Categories
فکشن

لنچ ٹائم (تحریر: راجندر یادو، ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا کالا چوغہ چمگاڈر کے پروں کی طرح پھڑپھڑاتے وکیل صاحب نے کمرے میں گھستے ہوئے پوچھا: ’’کیوں اتنی زور زور سے ہنس رہے ہو؟ کیا بات ہوگئی؟‘‘

وکیل صاحب کے آتے ہی تینوں چپ ہو گئے تھے لیکن ہنسی تھی کہ مسکراہٹ بن کر پھوٹ رہی تھی۔ جیوتی نے برج کی طرف دیکھا اور میز کے کونے پر سر ٹیک کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس نے ساڑھی کا پلّو منہ سے لگا لیا۔ برج دوسری طرف منہ کر کے اس ہنسی پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا پھٹ پڑتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دت نے سانس روک کر اپنا زیادہ سے زیادہ دھیان ان ہنستے ہوئے لوگوں سے ہٹا کر جیسے انجان بن کر پوچھا:’’لنچ ہو گیا؟‘‘

’’ہاں جی!‘‘ منہ میں سگریٹ لگا کر وکیل صاحب ماچس کی ڈبیا پر سیک مار رہے تھے، انھوں نے سر ہلایا۔

’’کیا ہوا؟ سرکاری وکیل زیادہ کراس کر رہا ہے کیا؟‘‘ دت نے نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھ لیا کہ برج جیوتی کی طرف اس کے بارے میں اشارہ کر رہا ہے۔۔۔ دیکھ سالا کیسا سنجیدہ ہو کر باتیں کر رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں بگولا سا اٹھا اور ساری سنجیدگی جھٹکے سے اڑ گئی۔ وہ بھی پھٹ کر ہنس پڑا اور ایک دم اٹھ کر باہر برآمدے میں بھاگ گیا۔ دونوں منشی اور ایک موکل حیرت سے آنکھیں پھاڑے مسکراتے ہوئے ان کی ہنسی میں ساتھ دے رہے تھے۔

وکیل صاحب نے پہلا زور کا کش کھینچا اور ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا: ’’کیوں بھائی؟آخر کچھ بات بھی تو بتاؤ گے؟‘‘ وہ یہاں کا ماحول دیکھ کر مسکرائے۔

اس پر دونوں پھر ہنس پڑے۔ دت باہر برآمدے میں کھمبے کے پاس کھڑا ہنس رہا تھا۔ وکیل صاحب نے منشی رام سروپ سے کہا: ’’منشی جی!کیا بات ہے؟‘‘

منشی جی نے ہاتھ کی مسل کے کاغذوں کو الٹا سیدھا کرنا چھوڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے کہا: ’’صاحب! ابھی دیوی سہائے جی آئے تھے۔۔۔‘‘

’’آپ کو ڈھونڈتے ہوئے،ملے نہیں؟‘‘ جیوتی نے انگلی سے سنہری کمانی کا چشمہ اوپر اٹھا کر، ساڑھی کے پلے سے آنکھوں کی کوروں کا پانی پونچھتے ہوئے کہا۔

’’کون دیوی سہائے؟‘‘ وکیل صاحب نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اصل میں ان کے دماغ میں ابھی چلتے مقدمے کے سوال جواب ہی گونج رہے تھے۔ لنچ ٹائم میں جھنجھلائے ہوئے وہ چیمبر سے بھاگے آ رہے تھے۔ دماغ پریشان تھا۔۔۔ انھیں کتیا کے پیچھے لگے پلوں کی طرح اپنے ساتھ دونوں طرف لگے چلتے موکلوں سے اور بھی زیادہ چڑ چڑاہٹ ہو رہی تھی۔ ’’وکیل صاحب اس مقدمے میں کیا ہوگا؟ سرکاری وکیل تو یہ کہتا ہے۔‘‘ وغیرہ پوچھ پوچھ کر اس کی تو ناک میں دم کیے جا رہے تھے۔ وکیل صاحب نے انھیں جھڑک دیا تھا۔’’ارے بھائی مجھے کچھ سوچنے بھی دو گے یا یونہی دماغ چاٹتے جاؤ گے، مقدمہ خراب ہو جائے گا تو کہو گے کہ یہ ہوا، وہ ہوا۔‘‘ موٹی موٹی کتابوں کے گٹھڑ اور لاء رپورٹر کی فائلیں لیے دونوں موکل سہم کر پیچھے ہی رہ گئے تھے۔ وکیل صاحب نے سگریٹ کا کش کھینچ کر باہر کھڑے دت سے کہا: ’’چائے کے لیے کہہ دیا؟‘‘

’’جی صاحب! ابھی آرہی ہے۔‘‘ دت نے بڑی مستعدی سے جواب دیا۔ پھر وہ اندر آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’وہی دیوی سہائے صاحب ٹلو مار فرم سے جن کا چھ مہینے سے تنخواہ کا مقدمہ ہے۔‘‘ منشی نے بتایا۔

’’اوہ!‘‘ وکیل صاحب کو یاد آگیا، پھر انھوں نے ادھر دیکھا۔

’’کہہ رہے تھے ہماری تنخواہ وکیل صاحب دلا دیں تو اپنی لڑکی کی شادی کر دیں۔ بڑی لڑکی کو ’’چھوچھک‘‘ بھیجنا ہے۔ کوئی ان کی بھانجی بیاہی جا رہی ہے اسے بھات دینا ہے۔‘‘ دت نے بتایا۔ وہ ایک بار وکیل صاحب کی طرف دیکھتا اور ایک بار برج اور جیوتی کی طرف۔ وہ دونوں ایک دم ہنس پڑنے کے موڈ میں منہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھ رہے تھے۔

’’وکیل صاحب کیا اپنی جیب سے دے دیں۔ واہ یہ اچھی کہی، تمھارا تو عدالت میں منہ نہ کھلے اور وکیل صاحب روپے دلا دیں؟‘‘

غصے کے مارے وکیل صاحب نے ایک جھٹکے سے ناک میں سے ڈھیر سا دھواں نکال ڈالا اور دو انگلیوں سے چوغے کے اندر سے جھانکتی قمیض کے کالر پر بندھی کلف لگی سفید ململ کی پٹی کو ذرا ٹھیک کیا۔ ان کی انگو ٹھی کا ہیرا زور سے چمک اٹھا۔

’’دیکھیے! وہ آگئے۔‘‘ برج نے کہا۔ جیوتی اور دت نے بھی آنکھیں اٹھا کر ادھر دیکھا۔ وکیل صاحب جان بوجھ کر سنجیدہ بنے بیٹھے رہے۔ سارا ماحول پر سکون ہو گیا۔

بیچ کی ایک لمبی چلی جاتی گیلری کے دونوں طرف وکیلوں کے کمروں کے دروازے تھے اور ان دروازوں کے بالکل سامنے کمروں کے دوسرے دروازے اس گیلری کے متوازی چلے جاتے برآمدے میں کھلتے تھے۔ اس طرف کے کمرے والے برآمدے میں سینکڑوں آدمی ۔۔۔ وکیل، موکل، ٹائپسٹ، چپڑاسی، گواہ اور ان گنت لوگ۔۔۔ آجا رہے تھے۔ عدالت کے لنچ کا وقت تھا، اس لیے پھل والے، دال سیب والے اور وکیلوں کے کمروں میں چائے پانی پہنچانے والے نوکر ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اس بھاگ دوڑ میں آدھے وکیلوں کے منشی تھے جو عدالت کے وقت ان کی کتابوں اور مسلوں کے بستے سنبھالتے تھے اورباقی وقت میں ساگ سبزی لانے اور بچوں کو سکول پہنچانے کا کام کر دیتے۔ برآمدے کے دروازے میں تبھی لگ بھگ اڑتالیس سال کا ایک آدمی نمودار ہوا۔ یہ آدمی بہت دھیرے دھیرے جیسے گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔ پیلا اور بہت پرانا سا مڑا تڑا کوٹ، گھٹنوں سے ذرا نیچے لٹکی دھوتی، کالی پتلی پتلی ٹانگیں اور باٹاکے کرِمچ کے جوتے۔ شاید خریدنے کے بعد سے ان پر سفیدی نہیں ہوئی تھی اور فیتوں کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ دونوں جوتوں کی جیبیں دم کٹے کتوں کی پونچھ کی طرح اٹھ آئی تھیں۔ انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کی جگہ دو چھید ہو گئے تھے۔ قمیض کے بٹن نہیں تھے اور سکڑی چھاتی کے سفیدی کی طرف بڑھتے بھورے بال جھانک رہے تھے، بنیان نہیں تھی۔ دونوں کندھے اس طرح اوپر اٹھے اور کمر کچھ اس طرح جھک گئی تھی جیسے ان کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر کسی نے زور سے دبا دیا ہو۔ گردن نسبتاً لمبی اور ٹینٹوا ابھرا ہوا۔ ناک کے دونوں طرف آنکھوں کے نیچے سے ہونٹوں کے سروں تک دو موٹی موٹی جھریاں چلی آئی تھیں۔ دو دن کی بڑھی داڑھی والی چمڑی میں سفید بال چمک رہے تھے۔ ٹین کے فریم بیضوی میلے گندے شیشوں کا چشمہ ۔۔۔ جس کا ایک کانچ ٹوٹ گیا تھا اور دوسری طرف سے میلے سے ڈورے سے کان پر باندھا گیا تھا۔ کان ذرا باہر کی طرف نکلے ہوئے۔ بے رونق آنکھیں اور آدھے پاگلوں کی سی بے وقوف نگاہیں۔ جھریوں دار ماتھا اور آدھ آدھ انچ کے کھچڑی بالوں کے چاروں طرف پٹی۔۔۔ کیوں کہ چاند کے بیچ کی بڑی سی گول چندھیا گنج کی وجہ سے غائب تھی۔ ہاتھ میں ڈوروں سے بنا ایک تھیلا لے کروہ داخل ہوا۔ ان کی چال ڈھال اور صورت شکل سے لگتا تھا کہ انھوں نے یقیناً ہی بہی کے آگے بیٹھ کر زندگی بھر قلم گھسی ہے۔

’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! وکیل صاحب آپ کو ہی پوچھ رہے تھے۔‘‘ کمروں کے بیچوں بیچ رکھی میز کے چاروں طرف یہ لوگ بیٹھے تھے اورا س دروازے کی طرف وکیل صاحب کی پیٹھ پڑتی تھی۔ برج بالکل سامنے تھا، بائیں طرف دت اور داہنی طرف جیوتی۔ برج نے انھیں دیکھتے ہی استقبال میں کہا۔ یہ لوگ اسی سال گریجویٹ ہو کر آئے تھے اور انہی وکیل صاحب کے یہاں کام سیکھتے تھے۔ تینوں ہی ایک دوسرے کی نگاہوں کو بچا رہے تھے۔

تبھی نوکر ان لوگوں کے بیچ میں ٹرے رکھ گیا۔اس بڑی سیاہ پلیٹ میں ککڑی کے پانچ چھ سینڈوچ تھے۔وکیل صاحب نے آخری کش کھینچ کر سگریٹ ایک طرف پھینک دی اور جھٹکے سے اٹھ کر سیدھے ہوتے ہوئے بولے: ’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! بیٹھو۔‘‘ نہایت ہی مصروفیت سے وہ اس طرح سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگے جیسے وہ جملہ انھوں نے کسی کو بھی مخاطب کر کے نہیں کہا ہو۔ دَت چار پیالوں میں چائے بنا رہا تھا۔ وہاں کوئی بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔

بالکل وکیل کے پاس آ کر دیوی سہائے نے ادھر ادھر بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھی۔ پاس پڑے تخت پر اپنے لال بستے، مسلوں کے پلندے اور مختلف کاغذات پھیلائے دونوں منشی دیوار سے لگے بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی کسی مسل میں سے دیکھ کر کسی کے سمن پر نام اور ولدیت لکھ رہے تھے۔ ایک بولتا، دوسرا لکھتا۔ایک نے کاغذ ذراسے ہٹا کر تخت کے کونے پر ذرا سی جگہ بنا کر انھیں بیٹھنے کو جگہ دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹھو بابو جی! بیٹھو یہاں بیٹھو۔‘‘ وہ پھر کام میں لگ گئے۔

دیوی سہائے نے بڑے سنبھل کر بینت کو تخت سے اس طرح ٹکایا جیسے ذرا زور سے رکھ دیں گے تو اس کے لگ جائے گی۔ پھر سیاہی کے دھبوں سے بھری بہت ہی پرانی پھٹی دری والے تخت کے کونے پر ہاتھ ٹیک کر اس پر بہت دھیرے سے بیٹھ گئے۔ بڑے آہستہ سے گود میں انھوں نے تھیلے کو رکھ لیا اور اس پر توجہ سے دونوں ہاتھ رکھ کر وہ جیسے کسی راز کو کھوجنے کے انداز میں وکیل صاحب کی طرف جھک گئے۔ وہ اس طرح ہانپ رہے تھے جیسے بہت دور سے چلے آرہے ہوں۔

’’ہوں!‘‘ وکیل صاحب نے جلدی جتانے کے لیے گھڑی کی طرف دیکھا اور گھوڑے کی نعل کے سائز کا کٹاؤ بناتے ہوئے منہ بھر کر سینڈوچ کتر لی۔ پھر چائے کا کپ ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔ اس ’ہوں‘ کا مطلب تھا۔۔۔ جلدی کہو، کیا بات ہے؟

دیوی سہائے نے تینوں طرف دیکھا، پھر ناک سے آواز نکالتے ہوئے کہا:’’وکیل صاحب! ہماری تنخواہ کب تک مل جائے گی؟‘‘

تینوں سکھاڑی پھر ہنسنے کو ہو آئے۔ وکیل صاحب نے کہا:’’بابو دیوی سہائے جی! تم تو کبھی کبھی بے وقوفوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جب تک مقدمہ ختم نہیں ہوگا، تب تک روپے کیسے مل جائیں گے؟‘‘ ہونٹوں سے کپ لگا کر انھوں نے جیوتی کی طرف دیکھا۔

اسی بیچ دَت نے ذرا زور سے، جیسے کسی اونچا سننے والے سے کہہ رہا ہو، کہا: ’’وکیل صاحب کہتے ہیں آپ سے عدالت میں بولا تو جاتا نہیں ہے۔‘‘

دیوی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف دیکھاجیسے تصدیق کرنا چاہتا ہو۔۔۔ کیا سچ مچ وہ ایسا کہہ رہے ہیں؟ پھر ڈرے ہوئے مجرم بچے کی طرح کہا: ’’اب کے تو وکیل صاحب ! میں نے بیان بڑے اچھے دیے تھے۔‘‘

’’ہاں! اب تو ٹھیک تھے۔‘‘ وکیل صاحب نے گیلر ی کے پار سامنے والے وکیل کے کمرے میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ایک بیان اور کروا دو۔ اب کے ایسا بیان دوں گا کہ بس، معاملہ پار ہو جائے۔‘‘ دیوی سہائے ذرا جوش میں آ گئے۔

’’ وہ تو جب ہو گا تب ہو گا۔‘‘ وکیل صاحب نے پیالہ ٹرے میں رکھ دیا۔

’’ نہیں! ایک بیان میرا ویری گڈ اور کرا دو۔‘‘ دیوی سہائے ایسے گڑگڑ ائے جیسے پیر چھو لیں گے۔

’’وکیل صاحب کہہ رہے ہیں تمھارے ویری گڈ بیان ہو جائیں گے۔ فکر مت کرو۔‘‘

وکیل صاحب نے بیزار کن انداز میں برج کو دیکھا کہ ٹالو اس بلا کو۔ اس ’’ویری گڈ۔‘‘ لفظ پر تینوں پھر ادھر ادھر گردن گھما گھما کر ہنسنے لگے تھے۔

’’ہاں وکیل صاحب !مجھے روپے کی بڑی ضرورت ہے۔ سالا مکان والا تنگ کر رہا ہے۔ تمھاری بڑی لڑکی کے لڑکا ہوا ہے سوچھوچھک جانا ہے۔ بھانجی کو بھات دینا ہے اور گھر پر تمھاری بہو بیمار دھری ہے، دو مہینے سے۔ روپے دلا دو گے تو چھوٹی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دوں گا۔ ‘‘ وہ کہتے رہے۔

شاید یہی باتیں وہ اسی طرح کہہ کر گئے تھے کیوں کہ اس بار تینوں بری طرح کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ جیوتی کے منہ میں تو چائے تھی، اسے ایک دم سٹکنی پڑی، بری طرح کھانسی آگئی۔تبھی منشی رام سروپ بولے: ’’بابو دیوی سہائے جی!وکیل صاحب کا شکرانہ تو دلواؤ۔‘‘

’’سب دلواؤں گا، فکر مت کرو۔‘‘ انھوں نے منشی جی کی طرف پنجے پھیلا کر تسلی دی۔

منشی جی کھسک کر مینڈک کی طرح مسل اور کتابیں پار کرتے دیوی سہائے جی کے پاس آگئے:’’فکر تو کر ہی نہیں رہے۔ آج توکچھ دلواؤ۔‘‘

’’ابھی کہاں، روپے مل جائیں گے ۔۔۔‘‘ وہ بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ اصل میں انھیں ان لوگوں کی ہنسی کی وجہ نہیں سمجھ آ رہی تھی۔

’’بھیا! بابو لوگوں کو جب تک کچھ کھلواؤ گے پلواؤ گے نہیں، انھیں جوش کیسے آئے گا؟‘‘ منشی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’’منشی جی! تم نے ان کی عرضی داخلہ دے دی؟‘‘ وکیل صاحب نے نئی سگریٹ جلا لی تھی اور بات کرتے وقت ان کی ناک اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔

تبھی وہ دونوں موکل جن سے پیچھا چھڑا کر وکیل صاحب آئے تھے، کمرے میں آگئے۔ تخت پر کتابیں سنبھال کر انھوں نے پھر سہمی سی نگاہ سے وکیل صاحب کی طرف دیکھا اور اجازت کے انتظار میں اردلی کی طرح کھڑے ہو گئے۔

’’ابھی نہیں صاحب۔‘‘ منشی جی نے وکیل صاحب کی بات کا جواب دیا پھر دیوی سہائے کے کان کے پاس منہ لگا کر کہا:’’بابو دیوی سہائے! ایک روپیہ سات آنے دلواؤ، عرضی داخلہ دینی ہے۔‘‘

’’ایک روپیہ سات آنے! پہلے روپے دیے تھے، سوا سَو۔۔۔‘‘ دیوی سہائے کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔

’’ارے پہلے روپے تو کورٹ فیس تھی، یہ تو دیکھو، چھ آنے چھاپنے کے۔۔۔‘‘ منشی نے انگلیاں ہوا میں سرگم کی طرح چلائیں جس کا مطلب تھا ٹائپ۔ ’’ایک آنہ کاغذ اور ایک روپے کے سٹامپ۔ لاؤ نکالو۔‘‘

دیوی سہائے نے جیسے مدد کے لیے دیکھا۔ وکیل صاحب اوپر منہ کر کے پنکھے پرآنکھ گڑائے منہ سے دھواں نکالتے کچھ سوچنے لگے تھے۔ تینوں سکھاڑی تاک لگائے گھور رہے تھے کہ اب کیا بے وقوفی کی بات آتی ہے کہ تینوں ہنس پڑیں۔ دیوی سہائے نے پھر اپنی جیبیں ٹٹولیں۔

’’جب تک عرضی نہیں دی جائے گی تب تک اگلی پیشی کیسے ہوگی؟‘‘ منشی انھیں سمجھا رہا تھا۔

انھوں نے بڑے مرے اورکانپتے ہاتھوں سے چاروں جیبیں ٹٹولنے کے بعد کہیں اندر کی جیب سے چشمے کی ایک بہت پرانی ڈبیا نکالی۔ اس کے چاروں طرف کس کر کئی بار ستلی سے لپیٹے دیے گئے تھے۔ سب لوگ ایسے تجسس سے انھیں دیکھنے لگے جیسے ابھی اس میں سے کوئی سانپ نکل آئے گا۔ دیوی سہائے نے ستلی کھول ڈالی۔ پھر بہت سنبھال کر ڈبیا کھولی۔ بہت پرانے نیلے گندے مخمل پر کچھ کاغذ، جن میں ایک پر جنم کنڈلی کے نقشے چمک رہے تھے، ایک ہسپتال کا پرچہ اور ایک ایک روپے کے کچھ نوٹ رکھے تھے۔ انھوں نے ڈبیا تخت پر رکھ دی اور منہ سے انگلی پر تھوک لے کر اس طرح گننے لگے جیسے سو دو سو نوٹ ہوں لیکن وہ تھے چار ہی۔ ایک بار گن کر دوبارہ شروع کیا۔۔۔

’’ابھی دو ایک بار اور گنیں گے۔‘‘ دت نے جیوتی کو بتایا:’’آپ سے نوٹ بھی نہیں گنے جاتے ہیں، لاؤ، میں گنوں۔‘‘ اور ایک طرح سے منشی نے تو روپے ان کے ہاتھ سے چھین لیے۔ وہ روکتے رہ گئے۔

’’منشی جی! ایک آدھ روپیہ ان سے زیادہ لے لیجیے گا، بعد میں ضرورت پڑتی ہے۔ نوٹس کی رجسٹری ہوگی۔‘‘ وکیل صاحب کو جیسے یکدم یاد آ گیا۔

نوکر ٹرے اٹھا لے گیا۔

’’سرکار۔۔۔!‘‘ دیوی سہائے جیسے ایک دم بوکھلا گئے۔ ایک بار منشی جی کی طرف مڑے اور ایک بار وکیل صاحب کی۔

’’سرکار کیا ہوتا ہے؟ پھر ایک عرضی بھی داخل کرنی ہو تو ہمیں رکنا پڑتا ہے۔ ہم تمھارے پیچھے کہاں کہاں مارے پھریں گے؟‘‘ وکیل صاحب نے جھڑکا۔

’’وکیل صاحب کہتے ہیں، تم تو روڈ انسپکٹر کی طرح سڑکیں ناپتے ہو۔‘‘ برج نے پھر زور سے کہا۔ تینوں پھر ہنس پڑے۔ روپے منشی جی نے سب موڑ کر جیب میں رکھ لیے اور تخت پر رکھی ڈبیا کو زور سے بند کر دیا۔

’’دیوی سہائے جی! یہ بی بی جی کہہ رہی ہیں، کچھ مچھلی وچھلی نہیں کھلواؤ گے؟ یہ کہتی ہیں، وکیل صاحب اور منشی جی کو تم کسی نہ کسی طرح سمجھ لو گے، کچھ ہم بابو لوگوں کو بھی مل جائے۔‘‘ دَت نے بڑی سنجیدہ صورت بنا کر جیوتی کی طرف اشارہ کیا۔

روپے چھن جانے سے دیوی سہائے بڑے مایوس ہو گئے تھے۔ منہ پر ایک جھری آتی، ایک جاتی، جیسے بڑے مشتعل ہوں۔ انھوں نے بڑی مر دہ آنکھوں سے جیوتی کی طرف دیکھا، یہ جاننے کے لیے کہ سچ مچ بی بی جی ایسا کہہ سکتی ہیں؟ جیوتی نے کہنی میز پر ٹکا لی تھی اور ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے چپ چاپ فلسفیانہ انداز میں یہ سب دیکھ رہی تھی۔ جب تک وہ ہنستی نہیں تھی اس کی آنکھیں بڑی بے رونق اور بجھی بجھی سی رہتی تھیں، منھ ایسا بے خواہش جیسے کبھی ہنسنا مسکرانا اور چمک نام کی چیز اس نے جانی ہی نہ ہو۔ ایک ایسا بجھاپن اور روکھا پن اس کے چہرے پر تھاجو اکثر خشک موضوعات پر کو رات بھر پڑھنے والوں کے چہرے پر آجاتا ہے۔ اس نے کوئی جذبہ نہیں دکھایا۔

’’یہ کہتی ہیں، ہمیں گول والی مچھلی کھلانا، یعنی چپٹی نہیں۔‘‘ برج نے جوڑا۔

وہ کچھ کہیں، اس سے پہلے ہی منشی جی بولے:’’کھلائیں گے صاحب، کھلائیں گے۔ ذرا اِن کا مقدمہ ٹھیک ہو جائے بس۔۔۔ پھر چاہے جتنی کھائیے۔ ان کی چھوٹی لڑکی تو مچھلی بڑی اچھی بناتی ہے۔ آپ سب کی دعوت کریں گے۔‘‘

’’ہمیں کیسے معلوم ہو، ابھی تک تو انھوں نے ایک پان بھی نہیں کھلایا۔‘‘ دت بولا۔

’’کیوں دیوی سہائے جی! دیکھو، بابو لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ منشی جی نے اس طرح کہا جیسے اس بات کا انھیں ذرا بھی پتا نہیں تھا۔ پھر انھیں سمجھانے کے لہجے میں بولے: ’’ایسے کہیں کچھ کام ہو تا ہے، بابو لوگوں کو خوش رکھا کرو۔ اس تھیلے میں کیا ہے؟‘‘ انھوں نے تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

دیوی سہائے جیسے خواب سے چونک اٹھے ہوں، انھوں نے جلدی سے تھیلا بچانے کے لیے دوسری طرف رکھ لیا۔ بڑی مشکل سے ہکلا کر بولے:’’کک کک کچھ نہیں۔‘‘

’’ ارے تو ایسے مرے کیوں جاتے ہو؟لاؤ میں دیکھوں۔‘‘ منشی جی نے جھپٹ کر تھیلا چھین لیا۔دیوی سہائے نے اسے پکڑ کر تھوڑا کھینچا لیکن منشی جی کا کھنچاؤ زیادہ تھا۔ انھوں نے بڑی بے بس اور بے حس نظر سے چاروں طرف دیکھا۔

منشی جی نے تھیلا ہاتھ میں لے کر انھیں سمجھایا: ’’جب تک بابو لوگوں کو خوش نہیں کرو گے، کیسے یہ لوگ وکیل صاحب سے آپ کے کام کی سفارش کریں گے۔‘‘ کہہ کر انھوں نے تھیلے کی آپس میں بندھی تنیاں کھول ڈالیں اور اس میں سے ایک میلا تولیہ نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔

دیوی سہائے کے ہونٹ پھڑپھڑائے۔ انھوں نے پھر ایک بار اعتراض کرنے کے لیے ہاتھ پھیلائے لیکن منشی جی نے جھڑک دیا۔ اس نے تھیلے سے دو شیشیاں نکال کر تخت پر کھڑی کر دی تھیں۔۔۔ ایک چھوٹی، ایک بڑی۔ دونوں میں دوا بھری اور کاغذ کے خوراکوں کے نشان کاٹ کر چپکائے ہوئے تھے۔ سب لوگ پھر غور سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔ دیکھیں، اب اس میں سے کیا نکلتا ہے۔

منشی جی نے چار سنگترے، تین موسمی اور ایک سیب نکال کر میز کے سرے پر رکھ لیے۔

’’آج تو دیوی سہائے جی! بڑا مال لیے جا رہے ہو اور کہہ رہے تھے کچھ نہیں ہے۔‘‘ دوسرا منشی وہیں دیوار کے سہارے سے بولا۔

’’ارے صاحب! یہ دیوی سہائے جی بڑے خوش مزاج آدمی ہیں۔ ذرا آپ کی تھاہ لے رہے تھے۔‘‘ طنز سے مسکرا کر منشی رام سروپ نے کہا: ’’کیوں، ہے نا دیوی سہائے جی؟‘‘

’’تو یہ ہمارے لیے لائے ہو۔‘‘ برج کی آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’ہاں! ہاں! کھائیے۔‘‘ اس بار بڑی مشکل سے جیسے گلے میں اٹکے کف کو صاف کر کے، دیوی سہائے مسکرائے۔۔۔ لگا، رونے لگیں گے۔

’’ارے کھائیے بابو صاحب! آپ تو دیکھ رہے ہیں۔‘‘ منشی جی نے سنگترے کے چھلکے میں انگوٹھا گڑا کر چھیل ڈالا۔

پھلوں میں حصے بانٹ ہو گئے اور دیوی سہائے نے مرے مرے ہاتھ سے تولیہ تھیلے میں ڈالا، اوپر سے شیشیاں ٹھونسیں اور تھیلا کھڑا کر کے چپ چاپ سنگترے اور موسمیاں چوسی جاتی دیکھتے رہے۔

تینوں سکھاڑی بڑے مطمئن تھے۔ کچھ حصہ منشیوں کو بھی مل گیا تھا۔ وکیل صاحب بڑے غور سے سامنے کھلی کتاب میں کچھ پڑھتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں چھلے ہوئے سنگترے کی پھانک پکڑے رہے۔۔۔ یاد آجاتا منہ میں ایک ڈال لیتے۔ دیوی سہائے بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ انھوں نے چھڑی اٹھائی، تھیلا پکڑا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’تو بابو جی میں جاؤں؟‘‘ کچھ دیر کھڑے رہ کر انھوں نے وکیل صاحب سے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

وکیل صاحب سوتے سے جاگے۔ خوب زور سے سرد ہو کر بولے: ’’ہاں! اب تم جاؤ۔۔۔ اور ہاں، فکر مت کرو۔۔۔ سب ہو جائے گا۔ تمھارے پیسے ہم دلا دیں گے۔‘‘ وہ پھر ڈوب گئے۔

منشی نے تبھی کہا: ’’ایسے تھوڑے ہی ملتے ہیں روپے۔ سب کو تو تم نے خوش کر دیا، منشی جی کیا بھاڑ میں جاپڑیں، ارے، ایک دو آنے بیڑی کے تو دیتے جاتے۔‘‘ اور اس نے بے شرم اور بے لاگ ہو کر دیوی سہائے جی کی ساری جیبیں اوپر سے ٹٹول ڈالیں، پھر ٹینٹ بھی اس طرح ٹٹولی جیسے تھانے میں کسی جیب کٹ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تھا۔

’’جانے دو بیچارے کو، زیادہ تنگ مت کرو۔‘‘ وکیل صاحب نے بیچ میں ڈسٹرب ہو کر کہا۔

’’اچھا جائیے لیکن بھولنا مت۔۔۔ ‘‘ منشی نے کافی ہمدردانہ انداز میں کہا۔

دیوی سہائے پاؤں گھسٹاتے گھسٹاتے باہر کی طرف چل دیے۔ جیوتی ایک دم محتاط ہو کر اپنی انگلی میز پر رکھ رکھ کربتا رہی تھی: ’’پہلے یہ کہہ رہے تھے۔۔۔ کیسے انھوں نے ’’ویری گڈ‘‘ بیان دیا تھا۔ جج نے پوچھا یہ بات ہوئی؟ انھوں نے کہا ’نو لکھو، نو‘ اور اس وقت تک اپنا بیان روکے رکھا جب تک برج نے ’نو‘ نہیں لکھ لیا۔۔۔‘‘ تینوں پھر ہنس پڑے۔

’’بے وقوف ہے۔‘‘ وکیل صاحب کہہ ہی رہے تھے کہ باہر کسی کورٹ میں چپڑاسی نے اونچی آواز میں بانگ دی۔۔۔ ’’رگھو مل منے لال حاضر ہو و و و۔۔۔! ‘‘

لنچ ٹائم ختم ہو گیا تھا۔وکیل صاحب جھٹکے سے اُٹھے۔ ان کے گلے کی دونوں پٹیاں او ر کالر ہلے۔

اس وقت باہر وکیل صاحب کے دروازے کے سامنے برآمدے میں کھڑے دیوی سہائے نے تھیلے میں سے ایک ایک کر کے دونوں شیشیاں نکالیں اور ڈاٹ کھول کر کروندے کی جھاڑی میں اوندھی کر دیں۔ جب ساری دوا پھیل گئی تو انھیں جیوں کی تیوں تھیلے میں ٹھونسا۔ زور سے ناک صاف کی اور انگلیوں کو کھمبے سے پونچھتے ہوئے ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ تبھی برآمدے سے کالی مرغی کی طرح وکیل صاحب گزر گئے۔۔۔ دوچوزوں کی طرح ان کے ساتھ موکل دونوں طرف لگے تھے۔

Categories
فکشن

چھوٹے چھوٹے تاج محل (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات نہ میرا نے اٹھائی نہ خود اُس نے۔ ملنے سے پہلے ضرور لگا تھا کہ کوئی بہت ضروری بات ہے جس پر دونوں کو باتیں کر ہی لینی ہیں لیکن جیسے ہر پل اس بات کی توقع میں اسے ٹالتے رہے۔بات گلے تک آ آ کر رہ گئی کہ وہ ایک بارپھر میرا سے پوچھے: ’کیا اس تعلق کو مستقل روپ نہیں دیا جا سکتا؟‘لیکن کہیں پہلے کی طرح پھر اسے برا لگے تو؟اس کے بعد دونوںمیں کتنا کھنچاؤ اور دوری آ گئی تھی۔

پتا نہیں کیوں،’ تاج‘ اسے کبھی خوب صورت نہیں لگا۔پھر دھوپ میں سفید سنگِ مر مر کا چوندھا لگتا تھا، اسی لیے وہ ادھر پیٹھ کیے بیٹھا تھا۔ لیکن چوندھا میرا کو بھی تو لگتا ہے ناں؟ہو سکتا ہے تاج اسے سندر ہی لگتا ہو۔ پرچھائیں ادھر جمنا کی طرف ہو گی، ادھر سے سپاٹ دھوپ میں جھل جھل کرتا سنگِ مر مر ہے۔ بس۔ اس تپتے ہوئے پتھر پر چلنے میں تلووں کے جھلسنے کے خیال سے اس کے سارے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔

تین سال بعد ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دیکھ کر صرف مسکرائے تھے۔مطمئن انداز میں۔ ہاں دونوں ہیں اور ویسے ہی ہیں۔ میرا کچھ نکھر آئی ہے اور شاید وہ، وہ پتا نہیں کیسا ہو گیا ہے۔ جانے کتنے پورے کے پورے مکالمے، سوال جواب اس نے میرا کوسامنے بٹھا کردل ہی دل میں بولے تھے، گفتگو کے تصور باندھے تھے اور اب بس کھسیانے انداز سے مسکرا کر ہی استقبال کیا تھا۔ اس پل سے ہی اسے اپنے ملنے کی بے معنویت کا احساس ہونے لگا تھا۔جانے کیوں۔ کیا ایسی بات کریں گے وہ،جو اکثرنہیں کر چکے ہیں؟ سال چھ مہینوںمیں ایک دوسرے سے خیر وعافیت کی خبر جان ہی لیتے ہیں۔

اٹھے ہوئے گھٹنوں کے پاس لان کی گھاس پر میرا کا ہاتھ چپ چاپ رکھا تھا۔ بس انگلیاں اس طرح اٹھ گر رہی تھیں جیسے کسی بہت نازک باجے پر ہلکے ہلکے گونجتے سنگیت کی تال کو باندھ رہی ہوں۔ میرا نے لوہے کا چھلا ڈال رکھا تھا،شاید شنی کی نحوست دور رکھنے کے لیے۔اس نے دھیرے سے اس کی سب سے چھوٹی انگلی میں اپنی انگلی ہک کی طرح اٹکا لی تھی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں میں دبا لیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے باتوں کی دھارا پھوٹ پڑی۔

وجے کا دھیان گیا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی چھوٹا سا کیڑا میرا کی کھلی گردن اور بلاؤز کے کنارے آ گیاتھا۔ جھجک ہوئی، خود جھاڑ دے یا بتا دے۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف گھما لیا۔ داخلے کی دہلیز کی سیڑھیاں جھاڑیوں کی اوٹ میں آ گئی تھیں، صرف اوپر کا حصہ نظر آ رہا تھا۔ ہچکچاتے ہوئے کیرم کا سٹرائیکر مارنے کی طرح اس نے کیڑا انگلیوں سے پرے چھٹک دیا۔ نسوں میں سنسناہٹ اترتی چلی گئی۔ انگلیوں سے وہ جگہ یوں ہی جھاڑ دی،جیسے گندی ہو گئی ہو۔میرا اُسی پہلے کے سے انداز میں اپنی سہیلی کے بیاہ کی پارٹی میں آئے لوگوں کی تفصیل بتاتی رہی۔اس نے کچھ نہیں کہا، نہ وہاں رکھا وجے کا ہاتھ ہٹایا ہی۔ وجے نے ایک بار پھر چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھااور آگے بڑھ کر اس کی دونوں کنپٹیوں کو ہتھیلیوں سے دبا کر اپنے پاس کھینچ لیا۔ نہیں، میرا نے غصہ نہیں کیا،جیسے وہ امید کر رہی تھی کہ یہ لمحہ آئے گا ضرور۔ لیکن پہلے اس کے ماتھے پر تیکھی لکیروں کی پرچھائیاں ابھریں اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کی لہروں میں بدل گئیں۔ ایک عجب، بکھرتی سی، سمٹی، دھوپ چھاؤں مسکراہٹ۔وجے کا جی چاہا، ریگستان میں بھٹکتے پیاسے کی طرح دونوں ہاتھوں سے صراحی کو پکڑ کر اس کی مسکراہٹ کی شراب مجنونانہ انداز میں پیتا چلا جائے۔۔۔پیتا چلا جائے۔۔۔ غٹ ۔۔۔غٹ ۔۔۔ اور آخر لڑکھڑا کر گر پڑے۔ پتلے پتلے ہونٹوں سے ایک نامعلوم سی پھڑکن لرز رہی تھی۔ اس رومانی خمار میں بھی وجے کو خیال آیا کہ پہلے میرا کا چشمہ اتار لے۔ ٹوٹ نہ جائے۔ تب اس نے دیکھا، ہریالے فواروں جیسے مورپنکھوں کے دوتین پیڑوں کے پیچھے پورے پورے دو تاج محل چشمے کے شیشوں میں اتر آئے ہیں۔ دودھیا ہاتھی دانت کے بنے سے دو سفید ننھے ننھے کھلونے۔۔۔

پتا نہیں کیوں، اسے تاج محل کبھی اچھا نہیں لگا۔ دھیان آیا، بن بلائے بوڑھے چوکیدار کی طرح تاج محل پیچھے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ باتوں کے بیچ وہ اسے کئی بار بھول گیاتھا لیکن دانتوں میں اٹکے تنکے سا اچانک ہی اسے یاد آ جاتا تھا کہ وہ اس کے سائے میں بیٹھے ہیں جو بہت بڑا ہے،جوعظیم ہے۔۔۔جو ۔۔۔؟اتنی بڑی عمارت !اس کی مکمل خوب صورتی کو ایک ساتھ وہ کبھی تصور میں لا ہی نہیں پایا۔۔۔ ایک ایک حصہ دیکھنے میں کبھی اس میں کچھ خوبصورت نہیں لگا۔ لوگوں کے اپنے ہی دل کی خوبصورتی اورشعریت رہی ہو گی جواس میں تبدیل کر کے دیکھ لیتے ہیں، کبھی موقع ملے گا تو وہ ہوائی جہاز سے تاج کی خوبصورتی کے کلی جائزے کی کوشش کرے گا۔ کئی بڑے فن پارے اس طرح کے دیکھے تو ہیں۔۔۔ اور تب سارے ماحول کے بیچ کوئی بات لگی تو ہے۔۔۔ مگر یہ چشمے کے کانچوں میں جھلملاتے، دھوپ میں چمکتے تاج ۔۔۔ کھنچاؤ وہیں تھم گیا۔ اس نے بڑے بے معلوم انداز سے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ آہستہ سے:’نہیں! یہاں نہیں۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔‘یہ اسے کیا ہو گیا؟

اچانک میرا کو ہوش سا آ گیا۔ امڈتی لاج چھپانے کے لیے سٹ پٹا کر ادھرادھر دیکھا، کوئی بھی تو نہیں تھا۔پاس والی لال لال اونچی دیوار پرابھی ابھی راج مزدور سے لگنے والے مرمتیے لوگ آپس میں ہنسی مذاق کرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے گئے ہیں۔ انھیں بندر کی طرح دیوار پر بھاگ لینے میں مہارت ہے۔ روش کے پار پڑوس کے لان میں دو تین مالی پائپوںکو ادھر ادھر گھماتے پانی لگارہے تھے، وہ بھی اب نہیں ہیں۔ کھانا کھانے گئے ہوں گے۔ میرا نے بغل سے ساڑھی کھینچ کر کندھے کا پلا ٹھیک کر لیا۔ پھر وجے نے اَن منے انداز سے گھاس کا ایک پھول توڑا اور آنکھوں کے آگے انگلیوں میں گھمانے لگا۔ میرا نے چشمہ اتار کر منہ سے ہلکی سی بھاپ دی اور ساڑھی سے کانچ پونچھے، بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اٹکایا اور چشمہ لگا کر کلائی کی گھڑی دیکھی۔

بڑ ابوجھل سکوت آ گیا تھا دونوں کے بیچ۔ وجے کو لگا انھیں کچھ بولنا چاہیے ورنہ یہ خاموشی کا بوجھ دونوں کے بیچ کی کسی بہت کومل چیز کو پیس دے گا۔ ہتھیلی پر یوں ہی اس تنکے سے کراس اور تکون بناتا وہ لفظوں کو ٹھیل کر بولا:’’تو پھر اب چلیں۔۔۔؟ دیر بہت ہو رہی ہے۔‘‘

میرا نے سر ہلا دیا۔ لگا جیسے وہ کچھ کہتی کہتی رک گئی تھی یا انتظار کر رہی ہو کہ وجے کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں کہہ پا رہا۔ پھر تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ کوئی نہیں اٹھا۔ تب پھر اس نے مرے مرے ہاتھوں سے جوتوں کے فیتے کسے، اخبار میں سنگترے اور مونگ پھلی کے چھلکے پھینکے۔ بیٹھنے کے لیے بچھائے گئے رومال سمیٹے گئے اور دونوں ٹہلتے ہوئے پھاٹک کی طرف چلے آئے۔

تین کا وقت ہو گا۔ ہاتھ میں گھڑی ہوتے ہوئے بھی اس نے اندازہ لگایا۔ دھوپ ابھی بھی تیز تھی۔ ایک آدھ بار گلے اور کنپٹیوں کا پسینہ پونچھا۔ آتے وقت تو بارہ بجے تھے۔ اس وقت اسے ہنسی آ رہی تھی۔ ملنے کا وقت بھی ان لوگوں نے کتنا عجیب رکھا ہے۔

جیسے اس وقت سے بہت دور کھڑے ہو کر اس نے دہرایا تھا’بارہ ۔۔۔بجے، جون کا مہینہ اور تاج محل کا لان،وہ پہلے آ گیا تھا اور انتظار کرتا رہا تھا۔ اس وقت کیسی بے چینی، کیسی چھٹپٹاہٹ،کیسی بے تابی تھی۔۔۔ یہ وقت بیتتا کیوں نہیں ہے؟بہت دنوں سے گھڑی کی صفائی نہ ہو پائی۔ اس لیے شاید سست ہے۔ابھی تک نہیں آئی۔ ان لڑکیوں کی اسی بات سے سخت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ کبھی وقت کا خیال نہیں رکھتیں۔ جانے کیا مزا آتا ہے انتظار کرانے میں۔ وہ جان بوجھ کر ادھرآنے والے راستے کی جانب سے منہ پھیرے تھا۔ امید کر رہا تھا کہ اچانک ادھر مڑ کر دیکھے گا تو پائے گا کہ وہ آ رہی ہے لیکن دو تین بار ایسا کر چکنے کے بعد بھی وہ نہیں آئی۔جب دوسری طرف منہ موڑے رہ کر بھی وہ کن اکھیوں سے ادھر ہی جھانکنے کی کوشش کرتاتو خود اپنے پر ہنسی آتی۔ اچھا سیڑھیاں اتر کر آنے والے تین لوگوں کو وہ اور دیکھے گا اور اگر ان میں بھی میر انہیں ہوئی تو دھیان لگا کر کتاب پڑھے گا۔ جب آنا ہو، آ جائے۔ ایک دو تین، ہوسکتاہے،اگلی وہی ہو۔ ہش، جائے جہنم میں نہیں آتی تو، ہاں تو نہیں۔ اچھا،آؤ، تب تک یہی سوچیں کہ میرا ان تین سالوں میں کیسی ہو گئی ہو گی۔ کیسے کپڑے پہن کر آئے گی؟ ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ کیا کریں گے؟ ہو سکتا ہے، جو ش سے لپٹ جائیں، کچھ بول نہ پائیں۔ اس کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں ہے، لیکن کون جانے، اس جوش میں ۔۔۔

آخر وہ آئی تو وہ اسے پاس آتے دیکھتا رہا تھا۔ ہر بار وہ ادھر سے نگاہیں ہٹانے کی کوشش کرتا کہ اسے یوں نہ دیکھے، پاس آنے پر ہی دیکھے اور اچانک ملنے کے تھرل کو محسوس کرے۔ لیکن وہ دیکھتا رہا تھا اور نہایت مؤدب طریقے سے بولا تھا۔۔۔’’نمستے میرا جی۔۔۔‘‘جھینپ کر میرا مسکرا پڑی تھی۔ دھوپ میں اس کا چہرا لال پڑ گیا تھا۔ پھر دونوں اس لان میں آ بیٹھے تھے۔ ایسے مطمئن، ایسے پر سکون جیسے روز ملتے ہوں۔

’’میں نے سوچا، تم شاید نہ آؤ، یاد نہ رہے۔‘‘
’’آپ نے لکھا تھا تو یاد کیسے نہیں رہتا؟لیکن ٹائم بڑا عجیب ہے۔‘‘
’’ہاں سردیوں کی چودھویں کی چاندنی رات تو نہیں ہے۔‘‘اپنے مذاق پر وہ خود ہی شرمندگی محسوس کرتا سنجیدہ ہو کر بولا:’’اس وقت یہاں ذرا تنہائی ہوتی ہے۔‘‘

سچ مچ بڑا عجیب ٹائم تھا۔میرا کے ساتھ ایک ایک قدم لوٹتے ہوئے اس نے سوچا۔ دوپہر کی دھوپ اور ۔۔۔پیار کرتے دو پریمی۔۔۔ پیار کرتے پریمی، اس نے پھر دہرایا۔ یہ پیار تھا؟جیسے برسوں سے ملنے والے دو دوست ہوں، جن میں باتیں کرنے کی لذت ختم ہو گئی ہو۔سفید سنگِ مرمرپر دھوپ پڑ رہی تھی، چوندھا تھا، اس لیے ادھر پیٹھ کر لی تھی۔ رہ رہ کر جھنجھلاہٹ آتی۔ کس بد دعا نے ہمارے خون کو جما دیا ہے؟یہ ہو کیا گیاہے ہمیں ؟کوئی گرمی نہیں، کوئی جوش اور کوئی جذبہ نہیں۔۔۔ کیا بدل گیا ہے اس میں؟ہاںمیرا کا رنگ کچھ کھل گیا ہے۔۔۔ بدن نکھر آیا ہے۔

لوٹتے وقت بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بوجھ، یہ کھنچاؤ کیا ہے؟ دونوں یوں ہی گھاس میں کاٹی ہوئی لال پتھروں کی جالی پر قدم قدم ٹہلتے ہوئے سیڑھیوں تک جائیں گے۔۔۔پھاٹک میں بیٹھے ہوئے گائیڈوں اور دربانوں کی تیز امیدوارانہ نگاہوں کو زبردستی جھٹلاتے بجری پر چر چر، چر چر کرتے تانگے یا رکشے میں جا بیٹھیں گے۔۔۔ اور ایک موڑ لیتے ہی سب کچھ پیچھے چھوٹ جائے گا۔ کل وہ لکھے گا۔’’میرا! میرا ! کل کے میرے رویے پرتمھیں حیرت ہو ئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے برا بھی لگا ہو ۔۔۔لیکن ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘

اور پھر چشمے کے کانچوں میں جھانکتا تاج محل مجسم ہو کے چلا آیا۔ ’تمھاری پلکوں پر تیرتے دو تاج محل!‘‘کتنا سندر جملہ ہے(یہ تونئی غزل ہو گی) ٹیگور نے دیکھا ہوتا تو ’دنیا کے گالوں پرڈھلک آئی آنسو کی بوند‘ کبھی نہ کہتے۔۔۔کہتے’گالوں پر ڈھلک آئے آنسوؤ ں میں جھانکتے تاج محل کی رو پہلی مچھلیوں سی پرچھائیاں ۔۔۔‘ لیکن میرا کی آنکھوں میں تو اسے نمی کا بھی سایہ نہ دِکھا تھا، کتنے بے روح ہو گئے ہیں ہم بھی آج کل۔ وہ کل والے خط میں لکھے گا۔’’ہکسلے کی نقل نہیں کر رہا،جانے کیوں،مجھے تاج محل کبھی خوبصورت نہیں لگا۔ لیکن پہلی بار جب میں نے تمھاری پلکوں پر تاج کی پرچھائیں دیکھی تو دیکھتا رہ گیا۔ پچھلے دنوں کی ایک عجیب سی بات مجھے یاد ہو آئی۔ اس گھڑی۔۔۔‘‘

ارے ہاں، اب یاد آیا، کہ کیوں وہ اچانک یوں سست ہو گیا تھا۔ اس بات کو بھی کبھی جھٹلایا جا سکتا ہے؟ ’ہاں، میرے لیے تو وہ بات ہی تھی۔۔۔ ‘وہ لکھے گا۔ اسے لگا، دل ہی دل میں وہ جسے پکار رہا ہے، جسے خط لکھ رہا ہے، وہ ساتھ ساتھ چلنے والی یہ میرا نہیں ہے، وہ تو کوئی اور ہے ۔۔۔ کہیں دور ۔۔۔بہت دور۔۔۔ر ۔۔۔وہی میرا تو اس کی اصلی عزیز اور محبوب ہے۔ یہ ۔۔۔ یہ اس سے تو جب جب ملا ہے، اسی طرح اداس ہو گیاہے لیکن اُس میرا سے ملنے کی کشش اِس کے پاس کھینچ لاتی ہے۔اِس کی تو نہ جانے کتنی باتیں ہیں جو اسے قطعی پسند نہیں ہیں۔ جیسے ؟ وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا، کہ کیا کیا پسند نہیں ہے؟ جیسے اس وقت اسے اسی بات پرجھنجھلاہٹ ہو رہی ہے کہ میرا نیچے بنی جالی کے پتھروں پر ہی پاؤں رکھ کرکیوں نہیں چل رہی۔ بیچ بیچ میں گھاس پہ پاؤ ں کیوں رکھ دیتی ہے۔

اور اس سب کے پار دونوں کان لگائے رہے کہ دوسرا کچھ کہے۔ایک بات سوچ کر وہ اچانک خود ہی ہنس پڑا۔جب وہ لوگ بہت بڑے بڑے ہو جائیں گے،سمجھو چالیس پچاس سال کے تو ہنس ہنس کر کیسے دوسروں کو اپنی اپنی بے وقوفیاں سنایا کریں گے۔ کیسے وہ لوگ چھپ چھپ کر تاج محل میں ملا کرتے تھے۔

’’چار پانچ سال ہو گئے ہوں گے اس بات کو ۔۔۔‘‘ اس کے من کے اندر کی سطروں پر خط چلتا رہا۔یہ سب وہ اس خط میں لکھے گا نہیں،وہ صرف اس بہانے سلسلہ وار لفظوں میں اس سارے اتفاق کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی، اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چپ، اداس اور منحوس شام تھی اس لیے پرچھائیاں پیچھے خوب لمبی لمبی چلی گئی تھیں۔

اچھی طرح یاد ہے، ستمبر یا اکتوبر کا مہینہ تھا۔ کالج سے آ کر چائے کاکپ ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ کسی نے بتایا: ’’آپ کو کوئی صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘
وہ چڑ کر اٹھا :’’کون آ گیا ہے اس وقت۔‘‘
’’ارے آپ؟‘‘
’’پہچانا نہیں آپ نے؟‘‘
’’ارے صاحب! خوب آپ کو نہیں پہچانوں گا؟‘‘ لیکن سچ مچ اس نے پہچانا نہیں تھا۔ دیکھا ضرور ہے کہیں، شاید کلکتہ میں۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لیکن وہ حتی الامکان یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ پہچان رہا ہے اور بات چیت سے پہچان کی ڈور پکڑ کر یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے:’’اندر آئیے ناں!‘‘
’’نہیں مسٹر ماتھر! بیٹھوں گا نہیں۔گلی کے باہر میری وائف اور بچہ کھڑے ہیں۔۔۔‘‘انھوں نے معذرت چاہنے کے لہجے میں کہا:’’آپ کچھ کر رہے ہیں کیا۔۔۔؟‘‘
’’لیکن انھیں وہاں۔۔۔؟یہیں بلا لیجیے ناں۔‘‘
’’نہیں دیکھیے۔ ایسا ہے کہ ہم لوگ ذرا تاج دیکھنے آئے تھے۔یاد آیا، آپ بھی تو یہیں رہتے ہیں۔ جگہ یاد نہیں تھی، سو ایک ڈیڑھ گھنٹا بھٹکنا پڑا۔ خیر آپ مل گئے۔ اب اگر کچھ کام نہ ہو تو ۔۔۔ بات ایسی ہے کہ ہمیں آج ہی لوٹ جانا ہے۔۔۔‘‘وہ سیڑھی پر ایک پاؤں رکھے کھڑے تھے: ’’آپ کسی طرح کے تکلف میں نہ پڑیں۔ پاؤںمیں چپل ڈالیے اور چلے آئیے۔‘‘

گلی کے باہر گاڑی کھڑی تھی۔ پیچھے کا دروازہ کھلا تھا اور اس کو پکڑے پچھلے مڈ گارڈ سے ٹکی ایک خاتون کھڑی تھیں۔گہری ہری بنگلوری ریشم کی ساڑھی، بنگالی طرز کا چوڑا چوڑا جُوڑااور بیچوں بیچ جگ مگ کرتا ہشت پہلو رو پہلا ستارہ۔مڈ گارڈ پر چھوٹا سا چار پانچ سال کا بچہ پھسلتے جوتوں کو جیسے تیسے روکے بیٹھا تھا۔ دونوں بانہوں سے اسے سنبھالے ہوئے وہ اس کی کلائی پکڑے چھوٹی سی انگلی سے دھول لدے مڈگارڈ پر لکھا رہی تھیں۔ ٹی اے جے۔ قدموں کی آواز سے چونک کر مڑیں اور استقبال میں مسکرائیں۔ بچے کو سنبھال کر اتارا، پھر دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ پھر خود ہی بولیں: ’’دیکھیے! آپ سے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔‘‘

’’حضرت آ ہی نہیں رہے تھے۔۔۔‘‘وہ بیچ میں ہی بات کاٹ کر بولے۔ پھر اچانک بولے:’’اچھا راکا! اب بیٹھو، ورنہ اندھیرا ہو جائے تو دیکھنے کا مزا بھی نہیں رہے گا۔‘‘
راکا۔۔۔راکا۔۔۔ہاں کچھ یاد تو آرہا ہے۔ ڈرائیور کی بغل میں بیٹھ کر اس نے ایک آدھ بار گھوم کر دیکھا جیسے یہاں کہیں ان کا نام بھی لکھا مل جائے گا۔
’’کیسے ہیں؟ بہت دنوں بعد ملے ہیں۔ آپ کو یاد ہے،کلکتہ میں ہم لوگ ملے تھے۔۔۔؟اس دن ہم لوگوں نے آپ کو کتنی دیر کرا دی تھی۔‘‘سنہرا رنگ، کانوں میں گول کنڈل، بہت ہی بے معلوم سی لپ اسٹک۔ ساڑھی کا پلا سنبھالنے کے لیے کھڑکی پر ٹکی کہنی۔

ارے ہاں!اب یا د آیا۔ ان سے تو ملاقات بڑے عجیب اندازسے ہوئی تھی۔ نیو مارکیٹ کے ایک ریستوران میں بیٹھا وہ شوقیہ اپنی اپنی موسیقی کی مہارت کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر جانے کیا من میں آیا کہ خود بھی اٹھ کر ماؤتھ آرگن پر دیر تک سینما کے گیتوں کی دھنیں نکالتا رہا۔ اس چھوٹے سے اسٹیج سے ہٹ کر جس میز پر وہ بیٹھا تھا، اس پر بیٹھے تھے یہ لوگ۔ یہ راکا جی اور یہ مسٹر ۔۔۔کیا؟ہاں مسٹر دیو۔

’’سچ مچ آپ نے بہت ہی سندر بجایا۔ بڑی اچھی پریکٹس ہے۔ ‘‘ دیو نے اس کے بیٹھتے ہی کہا۔ رومال سے باجے کو اچھی طرح پونچھ کر جیب میں رکھ ہی رہا تھا کہ چونک گیا۔ راکا کے چہرے پر تحسین اتر آئی تھی اور یوں ہی کپ کے اوپر ہتھیلی ٹیکے وہ ایک ٹک میز کو دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ کی چائے توپانی ہو گئی ہو گی۔ اور منگائے دیتے ہیں۔ بیرا سنو! ادھر۔‘‘

اس کے منع کرنے پر بھی چائے اور آگئی:’’چھٹیوں میں گھومنے آئے ہیں؟اچھا ! کیسا لگا کلکتہ آپ کو۔۔۔جی ہاں،گندا توہے آگرہ کے مقابلے میں۔۔۔ لیکن ایک بار من لگ جانے پر چھوڑنا مشکل ہو جاتاہے۔۔۔‘‘پھر تعریف، احسان مندی کا تبادلہ، شناسائی اور رات دیر تک ان کے لوئر سرکلر روڈ کے فلیٹ پر باتیں، کھانا کافی اور موسیقی۔ راکا کو ستار کا شوق ہے۔ دیو کسی فارن کمپنی کے انچارج منیجر کی صحبت میں غیر ملکی سمفنیاں پسند کرتے ہیں۔ اس کا ماؤتھ آرگن سننے کے بعد راکا جی نے ستار سنایا تھا اور پھر دیو نہایت ہی خوبصورت پلاسٹک کے لفافوں میں بند اپنے بدیسی ریکارڈ نکال لائے تھے۔ ایک ایک ریکارڈ آدھ گھنٹے چلتا تھا اور اس میں تین تین کمپوزیشنز تھیں۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا لیکن وہ بیٹھا لفافوں پر لکھے ہوئے تعارف اور موسیقار کی تصویر کو ضرور دیکھتا رہا تھا۔ کوئی چیاکو وسکی یا کچھ بینگر تھا جس کا نام وہ بار بار لیتے تھے۔ایک ایک ریکارڈ چالیس پچاس روپے کا تھا۔بیچ بیچ میں،’’کبھی ضرور آئیں گے آگرہ۔ بہت بچپن میں ایک بار دیکھا تھا،شاید دماغ میں جو نقشہ ہے، اس سے میل ہی نہ کھائے۔ شادی کے بعد ایک بار دیکھنے کا پروگرام بہت دنوں سے بنا رہے ہیں۔ یہ تو ہر چھٹی میں پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ جی نہیں، انھوں نے نہیں دیکھا۔۔۔ ادھر ہی رہے ان کے فادر وغیرہ سب۔ اب تو آپ وہاں ہیں ہی۔۔۔‘‘اس دن دونوں دیر کے لیے راستے بھر معذرت کرتے ہوئے اپنی گاڑی پر ہی وویکانند روڈ تک چھوڑنے آئے تھے۔ راستے بھر بات چیت کے ٹکڑے، ستار کی گونج اور سمفنی کی کوئی ڈوبتی سی لہراتی دردیلی کراہ اسے مسحور کیے رہی۔ کیسے عجیب انداز سے واقفیت ہوئی ہے۔ کتنا سکھی جوڑا ہے۔۔۔اسے بہت ہی خوشی ہوئی تھی۔ بچہ بعد میں آیا۔ نام ہے مُن مُن۔

دیو بتا رہے تھے:’’نمائش میں ہمارا سٹال ہے ناں،سو ہم لوگ دلی آئے تھے۔ سوچا، اتنے پاس سے یوں بنا دیکھے لوٹنا اچھا نہیں ہے۔ آپ کو یوں ہی گھسیٹ لائے۔ کوئی کام تو۔۔۔‘‘
’’نہیں،نہیں۔۔۔!‘‘جلدی سے کہا۔۔۔ اسے اور تو سب باتیں یاد آ رہی تھیں لیکن یہ یاد نہیں آ رہاتھا کہ ان مسٹر دیو کے آگے پیچھے کیا لگتا ہے۔ بڑی بے چینی تھی۔کیسے جانے؟بس اسی ملاقات کے بعد پھر کبھی ملنا نہیں ہوا۔۔۔یاد داشت اچھی ہے ان لوگوں کی۔
’’آپ نے یاد خوب رکھا۔‘‘سوچا، اس ملاقات میں خاص ایسی بات بھی تو نہیں تھی۔
’’جب ہم لوگ تاج کی بات کرتے، آپ کی بات یاد آ جاتی اور کوئی دن ایسا نہیں گیا جب تاج کی بات نہ ہوئی ہو۔۔۔آپ کے سامنے یہ مُن مُن نہیں تھا۔۔۔‘‘
’’مُن مُن !تم نے انکل جی کو نمستے نہیں کیا۔ کہو انکل جی ! آج ہمارے ماما ڈیڈی کے بیاہ کی ساتویں سالگرہ ہے۔۔۔‘‘راکا جی اس کے ہاتھ جڑواتی بولیں:’’بہت ہی شیطان ہے۔ مجھے دن بھر خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی دن کچھ کر کرا نہ لے۔‘‘
’’تب تو آپ کو مبارک دینی چاہیے۔۔۔‘‘لیکن اس سب کے پار وجے کو لگا، کہیں گھٹن ہے جو نادیدہ کہرے کی طرح گاڑھی ہوتی ہوئی چھائی ہے۔ رہا نہیں گیا۔ پوچھا:’’آپ کچھ سست ہیں۔ طبیعت۔۔۔؟‘‘
’’نہیں جی!‘‘انھوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ایک کلپ ٹھیک کیا اور سنبھلے انداز سے مسکرانے کی کوشش کر کے کہا:’’گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پانچ گھنٹے ہو گئے۔ ایک گھنٹے سے تو یہاں آپ کو کھوج رہے ہیں۔‘‘
’’چچ! سچ مچ بہت زیادتی ہے یہ تو آپ کی۔‘‘احسان مندانہ انداز سے وہ بولا:’’کم سے کم منہ ہاتھ تو دھو ہی لیتیں راکا جی۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔ لوٹنا بھی توہے نا ں آج ہی۔‘‘

پھر سبھی نے خوب گھوم گھوم کر تاج دیکھا تھا۔مُن مُن کا ایک ہاتھ دیو کے ہاتھ میں تھا اور ایک راکا جی کے۔ کبھی کبھی تو تینوں آپس میں ہی ایسے محو ہو کر کھو جاتے کہ وجے کو لگتا وہ بیکار ہی اپنی موجودگی سے ان کے بیچ مخل ہو رہا ہے۔ اوپر عمارت کے سفید کالے چبوترے پر دیو بڑی دیر تک سکہ لڑھکا کر اس کے پیچھے بھاگتے اور بچے کو کھلاتے رہے اور وجے کے ساتھ ساتھ راکا جی جالیوں کی بناوٹ، دروازے پر لکھی قرآن کی آیتیں اور بیل بوٹوں کی نقاشی دیکھتی رہیں۔ شام کی پیلی پیلی سہانی دھوپ تھی۔ لانوں کی نرمی سانولی ہو آئی تھی۔ مور پنکھوں اور تاڑ جیسے چوڑے پتوں کے گنبد نما کنج موم بتی کی ہری سنہری لو جیسے لگتے تھے۔ جیسے مستی میں پھولے پھولے کبوتر ہوں اورابھی آرام سے پھریرا لے لیں گے تو چنگاریوں کی طرح سرخ پھول ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ وہ لوگ اندر قبروں کے پاس اپنی آواز گونجاتے رہے۔ کیسے لرزتی سی تیرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے بہت ہی مہین ریشوں کا بنا ہوا، گھڑی میں لگے بال سپرنگ کی طرح کہ بڑا سا مخروطی کچھ ہے جو کبھی پھیل جاتا ہے تو کبھی سکڑ کر سمٹ جاتا ہے۔ دیو کی آواز تھی۔’’را ۔۔۔کا۔۔۔ا کا ۔۔۔اا‘‘ ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے لفظ۔۔۔دور کھوتے ہوئے۔۔۔ کہیں انجانی گھاٹیوں کی تلہٹیوں میں ’’مُن مُن مو و و ن اا۔۔۔‘‘ دیو دیر تک ڈوبے ہوئے اس کھیل کو کھیلتے رہے تھے۔لگتا تھا ان کے اندرہے کچھ، جو اس کھیل کے ذریعے سے عیاں ہو رہا ہے۔ وہ راکا یا من من کا نام لے دیتے اور دیر تک اندھیرے میں ان لفظوں کو ڈوبتا کھوتا دیکھتے رہتے جیسے ہاتھ بڑھا کر انھیں واپس پکڑ لینا چاہتے ہوں۔ انھیں قبروں میں کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔ بڑی دیربعد، بہت مشکل سے جب وہ اس ماحول سے ٹوٹ کر باہرنکلے تو بہت اداس اور کھوئے کھوئے تھے۔وجے کے پاس سے مُن مُن کو لے کر زورسے اسے چھاتی سے بھینچ لیا۔

باہر نکل کر آئے تو دیکھا کہ ندی کنارے والی برجی کے پاس راکا جی چپ چاپ دور شہر اور لال پل کی سمت دیکھتی کھڑی ہیں۔ سندوری آسمان کے گہرے سلیٹی بادل ندی کے چوکھٹے میں وارنش کلر کی طرح پھیل گئے ہیں۔ برجی سے بیچ کے مقبرے تک چبوترے کی کالی سفید شطرنجی کو سمٹتی دھوپ نے ترچھا بانٹ لیا ہے۔ ہوا میں ساڑھی ان کے بدن سے چپک گئی اور کانوں کے اوپر کی لٹیںسرکش ہو آئی ہیں۔دیو بہت دور تک انھیں یوںہی دیکھتے رہے، جیسے انھیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور اس سارے ماحول میں سفید پتھروں کے اس بہت بڑے قید خانے میں جیسے سزا یافتہ جل پری کو یوں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیاہو۔۔۔ ’یہ جگہ،یہ ماحول ہے ہی کچھ ایسا۔‘وجے نے اپنے آپ سے کہا اورجان بوجھ کر دوسری طرف ہٹ آیا۔ شاید راکاجی ممتاز کے عشق کی بات سوچ رہی ہوں،اپنے مرنے کے بعد اپنی ایسی ہی یادگار چاہتی ہوں یا کچھ بھی نہ سوچ رہی ہوں،بس پل سے گزرتی ریل کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تاج کو دیکھ کر حسن اور خیال کی حیران کن بلندیوںمیں کھو گئی ہوں۔

اپنی چھاتی تک اونچی پیچھے کی دیوار سے مُن مُن ندی کی طرف جھانکتا ہوا ہاتھ ہلا ہلاکر نیچے جاتے بچوں کو بلا رہا تھا۔ کوے کائیں کائیں کرنے لگے تھے۔ مُن مُن کے پاس وہ سنگِ مر مر کی دیوار پر جھک کر ہتھیلیاں ٹیکے سامنے کے حصے اور پیڑوں کی گھنی چھتریوں کو دیکھتارہا۔ جانے کب دیو جی برابرہی آ کھڑے ہوئے۔کافی دورہٹ کر اسی طرح برجی کے پاس جھکی راکا جی۔۔۔ہوا میں پھہراتی ساڑھی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر روکے ہوئے۔

’’اندر کی آواز اور گونج سن کر بڑا عجیب سا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے ناں؟جیسے جانے کن ویران جنگلوں اور پہاڑوںمیں آپ کا کوئی بہت ہی قریبی عزیز کھوگیا ہے اور آپ کی بے ثمر پکاریں ٹوٹ ٹوٹ کراسے پکارتی چلی جاتی ہیں۔۔۔ چلی جاتی ہیں۔۔۔ اور کھو جاتی ہیں۔ وہ عزیز لوٹتا ہے اور نہ آوازیں۔ جیسے زمانوں سے کسی کی بھٹکتی روح اسے پکارتی رہی ہو اور وہ ہے کہ گونجوں اورسایوں میں ہی گھل گھل کر بکھر جاتا ہے۔۔۔ ڈوب جاتا ہے۔۔۔ٹھہرتا ہے اور مجسم نہیں ہو پاتا۔۔۔‘‘

ندی میں تاج کی گھنی گھنی پرچھائیں لہروں میں ٹو ٹ ٹوٹ جاتی تھی۔ انجانے ہی دیو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

’’ایسا ہی ہوتاہے۔ ایسے ماحول میں ایسا ہی ہوتاہے۔‘‘وجے نے اپنے آپ سے کہہ کر جیسے صورتحال کو لفظ دے کرسمجھنا چاہا:’’جب کوئی کسی کوبہت پیار کرے، بہت پیار کرے اور پھر ایسی خوب صورت منحوس جگہ آجائے تو کچھ ایسی ہی باتیں دل میں آتی ہیں۔ ابھی لان پر چلیں گے، مُن مُن کے ساتھ کلکاریاں ماریں گے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

دیو نے سنا اور گہری سانس لے کر بڑی زخمی نگاہوں سے وجے کی طرف دیکھا۔ کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دونوں چپ چاپ ہی ٹہلتے ہوئے سامنے کی طرف آ گئے ۔۔۔ مُن مُن راکا جی کے پاس چلا گیاتھا۔ نیچے کی سیڑھیاں اترتے اترتے اچانک ہی دیو نے وجے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ کچھ کہنے کو ہونٹ کانپے:’’آپ کوپتا ہے مسٹر وجے؟‘‘
وجے آواز اور لہجے سے چونک گیا :’’نہیں، کچھ نہیں۔‘‘
اوپر ہری ساڑھی کی جھلک نظر آئی اورپھر دونوں سیڑھیاں اتر آئے۔جوتے پہنتے ہوئے بولے:’’آپ کو تعجب تو بہت ہو گا کہ یوں ہم اچانک آپ کو اٹھا لائے۔‘‘
’’نہیں تو ! اس میں ایسی کیا بات ہے؟‘‘وجے نے خوش اخلاقی سے کہا۔
’’ہاں بات کچھ نہیں ہے لیکن بہت بڑی بات ہے۔‘‘پھر گہری سانس۔۔۔

اب وجے کو لگا کہ سچ مچ کوئی بہت بڑی بات ہے جو دیو کے اندر سے نکلنے کے لیے چھٹپٹا رہی ہے۔ تب پہلی بار اس کا دھیان اس صورتحال کی بو قلمونی کی طرف گیا۔بیچ کے چبوترے تک دونوں بالکل چپ رہے ۔۔۔ چبوترے کے خو ب صورت کونوںوالے حوض میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔ گہرے سانولے آسمان میں لال لال گلابی بادلوں کے بگولے اتر آئے تھے۔ الٹے تاج کی پرچھائیں دم توڑتے سانپ کی طرح ان کے قدموں پر پھن پٹک پٹک کر لہرا رہی تھی۔دھوپ اوپر سیڑھیوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس پر آنکھیں ٹکائے دیو بڑی دیر تک یوں ہی دیکھتے رہے۔ سامنے مُن مُن کو لیے راکا جی چلی آ رہی تھیں لیکن جیسے کوئی کسی کو نہیں دیکھ رہا ہو۔ ہاں وجے کبھی اُسے اور کبھی اِسے یا مشک لے کر آتے بہشتی کو دیکھتا رہا۔ ٹپ ٹپ بوندوں کی مسلسل لائنیں اس کی انگلیو ں سے ٹپک رہی تھیں۔ بڑی احتیاط سے لفظوں کو دھکیل کر دیو بولے:’’یہ ساری کیفیت ۔۔۔ یہ ٹوٹ جانے کی حد تک آ جانے والاچرمراتا تناؤ۔۔۔ موت سے پہلے کے یہ قہقہے ۔۔۔سنجیدگی کا یہ برفیلا کفن ۔۔۔ شاید ہم میں سے کوئی اسے اکیلا نہیں سہہ پاتا۔۔۔ کوئی ایک چاہیے تھا جو اس کی طرف سے ہمارا دھیان ہٹائے رکھے۔۔۔ اس انجام کا گواہ بن سکے۔‘‘
’’میں سمجھ نہیں سکا مسٹر دیو۔۔۔!‘‘ گھبرا کر وجے نے پوچھا تھا۔

بوٹوں کے دونوں پنجوں پر ذرا سا مچک کر دیو نہایت ہی اطمینان سے ہنسے: ’’آپ ۔۔۔ آپ وجے صاحب! ہماری یہ آخری شام ہے۔۔۔‘‘اور وجے کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی انھوں نے کہہ ڈالا:’’میں نے اور راکا نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم لوگوں کو الگ ہی ہوجانا چاہیے۔۔۔ دونوں طرف سے برداشت کی شاید حد ہوگئی ہے۔ نسوں کا یہ تناؤ مجھے یا اسے پاگل بنا دے، یا کوئی ایسی ویسی بے ہودگی کرنے پر مجبور کرے،اس سے تو اچھا ہو کہ دونوں الگ ہورہیں۔ چاہے تو وہ کسی کے ساتھ سیٹل ہوجائے، وہ مُن مُن کو رکھنا چاہتی ہے تو رکھے، ویسے جب بھی وہ اسے بوجھ لگے،بلا تکلف میرے پاس بھیج دے۔‘‘وجے کا سر بھنا اٹھا۔ وہ چپ چاپ حوض کی گہرائی میں تڑپتی تاج کی پرچھائیں پر نگاہیں ٹکائے رہا۔
’’لیکن آپ دونوں۔۔۔‘‘وجے نے کہنا چاہا۔

دیو نے ہاتھ پھیلا کر روک دیا:’’وہ سب ہو چکا ہے۔ سارے تجربے ختم ہو گئے۔ ہم نے طے کیا کہ کیوں نہ اپنی آخری شام ہنسی خوشی کاٹیں۔۔۔ دوست بنے رہ کر ہی ہنستے ہنستے رخصت ہو لیں۔۔۔ ‘‘پھر کچھ دیر تک چپ رہ کر کہا:’’راکاکی بڑی تمنا تھی کہ تاج دیکھوں، شادی کی پہلی رات اس نے چاہا تھا کہ ہنی مون یہاں ہو لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔‘‘پھر ہاتھ جھٹک دیا:’’عجب ملاپ ہے ناں ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘لیکن وجے کو لگا تھا جیسے کسی ڈیم کی ریلنگ پر جھکا کھڑا ہے اور نیچے سے لاکھوں ٹن پانی دھاڑ دھاڑ کرتا گرتا چلا جارہا ہے ۔۔۔ گرتا چلا جا رہا ہے اور اس کا سر چکرا اٹھا۔۔۔نہیں اس سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔یہ سب تو صرف وہ فرض ادا کر رہا ہے۔ کہیں ایسی بے یقینی بات۔۔۔ دھیان اس کا ٹوٹا دیو کی آواز سے:’’ اسے روکو راکا، مالی وغیرہ منع کریں گے۔۔۔ نہیں مُن مُن! ‘‘آواز بہت ملائم تھی اور پھر دیو نے دوڑ کر پیار سے مُن مُن کو دونوں بانہوں میں اٹھا لیا اور اس کے پیٹ میں اپنا منہ گڑا دیا۔ مُن مُن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ آنکھوںمیں لاڈ بھرے راکا جی مسکراتی رہیں۔ نہیں ابھی جو کچھ اس نے سنا تھا، وہ ان لوگوں کے آپسی رشتوں کے بارے میں نہیں تھا۔ ہو نہیں سکتا۔

بہت بار وجے نے راکا جی کا چہرہ دیکھنا چاہا لیکن لگا وہ ادھر ادھر کے سارے ماحول کو ہی پینے میں مشغول ہیں۔ چڑیاں چہچہانے لگی تھیں۔

انہی جالیوں پر اسی طرح تو وہ لوگ چل رہے تھے کہ پاس آ کردھیرے سے دیو نے کہا تھا: ’’راکا سے مت پوچھیے گا۔‘‘
کیا پوچھے گا وہ راکا جی سے۔۔۔؟
’’سوری آپ کو گھسیٹ لائے ہم لوگ۔‘‘
اور اس بار زخمی نگاہوں سے دیکھنے کی باری وجے کی تھی۔۔۔ اتنا غلط سمجھتے ہیں آپ۔۔۔

چار پانچ سال ہو گئے لیکن بات کتنی تازہ ہو آئی ہے۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چاپ، اداس اور منحوس۔۔۔شام کا بجرارات کا کنارہ چھونے لگا تھا۔ جیسے کسی برسوں کی طوفانی یاترا سے وہ تینوں لوٹ کر آ رہے ہوں۔ پیڑوں اور عمارتوں کی پرچھائیاں خوب لمبی لمبی چوڑی دھاریوں کی طرح پیچھے چلی گئی تھیں۔۔۔کنجوں اور لان کی ہریالیاں عجب ٹٹکی ٹٹکی ہو اُٹھی تھیں۔ ہریالی کے سرمئی دھندلے کانچ پر سفید پھول چھٹک آئے تھے۔

میرا کے چشمے کے کانچوں میں جھانکتی پرچھائیں کو دیکھ کر جانے کیوں اسے وہی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ وہی تاج جو اس دن حوض میں جیسے آسمانی جارجٹ کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور اپنے آپ سے لڑتے ہوئے دیو اُسے بتا رہے تھے۔آج اگر دیو ہوتے تو کیا جواب دیتا۔۔۔؟تو کیا وہ بھی اسی طرح الگ ہو رہے ہیں۔۔۔؟
اچانک چونک کر اس نے میرا کو دیکھا۔۔۔ اسے لگا، جیسے اس نے کہا ہے: ’’کچھ کہہ رہی تھی کیا؟‘‘
’’میں ۔۔۔؟نہیں تو۔‘‘پھر وہی سکوت اور گھسٹتی اداسی کا کمبل۔

لگا جیسے کوئی مردہ لمحہ ہے جس کا ایک سرا میرا پکڑے ہے اور دوسرا وہ اور اسے چپ چاپ دونوں رات کے سناٹے میں کہیں دفنانے جا رہے ہوں۔۔۔ ڈرتے ہوں کہ کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے۔۔۔ کوئی جان نہ لے کہ وہ قاتل ہیں۔۔۔کہیں کسی جھاڑی کے پیچھے اس لاش کو پھینک دیں گے اور خوش بو دار رومالوں سے کس کر خو ن پونچھتے ہوئے چلے جائیں گے۔بھیڑ میں کھو جائیں گے۔۔۔ جیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے میں ڈر لگتا ہے ۔۔۔کہیں الزام لگاتی آنکھیں قتل قبول کرنے کو مجبور نہ کر دیں۔

باہر وہ دونوں تانگہ لیں گے ۔۔۔ جھٹکے سے موڑ لیتا ہوا تانگا ڈھال پر دوڑ پڑے گا اور تاج محل پیچھے چھوٹتا جائے گا اور پھر اچھا کہہ کر سوکھے ہونٹوں کی بھری آواز پر مسکراہٹ کا کفن لپیٹ کر دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہو جائیں گے۔۔۔

Categories
فکشن

سہاگ کے پھول (محمد عباس)

بے بے کی انگلیوں کا لمس زہریلی تاثیر رکھتا تھا۔ کسی بھی قسم کے پھول ہوں، بے بے کے ہاتھ میں آتے ہی مرجھاجاتے تھے۔ کتنے ہی مہکتے ہوئے کیوں نہ ہوں، ایک پل میں سوکھے سرکنڈے بن جاتے۔ ابھی تازہ اور زندہ خوشبو سے نہائے ہوئے ننھے بچوں جیسے معصوم اور دلکش لگتے اور اگلے ہی لمحے وہ کسی ٹھنٹھ بوڑھے جیسے چمڑیس ہو جاتے۔ بچپن میں یہ بات ہمارے لیے حیران کن تھی اور ہم بار بار اس کا تجربہ بھی کرتے تھے۔ جہاں سے کوئی پھول ملتا، تو ڑ کر ہاتھوں میں لیے بے بے کے پاس جاتے اور اسے تھما دیتے۔ بے بے پھول کو ہاتھ میں لیے جانے کس مسموم نظر سے دیکھتی کہ پھول جھلس کر رہ جاتا۔ اس کا چمکتا چہرہ روکھ جاتا۔ ساری خوشبو نچڑ جاتی اورتازہ پھول سڑی ہوئی لاش بن جاتا۔ اور تو اور جو پھول بے بے نے اپنے ہاتھوں سے سینچ کر ویہڑے میں لگا رکھے تھے، وہ بھی بے بے کے ہاتھوں کا لمس نہ سہہ پاتے۔ سرخ سرخ گلابوں کے درجنوں پودے تھے جو بے بے نے ایک بڑی سی کیاری میں سلیقے سے اگا رکھے تھے۔ ان پھولوں میں بے بے کی جان تھی۔ جانے کب بے بے نے یہ کیاری بنائی تھی اور یہ پودے لگائے تھے۔ ہم نے تواپنے بچپن کی پہلی نظر سے ہی ان پھولوں کو دیکھ رکھا تھا۔ بے بے جس نظر سے ان پھولوں کو دیکھتی تھی، ایسی نظر سے تو کوئی ماں اپنے اکلوتے بچے کو بھی نہیں دیکھتی۔ دیوتا کے سامنے کھڑے کسی عقیدت مند پجاری کی نظروں سے پھولوں کو نہارتی تھی۔ میری بہن نے تو ایک دفعہ کہہ دیا تھا کہ بے بے کوہم سے زیادہ ان پھولوں سے پیار ہے۔ اس بات پر اسے بے بے سے جھڑکیاں بھی پڑی تھیں لیکن ہم جانتے تھے کہ بات ایسی غلط بھی نہیں تھی۔ لگتا تھا کہ بے بے ان پھولوں کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ ہر نیا پھول کھلتا دیکھ بے بے کے چہرے پر جواں جذبے دمکنے لگتے تھے۔ البتہ اس سب کے باوجود بے بے ان پھولوں کے قریب نہیں جاتی تھی۔ یہ بھی نہیں کہ ان پھولوں کی طرف سے بے پروا ہو۔ صبح شام اسے ان پھولوں کی فکر ہوتی تھی لیکن خوداپنے ہاتھوں سے کچھ کرنے کی بجائے ہم بہن بھائیوں سے ان کی دیکھ ریکھ کرواتی تھی۔ خود کبھی کام نہ کرتی۔ صبح پانی دو، شام پانی دو۔ کبھی گوڈی کرنے پر بٹھا دیا، کبھی شاخیں تراشنے پر لگا دیا۔ اُس پودے کی جگہ نیا لگانا ہے، اِس کی نئی قلمیں لگانی ہیں۔ روز ہی کوئی نہ کوئی کام اس کیاری میں نکل آتا تھا۔ ان سب لاڈیوں کے باوجود یہ پھول بھی بے بے کے ہاتھوں کی مار نہیں سہہ پاتے تھے۔ ادھر ہاتھ لگا، ادھر پھول کا بدن ٹھنڈا پڑ گیا۔ کسی اور کو بتائیں تو کوئی یقین ہی نہ کرے لیکن ہم نے ہرے بھرے پودوں کے اوپر بھی یکدم مرجھاتے پھول دیکھے ہیں۔ پودا، ٹہنیاں اور پتیاں ہری رہیں جب کہ پھول وہیں کا وہیں سوکھ گیا۔ یہ تھا بے بے کا لمس۔

بے بے کہتی تھی کہ اس میں سارا قصور تمہارے بابے کا ہے۔ اس نے میرے وجود میں ایسا زہر رکھ چھوڑا ہے کہ کوئی پھول میری قربت سہہ ہی نہیں سکتا۔ بے بے کی اس بات پر ہم بہت حیران ہوتے کیوں کہ اس ایک بات کے علاوہ جب بھی وہ بابے کا ذکر کرتی تواس کے منھ سے چھتے سے تازہ اترا خوشبو دارشہد ٹپکنے لگتاتھا۔ میں اور میری بہنوں نے بابے کو بالکل دیکھا ہی نہ تھا بلکہ ہمارے ابا جی نے بھی نہ دیکھا تھا۔ صرف ان کا نام سنا تھایا ذکر سنتے رہے تھے۔ ہم سب بے بے کی زبانی سنی باتوں سے جانتے تھے کہ بابا کیا تھا اور اس میں کیا گُن تھے۔ بے بے بتاتی ہے کہ بابے جیسا جوان پورے گاؤں میں کیا، پورے علاقے میں نہ ہو گا۔ طاقت میں کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔ دن بھر گاؤں کے مختلف لوگوں کا بلاواآیا رہتا تھا جنہیں طاقت سے کرنے والا کام درپیش ہوتا۔ لوہے کے پھال بنانے کو وزنی ہتھوڑے کی زور دار ضرب چاہیے ہوتی تو سبھی کو ایک ہی شخص یاد آتا۔ دور دراز کے گاؤں دیہاتوں تک جب کسی کنویں کے ستونوں پر کانجن رکھنے کا وقت آتا تو میرے بابے کو ضرور بلایا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک طرف سے چارچار آدمی کندھا دے کے کانجن اٹھاتے تھے اور دوسری طرف سے اکیلا بابا کانجن کو رکھ دیتا تھا۔ کسی کی بارات دوسرے گاؤں جائے تو داخلی راستے پر وزنی مگدر رکھا ہوتا، سبھی جانتے ہوتے کہ یہ مگد ر بارات میں کا کوئی بندہ اٹھائے گا تو بارات آگے جا سکتی ہے۔ ایسے موقع کے لیے میرے بابے کو آواز دی جاتی۔ خیر، بے بے کے بیان تو چلیں محبت کے مبالغے پربھی مبنی ہو سکتے تھے لیکن بابے کی جسمانی طاقت کے قصے میں نے اُن کے کئی ہم عمروں سے بھی سُن رکھے ہیں۔ چار دن کی جوانی میں جانے انہوں نے کتنے کام ایسے کیے تھے کہ ان کے ہم عمر انہیں بھولتے ہی نہ تھے۔ سبھی کے پاس کوئی نہ کوئی نیا قصہ ہوتا تھا اور ان سبھی قصوں کو سن سن کر مجھے یہی لگتا تھا کہ میرا بابا اپنے زمانے کا ہرکولیس ہو گا۔ بے بے کا کرنل بھائی میری کمزور صحت پر مسکرا کر کہتا تھا کہ بھائی صاحب اگر زندہ ہوتے تو اس بڑھاپے میں بھی تم جیسے دو جوانوں کو گھٹنوں تلے دبا کر آرام سے کھانا کھاتے رہتے۔ البتہ ان سب باتوں میں وہ رَس نہ تھا جو بے بے کی تصویر کشی میں ہوتا تھا۔ اُس نے بابے کو جن والہانہ نظروں سے دیکھا تھا، ویسے پُر شوق لفظوں میں اس کو بیان بھی کرتی تھی۔ اُچا لما قد،بھرا بھرا پینڈاجثّہ،مگدر جتنا چوڑا پتھریلا سینہ، چوڑے ہاڈ پیر، سوہنا لشکتا چہرہ، ہونٹوں کے اوپر بھاری بھاری مونچھیں، آنکھوں میں پہاڑوں پر اڑتے باز جیسی چمک، کوری تختی جیسا چکنا ماتھا۔ چارپائی پر لیٹا ہوتا تو چارپائی چھوٹی لگتی۔ جب چٹے تہمد پر چٹا کرتہ اور کندھے پر رانگلا پَرنا رکھے گلیوں سے گزرتا تو اُس کی ٹَور دیکھنے والی ہوتی، لگتا تھا کہ جوانی کا دیوتا اپنا اَصلی روپ دکھانے دھرتی پر اتر آیا ہے۔ اسے گلی سے گزرتے دیکھ گاؤں کی کنواری لڑکیوں کے سانس ان کے سینوں میں اٹک اٹک جاتے۔ جانے کتنی لڑکیوں نے اس کو دکھانے کے لیے نت نئے انداز کے کپڑے سلوائے تھے، وَن سونّی گُت بندھوائی تھی اور رنگو رنگ پراندے پروئے تھے۔ وہ کسی شادی بیاہ میں جاتا تو اُسے دیکھ کر کنواریوں کے دل بے تاب جھانجھروں کی طرح چھنکنے لگتے تھے۔ مگر، بے بے بتاتی تھی کہ وہ نگاہ کا ایسا پاک اور نظر کااتنا سُچا تھا کہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا۔ اس کی ایک مسکراہٹ پر جانے کتنے دل پگھل کر اس کی طرف بہنے کو تیار ہوتے مگر اس کا دل اس کی اکڑی مونچھوں سا سخت تھا اور کسی لڑکی کو کبھی اس کے سرد ہونٹوں پر مسکراہٹ کی گرمی محسوس نہ ہوئی۔

میرے ہوش سنبھالنے سے لے کر آج چالیس سال کی عمر تک میں نے بے بے کے منھ سے ایک ہی شخص کا ذکر سنا۔ بابا۔ دوسرے کسی شخص کا ذکر کرنا بھی پڑے تو حتی الامکان بابے کے ساتھ رشتہ جوڑ کر بتاتی، تمہارے بابے کا باپ، تمہارے بابے کی ماں۔ بابے کابھی نام نہ لیتی تھی بلکہ تمہارا بابا کہہ کر ذکر کرتی مگر کون سی گھڑی نہ تھی جب اس نے یہ ذکر نہ کیا ہو۔ بابا لہوبن کر تمام زندگی بےبے کے انگ انگ میں شامل رہا۔ بے بے کا ہر عمل بابے کے خیال سے نمو پاتا تھا۔ ایسے بابے کے متعلق بے بے کا یہ شکوہ عجیب لگتا تھا۔ ہم نہ سمجھ پاتے کہ اپنے محبوب سے گلہ کس وجہ سے ہے۔ میں نے تو کئی بار پوچھا تھا مگر بے بے یوں ٹال جاتی جیسے سوال سنا ہی نہ ہو۔

جس دن میری بہن کی شادی ہوئی۔ ڈولی رخصت ہو کر گھر سے چلی گئی۔ پورا گھر اداس تھا۔ اماں اور ابا چپ سے تھے۔ میرا دل بھی ہلکا پڑا ہوا تھا لیکن بے بے کی آنکھوں میں خوشی کے دیے ٹمٹما رہے تھے۔ بہن کی تازہ جدائی کے صدمے سے بے حال دل یہ دیکھ کر رہ نہ سکا۔ نم آنکھوں نے بے بے سے پوچھ لیا:’تم اتنی خوش کیوں ہو؟میری پھولوں کے پنگھوڑے میں پلی بہن کو غیر لے گئے اور پتا نہیں اب اس کی زندگی سرکنڈوں کے جنگل میں گزرتی ہے یا تپتے تھلوںمیں۔ اس کی آئندہ زندگی کا سوچ سوچ کر میرا دل پھٹنے کو آ رہا ہے اور تم بیٹھی کھِل رہی ہو۔ تمہاری آنکھوں میں خوشیوں کی لَو چمک رہی ہے۔ کیا تمہیں پوتی سے لگاؤنہ تھا۔‘ یہ سوال کرتے وقت میں جانتا بھی تھا کہ پوتی میں اس کی جان تھی۔ بے بے نے جواب دیا:’پتر! تم عورت نہیں ہو نا، اس لیے تم نہیں جانتے۔ بہن بیٹی کو گھر سے ودیاہ (وداع) کر کے یہی دعا کرتے ہیں کہ اس کا نصیب اچھا ہو۔ اس کے بخت کبھی مرجھائیں نہیں۔ عورت کے نصیبوں میں برا نہ ہو تو اس کا جیون سسرال میں ہی ہوتا ہے۔ سہاگ سے عورت زندگی کے رنگ دیکھتی ہے۔ اکیلی جندڑی چِٹّے لٹھے کی طرح روکھی پھیکی ہوتی ہے۔ ‘بے بے کی آنکھیں بھیگنے لگیں تو میں نے جھٹ کہہ دیا:’بابا یاد آرہا ہے کیا؟ ‘ بے بے کی آنکھوں میں بابے کا تصورسرخ لاچا باندھے رقصاں تھا، آج قصہ چھیڑ بیٹھی۔ ’وہ بھولتا ہی کب ہے۔ زندگی اسی کے ساتھ گزری ہے۔ سار ی خوشیاں، سارے غم اسی کے سانجھے میں گزرے ہیں۔ ‘ برسوں سے مچلتا تجسس بول اٹھا:’ تو پھر بابے سے گِلہ کیوں کرتی ہو؟‘بے بے کی آنکھوں میں دُکھ کے سائے لہرانے لگے۔ ’تمہارے بابے سے مجھے دو ہی گِلے ہیں۔ ایک یہ کہ مجھے اتنا جلدی کیوں چھوڑ کے چلا گیا تھا۔ دوسرا گِلہ جو بے بے نے سنایا تھا، وہ تفصیل طلب ہے۔ بے بے کے الفاظ کی بجائے میں اپنے انداز میں بتاتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بے بے ابھی نئی نئی جوان ہوئی تھی، عمرپندرہ یا ساڑھے پندرہ ہو گی۔ دودھ مکھن کی پلی، گورا چٹا رنگ تھا۔ نزاکت میں اپنی مثال آپ تھی۔ گاؤں میں اس جیسی حسین بھی کوئی کم ہو گی، اس پر مستزاد ملکانی تھی اور اونچے نخرے والے گھر کی لڑکی تھی۔ حسن کی دولت فرواں تھی مگر کاجل کے بوجھ سے جھکی آنکھوں میں ایسی معصومیت تھی کہ زمانے بھر کی گناہ گار نظریں بھی حیا سے شرما جائیں۔ بے بے اپنی مست جوانی کے نشے میں جانے کب میرے بابے کی بے پروا اَکھ پر فدا ہو گئی جو اسے کبھی دیکھتی بھی نہ تھی۔ اس بے طرح آگ کی تپش نے بے بے کو یہ بھی دیکھنے نہ دیا کہ وہ ملکانی ہے اور بابا ایک عام واہک جس کے پاس محض چودہ بیگھے زمین ہے۔ وہ سوہنا ہے،تنو مند ہے لیکن اس کے پاس زندگی گزارنے کے وہ وسائل نہیں ہیں جو اسے باپ کے گھر میسر ہیں۔ عشق کا غبار اسے یہ حقیقت دیکھنے بھی نہ دیتا تھا کہ وہ زندگی میں دوبارہ اِس سُکھ کے خواب بھی نہ دیکھ سکے گی جو ابھی اس کے چاروں طرف رقص کرتا ہے۔

بے بے کی کسی نے نہ سنی تھی لیکن بے بے اپنی ضد پر قائم رہی۔ اس کی ہَٹ پر والدین کو ہار ماننی پڑی اور رشتہ طے ہو گیا۔ بے بے شادی سے پہلے خاصی شوخ مزاج اور چاؤ چونچلوں والی تھی۔ ملکانی ہونے کی وجہ سے اس کا نخرہ بنتا بھی تھا۔ بابے کے ساتھ محبت بھی اور شادی بھی اپنی مرضی سے کی تھی۔ اسے بابے سے کچھ درکار نہ تھا۔ البتہ شادی سے پہلے اس نے بابے سے اپنی اس خواہش کا اظہارکیا تھا کہ جب ان کے وصل کی رات ہو تو مسہری پھولوں سے سجی ہونی چاہیے، اصلی گلابوں سے جن کی مہک سے پوری رات اس کے حواس پر مستی چھائی رہے اوراس مہکتی رات کا نشیلا خمار کبھی اس کی یادوں سے محو نہ ہو پائے۔ بے بے نے اپنی ایک مسیر کی مسہری دیکھی تھی۔ اس پر اپنے سہاگ کے انتظار میں بیٹھی نئی نویلی دلہن کا نظارہ بے بے کے خیا ل میں کسی بھی لڑکی کی زندگی کا سب سے حسین اور یادگار نظارہ تھا۔ بے بے کے دل میں بھی یہ حسرت تھی کہ اس کی مسہری بھی پھولوں سے لدی ہوئی ہو اور وہ اسی طرح وصل کے خیال سے مہکتی ہوئی اس پر بیٹھی اپنے محبوب کا انتظار کرے۔

لڑکے والوں نے بارات سے پہلے بھی اور بارات کے دن بھی شادی کی رسومات کچھ زیادہ نہ کروائی تھیں اور ہر پل یہی لگتا کہ اس خوشی کے موقع پر بھی انہیں بچت کی سوجھ رہی ہے۔ دولہے والوں کا یہ رویہ بے بے کے گھر میں سب نے محسوس کیا تھا اور ایجاب و قبول سے پہلے ہی بے بے تک چہ میگوئیاں پہنچ گئی تھیں لیکن بابے کی محبت میں شرابور وہ ان فضول باتوں کو خاطر میں نہ لائی۔ اس کا ذہن تو آنے والی رات کے پھولوں بھرے گلنار تصورسے مخمور تھا لیکن جب بے بے سہاگ کی مسہری تک پہنچی تو وہاں عجب منظر تھا۔ نواڑ کا پلنگ بچھا تھا جس پر پلاسٹک کے پھولوں کی چند لڑیوں سے برائے نام سجاوٹ کی گئی تھی۔ وہ جب مسہری پر بیٹھی تو ارد گرد لٹکتے بے جان پھول اس کے کومل احساس پر چبھنے لگے۔ بابا سادہ جٹ آدمی تھا، ملکانی کی دلار بھری خواہش کی نزاکت نہ سمجھ پایا اور بھلا بیٹھا تھا۔ بے بے کا دل جو اپنے محبوب کی بانہوں میں سمٹنے کے لیے بے تاب تھا، اپنے ارمانوں کی یہ بے جان صورت دیکھ کر بجھ گیا۔ بابے نے بھی اس فاصلے کو محسوس کیا اور اپنی عاشق بیوی سے اس بے رخی، بے نیازی کا سبب پوچھا۔ بے بے نے،جس کے گال جواں جذبوں کی آگ سے دہکتے تھے، بجھ کر بابے کو سبب بتایا۔ بابے نے شرمندہ ہوکروقتی عذر پیش کیا اور پھر کبھی موقع دیکھ کر مسہری سجوا کر اس پر بیوی کو بٹھانے کا وعدہ کیا۔ بے بے کا دل یہ سن کر بہل تو گیا مگر بابے کا ہو نہ سکا۔ یو ں تو یہ دل دھڑکتا بابے کے لیے ہی تھا لیکن اس حسرت میں ایسا دھواں تھا کہ بے بے کے دل میں بابے کے نام کا دیا جلنے نہ پایا۔ دُکھ کی سواہ اس کے وجود کی تہہ میں بیٹھ گئی اور وہیں جمتی رہی۔

بابے کے اس وعدے کے انتظار میں بے بے بیٹھی رہی۔ پورا وجود بابے کو سونپ چکی تھی لیکن دل کبھی بابے کو نہ دے پائی۔ یہ دل منتظر رہا کہ کب بابا پھولوں سے بھری مسہری لگوائے گا،کس دن وہ اس کے وصال کی مہکتی ہوئی دولت سے مالا مال ہو گی اور تب دل پوری طرح اس کاہو جائے گا۔ ادھر بابا جٹ آدمی تھا،لطیف جذبات سے عاری،مشقتوں تلے دبا ہوا، اوپر سے غربت پاؤں جکڑ لیتی تھی، اس وعدے کو پورا کرنے میں کبھی سنجیدہ نہ ہوا۔ اگر پورا کرنا چاہتابھی تو کرتا کیسے۔چودہ بیگھے کی ہل واہی صرف اشد ضرورتیں پوری کرتی تھی۔ پیٹ بھر جاتا تھا، تن ڈھک جاتا تھا اور گاؤں کی پنچایت میں چٹا صافہ باندھ کر بیٹھنے لائق ہو جاتا تھا۔ اس کے پاس نقد روپیہ تو کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ بے بے خود بتاتی ہے کہ بیاہ کے ڈیڑھ سال میں اس نے صرف دو دفعہ روپے کا سکہ ہتھیلی پردیکھا تھا ورنہ لین دین ہمیشہ گندم کے بدلے ہی ہوتا تھا۔ بے چارہ بابا پندرہ سے سترہ روپے خرچ کر کے مسہری لگواتا کیسے۔ بے بے اسی مسہری کے انتظار میں مرجھائی رہی مگر مسہری نے سجنا تھا نہ ہی سجی۔

بے بے کو اپنی زندگی کی ہر خوشی حاصل تھی مگراس نے بتایا کہ مسہری کا دکھ ایک دفعہ بھی اس کے دل سے نہ نکلا تھا۔ کانٹے سا چبھتا تھا۔ خوشیوں بھرے پل گزرتے رہے۔ بابے کا پیار بے بے کے وجود کی گہرائیوں میں اتر کر نمو پا نے لگا اور شادی کے ایک سال بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ یہ میرے ابا جی تھے۔ اس تحفے کو پا کر دونوں خوش تھے۔ بابا خود اکیلا بھائی تھا، پھولے نہ سماتا تھا کہ اتنی جوان عمر میں بیٹا مل گیا۔ بھائی کی طرح ساتھ کھڑا ہو ا کرے گا۔

ہمارے ابا جی ڈیڑھ سال کے ہوئے تھے اور بے بے کے بیاہ کو تین سال ؛ بے بے کی عمر بیس سال ہوگی اور بابے کی چوبیس کہ بابا دنیا سے رخصت ہوگیا۔ چلتا پھرتا ایک دن چارپائی پر لیٹا اور پھر اٹھ نہ سکا۔ اس کی چارپائی لے کر برادری کے لوگ شہر تک بھاگے مگر اس کے سانس پورے ہو چکے تھے۔ جو علامتیں بتائی جاتی ہیں،ان سے میرا اندازہ ہے کہ شاید بابے کی اپنڈکس پھٹ گئی تھی۔ بے بے بھری جوانی میں رانڈ ہو گئی۔ ابھی دھان کی طرح نِسری تھی، لچکیلی، مہکتی، ہری کچور اور ابھی باجرے کا ٹانڈہ ہو گئی، سوکھی، سڑی اور پھیکی۔ ساس سسر کا ایک ہی بیٹا تھا، ان کا دکھ اپنی جگہ لیکن انہیں زیادہ افسوس بے بے کا تھا۔ اگر ان کا کوئی اور بیٹا ہوتا تو شاید اس کے ساتھ بہو کو بیاہنے کا سوچا کرتے لیکن صرف جوان بہو کواکیلے گھر میں بورائی پھرتی دیکھ دیکھ گھُلتے تھے۔ انہوں نے بارہا بے بے سے کہا کہ ماں باپ کے گھر لوٹ جائے اور دوبارہ شادی کر لے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے۔ مگر بے بے نے،جو اس وقت بے بے تو نہ تھی، جوانی کی تپش سے دمکتی، امنگوں سے چھلکتی ہو گی، کسی اور کا ہونے کا سوچا بھی نہیں۔ بابے کی ہو گئی تھی، اب اسی کی تھی۔ بیٹے کو سینے سے لگائے کہ اب وہی اسے بابے کی جگہ لگتا تھا، سا س سسر کے پاس ٹھہری رہی۔ اپنے ماں باپ، سبھی بھائی اصرارکرتے رہے کہ واپس آ جاؤ،ایک دفعہ زبردستی بے بے کا سامان بھی اٹھا کے لے گئے لیکن بے بے اپنی محبت پر جمی رہی۔ کوئی آندھی، کوئی طوفان اسے اکھاڑ نہ سکا۔ ملکانی تھی، گاؤں میں ان کی خاصی جاگیر تھی۔ ماں باپ کے پاس زندگی کی ہر سہولت موجود تھی۔ اکیلے رہتی تب بھی ٹھاٹھ کرتی اور کسی اپنے جیسے گھرانے میں شادی ہو جاتی تو پھر بھی راج کرتی۔ لیکن اسے اپنے رانجھن کا گھر چھوڑنا گوارا نہ تھا۔ ساس سسر غریب تھے، صبح سے شام محنت، مشقت کرتے تب جا کر روکھی سوکھی کھانے کے قابل ہوتے تھے۔ اس گھر میں کوئی فرد فارغ بیٹھ رہے تو گھر کی بنیادیں بیٹھ سکتی تھیں لیکن پھر بھی انہوں نے بہو کو انگلی کا چھالہ بنا کے رکھا۔ ملکانی ہونے کا مان رکھا اورکسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیا۔ اسے کبھی گھر سے باہر پاؤں نہ رکھناپڑا۔ کھیتی، زمینداری، مال ڈنگر اور گھر کی ذمہ داریاں انہوں نے خود سنبھالے رکھیں۔ بہو اونچے گھر کی تھی، اسے خود سے اونچا ہی بٹھائے رکھا۔ بے بے کو کچھ بھی نہ کرنا پڑتا۔ بس یکسوئی سے اپنے بچے کا خیال رکھتی تھی۔ فکر نہ پریشانی۔ اُڑتا پٹولہ بن کر عمرگزاری تھی۔ کھیتی کے سہارے اور وہ بھی چودہ بیگھوں کا مالک،کیسے جی سکتا ہے۔ ان سب نے مشکل سے بسر کی۔ جب ساس سسر رخصت ہوئے تب زمین ٹھیکے پردینی پڑی مگر تب تک بیٹا جوان ہو کر دبئی چلا گیا تھا اور زندگی کے دن آسان ہو گئے تھے۔

بے بے نے بابے کے بعد تریسٹھ سال گزارے تھے۔ میں بابے کے مرنے کے تیئس سال بعد پیدا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ تیئس سال بے بے نے کیسے گزارے۔ مجھے تو آخر ی چالیس برسوں کا حال معلوم ہے۔ یہ چالیس سال گویا مجھ پر بھی بیتے ہیں۔ بچہ تھا تو اس نے میرے اُس بابے کی محبت میرے دل میں ڈال تھی جسے میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ بابے کا حلیہ، بابے کی عادتیں، اس کی ایک ایک ادا؛بے بے نے اتنی دفعہ سب بتایا تھاکہ مجھے لگتا ہے میں نے سنا نہیں، دیکھ رکھا ہے۔ بابا بیلوں کے پیچھے چلتا زمین میں ہل گڑوتا تو اس کی طاقت کے آگے بیل بھی عاجز آنے لگتے۔ گھر میں داخل ہوتا تو چوکھٹ سے جھک کے گزرنا پڑتا تھا۔ کمرے کے دروازے میں کھڑا ہوتا تو روشنی کو بھی درز نہ ملتی تھی۔ بابا جب کھانے بیٹھتا تو پاس بیٹھا شخص روٹیوں کی گنتی بھول جاتا تھا۔ لسّی کا پورا دَور ایک سانس میں پی مارتا تھا۔ اسے بھنڈیوں کی لیس زہر لگتی تھی اور بینگن کا رنگ آنکھوں کو کاٹتا تھا۔ جب کبھی لوہار نے درانتی، کھرپے، کسّی، بیلچے کے نئے پھال بنانے ہوں تو سارا دن وزنی بدان چلانے کے لیے اسے گاؤں میں ایک ہی آدمی ملتا تھا، بابا۔ برادری کی پنچایت میں بابے کے بغیر فیصلہ نہ ہوتا تھا۔ بیلوں کو، بھینسوں کو کاڑھا پلانا ہو تو یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ پھلہ لگانا ہو، سمیٹنا ہو، گندم کا پسّا لگانا ہو، سبھی کاموں میں اس جیسا سلیقہ کسی میں نہ تھا۔ رفتہ رفتہ بابے کی محبت میرے دل میں اپنی جگہ بنانے لگی تھی۔ جوان ہونے تک میں اپنے ان دیکھے بابے کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہو چکا تھا۔ سو بے بے جب کبھی بابے سے جدائی کے دکھ میں جلتی ہوتی تو مجھے اپنی ہڈیاں بھی اسی آگ سے تڑختی محسوس ہوتیں۔ بابا اپنی خوبیوں کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے اچھا لگتا تھا کہ وہ میری بے بے کا محبوب تھا۔ میری بے بے، جس نے مجھے وہ انمول محبت دی جس کا بدل دنیا میں کوئی اور ہستی نہیں دے سکتی۔ ماں نے زندگی دی، باپ نے زندگی کا مان سمجھالیکن بے بے نے جو پیار دیا، وہ مجھے کہیں اور سے نہ مل سکتا تھا۔ بے بے نے مجھے اسی پیار میں سے حصہ دیا جو ابدی شکل میں اسے بابے کے ساتھ تھا۔ بے بے کی ایک چمی میں مجھے تین پیار ملتے تھے۔ ایک تو میں بے بے کا پوتا تھا، دوسرے اکلوتا تھا اور تیسرے میری صورت میرے بابے سے ملتی تھی۔

بے بے کی حالت دیکھ کر میں تصور کر سکتا ہوں کہ بابے کی وفات کے بعدبے بے کے دن کیسے اُجڑ گئے ہوں گے۔ جس عمر میں ہاتھوں پر خوشیوں کی شوخ رنگ مہندی لگتی ہے، اس عمر میں بے بے کے سینے میں ارمانوں کا خون ہو گیا تھا۔ امڈتی جوانی جو بابے کی توانا بانہوں کی چھاؤں میں ٹھنڈے ٹھار گزر جانی تھی، یک دم تپتی دھوپ میں آ گئی تھی۔ ا س عمر میں فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ زندگی اکیلے گزاری جائے لیکن بے بے نے ذرا پروا نہ کی تھی۔

بے بے ہمارے بابے کا نام نہیں لیتی تھی لیکن زندگی اس نے بابے کے نام پر ہی گزاری۔ نہ کسی غیر مرد کی طرف دیکھا نہ کسی غیر کا سایہ اس کے سایے کے قریب سے گزر سکا۔ بابے کے ذکر سے اس کی صبح ہوتی تھی، بابے کو یاد کرتی تو دن گزرتا تھا اور اسی کے روشن خیالوں سے اس کی اکیلی تاریک راتیں جگمگاتی تھیں۔ بے بے پانچ وقت نماز کی پابند تھی۔ قضا کرتے کبھی نہ دیکھا۔ ہر نماز کے بعد بہت دیر تک دعا کرتی رہتی۔ سب کہے بغیر جانتے تھے کہ یہ بابے کے لیے تھیں۔ بے بے بتاتی تھی کہ ہمارا بابا نمازی نہ تھا۔ شادی کے بعد تین سال اکٹھے گزرے مگر بابے نے کبھی نماز نہ پڑھی۔ جوانی کے اندھے نشے میں اس کا سر جھکتا ہی نہ تھا۔ کہتا تھا کبھی جب بوڑھے ہوں گے، ہاتھ پیر کام نہ کریں گے،کمر جھک جائے گی تب لاٹھی ٹیکتے مسجد کے چکر لگایا کریں گے۔ ابھی جوانی اور طاقت کام کرنے کے لیے ہے، سو کام ہی کرتے ہیں۔ دعاؤں کے علاوہ بابے کے نام پر ہفتہ وار’ختم‘ بھی پورے اہتمام سے ہوتا تھا۔ ہر جمعرات کی شام مغرب کی آخری رکعت کے سلام پھیرتے ہی بے بے امیدانہ رسوئی کی طرف دیکھنے لگتی۔ پہلے میری اماں ا ورمیری شادی کے بعد میری بیوی ’ختم‘ کا سامان لیے تیار ہوتی تھیں۔ سامان زیادہ کچھ نہ ہوتا لیکن اتنا ضرورہوتا کہ جوان آدمی اگر کھاتا تو پیٹ بھر کے اٹھتا۔ بے بے کہتی تھی کہ ’جمعرات کی شام ہوتے ہی گزری روحیں گھر کی منڈیر پر آ بیٹھتی ہیں اور آخرت کی دنیا کے لیے زادِ راہ سمیٹ لے جاتی ہیں۔ جس گھر سے مل جائے، وہاں سے روحیں خوش خوش جاتی ہیں اور جس گھر سے کچھ نہ ملے، وہاں سے روتی ہوئی جاتی ہیں۔ جو ثواب انہیں یہاں سے ملتا ہے، وہ آخرت کی دنیا میں جا اپنے کھاتے میں جمع کراتی ہیں۔ ‘ بے بے کی وضع داری کا کمال ہے کہ تریسٹھ برسوں میں ایک دفعہ بھی بابے کی روح خالی ہاتھ نہ لوٹی ہو گی۔ آخرت کی دنیامیں اس کی کمائی بڑھتی گئی ہو گی۔

قبرستان جاتے رہنا بے بے کا معمول تھا۔ کچھ دن اور تہوار مخصوص بھی تھے۔ جمعہ کی صبح قبرستان جانا اور بابے کی قبر پر پنج سورۃ پڑھنا بے بے کے لیے لازم تھا اورہر خاص اسلامی دن پر پورے اہتمام کے ساتھ جاتی تھی۔ محرم، شب برات، شب معراج، شب قدر، عید میلاد النبی، حج اور عیدین کوئی دن بابے کے بغیر آغاز نہ کر تی تھی۔ تغاری میں کھرپا، درانتی لے کر بابے کی قبر پر پہنچ جاتی۔ خاص لگاؤ سے اُس کی صفائی کرتی۔ جھاڑ جھنکار صاف کر کے تازہ مٹی ڈالتی۔ اگر کوئی جھاڑی یا پودا اُگے ہوتے تو رکھوالے سے کٹوا دیتی۔ پھراُس پر اگر بتیاں لگاتی جِن کا دھواں پھیلنے سے ماحول گاڑھی خوشبو سے بوجھل ہو جاتا۔ کوئی اچھا موقع ہوتا تو اس دن صبح سب سے پہلے بابے کے پاس جا کے حاضری دیتی۔ ہزار خوشی ہو،لاکھ مصروفیت ہو،بے بے صبح صبح ضرور قبرستان جاتی اور وہاں ہمارے بابے کے ساتھ پتا نہیں کیا کیا باتیں کر کے روتی رہتی۔ وہاں رو کر آتی تو خوشی میں شامل ہو پاتی تھی۔ ہمیں کبھی معلوم نہیں ہوا کہ بے بے کیا باتیں کر کے روتی تھی لیکن سمجھ تو سکتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ یقینا بے بے کے اتنے دُکھ بھرے آنسو دیکھ کر قبر کے اندربابا بھی رو پڑتا ہو گا۔ کہتی تھی کہ تمہارے بابے کے بغیر میری کوئی خوشی ہے ہی کدھر۔ اُس کا نام نہ لوں، اس کے سرہانے جا کر نہ بیٹھوں تو خوشی پر نحوست چھاجاتی ہے۔ خوشی پھر بھی بے بے سے برداشت ہو جاتی تھی، دُکھ کی ہلکی سی چھایا بھی آتی تو بے بے سے رہا نہ جاتا۔ بابے کے پاس جا کے پناہ لے لیتی۔ کسی فکر، پریشانی کا سامنا ہو تو بابے کی پائینتی بیٹھ کر پہروں ڈسکورے بھرتی رہتی۔ وہ بے بے کی زندگی میں ابھی تک پوری طرح شامل تھا۔

ان سب معمولات کے ساتھ بے بے ایک ایسی رسم بھی باقاعدگی سے نبھاتی تھی جو ہمیں بہت حیران کرتی تھی۔ ویہڑے میں بنی بےبے کی کیاری میں سدا بہار گلاب تھے۔ بے بے اِن کی بہت دیکھ بھال کرتی تھی۔ بہار کے موسم میں ان پھولوں پر جوبن ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی سارا سال اس میں گلاب کھِلے رہتے تھے۔ سیج کے سرخ اور سدا بہارگلاب۔ بے بے قبرستان جانے سے پہلے ہمیں کہہ کر جتنے پھول لگے ہوتے، سبھی اتروا کے تھیلے میں ڈلوا کرساتھ لے جاتی۔ جب خوب خوب رو چکتی، جی بھر کے دعا مانگ لیتی تو پھولوں کو اپنے ہاتھوں سے پتی پتی کر کے بابے کی قبر پر پیار سے بکھیرنے لگتی۔ پھول جو چند لمحے پہلے خوشبو سے ماحول کو مہکائے ہوتے تھے، بے بے کے ہاتھوں کے لمس سے یک دم مرجھا کرمردہ ہو جاتے، خوشبو کا نام تک نہ رہتا۔ بابے کی قبر پر پڑے یہ پھول یوں لگتے جیسے پھول نہ ہوں، پھولوں کی لاشیں ہوں۔ جیسے بے بے نے قبر پر پھول نہ بکھیرے ہوں، مردے کو کنکریاں ماری ہوں۔ بے بے کی رگوں میں بابے کی وعدہ شکنی نے جانے کیسا زہر بھر دیا تھا۔ ہم اکثر بے بے کو کہتے کہ پھول ہم پھینک دیا کریں گے، اگر مرجھا کر ہی پھینکنے ہیں تو پھر پھینکنے کا فائدہ کیا۔ بے بے کی جلتی آنکھیں بتاتی تھیں کہ ایسے مرجھائے پھول قبر پر ڈال کر وہ بابے کو یاد دلاتی ہے کہ پھولوں بھری سیج کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ ابھی بھی خوشبوئوں سے لدی سیج پر لیٹ کر اپنا دل، اپنی سلگتی جوانی بابے کو سونپنے کا خواب اس کی آنکھوں میں رڑکتا ہے۔ اگر اسے خوشبو والے پھول ملنے لگے تو بیوی کے سینے کا سینک اُس تک کیسے پہنچے گا۔

مجھے بے بے کے ساتھ قبرستان جانے کااکثرموقع ملتا تھا۔ کئی دفعہ بے بے نے مجھ سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا تھا۔ خواہش عجیب تھی اور ہمارے گاؤں کے قبرستان کے حالات دیکھتے ہوئے ناممکن۔ ہمارے قبرستان کے گرد،شہرکے قبرستانوں کی مانند، چاردیواری نہیں تھی۔ کھلے میں قبروں کا ایک بہت بڑ اجھنڈ تھا جہاں گزشتہ دو سو سال کے مردے دفن تھے۔ قبرستان کی کوئی حد بندی نہیں تھی۔ بس اتنا تھا کہ جہاں تک قبریں ہیں، وہ قبرستان ہے۔ اس کے چاروں طرف کھیت تھے جہاں فصلیں کاشت ہوتی تھیں۔ اگر قبرستان میں کوئی مردہ مزید نگلنے کی گنجائش نہ رہے تو کوئی نہ کوئی زمین دار اپنی متصل زمین قبرستان کے لیے وقف کر دیتا یا قبرستان کمیٹی اپنے جمع کردہ چندے سے جگہ خرید کر ساتھ شامل کر دیتی۔ اس میں کوئی ترتیب نہ ہوتی اور قبرستان کوچاروں طرف سے جدھر بھی جگہ ملتی، ادرک کی طرح ادھر سے پھیلنے لگتا۔ قبریں بہت گنجان تھیں، لوگوں کی یہی خواہش ہوتی کہ ایک کرم جگہ بھی خالی نہ رہے۔ جہاں کوئی خالی جگہ نظر آتی، وہاں کسی نہ کسی مردے کو ٹھونس دیا جاتا۔ قبرستان کے مرکز میں جہاں شاید ڈیڑھ دو سو سال پہلے کوئی مردے دفنائے گئے تھے، وہاں سے لے کر قبرستان کے بیرونی سروں تک کوئی جگہ خالی نہ تھی۔ قبر کے ساتھ جوڑ کر دوسری قبر کھودی گئی تھی۔ اگر کہیں خالی جگہ رہ بھی جائے تو کچھ ہی دنوں میں وہاں سنگِ مر مر کی نئی تختی لگی ہوگی۔ اس وجہ سے قبرستان کے اندر کوئی جگہ خالی نہ رہی تھی اور باوجود ہزار خواہش کے کوئی اپنے کسی پیارے کے ساتھ دفن نہ ہو سکتا تھا۔ کئی دفعہ ایسے ہوا کہ قبرستان کے درمیان میں جہاں جھاڑ جھنکار زیادہ تھا اور موجود قبروں پر 1880ء کے آس پاس کی تختیاں لگی تھیں، کسی نے خالی جگہ دیکھ کر اپنا مردہ دفنانا چاہا لیکن چار فٹ نیچے جانے پر بیلچے الٹے گھڑوں سے ٹکرانے لگتے۔ (بزرگ بتاتے ہیں کہ مدتوں پہلے آج کل کی طرح لحد پر پتھر کی سلیں رکھنے کی بجائے الٹے گھڑے رکھے جاتے تھے۔ ) اس قبر کواحترام سے دوبارہ پاٹ دیا جاتا۔

کچھ مدت سے ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک نیا رواج چل نکلاتھا۔ لوگوں کے دل میں اپنے پیاروں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش ہمیشہ سے رہی ہے۔ ہمارے گاؤں میں اس سوچ نے نیا رنگ اختیار کیا۔ جب گھر کا کوئی ایک فرد کسی جگہ دفن ہوتا تو اس گھر کے باقی زندہ افراد کی خواہش ہوتی کہ جب ان کا وقت پورا ہوتو انہیں دفن کے لیے اس کے آس پاس جگہ ملے۔ یہ خواہش صرف آرزو کی بات نہ تھی، لوگ اس کے لیے عملی کوشش بھی کرتے تھے۔ آج ایک مردہ دفن ہوتا، کل اس کے بہن بھائی، ماں باپ کی کل تعداد گن کر اتنی قبروں کی جگہ ناپ کر اس کے چاروں طرف دیوارچی سے چاردیواری بنا دی جاتی۔ لوگوں کو تسلی ہوجاتی تھی کہ سب اپنے اکٹھے دفن ہوں گے۔ ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ مرنے سے پہلے اپنی مخصوص جگہ دیکھ کرآدمی کو روحانی تشفی ملتی تھی اوربعد از وفات اسے اپنے خون کے رشتوں کے پاس دفن دیکھ کر اس کے لواحقین کو طمانیتِ قلبی بھی میسر ہو جاتی۔

قبرستان کی جگہ کسی کی ملکیت نہیں تھی۔ اس کا نظام ایک کمیٹی چلاتی تھی جو میت کی تدفین پر کوئی پائی پیسہ وصول نہ کرتی۔ فی سبیل اللہ کام تھا۔ سارا نظام چندے پر چلتا تھا۔ پہلے پہل کمیٹی نے لوگوں کی یہ در اندازی نظر انداز کی، پھر جب یہ چلن عام ہونے لگا تو کمیٹی والوں نے بھی کاروباری ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ ایسے خاندانوں سے جو اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا چاہتے، ان سے اس زمین کی قیمت لے کرجگہ دی جاتی اور حاصل شدہ رقم سے مزید کچھ زمین خرید کر قبرستان میں شامل کر دی جاتی۔ خاندانی شرف اور دولت پر نازاں لوگ اپنے خاندان بھر کے لیے جگہ مخصوص کر لیتے جب کہ غریب لوگ ایسے ہی اکیلے دُکیلے دفن ہوتے۔ گاؤں کے تقریباً ہر اچھے اور قابلِ ذکر خاندان نے اپنے لیے جگہ مخصوص کر رکھی تھی۔ ایسی جگہ کے گرد چاردیواری لگی ہوتی۔ چاردیواری پر خوبصورت ٹائلیں لگی ہوتیں اور قبروں کی آرائش بڑھ چڑھ کرکی جاتی۔ شان و شوکت کے جن مظاہر کا مقابلہ زندگی میں ہوتا تھا، اب موت کے بعد بھی وہی مقابلہ شروع ہو گیا تھا۔ سب کی یہی خواہش ہوتی کہ اپنے خاندان کا امتیاز قائم کرنے کے لیے قبرستان میں دو تین مرلے جگہ حاصل کر لیں۔ جگہ پر قبضہ جمانے کی اس دوڑ میں وہ لوگ زیادہ مستعد تھے جو یورپ اور امریکہ یا خلیجی ممالک میں اپنے خاندانوں سمیت رہائش پذیر ہیں۔ یہ لوگ جب کسی پیارے کی میت واپس لے کر آتے تو ان کی خواہش ہوتی کہ کسی اپنے سگے کے ساتھ دفن ہوں، اگر کسی اجنبی کے ساتھ ہی دفن ہونا ہے تو باہر ہی کیوں نہ مٹی ہو جائیں۔ ایسے لوگ جب اپنا کوئی ایک پیارا دفن کر دیتے تو اس کے آس پاس کی جگہ اپنی برادری کے باقی بزرگوں کے لیے مَل لیتے۔ کمیٹی کو اس جگہ کی معقول قیمت ادا کر کے اس کی اپنی حیثیت کے مطابق آرائش کر لیتے۔ کسی خاندان کی عظمت اسی میں جھلکتی تھی کہ اس کے کتنے لوگ ایک جگہ اکٹھے دفن ہیں۔ جیسے قبائلی جیون میں زندہ لوگوں کے سروں کی تعداد سے قبیلے کی بڑائی کا اندازہ ہوتاتھا، ایسے ہی یہاں مرنے کے بعد تختیوں کی اکٹھی تعدادخاند ان کی برتری قائم کرنے لگی تھی۔ اگر کسی خاندان کی قبریں مختلف جگہ پر بکھری ہوتیں تو انہیں قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا اور وہ خود بھی قبرستان میں جاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے تھے۔

اس طریقے سے جگہ پر قابض ہوئے بغیر اگر کوئی یہ خواہش کرے کہ اس کے مرنے پر اس کی قبر اس کے کسی قریبی عزیز کے سا تھ بنائی جائے تو آرزو امکان کی حدوں سے باہر نظر آتی تھی۔ ایک سال کے دوران قبر کے چاروں طرف درجنوں غیروں کی قبریں چھاؤنی جمائے پڑی ہوتی ہیں۔ ادھر ہماری پاگل بے بے چاہتی تھی کہ وہ مرے تو اُس کی قبر بابے کے پہلو میں بنائی جائے۔ اس خواہش کا اظہار پہلی بار اس نے اپنے بڑے بھائی سے کیا تھا۔ وہ فوج کا ریٹائر ڈکرنل تھا اور شہر میں رہتا تھا۔ نانا کی وفات پر گاؤں آیا تو اس نے باپ کی قبر کے ساتھ چھ قبروں کی مزید جگہ کے پیسے دے کر ایک چار دیواری تعمیر کروا دی۔ وہاں سے فارغ ہو کر وہ ہمارے گھر آیا اور بے بے کے پاس بیٹھ گیا۔ باتوں کے دوران اس نے بے بے کو بتایا کہ اس نے جو چھ قبروں کی جگہ خریدی ہے، وہ اپنے ماں باپ، چاروں بھائیوں اور بہن کے لیے ہے۔ بے بے کا چہرہ تمتما اٹھا اور اس نے وہیں اپنے بھائی کو ٹوک دیا۔

’’نہیں! ہر گز نہیں!میں کسی صورت بھی وہاں دفن نہیں ہو گی۔ ‘‘

بے بے کا بھائی حیران رہ گیا۔ بے بے کے چہرے کو تکتا رہا اور پھر حیرانی سے پوچھا:’’پر بہن! اس میں غلط کیا ہے؟ تمہیں اپنے ماں باپ کا ساتھ گوارا نہیں ہے کیا؟یابھائیو ں سے ناراضی ہے؟‘‘

’’نہ بھائی۔ تم لوگوں سے کیوں ناراض ہوں گی۔ میں نے اپنی جگہ پہلے سے ہی مَل رکھی ہے۔ ‘‘
’’وہ کہاں؟ پہلے کبھی بتایا نہیں۔ ‘‘
’’یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ جہاں میرے سر کا سائیں ہے، میں بھی وہیں جاؤں گی نا۔ ‘‘
’’پر وہ تو قبرستان کے عین درمیان میں ہے۔ قبر پر قبر چڑھی ہے۔ تمہارے لیے ادھر جگہ کہاں سے ملے گی؟‘‘
’’تم لوگ کبھی اس کی قبر پر جاؤ تو پتا چلے نا۔ میں جاتی رہتی ہوں،مجھے پتا ہے۔ اس کے دائیں پہلو میں ابھی تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ بس اسی جگہ کو میں نے مَل رکھا ہے۔ ‘‘
’’مگر وہاں کسی نے چاردیواری بنائی ہی نہیں۔ ‘‘
’’قبر کے لیے قبضہ ضروری ہے؟ دل کی ملکیت کافی نہیں ؟ جس دن احسان کا بابا دفن ہوا تھا، اسی دن میں نے اپنے لیے جگہ مَل لی تھی۔ ‘‘
’’لیکن خالی جگہ قبرستان میں کون چھوڑتا ہے؟ جانے کب کسی کو ادھر دفن کر دیا جائے۔ تمہاری حسرت دل میں ہی رہ جائے گی۔ ‘‘
’’چالیس سال ہو گئے اسے وہاں لیٹے۔ آج تک کسی کی جرأت نہیں ہوئی اس کے ساتھ قبر کھودنے کی۔ آگے بھی دیکھ لینا، وہاں کوئی نہیں آئے گا۔ وہ جگہ میں نے پکی مَل رکھی ہے۔ ‘‘
’’تو تمہارا بیٹا اب خوشحال ہے۔ تھوڑے سے پیسے خرچ کر لو۔ وہ جگہ خرید کے اپنے لیے چاردیواری بنا دو۔ ‘‘
’’ وہ جگہ ہے ہی میری۔ چاردیواری کی ضرورت ہی نہیں؟ اپنی جگہ کون خریدتا ہے ؟‘‘
’’لیکن اگر کسی اور نے وہاں قبر بنا لی توپھر۔۔۔؟‘‘
’’ہر گز نہیں۔۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ میری ملکیت ہے۔‘‘
’’پر بہن! اس جگہ دن کو بھی ڈر لگتا ہے۔ ہماری طرف قبرستان خاصا کشادہ ہے۔ صفائی بھی ہوتی رہتی ہے…‘‘
’’اپنے گھر میں کبھی کسی کو ڈر لگتا ہے بھلا؟‘‘

یہ بات آج سے تیئس سال پہلے کی ہے۔ تب میں لڑکا تھا۔ بے بے کی بات مجھے اتنی عجیب نہیں لگی تھی۔ بے بے کے لہجے کا تیقن مجھے ابھی تک یاد ہے۔ بے بے کی پائینتی بیٹھے یہ باتیں سنتے ہوئے اُس کے تندرست جسم اور سیدھی اٹھی گردن دیکھ کر یہ خیال آیا تھا کہ کیا پتا بے بے کب مرتی ہے اور کون جانتا ہے کہ وہ جگہ خالی رہے گی یا نہیں۔ لیکن بے بے درست کہتی تھی۔ کون سا زبان سے کہتی تھی۔ وہ تو دل سے اس جگہ پر قابض تھی۔ وہ جگہ اسی کی رہنی تھی۔

آج بابے کی وفات کے تریسٹھ سال بعد جب ابا جی کی عمر بھی چونسٹھ سال ہو چکی ہے اور میں خود بھی جوانی کی آخری صفوں میں کھڑا ہوں، بے بے میرے تقریباً جوان بچوں کو کھیلتے کودتے دیکھنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔ بے بے نے اپنی تمام عمر جس سکون اور اطمینان سے گزاری ہے، اسی طرح اگلی دنیا کو سدھار گئی ہے۔ جیسے کوئی کامل پیر محبوبِ ازلی کے وصل کی امید میں چہرے پر سکون اور اطمینان کا احساس لیے نزع کے کرب ناک مراحل سے گزر جاتے ہیں۔ آخری سانس لیتے وقت بے بے ویسے ہی سرشار تھی۔ میری بڑی بچی اور اس سے چھوٹا بیٹا بے بے کے آخری لمحوں میں قریب تھے، وہ بتاتے ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ بے بے نے کب اور کس وقت آخری سانس لیا۔ بس بستر پر لیٹی ہے۔ طبیعت خراب ہے، لبوں پر مسکراہٹ ہے۔ اسی حالت میں معلوم نہیں کب دم دے دیا۔ خود میں نے بھی جب بے بے کاچہرہ دیکھا تو وہی میٹھی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر ثبت تھی جو بابے کا ذکر کرتے وقت ہوتی تھی۔

بے بے کی وفات کے وقت ابا جی یو اے ای میں تھے۔ عمر نوکری کرنے کی حد سے آگے گزر گئی تھی،پرانی جگہ سے جواب مل گیا تھا۔ ابھی ان کی خواہش تھی کہ کچھ برس اور ادھر لگ جائیں تا کہ گھر چلتا رہے۔ ایک نئی کمپنی میں ملازمت ملنے والی تھی اور اس کا ویزہ لگنے کے لیے پاسپورٹ ایمبیسی میں جمع تھا۔ یو اے ای میں پاسپورٹ جمع ہو تو یہ ایک لحاظ سے کالے پانی کی سزا ہوتی ہے۔ پاکستان آنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ فون پر جتنی دفعہ بات ہوئی، آواز کی بجائے رندھے ہوئے الفاظ کا گریہ ہی سنائی دیتا تھا۔ ان کی تلملاہٹ، ان کی بے تابی اور دکھ اپنی جگہ لیکن وہ بے بے کی فوتیدگی پر آ نہ سکے۔ میں اور میرے بچے تھے۔ بہن بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ پہنچ گئی تھی۔ بے بے کے سبھی بھائی بھی خبر سنتے ہی آ گئے تھے۔ اپنی برادری تھی۔ ہمیں کسی طرح کی مشکل نہ ہوئی تھی۔ مرن کی سبھی رسومات مناسب طریقے سے نپٹتی چلی گئی تھیں۔ میرا زیادہ وقت تعزیت کے لیے آئے لوگوں کے ساتھ ہی گزرا۔رسومات کی تمام ذمہ داریاں برادری والوں نے سنبھال لی تھیں۔ جب قبر کھودنے کا وقت آیا تو مجھے کہا گیا کہ قبرستان میں جا کر قبر کی جگہ نشان زد کر وا آؤں۔

ہمارے گاؤں میں قبر کھودنے کے لیے کوئی پیشہ ور آدمی نہیں ہے۔ جب کوئی فوت ہو جائے تو برادری اور گاؤں کے لوگ مل جُل کر خود ہی قبر کھودلیتے ہیں۔ درجنوں لوگ یوں باری باری ہاتھ بٹاتے ہیں کہ کسی کو احساس تک نہیں ہوتا کہ کچھ کام کیا گیا ہے۔ پہلے رشتہ دار پہنچتے ہیں، نشان لگا کر کھودنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ٹولیوں کی ٹولیاں جوانوں کی آنے لگتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے قبر تیار پڑی ہوتی ہے۔

بے بے کی میت کا ناپ لے کر جب میں قبرستان پہنچا اور کسیاں بیلچے لے کر مستعد کھڑے رشتہ داروں کو قبر کی جگہ بتائی تو سبھی نے اعتراض کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہاں قبر کے لیے جگہ خالی ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ بھلاکیسے ہو سکتا ہے کہ تریسٹھ سال سے ادھر کوئی مردہ دفن نہ ہوا ہو۔ چھ فٹ کی جان توڑ کھدائی کے بعد کسی کی کڑکڑاتی ہڈیاں برآمد ہو جائیں گی۔ نئے سرے سے گرد پھانکنی پڑ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنازے میں وقت کچھ زیادہ نہیں ہے، اتنی دیر میں ایک ہی قبر نکل سکتی ہے۔ آخر پر ہڈیاں نکل آئیں تو نئی قبر کی تیاری تک میت کو انتظار کرنا پڑے گا۔ مجھے ان سب باتوں کی کوئی پروا نہ تھی۔ میں جانتا تھا، جس نے اپنی جگہ مَلی ہوئی تھی،وہی اس جگہ دفن ہو گی۔ اس نے تریسٹھ سال انتظار کیا ہے اپنے محبوب کے پہلومیں لیٹنے کا۔ وہ یہیں دفن ہو گی۔

جب بے بے کو نہلا دھلا،کفن پہنا کر چارپائی پرلٹایا گیا تو میں چہرہ دیکھنے کوگیا۔ چہرے پر جمی مسکراہٹ دیکھ کر میرے آنسو نہ رک سکے۔ وہاں جمع مردوں اور عورتوں نے مجھے بہت روکا مگر میرے جذبات قابو میں نہ رہے تھے۔ پہلے بے بے کے پاؤں چومے، پھر ہاتھ اور آخر پر ماتھا چوما۔ یہ میری بے بے تھی جس کے ہاتھوں اور پیروں نے کبھی غیر مرد کی طرف جانے کا سوچا بھی نہ تھا۔ میرے بابے کے ہوئے تھے اور مرتے دم تک اسی کے لمس کو زندہ رکھا تھا۔ یہ میری بے بے کے ہاتھ اور پائوں تھے جو مجھ سے اس لیے حد درجہ محبت کرتی تھی کیوں کہ میری صورت میرے بابے سے ملتی تھی۔ یہ میری بے بے تھی جس کی بے لوث محبت جیسی دولت مجھے دوبارہ نہ ملنی تھی۔ اس بے بے کی محبت کا لاوا تھا جو اس کے آخری دیدار کے لیے آنکھوں سے پھوٹتا چلا آرہا تھا۔ کب جنازہ اٹھا، کب جنازہ گاہ پہنچے اور کس طرح جنازہ پڑھا گیا، مجھے کچھ ہوش نہ تھا۔ آنکھوں میں بے بے کی محبت کے تمام مناظر گریہ کناں تھے اور اشکوں کی پوری برادری میرے اس نقصان پر ماتم کرتی چلی آ رہی تھی۔ جناز ے کے بعد بے بے کو قبر کی طرف لے جایا گیا۔ تریسٹھ سال پہلے چار کہاروں کے کندھے پر لد کر وہ بابے کے پاس آئی تھی اور آج اسی طرح چار کندھوں پر سوار بابے کے پاس لے جائی جا رہی تھی۔ قبر بابے کے بالکل پہلو میں تیار پڑی تھی۔ امام صاحب نے تدفین سے پہلے کی دعا مانگی اور پھر بے بے کی میت کو لحد میں اتارا جانے لگا۔ مجھ میں صبرکی تاب نہ تھی۔ بے بے کے بدن کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ تھی۔ سو بے بے کا ایک بھائی اور بھتیجا میت کو لحد میں اتارنے لگے۔ بے بے کا بے جان وجود لحد میں لٹایا جا رہا تھا جب میرا بھانجا میرے قریب آ کر مجھے ایک تھیلا تھما گیا۔ تھیلا بھرا ہوا تھا اور اس میں بے بے کے گلابوں کی مہک آ رہی تھی۔ اس نے اشارے سے بتایا کہ امی نے توڑ کے دیے ہیں اور بے بے کی قبر پر ڈالنے ہیں۔ میں نے پھول بے بے کے بھائی کو تھما دیے اور اس نے پتی پتی کر کے کفن میں لپٹی بے بے پر ڈال دیے۔ سفید کفن سرخ پھولوں میں چھپ گیا۔ مجھے بے بے کی حسرت یاد آ گئی۔ یہ میت کے پھول کیا ان پھولوں کا مداوا ہو سکتے ہیں جو بابے نے وعدہ کر کے بھی نہیں دیے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پھولوں سے لدے بے بے کے وجود کو پتھر کی سلوں سے ڈھک دیا گیا اور بے بے کا مادی وجود نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

اس دن عصر تک ہماری بیٹھک میں فاتحہ خوانی کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعد میرے ذمے آگ کی ذمہ داری لگا دی گئی۔ میں اِس رسم کا قائل نہیں تھا لیکن دنیا داری کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ مشہور ہے کہ قبر میں مردہ دفن کرنے کے پہلے ہفتے کے دوران کسی بھی رات کوبِجّو آتا ہے اور پائینتی کی طرف سے قبر کھود کر میت تک جا پہنچتا ہے۔ میت کے پاؤں کے انگوٹھے کو منھ میں دباتا ہے تو اس میں دوبارہ جان آ جاتی ہے اور وہ بِجّوکے پیچھے چلتا چلتا اس کے ٹھکانے پر جا پہنچتا ہے جہاں بِجّو اس کا سارا ماس نوچ نوچ کر کھا جاتا ہے۔ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بِجّو آگ سے بہت ڈرتا ہے۔ اگر قبر کے پائینتی ساری رات آگ جلتی رہے توقبر کے قریب بھی نہیں آتا۔ ایسی آگ لگانا مشکل ہے کہ جو شام کو لگائی جائے اور صبح تک جلتی رہے۔ اپلوں کی آگ دھیمی ہوتی ہے، پانچ تھاپیاں ہوں تو تمام رات دُھختے رہتے ہیں۔ بھوسے کی آگ بھی دیر تک دہکتی ہے۔ سو بھوسہ اور اپلے ملا کر انہیں سلگا دیا جاتا ہے۔ یہ روایت جانے کب سے ہے اور جانے کب تک رہے گی۔ میں اگر نہیں کرتا تو ساری برادری کے طعنے ماتھے پر لگتے رہیں گے کہ اسے مرنے والی سے کوئی لگاؤتھا ہی نہیں۔

میں اپلوں اور بھوسے سے بھرا توڑا لیے قبرستان پہنچا تو سورج سرخ تھالی بن چکاتھا۔ قبرستان کے باہر ابھی روشنی میں چمک تھی۔ اندر روشنی ذرا کم تھی لیکن بے بے کی قبر کا گیلا خاکی رنگ پوری طرح نظر آرہا تھا۔ قبر کی تازہ کچی مٹی دیکھ کر تازہ درد تڑپ اٹھا۔ دن بھر لوگوں کے سامنے جس ضبط کا مظاہرہ کیا تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ میں نے اپلوں اور بھوسے کا توڑاوہیں پھینکا اور خود بے اختیار بے بے کی پائینتی گر گیا۔ بے بے نے چالیس سال کی عمر میں جتناپیار دیا تھا اور آئندہ کی تمام زندگی جس پیار سے محروم رہنا تھا، اس کا احساس پانی ہو کر آنکھوں سے بہہ نکلا۔ جانے کتنی دیر میں بے بے کی امڈتی یادوں کے سہارے وہاں پڑا رہا اور بے بے کو پکار پکارکے بچوں کی طرح روتا رہا۔ آنسو میری آنکھوں سے بہتے چلے جارہے تھے۔ کوئی خیال نہ تھا کہ میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں، کوئی روتا دیکھ لے تو کیا کہے گا۔ بس یہی خیال تھا کہ میری جو سب سے پیاری ہستی تھی،وہ اب نہیں رہی اور اس کی دائمی جدائی پر مجھے بہت زیادہ رونا ہے۔

جب خوب دل بھر گیا تو دھیان آیا کہ میں کس کام کے لیے آیا تھا۔ اٹھا اور بے بے کی پائینتی بھوسے اور اپلوں کی ڈھیری لگا دی۔ ماچس جیب سے نکال کر آگ جلانے لگا تھا کہ تبھی میری شامہ سے ایک تیز امڈتی ہوئی خوشبو ٹکرائی۔ خوشبو مانوس تھی۔ میں چونک اٹھا۔ یا حیرت!یہ خوشبو واضح طور پر بے بے کے پھولوں کی تھی۔ ان کی منفرد خوشبو کے متعلق میرے گھر کا کوئی فرد بھی ایک دفعہ سونگھ کر بتا سکتا ہے۔ البتہ یہ خوشبوعام دنوں کی نسبت بہت تیز تھی۔ میں انہی پھولوں میں پلا بڑھا تھا، کسی بھی موسم میں ان پھولوں کی خوشبو اتنی تیز نہ ہوتی تھی، عین بہار میں جب ویہڑے میں سرخ سرخ پھولوں کے کھیس بچھے نظر آتے تھے، تب بھی خوشبو کا احساس اس قدر جوان نہ ہوتا تھا۔ مجھے بھلا دھوکا کیا ہو سکتا تھا کہ ان پھولوں کی خوشبو میری ہر رگ میں بسی ہوئی تھی۔ عمر بھر ان کی گوڈی کی تھی۔ ان پھولوں کی مست خوشبو اپنے دل آنگن میں کھلتی محسوس کی تھی۔ لیکن ے بے کے پھول تو بڑی اداس، دھیمی اور ٹھنڈی خوشبو رکھتے تھے۔ ابھی جو خوشبو آرہی تھی اس میں تیزی تھی،گرمی تھی اور خوشی کے رقص تھے۔ لیکن تھی یہ خوشبو بے بے کے پھولوں کی ہی۔ یہ خوشبو قبرستان میں آ کیسے رہی ہے؟ ادھر کھلے میں کہیں بھی پھول نہیں پڑے ہوئے اور اگر پڑے بھی ہوتے تو اتنی تیز خوشبو نہ آتی؟ آخر اس خوشبو کا منبع کیا ہے؟ دماغ میں کونداسا ہوا کہ یقینا یہ خوشبو ان پھولوں کی ہے جو بے بے کی لحدمیں منوں مٹی نیچے بے بے کے کفن پر ڈالے گئے تھے۔ یقیناً یہ وہی پھول تھے ورنہ ادھر بے بے کے کوئی اَورپھول تو لائے ہی نہیں گئے تھے۔ یقینا یہ وہی پھول تھے جو بے بے کے وجود کے ساتھ مَس ہو کر مرجھا جانے چاہیے تھے لیکن جانے آج کیا ماجرا ہوا۔ خوشبو مری بھی نہیں تھی اور رات کی تاریکی اترنے کے ساتھ پھول اس شدت سے مہکنے لگے تھے کہ منوں مٹی بھی ان کی مہک کونہ روک پائی تھی۔ امڈ امڈ کے باہر آرہی تھی۔ آنسوؤں کی ماری میری آنکھیں خوشی سے سجری ہو گئیں۔ بھوسہ اور تھاپیاں وہیں پڑے رہنے دیے اور ماچس جیب میں ڈال لی۔ بھلا آج کی رات اپلے جلانے کا کیا جواز۔۔؟رونا بھی نحس تھا۔

قبرستان سے نکلتے وقت آخری بار پلٹ کر اس سمت دیکھا جدھر بے بے کی تازہ کھدی قبر تھی۔ پھولوں کی خوشبو یہاں تک آرہی تھی۔ میں دھیرے سے مسکرا اُٹھا۔ یوں ہی خیال آگیا تھا کہ ابدی زندگی کے آغاز پر آج بے بے کے دونوں شکوے ختم ہو گئے۔ اب بابا کبھی جدا بھی نہیں ہو گااور پھولوں بھری مہکتی ہوئی سیج بھی مل گئی ہے۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے آخری بار ان پھولوں کی خوشبو کو اپنے وجود میں اتارا اور تیزی سے ہٹ آیا۔

آج بے بے کو خلوت کی ضرورت تھی۔ آخر تریسٹھ سال بعد سُچے وصال کی رات آئی تھی۔

Categories
فکشن

اولاد (محمد عباس)

بات بابے کی ٹھیک تھی۔ اس نے بابے کا نام چمکا کے رکھ دیاتھا۔ یوں آج کسے معلوم تھا کہ یہ بڈھا لاٹھی ٹیک جھِیلا جوانی میں کیا چیز تھا مگراس کے ہم نام کی وجہ سے نئی نسل کو بھی اندازہ ہو چکا تھاکہ باباجھِیلاکیا کیا کمال رکھتا ہو گا۔
٭٭٭
باباجھِیلا، ظاہر ہے کہ شروع سے ہی بابا نہیں تھا۔ جوانی میں اس کا نام پورے علاقے میں فخر سے لیا جاتا تھا۔ جھِیلا پہلوان۔ کبڈی کا نامور کھلاڑی۔ نڈر اور مقابلے کا شوقین۔ زور اور پھرتی میں ایک سا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ وارا بھی کرتا تھا اور جاپھا بھی۔ جس ٹیم میں وہ ہوتا، اس کو آدھے پوائنٹ توجھِیلا لے دیتا تھا۔ جب وہ میدان میں اترتا تو سارا میدان اس کے نام کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔ ایک مدت تک اس نے راج کیا۔ جس میدان میں اُس نے اترنا ہو، وہاں ہزاروں کا مجمع اسے دیکھنے پہنچ جاتا تھا۔ دور دراز کے کھلاڑی بھی بڑے چاؤ سے اس کے مقابلے پہ کھیلنے آتے۔ وہ بھی پتا نہیں کتنی جگہوں پر کھیلنے گیاتھا۔ جب اس نے فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور ساہیوال کے بڑے بڑے نامی پہلوانوں کو نیچا دکھایا تو اس کا نام پورے پنجاب میں مشہور ہو گیا تھا۔ بڑے بڑے کبڈر اس کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ جتنی مدت وہ کبڈی کھیلا، سوائے دو چار وارے جاپھے ناکام ہونے کے، کبھی سر جھکا کر میدان سے باہر نہیں نکلا۔ اِتنی ٹرافیاں اس نے جیتی ہوئی تھیں کہ گاؤں کے چوہدری کے گھر میں اُتنے برتن بھی نہیں ہو ں گے۔ اس کی وجہ سے برموٹ گاؤں کا نام پورے پنجاب میں بولتا تھا۔ پورے گاؤں کو اس پر فخر تھا۔

جب اس کا نام اتنا مشہور ہو گیا تو اس کو بڑی بڑی ٹیموں کے لیے بلا یا جانے لگا تھا۔ وہ کبھی راولپنڈی ڈویژن کی طرف سے کھیل کے آتا، کبھی پنجاب کی ٹیم میں شامل ہو تا۔ اپنے علاقے کی تو جب بھی کوئی ٹیم بنتی، وہ اس میں ضرور شامل ہو تا تھا بلکہ ٹیم کا مان بن کر جاتا تھا۔ دوسری ٹیم کو جب مرعوب کرنا ہوتا تو اسے بتایا جاتا کہ ہمارے پاس جھِیلا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا نام ہی اس قدر تھا کہ دوسری ٹیم میچ سے پہلے ڈول جاتی تھی۔ کھیل کی بنا پر اسے فوج اور واپڈا کی طرف سے کئی بار نوکری کی پیش کش بھی ہوئی تھی لیکن اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے وہ ایسی کوئی پابندی قبول نہ کر سکا تھا۔

آٹھ دس سال اس نے کبڈی کے میدان پر راج کیاتھا۔ شادی، بچے اور زندگی کی ذمہ داریاں کندھوں پر آ لدیں تو اس کا بدن ماند پڑنے لگا۔ جب مسلسل چار جاپھے ناکام گئے تو اس نے جاپھا کرنا چھوڑا اور صرف وارا کرنے لگا۔ اپنی پھرتی کی بنا پر وہ وارا بھی کمال کرتا رہا مگر ایک بار جب ایک تنو مند جاپھی کا کان پر پڑنے والا ہاتھ اس کے دماغ کی چولیں تک ہلا گیا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ کبڈی اب اس کے بس کی بات نہیں رہی۔ یہ ضرب پڑی بھی بہت زوردارتھی۔ اس کا کان سُن اور دماغ جھنجھنا گیا تھا لیکن اس نے تب ظاہر نہ کیا اور کسی ایسی ناکامی سے بچنے کے لیے جو عمر بھر اس کے ماتھے پر سجی رہتی، اس نے چپکے سے میدان کو الوداع کہہ دیا۔ کبھی میدان کا رخ ہی نہ کیا۔ اس ضرب سے وہ عمر بھر کے لیے دائیں کان سے سننے کو معذور ہو گیا تھا۔ برسوں بعد بابے کی سماعت کی یہ معذوری سب جان گئے تھے لیکن وجہ کسی کو معلوم نہ تھی۔

اب تو وہ دمے کا مارا، ستر سال کا کھانستا ہوا بوڑھا تھا۔ سیدھی طرح چلنے پھرنے سے بھی معذور۔ صرف کھُنڈی کے سہارے چل پاتا تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی۔ دو بیٹے تھے۔ اس کی پوری خواہش کے باوجود کہ وہ بھی کبڈی میں اُسی کی طرح نام پیدا کریں، وہ دونوں صرف مزدور ہی بن سکے تھے۔ آج کل اٹلی میں مقیم تھے۔ وہ اکیلا پاکستان میں رہ گیا تھا اوراپنے بیٹوں کی بنوائی کوٹھی میں رہتا تھا۔ کھانے اور دوا دارو کا خیال رکھنے کے لیے ایک بھانجی کی اولاد تھی۔ اسی کے گھر سے کھانا آ جاتا، اگر بیمار پڑتا تو اسی کے بچوں میں سے کوئی مستقل اس کے پاس رہنے لگتا۔ کھاٹ توڑنے اور کھُنڈی ٹھکورنے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہ تھا۔ گرمی کے موسم میں اکثر اس کی کوٹھی میں ہم عمر دوستوں کی محفل جمتی تھی۔ جہاں سب اپنی اپنی جوانی سنایا کرتے تھے۔ بابے کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ جب شروع کردیتا تو پھر سارا دن باتیں ختم نہ ہوتیں۔

گو کہ وہ کب کا کبڈی کے میدان سے نکل چکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا نام ایک مثال تھا۔ جھِیلے کا نام علاقے کے حافظے پر نقش ہو گیا تھا۔ مائیں جب اپنے بچوں کو پھرتی کا مظاہرہ کرتے دیکھتیں تو انہیں جھِیلا پہلوان کہتیں۔ باپ اپنے بیٹوں کی تابدار جوانی اور طاقت دیکھتے تو انہیں جھِیلا پہلوان کے نام سے پکارتے۔ اس کا نام ایک داستانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اس کے گاؤں کے لوگ خواہش کرتے تھے کہ کاش گاؤں میں پھر کوئی ایسا ہی جوان پیدا ہو جو کبڈی میں ان کا نام جھِیلے کی طرح روشن کرے۔

بابا جو اَب کسی کام کا نہ رہا تھا، جب اپنی جوانی کے قصے سنا سنا کے تھک جاتا تو پھر ایک ٹھنڈی اور لمبی آہ بھر کے افسوس سے کہتا کہ کاش اس کے بیٹے بھی کبڈی کے میدان میں اترتے اورجھِیلے کا نام آج بھی چلتا رہتا۔ اس کے دوست بھی جانتے تھے کہ عمر میں جھِیلے کو ایک ہی دکھ رہا ہے کہ اس کی اولاد اس جیسی نہیں ہو سکی، حالانکہ جب اس کے ہاں پہلا بیٹا ہوا تھا تو وہ خوشی سے چیخ پڑا تھا کہ ایک اورجھِیلا پیدا ہو گیا ہے۔ دوسرے کی پیدائش پر تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتا اور کہتا کہ اپنے بیٹوں کو بھی کبڈی کے میدان میں اتارے گا۔ شیر ہوں گے، شیر۔ آخر بیٹے کس کے ہیں۔ اس کے دوستوں کو بھی یقین تھا کہ اس کے بیٹے اس کا نام آگے بڑھائیں گے۔ باپ کی ناف برابر ہوئے توجھِیلے نے انہیں کبڈی کی طرف لگا دیا تھا۔ روزانہ ان کی دوڑ کراتا۔ ڈنڈ بیٹھکیں لگواتا۔ پھر کھانے کو ایسی چیزیں دیتا جن سے بدن میں طاقت اور چستی آجاتی ہے۔ وہ خودبتاتا تھا کہ اس نے کبھی اپنے بیٹوں کو بھینس کا دودھ نہیں پینے دیا کہ اس سے بندے کا جسم تھلتھلا ہو جاتا ہے۔ ان کو چست رکھنے کے لیے ہمیشہ گائے کا دودھ پلایا کہ بچھڑے کی طرح اَتھرے رہیں۔ لیکن پتا نہیں کیا ہوا، ماں نے انہیں اندر ہی اندر اس پٹڑی سے ہٹا دیا تھا یا وہ خود اس قابل تھے ہی نہیں کہ جوانی میں پاؤں رکھنے تک وہ کبڈی سے متنفر ہو چکے تھے۔ میدان میں اترتے تو بالکل اناڑیوں کی طرح ہاتھ پاؤ ں مار کے اس کا نام ڈبو آتے۔ جھِیلے نے کچھ ہی دن انہیں آزمایا، جب جان گیا کہ یہ پھوکے گنّے ہیں تو انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ پڑھائی سے توپہلے ہی فارغ تھے، کھیل سے بھی گئے۔ آخر بنے تو محض مزدور بنے، خود بابے نے ہی کوشش کر کے اور چار بیگھے زمین بہا کر انہیں اٹلی بھجوادیا تھا اور پھر جب وہ وہاں سیٹل ہو گئے تو خود ہی اُس نے کہا تھا کہ اپنے بیوی بچے بھی ساتھ لے جاؤ۔ جب انہوں نے پوچھا کہ آپ کا اکیلے کیا بنے گا تو، باباخود بتا تا ہے، اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری کسی طرح گزر ہی جائے گی۔ تم لوگ اپنے بچوں کی زندگی بناؤ۔

بابا جب اپنے بیٹوں کی طرف سے مایوس ہو گیا تو اس نے دوسروں کی طر ف توجہ دینا شروع کر دی تھی۔ ابھی جوانی کی کچھ چنگاریاں باقی تھیں۔ شوق پر دھیان دے سکتا تھا۔ بابا خود ہی کسی کے کہے بغیر میدان میں چلا جاتا اور کبڈی کے شوقین لڑکوں کو تربیت دیتا۔ بارہا بابے نے کبڈی کے میدان میں بالکل نئے لڑکے اتارے جن کا نام بھی پہلے کسی نے نہ سنا ہوتا۔ بابے کے تیار کیے ہوئے لڑکے آسانی سے کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔ اس کا نام کبڈی کے میدان میں بولتارہا۔ لیکن وہ خود مطمئن نہیں تھا۔ کہا کرتا تھا کہ کبڈر تو بہت ہیں، میرے ہاتھوں کے سکھائے اچھا کھیل لیتے ہیں لیکن ان میں کوئی جھِیلا نہیں بن سکا۔ بہت بعد میں جب دوستوں کی ایک محفل میں اسے یہ طعنہ سننے کو ملا کہ اس کی ساری تربیت کے باوجود آج تک گاؤں میں اس کے پائے کا کوئی کبڈر نہیں بن سکا، شاید وہ ہی دوسروں کو سکھانے میں کوئی کمی رکھ دیتا ہے،تو اس نے کہا تھا کہ جھِیلابنایا نہیں جاتا، بنا بنا یا آتا ہے۔ کسی پر جتنی بھی محنت کرلی جائے،وہ جھِیلا نہیں بن سکتا۔ جب جھِیلے کے اپنے خون سے بھی ایک جھِیلا نہیں نکل سکا تو پھر میں کسی اور کو جھِیلا کیسے بنا سکتا ہوں!!

٭٭٭
بر موٹ، جھِیلے کا گاؤں بالکل پہاڑی سلسلے کے نیچے تھا۔ کوہستانِ نمک کے اس سلسلے میں جھِیلے کے گاؤں سے اوپر پہاڑیوںمیں بہت بڑاجنگل تھا۔ اس جنگل میں تیتر، بٹیر، جنگلی کبوتر، بھگیاڑ، گیدڑ، ہڑیال،سیہہ، خرگوش، لومڑ، ہرن اور سٔور بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ پوری تحصیل کے لوگ کھنچ کھنچ کر ادھر شکار کھیلنے کو آتے تھے۔ ہر ہفتے، کوئی نہ کوئی ٹولی اپنے کتوں، بندوقوں، جالوں،پھندوں، ٹارچوں اور دُوربینوں کے ساتھ پہاڑیوں پر ہڑل ہڑل کررہی ہوتی تھی۔

ویسے تو وہاں ہر قسم کے شکاری آتے تھے۔ کوئی خرگوش مارکھاتا، کوئی ہرن لیکن سبھی شکاریوں میں یہ بات مسلم تھی کہ اصل شکار تو سٔور کا ہے۔ یہ واحد شکار ہے جو نہ زبان کے چسکے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کسی مالی منفعت کے لیے۔ شکار برائے شکار۔ حوصلے اور ہمت کے ساتھ ساتھ پوری لگن کا کھیل۔ جس میں شکار کوصرف گھیر مارنے پر توجہ ہوتی ہے، مصالحے لے کر اسے بھوننے کی فکر نہیں ہوتی۔

سٔور کے شکار کا وہاں بڑ اشہرہ تھا۔ بے قاعدہ قسم کے مقابلے ہوتے تھے۔ آپس میں کسی تنظیم کے بغیر ہی یہ طے تھا کہ جس سیزن میں جو ٹولی زیادہ نر پکڑ کر لائے گی، وہی اس سال کی بہترین ٹولی کہلائے گی۔ گرمی کا پورا موسم شکار نہیں کھیلا جاتا تھا حتیٰ کہ اس موسم میں کتے کھولے ہی نہ جاتے۔ یہ شکاریوں کی اپنی اخلاقیات تھی کہ اس موسم میں سٔورنی بچے دیتی ہے، اس موسم میں شکار کا مطلب یا تو بچہ سٔور کو مارنا ہے، یا سٔورنی کو مار کر اس کے دودھ پیتے بچوں کی بلاوجہ موت کا سبب بننا تھا، اس لیے وہ گرمی کے موسم میں شکار کا نام بھی نہ لیتے تھے مگر جب سردیاں آ جاتیں تو ٹولیوں کی ٹولیاں خون گرمانے کے لیے سٔوروں کے پیچھے ہو لیتیں۔ اس دوران جنگل میں شاید ہی کوئی سٔور بچتا ہو جس کے پیچھے کسی کتے کے پاؤں نہ پڑتے ہوں۔ شام ہوتے ہی ٹولیاں للکار کر نکل جاتیں اور ساری رات جنگل کتوں کی بھونکاروں اور شکاریوں کے نعروں سے گونجتا رہتا۔

سٔور کا شکار اس علاقے میں صرف کتوں سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ اگر کوئی شکاری، سٔور کے شکار پر جاتے وقت اپنی حفاظت کے لیے رائفل ساتھ لے کر جائے تو اسے ڈراکل اور ہیجڑا کہا جاتا تھا۔ یارُو کا مشہور قول تھا کہ’’ رائفل تو زنانہ سہارا ہے، مردوں کے کھیل میں لطف بگاڑ دیتا ہے، اگر اپنی جان بچانے کی اتنی ہی فکر ہے تو مارو خرگوش اور کھا کے جان شان بناؤ۔ سٔور مردوں کے مارنے کے لیے رہنے دو۔ ‘‘اسی رِیت کی وجہ سے باوجود اتنی شکاری ٹولیوں کی آمد کے علاقے میں کبھی سٔور ختم نہیں ہوئے۔ اوبڑ کھابڑ علاقے اور گھنے درختوں، جھاڑیوں کی وجہ سے شکاری ٹولیاںاکثر ناکامی کی تھکن سے چور ہی لوٹتی تھیں۔ اکثر تو رات رات بھر پوری ٹولی ذلیل ہوتی رہتی، کتے بھی کٹ پھٹ جاتے اور سٔور کا بال تک نہ ملتا۔ علاقے کی جو نامی ٹولیاں تھیں، یارُو، حیدری اور خضرے کی، انہیں بھی ابھی تک صرف چھ یا سات نر پکڑنے کا اعزاز ہی حاصل تھا۔ وہ لوگ بھی بیشتر صرف شکار کی سنسنی ہی لُوٹ کر لاتے تھے۔

شکار کا ایک سادہ سا ضابطہ تھا۔ ہر شکاری ٹولی اس ضابطے سے واقف تھی۔ صرف دو شرطیں تھیں، پہلی یہ کہ سٔور کا شکار اس وقت ہی مانا جائے گا جب قتلیوں والانر سٔور ہاتھ آئے گا، مادہ سٔور کسی گنتی میں نہیں۔ دوسری یہ کہ کسی بھی ٹولی کا شکار تب ہی گنا جائے گا جب نر کو زندہ پکڑ کر گاؤں میں لایا جائے گا۔ اگر جنگل میں مر گیا تو وہ شکار نہیں گنا جائے گا۔ بس یہ سادہ سی شرطیں تھیں۔ کتے جب کسی نر کو ادھ موا کر کے گھیرے میں لے آتے توشکاری مختلف حربوں سے اسے بے بس کر لیتے۔ اس کے بعد لوڈر یا ٹرالی میں ڈال کر اپنے گاؤں( جس گائوں کی ٹولی ہو) میں لے جاتے۔ باقاعدہ ڈھول اور باجوں کے ساتھ اسے لے جا کر گاؤں کے مرکزی چوراہے پر باندھ دیتے اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ اس پر کتے چھوڑ دیتے۔ وہ کتے، جو ابھی نئے ہوں اور انہیں سٔور کے شکار پر لگانا ہو۔ اس طرح کتوں کے دل سے سٔور کا خوف نکل جاتا اور انہیں سٔور کے گوشت کا ایسا چسکا پڑتا کہ جہاں سٔور نظر آتا،اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔

کوئی ٹولی جب نر پکڑ لاتی تو پورا گاؤں اکٹھا ہو کر اسے بوٹی بوٹی ہوتے دیکھتا تھا۔ ڈھول بجتے، جوان بھنگڑا ڈالتے، اپنے اپنے کتوں کی ہلا شیری کی جاتی، میراثی شغل میں اس تنو مند کی ناگہانی موت پر بین کرتے۔ پلید ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کسی کی ہمدردی نہ جاگتی تھی بلکہ خون کے ہر چھوٹتے فوارے پر داد، شاباش کا غلغلہ بلند ہوتا۔ اتنے مجمع کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ٹولی کا شکار گنتی میں آ جاتا تھا۔ اگر کبھی کسی خاص سٔور کے شکار کا چیلنج ہو تو پھر اسے برموٹ گاؤں میں پکڑ لانے کا اعلان ہوتا تھا جو علاقے کا مرکزی گاؤں تھا۔ جیسا کہ جھِیلے کے لیے اعلان ہوا تھا۔

٭٭٭

سب سے پہلے وہ ایک قریبی گاؤں کی شکاری ٹولی کو نظر آیا تھا۔ یہ لمبا چوڑا اور تازی کتے سے بھی تیز۔ وہ صرف ایک ہی بار ان کی ٹارچ کے گھیرے میں آیا تھا، اس کے بعد دکھائی بھی نہ دیا۔ لیکن اس کا جثہ اس قدر گٹھیلا اور پھرتی کچھ ایسی تھی کہ وہ ٹولی حیران رہ گئی تھی۔ اگلی صبح انہوں نے یارُو کی بیٹھک میں الوداعی ملاقات کے وقت اس سٔور کا ذکر کیا اور پوچھا کہ ایسا چھلاوہ انہوں نے دیکھا ہے کیا؟ لیکن یارُو لوگوں کو کیا پتا کہ یہ کس سٔور کی بات ہو رہی ہے۔ دیکھا ہوتا تو کچھ بتاتے۔ یونہی سر ہلا کر رہ گئے، کہ ہوگا کوئی ذرا شُرتا قسم کا سٔور، گھبرا کر بھاگا ہو گا تو زیادہ تیز لگا ہوگا۔ ورنہ ایساکوئی خاص سٔور تو ہماری نظر میں نہیں ہے۔

کچھ ہی دنوں بعد خود یارُو کی ٹولی کا سامنا اس سے ہو گیا۔ اپنے دوستوں اور کتوں کی چار جوڑیوں کے ساتھ وہ شکار پر تھا۔ سرچ لائٹ کی روشنی میں ایک سٔور نظر آیا۔ لیکن روشنی پڑتے ہی وہ کچھ ایسی تیزی سے غائب ہو گیا کہ باوجود اپنے ہزار تجربے کے، یارُو کی ٹارچ اسے دوبارہ دیکھ ہی نہ پائی، بس بھٹک کے رہ گئی۔ اس کی جھلک دیکھ کے یارُو کے منھ سے بے ساختہ ’اوئے ہوئے ‘نکلا تھا۔ یہ وہ پہلا توصیفی اظہار تھا جو اس کے بارے میں ادا ہواتھا۔ اس کے بعد تو جس نے بھی دیکھا، ایسی ایسی تعریف کی کہ اس پہ سٔور کا نہیں، کسی ’باہر کی چیز‘ کا گمان ہوتا تھا۔

یارُو کو اسی ایک ہی جھلک میں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی عام سٔور نہیں ہے بلکہ کسی ’کُتی نسل کا سٔور‘ ہے۔ اس نے سٔور کا ہیولا ذہن میں رکھ لیا۔ اگلی بار بھی یہ یارُو کے نصیبوں میں ہی تھا کہ اس سے ملاقات ہوتی یا شاید کسی اور ٹولی نے بھی اسے دیکھا تو ہو مگر پرکھ نہ سکے ہوں کہ یہ کوئی نئی بلا ہے۔ یارُو تو دیکھ چکا تھا، سو پہچان گیا۔ اب کی بار یارُو پوری طرح چوکنا تھا۔ سو اس نے اپنے کتوں کو اس کے پیچھے پوری مہارت سے لگا دیا۔ لیکن بے سود، بہت جلد وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ اس دوسرے ٹاکرے سے یارُو اور اس کی ٹولی کے سب جوان جان چکے تھے کہ اب کے سال کوئی ایسا سٔور میدان میں آیا ہے جس کا شکار،شکاریوں کی مہارت کی دلیل ہو گا۔ سب نے مل کے تہیہ کیا کہ اگلی رات زیادہ کتے اور بڑی ٹارچیں لے کے آئیں گے اور صرف اسی سٔور کو گھیرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے اگلی رات ان کے پاس پانچ جوڑیاں تھیں۔ ان میں دو بوہلی وہ تھے جن کا علاقے میں چرچا تھا۔ جب وہ اسی کی جستجو میں نکلے تھے تو بہت جلد اسے پا بھی لیا۔ دیوانوں کی طرح کتوں کو کھول دیاگیا۔ پوری رات کتے اس کے پیچھے لپکتے رہے لیکن اس کے نقشِ رفتار کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ الٹا ایک تازی کتا جو شاید اپنی تیز رفتاری سے اس کے پاس جا پہنچا تھا، پیٹ میں قتلی کا گھاؤ لیے پڑا تھا۔ اسے وہیں مار دینا پڑا۔ باقی ساری ٹولی بے مرا دواپس آ گئی۔ یارُو لوگوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ سٔور ہاتھ نہ آیا بلکہ ٹولی میں دولوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تک نہ تھا۔ وہ سب اس ٹاکرے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ کسی عام طریقے سے مرنے والا سٔور نہیں ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص قسم کے دائو اپنانے پڑیں گے۔

یارُو کے بارے میں لوگ جانتے تھے کہ کسی سٔور سے ڈرنے والی مٹی اس میں لگائی ہی نہیں گئی۔ وہ توسٔور کے شکار پر جاتے وقت محض اپنی دلیری کی بنا پر کبھی کوئی ہتھیار لے کر نہیں جاتا تھا۔ رائفل سے لے کر خنجر تک، کسی بھی قسم کا ہتھیار ساتھ لے جانا اس کے آئین سے باہر تھا۔ ایسا شخص جس سٔور کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائے، اس کی موت یقینی تھی اور اگر پکڑ کر لا نہ بھی سکے، پھر بھی وہ اتناکچھ کر آتا تھا کہ اگلی دفعہ کسی اَور کے لیے آسان شکار ثابت ہوتا۔ ان سب خوبیوں کے باوصف جب اس کی ٹیم جان توڑ کوشش کے باوجود ناکام لوٹی اور اس سٔور کے گن گاتی رہی تو ان کی باتوں سے دوسری ٹولیوں میں بھی شوق پیدا ہوا۔ اس کا رنگ اور قد وغیرہ تفصیل سے رٹ لیے گئے۔ مزیدایک خاص نشانی یہ تھی کہ تازی کتوں کے علاوہ کوئی اور کتا جس سٔور کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکے، سمجھ لینا کہ وہی ہمارا مطلوبہ سٔور ہے۔

اب تو کئی ٹولیوں کو جنون ہوا کہ وہ اس سٔور کو مار لائیں۔ ظاہر ہے کہ ایک تو ایسا پھنے خان سٔور مارنے کا اعزا ز بھی مل جاتا اورپھر یارُو کی ٹیم کو بھی نیچا دکھایا جا سکتا تھا۔ کئی ٹولیاں اس کی تلاش میں نکلیں، کچھ کو نظر ہی نہ آیا، کچھ کو نظر تو آیا، لیکن محض ہیولہ ہی، اس کے بعد ان کے کچھ کر سکنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو گیا۔ دو تین ٹولیاں اس کے پیچھے بھاگنے کا تمغہ بھی لے چکی تھیں لیکن کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا تھا۔ الٹا اپنے ہی کچھ کتے زخمی کرا کے لے آئے تھے۔ یارُو لوگوں کے ساتھ مسابقت کی وجہ سے خضرے اور حیدری کی پوری تمنا تھی کہ یہ شکار ان کے ہاتھ سے ہی مارا جائے تا کہ ان کی ٹولی یارُو سے بہتر ثابت ہو سکے۔ جب وہ علیحدہ علیحدہ کچھ نہ کر سکے تو پھر دونوں کی ٹولی نے مل کر بھی دو راتوں تک کوشش کی۔ کوئی بھی اور سٔور نظر آتا تو اس کے طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ صرف اپنے خاص شکار کی تلاش میں ہی رہتے۔ دوسری رات کی ہی بات ہے جب وہ ان کے گھیرے میں آ گیا۔ انہوں نے ٹارچیں جلا کرہر طرف سے اس پر روشنی کا تمبو تان دیا کہ کسی طرح ان کی نظروں سے بچ کے نہ بھاگ سکے۔ درجنوں نظریں اس پہ جمی تھیں اور سولہ کتے اس کے پیچھے پڑے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ گھیرے میں آ گیا ہے تو شاید پہلی دفعہ کسی ٹولی کے کتوں پہ سیدھا حملہ کرنے لگا۔ اس کی رفتار اور طاقت اتنی تھی کہ بوہلی کتے کو بھی قتلیوں پہ اٹھا کے پوری رفتار سے کئی فرلانگ تک بھاگتا چلا جاتا۔ گھنٹوں یہ تماشا جاری رہا۔ اس کا بدن کافی حد تک سرخ ہو چکا تھا، لیکن نہ خضرے اور نہ ہی حیدر ی کی ٹولی کا کوئی آدمی وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یہ اس کا اپنا ہی لہو تھا۔ اس نے دونوں ٹولیوں کے اتنے کتے لمبے لٹا دیے تھے کہ اگلے سیزن تک وہ شکار پر نکلنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔

صبح کا اجالا جب پھیلنا شروع ہوا توزندہ بچ جانے والے کتے اپنی دمیں ہلاتے ہوئے اپنے اپنے مالکوں کے قدموں میں گھس رہے تھے۔ حلق سے چاؤں چاؤں کی خوفزدہ آواز نکل رہی تھی۔ وہ سٔور گو کہ تھکا ہو ا لگتا تھا، پھر بھی اپنی پہلی شاندار فتح کے غرور میں اطمینان سے آہستہ آہستہ چلتا ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حیدری بعد میں بھی اکثر کہا کرتا تھا کہ اس رات اسے اتنا دکھ ہوا تھا کہ اگر وہ رائفل ساتھ لے کر گیا ہوتا تو اسے گولی سے مار دیتا۔ بھلے سارے اصول کی ایسی تیسی ہوجاتی، اپنے کتوں کے مرنے کا دکھ تو کم ہو جاتا۔ واپسی پر دونوں ٹولیوں کے پاس کل پانچ کتے ایسے تھے جو اپنے پیروں پر چل کر ان کے ساتھ آ سکے تھے۔ دو کو اٹھا کر لایا گیا اور باقی مردہ کتے ساتھ لا کے کرنے بھی کیا تھے۔

٭٭٭

وہ سیزن تو یوں ہی گزر گیا۔ مزید کسی ٹولی کا اس سے ایسا بھر پورسامنا نہ ہوا لیکن ایک سال بعد جب پھر شکار کاسیزن آیا تو اس سٔور کی شہرت جاگ اٹھی۔ خاص طور پہ جب ایک دور کی ٹیم کو اس کے ہاتھوں ناقابلِ یقین گزند پہنچا۔ بے چارے ہفتے بھر کا شکارکھیلنے آئے تھے لیکن پہلی رات کے بعدہی پانچ میں سے تین کتے مروا کر، ایک خود ہی ناقابل علاج سمجھ، ٹھکانے لگا کے فقط ایک سہمے، لرزتے کتے کی زنجیر تھامے واپس چلے گئے۔ انہوں نے سٔور کا جو جثہ اور جس طرح کی رفتار بتائی تھی، یارُو، بلکہ اس کے گاؤں کے اکثر شکاری سمجھ گئے تھے کہ یہ وہی سٔور ہے۔ اتنا پھرتِیلا اور جسیم سٔور ان کے علاقے میں او رکوئی تھا ہی نہیں۔ سب شکاریوں نے آپس میں گویا یہ طے کر لیا کہ یہ سٔور اگلا سیزن نہ دیکھ پائے۔ البتہ یارُو نے،سب سے اچھا شکاری ہونے کے زعم میں،اس کے شکار کو ایک بڑے مقابلے کی حیثیت دے دی اور سب کے اتفاقِ رائے سے اس کو پکڑنے کے لیے کچھ اصول بنا دیے۔ پہلا اصول تو وہی تھا کہ کوئی شخص بھی اسے سوائے کتوں کے کسی اور طریقے سے نہیں مارے گا۔ دوسرے،اس کو پکڑنے کے لیے کوئی دو ٹولیاں اکٹھی نہیں ہوں گی۔ پکڑے گی تو کوئی ایک ہی ٹولی اور جس ٹولی نے مار لیا، وہ آئندہ سب سے اعلیٰ ٹولی سمجھی جائے گی۔ تیسرے، اس کا شکار صرف سردیوں میں ہی کرنا ہے۔ اگر سردیوں میں نہ ہو سکا تو پھر گرمیوں کی بجائے اگلے جاڑے میں۔ گرمیوں میں حسبِ معمول کوئی اس کا شکار نہیں کرے گا۔ چوتھے، دن کے وقت اس کے پیچھے کسی نے نہیں بھاگنا، اگر جانا ہے تو صرف رات کوکہ شکار کا اصل لطف رات کو ہی ہے۔ پانچویں جو ٹولی بھی اسے پکڑے گی، برموٹ گاؤں میں ہی لائے گی۔ کسی اور جگہ لے جانے پراُس کے شکار کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان اصولوں کے طے ہو نے کے بعد تمام ٹولیوں میں اس سٔور کو پکڑنے کا ایک عجیب طر ح کا جوش پیدا ہو گیا تھا۔ گویا وہ سٔور نہ تھا، کوئی ٹرافی تھی جو جسے مل جاتی وہ چیمپئن کہلاتا۔ اس سال سبھی شکاریوں کو سٔوروں کے شکار کی بجائے صرف اِسی کے شکار کی دھن تھی۔ خاص طور پر یارُو لوگوں نے تو تہیہ کر لیا تھا کہ دوسرے سٔور تو مارتے ہی رہتے ہیں اور مارتے ہی رہیں گے،اِس بارکوئی اَور سٔور نہیں مارنا بلکہ اِسی نَر کو باندھ کے لانا ہے۔ یارُو کی ٹولی شام ہوتے ہی نکل پڑتی پھر کسی اور سٔور کی چھایا پر دھیان نہ دیے آگے بڑھتی رہتی۔ انہوں نے کئی باراسے دیکھا بھی تھا لیکن اس کا کچھ اُکھاڑ نہ پائے۔

ایک دن شاید وہ ان کی اس مسلسل مڈبھیڑ سے تنگ آ کر خود ہی سامنے آگیا۔ یارُو لوگوں کے کتے اس پر کھول دیے گئے۔ وہ اپنی پوری جھپٹ سے اس پر ٹوٹ پڑے لیکن وہ بھی کچھ اس رفتار سے خود ان کی طرف بڑھا کہ ایک گلٹری کو اپنی قتلی پہ پروئے خود یارُواور اس کے ساتھیوں تک بھاگتا آیا۔ انہوں نے فوراً اپنے بچاؤ کا سوچا، حتیٰ کہ یارُو نے بھی لیکن سٔور ان کی طرف دیکھے بنا رُکا، گھوم کرپلٹا اور اپنے پیچھے آنے والے دوسرے کتوں کو اپنے بھاری وجود سے روندتا آگے بھاگتا چلا گیا۔ یہی کھیل کافی دیر تک جاری رہا۔ جب اس کی دھاڑ رُکی تو سب کتے صاف تھے اور وہ خود اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف دبکے ہوئے تھے۔ سٔور بھی شاید انسانوں سے پنگا لینے کا خواہش مند نہ تھا اس لیے واپس پلٹ گیا۔ گو کہ ناکامی کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا مگر ایک بات یارُو جان گیا تھا۔ بعد میں جب بھی اس کے کتے پھاڑے جاتے تو وہ اپنے آپ کو کوستا تھا۔ اس سٔور کا دایاں کان کٹا ہوا تھا۔ یارُو کو اچھی طرح یاد تھا کہ تین سال پہلے اس کے ہتھے اسی رنگ کا ایک بچہ سٔور لگ گیا تھا۔ اس نے ترس کھاکر اسے آزاد کر دیا تھالیکن آزاد کرنے سے پہلے نشانی کے طور پر اس کا دایاں کان کاٹ دیا تھا۔ اس سٔورکا دایاں کان کٹا ہواتھا اور یقیناًیہ وہی تھا۔ ہر ناکامی پر خود کو کوستے ہوئے وہ یہی کہتا کہ کاش اسی دن اسے اپنے کتوں کو کھلا دیتا، آج ہمیں اتنا ذلیل تو نہ کرتا۔

یارُو کی ٹولی دوسری بار ناکام اور پھر اس بری طرح کٹ کر واپس آئی تھی۔ تمام شکاریوں میں اُس کی شہرت پھیلتی گئی اور ہر جگہ سے آپہنچنے والے شکاری ارمان کرنے لگے کہ کاش وہ اس کا شکار کر سکیں۔ اس سال بھی اسی سٔور کا شہرہ رہا۔ ہر ٹولی اس کا سامنا ہونے کی دعا کرتی۔ پورے سیزن کے دوران وہ کئی ٹولیوں کے ساتھ نپٹ چکا تھا۔ جب سب نے ایک بار اس کی طاقت چکھ لی تو کئی کمزور دل سکھاڑیوں نے اس کے شکا ر کا ارادہ ہی ترک کر دیا اور کوشش کرنے لگے کہ اگر اس کا سامنا ہو بھی جائے تو کنی کترا کے نکل جائیں، خواہ مخواہ اپنے کتے مروانے کا کیا فائدہ۔ مگر جنہیں شکار کا اصل ٹھرک تھا،وہ اسی ’حرامی‘ کو ادھیڑنے کی خواہش میں مرتے تھے۔ بہت بھاگتے، بہت دوڑتے مگر وہ کبھی ہاتھ نہ آتا۔ اس سال اس نے کل انیس کتے ہلاک کیے۔ وہ تھا بھی تو ایسی ہی بلا،سیاہ رنگ کا ایسا بھرا بھرا جثہ جیسے خوفناک کالی رات اپنی پوری ہیبت کے ساتھ مجسم ہو گئی ہو۔ بڑی بڑی قتلیاں اور ان میں اتنی طاقت کہ سر جھکائے، قتلیاں زمین میں گڑو کرگزوں دور تک پوری رفتار سے زمین ادھیڑتا چلا جاتا تھا۔ اس اندھے زور کے ساتھ وہ اس قدر چَھٹ رکھتا تھا کہ تین تین چار چار کتوں کے گھیر ے سے نکل جانا اس کے لیے عام سی بات تھی۔ ایک ہی رفتار سے پوری پہاڑی چڑھ جاتا۔ بلکہ خضرا تو حیرت سے کہتا تھا کہ ’ہے تو سٔور لیکن لگتا نہیں ہے۔ پوری رفتار سے بھاگتا ہوا یک دم رکتا ہے، اور پھرپلٹ کر اسی رفتار سے پیچھے کو دوڑ پڑتا ہے۔ کتے ابھی اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آدھے راستے میں پہنچے ہوتے ہیں کہ وہ واپس مڑ کر انہیں روندنے کے لیے لوٹ رہا ہوتاہے۔ ‘

اس کی اصل مہارت ایک ہی ہلے میں دو کتوں کو پھڑکا جانا تھی اور سب سے بڑی خوبی، کہ دس دس کتے بھی مل کر اسے گھیر کے روک سکے اور نہ ہی اسے ہراساں کر سکے۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ ان سے نپٹتا، جیسے کتے نہ ہوں، چھوٹے نوالے ہوں جنہیں وہ نگل جائے گا۔ یہ اسی سیزن کی بات ہے کہ اس کا ذکر ’’جھِیلے‘‘ کے نام سے کیا گیا۔ اس کی پھرتی اور طاقت کے لحاظ سے وہ عین مین اسی جھِیلے کی طرح لگتا تھا جس کے قصے نوجوانوں نے اپنے بڑوں سے سن رکھے تھے،اس لیے جس نے بھی اس کا یہ لقب سنا، اسے موزوں جانا۔ علاقے کے جن لوگوں نے بابے جھِیلے کو جوانی میں دیکھ رکھا تھا، اس سٔور کے اس نام کو پسند کیا اور اب وہ ہر ایک کے لیے جھِیلا تھا۔ خود بابے جھِیلے کو بھی یہ خبر مل گئی کہ اس سٔور کو لوگ جھِیلا کہہ کے پکارتے ہیں۔ اس نے بھی اس کے قصے سن رکھے تھے۔ ہنس کر بولا’شکر ہے، قدرت نے جھِیلے کا نام زندہ تو کیا۔ ‘ تب سے اسے جھِیلا ہی کہا جانے لگا۔

اس سے اگلے سال صرف آٹھ ٹولیاں رہ گئیں جو جھِیلے کو مارنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ باقی سب لوگ دِل چھوڑ گئے تھے۔ لیکن یہ ٹولیاں بھی اپنے کئی کتوں کو کٹوا دینے کے باوجود جھِیلے کو قابو نہ کر سکیں۔ باہر سے آنے والے شکاری بھی جب یہاں آتے تو اس کا شہرہ سن کر اسی کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتے۔ ایسے ہی کسی شکاری نے حیدری سے جھِیلے کی نشانی پوچھی تو حیدری نے زہر خند سے کہا تھا: ’’نشانی پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب تمہارے سب کتے مر جائیں تو سمجھ لینا کہ مقابل جھِیلا ہی تھا۔ ‘‘

اس بار تو اس نے واقعی تباہی مچا کے رکھ دی تھی۔ ایک اور حیران کن بات شکاریوں نے یہ دیکھی کہ جو شکاری کتے ایک بار پہلے جھِیلے سے لڑ چکے ہوں، وہ جھِیلے کے سامنے جاتے ہی نہ تھے۔ بس دور کھڑے اس پہ بھونکتے ر ہتے۔ یہ واقعی تعجب کی بات تھی۔ ورنہ شکاری کتے تو ایسے سٔور کو، جو انہیں پہلے کبھی زک پہنچا چکا ہو، زیادہ غضب سے چیرنے کو دوڑتے تھے۔ لیکن جھِیلے کے سامنے معاملہ الٹ ہو گیا تھا۔ وہ اس کی طاقت سے دہشت زدہ ہو چکے تھے۔ اس سیزن میں بھی سب ٹولیوں کی کوششیں ناکام گئیں۔ جھِیلا سبھی کے بس سے باہر تھا۔ کتوں کے بس میں وہ آ نہیں سکتا تھا۔ بندوق کے متعلق سوچنا بھی شکاریوں کے خلافِ شان تھا۔ جھِیلا جواں مردوں کی طرح جیے جا رہا تھا۔
اس سیزن کے بعد علاقے کے دو تین چوہدریوں نے جھِیلے کو مارنے کا اچھا خاصا انعام مقرر کر دیا تھا۔ ان دنوں یارُو وغیرہ سب اسی تمنا میں جیتے تھے کہ اب کے سال اسے رگڑ ڈالنا ہے۔ یارُو، جو تاڑ گیا تھا کہ جھِیلے کے سامنے پرانے کتے یرَک جاتے ہیں، خاص طور پہ جھنگ گیا تھااور وہاں کے کسی وڈیرے دوست سے تین جوڑیاں؛ دو بوہلی، ایک گل ٹریا کتوں کی، لے آیاتھا اور اب انہیں چھ الگ الگ گڑھوں میں رکھ کر پال رہا تھاتا کہ جھِیلے کے شکار کے لیے خاص طور پرخونخوار ہو جائیں۔ تمام ٹولیوں کے ساتھ اس نے شرط باندھی تھی؛ اس دفعہ میں اسے مار کے ہی رہوں گا۔ ان دنوں جھِیلے کو مرتے دیکھنے کا جنون تمام برموٹ بلکہ پورے علاقے میں تھا۔ مرد عورت، بچے، بوڑھے اسی پہ بحث کرتے کہ کون سی ٹولی اس قابل ہے کہ جھِیلے کو مار سکے۔ جب بحث کہیں نہ پہنچتی تو آخر شرطیں بدنے لگتے۔ ’تو جس ٹولی کا کہہ رہا ہے، اگر جیت جائے توتمہاری ٹانگ کے نیچے سے گزر جاؤں گا‘۔ ’خضرے کی ٹولی اس کا ایک بال بھی نہیں لا سکتی۔ جس دن وہ اسے پکڑ لائے، میں اپنی مونچھیں مُوت سے مُنڈوالوں گا۔ ‘لیکن سب جانتے تھے کہ اس بحث اور ان شرطوں کا کوئی مقصد نہ تھا۔ جھِیلا کسی کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔

گرمی کے اس موسم میں جھِیلا بہت ہی اکڑ خان بن گیا تھا۔ اپنے آپ کو شاید علاقے کا تھانیدار سمجھنے لگا تھا اور تھانیدار کی طرح ہی گھومتا ہوا عین آبادی میں آجاتا تھا۔ گائوں کی گلیوں میں اس طرح گھومتا، گویا اس کے اپنے باپ کی بنائی گلیاں ہیں۔ ایک مستانی چال سے اپنی تھوتھنی کے ساتھ گلیوں میں گند پھرولتا وہ ایک شان سے چلتا جاتا۔ لیکن کبھی ایک جگہ پر ٹھہرتا نہیں تھا۔ شاید ٹھہرنا اس کااصول تھا بھی نہیں۔ ایک طرف سے آتااور ایسے اعتماد کے ساتھ چلتاہوا، جو سب سے طاقتور ہونے کا احساس ہی دے سکتا ہے،دوسری طرف نکل جاتا تھا۔

جب وہ پہلی بار گاؤں میں آیا تھا تو ایک دہشت تھی جو گاؤں کے اس کونے سے اس کونے تک پھیل گئی تھی۔ ایسا کبھی ہوا تھا اور نہ کبھی ایسا ہو سکتا تھا۔ بھلا سٔور جیسانجس جانور گائوں کا رُخ کیسے کر سکتا تھا۔ برموٹ کے علاوہ کوئی بھی اَورگاؤں ہوتا تو اُس کی بوٹیاں اڑا دی جاتیں لیکن یہ خضرے، حیدری اور یارُو کا گاؤں تھا۔ یہاں شکار کے اصول پر سبھی عمل کرتے تھے۔ اسے مارنے کی بجائے اس کا پِیچا دیکھنے کے لیے کچھ شکاری اس سے بہت آگے چِّلاتے ہوئے گاؤں والوں کو خبردار کرتے گئے کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس کرد روازے بند کر لیں،جھِیلا گاؤں کے اندر آ رہا ہے۔ یارُو، حیدری اور دوسرے کچھ شکاری بندوق لے کر نکل آئے اوراس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے کہ اگرکسی آدمی کے لیے کوئی خطرہ بنا تو اس’ماں کے یار‘کو اُڑادیں گے۔ اصول وَڑ گئے کھڈے میں۔ گاؤں کے باسیوں سے ہمارے اصول اہم تو نہیں۔ لیکن جھِیلا جس نے آج تک شکار کے دوران بھی کسی انسان پر حملہ نہ کیا تھا، کسی گھر کو چھیڑے بغیر آرام سے چلتا ہوا گلیوں سے گزرتا رہا۔ صرف جہاں کسی چاردیواری کے پیچھے شکاری ٹولی کے کوئی کتے بندھے ہوتے، وہاں کتوں کی سہمی ہوئی آوازیں بلند ہوتی سن کر وہ کچھ دیر ٹھٹک جاتا تھا، لیکن جب کسی کتے کو اپنے مقابل نہ پاتا تو پھر چل پڑتا۔ یا رو اور دوسرے سبھی شکاری حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔ آج تک سننے میں نہ آیا تھا کہ کوئی سؤر انسان کو دیکھ کر سامنے کھڑا بھی رہا ہواور یہ جھِیلا کم بخت بھرے پُرے گاؤں میں آ کر انسانوں کے بیچوں بیچ آرام سے گھوم رہا تھا۔ کیا اسے انسانوں سے خوف نہیں آتا؟ کیا اسے معلوم ہے کہ ہم لوگ اسے یوں مارنا نہیں چاہتے یا اسے یقین ہے کہ ہم لوگ اسے مار نہیں سکتے؟جھِیلا ان کی حیرت سے بے نیازکافی دیر گلیوں میں گھومتا رہا اور پھر اسی اطمینان کے ساتھ گاؤں سے نکل گیا جو وہ شکار کے وقت بھی اوڑھے رکھتا تھا۔

اس دن کے بعد شکاریوں کی ٹولیاں ایک بار پھر مل کر بیٹھیں اور اس کے شکار کے لیے بنائے گئے اصولوں پر نظرِ ثانی کی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اب وہ بہت دیدہ دلیر ہو چکا ہے، جس بھی طرح بن پڑے اسے مار دینا چاہیے۔ بندوق سے مارنے میں ہمارا کیا جاتا ہے، جب وہ گاؤں کے لوگوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ آج تو اس نے کچھ نہیں کیا لیکن آئندہ اُس نے کسی آدمی کو چیر دیا تو اس کے مجرم ہمی ہو ں گے جنہوں نے اپنی جوانمردی ثابت کرنے کے لیے اسے چھوٹ دی ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے جن کا کئی دفعہ رات کو اس کے ساتھ ٹاکرا ہو چکا تھا، واضح کیا کہ وہ آدمیوں پر حملہ نہیں کرتا۔ یارُو نے پورے تیقن سے کہا کہ وہ کبھی کرے گا بھی نہیں اس لیے ہم بھی اسے بندوق سے نہیں ماریں گے۔ یہ ہمارے شکاری ہونے پر ایک گالی ہے۔ ماریں گے تو کتوں کی مدد سے ہی۔ ہاں اگر وہ آئندہ بھی کبھی گاؤں آیاتو ہم لوگ اس کے پیچھے آج کی طرح پہرا دیں گے،کوئی خطرہ محسوس کیا تو فائرٹھوک دیں گے، نہیں توکوئی بھی شخص اس کو گولی نہیں مارے گا۔ کافی دیر کی بحث کے بعد وہ اس پہ متفق ہو گئے۔

جھِیلا دیدہ دلیری پر اتر آیا تھا۔ وہ کئی بار گاؤں میں آ چکا تھا۔ عین دن کے وقت جب سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے، وہ کہیں سے گھومتا گھامتا نکل آتا، گاؤں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مردانہ وار چلتاجنگل کی طرف لوٹ جاتا۔ گاؤں کے لوگ اس کے آتے ہی اپنے اپنے گھروں میں گھس جاتے۔ جو لوگ شکاری نہ تھے اور اس کے قصے سن سن کے اس کی طاقت اور پھرتی کے قائل ہوچکے تھے، وہ اسے دیکھنے کے سخت خواہش مند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس دن اسے پکڑ کر لایا گیا تب دیکھ لیں گے مگر اب جو وہ خودگاؤں آ جاتا تھا تو وہ اپنے گھروں کی منڈیروں سے جھک جھک کراسے دیکھتے، مرعوب ہوتے اور اس کی تعریف کیا کرتے، کہ واقعی صحیح معنوں میں ’جنا‘ ہے اور پورا حق دار ہے جھِیلا کہلانے کا۔

اس کے انداز سے کبھی یہ ظاہر نہیں ہوا تھاکہ وہ گاؤں میں کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ شاید وہ وہاں کے شکاریوں کو یہ دکھانے آتا تھا کہ یہ میں آ رہا ہوں، اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ شکاریوں نے کیوں کہ طے کیا ہوا تھا کہ ا س کا شکار سردیوں میں کرنا ہے، اس لیے وہ اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔ صرف سیزن کے انتظار میں تھے۔ جب بھی وہ اسے گاؤں میں دیکھتے، انہیں آگ سی لگ جاتی تھی، یارُو تو ہرروز جھنگ سے لائے اپنے کتوں کو جتاتا تھا کہ اب کی بار سیزن میں اس کے ٹکڑے کر کے چھوڑنے ہیں۔ بڑا آیا سٔور کا بچہ، ہمیں ہمارے ہی گاؤں میں آ کے للکارتاہے۔

٭٭٭

اَسا ڑھ کے مہینے کی بات ہے۔ ایک دن بابا جھِیلاگرمی سے گھبرایا ہوا تھا۔ کچھ دوست اس کے پاس گپ ٹھپ کے لیے آئے تو اس نے ان سے کہہ کر اپنی چارپائی باہر گلی میں شہتوت کے نیچے بچھوا لی، جہاں چھاؤں تازہ اور ہوا ٹھنڈی تھی۔ سب وہیں بیٹھ کے گپیں ہانکنے لگے۔ بابے کی جوانی کی باتیں شروع ہو گئیں تو حسبِ معمول ختم ہونے میں نہ آئیں۔ اسی دوران گلی میں شور مچ گیا کہ جھِیلا اس طرف آ رہا ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگے۔ بابے جھِیلے کے پاس بیٹھے دوست اٹھ کر اس کی کوٹھی میں داخل ہو نے لگے۔ بابے جھِیلے کو انہوں نے کہا بھی کہ وہ سٔور آ رہا ہے، تم بھی اٹھ کے اندر آجاؤ، خواہ مخواہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھوگے۔ لیکن بابا ان کے جواب میں ہنس دیا۔ ’مذاق مت کرو۔ اگر جھِیلا آرہا ہے تو کیا، اصل جھِیلا تو میں ہوں۔ مجھے کیا پروا‘۔ دوست اس کی ضدی طبیعت سے واقف تھے کہ جو بھی کام کرے گا، اپنی مرضی سے کرے گا، ان کے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کے خود کوٹھی میں گھس گئے۔ باباجھِیلا وہیں اپنی چارپائی پہ بیٹھا رہا۔

کچھ دیر بعد جھِیلا گلی کی نکڑ پہ نمودار ہوا۔ اسی مطمئن اور باوقار چال کے ساتھ چل رہا تھاجو اس کی صفت تھی۔ آہستہ آہستہ وہ گلی کے اندر آتاچلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے گلی میں بابے کی موجودگی کو محسوس کر لیا۔ شاید حیران ہو ا ہو گا کہ آج کوئی آدمی اس کے راستے میں کیسے آ گیا۔ وہ چال تھوڑی تیز کر کے بابے کی طرف بڑھا۔ محلے والے حسب معمول اپنی چھتوں پر کھڑے تھے۔ البتہ آج انہوں نے دم سادھ لیا تھا۔ جب جھِیلے نے بابے کی طرف رخ کیا تو کئی عورتوں کے حلق سے مارے خوف کے دبی دبی چیخ نکل گئی۔ پتا نہیں کتنی آوازوں نے بابے کو پکارا، ’اندر چلے جاؤ، اُٹھو،بھاگو! ‘ لیکن بابے کو کچھ پروا نہ تھی۔ وہ بڑی دلچسپی سے جھِیلے کواپنی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ صرف ایک بار اس کی توجہ بٹی، جب اس نے جھِیلے کے پیچھے حسبِ معمول پہرہ دیتے، یارُو اور اس کے ساتھیوں کو بندوقیں اٹھائے گلی کی نکڑ پر نمودار ہوتے دیکھا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں کچھ بھی نہ کرنے کا اشارہ کیا لیکن یارُو اور اس کے ساتھی جھِیلے کو بابے کی طرف بڑھتے دیکھ چکے تھے، وہ تیزی سے آگے بڑھنے لگے،ان کی بندوقیں فائر کرنے کی پوزیشن میں آنے لگی تھیں۔ جھِیلا چلتا چلتا بابے کے پاس آ کے رُک گیا۔ کافی دیر وہیں ٹھہرا رہا، اتنی دیر میں یارُو اور اس کے ساتھی اسے اپنی شِست میں لے چکے تھے۔ چھتوں پر کھڑ ے لوگ اس انتظار میں تھے کہ پہلے یارُو لوگوں کی بندوق چلتی ہے یا جھِیلا اپنا وار کرتا ہے۔

جھِیلے نے اپنا سر جھکایا اور فرمانبرداری سے پہلے بابے کے پاؤں کو سونگھا اور پھر چاٹنے لگا۔ بابے نے بلند آواز سے پکار کر یارُو کو فائر نہ کرنے کا کہا اوریارُو اور اس کے ساتھیوں کی انگلیاں حرکت میں آتے آتے رک گئی۔ ان سب کی آنکھوں میں بھی چھتوں پہ کھڑے لوگوں کی طرح حیرت تھی۔ بس انگلیاں ٹریگروں پر ٹھہرائے بُت بنے کھڑے دیکھتے رہے۔ جھِیلے نے پہلے تو کافی دیر بابے کا پیر چاٹا پھر بھولے بچوں کی طرح اپنا سر بابے کی چارپائی کی پٹی پر رکھ دیا، انداز ایسا تھا گویا کسی بزرگ سے سر پہ ہاتھ پھروانا چاہتا ہو۔ بابابڑ ے دلار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا کٹا ہوا دایاں کان دیکھ کر بابے کو اپنی چوٹ یاد آ گئی۔ بابا اس کے کان والی جگہ کو پیار سے یوں سہلانے لگا جیسے کٹاؤ کا درد کم کرنا چاہتا ہو۔ کافی دیر بعد جب جھِیلے نے اپنی نگاہیں کچھ اوپر اٹھائیں اور بابے کی طرف یوں دیکھا گویا جانے کی اجازت مانگ رہا ہو تو بابے نے اس کے بائیں کان کی طرف ذرا آگے جھک کربڑے لاڈ سے کہا: ’’شاباش پتر! حق ادا کر دیا ہے۔ مگر دیکھ، ہار کبھی نہیں ماننی۔ جب تک میدان میں ہے، تب تک نہیں۔ جب ہارنظر آنے لگی تو پھر میدان میں اترنا بھی مت۔ پکا چھوڑ دینا۔ اب جا میرا پتر، موجاں کر۔ ‘‘

جھِیلے نے یوں سر ہلایا جیسے پوری بات سمجھ گیا ہو۔ آرام سے سیدھا ہوا، ایک بار پھر بابے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت چاہی اور بابے کا اشارہ پا کراپنی پہلی چال سے آگے چل دیا۔ بابا اسے گلی کا موڑ مڑنے تک ایسے فخر سے دیکھتا رہا جیسے اس کا اپنا بیٹاہو،جس کا نام جگ میں بولا جاتا ہو۔

اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی یارُو اوراس کے ساتھی، جو اَب تک اپنی حیرت پر قابو پا چکے تھے، اپنی ڈیوٹی نبھانے کو بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے۔

کچھ دیر بعد بابے کے دوست بھی کوٹھی سے نکل کے دوبارہ اس کے گرد جمع تھے۔ سب کے چہرے اور زبان پہ ایک ہی سوال تھا ’یہ جھِیلے نے کیا کِیاہے؟ ‘

بابے نے مان بھرے انداز میں انہیں جواب دینے کی کوشش کی۔ ’’ میری بڑی مدت سے خواہش تھی کہ جھِیلے سے ملاقات ہو، شکر ہے کہ خود ہی آ کے مل گیا۔ ‘‘

کچھ دوستوں نے اس کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آخربابے نے جھِیلے کو پتر کیوں کہا تھا۔ ’ ’شرم نہیں آئی کہ ایک سٔور کو اپنا پتر کہہ دیا۔ اس کا نام لینے سے زبان چالیس دن پلید رہتی ہے اور تم ہو کہ اسے پتر کہہ دیا ہے۔ کوئی ایمان کی رتّی بھی ہے تم میں؟‘‘

بابا کافی دیر ان کی باتیں سنتارہا۔ وہ سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شور مچاتے رہے۔ آخر تنگ آ کر بابے نے انہیں ایک ہی جواب سے خاموش کر دیا۔ بابا بے بسی کے سے انداز میں چہرے پر مسکرا ہٹ لا کر بولا تھا:
’’اوئے جھلیو!پتر تو وہی ہوتا ہے جس سے باپ کا نام روشن ہو۔ اس نے میرا نام علاقے میں ایک بار پھر مشہور کر دیا ہے۔ میری اصل اولاد تو وہی ہے نا۔ ‘‘

Categories
فکشن

جھجھک (محمد عباس)

پشتے کے پار پانی دیکھ کر اس کے اندر کچھ مچلنے لگا۔ ساون کی حبس آلود دوپہر میں پانی کی سطح گُھوک سوئی ہوئی تھی۔ پانی کسی افیمی کی طرح لیٹا تھا گویا دوپہر کی رُکی رُکی ہوا کے لمس سے پینک میں آ گیا ہو۔ اس کا جی چاہا کہ فوراً چھلانگ لگا کر بطخ کی طرح تیرنے لگے۔ نالے کے پانی کے ساتھ اس کا رشتہ بہت لاڈ کا تھا۔ جس طرح زمین ساون کی بارش سے نگھر آتی ہے، وہ بھی نالے میں پہنچتاتو خود کو ہراہرا محسوس کرتا۔ ہلکا، نرم اور ٹھنڈا۔۔۔نالے میں اترتا تو پانی اسے ماں کی طرح گود میں لے لیتا اور پھر وہ شلوار میں پھُوک بھرے، ٹانگ پہ ٹانگ دھرے، اس کی خاموش سطح پرسیدھا لیٹا کچھ ایسے جھلکورے لیتا رہتا جیسے ماں کی لوری سنائی دے رہی ہو۔

پانی اب بھی اسے اپنی طرف بلا رہا تھا مگر اس کے اندرجمے ہوئے خوف نے اسے محتا ط کر رکھا تھا۔ ’کیا مجھے نہانا چاہیے؟‘ اس نے سوچا۔ جواب حتمی طور پر ’ہاں‘ میں تھا۔ ’لیکن گھرمیں سب کو پتا چل جائے گا۔ ‘ ’کیسے پتا چلے گا‘۔ ’جب مٹیالہ پانی شلوار کا رنگ بدل دے گا، کوئی اندھا بھی جان لے گا کہ میں کہاں سے آرہا ہوں۔ ‘اس نے اپنے اجلے سفید کپڑوں کو دیکھا۔ شلوار پہنے نالے میں نہانے سے شلوار کی یہ سفیدی گدلی ہو جانی تھی۔ ’کیسے پتاچلے گا، اگر کپڑے اتار کر نہایا جائے تو کپڑوں پر کہاں سے داغ آئے گا؟ ‘

’کپڑے اتار کر؟‘
’ہاں! بالکل ننگا!

’مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ میں تو نہ کبھی ننگا نہایا، نہ نہا سکتا ہوں۔ ‘

’کیوں نہیں نہا سکتے؟کیا فرق پڑتا ہے اس سے؟ آخر باقی لڑکے بھی تو ننگے نہاتے ہیں، انہیں کبھی کچھ ہوا کیا؟ اورشرم کی کیا بات؟یہاں اکیلے تم ہو۔ دوپہر ڈھلنے تک کوئی دوسراآئے گا بھی نہیں۔ ‘

اس نے پشتے پر کھڑے ہو کر دورگاؤں کی طرف دیکھا۔ ہر طرف سنسانی، بورائی ہوئی دھوپ اورپچھلی بارش کی نمی سے نکلتی بھڑاس کا راج تھا۔ اس گرمی میں واقعی یہاں کوئی نہیں آنے والا تھا۔ ’مگر پھر بھی۔۔۔ننگا ہونا انسان کے لیے کتنی شرم کی بات ہے؟‘

’اتنی بھی نہیں،جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔۔۔ اور اگر تمہیں اتنی گھبراہٹ ہوتی ہے تو یہاں آئے ہی کیوں ؟ چھوڑو نہانے کو،چلو واپس پلٹ جاؤ۔ ‘

یہ ملامت اس کے لیے مہمیز تھی۔

’اور اگر نہانا ہے تو پھر یہی طریقہ ہے، سارے کپڑے اتارپھینکو اور لگادو چھلانگ۔ ‘

گھر میں غسل خانہ تو تھا ہی نہیں،صحن میں بنے کھُرے پر نہانا پڑتا تھا۔ بچپن میں جب خالہ یا اماں اسے سب کے سامنے ننگا کر کے نہلاتیں توا سے کچھ خاص اوپرا محسوس نہ ہوتا تھا۔ لیکن جب ایک دن اس کی خالہ نے اسے نہلاتے وقت اس کی رانوں کے درمیان سے میل اتارتے ہوئے جھڑکا تھا:’’شرم نہیں آتی، اتنے بڑے ہو گئے ہو اور ابھی تک خود نہیں نہا سکتے۔ ننگے ہو کر ماؤں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہو۔ ‘‘ تو اسے بڑی شرم محسوس ہوئی تھی۔ اسے لگا تھا کہ ننگا ہوناکوئی بری بات ہے۔ اس کے بعداس نے خود نہانا شروع کر دیاتھا اور پوری طرح ننگا نہ ہوتا تھا۔ قمیص اتارتا اور شلوار پہنے ہوئے نلکے کے نیچے جا بیٹھتا۔ کھُرے پر بہنوں اور ماں کے سامنے نہاتے ہوئے پردہ قائم رہتا اور اسے بھی شرم محسوس نہ ہوتی۔ بعد میں اماں نے اسے گھٹنوں تک لمبا ایک کچھا سی دیاتھا جس میں شلوار کی طرح ناڑا ہی بندھتا تھا۔ پچھلے تین برسوں سے نہاتے وقت وہ اسی کچھے سے اپنی شرم چھپاتا تھا۔

برساتی نالوں میں نہانے کا شوق اسے ذرا بڑے ہونے کے بعد چمٹا تھا۔ دراصل یہ اُس جنون کی توسیع تھی جو بارش کی پہلی بوند دیکھتے ہی اس کے اندرجاگنے لگتا۔ وہ کچھا پہنے گھر سے نکل آتا اور گلی میں بارش کا مزہ لیا کرتا۔ کبھی کسی پرنالے کے نیچے، کبھی گلی میں سے بہتے پانی میں چھلاپیاں مارتے ہوئے۔ جب اس کی بانہوں اور ٹانگوں میں طاقت آنے لگی تو یہ اُتھلا اُتھلا پانی اسے کم لگنے لگا اور زیادہ کُھلے کی طلب ہونے لگی۔ یہی طلب اسے ایک دن برساتی نالے میں لے گئی تھی۔ بارش ہو رہی تھی، جب وہ گھر سے نکلا تھا۔ گلی میں کچھ بڑی عمر کے لڑکے تھے جو نالے کی طرف جانے لگے تھے۔ یہ بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ گاؤں سے باہر دور نالے کی طرف جاتے ہوئے اس کا دل اُمڈا جا رہا تھا۔ نالے کے قریب پہنچ کر باقی سب لڑکوں نے تو نالے میں چھلانگ لگا دی مگروہ اپنے سارے جوش کے باوجود درندوں کی طرح لپکتی لہروں کو دیکھ کر ٹھٹک گیا اور کنارے پر سہما کھڑاکافی دیر تک انہیں نہاتے دیکھتا رہا۔ پھر جھجکتے جھجکتے اس نے غرّاتے جھپٹتے پانی میں ایک پاؤں لٹکاکر دیکھا۔ بہائو کی تیزی سے اسے ایک جھٹکا سا لگا لیکن پانی کی مہربان ٹھنڈک سے لطف کی ایک لہر اس کے پورے بدن میں دوڑ گئی تھی۔ ساتھ آئے ہوئے لڑکوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور وہ ہمت کر کے نالے میں اترگیا۔ پانی رانوں تک ہی پہنچتا تھا لیکن پھر بھی اس کے اندر اندھی طاقت تھی۔ وہ جب ایک ہی جگہ پاؤں جما تھوڑی دیرتک کھڑارہا تو ریت اس کے پاؤں تلے سے نکلتی محسوس ہوئی اور یوں لگا جیسے وہ نیچے دھنستا جا رہا ہے۔ چلنے کی کوشش کی تو پانی اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ پانی زیادہ نہ تھا، اس لیے تھوڑی دیر میں وہ سنبھل گیا اور وصال کی اِس انوکھی لذت کا لطف لیتا رہا۔ وہ نہیں جانتا کہ اُس دن اُس کے حلق سے حیر ت اور مسرت کی چہکار بھری کتنی چیخیں نکلتی رہی تھیں۔

نالے کے ساتھ اس کا یارانہ پکا ہو گیا۔ بارش آتی تو وہ نالے میں جا پہنچتا۔ پہاڑوں پر سے شرکاٹے مارتا پانی منٹوں میں اس کے گاؤں کی سرحدتک پہنچ آتا تھا۔ وہ پانی کے پہلے ریلے سے لے کر آخری لہر تک پانی میں رہنے کی کوشش کرتا۔ بس جس دن بارش شام یا رات کو ہوتی، اس دن اسے بڑی مایوسی ہوتی کہ تازہ پانی اور اتنا پانی ضائع گیا۔ خیر یہی نہیں کہ وہ اور اس کے دوست صرف نالے کے بہتے پانی میں نہاتے تھے بلکہ بارش کے بعد بھی کافی دنوں تک اس پانی کا لطف لیتے رہتے۔ نالہ جہاں سے موڑ لیتا تھا وہاں ریت کے مسلسل سرکاؤ سے ایک گڑھا بن گیاتھا جسے ’ڈھن‘ کہتے تھے۔ نالے کا پانی اِس ڈھن میں ہفتوں تک کھڑا رہتا۔ یہ پانی کافی گہرا ہوتا تھا۔ بعض اوقات تو اونٹ ڈباؤ۔ دوبارہ بارش نہ ہو، تب بھی وہ ہفتوں تک اس پانی میں نہاتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ پانی لیس دار اورگاڑھا ہوکر بدن سے چپکنے لگتا۔ تب یہ اندر نہ اترتے مگر حسرت سے دیکھنے ضرور جاتے۔

نالے اور ڈھن کے پانی سے ان کے کئی جذبے وابستہ تھے۔ گاؤں کی عام سی زندگی میں یہی ان کی خاص تفریح تھی۔ خود وہ اپنے بارے میں جانتا تھا کہ اس کی نوخیزی کی پہلی محبت یہ نالہ ہی تھا۔ یہیں اس نے اپنے اندرپہلی بار اس میٹھی لہر کو ہلکورے لیتے محسوس کیا تھاجو جوانی کی مچلن سے آدمی کی رگوں میں رواں ہوتی ہے۔ یہیں پہلی دفعہ اس کے جوان ہوتے دل نے اپنی دھڑکنوں کو بے قابو محسوس کیا تھا۔ ایک نشہ تھا جو پہاڑوں سے بہہ کر آتا تھااور اسے ساتھ بہالے جاتا تھا۔ ساون، بھادوں کے دو مہینے جب اُدھر سکول سے بھی چھٹیاں ہوتی تھیں، وہ زیادہ وقت نالے میں ہی گزارتا۔ نالے کا پانی ہو اور وہ اس میں نہ ہو، یہ تصور ایسے ہی تھا، جیسے کہانی ہو اور اس میں کوئی کردار نہ ہو۔

چودہ سال کی عمر تک وہ اچھا خاصا تیراک بن چکا تھا۔ ہر قسم کی قلابازی، چھلانگ وہ لگا لیتا تھا۔ بلکہ جب وہ نالے کے پشتے سے، جہاں پانی کا کنارہ دو میٹر دور بنتا تھا، قلابازی کھا کر نالے میں آ کودتا تو اس کے ساتھی دیکھتے رہ جاتے۔ اتنی ماہرانہ چھلانگ کوئی نہیں لگا سکتاتھا۔ پانی کے اندر دو دو منٹ تک غائب رہتا اور بیسیوں فٹ دور جا اُبھرتا تھا۔ سب کرتب جو اس کے ساتھی دکھا سکتے تھے، وہ ان سے بڑھ کر دکھا لیتا تھا۔

تیراکی کی یہ سب مہارتیں اپنی جگہ، نہانے کا شوق الگ لیکن ایک کام وہ کبھی نہیں کر پایا تھا۔ وہ تھاننگا ہو کر نہانے کا۔ اس کے اکثر دوست گھر والوں کے خوف سے اپنے کپڑے اتار کر نہاتے۔ باہر نکل کر آرام سے منھ، سر پر ہاتھ پھیرتے، بدن سُکھا،کپڑے پہن کر چل دیتے لیکن اس کے دل میں کبھی یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ ایسے نہا سکے۔ دوسروں کے ننگے بدن دیکھ کر اسے بڑی شرم آتی اور وہ سوچتا کہ وہ خود عریاں ہو کر کیسا دکھائی دے گا۔ ننگی پیٹھ، ننگی نونو کا سوچ کر ہی وہ مُر مُرا سا جاتا۔ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کو یہ موج ضرور تھی کہ گھر سے اتنی روک ٹوک نہ تھی۔ ابا بیرونِ ملک تھے، اماں کچھ کہتی نہ تھیں، اس لیے اسے کپڑے گدلے ہونے سے کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑتی۔ وہ آرام سے اپنا کچھا پہنے نہاتا رہتا اور دوسروں کا ننگ دیکھ دیکھ کر منھ پھیرتا رہتا۔ دوسرے بھی اس کی شرم پر اس کا مذاق اڑاتے مگر وہ ان کے کہنے میں نہ آتا تھا۔ ایک دفعہ،باقی دوستوں کا اشارہ پا کر ساجی پانی کے اندر ڈبکی لگا ئے ہوئے،اس کا کچھا کھینچ لے گیا تھا۔ اس دن وہ اپنے دوستوں کے سامنے بہت گھگھیایا تھا۔ کچھے کے بغیر نکلنے کا سوچ کر اس کی ٹانگیں بے جان ہورہی تھیں۔ پہر بھر پانی میں دبکا رہا مگر انہوں نے اس کا کچھا واپس نہ کیا تھا۔ شام کو جب گھر جانے کا وقت ہوا،تب انہیں اس پر رحم آیا تھا۔ کچھادوبارہ واپس ملنے تک وہ عہد کر چکا تھا کہ آئندہ زندگی میں کبھی بھی ساجی کو منھ نہیں لگائے گا اور آج تک وہ اپنے اس عہد پر قائم تھا۔

آج کل ساون کا مہینہ تھا۔ نہانے کے دن زوروں پر تھے مگر پرسوں اس کی نانی کی اچانک وفات نے لطف خراب کر دیا تھا۔ نانی کی وفات پر سارے ننھیالی رشتہ دار ماموں، خالائیں جو بیرونِ ملک تھے، پاکستان آگئے تھے۔ اس کے ننھیالی گھر میں ایک بھیڑ سی جمع ہو گئی تھی۔ اماں کے آٹھ بہن بھائی تھے اور ان سب کی اولاد ملا کر کوئی تیس کے قریب پہنچتی تھی جن میں سے آٹھ دس لڑکے اس کے ہم عمر تھے۔ ان میں سے بیشترملیر اور مسیر رہتے تو پاکستان میں ہی تھے لیکن اس طرح اکٹھے کم ہوپاتے تھے۔ ان کے لیے تو جشن کا سماں تھا۔ انہیں اور جو باہر سے آئے تھے، سب کو نالے میں نہانے کاچسکا تھا۔ جس دن وہ نانی کو دفنا کر واپس آئے، اس رات مسلسل تیز بارش ہوئی تھی۔ تمام رات بارش کی ٹپا ٹپ سنتے ہوئے اس کا دِل تازہ پانی کے لمس کے لیے مسوستا رہا اور وہ دل ہی دل میں صبح نالے میں نہانے کے منصوبے بناتا رہا۔’ صبح تک نالہ تو بہہ چکا ہو گا۔ چلو ڈھن میں ہی نہا کر لطف لے لیا جائے گا۔‘ اسی فکر میں رات کو اسے بہت دیر سے نیند آئی۔ صبح جب وہ جاگا تو سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ بارش کے بعد دھوپ دھل کر مزید تیکھی ہو گئی تھی۔ جلدی جلدی ہاتھ منھ دھو کر اس نے ناشتہ کیا، اس دوران وہ جان گیا تھا کہ سبھی ملیروں، مسیروں میں سے کوئی بھی گھر میں نہیں ہے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ سب نہانے کو نکل گئے ہیں۔ گھر کی سب عورتیں ایک طرف برآمدے میں پھوہڑی پہ بیٹھی تھیں۔ مرد فاتحہ کی طرف تھے۔ وہ سب سے آنکھ بچا کے باہر نکل آیا۔ اس کا یہ ننھیالی گھر، جسے و ہ سب ’ڈیرہ‘ کہتے تھے، گاؤں کے بالکل بیرونی سرے پر تھا۔ جہاں سے ڈھن کا پشتہ دورصاف نظر آتا تھا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا ہو گا کہ اسے کافی سارے لوگ پشتے سے نیچے اترتے اور ڈیرے کی طرف آتے دکھائی دیے۔ وہ ٹھٹک گیا۔ ذراسی دیر میں اس نے اپنے بڑے ماموں کوجو سب سے پیچھے تھے،ان کے لمبے قد کی وجہ سے پہچا ن لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ماموں ان سب کو وہاں سے کھینچ کر گھر کی طرف ہانک رہے ہیں۔ وہ فوراًڈیرے کی طرف پلٹ آیا اور ادھر ادھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ماموں ان سب کو لیے آن پہنچے۔ سا ری پلٹن کو ایک طرف کڑی دھوپ میں مرغا بنایا گیا اور سب کو ایک ایک جوتا عین تشریف پر رسید کیا گیا۔ وہ ان کی حالت دیکھ دیکھ اپنی خوش بختی پر ہنستا رہا ورنہ اگر ماموں تھوڑی دیر بعد جاتے تو اب دھوپ میں اس کا بھی عرق نکل رہا ہوتا۔

عصر کے بعدجب پھوہڑی اٹھا دی گئی اور سب رشتہ دار اکٹھے بیٹھے تو بڑے ماموں نے اُن سب کو طعنہ دیااوراِس کی تعریف کی کہ یہ واحد لڑکا ہے جسے گندے کاموں کا شوق نہیں۔ شاباش کے ساتھ ماموں نے اسے دو روپے انعام بھی دیاجس پر اسے کافی فخر اور ملیروں او ر مسیروں کو بہت جلن ہوئی تھی۔

اُس دن سارا وقت اس کا دل نہانے کومچلتا رہا تھا۔ اب تو سارا نالہ بہہ گیا ہو گا۔ وہ جو تازہ پانی میں مزہ آتا ہے، وہ نہیں ملے گا۔ اتنا۔۔۔گھنٹوں پانی ضائع گیا۔ جس میں بندہ نہا نہ سکے، وہ پانی ضائع ہی سمجھو۔ اب دوبارہ بارش ہونے تک ڈھن میں ہی نہانا پڑے گا۔

اگلے دن وہ صبح سے ہی بے تاب تھا لیکن قل کی وجہ سے ان سب ملیروں، مسیروں کو کام بھی بہت تھے، وہ جلدی نہ نکل پایا۔ قل خوانی کے بعد مرد حضرات کھانا کھا کر چلے گئے اور فاتحہ کی دریاں لپیٹ لی گئیں توگھر کے سب مرد اُلسانے لگے۔ ایک ماموں اِدھر پڑ رہے، دوسرے اُدھر۔ بڑے ماموں نے چارپائی توت کے نیچے بچھائی اور خراٹنے لگے۔

موقع مناسب دیکھ کر وہ کھسک لیا تھا لیکن اب ڈھن پر پہنچ کر ایک نئے مسئلے نے اسے الجھا لیا تھا۔ نہانے کا واحد طریقہ جس سے پکڑے جانے کا امکان نہ رہتا، یہی تھا کہ وہ ننگا ہو کر نہائے لیکن اِس میں شرم آڑے آتی تھی۔ وہ پشتے سے اتر کر ڈھن کے قریب گیا۔ پانی اسے بلا رہا تھا۔ اُس وقت کوئی آدمی دیکھنے والا نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے دوست دوپہر ڈھلنے کے بعد نہانے کوآئیں گے اور پھر شام گہرانے تک ڈھن پر قابض رہیں گے۔ اس کے پاس،اگر وہ ننگا ہو کر نہانا چاہے اور دوسروں کی نگاہوں سے بچنے کی خواہش بھی رکھتاہو تو یہی مناسب وقت تھا۔ اس نے کنارے پر بیٹھ کر ڈھن کے پانی میں ہاتھ پھیرا۔ سطح کا پانی تپا ہوا تھا مگر تھوڑی دیر ہاتھ ہلانے سے نیچے کا ٹھنڈا پانی اوپر آ کر چَس دینے لگا۔ نالے کے پانی سے اسے جو خمار چڑھتا تھا، جڑ پکڑنے لگا۔ وہ کافی دیر تک کنارے پر بیٹھا ایک ہاتھ پانی میں ڈبوئے دائیں بائیں لہراتا رہا۔ دوپہرکی گونجیلی خاموشی میں ہاتھ کے ہلنے کی ہلکی سی شپ شپ بھی خاصا ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

’اب اس پانی سے کیسے دور رہ سکتے ہو تم؟‘

اس نے ہاتھ باہر نکالا اور واپس پشتے پر جا کر دور گاؤں کی طرف دیکھا۔ اس بوجھل دوپہر میں سارا گاؤں سویا سا لگتا تھا۔ تمام ماحول حرکت اور زندگی سے محروم تھا جیسے کسی ساحر نے کوئی سحر پھونک کر صدیوں کے لیے اسے ساکت کر دیا ہو۔ کوئی ذی روح باہر کھیتوں میں نظر نہ آ رہا تھا، سوائے تین چار گایوں کے جو دور ایک بیری کے نیچے بیٹھی،جگالی کر رہی تھیں۔ درختوں کی پمپوچھلیاں بھی بھاری ہوا تلے دبی ساکت پڑی تھیں۔ ڈیرے کے قریب جامن کا درخت اپنی تنہائی پہ ملول کھڑا تھا ورنہ ان دنوں تو ہر وقت اُس پر لڑکوں کی فوج دندنا رہی ہوتی تھی۔ جتنے بھی گھر نظر آ رہے تھے سبھی کی منڈیر وں پر سکوت سنسنا رہا تھا۔ اس نے غور سے ڈیرے کے دروازے کو دیکھا۔ نیلے رنگ کا بڑا سا دروازہ کبھی کھلنے والا نہیں لگتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھاجیسے اس کے اندر رہنے والوں کو جادوگر نے ہمیشہ کے لیے قید کر دیا ہو۔ اس نے پلٹ کر پانی کی طرف دیکھا، پانی نے مسکرا کر آنکھیں جھپکیں اور ہولے سے ہاتھ ہلا کر اسے اپنی طرف بلایا۔ وہ بے اختیار کھنچتا چلا گیا۔ شلوارکھولتے وقت پھر شرم نے اسے پکڑ لیا۔

’نہیں، یہ مجھ سے نہیں ہو گا ‘

’واہ! کیا ہو جائے گا تمہیں، کون دیکھ رہا ہے یہاں؟ خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہے ہو۔ ‘

’اتنی کھلی جگہ پر ننگا ہونے سے زیادہ بے شرمی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ساری دنیا مجھے دیکھ رہی ہے۔ ‘

’ساری دنیا !۔ تم بچے ہی رہو گے یا کبھی عقل سے بھی کام لو گے؟ پہلے شلوار اتارو،قمیص کے دامن سے اپنا آپ چھپاؤ،پھر پانی میں اترو، اور اپنا ننگ پانی میں چھپانے کے بعد قمیص بھی اتار کرباہر پھینک دینا، آرام سے پانی کے اندرنہاتے رہنا۔ آخر پر الٹی ترتیب سے پہن لینا۔ ‘

و ہ پھر جھجک گیا۔ خیال تو اچھا تھا، مگر۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ دوبارہ پشتے پر گیا اور گاؤں کی جانب دیکھا۔ سحر ابھی تک قائم تھا۔ وہ واپس کنارے پر پہنچااور پانی کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیا۔

آرام سے شلوار اتار کر کنارے پر رکھی اور قمیص کوہاتھوں سے سنبھالتا ہوانیچے پانی میں اترنے لگا۔ پانی جیسا کہ ڈھن میں ہوتاہے، پہلے ہی قدم پر رانوں تک آگیا۔ اس نے قمیص کو اوپر پشت کی جانب اٹھایا اور جلدی سے دوسرا قدم بھی آگے رکھ دیا۔ پانی اس کی کمر تک آگیا۔ وہ اپنی شرم کی طرف سے مطمئن ہو گیا۔ آرام سے کھڑے ہو کر اپنی قمیص اتاری اور ہاتھ آگے بڑھا کر کنارے پر پھینک دی۔ پھر اگلے قدم پر پانی اس کی ناک سے بھی اوپر تھا۔ اوپری سطح کے پانی نے اول تو اسے تھوڑی ناخوشگوار حرارت دی مگر تھوڑی دیر بعدجب و ہ دو تین غوطے لگا چکا تھا اور سارا پانی اوپر نیچے ہو گیا تو ٹھنڈ ک اس کے اندر تک رسائی حاصل کرنے لگی۔ سرور سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں اور وہ لطف لیتا ہوا مختلف طریقوں سے پانی پر تیرتا رہا۔ الٹی تاری، کتا تاری،بطخ تاری، بھینس تاری۔ اِدھر سے چلتا اُدھر نکل جاتا، اُدھر سے ڈبکی لگاتا اِدھرآ نمودار ہوتا۔ جیسے پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد خمار چڑھنے لگتا ہے، وہ بھی خمارنے لگا۔ سکون،آرام، چین،قرار، سکھ سب جیسے پانی میں گھُلے ہوئے تھے اور اب اس کے ساتھ آلپٹے تھے۔

پانی کے بہت ہلکے ٹھار اور دوپہر کے سکوت نے اسے یوں دھیماکر دیا تھا جیسے من چاہی عورت کے ساتھ گرم جوش ملاپ کے بعد آدمی محسوس کرتا ہے۔ وہ سست پڑنے لگا۔ تیرتاتو ہولے ہولے، ڈبکی لگاتا تو بڑے آرام سے۔ ایک دفعہ جو اس نے ڈبکی لگائی تو کافی دیر اس کا باہر نکلنے کو جی ہی نہ چاہا۔ جانے کب تک وہ مزہ لیتا رہا۔ بہت دیر بعد اس نے سر اٹھایا۔بدن میں تازگی کی لہریں ہلارے لے رہی تھیں۔اس ٹھنڈے لمس نے اس پر نشہ طاری کر دیا تھا۔۔۔آہ! کتنا سواد ہے زندگی میں۔۔۔ ایں۔۔۔وہ چونک پڑا۔ کہیں قریب سے کچھ ملی جلی انسانی آوازیں آنے لگی تھیں۔ وہ ٹھٹک گیا اور کان اُدھر کر لیے۔ کچھ لوگ پشتے کی طرف سے اِدھر آرہے تھے…کون ہو سکتے ہیں یہ۔۔۔ شاید اُس کے دوست ہیں۔ ماموں تو ہو ہی نہیں سکتے۔ وہ تو سوئے ہوئے تھے۔ یقینا اس کے دوست ہی ہوں گے۔ اب مزا آئے گا۔۔۔ لیکن اگر ساجی بھی ان میں ہوا تو ۔۔۔ساجی نے یوں دیکھ لیا توساری عزت کا حلوہ بنا دے گا۔ اس نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا۔ کافی دور کنارے پرپڑے تھے۔ وہ تیزی سے ادھر لپکا۔ اُن کے پہنچنے سے پہلے اسے کم از کم شلوار پہننی ہے۔ ابھی وہ کنارے سے خاصا دور تھا کہ ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔یہ اس کے مسیر کی آواز تھی: ’’ماموں اسے خوب پھینٹی لگانی ہے۔ کل بڑا میسنا بن رہا تھا۔ ‘‘

وہ کانپ گیا۔ یہ تو ماموں ہی نکلے۔ ضرور ان حرامیوں نے کل کی جلن اتارنے کو چغلی کھائی ہو گی۔ اب کیا ہو گا۔

وہ کپڑوں کی طرف بڑھتا بڑھتا رک گیا۔ آگے آگے ماموں کا سر اور کندھے نمودار ہوئے، پیچھے ساری پلٹن ابھرنے لگی۔ وہ سُن کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔ اگر اب باہر نکلا تو ننگا ان کے ہاتھ آ جائے گا۔ کپڑوںتک پہنچنے کا وقت بالکل نہ رہا تھا۔ کھڑا رہا تو بھی یہ بدمعاش اسے پانی میں آ دبوچیں گے۔ اب توبس بھاگ نکلنے میں عافیت تھی۔ اس کی ساری نِندتا غائب ہو گئی۔ وہ پلٹا اور تیزی سے دوسرے کنار ے کی طرف لپکا۔

’ ماموں یا دوسرے لوگ اتنی چوڑی ڈھن فوراً عبور تو نہ کر سکتے تھے۔ ‘

اس نے سوچا اور ڈھن سے پار نکل کر دونوں ہاتھ پیچھے رکھے دوڑ پڑا۔ اسے قطعاً علم نہ تھا کہ بھاگ کے جانا کہاں ہے، ابھی تو ماموں کے ہتھوڑا ہاتھوں سے بچنے کا سوال تھا۔ وہ دوڑتا رہا۔۔۔ پیچھے ماموں اور ملیروں، مسیروں کے للکارے اس کا تعاقب کرتے رہے مگر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا اور پوری رفتار سے بھاگتا رہا۔ بھاگتا چلا گیا۔۔۔

Categories
فکشن

پہلے میرا باپ (محمد عباس)

فجر کی نماز اور بچوں کو قرآن ناظرہ کی تعلیم دینے کے بعد گاؤں کی مرکزی جامع مسجد کے امام صاحب اپنے گھر میں استراحت فرما رہے تھے جب بیٹھک کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔آنے والا یقینا امام صاحب سے ملنے آیا تھا ورنہ بیٹھک کی بجائے گھر کے دروازے پر دستک دیتا۔ بے وقت اور اتنی تیز دستک۔ ان کی بی بی چونک اٹھی۔ گاؤں کے سبھی لوگ جانتے تھے کہ امام صاحب اس وقت آرام کرتے ہیں، ایسے وقت کوئی بھی ان کے پاس مسئلہ لے کر نہیں آتا تھا۔دوسرے ، گاؤں کے سبھی لوگ ان کی بہت عزت کرتے اور ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ان کے دروازے پر اتنی تیز دستک کی کسی میں ہمت ہی نہ ہوتی تھی، عام طور پرلوگ درمیانی انگلی کی پشت سے دروازے پر ہلکے سے بجاتے، اگر امام صاحب دروازہ کھول دیں تو ٹھیک ورنہ تین دستکوں کے بعد وہ برا مانے بغیر ادب کے ساتھ لوٹ جاتے تھے۔ آج اتنی صبح اور اتنی تیز دستک سن کر ان کی بی بی چونک اٹھی تھی۔ امام صاحب کی طرف فوراً دیکھا ، وہ بھی اس خلافِ معمول ملاقاتی کی آمد پر حیران ہو کرچارپائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں ’’اللہ خیر کرے‘‘ کے تاثرات تھے۔ جلدی سے انہوں نے بیٹھک کا دروازہ کھولا تو باہر گاؤں کا ایک معزز شخص ملک بشیر کھڑا تھا۔ گو کہ گاؤں کی آبادی میں ملکوں کا تناسب بارہ پندرہ فیصد ہی تھا لیکن یہ ان سب کا سرکردہ تھا اور الیکشن اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں میں سبھی ملک اس کی پیروی کرتے تھے۔ اس کی اسی مقبولیت کی وجہ سے گاؤں میںچودھری اور راجے دونوں اس کی عزت کرتے تھے۔ مسجد کمیٹی کے معاملات میں بھی وہ دخیل رہتا تھااور امام صاحب بذاتِ خود بھی اس کی نیک نیتی اور خلوصِ دل کے قائل تھے۔ اس وقت ملک بشیر کے چہرے پر پریشانی تو نہ تھی البتہ بے تابی کے تاثرات اس کے تمام بدن سے مترشح تھے۔ امام صاحب نے اسے اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے استفسار کیا:’’خیریت تو ہے ناں؟‘‘

’’بالکل خیریت ہے امام صاحب۔ ‘‘ وہ امام صاحب کے پیچھے پیچھے ذرا ادب سے اندر آ گیا: ’’ آپ سے معذرت ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کے آرام کا وقت ہے لیکن خبر ایسی ملی ہے کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ ‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر ایسی کیا خبر ہے جو انہیں سنانی اتنی ضروری تھی۔ ان کی نظروں میں سوال دیکھ کر ملک نے کہنا شروع کر دیا:’’آج فجر کی نماز کے فوراً بعد کالے خان میرے گھر آیا تھا‘‘

کالے خان کا نام سن کر امام صاحب کو ذرا اطمینان کا احساس ہوا۔ انہوں نے ملک کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا :’’آپ پہلے بیٹھیں تو سہی، میں ذرا چائے کا کہہ کے آتا ہوں۔‘‘

باوجود ملک کے روکنے کے، وہ بیٹھک سے نکل آئے۔ ناگواری کا ہلکا سا احساس ان کے چہرے پر عیاں ہو چکا تھا۔ کالے خان گاؤں کے بڑے قبرستان کا گورکن اور رکھوالا تھا۔ اس کا کوئی والی وارث نہ تھا ، ماں باپ بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ گاؤں میں اس کی کوئی برادری نہیں تھی، نہ ہی اسے گاؤں سے کوئی رشتہ ملا تھا ۔ چھ گاؤں دور سے اپنی ہی طرح کے مفلس گھر کی لڑکی بیاہ لایا تھا اور اسی کے ساتھ قبرستان سے ملحقہ حجرے میں رہتا تھا۔ اگر اس کے متعلق کوئی خبر تھی تو آخر کتنی اہمیت کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کسی ممکنہ خبر پر غور بھی نہ کیا ۔بہت ہوا توقبرستان کے درختوں کی کٹائی یا پگڈنڈیوں کی صفائی کا معاملہ ہو گا یا پھر سہاگے جتنے بڑے سانپ کے نظر آنے یا چارچوروں کو اکیلے مار بھگانے کی فرضی کہانی ہو گی۔ اس طرح کی کہانیاں گھڑ کے اپنا جیب خرچ بنائے رکھنے میں وہ خاصا تیز تھا۔ اس کے متعلق جو بھی ہوا، معاملہ قبرستان کمیٹی سے متعلقہ ہو گا۔ ان کا کیا تعلق۔ سو ان کا یہی خیال تھا کہ چائے پلا کے، اس کی بات مختصراً سن کر رخصت کر دیں گے۔

جب وہ بیٹھک میں واپس پہنچے تو ملک بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ انہوں نے چائے کے کپ میز پر رکھے اور ملک کے سامنے بیٹھ گئے۔ ملک نے چائے کی طرف دیکھا تک نہیں:’’امام صاحب۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ میں تو بس وہ بتانے آیا ہوں جو کالے خان نے مجھے بتایا۔‘‘
’’کالے خان نے کوئی اور کہانی گھڑ لی کیا؟‘‘

’’کہانی ! نہیں نہیں۔ اس نے کہانی نہیں گھڑی۔ ایک سچا واقعہ سنایا ہے۔ آج رات وہ اپنے حجرے میں لیٹا تھا کہ اسے قبرستان سے کوئی آواز سنائی دی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے قبرستان میں اس قدر جھاڑ جھنکاڑ ہے کہ رات کو کوئی ادھر جاتا ہی نہیں۔‘‘

’’ارے بھائی! قبرستان میں دن کو بھی کون جانا چاہتا ہے۔ مردے سے بھی پوچھو تو وہ بھی نہیں جائے گا۔ سب اسی دنیا میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
’’کالے خان بتا رہا تھا کہ کبھی کبھار رات کو چوروں یا چرسیوں کا کوئی گروہ قبرستان میں گھس جایا کرتا ہے۔ اور وہ جو اس نے ماچھیوں کے لڑکے لڑکی کو قبرستان میں کسب کرتے پکڑا تھا، وہ تو آپ کو بھی یاد ہی ہو گا خیر۔‘‘ملک نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا لیا اور تیز چسکی لے کر بولا:’’اس نے بتایا کہ یہ آواز سن کر وہ دبے پاؤں، بغیر ٹارچ جلائے قبرستان کے اندر آواز کے پیچھے چل پڑا۔ جب وہ میرے چاچاجی (ملکوں کی پوری برادری باپ کو چاچاجی اور تایا کو ابا جی کہتی تھی)کی قبر کے قریب پہنچا تب تک آواز بالکل صاف سنائی دینے لگی تھی۔ کوئی اونچی آواز میں درود شریف پڑھ رہا تھا ۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دیکھنے کی اسے کافی مہارت ہے۔ وہ قسم کھا کر کہہ رہا تھا کہ میرے چاچا جی تھے جو اپنی قبر کے سرہانے بیٹھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ ‘‘

امام صاحب یہ سن کر حیرت زدہ تھے۔ کافی دیر کوئی جواب نہ دیا۔ پھر ایک لمبا سانس لے کر بولے:’’نبی کی ذاتِ مقدس جہاں شامل ہو جائے ، وہاں جھوٹ کی گنجائش ذرا بھی نہیں رہتی۔‘‘

’’آپ اس معاملے پر کیا کہیں گے؟‘‘

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ آپ کے والد گرامی بے شک اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ زندگی میں بھی کوئی عیب ان سے منسوب نہیں تھا اور بعد از مرگ تو ان کے عمل سے ثابت ہو گیا کہ وہ خدا اور اس کے پیارے محبوب کے بہت مقرب ہیں۔ ‘‘

ملک بشیر اپنے مرحوم چاچا جی کی تعریف سن کر خوش تھا۔اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں: ’’تو کیا میں یہ بات گاؤں میں سبھی کو بتا سکتا ہوں کوئی مسئلہ تو نہیں نا؟‘‘

’’مسئلہ کیا۔ جس بستی میں زندوں کو کبھی درود شریف پڑھنے کی توفیق نہ ہو، وہاں مردے ہی پڑھیں گے ناں!آپ اپنے گھر میں ہر جمعرات کو درود کی محفل سجایا کریں۔ پورے گاؤں کو اس میں شرکت کی دعوت دیا کریں۔ خدا آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے درجات بلند فرمائے گا اور آپ کے چاچا جی کو بھی اس کا ثواب پہنچے گا۔ اور ہاں کالے خان کو بھی ضرور کچھ صدقہ کریں۔ اس بے چارے کو بھی کچھ دن سہولت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے۔‘‘
ملک صاحب ان کے مشورے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے رخصت ہوگئے ۔ امام صاحب کی ساری ذہنی کلفت دور ہو چکی تھی، انہوں نے بھی ’صلِ علیٰ‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

٭٭٭

آنے والے دنوں میں ملک صاحب نے اس واقعے کو گاؤں کے تقریباً ہر فرد کو سنا دیا تھا اور سب گاؤں والے ان کے والد صاحب کی منازلِ عاقبت میں نصرت پر انہیں مبارک باد دے چکے تھے۔ جمعرات کو انہوں نے میلاد کی محفل سجائی جس میں آس پاس کے گاؤں دیہاتوں سے بھی نعت خوان حضرات بلوائے گئے۔ محفل کے آخر میں امام صاحب نے سیرت کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور ساتھ ہی ساتھ ملک بشیر کے والد گرامی کی ذات کو پورے گاؤں کی نجات کا ذریعہ بھی قرار دیا جو بعد ازمرگ بھی اس گاؤں کی طرف سے درود کے تحفے شانِ اقدس میں ارسال کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے فرمایا کہ میلاد کا یہ سلسلہ جو ملک صاحب کے صاحبزادے نے آغاز کیا ہے، یہ بالواسطہ طور پر ان کے والد گرامی کی خواہش تھی اور ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہر جمعرات کو یہ محفل سجتی رہے۔

گاؤں میں ملک صاحب کے والد کی برگزیدگی کی اس شہرت پر چودھری اور راجے کافی حسد کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی ذات بڑی تھی اور گاؤں کے حوالے سے ان کی بے لوث خدمات اور عبادات بھی زیادہ تھیں تو پھر کم تر لوگوں کو کیوں اس نیک کام کے لیے چنا گیا ۔ چودھری اس گاؤں میں بڑی مدت سے سیاسی حوالے سے حکمران تھے اور مقامی الیکشن میں ہمیشہ فتح مند قرار پاتے تھے جب کہ راجے ان کے مستقل حریف تھے اور سیاست میں سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے ہر شعبے میں برابر کی ٹکر رکھتے تھے۔ اگر گاؤں میں کسی کا مقابلہ تھا تو وہ ان دونوں کا آپس میں تھا۔ مذہبی حوالے سے بھی انہی دونوں ذاتوں کا عمل دخل زیادہ تھا۔ گاؤں کی سات مساجد میں سے پانچ کے لیے چودھریوں نے اور دو کے لیے راجوں نے زمین عطیہ کی تھی۔ سبھی مسجدوں کا بجلی کا بِل چودھریوں کا کوئی نہ کوئی گھرانہ دیتا تھا۔ سردیوں میں وضو کے پانی کو گرم کرنے کے لیے تمام لکڑی راجے مہیا کرتے تھے ۔تینوں سکولوں کے لیے جگہ چودھریوں نے اور سرکاری دواخانے کے لیے زمین کا ٹکڑا راجوں نے دیا تھا۔ گاؤں کی سبھی نالیاں، گلیاں چودھریوں نے پکی کروائی تھیں اور تھانہ کچہری میں بھی یہی دونوں گروہ عوام کی مدد کیا کرتے تھے۔ اگر آخرت کی منزل میں درجات کی بلندی دنیاوی اعمال کے نتیجے میں عطا کی جاتی ہے تو پھر ان دونوں ذاتوں کا حق زیادہ بنتا تھا۔ اگر ملکوں کو یہ بلند رتبہ مل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی سے چوک ہو گئی ہے۔ خدا اس قدر نا انصاف نہیں ہو سکتا کہ حق دار کو اس کے حق سے محروم رکھے۔

ایک رات چودھریوں کا ایک سرکردہ آدمی عشاء کے بعد کالے خان کے حجرے میں جا پہنچا۔ اس کی بیوی کے ہاتھوں سے گرما گرم چائے پینے کے بعد اس نے کالے خان سے یہی سوال کیا کہ خدا نا انصاف کیسے ہو سکتا ہے۔ کالے خان نے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر استدعا کی کہ جس بستی میں بڑے بڑے دولت مندوں کے ہوتے ہم جیسے غریب خاندان بھوک سے مرنے لگیں، وہاں عدل و انصاف کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ چودھری نے خدا کے اس زمینی نمائندے سے آئندہ کے لیے زمین پر کامل انصاف کا وعدہ کیا اور بیعانے کے طور پر دو مہینے کے خانگی اخراجات عنایت کر دیے۔

اگلے دن آسمان پر انصاف کی میزان درست ہونے کی نوید گاؤں کے ہر چودھری گھرانے تک پہنچ گئی۔ کالے خان چہرے پر روحانی چمک لیے ہر گھر میں جا جا کے بتاتا پھر رہا تھا کہ آج رات قبرستان میں اس نے نور کی بارات دیکھی۔رات کے پچھلے پہر کسی غیبی آواز نے اسے نیند سے جگا دیا ۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا تو قبرستان کے پہلے سرے کی طرف روشنی کے آثار نظر آئے۔ وہ ایک پر اسرار سی کشش کے تحت ادھر کھنچتا چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ آسمان سے نور کا ایک دھارا (کیا خبر نوری فرشتے اتر رہے ہوں، وہ درمیان میں اپنی ہی بات کاٹ کر کہتا)زمین کی طرف رواں تھا۔آسمان سے دودھ جیسی چمکتی روشنی کی ایک آبشار قبرستان کے اس کونے کی طرف گر رہی تھی۔ حمد و ثنا کی آوازیں ہر طرف چھائی ہوئی تھیں۔ اس کا دل رعب سے تھم گیا تھا۔ وہ صمٌ بکمٌ وہیں کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد جب یہ سلسلہ رکاتو اس کے بدن میں جنبش کااحساس جاگا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کونے میں جا کر دیکھا تو چودھری رشمت علی کی قبر کے چاروں طرف دودھیا روشنی کا تالاب بنا ہوا تھا۔ ان کی قبر کا سینہ چاک تھا اور یہ سبھی روشنی اسی طرف سمٹ رہی تھی۔حمد و ثنا کی آواز اسی قبر میں سے آ رہی تھی۔ ہوتے ہوتے آواز بھی مدھم پڑتی گئی اور تمام روشنی بھی اسی قبرمیں سمٹ گئی۔ پھر کسی نامعلوم طاقت نے قبر کا تعویذ دوبارہ جوڑ دیا اور اس سارے عمل کا کوئی نشان بھی نہ چھوڑا۔ صبح وہ اس قبرکو غور سے دیکھ کر آیا ہے۔ بالکل اپنی اسی حالت میں ہے جیسے روز وہ دیکھتا تھا۔ حتیٰ کہ کھبل گھاس بھی اسی طرح اگی ہوئی ہے اورچھ مہینے پہلے شبِ برات کو جلائی گئی اگر بتیوں کے ادھ جلے سرے بھی اُسی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔ اوپر والے کی شان ہے، جو کرتا ہے، اس کا راز وہی جانے۔

اب چودھری لوگوں کا وقت تھا۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما چودھری ظریف علی کے باپ کی قبر پر خدا نے اپنی رحمتیں نازل کی تھیں۔ اسے عاقبت کی زندگی میں اعلیٰ مقام ملنے کی نشانی دی گئی تھی۔ امام صاحب گو کہ اس دفعہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کالے خان کی گھڑی ہوئی کوئی کہانی ہے مگر ایک طرف چودھریوں کی دل شکنی کا خیال تھا دوسرے یہ احساس کہ اس واقعے کو جھٹلانے پر پہلے واقعے کی بھی تردید ہو جائے گی اور ان پر ملکوں کے ساتھ فریب میں ملی بھگت کا الزام آ جائے گا۔ سو انہوں نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔ چودھریوں نے اس کا خاصا شہرہ کیا اور تمام گاؤں والوں کوان کی دین داری ، پرہیز گاری اور آخرت میں یقینی بخشش پر ایمان قائم ہو گیا۔

٭٭٭

کالے خان کی بیوی دہل گئی جب ان کے حجرے کا دروازہ کسی نے ٹھوکر مار کر کھولا۔ آنے والے تین افراد تھے جن کے چہرے رات کی تاریکی میں نظرنہ آرہے تھے۔ کالے خان ہڑبڑا کر رضائی سے نکلا اور کون ہے، کون ہے کی صدا لگائی۔ فوراً ہی اسے چارپائی سے دبوچ کر نیچے گرا لیا گیا اور گھٹنوں تلے دبا کر دھپوں اورگالیوں سے نوازاگیا۔ بیوی جو رضائی میں ہی دبکی تھی،یہ سب دیکھ کر چیخنے لگی لیکن ایک آواز نے اسے ڈپٹ کر خاموش کرا دیا:’’تو چپ رہ، تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ‘‘

وہ پہچان گئی کہ یہ کرامت راجہ ہے۔ یہ ہمیشہ چودھری ظریف کے مخالف الیکشن لڑا کرتا تھا۔ وہ دونوں ہر دفعہ اسی کو ووٹ دیتے تھے ۔ بیوی نے سُکھ کا سانس لیا اور اٹھ کر طاق پر دِیا جلا یا اور خود رضائی لپیٹ نیچے زمین پر دبک کر بیٹھ گئی۔ کرامت راجہ کے دونوں آدمیوں نے کالے خان کو پکڑ کر پیڑھے پر بٹھا دیا ، ایک آدمی نے اس کے بازو مروڑ کر پیچھے سے پکڑ لیے، دوسرا اس کی گردن پر لاٹھی تانے کھڑا تھا۔ کالے خان منمنایا:’’راجہ صاحب! ہوا کیا۔ مجھ سے کیا گستاخی ہو گئی؟‘‘

راجہ صاحب اب چارپائی پر بیٹھ گئے تھے:’’گستاخی نہیں، حرامزدگی ہوئی ہے۔‘‘

’’راجہ صاحب۔ قسم لے لیں ، آپ کا نمک کھا کھا کر زندہ ہوں۔ میں نے کبھی آپ کے ساتھ دغا بازی کا سوچا تک نہیں۔ ہمیشہ ووٹ آپ کو دیا۔‘‘
’’ووٹ گیا تیل لینے۔ لگاؤ اسے دو چھتر۔‘‘

بازو جکڑے آدمی نے اپنا جوتا اتار کر کالے خان کی پشت پر دو چھتر کس کے لگائے اور اس کے پھڑکتے بدن کی تکلیف سے بے نیاز دوبارہ اس کے بازو مروڑ کر پکڑ لیے۔ کالے خان چیخوں کو اندر ہی اندر روکتا، سسکیاں لیتا ہوا بولا:’’راجہ صاحب ! مجھے تکھر کھا جائے اگر آپ کے متعلق کبھی غلط سوچا بھی ہو تو۔آپ کا دیا ہی تو کھاتا ہوں۔‘‘

’’حرام زادے۔ تم نے کبھی دغابازی کا نہیں سوچا تو نمک حلالی کا خیال بھی تو نہیں کیا۔ ہمارے دشمنوں کے باپ دادا کی قبروں پر نور کی بارات نازل ہو رہی ہے اور ہماری قبریں ویران پڑی ہیں۔ دشمن دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہونے کا جشن مناتا ہے اور ہمارے حصے میں دونوں جہان کی شرمندگی۔ ہم کسی پر کیسے ثابت کریں کہ ہمارے بڑے بھی اتنے نیک اعمال کر کے گئے ہیں کہ آخرت میں بخشے جائیں۔‘‘

کالے خان گڑگڑانے لگا:’’راجہ صاحب۔ غلطی ہو گئی۔یہ سب تو بھوک کا کیا دھرا ہے۔ میں آپ ہی کا وفادار ہوں مگر اپنے اور زنانی کے پیٹ نے مجبور کردیا تھا۔‘‘

’’مجبوری ہمیں نہیں پتا۔ اب بہت جلد ہمارے باپ کے متعلق بھی ایسی کوئی حکایت سامنے آ جانی چاہیے ورنہ ہم دوبارہ آئے تو ساتھ اگلا گورکن پکڑ کر لائیں گے۔‘‘

’’لیکن آپ کے والد صاحب تو ابھی زندہ ہیں‘‘

’’زندہ تو خیر کیا ہیں، بس دو چار دنوں میں مرنے ہی والے ہیں۔ مگر تم یہ بتاؤ کہ کیا خدا زندہ لوگوں کو اگلے جہان میں بخشش کا وعدہ نہیں کرسکتا؟ یہ سب سوچنا تمہارا کام ہے۔ تم ہی کرو۔‘‘

راجہ صاحب اسے ایک اور ٹھڈا مار کے حجرے سے نکل گئے۔

کچھ دن بعد کالے خان کی بیوی گاؤں میں سرکاری دواخانے پہنچی تو سخت پریشان حال تھی۔ وہاں موجود عورتوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے رو رو کر بتایا کہ کالے خان سخت بیمار ہے۔ عورتوں نے بیماری کا سبب دریافت کیا تو اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ کالے خان سے گستاخی ہو گئی ہے اور اب مرنے والا ہو رہا ہے۔ کیسی گستاخی، عورتوں کے چہرے پر سوال کندہ تھا۔ جواباً کالے خان کی بیوی نے سسکیاں بھرتے ، ہچکیاں لیتے جو کہانی سنائی،وہ یہ تھی:

’’رات کو ہم بستری کے بعد ہم سونے لگے تھے کہ قبرستان کی طرف سے ایک تیز خوشبو آنے لگی۔ کالے خان نے فوراً ہی بتایا، یہ کستوری ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ حیران بھی تھا کہ کستوری کی خوشبو اور وہ بھی اتنی تیز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے باہر نکلنے میں جلدی کی، میں نے کہا، میں بھی ساتھ چلوں، مگر وہ نہ مانا۔ وہ کافی دیر بعد واپس آیا تو اس نے بتایا کہ قبرستان میں عجیب سماں تھا۔ قبروں میں سے مردے نکل نکل کر قبرستان کے درمیان اکٹھے ہورہے تھے۔ وہ بھی چھپتا چھپاتا ان کے پیچھے چلتا گیا۔ قبرستان کے درمیان میں جہاں درختوں اور جھاڑیوں کی وجہ سے دن کو بھی اتناگھپ اندھیراہوتا ہے کہ اونچی اونچی قبریں بھی دکھائی نہیں دیتی، صاف قطعہ بنا ہوا تھا جس میں چاندنی جیسی تیز روشنی نے اجالا کر رکھا تھا۔ اس تمام جگہ پر سبھی چیزوں کا صرف اور صرف ایک رنگ تھا، دودھیا۔ سبھی روحوں کا لباس بھی اجلا کفن تھا(کالے خان کہہ رہا تھا کہ ضرور صرف نیک روحیں اکٹھی ہوئی تھیں)ان سب کے درمیان ایک تخت رکھا تھا جس پر دودھیا رنگ کے ہی قسما قسم پھول پڑے تھے۔ سبھی نے اس تخت کے گرد گھوم گھوم کر چکر لگائے ، اونچی اونچی آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت کی اور پھر سبھی اس کے چار چوفیرے اَدب کے ساتھ سر جھکا کے بیٹھ گئے۔ ایک روح جو شاید ان میں سب سے نیک تھی، کھڑی رہی اور ان سے خطاب کرنے لگی: آپ سب نیک روحو ںکو مبارک ہو، ہمارا کئی عشروں کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔ وہ جو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا ہے، ہماراوہ سردار بہت جلد ہمارے ہاں آنے والا ہے۔ ہم سب اس کے نورانی وجود سے برکتیں حاصل کریں گے۔ سبھی نیک روحیںاپنے آنے والے سردار کے حق میں درود و صلوٰۃ پڑھنے لگیں۔ ایک روح جو شاید وہاں نئی تھی، پکار کے پوچھنے لگی، ہمارا یہ سردار ہے کون، سبھی روحوں نے اس کی نادانی پر اسے گھورا مگر کھڑی ہوئی برگزیدہ روح نے بتایا کہ ہمارا سردار وہ ہے جو دنیا میں انتہائی خاموشی سے اپنے نیک اعمال سر انجام دیتا رہا، تمام عمر لوگوں کی خدمت میں گزاری اور کبھی دکھاوا نہیں کیا۔ اس کی بہت سی نشانیاں ہمارے پاس ہیں جو اس کے یہاں آنے کے بعد ظہور ہوںگی، البتہ اس کے فانی جسم کے سینے پر عین دل کے اوپر تین تِل ہیں اور اس کی پیدائش رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام روحوں نے کچھ دیر ذکر اذکار کیا، پھر تبرک تقسیم ہوا جس کا کچھ حصہ کالے خان تک بھی پہنچ آیا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے چکھ لیا۔ یہ سب ختم ہوا تو روحوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔کالے خان پلٹ کر جھونپڑے میں جب پہنچا ، اسی وقت اس کا پِنڈا تپنا شروع ہو گیا تھا۔ ناپاک حالت میں تبرک جو چکھ آیا تھا، سزا تو ملنی تھی ۔ اب تین رضائیوں تلے پڑا ہے اور ابھی بھی پالا پالا چِلا رہا ہے۔‘‘

یہ واقعہ فوراً ہی گاؤں بھرمیں پھیل گیا۔ سبھی کو جستجو ہوئی کہ آخریہ اللہ کا نیک بندہ کون ہے جو ان روحوں کا سردار بنے گا۔ رمضان میں پیدائش والی نشانی تو فضول ہی تھی۔گاؤں میں پچیس تیس سال پہلے پیدا ہونے والے شخص کا درست سالِ پیدائش نہیں ملتا تھا، مہینہ کسے معلوم ہوتا۔ اوپر سے اتنے بڑے گاؤں میں تین چار سو لوگ ایسے نکل آئے جن کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہوتی۔ سو تِل والی نشانی ہی کارگر تھی۔ جوں جوں یہ واقعہ پھیلتا گیا، ہر گھر کے مردو زن اپنے کنبے کے افراد کے سینے پرکھنے لگے، کسی کسی کو ایک آدھ تل بھی مل گیا تو وہ خوش ہوتا رہا۔ کافی دیر بعد راجہ کرامت کے گھر سے خوشی کا ایک نعرہ بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ بسترِ مرگ پر پڑے باباجی ،راجہ کرامت کے والد راجہ سلامت علی کے سینے پہ عین دِل کے اوپر تین تِل ہیں۔ ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی مالش کرتے کرتے یوں ہی بے دھیانی میں باپ کے سینے پہ غور کیا تو تین تِل نظرآ گئے، اس نے جو گھر والوں کو بتایا تو سبھی خوشی سے جھوم اٹھے۔ وہ رات اور اگلا آدھا دن ان کے ہاں اس مبارک خبر پر اتنا جشن منایا گیا کہ باباجی گھبرا کر اپنا سانس بھول بیٹھے۔ ان کی اتنی جلدوفات نے بھی کالے خان کی بیوی کے سنائے واقعے میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔ سبھی گاؤں باباجی کے کردار کی عظمت کا قائل ہو گیا۔ امام صاحب اس دفعہ بھی سب سمجھ گئے تھے لیکن بوجوہ خاموش رہے۔ باباجی کو اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور ان کی تختی پر فخر کے ساتھ ولیِ آخرت، قطبِ عقبیٰ جیسے القابات کھدوائے گئے ۔ قبرستان میں ان کا چھوٹا سا مزار بھی بنا دیا گیا جس کے باہر تختی پر یہ سارا واقعہ کالے خان کے حوالے سے کندہ کرادیا گیا تھا۔

گاؤں میں سبھی خوش تھے اور ان سب کی خوشی کی وجہ سے کالے خان کی زندگی بھی آسانی سے گزرنے لگی تھی۔

٭٭٭

چار ماہ بعد ایک دن کالے خان کے بارے میں لوگوں نے سنا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ کالے خان کی بیوی صبح سویرے گاؤں کے ایک سیانے کو بلا کر حجرے میں لے گئی تھی، وہاں کالے خان چارپائی پر لیٹا تھا، مگر اس کی حالت عجیب تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہ کچھ دیکھ رہا ہے نہ سن رہا ہے۔ بس دور کسی چیز کو گھورے جا رہا تھا ۔ سیانے نے اس کا معائنہ کیا۔ اسے نہ تو بخار تھا اور نہ ہی کوئی اور جسمانی تکلیف ۔ البتہ وہ کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ہلانے جلانے پر کوئی ردِعمل دکھاتا تھا۔ سیانے نے پہلے بیوی پھر گاؤں واپس پہنچ کر سبھی کو سنا دیا کہ کالے خان اپنے حواس سے باہر چلا گیا ہے۔گاؤں کے لوگ پہلے اکا دکا پھر بعد میں گروہ در گروہ کالے خان کی خیریت معلوم کرنے آئے۔ اگر کسی نے اپنے اپنے دیسی ٹوٹکے آزمائے لیکن اسے کسی طرح ہوش میں نہ لاسکے۔نہ کسی کو پاگل پن کی وجہ سمجھ آئی اور نہ ہی اس کا چارہ سوجھا۔اس کی یہی حالت تھی کہ جہاں بٹھا دیا جاتا ، بیٹھا رہتا، نگاہیں دور کسی اور دنیا میں جھانکتی رہتیں اور یوں لگتا جیسے دماغی طور پر اس کا اِس دنیا سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ آخر کار دو تین دن کے بعد سب نے تھک ہار کر چھوڑ دیا اور کالے خان اور اس کی تیمار داربیوی حجرے میں اکیلے رہ گئے۔

٭٭٭

ایک شام امام صاحب کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ بی بی نے دروازہ کھولا تو باہر کالے خان کی بیوی کھڑی تھی۔یہ عورت ان کے گاؤں کی نہیں تھی لیکن بی بی اسے پہچانتی تھی۔اس نے امام صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ بی بی حیران تو ہوئی کہ یہ عورت ان سے کیوں ملنا چاہتی ہے ،گاؤں کی عورتیں اپنے شرعی مسائل بی بی سے ہی پوچھا کرتی تھیں۔ امام صاحب تک کوئی عورت کم ہی آتی تھی۔ لیکن پھر بھی بی بی نے اسے بیٹھک میں بٹھایا اور امام صاحب کو خبر کر دی۔ امام صاحب خود بھی حیران تھے کہ اس عورت کو ایسا کیا مسئلہ ہو سکتا تھا جو وہ ان سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔

امام صاحب اندر داخل ہوئے تو کالے خان کی بیوی نے نظریں جھکائے جھکائے کھڑے ہو کر انہیں سلام دیا۔ امام صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے فوراً استفسار کیا کہ اس کا کیا مسئلہ ہے۔ اس نے نگاہیں تھوڑی سی اُٹھا کر امام صاحب سے سوال کیا:’’امام صاحب! میرا شوہر تو ہمیشہ کے لیے پاگل ہو چکا ہے۔ میرا کسی بھی قسم کا حق وہ پورا نہیں کرسکتا۔اب کیا میں اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے فضول بندھی رہوں گی یا دین مجھے اپنی زندگی کہیں اور ڈھونڈنے کی اجازت دیتا ہے؟‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر دوسرے گاؤں سے آئی ہوئی عورت ایک ہی مہینے میں بیزار ہو گئی۔ یہاں گاؤں میں کتنی ہی عورتوں کی مثال موجود ہے جو دہائیوں سے اپنے بیمار اور معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس عورت کا صبر اتنا جلدی جواب دے گیا۔ امام صاحب نے اس پر جھنجھلا کر اسے شرع کے مطابق جواب دیا:’’دیکھیں جی! شرع اس معاملے میںصاف کہتی ہے کہ اگر مرد کا تمام بدن پیپ سے بھرا ہواور زوجہ کو اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرنا پڑے تب بھی مرد کا حق ادا نہیں ہوتا۔ تم کیسی عورت ہو جو ذرا سی آزمائش سے گھبرا گئی ہو۔ دیکھو ان عورتوں کو جو کب سے اپنے بیکار حتیٰ کہ معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ان کے مرد بھی تو کوئی حق نہیں پورا کرتے۔‘‘

وہ شرمسار ہوئی مگرپھر دونوں ہاتھ امام صاحب کے آگے جوڑ کر بولی:’’امام صاحب ! وہ سب رجے پُجے لوگ ہیں۔ ہمارا ان سے کیا مقابلہ ۔ ان عورتوں کو کھانے پہننے کی کمی تو نہیں ہے نا، پوری برداری ان کی مدد کردیتی ہے۔ میں تو اکیلی جان، کالے خان کا بھی کوئی والی وارث نہیں۔ مرد کے بغیر تو رہ لوں گی مگر روٹی تو روز کھانی ہوتی ہے نا۔مجھے تو کوئی کام آتا نہیں، کالے خان ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے‘‘

’’تم دوسری دفعہ کہہ رہی ہو ، ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے، تمہیں کیسے اتنا یقین ہے۔ وہ بیمار ہوا ہے، کسی وقت بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ‘‘

وہ جھجکے جھجکے بولی:’’امام صاحب! مجھے اس کے پاگل ہونے کی وجہ معلوم ہے نا، میں اسی لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘

’’ایں! کیا وجہ ہے ؟ میں نے تو ا بھی تک کوئی وجہ نہیں سنی۔‘‘

’’امام صاحب! میں نے خود ہی کسی کو ابھی تک وجہ نہیں بتائی تھی۔ مجھے تھا کہ کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔‘‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا:’’مگر آپ پر مجھے یقین ہے، آپ کو بتا سکتی ہوں، سن کر آپ مجھے بتانا کہ میرے مسئلے کا کیا حل ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے بتاؤ۔‘‘

’’امام صاحب!کالے خان جس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑتا رہتا تھا، اس نے اسی کی سزا پائی ہے۔ کالے خان شب برات کی رات پاگل ہوا ہے۔ شب برات کے متعلق آپ ہی بتایا کرتے ہیں کہ اس رات پرانی تمام روحیں زمین پر آتی ہیں۔ معلوم نہیں پہلے کبھی ایسا ہوا یا نہیں ،اس رات یقیناً ایسا ہوا تھا۔ ہم دونوں اپنے حجرے میں الگ الگ چارپائی پر سوئے ہوئے تھے۔گرمی کی وجہ سے ویسے بھی نیند پوری طرح نہیں آرہی تھی۔آدھی رات کے قریب دروازے پر ہونے والی تیز دستک سے ہم دونوں جاگ اٹھے۔ کالے خان نے دروازہ کھولا تو ایک بوڑھا آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔ پندرہویں کے چاند کی تیز چاندنی میں اس نے پہلی نظر میں ہی اسے پہچان لیا اور جھٹکا کھا کر واپس حجرے میں لڑکھڑا آیا۔البتہ جب وہ آدمی اندر داخل ہوا تو میں اسے نہ پہچان سکی۔ اس نے اندر آتے ہی چپل اتار لی اور کالے خان پربرسانے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا ہی تھا کہ کالے خان کے الفاظ سن کر میں سُن ہو گئی ۔ کالے خان کہہ رہا تھا۔’’ابا جی! آپ کہاں سے آ گئے؟ آپ کو تومیں نے خود اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا۔‘‘

میں حیرت سے مرنے والی ہو گئی۔ اس کا باپ تو کب کا مر کھپ چکا تھا۔وہ کیسے آ سکتا ہے۔

بڈھے نے چپل برساتے برساتے کہا:’’کیوں، میں نہیں آ سکتا۔ جب تیرے پیو ملک، چودھری اور راجے آ سکتے ہیں تو میں نہیں آسکتا؟‘‘

کالے خان خوف سے گھگھیانے لگا:’’ابا جی ! ابا جی! مجھے معاف کر دو۔ کیا قصور ہو گیا مجھ سے جو ایسے مار رہے ہیں؟‘‘

اتنے میں اس نے چپل برسانی روک کر کالے خان کا کان پکڑ کر اتنی طاقت سے مروڑ دیاکہ کالے کی چیخ نکل گئی: ’’مردود! تم نے ثابت کیا کہ تم میرا بیٹا کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو۔ مجھے تم پر غصہ ہی بہت ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر چپل کے وار شروع کر دیے۔

کالے خان گھگھیا کر معافی مانگ رہا تھا اور اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ بڈھے نے چپل ایک طرف پھینک کر اسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ ’’ قصور قصورحرام کے جنے۔ مجھ سے قصور پوچھتا ہے۔ پوری دنیا کے باپوں کو تُو نے بخش بخشوا دیا، سب کے متعلق گاؤں میں مشہور کروا دیاکہ ان کی عاقبت رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہے۔ اور مجھے اپنے باپ کو بھول ہی گیا۔ کیا میں نے تمہاری ماں کو تھا یاوہ چودھریوں اور راجوں نے۔ ‘‘

’’ابا جی، آپ ہی میرے باپ ہیں۔ مجھ پر رحم کریں۔ ‘‘

’’میں باپ ہوں تو تم مجھے کیوں بھول گئے تھے؟ میرے متعلق کیوں کوئی کہانی تمہارے منہ سے نہیں نکلی بد بخت۔اب میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گا۔ یاد رکھ تمہیں اپنے باپ سے نا انصافی بھگتنی پڑے گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کالے خان کو دو دھموکے مارے اور پاؤں پٹختا باہر کو چل دیا۔

کالے خان اس کے جانے کے بعد اٹھ کر قبرستان کی طرف نکل گیا۔ میں بھی ڈرتی ڈرتی اس کے پیچھے چلی مگر وہ آدھے راستے میں واپس ہوتا مل گیا۔ ’’یہ تو واقعی ابا جی تھے، اپنی قبر میں ہی گھس رہے تھے۔‘‘جب وہ جھونپڑی میں پہنچا تو اس کے پورے بدن پر جھرجھری طاری تھی۔ چارپائی پر لیٹا مگر بولا کچھ نہیں۔ میں بھی خاموش اس کے سرہانے بیٹھ اس کا ماتھا دباتی رہی۔ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں اس کے ساتھ ہی لیٹ رہی۔ صبح جب جاگی تو کالے خان نہ ہل رہا تھا نہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ بس ایک ہی طرف نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ میں اس کی حالت سے ڈر گئی اور سیانے کو بلا کر لائی۔ تب معلوم ہوا کہ اس کا دماغ الٹ گیا ہے۔ ‘‘

کالے خان کی بیوی اتنا سنا کر رونے لگی۔ امام صاحب اسے پچکارتی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آخر کار بولے:’’دیکھو بیٹی! کالے خان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا۔ اس کا اپنا کیا دھرا سامنے آیا۔ تم اس کہانی کو اپنے تک رکھو ، کسی کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’اور امام صاحب! میں اس کالے خان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہوں کیا؟‘‘اس نے امید بھری نظروں سے امام صاحب کو دیکھا۔

’’شرعی طور پر ایک مخبوط الحواس کے ساتھ عقد کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ تم خود کو کالے خان سے الگ ہی سمجھو۔ جاؤ اپنے گاؤں واپس چلی جاؤ،کچہری سے خلع لے لو اوراپنا گھر کہیں اور بسالو۔ اورہاں اس بات کویہیں بھول جاؤ۔ کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

کالے خان کی بیوی انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتی اٹھی ، ہاتھ اٹھا کر سلام کیا او ر امام صاحب سے رخصت ہو گئی۔

اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔ اب وہ سارا دن ایک ہی جگہ ساکت و صامت کھڑا رہتا ہے ، نہ کسی سے بات کرتا ہے، نہ کسی سے کچھ کہتا ہے۔ کوئی کچھ کھلا دے تو کھا لیتا ہے ورنہ کسی سے مانگتا نہیں ہے۔ کسی پر اس کے پاگل پن کا باعث نہیں کھلتا۔ بس ایک امام صاحب ہیں جن کی نظر کبھی کبھار اس پر پڑتی ہے تو ایک آشنائے راز مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل جاتی ہے لیکن اس آشنائی نے بھی کبھی ہونٹوں سے زبان تک کا ذرا سا فاصلہ طے نہیں کیا۔

Image: Francisco de Goya

Categories
فکشن

رنگ (محمد عباس)

سب حیران رہ گئے جب اچّھا رات دس بجے ہی گھرواپسی کو اٹھ کھڑا ہوا۔

اس وقت ہم چاروں دوست حسبِ معمول میرے ڈیرے پر تاش کھیل رہے تھے۔ تاش ابھی ابھی شروع ہوئی تھی جس کا مطلب ہے کہ رات بھی ابھی شروع ہوئی تھی۔ دس بجنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے۔ ’’رنگ‘‘ کا رنگ جمنے بھی نہ پایا تھا کہ اچّھے نے تاش پھینٹنے کی بجائے اکٹھی کر کے ایک طرف رکھ دی۔ یہ اشارہ کھیل ختم کرنے کا تھا۔ڈاکٹر نے فوراً ہی گھڑی دیکھی اور ساتھ ہی جیب سے سگریٹ ماچس برآمد کر لیے:’’لگتا ہے، آج اچّھے کا چائے بنانے کو دل ہے۔ ٹھیک ہے یار۔اٹھو ذرا چھوکری قسم کی چائے تو پلاؤ۔‘‘

’’چاہ ہو جئے تو سادہ سرگٹ بھی ڈبل کا مزہ دے۔‘‘ کالو نے لقمہ دیا۔

’’نئیں یرا۔میں تو جا رہا ہوں …گھر۔ تم لوگ بیٹھو اور گپ شپ کرو۔‘‘ اچّھے نے بھی اپنا ولز کنگ کا سگریٹ سلگایا اور دونوں ٹانگیںمیز پر رکھ کر بڑا پر سکون ہو کر سوٹے مارنے لگا۔

کالو نے تاش اٹھائی اور اس کا پنکھا بنانے لگا:’’سدھی طرح کیوں نہیں کہتا کہ سرگٹ پینے کو دل کر رہیا ہے۔ گھر جانے کا بہانا کیوں کرتا ہے۔‘‘

’’نئیں…میں تو بس یہ آخری سگریٹ پیوں گا ا ور… گھر۔‘‘

’’فضول بکواس نہ کر۔ یہاں رنگ تیرا پیو کھیلے گا۔ چوتھا بندہ … تمہاری … سے نکالیں گے۔ ‘‘کالو نے اسے گھورا۔

’’نہیں او یارا۔ ایویں بونگیاں مار رہا ہے۔ یہ کہاں جائے گا۔یہ تو رات کو بھی بھگتا کر گھر جانے والا شخص ہے۔‘‘

مجھے تو یقین تھا کہ اچّھا اتنی جلدی گھر نہیں جانے والا۔ ابھی تو اس کی دوپہر بھی نہیں ہوئی۔ ابھی چلا گیا تو اسے نیند کہاں سے آئے گی۔ اس کی نیند تو اذانِ سحر کی محتاج تھی۔ ادھر صبح کی اذان بلند ہوتی، ادھر اس کے چہرے پر پہلی جمائی پھوٹتی۔ نمازیوں کو گھروں سے نکلتا دیکھنے کے بعد ہی کہیں اسے گھر جانے کی ہڑک پیدا ہوتی تھی۔ اور وہی اچّھا آج اتنی جلدی گھر جانے کو کہہ رہا تھا۔ یہ ممکن ہی نہ تھا۔ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا۔تاش سے تو ہم لوگ دو بجے تک اٹھ جاتے تھے۔ ڈاکٹر اور کالو نے صبح اپنی اپنی دیہاڑی لگانی ہوتی تھی، سو انہیں توگھر واپسی ضروری تھی۔ پر میں اور اچّھا ان کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ کبھی تو پنکھا چلا کر ڈیرے پر ہی بیٹھ جاتے، جو تاش کے دوران،پتے بکھرنے کے اندیشے سے بند ہی رہتا تھا۔ اگر کسی دن اچّھا زیادہ حساس ہو رہا ہوتا تو پھر پنکھے کی آوازاس کے اعصاب برداشت نہ کر پاتے اور ہم ڈیرے سے نکل کر گلیوں میں گھومنے لگتے۔ آج کل ہم دونوں باقاعدگی سے’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھ رہے تھے۔ ’’سیانے‘‘ ہم نے ایک خاص جگہ کو نام دے رکھا تھا۔ گاؤں کے مرکزی چوراہے میں ایک بڑے سے تھڑے پرسارا دن گاؤں کے بڈھے ٹھیرے لوگ چوپال جمائے بیٹھے آپس میں اپنے اپنے تجربے بانٹتے رہتے۔ خوبیِ قسمت سے یہ چوراہا ایسا تھا جہاں سے اپنے اپنے گھر جاتے ہوئے میرا اور اچّھے کا راستہ جدا ہوتا تھا۔ ایک رات گھر جانے سے پہلے ہم وہاں تھوڑی دیر کو رک گئے۔ وہاں بیٹھ کر جو اچّھے نے گفتگو شروع کی تو ایسے ایسے کمال کے جملے کہے کہ ہم دونوں ہی حیران رہ گئے۔ اتنی عقل مندی کی باتیں …اچّھے کو سوجھیں کیسے؟ میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تھڑے پر چونکہ دن بھر سیانے بابے بیٹھے رہتے ہیں،لگتا ہے ان کی سیانپ کا اثریہاں ہر وقت رہتا ہے۔ بس اسی اثر سے اچّھا بھی سیانا ہو گیا ہے۔ اب کیا تھا، ہم نے اس جگہ کو ’’سیانے‘‘ کا نام دے دیا اور معمول بنا لیا کہ رات کو تاش کے بعد کافی دیر ’’سیانوںکی معیت‘‘ میں بیٹھا کرتے۔وہاں اچّھا صاحب ولز کنگ کی پوری پوری ڈبی پھونک ڈالتے، پر باتیںایسی گجھی ہوئی کرتے کہ اصل سیانے بھی سنتے تو اس سے دانائی کادرس لیتے۔

سگریٹ ختم ہوا تواچّھا اٹھ کے چل پڑا:’’ ٹھیک ہے یرا، میں چلتا ہوں، آئندہ دس بجے تک ہی بیٹھا کروں گا۔ جب تک میرا ابا واپس نہیں جاتا، تب تک تم اپنے لیے کوئی چوتھا سنگی ڈھونڈ لو۔‘‘

کالو نے اپنی چنید ہ گالیوں سے اسے نوازا۔ ڈاکٹر نے سوشل بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ تاش کا واسطہ بھی دیا گیا، سیانوں کی بھی یاد دلائی گئی مگر وہ ذرا بھی ماٹھا نہ پڑا اور اُٹھ کے گھر چلا گیا۔کالو نے تاش میز پر پٹخی اور غصے میں اندرجا کے کمرے سے پنکھا اٹھا لایا: ’’ اس حرامی کی وجہ سے تاش نہیں کھیل سکتے، پنکھا توچلا لیں۔ ہم کوئی دوزخی نہیں کہ ’’جھڈوؤں ‘‘کی طرح اس گرمی میں بیٹھے رہیں۔‘‘

وہ غصے میں بڑ بڑ کرتا رہا۔ ڈاکٹر اپنے خاص فلسفیانہ انداز میں سوٹا لگاکر یوں دھواں نکالتے ہوئے،گویا کوئی جن برآمد کرنے والا ہو، بولا:’’ پر باوا، سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ گیا کیوں، اسے تو اتنی جلدی کبھی بھی نہ ہوتی تھی، بلکہ وہ جو تم نے ایک شاعر بتایا تھا جو ساری رات سڑکیں ناپتا رہتا تھا… کیا نام…‘‘

’’ناصر کاظمی یار۔‘‘

’’ہاںوہی… اسی کی طرح یہ بھی سب سے آخر پر گھر جایا کرتا ہے۔ تو پھراب اسے کیا تکلیف ہو گئی ہے؟‘‘

’’ آ ہاں… تم نے کہا تو مجھے یاد آیا کہ اُس شاعر کا ایک شعر بالکل اسی موضوع پر ہے، سمجھو کہ ناصر نے اسی موقع کے لیے یہ شعر کہا تھا:

وہ میکدے کو جگانے والا، وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

جب میں نے شعر ان دونوں کو ذرا سا سمجھایا تو دونوں مچل اٹھے:’’واہ، واہ۔‘‘ اور کالو نے تو اپنے خاص انداز میں کہا:’’لگتا ہے، ناصر نے یہ شعر اسی بھوسڑ کے لیے لکھا تھا۔‘‘

’’پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ گیاکیوں؟‘‘ ڈاکٹر کی چرخی ابھی تک اسی محور پہ گھوم رہی تھی۔

’’بتا کر نہیں گیا کہ پیو کے ڈر سے …؟ اب ہم پر یہ ویلا بھی آنا تھا کہ باپ کے ڈر سے تاش کھیلنا چھوڑ دیں۔‘‘کالو غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کرسی کے ہتھے پر کبھی کبھی مکہ مار دیتا۔

’’ابا جب تک یہاں ہے…!اس کا کیا مطلب ہے؟ اِسے ابے کا اتنا خیال تھا کب، اور پھر اِس کا ابا تو پچھلے چھ ماہ سے گھر آیا بیٹھا ہے۔ اب تو اُس کی چھٹی بھی ختم ہونے والی ہے۔ پہلے اِسے کبھی ابے کا خیال نہیں آیا۔ آج ابے کی اتنی دہشت کیوں؟‘‘

’’ہو سکتا ہے کل تک اسے یقین ہی نہ ہو کہ یہی اس کا باپ ہے۔ اور آج ہی اماں نے اسے قسم دی ہو کہ تم حلال کے جنے ہو۔‘‘ کالو کا غصہ اسی طرح مستقل ہوا کرتا تھا:’’ اتنا بھی نہ سمجھا کہ ماں جھوٹ بھی تو بول سکتی ہے۔‘‘

’’تم خواہ مخواہ ابل گئے ہو۔ بندے کی کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے۔‘‘

’’دفع کرو اس کو۔ کوئی کام کی بات کرو۔ کنجر کو آئندہ یہاں گھسنے نہیں دینا۔ کہتا ہے، بس دس بجے تک ٹھہرا کروں گا۔ یہ کتے کا بچہ، احسان کرے گا ہم پر۔ جب ہم چوتھا سنگی ڈھونڈ لیں گے تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے تم جیسے شہدے کی۔ ہم ہر روز وکھرے وکھرے لوگوں سے کیوں…‘‘

’’پر سوچنے کی بات تو یہی ہے نا کہ اسے ہوا کیا، باوا بھی تو نہیں بتا رہا، اسے تو کچھ پتا ہو گا کہ وہ آج جلدی کیوں چلا گیا۔ ‘‘
’’میں کیا بتاؤں یار، میں تو خود حیران ہوں کہ بیٹھے بٹھائے اس کے اندر ابے کی اندھی محبت کہاں سے آ گھسی کہ وہ تاش کو چھوڑ کے چلا گیا۔‘‘

’’میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ کل تاش کے لیے چوتھا سنگی کسے بناؤں۔ میرا مسیر بہت اچّھارنگ کھیل لیتا ہے، کوشش کروں گا کہ اسے گھیر لاؤں، وہ اس حرامی کی طرح بزدل نہیں ہو گا کہ دس بجے جا کر ابے کی بغل میں بیٹھ جائے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو اچّھے نے دس بجے گھر چلے جانا معمول بنا لیا تھا، کالو کو شک تھا کہ اچّھا ڈیرے سے اٹھ کر سیدھا گھر نہیں جاتا بلکہ کسی اور جگہ رات رنگیلی کرتا ہے۔ عاشقی معشوقی میں یاروں کی یاد حرام زادی کب آتی ہے۔ لیکن ایک دن خود اچّھے کی اماں نے کالو کے سامنے اچّھے کی تعریف کی کہ پتا نہیں کیسے اسے عقل آ گئی ہے، اب تو دس بجے ہی لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بے چارہ جب سے آیا، کھپتا رہتا تھا کہ رات کو جلدی گھر آ جایا کرو مگر وہ انسان نہ بنا تھا، کبھی چاربجے تو کبھی پانچ بجے آ دیوار پھلانگتا۔ اگر وہ اس قدر گبھرو جوان نہ ہوتا تو اس کا ابا اس کو خوب پھینٹی لگاتا مگر ڈرتا ہے کہ جوان بیٹا ہے، کہیں جواباً اس پر ہاتھ نہ اٹھا دے۔ بس منہ سے کہتا رہتا ہے لیکن اس نے بھی مان کر نہ دی۔ پر پچھلے دس بارہ دن سے بڑا فرمانبردار بنا ہوا ہے۔ ابھی ہم سب جاگ رہے ہوتے ہیں کہ وہ لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بھی اس سے بہت خوش ہے۔
کچھ دن میں ہم بھی اُس کے اِس نئے معمول کے عادی ہو گئے۔ وہ ڈیرے پر آتا، بمشکل آدھا گھنٹہ بیٹھتا اور واپس چل دیتا۔ ڈاکٹر نے ایک دو دفعہ اسے باز رکھنا چاہا تو وہ تھوڑا اُکھڑ گیا۔
’’تم لوگ دیہاڑیاں لگاتے ہو ناں؟ کیوں لگاتے ہو؟‘‘
’’کیوں کا کیا مطلب؟ گھر والوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے اور کیا۔‘‘
’’تم گھر والوں کے لیے دیہاڑی لگاتے ہو اور میں گھر والوں کے لیے جلدی لوٹ جاتا ہوں۔ میں نے کبھی تم لوگوں کو دیہاڑی لگانے سے روکا؟ تو پھر تم مجھے کیوں روکتے ہو؟‘‘
ڈاکٹر کو کوئی جواب نہ سوجھا۔
ڈیرے پر اب تاش کم، گپیں زیادہ چلتیں۔ ہمیں چوتھا کھلاڑی نہ مل سکا، اسی لیے اچّھے کے اٹھنے تک رنگ کی دو بازیاں لگتیں اور پھر چادر لپیٹ دی جاتی۔ ڈیرے پر رات دیر تک بیٹھنے کی عادت بنی ہوئی تھی، اسی عادت کو نبھانے کے لیے بیٹھے رہتے ورنہ تاش کے بغیر کہاں مزہ آتا تھا۔ ڈاکٹر تو کہا کرتا تھا کہ جن دوستوں کے درمیان تاش بٹنا ختم ہو جائے، وہ خود بٹ جاتے ہیں۔ یہ تاش کے باون پتے ہیں جو دوستوں کو باندھ رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں نے اتنی مدت اکٹھے تاش کھیلی تھی کہ لگتا، تاش ہمارا پانچواں دوست ہے۔ تاش کے بغیر ہمیں مل بیٹھنا عذاب ہو جاتا تھا۔ آخر فارغ بیٹھ کر ایک دوسرے سے کیا بات کریں؟ تاش کے ساتھ تو عجب معاملہ تھا، ادھر پتے سب کے ہاتھ میں آئے اور ادھر دنیا بھر کے موضوع یاد آنے لگے۔ پتا پھینکا جا رہا ہے اور ہستی کے مسائل پر بحث ہو رہی ہے۔تاش پھینٹی جا رہی ہے اور زمانے بھر کے فلسفے چھانٹے جا رہے ہیں۔ اب تاش کے بغیر ہم ایک دوسرے کی گفتگو سے بیزار ہونے لگے تھے۔ یوں جیسے محض دکھاوے کے لیے باتوں کی تسبیح رول رہے ہوں۔ کالو بیٹھا بے لطفی سے پتے پھینٹتا رہتا۔ بد مزگی اس کے ہر ہر روم سے عیاں ہوتی تھی۔ میں اور ڈاکٹر بھی اکتائے اکتائے سے بیٹھے رہتے۔کئی بار ہم نے تین کھلاڑیوں والا رنگ کھیلنا شروع کیا مگر عادت نہ تھی، بدمزگی میں اضافہ ہی ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ایک دن ڈیرے کی رونق پھر سے بحال ہو گئی۔ اچّھے کا ابا واپس بحرین چلا گیا اوراچھّا اس شب پھر رات دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ اب وہ پھر وہی پرانا اچّھا تھا، ڈیرہ پھر تاش کا ڈیرہ بن گیا۔ ڈاکٹر اور کالو دوبجے چلے جاتے اور میں اور اچّھا سیانوں کے پاس جا بیٹھتے۔ اس کا ولز کنگ جلتا رہتا، باتوں کا سلسلہ چلتا رہتا۔ ایک دن پتا نہیں کس لہر میں رواں تھا کہ مجھ سے پوچھنے لگا۔

’’تمہیں اندازہ ہے کہ پچھلا پورا مہینہ میں جلدی گھر کیوں جاتا رہا؟‘‘
’’نہیں۔ میں نے بہت سوچا مگر ذرا بھی اندازہ نہ کر سکا۔‘‘
’’بس یرا، یہ بھی ایک الگ ہی معاملہ تھا۔‘‘ اس نے تھڑے پر ٹانگیں پھیلا لیں:’’ بات توبتانے والی نہیں مگر تم سے اپنا اتنا پردہ بھی نہیں۔ اور میں خود چاہتا ہوں کہ کسی سے یہ ساری گل سانجھی کروں۔‘‘
’’تو پھر بتا دو۔ بجھارتیں کیا ڈال رہے ہو۔‘‘

’’بتاتا ہوں یرا…پر نکتہ باریک ہے… سمجھانے کے لیے شروع سے بات کرنی پڑے گی۔ تم جانتے ہو کہ میرا ابا مارچ سے گھر آیا بیٹھا تھا۔ تب سے وہ مجھے جھڑکتا رہتا تھا کہ میں جلدی گھر کیوں نہیں آتا۔ اسے بڑا دکھ ہوتا تھا، رات کو میرے گھر نہ ہونے سے۔ وہ کہتا تھا: ’میں بحرین سے آیا ہوں کہ اپنے پتر دھیوں سے مل آؤں۔ چھ مہینے کی چھٹی لایا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت گزار آؤں،سوچا تھا اپنے اکلوتے پتر سے جی بھر کے باتیں کروں گا۔مگر اسے ذرا بھی غیرت نہیں آتی،گھر ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر نہیں آتا۔ساری رات کتے کی طرح لور لور کرتا رہتاہے۔سارا دن مگر مچھ کی طرح سویا رہتا ہے۔کچھ کھانے کو مل گیا تو اونٹ کی طرح ہر چیز لپیٹ گیا۔ نہیں تو بھینس کی طرح خاموش پڑا رہے گا۔اس میں انسانوں والی کوئی عادت ہی نہیں۔ باپ اتنی مدت بعد گھر آیا ہے،ذرا دیرکو اس کے پاس بھی بیٹھ، کچھ اس کی سن، کچھ اپنی سنا۔ مگر نواب صاحب گھر پر ٹھہریں تو ناں۔ لوگوں کی اولاد ایسی نیک ہے کہ ماں باپ کی اجازت کے بغیر قدم بھی نہیں اٹھاتی،ایک مجھے یہ اللہ میاں کا تحفہ مل گیا ہے، پتا نہیں کب اسے باپ کا خیال آئے گا۔‘ تو یہ تھا میرے باپ کا مسئلہ، وہ میرے ساتھ بات کرنا چاہتا تھا اور آخر اس کی خواہش کیوں نہ ہوتی، ساری عمر اس نے بحرین مزدوری کر تے گزار دی، کس کی خاطر، میری خاطر ناں، اب وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ دو گھڑی گپ شپ ہی کرلوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں…‘‘

’’یہ خیال اُس کی چھٹی کے آخر میں تمہیں کیسے آیا … پہلے کیوں نہیں؟‘‘

’’نہیں تم پوری بات تو سنو۔ وہ تو چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں، اس کے پاس بیٹھا کروں لیکن مجھے اِس کی عادت ہی نہ تھی، وہ کب میرے سامنے باپ کی طرح رہا تھا۔ یہی چھ مہینے کی چھٹی وہ میرے بچپن میں کبھی آ جاتا تو میرا ذہن اسی وقت ا س کو اپنا باپ مان لیتا۔ جب وقت تھاتب اس نے مجھ سے باپ کا رشتہ نہیں بنایا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ میں اس کا بیٹا بن جاؤں، یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا… ذرا ماچس تو دینا… کہ جب مجھے اس کی ضرورت تھی، وہ میرا نہیں بنا تو اب اس کی ضرورت پوری کرنا کیا مجھ پر فرض ہے ؟ نئیں یرا، یہ ولز کا سگریٹ بھی انتہائی گھٹیا ہوتا جا رہا ہے، جیسے تمباکو کی جگہ بھوسا بھرا ہو، کوئی سواد ہی نہیں آتا۔‘‘
’’بس، تم جانتے ہو آج کل دو نمبر سگریٹ بہت ہو گئے ہیں۔‘‘

’’نئیں او یرا!جب سے یہ بجٹ میں ان پر ٹیکس زیادہ لگا ہے، تب سے ان کا سٹینڈر ہی نہیں رہا۔ ٹیکس لگاتے وقت بھی یہ کہاں خیال رکھتے ہیں غریبوں کا… کالو بجٹ بنانے والوں کو گالیاں دیتا ہے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ یہ لوگ ہیںبھی…‘‘

’’سگریٹ اور کالو دونوں کی …‘‘

’’ہاں یرا …ابا کہتا ہی رہا کہ رات کوجلدی گھر آ جایا کرو یا دن کو دوگھڑی میرے پاس بیٹھ جایا کرو مگر میں نے بھی ایک طرح سے ضد ہی بنالی تھی کہ ابے کی نہیں سننی۔ جو میری مرضی ہو،وہی کروں گا۔صورت حال یہاں پر تھی کہ وہ واقعہ پیش آگیا۔ ہوا یوں کہ اس رات ہم ڈیرے سے دو بجے اٹھے اور’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھے ہی نہیں، یوں میں معمول سے قبل گھر پہنچ گیا۔ڈیوڑھی کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ حسبِ معمول میں نے بھی دیوار پھلانگی اور اندر۔ آج کل سب ہی گھر والے ویہڑے میں سوتے ہیں۔تمہیں پتا ہے کھڑا پنکھا ہمارے گھر ایک ہی ہے۔سب سے پہلے پنکھے کے ساتھ میری چارپائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد بے بے اور بابے کی۔ پھر ابے کی، اس کے بعد چھوٹی بہنوں کی دو چارپائیاں اور آخر پر تقریباً دیوار کے ساتھ اماں کی چارپائی۔ اس رات چاند کی ۲۱ یا۲۲ ہو گی۔ روشنی بہر حال اتنی تھی کہ صحن میں سوئے سب لوگ دھندلے دھندلے نظر آتے تھے۔ میں دیوار پھلانگ کر اماں کی چارپائی کے قریب اترا۔ دیکھا تو اماں اپنی چارپائی پر نہ تھی۔ادھر اُدھر دیکھا،گھر کے سبھی کمرے گھپ بند تھے۔ ادھر…غسل خانے کی بتی بھی آف تھی۔یہ اماں کہاں گئی؟ میں نے ذراسی اونچی آواز دی’’اماں۔ اے اماں۔‘‘ لیکن تھوڑی دیر بعد مجھ پر انکشاف ہو گیا کہ اماں ویہڑے میں ہونے کے باوجود بولنے جوگی نہیں ہے۔ میں تیز تیز قدم چلتا اپنی چارپائی تک پہنچا اور اوندھا ہو کے پڑ رہا۔‘‘

’’تو اماں کہاں تھی…؟‘‘ میں حیران ہو گیا:’’ اوہ ہ ہ… … ‘‘

’’ہوں۔ درست سمجھے۔اب خود دیکھو، ایسے موقع پر میں کیا سوچتا؟…صبح میں نے یوں ظاہر کیا جیسے مجھے رات کو کچھ پتا ہی نہ چلا۔ اور وہ بھی ایسے ہی رہے، گویا رات کو کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘

’’ تو پھر …؟‘‘

’’تو پھر یہی کہ میں نے تم لوگوں سے معذرت کر لی اور جلدی گھر آنے لگا۔اس رات میں سونے کی بجائے سوچتا ہی رہاتھا۔ میں سمجھ گیا، ابا مجھے جلدی گھر آنے کو کیوں کہتا تھا۔ میرے گھر لوٹنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا، میرے آنے سے پہلے تک وہ گھبراتے ہوں گے کہ پتا نہیں کب اچّھا دیوار پھلانگے اور ان کے سر پر آن پہنچ جائے۔اس لیے میرا ابا مجھ سے کلپتا رہتا تھا کہ جلدی گھر آجایا کرو۔ میں جب اس نکتے پر پہنچ گیا تو میں نے جلدی گھر جانا اور وقت پرسونا شروع کر دیا۔ اب یہ سوچ سوچ کر مجھے بڑی مسرت ہوتی ہے کہ آخری ایک مہینہ اماں کس طرح کھل کر اپنی چارپائی سے اتری ہو گی۔ایک اور ہی نشے میں… ابا بھی ہنستے بولتے بحرین سدھارا ہے۔‘‘

وہ خاموش، دھواں پیتا رہا۔میں اس کے سگریٹ پر نظر جمائے بیٹھا رہا۔کافی وقت گزر گیا۔اس کا سگریٹ بجھے بھی بڑی دیر ہو چکی تھی۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:’’چلیں یار گھر، اب تو لگتاہے، تیرے سگریٹ بھی ختم ہو گئے۔‘‘

اس نے ولز کنگ کا نیا پیکٹ نکالا، سیل کھولی، سگریٹ سلگایا اور دو چار سوٹے مارنے کے بعدبڑے اطمینان سے کہنے لگا:’’ابا اب بحرین پہنچ چکا ہے۔ اب گھر جا کے کیا کروں گا… ہم تو بات کر رہے تھے کہ بجٹ کے بعد ولز کنگ بہت خراب ہو گیا ہے۔ پتا نہیں یہ ٹیکس کا سگریٹ کے سٹینڈر پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘‘

Categories
فکشن

غلاملی (محمد عباس)

اس کی زندگی تین دھروں پر گھومتی تھی۔گھر، قبرستان اور غلام علی۔ ان میں بھی غلام علی کی حیثیت مرکزی دھرے کی تھی۔
بہت بچپن میں وہ ہم سب دوستوں کے لیے ایک ڈراؤنی شخصیت کا درجہ رکھتا تھا۔بعد میں جب پریوں کی کہانیاں سننی شروع کیں تو کسی جن بھوت کا ذکر آنے پہ میرے ذہن میں جن کا جو خیالی پیکر بنتا وہ بڑی حد تک اس سے مشابہہ ہوتا تھا۔ اس کو اس قدر ڈراؤنا بنانے میں جہاں اس کے حلیے کا کردار خاصا اہم تھا وہاں اس کا ذریعۂ معاش اور طرز رہائش بھی خاصی اہمیت رکھتے تھے۔ ذریعۂ معاش جو ہم پرذرا بڑے ہونے کے بعد واضح ہوا،یہ تھا کہ گاؤں والوں نے آج سے کوئی چالیس سال قبل متفقہ طور پر اسے گاؤں کے قبرستان کا راکھا مقرر کیا تھا۔ اس کے فرائض منصبی میں قبروں کی حالت درست رکھنا، درختوں کی کاٹ چھانٹ، جھاڑ جھنکار سے قبرستان کو صاف رکھنا اور قبروں کو ڈھور ڈنگر کی ’دست برد‘ سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس کے عوض اسے گاؤں کے ہر گھرانے سے دو ٹوپے گندم اور ایک ٹوپہ باجرہ یا غیر کاشتکار گھروں سے مساوی رقم سالانہ کی ادائیگی قرار پائی تھی۔ پورے چالیس سال اس نے قبرستان سے یہ ناتا برقرار رکھا۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنے یہ تمام فرائض ہمیشہ نبھائے۔ وہ احساسِ ذمہ داری یا حساب کتاب جیسی باتوں سے ماورا تھا۔قبرستان کے رقبے کو مد نظر رکھا جائے تو یہ سب کام اس اکیلے کے بس کا روگ بھی نہ تھے۔ اس کے لیے تو ایک آدھ پلٹن درکار تھی۔البتہ آخر الذکر فریضے پہ وہ بہت توجہ دیتا تھا۔ اس کے ہوتے کوئی جانور، بکری سے لے کر بھینس تک قبرستان میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ قبرستان کی وسعت اورخود اس کی عمر (جس کا درست تعین کبھی نہ ہو سکا)کے پیشِ نظر یہ بھی ایک ناممکن کام تھا مگر اس نے ہمیشہ یہ کام نبھایا۔ہم نے اسے سردیوں کی صبحوں اورگرمیوں کی دوپہروںمیں بھی ڈنگورا کندھے پہ رکھے قبرستان میں گھسنے والے جانوروں کا پیچھا کرتے دیکھا۔ گرمی کی شدت سے ساری خلقت تفو تفو کر رہی ہوتی اور وہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور ننگے دھڑ اپنے ڈنگورے کو تیغِ برہنہ کی مانند لہراتا ڈنگروں سے گولڑہ چھپاکی کھیل رہا ہوتا۔گرمیوں میں اکثر ہم اسے دیکھتے تو اتنا ترس آتا جتنا اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھا کرگھسٹنے والے گدھے پر۔

رہائش اس کی تھی تو گاؤں کے عین درمیان، لیکن اتنی اجاڑ کہ وہاں عشاق کے جوڑے کیدو نظروں سے بچنے کے لیے دن کو بھی بے خطر مل لیا کرتے۔ چاردیواری ایک کنال پہ محیط تھی۔ اندرایک کونے پر صرف ایک کمرہ بنا ہوا تھاجس کے دروازے پر کبھی تالا نہیں لگتا تھا(یار لوگ بعض اوقات اس کمرے سے بھی مستفید ہو لیتے تھے) عمر میں اس نے جو بھر پایا تھا، وہ اسی کمرے میں ڈھیر تھا۔ مانگے کے کپڑے جن کی تعداد شماری نہ جا سکتی، ایک چارپائی جس کی بُنائی اتنی بگڑ چکی تھی کہ شاید ہی کوئی انسان اس پر سو سکتا۔ایک طرف شیشے اور پلاسٹک کی ناکارہ بوتلیں،انہی کے ساتھ زنگ اور دیمک سے اٹے کچھ اوزار مثلاً کسّی،کلہاڑا، کھرپہ، بیلچہ وغیرہ پڑے تھے۔ دوسری جانب لکڑی کی ایک بڑی پیٹی تھی جس میں اس نے جانے کون کون سی قیمتی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ دروازے کے بالکل ساتھ اس کا چولہا ہوا کرتا تھا، جہاں اس نے کھانا بنانے کی زحمت یقینا کبھی نہ کی ہو گی البتہ کبھی گرم کرنا پڑتا ہو تو کر لیتا ہو گا۔ سامنے پڑچھتی پر عام استعمال کے کچھ برتن تھے، ایک دو چنگیر، سلور کی دیگچیاں، تام چینی کی پلیٹیں، بادیے وغیرہ۔ اس کمرے کے باہر باقی تقریباً ۱۹ مرلے جگہ پر جتنا جھاڑ جھنکار اگ سکتا تھا، اگا ہوا تھا۔ جس بُوٹی، جس جھاڑی کی جتنی تمنا تھی،اتنے اس نے پاؤں پسارے ہوئے تھے۔ بے تحاشا اگے ہوئے اس ’’گھاہ بوٹ‘‘ کی وجہ سے اس کے گھر اور قبرستان میں کوئی فرق نہیں لگتا تھا۔ شاید اپنے گھر کی اسی ویرانی کے باعث اسے قبرستان سے بھی اجنبیت محسوس نہ ہوتی تھی۔۔۔ یا شاید معاملہ بر عکس تھا۔

اسی گھر میں بلکہ اسی کمرے میں اس نے اپنی عمر کی بیشتر راتیں گزاریں۔وہ کبھی بھی رات اس کمرے سے باہر نہیں سہارتا تھا۔گرمی ہو یا سردی،ہمیشہ اندر ہی سوتا۔ کھانا دونوں وقت اس کے بھائی کے گھر سے آ جاتا جو ہمسایہ تھا۔ صبح کھانا کھا کر وہ قبرستان نکل جاتا، شام کو واپس آ کر کھاتا اورسو جاتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بہت بچپن میں، میں نے سب سے پہلے اسے اسی گھرمیں منڈلاتے دیکھا تھا اور اس کی طرف سے ایک خوف سا دل میں بیٹھ گیا تھا جو لڑکپن تک میرے ساتھ رہا۔گلی میں کہیں بھی جب وہ نظر آ جاتا تو میں سہم کر راستہ بدل لیا کرتا۔ اب میں چاہوں بھی تو اس کی وہ صورت پیش نہیں کر سکتا جیسی خوفناک بچپن میں مجھے نظر آتی تھی۔ ایک میں ہی نہیں میرے تقریباً سبھی ہم عمر اپنے بچپن میں اس سے ڈرتے رہے ہیں۔ وہ تو بہت بعد میں جا کر جب ہمیں یقین آ گیا کہ یہ ہم انسانوں میں سے ہی ہے، تب جا کر یہ خوف سمٹنے لگا۔جو زیادہ شرارتی لڑکے تھے،انہوں نے تو اپنے اس خوف کا اس سے گویا بھر پور بدلہ لیا اور ہر ممکن طریقے سے اسے تنگ کرتے رہتے۔ اسے تنگ کرنا بالکل آسان تھا۔ اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے۔بہت سی چیزیں اس کی چھیڑ تھیں، بلکہ میرا تو خیال ہے کہ اس کی کوئی مخصوص چھیڑ تھی ہی نہیں،بس جو بھی کہہ دو، وہ تپ جاتا تھا۔ ادھر کسی نے اسے انگل دی، ادھر اس کے منہ سے گالیاں نکلنی شروع ہو گئیں۔اور یہ تو اس کی عادت تھی کہ جب گالیاں دینی شروع کر دے تو پھر کوئی مائی کا لال اسے نہیں روک سکتا تھا بلکہ ایسی کوئی بھی کوشش اس کے جذبے کو مزید بڑھاوا دیتی۔ انتہائی کڑاکے دار آواز میں ایسی ایسی گالیاں دیتا کہ سات پردوںمیں بھی بہو بیٹیاں لال ہو جاتیں۔ اسے جو عمر بھر عورت کا قرب نصیب نہیں ہوا تھا، شاید اسی کا بدلہ وہ سب کی ماں بہن ایک کر کے لیا کرتا تھا۔ اس دن تو بہت ہی تماشا ہوتا تھا، جب وہ گاؤں میں کسی جگہ پر پایا جاتا۔ ویسے تو وہ کم ہی گاؤںکا چکر لگایا کرتا لیکن جس دن وہ آ نکلتا، لڑکوں کے ہاتھ تماشا لگ جاتا۔ذرا سا چھیڑ دیتے اور وہ پھر پورے گاؤں میں بکتا پھرتا۔ جہاں تھوڑاخاموش ہوتا، پھر کوئی چھیڑ دیتا اور وہ نئے جوش و خروش سے نئی گالیوں کے ساتھ اپنی اننگز شروع کر دیتا۔جیون مرن ہو تو وہ خاص طور پرپہنچ جاتا تھا۔اور جب وہ آ جاتا توبھلے کتنی خوشی کا موقع ہو، خواہ کتنا سوگ منایا جا رہا ہو،کچھ لوگوں کی توجہ اس طرف ضرور ہو جاتی اور کوئی نہ کوئی اسے چھیڑ دیتا۔بس پھر تو مرد حضرات سر جھکائے گٹکتے رہتے اور گھر بھر کی عورتیں منہ چھپائے پھرتیں۔ کیا کچھ کہتا رہتا، مگر کوئی اسے نہ روک پاتا۔ اس کی ذہنی حالت سے سبھی واقف تھے اور گاؤںمیں متفقہ طور پر اسے وہ ساری مراعات حاصل تھیں جوکسی پاگل کو مل سکتی ہیں۔ اسے نہ توکوئی سیانا بندہ گالی کا جواب دیتا اور نہ ہی کبھی کسی نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ بالکل بے ضرر آدمی ہے۔ گاؤں بلکہ قبرستان میں گزری اس کی پوری زندگی سب کے سامنے کھلی تھی۔ اس کی طرف سے نیکی کے کام کی کسی کو خبر ہو یا نہ ہو، مگر اتنا سب جانتے تھے کہ اس نے زندگی میں منہ چھپانے لائق کام کبھی نہیں کیا تھا۔

مفلس زندگی نے اس کا جثہ ہلکا تودیا تھا مگربدن میں ابھی توانائی باقی تھی۔۔۔شاید عورت سے محرومی کے باعث۔ رنگ تقریباً سیاہ تھا۔ عمر کی دھوپ نے چہرے پر تریڑوں کا نقشہ بنا چھوڑا تھا۔ سر کے بال کہیں کہیں سے کالے رہ گئے تھے۔ داڑھی کے بال اگے ہی بہت کم تھے۔ جیسے دھان کی پنیری لگاتے وقت وقفہ زیادہ رکھا گیا ہو۔ناک اور کان عمر کی چھ، سات دہائیاں طے کرنے کے بعد غیر معمولی طور پر بڑے لگتے تھے، شاید جوانی میں متناسب رہے ہوں۔ بہت موٹے شیشوں کی عینک پہنتاجس کے دونوں طرف کمانی کے بجائے ایک موٹا دھاگا ڈال کر اس نے اپنے سر کے سائز کے مطابق گانٹھ دے رکھی تھی،اس لیے وہ عینک بھی ٹوپی کی مانند پہنتا اتارتا تھا۔ لباس اس کا کچھ زیادہ ہی عجیب و غریب ہوتا۔ ہر موسم کے لحاظ سے اس کا لباس مقرر تھا۔ ساون بھادوں کے مہینوںمیں صرف شلوار اور پاؤں میں لیلن (نائلون)کے سستے بوٹ ہوتے جو اس کے گھٹنوں تک آتے تھے۔ اسوج کاتک، پھاگن چیت میں وہ دھوتی کرتا استعمال کرتا اور پاؤں میں لیلن کے ہی چپل۔ گرمی کے دنوں میں اس کے پورے بدن پر قدرت کی طرف سے دی گئی چیزوں کے علاوہ ایک تہمد ہوتا یا پھر کندھے پر ڈنگورا۔ دھوپ کی شدت اور حدت برداشت سے باہر ہو جائے تو ایک صافہ سر پر رکھ لیتا ورنہ عام طور پر اس تکلف میں نہیں پڑتا تھا۔ سردیوںمیں اس کی وضع سب سے عجیب ہوتی۔ ادھر سردیوں کا آغاز ہوتا اور ادھر وہ ہر کسی سے کپڑوں کا جوڑا مانگنے لگتا۔نچلے دھڑ پر ایک شلوار اوراو پر جتنی بھی قمیضیں دستیاب ہو پاتیں،سب پہن لیتا۔جوں جوں سردیوں کی شدت میں اضافہ ہوتا، اس کے بدن پر قمیضوں کی تعداد بڑھنے لگتی۔ایک دفعہ پوہ کے مہینے میں،خود میں نے اس کے بدن پہ نو قمیضوں کی گنتی کی تھی۔جرسی،سویٹر یا کوٹ وغیرہ کی زحمت وہ گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔ قمیضوں کے اوپر سر اور ہاتھوں کی حفاظت کے لیے چادر لے لیتا۔ پاؤںمیں لیلن کے وہی بوٹ جو ساون بھادوں میں اس کے کام آتے تھے، مگر اتنے فرق کے ساتھ کہ جاڑے میں ان گنت جرابیں پاؤںپر چڑھاکر اوپر جوتے کھونس لیتا۔ اسی لیے وہی جوتے جو کھلے ہونے کی وجہ سے ساون کے کیچڑ میں شڑپ شڑپ کرتے تھے، جاڑوں کے دوران اس کے پیروں میں نعل کی طرح جمے ہوتے۔

سردیوں میں کہر اورسوکھے کی وجہ سے لوگ مال مویشی گھروں سے نہیں نکالتے تھے، اس لیے وہ قبرستان کی طرف سے مطمئن ہو کر گاؤں میں ہی گھوما پھراکرتا۔ کبھی چائے کے کھوکھے پر تو کبھی کسی دکان کے تھڑے پر۔کبھی گلیاں ناپتا ہوا تو کبھی کسی کو کوسنے دیتا ہوا۔یہی اس کی زندگی کا معمول تھا۔ البتہ یہ معمول ایک حادثے کے بعد ختم ہو گیا۔

حادثے کی تفصیل کسی صورت نہیں بیان کی جا سکتی۔ واقعہ تھا ہی اتنا پر اسرا ر کہ اس کے متعلق کوئی بتائے بھی توکیا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ حادثہ نہیں تھا بلکہ سوچی سمجھی سازش تھی۔ ہوا یوں کہ جیٹھ کی ایک گرم دوپہر جب پورا گاؤں اندر کمروں میں سویا پڑا تھا اورخودوہ قبرستان میں ڈنگروں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا، اس کے گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ پاس پڑوس کے لوگوں کو خبر ہونے تک اس کا پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔چاہتے ہوئے بھی کوئی کچھ نہ کر سکا کہ کمرے کے باہر سارے گھر کا گھاہ بوٹ بھی آگ پکڑ چکا تھا۔ کوئی کمرے تک کیسے جاتا۔ اس کی کل زندگی جل کر کوئلہ بن گئی۔ سنا ہے کہ جب وہ وہاں پہنچا تو صدمے سے اس نے خود بھی اس آگ میں کود مرنے کی کوشش کی مگر بھائی اور اس کے بیٹوں نے اسے بچا لیا۔یوں کہنے کو تو اس کوٹھڑی میں کوئی بھی قیمتی چیز نہیں تھی مگر جو کچھ بھی تھا، اس کی کل کائنات یہی تو تھی۔گھر جل جانے کے بعدوہ بالکل بجھ سا گیا اور ہر وقت ملول سا رہنے لگا۔ وہ عمر بھر یہ تو نہ جان سکا کہ آگ کس نے لگائی تھی مگر جب بھی اسے اپنا گھریاد آتا آگ لگانے والے کے لیے اس کے منہ سے آگ ہی نکلتی تھی۔

گھر نہ رہا تو اس کے معمولات بالکل بدل گئے۔ گرمیوں میں وہ چوبیس گھنٹے قبرستان میں ہی رہنے لگا۔ دن کو قبرستان کی رکھوالی اور رات کو جنازہ گاہ میں میت کے لیے بنائے گئے شیڈ کے نیچے چادر تان کر سو رہتا۔دو وقت کا کھانا، جس کی اسے اتنی فکر رہی بھی نہ تھی،اس کا بھتیجا اسے پہنچا آیا کرتا۔ٹھنڈے موسم میں جب راتوں کو پالا برداشت سے باہر ہونے لگتا تو وہ سونے کے لیے بھائی کے گھر آ جاتا اور صبح آنکھ کھلتے ہی پھر قبرستان میں جا پہنچتا۔ گالیاں بکنا اس نے کم تو نہیں کیا تھا مگر اب گالیاں دیتے وقت واضح معلوم ہو جاتا کہ وہ میکانکی انداز میں، گویا کوئی فرض نبھا رہا ہے۔ ایک تخلیقی شان سے گالیاں دیتے وقت اس کے لہجے میںجو کھنک ہوتی تھی وہ اب مفقود ہو گئی تھی۔ اب تو وہ بس اسی لیے گالیاں دیتا تھا کہ لوگ اس سے گالیاں سننا چاہتے تھے۔

سب سے خاص بات یہ کہ گھر جلنے کے بعد اس نے سرِ عام یہ اعلان کرنا شروع کر دیا تھا کہ آج سے ٹھیک سات سال،سات ماہ، سات روز بعد جمعرات کے دن وہ مر جائے گا۔ جس کو بھی ملتا، اسے بڑے تیقن سے اپنا خواب سناتا کہ رات پیرانِ پیر یارھویں والے سرکار اس کے خواب میں آئے تھے اور بتا گئے ہیں کہ آج سے ٹھیک سات سال،سات ماہ، سات روز بعد جمعرات کے دن وہ اسے لینے آئیں گے۔ اس کی زبانی یہ خواب میں نے کتنی بار سنا۔ ہر دفعہ خواب اپنی جزئیات سمیت بالکل یکساں ہوتا البتہ بشارت (وہ اسے بشارت ہی سمجھتا تھا)دینے والے بزرگ تبدیل ہو جاتے۔ کبھی یہ ’’دمڑیاں آلی سرکار پیر شاہ غازی کھڑی شریف ‘‘بن جاتے تو کبھی ’’ولیاں دے بادشاہ باہو سلطان لج پال ‘‘ بن جاتے۔ بلکہ میرا تو خیال ہے کہ وہ اِس خواب کو قریب قریب ہر اُس صوفی بزرگ سے منسوب کرچکا تھا جس کا نام وہ جانتا تھا۔ حتی کہ ایک دن ایک مومن بھائی سے کہہ رہا تھا: ’’ مینوں راتیں خوابے چ مولا علی مشکل کشا حق علی سرکار نے آکھیا اے کہ ست سال۔۔۔‘‘

معمولات کی تبدیلی تو پھر بھی سمجھ میں آنے والی تھی، اب وہ غلام علی کو بھی بہت زیادہ یاد کرنے لگا تھا۔ اس کے غلام علی سے میرا غائبانہ تعارف پہلے بھی تھا۔ یہ اس کا ایک فرضی پوت تھا جو بچپن میں ولایت چلا گیا تھا اور اب وہاں موجاں کر رہا تھا۔ لڑکپن میں جب ہم اسے چھیڑا کرتے تو وہ بہت زیادہ تپ کر آخر میں یہی کہتا۔۔۔’’کر لو،جو ظلم کرنا اے۔غلاملی نوں آ لین دیو، سب نال مُک لوے گا۔۔۔ تم سب ماں کے خصموں کو۔۔۔‘‘

غلام علی اس کی وہ اولاد تھا جس نے کبھی نہ کبھی واپس لوٹ کر اپنے باپ پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لیناتھا۔اسی شاخ پہ اس کی تمام امیدوں کا بسیرا تھا۔جب بھی اس پر کوئی مشکل وقت آتا،بیمار پڑ جاتا،جانورو ں کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہانپ جاتا یا بچوں بڑوں کی چھیڑ کا نشانہ بنتا، وہ اپنے غلام علی کو ضرور یاد کرتا اور فوری انتقام کی خواہش کو غلام علی کی واپسی تک ملتوی رکھ،رو دھو کے چپ ہو جاتا:’’ٹھیک ہے،میرا غلاملی یہاں نہیں، جو مرضی ظلم کر لو۔حق علی سرکار دے حکم نال اوہ جدوں مڑ آیا، فیر سب کولوں پچھ لیساں۔‘‘
سردیوں کی ایک دوپہر میں گاؤں کے ٹی سٹال کے قریب سے گزرا تو اندر سے اس کی آواز آئی:’’او پتر۔۔۔ اک گل سن جائیں۔‘‘ میں اندر گیا، دیکھا تو وہ ایک گندہ سا کھیس لپیٹے پٹھے کی چارپائی پر دوہرا تہرا ہوا پڑا تھا۔سات آٹھ قمیضیں اس نے ڈانٹی ہوئی تھیں۔ سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو حتی الامکان سکیڑے اپنے ہی جسم کی گرمی سے حرارت لے رہا تھا۔آنکھوں میں ترس بھر کر بولا:’’ آ پتر۔۔۔دیکھ کتنا تپ چڑھا ہے۔پورا پنڈا اُبل رہا ہے۔‘‘

میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو واقعی اسے کافی تیزبخار تھا۔اس نے مجھے جیب سے ایک خاکی پڑیا نکال کر دکھائی جس میں کچھ گولیاں تھیں۔اور کچھ روپوں کا مطالبہ کیا تا کہ وہ کچھ کھا پی کر دوا لینے کے قابل ہو سکے۔ میں نے دس روپے اسے تھما دیے،یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ان سے کوئی چیز نہیں کھائے گا اور ابھی نہ جانے کتنے لوگوں کو گولیاںدکھا کر پیسے بٹورنے کی کوشش کرے گا۔میرے اٹھتے وقت اس نے ذرا پانی ہو کے کہا:’’جدوں میرا غلاملی مڑآیا۔میں تیرے پیسے دے دوں گا، بس وہ آیابیٹھا سمجھو۔‘‘

میں ہنس پڑا:’’ٹھیک ہے چاچا۔ اس نے آنا ہے نہ تم نے پیسے لوٹانے ہیں۔‘‘

وہ تڑپ اٹھا:’’اوئے اوئے۔کیوں نہ آئے گا۔۔۔ایں؟مولا علی مشکل کشاحق علی سرکار دے ناں دا صدقہ،اوہ اج ہی آجاوے،پر میں ای اس کو روکے بیٹھا ہوں۔ کیا کرے گا آ کر۔اس کا پیو تھوڑا ذلیل ہو رہیا اے کہ وہ بھی آ جائے۔ نعرہ ٔ حیدری،پنجتن پاک دے ناں دا صدقہ۔ او شالا وہیں رہے۔پر جدوں میں مرنے لگا،فیر اس کو بلا لوں گا۔میں نے اس کو خط لکھ ماریا اے کہ اج تو ٹھیک ست سال،ست مہینے،ست دناں بعد آ جانا۔تم دیکھ لینا۔جب مرن دے نیڑے ہویا،اس آپے آ جانا اے۔ نہ آیا تے میرا پتر ہی نہیں‘‘

اگریہی واقعہ پہلے پیش آیا ہوتا تو میں غلام علی پر اسے ضرور چھیڑتا مگر ان دنوںمیری اس سے تھوڑی دوستی ہونے لگی تھی اس لیے میں صرف مسکرا کے لوٹ آیا۔

غلام علی کا ذکر تو وہ پہلے بھی کرتا تھا مگر گھر جلنے کے بعد اس کے لبوںپر اکثر اسی کا تذکرہ رہنے لگا۔ان دنوں میں بھی کالج جانے کے بجائے گاؤں کے قبرستان میں چھپ کر جاسوسی ناول پڑھتے کالج ٹائم گزار دیتا تھا۔ایسے میں،اس نے مجھ سے سنگ بنا لیا،بلکہ میں نے اس سے بنا لیا۔اسے سنگ کی کیا ضرورت تھی،اس نے صرف سنانا ہی تو ہوتا تھا۔میں نہ ہوتا تو وہ قبرستان کے درختوں،جھاڑیوں،پرندوں بلکہ قبروں تک کو سنا لیتا۔اس کے پاس سامعین کی کون سی کمی تھی۔یہ تو میںتھا جو کالج سے بھاگ کر اس کی چپ نگری میں آجاتا اورکسی بھی انسانی سائے سے بھاگتا تھا۔ تقریباً دو مہینے تک میں اس کے پاس بیٹھتا رہا اور یہیں غلام علی سے میری شناسائی میں اضافہ ہوا۔یہ اور بات کہ خود غلام علی کی طرح یہ شناسائی بھی ہوائی تھی۔مگر اتنا ہے کہ جہاں گاؤں کے دوسرے لوگ صرف غلام علی کے نام سے واقف تھے۔ وہاں مجھے اس کی بابت کچھ دوسری تفصیلات بھی معلوم تھیں۔غلام علی اس کے پاس کبھی بھی نہ رہا تھا بلکہ پیدا ہونے کے بعد ننھیال کے پاس ہی رہا تھا۔ انہی کے پاس پڑھ لکھ کر پھر ولیت چلا گیااور وہاں پکا چن تارے والا افسر بن گیا تھا۔۔۔ جسے گاؤں کی پنچایت جیسے بڑے بڑے چودھری بھی’ سروٹ‘ مارتے ہیں اور وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔جس کے سامنے شطان کی بڑی بڑی جڑیں بھی چوں نہیں کرتیں۔ اور پتا نہیں کیا کیا۔دو تین بار تو وہ گھنٹوں غلام علی کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے علاوہ بھی جب کبھی اس کا ذکر آ جاتا تو وہ بڑے لاڈ سے غلام علی کا کوئی قصہ سنا دیتا۔ وہ جو کبھی کڑک اور کھڑک کے بغیر بول نہیں سکتا تھا، غلام علی کا نام آتے ہی اتنا مہربان بن جاتا تھا جیسے ماگھ کی بارش کے بعد دھوپ۔

ایک دفعہ وہ آیا تو چپ چپ سا تھا۔ میرے استفسار پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے بتایاکہ غلام علی آج کل بڑا پریشان ہے۔ تین گوریاں اس پر مرتی ہیں، ایک اس کے ساتھ نوکری کرتی ہے،ایک گاڑی چلاتی ہے اور ایک بینک میں نوکر ہے۔ تینوں اس سے ویاہ کرنا چاہتی ہیں۔ اب وہ پریشان ہے کہ کس سے شادی کرے؟تم ہی بتاؤ وہ کیا کرے؟ میں کافی دیر تک اس کا چہرہ دیکھتا رہااور اسے پوری طرح سنجیدہ پا کرانتہائی رسان سے یوں مشورہ دینے لگا جیسے واقعی اس کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے اوربڑی دیر تک محویت سے اس کے ساتھ بحث کرتا رہا۔لڑکی کا انتخاب، شادی کے دن کا تقرر، دعوت کی تیاریوں کی تفصیل، لڑکی کا حق مہر، لڑکی والوں کے ’’لاگ ‘‘کا تعین، سب پر اچھی خاصی گفتگو کی۔پھر آخر پراس نے غلام علی کی جلد وطن واپسی کی خبر دی اور کہا کہ میں نے اسے کہہ دیا ہے، شادی کے بعد ایک بار ضرور اپنے گھر آنا۔وہ اتنا امیر ہے کہ جب وہ آ گیا تو میں اس پورے گراں کا سب سے بڑا چودھری بن جاؤں گا۔وہ ولیت کا افسر ہے۔یہ پھودو پسنجر چودھری اس کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس کی تو ٹور ہی وکھری ہو گی۔ گوری زنانی،افسراں والا سوٹ،لش پش گڈی،سوہنا قد بت،فیشنی قسم کی مُچھ۔ اس کی شان دیکھ کے یہ سارے چول چودھری مجھے سر پر بٹھائیں گے۔پر میں بھی گن گن کے بدلے لوں گا۔۔۔گن گن کے۔۔۔ادھار کیوں رکھوں؟

ایک مدت سے اسے گاؤں والوں نے غیر سرکاری طور پر بے ضرر قسم کا پاگل قرار دیا ہوا تھا اوراپنے آپ کو پاگل ثابت کرنے میں وہ خود بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔اور میںخود، اس سنگت سے قبل گاؤں والوں کی طرح اسے پاگل جانتا اور مانتا تھا۔ مگر ڈیڑھ دو ماہ تک اس کے ساتھ اکیلے گپ شپ کے بعد میری سوچ تبدیل ہو گئی تھی۔ صرف ایک غلام علی والے معاملے میں اس پر پاگل پن کا شائبہ ہوتا تھا،باقی وہ بالکل سمجھدار تھا۔ا س کی سمجھ داری کا ثبوت یہ کم تھا کہ اسے قبرستان میں دفن سینکڑوں لوگوں کے نام، شجرے اور تقریباً سال وفات بھی معلوم تھے۔اور قبرستان پر ہی کیا موقوف، گاؤں کی تین چار ہزار آبادی میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے وہ پہچانتا نہ ہو، اور جس کی سابقہ زندگی بلکہ خاندان کا ریکارڈاسے حفظ نہ ہو۔اتنی توانا یادداشت کا مالک شخص جو کچھ بھی ہو، پاگل ہو سکتا ہے بھلا؟
یوں ہی قبرستان میں گھومتے گھومتے وہ کہنے لگتا:’’حق حیدر، ایہہ مائی بودی ہے۔ جب گاؤں میں مَدَرسہ بنا تھا، اس سال مگھر میں پوری ہوئی تھی۔ ست دن فاجل(فالج)نال اکڑی رہی۔ آٹھویں دن گھوک ہو گئی۔۔۔ حیدری۔اس دے مرن پچھوں اس دا پتر اج تک پنڈ وچ نہیں آیا، کدرے باہر کریچی گیا ہے۔۔۔مست بابا پیرے شاہ غازی دمڑیاں والی سرکار۔‘‘ یا’’یہ بابا سندھو، بنگال سے جب فوجیوں کی لاشیں آئی تھیں، اس کے تین سال بعد مرا تھا۔۔۔ساون میں۔۔۔بارش کی وجہ سے قبر کھودنی بھی اوکھی ہو گئی تھی۔یہاں اونچی جگہ تاڑ کے تمبو لگا کر قبر کھودی گئی تھی۔‘‘

ایسے ہی ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا اور میں نے اس سے پوچھ لیا کہ پاکستان بننے کے وقت وہ کہاں تھا اور اس نے کون کون سے واقعات دیکھے جو سنانے کے قابل ہیں ؟ جواباً اپنے خاص انداز میں بھڑکیں مارتے ہوئے بولا۔

’’اس دن ڈاکو باج خان ریفل ہاتھ میںلے کر نعرہ ماریا۔ اوئے کافرو تے کھتریو اپنا سامان تے کڑیاں چھوڑ کے کافراں دے ملک نس جاؤ۔۔۔نئیں تے سدھے ہو جاؤ۔۔۔پیراں نے پیر غوث پاک قلندر۔۔۔اک کھتری اپنی کڑی کھوہ چ سٹ کے نسیا۔۔۔باج خان نے نعرہ ٔ حیدری یا علی مار کے ساریاں نوں لٹ لیا۔۔۔کھتری نوں کسے نہ چکیا۔۔۔سارے ڈشٹر کھاتے ڈاکواں کھوہ چ سٹ دتے۔ ‘‘

اسی طرح کی بہت سی باتیں۔۔۔ اسے ابھی تک ۱۹۴۷ کے واقعات یاد تھے۔ اسی لیے میرا خیال تھا کہ وہ پاگل وغیرہ بالکل نہیں۔ مسئلہ کوئی اورہے۔

ایک دن خود ہی رواں ہو گیا اور بتانے لگا کہ جوانی میں کس طرح اس کی کڑمائی(منگنی) ہوئی تھی اور اس کی منگ کتنی خوبصورت، کتنی گن وان تھی۔اور کیسے لڑکی والوں نے بعد میں رشتہ توڑ دیا کہ لڑکا نکما ہے، کام کاج نہیں کرتا، اسے رشتہ دے کر لڑکی فاقوں مروانی ہے۔ اس نے پھر بہت زور مارا مگر انہوں نے لڑکی دینی تھی، اور نہ ہی دی۔ ’’بس فیر میں قسم کھا لئی کہ مر جاؤں پر ویاہ نہیں کرنا۔‘‘

’’تو پھر واقعی تم نے ویاہ نہیں کیا؟‘‘
’‘کیوں کرتا۔۔۔؟پورا پاؤ دھنیا گھوٹ کے پی گیا۔ عورت کی لوڑ ہی نہ ہوئی۔‘‘
’’دھنیا،قسم سے۔۔۔!‘‘
’’ہاں، بدام پستہ ملا کے، ٹھنڈا یخ کر کے سواد لے لے کے۔۔۔برف ورگی ٹھنڈ میرے پورے جثے چ دوڑ گئی۔۔۔فیر ویاہ سہاگا کرنا سی۔‘‘
’’تو پھر یہ غلام علی کہاں سے آ گیا؟‘‘
’’اوہ بس۔۔۔ توں سمجھیا کر ناں۔ ایہہ پہلاں دا کم سی۔‘‘
اس بات پر وہ مجھے محض آنکھ مار کر ٹرخا گیا۔

اس کے ساتھ میری بہت عرصہ بنی رہی مگر اسے بہت گہرا نہ جان سکا تھا۔کالج کے بعد میں یونیورسٹی نکل گیا۔ مہینے دو مہینے بعدایک آدھ دن کے لیے گاؤں واپسی ہوتی اوراس دوران میں اس سے بہت کم ہی ملاقات ہو پاتی۔ لیکن اتنا پتا چل جاتا تھا کہ وہ ابھی زندہ ہے اور ویسا ہی ہے۔ ابھی بھی اس نے سات سال، سات ماہ،سات روز بعد عین جمعرات کے دن مرنا ہے۔ ابھی بھی وہ ڈنگروں کے پیچھے اور بچوں کے آگے بھاگتا ہے۔ اور یہ کہ ابھی بھی اسے غلام علی کا انتظار ہے۔ جس دن وہ لوٹ آیا۔۔۔تو پھر۔۔۔

یونیورسٹی میں دیکھتے دیکھتے میرے دوسال گزر گئے۔ان دنوں میں ہاسٹل میں رہ کر مقالہ لکھ رہا تھا کہ میرے ایک دوست نے مجھے فون پر باتوں کے دوران اس کے متعلق یہ خبرسنائی کہ اس کو گاؤں والوں نے قبرستان کی رکھوالی سے فارغ کر دیا ہے اور ہر گھرانے سے ملنے والی گندم اور باجرہ بھی روک دیاگیا ہے۔ اس نے گاؤں کے ایک دو بڑے چودھریوں کی بیویوں کو کہیں راستے میں گالیاں بکی تھیں اور بڑی دیر تک بکی تھیں جس پر پنچایت نے اسے آئندہ کے لیے قبرستان سے فارغ کر دیا۔ میں نے اندازہ لگایا۔ تقریباً نصف صدی اس نے یہ خدمت انجام دی تھی۔ خود اس کی عمر اب یقیناً ۷۰ کے قریب تھی۔ اگر وہ کچھ دن اور یہ کام کرتا رہتا تو آخر کیا ہو جاتا، ویسے بھی سات سال، سات ماہ، سات دن بعد وہ مرنے والا تھا۔ساری زندگی قبرستان سے ڈنگروں کو نکالتا رہا، اب جو قبرستان میں خود اس کے مستقل قیام کے دن آ چکے تھے تو اس کو دھکیل دیا گیاتھا۔ پتا نہیں اس پر کیا گزری ہوگی۔

میں گاؤں واپس آیا تو کافی دنوں تک اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوستوں سے سنا کہ اسے قبرستان سے نکالا تو دے دیا گیا ہے مگر اس کا ٹھکانہ اب بھی وہیں ہے، بلکہ اب تو وہ قبرستان سے نکلتا ہی نہیں اور نہ کہیں آتا جاتا ہے۔ اس کا قبرستان سے تعلق اجرت کی وجہ سے تھوڑا ہی تھا۔

ایک دن میں قبرستان گیا تو وہیں ایک قبر کے کتبے کا سہارا لیے پاؤںلمبائے وہ نظر آ گیا۔ پہلے سے بہت کمزور نظر آ رہا تھا۔رخساروں کی ہڈیاںنوکیلی ہو چلی تھیں۔ ہاتھوں پیروں کا چمڑا پھٹے ہوئے غبارے ساہو گیا تھا۔وزن میں کمی واضح محسوس ہوتی تھی۔گندہ بھی پہلے سے زیادہ تھا۔ سب سے بڑی بات کہ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر جو چمک آ جاتی تھی، اس کی جھلک تک نظر نہ آئی۔ البتہ مجھے پہچان ضرور گیا تھا۔ میں نے اس کی خیریت دریافت کی تو اس نے بڑی نیم دلی سے جواب دیا۔۔۔خدایا۔۔۔ اتنا شکستہ تو وہ اپنا گھر جلنے پر بھی نہ ہوا تھا۔ اب کے چوٹ گہری لگتی تھی۔

’’جب میں مرن لگا ہوں تے مینوں قبرستان چوں کڈھن لگ پئے نیں، قسم مولا علی مشکل کشا حق علی سرکار دی، میں وی نہیں نکلنا۔ ہن میری قبر ہی بنے گی ایتھے۔ میں نئیں جانا ایتھوں غونث پاک۔۔۔ میں نہیں جانا۔‘‘ اس کی آنکھوں سے میں نے پہلی بار آنسو نکلتے دیکھے۔’’اپنے ہاتھوں سے مجھے رکھیں گے یہاں۔۔۔‘‘

’’چل او چاچا۔ ابھی تم نے سات سال، سات مہینے۔۔۔‘‘
’’نئیں۔۔۔ہن میں ست دن وی نہیں رہنا۔‘‘
میں نے اسے غور سے دیکھا۔ واقعی اب اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔وہ قبرستان کو چھوڑنے والا لگتانہیں تھا۔ وہ بیٹھا بڑے پیار سے کتبے کو سہلاتا رہا۔میں کافی دیر اس کے پاس خاموش متاسف بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔پھر میں نے اس کو حوصلہ دینے کے لیے اس کے پتر کا ذکر چھیڑنا چاہا۔
’’تم ایسے کرو۔ اب غلام علی کے پاس چلے جاؤ۔‘‘
ایک چھناکا ہوا’’کون ماں دا خصم غلاملی۔۔۔اوہ سب ڈراما ہے۔۔۔ کوئی غلاملی نہیں۔۔۔ ‘‘ پھر وہ چاروں طرف موجود قبروں کی طرف اشارہ کر کے رندھا ہوا بولا:’’میرے غلاملی تے ایہہ سارے نیں۔‘‘

وہ بلک بلک کے رونے لگا اور میں اس کی آنکھوں سے امڈتی ہوئی پدرانہ شفقت کو حیرانی سے دیکھتارہا۔اس کے ہاتھ قبر کے کتبے پہ یوں سرک رہے تھے جیسے بیٹے کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اسے دلاسہ دینے کے بہانے خود اپنے آپ کوتسلی دے رہا ہو۔

Categories
فکشن

واپسی

تحریر: محمد عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی روشنی کافی پھیل چکی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ گرمی کی وجہ سے رات نیند ہی اتنی دیر سے آئی تھی کہ صبح جلدی جاگنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے پرمیں نے ارد گرد دیکھا۔ دور دور تک بس باجرے کی فصل ہی نظر آرہی تھی۔ کہیں گھٹنوں تک اور کہیں اس سے ذرا زیادہ۔گائوں کی ساری آبادی دور نظر آرہی تھی ۔ اتنے وسیع پھیلے ہوئے باجرے کے درمیان ، اس ویران ڈیرے پر خود کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے میں ٹارزن ہوں ، جنگل میں ہی پیدا ہو اہوں اور جنگل میں ہی مروں گا۔لیکن ، ایسی اپنی قسمت کہاں ۔ میں تو بہت ہی معمولی آدمی ہوں۔ مجھے تو خود کما کر کھانا ہے۔ خیر ، یہ پندرہ بیس دن مشکل ہیں، ڈیرے کی یہ چاردیواری مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے پا س اتنے پیسے ہو جائیں گے کہ کراچی نکل سکوں، وہاں پہنچ گیا تو پھر کام بھی بہت اور کام بھی آسان۔ زندگی آرام سے گزر جائے گی۔ جس طرح وہاں گئے ہوئے دوستوں کی گزر رہی تھی۔

میں نے نیچے بچھی اپنی قمیض اٹھائی اور ٹیوب ویل کی ہودی کی طرف چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھوتے وقت ہاتھ کے دھسکے ہوئے چھالے دیکھ کر ایک بار تو آنکھوں میں پانی آ گیا۔ کیسے ملائم ہاتھ تھے میرے۔ چار ہی دن میں تباہ ہو گئے۔ اب تو کوئی چیز مٹھی کی گرفت میں لینے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ پتا نہیں کب جنگو لوگوں کی طرح میرے بھی ہاتھوں پر چنڈھیاں بنیں گی اور میرے ہاتھ بھی پتھر ہو جائیں گے۔ ابھی تو درد ہی برداشت کرنا تھا۔ منہ ہاتھ دھو کر میں نے پہلے اپنی قمیض دھوئی، اور جب وہ دھل گئی تو اسے پہن کے شلوار کو دھونے لگا۔
اس وقت جنگو وہاں آ پہنچا۔ کم بخت گھر سے پیٹ بھر کے آیا ہے ۔ اب دو چار جملے ضرور کسے گا۔

’’ہاں جی، کپڑے دھوئے جا رہے ہیں۔‘‘
’‘جی ، اور کیا۔ ایک ہی تو جوڑا ہے۔ روز نہ دھوؤں تو پہنوں کیسے؟‘‘
وہ ٹیوب ویل والے کمرے سے مستریوں کے اوزار نکالنے چلا گیا۔واپسی پہ اوزاروں کا تھیلا زمین پہ پٹختے ہوئے بولا’’ویسے مجھ سے تمہاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ اچھے بھلے گھر کے۔۔۔۔‘‘

’’نہ تو وہ اچھا گھر ہے،اور نہ ہی بھلا۔۔۔۔۔۔۔ تم بس کام کی تیاری کرو۔ مستری بھی آتے ہی ہوں گے۔‘‘

وہ پرائمری سکول تک میرے ساتھ پڑھتا رہا تھا۔ مانیٹر کی حیثیت سے میں نے کئی بار اسے ماسٹروں کی مار سے بچایا تھا۔ اس لیے وہ میرا ایک طرح سے احسان مند تھا، اور اسی لیے میرے سامنے اونچا نہیں بولتا تھا۔

’’پھر بھی آج چار دن ہوگئے تمہیں۔ صرف دن کو یہاں سے ملنے والے کھانے پر گزارہ کر رہے ہو۔ سوتے بھی ادھر کھلی زمین پر ہو۔ تمہارے جیسے لڑکے کو ایسے دیکھ کے دکھ تو ہوتا ہے۔ ‘‘

’’کوئی ضرورت نہیں دکھی ہونے کی۔ میں اپنی خوشی سے یہ کر رہا ہوں ۔ پھر تمہیں کیا۔ میں اپنے بل پہ جینا چاہتا ہوں ، روز روز دوسروں کے طعنے سن سن کر نہیں ۔‘‘

وہ میری طرف دیکھتا رہاپھر مستریوں کے کام کرنے کے لیے کل سے لگی گو پاڑ پر اینٹیں رکھنے لگا۔ میں نے شلوار دھوئی اور اسے نچوڑ کے تھوڑا ساہوا میں گھمایا تا کہ آٹھر جائے ۔ صابن کے بغیر صاف نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر دھلائی پر کپڑا پھنسی ہوئی مٹی ، اور پسینے کی وجہ سے مزید اکڑتا جا رہا تھا۔ کیٹی کے کپڑوں نے اب سے پہلے ایسا سلوک دیکھا کہاں تھا ۔ خیر آج جمعرات ہے، آج حساب ملنا ہے۔ صابن کی ایک ٹکی بھی لے آؤں گا۔ پھر یہ مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک بار پیسے مل گئے تو پھر بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی جنگو کو کچھ پیسے دوں گا کہ ان کے بدلے مجھے صبح شام اپنے گھر سے کھانا لا دیا کرے۔ ویسے تو وہ ابھی بھی لا کے دے سکتا تھا، مگر میری شرم مجھے اس کا احسان لینے سے روکتی تھی۔

’’تمہارے گھر والوں میں سے تمہیں ڈھونڈتا کوئی ادھر نہیں آیا؟‘‘ اس کا دھیان اینٹیں جوڑنے پر ہی تھا۔
’’نہیں۔ مجھے کیا۔ آ بھی جاتا کوئی تو میں نے کون سا چلے جانا تھا۔ ‘‘
’’ویسے تمہاری ماں کو معلوم ہے کہ تم ادھر ہو۔ بس تیرے باپ کے ڈر سے نہیں آئی‘‘
’’تمہیں کیسے پتا ہے؟‘‘

’’ملی تھی کل رستے میں ۔ تمہارا پوچھ رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ اب تمہارا ابا بھی کافی ٹھنڈا پڑ گیا ہے ۔اگر چپ چاپ آ جاؤ تو کہے گا کچھ نہیں ۔ بس اپنی اکڑ رکھنے کے لیے خود لینے نہیں آئے گا۔‘‘

’’تو مجھ میں اکڑ کم ہے کیا۔میں تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنی بریک تو اب کراچی ہی جا کر لگے گی۔ بس ایک بار کرائے کے پیسے بنا لوں، پھر زندگی بھر گاؤں کا رخ نہیں کروں گا۔‘‘

’’اب اتنی بھی کیا ضد ہے یار ۔ آخر باپ ہے۔ تھوڑا بہت کہنے کو اس کا حق ہے۔ ‘‘
’تھوڑا بہت۔۔۔؟‘‘

میں نے گیلی شلوار پہن لی اور اٹھ کر گارا تیارکرنے کے لیے ہودی سے بالٹیاں بھر کے مٹی کی کھیلی میں پانی ڈالنے لگا۔ایسا کرنے سے گیلی شلوار پر مٹی تیزی سے دوبارہ چمٹنے لگی تھی اور مجھے کراہت سی آنے لگی تھی لیکن دل پر جبر کر کے جس طرح پچھلے چار دن سے کر رہا تھا، پانی ڈالتا رہا۔

’’تیری اماں نے بتایا کہ وہ چھوٹی۔۔۔۔‘‘
’’سونو؟‘‘
’’ہاں، وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے اور دن بھر روتی رہتی ہے۔ ‘‘

’’وہ تو جھلی ہے بالکل۔۔۔۔ کچھ بھی ہو ، روپڑے گی۔ خوشی ہو تو بھی۔۔۔۔۔۔ ‘‘ میں نے ایک نظر دور گاؤں کی سب سے پہلی عمارت پر دیکھا۔ گورنمنٹ گرلزمڈل سکول۔ آج تین مہینے کی چھٹیوں کے بعد سکول کھلنے تھے۔ آج وہ سکول آئے گی۔’ہو سکتا ہے اس وقت تک وہ ،دوسری منزل پر جماعت پنجم کے کمرے میں آ بھی گئی ہو؟ کیا خبر کھڑکی سے میری طرف ہی دیکھ رہی ہو؟‘ میں نے ہاتھوں کا چھجا بنا کر ادھر اس کے کمرہ جماعت کی کھڑکی کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر اتنی دور سے صرف قمیضوں کا نیلا رنگ ہی نظر آ رہا تھا اور کچھ نہیں۔ ’کیا پتا رو رہی ہو۔ ‘ میں نے ادھر سے نظریں ہٹا لیں۔ آنکھیں پنیا جانے پر اب خاک دکھنا تھا۔

پانی ڈال چکنے کے بعد میں اپنے ہاتھوں کے پھٹے ہوئے چھالوں کو دیکھ رہا تھا کہ جنگو سمجھ گیا۔ ’’کسی نہیں چلے گی تجھ سے۔ تو صرف تغاریاں اٹھا اٹھا کے دیتے رہنا۔ میں گارا بناتا ہوں۔ اینٹیں دینے پر آج دوسرے لوگوں کو لگا لیں گے۔ ‘‘

اس کے گارا بنانے تک باقی مزدور اور دونوں مستری بھی آ گئے تھے۔ کام شروع ہو گیا۔

میں نے گارے کی چکنی مٹی سے قمیض بچانے کے لیے اور کچھ گرمی کا احساس کم کرنے کے لیے قمیض اتار کر ساتھ ہی ایک درخت پر لٹکا دی تھی اور اب ننگے دھڑ تغاریاں اٹھا رہا تھا۔ ایسا کرنے سے دھوپ بدن کو زیادہ جلاتی تھی لیکن بھادوں کے اس حبس کا احساس کم ہو جاتا تھا جس سے جان نکل رہی تھی۔ میری دی ہوئی تغاریوں سے نکلنے والا گارا اینٹوں تلے چھپتا رہا اور ردے پہ ردا چڑھتا گیا۔ بھوک کی شدت سے میرے پیٹ میں کچھ ایسی جلن ہو رہی تھی کہ پیاس سے منہ اکڑ جانے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ مگر پیٹ کو تسلی دیے ہوئے تھادوپہر کو مالکوں کی طرف سے ملنے والا فشٹ کلاس کھانا۔ آج کل میں دوپہر کو سات سات روٹیاں کھا جاتا تھا اور پھر بھی لگتا کہ کم کھا رہا ہوں۔ خیر آج آخری دن ہے۔ کل سے کھانا جنگو کے ذمے ہو گا۔ ہاتھوں کے چھالے جو ہر بار تغاری اٹھانے پر ٹیس دیتے تھے، مٹی کے تھوبوں تلے دبائے میں گارا مستریوں تک پہنچاتا رہا۔

دوپہر کھانے کا وقت ہونے تک گو کاکام ختم ہو گیا تھا اور اب اگلے حصے پر گو بنانی تھی۔ کھانا پہنچنے تک ہم سب مزدوروں نے اگلی جگہ گو بنا دی تھی ارادہ یہی تھا کہ کھانا کھانے کے بعدہی اگلی گو پر کام شروع ہو گا۔

کھانا جب آیا ، تب تک میں بھوک سے فوت ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کے ہم کھانا کھانے لگے۔ ان سب کی نسبت میرے کھانے کی رفتار دگنی تھی۔ مستری دیکھ دیکھ حیران ہوتے تھے ۔پھر ایک مستری سے رہا نہ گیا اور بول پڑا۔

’’اتنے اونچے گھر کے اکیلے مالک ہو کے کیوں اس کام میں پڑ گئے ہو؟‘‘
’‘بس میری مرضی۔‘‘
’’مرضی تو تمہاری ہے، لیکن تمہیں معلوم ہے اس کا کیا انجام نکلے گا۔‘‘
’‘کیا ہو گا؟‘‘
’’ساری زندگی مزدروری کرتے رہو گے۔ نہ خود پیٹ بھر کھا سکوگے اور نہ ہی اپنی اولاد کو کھلا سکو گے۔‘‘
’’میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ دس بندوں کو کھلا لوں گا۔‘‘

’’یہ طاقت تو ابھی ہے نا۔ ماں باپ نے کھلایا بہت ہے ۔کوئی مشقت کا کام نہیں کیا۔ مزدوری کرتے رہے تو ایک ہی سال میں چہرے کی ہڈیاں نکل آئیں گی۔ بازوؤں کے ڈوہلے لٹک جائیں گے۔ اس شوربہ گارے کی طرح۔گھر والوں کی مان کے ساری زندگی سکھی رہو گے۔ ورنہ ان دھوپوں اور پوہ کے کہرے میں سارا دن گدھے کی طرح کام کرنا پڑے گا۔ دس سال میں بوڑھے ہو جاؤ گے۔‘‘

میں پوری رفتار سے کھاتا اس کی بک بک سنتا رہا۔ اگر ایک دن میرے باپ کی باتیں سن لے تو اس کی کمائی سے کھانے پر بھوکا مر جانے کو ترجیح دے۔ ایسے کھلاتا ہے جیسے احسان کرتا ہے۔ خود اس لالچ میں بیٹھا ہے کہ میں جب پڑھ لکھ جاؤں گا تواسے کما کر دوں گا۔ میرا چھتر اُسے کما کر دیتا ہے۔

کھانا ختم ہونے کے بعد جو ریسٹ کا وقت تھا، وہ میرے بارے میں ہی بحث کرتے رہے۔ ان سب کا نقطہ نظر یہی تھا کہ مجھے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔ ورنہ میری حالت دیکھ کر انہیں ترس آتا ہے اور پھر میرے مستقبل کا سوچ کر انہیں دکھ ہوتا ہے کہ میں جو پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن سکتا ہوں(ہونہہ، جیسے ایف اے کرنے والا بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے)مجھے اپنے باپ کا کہنا مان لینا چاہیے اور گھر چلے جانا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر کے بعد تو میں نے کان ان کی طرف سے ہٹا لیے اور پھر گرلز سکول کی طرف دیکھنے لگا۔ ٹائم دیکھا تو اندازہ ہو گیا کہ اب انہیں چھٹی ہونے میں ایک ہی گھنٹا رہ گیا ہے کیا پتا وہ اب کھڑکی سے منہ نکالے میری طرف دیکھ رہی ہو۔’میری سونو۔ اب تو ساری زندگی میرا چہرہ نہیں دیکھ سکے گی۔ ہاں ابا مر گیا تب میں گھر آ جاؤں گا۔ دعا کر جلدی مر جائے۔ تب تک کے لیے میری غلطی مجھے معاف کرنا۔ میں تجھے دیکھنے اس گھر میں نہیں آ سکتا، وہاں وہ شخص بھی ہے۔‘‘

ریسٹ کے بعد انہوں نے میرے موضوع کو چھوڑا اور اپنے کام کو اٹھ گئے۔ میں اسی طرح مٹی اور پسینے میں لتھڑا انہیں تغاریوں پر تغاری پہنچاتا رہا اور وہ اینٹیں تھوپتے چلے گئے۔ ابھی چوتھا ردا شروع ہو اتھا کہ مستری نے مجھے گو پر بلا لیا۔

’’ادھر آ ذرا۔‘‘

میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اتنی دور سے چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ، بس سکول کی وردی ہی نظر آ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی میں اسے پہچان گیا۔ اسے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے ، پہلے ٹیوب ویل کی ہودی میں چھلانگ لگا کر بدن پر سوکھ کر چمٹا ہوا گارا اتارا اور پھر دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا۔

’’کیوں؟ تم کیوں آئی ہو ادھر ؟ اس دھوپ میں ؟‘‘
’’ بس ، تمہیں بلانے۔ اور کسی وقت آتی تو ابا کو پتا چل جاتا۔ ‘‘
’’ مجھے بلا کر کیا کروگی؟ میں نہیں آنے والا۔‘‘
’’اوں ، بھائی ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ نا۔‘‘
’’چھوڑو مجھے۔ تم گھر جاؤ بس۔‘‘ میں نے اس کی بانہہ پکڑ کے اسے کھینچ دھکیلا۔’’دیکھ کتنی دھوپ ہے۔ تیرا رنگ خراب ہو جائے گا۔‘‘
وہ پھسک پڑی۔’’بھائی۔ یہ دھوپ تمہیں نہیں لگتی کیا؟اپنا رنگ دیکھو کس طرح جل گیا ہے؟‘‘

وہ روتی بلکتی چلی گئی۔ میں کافی دیر وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتی تھی۔ اور ایسا کرنے میں اس کی آنکھوں پر جاتے ہاتھ بتاتے تھے کہ وہ ابھی تک رو رہی ہے۔ جب وہ گاؤں کی گلیوں میں اوجھل ہو گئی تو میں واپس کام پر پلٹ آیا۔ اپنی قمیض جو درخت پر لٹکی تھی، اتار کر جھاڑی اور اپہن کے کھڑا ہو گیا۔

’’کیوں ؟ کام نہیں کرنا کیا؟‘‘
’’نہیں ، میں جا رہا ہوں گھر۔ نہیں ہوتا کام۔‘‘
’’آج شام تک تو کرجاؤ۔ پیسے لے کے جانا۔ ‘‘

’’تم اپنے پیسے اپنے پاس رکھو۔ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو میرا رنگ کس طرح جل گیا ہے۔ مجھے اب نہیں کام کرنا۔ ‘‘
میں ان کو حیران پریشان وہیں چھوڑ کے گھر کو چل دیا۔ جہاں اس کی روتی آنکھوں میں صرف مَیں ہی ہنسی لا سکتا تھا۔