Categories
فکشن

مری گود میں دَم نکلے گا (محمد حمید شاہد)

راہ دم تیغ پہ ہو کیوں نہ میر
جی پہ رکھیں گے تو گزر جائیں گے

وہ کھانسے، یوں نہیں جیسے کوئی مریض کھانستا ہے بلکہ یوں جیسے کوئی گفتگو کرنے والا، اپنے حلقوم تک آ چکی بات کو نئے رخ سے راہ دینے کے لیے ہلکا سا کھنگورا مارتا ہے؛ “ہَک کھونہہ”، یوں ؛ اپنے بدن کو تھوڑا سا جھلارا دیتے ہوئے۔ جیسے،وہ ایک ہی پہلو پر بیٹھے بولتے رہنے سے نہیں تھکے تھے ان کے بدن کا بوجھ سہتی نشست تھک گئی تھی۔ وہ قدرے فربہ تھے، یوں جھولے تو کرسی بھی چرچرائی۔ بس اتنا ہوا تھا اور میری بیگم کے چہرے پر سے ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔ وہ دونوں ہاتھ کھانے کی میز پر کہنیوں تک بچھائے اور اوپر والے بدن کا سارا بوجھ ان پر ڈالے پوری توجہ سے تایاجان کو سن رہی تھی۔ کھنگھورے پر بازو سمیٹ کر انہیں یک لخت اوپر اُچھالااور یوں پیچھے ہٹی کہ اگر پیچھے کرسی کی ٹیک نہ ہوتی تو اس کا سر دیوار سے ٹکرا کر پھیتی پھیتی ہو جانا تھا۔ اس کے حلقوم سے پھنس پھنس کر آواز نکلی تھی:

“ک کک ک ا ر ونا”

ہم سب چونکے۔ میں بھی اور بچے بھی۔ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تایا جان کی کہنیاں میز پر ٹکی رہیں۔ ان ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسی ہوئی تھیں اور انگوٹھے یوں گول گول گھوم رہے تھے جیسے ایک دوسرے کا طواف کر رہے ہوں۔ ایک ساعت کے لیے ان کے انگوٹھے جہاں تھے وہیں رُک گئے،یوں جیسے ادھر کعبے میں طواف رکا ہوا تھا۔ پھر قہقہہ لگایا اور دو ہاتھوں کی اکلوتی مٹھی کو آگے پیچھے جھلاتے ہوئے چھت کی طرف منھ کر لیا۔ جب اُن کا چہرہ واپس اپنی جگہ پر آیاتھا تو ان کی آنکھیں آنسووں سے بھری ہوئی تھیں۔

“تم لوگ اس کرب اور اس اذیت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے جب کوئی اپنے پیارے کے سامنے دم توڑتا ہوگا۔ یوں جیسے۔۔۔۔ جیسے۔۔۔”

وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے۔ اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر مایوس ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا موقوف کردیا، جیسے سانس کے ٹوٹنے کی مشابہت کہیں قائم نہ کر پائے تھے۔

“مرنا۔۔۔ اپنی عزیز ترین ہستی کی گود میں سر رکھ کر مرنا۔۔۔ ”

وہ بُڑبڑائے اور میز پر ٹکی کہنیوں اوراوپر اٹھے بازووں کے درمیان اپنے سر کو لا کراتنا نیچے گرا لیا کہ سر پر دونوں طرف جھولتی دودھ جیسی سفید چادر وہاں سے ڈھلک گئی تھی۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا اور اپنا چہرہ پونچھنے کے بہانے اپنی آنکھیں پونچھ لیں۔ تب تک وہ آنسو جو پلکوں تک ڈھلک آئے تھے،ہم نے میزپر گرتے دیکھ لیے تھے۔

تایا جی نے سر اوپر نہیں اُٹھایاتھا،بازو اوپر اُٹھائے تھے۔ دونوں مٹھیوں میں بھینچی ہوئی چادر سر کے اوپر سے گھما گردن کے ارد گرد ڈالنے کے لیے۔ جب دونوں بازو وہیں پہنچ گئے جہاں پہلے تھے تو انگلیوں کی کنگھیاں بھی پہلے کی طرح ایک دوسرے میں دھنس گئیں۔ تاہم اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ آٹھوں انگلیاں اپنی جڑوں تک کنگھی کے دندانوں کی طرح ا کڑ کر اوپر اُٹھ گئی تھیں۔ ہتھیلیاں باہم پہلے کی طرح جڑی ہوئی تھیں۔ دونوں انگوٹھے جو کچھ دیر پہلے ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے تھے،اب پہلو پہلو سے جوڑے ایک دوسرے کو پرے دھکیل رہے تھے، پاس پاس بیٹھے اُن شریر بچوں کی طرح جو کندھے بھڑاتے بھڑاتے ایک دوسرے کو دھکیلنے لگتے ہیں۔ تایا جی نے دونوں انگوٹھوں کو پہلے اپنی پیشانی پر ٹکایا، ان پر پورے سر کا بوجھ ڈالا اور پھر انگوٹھے سر سے یوں ٹکرانے لگے جیسے کوئی ہدہداپنی سخت اور لمبی چونچ سے درخت کی چھال ٹھونگتا ہے۔ میں اندازہ کر سکتا تھا کہ ایسا وہ قصداً نہیں کر رہے تھے، ایک اضطراری کیفیت تھی کہ ایسا ہوتا چلا جا رہا تھا۔

جب تایا جان نے گود میں سانس توڑنے والا جملہ کہا تھا تو میرا دھیان کورونا کی وبا سے مرنے والے کراچی کے ڈاکٹر فرقان الحق کی طرف نہیں گیا تھا۔ وہی ڈاکٹر فرقان جو عمر بھر دل کے مریضوں کو زندگی دیتا رہا تھا، اتوارتک مختلف ہسپتالوں میں اپنے لیے وینٹی لیٹر کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا اورمر گیا تھا۔ میں تو اس مرنے والی کی بابت سوچ رہا تھا، جس سے تایا جان کو بہت محبت تھی۔اُس نے اسپتال میں ایک بیٹی جنم دِی تھی اور جب وہ لیبر روم سے وارڈ میں لائی گئی تھی تو اُن کی گود میں سر رکھ کر مر گئی تھی۔ اپنی بیوی کے اس طرح مرنے کی کہانی تایا جی نے کئی بارسنائی تھی اور جتنی بار سنائی ایک الگ طرح کا دُکھ اس میں گُندھ گیا تھا۔ وہ یہ بتانا کبھی نہ بھولتے تھے کہ اُسے بیٹی جنم دیتے ہوئے مرنا ہوتا تووہ لیبر روم میں مر جاتی۔

” ڈاکٹر نے یہی کہا تھا کہ کیس بہت پیچیدہ تھا۔ وہ مرتے مرتے بچی تھی۔”

تایا جی ہنسے۔۔اس تھوڑا سا ہنسنے سے ہی ان کا گلا رندھ گیا۔ بات روک روک کر آگے بڑھائی:

” ڈاکٹر نہیں جانتے تھے۔۔۔کہ۔۔۔ وہ موت کو غچہ دِے کر وارڈ میں۔۔۔ میرے پاس آئی تھی کہ۔۔ اُسے میری آنکھوں کے سامنے مرنا تھا۔۔۔عین اس وقت۔۔۔ جب میں محبت سے اُس کا سر اپنی گود میں لے رہا تھا۔ ”

ڈاکٹر فرقان کی موت کی خبر ایک آدھ روز پہلے آئی تھی۔ ہمارا گمان تھا کہ تایا جان کو شاید اس کا علم ہی نہ ہوگا۔ مرنے والے ڈاکٹر کی بیوی کا کلیجہ چیر کر رکھ دینے والا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔ اُس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جب اس کاشوہر اس کی گود میں مر رہا تھا تو وہ اس کے لیے وہ کچھ نہ کر سکی تھی۔ وہ لوگوں کو مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا۔ اس نے اپنے نڈھال ہو کر بے ہوش ہونے والے شوہر کو خود ہی اسٹریچر پر ڈالا ہسپتال لے گئی تھی۔اسپتال والوں نے ڈاکٹر فرقان کو داخل نہیں کیا تھا۔ وہ مر رہا تھا، اپنی بیوی کی گود میں سر رکھ کر اور اس کے مر جانے تک اس کے لیے ہسپتال میں جگہ نہ نکل پائی تھی۔

یہ ایسی تکلیف دہ خبر تھی جس کا ذکر ہم خود بھی تایا جی کے سامنے نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹرعظمیٰ جس ہسپتال میں تھی، وہاں گائنی کے وارڈ میں تین ڈاکٹروں اور دو نرسوں کے علاوہ عملے کے تین افراد کو کرونا پازیٹو نکل آیا تھا۔ پورا وارڈ سیل کر دیا گیا تھا اور جو جو وہاں ایک دوسرے سے رابطے میں رہا تھا ان کے ٹسٹ ہو رہے تھے۔ڈاکٹر عظمیٰ کی ڈیوٹی اسی وارڈ میں تھی۔ کسی کو کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا کہ اس وبا کے حملے کی علامات فوری طور پر ظاہر نہ ہوتی تھیں مگر وہ حوصلے میں تھی۔ اس سارے عرصے میں فون پر ہمارا اس سے رابطہ رہا تھاتاہم اُس نے تایاجی کو کچھ بھی بتانے سے منع کر رکھا تھا۔

تایا جی کا کل فون آیا تھا، بہت دیرتک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر شہر کے حالات پوچھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کچھ پوچھنا چاہتے تھے اور پوچھ نہیں پارہے تھے۔ بالآخر انہوں نے فون بند کردیا۔ میں نے لمبا سانس لیا اورخدا کا شکر ادا کیا کہ وہ اسپتال والے واقعے کی طرف نہیں آئے تھے۔ لیکن ہوا یوں کہ وہ صبح صبح آگئے تھے۔

کھانے کی میز پرہم سب آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ناشتہ کم کیا اور تایاجی کو زیادہ سنا۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ تایا جی کو ہماری کسی بات سے شبہ ہو کہ اسپتال میں ان کی بیٹی کے ساتھ کیا چل رہا تھا۔ وہ بھی بات کرتے کرتے رُک جاتے اور کچھ سوچنے لگتے، تاہم جب وہ اپنی کہانی سنا نے لگے توسناتے چلے گئے۔ کیسے دونوں میں محبت ہوئی تھی۔ کیسے سب سے لڑ بھڑ کر انہوں نے شادی کی۔ اور کیسے وہ ایک بچی کو جنم دینے کے بعد مر گئی تھی۔

ناشتہ کر چکے تو بھی وہاں سے اٹھنے کو جی نہ چاہا تھا۔ بیگم نے برتن سمیٹے، ہم ہمہ تن گوش بیٹھے رہے۔ وہ کچن سے فارغ ہو کر ایک بار پھر اس منڈلی کا حصہ ہو گئی تھی۔تایا جان اپنے ابا اماں کے منائے جانے کا قصہ ختم کرتے تو اپنے سسر اور سالوں کو رام کرنے کی کہانی چھیڑ لیتے۔ ان کی باتیں، محض باتیں نہیں تھیں، کہانی تھی۔ بچپن سے اب تک میں ان سے یہی کہانی کئی بار سن چکا تھا مگر اسے سناتے ہوئے ہر بار کہیں نہ کہیں کچھ ایسا کر لیتے تھے کہ وہ نئی ہو جاتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا، جیسے اُن کے وجود میں الف لیلہ کی شہرزادکی روح داخل ہو گئی تھی جو سمر قند کے بادشاہ شہریار کو رات بھر کہانی سناتی اور اس میں ایک تجسس رکھ کر اسے ناتمام چھوڑ دیتی تھی اگلی رات کی کہانی کی گرہ اُس میں لگانے کے لیے۔ کہتے ہیں آٹھویں صدی عیسوی کے سمرقند کا یہ بادشاہ بہت ظالم تھا۔ظالم بھی اور عورتوں کا رسیا بھی۔ ہر رات ایک نئی عورت اُس کی دلہن بنتی اور صبح تک قتل ہو جاتی تھی کہ اُس کی رفاقت سے بادشاہ کا دِل بھر جاتا تھا۔ایسے میں شہریار کے ایک وزیر کی بیٹی شہرزاد نے منت سماجت کرکے باپ کو منالیا کہ وہ بادشاہ کو شادی کرکے اپنی صنف پر ہوتے ظلم کے آگے بند باندھنا چاہتی تھی۔

یہ کہانی ہی تھی جس نے بادشاہ کے ظلم کے آگے بند باندھ دیا تھا۔

نہ ختم ہونے والی یہ کہانی ہر رات آگے بڑھتی رہی۔ ایک، دس، سو۔ ہزار، ایک ہزار ایک، کہانی کا بھید ایسا تھاکہ بادشاہ اسے جاننے کے لیے سنتا رہا اور قتل کا فیصلہ ملتوی کرنے پر مجبور ہوگیاتھا۔ وہ سنتا رہتا اور شہرزاد کی طرف دیکھتا رہتا حتیٰ کہ اسے کہانی کہنے والی سے محبت ہو گئی تھی۔
تایاجان سے میرے بچوں کو بھی محبت ہو گئی تھی۔تایاجان سے یا اُن کی کہانیوں سے۔ وہ جب آتے تو بیٹی عظمیٰ کو فون کر کے یہیں بلوا لیتے اور بچے مل کر خوب ہلا گلا کرتے تھے۔تایا جان کے پاس بہت سی کہانیاں تھیں جنہیں دِن ہو یا رات وہ سنا سکتے تھے انہیں ہماری اور بچوں کی توجہ بٹورلینے کا ہنر آتا تھا۔ وہ یوں سناتے تھے کہ کئی کہانیوں کی ایک کہانی بن جاتی۔ بچپن سے میں اُن کی باتیں سنتا آیاتھا۔ کئی بار کی دہرائی ہوئی باتیں مگر جب وہ انہیں کہانی میں ڈھال کر سناتے توہمارا تجسس بھی بندھ جاتا تھا۔ انہوں نے مجھے احساس دلایا تھا کہ قصہ ہو یا کہانی، اُس میں سو طرح کے بھید ہوتے ہیں اور جتنی بار سناو بہ ظاہر واقعات تو وہی رہتے ہیں اُس میں کچھ نہ کچھ سمجھ میں نہ آنے والا بدل کر کسی نئے بھید کو راہ دے دیتا ہے۔یوں نہیں جیسے جادو گر کی ٹوپی سے خرگوش نکلتا ہے کہ جادو گر تو بس تماشا دیکھنے والوں کی نظر باندھ دیتا ہے اوردھوکے سے خرگوش نکال کر دکھا دیتا ہے جو ہمارے خیال میں وہاں نہیں ہوتا مگر فی الاصل وہ وہیں کہیں ہوتا ہے۔ تایا جی کی کہانی میں اور طرح کا بھید ہوتا۔ اصلی، سچا اور نیا۔کبھی کوئی بات سناتے ہوئے کہتے ؛ نواں نکور واقعہ سنو اور کبھی کہتے، کھری بات؛ بالکل اس کھرے گھی جیسی بات جو ہمارے سامنے بلوئی گئی چھاچھ کے مکھن کو کاڑھ کر نکلتا تھا اور جسے تھوڑا سا ہتھیلی پر ڈال کر سونگھنے ہی سے پہچانا جاسکتا تھا۔ وہ بولتے چلے جاتے اور یہ کھرا بھید کہانی کی تہوں کے اندر سے پیدا ہوتارہتا۔ کسی اور ملاوٹ کے سارے امکانات رد کرتے ہوئے۔ الگ چھب والا، نئی نئی حیرتیں اُچھالنے والا۔

ہم نے تایا جی کی آنکھوں کو یوں آنسووں سے بھرتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اپنی بیوی کو یاد کرتے ہوئے وہ دُکھی ضرور ہوتے تھے یوں آنکھوں کو نہ چھلکاتے تھے۔ بس اپنی بیٹی عظمیٰ کی طرف دیکھے جاتے تھے جس کی خوشی میں انہوں نے اپنی ساری خوشیاں رکھ چھوڑی تھی۔

ایسی خوش حالی جو انہیں مطمئن رکھتی تھی اپنے باپ سے ملی تھی۔ گاوں میں اتنی زمین تھی کہ اس کی کاشت برداشت سے اُن کی ضرورتیں پوری ہو رہی تھی۔ شادی سے پہلے انہیں مجلس جمانے کا شوق رہاتھا، وہیں اوپر کی طرف جہاں رہٹ تھا،اس کے مشرق میں انہوں نے ایک قطعہ زمین چھتا ہوا تھا۔یہیں حقے تمباکو پر مجلسیں جماتے۔ مشغلہ انہیں اچھی نسل کے بیل پالنے کا تھا۔ بیلوں کی دوجوڑیاں تھیں ان کے پاس۔ ایک زمین میں ہل چلانے، سہاگہ پھیرنے، گہائی کرنے، رہٹ کھینچے سے لے کر بار برداری جیسے کاموں کے لیے اور دوسری جسے انہوں نے آختہ کروا لیا تھا عرس میلے پربیلوں کی دوڑ میں حصہ لینے کے لیے۔ بہ قول تایا جی یہ جوڑی ہر کہیں معرکہ مارتی تھی۔ وقت بدلا تو بہت کچھ بدل گیا۔ ڈیرے والی زمیں انہوں نے اسکول کے لیے وقف کر دی۔بیٹی کی ضد پر انہوں نے ٹریکٹر، ٹرالی اور دوتین قسم کے ہل خریدلیے تھے۔ کچھ عرصہ تک ان کے پاس ایک بیل رہا، مقامی منڈی سے خریدا ہوا ایسا بیل جوسارا دن چکلی جوڑے کے کَتے کی ٹخ ٹخ پر ایک دائرے میں گھومتا اور ماہل سے بندھے پانی سے بھرے ہوئے ٹینڈے کنویں سے کھینچتا رہتا تھا۔ بعد میں وہ نہ رہا، وہاں ڈیزل انجن لگوا لیا گیا کہ بیٹی عظمیٰ کہتی تھی، کب تک اس بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے زندگی کو ایک دائرے میں کھیتے رہیں گے۔ تب انہوں نے اس دائرے کو توڑنے کا فیصلہ کیا تھااوریہ کچھ سال بعد میں ہوا تھا، تب جب اُن کی بیٹی میڈیکل کالج پہنچ گئی تھی۔

عظمیٰ کے لیے تایا جی، باپ بھی تھے اور ماں بھی، وہ ان کے اتنا قریب تھی کہ جیسے ان کے وجود کے اندر بستی تھی۔

کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ اپنی ایک دن کی بچی کو انہوں نے کیسے پالا ہو گا۔ شروع شروع میں بچی کی پھپھیاں مدد کو آتی رہیں، مگر کب تک ہر ایک کا اپنا گھر بار تھا، تایا جی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑا۔ وہ کھیت کھلیان پر بھی اسے اٹھائے پھرتے۔ گھر میں ہوتے تو ایک چادر کے چاروں کونے چارپائی کے بازو سے باندھ بچی کا جھولا بنا لیتے تھے۔ اسی چادر کو ایک طرف سے اپنی کمر سے باندھ کراور دوسری طرف سے کندھے میں اڑس کر وہ کھیتوں کو نکل کھڑے ہوتے تو بچی اس چادر کے جھولے میں ہوتی۔ جب عظمیٰ کی ماں مری تھی تو پورا گاوں افسوس کے لیے اُمنڈ آیا تھا۔ اتنا بڑا جنازہ پہلے اس گائوں میں نہیں دیکھا گیا تھا مگررفتہ رفتہ تایا جان انہی گائوں والوں کی ٹچکروں کا سامان ہوتے گئے تھے۔ سب عزیز و اقارب اور سیانے، انہیں مشورہ دے چکے تھے کہ ایک معصوم جان کا پالنا ایک مرد کے بس کی بات نہیں، انہیں شادی کرکے، جس کا کام اسی کو سونپ دینا چاہیے مگر وہ نہ مانے تھے کہ ایک نمبر کے ضدی تھے۔

“میں ایک نمبر کا ضدی تھا۔”

یہ انہوں نے خود اپنے بارے میں کہا تھااور اس سے جوڑ کر اپنی شادی سے لے کر بیٹی کے ڈاکٹر بننے تک کی کہانی سنا ڈالی تھی۔ اور تب جب انہوں نے کھنگھورا مار کر نئی کہانی کہنا چاہی اور میری بیگم نے ان کے کھانسنے کوادبدا کر کورونا سے جوڑدیا تھا تو وہ رنجیدہ ہو گئے تھے۔ یہیں کہیں انہوں نے ایک عزیز ترین ہستی کے گود میں سر رکھ کر مرنے والا جملہ کہا تھا۔ جب ہم اس جملے کو ان کی اپنی زندگی سے جوڑ چکے تواچانک وہ کمر سیدھی کرکے بیٹھ گئے تھے اور ہم سب کی طرف باری باری دیکھا تھا جیسے یقین کر لینا چاہتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو ان کی طرف متوجہ نہ تھا۔ کہا :

“آپ لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر فرقان جو ادھر کراچی میں کرونا سے مر گیا کون تھا؟”

ہم چونکے اور بوکھلا ئے بھی۔ گویا انہیں ایسی خبریں پہنچ رہی تھیں۔ انہوں نے ہمارے جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔
“ڈاکٹر فرقان، بیٹی عظمیٰ کے استاد تھے۔ وہ انہیں اپنا استاد مانتی ہے۔ کسی کانفرنس میں اُن سے ملی تھی بیٹی، ان سے رابطے میں تھی اور بہت کچھ سیکھا تھا ان سے۔ کئی بار اس نے اُن کا ذکر کیا تھا۔”

انہوں نے کہنی موڑ کر اپنی بغلی جیب میں ہاتھ ڈالا، موبائل فون نکالا اور ہماری طرف،اس کا ڈسپلے کرتے ہوئے کہا:

” اس پر مجھے ملی ہے ڈاکٹر فرقان کی موت کی خبر۔”

انہوں نے موبائل فون دوبارہ جیب میں ڈال لیا اور اپنی نظریں میز پر گاڑھ کر دھیرے دھیرے کہنے لگے جیسے ہم سے نہیں اپنے آپ سے بات کر رہے ہوں:

” میں نے ایک دوبار بیٹی سے بات کرنے کے لیے نمبر ملانا چاہا مگر یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ میرے بیگانوں کی طرح فون پر پرسہ دینے سے وہ اورزیادہ دُکھی ہو جائے گی۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا اور صبح پہلی بس سے نکل آیا ہوں۔ ہمت نہ پڑی بیٹی کو فون کرکے یہاں بلا لیتا۔”

وہ ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہہ گئے تھے۔۔۔ وہ کچھ جو اُن کی بیٹی نے ہمیں اُن سے چھپانے کو کہا تھا۔ میں نے بیگم کی طرف دیکھا اور کہہ دیا۔

“اب کچھ چھپانے سے کیا حاصل؟”

یہ بات میں نے سرگوشی میں کہی تھی مگر وہ تو شاید سماعت اسی طرف لگائے بیٹھے تھے۔ اپنے قدموں پر یوں سرعت سے کھڑے ہوئے کہ کرسی جس پر وہ بیٹھے ہوئے تھے لڑکھڑا کر پیچھے جا گری۔

” کیا، چھپا رہے ہو تم لوگ، بتاو۔۔ بتاو۔۔ بتاو ”

تیسری بار “بتاو” کہتے ہوئے ان کی آواز بہت اونچی ہو گئی تھی۔

محض اونچی نہیں، یوں لگتا تھا،لفظ ’بتاو‘ اُن کا حلقوم پھاڑتے ہوئے نکلا تھا۔ میں بھی کھڑا ہوگیاتھا۔ ہم میں سے کوئی نہ تھا جو اپنی نشست پر بیٹھا رہا ہو۔ان کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں۔ وہ مسلسل میری طرف دیکھ رہے تھے یوں، جیسے وہ پلکیں جھپکنا ہی بھول گئے تھے۔ میں کھسکتا ہوا اُن کے قریب ہو گیا اورکھڑے کھڑے ساری بات یوں کہہ دی جیسے جھڑکے جانے پرکوئی بچے بھولا ہوا سبق بھی فر فر سنانے لگتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہو چلا تھا کہ اب بھی کچھ چھپایا تو تایا جان مجھے زندگی بھر معاف نہیں کریں گے۔ میری بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ انہوں نے بازو لمبا کیا اور مجھے ایک جانب زور سے دھکیل دیا۔ دروازہ کھولا باہر چھلانگ لگا دِی۔

جب تک میں گاڑی کی چابیاں تلاش کرتا،پورچ میں پہنچ کرگاڑی اسٹارٹ کرتا، اسے ریورس میں ڈال کر باہر سڑک پرڈالتا وہ بھاگتے ہوئے بہت دور نکل گئے تھے۔ ابھی میں نے گاڑی دوسرے گیئرہی میں ڈالی ہوگی کہ اُسے روک کر اُترنا پڑا۔ سڑک کے عین وسط میں ایک کپڑا پھیلا پڑا تھا دودھ جیسا سفید۔ تایا جان کی چادر۔ وہ اُن ہی کی چادر تھی۔ وہی جوکچھ دیر پہلے اُن کے سر سے سرکی تھی توانہوں نے اُسے گردن کے اردگر جما لیا تھا۔ چادر سڑک پریوں پھیلی پڑی تھی جیسے کسی زندہ وجود نے زمین کی گود میں لیٹے لیٹے بہت ہاتھ پاوں مارے تھے اور اچانک دَم توڑ دیاتھا۔ میں نے چادر سمیٹے سمیٹتے گھبرا کر وہاں دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے تایاجان تھے۔ اب وہ وہاں نہیں تھے۔ جہاں وہ ہو سکتے تھے وہاں سے سڑک معدوم ہو رہی تھی۔

Categories
فکشن

پارو

جب وہ آنگن میں چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا:
”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاؤں گا“

کھونٹے سے بندھی رَسی کو اس نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کا اِطمینان کیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اور چِت کبَرے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
ایسا کرنے پر اس کے بدن میں عجب سی سرشاری اترنے لگی۔

ابھی اطمینان کی یہ سرشاری پوری طرح اس کے بدن میں نہ اُتر پائی تھی کہ اُسے اَپنی پُشت پر بے ہنگم سانسوں کے طوفان کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے گھوما ‘مگر تب تک یہی بے ہنگم سانس ایک دردناک چیخ میں ڈھل کر فضا کو چیر چکے تھے۔

لوگ کہتے ہیں:
”وہ پارو کی آخری چیخ تھی“
پارو‘ ولایت خان کی بیوی تھی جس پر جنات کا سایہ تھا۔
لوگ یہ بھی کہتے ہیں:
”اس آخری چیخ کے بعد پارو کو کبھی دورہ نہ پڑا“
لیکن یہ واقعہ بھی اَپنی جگہ ہے کہ اس کے بعد کسی نے اُسے بولتے بھی نہ سنا۔

لوگ پارو کی اِس کیفیت پر دُکھ کا اِظہار کرتے ہیں اور اُن دنوں کو بہتر خیال کرتے ہیں جب اُسے دورے پڑتے تھے مگر جونہی وہ جنات کے اثر سے نکلتی تھی تو چنگی بھلی ہو جاتی۔ اتنی اچھی کہ ولایت خان اُسے دیکھتا رہ جاتا اور سارا گھر اس کی مسکراہٹوں سے بھر جاتا۔

لیکن اس آخری چیخ کے بعد یوں ہوا کہ اُس کے سارے لفظ‘ اُس کی ساری مسکراہٹیں‘ حتّٰی کہ اس کی چیخیں بھی کہیں گم ہو گئی تھیں۔ اُسے دورے نہ پڑتے تھے مگر اُس کے ہونٹوں پر فقط چپ کی پپڑی تھی۔

اماں حجن پارو کی ویران گود اور لمبی چپ کو دیکھ کر ولایت خان سے کہتی:
”میں جانتی ہوں تم پارو کا بہت خیال رَکھتے ہو۔ پارو جنات کے زیرِ اَثر رہی‘ چیخی چلائی مگر تم نے اُسے پھولوں کی طرح رَکھا۔ اب دِل جکڑ لینے والی چپ ہے اور گھر کا سُونا پن۔ مگر تم واقعی حوصلے والے ہو جو تم نے دوسری عورت کا سوچا تک نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو کب کی دوسری لاچکتا۔ میری مانو تو وقت کو تھام لو۔ ایک اور بیاہ کرلو۔ خدا نے چاہا تو اس سونے آنگن میں بہار آ جائے گی۔“

ولایت خان جب بھی یہ سنتا اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجاتا۔ وہ کچھ کہنے کی بہ جائے پارو کے ہونٹوں کو تکنے لگتا جن پر فقط چپ کا پہرہ تھا۔
شروع شروع میں اس گھر میں اُس کی مسکراہٹیں تھیں جو پورے گھر کو اُجال دیا کرتی تھیں۔ یہ مسکراہٹیں بہت جلد مدہم پڑنے لگیں۔ ایسے میں ولایت خان آنگن کے اُس سرے پر کھرلیوں کے پاس بندھی بیلوں کی وہ جوڑی پر اپنا دھیان مرکوز کر لیا کرتا تھا ‘ جو ہر مِیلے میں جیت کر لوٹتی تھی۔

ولایت خان اپنے سوہنے بیلوں کی جوڑی کو دیکھتا تو سرفخر سے بلند کر لیتا اور جب پارو کو دیکھتا تو آنکھیں چمک کر بجھنے لگتیں اور سینے کے اَندر دِل کہیں گہرائی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔

اُدھر پارو بھی عجب مخمصے میں تھی۔
ابھی اُن کے بیاہ کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔

اور بہ ظاہر مخمصے میں پڑنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ تھا جو اُسے سمجھ نہ آرہا تھا۔ اور جو اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اُسے اُلجھاتا چلا جاتا تھا۔ یہی اُلجھاوا ہنسی کے اُس پرنالے میں پھنس کر رکاوٹ بن گیا تھا جو بے اِختیار شڑاپ شڑاپ بہتا سارے گھر کو جل تھل کر دیا کرتا تھا تاہم ولایت خان‘ کہ جو کبڈی کے ہر اکھاڑے میں مقابل کو مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیتا تھا‘ کی وجاہت کسی نہ کسی طور اس کے اندر اطمینان اتار دیتی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ اطمینان کے کڑوے گھونٹ‘ جو وہ اپنے حلق سے جبراً اُتارتی رہی تھی‘ اُس کے سارے وجود میں زہر بن کر سرایت کرنے لگے۔

یہ تب کی بات ہے جب ولایت خان کو گھر میں چِت کبرا لائے سال ‘سوا سال کا عرصہ گزرچکا تھا۔
گاﺅں بھر کے وہ چند ایسے جوانوں میں سرفہرست تھا جنہیں ہر کوئی محبت سے دیکھتا ہے۔

محبت سے دیکھے جانے کی ایک وجہ تو اس کا اپنا مضبوط جثّہ‘ مناسب کلا جبڑا‘ اونچا قد کاٹھ اور کبڈی کے ہر میدان میں فتح تھی تو دوسری وجہ بیلوں کی وہ خوبصورت جوڑی تھی جو ہرمیلے اور ہر مقابلے میں پنجالی گردن پر پڑتے ہی یوں کراہ لے کر دوڑتی کہ مقابل اس کی دھول تک کو نہ چھو پاتے۔
اپنا جثّہ بنائے رَکھنے کا فن وہ جانتا تھا۔ منھ اندھیرے اُٹھ کھڑا ہوتا۔ میلوں دوڑتا ‘ پلٹتا تو کلہاڑا لے کر کئی کئی من لکڑیاں کاٹ ڈالتا۔ غذا میں دیسی گھی میں تلے پراٹھے‘ دودھ اور لسی کا اہتمام کرتا۔ شام کو بدن کی مالش ہوتی۔ گھنٹہ بھر کے لیے دوستوں سے زور اور ڈنٹر پیلنا اُس کے معمولات کا حصہ تھے۔

بیلوں کی جوڑی کے ساتھ بھی وہ خوب تھکتا۔ انہیں نہلاتا‘ خوب رگڑ کر ان کا بدن صاف کرتا ‘ سینگوں اور کھروں پر تیل لگاتا۔ خود چارہ کاٹ کر لاتا‘ کترا بناتا‘ ونڈا بھگوتا‘ ونڈے اور کترے کو چھی طرح صاف کیے ہوئے بھوسے میں ملا کر گتاوا بناتا اور کھرلی تک خود بیلوں کو کھول کر لاتاتھا۔

اور جب دونوں بیل مزے مزے سے گتاوا کھانے لگتے تو اسے تب چین آتاتھا۔
لیکن جب اتنا تھک چکنے کے بعد اُسے بے چینی رہنے لگی تو وہ چِت کبرا لے آیا۔

اُس کا اِرادہ تھا‘ اساڑھ میں جب بھڑولے بھر جائیں گے تو وہ چت کبرے کے مقابل کا ایک اور بیل لے آئے گا جو پہلی جوڑی کی جگہ لے لے گا۔
اَساڑھ آیا اور گزر گیا۔

منھ تک بھر جانے والے بھڑولے دِھیرے دِھیرے خالی ہوتے چلے گئے۔
مگر‘د وسرا بیل نہ آیا۔ کیسے آتا؟کہ ولایت خان کا ارادہ بدل چکا تھا۔

یوں تو وہ دُھن کا پکا تھا‘ جو من میں آتا اُسے پتھر پر لکیر سمجھتا‘ جب تک کر نہ چکتا چین سے نہ بیٹھتاتھا۔
لیکن اس بار نہ صرف ارادہ بدل چکا تھا بل کہ ایک لذّت بھی اس کے بدن میں اُتر رہی تھی۔
ہوا یوں کہ ابھی چت کبرے کو آئے چند ہی روز ہوئے تھے اور ولایت خان اس کے فوطے کچلوانے کے لیے ہسپتال لے جانے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ فضلو اَپنی گائے لے آیا۔

گائے پر دِن آئے ہوئے تھے۔
اورفضلو کے خیال کے مطابق دور نزدیک کے کسی گاﺅں میں کوئی اچھی نسل کابیل نہ تھا۔
جب کہ وہ گائے کی نسل نہ بگاڑنا چاہتا تھا۔
ولایت خان کو پہلے پہل تامل ہوا۔
ویسا ہی تامل ‘جیسا پارو سے شادی کے وقت ہوا تھا۔
اُس کا خیال تھا ‘اکھاڑے میں اُترنے والوں کو عورت ذات کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہیے۔ لیکن ضد میں آکر اسے اپنا خیال بدل دینا پڑا۔
وہ ضد میں یوں آیا کہ اس کے اکھاڑے کے دوستوں نے اُسے پارو دِکھائی اور کہا:
”مرد وہ ہے جو اُسے حاصل کرے گا۔“
پارو نمبردار فیروز کی بیٹی تھی اور پچھلے کچھ عرصے میں یک دَم جوان ہو گئی تھی۔
اس قدر جوان کہ سارے گاﺅں پر اس کی جوانی چھا گئی تھی۔

ایک مُدّت سے گاﺅں کی لڑکیوں پر جوانی چپکے چپکے آرہی تھی ‘ یوں کہ اِرد گرد والوں کو تو کیا خود لڑکیوں کو بھی اس کی خبر نہ ہوتی تھی۔
مگر پارو پر جوانی چیختی چنگھاڑتی آئی تھی۔ کچھ اس دھج سے کہ اس کا سارا بدن اپنے جوان ہونے کا زور زور سے اعلان کرنے لگاتھا۔

یہ اعلان ولایت خان نے بھی سنا۔ تاہم نہ تو اس کے اندر کوئی خواہش جاگی‘ نہ بدن پر بے چینی کی چیونٹیاں رینگیں لیکن لنگوٹ کَس کر اکھاڑے میں اُترنے والے اُس کے ساتھی پارو کو حاصل کرنے والے ہی کو مرد تسلیم کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔
اور وہ چاہتا تھا اسے مرد تسلیم کیا جائے۔
وہ ضد میں آگیا اور قسم کھا بیٹھا کہ وہ پارو کو حاصل کر کے دَم لے گا۔

اگرچہ وہ بہت بڑا زمیندار نہ تھا مگر جتنی بھی زمین اس کی ملکیت تھی وہ اس کی ضرورتوں سے کہیں زیادہ تھی۔ خوبصورت جسم ‘کبڈی کے ہر میدان کا فاتح‘ صاف ستھرا شجرہ نسب۔ یہ وہ عوامل تھے جو پارو کے حصول میں اُس کے معاون بنے تھے۔

اور جب وہ پارو کو حاصل کر چکا تو بالکل ویسی ہی بے کلی اُس کے بدن میں اُتری تھی جیسی کہ اب فضلو کی بات سنتے ہوے اُتری تھی۔
فضلو کَہ رہاتھا۔

”دیکھ پُت ولایت گائے اعلیٰ نسل کی ہے۔ دریا پار سے لایا تھا تو بوری نوٹوں کی اُٹھ گئی تھی اِس پر۔ دودھ دیتی ہے تو ولٹوہے کناروں تک چھلکنے لگتی ہیں۔ سچ جانو تو میں اس کی کھیری بھی دیکھتے ہوے جھجکتا ہوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ اور ماشااللہ تمہارا بیل ‘واہ‘ دیکھنے میںاس قدر صحت مند لگتا ہے کہ آنکھ دیکھتے ہوئے بھتی نہیں ہے۔ یقیناً اس سے نسل بھی اچھی چلے گی۔“

فضلو اس کے بعد بھی بہت کچھ کہتا رہا مگر ولایت خان چپ چاپ اپنے قدموں پر اُٹھا اور فضلو کو گائے چِت کبرے کے پاس لانے کا اشارہ کیا۔
جب فضلو کی گائے کا خوبصورت اور صحت مند سا بچھڑا ہوا اور دُودھ کی مِقدار پہلے سے بھی بڑھ گئی تو وہ سیدھا ولایت خان کے ہاں پہنچا۔
ولایت خان نے سنا تو عجب سی سرشاری اُس کی نَس نَس میں دوڑ گئی۔

فضلو مہینہ بھر اُس کے ہاں دُودھ بھیجتا رہا۔
ولایت خان اُسے منع کرتا رہا مگر وہ باز نہ آیا۔
اسی دودھ کی لَسّی بلوتے بلوتے ایک روز پارو کو دورہ پڑا۔ یوں کہ اُس نے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالے‘ بال نوچ لیے‘ جبڑے اکڑ گئے اور ہاتھ پاﺅں ٹیڑھے میڑھے ہونے لگے۔
اماں حجن کا خیال تھا ‘ پارو پر جنات کا سایہ ہو گیا ہے۔

تعویذ گنڈے ہونے لگے۔ مزاروں کے چکر کاٹے گئے۔ دھونی دہکائی گئی۔ حصار باندھا گیا۔ چلہ کشی ہوئی۔ مگر جنات کا سایہ ویسے کا ویسا رہا۔

ولایت خان پارو کی اِس کیفیت کو دیکھتا تو دُکھی ہوتا۔ اُسے سمجھ نہ آرہا تھا اس معصوم نے جنات کا کیا بگاڑا تھا جو وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔
پارو کے دورے اور چت کبرے کی تعریفیں ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں۔

فضلو نے اپنے بچھڑے کی خوبصورتی اور دودھ میں اِضافے کا ڈھنڈورا یوں ہر کہیں پیٹا تھا کہ ولایت خان نہال ہوتا چلا گیا۔
پھر یوں ہو اکہ نہ صرف اُس کے اپنے گاﺅں بلکہ اردگرد کے مواضعات کے لوگ اَپنی گائیں چت کبرے کے پاس لانے لگے۔
صحت مند بچھڑوں اور بچھیوں کی پیدائش کی خبریں اور بعدازاں دودھ نذرانے آنا‘ معمول بن گئے۔
گھر میں دودھ گھی کی فراوانی نے اُس کے بدن میں مزید نکھار پیدا کیا۔
مگر پارو ‘کہ جس پر پہلے پہل لَسّی بلوتے جنات آیا کرتے تھے ‘اَب موقع بے موقع دوروں میں لوٹنے لگتی تھی۔
جب وہ جنات کے زیر اثر آتی تو عجب عجب حرکتیں کرتی۔ کبھی کبھی یوں لگتا وہ کسی ننھے منے بچے کو پیا ر سے پچکار رہی ہو۔
غالباً یہی وہ حرکت تھی‘ جسے دِیکھ کر اماں حجن نے خیال ظاہر کیا تھا:
” اگر پارو کے ہاں اولاد ہوتی تو شاید اسے دورے اس شدت سے نہ پڑتے۔“
دوروں میں شدت بڑھتی چلی گئی کہ پارو کی گود ہری ہونے کا دُور دُور تک نشان تھا نہ آس اُمید۔

”یہ جو عورت کا بدن ہوتا ہے نا! یہ نرا گورکھ دھندا ہے۔ باہر سے نواں نکور ہوگا مگر اندر نہ جانے کیا کیا روگ پال رکھے ہوتے ہیں۔ اب جو ولایت خان جیسے شینہہ جوان کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تو یقیناً پارو میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔“
اماں حجن نے جو کہا سب نے اس پر یقین کر لیا۔
ایک مرتبہ پھر پیروں فقروں کے پاس لے جایا گیا۔ سنیاسیوں کے نسخے اِستعمال ہوئے۔
مزاروں پر منتیں مانی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔
پارو اب اپنے لیے آسانی سے تعویذ لینے یا دوا کھانے پر راضی نہ ہوتی تھی۔ اماں حجن کا اصرار تھا۔
”پارو کا علاج ہونا چاہیے۔“
علاج ہوتا رہا مگر اولاد نے نہ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہوئی۔
ولایت خان یہ سب کچھ لاتعلقی سے دِیکھ رہا تھا‘ جیسے راضی بہ رضا ہو۔

اُس کے لیے یہ بھی بہت کچھ تھا کہ گاﺅں سے کوئی نہ کوئی فرد اپنے ہاں بچھڑا پیدا ہونے کی خبر سناتا تھا اور دودھ کی بھری بالٹیاں بھیج دیتا تھا۔
دِنوں کا یہی معمول تھا۔ وہ اَپنے صحن میں چِت کبرے کے بدن پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پاس کھڑا‘ ساتھ والے گاﺅں کا ایک شخص اُسے اپنے ہاں صحت مند بچھڑے کی پیدائش کی خبر سنا رہا تھا۔ ایسے میں اُسے برآمدے میں لسی بلوتی پاروکے تڑپ کر گرنے اور چیخنے کی آواز سنائی دی۔ وہ بھاگ کر برآمدے میں آیا۔ پارو چت زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کا منھ اَدھ رِڑکے کی جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔ چیخیں ہونٹوں پر جم گئی تھیں اور وہ نہایت محبت سے چکنی گیلی مدھانی پر یوں ہاتھ پھیر رہی تھی جیسے کہ وہ ایک ننھا سا بچہ ہو۔

تب ولایت خان نے ایک فیصلہ کیا۔ اپنے قدموں پر پلٹا چت کبرے کو کھونٹے سے کھولا سیدھا ہسپتال جا پہنچا۔

اور جب وہ چت کبرے کے فوطے کچلوا کرواپس پلٹا تھاتو اپنی پشت پر پارو کی بے ہنگم سانسوں کو کرب ناک چیخ میں ڈھلتے پایا۔
لوگ کہتے ہیں:

”وہ پارو کی آخری چیخ تھی جو سنی گئی تھی۔“

لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔
Image: Saeed Akhter

Categories
نان فکشن

منشایاد کا افسانہ اور سماجی معنویت

’’میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔

عمر کے اس حصے میں، جب لطیف اور نازک جذبے سرد پڑ جاتے ہیں اور آدمی کے اندر کا بیل تھک کر تھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ڈچکروں اور ٹھوکروں سے حرکت میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسے ہلانے جلانے کے لیے تابڑ توڑ ڈنڈے برسانا پڑتے ہیں۔

اس کی موت کی خبر سن کرمجھے صدمہ ضرور ہوا جیسے بیٹھے بیٹھائے کسی نے ٹھوکر مار دی۔ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘

صاحب ‘ منشایاد کی کہانی’’سارنگی‘‘ کایہ دلچسپ ٹکڑا عین تمہید میں آپ کواس لیے سنادیا ہے کہ مجھے تیزی سے بدلتے ہوئے سماج کے ساتھ جڑے رہنے کی شدید خواہش رکھنے والے منشایاد کا لگ بھگ اپنے ہر دوسرے افسانے میں ایک عجب دھج سے چونکنا لطف دیتا رہا ہے۔

اسے آگے کا سفر کرنا تھا مگر اُسے بار بار بیک مرر دیکھنا پڑتاتھا۔ یادرہے ’’بیک مرر ‘‘ اس کا ایک افسانہ ہے اورساتھ ہی ساتھ محبوب استعارہ بھی… وہ اس بیک مرر میں دیکھتاتھا ‘ بار بار دیکھتاتھا ‘عقب میں تیزی سے معدوم ہوتے منظرنامے کو بھی اور ونڈاسکرین میںسے تیر کی تیزی سے اپنی سمت بڑھتے نامانوس وقت کو بھی۔ جو کچھ جانا پہچاناہوتا وہ اس کے اندر بس جاتا اور جو سامنے ہوتا وہ اس دھرتی جیسا ہوجاتا ہے جسے بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے۔

ہم جو ماضی کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور ارضیت کو اپنی سانسوں میں بسائے ہوئے ہیں‘ زمین سے چاہے جتنا اوپر اٹھ جائیں اپنے حصے کی مٹی اپنی مٹھی میں ضرور رکھتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ منشایاد کی مٹھی میں جو مٹی تھی وہ جگنو بن کر چمکتی تھی۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آکر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

منشایاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی میں بات کر رہاہوںاس میں خالص اور پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اورایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت ‘ پیداواریت اور سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اُسارے جارہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کاداخلہ ممنوع ہے۔

مگر… اُسے تو اِس خوشبو کے ساتھ ہی اس کانچ محل میں داخل ہوناتھا۔
اور منشایاد اس امتناع کو توڑنا چاہتاتھا۔
مجھے ’’سارنگی‘‘کا جملہ ایک بار پھر دہرانے دیجئے:
’’ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘
تو یوں ہے کہ کہ منشایاد نے ہمت کرکے اور نیت باندھ کر کچھ افسانے تو اسی دھرتی کے بارے میں لکھے جو سینگوں پر بوجھ کی طرح جھول رہی ہے اور بہت سارے افسانے اس مٹی کے بارے میں لکھے ہیں جو خوشبو بن گئی۔ وہ خوشبوجس نے انسان کا وجود بامعنی بنا دیا ہے۔

میں اس دونوںقسم کے افسانوں کی سماجی معنویت کو بھی الگ الگ پہچان سکتا ہوں۔
ایک قسم کے افسانوں کے اندر آدمی اڑیل بیل کی طرح دکھایا گیاہے جسے اس کا مالک آگے کوکھنچتا ہے مگر بیل پیچھے کو زور لگاتا ہے حتی کہ مالک بپھر جاتا ہے۔ اس قبیل کے افسانوں کی ایک عمدہ مثال منشایاد کا ۸ اکتوبر کے سانحے کے حوالے سے لکھا گیا ’’ آگے خاموشی ہے ‘‘ کا نام پانے والاافسانہ ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس افسانے کا ماسٹر دین محمد اپنے طالب علموں سمیت ملبے کے اندر دب گیا تھا۔ اس کے شاگرد ایک ایک کرکے اس کے سامنے مرتے رہے اور وہ خود جرعہ جرعہ موت لنڈھاتے ہوئے بھی زندہ رہا۔ اور پھر یوں ہوا تھا کہ ہمارے نام نہاددانش وروں کی رکی ہوئی سوچ کے تعفن نے اسے تڑپایا اور ماردیاتھا۔اس کہانی میں منشایاد نے ماسٹر دین محمدکے ہاتھ میں اس کے مرنے سے پہلے جوتا تھمانا چاہا ہے کہ وہ اسے اُن دانش وروں کی سمت اُچھال سکے۔ اورسجھانے کا جتن کیا ہے کہ جمود زدہ متعفن سوچ رکھنے والوں کو جب تک چوٹ نہ لگے وہ اڑیل بیل کی طرح پیچھے ہی کو زور دیتے رہتے ہیں۔

اُس کا فیصلہ ہے کہ آگے نہ دیکھیں تو راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور پلٹ کر دیکھنا بھول جائے توشناخت گم ہو جاتی ہے۔

منشایاد کے افسانوں پربات کرتے ہوئے مجھے خواہش ہونے لگی ہے کہ اسی کی طرح چلتی ہوئی بات کی گاڑی کی ونڈاسکرین سے نظر اٹھا کر بیک مرر میں دیکھوں۔ تو یوں ہے کہ اس بار وہ اڑیل بیل نظر آگیا ہے جس کامالک اُسے آگے کھینچنے سے اُکتا گیا تھااور بپھر کراُس کے کولہوں پر چوٹ لگانا چاہتا تھا۔

دوسری قبیل کے افسانوں کی دنیا ہی کچھ اور ہے الگ سی مگر روح کو سرشار کرنے والی۔ان افسانوں میں فکری دائروںسے کہیں زیادہ زندگی کی تفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ منشایادنے ’’شہر افسانہ‘‘ کی ابتدائی سطور میں لکھا ہے کہ ’’سائنسی علوم اورٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسان روز بروز مشین میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ ‘‘ مشین میں ڈھلتے مصروف آدمی کا جو ہیولا منشایاد نے بنایا ہے وہ آدمی اپنے بنجراپے سے بولایا ہوا ہے۔ تاہم جب جب وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے مقابل دیہی زندگی کے کشادہ ماحول کو لے کر آیاتو یوں لگا جیسے تاریکی کی لمبی سرنگ کے اندر سے روشنی کی چیخ جادو بنسری کے سر کی طرح برآمد ہوگئی ہے‘ یوں کہ تاریک سرنگ کا دوسرا کنارہ روشن ہو گیا ہے۔

میں اسی روشن کنارے پر منشایاد کے افسانے ’’اپنا گھر‘‘ کے میلے کچیلے مگر فرشتوں جیسے اس شخص کو دیکھتا ہوں جس کا دل اپنے بچوں سے ملنے کو چاہا تھاتو اس نے چارہ کاٹنا اور ہل چلانا وہیں موقوف کیا۔ بس پکڑی اور ملنے آگیا تھا۔

جسے میں نے تاریک غار سے شناخت کیا ہے منشایاد کے مرکزی کردار نے اس صورت حال کا نقشہ اسی افسانے کے آغاز میں یوں کھینچا ہے۔

’’ وہی ہر طرف مداریوں کی طرح چتر چالاک آدمی اور آسمان میں تھگلی لگانے والی تیرہ تالن عورتیں۔

منافقت سے اٹی ہوئی صورتیں …خود غرضی کے جالے …سازشوں کی مکڑیاں اور وہی ٹانگیں کھینچنے اور میرے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر مرغیوں کی طرح گندگی پھیلاتے احباب۔ وہی ہر روز ایک طرح سو کر اٹھنا اور وہی ستر ستر قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسری سے ٹکریں مارتی دیواریں۔

بھاگم بھاگ دفتر کے لیے تیار ہونا …وہی میز اور وہی ایک جیسا ناشتہ…وہی دفتر اور وہی انتظار میں بیٹھے ہوئے گدھوں کی طرح افسران بالا کی نظریں۔

وہی فائلیں اور وہی ایک جیسے قے کیے ہوئے لفظوں کے پیٹ بھرنا۔‘‘

تو صاحب !یہ منظر نامہ جو منشایاد نے دکھایا ہے اس نے نئے آدمی کے رنگ ڈھنگ اور چال ڈھال کے بے ڈھنگے پن کوننگا کر دیا ہے۔ آدمی اپنے تہذیبی آہنگ سے نکل چکا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے آدمی کا آدمی سے تعلق سماجی نہیں رہابازاری ہوگیا ہے۔ عقیدے دم توڑنے لگے ہیں‘ عقیدت اور احترام کے قرینے قریہ بدر ہوئے اور اقدار بدل گئی ہیں۔ حقیقت کے معنی اُلجھ گئے اور سچائیGray Areas کا رزق ہو گئی ہے۔ الفاظ ہیں‘ معنی عنقا ہیں۔ جملہ ہے مگر اس کے بطن میں مفہوم کا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ پریشان نظری ہے ‘ فکری انتشار ہے۔شمیم حنفی نے اسے آڈن کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ ’’بے چینی‘‘ کا عہد ہے ‘ فرانز الیگزنڈر نے اسے ’’عدم تعقل‘‘ کا دور کہا مگر یار لوگ تہذیبی اقدار پر شب خون مارنے والے اس عہد کو روشن خیال‘ ترقی یافتہ‘ اور انسانی فلاح کا عہد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ منشایاد کے ہاں معاملہ یہ رہا کہ اس کی گفتگوؤں میں جتنی توجہ یہ بدلا ہوا زمانہ پاتا تھا اس کا تخلیقی وجود عین مین اِس تناسب سے اس تبدیلی کوقبول نہیں کرپاتا‘کہ اپنے افسانوںکوجس سماجی معنویت سے وہ جگمگا رہا تھا اس کا غالب حصہ ارضیت ‘ تہذیب اور روایت ہی میں پیوست تھا۔
میں نے کسی اور جگہ لکھا تھا کہ منشایاد کو بیدی کی طرح گرہستن اور خاندان سے جڑی ہوئی عورت پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور آج کی نشست میںاس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس کا سبب محض اور صرف یہ ہے کہ رشتوں میں جڑی ہوئی عورت ہی اسے سماج کے اندر بامعنی دِکھتی ہے۔ جب کہ رشتوں سے کٹی ہوئی عورت ’’شے ‘‘ بن جاتی ہے‘ ’’صارف‘‘ ہوتی ہے یاپھر محض ’’کارآمد/بے کار‘‘ پُرزہ(اور لگ بھگ یہی بات تو مردوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔) یہی سبب ہے کہ ان رشتوں کے لیے وہ بہت کچھ قربان کر سکتا ہے حتی کہ اپنا عشق بھی۔ اس باب میں منشایاد کے معروف افسانے ’’تیرہواں کھمبا ‘‘ کو دھیان میں لائیے اور اس نوبیاہتا جوڑے کو بھی جو ریل کار میں سوار ہو گیا تھا۔ منشایاد نے اپنے قاری کوایک عجب صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے اسی منظر نامے میں ایک تیسرے کردارکو بھی موجود رکھا ہے۔ یہ تیسرا شخص نوبیاہتا دلہن کی زندگی میں کبھی اہم رہا ہوگا مگر نئے اور تخلیقی رشتے سے جڑ جانے والی کے لیے (پراناعشق بھولنا مشکل سہی)‘نیا رشتہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو اپنی کیمسٹری میں چاہے عشق جتنا اخلاص نہ رکھتا ہو اس کی ایک سماجی معنویت ہوتی ہے۔ تو یوں ہے کہ اس افسانے کے آخر میں منہ زور عشق ہار جاتا اور تخلیقی رشتہ سماجی معنویت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔منشایاد چاہتا تو اس تیسرے آدمی کو ریل سے کود کر خود کشی کی راہ دکھا دیتا ‘ نوبیاہتا انجی کی چھاتی سے چیخ برآمد کرکے اس کے عشق کا بھانڈا پھوڑ کر سماجی رشتے میں دراڑیں ڈال سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔جس گوں کا وہ آدمی تھا اس گوں کا آدمی اپنے کرداروں کو اوچھا نہیں رہنے دیتا انہیں وسیب کا ذمہ دار آدمی بنا دیتا ہے۔سو اس نے منہ زور عشق کو پچھاڑ دیا اور سماج کو ایک تخلیقی رشتے سمیت بچا لیا۔

جی،مجھے موقع ملا ہے کہ میں منشایاد کے افسانوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کروں اور اس مطالعے میں محسوس کیا ہے کہ سماجی منظر نامے میں منشایاد کے ہاں تخلیقی رشتے بہت احترام پاتے ہیں۔ ’’سزا اور بڑھا دی جائے‘‘ ’’سارنگی‘‘اور ’’ساجھے کا کھیت‘‘جیسی کہانیوں سے میں صحیح یا غلط اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مادی تعیش کے عہد میں‘ بنتی بگڑی حسیات والے نئے تفریحی آدمی سے کہیں زیادہ اسے تہذیبی اور سماجی آدمی بہت محبوب ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس دور میں منشایاد نے شناخت پائی وہ علامت نگاری اور تجرید کا زمانہ تھااور اس عہد کے افسانے میں اس نے سماجی اور تہذیبی علامت کے شعور کے ساتھ جو افسانے لکھے وہ الگ سے مطالعہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔تاہم مجھے ان کے حوالے سے یہاں یہ کہنا ہے کہ اگر منشایاد کو سماجی رشتوں میں بندھے آدمی سے محبت نہ ہوتی اور وہ فرد کے محض باطنی آشوب کو ہی کہانی کا وسیلہ بناناچاہتا تو بھی اس ڈھنگ میں اس نے ایسی ایسی کامیاب کہانیاں لکھی ہیں کہ وہ بہت دور تک جا سکتا تھا مگر بہت جلد ادھر سے دامن جھٹک کر الگ ہو گیا۔محض دیہات نگاری بھی اس کا مسئلہ نہیں بن پایا ورنہ وہ بالا دست جاگیردار طبقے کی چیرہ دستیاں دکھا کر اور ہمارے دل دہلا کر بھی مقبول ہو سکتا تھا۔ ذرا تصور باندھیے ’’کچی پکی قبریں‘‘ والے کوڈو فقیر کا جس کی نظر کدال پر پڑی تھی توفاتحانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ناچنے لگی تھی۔ پکی قبریں ادھیڑ کران میں اپنے مردے رکھنے والے ایسے جی دار کردار اس کی کہانیوں میں آئے ضرور ‘مگر سماجی معنویت کے باب میں اس نے ترقی پسندوں کی طرح اسے طبقاتی مسئلے کے فیتے نہیں لگائے۔ اس کے کردار کہیں بھی اپنی شناخت گم نہیں کرتے پوری کہانی میں یوں رچے بسے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے بدن میں اس کی مست کر دینے والی مہک۔میلے ٹھیلے کے رسیا‘ نچلی ذاتوں کے کمی کمین‘ جنس کے مارے ہوئے مرد اور عوتیں‘ اپنوں سے پچھڑے ہوئے مگر ایسے کردار جن کے وجود کی مٹی کو خلوص کے پانیوں سے گوندھا گیا ہوتا ہے۔جو سماج کو جینے کے قابل بنانے کی للک رکھتے ہیں اور اپنے وسیب کی دانش کے امیں ہوتے ہیں۔

یوں تو عصری آگہی اور سیاسی شعور بھی منشایاد کے افسانوں کا ایک قوی حوالہ بنتا ہے’’۹۷۸ا کا آخری افسانہ:پناہ‘‘ ’’بوکا‘‘ اور’’کہانی کی رات‘‘ جیسے اہم افسانے اس باب میں عمدہ مثال ہیں کہ ایسے افسانوں میں منشا یاد نے تاریخ کو مسخ کرنے والے چہروں کو نوچ ڈالا ہے۔ عام آدمی کو مات دینے والے سیاست دانوں کو لتاڑا ‘جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی اور سامراج کے دروغوں کے منہ پر تھوکا ہے مگرآج کی نشست میں میرا دھیان منشایاد کی اس دھج کی طرف رہا ہے جورواں منظر نامے سے اوب کر اور چونک کر عقب میں دیکھتا اور لمحہ لمحہ مادیت سے مات کھاتے آدمی کے ضمیر پر دستک دیتا رہاہے۔اس نہج سے مطالعے نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ منشایاد کے فکشن کے محبوب سروکاروں میں سماجی رشتوں کی مہک کو بھی قدرے نمایاں جگہ دوں کہ یہ ایسی مہک ہے جو سماج کو بامعنی اور تخلیقی بنا رہی ہے۔

Categories
فکشن

ملبا سانس لیتا ہے

جب آوی کے پاس فرشتے اترے

ماسٹر فضل جُو ٹھیک ٹھیک آنکنے میں ناکام رہے تھے کہ اُنہوں نے کِتنی دِیر تلاوت کی تھی رمضان کے عین آغاز میں ہی وہ تخمینہ لگا چکے تھے کہ روزانہ اِتنا پڑھیں گے تو ستائیسویں کو ختم القرآن کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو گی۔ مگر جوں جوں روزے ایک ایک کرکے کم ہو رہے تھے اُن کی تَشویش بڑھتی جا رہی تھی۔جِس قدر اُنہیں پڑھنا چاہیے تھا ‘ وہ پڑھ نہیں پا رہے تھے اور بعض روز تو یوں ہوتا تھا کہ وہ اپنے تئیں رات بھر تلاوت کرتے رہتے تھے مگر جو ورق اُلٹ پلٹ کر دیکھتے توخود کو کوسنے اور شیطان مَردُودکو پَھٹکار نا شروع کر دیتے کہ آخر تلاوت کرتے کرتے وہ کہاں چلے جاتے تھے

تو یوں تھا کہ آج بھی وہ کہیں اور تھے۔

رَات تَراوِیح سے لوٹے تو یہی کوئی گھنٹہ پون گھنٹہ ہی کمر سیدھی کر پائے ہوں گے کہ انہیں لگا جیسے کوئی روئی جیسے ملائِم ہاتھوں سے اُن کے پاﺅں کے تَلوے سہلا رہا ہو۔ اُنہیں مزا آرہا تھا مکّر مار کر پڑے رہے حتیٰ کہ تراویح میں مُسلسل کھڑے رہنے سے ٹانگوں میں جمع ہو کر جم جانے والا خُون نرم و گدازلمس کی لطیف حرارت سے پھر رواں ہو گیا ایسے میں ہی شاید ‘دائیں پاﺅں کے تلوے کی عین ڈھلوان میں ‘وہاں جہاں پوست قدرے زیادہ ڈھیلا پڑ جانے کی وجہ سے سہولت سے چٹکی میں آجاتاہے‘ چٹکی میں لا کر مسل دیا گیا۔ چٹکی میں آنے والے پوست سے لگے گوشت نے لمحہ بھر کے اندر اندر ایک میٹھے درد کوپورے بدن میں جھونک دیا وہ ہڑ بڑا کر اُٹھے اور ابھی نظر کا چشمہ تلا ش نہ کر پائے تھے کہ ایک کھنک سی فضا میں تیر گئی اُن کے سنبھلتے سنبھلتے سارا کمرا گہری خاموشی اور اکیلے پن کے احساس سے گونج رہا تھا۔

کمرے میں مدھم روشنی والا بلب‘ فینسی شیڈ کے اندر سے اُن کے بستر سے قدرے دور‘ دبیز قالین پر‘ایک دائرے میں روشنی پھینک رہا تھا۔ وہ کچھ بھی سوچے بغیر بٹر بٹر اس دائرے کو بہت دیرتکتے رہے حتی کہ خواب میں بدن کا حصہ ہو جانے والا لطیف احساس خود بخود معدوم ہو گیا۔ اب انہیں اس ماہ مبارکہ کی پاکیزہ ساعتوں کے یوں ہی گزر جانے کا احساس تڑپا رہا تھا لہذا اُٹھے اور سیدھے واش روم میں گھس گئے۔

وضو تازہ کرنے کے بعد وہ تب سے پڑھنے بیٹھے تھے ‘ اور سحری کے لیے جگانے والے سرکاری سائرن کی دوسری لمبی گھوں پر وہ بوکھلا کر سیدھے ہوگئے تھے۔ یہ بوکھلانا اتنا شدید اور غیرمتوقع تھا کہ گود میں پڑا ہوا قرآن پھسلنے لگا تھا انہوں نے فوراً اُسے تھام لیا ہڑ بڑاہٹ کچھ کم ہوئی تو اس نشانی کو تلاش کیا جہاں سے انہوں نے تلاوت کا آغاز کیا تھا پھرتیز تیز ورق اُلٹتے الٹتے وہاں پہنچے جہاں تک ‘وہ اَپنی دَانست میں پڑھ چکے تھے۔

”ہائیں ‘ بس اتنا ہی “

یہ انہوں نے قدرے اُونچی آواز میں کہا تھا اور ابھی تک فضا میں اُن کی بات ٹھہری ہوئی تھی کہ اُنہوں نے قرآن پاک کو دونوں طرف سے اور وسط میں بار بار بوسے دینے اوردائیں بائیں آنکھوں سے لگانے کے بعد چھاتی سے یوں بھینچ لیا جیسے فضیلت بھینچ لیا کر تی تھی
جب اُس کی ڈولی اُٹھی تھی توفضیلت جان کو سولہواں لگا تھا اَلہڑ اِتنی کہ ِایڑھیاں زمین پر ٹکتی نہ تھیں قد نکلتا ہوا ‘ رَنگ کِھلتا ہوا اور آواز یوں کہ آدمی سنے تو مست ہو جائے جب وہ آئی تھی تو اس کا نام فضیلاں تھا اور اسے بہت ساری باتوں کی سمجھ بھی نہ تھی جیجو کمہار کی بے ماں بیٹی ‘ جو باپ کے ساتھ مٹی ڈھوتے‘ اسے گوندھتے‘صحنکیں‘ گھڑے‘ بٹھل‘ چھونیاں‘ کوزے ‘ چلمیں اور ہویجے چاک پر چڑ ھاتے اور ان کی صورتیں بناتے ہوے خود ایسی بھولی بھالی صورت میں ڈھل گئی تھی کہ اٹھی نظر ہٹتی نہ تھی۔ جیجو خود بھی اسے دیکھتاتو اس کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔ فضیلاں کے پیدا ہونے اور فضیلاں کی ماں کے مرنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا تب سے اب تک وہ اس کے لیے امتحان تھی اور جب اس کا امتحان اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تو خدا نے اس کی مشکل خود ہی آسان کر دی۔
یہ مشکل یوں آسان ہوئی تھی کہ فضل جُو بھی اُس کے گھر کے پھیرے لگانے لگا تھا۔

فضل جُو‘جو ابھی خاکوٹ کے پرائمری اسکول میں ماسٹر نہیں لگا تھا‘ دوسرے نوجوانوں کی طرح بلاسبب کئی کئی بار مٹی کے تباخ اور صراحیاں خرید چکا تھا۔ وہ اس کے گھر کے چکر کیوں لگا رہا تھا؟ وہ بہت جلد سمجھ گیا تھا اور یہ بھی جان گیا تھا کہ وہ یہاں سے جو کچھ خرید لے جاتا تھا ‘گھر نہ لے جاتا تھا اگر لے گیا ہوتا تو پیش امام صاحب ‘ اور بی بی صاحبہ کو ضرور کھٹک جاتا۔ تاہم وہ بے بس تھا اور اِتنا کم حیثیت کہ کوئی خدشہ یا کوئی شکایت منھ پر لانے کا سوچتا بھی تو اس کی کمر کے کپڑے گیلے ہو جاتے تھے۔

واقعات کے اِسی تسلسل میں ‘ جب جیجو مایوسی کی اس انتہا کو پہنچ گیا تھا جس میں خودسے خدشہ ہونے لگتا ہے کہ اس روگ سے تنگ آکر کہیں اَپنی جان کا نقصان ہی نہ کر بیٹھے‘ ایک ایسا واقعہ ہوا کہ مایوسی اس کے بدن سے خود بخود نچڑ گئی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ فضل جُو گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے اُلجھ پڑا تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور جیجو کی آوی کے چکر لگائے یہ اکیلا تھا اور وہ چار ‘لہذا انہوں نے فضل جُو کی ہڈیاں کوٹ کر رَکھ دِی تھےں۔ یہ واقعہ اگرچہ خُوشگوار نہ تھا مگر اس ایک واقعے نے کل تک گاﺅں بھرکے دوسرے لونڈوں جیسا نظر آنے والے فضل جُو کو ان سب سے مختلف ہو کر دیا تھا جو اس کی بیٹی فیضلاں پر شرمناک نظریں گاڑنے اورلَپ لَپ رَالیں ٹپکانے والے تھے۔

پیش اِمام صاحب جتنی بار مسجد جاتے تھے‘ فضل جُو لگ بھگ اتنی ہی باربہانے بہانے سے جیجو کے گھر کے پھیرے لگا آتا۔ فضل جُوکا باپ گاﺅں کی مسجد میں پیش امام تھا اور جیجو کمہار ماشکی۔ جیجومسجد کا پانی تو باقاعدگی سے بھرتا تھا مگر نمازی وہ عید بقر عید والا تھا کہ اس بہانے اسے کپڑوں کا نیا جوڑا پہننے کو مل جاتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نئے کپڑے جسم پر نماز کے بعد ہی حلال ہوتے اور زیادہ عرصے تک چلتے تھے۔ کپڑوں کے نئے جوڑے میں برکت کی نیت سے وہ مسجد کے اندرجاکر ماتھا ٹیک آتا تھا مگر پوری یکسوئی سے نمازاس لیے نہ پڑھ پاتا کہ رکوع میں جاتے ہوے یا پھرسجدہ کرتے ہوے کپڑوں کا نیا پن اسے اَپنی طرف متوجہ رَکھتا تھا نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے نکلتے ہی اسے فکر لاحق ہو جاتی تھی کہ سجدہ کرتے اور رکوع میں بیٹھتے ہوے اس کے کپڑے گھٹنوں تلے آکر مسک گئے ہوںگے وہ تسلی کرنے لیے راہ میں کئی بار جھک کر انہیں دیکھتا ‘ ہاتھوں میں تان کر اور پھٹک کر جانچتا۔ ایسا کرنے میں وہ اس قدر مگن ہوجاتا تھا کہ اکثرراہ گیروں سے ٹکرا جاتا تھا۔ ایسے میں اسے تو بہت خجالت کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب کوئی بڑی عمر کی خاتون اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتی تھی۔

گاﺅں کی دوسری روایات کی طرح کمہار ہونے کی حیثیت سے ماشکی کا کام بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ نمازیوں کی خدمت کا جذبہ اس کے اندر شاید اس لیے پیدا نہ ہو سکا تھا کہ مسجد کا حوض بھرتے بھرتے اس کی کمر دوہری ہوگئی تھی۔ جب بھی اس کے کپڑے پھٹتے تھے ‘ یا تو کمر سے پھٹتے ‘جہاں وہ مشک ٹکایا کرتا تھا یا پھر عین گھٹنوں کے اوپر سے۔ اسے ہربار شک ہوتا کہ پہلے روز سجدہ کرتے وقت گھٹنوں تلے آکر کپڑا زمین سے رگڑکھا کرپتلا ہوگیا ہوگا اور چھاننی بن جانے والا کپڑاتو ایک روز پھٹ ہی جایا کرتا ہے۔ ایسے میں وہ خلوص ِدِل سے تمنا کرتا کہ کاش وہ ماشکی نہ ہوتا اورصرف کمہار ہوتا مگر دوسرے ہی لمحے اسے اَپنی حماقت پر رونا آجاتا تھا کہ بھلا کیسے ممکن تھا ؛ایک آدمی کمہار تو ہو اور ماشکی نہ ہو؟

کمہار ہو کر مسجد کا ماشکی ہونا اسے وراثت میں ملا تھا اس کا باپ‘ بہت پہلے شدیدسردیوں میں ‘ابھی تاروں کی چمک مدہم نہیں ہوئی تھی اور شیدے بانگی نے فجر کی اذان بھی نہیں دی تھی‘ پانی بھرکر لاتے ہوے عین مسجد کی پرلی نکر کے پاس ‘ٹھوکر کھاکر منھ کے بل گر گیا یوں کہ‘ چمڑے کی مَشک کے منھ پر مضبوطی سے جما اُس کا ہاتھ ڈِھیلا پڑ گیا ‘ اور گڑ گڑ کرتا پانی نکل کر اسے پوری طرح بھگو گیا تھا اُسے گھٹنے پر چوٹ آئی ‘ چوٹ اگر چہ زیادہ نہ تھی مگر کسی پتھر کی نوک پر پڑنے سے گھٹنے میں اتنی فوری اور شدیدتکلیف ہوئی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے تِرمِرے ناچ گئے تھے جب تک اس درد کی شدت مدھم ہوئی‘ مشک کا یخ پانی اسے پوری طرح بھگو چکا تھا گھر پہنچا تو وہ ٹَھرّوںٹَھرّوں کر رہا تھا پھر اسے تپ چڑھا اور اس تپ نے اسے اتنی ہی مہلت دی کہ مشک بیٹے کو تھمادیتا بیٹے کی مسیں ابھی پوری طرح بھیگی نہ تھیں کہ بھیگا ہوا باپ ٹھٹھر کر مر گیا۔ اسے مشک سے نفرت ہو گئی…. مگر وہ اس نفرت کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور تھا۔

جیجو اپنے مرحوم باپ کی طرح وضو خانے سے ملحق حوض کو پانی سے بھرتا رہتا۔ حوض ہر نماز کے بعد خالی ہو جاتا تھا اسے ان لوگوں پر بہت غصہ آتا جو اس کے گمان میں زیادہ پانی خرچ کرتے تھے۔ ان میں سے جازو جولاہے‘ فیقے مستری اور میر شفیع کو وہ مسجد سے واپس آتے ہوے ہر بار اس حال میں دِیکھا کرتا کہ ان کی قمیضوں کے دَامن ‘داڑھیاں یا پھر شلواریں گھٹنوں تک تر نظر آتی تھیں۔ سودے لُون کے بارے میں توگاﺅں بھر میں لطیفہ مشہور تھا کہ اسے اپناایک ایک عضو بھگونے کے لیے الگ سے بھرا ہواپانی کا لوٹاچاہیے ہوتا ہے۔

جیجو جب بھی خالی مشکیزہ کندھے پر جماکر سائیں سوجھے کی چِٹّی قبر کے پیچھے سے ہوتا پہاڑی کے مُڈھ سے بَل کھا کر گزرتے پتلاپانی تک پہنچتا تھا تو اس کے پاﺅں کے پنجے ڈھلوان میں مسلسل اُترنے کی وجہ سے اوپر اٹھنا بھول چکے ہوتے تھے۔ اسے وہاں سے مشکیزہ بھرنا ہوتا تھا وہاں پتھروں پر آگے ہی آگے چھچھلتی پھسلتی چلے جانے والی اُتھلے پانی والی یہ ندی پیالہ بن کر لمحہ بھر کے لیے پانی ٹھہرا کر آئینہ بنالیتی تھی۔

وہ مشکیزہ بھر کر اس کا منھ مٹھی میں دَبالیتا اورشیشہ بنے پانی میں خاکوٹ کے مکانوں کے عکس دیکھتا تو اس کا دِل بیٹھ جاتا تھا۔ ایسے میں جھک کر کندھے پر مشکیزے کواٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا تاہم وہ بوجھل دِل کے ساتھ اوپر کو چل دیتا تھا مسجد تک پہنچتے پہنچتے اسے سودے لُون سے جازو جولاہے تک جو بھی یاد آتا اس کی دِل ہی دِل میں ماں بہن ایک کرتا جاتا تاہم وہ واقعہ جس نے اس کے روّیے کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا‘ وہ فضل جُو کا گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے مار کھانا تھا اَب وہ اوپر سے پتلے پانی تک جس طرح بھاگتا ہوا جاتا تھااور جیسے پانی سے بھر اہوا مشکیزہ اٹھا کرپنجوں کے بَل اچھلتا کودتا اوپرپہنچتاتھا‘اُس پر سائیں سوجھے کی چٹی قبر ہر بار اسے حیرت سے دیکھنے لگتی تھی۔

بُری طرح پِٹ کر زخمی ہونے والے فضل جُو کو جب لوگوں نے اُس کے گھر پہنچایا تو اس کی ماں ‘ جو بچیوں کو قرآن پڑھانے کی نسبت سے گاﺅں بھر میں محترم تھیں اور سب انہیں بی بی صاحبہ کہتے تھے ‘ پہلے تو بیٹے کی حالت دیکھ کر چکرا کر گریں ‘ اور جوں ہی ہوش آیا ‘ چھاتی پیٹ پیٹ کر اپنے بچے پر یہ ظلم ڈھانے والوں کو کوسنے لگیں۔ پیش امام صاحب عصر کی نماز کے بعد مسجد گئے تو واپس پلٹنے کی بہ جائے اپنے مُرشد کے ملفوظات کی کتاب پڑھنے کے لیے وہیں حجرے میں بیٹھ گئے تھے ‘ خلاف معمول اَپنی بی بی کی کوسنے اٹھاتی آواز سنی تو ہڑ بڑا کر حجرے سے باہر نکلے اور مسجد کے دروازے سے ملحق اپنے گھر کے دروازے پرجمع ہجوم کو چیرتے اندر گھس گئے۔ لوگوں نے اتنے قلیل عرصے میں وہ اشارے کر دے دِیے تھے جو بیٹے کی حالت دیکھ کراور بی بی کے بین سن کر انہیں سارا معاملہ سمجھا گئے تھے۔ تاہم اس لمحے جب وہ اپنے گھر کے آنگن میں کھڑے تھے‘انہیں نہ تو زخمی بیٹا نظر آ رہا تھا نہ پڑوسنوں کے درمیان کھڑی چھاتی کوٹتی اور گالیاں بکتی بی بی کہ وہ تو اَپنی اس نیک نامی اور عزت کو خاک میں ملتا دیکھ رہے تھے جو عمر بھر کی ریاضت کا حاصل تھی۔ انہوں نے چھاتی کو وہاں زورسے دبایا جہاں انہیں بوجھ محسوس ہو رہا تھا ‘ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا لہرانے لگا۔ اس خدشے کے باعث کہ کہیں چکرا کر وہ گر ہی نہ جائیں وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ بی بی صاحبہ نے پیش امام کو یوں زمین پر بیٹھتے دیکھا تو ان کی آواز حلقوم ہی میںڈھے گئی تھی۔

شام کی نماز سے پہلے پہلے وہ ہوش میں آگئے تھے ‘ مگر ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ مسجد جائیں۔ تاہم انہوں نے یہ نماز قضا نہیں ہونے دی اور جب وہ رو رو کر اپنے ان گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے جو ان کی یادداشت سے باہر پڑے تھے اور جن کی سزا اُنہیں اِس رُسوائی کی صورت مِل رہی تھی تو آنسوﺅں سے اُن کی داڑھی بھیگ گئی تھی وہ بہت دیر بعد مصلے سے اٹھے‘ زخمی فضل جُو کا ہاتھ تھاما ‘ یوں زور سے جَھٹکادے کر اُسے چارپائی سے اتار‘ کہ اگر وہ نہ اُترتا تو ہو سکتا تھا اُس کا بازو ہی کندھے سے اُترجاتا بی بی صاحبہ نے یہ دِیکھا تو بھاگتے ہوے بیچ میں آئیں پیش امام صاحب نے اسے دوسرے ہاتھ سے پرے دھکیل دیا وہ فضل جُو کو گھسیٹتے ہوے باہر نکل گئے گاﺅں والے ایک بار پھر بی بی صاحبہ کی چیخیں سُن رَہے تھے۔

جیجو کے لیے اَن ہونی ہو گئی تھی۔ پیش امام صاحب نے کچھ نام لیے اور انہیں فوراً بلا لانے کو کہا۔ جیجوسب کو بلا لایاحالاں کہ یہ سارے وُہ لوگ تھے‘ جن کی داڑھیاں ‘ دامن یا گیلی شلواریں ہمیشہ اسے جی ہی جی میں مغلظات بکنے پر مجبور کیاکرتی تھیں۔ مگرجب وہ ان سب کو آوی کے پاس اَپنی ٹوٹی ہوئی ان دوچارپائیوں پر بیٹھا دیکھ رہا تھا جن کے علاوہ اس کے گھر بیٹھنے کو کچھ تھا ہی نہیں‘ تو یہ بھی دِیکھ رہا تھا کہ ان کے چہرے نور دھارے نے اجال رکھے تھے پیش اِمام سمیت یہ سارے لوگ اُسے آسمان سے اُترے ہوے فرشتے لگ رہے تھے۔

لذت کہاں تھی؟

ماسٹر فضل جُو اب مڑ کر فضیلت کے بارے میں سوچتے تھے تو انہیں یوں لگتا تھا جیسے وہ تو ان کے لیے آسمان سے اُتری تھی ‘ پنکھ لگاکر۔ وہاں جہاں جیجو کی آوی تھی گاﺅں کے لڑکوں سے پٹنا‘ ماں کا چھاتی کوٹ ڈالنا‘ ابا کا چکرا کر گرنااور پھر گاﺅں والوں کا جیجو چاچے کی آوی پر اکٹھے ہو کر اس کا نکاح کر دینا بس ایک بہانہ اور وسیلہ تھا۔

جب وہ چھاتی سے قرآن لگائے فضیلت کو سوچنے لگتے تو ڈھیروںوقت تیزی سے معدوم ہو جاتا تھا۔ جتنا وقت ا نہوں نے فضیلت کو سوچتے گزار دیا تھا‘ اتنا تو وہ ان کے پاس رہی بھی نہیں تھی۔ جس طرح فضیلت کو جنم دیتے ہوے اس کی ماں مر گئی تھی بالکل اسی طرح ‘اَپنی شادی کے لگ بھگ چوتھے سال‘ جب کہ ابھی وہ محض انیس سال کی تھی‘ ماسٹر فضل جُو کے بیٹے کو جنم دیتے ہوے وہ خود بھی دم توڑ گئی تھی۔ ان چار برسوں کی رفاقت انہوں نے کھینچ تان کر ساری عمر پر پھیلا لی تھی۔ چپکے سے چلے جانے والی ‘ پنجوں کے بل چل کر آجاتی تھی اور سارے میں اُجالا پھیل جاتا تھا۔

” فضیلت ادھر آﺅ تمہیں پڑھنا سکھا دوں“

وہ اُسے پاس بلاتے ‘ قرآنی قاعدہ کھول کر پہلے حرف پر انگلی رَکھتے اور اس کی بھولی صورت دیکھ کر ” آ“ کی آواز نکالنے کو کہتے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی۔

یہ کیا پڑھنا ہوا جی ‘ اس طرح تو میں ابا کے کہنے پر شیدو ہاتو کی مرغیاں گھیرا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔“
فضیلت اتنے بھولپن سے یہ کہتی تھی کہ فضل جُو کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی۔

وہ فوراًہی مچلنے لگتی کہ اسے اسی طرح پڑھنا سکھایا جائے جس طرح خود لہک لہک کر ماسٹر جی تلاوت کرتے تھے۔ وہ بھاگ کر جاتی اور کارنس سے قرآن پاک اٹھالاتی۔ محبت سے اس کا غلاف الگ کرتی۔ اسے دائیں اور بائیں آنکھ سے لگا کر چومتی اوردونوں بازﺅوں میں یوں بھینچ لیتی تھی جیسے وہ اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے میں اتار لینا چاہتی ہو۔ ماسٹر فضل جُو کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اَپنی بیوی کی اس خواہش کو کس طرح پورا کرے وہ شدید خواہش رَکھتے ہوے بھی لفظوں کو پوری صحت کے ساتھ اور صحیح مخرج سے ادا کرنے پر قادر نہ تھی بعض اوقات تو وہ سبق دہرانے میں اتنی شدید غلطیاں کر جاتی تھی کہ وہ” نعوذ باللہ ‘نعوذبا للہ“ کا ورد کرنے لگتے تھے۔ انہیں ساری عمر افسوس رہا تھا کہ وہ اسے نہ تو ڈھنگ سے نماز پڑھنا سکھا پائے تھے نہ قرآن۔ مگر جس طرح وہ سینے سے قرآن لگا کر لہک لہک کرگاتی رہتی تھی اس کی بابت سوچتے تو پورے بدن میں ایک عجب طرح کا کیف اور مستی بھر جاتی تھی:

”اَتُل کھرسی وِچ قرآن
آسوں پاسوں‘تو رحمان
لوہے دِیاں کنجیاں ‘تَرامے دِے تالے
یا نبی تُساں کرماں والے
کول میرے ہن کوئی نئیں تھوڑ
اللہ والے مینوں تیری لوڑ
یانبی دِی چڑھی سواری
چواں گُٹھاں دِی خبر داری“

اپنے پاک نبی کی اِس خبرداری میں وہ نہال رہتی تھی۔ تاہم”آیت “ اور ”کرسی“ کے عام سے الفاظ بھی وہ صحیح طور پر ادا کرنے پر قادر نہ تھی ”آیت“ اور” ال “ کو ملا کر پڑھتی تو ”اَتُل “ ہو جاتا اور ”کرسی “ کی بہ جائے وہ ”کھرسی “ کہتی تھی ماسٹر صاحب سمجھاتے :
”کھرسی نہیں کرسی“

اور وہ سوچے سمجھے بغیراِنتہائی عقیدت اور محبت سے دہراتی:
”کھرسی نہیں کھرسی“

جتنی بار اس کی تصحیح کی جاتی وہ اتنی بار‘ ویسے ہی پڑھ دیتی تھی جیساکہ کوئی لفظ شروع سے اس کی زبان پر چڑھا ہواہوتا تھا تاہم جب وہ خود تلاوت کرنے لگتے تو اصرار کرتی کہ آوازذرا بلند رکھی جائے وہ لپٹ لپٹا کر پاس ہی بیٹھ جاتی اور ہر آیت میں حروف کی ادائی کے دوران جس طرح آواز اوپر نیچے ہوتی اس کی سانسیں بھی پھولنا شروع ہو جاتیں۔ حتی کہ وہ ہچکیاں باندھ کر رونے لگتی تھی نمازکے لیے وہ اماں بی بی صاحبہ کی طرح دوپٹہ خوب اچھی طرح لپیٹ لیتی تھی۔ پانچوں وقت مصلے پر ضرور کھڑا ہوتی ماسٹر صاحب یہ سوچ کر کہ وہ نماز میں کیا پڑھتی ہو گی اپنے تئیں بہت شرماتے رہتے مگر نماز میں اس کی حضوری کا عالم دیکھتے تو خود پر شرماتے تھے انہیں بہت جلد اِحساس ہو گیا تھا کہ قرآن پڑھنے کا معاملہ ہو یا نماز روزے کا نادُرُست ہو کر بھی وہ سب کچھ اتنے یقین‘ محبت اور اہتمام سے کرتی تھی کہ انہیں اس کے مقابلے میں اپنا ایمان اور علم دونوں ہیچ لگنے لگتے تھے۔ وہ مر گئی تو بھی ماسٹر صاحب اس کے مقابلے میں خود کو کمتر سمجھتے رہے اسے خوابوں میں بلاتے اور اس سے اس خالص پن کا سبق لیتے جو اس کے وجود سے نور بن بن کر چھِن رہا تھا۔
مگر‘ کچھ دنوں سے یہی نور اُن کی آنکھوں میں چبھتا اور سینے میں چھید کرتا تھا شاید اب ماسٹر فضل جُو کچھ زیادہ ہی زودحِس ہو گئے تھے انہیں فضیلت کا یوں آنا بار بار ستانے کے مترادف دِکھنے لگا تھا۔ تاہم اس کاتو وہی معمول تھا جو ہمیشہ سے رہا تھا۔ رات کے کسی پہر چلے آنے والا‘ پنجوں کے بل ….اورچپکے سے وجود میں سرایت کر جانے والا…. اس معمول میں کبھی رخنہ نہیں آیا تھا۔ اور شاید اس سے کم پر فضیلت خود بھی راضی نہ تھی۔

ماسٹر صاحب نے خوب اِحتیاط سے ان زیادہ ستائے جانے والے دنوں کا حساب لگایا تو یہ اتنے ہی بنتے تھے جتنے دنوں سے وہ اپنے بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے اَب پیچھے پلٹ کر دِیکھتے تھے توبیٹے کے ہاں اُٹھ آنا انہیں یوں لگنے لگتا جیسے زِندگی یکدم رس سے خالی ہو گئی ہو۔ ایک خوب صورت سنہرے سیب جیسی زِندگی ‘ جوماسٹر صاحب کی دَست رَس میں تھی‘ وہ اس پر اپنے دانت گاڑھ سکتے تھے مگر اس میں سے لذّت نکلتی ہی نہ تھی۔ ہر بار منھ پھوگ سے بھر جاتا تھا۔

زمین کے چلنے سے پہلے

جو زِندگی وہ تج کر یہاں آگئے تھے اُس کے آخری حصے میں ان کی روح کے لیے اگرچہ لذّت کے ہلکورے باقی تھے مگر بدن کے ضعف نے اس میں سو طرح کے رَخنے ڈال دےے تھے اُن کی سانسیں ناہم وار رہتیں اور جوڑوں میں درد بھی وقفے وقفے سے جاگ اُٹھتا تھا۔ ایسے میں ماسٹر فضل جُو نے وہ جو عمر بھرکی ریاضت سے دین اور دنیا میں توازن کاایک نظام قائم کرلیاتھا ‘اس میں انہیں سو طرح کی خرابیاں نظر آنے لگتیں۔ ان کی زِندگی کرنے کا وتیرہ ان کے بہشتی باپ سے بالکل مختلف تھا گزرے ہوے زمانے کے ایک پیش امام کی دنیا ہو بھی کتنی سکتی تھی ڈیڑھ دوسو گھروں پر مشتمل چھوٹی سی بستی خاکوٹ میں زِندگی تھی بھی بہت سادہ اور اکہری مگر پیش امام اس سے بھی دست کش رہے تھے مسجد ‘ اس کا حجرہ یا پھر ایک کمرے اور پسار والا گھر۔ مسجد سلکھنی کے صحن سے گاوں کے بچوں اور ان کے گھرسے بچیوں کے سبق دہرانے کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں….یوں‘ جیسے سپارے نہ پڑھے جا رہے ہوں‘بہتاپانی پتھروں سے پھسلتا‘ گنگنا کر گزرے چلا جاتا ہو۔

بی بی صاحبہ کی زِندگی کی ضروریات تو پیش امام کی ضرورتوں سے بھی کم تھیں۔ چولہا بھی کبھی کبھار ہی جلنے پاتا تھا کہ گاﺅں والوں نے اپنے آپ ہی دِن باندھ لیے تھے کسی نے دِن کے اُجالے میں پیش اِمام اور بی بی صاحبہ کوآپس میں بات کرتے نہ دیکھا تھا۔ حتّی کہ فضل جُو کو بھی ماں باپ کاباہم صلاح کرنایا کسی بات پرکُھل کرقہقہہ لگانا یاد نہ آتا تھا۔ بعد میں جب بھی انہوں نے اپنے باپ کو ذہن میں لانا چاہا اُن کے دھیان میں مسجد سلکھنی کا‘ روئی کے گالوں جیسی داڑھی والا پیش اِمام آجاتا تھا ‘جس کا سر ہمیشہ کروشیئے والی سفید ٹوپی اوربُمَل بندھے چارخانوں والے رومال سے ڈھکا رہتا تھا۔

پیش امام صاحب گھر میں داخل ہونے کے بعد جوں جوں پسار کی طرف بڑھتے توں توں اُن کی گردن جھکتی چلی جاتی۔ اس اثنا میں اُن کی ماں کا گھونگھٹ بھی نکلنے لگتا تھا۔ وہ اَپنی انگلیاں ماتھے کے وسط سے اوپر‘ وہاں سے چادر کو گرفت میں لے کر لمبا گھونگھٹ نکال دِیتی تھیں‘ جہاں سے چاندی جیسے بالوں کے درمیان ‘بالکل سیدھ میں مانگ نکلی ہوتی تھی۔ اُن کا گھونگھٹ اِتنا لمبا ہوتا کہ وہ اس لمحے فضل جُو کی ماں یا اس کے باپ کی بیوی نہ رہتی تھی بی بی صاحبہ ہو جاتی تھیں۔ ایسے میں فضل جُو کی سماعتوں میں پسار کے اند رسے پتلے پانی کے بہاﺅ کی رچی بسی گنگناہٹ خود سے جاری ہو جاتی تھی۔

فضل جُومیں حوصلہ تھا نہ ہمت کہ وہ پیش امام صاحب جیسی زِندگی کواپنے لیے اختیار کرتے محکمہ تعلیم میں نوکری مل گئی تھی ‘ ہر طرف سے احترام ملاجسے دیکھو ‘ماسٹر صاحب ‘ماسٹر صاحب ‘کہتے تھکتا نہ تھا۔ لوگ سلام کرنے میں پہل کرتے۔ جہاں وہ تھے وہاں ابھی استاد ہونا یا صاحب علم ہونا واقعی لائق تکریم تھا جب ہر طرف سے اتنی عزت ملی تو چھاتی پھولنے اور شملہ تننے لگا۔ تاہم اس سب کو وہ اس کی عطا سمجھتے رہے تھے جس کے لیے اُن کے اَبا جی نے دنیا تج دِی تھی۔

جب تک وہ اَپنی زِندگی میں رُجھے رہے ‘سب کچھ ٹھیک ٹھیک چلتا رہا۔ مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ‘ اور اَپنی عمر سے مات کھا کر ‘جب سے وہ بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے اُن کے اَندر بہت توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ انہیں جس خدا سے معاملہ رہا تھا وہ اس جدید طرز کے ٹاور کے کسی اور حصے میں ہو تو ہو وہاں نہیں تھا جہاں اُن کا بیٹااور بہو رہتے تھے۔ شاید یہی سبب ہوگا کہ اپنے کمرے میں انہیں اسے پاس بلانے رابط خاص قائم کرنے اور اس کا ہو جانے میں بہت جتن کرنے پڑتے تھے اگرچہ اس گھر میں اشیاءنے بہت جگہ گھیر رکھی تھی تاہم یہ خلوص سے جتن کرتے تھے تو وہ راہ بناتا چلا آتا تھا۔

اس رات کہ‘ جس کے معدوم ہو چکنے کے بعد بھونچال کوچپکے سے آکر سب کچھ تلپٹ کر کے رَکھ دِینا تھا‘عین اسی رات کو فضیلت نے آکرماسٹر فضل جُو کو بہت ستایا تھا۔ وہ پڑھتے ہوے بار بار اونگھتے اور اِسی اونگھ جھپکی میں لمبا غوطہ کھا جاتے ‘ یوں جیسے پینگ ہلارے لیتے لیتے ایک لمبی جست لے اوربادلوں میں اترکر واپس آنا بھول جائے۔ خواب کے اس لمبے ہلارے نے جن بادلوں میں انہیں اتارا تھا ‘وہاںفضلیت تھی‘ جو بار بار پوچھے جاتی تھی:

” ماسٹر جی تم ان کے لیے کیوں پڑھتے ہو جو خود پڑھ سکتے ہیں‘ مگر پڑھنا نہیں چاہتے ؟‘‘
ماسٹر جی چپ رہے تو وہ تن کر اُن کے سامنے کھڑی ہو گئی :
”دیکھیں جی‘ میں جو ہوں آپ کے سامنے ‘ بالکل کوری‘ ایک بھی مبارک لفظ ڈھنگ سے نہ پڑھ سکنے والی ‘ لیکن ایک ایک لفظ کے لیے اپنے پورے وجود کو سماعت بنا لینے والی …. آپ میرے لیے کیوں نہیں پڑھتے جی؟“
انہیں کوئی جواب نہ سوجھا تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھ گئے اور پورے بدن کو جھلا جھلا کر پڑھنے لگتے غالباً وہ تیسرا یا چوتھا جھلارا ہوگا کہ ایک سرگوشی کی سنسناہٹ پورے کمرے میں تھرا گئی:
’ ’ کوئی نہیں سن رہا“

انہوں نے اس آیت پر انگلی رکھی جسے پڑھ رہے تھے اور کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ چپکے چپکے اورٹھہر ٹھہر کر یوں جیسے انہیں یقین ہو کہ وہاں کوئی تھا مگر اَپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے ان کی نظروں میں آنے سے بچ رہاتھا۔ تھک ہار کران کی نظر یں پاک صحیفے پر سرنگوں اَپنی شہادت کی انگلی پر آکر رک گئیں مگرزبان تالو کے ساتھ چمٹی رہی انہوں نے قرآن پاک کو وہیں سرہانے پر کھلا رکھ دیا اور ٹانگیں سیدھی کرکے پلنگ سے لٹکانا چاہیں ایک آدھ لمحہ اُس اینٹھن کو جَھٹکنے میں لگ گیا جوایک ہی رخ بیٹھے بیٹھے ان ٹانگوں میں ہونے لگی تھی تاہم جب ٹانگوں پر بوجھ ڈال کر کھڑے ہو ئے تو وہ بہت جلد توازن برقرار رکھنے کے قابل ہو چکے تھے۔

انہوں نے کھڑے کھڑے فضا میں متحرک ان مقناطیسی لہروں کو محسوس کیا جو پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھیں۔ یہ لہریں اُن کے جسم پر یوں رینگنے لگیں جیسے چیونٹیاں رینگتی ہیں‘ جس سے ان کے بدن کا رواں رواں کھڑا ہو گیا۔ اُن کے دِل پر بھی خُون کا دباﺅ بڑھ رہا تھا جس نے انہیں بوکھلا دِیا اس بوکھلاہٹ میں ان کے قدم دروازے کی سمت اٹھنے لگے جب وہ دروازے کی طرف جا رہے تھے توانہیں یوں لگا تھا؛جیسے عین ان کے عقب میں فضلیت بھی پنجوں کے بل چلی آتی تھی۔ وہ غصے میں دھونکنی کی طرح چلنے والی اس کی سانسوں کی آنچ بھی اَپنی گردن پر محسوس کر رہے تھے :

”وہاں کوئی نہیں ہے “
اُنہوں نے پیچھے مڑ کر دِیکھا وہاں آواز نہیں ‘ایک سسکاری تھی۔ دِل بیٹھنے لگا تو دھیان ہٹانے کے لیے آگے بڑھ کر دروازہ چوپٹ کر دیا ….
وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔
لاونج کے خالی پن کو چیر کر ان کی نظر یں اپنے بیٹے اور بہو کے بیڈ روم کے بند دروازے پرپڑیں۔ ایک عجب طرح کی بے پرواہی وہاں ٹھہری ہوئی تھی۔

دروازے میں کھڑے کھڑے جب اُن کے سوچنے کے لیے کچھ نہ رہا تو ماسٹر فضل جُو نے گردن موڑ موڑ کر کمرے میں دیکھنا بھی معطل کر دیا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ وہاں اب کسی کی خُوشبو تھی نہ قہقہے‘ سرگوشیاں تھیں نہ لہجے کی وہ آنچ جو کب سے ان کی محسوسات کا حصہ تھی۔ وہاں فقط برہم اور اجنبی سی مقناطیسی لہریں تھیں تعطل کے اسی عرصے میں انہیں یاد آیا کہ وہ بستر کے سرہانے قرآن کھلا چھوڑ آئے تھے:

”بیٹا قرآن یوں کھلا نہیں چھوڑتے ‘ شیطان پڑھنے لگتا ہے“

یہ بی بی صاحبہ کی آواز تھی۔ نحیف سی آوازجو انہوں نے مُدّت بعد سنی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ شیطان کے قرآن پڑھ لینے والی بات محض اس لیے کی جاتی تھی کہ بچیاں قرآن پڑھنے کے بعد غلاف میں لپیٹ کر اور کارنس پر رَکھ کر جایا کریں تاہم بعد میں انہوں نے اس کا یہ مفہوم خودسے اخذ کر لیا تھا کہ مومنین کے لیے ہدایت بنتی آیات کو شیطان مردود کھلے قرآن سے اُچک کر ان میں سے اپنے مطلب کے معنی نکال کر اِدھر اُدھر پھیلا دیتا ہوگا؛ تب ہی تو پہلی عمر میں تواتر سے سنے گئے اس جملے کے سچا ہونے کا انہیں یقین سا ہو چلا تھا۔ انجانے خوف کے زیرِ اثر وہ بھاگتے ہوے اپنے بیڈ تک پہنچے ‘ سرہانے سے قرآن پاک کو اُٹھا کر تَہ کرتے ہوے کئی بار بوسے دیئے اسے آنکھوں سے لگا کرسینے کے ساتھ چمٹایااور دروازے میں آکھڑے ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب زمین اپنے آپ چل پڑی تھی۔

ملبا درد کی گرہیں کھولتا ہے

کہتے ہیں جب پیش امام صاحب ‘ نے کچی لکیر پار کی تھی تو پیش امام نہیں تھے۔ وہ تو اُدھرپونچھ میں صاحب حیثیت آدمی تھے ماں باپ نے لس جُو نام رکھا اور اِسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ ایک بار یوں ہوا کہ وہ حضرت بل کے پاس سے گزرتے ہوے بے ارادہ اندر داخل ہو گئے۔ دِل پر ایسا رُعب پڑا کہ کئی گھنٹے باہر نہ آسکے۔ اِسی بے خودی کے دورانیے میں اُنہیں کچی لکیرپھاند لینے کا حکم ہوا۔ انہوں نے سب کچھ سے ہاتھ جھٹکا‘اور ادھر اٹھ آئے تھے۔ کچھ کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ ان کا جوان بھائی مار دِیا گیا اور مارنے والے ان کے تعاقب میں تھے لہذا ادھر آنے کا حیلہ انہوں نے اَپنی جان اور نسل بچانے کے لےے کیا تھا۔

لس جُو نے جان بچالی تھی مگر اس کی نسل کے قدموں تلے‘ اب جو زمین تھی ‘وہ اپنے آپ چل پڑی تھی۔

جب لس جُو پونچھ سے تتری کوٹ آئے تھے تو ان کا وجود ایک عجب طرح کے شدیداِحساس سے لرزتا رہتا تھا۔ یہاں ادھر کی خبریں آتی رہتی تھیں جو احساس کے عُجب اور شدت میں اضافہ کرتی رہتیں۔ پوری طرح سمجھ میں نہ آنے والا یہ اِحساس انہیں کبھی تو ایک بار پھر کچی لکیر پار کرنے پر اکساتا اور کبھی اس سے دور پٹخ دیتا تھا۔ اس پراسرار اِحساس سے چھٹکاراپانے کے لیے انہوں نے اپنا گھر کاندھے پر رَکھ لیا اور پہاڑوں کے اندر بھٹکنے لگے۔ کبھی گڑمنڈہ‘ سدھن گلی‘ کامی منجہ اورحسّہ تو کبھی پرس ‘ بٹل اور چناری حتی کہ وہاں سے خاکوٹ آگئے جس نے انہےں اپنے اندر بسالیا تھا۔ پہلی بار تتری میں رہائش اِختیار کرنے کی مناسبت سے وہ ایک عرصہ تک لس جو تتری کہلاتے رہے۔ پھر یوں ہوا کہ مسجد سلکھنی کی پیش امامی ان کی زِندگی کا وظیفہ ہو گئی جس نے ان کا اصل نام سب کے ذہنوں سے محو کر دیا تھا۔

جس روز بھونچال آیا تھا‘اس روز دن ڈھلے تک سب یہ سمجھ رہے تھے کہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں بس ایک ملٹی سٹوری ٹاور گرا تھا۔ وہی‘ جس کے چھٹے فلو ر پر ماسٹر فضل جُو شیطان کی نظر کھلے ہوے قرآن پر پڑنے کے خدشے سے اپنے بیڈ تک آئے تھے اور قرآن چھاتی سے چمٹا کر واپس دروازے کی چوکھٹ میں جاکھڑے ہوے تھے۔ عین اس وقت کہ جب بہت سارے کیمروں کو گواہ بنا کر حکومت کا سربراہ اس ٹاورکے ملبے پر چڑھ کر اعلان فرما رہے تھا کہ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ‘ اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ادھر پہاڑوں پرکتنی بڑی قیامت ڈھے چکی تھی۔ وہاں زمین نے کئی پلٹے کھائے اور پہاڑوں نے بُھربُھرا ہو کر خاکو ٹ کواپنے اندر چھپالیا تھا۔ مسجدسلکھنی کے میناروں ‘ پیش امام صاحب اور بی بی صاحبہ کی قبروں ‘ جیجو کی اجڑ چکی آوی اوراوپر سے نیچے کو دھیمے سروں میں بہنے والے پتلے پانی‘ اور اس کے مکینوں کی نارسائیوں اور معصومیت سمیت سب کچھ خاک کا رزق ہو چکا تھا ….کہ اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔

لگ بھگ یہ وہی وقت بنتاہے‘ ملبے کے اوپر چڑھ کر تصویریں بنوانے والا‘ اور وہ بھی یوں جیسے کوئی شوباز شکاری پہلے سے مرے ہوے شیر کو دیکھے اور اس کے بدن پرپاﺅں رکھ کر لوگوں کے دلوں پر دھاک بٹھانے کے لیے تصویریں اتروانا شروع کردے ‘…. ہاں‘ عین مین وہی وقت ‘ جب اوپر سے کدال پڑنے ‘ اور لوہا کاٹنے کی آوازیںآنے والے کے پروٹو کول میں کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئی تھیں۔ تب سیمنٹ اور سریے کی کئی تہوں تلے ماسٹر فضل جُو کو اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔ بہت جلد زِندگی کے اِس اِحساس کوان کی دمچی سے ‘ ٹانگوں ‘پنڈلیو ں اورکمر سے بازﺅوں‘ گردن اور گدی سے اٹھنے والے درد نے پچھاڑ دیا تھا۔ وہ بے بسی اور درد سے جس قدر بلبلا سکتے تھے بلبلائے ‘رو ئے اورپھر سسکتے چلے گئے۔ مگر جب اُنہیں اِحساس ہوا کہ اُن کی چیخوں اور رونے دھونے کو سننے والا وہاں کوئی نہیں تھاتو وہ یوں چپ ہوگئے جیسے ازل سے بولنا جانتے ہی نہ تھے۔ تب انہیں اپنا بیٹا اور بہو ایک ساتھ یاد آئے۔ اپنے بہشتی ماں باپ کی طرح انہیں بھی انہوں نے آپس میں کم ہی صلاح کرتے یا کھل کھلا کر ہنستے دیکھا تھا تاہم اس ایک وتیرے کی تاثیردونوں کے ہاں بالکل مختلف اور متضاد ہو جاتی تھی۔ وہ دونوں‘جو اندر تھے ان کی آنکھوں کے سامنے والے دروازے کے پیچھے ‘ یقینا وہ ایک بیڈ پر ہوں گے مگر وہ اندازہ کر سکتے تھے کہ مصروفیت کی تھکن نے انہیں دونوں کناروں پر ہی گرادیا ہو گا ؛یوں کہ وہ پہلو بدل کر قریب بھی نہ ہو پائے ہوں گے۔ اس فاصلے کو انہوں نے ان کے بیڈ روم کے دروازے پر کھدا ہو دیکھ لیا تھا یہ جو آنے ولا وقت اُن کی محسوسات پر دستک دینے لگتا تھا اس سے بچنے کے لیے انہوں نے اندازے لگانا بند کر دیے تھے۔

ابتدا میں جو اندازے لگائے جارہے تھے وہ سارے ہی غلط ہو چکے تھے۔ تتری کوٹ سے خاکوٹ تک پہاڑوں پر بستیاں لاشوں سے بھری پڑی تھیں اور انہیں بے گوروکفن پڑے اتنا وقت گزر چکا تھا کہ وہ تعفن چھوڑنے لگی تھیں انہیں یا تو دفنانے والا کوئی نہ بچا تھا اور اگر کوئی بچ گیا تھا تو اپنوں کی اتنی لاشیں زمین میں دبا چکا تھا کہ اس کے ہاتھ شل ہو چکے تھے ادھر شہر کے وسط میں ڈھے جانے والے ٹاور سے بھی لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔ ملبے میں سے گاہے گاہے زندہ لوگ بھی نکل آتے تھے اور جب ایسا ہوتا تو متحرک اور ساکت تصویریں بنانے والے کیمروں کو اٹھائے میڈیا کے منتظر لوگ بھاگ بھاگ کر اس کی تصویریں اتارنے اور رپورٹیں نشر کرنے میں سبقت لے جانے میں مگن ہو جاتے ایسے میں یوں لگتا تھا جیسے موت کے سناٹے سے زِندگی کی ہماہمی نے یک لخت جنم لے لیاہو۔ تاہم ابھی تک نہ توماسٹر فضل جُو کو دریافت کیا جا سکا تھا اور نہ ہی ملبے کے ڈھیر میں دبی ہوئی ایک بیڈ کے دونوں کناروں پر پڑی ان کے بیٹے اور بہو کی لاشوں کو نکالا جا سکا تھا۔

ماسٹر فضل جُو اِس سارے عرصے میں دَرد سہے چلے جانے کے لائق ہو گئے تھے اسی دوران میں انہیں یہ اِحساس بھی ہوا تھا کہ قرآن پاک اُن کی چھاتی سے لگا ہواتھا۔ تاریکی کی بے شمار تہوں کے باوجود اُنہوں نے چاہا کہ اُسے کھول کر پڑھیں۔ اَپنے بازوﺅں پر زور لگا کرایسا کرنا بھی چاہا مگر بازو جہاں تھے‘ وہیں جمے رہے۔ ملبے نے چاروں طرف سے اُن کے بازوﺅں کو جسم سمیت دَبا رکھا تھا ‘ یوں کہ وہ ذرا سی حرکت بھی نہ کر سکتے تھے۔ تب اُنہیں ایک بار پھر ایک نحیف سی آواز سنائی دے گئی تھی؛وہی شیطان سے چوکنا کرنے والی ماں کی آوازانہوں نے بازﺅوں کو کو کھولنے کے جتن ترک کر دِیے تھے۔

جب ٹھہرے ہوے وقت اور تاریکی کو کاٹ ڈالنے کا کوئی بھی حیلہ ان کے ہاتھ نہ لگا تو انہوں نے اَپنی یادداشت پر زور ڈال کر کچھ آیات تلاوت کرنا چاہیں مگر ہوا یہ کہ وہ سورة زلزال کی اِبتدائی آیات کے بعد سورة والعصر کی اِنسان کو خسارے میں بتانے والی آیات پڑھ گئے تھے انہوں نے پھر سے درست درست پڑھنا چاہا تو ایسا متشابہ لگا کہ کہیں سے کہیں نکل گئے۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ اس پر وہ اتنا بوکھلائے کہ اُمید کا دامن اُن کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ایسے میں انہیں اِحساس ہوا کہ وہاں تو سانس لینے کے لےے ہوا ہی نہیں تھی۔

اور جب ماسٹر فضل جُو نے اَپنے تئیں ملبے کے اَندر پھنسی ہوئی ہوا کو کھینچنے کے لیے آخری حیلہ کیا تو اُن کی پسلیاں چٹخنے لگیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سیمنٹ اور سریے کی تہیں کاٹ کرفضیلت وہاں پہنچ گئی تھی؛ سارے غصے کو تھوک کر‘ اور اُن ساری آوازوں کو ساتھ لے کر ‘جو ملبے میں دبنے والوں کے دُکھ سے بوجھل ہو گئی تھیں۔ یہ آوازیںگنتی میں نہ آنے والے لوگوں کے سینوں سے اُبل اُبل کر ویسی ہی گنگناہٹ پیدا کر رہی تھیں جیسی ماسٹر فضل جُو کی سماعت میں خاکوٹ کے پتلا پانی نے بسا رَکھی تھی۔ تب ماسٹر صاحب کو یوں لگا تھا کہ جیسے ان کے بازو تو ویسے ہی جکڑے ہوے تھے مگر اُن کے حصار میں موجود‘ ایک مُدّت سے خوابیدہ سارے مبارک اور روشن لفظ‘ خودبخود ان کی چھاتی کے اندرمقطر ہو رہے تھے۔ فضلیت نے آتے ہی اَپنے ہاتھوں کے ملائم لمس سے اُن کے وجود کی ساری گرہوں کو کھولنا اور سارے دَردوں کو سمیٹنا شروع کر دِیا تھا۔

وہ اَپنی ہی دُھن میں مگن رہی‘ حتی کہ اس کی ریاضت مستجاب ہوئی اور اسے اپنے سنگ آنے والی ساری آوازوں کے ساتھ ان کے وجود کے اَندر حلول کر جانے کا اِذن ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی زِندگی کی لذّت میں گندھا ہوا تازہ ہواکا لطیف جھو نکا ملبے میں گھس کر ان کے ڈھے جانے والے وجود کے اندر بہت گہرائی میں اترگیا …. اب صرف وہی سانس نہ لیتے تھے‘ پورا ملبا سانس لیتا تھا۔

Categories
فکشن

لوتھ

اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔

ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاؤ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے۔۔۔۔ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوں پرچلتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے تھے اورچڑھواں درد گھٹنوں کی جکڑن بن گیا تھا۔۔۔۔ حتی کہ دَردوں کی تپک اس کے حواس معطل کرنے لگی۔ اُسے سمتوں کا شعور نہ رہتا تھا۔ جدھر جانا ہوتا، اُدھر نہ جاتا بل کہ اُلٹ سمت کو نکل کھڑا ہوتا۔
اُسے بار بار ڈھونڈ کر لایا جاتا۔

ہر بار اُس کے زخم رِس رہے ہوتے تھے۔

زخم تھے تو بہت پرانے مگر بیٹے پر اُن کے کُھلنے اور حواس پر شب خُون مارنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ اس کا بیٹا ٹی وی کے سامنے بیٹھا بار بار دِکھائے جانے والے وقت کے عجوبہ سانحے کو حیرت سے دِیکھ رہا تھا۔ پہلے ایک طیارہ آیا ٗ قوس بناتا ہوا۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ ایک فلک بوس عمارت سے ٹکرا گیاٗ شعلے بھڑک اُٹھے۔۔۔۔۔۔ اور اَبھی آنکھیں پوری طرح چوپٹ ہو کر حیرت کی وسعت کو سمیٹ ہی رہی تھیں کہ منظر میں ایک اور طیارہ نمودار ہوا۔ پہلے طیارے کی طرح۔۔۔۔۔۔ اور پہلی عمارت کے پہلو میں اُسی کی سی شان سے کھڑی دوسری عمارت کے بیچ گھس کر شعلے اُچھال گیا۔

وہ اپنے بیٹے کے عقب میں بیٹھا یہ سارا منظر انوکھے اطمینا ن سے دیکھتا رہا ٗ جیسے یہی کچھ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ یا پھر جیسے یہی کچھ ہونا چاہیے تھے۔ اَگلے روز اطمینان کی جگہ بے کلی نے لے لی۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ کچھ ہی دنوں میں وہ دہشت زدہ ہو چکا تھا۔

جب پہلی بار یہ منظر سکرین پر دِکھائی دِیا تھا ٗ انوکھی طمانیت کی بھبک کے باعث اُس نے اَپنے ہی تلووں کے زخمی حصے کو سختی سے دَبا لیا تھا جس کے سبب اس کے ہونٹوں سے سسکاری نکل گئی تھی۔

بیٹے نے پلٹ کر باپ کو دِیکھا اور فوری طور پر اس سسکاری کے کچھ اور معنی نکالے تھے… تاہم جب اُس کی نظر رِستے ہوے تلووں پر پڑی تو بہت پریشان ہو گیاتھا۔
اُسے گلہ تھا کہ آخر اُس سے ان زخموں کو اوجھل کیوںرَکھا گیا تھا؟
وہ اَزحد فکرمندی ظاہر کرنے لگاتھا ٗ …اور شاید فکر میں مبتلاہو بھی گیا تھا…لگ بھگ اِتنا ہی فکر مند، جتنا کہ دونوں فلک بوس عمارتوں کے ساتھ طیاروں کے ٹکرانے کے بعد ہوا تھا۔

بعد کے دنوں میں دَرد اور تشویش میں اِضافہ ہوتا چلا گیا حتّی کہ دونوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔

پھر یُوں ہوا کہ بیٹے نے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرنے والی ملٹی نیشنل اداروں کے ڈاکٹروں کی ٹیم سے رابطہ کیا۔ غیر ملکی ڈاکٹروں نے یہاں کے ڈاکٹروں کو مشورہ دِیا اور اُن صورتوں پر غور ہونے لگا جو اُس کے باپ کے علاج کے لیے ممکن تھیں۔

مگر اُس کا باپ اِن ڈاکٹروں کے نام ہی سے بِد کنے لگا تھا۔ اُسے نہ جانے کیوں اُن کی صورتیں اس کمپنی کے کارپردازان کی سی لگنے لگتی تھیں، جنہوں نے اپنے پراجیکٹ ایریا تک بہ سہولت رسائی کے لیے سامنے کی پھلواری بھی ایکوائر کروا لی تھی۔ اُس کے باپ کا خیال تھا کہ تب جوزمین کو زخم لگے تھے اُس کے پاؤں کے تلووں نے سنبھال لیے تھے۔ اُس کا بیٹا کورآباد کو نکلتی سراب اُچھالتی شاہ راہ پر لمبی ڈرائیو کرتے ہوے اُن باتوں کی بابت سوچتا اور قہقہے مار کر ہنستا تھا۔

وہ قہقہے مار مار کر ہنستا رہا حتّی کہ قہقہوں کے تسلسل سے اُس کی آنکھوں میںکسیلا پانی بھر گیا۔
جب اُس کا باپ رَفتہ رَفتہ اَپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا، تب بھی اُس کی آنکھوں میںایسا ہی کسیلا پانی تھا۔

پہلے پہل یوں ہوا تھا کہ ٹی وِی پر دونوں عمارتوں سے جہاز ٹکراتے دِیکھ کر وہ بھی قہقہہ بار ہوا ٗ اور ہوتا چلا گیا۔۔۔ حتّی کہ آنکھیں کڑوے پانیوں سے بھر گئیں۔ جب اُس کی آنکھیں، بار بار نشر کیا جانے والا منظر، دیکھنے کے قابل ہوگئیں تووہ عجیب طرح سے سوچنے لگا تھا۔ منظر میں توجہاز جڑواں فلک بوس ٹاورز کے بیچ گھستے تھے مگر اُسے یوں لگتا،جیسے وہ دونوں ٹاورز لوہے اور سیمنٹ کے نہ تھے، اُس کی اَپنی ہڈیوں اور ماس کے بنے ہوے تھے۔

اُدھر سے جب بھی شعلے اُٹھتے تھے اِدھر اس کے درد کی چاہنگیں اُسے جکڑ لیتی تھیں۔
دَرد بڑھتا گیا ، اِس قدر۔۔۔۔۔ جس قدر کہ وہ بڑھ سکتا تھا۔

جِن ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹے نے رابطہ کیا تھا، اُن سب کا کہنا تھا ، بہت دِیر ہو چکی تھی۔ ٹانگوں کا کٹ جانا اُس کے باقی بدن کی بقا کے لیے ضروری ہوگیا تھا
اُس کے باقی بدن کو بچا لیا گیا۔

اس بدن کو، جس کے زِندہ یا مردہ ہونے کے بیچ کچھ زیادہ فاصلہ نہ تھا۔

خود اُسے بھی اَندازہ نہ ہو پایاکہ اَپریشن کے بعد وہ کتنے عرصہ تک بے سُدھ پڑا رَہا۔۔۔ تاہم اس سارے دورانیے میں اُس درد کی شدت کا سلسلہ شاید ہی معطل ہوا ہو گا، جو اَندر یوں گونجتا تھا کہ باہر کی سمت چھلک مارنے لگتا تھا۔

دَرد کی کَسمَساہَٹ جب ہونٹوں تک پہنچی تو اُس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے جکڑ لیا۔۔ دَرد چہرے کے خلیے خلیے کو تھرّانے لگا۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ پورے بدن پر لرزہ سا تَیر گیا۔

اور یہ وہ آخری لَرزَہ تھا جو اُس نے اَپنے پورے بدن پر بکھر جانے دِیا تھا۔

بدن پر لوٹتی تھراہٹ کے سبب اُس کے چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ سب سے زِیادہ فکر بیٹے کو لاحق تھی۔ بدن سے باہر چھلکتے درد کے باوصف اَبھی تک وہ باہر کی دنیا سے بہت دور تھا۔۔۔۔۔ کہ وہ تو وہاں تھا ٗ جہاں درد کے دَھارے کے ساتھ بسین نالے کا پانی تھا۔
اس پانی کے بہاؤ کی شوریدگی تھی

اور وہ ساری دہشت بھی تو وہیں تھی جسے پرے دھکیلنے کے وہ عمر بھر جتن کرتا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔

بسین نالہ۔۔ جہاں وہ رہتا تھا، وہاں سے سات میل ادھر پڑتا تھا۔ اَپنے اُن دِنوں کے دوستوں کے ساتھ وہ برسوں اس نالے پر جاتا رہا تھا۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں تھا کہ جب بہتے پانیوں کو دِیکھ کر خواہ مخواہ نہانے کو جی کرتا ہے۔ وہ اَپنی شلوار نیفے میں اُڑس لیا کرتا تھا ٗ بڑے پَلّوں والی بھاری شلوار کو اِتنے بَل دِیئے جاتے کہ اُس کا آسن کاٹنے لگتا تھا۔ وہ بسین میں گھس جاتا تو اُس وقت تک پانی سے باہر نہ نکلتا تھا جب تک کہ اُس کا آخری دوست بھی باہر نہ نکل آتا۔ بسین کا پانی اُچھالناٗ اُس کی ریت پر ننگے پاؤں چلنا اور پانی کے بہاؤ کی آواز سننا ٗ مَدّھم سی اور مَدُھر سی ٗ اُسے اَچھا لگتا تھا۔

وہ اَپنے دوستوں سے اِس قدر وابستہ ہوتے ہوے بھی اُن جیسا نہ ہو سکا تھا۔ اُس کے ساتھی عین اس وقت کہ جب وہاں سے ریل کو گزرنا ہوتا تھا ٗ اُسے کھینچ کر اُدھر اوپر لے جاتے۔۔۔۔۔۔ وہاں جہاں تنگ سے پُل کے اُوپر سے ریل گزرتی تھی تو سارے میں ریل کے گزرنے کی گڑ گڑاہٹ بھر جاتی تھی۔ ریل گزرنے کے لمحات میں وہ سب پُل کے نیچے سے اُوپر کا نظارہ کرتے اور قہقہے مارتے تھے۔۔۔۔ مگر وہ دہشت زَدہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلتا تھا۔ قہقہے مزید بلند ہوتے ٗ وہ ساری قوت مجتمع کرکے قدم اُٹھاتا ٗ اِتنی بھرپور قوت سے کہ جیسے اُس کا اگلا قدم وہاں پڑے گا جہاں نالہ دَم توڑ دِیتا تھا۔

بعد کے زمانے میں وہ اس چھوٹے سے نالے کی بابت سوچتا تھا تو اُس کا دَم ٹوٹتا تھا۔
وہ کوشش اور ہمت سے اس کی یادوں کو حافظے پر سے پرے دھکیلتا رہا۔
جب تک وہ حواس میں رہا، اَپنی اِس کوشش میں کام یاب بھی رہا۔

مگر بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔
پہلے پہل کا دِھیرے دِھیرے بہنے والا بسین نالہ، بپھر کر دَریا بن چکا تھا۔

وہ پُل، جس کے نیچے کی چھاجوں برسنے والی دہشت ،اسے پَرے پھینک دِیتی تھی ٗ پانیوں کی تندی میں بہہ گیا تھا۔
اور وہ فاصلہ ٗ جو وہ بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ پیدل ہی طے کر لیا کرتا تھا ٗ ٹرین پر طے ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین پراُس کے لٹے پٹے مسافروں سے کہیںزِیادہ خوف لدا ہوا تھا
دہشت میں گندھا خوف ٗ چیخیں اور سسکیاں اُچھالتا ہوا۔
پُل ٹوٹ جانے کے سبب پٹڑی اُکھڑ کر پانیوں کے سنگ بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اور رِیل گاڑی کو، کوس بھر پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔
ریل کے رُکتے ہی دہشت کا منھ زور ریلا اُمنڈ پڑا ،جو بسین کے کِنارے کِنارے دورتک پھیل گیا تھا۔ اُوپر کہیں شدید بارشیں ہوئی تھیں، یہاں بھی مینہ کم نہ برسا تھا اور ابھی تک پھوار سی پڑ رہی تھی مگر اُوپر کی بارشوںنے نالے کو دَریا بنا دیا تھا۔ حوصلے تو پہلے کے ٹوٹے ہوے تھے، آگے کا پُل ٹوٹ گیا تھا اوربلوائی کسی بھی وقت ان تک پہنچ سکتے تھے۔ بسین کا بپھرا ہوا پانی سامنے تھا، بلوائی نہیں پہنچے تھے مگر اُن کی دہشت پہنچ گئی تھی۔
شُوکتی ہوئی اور خوخیاتی ہوئی دَہشت…
خوف سینوں سے سسکاریاں کشید کرتا تھا…اتنی زیادہ اور اس تسلسل سے کہ یہ سسکاریاں بسین کے پانیوں کے شور شرابے پر حاوی ہو رہی تھیں۔

وہاں کچھ ہمت والے بھی تھے جو خوف کو پرے دَھکیلتے دَھکیلتے اُکتا گئے تھے۔ اب اُنہیں اُن کے حوصلے اُکساتے تھے لہذا، اُنہوں نے بپھرے پانیوں میں اَپنے قدم ڈال دیے۔

کئی پار چڑھ گئے تو اسے بھی یقین سا ہونے لگا کہ وہ بھی پار نکل جائے گا۔ اس نے اَپنی بیوی کا ہاتھ تھاما، ننھّی بیٹی کو کندھے سے لگایا اور ہمت والوں کے ساتھ ہو لیا۔ اُس نے بیوی کو نگاہ سامنے کنارے پر جمائے رَکھنے کی تلقین کی اور خود بھی پار دِیکھ کر آگے بڑھنے لگا۔

اُس کی بیوی کو آٹھواں آدھے میں تھا۔ پانی دِیکھ کر اُسے چکر آنے لگتے تھے ٗ ایک قدم آگے بڑھاتی تھی تودو پیچھے کو پڑتے تھے۔ وہ سامنے کنارہ دیکھتی تھی مگر اُچھلتا چھل اُچھالتا منھ زور پانی اس کا دھیان جکڑ لیتا تھا… حتی کہ وہ چکرا گئی ٗ پاؤں اُچٹ گئے اور وہ پانیوں پر ڈولنے لگی۔

اُس نے بیوی کو چکرا کر پانی پر گرتے ہوے دِیکھا تو اُسے سنبھالنے کو لپکا۔ ننھی بیٹی جو کندھے سے لگی تھی اس پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ بیوی کو سنبھالتے سنبھالتے بیٹی پانیوں نے نگل لی۔ اُس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ چند ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

وہ عین بسین کے وسط سے دُکھ سمیٹ کر واپس پہلے کنارے پر پلٹ گئے۔ وہیں انہیں رات پڑ گئی اسی کنارے پر قافلے کی عورتوں نے رات کے کسی سمے اَپنی اَپنی اوڑھنیوں سے اوٹ بنائی اور سسکیوں کے بیچ ایک معصوم کی ننھی چیخوں کا استقبال کیا۔

یہ وہی معصوم تھا جو اَب اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اُس نے خود ہی باپ کی ٹانگیں کٹوانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بیٹا ڈاکٹروں کے پینل سے پوری طرح متفق ہوگیاتھا کہ پاؤں کا گھاؤ پھیلتے پھیلتے اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ چلنے سے باز نہ آتا تھا۔۔۔۔۔یوں بقول اُن کے ٗ زخم تازہ ہو جاتے تھے۔ ان زخموں سے اُٹھنے والا سلسلاہٹ جیسا مسلسل درد اُس کے نچلے دَھڑمیں اِتنا شدید ہو جاتا کہ ُاس کی چیخیں نکلتی رہتیں۔ اِتنی بلند اور اِتنے تسلسل کے ساتھ کہ پڑوسی اُدھر ہی متوجہ رہتے تھے۔

ڈاکٹروں کے مطابق گھاؤ زہر بن گئے تھے لہذا اپریشن ضروری تھا۔ بیٹا بھی قائل ہو گیا تھا کہ اس ضمن میں باپ سے رائے لینا مناسب نہیں تھا اور وہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کا باپ کوئی معقول رائے دینے کے اہل نہیں رہا تھا۔

بیٹے کو یقین ہونے لگا تھا کہ وہ ساری صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتا تھا لہذا اَپنے طور پر ہی ڈاکٹروں سے متفق ہو گیا۔ آپریشن خاصا طویل تھا، آپریشن ہو گیا تو ڈاکٹروں نے حسب عادت اُسے تسلی دیتے ہوے کہا، اس کا باپ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا…
مگر جب باپ کو ہوش آیا تو وہ اپنے ہی بیٹے سے ایک اور گھاؤ پوری طرح چھپا لینے کے جتن کر رہا تھا۔
یہ اس کے دِل کا گھاؤ تھا۔

ایسا گھاؤ، جس کے اندر سے دَرد کا عجب غراٹا اٹھتا تھا۔۔۔۔۔
وہ غراٹا ،جو بدن کو تھرانے کے بجائے اسے لوتھ کا سا بنا دیتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Mike Halem

Categories
نان فکشن

راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

راجندر سنگھ بیدی پر بات آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اسی کے افسانے ’’ببل‘‘ کا یہ جملہ میرے خیالوں میں ایک گونج سی پیدا کررہا ہے
’’درباری لال شام سے گھر ہی بیٹھا سیتا کے ساتھ بیکار ہو رہا تھا‘‘
یہ جملہ بھی اور اس سے متصل ایک وضاحت بھی، لیجئے وہ بھی بتائے دیتا ہوں
’’کسی کے ساتھ بے کار ہونا ،اس حالت کو کہتے ہیں ، جب آدمی دیکھنے میں ایوننگ نیوز یا غالب کی غزلیں پڑھ رہا ہوں لیکن خیالوں میں کسی سیتا کے ساتھ غرق ہو۔‘‘

تو معاملہ یہ ہے صاحب، کہ پچھلے کچھ برسوں سے ہم نے غلام عباس، اختر حسین رائے پوری، حیات اللہ انصاری ، عزیز احمد، کرشن چندر، میراادیب وغیرہ کو صدی بھر کی شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہا، انہیں بھی اورراشد،میرا جی ، مجید امجد، حتی کہ فیض جیسے ہر دل عزیز شاعر کو بھی ،مگر منٹو منٹو کے ہنگامے کے بعد لگتا ہے کہ تب سے اب تک غرق تو ہم منٹو کے ساتھ ہی ہیں اِدھر اُدھر تو سب بے کار ہو تے رہے ہیں۔ ایسی فضا میں کہ جب بہ قول انتظار حسین ،’’منٹو کا پیریڈ‘‘ بہت طوالت کھینچ چکا ہے ، لاہور کے ترقی پسندوں کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اسی شہر میں پیدا ہونے ،اسی شہر میں عملی زندگی کو آغاز دینے ، اور اسی شہر سے اپنی تخلیقی قوتوں کے لیے تحریک لینے والے راجندر سنگھ بیدی کو خوب اہتمام سے یاد کرنا چاہا ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ بیدی کا ذکر بیکاری کے باب میں نہیں لکھا جائے گا۔ میرا جی چاہتا ہے ، اسے بھی طول کھینچنا چاہیے ، مگر میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ، کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقت نے اپنی مٹھی میں بند کر رکھے ہوتے ہیں۔

خیر ایسا بھی نہیں ہے کہ جب منٹو کے ساتھ کسی اور کا ذکر نہ ہورہا تھا ، مجھے یاد ہے ہمارے محترم شمس الرحمن فاروقی کی منٹو پر ایک دلچسپ کتاب آئی ؛’’ ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ تو اس میں وہ انہوں نے بیدی کو بھی یاد کیا تھا ۔ اچھا،یہیں ایک بات کہتا چلوں کہ فاروقی نے بیدی کے جن دو افسانوں، یعنی’’ سونفیا‘‘ اور’’ متھن ‘‘کو رد کیاتھا، یہ دونوں کئی اعتبار سے میری توجہ کھینچتے ہیں ۔ مثلاً ان میں سے ایک افسانے میں سونفیا کا کردار جس قرینے سے بیدی کے قلم نے تراشا ہے ، جیتا جاگتا اور لطف لذت کے چھینٹے اُڑاتا ہوا،اِس سے پورے افسانے کا لفظ لفظ بیانیہ ایک متجسس دِل کی طرح دھڑکنے لگاہے۔ سونفیا بیس بائیس سال کی ایک کھلے ہاتھ پیر والی لڑکی ہے ۔ مطمئن بالذات ۔اوراس کے اندر کی آگ اور جوش کا اندازہ بس اتنا ہی لگایا جاسکتا تھا ، جتنا کہ کوئی دیکھنے والا بجلی کے تار کو دیکھ کر، اس کے اندر رواں قوت اور جوش کا لگا سکتا ہے۔ ہرے بھرے شاداب بدن والی سونفیا ہو یا’’ متھن‘‘ کی کیرتی ،آپ دونوں سے دور کہاں جا سکتے ہیں ،اور کتنے دور رہ سکتے ہیں ۔ آپ یہ کردار پڑھتے ہیں تو سونفیا اگر اپنے لانبے بالوں کا جوڑا بناتے ، اور دونوں ہاتھوں سے جوڑے کو دباتے اپنے بدن کے اُبھاروں کی ساری لذتیں پڑھنے والے کی جھولی میں انڈیل کر اُسے بھر دیتی ہے یا چھوٹے قد،مگر گٹھے ہوئے جسم والی اداس کیرتی ،جب نیوڈ بنانے کے بعداپنے آپ کو ساڑھی میں آگے پیچھے سے ڈھانپ رہی ہوتی ہے، تو پڑھنے والے، بدن سے چپکنے والے مہین کپڑے سے لذت قطرہ قطرہ اپنے اپنے حلقوم میں اتارنے لگتے ہیں۔ خیر، فاروقی صاحب کو اگرلگا کہ ان افسانوں میں عورت ذات کے خلاف بیدی کے دل میں کوئی نفرت تھی جو زہر بن کر اس کے قلم سے ٹپکنے لگی تھی تو مجھے لگا ہے کہ عورت کو جاننے ،اس کے قریب ہونے بلکہ قریب تر ہو کر اس سے پچھڑنے کی جو لذت بیدی کے ہاں ہے، اسے نفرت کے زہر سے تعبیر دینا بیدی کے ساتھ ظلم کے مترادف ہوگا۔

ممکن ہے بیدی کی وہ تعبیر جو فاروقی صاحب نے کی ہے ، اس سبب ہو کہ ایک بار پریم کپور کو انٹرویو دیتے ہوئے بیدی نے کہہ دیا تھا، ہمیں عورت اور مرد کے بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا، اور جو فرق بیدی سمجھانا چاہتا تھا اس کے لیے بیدی نے اُلٹا سوال کیا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عورت ایک مہینے میں ماں بن سکنے کے قابل ہوتی ہے جب کہ مرد کے ایک بار کے جوہر میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دنیا بھرکی عورتوں کی گود بھردے ۔ یہ بیدی نے کہا تھا اور مرد کو اونچے خیالات تخلیق کرنے والا اور عورت کی حفاظت کرنے والا بتا یاتھا اور زور دے کر کہا تھا کہ اس نے اپنے افسانوں میں اس مسئلے کو اٹھایا بھی تھا۔ مانا کہ یہ خیالات بہ سہولت ہضم نہیں ہو سکتے مگرطرفگی یہ کہ یہی اونچے خیالات تخلیق کرنے والا مرد ، خود بیدی کے افسانوں میں ، اسی عورت کے ہاتھوں مات کھاتا رہا ہے۔ شاید اس کا احساس خود بیدی کو بھی ہو گیا تھا تبھی تو اپنی تخلیقی زندگی کی تکمیل کے بعد اورمرنے سے لگ بھگ چار ماہ پہلے بیدی نے عصمت چغتائی اور فیاض رفعت کو آل انڈیا ریڈیو کے لیے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

’’ میں نے دیکھا ہے کہ عورت ہمیشہ آدمی سے زیادہ پاور فل رہی ہے، اپنی تخلیق کی صلاحیت کی بنا پر ،مگر لوگ اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اسے کچلتے ہیں۔ اسے دباتے ہیں۔ لیکن عورت تمام جکڑ بندیوں کے باوجود آزاد ہے ، اسے دبایا نہیں جا سکتا اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

تو یوں ہے کہ بیدی نے اپنے افسانوں میں اسی عورت کو دکھایا ہے، چاہتے نہ چاہتے ہوئے ، اور یہ عورت اس کے افسانوں میں کہیں نہ کہیں مرد کو پچھاڑ دیتی ہے ۔ اس پچھاڑنے والی عورت کی کوئی نہ کوئی جھلک اگر بھولا کی مایا، مادھو کی کلکارنی، پشپا کی شمی، پرسادی کی رتنی میں ہے تو میا ،شبو،جنتو،درشی، مصری،سیتا،ڈولی جیسے کرداروں یا تیز بارش میں بھیگنے والی راٹا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان نسائی کرداروں کی طرح عورت سے کسی نہ کسی سطح پر پچھڑنے والے مرد کرداروں کی بھی ایک قطار لگی ہوئی ہے۔ کتھو رام، سنت رام،رسیلا، خاکروب ولیم بھاگو، حضور سنگھ اورجنتو کو آلو تک نہ دلا سکنے والا انقلابی لکھی سنگھ اور اس طرح کے کئی اور کردار۔ ان سب کا اس نہج سے مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

مثلاً افسانہ’’ ببل‘‘ ہی لے لیجئے، اس کہانی کے ابتدائی حصے میں پکے ،بلکہ کالے رنگ کی جوان بھکارن مصری اور اس کا نرم نرم گول مٹول بچہ ہماری توجہ کھینچتے ہیں ۔ بیدی نے بچہ یوں دکھایا ہے جیسے وہ اسفنج کا بنا ہوا ہے، اپنی ماں کے برعکس گورا چٹا۔ یہ بچہ اپنی بھکارن ماں کے لیے کماؤ مردہے، اس کا اپنا کماؤ مرد۔کہ وہ کماتا ہے اور کھاتی مصری ہے۔افسانے کے آخر میں ایک وقت آتا ہے کہ یہی ببل سیتا کے بازوؤں میں جھول کر اور اس کی بھری بھری چھاتیوں میں سر گھسا کر اُس کی ممتا جگا دیتا ہے۔ یوں کہ یہ بدلی ہوئی اور توانا ہو چکی سیتا عورت درباری جیسے جنس کی طلب میں کھولتے مرد کو پچھڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تو یوں ہے کہ کردار بنانااور انہیں اپنے بیانیے کے اندر پوری قامت سے کھڑے کر لینا ، انہیں متحرک کرنا یوں کہ اپنے وسیب کے اندر وہ اپنی شباہت بنائیں ، انہیں اُتنے ہی نہ رہنے دینا جتنا کہ وہ عام زندگی میں مشاہدے میں آتے رہے، اُس سے کہیں بڑھ کر قامت نکالنے دینا، اور جن مشکلوں میں پڑے ہوئے ہیں ، یا جن سماجی دلدلوں میں دھنسے ہوئے ہیں ، وہاں سے نکالنے کے انقلابی طریقے بتانے کی بجائے ، انہیں انسانی فطرت ، اور زمینی صورت حال سے قریب تر رکھ کر اپنا آپ بچا لینے کی راہیں سجھادینا، یا بہت ہی غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والے کے دِل ایسی صورتحال سے بچ نکلنے کی تاہنگ پیدا کردینا ؛ یہ ہے و ہ کردار سازی کاوہ قرینہ، جس نے بیدی کو اپنے ہم عصروں سے اپنے اسلوب میں الگ اور نمایاں کیا ہے۔

دوسری اہم بات جو مجھے بیدی کی طرف متوجہ کرتی رہی ہے ، اور شاید دوسروں کو بھی متوجہ کرتی ہو ، وہ یہ ہے کہ اُس کی کہانیوں میں جہاں رنگ رس ہے، وہاں گودا بھی بہت ہے ۔ جی، میں بیدی کی کہانیوں میں مواد کے گودے کی بات کر رہا ہوں ۔ ’’بھولا‘‘،’’ ہمدوش‘‘، ’’من کی من میں‘‘،’’ ببل‘‘،’’ سونفیا‘‘،’’لاجونتی‘‘،’’ لمبی لڑکی‘‘ غرض کوئی بھی افسانہ اُٹھا لیں یا پھر اُس کا اکلوتا ناول،ُُ ایک چادر میلی سی‘‘ کو لے لیں، ہر کہیں بیانیہ یوں مواد سے بھرا ہوا ملے گا جیسے پوری طرح زندہ آدمی کی ہدیوں میں گودا بھرا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ کہیں کہیں تو یہ مواد کی زیادتی پڑھنے والے کو روک کر اِس کے لکھنے والے کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ لکھنے والا، جو بہت سوچ سوچ کر اور سارے پہلو سامنے رکھ کر ایک افسانوی سازش تیار کر رہا ہوتا ہے۔میرے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ اپنے گہرے مگر ہمہ جہت مشاہدے اورتخیل کو کام میں لاتا ہے تو کہیں بھی ہمیں قلت مواد کا سوکھا محسوس نہیں ہوتا ۔ یقیناً آپ کو یاد آرہا ہوگا کہ یہ سوچ سوچ کر لکھنے والی بات منٹو نے ایک طعنے کی صورت بیدی کی سمت لڑھکائی تھی اور خیال کو دامِ خیال میں لاکر ایک افسانوی طرز کی سازش پیدا کرنے اور جزا میں افسانہ پانے کی بات خو د بیدی نے کی تھی ، سو واقعہ یہ ہے کہ بیدی افسانے کو ایک سازش کی طرح بنتا ہے ، سوچ سوچ کر اور پورے مواد کو برتتے ہوئے ، یوں کہ ہم اس کے گرفتار ہوتے ہیں ، جیسے کوئی خواب میں کھو جاتا ہے۔ ایسے خواب میں کہ بہ قول بیدی جاگنے پر بھی جی چاہنے لگتا ہے سرہانے میں آنکھیں دبا کر پھر سے خواب دیکھیں۔

جہاں بیدی اپنے کرداروں کو ایک قرینے سے تعمیر کرتا ہے ،یا افسانوی مواد کی فراوانی اور اس مواد کے پیچیدہ مگر سلیقے سے بیانیہ میں استعمال کے ذریعے توجہ حاصل کرتا ہے وہیں اس کے افسانوں کی تیسری اہم خوبی خالص مقامیت کی فضا میں رچی بسی کھری کھردری، مسلسل رگڑ کھاتی اور اکھڑ زندگی کی کہانیوں کو زبان کے تہذیبی ، اساطیری اورا ستعاراتی وسیلوں کے ذریعے پر از معنی کرنا بھی ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے بیدی کے افسانوں کی اس جہت پر بہت مفصل سے بات کی ہے تاہم میں سمجھتا ہوں جہاں اس قرینے نے ان افسانوں میں معنی کا ایک جہان آباد کیا وہیں زبان کو کسی نہ کسی سطح پر اجنبیا بھی دیا ہے ۔ اجنبیانے کا یہ عمل جہاں بیدی کو اس قاری تک پہنچنے سے روک رہا ہے جس تک منٹو بہ سہولت پہنچ جاتا ہے، وہیں اس کے سنجیدہ قاری کے لیے ایسی داخلیت رکھ چھوڑی ہے جو اُسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور دیر تک افسانے کی فضا سے وابستہ رہنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ جہاں بیدی نے ہندو میتھالوجی سے اپنے افسانوں کے لیے معنویت کشید کی ہے یا ایسا کرنے کے جتن کیے ہیں وہیں اُس نے مقامی رسم و رواج، مختلف گروہوں کے تعصبات، دیہی دانش کے لسانی ٹکڑوں، گیتوں اورگالیوں،طعنوں مہنوں، بوسیدگی کی آغوش میں اترتے بظاہر ان گڑھ نظر آنے والی مزاجوں غرض زندگی کے ایک ایک مظہر کو سلیقے سے اور سوچ سمجھ کر برتا ہے۔ کہیں کہیں بیدی کا قلم شوخ ہوا ہے اور کہیں گہرے طنز کی کاٹ سے اس نے ہمیں معاملے کی کسی اور جہت کی طرف لے جانا بھی چاہا ہے ۔ وہ اپنے کرداروں کی زبان سے مقامی الفاظ، مقامی لہجے میں ادا کرواتا ہے تاہم کہیں کہیں ایسا اُس راوی کی زبان سے بھی ہونے لگتا ہے ، جو اگرچہ کہانی کا کردار نہیں ہوتا مگر بیدی کی کہانی میں مداخلت کے لیے سہولت کار ہو جاتا ہے ۔ خیر، مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو زبان کے اِن رُخوں اور سطحوں پر استعمال سے افسانے کاایسا بیانیہ مرتب ہو جاتاہے جو بیدی کے اسلوب کے طور پر الگ شناخت کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں بیدی کے افسانوں کی ایک اور خوبی؛ اور یہ خوبی ہے ، انسانی جذبات کی لطیف ترین جنبشوں کو گرفت میں لینے کے لیے جزیات نگاری کو وسیلہ کرنا۔ یاد رہے یہ جزیات نگاری اس تفصیل نگاری سے بالکل الگ ہے ،جو کہانی کے اندر تہوں میں اُترنے سے روکتی ہے۔ بیدی اس قرینے کو بروئے کار لاکر اپنے کرداروں کا زندہ وجود اپنے قاری کے سامنے لے آتا ہے۔ کچھ ایسے کہ پڑھنے والا اُس سے خاص اور خالص جذبوں سے بھرا ہوا رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ رشتہ ایسا ہے جو بیدی کے کرداروں کو مرنے نہیں دیتا۔ ایسے ہی زندہ جاوید کرداروں میں ایک کردار افسانہ لاجونتی کی لاجو کا ہے ۔ سندر لال کی لاجو ، پتلی چھمک سی دیہاتی لڑکی۔ ہر قسم کا بوجھ اُٹھانے اور ہر قسم کا صدمہ برداشت کرنے کی سکت رکھنے والی ۔ افسانے کی جزیات میں اس کے شوہر کے وتیرے کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اوراُس کی ہر قسم کی مار پیٹ اور بدسلوکی کوسہہ جانے والی کی محبت کا رُخ، جس طرح بیدی نے سہارتے ہوئے، روک روک کرلکھا اور لکھتے ہوئے دکھا دیا ہے ، بٹوارے میں اغوا ہونے کے بعد ، اس کی معنویت اور بھی کھلتی چلی جاتی ہے۔ تقسیم میں ہنگاموں کے دوران اغوا ہونے سے پہلے اپنی لاجو پر تشدد بھری محبت نچھاور کرنے والے سندر لال کو جب اس کی بیوی بتاتی ہے کہ اس کا مسلمان اغوا کار جماں، اُس سے اچھا سلوک کرتا تھا،تو اُس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے، اب وہ سندر لال کے لیے دیوی ہے۔بیدی نے لکھا ہے کہ لاجو کو یوں بسنا یوں تھا جیسے کہ اُس کا اُجڑ جانا۔ جس طرح افسانے کا قضیہ چھوٹی چھوٹی جزیات کے ذریعے قائم ہوتا ہے وہ قاری کے لہو میں بھی اُبال پیدا کرتا اور کردار کے ساتھ اُسے جذباتی سطح پر وابستہ کر دیتا ہے ۔ ایسا ہی بیدی کے اکثر افسانوں میں ہوتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بیدی نچلے طبقے کے گرے پڑے کرداروں کو چنتا ہے ، انہیں بل کھاتی کہانی میں اپنی اپنی مکمل شناخت قائم کرنے دیتا ہے اور اُس تندمزاج اور اکھڑ زندگی کے مقابل کر دیتا ہے جو ایسے کرداروں کے نصیبے میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اجزاء کے بہم ہونے سے ماجرے کی طرف جاتے ہوئے وہ خالص کہانی کے بیانیے سے رشتوں میں گندھی ہوئی زندگی کی تندی اور تیزی کو سہج سہج گرفت میں یوں لیتا ہے کہ قاری کو بہ سہولت انسانی نفسیات اور جذبوں کی لطیف متحرک سطحوں تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں، بیدی نے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور انسانی بطون میں اتر کراس کے گنجھل کھولے ہیں، انتہائی ضبط اور پورے خلوص کے ساتھ ،اور یہ کوئی معمولی اور کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔ انہی تخلیقی قرینوں کا فیضان ہے کہ بیدی اُردو افسانے کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہو گیا ہے۔

Categories
نان فکشن

قرۃ العین حیدر کی یاد میں

مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ قرۃ العین حیدر نے اردو ناول کو جس ڈھب سے ثروت مند کیا یہ اعزاز کسی اور کے حصے میں آیا ہی نہیں ہے اور ہاں میں یہ بات اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ اس باکمال اور بہت سا لکھنے والی پر یہ الزام بھی آتا رہا ہے کہ اس کے ہاں لگ بھگ ایک جیسے موضوعات آتے رہے ہیں وہی اودھ کے جاگیردارانہ معاشی زوال اور معاشرتی انہدام ‘ وہی حال سے ناآسودگی اور وہی شدید عدم احساس۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے جم کر قرۃ العین کو پڑھا ہے “میرے بھی صنم خانے “ سے لے کر “ آگ کا دریا” تک ‘اور “آخر شب کے ہم سفر” سے لے کر “گردش رنگ چمن” اور “چاندنی بیگم “ تک۔ اور کتنے ہیں جنہوں نے ذرا ڈھنگ سے ان زمانوں میں سفر کیا ہے جو اس کے ہاں بے حجاب ہوکر متن کا حصہ بنے ہیں اور سامنے کے منظر میں تاریخ ‘ تقدیر ‘ عصری دانش یا پھر وقت کے جبر کوبھی اس کا لازمی جزو بناتے چلے گئے ہیں۔ صاحب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کرکہیے پوری اردو فکشن کی کہانی میں اور کس کا نام آتا ہے جس نے اتنے زیادہ کردار تراشے ہوں جتنے قرۃالعین کے قلم نے تراشے ‘ کس نے اتنے مقامات اور اتنے مناظر کو لکھا ہے جتنے اس جادوگر بی بی نے لکھ ڈالے ہیں۔ اور کون ہے جس نے ہماری فکشن کو مجہول فکری کے طعنے سے بچایا‘ اسے جذباتیت سے نکالا‘ تاریخ کے ایک بڑے دائرے اورزندگی کے وسیع تناظر میں لاکر اس پر ایک نئی تخلیقی فضا کا در باز کیا۔

قرۃ العین حیدر کے تخلیقی قرینے اور مزاج کو سمجھنے کی نیت ہو تو ”میرے بھی صنم خانے” کے آغاز ہی میں وہ ہمارے لیے اشارے فراہم کر نا شروع کر دیتی ہے۔ اس اولین ناول کے ابتدائی صفحات میں اقبال کی ایک معروف رباعی سے یہ تین الفاظ ملتے ہیں:
“تراشیدم ‘ پرستیدم‘ شکستم”

اور اس کے ساتھ ہی میر انیس کا یہ شعر بھی موجود ہے:
انیس دم بھر کا بھر وسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

ایک طرف یہ چلن کہ ہر بار اپنی زندگی کے لیے کوئی خدا ‘ کوئی محبوب ‘ یا پھر آدرش تراشے گئے۔ ان میں سے روح نکال کر انہیں بت بنا لیا گیا ان سے وابستہ رہنے کے خواب دیکھے گئے‘ جد وجہد کی گئی‘ ستم سہے ‘ قربانیاں دیں اور اسے زندگی کا مقصد وحید قرار دے کر پرستش کی گئی۔ مگر وقت کے تیورذرا بدلے اور وہ ٹیڑھی چال چلا تو اس بت کو خود ہی توڑ دیا گیا۔ تو یوں ہے کہ قرۃ العین حیدر کے لیے اسی ستم ایجادوقت کے دامن میں ایک سے ایک بڑھ کر جبر موجود ہے اور اسی سے کم و بیش وہ اپنی ساری تخلیقات میں فضا بندی کاکام لیتی رہی ہے۔

“میرے بھی صنم خانے “ نے شائع ہوتے ہی ادبی دنیا کی توجہ پالی تھی۔ کرشن چندر نے تو اسے ورجینیا وولف کے ڈھنگ کا ’فرصت کوشی کا فن ‘ قرار دیا تھا مگر فی الاصل دیکھا جائے تو قصہ یوں ہے کہ یہ ناول نگاری کے نئے چلن کا آغاز تھا۔ ایک نئی تیکنیک میں قرۃ العین حیدر نے ایک دم توڑتی ہوئی تہذیب کا قصہ کہا تھا۔ کسی قصہ گو کی طرح واقعات کی اوپر کی سطح پر تیرتے ہوئے نہیں ‘ درد کے پانیوں کے اندر اتر کر اور فنا کی ایک ایک جنبش کو خود محسوس کرکے۔ قرۃ العین کے لیے یہ سوال بہت اہمیت اخیتار کرجاتا ہے کہ انسانی تہذیب جو صنم خانے صدیوں کی ریاضت سے تعمیر کرتی رہی ہے ‘اپنے ذوق جمال کے عین مطابق‘ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ وقت ‘ تاریخ یا پھر خود انسانی وجود کے اندر سے اٹھتا عدم تحفظ کے احساس کا سیلاب انہیں بہا کر لے جاتا ہے۔ یاد رہے یہ ناول ۱۹۴۸ میں آیا تھا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ قرۃ العین نے اس اعلی سو سائٹی کو‘ کہ جسے اس نے قریب سے دیکھا ‘برتااور پرکھاتھا‘ اسے اس کے کھوکھلے پن کا شدت سے احساس تھا۔ آزادی کی تحریک چلی ‘ انگریز کو جانا پڑا اور ہندوستان تقسیم ہوا تو امپورٹٹڈسامان تعیش ‘ کلبوں اورڈنر پارٹیوں کے شائق طبقے کی شان شوکت ‘ عیش کوشی اور بے عملی کے اینٹ گارے سے بنی یہ عمارت دھڑام سے زمین پر آرہی۔ ہمارے ہاں کے کچھ لکھنے والوں کو اب بھی اسی طبقہ اشرافیہ کی اچھے وقتوں کی اجلی تصویریں اتنی شدت سے یاد آتی ہیں کہ انہیں نوسٹلجیا کے مرض میں مبتلا کر گئی ہیں۔ تا ہم یہ ماننا پڑتا ہے کہ قرۃ العین نے “سفینہ غم دل” کے بعد اور بطور خاص اس کے شاہکار تسلیم کیے جانے والے ناول “ آگ کا دریا” تک آتے آتے‘ نوسٹیلجیا کو اوندھا کر رکھ دیا تھا۔ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ان تینوں ناولوں کا انسان وقت کے مقابل آیااور بے بس ہوا۔ تینوں میں تہذیب کی وہ امی جمی اکھاڑ پچھاڑ سے دوچار ہوئی جس سے مستقل وابستگی کچھ کے ہاں احساس کی سطح پر سب سے بڑااثاثہ بن گیاہے اور اس بات کا شدت سے احتجاج بھی کہ وقت ان بظاہر چمکتے دمکتے مظاہر کوروند کر آگے کیوں بڑھ آیا ہے وہیںٹھٹھک کر اور ٹھٹھر کر ٹھہر کیوں نہیں گیا۔ قرۃ العین حیدر کا تہذیبی شعور اتنا اڑیل اور جامد نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وقت کو ایک دھارے میں مسلسل بہتے رہناہے۔ لہذا اس کے ہاں بنیادی سوال یہ بن کر آیا کہ ایک تہذیب کا کھوکھلا پن کہاں تک وقت کی بوچھاڑ کے سامنے ٹھہر سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے محض گزرے وقتوں کی اجلی تصویریں دکھانے پر اکتفا نہیں کیا۔ وہ فقط تقسیم اور تقسیم کے بعد کثیر آبادی کے انخلا اور اس کے نتیجے میں انسان کے درندہ بن جانے کا قصہ کہہ کر الگ نہیں ہو گئی۔ اس نے اسے اپنی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے تناظر میں دیکھااور یہ بتانا چاہا کہ وقت تو آگ کا بہتا ہوا ایک ایسا دریا ہے جس کے مقابل انسان اپنے تہذیبی کھوکھلے پن کے ساتھ زیادہ دیر ٹھہر ہی نہیں سکتا تھا۔ بے فیض علمیت‘ مجہول ذہانت اور لمحاتی تسکین کو وتیرہ کرنے والوں کو بہت جلدآگ کے اس دریا کا رزق ہو ہی جانا ہوتا ہے۔ میں قرۃ العین کو پڑھتے ہوئے اس آگ کے مقابل ہونے اور قدرے لمبی مہلت پانے کے لیے ‘ایک اور آگ کی ضروت کی طرف با ربار متوجہ ہوتا رہا ہوں۔ وہ آگ جو انسان کی چھاتی میں بھڑکتی ہے اور جسے ایندھن اسے اس کا اپناتاریخی اور تہذیبی شعور فراہم کرتا ہے۔

“آگ کا دریا” میں زمانی اور مکانی جہاں جس طرح پھیل اور سکڑ رہا اسے سمجھنے کے لیے قاری کو پہلے حصے میں قدیم ہندو تہذیب کی علامت بن جانے والے گوتم نیلامبر اور دوسرے حصے میں اپنے علم شجاعت اور جمال کے ساتھ ابھر کر سامنے آنے والے ابو المنصور کمال الدین کو پوری توجہ دینا ہوگی۔ تیسرے حصے کی کہانی کا ماحول وہی ہے جس سے قرۃ العین حیدر کا قاری اس کے گذشتہ ناولوں سے مانوس چلا آرہا ہے وہی ہند مسلم لکھنوی تہذیب۔ اس ناول کے آخری حصے میں آزادی کے بعد تک کے زمانے تک کہانی کو لاکر کئی سوال اٹھا دیئے گئے ہیں۔

یہ وہی سوال ہیں جن کو اٹھانے کی پاداش میں قرۃ العین کو بہت کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تاہم یہ واقعہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد اس ناول کے نیشنلسٹ کمال کے ساتھ وہی ہوا جو ہمارے منٹو کے ساتھ ہوا تھا۔ کمال ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتا تھا اور تشکیل پاکستان کے بعد بھی اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے منٹو نے پاکستان آنے کے لیے فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا تھا۔ کمال کے دوست‘ہری شنکر اور گوتم جو حکومت ہند کے بارسوخ کارندے تھے اپنے دوست کو روک نہ پائے۔ منٹو کو بھی اس کا دوست شیام نہ روک سکا تھا۔ اس پر بھی یہ وقت بہر حال آگیا تھا کہ برانڈی کی بوتل نکالے”ہپ ٹلا” کہے‘ قہقہے لگا کرشیام کو سینے سے لگائے اور… سیدھا پاکستان چلا آئے۔

“چاندنی بیگم” تک آتے آتے قرۃالعین حیدر مسلمانوں کے مسلم طبقے کے گرے پڑے کرداروں کو بھی لائق اعتنا سمجھنے لگے تھی۔ مسلم اشرافیہ کے کردار سوچتے بہت تھے‘ لہذا گذشتہ کہانیاں ذہنی فضا میں ریتیں اور ٹھہر ٹھہر کر چلتی تھیں۔

“چاندنی بیگم” کے کردار عملی زندگی سے اٹھائے گئے تھے لہذا وہ قدرے زیادہ متحرک اور عملی نظر آتے ہیں۔ اس ناول میں بھی وقت قرۃ العین حیدرکی من بھاتی ڈگر پر ہی رواں دواں رہتا ہے۔ ہرسال نئے وقت کی باڑھ آتی ہے اور باقی ماندہ ملبا بہا کر لے جاتی ہے کہ زمین کوآنے والے وقت کے لیے خالی ‘ ہموار اور تیار ہونا ہے۔ اس زمین میں نئی فصل کو اگنا ہے اور اسی خالی ہو جانے والی زمین کے لیے نئے بیجوں کو چڑیاں اپنی چونچوں میں لے کر نہ جانے کہاں کہاں سے آجانا ہے۔ یہ سوال اور یہ صورت بھی قراۃ العین حیدر کی توجہ میں رہی ہے تاہم اس کے ہاں یہاں بھی بنیادی موضوع وقت کے مقابلے میں انسان کی پسپائی ہی رہا ہے۔ “گردش رنگ چمن “ کو اس لیے قابل توجہ سمجھا جانا چاہیے کہ اس میں نے مسلم اقدار کے زوال کی کہانی کہنے کے لیے جن کرداروں کا نتخاب کیا ‘ان جیسے کرداروں کا مشاہدہ کرنے اور انہیں ڈھنگ سے لکھنے کے لیے اسے اپنی معمول کی زندگی سے باہر نکلنا پڑا ہوگا۔ اس ناول کی طوائف النسل عورتیں اعلی تعلیم یافتہ ہو کر بھی مردود ٹھہرتی ہیں۔ کمزور ماضی رکھنے والوں کی کئی نسلوں کووقت لتاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ عندلیب بیگ ‘ ڈاکٹر عنبرین اور نگار خانم کی اس کہانی میں بھی فنا اور انسان کی بے وقعتی کی تصویریں یہاں وہاں بکھری پڑی ہیں۔

“ سامنے ایک دیوار پر نشانات لگے ہوئے تھے۔ فلاں سنہ میں گومتی کا سیلاب اس نشان تک …فلاں سنہ میں اس نشان تک … فلاں میں…

“نسلیں پانی کی طرح بہتی جاتی ہیں۔کبھی ان میں تغیانی بھی آجاتی ہے۔ تب بڑی تباہی مچتی ہے۔ “ میں نے کہا : آخری طوفان کب آئے گا؟”

“گردش رنگ چمن”

قرۃ العین حیدر کے افسانوں کے موضوعات اور اس کے کرداروں کے میلانات اس کے ناول کے موضوعات اور کرداروں سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ اس کے افسانے کا اسلوب بھی اس کی ناول نگاری کے زیر اثر رہا۔ ہر قابل قبول کہانی زندگی کی ایک قاش کی بجائے کل کو کلاوے میں لینے کی طرف لپکتی رہی ہے۔ یہاں بھی وہی بانجھ محفلیں ہیں۔ وہی بالائی طبقہ ہے اور اس کی بے عملی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ کہیں کہیں ستاروں کی طرح چمکتے دمکتے متحرک کردار۔ “ستاروں سے آگے” “توٹتے تارے” ‘ “شیشے کے گھر”،” پت جھڑ کی آواز”،”فصل گل آئی یا اجل آئی”اور” جگنوئوں کی دنیا” سے لے کر “یاد کی دھنک” تک کے افسانوں کو پڑھتے چلے جائیں آپ اپنے آپ کو ایک ذہنی مسافرت میں پائیں گے۔ ایک طرف طبقہ اشرافیہ ہے اور دوسری طرف وہ کردار جو اس طبقے کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ایک طرف زندگی صرف گندگی کا نام ہے غربت اور نارسائی کا نام ہے۔ اور دوسری طرف سب کچھ ہے مگر یک رنگی ہے۔ بے کیفی ‘ خستگی اور اکتاہٹ ہے۔ زندگی کا کوئی مقصد نہیں لہذا قہقہے بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے “جلاوطن”،”ہائوسنگ سوسائٹی”،” پت جھڑ کی آواز”،”کارمن”، “ فوٹو گرافر” اور اس طرح کے کامیاب اور قابل توجہ افسانوں میں زندگی کو ایک بھید کی طرح لیا ہے اور اسے تاریخ ‘ وقت اور تہذیبی تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھیں تو قرۃالعین کا یہ کارنامہ بنتا ہے کہ اس نے اپنے عورت ہونے کو کمزوری نہیں جانا اسے اپنی تخلیقی قوت بنایا ہے۔ معروف لکھنے والوں کے زمانے میں لکھنا شروع کیا مگر مرعوبیت کو قریب نہ پھٹکنے دیا لہذا اپنی الگ سے شناخت بنائی۔ کہانی کو محض چٹکلہ یا پھر لذت پارہ نہیں رہنے دیا‘ اس کے سینے میں دل اور سر کے کاسے میں بھیجا رکھ دیا۔ ایک تہذیب کو دکھ کے ساتھ منہدم ہوتے دیکھا ضرور مگر اس کے بین لکھنے اور نئے وقت کی طنابیں کھینچنے کی بجائے اس سارے عمل کو تاریخی تناظر میں دیکھا اور یوں اردو ناول پر گہرے اثرات مرتب کرکے مطمئن اگلے زمانوں کی راہ لی ہے۔

Categories
فکشن

رُکی ہوئی زندگی

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا – ندیدہ ہو کر۔

عاطف اُسے دیکھ رہا تھا – ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا – یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔
وہ بھوکا تھا۔

شاید بہت ہی بھوکا کہ سالن کی رکابی اور روٹیوں کی چنگیر پر پوری طرح اوندھا ہو گیا تھا۔
جتنی دیر وہ چپڑ چیک چپڑ چپاک کر کے کھاتا رہا – عاطف اُس کے پراگندہ بالوں کے نیچے اور پیچھے چھپ جانے والے چہرے کو ڈھنگ سے دیکھنے کے جتن کرتا رہا اور اُن معصوم لکیروں کو تلاش کرتا رہا جو کبھی تھیں – اَب کہیں نہیں تھیں۔ وقت کی سفاکی نے سب کچھ مِٹا کر ایک نئی تحریر لکھ دی تھی ۔

ایسی تحریر جو پورے بَد ن میں اِضمحلال بھر رہی تھی۔
وہ پوری طرح جھکا ہوا تھا۔

اور اُس کے جبڑوں اورہونٹوں کے باہم ٹکرانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
وہ بہاول پور سے عاطف کے ہاں پہنچا تھا ۔ کیوں؟ یہ اُس نے نہیں بتایا تھا۔
شاید اس کا ابھی موقع بھی نہیں آیا تھا کہ وہ تو دفتر سے گھر واپسی پر اُسے گیٹ پر ہی مل گیا تھا۔
عاطف جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں کوئی اور اَصول ضابطہ ہو نہ ہو – چھٹی وقت پرمِل جایا کرتی۔ وہ سیدھا گھر پہنچتا کہ شائستہ اُس کی منتظر رہتی تھی۔

شروع شروع میں عاطف کو یقین تھا کہ یہ سچ مچ کا اِنتظار تھا – اَندر سے اُٹھتی تاہنگ والا – تبھی تو اُسے سیدھا گھر آنے کی عادت ہو گئی تھی مگر بعد اَزاں یہ ہوا کہ سب کچھ اُس کے معمولات کا حصہ ہو گیا۔
شائستہ کو بھی پہلے پہل اِنتظار میں لطف آتا تھا ۔ کھٹا میٹھا لطف۔

اگرچہ اوجھ جیسے وجود نے پہلے ہی دِن اُس کے اَندر کراہت کی ایسی گولی سی رکھ دی تھی جو اُسے دیکھتے ہی خود بخود دُھواں چھوڑنے لگتی مگر کہیں نہ کہیں سے لذت کی مہک بھی اٹھتی رہتی۔ دوسرے بَد ن کو چھو لینے کی لذت یا پھر اُسے دِیکھنے اور دیکھے چلے جانے کی لذّت۔

وہ جیسا بھی تھا؛ اُس پر نظر ڈالتا تھا۔ ایک تار نہ سہی؛ جھجک جھجک کر سہی اور لُکنت زدہ لفظوں سے اتنی پھسلن بنا ہی لیتا کہ وہ اُس پر کوشش کر کے ہی سہی – پہروں پھسل سکتی تھی اور دُور تک، بہت دُور تک جا سکتی تھی۔
مگر رَفتہ رَفتہ عجب اُفتاد آن پڑی کہ پہر سُکڑنے لگے۔

اور یُوں لگتا تھا کہ وہ دونوں لذّت کے زور سے جتنی دُور جا سکتے تھے – جا چکے، کہ اَب تو بَد ن میں کساوٹ اُترنے لگتی اور شائستہ کو کوفت ہوتی تھی۔

جب اُس نے آ ہی جانا ہوتا تو اِنتظار کیوں؟ اور اضطراب کیسا؟؟
غیر مانے – عادت نہ مانے۔ عادت نہ کہیں بَدن کَہ لیں۔
عادت کی ڈوری میں بندھا بَدن دُکھتا تھا ۔ دُکھتا تھااور ٹوٹتا تھا۔
اس ٹوٹتے بَدن کو پھر بھی اِنتظار کی گرہ دِی جاتی رہی حتّی کہ عادت معمول ہو گئی۔
دونوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ معمول کے اِس دائرے کو توڑ ڈالیں۔

یوں نہیں تھا کہ عاطف گھر آتا تو پھر باہر نکلتا ہی نہیں تھا۔ لاہور ایسا شہر تھا جو کئی کئی گھنٹوں کے لیے مصروف رَکھ سکتا تھا ۔ بے تکلف دوستوں سے ملتا۔ اِحباب کی مہذب مجالس میں بیٹھتا یا پھر اُس سے ملتا جو سارے فاصلے ختم کر ڈالنے کے ہنر جانتی تھی۔
وہ فاصلے یوں ختم کرتی تھی‘ جیسے کہ وہ ہوتے ہی نہیں تھے۔

پہلے وہ اُن موضوعات کو چھیڑتی جو عاطف کی کم زوری تھے یا پھر عاطف جن پر سہولت اور رغبت سے کچھ کَہ سکتا تھا۔ وہ اَپنی بات کہہ رہا ہوتا تو وہ چپکے سے اَپنے جذبوں کے دھاگے کا سرا، اُس کی چلتی بات کے ساتھ باندھ دِیتی اور پھرگِرہ پرگِرہ دِیے چلی جاتی۔
یہ جذبے اُس فتنے کی خیزش سے بندھے ہوتے جو عاطف کو گھر پلٹنے تک برف کا تودہ بنا دیا کرتے تھے۔
اکثر یوں ہوتا کہ عاطف گھر لوٹتا تو شائستہ کا بَدن خفگی کے تناؤ کی لہریں چھوڑ رہا ہوتا۔

بَدن کی کوسوں کے اُوپر ہی اُوپر تیرتی یہ لہریں ایسے لمس کی تھپکی مانگتی تھیں جو عاطف کے اَندر رُوبی نے باتوں کے کھانچے میں کہیں یخ بستہ کر دِی تھی۔

جب کہ شائستہ غصے سے کھولتی تھی۔ کھولتی تھی اور کچھ نہ بولتی تھی۔
کہ وہ پہل کر کے بولے چلے جانے کی عادِی نہیں ہوئی تھی۔
عاطف کبھی کبھی چاہتا کہ وہ اُس پر برس پڑے – لڑے جھگڑے اور جو کچھ اُس کے بَدن کی سطح مرتفع پر لہریں سی چھوڑ رہا تھا اُسے چیختے چنگھاڑتے لفظوں میں ڈال دِے۔ یوں کہ عاطف کے لیے اَپنی بات کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔
وہ بات جس سے خیزش کی تانت بندھی ہوتی ہے۔

مگر اس کا بَدن سمندر کی بھوکی بپھری لہروں کی طرح اُوپر نیچے ہوتا رہتا اور ایسا شور چھوڑتا – جوماحول کا حصہ ہو کر سکوت میں ڈَھل جاتا ہے یا پھر ایسا شور جواَپنی دہشت سے پَرے دھکیل دِیتا ہے اور سماعتوں کو بند کر دیتا ہے۔

وہ سننا چاہتا مگر کچھ بھی سُن نہ پاتا تھا کہ ایک سکوت تنا ہوا تھا۔ گاڑھا – گھمبیر اورگھمس والا سکوت۔ یا پھر شاید ایک دہشت کاتناؤ تھا – دِل کھینچ لینے والی دِہشت کا طالح تناؤ۔

معمول کبھی کبھار ٹوٹ بھی جاتا تھا ۔ ایسے کہ جیسے کوئی بے دِھیانی میں ایک ہاتھ دُوسرے ہاتھ کی طرف لے جاتا ہے۔ دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں بائیں کی اُنگلیوں میں بٹھاتا ہے – ہتھیلیوں کو سامنے کر کے دونوں کہنیوں کوتان لیتا ہے اور پھر عین انگلیوں اور ہتھیلیوں کے جوڑ سے چٹخارے نکال دِیتا ہے۔

احباب کے دَائرے میں وہ ایک مثالی جوڑا جانے جاتے تھے۔ جب کبھی تقاریب میں اُنہیں اکٹھے شریک ہونا پڑتا – تو وہ ایک دوسرے کے آس پاس ہی رہتے۔

شاید اُس فاصلے کو پرے دھکیلنے کے لیے – جو دونوں کے بیچ تھا۔
وہ ایک دوسرے کو احتیاطاً دیکھ لیا کرتے – کھسیانے ہوتے – ہنس دیتے اور لوگ اُن کا یوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دِیکھنا حسرت اور لطف سے دیکھا کرتے تھے۔

مگر کچھ تو تھا – جو دُونوں کے بیچ تھا اور کچھ اَیسا بھی تھا – جو دونوں کے بیچ نہیں تھا۔
مرد اَپنی عورت سے چھپ چھپا کر باہر جو کچھ کرتا ہے – عورت اُسے جان لیا کرتی ہے۔

شاید اِس لیے کہ باہر کی ساری کارگزاری وہ بے خبری میں اَپنے تن پر لکھ لایا کرتا ہے یوں کہ وہ خود تو اُس تحریر سے بے خبر ہوتا ہے مگر عورت اُسے پڑھ لیتی ہے ۔ ایک ایک لفظ کو۔ ایک ایک شوشے اور نقطے کو اور اُن وقفوں کو بھی جو اِن لفظوں اور سطروں کے بیچ پڑتے ہیں۔

شائستہ نے عاطف کے بَدن کے اوراق پر لکھے متن کو جب پڑھا تھا تو وہ رُوبی کی خُوشبو تک سے آگاہ ہو گئی تھی۔
اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتی تو وہ بِپھر جاتی مگر وہ ایسی عورتوں میں سے تھی ہی نہیں – جو کسی بھی بات کو خود ہی آغاز دے لیا کرتی ہیں۔

اُسے تو خود آغاز چاہیے تھا۔ بھیگا ہوا آغاز۔
ایسا کہ جس کا اَنجام بھی بھیگا ہوا ہو۔
عاطف کے پاس اَیسے الفاظ کہاں تھے جو پہل قدمی کاہنر جانتے ہوں کہ ایسے اَلفاظ تو ہر بار اُس کے بَد ن کی جھولی میں رُوبی ڈالا کرتی تھی۔
اور وہ اسی کا عادی تھا۔

اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی – شاور لیتی تو پانی کی پھوار تلے سے نکلنا جیسے بھول ہی جاتی – حتیٰ کہ اُسے یوں لگنے لگتا جیسے جسم کے اُوپر ایک جِھلی سی نمودار ہو گئی ہو۔ وہ لرزتے ہاتھوں کی لمبی پوروں سے اُس جِھلی کو چھوتی تو لمس بَدن کے اُوپر ہی اُوپر تیرتا رہتا۔ اِدھر سے اُوب کر باہر نکلتی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر آئینے میں خود کو دِیکھے جاتی۔ پورا کمرا‘ اِمپورٹیڈ باڈی لوشنز اور پرفیومز سے مہکنے لگتا ۔ اِسی مہک میں کپڑوں کی سرسراہٹیں جاگتیں ‘ ویکسنگ اور پفنگ کے بعد بلش آن اور کاسمیٹکس کے اِنتخاب میں ایک مُدّت گزر جاتی۔ جب وہ اَپنے اطمینان کی آخری حد تک سنور چکی ہوتی – تو وہ آئینے میں خود کو پہلو بَدل بَدل کر دیکھتی ۔ دیکھتی اوردیکھے چلے جاتی – حتیٰ کہ آئینہ وہ منظر دکھانے لگتا تھا جِس میں وہ نہیں ہوتی تھی۔

اِسی اَثنا میں کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی آ جاتی تو اُسے کئی کام سوجھ جاتے۔ جلدی جلدی ٹشو پیپرز سے چہرے پر جمی میک اَپ
کی تہیں اُتار دِیتی۔ جب ٹشو پیپرز کا ڈھیر لگ جاتا تو اُس کی مصروفیت کا ڈھنگ بَدل جاتا۔ گھر کو خوب چمکایا لشکایاجاتا ۔ صاف ستھری چادروں کو پھر سے بَدلا جاتا۔ اِدھر اُدھر دیواروں پر چھینٹے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیے جاتے۔
یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو جا تی ۔

ایک اِنتظار کے لیے موزوں حد تک نڈھال۔
پھر وہ آ جاتا تو اُس کے بَدن پر لہریں سی اُٹھتیں ۔
لہریں اُٹھتی رہتیں اور اُس کا بَدن ٹوٹ جاتا؛ اُن لفظوں کی چاہ میں جو آگے بڑھ کر اُس کی ساری تھکن چُوس سکتے تھے ۔
مگر عاطف تو خود پہل قدمی والے الفاظ کہیں سے مُستَعار لینے کا عادی تھا۔
رُوبی سے اور رُوبی سے پہلے ایک اور لڑکی تھی فرحانہ – اُس سے۔
وہ بھی تو رُوبی جیسی ہی تھی۔

شائستہ بہت بعد میں اُس کی زِندگی میں آئی۔ تب جب دونوں نے اُس کا بَدن اوجھ جیسا بنا دیا تھا۔
کچوکوں سے بیدار ہونے والا۔
یوں جیسے اس کا بَدن نہ ہو مٹی میں مٹی ہو کر اور مکر مار کر پڑ رہنے والا وہ لسلسا کیڑا ہو جسے پھل سنگھی اَپنی لمبی چونچ کے ٹھونگوں سے جگاتی ہے۔

جب بہاولپور سے آنے والا میلا کچیلا شخص اُسے دروازے پر ملا – تب تک شائستہ کا ساتھ ہوتے ہوے بھی کچوکوں سے بیدار ہونے کی عادت کو ساتواں برس لگ چکا تھا۔

اِس سارے عرصے میں وہ دو سے تین ہو چکے تھے ۔ ڈیڑھ برس پہلے ہی اُن کے ہاں ننھے فرخ نے جنم لیا تھا جو اَب پوری طرح شائستہ کو اَپنی جانب متوجہ کیے رَکھتا۔

بہ ظاہر گھر مکمل تھا۔ مکمل اور پرسکون دِکھنے والا۔
سب کچھ ایک ڈَھنگ سے ہوتا نظر آتا تھا۔

مگر وقت کی ڈِھینگلی کے سرے سے بندھا معمولات کا بوکا جو پانی باہر پھینکتا تھا – وہ دونوں کی زبانوں پر پڑتے ہی کھولتا رَصاص ہو جاتا تھا – آبلے بنا دینے والا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟

یہ سوال دونوں کے سامنے آتا رہا مگر وہ اِس کا صحیح صحیح ادراک کر سکنے اور اِس پر قابو پا لینے کی صلاحیت نہ رَکھتے تھے۔ وہ تو شاید اِس ساری صورتحال کے مقابل ہونے کو تیار ہی نہ تھے۔ تب ہی تو عاطف کے ہوتے ہوے بھی شائستہ ننھے فرخ ہی سے مصروف رہے چلے جانے کو ترجیح دِیا کرتی۔

وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں فرخ کو گھٹنوں پر اوندھا کیے مالش کیے جاتی ہے؟ کس لیے اُس کے پاؤں کے تلووں پر گال رَگڑ رہی ہے؟ اُس کے پیٹ پر منھ رکھ کر پھوکڑے مارتی ہے تو کیوں؟ اُس سے باتوں میں مگن رہنا – لاڈ سے ہونٹوں میں لوچ ڈال لینا اور وہ کہے جانا جس میں کوئی ربط نہ ہو – عاطف کی سماعت سے ٹکرا کر مربوط ہو جاتا مگر عاطف تو صرف اپنے اوجھ بَدن پر کچوکے چاہتا تھا لہذا ننھے وجود کی نازک جلد پر نرم نرم چکنے ہاتھوں کا یوں پھسلنا – اُسے گیلے ہونٹوں کی لرزش دَبا کر بوسے دینا – ہونٹ جما کر اور پٹاخ کی آواز پیدا کرتے ہوئے – ماتھے پر، ہونٹوں، گردن، ناف اور رانوں پر۔ حتیٰ کہ دائیں یا بائیں پاؤں کے انگوٹھے کے گرد ہونٹوں کو رَکھ کر گھما لینا – سب کچھ رائیگاں چلا جا رہا تھا۔

تاہم فرخ اِس پیار کی بوچھاڑ سے کھل کھل ہنستا – غوں غوں کرتا اور زور زور سے اَپنے پاؤں مارنے لگتا تھا۔
جس روز بہاولپور سے اُن کے ہاں مہمان آیا – اس روز شائستہ پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ عاطف کے آتے ہی وہ ننھے فرخ کو نیم گرم پانی سے نہلائے گی کہ وہ اُسے قدرے مَیلامَیلا لگ رہا تھا مگر جب وہ مہمان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا نظر آیا جو اَزحدمَیلا تھا تو وہ اَپنا پروگرام بھول چکی تھی۔

اُس کے وجود میں لسلسلے وجود کی پہلے سے موجود کراہت کے ساتھ عجب طرح کی باسی گِھن بھی گُھس بیٹھی تھی۔
عاطف اَپنے مہمان کو بٹھا کر ذرا فاصلے پر کھڑی شائستہ کے پاس آیا – بوکھلایا ہوا۔
جب اُسے کچھ کہنا ہوتا اور شائستہ کسی دوسری کیفیت کو چہرے پر سجائے ہوتی تو وہ یوں ہی بوکھلا جایا کرتا تھا۔

شائستہ کچھ سننے کے مُوڈ میں نہ تھی ۔ اُس نے مہمان کے سلام کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا تھا کہ اِس نئے وجود سے اُمنڈتی گھِن کو اپنے بَدن میں موجود کراہت کے پہلو میں بٹھا چکی تھی‘ حتیٰ کہ سب کچھ نفرت میں ڈَھل کر اُس کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ شائستہ کے لیے اَپنے اِن شدید جذبوں کے ساتھ وہاں رُکنا ممکن نہ رہا تو وہ اَپنے قدموں پر گھومی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ اِسی اثنا میں عاطف کچن میں خود کو معمول پر لاتا رہا۔ اگرچہ وہ مہمان کے لیے پانی لینے آیا تھا مگر ریفریجریٹر سے بوتل نکالنے کے بہانے اُسے پوری طرح کھول رکھا تھا۔ یوں کہ اُس کاسینہ اور چہرہ – دونوں یخ جھونکوں کے سامنے رہیں۔

اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب شائستہ اُس کے عقب میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تو تب بَدحواس ہو کر ایک طرف ہو گیا – جب اُس نے اَپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے بائیں کندھے کو قصداًذرا زور سے دبا کر اُسے ایک جانب دھکیلا تھا۔

وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا جہاں بوکھلا کر پہنچا تھا۔ شائستہ نے پانی کی بوتل نکالتے ہی قدرے جَھٹکے سے ریفریجریٹر کا دروازہ بند کیاتھا۔
پھر اُس نے سینک کے کونے میں پڑا وہ گلاس نکالا جو دونوں کے اِستعمال میں نہیں آتا تھا اور اس چنگیر کی جانب لپکی جس میں پہلے سے روٹیاں لپٹی ہوئی پڑی تھیں ۔ شائستہ بچ جانے والی روٹیوں کو اِسی چنگیر میں رَکھتی تھی کہ صفائی والی ماسی آتی تو لے جایا کرتی۔

رکابی میں سالن بھی پہلے سے موجود تھا – شوربا – جس کی سطح پر ایک جھلی سی بن گئی تھی۔ شوربے کے بیچ میں پڑا ہوا اکلوتا آلو اَپنی رنگت بَد ل کر گہرا بھورا ہو گیا تھا۔ یقینا ماسی آج نہیں آئی تھی۔ اُس نے اَپنے یقین کے استحکام کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کوئی اور نشانی تلاش کر لیتا – شائستہ نے اُسے پھر چونکا دیا۔ وہ ایک ٹرے میں پانی کی بوتل – گلاس – چنگیر اور رکابی رکھ کر اُس کی سمت بڑھانے کے بعد لفظوں کو چبا چبا کر کَہ رہی تھی ۔
”جب وہ کھانا کھا چکیں تو اصرار کر کے انہیں روک نہ لیجئے گا۔“

اُس نے اُسے نہیں روکا تھا مگر وہ خود ہی رُک گیا تھا۔
شائستہ سارا وقت اَپنے بیڈ روم میں اُوندھی پڑی رہی اور بہت دیر بعد جب عاطف کمرے میں آ کر آنے والے مہمان کی بابت اُسے بتا رہا تھا تو اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں ۔ اُسے کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا۔ ”ضرورت مند“۔ ”پرانا کلاس فیلو “ اور ”مدد“ جیسے الفاظ اُس کے کانوں میں پڑے تھے۔ ایک میلے کچیلے شخص کی اوقات کے لیے یہ کافی تھے لہذا اُس نے اَپنی سماعتوں کو بند کرلیا – پہلو بَد ل کر لیٹ گئی اور سارے بَدن کو موج دَر موج اُچھل جانے دیا۔

اَگلے روز ناشتے تک وہ نہیں اُٹھا تھا۔ دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد اور ناشتے کے لیے بیٹھنے سے پہلے – عاطف نے ڈرائنگ روم میں جھانکا ۔ وہ وہیں صوفے پر – عین اُسی رُخ لیٹا ہوا تھا ؛ رات اصرار کر کے جس رخ لیٹ گیا تھا۔ مہمانوں کے لیے بیڈ روم اوپر تھا مگر وہ وہیں صوفے پر لیٹنا چاہتا تھا۔ لیٹ گیا اور اَب اُٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ عاطف نے دِل ہی دِل میں اسے وہی گالی دِی جو اُسے بچپن میں دِیا کرتا تھا او ر ناشتے میں مگن ہو گیا۔

جب وہ دفتر کے لیے نکلنے لگا تو عاطف میں ہمت نہ تھی کہ وہ شائستہ کو مہمان کے حوالے سے کوئی ہدایت دیتا یا فرمائش کرتا۔ کوٹ کی جیبوں کو ٹٹول کر اپنا چرمی پرس نکالا – اُس میں سے اَپنا وزیٹنگ کارڈ الگ کیا اور اُس میز پر رَکھ دیا جس کے قریب پڑے صوفے پر وہ یوں بے خبر سو رہا تھا کہ سارا ڈرائنگ رُوم اُس کے خراٹوں سے گونجتا تھا۔
بے اِختیار وہی گالی عاطف کے ہونٹوں پر پھر سے گدگدی کرنے لگی ۔
اُس کے ہونٹ بے اختیار پھیلتے چلے گئے۔ وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا اور باہر نکل گیا۔
دفتر میں وقفے وقفے سے اُسے مہمان کا خیال آتا رہا۔

رات اُس نے جو دلچسپ باتیں کی تھیں – اُنہیں یاد کرتا تو مسکرانے لگتا۔ شائستہ کے روّیے کے باعث اُسے جو خفت اُٹھانی پڑی تھی وہ اُسے ملول کرتی تھی لہذا اُس نے اپنے تئیں طے بھی کر لیا تھاکہ وہ اُس کی کیا مدد کرے گا۔
جب بھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی – اُسے گماں گزرتا کہ گھر سے کال ہو گی حتیٰ کہ اُسے تشویش ہونے لگی۔ پھر وہ چاہنے لگا کہ خود فون کر کے مہمان کی بابت پتا کرے۔ اُس نے دوبار نمبر گھمایا بھی – مگر اِس خیال سے کہ فون شائستہ اُٹھائے گی – اُس نے اِرادہ ملتوی کر دیا ۔ تیسری بار وہ گھر کا نمبر ملاتے ملاتے نہ جانے کیوں رُوبی کو ڈائل کر بیٹھا۔
وہ تو جیسے اُسی کے فون کی منتظر تھی۔

پہلے تو باتوں میں اُلجھا لیا – پھر جذبوں کی ڈوری سے اُسے یوں باندھا کہ وہ دفتر سے غائب ہو کر سیدھا اُس کے پاس پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔

جب وہ گھر میں داخل ہو رہا تھا تونہ جانے کیوں اُسے یقین سا ہو چلا تھا کہ مہمان جا چکا ہو گا مگر وہ تو وہیں تھا۔
اُس نے مدھم مدھم آواز کو سنا تو اُسے یقین نہ آتا تھا۔

شوخ سی آواز – مسلسل بولنے کی ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے دے کر۔ اور الفاظ یوں شباہت بناتے تھے کہ جیسے انہیں اَدا کرنے والے ہونٹ لوچ دَار ہو گئے ہوں۔ باتوں کے وقفوں میں قہقہے اُمنڈتے تھے۔ شائستہ کے شیریں حلقوم سے۔ اس جھلی کو توڑتے ہوے جو ایسے قہقہوں سے الگ رہنے کے سبب اُس کی آواز کے اوپر بن گئی تھی۔

یہی قہقہے سننے کی اُسے حسرت رہی تھی۔ اُسے اَچنبھا ہوا کہ شائستہ ایسے رسیلے قہقہے اُچھال سکتی تھی اور اُچھال رہی تھی۔

وہ تقریباً بھاگتا ہوا ڈرائنگ روم کے دَروازے تک پہنچا اور اُسے لگا کہ جیسے سارا ڈرائنگ روم مہمان کی دھیمی ‘مسلسل باتوں سے اور شائستہ کے بے اختیار قہقہوں سے کناروں تک بھر چکا تھا اور اَب چھلکنے کو تھا۔

مہمان نے اَپنے گیلے کھچڑی بالوں کو سلیقے سے یوں پیچھے سنوارا ہوا تھا کہ کنپٹیوں کی سفیدی دَب گئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں چمک تھی جو اُس کے سارے چہرے پر ظاہر ہو رہی تھی۔ – یہاں تک کہ جبڑوں کی مسلسل نمایاں نظر آنے والی ہڈیاں بھی اِسی چمک میں کہیں معدوم ہو گئی تھیں۔

جو شخص بول رہا تھا اس کے بَد ن پر عاطف کا پسندیدہ لباس تھا جو اگرچہ اُس پر چست نہ بیٹھا تھا مگر اُسے بارعب بنا گیا تھا۔
دُھلا دُھلایا صاف ستھرا شخص – اُس شخص سے بالکل مختلف ہو گیا تھا جسے وہ صبح صوفے پر خراٹے بھرتا چھوڑ گیا تھا۔
وہ مسلسل بول رہا تھا اور اُس کے ہونٹ ایک طرف دائرہ سا بنا رہے تھے ۔
وہ عاطف کی نظر آنے تک بولتا رہا۔

شائستہ کے قہقہے اُچھلتے رہے۔

عاطف کے نظر آنے پر بھی وہ کسی رَخنے کے بغیر اُچھلتے رہے – حالاں کہ بولنے والا شخص خاموش ہو چکا تھا۔ عاطف کو لگا – شائستہ قہقہے نہیں اُچھال رہی تھی – ننھا فرخ اُس کے گھٹنوں پر اُوندھا پڑا کلکاریاں مار رہا تھا جب کہ نرم ملائم جلد پر مخروطی اُنگلیاں پھسل رِہی تھیں اور پھسلے ہی جاتی تھیں۔

Image: Henn Kim

Categories
نان فکشن

سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟

ٹیلی وژن کی سکرین جگمگا رہی تھی، اور ایک نغمہ گونج رہاتھا۔

“ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں”
میں خوش ہو رہا تھا اور سردھن رہا تھا۔
ایک صاحب ‘ جو میرے پہلو میں بیٹھے گوشہ چشم سے سکرین سے امنڈتی روشنیوں کو جھانک رہے تھے یکدم بھڑک اُٹھے اور لگ بھگ چیخ کر کہا

“خاک۔۔۔۔ خ۔۔۔۔خ۔۔۔۔خااااک”
میں چونکا‘ ادھر ادھر بیٹھے لوگوں کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔

شعلہ بنا شخص ابھی ابھی تو دم سادھے بیٹھا تھا ۔روز کے معمول کی طرح اسی کونے میں جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا۔ چپ چاپ‘ یوں جیسے مردم بیزار ہو اور جس نےکبھی نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی ہو۔ اسےکبھی بولنا پڑتا توایک سرگوشی ہی دوسرے کے کان تک پہنچ پاتی تھی۔
مگر۔۔۔۔۔

اب جو بھڑک اٹھا تھا تو یوں کہ جلتی پر تیل کا کنستر الٹ گیا تھا وہ کھڑا تھا اس کی بھنچی ہوئی مٹھیاں ہوا میں لہرا رہی تھیں نتھنے پھڑ پھڑا رہے تھے وہ بول رہا تھا اور اس کے منہ سے جھاگ بہے چلی جاتی تھی
“زندہ قوم۔۔۔۔؟”
“ایسی ہوتی ہے زندہ قوم؟”

چوروں‘ لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو کھل کھیلنے کی سند دینے والی زندہ قوم!
غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی زندہ قوم!
لیڈروں‘ حکمرانوں اور رہنماﺅں کی عیاشیوں کے لئے خام مال بنی ہوئی زندہ قوم!
صوبائی‘ لسانی‘ گروہی‘ نسلی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی ڈسی ہوئی زندہ قوم مہنگائی‘ ناانصافی‘ بدانتظامی ‘ تذلیل اور بے حیائی کے ریلے کی زد میں آئی ہوئی زندہ قوم!
ماضی قریب سے نادم‘ لمحہ حال سے شاکی اور مستقبل سے مایوس زندہ قوم!
غیر جمہوری‘ غیر مہذب اور ناکام ریاست کے منتشر افراد کہلانے والی زندہ قوم!
کشکول اٹھائے آج کی ضرورتوں اور عیاشیوں پرکل کو رہن رکھنے والی زندہ قوم!
انصاف کے نام پر حکومتیں گرانے کاسرکس دیکھ کر تالیاں پیٹنے والی زندہ قوم !

درپردہ آمریت کو برقرار رکھنے اورآئین کو پامال کرکے عدالتوں کے مجہول فیصلوں سے اسناد حاصل کرنے والوں کا خیر مقدم کرنے والی زندہ قوم!

“مخالف نظریات رکھنے والوں کو مکالمے کی میز پر لانے کی بہ جائے ان کے عدم پتہ ہونے پر مطمئن ہو جانے والی زندہ قوم!
دہ مکے فضا میں برسا برسا کر اور گلا پھلا پھلا کر بولے ہی چلا جا رہا تھا جیسے اس کے اندر ایک ایک جملہ ترتیب سے رکھا تھا یوں‘ کہ اب دوسرے جملے کو راہ دے کر اپنی باری پر برآمد ہو رہا تھا ایسے جیسے جملے نہ ہوں پستول کے میگزین میں ترتیب سے بھری گولیاں ہوں تڑ‘ تاڑٍ تاڑ۔۔۔

میں مسلسل اس کی شرٹ کو پکڑے کھینچ کر بیٹھنے کو کہہ رہا تھا مگر وہ دھیان ہی نہ دے رہا تھا‘ میں اٹھا دونوں ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ کر سارے بدن کا بوجھ اس پر ڈال دیا اور اتنی ہی آواز سے چیخ کر کہا جتنی میں وہ چیخ رہا تھا۔
“پروپیگنڈہ ہے یہ مغرب اور دشمن کا پروپیگنڈہ”

اس نے میری طرف پہلی بار غور سے دیکھا‘ اور دھڑام سے اپنی نشست پر یوں بیٹھا کہ کرسی چر چرانے لگی‘ اس کے دونوں گھٹنے سامنے پڑی میز سے ٹکرائے اور چائے کی پیالیاں اچھل کر لڑھکنے لگیں۔۔۔۔ اس کی آواز قدرے دھیمی پڑ گئی۔۔۔۔ میرے کہے کو دہرانے لگا۔۔۔

“دشمن کاپروپیگنڈہ۔۔۔۔ مغرب کا پروپیگنڈہ”
“ہم بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں مار دیتے ہیں ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے
ہم نے یونیورسٹی میں مذہب کی بے حرمتی کے جھوٹے الزام میں ایک بے گناہ طالب علم کا سر پتھر وں سے کچل دالا۔ ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے۔

ہم عورت کو بولنے نہیں دیتے ، بولنے تو اسے فاحشہ قرار دیتے ہیں ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے
ہم ثنا خوان تقدیس مشرق ہیں اور مشرقی روایات کا بھرکس نکال رہے ہیں ۔۔۔یہ سب مغرب کا پروپیگنڈہ ہے ۔۔۔ ”
اس کا لہجہ تیکھا ہو گیا تھا ۔

میں نے ادبدا کر کہا ” جھوٹ ہے اس میں بہت کچھ ” اس نے پہلو بدل کر اپنی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں اور مجھے یوں تکنے لگا جیسے اس کی تیز نظر میرے بھیجے کو اڑا کر پار ہو جائے گی۔

میں لڑکھڑا گیا‘ “شاید سارا سچ نہ ہو۔۔۔۔ میڈیا تو ان کا آلہ کارہے جن کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں ہماری سلامتی اور ہمارا وجود آڑے آرہا ہے”۔۔۔۔ لڑکھڑاتی زبان سنبھل گئی۔۔۔۔ نغمے کے بول آخری بار دہرائے جا رہے تھے جو ہماری چیخ چیخ میں دب رہے تھے۔
“ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں”

“دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔۔۔۔اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔
“قوم منظم ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک” اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں۔۔۔

“اور۔۔۔۔ بھیڑ میں جس کا منہ جدھر ہوتا ہے وہ ادھر ہی کو بھاگے چلا جاتا ہے دوسروں کو روندتا ہوا‘ کچلتا ہوا‘ لتاڑتا ہوا۔”
اب وہ لفظ چبا چبا کر نکال رہا تھا۔۔۔۔ اس نے ایک سوال اچانک میری سمت اچھالا۔

“بتاؤ کیا زندہ قومیں برضارغبت مسلسل ذلت کی کھائی میں گرے چلی جاتی ہیں؟۔۔۔۔ آہ”۔۔۔
لمبا سانس نکال کر اس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا اور خود ہی خود سے کہنے لگا:

“حیف کہ ہم من حیث القوم تحت الثری میں گرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور حیرت ہے نیچے گرے جاتے ہیں‘ نیچے اور نیچے۔۔۔۔ اور رقص بھی کئے جاتے ہیں‘ گائے جاتے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر پروگرام بدل چکا تھا ایک مقبول نغمہ ابرارالحق تھرک تھرک کر گا رہا تھا۔

“کنے کنے جاناں بلو دے گھر۔۔۔”
“لائن بناؤ نالے ٹکٹ کٹاؤ۔”
وہ بڑ بڑایا۔۔۔۔ لائن بنانے کی فرصت کہاں!
میں چپ رہا۔۔۔۔ مناسب یہی تھا کہ چپ ہی رہوں ۔۔۔۔
مگر جسے لائن بنا کر ٹیکسٹ کیے گئے تھے وہ چپ نہیں رہی تھی ۔
شکر ہے اس کا دھیان ادھر نہیں گیا تھا اور ممکن تھا وہ خود ہی بک جھک کر خاموش ہو جاتا مگر اس نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کھڑی کی اور پھر آہستہ آہستہ یوں میری چھاتی کی طرف موڑنے لگا جیسے نشانہ باندھ رہا ہو۔۔۔۔ یکدم اس کے ہونٹ تھرائے اور باہم یوں ٹکرائے کہ پورے ہال میں ان کا زپاٹا گونج گیا‘ پھر وہ زچ بچ بولے چلا گیا

بلو کا گھر۔۔۔۔ نیچے بہت نیچے۔۔۔۔ لائن بناؤ۔۔۔۔ نہیں بھاگو۔۔۔۔روندو۔۔۔۔ کچلو
اس کے گلے میں خراش ہونے لگی لفظ پھنس پھنس کربر آمد ہونے لگے حتی کہ اس کا پورا بدن بارش اور طوفان کی زد میں آئی کشتی کے بادبان کی طرح لرزنے لگا‘ آنکھیں بھیگنے لگیں اور مجھے یوں لگنے لگا کہ جو وہ کہہ رہا تھا یا پھر نہیں کہہ پا رہا تھا اس کا لفظ لفظ میرے دل کے بیچ گر رہا تھا۔

اس واقعے کو کئی دن بیت چکے ہیں۔۔۔۔ مگر وہ شخص جو بظاہر معزز تھا اور اندر سے گولی کی طرح بارود سے بھرا ہوا تھا اب بھی میری یادداشت کے گوشے سے عین اس وقت اٹھ کر منہ سے جھاگ پھین جھاڑنے لگتا ہے جب بھی میں اکیلا ہوتا ہوں۔
میں اسے انتہائی باحوصلہ‘ مہذب اور دانشمند کے طورپر جانتا رہا ہوں‘ سفید پوش ہے اپنے وسائل کے بیچ گزر بسر کرنے والا‘ ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرنے والا اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھنے والا۔

میں جانتا ہوں کہ اس کی بچیاں اور بچے ابھی سکولوں میں ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ ابھی اس پر نہیں پڑا۔۔۔۔ تاہم بچوں کی یونیفارم کتابیں ‘ کاپیاں‘ بسوں کے کرائے‘ فیس اور دوسرے لوازمات کے لئے اسے اپنی تنخواہ سے اچھی خاصی رقم الگ کر دینی ہوتی ہے اس کے پاس موٹر سائیکل ہے گاڑی نہیں لہذا پیٹرول کا خرچ کم ہی ہے تاہم روز روز بڑھتی پیٹرول کی قیمت پھر بھی اس کے بجٹ کو متاثر ضرور کرتی ہے۔ وہ اکثر بجلی ‘ گیس‘ ٹیلی فون وغیرہ کے بلوں کی شکایت کرتا رہتا ہے مہنگائی سے شکوہ بھی اس کے لبوں پر رہتا ہے بیوی کی بیماری اور اس کے لئے دواؤں کا حصول بھی اس کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ انکم ٹیکس اور دوسرے ایڈوانسز کی کٹوتیاں بھی اسے کھٹکتی ہیں۔ وہ اکثر چیلنج کیا کرتا ہے کہ اس کے کنبے جیسے مختصر خاندان والے سرکاری ملازم کی گزر بسر کا بجٹ موجودہ تنخواہ سے کوئی بھی ماہر اقتصادیات بنا دے تو وہ ملازمت ہی سے مستعفی ہو جائے گا ۔یہ سب کچھ وہ یوں بتا تا رہا ہے جیسے اسے بس معمولی سے رنجش ہو کبھی ہنستے ہوئے کبھی یونہی کندھے اچکا کر مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس کا دماغ پوری طرح الٹ گیا تھا۔

میں نے اسے دیکھا تھا اور حیران ہوا تھا
حیران ہوا تھا اور اسے دیکھتا چلا گیا تھا۔
بہت پہلے ایک جملہ پڑھا تھا ”لفظ بھرے ہوئے پستول ہوتے ہیں“
اس جملے کے اصل معنی سمجھ نہ آئے تھے۔
مگر اب جب کہ یہ شخص مجھے اکیلا پا کر میری یادداشت کے پہلو سے اٹھ کر لفظوں کی بوچھاڑ کرنے لگتا ہے تو مجھے بہت پہلے پڑھا ہوا جملہ پوری طرح سمجھ آ جاتا ہے اب تو وہ خود بھی مجھے گولی کی طرح لگنے لگا ہے تانبے کا اور بارود سے بھرا ہوا۔
ایسی گولی‘ جو کسی بھی پستول کی میگزین میں ڈالی جا سکتی ہے۔

جہاں منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہو کہ وہ تبدیل ہوتے موسموں کو دیکھیں مگر آنکھیں بند کر لیں ، جہاں ملک کے ایک حصے میں تو خشک سالی کا عفریت روز انسانوں اور مویشیوں کے تر لقمے نگلے اور دوسری طرف منرل واٹر کے بغیر پانی کا تصور ہی محال ہو۔۔۔۔ جہاں ایک طرف تعلیم کو سارے وسائل مہیا ہوں حتی کہ تعلیم کے بعد حسب منشا مناصب بھی اور دوسری طرف عین سوانیزے پر سورج ہو تو بھی درختوں کی چھدری چھاؤں تلے ننگی زمین کے سوا ایک دونی‘ دونی ‘ دو‘ دونی چار کے لئے کوئی اور جگہ میسر نہ ہو۔۔۔۔ جہاں غریب اتنی قدرت نہ رکھتا ہو کہ انصاف پانے کورٹ کے دروازے تک پہنچ سکے‘ ظلم اس لئے برداشت کرتا جائے کہ وکیل کی فیس ‘ کوٹ فیس کلرکانہ‘ فوٹوسٹیٹ‘ آمدورفت کا کرایہ اور دوسرے اخراجات کہاں سے لائے گا۔۔۔۔ تاریخیں بھگتے کہ محنت کر کے پیٹ کا ایندھن کا بندوبست کرے گا اور یہ سب کچھ ہمت کر کے کر بھی لے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ انصاف ملنے تک اس کی آنکھیں پتھرا نہیں جائیں گیں اور دوسری طرف یہ عالم ہو کہ اہل زر کے پاس چمک ہی چمک ہو۔۔۔۔ آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چمک‘سارے ضابطوں اور قوانین کو انصاف کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی خزاں زدہ سوکھے پتوں کی طرح چرمراکر رکھ دینے والی چمک۔۔۔۔ جہاں عدالتوں کے جج آئین اور قانون کے حوالے دینے کی بجائے ناولوں اور ڈکشنریوں کو بنیاد بناتے ہوں ۔جج خبرکی اشتہا کے اسیر ہو جائیں اور عدالتیں عام آدمی کے مقدمات کو اگلی تاریخوں پر ٹالنے لگیں تو ایسے معاشرے میں بے وسیلہ لوگوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جایا کرتی ہے۔

نوجوان تعلیم پاکر بھی بے روز گار رہتے ہیں۔

اپنوں کے طعنے سنتے ہیں ۔ وہ اپنی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں‘ جو برداشت نہ کر سکیں باغی ہو جاتے ہیں اور اندھیرے میں اسی ظالم سماج سے اپنا حصہ بزور حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
جس قوم کا پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہو
آگے سمندر ہو اور پیچھے دیوار
ایسی قوم کے ہر بے وسیلہ شخص کے مقدر میں گولی بننا لکھ دیا جاتا ہے مجھے خدشہ ہے وہ تانبے کے بدن والا ایک شخص نہیں ہے ادھر ادھر اور بھی ہیں جن میں بارود بھرا ہو اہے۔
گولی جیسے لوگ۔۔۔۔
جو کسی بھی پستول کی میگزین میں بھرے جا سکتے ہیں۔۔۔۔

نسلی تفادت۔۔۔۔ علاقائی تعصب۔۔۔۔ لسانی جکڑ بندی۔۔۔۔ صوبہ پرستی۔۔۔۔ فرقہ واریت۔۔۔۔ دہشت گردی، غرض کسی بھی پستول کی میگزین میں۔۔۔۔ اور پھر جسے جو چاہیے جب چاہے تاڑ‘ تڑ‘ تڑ‘ تاڑ چلالے ۔میں بے وسیلہ لوگوں کے چہروں کی سمت دیکھتا ہوں تو مجھے جان اگارڈکی وہ نظم یاد آ جاتی ہے جو عباس رضوی کی وساطت سے مجھ تک پہنچی تھی۔۔۔۔ نظم کا عنوان ہے ” بندوق کی گولی کی جانب سے ایک سوال۔۔۔۔ نظم پڑھیں اور اس کی آخری سطر کو ہم خود سے کیا گیا ایک سوال جانیں۔

“میں بندوق کی گولی نہیں رہتا چاہتا
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
میں ایک معصوم سکہ بننا چاہتا ہوں
جو ایک بچے کے ہاتھ میں ہو
اور جسے ایک ببل گم مشین میں ڈال دیا جائے
۔۔۔۔ میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
میں ایک نیک شگون والا بیج بننا چاہتا ہوں
جو کسی کی جیب میں بےکار پڑا رہے
یا کوئی معمولی سا پتھر
جسے کسی کان کے بندے میں لگنا ہو
یا بہت سارے پتھروں کے درمیان
بے شناخت پڑا رہے
۔۔۔۔ میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا
میں بہت زیادہ عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
سوال یہ ہے کہ
کیا تم قاتل ہو ناترک کرسکتے ہو؟”۔۔۔۔

Image: S. M. Mansoor

Categories
شاعری

ان چکھے گناہ کی مٹھاس

میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں
مٹھاس میرے پورے وجود میں اتر گئی ہے
مگر زبان چپڑ چپڑ چاٹتی چلی جاتی ہے
مسلسل شیرینی چاٹتے چاٹتے
زبان اور ہونٹوں پر زخم نمودار ہو گئے ہیں
اپنے ہی خون کی کڑواہٹ حلقوم میں اترتی ہے تو
چونک اٹھتا ہوں ۔۔۔۔۔
کہ سامنے قفط میں ہوں اور خون کی کڑواہٹ
مگر وہ گناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی لذت ابھی ابھی میرے بدن میں اتر رہی تھی
میرے عقب میں کھڑا
آئینے میں میرا منہ چڑا رہا ہے۔

Image: Gerard Reyes by Alejandro Santiago

Categories
فکشن

سجدۂ سہو

ایکا ایکی اُسے ایسے لگا جیسے کوئی تیز خنجر اُس کی کھوپڑی کی چھت میں جا دھنسا ہو۔ اس کاپورا بدن کانپ اُٹھا۔ جسم کے ایک ایک مسام سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر آگئے۔ اُس نے سر پر دوہتڑ مار کر لَاحَول وَلا قُوة کہا۔ عین اُس لمحے اُس کے ذِہن کی سکرین پر اپنے ایک سالہ سعیدے اور اس کی ماں نوری کی تصویر اُبھری۔ نوری سعید ے کو لوری دے کر سُلا رہی تھی اور وہ سونے کی بہ جائے اُسے دِیکھ دِیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

اِس خیال کے آتے ہی اُس کے جسم کا تناؤ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو دباکر نچوڑا تو اُسے یوں لگا‘ جیسے سر نچوڑنے سے عاشو منہ میں آ گئی ہو۔ منھ اِدھر اُدھر ٹیڑھا کر کے لعاب جمع کیا اور تھوک کے ساتھ عاشو کو بھی زور سے دور پھینک دیا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اِنسان سوچوں اور خیالات کے آگے بے بس کیو ں ہو جاتا ہے‘ پیچھا چھڑانا بھی چاہے تو نہیں چھڑا سکتا۔

کہیں یہ سوچیں مجھے شکست نہ دے دیں۔

اِس خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ کانپ اُٹھا۔ بے شک وہ گبھرو جوان تھا لیکن سوچیں تو جسم پر نہیں ذہن پر وار کرتی تھیں ۔ اس نے س سرکو شرقاً غرباً کئی جھٹکے دِیے۔ صافہ سر پر باندھا‘ چادر کے پلو کسے‘ ایک نظر رہٹ چلاتے بیل پر ڈالی۔ بیل بڑے سکون کے ساتھ کھڑا تھا۔ اُسے بے اختیار ہنسی آگئی۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔

”کیسا چالاک ہے اُلو کا پٹھہ‘ مجھے غافل پا کر نہ جانے کن خیالوں میں مگن کھڑ ا ہے“
اپنی سوچ پر پہلے تو وہ جھینپاپھر اپنے آپ پر ہنسنے لگا۔
بھلا بیل بھی سوچتے ہیں کیا؟ بیل انسان تو نہیں؟
لیکن وہ تو اِنسان تھا اور ابھی ابھی سوچوں سے چھٹکارا پا کر اُٹھا تھا۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا‘وہ نوری ‘ سعیدے اور ماسی رضو سے بچ بچا کر سوچوں کے جوہڑ میں جا دھنستا اور دیر تک ڈبکیاں لگاتارہتا۔ پھر جس آن اُسے اندیشہ ہوتا کہ کوئی دیکھ نہ لے‘ جھٹ پٹ لَاحَول وَلا قُوة کہتا اور دھیان جوہڑ سے باہر نکل آتا۔ ایسے میں اُسے لگتا جیسے اُس کے جسم سے اس جوہڑ کے گندے پانی کی بدبو کے بھبکے اُٹھ رہے ہوں۔

بیل اَپنی جگہ خاموش کھڑا تھا۔

اور وہ بھی اَپنی جگہ خاموش کھڑا نتھنوں کو پھڑ پھڑا رہا تھا۔
اُسے اَپنے اور بیل میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔

”وہ مجھے غافل پا کر اپنے خیالات میں مگن‘ نہیں نہیں‘ خاموش کھڑا ہے۔ اور میں بھی کسی کو غافل پا کر سوچوں میں غرق ہوں“
اس نے ایک موٹی سی گالی اپنے آپ کو اور ایک اِسی وزن کی گالی بیل کو دی۔

بیل تو جیسے اِسی گالی کا منتظر تھا‘ فوراً چل پڑا۔ ٹینڈیں پانی بھر بھر کر اُوپر لانے لگیں تو وہ کھالے کے ساتھ چلتا ہوا گنگنانے لگا:

نیچاں دِی اَشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا
کِکر تھ اَنگور چڑھایا تے ہر گُچھا ز خمایا
ہو۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔ نیچاں دِی اَشنائی کولوں۔۔۔۔۔

آخری کھیت پر پہنچ کر پانی کا رُخ بائیں کھیت کی طرف موڑنے کے لیے اُس نے پانی کا ناکا کھول دِیا۔ پانی دائیں بائیں دونوں کھیتوں میں جا رہا تھا۔ اُس نے دائیں کھیت کے ناکے کو بند کر دیا کہ وہ سیراب ہو چکا تھا۔ اِس کام سے فارغ ہو کر اُس نے کمر پر ہاتھ رکھا اور سیدھا کھڑا ہو کر گاؤں کی طرف دِیکھنے لگا۔ اُس کے اَندازے کے مطابق نوری کو کھانا لے کر اَب تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
اور اس کا خیال درست نکلا۔
نوری واقعی ایک ہاتھ سے سعیدے کو اور دوسرے میں کھانا تھامے چلی آہی تھی۔ وہ واپس رہٹ کے پاس آیا اور اُسی بوہڑ کے نیچے آبیٹھا جہاں کچھ دیر قبل عاشو کے خیال سے جنگ کرتا رہا تھا۔

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ عاشو بہت حسین تھی۔ اُس کا قد سرو کی مانند تھا نہ گردن صراحی کی طرح۔ اُس کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی جیسے تھے نہ رنگت ہی سرخ و سپید۔ یہ سب کچھ تو بس عام لڑکیوں جیسا تھا لیکن اُس کی آواز میں بلا کی کشش تھی۔ وہ بولتی تو راہ چلتوں کے قدم تھم تھم جاتے۔ سرسوں کے پیلے پیلے پھول‘ کہ جن سے عاشو نے اپنے چہرے کا رنگ چرایا تھا‘ جھوم جھوم اُٹھتے۔ گاؤں کی تمام اَلہڑ مٹیاروں کی طرح وہ بھی کھیتوں پر کام کو جاتی۔ گھر کے ڈھور ڈنگر سنبھالتی‘ بالکل ایسے ہی جیسے خود عبدل کی بیوی نوری یہ سارے کام کرتی تھی۔

لیکن عبدل پر عاشو کا خیال بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔
وجہ عبدل خود بھی نہ جانتا تھا۔

جونہی اُس کا ذہن دیگر تفکرات سے خالی ہوتا‘ عاشو آکر قبضہ جما لیتی۔ کئی بار تو یوں ہوتا کہ وہ رات کو اچھا بھلا سونے لگتا مگر دیر تک دشتِ خیالات میں بھٹکتا رہتا۔ پھر جب رات کے پچھلے پہر سعیدا اَپنے پوتڑے گندے کر کے رونے لگتا تو وہ چونک اٹھتا اور لَاحَول وَلا قُوة کَہ دِیتا۔ نوری بے چاری سمجھتی‘ اس ننھے شیطان کے رونے پر عبدل نے غصے میں آکر لَاحَول وَلا قُوة کہا ہے۔ چناں چہ وہ جلدی جلدی اُس کے پوتڑے بدلتی۔ اُسے تھپکتے اور دودھ پلاتے سلانا شروع کر دیتی۔ اُس کے ساتھ ہی عبدل کو یوں لگتا‘ نوری نے سعیدے کو نہیں خود اُسے تھپکیاں دِے کر سُلادِیا تھا۔

نوری قریب پہنچی تو اُسے ڈر لگنے لگا؛ کہیں سوچوں کے گندے جوہڑ کی بو نوری بھی نہ سونگھ لے۔ اُسے دُکھ ہو رہا تھا کہ وہ عاشو کے بارے میں کیوں سوچتا رہتاتھا؟ اس جرم کے احساس کی شدّت کو کم کرنے کے لیے وہ نوری کو دِیکھ کر مسکرا دیا۔ اور جب اُس کی نظر سعیدے پر پڑی تو اس کا چہرہ گلِ نو شگفتہ کی طرح کِھل اُٹھا۔ لپک کر آگے جھکا‘ نوری کی گود سے سعیدے کو اُچکا اور سینے سے لگا لیا۔

بے تحاشا پیار کی پھوار تھی جو سعیدے پر مسلسل برس رہی تھی۔

نوری نے یہ دِل رُبا منظر دِیکھا تو نہال ہو گئی۔ کھانا بوہڑ کی چھاؤں تلے رَکھا اور بانہیں پھیلا کر کہنے لگی۔

”سعید ا مجھے دو اور تم کھانا کھاؤ کہ بھوک ستا رہی ہو گی“

عبدل نے نوری پر ایک اُچٹتی نگہ ڈالی‘ سعیدے کی پیشانی پر پیار سے ایک اور بوسہ دیا اور اُسے نوری کی پھیلی بانہوں میں ڈال دیا۔ جب وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیاتو نوری بھی اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔ سعیدا اُس کی گود میں لیٹا مسکرا کر باپ کو دِیکھ رہا تھا اور توتلی زُبان میں کچھ کہے جاتا تھا۔ اُس نے روٹی کے کپڑے کی گرہ کھولی۔ باجرے کی روٹی اُس پر سرسوں کا ساگ اور مکھن کی سوندھی خُوِشبو۔ اُس کی بھوک چمک اُٹھی۔ لسی کا گلاس بھر کر قریب رکھا اور کھانے میں مگن ہو گیا۔ نوری اُ س سے بھولی بھالی باتیں کرتی رہی۔ وہ سنتا رہا۔ اور جانے کب نوری خاموش ہو کر بچے کو پانی پلانے چوبچے کے پاس لے گئی تھی کہ عاشو کہیں سے آکر عبدل کے ذہن پر براجمان ہو گئی۔ دوسرے ہی لمحے سعیدے کی کلکاریوں اور ”مم مم“ نے خیال کے اس کھلونے کو توڑ کر دور پھینک دِیا اور وہ مطمئن ہو کر کھانا کھانے میں لگ گیا۔ کھانا کھا چکا تو نوری نے برتن سمیٹے اور سعیدے کو اُٹھا کر واپس چل دِی۔ عبدل وہی صافہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ ابھی نوری نظروں سے اوجھل نہ ہوئی تھی کہ وہ دھڑام سوچوں کے گندے جوہڑ میں جا گرا۔

عاشو سے اُس کی ملاقات دو سال قبل فضلو کی شادی پر ہوئی تھی۔ بارات دلہن کو لینے دوسرے گاؤں گئی تھی۔ ابھی وہ دلہن کے گاؤں کے قریب پہنچے ہی تھے کہ شمال سے بادل اُٹھے اور پورے آسمان پر بکھر گئے۔ بجلی کڑکی اور اس کے ساتھ ہی رِم جھم بارش برسنے لگی۔ گاؤں پہنچنے تک بارش کچھ اور تیز ہو گئی تھی۔ بارات میں موجود سیانوں کا یہی فیصلہ تھا:

دلہن لے کر فوراً واپس چل پڑنا چاہئے کہ کہیں راہ میں پڑنے والے برساتی نالے میں طغیانی نہ آجائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پانی اُترنے تک یہیں رکنا پڑے گا۔

چناں چہ دلہن لے کر برات بارش ہی میں واپس چل پڑی۔

وہ دوسرے باراتیوں کے ساتھ نالے میں اُترا ہی تھا کہ اُس کے پہلو سے عاشو لڑکھڑا کر اُس کے ساتھ ٹکرا گئی۔ عبدل کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے اور وہ بھی عاشو کے ساتھ ہی پانی میں گر پڑا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ابھی نالے کا آغاز تھا‘ پانی گھٹنوں سے اُوپر نہ تھا۔ وہ خود سنبھلا‘ عاشو کو سنبھالا دیا۔ عاشو نے ہنس کر اُسے دیکھا۔ شکریہ ادا کیا اور اپنا ہاتھ اُس کی جانب بڑھاتے ہوے کہا:
”ذرا پار تک مجھے تھامے چلو“

عاشو کے ذِہن پر اُس لمحے کسی اور خیال کی پرچھائیں تک نہ تھی۔ وہ تو بس نالے کے پار تک جانا چاہتی تھی مگر عبدل کے خیالات کا منھ زور گھوڑا لگام تڑا کر سرپٹ بھاگے جا رہا تھا۔ اُ س کے بعد جب بھی وہ اکیلا ہوتا‘ لڑکھڑا کر ندی میں جا پڑتا‘ پھر عاشو کو سنبھالا دیتے ندی کے پار تک آتا۔ ذہن کے بحرالکاہل میں کتنی ہی موجیں اُٹھتی تھیں اور وہ بے حال ہو جاتاتھا۔

لمحہ لمحہ کر کے دوسال بیت گئے مگر عاشو کے ہاتھوں کا لمس تھا کہ وہ بھول نہ پایا تھا۔ تاہم جیسے ہی اُسے سعیدے کی ماں کا خیال آتا وہ اپنے آپ کو کوسنے لگتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر زورزور سے کہنے لگتا:

”خدایا! تیرا شکر ہے کہ تو نے میری اور میری ماں کی دُعائیں سن لیں اور مجھے سعیدا عطا کیا“

۔۔۔۔۔۔۔

عبدل کی ماں رضو‘ گاؤں بھر کے لیے ماسی تھی۔ سب کے مسئلوں کا حل ماسی رضو کے پاس تھا‘ لیکن ماسی رضو خود جس کرب میں مبتلا تھی اُس کا حل کسی کے پاس نہ تھا۔ پیش اِمام کی بیوی صغراں اس کی رازداں تھی۔ جب بھی اُس سے مشورہ کیا‘ اُس نے یہی کہا:

”عبدل کو ایک اور شادی کرادو“

ماسی رضو سے اپنے بیٹے کا دُکھ دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ شادی سے پہلے اور دو سال بعد تک تو وہ گاؤں بھر کی محفلوں کی جان بنا رہا تھا۔ کُشتی ہوتی ےا بیلوں کا میلہ‘ کتوں کی دوڑ ہوتی ےا مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی ہر موقع پر وہ آگے ہی آگے ہوتا؛ مگر اب الگ تھلگ‘ نہ کسی سے تعلق‘ نہ کسی واسطہ۔ یوں لگتا تھا‘ وہ اندر ہی اندر سے ٹوٹتا چلا جاتا تھا۔

اِدھر عبدل کی بیوی گاہراں تھی کہ خزاں کے ٹنڈ منڈ شجر کی طرح۔

چناں چہ اُ س نے صغراں کے مشورے پر عمل کرتے ہوے فیصلہ دے دیا:

”عبدل کے لیے دوسری شادی بہت ضروری ہے“

ماسی رضو کے لیے یہ کام کون سا مشکل تھا۔ ادھر عبدل سے کہا: گاہراں کو فیصلہ سنادو‘ اُدھر نازو کو دُلہن بنا کر گھر لے آئی۔ پھر کئی سال اِنتظار میں بیت گئے۔ عبدل کے سر میں چاندی کی طرح سفید بال چمکنے لگے۔ ماسی رضو نڈھال ہوگئی۔ اتنی سکت نہ رہی کہ خود چل کر پانی پی سکے۔ برتن اٹھانا چاہتی تو وہ کپکپا کر گر جاتا ۔ پوتے کے اِنتظار کے دُکھ نے اُس کے لبوں پر چُپ کا جالا بُن رکھا تھا۔ صغراں آتی تو اپنے غم کی پٹاری اُ س کے سامنے کھولتی۔ لیکن صغراں کا تو بس ایک مشورہ تھا:

”ماسی رضو اللہ کا دیا سب کچھ ہے تمہارے پاس۔ اللہ بخشے تمہارا گھر والا تمہیں بہت کچھ دے کر اس دنیا سے گیا ہے۔ روپے پیسے اور جائیداد کی کمی نہیں۔ عبدل کے لیے عورتوں کا کیا کال ہے۔ دوسے اولاد نہیں ہوئی تو تیسری کرادو۔“
اور عبدل سے ماسی رضو نے کَہ دیا:

”بیٹا ایک شادی اور کر لو“

عبدل نہ مانا۔ ماےوسی نے اُسے چاروں شانے چِت گرادِیا تھا۔ ماسی رضو منتوں پر اُتر آئی:

”بیٹا ایک شادی اور۔۔۔۔۔ میرے لیے اور صرف میرے لیے۔۔۔۔۔ میں تمہیں بے اولاد دیکھ کر مرنا نہیں چاہتی“

ماں کی التجا اور آنسو بھری آنکھیں عبدل سے دیکھی نہ گئیں۔ یوں نوری دلہن بن کر گھر آگئی تھی۔ شاید قدرت بھی اسی لمحے کی منتظر تھی۔ عبدل اور ماسی رضو کو مزید اِنتظار نہ کرنا پڑا۔ جس روز سعیدا پیدا ہوا‘ اس روز تو عبدل کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ ماسی رضو کو کوئی دیکھتا تو یوں محسوس کرتا‘ جیسے اُ س کے پیکر میں کوئی جواں روح داخل ہو گئی تھی۔ کئی روز تک جشن کی سی کیفیت رہی اور پھر خُوشی کے یہ لمحات دیکھتے دیکھتے ماسی رضو اللہ کو پیاری ہو گئی۔

وہ دولت کہ جس کے لیے عبدل نے طویل اِنتظار کا کرب اُٹھایا تھا‘ سعیدے کے روپ میں عبدل کے سامنے تھی‘ نہ جانے یہ کمبخت عاشو کہاں سے ٹپک پڑی تھی۔ اس نے اُس کا سکون درہم برہم کر دیا تھا۔ عبدل کب کا بڑھاپے کی دہلیز پھلانگ چکا تھا۔ بالوں میں سفیدی ہی سفیدی تھی۔ جلد جو کبھی تنی ہوئی ہوتی تھی‘ اب ڈھلک گئی تھی۔ لیکن اِس عمر میں بھی اُسے اَٹھارہ سالہ عاشو کا خیال نڈھال کیے دِے رہا تھا۔

پہلے پہل تو عبدل لَاحَول وَلا قُوة کَہ کر عاشو سے چھٹکارا پاتا رہا۔ رفتہ رفتہ لَاحَول وَلا قُوة کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب سعیدا‘ نوری اور لَاحَول وَلا قُوة تینوں بے بس ہو گئے اور اُس نے عاشو کو اَپنانے کا فیصلہ کر لیا۔

کرمو غریب مزراع تھا۔ عبدل جیسے صاحب ِحیثیت زمیندار نے رشتہ طلب کیا تو بھلا وہ کیسے انکار کر سکتا تھا۔
اور یوں عاشو دُلہن بن کر عبدل کے گھر آگئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوری روئی‘ چلائی‘ سعیدے کے واسطے دیے۔ عبدل کے ارادوں نے بدلناتھا‘نہ بدلے۔ اُس کے سامنے اجازت نامے کا کاغذ رکھا اور کَہ دیا:
”شادی کی اجازت دے دو یا پھر مجھ سے فیصلہ سن لو“

فیصلے کی بات سن کر اس کی روح تک لرز گئی۔ چپکے سے انگوٹھا اٹھایا اور کاغذ پر ثبت کر دیا۔
گویا اب عبدل کو قانونی تحفظ اور عاشو کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ مل چکا تھا۔

اسی اجازت نامے کے سہارے عاشو اُس گھر میں داخل ہو گئی تھی جو کبھی نوری کا تھا۔ اس کے سعیدے کا تھا۔ وہ لہو کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔

عاشو گھر میں اِٹھلاتی پھرتی تھی۔۔۔۔۔ یہاں وہاں۔

جب کہ سعیدا اور نوری گھر میں ہوتے ہوے یوں نظر انداز کر دِیے گئے تھے‘ جیسے پھٹے پرانے لیر لیر کپڑے۔ وہ بھری دوپہر کے اس سائے کی طرح تھی جو کونوں کھدروں میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ خوف اس کی نس نس میں بھرا ہوا تھا۔بے ےقینی اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھی اور ماےوسی اس کے دِل میں پوری طرح اُتر گئی تھی۔

ہاں جب جب وہ سعیدے کو دیکھتی تھی تو عبدل کے حوالے سے ایک آس بندھتی تھی۔

مگر نوری کا بھائی محمد حسین بیچ میں یوں کودا‘ کہ رہی سہی اُمید کا کچا دھاگہ بھی ٹوٹ گیا۔

وہ کراچی میں ملازمت کرتا تھا‘ بہن پر بیتی سنی تو مشتعل ہو گیا۔ سیدھا گاؤں پہنچا دوڑا دوڑا بہن کے گھر گیا اور نوری کو ساتھ لے کر چل دیا۔ نوری جاتے جاتے کہتی رہی:

”میں اِس گھر سے نہیں جاؤں گی۔ کیا ہوا جو عبدل نے نئی شادی کر لی ہے۔ میں اس گھر کی دِہلیز سے مر کر ہی نکلوں گی“
زبان کچھ اور کَہ رہی تھی جب کہ اس کے اندر اُٹھتی اِنتقام کی لہریں نفرت کے ایسے بیچ بوچکی تھیں کہ اُس کے قدموں میں بھائی کا ساتھ دینے کا حوصلہ بھرگیاتھا۔

محمد حسین کا لہو کھول رہا تھا۔ وہ نوری کو تقریباً گھسیٹتا گھر لے گیا۔ ادھر عاشو تو جیسے اسی لمحے کی منتظر تھی۔ اس کا جادو عبدل کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ لہٰذا نوری کو طلاق کا فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔

نوری نے یہ سنا تو چکراکر رہ گئی۔ خود کو کوسنے دئیے۔ بھائی کا گریبان پکڑ لیااور اس پر برس پڑی:

”تم نے مجھے اُس گھر سے لا کر بہت بُرا کیا۔ اب میں کس کے سہارے جیوں گی۔ پہاڑ سی زِندگی کیسے کٹے گی؟“

نوری نے سعیدے کو دیکھا تو کلیجہ منھ کو آگیا۔ دھاڑیں مار کر روتے ہوے اسے سینے سے لگا لیا۔ جب خوب رو چکی تو کہنے لگی:
”اس معصوم نے کون سا گناہ کیا ہے کہ اسے بھی میرے ساتھ سزا مل رہی ہے۔ اس کا باپ زندہ ہے لیکن یہ یتیم ہو گیا ہے“

جب نوری‘ محمد حسین کا گریبان پکڑے اسے جھنجھوڑ رہی تھی تو محمد حسین پتھر کے مجسمے کی طرح ڈول رہا تھا۔ دُکھ کی ایک گہری جھیل میں اس کا بدن ڈوبے جا رہا تھا۔ اُس کے دِل میں لمحہ بھر کو ایک چنگاری چمکی اور نہایت اَہم فیصلے کا شعلہ بھڑگا گئی۔ بہن کو دِلاسادیا۔ سعیدے کو پیار سے تھاما اور کہنے لگا:

”بہن فکر نہ کرو‘ سعیدا یتیموں کی طرح نہیں‘ شہزادوں کی طرح پلے گا۔ میں پوری زِندگی تمہیں کوئی غم نہ آنے دوں گا۔“

جب وہ یہ کَہ رہا تھا تو اس کا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جو غم اور روگ نوری کو لگ چکا تھا‘ اس کا علاج ممکن ہی نہ تھا۔ کتنے ہی غم ہوتے ہیں جو انسان ہنسی خُوشی سہہ جاتا ہے لیکن کچھ دُکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زِندگی کو قبر کی مٹی اور کفن کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔

محمد حسین نے اپناآبائی مکان اور وہ تھوڑی سی زمین‘ جو اُس نے خُون پسینے کی کمائی سے خریدی تھی‘ بیچ ڈالی۔ بہن اور اس کے بیٹے کو ساتھ لیا اور کراچی پہنچ گیا۔ اس نے سوچا ماحول بدلے گا تو زخموں پر مرہم لگ جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”انسان بڑا ہی نا شکرا ہے“

پیش امام کی بیوی صغراں عبدل کا دُکھ سن کر کہنے لگی:

”تم اولاد کو ترستے تھے‘ جب اولاد ملی تو اُس سے بے نیاز ہو گئے۔ آہ!۔۔۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ آج ماسی رضو زندہ نہیں۔ وہ زندہ ہوتی تو یہ دُکھ جَر نہ سکتی۔ تم نے ڈاکٹروں ‘ حکیموں اور سنیاسیوں کو آزما دیکھا۔ اب عاشو کی گود کیا ہری ہو گی۔ تم آج بھی اولاد کو ترس رہے ہو۔ اب تو میں تمہیں یہ مشورہ بھی نہیں دے سکتی کہ ایک اور شادی کر لو۔ خبر نہیں نوری کہاں اور کس حال میں ہو گی؟ محمد حسین تو اُسے ساتھ لے کر یوں گم ہوا ہے کہ کہیں کوئی نشان نہیں ملتا۔ کراچی میں اُس نے اَپنا ٹھکانہ تک بدل لیا تھا کہ کہیں تم پچھتا کر اُدھر نہ جا نکلو اور اپنا بیٹا نوری سے چھین کر اس کے زخم ہرے کرو۔اللہ کرے سعیدا ٹھیک ہو۔“
صغراں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی برس رہی تھی۔ اُسے ماسی رضو کے ساتھ اُنس تھا اور عبدل ماسی رضو کی نشانی تھی۔ مگر ماسی رضو کی اس نشانی کو دیکھتی تو کلیجہ کٹ کٹ جاتا۔ صغراں سے مزید وہاں بیٹھا نہ گیا۔ چادر کے پلو سے آنسو پونچھے‘ لاٹھی اُٹھائی اور وہاں سے اُٹھ گئی۔

عبدل کے سینے سے درد کی ایک لہر اُٹھی اور پورے وجود کو چیرتی چلی گئی۔

عبدل کا دُکھ عاشو کے لیے جان لیوا تھا۔ لیکن وہ کیا کر سکتی تھی؟ بس عبدل کو دیکھتی اور دیکھتی ہی رہ جاتی۔ یوں جیسے پیاسی زمین بانجھ بادلوں کو حسرت سے تکتی رہ جاتی ہے۔ پورے بارہ سالوں کا ایک ایک پل عبدل نے دُکھ کے پل صراط پر چل کر گزارا تھا۔
گاؤں کے ایک ایک فرد سے محمد حسین کا پتہ پوچھ ڈالا۔

خود کئی مرتبہ کراچی سے ہو آیا۔

لیکن نوری کا سراغ ملا نہ اس کے سعیدے کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فجر کی نماز پڑھ کر عبدل کھانستا کھانستا گھر کی جانب پاؤں گھسیٹے جا رہا تھا کہ پٹواری لال دین نے پیچھے سے آواز دی۔ عبدل رُک گیا۔ لال دِین کہنے لگا:

”عبدل میں کراچی گیا تھا۔ اپنے بیٹے چراغ دین سے ملنے۔ اِس مرتبہ محمد حسین سے بھی ملاقات ہو گئی۔“
عبدل کا دِل اُچھلا اور حلق میں آپھنسا۔ جلدی سے پوچھا:

”کہاں رہتے ہیں وہ؟ کس حال میں ہیں؟ سعیدا کیسا ہے؟ نوری کا کیا حال ہے؟“

ایک ہی سانس میں اتنے سوال۔ یہی وہ سارے سوال تھے‘ جو بارہ سالوں سے اس کے سینے کو اندر سے ڈس رہے تھے۔ لال دین ہنس دیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے سے ہنسی غائب تھی اور دُکھ سے وہ ہاتھ ملتے ہوے کَہ رہا تھا:

”عبدل بڑے بَد نصیب ہو تم۔ تم نے اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا۔ محمد حسین مجھے صدر میں ملا تھا۔ سودا سلف خریدنے آیا تھا۔ سعیدا اُس کے ساتھ تھا۔ تمہارے گبھرو پتر کو دیکھا۔ خدا کی قسم یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی سعیدا ہے۔ تین سال کا بچہ تھا‘ جب ماں کے ساتھ گیاتھا اور اب ایسا خوبصورت جوان بنا ہے کہ جوانی پر رشک آتا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ گھر چلنے کو بڑا اصرار کیا تھا لیکن میں نہ جا سکا کہ میرے ساتھ اور لوگ۔۔۔۔۔“

عبدل نے لال دین کی بات درمیان میں کاٹ ڈالی۔ ان کا پتہ پوچھا اور اسی روز کراچی چل پڑا۔
لانڈھی پہنچا‘ مطلوبہ مکان ڈھونڈا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

اس کے ساتھ ہی اس کا اپنا دِل بھی زور زور سے دَھک دَھک کرنے لگا۔

بالکل ایسے ہی جیسے اس کے اندر دِل پر کوئی زور زور سے دستک دے رہا ہو۔

چند لمحوں کے بعد ایک پندرہ سالہ خوبصورت لڑکا اُس کے سامنے کھڑا‘ اُسے سوالیہ نظروں سے تک رہا تھا۔ عبدل کو سمجھنے میں دِیر نہ لگی کہ وہ اس کا بیٹا سعیداتھا۔ برسوں کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا‘ دےوانہ وار آگے بڑھا اور بے اختیار پکار اُٹھا:
”میرے بیٹے۔۔۔۔۔ میرے سعیدے“

وہ اُسے بانہوں میں جکڑے‘ سینے سے لگائے رو رہا تھا کہ اندر سے نسوانی آواز آئی۔
”سعیدے بیٹے۔۔۔۔ کون ہے باہر؟“

عبدل کو یوں لگا‘ وہ آواز نہ تھی ‘ بجلی کا کوندا تھا جو اس کے بدن پر دوڑ گیا تھا۔ آواز نوری کی تھی۔ بالکل ویسی ہی۔ بس اس میں کپکپاہٹ بھر گئی تھی۔ بارہ لمبے سالوں کی گرد بھی اس کے ذہن میں محفوظ نوری کی آواز کی پہچان نہ دھندلا سکی تھی۔ سعیدا عبدل کے سامنے حیرت کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ نوری سعیدے کا جواب نہ پا کر خود دروازے تک آئی۔ عبدل نے نوری کو دیکھا تو یوں لرزنے لگا جیسے بارش کی زد میں آیا ہوا وہ خشک پتا لرزتا ہے جو خزاں زدہ پیڑ کی کسی لرزیدہ شاخ پر کسی بھی پل ٹوٹنے والا ہوتا ہے۔
نوری کے ہاتھوں میں سہارے کے لیے لاٹھی تھی۔ اس لاٹھی سے وہ راستہ ٹٹول ٹٹول کر قدم آگے بڑھا رہی تھی۔ ویران آنکھیں اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں کہ ُان سے نور کب کا رُخصت ہو چکا تھا۔ نوری نے ایک مرتبہ سعیدے سے پوچھا:

”بیٹا بتاؤ نا! کون ہے تمہارے ساتھ؟“

اِس سے پہلے کہ سعیدا کچھ کہتا۔ عبدل نے ایک فیصلہ کیا۔ یوں ہی واپس پلٹ جانے کا فیصلہ۔

وہ اس فیصلے کی کٹار سے اپنے وجود جو چیر کر جرم کے اِحساس کی شدّت کو کم کرنا چاہتا تھا۔

اُس نے اپنے بوجھل قدم اٹھائے‘ واپس پلٹا اور کہنے لگا‘ رک رک کر ۔۔۔۔۔ یوں کہ جیسے لفظ زبردستی حلق سے باہر دھکیل رہا ہو:
”جی مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔۔۔۔ غلط جگہ پر آگیا ہوں۔۔۔۔۔ دراصل میں کسی اور صاحب سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔“

نوری نے یہ آواز سنی تو عبدل کی طرح اُسے بھی پہنچاننے میں دیر نہ لگی تھی۔ کیا ہوا آنکھوں سے نور رخصت ہو گیا تھا مگر دِل کے نہاں خانے میں‘ دماغ کے ایک ایک گوشے میں عبدل کی آواز اور تصویر دونوں اسی طرح سجی ہوئی تھیں‘ جیسے آج سے بارہ سال قبل تھیں۔ فوراًپکار اُٹھی:

”بیٹا! تم نے پہنچانا نہیں ‘یہ تمہارے ابا ہیں۔ ہاں ہاں بیٹا تمہارے ابا“
اس کے لہجے میں یقین تھا۔

عبدل ایک دم نوری کی جانب گھوما۔

بس ایک ساعت کے لیے اس کا چہرہ اور اس پر برستے یقین کے رنگوں کو دیکھ سکا۔ اور پھر اس کی جانب کٹے ہوے شجر کی طرح یوں گرا جیسے سجدہ سہو کر رہا ہو۔

Categories
شاعری

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

وہ پیتل کی بوسیدہ زرد سوئیوں میں
سرخ دھاگہ ڈالے
سفید روشن لباس بنانے میں مصروف ہیں
نیکی کے معصوم بچے
چوکھٹ کے پیچھے سہمے تھر تھر کانپ رہے ہیں
شرافت کی دوشیزہ
چلمن سے ہٹ کر پردے گرا چکی ہے
اور اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے

Categories
فکشن

وَاپسی

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔

حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ آخری لمحے تک جدوجہد کرتا تھا۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ دوسرا روز ہونے کو تھا اور وہ دفتر سے نہ نکلا تھا۔

اُن دو دنوں میں وہ ایک خط بار بار پڑھ چکا تھا۔

یہ وہ خط تھا‘ جو بہت دِن پہلے اُسے موصول ہوا تھا اور اُسے کھولے بغیر خط کا مضمون جان گیا تھا۔ یہی کہ اُس کے اَباّ نے اُسے گاﺅں آنے کو کہا ہو گا اور یہ کہ ُان کی آنکھیں اُسے دِیکھنے کو ترس گئی ہوں گی۔

اُس کا اِرادہ تھا کہ وہ کلوزنگ کے بعد ہی جائے گا۔ لہٰذا کئی روز سے بند لفافہ یونہی اُس کے ٹیبل پر پڑا رہا۔

مگر کل اُسے صبح ہی صبح کھولا اور تب سے اَب تک کئی بار پڑھ چکا تھا۔

اس نے اپنے اِمی جیٹ باس کو فون کر کے شارٹ لیو اور اسٹیشن لیو لے لی اور یوں آج اَڑھائی بجے والی بس سے وہ گاﺅں جا رہا تھا۔
اُس کا اِرادہ تھا وہ ویک اِنڈاَپنے والدین کے ساتھ گزارے گا‘ حالاں کہ قبل ازیں وہ چھٹیوں والے دن بھی سرکل افسران کے ساتھ مسلسل دورے کرتا رہا تھا جس کے نتیجے میں ٹارگٹ تک پہنچنے کی امید بندھ چلی تھی۔ جب پہلے روز اُس نے انٹر کام پر متعلقہ سرکل افسر کو بتایا کہ وہ ٹور پر ساتھ نہیں جارہا تو وہ حیران ہوا تھا اور خود اُسے دیکھنے آیا تھا۔

وہ بجھا بجھا سا تھا اورسرکل اَفسر سے کُریدکُرید کر فضل احمد کے بارے میں پوچھتا رہا۔
اُسے بتایا گیا کہ بوڑھے فضل احمد کی حالت سنبھل گئی تھی۔ دِل کا معمولی دورہ تھا اور اب اس کی زِندگی کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
مگر نہ جانے اُسے کیوں یقین نہ آرہا تھا۔

یقین نہ کرنے کی بہ ظاہر کوئی وجہ نہ تھی لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو ایک لمحے میں مقید کر لیتا ہے۔

وہ بھی ایک ایسے ہی لمحے میں قید تھا۔

وہ لمحہ کہ جب بوڑھا فضل احمد عین دروازے کے بیچ لڑکھڑا کر گرپڑا تھا۔

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب مالی سال ختم ہونے میں دو اَڑھائی ماہ باقی تھے۔ وہ اَپنی سی کوششیں کر بیٹھا تھا مگر یوں لگتا تھا ‘مطلوبہ نتائج اس کی دَسترَس سے پرے تھے۔

اُس نے میٹنگ کال کی‘ تمام متعلقہ اَفسروں کی سرزنش کی تو ہر ایک یہ ثابت کرنے پر تُلا بیٹھا تھا کہ کوتاہی اُس کی جانب سے نہیں ہورہی۔

اس نے نئی حکمت عملی تیار کرنے سے پہلے متعلقہ سرکل افسروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے ایسے کیسز کی فہرست بنائیں جن کی وصولیاں اِس سال کسی صورت ممکن نہ تھیں۔

فہرستیں دوسرے ہی روز اُس کے میز پر تھیں۔

اُس نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا اور کچھ غیر معمولی اِختیارات حاصل کیے جن میں بہ وقت ضرورت پولیس کے تعاون کا حصول بھی شامل تھا۔

اُس کا اِرادہ تھا ان مشکل کیسز کے آپریشن کی خود نگرانی کرے گا۔

ایک مرتبہ پھر سرکل افسروں کو طلب کیا‘ ہر باقی دار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیں اورخدا کا نام لے کر چھاپے مار کر مہم کا آغاز کر دیا ۔

اُسے باہر نکلتے دیکھ کر سرکل افسروں کے حوصلے بڑھ گئے اور پہلے سے کہیں زیادہ جاں فشانی سے کام کرنے لگے یوں وصولیوں کی شرح بڑھنے لگی مگر وہ ابھی تک مطمئن نہ تھا کہ بڑھوتری کی یہ شرح بہت معمولی تھی۔

اُس کے لےے اصل رکاوٹ بااثر اَفراد تھے یا پھر وہ لوگ جو ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ کچھ کیسز خواتین کے نام پر تھے اور کچھ باقی دار انتہائی ضعیف ‘معذور یا پھر لاچار تھے۔ ایسے تمام کیسز میں نہ تو اس کے پاس وقت تھا کہ رہن شدہ جائیدادوں کی ڈگری کے لےے طویل قانونی جنگ لڑی جائے اور نہ ہی وہ براہ راست ان لوگوں پر ہاتھ ڈال سکتا تھا۔

اِن حوصلہ شکن حالات میں اُسے ایک باقی دار فضل احمد کے گھر لے جایا گیا۔ اس کیس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے ڈاکٹر شہباز فضل نے مشترکہ طور پر ایک ہیچری لگانے کے لےے قرض لیا تھا۔ ڈاکٹر شہباز فضل کچھ ہی عرصے کے بعد اِنتہائی خاموشی سے ہیچری کی مشینری بیچ کر اور عمارت کو طویل مُدّت کے ٹھیکے پر دینے کے عوض ایک معقول رقم اینٹھ کر ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ جب کہ فضل احمد نہ صرف ضعیف العمر تھا‘ بل کہ فالج زدہ بھی تھا۔

اُس نے سرکل افسر سے پوچھا:
” فضل احمد کا بیٹا جو رقم باہر سے بھیجتا ہے‘ یہ اسے اپنے واجبات کی مد میں کیوں جمع نہیں کراتا؟“
جواب ملا :
” وہ کچھ نہیں بھیجتا۔“
اُس نے حیرت سے سرکل افسر کو دیکھا اور کہا:
”تعجب ہے۔“
فضل احمد کا گھر اَندرون شہر تھا۔ گاڑی بڑے چوک تک جاتی تھی۔ وہیں کھڑی کر دی گئی۔ وہ دونوں ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں سے پیدل ہی آگے گزرنے لگے۔
”سر ‘یہ رہا فضل احمد کا گھر۔“
چلتے چلتے اچانک سرکل افسر نے ایک دو منزلہ عمارت کی جانب انگلی اٹھائی۔
”گھر تو شاندار ہے“
اُس نے دیکھا تو تبصرہ کیا۔
”جی ہاں ! مگر نچلا حصہ کرائے پر ہے اور فضل احمد کا واحد ذریعہ آمدن بھی یہی ہے۔“
مکان کے پہلو میںتنگ سی لوہے کی سیڑھی بل کھاتی اوپر جاتی تھی۔
وہ دروازے پر تھے۔ کال بیل کے پش بٹن پر اُس نے انگلی رکھ دی۔ سرکل افسر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹ کھٹایا اور کہا:
”بٹن دبا کر اِنتظار کرنا بے کار ہے سر۔ گھنٹی خراب ہے“
”اوہ“
”میں جب سے آرہا ہوں سر‘ تب سے ایسے ہی ہے‘سر“

دوسری طرف پہلے کوئی کھانستا ہی چلا گیا پھر کھانسنے کی آواز وہیں ٹکی رہی اور لاٹھی کے گھسیٹنے اور ٹک ٹک کرنے کی آواز دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔ دروازے کے پاس آکرآواز رُک گئی اور یوں لگا جیسے کوئی سانس بحال کر رہا ہو۔ تیسری آواز جو اندر سے آئی وہ دروازے پر لگی زنجیر کی تھی جو جھولنے اور رگڑکھانے سے پیدا ہو رہی تھی۔ دروازہ بھی ”چوں اوں“ کرتا ہوا کھلا۔ سامنے اِنتہائی ضعیف العمر خاتون لاٹھی کے سہارے بہ مشکل کھڑی تھی۔ سارے چہرے پر یا جھریاں تھیں یا پھر موٹے شیشوں اور ٹوٹی ہوئی کمانی کی میلی کچیلی عینک ‘ جسے ڈوری باندھ کر ناک پر ٹکایا گیا تھا۔ بال روئی کے گالوں جیسے سفید اور کمر ضعیفی نے دوہری کردی تھی ۔

اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے عینک کے اوپر اوٹ بنائی‘ چہرے کو اوپر کیا تو عینک کے شیشوں سے موٹی موٹی آنکھوں نے اُسے پہچاننے کی کوشش کی۔

”جی“

اَپنی کوشش میں ناکام ہو کر اس نے مختصر سوال کیا۔

”اماں جی ہمیں فضل احمد سے ملنا ہے اُن کے ذمہ حکومت کا کچھ قرضہ باقی ہے۔“

بڑھیا نے ایک مرتبہ پھر اُسے دیکھنے کی کوشش کی۔ اب کے اس کے چہرے پر تجسس کی بہ جائے پریشانی تھی۔ وہ لڑکھڑاتی دروازے سے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

اس لڑکھڑاہٹ میں بڑھاپے اور پریشانی دونوں کا دخل تھا۔ کہنے لگی۔

”اندر آجاﺅ بچے‘ وہ سامنے کمرے میں پڑا ہے۔“

وہ اَندر داخل ہو گئے۔ بڑھیا نے دروازے کو بند کیا۔ ٹٹول کر زنجیر تلاش کی اور دروازے پر ڈال دی۔ پھرلاٹھی ٹیکتی کمرے کی طرف چل پڑی۔

اندر کا ماحول عجب آسیب زدہ تھا۔ ہر چیز بکھری ہوئی۔ روشنی بھی معقول نہ تھی۔ ایک خاص قسم کی باس بھی چاروں طرف پھیل رہی تھی‘ کچی کچی اور ناگوار۔ سامنے چارپائی پر ہڈیوں کا ایک پنجر پڑا تھا۔ یقینا وہی فضل احمد تھا۔ اُسے کھانستے ہوے بھی دِقت ہو رہی تھی۔ ہمارے گھر میں داخل ہونے کے بعد کھانسنے کے علاوہ اس نے تین مرتبہ اَپنی بیوی کو بلایا تھا۔

”مل لی آں“

اس نے اندازہ لگایا۔ وہ مریم یا مریاں کَہ رہا تھا۔ فالج نے ایک پہلو ناکارہ کرنے کے علاوہ ا س کی زبان بھی لکنت زدہ کر دی تھی۔

وہ دونوں اس کے قریب پہنچ گئے۔ بوڑھا بے قراری سے بستر پر اُوپر ہی اوپر اُٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگرجوں ہی اس نے اُس کے پیچھے سرکل افسر کا چہرہ دیکھا‘ دھچکے سے بستر میں دھنس کر بے سدھ ہو گیا۔ وہ ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مزید گہرا سکوت چھا گیا۔

”یہ ہمارے بڑے افسر ہیں۔“

سرکل افسر نے اُس کا تعارف فضل احمد سے کرایا ۔ بوڑھے نے بجھی بجھی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔ اُس نے جواباً فائل کھولی۔ اُس میں فضل احمد اور اُس کے بیٹے کے وارنٹ دیکھے اور بے بسی سے فائل بند کر دی۔ اسے یہاں آنا بے سود لگا۔ بوڑھا حواس بحال کر چکا تھا مریل سی آواز میں بڑبڑانے لگا۔ اُس نے یونہی ایک سوال پھینک دیا:

”بزرگو! اب کیا ہوگا؟“

بوڑھے نے اُس کی جانب دیکھا۔ مایوسی کی زردی اُس کے چہرے پر بکھر گئی۔ لکنت زدہ آواز میں کہنے لگا:
”اب کیا ہونا ہے بچے؟ ہو بھی کیا سکتا ہے؟ اِس سے بڑھ کر تو میں ذلیل و رسوا نہیں ہو سکتا نا!۔“
ایک مرتبہ پھر بوڑھا چپ ہو گیا۔

ان خاموش لمحوں کی گونج اُسے صاف سنائی دِے رہی تھی۔ اُس نے اُکتاہٹ سے پہلو بدلا ۔ بوڑھے کی کھانسی نے خاموشی کو توڑا۔ جب وہ اچھی طرح کھانس چکا تو اَپنی بیوی کو پکارا:

”مل لی آں“

مریاں ‘ جو دروازے کے بیچ ہی چوکھٹ پر بیٹھ گئی تھی‘ کراہنے کے بعد اُٹھی۔ لاٹھی ٹیکتی بوڑھے کی چارپائی کے پائیتانے ہاتھ ٹیک کر کھڑی ہو گئی:

”بچوں کے لیے چائے بناﺅ۔“

اُسے پہلے ہی اُلجھن ہورہی تھی۔ چائے کا سُن کر وہ بے قراری سے اُٹھا اور سختی سے منع کر دیا۔ بوڑھا دوبارہ بے سُدھ لیٹ گیا۔ بڑھیا دائیں کونے میں رَکھے چولہے کے پاس دَھرے موڑھے پر بیٹھ گئی۔

وہ مزید بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ کہنے لگا:

”اچھا بزرگو‘ خدا حافظ‘ اور ہاں بیٹے کو لکھیں کہ وہ بقایا جات جمع کرانے کا بندوبست کرے ورنہ اس مکان سمیت آپ کی ساری جائیداد نیلام ہو جائے گی۔“

بوڑھا زور سے ہنسا۔ اِس قدر زور سے کہ اُس کی آنکھوں میں سے آنسو نکل آئے پھر اپنے آنسو صاف کرتے ہوے سچ مچ رونے لگا۔ دفعتاً رونا موقوف کیا اور کچھ بڑبڑانے لگا ۔ اسے تجسس ہوا‘ نہ جانے بوڑھا کیا کَہ رہاتھا؟ وہ ایک مرتبہ پھر قریب ہو کر بیٹھ گیا اور سماعت بوڑھے کی طرف مبذول کر دی۔ فضل احمد اپنے بیٹے کو گالیاں دیتے ہوے کَہ رہا تھا:

”کہتا ہے بچوں کو عین دوراہے میں کیسے چھوڑے‘ ہم چاہے موت اور زِندگی کے بیچ لٹکتے رہیں“
مغلظات کا ایک اور ریلا اُس کے منھ سے بہہ نکلا۔ مریاں پہلی مرتبہ اس کی بات کا ٹ کر بولی۔

”نہ دے‘ نہ دے بددعائیں۔ اَپنا خُون ہے‘ اپنا کلیجہ ‘ دُعا کر‘ خدا اُسے سُکھی رکھے۔ جہاں رہے اللہ کی امان میں رہے۔ ہمارا کیا ہے۔ ہم قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہیں۔آج ہیں تو ہیں۔ کل نہیں ہوں گے“

اُس نے بوڑھے سے پوچھا:

”کوئی خط وغیرہ؟“
کہنے لگا:
”ہاں لکھتا ہے۔ جب ادھر سے دَس بارہ مسلسل لکھ چکتا ہوں تب ایک آدھ سطر میں جواب دے دِیتا ہے۔ کہتا ہے وہاں بہت مصروف ہے۔ ماں کا۔۔۔“

اُس نے فضل احمد سے کہا:

”آپ اس کا پتا ہی دِے دِیں۔“
”پتا؟ مگر کیوں؟“
”ہم اَپنے طور پر اُس سے رابطہ کریں گے۔“
بوڑھا فضل احمد تڑپ کر اُٹھ بیٹھا:
”نا بیٹا نا۔ تم اُسے کسی مشکل میں ڈال دو گے۔ تم اُسے ستاﺅ گے۔ سفارت خانے کو لکھو گے۔ نا بیٹا نا۔“
بوڑھا پوری طرح حواس میں آکرچوکس ہوگیا تھا۔ اُسے حیرت ہوئی۔ ابھی ابھی وہ اپنے بیٹے سے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوے گالیاں دے رہا تھا اور اب اسے اس کی اتنی فکر تھی کہ وہ ہمیں اس کا پتا تک نہ دینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند ہی روز بعد اسے بتایا گیاکہ فضل احمد کی بیوی جل مری۔ بچاری کھانا پکاتے پکاتے اُٹھی اور لڑکھڑا کر عین چولہے کے اوپر جا گری۔ اُس کی چیخیں سن کر بوڑھا گرتا پڑتا ‘ اُس کی جانب لپکا ‘ اسے بچانے کی کوشش کی۔ خود جھلس گیا مگر اُسے بچا نہ سکا۔
اس کا دِل چاہا کہ وہ بوڑھے فضل احمد سے اَفسوس کرنے جائے مگر جا نہ سکا۔

اُس کے لیے ایک ایک دِن قیمتی تھا۔

آخری مہینہ شروع ہو چکا تھا اور منزل تک پہنچنے کی اُمید بھی بندھ چلی تھی۔

ابھی اس واقعے کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ سرکل افسر نے بتایا:

”ڈاکٹر شہباز فضل آیا ہوا ہے۔“

یقینا اُسے ماں کے جل مرنے کی خبر ملی ہوگی۔ ا ُس نے اندزہ لگایا۔ اسی لمحے اس نے محسوس کیا کہ اس کے دِل میں ڈاکٹر شہباز کے لیے اِنتہائی نفرت جنم لے چکی تھی ۔ جذباتی ہو گیا اور سرکل افسر کو ہدایت کی کہ چھاپہ مارنے کے اِنتظامات کیے جائیں۔
مغرب ڈھل چکی تھی۔ اسے یقین تھا وہ گھر میں ہی ہوگا۔

وہ گھر میں ہی تھا۔ دروازہ اُسی نے کھولا اور گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اندرداخل ہوگیا ‘ پوچھا:
”آپ ہی ڈاکٹر شہباز فضل ہیں؟“
”جی“
وہ کچھ اور پیچھے ہٹا۔
”آپ حکومت کے نادہندہ ہونے کے سبب مطلوب ہیں۔ یہ رہے آپ کے وارنٹ۔“
اُس نے اُسے وارنٹ دِکھاتے ہوئے کہا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور کمرے میں گھس گیا۔ اِسی اثنا میں بوڑھا فضل احمد گرتاپڑتا کمرے کے دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
”نہیں بیٹے نہیں۔“

اُس نے دروازے کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
”تم اِسے گرفتار نہیں کر سکتے۔“
وہ آگے بڑھا اور کہا۔
”دیکھیں بابا جی ‘ آپ کار سرکار میں مداخلت نہ کریں۔ آپ ایک طرف ہو جائیں“
اُس نے اَپنا ہاتھ بوڑھے کے ہاتھ پر رکھا۔ بوڑھے کا پورا بدن کپکپانے لگا۔ چہرے کے مسام پسینے سے بھر گئے۔ اس نے بوڑھے کو ایک طرف کرنے کے لےے اُس کے ہاتھ پر دباﺅ ڈالا تو وہ چیخنے لگا:

”مت گرفتار کرو میرے بیٹے کو۔ مجھے لے جاﺅ۔ ہاں لے جاﺅ مجھے۔ وہ۔۔۔۔“

اس کے آگے وہ کچھ نہ بول سکا اور لڑکھڑا کر کٹے ہوے درخت کی طرح عین دروازے کے بیچ گرگیا۔

اس نے کمرے اندر سہمے ہوے ڈاکٹر شہباز فضل کو دیکھا پھر اُس کے باپ کے لڑکھڑا کر گرتے وجود پر ایک نظر ڈالی اور واپس پلٹ آیا۔
اِس واقعے کو دوسرا روز ہو چلا تھا۔

اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔

Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام

Categories
فکشن

جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی!

میں اپنی آنکھیں بند رکھتا ہوں، اورپپوٹوں کے اَندر ہی اَندر ڈھیلے گھماتے ہوئے اُنہیں وہاں مرتکزکرنے کی کوشش کرتاہوں جہاں ایک قبر کا کتبہ ہے۔ اس کتبے پر کھدی ہوئی عبارت مجھے صاف نظر نہیں آرہی مگر ایسا ہے کہ میں گہری دُھند کے اَندر سے کتبہ پڑھنے کے جتن کررہاہوں۔

اپنی دونوں آنکھیں زور سے میچنے کی وجہ سے ان کے غلافوں پر اَن گنت چنٹیں پڑ گئی ہیں۔ میں سامنے میز پر پڑے کاغذ کی وسعت کا اندازہ اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اور اُنگلیوں سے محسوس کرکے لگاتا ہوں اور کاغذ کے بائیں طرف پڑے قلم کو انگلیوں میں تھام کر چھوٹی انگلی کا ناخن کاغذ پر ٹیکتے ہوئے اُسے فضا میں ہی اوپر نیچے لہرا کر خود کو یقین دلاتا ہوں کہ میں لکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ اب میں کتبے پر کھدی ہوئی عبارت پر دھیان مرکوز رکھ سکتا ہوں۔ میں پڑھنے میں آنے والے لفظوں کو اپنے سامنے دھرے کا غذ پرمنتقل کرنا چاہتاہوں۔ بند آنکھوں کے گہرے لُطف کے ساتھ،قلم دَباکر لکھتے ہوئے؛ بالکل ویسے ہی جیسا کہ ریمنڈ کارور کی ایک کہانی میں ہوتا ہے۔جی ہاں،اُس کی کہانی ’’کیتھڈرل‘‘ میں۔بتاتا چلوں کہ اس کہانی کی آخری سطور میں راوی /کردار کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اوروہ اپنی بیوی کے پرانے دوست،جو مہمان بن کر اُن کے ہاں آیا ہوا ہے،کی نگرانی میں ایک موٹے سے کاغذ پر قلم دَبا دَبا کر کیتھڈرل کی عمارت اس کے جلال اور جمال سمیت بنا رہاہے۔ مہمان اندھا ہے اور اُس کی ہتھیلی میزبان کے قلم تھامنے والے ہاتھ کے اُوپر ہے۔

مجھے ریمنڈ کی کہانی کے اس بے مثال کردار کو اَندھا نہیں لکھنا چاہیے۔ اَندھا تو ہم ہر اُس شخص کو کہہ گزرتے ہیں جو سوچے سمجھے اور دیکھے بھالے بغیر کچھ بھی کیے چلا جاتا ہے۔ اَندھا دُھند، اَندھا بگلا، اَندھا رَاجاچوپٹ نگری اور اَندھا گاے بہرہ بجاے وغیرہ جیسے محاور ے بھی شایداس لیے بنا لیے گئے ہیں کہ لفظ اَندھے کا تعلق آنکھوں کی روشنی سے کہیں زیادہ آدمی کے اَندر کے اَندھیرے،ہڑبڑاہٹ فتاورپھوہڑ پن سے ہوتا ہے۔ گویا دَم بھر کو ٹھہر کر، صورت حال کو جانچ پرکھ کر کر یہ آنکھوں اَندھا بھی آگے بڑھتا تو اک دیکھنے والے کی طرح کا ہو سکتا تھا۔ ریمنڈکی کہانی کے اُس کردار کی بینائی نہیں تھی، مگر تھا وہ بلا کا فہیم اور سوجھ بوجھ کے معاملے میں حد درجے کا چوکس۔ میرا خیال ہے اگر میں اُسے اندھے کی بہ جائے نابینا لکھ دوں تو شایدآپ کو بھی اچھا لگے گا۔
خیر، محض کسی اندھے کو نابینا کہہ دینے سے صورت حال کو ڈھنگ سے نہیں سمجھا جاسکتا؛ یہ میں بھی جانتا ہوں۔ اب یہی لیجئے کہ مجھے ایک نابیناشخص کی طرح خود کو محسوس کرکے لکھنا ہے۔ مگر کسی ایسے کتبے کی تحریر کوسوچ سوچ کردیکھنا، گہری تاریکی کے اندر سے، جی اُسے جو بہت پہلے دیکھی گئی ہو اور طرح کا تجربہ ہے، اور اسے پیدائشی طور پر دیکھنے کی صلاحیت نہ رکھنے والے شخص کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہاں! واقعی یہ بہت انوکھا تجربہ ہے۔ کچھ لفظ دُھند میں ڈوبے ہوئے ہیں،جنہیں میں ایک نابینا شخص کی سی بصیرت اور اپنی یادداشت کے زور سے پڑھ لیتا ہوں۔ جہاں ایسا ممکن نہیں ہوتا، میں عبارت کے بہائو میں خود سے آنک کرمناسب لفظ جما لیتا ہوں۔حتی کہ مجھے یقین ہونے لگتا ہے کہ میں نے عبارت عین مین اُسی مکمل صورت میں کتبے سے پڑھ لی ہے، جیسے پڑھی تھی۔ کہہ لیجئے یہاں ماضی کا تجربہ اور حال کا تخیل،ایک دوسرے میں پیوست ہوکر حقیقت کو التباس بنا رہے ہیں اور التباس کو حقیقت۔ میں پوری کی پوری نظم کاغذ پرلکھ لیتا ہوں تو آنکھیں کھولے بغیر تجسس کی پیاس بجھانے کے لیے اپنی اُنگلیوں کی پوریں کا غذ پر وہاں وہاں رکھتا ہوں جہاں نظم ویسے ہی کھد گئی تھی جیسی کہ وہ کتبے پر تھی۔ اَب اُنگلیاں کاغذ پر چلتی ہیں تو ایک عجب اُجالا میرے اَندر پھیلتا چلا جاتاہے۔ سب کچھ میں اُنگلیوں سے پڑھ سکتا ہوں ؛ جہاں جہاں قلم کی نوک چلی ہے، مجھے لگتا ہے ساری روشنی وہیں سے پھوٹ رہی ہے۔

کیتھڈرل کا ذِکر ہوا اوراُس روشنی کا، جو پھوٹنے کو توکاغذ سے پھوٹتی ہے مگرمیرے اَندر پھیلنے،مچلنے اور پسرنے لگتی ہے تو مجھے عین آنکھوں کے سامنے اُٹھتے ہوئے روشنی کے اُس غبارکا ذِکر بھی کر دینا چاہیے کہ جس پر نگاہ ٹکاتا رہاہوں تو پَل کی پَل میں صورتیں بدل جاتی رہی ہیں۔ یہ غبار یوں سمجھیں آسمان کی بلندیوں میں ڈولتے بادل ہیں، تاہم یہ نوری غباربادلوں سے مختلف یوں ہے کہ اس میں سے پھوٹتی روشنی آنکھوں کو چندھیاتی ہے۔ میں آنکھیں سکیڑ کر دیکھتا رہتا ہوں۔ ایک اَندھی عورت کا جسم آگے کو جھکا ہوا ہے۔ اُس کا گریبان پوری طرح کھل کر اَندر کا سارا گداز باہر پھینک رہا ہے۔ سارے اُجالے سے اِشتہا کا شیرہ ٹپکنے لگتا ہے۔ میں نظریں جمائے رکھتا ہوں، حتی کہ میرا سارا بدن لذّت سے پوری طرح بھر جاتا ہے۔یہ سب کچھ ایک آدھ ساعت کے لیے ہی ہوتا ہے کہ اب وہی جسم ایک عظیم مقدس عمارت کا سا ہو گیا ہے اور میرے بدن سے چھل چھل چھلکتی ساری لذّت خوشبو میں ڈھل گئی ہے۔

ریمنڈ کی کہانی میں نابینا شخص کی محبت اور کیتھڈرل کی عظیم الشان عمارت آخر میں جاکر ایک ہو جاتے ہیں۔ ریمنڈ نے اپنی کہانی کے متن میں یہ بات صاف صاف نہیں لکھی ہے یہ تو میری اپنی تعبیر اور میرے اپنے دیے ہویے معنی کے امکانات ہیں۔ ممکن ہے کہانی کوئی اور پڑھے تو مجھ سے اتفاق نہ کرے۔ اتفاق کرے،نہ کرے اور پڑھنے والا چاہے کوئی بھی ہو،یہ ممکن نہیں ہے کہ کہانی کے اس آخری حصے میں اس کے لیے دیکھنے کی صلاحیت رکھنا یا اندھا ہو جانا بالکل لایعنی سا نہ ہو جائے۔

نظر رَکھنے اور اَندھے ہونے کا یہ قصہ فی الحال یہیں تک،کہ مجھے ایک ایسی مختصر فلم یاد آرہی ہے جس میں بینا اور نابینا کا سوال نہیں اُٹھایا گیا ہے مگر اس میں کیتھڈرل اسی طرح کہانی کے مرکز میں موجود ہے جس طرح ریمنڈ کی کہانی میں ہے۔ جی میں جیسک ڈوکاج کے افسانے کیتھڈرل پر بنائی گئی فلم کی بات کر رہا ہوں۔ اس میں ہوتا یوں ہے کہ ایک عورت جنگل میں سے گزر رہی ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ جو کہ فضا میں بلند ہے روشنی کو تھامے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ آگے بڑھتی ہے اور جنگل کے اَندر ہی اَندر روشنی کی ایک سرنگ سی بنتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ آگے کٹی ہوئی زمین آ جاتی ہے۔ سارے میں ایک گیت تھرتھرا رہا ہوتاہے، جس میں سے نارسائی کی ہوک بولتی ہے۔ گیت کی لے جو جوں اُبھرتی ہے توں توں چھاتی پر بڑھتی جکڑن شدید ہوتی جاتی ہے۔ گیت کے بول اُس عورت کے لبوں سے نہیں نکل رہے ہیںکہ وہاں تو چُپ نے جالا بن رکھا ہے۔ یہ گیت گہری تاریکی اور گھنے جنگل کے اَندر سے یوں اُمنڈتا ہے جیسے کوئی چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ گہرے دُکھ کے کھرنڈ کو کریدنے والاگیت یک لخت خاموش ہو جاتا ہے تولگتا ہے جیسے ایک متبرک خاموشی کا تنائو سارے میں تن گیا ہے۔ عورت کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی،جس کا سرا کچھ دیر پہلے تک روشن تھا، گر جاتی ہے۔ پھر وہ پیچھے کی سمت دوہری ہوتی ہے، یوں کہ اس کی چھاتیاں تن کر اُوپر بلند ہو جاتی ہیں۔ ایسے آسن میں وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی ہے تو اس کی چھاتیوں سے شاخوں کا ایک سلسلہ پھوٹ نکلتا ہے۔ یہ شاخیں جنگل بنتی ہیں۔ گھنا جنگل۔ اور پھر یہی جنگل ایک کیتھڈرل بن جاتا ہے۔

یہیںٹھہر جانا ہوگا مجھے؛ ایک لمبی سانس لینے کے لیے۔ اور اپنے آپ سے سوال کرنے کے لیے کہ یہ جو میں موٹے کا غذ پر اِدھر اُدھر کی لکھے جا رہا ہوں، آنکھیں موندکر، تو کیا کسی کہانی کا ایسا چلن ہو سکتا ہے ؟ سوال معقول ہے مگرآپ نے اس امر کو ذہن میں حاضر نہیں رکھاکہ میں اَندھی عورت کی اَندھی کہانی لکھنے جا رہا ہوں۔ رشتوں کے کٹائو سے بہتی کہانی اور شناختوں کے معدوم ہونے سے اُبلتی کہانیاں بھی کسی نے لکھنی ہیں نا۔ سو کوئی اور کیوں لکھے، میں کیوں نہ لکھوں ؟جب کہ میرے اندر یقین اُتر چکا ہے کہ تعلق کے ناموجود ہونے یا معدوم ہو نے سے بھی کہانیاں پھوٹ سکتی ہیں۔ اور پھرہم پر ایسی اُفتاد آ پڑی ہے کہ شناخت کا سوال بے ہودہ اور اخلاص کے متبرک پانیوں سے گندھا ہواتعلق فضول سی شے ہو گیا ہے۔

تو یوں ہے کہ کاغذ قلم تھام کر میں یہ سب کچھ اس نیت سے اور اس طرح لکھنے تو نہیں بیٹھا تھا، جس طرح کہ دُھنکے ہوئے خیالات مسطر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میں تو ایک اندھی عورت کی کہانی لکھنے کی نیت باندھ کے بیٹھا تھا، بیٹھا ہوں اور پورے خلوص سے اسی کو لکھنے کے جتن کر رہا ہوں ؛ جی ایک اندھی عورت کی کہانی، جو تعلق کے معدوم ہوتے ہوئے زمانے میں مرجاتی ہے۔

جب تک وہ نہیں مرتی، میں اُسے دیکھتا ہوں، اور دیکھتا رہوں گا۔ مجھے لگتا جیسے وہ جینا چاہتی تھی۔ زندگی کو بہت دیکھ بھال کر اور سوچ سمجھ کر جینا چاہتی تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اُسے بھی ریمنڈ کی کہانی کے نابینا مردکی طرح نابینا عورت لکھنا چاہیے، اندھی عورت نہیں۔ ہاں،یہ ایک نابینا عورت ہو سکتی تھی کہ میں اپنی کہانی کا جو کردارتراش رہا ہوں وہ کئی بینا عورتوں سے زیادہ دور تک دیکھنے والا ہے۔ ایک ایسی عورت جو بینائی سے محروم ہے مگر دور تک دیکھ سکتی ہے، منصوبہ بندی کر سکتی ہے اور اپنے منصوبوں کو عملی صورت میں ڈھال سکنے کی سکت رَکھتی ہے۔ افسوس کہ مجھے اسے اندھا لکھنا پڑ رہا ہے۔ اور یہ اس لیے لکھنا پڑ رہا ہے کہ میں اس عورت کی زندگی کا وہ پہلو بھی لکھ دینا چاہتا ہوں جہاں فقط سفاک اورگھپ اندھیرا ہے۔ ’روشنی ‘ سے جڑ کر بھی کہانی کی عورت نے اس اندھیرے میں بے خبررہنے کو ’’ہونی شدنی‘‘ کی طرح قبول کر لیاہے ؛ اپنے پورے وجود کے پُرخلوص اَندھے پن کے ساتھ۔۔۔ اگر مجھے اس کی زندگی کے اس پہلو سے کنی کاٹ کر لکھنا آتا تو ممکن ہے میں اسے ’اندھا‘ نہ لکھتا، مگر ہوا یہ کہ وہ اچانک اسی اندھیرے کو اُبکتے ہو ئے بکھرکر مر گئی۔ اَب جومیں اُسے سمجھنا چاہتا ہوں، ایک کہانی کے وسیلے سے اور مکمل طور پر، تو مجھے اسے اندھا ہی لکھنا پڑرہا ہے۔

ریمنڈ کی کہانی کا راوی کردار، جس نابینا شخص کو اپنی بیوی کا پرانا دوست ‘کہہ کر عین آغاز میں ہی متعارف کراتا ہے، وہ شخص اپنی بیوی کے مرنے کے بعد کنیٹی کٹ میں اپنے سسرال آیا ہوا تھا اور وہیں سے اس نے اپنی پرانی دوست یعنی کہانی کے راوی کی بیوی کو فون کیا اور اُن کے گھر پہنچ گیا تھا۔

یہاں مجھے بتا دینا چاہیے کہ میں جس اندھی عورت کی کہانی لکھنا چاہتا ہوں اُس کا ریمنڈ کے نابیناکردار والی کہانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک کہانی پرامن علاقے میں جنم لیتی ہے اور دوسری کا لوکیل ایک مسلط کی ہوئی لامتناہی جنگ کے شعلوں سے جھلس رہا ہے۔ یہ جنگ بھی عجیب و غریب ہے، ہماری نہیں ہے مگر ہماری اپنی ہوگئی ہے۔ کہنے کو تو یہ جنگ جو ریمنڈ کے امریکہ نے خوب خوب دھکائی، بہ طور خاص تب جب اسے روسیوں کو وہاں سے نکالنا تھا اور روسیوں کی پسپائی کے بعد فتح کے نشے میں چور اُن مجاہدوں کے خلاف جو اب دہشت گرد ہو گئے تھے اور اپنی شرائط پر افغانستان کو چلا نا چاہتے تھے۔ مگر یہ ریمنڈ کی کہانی کے لکھے جانے کے کئی سال ہوا۔ اور اب جب کہ ریمنڈ کئی طرح کی شرابیں پینے اور محبتیں کرنے کے بعد مر گیا ہے، میں ایسی کہانی لکھ رہا ہوں جسے اس کے ملک امریکہ سے جوڑے بغیر نہیں لکھا جا سکتا۔ یوں ہے کہ یہ کہانی امریکہ سے وہاں سے بھی جڑ جاتی ہے جہاں سے میڈیا کے مطابق امریکہ پر حملہ ہو جاتا ہے۔ جی، میڈیا نے اسے امریکا پر حملہ ہی کہا تھا۔ امریکہ انڈر اٹیک، کی عبارت پوری دنیا میں ہر ٹیلی وژن سکرین پر بلنک ہو رہی تھی۔

وہ منگل کا دن اور نویں مہینے کی گیارہ تاریخ تھی۔ کوئی پونے نو بجے کا وقت ہوگا کہ دو مسافر طیارے ا نتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے ایک سو دس منزل بلندورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاورز میں گھس گئے۔ اُسی روز کوئی ساڑھے نو بجے سے اوپر ہی وقت ہوگا کہ ایک اور طیارہ انتہائی حسا س ادارے،پنٹاگون کی عمارت میں جا گھسا۔ کہتے ہیں اس طیارے کے گرنے کے چند ہی منٹ بعد محکمہ خارجہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قریب کار بم دھماکا ہوا۔ چوتھا جہاز پنسلوانیا میں مار گرایا گیا۔ یہ اُوپر تلے کے ایسے ذہانت سے ترتیب دیے گئے واقعات تھے کہ میڈیا کا کہا سچ لگنے لگا؛ امریکہ پر حملہ ہو گیا۔

افغانستان پر امریکہ کی چڑھائی اسی حملے کا جواب تھا۔ میں نے جو کہانی سوچی ہے، یا مجھے جو کہانی لکھنی ہے وہ اسی جنگ زدہ ملک سے ہمارے اپنے ملک منتقل ہو جاتی ہے۔ جنگ کی اُس دہشت کی طرح جو پل بھر میں یہاں سے وہاں اور پھر ہر کہیں منتقل ہو جاتی ہے۔

ہاں تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے طریقہ کار کے مطابق، اپنی سوچی ہوئی کہانی لکھنے سے پہلے اس کی جزئیات تصور میں لانے کے لیے لکھنے والی میز کے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ہوں۔ میری آنکھیں بند ہیں۔ میں تخلیقی عمل کے بھید بھرے دروازے میں داخل ہونے کے لیے ایسا ہی کرتا ہوں۔مجھے ایک اندھی لڑکی کا تصور باندھنا ہے۔ لڑکی نہیں عورت کہ وہ شادی شدہ ہے اور اُسے لگ بھگ تیس برس کے پیٹے میں ہونا چاہیے۔ مگرہوتا یہ ہے کہ اپنے تنے ہوئے جسم کے ساتھ وہاںایک لڑکی نظر آتی ہے ؛ بیس کی یابائیس کی۔ تو گویا میں ایک ایسی عورت کو لکھنے جا رہا ہوں جو اپنی عمر سے بہت کم نظر آتی ہے۔ شفاف جلد والی اور ایک تنے ہوئے جسم والی لڑکی۔ میرے بند پپوٹوں کے اندر ہی اند ر جیسے ایک جھپاکا سا ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے، میں اوشن ویو سیمی ٹیری نامی قبرگاہ میں موجود ہوں جوپورٹ اینجلس میں ہے۔ اِسی جھپاکے میں ایک قبر کامرمریں کتبہ روشن ہوکر گم ہو گیا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کئی سال پہلے جب ہم اِس شہر کے وسطی علاقے سے گزر رہے تھے تو ہم لنکولن سے جنوب کی سمت مڑے تھے۔ میں نے اپنے لیے جمع کا صیغہ یوں استعمال کیا ہے کہ میرے ساتھ میکس کرافورڈ بھی تھا۔ اُس سے میری جان پہچان ایک سوشل ویب سائٹ پر ہوئی تھی۔ وہ ہر ہفتے وہاں اپنے کسی ناول سے ایک اقتباس یا اپنے دوستوں میں سے کسی کی نظم پوسٹ کیا کرتا۔ مجھے اُن میں سے کوئی پوسٹ اچھی لگتی اور کوئی یوں ہی سی۔ تاہم مجھے میکس میں دِل چسپی ہو چلی تھی۔ پہلی بار میں نے ایک عام سے اِقتباس کے نیچے کامنٹ والے باکس میںمحض سوالیہ نشان کا اضافہ کیا تھا۔ میکس کا یہ نوٹ’’لارڈ آف پلین‘‘ سے مقتبس تھا، جو ۱۹۷۰ء میں منظر عام پر آئی تھی :

’’کوئی نہیں جانتا ہم اپنی دوسری مہم کا آغاز کب کریں گے
ہمارے گھوڑے بوجھل ہو چکے،
ہم نڈھال ہیں،
سارا سازوسامان تیار ہے
مگر ابھی تک ہم نکل نہیں پائے ہیں۔‘‘

کامنٹس چھوڑنے کایہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ؛یک طرفہ۔ اس سے پہلے کہ میں اس یک طرفہ سلسلے سے اُوب جاتا، ایک روز یوں ہوتا ہے کہ میرے ان باکس میں، اُس کا مختصر سا پیغام پڑا ہوا ملتا ہے۔ میں میسج سے بہت خوش ہوتا ہوں اور اسے پڑھتے ہی مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ میکس نے میرے ذاتی ویب پیج اور دوسری سائیٹس سے میرے ایسے افسانوں کو تلاش کرکے پڑھ لیاتھا،جو انگریزی یا دوسری یورپی زبانوں میں ترجمہ کرکے وہاں فراہم کر دیے گئے تھے۔اس نے ان کی طرف لطیف سے اشارے کیے تھے۔ بس پھر کیا تھا،ہمارے درمیان دوستی مستحکم ہوتی چلی گئی۔

جب میں پورٹ اینجلس میں تھا تو ہمارا بہت سا وقت ایک ساتھ گزرتا تھا۔اُس نے ہی مجھے اولمپک نیشنل پارک دِکھایا اوردریائے ایلواہا کا وہ مقام بھی جہاں پہلے الڈویل کی جھیل تھی۔ جی ہاں گھنے جنگل سے آگے وہ کنارا جہاں جھیل پر وسعت چڑھ دوڑتی تھی اور اُس کے شفاف پانیوں میں نیلا آسمان اُترا کرتا تھا۔ ہم وہاں بھی گئے تھے جہاں کبھی ایلواہا ڈیم ہوا کرتا تھا مگر جسے ایک سال پہلے منہدم کردیا گیا تھا۔میکس نے عین وہاں جہاں سال بھر پہلے ڈیم تھا ؛نیلے پانیوں پر نظریں جمائے جمائے کہا تھا:

’’ نشانیاں، بس نشانیاں ہی تلاش کی جا سکتی ہیں مگرڈھنگ سے گمان نہیں باندھا جا سکتا کہ یہاں کتنا شاندار ڈیم رہا ہوگا۔‘‘

ایک شاندار ڈیم جو وہاں نہیں تھا۔

اُس کی آنکھیں بند تھیں اور شاید اُس نے اِسی ڈیم کی بابت سوچا ہوگا کہ ُاس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنی کسی تحریر کا ٹکڑا سنایاتھا؛ نظم کی طرح کاٹکڑا۔ ممکن ہے وہ کسی کی نظم ہو مگر میں نے اس بابت نہیں پوچھا تھا۔جو کچھ اُس نے سنایا اُس میں اس کا اپنا وجود ایک قدیم اور عظیم ڈیم کی طرح تھا جس پر محبت پانیوں کا شفاف جسم لہروں کی تندی بھول کر اپنی چھاتیوں کا گداز ٹیک کر شانت گیا تھا۔

میکس کاقد نکلتا ہوا تھا اور جسم فربہ، اس کی داڑھی بالشت بھر ہو رہی تھی جس کے سنہری بالوں پر پڑتی سورج کی کرنیں اُسے اور سنہرا کر رہی تھی۔

اس نے بتایا تھا کہ یہ تحریر اس نے کوئی تین سال پہلے اسی ڈیم کے مغربی کنارے بیٹھ کر اپنے دوست ریمنڈ کو بھی سنائی تھی۔ اس نے ایک اورشخص کا نام بھی لیا تھاجو اُن کے ساتھ تھا مگر اب مجھے یاد نہیں۔کوئی عام سا نام تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھا۔ تب بھی جب کہ اس نے ایک اجنبی مگر عام سا نام لیا تھا، مجھے خواہش نہ ہوئی تھی کہ اس کے بارے میں مجھے جاننا چاہیے۔ ہاں ریمنڈ کارور کے بارے میں میں نے کئی سوال کیے تھے۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ میں اس نام سے پہلے سے ہی آگاہ تھا اور آنے والے دنوں میں بھی میں اُسے جم کر پڑھنے جا رہا تھا۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا جو تحریر میکس نے مجھے سنائی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس کی اپنی تھی یا کسی اورکی، وہ نظم تھی یا نثر کا ٹکڑا مگر جب اس نے سنائی میں اس کے لیحم جثے کو دیکھ رہا تھا جو کبھی بہت قوی بھی رہا ہوگا۔

وہیں اُس نے ماضی کا حصہ ہو چکے ڈیم کی بابت بھی بہت کچھ بتایا تھا۔ یہی کہ وہ لگ بھگ سو سال پہلے بننا شروع ہوا تھا اور یہ کہ ایک سو آٹھ فٹ بلند اوراندازاً آٹھ میل لمبے اس ڈیم کی وجہ سے وہاں پانی کے ذخیرے کا درجہ حرارت قدرے بڑھ جاتا تھا۔ جھیل میں آنے سے پہلے، اُوپرپانی کادرجہ حرارت صفر سے بھی گر جاتا تھا۔ اگر پانی بہہ نہ رہا ہوتا تو یقیناًوہیں جم گیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا کہ اس گرمی اور یخ بستگی سے وابستہ کوئی معنی خود بخود سنائے جانے والے متن میں جذب ہوکر اس میں تاثیر بھر رہے تھے۔ ہم وہاں گھاس پر بیٹھ گئے اور بہت سا وقت خاموش رہے۔ پھر اُس کے ہونٹوں پر ریمنڈ کی قبر کی تختی پر کھدی ہوئی عبارت رواں ہوگئی؛ایک نظم کی گھمبیرتا نے جیسے سب کچھ اپنے کلاوے میں لے لیا تھا:

’’اور کیا وہ تمہیں مل گیا
جو تم زندگی سے چاہتے تھے،
یا طلب کر سکتے تھے؟‘‘
۔۔۔۔۔ہاں ایسا ہی ہوا
’’اور آخروہ کیا تھا
جس کی طلب تم رکھتے تھے؟‘‘
۔۔۔۔۔اپنے آپ کے حوالے سے،
کوئی مجھے محبوب کہہ کر پکارے کہ میں خود کو محسوس کر سکوں
اس زمین پر ایک ایسے وجود کی طرح
جس سے محبت کی جاتی ہے۔
’’یہ نظم ہی ہے‘‘؛ میکس نے بتایا اور اِس پر اِضافہ کیا :’’ اس کا عنوان بھی وہاں کھدا ہوا ہے؛لاسٹ سیگمنٹ۔‘‘

جب ہم لنکولن سے جنوب کی سمت مڑے، تب اس نے کہا :
’’ دوست، جب میں نے پہلی بار قبر کے کتبے کی عبارت پڑھی تھی تو مجھے لگا تھاکہ جیسے وجود کے اندر ویسی ہی گرمی بھر گئی تھی جو ایلڈویل جھیل کے پانیوں میں تھی۔ اور یہ کہ وہ پہلے تو بس ایک بے زار کرڈالنے والی یخ بستگی لیے عمر بھر سانسیں کھینچنے کی اذیتیں برداشت کرتا رہا تھا۔ بالکل ویسے ہی اذیت جیسی اس کی کہانی کیتھڈرل کے نابینا کردار کے حصے میں آئی تھی۔‘‘

…………………..

مجھے اپنے آپ کو بہکنے سے بچانا ہوگا کہ میں جس عورت کو لکھنے جا رہا ہوں اس کاریمنڈیا اندھے کردار والی کہانی کیتھڈرل سے کوئی تعلق یا مشابہت نہیں بنتی۔ اس اندھی عورت کی کہانی کا میرے دوست میکس سے بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے۔میری سوچی ہوئی کہانی میں اُلجھنیں یوں در آتی ہیں کہ میں نے آنکھیں میٹ کرکہانی کی جزیات کا تصور باندھا ہے اور ریمنڈ کی قبر کا کتبہ جھپاکے سے روشن ہو گیاہے۔
جی،وہی کتبہ جس پر کھدی ہوئی عبارت پڑھنے کے لیے کبھی میںبوڑھے میکس کے ساتھ شہر کی مرکزی آبادی والے علاقے میں لنکولن سے جنوب کی طرف مڑتے ہوئے وہا ں پہنچا تھا۔میکس کے ساتھ وہ میری پہلی اور آخری ملاقات تھی کہ ایک ڈیڑھ برس بعد اسے مر جانا تھا۔

خیر، اب میں اپنی بند آنکھوں میں اس عورت کا تصور لے آیا ہوں، جو اندھی ہے اور جسے ایک روز اچانک مر جانا ہے۔

مرنے والی بات اس کہانی میں قدرے تاخیر سے آنی چاہیے تھی۔ اچھا ہوتا کہ میں اس کہانی کو اسی ترتیب میں رکھتا جیسی کہ یہ مجھ پر اندر ہی اندر بیتتی رہی ہے مگر یوں ہے کہ میرے آنکھیں بند کرنے اور اسے لکھنے کی طرف مائل ہونے، اور کچھ نہ کچھ لکھتے چلے جانے کے عمل کے دورانیے میں واقعات میں بہت اُتھل پتھل ہو گئی ہے۔ اب اگر میں اسے ایک ترتیب سے بیان کرنا چاہوں تو بھی ایسا نہ کر پائوں گا۔اِس باب میںزور زبردستی کی تو کہانی میں کئی اور طرح کے گنجھل پڑسکتے ہیں۔میں اپنے آپ کو چوکنا کیے بغیر آگے بڑھتا ہوں۔ اور ہاں اب اگر میں یہاں یہ لکھ بھی دوں کہ پہلی نظرمیں،میں نے اُسے دیکھا تو گماں تک نہ گزرا تھا کہ اِتنی خوب صورت اور اِشتہا اُچھالنے والی لڑکی کی بینائی نہیں تھی، تو یہ انکشاف تحریر کی تاثیر میں کوئی اِضافہ نہ کرپائے گا کہ آپ تو پہلے ہی جان چکے ہیں، یہ ایک اندھی عورت کی کہانی ہے۔

میں اس عورت کے لیے ایک نام فرض کر لیتا ہوں، کہیے گل جان کیسا رہے گا۔ قندھاری انار جیسے سرخ چہرے اور پھول کی طرح کھلتے ہوئے بدن والی لڑکی پر یہ نام جچتا بھی بہت ہے۔ یہاں مجھے یہ بتا دینا چاہیے کہ گل جان ایک آرے والے کی بیٹی ہے۔جس آرے کی میں بات کر رہا ہوں اُس کی بیرونی دیوار کی دائیں جانب ایک بورڈ، بڑی کیلیں ٹھونک کرنصب کرلیا گیا ہے۔ اس بورڈ پر لکھا ہے ’چوب خانہ عمارتان‘۔ یوں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آرا جو دراصل لکڑی کا کارخانہ ہے کسی مقامی آدمی کا نہیں ہے۔ جب سے افغانستان میں جنگ چھڑی ہے اور سارے خطے میں بدامنی کا سلسلہ آغاز ہوا ہے، وہاں سے مہاجر ہو کر اس شہر میں آباد ہونے والے دیگر شعبوں کی طرح اس کاروبار میں بھی اندر تک دخیل ہو گئے ہیں۔ جگہ جگہ ’صنائع چوبی عمارتان‘،’ خانہ ہائے چوبی مدرن‘،’ ارہ ہائے چوبی‘ جیسی عبارتوں والے بورڈ نظر آنے لگے ہیں۔

وہ اندھی عورت جسے میں نے اپنی سہولت کے لیے گل جان کہا ہے، چوب خانہ عمارتان کے مالک غنی قندھاری کے ہاں پیدا ہوئی تو گول متھنی اور گوری چٹی تھی۔ اُس کے سیاہ بال کبھی کبھی سنہرے لگتے۔ دیکھنے والے اس ننھی منی خوب صورت بچی کے بارے میں کہتے کہ وہ بالکل اپنی ماں جیسی تھی۔ رنگت دیکھ کرکہنے کو یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ اپنے باپ پر گئی مگر ایک تو اس کا چہرہ بڑی حد تک گھنی داڑھی میں چھپا ہوا تھا اور دوسرے اس کی دائیں آنکھ کے نیچے ایسا گھائو تھا جیسے کوئی کند دھاتی ٹکڑا وہاں زور سے پڑا تھا اور انتہائی بُری طرح ماس کاٹ کر نکل گیا تھا۔ اس خوب صورت بچی کے لیے ایسے شخص سے مشابہت قائم کرنے میں دقت کی ایک اور وجہ بھی تھی ؛ غنی قندھاری لنگڑا تھااور لاٹھی ٹیک کر چلتا تھا۔

جب وہ قندھار میں تھا تو غنی قندھار ی نہیں تھا۔ قندھار میں نہیں اس سے پرے اپنے گائوں نودہ میں۔ تب سب اُسے غنی گل ہوتک کہتے تھے۔ اُسے ہوتک کہلوانا اچھا لگتا تھا اسی لیے اُس نے ’چوب خانہ عمارتان‘ پر آنے والے گاہکوں کو رقم کے بدلے جاری کرنے کے لیے جو رسیدی پیڈ چھپوائے تھے ان پر بھی ہوتک کو اپنے نام کا حصہ بنایا تھا مگر لوگوں نے اسے غنی قندھاری ہی کہتے۔ قندھار نام سے سب جو شناسائی سی محسوس کرتے تھے وہ ہوتک میں نہ تھی۔ میرے ابا جو غنی قندھاری کے کاروباری حلیف تھے اور حریف بھی، اُسے بہت بڑا ’چھوڑو‘ کہتے۔ یعنی اُونچی اُونچی ہانکنے والا اور لمبی گپ مارنے والا۔ غالباً ابا نے غنی قندھاری کو چھوڑو پہلی بار اُس دن کہا تھا جس روز ابا اس سے یہ سن کر آئے تھے کہ طالبان کا سربراہ ملا عمرمجاہداُس کا قبیلے دار تھا۔ میں نے ابا سے اُس دن جو گفتگو سنی اس کے مطابق ملا عمر اور غنی گل دونوں پشتونوں کی غلزئی شاخ کے ہوتک قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور یہ کہ غنی گل تو صاحب جائیداد تھا مگر ملا عمر بے زمین اور غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔

جو کچھ اُس روز کی گفتگو سے میں نے اخذ کیا،اُس کے مطابق غنی قندھاری اگرچہ ملاعمر کا قبیلے دار تھا مگر ملاعمر کو اِس سے غرض ہی کہاں تھی کہ کون اُس کے قبیلے کا ہے اور کون نہیں۔ ملاعمرنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو پوچھا تک نہیں اور قندھار کا گورنر ملاحسن کو بنادیا۔ لنگڑے ملاحسن کو،۔ اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ اُس کی ٹانگ محاذ پر لڑتے ہوئے کٹ گئی تھی۔ مُلا عمر نے جن لوگوں کی شوریٰ بنائی وہ بھی کسی نہ کسی فوجی حملے میں کمانڈر رہے تھے۔ غنی قندھاری کسان تھا جو بعد میں کاروباری ہو گیا۔ وہ اپنے حال میں مست رہنے والا تھا۔ اچھے دنوں میں اس کے کھیت انجیر،ناشپاتی اور انار کے ایسے باغ تھے جنہوں نے اسے خوش حال کیا ہوا تھا۔ جب روسی فوجیں آئیں وہاں کا آب پاشی کا نظام تباہ ہونے سے باغ اجڑگئے تو اس کے خاندان پر بھوک چڑھ دوڑی۔ جو کچھ جمع پونجی تھی ختم ہو گئی۔ طالبان کے قوت پکڑنے تک وہ مفلسی کے شکنجے میں رہا۔ طالبان آئے اور کچھ سکون ہوا تووہ بھی اوروں کی دیکھا دیکھی پوست کاشت کرنے لگا۔ پھل دار درختوں کے مقابلے میں یہ فصل اُن کی بھوک بہت کم عرصے میں مٹا سکتی تھی۔ غنی قندھاری نے ابا کو بتایا تھا کہ وہ اور اس بیٹاجب پہلی بار پوست کی نوخیز سبز اور نرم پتیوں کو اپنے کھیتوں کی زمین سے نکلتا دیکھتے تھے تو وہ دونوں ایک دوسرے سے اپنے آنسو چھپانے لگتے۔ کچھ ہفتوں میں سارے کھیت سرسبز ہو گئے۔ پھر اُن پر سرخ پھول کھلنے لگے۔ سبز پتے جھڑگئے تو پوست کے ڈوڈے یہاں وہاں ننگے ہو کر سامنے آگئے۔ یہ فصل لگ بھگ چار مہینے میں تیار ہوئی اور جب یقین کر لیا گیا کہ انہیں اب تیز دھار چھریوں سے خراشیں لگائی جا سکتی ہیں اور انگوٹھے دبا دبا کران کے اندر سے دودھ نکالا جا سکتا ہے تو وہ اس کام میں جت گئے تھے۔اگلے روز اسی دودھ کا رنگ جمنے پر بھورا ہو گیا؛ بھورا اور سیاہی مائل۔ یہ افیون تھی،اسے پولی تھین کی تھیلیوں میں بھر لیا گیا۔ انہوں نے اس سال لگ بھگ پچاس اکاون کلو افیون بیچی تھی اور اپنی مفلسی سے بہت حد تک چھٹکارا پالیا۔ غنی قندھاری طالبان کو شکرگزاری سے دیکھاکرتا کہ وہ اور کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ اگرچہ حشیش پر پابندی تھی اور طالبان نے حشیش کے کئی سمگلر پکڑ کر انہیں عبرتناک سزائیں دی تھیں مگرپوست پر پابندی کا انہوں نے نہیں سوچا تھا۔ ایسے موافق حالات میں اُسے اور اُس جیسے کسانوں کو موقع مل گیا تھا کہ پوست کی کاشت کریں اور اپنی بھوک مٹا ئیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔ اُدھر امریکہ میں سات ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر والا واقعہ ہوتا ہے۔ اور سترہ اکتوبر کوئی دس بجے کا وقت ہوگاجب قندھار پر امریکی طیارے بارود بر سا نے لگتے ہیں۔ غنی قندھاری کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں سے نکلنا پڑتا ہے، اپنی بیوی مرجان اور بیٹے شیرین زمان کے ساتھ۔ اوپر سے برسنے والا بارود اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی بیوی مرجان کے جسم کو روئی کی طرح دھنک دیتا ہے وہ اس کی طرف لپکتا ہے اور ایک دھکتا ہوگولا اُس کی آنکھ کے نیچے گوشت پھاڑتا چھچھلتا ہوا نکل جاتا ہے جب کہ دوسرا اُس کی ران کی ہڈی چٹخا دیتا ہے۔ شیرین زمان باپ کو سہارا دے کر ایک طرف بٹھاتا ہے اور کندھے پر جھولتی چادر سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر باپ کی ران سے بہنے والے خون کو روکنے کے لیے اسے کس کر باندھ دیتا ہے۔ اسی چادر کو وہ باپ کے سامنے خالی زمین پر بچھا دیتا ہے اور سارے میں بکھرے ماں کے گوشت کے لوتھڑے اُس پر ڈھیر کرکے گرہ لگاکر پوٹلی بنا لیتا ہے۔

پوٹلی باپ کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے جو اس سینے سے لگالیتا۔ وہ اپنے کام میں یوں جتا ہوا ہے جیسے کوئی روبوٹ ایک ترتیب سے سارے کام کرتا ہے۔ اب وہ اپنے باپ کو کندھے پر ڈال کر چلنے کے لیے تیار ہے۔ بارود اب بھی برس رہا ہے مگر وہ پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہیں وہ ایک طرف اپنے باپ کو لٹاتا ہے،پوٹلی، جس میں اس کی ماں کے لوتھڑے بندھے ہوئے ہیں، باپ کے پیٹ پر رکھی ہے۔ وہ ایک گہری جگہ تلاش کرتا ہے، اس میں اس پوٹلی کو رکھتا ہے اور چھوٹے چھوٹے پتھروں اور مٹی سے اُس گہرے کھڈے کو پاٹ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہاں ایک ڈھیری سی اُبھر آتی ہے۔ وہاں سے کوئٹہ پہنچنے اور پھر وہاں سے بیٹے کے اصرار پر علی شیر محسود کے ہاں پہنچ جانے کا قصہ بھی ابا نے غنی قندھاری سے سن رکھا تھا اور ہمیں مزے لے لے کر سنایا تھا۔

اوہ یہ تو میں نے بتایا ہی نہیں کہ جس عورت کے بطن سے گل جان پیدا ہوئی وہ کون تھی۔ اب بتا دیتا ہوں، اس لڑکی کی ماں تھی دل جان۔ غنی قندھاری جب علی شیر محسود کے ہاں پہنچا تو بہت خستہ حالت میں تھا۔ علی شیر محسود اُس کے اَچھے دنوں کا ساتھی تھا۔ جن دنوں وہ قندھار سے افیون اِدھر لایا کرتے وہ باپ بیٹا اس کے ہاں ہی ٹھہراکرتے تھے۔ علی شیر محسود نے پرانے تعلق کا پاس رکھا اور دونوں کواپنے ہاں ٹھہرا لیا۔ جس عورت کے بطن سے گُل جان پیدا ہوئی وہ اسی علی شیرمحسود کی بہن دل جان ہے۔ محسود والے اُس جنگ کا حصہ تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گردی ہو گئی تھی۔ وہ پہلے امریکہ سے آئی ہوئی امداد اور اپنے ایمان کے سہارے روس کو وہاں سے نکالنے میں مصروف رہے اور جب اُدھر انہیں کامیابی ملی تو اسی ایمان کی حدت سے امریکہ کے خلاف ڈٹ گئے۔ دل جان کے منگیتر نے بھی اسی مجہول جنگ میں اپنی کمر سے بارود باندھ کر ایک بازار میں خود کو اُڑا لیا تھا اور یہ تب کی بات ہے جب انہیں اپنی حکومت اور امریکی ایک سے لگنے لگے تھے۔ یہ تجویز علی محسود کی طرف سے آئی تھی کہ غنی،گل جان سے شادی کرکے اسلام آباد چلا جائے۔ اس کے لیے اسی نے رقم فراہم کی تھی۔ مسلسل سوگ میں بیٹھی اور اسے کوسنے دینے والی عورت سے چھٹکارے کی یہی صورت تھی، سو اس نے چھٹکارا پالیا۔ شیرین گل وہیں ٹھہر گیا بہ قول غنی قندھاری کے،اُس کے دل میں ماں کے مارے جانے کا غم بہت گہرا تھا اور اس کے اندر بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی۔

اس مرحلے میں، مجھے ایک اور کردار کوکہانی کے متن میں رواں کرنا ہے۔ یہ ایک دیہاڑی دار مزدور کا کردار ہے، جسے آگے چل کر غنی قندھاری اور دل جان کی بیٹی کا شوہر ہو جانا ہے۔ میں اس کا نام دوست محمد تجویز کرتا ہوں۔ جس ماحول میں اس نے بڑا ہونا ہے اس میں یہی نام دوسا ہو جائے گا۔ دوسا شایدوسطی پنجاب سے آیا تھا، ماں باپ کے گھر سے بھاگ کر یا شاید اس کے والدین ہی نگر نگر پھرنے والے تھے،اور اُسے یہیں چھوڑ کر کہیں اور نکل گئے تھے۔ اسے دیہاڑی دار مزدوروں کے ساتھ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ کچھ عرصے سے وہ ایک ٹھیکیدار کے ساتھ اینٹیں ڈھونے اور گارامسالا بنانے پر لگ گیا تھا۔ سال بھر کا عرصہ ہی بیتا ہوگا کہ اس کام سے اس کا جی اوب گیا۔ وہ غنی قندھاری کے آرے پر آیا اور ملازم ہو گیا۔ پہلے پہل وہ شہتیر جتنے لکڑی کی گیلیاں کندھے پر اُٹھا کہ آرے کے پلیٹ فارم پر دھرنے پر مامور ہوا۔ پھرانہی گیلیوں کو تھام کر چرنے کے لیے آرے میں آگے دھکیلنے لگا۔ اس کے شوق اور اس کام میں دلچسپی کو دیکھ کر اسے مستقل اسی کام پر لگادیا گیا۔

کہا جا سکتا ہے یہ کہانی ابھی تک اندھا آئینہ ہے۔ ایسا غیر شفاف آئینہ جس میں سب چہرے دھندلے ہو جاتے ہیں۔ ہم اسی آئینے میں گل جان جیسی عورت کو دیکھ سکتے ہیں جس نے ایک اندھی بچی کو جنم دیا تھا۔یہ والی عورت ہمیشہ غنی قندھاری کے گھر کی چار دیواری میں رہی اور وہیں ایک روز، جلتے چولہے کے اوپر اوندھے منہ گری اور جل کرمر گئی۔ ایک اندھی موت؛ اور لوگوں کا کہنا تھا وہ خود سے نہیں مری تھی۔ ابا نے غنی قندھاری پر شبے کی رپٹ بھی تھانے میں دے دی تھی۔ خیر معاملہ جو بھی تھا، وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پھر سے سرحد پار نکل گیا تھا۔ مگر یہ تو بہت بعد کی بات ہے، تب کی کہ جب غنی قندھاری کی اندھی بیٹی نے جوان ہو کر ایک اشتہا اچھالنے والے جسم کا مالک ہونا تھا۔ جب سے گل جان جوان ہوئی تھی، غنی قندھاری کی راتوں کی نیند اُڑ گئی تھی۔ کچھ دنوں سے گل جان کو بھی نیند نہیں آتی تھی۔ وہ دیواریں ٹٹولتے ٹٹولتے دروازے تک پہنچ جاتی۔ دروازہ کے پٹ کھول کر عین گلی میں نکل جاتی اور یوں لمبے لمبے سانس کھینچنے لگتی جیسے گزرنے والوں کی مہک آنک رہی ہو۔ ماں نے کئی بار اسے ڈانٹ ڈپٹ کی مگر ہر بار وہ کہتی،کہ وہ انسانوں کی خوش بو اوران کی آوازوں کو چکھ سونگھ کر اپنے اندر ایک تصویر بنانا چاہتی ہے۔ سب کچھ دیکھ لینے والوں کی تصویر۔

’’پاگل کہیں کی‘‘، یہ اس کی ماں نے کہا تھا جب کہ اس کا باپ نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتا کہ وہ اس پاگل اور اندھی لڑکی کے ساتھ قندھار میں نہیں تھا، وہاں ہوتا اور یہ ایسی حرکت کرتی تو زمین کا رزق ہو چکی ہوتی۔ وہ اسلام آباد میں تھا جہاں وہ کئی معاملات میں بے بس تھا۔ اور ہاں یہاں بتاتا چلوں کہ جب وہ گلی میں منہ اُٹھا کہ نتھنے پھلا رہی ہوتی تو اپنے ڈھیلے اوپر کی سمت چڑھا لیتی تھی یا پھر اس کی آنکھوں کی پتلیاں اکڑکر ٹھہر جاتیں اور کچھ زیادہ وقت کے لیے وہاں ٹھہری رہتی تھیں، جیسے اس عرصہ میں اس کے اندر دھرے کسی کینوس پر واقعی کوئی تصویر بن رہی ہو۔

میں نے اس عورت کے اندھا ہونے کی جو علامتیں گنوائی ہیں ان سے ایک بار پھر میرا دھیان ریمنڈ کی کہانی’’کیتھڈرل‘‘ کے اندھے کردار کی طرف چلا گیا ہے۔ کچھ ایسی ہی نشانیاں اس کردار کی بھی بتائی گئی تھیں۔ ریمنڈ کی لکھی ہوئی نشانیاں پڑھتے ہوئے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اندھا ایسے ہی کر سکتا تھا مگر اسی افسانے کی ایک تعبیر میں نے ایک مختصر فلم کی صورت میں دیکھی تو ہر بار خیال آیاکہ اس طرح تو ریمنڈ نے نہیں لکھا تھا۔ جس ڈرامائی تشکیل کی میں بات کر رہا ہوں اس میں پہلا فریم ایک امریکن اسٹائل کے کچن کا ہے۔ وہاں ڈائنگ ٹیبل پر ایک خوبرو شخص کو بیٹھے دِکھایا گیا ہے، جس نے ایک عورت کے شوہر کا کردار ادا کرنا ہے۔ وہ کرسی کی پشت سے کمر ٹیکے دونوں ہاتھ سامنے میز پر رکھے ہوئے ہے۔ سامنے پڑی پلیٹ خالی ہے۔فریم میں اس کی بیوی داخل ہوتی ہے۔ بال کٹے ہوئے، چست سی ٹی شرٹ اور اس ٹی شرٹ کے اوپر ایک دوسرے کو کاٹتی سرخ سیاہ موٹی دھاریوں اور کھلے گریبان والی لونگ شرٹ۔اس نے نیچے ٹرائوزر پہن رکھا ہے سیاہ رنگ کا۔ شوہر نے بھی ملتے جلتے والے رنگوں اور باہم کاٹتی موٹی دھاریوں والی شرٹ پہن رکھی ہے۔ یہ دھاریاں پہلی نظر میں چار خانہ سا بناتی تھی۔ بالکل ویسا چار خانہ جیسا غنی قندھاری کے دونوں کندھوں پر جھولنے اور پشت پر تکون بنانے والا رومال بنایا کرتا ہے۔

پہلی بار جب عورت فریم میں لائی جاتی ہے تو اُس کی چست ٹی شرٹ میں بھری ہوئی چھاتیوں سے اسکرین بھر جاتی ہے۔ تاہم ایسا بس ایک لمحے کے لیے ہوتا ہے، فوراً بعد یا شاید اس فریم سے پہلے ٹونٹی سے دھار بناتے نکلتے پانی کو پلیٹ کے اُوپر سے اُچھلتے اور شینک میں گرتے دِکھایا جاتاہے تو پانی اُچھلنے کے چھناکے کی جوآوازاوورلیپ کرتی ہے۔ اس سے عورت کی گرمجوشی ظاہر ہونے لگی ہے۔ کٹ کرکے کیمرہ خالی پلیٹ کے ادھر اُدھر میز پر پڑے خالی ہاتھ دکھاتا ہے۔خوب رو جوان کے خالی ہاتھ۔ خالی پن سارے میں پھیل جاتا ہے۔ ایک طرف گرمجوشی اور دوسری طرف خالی پن۔ ریمنڈ کی تحریر کو اگرچہ خوب مہارت سے گرفت میں لیا گیا ہے مگر پھر بھی مجھے لگتا ہے جو بات تحریر میں ہے، وہ اس ڈرامائی تعبیر میں نہیں ہے۔

……………………….

’’گرمجوشی اور خالی پن۔ تمہارے لیے یہ دو لفظ ہیں، لغت سے نکالے گئے دولفظ۔ تم نہیں جانتے یہ ایک ساتھ زندگی کے فریم میں نہیں آسکتے ‘‘

یہ بات انتہائی سنجیدگی سے دوسا مجھے بتاتے ہوئے سامنے دیوار کو دیکھ رہا ہے جہاں لکڑی کے ایک فریم میں آس کی اور اس کی بیوی تصویر لگی ہوئی ہے۔ دوسااب تک بہت سیانا ہوکر ایک بار پھر سے دوست محمد ہو چکا ہے۔ میں اُس کی بات سنتا ہوں اور اس کا چہرہ دیکھتا تو وہاں سنجیدگی سے زیادہ اذیت نظر آتی ہے، ایسی اذیت جس نے اس کی صورت اور بھی بگاڑ دی ہے۔ میرا تجزبہ رہا ہے کہ خوب صورت آدمی کے چہرے پر اذیت کے آثار بھی خوب صورت ہو جایاکرتے ہیں ؛ جیسا کہ فلم میں عورت کے خوب رو شوہر کے معاملے میں ہوا مگر دوست محمد کا نام خوب صورت سہی اُسے کسی طور قبول صورت بھی نہیں کہا جا سکتا۔ گہری سیاہ رنگت، کھردری جلد، بال اُڑے ہوئے، ہونٹ موٹے بھدے، ناک کے نتھنے پھیلے ہوئے اور توند نکلی ہوئی۔ میں،اُس سے جس ملاقات کی بات کررہا ہوں اس میں کچھ دیر پہلے تک اس کی بیوی گل جان اپنے بے پناہ حسن اور جسم کی مچلتی اشتہا کے ساتھ موجود تھی اور میں نے گل جان کی طرف سے گرمجوشی اور دوست محمد کی جانب سے خالی پن کو ایک ہی فریم میں دیکھا تھا۔ میں اب تک دوست محمد کو دُنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا آیا ہوں۔ گندگی سے اٹھ کر مشقت میں پڑنے والا اورپھر سب کچھ حاصل کر لینے والا، جی گل جان سمیت سب کچھ۔ لیکن ابھی کچھ لمحے پہلے کہ گل جان وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی، مجھے اپنی رائے بدل لینا پڑی ہے۔ دوست محمد کا چہرہ شدید اذیت سے کچھ زیادہ ہی کراہت اچھالنے لگا ہے۔ میں سوچتا ہوں، اگر گل جان کی آنکھیں ہوتیں تو کیا وہ اس شخص کو پھر بھی قبول کر لیتی۔ قبول کرلینے پر مجبور کر دی گئی ہوتی، تو بھی شاید ایسا ممکن نہ ہوتا، یہ میرے اندر کی آواز ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ گل جان نے اپنی زندگی میں پھر بھی گرمجوشی برقراررکھی ہوئی ہے۔ اندھی گرمجوشی۔ کم ازکم مجھے اس باب میں یہی تاثر ملتا ہے۔
’’کیتھڈرل‘‘ کی تعبیر والی جس مختصر فلم کا میں نے ابھی اوپر ذکر کیا ہے،اُس میں ایک منظر میں تینوں یعنی خوب رو شوہر، بھرے بھرے جسم والی اس کی بیوی اور اس کا پرانا نابینا دوست پاس پاس بیٹھے ہوتے ہیں۔ شوہر کے چہرے پر بدستو ر اُکتاہٹ ہے مگر اُس کی بیوی کا پرانا دوست مسلسل بول رہا ہے اور شراب کی بوتل سے جام بھر بھر کر پئے جا رہا ہے۔ یہیں کہانی کا وہ مرحلہ آتا ہے، جب وہ کھانے کی میز سے اُٹھتے ہیں۔ عورت آگے بڑھ کر اپنے دوست کے بائیںہاتھ کی اُنگلیوں کو تھام لیتی ہے۔ اندھے کا انگوٹھااس گرفت سے آزاد ہے جو بہت آہستگی سے عورت کے ہاتھ کی پشت پر یوں چلتا ہے جیسے پانی شیشے پر ڈھلکتا اور پھسلتا ہے۔
میں نے بتایا ہی نہیں کہ اس مختصر فلم میں نابینا شخص کی داڑھی نہیں ہے۔ اُس نے سیاہ شیشوں والا چشمہ لگایا ہوا ہے اور یہ دونوں باتیں اصل متن سے متصادم ہیں۔ خیر یہاں اندھے کی اداکاری خوب ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی گمان نہیں گزرتا کہ وہ اندھا نہیں ہے۔ منہ اُٹھا کر ایک خاص زاویے پر چہرہ لا کر بات کرتا اورکوئی بات کرتے کرتے پتلیاں تک ساکت کر لیتا، جیسے آوازوں سے تصویریں بنانے لگا ہو۔ فلم کا یہ حصہ بہت توجہ سے فلمایا گیا ہے۔ کیتھڈرل کا منظر کٹ کٹ کر اسکرین پر اُبھرتا ہے۔ بیچ بیچ میں دکھایا جاتا ہے کہ صوفے پر دائیں جانب شوہر، بیچ میں اس کی بیوی اور بائیں طرف اندھا مہمان بیٹھے ہیں۔ اگلے منظر میں،کہ جب وہ اُٹھ کر صوفے پر جا بیٹھے تھے، بیٹھنے کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ اب عورت بیچ میں نہیں ہے۔ موٹا کاغذ پاس ہی دھرا تھا جسے سامنے پھیلا لیا گیا ہے اور اس پروہ دونوں کیتھڈرل کی تصویر بنارہے ہیں۔ جی دونوں مل کر۔ اصل کہانی میں کاغذ شوہر کو دوسرے کمرے سے ڈھونڈ کر لانا ہوتا ہے تاہم وہاں بھی کیتھڈرل کی تصویر کو اسی طرح بننا ہے۔

اوہ، اب مجھے اپنے آپ کو یاد دلانا ہے کہ ریمنڈ کی لکھی ہوئی کہانی ایک نابینا مرد کے گرد گھومتی ہے،جب کہ میری کہانی میں عورت اندھی ہے۔ خیر، کہانی کے لگ بھگ ملتے جلتے مرحلے میں،ایک شوہر اور اس کی بیوی کا مہمان میں خود ہو جاتا ہوں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں اندھا نہیں ہوں۔ سب دیکھ سکتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے سامنے کوئی ٹی وی ہے نہ اُس پر دِکھائی جانے والی کیتھڈرل کی فلم، ہم نے کچھ بھی کا غذ پر نہیں بنا یا ہے،نہ کچھ بنانے جارہے ہیں۔ تاہم یہاں بھی ایک اذیت ہے جو میں نے اور دوست محمد اور شاید گل جان نے بھی برابر برابر بانٹ لی ہے۔ گل جان نے بھی؟ میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں، اور اس کی طرف سے ظاہر کی جانے والی اندھی گرمجوشی کی بابت سوچتا ہوں تو مخمصے میں پڑ جاتا ہوں۔
’’کیتھڈرل‘‘ کی ڈرامائی تشکیل والی فلم میں، جب عورت صوفے کی پشت سے سر ٹیک کر سو جاتی ہے تو مجھے دھچکا لگتا ہے۔ ایسا مرحلہ اصل کہانی میں بھی ہے مگر یہاں اصل متن والا ریشمی نائٹ گائون نہیں ہے۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ میں اسکرین پر ایک خوب صورت بھرے بھرے جسم والی عورت کی سفید ملائم ران سے نیند میں گائون ڈھلکنے کا منظر نہیں دیکھ سکا۔ ریمنڈ نے کہانی لکھتے ہوئے اس جانب اشارہ کر دیا تھا کہ جب اس عورت کی خوب صورت ران نمایاں ہوگئی تواس کے شوہر نے ایک لمحے کے لیے سوچا تھا کہ اُٹھے اور جاکر اس کا گائون درست کردے مگر دوسرے ہی لمحے ایک اندھے کے سامنے ایسا کرنا نہ کرنا بے معنی لگا تھا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے اِسی افسانے کی ایک اور ڈرامائی تشکیل بھی دیکھ رکھی ہے۔ غالباً اس کا نام ’’ آئی اوپننگ‘‘ ہے ۔ اب جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ساتھ ہی ساتھ اس دوسری فلم کے نام کا لطف بھی لے رہا ہوں۔ مانتا ہوں کہ ایک اندھے پر بنائی گئی فلم کا نام’’آئی اوپنگ‘‘ رکھ کر اس میں معنویت کی ایک اور پرت کا اضافہ کر لیا گیا ہے تاہم مجھے یاد آتا ہے کہ اس میں لڑکی کا کرداراحتیاط سے نہیں چنا گیا تھا۔ اُس میں جس لڑکی کو کاسٹ کیا گیا ہے وہ کچھ زیادہ ہی دُبلی پتلی ہے۔ اِ س دوسرے والی فلم میں افسانے سے قدرے زیادہ مواد لیا گیاہے مگر وہ اصل منظر جس میں گزر چکے وقت کے ایک پارچے میں اندھے کی انگلیاں اپنی دوست عورت کے چہرے پر ملائمت سے چلتی ہیں،وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ میں نے بتایا تھانا کہ ریمنڈ نے افسانے میں عورت کی ران سے گائون کو ڈھلکا کر ایک معنویت پیدا کی تھی، اسے یہاں بھی نظر انداز کر دیا گیاہے۔ پھر کیتھڈرل کی تصویر بنانے کے لگ بھگ آخری مرحلے میں عورت کا جاگ کر اپنے شوہر کے کندھے پر ہاتھ ٹیک دینا بھی افسانہ خراب کرنے کے مترادف ہے۔ دیکھنا، دِکھنا، جسم کی اشتہااوراحساس کی کیتھڈرل جیسی عظمت؛یہ ریمنڈ کی کہانی میں تھا مگر ان دونوں فلموں کہاں ہے؟

……………………….

میں وہاں ہوں مگر نہیں ہوں۔

یہ منظر میں بہت اوپر کہیں لکھ آیا ہوں کہ جب گل جان جھکی ہوئی تھی اور اس کے گریبان سے سارا گداز باہر جھانک رہا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے دو ہَنڈے سے جل اُٹھے تھے۔ میں ریمنڈ کے افسانے کا اندھا نہیں تھا لہذا اس اشتہا اُچھالتے گداز کو دیکھتے ہوئے اپنے پورے بدن کی یکسوئی سے لذت کشید کر تارہا۔ میری کہانی کی عورت کی آنکھیں نیند سے بند نہیں ہوئی وہ تو بے نور ہیں۔ اندھی عورت، جس کا جسم اشتہا اچھال رہا ہے، فرش پر گرپڑنے والے اپنے سیل کو اُٹھانے کے لیے جھکی ہوئی ہے۔ تاہم بتاتا چلوں کہ ریمنڈ کی کہانی کی عورت اور میری کہانی کی عورت میں ایک قدر مشترک ہے ؛ دونوں دِکھنے کی اس ازلی خواہش سے پاک ہیں۔ جی،جس کی ران ننگی ہوئی یا جس کا گریبان کھلا، دونوں، حالاں کہ یہ عورت کا بالعموم وتیرہ ہوا کرتا ہے کہ وہ دیکھی جائے۔ ہمارے اپنے افسانہ نگاروں نے عورت کے دِکھنے کی خواہش اور مرد کی دیکھنے کی اشتہا اور نظر بازی کی عادت کو ایک ساتھ رکھ کر کئی کہانیاں لکھ لی ہیں۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے،بس ہمارے ہاں اس ایک تجربے کو ہی اہمیت حاصل رہی ہے۔ عورت بن سنور کر نکلتی ہے دِکھنے کے لیے اور مرد اُس کے تعاقب میں ہوتا ہے نظر بھر کر دیکھنے کے لیے۔ ریمنڈ نے جو کہانی لکھی تھی اس میں عورت دیکھے جانے کی خواہش کی ابتلا میں نہیں ہے۔ دیکھنا وہاں اس کے قدیمی دوست کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ وہ نابینا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر رہے ہیں اور محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ میری کہانی میں، اندھی عورت کی حد تک دِکھنے کی خواہش تو منہا ہو گئی ہے مگر اس میں میرا اپنا کردار جس طور نمایاں ہو رہا ہے اُس میں دیکھنے اور ایک بے پناہ خوب صورت جسم کے اندھا دھند عریانی اُچھالتے اعضا سے لذت کشید کرنے کے عمل نے ساری کہانی کو مختلف کر دیا ہے۔

اچھا، ایک اور اعتبار سے بھی میری یہ کہانی مختلف ہو جاتی ہے کہ اس میں گل جان کا شوہر ریمنڈ کی کہانی کے شوہر کی طرح اپنی عورت کے عریاں ہو جانے والے بدن کے بارے متردد نہیں ہوتا حالاں کہ وہ جانتا ہے کہ میں اندھا نہیں ہوں۔ اسے اپنا خالی پن عزیز ہے اور اسی خالی پن کو اوڑھے ایک اندھی عورت کو دیکھتا ہے جو اس کی بیوی ہے اور جو ساری کی ساری اندھے پن کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ میں اس کی بیوی کو وہاں سے دیکھتا ہوں، جہاں سے وہ نہیں دیکھتا۔ میں دیکھتارہتا ہوں حتی کہ وہ سیل ڈھونڈ کر کمر سیدھی کر لیتی ہے۔ میں چونکتا ہوں اور پھر سے اُسے دیکھتا ہوں اور بے اختیاری سے اس کا ہاتھ تھام لیتا ہوں۔ میراا نگوٹھا اُس کی ہتھیلی کی پشت پر پھسلتے ہوئے ملائمت سے چلتا ہے۔ میری نگاہیں اس کے چہرے پر جمی ہیں جو پوری طرح اس سمت میںمڑا ہوا ہے جہاں آس کا شوہر بیٹھا ہے،اپنے وجود کے خالی پن کے ساتھ۔ وہ پوری طرح گردن گھماکر کمرے کے دروازے کی سمت دیکھتی ہے : ’’تم میرے مہمان کا خیال رکھو میں ذرا ’’روشنی‘‘ کے معاملات سلجھا لوں‘‘۔ اس کا لہجہ اعتماد بھرا ہے اور پر جوش۔ اس باراُس کا شوہر چونکتا ہے مگر اُسے دیکھے بغیر ایک مصنوعی گرمجوشی سے ’’ضرور، ضرور‘‘ کی تکرار کے بعد اپنے خالی پن میں لوٹ جاتا ہے۔ میں اُس کا ہاتھ تھامے رکھنا چاہتا ہوں مگر وہ اپنی اُنگلیاں اپنی ہتھیلی کی طرف سکیڑ کر میری ہتھیلی خالی کر دیتی ہے۔ مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ میں پھر سے اُس کی انگلیاں تھام لوں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اسے میرے سہارے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ نپے تلے قدم اُٹھاتی دروازے سے باہر نکل جاتی ہے۔ میں مڑ کر اُس کے شوہر کو دیکھتا ہوں اوریہ وہ مقام ہے جہاں میں نے ’’گرمجوشی‘‘ اور’’ خالی پن‘‘ والے جملے کو سنا تھا۔ ایسا کہتے ہوئے اس کے اندر کی اذیت نے اُس کا چہرہ اور بھی بگاڑ دیا تھا۔

…………….

شایدمعاملات اس قدر بگڑ گئے تھے کہ غنی قندھاری مزید اِنتظار نہ کر سکتا تھا۔ اب تک اس نے روپیہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ اس کی بیوی کے جل مرنے کو چوتھا روز ہو چلا تھا۔ پولیس نے ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا تھا مگر کب تک۔ کچھ عرصے سے مجھے یقین سا ہو چلا تھا کہ غنی قندھاری اپنی بیٹی کے معاملے میںمجھے سامنے رکھ کر ایک فیصلہ کر چکا تھا مگر اب سب کچھ تلپٹ ہو گیا تھا۔ ایسے میں وہ میری طرف اُمید سے کیسے دیکھ سکتا تھا۔ میرا باپ ہی اسے قتل کے مقدمے میں پھنسانے جتن کر رہا تھا۔ یہیں مجھے بتا دینا چاہیے کہ میرا باپ ساتھ والے عباسی وڈ ہائوس کا مالک ہے۔ بہ ظاہر دونوں میں خوب لین دین چلتا رہا مگر شاید اندر ہی اندر کچھ اور چل رہا تھا جو اب پوری طرح ظاہر ہو رہاہے۔ میرے باپ کا کہنا ہے وہ اس قاتل کو نہیں چھوڑے گا۔ تاہم اس باب میں غنی قندھاری زیادہ رسوخ والا نکلا، اگلے ہفتے پولیس نے روزنامچے میں ایک اندھی عورت کے آگ میں اتفاقیہ جلنے کی رپورٹ لکھ دی۔ میرا باپ بپھر گیا۔ اس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس قاتل کو صاف بچ نکلنے نہیں دے گا۔ اس کے لیے اس نے اوپر درخواستیں دیں، اخباروں کو مراسلے بھجوائے، ٹی وی والوں کے ہاں پہنچ گیا،عورتوں کی این جی اوز کو ایک عورت پر ہونے والے ظلم کی بابت بتایا تو ایک شور سا مچ گیا۔ پولیس پر دبائو بڑھنے لگا توغنی قندھاری کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔اس شام تو وہ بوکھلا ہی گیا جس شام گل جان نے اس سے پوچھا تھا، ابا آخر میری ماں کا قصور کیا تھا؟

وہ بیٹی کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ اس کی ماں کا جل جانا قتل نہیں محض ایک حادثہ تھا مگر اسے خدشہ سا ہواکہ عورتوں کی این جی اوز اب اس کی بیٹی سے رابطہ کرنے لگی تھیں وہ ان کے ورغلانے میں آ سکتی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کو محبت کا یقین دلانے کے لیے اپنا کاروبار اس کے نام کیا، اپنے ہاں ملازم دوست محمد کو اپنا داماد بنانے کی بات کی۔ دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی آنکھوں والااندھی گل جان کا شوہر بنے گا۔ ایسا سنتے ہی اُس کا سویا پڑا جسم جاگ گیا اور اس کے سارے وجود پر آنکھیں اُگ آئیں۔ لگ بھگ ایسی ہی گرمی دوست محمد کے ہاں بھی تھی۔ جہاں وہ ملازم تھا، اب سب کچھ گل جان کا تھا۔ گل جان جو اس کی بیوی تھی اور اندھی تھی۔ گویا اس کے پاس اس دولت کو اندھا دھند استعمال کرنے کا موقع ہا تھ لگنے والا تھا۔

اس مرحلے کی ساری کہانی سے میں نے اپنے آپ کو یوں باہر نکال پھینکا ہے،جیسے کوئی دودھ میں گری مکھی نکال پھینکتا ہے حالاں کہ مکھی جیسی کراہت تو اس شخص سے آتی تھی جو شہد ملے دُودھ جیسی رنگت والی لڑکی کا شوہر ہو گیا تھا اور اب اس کے وسیلے سے لکڑی کا سارا کاروبار بھی جس کے تصرف میں تھا۔

یہ بات مجھے کہیں اوپر بتانا چاہیے تھی کہ جب میں اور میکس دریائے ایلواہا کے اُس مقام پر تھے جہاں پہلے الڈویل کی جھیل ہوا کرتی تھی اور جب مجھے اُس نے ریمنڈ کی قبرکے کتبے پر کھدی ہوئی عبارت سنائی تھی تو ہم نے دیر تک اُس کی نجی زندگی پر بھی بات کی تھی۔اُس نے بتایا تھا کہ اس کا دوست کولمبیا کے چھوٹے سے قصبے کلاٹس کانئی میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا باپ ایک چھوٹے سے لکڑیوں کے آرے میں مزدور تھا۔ بلا کا شرابی۔ وہ اپنے بیٹے کو شکار اور مچھلیاں پکڑنے کی کہانیاں سناتا یا پھر اپنے دا دا کی کہانیاں جس نے سول وار میں دادشجاعت دی تھی۔

افغان جنگ کو اگرچہ غنی قندھاری نے براہ راست بھگتا تھا، بھگت رہا تھا اور اس کی کہانیاں بھی اپنے ملنے والوں کو سنا رہا تھا مگر وہ اس جنگ کی کہانیاںاپنی اندھی بیٹی کو نہیں سناسکتا تھا۔ وہ تو اپنے بیٹے شریں زمان کو بھی یاد نہیں کر سکتا تھا جس نے اپنے آپ کو ابھی تک اس جنگ میں جھونکا ہوا تھا۔ گل جان اس کے ذکر پر بپھر جایا کرتی تھی ۔ یہ ایسے زخم تھے جو اُس کے اندر رِس رہے تھے۔ ایک جنگ،جس کی کہانی وہ اپنوں کو نہیں سنا سکتا تھا، اُسے لگتا اس سارے اپنے نگل لیے تھے۔ اپنا گائوں، اپنا ملک۔ اپنے عزیز واقارب، اپنا بیٹا شیریں زمان اور بارود سے دھنک ڈالی گئی اس کی بیوی مرجان۔ اپنے بیٹے کے لیے تو وہ پل پل تڑپتا تھا جو ماں کا بدلہ لینے نکلا تھا اور دہشت گرد بن گیا تھا۔ کچھ سال پہلے ایک رات کے سناٹے میں وہ ا سے ملنے آیا تھا مگر اُس گھر اُس کی ماں نہیں ایک اور عورت تھی جو اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔ انہیں اس کا یوں آنا ناگوار گزرا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کی مخبری ہوتی، وہ واپس چلا گیا۔ یقینا اپنے دشمنوں کے خلاف لڑ رہا ہوگا، یہ غنی قندھاری سوچتا تھا مگر جو کل تک دوست تھے وہ دشمن ہو چکے تھے اور یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کون دوست تھا اور کون دشمن۔ یوں لگتا تھا انجانے میں وہ سب کسی اور کے مہرے بنے ایک دوسرے پر پل پڑے تھے۔ ایک اندھی جنگ کا دھکتاالائوتھا جس کا سب ایندھن بن رہے تھے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا غنی قندھاری کی طرح ریمنڈ کا باپ کی زندگی میں بھی آرا آتا ہے۔

ریمنڈ کا باپ ایک چھوٹے سے آرے میں ملازم تھا۔ تاہم بتاتا چلوں کہ غنی خان جیسانصیب ریمنڈ کے باپ کانہیں تھا۔ اس کے باوجود ایک لحاظ سے وہ خوش بخت تھا کہ اس کے علاقے میں جنگ یوں اہلے گہلے نہیں پھر رہی تھی۔ وہ جو کماتا شراب پینے میں اُڑا دیتا لہذا ا س کی بیوی کو گھر کے اخراجات چلانے کے لیے چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرنا پڑیں۔ شراب خانے کی ویٹریس بننے سے لے کر پرچون کی دکان پر کلرکی تک کو ان کاموں میں شامل کر لیجئے۔ میری کہانی میں غنی قندھاری کی بیوی بہ ظاہر خوش نصیب نظر آتی ہے کہ اسے گھر سے باہر نہیں نکلنا پڑا مگر بد نصیب اسی اعتبار سے ہے کہ وہ گھر سے باہر نہ نکل سکتی تھی، یہی اس نے سیکھا تھا اور یہی اس کے مزاج کا حصہ ہو گیا تھا۔ اس کا اپنا خیال تھا کہ ایک محسود عورت کی زندگی کو گھر کی چار دیوری میں ہی کٹنا چاہیے۔ یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا اسے باہر نکلنا ہوتا تو شٹل کاک برقعے میں نکلتی۔ اور ایسا گنتی کے چندمواقع پر ہی ہوا تھا کہ وہ لپٹی لپٹائی گھر کی چار دیواری سے باہر نکلی تھی۔ کہتے ہیں وہ اسی برقعے میں لپٹی ہوئی تھی۔ باہر نکلنے کے لیے وہ جلتے ہوئے چولہے کے پاس سے گزری، لڑ کھڑا کر اس پر گری اور جل کر مر گئی تھی۔

میرے باپ نے پولیس کو لکھوائی گئی رپٹ میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ اس عورت کو قتل کرنے کے لیے شٹل کاک برقعے میں لپیٹ کر اسے جلتے چولہے پر گرادیا گیا تھا۔
وہ ساری گفتگو جو میں نے میکس سے سنی اس میں کسی قتل کا ذکر نہیں ہوا تھا۔ اب اگر میکس کی ساری باتیں مجھے رہ رہ کر یاد آنے لگی ہیں تو اس لیے کہ اس میں بھی ایک اندھی محبت کا حوالہ آتا ہے ؛ ایک ایسی اندھی محبت کا حوالہ جو میرے ہاں روپ بدل کر آئی ہے۔ یہ میرے اندر ایک اندھی لڑکی کے لیے ٹھاٹھیں مارنے لگی ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اسے اپنے اظہار سے پہلے ہی مر جانا ہوتا ہے۔ میکس کے مطابق اس کے دوست ریمنڈ نے گریجویشن کے فوراً بعد سولہ سالہ مریان برک سے شادی کر لی تھی۔ دونوں کو شدید محبت ہوئی۔ دو سال جدائی میں تڑپنے اور بہت سے محبت نامے لکھنے کے بعد شادی کر لی۔ مگر جس اندھی محبت کا ذکر بہ طور خاص میکس نے کیا تھا اسے بعد میں ہونا تھا اور اسے شادی کے رشتے میں بھی نہیں بدلنا تھا۔ جب ریمنڈ میزولا ماونٹ کی طرف تفریح کے لیے نکلا ہوا تھا اور ایک روز جب کہ وہ بہت سی مچھلیاں شکار کرنے کے بعد سرشاری محسوس کر رہا تھا اپنے ادبی ساتھی اورمددگار بل کٹریج کی سالگرہ پر گیا وہاں اس کی ملاقات ڈیانے سسیلی سے ہوئی تو اسے فوراً دل دے بیٹھا تھا۔ اس کے بعد اس کا شرابی بننا اور پی ایچ ڈی کی کلاس کچھ عرصہ کے لیے چھوڑ دینا کہ وہ اپنی اس محبوبہ کا ہم جماعت ہو جائے، افسانہ لکھنے والے کا اپنا افسانہ ہے۔ ایک زمانہ تھا وہ اتنی ہی شدت سے ماریان برک سے محبت کرتا تھا مگر یہ نئی محبت ایسی تھی کہ اس کے لیے اس نے کئی دو بار اپنی بیوی کو دھنک ڈالا تھا۔ اگلے کچھ سال اس نے اسی محبت میں خود کو برباد کر ڈالا۔ شراب پی پی کر پھیپھڑے چھلنی کیے اور چلتی پھرتی لاش بنا یہاں تک کہ اسے ٹیس گالیگار سے محبت ہو گئی۔ اس سے ماریان برک سے علیحدگی اختیار کی اور ٹیس گالیگار کے ساتھ رہنے لگا۔ یہ محبت تھی یا محض ساتھ ساتھ رہنے کی خواہش ؛ یہ کچھ بھی تھا وہ ساتھ ساتھ رہے۔ ٹیس گالیگاراس کی ادبی ساتھی بھی تھی جس نے زندگی کے خاتمے تک اُس کا ساتھ نبھایا۔

میری کہانی میں بھی شدید محبت پڑتی ہے۔ میں کب سے اندھی عورت کی کہانی کو’’میری کہانی‘‘،’’میری کہانی‘‘ کہے جا رہا ہوں تو یہاں آپ کو چونکنا چاہیے تھے۔ ممکن ہے آپ چونکے بھی ہوں گے مگر کسی نہ کسی طرح خود کو یقین دلا دیا ہوگا کہ اس میں محض اور صرف میںراوی ہوں۔ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے، میں پوری طرح اس کہانی میں ہوں۔ یہ ریمنڈ نے بھی کہہ رکھا ہے کہ کوئی کہانی ایسی نہیں ہوتی جو آپ کے وجود سے کنی کاٹ کر گزرے۔ تو یوں ہے کہ یہ میرے وجود سے ہو کر گزری ہے۔ میں فقط راوی نہیں، راوی کردار ہوں، پوری طرح دخیل ایک کردار، لہذا مجھے پورا حق حاصل ہو گیا ہے کہ اسے ’میری کہانی‘ لکھوں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا،میری کہانی میں بھی شدید محبت پڑتی ہے، شدید اور اندھی محبت مگر یہ محض میری طرف سے ہے۔ اس کا باپ سرحد پار چلا گیا ہے۔ میرے باپ کا ایک قاتل کے انجام کو پہنچانے کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے مگر میرے اندر محبت مدہم نہیں پڑتی۔ میں کہانی سے باہر بیٹھا سوچتا ہوں کہ شروع شروع میں اُس کے شوہر نے اُس کا خوب خیال رکھا ہوگا، اُس کا یا پھر اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے کاروبار کا مگر کاروبار سکڑنے لگا ہوگا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کاروبار دوست محمد عرف دوسے کی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ شراب کا یہ بھی رسیا رہا ہوگا، بالکل ریمنڈ اور اس کے باپ کی طرح مگر اُس نے محبت نہیں کی ہوگی۔ اس طرح کے لوگ محبت نہیں کر سکتے رنڈی بازی کرتے ہیں۔ وہ اُن عورتوں کی طرف لپکا ہوگا جو اندھی نہیں ہوتیں مگر اس طرح کے سلسلے کو ایک روز ختم ہونا ہوتا ہے اور وہ ختم ہو گیا ہوگا۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ ختم ہو چکا ہے۔دُکھ کہ بات یہ ہے کہ گل جان اس سارے عرصے میں یوں رہی ہے جیسے وہ اپنے مجازی خدا کی پرجوش عبادت کرتی رہی ہو ؛اندھی پرجوش عبادت، بالکل ویسے ہی جیسے اس کی ماں نے اس کے باپ کی تھی تاہم وہ اپنی ماں سے کچھ مختلف ہو کرریمنڈ کی ماں جیسی ہو گئی ہے۔ جی میں نے بتایا نا کہ ریمنڈ کا باپ شرابی تھا جو کماتا اُڑا دیتا تھااور اُس کی بیوی چھوٹی موٹی نوکریاں کرکے گھر کا خرچ چلایا کرتی تھی۔

گل جان بھی گھر کا خرچ چلانے گھر سے نکلی۔تاہم اس نے جو کام کیا اس میں وہ اندر سے توانا ہوتی چلی گئی۔ این جی اوز کے ساتھ عورتوں کی خود مختاری کے لیے کام کرنے والیوں سے اس کا رابطہ ماں کے جل مرنے کے دنوں میں ہوا تھا۔ اس نے یہ رابطے بحال کیے۔ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ بات کرنا اٹھنا بیٹھنا اور بریل سے پڑھ کر مطالب اخذ کرنے تک کئی برسوں کی کہانی ہے۔اسی عرصے میں ایک نئی تنظیم وجود میں آگئی تھی۔ معذور عورتوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے مقصد کے ساتھ ؛ اس این جو کا نام ’’روشنی ‘‘ ہوا۔ گل جان کو اس باب میں بہت کامیابیاں ملیں۔ ان کامیابیوں کے بدلے اُسے اپنے شوہر کی توجہ پھر سے حاصل ہوگئی۔ مگر یہ ساری کہانی یا تو میں نے فرض کی ہے یا پھراس کے کچھ حصے اوروں سے سن کر اُنہیں اپنے ڈھب سے جوڑ لیا ہے کہ اس سارے عرصہ میں میں ملک سے باہر چلا گیا تھا۔

میں باہر چلاگیا تھا،مگر میری محبت جیسے یہیں کہیں تھی۔ میں نے پب میں جاکر رنگ رنگ کی شرابیں چکھیں اور مارتھا کو بھی جس کی تازہ دودھ جیسی جلد کو قریب سے دیکھتاتو اُس پر بھورے تل نمایاں ہوکر اُسے بھدا کر دیتے تھے۔ میں اُس کا بدن سونگھنا نہیں چاہتا تھا مگر اس کی کچی ہمک نتھنوں میں خود سے دھنستی چلی جاتی اور میرا جی اُلٹنے لگتا۔ مارتھا اور اس جیسی کئی اور عورتیں وہیں رہ گئیں، میں واپس آجاتا ہوں۔ یہاں کہ یہاں میری محبت ہے۔

مگر میری محبت کہاںہے؟۔۔۔ میری اندھی محبت۔۔۔ میری ہتھیلی سے اس کی نرم نرم انگلیاں یوں نکل گئی ہیں جیسے گیلی مچھلی پھسل کر گیلے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
وہ ’’گرمجوشی‘‘ اور’’ خالی پن‘‘ والے جملے اُگلتا ہے۔ میں اُسے نفرت سے دیکھتا ہوں اور اپنا بیگ اُس کے سامنے خالی کر دیتا ہوں۔ کریہہ آدمی کے چہرے پر سیاہی دمکنے لگتی ہے۔ مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ اس کی زندگی سے نکل جائے گا۔ میں ادھر سے مطمئن دروازے کی سمت دیکھتا ہوں۔ اسی دروازے سے وہ نکل کر اپنے دفتر گئی ہے۔ روشنی کے دفتر، مگر وہ تو وہی ہے، وہ جانے کی بہ جائے کسی خدشے کو سونگھ کر واپس آگئی میں نہیں جانتا۔ میں اس کی طرف لپکنا چاہتا ہوں، اس کا ہاتھ اٹھتا ہے اور ہتھیلی کسی تنے ہوئے چانٹے کی طرح اٹھ کر مجھے وہیں رک جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ تھوڑی اوپر کرکے اپنے چہرے کا رُخ اس طرف رکھے ہوئے ہے جس طرف اُس کا شوہر ہے۔ اُس کے نتھنے پھڑ پھڑا رہے ہیں جیسے کہ وہ کچھ سونگھ رہی ہو۔ اس سے پہلے کہ میں اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی حیلہ کرتا، سیڑھیوں پر دھپ دھپ ہوتی ہے اور ’’روشنی ‘‘ کا آفس بوائے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ وہ چھوٹتے بتاتا ہے ؛’’ میڈم آفس میں کوئی صاحب آپ کا انتظار کرتے ہیں۔

’’کون صاحب؟‘‘
میڈم کے پوچھنے پر لڑکا بتاتا ہے؛’’جی، وہ اپنا نام شرین زمان بتاتے ہیں، کہتے ہیں وہ آپ کے بھائی ہیں ‘‘۔

’’بھائی‘‘۔ گل جان منہ ہی منہ میں اس نام کا غراہ کرتی ہے اور ایک طرف تھوک دیتی ہے۔
کہانی میں اب وہ مقام آگیا ہے کہ میںیہ بتادوں کہ میرے ابا نے ابھی تک اپنے دشمن کو یاد رکھا ہوا ہے۔ مثلاً جب ابانے پشاور کے قصہ خوانی بازار کے دھماکے میں مرنے والوں میں غنی قندھاری کانام پڑھا تو اس نے اسے بہت گالیاں دی تھیں۔ اس کا خیال تھا ہو نہ ہو اس لنگڑے کا اس دھماکے سے کوئی نہ کوئی تعلق تھا۔ سرحد پار جانے والا، غنی قندھاری قصہ خوانی میں کیسے پہنچا کوئی نہ جانتا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ وہاں تھااور مارا گیا تھا۔ ابا کے مطابق،اب جب کہ وہ مارا گیا تھا، اس کی اندھی بیٹی ساراگُھنڈ کھول بیٹھی تھی۔

ابا نے اخبار کے رنگین صفحے پر چھپنے والے ’’ روشنی‘‘کے فیچر کا تراشہ لیا اور کسی کے ہاتھ گل جان کے نانا علی شیر محسود کو بھجوا دیا۔ محسود قبیلہ تو اپنی غیرت پر مر مٹنے والاتھا۔ علی شیر محسود نے اپنی بیٹی شٹل کاک برقعے میں یہاں اس لیے نہیں بھیجی تھی کہ اس کی بیٹی کی بیٹی کی تصویریں اخبار وںمیں چھپیں۔ وہ بھڑک اُٹھا۔ کہتے ہی اس نے گل جان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے مگر ایک نواسی اپنے اُس نانا کی دھمکی میں کیسے آ سکتی تھی جس سے اس کا اس دھمکی کے سوا کوئی تعلق نہ رہا تھا۔ ابا نے یہ بھی بتایا تھا کہ علی خان محسود یہاں کے طالبان میں بہت رسوخ رکھنے لگاتھا۔ ابا کو یقین تھا وہ گل جان کے معاملے کو علی خان محسود کی غیرت کا معاملہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے مگر اس پر کڑھتے تھے کہ غنی مردود کی بے حیا بیٹی کے لچھن ویسے کے ویسے تھے اوراُس کی تصویریں اخباروں میں مسلسل چھپ رہی تھیں۔

…………………

میں کھڑکی سے نیچے دیکھتا ہوں۔ آفس بوائے،گل جان کے کچھ آگے نکل کر چل رہاہے۔ ایک بڑے آدمی کی طرح پوری ذمے داری سے۔ سڑک پر ٹریفک کا سیلاب بہہ رہا ہے۔ وہ بہائو کی طرف چلتے ہوئے سڑک پار کر رہے ہیں۔ میں نے اندازہ لگایا اس طرح وہ آفس سے کچھ دور نکل جائیں گے اور انہیں دفتر آنے کے لیے مڑ کر آنا ہوگا۔ آفس بوائے چوکس ہے۔ اس کا ایک ہاتھ آگے کو اٹھا جھول رہا ہے۔ ایسا کرنے سے گاڑیاں راستہ دے دیتی ہیں۔ میں عمارت کے جس حصے میں ہوں، اس میں دوست محمد عرف دوسا کا گھر ہے۔ میں ایک مدت کے بعد اس سے ملنے آیا ہوں۔ اس سے، نہیں بلکہ گل جان سے جو نیچے اپنے آفس بوائے کے ساتھ سڑک پار کر رہی ہے۔ میں کھڑکی سے سامنے والی عمارت پر ایک چھوٹے سے بورڈ کو تلاش کرتا ہوں۔ ہاں وہ رہا، اس پر سے بہ مشکل ’’روشنی ‘‘ پڑھا جا سکا ہے۔ میری نظر پھسلتی ہوئی نیچے جاتی ہے جہاں سے غالباً اوپر آفس کو راستہ جاتا ہوگا۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہاں سے ایک شخص قدرے بہ عجلت نکلتا ہے اور سیدھا اس جانب بڑھتا ہے جس طرف گل جان اور اس کا آفس بوائے ہے۔ میں اس شخص کے لباس سے اندازہ لگاتا ہوں کہ ہو نہ ہو وہی شریں گل ہوگا؛ گل جان کا بھائی۔ وہ سڑک پر پائوں رکھتا ہے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ گاڑیوں کی بریکیں چیخ اٹھتی ہیں۔ ’’بے وقوف، جاہل ‘‘۔ اب کے میرے حلقوم میں غرارہ ہوتا ہے۔ وہ سب سے بے نیاز آگے بڑھتا رہتا ہے۔ حتی کہ بس ایک ہی قدم کا فاصلہ رہ گیا ہوگا کہ ایک کار اپنی چیختی بریکوں کے ساتھ رُک جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے ساری کائنات رُک گئی ہے۔ ڈھاس ڈھک ڈھک کئی گاڑیاں آگے رُک جانے والی گاڑیوں کو پیچھے سے جا لگتی ہیں۔ سب کچھ سڑک کے وسط میں ہو رہا ہے۔ نہیں بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ وہاں اب کچھ نہیں ہورہا۔ سب کچھ ٹھہرا ہوا ہے یا پھر مجھے ہی سب کچھ ساکت نظر آرہا ہے۔ گل جان، آفس بوائے اور وہ شخص،جو روشنی کی سیڑھیاں اترتا سٹرک پر گاڑیوں کی بھیڑ چیرتااس کے وسط میں پہنچتا ہے، جی وہ بھی۔ اچانک اس شخص کے ہاتھ میں حرکت ہوتی ہے، میں دیکھ رہا ہوں جیسے وہ اپنا ہاتھ پیٹ کی طرف لے جاتے ہوئے گل جان کی طرف لپکتا ہے اور ایک دھماکے سے پھٹ جاتا ہے ؛یوں جیسے اس کی کھال میں بارود بھرا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد سب کچھ اچھل کر دور جا گرتا ہے۔ وہ کار جس کی بریکیں ابھی چرچرائیں تھیں، آفس بوائے جو کچھ دیر پہلے ہاتھ لمبا کرکے ٹریفک میں راستہ بنا رہا تھا اور گل جان جس کی اُنگلیاں میری تھیلی کے اندر سے پھسلتی ہوئی نکلی تھیں، سب اچھل کر دور بکھر جاتے ہیں۔ پھر جیسے میری آنکھوں کے سامنے گاڑھی تاریکی چھا جاتی ہے۔

گاڑھی تاریکی۔ انسانوں کے اندھے جنگل میں سرنگ بناتی گھنی پیچ دار تاریکی۔
اس کہانی میں کہیں بھی کوئی مقدس عمارت نہیں ہے۔ ہم بازار میں ہیں۔ بہتی ہوئی بھیڑ کے اندر۔ بازار میں دھماکے ہوتے ہیں مگر دکانیں پھر کھل جاتی ہیں۔ مسجدیں، ان کے محراب، ان کے مینارتو ہر کہیں ہیں مگر ان سب کو اپنے ہالے میں لیتا تقدس میری کہانی میں کہیں نہیں ہے کہ یہاں مسجدوں،خانقاہوں،امام بارگاہوں اور دوسری مقدس عمارتوں میں جب دھماکے ہوتے ہیں تو اندر سے لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ ان عمارتوں کا جمال اور جلال ہمارے اپنوں کے باردو بندھے جسموں اور ہمارے اپنوں ہی کی لاشوں نے میری کہانی سے الگ کر دیا ہے۔ ہم سب مارکیٹ کا حصہ ہو ہیں یا پھر اس کا حصہ ہوتے چلے جاتے رہے ہیں اور چوں کہ اس کا کوئی تقدس نہیں ہوتا اس سے کوئی جمال پھوٹتا ہے نہ اس کا کوئی جلال ہوتا ہے لہذا اس میںدھماکا ہو یا ہنگامہ کاروبار پھر سے رواں ہو جاتا ہے۔ یہی بازار بہ سہولت میری کہانی میں بھی گھس آیا ہے۔ بریف کیس کے اُلٹنے کی ہمت کا میرے اندر آجانا، اسی بازار کی دین ہے۔

باہر سے یوں آوازیں آرہی ہیں جیسے ٹریفک پھر سے رواں ہوگئی ہے۔ میں آنکھیں میچے میچے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ بازار پھر سے بھر گیا ہوگا۔ میں ہاتھ اُٹھا کرکھڑکی کے شیشے پر رکھتا ہوں اور اسے اپنی ہتھیلی سے یوں محسوس کرتا ہوں جیسے کوئی نابینا سامنے پڑے ہوئے کاغذپر لکھنے سے پہلے، اس کے لمس سے اس کو کناروں تک محسوس کرتا ہے۔ اب میری انگلیاں فضا میں تھرتھراتی ہیں اور دوانگلیوں کی پوریں یوں جڑ جاتی ہیں جیسے وہ کوئی قلم تھام رہی ہوں۔ کاش میری کہانی میں کسی کیتھڈرل،کسی مندر،کسی مسجد یا پھر انہی جیسی کسی محترم عمارت کے کلس یا منارے نمایاں ہو سکتے۔ اگر ایسا ہو سکتا تو میں اُس اندھی عورت کو کسی ایسی ہی عمارت کے جلال اور جمال میں ڈھال سکتا تھا جو سڑک کے وسط میں بکھری پڑی ہے۔

کاش کسی کلس کی، کسی منارے کی، کسی محراب کی تصویر بن رہی ہوتی تو وہ چپکے سے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیتی۔ میں کاغذ پر ہاتھ پھیر کر بننے والی تصویر کے حسن کو محسوس کر رہا ہوتا اور وہ اپنا چہرہ وہاں بچھا دیتی۔ مجھے یقین ہے میں اس کا چہرہ چھوتا تو اس کے بدن میں بجلیاں بھر جاتیں مگر میں نے کہا نا میری کئی قاشوں میں بکھری ہوئی اس کہانی میں محض کئی کاش ہیں؛ ایسی مقدس عمارت کا جمال یا جلال نہیں ہے جس سے محبت کی تصویر بن سکے۔ اس میں اوروں کی جنگ ہے جو اب میرے اندر تک گھس آئی ہے، میرا بریف کیس ہے، جسے ایک کریہہ شخص کے سامنے اوندھا یا جا چکا ہے۔ اس میں ہوں جس کی ہتھیلی سے گلاب جیسی اندھی عورت کی اُنگلیاں پھسل چکی ہیں۔ اس میں کچھ ہی لمحے پہلے تک اشتہااُچھالتا اور اس اشتہا کو محبت کے کرب میں ڈھالتا اندھا بدن ہے جو وہاں بہتی ٹریفک کے درمیان بکھرا پڑا ہے۔