جا کر اپنا تھوک کا کاروبار بڑھایا اور چند ہی سال میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک شاندار کوٹھی تعمیر کی۔ اس کے تینوں پوتے شہر کے اعلیٰ پبلک اداروں میں پڑھنے لگے۔ یہ لونڈے بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے تھے، محنتی اور پبلک اسکول ڈسپلن کے کاربند۔ اُمید تھی کہ وہ ذات پات والے ذلیل نظام سے چھوٹ چکے ہیں تو اس پہ یقین نہ رکھیں گے مگر اُنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ایک اور ذات کا لاحقہ لگا لیا جس کے تحفظ کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے پہ مستعد رہتے تھے۔ یوں بڑے درست چال چلن کے تھے۔ سید بُلبل حسین شاہ صاحب کے پانچ بیٹے تھے، ایک کو چھوڑ سارے نااہل اور نکمے نکلے۔ ان کی آخری عمر میں ان لڑکوں نے بھی میاں صاحب کے ٹاؤٹوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔

[dropcap size=big]کرم خان کا ورثہ[/dropcap] مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا جس کا وجود اگر کوئی تھا تو الکرم گرامر اسکول کی خستہ حال عمارت تھی جس کے سامنے گلی میں سارا سال گندا پانی اکٹھا ہوا رہتا تھا اور جس میں اینٹیں رکھ کر پیدل چلنے والوں کےلئے آسانی پیدا کی گئی تھی۔ میاں غفار شاہ ہاشمی کا بیٹا مخدوم فیضان علی شاہ ہاشمی ایم پی اے بنا تو اسی گلی سے گزر کر ووٹ مانگنے آیا تھا۔ اس کی مدت کو پانچ سال ہونے کو آئے ہیں، آج کل میں دوبارہ آئے گا۔ یہ گلی اپنے کیچڑ اور تعفن کے ساتھ یہیں رہے گی؛ کہاں جائے گی؟ یا پھر اسی گلی کے اگلے موڑ پر وسیع و عریض میدان ہے جس کے دائیں طرف ٹیلے پر پیر کبیر شاہ بخاری کا میلا لگتا ہے، بائیں جانب پیر صاحب کا مزار اور قبرستان ہے۔ سڑک کے کنارے پر، میدان والی جانب ایک گھنا پیڑ ہے جو اس علاقے میں شیشم کے معدوم ہو جانے کے بعد علاقے کا واحد شیشم کا پیڑ ہے، اس کے نیچے چاچا ریاض نائی نے حجام والا پھٹا لگا رکھا ہے۔ وہ کرم خان کی وفات کے بعد سے ان کے اسکول کا چپڑاسی ہے مگر اس کی تنخواہ نہیں لیتا ماسوائے اس کے کہ ثمینہ یا اسلم اپنے پلے سے کچھ دے دیں، ورنہ وہ اپنے آبائی پیشے سے ہی روٹی کماتا ہے۔ اس پھٹے سے مخالف سمت قبرستان کی حدود میں پہلی نمایاں قبر کرم خان مرحوم کی ہے جس پر ہر شام چاچا ریاض نائی چراغ جلاتا ہے۔اس نے اپنے دوست کو کوٹ سُکھے خان کا ‘دانتے’ بنا دیا ہے۔۔۔ دانتے، جس کی قبر پر اس کی موت سے آج تک اطالویوں نے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔

”چاچا ریاض! یہ چراغ کب تک جلاؤ گے؟” کرم خان کا قصہ سُن چکنے کے بعد میں نے جو ریاض نائی سے پوچھا تو وہ ہنس دیا۔ ایک شکستہ سی ہنسی۔
”جب تک زندگی نے وفا کی۔۔۔ اتنا ہی ہوتا ہے یار۔۔۔ میرے دوست کو بھی تو اس چراغ کے سوا آخر بچتا ہی کیا ہے؟” اس کی آنکھ تر ہو گئی۔ چاچا ریاض نے اپنے کام کےلئے اس جگہ کا انتخاب بلاوجہ نہیں کیا تھا۔

میری نظریں قبرستان کی جانب اُٹھیں جہاں سامنے ہی کرم خان صاحب کی قبر تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔ وہ مٹی کا دیا جسے ابھی کچھ دیر میں پھر روشن ہو جانا تھا، سنگِ مر مر کی سفید قبر کے پس منظر کے ساتھ ایسے نمایاں لگ رہا تھا گویا واقعی کسی بڑے شاعر، نوابی پیشہ زمیندار، عاشقِ باصفا اور دریا دل رئیس کی کُل زندگی کا اثاثہ ایک سیاہ نُکتے میں سما گیا ہو۔۔۔
دسمبر 2020
چک نمبر سات تھل شمالی

Categories
فکشن

جاوید بسام کے دو افسانے (جاوید بسام)

[divider]پرچھائی[/divider]

وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا اور ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کئی دنوں سے وہ مختلف آہٹیں سن رہا تھا۔ کبھی چلنے کی سرسراہٹ سنائی دیتی کبھی کرسی گھسیٹنے کی آواز آتی اور کبھی کوئی کسی کو پکارتا۔ وہ وہاں اکیلا رہتا تھا۔ بال بچے دوسرے شہر میں تھے۔ بیوی اپنی بیمار ماں کی تیمارداری میں مصروف تھی۔ ان کی یاد ہوا کے جھونکے کی طرح چلی آتی اور وہ اداسیوں میں گھر جاتا۔ دفترسے آنے کے بعد رات گئے تک فارغ ہوتا۔ اجنبی شہر میں اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ لہذا مطالعہ کی پرانی عادت عود آئی تھی۔ وہ کتابیں خرید لاتا اور ٹانگیں میز پر ٹکائے گھنٹوں مطالعے میں غرق رہتا۔ گھر پر زیادہ تر خاموشی چھائی رہتی تھی۔ پھر وہ آہٹیں غیر محسوس طور پر اسے سنائی دینے لگی۔ پہلے پہل تو اس نے اسے اپنا وہم سمجھا۔ پھر دھیرے دھیرے یقین آنے لگا اور اب اس کا یقین اس جستجو میں لگا تھا کہ آواز کا منبع کہاں ہے۔

وہاں سب گھر ایک جیسے بنے تھے۔ پیچھے گھر میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ دونوں گھروں کے درمیان دیوار ایک ہی تھی۔ اس میں کوئی روزن یا کھڑکی نہیں تھی، لیکن اسے لگتا تھا کہ آوازیں پیچھے گھر سے آتی ہیں۔ اب جیسے ہی آواز محسوس ہوتی۔ وہ اچھل کر کھڑا ہو جاتا اور درمیانی دیوار سے کان لگا دیتا۔ آخر اس کا انہماک رنگ لایا۔ اس کی سماعت بتدریج کچھ اور آوازوں کو سننے کے قابل ہوتی گئی۔ کبھی کسی مرد کے بولنے کی آواز آتی کبھی چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی اور کوئی بچہ مچلتا۔ یہ سب سننا اس کے معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ اگرچہ وہ مطالعہ کر رہا ہوتا لیکن کان آہٹوں کے منتظر ہوتے اور جوں ہی آواز آتی وہ کتاب میز پر الٹی دھردیتا۔ حتیٰ کہ مزید کی جستجو میں چھت سے لٹکے پنکھے کو بھی بند کر دیتا کہ اس کی چرخ چو آواز میں مزاحم ہوتی تھی۔ بالآخر وہ کامیابی حاصل کرتا۔ مرد کبھی غصے میں اول فول بکتا تو اسے سنائی دیتا۔ بچہ دوائی پیتے ہوئے روتا تو وہ اس سے بھی محسوس کرتا۔

وہ سوچتا، معلوم نہیں وہ کون لوگ ہیں۔ وہ کبھی پچھلی گلی میں نہیں گیا تھا۔ اس کا تجسس عروج پر پہنچ جاتا۔ وہ ان سے ملنا چاہتا تھا مگر خفت محسوس کرتا بھلا بلاجواز کوئی کسی سے کب ملتا ہے؟ پھر اس کی شام بجائے مطالعہ کے اس مشغلے میں صرف ہونے لگی۔ اس نے میز کرسی کا رخ پچھلی دیوار کی طرف کردیا۔ جب آہٹ سنائی دیتی تو وہ اپنی نگاہیں بنا پلکیں جھپکائے دیوار پر مرکوز کر دیتا۔ بہت سا وقت گزر جاتا۔ وہ ایسے ہی بے حس و حرکت بیٹھا رہتا۔ آخرکار ایک دن اسے دوسری طرف کا گھر نظر آنے لگا۔ وہ اسے اپنے گھر جیسا ہی لگا۔ دو کمرے، کشادہ صحن، ایک گوشے میں باورچی خانہ وغیرہ۔ دوسری طرف کیاریاں جس میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ مکین بھی عام سے لوگ تھے۔ مرد غالباً کسی دفتر میں کام کرتا تھا۔ عورت اگرچہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی، لیکن جوان تھی اور اپنے لباس کی تراش خراش کا خوب خیال رکھتی تھی۔ اور بچہ تو اسے بیٹے جیسا ہی لگا۔ وہ دیکھتا مرد اخبار پڑھ رہا ہے، عورت کھانا پکاررہی ہے اور بچہ کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ پھر وہ سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ وہ یک ٹک دیوار پر نظریں جمائے یہ مناظر دیکھتا رہتا۔ وقت چیونٹی کی چال چلتا رہتا۔ دھوپ دیواروں پر سے غائب ہو جاتی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا رہتا۔ اس کی کیاری میں گلاب کے پودے پر ہمیشہ ایک ہی پھول کھلتا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہوتے رات کے اندھیرے میں ڈھل جاتے۔ وہ یونہی بیٹھا رہا تھا۔ اسے روشنی کرنا بھی یاد نہ رہتا۔ پھر کچھ دنوں سے وہ کاغذ اور پنسل لے کر خاکے بنانے لگا ۔ آڑی ترچھی لکیروں میں یکے بعد دیگرے عریاں نسوانی پیکر نمایاں ہو جاتے۔ بعد ازاں وہ انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے کوڑے دان میں ڈال دیتا۔ اسے ان کی جیتی جاگتی فلم دیکھنے میں مزا آتا تھا۔ کبھی وہ دیکھتا مرد عورت ایک دوسرے میں گم ہیں۔ بچہ چولہے کی طرف بڑھ رہا ہے وہ چیخ کر انھیں آگاہ کرتا، پھر اچانک سب کچھ غائب ہوجاتا ہے اور سپاٹ دیوار جس کا چونا جگہ جگہ سے اکھڑ رہا تھا، سامنے رہ جاتی۔ وہ سر کو دونوں ہاتھوں میں دبائے گھنٹوں شکستہ بےحس و حرکت بیٹھا رہتا۔ اگرچہ اس مشق سے اس کی سوچوں اور ذہنی خلفشار میں اضافہ ہوگیا تھا، لیکن اس کی ہموار اور سپاٹ زندگی میں تھوڑی سی ہلچل بھی پیدا ہوگئی تھی۔

ایک دن اس کی بیوی کا تار آیا۔ وہ پریشان تھی۔ اس کی بوڑھی ماں بستر مرگ پر آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اس کا اصرار تھا کہ چھٹی لے کر گھر آجائے۔ جس دن تار آیا۔ اس دن اسے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی۔ اس نے سوچا وہ لوگ شاید کہیں گئے ہوئے ہیں۔ کوشش کرنے سے دس دن کی چھٹی مل گئی۔ جانے سے پہلے اس نے سوچا اپنے پڑوسیوں سے ملنا چاہیے۔ ہمت کرکے وہ لمبی گلی میں چلتا چلا گیا۔ موڑ مڑ کر دوسری گلی بھی اپنے گلی جیسی ہی لگی۔ بس فرق چند درختوں کا تھا جو زیادہ تھے۔ وہ چلتا ہوا اس گھر تک جاپہنچی جس میں لگے بادام کے درخت کی پھننگ اسے اپنی دہلیز سے نظر آتی تھی۔ لیکن دروازے پر لگے تالے کو دیکھ کر وہ سخت مایوس ہوا۔ وہ ٹھوڑی کھجاتے ہوئے الجھن آمیز انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ آگے ایک گھر کا دروازہ کھلا اور ایک بڑے میاں نمودار ہوئے۔ اس نے سوچا ان سے معلوم کروں، لیکن پھر خیال آیا انہیں کسی ضروری کام سے جانا پڑ گیا ہوگا۔ دس دن کی تو بات ہے واپس آ کر ملاقات کرلوں گا، ممکن ہے بیوی بھی ساتھ ہو۔ وہ واپس پلٹ گیا۔ اس سے دروازے کی اڑی ہوئی رنگت، زنگ آلود تالے اور چوکھٹ کے آگے جمی ہوئی مٹی کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔

[divider]راستہ بند ہے[/divider]

وہ گہری نیند میں ڈوبا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی ، فوراً ہی اس کی نیند ٹوٹ گئی، لیکن وہ آنکھیں بند کیے پڑا رہا ہے۔ گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے کان آوازوں کی کھوج میں لگے تھے لیکن کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تو سڑک گاڑیوں سے خالی ہوگئی ہے، پھیری والوں کے منہ پر مہریں لگ گئی ہیں اور پڑوسیوں نے جھگڑوں سے توبہ کر لی ہے یا پھر آوازوں اور کانوں کے درمیان بھاری دیواریں حائل ہو گئی ہیں۔ ایسی بےکراں خاموشی اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ اسے گزری شب یاد آئی جو کسی عذاب کی طرح اس پر مسلط رہی تھی۔ ساری رات نادیدہ ہاتھ اسے توڑتے مروڑتے رہے تھے۔ اب اس کی حالت اس نچوڑے ہوئے کپڑے جیسی ہو رہی تھی۔ جسے کوئی پھیلانا بھول گیا ہو۔ وہ انتظار کر رہا تھا کہ کوئی آواز سنائی دے تو اٹھے، لیکن سکوت کی دبیز چادر نے ہر آواز کو ڈھانپ لیا تھا۔ ” کیا میں قبر میں ہوں ؟ ” وہ بڑبڑایا۔ لیکن جب اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو انہی میلے در دیوار کے درمیان پایا جنہیں وہ مدتوں سے دیکھتا آرہا تھا۔ وہ اذیت سے مسکرایا اور اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا، لیکن نل میں پانی نہیں آرہا تھا۔ وہ برآمدے میں چلا آیا۔ نیچے سڑک سنسان پڑی تھی کوئی زی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اسے خیال آیا کہ کوئی سیاسی یا مذہبی جلوس گزرنے والا ہے۔

اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے اس نے مسرت سے ایک ہاتھ کمر پر رکھا پھر پیر اٹھاکر رقص کے انداز میں گھوما اور بڑبڑایا۔ ” آہاں۔۔۔۔ مزا آئے گا۔ ” وہ دوبارہ نیچے دیکھنے لگا۔ سیاہ سڑک سنسان پڑی تھی، حالانکہ کل تک وہ کسی چونچال ناگن کی طرح متحرک بل کھاتی نظر آتی تھی۔ اسے سڑک کے درمیان سفید لکیر اندھیری رات میں چمکتی اس روشن بدلی کی طرح لگ رہی تھی۔جس نے چاند کو چھپا لیا ہو اور جس کی مدد سے کارواں اپنی راہ ڈھونڈتے کی کوشش کرتے آئے تھے۔ اس نے اپنے اندر خوشی کا ایک بھپرا دریا بہتا محسوس کیا۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اور جسم کا رواں رواں متحرک ہو گیا، اسے یاد آیا کہ وہ مدت سے اس دن کا منتظر ہے۔ اس کی کئی نسلیں اس انتظار میں عدم سے وجود میں آنے سے پہلے ہی فنا ہو گئیں۔ وہ آرزؤں کی مضبوط بوتل میں سر پٹکتی رہیں، لیکن مسائل کی مضبوط ڈاٹ نے انہیں باہر نہ آنے دیا، لیکن آج موقع مل رہا تھا۔ وہ چاہتا تھاسڑک کے درمیان سفید لکیر پر سینہ تان کر چلے اور وہ بے شمار فرمودات جو وہ بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہے، پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے دوہرائے یعنی ” ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے “۔ ” ہم ہر فیصلہ قوم کے وسیع تر مفاد میں کریں گے۔ ” اس کے مجہول اور ناتواں جسم میں حیرت انگیز پھرتی پیدا ہوگئی۔ آج بڑے دنوں بعد اس کی تمنا کی تکمیل کا لمحہ آپہنچا تھا۔ وہ اپنی کمزوری بھول کر تیزی سے سیڑھیوں کی طرف لپکا اور ایک ساتھ کئی سیڑھیاں اترتا چلا گیا ایسا لگتا تھا، جیسے پاتال میں اتر جائے گا۔ عمارت کے دروازے پر کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھ کر وہ رک گیا۔ کیسے بے ہودہ لوگ ہیں راستہ روکے کھڑے ہیں۔

” ہٹو۔۔۔۔۔ ہٹو! ” وہ چیخا۔

وہ دونوں پلٹے تو اس نے دیکھا کہ وہ وردی پوش ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بندوقیں بھی نظر آرہی تھی۔ انھوں نے غصے سے اسے گھورا اور ڈپٹ کر ہاتھ سر پر رکھنے کا حکم صادر کیا۔ وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک وردی پوش آگے بڑھا اور اس کی تلاشی لینے لگا۔

” دیکھو! پیٹ پر ہاتھ نہ لگانا۔ ” وہ کراہا۔

دفعتاً اسے اپنی تکلیف یاد آگئی تھی۔ وردی پوش گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر اسے قمیض اوپر کرنے کا حکم ملا۔ اس نے قمیض اوپر کی تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔

وہ بولا۔ ” جناب طبیعت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ ”

” سڑک بند ہے۔ گھر میں رہو۔ ” وردی پوش بولا۔

” کیوں۔۔۔۔ سڑک کیوں بند ہے ؟ ” اس نے حیرت سے پوچھا۔

” صاحب گزرنے والے ہیں۔ ” وہ بولے۔

اس نے ڈرتے ڈرتے گردن نکال کر باہر جھانکا۔ جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر وردی پوش چوکس کھڑے تھے۔ اب اس کی سمجھ میں وجہ سکوت آئی۔ خالی سڑک دیکھ کر وہ پھر بے چین ہو گیا۔

” حضور! تھوڑی دیر کے لیے سڑک پر جانے دیں۔ جلد واپس آ جاؤں گا۔ ” وہ گھگھیایا۔

” بالکل نہیں۔۔۔۔ گھر جاؤ۔ ” انھوں نے زینے کی طرف اشارہ کیا۔

وہ اسے غصیلی نظروں سے گھور رہے تھے۔ وہ اوپر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ برابر والے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

” شیخ صاحب! درد کی گولی مل جائے گی ؟ ”

” میاں یہاں کوئی میڈیکل اسٹور نہیں کھول رکھا۔” دروازہ جھٹ سے بند ہوگیا۔

وہ سر کھجاتے ہوئے سوچنے لگا۔ لوگ اتنے چڑچڑے کیوں ہو گئے ہیں۔ پہلے تو شیخ صاحب اس کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے تھے۔ وہ پھر برآمدے میں چلا آیا، اچانک سیٹیاں بجنے لگیں اس نے نیچے جھانکا، غالبا صاحب کی سواری آپہنچی تھی، لیکن سڑک اسی طرح خالی تھی۔ وردی پوش اسے برآمدے سے ہٹنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اس کا دل چاہا نیچے کود جائے۔ یہ کیسا دن تھا ؟ کوئی سڑک پر نہیں آ سکتا تھا، کوئی اپنے برآمدے میں کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کمرے میں چلا گیا، لیکن بے چینی چیونٹیوں کی طرح اس کے بدن پر برابر رینگ رہی تھی۔ وہ اسی تگ ودو میں تھا کہ عمارت سے کیسے باہر نکلا جائے۔ آخر اسے چھت کا خیال آیا۔ سب عمارتوں کی چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ وہ مکاری سے مسکرایا۔ چھت پر قدم رکھتے ہی تیز ہوا نے اس کا استقبال کیا، لیکن چاروں کونوں پر وردی پوش بھی موجود تھے۔ انھوں نے نخوت سے اسے گھورا اور نیچے جانے کا اشارہ کیا۔ اس نے دوسری چھتوں پر نظر دوڑائی۔ وہ ہر چھت پر موجود تھے۔ آج کوئی اپنی چھت پر بھی نہیں آسکتا تھا۔ اس نے حسرت سے ان کبوتروں کو دیکھا جو منڈیروں پر آزادی سے اٹھکھیلیاں کررہے تھے اور واپس پلٹ گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا جھلاہٹ میں برابر سوچے جا رہا تھا۔ آخر اس کے ذہن میں کھٹ سے نیا خانہ کھلا۔ وہ پتلا گلیارہ جو بھنگی استعمال کرتے ہیں۔ وہ فورا نیچے آیا۔ وہ دونوں اسی طرح باہر کی طرف رخ کیے کھڑے تھے۔ وہ دبے پاؤں گلیارے میں ہولیا۔ جیسے ہی وہ راستے سے گزر کر سڑک پر پہنچا۔

دو مضبوط ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا۔

“چھوڑو چھوڑو!۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔ ” وہ چیخا۔

اس کی نظریں سڑک پر چمکتی لکیر پر جمی تھیں، لیکن کوشش کے باوجود خود کو ان سے نہ چھڑا سکا۔ اس کے بازو مضبوط گرفت میں تھے۔ اتنے میں کچھ اور وردی پوش اس کے قریب چلے آئے۔

” اوئے تو کون ہے ؟ ” کسی نے کرخت لہجے میں پوچھا۔

” میں بیمار ہوں۔ مجھے سڑک پر جانے دو۔ ” وہ تمسخر سے ہنسے۔

” سڑک تیرا علاج کرے گی ؟ ”

” ہاں آج کل سڑک پر آنے سے ہی کام بنتا ہے۔ ”

” آج تیرا سڑک پر کوئی کام نہیں، اس کی تلاشی لو۔ مجھے تو یہ خود کش بمبار لگتا ہے۔ ایک بولا۔

دوسرے نے آگے بڑھ کر قمیض اوپر کردی۔ وہاں دھنسے ہوئے استخوانی پیٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

” مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔ ” وہ ہذیانی آواز میں چیخ رہا تھا۔

ایک آہنی ہاتھ نے اس کا گلا دبا کر آواز بن کر دی۔ پھر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے گلیارے تک لے گئے اور اندر دھکیل دیا۔

Categories
فکشن

غیر مطبوعہ ناولٹ: اندھیرا، موت اورمسیح سپرا (مشرف عالم ذوقی)

 

باب اوّل

 

[divider](1)[/divider]

[dropcap size=big]زندگی[/dropcap]

آپ میں سے کچھ نہ کچھ خالی کرجاتی ہے۔ پیدائش سے موت تک یعنی آخری سانس تک روح کا باقی اثاثہ بھی آپ سے چھین لیتی ہے اور سرد جسم دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ اس سرد جسم کا قصہ یوں ہے کہ کچھ دیر تک یونہی لاوارث چھوڑ دیجیے تو مکھیاں بیٹھنے لگتی ہیں کچھ دیر اور چھوڑ دیجیے تو چیونٹیاں سوراخوں سے نکل کر خوراک بنا لیتی ہیں۔ اور کچھ ہی گھنٹوں میں اس سرد جسم کی بدبو پھیلنے لگتی ہے جو کچھ دیر پہلے یا کچھ ماہ قبل جب زندہ تھا تو خواہشات کا مجسمہ تھا۔ اس مجسمے میں تپش بھی تھی اور خواہش بھی۔ روح کا اثاثہ چلا گیا تو ایک بے حس جسم، جس پر کوّے بھی منڈرائیں گے اور گدھ بھی۔ اور مسیح سپرا کے لیے یہ معاملہ یوں دلچسپ تھا کہ اس نے خو د کو زندگی میں ہی مردہ تصور کرلیا تھا۔ وہ تین زبانیں جانتا تھا۔ اردو، ہندی اور انگریزی۔ اسی لیے وہ سوچتا تھا اور اس وقت سوچتا تھا جب اس نے خود کو مردہ تصور نہیں کیا تھا کہ انگریزی میں موت کو ڈیتھ کہا جاتا ہے۔ ڈیتھ سے ڈ نکال دیجیے تو ایٹ یا کھا نے کے لیے اُمنگ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی پیدا ہوتے ہی موت آپ کا شکار کرنے یا آپ کو کھانے بیٹھ جاتی ہے۔ ہندی میں موت کے لیے مرتیو کا لفظ ہے۔ آپ م نکال دیجیے تو ریتو کی موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ مگر یہ موسیقی اس قسم کی ہے جو آپ کو اداسی اور موت کی طرف لے جاتی ہے۔ یعنی موت کا موسم۔ موت قریب ہے۔ آپ بدنصیب ہیں کہ پیدا ہوگئے۔ اب ساری زندگی مرتیو کی رتیو کا انتظار کیجیے۔ اردو میں مرنا سے م نکال دیجیے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ رورہے ہیں۔ اور یہ رونا زندگی کی صداقت ہے۔ پیدائش سے موت تک انسان روتا ہی ہے۔ موت سے م نکال دیجیے تو بھوت کا تصور پیدا ہوتاہے۔ یعنی انسان پیدائش سے موت تک بھوت رہتا ہے۔ ہندی میں بھوت ماضی کو کہتے ہیں۔ یعنی انسان زندگی نہیں گزارتاہے بلکہ ایک طرح سے بھوت کال یا ماضی میں ہوتا ہے جہاں تاریخ کے گڑے مردے ہوتے ہیں اور یہ مردے زندہ انسانوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

مسیح سپرا کو موت کا خیال کسی سایے کی طرح نظر آتا تھا، ایسا سایہ جو سفید لباس میں معلق ہو یا نیلے آسمان پر چلتے سفید بادلوں میں وہ موت کا عکس دیکھا کرتا تھا۔ اور جب اس نے سوچ لیا کہ وہ مرچکا ہے تو سب سے پہلے اسے سرد خانے میں کام کرنے والے ملازم مجومدار کا خیال آیا۔ ایک زمانہ تھا جب وہ مجومدار سے کئی بار ملا۔ اور مجومدار سردخانہ کے بارے میں بہت دلچسپ باتیں بتایا کرتا تھا۔ جیسے مجومدار نے بتایا کہ مردے خاموش رہ کر باتیں کرتے ہیں اور ان کی باتیں اتنی مزیدار ہوا کرتی ہیں کہ سرد خانے کے آہنی گیٹ سے باہر نکل کر، باہر کی دنیا کو دیکھنے کا خیال بھی اسے ناگوار گزرتا ہے۔ یہ مجومدار نے ہی بتایا کہ سرد خانے کے آہنی گیٹ سے باہر جو دنیا ہے، وہ بھی ایک مردہ خانہ ہے۔ وہاں شور ہے، سازشیں ہیں اوریہاں تنہائی۔ کوئی سازش نہیں۔ مجومدارنے ہنستے ہوئے بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھویہ سینگیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سر میں ؟’

‘ لو، سینگیں کہاں ہوتی ہیں؟’

‘ لیکن سر میں سینگیں۔ ۔ ۔ ۔ نظر تو نہیں آتیں۔’

‘ مجھے آتی ہیں۔ سینگیں چیختی بھی ہیں۔’

‘ لیکن سینگیں کہاں سے آئیں؟’
‘ٹھنڈ سے۔’

‘ٹھنڈ سے ؟’

‘ لاشوں سے او ر ان کی باتوں سے۔’

مسیح سپرا کے لیے اس کی بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بیسیوں بار وہ ایسی سینگیں اپنے سر پر بھی محسوس کرچکا تھا، جب اس کی بیوی زندہ تھی اور کسی بات پر غصہ ہوجاتی تھی تو اچانک اس کے سر پر بھی سینگیں پیدا ہوجاتی تھیں۔ وہ ہنستا تو مرحومہ کے سر کی سینگیں اور بڑی ہوجاتی تھیں۔ پھر کچھ دیر میں یہ سینگیں غائب ہوجاتی تھیں۔ سڑک پر آوارہ گردی کرتے ہوئے کتنے ہی لوگوں کے سروں پر اس نے یہ سینگیں دیکھی تھیں۔ اس لیے مسیح سپرا کو مجومدار کی سینگوں میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی، مگر مجومدار نے مردہ خانے کے بارے میں جو کچھ بتایا، اس کے تجسس میں اضافہ کرنے ک لیے کافی تھا۔

‘ زندہ یہی لوگ ہیں۔ جو باہر ہیں، سب مرے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسی لیے میں بھی زندہ ہوں، کیونکہ ان کے درمیان ہوں۔’

مجومدار ہمیشہ سفید کرتہ اور پائجامہ میں ہوتا تھا۔ سفید چادروں سے ڈھکی لاشوں کے درمیان ایک زندہ سفید لاش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بقول مجومدار، دودھیا رنگ کے سفیدجمے پانیوں میں تیرتے اجنبی سیاح۔ ۔ ۔ ۔ ایک کولڈ اسٹوریج۔ ۔ ۔ ۔ سنگ مرمر کا سفید فرش۔ آہنی دروازہ کے کھلتے ہی ایک مختصرراہداری۔ رات میں مردے گفتگو کرتے ہوئے دروازے تک آکر ٹہلتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور دلچسپ یہ کہ چلتی پھرتی لاشیں موسم بہار اور موسم خزاں دونوں پر گفتگو کرتی ہیں اور جیساکہ اس نے سنا، موسم خزاں کا لطف یہ مردے زیادہ اٹھاتے ہیں۔ مجومدار نے یہ بھی بتایا کہ کئی بار اس کی ملاقات موت کے فرشتے سے بھی ہوچکی ہے۔ وہ کبھی بیل پر سواری کرتا ہوا آتا ہے کبھی عورت کی شکل میں جس کی آنکھیں بڑی بڑی اور چہرے پر سفید رنگ کا نقاب ہوتا ہے۔ سپرا کی دلچسپی ان باتوں میں اس لیے بھی نہیں تھی کہ اب وہ بھی خود کو مردہ سمجھ رہا تھا بلکہ اس کو یقین تھا کہ وہ مرچکا ہے اور گھر کو اصل مردہ خانے میں تبدیل کرنے کے لیے اسے کچھ انتظام بھی کرنے ہوں گے۔ گھر میں کل ملاکر چھ کمرے تھے۔ ہر کمرے میں دیوار پر گھڑیاں سجی تھیں۔ وقت رُک گیا تھا، اس لیے گھڑیاں بھی رُکی پڑی تھیں۔ مردوں کو وقت سے کیا کام۔ وقت سے کام تو زندوں کو ہوتا ہے اس لیے مسیح سپرا نے پہلا کام یہ کیا کہ ایک ہتھوڑا لیا اور گھڑیوں کے ٹکرے ٹکرے کردیے۔ پھر ان ٹکروں کو ڈسٹ بین میں ڈال آیا۔ مسیح سپرا نے گھر کی دیواروں کا جائزہ لیا۔ دیواریں بے رونق تھیں۔ سفیدی سیاہی میں تبدیل ہوچکی تھی۔ مردے چلتے ہیں، جیساکہ مجومدار نے بتایا تھا اور اس لیے گھر سے باہر نکلنے میں اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ سپرا آرام سے باہر نکلا۔ سڑکوں پر ٹہلتا رہا۔ ٹریفک کو دیکھ کر اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اسے ہنسی آرہی تھی۔ یہ لوگ کل نہیں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہوگاا ور یہ لوگ اپنی موت سے کس قدر بے خبر ہیں۔ سپرا نے شاپنگ کی اور گھر آگیا۔ سفید چادروں کا ایک بنڈل تھا، جو اس نے دیواروں پر سجانے کے لیے خریدا تھا۔ ایک ہالی وڈ کی ہارر فلم میں اس نے مردہ خانہ کی یہ تصویر دیکھ رکھی تھی۔ پورے گھر کو سفید چادروں سے ڈھک دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ کھڑکی، روزن کو بھی۔ گھر کے چھ کمروں میں سفید چادریں دیواروں پر چڑھاتے ہوئے اسے پانچ گھنٹے لگ گئے۔ ایک بار تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی اور بھی ہے جو اس کے ساتھ کام میں شریک ہے۔ ہوسکتا ہے مرحومہ کی روح ہو۔ سفید سفے چادروں کے درمیان اب ایک دھندلکاطاری تھا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ان سفید چادروں سے نکلنے والی دھند نے کمرے کو اپنے حصار میں لے لیا ہو۔ اس نے گھر کی ساری بتیاں بجھادیں۔ ہوا میں لہراتے سفید پردے تھے جو دیواروں پر جھول رہے تھے۔ کچھ دیر کے لیے مسیح سپرا زمین پر لیٹ گیا۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور اچانک اس نے محسوس کیا، ایک عورت نقاب لگائے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ مجومدار نے اس عورت کو موت کا فرشتہ کہا تھا۔ سپرا کے اندر کہیں بھی خوف کا احساس نہیں تھا۔ بلکہ وہ آہستہ آہستہ بدبدا رہا تھا۔ وہ مردہ گھر میں ہے۔ او ر اب اسے اسی حال میں رہنا ہے۔ موت ہر حال میں زندگی سے بہتر ہے۔ موت آپ کے اندر سے احساس اور جذبات کا سمندر لے جاتی ہے۔ موت آپ کو بے نیاز اور خوش رکھتی ہے۔ مسیح سپرا کو کچھ ایسے جابر اور ظالم حکمراں بھی یاد آئے جو خود کو زندہ رکھنے کے لیے اور عمر بڑھانے کے لیے عجیب عجیب طریقے اپنایا کرتے تھے۔ برما کا ایک سابق حکمراں ڈولفن مچھلی کا خون پیتا تھا۔ چنگیز خاں کو جانوروں اور انسانوں کے خون کی مہک پسند تھی۔ کچھ ایسے بھی حکمراں تھے جو جوان اور کنواری لڑکی کو ہلاک کرکے، اس کے لہو سے غسل کیا کرتے تھے۔ مسیح سپرا کو حیرت تھی، ایک بے مقصد اور بد تر زندگی کے لیے خون پینا، غسل کرنا، عیاشی کرنا، سفر کرنا، آوارہ گردی کرنا، ان مشاغل کی کیا ضرورت ہے۔ ۔ ۔ ؟ اور اسی لیے پہلے دن جب مردہ ہونے کا خیال آیا تو اس نے اپنی پرانی خادمہ کو،جو اہلیہ کے انتقال کے بعد اس کی ضرورتوں کا پورا خیال رکھتی تھی، بلایا اور ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا بڑا سا ٹی وی اور کچھ روپے اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، اب تم جاؤ اور آج سے، تم سے جو بھی جسمانی رشتہ تھا، اس کو ختم کررہا ہوں۔ سپرا جانتا تھا کہ یہاں جسمانی رشتے کا مفہوم وہ نہیں تھا، جو عام طور پر لیا جاتا ہے۔ اب وہ ایک مردہ دنیا سے وابستہ تھا، جہاں رشتے صرف روح کے ہوتے ہیں۔ برسوں پرانی خادمہ نے خوف سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ جھک کر سر ہلایا۔ ایک آٹو والے کو بلایا اور ٹی وی کا ڈبہ لے کر چلی گئی۔ اب اس گھر میں تفریح کا کوئی سامان نہیں تھا۔ ویسے بھی مردوں کو تفریح کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ اور سپرا کے لیے یہ خیال کافی تھا کہ وہ مرچکا ہے اور اس کا زندگی سے ہرطرح کا تعلق ختم ہوچکا ہے۔ بقول مجومدار وہ ایک انجانے جزیرے کا سیاح ہے اور اس کے چہار اطراف دودھیا نہر بہہ رہی ہے۔ اسے احساس ہوا،باہر کتے رورہے ہیں اور بلّیاں بھی۔ رونے کی ان آوازوں کا تعلق بھی موت سے ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ بلّیاں اور کتے انسانوں سے زیادہ موت کی آہٹ کو محسوس کرنے کی حس رکھتے ہیں۔ مسیح سپرا ہر انسانی کیفیت سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔ مگر جس وقت وہ لیٹا ہوا تھا اور خود کو موت کی آغوش میں محسوس کررہا تھا اور اس عورت کو جو موت کا فرشتہ تھی اور نقاب میں تھی، اس کو بھی قریب سے دیکھ رہا تھا، ٹھیک اسی لمحہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی پرانی خادمہ کو موبائل دینا بھول گیا۔ یہ انسانی تحفہ اسے آگے بھی پریشان کرسکتا ہے۔ کچھ دیر تک موبائل کی گھنٹی بجتی رہی۔ پھر گھنٹی خاموش ہوگئی۔ مسیح سپرا کو موت کی ان وادیوں میں بس ایک ہی بات کا خطرہ تھا کہ ریحانہ کے رشتے دار اس سے ملنے آسکتے ہیں۔ ریحانہ، اس کی اہلیہ، جس کی موت ایک ماہ قبل ہوئی تھی اور جس کے رشتے دار دور دراز علاقے میں کافی تھے۔ یہ رشتے دار کبھی بھی آسکتے تھے اور اسے موت کی وادیوں سے الگ ایک بیزار، بد مزہ اور خوفناک زندگی کے تجربوں میں واپس لاسکتے تھے۔ مسیح سپرا نے کروٹ بدلی۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ میز پر موبائل پڑا تھا اس نے موبائل پر یہ دیکھنا ضرور نہیں سمجھا کہ کس نے فون کیا تھا۔ موبائل آف کرنے کے بعد وہ ریوالونگ چیئرپر بیٹھ گیا۔ سفید سفید چادروں کے درمیان اس وقت وہ ایک مجسمہ تھا اور ریوالونگ چیئر کو ہلانے کی کوشش کررہا تھا اور بلا مبالغہ، ایسا کرتے ہوئے اسے سکون مل رہا تھا، پھر اس نے دیکھا کہ سفید چادروں کے درمیان سے ایک عقاب نکلا اور کمرے میں رقص کرنے لگا۔ وہ جنگلی بھیڑیوں کی آواز یں سننا چاہتا تھا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے کانوں میں بھیڑیوں کے چیخنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اب وہ خلا میں سفید گھوڑوں کو اڑتے اور قلابازیاں کھاتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔ سفید چادروں سے سفید گھوڑے برآمد ہوئے اور ہوا میں تیرنے لگے۔ اس نے ایک ہالی وڈ کی فلم میں سفید پروں کو پھیلائے ایک راج ہنس کو دیکھا تھا جو بادلوں کے درمیان اڑ رہا تھا۔ یہ منظر بھی زندہ ہوگیا۔ مسیح سپرا کو خوشی تھی کہ وہ موت کے انجان جزیرے میں داخل ہوچکا ہے اور محیرالعقل واقعات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس نے شیش ناگ کاتصور کیا اور اچھل کر شیش ناگ پر بیٹھ گیا۔ ٹھیک اسی وقت دروازے کی بیل بجی۔ سپرا کو غصہ تھا کہ یہ انسان’موت’سے جینے بھی نہیں دیتے۔ وہ کرسی سے اٹھا۔ دروازہ کھولا۔ ۔ ۔ ۔ سامنے دودھ والا تھا۔ اس نے دودھ والے کا حساب برابر کیا۔ اور کہا۔

‘ اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔’

‘ آپ جات ہو؟’

‘ اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔’

مسیح سپرا نے چیخ کر کہا۔ دودھ والا گھبراکر دو قدم پیچھے ہٹا پھر سائیکل چلاتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ مسیح سپرا نے دروازہ بند کیااور دوبارہ ریوالونگ چیئر پر آکر بیٹھ گیا۔ اسے احساس ہوا، کوئی چیز ہے جو چمک رہی ہے اور جس سے اس کا قریبی رشتہ بھی رہا ہے۔ اُف۔ ۔ ۔ اس نے دھیان سے دیکھا۔ پردے کے پاس اہلیہ کی ریڈیم کی تسبیح تھی، مرحومہ تسبیح ہمیشہ اسی جگہ رکھتی تھیں۔ اس سے ان کو سہولت ہوتی تھی۔ زندگی نہیں ہونے کے باوجود اپنی نشانیوں میں یاد رکھی جاتی ہے۔ جبکہ مسیح سپرا کی حقیقت یہ تھی کہ وہ زندگی سے وابستہ ہر شئے، پریشانی کو بھولنا چاہتا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور خود کو ایک نیلی جھیل کے درمیان پایا۔ جھیل میں بطخ تیر رہے تھے اور پھر مسیح سپرا نے کرنل سدھو کو دیکھا۔ کرنل سدھو، جو ایک زمانے میں ان کے ساتھ جاگنگ کیا کرتے تھے۔ فوج سے ریٹائر ہوچکے تھے۔ گورے چٹے اور کیا جسم پایا تھا۔ لحیم شحیم۔ سب سے زیادہ دلچسپ ان کی باتیں ہوا کرتی تھیں وہ فوج کی بات کم ہی کرتے تھے۔ مستقبل کی باتیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔

مسیح سپرا نے خیال کیا کہ وہ کرنا سدھو کے ساتھ جاگنگ پر ہیں۔ کرنل ٹھہاکے لگا رہے ہیں۔

‘ایک بیوی بہت دنوں تک ساتھ نہیں دیتی۔ ۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔’

‘پھر کیا کروگے کرنل؟’

‘ مرغابیوں کا شکار کریں گے۔’

‘اس عمر میں مرغابیاں ملنے سے رہیں۔’

‘ہاہا۔ ۔ ۔ ۔ یہ عمر۔ ۔ ۔ اصل تو یہی عمر ہے سپرا۔ لڑکیاں اسی عمر پر فدا ہوتی ہیں۔ یہ بات تم کوکون سمجھائے۔’

‘ پھر شادی بھی کروگے۔’

‘ نہیں یار، لڑکیاں پٹاؤ۔ عشق لڑا ؤ۔ پتنگیں کاٹو اور بھول جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاہا۔ ۔ ۔ ۔’

مسیح سپرا کو ایک دوسری ملاقات یا دآئی، جس میں کرنا سدھو نے ساتھ ساتھ جاگنگ کرتے ہوئے امرت کور کے بارے میں بتایا تھا۔

‘اسے فوجی پسند ہیں۔’

‘یعنی کوئی مل ہی گئی۔’

‘ تازہ انار کا جوس ہے۔ تم کیا جانو ذائقہ۔’

‘ پھر آگے کیا پروگرام ہے۔’

‘ دو روز بعد ہم نینی تال جارہے ہیں۔’

‘ امرت کور کے ساتھ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔’

کرنل سدھو نے ٹھہاکہ لگایا۔ اور اس کے ٹھیک دوسرے دن، جب آسمان پر کہرا چھایا تھا۔ دس بجے تک دھوپ غائب تھی،سردی میں بستر چھوڑناظلم تھا، موبائل کی گھنٹی بجی اور مسیح سپرا کو فون پرسدھو اس کے بیٹے نے بتایا، کرنل نینی تال نہیں گئے، بہت دور نکل گئے۔ مسیح سپرا ٹھنڈک کے جان لیوا احساس کو بھول گیا۔ سدھودودن بعد نینی تال جانے والا تھا، یہ کیسے ممکن ہے؟ دود ن قبل جاگنگ کرتے ہوئے اس کے ٹھہاکے گونج رہے تھے۔ کرنل سدھو کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد آرہا تھا۔ اس عمر میں کہیں بوجھل پن یا تھکاوٹ نہیں تھی، بھر پور زندگی کا احساس تھا۔ بیمار بھی نہیں تھے۔ مگر اچانک۔ ۔ ۔ منصوبے دھرے رہ گئے۔ آسمان کی فلائٹ پکڑ لی۔ یہ چور دروازے سے موت کیوں آتی ہے؟ موت پیچھا کرتی ہے بلکہ موت دیکھ رہی ہوتی ہے۔ جاگنگ کرتے ہوئے کرنل سدھو نے بھی موت کو دیکھا ہوگا۔ موت نے ممکن ہے اشارے بھی کئے ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موت سال بھر سے اشارے کرنے شروع کردیتی ہے۔

سپرا نے کرنل سدھو کے مردہ جسم کو دیکھا —سرد چہرے کو۔ چہرہ بولتا ہوا، جیسے کرنل ابھی ٹھہاکے لگائیں گے۔ سپرا کو پتہ نہیں، وہ ان کے بیٹے سے کیا کیا باتیں کرتا رہا۔ حیر ت وخوف نے اس کے الفاظ کو برف بنادیا تھا۔

‘ ہاں وہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور موت بھی تھی، جس وقت ہم جاگنگ کررہے تھے اس نے سیاہ نقاب لگارکھی تھی اور وہ ایک عورت تھی۔ وہ کرنل کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ لیکن کرنل اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ میں۔ ۔ ۔ ۔ اور یقیناً میری آنکھیں اس کا تعاقب کررہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ذرا فاصلے پر مرغابیاں تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

کرنل سدھو کے بیٹے نے غصے سے سپرا کی طرف دیکھا۔ پھر وہ کسی کے ساتھ سیاست کی باتیں کرنے لگا۔’پنجاب میں ڈرگز کا کاروبار بڑھ گیا ہے۔ پنجاب کی سیاست میں اس کی دلچسپی ہے۔ ڈیڈی کو سیاست پسند نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور مرغابیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

مرغابیاں کہتے ہوئے پلٹ کر اس نے سپرا کی طرف غصے سے دیکھا۔ سپرا کو دھویں سے بھرے آسمان میں کرنل سدھو کاچہرہ نظر آیا۔ وہ ٹھہاکے لگا رہا تھا۔

کمرے میں ایک چوہا آگیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور سفید چادروں کے درمیان گھسنے کی تیاری کررہا تھا۔ مسیح سپرا اٹھا لیکن اس نے چوہے کو بھگانے کی کوشش نہیں کی۔ اسے یقین تھا کہ وہ مرنے کی ریہرسل نہیں کررہا ہے بلکہ وہ مرچکا ہے اور اس یقین کو پختہ کرنے کے لیے اس وقت اسے بازار کے لیے نکلنا ہوگا۔ یہ ضروری بھی ہے اور ایسا کرنا اس کے یقین کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہے۔ وہ بازار کے لیے نکلا۔ کافی دوڑ دھوپ کے بعد اس کو ایک عورت کا ایک مجسمہ نظر آیا۔ عورت شان سے پتھروں میں لپٹی ہوئی اس طرح کھڑی تھی کہ زندہ معلوم ہورہی تھی۔ وہ اس مجسمہ کو لے کر گھر آگیا۔ چادروں کے درمیان اس نے مجسمہ کو رکھ دیا۔ مجسمہ پر سفید چادر لپیٹ دیا۔ سر پر سیاہ نقاب ڈال دیا۔ اب ایک چھڑی کی کمی تھی۔ برسوں قبل اس کا ایک دوست واشنگٹن سے آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ یہ چھڑی سانپ کی طرح آڑی ترچھی تھی اور دیکھنے میں خوبصورت لگتی تھی۔ سپرا وہ چھڑی لے آیا اور چھڑی کو عورت کے ہاتھ میں دے دیا۔ پھر ایک دیوار سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ دودھیا چاندنی میں اب وہ عورت موت کا فرشتہ معلوم ہورہی تھی۔ سفید چادروں کے درمیان کھڑی، جیسے اسے لے جانے آئی ہو۔ وہ اس منظر سے خوش تھا۔ ایک لمحے کے لیے زمین پر لیٹے لیٹے اس نے موسم بہار کا تصور کیا۔ پھر وہ اپنے رفیقوں کی تلاش میں نکلا۔ اس نے چڑیوں کی چہچہاہٹ محسوس کی۔ ۔ ۔ ۔ اور خیال کیا کہ جادوگر کے کرشمہ کی طرح آنکھیں بند کرتے ہی اس کا جسم ہوا میں معلق ہوسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اوریقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انجانے جزیرے پر، جہاں موت کے فرشتے کا ساتھ ہوگا،یہ مناظر اس کے ہمراہ ہوں گے اور جیسا کہ ڈاکٹر سدھاکر کہتا ہے، ہم ایک دھند میں رہتے ہیں اور ایک دن یہی دھند ہمارا شکار کرلیتی ہے۔

ڈاکٹر سدھاکر کو یاد کرنا مسیح سپرا کو خاصہ تقویت دے رہا تھا۔ ایک خوبصورت شخص، جس کی باتیں جسم میں گرمی پہنچانے کا کام کیا کرتی تھیں اور جب وہ اپنی آنکھوں سے حیرانیوں کا اعتراف کرتا تو ایک خاص قسم کا چمکتا ہوا ہیرا ہوتا، جو اس کی آنکھوں میں نظر آتاتھااور اس ہیرے سے روشنی پھوٹتی تھی۔ ڈاکٹر سدھاکر مذہب کو نہیں مانتا تھابلکہ کسی بھی طر ح کے عقیدے کو نہیں مانتاتھا۔ وہ کہتا تھا، ہم ایک بے ڈھب گوشت کے لوتھڑوں کے ساتھ آنکھیں کھولتے ہیں۔ پھر یہ بے ڈھب گوشت کا لوتھڑہ ایک دن مردہ گھر میں کھوجاتا ہے۔

مگر اس دن، جیسا کہ مسیح سپرا کو یاد ہے، ڈاکٹر سدھاکر سیاست کی باتیں کررہا تھا۔ بدلتے ہوئے حالات پر اس کی ناراضی تھی اور وہ ساری دنیا میں آگ لگانے کی باتیں کررہا تھا۔ اس کی حیرانیوں میں وہ چمکتا ہوا ہیرا مسیح سپرا کو صاف نظر آرہا تھا۔

‘ میں نے ایک خطرناک انجکشن تیار کیا ہے۔ یہ ڈرون اور میزائل کی شکل کا ہوگا اور یہ اس شخص کو ہلاک کرے گاجو سیاست کا بدترین مجرم ہے۔’

‘سیاست کا بدترین مجرم؟’

‘ اس کے لیے جس نے ہندوستان کو ایک گندے میلے تالاب میں تبدیل کردیا۔’

ڈاکٹر سدھار ہنسا۔

‘ تم سائنسداں کب سے ہوگئے؟’

‘ ڈاکٹر بھی سائنسداں ہوتا ہے۔’

‘ سیاست میں کیوں نہیں جاتے؟’

‘ یہی تو مشکل ہے۔ سیاست گندے ریس کا میدان بن چکی ہے۔ یہ ہم لوگوں کے لیے نہیں ہے۔’

ڈاکٹر سدھاکر مسکرائے۔’اب دیکھو،کل کی فلائٹ سے لندن جارہا ہوں۔ لندن میں ایڈز پر ایک سمینار ہے۔ گندے لوگ اور گندی سیاست نے ہمیں ایڈز کا تحفہ دیا ہے۔ وہاں سے واپس آکر تم سے ملتا ہوں۔’

‘ کل کتنے بجے کی فلائٹ ہے؟’

‘ شام کی۔’

دھند میں سدھاکر کا چہرہ تیرتا ہے۔ سدھاکر لندن سمینار کا حصہ نہیں بن سکا۔ صبح ہارٹ اٹیک ہوا۔ لندن کی جگہ عدم آباد پہنچ گیا۔ صبح ہی صبح ڈاکٹرکستوری نے موبائل پر یہ خوفزدہ کرنے والی خبر سنائی۔ وہ سنتا رہا۔ سپرا کی آوازکہیں کھوگئی تھی۔ چہرہ سرد تھا۔ جسم بھی۔ کافی دیر تک وہ موبائل تھامے رہا۔ جب تک کستوری کی آواز گم نہیں ہوگئی۔ یہ کیسے منصوبے ہیں؟ کرنل ڈیٹس پر جانے والے تھے۔ ڈاکٹر سدھاکر لندن۔ منصوبے میں جھول آگیا تھا۔ جھول میں نقاب والی عورت۔ ایک رات۔ کچھ لمحے۔ لیکن ڈاکٹر سدھاکر نہیں جانتا تھا کہ صر ف کچھ گھنٹوں کے بعد کیا ہونے والا ہے۔

اس دن وہ آخری تماشے کا حصہ نہیں بنا۔ ۔ ۔ ۔ اس دن وہ دیر تک سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ یہ گاڑیاں جو سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، ابھی اچھا ل لیں گی اور ایک دوسرے سے ٹکراکر بکھر جائیں گی۔ یہ لوگ جو سڑکوں پر چل رہے ہیں، یہ گھر جانے سے قبل ہی موت کو پیارے ہو جائیں گے۔ اس دن وہ گھر لوٹا تو ریحا نہ اوراپنے کاشف کو حیرت سے دیکھا۔ اس دن آخری بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ مثال کے لیے اس نے کاشف سے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔

‘تو تم ہونا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں پاپا کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نہیں۔ کچھ نہیں۔ تم ہو اور یہ میرے لیے مزے کی بات ہے۔’

یہی سوال اس نے ریحانہ سے کیا۔

‘تو تم ہونا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘کیوں ؟’

‘ پتہ نہیں۔ میری تسلی نہیں ہوئی۔’

‘یعنی میں نہیں ہوں؟’

‘ ہوسکتا ہے۔’

ریحانہ نے مسیح سپرا کو عجیب نظروں سے دیکھا۔ پھر پوچھا۔’ تو آج تم نے پھر سے بلڈ پریشر کی دوا نہیں لی۔’

‘بھول گیا۔’

‘ بھولا مت کرو۔ اس دوا میں ایک جنگلی بلی ہوتی ہے، جو تمہیں تھپکیاں دے کر نارمل کردیتی ہے۔’

‘ جنگلی بلّی۔’ سپرا زور سے ہنسا۔

ریحانہ پتلی دبلی سی عورت تھی۔ شادی کے بعد بھی اور کاشف کی پیدائش کے بعد بھی اس میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس کی آنکھیں گہری تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ذات مکمل طور پر ریحانہ پر منحصر تھی۔ ناشتہ، کھانا، دوا، یہاں تک کہ باہری خرید وفروخت کے لیے بھی ریحانہ نے کبھی اس کو پریشانی میں نہیں ڈالا۔ عام طورپر اس کا چہرہ سپاٹ رہتا تھا اور اندازہ لگانا مشکل ہوتا تھا کہ کس وقت وہ کس فکر میں غلطاں ہے۔ کاشف اٹھارہ کا ہوگیا تھا اور اب سپرا کو کاشف کے کیریر کو لے کر فکر ہورہی تھی۔ کاشف موٹر سائیکل تیز چلاتا تھا اور کئی بار سپرا نے کاشف کو تیز چلانے سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ڈاکٹر سدھاکر کے جانے کے بعد ٹی وی اینکرسیمتا میں اس کی دلچسپی بڑھی تھی۔ یہ ملاقات بھی اچانک ہوئی تھی انڈیا انٹرنیشل کیفے میں، جہاں وہ ہندوستانی سیاست کو لے کر ایک سابق سیاستداں سے کچھ سوال کررہی تھی۔ سپرا، انڈیا انٹر نیشنل کاممبر تھا۔ سیمتا میں اس کی دلچسپی پیدا ہوئی۔ اچانک سیمتا نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر چونک گئی۔

‘ آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘تو آپ مجھے جانتی ہیں؟’

سمیتا کھلکھلاکر ہنسی۔’سیاست میں سو سال بھی کم ہوتے ہیں۔ یہاں سب کو جاننا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی بائیٹ دیں گے۔’

‘ کیوں نہیں۔’

اب سمیتا نے مائک کا رخ سپرا کی طرف کردیا۔

‘حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف میں کچھ لوگ بخالت سے کیوں کام لیتے ہیں؟’

سپرا کو ہنسی آئی۔’ آپ نے جارج آرویل کا۱۹۸۴ پڑھا ہے؟’

‘ ہاں۔’

‘ تعریف بدل دیجیے۔’

‘مطلب ؟’سمیتا چونکی۔

‘ اچھے کو برا بنا دیجیے۔ بُرے کو اچھا۔ مثال کے لیے چنگیز اور ہلاکو اچھے لوگ تھے’، سمیتامسکرائی۔’ تعریف بدلنے سے کیا ہوگا؟’

‘ پھر آپ یہ سوال نہیں پوچھیں گی۔’

اس دن سمیتا نے ساتھ بیٹھ کر کافی شیئر کی۔ دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا۔
سپرا نے ایک ملاقات کے دوران پوچھا۔

‘ تم نے شادی کیوں نہیں کی؟’

‘ پہلے ایک فلیٹ خریدنا چاہتی ہوں۔’

‘ اسی لیے حکومت کی چاپلوسی ہورہی ہے؟’

‘ ہاں۔’ وہ کھلکھلاکر ہنسی۔ اس کے دانت موتیوں کی طرح سفید تھے اور سفید موتیوں سے الفاظ آبشار کی طرح بہتے تھے۔

‘ نہیں کروں گی۔ توپیسے تم دوگے؟’

سپرا مسکرایا۔

‘ دودن بعد ہی ایک فلیٹ بُک کررہی ہوں۔ پھر شادی۔’

‘ فلیٹ دیکھ لیا؟’

‘ ہاں۔ گریٹر نوئیڈا میں ہے۔ خوش ہو ں کہ اب اپنے فلیٹ میں چلی جاوں گی۔’

سمیتا نے بتایا کہ ایک خبر کے لیے آج شام وہ دہرا دون جاری ہے۔ کل صبح واپس ہوگی۔’ٹیم کے ساتھ جارہی ہے۔’

‘ میں تمہارے نئے فلیٹ میں تم سے ملنے آؤں گا۔’

‘ ضرور۔’

سمیتا کے جانے کے بعد مسیح سپرا باہر آیا۔ دیر تک دیواروں پر آویزاں پینٹنگس کو دیکھتا رہا۔ آسمان پر پرندوں کا ایک ہجوم جارہا تھا۔ ایسے مناظر اسے پسند تھے۔ اس نے ایک خوشحال زندگی گزاری تھی۔ باہر گاڑیاں مسافروں کو اتار کر آگے بڑھ رہی تھیں۔ سپرا کو آنکھوں کے آگے دھند کا احساس ہوا۔ اسے یقین تھا، خالی وقت میں یہ لوگ موسیقی بھی سنتے ہو ں گے، ہوٹل میں بیٹھ کر شراب بھی پیتے ہوں گے۔ عیاشیاں بھی کرتے ہوں گے۔ معصوم لوگ، جو بہت زیادہ آگے یا مستقبل کی فکر کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایک دن دھند میں آسمان اورنہ ختم ہونے والی فصیلیں بھی گم ہوجاتی ہیں۔ کیا یہ ایک واہیات دن تھا یا خوشیوں بھرا دن کہ سمیتا کے ساتھ کچھ لمحے گزارنے کا موقع ملاتھا۔ لیکن جس وقت سمیتا اس کے پاس سے اٹھ کر جارہی تھی، مسیح سپرا کو احساس ہوا کہ ہوا میں معلق ایک صلیب ہے،جس پر موٹی موٹی کیلیں ہیں اور ان کیلوں میں سمیتا جھول رہی ہے۔ یہی لمحہ تھا جب اس کے چہرے پر جھریا ں پیدا ہوئیں اور اسے اپنے چہرے کی جلد کے سرد ہونے کا احساس ہوا۔ جہاں پر وہ کھڑا تھا، اس سے کچھ دوری پر دو عورتیں تھیں جو مچھلی کے شکار کی باتیں کررہی تھیں اور ایک بوڑھا شخص دیوار سے لگا کھڑا تھا جو ایک نوجوان کو اپنی عشق کی داستان سنا رہا تھا۔ مسیح سپرا کو احساس ہوا کہ عشق ومحبت کی داستان کے درمیان صلیبیں آجاتی ہیں اور مچھلیاں کیلوں میں پھنس جاتی ہیں۔ پھر یہی عورتیں نگاڑے ڈھول کے درمیاں جنگل میں مناسب جگہ تلاش کرکے بھنی ہوئی مچھلیوں کاذائقہ لیتی ہوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انڈیا انٹر نیشنل کے دروازے سے باہر نکل کر اس نے ایک پولیس والے کو دیکھا جو ہتھکڑیاں لگائے ایک قیدی کو ساتھ لیے جارہا تھا اور مسکرا مسکرا کر اس سے بات بھی کررہا تھا۔ کہیں نہ کہیں زندگی کی رمق موجود ہے۔ تنہائی میں، احساس جرم میں، قید خانے کی گھٹن میں اور جنگل کی وادیوں میں۔ اس دن گھر پہنچنے کے بعد ریحانہ نے اس کے چمکتے دمکتے چہرے کو دیکھ کر پوچھا تھا۔

‘ شکار کیا ؟’

‘ کس کا ؟’

‘ مچھلیوں کا؟’

‘ اب یہ عمر مچھلیوں کے شکار کی نہیں رہی۔’

‘ جھوٹ۔ مچھلیاں اس عمر میں بغیر کانٹے کے بھی پھنس جاتی ہیں۔’

‘ یہ تمہارا تجربہ ہے؟’

‘ تمہارے تجربے سے ایش ٹرے بناتی ہوں۔’

‘ پھر ایش ٹرے میں راکھ کس کی ہوتی ہے؟’

‘ تمہارے اندر کی خواہشوں کی۔ ان میں سگریٹ سے زیادہ کاربن ہوتا ہے۔’

‘ سگریٹ کی مہک آرہی ہے؟’

‘ باہر کوئی قیدی پی رہا ہوگا۔ ایک تم بھی جلالو اپنے لیے۔’

اس رات خواب میں صلیبیں دوبارہ روشن ہوئیں۔ پھر اس نے آگ کے بڑے بڑے تندور دیکھے جہاں مچھلیوں کو بھونا جارہا تھا۔ اس نے اس بوڑھے کو بھی دیکھا جو اپنی خادمہ کے ساتھ ہم بستری کررہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو کھڑکی کے باہر کا آسمان سیاہ تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ بارش کی موسیقی کے مزے لیتا، موبائل کی گھنٹی نے خیالوں کے بنتے ابھرتے سلسلے کو روک دیا۔ اسے خبر ملی کہ دہرا دون سے واپس آتے ہوئے کار ایکسیڈینٹ میں سمیتا اور تین لوگوں کی موت ہوگئی۔ سمیتا واپسی کے بعد اپنے فلیٹ میں جانا چاہتی تھی۔ شادی کرناچاہتی تھی۔ وہ کل تک تھی مگر اب نہیں تھی۔ ۔ ۔ صلیبیں، کیلیں۔ ۔ ۔ بارش۔ ۔ ۔ اب وہ کچھ نہیں دیکھ سکتی۔

دھند میں اب ایک نورانی گھوڑا تھا جس کو کافی عرصہ پہلے مسیح سپرا نے ایک جیل کے برآمدے میں دیکھا تھا جب وہ بیرکوں اور کچھ قیدیوں کے معائنہ کے لیے گیا تھا۔ وہی اسپ نورانی اس وقت اس کی نگاہوں کے سامنے تھا اور نظروں میں وہ بزرگ قیدی تھے جو اب زندگی سے تھک چکے تھے۔ مسیح سپرا نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ کوئی جنبش نہیں۔ لیٹے لیٹے اس نے پاؤں اٹھانے کی کوشش کی مگر محسوس ہوا، پاؤں اکڑ چکے ہیں۔ اس نے سرہلانے کی کوشش کی تو اس کوشش میں بھی ناکام رہا۔ دھند میں سفید چادروں کے درمیان نقاب والی عورت سامنے تھی۔ سپرا کو احساس ہوا، اس عورت نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور اب وہ اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اور جب راتیں چاند پر مہربان تھیں کہ چاند ستاروں کے درمیان اٹکھیلیاں کرتا ہوا نیلگوں آسمان کے درمیان یوں تیر رہا تھا جیسے بدمست مجذوب ہو یا نشے کی حالت میں دنیا ومافیہا سے بے خبر شرابی یا پھر وجد کی وادیوں میں رقص کرتا ہوا صوفی یا پھر آسمانی چادر پر اڑتا ہوا پرندوں کا ہجوم اور مسیح سپرا نے دیکھا کہ ایک پرانی عمارت ہے اور اس شہر میں ہے، جسے بندروں نے گھیر رکھا ہے۔ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ شرارتی بندر— اور اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔

[divider](2) خانہ بدوشوں کامقدمہ[/divider]

[dropcap size=big]وہ[/dropcap]

تعداد میں کئی تھے اور انہیں جاننے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ الگ الگ شہروں سے جمع ہوئے تھے اور ان میں ایک تھا جو خود کو مارکیز کے شہر کا خانہ بدوش کہتا تھا اور یہ بھی کہ سوسال کی تنہائی میں اس نے اس بوڑھے کو طوطے کا تحفہ دیا تھا جو انسانی آواز میں بولنا جانتا تھا—اور یہ وہ شخص تھا، جس کے سرکے بال نہیں تھے۔ چہرے کا رنگ گورا تھا— اور اس وقت جو بھی خانہ بدوش تھے، وہ ان سب سے زیادہ پڑھا لکھا تھا اور زیادہ انسانوں جیسی باتیں کرسکتا تھا جبکہ ان میں وہ بھی تھے جو ابھی بھی سرخ گرم آگ پر چھریاں تیز کررہے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جن کے ہاتھوں میں ترشول تھے اور ان خانہ بدوشوں میں ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے اپنے ہاتھوں میں ایک ایک اینٹ سنبھالی ہوئی تھی۔ اینٹ کسی اچھی بھٹی سے نکالی ہوئی تھی۔ اس لیے اینٹیں بھری بھری نہیں تھیں بلکہ سخت تھیں اور ان پر ہندی میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے آسانی سے پڑھا جاسکتا تھا۔ ان میں کوئی بھی قطار کا مطلب نہیں جانتا تھا اور یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ یہ وحشت کی تہذیب کو لے کر اس ہال میں جمع ہوئے تھے، جس کی دیواریں بے رونق تھیں۔ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے کے بعد دور تک گھاس اُگی ہوئی تھی۔ اور گھاس پر اس وقت بھی گائیں آرام سے گھوم رہی تھیں اور جس وقت مندر سے بھجن کی آواز آئی، خانہ بدوشوں میں سے پانچ شخص ایسے تھے جنہوں نے گردن میں لپٹے ہوئے رومال کو نکالا اور پیشانی پر باندھ لیا۔ اب وہ پوری طرح سے لچے اور شہدے نظر آرہے تھے اور کمال یہ کہ خود کو اس حالت میں محسوس کرکے وہ خوش تھے کہ زندگی کی بدلی ہوئی تعریف میں اب یہی تعریف ایسی تھی، جس کے ذریعہ خانہ بدوش کی زندگی کو ایک نئی سیاسی زندگی میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ غارت ہو اس سیاہ روشنی کا کہ بھجن کے دوران ہی پاس کی کسی مسجد سے اذان کی آواز آنی شروع ہوئی۔ بوڑھا، جو انسانی آوازمیں بولنا جانتا تھا، اس وقت اس کے تیور بدل گئے تھے اور وہ ایسی آوازمیں باتیں کررہا تھا،جیسے وہ بھیڑیوں کے منہ سے نکلی ہوئی آوازوں کے مطلب سمجھتا ہو۔ اذان کی آواز ختم ہونے کے بعد اس نے ہونق بھیڑ کی طر ف دیکھا۔ اور مسکرا یا۔ اس کی باتوں کا جواب دینے والے کئی خانہ بدوش تھے۔ اس وقت جن کے ناموں کا جاننا ضروری نہیں۔ جن کی شناخت خانہ بدوش کے طورپرہی تھی اور جو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ یہاں کس لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ مگر وہ خوش تھے کہ نئے موسم میں اور اس نئی صبح میں ایک نئے کھیل کی شروعات ہونے والی ہے اور ان سب کے پیچھے وہ بوڑھا ہے، جسے خود پر ضرورت سے زیادہ یقین ہے اور جو طوطے کی طرح اس بات کو فراموش کرگیا ہے کہ زیادہ یقین سے آپ کیڑے لگی ہوئی گیلی لکڑی کی طرح کھوکھلے ہوجاتے ہیں اور ایک ایسے خانہ بدوش میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس کے لیے صرف رحم کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ وہ خوش تھا کہ وہ اپنی ذات کے جنوں خانے سے نکل کر اس قبیلے کا حصہ بنا تھا، جسے’ گھومنتو’ قبیلہ کہا جاتا ہے۔ اور اس قبیلے کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ شعوری فکر کے روزن میں روشنیوں کو آنے دیں۔ روشن خیال وافکار کی دھوپ جمع کریں۔ کیونکہ جب مرغا بیاں گاتی ہیں تو سازندے اس گیت کے سُر میں سُرملاتے ہیں۔ پھر جو نغمہ گونجتا ہے وہ کمزور ذہنوں کی آبیاری کرتا ہے اور اس لیے خانہ ندوشوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مذہبی عبادت گاہوں پر چڑھ جائیں۔ اینٹ سے اینٹ بجادیں اور خانہ بدوشی کی تعلیمات میں نئے علم کا اضافہ کریں کہ دو اور دو مل کر ایک سو بیس کروڑ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس وقت بوڑھا مارکیز کی سوسال کی اداسی کے صفحات سے نکل کر ا ن چراغوں کو دیکھ رہا تھا جن کی ٹمٹماہٹ وقت کے ساتھ کمزور پڑتی گئی تھی اور ایک دن ایسا بھی آیا جب سیاسی دیے بجھ گئے۔ ان دیوں میں روشنی کا فقدان تھا۔ ان دیوں میں تیور نہیں تھے، خانہ بدوش نہیں تھے۔ پتھر پھینکنے والے اور پتھر سنبھال کر رکھنے والے اورغیض وغضب سے پیدا شدہ نسل کو ہر طرح کی فکر سے محروم کرنے والے اور خانہ بدوش نسل میں قبیلے کی قدیم لڑاکو تہذیب کے جراثیم رکھنے والے اور اپنی چنگیزی طبیعت سے ایک مخصوص طبقے کو غلام بنانے والے اور اسی لیے۱۹۲۵ کے دھندلے آسمان سے، آسمانی اور دھارمک منتروں کے ذریعہ قبیلہ نے وش کاپیالہ حاصل کیا تھا اور بوڑھے کو امید تھی کہ وش کا پیالہ پیتے ہی طوطے کی جان چلی جائے گی مگر سمندر منتھن کی طرح اس بار فتح دیوتاؤں کے حصے میں نہیں آئے گی بلکہ فاتح راکشش ہوں گے کہ ایک طبقے کو غلام کرنے کے لیے کبھی کبھی راکشش کی پناہوں میں بھی جانا پڑتا ہے۔ لہذا بنجاروں کو اجازت دی گئی کہ وہ مہینوں جانوروں کے ساتھ رہیں اور اپنا وقت جنگل میں گزاریں اور خطرناک جانوروں کی بولیوں کو ازبر کریں کہ مستقبل قریب میں ان آوازوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ بانسری، طبلے، ہارمونیم، تنبورے کے سریلے راگوں میں درندگی کی موسیقی کا سر پیدا کرنا ہے۔ اور اسروں ( راکچھس) کی جماعت میں شامل ہوکر ملک کو آزاد کرنا ہے۔ اس لیے گھروں کو مقفل کرکے مذہبی عمارت سے اینٹیں لے کر قومی سلامتی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور طوطے سے بچے وش کو ساتوں سمندر، دریأوں، پہاڑوں پر اچھال دینا ہے۔

بوڑھے کے دماغ میں اس وقت بھی سیٹیاں بج رہی تھیں جب سورج کا گولہ گرم ہونے کی تیاری کررہا تھا اور اپنی اگنی شعاؤں سے دسمبر کی برف کو پگھلانے کی کوشش کررہا تھا۔ تاریخ کے تناظر میں ہم قدیم خانہ بدوش ٹھہرے مگر ملا کیا ؟ جب ملک کی ہوا سہ رنگی پرچم میں رنگ بھرنے کی تیاری کررہی تھی کچھ سریلے فنکار، فلاسفر اور تاریخ داں بوسیدہ دیواروں پر بجھی ہوئی راکھ سے آزادی اور سیکولرزم کے نعرے کو لکھ رہے تھے۔ خانہ بدوش حیران کہ یہ رنگ مٹے نہیں تو جبریہ طاقت اور ذہن کیسے پیدا ہوگا؟

ایک خانہ بدوش نے دریافت کیا۔’ماچس ہے؟’

‘ نہیں۔ مگر تیلیاں ہیں۔’

‘ تیلیاں آگ پکڑیں گی ؟’

‘ تیلیاں نقشوں کو جلانے میں ماہر ہیں مگر تیلیوں کو گرم پتھر وں سے رگڑ کر چنگاری پیدا کرنا ہوگا۔’

‘ کیا چنگاری سے چھریاں تیز ہوں گی؟’

‘ ترشول بھی؟’

‘ کیا مذہبی عمارت پر چڑھنے میں مدد ملے گی؟’

‘ اگر پیسے ملتے ہیں تو ہم خانہ بدوش پجاری بن جائیں گے۔’

بوڑھے کو ہنسی آئی۔ وہ ان خانہ بدوشوں کی باتیں سن رہا تھا۔ اور یہ کہ اسے ماچس کی تیلیوں میں آگ کا سمندر نظر آرہا تھا اور وہ خوش تھا کہ آگ کے سمندر سے اس وقت چیخیں نمودار ہورہی تھیں اور وہ ان چیخوں میں موسیقی تلاش کررہا تھا۔ اس نے پھر ان خانہ بدوشوں کی طرف دیکھا جنہوں نے اپنی پیشانی کو سرخ رومال سے باندھ رکھا تھا اور ان کے کھلے دانت پیلے تھے اور ان میں کیڑے لگے ہوئے تھے۔

‘ کیا ہمارے رسم وراوج عجیب نہیں تھے؟’

‘ تھے۔’

‘ ہماری طرز زندگی، ہماری زبان۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ان میں اخروٹ کی سختی شامل تھی اور چھریوں کی دھار۔’

‘ ہم ننگے رہتے تھے اور جسم پر نقش ونگار بناتے تھے۔’

‘ اور یہ باتیں ہمیں گندے تہذیبی لوگوں سے دور رکھتی تھیں۔’

‘ لکڑی اور گھاس پھوس کے گھر ہوتے تھے۔ زمین میں بڑے بڑے کندے نصب کرتے اور دوسروں کی جھوپڑیوںمیں رات کے وقت آگ لگادیتے۔’

‘ خانہ بدوشی کا اپنا ذائقہ ہے۔’

‘ کیا ہم دسمبر کے بارے میں سوچ سکتے تھے؟’ ان میں سے ایک نے پوچھا جو ابھی تک ایک بڑے سے چھرے کو پتھر پر رگڑ رہا تھا۔

‘ دسمبر، جہاں آگ روشنی دیتی ہے۔ کدال اور پھاوڑے گنبدوں کو ڈھادیتے ہیں اور پرندے آسمانوں میں چھپ جاتے ہیں۔’

‘ خوب۔ دسمبر۔’ اور بوڑھے نے فرض کیا کہ اس کے ہاتھ میں بھی ایک اینٹ ہے، جس پر سنسکرت زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ کاش وہ سنسکرت کی سمجھ رکھتا۔ مگر اس نے اپنے لیے یاترائیں چنیں۔ تیرتھ یاترا۔ رتھ یاترا۔ رتھ یاترا اور دسمبر، جب کہرے آسمان پر چھا جاتے ہیں اور رتھ یاترا کے ٹائر اس طرح گھومتے ہیں اور ناچتے ہیں جیسے سفید گھوڑے آسمانوں پر رقص کررہے ہوں۔ جب رات کو ٹمٹماتے دیے بجھ رہے تھے،وہ خانہ بدوشوں کو جمع کررہا تھا اور یہ خانہ بدوش پورے ملک کے جنگلوں سے آئے تھے۔ یہ مہذب دنیا کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں جانتے تھے۔ یہ پتھروں سے آگ نکالنا، جھوپڑیوں کو جلانا بخوبی جانتے تھے۔ یہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے تھے اور انسانی رشتوں کی پہچان نہیں رکھتے تھے۔ ایسا قدیم زمانے سے چلا آرہا تھا اور بو ڑھے نے ایک بار انڈمان کے جزیرے میں ان قبائلیوں کو دیکھا تھا جو ننگے رہتے تھے اور خوب ہنستے تھے۔ بوڑھے نے ان قبائلیوں کے ساتھ رقص بھی کیا تھا اور بتایا تھا کہ حضرت نوح کی طرح وہ بھی ایک کشتی کی تعمیر کررہا ہے مگر یہ رتھ ہوگا اور یہاں جنگلی سور ہوں گے جن کی چمڑیاں سخت ہوں گی اور جو گندے کیچڑوں میں لوٹتے ہوں گے۔ انڈمان کے روایتی قبیلے والوں نے بتایا کہ ایسے بے شمار سور ان کے پاس ہیں، جن کا شکار وہ تیر بھالوں سے کرتے ہیں۔ پھر پتھروں سے آگ جلا کر سوروں کو بھون کر جشن مانتے ہیں اور بوڑھے نے کہا تھا، اب ان سوروں کو جلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں بھی ہتھیار دینے کی ضرورت ہے۔ ہم تمہیں ان سؤروں کے لیے مناسب رقم دیں گے۔ بوڑھے کو یقین ہے کہ اس ہجوم میں انڈمان کے قبائلی بھی ہوں گے، کیونکہ ان خانہ بدوشوں میں کئیوں کے پاس لباس نہیں تھے مگر ہاتھوں میں اینٹیں موجود تھیں۔

وہ عمارت کے سب سے بدنما کمرے میں کھڑے تھے اور ایک عجیب سی بدبو تھی جو ماحول میں پیدا ہورہی تھی اور ممکن ہے کہ یہ بدبو ان خانہ بدوشوں کے جسم سے آرہی ہو، جنہوں نے پسینہ بہاکر مذہبی عمارت کے گنبد کو زمین میں دفن کردیا تھا۔ آسمان سے پرندوں کا قافلہ اس طرح رخصت ہوا، جیسے اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ بوڑھے کو تاہم اطمینان ہے کہ اسے تمام اختیارت حاصل ہیں اور اس وقت خانہ بدوشوں کے درمیان اس کی حیثیت کسی راجہ یا مکھیا کی ہے، جس کے آگے سب کوسر جھکانا ہے۔ اس نے کٹورے سے پانی پیا اور اس لیے پیا کہ چلاّتے شور کرتے ہوئے اس کی زبان بیٹھ گئی تھی۔ گلے سے گھڑ گھڑانے کی آواز آرہی تھی اور مذہبی عمارت کی اونچی چوٹی پر دیر تک رہنے کی وجہ سے اس کے قدموں میں نقاہت آگئی تھی۔ اس نے خانہ بدوشوں کی گفتگو کا رُخ قدیم زمانے سے آج کی تاریخی فتح تک موڑنے کی کوشش کی مگر سب کے سب ایسے ترشول لہرا رہے تھے جیسے بھالو اور خنزیروں کا شکار کرنے آئے ہوں۔ ان کے جسم توانا تھے اور بوڑھے کو یقین تھا کہ آج کے بعد اس کی عظیم الشان کامیابی کے درمیان محض چند قدم کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ اس کے بعد مرغابیاں جھیلوں پر اتریں گی اور وش کا نغمہ سنائیں گی۔ وہ اچانک چونکا، جب اس نے ایک خانہ بدوش کی آواز سنی۔ اس خانہ بدوش کے ساتھ کئی دوسرے خانہ بدوش بھی کھڑے تھے۔

‘ تو تم اس وقت رورہے تھے۔’

‘ ہاں۔’

‘ مگر کیوں ؟’

‘ میں نے پنکھوں والے ایک فرشتہ کو دیکھا جس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔’

‘ سب غارت۔ فرشتہ کہاں سے آگیا؟’

‘ اس کے دوسرے ہاتھ میں چاقو بھی تھا۔’

‘۔ ۔ ۔ ۔ اور یقین ہے، تیسرا ہاتھ نہیں ہوگا۔’

‘ اورتم اس لیے روئے کہ فرشتہ کے ہاتھ کی لالٹین بجھ گئی تھی؟’

‘ نہیں۔ تیز ہوا کے باوجو د جل رہی تھی۔ بلکہ لالٹین کے اندر سے شعلے نکل رہے تھے۔’

پہلے نے گھور کر دیکھا۔’کیا تم اقبال جرم کررہے ہو ؟’
‘ نہیں۔ اس نے کندھے اُچکائے۔ اس وقت میرے ہاتھ میں ایک کدال تھی اور میں فرشتہ کا سرقلم کرنا چاہتا تھا۔’

‘ اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے تم اس قابل نہیں تھے۔ تم نے چار گھنٹے میں صرف چار اینٹیں جمع کیں۔ اور پاجامہ کو بہت حد تک گیلا کردیا۔’

بوڑھے کو ہنسی آئی اور ہنسی اس بات پر آئی کہ جس وقت وہ گنبد تک پہنچنے کی کوشش کررہا تھا، ایک سیال اس کے پیٹ کے نیچے جمع ہورہا تھا۔ اس نے چپ چپاہٹ محسوس کی اور یقین کیا کہ اس کا پیشاب خطا ہوگیا ہے جو اکثر جوش جوانی میں ہوجاتا ہے۔ جسم میں رتھ یاتراؤں کی تھکاوٹ اب بھی موجود تھی اور جشن مناتی وہ بھیڑ بھی اب بھی نظروں میں گھوم رہی تھی کہ بوڑھے نے اپنی زندگی میں ایسی کسی بھیڑ کا تصور نہیں کیا تھا۔ سارے ہندوستان میں گھومتے ہوئے رتھ کا پہیہ ایک ایسے علاقے میں جام ہو ا، جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ یہاں سوروں کے شکار ہوتے ہیں اور یہاں کی زمین پتھریلی ہے۔ یہاں گنوار، دیہاتی مگر پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں جو اب بھی تہذیبی زبان سے واقف ہیں اور اس خطے میں اتنے گڑھے ہیں کہ رتھ کا پہیہ کسی وقت بھی اچھل کر رتھ سے نکل سکتا ہے یا رتھ کے پہیے پتھریلی زمین پر جام ہوسکتے ہیں۔ اسے یہ بھی خیال تھا کہ اگر پہیے اس خطے یا علاقے میں جام نہیں ہوتے تو اسے کامیابی نہیں ملتی۔ کیونکہ خانہ بدوش جماعت ناراض تھی اور غصے میں ترشول لہراتی ہوئی اس بات کو فراموش کرگئی تھی کہ بوڑھا تھک چکا ہے اور واپس دارالسلطنت لوٹنا چاہتا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر خون کی پپڑیاں جمی تھیں کیونکہ دوبار رتھ کے پہیے ایسے اچھلے کہ اس کا سر رتھ کی پشت سے ٹکرایا اور کمزور دانتوں نے ہونٹ کو زخمی کردیا۔ اس نے خفیف سی جھر جھری لی کہ وہ گر بھی سکتا تھااور گرنے کی صورت میں اس کی موت بھی ہوسکتی تھی۔ بوڑھے کو اس بات کا گمان تھا کہ وہ صفر سے طلوع ہوا اور رتھ کی کمان تھام کر ان خانہ بدوشوں کا امیر کارواں بن گیا۔ اس نے سنا۔ وہاں کچھ خانہ بدوش اور بھی تھے، جو اب سیاست کی اولادوں میں سے تھے اوہ یہ بھی جانتا تھا کہ پسندنہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور تھے اس نے کان لگایا اور ان کی باتوں پر دھیان دیا۔

‘ کیا اینٹیں نرم تھیں؟’

‘ نہیں۔ اس میں سے انسانی خون کی بو آرہی تھی۔’

‘ اور تم نے ڈھانچے پر چڑھتے ہوئے ایک گارڈ کو مکّا مارا تھا۔’

‘ مجھے وہ عمارت کی نگرانی کرنے والا معلوم ہوا۔’

‘ جبکہ وہ بھی خانہ بدوش تھا اور بوڑھے کا قریبی۔’

‘ یہ بوڑھا ان خانہ بدوشوں سے کیا کام لے گا؟’

‘ وہ اپنی سلطنت بنائے گا۔’

‘ لیکن اس سے قبل گماں آباد کے خانہ بدوش اسے چپ کرادیں گے۔’

‘ کیا تم تقدیر کو مانتے ہو؟’

‘ نہیں۔ رتھ کو۔ مذہبی عمارت کو اور وحشتوں کو۔’

‘ وحشتوں نے ہر دور میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔’

‘ اور اس بار بھی وحشتیں ساتھ دیں گی۔’

بوڑھے نے اطمینان سے ان کی باتیں سنیں اور اسے پہلے سے علم تھا کہ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو ابھی بستروں پرسیاہ حبشی کو بھی اپنے ساتھ سلالیں۔ مگر ان میں آپس میں بھی اختلاف ہے اور یہ لوگ کسی حد تک اس کی شہرت اور مقبولیت سے بدگمان بھی ہیں۔ مگر وہ رتھ لے کر کافی دور نکل چکا تھا اور جہاں نکل آیا تھا، وہاں پتھر سخت تھے، دریا اونچائی پر تھا اور دسمبر کے زمانے میں زمین برف سے ڈھک چکی تھی۔ مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کا گولہ ٹھنڈا تھا اور بوسیدہ دروازے کے باہر لوگوں کا ہجوم اس کا منتظر تھا۔ وہ تاریخ اور اپنے قریبی دوستوں کا شکرگزار تھا جنہوں نے سنبھل کر، آگے بڑھ کر مذہبی عمارت کا قفل کھولا تھا۔ پھر انہی دوستوں نے آگے بڑھ کر پتھر کے مجسمہ کو اس عمارت میں منتقل کیا تھا۔ لیکن منتقل کرتے ہوئے اور قفل کھولتے ہوئے وہ اس فن سے واقف نہیں تھے، جس سے وہ واقف تھا۔ اور اب آسمان سے زمین تک سارا نظارہ اسے سرخ نظر آرہا تھا۔ اس سرخی سے اسے زعفران پیدا کرنا تھا اور ملک بھر میں زعفران کی کھیتی کرنی تھی۔ وہ ہجوم کے قریب آیا۔ چیختے چلاتے،جوشیلے قبائلیوں کو دیکھا۔ اس کے کمزور ہاتھوں میں جنبش ہوئی اور اس نے نرم لہجہ اختیار کیا۔ اس نے وحشتوں سے پر ہجوم کی طرف دیکھا اور اس ہجوم کے کسی گوشے میں بوڑھے کو لاٹھی ٹیکے ہو ئے وہ ننگا فقیر بھی نظر آیا، جس کا وہ منکر تھا اور سخت نفرت کرتا تھا۔ مگر یہ نظر آنا ایک چھلاوہ تھا۔ دراصل آہنی دروازے کے باہر رکھا ہوا رتھ کاپہیہ تھا، جو اس مقام تک آتے آتے رتھ سے نکل گیا تھا۔ اس نے آنکھیں ملیں۔ دروازے کی بھربھری لکڑی کو دیکھا اور نئی مہم کے لیے روانگی سے قبل اپنے الفاظ کو جنبش دی۔

‘ وہ سفید فام نسل تھی، جو اس ملک میں آئے اور جن کے لیے ہم نے فرمانبرداریاں پیش کیں۔ ان کی عظمت کو سلام کہ وہ ہمیں سمجھتے تھے مگر وہ ہمیں ایک ایسی زمین دے کر گئے جہاں لاٹھی ٹیکنے والاایک نیم برہنہ فقیر رہتا تھا، ہم نے کوشش کی اور فقیر کو غائب کردیا۔ لیکن غائب ہونے کے بعد فقیر دوبارہ زندہ ہوگیا اور یہ اس کی تعلیمات کا جادو تھا کہ ہم رتھ کی لگام تھامے مستقل کھڑے رہے اور راستہ گم رہا۔ پھر میں آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

بوڑھے نے شان سے ہاتھ ہلایا۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت چناروں کے درمیان بجلیاں کڑک رہی تھیں اور برفیلی چٹانیں پگھل رہی تھیں۔ خوبصورت دھماکوں کے شور بھی تھے جو ہم ا پنے ساتھ لائے تھے اور پھر میں رتھ پر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ممکن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بوڑھے نے ہجوم کی طرف دیکھا۔

‘ ممکن ہے، زنداں کا دروازہ کھل جائے۔ ممکن ہے، مذہبی عمارت کو گرانے کے عوض ہم پر مقدمہ چلایا جائے۔ مگر یہاں سب دوست ہیں جو زنداں کے پالن ہار ہیں، وہ بھی۔ جو بیڑیوں میں بند ہیں وہ بھی۔ جو وحشتوں کے اسیر ہیں، وہ بھی۔ جو سیاست کے مزدور ہیں، وہ بھی۔ جو حکومت کے طرفدار ہیں، وہ بھی۔ اس لیے تماشہ ضرور ہوگا مگر کوئی نتیجہ برامد نہیں ہوگا۔ کیونکہ سب اپنے ہیں اور ان کی تعداد بے حد کم ہے جو پرانی عمارت سے چپکے ہوئے ہیں۔’

بوڑھے نے ایک بار پھر ہجوم کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے احساس تھا کہ وہ ابھی اس وقت ایک مقدمے سے گزر رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوردسمبر کی ٹھنڈک کے باوجود زمین گرم ہے۔ یہاں وہ لوگ ہیں، جن کو غسل کیے ہوئے کئی روز گزر چکے ہیں اور جن کے لباس سیاہ پڑ گئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود دھوپ میں ان کے چہرے چمک رہے ہیں اور بندوق کی جگہ اینٹوں کا تحفہ لے کر یہ خوش ہیں کہ زندگی میں سب سے بڑا انعام یہ حاصل کرچکے ہیں۔ بوڑھا مسکرایا اور قیاس کیا کہ وہ اپنے لو گوں کی عدالت میں ہے اور یہ صحیح وقت ہے کہ اس ہجوم سے مکالمہ قائم کیا جاسکتاہے۔

‘ جب آسمان سرخ دھول سے غسل کررہا تھا، کیاوہاں کوئی آبادی تھی، جہاں ایک پرانی عمارت کھڑی تھی؟’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

بوڑھے کو یاد آیا، وہاں دور تک جنگل جھاڑ تھا۔ دھول بھری سڑک تھی۔ اور ٹیمپو والے مسافروں کو دھول بھری سڑک پر لاکر اتار دیتے تھے۔ اور جب بسوں، ٹرکوں میں بھر بھر کر لوگ اس مقام پر پہنچے تو فضا میں چاروں طرف دھول ہی دھول تھی اور عمارت کی جگہ ایک دلدل یا ملبہ نظر آرہا تھا۔ چند قدموں کا فاصلہ اور مٹی کا ملبہ۔

‘ ہم پرانی کی جگہ نئی اور عالیشان عمارت کھڑی کریں گے اور ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا اس دن سوروں کا گوشت تقسیم ہوگا۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

‘ کیا اس دن مادہ کبوتروں کو حمل ٹھہرے گا؟’

بوڑھے نے مڑکر دیکھا۔ وہ ایک ناگا خانہ بدوش تھا — اور اس وقت اپنے برہنہ جسم کا مظاہرہ کررہا تھا۔

‘ کیا اس دن فاختائیں ہوں گی؟’

‘ اس دن ہم ہوں گے اور نئی عمارت ہوگی۔’ بوڑھے نے جوش سے کہا۔

‘ — اور اس یقین کو گھسنے میں کتنے برس لگ جائیں گے؟’

‘ جتنے دن جنگلی بلّیوں کے دانت نوکیلے ہونے میں لگتے ہیں۔’

‘ جنگلی بلیاں۔ کیا ان بلیوں کا رنگ زعفرانی ہو گا؟’

‘ ہاں۔ اور زمین کا رنگ بھی۔ اور ملک کے نقشے کا رنگ بھی۔ فصیلوں کا رنگ بھی۔ یہاں تک کہ ہمارے چہروں کا رنگ بھی۔’

‘ کیا ہمارے لیے زنداں کے دروازے بھی ہوں گے؟’

‘ ہاں ہوں گے۔ تب تک ہم اپنے گھوڑوں پر بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔’

بوڑھے نے اشارہ کیا۔ دو برس قبل ہم نے اسی مقام پر گولیاں کھائی تھیں۔ اور اب پرندے اڑ گئے۔ گنبد ٹوٹ گیا۔ ملبہ میں حیرتیں دفن ہیں۔

اس نے ہجوم کے درمیان سے آواز سنی، کوئی کہہ رہا تھا۔

‘ ایک دن تم بھی حیرتوں میں دفن ہو جاؤ گے۔’

بوڑھے نے اس مکالمے کو نظر انداز کیا۔ دسمبر فتح کے لیے آتا ہے اور دسمبر میں دھوپ کی کرنوں پر دھند کی حکومت رہتی ہے۔ کچھ لوگ ابھی بھی دھند میں ہیں اور یقیناً درختوں پر چڑھے ہوئے، بندر ایسے لوگوں کا راستہ تنگ کردیں گے۔ بوڑھا جب ان اطراف میں آیا تھا تو اسے چاروں طرف بند ر ہی بندر نظر آئے تھے۔ مگر خانہ بدوشوں کو دیکھ کر یہ بندر بھی بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

‘ کیا ابھی بھی ہم بندروں کے ساتھ ہیں؟’

‘ ہاں۔ وہ ہر چوراہے پر ہیں۔ درختوں پر بھی ہیں۔ ملبے کے آس پاس ہیں اور عمارتوں کی چھت پر بھی نظر آرہے ہیں۔’

‘ ہمیں ان بندروں کو بھی ساتھ لینا ہوگا؟’

بوڑھے نے ہاتھ ہلایا اور ٹھیک اسی لمحہ اس نے دیکھا، ایک شخص نے جھک کر اس کے ہاتھ کو تھاما ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی داڑھی تھی۔ وہ دبلا پتلا تھا۔ کپڑے گندے اور دھول سے بھرے تھے۔ اور اس نے بوڑھے کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور عقیدت سے دریافت کیا۔

‘ آپ تھک گئے ہیں۔ میں آپ کے لیے چائے لے کر ابھی حاضر ہوتا ہوں۔’

[divider](3) ۱۹۹۲—[/divider]

[dropcap size=big]دور[/dropcap]

تک پھیلی ہوئی دھند میں مسیح سپرا کو اس بوڑھے کا چہرہ یاد تھا، جس کانام وشال کرشن ناتھانی تھا جو ایک سندھی تھا اور تقسیم کے وقت جس کا خاندان ہجرت کرکے دارالسلطنت میں آباد ہوا تھا۔ دھند میں اور کچھ تصویریں بھی تھیں، جو واضح نہیں تھیں، مگر مسیح سپرا خود کو اس دھند کے آئینہ میں دیکھ سکتا تھا۔ اس زمانے تک وہ ایک ڈیٹکٹیو رائٹر تھا اور مسیح سپرا کے نام سے ہی اس کے جاسوسی ناول شہرت یافتہ ادارہ پگمل سے شائع ہوا کرتے تھے۔ سراغ رسانی میں اس کی بچپن سے دلچسپی تھی مگر وہ سراغ رساں نہیں بن سکا۔ ہر چند کہ اس نے کوشش بہت کی مگر کامیابی نہیں ملی۔ پھر اسی زمانے میں اسے لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور اس وقت اس کی عمر پچیس سال تھی۔ پہلا ہی ناول’ناگن کا قاتل’ نے کامیابی کے پرچم لہرائے تو پگمل کے ادارے سے باضابطہ پانچ برس کا معاہدہ ہوگیا۔ اس زمانے میں ٹی وی اورموبائل کا چلن نہیں تھا اور ایک بہت بڑی آبادی جاسوسی ناولوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔ یہ بات سپرا جانتا تھا کہ تھکے ہوئے دماغ میں بہت زہر بھرا ہوتا ہے۔ زہر کی پوٹلی میں سازشیں ہوا کرتی ہیں۔ لذت وصل، گناہ اور قتل جیسے واقعات میں لوگوں کی دلچسپی ہوا کرتی ہے۔ اس عمر میں اس نے سینکڑوں ناول پڑھ رکھے تھے۔ سر آرتھر کانن ڈائل اور اگاتھا کرسٹی میں اس کی خاص دلچسپی تھی۔ کرداروں کا ہجوم اس کے آس پاس ہی رہتا تھا۔ مسیح سپرا نے کرنل سوامی اور مس کرشنا کے کردار کو گڑھا اور یہ کردار اتنے دلچسپ تھے کہ اس کے ناولوں کی مانگ بڑھتی چلی گئی۔ پیسے آنے لگے تو شادی کرنے میں دیر نہیں کی۔ ریحانہ سے شادی ہوگئی۔ مگر ان سب کے باوجود مسیح سپرا کو احساس تھا کہ اسے کچھ اور چاہیے، جس کا تصور ابھی ذہن میں واضح نہیں ہے۔ اس کی دلچسپی سیاست میں تھی مگر اس بات پر اس کو ہنسی آتی تھی کہ کہاں ایک جاسوسی ناول نگار اور کہاں سیاست۔ پھر اس عہد میں اس پر کون سی پارٹی مہر بان ہوسکتی ہے۔ اس نے کئی ناول لکھے—گنگا کنارے قتل، دوہرا قتل، قاتل عورت، قتل ایک چھلاوہ، قاتل کی واپسی، گنہگار کون، سیریل کلر— اس کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ سنجیدہ ادیبوں سے لے کر سیاستداں تک اس کے ناول پڑھتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کا نام ایسے تمام لوگوں کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔ اپنے ناول سیریل کِلر میں اس نے ایک سیاستداں کی زندگی پر روشنی ڈالی تھی جو معصوم تھا مگر رات کے اندھیرے میں خاموشی سے لڑکیوں کا قتل کیا کرتا تھا۔ یہ ناول اس قدر مشہور ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس ناول کے کئی ایڈیشن آگئے۔ اور اسی زمانے میں حکمراں پارٹی کے لیڈر مسٹر کمار سے ایک پارٹی میں اس کی ملاقات ہوئی۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ وہ ان کے فین ہیں اور سپراکے، اب تک کے تمام ناول انہوں نے پڑھ رکھے ہیں۔ مسٹر کمارنے حکمراں پارٹی کے کئی لیڈران سے اس کی ملاقات کرائی اور اس طرح جب پارٹی کا دعوت نامہ ملا تو سپرا انکار نہیں کرسکا۔ پارٹی میں پہنچ ہوئی تو راجیہ سبھا کے ایک ممبر کے فوت ہونے پر لاٹری سپرا کے نام کھلی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس طرح مسیح سپرا راجیہ سبھا میں پہنچ گیا۔ یہ ایک لمبی چھلانگ تھی۔ مگر سپرا کی مجبوری تھی کہ و ہ سیاست سے ناواقف تھا اور جذباتی آدمی تھا۔ اسے سیاست کے قاعدے قانون پسند نہیں آتے تھے۔ اس لیے راجیہ سبھا پہنچنے کے بعد جس ناول کے لکھنے کا آغاز اس نے کیا، وہ ایک جاسوسی ناول ضرور تھا، مگر سپرا اس ناول میں اپنے عہد کے المیہ کو بھی پیش کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس لیے اس نے ناول میں سیاسی فضا پیدا کرتے ہوئے ایک اہم کردار کو، جس نے مذہبی عمارت کے ملبہ میں تبدیل ہونے کی کہانی کو آسان بنایا تھا، دلچسپ مکالمے کے ذریعہ عدالت میں پیش کردیا تھا۔ جرح کے دوران اس سے پوچھا جاتا ہے۔

تم سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو۔

‘ ہاں،ایسا ہے۔ ۔ ۔ ۔’

اور تم ایک سیاسی آدمی ہو۔

‘ منظور۔’

‘ اور تم پر ذمہ داری تھی کہ پرانی عمارت۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ میں ایک مذہبی آدمی بھی ہوں۔’

‘ کیا مذہبی آدمی آئین اور دستور کا خیال نہیں رکھتا؟’

‘ مذہب کا دائرہ ان دائروں سے زیادہ بلند ہے۔’

‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ افراتفری میں کتنے لوگوں کی جان گئی؟’

‘ تین سو چھیاسی۔’

‘اور اس موقع پر کتنے شہروں میں فساد ہوا۔’

‘ ایک سو باون۔’

‘ ذمہ دار کون ہوا؟’

‘ سلطان۔’

‘ کیا سلطان نے پرانی عمارت کی تعمیر کی تھی؟’

‘ ایسا ہی ہے۔’

‘ کیا پرانی عمارت سے پہلے بھی کوئی عمارت تھی، اس کا کوئی ثبوت ہے؟’

‘ آستھا ہے۔’

‘ آستھا اور آئین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟’

‘ جتنا فاصلہ آپ کے اور ہمارے درمیان۔’

‘ کیا آپ کو پرانی عمارت کے ٹوٹنے کا غم ہے؟’

‘ نہیں۔ حادثہ یہ ہے کہ آپ مجھے عدالت میں لے کر آئے اور اس ملک میں یہ پہلی بار ہورہا ہے۔’

‘ کیا پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ بغیر جواز یا ثبوت کے ایک پرانی عمارت محض اس قیاس پر ڈھادی گئی کہ اس کے نیچے کوئی اور عمارت موجود تھی؟’

‘ آستھا۔’

‘ آستھا کا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟’

‘ صرف اکثریت سے۔’

‘ اور اقلیت ؟’

‘ حکومت اقلیتوں کے ووٹ سے تعمیر نہیں ہوتی۔’

‘ اقلیتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری نہیں ہے؟’

‘ ہاں۔’

‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ پرانی عمارت اب جبکہ ایک تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، یہ تاریخ آپ کے مرنے کے بعد بھی دہرائی جاتی رہے گی اور آپ کا نام۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ زندہ رہے گا؟’

‘ آخری سوال۔ آپ کی حکومت کا رنگ کیا ہے؟’

‘ زعفرانی۔’

‘ اور جو دوسری پارٹی سامنے آئی ہے؟’

‘ اس وقت سب سے بڑی طاقت زعفران ہے۔ جس کا حصہ مضبوط ہوگا، بندر اسی کے ہوں گے۔’

‘ بندر کیوں؟’

‘ ڈارون نے کہا تھا۔ ہم سب بندر ہیں۔’

‘ اور بندر پرانی عمارت پر چڑھ کر، عمارت کو ملبہ بناسکتے ہیں؟’

‘ آستھا۔ اب میری میٹنگ کا وقت ہے۔’

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھند بڑھ گئی تھی۔ سپرا کو احسا ہوا کہ اس کے پاس ریحانہ لیٹی ہوئی ہے اور اس کے ہاتھ ریحانہ کے پستانوں کو چھو رہے ہیں۔ اس نے جھینگا مچھلی کا تصور کیا اور گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا۔ سپرا کو احسا س ہوا کہ وہ چیخنا چاہتا ہے مگر چیخ اس کے اندر اندر کہیں کھوگئی ہے۔ سفید سفید چادروں کے درمیان ایک نا معلوم جزیرہ آباد ہے اور وہ ایک ویران چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں کچھ فاصلے پر تیزی سے گاڑیاں بھاگ رہی ہیں۔ موہن راؤ۔ یہ نام اسے یاد آیا۔ اور سپرا دوبارہ اپنی جگہ لیٹ گیا۔ یہ موہن راؤ تھا، حکمراں پارٹی کا سربراہ— اور وہ ناول جو اس نے لکھا، اس کا عنوان سیاسی قاتل تھا۔ آنکھوں کے آگے دھند کا سفر جاری تھا— اور اس سفر میں سپرا سیاسی قاتل کے صفحات کو کھول رہا تھا۔ کچھ اور بھی دلچسپ مکالمے تھے، جس کو لکھتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر ہونے کے باوجود اس نے سکون محسوس کیا تھا۔

قومی صدر کے ذریعہ دریافت کیا جاتا ہے

‘ آپ نے پارٹی کے موقف کے خلاف کام کیا۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔’

‘ پارٹی کا کام پرانی عمارت کو بچانا تھا نہ کہ مسمار کرنا۔’

‘ جو اکثریت کو پسند تھا، میں نے وہی کیا۔’

‘ کون سی اکثریت؟’

‘ ہم، آپ اور کروڑوں۔’

‘ لیکن یہ کروڑوں لباس کے اندر زعفران نہیں رکھتے۔’

‘ یہ غلط فہمی ہے۔’

‘ کیا میں بھی زعفرانی ہوں؟’

‘ ہاں۔ کچھ اقلیتوں کو چھوڑ کر۔’

‘ کیا ہم پہلے بھی یہی تھے۔’

‘ آزادی کے بعد کی پہلی کابینہ سے لے کر اب تک۔’

‘ پھر اقلیت ہمارے ساتھ کیوں ہے ؟’

‘ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں۔’

‘ کیا پرانی عمارت کے ڈھانے کے بعد بھی وہ ہمارے ساتھ ہوں گے ؟’

‘ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیوں کہ ہم نے انہیں خوفزدہ کر رکھا ہے۔’

‘ کس سے؟’

‘ زعفران سے۔’

‘ بقول آپ کے، زعفرانی آپ بھی ہیں۔’

‘ اور آپ بھی۔’

‘ تو اقلیتیں ہم سے خوفزدہ کیوں نہیں؟’

‘ کیونکہ ہمارے اندر کا زعفران انہیں نظر نہیں آتا۔’

‘ فرض کیجیے نظر آگیا۔ اس کے بعد؟’
‘ کچھ نہیں ہوگا۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیونکہ ان کے پاس لڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔’

‘ ہماری اصلیت واضح ہوجانے کے بعد وہ کس کو ووٹ دیں گے؟’

‘ ہم کو۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیونکہ ان کو یقین ہے،تحفظ ہم ہی دے سکتے ہیں۔’

‘ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

قومی صدر نے قہقہہ لگایا۔ اور اس طرح یہ میٹنگ مشترکہ قہقہوں کے ساتھ ختم ہوگئی۔

مسیح سپرا آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کے اب تک کے واقعات سے آگاہ تھا۔ اس کے پاس عمر وعیار کی زنبیل ہوتی تو وہ تمام شاطر سیاست دانوں کا قتل کرچکا ہوتا۔ ریحانہ اسے خوب سمجھتی تھی۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اسے قابو میں رکھتی تھی وہ کسی میٹنگ میں حصہ لینے کی تیاری کرتا تو ریحانہ پہلے اس کے ہاتھوں کو تھام لیتی اس سے قبل کہ وہ کچھ سمجھتا۔ ریحانہ اس کے ہاتھوں کو اپنے سر پرلے آتی۔

‘ میری قسم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا؟’

‘ میٹنگ میں کسی سے بکواس نہیں کروگے۔’

‘ میں بکواس کرتا ہوں؟’

‘ جھگڑا تو کرتے ہو۔’

‘ سچ بولنا گناہ ہے؟’

‘ اب تم کرائم رائٹر نہیں ہو۔’

‘ یعنی انسان بھی نہیں ہوں۔’

‘ یہی سمجھو۔ اب تم سیاست داں ہو۔ ایک نمبر کے جھوٹے۔’

وہ ریحانہ کی باتوں کا مزہ لیتا۔’ یعنی اب جھوٹا بھی ہوگیا ؟’

‘ تمہارا کوئی ساتھی سچ بولتا ہے کیا؟’

‘ ہاں۔ یہ تو ہے۔’

‘ اور سچ اب تم بھی نہیں بولتے، بہت ساری باتیںمجھ سے چھپالے جاتے ہو۔’

‘ یہ بھی ہے۔’

سپرا قہقہہ مارکر ہنسا۔ پھر ناز ک سی ریحانہ کو اپنی آغوش میں بھر لیتا۔

‘ ایک بات کہوں؟’

‘ ہاں۔’

‘ اب لگتا ہے۔ سیاست میں آکر اچھا نہیں کیا۔ پارٹی کا اس قدر پریشر رہتا ہے کہ ہم اپنی بات بھی نہیں کرپاتے۔’

‘ تم ایک اقلیتی ڈنکی ہو۔ ‘

‘ اقلیت والے ڈنکی ہوتے ہیں۔’

‘ ساری عمر بوجھ ڈھونے کے بعد ملتا کیا ہے، اقلیت والوں کو؟’

‘ کیوں نہیں ملتا؟’

‘ وہ ہمیشہ سے حاشیہ پر ہیں۔ اس لیے کہ تم جیسے لوگ بھی پریشر میں ہو۔’

اسے پہلی بار احسا ہوا کہ ریحانہ سچ بول رہی ہے۔ ریحانہ اس دھند کو دیکھ چکی ہے، جس کے اس پار جھوٹ کے سمندر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہاں آپ پارلیمنٹ میں ہیں تواپنی مرضی سے تقریر بھی نہیں کرسکتے۔ کسی اخبار والے کو اپنے حساب سے بائیٹ بھی نہیں دے سکتے۔ پارٹی کا پریشر۔ آپ کے منہ میں پارٹی کی زبان ڈالی جاتی ہے اور پارٹی کیا ہے؟ کیا حقیقت میں پارٹی نے سیکولرزم اور جمہوریت کا لباس پہنا ہوا ہے؟ یا یہ سیکولر زم محض فریب ہے جیسا کہ وہ اپنے ناول میں لکھ رہا ہے۔ پرانی عمارت شہید ہوگئی۔ آپ اس کو پرانی عمارت، مذہبی عمارت بھی نہیں کہہ سکتے۔ پارٹی کے اصولوں کے مطابق آپ کو ڈھانچہ کہنا ہے۔ پارٹی اگر سیکولرزم کے اصولوں پر چلتی تو کیا آزادی کے بعد ہزاروں فسادات ہوتے؟ کیا پارٹی فسادات کو روکنے میں ناکام رہتی؟ راجیہ سبھا کا ممبر بننے کے بعد سپرا صاف دیکھ رہا ہے کہ گندگی کہاں ہے؟ فرق کہاں ہے؟ بھید بھاؤ کہاں ہے؟ اور اس فرق کو چھپانے کے لیے وعدے کیے جاتے ہیں۔ سفارشات لائی جاتی ہیں۔ کمیٹی بیٹھائی جاتی ہے۔ باربار اقلیت کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن پارٹی نے اقلیت کی سطح پر کیا کیا ہے؟ سارے واقعات نظروں کے سامنے تھے۔ کلیم پورہ، جہاں بندوق کے نشانہ پر حکمراں پارٹی کی پولیس اقلیتوں پر گولی چلانے کے لیے لے گئی تھی۔ حسن پور، جہاں فسادات کے بعد ایک برسوں پرانا کنواں جلیاں والا باغ بن گیا تھا۔ سپرا کو احساس تھا کہ زعفران ہر جگہ ہے اور ملک میں بڑے پیمانے پر زعفران کی کھیتی ہورہی ہے۔ اور سپرا کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ بار بار اقلیتوں کا نام لینے سے ایک دن یہ اقلیت، اکثریت کے نشانے پر آجائیں گے اور وشال کرشن ناتھانی، بانسری جوشی، شردھا بھارتی جیسے لوگ اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ ایک دن یہ چیخ ایک بہت بڑے نقصان میں تبدیل ہوجائے گی۔ سپرا کو احساس ہوا، ریحانہ کچھ غلط نہیں کہتی ہے۔ بلکہ ریحانہ اس سے کہیں زیادہ دور کی سوچتی ہے۔ اسے ریحانہ پر پیار پر آیا۔ وہ دیر تک ریحانہ کو آغوش میں لیے رہا۔ ایک عجیب سی ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ نور کا جھروکہ کھلا۔ اسے احساس ہوا۔ وہ نور کے اس جھروکے میں داخل ہورہا ہے۔ مگر اس جھروکے میں بھی زعفران کھلا ہے۔ وہ فوراً ریحانہ سے الگ ہوا۔

‘ کیا ہوا؟’

سپرا ہنسا۔’’خوفزدہ ہوگیا۔’

‘ کیا میری جگہ نتاشا کو دیکھ لیا؟’

‘ نتاشا کون؟’

‘ سیما کہہ لو۔ ۔ ۔ آصفہ کہہ لو۔ ۔ ۔ کچھ بھی۔ سیاستداں ہو۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سیاستداں کیا پانی میں تیرتے ہیں؟’

‘ اکیلے نہیں۔ مگر تیرتے ہیں۔’

‘ کس کے ساتھ ؟’

‘ نتاشا، آصفہ اور سیما کے ساتھ۔’

‘ تم پاگل ہو۔’

ریحانہ ہنسی۔’’ایک شک تو رہتا ہے میرے اندر اور میرے اندر اس شک کو رہنے دیا کرو۔’

‘ اس سے کیا ہوگا؟’

‘ شک کی کھیتی سے بادام نکلے گا۔ بادام جسم کو طاقت پہنچاتا ہے۔’

‘ اچھا۔ چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ بند کرو۔’

بادام نکلے گا۔ ۔ ۔ ۔ وہ دیر تک اس محاورے پر غور کرتا رہا مگر آخر تک سپرا کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ پرانی عمارت کا قصہ تمام ہونے کے بعد ملک میں بی مشن کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔ اس مشن کے امام وشال کرشن ناتھانی تھے۔ لیکن پارٹی کو مضبوطی دینے کے لیے گردھر باجپائی کو آگے رکھا گیا تھا۔ گردھر باجپائی پارٹی کا سیکولر چہرہ تسلیم کیے جاتے تھے۔ پارلیمنٹ میں ان کی تقریر نپی تلی ہوتی تھی اور حکمراں پارٹی کے لیڈران بھی ان کو پسند کرتے تھے۔ دھوتی اور کرتا پسندیدہ لباس تھے۔ مشن کے پرانے ساتھی تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کے آنے سے مشن کے نرم چہرے کو آگے رکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ وشال کرشن ناتھانی کو آئرن مین کہا جارہا تھا اور یہ پارٹی کا گرم چہرہ تھے۔ پرانی عمارت کا ٹوٹنا تاریخ کا ایک ایسا حصہ تھا، جس کے بارے میں سپرا سوچتا تھا کہ ملک کی تقدیر اب اسی عمارت کے بھروسے لکھی جائے گی اور سیاست میں تبدیلی یہی عمارت لے کر آئے گی۔ عمارت مسمار کرنے کے بعد وہاں ایک چہار دیواری کے چاروں طرف زعفرانی کپڑوں کی ایک دیوار کھڑی کردی گئی تھی۔ ملک کا موسم اس وقت سے بدترین ہونے لگا تھا جب اس مقام پر دو سال قبل گولیاں چلائی گئی تھیں۔ ادھر چنار کے درختوں سے شعلے نکلنے شروع ہوگئے تھے۔ سپرا سیاست میں ان موسموں کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی محسوس کررہا تھا کہ ہوا بدل رہی ہے اور اس ہوا میں نفرت کے کیڑے لگنے شروع ہوگئے ہیں۔

سیاسی قتل لکھنے کے دوران وہ حکمراں پارٹی کے ایک مسلم لیڈر سے ملا جو کبھی وزیر رہ چکے تھے۔ محمود خورشید۔ حکمراں پارٹی کے پرانے آدمی۔ وکیل بھی تھے۔ شاندار شخصیت کے مالک۔ اکثر پارلیمانی اجلاس کے بعد محمود خورشید کا ساتھ ہوتا تو گفتگو کا مزاج دلچسپ ہوجاتا۔ باہر سے تعلیم حاصل کرکے لوٹے تھے اور سیاست میں بلند مقام حاصل کیا تھا۔ اقلیتوں کے رہنما بھی تھے۔ مسیح سپرا نے محمود خورشید کو سیاسی قتل کے بارے میں بتایا تو وہ اچھل پڑے۔

‘ پارٹی سے بغاوت کرناچاہتے ہیں ؟’

‘ یہ بغاوت ہے؟’

‘ سیدھے سیدھے بغاوت۔ اور آپ کو اس کا اختیار نہیں ہے۔’

‘ کیوں؟’

‘ کیوں کہ ہم اس مہان آتما کے بندر ہیں۔ آنکھ بند۔ کان بند۔ زبان بند۔’

‘ کیا یہ زبان بندی آپ کو پسند ہے ؟’

‘ پسند ناپسند کا سوال نہیں۔ سوال ہے کہ آپ پارٹی میں ہیں تو آپ کو پارٹی کے اصولوں پر چلنا ہے۔’

‘ کیا پارٹی اپنے اصولوں پر چل رہی ہے؟’

‘ نہیں۔’

‘ کیا پارٹی ملک کو دھوکہ نہیں دے رہی ہے۔’

‘ زبان بند۔’

‘ کیا اقلیتوں کو نچایا نہیں جارہا؟’

‘ زبان بند۔’

‘ کیا زبان بندی پہلی بار ہورہی ہے؟’

‘ نہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہے۔ ہم سے پہلے جو آئے، انہوں نے بھی زبان بند رکھی۔’

‘ آپ کو کیا لگتا ہے؟’

محمود خورشید نے سپرا کی طرف دیکھا۔’ دو ناؤ پر سواری ہماری پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔’

مسیح سپرا کو احساس تھا کہ پرانی عمارت کے ڈھانے کے بعد ملک کا موجودہ ثقافتی، سماجی، معاشرتی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس تبدیلی کی آہٹ سیاست سے سماج تک واضح تھی۔

اس رات ریحانہ کے برہنہ جسم سے کھیلتے ہوئے سپرا نے ریحانہ کے پستانوں پر ہاتھ پھیرا تو نرم پستانوں میں گرمی کا احساس نہیں ہوا۔ اس نے ریحانہ کے چہرے کو ہلایا۔

‘ تمہارے پستان بھی سیاسی ہوگئے ہیں۔’

‘ مطلب؟’ریحانہ کھلکھلاکر ہنسی۔

‘ تمہارے مزاج و معیار سے چلتے ہیں۔ میری ہاتھوں کی پرواہ نہیں کرتے۔’

ریحانہ نے قہقہہ لگایا۔’ کرائم رائٹر بن گئے ہیں۔’

‘ کون؟ پستان۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔ جذبات کا پتہ لگنے نہیں دیتے۔’

مسیح سپرا نے قہقہہ لگایا۔ اور دوسرے ہی لمحے اس نے محسوس کیا کہ ریحانہ کا جسم تندور بن چکا ہے اور پستانوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔

‘ سب سیاست۔’

سپرا زور سے ہنسا اور سفید گھوڑے کی طرح ہوا میں اڑا اور ریحانہ کے جسم پر چھا گیا۔

[divider](4) قدیم شہر: زندگی یا ملبہ[/divider]

[dropcap size=big]پارلیمانی[/dropcap]

اجلاس میں، پرانی عمارت کو لے کر مختلف پارٹیوں کے لیڈران نے نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ تخریبی عمل کی مخالفت بھی کی۔ کلال پاسبان جم کر گرجے۔ مسیح سپرا نے باہر نکل کر مبارکباد بھی دی۔ میڈیا نے بھی پرانی عمارت کا ساتھ دیا۔ اخبارات نے شرم کی سرخیاں لگا کر جمہوریت کی اہمیت کو واضح کیا۔ مگر محمودخورشید کا خیال تھا کہ یہ تمام باتیں پارلیمانی اجلاس تک محدود ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایسے تمام مقررین کب چھلانگ لگا کر کہاں پہنچ جائیں، کوئی بھروسہ نہیں۔ مسیح سپرا نے اس قدیم شہر کا دیدار اس وقت بھی کیا تھا جب وہ پرانی عمارت موجود تھی۔ اور جب اس نے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا، تو اس کا پہلا استقبال بندروں نے کیا تھا۔ اس وقت یہ تنازعہ ہنگامی شکل اختیار کرچکا تھا۔ جب اس نے اس سرزمین پر قدم رکھا۔ اس وقت بھی سردیوں کا موسم تھا۔ کچھ جگہوں پر الاؤ جل رہے تھے۔ سورج کے نمودار ہونے تک وہ اس مقام تک پہنچ جانا چاہتا تھا، جہاں پرانی عمارت واقع تھی۔ اب اس جگہ پر پولیس پہرہ دے رہی تھی۔ مگر پرانی عمارت شان سے کھڑی تھی۔ آس پاس جنگلی گھاس اُگی ہوئی تھی۔ عمارت بہت پرانی لگ رہی تھی اور جیسا کہ کہا جارہا تھا کہ عمارت چارسو برس پرانی ہے۔ سپرا کو اس وقت بھی عمارت کے قریب جانے نہیں دیا گیا۔ مگر وہ اس تاریخی عمارت کو جی بھرکر دیکھنے کے بعد اپنی آنکھوں میں بسا لینا چاہتا تھا۔ درختوں کے جھرمٹ میں عمارت کے گنبد صاف کہتے نظر آئے کہ ابھی پولیس کا پہرہ ہے۔ مگر بھوکی نگاہیں میرا مشاہدہ کررہی ہیں۔ کرگس آئیں گے اور ساتھ میں چیتے بھی۔ اس وقت دریا کا پانی سرخ ہوگا اور درختوں سے پتے زرد ہوکر زمین پر گررہے ہوں گے۔ سپرانے ایک نظر پولیس والوں کو دیکھا اور پھر احساس ہوا کہ قدیم شہر کی یہ قدیم عمارت آثار قدیمہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ بہت سے مزدور ہیں جو کھدائی کررہے ہیں اور عمارت سے خوفزدہ کرنے والی آوازیں آرہی ہیں۔

( قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ سے )

آوازیں بند ہوگئیں۔ سپرا خواب سے جاگا تو زندگی سرائے کا دروازہ بند تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور کوئی اس سے دریافت کررہا تھا کہ تاریخ کو فراموش کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ کیا تاریخ کی کوئی اہمیت ہے؟ کیا چارسو برس کی طویل مدت کے بعد بھی تاریخ بدل سکتی ہے؟ سپرا کو محمود خورشید کی باتیں یاد آئیں۔ اس نے ہنس کر کہا تھا کہ تاریخ میں اتنے سوراخ ہیں کہ جیل کی سلاخوں میں بھی نہیں ہوں گے۔ ان سوراخوں کے آر پار کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اور ہے تو وہ تبدیل ہوجاتا ہے یا کردیا جاتا ہے۔

سپرا کو مزدوروں کی آوازیں ابھی بھی پریشان کررہی تھیں۔ ریحانہ کو اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

‘ وہ اس قدیم شہر کو ایک بار پھر دیکھنا چاہتا ہے۔’

‘ اس سے بہتر ہے کہ بھالو کا تماشہ دیکھ لو۔’

‘ کیوں ؟’

‘ تم بھی جانتے ہو کہ موسم بدل چکا ہے۔’

‘ اب اتنا بھی نہیں بدلا۔’

‘ تمہاری فکر سے زیادہ بدل چکا ہے۔ بلکہ مجھے احساس ہے کہ تمہاری فکر میں بھی کیکٹس چبھ رہے ہوں گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ یہ تو مجھ سے بہترتم جانتے ہو۔ اور کیوں جانا چاہتے ہو مجھے پتہ ہے۔’

‘ تم کچھ نہیں جانتی۔’

‘ تم اپنی حیرانیوں کو مزیدموقع دینا چاہتے ہو۔’

‘ حیران ہونے کا۔’

‘ ہاں۔ اور غمزدہ ہونے کا بھی۔’

مسیح سپرا نے مسکرا کر پوچھا تھا۔ ‘مجھے اتنا کیوں جانتی ہو؟’

ریحانہ مسکرائی۔ ‘اس لیے کہ میرے اندر کی جنگلی بلی زندہ رہے۔’

‘ جنگلی بلّی۔’

مسیح سپرا ریحانہ کی ان باتوں پر ہی فدا تھا۔ اس نے ایک نرم گداز بوسہ ریحانہ کے حوالے کیا او دوسرے دن قدیم شہر کی پرانی عمارت کو دیکھنے نکل گیا۔

کبھی یہ قدیم شہر اودھ کے نوابوں کی جاگیریں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں کی شان وشوکت اور تھی۔ واجد علی شاہ اس قدیم شہر کے آخری نواب وزیر تھے۔ جب واجد علی شاہ کا اودھ سے حقہ پانی ختم کیا گیا، بیگم حضرت محل نے اس جاگیر کی حفاظت کی۔ انگریز ۱۸۵۶ تک شہر پر شب خون مارنے سے گھبراتے رہے۔ اس شہر کو لے کر صرف ایک مذہب کی کہانیاں روشن نہیں تھیں، بلکہ اس قدیم شہر پر جین، مسلمان، بودھ سب کی نشانیاں موجود تھیں۔ ایک دفعہ اس قدیم شہر میں ایک گڑھی کو لے کر تنازع پیدا ہوا تو نواب واجد علی شاہ نے ہندؤں کے حق میں فیصلہ سنایا۔

ہم عشق کے بندے ہیں، مذہب سے نہیں واقف
گر کعبہ ہوا تو کیا، بت خانہ ہوا تو کیا

عشق کے بندے، عشق سے دور ہوگئے، بت خانہ آباد ہوا اور پرانی عمارت ملبہ میں تبدیل ہوگئی۔ ۱۲ ویں سے ۱۷ ویں صدی تک اس شہر پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ شمال میں میلوں پھیلی ہوئی سرمئی زمین۔ کچھ مٹی کے ٹیلے۔ اسٹیشن پر وہی بندروں کا ہجوم۔ اور اسٹیشن پر قدیم شہر کی سواری چیختے ہوئے ٹیمپو والے۔ مغربی علاقے کی طرف کچھ کچے پکے مکانات۔ مسیح سپرا کی آنکھیں اس پرانی عمارت کو تلاش کررہی تھیں۔ مگر اب وہاں ملبہ تھا اور ملبہ کا کچھ حصہ زعفرانی چادر سے گھرا ہوا تھا۔ مزدور پسینہ بہاتے ہوئے کھدائی کررہے تھے۔ سپرا کو شہر کی فصیلیں نظر آرہی تھیں۔ وہ دوبارہ ان آوازوں کی زد میں تھا، جو اس نے پچھلی بار سنی تھیں۔ مزدوروں کو یہ آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ کافی تعداد میں پولیس والے تھے۔ سپرا کو دور ہی روک دیا گیا۔ رسّیوں کا ایک گھیرا بنایا گیا تھا۔ گھیرے کے پاس کھڑے لوگ اب بھی چیخ رہے تھے اور نعرے لگارہے تھے۔ مسیح سپرا کو اس وقت پہلی بار دورہ پڑا تھا۔

یہاں پرانی عمارت تھی۔
اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

ابّاحضور تھے۔ ۔ ۔
اب نہیں ہیں۔ ۔ ۔

امّاں حضور تھیں۔ ۔ ۔
اب نہیں ہیں۔ ۔ ۔

پرانی عمارت میں تین گنبد تھے۔ ۔ ۔
اب کچھ بھی نہیں ہیں۔ ۔ ۔

— اس کے بچپن کا ایک دوست رفیق تھا۔
— اب نہیں ہے۔

پرانی عمارت تھی۔ اور یہ نظروں کا دھوکہ نہیں ہے۔
— مگر اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

— صرف انسان نہیں گم ہوتے۔ نقشے گم ہوجاتے ہیں۔ عمارتیں گم ہوجاتی ہیں۔ مکاں گم ہوجاتے ہیں۔ مکیں گم ہوجاتے ہیں۔

مسیح سپرا ہے۔ ۔ ۔
مسیح سپرا بھی نہیں رہے گا۔

یہ مردوں کی بستی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کھنڈرات سے بلند ہونے والی آوازیں دوبارہ اس کے کانوں میں چنگھاڑنے لگیں۔ سپرا کو لگا، روحیں ہیں جو آثار قدیمہ میں بھٹک رہی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھیرا بندی کرنے والی رسّی بوسیدہ دھاگے میں تبدیل ہوگئی اور اس نے الجھے دھاگو ں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ پھر اس نے دیکھا کہ جو لوگ رسّیوں کے پیچھے کھڑے تھے، وہ ارواح میں تبدیل ہوگئے۔ ان کے لباس سفید تھے۔ پاؤں ہوا میں معلق تھے۔ آسمان کا رنگ گیہواں تھا۔ ایک سفید گھوڑا تھا، جو آسمان پر اڑرہا تھااور بادلوں کے نرغے میں وہی عورت تھی، جو نقاب پہنے تھی۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی چمک تھی۔ سپرا نے زیر لب بڑ بڑانا جاری رکھا۔

وہ ہے۔ ۔ ۔
وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔

پرانی عمارت تھی۔ ۔ ۔ پرانی عمارت اب نہیں ہے۔ ۔ ۔

ملبے کو دیکھنے والے ابھی، یہیں رسّیوں کے قریب جھول رہے تھے۔ ۔ ۔
اب یہ ارواح ہیں اور مرچکے ہیں۔

وہ مردوں کی بستی میں ہے اور مردوں کے ساتھ چل رہا ہے۔ سپرا کی سانسیں گھٹ رہی تھیں وہ اضطرابی کیفیت میں تھا۔ گھر لوٹنے تک وہ اسی کیفیت میں رہا۔ ریحانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ مگر بے آواز رہی اور خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔

‘ کیا میں ہوں۔’
‘ہاں تم ہو۔ اور میں بھی ہوں۔’

پھر اسے کچھ یاد نہیں۔ پرانی عمارت، ملبہ، ارواح جیسے کچھ الفاظ دہراتے ہوئے اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔

ریحانہ کے مطابق وہ ۴ گھنٹے تک بے ہوش رہا۔

سپرا کو یقین ہے، یہ چار لمحے اس نے اس عورت کے ساتھ گزارے جو بادلوں کے درمیان نقاب لگائے کھڑی تھی اور اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

[divider](5)[/divider]

[dropcap size=big]پارلیمانی[/dropcap]

اجلاس کے ساتویں دن گاڑی سے اترتے ہی کلاّ پاسبان سے دوبارہ ملاقات ہوگئی۔ اس کی داڑھی بڑھی تھی۔ رنگ کالا تھا۔ لمبا تھا اور زیادہ تر سفاری سوٹ میں ہوتا تھا۔ وہ ان لیڈروں میں سے ایک تھا جو وقت کے ساتھ بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ اقلیتوں کے حقوق کی باتیں کرتا تھا۔ ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی باتیں کرتا تھا اور ایک خاص طبقہ کے درمیان وہ مقبول ترین لیڈروں میں سے ایک تھا۔ مسیح سپرا نے پاسبان کے ہاتھوں کو گرمجوشی سے اپنے ہاتھ میں لیا۔

‘آپ نے کمال کردیا۔’

‘ کیسا کمال۔’

‘ اس دن جوآپ نے تقریر کی۔’

ارے یار’پاسبان مسکرایا۔’ قیدیوں کی تکلیف سننے کے لیے کہاں جاؤگے، ظاہر ہے جیل میں؟ وہاں ان کے پسینے کی بدبو بھی سونگھوگے۔ یہ اقلیت بھی قید میں ہیں اور صدیوں سے سسٹم انہیں قید کرتا رہا ہے۔ انہیں روشنی سے زیادہ پیار کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے اپنے ہیں۔ پرانی عمارت ڈھادی گئی؟ بنیاد کیا تھی؟ محافظ ہی دشمن بن جائیں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ آپ اتنا سوچتے ہیں۔’

‘سوچنا پڑتا ہے اور بولنا توآپ کو بھی چاہیے۔ ایک انہیں سسٹم لگاتار صاف کرنے پر مجبور ہے اور یہ سہارا چاہتے ہیں۔ سیاست میں آنے کا مطلب کیا ہے؟ سیاست میں ہمارے کون ہیں۔ یہی محدود اقلیت والے۔ ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا۔ اتنی زحمت تو اٹھانی ہوگی۔’

‘ لیکن اقلیتوں کے بارے میں کون سوچتا ہے۔’

‘سوچنا تو ہوگا۔ اقلیتیں محض ووٹ بینک بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو اپنی مضبوطی کا احساس کرانا ہوگا۔ مسیح سپرا کے لیے یہ ایک بے حد خاص دن تھا۔ کلّا پاسبان کی باتوں نے اس پر اثر کیا تھا۔ مگر مجبوری تھی کہ پارٹی لائن کو دیکھتے ہوئے وہ زبان بندی کے لیے مجبور تھا۔ اس رات سیاسی قتل کے لیے اس نے ایک اور منظر لکھا۔ ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ہائی کورٹ کے ایک جج نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدلیہ اور حکمراں طبقہ میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ پھر اسی جج نے ناظم پورہ کے ان پولیس والوں کی رہائی کا حکم دیا تھا، جن کے قتل کے شواہد موجود تھے۔ یہ ایک دلچسپ منظر تھا اور مسیح سپرا نے اس منظر کو اسی طرح لکھا جس طرح یہ پیش آیا تھا۔ ناظم پورہ پولیس والوں کی رہائی کے بعد جب دوبارہ پریس کانفرنس ہوئی تو جج بھٹا چاریہ سے پریس والوں نے کئی طرح کے سوال پوچھے، لیکن بھٹا چاریہ کے پاس ہرسوال کا جواب موجود تھا۔

‘ جب پولیس والے بے گناہوں کو لیے جارہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ؟’
‘ میں وہاں نہیں تھا۔’

‘ وہ اقلیت تھے اور خوفزدہ اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’
‘ میں وہاں نہیں تھا۔’

‘ کچھ دن پہلے آپ نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ ۔ ۔ ۔’
‘مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اور آپ بھی یاد رکھیے کہ آئین اور عدلیہ پر سوال اٹھانا بھی جرم ہے۔ آپ کو اس کی سزا مل سکتی ہے۔’

‘ کیا پولیس والوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔’
‘ پولیس مجرموں کو پکڑنے کے لیے ہوتی ہے۔’

‘ کیا وہ بے قصور تھے یا بے گناہ؟’
‘وہ مجرم تھے۔’

‘ کیا اقلیت میں ہونا مجرم ہونا ہے؟’
‘ مجرم کوئی بھی ہوسکتا ہے۔’

‘ لیکن شواہد موجود ہیں۔ ۔ فوٹیج موجو د ہے۔ تصاویر موجود ہیں۔’
‘ ثبوت کوئی بھی نہیں۔’

ثبوت تو تصویریں ہیں۔’
‘ تصویروں کوثبوت نہیں مانا جاسکتا۔’

‘اچھا، ایک سوال اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو مجرم جیت کر پارلیمنٹ پہنچ جاتے ہیں۔’
‘ پھر وہ مجرم نہیں رہتے۔’

‘ سیاست بدل رہی ہے یا دنیا؟’
‘ دونوں طرف تبدیلی کا استقبال کرنا چاہیے۔’

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسیح سپرا کو پرانی عمارت کا ڈھایا جانا ہندوستان اور سیاست کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ لگتا ہے۔ اس موقع پر جشن منانے والوں کی کمی نہیں تھی۔ ایک بڑا طبقہ اسے فتح کے طور پر لے رہا تھا اور دوسرا طبقہ صدمے میں گم۔ مسیح سپرا جانتا تھا کہ یہ سیاست آگے بھی چلتی رہے گی اور ایک مخصوص طبقے پر اپنا اثر ڈالے گی۔ اس کا ناول ‘سیاسی قتل’ مکمل ہوچکا تھا۔ وہ اس ناول پر ہونے والے ہنگامے سے واقف تھا لیکن یہ بھی جانتا تھا کے سیاست میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور بہت سے راستے کھلے رہتے ہیں۔ ‘سیاسی قتل’ پریس میں جاچکا تھا۔ ان دنوں ریحانہ امید سے تھی سپرا اس کا پورا خیال رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس موقع پر عورت کیا چاہتی ہے۔ اس کو آرام سے زیادہ شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ایک اچھا شوہر بن کر دکھانا چاہتا تھا۔

پرانی عمارت گرنے کے بعد کئی شہروں میں فسادات ہوئے۔ نفرت کی آگ بڑھتی جارہی تھی۔ اس رات سپرا نے پھر ایک خوفزدہ کرنے والا خواب دیکھا۔ یہ خواب وہ مسلسل قدیم شہر سے لوٹنے کے بعد دیکھ رہا تھا۔ وہی، وحشیوں کا ہجوم جو پرنی عمارت کے گنبد پر چڑھ گئے ہیں اور پرندوں کا ہجوم واپس جارہا ہے۔ پھر اس وحشی ہجوم کو اس نے اپنے گھر کے دروازے پر دیکھا۔ لیکن ایک بات عجیب تھی۔ وحشی ہجوم کے گھیرے میں ریحانہ تھی۔ اور ریحانہ کے ہاتھ خون سے تربتر تھے۔ خواب کی یہ تعبیر سپرا کو ایک ماہ بعد سمجھ میں آئی۔ جب رات کے پچھلے پہر ریحانہ کی تیز چیخ گونجی۔ سپرا خوفزدہ ہوکر اٹھ گیا۔ کمرے میں روشنی کی۔ ریحانہ کو دیکھا۔ وہ بستر پر تڑپ رہی تھی اور اس کے ہاتھ خون سے بھیگے تھے۔ رات کے وقت ہی سپرا ریحانہ کو لے کر مدر اسپتال گیا۔ وہاں کے معالج نے ریحانہ کو فوراً آپریشن تھیٹر بھیج دیا۔ کاریڈورمیں کھڑا ہواسپرا رب سے دعائیں مانگ رہا تھا۔

دھند۔ ۔ ۔ ۔ دھند میں کتنے چہرے کھوجاتے ہیں۔ عمارت کھوگئی۔ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔ کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹروں نے آکر بتایا کہ ۵ ماہ کا حمل تھا۔ سپرا زور سے چیخا۔ گوشت کا زندہ لوتھرا۔ ۔ ۔ ؟

اس کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ ریحانہ کے پیٹ میں تھا۔ پیٹ سے ہی چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ اندھیرے سے اندھیرے کی طرف۔ تین دن تک ریحانہ اسپتال میں رہی۔ وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مگر سپرا کو احساس تھا کہ وہ جلد نارمل نہیں ہوسکے گا۔ وہ پانچ ماہ کے گوشت کے لوتھّڑے کو دیکھ بھی نہیں سکا۔ لوتھڑا، جس میں اس کا خون بھی شامل تھا۔ ایسا بھی ہوتا ہے، جسم کے اندھیرے سے بھی ایک راستہ انجان جزیرے کی طرف جاتا ہے۔ ایک ایسے جزیرے کی طرف جہاں روشنی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ گھر آنے کے ایک ہفتہ کے اندر ریحانہ نے بہت حد تک خود کو نارمل کرلیا تھا مگر مسیح سپرا پر دورے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔ اور اس رات جب آسمان میں چاند روشن تھا، اس کا خیال تھا کہ شہر کی فصیلوں پر بھیڑیے دوڑ رہے ہوں گے۔ متواتر دوڑنے کے عمل سے دھول اڑ رہی ہوگی۔ گزرگاہوں سے بنجاروں کا قافلہ جارہا ہوگا۔ بے نیاز۔ اور بھیڑیے اچانک بنجاروں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

تم نے آواز سنی۔ ۔ ۔ ۔ سپرا کا چہرہ سپید پڑگیا تھا
کیا؟ ریحانہ نے پوچھا۔ ۔ ۔
وہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔
مگر وہ تھا۔ گوشت کا لوھڑہ

ریحانہ زور سے چیخی۔ میں بھول چکی ہوں۔ تم بھی بھول جاؤ۔

‘ کیسے ؟ میں نے تو اسے دیکھا بھی نہیں۔ وہ تنہائی سے تنہائی میں گزر گیا۔ خیال سے خیال آباد میں، تاریکی سے نکل کر خوفناک تاریکی میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ وہ نہیں ہے۔ اور تمہارے جذباتی ہونے سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا زور سے چیخا۔ ‘میں جذباتی نہیں ہوں۔ اس سے رشتہ تھا میرا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کو میں دیکھ بھی نہیں سکا۔’

سپرا سسک رہا تھا۔ دھند میں بنجاروں کی تکا بوٹی کی ہوئی لاشیں پڑی تھیں۔ سپرا کو کب نیند آئی اسے پتہ بھی نہیں چلا۔
صبح آسمان زرد تھا۔ ریحانہ نے بتایا کہ آندھی آئی تھی مگر وقفہ کم تھا۔ کچھ دیر میں ہی آندھی گزر گئی۔ وہ ڈرائنگ روم میں آکر کچھ دیر تک اخبار پڑھتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ تمام باتیں جھوٹی ہیں۔ سیاست جھوٹ کے راستے پر چل پڑی ہے۔ اس کی انتہا خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس کی خاموشی میں اجنبیت کا عنصر قائم تھا۔ اس وقت وہ خود کی شناخت نہیں کرپارہا تھا۔ اس کی کتاب مارکیٹ میں آچکی تھی۔ مگر وہ ابھی کتاب کے بارے میں کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا وہ خود فراموشی کی کیفیت میں تھا مگر وہ لوتھڑابار بار اس کی نگاہوں کے سامنے آکر اس کو زخمی کررہا تھا۔

ریحانہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

‘ تم اس پورے ہفتے کہیں نہیں گئے۔’

‘ ہاں۔’

‘ سیاست میں ہو۔ سیاست میں گرگٹ بننا پڑتا ہے۔’

‘ میں نہیں بن سکتا۔’

‘ پھر لومڑی بن جاؤ۔’

‘وہ بھی نہیں۔’

‘ پھر سیاست میں کیوں ہو؟’

‘ میرا خیال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا آہستہ سے بولا۔ ۔ ۔ سیاست مجھ سے اپنا رشتہ ختم کررہی ہے۔ اور یہ بہت جلد ہوگا۔’

‘ انتظام تم نے ہی کیا ہے۔’

‘ ہاں۔ سیاسی قتل۔’

‘ یہ قتل تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔ سیاسی قتل۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

ریحانہ آہستہ سے بولی۔ اس کے بعد وہ رُکی نہیں۔ کمرے سے باہر نکل گئی۔

[divider](6)[/divider]

[dropcap size=big]سپرا[/dropcap]

کے سر میں تکلیف ہے۔ بہت کچھ گڈ مڈ ہورہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور گڈ مڈ ہونے کا احساس کوئی نیا نہیں۔ مثال کے لیے اس وقت تیسری آنکھ سے وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ وہ دیکھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کمان تک اس کا ذکر ہورہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ پارٹی میں اس کی موجود گی کو پسند نہیں کیا جارہا ہے۔ اور وہ جانتا ہے کہ میٹنگ میں اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے اور اس کی تیسری آنکھ کھلی ہے۔ ناسترو دومس اس تیسری آنکھ میں خود آکر بیٹھ گیا ہے۔ اور وہ اسے اس منظر کو دکھانے کی کوشش کررہا ہے۔ ، جو وہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ ایک ہال ہے۔ ایک بڑی سی میزہے۔ محمود خورشید اور پارٹی کے دوسرے ممبرز خاموش بیٹھے ہیں۔ محمود خورشید انہیں ناول کے کچھ الگ الگ حصے پڑکر سنا رہا ہے۔ اس منظر میں اعلیٰ کمان اور قومی صدر کی موجودگی نہیں ہے۔ ذمہ داری کچھ ممبرز پر ڈالی گئی ہے۔ محمود خورشید کچھ الگ الگ حصے سنانے کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔
سنیتا میڈم کی آواز ابھرتی ہے۔ ویری بیڈ

اعظم قریشی کہتے ہیں۔ باسٹرڈ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چپ ہوجاتے ہیں۔

محمود خورشید کا بیان آتا ہے۔ ‘زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ تیسرے درجے کا ادیب ہے۔’

اعظم قریشی کہتے ہیں۔’ مگر عوام میں مقبولیت تو ہے۔ ۔ ‘

رنجن ریڈی کہتے ہیں۔ ‘اقلیتوں کا ووٹ بینک ختم ہوجائے گا۔ ‘

محمود خورشید جواب دیتے ہیں۔’ کم ہوسکتا ہے ختم تو نہیں ہوگا۔ ‘

نیل سریواستو کے چہرے پر الجھن ہے۔ سپرا کو سمجھنا تو چاہیے تھا کہ وہ پارٹی میں ہے۔ پارٹی کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اس نے تو صاف صاف لکھ دیا کہ سب کچھ راؤ کی نگرانی میں ہوا۔ ذمہ دار راؤ ہے۔

محمود خورشید مسکرائے۔ سب کچھ صاف۔ بی مشن کی ذمہ داری کم۔ حکومت کی زیادہ۔ قاتل ہم ہیں۔ یہی پیغام دیا گیا۔

‘ یہ پیغام دور تک جائے گا۔’

‘ضرور جائے گا۔’رنجن ریڈی نے کہا، وہ عوام میں پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

نیل سریواستو نے کہا۔ یہ سیدھے سیدھے بغاوت ہے۔

رجنی سنگھ نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا۔ پھر کہا۔ لیکن کیا یہ غلط ہے۔ ایسا تو ہوا ہے۔ اس سے ایک اور پہلو سامنے آتا ہے کہ پارٹی میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو صرف کٹھ پتلی نہیں ہیں۔

‘ یہ پیغام کتنے لوگ سمجھیں گے؟’

رجنی نے نیل سریواستو کی طرف دیکھا۔ ‘کیا راؤ کی مرضی کے بغیر پرانی عمارت کو ڈھایا جانا آسان تھا؟’

‘ آپ بھی سیدھے سیدھے بغاوت کررہی ہیں۔’

‘ ابھی بغاوت کئی لوگ کریں گے۔’ رجنی کی آواز گونجی۔ میں بھولی نہیں ہوں۔ جب امرتسر گولڈن ٹیمپل میں گولیاں چلی تھیں۔ اب یہ حادثہ۔ کیا اس حادثہ کو روکا نہیں جاسکتا تھا؟

نور پٹیل نے لقمہ دیا۔’کیا آپ بھی راؤ پر الزام لگارہی ہیں؟’

‘ میں پوچھ رہی ہوں۔’

‘ کیا اس طرح کی باتیں ان حالات میں پوچھنا مناسب ہے؟’

محمود خورشید نے کہا۔’ہم یہاں مسیح سپرا پر فیصلہ لینے آئے ہیں۔’

نور پٹیل نے سختی سے کہا۔ ‘اعلیٰ کمان ناراض ہء۔ بہتر ہوگا کہ اسے پارٹی سے بغاوت کرنے کے جرم میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پارٹی مسیح سپرا کے خیال سے اتفاق نہیں کرتی۔’

‘ یہ معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔’

‘ ہر معاملہ طول پکڑ تا ہے۔’

‘ یہ آزادی کے بعد کا سب سے اہم معاملہ ہے۔’

‘ اور ہماری ہی پارٹی کو قصوروار کہا جارہا ہے۔’

رجنی نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔’پارٹی میں بولنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پھر تو میں بھی جلد نکال دی جاؤں گی۔’

نور پٹیل بولے۔’پھر تو آہستہ آہستہ سب بغاوت کرنے لگیں گے۔’

‘کبھی بغاوت کے بارے میں سوچا ہے؟’ نور پٹیل نے مسکراکر پوچھا۔’پارٹی کے لیے مشکل یہ ہوگا کہ ریاستی سطح کی پارٹیاں کامیابی کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی اور دوسرا راستہ بی مشن بن جائے گا۔ بی مشن کو کم نہ سمجھئے۔’

‘ حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔’

‘ میں نہیں مانتا۔’ نور پٹیل نے لقمہ دیا۔ وہ سنجیدہ تھے۔ ہماری پارٹی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب وقت بدل رہا ہے نور پٹیل صاحب۔’

‘ ہندوستان میں اکیلی ہماری پارٹی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ میں سوچتی ہوں۔’رجنی نے بات آگے بڑھائی۔ ‘ریاستی سطح پر ہمارا زوال شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہے۔ یہاں سے بغاوت ہوگی تو ریاستی پارٹیاں اوربی مشن کا راستہ کھلے گا۔ پارٹی کو گمان و غرور سے باہر نکلنا چاہیے۔ ‘

‘ پھر کیا کرنا چاہیے؟’ محمود خورشید کی آواز کمزور تھی۔

‘ ہم ایک بار اعلیٰ کمان سے بات کریں۔ پھر کوئی مناسب فیصلہ لیں۔’رنجن ریڈی بولے

‘ بہتر۔’

اعلیٰ کمان سے بات اور اگلی میٹنگ پر سب کی مہر لگ گئی — اور میٹنگ برخاست ہوگئی۔

سپرا کا خیال تھاکہ ابھی طوفان کا زور ختم نہیں ہوا ہے۔ ایک سلسلہ ہے، جو ابھی ختم نہیں ہوگا۔ ابھی ان طوفانوں کو آنا بھی باقی ہے جو ملک کی تقدیر کا نیا صفحہ لکھیں گے۔

سپرا کھڑکی کھولتا ہے تو سامنے عمارتیں نظر آتی ہیں۔ وہ کھڑکی کی سلاخوں کو تھامے سامنے اُگی ہوئی جھاڑیوں کو دیکھتا ہے۔ کچھ دیر بے بسی کے عالم میں یونہی باہر کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ واپس اپنے کمرے میں لوٹتا ہے تودیوار سے لگے ریک پر سجی ہوئی اپنی کتابوں کو دیکھتا ہے۔ سرائے میں قتل۔ ۔ ۔ ۔ قاتل عورت، موت ہے دروازے پر۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنی ہی کتابوں سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکل جائے، اس وقت اس کو کھلی اورخوشگوار ہوا کی ضرورت ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور بند بند فلیٹ سے اس کو گھٹن ہورہی ہے۔ دروازہ کھول کر وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکلتا ہے۔ مخالف سمت میں جامن کے درخت ہیں۔ ایک چھوٹا سا پارک ہے پھر ایک قطار سے کچھ دکانیں بنی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ اسے پہچانتے بھی ہیں۔ مگر اس وقت وہ خود کو لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہتا ہے۔ اسے ایک بڑی تبدیلی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ پرانی عمارت کے ڈھائے جانے سے اخلاق اور کردار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ اب ایک نئی بحث چل پڑی ہے۔ اسے شدت سے احساس ہے کہ وہ حاشیہ پر آگیا ہے۔ اسے ریحانہ کی لہو سے تر انگلیاں نظر آتی ہیں۔ اس وقت وہ پریشان ہے۔ اس لیے ذہن ودماغ کی سکرین پر ایک کے بعد ایک منظر تبدیل ہورہا ہے۔ اور شاید یہ سب بہت ڈراؤنا ہے۔ آنے والے وقت میں بہت کچھ تیزی سے بدل جائے گا۔ سامنے کے فلیٹ سے ایک لڑکی اترتی ہے۔ وہ اس لڑکی کو جانتا ہے۔ عام دنوں میں یہ لڑکی سپرا کی طرف دیکھ کر ہیلو انکل ضرور کہتی تھی۔ پھر یہ بھی پوچھتی تھی کہ ان دنوں آپ کیا لکھ رہے ہیں۔ اسے یقین ہے، لڑکی نے اسے دیکھا ہے۔ مگر وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ ممکن ہے وہ جلدی میں ہو۔ مگر ایک پہلو اور بھی ہے کہ نظریں بدل رہی ہیں۔ اس وقت وہ شکست خوردہ ہے۔ اور اس لیے اس کے ساتھ پارٹی کوئی بھی فیصلہ سنا سکتی ہے—

اس کے پاس میڈیا والوں کے کئی فون آئے۔ اخبارات سے فون آئے۔ مگر وہ ایک خوفزدہ شخص ہے۔ اس لیے سپرا نے کسی سے گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ گھر کے فون بجتے رہے۔ اس نے ریحانہ کو بھی ہدایت کر رکھی تھی کہ فون نہ اٹھایا جائے۔ اسے کسی سے بات نہیں کرنی ہے۔ پبلشر کا فون آیا تھا کہ یہ کتاب سابقہ کتابوں سے زیادہ مقبولیت حاصل کررہی ہے۔ بلکہ ریکارڈ بنا رہی ہے۔ سپرا کو یقین ہے کہ معاوضہ اس بار زیادہ ملے گا۔ اگر پارٹی سے الگ ہوتا ہے تو وہ دوبارہ لکھنے کی طرف لوٹ آئے گا اور بار پبلشر سے بڑی قیمت وصول کرلے گا اور نیا معاہدہ تیار کرے گا۔

سپرا اچانک ٹھہرتا ہے۔ وہی خانہ بدوشوں کی ٹولی۔ یہ خانہ بدوش دور سے اپنے لباس میں نظر آجاتے ہیں۔ سپرا کو احساس ہوتا ہے، پہلے یہ خانہ بدوش ملک میں نظر نہیں آتے تھے اب بہت تیزی سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور اسے یقین تھا کہ ایسے خانہ بدوشوں کے گھر بار نہیں ہیں۔ وحشیوں کے پاس احساس وجذبات نہیں ہوتے۔ یہ خانہ بدوش دراصل وحشیوں کے قبیلے سے ہیں اور یہ ہر وقت ہتھیار سے لیس رہتے ہیں۔ ۔ ۔ اور اب یہ ملک کے چپّے چپّے پر پھیل رہے ہیں۔

وہ دیر تک ان وحشیوں کو دیکھتا رہا جو نعرے لگاتے ہوئے سڑک سے گزر رہے تھے۔ سپرا کو خبر ملی تھی کہ رجنی سنگھ نے پارٹی چھوڑدی اور خاموشی سے بی مشن کو جوائن کرلیا۔ جوائن کرتے ہوئے اس نے بیان دیا کہ پارٹی اپنے اصولوں سے الگ ہوکر کمزور پڑ گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور آہستہ آہستہ پارٹی کمزور ہوجائے گی۔ کلا پاسبان نے بیان دیا تھا کہ ملک کی جمہوریت اور ملت کو قائم رکھنے کے لیے سب کو ایک ساتھ ہوکر چلنا ضروری ہے۔ سپرا ان بیانوں کی حقیقت جانتا تھا۔ مگر اس وقت اس کے ذہن میں وحشی ناچ رہے تھے۔ کچھ دیر کی آوارہ گردی کے بعد وہ گھر آگیا۔ ریحانہ نے خاموشی سے پوچھا۔

‘ تمھارے چہرے پر تین طرح کے تاثرات ملتے ہیں۔’

سپرا ایک دم سے چونک گیا۔’ وہ کیا؟’

‘ پہلا تاثر۔ بغیر ہتھیار کے خود سے جنگ کررہے ہو۔ ‘

‘ دوسرا ؟’

‘ خرگوش اور لومڑی میں فرق کرنا بھول گئے ہو۔’

‘ مطلب؟’

‘ کنفیوز ہو۔’

‘ اور تیسرا؟’

‘ ٹھگ بننے جارہے ہو۔’

‘ ٹھگ۔ ۔ ۔ امیر علی جیسا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا نے چونک کر دیکھا۔

‘ امیر علی کیوں۔ دنیا میں صرف ایک ہی ٹھگ ہے کیا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں ٹھگ کیسے ہوگیا؟’

ریحانہ زور سے ہنسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’تمہارے اندر جو کشمکش چل رہی ہے، اس کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کشمکش یہ ہے کہ سیاست سے الگ ہوتے ہو توپبلشر کو ٹھگوگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ مائی گاڈ۔’

سپرا اداس موسم سے ایک لمحے میں باہر نکل آیا۔ یہ عورت؟ یہ عورت پاگل ہے یاناسترودومس؟یہ کتنا پہچانتی ہے اس کو۔ یہ اس کی آنکھوں کو پڑھتی ہے۔ اور دل کے تمام راز جا ن لیتی ہے۔ سپرا نے قہقہہ لگایا۔ کتنے دنوں بعد وہ کھل کر ہنسا تھا۔ اس کی چوری پکڑی گئی تھی۔ ریحانہ نے مسکراتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔

‘ چاند کو زیادہ مت دیکھا کرو۔ تمہارے لیے چائے لاتی ہوں۔’

سپرا کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

‘یہ تم ہی ہو جو مجھے قدیم شہر کے ملبے سے صاف نکال لیتی ہو۔’

سپرا کو نہیں پتہ کہ ریحانہ تک اس کی آواز پہنچی یا نہیں پہنچی۔ کافی دنوں بعد گھر کا ماحول بدلا تھا۔ وہ ابھی کچھ اور سوچنے کی منزل میں نہیں تھا۔ سیاست سے اس کی نفرت بڑھتی جارہی تھی۔

[divider](7) پھر وہی خانہ بدوش[/divider]

[dropcap size=big]وہ[/dropcap]

ہتھیاروں سے لیس آسمان سے ٹپکے اور زمین پر چھا گئے۔ وہ زمانۂ قدیم کی تہذیبوں کو زندہ کرانے آئے تھے اور اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ پہلے بھی وہ خانہ بدوش تھے۔ صحرا صحرا بھٹکتے تھے۔ اور پتھروں سے آگ نکالتے تھے۔ چھریاں چاقو بناتے تھے اور خانہ بدوشوں کو زمین کا ہر خطہ اپنا لگتا تھا۔ ۔ وہ ایک بار پھر نئی تاریخ کے روبرو کھڑے تھے۔ جب پتھر نرم تھے اور ہاتھ کھردرے، وہ لہو کی نمائش دیکھنے آئے تھے۔ ۔ ۔ اور ان خانہ بدوشوں میں سے کچھ نے مہذب دنیا کو اختیار کیا ہوا تھا اور ان کے ارادے بلند تھے، ان کے گھوڑے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔

وشال کرشن ناتھانی قدما کی کتابیں پڑھتا تھا اور نرم اسلحے جمع کرتاتھا۔ اسے یقین تھا، اس نے موجوں کا رُخ تبدیل کردیا ہے۔ ہوا اس کے اشارے کی محتاج ہے۔ زمین پر خانہ بدوشوں کے قدم جم چکے ہیں اور اب لال قلعہ کی فصیلوں سے پرچم لہرانے کا وقت آچکا ہے۔ اس وقت بانسری جوشی اس کے ساتھ تھے۔ موسم بہار کا تھا مگر گفتگو میں سنجیدگی تھی۔

— ملبے سے زلزلے کی آوازیں آرہی ہیں۔

وہم ہے، بانسری جوشی نے کہا۔

—ہم ملبہ سے اٹھیں گے۔

‘ اور چاروںطرف پھیل جائیں گے۔’
‘ مگر کچھ خانہ بدوش۔ ۔ ۔ ۔ ۔’بانسری جوشی کے لہجہ میں شک کے جراثیم تھے۔

‘ کچھ لوگ۔’ وشال کرشن ناتھانی دیر تک کمرے میں ٹہلتے رہے۔ پھر بانسری جوشی سے مخاطب ہوئے۔ یہ کچھ لوگ ہمیشہ سے ہیں۔ ان خانہ بدوشوں کو ساتھ لے کر چلنا کبھی کبھی دشوار ہوجاتا ہے۔

‘ ان میں باغی بھی ہیں۔’

‘ اور یہ فیصلہ کرنا مشکل کہ کون ہمارے ہیں اور کون باغی۔’ وشال کرشن ناتھانی نے عینک اتاری۔ آنکھوں کو صاف کیا۔ بانسری جوشی کی طرف دیکھا۔

‘کیا جمنا کا پانی مختلف سمت بہہ رہا ہے؟

‘ اس کا رخ ہماری طرف ہے۔’

‘ یہاں سے لال قلعہ کی فصیلیں کتنی دور ہیں؟’

‘ فاصلہ زیادہ نہیں۔’

‘ کیا ان فاصلوں کو اور کم نہیں کیا جاسکتا؟’

‘ ابھی اتنا بہت ہے کہ ہوا نے رُخ تبدیل کردیا ہے۔’

ناتھانی ہنسے۔ ۔ ۔ ۔’ اور ہمارے گھوڑے ہوا میں اچھل رہے ہیں۔ قلابازیاں کھا رہے ہیں۔’

‘ کیا ہماری سلطنت قائم ہوگی؟’ بانسری جوشی نے آہستہ سے پوچھا۔

‘ اب دلّی چار قدم ہے۔’ ناتھانی نے کہا۔

‘ یہ چار قدم بہت زیادہ نہیں؟’

‘ مزید شرارتوں کے صفحے کھولے جاسکتے ہیں۔’

‘ نقصان۔’

‘ دھند میں سیکولرازم ہے۔’

‘ آپ سیکولرازم کو دھند میں دفن نہیں کرسکتے؟’

‘ ابھی مشکل ہے۔’

بانسری جوشی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔’ یہ مت بھولیے کہ ہمارارتھ بیل گاڑی سے زیادہ کمزور تھا اور رتھ کی چال بھی دھیمی تھی۔’

‘ مجھے احساس ہے۔’

‘ کل کوئی میزائل لے آئے تو۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ دیکھا جائے گا۔ ابھی سرور ونغمہ کا وقت ہے اور گھوڑے ہوا میں اڑ رہے ہیں۔’

‘ ان گھوڑوں پر لگام لگائیے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ بانسری۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ناتھانی نے بانسری کو غور سے دیکھا۔ انعام تو تمہیں بھی برابر کا ملے گا۔’

‘ مگر تاج کسی اور کا ہوگا۔’

‘ مجھے احساس ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ملک کا نقشہ تبدیل کردیا۔’

‘ تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔’

‘ مجھے احساس ہے۔’ اس بار ناتھانی کا لہجہ کمزور تھا۔’ مگر حکمراں جماعت کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں۔ انہیں خبر ہے کہ آندھی آسکتی ہے۔’

‘ وہاں ہمارے لوگ بھی ہیں۔’

‘ حکمراںجماعت یہ بات بھی جانتی ہے۔’

‘ اب گھوڑے دوڑانے کا وقت ہے۔’ ناتھانی نے گھڑی کی طرف دیکھا، جو دیوار سے لگی ہوئی تھی۔’’وقت ضائع کیے بغیر ہمیں ایک اہم میٹنگ میں شامل ہونا ہے۔ انتخابات نزدیک ہیں۔ رتھ کے پہیے مضبوط کرنے ہوں گے۔

‘ میں کوشش کرتا ہوں۔’بانسری جوشی جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور بغاوت ہوئی تھی۔ کلا پاسبان نے اپنی الگ پارٹی بنالی تھی۔

۱۹۹۱ کے بعد آنے والی ہر تبدیلی پر سپرا کی نگاہ تھی۔ وہ سیاست کا کوئی ماہر کھلاڑی نہیں تھا، مگر آہستہ آہستہ سیاسی چہروں کو قریب سے شناخت کرنے لگا تھا۔ پارٹی دفتر میں اس کی طلبی ہوئی تھی اور سپرا جانتا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔ سپرا کو میجر جو جو کی یاد آئی جو کہا کرتے تھے کہ زندگی کے ہر فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ شروع میں لگتا ہے کہ یہ فیصلہ زندگی کو ناکام بنا دے گا۔ پھرہزار نئے راستے کامیابی کے کھل جاتے ہیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں اسے میجر جوجو کا چہرہ نظر آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کون لوگ ہیں۔ کہاں سے آتے ہیں اورپھر کہاں چلے جاتے ہیں۔

‘ ذرا سی تفریح چاہیے تمہیں۔ چلو شاپنگ کے لیے چلتے ہیں۔’

اس دن ریحانہ کے ساتھ اس نے شاپنگ بھی کی۔ ریحانہ نے اپنے اور اس کے لیے کچھ نئے کپڑے خریدے۔ ریحانہ کے مطابق شاپنگ کا مطلب تفریح ہے۔ ذہن بوجھل ہوتو تفریح کرلو۔ وہ اس تفریح کے بعد گھر آیا تو اسے پارٹی میٹنگ کا خیال آیا۔ شام میں نور پٹیل اور محمود خورشید کے ساتھ اس کی میٹنگ تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس میٹنگ میں اس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ وہ اس کے لیے تیار تھا اور اس لیے ذہنی طور پر اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

میٹنگ آدھے گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ نور پٹیل ٹریفک میں پھنس گئے تھے۔ پہلے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔ چائے پی گئی۔ کسی فیصلے پر پہنچنے تک اس طرح کی فارملٹی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نور پٹیل نے سپرا کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ پھر پوچھا۔

‘ کسی نئی پارٹی سے آفر تو نہیں؟’

‘ کیوں؟ سب چھوڑکر جارہے ہیں اس لیے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ایسا نہیں ہے۔ جوجارہے ہیں، وہ نقصان میں رہیں گے’

‘ یہ فیصلہ کون کرے گا، وقت ؟’مسیح سپرا نے مسکرا کر پوچھا۔

‘ پہلے آپ یہ بتائیے کہ ہمارے علاوہ کوئی مستحکم پارٹی ہے ؟’ محمود خورشید نے اس بار مسکرا کر پوچھا۔

سپرا زور سے ہنسا۔’یہی خوش فہمی ہے۔ دروازہ بند کرلیجیے، آندھی آنے والی ہے۔’

‘ آندھی۔’نورپٹیل چونک گئے۔

مسیح سپرا کا لہجہ اس بار تلخ تھا۔ چیل اڑ رہی ہے۔ سامنے عقاب دیکھ رہا ہے۔ گدھ منڈرا رہے ہیں۔ اگر سچ مچ ایسا ہے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ میں دیکھ رہا ہوں اور اس لیے میں مطمئن ہوں۔ آسمان گدھوں سے بھر گیا ہے۔ ۔ ۔ اور پارٹی کو اطمینان ہے کہ کوئی مصیبت اس پر نہیں آئے گی۔’

‘ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں مسٹر سپرا؟’ نور پٹیل کے تیور سخت تھے۔ آپ جانتے ہیں، آپ کی کتاب نے راؤ کا کتنا مذاق اڑایا ہے۔ اپوزیشن کے لوگ لطف لے رہے ہیں۔’

‘ اس قدر سنجیدگی سے ناول کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بھی لطف لیجیے۔ ایک مرڈر ہوتا ہے اور آخر میں مرڈر ایک سیاسی قتل ثابت ہوتا ہے۔ اب اس کے درمیان کیا کیا واقعات ہیں، اس پر خاک ڈالیے۔’

‘ خاک ہی تو نہیں ڈالی جاسکتی۔ آپ راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں۔’

مسیح سپرا نے اس بار دونوں کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ کمرے کی سفید دیواروں میں بے شمار چہرے پیدا ہوگئے تھے۔ ہر چہرے کی ایک تاریخ تھی۔ وقت کے ساتھ کتنے ہی چہروں پر گرد پڑ چکی تھی۔ ہال کے باہر سے آوازیں آرہی تھیں۔ میجر جوجو کاچہرہ اب نظروں کے سامنے تھا۔ سپرا کو احساس ہوتا ہے، وہ دھول اور طوفان کی سمت دوڑ رہا ہے۔ اس کے پیچھے کچھ لوگ ہیں۔ دوڑتے ہوئے ایک دروازہ نظر آتا ہے۔ ایک پرانی عمارت ہے۔ یہاں ہوا کا گزر نہیں۔ ایک لیمپ ہے جو ٹمٹمارہا ہے۔ کوئی آہستہ سے کہتا ہے، اٹھارہویں صدی۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ ہیں، جن کے چہرے گھٹنوں کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔ ایک چہرہ سر اٹھاتا ہے تو یہ محمود خورشید کا چہرہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا کو اس خاموشی میں بھی خفت ہوتی ہے کہ وہ کن خیالوں کے درمیان ہے۔ یہاں اس کی سیاسی تقدیر پر مہر لگنے والی ہے اور وہ آندھیوں کا تعاقب کررہا ہے۔

‘ آپ کیا سوچتے ہیں۔’ نور پٹیل کی آنکھیں اس بار جھکی تھیں۔

‘ میرا سوچنا ضروری نہیں ہے۔ سوال ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔’

‘ اعلیٰ کمان ناراض ہے۔’محمود خورشید کی آواز ابھرتی ہے۔

‘ کیا آپ اس ہال کے باہر دیکھ رہے ہیں؟’ مسیح سپرا دونوں کی آنکھوں میں جھانکتا ہے۔

‘ ہال کے باہر۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ خانہ بدوش ہیں۔ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اور ایک طوفان ہے۔’

‘ آپ مستقبل کی بات تو نہیں کررہے؟’ نور پٹیل کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔

‘ ہال کے باہر ایک دھند ہے۔ ریاستی سطح کی پارٹیوں کے قد میں اضافہ ہوا ہے۔ اور بی مشن مضبوط۔ کھیلنے کا وقت پہلے بھی نہیں تھا مسٹر نور پٹیل۔ آزادی کے گواہ سب تھے لیکن مسلمان لٹو تھے۔ لٹو؟ لٹو جانتے ہیں آپ؟ میں نے نچایا ہے لٹو۔ مسلمان لٹو کی طرح ناچ رہے تھے۔ آپ ان کے ہاتھوں میں تسبیح تھما رہے تھے۔ پانچ وقت کی نماز اور پارٹی۔ آپ جانتے ہیں، اس راگ کا مطلب کیا ہے؟ آنے والے وقت میں مسلمانوں کے ہزار برس کا حساب لیا جائے گا اور آزادی کے بعد کے برسوں کا بھی۔ آپ کے پاس ایک ڈگڈگی تھی۔ جمہوریت کی۔ پرانی عمارت نے وہ ڈگڈگی چھین لی۔ پھر بھی آپ کوکرگس نظر نہیں آرہے۔ نہ چیل نہ گدھ۔ میں تو بس یہی دیکھ رہا ہوں کہ پارٹی کی بنیاد رکھنے والا بھی ایک فرنگی تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور پارٹی ایک خوبصورت یو ٹو پیا میں جیتی رہی۔ مگر اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب کیا؟’ محمود خورشید کا چہرہ سرخ تھا۔

‘ اخروٹ توڑنے میں کبھی کبھی ہاتھ زخمی ہوجاتے ہیں۔’

‘ یہاں اخروٹ کا ذکر کیسے آگیا؟’نورپٹیل کے چہرے پر ناراضگی تھی۔

‘ اخروٹ۔’مسیح سپرا نے قہقہہ لگایا۔ ‘خانہ بدوشوں کو اخروٹ پسند ہیں۔ اور اب اخروٹ کا موسم آنے والا ہے۔’

‘ واہیات۔’

‘ بے بنیاد باتیں۔’

‘ اخروٹ کا ذکر بے بنیاد ہے مگر راؤ کا نہیں۔ جبکہ پورا ملک یہ جانتا ہے کہ راؤ چاہتے تو پرانی عمارت محفوظ رہتی۔’

‘ یعنی کھلی بغاوت۔’

‘ ہم گلے میں پھندا ڈالے بیٹھے ہیں۔ ناتھانی اور جوشی ریس لگارہے ہیں۔’

‘ اس سے کیا ہوگا۔’

‘ ایک دن تاریخ زرد پتے کی طرح جھڑ جائے گی۔ پھر آپ بھی حاشیہ پر ہوں گے۔’

‘ بالکل بھی نہیں۔ غلط فہمی ہے آپ کی۔’محمود خورشید ذرا زور سے بولے۔

‘ جب تاریخ بدل رہی تھی ہماری لیڈر شپ یاتو قبرستانوں میں اونگھ رہی تھی یا دفن ہونے کی تیاری کررہی تھی۔’

مسیح سپرا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اب اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ہال کے باہر بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ وہ سیڑھیاں اتر کر لان میں آگیا۔ اسے یقین تھا، اب وہ آزاد ہے۔ اور وہ کسی قبرستان میں نہیں ہے۔ اس کو یاد آیا، اسے شاپنگ کرنی ہے۔ پبلشر سے ملاقات طے ہے۔ وہ کسی ریستوراں میں کھانا کھائے گا۔ اور اپنی آزادی کا جشن منائے گا۔ اس درمیان سپراخا موشی سے اپنا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کی گول گول پتلیاں حرکت میں تھیں۔ پاؤں تیزی سے اٹھ رہے تھے۔ ہتھیلیاں گرم تھیں۔ کچھ چھوٹ رہا ہے۔ ابھی وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا۔ وہ پلٹا اور ایک بار پھر سے اس کمرے میں تھا، جس کی دیواریں سفید تھیں۔ زمین پر بھی سفید ٹائلس بچھے تھے۔ دیواروں پر کو ئی پینٹنگس نہیں تھی اور چھت سے دو پنکھے جھول رہے تھے۔ نور پٹیل اور محمود خورشید نے چونک کر، پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔

سپرا مسکرایا۔’ایک بات رہ گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ وہ پھر مسکرایا۔ ۔ ۔’ان کمروں میں چھپکلی نہیں ہے۔ ہونی چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ چھپکلی کیڑوں کا صفایا کردیتی ہے۔’ وہ مسکرا رہا تھا۔

‘ تو تم یہی کہنے آئے ہو۔ ۔ ۔ ۔’نور پٹیل نے پوچھا۔

‘ نہیں۔ پارٹی کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ آزادی کے صرف دو برس بعد پرانی عمارت کا قفل کھول دیا۔ یہ قفل ذرا سی عقل اور رضامندی کے ساتھ بند کیا جاسکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہونہہ۔’محمود خورشید کا چہرہ فق تھا۔

‘ پھر آج جو کچھ ہورہا ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ۔ ۔ اور بہتر ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا بہتر ہے؟’ نور پٹیل کا چہرہ بھی زرد تھا۔

‘ ایسے تمام کمروں میں دو ایک چھپکلیاں ضرور ہونی چاہئیں۔’

سپرا مسکرایا۔ اس کے بعد وہ ٹھہرا نہیں۔ گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی طرف چل دیا۔ اسے ریحانہ کو ساتھ لے کر شاپنگ کے لیے جانا تھا۔ پروگرام میں تبدیلی آگئی تھی۔ اس کے بعد اسے پبلشر سے ملنا تھا۔ اس نے کچھ اور بھی سوچ رکھا تھا۔ جیسے اسے کتّے پسند تھے۔ اس نے جنگلی کتّوں کے بارے میں کافی پڑھا تھا۔ کچھ کتے بھیڑیے کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک بل ڈاگ پالنا چاہتا تھا۔ مگر کتے ریحانہ کو پسند نہیں ہیں۔ ریحانہ کہتی ہے، گھر ناپاک ہوجاتا ہے۔ کتوں کی موجودگی سے گھر میں فرشتے نہیں آتے۔ مسیح سپرا اب خود کو آزاد محسوس کررہا تھا، جبکہ ابھی تک فیصلہ نہیں آیا تھا اور اسے علم نہیں تھا کہ اس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کیا آنے والا ہے۔

آگے ٹریفک جام تھا۔ کوئی حادثہ ہوگیا تھا۔ سپرا نے دیکھا، ایک موٹر سائیکل والا تھا۔ وہ بری طرح زخمی تھا اور پولیس اسے اٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔ کچھ دیر میں ٹریفک صاف ہوگیا۔ اب سپرا کی گاڑی ہائی وے پر دوڑ رہی تھی۔

وہ اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا۔ نئے ناول کا پلاٹ بھی اس نے سوچ رکھا تھا۔ مستقبل کی موت۔ ۔ ۔ اسے احساس تھا، خانہ بدوش اب مستقبل پر گولیاں چلارہے ہیں۔ سارے خانہ بدوش ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مگر کچھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ان جنگلی خانہ بدوشوں سے شکایت تھی جو ملک کی تقدیر بدلنا چاہتے تھے۔ اور اس کے لیے انسانی لہو سے کھیلنا ضروری تھا۔

باب دوم

نئی دنیا، پرانی عمارت اور مردہ گھر

ایک دن
کھدائیوں سے صرف مردہ گھر نکلیں گے
لیکن ہم
ان مردہ گھروں کی شناخت نہیں کر پائیں گے

[divider](1)[/divider]

[dropcap size=big]سڑکوں[/dropcap]

چوراہوں پر ترشول اٹھائے اب ا ن خانہ بدوشوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ سپرا نے ان خانہ بدوشوں کو ہالی وڈ کی فلموں میں دیکھا تھا۔ مارکیز کے ناول میں یہ بھلے خانہ بدوش تھے جو ہر دن نئی دنیا سے ٹکرارہے تھے۔ ان کا ایک سماج تھا اور اس سماج میں محبت جیسی شئے بھی قائم تھی۔ مگر ان خانہ بدوشوں کے چہرے سے زہریلے پوسٹر جھولتے تھے اور ان کے پیچھے وہ لوگ تھے جو تعلیم یافتہ تھے، مہذب معاشرے کے ٹھیکیدار تھے مگر ان کا تعلق اس کیمپ سے تھا، جس کی بنیاد پر نفرت کی فصیلیں قائم کرکے ہی یہ اپنی سلطنت کی بنیاد رکھ سکتے تھے۔

گلیشیرپگھل رہے تھے۔ سائبریا میں گھاس اُگ رہی تھی۔ سائنس کی تجربہ گاہ میں انسان بنائے جارہے تھے اور ناسا نئی دنیاؤں کی دریافت کے لیے تجربے کررہا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی جنگوں کے دروازے کھلے تھے۔ اب ایٹمی ہتھیاروں کی باتیں پہلے سے کہیں زیادہ ہونے لگی تھیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک بھی ایٹمی ہتھیار بنانے پر زور دے رہے تھے۔ اور جیسا کہ ہر من ہیسے نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا، ایک نئی دنیا، مرغی کے انڈے سے باہر نکلنے والی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ دنیا ان لوگوں کے لیے خطرناک ہوگی جو پرانی دنیاؤں سے ابھی بھی چپکے ہوئے تھے۔

سپرا کی آنکھوں میں ایک ٹائم مشین فٹ تھی، جس سے ہوکر وہ اکثر ماضی کی وادیوں میں نکل جاتا تھا۔ اسے شدت سے احساس تھا کہ بچپن سے اب تک کافی حد تک تبدیلی آچکی ہے۔ مگر اس تبدیلی کو بہتر ماننے سے وہ انکار کرتا تھا۔ جب کوئی سہولت یا آسانیاں نہیں تھیں، جب گرمی کے موسم میں پنکھے بھی نہیں ہوتے تھے اور جسم پسینے سے تر بتر ہوا کرتا تھا تب ایک آزادی تھی۔ دوڑنے کی آزادی۔ ۔ ۔ ۔ خوش رہنے کی آزادی۔ اپنی بات کہنے کی آزادی۔ وقت کے چھلانگ لگاتے ہی آزادی کا تصور بہت حد تک ختم ہوگیا تھا۔

یہ دوسرے دن کی خوشنما صبح تھی۔

وہ باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھا تھا۔ ریحانہ چائے کا طشت لے کر آگئی۔ وہ آہستہ آہستہ چائے کا لطف لیتا رہا۔ اس نے ریحانہ کی طرف دیکھا جو اپنی دنیامیں کھوئی ہوئی تھی۔

‘ کیا تم مانتی ہوکہ نئی دنیا کا کوئی خیال ہے جو ہمارے ساتھ چلتا ہے۔’

‘ نہیں، میں نہیں مانتی۔ دراصل یہ پرانی دنیا ہے، جس میں ہم زندہ ہیں۔’

ریحانہ سپرا کی طرف دیکھ رہی تھی۔

‘ یعنی نئی دنیا کا کوئی تصور؟’

‘ ایسا کوئی تصور نہیں۔ یہ وقت ہے جو آگے بڑھتا ہے اور اپنے حساب سے بڑھتا ہے۔ کبھی کبھی ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں، وقت تیزی سے بھاگ رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وقت تیزی سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ہم بچے ہوتے ہیں۔ پھر ایک دن بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ صد ہا سال سے ایک ہی دنیا ہے جو ہمارا تعاقب کررہی ہے۔’

‘ سائنس، گلوبل تبدیلی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور’

‘ یہ سب نئی اصطلاحیں ہیں۔ ہم ہمیشہ پرانی دنیا کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ ۔ ۔ اور نئی دنیا کے احساس کو قائم رکھنے کے لیے نئی اصطلاحیں گڑھتے رہتے ہیں۔’

لیکن ایک نئی دنیا تھی اور اس دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو سپرا نے اس سے قبل محسوس نہیں کی تھیں۔ نئی پرانی دنیا کے تصور میں وقت کا پیمانہ رہ جاتا ہے۔ ایک درزی ہے جو لباس کے لیے جسم کا ناپ لے رہا ہے۔ ایک وقت ہے جو کبھی پیچھے چلا جاتا ہے اور کھسک کر پاس آجاتا ہے۔ ریحانہ اس تصور کو نہیں مانتی تھی مگر اس کے باوجود ایک نئی دنیا برآمد ہورہی تھی۔ اس درمیان بغاوت کے جرم میں، سپرا کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینا پڑا۔ سپرا اپنی کرائم کی دنیا میں واپس آگیا۔

۱۹۹۵ تک سیاست کی دنیا میں کئی طوفان آچکے تھے۔ پرانی عمارت کا معاملہ گرم تھا۔ ایک نئی دنیا اور بھی سامنے تھی۔ اب ٹی وی گھر گھر پہنچ چکا تھا اور کتابیں پڑھنے کی روایت بہت حد تک کم ہوچکی تھی۔ جاسوسی، رومانی کتابوں کا مارکیٹ بھی زد میں آیا تھا۔ پبلشر نے کئی بار شکایت کی۔ اب ڈیمانڈ کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ پتہ نہیں آنے والے برسوں میں کیا ہوگا۔ سپرا پر کئی سیاسی پارٹیوں کا دباؤ تھا مگر اس نے خود کو سیاست سے الگ رکھا۔ وہ اب اس دنیا سے خود کوعلیحدہ کرچکا تھا۔ اس درمیان کاشف کی پیدائش ہوئی۔ اب ایک ننھے سے لوتھڑے کو چہرہ اور جسم مل چکا تھا۔ ریحانہ خوش تھی۔ سپرا کو بھی باپ بننے کی خوشی تھی۔ یہ خون کا رشتہ بھی کیسا عجیب ہوتا ہے۔ پہلے وہ کسی نوزائیدہ بچے کو دیکھتا تو چھونے سے بھی گھبراتا تھا اور اب۔ سارا دن وہ کاشف کے ارد گرد گھومتا رہا۔ سپرا زمانے کی چال کو دیکھ رہا تھا۔ مصروف ترین دنیا کے لوگ کتابوں سے کٹ گئے تھے۔ اب ٹی وی کی دنیا تھی اور نئے نئے سیریل۔ کچھ ایسے بھی سیرئیل تھے کہ دکانیں بند ہوجاتیں۔ سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا۔ ہر شخص اپنا پسندیدہ سیرئیل دیکھنے کے لیے گھر میں وقت گزارنا چاہتا تھا۔ پھر ٹی وی پر فلمیں دکھانے کا رواج شروع ہوا توکتابیں پڑھنے والوں کی تعداد اور کم ہوگئی۔ سپرا کو پبلشر نے بلوایا تھا۔ سپرا کو یاد ہے۔ پبلشر اداس تھا۔ وہاں کام کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہوچکی تھی۔ پہلے بہت سے لوگ ہوا کرتے تھے۔ خاص کر رامیشور سے اس کی بہت بنتی تھی۔ رامیشور سیلس دیکھتا تھا اور اس کا قاری بھی تھا۔ پبلشر نے رامیشور کو بھی نکال دیا تھا۔ سپرا کو احساس ہوا کہ اب ایک ایسی دنیا سامنے ہے جہاں ہر طرح کی کتابوں کی ضرورت کم ہوچکی ہے۔ پہلے ٹرین، ہوائی جہاز ہر جگہ کتابیں پڑھتے ہوئے لوگ ملتے تھے۔ مگر اب، گلیشیر پگھل رہے تھے اور کتابیں پانیوں میں تیر رہی تھیں۔

پبلشر نے ذرا ٹھہر کر کہا۔’ سوچتا ہوں، کوئی اور پیشہ اختیار کروں۔’

سپرا نے کچھ بھی نہیں کہا۔
‘ اب کتابیں نہیں بکتیں۔ پہلے لاکھوں کی تعداد میں فروحت ہوتی تھیں۔ اب پڑھنے والے نہیں رہے۔’

سپرا نے اس بار بھی خاموشی سے کام لیا۔

‘آپ کیا سوچتے ہیں؟’

سپرا مسکرایا۔’ جب مارکیٹ نہیں۔ تو ہم بھی نہیں۔ ہم تو مارکیٹ کا حصہ ہیں۔ جب پڑھنے والے نہیں تو آپ بھی نہیں۔’

‘ اب نیابازار ہے۔’ پبلشر کی آواز کمزور تھی۔

‘ بہتر ہے، آپ ماڈرن جوتوں کی ایک بڑی دکان کھول لیں۔’

‘ ماڈرن جوتے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ کتابوں میں اور جوتوں میں فرق یہ ہے کہ جوتے ہمیشہ بکیں گے اور ایک دن ایک کتاب کا فروخت ہونا بھی بند ہوجائے گا۔’

پبلشر مسکرایا۔’ مجھ سے زیادہ آپ حالات کو سمجھ رہے ہیں۔’

‘ میں بھی سوچ رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیا؟’

‘ جب آپ جوتوں کی شاپ کھولیں گے تو وہاں نوکری کر لوں گا۔’

مسیح سپرا باہر آیا تو اس کا سر گھوم رہا تھا۔ وہ سیاست سے پہلے ہی الگ ہوچکا تھا۔ اب کرائم بڑھ رہے تھے۔ مگر کرائم اسٹوری کوئی پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ ٹی وی پر کئی کرائم اسٹوری سیریز دکھائی جارہی تھی۔ یہ بھی ایک تبدیلی تھی۔ سپرا نے خیال کیا، اس کے ساتھ کے لکھنے والے اچانک زمین پر آگئے۔ ایسے لوگ جو کتابوں کی بدولت زندہ تھے اور جن کے فرضی ناموں کوایک دنیاجانتی تھی، اب یہ فرضی چہرے وقت کی دھند میں گم ہونے کی تیاری کررہے تھے۔ ایسا ہی ایک چہرہ اس کا بھی تھا۔ ایک فرضی چہرہ۔ لیکن سیاست میں اس نے کچھ پیسے بنائے تھے اور کچھ دولت کتابوں کی مارکیٹ سے بھی اس کے حصے میں آئی تھی۔ آگے کیا کرنا ہے، وہ زیادہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر یہ خیال ضرورتھا کہ اس کو وقت کے ساتھ چلنا ہے۔ بدلے ہوئے موسم میں کبھی کبھی آسمان پر آنسوؤں کی جھلملاہٹ نظر آتی، جو بارش کی صورت برس تو جاتے لیکن اس سے ماحول پر زیادہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کبھی کبھی آگ کی لپٹیں دکھائی دیتیں۔ شمال میں انگریزوں کا ایک پرانا چرچ تھا، جس کے بند دروازے کے اندر اکثر وہ چمگادڑوں کو الٹا لٹکے ہوئے اور کبھی کبھی اڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وقت کی زد میں اب اقلیتی طبقہ بھی آچکا تھا۔ گرمیاں شروع ہوگئی تھیں۔ اندھیری راتوں میں جب آسمان زمین پر جھکا نظر آتا تو تاحد نظر اسے کیکٹس کے درخت نظر آتے۔ یہ اس کا وہم تھا لیکن کیکٹس کے درختوں کو مسلسل دیکھنا اسے اچھا لگتا تھا۔ کیکٹس سے نکلے ہوئے کانٹے سیدھے اس کی روح کو زخمی کرتے تھے اور ان کی چبھن کا احساس پرانے گڑے مردوں کی یاد دلاتا تھا۔ دلی والے ویسے بھی اب دیر تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ مگر سپرا کو یقین ہے، وہ ان شعلوں کو ضرور دیکھتے ہوں گے، جو کبھی کبھی آسمان سے اٹھتے ہوئے نظر آتے تھے۔

خانہ بدوش مطمئن تھے کہ بغاوت اب زیادہ دور نہیں۔ اور اسی طری پارٹی مطمئن تھی کہ ۱۹۲۵ سے اب تک یہ سرد الاؤ تو جلاتے رہے مگرحاصل کچھ نہیں ہوا اور اس لیے پرانی عمارت کا غم یا حادثہ دلوں سے جلد نکل جائے گا۔ وشال کرشن ناتھانی کو وہ شخص عزیز تھا جو اکثر ان کا خیال رکھتا تھا اور انہیں چائے پلایا کرتا تھا۔ جبکہ باجپائی نے کئی بار انہیں ہدایت دی تھی کہ لوگوں کے چہرے کو پڑھنا سیکھیں ورنہ آیندہ مشکل ہوسکتی ہے۔ اور ناتھانی اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے مطمئن تھے کہ فضا اب ان کے حق میں ہے۔ اور بدلتے ماحول میں نئی پارٹی کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔

سپرا کاشف اور ریحانہ کو لے کر اب دوسرے فلیٹ میں آچکے تھے۔ راجیہ سبھا والا مکان اب کسی اور ممبر کے حوالے کیا جاچکا تھا۔ اس بات سے سپرا کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہاں، اب وہ اپنے ناول کی تیاری کررہا تھا اور اس ناول میں پرانی عمارت کا ذکر بھی تھا۔ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کے درمیان ایودھیا میں ایک شخص کا قتل ہوا تھا اور تفتیش کا مرحلہ ایسا دلچسپ مرحلہ تھا کہ نئے نئے انکشافات سامنے آرہے تھے۔ سپرا کو یہ بھی یقین تھا کہ بہت جلد پبلشر اپنی کتابوں کی دکان بند کردے گا اور دکان کی جگہ بھلے جوتوں کی دکان نہ کھولے، کوئی دوسرا کاروبار تو شروع کرہی دے گا۔ ایسا کاروبار جس میں منافع ہو۔

اس میں شک نہیں کہ سن ۲۰۰۰ء آتے آتے یہ پوری دنیابہت حد تک تبدیل ہوچکی تھی۔ سیاست میں اخلاقیات کے معنی بدل چکے تھے۔ زندگی بدل چکی تھی۔ اور بدلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ہر دوسرے دن سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے نئے کارنامے اور کرشمے سامنے آجاتے تھے۔ سن ۲۰۰۰ء تک بچوں کی دنیا بدل چکی تھی۔ پہلے جہاں صرف دور درشن دکھایا جاتا تھا، اب بہت سے ٹی وی چینلز آچکے تھے۔ اب کوئی سرکاری بھونپو کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا تھا۔ کاشف پانچ برس کا ہوگیا تھا۔ ریحانہ شوگر اور دیگر امراض میں گرفتار ہوکر پریشان رہنے لگی تھی۔ ۔ ۔ اور آسمان پر عقاب اڑرہے تھے۔ بی مشن نے حکومت بنالی تھی۔ پارٹی کا غرور خاک میں مل گیا تھا مگر پارٹی کو اس کا علم تھا کہ ان کی واپسی ضرور ہوگی۔ مگر یہ علم نہیں تھا کہ ان کی واپسی کاکتنااثر ملک کے عوام پر پڑے گا۔ کیونکہ عوام کے فکر میںبہت تیزی کے ساتھ تبدیلی آئی تھی۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ نئے بچوں کے کھان پان کا تصور بدل گیا تھااب فاسٹ فوڈ کا زمانہ تھا۔ بچے فاسٹ فوڈ کی دنیا میں، خود کو نئی زندگی میں محسوس کررہے تھے۔ ماں باپ کے ساتھ یا خاندان کے ساتھ رشتوں کی ڈور بہت حد تک کمزور پڑ چکی تھی۔ یہ بدلا ہوا ہندوستان تھا۔ جبکہ صبح کی کرنوں میں ابھی بھی اس پرانے ہندوستان کی جھلک دیکھنے والوں کو نظر آتی تھی۔ گلابی دھوپ کا پیغام پڑھنے والوں کی کمی تھی۔ مگر زندگی تیز رفتار ہوگئی تھی۔ سن۲۰۰۰ء کی شروعات نے سب سے بڑا حملہ اقتصادیات پر کیا۔ کئی ملکوں میں چیخ وپکار مچ گئی۔

ہندوستان میں کمرشل نائٹ سروس کا آغاز ہوا۔ نوجوان بچے غیر ملکی اداروں سے وابستہ ہونے لگے جہاں پیسے بہت زیادہ تھے اور زندگی آپ کو زیادہ غور و فکر کرنے کا موقع نہیں دیتی تھی۔

۲۰۰۵ء تک کاشف دس برس کا ہوچکا تھا۔ سپرا کو اب کاشف کی فکر ہورہی تھی۔ اس درمیان کئی ملکوں میں آنے والی سونامی نے بھی معیشت پر حملہ کیا تھا اور اس بات کا احساس دلایا تھا کہ ارنیسٹ ہیمنگ وے کا بوڑھا آدمی ہر مورچے پر کامیاب نہیں رہتا۔ سمندری غصے کے آگے انسان بے بس اور لاچار ہے۔ اور یہ لاچاری اس ملک میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب گجرات میں ہونے والے فسادات نے ہندو اور مسلمانوں کو دو زہریلے حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اور اس میں شک نہیں کہ ریاست کے سربراہ نے معصوموں پر گولیاں چلوائی تھیں اور اس شخص کو یہ عہدہ کرشن ناتھانی کی خدمت سے ملا تھا۔ کرشن ناتھانی کا ایک خواب تو پورا ہوا لیکن جس خواب کے لیے انھوں نے رتھ یاترا سے سماج کو تقسیم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا، وہ خواب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ مگر سیاست میں ناتھانی کی حیثیت مضبوط تھی۔ اوریہ وہی زمانہ تھا جب گاڑیوں کی زیادہ آمد ورفت کی وجہ سے جمنا کا پل کمزور ہوگیا تھا۔ ابھی فلائی اوورز کے جال نہیں بچھے تھے۔ ریاستی سطح کی نئی پارٹیاں سر نکال رہی تھیں اور سب سے بڑا خطرہ اس پارٹی کو تھا، جو اب تک خوش فہمی میں تھی کہ آیندہ بھی اسی کی حکومت قائم رہے گی، جبکہ عوام کی نفسیات، تبدیلیاں، ہوا کا رُخ، بدلتے موسم کو دیکھنے میں پارٹی پوری طرح ناکام رہی تھی۔ اس درمیان کئی سیاسی قائد آئے اور گئے۔ ملک ایک کھلونا تھا، جس سے کھیلنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ پارٹی کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ایک دن پارٹی میں روح پھونکنے والے قائد بھی حاشیے پر ڈالے جاسکتے ہیں اور یہی پارٹی کی سب سے بڑی کمی تھی کہ ان کے کسی بھی لیڈر کے پاس مستقبل کی پلاننگ یا دور اندیشی نہیں تھی۔

کاشف اب اسکول جانے لگا تھا۔ اور دس برس کی عمر میں ہی اس کی ڈیمانڈ یہ تھی کہ اس کو ایک موٹر سائیکل چاہیے۔ ریحانہ سے زیادہ سپرا خائف تھا۔ دس برس کا بچہ موٹر سائیکل کیسے چلائے گا مگر کاشف کا بچپن یہ تھا کہ و ہ پستول، راکٹ لانچروں اور ایسے ویڈیو گیموں میں پناہ لیتا تھا، جوسپراکے نزدیک بہتر نہیں تھے۔ دس برس کی عمر سے ہی اس نے گھر کے کھانوں سے انکار کردیا تھا۔ اس کے لیے میک ڈونالڈ جیسی کمپنیوں سے پزا اور برگر کے آرڈر دیے جاتے تھے۔ اس کو چاؤمین پسند تھا۔ ریحانہ ناراض ہوتی تھی کہ اس کا اثر کاشف کی صحت پر پڑے گا۔ یو ں تو کاشف دس برس کی عمر میں بھی متوازن شخصیت کا مالک تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس میں ایک خاص قسم کی بغاوت بھی پیدا ہورہی تھی۔ دوسرے بچوں کو دیکھ کر اس کی فرمائشوں کے انداز بھی تبدیل ہورہے تھے۔ سپرا نے سوچ رکھا تھا کہ ہر ممکن وہ کاشف کی مدد کرے گا۔ کیونکہ کاشف اور ریحانہ اس کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں اور ان دونوں کو الگ کرکے وہ اپنی زندگی کے بارے میں کوئی تصور نہیں کرسکتا۔

لیکن کچھ باتیں تھیں جو سپرا کو ناگوار بھی گزرتی تھیں۔

‘ میرے دوست کے پاپا منسٹر ہیں۔’
‘ہوں گے۔’

‘ وہ پوری فوج کے ساتھ آتا ہے۔’
‘ آتا ہوگا۔’

‘ اس کے پاس بہت مہنگی گاڑی ہے۔’
‘ گاڑیاں سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔’

‘ وہ بہت تیز موٹر سائیکل چلاتا ہے۔’
‘ اور میں ابھی تم کو موٹر سائیکل چلانے نہیں دے سکتا۔’

‘ کیوں ؟’
‘ کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے کاشف۔’

‘ یہ کیا بات ہوئی۔ وہ بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹاہے۔’
‘ ان کی بات ہم سے مختلف ہے۔’

‘ وہ زیادہ پیسے والے ہیں اس لیے۔’
‘ یہ دنیا پیسے والوں سے نہیں چلتی۔’

‘ پھر کس سے چلتی ہیں۔’
‘ یہ بات آہستہ آہستہ تمہاری سمجھ میں آئے گی۔’

‘ اور نہیں آئی تو ؟’
‘ اس کے ذمہ دار تم ہوگے۔’

کاشف میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ زیادہ بحث نہیں کرتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس میں تبدیلی آرہی تھی۔ پندرہ برس کی عمر میں اس نے اچھا خاصہ ہاتھ پاؤں نکالا تھا۔ ہلکی سی مونچھ بھی آگئی تھی۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ ریحانہ کا عالم یہ تھا کہ کاشف کہیں بھی جاتا، وہ اس کے لیے صدقہ نکالتی۔ دعائیں پڑھ کر پھونکتی، پھر اسے جانے دیتی۔ اور جب تک کاشف گھر نہیں لوٹتا، وہ پریشان رہتی تھی۔

۲۰۱۰ تک ہماری دنیا لینڈ لائن اور سرکاری فون سے باہر نکل آئی تھی۔ اب موبائل کا زمانہ تھا اور دنیا کے اڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ ہم جس قدر سہولتوں کے عادی ہوتے ہیں، اسی سطح پر ہم ایک زمانے سے کٹ بھی جاتے ہیں۔ پریوں کی کہانیاں گم ہوگئیں۔ شہزادی شہزادے وقت کے اندھیرے میں کھوگئے۔ بادشاہوں کے قصے پرانے پڑگئے۔ نصاب نئے ہوگئے، فکر بدل گئی، کمپیوٹر، موبائل اور لیپ ٹاپ نے بچوں کی زندگی کے مزاج اور معیار کو تبدیل کرڈالا۔ سپرا کو احساس تھا، اسی تبدیلی سے ایک مردہ گھر پیدا ہورہا ہے اور وہ اب مردہ خانے کے احساس سے خوفزدہ ہونے لگا ہے۔ ۔ ۔ ۔
‘ رجنی چلی گئی۔ مگر کیسے؟’

‘ شارو چلاگیا۔ کیا بات؟’

‘ مہندرو کی ابھی عمر ہی کیا تھی۔ ۔ ۔’

‘ بڑی باجی کو کیا ہوا تھا؟’

‘ منجھلی باجی کا بیٹا تو اب کاشف کے ساتھ کا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کیسے ہوگیا۔ ۔ ؟’

‘ ناظر میاں کے ساتھ تو کل اس نے شطرنج کھیلا تھا۔’

‘ واصف بھائی کے ساتھ کل صبح جاگنگ کی تھی۔’

‘ نارائن کیسے جاسکتا ہے۔ ۔ ؟’

‘ رشمی کو کیاہواتھا۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

ہر دن ایک موت۔ ۔ ۔ ۔ اور اس میں شک نہیں کہ موت سپرا کے احساس کو قید کرلیتی ہے۔ سپرا کئی کئی دنوں تک موت کے احساس سے باہر نہیں نکل پاتا۔ یہ قریبی لوگ۔ ۔ ۔ ۔ دوست، رشتے دار۔ ۔ ۔ ۔ یہ سارے گم ہو کیسے سکتے ہیں؟جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی، جانے والوں کا قافلہ تیز تھا۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کے بارے میں کوئی خوفزدہ کرنے والی خبر آجاتی۔ کسی کو ہارٹ اٹیک، کسی کو ہیمرج، کسی کو کینسر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بیمار دنیا، جہاں موت کا اندھیرا بڑھ چکا تھا اور کچھ لوگ اس بیمار دنیا میں نفرت کے پوسٹر لے کر کھڑے تھے۔ یہ تضاد اس کی سمجھ سے باہر تھا۔

پزا اور برگر کی دنیا کا ہر دن اب اسے تکلیف پہنچانے لگا تھا اور کاشف کی کچھ باتیں بھی ایسی تھیں، جو اسے پسند نہیں تھیں۔

— میں چھٹیوں میں گوا جارہا ہوں
— اسکول کے بچوں کے ساتھ دبئی جانا ہے۔
— فٹ بال کی پریکٹس کرنی ہے
— کرکٹ کے لیے جارہا ہوں۔

‘ چوٹ مت لگانا۔’ریحانہ ہمیشہ ایک ہی بات کہتی۔ صدقہ اتارتی۔ دعا پڑھ کر پھونکتی پھر کاشف کو جانے دیتی۔ وہ کچھ سوال کرتا تو جواب ملتا، کاشف کو اب باندھ کر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ وہ بڑا ہورہا ہے۔ باندھ کر رکھیں گے تو احساس کمتری میں مبتلا ہوجائے گا۔’

‘ ہاں یہ تو ہے۔ کیونکہ ہم سے زیادہ بچے تبدیل ہوگئے ہیں۔’

سپرا کو احساس تھا، یہ نوجوان بچے جس سمت نظریں دوڑائیں گے، وہاں منزل نما گرد کا غبار ہوگا۔ منزل نہیں۔ لاکھوں بچے اسی سمت دوڑ پڑتے ہیں اور ایک دن گرد غبار میں کھوجاتے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں خانہ جنگی جیسا ماحول تھا۔ اس ماحول کو پیدا ہونا ہی تھا۔ سپرا جانتا تھا کہ سیاست نئی قدروں اور نئی اخلاقیات سے گزر رہی ہے۔ ۲۰۱۰ تک کتنی ہی آندھیاں آئیں۔ اس درمیان پبلشنگ ادارے بہت حد تک بند ہوچکے تھے۔ جاسوسی اور رومانی کتابیں اب کوئی نئی پڑھتا تھا۔ اس نے بھی لکھنا بند کردیا تھا۔ اب وہ لائزننگ کاکام کرتا تھا۔ سیاست میں رہنے کا ایک فائدہ یہ تھا کہ نئے پرانے تمام چہروں سے ملاقات تھی۔ کئی چہرے تو اس کے دیکھتے ہی دیکھتے سیاست کے اُفق پر چھاگئے۔ لیکن یہ دوستی اب کام آرہی تھی۔ بہت سے ایسے جاننے والے تھے، جن کا کام حکومت سے رہتا تھا۔ کسی کو پٹرول پمپ چاہیے۔ کسی کو ایڈمیشن۔ کچھ ایسے تھے جو منسٹر سے مل کر کی خوش ہوجاتے تھے۔ سپرا جانتا تھا کہ لائزننگ کے ذریعہ زندگی آسانی سے گزاری جاسکتی ہے۔ ایک برس میں تین لوگوں کا بھی کام ہوگیا تو کافی پیسے مل جائیں گے۔ کبھی کبھی سپرا سوچتا ہے اور ہنستا ہے کہ زندگی کے بھی کیا رنگ ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب وہ مسخرہ تھا۔ پھر جاسوس بننے کا خیال آیا۔ پھر کرائم اسٹوری لکھنے لگا اور یہاں سے چھلانگ لگا کر راجیہ سبھا پہنچ گیا اور اب یہ دلالی کاکام۔ لیکن اس کام میں کوئی برائی نہیں ہے، وہ اپنا حصہ لیتا ہے بس۔ اور اس لیے لیتا ہے کہ زندگی گزارنی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ کاشف نے اب سوال کرنا شروع کردیا تھا۔ سپرا خاموشی سے اپنے بیٹے کے چہرے کے تاثرات پڑھتا تھا۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ پر فدا ہوتا تھا۔ اس کے گلے شکوے کا حل نکالتا تھا اور جواب دیتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر کاشف اپنا مقابلہ اب اپنے دوستوں سے کرنے لگا تھا۔

آپ نے راجیہ سبھا کیوں چھوڑ دیا ؟

وہاں ہوتے تو ہم منسٹروں جیسے ہوتے۔

مجھے آپ پر فخر ہوتا۔

‘ اب فخر نہیں؟’ سپرا نے پوچھا۔

‘ کیا بتاؤں دوستوں کو کہ کیا کرتا ہے میرا باپ۔’

‘ کہہ دینا کہ فروٹس بیچتا ہے۔’

‘ نہیں۔ میں کہہ دیتا ہوں کہ وہ راجیہ سبھا کے ممبر تھے۔’

‘ ماضی سے کھیلتے ہو؟’

‘ کھیلنا پڑتا ہے ڈیڈ۔’

ماضی۔ ۔ ۔ ۔ سپرا کو احساس تھا کہ ماضی سے کھیلنا پڑتا ہے کیونکہ ماضی ہرجگہ، ہر قدم آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ ایک مہیب راستہ نکال کر آپ کے ذہن میں داخل ہوجاتا ہے۔ وہ پھر چور دروازے سے اور آپ کو اداس کرجاتا ہے۔ اور خاص کر جب آپ پریشان ہوتے ہیں، ماضی ذہن ودماغ میں وسیع مقام حاصل کر نے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ یعنی ڈپریشن۔ اس کے اوپر ڈپریشن۔ یہ ماضی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔ وہ اکثر تنہائی میں ماضی کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ ابا حضور، اماں حضور، لئیق چاچا، شمو ماموں، حلیمہ نانی۔ ۔ ۔ ۔ کیسے کیسے چہرے۔ ۔ ۔ ۔ آئس کریم والا آیا نہیں کہ حلیمہ نانی کی آواز ابھرتی۔ ۔ ۔ ۔ ارے آئس کریم لے لو۔ ۔ ۔ لئیق چاچا شعر وادب کا ذوق رکھتے تھے۔ ۔ خوبصورت آدمی تھے۔ شموں ماموں داستان گو تھے۔ ساری دنیا کی رامائن سن لیجیے۔ یہ احساس اس وقت کہاں تھا کہ یہ لوگ اوجھل ہوجائیں گے۔ پھر نظر نہیں آئیں گے۔ داستانیں گم ہوجائیں گی۔ کمرے خالی ہوجائیں گے۔ صحن ویران ہوجائے گا۔ ایک آواز آتی ہے۔ میرے لیے آئس کریم لے آؤ۔ آواز کے ساتھ ایک جسم ہوتا ہے۔ جسم جگہ گھیرتا ہے۔ پلنگ پر، مسہری پر، کہیں بھی۔ ایک دن آواز خاموش۔ جسموں کا گھیرا ختم۔ سب کچھ ختم۔

اس نے ریحانہ سے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔ ہم کہاں ملیں گے؟

وہ بری طرح چونک گئی۔ کہاں ملیں گے؟

‘جب نہیں ہوں گے۔’

‘ فاسفورس کے ڈھیر میں چمک رہے ہوں گے۔’

‘ نہیں۔ سچ بتاؤ۔ کیا جنت جیسی کوئی جگہ ہے؟’

‘ مردہ خانہ تو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

مسیح سپرا پہلی بار چوکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ مردہ خانہ؟

‘ چونکے کیوں؟’

‘ تم نے مردہ خانہ کہا؟’

‘ کیا جنت میں زندہ لوگ ہوں گے؟’

‘ پتہ نہیں۔’

‘ اور ہماری دنیا میں؟’ریحانہ زور سے ہنسی۔

‘ پتہ نہیں۔’

‘آدھے سے زیادہ مردے ہیں۔ چھپکلی۔’

‘ چھپکلی کیوں؟’

‘ دیواروں پر اس طرح تیرتے ہیں کہ کوئی بھی چھپکلی کی طرح مارسکتا ہے۔’

ٹھیک اسی وقت سپرا نے ایک چھپکلی کو دیکھا جو روشنی کے ارد گرد منڈرا رہی تھی۔ مردہ خانہ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے کانوں میں یہ لفظ دیر تک گونجتا رہا۔

[divider](2)[/divider]

[dropcap size=big]مردہ خانہ[/dropcap]

دوسری بار یہ لفظ ۲۰۱۳ میں سنا۔ سیاست نئی کڑوٹ لے رہی تھی۔ پارٹی ملک کی کئی ریاستوں سے غائب ہورہی تھی۔ بی مشن کا قبضہ ہر جگہ ہورہا تھا۔ پرانی مذہبی عمارت کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا۔ سپرا کو وہ گنبد یاد تھا۔ پرانی عمارت کی یاد تازہ تھی۔ پھر وہ عمارت کا ملبہ بھی، جس کے چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا۔ پرانی عمارت کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر نے اب سیاست پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان محض ووٹ بینک بن گئے تھے اور اس بات سے سہمے ہوئے تھے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ جبکہ پارٹی بھی مستقبل کو لے کر خوفزدہ تھی۔ عوام میں بگ مین کے نعرے گونج رہے تھے اور یہ نعرے اثر دکھارہے تھے۔ اس بات کا احساس ہوچکا تھا کہ بگ مین کے آتے ہی ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ دستور بدل جائیں گے۔ مسلمان بدل جائیں گے۔ اقلیتیں بدل جائیں گی۔ ان حالات میں پارٹی بے حد کمزور نظر آرہی تھی اور اس بات کا شدت سے احساس ہورہا تھا کہ اگلے انتخابات کے لیے پارٹی نے ابھی سے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پارٹی اور پارٹی سے وابستہ لوگوں میں جوش وخروش کی کمی تھی۔ اپوزیشن نے کرپشن اور قومیت کے معاملے کواٹھاکر عوام کو متنبہ کردیا تھا کہ یہ کمزور لوگ ہیں اور کمزور لوگ حکومت کے قابل نہیں ہوتے۔

سیاست سے الگ ایک حادثہ ہوا تھا۔ ایسا حادثہ جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کاشف اٹھارہ کا ہوچکا تھا۔ ایک بالغ نوجوان۔ اب اس کے پاس نئی موٹر سائیکل بھی تھی۔ وہ لمبا تھا۔ چہرہ پر کشش اور اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ریحانہ کو ہمیشہ کاشف کو لے کر خوف کا احساس ہوتا رہتا تھا اور اس خوف کا کوئی علاج نہیں تھا۔

‘ وہ کبھی کبھی میٹھے سروں میں اپنے کمرے میں گاتا ہے۔’

‘ اچھا۔’

‘ موبائل پر گھنٹوں بات کرتا ہے۔’

‘ بیٹا جوان ہوگیا ہے۔’

سپرا ریحانہ کو دیکھتا ہے۔ ریحانہ اسے ایک پریشان ماں کے طورپر نظر آتی ہے۔ سپرا کا قیاس ہے کہ ماں کہیں نہ کہیں بیٹے کی مصروفیت میں خود کو تقسیم ہوتے ہوئے دیکھتی ہے۔ کاشف نے اب اپنا وقت اپنے دوستوں کو دینا شروع کردیا ہے۔

یہ ایک بڑا سا کمرہ ہے، جہاں دونوں صوفے پر بیٹھے ہیں۔ دیوار پر ایک پینٹنگ ہے، جس میں درخت کی شاخ پر دو کبوتر خاموش بیٹھے ہیں۔ پینٹنگ کے قریب ہی ایک کھڑکی ہے۔ ریحانہ اس وقت کھڑکی کے باہر دیکھ رہی ہے۔ سپرا اس کی کشمکش کو پڑھ سکتا ہے۔ ماں ہمیشہ کمزور نہیں رہتی مگر وہ بیٹے کے لیے اکثر کمزور ہوجاتی ہے۔ ریحانہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ سپرا کو یقین ہے کہ اس وقت وہ باہر کے مناظر کی جگہ کاشف کو دیکھ رہی ہوگی اور یہ خیال کررہی ہوگی کہ اس وقت وہ کہاں ہوگا۔ وہ اکثر تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جیسا کہ دو روز قبل ہوا، کاشف رات کو تاخیر سے آیا۔ وہ دوستوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلا گیا تھا۔ ریحانہ دیر تک ٹہلتی رہی پھر کاشف کے آنے کے بعد اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔

‘ تم مجھے مار ڈالو گے۔’

‘ کیوں؟’

‘ ایک فون نہیں کر سکتے تھے؟’

‘ سنیما ہال میں تھا۔ فون سائلنٹ پر تھا۔’

‘ ایک فون تو کرسکتے تھے کہ دیری سے آؤگے۔’

‘ غلطی ہوگئی ممی۔’

کاشف کے معافی مانگنے کے باوجود ریحانہ غصے میں رہی اور اب وہ اس بات پر پریشان ہے کہ کاشف جوان ہوگیا ہے۔ یعنی وقت کو اس تیزی کے ساتھ اڑنا نہیں چاہیے تھا۔ اس تیزی کے ساتھ پھڑپھڑانا نہیں چاہیے تھا۔

اسی دن چار بجے کے آس پاس سنگیت سوامی کا فون آیا۔ سنگیت سوامی داڑھی رکھتے تھے۔ کرتا پائجامہ پہنتے تھے۔ راجیہ سبھا کے ممبر بھی تھے۔ اب بزرگ ہوگئے ہیں گھر پر دوستوں کو بلاکر خود کو زندہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ سنگیت سوامی نے کہا تھا، وقت ہوتو آجاؤ۔ کچھ دیر عیش کریں گے۔ سوامی بولنے والے لوگوں میں تھے اور سپرا کا خیال تھا کہ سوامی کو راجیہ سبھا میں دوسرا ٹرم ملنا چاہیے تھا، جو انہیں نہیں مل سکا۔ شام کے وقت سپراسنگیت سوامی سے ملنے گیا۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد سنگیت سوامی نے گفتگو کا رخ پرانی عمارت کی طرف موڑ دیا۔ وہ اداس تھے اور پارلیمنٹ میں بھی دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھا کرتے تھے۔

‘ ایک غیر محفوظ مستقبل تمہاری قوم کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ شاید۔ ۔ ۔ ۔’

‘شاید نہیں اب قبول کرلو۔ پرانی عمارت کو مرکز بناکر ایک راستہ پکڑ لو۔ ۔ ۔ ۔ اور دیکھو، یہ راستہ کہاں تک جاتا ہے۔ یہ راستہ بی مشن کی حکومت تک جاتا ہے اور صرف دو برس بعد پارٹی نہیں ہوگی، بی مشن ہوگا۔ ان کے دستور ہوں گے۔ ان کے قاعدے قانون ہوں گے۔ میڈیا پہلے ہی فروخت ہوچکا ہے۔ کیا تمہاری پارٹی میڈیا کو خرید نہیں سکتی تھی؟ سکتی تھی۔ مگر تمہاری پارٹی کے پاس تجربے اورمشاہدے کی کمی تھی۔ بی مشن نے میڈیا پر قبضہ کرلیا۔ اب تمام ایجنسی پر وہ قبضہ کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی چاہیں گے، جو ان کے دل میں ہوگا۔’

‘ کیا یہ آسان ہوگا؟’

‘ صبح سورج نکلنے کی طرح آسان۔ وہ بہت آسانی سے تمہاری پارٹی کو ختم کردیں گے اور پھر ہر جگہ وہ ہوں گے اور پرانی عمارت کا راستہ بھی آسان ہوجائے گا۔’

‘ ناتھانی اور جوشی کا کیا ہوگا؟’

‘ ان کے ہاتھ کاپراجیکٹ ہائی جیک کرلیا گیا ہے۔ اب ایسے لوگ کسی ڈارک بنگلے میں ڈال دیے جائیں گے۔’

‘ کیا یہ لوگ جلدبازی میں ہیں؟’

‘ جلد بازی میں ہوں گے تو اپنا بیڑا غرق کریں گے مگر مسیح سپرا، کھیل مزیدار ہوگا۔’

‘ مزیدار۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ تم نے چوہوں کی کہانی سنی ہے۔ جب جہاز میں پانی آنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘چوہے اچھل اچھل کر بھاگتے ہیں۔’

‘ یہ کہاں جاتے ہیں؟’

سوامی ہنسے۔’بی مشن کے پاس۔ دیکھ لینا۔ تمام چوہے بی مشن کو اپنا لیں گے۔ اس وقت نہ کوئی اصول ہوگا اور نہ قانون۔ نہ سیاست کی اخلاقیات۔ تمام جرائم پیشہ افراد بڑے عہدوں پر ہوں گے اور میڈیا ایسے تمام لوگوں کو ہیرو بتارہی ہوگی۔’

‘ کیا آپ سورج کے پار دیکھ رہے ہیں؟’

‘ تمہیں بھی دیکھنا چاہیے مسیح سپرا۔ بلکہ تمہیں زیادہ دیکھنا چاہیے۔’

‘ ہونہہ۔’

‘ اقلیتوں سے زیادہ نشانے پر تم ہوگے۔ ۔ ۔ ۔ اور تم کچھ نہیں کرپاؤ گے۔’

‘ اس کے آگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سوامی ہنسے۔’کھلا کھیل فرخ آبادی۔ جیت کو ممکن بنانے کے لیے وہ کچھ بھی کریں گے اورتمہاری پارٹی دیکھتی رہ جائے گی۔ جانتے ہو فرق کیا پڑے گا۔’

سوامی کی نگاہیں خلا میں دیکھ رہی تھیں۔’برسوں کی ملّت کو شراپ ملے گا۔ جمہوریت نہیں ہوگی۔ سیکولرزم کی باتیں کرنے والے غدار ہوں گے۔ راشٹر واد کا موضوع اٹھایا جائے گا۔ ۔ ۔ اور تمام سیکولر ذہن کو حاشیہ پر ڈال دیا جائے گا۔’

سوای ٹھہر کر بولے۔’مجھے سیاست کا پرانا تجربہ ہے مسیح سپرا۔ اس لیے اس وقت جو میں دیکھ رہا ہوں، تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ سیاست تم لوگوں کو بھی اتنے حصوں میں تقسیم کردے گی کہ شمار کرنا مشکل ہوگا کہ مشرق سے آئے ہو یا مغرب سے۔’سوامی ہنسے۔’مجھے خوف اس بات کا ہے کہ ملک کی حالت کیا ہوگی۔ لو چائے آگئی۔’

اس درمیان خادم چائے کی پلیٹ لاکر رکھ گیا۔ کچھ ڈرائی فروٹس بھی تھے۔

‘ حل کیا ہے ؟’

‘ ابھی حل کی مت سوچو۔ اپنے تحفظ کے بارے میں سوچو۔’

‘ تحفظ۔’

‘جو پہلے ہوا، اب اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہوگا۔’

چائے پینے کے بعد سنگیت سوامی سے اجازت لے کر سپرا گھر کی طرف چل پڑا۔ سوای نے مستقبل کا ذکر کرکے ان وحشتوں کو جگا دیا تھا، جس کے بارے میں سپراا بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ خانہ بدوش یہ لفظ دوبارہ اس کی زبان پر آیا۔ اور وہ بگ مین بھی جو کبھی ناتھانی کے لیے چائے لایا کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ناتھانی، جوشی حاشیہ پر چلے گئے تھے۔ گھوڑا جو ہوا میں اڑتا ہے، اسے زمین پر بھی اپنے پاؤں رکھنے ہوتے ہیں۔

پیچھے چھوٹی چھوٹی عمارتیں ہیں۔ سڑک اچھی ہے۔ سڑک کے دوسری طرف درختوں کی قطار ہے۔ سوامی جس جگہ رہتے ہیں وہاں کئی فلیٹ سابق فوجی افسروں کے ہیں۔ یہ فوجی افسر بھی اس مسخرے سے خوش نہیں جو آخری حد تک اقتدار پر قابض ہونے کے خواب دیکھتاہے۔ سپرا، سوامی کی گفتگو کے بارے میں سوچتا ہے تو آسمان سے اترتی ہوئی ایک دھند نظر آتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی عمارتیں چھپ گئی ہیں۔ درختوں کی قطار بھی۔ اپنی گاڑی تک پہنچنے میں سپرا کو وقت لگتا ہے۔ یہ دھند کیوں پیدا ہوئی؟

اب دھند نہیں ہے۔ مگر دوسرے دن دھند کے اچانک پیدا ہونے کا جواز مل گیا۔ فون پر خبر ملی۔ سنگیت سوامی چلے گئے۔ رشتہ داروں کو شک ہے کہ کسی نے زہر دیا۔ پوسٹ مارٹم ہوگا۔ لاش مردہ خانے میں رکھی جائے گی۔ گھر نہیں آئے گی۔ وہیں سے شمشان لے جایا جائے گا۔ دنیا احمق انسان پر خرچ نہیں کرنا چاہتی۔ سوامی راجیہ سبھا میں ابھی بھی ہوتے تو شان کے ساتھ انہیں آخری آرام گاہ تک پہنچایا جاتا۔ مگر اب۔ ۔ ۔ ۔

سوامی کل تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانی عمارت کی باتیں کررہے تھے۔ ملک کے مستقبل کی۔ کتنے گھنٹے گزرے ہیں؟ زیادہ نہیں۔ کل وہ زندہ تھے۔ اس کی طرف کاجو کی پلیٹ بڑھائی۔ دوبار اٹھ کر اندر گئے۔ کل تک گوشت پوست کے انسان تھے۔ کچھ گھنٹے پہلے تک مگر اب۔ ۔ ۔ ۔ سپرا موت سے ہمکلام تھا۔ اس پر وحشت طاری تھی وہ کافی دیر تک بستر پر لیٹا رہا۔ سوامی کا چہرہ یاد آتا رہا۔ سوامی کی آنکھیں، سوامی کے ہونٹ، سوامی کے لباس، مگر اب سوامی نہیں ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد مردہ گھر۔ مردہ گھر سے شمشان۔ ایک زندہ انسان دیکھتے ہی دیکھتے غائب۔ ۔ ۔

شام کا وقت ہے۔ سپرا اسپتال کے مردہ گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ کنارے گاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ سوامی کے دوچار رشتے دار کھڑے ہیں۔ وہ اسپتال کے چاروں طرف دیکھتا ہے۔ سامنے ایک چھوٹا سا دروازہ ہے۔ دروازے کے آس پاس بدبو ہے۔ یہ بدبو کہاں سے آرہی ہے؟ وہ دیر تک مردہ گھر کے پیچھے کھڑا رہتا ہے۔ ایک سگریٹ جلاتا ہے۔ بدبو ابھی بھی ہے۔ اور یہ طے ہے کہ بدبو مردہ گھر سے نہیں آرہی، پھر کہاں سے آرہی ہے؟

وہ مریضوں اور رشتے داروں کو دیکھتا ہے۔ ہر کچھ فاصلے پر ایک نئی عمارت بنی ہوئی ہے۔ اور ایسا خیال آتا ہے، جیسے دنیا کے سارے مریض ایک ہی اسپتال میں جمع ہوئے ہوں۔ کوئی رو رہا ہے۔ کچھ لوگ ایک خاتون کو چپ کرانے میں لگے ہیں۔ بدبو؟ سپرا کو پھر بدبو کا خیال آتا ہے۔ یہ بدبو زندہ لوگوں کے جسم سے تو نہیں آرہی؟ زندہ لوگ جو سوامی کی طرح غائب ہونے والے ہیں۔

اب وہ مردہ گھر کے گیٹ پر ہے۔ دروازے پرانے ہیں۔ اس وقت دروازے پر کوئی نہیں۔ وہ دروازے سے اندر جاتا ہے۔ اندر جاتے ہی احساس ہوتا ہے وہ کسی اور دنیا میں آگیا ہے۔ اس دنیا کا تعلق باہری دنیا سے نہیں ہے۔ یہ خاموش لوگوں کی بستی ہے۔ یہاں جو لائے جاتے ہیں وہ ہر برائیوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ سفید ٹائلس لگے ہیں۔ دیواریں بھی سفید اور ٹھنڈی ہیں۔ یہاں کئی کمرے ہیں۔ ایک شخص نظر آتا ہے، جو ایک اسٹریچر لیے جارہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ غور سے مردہ گھر کا جائزہ لیتا ہے۔ یہاں ٹھنڈ کافی ہے۔ مردہ جسم کی حفاظت کے لیے کمرے کو زیادہ سرد رکھا گیا ہے۔ پاس والے کمرے میں سفید چادریں رکھی ہیں۔ یہ اسٹور روم ہے۔ سامانوں سے بھرا ہوا— اس کے آگے ایک کمرہ ہے اور کمرے میں کئی اسٹریچر ہیں، جن پر مردے رکھے ہیں اور مردوں کے جسم پر سفید چادریں پڑی ہیں۔ ایک، دو، تین،چار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایک جسم میں حرکت نظر آئی۔ ممکن ہے یہ وہم ہو لیکن سپرا خوفزدہ ہوکر باہر نکل آیا۔

سات بجے سوامی کے مردہ جسم کو آگ کے حوالے کردیا گیا۔ ایک جسم اب آگ کے شعلوں کے درمیان جھلس رہا تھا۔

‘ شکریہ کہ تم مرگئے ہو۔ ہم سب بھی بہت جلد مر کھپ جائیں گے۔’

مسیح سپرا باہر نکل آیا۔ ۔ ۔ ۔ اور قیاس ہے کہ سڑک پر چلتے لوگوں کے درمیان اس نے موت کو دیکھا تھا اور اسے اس بات کا احساس ہورہا تھا کہ موت اس کے تعاقب میں ہے۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ مڑا تو سپرا کو اس کا قیاس صحیح معلوم ہوا۔ کوئی اس کا پیچھا کررہا تھا اور یہ یقیناً موت کا فرشتہ ہوگا۔ اب اسے اس بات سے کوئی الجھن نہیں تھی۔

[divider](3)[/divider]

[dropcap size=big]۲۰۱۳[/dropcap]

کی سردیوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس درمیان دوبار اس نے مورچری کے چکّر لگائے۔ کیوں؟ وہ نہیں جانتا۔ اس نے مورچری اور مردہ گھروں کے بارے میں بہت ساری کہانیاں پڑھ ڈالیں۔ کچھ کہانیاں ہیبت ناک تھیں۔ لاش پر کیمیائی عمل کے بعد کسی مردہ کوگھر کے ڈرائنگ روم میں اس طرح رکھا جاتا جیسے وہ کرسی پر بیٹھا ہے یا صبح کا اخبار پڑھ رہا ہے۔ لیکن اب ان کہانیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نہ کوئی پیدا ہوتاہے نہ مرتا ہے۔ یہ سب وہم ہے۔ جیسے بچے کرکٹ یا فٹ بال کھیلتے ہیں، ایک زمین یا ایک گھر مل جاتا ہے۔ کچھ دن کھیلئے پھر مردہ گھر—پھر مردہ گھر آجائیے اور زندگی کی مدت کس قدر کم ہوتی ہے۔ دنیا میں آنے والا وہ شخص خود سمجھاتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور سانس لے رہا ہے اور باہر کمانے جارہا ہے۔ اس نے گھر تعمیر کیا ہے۔ وہ صبح کو اخبار پڑھتا ہے۔ جسم کو ترو تازہ رکھنے کے لیے جاگنگ کرتا ہے۔ وہ کھانے کے لیے منہ میں نوالے ڈالتا ہے اور سارا دن گھرسے باہر بھاگتا رہتا ہے۔ گھر میں ایک بیوی لے آتا ہے۔ پھر بچے آجاتے ہیں اورپھر ایک بچوں کی پرورش کے بعد سیر کرتا ہوا وہ شمشان یا قبرستان میں نکل جاتا ہے۔ پھر وہاں سے واپس نہیں آتا۔

اس درمیا ن ریحانہ کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی تھی۔ سپرا پر بھی بزرگی چڑھنے لگی تھی۔ سردی کا موسم اس کے لیے خاصہ تکلیف دہ ثابت ہوتا۔ وہ جرابیں، دستانے نکال لیتا۔ رات اور دن میں بندروں والا کیپ لگائے رہتا۔ جسم کی بنیاد کمزور ہوچکی تھی۔ سردی سے بچنے کے لیے وہ دودو سویٹر اندر ڈال دیتا۔ گرم لباسوں کے باوجود سارا دن اس کے بدن میں درد رہتا۔ اب یہ درد روز کا معمول بن گیا تھا۔ کبھی کبھی لگتا کہ پاؤں میں خون جم گیا ہے۔ گھٹنوں کا درد لاعلاج ہوچکا تھا۔ کبھی کبھی اچانک اٹھنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی اور اسے احساس تھا کہ موت کا فرشتہ اسے دیکھ رہا ہے۔

ریحانہ کے پاس اب کاشف کے لیے زیادہ باتیں تھیں۔ وہ کاشف کو لے کر فکر مند رہتی تھی۔

‘ وہ گھر سے باہر کیا کرتا ہے؟’

‘ اس کے دوست کیسے ہیں؟’

‘ گھر کے باہر وہ کچھ کھاتا پیتا تو نہیں ؟’

‘ تم اس سے کچھ پوچھتے کیوں نہیں؟’

کاشف کے پاس ہر بات ایک ہی جواب تھا۔

‘ اتنے سوال مت پوچھا کرو ممی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔’

‘ بس مجھے ڈرایا مت کرو۔’ کاشف غصے میں، اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ریحانہ چونک کر بولی ‘ابھی کیا کہا اس نے؟’

‘ کچھ نہیں کہا۔’

‘ نہیں۔ کچھ کہا ہے۔’

‘ کچھ کہا ہوتا تو میں نے بھی سنا ہوتا۔’

ریحانہ کا چہرہ سپید تھا۔ بچے بڑے ہوجائیں تو خوف ہوتا ہے۔ وہ کہاں جارہے ہیں۔ کس کے ساتھ ہیں، یہ سب سوچنا پڑتا ہے۔ مگر کاشف کسی کی سنتا کہاں ہے۔ اپنی مرضی کا مالک ہے۔

کھڑکی ہوا سے کھل گئی ہے۔ اس وقت سپرا کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں۔ کچھ دیر بعد سناٹا چھا جاتا ہے۔ ریحانہ اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ اس سناٹے میں سپرا اکیلا نہیں ہے،اس کے ساتھ سوامی بھی ہے۔ پرانی عمارت بھی ہے۔ نئی سیاست کا شور بھی ہے۔ انتخابات میں اب کم دن رہ گئے ہیں اور یہ قدیم خانہ بدوش جنگلوں سے نکل کر شہر شہر قریہ قریہ پھیلتے جارہے ہیں۔

ریحانہ کو سپرا سے شکایت تھی۔ تم انہیں خانہ بدوش کیوں کہتے ہو؟یہ قدیم قبائل میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح، حضرت یعقوب کے زمانے میں بھی تھے۔ سردی، گرمی، بارش میں کھلے آسمان کے نیچے رہتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں۔ ان کی ہنرمندی کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ ان کی عورتیں محلے گلیوں میں پھیریاں لگاتی ہیں۔ اور ان کے دلچسپ قصے ساری دنیا میں مشہور ہیں۔

‘ یہ وہ خانہ بدوش نہیں۔’سپرا نے ہنس کر کہا۔ یہ وہ ہیں جہاں تہذیب نے پردہ کرلیا ہے۔ وہ یہ ہیں جن کا استعمال حکومتیں کررہی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور انسانوں کو کئی حصوں میں تقسیم کررہے ہیں۔ یہ فرقہ پرست ہیں اور گروہوں میں آباد ہیں اور اب یہ پھیل رہے ہیں۔ ناسور بن رہے ہیں۔ اس کے لہجے میں سختی ہے۔ ۔ ۔ اور یہ موت فروخت کررہے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بے رحم کی سردیاں تھیں، جب حقیقتاً سڑکوں چوراہوں پر موت فروخت کی جارہی تھی۔ ایک طبقہ گھروں میں خوفزدہ تھا اور پارٹی نے آسانی سے خود کو ان کا شکار بننے دیا تھااور ایک تصویر تھی جو ہر دو قدم پر لہراتی تھی اور جارج آرویل کے بگ برادر کی یاد دلاتی تھی۔
‘ یہ ہم کہاں آگئے؟’

مسیح سپرا کو احساس تھا کہ وقت اس فکر سے کہیں زیادہ خوفناک ہے، جو اس کی سوچ میں سفر کرتا ہے۔ سپرا کو ان اندھیروں کا احساس نہیں تھا جو سیّال کے مانند اس کے جسم میں اتر رہے تھے۔ تاہم اسے احساس تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ جب آپ خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے تو آپ کی چھٹی حس میں ایک اسکرین پر کچھ تصویریں جھلملاتی ہیں۔ یہ تصویریں کبھی کبھی یقیناً آپ کو خوفزدہ کردیتی ہیں۔ کبھی کبھی انسان اس احساس سے باہر ہوتا ہے کہ ایک سونامی تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ سونامی ایک لمحہ کے اندر گھر کے شیرازے کو بکھیر سکتی ہے۔ آنکھوں کے آگے جو ایک فریم فریز ہے، کبھی کبھی ہم اس سے آگئے نہیں دیکھتے۔ جبکہ تیز رفتار وقت اچانک اس فریم کو تبدیل کردیتا ہے۔

فریم اچانک تبدیل ہوا تھا

‘ تو تم جارہے ہو؟’ ریحانہ نے کاشف سے پوچھا

‘ ہاں۔’

‘ اور تم ہمیشہ کی طرح دیر سے آؤگے۔’

‘ ہاں۔’

‘ زیادہ دیر تو نہیں ہوگی؟’

‘ نہیں ممی۔’

‘ پھر ٹھیک ہے۔ زیادہ دیر ہوتی ہے تو میری الجھن بڑھ جاتی ہے۔’

کاشف مسکرایا۔’ تم بھول جاتی ہو کہ تمہارابیٹا بڑا ہوگیا ہے۔’

‘ اب اتنا بھی بڑا نہیں۔’ریحانہ نے حکم دیا۔’موٹر سائیکل آرام سے چلانا۔ زیادہ تیز بھگانے کی ضرورت نہیں۔ اور اپنا خیال رکھنا۔’

اس دن آسمان کی رنگت اچانک تبدیل ہوگئی۔ سیاہ بادل آسمان پر چھاگئے۔ کچھ دیر میں تیز بارش ہونے لگی۔ کھڑکی کے باہر خانہ بدوشوں کا ایک’جتھا’ تھا جو بھیگتا ہوا، نعرے لگاتا شور کرتا ہوا گزر رہا تھا۔ بارش کے رم جھم کی آواز آرہی تھی۔ کھڑکی کے باہر ایک چھت پر دو کبوتر بھیگتے ہوئے اڑے اور درخت کے پتوں کے درمیان جگہ بنانے کی کوشش کرنے لگے۔

کو ئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

دونوں صوفے پر بیٹھے تھے اور ماحول میں خاموشی تھی۔ سپرا نے ریحانہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں گہری سوچ میں گرفتار نظر آرہی تھیں۔ ریحانہ نے اچانک سپرا کی طرف دیکھا۔

‘ خیال کیا ہے ؟’
‘گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلتی ہوئی سائیکل۔’

‘ اور جنون ؟’
‘ڈگمگاتا ہوا ڈرون۔’

‘ زندگی کیاہے ؟’
‘ واہمہ۔’

‘ خوف کیا ہے؟’
‘ جسم میں ہر لمحہ اٹھنے والی سونامی لہر۔’

‘ موت کیا ہے؟’
‘ آہ۔ ۔ ۔ اس کا جواب میرے پاس نہیں۔’

‘ اور میرے پاس بھی نہیں۔’
ریحانہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔

سپرا کو اس کے سوالوں سے کوئی حیرانی نہیں تھی۔ اس کے برعکس وہ بھی اپنے دل کو ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا۔ مگر کیوں؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ کھلے دروازے سے غرّاتی ہوئی ایک بلّی کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔ ریحانہ کو، بلی کو باہر بھگانے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے دروازہ بند کیا۔ بارش ابھی بھی تیز تھی۔ آسمان سیاہ بادلوں کے نرغے میں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش کے باوجود خانہ بدوشوں کا شور کان کے پردے پھاڑ رہا تھا۔ بھیگتے ہوئے خانہ بدوش زور زور سے نعرے لگاتے ہوئے سڑک سے گزر رہے تھے۔ ان کے لہجے میں سختی تھی اور جسم میں بارود کے بھرے ہونے کا احساس ہورہا تھا۔ اب یہ خانہ بدوش مطمئن تھے کہ یہ سڑک ان کی ہے، عمارتیں ا ن کی ہیں اور کچھ دن بعد ملک کی ہر شے پر ان کا حق ہوگا۔ بے خوف سڑک پر ادھر ادھر آتے جاتے انہیں ٹریفک کے ہونے نہ ہونے کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔ یہ پرچم ہوا میں لہراتے اس طرح ادھر ادھر اجارہے تھے جیسے مقابلہ انہوں نے جیت لیا ہو اور اب ملک کی تقدیر لکھنے کی ذمہ داری ان کی ہے۔

یہی وقت تھا جب ایک خانہ بدوش کو بچاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل ہوا میں اچھلی اور پھسلتی ہوئی کراسنگ سے ٹکرائی۔ اس سے قبل کہ پولیس آتی یا لوگ جمع ہوتے، موٹر سائیکل چلانے والا کراسنگ کے کھمبے سے ٹکرانے کے بعد بیہوش ہوچکا تھا۔ پولیس نے زخمی نوجوان کو کنارے کیا۔ کچھ دیر بعد شور کرتی ایمبولنس آئی اور زخمی نوجوان کو لے کر اسپتال روانہ ہوگئی۔ جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد اس کے مردہ ہونے کا اعلان کردیا۔

سپرا نے فون پر خاموشی سے یہ خبر سنی۔

جذباتی لہجہ میں اس نے ریحانہ کو بتایا کہ اب خانہ بدوشوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ریحانہ کو ہوش میں لانے میں کافی وقت گزر گیا۔

سپرا ایک بار پھر اسپتال کی عمارت میں تھا۔ چاروں طرف اسے مردے نظر آرہے تھے۔ مورچری کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہوا تھا۔ اسے یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک دن اپنے پیارے بیٹے کے لیے اسے مورچری میں آنا ہوگا۔ اس کے قدموں میں لڑکھڑا ہٹ تھی۔ آنکھوں کے آگے دھند میں اضافہ ہوچکا تھا۔ وہ گہری نیند میں چل رہا تھا۔ اسے یقین تھا، کارروائی مکمل ہونے میں کافی دیر لگ جائے گی۔ رات ۳ بجے کی لاش کو لے جانے کا کلیرنس ملا۔ ظہر بعد تجہیز وتکفین کے لیے وقت مقرر ہوا۔ اس وقت تک دونوں ہوش میں نہیں تھے۔ بلکہ دونوں نیند کے مسافر تھے۔ انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ وقت کے دریا نے انہیں کہاں اور کس مقام پر لا کھڑا کیاہے۔

تجہیز وتکفین کے بعد سپرا جب گھر آیا تو گھر خالی خالی لگ رہا تھا۔ ریحانہ کسی مجسمہ میں تبدیل ہوگئی تھی۔ اس نے ہزاروں پتھروں کو دیکھا ہے۔ ریحانہ پتھروں کا ایک ایسا مجسمہ تھی، جس میں نہ حرکت تھی، نہ زندگی۔ وہ بستر پر نڈھال پڑی تھی۔ سپرا گول گول گھومتا ہوا کاشف کے کمرے میں آیا۔ ۔ ۔ ۔

وہ ابھی یہیں تھا۔ ۔ ۔
اسی کرسی پر بیٹھا ہوا۔ ۔ ۔
کل اسی وقت وہ گھر سے نکلا تھا۔ اس نے جینس پہن رکھی تھی اور وہ دنیا کا سب سے خوبصورت شہزادہ لگ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مگر اب۔ ۔ ۔ وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پکارنے پر بھی نہیں آئے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سپرا دیر تک ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔ اسے سکون نہیں تھا۔ جیسے کاشف اپنے ساتھ اس کے صبرو سکون کو بھی سمیٹ کر لے گیا ہو۔ وہ ایک بار پھر خیالوں کے مردہ گھر میں تھا۔ اور اس مردہ گھر میں لاشیں سجی تھیں۔ سوامی کی۔ ۔ ۔ کاشف کی۔ ۔ ۔ ایک خالی اسٹریچر تھا۔ سپرا اس اسٹریچر پر آنکھیں موند کر لیٹ جانا چاہتا تھا۔

خود کو سمجھنے سمجھانے کی تمام دلیلیں ناکام ثابت ہوگئی تھیں۔ آنکھوں کے آگے دھند بڑھ گئی تھی۔ سپرا کو احساس تھا، اب اس دھند سے باہر نکلنا دونوں کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ کچھ دنوں تک ریحانہ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی۔ جیسے ایک دن رات میںاچانک وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پھر سپرا کو جھنجھوڑ کر اٹھایا۔

‘ ہاں وہ آیا تھا۔ اور اس نے مجھ سے بات بھی کی۔’

‘ سوجاؤ ریحانہ۔’

‘ نہیں۔ وہاں اسے کھانے پینے کی تکلیف ہے۔ پزا اور برگر نہیں ملتا۔’

‘ میں اسے کچھ اچھا سا بناکر بھیجنا چاہتی ہوں۔’

‘ صدقہ کردو۔’

‘ صدقہ کرنے سے کاشف تک پہنچ جائے گا؟’

‘ کیوں نہیں۔’

‘ اچھا پھر آرام کرو۔’

کچھ حادثوں کا اثر زندگی پر پڑتا ہے۔ کچھ حادثے آپ کے جسم کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ چہرے ہر وقت آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد بھی یادوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا اور ایسی یادیں بھی ساتھ چھوڑدیں تو پھر زندگی کا مطلب کیا ہے۔ سپرا ان یادوں کے ساتھ چلتا رہا۔ مردہ خانے کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ جگہ گھیرتا رہا۔ اب یہ گھر بھی اسے مردہ خانہ لگتا تھا۔ لیکن اس وقت تک اسے یہ یقین نہیں تھا کہ یہ گھر ایک دن حقیقت میں مردہ گھر ثابت ہوگا۔

وقت نے صفحے تیزی سے تبدیل کردیے تھے۔

[divider](4) ۲۰۲۰ جنوری[/divider]

[dropcap size=small]۲۰۱۴[/dropcap]

بھی آیا۔ پھر وقت نے ۲۰۱۹ کا فاصلہ بھی طے کرلیا۔ ۔ ۔ اور ۲۰۲۰ کی صبح نمودار ہوئی۔ اس صبح کے آنے تک منظر صاف ہوچکا تھا۔ خانہ بدوش حکومت میں تھے۔ بگ برادر اور بگ مین کے علاوہ پارٹی میں اور کوئی بھی نہیں تھا، جس کے پاس طاقت ہو یا جس کی آواز میں ارتعاش ہو، کچھ کہنے کی ہمت ہو۔ خانہ بدوش سڑکوں پرآزادانہ گھوم رہے تھے۔ قتل کررہے تھے اور ایک بڑی آباد ی کو شہریت سے محروم کرنے کے میپ بنائے جاچکے تھے۔ عدلیہ کے فیصلوں پر حکومت کی مہر تھی اور تمام ایجنسیاں حکومت کی نگرانی میں کام کررہی تھیں۔ میڈیا بھونپو بن کر رہ گیا تھا اور شہر میں جگہ جگہ چوراہے پر نفرت کی قندیلیں روشن تھیں۔ پرانی عمارت کا فیصلہ آچکا تھا۔ اور آیندہ کے انتخابات کے لیے اس فیصلے نے تمام راستے صاف کردیے تھے۔ اور جن دنوں فیصلے کی ۴۰ دن تک سنوائی ہورہی تھی، یہ حاثہ انہی دنوں پیش آیا۔

ریحانہ کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ کاشف کی موت کے بعد وہ ایک دن بھی خوش نظر نہیں آئی۔ کئی بار وہ کمزور لفظوں میں کہہ چکی تھی کہ اسے کاشف کے پاس جانا ہے۔ کاشف اسے یاد کرتا ہے۔ اور جس دن عدلیہ مسلم ثبوتوں کا اعتراف کررہی تھی اور یہ احساس ہورہا تھا کہ پرانی عمارت کے فیصلے میں انصاف سے کام لیا جائے گا، اس دن ریحانہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس کاچہرہ سرخ تھا اور اس کی پیشانی گرم۔ اس کو اٹھنے، چلنے میں پریشانی ہورہی تھی۔ سپرا خاموشی سے اس نظام کو دیکھ رہا تھا،جہاں چپکے سے یا اچانک لوگ گم ہوجاتے ہیں۔ پھر نظر نہیں آتے۔ وہ شکست خوردہ ایک گوشہ میں بیٹھا تھااور ذہن ودماغ پر مردہ گھر کے سوا کوئی تصور نہیں تھا۔

ان دنوں کا موسم کچھ اور تھا۔ موت انسانی حیرانیوں سے طلوع ہورہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی وقت تھا جب سپرا نے اپنے کئی عزیزوں اور جاننے والوں کندھا دیا تھا۔ لوگ ایسے بھی جاتے ہیں کیا کہ کل تھے اور آج نہیں۔ صبح تھے۔ شام نہیں۔ ایک گھنٹہ قبل گفتگو کررہے تھے اور ایک گھنٹے بعد کرہ ارض سے غائب۔ موت نے سپرا کا اعتبار کھویا تھا۔ وہ گھنے جنگلوں میں بھٹک رہا ہے۔ کوئی دور سے دوڑتا ہوا آتا ہے۔ سپرا اسے پہچانتا ہے۔

‘ چلومیرے ساتھ۔’

‘ مگر کہاں ؟’

‘ سوال مت پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ چلو میرے ساتھ۔ ۔ ۔’

‘ اس جنگل سے باہر۔’

‘ اب چاروں طرف گھنے جنگل ہیں۔ جہاں جاؤگے وہاں جنگل۔ آواز سنو۔’

‘ یہ آواز تو بھیڑیے کی ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نہیں خانہ بدوش کی، یہ سارے خانہ بدوش بھیڑیے بن گئے ہیں۔’

‘ مگر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا ممنوع ہے۔’

‘ اوراسی لیے۔ ۔ ۔ ۔ چلو بھاگو۔ ۔ ۔ ۔ نکلو یہاں سے۔’

کوئی اس کو تھامتا ہے۔ جنگلوں سے آگے پہاڑیاں ہیں۔ کچھ پہاڑیاں ایسی ہیں، جہاں سے بڑے بڑے پتھر کھسک کر ہزاروں فٹ نیچے کھائی میں گر رہے ہیں۔ ایک جگہ کچھ مزدور کھڑے ہیں۔ بارودی سرنگ اڑائی جارہی ہے۔ کچھ دوری پر پولیس کے سپاہی ہیں۔ اس علاقے میں کھدائی چل رہی ہے۔

‘ یہاں سے بھی نکلو۔ دھماکہ ہونے والا ہے۔’

‘ پھر ہم کہاں جائیں گے؟’

‘ وہ سامنے دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سامنے کیا ہے؟’

‘ مردہ گھر۔’

‘ مردہ گھر؟’وہ چونکتا ہے۔

یہاں پناہ ہے۔ سب کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ جو مکانوں میں ہیں، سڑکوں پر ہیں، چوراہوں پر ہیں، دفتروں میں ہیں، خطرے میں ہیں۔ اور سنو۔ ان کی جیب بہت بڑی ہوگئی ہے۔’

‘ جیب ؟’

‘ ہاں جیب۔ اس میں فلائی اوورز ہیں۔ نیشنل انٹر نیشنل بینک ہیں۔ عدلیہ ہے۔ ایجنسیاں ہیں۔ خانہ بدوش ہیں۔ مذہب ہے اور ہتھیار۔ ۔ ۔ ۔ ‘

‘ پھر باہر کیا ہے؟’

‘ موت۔ اس لیے سوچو مت بھاگ چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا دھند سے واپس آتا ہے توریحانہ کی کمزور آواز سنتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک گلاس میں پانی لاکر دیتا ہے۔ تو ریحانہ اسے کافی کمزور نظر آتی ہے۔ کمزوروی کے باوجود ریحانہ اس کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہے۔

‘ تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔ ۔ ۔ ۔ میں اسے دیکھ رہی ہوں اور بہت قریب سے دیکھ رہی ہوں۔ ‘

‘ کس کو ؟’ سپرا زور سے چیختا ہے

‘ آہ۔ ۔ ۔ ۔ چیخو مت۔ میری روح کو تکلیف ہوتی ہے۔’

‘ کس کو دیکھ رہی ہو۔’

‘ وہ ہے ناکمرے میں، اس وقت بھی۔ موت کا فرشتہ۔ وہ آچکا ہے۔’

‘ ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’سپرا کچھ کہتے کہتے ٹھہر جاتا ہے۔

‘ تمہیں اکیلا چھوڑ کر جارہی ہوں۔ اس کا صدمہ ہے۔ تم بہت اکیلے رہ جاؤگے —مجھے اس کا احساس ہے— مگر کاشف کے بعد۔ ۔ ۔ ۔ میں جینا بھول گئی۔ میں کاشف کے پاس جارہی ہوں۔ وہ بار بار مجھے آواز دیتا ہے۔’ریحانہ دھند میں دیکھ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ یہ پہیلی کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ ۔ ۔ ۔ اس کی آواز سنتی ہوں تو وہ سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ کتنے دنوں کی بات ہے وہ مجھ سے ناراض تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اس کا چہرہ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی باتیں سب یاد ہیں۔ ۔ ۔ بلکہ میں کچھ بھی نہیں بھول سکی۔ ۔ ۔ ۔ اور کیوں بھولوں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے آواز لگاتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ بہت پیار سے۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے جھگڑا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک لمحہ زندگی کو کہاں لے جاتا ہے؟’

‘ ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ۔ ۔ ۔’ یہ سب کیوں سوچ رہی ہو۔ اور ہاں تم کہیں نہیں جارہی ہو۔ تم مجھے جانتی ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ میرے بارے میں سوچتی ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس تاریکی کے بوجھ کو اکیلے اٹھانے کے قابل نہیں ہوں ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

پہلی بار سپرا پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ صبر ہونٹوں تک آکر باندھ توڑ گیا۔ آگ کی لپٹیں اٹھیں۔ اس نے ریحانہ کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ یہ چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے بے نیاز تھا۔ سرد۔ صرف آنکھیں تھیں، جن میں جان باقی تھی۔ جسم میں کوئی ہلچل نہیں۔ اس نے ریحانہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ ایک لمہ کے لیے اسے گھر گھومتا ہوا نظر آیا۔ خلا میں ایک جسم جھول رہا ہے۔ ۔ ۔ اور یہ اس کا جسم ہے۔ سپرا نے محسوس کیا، ریحانہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ کچھ کہنے کے لیے خود کو سمیٹ رہی ہے۔ ایک نور کا دائرہ ہے جو اس کے سر پہ منڈلا رہا ہے۔

‘ کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔ ۔ ۔ ۔’ ریحانہ کی آواز ابھری۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس وقت تک میں نہیں رہوں گی۔ اب سوچتی ہوں، کاشف کا جانا غلط نہیں تھا۔ وہ اس ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ معصوم تھا اور اب جو کچھ ہورہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ تم سمجھ رہے ہو نا۔ ۔ ۔ تم سے کچھ باتیں کرلوں۔ ۔ ۔ جی ہلکا کرلوں۔ ۔ ۔ سنو۔ ۔ ۔ کافی اندھیرا جمع ہوگیا ہے آنکھوں کے پاس۔ ان میں اجالے کی کہیں بھی کوئی کرن نہیں۔ تیس کروڑ لوگوں کو نکالنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ کیونکہ ان کو کسی بھی طرح کی خوں ریزی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ۔ ۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس موسم میں تم کیسے رہوگے۔ ۔ ۔ تمہیں سیاست راس نہیں آئی۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

ریحانہ کے لفظ کھورہے تھے، سپرا نے محسوس کیا، ریحانہ کے چہرے پر سرخ رنگ کے ساتھ ایک تناؤ ہے۔ ۔ ۔ وہ گہری سوچ میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ خود نہیں جانتی کہ اس وقت وہ کیا کہہ رہی ہے۔ مگر وہ بہت کچھ سوچ رہی ہے اور اس کی فکر کا محور سپرا ہے۔ ۔ ۔ اس وقت ریحانہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہے، وہ دیکھ سکتا ہے۔ اس کے اندر کی حرارت تھم رہی ہے۔ ہوا رک گئی ہے۔ ایک خوفناک ہوا ملک میں بہہ رہی ہے۔ ریحانہ کے چہرے پر اس ہوا کا اثر موجود ہے۔ اس کے چہرے کے آس پاس ایک جالہ سا بن گیا ہے وہ ایک ٹک سپرا کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہوا ساکت۔ پانی سے بہتے ہوئے بلبلہ میں کچھ چہرے بنتے ہیں۔ مٹ جاتے ہیں۔ کسی کے مرجانے پر موت ایک لکیر چھوڑ جاتی ہے۔ ۔ ۔ یہ لکیر کبھی کبھی صاف نظر آتی ہے۔ جیسے کاشف نظر آتا ہے۔ کبھی اس کمرے سے اس کمرے میں جاتاہوا۔ ۔ ۔ کمرے میں روشنی اور ہوا کی ضرورت ہے۔ اس وقت تاریکی بہت زیادہ ہے۔ سپرا ہاتھ تھامے ہوئے ریحانہ کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ ۔ ۔

‘تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ بس، تم خوفزدہ ہوگئی ہو۔ کاشف کے صدمے سے تم باہر نہیں نکل سکی۔ میں تمہیں اسی وقت اسپتال لے چلوں گا۔ ڈاکٹر ہے نا۔ ۔ ۔ تم ٹھیک ہوجاؤگی۔ ۔ ۔ سنا تم نے ریحانہ۔ ۔ ۔’

‘ تم مجھے دھند سے باہر لانا چاہتے ہو۔ میں دھند میں پاؤں بڑھا چکی ہوں۔’ریحانہ کی آنکھیں خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ ۔ ۔ ایک بڑھیا ہوتی ہے جو چاند پر بیٹھ کر چرخہ کاتتی ہے۔ میں اکثر اس کو دیکھا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کاشف اس کے پاس ہی ہوتا تھا۔ اب چرخہ کاتنے والی بڑھیا مجھے آواز دے رہی ہے۔ ۔ ۔’

سپرا زور سے چلاّیا۔ کیا بک رہی ہو تم۔ ۔ ۔ ۔

اسے احساس ہوا، اس کے پاس لفظ نہیں ہیں۔ ایک گہری کھائی ہے اور ریحانہ اس کھائی میں گرتی جارہی ہے۔

‘ ٹھہرو۔ ۔ ۔ ۔’

سپرا اٹھا۔ موبائل سے اس نے قریبی ڈاکٹر دوست کو فون لگایا۔ ۔ ۔ یہی لمحہ تھا، جب وہ ریحانہ کے پاس سے دور ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ فوراً آرہا ہے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دوبارہ ریحانہ کے پاس آیا تو ریحانہ کی آنکھیں ہوا میں معلق تھیں۔ اس نے ریحانہ کے پاتھوں کو چھوکر دیکھا۔ ہاتھ سرد اور بے جان تھے۔

سپرا گھبراکر پیچھے ہٹا۔ ۔ ۔ ابھی تھی۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے تک۔ چاند والی بڑھیا کا ذکر کرتی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ابھی۔ ۔ ۔ ابھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس کا سر گھوم رہا تھا۔ وہ زور زور سے ریحانہ کا نام لے کر چلاّیا۔ ۔ ۔ مگر کوئی فائدہ نہیں۔

سپرا کو احساس تھا۔ وہ مردہ گھر میں ہے۔ یہاں کوئی زندہ نہیں۔ سب کے سب ابھی ہوتے ہیں اور ابھی نہیں۔ ایک دم سے اس طرح کھوجاتے ہیں، جیسے کوئی وجود کبھی رہا ہی نہیں ہو۔ یہ جسم نہ آواز۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہیں۔ نہ نشانیاں۔ ۔ ۔ ۔ انسان جسم اور روح سے ہوتا ہے، نشانیوں سے نہیں۔ ریحانہ تھی۔ اب نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی سچ ہے۔ وہ ہے اور نہیں ہے۔ ۔ ۔ ایک مردہ گھر کا دروازہ کھلا۔ ۔ ۔ سپرا نے دیکھا۔ ۔ ۔ اس کے قدم مردہ گھر میں داخل ہورہے ہیں۔ یہاں کچھ لوگ پہلے سے ہیں، کچھ لاشوں پر جھکے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ اور لاشوں پر سفید چادریں پڑی ہیں۔ ۔ ۔ اور یہاں بھی وہ عورت موجود ہے۔ ۔ ۔ نقاب لگائے۔ وہ دیوار کے پاس چھپ کر کھڑی ہے۔

اس وقت مردہ گھر میں ہونا اس کو سکون دے رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ بھی مردہ ہے۔ کاشف کی طرح۔ ۔ ۔ ریحانہ کی طرح۔ ۔ ۔ چاروں طرف دھند ہے۔ ۔ ۔ وہ دھند میں معلق ہے۔ ۔ ۔ ہوا میں لہراتے لباس کی طرح جھول رہا ہے۔

[divider](5)[/divider]

[dropcap size=big]ریحانہ[/dropcap]

کی تدفین کے بعد وہ گھر آ گیا۔ دروازے بند کرلیے۔ زندگی واہمہ ہے اور موت حقیقت۔ پھر نمائشی زندگی کیوں ضروری ہے۔

اب وہ ایک مردے کی طرح زمین پر لیٹا تھا اور اسے یقین تھا مجسمہ والی عورت اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سفید چادر یں سرسرارہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور اس مردہ گھر میں کسی اور کا وجود نہیں۔ اس نے کہیں پڑھا تھا، مردو ں کو بھی بھوک لگتی ہے۔ اس لیے فلیٹ میں رکھے فریزر سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کبھی کبھی گھر سے باہر جانے میں بھی۔ کیونکہ اسے یقین تھا، باہر جو لوگ ہیں، وہ بھی مردہ ہیں۔ ابھی ہیں۔ ابھی نہیں ہوں گے۔ ۔ ۔ ۔

اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اسے احساس ہوا، وہ کسی سرد خانے میں ہے۔ اور اس کے جسم کے اعضا بے جان اور بے حس ہوچکے ہیں۔

مسیح سپرا کی تیاری میں کوئی کمی نہیں تھی۔ گھر کے باہر مردہ خانے کا بورڈ لگانے کا بعد وہ مطمئن تھا کہ اب اس کے پاس کوئی نہیں آئے گا۔ مردہ خانے میں کون آتا ہے۔ سپرا کو یقین تھا کہ مردہ خانے کا بورڈ دیکھ کر اس سے ملاقات کے لیے آنے والے بھی راستہ بدل کر آگے بڑھ جائیں گے۔ اسے سکون کی ضرورت تھی۔ ایک ایسے سکون کی، جو صرف کسی مردے کے پاس ہوتی ہے، جس کے تمام اعضا اپنا کام بند کرچکے ہوتے ہیں۔ دماغ سوچتا نہیں۔ آنکھیں دیکھتی نہیں۔ ہونٹ بولتے نہیں اور وقفۂ سکون کو ابدیت تب نصیب ہوتی ہے جب یہ بولنا بند کردیتے ہیں۔ اس نے سنا تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک انسانی جسم میں تقریباً دس کھرب خلیات، حیاتیاتی اکائی کی صورت میں ہوتے ہیں۔ عضو آپس میں مل کر نظام اعضاء کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس وقت ان خلیوں کے ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری تھا۔ ایک دلچسپ کھیل سپرا کے ہاتھ لگا تھا جبکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے سوچنے کے تمام سلسلے بند ہوجائیں۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں کی جگہ محسوس کیا اور چہرے کو پیٹ کے درمیان لے آیا۔ اسے یقین نہیں ہے کہ اس کے چہرے پر اس احساس کے ساتھ مسکراہٹ پیدا ہوئی ہو تاہم اس وقت وہ پیوند کاری کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اعضاء کی پیوند کاری اسے بالکل پسند نہیں تھی۔ اس نے خیال کیا، مردے سوچا نہیں کرتے اور اس نے آنکھیں بند کرنے کے بعد خود کو نور کے دائرے میں دیکھا کہ اس کا قیاس تھا کہ ایک نور کا ہالہ ہوتا ہے جو روح مقدس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ مسیح سپرا نور کے ہالہ پر سوار تھا اور ٹھیک یہی وقت تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔ سپرا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اسے غصہ اس بات پر تھا کہ اس دنیا کے لوگ مردوں کو چین سے رہنے نہیں دیتے۔

اس نے دروازہ کھولا توسامنے ایک پولیس والا تھا۔ پولیس والے کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا اور وہ ڈنڈے سے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

‘ یہ کیا ہے ؟’

سپرا کا لہجہ سرد تھا۔ مردہ خانہ

‘ کیوں۔ ۔ ۔ ۔’ پولیس والے کے چہرے پر نا راضی تھی۔

سپرا نے کہنا چاہا کہ میں ایک مردہ ہوں، اس لیے، مگر وہ پولیس والے سے اس وقت الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ دیر تک وہ جواب سوچتا رہا۔ اس درمیان پولیس والا کھلے دروازے سے اندر کی طرف دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔

‘میں تنہائی چاہتا ہوں۔’

‘ تو گھر کے باہر مردہ خانہ لکھ دوگے؟’

‘ میں کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں اکیلا رہتا ہوں’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

‘ مجھے دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی دقت ہوتی ہے۔’

‘ تو۔ ۔ ۔ ؟’

پولیس والا گہری نظروں سے سپرا کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‘ تمہارا نام ؟’

‘ مسیح سپرا’

‘ مسلمان ہو ؟’

‘ ہاں جی’

‘ اورہ۔ ۔ ۔ ۔’ پولیس والے کے چہرے پر ایک تناؤ نظر آرہا تھا تاہم وہ اپنے غصے کو چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ اچانک وہ زور سے ہنسا۔

‘ مردہ خانہ۔ ۔ ۔ ۔ جانتے ہو یہ بوڈ لگانا قانوناً جرم ہے۔’

‘ نہیں جانتا’

‘ تو اب جان لو۔ رہائشی علاقے میں مردہ گھر نہیں ہوسکتا۔’

‘ لیکن یہ مردہ گھر تو صرف میرے لیے ہے۔’

‘ تمہیں اس کے لیے اجازت نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ اور پولیس سے اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ کورٹ بھی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔ کہیں کوئی غیر قانونی کام تو نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ؟’

‘ میں مرچکا ہوں۔ ۔ ۔ ۔’ سپرا کا لہجہ اس بار برف سے زیادہ سرد تھا

‘ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟’

پولیس والا پہلے چونکا۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے اندر کی طرف قدم رکھا۔ وہ حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے قدم پیچھے کیے۔ پولیس والے لہجہ اس بار سہما ہوا تھا۔

‘ اس بورڈ کو ہٹا دو۔’

اس نے پولیس والے کو تیزی سے بھا گتے ہوئے دیکھا۔ سپرا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ مردے کو دیکھ کر اکثر لوگ ڈر جایاکرتے ہیں۔ اسے بورڈ ہٹانا ہوگا۔ کیونکہ پولیس والا کہہ کر گیا ہے کہ قانون سے بھی اس کی اجازت نہیں مل سکتی۔ رہائشی علاقے میں مردہ گھر نہیں ہوسکتا۔ کیوں نہیں ہوسکتا؟ سپرا نے خود کو سمجھایا اور ذرا سی کوششوں کے بعد بورڈ اس کے ہاتھ میں تھا۔ بورڈ اس نے کچرے کے ڈبے میں ڈال دیا۔ اب اسے سکون و عافیت کے لمحے درکار تھے۔ اس کے گھر کے دو دروازے تھے، اس نے گھر کا پچھلا دروازہ کھولا۔ آگے کے دروازے پر قفل لگایا۔ پھر پچھلے دروازے سے اندر آکر دروازہ بند کردیا۔ دیواروں پر سفید چادریں جھول رہی تھیں اور ان سفید چادروں سے دھند کے جھاگ نکل رہے تھے اور ان چادروں کے پاس ایک طرف وہ مجسمہ تھا، جہاں حجاب والی عورت کو جگہ ملی تھی۔ موت کا فرشتہ، سپرا کو احساس ہوا کہ عورت کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ہے گویا اس نے بھی پولیس والے کو بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔

سپرا دوبارہ زمین پر لیٹ گیا۔

آنکھیں بند کرلیں۔

اب وہ اپنی موت کی دنیا میں تنہائی چاہتا تھا اور اسے یقین تھا باہر قفل لگا ہوا دیکھ کر کوئی بھی اس سے ملنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

سپرا نے خود کو ایک طویل نیند کے حوالے کردیا۔ مگر یہ کیا۔ آنکھوں کے پردے پر ایک تصویر ابھر رہی تھی۔ اس تصویر میں دولوگ تھے۔ کیا مردے خواب دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ؟کیا مردے چلتے پھرتے ہیں؟ یہ دو لوگ جو باتیں کررہے تھے، سپراان کی باتوں کو سن سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کا سر گنجا تھا۔ پستہ قد۔ موٹا بھائی۔ دوسرے کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی۔ یہ ایک عالیشان کمرہ تھا۔ میز پر بریانی اور کباب کی خالی پلیٹ پڑی تھی۔ دروازے بند تھے۔ شیشے کے باہر صرف نیلا آسمان نظر آرہا تھا۔ گھنی داڑھی والا اس وقت کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ جبکہ موٹا آدمی عینک صاف کرتا ہوا پرسکون تھا۔ وہ اتنا پرسکون تھا جتنا کوئی سمندر یا دریا ہوسکتا ہے۔ اس کے پرسکون رہنے کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ کوئی بھی اس کے سامنے کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ ایسا وہ سوچتا تھا اورعملی طور پر ہوتا بھی یہی تھا۔ بساط اس کے کرتے کی داہنی جیب میں تھی اور بائیں جیب میں سکّے۔ وہ سکے اچھالتا تھا اور پھر اپنی مرضی مطابق بساط سمیٹ لیتا تھا۔ موٹے آدمی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ سامنے والا آدمی کیا سوچتا ہے؟ لوگ کیا سوچتے ہیں؟ اس کے حریف اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اگر وہ یہی سب سوچتا رہتا تو شاید ملک کا سب سے طاقتور آدمی ثابت نہیں ہوتا۔

اور اس وقت جب سامنے، کھڑکی سے باہر نیلا آسمان تھا۔ میز پر بریانی کی خالی پلیٹ پڑی تھی، موٹے آدمی نے داہنی جیب سے لیمنیشن کرائی ہوئی بساط نکالی اور گھنی داڑھی والے کے سامنے میز پر رکھ دی۔

گھنی داڑھی والا مسکرایا۔’یہ بساط تمہاری جیب میں آجاتی ہے؟’

‘ میری جیب میں تو دنیا آجاتی ہے۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’ گھنی داڑھی والا ہنسا۔’ لیکن تمہاری جیب تو چھوٹی ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہاتھ تو لمبے ہیں۔’ موٹی بھائی نے اس بار چشمہ ٹھیک کیا۔

‘ پھر بھی۔ یہ بساط جیب میں رکھنے سے مڑ تڑ سکتی ہے۔’

‘ سوال ہی نہیں۔’ موٹا آدمی مسکر ایا۔’لیمینشن پر خون کے چھینٹے اور اس پر اسپرٹ۔ لیمنیشن مضبوط رہتا ہے۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’ گھنی داڑی والا مسکرایا۔ ‘تم خون کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے؟’

‘ کیا خو ن کے بغیر کوئی کام ہو سکتا ہے سر۔’

‘ لیکن بساط پر خون کے چھینٹے اور اس پر اسپرٹ؟’

‘ اصل تو بساط ہے۔ سارا کام تو اس بساط کا ہے۔ خون کا چھینٹا دینا پڑتا ہے۔’

‘ پورا بنیا۔’ گھنی داڑھی والا ہنسا۔’ تو تم کو ہر کھیل میں خون کے چھینٹے کی ضرورت ہوتی ہے؟’

‘ ایسا نہیں ہے۔’موٹا بھائی ہنسا۔’بلڈ اسپرے، یہ جلدی کام کرتا ہے۔’

‘ ہونہہ۔ ملک بیمار ہوگیا ہے۔’ گھنی داڑھی والا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ٹہلتا ہوا کھڑکی کے پاس آگیا، جہاں سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا۔’۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کو لگتا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ سر، کیا اب تک ہم ناکام ہوئے؟’

‘ نہیں۔’

‘ پہلے دن سے۔ اب تو بیس برس گزر گئے۔’

‘ ہاں۔’

‘ مگر کبھی کبھی تم سے ڈر لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ کیوں سر۔’

‘ تم ذرا تیز بھاگتے ہو۔’

‘ آپ سے بھی تیز۔ ۔ ۔ ؟’

‘ ہاں۔’داڑھی والا مڑا۔ اب وہ موٹے آدمی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ گو تمہارے فیصلے سے میں کبھی ناخوش نہیں ہوا۔ اور میں جس مقام پر ہوں، اس میں صرف تمہارا ہاتھ ہے۔ مجھ سے بھی کہیں زیادہ۔ میں کامیاب ہی نہیں ہوتا اگر تمہاراساتھ نہ ہوتا اور یہی بات مجھے ڈراتی بھی ہے۔

‘ کیوں سر ؟’

‘ سیاست۔’ گھنی داڑھی والے کا چہرہ ا ب بھی سنجیدہ تھا اور وہ اب عقاب جیسی نظروں سے موٹے آدمی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‘ آپ کوڈرنا نہیں چاہیے سر۔’

‘ کیوں؟’

‘ مجھے آپ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ لوگ آپ کو جانتے ہیں۔ مقبولیت آپ کی ہے اور میں فقط کیشئر ہوں۔ اس مقبولیت کو کیش کرتا ہوں۔ میں کبھی آپ نہیں بن سکتا۔ لوگ مجھے قبول بھی نہیں کریں گے۔’

‘ لیکن تم پتے تیز چل رہے ہو۔’

‘ تاش کے پتے ہیں سر۔’

‘ ہاں۔ مگر ساری جیت تم اکیلے اپنے نام کررہے ہو۔ ۔ ۔ ۔’

موٹے بھائی کے چہرے پر تبدیلی آئی۔’’نہیں سر۔ تاش بھی آپ کا۔ پتے بھی آپ کے۔ میں وہی کررہا ہوں، جس کی اجازت آپ سے ملی۔’

‘ چنار کی اجازت کیا مجھ سے ملی تھی؟’

‘ صد فی صد تو نہیں۔’

‘ اور ڈلواما کی۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ وہ میری پلاننگ تھی مگر کام کرگئی۔’

گھنی داڑھی والے نے ٹہلنا جاری رکھا۔’اور اسی لیے اب تم خطرہ بنتے جارہے ہو۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ایسا نہیں ہے سر۔’

گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ‘خطرہ مت بننا۔ سب ہمارے دشمن ہیں۔ ایک نہیں دو جانیں جائیں گی۔’

‘ میں سمجھتا ہو ں سر۔’

‘ کبھی کبھی میں ڈر جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔’گھنی داڑھی والا کہتے کہتے رک گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

‘ کیا۔ ۔ ۔ ؟’

‘ نئے انتخاب سے پہلے۔ کیا مجھے امید تھی۔ ۔ ۔ ۔’

موٹا بھائی ہنسا۔’ آخری پریس کانفرنس میں آپ نروس تھے سر۔ مگر بساط۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے مہرے چل دئے تھے۔’

‘ ہاں۔ اور تمہارے سارے مہرے کامیاب رہے۔’

‘ مجھ پر یقین قائم رکھیے سر۔’

‘ میں بھی تو بنیا ہوں۔’ گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ‘تم کو اب کیسا لگتا ہے، یہ لوگ مان جائیں گے؟’

‘ کس بات پر ؟’

‘ پلّوں کو آؤٹ کرنے کے معاملے میں۔’

موٹا بھائی مسکرایا۔ میرے مہرے کبھی نہیں پٹے سر۔ یہ عبارت تو کانگریس نے لکھی تھی۔ ملک کا بٹوارہ مذہب کے نام پر ہوا۔ آزادی کے بعد میں نے مذہب کا صفحہ کھول دیا۔’

‘ اس دلیری کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ دلیری تو آپ سے سیکھی ہے سر۔’

‘ زلزلہ آجائے گا۔’

‘ آنے دیجیے سر۔ مندر ہمارا ہوگیا۔ اب بہت کم مہرے بچے ہیں۔’

‘ معیشت کی کشتی میں سوراخ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ لوگ سوکھی روٹی کھائیں گے مگر ہمارا ساتھ دیں گے۔’

‘ اتنا اعتبار کہاں سے لاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ؟’

‘ بنیا ہوں سر۔ آپ سے سیکھا ہے۔’

گھنی داڑھی والا دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔’بہت تیز جارہے ہو اور اسی لیے کبھی کبھی تم سے ڈر لگتا ہے۔’

‘ ابھی اور بھی تیز جانا ہے سر۔ بلڈ اسپرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ بلڈ اسپرے۔’گھنی داڑھی والا مسکرایا۔ ۔ ۔ ۔’ ابھی کچھ دن تک اس اسپرے کو بند رکھو۔ حالات کا جائزہ لو۔’

‘ یس سر۔’

میز کے آمنے سامنے دونوں بیٹھ گئے تھے۔ سامنے غروب آفتاب کا منظر تھا کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔

مسیح سپرا کا چہرہ کھلا تھا۔ سفید چادروں کے درمیان موت کے فرشتہ نے جب اس کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب وہ کچھ دیر نیند کی آغوش میں جانا چاتا تھا۔ مگر اب اس کی نیند ٹوٹ گئی تھی۔ وہ اندھیرے کے دائرے میں تھا۔ موبائل، ٹی وی، اخبار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب سے کٹ چکا تھا۔ وہ ایک مردہ تھا بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔ اس بار کچھ لوگ تھے جو ایک مینارے پر چڑھے ہوئے تھے۔ جن کے پاس اسلحے تھے۔ ہتھوڑے تھے۔ کچھ لوگ نعرے لگارہے تھے۔ وہ مینار کو مسمار ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے کبوتروں کے جھنڈ کو دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اڑتے ہوئے کسی سیاہ سوراخ میں سمانے کی کوشش کررہے تھے۔ پھر اس نے جلتی ہوئی آگ دیکھی۔ کچھ قبائلی تھے جو ڈھول بجارہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ وہ جس زبان میں گفتگو کررہے تھے، مسیح سپرا اس سے واقف نہیں تھا۔ پھر اس نے کچھ سلگتے ہوئے گھر دیکھے۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں کو جان بچاکر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیح سپرا کو یقین تھا۔ موت ہر جگہ ہے اور موت کے فرشتے ہر اس جگہ پہنچ چکے ہیں جہاں ایک بھی انسان باقی ہے۔ ۔ ۔

ایک دن مینار ٹوٹ جاتے ہیں۔ ۔ ۔

ایک دن پرندے اڑ جاتے ہیں۔ ۔ ۔
‘ اُڑ۔ ۔ ۔ اُڑ۔ ۔ ۔ چل خسرو گھر آپ نے سانجھ بھئی چودیس۔’

اب مسیح سپرا گہری نیند میں تھا۔

[divider](6)[/divider]

[dropcap size=big]باہر[/dropcap]

کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز تھی۔ پھر ایک ساتھ بہت سارے فوجی بوٹ کی آواز سنائی دی۔ جیسے کوئی لشکر گزر رہا ہو۔ کچھ دیربعد سناّٹاچھاگیا۔ دروازے کے باہر کچھ لوگوں کے چلنے کی ہلچل تھی۔ سناٹے میں اچانک فائرنگ کی آوازگونجی۔ اس کے بعد پھر سناٹا چھا گیا۔ فائرنگ کس نے کی؟ فوجی کہاں جارہے تھے؟ یا یہ سب دماغ کا وہم ہے۔ دماغ اندھیرے میں کچھ زیادہ ہی سوچتا اور کام کرتا ہے۔ کہیں وہ پولیس والا دوبارہ ادھر نہ آجائے۔ دروازے پر قفل ہے۔ اس لیے وہ نہیں آسکتا۔ وہ مر چکا ہے تو پھر ایسے خیال اسے کیوں آرہے ہیں۔ مسیح سپرا کو پیاس محسوس ہوئی۔ فریزر سے بوتل نکال کر ایک گھونٹ پیا۔ پھر زمین پر آکر لیٹ گیا۔ کل اس نے برگر کھایا تھا۔ سامان کم ہورہے ہیں۔ ایک ہفتہ میں شاپنگ کے لیے اسے باہر جانا پڑ سکتا ہے۔ مگر وہ مطمئن تھا۔ وہ مردہ ہے اور ادھر ادھر گھوم سکتا ہے۔ کھاپی سکتا ہے۔ مگر وہ مر چکا ہے۔ حقیقت یہی ہے۔ اس نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ وہ ہرطرح کی فکر سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ کیا۔ سامنے دونوں کھڑے تھے اور یہ کسی محل کی عمارت تھی۔ کمرہ بند تھا۔ وہ دونوں پھر سے موجود تھے۔ ایک گنجے سروالا۔ دوسرا گھنی گھنی داڑھی والا۔ دونوں عجب انداز میں ہنس رہے تھے اور اس وقت ان کے چہرے ڈارون کے قدیم بندروں جیسے تھے۔ ۔ ۔ ۔

‘ کیا تمہیں لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔’ داڑھی والا کچھ پوچھتے ہوئے خاموش رہ گیا۔

‘ ایک سوراخ برابر غفلت اور ہم دونوں نہیں ہوں گے۔’

‘ ہاں۔’ گھنی داڑھی والا خیالوں میں کھویا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہم نہیں ہوں گے۔

‘ اور ہمارا ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں۔’ گنجے سروالے نے کہا۔

‘ یہ بھی صحیح۔ مگر ہمارا ایک ایک قدم۔ ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ بس یہی راستہ ہمیں زندہ رکھ سکتا ہے۔’

‘ شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔’ گھنی داڑھی والے کی آنکھیں چھوٹی تھیں۔ فکر کے دوران یہ آنکھیں اتنی چھوٹی ہوجاتی تھیں کہ ان آنکھوں کے نہ ہونے کا گمان ہوتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔

‘ ایک تاریخی فیصلہ۔ ۔ ۔ ۔’

‘ اور بہت سارے مردے۔’گنجے سروالا ہنسا۔ اب دوہی ذات ہیں۔ ‘زندہ اور مردہ۔’

‘ کیا مردے بولیں گے؟’

‘ کیا مردے بول سکتے ہیں۔’ گنجے سر والا زور سے ہنسا۔

‘ تم نے چتر بنیا کہا تھا۔’

‘ اس چتر بنیے کی لاش کو بھی دفن کردیں گے۔’

‘ اب تک سبھی کچھ ہماری مرضی سے ہورہا ہے۔ یعنی جیسا ہم نے چاہا۔’

‘ آگے بھی اپنی مرضی سے ہوگا۔ یعنی جیسا ہم چاہیں گے۔’

‘ گڈ۔’گھنی داڑھی والا کچھ سوچ رہا تھا’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم وہ مرگ نیتی لائے ہو۔ ۔ ۔’

‘ کاغذ کہیے سر۔’

‘ ہاں۔ کاغذ کا ڈھیر۔ لائے ہو؟’

‘ اس کی ضرورت نہیں تھی۔’

‘ ہاں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اور مجھے یقین ہے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ نئی تاریخ نئے کاغذ پر لکھی جائے گی۔’

‘ سچ۔ بالکل سچ۔ یہی ہوتا رہا ہے۔ ہم ان سے سیکھ رہے ہیں، جنہوں نے ہم سے پہلے کچھ غلطیاں کیں۔’

‘ نئے کاغذ پر نیا نقشہ بنے گا۔’

‘ اوہ۔ ۔ ۔ میں زندہ ہوں۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ مگر تم سے۔ ۔ ۔ ۔’

‘ تم سے کیا سر۔ ‘

‘ تم سے ڈر لگتا ہے۔ تم جسمانی طور پربھی مجھ سے زیادہ طاقتور ہو۔’

‘ ہو ہو۔ ۔ ۔ ۔’گنجے سر والا ہنسا مگر بولا کچھ نہیں۔

‘ گھوڑوں کی ریس ہے سر۔’

‘ کچھ کمزور گھوڑے بھی ہوں گے۔’

‘ ہاں انہیں پیچھے رکھا گیاہے۔’

‘ چلو۔ ریس دیکھتے ہیں۔’

محل نما کمرے میں اب سناٹا تھا۔ مسیح سپرا کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ اب بہت سے گھوڑے تھے، جنہیں وہ ریس کورس میں دوڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ کچھ گھوڑے تیز دوڑ رہے تھے۔ کچھ گھوڑے نقاہت کی وجہ سے گر گئے تھے۔ کچھ گھوڑے آدھے راستے میں ہی دم توڑ گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ سفید چادروں کے درمیان والی عورت اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

مسیح سپرا نے آنکھیں بند کرلیں۔

Categories
فکشن

نروان (نیر مصطفیٰ)

اضطراب اپنی آخر ی حدوں کو چھونے لگا ، تشنگی نا قابل برداشت ہو گئی اور نیند کی دیوی کو روٹھے ہوئے ہفتہ ہو چلا تَواُس نے زندگی میں پہلی بار بڑے چائو سے اکٹھے کئے گئے سامانِ تعیشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے سنگ ِمرمر سے بنے محل کو الوداع کہہ کر کسی انجانی ڈگر پہ چل پڑا۔

اُس نے منبر پر بیٹھے خطیب سے سکون کی شاہراہ کا راستہ پوچھا اور پہلو میں ذہنی خلفشار سمیٹ کر لوٹ آیا، شاعر سے اپنے مسئلے کا تذکرہ کیا اور کھوکھلے جذباتی دلائل کا جواب ایک استہزائیہ قہقہے سے دیتا ہو ا آگے بڑھ گیا، فلسفی سے ملاقات کا نتیجہ تجرید کی ایک بے ڈھنگی عمارت کی تعمیر تھی جس نے اُس کے لاشعور کی چولیں ہلا ڈالیں ، موسیقار اُس کے سامنے سے وہی صدیوں پرانی دھنیں بجاتا ہو ا گزر گیا جن میں اب کوئی کشش اور مدھرتا باقی نہ رہی تھی، وہ چلتا ہو ا شہروں کی حدود سے باہر نکل آیا۔

وہ زمان ومکان کی کیفیتوں سے بے نیاز ہو کر چلتا رہا ۔ اُس کی جوتیاں گِھس گئیں،پائوںمتّورم ہو گئے، کپڑے چیتھڑوں کی صورت تن پر جھولنے لگے، بال مٹی سے اَٹ گئے اور چہرے کے خدوخال گرد نے گہنا دئیے یہاں تک کہ وہ ایک وسیع و عریض جنگل میں جا پہنچا۔

وحشت، اب اُس کے اختیار سے باہر ہو چلی تھی۔ اُس نے ایک نعرۂ مستا نہ بلند کر کے تن کے چیتھڑے اتار پھینکے اور پتوں کا لباس پہن لیا۔

اُس نے درختوں کی سر گوشیاں سنیں، کلی کا چٹکنا دیکھا، دھنک کے رنگ گنے اور چاندنی سے کلام کیا مگر سب بے سود۔فطرت کی مہربان آغوش میں کہیں کوئی غیبی اشارہ تھا بھی تَواُس کو نہ مل پایا۔ ہر نئے دن کے ساتھ افق کے اُس پار سے ابھر نے والا سورج امید کا استعارہ بن کر طلوع ہوتا اور مایوسی کی علامت بن کر ڈوب جاتا۔ تھک ہار کر اُس نے آنکھیں مو ند لیں اور اکڑوں بیٹھ کر تپسیا شروع کر دی ____جسم سے دل اور دل سے روح تک رسائی کی تپسیا۔

بالآخر اُس نے دل اور روح کے دو جہانوں تک رسائی حاصل کر لی مگر المیہ یہ ہو ا کہ دونوں ہی اندر سے خالی نکلے ۔ تہی دامانگی کا احساس اِتنا گہرا اور گھمبیر تھا کہ خودی اور بے خودی،امید اور مایوسی، سبھی اپنے مفہوم کھو بیٹھے اور جب سکوت اور کلام میں فرق نہ رہ جائے تَو شہر اور جنگل بھی ایک ہو جاتے ہیں۔

وقت آگیا تھا کہ مکتی کو دیوا نے کا خواب اور نروان کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر واپسی کی راہ اختیار کی جائے ____ سفر شروع ہوا !

اُسے معلوم تھا کہ واپسی کا راستہ سہل نہ ہوگا ۔ بچے اُسے دیکھ کر تالیاں بجاتے، لونڈے لپاڑے پتھر مارتے، شرفاء راستہ بدل لیتے اور عورتیں حقارت سے دیکھتیں۔ پہلی بار وہ اپنی بد ہیئتی پر کڑھا اور محل کی جانب بڑھتے قدم تیز سے تیز تر ہوتے چلے گئے۔ آخرکار وہ اپنے محل کی دہلیز پر جا پہنچا۔

کچھ دیر تک وہ اپنے عالی شان محل کی دیواروں کو بہ غور دیکھتا رہا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ کچھ بھی تَو نہ بدلاتھا۔ مگر جو نہی اُس نے محل کی چوکھٹ پر پہلا قدم رکھا ، رائیگانی کا احساس ایک دم اپنی پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ اُسے یوں لگا جیسے اب تک وہ محض ایک دائر ے میں گھومتا رہا ہو اور یہ خیال اِتنا ہیبت ناک تھا کہ اُس کا نحیف بدن، ہوا کی زد پر آئے پتوں کی طرح کپکپانے لگا۔

ٹھیک اُسی لمحے، ایک مدھم سی آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ اُس نے فی الفور آواز کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں۔ سامنے فٹ پاتھ پر، میلی سی چادر میں لپٹا، ایک شیر خوار بچہ رو رہا تھا۔

فٹ پاتھ کی دوسری جانب سے ایک پکھی واسن دوڑتی ہوئی آئی اور اُس میلے کچیلے بچے کو اپنی چھاتیوں سے لپٹا کر دودھ پلانے لگی جو ایک دم یوں خاموش ہو گیا جیسے کبھی رویا ہی نہ ہو؛ آسمان سے نور کا ایک ہالہ اترا اور اُن کے مد قوق اور پیلے چہروں پر روشنی بن کے جگمگا اُٹھا ۔

نروان کی تلاش میں نگری نگری پھرنے والے سیلانی نے اپنے سنگِ مر مر سے بنے سفید محل کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر یہ سارا منظر دیکھا اور نروان کی حقیقت جان گیا۔

Categories
فکشن

بوئے خوں (رفاقت حیات)

وہ اندھیرے میں دکھائی نہ دینے والی سرخ اینٹوں کے کھردرے فرش پر گھٹنے ٹیک کر اس طرح بیٹھا تھا، جیسے نماز پڑھ رہا ہو۔ گھٹنوں پر رکھے ہوئے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور کاندھے میں بھی تیز دُکھن تھی جب کہ اس کا دایاں ہاتھ فرش پر بے حس لٹکا پڑا تھا۔ ایک لمحے کے بعد اس کی اوپر کو اٹھی ہوئی گردن آہستگی سے نیچے آئی اور ڈھلک کے رہ گئی۔ دھونکنی کی طرح چلتے اس کے سینے کو قرار آگیا اور دھیرے دھیرے اس کی سانسیں ہموار ہونے لگیں۔ اپنے جسم اور چہرے کی مختلف جگہوں پر جلن اور درد کو محسوس کرتے ہی اس کے ہاتھ یہاں وہاں زخموں کو ٹٹولنے لگے۔ کہیں پرناخنوں کی کھرونچوں سے اس کا گوشت سلگ رہا تھا اور کہیں پر دانتوں کے کاٹنے سے اسے تکلیف ہورہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک اس کی نگاہ میں گھمبیر تاریکی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن دھیرے سے آنکھیں مچ مچا کر، پھیلا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ کمرے کی چیزوں کو ان کی جگہ پر دیکھنے اور پہچاننے لگا۔ کمرے کی چھت اور دیواریں، بند کھڑکی اور دروازہ، الماری، صندوق اور پلنگ۔ وہ ہر طرف دیکھتا رہا مگر جب اس نے اپنے بہت قریب فرش کو دیکھا تو چونک پڑا۔”یہ۔۔۔یہ کیا تھا”؟ اس نے سوچا۔ “شاید کوئی چیز پڑی ہوئی تھی۔ لیکن نہیں، وہ تو ایک جسم تھا”۔

اس کے ٹوٹے ہوئی جسم کی طرح اس کا ذہن بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ دیر پہلے کے واقعے کو یاد کرنا یا اس کے بارے میں سوچنا فی الحال ممکن نہیں تھا۔ لیکن اسے معلوم تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نزدیک پڑا جسم بھولے کا تھا۔ اس کی انگلیوں کی کپکپاہٹ تھم گئی اور کندھے کی دکھن بھی ختم ہو گئی۔ اس نے جھک کر ہاتھ آگے بڑھایا تو اس کی انگلیاں ایک پیر سے ٹکرائیں اور اس پر رینگنے لگیں۔

وہ پیر مٹی اور گرد سے اٹا ہوا تھا۔ اس پر ایک موٹی سی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس نے پیر کو ہلایا، جلایا لیکن بے حرکت جسم بے حرکت ہی رہا۔ اپنے گھٹنے گھسیٹ کر وہ آگے بڑھا۔ اب اس کا ہاتھ اس کے پیر کی پنڈلی کو ٹٹولنے لگا۔ وہ پنڈلی بہت نرم تھی اور اس پر کوئی بال نہیں تھا۔ گوشت کو دباتے ہوئے اس کی آہ نکل گئی اور دفعتاً اس کا ہاتھ پھسلا تو اس نے فرش پر رینگتے ہوئے سیال کو محسوس کیا۔ وہ بھولے کا خون تھا۔

وہ یک دم سناٹے میں آ گیا اور کمرے کی تاریکی میں آنکھیں پھیلا کر آس پاس دیکھنے لگا۔ پھر وہ اپنی جیبیں ٹٹولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ ماچس کی تلاش میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوئے اس کا پاؤں فرش پر کسی چیز سے ٹکرا گیا اور وہ چیز گھسٹتی ہوئی، خاموشی میں تیز آواز پیدا کرتی ہوئی پلنگ کے نیچے چلی گئی۔ اس نے پرواہ نہیں کی اور صندوق، الماری اور پلنگ پر ہاتھ مارتا رہا۔ اسے ماچس مل گئی۔ لیکن پچھلی موم بتی بہت پہلے ختم ہو چکی تھی اور نئی موم بتی کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں رکھی ہوئی تھی۔ وہ دیا سلائیاں جلا کر، بھڑکا کر، کونوں کھدروں میں ڈھونڈ تا ٹٹولتا رہا۔ دیا سلائیوں کی بجھتی بھڑکتی روشنی میں اس نے یونہی بھولے کی طرف دیکھا تو نجانے کیوں وہ اسے پہلے سے زیادہ خوب صورت معلوم ہوا۔

پلنگ کے نیچے اسے آدھی موم بتی کا ٹکڑا مل گیا۔ وہیں فرش پر گری ہوئی چھری بھی اس کے ہاتھ لگ گئی۔ چھری کو فوراً پھینک کر، اس نے موم بتی روشن کی اور بھولے کے پاس پہنچا۔ زرد اور پھیکی سی روشنی میں اس نے دیکھا کہ ابھی تک اس کی آنکھوں میں نفرت تھی اور چہرے پر غصیلا پن جھلک رہا تھا۔ اس نے بھولے کی کھلی ہوئی آنکھوں اور ادھ کھلے ہونٹوں کو بند کر دیا۔ اچانک اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور غم کی تیز لہرنے اس کے پورے بدن کو جکڑ لیا۔ اس نے بمشکل مو م بتی فرش پر رکھی اور سسکیاں لینے لگا۔ اس کی آنکھوں میں پہلا آنسو جگمگایا اور اس نے بلند لہجے میں ماتم شروع کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن صبح سے بوندا باندی ہورہی تھی۔ وہ شام ڈھلنے سے ذرا پہلے کارخانے سے باہر نکلا تھا اور کیچڑ سے چپچپاتی گلیوں میں آہستگی سے چلتا فوارے والے چوک تک پہنچا تھا۔ بازار کی دکانیں وقت سے پہلے بند ہو گئی تھیں اور خریداروں کے بجائے راہگیروں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ بھی اسٹینڈ پر تانگے کے انتظار میں کھڑی بھیڑ میں شامل ہوگیا تھا۔ ہجوم کی دھکم پیل کی وجہ سے آنے والا ہر تانگہ فوراً بھر جاتا اور تھوڑی سی دیر میں واپس چلا جاتا۔ تین مرتبہ تانگے پر سوار ہونے کی کوشش میں اسے ناکامی ہوئی تھی۔ چوک سے اس کی رہائش کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ لیکن وہ تھکاوٹ محسوس کر رہاتھا۔ اور اسے مکان پر پہنچنے کی جلدی بھی تھی۔

ایک پرانے اور خستہ حال تانگے کو دیکھ کر لوگ اس پر سوار ہونے سے کترائے اور وہ پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اس میں بیٹھ کر بوندا باندی اور ہوا کے سرد جھونکوں سے بچنا محال تھا۔ اس تانگے کا نو عمر کو چوان آوازے لگا رہاتھا۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس نے اگلی نشست پر اپنے ایک دوست کو بٹھا دیا تھا۔

وہ ٹھٹھرنے اور بھیگ جانے کی پرواہ کیے بغیر تانگے پر سوار ہو گیا تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی تین اور لوگ بھی چڑھ کر بیٹھ گئے تھے۔ اسے کوچوان کے دوست کے پہلو میں جگہ ملی تھی، جو سر سے پاؤں تک برسات میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ بہت کم عمر دکھائی دیتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور جسم صحت مند تھا۔ اس کے سرخ ہونٹوں میں کوئی کشش تھی کہ وہ اسے غورسے دیکھے بنا نہیں رہ سکا تھا۔

تانگے کا مریل گھوڑا سست رفتاری سے بازار کی مرکزی سڑک پر دوڑنے لگا۔ آگے اور پیچھے بیٹھے لوگ، ایک دوسرے سے منہ موڑ کر شام کے دھندلکے میں گم ہوتی اِدھر اُدھر کی معمولی چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اور پانی کی پھوار ان کے چہروں کو چومتی اور سہلاتی رہی۔ خنکی سے بچنے کے لیے وہ خود بخود اپنے جسموں کے اندر ہی اندر سمٹتے رہے۔

اس کے جسم کا دایاں حصّہ کو چوان کے دوست کے بائیں حصے کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ لڑ کھڑا کر اور ڈگمگا کر چلتے تانگے کی وجہ سے ان دونوں کے گھٹنے، کولہے اور کندھے آپس میں رگڑ کھا رہے تھے۔ تھکاوٹ کے سبب سردی اس کے جسم پر غالب آرہی تھی۔ اس کی مندی ہوئی نگاہ سامنے تھی اور دھیرے سے کم ہوتے فاصلے کو ناپ رہی تھی۔

کوچوان اور اس کا دوست آپس میں سرگوشی اور کبھی دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے تھے، مشینوں کے درمیان دن بھر کی مشقت کی وجہ سے وہ تھوڑا سا بہرا ہوگیا تھا اور یوں بھی اس کا دھیان اس قابل نہیں تھا کہ کسی بھی چیز پر دیر تک لٹکا رہ سکے۔ مگر ان دونوں کا کوئی آدھا پورا جملہ خود بخود اس کے کان پڑ جاتا تھا۔

کوچوان دھیرے سے چابک چلاتے ہوئے اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔ “تونے چاچا رحیم کی نوکری چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ سوچ لے۔ وہ شہر کے آدھے تانگوں کا مالک ہے”۔ اس کے لہجے میں پر خلوص تنبیہ تھی اور نصیحت بھی۔

اس کا دوست پہلو بدلنے کے لئے تلملاتے ہوئے بولا۔ “تجھے نہیں پتہ۔ وہ ایک نمبری کنجوس ہے رات دن افیم چرس پیتا رہتا ہے۔ نشے کے بعد وہ بندہ تو رہتا ہی نہیں”۔

“تجھے کیا ؟ وہ جو بھی کرتا رہے”۔

“سارا غصہ سارا زور تو وہ مجھ پر نکالتا تھا”۔ اس نے چپکے سے آنکھوں کے کونوں سے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو دیکھا۔ ان کے جسم اس طرح جھول رہے تھے، جیسے وہ خواب میں چل رہے ہوں۔

“وہ تو بڈھا ہے اس میں زور کہاں”؟ کوچوان نے گھوڑے کو ہشکارتے ہوئے کہا۔

“وہ خبیث بڈھا نہیں ہے ڈنڈا ہے ڈنڈا۔ ابھی تک میرے درد ہو رہا ہے کوئی رات خالی نہیں گزاری۔”

دونوں دوست آپس میں بولتے رہے۔

ایک آدھ جملہ سن کے نجانے کیوں وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ ایک تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے پہلے جھک کر اور بعد میں پہلو بدل کر کوچوان کے دوست کو اچھی طرح دیکھا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنے کندھے اور گھٹنے کو اس کے ساتھ زور سے رگڑا اور اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اپنے آپ اس کی ران کے خوشگوار لمس کی جھیل میں بھٹکنے لگیں۔ چڑھائی اترتے وقت اس نے ہاتھ پھیلا کر نرم گوشت کو دبایا۔ نرمی کو چھوتے ہوئے اس کے اندر کی کھردراہٹ کو چین تو ملا لیکن اس کی بے قراری میں جیسے کھلبلی سی مچ گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد تانگا اس پل کے نزدیک پہنچ گیا، جہاں اسے اترنا تھا۔

اترتے ہوئے اس نے کوچوان کے دوست کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے ایک غصیلی بے بسی دکھائی دی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک بدمعاش مسکراہٹ پھیل گئی جو سڑک پر چلتے ہوئے بدمعاش ہنسی میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے کالے آسمان کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور اپنی تاریک اور گھٹن زدہ رہائش کی طرف اترنے والی غلیظ گلی میں چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرش پر رکھی موم بتی کے اوپر نیچے ہوتے شعلے کی روشنی میں اس کا سایہ کانپتا رہا۔ ایک پتنگا تھوڑی دیر تک شمع کے گرد منڈلایا اور اس کی پھڑ پھڑاہٹ کمرے کی خاموشی میں دوچار لمحے گونجی لیکن پھر وہ شعلے میں راکھ ہوگیا۔ دھیرے دھیرے اس کا رونا مدہم پڑ گیا اور کچھ آنسو گالوں سے پھسل کر اس کی ٹھوڑی سے اس کی جھولی میں گرے اور اس کے بعد اس کی آنکھیں خشک ہو گئیں۔

ہاتھ چہرے سے ہٹا کر وہ ایک مرتبہ پھر بھولے کو غور سے دیکھتا رہا۔ وہ آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے نزدیک لے گیا۔ اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے پہلی بار اسے اپنے دانتوں کے نشان دکھائی دیے۔ نشان، جو گہرے تھے اور جنہیں شمار کرنا ممکن نہیں تھا، جو پیشانی اور آنکھوں کے سوا تمام چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔

موم بتی ہاتھ میں لے کر اس نے گالوں کی سرخی کو دیکھا تو اس کی نگاہ ہونٹوں کی سرخی پر جم کے رہ گئی۔ ابھی تک وہ گیلے تھے اور سوجے ہوئے بھی، وہ ان کی نیم گرم نرمائیت کو انگلیوں کی پوروں میں جمع کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں بھولے کے بغیر بالوں والے سینے پر گھومنے لگیں۔

اس کے جسم کے خفیہ ترین گوشوں میں کوئی شے سرسرانے لگی۔ کوئی مانوس اور گمنام سی شے۔ اس نے موم بتی فرش پر رکھ دی اور لمبے سانس لینے لگا۔ یہ کیفیت اس کے لیے بالکل نئی تھی اور انوکھی بھی۔ اچانک اسے چرس بھرے سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی۔ نادانستہ اس نے داہنی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ اپنی جیب کو غائب پا کر اسے اپنی حماقت پر ہنسی آگئی۔ بھولے کی طرح وہ بھی ننگا تھا۔ اس نے یہاں وہاں نظر پھینکی تو اپنی قمیض کو پلنگ پر پڑے ہوئے دیکھا۔

اس نے قمیض اٹھائی اور اس کے بعد سگریٹ کی ڈبیا نکال کر لپک جھپک میں اس نے چرس کا سگریٹ بنایا۔

پہلا کش لیتے ہی اس کی بند ناک کھل گئی اور ایک بدبو کی بھبک زبردستی اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی۔ اس نے فورًا اٹھ کر کمرے کی اکیلی کھڑکی کھول دی لیکن اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا کہ اگر کسی نے جھانک کر دیکھ لیا تو۔

وہ سہم گیا اور اس نے کھڑے کھڑے ایک دو کش لگانے کے بعد اپنے سر کو سلاخوں کے پاس لے جاکر باہر کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ دیر تک پوری آنکھیں کھول کر کوئی مشتبہ چیز دیکھنے کی کوشش کرتا رہا اور کان لگا کر خطرے کی کوئی آواز ڈھونڈتا رہا۔

کھڑکی کے سامنے کچی اور غلیظ ڈھلان تھی، جس کے نیچے گندا نالہ بہتا تھا۔ دوسری طرف قبرستان تھا۔ اور اس کے ٹنڈمنڈ وحشت ناک درخت، پور امنظر تاریک تھا لیکن اسے سب کچھ نظر آرہا تھا۔ زمین کی چیزوں کو غور سے دیکھنے کے بعد وہ آسمان کو دیکھنے لگا۔ سگریٹ ختم ہوا تو اس نے کھڑکی بند کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جمعرات کی شام تھی اور ابھی تک بونداباندی رُک رُک کر جاری تھی۔

بوندا باندی کی یک رنگی نے اس کی زندگی کو بے مزہ بنا دیا تھا۔ کام سے فراغت کے بعد اپنے تاریک کمرے میں دبک کر بیٹھنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے کمرے میں شام سے بہت پہلے رات اتر آئی تھی اور بہت دیر تک کونوں کھدروںمیں چھپی رہتی تھی۔وہ کارخانے کے جس کمرے میں کام کرتا تھا، وہ بھی کھوہ جیسا تھا۔ اس کا پورا دن ہزار وولٹ کے بلب کی روشنی میں مولڈنگ مشین کے سرخ شعلے کو گھورتے ہوئے گزر جاتا تھا۔ شام کو وہ اپنی آنکھوں میں جلن اور جوڑوں میں دکھن لیے باہر نکلتا تو اسے رات کے رنگ کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک سال ہونے کو آیا تھا، اس کے لیے شہر کی اجنبیت ابھی تک ختم نہ ہو سکی تھی۔ دوستی کے بجائے لوگوں سے اس کے تعلق کی بنیاد صرف ضرورت پر قائم تھی۔ ہوٹل پر کھانے کی ضرورت، مانڈلی پر سگریٹ خریدنے کی ضرورت۔ اس کی ضرورتیں پوری کرنے والے لوگ اس کے لیے غیر اہم تھے۔

اس نے اس شام فوارہ چوک کے بجائے شاہ چن چراغ کے مزار کا رخ کیا تھا۔ وہاں سے مزار زیادہ دوری پر واقع نہیں تھا۔ درمیان میں صرف چند آڑی ترچھی گلیوں کا راستہ تھا۔

گلیاں نیم تاریک اور بھیگی ہوئی تھیں۔ جا بجا کیچڑ اور برساتی پانی کی بہتات تھی۔ مٹی اور سرخ اینٹوں کی سوندھی مہک تمام راستے میں پھیلی تھی۔ آسمان سرمئی اور سیاہ بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی۔ ایک چھوٹے اور تنگ سے ہوٹل میں بیٹھ کر اس نے چائے پیتے ہوئے کیک پیس کھایا اور چلنے لگا۔مزار کی جنوبی دیوار ایک چڑھائی سے شروع ہو کر کشادہ گلی کے نکڑ تک جاتی تھی۔ دیوار پیلی تھی مگر اس وقت سرمئی نظر آرہی تھی۔ وہ دیوار کے ساتھ چلتا مرکزی دروازے تک پہنچا اور اندر داخل ہوا۔ احاطے میں چند بکھری ہوئی روشنیاں تھیں مگر اندھیرے کی کیفیت غالب تھی۔ دا ہنی طرف ذرا اونچائی پر ایک حجرہ بنا ہوا تھا۔

حجرے کے ساتھ خالی زمین پر درخت اور پودے لگے ہوئے تھے۔ بائیں طرف نیچے مزار تھا اور اس کا برآمدہ اور صحن بھی۔ یہ چیزیں سفید سنگِ مرمر کی تھیں، نیم اندھیرے میں بھی سنگِ مر مر کا میلا پن دکھائی دے رہا تھا۔ پورے احاطے میں گلاب کے سوکھے پھولوں اور اگربتیوں کی گاڑھی خوشبو تھی۔ وہاں سوگوار چہروں والے چند لوگ بھی تھے، جو دبے پاؤں چلتے تھے اور سرگوشیاں کرتے تھے۔

وہ برآمدے کے ستون سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا اور شاہ چن چراغ کی قبر کو دیکھتے ہوئے درود شریف پڑھنے لگا۔

اس سے ذرا فاصلے پر ایک نو عمر لڑکا فرش پر گہری نیند میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک اچٹتی نگاہ ڈالنے کے بعد اس نے لڑکے کی طرف دوبارہ نہیں دیکھا۔ لڑکے کا لباس بہت گندا تھا اور سر کے بال آپس میں چپکے ہوئے تھے۔

کچھ لوگ چاولوں کی دیگ اٹھائے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے تو ذرا سی دیر میں پورے احاطے میں لنگر بٹنے کا شور مچ گیا۔

وہ اپنی جگہ پر بیٹھا چپ چاپ بھوکے لوگوں کا تماشا دیکھتا رہا۔

کسی نے اس لڑکے کو بھی جگا دیا تھا۔ وہ اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں مسلتا، جماہی لیتا اٹھ کھڑا ہوا اور بے ترتیب قدم اٹھاتا دیگ کی طرف چلنے لگا۔

نا گاہ اس نے لڑکے کو دیکھا اور فورًا پہچان لیا۔ پھر اس کی نظریں اس کا تعاقب کرنے لگیں۔

مڑے تڑے اخبار کے ٹکٹرے پر گرما گرم چاول سمیٹے وہ لڑکا وہیں آ بیٹھا اور اپنی انگلیوں کے جلنے کی پرواہ کیے بغیر وہ بے صبری سے اپنی غذا کھانے لگا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور پورے جسم میں عجیب سی حرکت۔ چاول ختم ہو گئے تو اس نے پہلے اخبار کے ٹکڑے کو اور بعد میں اپنی انگلیوں کو اچھی طرح چاٹا۔ اسے پانی کی طلب کا بھی احساس نہیں تھا۔

وہ اسے مسلسل تکے جارہا تھا۔

لڑکے نے قمیض سے ہاتھ صاف کئے اور پھر اپنا سر کھجانے لگا۔

وہ اس کے پاس جا بیٹھا۔

لڑکا اپنے آپ میں مگن رہا۔

اس نے سگریٹ سلگایا تو لڑکے نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے لڑکے کو سگریٹ پینے کی پیشکش کی تو اس نے فورًا قبول کر لی۔

وہ ایک لمبا کش لیتے ہوئے لڑکے سے مخاطب ہوا۔ “یہاں کا لنگر مزیدار ہوتا ہے نا”۔

بہت سی دیا سلائیاں ضائع کرنے کے بعد وہ لڑکا سگریٹ سلگانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ وہ اناڑی کی طرح کش لیتے ہوئے بولا۔ “بہت مزیدار۔ میں تین دن سے یہاں پر ہوں صبح، دوپہر، شام لنگر بٹتا ہے میں تو موج اڑاتا ہوں۔ سگریٹ کا دھواں اس کے گلے میں اٹک گیا۔ اپنی کھانسی پر قابو پاکر اس نے کہا۔ تم نے کھایا نہیں؟”

وہ ہنستے ہوئے بولا۔ “آج میری جیب گرم ہے۔ اس لیے میرے پلے جب کچھ نہیں ہوتا ۔ تب یہاں سے کھاتا ہوں”۔

“تو کرتے کیا ہو”؟
“ڈھلائی کے کارخانے کا م، اور تم”؟

“میں کوچوان تھا۔ اب کچھ بھی نہیں ہوں”۔

“تمہارا گھر کہاں ہے ” ؟

“یہ مزار میرا گھر ہے۔ یہیں پر کھاتا ہوں اور سوتا ہوں”۔

“میرے ساتھ چلو گے”؟

کوچوان زور سے ہنسا۔” تمہارے ساتھ چلا گیا۔ پھر تم مجھے نہیں چھوڑو گے”۔ اس کی ہنسی قہقہے میں تبدیل ہو گئی۔

“کیا مطلب”؟

“تم جانتے ہو”۔ اس کی طرف دیکھے بغیر وہ لڑکا اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ اسے پانی کی ٹینکی کے پاس جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھڑکی بند کرنے کے بعد بھی تیز بد بو کی بھبھک زائل نہیں ہو سکی اور وہ چرس کی خوشبو کے ساتھ مل کر کمرے کی فضا میں تیرتی رہی۔ وہ کمرے کے دروازے سے لگ کر کھڑاہوگیا اور جھک کر آڑی تر چھی درزوں سے باہر جھانکنے لگا۔ اسے اندھیرے کی تجرید کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں اور دماغ پر سرا سیمہ کیفیت چھائی تھی۔ جو باہر کی خاموشی میں غیر محسوس آوازوں کا شور سن رہی تھی۔

وہ دبے پاؤں کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اسے وہم تھا کہ چلتے ہو ئے اس کا پاؤں کسی اینٹ سے ٹھوکر کھا کر زخمی ہو جائے گا۔ وہ ہر قدم اٹھا اٹھا کر چلتا رہا۔

موم بتی پگھلتی جارہی تھی اور اس کے ٹمٹماتے شعلے کی روشنی اور مدھم پڑ گئی تھی۔

وہ بھولے کے پاس آ بیٹھا اس نے چرس کا ایک اور سگریٹ بنا کر سلگایا۔

سگریٹ پیتے ہوئے وہ بھولے کے ابھرے ہوئے پیٹ کی طرف دیکھتا رہا۔ ابھی تک اس کا خون بہہ رہا تھا اور فرش پر کچھ گہری لکیریں رینگتی ہوئی دور تک چلی گئی تھیں۔ اس نے اٹھ کر کپڑے سے لکیروں کو صاف کر نے کی کوشش کی وہ مٹ گئیں اور ان کی جگہ ایک دھبہ سا بن گیا اس کے بعد اس نے بڑی مشکل سے آنتوں کو اندر دبا کر وہی کپڑا بھولے کے پیٹ پر باندھ دیا۔ ذرا دیر بعد کپڑے سے بھی خون رسنے لگا۔ پھر وہ دیوار سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔

وہ بھولے کے ساتھ گزارے ہوئے شام کے وقت کو یاد کر کے ہنستا رہا اسے شدید بوسے یاد آئے اور تیز جھٹکے بھی، گالوں پر کاٹنا اور بدن کو نوچنا بھی۔ وہ بھولے کی سسکیوں اور گالیوں کو فراموش نہیں کر سکا تھا۔

اچانک اپنے خون میں عجیب سنسنی خیزی کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی رانوں اور پیٹ کو زور سے کھجاتا رہا۔ اس نے بڑے جتن سے بھولے کا مردہ اٹھایا اور اسے اپنی کھاٹ پر لٹا دیا۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ بھی اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے ہفتے وہ تین مرتبہ مزار پر گیا تھا اور ہر بار کوچوان لڑکے سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس سے دوستی کی کوشش کرتا رہا۔ جس میں اسے کامیابی ہو ئی تھی۔ کوچوان لڑکے کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی چپل چوری ہو گئی تھی۔ کپڑے پھٹنے لگے تھے اور اس کی جیب میں کبھی ایک دھیلا نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت مزار کے کسی کونے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا۔

وہ اسے اپنے ساتھ ہوٹل لے گیا اور اس نے کڑاہی مرغ سے اس کی تواضع کی۔ اگلی بار اس نے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا اور تیسری ملاقات میں اس نے چپل خرید کر اسے لے دی۔اس کے بعد وہ جان بوجھ کر کچھ دنوں کے لیے مزار پر نہیں گیا تھا۔

وہ پانچ روز کے بعد پہنچا تو کوچوان لڑکا اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔برآمد ے کے پاس وہ اس کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ لڑکا آیا تو پہلی نگاہ میں وہ اسے پہچان نہیں سکا۔

کسی حمام میں غسل کے بعد اس کی رنگت نکھر آئی تھی۔ سرخ و سپید چہرہ اور چمکتی آنکھیں۔ بال ترشے۔ وہ بالکل نئے کپڑوں میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ برآمدے سے اٹھ کر خالی زمین پر درختوں اور پودوں کے درمیان جا بیٹھے وہاں روشنی نہیں تھی اور کوئی ان کی باتیں نہیں سن سکتا تھا۔

اپنی فکر مندی چھپاتے ہوئے اس نے پوچھا۔”آج بہت لش پش ہو؟ کیا بات ہے”؟

کوچوان لڑکا شرما کر مسکرایا “تمہارے جیسے یار کی مہربانی ہے”۔

“کتنے یار بنا لیے؟”

ایک وہ اور ایک تم۔”

“اس کے ساتھ باہر چلے گئے میرے ساتھ جاتے ہوئے ڈرتے ہو۔” اس نے دو سگریٹ سلگائے ایک خود پینے لگا اور دوسرا کوچوان لڑکے کو دے دیا۔

“تمہارے ساتھ بھی جاؤں گا۔”

“کب۔”

“جب کہو۔”

“آج ہی چلو۔”

“سو روپے لوں گا وہ بھی ایک بار کے۔”

“اگر دو سو دوں، تو پھر دو مرتبہ؟ ٹھیک ہے ـ”

“نہیں صرف ایک بار سو روپے میں۔”

“جیسے میرے یار کی مرضی، وہ اپنی خوشی ضبط نہیں کر سکا۔”

وہ ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے مزار سے باہر آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بالاآخر وہ نڈھال ہو گیا اور اس کی خواہش بھی مر گئی۔ اس کی پنڈلیوں اور گھٹنوں میں تیز درد ہونے لگا۔ وہ بہت دیر تک اپنی کھاٹ پر گم صم اور بے حس بیٹھا رہا پھر چونکتے ہوئے اٹھا ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہو ئے اس نے اپنے کپڑے ڈھونڈے اور فوراً پہن لیے۔

کمرے میں ٹہل کر وہ لگاتار سگریٹ پینے لگا بڑبڑاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو بے شمار گالیاں دیں۔

وہ غسل خانے میں گھس گیا اور اپنے بدن پر پانی بہاتا رہا باہر نکلا تو اسے وہ بات سجھائی دی بہت دیر سے وہ جس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

اس نے بھولے کے بھاری جسم کو اٹھایا اور اسے غسل خانے میں لے گیا اس نے تمام جگہوں پر چپکا ہوا خون دھو ڈالا پانی کے لوٹے بھولے کے بدن پر بہاتے ہوئے وہ درود شریف اور سورتیں پڑھتا رہا جو اسے ٹوٹی پھوٹی یاد تھیں۔

اس نے کھاٹ کو صاف کیا اور ناپاک بستر کو تہہ کر کے فرش پر رکھ دیا۔

بھولے کو چارپائی پر لٹانے کے بعد اس نے پہلے صندوق اور پھر الماری کو چھان مارا بڑی مشکل سے پاؤڈر کا ڈبہ اور عطر کی شیشی ہاتھ آئی اس نے مردہ جسم پر دونوں چیزیں خالی کر دیں۔

کھڑکی کھول کر وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑا ٹھنڈے سانس لیتا رہا۔

گندے نالے کے پانی کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ قبر ستان کے منظر کی وحشت اور گھمبیرتا میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اس نے پلنگ کے بہت نیچے رکھی ہوئی کدال اٹھائی اور دروازہ کھول کر کمرے سے نکل گیا۔

Categories
فکشن

عبدالغنی جیکسن (نیر مصطفیٰ)

ڈان کے بچے! تمہیں کس نے بتایا مجھے پھٹّے والے ہوٹلوں کی چائے پسند ہے؟ شکل سے تَو میں ٹرک ڈرائیور بالکل نہیں لگتا۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ بکواس مت کر، اِتنابھی سکوٹر نہیں ہوں،ٹھیک ہے میری سکولنگ دیہات کی ہے پر جو پچھلے نو سالوں سے یہاں جھک مار رہا ہوں وہ؟تُوبھی ایک نمبر کا بودم ہے، کہا تَو ہے پیچھے سے بالکل وِرجن ہوں اور ویسے بھی نمبردار کے اکلوتے بیٹے سے کوئی پنگا نہیں لیتا۔ ہا۔ہا۔ نمبردار کو اپنا باپ نہیں بنا رہا، سچ میں ایسا تھا، ویسے تم لاہوری بھی بڑے منحوس لوگ ہویار، اچھے بھلے آدمی کی بلاسٹ کر دیتے ہو، میں تَو صرف کڑک چائے کی بات کر رہا تھا، چل ادھر لاسگریٹ کی ڈبی۔

ہاں تَو میں بتا رہا تھا مجھے پھٹّے والے ہوٹل پسند ہیں پر یہ جو انہوں نے فُل والیوم میں جمن خان چلا رکھا ہے، اِس سے سَڑتی ہے میری ! عشق اب غلطی سے آتش لے بھی آیا تو اِس میں چنگھاڑنے کی کیا بات ہے۔جمن خان تَو چلو پھر بھی ہضم ہوجاتا ہے، سوچ اِس جگہ پر نصیبو لعل یا اللہ دتہ لونے والا ہوتا تَو کتنی کِٹ لگتی۔ ہاں استاد! مجھے بھی یہ گانا بہت بکواس لگتا ہے پر جب بھی کہیں بجتاسن لوں، اُٹھنے کا دل نہیں کرتا۔ غلط جا رہا ہے بھائی! بچی شچی والی کوئی گیم نہیں، بس یونیورسٹی زمانے کا ایک دوست فٹ ہوگیا ہے کہیں۔ بہت بڑی فلم تھا حرامی، اگر تُوچائے کا ایک کپ اور پلائے تَو میں اُس کی کہانی سنا سکتا ہوں، لیکن ایک شرط ہے، تُو بیچ میں کوئی یکّی نہیں کرے گا۔

چل تَوپھر سن، نام تو اُس کا عبدالغنی تھا، پر سارے اُسے جیکسن کہتے تھے، مجھ سے دو کمرے چھوڑ کر اس کا روم تھا،ڈیپارٹمنٹ بھی ہمارے قریب ہی تھے۔ اُلو کا پٹھا! بول پڑا نا درمیان میں، اب مجھے کیا پتا جیکسن ہی کیوں کہتے تھے، چوبیس گھنٹے انگلش گانے سنتا تھا شاید اِس لیے، ایک آدھ فنکشن میں گٹار بھی بجایا تھا مگر برے طریقے سے ہوٹ ہوگیا۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا رول نمبرایک تھا لیکن کبھی اُسے کتاب کھولے نہیں دیکھا۔ ہر بار خشکے اور تھیٹے لوگوں کی ماں بہن ایک کرتے ہی سنا۔ سب لوگ اُسے فل ٹائم سٹڈ سمجھتے تھے۔ او تمہیں سٹڈکا نہیں پتا؟ اُف میرے خدایا ! کتنے جاہل آدمی ہو تم۔ بھائی میرے ! سٹڈ اُس وحشی گھوڑے کو بولتے ہیں جس کا کام صرف اور صرف گھوڑیاں لگانا ہو، البتہ ہماری یونیورسٹی میں یہ ٹائٹل صرف اُن لوگوں کو دیا جاتا تھا جو بچیوں کو بالکل نہ لفٹائیں۔

جیکسن تو خیر اِس معاملے میں بہت ہی عجیب آدمی تھا، نہ صرف خود بچیوں کوڈیش پہ لکھتا تھا بلکہ ہمیں بھی کہتا اِس خود غرض اور مکار مخلوق کی اسٹوریوں سے بچو۔ کیاکہا دیکھنے میں بھیڑا تھا؟ بالکل بھی نہیں گدھے ! چھ فٹ سے بھی کچھ لمبا قد اور پٹھانوں جیسا رنگ، وہ تَو اتنا پپو آدمی تھا کہ ایک اشارہ کرتا اور سینکڑوں لڑکیاں پَٹ جاتیں۔ باقی چھوڑ میری اپنی دو تین کلاس فیلوز لائن مانگتی رہیں پر اُس نے دانہ ہی نہیں ڈالا۔ واہ اُستاد! بڑا کتی کا بچہ ہے، تجھے کیسے پتا چلا آخری بات جھوٹ تھی۔ کیا؟ اُس کے پیچھے والے بھی۔ہا۔ہا۔ہا۔ہا۔ ٹھیک ہے بابا ! بس گزارے لائق ہی تھا اور رنگ تَو بالکل کالا سیاہ تھا اُس کا، لڑکیاں اُسے چٹّا کہہ کر چھیڑتی تھیں، اُس کے ایک دوست نے بتایا پہلے وہ صرف لتا اور کشور کو سنتا تھا، مگر یونیورسٹی میں آنے کے کچھ ہی دنوں بعد اُس نے اپنی ساری کیسٹوں کو آگ لگا دی۔ اِس کے بعد جیکسن نے صرف کالوں کو سنا، کپڑے بھی اُنہی جیسے پہنتا تھا، یہ کھلی کھلی گھٹنوں تک لمبی ٹی شرٹیں اور منٹگمری سے بھی نیچے آتا ہوا ٹراوزر، گلے میں تین تین چینیں۔

نشے کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا، کچھ بھی پلا دو چڑھتی ہی نہیں تھی۔ ایک بار گردا کیا پی لیا اُس کے ساتھ، میں نے تَوچرس سے ہی توبہ کر لی، البتہ بوتل میں ہم دونوں برابر کا جوڑ تھے۔ بس ایک ہی دفعہ بہکا تھا وہ، پہلے تَو اُس نے اپنی ماں کو بہت گندی گندی گالیاں دیں پر کوئی وجہ نہیں بتائی۔ پھر اپنے مرحوم باپ کو دلیپ کمار کے ڈائیلاگ اور اُستاد نصرت کی قوالیاں سناتا رہا اور گیڈر جیسی آوازیں نکال نکال کے روتا رہا۔ٹائٹ ہو گئی نا لڑکے ؟یہ تَو کچھ بھی نہیں، ابھی آگے سن،پھر دیکھتا ہوں تیرا شاپر ڈبل ہوتا ہے کہ نہیں۔

اُس کے مذہبی عقائد اِتنے عجیب تھے کہ تیری سوچ ہوگی۔زیادہ لوگوں کو نہیں پتا، بس ہم یار دوست ہی جانتے تھے کہ وہ بغیر چاند والی راتوں میں ہسپتال کے بلڈ بینک سے ایکسپائرڈ خون کی بوتلیں لے آتا، پھر اُنہیں اپنے کمرے کی دیواروں پہ چھڑک کے شیطان کی پوجا کرتا، تیز چیخوںوالے گانے بھی ساتھ چلا دیتا۔ شروع میں تَو ہم یہی سمجھتے رہے ٹُن ہو کے ڈرامے کرتا ہے، بعد میں پتا چلا کافی سیریس تھا۔ ہماری تو ایسی چِری تھی کہ ہاتھ میں ہی آگئی۔ ٹھیک ہے لالے! تُو چاہے کافر کہہ لے، پر تھا یاروں کا یار،ا ور ہمارے اپنے عقیدے بھی تَو اُس وقت بس ایسے ہی تھے!جہاں تک میری بات ہے میں نے اُس کا نام جیکسن سے بدل کر شیطان کر دیا تھا مگر وہ ایسی کتی نسل تھا کہ اِسے بھی انجوائے کرتا۔ اُس کے لتا اور کشور والے دوست کا خیال تھاشیطان اور انگلش گانے اُس پر کہیں اکٹھے ہی نازل ہوئے ہیں ورنہ پہلے تَو وہ ضرورت سے بھی زیادہ پکاسچا مسلمان تھا۔ یاریہ چائے کب آئے گی؟ اے چھوٹے! ۔۔۔بات سن!۔۔۔کیا کہا ابھی پانچ منٹ اور؟۔۔۔جاپان سے آرہی ہے کیا؟۔۔۔ پیدل ہے؟۔۔ہاں تَو چکنے ! میں تجھے جیکسن کے بارے میں بتا رہا تھا، کون سی حرامزدگی تھی جو اُس نے نہیں کی، پر جب فرسٹ ائیر کا نتیجہ آیا تَواُس نے پھر ٹاپ کیا تھا۔ ہم سپلی والوں کی تَو بج کے رہ گئی۔

ہاں بھیا! میں تَو بس ایویں ہی تھا مگر وہ سالاجینیئس تھا_____ فل ٹائم جینیئس، اور پرابلم یہی ہے کوئی چیز بھی زیادہ ہو جائے تَو آدمی کو سلفیٹ بنا دیتی ہے،جیسے بہت ہی امیر بندے سے دولت نہیں پچتی، بالکل ویسے ہی زیادہ ذہن والا آدمی ڈیش پہ لٹکا رہتا ہے۔ یہ کائنات بھی بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے میرے دوست! عیاشی سے جینا ہو تَو درمیان والے بن جاو۔ ہا۔ہا۔ہا۔ ابے تالیاں بجا بجا کے مت دکھا جاہل آدمی! درمیان والے کا ایک مطلب میڈیاکر بھی تَو ہے۔ کیا کہا؟ فلسفہ نہیں سننا، کہانی سننی ہے؟ ٹھیک ہے، تَو پھر بیچ بیچ میں بھین پٹکیاں نہ کر ناں۔ جیکسن کو بھی یہی تیرے والی بیماری تھی مگر اُس کو تَو اور بھی بہت ساری بیماریاں تھیں۔ شروع میں اُس کے سٹنٹس پہ بہت حیران ہوتے تھے،پھر آہستہ آہستہ عادت ہوتی گئی، لیکن اِس کے باوجو دایک بات اِتنی عجیب ہوئی کہ میٹر کی گھنٹی کھنچ کے رہ گئی۔ ہم اکٹھے ڈارلنگ کے چکلے پر گئے تھے، واپسی پر جیکسن نے بتایا کہ اُس نے بالکل بھی گیم نہیں ڈالی، بس اپنی بیلٹ اُتار کر پَرا س کو پکڑا دی، پہلے تَو وہ مانی ہی نہیں،پھر اُس نے دو سو روپے زیادہ لے کر قریب قریب پندرہ منٹ تک اُسے مارا، تب جا کے وہ چُھٹا ! اُس نے مجھے قمیض کھول کے نشان بھی دکھائے تھے۔ پاگل؟ نہیں یار! بس تھوڑا اینٹیک قسم کا پیس تھا اور کچھ نہیں۔

ہاں اُستاد! ویسے تَو چِل ہی رہتا تھا، البتہ سیشن کے آخری دنوں میں اُس کی فل ٹائم ٹھک گئی، پتا نہیں اندر ہی اندر کب سے ہریسہ پک رہا تھا، اُس نے کسی کو بتایا ہی نہیں، خیر بتا بھی دیتا تَو ہم کیا کر لیتے، لڑکی کا چکر تھا بھائی۔ اینگل تو پہلے سے ہی کچھ خاص ٹھیک نہیں تھے مگر فیئرویل نائٹ کو وہ ایسا اُلٹا کہ ساری فلم خراب ہو گئی____بالکل خراب۔ ایک سیکنڈ یار! چائے کا سِپ تَو لینے دے، بھاگا تَونہیں جارہا ہوں۔ ہاں، تَو جیسے ہی فیئرویل نائٹ اپنے پِیک پر گئی اور ڈانس پارٹی شروع کرنے کا ٹائم آیا تَواُس نے ہر فنکشن کی طرح اِس بار بھی کمپیوٹر پر اپنی پوزیشن لے لی اور فلم والیوم میں ٹیکنوچلا دیا۔ اِتنا بم گانا تھا استاد کہ سب لوگ مست ہو گئے اور لمبا سا دائرہ بنا کر ناچنے لگے۔ پھر پتا نہیں جیکسن کو کیا ہوا، اُس نے ایک دم ٹیکنو بندکیا اور جمن خان چلا دیا۔ سب کچھ جیسے رُک سا گیا تھا۔ پوری پبلک حیرت سے اُسے ہی دیکھے جارہی تھی۔ جیکسن سٹیج سے اترا اورناک کی سیدھ میں چلتا گیا۔ آخر کار وہ اپنی ایک کلاس فیلو کے بالکل سامنے جا کر فل سٹاپ ہوگیا تھا_____کسی اسٹیچو کی طرح ! پھر جو ہوا وہ ہم سے بہت اوپر کی گیم تھا، شیطان سجدے میں پڑا تھا لالے۔ اونہوں فرنچی نہیں، سجدے کا مطلب سجدہ ہی ہے،وہی جو لوگ خدا کو کرتے ہیں یار! ابے کہاں، لڑکی تَو اُس پر تھوک کے چلی گئی تھی۔بعد میں میری ایک کلاس فیلونے بتایا وہ اوپر والی لیزبین تھی، مجھے تَوخیر بتانے والی پر بھی پورا پورا شک تھا۔ چھوٹے بھائی! ۔۔ہیلو! ۔۔۔ ادھر آو! کتنے پیسے ہو گئے؟____ ہاں استاد! تُو ٹھیک ہی کہتا ہے ایسے کافر کو جینے کا کوئی حق نہیں،کچھ دنوں بعد وہ اپنا ہی بنایا ہوا تیزاب پی کے مر گیا تھا____ نہیں میری جان! آنسو کا اِدھر کیا کام؟ سگریٹ کا دھواں گھس گیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔

Categories
فکشن

جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔

اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے دو مہینے چھوٹا تھا۔ ہر سال جب بھی اس کے چچیرے بھائی کا جنم دن آتا اس کی ماں آہ بھر کر کہتی۔” ہائے میرا جمیل ہوتا تو اب وہ بھی اتنے سال کا ہوتا”۔ اور جب اکبر (اس کا ہم عمر چچیرا بھائی) کی شادی ہونے لگی تو اس کی ماں دیر تک روتی رہی اور خیالوں ہی خیالوں میں اپنے خاک میں خاک ہو چکے بیٹے کو سہرے باندھتی رہی۔

جمیل ہوتا تو اب کیسا گبھرو جوان ہوتا۔ ماں کے ساتھ کبھی کبھی وہ بھی سوچنے لگتی۔ جمیل کی وجہ سے ان بہن بھائیوں کی تعداد میں عجیب توازن تھا۔ جب وہ زندہ تھا تب وہ برابر برابر تھے تین بٹا تین۔ جمیل کی وفات کے بعد ان کے توازن میں فرق آ گیا ہے اور وہ دو بٹا تین ہو گئے تھے۔ مگر یہ ترتیب زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی تھی کیونکہ اس کی وفات کے دو سال بعد ان کی چوتھی بہن ثانیہ پیدا ہوئی اور یوں تین بٹا تین کا توازن چار بٹا دو میں بدل گیا۔ اب مساوات کی جگہ دو چوتھائی آ گئی تھی۔

اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ اور سینہ پیدائشی ضعف جگر کی وجہ سے ابھرا ہوا تھا۔ اس کی پسلیوں کا پنجرہ ہموار نہیں تھا بلکہ زیادہ اوپر اٹھ گیا تھا۔ اپنی مختصر حیات میں اس نے ڈھیر درد سہے اور پھر بہار کی ایک دوپہر کو اس نے برآمدے میں لیٹے ہوئے ماں کو عجیب نظروں سے دیکھا اور پکوڑے کھانے کی فرمائش کردی۔ماں نے اسے(عالیہ) کہا کہ جا کے باہر سے پالک توڑ لائے۔ وہ پالک توڑنے چلی گئی۔ اس نے پالک کاٹی، آلو کاٹے لیکن وہ سب کچھ درمیان میں ہی رہ گیا۔ بے حد خوبصورت آنکھوں اور سینے کے ابھرے ہوئے پنجرے والا جا چکا تھا۔ وہ کٹی ہوئی پالک بعد میں کتنے ہی دن آگ والی کوٹھڑی کی پڑچھتی پر پڑی سوکھتی رہی۔ عالیہ انہیں دنوں دسویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔ بہار جس کا آغاز نمناک ہوا تھا اس کی بلوغت کی زندگی میں سوچ لے کر آئی۔ سوچ جس سے وہ بعد میں کبھی مفر حاصل نہ کرسکی۔ وہ بارہ سال کی زندگی جس کا غالب حصہ درد اور بخار سے بھرا ہوا تھا،وہ کیوں زمانے کے کھاتے میں درج ہوئی تھی۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ کبھی وہ یہ سوال ماں کے آ گے رکھتی تو ماں تقدیر کے کندھے پہ سارا بوجھ ڈال کے آزاد ہو جاتی۔ اس چمکتی دوپہر جب اس نے ماں سے سوال کیا تو وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ ماں گندم کو جھج میں پھٹک کے چارپائی پہ بچھے کپڑے پہ ڈال رہی تھی اور وہ پاس بیٹھی دانوں کے اندر سے گھنڈیاں اور مٹی کے روڑ نکال رہی تھی۔

گندم صاف کرتے ہوئے اس نے دانوں کی ایک مٹھی بھری اور پاس چگتی مرغیوں کے آگے پھینک دی۔ باقی دانے ایک بوری میں ڈالے جانے تھے تاکہ پسوائی کے لیے چکی پر بھیجے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کچھ اور بھی دانے چارپائی پر پھیلے کپڑے سے نیچے گر کے کچے صحن کی مٹی میں مل گئے ہیں۔ جب جھاڑو پھرے گی تو یہ کوڑے کے ساتھ باہر گرا دیئے جائیں گے۔ تب اس نے سوچا خدا بھی انسانوں کی تقدیر ایسے ہی طے کرتا ہوگا۔ کچھ کی مٹھیاں بھر کے سکھ کے جزیرے میں پھینک دیتا ہو گا۔ کچھ کو مٹی میں رول دیتا ہو گا۔ کچھ کو بچا کے رکھ لیتا ہوگا کہ آگے بیجائی اور مزید پیداوار کے کام لائے جاسکیں۔ اور جو اکثریت ہے ان کی پراتیں بھر بھر کے بوری میں ڈال دیتا ہو گا تاکہ وہ چکی کے تیز پاٹوں میں پس کر آٹا بن جائیں۔ پھر ان کو گوندھا جائے۔اس کے بعد بیلا جائے۔پھر تنور یا توے پر پکایا جائے اور پھر کھالیا جائے۔سب سے زیادہ آ زادی تو پیداواری مقاصد کے لیے رکھے گئے دانوں کے حصے میں آ تی ہے۔ مگر بعد میں ہوتا ان کے ساتھ بھی وہی ہے۔ مگر یہ آزادی بھی کب تک ہے۔ نئے پودوں کے اگنے اور سٹے میں دانے پکنے تک بس۔ اس کے بعد ان کی جڑوں میں درانتی پڑتی ہے اور پھر وہی ایک جیسا چکرشروع ہوجاتا ہے۔ تو گویا یہ تقدیر ہے۔اس نے پھر مٹھی بھری جیسے تقدیر طے کر رہی ہو۔اب اس مٹھی میں جو دانے آئے ہیں وہ ان کی کیا تقدیر طے کرے؟
مرغیوں کے آ گے ڈالے۔
زمین پہ پھینک دے
یا بوری میں ڈال دے۔

اور اس مٹھی میں جو دانے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقدیر طے کی جارہی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو کیا وہ دعا کررہے ہیں کہ انہیں کس طرف ڈالا جائے۔کیا انہوں نے کوئی وظیفہ کیا تھا؟ کوئی عبادت کی تھی۔گڑگڑائے تھے۔ سجدے میں گرے تھے۔ یا ایسے ہی میری مٹھی میں جو آنے تھے وہی آ ئے۔ یہ ان کی تقدیر ہے۔اور جو بوری میں ڈالے جا رہے ہیں وہ ان کی تقدیر ہے۔

اس نے ماں کی طرف دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس کے چہرے پہ گہری خاموشی تھی جیسے اب کبھی نہیں بولے گی، یا جیسے وہ اپنے سارے سوال ختم کرکے پرسکون ہو چکی ہو۔ کیا ماں کو اس سب کا پتا ہے جو وہ سوچ رہی ہے۔

موت ایک صدمہ ہے۔ ہاں مگر موت آس پاس والوں کے لیے ایک صدمہ ہے۔ لیکن زیست آس پاس والوں کے لیے صدموں کا مجموعہ ہے۔ ہمارا روٹھنا، کھانا نہ کھانا، بات نہ کرنا، بیمار ہو جانا، کسی ہڈی کا ٹوٹنا، معذور ہونا، ہماری غربت، ہماری خواہشوں کی عدم تکمیل، ہماری ناکامیاں، کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے قریبی رشتوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور ہماری کامیابیاں ہمارا اچھا نہ چاہنے والوں کو صدمے میں مبتلا کرتی ہیں۔ جینا پھر بھی موت پہ فائق ہے اگرچہ موت صرف اکلوتا صدمہ ہے۔

جمیل بارہ برس کی عمر میں مرا، مگر موت نے کچھ بھی ساکت نہیں کیا۔ خاندان کے تصویری البم میں اس کی عمر بارہ برس ہی تھی مگر ماں کی یاداشت میں وہ سال ہا سال بڑا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ماں خیالوں میں اس کی دلہن بھی تلاشنے لگی تھی۔وہ سردیوں کی راتوں میں جب دیر سے آ نے والے خاوند کا انتظار چولہے کے پاس پیڑھی پہ بیٹھ کے کرتی تو لکڑیوں کے چولہے کی دوسری طرف جمیل بیٹھا رہتا۔ماں بیٹا گھنٹوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہتے۔ماں بیٹھی بیٹھی اونگھ جاتی تو اس کا سر انگیٹھی کی دیوار سے جا لگتا۔جمیل بیٹھا سر کو دائیں بائیں مسلسل ہلاتے ہوئے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنکے توڑ کے آ گ میں پھینکتا رہتا اور آگ جلتی بجھتی رہتی۔ان کی زندگی ایسی ہی تھی ایک وقت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور بیک وقت جدا بھی۔وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔باقی بہنیں بھائی اس دوران آ گ والی اسی کوٹھری کے دھواں دھار ماحول میں اپنے لحافوں میں دبکے سوتے رہتے۔دائیں بائیں سر کو ہلاتے ہوئے وہ سوچتا چلا جاتا۔اس کا ذہن بہت تخلیقی تھا۔پلاسٹک کے خریداری والے لفافے کو نیچے سے کاٹ سے سویٹر یا بنیان کی طرح پہننے کا طریقہ بھی پہلی بار اس نے نکالا تھا۔ایک دوپہر جب ماں ساگ توڑ کر شہر میں اپنی دیورانی کو بھجوانے کے لیے لفافہ ڈھونڈ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ اسے جمیل نے کسی بنیان کی طرح اپنے نحیف بدن پہ پہن رکھا ہے اور بہت آ رام سے آ نکھیں موندے سر کو ہلا رہا ہے جیسے کسی ان دیکھے جھولے کی لذت لے رہا ہو۔تو اسے تپ چڑھ گئی۔ایسے موقعوں پر وہ مارنے سے بھی گریز نہ کرتی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پلاسٹک کے معمولی خریداری لفافے بھی سنبھال کے رکھے جاتے تھے۔

اب اسے یاد کریں تو یاداشت میں اس کے نیلے رنگ کے کپڑے اور پلاسٹک کے سفید بوٹ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ بھی ایسا نہیں جو اس کے تعلق سے یاداشت میں بچا ہو،سوائے آ نکھیں بند کرکے ہنستے ہوئے اس کا سر دائیں سے بائیں ہلاتے رہنا اور اس کا چیزوں کے عجیب عجیب نام رکھنا۔یہ بھی بڑاعجیب واقعہ ہے کہ اس نے ایک بار ہمسایوں کے بہت پستہ قد اور سفید رنگت کے لمبی فر والے کتے کا نام “غونی غیبی”رکھ دیا تھا۔ دوپہر کو جب سارا خاندان صحن کے بڑے درخت کے نیچے اکٹھا بیٹھا تھا اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کرکے کہا وہ “غونی غیبی”ہے۔ سب نے اس کے اشارے کی طرف نگاہ کی وہاں ہمسایوں کا جانا پہچانا کتا کھڑا تھا۔اور پھر سب اس کے اس نام پہ ہنسنے لگے تھے۔اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے ایک پرندے کا نام رکھا۔ایک لمبی دم والا پرندہ ہر روز ظہر کے وقت آ کے ماں کی لاڈلی مرغی کا انڈا پی جاتا تھا جسے ماں نے گندم کے بھڑولے کی چھت پہ مٹی کی انگیٹھی رکھ کے کڑک بٹھایا ہوا تھا۔جمیل اس پرندے کو آ تے اور انڈا پی کر جاتے دیکھتا رہتا مگر اس نے کبھی پرندے کی شکایت ماں سے نہیں کی۔ایک شام جب ماں نے انڈے سنبھالے تو سب خالی تھے اور کوئی چوزہ بھی نہیں تھا،تب پریشان حال ماں کو جمیل نے بتایا کہ “مریا میگی”سارے انڈے پی گیا تھا۔جب ماں نے حیرت اور خوف سے آ نکھیں پھیلا کر پوچھا کہ یہ “مریا میگی”کون ہے تو اس نے بتایا کہ بہت لمبی دم والا پرندہ جو ظہر کے وقت بلاناغہ آ تا ہے اور ایک انڈا پی کر چلا جاتا ہے۔سارے بہنیں بھائی جو پاس کھڑے تھے ہنس پڑے اور مریا میگی،مریا میگی کا ورد کرتے صحن میں چکرانے لگے۔ وہ ان کی اس حرکت پہ بہت خوش ہوا اور انہیں دیکھتا خوشی سے ایک جگہ کھڑا ہوکے سر ہلاتا رہا۔ان دنوں جمیل بظاہر خاندان کے لیے کوئی کار آمد فرد نہیں تھا۔جیسے اس کے باقی بہن بھائی یا چچاؤں کے بیٹے بیٹیاں تھے۔ وہ سارا دن باہر کھیتوں میں اچھلتے کودتے اور پھر اکتوبر کی مخزوں عصر کے وقت بکریاں چرانے نکل پڑتے۔یہ بکریاں چرانا بھی ان کے لیے کسی مہم جوئی جیسا تھا۔دور دور تک پھیلے کھیت کے خالی میدان ان کے اپنے تھے جن میں مکئی اور چاول کی فصل کاٹ کے اٹھالی جاتی اور کھیت کچھ دن آ رام کرتے تھے۔نہری پانی کی رواں کھالوں کے کناروں پہ اگے اونچے اور گھنے پاپلر کے پیڑ روح میں عجیب سی سرشاری بھردیتے۔بکریاں آ گے ہی آ گے منہ اٹھائے جاتیں اور بکروال اپنی مستیوں میں مگن کبھی کسی سانپ کی متابعت میں ہوتے تو کبھی امرود کے کوتاہ درخت کی شاخوں سے بندر کی طرح لٹکے ہوتے۔ایسے میں جمیل کو ساتھ لے جانا کسی خطرے سے خالی نہ تھا کیونکہ وہ ان کی ایک ایک بد عنوانی کی مفصل رپورٹ گھر میں دیا کرتا۔وہ سب اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔خود تو کرتا کچھ نہیں انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتا۔اسی طیش میں وہ موقع بموقع اسے مارپیٹ بھی لیا کرتے تھے۔

اس کی بارہ سالہ حیات اتنی اہم نہیں تھی کہ اس سے وابستہ کسی یاد کا اہتمام کیا جاتا۔ آ دمی کار آ مد تب گردانا جاتا ہے جب وہ موجد بنتا ہے۔اپنا خاندان خود بناتا ہے۔وہ تو ابھی خام مال تھا جس کی بقا کا انحصار جس کے اصل مادے پر ہوتا ہے۔مگر اس دورانیے کو بھلانا ممکن نہیں تھا۔زمانے کے جس مختصر وقفے میں اس نے اپنی سانسوں کا حصہ ڈالا۔اس کے بعد کے برسوں میں بہت روحیں جنمی ہیں۔مگر ایسا کوئی بھی نہیں جسے کسی شئے کا نام نہ پوچھنا پڑا ہو۔اور جو اپنے ہردکھ کی ستر پوشی خود کرلیتا ہو۔سبھی چیزوں کے نام خود رکھ لیتا ہو۔

Categories
فکشن

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔

کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔

خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔

’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔

یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔

اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔

ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔

مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔

اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔

رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔

اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔

چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘

’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔

نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔

گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔

سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔

ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔

جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔

میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔

اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔

وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔

جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔

میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔

چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔

دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔

میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔

دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔

’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔

عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔

شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘

میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔
Image: Mehwish Iqbal

Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔

Categories
فکشن

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔

وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔

اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔

پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔

ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔

تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔

سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

Image: Celestin Faustin

Categories
فکشن

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹِک ٹِک ٹِک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ٹِک ٹِک ٹِک
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔
ٹِک ٹِک ٹِک
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔
’’کوئی نہیں آرہی‘‘
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔
’’سنو، آرہی ہے‘‘
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا
’’السلام علیکم ـ‘‘
’’وعلیکم السلام
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘
۔
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔
’’اوہ میرے خدا
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘

Categories
فکشن

مہر منگ کی کہانی

[blockquote style=”3″]

لوک دانش قدیم کہانیوں میں اہم عنصر کے طور پرشامل رہی ہے۔ بالخصوص خطہء پنجاب تو ایسی کہانیوںکا مرکز رہا ہے۔ جہاں نہ صرف یہ کہ پنچایت کے سرپنچ ہی اہم اور گھمبیر مسائل کو اپنے فہم و ادراک کے ذریعے حل کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلکہ ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مرد و زن کے پاس اپنی طرز سے زندگی گزارنے کی توضیحات اور دلائل موجود تھے۔ یہاں تک کہ چوروں کے پاس چوری کرنے کے لیے بھی جواز اور طرح طرح کے طریقے موجود تھے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سورج غروب ہوتے ہی دیوان سنگھ ٹھیکے دار کے گھر مہر منگ بڑی شان کے ساتھ آیا۔ باہر کے دروازے پر ٹھہر کے اونچی آواز سے کلام پڑھا۔ سارا خاندان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کلام سننے لگا۔آہستہ آہستہ ڈیوڑھی سے گزر کے اندر کے دروازے کے پاس پہنچ کر بنساولی سنائی، ساتھ ہی ساتھ خاندان کی بڑھائیاں بیان کیں۔ ٹھیکیدار کے باپ کاہن سنگھ کا ذکر بہت بڑھا چڑھا کے کیا۔

مہر منگ نے صاف ستھرے اور بھلے کپڑے پہن رکھے تھے۔ جیسے کوئی باراتی ہو، تھوڑی سی ماوا لگا کے استری کی ہوئی سفید شلوار قمیص، سیاہ کوٹ، سنہری کُلے پر اکڑی ہوئی سفید پگڑی، جس کا ایک لمبا پلو لٹک رہا ہوتا۔ تلے والی جوتی،کیسری اور مہندی سے رنگی ہوئی داڑھی، پتہ نہیں لگتا تھا کہ اتنی دور سے آیا ہو گا یقینی بات تھی کہ گائوں کے نزدیک پہنچ کر اس نے کپڑے بدلے ہوں گے۔

جتی اُتار کے اندر آیا۔ کُلا اور کوٹ اُتار کے ایک طرف دھرے، پیڑھی لے کر بیٹھ گیا۔ اور ٹھیکیدار کے پاوں دبانے لگا ہاتھ، پاوں بھی دبائے جاتا اور بغیر وقفہ کیے باتیں بھی کیے چلے جاتا۔ نئے نئے واقعات سناتا، بچوں کے کان کھڑے رہتے ۔ دو کہانیاں چوروں کی ہوشیاری کی تھیں۔ اس کے کہنے کے مطابق اک چوری پچھلے کچھ دنوں میں ہوئی تھی اور ایک چوری ماہ دو ماہ پہلے۔

مویشی میلے پر بہت اعلیٰ نسل کے بیل آئے۔ کوئی خریدنے والا اور کوئی بیچنے والا۔ جیب تراش اور چور بھی پہنچ گئے۔ بیلوں کی ایک جوڑی بڑی پیاری تھی۔ چٹا سفید رنگ، کہیں کہیں کالیاں دھاریاں ۔۔۔۔ زور اتنا کہ اگر سہاگا کھینچیں تو بھاگتے بھاگتے میں آدمیوں کو پیچھے چھوڑجائیں۔اگر کنواں چلائیں تو ٹنڈیں تقریباً خالی نکلیں۔ چوروں نے پتہ لگا لیا کہ بیل کن لوگوں نے خریدے ہیں۔گاوں نہر کی دوسری جانب تھا۔

پتہ چلایا اور کنوئیں پر پہنچ گئے۔ مویشی خریدنے کے بہانے ارد گرد کا جایزہ لینے گئے۔ دوسری بار رات کو چلے آئے۔

دیکھا کہ بیلوں کے اگلے پیروں میں زنجیر یں بندھی ہیں۔ نہر کے پل پر پولیس کا پہرہ رات بھر رہتا تھا۔ سوچ سمجھ کے جانچ پرکھ کے مشورہ کرکے لوہار سے خاص طرح کی چابی بنوائی۔ دوبار کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی، پاس ہی کوئی چار پائی پر سویا پڑا ہوتا تھا۔ ایک رات، پہر گئے بیل کھولنے میں کامیاب ہو گئے اور سیدھے پل کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک اور کنوئیں سے ہل پنجالی اور دو کسیاں چوری کیں۔ پل سے گزرنے لگے تو چارپائی پر آرام کر رہے پولیس والے نے کہا: رکو !کون ہو؟‘‘ جواب دیا۔ سامنے ہمارے کھیت ہیں۔ گاوں ہمارا اس طرف پڑتا ہے۔ صبح صبح ہل جوتنے چلے ہیں پولیس والے نے کہا۔ ’’جاؤ‘‘

کچھ دور پہنچ کے ہل پنجالی پھینک دیے اور بیلوں کو بھگا لے گئے۔

اگلی بار ایک اور گاوں میں پہنچے۔ بیلوں کی جوڑی چوری کی۔ راستے میں سے ایک بیل گاڑی چوری کی۔ بیلوں کو اس گاڑی میں جوت لیا۔ ایک چور کی ٹانگوں سے لہو میں لتھڑی پگڑی کا ٹکڑا لپیٹ دیا۔ ایک سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ اور دوسرا پائوں، چوتھا، گاوں کو ہنکاتا چلا جائے۔ پل کے نزدیک پہنچ کے مریض بنے ہوئے چور نے ہائے ہائے شروع کر دی۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس والے نے پوچھا۔ کیا ہوا؟ بتایا کہ ہمارے بھائی کو کوڈیوں والے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ ہم نے درانتی سے چیر کے زہر تو نکال دیا ہے۔ لیکن اب اسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ پولیس والے نے کہا فٹا فٹ لے جاو۔!

ہوشیار،چور بیل گاڑی بھگا لے گئے۔

(کہانی گھر۔ شمارہ۔۱، ۲۰۱۱)

Categories
فکشن

وَاپسی

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔

حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ آخری لمحے تک جدوجہد کرتا تھا۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ دوسرا روز ہونے کو تھا اور وہ دفتر سے نہ نکلا تھا۔

اُن دو دنوں میں وہ ایک خط بار بار پڑھ چکا تھا۔

یہ وہ خط تھا‘ جو بہت دِن پہلے اُسے موصول ہوا تھا اور اُسے کھولے بغیر خط کا مضمون جان گیا تھا۔ یہی کہ اُس کے اَباّ نے اُسے گاﺅں آنے کو کہا ہو گا اور یہ کہ ُان کی آنکھیں اُسے دِیکھنے کو ترس گئی ہوں گی۔

اُس کا اِرادہ تھا کہ وہ کلوزنگ کے بعد ہی جائے گا۔ لہٰذا کئی روز سے بند لفافہ یونہی اُس کے ٹیبل پر پڑا رہا۔

مگر کل اُسے صبح ہی صبح کھولا اور تب سے اَب تک کئی بار پڑھ چکا تھا۔

اس نے اپنے اِمی جیٹ باس کو فون کر کے شارٹ لیو اور اسٹیشن لیو لے لی اور یوں آج اَڑھائی بجے والی بس سے وہ گاﺅں جا رہا تھا۔
اُس کا اِرادہ تھا وہ ویک اِنڈاَپنے والدین کے ساتھ گزارے گا‘ حالاں کہ قبل ازیں وہ چھٹیوں والے دن بھی سرکل افسران کے ساتھ مسلسل دورے کرتا رہا تھا جس کے نتیجے میں ٹارگٹ تک پہنچنے کی امید بندھ چلی تھی۔ جب پہلے روز اُس نے انٹر کام پر متعلقہ سرکل افسر کو بتایا کہ وہ ٹور پر ساتھ نہیں جارہا تو وہ حیران ہوا تھا اور خود اُسے دیکھنے آیا تھا۔

وہ بجھا بجھا سا تھا اورسرکل اَفسر سے کُریدکُرید کر فضل احمد کے بارے میں پوچھتا رہا۔
اُسے بتایا گیا کہ بوڑھے فضل احمد کی حالت سنبھل گئی تھی۔ دِل کا معمولی دورہ تھا اور اب اس کی زِندگی کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
مگر نہ جانے اُسے کیوں یقین نہ آرہا تھا۔

یقین نہ کرنے کی بہ ظاہر کوئی وجہ نہ تھی لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو ایک لمحے میں مقید کر لیتا ہے۔

وہ بھی ایک ایسے ہی لمحے میں قید تھا۔

وہ لمحہ کہ جب بوڑھا فضل احمد عین دروازے کے بیچ لڑکھڑا کر گرپڑا تھا۔

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب مالی سال ختم ہونے میں دو اَڑھائی ماہ باقی تھے۔ وہ اَپنی سی کوششیں کر بیٹھا تھا مگر یوں لگتا تھا ‘مطلوبہ نتائج اس کی دَسترَس سے پرے تھے۔

اُس نے میٹنگ کال کی‘ تمام متعلقہ اَفسروں کی سرزنش کی تو ہر ایک یہ ثابت کرنے پر تُلا بیٹھا تھا کہ کوتاہی اُس کی جانب سے نہیں ہورہی۔

اس نے نئی حکمت عملی تیار کرنے سے پہلے متعلقہ سرکل افسروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے ایسے کیسز کی فہرست بنائیں جن کی وصولیاں اِس سال کسی صورت ممکن نہ تھیں۔

فہرستیں دوسرے ہی روز اُس کے میز پر تھیں۔

اُس نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا اور کچھ غیر معمولی اِختیارات حاصل کیے جن میں بہ وقت ضرورت پولیس کے تعاون کا حصول بھی شامل تھا۔

اُس کا اِرادہ تھا ان مشکل کیسز کے آپریشن کی خود نگرانی کرے گا۔

ایک مرتبہ پھر سرکل افسروں کو طلب کیا‘ ہر باقی دار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں اورخدا کا نام لے کر چھاپے مار کر مہم کا آغاز کر دیا ۔

اُسے باہر نکلتے دیکھ کر سرکل افسروں کے حوصلے بڑھ گئے اور پہلے سے کہیں زیادہ جاں فشانی سے کام کرنے لگے یوں وصولیوں کی شرح بڑھنے لگی مگر وہ ابھی تک مطمئن نہ تھا کہ بڑھوتری کی یہ شرح بہت معمولی تھی۔

اُس کے لےے اصل رکاوٹ بااثر اَفراد تھے یا پھر وہ لوگ جو ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ کچھ کیسز خواتین کے نام پر تھے اور کچھ باقی دار انتہائی ضعیف ‘معذور یا پھر لاچار تھے۔ ایسے تمام کیسز میں نہ تو اس کے پاس وقت تھا کہ رہن شدہ جائیدادوں کی ڈگری کے لےے طویل قانونی جنگ لڑی جائے اور نہ ہی وہ براہ راست ان لوگوں پر ہاتھ ڈال سکتا تھا۔

اِن حوصلہ شکن حالات میں اُسے ایک باقی دار فضل احمد کے گھر لے جایا گیا۔ اس کیس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے ڈاکٹر شہباز فضل نے مشترکہ طور پر ایک ہیچری لگانے کے لےے قرض لیا تھا۔ ڈاکٹر شہباز فضل کچھ ہی عرصے کے بعد اِنتہائی خاموشی سے ہیچری کی مشینری بیچ کر اور عمارت کو طویل مُدّت کے ٹھیکے پر دینے کے عوض ایک معقول رقم اینٹھ کر ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ جب کہ فضل احمد نہ صرف ضعیف العمر تھا‘ بل کہ فالج زدہ بھی تھا۔

اُس نے سرکل افسر سے پوچھا:
” فضل احمد کا بیٹا جو رقم باہر سے بھیجتا ہے‘ یہ اسے اپنے واجبات کی مد میں کیوں جمع نہیں کراتا؟“
جواب ملا :
” وہ کچھ نہیں بھیجتا۔“
اُس نے حیرت سے سرکل افسر کو دیکھا اور کہا:
”تعجب ہے۔“
فضل احمد کا گھر اَندرون شہر تھا۔ گاڑی بڑے چوک تک جاتی تھی۔ وہیں کھڑی کر دی گئی۔ وہ دونوں ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں سے پیدل ہی آگے گزرنے لگے۔
”سر ‘یہ رہا فضل احمد کا گھر۔“
چلتے چلتے اچانک سرکل افسر نے ایک دو منزلہ عمارت کی جانب انگلی اٹھائی۔
”گھر تو شاندار ہے“
اُس نے دیکھا تو تبصرہ کیا۔
”جی ہاں ! مگر نچلا حصہ کرائے پر ہے اور فضل احمد کا واحد ذریعہ آمدن بھی یہی ہے۔“
مکان کے پہلو میںتنگ سی لوہے کی سیڑھی بل کھاتی اوپر جاتی تھی۔
وہ دروازے پر تھے۔ کال بیل کے پش بٹن پر اُس نے انگلی رکھ دی۔ سرکل افسر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹ کھٹایا اور کہا:
”بٹن دبا کر اِنتظار کرنا بے کار ہے سر۔ گھنٹی خراب ہے“
”اوہ“
”میں جب سے آرہا ہوں سر‘ تب سے ایسے ہی ہے‘سر“

دوسری طرف پہلے کوئی کھانستا ہی چلا گیا پھر کھانسنے کی آواز وہیں ٹکی رہی اور لاٹھی کے گھسیٹنے اور ٹک ٹک کرنے کی آواز دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔ دروازے کے پاس آکرآواز رُک گئی اور یوں لگا جیسے کوئی سانس بحال کر رہا ہو۔ تیسری آواز جو اندر سے آئی وہ دروازے پر لگی زنجیر کی تھی جو جھولنے اور رگڑکھانے سے پیدا ہو رہی تھی۔ دروازہ بھی ”چوں اوں“ کرتا ہوا کھلا۔ سامنے اِنتہائی ضعیف العمر خاتون لاٹھی کے سہارے بہ مشکل کھڑی تھی۔ سارے چہرے پر یا جھریاں تھیں یا پھر موٹے شیشوں اور ٹوٹی ہوئی کمانی کی میلی کچیلی عینک ‘ جسے ڈوری باندھ کر ناک پر ٹکایا گیا تھا۔ بال روئی کے گالوں جیسے سفید اور کمر ضعیفی نے دوہری کردی تھی ۔

اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے عینک کے اوپر اوٹ بنائی‘ چہرے کو اوپر کیا تو عینک کے شیشوں سے موٹی موٹی آنکھوں نے اُسے پہچاننے کی کوشش کی۔

”جی“

اَپنی کوشش میں ناکام ہو کر اس نے مختصر سوال کیا۔

”اماں جی ہمیں فضل احمد سے ملنا ہے اُن کے ذمہ حکومت کا کچھ قرضہ باقی ہے۔“

بڑھیا نے ایک مرتبہ پھر اُسے دیکھنے کی کوشش کی۔ اب کے اس کے چہرے پر تجسس کی بہ جائے پریشانی تھی۔ وہ لڑکھڑاتی دروازے سے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

اس لڑکھڑاہٹ میں بڑھاپے اور پریشانی دونوں کا دخل تھا۔ کہنے لگی۔

”اندر آجاﺅ بچے‘ وہ سامنے کمرے میں پڑا ہے۔“

وہ اَندر داخل ہو گئے۔ بڑھیا نے دروازے کو بند کیا۔ ٹٹول کر زنجیر تلاش کی اور دروازے پر ڈال دی۔ پھرلاٹھی ٹیکتی کمرے کی طرف چل پڑی۔

اندر کا ماحول عجب آسیب زدہ تھا۔ ہر چیز بکھری ہوئی۔ روشنی بھی معقول نہ تھی۔ ایک خاص قسم کی باس بھی چاروں طرف پھیل رہی تھی‘ کچی کچی اور ناگوار۔ سامنے چارپائی پر ہڈیوں کا ایک پنجر پڑا تھا۔ یقینا وہی فضل احمد تھا۔ اُسے کھانستے ہوے بھی دِقت ہو رہی تھی۔ ہمارے گھر میں داخل ہونے کے بعد کھانسنے کے علاوہ اس نے تین مرتبہ اَپنی بیوی کو بلایا تھا۔

”مل لی آں“

اس نے اندازہ لگایا۔ وہ مریم یا مریاں کَہ رہا تھا۔ فالج نے ایک پہلو ناکارہ کرنے کے علاوہ ا س کی زبان بھی لکنت زدہ کر دی تھی۔

وہ دونوں اس کے قریب پہنچ گئے۔ بوڑھا بے قراری سے بستر پر اُوپر ہی اوپر اُٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگرجوں ہی اس نے اُس کے پیچھے سرکل افسر کا چہرہ دیکھا‘ دھچکے سے بستر میں دھنس کر بے سدھ ہو گیا۔ وہ ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مزید گہرا سکوت چھا گیا۔

”یہ ہمارے بڑے افسر ہیں۔“

سرکل افسر نے اُس کا تعارف فضل احمد سے کرایا ۔ بوڑھے نے بجھی بجھی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔ اُس نے جواباً فائل کھولی۔ اُس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے کے وارنٹ دیکھے اور بے بسی سے فائل بند کر دی۔ اسے یہاں آنا بے سود لگا۔ بوڑھا حواس بحال کر چکا تھا مریل سی آواز میں بڑبڑانے لگا۔ اُس نے یونہی ایک سوال پھینک دیا:

”بزرگو! اب کیا ہوگا؟“

بوڑھے نے اُس کی جانب دیکھا۔ مایوسی کی زردی اُس کے چہرے پر بکھر گئی۔ لکنت زدہ آواز میں کہنے لگا:
”اب کیا ہونا ہے بچے؟ ہو بھی کیا سکتا ہے؟ اِس سے بڑھ کر تو میں ذلیل و رسوا نہیں ہو سکتا نا!۔“
ایک مرتبہ پھر بوڑھا چپ ہو گیا۔

ان خاموش لمحوں کی گونج اُسے صاف سنائی دِے رہی تھی۔ اُس نے اُکتاہٹ سے پہلو بدلا ۔ بوڑھے کی کھانسی نے خاموشی کو توڑا۔ جب وہ اچھی طرح کھانس چکا تو اَپنی بیوی کو پکارا:

”مل لی آں“

مریاں ‘ جو دروازے کے بیچ ہی چوکھٹ پر بیٹھ گئی تھی‘ کراہنے کے بعد اُٹھی۔ لاٹھی ٹیکتی بوڑھے کی چارپائی کے پائیتانے ہاتھ ٹیک کر کھڑی ہو گئی:

”بچوں کے لیے چائے بناﺅ۔“

اُسے پہلے ہی اُلجھن ہورہی تھی۔ چائے کا سُن کر وہ بے قراری سے اُٹھا اور سختی سے منع کر دیا۔ بوڑھا دوبارہ بے سُدھ لیٹ گیا۔ بڑھیا دائیں کونے میں رَکھے چولہے کے پاس دَھرے موڑھے پر بیٹھ گئی۔

وہ مزید بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ کہنے لگا:

”اچھا بزرگو‘ خدا حافظ‘ اور ہاں بیٹے کو لکھیں کہ وہ بقایا جات جمع کرانے کا بندوبست کرے ورنہ اس مکان سمیت آپ کی ساری جائیداد نیلام ہو جائے گی۔“

بوڑھا زور سے ہنسا۔ اِس قدر زور سے کہ اُس کی آنکھوں میں سے آنسو نکل آئے پھر اپنے آنسو صاف کرتے ہوے سچ مچ رونے لگا۔ دفعتاً رونا موقوف کیا اور کچھ بڑبڑانے لگا ۔ اسے تجسس ہوا‘ نہ جانے بوڑھا کیا کَہ رہاتھا؟ وہ ایک مرتبہ پھر قریب ہو کر بیٹھ گیا اور سماعت بوڑھے کی طرف مبذول کر دی۔ فضل احمد اپنے بیٹے کو گالیاں دیتے ہوے کَہ رہا تھا:

”کہتا ہے بچوں کو عین دوراہے میں کیسے چھوڑے‘ ہم چاہے موت اور زِندگی کے بیچ لٹکتے رہیں“
مغلظات کا ایک اور ریلا اُس کے منھ سے بہہ نکلا۔ مریاں پہلی مرتبہ اس کی بات کا ٹ کر بولی۔

”نہ دے‘ نہ دے بددعائیں۔ اَپنا خُون ہے‘ اپنا کلیجہ ‘ دُعا کر‘ خدا اُسے سُکھی رکھے۔ جہاں رہے اللہ کی امان میں رہے۔ ہمارا کیا ہے۔ ہم قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہیں۔آج ہیں تو ہیں۔ کل نہیں ہوں گے“

اُس نے بوڑھے سے پوچھا:

”کوئی خط وغیرہ؟“
کہنے لگا:
”ہاں لکھتا ہے۔ جب ادھر سے دَس بارہ مسلسل لکھ چکتا ہوں تب ایک آدھ سطر میں جواب دے دِیتا ہے۔ کہتا ہے وہاں بہت مصروف ہے۔ ماں کا۔۔۔“

اُس نے فضل احمد سے کہا:

”آپ اس کا پتا ہی دِے دِیں۔“
”پتا؟ مگر کیوں؟“
”ہم اَپنے طور پر اُس سے رابطہ کریں گے۔“
بوڑھا فضل احمد تڑپ کر اُٹھ بیٹھا:
”نا بیٹا نا۔ تم اُسے کسی مشکل میں ڈال دو گے۔ تم اُسے ستاﺅ گے۔ سفارت خانے کو لکھو گے۔ نا بیٹا نا۔“
بوڑھا پوری طرح حواس میں آکرچوکس ہوگیا تھا۔ اُسے حیرت ہوئی۔ ابھی ابھی وہ اپنے بیٹے سے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوے گالیاں دے رہا تھا اور اب اسے اس کی اتنی فکر تھی کہ وہ ہمیں اس کا پتا تک نہ دینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند ہی روز بعد اسے بتایا گیاکہ فضل احمد کی بیوی جل مری۔ بچاری کھانا پکاتے پکاتے اُٹھی اور لڑکھڑا کر عین چولہے کے اوپر جا گری۔ اُس کی چیخیں سن کر بوڑھا گرتا پڑتا ‘ اُس کی جانب لپکا ‘ اسے بچانے کی کوشش کی۔ خود جھلس گیا مگر اُسے بچا نہ سکا۔
اس کا دِل چاہا کہ وہ بوڑھے فضل احمد سے اَفسوس کرنے جائے مگر جا نہ سکا۔

اُس کے لیے ایک ایک دِن قیمتی تھا۔

آخری مہینہ شروع ہو چکا تھا اور منزل تک پہنچنے کی اُمید بھی بندھ چلی تھی۔

ابھی اس واقعے کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ سرکل افسر نے بتایا:

”ڈاکٹر شہباز فضل آیا ہوا ہے۔“

یقینا اُسے ماں کے جل مرنے کی خبر ملی ہوگی۔ ا ُس نے اندزہ لگایا۔ اسی لمحے اس نے محسوس کیا کہ اس کے دِل میں ڈاکٹر شہباز کے لیے اِنتہائی نفرت جنم لے چکی تھی ۔ جذباتی ہو گیا اور سرکل افسر کو ہدایت کی کہ چھاپہ مارنے کے اِنتظامات کیے جائیں۔
مغرب ڈھل چکی تھی۔ اسے یقین تھا وہ گھر میں ہی ہوگا۔

وہ گھر میں ہی تھا۔ دروازہ اُسی نے کھولا اور گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اندرداخل ہوگیا ‘ پوچھا:
”آپ ہی ڈاکٹر شہباز فضل ہیں؟“
”جی“
وہ کچھ اور پیچھے ہٹا۔
”آپ حکومت کے نادہندہ ہونے کے سبب مطلوب ہیں۔ یہ رہے آپ کے وارنٹ۔“
اُس نے اُسے وارنٹ دِکھاتے ہوئے کہا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور کمرے میں گھس گیا۔ اِسی اثنا میں بوڑھا فضل احمد گرتاپڑتا کمرے کے دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
”نہیں بیٹے نہیں۔“

اُس نے دروازے کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
”تم اِسے گرفتار نہیں کر سکتے۔“
وہ آگے بڑھا اور کہا۔
”دیکھیں بابا جی ‘ آپ کار سرکار میں مداخلت نہ کریں۔ آپ ایک طرف ہو جائیں“
اُس نے اَپنا ہاتھ بوڑھے کے ہاتھ پر رکھا۔ بوڑھے کا پورا بدن کپکپانے لگا۔ چہرے کے مسام پسینے سے بھر گئے۔ اس نے بوڑھے کو ایک طرف کرنے کے لےے اُس کے ہاتھ پر دباﺅ ڈالا تو وہ چیخنے لگا:

”مت گرفتار کرو میرے بیٹے کو۔ مجھے لے جاﺅ۔ ہاں لے جاﺅ مجھے۔ وہ۔۔۔۔“

اس کے آگے وہ کچھ نہ بول سکا اور لڑکھڑا کر کٹے ہوے درخت کی طرح عین دروازے کے بیچ گرگیا۔

اس نے کمرے اندر سہمے ہوے ڈاکٹر شہباز فضل کو دیکھا پھر اُس کے باپ کے لڑکھڑا کر گرتے وجود پر ایک نظر ڈالی اور واپس پلٹ آیا۔
اِس واقعے کو دوسرا روز ہو چلا تھا۔

اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔