Categories
فکشن

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس مرض نے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

میں دو دو قتل بھول گیا۔ میں بڑے ماموں کی موت بھول گیا، میں بہت جلد، نہ جانے کیا کیا بھول گیا مگر باورچی خانے سے آتی ہوئی، کسی خوشبو یا بدبو کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ میں یہ نہیں بھولا۔

میں اپنی اس پرُاسرار صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔
ہوسٹل میں جہاں میرا کمرہ تھا۔ وہاں راہداری ختم ہوجاتی تھی۔ یوں دیکھیں تو آخری کمرہ تھا جس کے بعد میس کی عمارت شروع ہو جاتی تھی۔ یعنی باورچی خانے کی حکومت۔

دن بھر میرے کمرے میں، طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں یا کبھی کبھی بدبوئیں بھی آتی رہتی تھیں اور میں اُنہیں ایک کتّے کی مانند سونگھنے پر مجبور تھا۔ کچھ دنوں سے طلبا، ہوسٹل کے کھانے سے مطمئن نہیں نظر آرہے تھے۔

میرے کمرے میں ترپاٹھی اور اِدریس بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔

’’یار حفیظ۔۔۔ اب ایسے کام نہیں چلے گا۔‘‘ اِدریس نے سگریٹ سُلگایا۔

’’کیا ہوا؟‘‘
’’کل سالوں نے بریانی کے نام پر دھوبی پُلاؤ زہر مار کرا دیا۔

ترپاٹھی نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور پان مسالہ منھ میں ڈال کر بے ہنگم انداز میں چبانے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کھانے کے بارے میں، ویدوں یا اُپنشدوں سے کوئی نکتہ یا فقرہ نکال کر لائے گا ترپاٹھی کو قدیم ہندوستانی فلسفے پر پر خاصا عبور حاصل ہو گیا تھا۔ مگر ٹھیک اُسی وقت مجھے اپنی ناک میں ایک سڑاندھ کا احساس ہوا۔ میں نے نتھنے پھلائے تو علاؤ الدین ہنس کر بولا۔ ’گوبھی ہے، گوبھی۔‘‘

’’بڑی بدبو ہوتی ہے یار جب گوبھی پکتی ہے۔‘‘

’’یہ اصل میں گندھک کی وجہ سے ہے، گوبھی میں گندھک یعنی سلفر بہت پایا جاتا ہے۔‘‘ ترپاٹھی نے اپنی علمیت کا اظہار شروع کر دیا۔
’’پتہ ہے یار— ‘‘ علاؤ الدین نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی کھیتی میں بطور کھاد تازہ تازہ انسانی فضلہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
’’دیکھ بھائی علاؤالدین — تونے Food Cycle پڑھی ہے؟ ‘‘ ترپاٹھی نے پوچھا۔

علاؤ الدین نے نفی میں سر ہلایا۔

’’میرے پاس ہائی اسکول میں سائنس تھی، میں نے پڑھی ہے۔ سارا کھیل نائیٹروجن اور ایمونیا کا ہے۔ چیزیں وہیں سے شروع ہوتی ہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ آنتوں سے آنتوں تک کی یاترا ہے۔ انسان کی آنت میں گیا کھانا، رنگ روپ، بدل کر باہر آتا ہے، اور دوبارہ اُس کی آنتوں کے لیے خود کو مٹا کر سڑا کر نیا کھانا تیار کرتا ہے۔ اسی لیے یجروید میں اُس یگیہ کی بہت اہمیت ہے، جس میں صرف منتر کے ذریعے، آنتوں کی بھوک مٹ جائے اور کھانا محض علامتوں میں بدل جائے۔‘‘ ترپاٹھی آگے بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر میں نے نہیں سنا۔

میرے ہاتھ پیر کانپنے سے لگے۔

وہ کالا جادو یہاں بھی چلا آیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے۔ اپنے گھر سے اس شہر تک۔ میں نے دو ندیاں پار کیں، مگر جادو نہیں کٹا۔ لیکن پھر مجھے ایک کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوا۔ یہ جادو میرا دشمن نہیں ہے۔ یہ تو میری طاقت ہے۔ ایک ایسی کالی طاقت جس کا علم کسی کو نہیں، میری چھٹی حس جو اپنی وسعت میں ایک دن اس نیلگوں آسمان کو بھی سمیٹ لے گی۔ مجھے اپنی جیومیٹری کی ساری اشکال، اُن کے زاویے اور آپسی محور یاد تھے۔ اس کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوتے ہی میرے ہاتھ پیر کانپنا بند ہو گئے۔

’’آج گوبھی کا پکنا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اپنے لفظوں کو تولتے ہوئے کہا۔
’’ارے یار گوبھی پکنا تو کسی بھی دن اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ ترپاٹھی بیزاری سے بولا۔
میں فخریہ انداز میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔
’’چلو، ڈائننگ ہال میں چلیں دو بج رہے ہیں۔ بھوک لگنے لگی۔‘‘علاؤ الدین اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم لوگ جاؤ، میں کمرے میں ہی کھانا کھاؤں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ابے سالے پڑھاکو— تیرے جیسوں کا ہی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ مت بن کتابی کیڑا، مت بن۔‘‘ ترپاٹھی نے پھر اپنی تقریر شروع کی۔
میں نے اُسے دکھانے کے لیے، ایک جماہی لی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔

علاؤ الدین اور ترپاٹھی کمرے سے چلے گئے تھے۔ نومبر کا مہینہ تھا جو کوئی مہینہ نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی کوئی شناخت، کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے، اور اپنی تاریخیں یاد کرانے کے لیے بھیانک واقعات یاحادثات کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر تین بجے سے ہی اندھیرا سا پھیلنے لگا۔ کیونکہ دھوپ کا گزر نہیں تھا۔ ڈائننگ ہال سے شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے چادر سے منھ نکال کر غور سے سننے کی کوشش کی۔ یہ شور کھانے کے بارے میں یا کھاتے وقت کا عمومی شور تو نہ تھا۔ اب مجھے بھی کچھ بھوک لگ رہی تھی۔ بیرا نہ جانے کب کا میز پر کھانا رکھ کر چلا گیا تھا۔ مگر میں سوچ رہا تھا کہ پہلے کوئی برُی خبر سن لوں۔ پھر آرام سے کھانا کھاوں گا۔ کسی طالب علم کی خبر آتی ہے یا کسی پروفیسر کی یا پھر جلّاد پرنسپل کی—؟ اتنا تو مجھے یقین تھا کہ آج، اس وقت ہوسٹل کے میس میں گوبھی پکنا غلط تھا، اور بدشگونی کی علامت تھا۔

ڈائننگ ہال سے شور بڑھتا ہوا گیلری کی طرف آنے لگا۔ میں بستر سے اُٹھ کر کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ تیز تیز بھاگتا ہوا، ترپاٹھی مجھے دور سے ہی نظر آ گیا۔

’’حفیظ—حفیظ— غضب ہوگیا۔‘‘ وہ دور سے ہی چلّانے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں اندر ہی اندر اپنی صلاحیت کا معترف ہونے لگا۔
’’اِندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اب مجھے واقعی سکتہ سا طاری ہونے لگا۔ اس نوعیت کی خبر کی مجھے خواب تک میں توقع نہ تھی۔

طلبا اور پروفیسر افراتفری میں اِدھر اُدھر جاتے ہوئے نظر آئے۔ کئی لوگ کان پر ٹرانسسٹر لگائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ کل تک کے لیے کلاسز ملتوی کر دلیے گئے ہیں۔

نہ جانے کب شام ہو گئی۔ اکتوبر کے آخر اور نومبر میں سورج اتنی تیزی سے ڈوب جاتا ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ ہر جانب ایک سنّاٹا تھا۔ سڑکیں سنسان اور دہشت زدہ سی نظر آرہی تھیں۔ لوگ یا توبھیڑ بناکر ایک جگہ اکٹھا ہوکر چہ میگوئیاں کر رہے تھے یا پھر بہت تیزی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے۔ سرکاری دفاتر کے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ میں کالج کے آس پاس کی سڑکوں اور کتابوںکی چند دوکانوں پر بھٹکتا رہا۔ مجھے اپنے قصبے میں کسی کی کہی ہوئی بات یاد آرہی تھی کہ جب ملک کا کوئی بڑا سیاسی رہنما یا قائد مرتا ہے تو سارا ملک سائیں سائیں کرتا ہے۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی پھیل جاتی ہے۔ اور یقینا ایسا ہی تھا۔ وزیر اعظم اِندرا گاندھی کویہاں سے چار سو پچاس کلومیٹر دور — دہلی میں اپنے گھر کے قریب، اُن کے اپنے ہی باڈی گارڈوں یا محافظوں کے ذریعہ گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا۔ مگر ویرانی یہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس میں نومبر کی بے رنگ شام کا بھی کچھ حصّہ مل گیا ہو۔

میں چلتے چلتے پرساد ٹاکیز کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں امیتابھ بچن اور دھرمیندر کے بڑے بڑے پوسٹر لٹک رہے تھے۔ فلم شعلے چل رہی تھی۔ شعلے اس ٹاکیز میں گذشتہ آٹھ سال سے چل رہی تھی۔ اور آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یقین کیجیے پرساد ٹاکیز میں آج بھی شعلے دکھائی جا رہی ہے۔ آج جب میری عمر اڑسٹھ سال کی ہو چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی شکلیں بھی اب بوڑھی اور قابل رحم نظر آتی تھیں۔ مگر ٹاکیز خالی تھا۔ اُس پر تالہ لٹکا ہوا تھا۔ شہرکے سارے سنیما ہال بند کر دئیے گئے تھے۔ میں فلم دیکھنے نہیں گیا تھا۔ مگر سنیما ہال کو ویران دیکھ کر، اُس پر ایک منحوس تالہ لٹکا ہوا دیکھ کر، میرے دل کو سخت دھکا پہنچا۔

پوسٹر میں، میں نے سنجیو کمار کی انتقام میں جلتی سلگتی ہوئی آنکھیں دیکھیں اور سوچا کہ آج شام کے اور رات کے شو میں، سنجیو کمار کا انتقام فلم کی ایک خاموش اندھیری رِیل میں بند رہے گا۔ وہ باہرنہیں آئے گا۔ جس طرح ہر انتقام، بلکہ ہر جذبہ وقت کے فریم میں بہتا ہے اور کبھی — شاید رُک جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے کسی کے دل کی رگوں میں بہتا ہوا خون جم جاتا ہے اور حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے۔

وہ انتقام کا زمانہ تھا۔ اینگری ینگ مینوں کا زمانہ۔ راجیش کھنہ کی قربانیوں، المیوں اور محبتّوں کا زمانہ ابھی بس حال ہی میں گزرا تھا۔ مگر اب اُس کے نشان بھی باقی نہ تھے۔ اب انتقام کا رُخ انفرادی تھا۔ اور اِس انفرادی انتقام کواجتماعی شعور نہ صرف پسند کرتا تھا بلکہ اس پر پھول برساتا تھا اور تالیاں بجاتا تھا۔

انتقام جس کی پیداوار یا جس کی جڑوں کا ایک کیڑا خود میں بھی تو تھا اور اِندرا گاندھی کا قتل—؟
سورن مندر پر گولیاں چلائے جانے کا بدلہ اورخالصتان کو سیاسی طور پر قبول نہ کرنے کی سزا۔

سنیما ہال کے سامنے کھڑے کھڑے پولیس کی گاڑیاں سائرن دیتے ہوئی نکل گئیں۔ دفعہ 144 لگا دی گئی تھی۔ ریڈیو پر خبر آئی کہ دہلی میں سکھّوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ بازاروں کو آگ لگادی گئی ہے۔ سکھّوں کے گھر پھونک دئے گئے ہیں۔ اب اِندرا گاندھی کے قتل کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

31؍ اکتوبر کی یہ شام اب جاڑوں کی رات میں بدلنے لگی۔ ویرانی کا احساس اور بڑھ گیا اور خوف و دہشت کا بھی۔
میں واپس ہوسٹل اپنے کمرے میں آیا۔
گیلری میں میرے احباب میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سب میرے کمرے میں چلے آئے۔
کمرے میں، گوبھی کی بو بری طرح بھری ہوئی تھی۔
مجھے اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا۔

اُس رات میرے کمرے میں دوستوں کا آنا جانا لگا رہا۔ ہیٹر پر چائے بنتی رہی اور سیاسی بحثیں ہوتی رہیں۔ حالانکہ ہم سب کی عمر اُن دنوں سیاسی یا سماجی شعور کے معاملے میں صرف بچکانہ رویّوں یا خیالات کے مناسب ہی ہو سکتی تھی۔ پھر بھی بہت بکواس ہوتی اور بکواس کے درمیان کہیں کہیں کوئی ایسا جملہ بھی چمک اُٹھتا تھا جس کی معنویت آج مجھے پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے، مجھے نہ اُن دنوں کوئی سیاسی شعور تھا اور نہ اب ہے۔ میرے سامنے دوسرے سوال تھے اور یہ سوال خود میرے وجود کی آہٹیں مجھ سے ہی کرتی تھیں۔ میرے ساتھ ایک ماضی تھا جس سے خون کی بو آتی تھی۔ اگرچہ میں اس ماضی کو بڑی بے شرمی کے ساتھ بھول گیا تھا مگر دراصل ہم بھُولتے کچھ بھی نہیں ہیں۔ پیڑ سے گرا ایک پتّہ تمھارے جوتے کے تلے میں چپک جاتا ہے، تم چلتے چلتے کچھ دیر تک پتّے کی سڑک پر رگڑ کی آواز سنتے ہو، پھر دنیا کے شور اور اُس کی بے ہنگم آوازوں میں پتّے کی رگڑ دب کر معدوم ہوجاتی ہے۔

مگر ایک دن آتا ہے جب تم اپنے جوتے کی صفائی کرنے اور اس پر پالش کرنے بیٹھتے ہو۔
بس وہی دن ۔۔۔ دوبارہ تمھیں تمھارے گناہ یاد دلاتا ہے۔ وہ دن تمھیں یاددلاتا ہے کہ تم نے اپنے کتنے گندے کپڑے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے تھے، تم اپنی جیب سے وہ فہرست نکالتے ہو اور پڑھتے ہو اور پھر ملاتے ہو۔۔۔ کپڑے سے کپڑا۔۔۔ اور یہ بھی کہ کون سا کپڑا مسک کر، پھٹ کر، دھوبی کے یہاں سے واپس آیا ہے اور کون سا کپڑا گم ہو گیا، ہمیشہ کے لیے۔ تو بس اتنا ہی تھا اور یہاں شہر آکر، محض ایک گوبھی پکنے کی بُو نے مجھے ایک بار پھر اپنے اندر بیٹھے خوفناک بن مانس کا احساس دلا دیا۔ مجھے سب کُچھ بڑی شدّت کے ساتھ یاد آ گیا۔ اتنی شدّت کے ساتھ کہ کاغذ پر اس لفظ ’’یاد‘‘ کو لکھنے سے زیادہ مضحکہ خیز اس وقت اور کچھ نہیں ہو گا۔

میرے سوال سیاسی غلطیوں کے بارے میں نہیں تھے۔ میں اندرا گاندھی کی سیاسی غلطیوں کے بارے میں گفتگو کرنے کا اہل ہی نہ تھا۔ میں تو مگر، جرم، سزا اور انصاف کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے سر کے بائیں حصّے کو ہمیشہ کشمکش میں مبتلا کر تا رہتا تھا۔ اور وہ حصّہ پھوڑے کی طرح دُکھنے لگتا تھا۔

جرم کس سے سرزد ہوتا ہے؟
سزا کیسی ہوتی ہے؟ سزا کا چہرہ کیا قتل سے ملتا جلتا ہوتا ہے؟
پھانسی کے تختے کی طرف مجرم کو لے جاتے ہوئے جلّاد کون سا گیت گاتا ہے۔

اور انصاف—؟ انصاف کس عدالت میں ہوتا ہے؟ عدالت آخر ہے کہاں؟ سزا اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ کیا سزا کے دانت اُتنے ہی بڑے بڑے اور نُکیلے ہیں جتنے کہ انصاف کے دانت۔ سزا اورانصاف کے چہرے آپس میں کتنے مشابہ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر وہ ہاتھ، جو انصاف کی خون جیسی لال روشنائی میں اپنی انگلیاں ڈبو کر، انسان کی پیٹھ پر سزا کے منحوس عدد لکھتا ہے، وہ ہاتھ کس کا ہے؟
وہ ہاتھ کس کا ہے؟
ریڈیونے بتایا کہ دلّی میں سکھّوں کے پورے کے پورے علاقے پھونک دیئے گئے اور گرودواروں میں آگ لگا دی گئی۔ سکھّوں کا قتل عام تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بہت بعد میں شاید، راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ’’جب ایک— بڑا اور گھنا پیڑ گرتا ہے۔۔۔۔ تو؟‘‘

پتہ نہیں آگے کچھ کہا تھا۔ مگر میرے لیے اُسے اِس وقت یاد کرنا اور وہ بھی ذہن پر زور دے کر محض ایک رائیگاں اور بے معنی سی تکلیف دہ حرکت ہے۔
اُس رات میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ اگلا سال میرے بی۔اے کا سال دوئم ہو گا اور میں جو ایم۔اے پالیٹیکل سائنس میں کرنے کے بعد ریسرچ کرنا چاہتا تھا اور کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بننا چاہتا تھا۔۔۔ اچانک بدل گیا۔

میں نے حتمی فیصلہ کر لیا کہ میں قانون پڑھوں گا۔ اگلے سال میں ایل۔ایل۔بی۔ میں داخلہ لوں گا۔ مجھے یاد ہے کہ دل میں یہ فیصلہ کرتے ہی مجھے وقتی طور پر بہت سکون حاصل ہوا — رات گزر گئی تھی، پو پھٹ رہی تھی۔
میری ہی نہیں، ہم سب کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔
نیند میں اونگھتے ہوئے،میرے کان میں ریڈیو پر آتی ہوئی خبر سنائی دی۔
’’راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنا دیاگیا۔‘‘

یہ خبر میرے لیے ایک لوری کی طرح تھی۔ اچانک مجھے بہت گہری نیند کا غلبہ محسوس ہوا۔ نومبر کی اِس بے ہنگم صبح کی ہوا میں ایک بدمزہ اور خشک سی خنکی تھی۔ میں نے چادر کو منھ تک اوڑھ لیا۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جب ساری پوجا پاٹھ کے بعد ماں اٹھنے لگتی تو میں کہتا، “ارے امّاں! تو نے بھگوان کے بال تو بنائے ہی نہیں۔” ماں گال پر ہلکی سی چپت لگاتی اور مسکراتے ہوے کہتی، “بھگوان تیری طرح گھڑی گھڑی اپنے بال نہیں بگاڑتے۔ چل۔”

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن ماں کا قدم قدم پر پاپ اور پُن کو لے کر اصرار کبھی کبھی جھنجھلاہٹ سے بھر دیتا تھا۔ دروازے پر روٹی کی صدا دیتا فقیر ہو کہ حویلی میں پاخانے صاف کرنے آنے والی چندا مہترانی، ماں سب کام چھوڑ کر ان کے کھانے کو روٹی یا چانول جو بھی ہو، نکال لاتی اور میرے ہاتھ میں تھما دیتی کہ میں انھیں دے دوں۔

“بیٹا، پیاسے کو پانی اور بھوکے کو روٹی دینا پُن کا کام ہے۔”

یہاں تک تو غنیمت لیکن بات تب بگڑتی جب ماں بات بات پر ٹوکتی کہ یہ پاپ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ کتے کو پتھر مار دیا – پاپ ہے۔ پتاجی کی جیب سے ایک ادھ آنہ نکال لیا – پاپ لگتا ہے۔ جھوٹ بولا – پاپ لگتا ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کا ہر دوسرا کام پاپ ہے۔

ماں کی اس ٹوکاٹاکی سے چِڑتے ہوے بھی نہ جانے کب میرے بھیتر ایک عجب سا اندرونی تنتر پیدا ہو چلا تھا جو دن میں سو بار ٹوکتا تھا کہ “یہ تو پاپ ہے۔” اس پاپ لگنے کے ڈر نے مجھے کئی بار اَپمان سہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مجھے ماں پر غصہ آنے لگا تھا۔ مجھے محلے کے دوستوں کی بےخوف دلیری نے اس پاپ پُن کے دُش چکر سے نہ جانے کب نکال لیا۔ میں ایک ایسی راہ پر چل نکلا تھا جہاں ہر اینٹ کا جواب رائے سین کا پتھر تھا۔ ایک انگلی کا جواب گھونسا تھا۔ آخر ایک دن میری یہ صورت بھی ماں کے سامنے آ ہی گئی۔

ہوا یوں کہ شروعاتی برسوں کے شک شبہوں اور نفرت کی دیواروں کو لانگھ کر اس محلے میں ہماری موجودگی کو سویکرتی [قبولیت] مل گئی تھی۔ ہم لوگ کبڈی، کھوکھو، چھپم چھپیّا، ساتم تالی جیسا ہر کھیل ساتھ کھیلتے تھے۔ کھیلنے کے دوران کئی بار ہار جیت، آؤٹ ناٹ آؤٹ کو لے کر حجت ہو جاتی، رونٹئی کے الزام لگ جاتے تھے۔ کبھی کبھار جھوماجھٹکی بھی ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ سب بھی کھیل کا حصہ ہی ہوتا تھا، اور پھر رات گئی، بات گئی کی طرح اگلے دن کا کھیل شروع ہو جاتا تھا۔

اس کھیل میں ایک لڑکی ایسی بھی ہوتی تھی جسے نہ جانے کیوں اکیلے مجھ سے ہی کُھنّس تھی۔ ناحق ہی مجھے خالص مردانہ گالیاں بکتی۔ اس نہایت خوبصورت لڑکی کا نام تھا رابعہ عرف ربّو، جو میرے دوست للّن کی چھوٹی بہن تھی۔ للّن کی موجودگی میں تو جھگڑا سستے میں نپٹ جاتا تھا لیکن اس کی غیرحاضری ایک دن قہر بن گئی۔

ربّو نے اس دن پھر جھگڑا شروع کیا ایک گندی گالی سے: “کتے کا مُوت، سالا حرامی، سِندی کا بچہ۔” پہلے ہلّے میں مَیں گالی سن کر چپ سا کھڑا رہ گیا۔ اسی گھڑی دوسرے بچوں کی ہنسی کی آوازیں کانوں تک پہنچی تو اپمان اورغصے سے منھ لال ہو گیا۔ اسی غصے میں میں نے پلٹ کر گالی دے دی: “سالی کتیا تُو، تیرا باپ!”

مانو اس سے بھی دل نہ بھرا تو آخر میں اچھل اچھل کر، زور زور سے چلّانا شروع کر دیا: “ربو ڈاکن۔۔۔ ڈاکن۔”

اس غیرمتوقع حملہ آور جواب سے تلملا کر ربو نے ایک منٹ کے سناٹے کے بعد میری ہی طرح اچھل اچھل کر ایک تک بندی اچھالی۔

اوپر سے گری چِندی
سب مر گئے سِندی

ربو ہمیشہ سندھی کو سندی ہی بولتی تھی۔ خدا کی رحمت کہ اسی وقت نہ جانے کس طرح اس دور میں پرچلِت [رائج] ایک مسلمان مخالف ہندو مہاسبھائی نعرہ یاد آ گیا، جسے میں نے تالی بجا بجا کر گانا شروع کر دیا:

مسلمان بڑے بےایمان، بڑ کے نیچے سوتے ہیں
ہندوؤں نے لات ماری تو اللہ اللہ کر کے روتے ہیں

میری اس ایک جہالت نے پورا ماحول بگاڑ دیا۔ کھیل میں شامل باقی سارے مسلمان بچے ایک دم بھڑک گئے اور مجھے کوٹنا شروع کر دیا۔ میری اس حالت کا فائدہ اٹھا کر ربو نے بھی مجھے ایک ہاتھ مار دیا۔ میں نے پوری جان لڑا کر خود کو چھڑاتے ہوے، مجھے پٹتے دیکھ ہنس ہنس تالیاں بجاتی ربو کو ایک زور کا دھکا دے دیا۔ وہ سیدھے جلیل بھائی کے گھر کے باہر لگے پٹیے کے نکیلے کونے سے جا ٹکرائی۔ اس کا سر پھوٹ گیا۔ خون بھل بھل کر کے بہنے لگا۔ افراتفری اور چیخ پکار کے اس ماحول کے بیچ سے میں یہ جا اور وہ جا والے انداز میں چھومنتر ہو کر گھر کے اندر چھپ گیا۔ چوٹ مجھے بھی لگی تھی۔ خون میرے سر سے بھی چُو رہا تھا۔ لیکن اس وقت اس بات کی فکر کسے تھی۔ فکر تھی تو اس بات کی کہ اب کیا ہو گا؟ گھر میں دادا کی مار پڑے گی اور باہر دوستوں کی۔ یا پھر بڑوں میں بھی جھگڑا پھیل جائے گا؟ اتنا طے تھا کہ جو ہو گا وہ بہت خطرناک ہی ہو گا۔

اس حالت میں میرا چھوٹا بھائی جے میرے ساتھ ہمدرد بن کر بیٹھا رہا اور دلاسا دیتا رہا۔ لیکن ہونی تو ہو کر رہی۔ دادا کے ہاتھوں خوب مار پڑی۔ مجھے آنگن میں لگے جامن کے پیڑ کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا۔ بھوک کے مارے برا حال تھا۔ اس پر آتے جاتے ہر کسی کے اُپدیشوں سے بپھر کر میں نے بھی بنا کسی کا نام لیے شہر بھر کی فحش گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ گالیوں کی گونج سن کر کرودھ میں اُپھنتے دادا نے بنا گنے پہلے تو تڑاتڑ تماچے جڑ دیے اور پھر منھ میں لال مرچ بھر دی۔ اس کے بعد تو میری چیخیں اور گنجائش بھر گالیاں آسمان تک پہنچنے لگیں۔ ادھر مجھے کسی طرح چھڑانے میں ناکام ہو چکی ماں گھر میں ہمیشہ کی طرح خاموشی سے رونے کا اپنا چلن چھوڑ کر “ہاں۔۔۔” جیسے کسی الاپ کے ساتھ رو رہی تھی۔

پتا نہیں آسمان میری چیخوں سے پگھلا کہ میری ماں کے چِیتکار بھرے الاپ سے، حویلی میں بابا یعنی میرے داداجی کی آمد ہو گئی۔ میری حالت دیکھ کر بابا نے ایک ہُنکار بھرکر اپنے بیٹے پر اس ظلم کے لیے لعنت بھیجی اور مجھے پُچکارتے ہوے رسیوں سے آزاد کرا کر اپنے گھر کی طرف لے گئے۔ سب سے پہلے کُلّے کے لیے ایک گلاس پانی اور پھر مرچ کے کرودھ کو شانت کرنے کے لیے ایک چمچ شکر کھلا دی۔

خداجانے کس طرح بزرگوں نے مل بیٹھ کر سارے معاملے کو شانت کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت مجھے گلی کے اسی مقام پر، جہاں جھگڑا ہوا تھا، کھڑا کر کے سب کے سامنے کان پکڑ کر پانچ اٹھک بیٹھک لگانے کی سزا دی گئی۔ معافی مل گئی اور سمجھائش دی گئی کہ سب مل جل کر بھائی بہن کی طرح رہو۔ لڑائی جھگڑا بری بات ہے۔ جلیل بھائی کے ساتویں نمبر کے بھائی منے میاں دن بھر سائیکل پر طرح طرح کے کرتب کی پریکٹس کرتے رہتے تھے اور بنا سکول گئے ہی انگریزی کے جملے بولتے رہتے تھے۔ محلے میں مشہور تھا کہ منے میاں کو انگریزی سے جتنی محبت تھی سکول سے اتنی ہی نفرت۔ سو ایک دن انہوں نے اللہ میاں سے بنا سکول گئے انگریزی سکھانے کے لیے ہاتھ اٹھ کر دعا مانگی اور گانے لگے کہ “اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے! اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے۔” اللہ نے ان کی دعا قبول کرتے ہوے ان کی جھولی میں انگریزی ڈال دی تھی۔ صلح کے اس موقعے پر منے بھائی نے آ کر سب سے اونچی صلاح دی: “لالو میاں! رِیڈ اینڈ رائٹ، ڈو ناٹ فائٹ۔” ٹھہاکے گونجے اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔

لیکن گھر پر میری کلاس لگنا ابھی باقی تھی۔ سو ماں کی پاپ پُن والی کلاس شروع ہوئی۔ ماں نے سمجھانا شروع کیا کہ ’نیانی‘ (بیٹی) کو مارنا پاپ ہے۔ میں نے ربو کو مار کر پاپ کیا ہے۔ اب اس کا پرائشچت یہ ہے کہ میں اس سے جا کر معافی مانگوں اور راکھی بندھوا کر اسے بہن بنا لوں۔ “ایسا نہیں کروگے تو پاپ لگےگا۔”

اب تک ساری مشکلوں سے گزر کر میں تھوڑا ضدی اور تھوڑا سخت جان بھی ہو چکا تھا۔ میں نے جگہ جگہ سے دُکھتے جسم سے اٹھتے درد کو درکنار کر، ماں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا کہ چلو اب اس کا جواب دے کر بتاؤ۔ “ماں، یہ بتاؤ کہ یہ جو پاپ ہے وہ لگتا کیسے ہے؟”

ماں کو مجھ سے شاید اس سوال کی امید نہیں تھی۔ پھر بھی اس نے اسی طرح کی ننھی سی مسکان کے ساتھ جواب دیا، “بس ویسے ہی جیسے سمجھو چوٹ لگتی ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔ کتنی جلن مچانے والی دوائی لگتی ہے۔ ہے کہ نہیں؟”

آج میں مُنڈی ہلا کر سب کچھ یوں ہی مان جانے والے موڈ میں نہ تھا۔ میں نے سوال کیا، “مطلب جھوٹ بولنے سے چوٹ لگتی ہے۔ پر کھیلنے سے بھی تو چوٹ لگتی ہے، تو کیا کھیلنا بھی پاپ ہے؟”

آج جب ماں کی ڈرا کر مجھے سداچاری بنانے والی تجویز ناکام ہوتی سی دِکھی تو وہ تھوڑی بےچین سی ہو گئی۔ اس کے صبر اور خاموشی بھرے چہرے سے مسکراہٹ گم سی ہوتی ہوئی لگی۔ تھوڑا تھوڑا غصہ چہرے پر نمایاں ہونے لگا تھا۔ پھر چہرے پر پریشانی کا سایہ بھی دکھائی دینے لگا۔ وہ شاید اس بات سے پریشان تھی کہ بچہ اگر ڈر سے بھی ڈرنا چھوڑ دے گا تو نتیجہ کیا ہو گا۔

اسی پریشانی کے عالم میں تھوڑا تیز لہجے میں جواب دیا، “بس ہر بات میں بحث کرنا سیکھ گیا ہے۔ ارے یہ تو ایک مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہی ہے کہ پاپ لگنے کا مطلب چوٹ لگنا ہی ہوتا ہے۔”

“تو پھر ٹھیک سے بتاؤ کہ یہ سالا پاپ لگتا کیسے ہے؟”

اس بار جواب زبان نے نہیں بلکہ ہاتھ نے دیا۔ ایک تھپڑ پہلے سے ہی لال پیلے ہو چکے گال پر آ پڑا۔ ایسا کر کے ماں نے وہی رونا شروع کر دیا اور آنکھوں سے شار شار آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

اب میں ہار گیا۔ مجھے ماں کا رونا کسی حال برداشت نہ تھا۔ میں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ معافی مانگتے ہوے وعدہ کیا کہ اب کبھی بحث نہیں کروں گا۔ ربو سے معافی مانگ لوں گا اور اس سے راکھی بھی بندھوا لوں گا۔

ماں نے زمین پر بیٹھے بیٹھے ہی مجھے اپنی گود کی طرف کھینچ لیا اور پیچھے کی دیوار سے پیٹھ ٹکا کر روتے اور آنسو بہاتے، میرے آنسو پونچھ کر گالوں کو چومنا شروع کر دیا۔ گھگھی بندھی آواز میں وہ بھی سنائی دے گیا جو ماں اب تک میرے جسم کو پیار سے سہلاتے ہاتھوں سے محسوس ہو رہا تھا: “مت کیا کرے میرے راجا ایسی حرکتیں۔ دیکھ کتنی مار پڑی ہے تجھے۔”

ایسا کہہ کر ماں نے دھیرے سے میرے سر میں ہاتھ ڈال کر بالوں کے بیچ انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔ میرے بکھرے، ریت مٹی سے بھرے بالوں کے بیچ ماں کی دوڑتی انگلیوں کا سپرش سات آسمانوں کی سیر کے برابر تھا۔ میں آنکھ بند کر کے ان ساتوں آسمانوں میں قہقہے لگاتا دوڑنا شروع کر دیتا تھا، جو میں اس وقت بھی کر رہا تھا۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
نان فکشن

خالدہ حسین کے افسانے”ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ایک سوال پچھلے کچھ عرصے سے مستقل پوچھا جانے لگا ہے کہ نیا فکشن کیا ہے؟ یوں تو اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ کسی بھی زمانے میں لکھا گیا اس زمانے سے جڑا ہوا فکشن اس زمانے کا نیا فکشن کہلاتا ہے۔ جیسے تقسیم اور فسادات کے زمانے میں لکھا گیا فکشن جو تقسیم اور فسادات سے جڑے موضوعات،اس وقت کے مصنفین کی ذہنی حالت اور اس زمانے کے سماجی و معاشرتی حالات کا آئنہ دار تھا وہی اس زمانے کا نیا فکشن تھا۔ آج کے سماجی اور معاشرتی حالات یکسر مختلف ہیں اس لیے آج کے نئے فکشن کو سمجھنے کے لیے آج کے عالمی منظر نامے اور فکشن نگار کے علاقائی منظر نامے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے 11/9 کے بعد ایک اصطلاح سامنے آتی ہے دہشت گردی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالمی منظرنامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پورے عالمی سیاسی اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہے جس سے عالمی ادبی منظرنامہ بھی یکسر بدل کر رہ جاتا ہے۔ جہاں مغرب کا ادیب نئے حسی تجربات سے کشید کیے گئے خارجی و داخلی احساس کو نئے تخلیقی جوہر میں پرو کر نئے سماج کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں اردو ادب سے وابسطہ پاک و ہند کے ادیب بھی نئی ادبی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

پچھلے سترہ اٹھرہ سالوں میں دہشت گردی کے نام پر مسلط کی گئی جنگیں انسانیت کے لیے ایک گھمبیر مسئلہ رہی ہیں اور ان سے متعلقہ موضو عات پر ہر خطے کے ادیب نے قلم اٹھایا اور اپنا احتجاج قلم بند کروایا ہے اردو ادب میں بھی تقریباً ہرکہانی کار نے ان جنگوں سے متعلقہ موضوعات کو اپنا مشق ِ سخن بنایا ہے۔ ویسے تو ہر خطے کے قلم کاروں پر ان جنگوں کے اثرات بالواسطہ یا بلا واسطہ پڑے ہیں لیکن پاکستان کا ادب اور ادیب براہ ِ راست ان سے متاثر ہوا ہے کیوں کہ عراق اور افغان جنگ کے بعد دہشت گردی کا جیسے سیلاب ہی ہمارے ملک میں امڈ آیا ہے جس نے انفرادی اور اجتماعی قومی سوچ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کسی بھی علاقے کے ادب میں آنے والے بدلاؤ کو سمجھنے کے لیے اس علاقے کے ادب کو پڑھنا اور باریکی سے اس کا تجزیہ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ویسے تو یہ کام اُس ادب کے ناقدین کا ہے اور یہ انہیں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کے اردو ادب کا موازنہ عالمی ادب کے ساتھ پیش کریں اور تجزیات کے ذریعے ثابت کریں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو فکشن آج کہاں کھڑا ہے۔

میں ایک عام قاری کی حیثیت سے کوئی تنقیدی مقالہ تو پیش نہیں کر سکتا لیکن یہ دعویٰ ضرور کر سکتا ہوں کہ ہمارا آج کا فکشن کسی بھی طرح نئے عالمی فکشن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بس معاملہ اتنا سا ہے کہ اردو ادب کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا رہا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دوسری زبانوں کے ادب کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر تو احباب کچھ کام کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کام کے لیے سرکاری سطح پر نہ تو پاک میں اور نہ ہی ہند میں اقدامات کیے گئے ہیں۔

اب اگر مجھ سے کوئی کہے کہ اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل لاؤں تو میں اپنی دلیل کے لیے محترمہ خالدہ حسین کا افسانہ “ابنِ آدم” پیش کروں گا۔
(یوں تو یہاں میں بہت سے افسانوں کا ذکر کر سکتا ہوں جو میں آئندہ بہت سے افسانوں کے تاثراتی جائزوں میں کرتا بھی رہوں گا )

گو “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

افسانہ پُر اسرار انداز میں شروع ہوتا ہے اور قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بالکل مکڑی کے جال جیسی گرفت جس میں قاری ہر آن تڑپتا پھڑکتا تو ہے لیکن اس گرفت سے آزاد ہونا اس کے بس میں نہیں رہتا۔ خالدہ حسین اپنے چھوٹے چھوٹے حسی تجربات سے کشید کیے گئے شدید احساسات کو اپنی کہانیوں میں یوں پرو دیتی ہیں کہ پڑھتے ہوئے قاری کو وہ اپنے ہی حسی تجربے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ تیزی سے گزرتے وقت میں پے در پے رو نما ہوتے حالات و واقعات سے پیدا ہونے والی یقین و بے یقینی کی کیفیت کو جس چابکدستی سے کہانی میں گوندھا گیا ہے پڑھ کر طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔۔۔

“ہیلی کاپٹر کا جسیم پنکھا ابھی بند نہیں ہوا تھا اور چاروں سمت ریت اڑ رہی تھی اور شاید اس پنکھے کے بند ہونے کا کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ مگر نہیں، ہوسکتا ہے یہ رک چکا ہو اور وہ اسے چلتا ہوا دیکھ رہا ہو کیوں کہ اب واقعات مسلسل ہوتے رہتے تھے۔ جیسے آنکھ پر کسی شے کی منفی تصویر بہت دیر تک جمی رہ جائے۔”

بظاہر یہ کہانی ایک جہادی تنظیم کے گرفتار کیے گئے چند مجاہدوں کے گرد گھومتی ہے لیکن پس ِ متن قابض فوج اور اسکے پر آشوب رویے کا پردہ چاک کرتی چلی جاتی ہے۔ اس فوج کے اس علاقے میں ہونے اور اس کے پیچھے محر ک سوچ کو سمجھنے کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہے جسے مصنفہ نے بڑی ہی سہولت سے کہانی میں جڑ دیا ہے اپنے احساسات پر لگنے والی اس کاری ضرب کو قاری اپنی روح تک محسوس کیے بنا نہیں رہ پاتا۔
“آخر یہاں پر ایسا کیا مسئلہ پیش آ گیا ہے”؟ ماہر نے سکریٹ منہ میں دبائے دبائے کہا۔”ہم اس کمبخت نحوست مارے ریگستان میں اس لیےتو خوار نہیں ہو رہے کہ یہ حشرات الارض ہمیں پاگل کر دیں۔ کچھ ہے کوئی بڑی پُر اسرار شیطانی قوت جو ان کے اندر مرتی ہی نہیں۔ ہم جو خواب دیکھتے ہیں نا کہ آدمی مر کے بھی نہیں مرتا، چند ثانیے مرنے کے بعد پھر اچھا بھلا اٹھ بیٹھتا ہے اور گلا دبانے کو ہمارا پیچھا کرتا ہے تو یہ اس ریگستان کا نائٹ میئر ہے”۔

یعنی وہ فوج جس زمین پر قابض ہے اس میں بسنے والے اس کے لیے حشرات الارض ہیں یہی وہ سوچ ہے جو ان بڑی عالمی قوتوں کے ذہن میں پنپ رہی ہے جس کے زیرے اثر بڑی عالمی قوتویں اپنے زیرِ تسلط آ جانے والوں کو انسان ہی نہیں سمجھتیں اگر دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ عراق پر امریکہ کی بہیمانہ جنگی جارحیت تھی جس نے ایک پوری قوم اور اس کے تشخص کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا خالدہ حسین نے جنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو افسانے کا موضوع بنایا ہے اور سماجی اور معاشرتی سطح پر جنگی جبر سے پیدا ہونے والی صورت ِ حال سے انسانوں کی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو جس خوبی سے کرداروں کا روپ دیا ہے اس کی داد کے لیے میرے الفاظ کم ہیں کرداروں کی تحلیل ِ نفسی کی جائے تو مختلف کرداروں پر اس جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے اثرات کا مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں آئیے یہ حالات کرداروں پر کیا کیا اثر ڈالتے ہیں اور ان کے رویوں میں کیا کیا تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ امین کا کردار معاشرے میں لالچی، خود غرض دنیاوی ذلت بھری زندگی کو انسانی خودی پر فوقیت دینے والے انسانوں کا نمائندہ ہے جو اپنی نام نہاد محبت میں ناکامی اپنی سہل پسند طبیعت،اپنی حرص و ہوس اور اپنی جینے کی بےکار سی خواہش کے زیر ِ اثر دشمنوں سے مل جانے اور اپنوں کے خلاف کام کرنے اور دشمنوں کے آلہ ء کار بنے کو درست سمجھتا ہے اور اس کے لیے بھونڈے جواز خود ہی گھڑتا چلا جاتا ہے ایسے کردار عام زندگی میں بھی ہر معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔

“ابو حمزہ!مجھے تم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس قدر توہم پرست ہو۔ ڈاکٹر ہو کر بھی تم ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہو۔یہ کچھ بھی نہیں۔ ساری دنیا معصوم لوگوں کے خون سے لبریز ہے۔ انسانی تاریخ ہے ہی یہی کچھ۔کس کس نے بد دعا نہ دی ہو گی اور یہ دعا بد دعا آخر ہے ہی کیا؟”

“مگر ضروری نہیں، موت ضروری نہیں،ہر گز نہیں۔ زندہ رہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے زیادہ فطری ہے۔ اس کے اندر کسی نے کہا تھا اور وہ بے حد شرمندہ ہو گیا تھا۔ اس نے پھر سوچا، یہ بزدلی اس میں کب اور کس طرح پیدا ہو گئی۔ شاید یہ موروثی ہے۔”

کیا بھونڈا جواز ہےیہ صرف جینے کی خواہش کی تکمیل کے لیے۔ اور جینا بھی کیا صرف جسمانی آسائش اور بھیک کے چند نوالے امین کے لیے درد اور تکلیف کے معنی بدل ڈالتے ہیں

“وہ لمحہ عجیب تھا۔یقیناً کھال کا ادھڑنا، ناخن کا اکھڑنااور نازک مقامات کوکچلا جانا بہت غیر ضروری ہے۔یقینا! تر و تازہ روٹی اور جسم کی آسائش بہت ضروری ہے۔ سب سے ضروری۔”

اس کی یہی سوچ اسے ذلت بھری زندگی کی کھائی میں اتار دیتی ہے جہاں زندگی کا آفاقی تصور کچھ نہیں رہتا زندگی سے جڑے سارے حقیقی تصورات ایک انسان کے لیے محض تصور ہی رہ جاتے ہیں۔

” جبریل الامین، کتنا غلط نام تھا اس کا۔” یہ بھی اس نے سوچا، مگر امانت اور خیانت۔۔۔۔یہ بھی محض تصورات ہیں جب کہ جسم اور حواس اور ان کی آسودگی حقیقت۔”

خالدہ حسین نے انسانی نفسیات کے علم سے مکمل آگہی اور اپنے فنی تجربے سے اس کردار کو یوں گھڑا ہے کہ یہ ذلت بھری زندگی اور گھٹیا انسانی سوچ کی علامت بن گیا ہے۔۔۔جب کہ اس کے بر عکس ایک کردار لیلٰہ کا ہے ریاستی جنگی جبر اور اپنے معصوم لوگوں کے ساتھ کیا گیا الم ناک سلوک اس کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہےاورحب الوطنی اور اپنوں کی خاطر جان نثاری کا جزبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔

” اس وقت لیلیٰ اپنی کمر کے گرد وہ بیلٹ باندھ رہی تھی۔ ’’مگر اس سے حاصل کیا ہو گا۔ تم خود اور کچھ وہ … اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیسے اور کتنے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی دوسرے بے فائدہ قسم کے لوگ ہوں جو اس دھماکے کی لپیٹ میں آ جائیں اور سب سے بڑھ کر تمہاری بہن اور بابا کو اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا؟‘‘ اس نے لیلیٰ سے کہا تھا۔

’’ ان کو تو اب کسی بات سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘ لیلیٰ نے جواب دیا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے اب سکینہ اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہو گی اور میرا باپ…!‘‘ وہ خاموش ہو گئی۔

’’کیا تم چاہو گے کہ میرا بھی وہی حال ہو جو سکینہ کا ہوا؟‘‘
’’ نہیں نہیں !‘‘ اس نے فوراً کہا تھا اور پھر خود اٹھ کر اس کی ڈیوائس سیٹ کرنے لگا۔ لیلیٰ بالکل پرسکون تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس وقت اس میں ایک نرم گرماہٹ تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں اور بھی گہری نظر آ رہی تھیں۔”

یہ تو خالدہ حسین کا ہی خاصہ ہے کہ ایک ہی افسانے میں زندگی کے بارے مختلف کرداروں کے مختلف نظریات کو یک جا کر کے پیش کیا ہے اور بین المتن ایسا معنیاتی نظام ترتیب دیا ہے جس نے اس فنپارے کو آفاقیت عطا کر دی ہے۔ایسے فنپارے بے شک کسی بھی زبان میں تخلیق کیے گئے ہوں وہ ہیں در اصل کل انسانی سماجی رویوں کے آئنہ دار اور نمائندہ۔ اور یہ افسانہ تو ہے ہی مثال کی حد تک خالدہ حسین کی فنی مہارت، مشاہدے اور علم کا عکاس جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

یوں تو اس افسانے کا ہرکردار ہی اپنی جگہ طویل بحث کا متقاضی ہے کہ ہر کردار میں خالدہ حسین کا تخلیقی عنصر اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے لیکن اس کہانی کا وہ متحرک کردار جس نے مجھے اس شکست و ریخت سے گزارا جس نے خالدہ حسین کو ایسا شاہکار کردار تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہو گا۔ ابو حمزہ جو کسی صورت سماجی جنگی جبر کے آگے جھکتا نہیں جو ہر صورت ان استبدادی قوتوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرواتا ہے پھر چاہے وہ احتجاج موت کی ہی صورت کیوں نہ ہو۔جس شخص کے لیے زندگی خودی اور وضعداری کا نام ہے لیکن بصورت ِ دیگر موت، زندگی سے زیادہ اعلٰی و عرفہ شے بن جاتی ہے۔جنگی جبر اور سماجی ادھیڑ بُن ایک انسان کے اندر ایسی گھٹن اور حبس پیدا کردیتے ہیں کہ پھر اس کے لیے زندگی کے مقابلے میں موت بہتر انتخاب بن جاتی ہے۔ خالدہ حسین نے اسے جس خوبصورتی سے نقش کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل لگتا ہے۔۔۔۔

” ابو حمزہ اس روز اپنے آپ کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ لیلیٰ اور قدوس بھی وہیں تھے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کی چھوٹی سی کوٹھری میں تھے جو ملبے میں گھری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس روز وہ بڑی مشکل سے روٹی کے چند پھپھوندی لگے ٹکڑے کوڑے کے ڈھیر پر سے چن کر لایا تھا۔ وہاں سب اپنے اپنے ٹکڑے ٹھونگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیلیٰ کے رخسار پر ایک لمبا گہرا شگاف تھا۔ ایک بم دھماکے میں شیشے کا ٹکڑا پیوست ہو گیا تھا۔ ابو حمزہ نے اپنی ڈائی سیکشن کی چمٹی سے اسے نکالا تھا۔ لیلیٰ کے ہاتھ تکلیف کی شدت سے بالکل برف ہو رہے تھے اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس روز اس کے باپ اور چھوٹی بہن ہنکا کر لے جائے گئے تھے۔ حالانکہ وہ سب در اصل ابوحمزہ اور لیلیٰ کی تلاش میں تھے۔ دہشت گردی کے نام پر محلے کے محلے زندانوں میں ٹھونس دیے گئے تھے۔ اس سے پہلے انہیں کب خبر تھی کہ زندان آبادیوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ یوں بھی ان کے نزدیک جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔

ابو حمزہ نے پھپھوندی لگی روٹی کی ایک چٹکی منہ میں ڈالی اور اسے ابکائی آ گئی۔

’’ اس میں تمام بیکٹیریا بھرے ہیں۔ اس سے مرنے سے بہتر ہے کہ آدمی بہتر موت کا انتخاب کرے۔ ‘‘
“صدیوں سے قدرت یہ منصونہ بنا رہی تھی۔ صدیاں تو اس کی تقویم میں چند ایک ثانیوں سے زیادہ نہیں۔یہ زمین بے گناہوں کے خون سے سیراب ہوتی چلی آئی ہے۔ اس کو دی گئی بد دعا حرف ِ سچ ثابت ہو رہی ہے”

“میں بھی نہیں مانتا تھا مگر اس زمین کی ہوائیں بین کرتی ہیں اور کرتی چلی آئی ہیں۔ یہاں کی زمین سیال سونا اُگلتی رہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔فاقہ اور جبر یہاں کی نسلوں پر لباس کی طرح منڈھ دیے گئے ہیں۔ اس وقت میرا مسئلہ صرف اپنے حصے کا احتجاج ہے۔ایک بہتر موت کا انتخاب کر کے۔”

یہ کردار ہر دو صورتوں میں آفاقی معنویت کا حامل ہے جب یہ آزاد ہے اپنے فیصلے کرنے میں اور اپنے قول و فعل کے لیے کلی طور پر ذمہ دار ہے تب بھی یہ اخلاق کی بلند سطح پر نظر آتا ہے حالات کا جبر اور سماج کی بدلتی صورت اس کی آدمیت اور آفاقی سوچ کو مسخ نہیں کر پاتی۔

“امین !جبریل الامین۔” اس نے پرانے وقتوں کی طرح بڑے دُلار سے کہا،”لو ہماری تصویر بناؤ اور ہمارے بعد اسے میڈیا پر پہنچانا کہ ہم اس وقت کتنے خوش تھے۔”
اس کا صبر واستقلال اور استقامت اس وقت بھی دیدنی ہوتا ہے جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ظلم اور تذلیل کی شدید آگ سے گزار دیا جاتا ہے۔

“اس کے ہاتھ میں ایک موٹا پٹّاتھا اور پٹّا ایک متحرک وجود کے گلے میں تھا اور وہ وجود معلوم نہیں کون تھا۔آدمی یا سنگ، معلوم نہیں مگر وہ چار ہاتھوں پاؤں پر چلتا تھا۔ کتے سے بڑی جسامت، بالکل برہنہ۔اس کی برہنگی چوپائے کی مانند عیاں تھی”

“اس کا منہ تھوتھنی کی طرح سامنے اٹھا تھا اور جھاڑ داڑھی لٹکی تھی (کیا کتوں کی راڑھی ہوتی ہے؟ اس نے یاد کرنا چاہا)۔” فوجن زور زور سے پٹّے کو جھٹکا مارتی تھی اور چوپائے کی گردن گھوم گھوم جاتی تھی۔پھر وہ ایک زور دار ٹھڈا اپنے ایڑی دار فوجی بوٹوں کا اس کے پچھلے دھڑ پر رسید کرتی اور فاتحانہ نظروں سے مجمعے کی طرف دیکھ کر دوسرا ہاتھ لہراتی۔”

“اب ماہر، افسروں کی قطار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے فوجن کی طرف ہاتھ کی دو انگلیوں سے وی کا نشان بنایا اور نعرہ لگایا۔
“براوو۔۔۔۔جاری رکھو۔”فوجن اپنی تعریف پر اور بھی مستعد ہوگئی۔ پھر ماہر نے سب کی طرف فخریہ دیکھا اور پکارا اور وہ جس کے گلے میں پٹّا تھا، اس کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اپنا بھاری بوٹ اس کی تھوتھنی پر رسید کیا۔

“سگ،سگ،کلب،کلب،بھوں،بھوں۔”اور آدھا ہنسا جب کہ ادھا خاموش رہا۔پھر ماہر نے اشارہ کیا اور بہت سے فوٹوگرافر دوڑے دوڑے آئے ہر طرح کے کیمروں سے لندے پھندے۔پھر دو فوجی بیچ میدان کے آئے اور انہوں نے اپنی پینٹوں کی زپیں کھولیں اور اس چوپائے پر اپنا مثانہ خالی کرنے لگے اور وہ چوپایا اس متعفن سیال کے نیچے چاروں ہاتھوں پاؤں پر کھڑا تلملانے لگا۔اپنا سر، منہ، آنکھیں بچانے کے لیے۔

تشدد،رسوائی اور ذلت کی اس بد ترین سطح پر لے آنے کے باوجود دشمن نہ تو اس سے کوئی راز ہی اگلوا پاتا ہے اور نہ اپنے لیے رحم اور زندگی کی بھیک ہی منگوا پاتا ہے یوں یہ کردا ر انسانی عزم و ہمت کی آفاقی علامت بن جاتا ہے۔اور افسانے کے پورے ڈسکورس کو ایک بڑے تخلیقی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ جس کی داد آنے والے زمانے دیتے ہی رہیں گے۔

“آدمیت ختم کرنا بھی ایک ہنر ہے اور جب تک تم آسمیت ختم نہ کر دو گے،کمزور سے کمزور بھی تمھیں تنگ کرتا رہے گا۔تمہارا جینا حرام کردے گا،دیوانہ کر دے گا۔”

ماہر کی گفتگو ٹکڑوے ٹکڑوے اس تک پہنچ رہی تھی۔وہ باقیوں کو بتا رہا تھا کہ تفتیش اور راز اگلوانے سے پہلے اب لوگوں کو کنڈیشن کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے ان کی آدمیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دراصل آدمی میں خود آدمیت ہی سب سے بڑا فساد ہے۔اور اس نسل میں تو خاص طور پر۔”

یہ وہ سوچ ہے جس پر شدیدضرب لگاتا ہے یہ افسانہ۔خالدہ حسین یہ جملے فوجی کے منہ سے کہلواتی ہیں اور پھر پورے ڈسکورس کو اس سوچ کے بر خلاف یوں بنتی ہیں کہ افسانے کے اختتام پر قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں در حقیقت کس کی آدمیت ختم ہوئی ہے اور وہ اصلاً کُتا بن گیا ہے اور کون آدمیت کے اعلٰی ترین معیار پر قائم و دائم ہے بے شک ایسی تخلیقی کاریگری اور ہنرمندی سے ایسا شاہکار افسانہ تخلیق کرنا خود اپنی جگہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔میں محترمہ خالدہ حسین کے اس افسانے ” ابن ِ آدم” کو اکیسویں صدی میں لکھے گئے شاہکار افسانوں میں شمار کرتا ہوں اور اسے نئے فکشن کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہوں مصنفہ کے لیے مبارک باد کہ انہوں نے ایسا فن پارہ تخلیق کیا۔ میں اس فنپارے کو پڑھنے اس کے تخلیقی جوہر کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کرنے اور اس پر اپنے تاثرات پیش کرنے کو اپنا فخر سمجھتا ہوں۔

Categories
فکشن

حکایات ِجدید ومابعد جدید

ستر سال اور غار
وہ ستر سالوں سے غار میں تھا۔یہ بات تھوڑے لوگوں کو معلوم تھی۔ان تھوڑے لوگوں میں اسحاق بھی شامل تھے۔اسحاق نے اس بات کو راز میں رکھا کہ اسے کیسے معلوم ہو اتھا،لیکن اس بات کو راز میں نہیں رکھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ ستر سالوں سے غارمیں ہے۔ ایک بات کو راز رکھنے اور دوسری کو عام کرنے کی خاص وجہ تھی،اور اسے بھی اسحاق ہی جانتے تھے،مگر کبھی کبھی کسی خاص شخص کو بتابھی دیا کرتے تھے۔ ایک دن عصر کے بعد اس کے پاس چار لوگ آئے۔ اسحاق مصلے سے اٹھے اور لکڑی کے تخت پر آبیٹھے۔

 

سائیں بڑی مشکل میں ہیں، دعا فرمایئے۔ جس گاؤں سے آئے ہیں،وہاں کے لوگ چھ ماہ سے ایک پل نہیں سوئے۔ روز ایک لاش کہیں سے آتی ہے،مسجد میں اعلان ہوتاہے،کس کی لاش ہے، سب دوڑے دوڑے آتے ہیں، جو دیکھتا ہے،اسے لگتا ہے کہ اسی کی لاش ہے۔ سارا گاؤں مل کر اسے دفناتاہے، واپس آتاہے،سب ایک دوسرے کا کھانا پکاتے ہیں۔

 

کچھ دیر بعد ستھر پر سارا گاؤں بیٹھتا ہے۔سارا گاؤں،ایک دوسرے سے تعزیت کرتا ہے۔ایک دوسرے کو ’امر ربی‘ کہتا ہے،اور فاتحہ پڑھتا رہتا ہے، ابھی سوئم نہیں ہوپاتا کہ پھر ایک لاش کا اعلان ہوتا ہے۔ چھ ماہ سے یہی کچھ ہورہاہے۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں،اور ڈر رہے ہیں کہ کہیں ہماری لاشیں گاؤں میں نہ آچکی ہیں،اور ایسا نہ ہو کہ وہ سڑ جائیں۔ کچھ دن پہلے غلام محمد گاؤں سے ایک دن کے لیے گئے،واپس آئے تو ان کے گھر میں سڑاند پھیل چکی تھی،انھیں اکیلے ہی اپنی لاش دفنانی پڑی،اور کوئی پرسہ دینے بھی نہیں آیا۔گاؤں میں لاش پہنچے کا کوئی وقت نہیں،نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔کوئی خاص جگہ بھی مقرر نہیں جہاں لاش ملتی ہو۔ اسحاق نے ان کی طرف غور سے دیکھا،حیرت ظاہر کی اور کہا۔ میں نہیں، ایک اور شخص تمھاری مدد کرسکتاہے،جس نے ستر سالوں سے باہر کی دنیانہیں دیکھی،پر سب جانتا ہے کہ باہر کیا ہورہا ہے؟

 

وہ چاروں بہ یک وقت حیران ہوئے،یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

 

ستر سالوں سے غار میں رہنا،یا ایک پل کے لیے باہر سر نکالے بغیر باہر کے بارے میں پل پل کی خبر رکھنا؟

 

سائیں، دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تم اپنی مشکل کا حل چاہتے ہو،یااسرار جاننا چاہتے ہو؟ اسحاق نے تسبیح کے دانوں سے وقفہ لیتے ہوئے کہا۔

 

سائیں دونوں۔ چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ فلاں درخت کی ایک شاخ کا پتا کھانے سے آدمی بندر بن جاتا ہے،اور دوسری شاخ کا پتا کھانے سے واپس آدمی بن جاتا ہے تو تم کس شاخ کا پتا حاصل کرنا پسند کرو گے؟ اسحاق نے تسبیح سے ایک اور وقفہ لیا۔

 

سائیں، میں دوسری شاخ کا پتا حاصل کروں گا۔ایک بولا۔

 

سائیں، میں دونوں حاصل کرنے کی خواہش کروں گا۔ دوسرا بولا۔

 

تیسرا چپ رہا۔

 

سائیں، میں اس درخت کا علم حاصل کروں گا۔ چوتھا بولا۔

 

تمھاری مشکل کا حل اب دو آدمیوں کے پاس ہے، ایک وہ جو ابھی چپ ہوا،دوسراجو سترسالوں سے چپ ہے۔ اسحاق بولے۔

 

وہ کیسے؟ باقی تین بولے۔

 

تم تینوں نے ایک ایسی صورتِ حال سے اپنے لیے راستہ منتخب کرنا شرو ع کردیا،جو ’ہے ‘ نہیں، ’ہو سکتی ‘ تھی،یا کبھی ’تھی‘۔ جو چپ رہا،وہ جانتا ہے کہ راستہ وہی چنا جاتا ہے جو ’ہو‘۔ اسحاق بولے۔

 

تینوں نے اس چوتھے کی طرف دیکھا جو چپ تھا۔ وہ اب بولا۔ وہ درخت تو میرے اندر ہے۔پر میں نے کبھی اس کے پتے نہیں کھائے۔
space:

 

پر ہمارے اندر تو ایسا کوئی درخت نہیں۔ تینوں بہ یک وقت آواز ہوکر بولے۔

 

تو اس شخص کے درخت سے اپنی مرضی کا پتا لے لو۔ اس مرتبہ اسحاق مسکرائے۔

 

سائیں، اب ہم نئی مشکل میں ہیں، اس درخت کے پتے حاصل کریں یا اس مشکل کا حل تلاش کریں جو ہمارے گاؤں کو لاحق ہے؟ تینوں بہ یک وقت بولے، چوتھا چپ رہا۔

 

اس کا جواب بھی تمھیں ستر سالوں سے چپ شخص سے ملے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے ایک خوں خوار شیر کا راستہ روک رکھا ہے،جو سب انسانوں کو چیر پھاڑ سکتا ہے۔

 

سائیں گستاخی نہ ہو تو عرض کریں۔ اگر اس نے شیر کا راستہ روک رکھا ہے تو کون ہے جو روز ہماری لاشیں ہمیں بھیجتاہے؟ اب چاروں بہ یک وقت بولے۔

 

تمھیں کیسے یقین ہے کہ وہ تمھاری لاشیں ہیں؟ اسحاق نے الٹا ان سے سوال کیا۔
سائیں،ہم خود انھیں دیکھتے اور دفناتے ہیں۔چاروں بولے۔

 

پھر تم کون ہو؟ اسحاق نے تعجب کیا۔

 

چاروں چپ ہوگئے۔

 

اگر وہ واقعی تمھاری لاشیں ہیں تو تم ایک ہی دفعہ خو دکو کیوں نہیں دفناتے؟ کیا اپنی قبر پر تم مٹی نہیں ڈالتے؟ ہوسکتا ہے،تمھی میں سے کوئی ایک شخص ہو جو روز تمھاری لاش کو پھینک جاتا ہو؟اسحاق نے ایک اور سوال کیا۔

 

نہیں سائیں، ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستان بڑھتا جارہا ہے۔ چاروں بولے۔ سائیں کیا آپ ہمیں اس غار کا پتا بتاسکتے ہیں؟ چاروں نے درخواست کی۔

 

وہ چاروں لمبا،کٹھن سفر طے کرکے بالآخر غار میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

 

یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کی غار میں اسحاق کی لاش پڑی تھی،اور ایک شیر کی گرج انھیں سنائی دی۔

 

اب کیا کریں؟ چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر لاش کو سب نے باری باری غور سے دیکھا کہ کہیں یہ انھی کی لاش تو نہیں،جو اس مرتبہ گاؤں کے بجائے یہاں پہنچ گئی ہے،مگر وہ اسحاق ہی کی لاش تھی۔ انھوں نے اسحاق کا مرا ہوا چہرہ غور سے دیکھا،پھراس کا ماتم کیا،پھر اس کی لاش کو نکالا،اور اپنے قبرستان لے گئے،سب گاؤں والوں نے جنازہ پڑھا۔ قبر تیار کروائی اور دفنا دیا۔

 

اس کے بعد گاؤں میں کوئی لاش نہیں ملی۔
بشن سنگھ مرا نہیں تھا!
اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو حیرت نہیں ہوئی تھی کہ منٹو کے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘کا بشن سنگھ مرا نہیں تھا،بے ہوش ہوا تھا۔ان دیکھنے والوں کے ذہن میں پہلا سوال ہی یہ پیدا ہوا کہ جب بشن سنگھ گرا ہے تو کسی کویہ خیال کیوں نہیں آیا کہ اس کی نبض ہی دیکھ لے۔ہو سکتا ہے،چل رہی ہو۔کیا سب اس کی موت چاہتے تھے ؟ ایک پاگل سے اس قدر ڈرے ہوئے تھے ؟یا اُس کے اِس سوال سے ڈرے ہوئے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟دیکھنے والوں کو یہ سوال پریشان کیے جارہا تھا کہ سب نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ بشن سنگھ جب زمین کے اس ٹکڑے پر اوندھے منھ گراہے، جس کا کوئی نام نہیں تھا،تو وہ مر گیا تھا۔ کیا اوندھے منھ پڑا ہوا آدمی لازماً مرا ہوا ہوتا ہے؟ یہ جو ایک نئی جگہ وجود میں آئی تھی،جس کا کوئی نام نہیں تھا،وہاں کوئی آدمی زندہ نہیں رہ سکتا؟زندہ رہنے کے لیے جگہ ہی کتنی چاہیے ؟بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے یہ بھی پوچھاکہ کیا زندہ رہنے والوں کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ وہ مٹی کے کس ٹکڑے پر رہنا پسند کریں گے ؟کیازندہ رہنے کا حق صرف انھی کو ہے جو خاردارتاروں کے اِس طرف یا اُس طرف رہتے ہیں؟زمین پر ان دو طرفوں کے وجود میں آنے کے بعد وہ سب لوگ کیا کریں جن کے لیے زمین سب طرفوں سے بے نیاز ہوتی ہے،اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب آدمی کا ہوتا ہے، مٹی کے ٹکڑے کا نہیں؟

 

دیکھنے والوں نے ایک دوسرے سے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ بشن سنگھ کی چیخ سن کر دوڑنے والے افسر،چوں کہ تبادلے کے کام سے تھکے ہوئے تھے،کیااس لیے انھیں بشن سنگھ کی نبض دیکھنے کا خیال نہیں آیا؟تھکے ہوئے افسرموت کے سوا کچھ نہیں سوچتے؟ان تھکے ہوئے افسروں نے یہ غورکیوں نہیں کیا تھاکہ بشن سنگھ اوندھے منھ ہی کیوں گرا تھا؟ اوندھے منھ تو وہی گرتا ہے جسے دھکا دیا گیا ہو؟اگر بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھنے والے غور کرنے کی تھوڑی سی زحمت کر لیتے تو اس شخص کی تلاش ضرور کرتے،جس نے بشن سنگھ کو خاردار تاروں پر دھکا دیا تھا۔ہوسکتا ہے،دھکا کئی دن پہلے،کئی ہفتے پہلے، یا پندرہ سال پہلے دیا گیا ہو،مگر لحیم شحیم بشن سنگھ گرا،اب ہو۔ان دنوں دھکے بھی تو بہت لگ رہے تھے۔کچھ دھکا دینے والے،پل بھر میں روپوش ہوجاتے تھے،کچھ ڈھٹائی سے وہیں رہتے تھے، لیکن پروا کسی کو نہیں تھی کہ کوئی کہاں،کب،کیسے گرے،جیسے کالی سیاہ آندھی کمزور جھاڑیوں کو جڑوں سمیت اکھاڑ کر کہیں سے کہیں لا پھینکتی ہے۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کا یہ خیال بھی تھا کہ اسے پندرہ سال پہلے ہی ہوا ؤں کی تبدیلی کا احساس ہوگیا تھا،اس لیے اس نے درخت کی طرح جم کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا،اور اس فیصلے پر اس وقت بھی قائم رہا،جب غضب ناک آندھی نے اس کے کئی ساتھیوں کو خاردارتاروں کی دوسری طرف پٹخ دیا تھا۔اس نے آندھی کے مخالف رخ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسے زندہ دیکھنے والوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اتنے بڑے فیصلے کے لیے پاگل پن ہی چاہیے تھا!

 

بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں کی متفقہ رائے تھی کہ اگر اس شخص کو تلاش کرلیا جاتا،اور اس کے ٹرائل کی ہمت کرلی جاتی،جس نے بشن سنگھ کودھکا دیا تھا تو خاردارتاروں کے دونوں طرف توپیں نہ گرجا کرتیں۔ایک بشن سنگھ کو مرا ہوا سمجھ کر،اس سے لاتعلق ہونے کی سزا کروڑوں لوگوں کواتنی کڑی نہ ملتی۔بشن سنگھ کو زندہ دیکھنے والوں نے اس بات پر کافی غور کیا کہ سرحد پر تبادلے کے افسر وں نے بشن سنگھ کی چیخ کو مدو اور پکار کیوں نہ سمجھا، آخری ہچکی ہی کیوں سمجھا؟کیا وہ افسر اس شخص کے ساتھ ملے ہوئے تھے،جس نے بشن سنگھ کو دھکا دیا تھا؟ یا تبادلے کا کام کرنے والوں میں مدد کی پکار اور موت کی چیخ میں فرق کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی؟انھوں نے یہ بھی سوچا کہ آوازوں میں فرق نہ کرسکنے کے نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں؟

 

دیکھنے والے،ایک طرف بشن سنگھ کو دیکھتے تھے،اور دوسری طرف آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ سب کا خیال تھا کہ وہ پہلا سوال یہ کرے گا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ اس نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا۔سب سوچنے لگے کہ وہ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ کہے گا،مگر وہ چپ چاپ سب کو دیکھتا رہا۔سب منتظر تھے کہ بشن سنگھ کیا کہتا ہے۔بشن سنگھ نے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا،جوپندرہ سال تک کھڑے ہونے کی وجہ سے سوج گئی تھیں،اور کئی جگہوں سے پھٹ گئی تھیں،اور ان میں گہرے زخم تھے۔اس نے پہلی مرتبہ ان میں شدید درد محسوس کیا۔اپنے سینے کو دیکھا جس پر خاردار تاروں کے زخم تھے،اور خون اب تک تازہ تھا۔اس نے اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا۔پہلی بار اسے ڈاڑھی کے بال کرخت محسوس ہوئے۔

 

دیکھنے والوں سے رہا نہیں گیا۔سب بہ یک زبان بول اٹھے۔بشن سنگھ کچھ کہو گے نہیں؟
بشن سنگھ نے سب کی طرف غور سے دیکھا۔ اس کی پہچان کا کوئی چہرہ نہیں تھا۔ دیکھنے والے سمجھ گئے کہ وہ خود کو اجنبیوں میں محسوس کررہاہے۔ ایک نوجوان بولا۔ تو ہم سب کو نہیں جانتا،ہم اپنا تعارف کروائے دیتے ہیں۔بشن سنگھ، ہمارا جنم تمھارے ’ اوپڑ دی گڑ گڑ اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ سے ہوا ہے،جس میں تو کبھی’ لالٹین‘ ہٹا کر’ پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی در فٹے منھ‘،اور آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان ‘کا اضافہ کردیا کرتا تھا۔تو زندہ ہے،اور دیکھ ہم تیری اوپڑ دی گڑ گڑ کی اولاد ہیں،جو کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ہم بھی کسی کو سمجھ نہیں آئے،پر تو ہمیں سمجھ سکتا ہے۔دوسرے نوجوان نے کہا۔ہم تیری اس چیخ کا جواب بھی ہیں جو اس روز سورج نکلنے سے پہلے تیرے حلق سے نکلی تھی،اور جس سے فلک کا سینہ شق ہوگیا تھا،کیوں کہ تب زمین پر موجود لوگوں کے سینے پتھر ہوچکے تھے۔تیری چیخ آسمانوں میں آوارہ پھرتی تھی،اور کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھی۔تو نے اپنے بچاؤ کے لیے پوری قوت سے وہ چیخ ماری تھی، اس چیخ کو سن کر، ساٹھ سالوں سے دوڑتے ہاپنتے یہاں تک کچھ لوگ آئے ہیں،اورانھوں نے اسے اپنے سینوں میں اسے جگہ دی ہے،ہم انھی کے نقش قدم پر چلتے چلتے یہاں پہنچے ہیں؛بالآخر تیری چیخ کی جلاوطنی ختم ہوئی ہے۔تیسرا نوجوان بولا۔تو نو مینزلینڈ پر ساٹھ سالوں سے پڑا تھا۔ ہم تمھیں وہاں سے اٹھالائے ہیں۔ بشن سنگھ نے سب کی طرف مزید حیرت سے دیکھا۔

 

پہلا نوجوان بولا۔ تو،اینکس کا مطلب تو جانتا ہے ناں،نو مینز لینڈ وہ ہے،جس کا اینکس نہیں ہواتھا،نہ اس وقت ہو سکتا تھا۔اس وقت آپا دھاپی تھی۔ذراچین ملا تو جس کا اینکس نہیں ہوسکتا تھا،اس کے لیے بھی بندوقیں نکلیں۔بشن سنگھ،ہم تمھیں کیسے بتائیں یہاں ہم کیسے پہنچے۔جب تو بے ہوش ہو کر گرا تھا،اس وقت اس جگہ پر جھگڑا نہیں تھا۔اس کے بعد کوئی جگہ،ایک انچ ایسانہیں،کوئی لفظ ایسا نہیں جس پر جھگڑا نہ ہو اہو،جہاں خون نہ گرا ہو،جہاں خون گرنے کا ہر وقت امکان نہ ہو۔تو جہاں موجود ہے،اس پر بھی دونوں طرف بہت جھگڑے ہوئے ہیں۔اب جگہ کا مطلب بھی بدل گیا ہے،اب لفظ،کہانی سب جگہ ہیں،ان پر کس طرح کے جھگڑے ہیں، تو سنے تو تیرے سینے میں اس سے بڑاگھاؤ لگے،جو خاردارتاروں پر گرنے سے تجھے لگا تھا۔اب طرح طرح کی خارداریں یہاں وہاں ہیں،اور کچھ تو ایسی ہیں جو دکھائی بھی نہیں دیتی،اور گھائل روح کو کرتی ہیں۔تو کبھی یہاں کے کسی شہر میں چل پھر کے دیکھ، ہر دیوار پر چکر کھاتی خاردار تاریں ہیں۔ زمانے ہوئے،ہم جنگلوں سے آبادیوں میں آئے تھے،اب سب آبادیاں خاردار تاروں کے جنگل بن گئی ہیں،اور آنکھوں سے لے کر سانسوں میں،اور اس سے بھی آگے دلوں میں ترازو ہوتی ہیں۔

 

بشن سنگھ کی حیرت کچھ کم ہوئی،مگر سخت کرب اس کے چہرے سے عیاں تھا،اور اس کی سفید گرد آلود ڈاڑھی بھیگ گئی تھی۔

 

دوسرا نوجوان بولا۔ بشن سنگھ، ہم سب حیران تھے کہ تمھیں مر دہ سمجھنے والوں نے تیرے انتم سنسکار کابھی نہیں سوچا۔

 

تیسراا نوجوان بولا۔اچھا کیانہیں سوچا، ایک جیتے جاگتے آدمی کو چتا میں ڈال دیتے،اور پھر جھگڑااس بات پر ہوتا کہ لاش کس طرف کے گوردوارہ میں لے جائیں، معلوم نہیں کوئی گوردوارے میں جانے کی اجازت بھی دیتا کہ نہیں،کوئی کیرتن کے لیے بھی ملتا کہ نہیں،پھر اس پربھی جھگڑا ہوتا کہ چتا کے لیے لکڑیاں خاردارو تاروں کے اس طرف کی ہوں،یا اس طرف کی، راکھ ٹوبہ ٹیک سنکھ کے پاس کے دریا میں بہائیں یاکہیں اور۔تم جانتے ہو،اس کے بعدجنگل،دریا، شہرسب کو ہماری طرح مذہب مل گیا۔

 

ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سن کر بشن سنگھ کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی،جیسے پوچھ رہا ہو،تم کس طرف کے ہو؟

 

پہلا نوجوان سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ ہم منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف کے ہیں۔

 

بشن سنگھ ایک مرتبہ پھر حیران ہوا۔وہ تو اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے واقف تھا، یہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں سے آگیا۔ دوسرے نوجوان نے اس کی حیرانی دیکھتے ہوئے کہا،بشن سنگھ، تیرے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تو تجھے نکال دیا تھا، منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تمھیں اپنے دل میں جگہ دی۔بشن سنگھ نے دیدے پھاڑ کر دیکھا۔ تیسرا نوجوان اس کی مشکل سمجھ گیا۔بولا۔بشن سنگھ،تو جس جگہ گرا تھا، وہ کسی کی نہیں تھی،منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اسی خاک کے ٹکڑے سے اگا تھا۔تجھ سے زیادہ کس کو معلوم ہوگا کہ خاک کا وہ ٹکڑا،اسی دھرتی کا حصہ تھا،مگر خاردار تاروں کے بعد اس ٹکڑے کی حالت اس عفریت کی سی ہوگئی تھی،جس کے خون کاقطرہ زمین پر گرتا تھا تو اس سے نئے عفریت جنم لیتے تھے۔خاک کے عفریت بننے کی کہانی پرانوں زمانوں کی کتابوں میں کہیں نہیں ملتی،صرف منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ملتی ہے،جہاں تجھے ٹھکانہ ملاہے۔منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تم دونوں نئے زمانے کی سب سے بڑی اسطورہ ہو۔دوسرے نوجوان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے،بشن سنگھ کی پنڈلی کو چھوا، جس سے پیپ رِس رہی تھی،جس طرح خون پیپ میں بدل کر تکلیف اور گھن پیدا کرتا ہے،ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ہمیں اجنبی نہ سمجھ بشن سنگھ! تو حیران ہے،مگر ذراسوچ اگر منٹو تجھے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جگہ نہ دیتا تو کسی کو پتا ہی نہ چلتاکہ کوئی بشن سنگھ تھا،اور اس کا ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ تھاجہاں اس کی زمینیں تھیں،اور جہاں اس کی بیٹی روپ کور اور اس کا دوست فضل دین رہتا تھا،اور جو اسے تبادلے سے کچھ دن پہلے ملنے آیا تھا۔تجھے منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہ ملتا توہوسکتا ہے تو بھوت بن جاتا،اور تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے راکھشس جنم لیتے،ہم نہیں۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تجھے بچا لیا اور تجھے ابدی ٹھکانہ بھی مل گیا۔ اس نے آنکھیں جھپکیں۔ جیسے پوچھ رہا ہو، میں اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو چھوڑ کر کسی اور کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کیسے رہ سکتا ہوں، جیسے کَہ رہا ہو، میں یہاں سے نکلنا چاہتاہوں۔پہلا نوجوان اس کا سوال سمجھ گیا۔ بولا۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں،تیرا ابدی ٹھکانہ یہی ہے۔لیکن یہ سن کرتیراکلیجہ منھ کو آئے گا کہ تیرے اس ٹھکانے کو بھی لوگوں نے نہیں بخشا۔منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اینکس کی کوشش،اِدھر اور اُدھر کے پڑھے لکھے لوگوں نے کی،اور ایک اور طرح کے،تیرے تبادلے کامنصوبہ بنایا؛اس منصوبے میں نومینز لینڈ ہے ہی نہیں۔تیری طرح منٹو غریب کو بھی اسی سرحد پر لے گئے،اور اس کے تبادلے پر لمبی چوڑی بحثیں کیں،شکر ہے کچھ سمجھ دار لوگ بیچ میں آگئے،اور انھوں نے منٹو کو اِدھر یا اُدھر گھسیٹنے کی مزاحمت کی،اور ان کی کوششوں کوتیری زبان میں در فٹے منھ کہا۔

 

بشن سنگھ نے ان تینوں کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا،جیسے کَہ رہا ہومجھ سے تو پہلی مصیبت نہیں جھیلی جاتی،اور تم نئی مصیبتوں کے بیان سے میراسینہ چھلنی کیے دیتے ہو۔ دوسر ا نوجوان بولا۔دیکھو،بشن سنگھ،ہم سب اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جب ایک دفعہ نکل جاتے ہیں تو واپس نہیں جاسکتے،اور جس نئے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جابستے ہیں،وہاں سے نکل نہیں سکتے،اور ہر کسی کو نیا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہیں ملتا۔کتنے ہی لوگ ہیں جو صرف مارے مارے پھرتے ہیں۔وہ بالآخر بھوت بن جاتے ہیں،اور انسانوں کی دنیا سے ہمیشہ کے لیے نکل جاتے ہیں۔تمھیں تونیا ٹوبہ ٹیک سنگھ مل گیا،توامر ہوگیا،ہم جیسے کتنے ہی تیری اوپڑ دی گڑ گڑ سے جنمے،اور جنم لیتے رہیں گے،مگر انھیں نہ تو اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ ملے گا،نہ کسی منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ۔

 

بشن سنگھ کی ڈاڑھی بھیگ گئی۔ پہلے نوجوان نے اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا،اوران میں تیرتی نمی کا مفہوم سمجھا،اور بولا۔میں سمجھ گیا بشن سنگھ،تو اس لیے دکھی ہے کہ تو امر تو ہوگیا،لیکن اپنی سوجی ٹانگوں اوردھکا لگتے سمے،سینے میں لگنے والے زخموں کے ساتھ۔ بشن سنگھ،ابدی زندگی خود ایک سزاہے،لیکن سوجی ٹانگوں اور رستے زخموں کے ساتھ امر ہونا، سزاے عظیم ہے،اور یہ دونوں سزائیں ہم تیرے ساتھ چار پشتوں سے بھگت رہے ہیں!!
کھنڈر کی تختی
اس کھنڈر سے وقتاً فوقتاً کئی چیزیں برآمد ہوتی رہتی تھیں۔ ہڈیاں،سکے،ظروف، تختیاں،ہتھیار اورمورتیاں۔ان سب کو عجائب گھر بھجوا دیا جاتا۔کچھ کو دساور بھی چوری چھپے بیچ دیا جاتااور کچھ کو نئے وولتیے بھاری رقم کے عوض خرید لیتے۔جب کوئی نئی چیز برآمد ہوتی،اور وہ چوری چھپے بیچنے سے بچ رہتی تو اس کی خبراخبار میں چھپ جاتی۔رفتہ رفتہ عجائب گھر میں ایک پورا بڑا کمرہ اس کھنڈر کی نایاب اشیا سے بھر گیا تھا۔ عجائب گھر کی انتظامیہ نے نوٹ کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ سیاح اسی کمرے کو دیکھنے آتے ہیں۔ باقی حصوں کو سرسری دیکھتے ہیں،مگر اسے زیادہ دل چسپی اور حیرت سے دیکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ چھ ماہ گزرگئے،کوئی نئی چیز اس کولیکشن میں شامل نہ ہوئی تو عجائب گھر کی انتظامیہ نے آمدنی میں خاصی کمی محسوس کی۔ اگلے ہفتے اخبارات میں ایک بڑی خبر شایع ہوئی۔ اسی کھنڈر سے ایک تختی برآمد ہوئی ہے،جس پرلکھی گئی عبارت کا کچھ حصہ پڑھ لیا گیا ہے، اور اس کا ترجمہ تختی کے نیچے درج کردیا گیا ہے۔یہ واقعی ایک بڑی خبر تھی۔ یہ پہلی تختی تھی،جس کی عبارت کو پڑھنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں عجائب گھرکی ہزاروں ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔ کچھ مہینوں بعد اخبارات میں یہ خبر شایع ہوتی کہ عبارت کی چند سطریں اور پڑھ لی گئی ہیں۔ یہ دیکھا گیا کہ اب لوگوں کو عجائب گھر کی اشیا سے زیادہ اس عبارت سے دل چسپی پیدا ہوگئی ہے۔عجائب گھر میں آنے والوں کی بڑی تعداد اس چبوترے کے گرد اکٹھی ہوتی ہے جہاں وہ تختی رکھی گئی ہے۔کبھی کبھی دھکم پیل بھی دیکھی جاتی،اور عجائب گھر کے گارڈ کو بلانا پڑتا۔ ڈر تھا کہ کہیں وہ تختی ٹوٹ نہ جائے۔

 

اس تختی کی پوری عبارت کو پڑھنے میں ماہرین کو تقریباً پانچ سال لگے۔ ان پانچ سالوں میں عجائب گھر کی آمدنی اس قدر بڑھی کہ ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں،اور وہاں اس کھنڈر کی اشیا کے حقیقی نظر آنے والے ریپلیکا رکھے گئے۔ ان شاخوں میں اس تختی کی نقل مطابق اصل رکھی گئی،اور جیسے جیسے اس کی عبارت کو پڑھا جاتا رہا، وہاں بھی درج کیا جاتا رہا۔

 

جن اخبارات میں اس کھنڈر کی اشیا سے متعلق خبریں شایع ہوتی تھیں،انھی میں سے کچھ بالکل نئی خبریں بھی شایع ہونے لگیں۔یہ خبریں ان بحثوں کا نتیجہ تھیں،جو اس تختی کی عبارت کے بارے میں لوگوں کے مابین ہوتی تھیں۔ شروع شروع میں صرف لفظی جھگڑے ہوا کرتے تھے، بعد میں ہاتھا پائی کی خبریں آنے لگیں۔ پھر قتل و غارت کی۔

 

اس تختی پر جو کچھ لکھا ہوا ہے،وہ سچ ہورہا ہے۔اس تختی کی پانچویں سطر میں لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا،جب لوگ روٹی، عورت، روپے کی خاطر نہیں، اپنی بات منوانے کی خاطر قتل کیا کریں گے،اور بات منوانے والوں کے کئی فرقے بن جائیں گے۔ آج یہ سچ ہورہا ہے۔ اس سے زیادہ ہماری دریافت کردہ تختی کی سچائی کا ثبوت کیا ہوسکتا ہے ؟عجائب گھر کے کیوریٹر نے اخبارات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔

 

کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کی لوح مقدس کو پڑھنے والے کون لوگ ہیں، ان کا اتا پتا؟ ایک رپورٹر نے سوال کیا۔

 

وہ آثاریات اور لسانیات کے ماہرین ہیں،جن کے نام ایک خاص حکمت سے صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں۔ کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

کیا ہم اس حکمت کے بارے میں جان سکتے ہیں؟ دوسرے رپورٹر نے سوال داغا۔
اگر آپ کو دعویٰ ہے کہ ہم عبارت کا غلط مفہوم بتارہے ہیں تو آپ خود اس عبارت کو پڑ ھ لیں۔کیوریٹر نے جواب دیا۔

 

اس وضاحت کے بعد کچھ دیر خاموشی رہی۔

 

اس تختی کے عجائب گھر میں آنے سے آپ کا بزنس اور جھگڑے ایک ساتھ بڑھے ہیں۔اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ ایک اور اخبار کے رپورٹر نے پوچھا۔

 

تھینک یو ویری مچ۔ یہ کہہ کر کیوریٹر نے بریفنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

 

پانچ سال بعد۔

 

انھی اخبارت میں یہ خبر چھپی کہ اس کھنڈر سے جو تختیاں برآمد ہوئی تھیں، ان پر سرے سے کچھ لکھا ہو اہی نہیں تھا۔ جس تختی کی عبارت نے پانچ سال تک ایک ہیجان برپا کیے رکھا،وہ کسی اور کھنڈر سے لائی گئی تھی!
شر پسند
شہر میں لوگوں کی اموات بڑھتی جارہی تھیں۔ حاکم شہر کو ان اموات سے پریشانی نہیں تھی۔اسے اپنے ایک مشیر کی اس بات سے اطمینا ن رہتا کہ جو دنیا میں آیا ہے، اس نے دنیا سے جانا ہی ہے،وہ آج جائے یا کل۔جنگ میں مرے یاکسی بیماری سے، حادثے میں جاں بحق ہو یابڑھاپے کی نذ رہو یا اس کی حکم عدولی کے نتیجے میں جان سے جائے،کیا فرق پڑتا ہے۔ حاکم شہر نے کچھ دنوں سے ایک تبدیلی محسوس کی،جس سے اس کے اطمینان میں خلل پڑا۔پہلے لوگ مرتے تھے تو لوگ دوچار دن سوگ مناتے اور پھر معمول کی زندگی شروع کردیتے تھے، مگر اب وہ سوگ کم مناتے تھے،اور باتیں زیادہ کرتے تھے۔کچھ باتیں بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچیں۔ان میں ایک بات یہ تھی کہ جنگ،حادثے،بیماری اور بادشاہ کے حکم سے لوگوں کے مرنے سے فرق پڑتا ہے،مرنے والے کو بھی اور مرنے والے کے لوحقین کو بھی۔ بادشاہ نے یہ بھی سنا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بادشاہ کے قلم کی سیاہی، تقدیر کے قلم کی سیاہی سے مختلف ہے۔ یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہوا،اور ا س نے سب سے پہلے اس شخص کی موت کے پروانے پر دستخط کیے، جس نے بادشاہ تک یہ بات پہنچائی تھی۔ غصے میں بادشاہ کو یاد ہی نہیں رہا کہ جس شخص نے یہ بات بادشاہ تک پہنچائی تھی، وہ اس کا مشیر اورہونے والا داماد تھا۔ جوں ہی اس کی موت کے حکم کی خبر ملکہ تک پہنچی،اس نے بیٹی کے سر کے ہونے والے سائیں کی زندگی کی فریاد کی،اور بادشاہ کو اپنا حکم بدلنا پڑا۔ بادشاہ پہلی مرتبہ تھوڑا سا ڈرا،اور اس نے لوگوں کی موت کے پروانوں پر دست خط سے پہلے کچھ غیبی اشارے سمجھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے سونے کا ایک سکہ لیا،اس کے ایک طرف اپنی مہر کھدوائی،اور دوسری طرف فرشتہ غیبی کی تصویر۔ موت کا فیصلہ کرنے سے پہلے وہ سکہ اچھالتا۔اگر فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آتا تو موت کے حکم نامے پر دست خط کردیتا، ورنہ اپنا فیصلہ مؤخر کردیتا۔ اگلے دن پھر یہی عمل دہراتا۔اگلے چند دنوں میں واقعی فرشتہ غیبی کی تصویر والا رخ سامنے آجاتا۔بادشاہ خوش تھا کہ وہ تقدیر کے فیصلے کا انتظار اور پابندی کرتا تھا۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ لوگوں کی زبانیں اور چلنے لگی تھیں۔ جیسے جیسے اموات بڑھتی جارہی تھیں، لوگوں کی باتوں میں پہلے دبی دبی شکایت ظاہر ہوئی، پھر ہلکا ہلکا طنزاور غصہ، بعد میں کچھ کچھ احتجاج،اور کچھ عرصہ بعد لوگ بغاوت کرتے ہوئے سڑکوں پرنکلنے لگے۔

 

بادشاہ نے اپنے خاص مشیروں وزیروں کی مجلس بلائی۔ سب سے مشورہ مانگا کہ لوگوں کے احتجاج کو کیسے روکا جائے۔

 

لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کی جائے۔جو خلاف ورزی کریں انھیں گولیوں سے بھون ڈالا جائے۔ ایک مشیر نے رائے دی۔

 

جاسوسوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ بہتر ہوگا ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا جاسوس بنادیا جائے۔سب ایک دوسرے سے ڈرنے لگیں گے۔ دوسرا مشیر بولا۔

 

کچھ خاص لفظ چن لیے جائیں،جیسے حق، ذمہ داری، اختیار،مانگنا، چھیننا، بغاوت،احتجاج جوں ہی کسی شخص کی زبان سے نکلیں،اسے تختہ دار پرشہر کے عین چوک میں کھینچا جائے۔ تیسرے مشیر نے تائید کی۔

 

بادشاہ کو آخری تجویز آدھی پسند آئی۔ باتوں کا جواب باتوں ہی سے دینا عقل مندی ہے۔یہ کہتے ہوئے بادشاہ نے کچھ دیر توقف کیا،اور پھر مجلس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

 

پانچ دنوں بعدشہر میں اپنی طرز کا انوکھا واقعہ ہوا۔ شہر کی سب سے بڑی عباد ت گاہ میں بادشاہ کی سپاہ کے لوگوں نے گھس کر درجنوں لوگوں کو عین اس وقت تہ تیغ کیا،جب وہ عبادت میں مصروف تھے۔جوں ہی یہ واقعہ ہوا، اس کے فوراً بعد بادشاہ کے حکم سے شہر کے ہر چوک چوراہے میں نوبت بجنے لگی،اور بادشاہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جانے لگا کہ شہر کی سب سے بڑی عبادت گاہ میں دشمن ملک کے شرپسند گھس آئے تھے،جن کا صفایا کردیا گیا ہے،اور شہر کو ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچالیا گیا۔اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ شرپسند اگر عبادت گاہوں، گھروں یہاں تک کہ غاروں میں بھی چھپے ہوں گے تو ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔
یہ سنتے ہی پورا شہر بادشاہ کے محل کی طرف امڈ پڑا۔ تھوڑی دیر بعد دوراندیش اور رعایا پرور بادشاہ کے حق میں نعرے گونج رہے تھے۔

 

اس کے بعد شہر میں لوگوں کی اموات پہلے سے بھی بڑھیں، مگر رعایا کی طرف سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس سے بادشاہ کے اطمینان میں خلل ہوتا!!

Image: Dariusz Labuzek